Friday, 15 July 2022

اللہ کی ماننے کے دنیاوی فوائد


(1)اجتماعی اطاعت سے دنیا میں بھی اجتماعی خیر ونجات:
حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

«إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، مَالِكُ الْمُلُوكِ وَمَلِكُ الْمُلُوكِ، قُلُوبُ الْمُلُوكِ فِي يَدِي، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُونِي حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوكِهِمْ عَلَيْهِمْ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِي حَوَّلْتُ قُلُوبَهُمْ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْطَةِ وَالنِّقْمَةِ فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ، فَلَا تَشْغَلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالدُّعَاءِ عَلَى الْمُلُوكِ، وَلَكِنِ اشْتَغِلُوا بِالذِّكْرِ وَالتَّضَرُّعِ إِلَيَّ أَكْفِكُمْ مُلُوكَكُمْ»

ترجمہ:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ : میں اللہ ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں بادشاہ ہوں کا مالک ہوں بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں جب بندے میری فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کوان کی طرف رحمت وشفقت کرنے کے لیے پھیر دیتا ہوں اور میرے بندے جب میری نافرمانی پر اترجاتے ہیں تو میں ان کی طرف بادشاہوں کے دلوں کو غصہ اور انتقام کے لیے متوجہ کردیتا ہوں، پس وہ ان کو سخت عذاب اور تکالیف میں مبتلا کردیتے ہیں اس لیے خود کو بادشاہوں پر بددعا میں مشغول نہ کرو بلکہ خود کو ذکر، عجز تضرع میں مشغول رکھو تاکہ میں تمھارے بادشاہوں کے مظالم سے تم کو محفوظ رکھوں۔

[المعجم الأوسط للطبراني:8962، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء:2/ 388، فوائد تمام:657]


القرآن:

 کہو کہ : اے اللہ ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔

[سورۃ آل عمران:26-غرائب التفسير وعجائب التأويل-الكرماني:1/ 249]

اور اے تم اللہ کے سامنے توبہ کرو سب کے سب اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہو۔

[سورۃ النور:31]


حکمرانوں کو برا بھلا کہنے کے بجاۓ اپنی اصلاح پر مشغول رہنا:

خلاصہ یہ ہے  کہ رعایا کے  ساتھ  حکمرانوں کے رویہ کا تعلق باطنی طور پر لوگوں کے اعمال وکردار سے ہوتا ہے کہ اگر رعایا کے لوگ اللہ کی اطاعت و فرمان برداری کرتے ہیں اور ان کے اعمال ومعاملات بالعموم راست بازی ونیک کرداری کے پابند ہوتے ہیں تو ان کا ظالم حکم ران بھی ان کے حق میں عادل نرم خو اور شفیق بن جاتا ہے اور اگر رعایا کے لوگ اللہ کی سرکشی وطغیانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کے اعمال ومعاملات عام طور پر بد کر داری کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں تو پھر ان کا عادل ونرم خو حکم ران بھی ان کے حق میں غضب ناک اور سخت گیر ہو جاتا ہے؛ لہٰذا حکم ران کے  ظلم وستم اور اس کی سخت گیری وانصافی پر اس کو برا بھلا کہنے اور اس کے لیے بدعا کرنے کی بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے ، ایسے حالات میں اپنی بداعمالیوں پر ندامت کے ساتھ توبہ استغفار کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کے دربار میں عاجزی وزاری کے ساتھ التجا و  فریاد کی جائے اور اپنے اعمال و اپنے معاملات کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع کر دیا جائے تاکہ رحمتِ الٰہی متوجہ ہو اور ظالم حکم ران کے دل کو عدل وانصاف اور نرمی وشفقت کی طرف پھیر دے ۔




















Thursday, 23 June 2022

رب کی ہدایت پر قائم لوگوں کی نشانیاں

 رب کی ہدایت والوں کی "پہلی" بنیادی نشانی»

(1)ایمان بالغیب۔

القرآن:

جو ایمان رکھتے ہیں بغیردیکھے۔

[سورۃ البقرۃ:3-5]  

یعنی

جو ایمان لائے۔۔۔(1) الله پر، (2) اور آخرت کے دن پر۔

[البقرہ:177]

(3)اور اس(الله)کے ملائکہ پر، (4)اور اسکی کتابوں پر، (5) اور اسکے پیغمبروں پر۔

[البقرہ:285][النساء:136]


ایمان لاؤ جیسا ایمان لائے ہیں لوگ... یعنی اصحابِ رسول ﷺ

[حوالہ»سورۃ البقرۃ:13-137]


وہ ایمان معتبر نہیں۔۔۔

(1)جو تمہیں برائی کا حکم دے(سکھائے)

[البقرۃ:93]

(2)جو ظلم/نافرمانی سے ملاوٹ شدہ ہو۔

[حوالہ سورۃ الانعام:82، الحجرات:11]

(3)جس میں ذرا سا بھی شک ہو۔

[الحجرات:15، المدثر:17]

(4)عذاب آتا دیکھ لینے کے بعد کا ایمان ہو

[غافر:85]

(5)مرتے وقت کا ایمان ہو

[یونس:90]

فیصلہ کے دن (دیکھ کر) ایمان لایا ہو

[السجدہ:29]



لہٰذا


(1)وہ ڈرتے ہیں رحمان-رب سے بغیردیکھے۔

[المائدہ:94، یس:11، الملک:12]

یعنی

بال کھڑے ہوجاتے ہیں انکی کھالوں کے، پھر نرم ہوجاتے ہیں انکے جسم اور دل متوجہ ہوجاتے ہیں الله کے ذکر(یاد ونصیحت) کی طرف۔۔۔

[الزمر:23]


(2)ہمیشہ رہنے والی "جنت"  میں رہیں گے جس کا رحمان نے اپنے بندوں سے انکے "بغیردیکھے" وعدہ کر رکھا ہے۔۔۔۔ توبہ کرنے، ایمان لانے اور نیک عمل کرنے کے سبب۔ 

[مریم:60- 61]


(3)وہ مدد ونصرت کرتے رہتے ہیں الله اور اسکے پیغمبر(کے دین)کی۔۔۔دیکھے بغیر۔

[الحدیدہ:25]

یعنی

الله کے کلمہ(توحید)کو بلند کرتے ہیں۔۔۔الله کا بول بالا رکھتے ہیں۔

[التوبہ:40]

پیغمبر کی تائید۔۔۔ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔

[الانفال:62]

الله کو پکارنے والے کمزوروں کیلئے لڑتے رہتے ہیں۔

[النساء:75]

الله والوں کی جان ومال سے مدد کرتے۔۔۔اور پناہ دیتے۔آباد کرتے ہیں۔

[الانفال:72-74]

الله کے فضل اور رضا تلاش میں اپنے گھروں اور مالوں سے محروم کردئے جانے والے فقیر مہاجرین ہوجاتے ہیں۔

[الحشر:8]







جو اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے نہیں ملاتے۔

[الانعام:82]

یعنی خواہشات کے پیچھے نہیں چلتے اور الله کے علاؤہ کسی کو (غائبانہ حاجات میں) نہیں "پکارتے"۔

[الانعام:56]








رب کی ہدایت والوں کی "دوسری" بنیادی نشانی»

(2)نماز کی پابندی۔

القرآن:

...اور وہ قائم رکھتے ہیں نماز

[حوالہ سورۃ البقرۃ:3-5]

اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دیتے رہتے ہیں

[طٰهٰ:132]

اور بچوں کو بھی

[لقمان:17]


کس لئے؟

...الله کے ذکر (یاد ونصیحت) کیلئے۔

[طٰهٰ:14]

....(کیوں)کہ بےشک نماز (یعنی الله کی یاد اور نصیحت) روکتی ہے فحاشی اور برائی سے....

[العنکبوت:45]

لہٰذا (1) بےنمازی زیادہ اور اعلانیہ بےحیائی اور برائی کو کرتا بلکہ پھیلاتا ہے۔ (2)اور چونکہ نماز میں قرآن پڑھا جاتا ہے، اور قرآن میں تمام برائیوں سے منع گیا ہے، لیکن اگر نماز وقرآن کے الفاظ کا ترجمہ معلوم نہ ہوگا۔۔۔سمجھے گا نہیں۔۔۔تو نماز اسے کیسے روکے گی! (3)اور جیسے باپ/استاد برائی سے روکتا ہے لیکن اولاد/شاگرد خود نہ رُکے تو باپ/استاد کو "روکنے" میں کوتاہی کرنے والا نہیں کہا جائے گا ۔۔۔ لہٰذا یہ نہیں فرمایا کہ نماز روک 'دیتی" ہے، بلکہ فرمایا کہ نماز روکتی ہے۔



نماز وہ نیکی ہے جو کئی برائیوں کو مٹادیتی ہے۔

[ھود:114]

انسان، مصیبتوں میں کم حوصلہ اور بخیل ہوتا ہے، سوائے نمازی کے۔

[حوالہ سورۃ المعارج:19-22]

صبر ونماز کے ذریعہ (الله کی) مدد حاصل ہوتی ہے۔

[البقرۃ:45]





نماز کو "قائم" رکھنا کیا ہے؟

(1)ہر نماز کو اس کے "وقت" میں پڑھنا۔

[النساء:103]


(2)باجماعت نماز پڑھنا۔

۔۔۔اور رکوع کرنے والوں کے "ساتھ" رکوع کرو۔

 [البقرۃ:43]

۔۔۔اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو۔

[الحجر:98]

میدانِ جہاد میں بھی

[النساء:102]


(3)حفاظت کرنا (فرض) نمازوں کی اور خصوصاً درمیانی(عصر) نماز کی۔

[البقرۃ:238]

نماز قائم کرو سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے اندھیرے (یعنی ظہر، عصر، مغرب عشاء) تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو۔۔۔

[الإسراء:78]

دن کے دونوں سِروں (یعنی فجر اور عصر) میں، اور رات کے کچھ "حصوں" (یعنی مغرب، عشاء) میں بھی

[ھود:114]

۔۔۔۔اور سورج نکلنے سے پہلے(فجر) اور اس کے غروب سے پہلے(عصر نماز میں) اپنے رب کی تسبیح اور حمد کرتے رہو، اور رات کے اوقات (عشاء) میں بھی تسبیح کرو، اور دن کے کناروں(مغرب) میں بھی، تاکہ تم راضی ہوجاؤ۔

[طٰهٰ: 130]

تسبیح(یعنی الله کا ہر عیب سے پاک ہونے کا اقرار) اور حمد بیان کرتے رہنا، شام(مغرب) میں بھی، اور صبح(فجر)میں بھی، "عشاء" میں اور "ظہر" میں بھی۔

[الروم:17-18]




کن لوگوں کا اجر ضایع نہ ہوگا؟ اور اصلاح والے کون؟

القرآن:

اور جو لوگ (1)کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، (2)اور نماز قائم کرتے ہیں، تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

[سورۃ الأعراف، آیت نمبر 170]

نوٹ:

نماز مجموعہ ہے عبادات۔۔۔ذکر، تلاوۃ اور دعا۔۔۔کا، لہٰذا نماز کے فضائل و فوائد کے علاؤہ ان عبادات کے تمام فضائل و فوائد بھی ایک نماز ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔





الله کے پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

(1) نماز روشنی ہے۔

[صحیح مسلم:769(534)]

(2) الله سے ہم کلام ہونے کا شرف بخشتی ہے۔

[صحیح مسلم:904]

(3)نماز ایمان اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہے۔

[سنن الترمذي:2618]

(4)نماز کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے سوال/حساب ہوگا۔۔۔اگر پوری اور درست رہی تو تمام اعمال پورے اور درست رہیں گے۔

[سنن الترمذي:413]

(5)تمہارا سب سے فضیلت والا عمل

[سنن ابن ماجہ:278]

سب سے زیادہ محبوب عمل

[صحیح البخاري:2630]

نماز پڑھنا ہے اس کے وقت پر۔

[ابوداؤد:426، ترمذی:170]

(6)نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.

[سنن النسائي:3939]

(7)اے بلال! اٹھو(اذان دو)، اور نماز سے ہمیں راحت دو۔

[ابوداؤد:4985]

(8)پیغمبر ﷺ کو جب اہم معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے۔

[ابوداؤد:1419]

(9)پیغمبر نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت نماز کے اہتمام کی تاکیداً وصیت فرمائی۔

[مسند احمد:12190]

(10)اسلام کی سب سے آخر میں ٹوٹنے والی کڑی نماز ہوگی۔

[مسند احمد:22214]

(11)نماز دنیاوی پریشانیوں سے راحت کا ذریعہ ہے۔

[المعجم الكبير للطبراني:6215]

جس میں طاقت ہو اسکی کثرت کرنے کی، تو وہ (نوافل) کثرت سے پڑھے۔

[صَحِيح الْجَامِع: 3870 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:39]

(12)اور جس نے نماز چھوڑ دی تو اس کا کوئی دین نہیں، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے۔

[شعب الإيمان-البيهقي:2550]


مفہوم:

شہید سے بھی پہلے جنت میں زیادہ نماز روزے والا داخل ہوگا۔

[مسند أحمد:8399]

جب کوئی شخص مسلمان ہوتا، تو اسے سب سے پہلے نماز کی تعلیم دی جاتی۔

[سلسلة الأحاديث الصحيحة:303]







رب کی ہدایت پر قائم رہنے والوں کی "تیسری" بنیادی نشانی»

(3)خرچ کرنے والے۔

القرآن:

۔۔۔الله نے انہیں جو کچھ (علم، قوت، مال، طعام) دیا ہے اس ﴿خیر/مال﴾ میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔

[حوالہ سورۃ البقرۃ:3-5، الانفال:3، لقمان:4-5]

۔۔۔کوئی گناہ نہیں ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو (ضرورت سے زائد)کچھ نہیں۔۔۔

[التوبہ:91]

۔۔۔اور انکی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔

[التوبہ:92]




کیوں خرچ کرتے ہیں؟

الله کی "محبت" میں مال خرچ کرتے ہیں۔

[البقرۃ:177، الدھر/الانسان:8]

رضائے الٰہی کی تلاش/چاہت میں

[البقرۃ:265، 272]




کن لوگوں پر خرچ کرتے ہیں؟

(1)والدین پر، (2)سب سے قریبی(بیوی-اولاد/بھائی-بہنوں) پر بھی

[البقرۃ:215]

(3)رشتہ داروں پر بھی

[البقرۃ:215]

(4)اور یتیموں پر بھی (5)اور ﴿محتاجی کے باوجود حیاء کے سبب لپٹ چمٹ کر نہ مانگتے اپنے گھروں ہی میں رہنے والے﴾مسکینوں پر بھی (6)اور قریبی پڑوسیوں، اور دور والے پڑوسیوں، ساتھ بیٹھے/کھڑے شخص پر بھی

[النساء:36]

(7)اور راہ گیر مسافروں پر بھی (8)اور فقیر-سائلوں پر بھی (9)اور صدقات کی وصولی پر مقرر اہلکاروں پر بھی (10)اور دلداری کیلئے محتاج نومسلموں پر بھی (11)اور غلاموں کو آزاد کرانے میں بھی (12)اور جو قرضدار قرض ادا نہ کرسکے اسکے قرض ادا کرنے میں بھی (13)اور الله کے رستے میں(مجاہدین ومہاجرین پر) بھی۔

[التوبہ:60، النور:22]

(14)اور قیدیوں کو کھلانے میں۔

[الدھر/الانسان:8]




کیسی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں؟

اپنی "پاکیزہ-حلال کمائی" میں سے

[البقرۃ:267]

اپنی "پسندیدہ" چیزوں میں سے

[آل عمران:92]

جو(روزمرہ استعمال سے) "زائد" ہو

[البقرۃ:219]



کب، کیسے اور کتنا خرچ کرتے رہتے ہیں؟

خرچ کرتے ہیں۔۔۔

رات میں بھی، اور دن میں بھی، اعلانیہ بھی، اور پوشیدہ بھی

[البقرۃ:274]

خوشحالی میں بھی، اور تنگی میں بھی

[آل عمران:134]

(خرچ)چھوٹا ہو یا بڑا

[التوبہ:121]

اگرچہ ایک کھجور کا "ٹکڑا" ہی ہو۔

[ترمذی:2352]

نہ فضول(غیرضروری)خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی کنجوسی کرتے ہیں

[الفرقان:67]

وہ دن(قیامت) آنے سے پہلے(تک) جس دن نہ کوئی سودا ہوگا، اور نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)

[ابراھیم:31]

اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی

[البقرۃ:254]






خرچ کرنے کے فضائل و فوائد:

۔۔۔اور جو بھی "شیء" (یعنی علم، قوت، مال، طعام) تم خرچ کروگے تو وہ اس کے بدلے اور(بہتر۔زیادہ)چیز دے دیتا ہے۔۔۔

[سبا:39]

یہی لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی نقصان نہیں اٹھائے گی۔

[فاطر:29]

ان کیلئے بہت ہی بڑا اجر ہے۔

[الحدید:7]

یہ(خرچ کرنا)تم سب کیلئے خیر ہے۔

[التغابن:16]




جو خرچ نہیں کرتے سوائے ناپسندیدگی سے، اور نماز نہیں پڑھتے مگر سستی سے، یہ اس لئے کہ ان(منافقین) نے(دل میں)اللہ اور اسکے رسول سے کفر کیا۔

[التوبہ:54]

لہٰذا

الله پاک نے فرمایا:

اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرلو، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو وہ یہ کہے کہ : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی دیر کے لیے اور مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں خوب صدقہ کرتا، اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا۔

[المنافقون:10]







Monday, 16 May 2022

فاسق (گناہگار-نافرمان) کون؟ اسکی اقسام، درجات، احکام اور ان کے درمیان فرق


فاسق کون؟

ہر وہ آدمی جو اطاعتِ خداوندی کو چھوڑ کر گناہ میں مبتلا ہو جائے اس کو ’’فاسق‘‘ (گناہگارiniquitous) کہتے ہیں۔

اگر کوئی مسلمان شخص گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو، یا چھوٹے گناہوں پر اصرار کرے اور مستقل کرتا رہے تو ایسے مسلمان کو بھی ’’فاسق‘‘  کہا جائے گا۔

[الموسوعة الفقهية الكويتية (32/ 140)]

Sunday, 6 March 2022

کائنات کو پیدا کرنے کی حکمت اور کیفیت

کائِنات کیا ہے؟

کائِنات یعنی ہونے والا، موجودات، مخلوقات، جہان۔

القرآن:

اور وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور جس دن وہ (روز قیامت سے) کہے گا کہ : تو ہوجا تو وہ ہوجائے گا۔ اس کا قول برحق ہے۔ اور جس دن صورت پھونکا جائے گا، اس دن بادشاہی اسی کی ہوگی، وہ غائب و حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، اور وہی بڑی حکمت والا، پوری طرح باخبر ہے۔

[سورۃ 6 الانعام: آیت نمبر 73]

تفسیر:

یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں انہیں انعام سے نوازا جائے اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں انہیں سزا دی جائے یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزاء اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے، جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا اور وہ وجود میں آجائے گی اور چونکہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکھٹا کرنا بھی اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے البتہ چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے وہ اسی وقت قیامت قائم فرمائے گا جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا۔

 27: اگرچہ دنیا میں حقیقی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ لیکن یہاں ظاہری طور پر بہت سے حکمران مختلف ملکوں پر حکومت کرتے ہیں، لیکن صورت پھونکے جانے کے بعد یہ ظاہری حکومتیں بھی ختم ہوجائیں گی، اور ظاہری اور باطنی ہر اعتبار سے بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی۔

 





تخلیقِ کائنات کا مقصد» حق وعدل ہے باطل وکھیل نہیں۔

القرآن:

ان کو ہم نے حق (یعنی حکمت اور تدبیر) سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

[سورۃ الدخان: آیت 39]

اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو بےفائدہ اور کھیل-کود کے لئے پیدا نہیں کیا۔

[سورۃ الانبیاء، آیت 16]


تشریح:

تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ مخلوق کے وجود سے خالق کی ذات(وجود) اور صفات(خوبیوں اور قدرتوں) میں اکیلا ہونا یعنی توحید پر اِسْتِدْلال Inference کیا جائے۔

اور

لوگوں کے اعمال کی جانچ کی جائے تاکہ مستحقِ ثواب یا عذاب کو اس کا حق دیا جائے۔


یہ سب حق کے اظہار یعنی توحید کے ثبوت اور عدل کے قیام کیلئے ہے۔


لیکن اکثر لوگ چونکہ دنیا کی رونق میں غرق ہیں اور غور نہیں کرتے‘ اسلئے ان کو معلوم نہیں کہ اس آسمان و زمین اور درمیانی کائنات کی تخلیق اللہ کی ہستی اور توحید کو ثابت کرنے اور انسان کی جانچ کرنے کیلئے کی گئی ہے۔


اس آیت میں رد آگیا ان ساری بےعلم قوموں کا، جو یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ساری کائنات محض ایک تماشہ(تفریح-دکھلاوے) کی جگہ ہے۔ اور خالق کائنات کو محض ایک میلہ رچانا (تماشہ کرنا) مقصود تھا۔

﴿ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں﴾۔


قرآن مجید اس کی بار بار تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کارخانہ آفرینش سے بڑے بڑے اہم مقصود ہیں.....ان کی آفرینش میں بڑی بڑی غایتیں اور مصلحتیں پنہاں ہیں۔ اور ان میں سے ایک بڑی حکمت قانونِ مجازات اور مُکافات کا اجراء ونفاذ ہے۔ یعنی ثواب وعذاب کے مستحق کو آزمانا اور عدل کرنا ہے۔

لہٰذا کثرت سے لوگ عقیدہ آخرت ہی کے منکر ہیں اور جو مانتے ہیں ان میں بھی بہت سے عملاً اس کو اہمیت کو بھلائے ہوئے ہیں۔






الله کا ادب» ضروری علم:

القرآن:

اگر ہم ارادہ کرتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہمیں ایسا کرنا(مناسب)ہوتا تو ہم(خود) اپنے پاس سے (یعنی فرشتوں کو بیٹا اور حور کو بیوی) بنالیتے۔

[سورۃ الأنبياء، آیت نمبر 17]


لفظ "اگر" یعنی بالفرض suppose ۔۔۔۔ یہ لفظ ان چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ یعنی کھیلنا حقیقت نہیں۔


لفظ "ارادہ" کے معنیٰ کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادہ اصل میں اس قوت کا نام ہے جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ایسا کرنا اللہ کی قدرت میں تو ہے لیکن اللہ اس احتیاط وضرورت کے عیب سے پاک ہے کہ ایسی نامناسب بات چاہے۔


لفظ "کھیل" کے اصلی اور معروف معنیٰ بیکاری کے مشغلہ کے ہیں جو کسی کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے۔ اسی کے مطابق مذکورہ تفسیر کی گئی ہے۔

بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ کھیل کبھی بیوی کے لئے اور اولاد کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور یہاں یہ مراد لی جائے تو مطلب آیت کا بت پرست اور یہود و نصارٰی (عیسائیوں) پر رد کرنا ہوگا جو بتوں کو اللہ کی بیٹیاں(اولاد) اور پیغمبر عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کھیلنا یعنی بیوی اور اولاد ہی بنانا ہوتی تو مٹی کے مخلوق انسان کو کیوں بناتے؟ اپنے پاس کی مخلوق میں سے یعنی فرشتوں کو اولاد اور حور کو بیوی بنا لیتے۔ جبکہ ایسا بھی کچھ نہیں کیا۔

لہٰذا مشرکینِ مکہ کے عقیدے، فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، کا بھی رد ہوا کہ یہ بھی منگھڑت نظریہ اور بےدلیل جھوٹ ہے۔ اور انہیں یہ جواب بھی دیا گیا کہ اپنے لئے بیٹیوں کے بجائے بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کیلئے اولاد بھی خود گھڑی کی تو بیٹیاں کیوں؟ 


لفظ "ہمارے پاس" سے عالمِ غیب کی چیزیں فرشتے اور بہشت کی مخلوق اور روحانیات کی چیزیں  جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود، قریب، بےانتہاء، اعلی اور پائیدار ہیں۔ تو کیوں ہمیں کھیلنے کیلئے زمین و آسمان وغیرہ پیدا کرنے کی کیا ضرورت یے؟ کیا اتنی بھی عقل نہیں؟ بلکہ یہ تو بس منگھڑت اٹکلیں بنائے الٹے چلے جارہے ہیں۔


لہٰذا جو احمق ان تمام علویات(آسمانی مخلوقات) اور سفلیات(زمینی مخلوقات) اور مصنوعاتِ عجیبہ کو کھیل اور تماشہ سمجھتے ہیں کیا وہ اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام کھیل اور تماشہ کے لئے نہیں ہوا کرتے یہ کام جس کو کرنا ہو وہ یوں نہیں کیا کرتا، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ کھیل اور تماشہ کا کوئی کام بھی حق تعالیٰ کی عظمت شان تو بہت بلند و بالا ہے کسی اچھے معقول آدمی سے بھی متصور نہیں۔


لہٰذا ہم ایسا کرنے والے نہیں کیونکہ ہمارے لیے اولاد ہونا محال ہے اور اگر کھیلنا مقصد ہوتا تو ہم موت، دوبارہ اٹھنا، قیامت میں اعمال کا حساب، جنت کی جزا، جہنم کی سزا وغیرہ پیدا ہی نہ کرتے۔ بس کھیلتے ہی رہتے۔


آیت سے معلوم ہوا کہ تخلیقِ کائنات خود مخلوق ہی کے نفع ومصلحت کے لئے ہے۔





تخلیق اور آزمائش کا مقصد:

القرآن:

اور وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ (5) تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل کے اعتبار سے تم میں کون زیادہ اچھا ہے۔ (6) اور اگر تم (لوگوں سے) یہ کہو کہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہیں گے کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔

[سورۃ 11 ھود: آیت نمبر 7]





کائنات پیدا کرنے کی کیفیت:

اللہ کے پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر(ہوا کی پشت) تھا۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔

[صحيح البخاري:3191 (المصنف - عبد الرزاق - ت الأعظمي:9089، تفسير عبد الرزاق:1185، السنة لابن أبي عاصم:584، المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية:3293+3306)]



زمانہ اور دنوں کی حدود:

حضرتِ ابو ھریرہؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن مٹی کو، اتوار کے دن اس مٹی میں پہاڑوں کو ، پیر کے دن درختوں کو، منگل کے دن ناپسندیدہ چیزوں کو ، بدھ کے دن نور کو اور جمعرات کے دن تمام چوپایوں کو پیدا فرمایا۔ اور سب سے آخر میں جمعہ کے دن کی آخری گھڑیوں میں عصرکے بعد رات سے پہلے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔

[مسند أحمد:8341 (مسند أبي يعلى:6132، مسند البزار:8228)]

نکات:

(1)دنیا کی تخلیق کی کیفیت اور ابتداء

[صحيح مسلم:2789]


(2)اس گھڑی کا تذکرہ جس میں اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن آدم کو پیدا کیا۔

[صحيح ابن خزيمة:1731، صحيح ابن حبان:6161]


(3)‌‌‌‌تخلیق اور ایجاد کے اثبات پر عمل کرنے والے (اللہ کے صفاتی)  ناموں کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اللہ ہر چیز کا "خالق" ہے}[سورۃ الرعد:16]

[الأسماء والصفات-البيهقي:36]


القرآن:

بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بارے بارے آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

[سورۃ آل عمران:190]

بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میں رات دن کے لگاتار آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدے کا سامان لیکر سمندر میں تیرتی ہیں اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا اور اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع دار بن کر کام میں لگے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔

[سورۃ البقرۃ:164]




لک





ہر چیز پانی سے پیدا ہوئی۔

[مسند أحمد:7932+10399، المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية:7278]

یعنی اصل مادہٴ خلقت پانی کو بتایا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پانی(H2O) کو پیدا کیا، پھر اسی پانی سے آگ بھی بنائی، نور بھی بنایا، ہوا بھی بنائی، اور مٹی بھی بنائی، یعنی اسی سے جنات وشیاطین کو پیدا کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

.....اور پانی سے ہر جاندار چیز پیدا کی ہے ؟

[سورۃ الانبیاء:30]

یعنی ہر چیز کو پانی سے بنایا پھر اس پانی کو مختلف اجناس یعنی مٹی، آگ، نور، ہوا کو بنایا۔ اور پھر ان مادوں سے تمام جانداروں کو پیدا کیا۔ ملاحظہ ہو۔

[تفسیر کبیر: جز۲۴، ص:۱۶]

اس آیت نے واضح کردیا ہے کہ ہر جان دار چیز کی تخلیق میں پانی کا کوئی نہ کوئی دخل ضرور ہے۔



حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتوں کو نور(روشنی) سے پیدا کیا گیا، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی صفت (اللہ تعالیٰ نے) تمھیں بیان فرمائی ہے (یعنی خاک سے)“۔

[صحيح مسلم:2996، تفسير عبد الرزاق:1678 سورۃ الرحمن:15]


عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ: عَنِ الشَّمْسِ، وَالْقَمَرِ، وَالنُّجُومِ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خُلِقْنَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُنَّ ‌خُلِقْنَ ‌مِنْ ‌نُورِ الْعَرْشِ»

ترجمہ:

عبید اللہ بن ابی بکر بن انس سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے تین خصلتوں کے بارے میں پوچھا: سورج، چاند اور ستاروں کے بارے میں؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ عرش کے نور سے پیدا کیے گئے ہیں۔"

[المعجم الأوسط للطبراني:6062، العظمة لأبي الشيخ الأصبهاني:4/ 1139، صفات رب العالمين - ابن المحب الصامت - ناقص:323 ]









انسان مختلف رنگوں کے کیوں؟

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، چناچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے، اور نرم مزاج اور گرم مزاج، خبیث اور پاک باز لوگ پیدا ہوئے۔

[سنن ابو داؤد:4693، سنن الترمذی:2955]



حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی صورت بنائی تو انہیں چھوڑ دیا۔ ابلیس آکر اسے دیکھنے لگا۔ جب اس نے آدم کو اندر سے خالی دیکھا تو کہنے لگا: یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے گی۔

[مسند أبي داود الطيالسي:2136، مسند أحمد:13391، صحيح مسلم:2611]

اللہ پاک نے فرمایا:

اور پیدا کیا گیا ہے انسان کمزور۔

[سورۃ النساء:۲۸]



حضرت ابوہریرہؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کر چکا تو فرمایا کہ جاؤ اور ان فرشتوں کو جو بیٹھے ہوئے ہیں، سلام کرو اور سنو کہ تمہارے سلام کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ(سلامتی ہو آپ سب پر)! فرشتوں نے جواب دیا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ (اور سلامتی ہو آپ پر بھی اور اللہ کی رحمت بھی)، انہوں نے آدم کے سلام پر ”وَرَحْمَةُ اللَّهِ“ بڑھا دیا۔ پس جو شخص بھی جنت میں جائے گا آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہو کر جائے گاز۔“ اس کے بعد سے پھر خلقت کا قد و قامت کم ہوتا گیا، اب تک ایسا ہی ہوتا رہا۔

[صحيح البخاري:6227+3326، صحيح مسلم:2841، صحيح ابن حبان:6162]

جب اللہ نے آدمؑ کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونک دی، تو ان کو چھینک آئی، انہوں نے «الحمد لله» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) کہنا چاہا چنانچہ اللہ کی اجازت سے «الحمد لله» کہا، پھر ان سے ان کے رب نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» (اللہ تم پر رحم فرمائے)، اے آدم! ان فرشتوں کی بیٹھی ہوئی جماعت کے پاس جاؤ اور ان سے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہو، انہوں نے جا کر السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کیا، فرشتوں نے جواب دیا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹ آئے۔ اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں طریقہ سلام و دعا ہے۔

پھر اللہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر کے آدم سے کہا: ان میں سے جسے چاہو پسند کرلو، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے دایاں ہاتھ کو پسند کیا، اور حقیقت یہ ہے کہ میرے رب کے دونوں ہی ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں اور برکت والے ہیں، پھر اس نے مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور آدم کی ذریت تھی، آدمؑ نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ سب تیری اولاد ہیں اور ہر ایک کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں لکھی ہوئی ہے، ان میں ایک سب سے زیادہ روشن چہرہ والا تھا، آدمؑ نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون ہے؟ کہا یہ تمہارا بیٹا داود ہے، میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھ دی ہے، آدمؑ نے کہا: اے میرے رب! اس کی عمر بڑھا دیجئیے، اللہ نے کہا: یہ عمر تو اس کی لکھی جا چکی ہے، آدمؑ نے کہا: اے میرے رب! میں اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دیئے دیتا ہوں، اللہ نے کہا: تم اور وہ جانو؟ چلو خیر، پھر آدمؑ جنت میں رہے جب تک کہ اللہ کو منظور ہوا، پھر آدمؑ جنت سے نکال باہر کردیئے گئے، آدمؑ اپنی زندگی کے دن گنا کرتے تھے، ملک الموت ان کے پاس آئے تو آدمؑ نے ان سے کہا: آپ تو جلدی آ گئے میری عمر تو ہزار برس لکھی گئی ہے، ملک الموت نے کہا: ہاں (بات تو صحیح ہے) لیکن آپ نے تو اپنی زندگی کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داود کو دے دیے تھے، تو انہوں نے انکار کردیا آدمؑ کے اسی انکار کا نتیجہ اور اثر ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگ گئی، آدمؑ بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولنے لگ گئی، اسی دن سے حکم دے دیا گیا ساری باتیں لکھ لی جایا کریں اور گواہ بنا لیے جایا کریں۔

[جامع الترمذي:3368، صحيح ابن حبان:6167]

جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔۔۔۔۔

[جامع الترمذي:3076]





عورتوں کے بارے میں (بھلائی کی) میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ {وه کبھی تجھ سے سیدھی چال نہ چلے گی تو اس سے کام لے تو لیے جا اور وہ ٹیڑھی کی ٹیرھی رہے گی}، پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا {اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔} اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔

[صحيح البخاري:3331، صحيح مسلم:1468(3643+3644+3650)، {صحيح ابن حبان:4179]






مزید تفصیل کیلئے کتاب "کائنات کیسے وجود میں آئی" ملاحظہ فرمائیں، جسے یہاں سے مفت ڈاون لوڈ کریں:

https://besturdubooks.net/kainat-kaisay-wajood-mein-aai/








Friday, 4 March 2022

دنیا کے معانی وحقائق، اسرار وعجائب


(1)دنیا نام ہے ادنیٰ چیز کا۔

دنیا کے لغوی معنیٰ ادنیٰ اور قریبی(جلدی والی) چیز کے ہے۔

[مفردات القرآن:صفحہ318»سورۃ البقرۃ:63، الاسراء:18]



دنیا کی حقیقت:

حضرت علی ؓ نے فرمایا:

«حَلَالُهَا حِسَابٌ، وَحَرَامُهَا عَذَابٌ»

ترجمہ:

جس کے حلال میں حساب، اور جس کے حرام میں عذاب ہے۔

[الزهد لأبي داود:109، الزهد لابن أبي الدنيا:18]


Sunday, 27 February 2022

علم کے حصول کیلئے معلم (اُسْتاد) کی ضرورت واہمیت


اللہ کے پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:

بُعِثْتُ ‌مُعَلِّمًا ---- ‌بَعَثَنِي ‌مُعَلِّمًا

مجھے بھیجا گیا ہے مُعلم (استاد) بناکر۔

[سنن ابن ماجه:229، المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم:3491]

[صحيح مسلم:1478، المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم:3486]


اللہ پاک نے فرمایا:

۔۔۔۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کر دو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

[سورۃ النحل:44]

یعنی پیغمبر کی ذمہ داری اور منصب صرف قرآن حکیم کو پہچادینا ہی نہیں، بلکہ اللہ کی مراد بھی واضح کرنا ہے۔ پھر اس کے بعد علماء کو غور وفکر سے کام لینا چاہئے۔



Wednesday, 23 February 2022

آسمانی مذاہب کی متفقہ تعلیم


آسمانی مذاہب کی تعلیم کا مقصد Purpose »
نیکی کا شوق Motivation دلانا اور برائی سے ڈرانا۔

ایک لمبی روایت Narration میں ہے کہ

حضرت ابوذر ؓ نے (اللہ کے پیغمبر محمد ﷺ سے) عرض کیا:

اے اللہ کے پیغمبر! حضرت موسیٰ ؑ کے صحیفوں میں کیا تھا؟

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

كَانَتْ عِبَرًا كُلُّهَا۔۔۔۔اسکی ساری باتیں عبرت(نصیحت وتن٘بیہہ) کی تھیں۔

(1) عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ ثُمَّ هُوَ يَفْرَحُ۔

تعجب ہے اس شخص پر جسے موت کا یقین ہے پھر بھی وہ(برائی کرکے)خوش ہوتا ہے!


(2) وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالنَّارِ ثُمَّ هُوَ يَضْحَكُ

اور تعجب ہے اس شخص پر جسے جہنم کا یقین ہے، پھر بھی وہ(گناہ کرکے)ہنستا ہے!


(3) وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ هُوَ يَنْصَبُ

اور تعجب ہے اس شخص پر جسے تقدیر (یعنی ہر چیز کے خالق ومالک اللہ کے علم وقدرت) پر یقین ہے پھر بھی وہ (نیکی میں کوشش کرنے سے) تھکتا ہے!


(4) عَجِبْتُ لِمَنْ رَأَى الدُّنْيَا وَتَقَلُّبَهَا بِأَهْلِهَا ثُمَّ اطْمَأَنَّ إِلَيْهَا

اور تعجب ہے اس شخص پر جسے دنیا کیلئے دنیا والوں کا بےسکون ہونا تو نظر آرہا ہے پھر بھی وہ دنیا ہی پر ٹِکا (جَما) ہوا ہے!


(5) وَعَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْحِسَابِ غَدًا ثُمَّ هُوَ لَا يَعْمَلُ

اور تعجب ہے اس شخص پر جسے حساب کا یقین ہے پھر بھی وہ برے کام کرتا ہے!

حوالہ جات:
[صحيح (امام) ابن حبان (المتوفی 384 ھجری) : حدیث نمبر 361]
[الأربعون حديثا للآجري(م360ھ) : حدیث نمبر 44]
[حلية الأولياء (امام) أبو نعيم الأصبهاني (م430ھ) : جلد1 / ص167]