Wednesday, 5 October 2022

آخری پیغمبر محمد ﷺ کا تعارف اور ان کے ممتاز اوصاف

آخری پیغمبر ﷺ کو جانئے» ذاتی اور صفاتی ناموں سے تعارف:

حدیث نمبر 1

حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 إِنَّ لِي أَسْمَاءً: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِيَ الْکُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ،

(الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ)

ترجمہ:

"بیشک میرے (کچھ) نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں جس کے قدموں پر لوگ (قیامت کے دن) جمع ہوں گے، اور میں عاقب (سب سے آخر میں آنے والا / خاتم) ہوں۔"

[صحیح بخاری:4896، صحیح مسلم:2354]


جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

[سنن الترمذي:2840، الشريعة للآجري:1013]


وَقَدْ سَمَّاهُ اللهُ رَءُوْفًا رَحِيْمًا.

ترجمہ:

اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا اسمِ گرامی رؤف اور رحیم رکھا ہے۔

[صحیح مسلم:2354، صحیح ابن حبان:6313، المعجم الکبير للطبراني:1525]



بڑی حکمت والے قرآن سے شواھد:

*(1)محمد...یعنی قابلِ تعریف...خوبیوں والا۔*

القرآن:

"محمد" اللہ کے رسول(یعنی اللہ کا پیغام پہنچانے والے) ہیں...

[سورۃ الفتح: آیت نمبر 29]

اور نہیں ہیں "محمد(لافانی/خدا) مگر ایک رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے(یعنی قتل/فوت ہوچکے) ہیں...

[سورۃ آل عمران، آیت نمبر 144]



*(2)احمد...یعنی سب سے زیادہ تعریف کرنے والا...اللہ کی خوبیاں بیان کرنے اور خامیوں سے پاک ہونا بیان کرنے والا۔*

القرآن:

اور میں (پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام) ایک رسول کی بشارت دینے والے ہوں جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام "احمد" ہے۔

[سورۃ الصف:6](یوحنا:16)



*(3)ماحی...مٹانے والا*

القرآن:

اللہ نے بھیجا اپنے رسول(محمد ﷺ) کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ...تاکہ وہ "غالب" کرے اس(دین) کو تمام دوسرے دین پر...

[سورۃ التوبہ:33، الفتح:28، الصف:9]

اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے والا ہی ہے۔

[سورۃ الإسراء: 81]



*(4)حاشر...جمع/اکٹھا کرنے والا...جس کے قدموں پر لوگ بروزِ قیامت(شفاعت یا کوثر کیلئے) جمع کئے جائیں گے۔*

القرآن:

اور (اے پیغمبر) تم اس وحی کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ ان کو ان کے پروردگار کے پاس ایسی حالت میں "جمع" کر کے لایا جائے گا کہ اس کے سوا نہ ان کا کوئی یارومددگار ہوگا، نہ کوئی سفارشی  تاکہ وہ لوگ تقوی اختیار کرلیں۔

[سورۃ الأنعام:51 (الفرقان:33-34)]


اے ایمان والو ! الله اور رسول کی دعوت قبول کرو، جب رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائے جو تمہیں (پاک/عمدہ)زندگی بخشنے والی ہے۔  اور یہ بات جان رکھو کہ الله انسان اور اس کے دل(میں گناہ کے وسوسے) کے درمیان آڑ(روک) بن جاتا ہے۔ اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف "اکٹھا" کر کے لے جایا جائے گا۔

[سورۃ الأنفال:24]




*(5)عاقب...یعنی آخری/جانشین...جس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔*

القرآن:

(مسلمانو !) محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ الله کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں،  اور الله ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔

[سورۃ الأحزاب:40]


(6) رؤف اور رحیم...بہت مہربان اور خوب رحم کرنے والے۔

القرآن:

"وہ(محمد) تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔"

[سورہ التوبہ: 128]





قرآن خود ہے ثناء خوانِ محمد ﷺ!


"اور بے شک یقیناً تم عظیم اخلاق پر ہو۔"

[سورہ القلم: 4]


"وہ(محمد) تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔"

[سورہ التوبہ: 128]


"اے نبی! اللہ کی رحمت ہی تھی کہ تم ان(مومن) لوگوں کے لیے نرم دل ہو گئے اور اگر تم بد مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے پاس سے چھٹ جاتے۔"

[سورہ آل عمران: 159]


"محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔"

[سورہ الاحزاب: 40]

 

"بیشک تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہو۔"

[سورہ الاحزاب: 21]


"اور ہم نے آپ کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"

[سورہ الانبیاء: 107]


"پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی۔"

[سورہ بنی اسرائیل: 1]


"اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔"

[سورہ الاحزاب: 45]


"اور وہ اللہ کی طرف بلانے والا اور اس کے اذن سے روشن چراغ ہے۔"

[سورہ الاحزاب: 46]


"وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔"

[سورہ الجمعہ: 2]






📜 تشریح امام ابن العربي (سن وفات  543 ھجری)

📖 پانچ علمی فوائد

فائدہ نمبر 1: نامِ "محمد"

شارح (ابن العربی) فرماتے ہیں:

نبی کریم ﷺ کا فرمان "أنا محمد" (میں محمد ہوں) – اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ہوتی ہے:

"مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ"
ترجمہ:
"محمد اللہ کے رسول ہیں۔"
(سورۃ الفتح: 29)

یعنی اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں آپ کو یہ نام دیا ہے۔

(حوالہ جات: ابن فارس کی "أسماء رسول الله": ص30، اور الرصّاع کی "تذكرة المحبين": ص61-98)

---

فائدہ نمبر 2: نامِ "احمد"

نبی کریم ﷺ کا فرمان "وأنا أحمد" (اور میں احمد ہوں) – یہ بھی قرآن کی صریح نص ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی فرمایا:
"وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ"
ترجمہ:
"اور (عیسیٰ علیہ السلام) ایک رسول کی بشارت دینے والے ہیں جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے۔"
(سورۃ الصف: 6)

(حوالہ جات: ابن فارس: ص31، الرصّاع: ص99-117)

---

فائدہ نمبر 3: نامِ "ماحی" (مٹانے والا)

نبی کریم ﷺ کا فرمان "وأنا الماحِي" (اور میں ماحی ہوں) – اس کی تشریح خود آپ ﷺ نے یوں فرمائی:

"وأنا الَّذِي يَمْحُو اللهُ بي الكُفْرَ"
ترجمہ:
"میں وہ ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے۔"
(سورۃ التوبہ: 33)

یہ اس وعدے کی بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمام دینوں پر غالب کرے گا۔


دو احتمالات:

1. عام معنی: اللہ آپ کے ذریعے جزیرۃ العرب اور بیشتر ممالک سے کفر کا نام و نشان مٹا دے گا۔

2. خاص معنی: اس سے مراد مکہ مکرمہ سے کفر کا خاتمہ اور وہاں پر آپ کا غالب آنا ہے۔



اس کی عملی مثال (فتح مکہ کا واقعہ):

نبی کریم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے اندر بت اور تھان (مجسمے) پائے۔ آپ ﷺ نے ایک چھڑی (یا لاٹھی) لی اور ان کے پیٹوں میں نیزہ مارتے ہوئے یہ آیت پڑھی:
"وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا"
ترجمہ:
"اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے والا ہی ہے۔"
(سورۃ الإسراء: 81)

(حدیث کے حوالے: صحیح بخاری: 4287، صحیح مسلم: 1781)

---

فائدہ نمبر 4: نامِ "حاشر" (جمع کرنے والا)

نبی کریم ﷺ کا فرمان "وأنا الحاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي" (اور میں حاشر ہوں، یعنی وہ جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے) –


اس کے تین ممکنہ معانی ہیں:

(الف) امام خطابی کا قول:

"قدم" سے مراد زمانہ (وقت) ہے۔ یعنی میری ملت کا زمانہ آخری زمانہ ہے، اور اسی پر قیامت قائم ہو گی اور حشر ہو گا۔ میری شریعت کو کوئی منسوخ کرنے والا نہیں آئے گا، اور نہ ہی کوئی کفر اسے جڑ سے اکھاڑ سکے گا۔

(حوالہ: خطابی کی "غریب الحديث": 1/425)

(ب) امام ابن عبد البر (مالکی) کا قول:

اس کا مطلب ہے "میرے آگے اور میرے سامنے" (قدّامی وأمامی)۔ یعنی قیامت کے دن لوگ آپ ﷺ کے گرد جمع ہوں گے اور آپ کے آگے پیچھے ہوں گے۔

(حوالہ: ابن عبد البر کی "الاستذكار": 27/443)

(ج) ایک اور قول (بعض علماء کا):

"عَلَى قَدَمِي" کا مطلب ہے "میری سبقت" (سابقتی) – جیسا کہ قرآن میں ہے:

"وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ"
ترجمہ:
"اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں صدق (اور سبقت) کا مقام ہے۔"
(سورۃ یونس: 2)

یہاں "قدم" سے مراد اخلاص، صدق اور اطاعت میں پہل کرنا ہے۔ یعنی آپ ﷺ تمام انبیاء میں سبقت رکھتے ہیں۔

(حوالہ: "العارضة": 10/281-282)

---

فائدہ نمبر 5: نامِ "عاقب" (آخری/جانشین)

نبی کریم ﷺ کا فرمان "وأنا العاقِبُ" (اور میں عاقب ہوں) – اس کی تشریح خود آپ ﷺ نے دوسری جگہ یوں فرمائی:

"الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ"
ترجمہ:
"وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔"

(یہ لفظ ترمذی (2840) میں ہے، اور اسے حسن صحیح کہا گیا ہے.)

ابو عبید کہتے ہیں: میں نے سفیان بن عیینہ سے "عاقب" کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "آخری انبیاء"۔ اور ہر چیز جو کسی چیز کے بعد آئے وہ "عاقب" ہے۔

اس کی قرآنی تائید:

"مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ"
ترجمہ:
"محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین (اختتامِ نبوت) ہیں۔"
(سورۃ الأحزاب: 40)

امام مالک کا قول:

ابن وہب نے امام مالک سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا:
"اللہ نے ان (محمد ﷺ) پر انبیاء کو ختم کیا، اور ان کی مسجد پر (پچھلی) مساجد کو ختم کیا۔"
(یعنی آپ کی مسجد تمام مساجد کی سردار ہے)۔

(حوالہ: ابن عبد البر کی "التمهيد": 9/155)

---

📝 شاعری (اشعار) میں تذکرہ

(الف) عباس بن مرداس السلمی کا شعر:

يَا خَاتِمَ النُّبَآءِ إِنَّكَ مُرْسَلٌ ... بِالحَقِّ كُلُّ هُدَى السَّبِيلِ هُدَاكَا
إِنَّ الإِلَهَ ثَنَى عَلَيْكَ مَحَبَّةً ... فِي خَلقِهِ وَمُحَمَّدًا سَمَّاكَا
ترجمہ:
"اے خاتم النبیین! یقیناً آپ حق کے ساتھ بھیجے گئے ہیں، اور راہِ ہدایت کی تمام راہیں آپ ہی کی ہدایت ہیں۔ بے شک اللہ نے اپنی مخلوق میں آپ کی محبت رکھ دی، اور آپ کا نام 'محمد' رکھا۔"
(حوالہ: شاعر کا دیوان: ص95)

(ب) ابو طالب (یا حسان بن ثابت) کا مشہور شعر:

وَشَقَّ لَهُ مِن اسْمِهِ لِيُجِلَّهُ ... فَذُو العَرشِ مَحْمُودٌ وَهَذَا مُحَمَّدُ
ترجمہ:
"اور اللہ نے اپنے نام سے اس (نبی) کے لیے نام نکالا تاکہ اسے بزرگ کرے، پس عرش والا (اللہ) 'محمود' ہے اور یہ (نبی) 'محمد' ہے۔"
(حوالہ: حسان بن ثابت کا دیوان: ص338)

---

🌟 حضرت انس بن مالک سے مروی فضائل کی حدیث

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"أَنَا أَوَّلُهُمْ خُرُوجًا، وَأَنَا قَائِدُهُمْ إِذَا وَفَدُوا، وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا أَنْصَتُوا، وَأَنَا شَفِيعُهُمْ إِذَا حُبِسُوا، وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا يَئِسُوا، الْكَرَامَةُ وَالْمَفَاتِيحُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِي، وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي، وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي..."
ترجمہ:
"میں (قیامت کے دن) سب سے پہلے (قبر سے) نکلنے والا ہوں، میں سب کا قائد ہوں جب وہ (اللہ کے حضور) پیش ہوں گے، میں ان کا خطیب ہوں جب وہ خاموش ہوں گے، میں ان کا شفیع ہوں جب وہ روکے جائیں گے، میں انہیں بشارت دینے والا ہوں جب وہ مایوس ہوں گے، قیامت کے دن عزت اور چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں اپنے رب کے ہاں آدم کے بیٹوں میں سب سے زیادہ کریم ہوں..."
(حوالہ: دارمی: 48، ترمذی: 3610، بیہقی وغیرہ)

اور ایک دوسری روایت میں ہے:

"أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ أَتْبَاعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ..."
ترجمہ:
"قیامت کے روز میں انبیاء میں سب سے زیادہ پیروکاروں والا ہوں، اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا وہ ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔"
(حوالہ: مسلم: 196، احمد: 3/140)

---

📌 مزید قرآن سے شواہد

امام ابن العربی فرماتے ہیں: اللہ نے قرآن میں آپ کو ان دو (محمد و احمد) کے علاوہ بھی بہت سے ناموں سے پکارا ہے، جیسے:

· "المزمل" (اوڑھ لپیٹ کر سونے والا) – سورۃ المزمل

· "المدثر" (کمبل اوڑھنے والا) – سورۃ المدثر

· "عزیز" (عزت والا) – سورۃ التوبہ: 128

· "رؤف" (بہت شفیق) – سورۃ التوبہ: 128

· "مبشر" (خوشخبری دینے والا) – سورۃ الاحزاب: 45

· "نذیر" (ڈرانے والا) – سورۃ الاحزاب: 45

· "داعی" (اللہ کی طرف بلانے والا) – سورۃ الاحزاب: 46

· "سراج منیر" (روشن چراغ) – سورۃ الاحزاب: 46

امام ابن العربی نے ان سب کو اپنی تفسیر "أحكام القرآن" (سورۃ الاحزاب کی تفسیر میں) تقریباً 80 ناموں کے ساتھ جمع کیا ہے۔

[المسالك فی شرح موطأ الإمام مالك: جلد 7، صفحہ 605]

---

💡 خلاصہ (اہم نکات)

1. محمد اور احمد قرآن مجید میں صریحاً آئے ہیں۔

2. ماحی کا تعلق کفر کو مٹانے اور فتحِ مکہ سے ہے۔

3. حاشر کے معنی ہیں: (الف) آخری زمانہ، (ب) آگے ہونا، (ج) سبقت۔

4. عاقب کا مطلب "خاتم النبیین" ہے جس کی تائید سورۃ الاحزاب کی آیت 40 سے ہوتی ہے۔

5. اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آپ کو اور بھی صفاتی ناموں (مزمل، مدثر، سراج وغیرہ) سے یاد کیا ہے۔

6. امام ابن العربی نے ان ناموں کو جمع کر کے تفسیر "أحكام القرآن" میں 80 کے قریب شمار کیے ہیں۔






📜 تشریح امام النووی (متوفی: 676ھ)

امام نووی فرماتے ہیں:

یہاں (اس باب میں) مصنف (امام مسلم) نے نبی کریم ﷺ کے یہ (چند) نام ذکر کیے ہیں، حالانکہ آپ ﷺ کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔


امام ابوبکر ابن العربی المالکی نے اپنی کتاب "الأحوذی" (جو شرح ترمذی ہے) میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ:


اللہ تعالیٰ کے (تقریراً) ایک ہزار (۱۰۰۰) نام ہیں، اور نبی کریم ﷺ کے بھی ایک ہزار (۱۰۰۰) نام ہیں۔

پھر انہوں نے ان میں سے تفصیل کے ساتھ باسٹھ (۶۲) نام شمار کیے ہیں۔


---


(۱) نامِ "محمد" اور "احمد" کی لغوی وضاحت


علماءِ لغت کہتے ہیں:


کسی شخص کو "محمد" اور "محمود" اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کی قابلِ تعریف صفات بہت زیادہ ہوں۔


ابن فارس اور دوسرے علماء نے کہا:


اسی (کثرتِ صفاتِ حمیدہ) کی وجہ سے ہمارے نبی ﷺ کا نام "محمد" اور "احمد" رکھا گیا۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے اہلِ خانہ (یا قوم) کو یہ الہام (توفیق) دی کہ وہ آپ کا یہ نام رکھیں، کیونکہ انہیں آپ کی خوبصورت صفات کا علم تھا (یا اللہ نے انہیں مستقبل کا علم عطا کیا)۔


---


(۲) نامِ "ماحی" (مٹانے والا)


نبی کریم ﷺ کا فرمان:


"وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِي الْكُفْرُ"

ترجمہ: "اور میں ماحی ہوں، جس کے ذریعے کفر مٹا دیا جاتا ہے۔"


علماء کی آراء:


1. پہلی تشریح (ظاہری/جغرافیائی):

   اس سے مراد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور تمام جزیرۃ العرب (اور ان تمام علاقوں) سے کفر کا مٹ جانا ہے جو آپ ﷺ کے زیرِ اثر آئے۔ اللہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ آپ کی امت کی حکومت (اور دین) ان علاقوں تک پہنچے گا۔

2. دوسری تشریح (حجت اور غلبہ):

   اس سے عام مٹانے کا معنی بھی ہو سکتا ہے، یعنی دلیل اور حجت کے ذریعے کفر کا غلبہ ختم ہونا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

   "لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ" (سورۃ الصف: 9)

   ترجمہ: "تاکہ وہ (دینِ اسلام) کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔"

3. تیسری تشریح (آخری اور روحانی):

   ایک دوسری حدیث میں "ماحی" کی تفسیر یوں آئی ہے:

   "وہ ذات جس کے ذریعے اس کے پیروکاروں کی برائیاں مٹا دی گئیں۔"

   یعنی اسلام قبول کرنے سے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے، جیسا کہ قرآن میں ہے:

   "قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ" (سورۃ الأنفال: 38)

   ترجمہ: "کافروں سے کہہ دو کہ اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔"

   اور صحیح حدیث میں ہے:

   "الْإِسْلَامُ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ"

   ترجمہ:

"اسلام (قبول کرنا) پچھلے (گناہوں) کو مٹا دیتا ہے۔"

(صحیح مسلم:121، صحيح ابن خزيمة:2515)


---


(۳) نامِ "حاشر" (جمع کرنے والا)


نبی کریم ﷺ کا فرمان:


"وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي"

اور دوسری روایت میں ہے: "عَلَى قَدَمِي"


لغوی بحث (قدمی یا عقبی):


· دوسری روایت (عَلَى قَدَمِي) میں نسخوں کا اتفاق ہے، لیکن راویوں نے اسے دو طریقوں سے پڑھا ہے:

  1. تخفیف یاء (یعنی واحد: قَدَمِي) – میرے ایک قدم پر۔

  2. تشدید یاء (یعنی تثنیہ: قَدَمَيَّ) – میرے دونوں قدموں پر۔

· پہلی روایت (عَلَى عَقِبِي) – میرے پیچھے / میرے اثر پر۔


علماء کا متفقہ معنی:


ان دونوں کا مطلب یہ ہے کہ لوگ (قیامت کے دن) میرے اثر، میرے زمانۂ نبوت اور میرے پیچھے جمع کیے جائیں گے، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

بعض علماء نے کہا: اس کا مطلب ہے "وہ میری پیروی کریں گے" (یعنی لوگ مجھ پر جمع ہوں گے)۔


---


(۴) نامِ "عاقب" اور "مقفی"


(الف) "عاقب":


حدیث میں خود آپ ﷺ نے اس کی تفسیر فرمائی:


"الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ"

ترجمہ: "وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔"

یعنی وہ جو تمام انبیاء کے بعد (عقب میں) آیا ہے۔


ابن الاعرابی نے کہا:


"عاقب" اور "عقوب" وہ ہے جو اپنے سے پہلے والوں کی جگہ خیر (بھلائی) میں آتا ہے۔ اسی سے کسی شخص کی اولاد کو "عقب" کہا جاتا ہے (کیونکہ وہ اس کا جانشین ہوتا ہے)۔


(ب) "مقفی":


شمر نے کہا: "مقفی" بھی "عاقب" ہی کے معنی میں ہے (یعنی آخری)۔


ابن الاعرابی نے کہا:


"مقفی" سے مراد "تمام انبیاء کی پیروی کرنے والا" ہے (کیونکہ آپ سب کے بعد آئے)۔

لغوی مادہ: کہا جاتا ہے "قَفَوْتُهُ أَقْفُوهُ" اور "قَفَّيْتُهُ أُقَفِّيهِ" – جب میں اس کی پیروی کروں۔ اور ہر چیز کا "قافیہ" اس کا آخر (پچھلا حصہ) ہوتا ہے۔


---


(۵) نامِ "نبی التوبۃ"، "نبی الرحمۃ" اور "نبی المرحمۃ"


ان تینوں ناموں کے معانی بہت قریب ہیں۔

ان کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ:


· "نبی التوبۃ" : توبہ (اور توبہ کا راستہ) لے کر آئے۔

· "نبی الرحمۃ" اور "نبی المرحمۃ" : رحمت اور آپس میں رحم دلی (تراحم) لے کر آئے۔


جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:


"رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" (سورۃ الفتح: 29) – "وہ آپس میں رحم دل ہیں۔"

اور دوسری جگہ:

"وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ" (سورۃ البلد: 17) – "اور وہ آپس میں صبر اور رحم دلی کی وصیت کرتے ہیں۔"


اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔


---


(۶) ایک اور نام: "نبی الملاحم" (جنگوں والے نبی)


ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ کو "نبی الملاحم" (جنگوں/ملاحم کا نبی) بھی کہا گیا ہے، کیونکہ آپ ﷺ جہاد (قتال) کے ساتھ مبعوث ہوئے۔


---


(۷) اس باب میں صرف ان ناموں پر اکتفاء کیوں کیا گیا؟


علماء کہتے ہیں:


اس باب (صحیح مسلم) میں انہی چند ناموں پر اکتفاء کیا گیا، حالانکہ آپ ﷺ کے اور بھی بہت سے نام ہیں (جیسا کہ پہلے گزرا)۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ (خاص) نام پچھلی کتابوں (تورات، انجیل وغیرہ) میں بھی موجود تھے اور پچھلی امتوں کے ہاں بھی مشہور تھے۔

باقی نام (جو یہاں ذکر نہیں ہوئے) شاید بعد میں وحی کے ذریعے یا خصوصی طور پر اس امت کے لیے ظاہر ہوئے۔


[شرح صحیح مسلم للنووي : جلد 15، صفحہ 104-106]

---


📌 اہم نکات (خلاصہ)


نام ترجمہ/تشریح اہم نکتہ

محمد، احمد بہت زیادہ تعریف والا / بہت زیادہ حمد کرنے والا قرآن میں ثابت، لغت میں کثرتِ صفاتِ حمیدہ پر دلالت

ماحی کفر کو مٹانے والا (الف) جغرافیائی (جزیرۃ العرب)، (ب) حجت سے، (ج) گناہوں کو مٹانے والا (اسلام قبول کرنے سے)

حاشر لوگوں کو جمع کرنے والا لوگ میرے وقت اور میرے اثر پر جمع ہوں گے، میرے بعد کوئی نبی نہیں

عاقب آخری / جانشین تمام انبیاء کے بعد آنے والا، خاتم النبیین

مقفی پیروی کرنے والا (انبیاء کی) عاقب کے ہم معنی، یعنی سب کے بعد

نبی التوبۃ توبہ والا نبی توبہ کا راستہ لے کر آیا

نبی الرحمۃ / المرحمۃ رحمت والا نبی رحمت اور آپس میں رحم دلی لے کر آیا

نبی الملاحم جنگوں والا نبی جہاد کے ساتھ مبعوث ہوا


---


💎 اختتامیہ


امام نووی (رح) نے اس مختصر باب میں نبی کریم ﷺ کے ان ناموں کی تشریح کی ہے جو پچھلی امتوں اور کتبِ آسمانی میں بھی معروف تھے، تاکہ آپ کی نبوت کی صداقت اور امتیازی حیثیت واضح ہو سکے۔ آپ کے دیگر نام (تقریباً ایک ہزار) بعد کے زمانے میں بھی بیان کیے گئے، جنہیں محدثین نے جمع کیا ہے۔






📜 تشریح امام ابن حجر عسقلانی (م852ھ)

 

امام بخاری نے اس باب کا آغاز ان دو قرآنی آیات سے کیا ہے:


﴿مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ﴾ (سورۃ الفتح: 29)

ترجمہ: "محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں۔"


اور دوسری آیت:


﴿مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ (سورۃ الصف: 6)

ترجمہ: "میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہے۔"


شارح (ابن حجر) کہتے ہیں: ان دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ "محمد" اور "احمد" آپ ﷺ کے مشہور ترین نام ہیں، اور ان میں "محمد" زیادہ مشہور ہے، کیونکہ یہ قرآن میں بارہا (چار مرتبہ) آیا ہے، جبکہ "احمد" صرف ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کی حکایت کے طور پر آیا ہے۔


---


📖 لغوی فرق: "محمد" اور "احمد" میں کیا فرق ہے؟


نام - باب - معنی

محمد - بابِ تفعیل (مبالغہ کے لیے) - "بہت زیادہ تعریف کیا جانے والا" – یعنی اس کی تعریف باربار کی جاتی ہے۔

احمد - بابِ تفضیل (افضلیت کے لیے) - "سب سے زیادہ حمد کرنے والا" یا "حامدیوں میں سب سے افضل"۔


ایک اور قول: آپ ﷺ کو "احمد" اس لیے کہا گیا کہ آپ تمام حامدین (اللہ کی تعریف کرنے والوں) میں سب سے افضل ہیں۔ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ قیامت کے دن "مقامِ محمود" پر آپ ﷺ کو ایسی حمد و ثنا کی توفیق دی جائے گی جو کسی کو پہلے نہیں دی گئی۔


انبیاء علیہم السلام سب "حمّاد" (اللہ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والے) ہیں، اور آپ ﷺ ان میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے ہیں۔


"محمد" کا معنی ہے "محمود" (تعریف کیا جانے والا) لیکن اس میں مبالغہ کا صیغہ ہے (یعنی بار بار تعریف کیا جانے والا)۔


---


📜 شاعری میں تذکرہ


امام بخاری نے تاریخ صغیر میں علی بن زید کے راستے سے حضرت ابوطالب کا یہ شعر نقل کیا ہے:


وَشَقَّ لَهُ مِنَ اسْمِهِ لِيُجِلَّهُ … فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُودٌ وَهَذَا مُحَمَّدُ

ترجمہ: "اور اللہ نے اپنے نام سے اس (نبی) کے لیے نام نکالا تاکہ اسے بزرگی دے، پس عرش والا (اللہ) محمود ہے اور یہ (نبی) محمد ہے۔"


اور اعشیٰ کا شعر ہے:


إِلَى الْمَاجِدِ الْقَرَمِ الْجَوَادِ الْمُحَمَّدِ

ترجمہ: "اس بزرگ، سخی اور باربار تعریف کیے جانے والے (محمد) کی طرف۔"


قاضی عیاض نے کہا: آپ ﷺ پہلے "احمد" تھے (پچھلی کتابوں میں اس نام سے مذکور تھے)، پھر "محمد" ہوئے (قرآن میں اس نام سے پکارے گئے)۔ یعنی آپ نے لوگوں کے حمد کرنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کی، اسی طرح آخرت میں بھی آپ اپنے رب کی حمد کریں گے، پھر شفاعت دی جائے گی، پھر لوگ آپ کی حمد کریں گے۔


آپ ﷺ کو خصوصی طور پر "سورۃ الحمد"، "لوائے حمد" (جھنڈا) اور "مقامِ محمود" سے نوازا گیا، اور آپ کی امت کو "حَمَّادُونَ" (اللہ کی بہت زیادہ حمد کرنے والے) کا نام دیا گیا۔


---


📜 پانچ ناموں والی حدیث (محمد بن جبیر بن مطعم سے)


حدیث کا متن:


"إِنَّ لِي خَمْسَةَ أَسْمَاءٍ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ"


ترجمہ: "میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے، اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔"


---


🧵 سند (راویوں) کی تحقیق


· راوی: محمد بن جبیر بن مطعم، اپنے والد (جبیر بن مطعم) سے۔

· امام مالک کی روایت: اکثر راویوں نے اسے "مرسل" (منقطع) روایت کیا ہے (یعنی محمد بن جبیر نے جبیر کو نہیں پایا)، لیکن معن بن عیسیٰ وغیرہ نے اسے "موصول" (متصل) روایت کیا ہے۔

· ابن حجر کا قول: یہ حدیث غیر امام مالک کی روایات میں متصل (مشہور) ہے، جیسے یونس بن یزید، عقیل، معمر، شعبہ، ابن عیینہ نے زہری سے اور انہوں نے محمد بن جبیر سے روایت کیا ہے (یہ سند مسلم، ترمذی وغیرہ میں ہے)۔


نافع بن جبیر (محمد کے بھائی) نے بھی اپنے والد (جبیر) سے روایت کیا، اور ان کی روایت میں چھٹا نام "خاتم" بھی ہے۔ (لیکن بہت سے محدثین اسے زیادہ نہیں مانتے)۔


---


📌 پانچ ناموں کی تشریح


1. الماحي (مٹانے والا)


معنی: اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ذریعے کفر کو مٹاتا ہے۔


· بعض علماء کی تشریح: اس سے مراد جزیرۃ العرب سے کفر کا خاتمہ ہے۔ (حالانکہ تمام دنیا سے تو کفر مٹا نہیں، اس لیے اسے "اکثریت" یا "شروع" پر محمول کیا گیا)۔

· ایک اور تشریح (نافع بن جبیر کی روایت): "یَمْحُو اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِ مَنِ اتَّبَعَهُ" یعنی اللہ اس کے ذریعے اس کی پیروی کرنے والوں کی برائیاں مٹا دیتا ہے (جیسا کہ اسلام قبول کرنے سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں)۔


2. الحاشر (جمع کرنے والا)


معنی: لوگ میرے قدموں / میرے اثر پر جمع کیے جائیں گے۔


· تشریح اول (خطابی): "قدم" سے مراد زمانہ ہے، یعنی یہ اس بات کی علامت ہے کہ میری نبوت کے بعد کوئی نبی نہیں اور میری شریعت کے بعد کوئی شریعت نہیں۔

· تشریح دوم: اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ لوگوں سے پہلے حشر میں اٹھائے جائیں گے۔ (جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے: "میں پہلا شخص ہوں جس سے زمین پھٹے گی")۔

· تشریح سوم (قاضی عیاض): لوگ آپ ﷺ کو قیامت کے دن دیکھتے ہوئے جمع ہوں گے، جب آپ اللہ کے لیے کھڑے ہوں گے اور تمام امتوں پر گواہ ہوں گے۔


(نافع بن جبیر کی روایت میں ہے: "وَأَنَا حَاشِرٌ بُعِثْتُ مَعَ السَّاعَةِ" یعنی میں اس گھڑی کے ساتھ بھیجا گیا ہوں، جو پہلی تشریح کو تقویت دیتا ہے۔


3. العاقب (آخری / جانشین)


معنی: "الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ" (جس کے بعد کوئی نبی نہیں)۔


لغوی: ابن الاعرابی نے کہا: "عاقب" وہ ہے جو خیر میں اپنے سے پہلے والوں کی جگہ لے۔

اس کی تائید قرآن سے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:


﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ (الاحزاب: 40)


نافع بن جبیر کی روایت میں آیا: "فَإِنَّهُ عَقِبُ الْأَنْبِيَاءِ" (یقیناً وہ انبیاء کا جانشین ہے)۔


---


📜 کیا نبی ﷺ سے پہلے کسی کا نام "محمد" تھا؟


بحث کا آغاز: بعض علماء (جیسے سہیلی) نے کہا کہ نبی ﷺ سے پہلے عربوں میں صرف تین افراد کا نام محمد تھا۔


امام قاضی عیاض نے کہا: اللہ نے ان ناموں کو اس لیے محفوظ رکھا کہ کوئی آپ ﷺ سے پہلے انہیں نہ رکھے، البتہ آپ کی ولادت کے قریب کچھ عربوں نے کاہنوں اور یہودی علماء سے سن کر کہ ایک نبی آنے والا ہے جس کا نام محمد ہے، اپنی اولاد کا نام محمد رکھ دیا (تاکہ شاید وہی نبی ہوں)۔ قاضی عیاض نے ان کی تعداد چھ بتائی۔


امام ابن حجر کا تفصیلی جواب:


"یہ حصر (تین یا چھ) غلط ہے، میں نے ان لوگوں کے نام جمع کیے جو نبی ﷺ سے پہلے 'محمد' کہلاتے تھے، تو وہ تقریباً پندرہ (15) افراد تک پہنچے۔"


ابن حجر نے ان میں سے چند مشہور افراد کے نام اور قصے تفصیل سے بیان کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:


1. محمد بن سفیان بن مجاشع (تمیمی)۔

2. محمد بن اُحَیحَة بن الجُلاح (ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سب سے پہلے تھے، اور ان کا نام تبع (یمن کے بادشاہ) کے مدینہ پر حملے کے واقعے سے منسوب ہے)۔

3. محمد بن حمران بن ربیعہ۔

4. محمد بن عدی بن ربیعہ (ان کی تفصیلی قصہ ہے کہ وہ چار تمیمیوں کے ساتھ شام گئے، ایک راہب نے انہیں بتایا کہ عنقریب تم میں سے ایک نبی مبعوث ہوگا جس کا نام محمد ہے، تو انہوں نے اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھا)۔

5. محمد بن خزاعی بن علقمہ (سلمی)۔

6. محمد بن البراء البکری۔

7. محمد بن عمرو بن مغفل۔

   اور دیگر کئی افراد (کل 15 تک)۔


نتیجہ: یہ ثابت ہے کہ نبی ﷺ سے پہلے بھی عربوں میں "محمد" نام رکھے جاتے تھے، لیکن یہ بہت کم اور خاص وجوہات (نبوت کی خوشخبری) کی بنا پر تھا۔


---


📜 دوسری حدیث: "مُذَمَّم" کا واقعہ


حدیث کا متن:


کفارِ قریش نبی ﷺ کو "مُذَمَّم" (یعنی مذمت والا / برا) کہتے تھے، جو "محمد" (تعریف والا) کا ضد ہے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا: "فعل اللہ بمذمم" (اللہ مذمم کے ساتھ وہ کرے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ مجھے اس گالی سے کیسے بچاتا ہے؟ وہ مجھے 'مذمم' کہتے ہیں حالانکہ میرا نام محمد ہے!"


ابن حجر کا فائدہ:


· اس حدیث سے امام نسائی نے یہ استنباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی ایسا لفظ بولے جو طلاق کے معنی میں نہ آتا ہو، لیکن اس کا ارادہ طلاق کا ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

  مثال: اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے "کھاؤ" اور اس کا ارادہ طلاق کا ہو، تو طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ "کھانا" کبھی طلاق کے معنی میں نہیں آ سکتا، جیسے "مذمم" کبھی "محمد" کے معنی میں نہیں آ سکتا۔

· فقہی نکتہ: اس میں تعریض (کنایہ) کے ذریعے حدِ قذف (تہمت) ثابت ہونے یا نہ ہونے پر بھی بحث ہے، لیکن ابن حجر کہتے ہیں کہ اس سے کوئی حتمی دلیل نہیں نکلتی۔


---


📖 دوسرا باب: خاتم النبیین


حدیثِ "اینٹ کا نشان" (پسندیدہ تمثیل)


متن:


"مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَرَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ وَيَقُولُونَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ"


ترجمہ: "میری اور پچھلے انبیاء کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر تعمیر کیا اور اسے مکمل اور خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کے مقام کے۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے: کاش! یہ اینٹ بھی لگا دی جاتی!"


تشریح:


· گھر = دینِ اسلام / نبوت کی عمارت۔

· اینٹ = محمد ﷺ۔

· تمام انبیاء علیہم السلام نے اس عمارت کی بنیاد رکھی اور اسے تقریباً مکمل کیا، لیکن آپ ﷺ آخری اینٹ ہیں جس نے اسے مکمل کیا۔ آپ کے آنے کے بعد نبوت مکمل ہو گئی اور آپ خاتم النبیین ہیں۔


---


📌 جامع اختتامیہ (امام ابن حجر کے اضافے)


قرآن میں آپ ﷺ کے دیگر صفاتی نام:


امام ابن حجر نے ان ناموں کی بھی نشاندہی کی جو قرآن میں آپ ﷺ کے لیے صفات کے طور پر آئے ہیں (اگرچہ بطورِ خاص نام نہیں):


شاہد، مبشر، نذیر، مبین، داعی الی اللہ، سراج منیر، مذکر، رحمت، نعمت، ہادی، امین، مزمل، مدثر، متوکل وغیرہ۔


مشہور نام:


مختار، مصطفیٰ، شفیع مشفع، صادق مصدوق وغیرہ۔


ابن دقیہ العید کا قول:


نبی ﷺ کے ناموں کی تعداد اللہ کے 99 ناموں کے برابر ہے، بلکہ اگر تلاش کریں تو 300 تک پہنچ سکتے ہیں۔


ابن العربی المالکی کا قول:


بعض صوفیاء کہتے ہیں: اللہ کے ایک ہزار (1000) نام ہیں اور نبی ﷺ کے بھی ایک ہزار (1000) نام ہیں۔


---


📌 اس باب میں صرف پانچ ناموں پر اکتفاء کیوں کیا گیا؟


امام ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث میں صرف پانچ نام اس لیے ذکر کیے گئے، حالانکہ بہت سے ہیں، کیونکہ یہ پانچ نام پچھلی کتبِ آسمانی (تورات، انجیل، زبور) اور پچھلی امتوں میں مشہور تھے، جبکہ باقی نام اس امت کے لیے مخصوص ہیں یا بعد میں ظاہر ہوئے۔


[فتح الباری شرح صحیح بخاری: جلد 6، صفحہ 554-558]

---


💎 اختتام


یہ عبارت ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسماء (ناموں) کی اہمیت، ان کے لغوی معانی، قرآنی شواہد، تاریخی پس منظر (پہلے محمد نام رکھنے والے)، فقہی استنباطات، اور خاتم النبیین ہونے کی حتمیت سے آگاہ کرتی ہے۔






📜 تشریح المناوی (متوفی: 1031ھ)


(۱) "إِنَّ لِي أَسْمَاءً" – میرے کئی نام ہیں


امام مناوی فرماتے ہیں:

نبی کریم ﷺ کا فرمان "إِنَّ لِي أَسْمَاءً" (میرے (کئی) نام ہیں) –

صحیح بخاری کی ایک روایت میں "خمسة أسماء" (پانچ نام) کا ذکر آیا ہے۔


اس کے چھ ممکنہ معانی ہیں:


1. یہ نام پچھلی آسمانی کتابوں (تورات، انجیل، زبور وغیرہ) میں موجود تھے۔

2. یہ نام پچھلی امتوں میں مشہور تھے۔

3. انہیں اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) جانتے تھے۔

4. یہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں، یعنی آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں تھا۔

5. یہ بزرگ / عظیم الشان نام ہیں۔

6. یہ تمام ناموں کی بنیاد (اُمہات) ہیں، اور باقی تمام نام انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔


---


(۲) کیا صرف پانچ نام ہی ہیں؟ (حصر کی نفی)


امام مناوی واضح فرماتے ہیں:

"اس کا مطلب حصر (محدود تعداد) نہیں ہے، کیونکہ آپ ﷺ کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔


امام نووی نے اپنی کتابوں "المجموع" اور "تهذیب الأسماء واللغات" میں ان کی تعداد ایک ہزار (۱۰۰۰) بتائی ہے، البتہ ان میں زیادہ تر صفاتی نام (نعوت) ہیں۔


امام ابن قیم کا قول:

ان ناموں کی تعداد (ایک ہزار) الفاظ کے اعتبار سے ہے، جبکہ مسمیٰ (ذات) کے اعتبار سے ایک ہی ہے، اس لیے یہ نام ایک اعتبار سے مترادف ہیں (سب ایک ہی ذات کی طرف اشارہ کرتے ہیں) اور دوسرے اعتبار سے مختلف ہیں (ہر نام کا ایک الگ مفہوم اور صفت ہے)۔


---


(۳) نامِ "محمد" (أَنَا مُحَمَّدٌ)


امام مناوی فرماتے ہیں:

آپ ﷺ نے "محمد" کو سب سے پہلے اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ تمام ناموں میں سب سے شریف ہے۔


· صرفی باب: یہ "تفعیل" کے باب سے ہے جو مبالغہ کے لیے آتا ہے۔

· معنی: "بہت زیادہ تعریف کیا جانے والا" (یعنی بار بار حمد کیا جانے والا)۔


کیا آپ ﷺ سے پہلے کسی کا نام "محمد" تھا؟


عام طور پر نہیں، البتہ جب آپ کی ولادت کا وقت قریب آیا تو بعض عربوں نے (کاہنوں اور علماء سے سن کر) اپنی اولاد کا نام "محمد" رکھا، تعداد تقریباً ۱۵ افراد تک پہنچتی ہے، اس امید پر کہ شاید وہی (مبشرہ) نبی ہوں۔


---


(۴) نامِ "احمد" (وَأَنَا أَحْمَدُ)


معنی: "تمام حامدین (اللہ کی تعریف کرنے والوں) میں سب سے زیادہ حمد کرنے والا"۔


· تمام انبیاء علیہم السلام "حمّاد" (اللہ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والے) ہیں، اور آپ ﷺ ان سب میں سب سے زیادہ حمد کرنے والے ہیں۔


امام سیوطی (مصنفِ جامع صغیر) کا قول:


آپ ﷺ کا "احمد" نام رکھا جانا بھی آپ کی خصوصیات میں سے ہے (یعنی یہ نام آپ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا)۔


---


(۵) نامِ "حاشر" (وَأَنَا الْحَاشِرُ)


معنی: "ذُو الْحَشْرِ" یعنی جمع کرنے والا۔


حدیث کا جملہ:


"الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي" (جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے)۔


لغوی بحث (قدمی):


· راویوں نے اسے دو طریقوں سے پڑھا ہے:

  1. تخفیف یاء (قَدَمِي) – میرے ایک قدم پر۔

  2. تشدید یاء (قَدَمَيَّ) – میرے دونوں قدموں پر۔


معنی کی تشریح:


قول تشریح

امام طیبی اس کا مطلب ہے "میری نبوت کے اثر/زمانے پر" ، یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ نسبت مجازی ہے، کیونکہ آپ ﷺ حشر کے سبب ہیں۔

امام ابن حجر "قدم" سے مراد زمانہ ہے، یا میرے قیام کا وقت جب حشر کی علامات ظاہر ہوں گی۔ اس سے اشارہ ہے کہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی شریعت۔

ایک اور قول اس کا مطلب ہے "لوگ مجھے دیکھتے ہوئے جمع ہوں گے" جب میں اللہ کے لیے کھڑا ہوں گا۔


ایک اشکال اور اس کا جواب:


· اشکال: "حاشر" تو فاعل (جمع کرنے والا) ہے، جبکہ خود نبی ﷺ بھی محشور (جمع کیے جانے والے) ہیں، پھر یہ کیسے؟

· جواب: فعل کو فاعل کی طرف نسبت کرنا مجازی اضافت ہے۔ چونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی امت اور کوئی نبی نہیں، اس لیے حشر کو آپ کی طرف نسبت کر دیا گیا، کیونکہ حشر آپ کے فوراً بعد واقع ہوگا۔


---


(۶) نامِ "ماحی" (وَأَنَا الْمَاحِي)


جملہ:

"الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ" (جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے)۔


تشریح:


· پہلا معنی (ظاہری/جغرافیائی): اللہ آپ ﷺ کے ذریعے جزیرۃ العرب سے کفر کے اہل کو مٹا دے گا، یا بیشتر ممالک سے۔

· دوسرا معنی (عام/حجت): اس سے مراد حجت اور غلبہ کے ذریعے کفر کا عام مٹ جانا ہے، جیسا کہ وعدہ ہے: "لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ" (تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے)۔


---


(۷) نامِ "عاقب" (وَأَنَا الْعَاقِبُ)


حدیث میں اضافہ:

· صحیح مسلم کی روایت میں ہے: "الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي أَحْمَدُ" (جس کے بعد کوئی احمد (محمد) نہیں)۔

· سنن ترمذی کی روایت میں ہے: "الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ" (جس کے بعد کوئی نبی نہیں)۔


لغوی معنی:

"عاقب" وہ ہے جو تمام انبیاء کے بعد (عقب میں) آیا ہے۔


---


(۸) کیا ایک سے زیادہ نام رکھنا جائز ہے؟

امام مناوی فرماتے ہیں:

اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایک شخص کے ایک سے زیادہ نام رکھنا جائز ہے۔


امام ابن قیم کا قول:

اگرچہ یہ جائز ہے، لیکن (عام لوگوں کے لیے) ایک ہی نام رکھنا بہتر ہے، کیونکہ نام کا اصل مقصد تعریف اور تمیز ہے، اور ایک نام اس کے لیے کافی ہے۔

البتہ نبی کریم ﷺ کے ناموں کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ آپ کے نام صفات (نعوت) ہیں جو کمالِ مدح پر دلالت کرتے ہیں، اس لیے ان کی کثرت مسمیٰ (ذات) کی عظمت کی وجہ سے ہے، نہ کہ محض تعریف کے لیے۔

---

📌 تتمہ (امام سیوطی کی کتاب "الخصائص" سے)


امام سیوطی (مصنفِ جامع صغیر) نے اپنی کتاب "الخصائص" (نبی ﷺ کی خصوصیات) میں فرمایا ہے:

نبی کریم ﷺ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ:

1. آپ کے ایک ہزار (۱۰۰۰) نام ہیں۔

2. آپ کا نام اللہ تعالیٰ کے نام سے مشتق ہے۔

3. آپ کو اللہ کے ناموں میں سے تقریباً ستر (۷۰) ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔

4. آپ کو "احمد" کہا گیا، حالانکہ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں تھا۔

---

📚 حدیث کے راوی اور مآخذ

حدیث کا متن نبی کریم ﷺ کا فرمان (متفق علیہ)

راوی جبیر بن مطعم (رضی اللہ عنہ)

امام مالک موطأ میں روایت کیا

امام مسلم فضائل کے باب میں

امام ترمذی مناقب کے باب میں

امام نسائی تفسیر کے باب میں

نام "مُطْعِم" کی ضبط میم (م) کے پیش کے ساتھ، طاء (ط) ساکن، عین (ع) زیر کے ساتھ (مُطْعِم)


[فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: حدیث نمبر: 2437 (جلد 2، صفحہ 518)]

---


💎 اختتامیہ

امام مناوی کی یہ شرح ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسماء کی کثرت، ان کے معانی، لغوی و صرفی نکات، اور حصر (پانچ) کی حقیقت (کہ یہ صرف مشہور ترین یا اُمہات ہیں، تمام نہیں) سے آگاہ کرتی ہے۔ نیز یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کا ہر نام آپ کی کسی نہ کسی صفِ کمال کی طرف اشارہ ہے۔







📜 تشریح الصنعانی(م1182ھ):


(۱) تعارف: "میرے کئی نام ہیں"

شارح (صنعانی) فرماتے ہیں:

نبی کریم ﷺ کا فرمان "إِنَّ لِي أَسْمَاءً" (یقیناً میرے (کئی) نام ہیں) – یعنی ایسے الفاظ جو مدلول (معنی) میں تو ایک ہیں (یعنی سب کا تعلق ذاتِ اقدس سے ہے) لیکن اشتقاق (بنیاد اور صرفی ساخت) میں مختلف ہیں۔

---

(۲) نامِ "محمد"

آپ ﷺ نے "محمد" کو سب سے پہلے ذکر فرمایا، کیونکہ یہ ان کے تمام ناموں میں سب سے زیادہ شریف اور مشہور ہے۔

· معنی: "بہت زیادہ تعریف کیا جانے والا" (یعنی ہر ایک (دنیا و آخرت میں) آپ کی تعریف کرتا ہے)۔

---

(۳) نامِ "احمد"

"احمد" کے معنی ہیں: "اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا کرنے والا"۔

· فرق: پہلا نام (محمد) دوسرے (احمد) سے زیادہ بلیغ (پُر معنی) ہے، کیونکہ ”محمد“ وہ ہے جس کی (لوگ) تعریف کرتے ہیں، اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود ”احمد“ (اللہ کا بہت زیادہ حامد) نہ بن جائے۔

---

(۴) نامِ "حاشر" (جمع کرنے والا)

"أَنَا الْحَاشِرُ" (میں حاشر ہوں) یعنی "میں وہ ہوں جس کے قدموں/اثر پر لوگ (قیمت کے دن) جمع ہوں گے"۔

· لفظ "قدمی" کی تشریح: اس کی دو روایات ہیں (تخفیف یا تشدید کے ساتھ)۔

· امام طیبی کا قول: اس کا مطلب یہ ہے کہ میری نبوت کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا (یعنی میں آخری نبی ہوں)، اور محشر میرے وجودِ اقدس کے سبب سے ہو گا۔

· مجازی نسبت: یہ نسبت (حشر کو اپنی طرف منسوب کرنا) مجازی ہے، کیونکہ آپ ﷺ حشر کے سبب ہیں؛ ورنہ حشر کا حقیقی خالق اللہ ہے۔

· ایک اور احتمال: (بعض علماء کے نزدیک) "قدم" سے مراد زمانہ (وقت) ہے، یعنی میرے قیام کے وقت محشر کی علامات ظاہر ہوں گی، اور اس سے یہ بھی اشارہ ہے کہ میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی نئی شریعت ہو گی۔

---

(۵) نامِ "ماحی" (مٹانے والا)

"أَنَا الْمَاحِي" (میں ماحی ہوں) یعنی "اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹاتا ہے"۔

· تشریح: یعنی اللہ میرے وسیلے سے جزیرۃ العرب اور بیشتر ممالک سے کفر کا نام و نشان مٹا دے گا، یہاں تک کہ اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے گا۔

---

(۶) نامِ "عاقب" (آخر میں آنے والا)

"أَنَا الْعَاقِبُ" (میں عاقب ہوں) یعنی "میرے بعد کوئی نبی نہیں" (میں تمام انبیاء کا خاتمہ ہوں)۔

---

(۷) ایک اہم ضابطہ: "کیا ایک شخص کے ایک سے زیادہ نام رکھنا جائز ہے؟"

اس حدیث سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ ایک شخص کے ایک سے زیادہ نام رکھنا جائز ہے۔

لیکن امام ابن قیم (رح) کا قول ہے:

"اگرچہ یہ جائز ہے، لیکن (عام لوگوں کے لیے) ایک ہی نام رکھنا بہتر ہے، کیونکہ نام کا مقصد صرف تعریف اور تمیز ہے، اور ایک نام اس کے لیے کافی ہے۔

البتہ نبی کریم ﷺ کے ناموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے، کیونکہ آپ کے نام صفات (نعوت) ہیں جو کمالِ مدح پر دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا آپ کے ناموں کی کثرت صرف تعریف کے لیے نہیں، بلکہ نام کی حقیقت (مسمیٰ) کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔"

---


📌 تتمہ (صنعانی کا اضافہ)


امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "الخصائص" (نبی ﷺ کی خصوصیات) میں فرمایا ہے:


نبی کریم ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کے (تقریباً) ایک ہزار (۱۰۰۰) نام ہیں، اور آپ کا نام اللہ تعالیٰ کے نام سے مشتق ہے، اور آپ کو اللہ کے تقریباً ۷۰ ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔


[التنویر شرح الجامع الصغیر (امام الصنعانی) حدیث نمبر 2421]

---

💎 خلاصہ (اہم نکات)

1. نبی کریم ﷺ کے پانچ مشہور نام ہیں: محمد، احمد، حاشر، ماحی، عاقب۔

2. محمد (تعریف کیا جانے والا) اور احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا) دونوں حمد کے مشتق ہیں، البتہ پہلا دوسرے سے زیادہ جامع ہے۔

3. حاشر سے مراد آپ ﷺ کا آخری نبی ہونا اور حشر کا سبب ہونا ہے۔

4. ماحی سے مراد کفر کا خاتمہ ہے۔

5. عاقب سے مراد آخری نبی ہونا ہے۔

6. اگرچہ کسی کے ایک سے زیادہ نام رکھنا جائز ہے، لیکن نبی ﷺ کے ناموں کی کثرت ان کی شان اور کمالات کی وجہ سے ہے، نہ کہ محض تعریف کے لیے۔





۔۔۔





بڑی حکمت والے قرآن سے شاھدی:
القرآن:
اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب الله نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ : اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے، اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ الله نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ : کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا تھا : ہم اقرار کرتے ہیں۔(1) الله نے کہا : تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔(2)

[سورۃ آل عمران، آیت نمبر 81]

وضاحت:
الله تعالیٰ نے ایک عہد تو تمام بنی آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا کہ وہ الله کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت نمبر 177 میں آتا ہے اور دوسرا عہد انبیاء سے لیا گیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ عہد بھی عالم ارواح میں ہی لیا گیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں کوئی ایسا نبی آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان بھی لانا ہوگا اور اس کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یہ حکم دینے کے بعد الله تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس حکم کی بجا آوری کی توثیق بھی کرائی۔ بیشمار انبیاء تو ایسے ہیں جو ہم عصر تھے۔ جسے حضرت ابراہیم اور لوط، حضرت موسیٰ اور ہارون، حضرت عیسیٰ اور یحییٰ وغیرہ وغیرہ اور یہ سب دعوت الی الله کے کام میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار تھے۔ پھر جو عہد انبیاء سے لیا گیا تھا اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہر نبی کی امت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہود پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ عیسیٰ اور دوسرے انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے کام میں مددگار ثابت ہوتے۔ اسی طرح یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ (جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیرو کار سمجھتے تھے) سب پر یہی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ رسول الله ﷺ پر ایمان لاتے اور ان کے معاون و مددگار ثابت ہوتے۔ پھر یہ بات صرف اس عہد تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ہر نبی کی کتاب میں بعد میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی جاتی رہی اور اس نبی اور اس کی امت سے اسی قسم کا عہد لیا جاتا رہا۔
 واضح رہے کہ رسول الله ﷺ سے پہلے کے انبیاء سے یہ عہد لیا گیا تھا اور ان کی کتابوں میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی گئی تھی۔ لیکن آپ سے اس قسم کا عہد نہیں لیا گیا کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ نہ ہی قرآن و حدیث میں کسی آنے والے نبی کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور بیشمار احادیث صحیحہ سے یہ بات واضح ہے کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ضرور نازل ہوں گے۔ مگر اس وقت ان کی حیثیت آپ کے متبع کی ہوگی یعنی وہ شریعت محمدیہ کی ہی اتباع کریں گے۔


(1) یعنی کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ بندگی صرف ایک خدا کی سکھائی جاتی ہے، البتہ انبیاء کا حق یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں، انکا کہا مانیں، اور ہر قسم کی مدد کریں۔ عام لوگوں کا تو کیا ذکر ہے، حق تعالیٰ نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے (جو یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی اجمالاً یا تفصیلاً تصدیق کرتا ہوا آئے گا) تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلے کی صداقت پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔ اگر اس کا زمانہ پائے تو بذات خود بھی اور نہ پائے تو اپنی امت کو پوری طرح ہدایت و تاکید کر جائے کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لا کر اس کی اعانت و نصرت کرنا، کہ یہ وصیت کر جانا بھی اس کی مدد کرنے میں داخل ہے۔ اس عام قاعدہ سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ خاتم الانبیاء محمد رسول الله ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا عہد بلا استثناء تمام انبیائے سابقین سے لیا گیا ہوگا اور انہوں نے اپنی اپنی امتّوں سے یہ ہی قول وقرار لئے ہوں گے۔ کیونکہ ایک آپ ﷺ ہی کی مخزن الکمالات ہستی تھی جو عالم غیب میں سب سے پہلے اور عالم شہادت میں سب انبیاء کے بعد جلوہ افروز ہونے والی تھی، اور جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ تھا، اور آپ ہی کا وجود باوجود تمام انبیائے سابقین اور کتب سماویہ کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا تھا، چناچہ حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ اس قسم کا عہد انبیاء سے لیا گیا۔ اور خود آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آج موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انکو میری اتباع کے بدون چارہ نہ ہوتا۔ اور فرمایا کہ عیسیٰ ؑ جب نازل ہوں گے تو کتاب الله (قرآن کریم) اور تمہارے نبی کی سنت پر فیصلے کریں گے۔ محشر میں شفاعت کبریٰ کے لئے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شب معراج میں بیت المقدس کے اندر تمام انبیاء کی امامت کرانا حضور ﷺ کی اسی سیادت عامہ اور امامت عظمیٰ کے آثار میں سے ہے۔

(2) یہ الفاظ محض عہد کی تاکید و اہتمام کے لئے فرمائے کیونکہ جس عہد نامہ پر اللہ تعالیٰ اور پیغمبروں کی گواہی ہو اس سے زیادہ پکی دستاویز کہاں ہوسکتی ہے۔


آخری پیغمبر ﷺ کو جانئے» ان کی خصوصی فضائل سے۔

خصائل-فضائل مصطفیٰ ﷺ:
1۔ جوامع الکلم (کم الفاظ میں گہرے معانی بیان کرنا)

📖 القرآن:
"(اے مکہ کے باشندو) یہ تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب(محمد) نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں، اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے۔ یہ تو خالص وحِی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔"
[سورہ النجم:3-4]
وضاحت:
یہ آیت اس بات کی بنیاد ہے کہ آپ ﷺ کا ہر قول اللہ کی وحی(علم وحکم) پر مبنی ہے۔ "جوامع الکلم" سے مراد کم الفاظ میں وسیع اور گہرے معانی کا اظہار ہے، جو آپ ﷺ کو عطا ہونے والی بلاغت اور فصاحت کی اعلیٰ ترین صفت ہے۔


---

2. رعب کے ساتھ نصرت

القرآن:
"ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرایا جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔"
[سورہ آل عمران:151]
وضاحت:
یہ آیت اس اصول کی وضاحت کرتی ہے جس کی بنا پر آپ ﷺ کو "رعب" کے ذریعے مدد دی گئی، حالانکہ "ایک مہینے کی مسافت" کا ذکر حدیث میں ہے۔

---

3. غنائم کی حلت

القرآن:
"پس جو کچھ تم نے غنیمت میں حاصل کیا ہے اسے پاکیزہ اور حلال مال کے طور پر کھاؤ۔۔۔"
[سورہ الانفال:69]
وضاحت:
یہ آیت مسلمانوں کو غنیمت کے مال کو حلال قرار دیتی ہے۔ احادیث میں صراحت ہے کہ یہ اجازت امتِ محمدیہ کے لیے مخصوص ہے، پچھلی امتوں کے لیے یہ حلال نہ تھی۔

---

4. زمین کا مسجد(سجدہ گاہ) اور پاکیزہ ہونا۔

القرآن:
"اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔"
[سورہ الجن:18]
"...پس تم اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لو، اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی کی طرف کرو..."
[سورہ البقرہ:144]
وضاحت:
یہ آیات اس بات کی بنیاد فراہم کرتی ہیں کہ زمین کے مختلف حصوں میں عبادت کی گنجائش ہے۔ تاہم، زمین کے مسجد ہونے کا یہ خاص فضیلت (کہ پوری زمین جائے نماز ہے اور اس کی مٹی طہور ہے) براہِ راست احادیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے، اور قرآن کی مذکورہ آیات اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

زمین کا طھور(پاکی کرنے والی) ہونا۔
القرآن:
...اور جنابت کی حالت میں بھی جب تک غسل نہ کرلو، (نماز جائز نہیں) الا یہ کہ تم مسافر ہو (اور پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا (اس مٹی سے) مسح کرلو...
[سورۃ النساء:43]

---

5. آپ کو سارے لوگوں (ہر سرخ و سیاہ) اور جہانوں(زمانوں) کے لیے بھیجا گیا.

القرآن:
"اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر(خوشخبری سنانے والا) اور نذیر(ڈرانے/خبردار کرنے والا) بنا کر بھیجا ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔"
[سورہ سبأ:28]

"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
[سورہ الانبیاء:107]

"اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔"
[سورہ الاعراف:158]

وضاحت:
یہ آیات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت صرف کسی خاص قوم کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔

---

6۔ ختمِ نبوت:

📖 القرآن:
"محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔"
[سورہ الاحزاب:40]
وضاحت:
یہ آیت اس بات کی واضح اور قطعی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے یعنی آخری نبی ہیں، اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

---

7. "مانگو، عطا جائے گا":

دوسرے صحابی حضرت ابوذر کی روایت میں یہ تفصیلی بیان بھی مروی ہے کہ:

وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهْ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الْقِيَامَةِ، وَهِيَ نَائِلَةٌ، إِنْ شَاءَ اللهُ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا".

مجھ سے (اللہ تعالیٰ نے) کہا: "مانگو، تمہیں عطا کیا جائے گا۔" تو میں نے اپنی وہ (خاص) دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا (محفوظ) رکھا۔ اور وہ شفاعت ضرور پہنچے گی، اگر اللہ نے چاہا، ہر اس شخص کو جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو۔"

[صحیح ابن حبان:5136 (6462)]


القرآن:

"اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔"
[سورہ الضحی:5]
القرآن:
(اے پیغمبر) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔
[سورۃ الكوثر:1]

وضاحت:
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وسیع عطیے اور کثرتِ خیر کا وعدہ فرمایا ہے۔ اگرچہ "سل تعط" کا لفظ حدیث کا حصہ ہے، قرآن کی یہ آیات اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ کو سوال کرنے اور عطا کیے جانے کا خاص مقام حاصل ہے۔

---

8. شفاعتِ عظمیٰ (مقامِ محمود):

القرآن:
"اور رات کے کچھ حصے میں تہجد (نماز) پڑھیں، یہ آپ کے لیے اضافی (نفل) ہے، قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے۔"
[سورہ الاسراء:79]
وضاحت:
مفسرین کے مطابق "مقامِ محمود" سے مراد وہ عظیم شفاعت ہے جو آپ ﷺ کو قیامت کے روز عطا ہوگی، جب تمام مخلوق آپ کی شفاعت کے محتاج ہوں گی۔
· سورہ الزمر (39:3) اور سورہ طہ (20:109) میں شفاعت کے لیے "اذنِ الٰہی" کو شرط قرار دیا گیا ہے، جس سے ثابت ہے کہ شفاعت کا وجود اور اس کا عطا ہونا دونوں اللہ کی مشیت سے ہیں۔

القرآن:
"اللہ ہرگز نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے سوا(گناہ) جس کیلئے چاہے گا بخش دے گا۔"
(سورہ النساء: 48)
---



وضاحت:

یہ تمام نام سابقہ کتابوں میں موجود تھے اور پچھلی امتوں کے اہلِ علم کے پاس محفوظ تھے۔


(1) آپ ﷺ مُحَمَّدٌ(یعنی بہت تعریف کے قابل) ہیں، کیونکہ انسانوں اور پیغمبروں میں آپ ﷺ کی تعریف سب سے زیادہ کی گئی ہے۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن صحابہ کرام سے) فرمایا:
«ألَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا، وَأنا مُحمَّدٌ».
ترجمہ:
تمہیں اس پر تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قریش مکہ کی گالیوں اور لعنتوں سے کس طرح محفوظ رکھا ہے؟ وہ مُذَمَّم(یعنی مذمت کیا گیا) کو گالیاں دیتے ہیں اور مُذَمَّم پر لعنت کرتے ہیں جب کہ میں "مُحَمَّدٌ"(یعنی بہت تعریف کیا گیا) ہوں۔
[صحيح البخاري:3533، سنن النسائي:3468]
تشریح :
"مُذَمَّم" معنی کے اعتبار سے "مُحَمَّدٌ" کی ضد ہے، یعنی وہ شخص جس کی مذمت وبرائی کی گئی ہویہ لفظ قریش مکہ کے بغض وعناد کا مظہر تھا ، وہ بدبخت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو " محمد " کہنے کے بجائے مذمم کہا کرتے تھے اور یہی نام لے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بد زبانی کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعن وطعن کیا کرتے تھے ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلی دینے کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ قریش مکہ جو بدزبانی کرتے ہیں اور سب وشتم کے تیر پھینکتے ہیں ، ان سے آزردہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ بدبخت تو مذمم کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور مذمم پر لعن طعن کرتے ، اور میں مذمم نہیں ہوں بلکہ محمد ہوں ، یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ اس نے میرے نام کو جو میری ذات کا مظہر ہے ، ان حاسدوں کی گالیوں اور لعن طعن کا نشانہ بننے سے بچا رکھا ہے۔


صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی رحمتیں ہوں الله کی آپ پر اور سلامتیاں۔
۔



تعریف اور مذمت:

"کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں قریش کی گالیوں اور لعنت کو کیسے پھیر دیتا ہے؟ وہ مُذَمَّم(قابلِ مذمت) کو گالی دیتے ہیں اور مُذَمَّم(قابلِ مذمت) پر لعنت بھیجتے ہیں، حالانکہ میں مُحَمَّد(قابلِ تعریف) ہوں۔"

📚 حوالہ جات

[صحیح البخاری:3533، سنن النسائي:3438، مسند الحميدي:1170، مسند أحمد:7331-8825-8478، صحیح إبن حبان:7243(6503)، السنن الكبرى للبيهقي:17228، معجم شيوخ إبن الأعرابي:1065]
---

🔑 کلیدی الفاظ کی معانی:

1· مُحَمَّد (محمد)
"بہت زیادہ تعریف کیا جانے والا، صفاتِ حمیدہ کا حامل"۔ یہ نبی کریم ﷺ کا اسمِ گرامی ہے۔

2· مُذَمَّم (مذمم):
"مذمت کیا جانے والا، برا بھلا کہا جانے والا، قابلِ مذمت"۔ یہ لفظ "ذم" (برائی، مذمت) سے بنا ہے۔

3· یَصْرِفُ:
"پھیر دینا، دور کر دینا، ہٹا دینا"۔

---

📖 لغوی اور اصطلاحی تعریف


اسم (Ism): 

لغوی معنی ہے "نشانی، علامت یا پہچان"۔ اصطلاحِ شریعت اور زبان میں اسم وہ لفظ ہے جو کسی ذات، شخص، چیز یا معنی کی پہچان کے لیے رکھا جاتا ہے۔ یعنی وہ لیبل یا عنوان جس سے ہم کسی کو پکارتے یا پہچانتے ہیں (جیسے: محمد، زید، پتھر، درخت)۔


مسمّٰی (Musamma):

یہ لفظ "س م و" سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے "جس پر اسم رکھا گیا ہو"، یعنی وہ اصل ذات، حقیقت، یا وجود جس کی طرف اسم اشارہ کرتا ہے۔

---

🔗 اسم اور مسمّٰی کا آپس میں تعلق

اسم (نام/لیبل) مسمّٰی (نام رکھنے والی ذات)

ایک لفظ ہے (سمعی یا بصری علامت)۔ ایک حقیقت ہے (باہر موجود ذات)۔

تبدیل ہو سکتا ہے (جیسے کوئی اپنا نام بدل لے)۔ تبدیل نہیں ہوتا (ذات وہی رہتی ہے)۔

وہ ذریعۂ پہچان ہے۔ وہ پہچانی جانے والی چیز ہے۔


مثال: 

"محمد" ایک اسم ہے، لیکن خود حضرت محمد ﷺ کی ذات، آپ کا وجود، آپ کے اخلاق اور آپ کی حقیقت مسمّٰی ہے۔

---

🧠 مذمت کے تناظر میں اہم عقلی نکتہ (اسم و مسمّٰی کا فرق)

مذکورہ بالا حدیثِ نبوی (مُذَمَّم کا واقعہ) اور اسماءِ مبارکہ کے سلسلے میں اس کا گہرا تعلق ہے:

1. مشرکینِ قریش نے آپ ﷺ کو "مُذَمَّم" (مذموم) کا اسم (نام) دیا۔

2. اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو "محمد" اور "احمد" کا اسم عطا فرمایا۔

یہاں "اسم اور مسمّٰی کا فرق" ہمیں سکھاتا ہے کہ:

نام (اسم) چاہے جتنا بھی برا یا اچھا رکھ لیا جائے، مسمّٰی (ذات اور حقیقت) وہی رہتی ہے۔ مشرکین نے آپ کو "مذمم" کہا، لیکن آپ کی ذات (مسمّٰی) "محمد" (محمود و ممدوح) تھی اور ہمیشہ رہی۔ نام کی تبدیلی سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

---

🏛️ علمِ کلام اور فقہ میں ایک اہم بحث

اسلامی تاریخ میں علماء کے درمیان ایک مشہور بحث رہی ہے:

"کیا اسم، مسمّٰی کے عین (یعنی خود وہی) ہے، یا غیر (یعنی اس سے الگ چیز) ہے؟"

· اہلِ سنت والجماعت کا مسلک: اسم اور مسمّٰی الگ (غیر) ہیں۔ یعنی "محمد" کا لفظ (اسم) خود نبی ﷺ (مسمّٰی) نہیں ہے، بلکہ ایک صفت اور پہچان ہے۔ اسی طرح، اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ (جیسے الرحمن) خود اللہ کی ذات نہیں، بلکہ اس کی صفات کی طرف اشارہ کرنے والے نام ہیں۔

· اس کا فائدہ: اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسماء کا مقصد حقیقت تک پہنچنا ہے، نہ کہ صرف ناموں میں الجھ کر رہ جانا۔

---

📌 خلاصہ

اسم کیا ہے؟ وہ لفظ/علامت جو کسی ذات کی پہچان ہے (جیسے: محمد، علی، احمد)۔

مسمّٰی کیا ہے؟ وہ اصل ذات/حقیقت جس پر یہ اسم رکھا گیا ہو (جیسے: خود نبی ﷺ کی شخصیت اور وجود)۔

اس تناظر میں سبق: مشرکین نے اسم (مُذَمَّم) بدل دیا، مگر مسمّٰی (آپ کی محمود صفات) نہ بدل سکے۔ لہٰذا ہمیں اسماء کے جال میں پھنسنا نہیں چاہیے، بلکہ مسمّٰی (حقیقت) کو دیکھنا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو "محمد" اور "احمد" جیسے عظیم اسماء سے نوازا، تاکہ ان اسماء کے ذریعے آپ کی حقیقی (مسمّٰی) صفاتِ حمیدہ ظاہر ہوں۔

---

🔍 تجزیہ وتوجیہ

1. "مُذَمَّم" کہنے کی وجوہات

مشرکینِ قریش نبی کریم ﷺ کے نام "محمد" (محمود و ممدوح) کے برعکس "مُذَمَّم" (مذموم و ملعون) کہہ کر آپ کو ایذا دیتے تھے۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے کہا: "مُذَمَّم ہمارا باپ ہے، ہم نے اس کا دین چھوڑ دیا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی۔"

2. "مُذَمَّم" کا لفظی تجزیہ

· مُحَمَّد: "حمد" سے ماخوذ، صفاتِ حمیدہ کا حامل۔
· مُذَمَّم: "ذم" سے ماخوذ، مذمت کا مستحق۔
  مشرکین اس الٹے نام سے آپ کی شخصیت کو نیچا دکھانا چاہتے تھے۔

3. "صرف" کا معنیٰ اور اللہ کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس طرح محفوظ رکھا کہ مشرکین کا شتم و لعن نام "مُذَمَّم" کو پہنچتا، نہ کہ خود آپ ﷺ کو کیونکہ آپ حقیقتاً عظیم اخلاق وصفات کا بہترین نمونہ ہیں، لہٰذا اس کا شتم و لعن آپ ﷺ تک نہ پہنچ سکا۔

---

🧠  منطقی وضاحت:

1. اسم اور مسمیٰ میں فرق

شتم اور لعنت اگر نام "مُذَمَّم" کو پہنچتی ہے تو وہ خود نبی کریم ﷺ تک نہیں پہنچ سکتی، کیونکہ آپ کا اسمِ گرامی "مُحَمَّد" ہے۔

2. نبی کریم ﷺ کا تعجبی انداز

· "أَلاَ تَعْجَبُونَ": آپ ﷺ نے اسے تعجب کا مقام قرار دیا کہ اللہ کی حکمت کیسی عجیب ہے۔
· اس کا مقصد: آپ ﷺ اپنی نجات کا اظہار شکر کے طور پر فرما رہے ہیں۔

3. اللہ کی خاص رحمت اور حفاظت

یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ آپ ﷺ کو مشرکین کی گالیوں اور لعنت سے بچایا۔

---

📌 اسباق و فوائد

1. اللہ کی حفاظت:

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی ہر طرح حفاظت فرماتا ہے۔

2. صبر و تحمل:

نبی کریم ﷺ نے مشرکین کے اذیتوں پر صبر فرمایا اور بدلہ نہیں لیا۔

3. ناموں کی اہمیت:

اسلامی تعلیمات اچھے نام رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں، "محمد" صفاتِ حمیدہ کا مظہر ہے۔

4. اعلیٰ اخلاق کا نمونہ:

آپ ﷺ نے جوابی شتم نہیں کیا، بلکہ اللہ کی نعمت بیان فرمائی۔

5. نبوّت کی دلیل:

یہ واقعہ آپ ﷺ کی نبوّت کی ایک نشانی ہے کہ اللہ نے آپ کو مشرکین کے شر سے بچایا۔




شیاطین کی ملمع سازی
القرآن:
"اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین بنا دیے، جو ایک دوسرے کو دھوکے اور فریب کی باتیں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں۔"
[سورہ الانعام:112]
وضاحت:
مشرکینِ قریش کا آپ ﷺ کو "مُذَمَّم" کہنا بھی شیطانِ انسی کا ایک فریب اور وسوسہ تھا، تاکہ لوگ آپ کی ذاتِ گرامی سے بدگمان ہوں۔

---
اس آیت کریمہ "وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا..." (سورہ الانعام: ۱۱۲) کو جب مذکورہ بالا تناظر (مشرکین کا نبی ﷺ کو "مُذَمَّم" کہہ کر پکارنا) میں پڑھا جائے تو ہمیں درج ذیل قیمتی اسباق ملتے ہیں:
---

۱. انبیاء علیہم السلام کے لیے دشمنوں کا ہونا اللہ کا طے شدہ قانون ہے (سُنَّتِ الٰہی)

اس آیت سے ہمیں سب سے پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ کسی نبی کو دشمنوں کا سامنا کرنا کوئی نیا یا عجیب معاملہ نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک طے شدہ قانون (سنت) ہے جو ہر نبی کے ساتھ رہا ہے۔ حضرت نوح، ہود، صالح، شعیب، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سبھی کو اپنی قوم کے دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا۔
🔹 اس تناظر میں سبق: قریش کا آپ ﷺ کو "مُذَمَّم" کہنا کوئی انوکھی بات نہ تھی، بلکہ یہ دشمنوں کی پرانی عادت تھی۔ اس سے آپ ﷺ اور آپ کی امت کو تسلی ملتی ہے کہ دشمنوں کا مخالفت کرنا نبوت کا ایک حصہ ہے۔

---

۲. دشمن کا اصل ہتھیار: "زُخْرُفُ الْقَوْلِ" (چکنی چپڑی اور دھوکے باز باتیں)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ شیاطین (انسان و جن) ایک دوسرے کو "زُخْرُفَ الْقَوْلِ" (بھڑکیلی، سنوری ہوئی اور دھوکے بھری باتیں) ڈالتے ہیں۔
🔹 اس تناظر میں سبق: مشرکینِ قریش نے "محمد" (محمود و ممدوح) کو "مُذَمَّم" (مذموم و ملعون) کا لقب دے کر دراصل لفظی تحریف اور معنی کی مسخ شدگی کا جادو چلایا۔ یہ ایک خوبصورت لفظی چال تھی تاکہ لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی ذات کے بارے میں غلط فہمی پیدا کی جا سکے۔ ہمیں سبق ملتا ہے کہ باطل کا سب سے بڑا ہتھیار الفاظ کو ان کے اصل معنی سے پھیرنا ہے۔

---

۳. انسانوں کے شیاطین جنات سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں

آیت میں "شَیَاطِینَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ" (انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین) کا ذکر ہے، جس میں انسانوں کو جنات سے پہلے ذکر کیا گیا۔
🔹 اس تناظر میں سبق: وہ مشرکین جو آپ ﷺ کو برے ناموں سے پکار رہے تھے، وہ دراصل انسانی شیاطین تھے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ بدترین دشمن وہ ہیں جو انسانوں کی صورت میں ہوں اور معاشرے میں گھل مل کر فساد پھیلائیں۔

---

۴. دشمن ایک دوسرے کو "وَہْم" اور "دھوکا" دیتے ہیں (غُرُورًا)

آیت کے آخر میں لفظ "غُرُورًا" (دھوکا، فریب) ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ سراسر فریب ہوتی ہیں۔
🔹 اس تناظر میں سبق: مشرکین جانتے تھے کہ آپ ﷺ دراصل "محمد" (قابلِ تعریف) ہیں، پھر بھی انہوں نے "مُذَمَّم" کہہ کر لوگوں کو دھوکا دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ دشمن کا کام حق کو باطل اور باطل کو حق کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان دھوکے باز باتوں سے بچیں اور حقیقت کو پہچانیں۔

---

۵. مومن کا فریضہ: ناموں اور الزامات کو نہ دیکھو، حقیقت کو دیکھو

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ معیارِ حق اسم یا لقب نہیں، بلکہ حقیقت اور کردار ہے۔
🔹 اس تناظر میں سبق: مشرکین نے آپ کا نام "مُذَمَّم" رکھ دیا، لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ آپ ﷺ "محمد" (محمود و ممدوح) تھے۔ اسی طرح، آج بھی اسلام کے دشمن اسے "دہشت گردی" یا "پسماندگی" کا نام دے سکتے ہیں، لیکن مومن کا کام ناموں سے متاثر ہوئے بغیر حق کی تلاش کرنا ہے۔

---

۶. اہلِ باطل ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں

آیت میں "یُوحِی بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ" (وہ ایک دوسرے کو وسوسے ڈالتے ہیں) سے ثابت ہوتا ہے کہ باطل والوں کی آپس میں ایک منظم سازش ہوتی ہے۔
🔹 اس تناظر میں سبق: قریش کے مشرکین نے مل کر یہ طے کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کو "مُذَمَّم" کہیں گے اور آپ کی مخالفت کریں گے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق کے دشمن ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس لیے اہلِ حق کو بھی متحد ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔

---

۷. نبی ﷺ کو تسلی اور امت کو تعلیم

آیت کے آغاز میں "وَکَذَٰلِکَ" (اور اسی طرح) ہے، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف آپ ﷺ کے ساتھ نہیں، بلکہ پچھلے تمام انبیاء کے ساتھ ہوا۔
🔹 اس تناظر میں سبق:

· نبی ﷺ کے لیے تسلی کہ آپ اکیلے نہیں ہیں، پہلے بھی انبیاء کے ساتھ ایسا ہوا۔
· امت کے لیے تعلیم کہ جب آپ حق پر ہوں تو مخالفین کی طعنہ زنی اور برے القابات سے پریشان نہ ہوں، کیونکہ یہ ان کی پرانی عادت ہے۔

---



(2)آپ ﷺ اَحْمَدٌ(یعنی سب سے زیادہ تعریف کرنے والے) ہیں، کیونکہ آپ ﷺ نے الله کی سب سے زیادہ اور بہترین تعریف بیان کی ہے اور قیامت کے دن مقامِ محمود پر ایسی تعریف بیان کرنے کی توفیق عطا کی جائے گی جو کسی اور کو نہیں عطا کی گئی۔


صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی رحمتیں ہوں الله کی ان پر اور سلامتیاں۔

(3)آپ ﷺ اَلْمَاحِيْ(یعنی مٹانے والے) ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے ذریعہ الله نے کفر کے غلبہ کو مکہ سے مٹایا۔


صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی رحمتیں ہوں الله کی ان پر اور سلامتیاں۔

(4)آپ ﷺ اَلْحَاشِرُ(یعنی اٹھانے/اکٹھا کرنے والے) ہیں، کیونکہ آپ ﷺ قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھیں گے اور پھر آپ ﷺ کے سامنے(ارد گرد) قبروں سے لوگوں کو اٹھائے/اکٹھا کئے جائیں گے۔


صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی رحمتیں ہوں الله کی ان پر اور سلامتیاں۔

(5)آپ ﷺ اَلْعَاقِبُ(یعنی اخیر میں آنے والے) ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی(پیغمبر)نہیں۔


صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی رحمتیں ہوں الله کی ان پر اور سلامتیاں۔





اللہ کے پیغمبر کے بھیجے جانے ﷺ کے مقاصد

محبت رسول اللہ ﷺ کی علامات

توہین رسالت کا موثر حل سنتوں کو زندہ کرنا
میں تو بس ایک بشر(آدمی)ہوں۔۔۔[سورۃ الکھف:110،فصلت:6]
حدیث : مجھے حد سے نہ بڑھاو جیسے ...





عَنْ أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يُسَمِّي لَنَا نَفْسَه أَسْمَاءً. فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ.

ترجمہ:

’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کئی اسماءِ گرامی بیان فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

میں محمد ہوں اور میں اَحمد ہوں اور مقفی (یعنی بعد میں آنے والا) اور حاشر (یعنی جس کی پیروی میں روزِ حشر سب لوگ جمع کیے جائیں گے) اور نبی التوبہ (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ہمہ وقت رجوع کرنے والا) اور نبی الرحمہ (یعنی رحمتیں بانٹنے والا نبی) ہوں۔‘‘

[صحیح مسلم:2355، مسند احمد:395+404+407، مصنف ابن أبي شيبة:31692+31693، المستدرک للحاکم:4185]


وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
اور (اے نبیؐ) ہم نے تمکو بھیجا ہے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر۔
[سورة الانبياء:107]


القرآن:
اور (اے پیغمبر) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو۔۔۔
[سورۃ الأنفال، آیت نمبر 33]
رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا: کیا آپ (قریش کے) مشرکین پر لعنت نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا: میں لعنت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
[صحیح مسلم:2599()]
اور پرہیزگاروں کیلئے ہدایت (بن کر)۔
[مسند احمد:22218ـ22307]
میں تو بس ایک رحمت ہوں جو رہنمائی کرتا ہے۔
[الصحيحة:490، حاکم:100]
میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو  (اے اللہ)  میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے  اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب  (امیر المؤمنین)  کو لکھ بھیجوں گا۔
[سنن ابوداؤد:4659، مسند احمد:23706]

حضرت ابن عباس نے فرمایا: جو ایمان لائے گا اس پر دنیا اور آخرت میں رحم کیا جائے گا، اور جو ایمان نہیں لائے گا کہ وہ اس عذاب سے بچ جائے گا جو موجودہ دنیا میں قوموں پر ہوتا تھا۔ یعنی دھنسنے، چہرے بگڑنے اور پتھروں کی بارش سے، یہی اس دنیا میں رحمت ہے۔
[المعجم الكبير للطبراني:12358، دلائل النبوة للبيهقي:5/486]







عَنْ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَن يُرِدِ اللهُ بِه خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي.

ترجمہ:

’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے، اور بے شک میں ہی قاسم (یعنی تقسیم کرنے والا) ہوں جبکہ (مجھے) اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔‘‘۔

[صحیح البخاري:71+2948+6882، صحیح مسلم:1037، سنن الترمذي:2645، سنن ابن ماجه:220+221، السنن الکبری للنسائي:5839، موطأ مالک:1599، مسند احمد:793، سنن الدارمي:224]




عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ، وَاللهُ يَهْدِي، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي.

ترجمہ:

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں ہی مبلغ (اللہ تعالیٰ کے اَحکام بندوں تک پہنچانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرماتا ہے اور بے شک میں ہی قاسم یعنی تقسیم کرنے والا ہوں اور (مجھے) اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔

[التاريخ الکبير، للبخاري:44، المعجم الکبير للطبراني:914+915، مسند الشاميين للطبراني:1022، مسند الفردوس،للديلمي:100]




عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُـلَامٌ. فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَه قَوْمُه: لَا نَدَعُکَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَانْطَلَقَ بِابْنِه حَامِلَه عَلٰی ظَهْرِه فَأَتٰی بِهِ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، وُلِدَ لِي غُـلَامٌ. فَسَمَّيْتُه مُحَمَّدًا. فَقَالَ لِي قَوْمِي: لَا نَدَعُکَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم: تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَکْتَنُوْا بِکُنْيَتِي. فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ.

وفي رواية لهما:

فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ.


ترجمہ:

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھا، اس شخص سے اس کی قوم نے کہا: تم نے اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر رکھا ہے ہم تمہیں یہ نام نہیں رکھنے دیں گے۔ وہ شخص اپنے بچے کو اپنی پشت پر اٹھا کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا میں نے اس کا نام محمد رکھا۔ میری قوم نے کہا: ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نہیں رکھنے دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

میرا نام رکھو اور میری کنیت (ابو القاسم) نہ رکھو، میں ہی ’’قاسم‘‘ (تقسیم کرنے والا) ہوں اور میں ہی تم میں تقسیم کرتا ہوں۔‘‘

اور بخاری و مسلم کی ہی ایک روایت میں فرمایا:

’’میں ہی ’’قاسم‘‘ (تقسیم کرنے والا) بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میں ہی تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔‘‘

[صحیح البخاري:2946+2947، صحیح مسلم:2133، سنن أبو داود:4965، مسند احمد:14288، مسند ابویعلیٰ:1915، المستدرک للحاکم:7735]


No comments:

Post a Comment