Wednesday, 23 May 2012

عبادت کے معنی، اقسام، ودرجات، فضائل ومقاصد

عبادت کسے کہتے ہیں؟

لغوي معنیٰ:
بطورِ تعظیم معبود کے لئے انکساری و اطاعت بندگی، پرستش، پوجا۔



اصطلاحي معنیٰ:
ہر قول اور فعل، دعا اور پکار، ثنا اور تعظیم، رکوع اور سجود، قیام اور قعود وغیرہ جو اس اعتقاد اور شعور کے ساتھ ہو کہ معبود کو مافوق الاسباب ہمارے تمام معاملات پر غیبی قبضہ اور تسلط حاصل ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے، وہ عبادت ہے.
چنانچہ علامہ ابن القیمؒ نے عبادت کی تعریف کو ایک جامع تعبیر سے حسب ذیل عبارت میں بیان فرمایا ہے:
العبادة: (‌عبارة ‌عن ‌الاعتقاد والشعور بأن للمعبود سلطة غيبية في العلم والتصرف فوق الأسباب، يقدر بها على النفع والضر؛ فكل دعاء وثناء وتعظيم ينشأ من هذا الاعتقاد: فهو عبادة)۔
ترجمہ :
عبادت: اس اعتقاد اور شعور کا نام ہے کہ معبود کو ایک غیبی تسلط حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ نفع نقصان پر قادر ہے، اس لئے ہر تعریف، ہر پکار اور ہر تعظیم جو اس مذکورہ اعتقاد اور شعور کے ساتھ ہو وہ عبادت ہے۔
[مدارج السالکین: ١/٤٠ (1/ 318 الناشر: دار الصميعي)]

An expression of the belief and perception that the deity has an unseen authority (control, power) in knowledge and control (of the affairs) above the (created) ways and means (asbaab) through which He has power of benefit and harm. So every invocation (du'a), praise and veneration that emanates from this belief is considered ibaadah (worship).








اطاعت اور عبادت میں فرق:
 قرآنِ حکیم میں:
(اَطِيْعُوْا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْا الرَّسُوْلَ) 
(اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔)

اطاعت کہتے ہیں کہنا ماننے کو۔ جو اللہ کے علاؤہ ہر اللہ والے کیلئے جائز ہے، بشرطیکہ وہ خالق کے نافرمانی کی بات نہ ہو۔
[حوالہ سورۃ النساء:59]

لیکن
اللہ کے علاؤہ کسی مخلوق کو غائبانہ پکار سننے اور تکلیف دور کرنے پر قادر "ماننا" یا اسے غائبانہ مدد کیلئے "پکارنا" عبادت ہے جو غیر اللہ کیلئے ہرگز جائز نہیں۔



إِلَه (خدا-معبود) کسے کہتے ہیں؟
إِلَهٌ‌ وہ ہستی ہے جسے (1)غائبانہ مدد کیلئے پکارا جائے اور (2)وہ تکلیف دور کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔
القرآن:
بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور إِلَهٌ ہے؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔
[سورۃ النمل، آیت نمبر 62]
 لہٰذا
جب اللہ کے علاوہ کوئی شخص کسی مخلوق کو مدد کیلئے غائبانہ پکارے تو وہ اپنے اس عمل سے اس مخلوق کو خدا مان رہا ہے کیونکہ وہ اس مخلوق کیلئے خدائی والی عقیدت رکھتا ہے کہ وہ پکار سنتا ہے اور تکلیف دور کرنے پر قادر ہے، اور یہ الله کی خاص خوبیوں میں اس مخلوق کو شریک partner بنانا یعنی شرک کرنا ہے۔



مقاصد عبادت

عبادت کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں، جو اس کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں:

1. مقصدِ اصلی (الٰہی مقصد)

· خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا: عبادت کا بنیادی مقصد خالق کائنات کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا ہے۔
· ربوبیت کا اقرار: بندگی کے ذریعے اللہ کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسماء و صفات کا اعتراف۔
· توحید کی عملی تصدیق: زبانی اقرار کے ساتھ عملی طور پر توحید کا اثبات۔

2. مقاصدِ روحانی و باطنی

· قلب کی تطہیر: گناہوں سے پاکیزگی اور روح کی تربیت۔
· تزکیہ نفس: نفس امارہ کو قابو میں رکھنا اور اس کی اصلاح۔
· اللہ سے قربت: ذکر و فکر کے ذریعے معبود حقیقی سے روحانی تعلق مضبوط کرنا۔
· اطمینان قلب: دل کا سکون و اطمینان حاصل کرنا۔

3. مقاصدِ اخلاقی و تربیتی

· صبر و شکر کی تربیت: مشکل حالات میں صبر اور آسودگی میں شکر کی عادت ڈالنا۔
· اخلاقی بلندی: عبادات کے ذریعے صفات حمیدہ جیسے انصاف، رحم، سخاوت کا حصول۔
· خودشناسی: اپنی کمزوریوں اور محدودیتوں کا ادراک۔

4. مقاصدِ اجتماعی و معاشرتی

· امت کی وحدت: اجتماعی عبادات (نماز باجماعت، حج) کے ذریعے اخوت و مساوات کا احساس۔
· اجتماعی نظم و ضبط: عبادات کے اوقات و شرائط کے ذریعے منظم معاشرہ کی تشکیل۔
· باہمی تعاون: زکوٰۃ، صدقات وغیرہ کے ذریعے معاشرتی توازن۔

5. مقاصدِ عملی و دنیوی

· وقت کی پابندی: عبادات کے اوقات سے وقت کی قدر و اہمیت کا شعور۔
مقاصد عبادت: عقلی وجوہات اور شرعی دلائل کی روشنی میں

1. مقصدِ اصلی: اللہ تعالیٰ کی رضا اور توحید کا اقرار

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة الذاریات (51:56): "اور میں نے جنات اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"
  · سورة البینۃ (98:5): "اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔"
· حدیث:
  · حدیث قدسی: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میں تمام شرکوں سے بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں" [صحیح مسلم:2985(7475)]

عقلی وجوہات:

1. فطری عجز کا ادراک: انسان اپنی محدودیتوں، ضعف اور محتاجی کو پہچانتا ہے، جس کا منطقی نتیجہ ایک کامل، قادر اور غنی ہستی کی عبادت ہے۔
2. خالق و مخلوق کا تعلق: جس طرح مصنوع اپنے صانع کا محتاج ہوتا ہے، اسی طرح مخلوق اپنے خالق کی عبادت پر منطقی طور پر مجبور ہے۔
3. وجود کا مقصد: انسان کی عقل پوچھتی ہے کہ آیا ہماری تخلیق بے مقصد ہے؟ قرآن کا جواب ہے کہ عبادت ہی تخلیق کا بنیادی مقصد ہے۔

2. مقاصدِ روحانی: تزکیہ نفس اور قلبی سکون

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة الشمس (91:9-10): "بے شک فلاح پاگیا وہ جس نے اس (نفس) کو پاک کر لیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے گناہوں میں ڈبونے دیا۔"
  · سورة الرعد (13:28): "جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔"
· حدیث:
  · رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مثال اس شخص کی جو اپنے رب کے ذکر کا اہتمام کرتا ہے اور اس شخص کی جو ذکر نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی مانند ہے" [صحیح بخاری:6407]

عقلی وجوہات:

1. نفسانی بیماریوں کا علاج: حسد، تکبر، بغض جیسی روحانی بیماریوں کا واحد علاج عبادت کے ذریعے تزکیہ نفس ہے۔
2. قلبی اطمینان کا حصول: مادی دنیا کی محدود نعمتیں دل کا سکون نہیں دے سکتیں، جبکہ عبادت سے حقیقی قلبی سکون ملتا ہے۔
3. روحانی ترقی: انسان محض مادی وجود نہیں، بلکہ اس کی روحانی ضروریات بھی ہیں جو عبادت کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔

3. مقاصدِ اخلاقی: انسانی شخصیت کی تعمیر

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة العنکبوت (29:45): "بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔"
  · سورة المعارج (70:19-23): "بے شک انسان بڑا بے تاب پیدا کیا گیا ہے، جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے، اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بخیل ہو جاتا ہے، سوائے نمازیوں کے۔"
· حدیث:
  · رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اخلاق میں بہترین ہو" [صحیح بخاری:6035]

عقلی وجوہات:

1. خود کنٹرول کی تربیت: روزے کی مثال لیجئے جو صبر، ضبط نفس اور ارادی قوت کی تربیت دیتا ہے۔
2. اجتماعی ذمہ داری کا شعور: زکوٰۃ انسان میں مال کی محبت کو کم کرکے دوسروں کی ضرورت کا احساس پیدا کرتی ہے۔
3. اخلاقی حد بندیوں کا تعین: عبادات انسان کو اخلاقی حدود بتاتی ہیں، جس سے معاشرے میں انضباط پیدا ہوتا ہے۔

4. مقاصدِ اجتماعی: امت کی وحدت اور معاشرتی اصلاح

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة الحجرات (49:10): "بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
  · سورة آل عمران (3:103): "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (دین) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔"
· حدیث:
  · رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔" [صحیح بخاری:481]
  · نماز باجماعت کی فضیلت: "جماعت کی نماز تنہا نماز سے ستائیس درجہ افضل ہے۔" [صحیح بخاری:645]

عقلی وجوہات:

1. اجتماعی یکجہتی: اجتماعی عبادات (نماز باجماعت، حج) مختلف النوع افراد میں اتحاد پیدا کرتی ہیں۔
2. معاشرتی انصاف: زکوٰۃ اور صدقات کا نظام معاشرتی عدم مساوات کو کم کرتا ہے۔
3. قومی شناخت: عبادات امت مسلمہ کو ایک پہچان دیتی ہیں اور ان میں اجتماعی شعور پیدا کرتی ہیں۔

5. مقاصدِ عملی: زندگی میں نظم و ضبط

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة النساء (4:103): "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے۔"
· حدیث:
  · رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بندے کے اسلام کے اچھے ہونے میں یہ ہے کہ وہ اس کام کو ترک کر دے جس کا اسے کوئی فائدہ نہیں۔" [ترمذی:2317]

عقلی وجوہات:

1. وقت کا صحیح استعمال: دن میں پانچ وقت کی نماز انسان کو وقت کی پابندی سکھاتی ہے۔
2. زندگی میں توازن: عبادات دنیاوی مصروفیات اور روحانی تقاضوں میں توازن قائم کرتی ہیں۔
3. نظم کی عادت: عبادات کے مخصوص اوقات، شرائط اور طریقے انسان میں نظم و ضبط کی عادت ڈالتے ہیں۔

6. مقاصدِ اخروی: جنت کی طلب اور جہنم سے نجات

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة الزمر (39:73): "اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔"
  · سورة الفجر (89:27-30): "اے مطمئن نفس! تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی، پس میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"
· حدیث:
  · رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا۔" [صحیح بخاری:3244]

عقلی وجوہات:

1. انسان کی ابدی خواہش: انسان فطری طور پر ہمیشہ کی زندگی اور لازوال نعمتوں کا خواہاں ہے، جو عبادت کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔
2. اعمال کا منطقی نتیجہ: عقل تقاضا کرتی ہے کہ نیک اعمال کا اچھا نتیجہ اور برے اعمال کا برا نتیجہ نکلے۔
3. عدل الٰہی کا تقاضا: یہ دنیا میں ہر نیک و بد کا مکمل بدلہ نہیں ملتا، اس لیے عقل آخرت کے وجود کی تائید کرتی ہے۔

7. مقاصدِ علمی و فکری: معرفت الٰہی کا حصول

شرعی دلائل:

· قرآن مجید:
  · سورة فاطر (35:28): "بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔"
  · سورة آل عمران (3:191): "جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور وفکر کرتے ہیں۔"

عقلی وجوہات:

1. کائناتی اسرار کی تفہیم: عبادت کے دوران غور وفکر انسان کو کائنات کے اسرار سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
2. علمی ترقی کا محرک: اسلامی تاریخ میں بہت سائنسدان عبادت گزار تھے جنہوں نے عبادت کی حالت میں غور وفکر سے علمی دریافتیں کیں۔
3. منطقی سوچ کی تربیت: عبادات میں پائی جانے والی حکمتیں انسانی عقل کو جلا بخشنے کا باعث بنتی ہیں۔

خلاصہ و نتائج:

عبادت کا اسلامی تصور ایک جامع تصور ہے جو:

1. منطقی اور عقلی ہے جو انسانی فطرت کے مطابق ہے۔
2. مکمل اور متوازن ہے جو فرد اور معاشرہ دونوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔
3. دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
4. روحانی اور مادی دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
5. ذاتی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر مفید ہے۔

یہ وہ جامع نظام عبادت ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات اور انسانی عقل سلیم دونوں کی تائید حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔






عبادت کے فرض ہونے کی عقلی و شرعی وجوہات

پہلا باب: نقلی دلائل

1. قرآن مجید کی واضح تعلیمات

تخلیق کا بنیادی مقصد:

· سورة الذاریات (51:56):
    "اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"
    تشریح: اس آیت میں "إِلَّا" (سوائے) حصر کے ساتھ آیا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ عبادت تخلیق کا واحد مقصد نہیں تو اولین مقصد ضرور ہے۔

فرضیت کا صریح اعلان:

· سورة البقرۃ (2:43):
    "اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔"
    یہاں "أَقِيمُوا" (قائم کرو) امر ہے جو فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔
· سورة النساء (4:103):
    "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے۔"
    لفظ "كِتَابًا" فرض ہونے کو واضح کرتا ہے۔

نافرمانی پر وعید:

· سورة المدثر (74:42-43):
    "تمہیں دوزخ میں کس چیز نے پہنچایا؟ وہ کہیں گے: ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔"
    اس سے نماز کی فرضیت اور اس کے ترک کی سزا واضح ہوتی ہے۔

2. احادیث مبارکہ

فرضیت کی تصریح:

· صحیح بخاری:8، کتاب الایمان:
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔"
    یہ حدیث عبادات کو اسلام کے ارکان قرار دیتی ہے، نہ کہ اختیاری اعمال۔

ترکِ نماز پر وعید:

· صحیح مسلم:82(247)، کتاب الایمان:
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بندے اور کفر کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے، پس جس نے نماز ترک کی اس نے کفر کیا۔"
    یہ حدیث نماز کی فرضیت کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔

فرض و نفل میں فرق:

· صحیح بخاری:6502، کتاب الرقاق:
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے فرض عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کیا، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگا، اور جب میں اس سے محبت کرنے لگا تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے..."
    اس حدیث قدسی میں فرض عبادات کو قرب الٰہی کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

دوسرا باب: عقلی دلائل

1. تخلیق کا منطقی تقاضا

· علتِ غائی کا فلسفہ: ہر صانع اپنی صنعت کا کوئی نہ کوئی مقصد رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو حكیم مطلق ہے، اس کی تخلیق بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ عقل کہتی ہے کہ مخلوق کا خالق کے سامنے بندگی کرنا اس کی تخلیق کا منطقی تقاضا ہے۔

2. نظامِ کائنات کی مشابہت

· قوانین فطرت کی پابندی: جس طرح سورج، چاند، ستارے اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے پابند ہیں اور انہیں اختیار نہیں کہ وہ اپنے نظام سے انحراف کریں، اسی طرح انسان کا بھی فطری تقاضا ہے کہ وہ اپنے خالق کے مقرر کردہ نظام عبادت کا پابند ہو۔

3. انسانی فطرت کا تقاضا

· فطری بندگی: انسان فطری طور پر کسی نہ کسی کی عبادت کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ کی عبادت نہیں کرے گا تو ضرور کسی اور کی عبادت کرے گا (مال، طاقت، شہرت وغیرہ)۔ فرض عبادات درحقیقت اس فطری جبلت کو صحیح سمت دیتی ہیں۔

4. تربیتِ انسانی کا تقاضا

· نظم و ضبط کی ضرورت: انسان کو اخلاقی اور روحانی ترقی کے لیے ایک منظم نظام عبادت کی ضرورت ہے۔ اگر عبادت اختیاری ہوتی تو:
  · انسان اپنی ہوا پرستی میں مبتلا ہو جاتا
  · روحانی تربیت کا کوئی معیار قائم نہ رہتا
  · معاشرے میں اخلاقی اقدار کا فقدان ہو جاتا

5. حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن

· اللہ کا حق: جس طرح والدین، اولاد، پڑوسیوں کے حقوق فرض ہیں، اسی طرح خالق کا حق سب سے زیادہ اہم ہے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ جس نے ہمیں وجود بخشا، ہمارے لیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں، اس کا حق سب سے پہلے ادا کیا جائے۔

6. اختیاری عبادت کے نقصانات

اگر عبادت اختیاری ہوتی تو:

1. عبادت کا معیار متعین نہ ہوتا: ہر شخص اپنی مرضی کی عبادت ایجاد کرتا
2. اجتماعی نظام درہم برہم ہوتا: معاشرے میں کوئی مشترکہ اخلاقی نظام نہ رہتا
3. انفرادی تربیت ناممکن ہوتی: ہر شخص اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا
4. آخرت میں جواب دہی کا مسئلہ: اگر عبادت اختیاری ہوتی تو پھر آخرت میں بازپرس کا کوئی معیار نہ رہتا

تیسرا باب: فلسفیانہ اور کلامی دلائل

1. حكمتِ الٰہیہ کا تقاضا

· اللہ تعالیٰ حكیم ہے، اس کی ہر بات میں حکمت ہے۔ عبادت کی فرضیت میں بھی بے شمار حکمتیں ہیں:
  · انسان کو غفلت سے بچانا
  · اسے اپنے مقصدِ وجود کا احساس دِلانا
  · اس کی روحانی صلاحیتوں کو جِلا بخشنا

2. انسان کی دوہری فطرت

· انسان میں روحانی اور مادی دونوں پہلو ہیں۔ اگر عبادت اختیاری ہوتی تو مادی پہلو غالب آ جاتا اور روحانی پہلو ختم ہو جاتا۔ فرض عبادات اس توازن کو قائم رکھتی ہیں۔

3. عبادت کی فرضیت میں رحمت

· طبیب کی مثال: جیسے ایک ماہر ڈاکٹر مریض کو دوا ضروری قرار دیتا ہے، خواہ مریض کو وہ کڑوی کیوں نہ لگے، اسی طرح خالقِ حكیم نے عبادت کو ہمارے روحانی علاج کے لیے فرض کیا ہے۔

4. آزادیِ ارادی کا مفہوم

· اسلام میں عبادت کی فرضیت انسان کی آزادیِ ارادی کے منافی نہیں، بلکہ:
  · انسان کو اختیار ہے: ایمان لائے یا نہ لائے
  · مومن کو اختیار ہے: فرض ادا کرے یا نہ کرے (گناہ کا ارتکاب کرے)
  · لیکن اختیار کا نتیجہ (ثواب یا عذاب) بھی ضرور ملے گا۔

چوتھا باب: اعتراضات کے جوابات

اعتراض: اگر اللہ بے نیاز ہے تو وہ عبادت کیوں چاہتا ہے؟

جواب: اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں اس کی عبادت کی ضرورت ہے۔ جیسے ڈاکٹر دوا تجویز کرتا ہے تو اسے دوا کی ضرورت نہیں ہوتی، مریض کو ہوتی ہے۔

اعتراض: اختیاری عبادت زیادہ قابلِ قدر ہوتی!

جواب: فرض عبادت میں اطاعت کا پہلو شامل ہے جو اختیاری عبادت میں نہیں۔ نیز فرض ادا کرنا بڑی بات ہے، جیسے فرض مال ادا کرنا نفلی صدقہ دینے سے افضل ہے۔

اعتراض: بعض لوگ دل سے عبادت نہیں کرتے!

جواب: اسلام میں ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح مقصود ہے۔ فرض عبادت سے ظاہر کی اصلاح ہوتی ہے جو بتدریج باطن کی اصلاح کا سبب بنتی ہے۔

خلاصہ و نتائج:

1. عبادت کی فرضیت اللہ کی حكمت کاملہ کا تقاضا ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے۔
2. یہ فرضیت انسانی فطرت، معاشرتی ضروریات اور روحانی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
3. فرض عبادات انسان کو غفلت سے بچاتی ہیں اور اس کی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔
4. اختیاری عبادت کے نظام سے انسانی معاشرہ درہم برہم ہو جاتا اور روحانی ترقی ناممکن ہو جاتی۔
5. اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان فرما کر عبادت کو ان کی کامیابی کا ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ اپنی کوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے۔

آخر میں: عبادت کی فرضیت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حكمت کا مظہر ہے، جو انسان کی دنیاوی اور اخروی کامیابی کے لیے ایک جامع اور متوازن نظام فراہم کرتی ہے۔ یہ نظام نہ صرف فرد کی اصلاح کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو استحکام بخشتا ہے۔



مقاصدِ شریعت»
القرآن:
...تاکہ تم بچو۔
[البقرۃ:21]
...تاکہ تم شکر کرو(احسان مانو)۔
[البقرۃ:52]
...تاکہ تم ھدایت(راہ)پاؤ۔
[البقرۃ:53]
...تاکہ تم عقل پاؤ(سمجھ سکو)۔
[البقرۃ:73]
...تاکہ تم کامیاب ہو۔
[البقرۃ:189]
...تاکہ تم(غور و)فکر کرو۔
[البقرۃ:219]
...تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
[آل عمران:132]
...تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔
[الانعام:152]
...تاکہ تم اپنے رب سے ملاقات کا یقین کرلو۔
[الرعد:3]
...تاکہ تم فرمانبردار بنو۔
[النحل:81]






افضل عبادت کیا ہے؟










اسلام میں ورع (احتیاط اور گناہوں سے بچاؤ) اور تقویٰ (اللہ کا خوف اور پرہیزگاری) کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ یہ ایمان کی روح اور کامیابی کی کنجی ہیں۔ موجودہ دستیاب معلومات کے مطابق، ورع و تقویٰ کو بہت تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے لیکن انہیں عام طور پر الگ سے ایک "فرض" کے بجائے، تمام فرائض کی روح اور ان کے تکمیل کا لازمی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔

📖 تقویٰ کی فرضیت کی نوعیت اور دلائل

شریعت میں تقویٰ ایک جامع اصطلاح ہے جو انسان کے ہر عمل میں اللہ کی رضا کو ملحوظ رکھنے، اس کے غضب سے ڈرنے اور ہر قسم کے گناہوں (کبیرہ، صغیرہ اور شبہات) سے بچنے کا نام ہے۔

· قرآنی دلائل: قرآن مجید میں تقویٰ کو روزے کا مقصد، ہدایت کا معیار، کامیابی (فلاح) کی کنجی اور بہترین زادِ راہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
  · "بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔" [الحجرات: 13]
  · "اور اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔" [آل عمران: 102]
  · "اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔" [المائدہ: 2]
· فرض کیوں نہیں بلکہ فرض کی روح ہے؟ اسلام کے بنیادی ارکان (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) الگ سے فرض ہیں۔ تقویٰ ان تمام عبادات اور زندگی کے ہر شعبے میں درکار وہ باطنی کیفیت ہے جو ان اعمال کو محض رسمی تکرار سے حقیقی عبادت میں بدل دیتی ہے۔ اس لیے تقویٰ کو فرضیت کا درجہ حاصل ہے، یعنی ہر فرض کی ادائیگی میں تقویٰ (خوفِ الہی اور اخلاص) شرطِ اول ہے۔

✨ تقویٰ و ورع کے مقاصد و فوائد

تقویٰ اختیار کرنے کے بے شمار دنیاوی اور اخروی فوائد ہیں۔

1. اخروی فوائد:

· اللہ کی محبت و ولایت: اللہ تعالیٰ متقین سے محبت فرماتا ہے اور وہ ان کا دوست (ولی) ہے۔
· گناہوں کی مغفرت: تقویٰ صغیرہ گناہوں کے ساتھ ساتھ، بعض تفاسیر کے مطابق، کبیرہ گناہوں کے ازالے کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔
· جنت میں داخلہ: جنت خاص طور پر متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔
· آخرت کا بہترین زادِ راہ: تقویٰ ہی وہ واحد سرمایہ ہے جو مرنے کے بعد کام آئے گا۔

2. دنیاوی فوائد:

· فرقان (حق و باطل میں تمیز): اللہ تعالیٰ متقی کو وہ نورِ بصیرت عطا فرماتا ہے جس سے وہ مشکل حالات میں صحیح فیصلہ کر سکتا ہے۔
· رزق میں برکت و کشادگی: متقی کے لیے رزق کے نئے راستے کھل جاتے ہیں، جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
· مشکلات سے نجات: ہر پریشانی سے نکلنے کا راستہ اللہ تعالیٰ پیدا فرما دیتا ہے۔
· معاملات میں آسانی: کاموں میں آسانیاں اور سہولیات میسر آتی ہیں۔
· معاشرتی عزت و وقار: اللہ کے ہاں عزت کا معیار دولت یا نسب نہیں، بلکہ تقویٰ ہے۔

⚠️ تقویٰ چھوڑنے (بے پروائی) کے نقصانات و فسادات

تقویٰ سے غفلت یا بے پروائی کے نتائج انتہائی سنگین ہیں۔

1. انفرادی/روحانی نقصانات:

· اللہ کی ناراضی و محرومی: بندہ اللہ کی رحمت، محبت اور ولایت سے محروم ہو جاتا ہے۔
· گناہوں میں ملوث ہونا: تقویٰ کی کمی انسان کو صغیرہ و کبیرہ گناہوں میں ڈبو دیتی ہے۔
· قلبی بیماریاں: بے خوفی، غرور، خود پسندی اور بے حسی جیسے امراض قلب میں گھر جاتا ہے۔
· دعا کی قبولیت میں رکاوٹ: گناہ کی حالت میں دعائیں قبولیت کے درجے سے محروم رہتی ہیں۔

2. معاشرتی فسادات:

· اخلاقی انحطاط: معاشرے سے امانت، دیانت، شرم و حیا ختم ہو جاتی ہے۔
· ظلم و ناانصافی کا فروغ: اللہ کا خوف دل سے نکلتے ہی انسانوں کے حقوق پامال ہونے لگتے ہیں۔
· معاشرتی انتشار و بے امنی: باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، جس سے معاشرہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
· اجتماعی مصائب: احکام الہی سے روگردانی کی وجہ سے معاشرے پر عذاب اور مصیبتوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

💎 خلاصہ اور نتیجہ

ورع و تقویٰ ایمان کا حقیقی ثمرہ اور کامیاب زندگی کا راز ہے۔ یہ محض کچھ مخصوص اعمال کا نام نہیں، بلکہ پوری زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزارنے کا باطنی تقاضا اور عملی منہج ہے۔ یہ ہمارے ہر فعل، ہرقول اور ہر نیت کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے بغیر عبادات بے روح رسمیں اور معاملات بے ضابطہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں سکون، کامیابی اور اللہ کی خاص عنایات کا وعدہ ہے۔



































بہترین عبادت کون سی ہے؟






اللہ تعالیٰ کے بارے میں "حسن ظن" (اچھا گمان) رکھنا دل کی ایک اہم عبادت اور ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔ یہ کسی جذبے کا نام نہیں، بلکہ علمائے کرام کے مطابق واجب اور فرض ہے۔

آئیے، اس کی فرضیت کے دلائل، حکمتوں اور چھوڑنے کے نقصانات کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

📜 فرضیت کے نقلی دلائل (قرآن و حدیث)

1. قرآنی دلائل:

· سورۃ الحجرات (49:12): اللہ تعالیٰ نے صرف برے گمانوں سے منع نہیں فرمایا، بلکہ اس آیت کی تفسیر میں علماء بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنا واجب ہے۔
· سورۃ الفتح (48:6): اس آیت میں اللہ کے بارے میں برے گمان (سوء الظن) رکھنے والوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس سے اس کے反面 یعنی حسن ظن کی فرضیت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
· سورۃ البقرہ (2:46): ایمان والوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ حسن ظن ہی کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔

2. احادیث مبارکہ:

· حدیث قدسی (سب سے اہم دلیل): رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ پس وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان رکھے"۔ یعنی بندہ اللہ کے بارے میں جیسا گمان رکھے گا، اللہ اپنے فضل و رحمت سے اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائے گا۔ یہ حدیث حسن ظن کی ترغیب اور اس کی بنیادی عقلی دلیل ہے۔
· آخری وقت میں حسن ظن: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت نہ آنے پائے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو"۔
· بدگمانی سے روکنا: آپ ﷺ نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے"۔ اس سے برے گمان کی حرمت اور اچھے گمان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

🧠 فرضیت کی عقلی وجوہات اور حکمتیں

· عبادت کا روحانی تقاضا: عبادت صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں۔ دل کا رجحان، سوچ اور یقین بھی عبادت میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ کو معبودِ حقیقی تسلیم کرنے کا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ اس کی رحمت، حکمت اور انعامات پر کامل یقین ہو۔
· نفسانی تربیت اور سکون: انسان فطری طور پر مشکل حالات میں گھبراہٹ یا مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔ حسن ظن دل کو سکون، طمانیت اور امید فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا سپاہ ہے جو ہر مصیبت میں انسان کو ڈھال بن جاتا ہے۔
· اللہ کے وعدوں پر ایمان کا تقاضا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنی رحمت، بخشش، مدد اور دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ان وعدوں پر شک یا سوء ظن، درحقیقت اللہ کے وعدے پر شک کے مترادف ہے۔ مؤمن کا کام تو ان وعدوں پر پورا یقین اور اچھا گمان رکھنا ہے۔

✨ حسن ظن رکھنے کے فوائد و مقاصد

انفرادی/روحانی فوائد:

· گناہوں کی معافی اور قرب الٰہی: حدیث قدسی کے مطابق، اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنے والے کی جانب اللہ تعالیٰ بڑھ کر آتا ہے اور اسے اپنا قرب عطا فرماتا ہے۔
· دعا کی قبولیت میں اضافہ: بندہ جب یہ یقین اور اچھے گمان کے ساتھ دعا مانگتا ہے کہ اس کا رب اسے سن رہا ہے اور قبول فرمائے گا، تو اس کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
· ہمت و امید کا حصول: مشقتوں، بیماریوں اور پریشانیوں کے وقت اللہ کی رحمت اور اس کے فیصلوں میں حکمت پر گمانِ خیر رکھنا، دل کو غم و اندوه سے سبک کر دیتا ہے۔ یہ دل کا سکون اور ذہنی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
· گناہوں سے حفاظت: جو شخص اللہ کی رحمت پر یقین رکھتا ہے، وہ گناہ سے بچنے اور توبہ کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔

معاشرتی فوائد:

· معاشرتی اتحاد و محبت: دیگر مسلمانوں کے ساتھ حسن ظن معاشرے سے بدگمانی، تجسس اور غیبت جیسے فسادات ختم کر کے باہمی محبت، اعتماد اور وحدت کو فروغ دیتا ہے۔
· معاشرتی سکون: جب ہر فرد دوسرے کے بارے میں اچھا سوچے گا تو معاشرے میں بدگمانی، بغض اور عداوت کے جذبات ختم ہوں گے، جس سے پورا معاشرہ پر سکون ہو جائے گا۔

⚠️ حسن ظن چھوڑنے (سوء الظن) کے نقصانات و فسادات

انفرادی/روحانی نقصانات:

· اللہ کی رحمت سے مایوسی: اللہ کے بارے میں برا گمان رکھنا یا اس کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب کا ذکر ہے۔
· دعا کی قبولیت میں رکاوٹ: شک و شبہ اور بدگمانی کے ساتھ مانگی گئی دعا کی قبولیت متاثر ہوتی ہے۔
· ذہنی و قلقی پریشانی: بدگمانی انسان کے دل میں کینہ، بغض، حسد اور بے چینی پیدا کرتی ہے۔ یہ دل کی بیماری ہے جو جسمانی اور نفسیاتی امراض کا سبب بن سکتی ہے۔
· عبادات کے ثواب میں کمی: دل کی خرابی اور اللہ سے بدظنی ظاہری عبادات کے ثواب اور تاثیر کو کم کر دیتی ہے۔

معاشرتی فسادات:

· تعلقات کی خرابی اور انتشار: بدگمانی انسانوں کے درمیان نفرت، دوری اور لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔ یہ معاشرے کے امن کو تباہ کر دیتی ہے۔
· غیبت و تجسس کا دروازہ: بدگمانی ہی تجسس (دوسروں کے عیب تلاش کرنا) اور غیبت جیسے بڑے گناہوں کی بنیاد ہے۔
· اجتماعی برکات کا اٹھ جانا: جب معاشرے میں بدگمانی عام ہو جائے تو اللہ کی رحمت اور اجتماعی برکات اٹھ جاتی ہیں۔

دیگر مسلمانوں کے ساتھ حسن ظن کا حکم: علماء کرام فرماتے ہیں کہ جس مسلمان کا ظاہر حال اچھا ہو، اس کے بارے میں بدگمانی حرام اور حسن ظن مستحب ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اپنے مومن بھائی کے بارے میں ہمیشہ اس بات کی تاویل کرو جو اچھی ہو۔

💎 خلاصہ اور نتیجہ

اللہ پر حسن ظن ایمان کی تکمیل اور دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ یہ اللہ کی رحمت پر یقین، اس کے فیصلوں میں حکمت کی تلاش، اور ہر حال میں اس سے اچھی امید وابستہ رکھنے کا نام ہے۔ اس کے بغیر نہ عبادت مکمل ہوتی ہے، نہ دعا قبول ہوتی ہے، اور نہ ہی دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس، بدگمانی انفرادی تباہی اور معاشرتی فساد کا راستہ ہے۔



اللہ تعالیٰ نے اچھے اخلاق کو ایمان کا لازمی حصہ اور کامیاب زندگی کا ستون بنایا ہے۔ اس کی فرضیت، فوائد اور چھوڑنے کے نقصانات یہ ہیں:

📜 اچھے اخلاق کی فرضیت: نوعیت اور دلائل

اچھے اخلاق کو بعض حالات میں واجب اور فرض کے درجے پر رکھا گیا ہے، خاص طور پر جب وہ حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے جڑے ہوں۔

نقلی دلائل:

· قرآن مجید میں اخلاق کی بنیادی حیثیت: قرآن مجید کا بنیادی مقصد انسان کی اخلاقی تعلیم و تربیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لیے فرمایا: "اور بے شک آپ اخلاق کے بہت بڑے (بلند) مرتبے پر فائز ہیں۔"
· حدیث مبارکہ میں فرضیت کا پہلو: نبی کریم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: "بے شک میں (مکارم) اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔"۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ایمان کی تکمیل کو اچھے اخلاق سے جوڑا۔
· احکامات کی شکل میں: قرآن مجید میں صراحتاً حکم دیا گیا ہے کہ "لوگوں سے اچھی بات کہو۔" (البقرہ: 83) اور "معروف کے کاموں کا حکم دو اور منکر سے روکو۔" (آل عمران: 110)۔ یہ احکام اخلاقی فرائض کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

عقلی دلائل:

· انسانی فطرت کا تقاضا: اخلاقی خوبیاں حاصل کرنا انسانی فطرت کا اہم تقاضا ہے اور ان کے بغیر انسان میں انسانیت کا حسن نہیں آتا۔
· نظامِ حیات کی ضرورت: اخلاق باہمی تعلقات کی شیرازہ بندی کا نام ہے۔ اگر ہر انسان اپنے لیے اخلاقی ضابطے بنانے لگے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ اسلام کا اخلاقی نظام ہی اجتماعی زندگی کو استحکام بخشتا ہے۔
· عبادت کی تکمیل: عبادات کا مقصد انسان کو صالح بنانا ہے۔ اخلاق کے بغیر نماز و روزہ بھی نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتے، کیونکہ اخلاق حقوق العباد میں شامل ہے۔

✨ اچھے اخلاق کے فوائد و مقاصد

انفرادی فوائد:

1. ایمان کی تکمیل و علامت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔"۔
2. آخرت میں کامیابی: آپ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن مومن کے میزان (پلڑے) میں اچھے اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔"۔ ایک اور حدیث میں ہے: "جنت میں صرف اچھے اخلاق والا ہی داخل ہوگا۔"۔
3. دنیاوی عزت و مقام: اچھے اخلاق انسان کا زیور ہیں جو اسے معاشرے میں محبوب، معزز اور اعلیٰ بناتے ہیں۔
4. نفسانی سکون و طہارت: اچھے اخلاق دل کو پاکیزہ، طبیعت کو شیریں اور زندگی کو ہم آہنگ بناتے ہیں۔

معاشرتی فوائد:

1. معاشرتی اتحاد و محبت: اچھے اخلاق سے آپسی بھائی چارہ، پیار، محبت، عفو و درگزر اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
2. تنازعات کا خاتمہ: باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح کرانا صدقہ و زکوٰۃ سے بھی افضل عمل ہے۔
3. پُر امن معاشرے کی بنیاد: اخلاقیات کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
4. انسانی تعلقات کی مضبوطی: امام غزالی کے مطابق، حسن خلق کا ثمرہ الفٹ (محبت) ہے، جو معاشرے کو جوڑتی ہے۔

⚠️ اخلاق چھوڑنے (بداخلاقی) کے نقصانات و فسادات

انفرادی نقصانات:

1. ایمانی نقصان: بداخلاق شخص ایمان کی تکمیل سے محروم رہتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "بداخلاقی ایمان کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو۔"
2. اخروی خسارہ: بداخلاقی اعمال کو برباد کر دیتی ہے اور آخرت میں رسوائی و عذاب کا سبب بنتی ہے۔
3. دنیاوی ذلت: بداخلاق شخص لوگوں کی نظروں میں عیب دار، قابلِ نفرت اور ذلیل ہو جاتا ہے۔ اس سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔
4. قلبی بیماریاں: بداخلاقی سے دل میں کینہ، بغض، حسد، تکبر اور بے چینی جنم لیتی ہے، جو روحانی و نفسیاتی امراض کا باعث بنتی ہے۔

معاشرتی فسادات:

1. معاشرتی انتشار و دشمنی: بداخلاقی سے نفرت، عداوت، اختلاف، انتشار، چپقلش اور رنجشیں جنم لیتی ہیں۔ یہ گھروں کے سکون کو برباد کرتی ہے۔
2. سماجی برائیوں کا فروغ: بداخلاقی ہر سماجی برائی کی جڑ ہے۔ اس سے جھوٹ، خیانت، ظلم، غیبت، چغل خوری، بے حیائی اور لڑائی جھگڑے پھیلتے ہیں۔
3. قومی زوال و ذلت: تاریخ گواہ ہے کہ برے اخلاق کی حامل قومیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ قومِ نوح و قومِ لوط جیسے اقوام کے تباہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اخلاقی انحطاط تھا۔
4. انسانی وقار کا خاتمہ: اخلاق کے بغیر انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

💎 خلاصہ اور نتیجہ

اچھے اخلاق اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں اور انہیں ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف آخرت میں جنت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں، بلکہ دنیا میں پر سکون، باہمی اعتماد پر مبنی اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کے بغیر تمام عبادتیں ناقص رہ جاتی ہیں۔ بداخلاقی، اس کے برعکس، فرد اور قوم دونوں کے لیے دنیا و آخرت میں تباہی و بربادی کا سبب ہے۔ اس لیے اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو سنوارنے کے لیے اخلاق حسنہ کی تربیت اور اس پر عمل پیرا ہونا ازحد ضروری ہے۔

















قرآن مجید میں عربی لفظ ((دون یعنی سوا) اور ((غير یعنی علاوہ)) سے مخلوق کو ((إله یعنی معبود-خدا)) ٹھہراتے ہوئے اپنے ((زعم یعنی بغیر حکم محض اپنے خیال و گمان)) سے جو جو عقیدہ یا عمل  ((أخذ-جعل یعنی خود پکڑتے-بناتے)) شرک کرتے رہے ہیں، ان میں:
(1)سورج کو سجدہ کرتے  {27:24}،
(2)چاند تاروں کو رب(رزاق) مان لیتے{6: 76-78}،
(3)جِن کی عبادت کرتے {34:41} شیطان کو پکارتے{4:117}،
(4)فرشتوں کو (اللہ کی بیٹیاں-جُزء قرار دیتے) عبادت کرتے{34:40}،
(5)عیسیٰ نبی اور ان کی ماں مریم کو خدا بناتے{5:116}
عزیر اور عیسیٰ نبی کو خدا کا بیٹا قرار دیتے{9:30}
(6)اللہ ہی کے بندوں کو ولی (رکھوالا) بناتے{18:102}پیر-پرستی کرتے
مردہ اولیاء کے بت بناتے{71:23}پتھروں کی یادگاروں کو پوجتے تھے{21:98}
نفع نقصان اور شفاعت کی امید رکھتے پوجتے ہیں{10:18}
اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء(حصہ/ٹکڑا) خود بناتے{43:15}
اور انہیں غائبانہ حاجات میں پکارتے رہتے، اور یہ سب وہ بلادلیل (بغیرخداوندی حکم و اجازت) کے محض اپنے زعم سے کرتے، اور عقیدت میں ان کو ولی (رکھوالا) اور نصیر (مددگار)  ، رب (تربیت وحکم والا) ، رزاق ، شفیع (سفارش کرنے والا) ، نفع و نقصان کی ملکیت و اختیار رکھنے والا مالک مانتے تھے، تاکہ وہ الله کے ہاں قربت (نزدیکی) دلوانے  {39:3} کا وسیلہ (ذریعہ) {17:57} ہیں۔


الله پاک کے ساتھ محبّت میں شرک کی دلیل:
القرآن:
اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو، انکی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی، اور ایمان والوں کو سب سے زیادہ ہے محبت اللہ کی، اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جبکہ دیکھیں گے عذاب کہ قوۃ ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
[سورۃ البقرۃ:165]



قُل إِن كانَ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم وَإِخوٰنُكُم وَأَزوٰجُكُم وَعَشيرَتُكُم وَأَموٰلٌ اقتَرَفتُموها وَتِجٰرَةٌ تَخشَونَ كَسادَها وَمَسٰكِنُ تَرضَونَها أَحَبَّ إِلَيكُم مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ وَجِهادٍ فى سَبيلِهِ فَتَرَبَّصوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِهِ ۗ وَاللَّهُ لا يَهدِى القَومَ الفٰسِقينَ
{9:24}
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ محبوب ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔



تشریح:
کسی سے محبت عموما اس کے (1) جمال، (2) کمال اور (2) نوال کے سبب نفع کی امید اور نقصان کے خوف سے ہوتی اور بڑھتی ہے۔ کسی کی محبت میں اندھا بہرا ہوجانا یعنی اس کے سوا کسی کی بات نہ ماننا کسی کی پروا نہ کرنا یہ صورت وحالت عبادت کی ہے جو صرف سب کے خالق ومالک اللہ کا حق ہے۔ مخلوق کے ساتھ ایسی اشد محبت حرام وشرک ہے۔







(1) مدد کے لئے (غائبانہ حاجات میں) "پکارنا" عبادت ہے:

وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ يَلقَ أَثامًا {25:68} 

اور وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا جو منع کر دی اللہ نے مگر جہاں چاہئے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑ اگناہ میں

یعنی بڑا سخت گناہ کیا جس کی سزا مل کر رہے گی۔ بعض روایات میں آیا کہ “ آثام” جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت ہی ہولناک عذاب بیان کئے گئے ہیں۔ اعاذنا اللہ منہا 



مثلاً قتل عمد کے بدلہ قتل کرنا، یا بدکاری کی سزا میں زانی محصن کو سنگسار کرنا، یا جو شخص دین چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہو جائے، اس کو مار ڈالنا، یہ سب صورتیں { اِلَّا بِالْحَقِّ } میں شامل ہیں۔ کما ورد فی الحدیث۔






فَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتَكونَ مِنَ المُعَذَّبينَ {26:213} 

سو تو مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود کو پھر تو پڑے عذاب میں



یہ فرمایا رسول کو اور سنایا اوروں کو یعنی جب یہ کتاب بلا شک و شبہ خدا کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو جس میں اصل اصول توحید ہے۔ شرک و کفر اور تکذیب کی شیطانی راہ اختیار مت کرو۔ ورنہ عذاب الہٰی سے رستگاری کی کوئی سبیل نہیں۔





وَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۘ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيءٍ هالِكٌ إِلّا وَجهَهُ ۚ لَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ {28:88}
اور مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود کو، کسی کی بندگی نہیں اسکے سوائے، ہر چیز فنا ہے مگر اس کا منہ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے [۱۲۹]

یعنی مت بناؤ اس (الله) کے سوا کسی غیر کو وکیل (کارساز) اپنے کاموں میں اور نہ ہی اعتماد رکھو اس کے سوا کسی پر، کیونکہ نفع و نقصان ، منع و عطا اسی کے اختیار میں ہے لہذا مصائب و مشکلات اور حاجات و بلیات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو.



تفسير مفاتيح الغيب ، التفسير الكبير/ الرازي (ت 606 هـ) :
ويجوز أن يكون المعنى لا تعتمد على غير الله ولا تتخذ غيره وكيلاً في أمورك، فإن من وثق بغير الله تعالى فكأنه لم يكمل طريقه في التوحيد، ثم بين أنه لا إله إلا هو، أي لا نافع ولا ضار ولا معطي ولا مانع إلا هو، كقوله:
{ رَّبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ لاَ إِلَـٰهَ إِلاَّ هُوَ فَٱتَّخِذْهُ وَكِيلاً }
[سورۃ المزمل: 9]


یعنی سب کو اس کی عدالت میں حاضر ہونا ہے جہاں تنہا اسی کا حکم چلے گا۔ صورۃً و ظاہرًا بھی کسی کا حکم و اقتدار باقی نہ رہے گا۔ اے اللہ اس وقت اس گنہگار بندہ پر رحم فرمایئے اور اپنے غضب سے پناہ دیجئے۔ تم سورۃ القصص وللہ الحمد والمنۃ۔ 

یعنی ہر چیز اپنی ذات سےمعدوم ہے اور تقریبًا تمام چیزوں کو فنا ہونا ہے، خواہ کبھی ہو۔ مگر اس کا منہ یعنی وہ آپ کبھی معدوم تھا، نہ کبھی فنا ہو سکتا ہے۔ سچ ہے؎ { اَلَا کُلُّ شیءٍ مَا خَلَا اللہ بَاطِلٌ }۔ قال تعالیٰ { کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ} اور بعض سلف نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ سارے کام مٹ جانے والے اور فنا ہو جانے والے ہیں بجز اس کام کے جو خالصًا لوجہ اللہ کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ 

یہ آپ کو خطاب کر کے دوسروں کو سنایا۔ اوپر کی آیتوں میں بھی بعض مفسرین ایسا ہی لکھتے ہیں۔




وَأَنَّ المَسٰجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدعوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا {72:18}
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو 

یعنی یوں تو الله کی ساری زمین اس امّت کے لئے مسجد بنادی گئ ہے۔ لیکن خصوصیت سے وہ مکانات جو مسجدوں کے نام سے خاص عبادت الہٰی کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ ان کو اور زیادہ امتیاز حاصل ہے۔ وہاں جا کر اللہ کے سوا کسی ہستی کو پکارنا ظلم عظیم اور شرک کی بدترین صورت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خالص خدائے واحد کی طرف آؤ اور اس کا شریک کر کے کسی کو کہیں بھی مت پکارو خصوصًا مساجد میں جو اللہ کے نام پر تنہا اسی کی عبادت کے لئے بنائی گئ ہیں۔ بعض مفسّرین نے "مساجد" سے مراد وہ اعضاء لئے ہیں جو سجدہ کے وقت زمین پر رکھے جاتے ہیں۔ اس وقت مطلب یہ ہو گا کہ یہ الله  کے دیئے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے اعضاء ہیں۔ جائز نہیں کہ ان کو اس مالک و خالق کے سوا کسی دوسرے کے سامنے جھکاؤ۔








حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ مَنْصُورٌ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ذَرٍّ هُوَ ذَرُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ ثِقَةٌ وَالِدُ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ .

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ دعا ہی تو عبادت ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:
"اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری بندگی سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر"۔
[حديث النعمان بن بشير: أخرجه أحمد (4/271، رقم 18415) ، وابن أبى شيبة (6/21، رقم 29167) ، والبخارى فى الأدب المفرد (1/249، رقم 714) ، وأبو داود (2/76، رقم 1479) ، والترمذى (5/211، رقم 2969) وقال: حسن صحيح. والنسائى فى الكبرى (6/450، رقم 11464) ، وابن ماجه (2/1258، رقم 3828) ، وابن حبان
(3/172، رقم 890) ، والحاكم (1/667، رقم 1802) وقال: صحيح الإسناد. والبيهقى فى شعب الإيمان (2/37، رقم 1105م) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الصغير (2/208، رقم 1041) ، والقضاعى (1/51، رقم 29) .
حديث البراء بن عازب: أخرجه أبو يعلى (1/262، رقم 328) . وأخرجه أيضًا: الخطيب (12/279) .]


یعنی میری ہی بندگی کرو کہ اس کی جزا دوں گا اور مجھ ہی سے مانگو کہ تمہارا مانگنا خالی نہ جائے گا۔بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا۔ نہ مانگنا غرور ہے۔ اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ بندوں کی پکار کو پہنچتا ہے۔ یہ بات تو بیشک برحق ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کیا کرے۔ دعا کی فضیلت: یعنی جو مانگے وہ ہی چیز دے دے۔ نہیں اس کی اجابت کے بہت سے رنگ ہیں جو احادیث میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ کوئی چیز دینا اس کی مشیت پر موقوف اور حکمت کے تابع ہے۔ کما قال فی موضع آخر { فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ } (انعام رکوع۴) بہرحال بندہ کا کام ہے مانگنا اور یہ مانگنا خود ایک عبادت بلکہ مغز عبادت ہے۔






حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَقُلْتُ أُخْرَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ " , وَقُلْتُ : أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ .


حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اس حالت میں مرے کہ وہ پکارتا ہو(غائبانہ حاجات میں) اللہ کے سوا کسی اور کو بھی تو وہ داخل ہوگا جھنم میں"۔ اور میں کہتا ہوں: کہ جو مرے اس حال میں کہ وہ نہ پکارتا ہو اللہ کے سوا  کسی اور کو وہ داخل ہوگا جنت میں۔





دعا کی فرضیت، مقاصد اور ترک دعا کے نقصانات

پہلا حصہ: دعا کی فرضیت - نوعیت اور دلائل

دعا ایک جامع عبادت ہے جس کی فرضیت کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک دعا فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ اور عبادت کا مغز ہے، تاہم بعض حالات میں اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے:

نقلی دلائل:

1. قرآن مجید میں دعا کا حکم:

· سورة غافر (40:60):
  ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾
  ترجمہ: "اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔"
· سورة البقرۃ (2:186):
  ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
  ترجمہ: "اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو (کہہ دیں) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔"

2. حدیث مبارکہ میں دعا کی اہمیت:

· سنن الترمذی:
  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دعا ہی عبادت ہے۔" پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"
· صحیح مسلم:
  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دعا عبادت کا مغز ہے۔"

دعا کی فرضیت کی نوعیت:

علماء کرام فرماتے ہیں کہ:

1. دعا کا انکار کرنا کفر ہے کیونکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
2. دعا ترک کرنا گناہ ہے کیونکہ یہ اللہ کی نافرمانی ہے۔
3. بعض حالات میں دعا فرض ہے جیسے مصیبت کے وقت دعا کرنا۔
4. دعا کا چھوڑ دینا تکبر ہے اور تکبر کبیرہ گناہ ہے۔

دوسرا حصہ: دعا کے مقاصد و فوائد

1. روحانی و ایمانی فوائد:

عبادت کا مغز:

· دعا عبادت کا خلاصہ ہے۔ جب انسان دعا کرتا ہے تو وہ اپنی عاجزی، محتاجی اور اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔

اللہ سے تعلق مضبوط کرنا:

· صحیح بخاری:
  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اللہ سے دعا نہیں مانگی، اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔"

گناہوں کی معافی:

· سنن الترمذی:
  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول کرتا ہے جب تک وہ گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔"

2. نفسیاتی و جسمانی فوائد:

جدید تحقیقات کے مطابق:

1. ذہنی سکون: دعا کرنے سے ذہنی دباؤ 35% تک کم ہوتا ہے۔
2. صحت پر مثبت اثر: باقاعدہ دعا کرنے والوں میں بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
3. امید کا جذبہ: دعا انسان میں مثبت سوچ اور امید کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

3. عملی و دنیاوی فوائد:

مشکلات کا حل:

· سورة النمل (27:62):
  ﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ﴾
  ترجمہ: "بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ پکارتا ہے اور برائی کو دور کرتا ہے؟"

رزق میں برکت:

· سنن ابن ماجہ:
  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دعا بندے کے لیے نافع ہے، ہر چیز کے لیے جو نازل ہو چکی ہو یا نہ ہوئی ہو۔"

تیسرا حصہ: دعا چھوڑنے کے نقصانات و فسادات

1. اخروی نقصانات:

قرآنی وعیدیں:

· سورة غافر (40:60): جو لوگ دعا سے تکبر کرتے ہیں، ان کے لیے جہنم کی وعید ہے۔

احادیث میں وعیدیں:

· سنن الترمذی:
  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اللہ سے دعا نہیں مانگی، اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔"
· مسند احمد:
  "جو شخص اللہ سے مانگتا نہیں، اللہ اس سے ناراض رہتا ہے۔"

2. روحانی نقصانات:

تکبر کی بیماری:

1. دعا نہ کرنا تکبر کی علامت ہے۔
2. تکبر کبیرہ گناہ ہے اور جنت میں داخلے کی رکاوٹ ہے۔

اللہ سے دوری:

1. دعا نہ کرنے سے بندے اور رب کا تعلق کمزور ہوتا ہے۔
2. دل میں اللہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔

گناہوں میں اضافہ:

1. دعا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر گناہ بڑھتے ہیں۔
2. دل کی سختی پیدا ہوتی ہے۔

3. دنیاوی نقصانات:

انفرادی نقصانات:

1. مشکلات میں اضافہ: دعا کے بغیر مشکلات کا حل مشکل ہو جاتا ہے۔
2. رزق میں تنگی: دعا رزق میں برکت کا ذریعہ ہے، اس کے چھوڑنے سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
3. بے چینی و پریشانی: دعا دل کا سکون ہے، اس کے بغیر انسان ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔

معاشرتی فسادات:

1. معاشرتی بے برکتی: جب معاشرے میں دعا کا عمل کم ہو جاتا ہے تو اجتماعی برکات اٹھ جاتی ہیں۔
2. آفات و مصائب کا نزول: دعا مصیبتوں کو ٹالتی ہے، اس کے ترک سے مصیبتیں بڑھ جاتی ہیں۔
3. اخلاقی انحطاط: دعا سے اخلاق سنورتے ہیں، اس کے بغیر اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔

چوتھا حصہ: دعا کی قبولیت کے اسباب و شرائط

دعا قبول ہونے کے اسباب:

1. اخلاص کے ساتھ دعا کرنا۔
2. حلال رزق کھانا۔
3. صبر کے ساتھ دعا کرنا۔
4. یقین کے ساتھ دعا کرنا۔
5. دعا میں اصرار کرنا۔

دعا قبول نہ ہونے کے اسباب:

1. حرام کمائی۔
2. گناہوں پر اصرار۔
3. دل کی غفلت۔
4. دعا میں جلد بازی۔
5. قطع رحمی۔

پانچواں حصہ: دعا کی اقسام و اوقات

دعا کی اقسام:

1. دعائے عبادت: تمام عبادات دعائے عبادت ہیں۔
2. دعائے مسألت: مانگنے کی دعا۔
3. دعائے ثنا: اللہ کی تعریف کی دعا۔
4. دعائے استغفار: معافی مانگنے کی دعا۔

دعا کے خاص اوقات:

1. آخری تہائی رات۔
2. اذان و اقامت کے درمیان۔
3. جمعہ کے دن۔
4. بارش کے وقت۔
5. سجدے کی حالت میں۔
6. روزہ دار کی دعا۔

چھٹا حصہ: عملی تجاویز

دعا کی عادت ڈالنے کے طریقے:

1. ہر نماز کے بعد دعا مانگنے کی عادت ڈالیں۔
2. صبح وشام کے اذکار پڑھیں۔
3. مخصوص دعائیں یاد کریں۔
4. دعا کے آداب سیکھیں۔
5. دوسروں کے لیے بھی دعا کریں۔

خلاصہ و نتائج:

دعا:

1. فرضیت کی نوعیت: دعا فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے، مگر اس کا ترک گناہ اور تکبر ہے۔
2. مقصد ہے اللہ سے تعلق، عاجزی کا اظہار، اور مشکلات کا حل۔
3. فوائد ہیں روحانی، نفسیاتی، جسمانی اور دنیاوی۔
4. چھوڑنے کے نقصانات ہیں اخروی عذاب، دنیاوی مصائب، اور معاشرتی فسادات۔

حتمی بات: دعا بندے اور رب کے درمیان براہ راست تعلق کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کی عاجزی، محتاجی اور اللہ کی قوت، غنی اور رحمت کا اعتراف ہے۔ دعا کے بغیر زندگی بے روح، بے سکون اور مشکل ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دعا کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔

اللهم اجعلنا من الذاكرين الشاكرين الصابرين.
آمین یا رب العالمین 



(2) "سجدہ" کے عبادت ہونے کی دلیل:
القرآن :
جَدتُها وَقَومَها يَسجُدونَ لِلشَّمسِ مِن دونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَصَدَّهُم عَنِ السَّبيلِ فَهُم لا يَهتَدونَ {27:24}
ترجمه:
میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم الله کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے

حضرت عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَىؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

اگر میں کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکے لیے سجدہ کرنے کاحکم دیتا توعورت کوحکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کوسجدہ کرے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے جب تک عورت اپنے خاوند کے حق ادا نہیں کرتی وہ اس وقت تک اپنے رب کے حقوق بھی ادا نہیں کرسکتی ، اوراگرخاوند اس سے اس کا نفس مانگے اوروہ کجاوہ پر ہو تو اسے نہیں روکنا چاہیے۔
[حديث أبى هريرة: أخرجه الترمذى (3/465، رقم 1159) ، وقال: حسن غريب.
حديث بريدة: أخرجه الدارمى (1/406، رقم 1464) ، والحاكم (4/190، رقم 7327) وقال: صحيح الإسناد.
حديث معاذ: أخرجه أحمد (4/381، رقم 19422) . قال الهيثمى (4/310) : رواه البزار، والطبرانى فى الكبير والأوسط، وأحد إسنادى الطبرانى رجاله رجال الصحيح خلا صدقة بن عبد الله السمين، وثقه أبو حاتم وجماعة، وضعفه البخارى وجماعة.
حديث سراقة: أخرجه الطبرانى (7/129، رقم 6590) . قال الهيثمى (4/310) : رواه الطبرانى من طريق وهب بن على عن أبيه، ولم أعرفهما، وبقية رجاله ثقات.
حديث صهيب: أخرجه الطبرانى (8/31، رقم 7294) . قال الهيثمى (4/310) : رواه البزار، والطبرانى، وفيه النهاس بن فهم، وهو ضعيف.
حديث غيلان بن سلمة: أخرجه الطبرانى (18/263، رقم 660) . قال الهيثمى (4/311) : فيه شبيب بن شيبة، والأكثرون على تضعيفه، وقد وثقه صالح جزرة وغيره.]


اور ایک دفعہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 یہود اور نصاریٰ پر الله کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔

[حديث أسامة بن زيد: أخرجه أحمد (5/203، رقم 21822) ، والطبرانى (1/164، رقم 393) ، والضياء (4/141، رقم 1355) .
حديث عائشة وابن عباس معا: أخرجه أحمد (1/218، رقم 1884) ، والبخارى (1/168، رقم 425) ، ومسلم (1/377، رقم 531) ، والنسائى (2/40، رقم 703) .
حديث أبى هريرة: أخرجه مسلم (1/377، رقم 530) .]


حدیث : میری قبر کو بت نہ ماننا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجْعَلُنَّ قَبْرِي وَثَنًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
ترجمہ :
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مت بنانا میری قبر کو بت ، لعنت ہو الله کی اس قوم پر جو اپنے انبیاء کی قبر کو سجدہ گاہ بناۓ۔
[مسند أبو يعلى الموصلي:6681، مسند الحميدي:1055، مسند احمد:7358، مسند البحار:9087]




حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
ترجمہ :
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یعنی یہ دعا فرمائی) اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُعْبَدُ یعنی : اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگیں۔ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)  لعنت ہو الله کی اس قوم پر جو اپنے انبیاء کی قبر کو سجدہ گاہ بناۓ۔
[مسند احمد:7358، إسناده قوي، حمزة بن المغيرة: هو ابن نشيط المخزومي الكوفي، قال ابن معين: ليس به بأس، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وباقي رجاله ثقات رجال الصحيح.
وأخرجه الحميدي (1025) ، وابن سعد 2/241-242، وابن عبد البر في "التمهيد" 5/43 و44 من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد - وفي الموضع الأول عند ابن عبد البر الشطر الأول من الحديث فقط.
وأورد هذا الشطر منه البخاري في "التاريخ الكبير" 3/47 من طريق سفيان، به. وانظر ما سيأتي برقم (8804) .
والشطر الثاني، سيأتي نحوه في "المسند" برقم (7826) من طريق سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة.
وفي الباب عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار مرسلا، عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عند مالك في "الموطأ" 1/172، ومن طريقه ابن سعد 2/240-241. ووصله البزار (440- كشف الأستار) ، ومن طريقه ابن عبد البر 5/42-43 عن سليمان بن سيف، عن محمد بن سليمان بن أبي داود الحراني، عن عمر بن صهبان، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، عن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وفي سنده عمر بن صهبان، ويقال: عمر بن محمد بن صهبان المدني، وهو ضعيف باتفاقهم، والتبس أمره على أبي عمر ابن عبد البر فظنّه عمر بن محمد -وهو ابن زيد بن عبد الله بن عمر بن الخظاب- الثقة!
قال أبو عمر ابن عبد البر 5/45: الوثن: الصنم، وهو الصورة من ذهب كان أو من فضة، أو غير ذلك من التمثال، وكل ما يعبد من دون الله فهو وثن، صنما كان أو غير صنم؛ وكانت العرب تصلي إلى الأصنام وتعبدها، فخشي رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ على أمته أن تصنع كما صنع بعض من مضى من الأمم: كانوا إذا مات لهم نبي عكفوا حول قبره كما يصنع بالصنم، فقال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللهم لا تجعل قبري وثنا يصلى إليه، ويسجد نحوه ويعبد فقد اشتد غضب الله على من فعل ذلك"، وكان رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يحذر أصحابه وسائرته من سوء صنيع الأمم قبله، الذين صلوا إلى قبور أنبيائهم، واتخذوها قبلة ومسجدا كما صنعت الوثنية بالأوثان التي كانوا يسجدون إليها ويعظمونها وذلك الشرك الأكبر فكان النبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يخبرهم بما في ذلك من سخط الله وغضبه، وأنه مما لا يرضاه خشية عليهم امتثال طرقهم.]







(3) "خوف" کے عبادت ہونے کی دلیل:

خوف بھی عبادت، دل کا اعتقادی عمل اور اللہ کا حق ہے۔ خوف کے معنیٰ نہ صرف ڈرنا ہے بلکہ اندیشہ اور خطرہ بھی ہے۔ لہٰذا جب ڈرنے کے معنیٰ میں استعمال ہو تو وہ اللہ ہے کیلئے ہوگا۔


إِنَّما ذٰلِكُمُ الشَّيطٰنُ يُخَوِّفُ أَولِياءَهُ فَلا تَخافوهُم وَخافونِ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ 0
[سورۃ آل عمران:175]
یہ جو ہے سو شیطان ہے کہ ڈراتا ہے اپنے اولیاء(دوستوں) سے سو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو.
It is only that the Satan frighteth you of his friends, wherefore fear them not, but fear Me, if ye are believers.
یعنی جو ادھر سے آ کر مرعوب کن خبریں پھیلاتا ہے وہ شیطان ہے یا شیطان کے اغواء سے ایسا کر رہا ہے جس کی غرض یہ ہے کہ اپنے چیلے چانٹوں اور بھائی بندوں کا رعب تم پربٹھلا کر خوفزدہ کر دے، سو تم اگر ایمان رکھتے وہ (اور ضرور رکھتے ہو جس کا ثبوت عملًا دے چکے) تو ان شیطانوں سے اصلًا مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو کہ ؂
 ہر کہ تر سید از حق و تقویٰ گزید تر سید ازو جن و انس و ہر کہ دید۔



يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا مَن يَرتَدَّ مِنكُم عَن دينِهِ فَسَوفَ يَأتِى اللَّهُ بِقَومٍ يُحِبُّهُم وَيُحِبّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى المُؤمِنينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الكٰفِرينَ يُجٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا يَخافونَ لَومَةَ لائِمٍ ۚ ذٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ {5:54}
اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔




وَحاجَّهُ قَومُهُ ۚ قالَ أَتُحٰجّونّى فِى اللَّهِ وَقَد هَدىٰنِ ۚ وَلا أَخافُ ما تُشرِكونَ بِهِ إِلّا أَن يَشاءَ رَبّى شَيـًٔا ۗ وَسِعَ رَبّى كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۗ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ {6:80}
اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے اللہ کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔




وَكَيفَ أَخافُ ما أَشرَكتُم وَلا تَخافونَ أَنَّكُم أَشرَكتُم بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ عَلَيكُم سُلطٰنًا ۚ فَأَىُّ الفَريقَينِ أَحَقُّ بِالأَمنِ ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ {6:81}
بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (اللہ کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فرقوں میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)؟
أَلَيسَ اللَّهُ بِكافٍ عَبدَهُ ۖ وَيُخَوِّفونَكَ بِالَّذينَ مِن دونِهِ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ {39:36}
کیا اللہ اپنے بندوں کو کافی نہیں۔ اور یہ تم کو ان لوگوں سے جو اس کے سوا ہیں (یعنی غیر اللہ سے) ڈراتے ہیں۔ اور جس کو اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔




(4) "امید اور رجاء" کے عبادت ہونے کی دلیل:


قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَمَن كانَ يَرجوا لِقاءَ رَبِّهِ فَليَعمَل عَمَلًا صٰلِحًا وَلا يُشرِك بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا {18:110}

تو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سوہ وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو۔
Say thou: I am but a human being like yourselves; revealed unto me is that your God is One God. Whosoever then hopeth for the meeting with his Lord, let him work righteous work, and let him not associate in the worship of his Lord anyone.
یعنی میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں ، الله نہیں ، جو خود بخود ذاتی طور پر تمام علوم و کمالات حاصل ہوں ، ہاں اللہ تعالیٰ علوم حقہ اور معارف قدسیہ میری طرف وحی کرتا ہے جن میں اصل اصول علم توحید ہے ، اسی کی طرف میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔ جس کسی کو اللہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق یا اس کے سامنے حاضر کئے جانے کا خوف ہو اسے چاہئے کہ کچھ بھلے کام شریعت کے موافق کر جائے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ظاہرًا و باطنًا کسی کو کسی درجہ میں بھی شریک نہ کرے۔ یعنی شرک جلی کی طرح ریا وغیرہ شرک خفی سے بھی بچتا رہے کیونکہ جس عبادت میں غیر اللہ کی شرکت ہو وہ عابد کے منہ پر ماری جائے گی۔ { اَللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ شرُوْرِ اَنْفُسِنَا } اس آیت میں اشارہ کر دیا کہ نبی کا علم بھی متناہی اور عطائی ہے ، علم خداوندی کی طرح ذاتی اور غیر متناہی نہیں۔ تم سورۃ الکہف بفضل اللہ تعالیٰ و منہ وللہ الحمد اولاً و آخرًا۔





إِنَّ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا وَرَضوا بِالحَيوٰةِ الدُّنيا وَاطمَأَنّوا بِها وَالَّذينَ هُم عَن ءايٰتِنا غٰفِلونَ {10:7}
جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

وَلَو يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنّاسِ الشَّرَّ استِعجالَهُم بِالخَيرِ لَقُضِىَ إِلَيهِم أَجَلُهُم ۖ فَنَذَرُ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ {10:11}
اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔


وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءاياتُنا بَيِّنٰتٍ ۙ قالَ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنَا ائتِ بِقُرءانٍ غَيرِ هٰذا أَو بَدِّلهُ ۚ قُل ما يَكونُ لى أَن أُبَدِّلَهُ مِن تِلقائِ نَفسى ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ ۖ إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ {10:15}
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔


أُولٰئِكَ الَّذينَ يَدعونَ يَبتَغونَ إِلىٰ رَبِّهِمُ الوَسيلَةَ أَيُّهُم أَقرَبُ وَيَرجونَ رَحمَتَهُ وَيَخافونَ عَذابَهُ ۚ إِنَّ عَذابَ رَبِّكَ كانَ مَحذورًا {17:57}
یہ لوگ جن کو (اللہ کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (اللہ کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔


وَقالَ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا لَولا أُنزِلَ عَلَينَا المَلٰئِكَةُ أَو نَرىٰ رَبَّنا ۗ لَقَدِ استَكبَروا فى أَنفُسِهِم وَعَتَو عُتُوًّا كَبيرًا {25:21}
اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے۔ یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں۔ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں۔


وَإِلىٰ مَديَنَ أَخاهُم شُعَيبًا فَقالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ وَارجُوا اليَومَ الءاخِرَ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ {29:36}
اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) اللہ کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ۔








(5) "توکل" کے عبادت ہونے کی دلیل:

توکل، و ک ل سے مشتق ہے، یعنی حوالہ کرنا، بھروسہ رکھنا۔ اور وکیل کہتے ہیں کام بنانے کیلئے جس کے حوالہ کیا جاۓ۔
توکل بھی ایک عبادت اور اللہ کا حق ہے، جس میں الله کی توحید کے مطابق کسی (نبی/ولی) کو شریک کرنا خلافِ تعلیم نبوت ہے۔
دلائل:
توکل کے قابل الله ہی کیوں؟
القرآن: اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہ ہو سکے گا اور اگر مدد نہ کرے تمہاری تو پھر ایسا کون ہے جو مدد کرسکے تمہاری اس کے بعد اور اللہ ہی پر توکل(بھروسہ) چاہئیے مسلمانوں کو۔
[سورۃ آل عمران:160]

توکل کے قابل وہ ہے جو کافی ہو:
اور بھروسہ رکھ اللہ پر اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا۔
[سورۃ النساء:81، 132، 171 سورۃ الأحزاب:3، 48]

توکل کے قابل مولا ہے:
تو کہہ دے ہم کو ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے وہی ہے مولا(مددگار) ہمارا، اور اللہ ہی پر چاہیے کہ توکل(بھروسہ) کریں مسلمان.
[سورۃ التوبۃ:51]

توکل کے قابل معبود، مالک عرش عظیم ہے:
پھر بھی اگر منہ پھیریں تو کہہ دے کہ کافی ہے مجھ کو اللہ، نہیں ہے کوئی عبادت کے قابل سوا اس کے،(لہذا) اسی پر میں نے توکل(بھروسہ) کیا اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا۔
[سورۃ التوبۃ:129]

توکل کے قابل رب ہے:
میں نے بھروسہ کیا اللہ پر جو رب ہے میرا اور تمہارا کوئی نہیں زمین پر پاؤں دھرنے والا مگر اللہ کے ہاتھ میں ہے چوٹی اس کی بیشک میرا رب ہے سیدھی راہ پر۔
[سورۃ ھود:56]
۔۔۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ۔
اور(کام کا)بن آنا ہے اللہ کی مدد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے.
[سورۃ ھود:88]

توکل کے قابل غیب والا ہے:
اور اللہ کے پاس چھپی ہے بات آسمانوں کی اور زمین کی اور اسی کی طرف رجوع ہے سب کام کا سو اسی کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ اور تیرا رب بیخبر نہیں جو کام تم کرتے ہو۔
[سورۃ ھود:123]

توکل کے قابل وہ جس کے حکم کے سامنے کوئی نبی بھی غنی نہ ہو:
۔۔۔اور میں(یعقوب نبی بھی) نہیں غنی(بچا)سکتا تم کو اللہ کی کسی بات سے، حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ چاہیے بھروسہ کرنے والوں کو۔
[سورۃ یوسف:67]

توکل کے قابل معبود ہے:
۔۔۔تو کہہ وہی رب میرا ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف آتا ہوں رجوع کر کے۔
[سورۃ الرعد:30] التغابن:13

توکل کے قابل وہ ہے جس کی اجازت کے سوا کوئی نبی بھی معجزہ نہ لاسکے:
ان کو کہا ان کے رسولوں نے ہم تو یہی بشر(آدمی) ہیں جیسے تم لیکن اللہ(وحی بھیج کر) احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں جس پر چاہے، اور ہمارا کام نہیں کہ لے آئیں تمہارے پاس سند(معجزہ) مگر اللہ کے حکم سے اور(لہٰذا) اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے ایمان والوں کو.
[سورۃ ابراھیم:11]

توکل کے قابل رب ہے:
۔۔۔اور وہ اپنے رب پر ہی توکل(بھروسہ)کرتے ہیں۔
[سورۃ النحل:42، 99، العنکبوت:59 الشوریٰ:10، 36]

توکل کے قابل وہ ہے جسے موت نہ آئے:
اور بھروسہ کر اوپر اس زندہ کے جو نہیں مرتا، اور یاد کر اس کی خوبیاں اور وہ کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار۔
[سورۃ الفرقان:58]


توکل کے قابل وہ ہے جس کی اجازت کے سوا کوئی نقصان نہ پہنچا سکے:
یہ جو ہے کانا پھوسی سو شیطان کا کام ہے تاکہ دل گیر کرے ایمان والوں کو اور وہ ان کا کچھ نہ بگاڑے گا بدون اللہ کے حکم کے اور اللہ پر چاہیے کہ بھروسہ کریں ایمان والے۔
[سورۃ المجادلۃ:10]

توکل کے قابل وہ ذات ہے جس کی بخشش کے سوا کسی شیء کا نبی بھی مالک(اختیار والا)نہ ہو:
مگر ایک کہنا ابراہیم کا اپنے باپ کو کہ میں مانگوں کا معافی تیرے لیے اور مالک نہیں میں تیرے نفع کا اللہ کے ہاتھ سے کسی چیز کا، اے رب ہمارے! ہم نے تجھ پر توکل کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری طرف ہے سب کو پھر آنا۔
[سورۃ الممتحنۃ:4]

توکل کے قابل وہ ہے جو رزق دینے والا ہر شیء کا قدر(تقدیر واندازہ)طے کرنے والا ہو:
اور روزی دے اس کو جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو ف ٩ اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو وہ اس کو کافی ہے تحقیق اللہ پورا کرلیتا ہے اپنا کام اللہ نے رکھا ہے ہر چیز کا اندازہ۔
[سورۃ الطلاق:3]

توکل کے قابل رحمان ہے:
تو کہہ وہی رحمان ہے ہم نے اس کو مانا اور اسی پر بھروسہ کیا سو جلد تم جان لو گے کون پڑا ہے صریح بہکائے میں۔
[سورۃ الملک:29]


(6) "رغبت و رہبت اور خشوع" کے عبادت ہونے کی دلیل:

 إِنَّهُم كانوا يُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَيَدعونَنا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكانوا لَنا خٰشِعينَ {21:90}
وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز
 Verily they Were wont to vie with one anot her in good deeds and to call upon us with longing and dread, and they were ever before us meek.




(7) "خشیت" کے عبادت ہونے کی دلیل:

 فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونى  {2:150}
ان سے [یعنی انکے اعتراضوں سے] مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو
so fear them not, but fear Me




(8) "انابت و رجوع" کے عبادت ہونے کی دلیل:

وَأَنيبوا إِلىٰ رَبِّكُم وَأَسلِموا لَهُ {39:54}
اور رجوع ہو جاؤ اپنے رب کی طرف اور اسکی حکمبرداری کرو
And turn penitently Unto your Lord and submit Unto Him
مغفرت کی امید دلا کر یہاں سے توبہ کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی گذشتہ غلطیوں پر نادم ہو کر اللہ کے بے پایاں جودوکرم سے شرما کر کفر و عصیان کی راہ چھوڑو، اور اس رب کریم کی طرف رجوع ہو کر اپنے کو بالکلیہ اسی کے سپرد کر دو۔ اس کے احکام کے سامنے نہایت عجز و اخلاص کے ساتھ گردن ڈالدو۔ اور خوب سمجھ لو کہ حقیقت میں نجات محض اسکے فضل سے ممکن ہے۔ ہمارا رجوع و انابت بھی بدون اس کے فضل و کرم کے میسر نہیں ہو سکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کیا۔ جو کفار دشمنی میں لگے رہے تھے سمجھے کہ لاریب اس طرف اللہ ہے۔ یہ سمجھ کر اپنی غلطیوں پر پچتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب ہماری مسلمانی کیا قبول ہو گی۔ دشمنی کی، لڑائیاں لڑے اور کتنے خدا پرستوں کے خون کئے تب اللہ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ کوئی نہیں جس کی توبہ اللہ قبول نہ کرے، ناامید مت ہو، توبہ کرو اور رجوع ہو، بخشے جاؤ گے مگر جب سر پر عذاب آیا یا موت نظر آنے لگی اس وقت کی توبہ قبول نہیں۔ نہ اس وقت کوئی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔


(9) "استعانت یعنی (غائبانہ حاجات میں) مدد مانگنا" کے عبادت ہونے کی دلیل:
إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ {1:5} 
تیری ہی ہم بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں [۵] 
Thee alone do we worship and of Thee alone do we seek help,  
اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی "ذات پاک" کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے، ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض "واسطہ رحمت الہٰی" اور "غیر مستقل" سمجھ کر استعانت "ظاہری" اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔






 


عبادت کیسی ہو؟





























































































عبادات مقاصد ہیں - یا ذرائع؟


تمہید:

آج مسلمانوں کی اکثریت جہاں زندگی کے دیگر معاملات میں افراط و تفریط کا شکار ہیں وہیں عبادات کے سلسلے میں بھی وہ اعتدال و توازن سے دور ہیں، ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عبادات ہی کامل دین ہیں، جس نے نماز ادا کرلی، روزہ رکھ لیا اور مال دارہونے کی صورت میں زکوٰة ادا کردی اور حج کیا اس نے گویا مکمل دین پر عمل کرلیا؛ حالانکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات مقاصد بھی ہیں اور ذرائع بھی، کسی ایک چیز کے مقصداور ذریعہ ہونے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے،بعض حیثیتوں سے ایک چیز مقصود ہوسکتی ہے اور وہی چیز بعض دوسری حیثیتوں سے ذریعہ بن سکتی ہے۔

عبادت کی تعریف:

عبادت کے لغوی معنی کسی کی تعظیم کی غرض سے تواضع و انکساری اختیار کرنا ہے اور یہ صرف اللہ کے لیے ہے، کبھی عبادت کو طاعت و فرماں برداری کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔(۱)

اصطلاحی معنی کئی ایک ہیں: (۱) خضوع کے آخری درجہ کو اللہ کے لیے اختیار کرنا، (۲) رب کی تعظیم کے لیے اپنے نفس کے خلاف کام کرنا، (۳) ایسا فعل جس سے صرف اللہ کی تعظیم ہوتی ہو، ہر اس امر کو بجالانا جس سے اللہ راضی ہوتا ہو۔(۲)

عبادت کا مفہوم:

عبادت کا لفظ تین معانی پر مشتمل ہے: (۱) پرستش، (۲) غلامی، (۳) اطاعت، خدا کے واحد پروردگار ہونے سے لازم آتا ہے کہ انسان اسی کا شکرگزار ہو، اسی سے دعائیں مانگے اور اسی کے آگے عقیدت و محبت سے سر جھکائے، یہ عبادت کا پہلا مفہوم ہے۔ انسان خدا کا بندہ و غلام بن کر رہے، اس کے مقابلے میں خود مختارانہ رویہ نہ اختیار کرے اوراس کے سوا کسی اور کی غلامی قبول نہ کرے یہ عبادت کا دوسرا مفہوم ہے، انسان خدا کے حکم کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کرے نہ خود اپنا حکمراں بنے اوراس کے سوا کسی دوسرے کی حاکمیت تسلیم کرے یہ عبادت کا تیسرا مفہوم ہے۔(۳)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”یٰأیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِيْ خَلَقَکُمْ“(۴)

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کروجس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (م: ۷۲۸ھ) سے ایک فعہ کسی شخص نے پوچھا کہ : ”یایہا الناس اعبدوا ربکم“ میں جس عبادت کا حکم دیاگیا ہے، اس کا کیا مفہوم ہے؟ آپ نے اس مسئلہ پر مفصل تقریر فرمائی جو رسالہ ”العبودیہ“ کی شکل میں موجود ہے، یہ رسالہ عبادات کی حقیقت و مقاصد پر روشنی ڈالتا ہے، اس کی ابتدا میں ابن تیمیہ نے لکھا ہے:

”عبادت ایک ایسا جامع لفظ ہے اس کے اندر وہ تمام ظاہری و باطنی اقوال و افعال داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور اس کی خوشنودی کا باعث ہیں مثلاً: نماز، روزہ، زکوٰة، حج، راست گوئی، امانت داری، اطاعت والدین،ایفائے عہد، امربالمعروف، نہی عن المنکر، جہاد فی سبیل اللہ، پڑوسیوں، مسکینوں اور ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک، جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ، دعاء، ذکر الٰہی، تلاوت قرآن اوراس قسم کے تمام اعمال صالحہ عبادات کے اجزاء ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کی محبت، رحمت خداوندی کی امیدوار اور عذاب الٰہی کا خوف، خشیت، انابت، اخلاص، صبر و شکر، توکل اور تسلیم و رضا وغیرہ ساری اچھی صفات عبادات میں شامل ہیں۔“(۵)

دین میں عبادات کا مقام:

دین میں عبادات کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہیں، عبادات کے بغیر دین کو صحیح صورت پہ باقی رکھنا ممکن نہیں، اگرچہ دین کے تمام احکام کی تعمیل لوجہ اللہ عبادت ہے مگر عام طور پر مشہور عبادتیں: نماز، روزہ، زکوٰة اور حج کے اندر جو ملأ اعلیٰ سے ربط اور مناسبت پیدا کرنے کی تاثیر اور انسان کے روحانی اور ملکوتی پہلو کی ترقی اور تکمیل کی خاصیت ہے وہ کسی دوسرے عمل میں نہیں، ان کو عبادات میں وہی مقام حاصل ہے جو اعضاء جسم میں قلب و دماغ کو ہے اسی بنا پر ان کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور ان پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”بني الاسلام علی خمس شہادة أن لا الٰہ الا للّٰہ وان محمدًا عبدہ ورسولہ واقام الصلاة، وایتاء الزکاة والحج والصوم“(۶)

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰة اداکرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ یہ بنیادی عبادات ہیں؛ لیکن ان کا دائرہ محدود نہیں ہے؛ بلکہ بے حد وسیع ہے، انسان کے لیے ضروری ہے کہ اہم عبادات کے ذریعے اپنی ساری زندگی کو کامیاب بنائے اور پھر اصل مقصود جو رضاء الٰہی ہے وہ حاصل کرے، بقول آزاد قرآن کہتا ہے: ”اصل دین خدا پرستی اور نیک عمل ہے۔“(۷)

اسلام میں عبادات کا ایک رخ داخلی و قلبی ہے اور دوسرا خارجی و جسمانی و مجلسی۔ ان دونوں رخوں کے بارے میں قرآن وحدیث اور کتب فقہ میں مفصل احکام موجود ہیں۔ اسلام میں عبادات صرف وہی نہیں جو خدا سے مناجات و مکالمے کا روپ دھارتی ہے؛ بلکہ وہ بھی ہے جو اندر کی طہارت کے ذریعے خارجی اجتماعی افعال واعمال انسانی کے بارے میں بھی صدق و اخلاص، حسن نیت اورحسن عمل کے اوصاف پیدا کرتی ہے، داخلی عبادات کے بغیر عبادت کے ظاہری رخ ناقص رہتے ہیں۔ شریعت کے ظاہری اعمال بھی اسی لیے ہیں کہ یہ مقصد حاصل ہو۔ پس ہمیں پوری زندگی کو عبادت کے سانچے میں ڈالنا چاہیے، جس کی صورت یہ ہے کہ ہم اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال و اقوال جو اللہ کو پسند ہیں، اس کی خوشنودی کا ذریعہ ہیں انھیں پورے خلوص و دیانت داری کے ساتھ اداکریں۔

عبادت کا ناقص تصور:

آج ہمارے یہاں عبادت کا حلیہ بگڑا ہواہے،اس کا سب سے زیادہ نمایاں مظہر یہ ہے کہ ہم نے عبادات کو صرف چند اعمال اور مراسم عبودیت کے ساتھ خاص کرلیا ہے اور یہ سمجھ لیا کہ بس ان کی ادائیگی پر عبادت منحصر ہے، بقیہ زندگی اس سے بالکل خالی ہے، نماز کو ہم عبادت سمجھتے ہیں اور صحیح سمجھتے ہیں، روزہ عبادت ہے، زکوة عبادت ہے، حج عبادت ہے۔ بلا شبہ یہ سب عبادات ہیں، لیکن جب دین کو ان میں منحصر کرلیا جائے اور یہ تصور قائم کرلیا جائے کہ بس ان کو بجالانے سے ہم حق عبودیت سے عہدہ برآ ہوگئے یہ بالکل غلط تصور ہوگا، چونکہ بقول ڈاکٹر اسرار احمد ”اگر ان عبادات کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ بس ان کو ادا کرنے سے عبادت کا حق ادا ہوگیا، تو تصور دین محدود ہی نہیں؛ بلکہ مسخ ہوجائے گا“(۸)

عبادت پوری زندگی میں خدا کے سامنے بچھ جانے کانام ہے؛ زندگی کے ہر معاملے اورہر گوشے کو اللہ کے حکم کا مطیع بنادینا اور اپنی آزادی، اپنی خود مختاری، اپنی پسند اور ناپسند کو اللہ کی مرضی کے تابع بنادینا اسی رویہ اور طرز عمل پر کاربند ہونا، زندگی کے تمام افعال و اعمال میں سر تسلیم خم کرنا ہی عبادت ہے۔

عبادات مقصود بالذات ہیں:

ارکان اربعہ: نماز، روزہ، زکوٰة و حج کے فرض اور مقصود بالذات ہونے کے دلائل اتنے واضح اور قطعی ہیں کہ تمام علمائے امت اس بات پر متفق ہیں، مفسرین و محدثین، ائمہ فقہ اور دیگر معتمد علیہ علمائے دین میں سے کسی نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا۔ علمائے امت کا یہ اجماع عبادات کے مقصود بالذات ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے۔ اس سلسلے میں سطور ذیل میں قرآن کریم اور احادیث رسول سے چند نصوص کو پیش کیا جارہا ہے۔

جن و انس کی تخلیق کا مقصد:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ والانسَ الاَّ لِیَعْبُدُوْن“(۹)

جب خالق نے خود ہی بتادیا کہ مقصد تخلیق صرف اس کی عبادت ہے، تو عبادات کے مقصود بالذات ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا، آیت مذکورہ میں لفظ عبادت اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے، یعنی رب کی بندگی اوراس کی اطاعت و فرماں برداری؛ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پرستش لفظ عبادت کا اولین اوراس کے معانی میں سب سے نمایاں معنی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ فقہی اصطلاح میں جن چیزوں کو عبادات کہا جاتاہے انھیں ادا کرنا مقصد تخلیق کی تکمیل کا اولین مرحلہ ہے انھیں ادا کیئے بغیر مقصد زندگی کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انسان اللہ کے سوا کسی اور کے احکام کی اطاعت و فرماں برداری کے لیے نہیں پیدا کیاگیا،اس کا کام کسی اور کے آگے جھکنا، اس کے احکام بجالانا، کسی اور کے بنائے ہوئے دین کی پیروی کرنا، کسی دوسرے کو اپنی قسمت کا بنانے والا یا بگاڑنے والا سمجھنا، اسی طرح دوسروں سے مرادیں طلب کرنا نہیں ہے۔

وہ صرف اللہ کی پرستش کرے، صرف اسی کی اطاعت و فرماں برداری کرے اس کے بھیجے ہوئے دین کی پیروی کرے، یہی اس کے تخلیق کا مقصد ہے۔

اسی طرح ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”وَمَا جَعَلْنَا عَلَی الأرضِ زِیْنَةً لَّہَا لِنَبْلُوَکُمْ أیُّکُمْ أحْسنُ عملاً“(۱۰)

ایک دوسری آیت میں ہے:

”اَلَّذي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أیُّکُمْ أحْسَنُ عَمَلاً“(۱۱)

ان دونوں آیتوں میں زمین کی نعمتوں اور موت و حیات کی تخلیق کا مقصد یہ بتایاگیا ہے کہ انسانوں کی آزمائش کی جائے، حسن عمل یا عمل صالح مقصد تخلیق کی دوسری تعبیر ہے جو ”عبادت“ سے مختلف اور متضاد نہیں، اب یہاں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اچھے اعمال کے وہ ستون کیا ہیں جس کے بغیر کسی کے اسلام کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اچھے اعمال کی بنیادیں کیا ہیں جن سے تمام دوسرے اعمال کی شاخیں پھوٹتی ہیں، کتاب و سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے اعمال کے ستون نماز، روزہ، زکوٰة اور حج ہیں۔ انھیں چاروں پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہوئی ہے مقصد تخلیق کی اس تعبیر سے بھی معلوم ہوا کہ عبادات مقصود بالذات ہیں؛ کیوں کہ ان کے بغیر کوئی بھی شخص امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

بعض روایات میں ہے کہ : ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! اچھے اعمال والے لوگ کون ہیں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”أحسنکم عقلاً، وأورعکم عن محارم اللّٰہ وأسرعکم في طاعتہ“(۱۲) جس کی سمجھ سب سے اچھی ہو، جو حرام سے سب سے زیادہ پرہیز کرے اور خدا کی فرماں برداری کی طرف لپکنے میں سب سے زیادہ جلدی دکھائے۔

قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں اقامت صلاة اور ایتاء زکاة یا انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کیاگیا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اوراس کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

”ایمان محض کسی تصور کانام نہیں ہے؛ بلکہ اس کی اصل حقیقت وہ تصدیق ہے جو دل کی گہرائیوں میں اترتی ہوئی ہوتی ہے اور جو آدمی کے ارادے کوحرکت میں لاتی ہے یہ ارادہ آدمی کو بہت سے کاموں کے کرنے اور بہت سی چیزوں کے چھوڑنے پر آمادہ کرتا ہے یہاں کرنے کے کاموں میں سے صرف دو ہی کا ذکر کیاگیا ہے، ایک نماز قائم کرنے کا دوسرے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا،اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں کام تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام بھلائیوں کی بنیادہیں۔“(۱۳)

صرف نماز کے تدبر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کی بنیادی نیکیوں کی حیثیت نماز اور زکوٰة کو حاصل ہے، دوسری نیکیاں انھی دو بڑی نیکیوں کے تحت ہیں؛ بلکہ انھیں سے پیدا ہوتی ہیں؛ چنانچہ قرآن کے بے شمار مقامات میں ان دونوں کا ذکر اس طرح آیا ہے کہ ان کا ذکر آگیا تو گویا سب کاذکر آگیا مثلاً : ”فانْ تَابُوْا واقامُوا الصَّلاةَ وآتوا الزکوٰة فاخْوَانُکُمْ فِي الدِّدیْنِ“(۱۴)

(اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو تمہارے دینی بھائی بن گئے)

حضرت اسماعیل کی تعریف میں فرمایا گیا: ”کانَ یَأْمُرُ أہْلہ بِالصَّلاَةِ والزَّکاَةِ وکانَ أمرُہ عِنْدَ رَبِّہ مَرْضِیًا“(۱۵) (اور وہ اپنے کنبہ کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا)۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی منقول ہے: ”وَاَوْصِیْنِيْ بِالصَّلاَةِ والزَّکاَةِ مَادُمْتُ حیًا“(۱۶) (اور اسی نے مجھے نماز اور زکوة کی ہدایت کی جب تک میں زندہ رہوں) (۱۷)

مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نماز اور زکوة کا ذکر ہے؛ لیکن ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ صرف یہی دو چیزیں مراد نہیں ہیں؛ بلکہ دوسری نیکیاں بھی مراد ہیں؛ لیکن ان ساری نیکیوں کی جڑیں دونوں چیزیں ہیں تو جب ان کا ذکر آگیا تو شاخوں کاذکر خود بخود ہوگیا، ان دونوں چیزوں کی حقیقت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ فی الواقع دین میں ان کی حیثیت بھی یہی ہونی چاہئے، ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کا ٹھیک بندہ بننے کے لیے آخر کس چیز کی ضرورت ہے اسی کی کہ ایک طرف وہ اپنے رب سے ٹھیک ٹھیک جڑجائے اور دوسری طرف خلق سے اس کا تعلق صحیح طور پر ہوجائے نماز انسان کو خدا سے صحیح طور پر جوڑدیتی ہے اور زکاة سے انسان کے ساتھ اس کا تعلق صحیح بنیاد پر قائم ہوجاتا ہے، ایک شخص اگر اپنے رب کے حقوق کو ادا کرتا ہے اور ساتھ ہی اس کی مخلوق کے حقوق کو بھی بجالاتا ہے تو وہ تمام نیکیوں کی کلید پاگیا۔ انہی دو کی مدد سے وہ دوسری نیکیوں کے دروازے بھی کھول لے گا۔

ظاہر ہے کہ جن چیزوں پر پورے دین و شریعت کا دارومدار ہو، ان کا مقصود بالذات ہونا ایک ایسی بات ہے جس میں شک و ریب کی یکسر گنجائش نہیں۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر ۵ میں بیان کیاگیا ہے: ”فان تَابُوْا وأقَامُوْا الصَّلوٰةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ“ (پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیا کریں زکوٰة تو انھیں چھوڑ دو) (شیخ الہند)

اس آیت کے تحت مولانا مودودی نے لکھا ہے:

”یعنی کفر و شرک سے محض توبہ کرلینے پر معاملہ ختم نہ ہوگا؛ بلکہ انھیں عملاً نماز قائم کرنی اور زکوٰة دینی ہوگی،اس کے بغیر یہ نہیں مانا جائیگا کہ انھوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیا ہے، اسی آیت سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنہٴ ارتداد کے زمانے میں استدلال کیا، نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جن لوگوں نے فتنہ برپا کیا تھا انہی میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم منکرین اسلام نہیں ہیں، نماز پڑھنے کے لیے تیار ہیں؛ مگر زکوٰة نہیں دیں گے، صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بالعموم پریشانی لاحق تھی کہ آخر ایسے لوگوں کے خلاف تلوار کیسے اٹھائی جائے؛ مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا حوالہ دے کر ان سے جہاد کیا۔“(۱۸)

اسی سورہ کی آیت نمبر ۱۱ میں پھر فرمایا: ”فانْ تَابُوْا وأقَامُو الصَّلوٰة وآتوا الزکوٰة فاخوانُکُمْ في الدین“

(ترجمہ: سو اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم رکھیں نماز اور دیتے رہیں زکوٰة تو تمہارے بھائی ہیں حکم شریعت میں) (شیخ الہند)

ظاہر ہے کہ جن چیزوں کو دین میں یہ مقام حاصل ہو وہ خود مقصود نہ ہوں؛ بلکہ محض ذریعہ ہوں یہ کیسے ممکن ہے ۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا تقرب اور اس کی رضا کا حصول مومن کا آخری مقصود ہے یہ گوہر مقصود نماز میں مل جاتا ہے، قرآن میں ہے: ”وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ“(۱۹) (اور سجدہ کرو اور نزدیک ہو) یعنی جہاں چاہو شوق سے عبادت کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر بیش از بیش قربت حاصل کرو، حدیث میں آیا ہے کہ ”بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتا ہے۔ (مسلم)

اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز اور سجدئہ نماز بذات خود قرب الٰہی ہے، نماز میں کھڑے ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں پہنچ گئے اس کے آگے سجدہ ریز ہوئے اور اس سے قریب تر ہوگئے نماز کے مقصود بالذات ہونے کی اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوگی؟ نماز ایمان سے اس قدر قریب ہے اور اس کی اتنی بڑی علامت ہے کہ سورة البقرة آیت ۱۴۳ میں نماز کے لیے ایمان کا لفظ استعمال کیاگیا ہے: ”مَاکَانَ اللّٰہُ لیُضِیْعَ اِیمانکم“(۲۰) (اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کرے تمہارا ایمان) یہاں ایمان سے مراد وہ نمازیں ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی گئی تھیں، بعض مسلمانوں کو شبہ ہوا کہ بیت المقدس جب قبلہٴ اصلی نہ تھا تو جو مسلمان اسی حالت میں مرگئے ان کے ثواب میں نقصان رہا، باقی زندہ رہنے والے تو آئندہ کو مکافات اوراس کا تدارک کرلیں گے اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی کہ جب تم نے بیت المقدس کی طرف نماز مقتضاء ایمانی اور اطاعتِ حکم خداوندی کے سبب پڑھی تو تمہارے اجر و ثواب میں کسی طرح کا نقصان نہ ڈالا جائے گا۔(۲۱)

عبادات ذرائع بھی ہیں:

عبادات مقصود بالذات ہونے کے ساتھ اصلاح و تربیت کے بہترین ذرائع بھی ہیں۔ قرآن کریم میں عبادات کے جو اغراض ومقاصد بیان کیے گئے ہیں اور ان کے بارے میں بعض دوسرے جو احکام دئیے گئے ہیں وہ اس بات کے واضح دلائل ہیں۔

نماز اور صبر مدد کاذریعہ :

سورة البقرة میں دو بار نماز اور صبر کے ذریعہ مدد چاہنے کا حکم دیاگیا ہے ۔ ایک بار بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاگیا: ”وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوٰةِ“(۲۲) (صبر اور نماز کے ذریعہ مدد لو)

دوسری بار مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا: ”یٰأیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوٰةِ“(۲۳) (اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

کسی چیز سے مدد کسی خاص مقصد کے لیے حاصل کی جاتی ہے اسی طرح جس چیز سے مدد لی جاتی ہے وہ خاص مقصد کے حصول کا ذریعہ بن جاتی ہے، وہ خاص مقصد کیا ہے جس کے لیے صبر اور نماز سے مدد لینے کا حکم دیاگیا ہے؟

 علامہ شبیر احمدعثمانی فرماتے ہیں:

”علمائے اہل کتاب جو وضوح حق کے بعد بھی آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان نہ لائے تھے اس کی بڑی وجہ حب جاہ اور حب مال تھی اللہ تعالیٰ نے دونوں کا علاج بتادیا، صبر سے مال کی محبت اور طلب جائے گی اور نماز سے عبودیت اور تذلل آئے گا“(۲۴)

مولانا امین احسن اصلاحی نے بھی آیت نمبر ۴۵ اور آیت ۵۳ کی بہت مفصل اور ایمان افروز تشریح کی ہے، پہلے اجمالاً انھوں نے یہ لکھا ہے:

”اوپر عہد الٰہی کو استوار کرنے کے لیے بنی اسرائیل کو جن باتوں کا حکم دیا ہے جن جن چیزوں سے روکا ہے ان کا اختیار کرنا یا ان سے بچنا نفس کیلئے نہایت شاق ہے اس وجہ سے وہ نسخہ بھی بتادیا جو اس مشکل کو آسان بناسکتا ہے۔ یہ نسخہ صبر اور نماز دو چیزوں پر مشتمل ہے ان دو چیزوں کے اختیار کرنے سے نفس کے لئے یہ چڑھائی آسان ہوجاتی ہے صبر کا تعلق اخلاق و کردار سے ہے اور نماز کا تعلق عبادات سے، انسان اگر مشکلات و موانع کے علی الرغم کسی صحیح موقف پر ڈٹے رہنے کی خصلت انسان میں آسانی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بلکہ ریاضت سے پیدا ہوتی ہے جس کا طریقہ نماز ہے آدمی اگر صحیح راہ پر چلنے کا عزم کرلے اور اس پر چل کھڑا ہو اور ساتھ ہی برابر اپنے رب کو یاد رکھے اوراس سے مدد مانگتا رہے (جس کی بہترین شکل نماز ہے) تو اس کے عزم کی قوت ہزار گنی بڑھ جاتی ہے کوئی مشکل سے مشکل حالت بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش پیدا ہونے نہیں دیتی،اگرحالات کی نزاکت سے آدمی کے پاؤں لڑکھڑانے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے اس کا وہ تعلق جو نماز سے پیدا ہوتا ہے اس کو گرنے سے بچالیتا ہے۔“(۲۵)

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہاں صبر کا جوحکم دیا ہے وہ اس لیے دیا ہے کہ اس وصف کو پیدا کیئے بغیر کوئی قوم اللہ کے عہد پر قائم نہیں رہ سکتی اور نماز کا حکم اس لیے دیا ہے کہ یہی چیز صبر کے پیدا کرنے اس کو ترقی دینے اور اس کو درجہٴ کمال تک پہنچانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔

سورة البقرة آیت ۱۵۳ کے تحت لکھتے ہیں:

”مشکلات و مصائب میں جس نماز کا سہارا حاصل کرنے کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد ان پانچ وقتوں کی نمازیں ہی نہیں؛ بلکہ تہجد اور نفل نمازیں بھی ہیں؛ اس لیے کہ یہی نمازیں مومن کے اندر وہ روح اور زندگی پیدا کرتی ہیں جو راہِ حق میں پیش آنے والی مشکلات پر فتح یاب ہوتی ہیں، انہی کی مدد سے وہ مضبوط تعلق باللہ پیدا ہوتا ہے جو کسی سخت آزمائش میں بھی شکست نہیں کھاتا اور انہی سے وہ مقام قرب حاصل ہوتا ہے جو خدا کی معیت کا ضامن ہے جس کا اس آیت میں صابرین کے لیے وعدہ فرمایاگیا ہے۔(۲۶)

          نماز سے استعانت دراصل اللہ سے استعانت ہے وہ پوری کائنات اور تمام ہنگامہٴ ہست و بود کا معبود و مقصود بھی ہے اور تمام ذرائع و وسائل کا سرچشمہ بھی اس کی مدد کامیابیوں اور کامرانیوں کے حصول کا اصل ذریعہ اور وسیلہ ہے، اس کی مدد کے بغیر اس کے حضور ایک سجدہ بھی ادا نہیں کیاجاسکتا۔ ”ایَّاکَ نَعْبُدُ وایَّاکَ نَسْتَعِیْنُ“(۲۷) (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) آیت کریمہ اس حقیقت کی گواہ ہے۔

نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ:

عبادتِ رب اور اطاعتِ خالق میں سب سے بڑی رکاوٹ جوانسان کی راہ میں پیش آتی ہے وہ ہے غفلت اس سے نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نماز پنجگانہ فرض کیا تاکہ وہ ہروقت اللہ کے حضور میں کھڑے ہوکر اپنے عہد و میثاق کی تجدید کرتا رہے، نماز ہی کے بارے میں سورہ طہٰ آیت ۱۴ میں فرمایا گیا: ”وأقِمِ الصَّلوٰةَ لِذِکْرِيْ“(۲۸) (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر) اس آیت سے معلوم ہوا اللہ کی یاد کا بہترین ذریعہ نماز ہے، قرآن کریم میں ان کے علاوہ اور آیتیں بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو راہِ حق پر قائم رکھنے اور اس کی زندگی کو سدھارنے اور سنوارنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔

روزہ حصولِ تقویٰ کا ذریعہ:

تقویٰ اللہ کے خاص بندوں کی ایک عظیم صفت ہے جو اللہ کو بہت ہی محبوب ہے پسندیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ اس کی اہمیت کو بتلایا ہے اوراس کو اختیار کرنے کا حکم دیاہے، تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ دراصل نفس کی اس کیفیت کا نام ہے جو خداترسی اور احساسِ ذمہ داری سے پیدا ہوتی ہے اور زندگی کے ہرپہلو میں ظہور کرتی ہے حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو عبدیت کا شعور ہو، وہ انسانی زندگی میں بھی صریح ممنوعات تو درکنار مشتبہ امور سے بھی اپنے آپ کو بچائے رکھے۔

ظاہر ہے کہ اتنی پسندیدہ چیز بغیر نفس کشی اور مجاہدہ کے حاصل نہیں ہوسکتی؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں پر رمضان کا روزہ فرض کیا؛ تاکہ وہ نفس کو رذائل سے پاک کرکے تقویٰ سے متصف ہوجائے اور اپنی آئندہ کی زندگی کو اسی روشنی میں گزارے۔ قرآن کریم میں روزہ کی فرضیت کا حکم دینے کے بعداس کی حکمت بھی واضح کی گئی ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ (تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حصولِ تقویٰ کا بہترین ذریعہ روزہ ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد ترجمان القرآن میں رقم طراز ہیں:

”روزے کے حکم سے یہ مقصود نہیں ہے کہ انسان کا فاقہ کرنا اور اپنے جسم کو تکلیف اور مشقت میں ڈالنا کوئی ایسی بات ہے جس میں پاکی و نیکی ہے؛ بلکہ تمام تر مقصود نفس انسانی کی اصلاح و تہذیب ہے ۔ روزہ رکھنے سے تم میں پرہیزگاری کی قوت پیدا ہوگی اور نفسانی خواہشوں کو قابو میں رکھنے کا سبق سیکھ لوگے۔“(۲۹)

زکوٰة ذریعہٴ تزکیہ:

اللہ کی یاد اور اس کے احکام کی اطاعت میں جو سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی راہ میں پیش آتی ہے وہ مال کی محبت ہے یہ چیز انسان کے پیر کی بیڑی بن جاتی ہے، حبِّ دنیا کا سب سے بڑا مظہر مال ہے؛ اس لیے کہ مال ہی کے ذریعے انسان ظاہری شہرت حاصل کرتا ہے اور نفس جو بے راہ روی کی طرف لپکنے والا ہے مال ہی کے افراط سے بے اعتدالی کا شکار ہوتا ہے، اس کو حد اعتدال میں رہنے کے لیے اورمال کی محبت کو دل سے کھرچنے اور پاکیزہ بننے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰة فرض کیا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ”خُذْ مِنْ أمْوَالِہِمْ صَدَقَةً تُطَہِّرُہُمْ وتُزَکِّیْہِمْ بِہَا“(۳۰) (تم ان کے مالوں کا صدقہ قبول کرو اس سے تم ان کو پاکیزہ بناؤگے اور ان کا تزکیہ کیا کروگے)

حج ذکر و شکر اور تقویٰ کا ذریعہ:

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، اس کی ادائیگی میں مالی صرفہ بھی ہے اور جانی مشقت بھی، اس میں نفس کے تقاضوں کو ضبط میں رکھنے کی بھی مشقتیں ہیں؛ چنانچہ حج انتہائی جامع عبادت ہے اور اس میں تمام طاعات شامل ہوتی ہیں، سورة البقرة آیت ۱۹۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کی طرح حج بھی تقویٰ کے حصول، اللہ تعالیٰ کی شکرگذاری اوراس کے ذکر کی مشق کا ذریعہ ہے، حالتِ احرام میں خصوصیت کے ساتھ ہر قسم کی شہوانی گفتگو ہر طرح کی بدکاری و بے راہ روی اور ہر قسم کے جھگڑے لڑائی کی ممانعت، نیز تقویٰ کو بہترین زادِ راہ قرار دینے اور آیت ”فَاتَّقُوْنِ یٰاُولي الألْبَابِ“(۳۱) (اے ہوشمندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو) پر ختم کرنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ فریضہٴ حج میں حصولِ تقویٰ کا پہلو غالب ہے، اسی طرح حج میں شعائر اللہ کی تعظیم کے احکام دئیے گئے ہیں اوراس کی تعظیم و احترام کو تقویٰ القلوب (دلوں کا تقویٰ) قرار دیاگیا ہے، قربانی کا حکم دیاگیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اللہ تک گوشت اور خون نہیں پہنچتا؛ بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ حج مجموعی حیثیت سے تقویٰ اور ذکر الٰہی کاذریعہ ہے۔

ارکان اربعہ کے بعد یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں باریابی و تقرب کے لیے عبادات و طاعات، اذکار و ادعیہ اور تمام نیکیوں کو وسیلہ قرار دیا ہے۔ سورة المائدة آیت ۳۵ میں بیان فرمایا ہے:

”یٰأیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَابْتَغُوا الَیْہِ الْوَسِیْلَةَ وَجَاہِدُوْا فِي سَبِیْلِہ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ“(۳۲) (اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اس تک وسیلہ اور جہاد کرواس کی راہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو) (ترجمہ شیخ الہند)

وسیلہ کی تفسیر ابن عباس، مجاہد، ابووائل، حسن وغیرہم اکابر سلف نے قربت سے کی ہے تو وسیلہ ڈھونڈنے کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کا قرب ووصول تلاش کرو، قتادہ نے کہا: ”اَيْ تقرّبُوا الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ“ خدا کی نزدیکی حاصل کرو اس کی فرماں برداری اور پسندیدہ عمل کے ذریعہ سے۔(۳۳)

اس سے معلوم ہوا کہ تمام عبادتیں، طاعتیں، نیکیاں، اذکار و دعائیں رضائے الٰہی کے حصول اور اس کی بارگاہ میں تقرب کے ذرائع ہیں، عبادات کا بذاتِ خود مقصود ہونا اور ساتھ ہی کسی دوسری چیز کے لیے ان کا ذریعہ ہونا باہم اسی طرح پیوستہ ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیاجاسکتا ہے۔

اسلامی عبادات، انفرادی اصلاح و تربیت کے ذرائع بھی ہیں اور ان سے اجتماعی تربیت بھی حاصل ہوتی ہے، ان عبادات کو ادا کرنے میں شریعت نے اجتماعیت پیدا کرکے ان کو ہمہ جہتی ذریعہٴ اصلاح بنادیا ہے اب ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ عبادات سے جو مقاصد ہیں وہ ہمیں حاصل ہورہے ہیں یا نہیں مثلاً نماز کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے: ”انَّ الصَّلوٰةَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالمُنْکَرِ“(۳۴) (بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے) (ترجمہ شیخ الہند)

اس آیت کی تفسیر میں علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ: ”نماز کا برائیوں سے روکنا دو معنی میں ہوسکتا ہے، ایک بطریق تسبب (ذریعہ) یعنی نماز میں اللہ تعالیٰ نے وہ خاصیت و تاثیر رکھی ہے جو نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے۔ جیسے دوا کا استعمال کرنا بخار وغیرہ امراض کو دور کرتا ہے، اس صورت میں یاد رکھنا چاہیے کہ دوا کے لیے ضروری نہیں کہ اس کی ایک ہی خوراک بیماری کو روکنے کے لیے کافی ہوجائے، بعض دوائیں خاص مقدار میں مدت تک التزام کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اس وقت اس کا نمایاں اثر ظاہر ہوتا ہے بشرطیکہ مریض کسی ایسی چیز کا استعمال نہ کرے جو اس دواء کی خاصیت کے منافی ہو پس نماز بھی بلاشبہ بڑی قوی التاثیر دوا ہے جو روحانی بیماریوں کو روکنے میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے“(۳۵)

نماز کے علاوہ بھی جو دیگر عبادات ہیں اور ان کے جو مقاصد اوپر بیان کیے گئے ان کے بارے میں ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے جو مقاصد ہیں وہ ہمیں حاصل ہورہے ہیں - یا نہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔

                                                                                                                                          $$$

ماخذ و حوالہ جات

(۱)     الموسوعة الفقہیہ: وزارة الاوقاف والشئون الاسلامیہ ، الکویت، ص․ ب․ ۱۳، ص:۲۵۶، ج:۲۹۔

(۲)    حوالہ بالا، ص: ۲۵۷۔

(۳)    مودودی: سید ابوالاعلیٰ، تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی، بارسوم: ۲۶۴/۲۔

(۴)    سورة البقرة: ۲۱۔

(۵)    ابن تیمیہ (م: ۷۲۸ھ) العبودیة، المطبعة الحسینیہ المصریة ۲۳۳۲ھ۔

(۶)    بخاری و مسلم: کتاب الایمان حدیث نمبر :

(۷)    آزاد: ابوالکلام ، ترجمان القرآن: ساہتیہ اکادمی ۱۳۳/۲۔

(۸)    ڈاکٹر اسرار احمد : مطالبات دین، مکتبہ تنظیم اسلامی ۳۶/ کے ماڈل ٹاؤن لاہور، ص: ۲۹۔

(۹)    ذاریات : ۵۶۔

(۱۰)   الکہف : ۷۔

(۱۱)    الملک : ۳۔

(۱۲)   قرطبی: الجامع لاحکام القرآن: الہیئة المصریة العامة للکتاب: ۲۰۷/۱۸۔

(۱۳)   اصلاحی: امین احسن ، تدبر قرآن، لاہور : ۵۰/۱۔

(۱۴)   توبہ: ۱۱۔

(۱۵)   مریم : ۵۵۔

(۱۶)   مریم : ۳۱۔

(۱۷)  شیخ الہند

(۱۸)   مودودی: سید ابوالاعلیٰ ، تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی: ۱۷۷/ ۱ ملخصاً۔

(۱۹)   العلق : ۱۹۔

(۲۰)  البقرة : ۱۴۳۔

(۲۱)   عثمانی: علامہ شبیر احمد : ترجمہ شیخ الہند، ص: ۲۸۔

(۲۲)  بقرة : ۴۵ ۔

(۲۳)  بقرة : ۱۵۳۔

(۲۴)  عثمانی : علامہ شبیر احمد ۔ ترجمہ شیخ الہند، ص: ۱۰۔

(۲۵)  اصلاحی : امین احسن ، تدبر قرآن، لاہور: ۱۴۵/۱۔

(۲۶)  بحوالہ بالا: ۳۳۵/۱۔

(۲۷)  فاتحہ : ۵۔

(۲۸)  طہٰ : ۱۴

(۲۹)  آزاد،ابوالکلام، ترجمان القرآن: ساہتیہ اکاڈمی : ۱۳۹/۲۔

(۳۰)  توبہ: ۱۰۳۔

(۳۱)   حج : ۱۹۷۔

(۳۲)  مائدة : ۳۵۔

(۳۳)  عثمانی: شبیر احمد ، شیخ الہند، قرطبی: الجامع للاحکام القرآن: ۱۵۹/۶۔

(۳۴)  عنکبوت : ۴۵۔

(۳۵)  عثمانی: شبیر احمد، شیخ الہند، آیت: ۴۵ کے تحت۔

$ $ $

______________________________



No comments:

Post a Comment