Monday, 18 March 2013

قرآن سے ایصالِ ثواب کے دلائل

ایصال کا مادہ وصل یعنی جوڑنا، پہنچانا ہے[المصباح:909]

انسان نے جو کچھ نیک کام کیا اس کو اس کا ثواب ملا، اس نے اپنی طرف سے وہ ثواب کسی دوسرے کو پہنچایا خواہ مردہ ہو یا زندہ۔ بس ایصال ثواب کی حقیقت شرع میں اتنی ہے نیک کام خواہ صدقہ خیرات ہو یا ذکر، تلاوت، تسبیحات وغیرہ ہو۔

تنبیہ : مروجہ قرآن خوانی تو نہ ایصال ثواب کی غرض سے درست ہے اور نہ ہی کسی دوسرے مقصد سے صحیح ہے، اس کے لیے دن تاریخ کی تعیین کرنا یا اجتماع کا اہتمام کرنا بدعت ہے۔ قرآن پڑھ کر پیسہ وغیرہ لینا دینا ناجائز اور حرام ہے۔ اس تلاوتِ قرآن کا ثواب نہ پڑھنے والے کوحاصل ہوتا ہے نہ میت کو۔ اور پیسہ لینے اوردینے والے دونوں گناہ گار ہوتے ہیں۔ ایصالِ ثواب بلا معاوضہ کیا جائے۔ اِن القرآن بالأجر لا یستحق الثواب لا للمیت و لا للقارئ، والآخذ والمعطي آثمان (کذا في الشامي)

 البتہ فی نفسہ جو شخص جب چاہے جس قدر چاہے جس کو چاہے جہاں چاہے قرآن کریم پڑھ کر ثواب پہنچادیا کرے جائز و مستحسن ہے۔ احادیثِ کثیرہ سے اس کا ثبوت ہے، فتاویٰ شامی نیز فتح القدیر شرح الہدایہ میں دلائل جمع کردیے ہیں۔







اولاد کی دعا سے درجات میں ترقی حاصل ہوگی:
حدیث: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ يَارَبِّ أَنَّى لِي هَذِهِ فَيَقُولُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ۔

(مسنداحمدبن حنبل، مسند أبي هريرة رضي الله عنه،حدیث نمبر:۱۰۶۱۸، شاملہ،الناشر: مؤسسة قرطبة،القاهرة)

ترجمہ:بلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ نیک آدمی کا جنت میں درجہ بلند فرمائیں گے تووہ عرض کریگا، اے رب! میرے لیے یہ درجہ کہاں سے بڑھ گیا؟ تووہ ارشاد فرمائیں گے کہ تمہارے لیے تمہارے بیٹے کے استغفار کی وجہ سے (تمہارا درجہ بلند کیا گیا ہے)۔

أخرجه أحمد (2/509، رقم 10618) ، وابن ماجه (2/1207، رقم 3660) قال البوصيرى (4/98) : هذا إسناد صحيح رجاله ثقات. والبيهقى (7/233، رقم 14116) مختصرًا موقوفًا دون موضع الشاهد. وأخرجه أيضًا: ابن أبى شيبة (6/93، رقم 29740) ، والطبرانى فى الأوسط (5/210، رقم 5108) . قال الهيثمى (10/210) : رواه أحمد والطبرانى فى الأوسط، ورجالهما رجال الصحيح غير عاصم بن بهدلة وقد وثق. وقال المناوى (2/339) : قال الذهبى فى المهذب: سنده قوى.
فائدہ:یہ حدیث اصل میں توحقیقی اولاد کی دعا اور استغفار کے لیے وارد ہوئی ہے اگراولاد کے معنی میں روحانی اولاد کوضمنا شامل کردیا جائے تواللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قوی اُمید ہے کہ وہ روحانی اولاد مثلاً شاگرد اور مرید بلکہ عام مؤمن کی دعا سے بھی مؤمن کا درجہ جنت میں بڑھایا جائے گا اگراللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان کی دعا کوقبول فرمائیں گے تو، (امداداللہ)۔

===================================================================


باب: میت کی طرف سے ایصالِ ثواب کا بیان

بَاب وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنْ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ

صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۶/ حدیث مرفوع

۲۳۱۶۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ۔

۲۳۱۶۔ محمد بن عبد اللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہؐ! میری والدہ بغیر وصیت کے فوت ہوگئی ہے اور میرا گمان ہے اگر وہ بات کرتی تو وہ صدقہ کرتی، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو ثواب ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں!۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۷/ حدیث مرفوع

۲۳۱۷۔ حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسٰی حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحٰقَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ کَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذٰلِکَ الْبَاقُونَ۔

۲۳۱۷۔ زہیر بن حرب، یحیی بن سعید، ابوکریب، ابواسامہ، علی بن حجر، علی بن مسہر، حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، ہشام، ابواسامہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔

باب: ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کا بیان

بَاب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنْ الْمَعْرُوفِ

 صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۸/ حدیث متواتر مرفوع

۲۳۱۸۔ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ۔

۲۳۱۸۔ قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، ابومالک اشجعی، ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۱۹/ حدیث متواتر مرفوع

۲۳۱۹۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلٰی أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللہِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ قَالَ أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّ بِکُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَکْبِيرَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِکُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَکُونُ لَهٗ فِيهَا أَجْرٌ قَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَکَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ فَکَذٰلِکَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ کَانَ لَهٗ أَجْرًا۔

۲۳۱۹۔ عبد اللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی بن میمون، واصل مولی ابی عیینہ، یحیی بن عقیل، یحیی بن یعمر، ابواسود دیلی، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مالدار سب ثواب لے گئے اوہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں وہ ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال سے صدقہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جس سے تم کو بھی صدقہ کا ثواب ہو ہر تسبیح ہر تکبیر صدقہ ہے ہر تعریفی کلمہ صدقہ ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۰/ حدیث مرفوع

۲۳۲۰۔ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهٗ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهٗ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهٗ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلٰی سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ کَبَّرَ اللہَ وَحَمِدَ اللہَ وَهَلَّلَ اللہَ وَسَبَّحَ اللہَ وَاسْتَغْفَرَ اللہَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْکَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَی عَنْ مُنْکَرٍ عَدَدَ تِلْکَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَی فَإِنَّهٗ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنْ النَّارِ قَالَ أَبُو تَوْبَةَ وَرُبَّمَا قَالَ يُمْسِي۔

۲۳۲۰۔ حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ ربیع بن نافع، معاویہ بن سلام، زید، ابوسلام، عبد اللہ بن فروخ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، جس نے اللہ کی بڑائی بیان کی اور اللہ کی تعریف کی اور تہلیل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللہِ کہا اور اَسْتَغْفَرَ اللہَ کہا اور لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیا اور نیکی کا حکم کیا اور برائی سے منع کیا تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر اس دن چلتا ہے اس حال میں کہ  اس نے اپنی جان کو دوزخ سے دور کر لیا ہے، ابوتوبہ کی روایت ہے کہ وہ شام کو سب گناہوں سے پاک و صاف ہوگا۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۱/ حدیث مرفوع

۲۳۲۱۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهٗ غَيْرَ أَنَّهٗ قَالَ أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ وَقَالَ فَإِنَّهٗ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ۔

۲۳۲۱۔ عبد اللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحیی بن حسان، معاویہ، زیداوپر والی حدیث ہی کی دوسری سند ذکر کی ہے الفاظ کے تغیر وتبدل کی طرف اشارہ کیا، معنی ومفہوم ایک ہی ہے۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۲/ حدیث مرفوع

۲۳۲۲۔ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهٖ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهٗ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ عَنْ زَيْدٍ وَقَالَ فَإِنَّهٗ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ۔

۲۳۲۲۔ ابوبکر بن نافع عبدی، یحیی بن کثیر، علی بن مبارک، یحیی، زید بن سلام، ابوسلام، عبد اللہ بن فروخ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر انسان کو تین ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، معاویہ عن زید کی حدیث کی طرح اور اس میں ہے کہ وہ اس دن شام کرتا ہے۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۳/ حدیث متواتر مرفوع

۲۳۲۳۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالَ قِيلَ لَهٗ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يُمْسِکُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ۔

۲۳۲۳۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، شعبہ، سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے، عرض کیا گیا اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا اپنے ہاتھوں سے کمائے اور اپنے آپ کو نفع پہنچائے اور صدقہ کرے، عرض کیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ضرورت مند مصیبت زدہ کی مدد کرے، آپ سے عرض کیا گیا اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نیکی کا حکم کرے اور یہ بھی نہ کر سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا برائی سے رک جائے اس کے لئے یہ بھی صدقہ ہے۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۴/ حدیث مرفوع

۲۳۲۴۔ حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ۔

۲۳۲۴۔ محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
صحیح مسلم۔ جلد:۱/ پہلا پارہ/ حدیث نمبر:۲۳۲۵/ حدیث متواتر مرفوع

۲۳۲۵۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هٰذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ سُلَامَی مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ کُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ قَالَ تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهٖ فَتَحْمِلُهٗ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهٗ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ قَالَ وَالْکَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَکُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَی الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيطُ الْأَذٰی عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ۔

۲۳۲۵۔ محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر آدمی کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے، فرمایا دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے، آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔

ایصالِ ثواب کی چار صورتیں اور ان کا حکم؟

مجموعی طور پرایصالِ ثواب کی چار صورتیں ہیں:
(۱) مرحومین کے لئے دُعاء، اس کے درست ہونے پرتمام علماء اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے؛ اس کی سب سے بڑی دلیل خود قرآن مجید ہے، جس میں اپنے متوفی دینی بھائیوں کے لئے بھی دُعاء کرنا سکھایا گیا ہے:

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ۔

(الحشر:۱۰)

(۲) مالی عبادتوں یعنی صدقات اور قربانی وغیرہ کے ذریعہ اس کے جائز ہونے پربھی اہلِ سنت والجماعت کا اجماع واتفاق ہے، علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ائمہ اس بات پرمتفق ہیں کہ صدقہ کا ثواب میت کوپہونچتا ہے او رایسے ہی دوسری مالی عبادت کا جیسے غلام آزاد کرنا، اس سلسلہ میں صریح حدیث موجود ہے: ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یارسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے؛ اگرمیں ان کی طرف سے صدقہ کروں توکیا ان کونفع پہونچے گا، آپ نے جواب دیا ہاں!؛ اسی طرح خود رسول اللہ  کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت ہے، ظاہر ہے کہ یہ بہ طور ایصالِ ثواب کے ہی تھا۔
(۳) حج کے ذریعہ ایصالِ ثواب بھی درست ہے، جومالی عبادت بھی ہے اور بدنی بھی، آپ نے ایک خاتون کواپنی مرحوم والدہ کی طرف سے حج کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے، حدیث کی کتابوں میں بہ صراحت ووضاحت اس کا ذکر موجود ہے۔
(۴) بدنی عبادات جیسے قرآن، نماز، روزہ، ان کا ثواب پہونچے گا یانہیں؟ اس میں اہلِ سنت والجماعت کے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بدنی عبادت کے ذریعہ ایصالِ ثواب درست نہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انسان کے لئے وہی ہے جس کواس نے خود کیا ہے اور حنفیہ وحنابلہ اور مالکیہ کے نزدیک بدنی عبادات کے ذریعہ بھی ایصالِ ثواب جائز ہے اور اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ ایمان کے بارے میں انسان کا اپنا عمل ہی مفید ہے، باپ کا ایمان کافر بیٹے، یابیٹے کا ایمان کافر باپ کے لئے مفید نہیں، ان حضرات کی نگاہ احادیث پر ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں مرحوم کی طرف سے اس کے ولی کے روزہ رکھنے کا حکم نبی  منقول ہے:

مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ۔

(بخاری، كِتَاب الصَّوْمِ،بَاب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ،حدیث نمبر:۱۸۱۶، شاملہ، موقع الإسلام)

ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے مردہ پرسورہ یسٰیٰن پڑھنے کوفرمایا، ایک صاحب نے آپ  سے استفسار کیا کہ میں اپنے والدین کے ساتھ ان کی زندگی میں حسن سلوک کیا کرتا تھا اب کس طرح حسن سلوک کرسکتا ہوں؟ ارشاد فرمایا: مرنے کے بعد حسن سلوک یہ ہے کہ اپنی نماز کے ساتھ ساتھ ان دونوں کے لئے بھی نماز پڑھو اور اپنے روزہ کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کے لئے بھی روزہ رکھو۔
مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر مظہری میں آیت: وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّامَاسَعَىٰ کی تفسیر میں اس پرتفصیل سے گفتگو کی ہے اور ایصالِ ثواب سے متعلق روایات کوجمع فرمایا ہے؛ چونکہ عبادات بدنیہ سے ایصالِ ثواب کے ثبوت پربہ کثرت روایات منقول ہیں، اس لئے اکثر شوافع محققین نے بھی اس مسئلہ میں حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کی رائے کوقبول کیا ہے؛ غرض کہ عام طور پراہلِ سنت والجماعت کے نزدیک دُعا، بدنی عبادات، مالی عبادت، ومرکب بدنی ومالی عبادت سب سے ایصالِ ثواب درست ہے، خاتم الفقہاء علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: انسان کے لئے یہ درست ہے کہ اپنے عمل نماز یاروزہ یاصدقہ یااس کے علاوہ کا ثواب دوسرے کے لئے کردے، اہلِ سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے؛ البت آج کل پیسے لے کرآیت کریمہ اور ختم قرآن کا جوطریقہ مروج ہوگی اہے یادعوت کی وجہ سے قرآن پڑھ کرایصال ثواب کی جوصورت رواج پاگئی ہے، یہ درست نہیں، یہ توگویا آیات قرآنی کوفروخت کرنے کے مترادف ہے، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب نکتہ کی بات کہی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب آدمی پیسے لیکر قرآن پڑھے تواس کا یہ عمل اخلاص سے خالی ہونے کی وجہ سے خود ہی باعثِ ثواب باقی نہیں رہا اور جب یہ عمل باعثِ اجر ہوا ہی نہیں تودوسروں کوکیوں کراس کا ثواب پہونچایا جاسکتا ہے، ایسی باتوں سے بچنا چاہئے۔

بہترین ایصالِ ثواب کیا ہے؟

اکثرفقہاء کے نزدیک بدنی عبادت نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن اور مالی عبادت یعنی صدقہ، قربانی کے ذریعہ مردہ کوایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے؛ البتہ ایصالِ ثواب کا زیادہ بہتر طریقہ صدقہ ہے؛ کیونکہ صدقہ سے ایصالِ ثواب کے دُرست ہونے پراہلِ سنت والجماعت کا اتفاق ہے؛ پھرصدقہ میں بھی ایک ایسا صدقہ ہے جس کا اثر اور نفع کم وقت تک محدود ہوتا ہے، جیسے: کسی کوکھانا کھلادینا۔
صدقہ کی بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان کا نفع دیرپا ہوتا ہے، اسے صدقہ جاریہ سے تعبیر کیا گیا ہے، یہ ایصالِ ثواب کا سب سے بہتر طریقہ ہے، جیسے: مسجد یامدرسہ تعمیر کرادینا، کنواں کھودوانا وغیرہ، رسول اللہ  سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ ان کی طرف سے کچھ کرنا چاہتے ہیں تورسول اللہ صلی اللہ عنہ وسلم نے کنواں کھودوانے کا مشورہ دیا؛ توایسے صدقات کے ذریعہ ایصالِ ثواب جس کے نفع کا دائرہ وسیع ہو اور زیادہ دنوں تک لوگ اس سے فائدہ اُٹھاسکیں، سب سے افضل طریقہ ہے۔




ایصال ثواب اور مروّجہ قرآن خوانی کا حکم



مومن کے عمل کا اجر وثواب
موٴمن اس عارضی دنیوی زندگی میں اپنی موت سے پہلے پہلے جو بھی نیک کام کرے گا؛ چاہے اپنی زبان سے ہو کہ ہاتھ سے یا اپنے مال کے ذریعہ اس کا ثواب ضرور پائے گا یعنی عمل کا اجر اس کے نامہٴ اعمال میں لکھا جائے گا؛ لیکن مرنے کے بعد عمل کا دفتر بند ہوجاتا ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی عمل کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے؛ اس لیے نیکیوں پر اجر و ثواب کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے؛ البتہ چند اعمال واسباب ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی اس کا اجر میت کو پہنچتا رہتا ہے (یہی حال اس کے برے عمل اور گناہ کا ہے) حضرت ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اذا مات ابن آدم انقطع عملہ الا من ثلاث صدقة جاریة أو علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعو لہ (رواہ مسلم) جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل بند ہوجاتا ہے؛ مگر تین چیزیں: (۱) ایک صدقہٴ جاریہ یعنی ایسا صدقہ جس سے زندہ لوگ نفع حاصل کرتے رہیں (۲) دوسری ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں (۳) تیسری ایسی نیک اولاد جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتی رہے، ان تین قسم کے اعمال کا ثواب میت کو پہنچتا ہے یعنی اس کے نامہٴ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا۔
ایک دوسرے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا: ان مما یلحق الموٴمن عملہ وحسناتہ بعد موتہ علمًا علّمہ ونشرہ أو ولدًا صالحا ترکہ أو مصحفا ورّثہ أو مسجدًا بناہ أو بیتاً لابن السبیل بناہ أو نہرًا اجراہ أو صدقة أخرجہا من مالہ فی صحتہ وحیاتہ تلحقہ من بعد موتہ (الترغیب، ص۱۹۶/۱ عن ابن ماجہ)بے شک موٴمن کے عمل اور اس کی نیکیوں میں سے جس کا ثواب موٴمن کو اس کے مرنے کے بعد پہنچتا رہتا ہے: (۱) وہ علم ہے جو اس نے دوسرے کو سکھایا اور پھیلایا (۲) یا نیک اولاد جو اس نے چھوڑی ہے (۳) یاقرآن پاک کا کسی کو وارث بنایا یعنی تلاوت کے لیے وقف کردیا (۴) یا مسجد تعمیر کی (۵) یا مسافر کے لیے کوئی سرائے یعنی مسافر خانہ بنایا (۶) یا نہر جاری کی (۷) یا اپنے مال میں سے نفلی صدقہ نکالا، تندرستی اور زندگی میں تو ان چیزوں کا اجر وثواب مرنے کے بعد بھی میت کو پہنچتا رہے گا۔
ایصال ثواب اور اس کے اغراض
جس طرح میت کو اپنے بعض اعمال کا اجر وثواب پہنچتے رہنا متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور اہل ایمان کا ان احادیث پر عمل بھی پایاجاتا ہے، اسی طرح میت کو کسی نیک عمل کے ذریعہ نفع پہنچانا اور میت کا اس سے نفع اٹھانا احادیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ مثلاً حضرت انس بن مالک نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! ہم اپنے مُردوں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کے لیے صدقہ کرتے ہیں اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں، کیا ان اعمال کا ثواب ان مُردوں تک پہنچتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو ثواب پہنچتا ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی خوش ہوتا ہے، جب اسے کھجور کا طبق ہدیہ کیا جائے۔ ایک اور حدیث میں ہے جس شخص نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کی قبر کی زیارت کی اور قبر کے پاس یٰسین شریف پڑھی تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
ایصال ثواب کا منشا عموماً یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے میت سے عذاب میں تخفیف کردیتے ہیں یا دور فرمادیتے ہیں، کبھی میت کے درجات کی بلندی یا میت پر شفقت وترحم ہوتا ہے، کبھی اس کا مقصد والدین کی طاعت ہوتا ہے اور کبھی میت کے حق کی ادائیگی یااس کے احسان کا بدلہ دینا ہوتا ہے۔ اور ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ خود ایصال ثواب کرنے والا اجر وثواب کا مستحق ہو۔ یہ سب دینی مقاصد ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں، جیسے حدیث شریف میں آیاہے کہ جو شخص قبرستان گیا اور یٰسین شریف پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس دن مردوں سے عذاب میں تخفیف کرتے ہیں اور مُردوں کی تعداد کے برابرپڑھنے والے کو اجر دیتاہے۔ بہرحال ایصال ثواب ایک شرعی مقصد ہے۔
تنبیہ: میت کو نفع پہنچانے اورپہنچنے کے ذرائع میں سے ولد صالح کااپنے والدین کے لیے دعا کرنا یا دوسرے اشخاص کا میت کے لیے دعائے مغفرت کرنا بھی ایصال ثواب کے حکم کلی شرعی میں داخل ہے، جیساکہ مذکورہ احادیث میں اس کا ذکر صراحتاً موجود ہے۔
ایصال ثواب کے مختلف طریقے
ایصال ثواب چاہے مالی عبادت کے ذریعہ ہو، جیسے صدقات و خیرات کرنا یا مسکین و حاجت مند کو کھلانا، پلانا (یا پہنانا یا ان کی کوئی اور ضرورت پوری کرنا) یا بدنی عبادت سے ہو، جیسے نفل نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن وذکر واعتکاف اور طواف یا نفل حج یا عمرہ ایسے عمل کے ذریعہ ہو جس سے مخلوق کو نفع پہنچے اور اللہ کا قرب حاصل ہو، جیسے کنواں یا نہر کھدوانا (آج کل بورنگ کردینا) یا پل یا مسافرخانہ بنوانا، پھلدار یا سایہ دار درخت لگانا، مسجد کی تعمیر کرنا یا مصحف شریف یعنی قرآن مجید کو تلاوت کے لیے وقف کرنا یا اولاد کو دینی تعلیم دلانا وغیرہ ان سب چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اوراس سے میت کو خوشی وراحت ملتی ہے۔
پس فرائض کے سوا ہر نیک عمل سے چاہے کرتے وقت مُردوں کی طرف سے نیت کی ہو یا کرکے اس کا ثواب بخشا جائے اور ثواب چاہے کسی خاص میت کو بخشے یاتمام مومنین کو اور چاہے عمل کرنے والا تنہا کرے یا چند افراد مل کر انجام دیں ہر طرح مُردوں کو نفع پہنچانا درست اور ثابت ہے؛ بلکہ زندوں کو بھی ثواب بخشنا درست اور جائز ہے۔ الاصل اَنَّ کلمَن اَتی بعبادةٍ مّا أی سواء کانت صلاةً أو صومًا أو صدقةً أو قراء ةً أو ذکرًا أو طوافًا أو حجًا أو عمرةً ․․․جمیع أنواع البر (شامی وبحر) الافضل لمن یتصدق نفلاً اَن ینوی لجمیع المومنین والمومنات لانہا تصل الیہم ولا ینقص من أجرہ شیء ہو مذہب أہل السنة والجماعة (شامی) اصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی قسم کی عبادت کرے خواہ نماز ہو یاروزہ یا صدقہ یاقرأت قرآن یا ذکر یا طواف یا حج یا عمرہ․․․․ ہر طرح کی نیکیوں کا ثواب پہنچانا درست ہے اور ایصال ثواب کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین اور مومنات کی نیت کرے؛ اس لیے کہ سب کو بھیجے ہوئے نیک عمل کا پورا ثواب پہنچتا ہے، بھیجنے والے کے اجر میں سے کچھ کم نہیں کیا جاتا، یہی اہل السنة والجماعة کا مذہب ہے۔ فہذہ الآثار وما قبلہا وما فی السنة أیضاً من نحوہا عن کثیر قد ترکناہ لحال الطول یبلغ القدر المشترک بین الکل وہو من جعل شیئًا من الصالحات لغیرہ نفعہ اللّٰہ بہ مبلغ التواتر(فتح القدیر صفحہ۱۴۲:۳) علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ احادیث و آثار بکثرت ہیں طوالت کی وجہ سے ہم نے ترک کردیا، ان سب سے قدر مشترک ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص کسی بھی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور نفع دے گا یہ بات یقینی ہے۔
ایصال ثواب کے لیے قرأتِ قرآن
قرآن پاک کی تلاوت چاہے انفرادی طور پر ہو یا کسی جگہ اکٹھے ہوکر دونوں طرح صحیح اور مستحسن ہے۔ تلاوتِ قرآن کی اصل غایت تو رضائے الٰہی ہے؛ لیکن دوسرے مقاصد خیر کے لیے بھی قرآن کریم کا پڑھنا احادیث وآثار سے ثابت ہے؛ چنانچہ ایصال ثواب کے لیے جو ایک شرعی مقصد ہے، قرآن کریم کا پڑھنا خیرالقرون کے زمانہ سے جاری اور صحابہٴ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ان لکل شیء قلب وقلب القرآن یسین فاقروٴہا علی موتاکم ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، قرآن پاک کا دل سورئہ یٰسین ہے، پس اسے مردوں پر پڑھا کرو؛ اس لیے میت کے لیے یٰسین شریف پڑھنا اور پڑھوانا دونوں درست ہے۔ (فتح القدیر) محی السنہ امام نووی اپنی کتاب ”التبیان فی آداب حملة القرآن“ میں انصار مدینہ کا ایک معمول نقل کرتے ہیں الأنصار اذا حضروا عند المیت قروٴا سورة البقرة انصار مدینہ جب میت کے پاس حاضر ہوتے تو سورئہ بقرہ پڑھا کرتے تھے۔ مشہور شارحِ مشکوٰة ملا علی قاری جلیل القدر تابعی امام شعبی کا قول نقل کرتے ہیں کانت الأنصار اذا مات لہم المیت اختلفوا الی قبرہ یقروٴن القرآن (مرقات صفحہ ۱۹۸:۴) علامہ ابن القیم  نے بھی اپنی کتاب ”الروح/۹۳“ میں امام شعبی کا قول ذکر کیا ہے، یعنی انصار میں جب کسی کا انتقال ہوتا تو اس کی قبر پر جاتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس سلسلہ میں مختلف احادیث وآثار ذکر کرکے ملا علی قاری لکھتے ہیں الأحادیث المذکورة وہی ان کانت ضعیفة فمجموعہا یدل علی أن لذلک اصلاً وان المسلمین ما زالوا فی کل عصر ومصر یجتمعون ویقروٴن لموتاہم مِن غیر نکیر فکان ذلک اجماعًا یعنی میت کے ایصال ثواب کے لیے قرأتِ قرآن کی مذکورہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں؛ مگر مجموعہ دلالت کرتا ہے کہ اس کی اصل موجود ہے؛ چنانچہ مسلمان ہر زمانہ اور شہر میں جمع ہوتے ہیں اور اپنی میت کے لیے قرآن پڑھتے ہیں، پس عملاً یہ اجماع ہوگیا۔ (مرقات، ص:۱۹۹:۴) اور جب خیرالقرون؛ بلکہ ایک جماعت صحابہ سے اس کا ثبوت موجود ہے، تو پھر ایصال ثواب کے لیے اجتماعی قرأتِ قرآن کو بدعت نہیں کہا جائے گا؛ البتہ اگر خلاف شرع کسی پابندی کے ساتھ کیا جائے تو پھر ممنوع کہلائے گا۔
مروّجہ قرآن خوانی کا حکم فتاویٰ کی روشنی میں
عوام میں پائی جانے والی قرآن خوانی کئی پابندیوں اور لازم کیے ہوئے امور کے ساتھ ہوا کرتی ہے، جن کی شریعت میں کوئی اصل خیرالقرون میں نہیں ملتی، ایسی خلاف شرع پابندی اور التزام والی قرآن خوانی قابل ترک ہے، اس میں شرکت بھی ممنوع ہے۔
(۱) امام ربّانی فقیہ عصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی تحریر فرماتے ہیں: ”ثواب میت کو پہنچانا بلا قید وتاریخ وغیرہ اگر ہوتو عین ثواب ہے اور جب تخصیصات اور التزامات مروّجہ ہوں تو نادرست اور باعث مواخذہ ہوجاتاہے“ (فتاویٰ رشیدیہ)
(۲) حضرت مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوری مفتی اعظم گجرات تحریر فرماتے ہیں: رسم ورواج کی پابندی اور برادری کی مروت اور دباؤ کے بغیر اور کوئی مخصوص تاریخ اور دین معین کیے بغیر اور دعوت کا اہتمام اور اجتماعی التزام کے بغیر میت کے متعلقین، خیرخواہ اور عزیز واقرباء ایصال ثواب کی غرض سے جمع ہوکر قرآن خوانی کریں تو یہ جائزہے ممنوع نہیں ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ۳۸۹/۱)
(۳) حضرت مولانا سیدزوّار حسین نقشبندی اپنی کتاب ”عمدة الفقہ“ میں لکھتے ہیں: قرأت قرآن کے لیے قبر کے پاس بیٹھنا نیز قرآن شریف پڑھنے کے لیے حافظوں اور قرآن خوانوں کو بٹھانا بھی بلاکراہت جائز ہے؛ جبکہ پڑھنے والے اجرت پرنہ پڑھتے ہوں اور پڑھوانے والے کو اجرت (دینے) کا خیال نہ ہو۔ (عمدة الفقہ،ص:۵۳۶/۲)
(۴) حضرت فقیہ الامت مفتی اعظم ہند مفتی محمودحسن گنگوہی تحریر فرماتے ہیں: الجواب حامدا ومصلیا ”افضل تو یہی ہے کہ جب ایک جگہ مجمع قرآن شریف پڑھے تو سب آہستہ پڑھیں؛ لیکن زور سے پڑھیں تب بھی گنجائش ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ، ص:۲۵/۱) ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ایصال ثواب میں نہ تاریخ کی قید ہے کہ شب برأت ۱۵/شعبان، ۱۰/محرم اور ۱۲/ربیع الاوّل ہو۔ نہ ہیئت کی قید ہے کہ چنوں پر کلمہ طیبہ پڑھا جائے یا کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ دی جائے۔ نہ سورتوں وآیتوں کی تخصیص ہے کہ قل اور پنج آیات ہو اورنہ کسی اور قسم کی قید ہے یہ سب قید ختم کردیا جائے کہ یہ شرعاً بے اصل ہے، صحابہ نے بغیر ان قیدوں کے ثواب پہنچایا ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ، ص:۲۰۶/۱ قدیم)
(۵) حضرت مفتی احمد بیمات خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی تحریر فرماتے ہیں: الجواب حامداً ومصلیاً۔ جب کسی دن یا تاریخ کو لازم نہ کیاجائے کھانے پینے کا مستقل انتظام نہ کیا جائے نیز اسے ایسا ضروری اور لازم نہ سمجھا جائے کہ اس قرآن خوانی میں شریک نہ ہونے والے پر طعن و تشنیع کی جائے تو بغرض ایصال ثواب جائزہے؛ اس لیے کہ ایصال ثواب کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔ فقط: واللہ اعلم بالصواب (فتاویٰ فلاحیہ، ص:۴۰۸/۱)
قرآن خوانی میں خلاف شرع امور سے احتراز
حدیث و فقہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایصال ثواب کے لیے مالی عبادتوں کا طریقہ زیادہ نفع بخش ہے کہ اس سے عام انسان کو بھی نفع ہوتا ہے اور میت کو بھی اجر وثواب پہنچتا رہتا ہے؛ البتہ قرأت قرآن (قرآن خوانی) کے ذریعہ ایصال ثواب کیا جائے، تو پھر فقہ وفتاویٰ کی روشنی میں چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
(۱) قرآن پڑھنے یا پڑھوانے پراجرت مقرر نہ کی جائے اورنہ اجرت لی جائے۔ بہت سے علاقہ میں قرآن خوانی کرانے والے حافظ وغیرہ سے کم یا زیادہ پڑھنے پر معاوضہ کی پیش کش کرتے ہیں اور کبھی پڑھنے والے خود ہی معاوضہ طے کرتے ہیں اور بعض مرتبہ بغیر طے کیے ہدیہ کے نام پر دیا جاتا ہے؛ چونکہ قرآن خوانی کرانے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ نذرانہ دینا ہوگا اور پڑھنے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ نذرانہ ضرور ملے گا؛ اس لیے یہ نذرانہ (ہدیہ) بھی جسے مجلس کے بعد پیش کرنے کا رواج ہے اجرت کے مشابہ ہے؛ لہٰذا یہ سب صورت ناجائز ہے اور اس طرح پڑھنے پر اجر وثواب نہیں ملتا ہے، تو ایصال ثواب کیسے ہوگا؟
(۲) قرآن خوانی میں شرکت کرنا برادری مروت کے دباؤ یا بدنامی کے ڈر سے نہ ہو اسی طرح قرآن خوانی میں شریک نہ ہونے والے پر کوئی طعن وملامت نہ کیا جائے۔ قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے عموماً برادری مروت کی وجہ سے بیٹھتے ہیں، کبھی قرآن خوانی کرانے والوں کے طعن وملامت سے بچنے کے لیے شریک ہوتے ہیں، ایسی قرآن خوانی سے تو بہتر یہ ہے کہ کسی غریب ومسکین اور مستحق کی حاجت ضروریہ پوری کرکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جائے۔
(۳) انتقال کے بعد قرأت قرآن کے لیے دنوں کی تخصیص نہ ہو جیسے تیسرے دن اور دسویں دن میں قرآن خوانی کرنا پھر چالیسویں دن میں کرنا پھر سال پورا ہونے پرکرنا۔ عوام کے نزدیک یہ تیجہ، چہلم اور برسی وغیرہ ایسے متعین ہیں کہ ذرا بھی اس میں خلاف نہیں کیاجاتا، اسی طرح قرآن خوانی کے لیے تاریخ متعین نہ ہو مثلاً ۲۷ویں رجب، ۱۵ویں شعبان، دسویں محرم، ۱۲ویں ربیع الاوّل وغیرہ۔ اگر دن یا تاریخ کے التزام کے ساتھ قرآن خوانی کی جاتی ہے تو پھر یہ شرع کے خلاف ہے، اس میں شرکت ممنوع ہے؛ بلکہ اسے بند کرنے کی سعی کی جائے۔
(۴) خاص ہیئت کے ساتھ، خاص سورتیں اور خاص آیتوں کے پڑھنے کو ضروری قرار نہ دیا جائے جیسے کھانا سامنے رکھ کر چاروں قل اور پنج آیات پڑھ کر ایصال ثواب کرنا؛ کیونکہ ثواب کا پہنچنا اس طریقہ پر موقوف نہیں ہے، اگر اس طرح کیا جائے گا تو یہ طریقہ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے قابل ترک ہوگا۔
(۵) مجلس قرآن خوانی کے بعد شریک ہونے والوں کو کھلانا یا پلانا یا شیرینی تقسیم کرنے کا التزام نہ ہو۔ عام طور سے قرآن خوانی کے بعد کم از کم شیرینی (یعنی کوئی بھی میٹھی چیز پھل یا مٹھائی یا نان خطائی وغیرہ) تقسیم کرنے کو لازم سمجھتے ہیں اور بعض مرتبہ شریک ہونے والے اگر شیرینی تقسیم نہ کی جائے تو طنز کرتے ہیں، یہ دونوں صورتیں غلط ہیں اور قابل اصلاح ہیں۔
(۶) قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے کا مقصد شہرت وتفاخر یا دنیوی جاہ ومنصب کاحصول ہے یا قرآن پڑھوانے والا خود ہی شہرت وتفاخر کے لیے کررہاہے تو یہ بھی جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں دونوں فریق قابل موٴاخذہ ہیں ثواب تو کہاں ملے گا؟
حاصل یہ کہ کسی کے انتقال پر ایصال ثواب کے لیے شریعت میں مختلف طریقے ہیں، کسی بھی طریقہ پر عمل کیا جاسکتا ہے؛ البتہ ایسا طریق اختیار کیا جائے تو بہتر ہے جس سے عام لوگوں کو تادیر فائدہ حاصل ہوتا رہے اورمیت کو بھی اس کا اجر وثواب پہنچتا رہے اور ختم قرآن کرنا یا کم از کم یٰسین شریف پڑھنا یا پڑھوانا بھی درست ہے، شرط یہ ہے کہ خلاف شرع قید وپابندی نہ ہو چاہے مسجد میں ہو یا گھر میں۔ زمانہٴ سلف سے اس کا معمول جاری ہے؛ چنانچہ مدارسِ دینیہ میں بھی کسی شخصیت کے انتقال پر اگر قرآن خوانی ہوتی ہے تو وہ مذکورہ قیود وپابندیوں سے خالی ہواکرتی ہے؛ اس لیے ایسی پاکیزہ قرآن خوانی کے جائز؛ بلکہ مستحسن ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اکابر علمائے دیوبند اور اسلاف کے واقعات میں اس کا ذکر موجود ہے۔ مثلاً حجة الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی کے صاحب زادے ریاست دکن کے قاضی مولانا حافظ محمد احمد نانوتوی کا جب انتقال ہوا، اس وقت برصغیر کے سیکڑوں مدارس میں؛ جبکہ ہزاروں کبار علماء موجود تھے، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ (تفصیل کے لیے دارالعلوم دیوبند کی سالانہ روئداد ملاحظہ ہو) لہٰذا بعض اہل علم کا ایصال ثواب کے لیے مطلقاً اجتماعی قراء ت قرآن کو بدعت قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
البتہ خواہش پرستوں نے اِس عمل صالح میں مختلف پابندیاں لگادی ہیں، جو شرع کے خلاف ہیں اور عوام میں ایسی ہی قرآن خوانی کا رواج چل رہاہے اور لوگ ان پابندیوں کے نبھانے کو ضروری سمجھتے ہیں اس لیے احادیث وفتاویٰ کی روشنی میں ایسی مروّجہ قرآن خوانی قابلِ اصلاح ہے۔ دین کا صحیح فہم رکھنے والے سنجیدہ اور بااثر حضرات کو چاہیے کہ خلاف شرع امور سے اپنے علاقے کے لوگوں کو روکنے کی جدوجہد فرمائیں۔
$ $ $
===========================================

قرآن مجید سے ایصالِ ثواب کی دلیل کیا ہے؟

انسان کواصل اجر تواپنے اعمال کا پہونچتا ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسان کودوسروں کے اعمال کا اجر بھی پہنچاتے ہیں، دعا اور صدقہ دوسرے کے حق میں نافع ہونے اور اس کا ثواب پہنچنے پرتواہلِ سنت والجماعت کا اتفاق ہے ہی، جمہور اہل سنت کے نزدیک قرأت قرآن اور دوسری بدنی عبادتوں کا ثواب بھی پہنچتا ہے؛ یہی بات حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا:

سورۂ یٰسین قرآن کا قلب ہے، جوشخص اس کواللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے لئے پڑھے گا اس کی مغفرت ہوگی؛ نیز تم اس سورت کواپنے مردوں پر پڑھا کرو۔

ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین زندہ تھے تومیں ان کے ساتھ حسن سلوک کیا کرتا تھا، اب ان کی وفات ہوگئی، تواب میں ان کے ساتھ کس طرح سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی نماز کے ساتھ ان دونوں کے لئے نماز پڑھو اور اپنے روزوں کے ساتھ ان دونوں کے لئے روزہ رکھو۔
وَأخرج أَبُو الْقَاسِم بن عَليّ الزنجاني فِي فَوَائده عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من دخل الْمَقَابِر ثمَّ قَرَأَ فَاتِحَة الْكتاب و {قل هُوَ الله أحد} و {أَلْهَاكُم التكاثر} ثمَّ اللَّهُمَّ إِنِّي جعلت ثَوَاب مَا قَرَأت من كلامك لأهل الْمَقَابِر من الْمُؤمنِينَ وَالْمُؤْمِنَات كَانُوا شُفَعَاء لَهُ إِلَى الله تَعَالَى
[شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور:303، التفسير المظهري:9/ 129، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي:3/ 275]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ  نے فرمایا: جوقبرستان میں داخل ہو، وہ سورہ فاتحہ ، قل ہو اللہ احد اور أَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرْ پڑھے اور کہے کہ میں نے اس پڑھے ہوئے کلام کا ثواب اہلِ قبرستان مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے کردیا، تووہ لوگ اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سفارشی ہونگے۔


وَأخرج عبد الْعَزِيز صَاحب الْخلال بِسَنَدِهِ عَن أنس رَضِي الله عَنهُ أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ من دخل الْمَقَابِر فَقَرَأَ سُورَة يس خفف الله عَنْهُم وَكَانَ لَهُ بِعَدَد من فِيهَا حَسَنَات۔
[شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور:304، تفسير الثعلبي:8/ 119، تفسير مجمع البيان: 8/ 254، تفسير القرطبي:3/ 15، روح البيان:7/ 443، الكلام على وصول القراءة للميت:1/ 222، نفحات النسمات في وصول إهداء الثواب للأموات:1/ 221، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي:3/ 275، الأجوبة المرضية:45(1/ 169)،  اللباب في الجمع بين السنة والكتاب:1/ 330]

حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں، آپ  نے ارشاد فرمایا: جوقبرستان میں داخل ہو اور سورۂ یٰسین پڑھے تواللہ تعالیٰ ان سب یعنی قبرستان میں مدفون لوگوں سے عذاب کو ہلکا کردیتے ہیں اور اس کے لئے ان تمام لوگوں کے برابر نیکیاں ہوتی ہیں۔

ابن الجلاج رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے صاحب زادگان سے فرمایا: جب تم لوگ مجھے میری قبر میں داخل کرو توقبر میں رکھتے ہوئے کہوبِسْمِ اللہِ وَعَلَی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ پھرمٹی ڈال دو اور میرے سرہانے سورۂ بقرہ کا ابتدائی اور آخری حصہ پڑھو؛ کیونکہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کودیکھا ہے کہ وہ اس عمل کوپسند فرماتے تھے؛ محدثین نے اس کی سند کومعتبر ومقبول مانا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور بدنی عبادتوں کے ذریعہ ایصال ثواب حدیث سے ثابت ہے اور یہی ائمہ اربعہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کی رائے ہے اور فقہاء شوافع میں سے بھی بہت سے لوگ اسی کے قائل ہیں؛ البتہ پیشہ ورانہ طریقہ پر پیسے لے کرقرآن مجید پڑھنا جائز نہیں اور اس کا ثواب نہیں پہنچتا؛ کیونکہ ثواب تو ایسے عمل پر ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو، جوعمل اخلاص سے خالی ہو وہ خود لائق ثواب نہیں اور جوعمل خود ہی لائقِ ثواب نہ ہو اس کا ثواب دوسروں کو کیوں کر ایصال کیا جاسکتا ہے؟ یہی بات مشہور فقیہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔


قرآن سے ایصالِ ثواب کے دلائل

1) عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج قال : قال لي أبي : يا بني ، إذا مت فالحد لي لحدا ، فإذا وضعتني في لحدي فقل : بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم شن التراب علي شنا، ثم اقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة وخاتمتها ، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك . (رواه الطبراني في الكبير ، ورجاله موثقون)

ترجمہ: العلاء بن اللجلاج کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت کرتے ہوئے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو میرے لئے لحد بناؤ اور جس وقت مجھے لحد میں رکھو تو "بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم" کہو، اس کے بعد مجھ پر مٹی ڈال دو، پھر میرے سرہانے سورہ البقرہ کا شروع اور آخر پڑھو، کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ایسا کہتے ہوئے سنا ہے، اس کو امام طبرانی رح نے (اپنی حدیث کی کتاب) "المعجم الکبیر" میں روایت کیا ہے، اور اس کے رجال (روایت کرنے والے مرد) قابلِ اعتماد ہیں.

2) إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ ثم رأسه بفاتحة الكتاب وعند رجليه (شعب الإيمان: 2/1230).

ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوۓ سنا : جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجاۓ تو اسے روکے مت رکھو، جلدی سے اس کی قبر میں پہونچادو، اور چاہیے کہ (تدفین کے بعد) اس کے سراہنے سورہ البقرہ کی ابتدائی آیات اور پائنتی اس کی آخری آیات پڑھ دی جاۓ.

] شعب الإيمان: 2/1230 ، المعجم الكبير للطبراني:780(13613)، الدر المنثور،للسيوطي :1/70، شرح الصدور للسيوطي:ص41، الموسوعة الفقهية الكويتية:16/42]

قال الحافظ «رواه الطبراني بإسناد حسن» (فتح الباري3/ 184) والتلخيص الحبير (2/ 135).
حافظ ابن حجر رح نے فرمایا : "طبرانی نے اسے حسن سند سے روایت کیا ہے" (فتح الباري3/ 184) والتلخيص الحبير (2/ 135).
====================
وَأخرج أَبُو مُحَمَّد السَّمرقَنْدِي فِي فَضَائِل {قل هُوَ الله أحد} عَن عَليّ مَرْفُوعا من مر على الْمَقَابِر وَقَرَأَ {قل هُوَ الله أحد} إِحْدَى عشرَة مرّة ثمَّ وهب أجره للأموات أعطي من الْأجر بِعَدَد الْأَمْوَات“۔
(دارقطنی، الرافعی(2/297)، عن علی، کنز العمال ج:۱۵ ص:۶۵۵ (٨/١٠٠)، حدیث:۴۲۵۹۵، اتحاف ج:۱۰ ص:۳۷۱، شرح الصدور للسیوطی : ص:303، اعلاء السنن : ٨/٢١١)

ترجمہ:…”جو شخص قبرستان سے گزرا اور قبرستان میں گیارہ مرتبہ قل ہو اللہ شریف پڑھ کر مُردوں کو اس کا ایصالِ ثواب کیا تو اسے مُردوں کی تعداد کے مطابق ثواب عطا کیا جائے گا۔”
[جامع الأحاديث:23962، الرافعی:2/297، تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي:3/275]





حديث ابى هريرة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من دخل المقابر ثم قرأ فاتحة الكتاب وقل هو الله أحد وإلهكم التكاثر ثم قال انى جعلت ثواب ما قرأت من كلامك لاهل المقابر من المؤمنين والمؤمنات كانوا شفعاء له الى الله رواه ابو القاسم سعد بن على في فوائده.
[شرح الصدور للسيوطي:ص130، تفسير المظهري:9/129، مرقاة المفاتيح:9/1228(1717)، تحفة الأحوذي:3/275، مطالب أولي النهى في شرح غاية المنتهى:1/936، أحكام تمني الموت:1/75]

جو شخص قبرستاں میں داخل ہو، اس کے بعد سورۃ الفاتحۃ ، قل ھو اللہ احد اور الھٰکم التکاثر پڑھے، اس کے بعد کہے کہ اے اللہ! میں نے جو تیرا کلام پڑھا ہے، اس کا ثواب میں نے اس قبرستان کے مسلمان مرد اور عورتوں کو بخشدیا تو وہ (سورتیں) اللہ کے ہاں اس کی شفاعت کریں گی۔







عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى قَالَ:" مَنْ دَخَلَ الْمَقَابِرَ فَقَرَأَ سُورَةَ يس خَفَّفَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ لَهُ بِعَدَدِ حروفها حسنات".
] شرح الصدور للسيوطي:ص130، تفسير القرطبي: 15/3، تفسير المظهري:9/129، مرقاة المفاتيح:3/1228(1717)، تحفة الأحوذي:3/275، أحكام تمني الموت:1/75]

جو کوئی قبرستان جائے اور سورۃ یس پڑھے(تو)ہلکا کردےگا اللہ ان سے عذاب اور ہوں گی پڑھنے والے کیلئے اس کے حروف کی تعداد کے موافق نیکیاں۔






قرأتِ قرآن برائے ایصال ثواب:


          اہل السنة والجماعة کا اتفاق ہے کہ نفل عبادت مالی ہو یا بدنی اس کا ثواب ہدیہ کرنا یعنی دوسرے کو پہنچانا درست ہے اور اسے پہنچتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عمر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرہ کیاکرتے تھے۔ ابن مُوفَّق نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ستر(۷۰) حج کیے ہیں۔ ابن السراج نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار مرتبہ قرآن ختم فرمائے اور اسی کے بقدر قربانی کی ہے(شامی،ج۳،ص۱۵۲دراصل اہداءِ ثواب کے ذریعہ میت کو نفع پہونچانا ایک مقصد شرعی ہے اور اعمال صالحہ اسی مقصد کے حصول کے طُرُق ہیں؛ چنانچہ قرأتِ قرآن کا معمول اس مقصد کے لیے بھی امت میں تسلسل کے ساتھ قائم ہے؛ بلکہ حضرات صحابہٴ کرام سے اس کا ثبوت موجود ہے، علامہ ابن القیّم جوزی نے اپنی کتاب ”الرُّوح“ میں امام شعبی سے نقل کیا ہے: کانت الانصارُ اذا ماتَ لہم المیتُ اختلفوا الی قبرہ ویقرء ون عِنْدَہ القرآنَ اور امام نووی نے یوں نقل کیا ہے کانت الانصارُ اذا حضروا عندَ المیت قرء وا سورةَ البقرة(الروح،ص۹۳، البتیان، مرقاة المفاتیح،ج۴،ص۱۹۸اور اتنا تو خود صاحبِ شریعت  صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ․․․ ویقرأ عند رأسِہ فاتحةَ الکتاب وعند رجلَیْہ بخاتمةَ البقرة(مشکوة المصابیحاِس قرأتِ قرآن للمیت کے سلسلہ میں احادیث وآثار کا حاصل اور امت کا عمل کیا رہا ہے مُلا علی قاری کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے: الاحادیثُ المذکورةُ وہی اِن کانتْ ضعیفةً فمجموعُہا یَدُلُّ علی أن لذلک أصلاً واَن المسلمین ما زالوا فی کلِ عصرٍ و مصرٍ یجتمعونَ ویقرء ونَ لِموتاہُمْ مِنْ غیرِ نَکِیْرٍ فکان ذلک اِجماعاً(مرقاة،ج۴،ص۱۹۹پس تلاوتِ قرآن برائے ایصالِ ثواب اجتماعاً کی اصل خیرالقرون میں موجود ہے اورامت کا اس پر عمل بھی رہا ہے؛ لہٰذا بغیر کسی چیز کے التزام کے اجتماعی تلاوت کو ۔ نہ تو بدعت کہہ سکتے ہیں اورنہ ہی رسم قبیح۔ حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی بآواز بلند یا پست کے جواب میں لکھتے ہیں ”الجواب حامداً ومصلیا: افضل تو یہی ہے کہ جب ایک جگہ مجمع قرآن شریف پڑھے تو سب آہستہ پڑھیں الخ ، ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: یہ سب قید (تاریخ، دن، چیز، ہیئت اورآیت وسورة کی تخصیص) ختم کردیا جائے کہ یہ شرعاً بے اصل ہے صحابہ نے بغیر ان قیدوں کے ثواب پہنچایا ہے“(فتاوی محمودیہ،جلد اوّل قدیم)۔

جو عامی شخص اس تعیینِ عادی کو توقیتِ شرعی جانے اور گمان کرے کہ ان کے علاوہ دنوں میں ایصالِ ثواب ہوگا ہی نہیں،یا جائز نہیں،یا ان ایام میں ثواب دیگر ایام سے زیادہ کامل ووافر ہے،تو بلا شبہ وہ شخص غلط کار اور جاہل ہے اور اس گمان میں خطاکار اور صاحبِ باطل ہے۔(فتاویٰ رضویہ جدید:۹/۹۵۱)


مولانا مودودی صاحب کا موقف

جناب مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب فرماتے ہیں:

”اگر کوئی مالی یا بدنی عبادت اللہ تعالیٰ کے لیے کی جائے اور بزرگانِ دین میں سے کسی کو اس غرض کے لیے اس کا ثواب ایصال کیا جائے کہ وہ بزرگ اس ہدیے سے خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہدیہ بھیجنے والے کے سفارشی بن جائیں،تو یہ ایک ایسا مشتبہ فعل ہے، جس میں جواز وعدمِ جواز؛ بلکہ گناہ اور فتنے کی سرحدیں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی ہیں اور میں کسی پرہیزگار آدمی کو یہ مشورہ نہ دونگا کہ وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈالے۔

رہے وہ کھانے جو صریحاً کسی بزرگ کے نام پر پکائے جاتے ہیں اورجن کے متعلق بالفاظِ صریح یہ کہا جاتا ہے: یہ فلاں بزرگ کی نیاز ہے اورجن کے متعلق پکانے والے کی نیت بھی یہی ہوتی ہے کہ یہ ایک نذرانہ ہے،جو کسی بزرگ کی روح کو بھیجا جارہا ہے اور جن سے متعلق ہمارے یہاں طرح طرح کے آداب مقرر ہیں اور بے حرمتی،کی مختلف شکلیں ممنوع قرار پاتے ہیں اور ان نیازوں کی برکات اور فوائد کے متعلق گہرے عقائد پائے جاتے ہیں،تو مجھے ان کے حرام اورگناہ ہونے؛ بلکہ عقیدہٴ توحید کے خلاف ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے“۔(رسائل ومسائل:۲/۲۰۸)

سير اعلام النبلاء جزء 1 ص 122

أخبرنا إسماعيل بن أحمد الحيري قال أنبأنا محمد بن الحسين السلمي قال سمعت أبا الحسن بن مقسم يقول سمعت أبا علي الصفار يقول سمعت إبراهيم الحربي يقول قبر معروف الترياق المجرب أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن عمر البرمكي قال نبأنا أبو الفضل عبيد الله بن عبد الرحمن بن محمد الزهري قال سمعت أبي يقول قبر معروف الكرخي مجرب لقضاء الحوائج ويقال إنه من قرأ عنده مائة مرة قل هو الله أحد وسأل الله تعالى ما يريد قضى الله له حاجته حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الله الصوري قال سمعت أبا الحسين محمد بن أحمد بن جميع يقول سمعت أبا عبد الله بن المحاملي يقول اعرف قبر معروف الكرخي منذ سبعين سنة ما قصده مهموم الا فرج الله همه


تاريخ بغداد جزء 1 ص 122 -123

أخبرنا إسماعيل بن أحمد الحيري قال أنبأنا محمد بن الحسين السلمي قال سمعت أبا الحسن بن مقسم يقول سمعت أبا علي الصفار يقول سمعت إبراهيم الحربي يقول قبر معروف الترياق المجرب أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن عمر البرمكي قال نبأنا أبو الفضل عبيد الله بن عبد الرحمن بن محمد الزهري قال سمعت أبي يقول قبر معروف الكرخي مجرب لقضاء الحوائج ويقال إنه من قرأ عنده مائة مرة قل هو لله أحد وسأل الله تعالى ما يريد قضى الله له حاجته حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الله الصوري قال سمعت أبا الحسين محمد بن أحمد بن جميع يقول سمعت أبا عبد الله بن المحاملي يقول اعرف قبر معروف الكرخي منذ سبعين سنة ما قصده مهموم الا فرج الله همه
(جاری ہے)
“من حج عن ابیہ وامہ فقد قضی عنہ حجتہ وکان لہ فضل عشر حجج۔”
(دارقطنی، عن جابر، فیض القدیر ج:۶ ص:۱۱۶)

ترجمہ:…”جس شخص نے اپنے باپ یا اپنی ماں کی طرف سے حج کیا، اس نے مرحوم کا حج ادا کردیا، اور اس کو دس حجوں کا ثواب ہوگا۔”

(یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں، اور دُوسری حدیث میں ایک راوی نہایت ضعیف ہے)


ایصالِ ثواب کے خلاف استدلالات کے جوابات

ایصالِ ثواب جائز ہے اور ایک سورت کا ثواب چند مردوں کوبخشا جائے تواس میں دونوں قول ہیں، باری تعالیٰ کے فضل کے لائق یہ ہے کہ سب کوپوری پوری سورت کا ثواب پہونچے، ایصالِ ثواب بدعت نہیں؛ بلکہ خیرالقرون سے اس پرعمل جاری ہے، حضور اکرم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کواس کی تلقین فرمائی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے؛ نیزبعد کے حضرات نے اپنے اعزہ کے لئے ایصالِ ثواب کیا ہے، اس مسئلہ میں اتنی وسعت سے روایات ہیں کہ ان کا شمار دشوار ہے، خود نبی کریم  نے اُمت کی طرف سے قربانی کی صوم، صلوٰۃ، صدقہ، حج، قرأت، اضحیہ سب ہی کا احادیث میں ثواب پہونچانا ثابت ہے، ہدایہ میں ہے:

لِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ وَالْآخَرَ عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِوَحْدَانِيَّةِ اللَّهِ تَعَالَى وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ۔

(الھدایۃ، كِتَابُ الْحَجِّ، بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ، حدیث نمبر:۴۷۲۳، صفحہ نمبر:۳/۱۵۳، المکتبۃ المکیۃ)

اس حدیث کی تخریج زیلعی میں سات صحابہؓ سے کی گئی ہے؛ شیخ ابن ہمام نے اس کوحدیث مشہور قرار دے کرفرمایا ہے:

يَجُوزُ تَقْيِيدُ الْكِتَابِ بِهِ۔

(فتح القدیر، كِتَابُ الْحَجِّ،بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ:۳/۱۴۳، مصطفی البابی، الحلبی، مصر)

نیز دارِقطنی کی روایت ہے:

أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ لِي أَبَوَانِ أَبَرُّهُمَا حَالَ حَيَاتِهِمَا فَكَيْفَ لِي بِبِرِّهِمَا بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إنَّ مِنْ الْبِرِّ بَعْدَ الْمَوْتِ أَنْ تُصَلِّيَ لَهُمَا مَعَ صَلَاتِكَ، وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صِيَامِكَ۔

(فتح القدیر، كِتَابُ الْحَجِّ،بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ:۳/۱۴۳، مصطفی البابی، الحلبی، مصر)

حضرت علی رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم  کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:

مَنْ مَرَّ عَلَى الْمَقَابِرِ، وَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ إحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ وَهَبَ أَجْرَهَا لِلْأَمْوَاتِ أُعْطِيَ مِنْ الْأَجْرِ بِعَدَدِ الْأَمْوَاتِ۔

(أخرجہ السیوطیؒ فی شرح الصدور، باب فی قرأۃ القرآن للمیت:۳۰۳، دارالمعرفۃ، بیروت)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایا:

يَارَسُولَ اللَّهِ إنَّانَتَصَدَّقُ عَنْ مَوْتَانَا وَنَحُجُّ عَنْهُمْ وَنَدْعُو لَهُمْ فَهَلْ يَصِلُ ذَلِكَ إلَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، إنَّهُ لَيَصِلُ إلَيْهِمْ وَإِنَّهُمْ لَيَفْرَحُونَ بِهِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالطَّبَقِ إذَاأُهْدِيَ إلَيْهِ۔

(فتح القدیر، كِتَابُ الْحَجِّ،بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ:۳/۱۴۳، مصطفی البابی، الحلبی، مصر)

ان سب کونیز دیگراحادیث وآثار کونقل کرکے (فتح القدیر، كِتَابُ الْحَجِّ،بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ:۳/۱۴۳، مصطفی البابی، الحلبی، مصر) میں لکھا ہے:

فَهَذِهِ الْآثَارُ وَمَاقَبْلَهَا وَمَافِي السُّنَّةِ أَيْضًا مِنْ نَحْوِهَا عَنْ كَثِيرٍ قَدْتَرَكْنَاهُ لِحَالِ الطُّولِ يَبْلُغُ الْقَدْرَ الْمُشْتَرَكَ بَيْنَ الْكُلِّ، وَهُوَأَنَّ مَنْ جَعَلَ شَيْئًا مِنْ الصَّالِحَاتِ لِغَيْرِهِ نَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ مَبْلَغَ التَّوَاتُرِ، وَكَذَا مَافِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الْأَمْرِ بِالدُّعَاءِ لِلْوَالِدَيْنِ فِي قَوْله تَعَالَى {وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا} وَمِنْ الْإِخْبَارِ بِاسْتِغْفَارِ الْمَلَائِكَةِ لِلْمُؤْمِنِينَ قَالَ تَعَالَى {وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ} وَقَالَ تَعَالَى فِي آيَةٍ أُخْرَى {الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا} وَسَاقَ عِبَارَتَهُمْ { رَبَّنَا وَسِعْت كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ} إلَى قَوْلِهِ {وَقِهمْ السَّيِّئَاتِ} قَطْعِيٌّ فِي حُصُولِ الِانْتِفَاعِ بِعَمَلِ الْغَيْرِ فَيُخَالِفُ ظَاهِرَ الْآيَةِ الَّتِي اسْتَدَلُّوا بِهَا، وَھِیَ {وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إلَّامَاسَعَى} إذْظَاهِرُهَا أَنَّهُ لَايَنْفَعُ اسْتِغْفَارُ أَحَدٍ لِأَحَدٍ بِوَجْهٍ مِنْ الْوُجُوهِ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ سَعْيِهِ فَلَايَكُونُ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فَقَطَعْنَا بِانْتِفَاءِ إرَادَةِ ظَاهِرِهَا عَلَى صِرَافَتِهِ فَتَتَقَيَّدُ بِمَا لَمْ يَهَبْهُ الْعَامِلُ۔

(فتح القدیر، كِتَابُ الْحَجِّ،بَابُ الْحَجِّ عَنْ الْغَيْرِ:۳/۱۴۳، مصطفی البابی، الحلبی، مصر)

آیتِ مذکورہ سے استدلال کا جواب بھی واضح ہوگیا، حافظ عینیؒ نے شارح ہدایہ اور زیلعیؒ نے شرح کنز میں اور طحطاویؒ نے شرح مراقی الفلاح میں معتزلہ کی اس دلیل کے آٹھ جوابات دیئے ہیں، ابن قیمؒ نے تو کتاب الروح گویا کہ اس قسم کے مسائل کے لئے ہی تصنیف کی ہے اور ہرعنوان پرسیر حاصل بحث کی ہے، آثار السنن میں مستقل بَابُ قِرَأَۃِ الْقُرْآنِ لِلْمَیِّتِ منعقد کیا گیا ہے، دوسری اور تیسری اور چوتھی آیت سے جواستدلال کیا گیا ہے وہ بالکل بے محل ہے، ان آیات کو مسئلہ مذکورہ سے کوئی علاقہ نہیں۔



















No comments:

Post a Comment