Saturday, 7 July 2012

حدیث و سنّت میں فرق

حدیث و سنّت میں فرق
حدیث: حضور ﷺ کے اقوال، افعال، اوصاف اور تقریرات (یعنی صحابہٴ کرامؓ کے سامنے کسی کام کا انجام دینا، بیان کریں لیکن آپ علیہ الصلاة والسلام کا اس پر انکار کرنے کا ذکر نہ کریں) کو کہتے ہیں، الحدیث ما أضیف إلی النبي -ﷺ- من قولٍ وفعل وتقریر (مصطلحات الحدیث ومقدمة شیخ عبد الحق) اورسنتالطریقة المسلوکة في الدین کو کہتے ہیں یعنی وہ راہِ عمل جس پر حضور ﷺ نے مواظبت کی السنة في الشریعة ہي الطریقة المسلوکة في الدین من غیر افتراض ووجوب فالسنة ما واظب ؑ علیہ مع الترک أحیانا الخ (التعریفات للجرجاني: ۱/۶۱، ط: بیروت) ان تعریفوں کے لحاظ سے ”حدیث“ عام ہے، وہ سنت کو بھی شامل ہے یعنی جو چیز سنت ہوگی وہ حدیث ضرور ہوگی؛ لیکن ہرحدیث کے لیے سنت (الطریقة المسلوکة فی الدین) ہونا ضروری نہیں۔ قال الجرجانی وہي (السنة) مشترک بین ما صدر عن النبي -ﷺ- من قول أو فعل أو تقریر وبین ما واظب النبي علیہ بلا وجوب (۱/۶۲، ط: بیروت)



سنّت کیا ہے؟

لفظی معنی کے اعتبار سے حدیث یعنی فرمان (saying) اور سنّت یعنی طریقہِ عمل (way/method).

دین کا وہ پسندیدہ معمول و مروج (قائم-شدہ، جاری) طریقہ جو خواہ نبی ﷺ سے ثابت ہو [قرآن=آل عمران:31]، یا صحابہ کرامؓ سے [قرآن=التوبہ:100]








دلیلِ حدیث

1] أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ , عَزَّ وَجَلَّ , وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبِشِيًّا ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، "فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ" ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ 
ترجمہ:
میں تم لوگوں کو تقوی اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں خواہ تمہارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ خبردار (شریعت کے خلاف دین میں) نئی باتوں سے بچنا کیونکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے۔ "لہذا تم میں سے جو شخص یہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ میرے اور خلفاء راشدین مہدیین (ہدایت یافتہ) کی سنت کو لازم پکڑے"۔ تم لوگ اسے (سنت کو) دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔ 

[(١) مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الشَّامِيِّينَ، رقم الحديث:١٦٨١٢(١٦٦٩٢)+١٦٨١٤(١٦٦٩٤)+١٦٨١٥(١٦٦٩٥)

(٢) سنن الدارمي» باب إتباع السنة » رقم الحديث: ٩٥

(٣) جامع الترمذي » كِتَاب العلم » باب ما جاء في الأخذ بالسنة ، رقم الحديث: ٢٦٢٠(٢٦٧٦)

(٤) سنن أبي داود » كِتَابُ السنة » بَاب في لزوم السنة ،رقم الحديث: ٣٩٩٤(٤٦٠٧)

(٥) سنن ابن ماجه » المقدمه » إتباع سنة الخلفاء الراشدين » رقم الحديث: ٤٣(٤٤)]

**************************************************

[2] وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً ، قَالُوا : وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي"۔

میری امّت تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہوگی، ان میں سے ایک کے علاوہ سب جہنمی ہونگے. صحابہؓ نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول ﷺ وہ (نجات-پانے-والے) کون ہونگے؟ (آپ ﷺ نے) فرمایا: جس (طریقے) پر میں اور میرے صحابہ ہیں.

(1)ترمذی: ابواب الایمان، افتراق هذه الأمة، 2585(2641)عبد الله بن عمرو؛

(2)البدع لابن وضاح:246(250)

(3)السنة للمروزي:47(60)

(4)مختصر الأحكام المستخرج على جامع الترمذي:1592

(5)الشريعة للآجري:24

(6)الإبانة الكبرى لابن بطة:197

(7)المعجم الأوسط للطبراني: 726+5028+8051(256+48867840)أنس بن مالك

(8)أربع مجالس للخطيب البغدادي:34
===========================================
سنّت کا حکم
یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اس کے زندہ کرنے کی امکانی کوشش کرنی چاہیے، اگر وہ اسے ترک کردے تو قابل_ملامت ہوگا، سواۓ کسی عذر سے چھوڑنے کے۔
[اصول الشاشی، اردو، ص#222]

سنّت صحیح/ضعیف نہیں ہوتی، جبکہ حدیث صحیح/ضعیف وغیرہ ہوتی ہے.
===========================================
سنّت و حدیث میں فرق

1] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ , فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي , وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ".

حضرت ابو ہریرہؓ نبی ؑ سے مروی ہیں کہ میری طرف سے کچھ اختلافی احادیث آئینگی، ان میں سے جو کتاب الله اور میری سنّت کے موافق ہونگی، وہ میری طرف سے ہونگی. اور جو کتاب الله اور میری سنّت کے خلاف ہونگی وہ میری طرف سے نہیں ہونگی.

[(1) سنن الدارقطني (المتوفى: 385هـ) » كِتَابٌ فِي الأَقْضِيَةِ وَالأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ » كتاب عمرؓ إلى أبي موسى الأشعري، رقم الحديث: 3925(4427)


(3) الفقيه والمتفقه، للخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) » بَابُ الْقَوْلِ فِيمَا يَرُدُّ بِهِ خَبَرُ الْوَاحِدِ ۔۔۔ جلد 1، صفحه 353

(4) ذم الكلام وأهله، لعبد الله الأنصاري  (المتوفى: 481هـ)  » الْبَابُ التَّاسِعُ » بَابٌ : ذِكْرُ إِعْلَامِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ ... رقم الحديث: 589(606)

(5) الانتصار للقرآن، للباقلاني (المتوفى: 403هـ) » جلد 2، صفحه 446

(6) الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير، للجورقاني (المتوفى: 543هـ) » كِتَابُ الْفِتَنِ » بَابُ: الرُّجُوعِ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ » رقم الحديث:290

(7) إتحاف المهرة، لابن حجر (المتوفى : 852هـ) » كتاب الكنى » ذكوان، أبو صالح السمان، عن أبي هريرة » رقم الحديث: 18365

(8) تذكرة المحتاج ،لابن الملقن (المتوفى: 804هـ) » صفحہ29 (تخريج منهاج الأصول للبيضاوي » صفحہ29)

(9) الفردوس بمأثور الخطاب، للديلميّ (المتوفى: 509هـ) » بَاب السِّين » رقم الحديث: 3456

(10) مفتاح الجنة في الاحتجاج بالسنة، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ) » صفحہ23

كتاب الإحكام في أصول الأحكام » القاعدة الثانية في بيان الدليل الشرعي وأقسامه وما يتعلق به من أحكامه » القسم الأول فيما يجب العمل به مما يسمى دليلا شرعيا » الأصل الرابع فيما يشترك فيه الكتاب والسنة والإجماع » النوع الثاني فيما يتعلق في المتن؛ الجزء الثاني: المسألة الخامسة: رواه أبو يعلى الموصلي في مسنده من طريق أبي هريرة


مشارق الأنوار الوهاجة ۔۔۔ شرح سنن ابن ماجه » جلد1، صفحہ318





سوال: جس طرح حدیث میں سنّت اور حدیث کا الگ الگ ہونا آیا ہے، کیا کسی حدیث میں حدیث اور سنّت کا ایک ہونا بھی آیا ہے؟






-----------------------------------------------------------------------------



عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ خُلَفَاؤُكَ ؟ ، قَالَ : " الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي ، يَرْوُونَ أَحَادِيثِي وَسُنَّتِي وَيُعَلِّمُونَهَا النَّاسَ ۔



حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ سے فرماتے سنا کہ نکلے ہم پر رسول الله ﷺ تو فرمایا : اے الله! میرے خلفاء پر رحم فرما. ہم نے کہا : اے الله کی رسول: آپ کی خلفاء کون ہیں؟ آپ نے فرمایا : وہ (لوگ) جو میرے بعد آئیں گے، جو روایت کریں گے میری حدیثیں اور میری سنّت اور لوگوں کو سکھائیں گے.

[شَرَفُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ لِلْخَطِيبِ الْبَغْدَادِيِّ ... » بَابُ » كَوْنُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ خُلَفَاءَ الرَّسُولِ ...، رقم الحديث: ٥٣



المحدث الفاصل بين الرواي والواعي » بَابُ فَضْلِ النَّاقِلِ لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ...، رقم الحديث: 1



أخبار أصبهان لأبي نعيم » وَهَذَا كِتَابُ صُلْحِ إَصْبَهَانَ » بَابُ الأَلِفِ » من اسمه أحمد، رقم الحديث: 158



الأمالي الخميسية للشجري » فِي الْإِيمَانِ وَكَلِمَةِ التَّوْحِيدِ وَصِفَةِ الْمُؤْمِنِ ...، رقم الحديث: 44، المصنف: يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني ، سنة الوفاة: 576


كتاب العلم » الْجُزْءُ الثَّانِي مِنْ كِتَابِ الْعِلْمِ مِنْ كِتَابِ ... » بَابُ الاحْتِيَاطِ فِي الرِّوَايَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ... » قَوْلُهُ ﷺ : مَنْ ...، رقم الحديث: 181 ؛ المصنف : أبو طاهر السلفي ، سنة الوفاة : ٥٧٦ ھ 

الطيوريات : رقم الحديث: 85; المصنف : أبو الحسن الطيوري ; سنة الوفاة : 576ھ] 


-----------------------------------------------------------------------------
2] أبا هريرة يقولا قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يکون في آخر الزمان دجالون کذابون يأتونکم من الأحاديث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤکم فإياکم ۔
[ صحيح مسلم » المقدمہ » بَاب النَّهْيِ عَنِ الرِّوَايَةِ عَنِ الضُّعَفَاءِ، رقم الحديث: 11]

حضرت ابوہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخر زمانہ میں بڑے جھوٹے دجال لوگ ہوں گے تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو نہ تم نے نہ تمہارے آباؤ اجداد نے سنا ہوگا(باپ-دادا کے عملی-تواتر کے خلاف ہونگی)، تم ایسے لوگوں سے بچے رہنا مبادا وہ تمہیں گمراہ اور فتنہ میں مبتلا نہ کر دیں ۔

ثابت ہوا کہ یہ بعد کے دور کے لوگ ہونگے تو وہ بدعتی بھی ھوۓ.

سوال : جس طرح حدیث کا نام لیکر گمراہ کرنے-والوں، فتنہ-بازوں کو بڑے-جھوٹے اور بڑے-دجال/دھوکہ-باز کہا گیا ہے، کیا کسی حدیث میں سنّت کے عاملین کو ایسا کہا گیا ہے؟

الشواهد


 م
 طرف الحديث
الصحابي
اسم الكتاب
أفق
العزو
المصنف
سنة الوفاة
1
عبد الرحمن بن صخر
صحيح مسلم
10
9
مسلم بن الحجاج
261
2
عبد الرحمن بن صخر
صحيح مسلم
11
10
مسلم بن الحجاج
261
3
عبد الرحمن بن صخر
مسند أحمد بن حنبل
8067
8068
أحمد بن حنبل
241
4
عبد الرحمن بن صخر
مسند أحمد بن حنبل
8393
8390
أحمد بن حنبل
241
5
عبد الرحمن بن صخر
صحيح ابن حبان
6922
15 : 168
أبو حاتم بن حبان
354
6
عبد الرحمن بن صخر
المستدرك على الصحيحين
322
1 : 103
الحاكم النيسابوري
405
7
عبد الرحمن بن صخر
المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم
68
70
أبو نعيم الأصبهاني
430
8
عبد الرحمن بن صخر
المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم
69
71
أبو نعيم الأصبهاني
430
9
عبد الرحمن بن صخر
مسند إسحاق بن راهويه
279
332
إسحاق بن راهويه
238
10
عبد الرحمن بن صخر
مسند أبي يعلى الموصلي
6348
6384
أبو يعلى الموصلي
307
11
عبد الرحمن بن صخر
المعجم الصغير للطبراني
991
83
سليمان بن أحمد الطبراني
360
12
عبد الرحمن بن صخر
المعجم المختص بالمحدثين الذهبي
16
---
الذهبي
748
13
عبد الرحمن بن صخر
حديث السلفي عن حاكم الكوفة
7
7
أبو طاهر السلفي
576
14
عبد الرحمن بن صخر
جزء من حديث أبي العباس الأصم
69
---
محمد بن يعقوب الأصم
346
15
عبد الرحمن بن صخر
الجزء الأول والثاني من فوائد ابن بشران
99
99
أبو الحسين بن بشران
415
16
عبد الرحمن بن صخر
الأمالي الخميسية للشجري
237
---
يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني
499
17
عبد الرحمن بن صخر
معرفة علوم الحديث للحاكم
19
1 : 12
الحاكم النيسابوري
405
18
عبد الرحمن بن صخر
الكفاية في علم الرواية للخطيب
306
1300
الخطيب البغدادي
463
19
عبد الرحمن بن صخر
موضح أوهام الجمع والتفريق للخطيب
1656
2 : 455
الخطيب البغدادي
463
20
عبد الرحمن بن صخر
البدع لابن وضاح
65
69
ابن وضاح المرواني
287
21
عبد الرحمن بن صخر
البدع لابن وضاح
237
242
ابن وضاح المرواني
287
22
عبد الرحمن بن صخر
ذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري
583
607
عبد الله بن محمد الأنصاري
481
23
عبد الرحمن بن صخر
ذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري
584
608
عبد الله بن محمد الأنصاري
481
24
عبد الرحمن بن صخر
الحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 2
122
---
قوام السنة الأصبهاني
535
25
عبد الرحمن بن صخر
شرح السنة
106
107
الحسين بن مسعود البغوي
516
26
عبد الرحمن بن صخر
مشكل الآثار للطحاوي
2494
2954
الطحاوي
321
27
عبد الرحمن بن صخر
دلائل النبوة للبيهقي
2940
---
البيهقي
458
28
عبد الرحمن بن صخر
الجرح والتعديل
76
2 : 14
ابن أبي حاتم الرازي
327
29
عبد الرحمن بن صخر
الجرح والتعديل
77
2 : 14
ابن أبي حاتم الرازي
327
30
عبد الرحمن بن صخر
تهذيب الكمال للمزي
1299
---
يوسف المزي
742
31
عبد الرحمن بن صخر
كتاب العلم
159
---
أبو طاهر السلفي
576
32
عبد الرحمن بن صخر
كتاب العلم
160
---
أبو طاهر السلفي
576
-----------------------------------------------------------------------------
عن ابن سيرين : ...فينظر إلی "أهل السنة" فيؤخذ حديثهم وينظر إلی "أهل البدع" فلا يؤخذ حديثهم۔
[صحيح مسلم » المقدمہ » بَاب بَيَانِ أَنَّ الإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ وَأَنَّ ...،جلد اول:حدیث نمبر 28]

حضرت ابن سیرینؒ سے : ...پس جو حدیث "اہلسنت" (راوی) کی طرف سے دیکھتے تو ان کی حدیث لے لیتے اور اگر "اہل بدعت" (راوی) دیکھتے تو اس کی حدیث کو چھوڑ دیتے 
-----------------------------------------------------------------------------
3] علي بن شقيق يقول سمعت عبد الله بن المبارک يقولا علی روس الناس دعوا حديث عمرو بن ثابت فإنه کان يسب السلف۔
[صحیح مسلم » المقدمہ » باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَقَوْلِ ...، جلد اول:حدیث نمبر 33]
حدیث :...علی بن شقیقؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے برسرِعام سنا وہ فرما رہے تھے کہ عمرو بن ثابت کی روایت کو چھوڑ دو کیونکہ "یہ شخص اسلاف(گزرے-ھوئے نیک بزرگوں) کو گالیاں دیتا ہے۔

ثابت ہوا کہ یہ بعد کے دور کے بدعتی لوگ سلف (گزرے-ہوے-نیک-بزرگوں جیسے صحابہ کرامؓ یا ائمہ/اماموںؒ) کو برا کہنے اور ان کے علم-و-عمل میں عیب نکالنے کی بھونڈی-کوشش کرنے-والوں کی حدیث نا-مقبول ہے.
-----------------------------------------------------------------------------
چند فقہی نکتے اور مثالیں: سنّت یا ثابت

1] کھڑے ہوکر پیشاب کرنا
[صحیح بخاری، کتاب الوضو، حدیث#۲۲۱]
اور کھڑے ہوکر پانی پینا 
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » باب الشُّرْبِ قَائِمًا، رقم الحديث: ٥٢١٣(٥٦١٥)] حدیث سے ثابت ہے

مگر
یہ سنّت (عادت) نہ تھی، بلکہ سنّت (عادت) بیٹھکر پیشاب کرنا
[صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب التَّبَرُّزِ فِي الْبُيُوتِ، رقم الحديث: ١٤٧(١٤٩)]
اور
بیٹھکر پانی پینا تھی، کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا.
[صحيح مسلم » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » بَاب كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا، رقم الحديث: ٣٧٧٨(٢٠٢٥)]
-----------------------------------------------------------------------------
1] وضو میں ہے عضوو کو (حدیث میں) ایک (١) بار دھونا بھی ثابت ہے
[صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً، رقم الحديث: ١٥٥(١٥٧)]

دو (٢) بار دھونا بھی ثابت ہے
[صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، رقم الحديث: ١٥٦(١٥٨)]

اور تین (٣) بار دھونا بھی ثابت ہے [صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، رقم الحديث: ١٥٧(١٥٩)]


مگر عادت ٣،٣ بار دھونا ’’عملی-تواتر‘‘ سنّت ہے.
-----------------------------------------------------------------------------
3] (پاک) نعلین(جوتے) پہن-کر نماز "پڑھتے-رہنا"(متواتر-حدیث سے) ثابت ہے
[ صحيح البخاري » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب الصَّلَاةِ فِي النِّعَالِ، رقم الحديث: ٣٧٦(٣٨٦)] ایک بھی حدیث نعلین اتارکر پڑھنے کی بخاری اور مسلم میں نہیں.


مگر ’’عملی تواتر‘‘ اور ’’تعامل/اجماعِ امت‘‘ سے نعلین پہن کر نماز پڑھنا عادت(سنّت) نہیں.
عمروبن شعیب بسند والد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جوتوں سمیت اور (بغیر جوتوں کے) ننگے پاؤں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
[(١) مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابٌ شَتَّى مِنَ الصَّلاةِ » مَنْ رَخَّصَ فِي الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ،رقم الحديث: ٧٦٨٤(٧٩٣٥)،

(٢)سنن ابن ماجه » كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا » بَاب الصَّلَاةِ فِي النِّعَالِ، رقم الحديث: ١٠٢٨(١٠٣٨)،

(٣)سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ، رقم الحديث: ٥٥٦(٦٥٣)]
-----------------------------------------------------------------------------
4] نماز میں گردن پر بچی (نبی ﷺ کا اپنی بیٹی زینب کی بیٹی  یعنی نواسي عمامہ بنت ابی العاص) کو اٹھانا حدیث
[صحيح البخاري » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي » بَاب إِذَا حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيرَةً عَلَى عُنُقِهِ ...،رقم الحديث: ٤٨٩(٥١٦)]
میں فعل ماضی استمراری(past continuous tense) کے الفاظ ’’كان يصلي‘‘ (یعنی ایسے نماز پڑتے تھے) سے ثابت ہے۔


مگر
یہ عادت (سنّت) نہ تھی، سو صحابہؓ اور جماعت_مومنین کی بھی عادت(سنّت) نہ بنی.


یہ ہے سنت اور حدیث میں فرق، اس لیے جو حضرات یہ رٹ لگاتے ہیں کہ حدیث پر عمل کرو حدیث پر عمل کرو، یہ نہ دیکھا جائے کہ آپ ﷺ کی سنت کیا تھی ،وہ حدیث کے نام پر سنت کو مٹا رہا ہے۔ حضور ﷺ نے تو فرمایا تھا: ’’میری سنت کو اپنانا‘‘، جبکہ آج کل شور وغل ہے کہ حدیث پر عمل کرو حدیث پر۔
٥٢١٣(٥٦١٥)]
-----------------------------------------------------------------------------
بخاری میں باب ہے باب الصلٰوة فی ثوب واحد۔ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا باب ہے تین کپڑوں میں نماز پڑھنے کا باب بخاری میں نہیں ہے۔تو ان کے کپڑے اُتارو کسی کی قمیص رہنے دو کسی کی جراب رہنے دو کسی کی صرف بنیان رہنے دو۔تاکہ آرام سے گن کر بتایا جاسکے کہ یہ دیکھئے ایک کپڑے میں نماز ہو رہی ہے۔حدیث پر عمل ہو رہا ہے۔ بخاری پر عمل ہو رہا ہے۔اور بخاری ومسلم میں ہے۔ کہ کان یصلی وھو حامل حمامة بنت عاص کہ اپنی نواسی کو گود میں اُٹھا کر حضور ﷺ نماز پڑھ رہے ہیں۔دو چار بچے یہاں موجود رکھو تاکہ جو بھی نماز پڑھے اس پر بچے کو سوار کر دیا جائے۔تا کہ نماز بخاری ومسلم کے مطابق ہو جائے۔وہ لڑکا کہتا ہے کہ اتنے میں دیکھا کہ ایک آدمی بیٹھ کر استنجا کر رہا تھا میں نے کہا کہ دیکھو وہ آدمی بیٹھ کر استنجا کر رہا ہے اُسے کھڑا کر و بخاری ومسلم کے خلاف کر رہا ہے۔کم از کم اُس کو تو بتاؤ کہ بخاری ومسلم میں بیٹھ کر پیشاب کر نے کی حدیث مو جو د نہیں ہے۔وہ لڑکا کہتا ہے کہ مجھے کہنے لگے کہ چلو ہمار ے شیخ الحدیث کے پاس۔لڑکے نے کہا چلو۔بزرگوں نے جا کر کہا کہ جی یہ کہتا ہے کہ یہ یہ بات بخاری ومسلم میں ہے۔شیخ الحدیث نے کہا کہ جی ہاں ہے۔بزرگوں نے کہا کہ پھر اس پر ہمارا عمل کیوں نہیں؟شیخ الحدیث نے کہا کہ بس یہ لڑکا کوئی شرارتی معلوم ہوتا ہے ۔ لڑکے نے کہا کہ بخاری ومسلم کی حدیث پر عمل کرنے کو آپ شرارت کہتے ہیں۔


-----------------------------------------------------------------------------



مسائل میں ہر حدیث حجت نہیں
وہ حدیث حجت ہے جو سنت (معمول بہا) ہے
(یہ دو تقریریں ایک ساتھ مرتب کی گئی ہیں، پہلی تقریر ٹورنٹو( کناڈا) کی 'مدینہ مسجد' میں کی گئی ہے اور دوسری مسجد دار السلام میں)
بزرگو اور بھائیو! آج آپ کو ایک مسئلہ سمجھانا ہے، تقریریں تو آپ رمضان بھر سنتے رہے ہیں! مسئلہ یہ ہے کہ حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے؟ ایک فرقہ خود کو اہل ِقرآن کہتا ہے، دوسرا خودکو اہل حدیث کہتا ہے، اور ہم خود کو اہل السنہ والجماعۃ کہتے ہیں۔ پس قرآن اور حدیث میں کیا فرق ہے؟ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے، لیکن حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے؟ یہ فرق لوگ نہیں جانتے، بلکہ لوگوں میں غلط فہمی ہے یا غلط فہمی پیدا کی جاتی ہے کہ حدیث اور سنت ایک ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ، اس لئے یہ اہم مضمون آج سمجھانا ہے۔
حدیث اور سنت میں فرق:
حدیث اور سنت دونوں ایک دوسرے سے بالکل جدا تو نہیں ہیں، یعنی دونوں میں تباین کی نسبت نہیں ہے، مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ دونوں میں تساوی کی نسبت ہو، بلکہ حدیث اور سنت میں عموم وخصوص من وجہٍ کی نسبت ہے، اور جہاں یہ نسبت ہوتی ہے وہاں دو چیزیں کبھیالگ الگ ہوجاتی ہیں، اور کبھی اکٹھاہوجاتی ہیں، جیسے سفید اور جانور میں یہی نسبت ہے، اس لئے کبھی دونوں اکٹھا ہونگے، اور کبھی الگ، سفید کپڑا: سفید ہے، مگر جانور نہیں، کالی بھینس: جانور ہے، مگر سفید نہیں، اور سفید بیل: سفید بھی ہے اور جانور بھی، حدیث اور سنت کے درمیان بھی یہی نسبت ہے، اس لئے کبھی حدیث الگ ہوجاتی ہے، وہ سنت نہیں ہوتی، اور کبھی سنت الگ ہوجاتی ہے، وہ حدیث نہیں ہوتی، اور کبھی دونوں جمع ہوجاتے ہیں، وہ حدیث بھی ہوتی ہے اور سنت بھی۔
حدیث کی تعریف:
حدیث: چار چیزوں کا نام ہے:
١ـنبی پاکﷺنے زندگی میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے: وہ سب حدیث ہے۔
٢ـ آپؐ نے زندگی میں جو بھی کام کیا ہے: وہ حدیث ہے۔
٣ـآپﷺنے جن باتوں کو برقرار رکھا ہے: وہ بھی حدیث ہے۔ یعنی کسی مسلمان نے کوئی کام کیا، نبی پاکﷺنے اس کو دیکھا، یا وہ آپؐکے علم میں آیا اور آپؐنے اس پر نکیر نہیں فرمائی بلکہ اس کو برقراررکھا، اس کی تائید فرمائی تو یہ بھی حدیث ہے۔
٤ـنبی پاکﷺکی صفات یعنی ذاتی حالات بھی حدیث ہیں۔
ان چار چیزوں کا نام حدیث ہے۔ اب ہر ایک کی مثال لیں:
قولی حدیث کی مثال:
بخاری کی پہلی حدیث ہے:         اِِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّة: عمل کا نیت سے موازنہ کیا ہوا ہے، عمل نیت کے موافق ہوتا ہے، عبادت کی نیت ہے تو ثواب ملے گا، اور عبادت کی نیت نہیں ہے تو وہ محض عمل ہے، اس پر ثواب کچھ نہیں ملے گا۔
حدیث کا تعلق عبادات سے ہے:
یہاں کچھ لوگ پوچھتے ہیں: ایک شخص اس لئے چوری کرتا ہے کہ وہ غریبوں کی مدد کرے، یا لوگ پوچھتے ہیں کہ پیسہ گھر میں تو رکھا نہیں جاسکتا، بینک میں رکھنا ضروری ہے، پس اگر کوئی بینک میں کھاتہ کھلواتا ہے اور کرنٹ اکاونٹ کے بجائے سیونگ اکاونٹ کھلواتا ہے تاکہ جو بینک سے انٹرسٹ ملے اس کو ثواب کی نیت کے بغیر غریبوں کو دیدے تو یہ اچھی نیتیں ہیں۔ اور حدیث میں ہے: انما الأعمال بالنیة: اعمال نیت کے موافق ہوتے ہیں، پس یہ جو بینک سے سود لے کر غریبوں کو دے رہا ہے یا غریبوں کی مدد کی نیت سے چوری کررہا ہے: اس کو ثواب ملنا چاہئے، اور یہ کام جائز ہونے چاہئیں؟
میں اُسے جواب دیتا ہوں کہ غریبوں کے لئے آپ کو دبلا ہونے کی ضرورت نہیں، غریبوں کے خدا آپ نہیں، غر یبوں کا خدا کوئی اور ہے، اور وہی ان کا رازق ہے۔
اور مذکورہ حدیث کا دائرہ عبادات تک ہے ، معاصی اس کے دائرہ میں نہیں۔ عبادات میں اگر عبادت کی نیت ہے تو ثواب ملے گا اور اگر عبادت کی نیت نہیں ہے تو ثواب نہیں ملے گا۔
اور حدیث کا دائرہ عبادات تک ہے: اس کی دلیل اگلا جملہ ہے:وَِنَّمَا لِکُلِّ امْرِأٍ مَّانَویٰ:ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہے، مگر ابھی بات کلیر (واضح) نہیں ہوئی، اس لئے نبیﷺنے ہجرت کی مثال دے کر مضمون واضح فرمایا :
ہجرت دور اول میں فرض تھی، اور بہت بڑی عبادت تھی، قرآن وحدیث میں اس کے بے شمار فضائل آئے ہیں، حضورﷺنے فرمایا: تین بندے ہجرت کرتے ہیں، وطن چھوڑ کر مدینہ آتے ہیں:
ایک کیوں آیا ہے؟ اس لئے کہ وہ سچے دل سے مسلمان ہوا ہے، اور اسلام کا درخت ابھی نونہال ہے، اس کی آبیاری کی ضرورت ہے، اس لئے وہ مدینہ آیا ہے تاکہ دعوت وجہاد میں شریک ہو، دین سیکھے، اور ہر طرح دین کی خدمت کرے۔
دوسرا کیوں آیا ہے؟ وہ اس لئے آیا ہے کہ اس کی گاؤں میں پرچون کی دوکان تھی،اب گاؤں کے لوگ مسلمان ہوکر ہجرت کرکے مدینہ جارہے ہیں، اور گاؤں کی آبادی گھٹ رہی ہے، اس لئے دوکان پھیکی پڑ رہی ہے، اس لئے اس نے سوچا کہ مدینہ منورہ کی آبادی بڑھ رہی ہے، پس میں مدینہ چلا جاؤں اور وہاں دوکان کھولوں تو دوکان خوب چلے گی۔ چنانچہ وہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلا آیا۔ اور تیسرا کیوں آیا ہے؟ وہ ایک خاص عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، مگر وہ عورت ہجرت کرکے مدینہ جاچکی ہے، اب وہ سوچتا ہے کہ اگر میں وطن میں رہا تو نکاح نہیں ہوسکتا، چلو میں بھی مدینہ پہنچ جاؤں، اور اس عورت سے راہ ورسم پیدا کروں اور نکاح کرلوں، چنانچہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگیا۔
نبیﷺنے فرمایا: پہلا شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہجرت کی ہے اس کی ہجرت مقبول ہے اور دینی عمل ہے، قرآن وحدیث میں اسی کے فضائل آئے ہیں، اور دوسرے اور تیسرے بندوں کو ہجرت کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، ان کی ہجرت دینی عمل نہیں ہے۔
پس اگر حدیث کا سیاق پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ حدیث کا دائرہ عبادات تک ہے، معاصی اس کے دائرے میں نہیں ۔
فعلی حدیث کی مثال:
جب مسجد ِ نبوی میں منبر رکھا گیا تو نبیﷺنے منبر پر چڑھ کر نماز پڑھائی، سجدہ نیچے کرکے اگلی رکعت میں منبر پر چڑھ جاتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد ارشاد فرمایا: صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ أُصَلِّیْ: آپ لوگوں نے جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح نماز پڑھو۔ یہ جو آپؐنے نماز پڑھ کر دکھائی ہے، یہ فعلی حدیث ہے۔
تقریر نبوی کی مثال:
مکہ میں تو پتھروں کے علاوہ کچھ نہیں، البتہ اسّی کلو میٹر پر طائف ہے، وہاں کھیت ہیں، باغات ہیں، اور ساڑھے چارسو کلو میٹر پر مدینہ منورہ ہے، وہاں بھی باغات اور کھیت ہیں۔ جب نبیﷺہجرت کرکے مدینہ آئے تو مدینہ میں بیع سلم (بدھنی بیع) کا رواج تھا۔ ابھی کھجور پر پھول بھی نہیں آئے ہوتے تھے کہ کھجوریں بیچ دیتے تھے، بھاؤ طے ہوجاتا تھا، مدت طے ہوجاتی تھی، قیمت تاجر اسی وقت دیدیتا تھا، اور باغ والا وقت ِ مقررہ پر کھجوریں دیتا تھا، اس کو بیع سلم کہتے ہیں۔ شریعت کے اصول سے یہ بیع صحیح نہیں، کیونکہ مبیع کا وجود نہیں، جبکہ صحت ِ بیع کے لئے مبیع کا وجود ضروری ہے، اور مبیع: بائع کی ملکیت میں اور بائع کے قبضہ میں ہونا بھی ضروری ہے، نیز اس کا مقدور التسلیم ہونا بھی ضروری ہے، جبھی بیع درست ہوگی، ورنہ نہیں۔ اور کھجوروں کی بیع سلم میں ابھی درختوں پر پھول بھی نہیں آئے، جب کھجوروں کا وجود ہی نہیں تو ملکیت کا کیا سوال؟ اور جب ملکیت نہیں تو قبضہ کا کیا سوال؟ اس لئے شریعت کی اصول سے یہ بیع باطل ہے۔
جب نبیﷺکے علم میں یہ بیع آئی تو آپؐنے صحابہ کو اس بیع سے منع نہیں کیا، بلکہ فرمایا:مَنْ أَسْلَمَ مِنْکُمْ فَلْیُسْلِمْ فِیْ کِیْلٍ مَعْلُوْمٍ أَوْ وَزْنٍ مَّعْلُوْمٍ ِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُوْمٍ: جب تم سلم کرو تو تمام تفصیلات طے کرلو، پیمانہ یا وزن طے کرلو اور مدت بھی طے کرلو تاکہ آئندہ کوئی نزاع نہ ہو، غرض:حضورنے شرائط تو بڑھائیں، مگر سلم سے منع نہیں کیا۔ پس یہ حدیث بن گئی، اور اس کا نام تقریری حدیث ہے۔
بیع سلم کے جواز کی حکمت:
جب اسلام کے اصول سے بیع سلم صحیح نہیں: تو پھر حضورﷺنے اس کو کیوں برقرار رکھا اس کا جواب یہ ہے کہ بیع سلم میں اگرچہ بائع کے پاس مبیع نہیں ہوتی، مگر مارکیٹ میں ہوتی ہے، پس جب مارکیٹ میں مبیع موجود ہے تو اگر اس کے باغ میں مبیع ( کھجوریں) نہ بھی پیدا ہوگی تو وہ مقررہ وقت پر مارکیٹ سے خرید کر دیدے گا۔چنانچہ خاص جگہ کی پیداوار کی سلم میں شرط لگانا درست نہیں، غرض مارکیٹ میں مبیع کے وجود کو بائع کی ملکیت میں موجودمان لیاگیا ہے، اور یہ ایک طرح کا حیلہ ہے۔
اور یہ حیلہ اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ اس میں عظیم فائدہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی سرمایے کے بغیر بڑے سے بڑا کاروبار کھڑا کرسکتا ہے۔
مثال کے طور پر:ایک شخص کو بنیان بنانے کا کارخانہ قائم کرنا ہے، اس کے لئے لاکھوں روپیوں کی مشینوں کی ضرورت ہوگی، مگر سرمایہ اس کے پاس نہیں ہے، البتہ لوگوں میں اس کا اعتبار ہے، اس نے دوکانداروں سے معاملہ کیا، اس نمبر کا سوت، یہ سائز وغیرہ تمام تفصیلات طے کیں اور قیمت بھی طے کی اور کہا: چھ مہینے کے بعد سپلائی کروں گا اور ہر مہینہ ایک ہزار پیس دوں گا۔ چنانچہ کسی نے دس ہزار پیس خریدے، کسی نے پچاس ہزار، اور اس نے سب سےپیسے اسی وقت لے لئے، سلم میں ثمن مجلس عقد ہی میں دینا ہوتا ہے۔ پندرہ لاکھ جمع ہوگئے۔ وہ مشینیں لایا، کارخانہ کھڑاکیا اور پروڈکشن شروع ہوگیا، اور مقررہ وقت پر سپلائی شروع کردی۔ سال دو سال میں سب کے پاس مال پہنچ گیا اور اس کا کارخانہ فری ہوگیا۔ یہ بیع سلم کا فائدہ ہے۔ اس لئے شریعت نے اس کو برقرار رکھا ہے، اور آج مشینی دور میں بے شمار چیزوں کا سلم ہوسکتا ہے، ہر وہ چیز جس کی جملہ تفصیلات طے ہوسکتی ہوں، اور اس کا مارکیٹ میں وجود ہو: اس کی بیع سلم درست ہے۔
اوصاف نبوی کی مثال:
نبی پاکﷺکے ذاتی حالات اوصاف کہلاتے ہیں، مثلاً: آپؐکے بال ایسے تھے: نہ بالکل سیدھے تھے، نہ بالکل گھونگھریالے، درمیانی کیفیت لئے ہوئے تھے، سیدھے تھے، مگر کچھ گھونگھریالاپن تھا، دندانِ مبارک ایسے تھے: سامنے کے اوپر کے دانتوں میں ذرا کشادگی تھی، جب آپؐگفتگو فرماتے تو ان کے درمیان سے ایک نور سا نکلتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ یہ سب حدیثیں ہیں۔
سنت کے معنی:
سُنَّة: کے لغوی معنی ہیں: راستہ(الطریق) اور یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے، احادیث میں بھی آیا ہے اور فقہ میں بھی، اور تینوں جگہ معنی الگ الگ ہیں، قرآن میں ہے: (وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً): تم اللہ کی سنت کو بدلتا ہوا نہیں پاؤگے۔ اور حدیث میں ہے:تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمْرَیْنِ: میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں: لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا: جب تک تم ان دونوں کو مضبوط پکڑے رہوگے: ہرگز گمراہ نہیں ہوؤگے، وہ دو چیزیں کیا ہیں: کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّتِیْ: اللہ کی کتاب اور میرا طریقہ۔ اور فقہ میں: سنت مؤکدہ اور سنت ِ غیر مؤکدہ کی اصطلاحیں ہیں۔ غرض تینوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے، اور تینوں جگہ معنی الگ الگ ہیں۔
فقہ میں سنت: احکام کا ایک درجہ ہے، واجب سے نیچے اور مندوب سے اوپر: ماکان فی مشروعیتہ دون الواجب وفوق المندوب پھر فقہاء نے اس کی دو قسمیں کی ہیں: سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ۔
قرآنِ کریم میں سنت کے معنی ہیں: اشیائے عالَم میں رکھی ہوئی صلاحتیوں پر مسببات کا متفرع ہونا۔ اس کی تفصیل حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں کی ہے۔ ایک پورا باب اسی کے لئے قائم کیا ہے ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب میں صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں، چنانچہ اسباب سے مسببات پیدا ہوتے ہیں، یہی اللہ کی سنت ہے، جیسے کھجور کی گٹھلی بوئیں گے تو خاص قسم کے پتے نکلیں گے خاص طرح کے پھول آئیں گے، خاص طرح کے پھل آئیں گے، یہی سنت الٰہی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کھجور کی گٹھلی بوئیں اور گیہوں کا پودا نکلے، اللہ سب کچھ کرسکتے ہیں، مگر اللہ نے صلاحیت ایسی ہی ودیعت فرمائی ہے۔ آپ املی کی گٹھلی بوئیں: املی ہی کا درخت اُگے گا یہ اللہ کی سنت ہے اور اللہ کی یہ سنت بدلتی نہیں(وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً) : اللہ نے جس چیز میں جو صلاحیت رکھی ہے وہی صلاحیت بروئے کار آتی ہے۔

نسخ شریعتوں میں ہوتا ہے ، دین میں نہیں ہوتا
اور نسخ شریعتوں میں ہوتا ہے، بعد کی شریعت سابقہ شریعت کو منسوخ کرتی ہے، البتہ دین تمام نبیوں کا ایک ہے، کیونکہ دین عقائد کا نام ہے اور عقائد بدلتے نہیں، اللہ ایک ہیں : ہیں، اللہ صفاتِ کمالیہ کے ساتھ متصف ہیں : ہیں، اللہ نقائص سے پاک ہیں : ہیں۔ ان میں کیا تبدیلی آسکتی ہے؟ ملائکہ واقعی مخلوق ہیں، قیامت آنی ہے، مرکر دوبارہ زندہ ہونا ہے: یہ سب عقائد ہیں، جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، اس لئے قرآن میں ہے اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الِسْلاَمُ): آدم علیہ السلام سے خاتم النّبیینﷺ تک دین ایک ہے، یہی دین ہمیشہ نازل ہوا ہے، اسی پر جینا ہے اور اسی کو لے کر آخرت میں جانا ہے۔
لیکن شریعتیں مختلف رہی ہیں، کیونکہ ان میں قوموں کے حالات کا لحاظ کیا گیا ہے،جیسے آدم علیہ السلام کی شریعت میں بہن سے نکاح جائز تھا، کیونکہ اس وقت بہن کے علاوہ اور کوئی عورت نہیں تھی، پس اگر بہن سے نکاح جائز نہیں ہوگا تو نسلِ انسانی کیسے چلے گی؟ پھر جب عورتیں بہت ہوگئیں تو نوح علیہ السلام کی شریعت میں بہن سے نکاح حرام کردیا گیا۔
بہرحال شریعتوں میں چونکہ زمانے اور لوگوں کے احوال کا لحاظ کیا گیا ہے اس لئے شریعتوں میں نسخ ہوا ہے، آدم علیہ السلام کی شریعت نوح علیہ السلام کی شریعت سے منسوخ ہوئی، پھر نوح علیہ السلام کی شریعت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت سے منسوخ ہوئی، پھر اُن کی شریعت موسی کی شریعت سے منسوخ ہوئی، پھر ان کی شریعت عیسی کی شریعت سے منسوخ ہوئی، آخر میں ہمارے نبیﷺ کی شریعت سے باقی تمام شریعتیں منسوخ ہوئیں۔
شریعت کے اندر بھی نسخ ہوتا ہے:
اورشریعت کے اندر بھی نسخ ہوتا ہے، یعنی پہلے ایک حکم آتا ہے پھر وہ حکم بدل جاتا ہے، اور دوسرا حکم آتا ہے۔ ایسا نسخ ہماری شریعت میں بھی ہوا ہے، اور اس سلسلے میں قرآنِ کریم کی آیت ہے مَانَنْسَخْ مِنْ آیَةٍ أَوْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَا أَوْ مِثْلِہَا): ہم ایک حکم ہٹاکر دوسرا حکم جو بھیجتے ہیں تو وہ دوسرا حکم پہلے حکم کے مانند ہوتا ہے یا اس سے بہتر ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں بھی نسخ ہوا ہے اور حدیثوں میں بھی نسخ ہوا ہے۔
سوال: شریعت میں نسخ کیوں ہوتا ہے؟
جواب:ایک مریض حکیم کے پاس جاتا ہے، اور کہتا ہے: مجھے یہ ہورہا ہے۔ حکیم نسخہ لکھتا ہے اور کہتا ہے: پندرہ دن یہ نسخہ پی کر آؤ۔ دوبارہ آیا، نبض دیکھی، احوال پوچھے، نسخہ نے ٹھیک کام کیا ہے، مگر حکیم نسخہ بدلدیتا ہے، دوسرا نسخہ لکھتا ہے اور کہتا ہے: جاؤ یہ پندرہ دن پی کر آؤ، اس نے پیا اور تیسری مرتبہ آیا، احوال بتائے، نبض دکھائی، اِس نسخہ نے بھی ٹھیک کام کیا ہے،مگر حکیم وہ نسخہ چھوڑ کر تیسرا نسخہ لکھتا ہے، اور کہتا ہے: اب یہ نسخہ شفا ہونے تک پیتے رہو۔
اب کوئی کہے کہ حکیم پاگل ہے! پہلے ہی سے یہ آخری نسخہ کیوں نہیں لکھا!حکیم پاگل نہیں، جنابِ عالی پاگل ہیں، حکیم نے پہلا نسخہ مُنْضِجْ لکھا تھا یعنی جسم کے اندر جو فاسد مواد تھا اس کو پکایا، پھر دوسرا نسخہ مسہل لکھا، اب دست آئے اور فاسد مادہ نکل گیا، پھر تیسرا نسخہ بیماری کا علاج لکھا، اب اس کو پینے سے شفا ہوگی، جب تک فاسد مادے کو نکالیں گے نہیں یہ تیسرا نسخہ کام نہیں کرے گا۔
دوسری مثال:آپ تانبے کا برتن لے کر قلعی گر کے پاس جاتے ہیں، وہ پہلے برتن کو بھٹی پر رکھتا ہے، اس میں پانی ڈالتا ہے، پانی میں تیزاب ڈالتا ہے، اور چمٹے سے روئی پکڑ کر برتن کو صاف کرتا ہے، پھر اس کو سکھاتا ہے، پھر دوسرے وقت برتن کو آگ پر رکھتا ہے، جب وہ گرم ہوجاتا ہے تو دوچار جگہ قلعی لگاکر، نوشادر بسی ہوئی روئی پھیرتا ہے تو برتن چمک جاتا ہے۔ اگر قلعی گر برتن کے میل کو چھڑائے بغیر قلعی کرے تو قلعی نہیں کھلے گی۔
یہ مثالیں ہیں، اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح احکام بھیجتے ہیں، جیسے شراب چار مرحلوں میں حرام کی ہے۔
شراب چار مرحلوں میں حرام ہوئی ہے:
پہلے مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی آیت اتاری کہ اس نے لمحۂ فکریہ پیدا کردیا۔ سور ہ نحل میں آیت ہے وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیْلِ وَالأَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًا): انگوروں اور کھجوروں کے پھلوں سے تم سَکر بناتے ہو، سَکر: کھجور کی شراب کو کہتے ہیں، اور رزق حسن بناتے ہو،اور انگور سے جو شراب بنتی ہے،جس کو عربی میں خمر کہتے ہیں، اس کا تذکرہ چھوڑ دیا، خمر کا تذکرہ کیوں چھوڑ دیا؟ اس نے صحابہ کے لئے لمحۂ فکریہ پیدا کیا، اور انھوں نے اس سلسلہ میں سوال کیا تو ایک عرصہ کے بعد دوسری آیت نازل ہوئی: (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ، قُلْ فِیْہِمَا ِثْم کَبِیْر وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ): لوگ آپؐ سے خمر اورسٹے کے بارے میں پوچھتے ہیں؟ آپؐ ان سے کہیں: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کئی فائدے ہیں،اگر ان میں کوئی فائدہ نہ ہوتا تو لوگ سٹّہ کیوں کھیلتے اورشراب کیوں پیتے! لیکن دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے          وَاِِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا): اور دونوں میں جو خرابی ہے وہ ان کے فائدوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ اس سے ذہن بناکہ خرابی اگرچہ ایک ہے، لیکن وہ سو فائدوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ سنار کی سو اور لوہار کی ایک والی بات ہے۔
یہ ذہن بنانے کے بعد تیسری آیت نازل کی کہ نماز کے اوقات میں شراب نہ پیئو، دوسرے اوقات میں پی سکتے ہو یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَتَقْرَبُوْا الصَّلٰوةَ وَأَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتَّی تَعْلَمُوْا مَاتَقُوْلُوْنَ): نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ، جب نشہ اتر جائے اور تم جو کچھ منہ سے بول رہے ہو اس کو سمجھنے لگو تب نماز پڑھو۔
اب ظہر سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے شراب بند کرنی پڑے گی، ظہر کے بعد بھی نہیں پی سکتے، کیونکہ آگے عصر آرہی ہے،عصر کے بعد بھی نہیں پی سکتے، اس لئے کہ آگے مغرب آرہی ہے، مغرب کے بعد بھی نہیں پی سکتے، اس لئے کہ آگے عشاء آرہی ہے۔ اب پینے کے دو ہی وقت بچے، ایک: عشاء کے بعد فجر سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک۔ مگر رات میں کون پیتا ہے؟ اور رات میں اٹھ کر بھی کون پیتا ہے؟ دوسرا وقت ہے: فجر کی نماز کے بعد سے ظہر سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک۔ لیکن اس وقت اگر کوئی پیئے گا تو جوب( کام) اورشوپ( دوکان) پر کون جائے گا؟ یہ تو کمائی کا وقت ہے، اس وقت میں اگر پی کر پڑجائے گا تو کام کیسے چلے گا؟ لیکن پھر بھی ان دو وقتوں میں پینے کی گنجائش رہی، گویا چوبیس گھنٹوں میں سے آدھا وقت کاٹ دیا۔
ایک عرصے تک اسی طرح چلتا رہا پھر آخر ی حکم آیا: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! خمر اور سٹہ دونوں گندگیاں ہیں، اور شیطانی چرخہ ہیں، شیطان ان کے ذریعہ تمہیں اپنے چکر میں پھنساتا ہے، پس تم ان دونوں سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوؤ: (یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْس مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ):چار چیزیں شیطانی چرخہ ہیں: خمر (انگوری شراب) جُوا، بت اور فال کے تیر، ان سے بچو، اگر کامیابی چاہتے ہو۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضوﷺ نے صحابہ کو سنائی تو لوگوں نے شراب نالیوں میں بہادی، گھروں میں شراب کاایک قطرہ بھی نہ رہا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اگر اللہ تعالیٰ پہلے ہی مرحلہ میں یہ آخری آیت نازل فرماتے تو لوگ کہتے: ہم اس پر عمل نہیں کرسکتے! اس لئے ذہن سازی کرکے حرمت کا حکم نازل کیا، چنانچہ لوگوں کے لئے عمل کرنا آسان ہوگیا، اور انھوں نے مٹکے اٹھاکر پھینک دئیے۔ مجھے بتلانا یہ ہے کہ ایک شریعت کے اندر بھی نسخ ہوتا ہے، بعض احکام بالکل اٹھادئیے جاتے ہیں، اور بعض احکام میں تبدیلی کردی جاتی ہے۔
قرآنِ کریم میں کوئی ایسی آیت نہیں جو اپنے تمام مواد میں منسوخ ہو:
قرآنِ کریم میں سے جو آیتیں مکمل طور پر منسوخ کردی گئی ہیں: وہ اللہ نے اٹھالی ہیں، یا بھلادی ہیں۔ نسخ کی دو شکلیں ہوتی تھیں: ایک: اللہ تعالیٰ منسوخ آیت اٹھالیتے تھے، دوسری: منسوخ آیت بھلادیتے تھے، حضور اور صحابہ سب اس کو بھول جاتے تھے (سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰی ِلاَّ مَاشَاءَ اللّٰہُ): ہم آپؐ کو قرآن پڑھائیں گے، آپؐ اس کا کوئی حرف بھولیں گے نہیں، مگر جس کو منسوخ کرنا ہوتا ہے اس کو اللہ بھلادیتے ہیں۔
آج جو قرآن موجود ہے اس میں کوئی ایسی آیت نہیں ہے جو اپنے تمام مواد میں منسوخ ہو، ہاں ایسی آیات ہیں جو بعض احوال میں معمول بہا ہیں، اور بعض احوال میں منسوخ۔ جیسے مؤلفۃ القلوب کے حصے والی آیت موجود ہے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو موقوف کردیا ہے، منسوخ نہیں کیا، چنانچہ اگر کبھی حالات خراب ہوجائیں، اور دورِ اول جیسے حالات پیداہوجائیں تو زمانے کا امیر المؤمنین اس کو پھر جاری کرسکتا ہے، البتہ مفتی صاحب جاری نہیں کرسکتے، مجتہد نہیں کرسکتا، زمانے کے امیر المؤمنین نے موقوف کیا ہے تو زمانے کا امیر المؤمنین ہی اس کو جاری کر سکتا ہے۔
ایسی اور بھی آیتیں ہیں، جیسے قرآن میں ہے کہ جب موت کا وقت قریب آئے تو والدین کے لئے اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرو۔ اب یہ حکم نہیں ہے، کیونکہ میراث کے احکام اللہ نے نازل کردئیے ہیں، مگر اب بھی ایسی صورت پیش آسکتی ہے کہ وصیت ضروری ہوجائے، جیسے کسی کو ڈر ہو کہ اس کے بعد بعض ورثاء سب ترکے پر قبضہ کرلیں گے، ماں باپ کو کچھ نہیں دیں گے، یا بعض بیٹے قبضہ کرلیں گے اور بعض کو کچھ نہیں دیں گے تو ایسی صورت میں شریعت کے احکام کے مطابق وصیت نامہ لکھ کر کورٹ میں رجسٹر کرانا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں اس آیت پر عمل ہوگا۔
بہرحال قرآنِ کریم میں تو ایسی کوئی آیت نہیں جو اپنے تمام مواد میں منسوخ ہو، ایسی آیتیں یا تو اللہ نے اٹھالی ہیں یا بھلادی ہیں۔
حدیث کی کتابوں میں منسوخ حدیثیں بھی ہیں:
لیکن حدیثوں کی ایسی صورت نہیں ہے، پہلے دور کے جو احکام تھے وہ بھی حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں، اور بعد میں جو احکام آئے وہ بھی حدیث کی کتابوں میں ہیں۔ پس پہلی قسم کی روایتیں صرف حدیث ہیں، سنت نہیں،اور دوسری قسم کی روایتیں حدیث بھی ہیں اور سنت بھی۔
وہ روایتیں جو صرف حدیث ہیں، سنت نہیں
پہلا مادہ افتراقی: تین قسم کی روایتیں صرف حدیث ہیں، سنت نہیں :
ایک: وہ حدیثیں جو منسوخ ہیں، وہ سنت نہیں ہیں، مسلمانوں کو ان پر نہیں چلنا، بعد میں جو ناسخ احادیث آئی ہیں مسلمانوں کو ان پر چلنا ہے، جیسے حدیث ہے: تَوَضَّئُوْا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ: آگ پرپکی ہوئی چیز کھائی تو وضو ٹوٹ گئی، یہ اعلی درجہ کی صحیح حدیث ہے، مگر بعد میں یہ حکم نہیں رہا، بعد میں نبیﷺ، خلفائے راشدین اور سب صحابہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھاتے تھے، اور وضو کئے بغیر نماز پڑھتے تھے، اس لئے حدیث: توضؤا ممامست النارسنت نہیں ۔
دوسری مثال: پہلے نماز میں آپس میں باتیں کرتے تھے۔ پہلے طریقہ یہ تھا کہ مسبوق اپنی چھٹی ہوئی نماز پہلے پڑھتا تھا، پھر جماعت میں شامل ہوتا تھا۔ وہ آکر نمازی سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں ہوگئیں؟ وہ بتاتا کہ دو ہوگئیں ، وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر چھٹی ہوئی رکعتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوتا ۔ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ دیر سے آئے، ان کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ نبیﷺالگ نماز پڑھ رہے ہوں اور وہ اپنی چھٹی ہوئی نماز پڑھیں۔ چنانچہ وہ نیت باندھ کر نماز میں شامل ہوگئے، جب حضورﷺنے سلام پھیرا تو وہ اپنی باقی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، حضورلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپؐنے حضرت معاذ کو نماز پڑھتے دیکھا، نماز کے بعد ان سے پوچھا، انھوں نے جواب دیا : یارسول اللہ! مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں آپؐسے الگ نماز پڑھوں، اس لئے میں آپؐکی نماز میں شامل ہوگیا، اور اب میں نے باقی نماز پوری کی، آپؐنے فرمایا:                  اِِنَّ مُعَاذًا سَنَّ لَکُمْ سُنَّةً فَاتَّبِعُوْھا: معاذ نے تمہارے لئے ایک طریقہ رائج کیا ہے، پس تم اس طریقہ کی پیروی کرو، چنانچہ اس دن سے مسبوق کی نماز کا طریقہ بدل گیا۔
غرض: اسلام کے دورِ اول میں نماز میں اس قسم کی ضروری باتیں جائز تھیں، پھر بعد میں یہ آیت نازل ہوئی قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ): کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت اتری تو :نُہِیْنَا عَنِ الْکلاَمِ، وَأُمِرْنَا بِالسُّکُوْتِ: ہمیں نماز میں کلام کرنے سے روک دیا گیا اور چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔
غرض: اس دور کی یہ حدیثیں کہ نمازی نماز میں باتیں کرتے تھے: حدیثیں ہیں، اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں، مگر وہ سنت نہیں ہیں، مگر اہل حدیث ان پرعمل کرتے ہیں حرم شریف میں آپ کویہ منظر دیکھنے کو ملے گا کہ ایک عرب شیخ نماز پڑھ رہا ہوگا، موبائل کی گھنٹی بجے گی، وہ جیب سے موبائل نکالے گا، بٹن دباکر نمبر دیکھے گا، پھر کہے گا:أنا فی الصلوة: میں نماز پڑھ رہا ہوں، پھر موبائل جیب میں رکھ لے گا اور نماز پڑھتا رہے گا اور اگر اس سے کچھ کہا جائے تو وہ یہ حدیث پیش کرے گا کہ صحابہ بھی نماز میں باتیں کرتے تھے: میں کیوں نہیں کرسکتا؟
بہرحال اس طرح کی حدیثیں منسوخ ہوگئی ہیں، مگر وہ حدیث کی کتابوں میںموجود ہیں، پس وہ سنت نہیں ہیں، سنت وہ حکم ہے جو بعد میں آیا ہے، اسی پر مسلمانوں کو چلنا ہے۔ بعد کا حکم کیا ہے؟ حضرت معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے وہ نئے مسلمان ہوئے تھے اور آپؐکے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، نماز میں کوئی چھینکا، اس نے اگرچہ الحمد للہ نہیں کہاتھا مگر حضرت معاویہ نے کہا: یرحمک اﷲ! اللہ تجھ پر رحم کرے! ساتھ والے نے ران پر ہاتھ مارا، اُن کو غصہ آیا ،اور کہا: میں اُس کو دعا دے رہا ہوں اور تو مجھے منع کررہاہے! خیر نماز پوری ہوئی، نبیﷺنے ان کوبلاکر فرمایا:اِنَّ ہٰذِہِ الصَّلَوةَ لاَیَصْلُحُ فِیْھا شَیْٔ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ، ِنَّمَا ھیَ التَّسْبِیْحُ وَالتَّکْبِیْرُ وَالتَّحْمِیْدُ وَقِرَائَۃُ الْقُرْآن: نماز میں لوگوں کی باتوں کی قطعاً گنجائش نہیں، نماز: قراء ت ِ قرآن، تسبیح، تکبیر اور تحمید کا نام ہے، پس یہی سنت ہے، کلام والی حدیثیں سنت نہیں ، کیونکہ وہ منسوخ ہیں۔
وہ حدیثیں جو نبیﷺکے ساتھ خاص ہیں:
دوسری قسم: وہ حدیثیں ہیں جو نبیﷺکے ساتھ خاص ہیں، وہ اگرچہ حدیثیں ہیں، مگر سنت نہیں،جیسے نبیﷺکے لئے نکاح کے باب میں چار کی قید نہیں تھی، چنانچہ نبی ﷺکے نکاح میں نو بیویاں جمع ہوئی ہیں، جب حضور کا یہ فعل ہے تو حدیث ہوئی، مگر سنت نہیں ، امت کو جس راستہ پر چلنا ہے وہ یہ ہے کہ چار ہی بیویاں ایک ساتھ جمع ہوسکتی ہیں۔ اور حضور کا فعل حضور کے ساتھ خاص ہے۔ سورئہ احزاب میں ایک لمبی آیت ہے: (یٰأَیُّہَا النَّبِیّ اِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ): اس میں آگے ہے خَالِصَةً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ): یہ حکم خاص آپؐکے لئے ہے، مؤمنین کے لئے نہیں ہے قَدْ عَلِمْنَا مَافَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِیْ أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ): امت کے لئے ان کی بیویوں اور باندیوں کے سلسلے میں جو احکام ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں، وہ ہم نے مقرر کئے ہیں، چنانچہ سورئہ نساء کے شروع میں ہے فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَائِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبَاعَ): پس نکاح کرو تم ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں، دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے، امت کے لئے یہی حکم ہے۔
نکاح میں حضورکے لئے غیر محدود اور امت کے لئے محدود تعداد کیوں ؟
اورنبیﷺکے لئے غیر محدود نکاح کی اجازت کیوں تھی؟ اور امت کے لئے چار کی تعداد کیوں مقرر کی ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت جو ایک سے زیادہ نکاح کرے گی وہ اپنی ضرورت سے کرے گی، یا عورت کی ضرورت سے۔عورت کی ضرورت سے: یعنی اس کی کفالت کے لئے، جنگیں ہوتی ہیں، حادثات پیش آتے ہیں، اورحادثات زیادہ تر مردوں کو پیش آتے ہیں، اور جب مسلسل جنگیں ہوتی ہیں تو بہت سی عورتیں بے سہارا رہ جاتی ہیں، اور بے شمار عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اگر تعدد ازدواج کی اجازت نہیں ہوگی تو مفاسد کا دروازہ کھل جائے گا، اور عورتیں بھوک مری کا شکار ہونگی، یا حکومت کو ان کی کفالت کرنی پڑے گی، کیونکہ عورتوں کے ذمے شریعت نے کمانا نہیں رکھا۔
اللہ نے عورتوں پر بھاری ذمہ داری نہیں رکھی!
کیونکہ عورتیں صنف نازک ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر کوئی بھاری ذمہ داری نہیں رکھی، جیسے کماکر کھانا: بھاری ذمہ داری ہے، چنانچہ جب تک عورت کی شادی نہیں ہوتی: باپ کے ذمہ اس کا خرچہ ہے، شادی کے بعد شوہر کے ذمہ ہے، بیوہ ہوگئی تو دوسرا نکاح کرلے، اور اگر بوڑھی ہوگئی کہ دوسرے شوہر کے قابل نہیں رہی تو اولاد کے ذمہ اس کا خرچہ ہے، اور اولاد نہیں ہے تو ذی رحم محرم کے ذمہ اس کا خرچہ ہے اور اگر وہ بھی نہیں ہے تو اسٹیٹ (حکومت) کے ذمہ اس کا خرچہ ہے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے زندگی کے آخر میں فرمایا تھا: اگر میں ایک سال زندہ رہا: تو عراق کی بیوہ عورتیں عمر کے علاوہ کسی کی محتاج نہیں رہیں گی، معلوم نہیں آپ کے ذہن میں کیا پلان تھا! اس فرمانے کے تین دن بعد آپ شہید کردئیے گئے۔ اور آج تک وہ نظام نہیں بن سکا۔
اس سے معلوم ہوا کہ گورنمنٹ کے ذمہ عورتوں کا خرچہ ہے، عورتوں کے ذمہ کمانا نہیں ہے، کیونکہ کماکر کھانا ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ ایسے اور بھی مسئلے ہیں، مثلاً: عورتوں کو نبوت کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی، کبھی کوئی عورت نبی یا رسول نہیں بنائی گئی، کیونکہ نبوت کا کام بھاری ذمہ داری ہے۔
اسی طرح جہاد عورتوں کے ذمہ نہیں رکھا، کیونکہ میدانِ جنگ میں پتے پانی ہوتے ہیں،حتی کہ نفیر عام ہوجائے، اور ہر شخص پر جہاد فرض ہوجائے تب بھی عورتوں پر جہاد فرض نہیں۔
اسی طرح حکومت چلانا بھی بھاری ذمہ داری ہے، عورت اپنی وضع (نسوانی حالت) باقی رکھتے ہوئے حکومت نہیں چلاسکتی،قتل کے مقدمہ میں عورت کی گواہی معتبر نہیں، کیونکہ گواہی اس وقت دی جاسکتی ہے جب قتل کو گواہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، اور عورت قتل کے موقعہ پر باہوش نہیں رہ سکتی، اور قتل کا مشاہدہ نہیں کرسکتی۔
ان مثالوں سے اندازہ ہوگا کہ کوئی بھی بھاری ذمہ داری عورتوں پر نہیں رکھی گئی، انہی بھاری ذمہ داریوں میں سے کماکر کھانا بھی ہے۔پس اگر کسی جنگ کے نتیجہ میں عورتیں بہت ہوگئیں اور مرد کم رہ گئے تو بیواؤں کا کیا ہوگا؟ ان کی کفالت کا مسئلہ پیدا ہوگا،اور حکومت ان کا بوجھ اٹھائے اس سے بہتر یہ ہے کہ مرد ان سے شادی کرلیں، کیونکہ عورت کو صرف روزی روٹی کی ضرورت نہیں ہوتی، عورت کی ایک نفسانی ضرورت بھی ہے جو نکاح ہی سے پوری ہوسکتی ہے۔
اسی لئے مرد اتنی ہی عورتیں کرسکتا ہے جن کی نفسانی ضرورت پوری کرسکے، اور یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ ایک مرد کتنی عورتوں کی ضرورت پوری کرسکتا ہے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جمہور کا خیال کرکے چار کی تعداد مقرر کردی ۔
تعدد ازدواج مرد کی بھی ضرورت ہے:
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیوی کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوتی ہے کہ شوہر کا اس سے ملنا شوہر کے لئے یا بیوی کے لئے تکلیف دہ ہوتاہے، اور ہر مہینے عورت کو حیض آتا ہے، اور ممکن ہے شوہر قوی الشہوت ہو، اور وہ اتنے دنوں صبر نہ کرسکے، اور حمل کے زمانے میں دو تین مہینے ایسے گذرتے ہیں کہ بیوی کا شوہر کی طرف میلان نہیں رہتا، ایسی حالت میں بیوی سے ملنے میں کیا مزہ! پھر بعض مرد نارمل خواہش والے ہوتے ہیں، اور بعض قوی الشہوت، ان کا ایک بیوی سے کام نہیں چلتا، پس ایسی صورت میں مرد کیا کرے گا؟ اگر ایک ہی بیوی ہوگی تومرد ناجائز تعلقات قائم کرے گا۔ اورجن اقوام کے نزدیک تعدد ازدواج جائز نہیں، وہ لوگ معذور بیوی سے پیچھا چھڑانے کے لئے اس کو قتل کردیتے ہیں، اسلام نے بیوی کو قتل سے بچانے کے لئے نکاح ثانی کی اجازت دی ،اور زنا اسلام میں سخت ترین تعزیری جرم ہے، شادی شدہ زنا کرتا ہے تو سنگسار کیا جاتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے جائز موقع فراہم کیا جائے۔
غرض: مرد کو اجازت دی ہے، مگر اجازت اس شرط کے ساتھ دی ہے کہ سب بیویوں کے ساتھ انصاف کرسکے، اگر کوئی انصاف نہ کرسکے تو دوسری تیسری بیوی کرنا جائز نہیں، سورئہ نساء میں ہے                         فَاِِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَامَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ): اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم چند بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکوگے تو ایک بیوی رکھو، اور اگر ایک کے بھی حقوق ادا نہ کرسکو تو باندیوں سے کام چلاؤ، ایک آزاد عورت سے بھی نکاح مت کرو، ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت انصاف کی شرط کے ساتھ ہے۔
بہرحال امت جو نکاح کرے گی وہ اپنی ضرورت سے کرے گی، اور ایک آدمی کتنی بیویوں کے حقوق ادا کرسکتا ہے: یہ بات اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے: اس لئے ان کے لئے چار کی تعداد مقرر کردی۔
اور حضورﷺنے جتنے نکاح کئے ہیں ان میں سے دو کے علاوہ کوئی نکاح اپنی ضرورت سے نہیں کیا۔ جب آپکی عمر مبارک پچیس سال کی تھی تب آپؐنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ یہ نکاح آپؐنے اپنی ضرورت سے کیا تھا، پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو گھریلو ضرورت سے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اس کے بعد ایک نکاح( حضرت عائشہ سے) اللہ نے اور کرایا، مگر وہ بیوی صاحبہ گھر میں نہیں آئیں، یہ نکاح ایک خواب کی بنا پر ہوا تھا، بخاری میں روایت ہے کہ آپؐنے یہ خواب دیکھا تھا۔




نبی کا خواب وحی ہوتا ہے اور اس کی بھی تعبیر ہوتی ہے:
نبی کا خواب وحی ہوتا ہے، اور جیسے ہمارے خوابوں کی تعبیر ہوتی ہے نبی کے خواب کی بھی تعبیر ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جوحکم ملا تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کریں: وہ حکم خواب کے ذریعہ ملا تھا، انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی کررہے ہیں۔ خواب حضرت ابراہیم کی سمجھ میں نہیں آیا، کیونکہ بیٹے کی قربانی کرنے کارواج نہیں تھا۔ حضرت ابراہیم نے سو اونٹوں کی قربانی کرکے غریبوں میں ان کا گوشت بانٹا، کیونکہ ایک جان کی دیت سو اونٹ ہوتی ہے، چند دن بعد پھر وہی خواب دیکھا، اب بھی سمجھ میں نہیں آیا، پھر سو اونٹ کی قربانی کرکے غریبوں میں ان کا گوشت بانٹا، چند دن کے بعد پھر وہی خواب دیکھا، اب حضرت سمجھے کہ اس خواب کی تعبیر نہیں ہے، بیٹے ہی کی قربانی مقصود ہے، چنانچہ آپؐبیت المقدس سے سفر کرکے مکہ مکرمہ پہنچے، اور بیٹے سےکہا(اِنِّیْ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ: أَنِّیْ أَذْبَحُکَ) میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں: (فَانْظُرْ مَاذَا تَریٰ):پس بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہایٰا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ، سَتَجِدُنِیْ ِنْ شَائَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ): ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کیجئے، میں ذبح ہونے کے لئے تیار ہوں، آپ مجھے اگر اللہ نے چاہا تو برداشت کرنے والوں میں سے پائیں گے یعنی میں ہمت کرکے ذبح ہونے کی تکلیف برداشت کرلونگا۔ غور کریں: اسماعیل علیہ السلام نے کہا ہے: (اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ) اس سے معلوم ہوا کہ خواب بھی امر ہے۔
ایسے ہی حضورﷺکو جو خواب دکھایا گیا تھا اس میں فرشتہ نے اگرچہ صرف اتنا کہا تھا کہ ہذہ زوجتک: یہ آپکی اہلیہ ہیں، مگر وہ امر( حکم) تھا، چنانچہ حضورنے فرمایا:ان کان من اﷲ یُمْضِہِ:اگر یہ بات اللہ کی طرف سے طے ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی کوئی شکل کریں گے۔
اُدھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے طور پر سوچ رہے تھے کہ وہ اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح حضورﷺسے کردیں، کیونکہ حضرت سودہ زیادہ دنوں کی مہمان نہیں تھیں،اس لئے چند سالوں کے بعد جب وہ نہیں رہیں گی یا بوڑھی ہوکر شوہر کے کام کی نہیں رہیں گی تو عائشہ بالغ ہوکر حضور کا گھر سنبھال لیں گی۔
چنانچہ حضرت ابوبکر نے پیش کش کی، اور آپؐچونکہ کئی مرتبہ خواب دیکھ چکے تھے، اس لئے ان کی پیش کش منظورکرلی، یوں آپؐکا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہو گیا۔ حضور نے یہ نکاح اپنی ضرورت سے نہیں کیا تھا۔
اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کنواریوں میں سے صرف حضرت عائشہ سے حضورنے نکاح فرمایا ہے، اِن کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے حضور نے نکاح نہیں کیا، اور اس نکاح کے فوائد بعد میں ظاہر ہوئے،انھوں نے آدھا دین حضور سے اخذ کیا ۔
پھر ہجرت کا زمانہ آگیا، ہجرت کے دو سال بعد تک حضرت سودہ ہی آپؐکے گھر کو سنبھالے رہیں، پھر جب حضرت عائشہ بالغ ہوگئیں تو وہ رخصت ہوکر آپؐکے گھر میں آگئیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کی عمر پچپن سال کی ہوچکی تھی، اور زندگی کے صرف آٹھ سال باقی رہ گئے تھے، انہی آخری آٹھ سالوں میں آپؐنے باقی نکاح کئے ہیں، پس اگر کسی کے پاس معمولی عقل بھی ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ شوق کا زمانہ نہیں، بلکہ کسی مصلحت سے آپؐنے یہ نکاح کئے ہیں۔
وہ مصلحت کیا تھی؟ تین مصلحتوں سے آپؐنے یہ نکاح کئے ہیں: سیاسی، ملّی اور شخصی ) تینوں مصلحتوں کی تفصیل اسی حصہ میں کسی اور تقریر میں آچکی ہے اس لئے یہاں سے حذف کی ہے)
غرض:جب مذکورہ مصلحتیں تھیں توحد کیسے مقرر کی جاتی؟ اور نبی معصوم ہوتا ہے، اس لئے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ آپؐکسی بیوی صاحبہ کی حق تلفی کریں گے، اس لئے نکاح کے باب میں آپؐکے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔
غیر مقلدوں کے نزدیک نکاح میں کوئی تحدید نہیں!
یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ جب آپﷺکا یہ عمل ہے اور آپؐکے نکاح میں چار سے زیادہ ازواج جمع ہوئی ہیں تو یہ حدیث ہوئی، چنانچہ اہل حدیث اس حدیث پر عمل کرتے ہیں، ان کے نزدیک امت کے لئے بھی نکاح کے باب میں کوئی تحدید نہیں، نواب صدیق حسن خان صاحب بھوپالی کے لڑکے نواب نور الحسن خان صاحب نے عَرْف الجادی میں یہ مسئلہ صراحۃ لکھا ہے، حالانکہ یہ حدیث سنت نہیں ہے، امت کا اجماع ہے کہ امت کے لئے چار سے زیادہ بیویاں جمع کرنا جائز نہیں۔
اصل مضمون یہ چل رہا تھا کہ تین قسم کی حدیثیں ہیں، جو سنت نہیں ہیں، ان میں سے دوکا بیان ہوچکا: وہ حدیثیں جو منسوخ ہیں، اور وہ حدیثیں جو نبی پاکﷺ کے ساتھ خاص ہیں: حدیثیں ہیں، مگر سنت نہیں ۔ اب تیسری قسم بیان کرتا ہوں۔
تیسری قسم:نبیﷺنے کسی مصلحت سے کوئی بات فرمائی یا کوئی عمل کیا تووہ حدیث ہے مگر سنت نہیں، اس کی پانچ مثالیں سنیں،اور اتنی مثالیں اس لئے پیش کررہا ہوں کہ یہ مسائل سمجھنے ضروری ہیں۔
مغرب سے پہلے نفلیں پڑھنا سنت نہیں
پہلی مثال: بخاری شریف میں ایک باب ہے:باب الصلاة قبل المغرب (کتاب التہجد باب 35 حدیث1183): نبی ﷺنے فرمایا مغرب سے پہلے نفلیں پڑھو، یہ بات دو مرتبہ فرمائی، پھر تیسری مرتبہ : لِمَنْ شاء بڑھایا یعنی مغرب سے پہلے کوئی نفلیں پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، راوی کہتے ہیں: آپؐنے لمن شاء اس لئے بڑھایا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنالیں:کراھیةَ أَنْ یَّتَّخِذَھا النَّاسُ سُنَّةً: اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ لوگ اس نماز کو سنت بنالیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث اور سنت الگ الگ چیزیں ہیں، اور ارشاد پاک: صَلُّوا قبلَ صلاةِ المغرب مسئلہ سمجھانے کے لئے ہے۔ عصر کے فرض پڑھنے کے بعد جو نفلوں کی ممانعت ہے وہ غروبِ شمس تک ہے، سورج چھپتے ہی کراہیت ختم ہوجاتی ہے، اب کوئی نفلیں پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، مگر اس وقت میں نفلیں پڑھنا سنت نہیں ، نبیﷺنے مغرب سے پہلے کبھی نفلیں نہیں پڑھیں ، چاروں خلفاء نے بھی نہیں پڑھیں۔
اوراگر کوئی کہے کہ جب مغرب کی اذان ہوتی تھی تو صحابہ ستونوں کی آڑ لے کر نفل پڑھتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دور ما بعد کا واقعہ ہے، اور صحابہ کے عمل سے جواز ثابت ہوتا ہے، اور یہ جواز توخود حضورؐ کے ارشاد سے بھی ثابت ہوتا ہے، اور جواز میں کوئی کلام نہیں، اگر مغرب کے فرضوں میں تاخیر نہ ہو ،اور کوئی نفلیں پڑھے تو بلاشبہ جائز ہے مثلاً: رمضان میں اذان کے دس منٹ کے بعد نماز کھڑی ہوتی ہے، پس کوئی کھجور سے افطار کرکے نفلیں پڑھے: تو پڑھے، لیکن اگر اس کو سنت بنالیا جائے تو پھر پورے سال پندرہ منٹ کے بعد مغرب کی نماز کھڑی ہوگی، جو سنت کے خلاف ہے، مغرب کی نماز میں جلدی کرنا مطلوب ہے
کھڑے ہوکر پیشاب کرنا سنت نہیں
دوسری مثال: نبیﷺنے زندگی میں ایک مرتبہ ایک قوم کی کوڑی پر کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا :یہ حدیث ہے، مگر سنت نہیں،یہ دینی طریقہ نہیں، آپؐہمیشہ بیٹھ کر پیشاب فرماتے تھے، اور وہی سنت ہے۔
پھر حضورؐنے کھڑے ہوکر پیشاب کیوں فرمایا؟ مسئلہ کی وضاحت کے لئے۔ کبھی انسان کو ایسی مجبوری پیش آتی ہیں کہ بیٹھ نہیں سکتا، مثلاً کوڑی ہے، گندگی کی جگہ ہے، ایسی مجبوری میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے، یا کسی بیماری کی وجہ سے بیٹھ نہیں سکتا: تب بھی یہی حکم ہے۔ بیل کی طرح کھڑے کھڑے موتنا سنت کے خلاف ہے، یہ غیروں کا طریقہ ہے۔
پھر سنت کیا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:مَنْ حَدَّثَکُمْ أَنَّ النبیَّ صلی اﷲ علیہ وسلم کَانَ یَبُوْلُ قَائِمًا فَلاَ تُصَدِّقُوْہُ، مَاکَانَ یَبُوْلُ ِلاَّ قَاعِدًا:اگر تم سے کوئی بیان کرے کہ آپؐکی عادت شریفہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی تھی تو ہرگز اس کی بات نہ ماننا، آپؐہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب فرمایا کرتے تھے۔
ایک لطیفہ:
نیویارک کی ایک مسجد میں ایک غیر مقلد حدیث کی تعلیم کررہا تھا، اس نے یہی کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی روایت بیان کی، اور کہا: کھڑے ہوکر پیشاب کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بات صراحۃ ثابت ہوتی ہے۔ مجمع میں سے ایک شخص نے سوال کیا: یہ سنت صرف مردوں کے لئے ہے یا عورتوں کے لئے بھی ہے؟ بس اس کی سِٹّی گم ہوگئی!
حیض کے زمانے میں بیوی کو ساتھ لٹانا سنت نہیں:
تیسری مثال: ایک مرتبہ نبیﷺنے حیض کے زمانہ میں حضرت عائشہ سے فرمایا: لنگی باندھ کر میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔ یہ مسئلہ کا بیان تھا،سنت نہیں ہے۔ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ آپؐاور حضرت عائشہ ساتھ لیٹے ہوئے تھے، رات میں حضرت عائشہ کا حیض شروع ہوا، وہ چپکے سے کھڑی ہوگئیں، ایسے موقعہ پر عورتیں روئی لنگوٹ وغیرہ باندھتی ہیں، آپؐکی آنکھ کھل گئی، آپؐنے پوچھا: کیا ماہواری شروع ہوگئی؟ انھوں نے کہا: ہاں یارسول اللہ! آپؐنے فرمایا: جوکپڑے باندھنے ہیں وہ باندھ لو ، پھر لنگی پہن کر میرے ساتھ لیٹ جاؤ، کیونکہ رات آدھی ہوگئی ہے، گھر میں کوئی چراغ نہیں ہے، مسجد نبوی میں چراغ نہیں جلتا تھا: گھر میں چراغ کہاں سے آتا! اس لئے آپؐنے فرمایا: لنگی باندھ کر میرے ساتھ لیٹ جاؤ۔
یہ زندگی میں ایک مرتبہ کا واقعہ ہے اور مسئلہ کا بیان ہے، سنت نہیں ہے۔ جب حضرت عائشہ یہ واقعہ بیان کرتیں تو ساتھ ہی یہ بھی کہتیں :وَأَیُّکُمْ یَمْلِکُ أَرَبَہ: تم میں سے کون اپنی خواہش پر کنڑول کرسکتا ہے؟ یعنی اس کو سنت سمجھ کر حالت ِ حیض میں بیوی کو ساتھ نہ لٹاؤ، ورنہ گناہ میں مبتلا ہوجاؤگے۔
حالت ِ حیض میں بیوی سے کتنا قریب ہوسکتے ہیں؟
اور وہ مسئلہ کیا ہے جس کی آپؐنے اپنے عمل سے وضاحت فرمائی ہے؟ جواب: حیض کے بارے میں قرآنِ کریم میں آیت ہےوَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ، قُلْ ہُوَ أَذَیً فَاعْتَزِلُوْا النِّسَائَ فِیْ الْمَحِیْضِ وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ): لوگ آپؐسے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ بتلائیں کہ حیض کی حالت تکلیف دہ حالت ہے، اس گندگی کی حالت میں صحبت کرنا سوزاک کی بیماری پیدا کرتا ہے، اور اس زمانے میں صحبت کرنے سے بیوی کو بھی تکلیف ہوتی ہے، اس لئے حیض کی حالت میں عورتوں سے علاحدہ رہو، اور ان کے نزدیک مت جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔
اب اس کی وضاحت ضروری ہے کہ کتنا علاحدہ رہنا ضروری ہے ،اور کتنا نزدیک جانا جائز ہے، اور کہاں تک جانے پر پابندی ہے؟ جب یہ آیت نازل ہوئی تو یہودیوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حیض کے زمانہ میں عورت کو علاحدہ کمرہ دیتے تھے، اس کے کمرے میں شوہر نہیں جاتا تھا، حائضہ کے ہاتھ کا پکا ہوا بھی کوئی نہیں کھاتا تھا، آج بھی یہود کا یہی طریقہ ہے، چنانچہ صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ! آپؐ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہود کی مخالفت کرو، پس کیا ہم حالت ِ حیض میں بیوی سے صحبت نہ کریں؟ تاکہ ان کی پوری مخالفت ہوجائے، اس پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی ،اور اس میں حکم دیا کہ حیض کے زمانے میں عورتوں سے علاحدہ رہو، اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں: ان کے نزدیک مت جاؤ۔ اب اس اجمال کی وضاحت ضروری تھی، چنانچہ نبیﷺنے مختلف طرح سے اس آیت کی تفسیر بیان کی:
١ـ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حالت ِ حیض میں ہوتی تھیں اور آپؐاور حضرت عائشہ ایک ہی پلیٹ میں کھاتے تھے، معلوم ہوا کہ اتنا قریب جاسکتے ہیں۔
٢ـ حضرت عائشہ نے گوشت کی بوٹی آدھی کھائی ہوتی تھی: باقی ان کے ہاتھ سے لے کر آپؐ نوش فرماتے تھے، معلوم ہوا کہ اتنا نزدیک جانا بھی جائز ہے، اُس بوٹی پر حضرت عائشہ کا لعاب لگا ہواہوتا تھا اور اس بوٹی کو آپؐ نوش فرماتے تھے، معلوم ہوا کہ حائضہ کا تھوک پاک ہے، اور جب تھوک پاک ہے تو پسینہ بھی پاک ہے۔
٣ـ آپؐ اعتکاف میں ہوتے تھے، مسجد میں بیٹھے ہوئے سر حجرے میں نکال دیتے تھے، حضرت عائشہ نیچے برتن رکھ کر سر مبارک دھوڈالتی تھیں، پھر بال خشک کرکے تیل ڈال کر گنگھا کردیتی تھیں اور وہ حالت حیض میں ہوتی تھیں، معلوم ہوا کہ بیوی حالت ِ حیض میں شوہر کی یہ خدمت بھی کرسکتی ہے۔
٤ـاور مذکورہ واقعہ میں حضور نے فرمایا:لنگی باندھ کر میرے ساتھ آکر لیٹ جاؤ، چنانچہ امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ حیض کے زمانہ میں ناف سے گھٹنے تک بدن کو کپڑے کی آڑ کے بغیر ہاتھ لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس سے زیادہ نبی ﷺ نزدیک نہیں ہوئے۔
بچے کو گود میں لے کر نماز پڑھنا سنت نہیں!
چوتھی مثال: ایک مرتبہ جب تکبیر ہوئی تو نبیﷺاپنی نواسی کو گود میں لئے ہوئے گھر سے تشریف لائے، اور اس بچی کو گود میں اٹھائے ہوئے پوری نماز پڑھائی: جب سجدہ کرتے تھے تو بچی کو نیچے بٹھادیتے تھے، اگلی رکعت میں پھر اس کو گود میں لے لیتے تھے، آپؐ نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ یہ عمل کیا ہے، اور یہ بھی مسئلہ کی وضاحت کے لئے تھا۔ کیا آپؐکے گھروں میں اس بچی کو دس منٹ کے لئے کوئی رکھنے والا نہیں تھا؟ ضرور تھا، مگر آپؐ بالقصد بچی کو لے کر آئے تھے اور اس کے ساتھ نماز پڑھا کر دکھائی تھی، کیونکہ بعض دفعہ ایسے حالات پیش آتے ہیں: آدمی کبھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں بچہ کو بٹھاکر نماز پڑھے گا تو درندہ اس کوپھاڑ کھائے گا، یا اغوا کرنے والے اچک لے جائیں گے، ایسی صورت میں آدمی کیا کرے؟ بچے کو گود میں لے کر نماز پڑھے ! نماز قضاء نہ کرے، اور کبھی گھر میں ایسا ہوتا ہے کہ بچہ کسی وجہ سے ڈر جاتا ہے، ماں سے جدا نہیں ہوتا، جدا کرتی ہے تو روتا ہے، اور گھر میں کوئی دوسرا رکھنے والا نہیں: ایسی صورت میں کیاماں نماز قضا کرے گی؟ نہیں! بچے کو گود میں اٹھاکر نماز پڑھے گی۔ مگر شرط یہ ہے کہ بچے کا بدن اور کپڑے پاک ہوں۔
غور کرو! حضورﷺنے ایک عمل کرکے ماؤں کے لئے کتنا بڑا راستہ کشادہ کردیا! اب اگر کوئی کہے کہ یہ سنت ہے اور وہ چھوٹے بچے کو گود میں لے کر نماز پڑھے تو اس سے کہا جائے گا کہ یہ سنت نہیں ہے، یہ عمل تو مسئلہ کی وضاحت کیلئے کیاتھا، پس یہ حدیث ہے، سنت نہیں ۔
ناسمجھ بچوں کو مسجد میں لانا ممنوع ہے:
یہاں( کناڈا، یوروپ اور امریکہ میں) لوگ چھوٹے بچوں کو مسجد میں لے کر آجاتے ہیں، اور چھوڑ دیتے ہیں، وہ صفوں میں دوڑتے پھرتے ہیں، اور لوگوں کی نماز خراب کرتے ہیں، حالانکہ ابن ماجہ وغیرہ میں حدیث ہے:جَنِّبُوْا مَسَاجِدَکُمْ صِبْیَانَکُمْ: اپنی مسجدوں کو اپنے( ناسمجھ) بچوں سے بچاؤ، جب تک بچے پاکی ناپاکی کو نہ سمجھیں اور مسجد کا احترام نہ جانیں: بچوں کو مسجد میں لانا منع ہے، لوگ یہ حدیث پیش کرتے ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ عمل مسئلہ کی وضاحت کے لئے تھا، سنت نہیں تھا۔
سنت کی کسوٹی صحابہ کا عمل ہے:
سوال: ہم کیسے جانیں کہ حضورؐنے یہ جوعمل کیا ہے، وہ مسئلہ نہیں ہے، مصلحت ہے، اس کے پہچاننے کے لئے کسوٹی کیا ہے؟
جواب: کسوٹی صحابہ کا عمل ہے، صحابہ نے اس پر عمل کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے تو وہ سنت ہے، ورنہ وہ عمل کسی مصلحت سے ہے، آپؐ صحابہ کا پورا دور دیکھیں، کسی صحابی نے کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا اور ایک واقعہ بھی ایسا نہیں کہ کسی صحابی نے حالت ِ حیض میں بیوی کو ساتھ لٹایا ہو، اور کبھی بھی کسی صحابی نے بچے کو گود میں لے کر مسجد میں آکر نماز نہیں پڑھی ہو۔ صحابہ سے زیادہ سنتوں کا عاشق کون تھا؟اگر یہ اعمال سنت ہوتے تو صحابہ ضرور ان پر عمل کرتے۔ پس یہ اس بات کی کسوٹی ہے کہ یہ حدیثیں: محض حدیثیں ہیں، سنت نہیں ہیں۔ اور آپؐکے یہ سب اعمال کسی مصلحت سے ہیں۔
زور سے آمین کہنا حنفیہ کے نزدیک سنت نہیں:
پانچویں مثال: اُنہی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت: تعلیم امت بھی ہے، جب حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو بیس دن ٹھہرے ہیں، اور ساٹھ جہری نمازیں آپؐکے پیچھے پڑھی ہیں، ان میں سے تین نمازوں میں آپؐنے زور سے آمین کہی ہے، یہ جہر حضرت وائل کی تعلیم کے لئے تھا، پس یہ بھی حدیث ہے، سنت نہیں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت وائل یمن کے نواب زادے تھے، جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ وہاں گورنر بناکر بھیجے گئے، اور انھوں نے دعوت کا کام شروع کیا تو حضرت وائل مسلمان ہوگئے، ایک تو وہ بڑے آدمی تھے، دوسرے وہ خود سمجھ دار تھے، حضرت معاذ نے ان کو مشورہ دیا کہ مدینہ جاؤ، اور حضورﷺسے ملو، حضورؐتمہیں دیکھ کر خوش ہونگے، چنانچہ وہ یمن سے مدینہ آئے، جب تین دن کی مسافت پر رہ گئے تووحی سے آپؐ کواطلاع ملی، آپؐ نے صحابہ کو خوش خبری سنائی، چنانچہ سارا مدینہ منتظر تھا کہ کوئی نواب زادہ مسلمان ہوکر آرہا ہے، پھر جب وہ مدینہ پہنچے تو نبیﷺ نے مسجد سے نکل کر ان کا استقبال کیا ،اور ان کو خوش آمدید کہا، پھر ان کو اپنے ساتھ لائے، اور اپنی چادر بچھاکر اس پر بٹھایا۔
حضرت وائل بیس دن حضورؐکے پاس رہے ہیں، ان بیس دنوں میں آپؐ نے ان کے نماز پڑھنے کے لئے اپنے پیچھے پہلی صف میں جگہ متعین کردی تھی، وہ کہتے ہیں: جب نبی ﷺ نے پڑھاغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْنَ): تو آمین کہی، اور آمین کے ساتھ اپنی آواز کھینچی، یعنی زور سے آمین کہی، آگے روایت میں ہے:سَمِعْتُہُ وَأَنَا خَلْفَہُ: میں نے آپؐکی آمین سنی، درانحالیکہ میں آپؐ کے پیچھے تھا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتنی زور سے آمین کہی ہوگی، آج کل زور سے آمین کہنے والے دو غلطیاں کرتے ہیں: ایک: چلاکر آمین کہتے ہیں، حالانکہ حضورؐنے اتنی زور سے آمین کہی تھی کہ پہلی صف میں حضرت وائل نے سن لی تھی، لوگ اسی حدیث کی بناء پر زور سے آمین کہتے ہیں، پس اتنی ہی آواز سے آمین کہیں ۔ دوسری غلطی یہ کرتے ہیں کہ آمین کے الف کو کھینچتے ہیں، اللہ جانے وہ کونسا مد کرتے ہیں، اس کو صرف ایک الف کے بقدر کھینچنا چاہئے۔
بہرحال میں یہ بتارہا تھا کہ حضرت وائل کہتے ہیں: حضورﷺنے آمین کہی اور میں نے پہلی صف میں سنی، اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے ثلاثاً آمین کہی،ثلاثاً کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ آپؐ نے تین دفعہ آمین کہی، مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ ثلاثاً کا یہ مطلب نہیں ہے، بلکہ تین نمازوں میں جہراً آمین کہی، بیس دن کی جہری نمازیں ساٹھ ہوتی ہیں، ان میں سے صرف تین نمازوں میں جہراً آمین کہی ہے، اور دُولابی کی کتاب الاسماء والکُنٰی میں روایت ہے: حضرت وائل کہتے ہیں:مَاأُرَاہُ ِلاَّ لِیُعَلِّمَنَا: جہاں تک میرا خیال ہے آپؐ نے زور سے آمین مجھے سکھلانے کے لئے کہی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ آپؐ کا جہراً آمین کہنا ایک خاص مصلحت سے تھا، پس اس سے بھی صرف جواز ثابت ہوتا ہے، سنت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
بہرحال مضمون یہ چل رہا تھا کہ حدیث اور سنت میں عام خاص من وجہ کی نسبت ہے، اور جہاں یہ نسبت ہوتی ہے وہاں تین مادے ہوتے ہیں، ایک مادہ افتراقی کا بیان ہوچکا کہ تین قسم کی روایتیں حدیثیں ہیں، سنت نہیں ہیں: ایک: وہ حدیثیں جو منسوخ ہیں، دوسری: وہ حدیثیں جو نبی پاکﷺکے ساتھ خاص ہیں، تیسری: وہ حدیثیں جن میں حضورؐنے کوئی ارشاد فرمایا ہے یا کوئی عمل کیا ہے، کسی مصلحت سے یا کوئی مسئلہ سمجھانے کے لئے۔
خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کا حکم
دوسرا مادہ افتراقی:اور کچھ چیزیں سنت ہیں، مگر حدیث نہیں ، وہ خلفائے راشدین کی سنتیں ہیں،نبی پاکﷺنے ارشاد فرمایا ہے: عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھدِیِّیْنَ، تَمَسَّکُوْا بِھََا، وَعَضُّوْا عَلَیْھََا بِالنَّوَاجِذِ: میری سنت مضبوط پکڑو، اور میرے بعد میرے جو جانشیں آئیں گے ان کی سنت مضبوط پکڑو۔
یہاں کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ کے نبی تو اللہ کے نبی ہیں، گفتۂ او گفتۂ اللہ بود، آپؐ کا فرمایا ہوا تو اللہ کا فرمایا ہوا ہے، مگر یہ خلفائے راشدین کون سے نبی ہیں کہ ان کی سنت کی پیروی کی جائے؟
اس لئے آگے فرمایا کہ ان کی سنت کی پیروی اس لئے ضروری ہے کہ وہ راشد ہوں گے، راشدکے معنی ہیں: راہ یاب، اور فرمایا: وہ مہدی ہونگے، مہدی کے معنی ہیں: ہدایت مآب، یعنی ہدایت ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہوگی۔
یہ بنیاد ہے ان کی سنت کی پیروی کرنے کی، اور ہم جو ائمہ کی تقلید( پیروی) کرتے ہیں اس کی بھی یہی بنیاد ہے، اور غلطی کا احتمال اگر ابوحنیفہ و شافعی میں ہے تو ابوبکر وعمر وعثمان وعلی میں بھی ہے، لیکن غلطی کے احتمال کے باوجود خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی ضروری ہے پس اسی بنیاد پر مجتہدین کی پیروی بھی ضروری ہے، ابو حنیفہ کی پیروی عالم دین ہونے کی وجہ سے ہے، قرآن وحدیث کا کامل علم رکھنے کی وجہ سے ہے، چنانچہ امام اعظم کا قول مذہب میں موجود ہوتا ہے، مگر دلائل سے وہ قوی نہیں ہوتا تو امام صاحب کا قول چھوڑ دیا جاتا ہے، اور صاحبین کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے، معلوم ہوا کہ پیروی دلائل کی کی جاتی ہے، محض قول کی پیروی نہیں کی جاتی۔
پھر مذہب ِ حنفی کیوں کہتے ہیں؟جواب: یہ ایک رمزی نام ہے، ایک مکتب فکر کا نام ہے، معین شخص مراد نہیں، چنانچہ آج نئے مسائل میں مفتی صاحبان جوفتوے دیتے ہیں وہ بھی مذہب ِ حنفی میں شامل ہوتے ہیں۔
بہرحال مجتہدین کی پیروی بھی اسی بنیاد پر ہے جس بنیاد پر خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کا حکم ہے۔
پھر فرمایا       : تَمَسَّکُوْا بِھََا: بھما نہیں فرمایا، یعنی میرے خلفاء کی سنت کو مضبوط پکڑو، مفرد کی ضمیر ہے، اور ضمیر قریب مرجع کی طرف لوٹتی ہے، پس ھَاکا مرجع سنۃ الخلفاء ہے، کیونکہ حضورﷺکی سنت کو تو ہر مسلمان قبول کرے گا، وہ تو اللہ کے نبی ہیں، اور اللہ کی طرف سے کہہ رہے ہیں۔ لیکن خلفائے راشدین کی سنتوں کو غیر مقلد نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں: خلفائے راشدین کونسے انبیاء ہیں؟ اس لئے حضورؐنے تاکید فرمائی کہ خلفائے راشدین کی سنتوں کو بھی مضبوط پکڑو، پھر مزیدتاکید فرمائی: عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ: ان کو ڈاڑھوں سے مضبوط پکڑو۔ خلفائے راشدین کی یہی سنتیں سنت ہیں، مگر حدیث نہیں ہیں۔
خلفائے راشدین کی سنتوں کو مضبوط پکڑنے کا حکم کیوں ہے؟
نبی پاکﷺکے زمانہ تک قومی حکومت( نیشنل گورنمنٹ) قائم ہوئی تھی، بین الاقوامی حکومت( انٹرنیشنل گورنمنٹ) قائم نہیں ہوئی تھی، چنانچہ نیشنل حکومت کے احکام حضورﷺنے بیان فرمائے ، مگر انٹرنیشنل حکومت کے احکام بیان نہیں فرمائے ۔ اگر ابھی وہ احکام بیان کئے جاتے تو وہ قبل از وقت ہوتے اور قبل از وقت بیان کئے ہوئے احکام سمجھ میں نہیں آتے، اور سمجھے بغیر یاد بھی نہیں رکھے جاسکتے۔
جیسے آج کل کلونک (قلم لگانے) کا مسئلہ چل رہا ہے، اگر حضورؐاس کے احکام بیان کرتے تو صحابہ کیسے سمجھتے؟ آج مولوی بھی نہیں سمجھتے کہ کلونک کیا چیز ہے؟ اسی طرح اگر حضورؐانٹرنیشنل حکومت کے احکام بیان فرماتے تو صحابہ کیسے سمجھتے؟ اور نہ سمجھتے تو یاد کیسے کرتے؟ اور امت تک کیسے پہنچاتے؟ کیونکہ مسئلہ وقت پر ہی سمجھ میں آتا ہے، اور وقت پر ہی بیان کیا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل حکومت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قائم ہوئی، اور جب بین الاقوامی حکومت قائم ہوتی ہے تو ملک میں مختلف مذاہب اور مختلف قومیں آبادہوجاتی ہیں، اور ملت بھی بہت وسیع ہوجاتی ہے، اس لئے ملک وملت کو منظم کرنے کے لئے جو احکام خلفائے راشدین نے جاری کئے ہیں ان کو مضبوط پکڑنا ضروری ہے، اور ان دو معاملوں کے علاوہ وضو، نماز اور روزے وغیرہ کے مسائل میں خلفائے راشدین کی رائیں امت کے دیگر مجتہدین کی رایوں کی طرح ہیں، ان میں ضروری نہیں کہ خلفائے راشدین کی جو رائیں ہیں: وہ سب لی جائیں، یہ بات بعد کے مجتہدین کے اختیار پر موقوف ہے۔
وہ روایتیں جو حدیثیں بھی ہیں اور سنت بھی:
اور مادہ اجتماع: وہ سب روایتیں ہیں جو معمول بہا ہیں، وہ حدیث بھی ہیں اور سنت بھی، اور ایسی روایتیں بے شمار ہیں ، پس ثابت ہوا کہ حدیث اور سنت ایک نہیں، دونوں میں فرق ہے۔ مگر ایک فرقہ جو خود کو اہل حدیث کہتا ہے، وہ کوئی بھی حدیث مل جائے: اس پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے، چنانچہ ان کے یہاں نکاح چار میں منحصر نہیں، آدمی جتنے چاہے نکاح کرسکتا ہے، اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ حضورؐکے نکاح میں نوبیویاں تھیں۔ اور نبیﷺنے حضرت غیلان ثقفی کو جو حکم دیا تھا کہ چار سے زائد بیویوں کو الگ کرو: اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ضعیف روایت ہے، اور غیر مقلدین کے نزدیک ضعیف روایت: موضوع روایت کے ہم پلّہ ہوتی ہے۔
ضعیف روایات موضوعات کے ہم پلہ نہیں:
حالانکہ ضعیف :حدیث ہے اور موضوع توحدیث ہی نہیں۔ موضوع: وہ بات ہے جو لوگوں نے گڑھ کر حضور کے نام لگائی ہے، جیسے:أَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ: سب سے پہلے اللہ نے میرا نور پیدا کیا۔ یہ حدیث قطعاً باطل ہے۔ یہ حدیث زرقانی کی مواہب لدنیہ میں ہے، اور زرقانی نے مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیا ہے، یہ کتاب گیارہ جلدوں میں چھپ چکی ہے، میں نے گیارہ طلباء کو ایک ایک جلد دے کر بٹھایا کہ اس کا ایک ایک حرف پڑھو، اور تلاش کرو یہ حدیث کہاں ہے؟ مصنف عبد الرزاق میں طلباء کو یہ حدیث نہیں ملی، اور مواہب لدنیہ میں یہی ایک حوالہ ہے، اور عجلونی کی کشف الخفاء میں بھی یہ حدیث زرقانی ہی کے حوالہ سے نقل کی ہے، اور کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اور سعید زَغلول نے موسوعہ اطراف الحدیث میں کشف الخفاء ہی کا حوالہ دیا ہے، رزقانی کا حوالہ نہیں دیا۔
یہ حدیث اس طرح ہے: آپؐ نے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں پیدا کرنے سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا کیا، پس وہ نور اللہ کی قدرت سے جہاں اللہ نے چاہا گھومتا رہا، اور اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم، نہ جنت، نہ جہنم، نہ فرشتے، نہ آسمان، نہ زمین، نہ دوزخ، نہ چاند، نہ جنات، نہ انسان۔ پھر جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اس نور کے چار حصے کئے، پہلے جزء سے قلم، دوسرے جزء سے لوح، تیسرے سے عرش پیدا کیا، اور چوتھے حصہ کے پھر چار حصے کئے، پہلے حصہ سے حاملین ِ عرش، دوسرے سے کرسی، تیسرے سے باقی فرشتے پیدا کئے، پھر چوتھے جزء کے چار حصے کئے، اول سے آسمان، ثانی سے زمینیں، ثالث سے جنت وجہنم پیدا کیں، پھر چوتھے حصہ کے چار حصے کئے، اول سے مؤمنین کی آنکھوں کی روشنی، ددم :سے ان کے دلوں کا نور یعنی اللہ کی معرفت ، سوم سے ان کی انسیت کا نور یعنی توحید: لا لٰہ لا اﷲ: محمد رسول اﷲ کو بنایا ( ابھی حدیث اور بھی ہوگی، کشف الخفا میں اتنی ہی نقل کی ہے)
اس حدیث کوپڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے، گھڑی ہوئی بات ہے، اور اس سے وحدت الوجود کے نظریہ کی تائید ہوتی ہے، ایسی حدیثیں موضوع کہلاتی ہیں، یہ حدیثیں نہیں،پس حدیث اور موضوع: متن کی صفتیں ہیں، جو بات نبیﷺنے فرمائی ہے: وہ حدیث ہے، اور جو لوگوں نے آپؐ کے نام لگائی ہے: وہ موضوع ہے۔
اور وہ حدیثیں جو حضورؐہی نے فرمائی ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں: صحیح، حسن اور ضعیف۔ یہ متن کی صفتیں نہیں ہیں، بلکہ سند کی صفتیں ہیں، یعنی نبی پاکﷺسے وہ حدیثیں جو مصنّفین کتب تک پہنچی ہیں وہ کیسے راویوں کے توسط سے پہنچی ہیں؟ اگر سب راوی اعلی درجہ کے ہیں تو وہ حدیث : صحیح ہے، اور اگر کوئی راوی خفیف الضبط ہے تو وہ حدیث: حسن ہے، اور اگر کوئی راوی کمزور ہے تو وہ حدیث ضعیف ہے۔
البانی صاحب کا کارنامہ
اور جب سے حدیثیں کتابوں میں لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے : صحیح، حسن اور ضعیف تینوں قسموں کو ایک ہی کتاب میں جمع کیا جاتا تھا، اور موضوع کے لئے الگ کتابیں لکھی جاتی تھیں، اور چونکہ سند کے اعتبار سے درجے ہوگئے ہیں، اس لئے فقہاء نے مسائل اخذ کرنے کے اعتبار سے بھی درجے قائم کئے ہیں، اگر کسی مسئلہ میں صحیح حدیث بھی ہے اور حسن بھی تو فقہاء پہلے صحیح کو لیتے ہیں۔ اور اگر کسی مسئلہ میں صحیح حدیث بھی ہے اور ضعیف بھی تو فقہاء صحیح کو لیتے ہیں، ضعیف کو نہیں لیتے۔ اسی طرح حسن اور ضعیف جمع ہوجائیں تو حسن کو لیں گے، ضعیف کو نہیں لیں گے، اور اگر کسی مسئلہ میں صرف ضعیف روایت ہو تو دیکھیں گے کہ ضعف کیسا ہے؟ محتمل یعنی قابل برداشت ہے تو چاروں فقہاء اس سے مسائل میں استدلال کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب مختلف سندوں سے کوئی حدیث آئے تو وہ حسن لغیرہ اور قابل استدلال ہوجاتی ہے، جیسے صلاة التسبیح کی کوئی حدیث صحیح نہیں، سب ضعیف ہیں، مگر گیارہ حدیثیں ہیں، پس سب مل کر حسن لغیرہ ہوجائیں گی، اور اس سے صلوة التسبیح کا استحباب ثابت ہوگا، چنانچہ دور اول سے صلاة التسبیح مسلمان پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ اور اگر ضعف قابلِ برداشت نہ ہو، اور سند ایک ہی ہو تو فضائل اعمال میں وہ روایت معتبر ہے، مسائل اس سے ثابت نہیں کئے جاتے۔
بہرحال چاروں فقہاء کے نزدیک صحیح، حسن اور ضعیف: حدیثیں ہیں،اور اپنے اپنے درجے میں معمول بہا ہیں۔ اب ایک صاحب آتے ہیں: جناب ناصر الدین البانی صاحب، انھوں نے حدیث کی کتابوں میں سے پہلے ضعیف روایتوں کو الگ کیا، ضعیف ابی داؤد، ضعیف جامع صغیر، ضعیف مشکوٰة وغیرہ کتابیں لکھیں۔ پھر انھوں نے ان سب ضعیف حدیثوں کو موضوع حدیثوں کے ساتھ ملادیا، اور کئی جلدوں میں کتاب لکھی: سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة وأثرھا السَّیِّٔ فی الأمة: یعنی ضعیف اور موضوع روایات کا مجموعہ جن سے امت کو سخت نقصان پہنچاہے۔ اس طرح عرب ممالک کے نوجوانوں کا اور آپ کے یورپ اور امریکہ کے جوانوں کا ایک ذہن بنادیا کہ ضعیف حدیث :موضوع حدیث ہے، جب بھی کوئی حدیث ان کے خلاف پیش کی جائے گی تو فوراً کہیں گے:ھذا حدیث ضعیف،اور مراد لیں گے کہ یہ حدیث موضوع ہے، یہ حدیث ہی نہیں ۔ یہ کارنامہ جناب عالی نے انجام دیاہے، اور ساری امت کا ذہن خراب کردیا ہے، عرب ممالک میں اگرچہ البانی کی اس حرکت کے ازالہ کے لئے محنتیں ہورہی ہیں، مگر وہ کتابیں آپ کے ملکوں تک نہیں پہنچی ہیں، اس لئے یہاں البانی صاحب نے جوانوں کو جو زہر پلایا ہے اس کا ازالہ کرتے ہوئے دو سوسال لگیں گے۔
غرض صحیح بھی حدیث ہے، حسن بھی حدیث ہے اور ضعیف بھی حدیث ہے، مگر حجت سنت ہے، حدیث حجت نہیں، اسی طرح خلفائے راشدین نے ملک وملت کی تنظیم کے لئے جو طریقے رائج کئے ہیں وہ اگرچہ حدیثیں نہیں ہیں، مگر سنت ہیں، اور حجت ہیں۔ اب میں خلفائے راشدین کی سنتوں کی ایک ایک مثال پیش کرتاہوں:
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سنت:
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو جزیرة العرب میں لوگ تین طرح کے تھے، ایک: مسیلمۂ کذاب کے ساتھی تھے، ان سے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے لوہا لیا، اور ان کو کیفرکردار تک پہنچایا۔ دوسرے: مسلمان :جوبڑی تعدادمیں تھے۔ تیسرے: وہ لوگ جو مسلمان تھے مگر انھوں نے کہا کہ ہم اپنی زکوٰتیں سنٹرل گورنمنٹ کو نہیں دیں گے، ہم اپنے قبیلہ کی زکوٰتیں وصول کرکے خود تقسیم کریں گے، یہ مانعینِ زکات کہلاتے ہیں، ان کی تعداد تھوڑی تھی۔ حضرت صدیق اکبر نے کہا: میں ان کے ساتھ جنگ کروں گا، حضرت عمر نے کہا: یہ لوگ مسلمان ہیں، ان کے ساتھ جنگ کیسے جائز ہے! حدیث ہے: أُمِرْتُ أَنْ أقاتل الناس یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں، پھر جب انھوں نے کلمۂ اسلام پڑھ لیا تو انھوں نے ہم سے اپنی جانیں اور اپنے اموال محفوظ کرلئے، اب ان سے جنگ جائز نہیں، حضرت ابوبکر نے فرمایا: نہیں! میں ان سے جنگ کروں گا، اگر وہ نبیﷺکے زمانہ میں زکات میں رسّی دیتے تھے: وہ بھی نہیں دیں گے تو میں ان سے لڑونگا، اور ان کو مجبور کرونگا کہ وہ زکات مرکزی حکومت کو دیں۔ مگر پھر جنگ کی نوبت نہیں آئی، وہ لوگ قائل ہوگئے، اور انھوں نے سنٹرل گورنمنٹ کوزکوٰة بھیجنی شروع کردی۔
اب مسئلہ طے ہوگیا کہ جو چیزیں شعائر ِ اسلام سے ہیں، اگرچہ وہ سنت کے درجے کی چیزیں ہوں، اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت بالاتفاق ان شعائر کو ترک کردے تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی، اور ان کو مجبور کیا جائے گاکہ وہ شعائر اسلام قائم کریں۔ جیسے ختنہ: اصح قول کے مطابق سنت ہے، لیکن اگر کسی علاقہ کے مسلمان طے کرلیں کہ وہ ختنہ نہیں کرائیں گے تو اسلامی حکومت ان کے ساتھ جنگ کرے گی اور ان کو ختنہ کرنے پر مجبور کرے گی۔اسی طرح اذان سنت ہے لیکن اگر کسی علاقہ کے لوگ طے کردیں کہ وہ اذان نہیں دیں گے تو حکومت ان کے ساتھ جنگ کرے گی اور ان کو اذان دینے پر مجبور کرے گی، یہ سب مسائل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس سنت سے طے ہوئے۔ علاوہ ازیں حضرت ابوبکر نے اپنے بعد خلیفہ نامزد کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے: وہ بھی آپ کی سنت ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنتیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنتیں تو بے شمار ہیں، انھوں نے بہت سے مسائل طے کئے ہیں، تراویح کے ذریعہ ملت کی تنظیم کی ہے، اور ایک مجلس یا ایک لفظ سے دی ہوئی تین طلاقیں، جبکہ تاکید کی نیت نہ ہو: تین قرار دے کر چور دروازہ بند کردیا ہے،یہ ملت کی تنظیم ہے۔ اور عراق جو لڑکر فتح کیا گیاتھا اس کی زمینیں مجاہدین میں تقسیم نہ کرنا اور ذمیوں پر جزیہ کی جو شرح مقرر کی ہے یہ سب ملک کی تنظیم ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سنتیں:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دو زبردست کام کئے ہیں، ایک: جمعہ کی اذان بڑھائی ہے، یہ ملت کی تنظیم ہے۔دوسرا: امت کو لغت قریش پر جمع کیاہے، یہ بھی ملت کی تنظیم ہے۔
قرآن قریش کی لغت میں نازل ہوا تھا، پھر اسے متعدد طرح سے پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی، چنانچہ لوگ مختلف طرح سے پڑھتے بھی تھے اور مختلف طرح سے لکھتے بھی تھے، حضرت عثمان کے زمانے میں مسلمانوں میں اس سلسلہ میں اختلافات شروع ہوئے ۔حضرت عثمان نے قرآن کی جو اصل تحریریں تھیں وہ منگوائیں اور قریش کی زبان میں جو قرآن نازل ہوا تھا، اور جس کو نبیﷺنے لکھوایا تھا اور ملاحظہ بھی فرمایا تھا، اُس لغت میں متعدد قرآن تیار کراکر پورے ملک میں پھیلادئیے اور حکم دیا کہ اس کے علاوہ جو بھی قرآن لکھے گئے ہیں وہ مدینہ میں بھیج دئیے جائیں، آپ نے ان سب کو جلوادیا۔ اور جو سات طرح سے قرآن پڑھنے کی اجازت تھی اس کو موقوف کردیا، جیسے حضرت عمر نے مؤلفة القلوب کا حصہ موقوف کردیا تھا، یہ حضرت عثمان کی سنتیں ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سنت
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمان آپس میں لڑے، پہلی لڑائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہوئی، اس جنگ میں حضرت عائشہ اونٹ پر سوار تھیں، اس لئے وہ جنگ جمل کہلاتی ہے، اس جنگ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہاریں، اور قیدی پکڑے گئے، حضرت عائشہ بھی قیدیوں میں تھیں، مالِ غنیمت بھی جمع ہوا، پس حضرت علی کی فوج نے مطالبہ کیا کہ مالِ غنیمت تقسیم کیا جائے، حضرت علی نے تقریر فرمائی، اور فرمایا: اگر مالِ غنیمت تقسیم ہوگا تو قیدی بھی غلام باندی بنائے جائیں گے، پس تم میں سے کون منحوس ہے جو اپنی ماں حضرت عائشہ صدیقہ کو اپنی باندی بنائے گا؟ بس سناٹا چھاگیا، اور مسئلہ طے ہوگیا کہ اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑیں تو نہ مال: مالِ غنیمت ہوگا، اور نہ قیدی، غلام باندی بنائے جائیں گے۔ یہ حضرت علی کی سنت ہے، اور یہ خلفائے راشدین کے وہ طریقے ہیں جو ملک وملت کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں، جن کو حدیث شریف کی رو سے اپنانا ضروری ہے۔




حدیث یا سنت کا فیصلہ کون کرے گا؟
بہرحال حجت سنت ہے، حدیث حجت نہیں، اب رہا یہ سوال کہ اس کا فیصلہ کون کرے گاکہ فلاں حدیث سنت ہے، اور فلاں حدیث سنت نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا فیصلہ مجتہدین کریں گے، اور اس میں کبھی اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔
مثلاً: تمام فقہاء متفق ہیں کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتی، پس حدیث توضئوا ممامست النار: صرف حدیث ہے، سنت نہیں، اور تمام فقہاء متفق ہیں کہ مجامعت شروع ہوتے ہی غسل واجب ہوجاتا ہے، چاہے فراغت نہ ہوئی ہو، پس حدیث الماء من الماء صرف حدیث ہے، سنت نہیں ۔
اور نماز میں رفع یدین کی بھی حدیثیں ہیں اور ترک رفع کی بھی۔ اب بڑے دو امام کہتے ہیں : رفع یدین کی حدیثیں منسوخ ہیں، اس لئے سنت ترک رفع ہے۔ اور دوسرے دو اماموں کا فیصلہ اس کے برعکس ہے، ایسا ہی اختلاف آمین بالجہر کی حدیث میں ہواہے۔ دو بڑے امام کہتے ہیں: آپؐ کا جہر حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی تعلیم کے لئے تھا، اس لئے سنت نہیں ، اور دوسرے دو امام جہراً آمین کہنے کو سنت قرار دیتے ہیں ۔ اور ایسے ہی اختلاف کی صورت میں تقلید کی ضرورت پیش آتی ہے۔
تقلید صرف تین قسم کے مسائل میں ہے، اور ان میں تقلید کے بغیر چارہ نہیں:
اور ائمہ کی تقلید صرف تین قسم کے مسائل میں کی جاتی ہے، باقی ساری شریعت میں کسی کی تقلید نہیں کی جاتی، اللہ اور اس کے رسول ہی کی تقلید کی جاتی ہے، اور ان تین قسم کے مسائل میں تقلید کے علاوہ چارہ نہیں۔ اور وہ تین قسم کے مسائل فقہ کے بیس فیصد مسائل ہیں۔
وہ تین قسم کے مسائل یہ ہیں:
١ـ کبھی نص فہمی میں اختلاف ہوجاتا ہے کہ اِس آیت کا اوراِس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ ایک امام کہتا ہے: یہ مطلب ہے، دوسرا کہتا ہے: یہ مطلب ہے، اور زبان کی رو سے دونوں مطلب ہوسکتے ہیں تو تقلید کے علاوہ چارہ نہیں رہتا۔
٢ـ کبھی ناسخ ومنسوخ متعین کرنے میں اختلاف ہوجاتا ہے، یعنی کونسی روایت مقدم ہے اور کونسی مؤخر: اس میں اختلاف ہوجاتا ہے۔
٣ـ کبھی مسئلہ استنباطی ہوتا ہے، نص کی تہ میں جاکر مسئلہ لانا ہوتا ہے ،اور اس میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ سب کی مثالیں یہ ہیں:
نص فہمی میں اختلاف کی مثالیں:
پہلی مثال: قرآنِ کریم میں ہے )أَوْلاَ مَسْتُمُ النِّسَاءَ): یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو۔ اس آیت میں وضوء توڑنے والی چیز کا ذکر ہے یا غسل توڑنے والی چیز کا؟ قرآنِ کریم میں لاَمَسَ:باب مفاعلہ سے ہے، لَمَسَ: مجرد نہیں ہے، لَمَسَ کے معنی ہیں: چھونا، اور لاَمَسَ کے معنی ہیں: دو شخصوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کوچھونا۔
امام اعظم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس آیت میں موجباتِ غسل کا بیان ہے، لاَمَسَ باب مفاعلہ سے ہے، اور ایک ساتھ مرد عورت کوپکڑے اور عورت مرد کو پکڑے: ایسا کب ہوتا ہے؟ جب آدمی صحبت کرتا ہے اور فراغت کا وقت آتا ہے تو مرد بیوی کوپکڑتا ہے اور بیوی مرد کو، اور دونوں فارغ ہوتے ہیں۔ پس جب انزال ہوگیا تو غسل واجب ہوگیا۔ غرض امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک(لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ) میں نواقض غسل کا بیان ہے۔
اور دوسرے تین اماموں کے نزدیک لاَمَسَ: لَمَسَ کے معنی میں ہے اور اس آیت میں نواقض وضوء کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: اگر باوضوء آدمی نے کسی عورت کو ہاتھ لگایا تو وضوء ٹوٹ گئی۔ اور عربی زبان کے قواعد سے دونوں معنی کی گنجائش ہے، ہر ایک کی بات معقول نظر آتی ہے، پس یہ نص فہمی کا اختلاف ہے۔
دوسری مثال: اسی آیت کا اگلا ٹکڑا ہے: (أَوْجَاءَ أَحَد مِنْکُمْ مِنَ الْغَائِطِ): یا آیا ہوتم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے( تو وضوء ٹوٹ جائے گی) اب فقہاء میں اختلاف ہوا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب آدمی نشیبی جگہ میں جاتا ہے تو انسان کے بدن سے ناپاکی نکلتی ہے، پس سر سے پیر تک کہیں سے بھی ناپاکی نکل کر بہہ جائے :تو وضوء ٹوٹ جائے گی۔ دوراہوں کی کوئی تخصیص نہیں۔ اور تین اماموں نے کہا: نشیبی جگہ میں ناپاکی اگلی راہ سے یا دونوں راہوں سے نکلتی ہے، باقی جسم سے نہیں نکلتی، اس لئے انھوں نے طے کیا کہ سبیلین سے ناپاکی نکلے گی تووضوء ٹوٹے گی، ورنہ نہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک قئی، نکسیر، پھوڑے پھنسی سے پیپ یا خون نکلنے سے وضوء نہیں ٹوٹتی۔
جب ایسا اختلاف ہوجائے تو ہم کیا کریں ؟ جس کو جس امام سے عقیدت ہو اس کی تقلید کرے، ایسی صورت میں تقلید کے علاوہ راستہ کیا ہے؟ ہمارے پاس اتنا علم نہیں کہ ہم خود فیصلہ کریں کہ آیت کا یہ مطلب ہے یا وہ۔
تیسری مثال: نبی پاکﷺنے فرمایا:                              صَلاَةُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، فَِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَکْعَةٍ: رات کی نماز( تہجد کی نماز) دو دو،دو دو رکعتیں ہیں، پس جب تمہیں اندیشہ لاحق ہو کہ صبح صادق ہونے والی ہے توایک رکعت کے ذریعہ نماز کو طاق بناؤ
اس حدیث میں دو مسئلوں میں اختلاف ہوا ہے:
پہلا اختلافی مسئلہ: تہجد کی نماز میں ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا مسئلہ ہے یا یہ تہجد گذاروں کے لئے سہولت ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ تہجد گذاروں کے لئے ایک سہولت ہے، مسئلہ نہیں ہے۔
مسئلہ کیا ہے: مسئلہ اختلافی ہے کہ نفلوں میں دو پر سلام پھیرنا اولیٰ ہے یا چار پر؟ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کہتے ہیں: خواہ رات کے نفل ہوں یا دن کے ( اور سنت مؤکدہ بھی نفل ہیں) دو رکعتوں پر سلام پھیرنا اولیٰ ہے، اور اگر کوئی ایک سلام سے چار پڑھے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ دو رکعت پر سلام پھیرنا اولیٰ ہے۔
اور امام مالک فرماتے ہیں: رات میں ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھنا جائز ہی نہیں، او ر دن میں اولیٰ یہ ہے کہ دوپر سلام پھیرے،اور چار ایک سلام سے جائز ہیں۔
اور صاحبین نے فرمایا کہ رات میں دوپر سلام پھیرنا اولیٰ ہے، اور دن میں چار نفلیں ایک سلام سے پڑھنا افضل ہے۔
اور امام اعظم رحمہ اللہ نے فرمایا: رات کے نفل ہوں یا دن کے: چار ایک سلام سے پڑھنا افضل ہے، اور دوپر سلام پھیرنا جائز ہے۔
اور امام اعظم کی دو دلیلیں ہیں:
ایک:دن میں بھی فرض نماز چار رکعتوں والی ہے( ظہر اور عصر) اور رات میں بھی فرض نماز چار رکعتوں والی ہے( عشاء) اور فرائض غیر اولیٰ ہیئت پر نہیں ہوسکتے، بہترین حالت پر ہی فرائض ہوتے ہیں۔ پس ایک سلام سے چار نفلیں پڑھنا اولیٰ ہے۔
دوسری دلیل: نبیﷺسے دن میں چار رکعتیں ایک سلام سے پڑھنا ثابت ہے، حضور ظہر سے پہلے چار سنتیں ہمیشہ ایک سلام سے پڑھتے تھے، اور کبھی عصر سے پہلے بھی چار سنتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے، اور نبی کبھی مسئلہ کی وضاحت کے لئے توغیر اولیٰ کام کرسکتا ہے، جیسے آپؐ نے ایک مرتبہ کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا ، مگر نبی بالدوام یا بالاکثر غیر اولیٰ کام نہیں کرتا، اور حضورؐنے دن میں چار سنتیں ہمیشہ یا اکثر ایک سلام سے پڑھی ہیں، اس لئے یہی افضل ہے، اور رات کے نفلوں کو دن کے نفلوں پر قیاس کریں گے، پس رات میں بھی چار رکعتیں ایک سلام سے پڑھنا افضل ہے۔
اور حضورؐنے جو فرمایا ہے:صلاةُ اللیل مثنیٰ مثنیٰ: امام اعظم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ مسئلہ نہیں ہے ،مصلحت ہے، یہ تہجد گذاروں کے لئے ایک سہولت ہے۔
صحابہ تہجد کی نماز بہت لمبی پڑھتے تھے، پس اگر چار کی نیت باندھیں گے تو تھک جائیں گے، اس لئے فرمایا: دو کی نیت باندھو اور لمبی پڑھو، پھر سلام پھیر کر ذرا ٹانگیں سیدھی کرو، اور سستا لو،پھر اگلی دو کی نیت باندھو۔ اس طرح اگر کوئی رات بھر بھی نفلیں پڑھتا رہے تو تھکے گا نہیں۔
بہرحال حدیث کے پہلے ٹکڑے میں اختلاف ہوا ہے، امام اعظم کی رائے اور ہے، اور صاحبین کی اور، اوردیگر ائمہ کی اور۔ اور سب حضرات اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، پس ایسی صورت میں تقلید کے علاوہ راستہ کیا ہے؟
دوسرا اختلافی مسئلہ: حدیث کا اگلا ٹکڑا ہے:              اِِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَکْعَةٍ: جب تمہیں اندیشہ لاحق ہو کہ اب صبح ہونے والی ہے تو ایک رکعت کے ذریعہ نماز کو طاق بناؤ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ تین امام کہتے ہیں: اب دو رکعتوں پر سلام پھیر دو، اور ایک رکعت علاحدہ پڑھو، ایک رکعت کے ذریعہ طاق بنانے کا یہی مطلب ہے، چنانچہ ان کے نزدیک دوپر سلام پھیرتے ہیں ، اور ایک رکعت الگ سلام سے پڑھتے ہیں۔
اور احناف کہتے ہیں: اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں صبح کا اندیشہ لاحق ہو تو اب دو کی نیت مت باندھو، بلکہ تین کی نیت باندھو، اور دو کے ساتھ تیسری رکعت بھی ملاؤ، یہ آخری تین رکعتیں طاق ہوگئیں، اِس سے پہلے والی سب رکعتیں جفت تھیں۔
اور حنفیہ کے نزدیک اس حدیث کا یہ مطلب اس لئے ہے کہ نسائی شریف میں سند صحیح سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ نبیﷺوتروں کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔اس حدیث کی روشنی میں حنفیہ نے مذکورہ بالا حدیث کا مطلب سمجھا ہے۔
احناف کے نزدیک أوتر برکعة:ایک رکعت کے ذریعہ نماز طاق بناؤ کا یہی مطلب ہے کہ اس سے پہلے والی دو رکعتوں کو طاق بناؤ، غرض یہی حدیث حنفیہ کی بھی دلیل ہے اور تین اماموں کی بھی، اور اختلاف نص فہمی کا ہے۔ اب ہم کیا کریں ؟ ہمارے لئے ایک ہی راستہ ہے: جس کو جس امام سے عقیدت ہو اس کی تقلید کرے۔
روایات میں بھی اختلاف اور تطبیق میں بھی اختلاف:
دوسری قسم کے مسائل: کبھی روایات میں بھی تعارض ہوتا ہے، اور ان کی تطبیق میں بھی اختلاف ہوجاتا ہے، یعنی ناسخ ومنسوخ کی تعیین میں اختلاف ہوجاتا ہے، جیسے حدیث کی کتابوں میں رفع یدین کی روایات بھی ہیں اور عدم رفع کی بھی، یہ دونوں روایتیں ایک زمانہ کی نہیں ہوسکتیں۔ اب ان میں سے کونسی دور اول کی ہیں اور کونسی دور مابعد کی؟ یہ طے کرنے میں ائمہ میں اختلاف ہوگیا، بڑے دو امام کہتے ہیں: رفع والی روایتیں دورِ اول کی ہیں، اور عدم رفع والی روایتیں بعد کی ہیں، اور چھوٹے دو امام کہتے ہیں: عدم رفع والی روایتیں دور ِ اول کی ہیں اور رفع والی بعد کی۔ غرض ناسخ ومنسوخ طے کرنے میں اختلاف ہوگیا، پس ہم کیا کریں ؟ یہی کہ جس کو جس امام سے عقیدت ہو اس کی تقلید کرے۔
اور بڑے دو اماموں کی دلیل یہ ہے کہ خلفائے راشدین نے رفع یدین نہیں کیا۔ اگر رفع یدین نبیﷺکا آخری عمل ہوتا تو چاروں خلفاء رفع ضرور کرتے، ایسا ممکن نہیں کہ خلفاء آپؐ کے مصلیٰ پر کھڑے ہوتے ہی آپؐ کا عمل بدل دیں۔
استنباطی مسائل میں اختلاف:
تیسری قسم کے مسائل:استنباطی مسائل ہیں۔موتی دریا کی تہ میں ہوتے ہیں، اوپر نہیں تیرتے، اور موتی ہر کوئی نہیں نکال سکتا، غواص( غوطہ خور) ہی نکال سکتا ہے۔ ایسے ہی استنباطی مسائل ہیں: جو قرآن وحدیث کی ظاہری سطح پر نہیں ہیں، بلکہ تہ میں ہیں: ان کو کون نکالے گا؟ مجتہدین امت نکالیں گے، مگر ان میں کبھی اختلاف ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں تقلید( پیروی) کے علاوہ راستہ کیا ہے؟ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں:
آیت ِ وضو میں پانچ استنباطی مسائل اور ان میں اختلاف
قرآنِ کریم میں آیت ِ وضو ء ہے، اس آیت میں وضوء کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے: دنیا کے تمام مسلمان اسی طرح وضوء کرتے ہیں، لیکن اس آیت میں پانچ استنباطی مسائل ہیں، جن میں اختلاف ہواہے:
پہلا مسئلہ: یہ ہے کہ وضوء میں نیت ضروری ہے یا نہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ضروری ہے۔ دوسرے ائمہ کے نزدیک: ضروری نہیں، اور اس کی صرف نادر صورت ہے: ایک آدمی کھیت میں ہل چلارہا تھا، بارش شروع ہوگئی اور وہ سر سے پیر تک بھیگ گیا، اب نماز کا وقت آگیا، تو کیا نماز پڑھنے کے لئے اُس کو وضوء کرنی پڑے گی یا وہ جو بھیگا ہے اس سے وضوء ہوگئی؟امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے وضوء نہیں ہوئی، اس لئے کہ اس نے نیت نہیں کی، اور دوسرے ائمہ کہتے ہیں: اس کی وضوء ہوگئی۔
یا ایک آدمی جنبی تھا اور تالاب پر کھڑا تھا، اس کادوست آیا اور دھکا دیدیا، وہ تالاب میں گرپڑا اور ڈوب کر نکل آیا، پس کیا اس کا غسل ہوگیا؟ امام شافعی فرماتے ہیں: نہیں ہوا، کیونکہ اس نے غسل کی نیت نہیں کی، اور دوسرے ائمہ کہتے ہیں: غسل ہوگیا۔ یہ مسئلہ آیت کے ظاہر میں نہیں ہے، یہ استنباطی مسئلہ ہے، اور اس میں اختلاف ہوا ہے، پس ہم کیا کریں ؟ یہی ناکہ جس کو جس امام سے عقیدت ہو اس کی پیروی کرے۔
دوسرا مسئلہ: آیت میں وضوء کی جو ترتیب ہے وہ لازم ہے یا غیر لازم؟ یعنی اسی ترتیب سے وضوء کرنی ضروری ہے یا نہیں؟ایک آدمی کھیت سے آیا، اس نے پہلے مٹی سے آلودہ پیر دھوئے، پھر چہرہ دھویا، پھر ہاتھ دھوئے اور مسح کیا، تو وضوء ہوئی یا نہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وضوء نہیں ہوئی، کیونکہ وضوء میں ترتیب ضروری ہے، دوسرے ائمہ کہتے ہیں: وضوء ہوگئی، ترتیب سنت ہے، ضروری نہیں، اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں جوواو ہے وہ ترتیب کے لئے ہے یا مطلق جمع کے لئے؟ اس میں اختلاف ہوا ہے، اور یہ استنباطی مسئلہ ہے، اس میں تقلید کے علاوہ چارہ کیا ہے؟
تیسرا مسئلہ: آیت وضوء میں ا لی المرافق اورا لی الکعبین ہے، یعنی ہاتھوں کو کہنیوں تک اور پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ،اس'' تک'' کا کیا مطلب ہے؟ کہنیاں دھونی ہیں یا نہیں؟ ٹخنے دھونے ہیں یا نہیں؟ امام زفر رحمہ اللہ کہتے ہیں: نہیں ہونے، غایت: مغیا سے خارج ہے۔ باقی ائمہ کہتے ہیں: دھونے ہیں، غایت : مغیا میں داخل ہے۔ غرض لیکے معنی متعین کرنے میں اختلاف ہوگیا۔
چوتھا مسئلہ: وضوء میں موالات شرط ہے یا نہیں؟ موالات کے معنی ہیں: ایک عضو خشک ہونے سے پہلے دوسرا عضو دھونا۔ کسی نے ایک عضو دھویا، پھر کسی سے باتیں کرنے لگا، اور دھویا ہوا عضو خشک ہوگیا، پھر اگلا عضو دھویا تو وضوء ہوئی یا نہیں؟ امام مالک کہتے ہیں: وضوء نہیں ہوئی، موالات شرط ہے۔ باقی ائمہ کہتے ہیں: وضوء ہوگئی۔
پانچواں مسئلہ: وضوء میں پیر دھونے ہیں یا ان پر مسح کرنا ہے؟ شیعہ کہتے ہیں: پیروں پر مسح کرنا ہے، اور اہل السنہ والجماعۃ کہتے ہیں: پیر دھونے ہیں، اگر ان پر خفین نہ ہوں۔ شیعہ آیت کی جروالی قراء ت سے استدلال کرتے ہیں، اور اہل السنہ فتح والی قراء ت سے۔
میں یہ مثالیں اس کی دے رہا ہوں کہ جو استنباطی مسائل ہیں، جو نص کی تہ میں ہیں، ان مسائل میں غواصوں( ائمہ مجتہدین) کے درمیان اختلاف ہوئے ہیں، پس یہ تین قسم کے مسائل ہیں:1 ـنص فہمی کا اختلاف 2ـ جہاں روایات میں تعارض ہواور تطبیق میں بھی اختلاف ہو 3ـ استنباطی مسائل، جن کے استنباط میں اختلاف ہوجائے تو ان تین قسم کے مسائل میں تقلید کرنی ضروری ہے، ان میں تقلید کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، اور یہ مسائل فقہ اسلامی کا بیس فیصد حصہ ہیں، باقی اسّی فیصد مسائل وہ ہیں جو قرآن وحدیث میں صراحۃ آئے ہیں، ان میں کسی امام کی تقلید نہیں ، ان میں اللہ ورسول ہی کی تقلید کی جاتی ہے۔
خلاصۂ کلام: میں نے خطبہ میں آیت پڑھی تھی قُلْ ھذِہِ سَبِیْلِیْ أَدْعُوْا ِلَی اللّٰہِ): آپ کہئے: یہ میرا راستہ ہے۔اسی راستہ کا نام سنت ہے، اور مشہور حدیث ہے کہ یہود کے اکہتر فرقے ہوئے، جو سب جہنم میں جائیں گے، اور عیسائیوں کے بہتر فرقے ہوئے، وہ بھی سب جہنم میں جائیں گے، اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے، جن میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا، صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ! وہ ایک فرقہ جو جنت میں جائے گا: کونسا ہے؟ آپؐ نے فرمایا:مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِیْ: وہ ایک فرقہ وہ ہے جو اس طریقہ پر ہوگا جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔ یہیں سے چار ائمہ کے متبعین کے لئے نام تجویز کیا گیا : اہل السنہ والجماعۃ: سنت ِ نبوی اور جماعت مسلمین کے فیصلوں (اجماع) کو ماننے والے، جس راہ پر حضور ہیں اس کا نام سنت ہے، اور جس راہ پر صحابہ ہیں وہ جماعت مسلمین کے اجماعی مسائل ہیں۔
حدیث کے حجت ہونے کی کوئی دلیل نہیں:
حدیث میں حضورﷺنے ارشاد فرمایا: مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِیْ فَلَہ أَجْرُ کَذَا: جب امت میں بگاڑ آجائے: اس وقت جو میرے طریقے سے چمٹا رہے گا اس کو اتنا ثواب ملے گا۔ اور مشکوٰة میں باب ہے:باب الاعتصام بالکتاب والسنة: اس باب میں چھ روایتیں ہیں، سب میں سنت ہی کا لفظ ہے۔ اس لئے چار ائمہ کے ماننے والوں کا مشترک نام : اہل السنہ والجماعۃ ہے۔ اور وہ جو چار ہوگئے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسے دیوبند، سہارن پور اور لکھنؤ سے فارغ ہونے والے طلبہ اگرچہ قاسمی، مظاہری اور ندوی کہلاتے ہیں، مگر وہ سب دیوبندی ہیں، اسی طرح حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی اگرچہ جدا جدا نام ہیں، مگر وہ سب اہل السنہ والجماعۃ ہیں، اور ان کے درمیان جو اختلافات ہیں: وہ مسائل میں ہیں، اصول وعقائد میں کوئی اختلاف نہیں، اور مسائل کے اختلاف سے فرقے نہیں بنتے، فرقے عقائد میں اختلاف سے بنتے ہیں، اور وہ جو تہتر فرقوں والی حدیث ہے اس کا تعلق عقائد سے ہے، مسائل سے نہیں ہے۔ جب اصول وعقائد الگ ہوجاتے ہیں تو فرقوں کے نام الگ ہوجاتے ہیں، کوئی اہل حدیث کہلاتا ہے، کوئی اہل قرآن۔ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ حدیث اور سنت ایک چیز ہے: وہ دھوکہ ہے۔ میرے بھائیو! اس دھوکہ میں مت آؤ، اہل قرآن بھی تو یہی کہتے ہیں کہ ہم قرآن کے ماننے والے ہیں۔ یہ سب گمراہ فرقے ہیں، اور سنت اور حدیث ایک چیز نہیں ہیں، بلکہ ان میں وہ فرق ہے جو میں نے گوش گذار کیا، اس فرق کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔
آپ کے ملک میں کچھ لوگ فتنہ پرداز ہیں، وہ آکر نوجوانوں کو پریشان کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ حدیث ہے، یہ بخاری کی حدیث ہے، نوجوان پریشان ہوجاتے ہیں کہ اب ہم کیا کریں؟ اس لئے میں نے فرق سمجھایا کہ حدیث اور ہے اور سنت اور۔ اور سنت کو مضبوط پکڑنے کا حکم ہے، حدیث کو نہیں، وہ لوگ اہل حدیث ہوں تو ہوتے رہیں، ہم اہل السنہ والجماعۃ ہیں، پس ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
اجماع بھی حجت شرعیہ ہے!
اور اجماع بھی حجت ِ شرعیہ ہے، اور اس کا استناد قرآن سے ثابت ہے، سورة النساء کی(آیت115) ہے کہ جو مسلمانوں کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر ہولیا: وہ جہنم رسید ہوگا۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی آیت سے اجماع کی حجیت پر استدلال کیا ہے، اس لئے اہل حق کے نام کا دوسرا جزء والجماعةہے۔
ناچنا نہیں آنگن ٹیڑھا!
اور اہل حدیث ( غیر مقلدین) اجماع کی حجیت کے قائل نہیں، عرف الجادی کے مقدمہ میں اس پر بحث ہے، مگر وہ صاف انکار نہیں کرسکتے، مسلمان ان کے منہ پر تھوکیں گے، اس لئے کہتے ہیں: ہم قطعی اجماع کو مانتے ہیں، ظنی اجماع کو نہیں مانتے! تو کیا اجماع کا تذکرہ قرآنِ کریم میں ہوگا؟ قطعی ہونے کی اس کے علاوہ کیا صورت ہے؟ یاتواتر سے منقول ہوگا، درانحالیکہ کوئی حدیث متواتر ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، پھر جب خبر واحد جو مفید ظن ہے: حجت ہے تو اجماع جو اسی طرح مروی ہو: حجت کیوں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ناچنا نہیں آنگن ٹیڑھا!
قیاس محض آلۂ استنباط ہے:
رہا قیاس تو وہ حجت بایں معنی ہے کہ وہ آلۂ استنباط ہے، وہ ایک ڈوئی ہے جس کے ذریعہ ڈیگوں سے کھانا نکالا جاتا ہے، اور ڈیگیں: قرآن ، سنت اور اجماع امت ہیں۔ قیاس خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔وہ آلۂ استنباط مسائل ہے، پس اگر قیاس معتبر نہیں تو یہ تین ڈیگیں بھی معتبر نہیں، ہاں وہ قیاس جس کا کوئی شرعی استناد نہ ہو: وہ حجت نہیں، وہ ابلیس کا قیاس ہے۔
آخری چیلنج!
اب آخر میں ایک چیلنج دیتا ہوں، اور قیامت کی صبح تک دیتا ہوں کہ کوئی ایسی حدیث لاؤ، چاہے وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو کہ نبیﷺنے حدیث کو مضبوط پکڑنے کا حکم دیا ہے ۔ حدیثیں یاد کرنے کے اور ان کو روایت کرنے کے فضائل آئے ہیں، مگر ایسی ایک حدیث بھی نہیں ہے: جس میں حدیث کو مضبوط پکڑنے کا حکم دیا ہو۔ تمام حدیثوں میں سنت ہی کو مضبوط پکڑنے کا حکم دیاہے۔ وآخر دعوانا أن الحمد ﷲ رب العالمین۔






بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین الصطفی۔اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اھدنا الصراط المستقیم ۔صراط الذین انعمت علیھم۔ غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ وقال رسول اللہ ﷺ علیکم بسنتی وسنة خلفاءالراشدین المھدیین۔صدق اللہ مولٰنا العظیم وبلغنا رسولہ النبی الکریم الامین ۔ونحن علیٰ ذالک لمن الشاھدین والشاکرین والحمد للہ رب العالمین۔
اللہ تبارک وتعا لی کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی پوری مخلوقات میں سے ہمیں انسان بنایا جو کہ اشرف المخلوقات ہے۔او ر انسانوں میں سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں مسلمان بنایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاںسچا دین صرف اور صرف اسلام ہے۔اور پھر مسلمانوں میں اہل سنت والجماعت بننے کی توفیق عطاءفرمائی ۔ جس طرح سارے دینوں میں سچا دین صرف اسلام ہے اسی طرح مسلمانوں میں سے نجات پانے والی جماعت کا نام اہل سنت والجماعت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں تاکیدیں فرمائیں کہ علیکم بسنّتی میر ی سنّت کو لازم پکڑنااور فرمایا فمن رغب عن سنّتی فلیس منّی جو میری سنّت سے منہ موڑ گیا ہو میرا کہلانے کا حقدار نہیں۔من احبّ سنّتی فقد احبّنی ۔جس نے میری سنّت سے پیار کیااس نے مجھ سے پیار کیا ومن احبنی کان معی فی الجنّة اور جس نے مجھ سے پیا ر کیا وہ میرے ساتھ جنّت میں ہو گا۔تو آپ ﷺ نے سنت پر عمل کرنے کی بہت تاکیدین فرمائیں۔
حضرت آپ کی سنت کیا ہے؟
ایک دن صحابہ اکرام ؓ نے عرض کیا کہ حضرت آپ کی سنّت کیا ہے؟فرمایا میری سنّت یہ ہے کہ سینہ کینے سے پاک ہو۔ہمارے مسلک اہل سنّت والجماعت میں جہاں اورہزاروں خوبیاں ہیں ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس مسلک کی بنیاد کسی کینے پر نہیں۔آپ اِرد گِرد نظر دوڑائیں گے کسی فرقے کی بنیاد ہی یہی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کے صحابہؓ سے کینہ رکھا جائے۔ کسی کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ نبی پاک ﷺکے اہل بیت سے کینہ ہو۔کسی کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ فقہاءکرام کے خلاف کینہ ہو ۔کسی کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ محدثین کے خلاف کینہ ہو ۔عثمانی کی بنیادہی اسی بات پر ہے کہ اولیٰاءاللہ کے خلاف کینہ رکھا جائے۔کوئی علماءامت کے خلاف کینہ رکھتا ہے۔لیکن ایک مسلک اہل سنّت والجماعت ہے جو دنیا میں محبت اور پیار کا پیغام دیتا ہے۔وہ یہ ہی کہتا ہے ، ان کی دُعا اور محنت یہ ہی ہے کہ یا اللہ جس طرح ہمارا کینہ صحابہ کرام ؓ کی محبت سے پر نور ہے سب کے سینے کو صحابہ کی محبت سے پر نور کر دے۔یا اللہ جس طرح ہمار ے دل اہل بیت کی محبت سے منوّر ہیں سے کے دلوں میں آپ ﷺ کی اور اہل بیت کی محبت پیدا فرمادیجیے۔یا اللہ جس طرح فقہاءومحدثین سے ہمیں محبت ہے،یہ دو جماعتیں ہیں فقہاءاور محدثین جنہوں نے صحابہؓ کے بعد دین کی خدمت کی ہے۔
محدث اور فقیہ میں فرق کی مثال:
کیا بات ہے؟کیا بات ہے(ڈانٹ کے ساتھ غصّے کا اظہار کرتے ہوئے)۔ کیا بات ہے (تعریفی انداز میں)دیکھیے ایک فقرہ میں نے آپ کے سامنے تین دفعہ بولا ہے۔پہلے میرا لہجہ سوالیہ تھا تو سب نے پیچھے دیکھا پتہ نہیں کیا بات ہے اِدھر۔دوسری بار میں نے صرف لہجہ بدلہ ہے ایک نقطہ بھی کم وبیش نہیں کیااور میں نے پوراغصہ اس میں بھر دیا ہے گویا میں کسی کو ڈانٹ رہا ہوں۔تیسری مرتبہ میں نے یہ ہی فقرہ بولا ہے صرف لہجہ بدلا ہے اور اسی فقرے میں محبت اور پیار بھر دیا ہے گویا میں کسی کی تعریف کر رہا ہوں کہ کیا بات ہے۔اب یہ میرا بولا ہو ا فقرا کا غذپر لکھ کر کسی کے سامنے رکھ دیاجائے تو جس نے میر ا لب و لہجہ نہیں دیکھا تو وہ کیا سمجھے گاکہ یہ پیار میں کہا ہے یا غصّے میں کہا ہے یا سوالیہ لہجہ ہے۔تو معلوم ہواکہ ہمیں صرف الفاظ کی ضرورت نہیں ہے۔کس ماحول میںحضرت نے ارشاد فرمایا آپ کا لب و لہجہ کیا تھا اس کی بھی ضرورت ہے۔اسی لیے محدثین کو ن ہیں؟ الفاظ شناس ِ رسول ﷺ۔اور فقہاہیں مزاج شناسِ رسول ﷺ۔محدث کی رسائی زبانِ رسول ﷺ تک ہے کہ حضرت فرمان کیا فرما رہے ہیں۔اور فقہا حضرت کی پیشانی سے سینکڑوں مسائل پڑ ھ جاتے ہیں۔اسی لیے یہ دونوں جماعتیں دین کی خادم ہیں کہ ایک نے چھلکے کو محفوظ کیا ہے دوسرے نے مغظ کو محفوظ کیا ہے۔اور اہل سنت والجماعت (الحمد للہ ) دونوں سے محبت رکھتے ہیں۔اولیاءاللہ سے محبت رکھتے ہیں۔ تو ایک تو خوبی یہ ہوئی دنیا میں کہ اہل سنت والجماعت جو مسلک ہے یہ محبت اور پیار کا مسلک ہے۔صحابہؓ سے محبت رکھو، اہل بیت سے محبت رکھو ، اولیاءاللہ سے محبت رکھو،علماءامت سے پیار کرو، فقہا سے محبت رکھو، محدثین سے محبت رکھو۔ یہ تو دنیا میں فائدہ ہے۔اور آخرت میںجب ان کی بات سنی جائے گی اللہ کی بارگاہ میں تو آج اگر حضرت تونسوی دامت برکاتھم العالیہ یہ گالیاں سن کر بھی فاروق اعظم کی شان بیان کرتے ہیں تو کیا قیامت کے دن فاروق اعظم جو ہیں وہ حضرت تونسوی ؒ کو بھول جائیں گے؟وہ سفارش کریں گے سنیوں کی۔حضرت مولٰنا قاضی مظہر حسین صاحب دامتبرکاتہم العالیہ سب کی گالیاں سن کر بھی اہل بیت کی شان بیان کرتے ہیں۔تو کیا قیامت کے دن اہل بیت قاضی صاحب کو بھول جائیں گے۔قیامت میں فائدہ یہ ہو گا کہ صحابہ کہیں گے آؤ ہم تمہاری سفارش کر دیں اللہ کی بارگاہ میں۔اہل بیت بھی آوازیں دیں گے سنیو آ ہم تمہاری سفارش کر دیں اللہ کی بارگاہ میں۔ محدثین بھی ہماری سفارش کریں گے الحمد للہ ۔ فقہا بھی ہماری سفارش کریں گے۔اولیاءاللہ بھی ہماری سفارش کریں گے۔تو اس لیے یہ ایک ایسی با برکت جماعت ہے جو دنیا میں بھی محبت اور پیار کا پیغام دیتی ہے۔
سنّت کسے کہتے ہیں۔
آپ اپنے کاموں پر نظر دوڑائیں تو یقینا آپ اپنے کاموں کو دو حصّوں میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ ایک وہ کام جو آپ عادةً کرتے ہیں۔اور ایک وہ کام جو کبھی ضرورتاً کرتے ہیں۔مثلاًایک آدمی کی عادت ہے کہ روزانہ فجر کی نمازکے بعد ایک پارہ تلاوت کرتا ہے اس نے عادت بنا لی۔ اسی طرح ایک آدمی ہے وہ روزانہ اذان سے پہلے سیر کونکل جاتا ہے پھر آکرجماعت سے نماز پڑھ لیتا ہے۔انہوں نے ایک عادت بنا لی ہے۔ایک دن آپ نے دیکھا اس نے تلاوت نہیں کی اُٹھ کر چلا گیا ہے اگلے دن آپ نے پوچھا کل آپ بیٹھے نہیں۔ وہ جواب دیتا ہے کہ ایک دوست بیمار تھا میں نے سوچا کالج جانے سے پہلے اس کی بیمار پرسی کر لوں ۔ تو یہ عمل جو اس نے کیا یہ ضرورت تھی نہ کہ عادت ۔ تو جب آپ اپنے کاموں پر نظر دوڑائیں گے تو کچھ کام آپ ضرورةً کرتے ہیں اور کچھ کام آپ عادةً کرتے ہیں۔یقینا آپ ﷺ کے مبارک کام بھی ان دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ کچھ کا م آپ عادةً فرماتے تھے اور کچھ کام ضرورةً فرماتے تھے۔اب ان میں سے ہم نے تابعداری کن کاموں کی کرنی ہے فرمایا علیکم بسنّتی وہ جو میں عادةًکام کرتا ہوں ان کی تابعداری کرو۔ اب حدیث میں دونوں چیزیں آئیں گی سنت والے کا م بھی اور عادت والے کام بھی۔اب جس میں دو چیزیں آجائیں وہاں ہمیں حکم ہے علیکم بسنّتی۔آپ ﷺ کی عادت کا اتباع کرنا ہے آپ ﷺ کی مبارک عادت کو ہم نے بھی عادت بناناہے اور اپنانا ہے۔
اس بات کو ایک دو مثالوں سے سمجھیں۔
آپ روزانہ وضو میں کلّی کرتے ہو نا؟یہ حضور پاک ﷺ کی مبارک عادت تھی کہ آپ ﷺ روزانہ وضو میں کلی فرماتے تھے۔اب یہ عادت امّت نے عادت کے انداز میں ہی اپنا لی۔جہاں بھی کوئی وضو کرتا ہے اس میں کلّی کرتا ہے یا نہیں کرتا؟اگر ایک دن آپ وضو میںکلی نہ کریں تو آپ کا دل یقینا جھنجھوڑے گاکہ آج ایک سنت کا ثواب ضایع ہو گیا ہے۔جھنجھوڑے گا یا نہیں؟لیکن جن حدیث کی کتابوں آپ ﷺ کی اس مبارک عادت کا تذکرہ ہے کہ آپ ﷺ کلی فرماتے تھے فقہاءنے اس کو سنّتوں میں شمار کیا ہے۔احادیث کی کتابوں میں ایسی کتابیں بھی ملتی ہیں کہ وضوکے بعد آپ ﷺ نے بیوی سے بوس وکنار بھی فرمایا ہو۔یہ عادت نہیں تھی بلکہ ضرورت تھی۔کیونکہ پیغمبر پر مسئلہ سمجھانا بھی ایک ضرورت ہو تی ہے کہ کہاں تک وضو ہے اور کہاں تک ٹوٹ گیا۔
جیسے :
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم ؓ تشریف لائے ایک سیب ہاتھ میں ہے رمضان کا مہینہ ہے اور روضہ رکھا ہوا ہے۔ آ کر عرض کیا حضرت اگر روضے کی حالت میںبیوی سے بوس و کنار کر لیا جائے تو روضہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟حضرت یوں بھی فرماسکتے تھے کہ ٹوٹ جاتا ہے اور یوںبھی کہ نہیں۔لیکن دیکھا کہ یہ صحابی تو مجتہد ہے اس کو تو اجتہاد کا انداز سکھانا چاہیے۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ ہاتھ میں کیا ہے فرمایا جی سیب ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ ذرا مجھے دو۔ آپ ﷺ نے سیب لے کر مبارک ہونٹوں پر رکھ لیاپھر حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ عمر کیا میرا روضہ ٹوٹ گیا ہے؟حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ ایسے تونہیں بلکہ کھانے سے ٹوٹے گا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو مسئلہ تو نے پوچھا وہ سمجھ آگیا یا نہیں ۔حضرت عمرؓ کہنے لگے کہ سمجھ آ گیا ۔
حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ کی ذہانت:
حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ سبق پڑھا رہے تھے برقعے میں ایک عورت آئی اس نے ایک سیب اور ایک چھری امام صاحب ؒ کو دے دی۔طلباءبڑے خوش ہوئے کہ بھئی بہت ہی نیک عورت ہے کہ سیب تو لائی ساتھ چھری بھی لے آئی تاکہ ہمیں تلا ش نہ کرنی پڑے۔ کیونکہ طالبعلموں کی سستی تو بڑی مشہور ہوتی ہے،
لطیفہ :
ایک بار طالب علم روٹی کھا رہے تھے لقمہ اٹک گیا اب اس کو کوئی پانی لا کر نہیں دے رہا بلکہ ایک اٹھتا ہے دو مکّے مارتا ہے دوسرا اُٹھتا ہے دو مکّے مارتا ہے تاکہ نیچے چلا جائے۔ آخر لقمہ بھی ایسا تھا جو کسی کی بات نہیں مانتا تھالقمے کو مکّوں کی دلیل سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ اب وہ خود ہی اُٹھااور جا کر کنویں میں ڈول ڈالا جب کھینچنے لگا اس بھرے ہوئے ڈول کو تو زور لگا وہ لقمہ نیچے چلا گیاتو وہ بھی ڈول وہیں پھینک کر آ گیا ،

خیر بات یہ کر رہا تھا کہ طلباءبڑے خوش ہوئے کہ بڑی نیک عورت ہے کہ سیب تولائی ہے ساتھ چھری بھی لائی ہے۔امام اعظم ؒ نے سیب کاٹااس کا جو اندر کا حصّہ تھا وہ باہر نکال کر چھری اور سیب عورت کو واپس کر دیا ۔ اب شاگرد امام صاحبؒ کو حدیثیں سنا رہے ہیں کہ حضرت حدیث میں تو آتا ہے کہ ہدیہ قبول کر لینا چاہیے تو آپ نے تو حدیث کے خلا ف عمل کیا ہے۔اگر آپ کو ضرورت نہیں تھی تو ہم جو یہاں بیٹھے ہوئے تھے اور ہدیے میں سارے شریک ہوتے ہیں آپ ہمیں دے دیتے۔امام صاحبؒ نے فرمایاوہ بے چاری تو مسئلہ پوچھنے آئی تھی۔اب یہ حیر ان کہ مسئلہ کونسا پوچھ کر گئی ہے۔نہ اس نے زبان سے پوچھا نہ اس نے زبان سے بتایا ۔ فرمایا کہ سیب کے باہر کئی رنگ ہوتے ہیں کہیں مٹیالہ ہے،کہیں مہندی کا رنگ ہے، کہیں سبز ہے کہیں سرخ ہے۔عورت جب ناپاک ہوتی ہے تو خون کئی رنگ بدلتا رہتا ہے۔وہ یہ مسئلہ پوچھنے آئی تھی کہ کونسا رنگ ناپاکی کا ہے اور کونسا پاکی کا ہے کہ کب نماز شروع کی جائے اگرچہ سیب کے باہر بہت سے رنگ ہو تے ہیں لیکن اس کو کاٹیں تو اندر ایک ہی سفید رنگ ہے اور کوئی رنگ نہیں۔تو میں نے کاٹ کر وہ سفیدحصّہ باہر کی طرف کر کے اس کو دےدیاکہ سوائے سفید کے سارے رنگ ناپاکی کے ہیں۔وہ خیرالقرون کا زمانہ تھا اندازہ کرو کہ عورت کو بھی اللہ تعالیٰ نے کیسا دماغ دیا تھا کہ کس طرح مسئلہ پوچھااور اما م اعظم ؒ نے بھی کس انداز میں مسئلہ سمجھایا ۔
تو خیر میں عرض کر رہا تھاوضو کے بعدبیوی سے بوس و کنار کی حدیث آتی ہے۔لیکن آپ لوگوں نے زندگی میں جتنے وضو کیے تو کیا جس طرح آپ ہر وضو میں کلی کرتے ہیں کیا اسی طرح ہر وضو کے بعد بیوی سے بوس و کنار بھی کرتے ہیں؟اور اگر نہیںکرتے تو کیا آپ کو دل جھنجھوڑتا ہے کہ آج سنّت کا ثوا ب نہیں ملا؟آخر کیوں؟ وہ بھی حضور ﷺ کا عمل ہے اور یہ بھی ۔فرق کیا ہے کہ وہ(کلی کرنا)صرف حدیث نہیںبلکہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ ہے اوریہ صرف حدیث ہے۔ہمیں حکم ہے آپ ﷺ کی عادت مبارکہ کو اپنانے کا۔اس لیے ہم وضو کریں گے کلی کریں گے اور نماز پڑھیں گے۔ یہ ہوا سنت پر عمل ۔ اور اگر ہم وضو کر کے بیوی سے بوس و کنار کریں گے تو یہ ہے حدیث پر عمل نہ کہ سنت پر۔
بخاری ومسلم میں حدیث موجود ہے کہ آپ ﷺجوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔جوتے اُتار کر نماز پڑھنے کی حدیث بخاری ومسلم میں بالکل ہی نہیں ہے بلکہ ابو داد شریف میں ہے۔لیکن کیونکہ جوتے اُتار کر نماز پڑھنا حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی اس لیے امت نے آپ ﷺ کی اسی عادت کو اپنایا اور اسی لیے ہم آپ ﷺکی سنت کے مطابق جوتے اُتار کر نماز پڑھتے ہیںاگرچہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کی احادیث بخاری ومسلم میں موجود ہیں ۔یہ ہے سنت اور حدیث میں فرق۔اس لیے جو حضرات یہ رٹ لگاتے ہیں کہ حدیث پر عمل کرو حدیث پر عمل کر و یہ نہ دیکھا جائے کہ آپ ﷺ کی سنت کیا تھی وہ حدیث کے نام پر سنت کو مٹا رہا ہے۔حضور ﷺ نے تو فرمایا تھا میری سنت کو اپنانا جبکہ آج کل شور و غل ہے کہ حدیث پر عمل کرو حدیث پر۔
اسی طرح کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی حدیث بخاری ومسلم میں موجود ہے جبکہ بیٹھ کہ پیشاب کرنے کی حدیث بخاری ومسلم میں بالکل ہی نہیں بلکہ ترمذی وابو داؤد میں ہے۔لیکن بیٹھ کر پیشاب کرنا حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی آپﷺ کی عادت کو امت نے عادةً ہی اپنایا ۔اور ساری امت بیٹھ کر پیشاب کرتی آ رہی ہے۔اب بیٹھ کر پیشاب کرنے والا کیونکہ سنت پر عمل کررہا ہے اس لیے یہ اہل سنت ہے۔اور جو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی بخاری ومسلم کی حدیث پرعمل کرتا ہے وہ اہل حدیث ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیونکہ ہمارے پاک پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ علیکم بسنتی میری سنت کو اپنانا اسی لیے ہم کو تو سنت پر چلنے دو۔اگر آپ کہتے ہو کہ ہم نے تو حدیث پر عمل کرنا ہے اہل حدیث ہی بننا ہے سنت پر عمل نہیں کرنا تو ہم کو سنت سے نہ ہٹاؤ۔بلکہ ہم آپ کو حدیث پرعمل کروانے میں آپ کی مدد کردیں گے ۔ وہ ایسے کہ جہاں کسی کو بیٹھ کر پیشاب کرتے دیکھ لیا اسے فوراً کھڑا کر دیں گے کہ بھائی بیٹھ کر پیشاب کرنا حضور ﷺ کی سنت ہے اس لیے یہ اہل سنت کا طریقہ ہے ۔ تو اہل حدیث ہے حدیث پر عمل کر کھڑا ہو کر پیشاب کر ۔
الحمد للہ ہم اہل سنت والجماعت ہیں آپ ﷺ کی عادات مبارکہ کو اپنانے والے۔معلوم ہوا کہ صرف حدیث کے لیے سنت ہونا ضروری نہیں (یعنی جو بات بھی حدیث میں آجائے ضروری نہیں کہ وہ ہی سنت ہو۔جیسا کہ سابقہ مثالوں سے معلوم ہو گیا)۔
سینے پر ہاتھ باندھنے کی حدیث بخاری میں ہے۔
چنیوٹ کا ایک طالب علم میرے پاس پڑھتا تھا۔شکیل نام تھا۔میں لڑکوں کو کہتا تھا کہ تبلیغی جماعت والوںکی طرح کبھی کبھی اپنی مسجد میں اکٹھے ہو کر سب بیٹھ جاؤ اور ایک لڑکا کھڑا ہو کر بیان کرے تا کہ بات کرنے کی جھجک دور ہو ۔اوریہ بھی معلوم ہو جائے کہ جواب دینے میں کیا کمزوری رہ گئی ہے۔پھر اس جواب کی تیاری ہو ۔خیر وہ لڑکا کسی مسجد میں گیا جماعت ہو چکی تھی دو تین آدمی نماز پڑھ رہے تھے ۔ یہ ایک آدمی کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو اِس نے سلام کیا ۔ اُ س نماز پڑھنے والے نے جواب دیا۔اِس نے پوچھا کہ جی آپ کے والد صاحب حیات ہیں؟ اُس نے کہا جی ہاں۔لڑکے نے پوچھا کہ کیا کسی باہر کے ملک میں رہتے ہیں۔ کہا جی ہاں باہر رہتے ہیں۔ مگر آپ کو کیسے معلوم آپ کیوںپوچھ رہے ہیں ۔ لڑکے نے کہا کہ کچھ نہیں بس کوئی بات تھی ۔ اُس آدمی نے پھر پوچھا کہ آپ کے پوچھنے کی وجہ کیا تھی۔ اس لڑکے نے جواب دیا کہ آپ امی والی نماز پڑھ رھے تھے ابّا والی نہیں پڑھ رہے تھے اسی سے میں نے سمجھ لیا کہ یا تو ابا وفات پاگئے ہوں گے یا باہر کسی ملک میں ہوں گے اور نماز امی سے سیکھی ہو گی ۔ اسی لیے سینے پر ہا تھ باندھ رہے ہیں۔وہ آدمی بڑا تلملایا ۔کہا کہ بخاری میں ہے یہ حدیث بخاری میں۔لڑکے نے کہا کہ بالکل جھوٹ ہے یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔
مجھے واپس آ کر اس لڑکے نے یہ لطیفہ سنایا کہ آج یہ ماجرہ پیش آیا ۔کل اس نے مجھے بخاری میں یہ حدیث دکھانی ہے ۔ میں نے کہا فکر نہ کرو بخاری میں یہ حدیث ہے ہی نہیں۔اب اس لڑکے کے ساتھ ایک دو ساتھی اور چلے گئے کہ جی وہ کل آپ نے کہا تھا کہ حدیث دکھا ں گا وہ حدیث دیکھنی ہے۔وہ آگے سے لڑ پڑا کہ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔مجھے کل پتہ نہیں چلاتو نیو ٹان سے آیا ہے اور امین کا شاگرد ہے۔لڑکے نے کہا کہ امین کے شاگرد کو حدیث دکھانے سے کیا حضور ﷺ نے منع کیا ہے۔اُس آدمی نے کہا کہ نہیں تو شرارت کرتا ہے۔لڑکے نے کہا کہ چلو بالفرض میں شرارت کر رہا ہوں تو حدیث تو دکھا دے نا۔
بخاری ومسلم کے خلاف ہے۔
ایک دن اسی طرح وہ جامعہ ستاریہ چلا گیا ۔کہتا ہے کہ میں نے جا کر دو نفل پڑھے۔دوتین بابے بیٹھے تھے۔شور مچانے لگے نماز نہیں ہوتی ۔ نماز نہیں ہو تی۔بخاری مسلم کے خلاف ہے ۔ حدیث کے خلا ف ہے۔میں نے کہا بابا جی نماز تو پڑھ لینے دو شور کیوں مچاتے ہو ۔ وہ پھربول پڑے جی ہوتی ہی نہیں ہے۔ہوتی ہی نہیں ہے۔پوچھا کیا ہوا۔کہابزرگوں نے کہ بخاری ومسلم کی حدیث کے خلا ف ہے۔اس نے کہا چلو حدیث کے خلا ف ہے سنت کے خلاف تو نہیں میں تو اہل سنت ہوں۔ آپ کو کس نے کہا کہ میں اہل حدیث ہوں۔ بزرگوں نے گرج کر کہا کہ جو بخاری کے خلاف نماز پڑھتا ہو اس کی نماز نہیں ہو تی ۔لڑکے نے کہا کہ ویسے ہی غصہ کر رہے ہو یہ جو باقی لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ان کو کیوں نہیں کچھ کہتے۔ کہا کہ یہ لوگ تو بخاری کے خلاف نماز نہیں پڑھ رہے۔لڑکے نے پوچھا کہ کون پڑھ رہا ہے۔کسی نے نماز میں جوتا نہیں پہنا ہوا ۔ ان سب کو جوتے پہنا  تا کہ بخاری ومسلم پر عمل ہو جائے۔
بخاری میں باب ہے باب الصلٰوة فی ثوب واحد۔ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا باب ہے تین کپڑوں میں نماز پڑھنے کا باب بخاری میں نہیں ہے۔تو ان کے کپڑے اُتارو کسی کی قمیص رہنے دو کسی کی جراب رہنے دو کسی کی صرف بنیان رہنے دو۔تاکہ آرام سے گن کر بتایا جاسکے کہ یہ دیکھئے ایک کپڑے میں نماز ہو رہی ہے۔حدیث پر عمل ہو رہا ہے۔ بخاری پر عمل ہو رہا ہے۔اور بخاری ومسلم میں ہے۔ کہ کان یصلی وھو حامل حمامة بنت عاص کہ اپنی نواسی کو گود میں اُٹھا کر حضور ﷺ نماز پڑھ رہے ہیں۔دو چار بچے یہاں موجود رکھو تاکہ جو بھی نماز پڑھے اس پر بچے کو سوار کر دیا جائے۔تا کہ نماز بخاری ومسلم کے مطابق ہو جائے۔وہ لڑکا کہتا ہے کہ اتنے میں دیکھا کہ ایک آدمی بیٹھ کر استنجا کر رہا تھا میں نے کہا کہ دیکھو وہ آدمی بیٹھ کر استنجا کر رہا ہے اُسے کھڑا کر و بخاری ومسلم کے خلاف کر رہا ہے۔کم از کم اُس کو تو بتاؤ کہ بخاری ومسلم میں بیٹھ کر پیشاب کر نے کی حدیث مو جو د نہیں ہے۔وہ لڑکا کہتا ہے کہ مجھے کہنے لگے کہ چلو ہمار ے شیخ الحدیث کے پاس۔لڑکے نے کہا چلو۔بزرگوں نے جا کر کہا کہ جی یہ کہتا ہے کہ یہ یہ بات بخاری ومسلم میں ہے۔شیخ الحدیث نے کہا کہ جی ہاں ہے۔بزرگوں نے کہا کہ پھر اس پر ہمارا عمل کیوں نہیں؟شیخ الحدیث نے کہا کہ بس یہ لڑکا کوئی شرارتی معلوم ہوتا ہے ۔ لڑکے نے کہا کہ بخاری ومسلم کی حدیث پر عمل کرنے کو آپ شرارت کہتے ہیں۔
آمین تین بار کہنا سنت ہے۔
اسی طرح فتاوی ستاریہ میں مسئلہ لکھا ہو ا ہے کہ تین دفعہ آمین کہنا سنت ہے اور آمین کے ساتھ رب اغفرلیکہنا بھی سنت ہے۔ تین بار۔ ایک شاگرد نے وہ صفحہ فوٹو سٹیٹ کروا لیا جیب میں ڈالا اور چلا گیا ان کی مسجد میں مغرب کی نماز تھی ۔امام نے کہا ولاالضالین۔ سب نے کہا آمین ۔ اس لڑکے نے کہا آ۔آ۔آمین۔رب اغفر لی۔پھر کہا۔آ ۔ آ۔آمین ۔رب اغفر لی۔پھر کہا۔آ ۔ آ۔آمین ۔رب اغفر لی۔
اب شور مچ گیا ۔ پوچھا گیا تو کہاں سے آیا ہے ۔ کہنے لگا کہ جی میں تو حدیث پر عمل کررہا ہوں یہ دیکھو فتاوٰی ستاریہ میں لکھا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اہل حدیث کی مسجدہے اور حدیث پر عمل کرنے سے ناراض ہو رہے ہیں۔ کیوں ناراض ہو رہے ہیں۔کہنے لگے نہیں نہیں تو شرارت کر رہا ہے۔ لڑکے نے کہا کہ حدیث پر عمل کرنا شرارت ہے؟عجیب بات ہے؟ اہل حدیث کہ منہ سے یہ کہنا کیسے زیب دیتا ہے کہ حدیث پر عمل کرنا شرارت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کبھی کبھی عمل کرنا چاہیے۔کہنے لگا کہ بھئی کبھی کبھی کا لفظ دکھاؤ کہ کہاں ہے حدیث میں؟تو میں کبھی کبھی کرلیا کروں گا۔ تو وہ خاموش ہو گئے۔
تو بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اہل سنت والجماعت ہیں اہل سنت وہ ہیں جو حضور ﷺکی عادات مبارکہ کو اپناتے ہیں۔ثبوت اور چیز ہے سنت اور چیز ہے۔جیسے نماز پڑہتے ہوئے دروازہ کھول دینا ثابت ہے سنت نہیں۔نماز کی حالت میں بچے کو اُٹھا لینا ثابت ہے سنت نہیں۔لیکن ہم اہل سنت ہیں۔ سنت کہتے ہی سڑک اور راستے کو ہیں اس لیے جو عمل آپ ﷺ سے امت میں چل پڑا وہی سنت ہے۔
چند وسوسوں کے جوابات:
ہمارے دوست جو ہیں ان کے پاس صرف چند وسوسے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔میں جب کراچی تھا تو دس بارہ آدمی آگئے میں نگرانی کر رہا تھا امتحانات میں ۔ دو ساتھی آئے کہ یہ آدمی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ہم بیٹھ گئے بڑا عجیب انداز تھا ان کا ۔ پڑھے لکھے آدمی تھے ۔ کوئی پروفیسر ، کوئی ٹیچر ، کوئی وکیل۔ کہنے لگے۔ ہم بہت پریشان ہیں۔ پوچھا کیا ہواجی۔کہنے لگا ہوا کیا چار امام ہوگئے ہیں ۔ چار۔چار۔چار۔ میں نے کہا کہاں ؟ یہاں جھنگ میں کتنے مدرسے ہیں شافعیوں کے؟مالکیوں کے کتنے ہیں؟ حنبلیوں کے کتنے ہیں؟تو میں نے کہا کہ جو بھینگا ہوتا ہے نا اس کو ایک کے دو نظر آتے ہیں ۔ تو یہاں تو صرف ایک حنفی ہیں پھریہ آپ کو ایک کے چار کہاں سے نظر آنے لگے؟ کہنے لگے کہ جی وہ کہیں نہ کہیں تو ہوں گے نا۔میں نے کہا کہ جہاں جہاں وہ ہوں گے تو وہاں کے لوگ پریشان ہوں آپ کو کیا پریشانی لگ گئی ہے یہاں پر بیٹھے بیٹھے؟
کہنے لگے کہ جی کسی حدیث میں ہے کہ صرف ایک ہی امام کی تقلید کرنا ؟میں نے پوچھا کہ آپ قرآن پاک پڑھتے ہیں؟کہنے لگے جی ہاں۔ میں نے کہا کہ ساتوں قراءتیں آتی ہیں؟کہنے لگے کہ نہیں جی ایک ہی قراءت میں ہم تو پڑھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کسی حدیث میں ہے کہ سات میں سے صرف ایک ہی قراءت میں پڑھنا؟کہنے لگے کہ ہم کیا کریں کہ ہمیں آتی ہی ایک قراءت ہے۔ میں نے کہا کہ ہم کیا کریں کہ یہاں ہے ہی ایک مسلک امام ابو حنیفہ ؒ کا ہے۔اُس کی حدیث تم دکھا دو اِس کی ہم دکھا دیتے ہیں۔پوچھنے لگے کہ جی خدا کتنے ہیں ؟ میں نے کہا کہ ایک ۔ کہنے لگے کہ خدا ایک اور امام چار بن گئے ؟ توبہ توبہ۔ غضب خدا کا۔میں نے کہا ابھی تھوڑا ہے۔کیسے؟ خدا ایک ہے اور نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں۔میں نے پوچھا کہ آپ کا مقصد کیا ہے صاف بات کریں ۔ کہنے لگے کہ ہم تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سب کو چھوڑ دو۔میں نے کہا کہ دیکھو جلدی نہ کرنا ۔کیونکہ قرآن پاک میں سات قاریوں کا اختلاف ہے قراءت کا ۔ تو سات کا اختلاف بڑا ہے یا چار کا ؟اس لیے اگر ائمہ کو چھوڑنا ہے تو پہلے لکھ کر دو کہ آج کے بعد ہم قرآن نہیں پڑھیں گے کیوں کہ اس کی قراءت میں سات قاریوں کا اختلاف ہے اور ہم اختلاف کو پسند نہیں کرتے۔اس کے بعد احادیث کے باقی کتابیں تو ایک طرف کر دیں۔ صرف صحاح ستہ ہی ایسی چھ کتابیں ہیں جن میں آپس میں اختلافی حدیثیں ہیں۔ تو چھ کا اختلاف زیادہ ہے یا چار کا ؟کہنے لگے کہ چھ کا ۔ میں نے کہا کہ پھر دوسرے نمبر پرچھ والا اختلاف چھوڑنا پڑے گا۔ ان بے چارے اماموں کی کہیں جا کر تیسرے نمبر پر باری آئے گی جن کے پیچھے آپ پہلے نمبر پر ہی لاٹھی اُٹھا ئے پھر رہے ہیں۔
پھر کہنے لگے کہ چاروں امام ہی بر حق ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں چاروں برحق ہیں۔پھر کہا کہ چاروں ؟میں نے کہا ہاں چاروں۔کہنے لگے کہ پھر آپ باقی تین کی تقلید کیوں نہیں کرتے ۔ میں نے کہا نہیں کرتے ۔ ہماری مرضی۔پھر کہنے لگے کہ ان کو برحق کیوں کہتے ہو؟ میں نے کہابالکل برحق کہتے ہیں مگر تقلیداپنے امام کی کرتے ہیں۔
پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آج آپ جمعہ پڑھ رہے ہیں نا کیونکہ آپ لوگ حضور ﷺ کو برحق مانتے ہیں۔ اورکیا کل آپ لوگ یہودیوں کی عبادت گاہوں میں جائیں گے ؟کیونکہ آپ موسٰی ؑ کو بر حق مانتے ہیں۔کیاپرسوں عیسائیوں کے گرجے میں جائیں گے؟ تا کہ اتوار والی عبادت بھی کر آئیں۔انہوں نے کہا نہیں۔میں نے کہا کہ اس لیے نہیں جائیں گے کہ آپ سب نبیوں کو بر حق مانتے ہیں مگر تابعداری صرف اپنے نبی کی کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جی وہاں توناسخ منسوخ مسئلہ ہے ۔ میں نے کہا کہ یہاں راجح مرجوح کا مسئلہ ہے۔ جیسے منسوخ پر عمل جائز نہیں ویسے ہی مرجوع پر عمل جائز نہیں۔ہم اُن نبیوں کو برحق مانتے ہیں مگر اُن نبیوں کے بعض مسائل کو منسوخ مانتے ہیں۔ہم ان آئمہ کو برحق مانتے ہیں مگر بعض مسائل کو مرجوح مانتے ہیں۔
اب ایک صاحب تو زیادہ ہی ناراض ہو نے لگے کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ کو کبھی عقل آئے گی بھی یا نہیں؟چاروں اماموں میں حلال وحرام کا اختلا ف ہے حلال وحرام کا ۔ایک امام ایک چیز کو حلا ل کہتا ہے ایک اُسی چیز کو حرام کہتا ہے۔حلال بھی برحق حرام بھی برحق؟ غضب خدا کا۔کبھی تو عقل کی بات کیا کرو۔میں نے کہا کہ یہ امام بے چارے جن پر آپ ناراض ہیں ، یہ نبیوں کے تابعدار ہیں ۔نبیوں میں بھی حلال وحرام کا اختلاف ہے۔آدم ؑ کے زمانے میں بہن سے نکاح حلال تھا یا حرام ؟ (حلال) اور آج؟(حرام) وہ نبی ؑ بھی برحق جس کی شریعت میں بہن سے نکاح حلال تھا ۔ اور وہ نبی ﷺ بھی برحق جس کی شریعت میں بہن سے نکاح حرام ہے۔ہم آدم ؑ کو برحق ضرور مانیں گے مگر عمل اپنے نبی ﷺکی شریعت پر کریں گے۔یعقوب ؑ کے نکاح میں دونوں سگی بہنیں تھی ان کی شریعت میں حلال تھا ۔اور اب آیت آگئی ہے لا تجمع بین الاُختین۔ (دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع نہ کرنا ۔)اب یعقوب ؑ بھی برحق اور نبی ﷺ بھی برحق ۔برحق ہم دونوں کو مانتے ہیں مگر عمل اپنے نبی ﷺکی شریعت پر کریں گے۔ابراہیم ؑ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہؓ ماں کی طرف سے آپ کی بہن تھیں باپ کی طرف سے نہیں تھیں۔اس سے نکاح ہوا۔آج یہ نکاح حلال ہے یا حرام ؟ (حرام ہے) تو ابرہیم ؑ کی شریعت میں حلال تھا اور ہماری شریعت میں حرام۔برحق ہم دونوں کو کہیں گے مگر تابعداری صرف اپنے نبی ﷺ کی کریں گے۔کہنے لگے کہ وہاں تو زمانے کا اختلاف ہے ۔میں نے کہا یہاں علاقوں کا اختلاف ہے شافعی سری لنکا میں ہیں حنفی پاکستان میں ۔شافعی اپنے ملک میں ہیں ۔ حنبلی اپنے ملک میں ہیں ۔ مالکی اپنے ملک میں ہیں ۔ اور حنفی اپنے ملک میں ہیں ۔
علاقے کے اختلاف کو سمجھنے کے لیے مثال:
علاقوں کے اختلاف کو ایک مثال سے سمجھیں۔کئی سالوں سے آپ دیکھ رہے ہیں کہ سعودیہ میں عید ہوتی ہے اور پاکستان میں روزہ ہوتا ہے۔ اب عید کے دن روزہ رکھنا حلال ہے یا حرام؟ اور رمضان میں عید پڑھنا حرام ہے۔لیکن اُن کی عید اپنی جگہ بالکل درست ۔ اور ہمارا روزہ صحیح یا غلط؟(بالکل صحیح) کیونکہ مسئلہ ہے کہ چاند نظر آگیا تو عید نہ نظر آیا تو روزہ ۔وہاں تواتر ساتھ چاند ثابت ہو گیا۔یہاں نہیں ہوا۔ وہاں سارے عید پڑھ رہے ہیں اُن کی عید درست ہے۔یہاں سارے روزہ رکھ رہے ہیں یہاں والوں کا روزہ بالکل درست ہے۔ہاں فتنہ پھیلانا اچھا نہیں کہ چار آدمی لاٹھیاں لے کر آجائیں کہ توڑو روزے آج مکے میں عید ہے۔یا چار آدمی وہاں لاٹھیاں لے کر کھڑے ہو جائیں کہ نہیں پڑھنے دیں گے آج عید۔پاکستان بڑا اسلامی ملک ہے وہاں آج روزہ ہے۔تو یہ فتنہ ہے۔جس طرح وہاں عید ان کا مذہب ہے بالکل برحق۔ اسی طرح روزہ یہاں ہمارا مسلک ہے بالکل برحق۔جہاں شافعیت ہے وہاں شافعیت بالکل برحق ہے مذہب ہے فتنہ نہیں۔جس ملک میں حنبلیت ہے وہ مذہب ہے فتنہ نہیں۔جس ملک میں حنفیّت ہے وہ مذہب ہے فتنہ نہیں۔جس ملک میں مالکیت ہے وہ مسلک ہے فتنہ نہیں۔اور غیر مقلدیت فتنہ ہے کوئی مسلک ومذہب نہیں ۔
کہنے لگے کہ جب تین امام ایک طرف ہوں اور ایک امام ایک طرف ہو تو کس کی بات ماننی چاہیے؟ میں نے کہا ایک کی ۔ کہنے لگے کیوں جی؟زیادہ کی ماننی چاہیے۔ میں نے کہ اچھا۔انبیاءؑ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ۔حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے یوسف ؑ سجدہ تعظیمی کیا تھا نا ؟ اسی آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ کی شریعت سے پہلے تمام شریعتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا ۔اور ہماری شریعت میں جائز نہیں۔ سارے نبی ایک طرف اور ہمارے نبی ﷺ ایک طرف ۔ اب آپ ایک نبی کی بات مانیں گے یا زیادہ بلکہ سارے انبیاءکی ۔ کہنے لگے کہ جی ہم تو ایک ہی کی مانیں گے ۔ میں نے کہا کہ اسی طرح ہم بھی ایک ہی کی مانیں گے۔اسی طرح حضور ﷺ سے پہلے کی تمام امتوں میں تصویر بنانا جائز تھا ہماری شریعت میں حرام ہے۔ اب سب کی بات مانیں گے یا ایک کی۔
پھر آخر میں وہ لوگ کہنے لگے کہ دین مکے مدینے میں آیا تھا یا کوفے میں ؟ میں نے کہا کہ مکے مدینے میں۔کہنے لگے کہ پھر مکے مدینے والے امام کو ماننا چاہیے یا کوفے والے امام کو؟ میں نے کہا کہ آپ کا دل کیا کہتا ہے؟ کہنے لگے کہ مکے مدینے والے کو ماننا چاہیے۔میں نے کہا اچھا آپ کو معلوم ہے کہ جھوٹ بولنا ہر شریعت میں منع ہے؟ کہنے لگے کہ بالکل ۔ کیا ہم نے کوئی جھوٹ بولا؟ میں نے کہا کہ بہت بڑا جھوٹ بولا ہے۔ قرآن کی جو سات قراءتیں ہےں۔ ان میں مکی قاری بھی تھا۔ مدنی قاری بھی تھا۔ بدری قاری بھی تھا ۔ تم سب لوگ تو قاری عاصم کوفی جو کہ کوفہ کا رہنے والا تھا اس کی قراءت پڑھ رہے ہو ۔یہ ہی قرآن ہے جسے شاہ فہد ساری دنیا میں تقسیم کررہا ہے۔ تو خود کوفے والوں کو مانتا ہے تجھ سے بڑا کوفی کون ہو گا کہ قرآن نازل تو مکے مدینے میں ہو اور تو مکی قاری اور مدنی قاری کی قراءت چھوڑ کر کوفے والے قاری کے مطابق قرآن پڑھتا ہے۔اب وہ کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ کوفہ والوں نے قرآن خود تو نہیں بنایا تھا نا۔ایک ہزار سے زائد صحابہ کرام ؓ آئے تھے مکے مدینے سے ۔ وہ ساتھ قرآن لے کر آئے تھے۔میں نے کہا کہ جو صحابہ کرام ؓ قرآن ساتھ لائے تھے وہی صحابہ کرام ساتھ نماز لے کر آئے تھے۔ساتھ لائے تھے یا وہیں پھینک کر آئے تھے کہ کوفے جاکر نئی نماز بنا لیں گے؟ یا نماز بھی وہاں سے لے کر آئے تھے؟ (یقینا نماز بھی مکے مدینے سے لے کر آئے تھے۔) تو جب قرآن کے معاملے میں اہل کوفہ پر اعتماد کرتے ہو تو نماز کے بارے میں بھی اعتماد کرنا چاہیے۔ لیکن کریں کیا ۔ ایک رافضی کہتا ہے کہ نماز غلط ہے ایک رافضی کہتا ہے کہ قرآن غلط ہے۔لیکن قرآن کوفہ میں کہاں سے آیا ؟ مکے اور مدینے سے۔نماز کہاں سے آئی ؟ مکہ مدینہ سے ۔جب کوفے والے کی قراءت تم کو پسند ہے تو کوفے والوں کی وہ نماز جو صحابہ کرام ؓ لے کرآئے ہیں وہ پسند کیوں نہیں؟پھر ہمارے امام اعظم امام ابوحنیفہ ؒ کافی ہیں۔(الحمد للہ) امام صاحب نے صحابہ کی زیارت کی ہے۔جس صحابی نے اللہ کے نبی ﷺ کا دور نبوت پورا پایا وہ بھلا کتنے سال ہے دور نبوت؟ 23سال ۔اور امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ نے تقریباً چالیس سال صحابہ ؓ کا زمانہ پایا ہے۔تو چالیس سال کی عمر میں مسلمان نماز شروع کر دیتے ہیں یا نہیں ؟ خاص طور پر خیر القرون کے زمانے میں۔ آپ کا کیا خیا ل ہے کہ جب مسجد میں نماز کے لیے بچہ آتا ہے تو لوگ دیکھتے ہیں کہ بچہ نماز پڑھ رہا ہے۔ اور بچہ لوگوں کو دیکھ دیکھ کر نماز پڑھتا ہے۔اسی طرح صحابہؓ امام صاحبؒ کو دیکھتے تھے اور امام صاحب صحابہ کو دیکھ کر نماز پڑھتے تھے۔اگر امام صاحب کی نما زخلا ف سنت ہو تو صحابہ کو ٹوکنا چاہیے تھا یا نہیں؟ (اوراگر صحابہ اکرام ؓ نے دیکھا کہ نماز سنت کے خلاف پڑھ رہے ہیں اور صحابہ ؓ نے نہ ٹوکا تو مطلب یہ ہوا کہ نعوذباللہ صحابہ کے سامنے غلط کام ہو رہا ہے اور صحابہ خاموش ہیں ؟)
میں نے سر پر ہاتھ باندھ لیے:
ایک صاحب تھے بس میں بیٹھے تھے ۔ کسی جگہ بس رکی پاس ہی مسجد تھے ۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ چلو نماز پڑھ لوں ۔ میں نے جب نماز پرھنے کے لیے ہاتھ ناف کے نیچے باندھے۔(یاد رہے کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے کی حدیث ہے مگر یہ عمل سنت نہیں ہے ۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں۔ ان من السنّة وضعالکف علی الکف فی الصلوة تحت السرة۔ کہ بے شک نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا یہ سنت ہے۔)تو ایک بابا جی آئے اور انہوں نے نماز میں ہی میرے ہاتھ سینے پر رکھ دیے۔ میں نے سر کے اُوپر رکھ لیے ۔ نماز کے بعد مجھ سے پوچھنے لگا کہ یہ کیا تھا(جو تو نے سر پر ہاتھ باندھے)؟ میں نے پوچھا وہ کیا تھا(جو تو نے سینے پر رکھوائے تھے؟)۔
اب اگر اس مسجد میں کوئی نماز پڑھنے کے لیے آئے اورہاتھ ناف کے بجائے سر پر باندھے تو کیا آپ لوگ اس کر ٹوکیں گے یانہیں ؟ (بالکل ٹوکیں گے۔) اس کا مطلب ہے کہ پندھرویں صدی کے مسلمانوں کا ایمان بہت ہی زیادہ مضبوط ہے جو غلط کا م ہو تا دیکھیں تو فوراً ٹوک دیتے ہیں۔اور معاذاللہ ،استغفراللہ جس زمانے کو اللہ کے نبی ﷺ خیر القرون فرما رہے ہیں ۔ صحابہ ،تابعین اور تبع تابعین جو تھے ان میں معاذاللہ سنت کی کوئی محبت ہی نہ تھی کہ امام صاحب ؓ غلط نماز پڑھتے رہتے تھے کوئی ٹوکتا ہی نہیں تھا؟
ہم جو نماز پڑھتے ہیں ہمیں فخر ہے کہ ہماری نماز کی توثیق الحمدللہ صحابہ ؓ کے سامنے ہو چکی۔ اگر اس میں کوئی غلطی ہوتی تو صحابہ ؓ ضرور ٹوکتے۔اب جس نماز کی تصدیق صحابہ ؓسے ہو چکی ہو؟مجھے اُن دوستوں سے نہیں گلہ آپ سے گلہ ہے کہ صحابہ کی تصدیق کے بعد بھی جب تک وہ بابا گنڈیریوں والا جب کہے گا نا کہ نماز ٹھیک ہے تو نماز ٹھیک ہو گی ورنہ نہیں۔کیا صحابہ کی تصدیق کے بعد کسی بابے روڑیے کی تصدیق کی ضرورت ہے؟ (بالکل نہیں۔) اگر آپ نے شک کیا تو گویا آپ نے صحابہ کی تصدیق کو نہ مانا۔امام صاحبؒ تابعی ہیں۔ اور صحابہ اُستاد ہیں۔تابعین ہم جماعت ہیں ۔تبع تابعین شاگرد ہیں۔ہماری نماز کی صحابہ کے سامنے تصدیق ہو چکی۔تابعین کے سامنے تصدیق ہو چکی اسی طرح تبع تابعین کے سامنے تصدیق ہو چکی۔ان سب کی تصدیق کے بعد اب ہمیں کسی پندھرویں صدی کے کسی آدمی کی تصدیق کی کوئی ضرورت نہیں۔
گجرانوالہ کا واقعہ:
یہ ہی بات ایک دفعہ میں گجرانوالہ میں بیان کر رہا تھا ایک نوجوان کو غصہ آگیا ۔ کھڑا ہو گیا ۔ کہنے لگا کہ آپ کی نماز کی تصدیق ہو گئی ہماری کی نہیں ہوئی؟ میں نے کہا بالکل۔ وہ کہنے لگا کہ ہمارے صادق سیالکوٹی صاحب نے نماز کی کتاب لکھی ہے صلوٰة الرسول اس کی تو نوائے وقت اخبار نے بھی تصدیق کی ہے کہ بہت اچھی کتاب لکھی ہے۔مرزائیوں کا رسالہ ہے "شہاب" اس نے بھی تصدیق کی ہے کہ بہت اچھی کتاب ہے۔کراچی کے" صحیفہ اہل حدیث"نے تصدیق کر دی کہ بہت اچھی کتاب ہے۔میں نے کہا کہ بہت اچھی بات ہے تصدیق تو ہو گئی۔ مگر ہماری نماز کی تصدیق تو ہو گئی صحابہ ،تابعین اور تبع تابعین کے سامنے ،جن کی تصدیق عرش والے (اللہ) نے کی ۔ فرمایا۔ والذین اتّبعوا ھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔اور فرش والے نبی ﷺ نے بھی کی ۔ فرمایا۔ خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۔عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ،تابعین اور تبع تابعین کی تصدیق انہیں اچھی نہیں لگی اس کو چھوڑ دیا اور کہتے ہیں کہ مرزائیوں کے رسالے نے تصدیق کی ہے وہ اچھی لگی ہے۔الحمدللہ ہمارے امام صاحب ؒ نے 55حج کیے ہیں۔اللہ پاک اپنے ہر مسلمان بندے کو اپنے گھر کے حج اور نبی پاک ﷺ کے روضے کی زیارت نصیب فرمائے۔ (آمین) پاکستان کا رہنے والا مسلمان اگر یہاں نمازوں میں سستی بھی کرتا ہو تو وہ وہاں جا کر نمازیں ضرور پڑھتا ہے۔ امام صاحب جب حج پر جاتے تھے تو وہاں نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ اگر اس نماز میں ایک بھی عمل خلاف سنت ہو تا تو مکے والوں کا کام تھا اعتراض کرنا۔مدینے والوں کا حق تھا سمجھانا۔مگر مکے والے کہتے ہیں۔ ماراینا احسن صلٰوة من ابی حنیفہ۔کہ ابو حنیفہ سے زیادہ پیاری نماز ہم نے (اس زمانے میں ) کسی کی دیکھی ہی نہیں۔الحیرات الاحسان کتاب ہے اس میں علامہ ابن حجر مکی شافعی(جو کہ حنفی نہیں شافعی المسلک ہیں۔)لکھ رہے ہیں کہ اہل مکہ یہ کہتے تھے۔ اور یہ نہیں کہ امام صاحبؒ وہاں کوئی چھپے ہوئے تھے۔ امام لیث بن سعد مصر کے بہت بڑے امام ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں ایک سو تیرہ ہجری میں حج کے لیے چلا اور دل میں یہ ہی خواہش تھی کہ امام صاحبؒ حج پر آئیں گے ان کی زیارت بھی ہو جائے گی۔ کیونکہ بہت شہرت تھی امام صاحب کی۔کہتے ہیں کہ میں جب پہنچا تو دیکھا کہ ایک نوجوان کھڑا ہے اور اس کے گرد دنیا اکٹھی ہے۔ کوئی قرآن کی آیت کی تفسیر پوچھ رہا ہے۔ کوئی حدیث کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ کوئی قاضی قانون کا مسئلہ پوچھ رہا ہے۔ اور میں حیران ہوں کہ سوال کرنے والے کو سوال کرنے میں دیر لگتی ہے مگرا ُسے جواب دینے میں دیر نہیں لگتی ۔ تو میں بھی کھڑا ہو گیا کہ بھئی یہ بھی کوئی اچھا آدمی ہے اس کی باتیں سن لیں پھر لوگوں سے پوچھ لوں گا کہ امام صاحب بھی آئے ہوئے ہیں یا نہیں۔تو میں کھڑا سن رہا تھا کہ اتنے میں ایک نے سوال یوں کیا۔ ماتقول فی ھٰذا یا ابا حنیفہ ۔اے ابو حنیفہ اس مسئلے میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ اب میں نے سوچا کہ اچھا یہ ہی امام ابو حنیفہ ہیں جن لے لیے میں یہاں پہنچا ہوں۔ تو یہ 113 ہجری ہے۔ 150ہجری تک آپ کی شان بڑھی ہے گھٹی نہیں۔ تاریخ میں تو یہاں تک آتا ہے کہ حضرت امام صاحب جب کسی جگہ تشریف لے جاتے تو اعلان ہو جاتا تھا کہ فقیہ اعظم پہنچ گئے ہیں کسی نے فتوٰی لینا ہو تو آ جائے۔یہ مکہ مکرمہ کی بات ہے۔اب مکہ اور مدینہ والوں نے تو نہیں کہا کہ امام ابو حنیفہ کی نماز غلط ہے۔ شور اُٹھا ہے تو امرتسر میں؟ اور وہ بھی انگریز کے دور میں کسی اسلامی حکومت میں نہیں۔ شور اُٹھا ہے تو روپڑ میں جو کہ سکھوں کا شہر ہے کہ جو نماز امام ابو حنیفہ اور حنفی پڑھتے ہیں وہ غلط ہے۔ہماری تبلیغی جماعت والوں کو لوگ کہتے ہیں کہ وہ لسوڑا پارٹی والے آگئے ۔ جیسے لسوڑا چمڑ جاتا ہے ایسے ہی یہ لوگ بھی چمڑ جاتے ہیں۔ اور کھینچ تان کر تو ایک دفعہ اللہ کا گھر دکھا دیتے ہیں۔بعد میں انسان کی قسمت ہے۔جماعت والے وہ کھیتوں میں پھر رہے ہیں پوچھو بھئی کیا کررہے ہو ۔ کہیں گے کہ ایک مسلمان ہے اللہ سے غافل ہو گیا ہے بندگی کا اقرار کرتا ہے بندگی کرتا نہیں۔ اسے ہم یاد کرانے جا رہے ہیں کہ بھئی نماز پڑھا کرو۔گلیوں میں پھر رہے ہیں۔ دروازوں پر کھڑے ہیں۔ اور الحمدللہ ان کی برکت سے دفتروں میں مصلے بچھ گئے ہیں۔تو ان لوگوں کا ایک مشن ہے کہ جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا اس کو نمازی بنانا ہے۔اور سینکڑوں نہیں ہزاروں کو انہوں نے نمازی بنایا۔توآپ نے کبھی دیکھا کہ غیر مقلد اس طرح بے نمازی کے پیچھے پھر رہے ہوںاور اس کو نمازی بنا رہے ہوں؟ نہیں۔ جب تک آدمی بے نمازی ہوتا ہے تو اس کو پتہ ہی نہیں ہو تا کہ یہاں کوئی غیر مقلد رہتا ہے یا نہیں۔اب وہ بے چارہ جب نماز پڑھنا شروع کر دے گا تو ایک غیر مقلد اِدھر سے آجائے گا کہ تیری نماز نہیں ہوتی۔اب اُن کا کام ہے بے نمازی کو نماز پر لگانا۔ اور ان کا مشن یہ ہے کہ جو نماز پرھنے لگ گیا ہے اس کے دل میں اتنے وسوسے ڈالنے ہیں کہ وہ بے چارہ نماز پڑھنا ہی چھوڑ دے۔تو ہم حدیث کو سابقہ انبیاءکی طرح اور سابقہ شریعتوں کی طرح برحق مانیں گے ضرور ۔ اس کا ادب واحترام بھی ضرور کریں گے۔مگر حضور ﷺ کے حکم کے مطابق عمل سنت پر کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پیارے محبوب ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔





حجیت حدیث وسنت




کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں، پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیان و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (الآیة) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن؛ تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔

فرمان الٰہی سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“ یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ صلى الله عليه وسلم کو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ وَمَا کَان لموٴمِنٍ وَلاَ مُومِنَةٍ اِذا قَضی اللّٰہُ ورَسُولُہ اَمْرًا ان یکون لہم الخِیَرَة من امرہم کسی مومن مرد وعورت کو گنجائش نہیں ہے جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم دے تو پھر ان کے لئے اس کام میں کوئی اختیار باقی رہے۔ ربّ علیم وعزیز کی ان واضح ہدایات کے بعد بھی کیا کسی کو یہ حق پہنچ سکتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے اقوال و افعال میں اپنی جانب سے تقسیم و تفریق کرے کہ یہ ہمارے لئے حجت ہے، اور یہ حجت نہیں ہے۔

نیز رسولِ خدا علیہ الصلوٰة والسلام کا ارشاد ہے:

الا انی اُوتیت الکتاب ومثلہ معہ الا یوشِکُ رجلٌ شَبعَانُ علی اریکتہ یقول: علیکم بہذا القرآن، فما وجدتم فیہ من حلال فاحلّوہ، وما وجدتم فیہ من حرام فحرّموہ، الا لا یحلّ لکم الحمار الاہلی، ولا ذی ناب من السبع، ولا کل ذی مِخلب من الطیر“ الحدیث (رواہ ابوداوٴد في السنن في کتاب السنة والاطعمة)[i]

بغور سنو! مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرآن دیاگیا ہے، اور قرآن کے ساتھ قرآن ہی جیسی (یعنی حدیث وسنت بھی) دی گئی ہے، خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آسودہ حال شخص اپنی آراستہ سیج پر بیٹھا کہے گا، اسی قرآن کو لازم پکڑو پس جو چیز اس میں از قبیل حلال پاؤ اسے حلال جانو، اور جو اس میں از قبیل حرام پاؤ اسے حرام جانو، خبردار تمہارے لئے گھریلو گدھا حلال نہیں ہے اور نہ ہی شکاری درندہ اور نہ ہی شکاری پرندہ حلال ہے (حالانکہ صراحت سے ان جانوروں کے حرام ہونے کا ذکر قرآن میں نہیں ہے)

اس حدیث سے درج ذیل امور معلوم ہوئے:

(الف) قرآن ہی کی طرح احادیث بھی منجانب اللہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام کو دی گئی ہیں، (ب) قرآن کی طرح احادیث بھی احکام میں حجت ہیں، (ج) اور قرآن ہی کی طرح ان کی اتباع اور ان پر عمل لازم ہے۔

قرآن و حدیث کی ان تصریحات کے مطابق حضرات صحابہ، تابعین، محدثین، فقہائے مجتہدین اور تمام علماء اہل سنت والجماعت حدیث رسول ﷺ کی حجیت اور اس کی تشریعی حیثیت پر بصیرت کے ساتھ یقین رکھتے ہیں، اہل اسلام کے کسی گروہ، یا فرد نے جب کبھی بھی حدیث پاک کی اس شرعی حیثیت پر ردوقدح کی ہے تو اسے یکسر مسترد کردیا گیا ہے۔

غرضیکہ علماء حق کا یہی جادئہ متوارثہ ہے۔ اپنے تمام اساتذہ کو بھی اسی موقف پر پایا، اور اب تک اس موضوع پر جن کتابوں کے مطالعہ کی توفیق ملی وہ تقریبا ایک درجن سے زائد ہیں ان میں صرف فرقہ قرآنیہ کے بعض مصنّفین کی دو ایک کتابوں کے علاوہ سب میں قابل قبول قوی دلائل کے ساتھ حجیت حدیث کے مذہب منصور کا اثبات اور تائید و توثیق کی گئی ہے۔ بایں ہمہ ایک ہم عصر مشہور فاضل نے جو اپنی وسیع علمی خدمات کی بناء پر اوساط علمیہ میں اعتبار واستحسان کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اپنی ایک تحریر میں اس بارے میں میرے علم کے مطابق سب سے الگ ایک جدید نقطئہ نظر پیش کیا ہے جو انھیں کے الفاظ میں یہ ہے کہ ”حدیث اور سنت میں فرق (ہے) اور حجت سنت ہے حدیث نہیں“ زیر نظر تحریر میں اسی نقطئہ نظر کا اپنے علم و فہم کے مطابق جائزہ لیاگیا ہے۔ واللّٰہ ہو الملہم الصواب والسداد، وعلیہ التکلان والاعتماد.

(الف) سنت کا لغوی معنی

۱- امام لغت مطرزی متوفی ۶۱۰ھ ”لفظ سنن“ کے تحت لکھتے ہیں:

”السنة“ الطریقہ ومنہا الحدیث في مجوس ہَجَر ”سنّوا بہم سنّة اہل الکتاب“ ای اسلکوا بہم طریقہم یعنی عاملوہم معاملة ہٰوٴلاء في اعطاء الامان باخذ الجزیة منہم. (المُغرِب، ج:۱، ص:۴۱۷)

”سنت“ طریقہ کے معنی میں ہے اسی معنی میں مجوسِ ہجر کے بارے میں حدیث ہے ”سنّوا بہم سنة اہل الکتاب“ ان مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب جیسا طریقہ اختیار کرو یعنی جزیہ لے کر امن دینے کا جو معاملہ اہل کتاب کے ساتھ کرتے ہو یہی معاملہ ان مجوسیوں کے ساتھ کرو۔

۲- امام محی الدین ابوزکریا نووی متوفی ۶۷۶ھ لفظ ”السنة“ کے تحت رقمطراز ہیں:

”سنة النبي ﷺ أصلہا الطریقہ، وتطلق سنتہ صلی اللّٰہ علیہ علی الأحادیث المرویة عنہ ﷺ، وتطلق السنة علی المندوب، قال جماعة من أصحابنا في أصول الفقہ: السنة، والمندوب، والتطوع، والنفل، والمرغب، والمستحب کلہا بمعنی واحد وہو ما کان فعلہ راجحاً علی ترکہ ولا اثم علی ترکہ“ (تہذیب الاسماء واللغات، ج:۳،ص:۱۵۶)

سنت کا اصل معنی طریقہ ہے اور سنت رسول ﷺ کا لفظ اصطلاحاً رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے مروی احادیث پر بولا جاتا ہے نیز سنت کا اطلاق امر مستحب پر بھی ہوتا ہے ہمارے شوافع فقہائے اصول کی ایک جماعت کا قول ہے کہ سنت، مندوب، تطوع، نفل، مرغّب، اور مستحب یہ سب الفاظ ایک معنی میں ہیں یعنی وہ فعل جس کا کرنا نہ کرنے پر راجح ہے اور اسے چھوڑ دینے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

۳- ماہر لغت ابن المنظور متوفی ۷۱۱ھ اپنی گرانقدر تصنیف ”لسان العرب“ میں لکھتے ہیں:

وقد تکرر في الحدیث ذکر السنة وما تصرّف منہا، والأصل فیہ الطریقة، والسیرة، واذا اطلقت في الشرع فانما یراد بہا ما أمر بہ النبي ﷺ ونہی عنہ وندب الیہ قولاً وفعلاً مما لم ینطق بہ الکتاب العزیز ولہذا یقال في أدلة الشرع الکتاب والسنة أي القرآن والحدیث (فصل السین حرف النون، ج:۱۷،ص:۸۹)

سنت اور اس کے مشتقات کا ذکر حدیث میں بار بار آیا ہے، اس کا اصل معنی طریقہ اور چال چلن کے ہے، اور شرع میں جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ کام لیا جاتاہے جس کا نبی ﷺ نے حکم دیا، یا جس سے منع کیا، یا جس کی اپنے قول و فعل کے ذریعہ دعوت دی جن کے بارے میں کتاب عزیز نے (صراحت) سے کچھ نہیں کہا ہے، اسی بناء پر دلائل شرعیہ (کے بیان) میں کہا جاتا ہے ”الکتاب والسنة“ یعنی ”قرآن وحدیث“۔

علامہ ابن المنظور کے کلام میں ”ما أمر بہ النبي ﷺ ونہی عنہ“ عام ہے جس میں امر وجوبی، وغیروجوبی اور نہی تحریمی وغیرتحریمی سب داخل ہوں گی۔

۴- المعجم الوسیط مادہ سنن میں ہے:

السَّنَن‘ الطریقة والمثال یقال بنوا بیوتہم علی سنن واحد... والسنة الطریقة والسیرة حمیدة کانت او ذمیمة، وسنة اللّٰہ حکمہ في خلیقتہ، وسنة النبي ﷺ: ما ینسب الیہ من قول او فعل او تقریر، ”وفي الشرع“ العمل المحمود في الدین مما لیس فرضاً ولا واجباً“ (ص:۴۵۶)

سنن طریقہ اور مثال کے معنی میں ہے اسی معنی میں بولا جاتا ہے ”بنوا بیوتہم علی سنن واحد“ یعنی اپنے گھروں کو ایک طریقہ اور ایک نمونہ پر بنایا... اور سنت بمعنی طریقہ اور طرز زندگی ہے یہ طریقہ خواہ محمود ہو یا مذموم، اور ”سنت اللہ“ کا معنی اللہ کا اپنی مخلوق کے متعلق فیصلہ کے ہیں، اور سنت رسول سے مراد وہ قول وفعل اور تقریر ہیں جو آنحضرت ﷺ کی جانب منسوب ہیں، اور فقہ میں یہ لفظ دین میں اس پسندیدہ عمل پر بولا جاتا ہے جو فرض واجب نہیں ہیں۔

(ب) حدیث کا لغوی معنی

۱- لسان العرب میں ہے:

الحدیث نقیض القدیم ... والحدیث کون الشيء لم یکن، ... والحدیث الجدید من الاشیاء، والحدیث الخبر یأتي علی القلیل والکثیر والجمع أحادیث (ج:۲،ص:۴۳۶ و ۴۳۸فصل الحاء حرف الثاء)

حدیث قدیم کا نقیض (یعنی مقابل مخالف) ہے، حدیث شیٴ کا ہوجانا جو پہلے نہیں تھی، بمعنی جدید اور نئی، بمعنی خبر خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، اور جمع احادیث ہے۔

۲- ابن سیدہ متوفی ۴۵۸ھ المخصص میں لکھتے ہیں:

الحدیث الخبر، وقال سیبویہ: والجمع أحادیث. (ج:۳،ص:۳۲۳)

حدیث کے معنی خبر کے ہیں اور سیبویہ نے کہا ہے کہ اس کی جمع احادیث ہے۔

۳- علامہ قاضی محمد اعلیٰ تھانوی متوفی ۱۱۹۱ھ کشاف اصطلاحات الفنون میں لکھتے ہیں:

الحدیث لغة ضد القدیم ویستعمل في قلیل الکلام وکثیرہ (۲۷۹)

حدیث قدیم کا ضد ہے، اور کلام قلیل وکثیر میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

۴- علامہ راغب اصفہانی متوفی ۵۰۳ھ لکھتے ہیں:

کل کلام یبلغ الانسانَ من جہة السمع او الوحي في یقظتہ أو منامہ یقال لہ حدیث. قال عزّ وجلّ: ”وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلی بَعْضِ اَزْوَاجِہ حدیثًا (التحریم:۳، مفردات الفاظ القرآن، ص:۱۲۴)

ہر وہ کلام جو انسان تک پہنچتا ہے کان کی جانب سے یا وحی کی جانب سے بیداری یا خواب کی حالت میں اسے حدیث کہا جاتا ہے۔ اللہ عزّ وجلّ کا ارشاد ہے: واذ اَسرّ النبیّ“ الآیة اور جب کہ کہی نبی نے اپنی بعض بیوی سے ایک بات۔

علمائے لغت کی مندرجہ بالا عبارتوں سے معلوم ہوا کہ ”حدیث“ از روئے لغت، جدید، غیرموجود کا وجود میں آجانا، خبر اور کلام یعنی بات کے معنی میں بولا جاتا ہے۔

سنت وحدیث کی اس لغوی معنوی تحقیق کے بعد ان ہر دو کی اصطلاحی تعریف ملاحظہ کیجئے، جس کے تحت علمائے حدیث، علمائے اصول فقہ، اور فقہ حنفی کی الگ الگ تعریفات نقل کی جارہی ہیں؛ تاکہ مسئلہ زیربحث میں ہرجماعت و طبقہ کی اصطلاحات سامنے رہیں اور خلط مبحث سے بچا جاسکے۔ سب سے پہلے حدیث کی تعریف محدثین کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔

حدیث محدثین کی اصطلاح میں

شیخ ابوالفیض محمد بن محمد فارسی حنفی المعروف بہ فصیح ہروی متوفی ۸۳۷ھ اپنی مفید تصنیف جواہر الاصول میں حدیث کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:

۱ - ”الحدیث، وہو في اللغة ضد القدیم، ویستعمل في قلیل الکلام وکثیرہ، وفي اصطلاحہم: قول رسول اللّٰہ ﷺ وحکایة فعلہ وتقریرہ والسنة ترادفہ عندہم“ (ص:۱۰)

لغت میں حدیث قدیم کا ضد ہے، اور تھوڑی وزیادہ بات پر بھی حدیث کا لفظ استعمال کیاجاتا ہے، اور محدثین کی اصطلاح میں رسول اللہ ﷺ کا قول اور آپ ﷺ کے فعل وتقریر کی حکایت و بیان حدیث ہے، ان حضرات کے نزدیک سنت، حدیث کے مرادف ہے۔

شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ صحیح بخاری کے باب الحرص علی الحدیث کے تحت لکھتے ہیں:

۲ - ”المراد بالحدیث في عرف الشرع ما یضاف الی النبي ﷺ وکأنّہ أرید بہ مقابلة القرآن لأنہ قدیم“ (فتح الباری،ج:۱،ص:۲۵۷)

حدیث سے مراد شرعی ودینی عرف واصطلاح میں وہ امور ہیں، جو نبی ﷺ کی جانب منسوب ہیں، ”ما یضاف الی النبی“ میں حافظ عسقلانی رحمة الله عليه نے جس عموم کی جانب اشارہ کیا تھا، ان کے تلمیذ رشید حافظ سخاوی نے اپنی ذکر کردہ تعریف میں اسی کی تشریح و توضیح کی ہے۔ ”واللہ اعلم“

۳- حافظ سخاوی متوفی ۹۰۲ھ ”حدیث“ کی تعریف ان الفاظ سے کرتے ہیں:

”الحدیث“ لغة ضد القدیم، واصطلاحاً: ما أضیف الی النبي ﷺ قولاً لہ أو فعلاً، أو تقریرًا أو صفةً حتی الحرکات والسکنات في الیقظة والمنام، فہو أعمّ من السنة ... وکثیراً ما یقع في کلام أہل الحدیث - ومنہم الناظم - ما یدل لترادفہما“ (فتح المغیث،ج:۱،ص:۹)

حدیث لغت میں حادث ونوپید کے معنی میں ہے اور اصطلاح محدثین میں حدیث وہ سب چیزیں ہیں جو نبی علیہ الصلوٰة والسلام کی جانب منسوب ہیں (یعنی) آپ صلى الله عليه وسلم کا قول، یا فعل، یا آپ کا کسی امر کو ثابت اور برقرار رکھنا، یا آپ کی صفات؛ حتی کہ بیداری اور نید میں آپ کی حرکت وسکون (یہ سب حدیث ہیں لہٰذا اس تعریف کی رو سے یہ سنت سے عام ہے، (جبکہ) علمائے حدیث (جن میں ناظم یعنی الفیة الحدیث کے مصنف حافظ عراقی متوفی ۸۰۶ھ بھی ہیں) کا کلام کثرت سے یوں واقع ہوا ہے، جو حدیث وسنت کے ترادف اور ایک ہونے کو بتارہا ہے۔

نادرئہ روزگار علامہ عبدالحئی فرنگی محلی رحمة الله عليه متوفی ۱۳۰۴ھ حدیث کی تعریف پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

۴ - واختلف عباراتہم في تفسیر الحدیث، فقال بعضہم: ما أضیف الی رسول اللّٰہ ﷺ قولاً أو فعلاً أو تقریرًا، أو الی الصحابي، أو الی التابعي، وحینئذ فہو مرادف السنة، وکثیرا ما یقع في کلام الحفاظ ما یدل علی الترادف. وزاد بعضہم أو صفة، وقیل رُویاء أیضاً بل الحرکات والسکنات النبویة في المنام والیقظة أیضاً، وعلی ہذا فہو أعم من السنة (ظفرالامانی مع تعلیق علامہ شیخ ابوغدہ،ص:۲۴)

حدیث کی تفسیر و تعریف میں حضرات محدثین کی عبارتیں مختلف ہیں، بعض محدثین یوں تعریف کرتے ہیں وہ قول یا فعل یا تقریر جو رسولِ اللہ ﷺ کی جانب منسوب ہیں یا صحابی یا تابعی کی طرف ان کی نسبت ہے (وہ حدیث ہے) اس تعریف کی رو سے حدیث، سنت کے مرادف ہوگی اور حفاظ حدیث کے بکثرت کلام و تصرفات دونوں کے مرادف ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

اور بعض محدثین نے حدیث کی تعریف میں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی صفات، اور خوابوں کا بھی؛ بلکہ بحالت نوم یا بیداری آپ کے حرکات وسکنات کا اضافہ کیا ہے؛ لہٰذا ان کی تعریف کے لحاظ سے حدیث میں سنت کے اعتبار سے وسعت و عمومیت ہوگی۔

سنت محدثین کی اصطلاح میں

حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ فتح الباری میں لکھتے ہیں:

۱ - والمراد ”بالکتاب“ القرآن المتعبد بتلاوتہ، و”بالسنة“ ما جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم من أقوالہ وأفعالہ وتقریرہ وما ہَمَّ بفعلہ، والسنة في أہل اللغة الطریقة وفي اصطلاح الأصولیین والمحدثین ما تقدم. (کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، ج:۱۳، ص:۳۰۶)

”الکتاب“ سے مراد قرآن ہے جس کی تلاوت کو عبادت گذاری ٹھہرایاگیا ہے، اور ”السنة“ سے مراد نبی علیہ الصلوٰة والسلام کے اقوال، افعال، تقریر اور وہ چیزیں ہیں جن کے کرنے کا آپ ﷺ نے قصد و ارادہ فرمایا، اور سنت اصل لغت میں طریقہ کے معنی میں ہے اور علمائے اصول اور علمائے حدیث کی اصطلاح میں یہی ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔

حافظ عسقلانیؒ کی اس تصریح سے معلوم ہوا کہ حضرات محدثین اور اصولیین سنت کے اصطلاحی معنی میں متفق ہیں۔

۲- علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ھ نے بھی بعینہ انہی الفاظ میں سنت کی تعریف ذکر کی ہے (دیکھئے عمدة القاری،ج:۲۵،ص:۲۳ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة کی ابتدائی سطور)

۳- حافظ السخاوی متوفی ۹۰۲ھ نے اپنی نہایت مفید و محققانہ تصنیف ”فتح المغیث بشرح ألفیة الحدیث للعراقي“ میں سنت کی تعریف یہ کی ہے ”السنن المضافة للنبي ﷺ قولاً لہ أو فعلاً أو تقریرًا، وکذا وصفًا وأیامًا“ (ج:۱،ص:۱۳)

نبی کریم ﷺ کی جانب منسوب قول، فعل، تقریر، نیز آپ کی صفات وایام سنت ہیں۔ حافظ سخاوی رحمة الله عليه جنھوں نے سنت کی تعریف میں آپ ﷺ کی صفات اور آپ سے متعلق تاریخ وواقعات کو بھی شامل کیا ہے، الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ انھوں نے یہی تعریف حدیث کی بھی کی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث وسنت ان کے نزدیک ایک ہی ہیں۔

حدیث وسنت کو ایک معنی میں استعمال کی چند مثالیں

حافظ سخاوی رحمة الله عليه اور علامہ فرنگی محلی رحمة الله عليه دونوں حضرات نے صراحت کی ہے کہ ائمہ حدیث کے کلام اور تصرفات سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث وسنت ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں، یعنی ان میں باہم نسبت تساوی کی ہے، تباین یا عام، خاص کی نسبت نہیں، ذیل میں اس کی چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں:

۱- امام ابوداؤد سجستانی متوفی ۲۷۵ھ اہلِ مکہ کے نام اپنے مشہور رسالہ و مکتوب میں اپنی سنن کے بارے میں لکھتے ہیں:

”فان ذُکرلک عن النبي ﷺ سُنّة لیس مما خرّجتہ فاعلم أنہ حدیث واہٍ“ (رسالة الامام ابوداؤد السجستانی الی اہل مکة فی وصف سننہ مع تعلیق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ،ص:۳۴)

”اگر تم سے نبی ﷺ کی جانب منسوب کوئی سنت ذکر کی جائے، جس کی تخریج میں نے (اس کتاب میں) نہیں کی ہے تو جان لو کہ یہ حدیث ضعیف ہے“

امام ابوداؤد کی اس عبارت میں سنت وحدیث کا مرادف وہم معنی ہونا بالکل ظاہرہے۔

۲- امام حافظ ابوبکر محمد بن موسیٰ حازمی متوفی ۵۸۴ھ ناسخ ومنسوخ کے موضوع پر اپنی نہایت مفید کتاب ”الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار“ میں کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:

فہذا کتاب أذکر فیہا ما انتہیت الی معرفتہ من ناسخ حدیث رسول اللّٰہ ﷺ ومنسوخہ (خطبة الکتاب، ص:۳) اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی ان ناسخ ومنسوخ حدیثوں کا ذکر کروں گا، جن کی معرفت تک میں پہنچ سکا ہوں، اسی خطبہٴ کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں:

وانما أوردنا نبذة منہا لیعلم شدة اعتناء الصحابة بمعرفة الناسخ والمنسوخ في کتاب اللّٰہ وسنة نبیہ صلی اللّٰہ علیہ اذ شأنہما واحدة“(ص:۵)

میں نے یہ چند روایتیں پیش کی ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ قرآن وسنت میں ناسخ ومنسوخ کی معرفت کا صحابہٴ کرام کو کس درجہ اہتمام تھا کیونکہ دونوں کی صفت (وجوب عمل میں) ایک ہے۔ پہلی عبارت میں حدیث ناسخ ومنسوخ کا اور دوسری عبارت میں ناسخ ومنسوخ سنت کا لفظ استعمال کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ امام حازمی حدیث وسنت کو ایک معنی میں لیتے ہیں۔

۳- سنت کی لغوی تحقیق میں امام نووی رحمة الله عليه کی یہ عبارت تہذیب الأسماء والصفات کے حوالہ سے اوپر ذکر کی جاچکی ہے۔

وتطلق سنتہ صلى الله عليه وسلم علی الأحادیث المرویة عنہ ﷺ.

اور سنت رسول علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کا اطلاق آنحضرت ﷺ سے مروی احادیث پر ہوتا ہے۔ امام نووی رحمة الله عليه کی اس عبارت سے سنت وحدیث کا ایک ہونا بالکل ظاہر ہے۔

۴- شیخ الاسلام حافظ ابن حجرعسقلانی رحمة الله عليه حدیث وخبر کے درمیان فرق کے قول کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومن ثم قیل لمن یشتغل بالتواریخ وما شاکلہا الأخباري، ولمن یشتغل بالسنة النبویة المحدث، وقیل بینہما عموم وخصوص مطلقاً فکل حدیث خبر من غیر عکس (نزہة النظر مع نورالقمر،ص:۲۷)

اسی فرق کی بناء پر جو شخص تاریخ یا تاریخ جیسے امور میں اشتغال رکھتا ہے اسے اخباری (مورخ) کہا جاتا ہے اور جو سنت نبویہ علی صاحبہا الصلوٰة والسلام میں مشغول رہتا ہے اسے محدث کہا جاتا ہے، اور کہا گیا ہے کہ خبر وحدیث میں عموم و خصوص کی نسبت ہے۔ لہٰذا ہر حدیث خبر ہے اور ہر خبر حدیث نہیں ہے۔ اس عبارت میں ایک جگہ سنت اور دوسری جگہ حدیث کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک دونوں ایک ہیں۔

بغرض اختصار صرف چار مثالوں پر اکتفاء کیاگیا ورنہ علمائے حدیث کے کلام سے دونوں کے مترادف ہونے کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

عام طور پر متأخرین محدثین حدیث وسنت کی اوپر مذکور یہی تعریف کرتے ہیں، اور اپنے کلام میں عام طور پر دونوں کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں جیساکہ اوپر کی بیان کردہ تفصیلات سے معلوم ہوچکا ہے۔

ایک قدیم اصطلاح: علامہ محمد بن جعفر کتّانی متوفی ۱۳۴۵ھ اپنی مشہور اور نہایت مفید تصنیف ”الرسالة المستطرفة لبیان مشہور کتب السنة المشرفة“ میں کتب سنن کے تعارف میں لکھتے ہیں:

”ومنہا کتب تعرف بالسنن وہی في اصطلاحہم الکتب المرتبة علی الأبواب الفقہیة من الایمان والطہارة والزکاة الی آخرہا ولیس فیہا شیء من الموقوف لأن الموقوف لا یسمّٰی في اصطلاحہم سنة ویسمی حدیثًا“ (ص:۲۹)

اور ان کتب حدیث میں بعض وہ ہیں جو سنن سے معروف ہیں اور سنن ان کی اصطلاح میں ابواب فقہیہ پر مرتب کتابیں ہیں یعنی ایمان، طہارت، صلاة، زکوٰة الی آخرہ یعنی اسی ترتیب پر پوری کتاب مرتب ہوتی ہے۔ اور سنن کی کتابوں میں موقوف روایتیں نہیں ہیں؛ کیونکہ ان کی اصطلاح میں موقوف کو سنت نہیں کہا جاتا ہے، بلکہ حدیث کہا جاتا ہے۔

سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ۸۱۶ھ نے بھی اس اصطلاح کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

السلف أطلقوا الحدیث علی أقوال الصحابة والتابعین لہم باحسان وآثارہم وفتاواہم (خلاصہ،ص:۳۳ ملا علی کی شرح شرح نخبة الفکر کے صفحہ ۱۵۳ پر ”خبر، حدیث اور اثر“ کے بیان میں کتاب کے محقق نے خلاصہ کی یہ عبارت اپنی تعلیق میں نقل کی ہے)

ائمہ سلف نے ”حدیث“ کا اطلاق صحابہ اور تابعین کے اقوال، آثار اور ان کے فتاویٰ پر کیا ہے۔

غالباً اسی اصطلاح کے مطابق امام عبدالرحمن بن مہدی رحمة الله عليه نے امام سفیان ثوری رحمة الله عليه کی علوم میں جامعیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

الناس علی وجوہ، فمنہم من ہو امام في السنة وامام في الحدیث، ومنہم من ہو امام في السنة ولیس بامام في الحدیث، ومنہم من ہو امام في الحدیث لیس بامام في السنة، فأما من ہو امام في السنة وامام في الحدیث فسفیان الثوري (تقدمة الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم، ص:۱۱۸)

علماء متعدد صفات کے حامل ہیں، ان میں بعض وہ ہیں جو سنت میں امام ہیں اور حدیث میں بھی امام ہیں، اور ان میں بعض وہ ہیں جو سنت میں امام ہیں اور حدیث میں امام نہیں ہیں،اور ان میں بعض وہ ہیں جو حدیث میں امام ہیں سنت میں امام نہیں ہیں تو جو سنت اور حدیث دونوں میں امام ہیں وہ سفیان ثوری رحمة الله عليه ہیں۔ یعنی سفیان ثوری رحمة الله عليه احادیث مرفوعہ اور صحابہ و تابعین سے منقول آثار اور فتاویٰ سب میں امام و پیشوا تھے۔

متقدمین ائمہ حدیث کی سنت و حدیث کے بارے میں فرق کی یہ ایک اصطلاح تھی؛ لیکن متأخرین کے یہاں اس اصطلاح کا استعمال نہیں ہے۔ متقدمین ائمہ حدیث اگرچہ سنت وحدیث کے درمیان اصطلاحی طور پر یہ فرق کرتے ہیں؛ لیکن عام طور پر وہ شریعت میں صحابہ کے قول کو بھی حجت مانتے ہیں؛ اس لئے اس اصطلاحی فرق سے ان کی حجیت میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔

ایک اور اصطلاح: بہت سے اصولیین اور بعض محدثین بھی سنت وحدیث میں اصطلاحی طو رپر یہ فرق کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے قول، فعل، تقریر اور طریق صحابہ سب پر سنت کا لفظ بولتے ہیں،اور حدیث و خبر کا اطلاق صرف آپ صلى الله عليه وسلم کے فعل پر کرتے ہیں۔ مولانا عبدالحئی فرنگی محلی لکھتے ہیں:

ذکر ابن مَلَک في ”شرح منار الأصول“ اَنّ سنة تطلق علی قول رسول اللّٰہ ﷺ وفعلہ، وسکوتہ وطریقة الصحابة، والحدیث والخبر مختصان بالأول.

سنت کا اطلاق رسول خدا صلى الله عليه وسلم کے قول، فعل، سکوت، اور طریقہٴ صحابہ پر کیاجاتا ہے اور حدیث وخبر پہلے (یعنی قول رسول اللہ صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ خاص ہیں۔ (ظفر الامانی،ص:۲۴-۲۵)

محقق علاء الدین عبدالعزیز بخاری متوفی ۷۳۰ھ اصول بزدوی کی عبارت ”تمسکاً بالسنة والحدیث“ کے تحت لکھتے ہیں:

السنة أعم من الحدیث لانہا تتناول الفعل والقول، والحدیث مختص بالقول“ الخ (کشف الاسرار،ج:۱،ص:۵۹)

”سنت“، ”حدیث“ سے عام ہے کیونکہ سنت فعل وقول (سب کو) شامل ہے اور حدیث قول کے ساتھ خاص ہے۔ یہی تفصیل تلویح اور عضدی میں بھی ہے۔

لفظ سنت وحدیث کے درمیان استعمال کا یہ فرق بھی بس اصطلاح ہی کی حد تک ہے، جس سے ان کی حجیت قطعاً متاثر نہیں ہوگی؛ کیونکہ جو حضرات سنت کو عام معنی یعنی آنحضرت ﷺ کے قول وفعل کے معنی میں لیتے ہیں وہ تو اسے حجت مانتے ہی ہیں اور جو آنحضرت ﷺ کے قول کو حدیث سے تعبیر کرتے ہیں اور سنت کا اطلاق اس پر نہیں کرتے ہیں وہ بھی اس حدیث قولی کو حجت قرار دیتے ہیں۔

سنت علمائے اصول کی اصطلاح میں

علمائے اصول جن کا موضوع احکام شرعی کے اصول ومآخذ کا بیان، اور کتاب وسنت کے نصوص سے اخذ معانی وغیرہ کے قواعد وضوابط کی تنقیح و تدوین ہے، جب وہ اپنے موضوع کے مطابق فقہی احکام کے دوسرے مصدر و مآخذ کی حیثیت سے سنت رسول ﷺ کا ذکر کرتے ہیں تو اپنے فن کے تحت سنت کی تعریف بھی بیان کرتے ہیں بطور نمونہ اصول فقہ کی مستند و معروف چند کتابوں سے یہ تعریف نقل کی جارہی ہے۔

۱- قاضی بیضاوی متوفی ۶۸۵ھ ”منہاج الوصول الی علم الأصول“ میں لکھتے ہیں:

الکتاب الثانی في السنة: وہو قول الرسول ﷺ او فعلہ الخ.

کتاب ثانی سنت کے بیان میں اور سنت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا قول یا فعل ہے۔

شیخ جمال الدین اسنوی متوفی ۷۷۲ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

أقول: السنة لغة ہي العادة والطریقة قال اللّٰہ تعالٰی: ”قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُوْا في الاَرضِ“ ای طرق، وفي الاصطلاح تطلق علی ما یقابل الفرض من العبادات، وعلی ما صدر من النبي ﷺ من الأفعال أو الأقوال لیست للاعجاز وہذا ہو المراد ہہنا، ولما کان التقریر عبارة من الکف عن الانکار والکف فعل کما تقدم استغنی المصنف عنہ بہ أی عن التقریر بالفعل“ (نہایة السول في شرح منہاج الوصول الی علم الأصول علی الہامش التقریر والحبیر، ج:۲، ص:۵۲)

میں کہتا ہوں کہ سنت لغت میں عادت اور طریقہ کے معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قد خلت الخ یعنی تحقیق کہ تم سے پہلے طریقے گذرچکے ہیں، لہٰذا زمین میں گھوم پھر (کر انہیں دیکھ لو) (آیت میں مذکور لفظ سُنَن بمعنی) طریقے ہے، اور اصطلاح میں (۱) ان عبادتوں پر سنت کا اطلاق ہوتا ہے جو فرض کے مقابل ہیں، (۲) اور آنحضرت ﷺ سے صادر ان افعال واقوال پر ہوتا ہے جو (صراحتاً) قرآن میں نہیں ہیں، اور اس جگہ یہی دوسرا اصطلاحی معنی مراد ہے، اور جب انکار سے رکنے کو تقریر سے تعبیرکیا جاتا ہے تو ”کف“ یعنی رکنا (ایک) فعل ہے اس لئے قول کے ساتھ فعل کے ذکر کے بعد تقریر کے ذکر کی مصنف نے ضرورت نہیں سمجھی۔

۲- امام ابواسحاق الشاطبی متوفی ۷۹۰ھ لکھتے ہیں:

ویطلق لفظ السنة علی ما جاء منقولا عن النبي ﷺ علی الخصوص بما لم ینص علیہ في الکتاب العزیز بل انما نص علیہ من جہتہ علیہ الصلوٰة والسلام کان بیاناً لما في الکتاب؛ أولاً، ویطلق أیضاً في مقابلة البدعة، فیقال: ”فلان علی سنة اذا عمل علی وفق ما عمل علیہ النبي ﷺ، کان ذلک مما نص علیہ في الکتاب أولاً، ویقال: فلان علی بدعة ”اذا عمل علی خلاف ذلک، وکأن ہذا الاطلاق انما اعتبر فیہ عمل صاحب الشریعة فأطلق علیہ لفظ السنة من تلک الجہة، وان کان العمل بمقتضی الکتاب.

ویطلق أیضا لفظ السنة علی ما عمل علیہ الصحابة وجد ذلک في الکتاب أو السنة أو لم یوجد لکونہ اتباعاً لسنة ثبتت عندہم لم تنقل الینا، أو اجتہادًا مجتمعاً علیہ منہم أو من خلفائہم ... واذا جمع ما تقدم تحصل منہ في الاطلاق أربعة أوجہ، قولہ علیہ الصلاة والسلام، وفعلہ، واقرارہ- وکل ذلک اما متلقی بالوحی أو بالاجتہاد، وہذہ ثلاثة، والرابع ما جاء عن الصحابة أوالخلفاء. (الموافقات،ج:۴، ص:۳ تا ۶)

اور لفظ سنت ان امور پر بولا جاتا ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم سے منقول ہوکر آئے ہیں بالخصوص وہ امور جو قرآن مجید میں منصوص نہیں ہیں؛ بلکہ وہ آنحضرت ﷺ ہی کی جانب سے مذکور ہیں، پھر وہ امور قرآن کی مراد کا بیان و تفسیر ہوں، یا ایسے نہ ہوں۔

اور سنت کا لفظ بدعت کے مقابلہ میں بھی بولا جاتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے فلاں سنت پر ہے؛ جبکہ اس کا عمل نبی ﷺ کے عمل کے موافق ہو، خواہ یہ عمل ان اعمال میں سے ہو جن کی قرآن میں صراحت کی گئی ہے، یا ایسا نہ ہو،اور کہا جاتا ہے فلاں بدعت پرہے؛ جبکہ اس کا وہ عمل آنحضرت ﷺ کے عمل کے موافق نہ ہو، گویا اس اطلاق میں صاحب شریعت (صلى الله عليه وسلم) کے عمل کا اعتبار کیاگیا ہے، اور اسی لحاظ سے اس پر سنت کا لفظ استعمال کیاگیاہے۔ اگرچہ وہ عمل بتقاضائے کتاب الٰہی ہو۔

نیز لفظ سنت کا اطلاق صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کے عمل پر بھی ہوتا ہے قرآن وحدیث میں اس کے وجود سے ہم واقف ہوں یا نہ ہوں؛ کیونکہ صحابہ كرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کا یہ عمل یاتو سنت کی اتباع میں ہوگا جو ان کے نزدیک ثابت تھی اور ہم تک نہیں پہنچی یا ان کے اجماعی اجتہاد یا خلفاء کے اجتہاد کی بناء پر ہوگا ... ان مذکورہ صورتوں کو جمع کیا جائے تو سنت کے اطلاق کی چار صورتیں نکلیں گی: (۱) آنحضرت ﷺ کا قول، (۲) آپ کا فعل، (۳) آپ کا اقرار واثبات اور یہ سب یا تو وحی سے حاصل شدہ ہوں گی یا اجتہاد سے یہ تین قسمیں ہوئیں، (۴) اور چوتھی قسم صحابہ رضوان الله تعالى عليهم اجمعين یا خلفاء رضوان الله تعالى عليهم اجمعين سے ثابت شدہ امور ہیں۔

محقق ابن ہمام متوفی ۸۶۱ھ نے اصول فقہ میں اپنی مشہور وکثیر الفائدہ تصنیف ”التحریر“ میں سنت کی تعریف یہ کی ہے: ”وفي الاصول قولہ علیہ السلام وفعلہ و تقریرہ وفي فقہ الحنفیة: ما واظب علی فعلہ مع ترک بلا عذر لیلزم کونہ بلا وجوب، وما لم یواظبہ مندوب ومستحب“ (التقریر والتحبیر شرح التحریر، ج:۲، ص:۲۲۳)

سنت اصول فقہ میں آنحضرت ﷺ کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں،اور فقہ حنفی میں جس فعل پر آپ نے مواظبت فرمائی ہے بغیر عذر کے کبھی کبھار ترک کے ساتھ (ترک بلا عذر کی قید اس لئے ہے) تاکہ لازم ہوجائے کہ اس فعل پر ہمیشگی بطور وجوب کے نہیں تھی (کیونکہ بلا عذر ترکِ فعل کی واجب میں رخصت واجازت نہیں)

اس تعریف کا صاف مطلب یہ ہے کہ فقہائے اصول جب فقہ کے ادلہٴ اربعہ کے ضمن میں سنت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی تعریف آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے قول و فعل سے کرتے ہیں تو یہی سنت ان کے نزدیک مسائل کے لئے دلیل وحجت ہوتی ہے اور عبادات کے مراتب کی تعیین کے وقت بالخصوص فقہائے احناف فرض و واجب کے بعد اور نفل سے پہلے جب لفظ سنت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی تعریف ما واظب علی فعلہ الخ یا الطریقة المسلوکہ في الدین سے کرتے ہیں تو اس سنت کا ان کے نزدیک احکام شرعی کی حجت و دلیل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ بلکہ یہ تو اس حکم شرعی کا عرفی نام ہے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے عمل مع المواظبة بترک ما سے ثابت ہوا ہے۔

سنت کی اصولی و فقہی یہی تعریفیں قدیم وجدید سب مصنّفین اپنی اصول فقہ کی کتابوں میں بیان کرتے ہیں، ان سب کے ذکر میں تکرار محض اور طوالت ہے؛ اس لئے بطور نمونہ تین ماہر فن علماء کی تحریروں پر اکتفا کیا جارہا ہے، جن میں پہلے شافعی دوسرے مالکی اور تیسرے حنفی ہیں۔

***


([i])  یہ حدیث بہت سی کتب حدیث میں بایں الفاظ مروی ہے:
 عن المقدام بن معدی کرب الکندی، اَنّ رسول اللّٰہ ﷺ حرّم اشیاء یوم خیبر: الحمارَ وغیرہ ثم قال: یوشک الرجل متکئاً علی اریکتہ یُحدَّث بحدیثی فیقول بیننا ویبنکم کتاب اللّٰہ ما وجدنا فیہ من حلال استحللناہ وما وجدنا فیہ من حرام حرمناہ، الا وان ما حرّم رسول اللّٰہ فہو مثل ما حرّم اللّٰہ (سنن الدارمی باب السنة قاضیة علی کتاب اللّٰہ ج:۱، ص:۱۵۲)



No comments:

Post a Comment