بائیکاٹ(boycott) کے معنیٰ:
یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔ [القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3] یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Wednesday, 24 July 2024
بائیکاٹ-قطع تعلق کے معنیٰ، مقاصد، اقسام اور دلائل
Saturday, 20 July 2024
تحفہ(عطیہ، ھدیہ، ھِبہ) لینے دینے کے آداب
ھدیہ دینے والے کے آداب»
(1)اخلاص سے ہدیہ دینا۔
محبت بڑھانے کا نسخہ
حضرت ابوھریرہ ؓ ﴿عائشہ ؓ﴾ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تهادوا تحابوا ﴿وتذهب الشحناء﴾ إن الهدية تذهب وحر الصدر
ترجمہ:
آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے آپس میں محبت ﴿زیادہ﴾ ہوگی۔ ﴿اور عداوت ختم ہوگی﴾۔ کیونکہ ہدیہ دل کا کینہ و عداوت ختم کرتا ہے۔
[الصحيحة:2306، الإرواء الغليل:1601]
[مسند احمد:9239، الادب المفرد-للبخاري:594، سنن الترمذي:2130، مسند الطيالسى:2333، مسند ابويعلي:6148، شعب الإيمان-للبیھقي:8976، السنن الکبریٰ للبیھقی:11946+11947]
﴿موطا مالک:694، مشكاة المصابيح:4693﴾
﴿جامع الاحاديث-للسيوطي:11015+11016﴾
Friday, 12 July 2024
دین کیا ہے؟ اور دیندار کون؟
القرآن:
لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔
[سورۃ نمبر 9 التوبة،آیت نمبر 11]
دین کے معانی
(1) طاعت یعنی اپنے اختیار سے فرمانبرادی ہے، قرآن میں ہے :۔
Wednesday, 10 July 2024
بھوک (الجوع) کے فضائل
بھوک کی آزمائش کس کیلئے اور کیوں؟
القرآن:
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 155]
حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔
[الصحيحة:1615(3539)، المعجم ابن الأعرابي:21]
Tuesday, 9 July 2024
پل صراط کا بیان
القرآن:
اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔
[سورۃ نمبر 19 مريم، آیت نمبر 71]
«يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثمَّ يصدون مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ»
تمام لوگ آگ (پل صراط) پر وارد ہوں گے، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے پار ہوں گے، ان میں سے سب سے پہلے بجلی چمکنے کی مانند گزر جائیں گے، پھر ہوا کی مانند، پھر تیز رفتار گھوڑے کی مانند، پھر سواری پر سوار کی مانند، پھر دوڑنے والے آدمی کی مانند اور پھر پیدل چلنے والے کی مانند (اس پل سے گزریں گے جو کہ جہنم پر نصب ہو گا)۔
[سنن الترمذي:3159، احمد:4141، الحاكم:8741، الدارمي:2810، الصحیحہ:311]
موسوعة التفسير المأثور:47014،سورۃ مریم:71
Thursday, 4 July 2024
خودکشی کرنے والے"مسلمان"کیلئے دعائے بخشش کرنے، کافر نہ ہونے اور نماز جنازہ پڑھنے کا امکان
امام احمد کہتے ہیں کہ:
*خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ امام(راہنما-حاکم) نہ پڑھائے، لیکن غیر امام(عوام) پڑھیں گے۔*
[سنن الترمذی:1068]
حوالہ
آپ ﷺ نے فرمایا:
۔۔۔رہا میں تو میں اس کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھوں گا۔*
[سنن النسائی:1966، سنن ابوداؤد: 3185]
تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو۔
[سنن ابن ماجہ:1526]
۔۔۔اور اہلِ توحید(مسلمان) میں سے ہر مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔
[سنن دارقطنی: حدیث#1745]
القرآن:
بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔۔۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 48]
تفسیر:
یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ؛ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرکے توحید پر ایمان لے آئے۔
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
Saturday, 15 June 2024
اللہ کی رحمت کی وسعت
الرحمۃ وہ رقتِ قلب(یعنی دل کی نرمی ہے) جو مرحوم (یعنی جس پر رحم کیا جائے) پر "احسان" کی مقتضی(یعنی ضرورت محسوس کرتی) ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقتِ قلب کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنیٰ میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو۔ اسی معنیٰ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے:
قال الله للرحم خلقتك بيدى وشققت لك من اسمى وقربت مكانك منى وعزتى وجلالى لأصلن من وصلك ولأقطعن من قطعك ولا أرضى حتى ترضين.
ترجمہ:
جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا: میں رحمان ہوں اور تو رحم ہے۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ (یعنی صلہ رحمی کرے گا) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلے گا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا۔
[جامع الأحادیث:14996، تفسير الراغب.الاصفهاني:1/51]
تخریج:
[جامع الترمذي:1907، سنن ابي داود:1694، مسندالحميدي:65، مسند عبدالرحمن بن عوف:15+18]
Monday, 10 June 2024
اللہ کیلئے "تواضع" کی حقیقت وفضیلت
تواضع یہ نہیں کہ۔۔۔
(1)باطل-ناحق-حرام (شرط/صلح) کو تسلیم کیا جائے۔
[حوالہ»سورۃ الکافرون]
(2)کسی گناہ پر کبھی غصہ نہ کیا جائے۔
[حوالہ»بخاری:704،ترمذی:1973+2133]
(3)یا کسی ایسی مصیبت میں خود پڑا جائے کہ جسے جھیلنے کی طاقت نہ ہو۔
[حوالہ»ترمذی:2254، ابن ماجہ:4016]
(4)یا لوگوں کے آگے سر جھکائے بیٹھنے کا دکھلاوا کیا جائے۔
بلکہ
تواضع تو یہ ہے کہ۔۔۔
(1)اللہ کے حکم اور حکمت کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔
[طبرانی:12939،الصحیحہ:538]
(2)دبائے جانے والے، کمزور، جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، آزمائش والے، فضیلت والے مومن،عالم،حافظ کو خود سے افضل سمجھ کر اللہ کیلئے ان کا ساتھ دیا جائے، دعائیں لی جائیں۔
[طحاوی:7075، الصحیحہ:2877]
(3)اور اپنے کسی کمال وخوبی کے سبب کسی پر فخر نہ کرے، غرور وگھمنڈ نہ کرے، نہ اترائے، نہ شیخی بگھاڑے، محض رب کا انعام واحسان سمجھ کر اللہ کا شکر کیا جائے۔
[تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی»سورۃ النحل:23]
پیغمبرانہ تواضع
القرآن:
اور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
[سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 53]
تفسیر:
حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اس سے پناہ مانگے۔
القرآن:
(اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو ، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔
[سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 199]
Wednesday, 15 May 2024
Tuesday, 14 May 2024
غصہ کے جائز اور ناجائز پہلو
دماغی طور پر مضبوط ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو کبھی غصہ نہیں آتا اور آپ غم محسوس نہیں کرتے، آپ کرتے ہیں لیکن اس وقت آپ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔
شرعی نقطہ نظر سے غصے کی اقسام اور ان کی حیثیت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جذبات سے نوازا ہے، جن میں غصہ بھی شامل ہے۔ شرعی احکامات کی روشنی میں غصے کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: "جائز غصہ" اور "ناجائز غصہ"۔ ذیل میں ان کی وضاحت اور دلائل پیش ہیں:
---
⬅️ ۱۔ جائز غصہ:
یہ وہ غصہ ہے جو "حق کی خاطر" یا "منکرات کے خلاف" اٹھایا جائے۔ اس کی کچھ مثالیں اور دلائل درج ہیں:
- دینی غیرت اور منکرات کے خلاف ردعمل:
جب کوئی شخص شرعی حدود کو پامال ہوتے دیکھے تو اس پر غصہ آنا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو منکر دیکھے، اسے ہاتھ سے بدلے، اگر نہ سکے تو زبان سے، اور اگر وہ بھی نہ سکے تو دل سے (نفرت کرے)"
[صحیح مسلم:49،سنن الترمذي:2172،.سنن ابوداؤد:1140، سنن النسائي:5008، سنن ابن ماجة:4013]
مثال کے طور پر، کسی کو نماز چھوڑتے یا شراب پیتے دیکھ کر غصہ آنا۔







