Friday 13 September 2013

توہین رسالت کا موثر حل سنتوں کو زندہ کرنا



جرم توہین رسالت ۔۔۔ چند پہلو
حضور اقدس ﷺ کی ذات اقدس میں اللہ جل شانہ نے وہ تمام انسانی بلند اوصاف واخلاق جمع فرمادئیے تھے جن پر ”شرف انسانی“ کی بنیاد قائم ہے اور جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے﴿وانک لعلیٰ خلق عظیم﴾ کے بلیغ الفاظ ارشاد فرمائے ہیں، ایک مسلمان کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، حکم، آپ کی سنت و سیرت اور زندگی گزارنے کی ایک ایک ادا، اس طرح قابل تقلید اور محبوب ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی طرف اس کا اسلام اور ایمان نگاہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتا، حضورﷺ ہی اس کے لیے عقیدتوں اور محبتوں کا چشمہٴ خیر ہیں اور ان ہی کے نام سے اس کی آبرو قائم ہے، وہ بجا طور پر یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ”آبروئے ماز نام مصطفیٰ است“ … بلکہ اس کی عقیدت اور عقیدے کا معیار یہ ہوتا ہے کہ : 
        محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسرا است
        کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سر او

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضورﷺ کی سیرت، کسی خاص ملت کا نہیں بلکہ وہ سرمایہ انسانیت ہے، خود غیر مسلم مورخین نے جگہ جگہ اس کا اعتراف و اقرار کیا ہے، ان مورخین اور مصنفین کی ایک طویل فہرست ہے، یہاں صرف مشہور فرانسیسی مورخ لامارتاں کی تحریر کا ایک اقتباس درج کیا جاتا ہے، وہ اپنی مشہور کتاب ”تاریخ ترکیہ“ میں لکھتا ہے:
”دنیا میں کسی انسان نے محمد ﷺ کے نصب العین سے بلند نصب العین اپنے سامنے نہیں رکھا۔ یہ عظیم الشان نصب العین کیا تھا، خدا اور بندے کے درمیان توہمات کے پردے اٹھا دینا، خدا کو انسان کے قلب میں رچا دینا، انسان کو خدائی صفات کے رنگ میں رنگ دینا اور صد ہا باطل خداؤں کے بجائے خدا کا منزہ اور مقدس تصور پیش کرنا۔ آج تک کبھی کسی انسان نے اتنے بڑے کام کا بیڑا نہیں اٹھایا، جس کے وسائل اور ذرائع اس قدر محدود ہوں اور مقصد اتنا دشوار اور اس کی قدر سے باہر ہو… نصب العین کی بلندی، وسائل کی کمی اور پھر نتائج ایسے درخشاں حاصل کرنا اگر یہ کسی انسان کی غیر معمولی قابلیت کا معیار نہیں تو کون ہے، جو اس میدان میں محمد ﷺ کے مقابلہ میں کسی دوسرے انسان کو پیش کرنے کی جرات کرسکتا ہے؟ دنیا کے اور بڑے بڑے انسانوں نے صرف اسلحہ، قانون یا سلطنتیں پیدا کیں، وہ زیادہ سے زیادہ مادی قوتوں کی تخلیق کرسکے جو اکثر اوقات خود ان کی آنکھوں کے سامنے راکھ کا ڈھیر ہوکر رہ گئیں۔ لیکن اس انسان نے صرف جیوش و عساکر، مجالس قانون ساز، وسیع سلطنتوں، قوموں اور خاندانوں کو ہی حرکت نہیں دی بلکہ ان کروڑوں انسانوں کے قلوب کو بھی، جو اس زمانہ کی آباد دنیا کے ایک تہائی حصہ میں بستے ہیں اور اس سے بھی زیادہ اس شخصیت نے قربان گاہوں، دیوتاؤں، مذاہب ومناسک، تصورات اور معتقدات بلکہ روحوں تک کو ہلا دیا … اس نے ایسی قومیت کی بنیاد رکھی، جس نے دنیا کی مختلف نسلوں اور زبانوں کے امتزاج سے ایک امت واحدہ پیدا کردی۔ یہ لافانی امت اور باطل خداؤں سے سرکشی اور تنفر اور ایک خدائے واحد کے لیے والہانہ عشق … اس نے تمام باطل خداؤں کی عبادت گاہوں کو ڈھا دیا اور ایک تہائی دنیا میں آگ لگا دی۔ …”اس کی پاک زندگی ، اس کی توہم پرستی کے خلاف جنگ، مکی دور میں طرح طرح کے مصائب کا حیرت انگیز استقلال اور صبر سے مقابلہ کرنا، پھر اس کی ہجرت اور دعوت رشد وہدایت، خدا کی راہ میں غیر منقطع جہاد، اپنے مقصد کی کامیابی پر یقین محکم اور نامساعد حالات میں اس کی مافوق البشر جمعیت خاطر، فتح و کامرانی میں تحمل و عفو، کسی سلطنت سازی کے لیے نہیں، بلکہ خالص خدائی مقاصد کی کامیابی کے واسطے۔ اس کی شبانہ روز نمازیں، دعائیں، اپنے معبود سے راز و نیاز کی باتیں، اس کی حیات، اس کی رحلت اور بعد وفات اس کی مقبولیت، یہ تمام حقائق کس قسم کی سیرت کی گواہی دیتے ہیں۔ عظیم مفکر ، بلند پایہ خطیب، پیغامبر، مقنن، سپہ سالار، نہ صرف اجسام بلکہ اذہان و قلوب پر غلبہ پانے والا، صحیح نظریہ حیات کو علی وجہ البصیرت قائم کرنے والا، بہت سی سلطنتیں اور ان سب پر آسمانی بادشاہی کا بانی … یہ ہیں محمد ﷺ… ان تمام معیاروں کو اپنے ساتھ لاؤ، جس سے انسان کی عظمت اور بلندی کو ناپا اور پرکھا جاسکتاہے، اس کے بعد بتاؤ کہ کیا دنیا میں اس سے بزرگ تر اور کوئی انسان کبھی ہوا ہے“؟
(تاریخ ترکیہ جلد اول، صفحہ: 276)








جناب نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی مسلمان کی عقیدت و محبت، بے حقیقت جذباتی نظریہ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ یہ اس کے ایمان کا جز اور اس کے دین کا حصہ ہے، حضور ہی اس کی محبتوں کا محور اور اس کی تمناؤں کی آماج گاہ ہیں، حضورﷺ ہی کی اتباع اس کی سعی و عمل کے لیے نمونہٴ بہشت ہے اور اسی میں اس کی ابدی سعادت کا راز مضمر ہے، قرآن کریم نے جگہ جگہ اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے:
قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿التوبة٪۲۴﴾

”آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بیٹھ جانے کا تم کو اندیشہ ہو، اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، اگر تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (سزا دینے کے لئے ) اپنا حکم بھیج دے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔ (التوبة: 24)۔


ایک اور آیت میں حضور ﷺ کی اتباع کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے: 
وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ (الحشر:7)
”اور رسول جو کچھ تمہیں دے دیا کریں وہ لے لیا کرو، اور جس سے وہ تمہیں روک دیں، رک جایا کرو۔ اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت سزا دینے میں بڑا سخت ہے“۔(الحشر:7)


ایک دوسری آیت میں اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے، سرتسلیم خم کرنے کو موٴمنین کا شیوہ بتلاتے ہوئے کہا گیا: 
اِنَّمَا کَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ․(النور: 51)
”ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ (رسول) ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ (ایمان والے) کہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“۔ (النور: 51)


ایک اور جگہ وضاحت کردی ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے اور حکم آنے کے بعد کسی موٴمن مرد، عورت کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اس کے برعکس من مانی کریں، ایسی صورت میں سوائے تعمیلِ حکم کے اس کے لئے کسی اور راہ کو اختیار کرنے کی گنجائش نہیں، ارشاد ہے: 
وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا․(الاحزاب:36)
”اور کسی مومن مرد یا مومن عورت کے لئے یہ درست نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر کا حکم دے دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ صریح گمراہی میں جا پڑے گا“۔ (الاحزاب:36)


حضرت انس کی حدیث امام بخاری اور امام مسلم نے نقل فرمائی ہے، کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :
لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين․
”تم میں سے کوئی مومن نہیں بن سکتا جب تک اس کو مجھ سے اپنے ماں باپ، اولاد اور باقی سب لوگوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو“۔
[أخرجه أحمد (3/177، رقم 12837) ، وعبد بن حميد (ص 355، رقم 1175) ، والبخارى (1/14، رقم 15) ، ومسلم (1/67، رقم 44) ، والنسائى (8/115، رقم 5014) ، وابن ماجه (1/26، رقم 67) ، والدارمى (2/397، رقم 2741) ، وابن حبان (1/405، رقم 179) .]





عہد نبوی کے واقعات

حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں بعض بدبختوں کی طرف سے گستاخی کا سلسلہ کوئی نیا نہیں، خود عہد نبوی میں دربار نبوت کی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے ہیں اور آپ کی ناموس پر کٹ مرنے والی پاکیزہ ہستیوں نے ان دریدہ دہن بدبختوں کو اپنے انجام تک پہنچایا ہے : …ایک نابینا صحابی کی باندی حضور کی شان میں گستاخی کرتی تھی، وہ ایک رات اٹھے اور تلوار سے اس باندی کا پیٹ چاک کرکے اس کو قتل کردیا، حضور ﷺ کو خبر ملی تو فرمایا کہ اس کا خون ہدر اور رائیگاں ہے۔ (بلوغ المرام فی احادیث الاحکام ، ص: 123) …کعب بن اشرف مشہور یہودی رئیس تھا، حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا اور ہجویہ اشعار کہتا، حضرت محمد بن مسلمہ نے حضور ﷺ کی خواہش پر جاکر اس کا کام تمام کیا… (صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم: 4037) …مدینہ منورہ میں ابوعفک نامی ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں ہجویہ نظم لکھی، حضرت سالم بن عمیر نے حضور ﷺ کے اشارے پر جاکر اسے قتل کیا… (سیرة ابن ہشام، جلد:4، صفحہ282) … فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کردیا گیا تھا، لیکن شاتم رسول ابن خطل کو معافی نہیں دی گئی، اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑا تھا اور اسی حالت میں اسے قتل کیا گیا، ابن خطل کی دو لونڈیوں کا خون بھی حضور ﷺ نے رائیگاں قرار دیا تھا کیونکہ وہ بھی حضور ﷺ کی شان میں ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں۔ (الکامل لابن اثیر: 169/2، صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم: 4035) … عصما ء بنت مروان شاعرہ تھی اور قبیلہ بنو امیہ سے اس کا تعلق تھا، اس نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی، حضرت عمیر بن عدی نے حضور ﷺ کے کہنے پر جاکر اس کو قتل کیا۔ (سیرت ابن ہشام، جلد:4، صفحہ283)







توہین رسالت کی سزا:

عہد نبوی کے ان واقعات سے ایک بات بالکل بے غبار ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ ”توہین رسالت“ کا جرم ایسا نہیں جس سے چشم پوشی کی جائے یا اس سے درگزر کیا جائے، چنانچہ تمام ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ توہین رسالت کا مجرم واجب القتل ہے … علامہ شامیؒ لکھتے ہیں: ”حاصل یہ ہے کہ شاتم رسول کے کفر اور اس کے قتل کے درست ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یہی ائمہ اربعہ سے منقول ہے“۔ (جلد4، صفحہ:64)

فقہ مالکیہ کے مشہور عالم قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی اور تنقیص کرنے والے کے قتل پر امت کا اجماع ہوچکا ہے“۔
(کتاب الشفاء: 211/2)


فقہ حنفی کی مشہور شخصیت امام سرخسی رحمہ الله شاتم رسول کے قتل پر اجماع نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
”جس شخص نے رسول الله ﷺ پر شتم کیا، آپ کی توہین کی، دین یا شخصی اعتبار سے آپ پر عیب لگایا، آپ کی صفات میں کسی صفت پر نکتہ چینی کی تو چاہے یہ شاتم رسول مسلمان ہو یا غیر مسلم، یہودی ہو یا عیسائی یا غیر اہل کتاب، ذمی ہو یا حربی، خواہ یہ شتم واہانت عمداً ہو یا سہواً ، سنجیدگی سے ہو یا بطور مذاق، وہ دائمی طور پر کافر ہوا، اس طرح پر کہ اگر وہ توبہ بھی کرلے تو اس کی توبہ نہ عنداللہ قبول ہوگی نہ عندالناس اور شریعت مطہرہ میں متاخر و متقدم تمام مجتہدین کے نزدیک اس کی سزا اجماعاً قتل ہے“۔
(خلاصة الفتاویٰ: 286/3)


بعض مغرب زدہ مسلمان دانشوروں نے ”تنقید اور توہین“ کا شوشہ چھوڑ کر اس بات پر جو زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو تنقید اور توہین کا فرق ملحوظ رکھنا چاہیے، توہین رسالت کی تو گنجائش نہیں لیکن تنقید پر مسلمانوں کو جذبات میں نہیں آنا چاہیے، یہ درست نہیں، منصب نبوت ہر قسم کی تنقید سے بلند ہے، انبیا معصوم ہوتے ہیں اور حضورﷺ سید الانبیاء ہیں، منصب نبوت کی طرف کسی قسم کی انگشت نمائی یا تنقید ”توہین رسالت“ ہی کے زمرے میں آتی ہے، امت کے جلیل القدر علماء نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں، یہ دانشور اگر ان کتابوں کا بغور مطالعہ کرلیں تو انہیں مستشرقین کے دائرہ اثر سے نکلنے کا موقع مل جائے گا، علامہ تقی الدین سبکیؒ کی کتاب ”السیف المسلول علی من سب الرسول“ علامہ ابن الطلاع اندلسیؒ کی تالیف ”اقضیة الرسول“ مشہورحنفی عالم، علامہ زین العابدین شامیؒ کی ”تنبیہ الولاة علی احکام شاتم خیر الأنام“ اور علامہ ابن تیمیہؒ کی شہرہ آفاق تصنیف ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ … اس موضوع پر ایسی کتابیں ہیں جنہوں نے کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا اور سب اس پر متفق ہیں کہ بارگاہ رسالت میں کسی بھی قسم کی تنقید کی سزا موت اور قتل ہے۔ چنانچہ جب اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ تھا اور مسلمانوں کی عدالتیں دشمنوں کے دباؤ سے آزاد تھیں، تب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا تو مجرم موت کی سزا پاکر کیفر کردار تک پہنچ جاتا بلکہ نویں صدی کے وسط میں اندلس کے اندر ”شاتمین رسول“ نے ایک جماعت کی شکل اختیار کرلی تھی لیکن مسلمان قاضیوں نے کوئی نرمی نہیں برتی اور اس کیس کے ہر مجرم کو سزائے موت دی، یولوجیس نامی عیسائی اس گروہ کا سربراہ تھا اور اس کی سزائے موت کے ساتھ ہی مسلم ہسپانیہ میں اس بدبخت جماعت کا خاتمہ ہوا۔(تفصیل کے لیے دیکھئے، تاریخ ہسپانیہ، جلد۱، صفحہ:200)






عیسائی دنیا کی اسلام دشمنی

عیسائی دنیا کے ساتھ عالم اسلام کے تصادم کی بڑی طویل تاریخ ہے اور باہمی دشمنی کی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں، عیسائی پادریوں کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف ان کے پروپیگنڈے کا خود عیسائی موٴرخین نے اعتراف کیا ہے۔ مشہور مورخ ڈوزی اپنی کتاب میں لکھتا ہے: 
”سب سے بڑھ کر پادری تھے جو شدید پیچ و تاب کھاتے تھے۔ جبلی طورپر وہ محمد ﷺ کے پیروکاروں سے نفرت کرتے تھے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کی تعلیمات کے بارے میں وہ انتہائی باطل نظریات رکھتے تھے یا جس طرح وہ عربوں کے درمیان رہتے تھے، تو ان کے لیے اس سے زیادہ کوئی چیز آسان نہ تھی کہ وہ ان معاملات میں سچائی سے آگہی حاصل کرتے، لیکن انہوں نے اڑیل انداز سے ، سرچشمہ کے اس قدر قریب ہونے کے باوجود اس حصول آگہی سے انکار کرتے ہوئے مکہ کے پیغمبر ﷺ سے متعلق ہر قسم کے مضحکہ خیز افسانے پر اعتبار کرنے اور اس کی تشہیر کرنے کو ترجیح دی، خواہ ایسے افسانے کا ماخذ کچھ بھی نہ ہو“۔
(ہسپانوی اسلام، صفحہ:268)




اور جے جے سانڈرس لکھتا ہے:
”اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیغمبر عربی ﷺ کو عیسائیوں نے کبھی بھی ہمدردی اور التفات کی نظرسے نہیں دیکھا جن کے لیے حضرت عیسیٰ کی شفیق اور معصوم ہستی ہی آئیڈیل رہی ہے۔ عیسائیت کو اسلام سے پہنچنے والے نقصانات اور وہ پروپیگنڈا جو صلیبی جنگوں کے دور میں پھیلایا گیا، غیر جانبدارانہ رائے کے لیے ممد و معاون نہ تھے اور اس وقت سے لے کر تقریباً آج تک محمد ﷺ کو متنازعہ لٹریچر میں پیش کیا گیا ہے۔ بے ہودہ کہانیاں پھیلائی گئیں اور طویل عرصے تک ان پر یقین کیا جاتا رہا ہے“۔
(عہد وسطی کے اسلام کی تاریخ،ص:35-34)


ڈبلیو منٹگمری واٹ اپنی کتاب ”اسلام کیا ہے؟“ میں رقمطراز ہے: 

”مشکل یہ ہے کہ ہم اس گہرے تعصب کے وارث ہیں، جس کی جڑیں قرون وسطی کے جنگی پروپیگنڈے میں پیوست ہیں۔ اب اس کا وسیع پیمانے پر اعتراف کیا جانا چاہیے۔ تقریباً آٹھویں صدی عیسوی سے عیسائی یورپ نے اسلام کو اپنا عظیم دشمن سمجھنا شروع کیا جو عسکری اور روحانی دونوں حلقہ اثر میں اس کے لیے خطرہ تھا۔ اسی مہلک خوف کے زیر اثر عیسائی دنیا نے اپنے اعتقاد کو سہارا دینے کے لیے اپنے دشمن کو ممکنہ حد تک انتہائی ناپسندیدہ نظر سے پیش کیا۔ حتی کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں بھی ان کے کچھ اثرات باقی ہیں“۔
(اسلام کیا ہے؟ صفحہ: 201)

ایک اور جگہ ڈاکٹر واٹ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ: ”اسلام کے بارے میں ہمارا رویہ مجموعی طور پر غیر جانبدرانہ نہیں ہے۔ کسی حد تک اب بھی ہم عہد وسطیٰ کے جنگی پروپیگنڈے کے زیر اثر ہیں“۔ 


ان اقتباسات کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ساتھ عیسائی دنیا کی دشمنی اسے توہین رسالت کے جرم پر وقتاً فوقتاً آمادہ کرتی رہی ہے اور گذشتہ دو تین صدیوں سے ”آزادیٴ اظہار رائے“ کی جو مسموم ہوا یورپ میں چل پڑی ہے، اس ناقابل معافی جرم کو بھی وہ اس کے بھینٹ چڑھانے کی سعی کررہی ہے، پاکستان میں قابل فہم طور پر ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ’‘’توہینِ رسالت“ کی سزا موت ہے، مغربی ممالک نے اس قانون کے خلاف بڑا واویلا مچایا اور اسے ”آزادی“ کے خلاف قرار دے کر مختلف حکومتوں پر یہ قوتیں دباؤ ڈالتی رہیں لیکن الحمدلله یہاں کی عوامی قوت کے خوف سے کوئی حکومت اب تک اس میں تبدیلی نہیں کرسکی ہے۔ایک مشہور بیورو کریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے کافی حد تک صحیح لکھا ہے کہ:
”رسول خدا کے متعلق اگر کوئی بدزبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں، اس میں اچھے، نیم اچھے، بُرے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجریہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسالت پر اپنی جان عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقوی میں ممتاز تھے، ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدہ سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے ، خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے“۔




ایک عام مسلمان کا حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت کا یہ عالم ہے کہ وہ ناموس رسالت پر کٹ مرنے کو اپنے لیے مایہ فخر سمجھتا ہے اور مولانا محمد علی جوہر کی ایمانی غیر ت وحمیت کے یہ الفاظ تقریباً ہر مسلمان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:


”جہاں تک خود میرا تعلق ہے، مجھے نہ قانون کی ضرورت ہے نہ عدالتوں کی حاجت، اگر کوئی ہندوستانی اس قدر شقی القلب ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے ان میں سب سے اشرف نبی سرور کونین اور باعثِ تکوین دوعالم ﷺ کا جو تقدس میرے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اس کا اتنا پاس بھی نہیں کرتا کہ اس برگذیدہ ہستی کی توہین کرکے میرے قلب کو چور چور کرنے سے احتراز کرے … تو مجھ سے جہاں تک صبر ہوسکے گا، صبر کروں گا، جب صبر کا جام لبریز ہوجائے گا تو اٹھوں گا اور یا تو اس گندہ دل ، گندہ دماغ ، گندہ دہن کافر کی جان لے لوں گا یا اپنی جان اس کی کوشش میں کھو دوں گا“۔
(مولانا محمد علی جوہر، آپ بیتی اور فکری مقالات، صفحہ:232)


جب کہیں مسلمان خود اقلیت میں ہوگئے یا مسلمانوں کی عدالتیں غیروں کے دباؤ میں آگئیں اور وہاں توہینِ رسالت کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے انصاف کے راستوں میں رکاوٹیں پیش آنے لگیں، تب سے عام مسلمانوں نے کسی قانون اور عدالت کی پروا نہیں کی، غازی علم الدین شہید سے لے کر عامر چیمہ شہید تک ناموسِ رسالت پر کٹ مرنے والے سعادت مندوں نے خود کو فنا کرکے دوام حاصل کیا۔


جہاں تک آزادی یا آزادی اظہار رائے کا تعلق ہے تو دنیا کے کسی بھی دستور میں ”آزادیِ مطلق“ کا حق نہیں دیا گیا، یہاں سیکولر ہونے کے دعویٰ دار چند معروف دستوروں کے حوالے دئیے جاتے ہیں: سب سے پہلے فرانس کو لے لیں جہاں کے اخبارات نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں اہانت آمیز خاکے شائع کیے ہیں اور اسے ”آزادی اظہار رائے“ کا اپنا حق قرار دیا ہے، اس کے آرٹیکل نمبر ۱ میں کہا گیا ہے: ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزاد رہے گا اور سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے، لیکن سماجی حیثیت کا تعلق مفاد عامہ کے پیش نظر کیا جائے گا“۔ اور آرٹیکل نمبر4میں کہا گیا ہے: ”آزادی کا حق اس حد تک تسلیم کیا جائے گا جب تک کہ اس سے کسی دوسرے شخص کا حق متاثر یا مجروح نہ ہو اور ان حقوق کا تعین بھی قانون کے ذریعہ کیا جائے گا“۔ جرمنی کے آئین کے آرٹیکل نمبر5 میں کہا گیا ہے: ”ہر شخص کو تحریر، تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے“۔ مگر اس کے ذیلی آرٹیکل نمبر 2 میں واضح کردیا گیا ہے کہ یہ حقوق شخصی عزت و تکریم کے دائروں میں رہتے ہوئے استعمال کئے جاسکیں گے۔ امریکی دستور میں بھی مطلق آزادی کا کوئی تصور نہیں، امریکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دستور میں ایسی تحریر اور تقریر کی اجازت نہیں جو عوام میں اشتعال انگیزی یا امن عامہ میں خلل اندازی کا سبب بنے یا اس سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہو، ریاست کو ایسی آزادی سلب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اسی طرح آزادیٴ مذہب کے نام پر توہین مسیح کے ارتکاب کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
(امریکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی تفصیل محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب ”ناموس رسالت اور توہین رسالت“ کے باب پنجم میں لکھی ہے)
یہی حال برطانیہ کا ہے، وہاں بھی حضرت عیسیؑ یا برطانیہ کی ملکہ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کی اجازت نہیں، وہاں ہائیڈ پارک میں ”اسپیکر کارنر“ کے نام سے ایک گوشہ مختص ہے جہاں مخصوص اوقات میں ہر شخص کو جو جی میں آئے کہنے یا بکنے کی چھوٹ دی گئی ہے، لیکن یہاں بھی کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ حضرت عیسی ؑ کی توہین کرے یا ملکہ کی شان میں گستاخی کرے۔ جب خود ان قوموں کے دساتیر میں ”آزادیٴ اظہار رائے“ کو مشروط کیا گیا کہ اس کی اسی وقت اجازت ہے جب وہ کسی کے حق اور جذبات مجروح کرنے کا ذریعہ نہ بنے، ایسے میں قانونی حوالے سے اس کا جواز کیونکر ہوسکتا ہے کہ کائنات کی سب سے بزرگ ہستی کی توہین کی جائے۔ جو دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا ذریعہ بنتی ہے!! حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت پر حملوں کے اس طرح کے افسوس ناک واقعات، عیسائی دنیا کی اس پرانی اسلام دشمنی کا نتیجہ ہیں جو صدیوں سے قائم ہے اور قرب قیامت تک قائم رہے گی، پیغمبر اسلام، اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ، اس کے متعصبانہ خمیر میں شامل ہے اور اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے ادارے قائم کیے جن کے تحت ہزاروں افراد کام کررہے ہیں ، یہ لوگ صدیوں سے اسلام کے قلعے پر علمی ، عملی اور سائنسی محاذوں سے حملہ آور ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اس قلعے میں شگاف پڑے، انہیں معلوم ہے کہ دین اسلام ہی ان کی ظاہری چمک دمک والی لیکن اندر سے کھوکھلی اور فرسودہ تہذیب کو کارزارحیات میں شکست وریخت سے دوچار کرکے مٹا سکتا ہے کہ وہی ایک زندہ، جاوید اور قیامت تک رہنے والا دین برحق ہے … ﴿یریدون لیطفئوانور الله بأفواھھم والله متم نورہ ولو کرہ الکٰفرون﴾․





پاکستان میں توہین رسالت کا قانون اور پس منظر

پاکستان، اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے جس کی پہچان اور دنیا کے نقشے پر جس کے وجود میں آنے کا جواز اسلام اور اس کی تعلیمات کا عملی نفاذ تھا، برصغیر میں ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے بڑی ایمان افروز تحریکیں چلی ہیں اور خواجہٴ بطحا ﷺ کے تقدس پر جانیں قربان کرنے کی لہو رنگ تاریخ مرتب ہوئی ہے، عام مسلمانوں نے جب بھی دیکھا کہ توہین رسالت کے مجرم کو قانون گنجائش فراہم کررہا ہے اور انصاف پر قانون کی گرفت ڈھیلی پڑرہی ہے تب مسلمانوں نے انصاف خود اپنے ہاتھوں میں لیا ہے، انہوں نے پھر کسی قانون، کسی کالے ضابطے کی پروا نہیں کی۔ انیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں راجپال نامی بدبخت نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل ایک کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے لکھی تھی، انگریز کا قانون نافذ تھا، مسلمان بجا طور پر مشتعل تھے، دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی اور کسی قسم کے جلسے اور اجتماع کی اجازت نہیں تھی، اس موقع پر خطیب الہند، حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے جو تقریر کی اس سے مسلمانوں کے جذبات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، انہوں نے فرمایا:
”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے، پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نااہل ہے وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے، وقت آگیا ہے کہ دفعہ 144 کے یہیں پرخچے اڑا دئیے جائیں۔ میں دفعہ144 کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا # 

        پڑا فلک کو دل جلوں سے کام نہیں
        جلا کے راکھ نہ کردوں تو داغ نام نہیں

راجپال کو غازی علم دین نے حملہ کرکے ٹھکانے لگایا اور یوں جس انصاف کو فراہم کرنے میں عدالت پس وپیش سے کام لیتی رہی، ایک عام مسلمان نے بڑھ کر قانون اپنے ہاتھ میں لیا اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا۔


انگریزی دور حکومت میں مجموعہ تعزیرات ہند نافذ تھا جس کی دفعہ 295میں مذہبی محترم شخصیات اور مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توہین کی سزا زیادہ سے زیادہ دو سال قید اور جرمانہ تھا، پاکستان بننے کے بعد اس مجموعہ کو ضابطہ تعزیرات پاکستان کے طورپر تسلیم کرلیا گیا لیکن اس میں جناب نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کے مجرم اور اس کی سزا شامل نہیں تھی۔ 1986 ء میں تعزیرات پاکستان میں ایک نئی دفعہ ”295، سی“ کا اضافہ کیا گیا جس میں پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے مجرم کو عمر قید یا موت کی سزا مقرر کی گئی، 30 اکتوبر 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت نے ”عمر قید“ کی سزا کو غیر شرعی قرار دے کر منسوخ کردیا اور صرف موت کی سزا کو برقرار رکھا، جس کے الفاظ یہ ہیں:
”جو شخص بذریعہ الفاظ زبانی ، تحریری یا اعلانیہ اشارتاً یا کنایتاً بہتان تراشی کرے، یا رسول کریم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے، اسے سزائے موت دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا“۔


مغرب اور حقوق انسانی کی نام نہاد تنظیموں نے اس قانون کے خلاف زبردست پروپیگنڈہ کیا اور مختلف حکومتوں پر اس میں ترمیم اور تخفیف کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا، بعض حکمران اس میں ترمیم کے لیے آمادہ بھی ہوئے لیکن عوامی طاقت کے خوف سے وہ اس میں تبدیلی نہیں کرسکے … اس سلسلے میں تحفظ ختم نبوت سے وابستہ علماء اور مخلص کارکنوں کا کردار قابل رشک رہا، انہوں نے جہاں کہیں، اس طرح کی سازش کی بو محسوس کی، عوام میں بیداری کے لیے ”ہشیار باش“ کی صدا لگائی اور لوگوں کو بروقت جگانے کا فریضہ انجام دیتے رہے اور ایک مومن کے لیے اس سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے وقت، اس کے مال، اس کی فکر اور اس کی مساعی کا محور آقا ئے نامدار ﷺ کی ناموس کا تحفظ ہو، مبارک ہیں ایسے لوگ! اور قابل رشک ہیں ان کی زندگی کے لمحات!


آخری بات

جہاں تک مغرب اور کفریہ طاقتوں سے دلائل کی روشنی میں مکالمے کا تعلق ہے، یہ بات اپنی جگہ بے غبار ہے کہ ان کا رویہ عناد اور دشمنی پر مبنی ہے اور ایک عناد اور کینہ رکھنے والا دشمن، دلائل سے کبھی متاثر نہیں ہوتا، اس کے پاس اگر طاقت ہوتی ہے تو دلائل کی ٹکسال بھی اس کی اپنی ہوتی ہے اور خیر و شر کے پیمانے بھی وہ خود بناتا اور بگاڑتا ہے … ہاں! اہل اسلام کا یہ فریضہ ضرور ہے کہ وہ انسانیت کی ابدی صداقتوں کی روشنی میں حق اور حقیقت کو اجاگر کریں، خیر و شر اور نیکی اور بدی کے صحیح پیمانوں کا تعارف کرائیں اور داعیانہ اسلوب میں واضح کریں کہ کائنات کی مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا سبب نہیں بلکہ یہ اہانت آمیز رویہ اختیار کرنے والی ان قوموں کے لیے دنیا اور آخرت کی بربادی اور تباہی کا ذریعہ بھی ہے، قرآن کریم نے اپنے بلیغ اسلوبِ بیان میں جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے، ارشاد ہے: 
وَلَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ․ (الانعام: 10)

اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں سے بھی ہنسی کی جاتی رہی، پھر گھیر لیا ان ہنسی کرنے والوں کو اس چیز نے جس پروہ ہنسا کرتے تھے، یعنی انبیاءؑ کے ساتھ استہزا کرتے تو انبیا ان کو عذاب سے ڈراتے لیکن وہ اس عذاب کا بھی تمسخر اڑاتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی عذاب میں مبتلا کیا جس کا وہ مذا ق اڑاتے تھے۔(الانعام: 10)


اس آیت مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ کو دو طرح سے تسلی دی گئی ہے، ایک تو انبیائے سابقین کے ساتھ بھی کفار کے استہزا کا ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ آپ سے پہلے بھی انبیا کو ان حالات سے دو چار ہونا پڑا ہے لہذا آپ کفار کی تمسخر آمیز فرمائشوں سے دل گیر نہ ہوں، برابر اپنی دعوت کو آگے بڑھاتے رہئے۔ اور آیت کے دوسرے حصے میں بتایا کہ ایسے بدبخت اورموذی لوگوں سے متعلق سنة اللہ بھی یہ رہی ہے کہ ان کو کچھ مہلت دینے کے بعد بالآخر دنیا ہی میں عذاب الٰہی سے دوچار ہونا پڑا ہے اور اپنے انجام بد کو وہ پہنچے ہیں ،مفسرین نے لکھا ہے کہ کفار میں سے جو لوگ آپ کا زیادہ مذاق اڑایا کرتے تھے ان میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبدالمطلب، اسود بن عبدیغوث اور حارث بن قیس پیش پیش تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ حرم میں تشریف فرما تھے کہ جبرئیل امین تشریف لائے اور ان پانچوں میں سے ہر ایک کے مختلف اعضا کی طرف اشارہ کیا جو ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔


ایک دوسری آیت کریمہ میں ارشاد ہے: وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَمۡلَیۡتُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ․ (الرعد: 32)

اور بہت سے پیغمبر وں کا آپ سے پہلے بلاشبہ مذاق اڑایا گیا، میں نے پہلے تو ان کو مہلت دی، پھر ان کو پکڑ لیا ، سو ان کا عذاب کس قدر درد ناک تھا!


اس لیے فخر موجودات حضرت پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے، انسانیت کے مجرموں پر اس حقیقت کو بار بار واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا یہ رویہ، ان کی دنیوی اور اخروی تباہی اور بربادی کا ذریعہ ہے، اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں، اس کی پکڑ آئے گی اور ضرور آئے گی، پس اقوام و ملل کی تباہی کی تاریخ سے ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا!!




***********************





سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ماں، باپ، اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کے بغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ ہر دور میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پر کسی بد بخت نے آپ ﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسول ﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جو آپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کا مذاق اڑایا۔ جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہوا تو نبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہو اہل ایمان سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔ اور اسی دوران گستاخ رسول کی سزا وانجام کے حوالے سے متعدد نئی کتب چھپ منظر عام پر آئی ہیں کتاب ہذا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’توہین رسالت کی سزا‘‘ جناب پروفیسر حبیب اللہ چشتی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے توہین رسولﷺ کرنے والوں کے لیے سزائے موت کے قانون کو قرآن وسنت، اجماعِ امت، اقوال ائمہ فقہ اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے۔ یہ کتاب جمال رسول ﷺ کا دلکش تذکرہ اور قانون توہین رسالت کا تاریخی مجموعہ ہے۔ (م۔ ا)
https://islamicbookslibrary.wordpress.com/tag/tauheen-e-risalat/


جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،جس کے مظاہر حالیہ چند برسوں میں مختلف یورپی ممالک میں دیکھنے کو ملے۔ان حالات میں یہ لازم تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی تقدیس و تعظیم کے تصور کو اجاگر کیا جاتا اور توہین رسالت کی شناعت و قباحت اور اس کی سزا وعقوبت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا جاتا۔اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کرامت کہیے یا عنداللہ ان کی مقبولیت کہ ناموس رسالت کے دفاع و تحفظ پر جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قلم سے نکلا ہے سات صدیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اس قدر جاندار،زندہ اور مدلل ہے کہ اس مسئلہ میں آج بھی سند اور اولین مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔زیر نظر کتاب حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص اسی مسئلہ پر تحریر کی ہے اور اپنے خاص انداز تحریر میں اس قضیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کتاب کے حسن قبول کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو شیخ الاسلام کے سخت ناقد اور مخالف ہیں وہ بھی اس کا اردو ترجمہ کر کے شائع کر رہے ہیں،جیسا کہ اس سے قبل اس ترجمے کو اسی ویب سائٹ پر پیش کیا جا چکا ہے۔اب معروف سلفی عالم اور مصنف و مترجم جناب پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔جو اگرچہ کافی عرصہ سے موجود ہے تاہم اس کی نئی طباعت حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے عقیدہ ناموس رسالت میں پختگی آنے کی اور جناب رسالتمآب ﷺ سے محبت و الفت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ
http://pdf9.com/download-book-al-sarim-al-maslool-id-5444.html



***********************


توہینِ رسالت کی سزا
آجکل بہت سے لوگ توہین رسالت ﷺ کے قانون کو ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں لہذا ہم  اس موضوع کے متعلق دلائل پیش کریں گے
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو نبی کریم ﷺ کو ایذا پہنچائے۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی ایذاء کو اپنی ایذاء شمار کیا ہے ۔ جو شخص اللہ عز و جل کی شان میں گستاخی کرے، گالیاں دے اسکے قتل میں کسی کو اختلاف نہیں۔ اور اس بات کو اللہ تعالی نے اپنے اور اپنے نبی ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔  اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
اللہ اور اُسکے رسول کو ستانے والے ملعون ہیں:

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا 
(سورۃ الاحزاب :٥٧)

بیشک جو لوگ اللہ عزوجل اور اسکے رسول ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں ، ان پر اللہ تعالی نے دنیا و آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور انکے لئے ذلت والا عذاب ہے۔
ورۃ الاحزاب:٥٧)


دوسری بات یہ کہ دنیا میں اگر اللہ عز و جل کسی کو ملعون قرار دے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ وہ واجب القتل ہے۔


مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا ۔ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا۔
(سورۃ الاحزاب:٦١-٦٢،  پ٢٢ع٥)

وہ ملعون جہاں پائے جائیں انہیں پکڑو اورخوب اچھی طرح قتل کرو۔ (خوب قتل کرنا) اللہ کی سنت ہے ان لوگوں میں جو پہلے ہوچکے ہیں اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تغیر نہ پائو گے۔
(سورۃ الاحزاب:٦١-٦٢)

اس آیت کے تحت فائدہ یہ لکھا ہے:

۔۔۔معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اور اسکے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو بے دریغ قتل کرنا واجب ہے۔
(گستاخ رسول اور مرتد کی شرعی سزا:ص٢٩ از فقیہہ العصر حضرت مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب رحمہ اللہ)

فرمایا:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ
(سورۃ المائدہ ٣٣)
یہی سزا ہے ان کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اسکے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو ان کو قتل کیا جائےیا سولی چڑھائے جاویں یا کاٹے جاویں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے [یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں] یا دور کر دیے جاویں اس جگہ سے [یعنی کہیں اور لے جا کر انہیں قید کر دیں] یہ ان کی رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔


بدامنی پھیلانے والوں کی سزا:

یعنی بدامنی کرنےکو اکثر مفسرین نے اس جگہ رہزنی اور ڈکیتی مراد لی ہے مگر الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہوجاتا ہے۔ آیت کی جو شان نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوئی وہ بھی اس کی مقتضی ہے کہ الفاظ کو ان کے عموم پر رکھا جائے۔ "اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا" یا "زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا" یہ دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے، ارتداد کا فتنہ، رہزنی، ڈکیتی، ناحق قتل و نہب، مجرمانہ سازشیں اور مغویانہ پروپیگنڈا سب داخل ہو سکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا ان چار سزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں کسی نہ کسی کا ضرور مستحق ٹھہرتا ہے۔

آنحضرت ﷺ کے لئے منافقین کی بدگوئی اور منافقین کا نفاق کھلنے پر خوف اور ان کا اللہ کی آیات سے استہزاء:
قرآن : اور ان (منافقین) میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبرکو ایذا دیتے ہیں(مذاق اڑاتے پیغمبر کی باتیں نقل کرکے عیب لگاکر)، اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے(یعنی ہر بات سن کر مان لیتے ہیں چنانچہ جب ہم حلفیہ کہیں گے کہ ہم نے ایسا نہیں کہا تو آپ ہمیں بھی سچا مان لیں گے)، ان سے کہدو کہ وہ(نبی)کان ہے تو تمہاری بھلائی کےلئے۔ وہ اللہ کا اور مومنوں کی(اطلاع کردہ)بات کا یقین رکھتا ہے۔ اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو رنج پہنچاتے ہیں انکے لئے عذاب الیم تیار ہے۔ مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے (رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے والی اطلاعات کی تردید کرتے) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں۔ حالانکہ اگر یہ دل سے(واقعی)مومن ہوتے تو اللہ اور اسکے پیغمبر اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ(انکی اطاعت کرکے)انہیں خوش کریں۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اسکے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے جسمیں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔ منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ انکے بارے میں کہیں کوئی ایسی سورت نہ اتر آئے کہ انکی دل کی باتوں(منافقت)کو ان(مسلمانوں)پر ظاہر کردے(لیکن پھر بھی استھزاء کرتے ہیں)۔ ان سے کہدو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اسکو ضرور ظاہر کر دے گا۔ اور اگر تم ان سے اس بارے میں دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم اللہ اور اسکی آیتوں اور اسکے رسول سے دل لگی کرتے تھے؟ عذر مت پیش کرو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو(توبہ کے سبب)معاف کردیں تو دوسری(نفاق اور تمسخر پر ڈٹے رہنے والی)جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔
[سورۃ التوبۃ:٦١-٦٦]



احادیث و آثار سے دلائل

ذیل میں نبی کریم ﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا عمل پیش کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے قرآن و حدیث سے کیا سمجھا اور کیا عمل کیا اور حضور پاک ﷺ نے انکے عمل کی تصدیق فرمائی۔

(١حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ '' جس نے نبی ﷺ کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں''۔
(الاسرار المرفوعہ للملا علی القاریؒ: حرف سین، الحدیث ٢٢٣)

مَنْ سَبَّ الْأَنْبِيَاءَ قُتِلَ , وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي جُلِدَ۔
[أخرجه الطَّبرانيُّ في المعجم الأوسط (5/ 37 - 38) رقم (4609)، وفي الصغير (1/ 393) رقم (659)، الهيثمي في مجمع الزوائد (10568)، السيوطي في الفتح الكبير (11845) وفي الجامع الصغير (12391) وفي جامع الأحاديث (22364) من حديث علي بلفظ: "من سب الأنبياء قتل]


(٢بخاری شریف کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دیا  اور یہ فرمایا:
من لکعب بن الاشرف! فانہ یوذی اللہ و رسولہ
کون کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے گا کہ وہ اللہ عزوجل اور اسکے رسول ﷺ کو ایذاء دیتا ہے۔
(صحیح البخاری: کتاب المغازی، باب قتل کعب بن اشرف ص٦٢٢ج٢، حدیث 4037)


اس حدیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ کعب بن اشرف کا قتل اسکے شرک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ نبی کریم ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی وجہ سے تھا۔ اگر قتل شرک کی وجہ سے ہوتا تو تمام مشرکین کو قتل کیا جاتا نیز مسلمانوں کو اس سے یہ دلیل ملتی کہ تمام مشرکین کو قتل کردو اور مسلمان دنیا میں کوئی مشرک زندہ نہ چھوڑتے۔

(٣اسی طرح بخاری شریف کی روایت ہے (کتاب المغازی، باب قتل ابی رافع عبداللہ بن ابی الحقیق ج٢ص٦٢٤ ،حدیث 4038-4040) یہ روایت ابو رافع کے قتل کے بارے میں ہے حضرت براء بن عاذبؓ کا بیان ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو ایذاء دیتا اور آپﷺ کی نسبت برائیوں کی طرف کرتا تھا۔

(٤بخاری کی روایت ہے (کتاب المغازی:  باب غزوة الفتح فی رمضان، ص٦١٤)  فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے ابن خطل اور اسکی دو لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا، وہ لونڈیاں آنحضرت ﷺ کو اپنے گانوں میں گالیاں دیا کرتی تھیں۔

(٥ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کو گالی دیا کرتا تھا  آپ ﷺ نے فرمایا : من یکفینی عدوی؟ فقال خالد: انا۔ فبعثہ ﷺ فقتلہ ( کنزالعمال ٣٦٦١٩، حلیة الاولیا ج٨ ص ٤٥) آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون شخص میرے اس دشمن کو ٹھکانے لگائے گا  تب حضرت خالد  بن ولیدؓ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ آپ ﷺ نے انکو بھیجا اور انھوں نے جا کر اس ملعون کو قتل کیا۔


(٦اسی طرح آپ ﷺ نے کفار کی اس پوری جماعت کو قتل کرنے کا حکم دیا جو آپ ﷺ کو ایذاء دیا کرتی اور اکثر و بیشتر آپ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی ۔ ان میں نضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی معیط جیسے کفار تھے۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے اور بعد ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے انکے قتل کا وعدہ لیا تھا چناچہ وہ سب قتل کئے گئے، البتہ گرفتار ہونے سے پہلے جس نے اسلام قبول کرلیا  تھا اسے معاف کردیا گیا۔


(٧بزارؒ نے روایت بیان کی ہے کہ جب عقبہ بن ابی معیط قتل ہونے لگا تو اس نے پکار کر کہا کہ اے قبیلہ قریش کے لوگو ! دیکھو آج میں تمہارے سامنے قتل کیا جا رہا ہوں (اور تم خاموش کھڑے ہو) تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ
بکفرک وافترائک علی رسول اللہ ﷺ
تو اپنے کفر اور رسول اللہ ﷺ پر افترا پردازی کے سبب قتل ہو رہا ہے۔
(مجمع الزوائد للھیثمی: ج٦ ص٨٩ ، کتاب المغازی والسیر،  باب ما جاء فی الاسری، قال الھیثمی :رواہ البزاز وفیہ یحی بن سلمة بن کھیل وھو ضعیف ووثقہ ابن حبان)

(٨عبد الرزاق نے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون شخص اس سے نپٹے گا؟ حضرت زبیرؓ نے کہا ''میں '' ۔ پھر انہوں نے اس سے جنگ کرکے اسے ٹھکانے لگا دیا۔
(رواہ عبد الرزاق فی مصنفہ)

(٩ایک عورت نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون اسکی زبان بند کرے گا پس حضرت خالدؓ نکلے اور اس عورت کو قتل کر دیا۔
(مصنف عبدالرزاق)

(١٠ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا کہ اسے قتل کردیں (مصنف عبدالرزاق)

(١١ابن قانعؒ نے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اپنے باپ کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کے کلمات کہتے سنا تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں نے اسے قتل کردیا ، اسکی یہ بات نبی ﷺ کو ناگوار نہ گذری (الشفا) (یعنی کسی گناہ یا قصاص وغیرہ کا ذکر نہ کیا نہ ہی انکے اس عمل کو غلط قرار دیا۔

(١٢حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں یمن میں ایک عورت نبی کریم ﷺ کو گانے میں گالی دیا کرتی تھی۔ یمن کے حاکم کو معلوم ہوا تو اسکا ایک ہاتھ کٹوا دیا اور سامنے کے دانت تڑوا دیے۔ جب حضرت ابو بکرؓ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو میں اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیتا کیونکہ انبیاءؑ کو گالی دینے والے کی سزا عام لوگوں کو گالی دینے والے کی سزا کے برابر نہیں ہونی چاہیئے(الشفا:٢٢٦)

(١٣حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت آنحضرت ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون ہے جو میرے لئے اس عورت کو ٹھکانے لگائے ؟ تو اسی قبیلہ کا ایک آدمی اٹھا کہ یہ کام میں کروں گا پھر وہ گیا اور اس عورت کو قتل کردیا اور واپس آکر نبی کریم ﷺکو بتایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لاینتطیح فیھا عنزان۔ اس میں تو بکریاں بھی سینگ نہیں مارتیں (یہ ایک مثال بیان فرمائی ہے مطلب یہ کہ اس کا خون مباح ہے کچھ حرج نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی اس میں فتنہ ہے)۔
(کنز العمال ٤٤١٣١، کشف انحفاء للعجلونی ج٢ حرف اللام الف حدیث رقم ٣١٣٧)

(١٤ابودائود اور نسائی کی روایت ہے:

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابیؓ کی ایک باندی تھی جو نبی کریم ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی، انہوں نے بارہا منع کیا مگر وہ باز نہ آئی ۔ ایک رات وہ نبی کریم ﷺ کی شان میں بدزبانی کر رہی تھی کہ نابینا صحابی نے اسے قتل کردیا اور آکر نبی کریم ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع فرمایا پھر اس نابینا نے کھڑے ہوکر سارا واقعہ سنایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگو! گواہ رہو کہ اسکا خون مباح(بے بدلہ  بے سزا) ہے۔
[أبي داود:4361، النسائي:4070، الحاكم:8044، البيهقي:13375+16863+20434، الأحاديث المختارة:178، الطبراني:11984، الدارقطني:3194+3195+4503+4505، المطالب العالیة:2046، إتحاف الخيرة المھرة للبوصیری:4610]

(١٥حضرت ابو برزہؓ کی روایت ہے کہ ایک دن میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک مسلمان پر حضرت ابوبکرؓ ناراض ہوئے (قاضی اسماعیل اور دیگر آئمہ حدیث کا بیان ہے کہ اس نے حضرت ابو بکرؓ کو گالی دی تھی)۔ حضرت ابو بکرؓ نے اسے ڈانٹا تو اس نے جواب میں بدزبانی کی ۔ تب میں نے کہا کہ اے خلیفہ رسول! مجھے اجازت دیں تو اسے قتل کردوں؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مجھ سے فرمایا کہ تم بیٹھو، یہ حق سوائے رسول اللہ ﷺ کے اور کسی کیلئے نہیں ہے۔
( یہ روایت ابودائود شریف ج٢ ص٢٢٣ پر  ہے)

قاضی ابومحمد بن نصرؒ نے کہا کہ جس وقت حضرت ابوبکرؓ نے یہ بات فرمائی تو صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں سے کسی نے اس بات کی تردید نہیں کی (گویا اجماع صحابہ ہے) ۔ اس واقعہ سے علماء نے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ

جو شخص نبی کریم ﷺ کو ناراض کرے یا کوئی ایسا عمل کرے جو آپ ﷺ کی ناراضگی کا سبب ہو یا وہ عمل آپ ﷺ کی تکلیف کا باعث ہو یا آپ ﷺ کو گالی دے تو اسے قتل کردینا چاہیئے:

(١٦کوفہ کے حاکم نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سے دریافت کیا کہ کیا میں اس شخص کو قتل کردوں جو حضرت عمرؓ کو گالی دے؟ تو انہوں نے جواب لکھا کہ '' گالی دینے کی بنا پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں البتہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دے اسے قتل کرنا جائز ہے اسکا خون حلال ہے۔

(١٧حضرت خالد بن ولیدؓ کا عمل:

حضرت خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کو محض اس لئے قتل کردیا تھا کہ اس نے نبی کریم ﷺ کو ''تمہارے ساتھی'' کہا تھا (تمہارے رسول نہیں کہا)
(الشفا ص ٢٢١)

(١٨اگر کوئی ذمی آنحضرت ﷺ کو برا بھلا کہے تو اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے بعد اس کا ذمی ہونا باطل ہوجائے گا ۔ اسکی دلیل ابودائود شریف کی حدیث ہے:

ان یھودیة کانت تشتم النبی ﷺ وتقع فیہ فحنقھا رجل حتی ماتت فابطل رسول اللہ ﷺ ذمتھا۔
(رواہ ابو دائود عن علی ٢٥٢٢ و سندہ صحیح)

اس حدیث میں ایک یہودیہ شاتمہ رسول ﷺ کا گلہ گھونٹ کر مارنے والے کا خون آپ ﷺ نے معاف فرمادیا۔

(١٩حضرت عمرؓ کا ارشاد:

الصارم المسلول ص ٤١٩ پر ہے کہ عن مجاھد قال اتی عمر برجل یسب رسول اللہ ﷺ فقتلہ ثم قال عمر : من سب اللہ او سب احدا من الانبیاء فاقتلوہ۔

حضرت مجاھدؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو رسول اللہ ﷺ کو برا کہتا تھا حضرت عمرؓ نے اسکو قتل کردیا اور فرمایا: جو اللہ تعالی کو یا انبیاءؑ میں سے کسی کو برا کہے اسے قتل کردو۔

(٢٠بخاری شریف ج٢ ص ٦١٤ پر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر حویرث ابن نقید کو قتل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ یہ بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو آپ ﷺ کو ایذا دیا کرتے تھے حضرت علیؓ نے اسکو قتل کیا۔

(٢١) توہین رسالت کے مرتکب عیسائی کو سزا:کعب بن علقمہ کہتے ہیں کہ غرفہ بن الحارث کندی کے پاس سے ایک عیسائی گزرا تو اُنہوں نے اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اُس عیسائی نے رسول اللہﷺ کی اہانت کی۔غرفہ کندی نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اس کی ناک پھوڑ دی۔یہ کیس عمرو بن العاص کے پاس لایا گیا تو عمرو فرمانے لگے: ہم نے ان کو عہد و پیمان دیا ہے (یعنی ان کی حفاظت ہم پر لازم ہے) غرفہ کندی نے فرمایا:
«مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُظْهِرُوا شَتْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ , يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ , وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا يَطِيقُونَ , وَإِنْ أَرَادَهُمْ عَدُوٌّ قَاتَلْنَاهُمْ مِنْ وَرَائِهِمْ , وَنُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ , إِلَّا أَنْ يَأْتُوا رَاضِينَ بِأَحْكَامِنَا , فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ رَسُولِهِ , وَإِنْ غَيَّبُوا عَنَّا لَمْ نَعْرِضْ لَهُمْ فِيهَا.»
''اللہ کی پناہ! ہم ان کو اس بات پر عہد و پیمان دیں کہ وہ نبی کریم ﷺ پر سب و شتم کا اظہار کریں۔ ہم نے ان کو اس با ت کا عہد دیا ہے کہ ہم اُنہیں ان کے گرجا گھروں میں چھوڑ دیں وہ اپنے گرجا گھروں میں جو کہنا ہے کہیں اور ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالیں او راگر کوئی دشمن ان کا قصد کرے تو ہم ان کے پیچھے ان سے لڑائی لڑیں اور اُنہیں ان کے احکامات پر چھوڑ دیں،اِلا یہ کہ وہ ہمارے احکامات پر راضی ہوکر آئیں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور اس کے رسول ﷺکے حکم کے مطابق فیصلہ کریں او راگر وہ ہم سے غائب ہوں تو ہم ان کے پیچھے نہ پڑیں۔''
عمرو بن العاص نے فرمایا: صدقتَ ''تم نے سچ کہا''
[السنن الكبرى للبيهقي: كِتَابُ الْجِزْيَةِ - جِمَاعُ أَبْوَابِ الشَّرَائِطِ الَّتِي يَأْخُذُهَا الْإِمَامُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ - بَابُ يَشْتَرِطُ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَذْكُرُوا رَسُولَ اللهِ ﷺ إِلَّا بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ۔۔۔ حدیث:18710]
خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح
[إرشاد الفقيه، لابن كثير: 2/345 ، الإصابة،لابن حجر العسقلاني:3/195]

حاصل کلام

ایسے تمام واقعات و احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور سب و شتم کی سزا قتل ہے اور یہ سزا مقدمہ چلائے بغیر بھی جاری کی جاسکتی ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ عدالت میں مقدمہ کیا جائے لیکن اگر کوئی شخص شاتم رسول کو مقدمہ سے پہلے ہی قتل کردے تو قاتل پر کچھ سزا نہیں۔

اجماع امت

(١قال أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْذِرِ: أَجْمَعَ عَوَامُّ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْتُلُ.
وَمِمَّنْ قَالَ ذَلِكَ: «مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَهُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ».
۔۔۔ «وَهُوَ مُقْتَضَى قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عنه: ولا تقبل توبته عند هؤلاء» .
وَلَا نَعْلَمُ خِلَافًا فِي اسْتِبَاحَةِ دَمِهِ بَيْنَ عُلَمَاءِ الْأَمْصَارِ وَسَلَفِ الْأُمَّةِ.
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/474]
ترجمہ: ابوبکر بن منذرؒ نے کہا ہے کہ عام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے اسے قتل کردینا چاہیئے۔ یہی بات امام مالکؒ، لیثؒ، احمدؒ، اسحاقؒ وغیرہ نے بھی کہی ہے یہی امام شافعیؒ کا مذہب ہے۔۔۔ یہی حضرت ابو بکرؓ کے قول کا تقاضا ہے ۔۔۔ ایسے شخص کے مباح الدم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔(الشفا بتعريف حقوق المصطفى:ص٢٢٠)

مباح الدم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسکو قتل کرنے کا کوئی گناہ نہیں، نہ ہی قاتل سے قصاص لیا جائے گا

(٢) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سُحْنُونٍ: «أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ شَاتِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَنَقِّصَ لَهُ كَافِرٌ، والوعيد جار عليه بعذاب الله له، وَحُكْمُهُ عِنْدَ الْأُمَّةِ الْقَتْلُ.. وَمَنْ شَكَّ فِي كُفْرِهِ وَعَذَابِهِ كَفَرَ.
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/476]
ترجمہ: محمد بن سحنونؒ فرماتے ہیں کہ تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم النبی یا وہ شخص جو نبی ﷺ میں نقص نکالے کافر اور مستوجب وعید عذاب ہے اور پوری امت کے نزدیک واجب القتل ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے کافر ہونے اور مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے (الشفا :ص٢٢١)

(٣) وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ «1» الْخَطَّابِيُّ: «لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اخْتَلَفَ فِي وُجُوبِ قَتْلِهِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا» .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/477]
ترجمہ: ابو سلیمان خطابیؒ نے کہا ہے کہ میں مسلمان علماء میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو آپ ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا قائل نہ ہو بشرطیکہ وہ خود مسلمان ہو۔ (الشفا :ص٢٢١)

(٤قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ فِي الْعُتْبِيَّةِ : «مَنْ سَبَّهُ أَوْ شَتَمَهُ، أَوْ عَابَهُ أَوْ تَنَقَّصَهُ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ، وَحُكْمُهُ عِنْدَ الْأُمَّةِ الْقَتْلُ كَالزِّنْدِيقِ وَقَدْ فَرَضَ اللَّهُ تعالى توقيره وبره» .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/477]
ترجمہ: ابن القاسمؒ نے العتبیة میں لکھا ہے کہ جو نبی کریم ﷺکو گالی دے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ میں نقص نکالے ، اسے قتل کیا جائے گا اور ساری امت کے نزدیک اسکو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا حکم ہے ، اس لئے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ہے(الشفا :٢٢١)

(٥) وَمِنْ رِوَايَةِ أَبِي الْمُصْعَبِؒ وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍؒ سَمِعْنَا مَالِكًاؒ يَقُولُ: «مَنْ سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَتَمَهُ أَوْ عَابَهُ أَوْ تَنَقَّصَهُ قُتِلَ مُسْلِمًا كَانَ أَوْ كَافِرًا وَلَا يُسْتَتَابُ»
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/478]
ترجمہ: ابو مصعبؒ اور ابن ابی اویسؒ کی روایت میں ہے کہ ہم نے امام مالکؒ سے سنا ہے، وہ فرماتے تھے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے یا برا کہے یا عیب لگائے یا آپ ﷺ پر کوئی نقص عائد کرے ، اسے قتل کیا جائے چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ (الشفا :ص٢٢١)
(٦) وَفِي كِتَابِ مُحَمَّدٍ : (أَخْبَرَنَا أَصْحَابُ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ غَيْرَهُ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ قُتِلَ وَلَمْ يُسْتَتَبْ» ) .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/478]
ترجمہ: امام احمدؒ بن ابراھیم کی کتاب میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو یا کسی اور نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اسکی توبہ قبول نہ کی جائیگی چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔
(٧) وَقَالَ أَصْبَغ : «يُقْتَلُ عَلَى كُلِّ حَالٍ، أَسَرَّ ذَلِكَ أَوْ أَظْهَرَهُ وَلَا يُسْتَتَابُ لِأَنَّ تَوْبَتَهُ لَا تُعْرَفُ» .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/478]
ترجمہ: اصبغؒ کہتے ہیں کہ ہر صورت میں اسے قتل کیا جائے گا چاہے وہ اعلانیہ گالی دے یا خفیہ طور پر اور اسکی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔
(٨) وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ: «مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ قُتِلَ وَلَمْ يُسْتَتَبْ» . وَحَكَى الطَّبَرِيُّ مِثْلَهُ عَنْ أَشْهَبَ عَنْ مالك .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/478]
ترجمہ: عبد اللہ بن عبد الحکمؒ سے روایت ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے ، اسے قتل کیا جائے اور اسکی توبہ قبول نہ کی جائے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔
(٩) وَرَوَى ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِكٍ: «مَنْ قَالَ إِنَّ رِدَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُرْوَى زِرَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وسخ أراد به عَيْبَهُ قُتِلَ» .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/479]
ترجمہ: امام مالکؒ سے روایت ہے کہ جس شخص نے یہ کہا کہ نبی ﷺ کی چادر یا آپ ﷺ کی قمیض کے کنارے میلے ہیں  اور اس سے اس کا ارادہ آپ ﷺ کی تحقیر کا ہو تو اسے قتل کیا جائے ۔
(١٠وَقَالَ بَعْضُ عُلَمَائِنَا: «أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ مَنْ دَعَا عَلَى نَبِيٍّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بِالْوَيْلِ «2» أَوْ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَكْرُوهِ أَنَّهُ يُقْتَلُ بِلَا اسْتِتَابَةٍ» .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/479]
ترجمہ: بعض مالکی علماء رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جس شخص نے انبیا کرام علیھم الصلوة والسلام میں سے کسی بھی نبی کے لئے ویل(عذاب) یا برے امر کی بددعا کی تو اسے بغیر توبہ کرائے قتل کیا جائے گا
(١١) وَأَفْتَى أَبُو الْحَسَنِ الْقَابِسِيُّ: (فِيمَنْ قَالَ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمَّالُ «4» يَتِيمُ أَبِي طَالِبٍ» بِالْقَتْلِ) .
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/479]
ترجمہ: ابو الحسن قالبسیؒ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا فتوی دیا جس نے نبی ﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ﷺ لوگوں پر بوجھ اور ابو طالب کے یتیم تھے۔
(١٢) وَأَفْتَى أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي زَيْدٍ: (بِقَتْلِ رَجُلٍ سَمِعَ قَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ صِفَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِهِمْ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ وَاللِّحْيَةِ فَقَالَ لَهُمْ:
[الشفا بتعريف حقوق المصطفى:2/479]
ترجمہ: ابو محمد بن ابی زیدؒ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺکے ساتھ گستاخی کرنے میں زبان کی لغزش کا عذر نہیں سنا جائے گا
(١٣علامہ شرنبالیؒ لکھتے ہیں :
ولا تقبل توبة ساب النبی علیہ السلام سواء جاء تائبا من قبل نفسہ او شھد علیہ بذلک۔
(١٤علامہ خفاجیؒ (نسیم الریاض ص٣٩٩) پر لکھتے ہیں :
کسی کیلئے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے، سوائے اسکے کہ یا تو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان فی سبیل اللہ دے دے
(١٥علامہ شامی رحمہ اللہ شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے پر آئمہ اربعہ کا اجماع نقل کرتے ہیں :
لا شك ولا شبهة في كفر شاتم النبي ﷺ يَةِ وفي استباحة قتله وهو منقول عن الائمة الاربعة ۔۔ الخ
شاتم رسول ﷺ کے کفر اور قتل کے جائز ہونے میں کوئی شک شبہہ نہیں ہے ،چاروں اماموں (امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) سے یہی منقول ہے۔(شامی ص٤٠٦ج٣)
(١٦تفسیر مظہری (اردو)ص٥٣٤ج ہفتم میں ہے کہ :
حتی کہ علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی نے نشہ کی حالت میں بھی آپ ﷺ کے لئے غلیظ الفاظ استعمال کئے تو اسے قتل کردیا جائے۔۔ الخ


توہینِ رسالت کی سزا کا خلاصہ:
1) رسول اللہ ﷺ کی شان میں صراحتا یا تعریضا بدگوئی کرنے یا تہمت لگانے والا شخص مرتد ہے۔
2) مرتد کی سزا قتل(کرنا فرض)ہے۔
3) قتل کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے، عام آدمی کیلئے قانون کے نفاذ کو مناسب نہیں۔ لیکن اگر کسی نے کردیا تو نہ اس پر قصاص ہے نہ تاوان کیونکہ مرتف مباح الدم (یعنی جائز القتل ہوتا) ہے۔ عام شخص کیلئے ایسا کرنا صرف خلافِ مستحب یعنی مکروہِ تنزیہی ہے جس پر حکومت کی طرف سے صرف تادیب ہوگی۔
4) اسی طرح شانِ رسالت میں جب ادنیٰ سى بے ادبی کو حبط اعمال کا سبب قرار دیا گیا ہے[قرآن-سورۃ الحجرات:2]تو گستاخی شدید ترین جرم ہے۔ اس کے بعد ایمان سلامت رہنا بھی دشوار ہے۔
گستاخ رسول کی سزا فقہاء نے لکھی ہے کہ اس کو بطور حد کے قتل کردیا جائے گا اور توبہ کرنے پر بھی یہ سزا اس سے معاف نہیں ہوگی۔
وقال في سابّ الأنبیاء: والکافر یسب نبي من الأنبیاء فإنہ یقتل حدا ولا تقبل توبتہ مطلقا (الشامي: ج6 ص370، زکریا)
[کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ:5/816-818،اردو ترجمہ لاھور 1984ع]

کتب سابقہ کے حوالے:
نقل از ہفت روزہ القلم
(١بائبل میں ہے :
انبیاء کی توہین کے مرتکب شخص کو زندہ جلا دیا جائے۔
(٢لوقا میں ہے:
خدا اور پیغمبروں کی توہین ناقابل معافی جرم ہے (١٠:١٢)
(٣تورات کتاب نمبر٣ (١٦:٢٤) اگر کوئی انبیاء کی توہین کرے تو اسے قتل کردیا جائے۔
اگر مسلمانوں کے نبی کی توہین پر سزا ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے تو پھر مسیحی عقائد کی توہین پر مسیحی ممالک میں سزا کیوں دی جارہی ہے؟ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں کسی بھی نبی کی توہین پر سزا ہے جبکہ مسیحی ملکوں میں صرف مسیحیت کی توہین جرم ہے۔ عیسائی دنیا میں ان سزائوں کا تناسب کیا ہے؟ اسکو صرف ایک چھوٹے سے ملک مالٹا سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جہاں ٢٠٠٨ میں صرف ایک برس میں ٦٢١ افراد کو مسیحیت کی توہین پر سزا سنائی گئی ۔ اسی طرح کئی ممالک میں یہودیت کی توہین جرم ہے نیزمزید نئے قوانین اس ضمن میں بنائے جا رہے ہیں ۔ اگر اہل کفر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈرا کر یہ قانون بدل دیا جائے گا تو انشا اللہ ایسا کبھی نہ ہوگا اور اگر اسلام غدار حکمرانوں نے ایسا کر بھی لیا تو اس سے تصادم مزید بڑہے گا ۔ پھر ہر گلی ہر محلے میں کوئی نہ کوئی غیر مسلم روزانہ توہین کے الزام میں قتل ہوا کرے گا ۔
اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ ﴿الکوثر:3)
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بے نام رہے گا۔
وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ (النشرح:4)
اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کیا۔





ناموسِ رسالت کی پامالی، مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

اللہ نے کائنات کو انسان کے لیے اور انسا ن کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ، مگر انسا ن محض اپنی عقل سے اللہ کی معر فت ، اس کی عبا دت اور اس کی رضا کے طریقوں کو معلو م نہیں کر سکتا تھا ،لہٰذا نسان کی راہ نما ئی کے لیے حضرات انبیا علیہم السلا م کو وقفے وقفے سے اللہ رب العز ت مبعو ث فر ما تے رہے، جنہوں نے انسا ن کی کامل راہ نمائی کی،صر ف اعتقا د اور عبا دت ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ معا شرت، تعلیم، حقو ق، اخلاق ، تزکیہ وغیرہ تمام ضروریات ِاورحیا ت ضروریات دین کے سلسلے میں اعتد ال کی را ہ بتا ئی ۔

انبیا ئے کرام علیہم السلا م نے بے لو ث ہو کر امت کی راہ نما ئی کی ، مگر دنیا میں اللہ کا دستو ررہا ہے کہ ہر چیز کا مبدااورمنتہیٰ ہو تا ہے، یعنی ہر چیز کا ایک نقطہٴ آ غا ز تو دوسر ا نقطہٴ انتہا ہو تا ہے ۔ لہٰذا نبو ت کا نقطہٴ آ غا ز حضرت آ د م علیہ السلام کو اور نقطہ انتہا حضر ت محمد عر بی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنا یا ۔

انبیا کوئی عام انسا ن نہیں ہو ا کر تے تھے، بلکہ وہ اللہ کے خصو صی فضل کی وجہ سے تمام انسا نی خوبیو ں کے مالک ہو تے تھے اور تمام انسا نی وحیوانی رذا ئل سے پاک ہو تے تھے، جنہیں اسلامی اصطلا ح میں معصو م کہا جاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیا ء معصو م ہیں ، صحابہ محفوظ ہیں ، اوراولیاء موفّق ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذا ت اقدس اللہ کی مخلو ق میں سب سے زیادہ پا کیز ہ، با اخلاق اور با بر کت ذات ہے ، اسی لیے مسلمانو ں کو ان کی اطاعت، ان سے سچی محبت اورآ پ کی عقیدت ومحبت کا حکم دیا گیا ہے ،بلکہ ان کی محبت اور عشق اور ان کی اطاعت پر اللہ کی رضا کو مو قو ف رکھا گیاہے ۔

فرما نِ الہٰی ہے : ﴿اِنْ کُنْتُمْ تُحِبِّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْانِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ﴾ ”آپ کہہ دیجیے اگر تم اللہ کی محبت چا ہتے ہو تو میر ی اطا عت کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگ جا ئیں گے۔ “ اطاعت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان پر فر ض عین ہے اور آدمی کسی کی اطاعت پر اسی وقت آ ما دہ ہو تا ہے جب اس سے محبت ہو ۔

خلا صہٴ کلا م یہ کہ انسا ن کی زندگی کا مقصد حضور اقد س صلی اللہ علیہ وسلم کی اطا عت ومحبت کے واسطہ سے اللہ کی خوش نودی حاصل کر نا ہے ، گویا مقصدحیا ت کا حصو ل ہی مو قوف ہے اتبا عِ رسو ل پر، جس کو آ پ مند ر جہ ذیل نقشہ سے آ سا نی کے سا تھ سمجھ سکتے ہیں۔

مگر افسو س آج امت اس مقصد کو نہیں سمجھ سکی اور نا دا نی میں ایک دوسرے کی مخالفت پراتر آئی ہے، جس کا فا ئدہ غیرو ں نے اٹھا نا شروع کر دیا اور قر آ ن پر ،رسو ل پر ، شر یعت پر کیچڑاچھا لنے لگے ہیں اور ہم بس اپنے ہی اختلا ف میں مست ہیں۔

ہمیں یہ یا د رکھنا چاہیے کہ زندگی کا اصل مقصد خوا ہشا ت پر قا بو پاکر اپنی مرضی سے اللہ کے رضا کی حتی المقدو ر کوشش کرنا ہے ،مدا رس میں تعلیم کا مقصد بھی یہی ہے ، تبلیغ کے ذریعہ اصلا ح کا مقصد بھی یہی ہے ، دعو ت کے ذریعہ ہدایت کا مقصد بھی یہی ہے ، خا نقا ہوں کے ذریعہ تز کیہ کا مقصد بھی یہی ہے اور انسا ن کو اپنی زندگی کی ضروریات میں بھی اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر مشغول ہو نا چا ہیے ۔

لہٰذا سب سے پہلے تو میں امت کو بھی دعو ت دو ں گا کہ وہ اپنے آپسی اختلا ف کو چھوڑ کر متحد ومتفق ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو اور جذبا ت میں نہ آکر حدو د شریعت میں رہ کر علما ئے راسخین کے ذریعہ قر آ ن و حدیث کی روشنی میں راہ نما ئی حاصل کر ے ،کوئی قدم علمائے را سخین کی راہ نمائی کے بغیر نہ اٹھا ئے ،ورنہ بجائے فا ئدہ کے نقصا ن ہو گا او ر زندگی کا اہم مقصد یعنی رضائے الہٰی حاصل نہ ہو سکے گا ۔

رسو ل الله صلی اللہ علیہ وسلم کی ذا ت اقدس پر کیچڑ اچھا لنا اور آپ کی مقد س ذا ت کو داغ دار کرنا یقینا ایک انتہائی گھنا وٴنی حر کت ہے، جس کی مذمت تو کیا ایسی حر کت کے مر تکب کو قتل بھی کر دیا جائے تو کم ہے ۔ شریعت کا حکم بھی یہی ہے کہ نامو س رسالت پر حملہ کرنے والے کو تہ تیغ کر دیا جائے اور تاریخ شا ہد ہے کہ مسلما نو ں نے ایساکیا۔ جیسا کہ آپ اگلے صفحا ت میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔ علما ء کے یہا ں اس میں کوئی اختلا ف نہیں رہا ہے ۔ علامہ ابن تیمیہ نے تو ا س پر مستقل کتا ب تحریر فر ما ئی ہے ۔” الصارم المسلو ل علی شا تم الرسول “ کتاب کے اخیر میں مصنف نے لکھا ہے :

” صر ف نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں، تمام انبیا جن کو صرا حةً ووصفاً قرآ ن نے نبی کہا ہو ، ان کی اہانت کا حکم شریعت اسلا میہ میں قتل ہے۔ مثلا ً اگرکسی نے دورا ن گفتگو کسی نا منا سب با ت یا فعل کی نسبت کسی نبی کی جانب اس کے نبو ت کا علم رکھتے ہوئے تعیینی طور پر کی، تو ایسا کہنے والے یا کرنے والے نے شا ن نبو ت میں گستاخی کی اور اگر اسے ان کے منصب نبوت کاعلم نہ تھا ،یا مطلقا ً گرو ہ انبیا کی طر ف ایسی نسبت کی تو اس کا حکم بھی وہی (قتل) ہے ۔ کیوں کہ تما م انبیاء پر علی الا طلا ق ایما ن رکھنا واجب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خصو صا ً، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قر آ ن کریم میں بتلا دیا ہے ۔ان کو بر ا بھلا کہنے والا اگر مسلما ن ہے تو وہ کافر و مر تد ہے اور اگر ذمی ہے تو اس سے قتا ل و اجب ہے ۔

اہا نت نبو ت کے مر تکب کی سزا صر ف اور صرف قتل ہے ، اس پر دلائل کے انبا ر مو جو د ہیں، جو اپنی عمو میت کے سبب لفظا ً اور معنی ً اس پر دال ہیں ۔ (ابن تیمیہ  فر ما تے ہیں) میر ے علم میں کو ئی بھی عالم دین ، فقیہ شریعت ایسا نہیں جس نے حکم مذکو رہ سے اختلا ف کیا ہو ۔ البتہ اکثر فقہا ء کا کلا م اس سز ا کے سلسلے میں ہمار ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سبّ وشتم کرنے والوں کے متعلق ہے ۔ کیو ں کہ اس کی ضرو رت زیا دہ ہے ۔آپ کی نبو ت کی تصد یق اور آپ کی اطاعت اجما لا ً و تفصیلا ً ہر طرح سے واجب ہے ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی اہا نت کا جر م دیگر انبیا کی اہانت سے کہیں زیا دہ ہے ۔ جیسا کہ آ پ کی حر مت و عظمت دیگر انبیا سے کہیں زیا دہ ہے ۔ لیکن اس با ت کا قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اہانتِ منصبِ رسالت میں تمام انبیاء و رسل آپ کے بھا ئی ہونے کی حیثیت سے شریک ہیں ۔ (اور ان کی اہا نت آپ کی اہانت ہے) لہٰذا کسی بھی نبی کی شا ن میں گستا خی کرنے والے کا خو ن حلا ل ہے اور وہ کافر واجب القتل ہے ۔ “(الصارم المسول علی شاتم الرسول:401)

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اب کہیں صحیح معنی میں اسلا می عدالت ہی نہیں۔پور ی دنیا الحاد اور دہریت کے دلدل میں پھنسی ہو ئی ہے اور وقفہ وقفہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی جسا رت کی جا رہی ہے، توہمیں کیا کر نا چا ہیے ، کیا سڑ کو ں پر آ کر ٹائر جلا نا چا ہیے ؟
کیا عوام کی املا ک کو نقصا ن پہنچا نا چاہیے ؟
کیا احتجا جات کے ذریعہ سڑ کو ں کو رو ک کر نعرہ با ز ی کرنی چا ہیے ؟
کیا قتل و غا ر ت گری کا بازا ر گرم کرنا چا ہیے ؟
کیا مذکو رہ حر کتو ں کی اسلا م اجا زت دیتا ہے ؟
ظاہربات ہے اسلا م اس کی اجا ز ت نہیں دیتا ہے ، مگر مسلما ن ہے کہ انہیں کیے جا رہا ہے ، اب سو ال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چا ہیے ؟ تاکہ صحیح معنی میں ہم شر یعت کے احکام کے مطا بق نا مو س رسا لت کا دفاع کر سکیں ۔

اگر ہم واقعةً مسلما ن ہیں اور حدود شریعت میں رہ کر نامو سِ رسالت کا دفا ع کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مندرجہ ذیل امو ر کی طر ف خا ص تو جہ دینی چا ہیے ۔

1…اسلا می تعلیما ت کی مکمل پیرو ی اور غیراسلا می نظریات ، افکا ر ، خیالا ت ، عادات، اطوار ، تہذیب وتمدن ،معاشرت ومعیشت ، سیا ست وغیرہ سے کلی اجتناب کرنا ہو گا۔ خاص طور پر فیشن پرستی اور مادی افکار کو پور ی ہمت اور استقلال کے ساتھ چھوڑنا ہو گا اور سادگی والی زندگی گزا رنا ہو گی ، یہی سب سے پہلے کر نے کا کا م ہے، مگر اسے چھوڑکر امت دیگر غیر شرعی طریقو ں کو اختیار کر رہی ہے ۔

2…عالمی طور پر تما م مسلمانو ں کو متحد ہوکر U.N.O. کو ایسے قا نو ن وضع کر نے پر مجبو ر کر ناہوگا ، جس میں انبیا ئے کرام علیہم السلام کی اہانت کرنے والو ں کو قتل کی سزا دی جائے اور اگرایسا نہ ہو تو نامو س رسالت پر حملہ کر نے والو ں کو کسی تدبیر سے قتل کرنے کی کوشش کر نی چا ہیے ۔

3… یو رپ جو ان تمام غلیظ اور نا پا ک حر کتو ں کی پشت پنا ہی کر رہا ہے ، اسے مند رجہ ذیل طریقوں سے سبق سکھا یا جا ئے ۔
(الف)… مسلمان مغر بی مصنو عا ت کا مکمل با ئیکا ٹ کریں ۔
(ب)…ڈالر،یورو اورپا ؤنڈکے ذریعہ معاملہ نہ کرکے اس کی ویلیو کو کم کر نا چا ہیے ۔
(ج)…پور ے عالم میں دین اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح تعارف پیش کر نا چا ہیے ۔
(د) …اپنے علاقوں میں ایسی کمیٹیا ں بنا نی چاہیے جو بائیکا ٹ پر لو گو ں کو آما دہ کر یں اور امر بالمعر و ف اورنہی عن المنکر کریں ۔

4…ہر گھرمیں اسلام اور نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سیر ت کی تعلیم کو عا م کرنا چا ہیے ۔

5…نما ز کا مکمل اہتمام کر نا چا ہیے ۔

6…زندگی کے ہر موڑ پر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتو ں کو معلو م کرکے اس پر عمل کر نا چا ہیے ۔

7…بد عات و خرا فا ت سے اجتنا ب کر نا چا ہیے ۔

8…صحابہ سے محبت اور ان کی زندگیو ں کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔

9…علما ء سے محبت اور ہر دنیوی ودینی معاملہ میں ان سے رہنما ئی حاصل کر نی چاہیے ۔

10…اپنی اولا د کی صحیح اسلا می تر بیت کرنی چا ہیے ۔

11…رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو پڑھ کر اس کو اپنی زندگی میں نافذ کر نا چاہیے ۔

12…لو گو ں کو سیر ت سے وابستہ کرنے کے لیے سیرت کے عنو ا ن پر مسابقا ت (تقریری مقابلے) رکھنے چا ہیے ۔

غرضیکہ ہم سب پر اپنی استطاعت کے مطابق رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفا ع لا ز م ہے ۔

المر ء یقیس علی نفسہ 
جس ملعون نے یہ فلم بنائی ہے، وہ ایک بد اخلا ق ، بد کر دار شخص ہے، اس پر امر یکی عدالتوں میں کئی مقدمات درج ہیں ۔ عربی کا محاورہ ہے کہ آدمی دوسر و ں کو بھی اپنے ہی اوپر قیا س کرتاہے ،ورنہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والاصفا ت کے اخلاق و اطوار ،روز روشن کی طر ح عیا ں ہیں ۔

قر آ ن نے آ پ کو کہا ہے ﴿انک لعلٰی خلق عظیم﴾ اس کے بعد مزید کسی کی شہادت کی ضرورت نہیں ۔مگر ہم انہیں انگریز وں میں سے بعض کے تاثرا ت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار ے میں نقل کردینا چاہتے ہیں ۔ ”الفضل ما شہدت بہ الا عدا ء “ کے تحت کہ” حق تو وہ ہے جس کی سچائی پر دشمن بھی مجبو ر ہوجاتے ہیں ۔“

حکیم الا مت مجدد ملت حضرت مو لانا اشرف علی تھانوی  نے ”شہادة الا قو ا م علی صدق الا سلا م “ کے نام سے ایک رسالہ مر تب فر ما یا تھا جو، حقا نیت اسلا م کے نام سے شا ئع ہوا ہے ۔جس میں حضرت نے غیر مسلمو ں کے اسلا م ، قر آ ن اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے با رے میں تاثر ا ت کو مختلف اخبارات و رسا ئل سے اخذ کر کے جمع کیا ہے ۔ ہم یہاں نقل کردیتے ہیں ۔

ڈاکٹرجے ،ڈبلیو، لیٹزآ پ کی شخصیت کا اعترا ف ان لفظو ں میں کرتے ہیں : اگرسچے رسو ل میں ان علامتو ں کا پایا جا نا ضروری ہے کہ وہ ایثار نفس اور اخلاص نیت کی جیتی جاگتی تصویر ہو او راپنے نصب العین میں یہاں تک محو ہو کہ طر ح طر ح کی سختیا ں جھیلے ، انوا ع و اقسا م کی صعوبتیں برداشت کر ے ، لیکن اپنے مقصد کی تکمیل سے باز نہ آ ئے ، ابنا ئے جنس کی غلطیوں کو فو راً معلو م کر لے اور ان کی اصلاح کے لیے اعلیٰ درجہ کی دانش مندا نہ تدابیر سوچے اور ان تدابیر کو قو ت سے فعل میں لا ئے تو میں نہایت عاجزی سے اس بات کے اقر ا ر کر نے پر مجبو ر ہوں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے نبی تھے اور ان پر وحی ناز ل ہو تی تھی ۔

پروفیسر فریمین : حقیقی اور سچے ارادوں کے بغیر یقینا کوئی اور چیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا لگا تار استقلال کے ساتھ، جس کا آپ سے ظہور ہو ا آگے نہیں بڑھا سکتی ،ایسا استقلا ل جس میں پہلی وحی کی نز و ل کے وقت سے لے کر آخر دم تک نہ کبھی آپ مذبذب (متردد)ہو ئے اور نہ کبھی آپ کے قدم سچا ئی کے اظہار سے ڈگمگا ئے ۔

رومن صاحب : حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فقط ایک صاحب علم ہی نہ تھے، بلکہ صاحب عمل بھی تھے ، انہوں نے اپنی امت کو عمل کی تا کید کی ، چناں چہ جیسی انسا نیت و مر وت مسلما نو ں میں ہے شاذو نا در ہی کسی قو م میں پائی جاتی ہے ۔

ڈاکٹر ما رگیلوش : میں (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے بہت عظیم لو گوں میں شما ر کر تا ہو ں ، انہو ں نے قبائل عر ب سے ایک عظیم الشا ن سلطنت قا ئم کرکے بہت بڑی پولیٹکل گتھی کو سلجھا یا او ر میں ان کی کما حقہ تعظیم وتکر یم کر تا ہو ں ۔

لا لہ لا جپت ر ائے : میں مذہب اسلام سے محبت کر تا ہو ں اور اسلامی پیغمبر کو دنیا کے بڑے بڑ ے مہاپر شو ں میں سمجھتا ہو ں ۔ آپ کی سو شل اور پولیٹکل تعلیم کا مدا ح ہو ں اور اسلام کا بہتر ین رنگ وہ تھا جوکہ حضرت عمر  کے زما نے میں تھا ۔

ایڈورڈگبن : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب صاف شک و شبہ سے بالا تر ہے اور خدا کی وحدا نیت کی تصدیق میں قر آ ن ایک شا ن دا ر شہا دت ہے۔ (بحو الہ حقا نیت اسلا م منقول از اخبار ”المشرق “ یکم جولا ئی ۱۹۲۷ء )

ایک مسیحی عالم نے ایک کتا ب مسمیٰ بہ” قرا ن السعیدین “لکھی ہے، اس میں اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر زور دیا ہے اور بتا یا ہے کہ ایما ن داری، بے تعصبی ،وسیع القلبی اور شر افت اس با ت کی مقتضی ہے کہ عیسائی دو ست اپنے دلو ں کو صا ف کریں اوریقین جا نیں کہ دین داری اس کے علا وہ کچھ اور ہے کہ آنحضرت کو بر ا بھلا کہیں اور ان سے بغض وعدا وت رکھیں، بلکہ مناسب ہے کہ ان کی خوبیو ں پر نظر کریں، حسب مر تبہ ان کی قد ر کریں ، تعظیم کر یں ، او ر حتی المقدور مسلما نو ں کے جذبات کاپا س کر تے ہو ئے ان کے ساتھ رو ا داری سے پیش آئیں ۔

اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور نر م دلی کی آ یت بھی نقل کی ہے کہ رسو ل ایمان داروں پر شفیق و مہر با ن ہیں اور ہم تسلیم کر تے ہیں کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم ایک روشن چرا غ تھے ، رحمة للعا لمین ، صا حب خلقِ عظیم تھے کہ ان کے اوصا ف سے آخر ان کی کوشش با ر آ ور اور سعی مشکو ر ہوئی ۔

داؤ د آ فندی مجاعض نامو ر عیسا ئی اہل قلم کی نظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ۔
دنیا کا عظیم تر ین سب سے بڑ ا انسا ن وہ ہے جس نے صر ف دس سا ل کے قلیل زما نے میں ایک محکم دین اور اعلیٰ درجہ کا فلسفہٴ طریقِ معاشر ت اورقوانینِ تمدن وضع کیے ۔ قا نو ن جنگ کی کا یہ پلٹ دی او رایک ایسی قو م وسلطنت بنا دی کہ وہ عرصہ ٴ در ا ز او ر مدت ِ مدید تک دنیا پر حکم ر ا ں رہی ۔ اور آج تک زمانہ کا سا تھ دے رہی ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ شخص باو جو د ایسے عظیم ترین اور بے مثل کا م کر نے کے محض نا خوا ندہ اور امّی تھا ۔ وہ مر دِ گرامی اور اجلِ اعظم ”محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب قریشی ،عربی، مسلما نو ں کے نبی ہیں ۔ “

مسٹر گووند جی ڈسا ئی گجرا ت کے ایک فا ضل ہندو تعلیم یا فتہ گزرے ہیں ، آ پ نے اپنی زندگی میں ایک مضمو ن اسلام اور اہنسا پرتحریر فر مایا تھا ، اس مضمو ن کو گا ندھی جی نے بھی اپنے اخبار ”ینگ انڈیا “میں درج کیا تھا ، آپ نے اس مضمو ن میںآ نحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شا ن میں عقیدت کے جو پھول بر سا ئے ہیں ، وہ آپ کے الفاظ میں حسب ذیل ہیں :

انسا نی شرافت : یہ امر واقعہ ہے کہ ذاتی طور پر رسو ل عر بی ایک ایسے شخص تھے ،جن میں بڑی انسا نیت اور شرافت تھی ، آپ کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ آپ اپنے سے کم درجہ کے لو گوں سے بڑی رعایت کرتے تھے ۔ اور آپ کا کم سن غلا م، چا ہے کچھ ہی کرتا تھا، آپ اس کا مضحکہ اڑا نے کی اجا زت نہ دیتے تھے ۔

بچو ں پر شفقت : آپ بچو ں سے بڑ ا انس رکھتے تھے ، آپ ان کو راستہ میں رو ک لیتے اور ان کے سر و ں پر ہا تھ پھیر تے تھے ۔ آپ نے عمر بھر کسی کو نہیں ما را ۔ آپ نے شدید تر ین الفاظ جو کبھی مخالفین مذہب کے متعلق کہے یہ تھے کہ اسے کیا ہے ؟ خدا کر ے اس کا چہر ہ خا ک آ لو د ہو ۔ جب آپ سے کہا گیا کہ فلا ں شخص کو بددعا دیں تو آپ نے جوا ب دیا کہ میں بددعا دینے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہو ں ، بلکہ انسا نو ں کے ساتھ رحم کا سلو ک کر نے آیا ہوں۔

رسو ل عر بی میں تمام انسا نو ں سے زیا دہ انسا نیت تھی ۔ جب آ پ اپنی والدہ کی قبر پر جا تے تو روتے تھے اور ان لوگوں کو رُلا تے جو اس وقت آپ کے گر د وپیش کھڑ ے ہو تے تھے ۔

نبو ت کا تاجدا ر جھونپڑیوں میں : جس قد ر سادہ اطوار رکھتے تھے اسی قد ر آ پ مخیر تھے ۔ آپ اپنی بیو یو ں کے ساتھ جھونپڑیو ں کی ایک قطا ر میں رہتے تھے ۔ آپ خود آگ جلا تے ا ور جھونپڑیوں میں جھا ڑو دیتے تھے۔ آپ کے پاس جو کچھ کھا نا ہو تا تھا اس میں سے ان لو گو ں کو حصہ دیتے تھے جو آپ کے پاس جاتے تھے ۔ آپ کا معمو لی کھانا کھجو ریں اور پا نی یا جو کی رو ٹی ہو تی تھی ۔ دودھ اور شہد آ پ کا ساما ن عشرت تھاا ور ان دو نو ں چیزوں کے آپ بڑے شا ئق تھے، مگر آپ یہ چیز یں شا ذ ونا در ہی استعمال کر تے تھے ۔جب آپ عر ب کے با دشا ہ بن گئے تو بھی آپ ریگستا نو ں کی سیا حت کو بہت پسند کر تے تھے ۔

غریبو ں کا احترام : رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے غر یبو ں کو یہ کہہ کر تقدس بخش دیاکہ غریبی آ پ کا فخر ہے ۔ آپ نے خدا سے دعا کی کہ آپ کو غریبی میں رکھے ، آپ کو حالت غریبی میں مو ت دے اور حشرکے دن آپ کو غریبوں میں اٹھائے ۔

بزرگی اور پیغامبر ی : آپ اس قد ر منکسر مزا ج تھے کہ آپ کسی کو اپنی نسبت اس سے کچھ زیا دہ نہیں کہتے تھے کہ آپ خدا کے بند ے اور اس کے پیغا مبر ہیں ۔آپ اپنے دلی معتقدو ں کو یا د دلا تے رہتے تھے کہ میں انسا ن سے بڑھ کرنہیں ہو ں، اگرچہ آپ کا دعویٰ تھا کہ آپ خا تم النبیین اور سر آمد انبیا ء ہیں، یعنی سب سے آخر اور سب سے بڑے نبی ہیں، مگر ساتھ ہی اپنے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ میں اور نیز با قی انسا ن اس وقت تک بہشت میں داخل نہ ہو ں گے جب تک کہ خدا آپ کو اپنی رحمت سے نہ ڈھا نک دے گا ۔ جہاں آپ نے ایک طر ف یہ اعلا ن کیا کہ خو د میں محض خدا کے فضل کی بدو لت نجا ت پا ؤ ں گا، وہاں آپ نے انسا نو ں کو بھی تسکین دی کہ خدا کی رحم دلی اس کے غصہ پرغالب آ جا تی ہے اور یہ کہ خدا نے بہشت کے دروا زے نام نہا د بے دینو ں پر بند بھی نہیں کیے ۔ آپ نے فر ما یا کہ اگر کسی بے دین کو معلو م ہو جا ئے کہ خدا کس درجہ رحیم ہے، تب بھی اسے بہشت کی طرف سے مایو سی نہ ہو نی چاہیے ۔

محسن اعظم 
ونکلٹا رتنام ، مدراس: محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے ساتھ اتنا احسا ن کیا ہے کہ دوسروں نے نہیں کیا ۔

لا ئق عز ت ومحبت 
لالہ لاجپت رائے: مجھے یہ کہنے میں ذرا تامل نہیں کہ میر ے دل میں پیغمبر اسلا م کے لیے نہا یت عز ت ہے ۔ میر ی رائے میں ہا دیا ن دین اور راہ برا ن بنی نو ع انسا ن میں ان کا درجہ بہت اعلیٰ ہے۔

جلیل القدر مصلح 
کاؤنٹ ٹالسٹائی :حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا منکسر المزاج ، رحم دل ، راست با ز ، خلیق ، متحمل ، انصاف پسند اور جلیل القدر مصلح وریفا رمرتھے …۔ دنیا کے تمام انصاف پسند محققین اس امر کو تسلیم کر تے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز ِ عمل ، اخلاق انسا نی کا حیرت انگیز کارنامہ ہے ۔ہم یہ یقین کرنے پر مجبورہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ وہدایت خالص سچا ئی پر مبنی تھی #

بنی نوع انسان کے لیے رحمت 
پرو فیسر رگھو پتی سہائے /فر ا ق گو رکھپوری : میرا اٹل ایما ن ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر اسلام کی ہستی بنی نو ع انسا ن کے لیے ایک رحمت تھی ، پیغمبر اسلا م نے تا ریخ و تمدن ، تہذیب واخلا ق کو وہ کچھ دیا ہے جو شاید ہی کوئی اوربڑی ہستی دے سکی ہو ۔ پیغمبر اسلا م کے پر ستانہ جذبا ت رکھنا ، ان کا دلی احتر ا م کر نا ، ہر انسا ن کا فرض ہے ، بلکہ ہر انسا ن کے لیے سعاد ت ہے ، اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہیں #
            تفرقوں سے پاک ہے آنسو محبت کے فراق
            اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آ تے تو…؟

پر وفیسر با سو رتھ اسمتھ : بلا شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسو ل ہیں، اگر پوچھا جا ئے کہ افریقہ (بلکہ پوری دنیا) کو مسیحی مذہب نے زیاد ہ فائدہ پہنچا یا یا اسلا م نے ؟ تو جو اب میں کہنا پڑے گا کہ اسلا م نے ۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قر یش ہجر ت سے پہلے خدا نہ خوا ستہ شہید کر ڈالتے ،تومشر ق ومغرب د و نو ں نا کار ہ رہ جاتے ۔ اگر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آ تے تو دنیا کا ظلم بڑھتے بڑھتے اس کو تبا ہ کردیتا ۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے ، تو یور پ کے تاریک زما نے دو چند، بلکہ سہ چند تا ریک ترہو جا تے ۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے ، تو انسا ن ریگستا نو ں میں پڑے بھٹکتے پھرتے ۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو عیسا ئیت بگڑ کر بد سے بدتر ہو جا تی ۔ جب میںآ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی جملہ صفا ت اور تمام کا رنا مو ں پر بحیثیت مجموعی نظر ڈا لتا ہو ں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا تھے ،کیا ہو گئے۔اور آپ کے تا بع د ار غلا مو ں نے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کی رو ح پھونک دی تھی ، کیا کیا کا ر نامے دکھا ئے ، تو آپ مجھے سب سے بزر گ تر اور بر تر اور اپنی نظیر آپ ہی دکھا ئی دیتے ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا سے لے کرانتہا تک یعنی بعثت سے لے کر دار البقا میں جا نے تک اپنے کو نبی کہلا یا اور اس سے رتی بھر آ گے نہیں بڑھے ۔ میں یہ اعتقا د کر نے کی جر أ ت کر تا ہو ں کہ نہا یت اعلیٰ درجہ کے فلا سفر اور سا ئنس داں اور فضلا ئے عا لی دماغ اورعیسا ئی ایک دن با لا تفاق تصدیق کر یں گے کہ بلا شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسو ل ہیں۔(محمد اینڈ محمڈن ازم ،تالیف پرو فیسر با سو رتھ اسمتھ )

یہ تھے وہ تأثرا ت جو غیر مسلموں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار ے میں بیا ن کیے ،ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذا ت تو اتنی جا مع الکمالا ت ہے کہ کوئی لکھنے والا اسے اپنے احاطہ میں نہیں لا سکتا۔ سلف صا لحین اور معاصر موٴلفین نے سیر ت پا ک کے ایک ایک مو ضو ع پر ہزا ر ہا ہزار صفحا ت تحریر کیے ہیں، مگر پھر بھی آ پ کی سیرت کا حق ادا کر نے سے قا صر ہیں ۔ کسی شاعر نے کیا خو ب کہا ہے ۔ #
        تھکی ہے فکر رسا، مدح باقی ہے
        قلم ہے آبلہ پا، مدح باقی ہے
        ورق تمام ہوا، مدح باقی ہے
        تمام عمر لکھا، مدح باقی ہے

تحفظ نامو س رسالت سے متعلق کتب الصارم المسلول علی شاتم الرسول السیف المسلو ل علی شا تم الر سو ل صلی الله علیہ وسلم ( تقی الدین السبکی  )الشفا ء (قاضی عیاض  ) تنبیہ الو لا ة والحکام علی شا تم خیر الا نا م (رسا ئل ابن عابدین)

(اردو کتابیں) گستا خ رسو ل کی سزا بز با ن سیدنا محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم۔ (مولا نا محمد حسن صاحب ) نا مو سِ رسالت کی حفا ظت کیجیے (مو لا نامفتی محمد تقی عثما نی) با محمدصلی الله علیہ وسلم با و قا ر (قاضی محمد زاہد الحسینی) اسلا م میں اہا نت رسو ل صلی الله علیہ وسلم کی سزا (ڈاکٹر مولا نا محسن عثما نی ندوی) تو ہین ِ رسالت صلی الله علیہ وسلم اور اس کی سزا (مفتی جمیل احمد تھانوی )






گستاخ رسول کی سزا  ایک ایسا  امر ہے کہ جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ جو پیش کئے گئے اگر ان دلائل کو ایک انسان مدنظر رکھے تو وہ کبھی بھی اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہوگا۔ لیکن چونکہ  کم علمی کے سبب بعض لوگوں کے ذہن میں بعض اشکالات اور اعتراضات پیدا ہوجاتے ہیں ، جس کےسبب وہ اس عالمی اور مشہور مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں بروقت مناسب رہنمائی نہ ہونے سے کبھی کبھی  اس سلسلے میں بعض اوقات مخالفت پر بھی اُ تر آتے ہیں۔
لھٰذا اعتراضات اور جوابات پیش خدمت ہیں
(۱) اعتراض:
قرآن مجید میں پیغمبروں کے ساتھ استہزاء  کا جرم کا ذکر بار بار آیا ہے  لیکن مجرم کیلئے سزائے موت  کا کہیں ذکر نہیں آیا ہے۔
جواب:
اصل گفتگو اسلامی شریعت کے دائرے میں ہورہی ہے۔ اور احادیث کے نصوص سے قتل کی سزا ثابت ہے۔اور اگر صرف احادیث سے قتل کی سزا ثابت ہے تو کیا منکرین حدیث کی طرح سے احادیث کا انکار کیا جاے گا۔ شراب نوشی کے حد کے بارے میں قرآن میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے بلکہ احادیث سے ثابت ہے ، تو اعتراض کرنے والے اسکے بارے میں کیا کہتے ہیں-
(۲) اعتراض:
رسول اللہ ﷺ دعوت و تبلیغ کیلئے طائف گئے تھے اور وہاں کے لوگوں نے آپکو سخت تکلیف پہنچائی تھی لیکن اسکے باوجود جب فرشتہ ملک الجبال آپ کے پاس آیا اور ان طائف والوں کی ہلاکت کی اجازت مانگی تو نبی ﷺ نے اسکی اجازت نہیں دی۔
جواب:
یہ واقعہ مکی زندگی کے دوران ہوا اور یہ اسلام کا ابتدائی دور تھا ، اور اس وقت تک شاتم رسول کے لئے سزا موت  کا حکم نہیں ملا تھا۔
نیز اس وقت تک شریعت محمدی نافذنہیں ہوا تھا۔لھذا طائف والوں کو عذاب نہیں ملا۔ظاہر ہے اکثر احکامات ہجرت کے  بعد لاگو ہوے ہیں۔اور چونکہ انہوں نے نبی کی عزت کو مجروح کیا تھا ،  لھٰذا نبی پاک ﷺ نے ان لوگوں سے  حکمت کی بناء پر بدلہ لینا گورا نہیں کیا
(۳)اعتراض:
سہل بن عمرو ، عکرمہ بن ابوجھل اور عبد اللہ ابن ابی ابن سلول نے بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی تھی لیکن انکو کچھ نہیں کہا گیا ،بلکہ عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کا جنازہ بھی  حضور نے بذات خود پڑھایا، تو انکو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟
جواب:
اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ایک مشہور قاعدہ  بیان کرتا ہوں  اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کو بے گناہ قتل کردیا۔ اب قاتل کیلئے سزائے موت ہے، اور اسکا خون مباح ہے۔ قتل ثابت ہونے پر اسکو ضرور قتل کیا جائے گا۔ لیکن  مقتول کےوارث کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اس قاتل کو معاف کردے ،
اور مقتول کے وارث کے معاف کرنے کے بعد اس قاتل کو سزائے موت دینا جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ حق صرف مقتول کے وارث کے پاس ہے ، کسی اور کے پاس نہیں۔لھٰذا  اگر مقتول کے وارث موجود نہ ہوں تو کوئی  دوسرا  آدمی اس قاتل کے سزاے موت کو نہیں بدل سکتا۔
بالکل ایسے ہی چونکہ شاتم رسول نے نبی کی توہین کی ہوتی ہے تو یہ گستاخ سزاے موت کا حقدار بن گیا ہے۔لیکن اگر نبی کسی حکمت کے سبب اس گستاخ کی اس گستاخی کو معاف کردے تو ظاہر ہے کہ اس شاتم رسول کو سزاے موت نہیں ہوگی۔
اور جس طرح صرف مقتول کے وارث کے پاس قاتل کو معاف  کرنے کا حق ہوتا ہے۔بالکل ایسے ہی گستاخ رسول کو معافی کا حق صرف رسول کو ہی ہوتا ہے۔نبی کے علاوہ کسی کو بھی یہ حق حاصل  نہیں کہ وہ اہانت رسول کے مرتکب شخص کو معاف کردے۔
ظاہر ہے نبی کی عزت کو اس نے مجروح کیا ہوتا ہے تو معافی کا اختیار بھی صرف نبی کوحاصل  ہوگا۔
اور یہی امت مسلمہ کا معمول ہے کہ نبی پاک ﷺ کے وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم سے لے کر آج کے دور تک  امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے کہ گستاخ رسول کو سزاے موت دی جاے گی۔ اور اسی قاعدے کی بنیاد پر ان علماء کا فیصلہ ہے جو کہ گستاخ رسول کی سزاے موت کو توبہ کے بعد بھی بحال رکھتے ہیں۔
نیز نبی پاک ﷺ صاحب شریعت تھے اور  صاحب حکمت تھے۔ انکو معلوم تھا کہ کس کے قتل کرنے میں حکمت ہے  اور کس کے قتل نہ کرنے میں۔ لھذا  ابن خطل  اور  اور حویرث کے  سزاے موت کو نبی ﷺ نے بحال رکھا اور سہل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جھل  کو معاف کیا۔ اور بعد میں  یہ دونوں سچے دل سے اسلام لائے تھے۔
رہا یہ سوال کہ عبد اللہ ابن ابی ابن سلول  کا جنازہ نبی ﷺ نے خود پڑھایا تھا ، تو   یہ بات درست ہے اور عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کی منافقت کا علم نبی ﷺ کو بھی ہوا تھا۔ لیکن عبد اللہ ابن ابی ابن سلول مدینہ میں ایک قبیلہ  کا سردار تھا اور مدینہ میں اگر نبی ﷺ تشریف نہ لاتے تو اسکی سرداری یقینی تھی۔لیکن  نبی پاک ﷺکی تشریف آوری  سے اسکو سرداری نہ مل سکی، اور حضور ﷺ اس کوشش میں ہوتے تھے کہ کسی طرح  عبد اللہ ابن ابی ابن سلول سچے  دل سے مسلمان ہوجاے،  اور منافقت کی چادر اتار پھینکے۔
اور اسکی گستاخیوں کو بھی صرف اسلئے معاف کیا کہ معافی کا اختیار نبی ﷺ کو حاصل تھا۔
نیز حضور ﷺ امت پر مہربان تھے اور چاہتے تھے کہ یہ لوگ جہنم کی آگ سے بچ جائیں ،لھٰذا اسی لئےنبی پاک ﷺ نے عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کا جنازہ پڑھا۔
لیکن اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو منافقین کے جنازے پڑھنے سے منع کردیا۔اور یہ حکم نازل ہوا کہ  نہ تو ان منافقین کیلئے مغفرت کی دعاء کی جاے اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھا جائے(التوبة:84) اور یہ حکم آج تک قائم ودائم ہے۔
………………………………………………………………………
(۴) اعتراض:
نبی ﷺ تو امت کیلئے رحمت عالم بنا کر بھیجے  گئے تھے ۔نا کہ قاتل عالم۔لھۃذا گستاخ رسول کی سزاے موت درست نہیں ہے۔
جواب:
یہ درست ہے کہ نبی پاک ﷺ اس  دنیا کیلئے رحمت عالم بنا کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن یہ کہاں کا انصاف ہےکہ مجرموں کو کچھ نہ کہا جاے اور ان کو کھلے عام چھوڑدیا جاے۔ مجرموں کو پکڑ کر انکو انکے جرم کے مطابق سزا  دینا ہی عین رحمت اور انصاف ہے۔ورنہ تو قاتل اور چور قتل اور چوریاں کرتے،اور قانون انکو کچھ نہ کہتی، تو یہ تو انصاف نہیں بلکہ مجرموں کو  اپنے کئے کی سزا دینا ہی رحمت اور  انصاف ہے ۔ اور اسی لئے نبی کو رحمت عالم بنا کر بھیجا گیا تھا۔
قرآن مجید میں ہے کہ
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة:179)
ترجمہ:۔۔  اور تمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے،اے عقلمندو!تاکہ تم بچتے رہو۔
تو قصاص کو حیات اسلئے کہا گیا کہ اس سے کشت وخون کی بدامنی سے انسانیت کو نجات ملتی ہے۔شاتم رسول پیغمبر کے کردار کی قتل کی کوشش کرتا ہے، اور اس گستاخ  کا قتل ہی پیغمبرکے کردار کے قتل کا بدلہ ہے۔
آج اگر ایک ملک کی سفیر کی بےحرمتی ہوتی ہے تو پورے ملک کی  بے حرمتی سمجھی جاتی ہے۔ تو انبیاء بھی اللہ تعالیٰ کے سفیر ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ   کے سفیر کی بے حرمتی عذاب الہی کو دعوت دیتی ہے اور عذاب سے پورا علاقہ تباہ ہوتا ہے ، تو پورے علاقے کی تباہی کے بجاے کیوں نہ اس گستاخ کو ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔

اہانت رسول کی سزا اقوال سلف کی روشنی میں
ا۔ قانون ناموس رسالت کو ختم کروانے کے لئے انگریز کے وفادار نام نہاد مسلمان میدان عمل میں آگئے۔اسی طرح ایک نام نہاد سکالر جاوید غامدی نے یہ شوشہ پھیلانے کی کوشش کی کہ فقہائے احناف کے نزدیک گستاخِ رسول کی سزا موت نہیں، لہٰذا 295سی، کو ختم کردیا جائے، اس شخص کا مقصد اُمتِ مسلمہ میں افتراق و انتشار کی فضا پیدا کرنا ہے۔اُمت ِمسلمہ کو ایسے اشخاص کے گھناؤنے کردار سے خبردار رہنا چاہئے۔ گستاخِ رسول کی سزا کے حوالے سے احناف کے جلیل القدر علما کی آرا ملاحظہ فرمائیے:

1. امام محقق ابن الہمامؒ (861هـ)
«کل من أبغض رسول الله ﷺ بقلبه کان مرتدًا فالساب بطریق أولى ثم یقتل حدًا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل.... وإن سبّ سکران ولا یعفی عنه»
[فتح القدیر: 5 /332]
''ہر وہ شخص جو دل میں رسول ﷺ سے بغض رکھے، وہ مرتد ہے اور آپ کو سب و شتم کرنے والا تو بدرجہ اولیٰ مرتد ہے اسےقتل کیا جائے گا۔ قتل کے ساقط کرنے میں اسکی توبہ قبول نہیں۔ اگرچہ حالت ِنشہ میں کلمہ گستاخی بکا ہو ، جب بھی معافی نہیں دی جائے گی۔''

2. علامہ زین الدین ابن نجیمؒ (970هـ)
«کل کافر فتوبته مقبولة في الدنیا والآخرة إلا جماعة الکافر بسب النبي وبسبّ الشیخین أو إحداهما.... لا تصح الردة السکران إلا الردة بسب النبي ولا یعفی عنه.... وإذا مات أو قتل لم یدفن في مقابر المسلمین، ولا أهل ملته وإنما یلقی في حفیرة کالکلب»
[الاشباه والنظائر: 158،159]
''ہر قسم کے کافر کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے، مگر ایسے کفار جنہوں نے حضورﷺ یا شیخین میں سے کسی کو گالی دی تو اُس کی توبہ قبول نہیں۔ ایسے ہی نشہ کی حالت میں ارتداد کو صحیح نہ مانا جائے گا مگر حضورﷺ کی اہانت حالتِ نشہ میں بھی کی جائے تو اُسے معافی نہیں دی جائے گی۔ جب وہ شخص مرجائے تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ ہی اہل ملت (یہودی نصرانی) کے گورستان میں بلکہ اسے کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے گا۔''

3. امام ابن بزارؒ (1252هـ)
«إذا سبّ الرسول ﷺ أو واحد من الأنبیاء فإنه یقتل حدًا فلا توبة له أصلًا سواءً بعد القدرة علیه والشهادة أو جاء تائبًا من قبل نفسه کالزندیق لأنه حد واجب فلا یسقط بالتوبة ولا یتصور فیه خلاف لأحد لأنه حق تتعلق به حق العبد فلا یسقط بالتوبة کسائر حقوق الآدمیین وکحد القذف لا یزول بالتوبة»
[رسائل ابن عابدین: 2/327]
''جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اہانت کرے یا انبیا میں سے کسی نبی کی گستاخی کرے تو اسےبطورِ حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، خواہ وہ تائب ہوکر آئے یا گرفتار ہونے کے بعد تائب ہو اور اس پر شہادت مل جائے تو وہ زندیق کی طرح ہے۔اس لیے کہ اس پر حد واجب ہے اور وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں، اس لیے کہ یہ ایسا حق ہے جو حق  کےساتھ متعلق ہے، جو بقیہ حقوق کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہوتا جیسے حد ِقذف بھی توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔''

4. علامہ علاء الدین حصکفیؒ (1088هـ)
«الکافر بسبّ النبي من الأنبیاء لا تقبل توبته مطلقًا ومن شكّ في عذابه و کفره کفر»
[الدر المختار: 6 /356]
''کسی نبی کی اہانت کرنے والا شخص ایسا کافر ہے جسے مطلقاً کوئی معافی نہیں دی جائے گی، جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے، وہ خود کافر ہے۔''

5. علامہ اسماعیل حقیؒ (1127هـ)
«واعلم انه قد اجتمعت الأمة علی أن الاستخفاف بنبینا وبأي نبي کان من الأنبیاء کفر، سواء فعله فاعل ذلك استحلالا أم فعله معتقدًا بحرمته لیس بین العلماء خلاف في ذلك، والقصد للسب وعدم القصد سواء إذ لا یعذر أحد في الکفر بالجهالة ولا بدعوی زلل اللسان إذا کان عقله في فطرته سلیما»
[روح البیان: 3 /394]
''تمام علماے اُمت کااجماع ہے کہ ہمارے نبی کریمﷺ ہوں یا کوئی اور نبی علیہ السلام ان کی ہر قسم کی تنقیص و اہانت کفر ہے، اس کا قائل اسے جائز سمجھ کر کرے یا حرام سمجھ کر، قصداً گستاخی کرے یا بلا قصد، ہر طرح اس پر کفر کافتویٰ ہے۔ شانِ نبوت کی گستاخی میں لا علمی اور جہالت کا عذر نہیں سنا جائے گا، حتیٰ کہ سبقت ِلسانی کا عذر بھی قابل قبول نہیں، اس لیے کہ عقل سلیم کو ایسی غلطی سے بچنا ضروری ہے۔''

6. علامہ ابوبکر احمد بن علی رازیؒ الجصاص الحنفي (المتوفى: 370هـ)
«ولا خلاف بین المسلمین أن من قصد النبي ﷺ بذلك فهو ممن ینتحل الإسلام أنه مرتد فهو یستحق القتل»
[احکام القرآن: 3 /112]
''تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ جس شخص نےنبی کریم ﷺ کی اہانت اور ایذا رسانی کا قصد کیا وہ مسلمان کہلاتا ہو تو بھی وہ مرتد مستحق قتل ہے۔''

ذمی شاتم رسول کا حکم
جو شخص کافر ہو اور اسلامی سلطنت میں رہتا ہوں، ٹیکس کی ادائیگی کے بعد اسے حکومت تحفظ فراہم کرتی ہے، مگر جب وہ اہانت ِرسول کا مرتکب ہو تو اس کا عہد ختم ہوجاتا ہے اور اس کی سزا بھی قتل ہے۔

7. امام ابوحنیفہؒ نعمان بن ثابت (80-150هـ)
علامہ ابن تیمیہؒ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«فإن الذمي إذا سبه لا یستتاب بلا تردد فإنه یقتل لکفره الأصلي کما یقتل الأسیر الحربی»
[الصارم المسلول:ص 260]
''اگر کوئی ذمی نبی کریم ﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو تو اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کردیں گے کیونکہ اسے اس کے کفر اصلی کی سبب قتل کیا جائے گا جیسے حربی کافر کو قتل کیا جاتا ہے۔''

8. امام محقق ابن الہمامؒ (861هـ)

[فتح القدیر: 5 /303]
''میرے نزدیک مختار یہ ہے كہ ذمی نے اگر حضورﷺ کی اہانت کی یا اللہ تعالی جل جلالہ کی طرف غیر مناسب چیز منسوب کی، اگر وہ ان کے معتقدات سے خارج ہے جیسے اللہ تعالی کی طرف اولاد کی نسبت یہ یہود و نصاریٰ کا عقیدہ ہے، جب وہ ان چیزوں کا اظہار کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کردیا جائے گا۔''

9. علامہ ابن عابدین شامیؒ
«فلو أعلن بشتمه أو إعتاده قُتل ولو امرأة وبه یفتٰی الیوم»
[رد المحتار: 6 /331]
''جب ذمی علانیہ حضورﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو تو اسے قتل کیا جائے گا، اگرچہ عورت ہی ہو او راسی پر فتویٰ ہے۔''
حرفِ آخر
قاضی عیاض مالکی اور علامہ ابن تیمیہؒ(728هـ)،دونوں نے امام ابوسلیمان خطابیؒ کا موقف نقل کرتے ہوئے لکھا:
«لا أعلم أحدا من المسلمین اختلف في وجوب قتله»
''میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کسی نے شاتم رسول کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔''
علامہ ابن تیمیہؒ(728هـ)مزید لکھتے ہیں:
«إن الساب إن کان مسلما فإنه یکفرویقتل بغیر خلاف وهو مذهب الأئمة الأربعة وغیرهم»
[الصارم المسلول:ص24]
''بے شک حضور نبی کریمﷺ کو سب و شتم کرنے والا اگرچہ مسلمان ہی کہلاتا ہو، وہ کافر ہوجائے گا۔ ائمہ اربعہ اور دیگر کے نزدیک اِسےبلا اختلاف قتل کیا جائے گا۔''

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اور اپنے رسولﷺ کی محبت عطا فرمائے، او رقرآن و سنت کے مطابق ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!



ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کچھ واقعات
یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہتے چلے آ رہے ہیں ۔ کبھی یہودیہ عورتوں نے آپ ﷺ کو گالیاں دیں ، کبھی مردوں نے گستاخانہ قصیدے کہے ۔ کبھی آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار پڑھے اور کبھی نازیبا کلمات کہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے شان نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروا دیا ۔ کبھی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دے کر اور کبھی انہیں پورے پروگرام کے ساتھ روانہ کر کے ۔ کبھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے حب نبی ﷺ میں خود گستاخ رسول ﷺ کے جگر کو چیر دیا اور کسی نے نذر مان لی کہ گستاخ رسول ﷺ کو ضرور قتل کروں گا ۔ کبھی کسی نے یہ عزم کر لیا کہ خود زندہ رہوں گا یا رسول اللہ ﷺ کا گستاخ ۔ اور کبھی کسی نے تمام رشتہ داریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو خود دیکھنے کے لئے گستاخ رسول ﷺ اور یہودیوں کے سردار کا سر آپکے سامنے لا کر رکھ دیا ۔ جو گستاخان مسلمانوں کی تلواروں سے بچے رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کن عذابوں میں مبتلا کیا اور کس رسوائی کا وہ شکار ہوئے اور کس طرح گستاخ رسول ﷺ کو قبر نے اپنے اندر رکھنے کے بجائے باہر پھینک دیا تا کہ دنیا کیلئے عبرت بن جائے کہ گستاخ رسول ﷺ کا انجام کیا ہے انہیں تمام روایات و واقعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے یہ اوراق اپنوں اور بیگانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ کبھی آپ ﷺ کی ذات اور بات کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔ ذات اور بات کا حلیہ بگاڑنے سے امام الانبیاءعلیہما لسلام کی شان اقدس میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ آپ اپنی دنیا و آخرت تباہ کر بیٹھو گے ۔ رسوائی مقدر بن جائے گی ۔
جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دینے والوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔
(( ان الذین یوذون اللّٰہ ورسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لھم عذابا مھینا )) ( 33/احزاب 57 ) ” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ “
آئیے گستاخان رسول ﷺ کا انجام دیکھئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسی حوالے سے کارہائے نمایاں ملاحظہ فرمائیے اور اسی بارے میں ائمہ سلف کے فرامین و فتاویٰ بھی پڑھئے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے ۔

⭕یہودیہ عورت کا قتل :
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
(( ان یھودیة کانت تشتم النبی ﷺ وتقع فیہ ، فخنقھا رجل حتی ماتت ، فاطل رسول اللہ ﷺ دمھا۔
[ابوداود: کتاب الحدود،باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ،حدیث:4362]
ایک یہودیہ عورت رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔
[ابوداود:4362، بیھقی:13376+18709، الأحاديث المختارة:547،جامع الأحاديث:32713، كنز العمال 40364]



⭕گستاخ رسول ﷺ ام ولد کا قتل :
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا تھا وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ایک رات اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں اس نے ایک بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ مر گئی ۔ صبح اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا ۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا ۔ جو کچھ کیا ۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اس نے آکر کہا ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ میں اسے منع کرتا تھا اور وہ آپ ﷺ کو گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی ۔ میں اسے جھڑکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ رات جب وہ آپکو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا میں نے زور سے اسے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے ساری گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہو اس کا خون ہدر(بےبدلہ وبےسزا) ہے ۔ (ابوداود ، الحدود ، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ ، نسائی ، تحریم الدم ، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ)

گستاخ نبی ﷺ اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حکم :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
(( قال رسول اللہ ﷺ من سب نبیا قتل ، ومن سب اصحابہ جلد ))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے نبی ﷺ کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ ﷺ کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔
[أخرجه الطَّبرانيُّ في المعجم الأوسط (5/ 37 - 38) رقم (4609)، وفي الصغير (1/ 393) رقم (659)، الهيثمي في مجمع الزوائد (10568)، السيوطي في الفتح الكبير (11845) وفي الجامع الصغير (12391) وفي جامع الأحاديث (22364) من حديث علي بلفظ: "من سب الأنبياء قتل]

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
(( کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ ، فتغیظ علیٰ رجل ، فاشتد علیہ ، فقلت : ائذن لی یا خلیفۃرسول اللّٰہ اضرب عنقہ قال : فاذھبت کلمتی غضبہ ، فقام فدخل ، فارسل الی فقال : ما الذی قلت آنفا ؟ قلت : ائذن لی اضرب عنقہ ، قال : اکنت فاعلا لو امرتک ؟ قلت : نعم قال : لا واللّٰہ ما کانت لبشر بعد رسول اللّٰہ ﷺ ))۔
[مسند الإمام أحمد:54+61 وأخرجه الطيالسي (4) ، والمروزي (66) و (67) ، والنسائي 7 / 108، وأبو يعلى (81) و (82) ، والحاكم 4 / 354 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
وأخرجه الحميدي (6) ، وأبو داود (4363) ، والبزار (49) ، والمروزي (68) ، والنسائي 7 / 109 و110، وأبو يعلى (80) ، والحاكم 4 / 354 من طرق عن أبي برزة، به، وصححه الحكم على شرط الشيخين، ووافقه الذهبي.]

میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ۔ مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے ۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔ میں نے کہا ۔ کہا تھا ۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا ۔ تو تم یہ کام کرتے؟ میں نے عرض کیا اگر آپ رضی اللہ عنہ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ نہیں ۔ اللہ کی قسم ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی۔
[سنن ابوداود: کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ، حدیث:4363
سنن نسائی:كِتَابُ تَحْرِيمِ الدَّمِ،  ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى الْأَعْمَشِ ۔۔۔ حدیث:4074]


⭕عصماء بنت مروان کا قتل :
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
(( ھجت امراۃ من خطمۃ النبی ﷺ فقال : ( من لی بھا ؟ ) فقال رجل من قومھا : انا یا رسول اللّٰہ ، فنھض فقتلھا فاخبر النبی ﷺ ، فقال : ( لا ینتطح فیھا عنزان )) ( الصارم المسلول 129 ) ” خَطمَہ “ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا : ” اس عورت سے کون نمٹے گا ۔ “ اس کی قوم کے ایک آدمی نے کہا ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ کام میں سرانجام دوں گا ، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے اور اس کے معاملے میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں ۔ بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے ۔
عصماء بنت مروان بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی وہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ ﷺ کو ایذاءو تکلیف دیا کرتی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی ﷺ کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی ۔ عمیر بن عدی الخطمی کو جب اس عورت کی ان باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا ۔ تو کہنے لگا ۔ اے اللہ میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ ﷺ کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا ۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت بدر میں تھے ۔ جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے ۔ تو اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی ۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے اس بچے کو دودھ پلا رہی ہے ۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا ۔ پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اسے زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی ۔ پھر نماز فجر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے؟ کہنے لگے ۔ جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ ۔
عمیر کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ ﷺکی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا ۔ کہنے لگے ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں ۔ پس یہ کلمہ رسول اللہ ﷺ سے پہلی مرتبہ سنا گیا عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارد گرد دیکھا پھر فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو ۔ ( الصارم المسلول 130 )

⭕ابوعفک یہودی کا قتل :
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مورخین کے حوالے سے شاتم رسول ﷺ ابوعفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ :
(( ان شیخا من بنی عمرو بن عوف یقال لہ ابوعفک وکان شیخا کبیرا قد بلغ عشرین ومایة سنة حین قدم النبی ﷺ المدینة ، کان یحرض علیٰ عداوۃ النبی ﷺ ، ولم یدخل فی الاسلام ، فلما خرج رسول اللہ ﷺ الی بدر ظفرہ اللہ بما ظفرہ ، فحسدہوبغی فقال ، وذکر قصیدۃ تتضمن ھجو النبی ﷺوذم من اتبعہ )) الصارم المسلول 138
بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابوعفک کہتے تھے وہ نہایت بوڑھا آدمی تھا اس کی عمر 120 سال تھی جس وقت رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ ﷺ کی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے غزوہ بدر میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاءفرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کر دیا اور بغاوت و سرکشی پر اتر آیا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا ۔ اس قصیدے کو سن کر سالم بن عمیر نے نذر مان لی کہ میں ابوعفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود مرجاؤں گا ۔ سالم موقع کی تلاش میں تھا ۔ موسم گرما کی ایک رات ابوعفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف آئے جو اس کے اس قول میں ہم خیال تھے وہ اسے اس کے گھر لے گئے ۔ جس کے بعد اسے قبر میں دفن کر دیا اور کہنے لگے اس کو کس نے قتل کیا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ اسے کس نے قتل کیا ہے تو ہم اس کو ضرور قتل کر دیں گے ۔

انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی :
انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی اس کو قبیلہ خزاعہ کے ایک بچے نے سن لیا اس نے انس پر حملہ کر دیا انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آ کر دکھایا ۔
واقدیؒ نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مدد طلب کرنے کیلئے گیا انہوں نے آ کر اس واقع کا تذکرہ کیا جو انہیں پیش آیا تھا جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ انس بن زنیم الدیلمی نے آپ ﷺ کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا ۔ ( الصارم المسلول139)

⭕گستاخ رسول ﷺ ایک عورت :
ایک عورت رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی آپ ﷺ نے فرمایا :
من یکفینی عدوی میری دشمن کی خبر کون لےگا ؟ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کر دیا ۔ ( الصارم المسلول163)

⭕مشرک گستاخ رسول ﷺ کا قتل :
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((ان رجلا من المشرکین شتم ر سول اللّٰہ ﷺ فقال رسول اللّٰہ ﷺ ( من یکفینی عدوی ؟ ) فقام الزبیر بن العوام فقال : انا فبارزہ ، فاعطاہ رسولُ اللّٰہ ﷺ سلبہ )) ( الصارم المسلول : 177 )
مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا ؟ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ “

⭕کعب بن اشرف یہودی کا قتل:
کعب بن اشرف ایک سرمایا دار متعصب یہودی تھا اسے اسلام سے سخت عداوت اور نفرت تھی جب مدینہ منورہ میں بدر کی فتح کی خوش خبری پہنچی ۔ تو کعب کو یہ سن کر بہت صدمہ اور دکھ ہوا ۔ اور کہنے لگا ۔ اگر یہ خبر درست ہے کہ مکہ کے سارے سردار اور اشراف مارے جا چکے ہیں تو پھر زندہ رہنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ جب اس خبر کی تصدیق ہو گی تو کعب بن اشرف مقتولین کی تعزیت کے لئے مکہ روانہ ہوا مقتولین پر مرثیے لکھے ۔ جن کو پڑھ کر وہ خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا ۔
رسول اللہ ﷺ کے خلاف قتال کے لئے لوگوں کو جوش دلاتا رہا ۔ مدینہ واپس آکر اس نے مسلمان عورتوں کے خلاف عشقیہ اشعار کہنے شروع کر دئیے اور رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں بھی اشعار کہے ۔ کعب مسلمانوں کو مختلف طرح کی ایذائیں دیتا ۔ اہل مکہ نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا دین ۔ تو اس نے جواب دیا کہ تمہارا دین محمد ﷺ کے دین سے بہتر ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی حرکات کی وجہ سے اسکے قتل کا پروگرام بنایا اور قتل کے لئے روانہ ہونے والے افراد کو آپ ﷺ بقیع کی قبرستان تک چھوڑنے آئے ۔ چاندنی رات تھی پھر فرمایا جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے ۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ:
(( قال رسول اللّٰہ ﷺ ( من لکعب بن الاشرف ، فانہ قد اذی اللّٰہ ورسولہ ؟ ) فقام محمد بن مسلمۃ فقال : انا یا رسول اللّٰہ اتحب ان اقتلہ ؟ قال نعم قال : فاذن لی ان اقول شیا ، قال : قل )) رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی۔ اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ ﷺ مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “
محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم ﷺ کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔
اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔
دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔
محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔
پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ ﷺ نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہسب سے پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا تو آپ ﷺ نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ ( فتح الباری 272/7 )

پوری بحث کا خلاصہ 
جو شخص حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا مرتکب ہو اور یہ حرکت قصدا کی ہو تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے نکل کر شرعا مرتد ہوجاتا ہے اگر وہ اس قبیح اور شنیع حرکت پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ و استغفار کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے تو بھتر ورنہ اسے قتل کر دیا جائے اور یہی اس کی سزا ہے مگر قتل کرنے کا اختیار عام عوام کو ہرگز نہیں بلکہ مسلمان حاکم اور قاضی کو ہے اور عوام صرف اس کے خلاف قانونی چارہ جوئ کر سکتے ہیں اور کورٹ واقعہ کی مکمل تحقیق کے بعد اسے سزا دے تاکہ دوسروں کے لئے نشان عبرت بنے.




غازی عبدالقیوم، غازی علم الدین کو چیلنج کیوں؟
یا رسول الله! میں ہوں اسے مارنے والا، یہ آپ کو گالیاں دیتی تھی، گستاخیاں کرتی تھی، میں اسے روکتا وہ رکتی نہ تھی، میں اسے دھمکاتا وہ باز نہ آتی تھی، وہ مجھ پر تو مہربان تھی، میرے اس سے دو بچے ہیں، جو موتیوں کی طرح ہیں مگر اس نے آج رات آپ کو گالیاں دینی اور بُرا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر اُس کے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اُسے مار ڈالا… نبی پاک ﷺ کی عالی خدمت میں صبح کے وقت ایک باندی کے قتل کا ذکر کیا گیا، آں حضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور الله کی قسم دے کر فرمایا کہ میرا تم پر حق ہے، میں قسم دے کر کہتا ہوں کہ جس نے اسے قتل کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔ ایک نابینا صحابی آگے بڑھا، اُس پر خوف طاری تھا۔ عرض کیا یا رسول الله! یہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اور تفصیل بتائی۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ”لوگو! گو اہ رہو، اس ( مقتولہ) کا خُون بے سزا ہے۔“ (مفہوم حدیث ابوداؤد، نسائی، کنزل العمال ودیگر)

ایک یہودی عورت نبی مکرم ﷺ کو سب وشتم کیا کرتی تھی۔ ایک صحابی نے اُس کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔ اس کے خون کو بھی ناقابل باز پرس قرار دیا گیا۔ ( بحوالہ ابوداؤد)

ایک اور عورت رسول الله ﷺ کو گالیاں دیتی تھی ارشاد گرامی ہوا:”من یکفینی عدوی؟“ کون اس کی خبر لے گا؟ اس پر سیدنا خالد بن ولید رضی الله عنہ نے اُسے قتل کر دیا ۔ (بحوالہ الصارم المسلول)

خطمہ قبیلے کی ایک عورت عصماء نامی نے نبی پاک ﷺ کی ہجوکی ارشاد ہوا ” اس سے کون نمٹے گا؟“ عمیر بن عدی اُسی کے رشتے دار تھے۔ بینائی بیحد کمزور کہ جہاد میں نہ جاسکتے تھے۔ نبی اور اصحاب نبی غزوہٴ بدر گئے ہوئے تھے۔ عمیر بن عدی نے منت مانی۔ یا الله! اگر تونے اپنے رسول علیہ السلام کو غزوہٴ بدر سے بخیروعافیت لوٹا دیا تو اس (خبیثہ) کو میں قتل کردو ں گا۔ نبی مکرم ﷺ مدینہ پہنچے۔ عمیر بن عدی آدھی رات کو اُس عورت کے گھر میں داخل ہوئے، اُس کے بچے اس کے اردگرد سوئے ہوئے تھے۔ عمیر رضی الله عنہ نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا تو پتا چلا کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے ۔ حضرت عمیر نے بچے کو اس کے سینے سے الگ کر دیا۔ پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ اس کی پشت سے پار ہو گئی… نماز سے فارغ ہو کر نبی پاک ﷺ نے عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا ” تم نے بنتِ مروان کو قتل کیا ہے ؟“ عمیر کہتے ہیں مجھے ڈر لگا کہ کہیں میں نے خلافِ مرضی رسول تو یہ قتل نہیں کیا… عرض کیا ” جی ہاں، اے الله کے رسول! کیا اس معاملے میں مجھ پر کچھ (سزا) واجب ہے ؟“ … ارشاد گرامی ہوا ” اس معاملے میں تو دو بکریاں بھی سینگ نہ ٹکرائیں“ پھر لوگوں سے فرمایا“ تم لوگ اگر اُس شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے الله اور رسول کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ “ … جب حضرت عمر فاروق اعظم نے کہا کہ ” یہ نابینا ہم سے بازی لے گیا“ تو ارشاد نبوی ہوا ”یہ نابینا نہیں بینا ہے۔“

ابن خطل نبی مکرم کی ہجو میں اشعار کہتا۔ اُس کی باندیاں ارنب اور قرتنا اُن اشعار کو گاکر پڑھتیں۔ قرتنا کی طلب معافی اور زاری پر اسے داخلہٴ اسلام کی اجازت مل گئی مگر ارنب فتح مکہ کے موقعہ پر قتل کی گئی … عبدالعزی ابن خطل مذکور کعبہ کے پردوں پر چھپ گیا، مگر اُسے وہاں بھی پناہ نہ دی گئی، اصحاب رسول کو حکم ہوا اُسے وہیں قتل کر دو، چناں چہ قتل کر دیا گیا۔ فتح مکہ ہی کے موقعہ پر ایک او رگستاخ رسول حویرث کو سیدنا علی نے قتل کیا… فتح مکہ کے موقعہ پر جب ” لا تثریب علیکم الیوم“ عام معافی کا اعلان ہوا، ابن خطل سمیت5 گستاخان رسول کو رحمتِ عامہ اور عفوعامہ سے محرومی ہی ملی اور نارجحیم ان کا مقدر ہوا… ابو عفک یہودی 120 سال کا بوڑھا تھا، مگر بیحد گستاخِ رسول۔ سالم بن عمیر ایک عاشق رسول نے سوتے میں اسے بستر پر ہی حوالہ تیغ کر دیا… انس بن زینم دیلمی کو بنی خزاعہ کے ایک بچے نے زخمی کر دیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ رسول پاک ﷺ کو واقعہ کا علم ہوا توکوئی باز پرس نہ فرمائی … دشمن رسول، یہودی سردار ابو رافع کو سیدنا عبدالله بن عتیک رضی الله عنہ اور ان کے رضا کار ساتھیوں کے ذمہ کرکے اہل حجاز کے اس بڑے تاجر کو قتل کر وا دیا گیا۔ ایک اور بڑے گستاخِ رسول یہودی سردار کے بارے میں ارشاد رسول ہوا”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ الله اور اس کے رسول کو بہت ستارہا ہے!“ محمد بن مسلمہ انصاری نے اجازت رسول سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسے جہنم رسید کر دیا… یہ واقعات موجودگی رسول کے وقت کے ہیں، عورت ہو یا مرد، بوڑھا ہو یا جوان، عام آدمی ہو یا سردار، ایک ہی سلوک کا مستحق ہے۔ پہلی شریعتوں میں بھی یہی حکم تھا۔ کسی بھی نبی کی توہین پر اب بھی یہی حکم ہے، حتی کہ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط بدر کے جنگی قیدی تھے۔ انہیں بھی تہہ تیغ کیا گیا۔ ارشاد رسول ہوا”اس الله کی تعریف ہے جس نے تجھے قتل کرکے میری آنکھیں ٹھنڈی کیں۔“

آئین پاکستان میں شریعت کورٹ کے فیصلے کو قومی اسمبلی نے 1984ء میں قانونی شکل دے کر آئین کا حصہ بنایا، پھر 2 جون 1992ء کو متفقہ طور پر توہین رسالت پر سزائے موت کا قانون بنایا گیا۔ گستاخ نتھورام کو جہنم رسید کرنے والے غازی عبدالقیوم نے انگریز جج کے سوال پر دیوار پر لگی جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا تھا” اگر کوئی اسے گالی دے، تمہارا خون جوش نہیں مارے گا؟ “ اور اب آج کے پاکستان میں آئینی قانونی کارروائی کو کسی کے دباؤ پر معطل کرکے محمدی دیوانوں غازیوں غازی عبدالقیوم، غازی علم الدین اور ان کے ساتھیوں کو کیوں چیلنج کیا جا رہا ہے؟!






توہینِ رسالت اورملتِ اسلامیہ کی ذمہ داری



شیطانی فلم کے خلاف امریکی حکمرانوں اور ترجمانوں نے انتہائی گستاخانہ طنز آمیز بیانات جاری کرکے اپنی شیطنت پر پردہ ڈالنا چاہا ہے، اور انھیں کی لَےْ میں لَےْ ہمارے کچھ علما ، نام نہاد دانشور اور اردو میڈیا کے بعض حضرات بھی ملارہے ہیں۔ ایک گھر یا ایک ادارہ کے آپ ذمہ دار ہیں، آپ کے کارکنوں میں سے ایک خلافِ قانون یا خلافِ تہذیب حرکت کرتاہے، مثلاً ایک راہ گیر کے پتھر ماردیتا ہے، وہ آپ کے پاس شکایت لے آتا ہے، آپ کہتے ہیں: مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے دکھ پر افسوس کرتا ہوں، آپ کہتے ہیں اپنے ملازم کو سزا دیجیے، وہ آئندہ سے ایسا نہ کرے، وہ کہتاہے یہ نہیں ہوسکتا، یہ تواس کی آزادی پر پابندی لگانے والی بات ہے۔ ہماری تہذیب میں ایسا نہیں ہوتا۔ بتائیے ایسے میں شکایت کرنے والا فرد کیاکرے گا؟ ہمارے نام نہاد دانشوران نے ایک جملہ رٹ لیاہے ”یہ تو ان کی سازش ہے، وہ اشتعال دلانا چاہتے ہیں، ہماری امیج خراب کرنا چاہتے ہیں، دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان خونخوار ہیں، دہشت گرد ہیں، ہمیں صبر وضبط وحکمت اور ہوش سے کام لینا چاہیے۔“ حالاں کہ امریکی حکمرانوں نے اپنے بیانات سے اپنی نیت صاف کردی ہے۔ یورپ کے بڑے مسلم آبادی والے ملک فرانس میں کارٹون کی اشاعت اورحکومتی سطح پر اس کی حمایت اور احتجاج پر پابندی کے ذریعہ اپنا عندیہ واضح کردیا ہے کہ وہ آئندہ بھی اس طرح کی مذموم حرکتیں جاری رکھنے پر پابندی نہیں لگائیں گے۔ اس مسئلہ پر خاص طورپر اقوامِ متحدہ میں اوبامہ اور اس کے نمائندہ الان چیمبرلن (Allen Chamberlain) نے جلے ہوئے پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں افسوس ہے مگر ہم دنیا میں ہر جگہ انسانی حقوق اور حقِ اظہار رائے کی حفاظت کریں گے۔“ اور اس طرح طنز بھی کیاکہ جہاں اظہارِ رائے کی آزادی نہیں ہے، وہیں تشدد، غریبی اورانتہا پسندی پائی جاتی ہے۔ میں اپنے دانشور علماء اور بزرگان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مندرجہ بالا بیان پڑھ کر انصاف سے بتائیں کہ اس میں افسوس کا اظہار ہے یا اپنی جہالت اور شرارت پر اصرار اور ملتِ اسلامیہ پر طنز ہے۔ یہ مغربی بھیڑیے کتنے جمہوریت پسند، انسانی حقوق کے دل دادہ اور حقِ اظہار رائے کے حمایتی ہیں، اس پر الجیریا سے لے کرہندوستان تک کروڑوں بے گناہوں کا خون اور صدیوں کی غلامی گواہ ہے۔ ان کی جمہوریت نے کتنی جمہوریتوں کا گلا گھونٹا ہے اورآج بھی گلا گھونٹوارہے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کے احتجاج میں چار امریکی ہلاک ہوگئے تو سارے میڈیا آسمان سر پراٹھائے ہوئے ہیں؛ مگر عراق پر بُش کے اقوامِ متحدہ کی اجازت کے بغیرکیے گئے حملے میں پانچ لاکھ سے زیادہ معصوم بچے، بوڑھے، خواتین شہید کیے گئے تب میڈیاچپ رہا؟ جو میڈیا اور مسلم دانشور اس وقت چپ بیٹھے رہے، جب گوانتا موبے اور ابوغریب میں امریکی حکومت کی مرضی قرآن پاک کی بے حرمتی کو ایک تعذیبی ہتھکنڈہ (Torture Tool) کی طرح بار بار استعمال کیاگیا۔ قرآن کو جوتوں کی ٹھوکریں ماری گئیں اوراسے فلش بھی کیاگیا؛ تاکہ قیدی برداشت نہ کرکے اپنے راز اُگل دیں۔ یہ سب ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ وکی لیکس میں بھی محفوظ ہے۔ گردنوں میں پٹہ ڈال کر خبیث امریکی خاتون فوجی کی فوٹولوگوں کو ابھی بھی یاد ہے۔ اس وقت یہ واعظین اور صبر اور حکمت کی تلقین کرنے والے کہاں تھے؟ مسلمانوں کو گردن جھکاکر جینے اور شعائرِ اسلام اور پیغمبرِ آخرالزماں ﷺ کی کردار کشی پر مظاہرہ کرنے والوں کوجذباتی، بیوقوف اور صبر وحکمت سے عاری بتانے والے کہاں تھے؟ اور ابھی یہ سلسلہ رکا کہاں ہے؟ پچھلے ہی دنوں افغانستان میں قرآن سوزی امریکی فوجیوں کے ذریعہ کی گئی۔ اس پر دنیا میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ افغانستان کو چھوڑ کر دنیا نے مسلمانوں کو کیا تمغے عطا کیے۔ کتنے غیرمسلم اسلام لے آئے کہ مسلمانوں نے بڑے اونچے اخلاق کا مظاہرہ کیا اور قرآن سوزی کے واقعات کے باوجود آرام سے قورمہ، نہاری کھارہے ہیں اور T-20 کا مزہ لے رہے ہیں؟
          علم وحکمت کے ٹھیکیداروں سے سوال یہ ہے کہ ۵۶ ملکوں اور ڈیڑھ ارب آبادی والی اُمّتِ مسلمہ پر شعائرِ اسلام کی بے حرمتی ہونے پر کوئی شرعی ذمہ داری حکومتی اور اجتماعی سطح پر عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ جس طرح امریکہ عافیہ صدیقی، خالد شیخ، ابوحمزہ مصری کو زبردستی اغوا کرکے قانوناً ملک بدر کرالیتا ہے۔ یہ ۵۶ مسلم ملک ایسا کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ ایسا نہیں کرتے تب ملت میں مایوسی، بے مائیگی اور انتشار پھیلتا ہے۔ جب اجتماعیت کے سربراہ مجرمانہ خاموشی یادکھاوے والی کارروائیاں کرکے عوام کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں، تب عوام اپنے طور پر فیصلہ کرتی ہے۔ خواص اور نام نہاد دانشوروں اور صحافیوں کے امریکی دوروں اور مدرسوں اور جامعہ ملیہ ومسلم یونیورسٹی اور اسلامک کلچر سینٹر دہلی وغیرہ میں امریکی سفارت کاروں کی بار بار کی آمد اور نوازشوں کے طفیل عراق پر امریکی حملہ کے بعد سے لگاتار مسلم قائدین اور اردو صحافت میں ایمانی بے حسی بڑھی ہے۔ گوکہ اس کے عنوانات بہت خوشنما صبر، حکمت اور ہوش مندی وغیرہ کے ہی ہیں۔ اگر یہ مغرب کی سازش کا ایک پہلو ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیں چھیڑکر اس کے ردعمل کے ذریعہ ہماری منفی تصویر دکھانا چاہتا ہے تو کیا ایک پہلو یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ دھیرے دھیرے ملت کے اندر سے ایمانی غیرت، حمیت، حس اور اللہ اور رسول ﷺ، قرآن، کعبہ کی بے توقیری کا ماحول پیدا کردے۔ آج رسول ﷺ کے کارٹون اور کردارکشی پر ہم چپ رہیں تو خدا نخواستہ جب کل کعبہ مشرفہ پر حملہ ہو، جیسا کہ امریکی فوج کے تربیتی اسکول میں حال تک تربیت کی جاتی رہی ہے تو اس وقت بھی کچھ ”جذباتی، بے صبروں اور بے وقوفوں“ کے علاوہ ساری امت، ”صبر“، ”حکمت“ اور ”دانائی“ کے ساتھ ﴿انَّا ہٰہُنا قٰعِدون﴾ ”ہم تو یہاں بیٹھے رہنے والوں میں سے ہیں“ کا ورد کرتی رہے گی، تو کیا اللہ تعالیٰ کے حضور بھی یہ پوری ملت، حکومتیں، جماعتیں اور علماء ودانشوران جواب دہی کرپائیں گے؟
          حضور ﷺ کے زمانہ میں بھی غزوات میں بعض صحابہٴ کرام سے ڈسپلن کی خلاف ورزی یا اجتہادی غلطی وغیرہ ہوئی ہے۔ مثلاً ایک مقابل کو کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کردیا کہ یہ جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے تو حضور ﷺ نے افسوس بھی کیا۔ صحابی رضی اللہ عنہ کوپھٹکار لگائی؛ مگر کیا آئندہ ایسا پھر نہ ہوجائے کہ اندیشہ سے جہاد کو ہی ختم کردیا کہ بس اب صرف دعوت اور تبلیغ ہوگی؟ دنیا بھر کے احتجاج میں جو بھی غیرقانونی حرکتیں اورنقصانات مسلمانوں نے کیے اس کا قانونی اورمالیاتی جرمانہ، سزا اور تاوان کی شکل میں متاثرین کو دیا جانا چاہیے؛ مگر مغرب سے بھی حساب چکانا ضروری ہے، اس نے مسلم دنیا میں جو لوٹ مار کی ہے، عراق سے تو تیل چرایا جارہا ہے، جو لاکھوں بے گناہ شہید کیے گئے ہیں ۴۵ سالوں سے لاکھوں فلسطینی مہاجرین کی زندگی گزار رہے ہیں، خود امریکی حکومت کے اعتراف کے مطابق ڈرون حملوں میں ہزاروں بے گناہ بچے، عورتیں متوازی نقصانCollateral damage کے طور پر مارے گئے ہیں، ان سب کا جرمانہ بھی لیا جانا ضروری ہے۔ ان کا یاد دلایا جانا ضروری ہے۔ مغرب کے ان بے شرم قائدین اور ان کے مشرقی غلاموں کو جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ الجیریا میں جمہوریت کا گلا گھوٹنے کی وجہ سے اب تک ۲۵ لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوگئیں؛ کیونکہ امریکہ اسلام پسند اسلامک سالوشن فرنٹ کو الیکشن میں منتخب ہوکر اقتدار میں آنے نہیں دینا چاہتا تھا اور آج ۲۰ سال سے قتل وخون جاری ہے۔ یہ سوال اوباما اور اس کے غلاموں سے کون پوچھے گا؟ جو مسلمانوں کو انسانی حقوق کے عدمِ تحفظ اور تشدد کے فروغ کا طعنہ دیتا ہے! آج فلسطین میں حماس کی جمہوری جیت کے خلاف فتح کو مغرب کیوں حمایت دے رہا ہے۔ یہ کس جمہوریت کا اصول ہے؟ آج سعودی عرب کی بادشاہی کی طرف سے آنکھیں کیوں بند رکھی جارہی ہیں۔ بادشاہی اور جمہویت میں کیا تعلق ہے؟
          آزادی اظہار رائے کی حقیقت سب کو معلوم ہے کہ یہودیوں کو بدنام کرنا جرم ہے۔ لندن کے مئیرکین لیونگسٹن کو عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تاریخ دان ارون کو جیل ہوگئی۔ احمدی نژاد کے خلاف میڈیا میں طوفان کھڑا کیاگیا، برٹش شہزادی کے برہنہ فوٹو کو حضور ﷺ کے کارٹون کے اگلے دن کورٹ کے آرڈر سے شائع نہیں ہونے دیا اور امریکہ اور یوروپ میں سیکورٹی کے نام پر انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ ہوائی اڈوں پر اسکیننگ سے لے کر ننگی تلاشیاں لینے والے پر ہر مسجد میں FBI کے مخبر گھسیڑنے والے ہر امریکی کی E-Mail اور فیس بک پرنظر رکھنے والے کس منھ سے انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں؟ ضرورت ہے اس منافقت کو برہنہ کرکے سامنے لانے کی۔ ان کے انصاف کے پیمانے بھی ملاحظہ ہوں۔ پادری ٹیری جونز قرآن پاک کو جلاکر بے حرمتی کرتا ہے، اسے ایک دن کی سزا یہ مکارحکومت دیتی ہے۔ کیا دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے حقوق کی قیمت ان ظالموں نے اتنی ہی لگائی ہے؟ اس سے چھوٹے چھوٹے جرائم میں مسلم علماء، عمرقید، تنہائی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ گذشتہ روز ہی ایک امریکی عدالت نے 11/9 کے مشکوک پراَسرار واقعہ کے لیے القاعدہ اور ایران پر ۶/ارب ڈالر کا جرمانہ صرف ۴۵ متاثرین کے خاندانوں کے لیے کیا ہے؟ مگر عراق پر غیرقانونی امریکی حملہ کے ۵ لاکھ متاثرین لوگوں سے الٹا ان کا پیٹرول بطورِ خرچہ وصول کیا جارہا ہے؟
          یہ ہے اس انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کی حقیقت جس کا شور مچاکر اپنی ذہنی خباثت اور مذہبی دشمنی کو روبہ عمل لایا جارہا ہے۔ اقوامِ متحدہ ماحولیات کے خلاف نشہ آور ادویہ کے خلاف، بچہ مزدوری کے خلاف، سر پر غلاظت ڈھونے کے خلاف، تمباکو نوشی کے خلاف قوانین بناتی ہے؛ مگر اہانتِ دین کے قانون کو یہ ظالم مغربی ممالک پاس نہیں ہونے دیتے کہ اس کا غلط استعمال ہوگا۔ غلط استعمال تو دنیا کے ہرقانون کا ہورہا ہے۔ سیکورٹی کے قوانین ہوں، جہیز کے خلاف قانون ہو یا زنا یا خواتین کے خلاف دست درازی کے قوانین ہوں؛ مگر اس کے باوجود یہ قوانین جاری وساری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف خصوصی قوانین کی زد میں ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ہزاروں بے گناہوں کی جو جوانیاں برباد کردی گئیں اور گھر اجاڑدیے گئے؛ مگر قوانین زندہ ہیں؛ کیونکہ ممالک کے تحفظ کا سوال ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اہلِ ایمان کے لیے اللہ اور رسول ﷺ، قرآن، کعبہ عزیز ہے۔ وہ ان کی بے ادبی پر تمام قانونی کارروائیاں کرے گی، چاہے دشمنان دین کو کتنا ہی ناگوار گذرے۔ جس جس طرح کی کارروائیاں اہلِ مغرب دینِ اسلام کے خلاف کررہے ہیں، وہ علمی نوعیت کی ہے ہی نہیں کہ ان کا علمی جواب دیا جائے۔ وہ سب کے سب ہتک اور توہین کے زمرہ میں آتی ہیں۔ امت مسلمہ کے لیے فی الوقت ترجیحات میں سب سے ضروری کاموں میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو وجود میں لانے کا ہے۔ کروڑوں روپیہ کے کانفرنس، سیمینار، اجتماعات، امریکہ، برطانیہ کے تبلیغی دوروں کے ساتھ ساتھ صبر، حکمت، طویل المدتی پالیسی کے تحت اپنا میڈیا کیوں نہیں کھڑا کیاجاتا؟ غیرمسلموں نے E-TV اور Z. Salam شروع کردیا اور ہمارے دانشور بھی انھیں کے بھروسہ بیٹھے رہتے ہیں، جو حضرات بڑی حکمت و دانائی کی باتیں کررہے ہیں وہ ایمان داری کے ساتھ بتاسکتے ہیں کہ احتجاج یا مظاہرہ کے بجائے کتنے غیرمسلموں تک نبیِ رحمت ﷺ کی سیرت سے متعلق مواد پہنچاسکے؟ اب تک طویل المدتی پالیسی کے تحت وہ کتنے غیرمسلموں تک دعوتی ربط کرپائے؟
          آج وطن پرستی کے نام پر اس کی حفاظت کے لیے اس کے پرچم، قومی نشان، قومی ترانہ، قومی جانور تک کی بے عزی پر سزا ہوتی ہے، اور ہمارے دانشور ہمیں بتارہے ہیں کہ رحمةٌ للعالمین کی بے حرمتی کی سزا قرآن مجید میں بیان ہی نہیں ہوئی ہے؛ جب کہ قرآن تو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند آواز کرنے پر سارے اعمال غارت ہونے کی خوفناک تنبیہ کرتا ہے، اور ہم رسول ﷺ کی کردارکشی کوپی جانے پر آمادہ کیے جارہے ہیں۔ کیا خود حضور ﷺ نے شاتم رسول ﷺ کعب بن اشرف کے خلاف کارروائی نہیں کروائی تھی؟ جھوٹے داعیانِ نبوت کے خلاف مسلح کارروائی نہیں کی تھی؟ یہ کام عوام نے نہیں کیے تھے؛ مگر حکومتیں کیوں نہیں کرتیں؟ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے؟ قیامت کے دن اللہ دلوں کے راز کھول کر سب سے حساب لے گا اس حساب سے اور رسول اللہ ﷺ کے حضور پیشی کا خیال کرکے اپنے خیال کا اظہار کرنا چاہیے۔ حالات کا جبر، غلط رجحانات وخیالات کی اشاعت کا ذریعہ نہ بنادے، اس بدنصیبی سے ہمیں پناہ مانگنی چاہیے۔


***






شانِ رسالت مآب  ﷺ میں گستاخی پر ہمارا احتجاج

اور
ہماری نجی زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ


عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے
عشق ہے کارِ شیشہ و آہن
          موٴمن آزاد نہیں، کہ جو جی میں آئے اس پر عمل پیرا ہوجائے، اس کے محبوب ﷺنے ہر معاملہ میں اُسوئہ اورطرزِ عمل چھوڑا ہے۔ اہانت کے معاملے بھی پے بہ پے آپ ﷺ کی زندگی میں آئے۔ مکی زندگی ہی میں نہیں، مدنی زندگی میں بھی، اور آپ ﷺ کے اور آپ کے اصحاب کے لیے بنیادی طور پر یہ ہدایتِ ربّانی رہنما رہی:
”تم ضرور آزمائے جاؤگے اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں، اور کتنی ہی دل آزار باتیں بھی تمھیں سننی پڑیں گی اہلِ کتاب اور مشرکین سے، اور اس کے مقابلہ میں اگر تم نے صبر اور تقوے کی روش سے کام لیا تو یہ یقینا عزم وہمت کی بات ہے“۔ (سورئہ آلِ عمران/۱۸۶)
          امکان ہوتو بدلہ لینے اور سزا دینے کا جواز اس آیت سے بھی نکل رہا ہے؛ لیکن ترجیح اسی کو مل رہی ہے کہ نظر انداز کیا جائے اور آں حضرت ﷺ کا اُسوئہ مبارکہ اسی کے مطابق رہا، اور یہ اس لیے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی مصلحت وہاں یہی تھی، اور اس مصلحت سے بڑھ کر کوئی چیز ظاہر ہے کہ آپ کو عزیز نہیں ہوسکتی تھی۔ اس معاملہ میں مصلحت بینی کی حد یہ ہے کہ سردارِ منافقین عبداللہ بن اُبیّ جس کی شرارتوں اور سازشوں سے آں حضور ﷺ کو شاید ہی مدنی زندگی کے کسی دن میں چین رہا ہو؛ آپ ﷺ کا حال یہ رہا کہ اس کی موت پر آپ نے قمیص مبارک اس کے کفن کے لیے دی، اس کے منھ میں اپنا لعابِ دہن برائے برکت ٹپکایا اور نمازِ جنازہ، جو دعائے مغفرت کے ہم معنی ہے، اس کے باوجود پڑھائی کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد نازل ہوچکا تھا کہ ”ان منافقین کے لیے تم اے نبی مغفرت مانگو یا نہ مانگو، اگر تم ستر(۷۰) بار بھی ان کے لیے مغفرت مانگو تب بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔“ (التّوبہ۹/۸۰) حضرت عمر نے قرآن کی آیت یاد دلائی، تو فرمادیا کہ مجھے اللہ نے منع نہیں کیا ہے مجھ پر چھوڑدیا ہے کہ کروں یا نہ کروں۔ اور اگر مجھے یقین ہوتا کہ ستر دفعہ سے زیادہ میں مغفرت ہوجائے گی تب میں زیادہ بھی کرتا۔ (گویا جانتے تھے کہ مغفرت نہیں ہونی) یہ ہے اس ذاتِ گرامی کا اُسوئہ مبارکہ جس کے عشق کی بات یہاں گفتگو میں ہے۔ اس نے کئی بار واجب القتل ہونے کے کام کیے، بعض مرتبہ تو لوگوں کو یقین ہوگیا کہ قتل کا حکم صادر ہوگا؛ لیکن آں حضرت ﷺ نے اسلام اور ملتِ مسلمہ کی مصلحت اسی میں دیکھی کہ درگذر سے کام لیا جائے۔ کیا شان ہے اس پیغمبرِ اعظم ﷺ کی! اللّٰہُم صلِّ وسلِّمْ علٰی عبدِک ونبِیِّکَ صلوٰةً وّسلاماً دائمین متلازمَینِ الٰی یومِ الدین․
          پس جب رسولِ خدا ﷺ کا یہ اسوئہ حسنہ ہمارے سامنے ہے تو دشمنانِ انسانیت کی طرف سے جب بھی آپ کی اہانت کی کوئی صورت رونما ہو؛ جیسا کہ ادھر چند سال سے فرزندانِ مغرب نے اس ملعون عمل کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے، تو ہمارا غم وغصہ تو ایمان کی علامت ہے؛ لیکن ردِعمل میں ہمیں اسلام اور ملتِ اسلام کی مصلحت دیکھنی ہے، اگر ہم موٴمن اور واقعی ”عاشقِ رسول ﷺ“ ہیں۔ نہیں تو ہم صرف اپنے نفس کو تسکین دینے والے ہوں گے، اور نامِ عشق کو رسوا کرنے والے۔
          ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ایک نوجوان نے ڈنمارک میں حبِّ رسول ﷺ کے حوالہ سے اپنی جان کو کھلے خطرہ میں ڈال کر وہاں کے ایک ملعون فلم ڈائرکٹر کا کام تمام کردیا؛ لیکن اس کا بھی کوئی اثر شیطان کے لشکر پر نہیں ہوا ہے، چہ جائے کہ ہمارے محض مظاہرے اور نعرے۔ آئے دن کسی مغربی ملک میں ایک ملعون اُٹھ رہا ہے اور اپنے پہلے والے سے بڑھ کر خباثت کی داد اپنے ہم وطنوں سے چاہ رہا ہے، تو کیا اپنے ردِعمل کی یہ بے اثری دیکھتے ہوئے بھی یہ بجا ہوگا کہ اپنے غم وغصہ کے اظہار کے لیے یہ بے اثر طریقے مسلسل آزماتے رہنے کو ہم تقاضائے عشقِ ﷺ رسول سمجھتے رہیں؟ یہ تو ملتِ اسلام کی بے بسی کا اظہار اور شیاطین کی ہمت افزائی ہے کہ وہ کچھ بھی کریں یہ چاردانگِ عالم میں پھیلی ہوئی امت اپنا سینہ پیٹ کر رہ جانے سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی۔
          آخر ہمیں کیوں کر اپنی اس شرمناک کمزوری کا رہ رہ کر اظہار کرنا پسند ہے؟ کہیں ہم اپنے اس احتجاجی عمل کو اس کے موٴثر ہونے نہ ہونے سے قطعِ نظر بجائے خود ایک کارِ ثواب تو نہیں سمجھ رہے ہیں؟ خدا نہ خواستہ اگر ایسا ہے، تو پھر ہم نے نہ حضور سیدالرُسل کے مرتبہ ومنزلت کو سمجھا اور نہ آپ کی غلامی میں پوشیدہ عزت کو جانا، ہم آپ کے نام پر بے بسی کا اظہار کرتے مظاہروں اور جلوسوں کو کارِ ثواب سمجھ رہے ہیں! افسوس، صد افسوس!
          تو پھر ہم کیاکریں؟ یہ ایک مشکل سوال ہے، راقم اپنی سمجھ کے مطابق جواب عرض کرتا ہے جو ایک تجربہ کا نتیجہ ہے، دوسرے حضرات بھی غور کریں۔ برطانیہ میں کم لوگ ہوں گے جنھیں رُشدی کی کتاب کے خلاف ”اسلامک ڈیفنس کونسل“ کی سرگرم جدوجہد یاد نہ ہو۔ راقم نے بھی اس کونسل کے کنوینر کی حیثیت سے اس سلسلہ میں اپنی استطاعت بھر حصہ لینے کو عزت وسعادت سمجھا۔ کونسل نے اپنی جدوجہد کے سلسلہ میں کتاب کے پبلیشر پینگوئن کے آفس کو نشانہ بناکر ایک عوامی مارچ بھی طے کیا تھا، ۲۸/جنوری ۱۹۸۹/ کا یہ مارچ، جس میں پورے ملک سے ۲۰-۲۵ ہزار فرزندانِ اسلام نے آپ سے آپ شرکت کی، اس کی شکل اپنے روایتی احتجاج کی بے ثمری کو یاد کرتے ہوئے نیز مغرب کی ایک نئی دنیا کا خیال کرکے اپنے برّصغیر کے روایتی مظاہروں سے بالکل مختلف تجویز کی گئی تھی۔ اس میں نعرہ زنی اور اظہارِ غیظ وغضب کے بجائے پلے کارڈز کے ذریعہ اپنی جذباتی تکلیف کا اظہار کرکے گویا برطانوی پبلک سے ہم نوائی کی اخلاقی اپیل تھی۔ خیال تھا کہ شاید کچھ شریف روحیں ہماری ہم نوائی کو سامنے آئیں اور کتاب کے ناشر اور حکومت پر کچھ دباؤ پڑسکے۔
          ہمارے اس طرزِ احتجاج کی تحسین تو بیشک ہوئی، (خاص کر اس لیے کہ دو ہفتے پہلے انگلینڈ کے ایک شہر میں اس کے بالکل برعکس کتاب سوزی کی صورت میں احتجاج کا آتشیں واقعہ ہوچکا تھا) لیکن جو مقصود تھا وہ حاصل نہیں ہوا۔ بات وہیں کی وہیں رہی اور پھر دو ہفتہ بعد آیت اللہ خمینی صاحب نے جو مصنف اور ناشرین کے قتل کا فتویٰ صادر کیا تو وہی حکومت جو انسانیت اور تہذیب واخلاق کے ناتے ہماری اخلاقی اپیل سے کوئی اثر لینے کو تیار نہ ہوئی وہ رشدی کے تحفظ میں ایسی سرگرم ہوئی جیسے اس ملعون تصنیف میں وہ اس کا ایجنٹ ہو۔ اس تجربہ کے بعد سے ذہن بن گیا کہ یہ مغربی دنیا بالکل الگ ذہن و مزاج کی حامل ہے، اسے تو ہم بس کبھی طاقت نصیب ہوتب ہی اپنے احساسات کا احساس کراسکتے ہیں؛ چنانچہ اس ایک واقعہ کے بعد اب امریکہ، اسامہ اور طالبان کے قضیے سے تو اس شرارت کی لائن ہی لگ گئی ہے اور ہر شرارت پہلی والی کو پیچھے چھوڑے جارہی ہے؛ چنانچہ یہ تازہ فلم والی خباثت، جیساکہ لوگ بتاتے ہیں، خباثت کی ساری حدوں کو پار کرگئی ہے اور کہیں کی بھی حکومت ہماری شکایت اور آہ وفغاں پر نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔ مسلم حکومتوں کے اتحاد (او․ آئی․ سی) کی جانب سے ۱۹۹۹/ سے اقوامِ متحدہ میں کوشش ہورہی ہے کہ ”آزادیِ اظہار“ کے اس ننگ انسانیت مغربی کلچر کو کچھ حدود وقیود کا پابند کیا جائے؛ لیکن مغربی حکومتیں کسی طرح اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے رہی ہیں (اس المیہ کا بڑا تفصیلی بیان ۲۵/ستمبر کے ”دی نیوز“ میں سابق پاکستانی سفیر محترمہ ملیحہ لودھی کے قلم سے نکلا ہوا موجود ہے)
          یہ بالکل ایک صاف پاگل پن کیا مغرب میں حضور پاک ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین سے نفرت پیدا کرنے کے لائحہٴ عمل کے طور پر اختیار کیاگیا ہے؟ جی نہیں، اس کام کے لیے پاگل پن کی ضرورت نہیں تھی نہ وہ مفید ہے۔ یہ ”پاگل پن“ اگر کوئی مقصد رکھتا ہے اوریقینا رکھتا ہے، تو وہ عالمِ اسلام میں نشأة ِ ثانیہ کے اٹھتے ہوئے آثار سے خوف زدہ ہوکر اس کا راستہ روکنا ہے۔ اس کا آغاز امریکہ نے 11/9 کے حوالہ سے ”دہشت پسندی کے خلاف جنگ“ (War on Terrorism) کا نام دے کر کیا، جسے بارہواں سال چل رہا ہے اور جس کے ذریعہ وہ تمام قوتیں جنگی اسلحہ سے تباہ کردینے کی مہم جاری ہے، جنھیں امریکہ اس نشأتی لہر کا بازوئے شمشیرزن سمجھ رہا ہے، پھر اس آغاز کے چند سال بعد یہ اشتعال انگیز فلموں اور کارٹونوں کا سلسلہ اسی مہم کا دوسرا پارٹ ہے جس نے مسلم دنیا میں اشتعال انگیزی کا ایک مستقل سلسلہ قائم کردیا ہے۔ ایک حرکت پر بات ٹھنڈی پڑتی ہے تو دوسری برآمدجس کے نتیجہ میں ہمارے یہاں وہ تک ہورہا ہے جو جمعةُ المبارک ۲۰/ستمبر کو پاکستان کے شہروں میں بصد رنج وقلق دیکھا گیا۔ یعنی ایک طرف اپنے ہاتھوں سے ملک کو ملینوں بلینوں کا نقصان، دوسری طرف اپنی پولیس کے ہاتھوں اپنی ہی بیسیوں لاشیں گرنا، اور پھر حکومت اور عوام کے درمیان جو دوری وبے اعتمادی ہمارے یہاں یونہی عام ہے، اس میں مزید تناؤ کا اضافہ۔ ایسے حالات میں نشأةِ ثانیہ کا کہاں گذر؟ مزید ایک نتیجہ اس اشتعال انگیزی کا یہ ہے کہ نوجوانوں میں مغرب، بالخصوص امریکہ، کے خلاف جو کچھ بھی ممکن ہوکرگزرنے کا جذبہ بالکل قدرتی طور سے پیدا ہوتا ہے، اور امریکہ کی نظر میں گویا نئے ”دہشت گرد“ پیدا ہوتے ہیں جن کا تعاقب اس کی ذمہ داری ہے۔
          کیا اس صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم شدید جذباتی اذیت کے باوجود مغرب کی ان اشتعال انگیزیوں کا نوٹس لینا اسی طرح بند کردیں جس طرح رسول اللہ ﷺ کے عمومی اُسوئہ مبارکہ میں ہم دیکھتے ہیں؟ جب ہم ان شیاطین کا کچھ کر نہ سکیں تو کیا اسلام اور ملت کے نقطئہ نظر سے یہ بات زیادہ آبرومندانہ نہیں ہے کہ سورئہ آلِ عمران کی اوپر گزری آیت (”اور ضرور تمہاری آزمائش اپنے مالوں اور جانوں میں ہونی ہے اور ضرور ایسا ہوگا کہ تم کو اہلِ کتاب اور مشرکین سے بڑی اذیتیں پہنچیں۔ اور اس کا مقابلہ تم نے اگر صبر اور تقوے کی روش سے کیا تو یقینا یہ عزم وہمت کی بات ہوگی۔“) پر عمل کیا جائے؟ اور غور کیجیے تو یہ قرآنی ہدایت دراصل ایسے ہی حالات کے لیے ہے جن سے ہم گزررہے ہیں۔ یہی واحد صورت ان حالات میں ہے کہ اس شیطانی سلسلہ کا تار ٹوٹے، مغربی حکومتوں سے اس بات کی توقع کہ وہ آپ کے درد کو سمجھیں، بدقماشوں کو لگام دینے کے لیے کسی عالمی قانون کی منظوری پر راضی ہوں، جس کے لیے او․ آئی․ سی کی طرف سے کوششیں ہیں، اس توقع کی کیا گنجائش اس صورتِ حال میں ہے کہ یہ حکومتیں تو پاکستان کے قانونِ تحفظِ حرمتِ رسول ﷺ کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، جو لوگ آپ کے اپنے ملکوں میں بھی آپ کے حُرُمات ومقدّسات کی بے حرمتی کی آزادی کے لیے بضد ہیں کیا ان سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنے یہاں تحفظ نافذ کریں گے؟
          اس دن کے لیے انتظار اس دن کا کیجیے جب ہم آپ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضیات پر ڈھال کر اسلام کا گزرا ہوا دور واپس دیکھنے کے لائق ہوجائیں اور وہ دور عشقِ رسول کے جھنڈے اُٹھانے اور احتجاج کرنے سے نہیں، اللہ ورسول ﷺ کی مرضیات کے آگے بصد شوق سرجھکانے سے آئے گا، جو بلاشبہ اس وقت ہمارا حال نہیں ہے۔ اِلاّ یہ کہ ہم جانتے نہ ہوں یا اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہوں۔ اوراگر اس بات کی شرح درکار ہوتو ایک پیرِدانا کی حکایت سن لیجیے:
          گذشتہ صدی کے ہمارے نامور علماء میں سے مولانا سید مناظراحسن گیلانی (م-۱۹۷۵ء) جن کو علم کے ساتھ اللہ نے عشقِ مصطفوی ﷺ کی دولت سے بھی خوب خوب نوازا تھا، دارالعلوم دیوبند میں اپنی طالب علمی کے احوال لکھتے ہوئے اپنے استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن(م-۱۹۲۰/) کے درس کا ایک واقعہ سناتے ہیں: ”بخاری شریف کا سبق ہورہا تھا، مشہور حدیث گذری کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک موٴمن نہیں ہوسکتا، جب تک اس کے مال، بال بچے اور سارے انسانوں سے زیادہ، میں اس کے لیے محبوب نہ ہوجاؤں۔ فقیر نے عرض کیا کہ ”بحمداللہ عام مسلمان بھی سرکارِ کائنات ﷺ کے متعلق محبت کی اس دولت سے سرفراز ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ ماں باپ کی توہین کو توایک حد تک مسلمان برداشت کرلیتا ہے؛ لیکن رسالت مآب ﷺ کی ہلکی سی سبکی بھی مسلمانوں کو اس حد تک مشتعل کردیتی ہے کہ ہوش حواس کھوبیٹھتے ہیں، آئے دن کا مشاہدہ ہے کہ جان پر لوگ کھیل گئے ہیں۔“ یہ سن کر حضرت نے فرمایا: ہوتا بے شک یہی ہے جو تم نے کہا؛ لیکن کیوں ہوتا ہے؟ تہہ تک تمہاری نظر نہیں پہونچی، محبت کا اقتضا یہ ہے کہ محبوب کی مرضی کے آگے ہر چیز قربان کی جائے؛ لیکن عام مسلمانوں کو جو برتاؤ آں حضرت ﷺ کی مرضیِ مبارک کے ساتھ ہے وہ بھی ہمارے تمہارے سامنے ہے۔ پیغمبر ﷺ نے ہم سے کیا چاہا تھا اور ہم کیا کررہے ہیں، اس سے کون ناواقف ہے، پھر سبکی آپ ﷺ کی جو مسلمانوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے اس کی وجہ محبت تو نہیں ہوسکتی۔“
          خاکسار نے عرض کیاکہ تو آپ ہی فرمائیں، اس کی صحیح وجہ کیا ہے؟ نفسیاتِ انسانی کے اس مبصرِ حاذق نے فرمایا کہ ”سوچوگے تو درحقیقت آں حضرت ﷺ کی سبکی میں اپنی سبکی کا غیرشعوری احساس پوشیدہ ہوتا ہے، مسلمانوں کی خودی اور انا مجروح ہوتی ہے، ہم جسے اپنا پیغمبر اور رسول… مانتے ہیں تم اس کی اہانت نہیں کرسکتے۔ چوٹ درحقیقت اپنی اسی ”انانیت“ پر پڑتی ہے؛ لیکن مغالطہ ہوتا ہے کہ پیغمبر ﷺ کی محبت نے ان کوانتقام پر آمادہ کیا ہے، نفس کا یہ دھوکہ ہے، محبوب کی مرضی کی جسے پرواہ نہ ہو، اذان ہورہی ہے اور لایعنی اور لاحاصل گپوں سے بھی جو اپنے آپ کو جدا کرکے موٴذن کی پکار پر نہیں دوڑتا، اسے انصاف سے کام لینا چاہیے کہ محبت کا دعویٰ اس کے منھ پہ کس حد تک پھبتا ہے۔“ (احاطہٴ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن، ص۱۵۳-۱۵۴)
          اللّٰہُمَّ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ المستقیمَ صِراطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالین اٰمین


***




وکی لیکس آزادیِ اظہار رائے اور اہانتِ رسول  ﷺ



ملکی اور بین الاقوامی سطح کے دو سنسنی خیز انکشافات نے اس دورِ منافقت کے رئیس المنافقین کی آزادیِ جمہوریت کے بلند بانگ دعووں کی پول کھول دی ہے۔ جولیان اسانج کی وکی لیکس کے ذریعہ لاکھوں انکشافات نے جہاں منافقوں کے سردار کو سرِبازار رسوا کیا ہے، وہیں دنیا بھر کے نام نہاد واظہار رائے کی آزادی کے علمبرداروں اور مسلم دانش فروشوں کو بھی ننگا کردیا ہے، جن کا یہ کہنا ہے کہ اگر دنیا میں نبی آخرالزماں حضرت محمد  ﷺ کی اہانت کے لیے طرح طرح کی سازشیں اور طریقے اختیار کیے جاتے ہیں تومسلم دنیا کو اس پر ردِّعمل نہیں کرنا چاہیے، انھیں اس طرزِعمل پر درگزر سے کام لے کر علمی انداز میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کوآزادی کا سبق پڑھانے والے بیرونی آقا اور ان کے ڈالروں کے غلام مقامی دانشوران کہتے ہیں کہ حضور  ﷺ کی ذات اتنی کمزور تھوڑی ہے کہ ان کی پگڑی میں بم دکھادینے سے، ان کا کارٹون بار بار بنانے سے اور انھیں بار بار نشر کرنے سے آپ کی ذاتِ گرامی پر حرف آجائے گا؛ مگر یہ منطق اب وکی لیکس کے معاملہ میں مغربی منافقین کے ذریعہ نہیں اپنائی جارہی ہے اور نہ ان کے بے غیرت ایمان فروش مقامی حصہ دار واویلا مچارہے ہیں۔ مغرب نے خود یہ کیا کہ جولین اسانج کے ذریعہ کیے گئے بھانڈا پھوڑ کا حقائق کے ذریعہ مقابلہ کرنے کے بجائے میڈیا کے گلاگھوٹنے اور جولین اسانج اور اس کے معاونین کے خلاف زبردست ہمہ جہت ظلم اور سازشوں کے طریقے اپنانے شروع کردیے ہیں۔ سب سے پہلے اس کے خلاف زنا کا مقدمہ درج کراکے اس کے خلاف انٹرپول کا وارنٹ حاصل کرلیا۔ مغرب میں ایک خاص بات یہ ہے خصوصاً امریکہ میں کہ اگر کوئی مشہورآدمی حق بات کہہ دے یا مسلمان ہوجائے تو فوراً اس کے خلاف کوئی دس پندرہ سال پرانا زنا کا کیس درج ہوجاتا ہے۔ مائیکل جیکسن اور مائیک ٹائیسن کے ساتھ ہی ہوا اور اب اسانج کے ساتھ بھی یہی کیاگیا۔ وکی لیکس سے پہلے ان محترمہ کو چھ سال تک یاد ہی نہیں رہا کہ ان کی آبروریزی ہوئی ہے؟ اب اچانک ایسا یادآیا کہ انٹرپول سے وارنٹ جاری ہوگئے۔ حماس رہنما کے دوبئی کے ہوٹل میں شہید کرنے والے ۱۸/سے زیادہ ملزمین آج تک مغربی ممالک میں انٹرپول کے وارنٹ کے باوجود آزاد ہیں اوراسانج کو مفرور ہونا پڑا۔ وکی لیکس کی سائٹ کو اسی دن ہیک (غیرقانونی طور پر بند) کردیاگیا۔ اس کے معاون کو جیل میں رکھا گیا اور امریکی اہلکار کو زیرسماعت رکھا گیا ہے، جہاں جرم ثابت ہونے پراسے ۵۲/سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس کا مقابلہ شعائرِاسلام کی اہانت کرنے والے ابوغریب اور بگرام ہوائے اڈے امریکی/ مغربی اہل کاروں کے رویہ سے یہ موازنہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کس طرح کے دو پیمانے آزادی اور جمہوریت کے معاملہ میں بھی اپنائے جاتے ہیں۔ امریکی حکومت کی بے عزتی کرنے یا اس کی سیکوریٹی کو نام نہاد خطرہ پیدا کرنے پر ۵۲ سال تک کی سزا اور دنیا بھر کی غیرقانونی سازشیں اور بندشیں اور رسولِ آخرالزماں  ﷺ کی اہانت اور قرآن پاک کی بے حرمتی پر الٹا مسلمانوں کو وعظ ونصیحت اور صبر نما دیوّسی کی تلقین جب کہ ان کا تعلق دنیا کے ۱۲۰ کروڑ مسلمانوں کے جذبات سے ہے۔ اس کے علاوہ وکی لیکس کی معلومات کومیڈیا کے ذریعہ ایسا رخ دیا جاتا ہے جس سے مسلمان ممالک میں آپس میں تعلقات خراب ہوں یا اندرون ملک خانہ جنگی برپا ہو، بھی قابلِ غور کمینہ حرکت ہے جو ہمارا میڈیا بھی کررہا ہے اور بین الاقوامی (صہیونی) میڈیا بھی کررہا ہے۔
          دوسرا بھانڈا پھوڑا ہمارے ملک کے جی ٹو اسپیکٹرم نام کے لائسنس کی نیلامی سے متعلق ہے جس میں سرکاری احتسابی ادارہ کے مطابق سرکار کو ۴۰/ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اس غداری کے عمل میں کمران افسران، میڈیا، عدلیہ سبھی ناقابلِ تردید ثبوت کی بنیاد پر ملوث ہیں۔ اس عمل غداری میں ملک کے دو سب سے بڑے تجارتی گھرانوں ٹاٹا اور امبانی کے ساتھ میڈیا کے مغل اپنی نیک نامی کے پرچم گاڑنے والے گھڑیال اور انتہائی اعلیٰ سطح کے آئی․ اے․ ایس․ افسران شامل ہیں۔ ٹاٹا اور امبانی کے دھندوں کو مشورہ دینے والی اور ان کے کاروبار کے لیے حکومت میں کام کرنے والی کمپنی وبشنوی کی مالکہ نیرا رادیا کے فون حکومت ٹیپ کررہی تھی جو کہ چھ ماہ تک ٹیپ کیے گئے تھے۔ ان سے پتہ چلا کہ ان سرمایہ داروں کی سفارش میں بڑے بڑے ڈھونگی اور نام نہاد کھوجی پترکار پربھوچاؤلہ، ویرسنگھوی، شنکرائیرز گنپتی سبرامنیم، سنجے نرائن نے مختلف اوقات میں مختلف کمپنی مالکان، سرکار، اورنیرا رادیا کی کمپنی کے درمیان رابطہ یعنی دلالی کا کام کیا ہے۔ بہرحال بڑے بڑے ڈھونگی پکڑے گئے مگر ہمارے سماج میں ایک اخبار والا کہتا ہے کہ میں نے ہائی کورٹ کے جج کو ۹/کروڑ میں خریدا ہے۔ جب عدلیہ بھی آستھایا مایا کا شکار ہوتو ایسے سماج میں کون کس سے کہاں شکایت کرے؟ یہاں ٹاٹا اور ان کے حامی Privacy رازداری کے آڑ لے کر سپریم کورٹ جارہے ہیں؛ مگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سچ جھوٹ پھیلانے کے لیے میڈیا بالکل بے قید رہتا ہے۔ کیا ہماری کوئی Privacy نہیں ہے؟
***






ڈیڑھ ارب مسلم عوام صرف ایک ایک ڈالر/ ریال / درہم / روپیہ و غیرہ جمع کرے تو اتنی دولت جمع ہو سکتی ہے کہ اس سے گستاخ رسولؐ اور قرآن مجید کو اعلانیہ جلانے (شہید کرنے) والوں کو اسی ملک کے کسی بھی فرد سے انعام کی لالچ میں موثر، نتیجہ خیز اور عبرت آمیز سزا دلوائی جا سکتی ہے، تو ہم حرمت رسولؐ اور قرآن مجید کے لئے کب ، کیا ، کہاں اور کیسے کیوں نہیں کچھ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ؟؟؟

کیا اس عمل کے بعد توہین کرنے والے ذلیل ترین شخص کو ایسی حرکت سے باز نہیں کیا جا سکتا ؟؟؟

کیا اس سے دوسروں کو ان حرکات سے روکا نہیں جا سکتا ؟؟؟

کیا اس سے ہمیں کوئی کافر یا منافق حکمران یا ملکی قانون اس قابلِ عمل سزا دینے یا دلوانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے ؟؟؟

کیا سب سے زیادہ سچا ایمان و عشق رکھنے والے نبیؐ کے ساتھیوں (صحابہؓ) کی زندگی سے ہمیں ایسے شریر لوگوں کو سزا دلانے میں موثر نتیجہ کے حصول میں ہر طرح کا جوکھم اٹھاتے کے ہمیں سبق نہیں ملتے ؟؟؟

اسی لئے تو الله تعالیٰ قرآن مجید میں فرما چکا : "اور جب ان (منافقین) سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں (یعنی اصحابُ النبی) کی طرح تم بھی ایمان لے آؤ، (تو) کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لاۓ بیوقوف، (مومنو!) سن لو! (دراصل) یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے". (البقرہ : ١٣)

دوسری آیت میں فرمایا : پھر اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم (یعنی اصحابُ النبی) ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں... (البقرہ : ١٣٧)

اور فرمایا : جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین (صحابہؓ) میں سے بھی اور انصار (صحابہؓ) میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان (صحابہؓ) کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے.(التوبہ : ١٠٠)

تو کیا ہم ان سچے ایمان و عشق والے صحابہؓ کی پیروی کرتے الله کی رضا اور جنت کے حصول کی عظیم کامیابی نہیں چاہتے؟؟؟
کل قیامت میں رسول الله کے سامنے کیا منہ لیجائیں گے ؟؟؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ صحابہؓ کی پیروی کا حکم قرآن کو ہمارے چھوڑنے کے سبب نبیؐ کی "شفاعت" کے بجاۓ "شکایت" اور اس صدی کی امت پر (نبی کے ذریعہ پہنچے اس حکم قرآنی سے) بے وفائی کا مقدمہ نہ ہوجاۓ ، جس کی خبر پہلے ہی دے چکے ؛ وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا[٢٥:٣٠]
ترجمه: اور پیغمبر (روزِ قيامت) کہیں گے کہ اے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا.




No comments:

Post a Comment