Sunday, 12 April 2020

پنج تن پاک یا سب مومن پاک

وہ اعمال جن سے نبی ﷺ کی بیویاں اور اولاد پاک ہوئے:
جس طرح اللہ پاک نے فرمایا:
وَقَرنَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجٰهِلِيَّةِ الأولىٰ ۖ وَأَقِمنَ الصَّلوٰةَ وَءاتينَ الزَّكوٰةَ وَأَطِعنَ اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا {33:33}
ترجمہ:
اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں اور دکھلاتی نہ پھرو جیسا کہ دکھانا دستور تھا پہلے جہالت کے وقت میں، اور قائم رکھو نماز اور دیتی رہو زکوٰۃ اور اطاعت میں رہو اللہ کی اور اس کے رسول کی، اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کرے تم سے گندی باتیں اے نبی کے گھر والو! اور پاک کر دے تم کو ایک پاکیزگی سے۔
[سورۃ الاحزاب:33]

Tuesday, 3 March 2020

تفسیر ابن عباس سے غیرمقلد علماء کا استدلال


غیرمقلد علماء نے اپنی مشہور ویب سائٹ میں تفسیر ابن عباس کو استفادہ کیلئے پیش کرنے کے علاوہ ان کے علماء نے اپنی تفاسیر میں اس سے استدلال بھی کیا ہے۔

چنانچہ اپنی ویب سائٹ پر اس کتاب کا تعارف دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: 
اس تفسیر کی نسبت کے حوالے سے اسلاف کی مختلف آراء موجود ہیں۔اس کی اسناد کے متعلق بھی گفتگو کی خاصی گنجائش موجود ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی متعدد روایات صحاح ستہ ودیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔اس لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔یہ کتاب اردو میں تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)




چند استدلالات:

(1) صاحب تفسیر ابن عباس نے بھی ان آیتوں کو بشارت کی آیتوں سے منقطع کیا ہے اور تقدیر کلام یوں کی ہے فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ قَالَ اَنِّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مگر اس تقریر میں وہی نقص باقی رہتا ہے کہ قال کے بعد ان مفتوحہ واقع ہوتا ہے مگر ہم تقریر کلام کی اس طرح پر کرتے ہیں۔ فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ قَالَ مُجِیْبًا لَھُمْ بانّی قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ ۔ “ (جلد ٢ صفحہ ٢٤٢)
[تفسیر ثنائی: سورۃ المائدۃ:87]




(2) مگر سرسید مرحوم ابن عباس کی تفسیر پر اعتراض کرتے ہیں۔
 اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ سلف سے علماء اور صحابہ کو اس میں اختلاف ہے کہ واقعات معراج بحالت بیداری ہوئے تھے یا خواب میں لیکن اگر قید لفظ ” عین “ کی جو ابن عباس کی حدیث ہے ایسی صاف ہوتی جس سے ” رویت فی الیقظ سمجھی جاتی تو علماء میں اختلاف نہ ہوتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ قید لفظ ” عین سے “ رویت فی الیقظہ کا سمجھنا ایسا صاف نہیں ہے جیسا کہ بعض نے سمجھا ہے۔ “ (ص ١٠٦)
 جواب : تعجب ہے سید صاحب کیسی حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟ فرماتے ہیں۔ اگر ابن عباس کا قول صاف ہوتا تو علماء میں اختلاف کیوں ہوتا حالانکہ اس کے متصل ہی صفحہ ١٠٧ پر لکھتے ہیں۔
 اگر ہماری یہ رائے صحیح نہ ہو اور ابن عباس نے عین کا لفظ رویا کے ساتھ اسی مقصد سے بولا ہو کہ رویا سے رؤیت بالعین فی الیقظہ مراد ہے تو وہ بھی منجملہ اس گروہ کے ہوں گے جو معراج فی الیقظہ کے قائل ہوتے ہیں مگر ہم اس گروہ میں ہیں ہو واقعہ معراج کو حالت خواب میں تسلیم کرتے اور ہمارے نزدیک خواب ہی میں ماننا لازم ہے۔ “
 اس عبارت کا مضمون صاف ہے کہ باوجود صحیح منقول ہونے تفسیر ابن عباس کے آپ (بقول خود) ان سے مخالفت کے مجاز ہیں تو کیا وہ علماء جو آپ سے پہلے اور ابن عباس کے ہمعصر و ہم مرتبہ تھے ان کا حق نہ تھا کہ ان کی رائے سے مخالفت کرسکیں یعنی اس آیت کو اسراء سے الگ سمجھیں اور اس سمجھنے میں حق بجانب ہوں۔ 
[تفسیر ثنائی: سورۃ الاسراء:1]




یہ تفسیر ابن عباسؓ سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے۔ 

[تفسیر القرآن الکریم (حافظ عبد السلام بھٹوی) : سورۃ الفرقان:70]



[تفسیر القرآن الکریم (حافظ عبد السلام بھٹوی) : سورۃ الفرقان:70]




Thursday, 20 February 2020

غفلت کیا ہے اور اس کا انجام

غفلت اس سہو(غلطی/بےتوجہی) کو کہتے ہیں جو تحفظ اور احتیاط کی کمی کی بناء پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے۔ قرآن میں ہے:

لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا
[سورۃ ق:22]
بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا۔
[مفردات القرآن-امام راغب اصفھانی: ج1 ص608]





القرآن:

۔۔۔ اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل "غافل" کیا ہم نے اپنی یاد سے، اور وہ پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے، اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا۔

[سورۃ الکھف:28]

اور جو الله کی یاد سے"غافل"ہوتا ہے تو وہ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر وہ اسکے ساتھ رہتا ہے۔

[سورۃ الزخرف:36]








جبیر بن نفیل حضرت معاذ بن جبل سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَيْسَ يَتَحَسَّرُ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَّا عَلَى سَاعَةٍ مَرَّتْ بِهِمْ لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ فِيهَا ۔
ترجمہ:
جنت والوں کو کسی چیز کا افسوس نہیں ہوگا، سوائے اس گھڑی کے جو انہوں نے(دنیا میں)ذکر الله کے بغیر گزاری۔

[صحیح الجامع الصغیر:5446، الجامع الصغیر:9577]

[جامع الاحادیث:19551، طبرانی:182(20/93)]

[شعب الإيمان-امام البيهقي (المتوفى: 458هـ) » حدیث نمبر 509-510]

[عمل اليوم والليلة لابن السني(م364ھ): صفحہ#6]

[مسند الشاميين للطبراني(م360ھ) : حدیث446]

[الهداية إلى بلوغ النهاية-امام مكي بن أبي طالب(المتوفى: 437هـ) » تفسیر سورۃ العنکبوت، آیت#45]

[تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی» سورۃ البقرۃ:152]



شرح للمناوی:

 (جنت والے کسی چیز پر) دنیا میں جو ان سے فوت ہوئی (اتنا افسوس نہیں کریں گے، جتنا اس گھڑی پر کریں گے جو انہیں ایسی حالت میں گزری جس میں انہوں نے اللہ عزوجل کا ذکر نہیں کیا) یعنی ثواب اور تقرب الی اللہ کی نیت سے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ان پر دنیا کے دن پیش کیے جائیں گے اور انہیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے انہیں کیا کچھ حاصل ہوا، پھر وہ اس دوسری گھڑی پر نظر ڈالیں گے جس میں وہ ذکر سے محروم رہے، تو انہیں سخت افسوس ہوگا۔ لیکن یہ افسوس صرف موقف (قیامت کے میدان) میں ہوگا نہ کہ جنت میں، جیسا کہ حکیم ترمذی وغیرہ نے وضاحت کی ہے۔ اس بیان کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ تم سے جو ہر حرکت بغیر اللہ کے ذکر کے سرزد ہوگی وہ تمہارے خلاف ہوگی، تمہارے فائدے میں نہ ہوگی۔ اور جو لوگ اللہ کے ذکر پر ہمیشہ قائم رہیں گے وہی سب سے زیادہ حصہ پانے والے، سب سے بلند درجے اور سب سے شریف مقام والے ہوں گے۔

بندے میں خیر و شر حاصل کرنے والے سات اعضاء ہیں: کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں، پیٹ اور شرمگاہ۔ جو شخص ان اعضاء کو ذکر الہی سے حرکت دے گا، وہ ان "مفردون" (ہمہ تن ذکر میں مشغول لوگوں) کے مقامات تک پہنچ جائے گا جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مفردون آگے نکل گئے۔" اور جو شخص اپنے اعضاء کو ہوا کی پیروی میں شہوت کے کاموں سے حرکت دے گا، وہ اللہ عزوجل سے دور ہوجائے گا، اپنے اعضاء پر ظلم کرے گا اور اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا، جس کے نتیجے میں اسے پچھتاوا اور دوری (اللہ سے) کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تم سے یہ حرکتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر تمہارا دل اللہ عزوجل سے غافل ہے تو تم نے اس وقت کو ضائع کیا اور اپنے آپ کو اللہ کے غضب کے سامنے پیش کیا۔ اس لیے کہ اللہ تمہیں یاد کرتا ہے جبکہ تم اس سے غافل ہو۔ کیونکہ (قیامت کے دن) جنت کے محلات، نہروں، نعمتوں اور ذکر کے ثواب (کا پردہ) اٹھ جائے گا، جو اللہ کا اپنے بندے سے خوش ہونا اور اس سے محبت کرنا ہے۔ پس اگر بندہ اللہ کے ذکر سے ذرا سی دیر کے لیے بھی غافل ہوا تو اس فضل سے محروم ہوجائے گا اور اس پر افسوس کرے گا۔

فرشتے اپنی جسمانی آنکھوں سے عرش کے نیچے کی چیزوں کو دیکھتے ہیں، جبکہ انسانوں کے دل پردے کے پیچھے سے ان عظیم امور کو دیکھتے ہیں جن کا ذکر زبانوں پر نہیں آتا۔ ان مشاہدات میں انہیں ایسا فضل و کرم دیا جاتا ہے جو ان کی خدمتوں کے انمول تحفوں کے برابر ہوتا ہے، تاکہ وہ قیامت کے روز اللہ کے سامنے ایسے اعمال و انوار پیش کریں جن پر فرشتے حیران رہ جائیں۔ دل سے مطلوب ہے کہ وہ مسلسل ذکر کے ساتھ ان اعضاء کی نگرانی کرے۔ اگر دل نے اسے نظرانداز کیا اور قیامت کے روز اللہ کے حضور کھڑے ہونے کے وقت اس سے پردہ اٹھا دیا گیا تو اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پچھتاوا محسوس کرے گا، اس کا جگر پارہ پارہ ہوجائے گا، اس کی ہر رگ خوف (یا اللہ کے سامنے شرم) سے کانپ اٹھے گی، اور اس کے ہر بال اور جوڑ درد و افسوس سے چلّا اٹھیں گے۔ پس اس سے بڑھ کر پچھتاوا اور کیا ہوگا!

(طب ہب عن معاذ) یہ مصنف کی طرف سے حسن درجہ کی علامت ہے، اور انہوں نے صحیح کہا ہے۔ ہیثمی نے کہا ہے: اس کے راوی ثقہ ہیں، البتہ طبرانی کے شیخ محمد بن ابراہیم الصوری کے بارے میں اختلاف ہے۔
[فیض القدیر-للمناوی:7701]


حاصل شدہ اسباق ونکات:

1. ہر لمحہ ذکر الہی کی اہمیت: انسان کے لیے سب سے بڑا نقصان اللہ کے ذکر سے غفلت کے لمحات ہیں جو آخرت میں پچھتاوا کا باعث بنیں گے۔
2. اعضاء کی ذمہ داری: انسان کے ساتوں اعضاء (کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں، پیٹ، شرمگاہ) نیکی اور برائی دونوں کے ذرائع ہیں۔ انہیں ذکر الہی میں مشغول رکھنا مقصود ہے۔
3. "مفردون" کا بلند مقام: وہ لوگ جو ہمہ تن اللہ کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں، ان کا درجہ سب سے بلند ہے۔
4. قیامت میں پردہ اٹھنا: قیامت کے دن جب ہر عمل کا نتیجہ واضح ہوگا، اس وقت ذکر سے غفلت پر سخت پچھتاوا ہوگا۔
5. دل کی نگہبانی: دل کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اعضاء کو ذکر الہی پر آمادہ رکھے۔ غفلت دل کے لیے تباہ کن ہے۔
6. فرشتوں اور انسانوں کے مشاہدے کا فرق: فرشتے ظاہری چیزوں کو دیکھتے ہیں جبکہ انسانوں کے دل باطنی انوار و اسرار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
7. حدیث کی سند کا درجہ: یہ اثر صحیح سند کے قریب ہے، جیسا کہ مصنف اور ہیثمی نے تصریح کی ہے۔



القرآن:

(اے پیغمبر) جو کتاب تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قائم کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (26) اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔

[سورۃ نمبر 29 العنكبوت، آیت نمبر 45]


تفسیر:

(26)یعنی اگر انسان نماز کو نماز کی طرح پڑھے، اور اس کے مقصد پر دھیان دے تو وہ اسے بےحیائی اور ہر برے کام سے روکے گی، اس لئے کہ انسان نماز میں سب سے پہلے تکبیر کہہ کر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان اور اقرار کرتا ہے، جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے کسی بات کو وقعت نہیں دیتا، پھر ہر رکعت میں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یا اللہ ! میں آپ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اور آپ ہی سے مدد مانگتا ہوں، لہذا جب اس کے بعد کسی گناہ کا خیال اس کے دل میں آئے تو اگر اس نے نماز دھیان سے پڑھی ہے تو اسے اپنا عہد یاد آنا چاہیے، جو یقیناً اسے گناہ سے روکے گا، نیز رکوع سجدے اور نماز کی ہر حرکت و سکون میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے زبان حال سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بناکر پیش کرتا ہے، اس لئے جو شخص نماز کو سوچ سمجھ کر اس طرح پڑھے جیسے پڑھنا چاہیے یقیناً اسے برائیوں سے روکے گی۔





حضرت عائشہ سے روایت رہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَا من ساعة تَمُرُّ بِابْنِ آدَمَ لَمْ يَذْكُرِ اللهَ فِيهَا إِلَّا تَحَسَّرَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔

ترجمہ:

ابنِ آدم کی جو گھڑی بھی اللہ کے ذکر سے خالی گذر گئی وہ قیامت کے دن حسرت وافسوس کا سبب ہوگی۔ 

[شعب الایمان-للبيهقي:508]

[جامع الصغیر للسیوطی:10658،صحیح الجامع:5720) حسن، الصحيحة:2197]




شرح للمناوی:

(ابن آدم کی عمر سے کوئی گھڑی نہیں گزرتی) اس کی زندگی سے (جس میں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو) نہ اپنی زبان سے اور نہ اپنے دل سے (مگر وہ قیامت کے دن اس پر پچھتائے گا) یعنی جنت میں داخلے سے پہلے، کیونکہ جنت میں کوئی پچھتاوا یا ندامت نہیں ہوتی۔

[التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي: 2/362]

[فيض القدير للمناوي: 8045]




حاصل شدہ اسباق ونکات:


1. ہر لمحہ ذکر کی اہمیت: انسان کی زندگی کا ہر لمحہ جو اللہ کے ذکر سے خالی گزرے، قیامت کے دن اس پر پچھتاوا ہوگا۔

2. ذکر کی جامعیت: ذکر سے مراد صرف زبانی ذکر نہیں، بلکہ قلبی ذکر بھی شامل ہے۔ دل کی حاضر ی کے ساتھ ذکر کرنا ضروری ہے۔

3. جنت میں پچھتاوا نہیں: پچھتاوا صرف قیامت کے دن موقف (جنت میں داخلے سے پہلے) میں ہوگا، جنت میں داخل ہونے کے بعد پچھتاوا ختم ہوجائے گا۔

4. عملی نصیحت: اس حدیث سے ملتی جلتی تعلیمات دیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں، لہٰذا ہر وقت اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

5. زندگی کے ہر لمحہ کی قدر: وقت اللہ کی نعمت ہے، اسے ذکر الہی میں صرف کرنا چاہیے، ورنہ قیامت میں پچھتاوا ہوگا۔






القرآن:

وہ کہیں گے کہ : ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے۔ (ہمیں پوری طرح یاد نہیں) اس لیے جنہوں نے (وقت کی) گنتی کی ہو، ان سے پوچھ لیجیے۔

[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 113]

تفسیر:

آخرت کا عذاب اتنا سخت ہوگا کہ اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری زندگی اور اس میں جو عیش و عشرت کیے تھے وہ ان دوزخیوں کو ایک دن یا اس سے بھی کم معلوم ہوں گے۔



القرآن:

اللہ فرمائے گا : تم تھوڑی مدت سے زیادہ نہیں رہے۔ کیا خوب ہوتا اگر یہ بات تم نے (اس وقت) سمجھ لی ہوتی۔

[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 114]

تفسیر:

35: یعنی اب تو تم نے خود دیکھا لیا کہ دنیا کا عیش ایک دن کا نہ سہی، مگر آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا سا تھا۔ یہی بات تم سے دنیا میں کہی جاتی تھی تو تم اسے ماننے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ کاش یہ حقیقت تم نے اس وقت سمجھ لی ہوتی تو آج تمہارا یہ حشر نہ ہوتا۔




رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما من ساعة تأتي على ابن آدم لا يذكر اللََّه تعالى فيها إلا كانت عليه حسرة وان دخل الجنة۔

[قوت القلوب:1/187]

(ما من ساعة تأتى على العبد لا يذكر الله فيها الا كانت عليه حسرة يوم القيامة)

[تفسیر روح البیان»سورۃ المومنون،آیت113-114]




حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

ترجمہ:

جو شخص سونے کیلئے بستر پر لیٹے اور پھر اللہ کا ذکر نہ کرے تو ذکر اللہ سے غفلت قیامت کے دن اس کیلئے باعثِ افسوس ہوگی۔ اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہوگی۔ 





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" (مَنْ اضطجع مضجعا لَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ تَعَالَى فِيهِ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً (¬1) يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ - عز وجل - فِيهِ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (¬2) (وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ - عز وجل - إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً , وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً) (¬3) "

¬_________

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص ایسے بستر پر لیٹے جس میں اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا ہو، تو قیامت کے دن اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا،(¬1)

اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جہاں اس نے اللہ عزوجل کا ذکر نہ کیا ہو، تو قیامت کے دن اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا۔"(¬2)

"اور کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی راستے پر چلا ہو اور اس نے اللہ عزوجل کا ذکر نہ کیا ہو، مگر یہ کہ اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا، اور کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنے بستر کی طرف گیا ہو اور اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، مگر یہ کہ اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا۔" (¬3)

---

حاشیہ وحوالہ:

(¬1) ابو عیسیٰ (امام ترمذی رحمہ اللہ) نے کہا:

اس لفظ (تِرَةً) کا معنی ہے حسرت و ندامت (افسوس اور پچھتاوا)۔ اور عربی زبان کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ (التِّرَةُ) کا معنی ہے: بدلہ (یا تباہی/نقصان)۔


(¬2) سنن ابوداؤد:5059-4856، (السنن الكبرى للنسائي:10237، صحيح الجامع:6043، الصحيحة:78


(¬3) مسند احمد:9583، عمل اليوم والليلة لإبن السني:375، الصَّحِيحَة:79، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:1513


[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج4 / ص451]


شرح للمناوی:

(جو شخص ایسے بستر پر لیٹے جس پر اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو تو اس پر "تَرَّۃٌ" ہوگی) تاء مثناہ فوقانی کے کسرہ اور راء مهملہ کے فتحہ کے ساتھ، جیسا کہ "شرح المصابیح" میں ہے، یعنی نقصان ہوگا۔ "تَرَّۃٌ" سے مراد نقصان یا کمی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حسرت و افسوس ہے کیونکہ یہ نقصان کے لازمے میں سے ہے۔ طیبی نے کہا: یہ "کَانَتْ" (بالتانیث) کے ساتھ بھی مروی ہے اور "تَرَّۃٌ" مرفوع آئی ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ "کَانَتْ" کی ضمیر کا مرجع مؤنث سمجھا جائے، یعنی "الاضطجاعۃ" (لیٹنا) اور "القعدۃ" (بیٹھنا)۔ اور "تَرَّۃٌ" مبتدا ہے اور جار و مجرور اس کی خبر ہے، اور پوری جملہ "کَانَ" کی خبر ہے۔ اور اگر تذکیر کی روایت اور "تَرَّۃٌ" کے نصب کی روایت کو لیں تو اس کا معنی واضح ہے۔

(روز قیامت) کیونکہ بغیر اللہ کے ذکر کے سونا گویا زندگی کو معطل کرنا ہے، اور ممکن ہے کہ اس کی روح اسی رات قبض ہوجائے، پس وہ دور کر دیے جانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ اور بندہ جس حال پر مرتا ہے، اسی حال پر اٹھایا جائے گا۔ اور جو شخص ذکر اور طہارت کی حالت میں سوتا ہے، تو اس کی روح عرش تک بلند کی جاتی ہے اور وہ اس وقت تک نمازی (یعنی عبادت گزار) سمجھا جاتا ہے جب تک وہ بیدار نہ ہو۔ اگر وہ اسی حالت پر فوت ہوجائے تو وہ مقربین میں سے ہوگا اور جس حال پر مرا تھا، اسی حال پر اٹھایا جائے گا۔ اس کا ذکر حجۃ الاسام (امام غزالی) نے کیا ہے۔ (اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جہاں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے تو قیامت کے دن اس پر نقصان ہوگا۔)

[فیض القدیر-للمناوی:8462]


حاصل شدہ اسباق ونکات:


1. سونے اور بیٹھنے سے پہلے ذکر کی اہمیت: سونے یا بیٹھنے سے پہلے اللہ کا ذکر نہ کرنا قیامت کے دن نقصان اور حسرت کا باعث بنے گا۔

2. موت کی حالت کا اثر: آدمی جس حالت پر مرتا ہے، اسی پر اٹھایا جاتا ہے۔ لہٰذا ذکر کی حالت میں سونا باعث برکت ہے۔

3. ذکر اور طہارت کی فضیلت: طہارت اور ذکر کی حالت میں سونے والے کی روح بلند مقام تک پہنچتی ہے اور وہ عبادت گزار شمار ہوتا ہے۔

4. بے ذکری سونا گویا موت ہے: بغیر ذکر کے سونا گویا زندگی کو ضائع کرنا ہے اور ممکنہ موت کی صورت میں انسان اللہ سے دور ہوجاتا ہے۔

5. عملی زندگی میں ذکر کی رفاقت: ہر چھوٹے بڑے کام سے پہلے ذکر الہی کو اپنانا چاہیے تاکہ وہ کام برکت اور ثواب کا ذریعہ بنے۔


Sunday, 27 October 2019

لغوی اور اصطلاحی معنیٰ میں فرق

لغوی اور اصطلاحی معنیٰ میں فرق:
لفظ کا وہ اصلی معنیٰ جو اہلِ زبان مراد لیتے ہیں اسے لغوی معنیٰ کہتے ہیں۔ اور لفظ کا وہ معنیٰ جو (1)ماہرِ زبان Linguists یا (2)اہلِ علاقہ یا (3)اہلِ فن ’’متعین‘‘ کرلیں اسے اصطلاحی(یا عُرفی) معنیٰ کہتے ہیں۔

جیسے:
لفظ Calculate اور Compute کے لغوی اصلی معنیٰ "حساب کرنا" ہے، لیکن کوئی بھی Calculator اور Computer سے ایک ہی چیز مراد نہیں لیتا۔
کیونکہ
اہلِ فن نے Computer اور Calculator کی علیحدہ علیحدہ معنیٰ ’’متعین‘‘ Specified,Particularize کی ہیں۔ اس علم کو علم الاصطلاحات Terminology کہتے ہیں۔
مثلا:

طبّی اصلاحات Medical Terminology،
قانونی اصطلاحات Legal Terminology وغیرہ



نوٹ:
فن بدل جائے تو معنیٰ اصطلاحی بدل جاتا ہے، جیسے: لفظ ’’کلمہ‘‘ جب درجہ حفظ کی درسگاہ میں بولا جائے تو اس سے مراد ’’کلمہ طیبہ‘‘ ہوگا، علمِ نحو میں اس سے مراد ’’لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ‘‘ (یعنی وہ لفظ جو ایک معنیٰ کیلئے وضع کیا گیا ہو)۔
[شرح مختصر الروضة:1/ 128، غاية السول إلى علم الأصول: ص35]


شرعی مثال:
(1) حدیث میں لفظ ہے: أَطْوَلُ يَدًا (یعنی سب سے زیادہ لمبے ہاتھ والا) سے مراد سب سے زیادہ سخی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ازواجِ مطھراتؓ سے فرمایا:  «أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» [صحیح مسلم:2452] یعنی میری وفات کے بعد سب سے پہلے اس بیوی کی وفات ہوگی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہوں گے۔بظاہر لمبے ہاتھ تو حضرت سودہؓ کے تھے لیکن انتقال ہوا حضرت زینب بنت جحشؓ کا، اب اشکال پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ کے کلام کا مقصد کیا ہے؟ اور یہ تو ہو نہیں سکتا نبی ﷺ سچی بات ارشاد نہ فرمائیں۔ تو غور کیا گیا کہ یہاں لفظ أَطْوَلُ يَدًا سے مراد لمبے ہاتھ والا نہیں بلکہ سخاوت میں سب سے ممتاز سخی۔ اور ازواجِ مطھرات کے اندر سخاوت کا مادہ تو تھو لیکن سخاوت کے وصف میں سب سے زیادہ لمبے ہاتھ والی ام المومنین زینبؓ بنت جحش تھیں۔

ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ’’فلاں کہ ہاتھ بہت لمبے ہیں، اس سے پنگا نہ لینا ورنہ مار کھائے گا‘‘، سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس کے ہاتھ حقیقتا لمبے (دکھتے) ہیں اور اس کا ہاتھ اڈھائے یا چار فُٹ کا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس شخص کے تعلقات کی وسعت اور طاقت کو لمبے ہاتھ سے تعبیر کردیتے ہیں۔

اب فقہ(سمجھ) سے نابلد منافقین[سورۃ المنافقون:7] انکارِ فقہ کے سبب اس حدیث کے ’’نئے‘‘ معنیٰ ومراد پھیلاکر اسلام ہی کے دوسری بنیاد: حدیث کا ہی انکار کرتے کرانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں حق کلمہ سے باطل مراد لینا۔





مصادر ومراجع Sources & References:
(1) طلبة الطلبة في اصطلاحات الفقهية، امام النسفي (المتوفى: 537هـ)

اصولِ حدیث:
(2) الاقتراح في بيان الاصطلاح، امام ابن دقيق العيد (المتوفى: 702هـ)

(3) مقدمة ابن الصلاح ومحاسن الاصطلاح (577 هـ - 643 هـ).

متعدد فنون وعلوم:
(4)  كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون (المتوفى: 1067هـ)
(5) موسوعة كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم (المتوفى: بعد 1158هـ)



اسلامی اصطلاحات کا کفار کیلئے لغوی استعمال:
(1)ایمانِ کفار، انہیں کفر کا حکم کرتا ہے۔
[حوالہ، سورة البقرۃ:93]
























لفظِ صوفی کی لغوی واصطلاحی تحقیق
https://raahedaleel.blogspot.com/2014/11/blog-post_10.html
بیعت کا معنی، حکم، طریقہ، فوائد کے شرائط اور اقسام
https://raahedaleel.blogspot.com/2019/08/blog-post_30.html

مذھب کے لغوی و اصطلاحی معنیٰ

http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/blog-post_21.html

تقلید کا لغوی و اصطلاحی معنیٰ
عبادت کی شرعی معنی ومفہوم اور اقسام
نیاز کرنے کے معنیٰ اور حقیقت
http://raahedaleel.blogspot.com/2014/11/blog-post_3.html
اجتہاد کی معنی، شرعی حکم اور شرائط
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/blog-post_17.html
اجماع کی معنی، شرعی حکم، اقسام
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/blog-post_72.html

فتنہ کے معنی ، اقسام اور علاج

http://raahedaleel.blogspot.com/2014/08/blog-post_31.html



===================
عيد کے لغوی واصطلاحی معنیٰ:
العادۃ کسی فعل یا انفعال کو "بار بار کرنا" حتی کہ وہ طبعی فعل کی طرح سہولت سے انجام پاسکے۔ اسی لئے بعض نے کہا ہے کہ عادۃ طبیعتِ ثانیہ کا نام ہے۔
العید وہ ہے جو بار بار لوٹ کر آئے۔
عيد کے اصطلاحی معنیٰ:
اصطلاحِ شریعت میں یہ لفظ فطرہ کے دن اور قربانی کے دن پر بولا جاتا ہے ۔ چونکہ شرعی طور پر یہ دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
یوم عرفہ، یوم النحر اور ایامِ تشریق (یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ) ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ (1)کھانے اور (2)پینے کے دن ہیں۔
[سنن ابو داؤد:2419، سنن الترمذی:773، سنن النسائی:3007، صحيح ابن خزيمة:2100، صحيح ابن حبان:3603]

ان دنوں میں روزہ مت رکھو، کیوںکہ یہ دن ہیں: (1)کھانے اور (2)پینے اور (3)ذکر اللہ کے۔
[سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌3573، شرح معاني الآثار:4100]
ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایامِ تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر۔اللہ اکبر کہیں۔
[تفسیر ابن کثیر:1 /417 سورۃ البقرۃ:203]

تیسری روایت میں ہے کہ بھیجا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو ایامِ تشریق میں، کہ وہ اعلان کریں (لوگوں میں): (اے لوگو!) یہ دن ہیں: (1)کھانے اور (2)پینے اور (3)میل جول کے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:15265، (شرح معاني الآثار:4111) (الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:3376)]
يَعْنِي النِّكَاحَ
[مسند إسحاق بن راهويه:2419]
وملاعبةُ الرجلِ أهلَه ۔۔۔۔۔ اور کھیلنے کیلئے مرد کا اپنے گھروالی سے۔
[غريب الحديث للقاسم بن سلام:58]

اس لئے ہر وہ دن جس میں کوئی شادمانی حاصل ہو اس پر عید کا لفظ بولا جانے لگا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ:۔
أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ تَكُونُ لَنا عِيداً
[سورۃ المائدة:114]
ہم پر آسمان سے خوان (نعمت) نازل فرما۔ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے،
میں عید سے شادمانی کا دن ہی مراد ہے۔ اور العید اصل میں (خوشی یا غم کی) اس حالت کو کہتے ہیں جو بار بار انسان پر لوٹ کر آئے اور العائدۃ ہر اس منفعت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی چیز سے حاصل ہو۔

[المفردات في غريب القرآن - امام الراغب الأصفهانيؒ(م502ھ) : صفحہ593، الناشر: دار القلم، الدار الشامية - دمشق بيروت]


اس لیے کہ عید منانا سب لوگوں کی شرست اور طبیعت میں شامل ہے اوران کے احساسات سے مرتبط ہوتی ہے لھذا سب لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے لیے کوئي نہ کوئي تہوار ہونا چاہیے جس میں وہ سب جمع ہو کراپنی خوشی وفرحت اور سرور کا اظہار کریں۔

لوگوں کی بنائی عیدیں غیرشرعی ہیں:
حضرت طاؤسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَتَّخِذُوا ‌شَهْرًا ‌عِيدًا، وَلَا تَتَّخِذُوا يَوْمًا عِيدًا۔
’’تم (اپنی طرف سے) کسی مہینے کو عید نہ بناؤ، اور نہ کسی دن کو عید بناؤ‘‘.
[مصنف عبد الرزاق:8100 (7853) ، لطائف المعارف لابن رجب: ص118]

کفار امتوں کی عیدیں اورتہوار اس کے دنیاوی معاملات کے اعتبار سےمنائي جاتی ہیں مثلا سال نو کا تہوار یا پھر زراعت کا موسم شروع ہونے کا تہوار اور بیساکھی کا تہوار یا موسم بہار کا تہوار ، یا کسی ملک کے قومی دن کا تہوار یا پھر کسی حکمران کا مسند اقدار پر براجمان ہونے کے دن کا تہوار اس کے علاوہ اوربھی بہت سارے تہوار منائے جاتے ہيں ۔

اوراس کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ دینی تہوار بھی ہوتے ہیں مثلا یھود نصاری کے خاص دینی تہوار مثلاعیسائيوں کے تہواروں میں جمعرات کا تہوار شامل ہے جس کے بارہ میں ان کا خیال ہے کہ جمعرات کےدن عیسی علیہ السلام پر مائدہ یعنی آسمان سے دسترخوان نازل کیا گیا تھا اور سال کے شروع میں کرسمس کا تہوار ، اسی طرح شکر کاتہوار ، عطاء کا تہوار ، بلکہ اب تو عیسائي سب یورپی اور امریکی اور اس کے علاوہ دوسرے ممالک جن میں نصرانی نفوذ پایا جاتا ہے ان تہواروں کومناتے ہیں اگرچہ بعض ممالک میں اصلانصرانیت تو نہيں لیکن اس کے باوجود کچھ ناعاقبت اندیش قسم کے کچھ مسلمان بھی جہالت یا پھر نفاق کی بنا پر ان تہواروں میں شامل ہوتے ہیں ۔

اسی طرح مجوسیوں کے بھی کچھ خاص تہوار اورعیدیں ہیں مثلا مھرجان اورنیروز وغیرہ کا تہوار مجوسیوں کا ہے  ۔

اوراسی طرح فرقہ باطنیہ کے بھی کچھ تہوار ہیں مثلا عیدالغدیر کا تہوار جس کے بارہ میں ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضي اللہ تعالی عنہ اور ان کے بعد بارہ اماموں سے خلافت پر بیعت کی تھی ۔


مسلمانوں کی عید میں دوسروں سے امتیاز:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مسلمانوں کی ان دو عیدوں پر دلالت کرتا ہے اور مسلمانوں کی ان دو عیدوں کے علاوہ کوئي اور عید ہی نہیں :

حضرت عائشہ ؓ نے بتلایا کہ حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں تھیں، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں یہ شیطانی باجے؟ اور یہ عید(الفطر) کا دن تھا۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: اے ابوبکر!
إِنَّ ‌لِكُلِّ ‌قَوْمٍ ‌عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا۔
ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے۔
[صحيح البخاري:952، صحيح مسلم:892، (سنن ابن ماجه:1898)]

لھذا مسلمانوں کے لیے جائز اورحلال نہيں کہ وہ کفار اور مشرکوں سے ان کے تہواروں اورعیدوں میں مشابہت کریں نہ تو کھانے اورنہ ہی لباس میں اورنہ ہی آگ جلاکر اورعبادت کرکے ان کی مشابہت کرنا بھی جائز نہيں ، اور اسی طرح ان کے تہواروں اورعیدوں میں بچوں کو کھیل کود کرنے بھی نہيں دینا چاہیے ، اورنہ ہی زيب وزينت کا اظہار کیا جائے اوراسی طرح مسلمانوں کے بچوں کو کفار کے تہواروں اور عیدوں میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے  ۔

ہر کفریہ اوربدعت والی عید اورتہوار حرام ہے مثلا سال نو کا تہوار منانا ، انقلاب کا تہوار ، عید الشجرۃ ، عیدالجلاء ، سالگرہ منانا ، ماں کا تہوار ، مزدوروں کا تہوار ، نیل کا تہوار ، اساتذہ کا تہوار ، اورعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب بدعات اورحرام ہیں ۔

مسلمانوں کی صرف اور صرف دو عیدیں اور تہوار ہيں ، عید الفطر اور عیدالاضحی ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے۔

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ نبویہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو تہوار تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے اورخوشی وراحت حاصل کرتے تھے ، لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ دو دن کیسے ہیں ؟
لوگوں نے جواب دیا کہ ہم دور جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ
یقینا اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے میں اچھے دن دیے ہیں عید الاضحی اور عیدالفطر۔
[سنن ابوداود: حدیث نمبر 1134]۔

یہ دونوں عیدیں اللہ تعالی کے شعار اورعلامتوں میں سے جن کا احیاء کرنا اوران کے مقاصد کا ادراک اوران کے معانی کو سمجھنا ضروری ہے ۔
===================


Saturday, 7 September 2019

پیغامِ کربلاء


اسوۂ حسینؒ» حفاظتِ دینِ نبوی:


سیدنا حسینؒ کا وہ خط جو اہلِ بصرہ کو لکھا تھا، میں یہ فرمایا:
وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ، فَإِنَّ السُّنَّةَ قَدْ أُمِيتَتْ، وَإِنَّ الْبِدْعَةَ قَدْ أُحْيِيَتْ
ترجمہ:
*میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ (کی حفاظت اور پھیلانے) کی طرف، کیونکہ سنت مِٹ رہی ہے، اور بدعات زندہ کی جارہی ہیں۔*


---

حاصل اسباق اور نکات

1. سنت کی حفاظت ذمہ داری ہے: جب سنت کو "مار دیا جائے" اور بدعت کو "زندہ کر دیا جائے" تو خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں۔ اس صورت میں حق گو افراد کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
2. دعوتِ حق کا طریقہ: سیدنا حسینؑ نے لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلایا — یہی انقلابی تحریک کا اصل مقصد تھا، محض حکومت حاصل کرنا نہیں تھا۔
3. باطل کی شناخت: "سنت کا مرنا" اور "بدعت کا زندہ ہونا" ظالم حکمرانی کی دو بڑی علامات ہیں، جن کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
4. حقیقی اصلاح کا راستہ: اصلاحِ امت صرف کتاب اللہ اور سنت نبویﷺ کی پیروی سے ممکن ہے، نہ کہ نئی ایجادات یا بدعات سے۔
5. مظلوم کا کردار: سیدنا حسینؑ نے اپنی مظلومیت کے باوجود اعلانِ حق کیا اور لوگوں کو راہِ رشد کی طرف بلایا — یہ اسوۂ حسنہ ہے۔
6. دعوت میں شفافیت: آپ نے اپنے خط میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں رکھا، بلکہ کھلے الفاظ میں اپنا مقصد اور اپنی اہلیت بیان کی۔
7. ذمہ داری کا احساس: جب دین کے بنیادی اصول خطرے میں ہوں تو علماء اور رہنماؤں پر فرض ہے کہ وہ عوام کو بیدار کریں — جیسا کہ سیدنا حسینؑ نے کیا۔








Friday, 30 August 2019

بیعت کا معنی، حکم، طریقہ، فوائد کے شرائط اور اقسام

عقیدہ:
بیعت کرنا سنت ہے، فرض یا واجب نہیں۔
تشریح:
البیع کے معنی بیجنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔۔ بایع السلطان ( بادشاہ کی بیعت کرنا ) اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ۔ اس اقرارِ بیعۃ یا مبایعۃ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [سورۃ التوبة:111] تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ میں بیعتِ رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کہ آیت : لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح:18] اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے راضی ہوا ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ ... [ التوبة:111] اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ انکے لئے جنت ہے میں پایا جاتا ہے۔
[تفسیر مفردات القرآن، امام راغب اصفہانیؒ]

اللہ عزوجل نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ [الفتح : 10]
بےشک جنہوں نے بیعت کی ہے آپ ﷺ سے، انہوں نے تو درحقیقت اللہ سے بیعت کی ہے۔

بیعت سنت ہے، لازم نہیں۔
البيعة سنة وليست بواجبه
[القول الجمیل: ص12، فتح البیان فی مقاصد القرآن:13/97]

Monday, 19 August 2019

برے علماء کون؟



برے علماء کون؟
(1) اپنی رائے کی "ملاوٹ" سے نئی تفسیر و تشریح کرنے والے یا مکمل بات کو "چھپانے" والے۔
القرآن:
اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ(اصل حقیقت)تم اچھی طرح جانتے ہو۔
[سورۃ البقرۃ:42]




(2) بےعمل اسکالرز:
کیا تم حکم تو کرتے ہو لوگوں کو نیکی کا لیکن بھلادیتے ہو اپنے آپ کو جبکہ(سمجھ کر)پڑھتے بھی ہو کتاب کو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
[سورۃ البقرۃ:44]




(3) دنیا کیلئے دین کو بدلنے والے:
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی"قیمت"وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[سورۃ البقرۃ:174]

اے ایمان والو !(یہودی)عالموں اور(عیسائی)راہبوں درویشوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ (رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔)
[سورۃ التوبۃ:34]






(4) جمہور متقدمین علماء سے اختلاف رکھنے سے بڑھ کر مخالفت ومقابلہ كرے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ» ۔
ترجمہ:
جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا(بحث)کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے۔
[ترمذي2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]
تشریح:
جو علم حاصل کرے یعنی وہ بعد والا چھوٹا-اکیلا شخص ہے جو پہلے والے بڑے اور بہت سے علماء سے صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ مخالفت ومقابلہ کرے، تاکہ سستی اور جلد شہرت پائے تو یہ نافرمانی گناہِ کبیرہ ہی نہیں بلکہ "فساد" ہے، جو صرف نافرمان کو ہی نقصاندہ نہیں بلکہ خالق کی مخلوق اور دین میں بگاڑ پیدا کرنا ہے، جو قرآن کے مطابق لوگوں کو قتل کرنے سے بھی زیادہ سخت[سورۃ البقرۃ:191] اور بڑا [سورۃ البقرۃ:217] گناہ ہے کیونکہ قتل کرنے سے اس مقتول کا صرف دنیاوی نقصان ہوا، لیکن جو دین کو بگاڑے اور لوگوں کو گمراہ کرے وہ تو آخرت کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔

ایسا شخص کم علم عوام سے بحث کرتا ہے تو اس کا ارادہ ومقصد انہیں اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے، اور جب یہ خود جہنم میں داخل ہوگا تو اس کے پیروکاروں کا انجام کیا ہوگا۔

اس حدیث میں بڑی اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً تو اسلام کی ترقیات وفتوحات کا ذکر کیا، پھر کچھ علماء وقُراء کا ذکرکیا، جو خود پسندی یا اَنانیت میں مبتلا ہوں گے کہ بڑے پرانے علماء کی بڑی جماعت کی اختلافی رائے کا علمی حق کے نام پر ان سب کو گمراہ قرار دے گا۔ اور اس گروہ کو اس طور پر ذکر کیا ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقیات اور فتوحات میں یہی لوگ رکاوٹ ہیں؛ کیوں کہ اس گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد بہ طورِ تقابل پیش کیا ہے۔
یہ بڑی قابلِ عبرت بات ہے اور سو فیصد صحیح ہے ، کیوں کہ خود پسندی اور اَناپرستی کی وجہ سے یہ لوگ نہ علمائے حق کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ علمائے حق کو آگے آنے دیتے ہیں؛ بل کہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں اپنی ہمت اور وقت واستعداد خرچ کرتے ہیں، مقصد صرف اپنی اَنا کی تسکین اور اپنی عزت وشہرت کا بقا وتحفظ ہوتا ہے؛ پھر دین کو ترقی کیسے ہوگی اور فتوحات کا دروازہ کہاں سے کھلے گا؟اس سے معلوم ہوا کہ علمائے سُو ہی اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں؛ لہٰذا اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں سے مراد علمائے سُو ہیں، جوصرف اپنے دنیوی مفادات اور نام وشہرت کے لیے دینی علوم حاصل کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔