Wednesday, 24 July 2024

بائیکاٹ-قطع تعلق کے معنیٰ، مقاصد، اقسام اور دلائل

 بائیکاٹ(boycott) کے معنیٰ:

مقاطعہ کرنا۔ مواصلات ترک کرنا ۔ تَعلُقات توڑ دینا ۔ ملنا جلنا ترک کرنا۔

بائیکاٹ(boycott) کے مقاصد:
(1)ظالم کی قوت توڑنا۔ (2)برائی سے باز رہنے کیلئے پریشر ڈالنا۔

بائیکاٹ(boycott) کے اقسام:
(1)معاشی (2)معاشرتی۔

یہ بات واضح رہے کہ موجودہ زمانے میں کسی بھی قوم و ملت کی سیاسی اور عسکری برتری  کی بنیاد معاشی ترقی اور معاشی برتری پر ہے، جب تک معاشی طور پر کوئی قوم مضبوط اور مختار نہ ہو اس وقت تک  وہ سیاسی اور عسکری طور پر کمزور ہوتی ہے، یہ بات ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں اگر کسی قوم کو کمزور کرنا ہو تو سب سے پہلے ان کی معیشت کو کمزور کیا جائے اور موجودہ زمانے میں اس کا مؤثر طریقہ کار ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہے جس سے (1)ان کی معیشت پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے (2)اور مظلوم کے ساتھ یک جہتی اور ہمدردی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ مسلمانوں نے اس طریقہ کار  کو  ماضی قریب میں بھی اپنایا جب انگریزوں نے خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے لیے ان کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف تحریکِ خلافت اور ترکِ موالات کی تحریک  چلائی، اسی طرح خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کفارِ قریش کے زور کو توڑنے کےلیے ان کے تجارتی قافلوں کے راستے جس پر شام سے مکہ اور مکہ سے شام تجارتی قافلوں کی آمد و رفت ہوتی تھی کو غیر محفوظ بنایا جس کے نتیجے میں غزوہ بدر  پیش آیا۔
[حوالہ»سورۃ الانفال:7، صحیح بخاری:3950+3951، صحیح مسلم:4915، سنن ابوداؤد:2618]
[صحیح مسلم:1935(4999)، سنن ابوداؤد:3840]



اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنونضیر کا محاصرہ کیا اور ان کے قلعے فتح نہیں ہورہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے درختوں کے جلانے حکم دیا۔ اسی طرح جب حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ، جو نجد کے سردار تھے اور کفار قریش کو گندم فروخت کیا کرتے تھے، نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے کفارِ قریش پر گندم فروخت کرنا بند کردیا تھا۔
[حوالہ»سورۃ الحشر:5، صحیح بخاری:4372+4589، صحیح مسلم:1764(4589)، السنن الکبریٰ للبیھقی:12835+18030]

اسی طرح جب صلحِ حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ کو اور  صلحِ حدیبیہ کے بعد حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس کیا جو کفارِ مکہ کی قید سے بھاگ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچے تھے تو انہوں نے مکہ سے شام جانے والے ایک راستے پر اقامت اختیار کی اور اس راستے سے کفار مکہ کا جو بھی تجارتی قافلہ گزرتا اس پر حملہ کردیتے جس سے کفار کی  قافلوں کی آمد و رفت بند ہوگئی۔
[حوالہ»صحیح بخاری:2731-2733+4182، سنن ابوداؤد:2765، السنن الکبریٰ للبیھقی:18833، المعجم الاوسط للطبرانی:15]

مذکورہ واقعات  اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کفار کی ان تجارتی اداروں اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا جو مسلمانوں کے خلاف  جنگ میں اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہیں  کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے اور ایمانی حمیت بھی اسی کا متقاضی ہے۔

تفصیلی حوالا جات:

بخاری شریف میں ہے:

"أنه لما كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم سهيل بن عمرو يوم الحديبية على قضية المدة، وكان فيما اشترط سهيل بن عمرو أنه قال: لا يأتيك منا أحد وإن كان على دينك إلا رددته إلينا، وخليت بيننا وبينه. وأبى سهيل أن يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا على ذلك، فكره المؤمنون ذلك وامعضوا، فتكلموا فيه، فلما أبى سهيل أن يقاضي رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا على ذلك، كاتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد رسول صلى الله عليه وسلم أبا جندل بن سهيل يومئذ إلى أبيه سهيل ابن عمرو، ولم يأت رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد من الرجال إلا رده في تلك المدة، وإن كان مسلما."

(کتاب المغازي، باب:غزوۃ الحدیبیة، ج:4، ص:1532، ط:دار ابن کثیر دمشق)

وفیه أیضا:

"بعث النبي صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن أثال، فربطوه بسارية من سواري المسجد، فخرج إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: (ما عندك يا ثمامة). فقال: عندي خير يا محمد، إن تقتلني تقتل ذا دم، وإن تنعم تنعم على شاكر، وإن كنت تريد المال، فسل منه ما شئت. فترك حتى كان الغد، فقال: (ما عندك يا ثمامة). فقال: ما قلت لك، إن تنعم تنعم على شاكر فتركه حتى كان بعد الغد  فقال: ما عندك يا ثمامة فقال: عندي ما قلت لك فقال: (أطلقوا ثمامة). فانطلق إلى نخل قريب من المسجد، فاغتسل ثم دخل المسجد، فقال: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله، يا محمد، والله ما كان على الأرض وجه أبغض إلي من وجهك، فقد أصبح وجهك أحب الوجوه إلي، والله ما كان من دين أبغض إلي من دينك، فأصبح دينك أحب دين إلي، والله ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك، فأصبح بلدك أحب البلاد إلي، وإن خيلك أخذتني، وأنا أريد العمرة، فماذا ترى؟ فبشره رسول الله صلى الله عليه وسلم وإمرة أن يعتمر، فلما قدم مكة قال له قائل: صبوت، قال: لا، ولكن أسلمت مع محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا والله، لا يأتيكم من اليمامة حبة حنطة حتى يأذن فيها النبي صلى الله عليه وسلم."

(کتاب المغازي، باب:وفد بني حنیفة و حدیث ثمامة  ابن أثال، ج:4،ص:1589، ط:دار ابن کثیر دمشق)

السیرۃ الحلبیہ میں ہے:

"يريد عيرا لقريش متوجهة للشام. يقال إن قريشا جمعت جميع أموالها في تلك العير لم يبق بمكة لا قرشي ولا قرشية له مثقال فصاعدا إلا بعث به في تلك العير إلا حويطب بن عبد العزى، يقال إن في تلك العير خمسين ألف دينار أي وألف بعير. وكان فيها أبو سفيان، أي قائدها. وكان معه سبعة وعشرون وقيل تسعة وثلاثون رجلا منهم مخرمة بن نوفل، وعمرو بن العاص، وهي العير التي خرج إليها حين رجعت من الشام. وكان سببا لوقعة بدر الكبرى كما سيأتي."

(باب ذكر مغازيه صلی اللہ علیه و سلم، غزوۃ العشیرۃ، ج:2، ص:175، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)

وفیه أیضا:

"ثم إن العير التي خرج صلى الله عليه وسلم في طلبها حتى بلغ العشيرة ووجدها سبقته بأيام لم يزل مترقبا قفولها: أي رجوعها من الشأم، فلما سمع بقفولها من الشام ندب المسلمين» أي دعاهم وقال: «هذه عير قريش فيها أموالهم فاخرجوا إليها لعل الله أن ينفلكموها، فانتدب ناس» ، أي أجابوا «وثقل آخرون أي لم يجيبوا لظنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يلق حربا، ولم يحتفل لها رسول الله صلى الله عليه وسلم أي لم يهتم بها، بل قال «من كان ظهره» : أي ما يركبه «حاضرا فليركب معنا» ولم ينتظر من كان ظهره غائبا عنه."

(باب ذكر مغازیه صلی اللہ علیه و سلم، باب غزوۃ بدر الکبری، ج:2، ص:197، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت)

وفیه أیضا:

"وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقطع النخل، أي وبحرقها بعد أن حاصرهم ست ليال وقيل خمسة عشر يوما: أي وقيل عشرين ليلة، وقيل ثلاثا وعشرين ليلة، وقيل خمسا وعشرين ليلة. وكان سعد بن عبادة رضي الله تعالى عنه في تلك المدة يحمل التمر للمسلمين: أي يجاء به من عنده. قال: واستعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم على قطع النخل أبا ليلى المازني وعبد الله بن سلام. وكان أبو ليلى يقطع العجوة وعبد الله يقطع اللين."

(باب مغازیه صلی اللہ علیه و سلم، غزوۃ بني النضیر، ج:2، ص:359، ط:دارالکتب العلمیة بیروت)

نورالیقین فی سیرۃ سید المرسلین میں ہے:

"وقد تمكن أبو بصير عتبة بن أسيد الثقفي رضي الله عنه من الفرار إلى رسول الله، فأرسلت  قريش في أثره رجلين يطلبان تسليمه، فأمره عليه الصلاة والسلام بالرجوع معهما، فقال يا رسول الله: أتردّني إلى الكفّار يفتنونني في ديني بعد أن خلصني الله منهم؟! فقال: إن الله جاعل لك ولإخوانك فرجا، فلم يجد بدّا من اتّباعه، فرجع مع صاحبيه، ولمّا قارب ذا الحليفة عدا على أحدهما فقتله، وهرب منه الاخر، فرجع إلى المدينة وقال: يا رسول الله وفت ذمتك أما أنا فنجوت، فقال له اذهب حيث شئت ولا تقم بالمدينة، فذهب إلى محل بطريق الشام تمرّ به تجارة قريش، فأقام به، واجتمع معه جمع ممن كانوا مسلمين بمكّة ونجوا، وسار إليه أبو جندل بن سهيل، واجتمع إليه جمع من الأعراب، وقطعوا الطريق على تجارة قريش حتى قطعوا عنهم الأمداد."

(السنة السادسة، صلح الحدیبیة، ص:172، ط:دارالفیحاء دمشق)

فقط واللہ اعلم


Saturday, 20 July 2024

تحفہ(عطیہ، ھدیہ، ھِبہ) لینے دینے کے آداب

 

ھدیہ دینے والے کے آداب»

(1)اخلاص سے ہدیہ دینا۔

محبت بڑھانے کا نسخہ

حضرت ابوھریرہ ؓ ﴿عائشہ ؓ﴾ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تهادوا تحابوا ﴿وتذهب الشحناء﴾ إن الهدية تذهب وحر الصدر

ترجمہ:

آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے آپس میں محبت ﴿زیادہ﴾ ہوگی۔ ﴿اور عداوت ختم ہوگی﴾۔ کیونکہ ہدیہ دل کا کینہ و عداوت ختم کرتا ہے۔
[الصحيحة:2306،  الإرواء الغليل:1601]

[مسند احمد:9239، الادب المفرد-للبخاري:594، سنن الترمذي:2130، مسند الطيالسى:2333، مسند ابويعلي:6148، شعب الإيمان-للبیھقي:8976، السنن الکبریٰ للبیھقی:11946+11947]

﴿موطا مالک:694، مشكاة المصابيح:4693﴾

﴿جامع الاحاديث-للسيوطي:11015+11016﴾

Friday, 12 July 2024

دین کیا ہے؟ اور دیندار کون؟


القرآن:

لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔

[سورۃ نمبر 9 التوبة،آیت نمبر 11]



دین کے معانی

دین کے مختلف معانی ہیں:

(1) طاعت یعنی اپنے اختیار سے فرمانبرادی ہے، قرآن میں ہے :۔ 

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ
بےشک دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔
[سورۃ آل عمران:19]

(2) جزا یعنی بدلہ، ایک جگہ قرآن مجید میں ہے:
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
بدلہ والے دن کا مالک ہے۔
[سورۃ الفاتحہ:4]

(3) شریعت یا طریقت یعنی زندگی گذارنے کا اصول و ضابطہ، قرآن میں ہے:-
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ۔۔۔
اس(اللہ)نے تمہارے لیے دین کا رستہ مقرر کیا۔
[سورۃ الشوریٰ:13]

لفظ شریعت کا مادہ ش۔ر۔ع ہے اور اس کا لغوی معنی ہے وہ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔

[امام راغب اصفهانی، مفردات القرآن : 259]


Wednesday, 10 July 2024

بھوک (الجوع) کے فضائل


بھوک کی آزمائش کس کیلئے اور کیوں؟

القرآن:

اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 155]


حضرت ابوھریرہ‌ؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔

[الصحيحة:1615(3539)، المعجم ابن الأعرابي:21]

Tuesday, 9 July 2024

پل صراط کا بیان

القرآن:

اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔

[سورۃ نمبر 19 مريم، آیت نمبر 71]


«يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثمَّ يصدون مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ»

تمام لوگ آگ (پل صراط) پر وارد ہوں گے، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے پار ہوں گے، ان میں سے سب سے پہلے بجلی چمکنے کی مانند گزر جائیں گے، پھر ہوا کی مانند، پھر تیز رفتار گھوڑے کی مانند، پھر سواری پر سوار کی مانند، پھر دوڑنے والے آدمی کی مانند اور پھر پیدل چلنے والے کی مانند (اس پل سے گزریں گے جو کہ جہنم پر نصب ہو گا)۔

[سنن الترمذي:3159، احمد:4141، الحاكم:8741، الدارمي:2810، الصحیحہ:311]

موسوعة التفسير المأثور:47014،سورۃ مریم:71




Thursday, 4 July 2024

خودکشی کرنے والے"مسلمان"کیلئے دعائے بخشش کرنے، کافر نہ ہونے اور نماز جنازہ پڑھنے کا امکان

 امام احمد کہتے ہیں کہ:

*خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ امام(راہنما-حاکم) نہ پڑھائے، لیکن غیر امام(عوام) پڑھیں گے۔*

[سنن الترمذی:1068]

حوالہ

آپ ﷺ نے فرمایا:

۔۔۔رہا میں تو میں اس کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھوں گا۔*

[سنن النسائی:1966، سنن ابوداؤد: 3185]


تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو۔

[سنن ابن ماجہ:1526]


۔۔۔اور اہلِ توحید(مسلمان) میں سے ہر مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔

[سنن دارقطنی: حدیث#1745]


القرآن:

بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔۔۔

[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 48]

تفسیر:

یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ؛ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرکے توحید پر ایمان لے آئے۔

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

Saturday, 15 June 2024

اللہ کی رحمت کی وسعت

 

الرحمۃ وہ رقتِ قلب(یعنی دل کی نرمی ہے) جو مرحوم (یعنی جس پر رحم کیا جائے) پر "احسان" کی مقتضی(یعنی ضرورت محسوس کرتی) ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقتِ قلب کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنیٰ میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو۔ اسی معنیٰ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے:

قال الله للرحم خلقتك بيدى وشققت لك من اسمى وقربت مكانك منى وعزتى وجلالى لأصلن من وصلك ولأقطعن من قطعك ولا أرضى حتى ترضين.

ترجمہ:

جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا: میں رحمان ہوں اور تو رحم ہے۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ (یعنی صلہ رحمی کرے گا) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلے گا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا۔

[جامع الأحادیث:14996، تفسير الراغب.الاصفهاني:1/51]

تخریج:

[جامع الترمذي:1907، سنن ابي داود:1694، مسندالحميدي:65، مسند عبدالرحمن بن عوف:15+18]


Monday, 10 June 2024

اللہ کیلئے "تواضع" کی حقیقت وفضیلت

تواضع یہ نہیں کہ۔۔۔

(1)باطل-ناحق-حرام (شرط/صلح) کو تسلیم کیا جائے۔

[حوالہ»سورۃ الکافرون]

(2)کسی گناہ پر کبھی غصہ نہ کیا جائے۔

[حوالہ»بخاری:704،ترمذی:1973+2133]

(3)یا کسی ایسی مصیبت میں خود پڑا جائے کہ جسے جھیلنے کی طاقت نہ ہو۔

[حوالہ»ترمذی:2254، ابن ماجہ:4016]

(4)یا لوگوں کے آگے سر جھکائے بیٹھنے کا دکھلاوا کیا جائے۔

بلکہ

تواضع تو یہ ہے کہ۔۔۔

(1)اللہ کے حکم اور حکمت کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔

[طبرانی:12939،الصحیحہ:538]

(2)دبائے جانے والے، کمزور، جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، آزمائش والے، فضیلت والے مومن،عالم،حافظ کو خود سے افضل سمجھ کر اللہ کیلئے ان کا ساتھ دیا جائے، دعائیں لی جائیں۔

[طحاوی:7075، الصحیحہ:2877]

(3)اور اپنے کسی کمال وخوبی کے سبب کسی پر فخر نہ کرے، غرور وگھمنڈ نہ کرے، نہ اترائے، نہ شیخی بگھاڑے، محض رب کا انعام واحسان سمجھ کر اللہ کا شکر کیا جائے۔

[تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی»سورۃ النحل:23]




پیغمبرانہ تواضع

القرآن:

اور میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

[سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 53]

تفسیر:

حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اس سے پناہ مانگے۔







القرآن:

(اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو ، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو۔

[سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 199]





Tuesday, 14 May 2024

غصہ کے جائز اور ناجائز پہلو

 

دماغی طور پر مضبوط ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو کبھی غصہ نہیں آتا اور آپ غم محسوس نہیں کرتے، آپ کرتے ہیں لیکن اس وقت آپ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔

شرعی نقطہ نظر سے غصے کی اقسام اور ان کی حیثیت:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جذبات سے نوازا ہے، جن میں غصہ بھی شامل ہے۔ شرعی احکامات کی روشنی میں غصے کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: "جائز غصہ" اور "ناجائز غصہ"۔ ذیل میں ان کی وضاحت اور دلائل پیش ہیں:


---


⬅️ ۱۔ جائز غصہ:

یہ وہ غصہ ہے جو "حق کی خاطر" یا "منکرات کے خلاف" اٹھایا جائے۔ اس کی کچھ مثالیں اور دلائل درج ہیں:  


- دینی غیرت اور منکرات کے خلاف ردعمل:  

  جب کوئی شخص شرعی حدود کو پامال ہوتے دیکھے تو اس پر غصہ آنا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  

"جو منکر دیکھے، اسے ہاتھ سے بدلے، اگر نہ سکے تو زبان سے، اور اگر وہ بھی نہ سکے تو دل سے (نفرت کرے)"

[صحیح مسلم:49،سنن الترمذي:2172،.سنن ابوداؤد:1140، سنن النسائي:5008، سنن ابن ماجة:4013]

  مثال کے طور پر، کسی کو نماز چھوڑتے یا شراب پیتے دیکھ کر غصہ آنا۔