Wednesday, 23 May 2012

عبادت کی شرعی معنی ومفہوم اور اقسام

عبادت کسے کہتے ہیں:
ہر قول اور فعل ، دعا اور پکار ، ثنا اور تعظیم ، رکوع اور سجود ، قیام اور قعود وغیرہ جو اس اعتقاد اور شعور کے ساتھ ہو کہ معبود کو مافوق الاسباب ہمارے تمام معاملات پر غیبی قبضہ اور تسلط حاصل ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے، وہ عبادت ہے.
چنانچہ علامہ ابن القیمؒ نے عبادت کی تعریف کو ایک جامع تعبیر سے حسب ذیل عبارت میں بیان فرمایا ہے: العبادة عبارة عن الإعتقاد والشعور بأن للمعبود سلطة غيبية في العلم والتصرف فوق الأسباب يقدر بها على النفع والضر. فكل دعاء وثناء وتعظيم ينشأ من هذه الإعتقاد فهو عبادة. [مدارج السالکین: ١/٤٠]
ترجمہ : عبادت اس اعتقاد اور شعور کا نام ہے کہ معبود کو ایک غیبی تسلط حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ نفع نقصان پر قادر ہے، اس لئے ہر تعریف، ہر پکار اور ہر تعظیم جو اس مذکورہ اعتقاد اور شعور کے ساتھ ہو وہ عبادت ہے.
An expression of the belief and perception that the diety has an unseen authority (control, power) in knowledge and control (of the affairs) above the (created) ways and means (asbaab) through which He has power of benefit and harm. So every invocation (du'a), praise and veneration that emanates from this belief is considered ibaadah (worship).


الله پاک کے ساتھ محبّت میں شرک کی دلیل:
القرآن: اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو، انکی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی، اور ایمان والوں کو سب سے زیادہ ہے محبت اللہ کی، اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جبکہ دیکھیں گے عذاب کہ قوۃ ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے [2:165]


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَقُلْتُ أُخْرَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ " , وَقُلْتُ : أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ .
[صحيح البخاري » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ » سُورَةُ الْبَقَرَةِ » بَاب قَوْلِهِ : /30 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ ... رقم الحديث: 4162(4497)]
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اس حالت میں مرے کہ وہ پکارتا ہو(غائبانہ حاجات میں) اللہ کے سوا کسی اور کو بھی تو وہ داخل ہوگا جھنم میں"۔ اور میں کہتا ہوں: کہ جو مرے اس حال میں کہ وہ نہ پکارتا ہو اللہ کے سوا  کسی اور کو وہ داخل ہوگا جنت میں۔







1) مدد کے لئے (غائبانہ حاجات میں) "پکارنا" عبادت ہے:

وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ يَلقَ أَثامًا {25:68} 

اور وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا جو منع کر دی اللہ نے مگر جہاں چاہئے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑ اگناہ میں

یعنی بڑا سخت گناہ کیا جس کی سزا مل کر رہے گی۔ بعض روایات میں آیا کہ “ آثام” جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت ہی ہولناک عذاب بیان کئے گئے ہیں۔ اعاذنا اللہ منہا 



مثلاً قتل عمد کے بدلہ قتل کرنا، یا بدکاری کی سزا میں زانی محصن کو سنگسار کرنا، یا جو شخص دین چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہو جائے، اس کو مار ڈالنا، یہ سب صورتیں { اِلَّا بِالْحَقِّ } میں شامل ہیں۔ کما ورد فی الحدیث۔







فَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتَكونَ مِنَ المُعَذَّبينَ {26:213} 
سو تو مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود کو پھر تو پڑے عذاب میں



یہ فرمایا رسول کو اور سنایا اوروں کو یعنی جب یہ کتاب بلا شک و شبہ خد اکی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو جس میں اصل اصول توحید ہے۔ شرک و کفر اور تکذیب کی شیطانی راہ اختیار مت کرو۔ ورنہ عذاب الہٰی سے رستگاری کی کوئی سبیل نہیں۔







وَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۘ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيءٍ هالِكٌ إِلّا وَجهَهُ ۚ لَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ {28:88}
اور مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود کو، کسی کی بندگی نہیں اسکے سوائے، ہر چیز فنا ہے مگر اس کا منہ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے [۱۲۹]

یعنی مت بناؤ اس (الله) کے سوا کسی غیر کو وکیل (کارساز) اپنے کاموں میں اور نہ ہی اعتماد رکھو اس کے سوا کسی پر، کیونکہ نفع و نقصان ، منع و عطا اسی کے اختیار میں ہے لہذا مصائب و مشکلات اور حاجات و بلیات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو.[تفسیر جواہر القرآن: ٨٧٠]

تفسير مفاتيح الغيب ، التفسير الكبير/ الرازي (ت 606 هـ) :
ويجوز أن يكون المعنى لا تعتمد على غير الله ولا تتخذ غيره وكيلاً في أمورك، فإن من وثق بغير الله تعالى فكأنه لم يكمل طريقه في التوحيد، ثم بين أنه لا إله إلا هو، أي لا نافع ولا ضار ولا معطي ولا مانع إلا هو، كقوله:
{ رَّبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ لاَ إِلَـٰهَ إِلاَّ هُوَ فَٱتَّخِذْهُ وَكِيلاً }[المزمل: 9]


یعنی سب کو اس کی عدالت میں حاضر ہونا ہے جہاں تنہا اسی کا حکم چلے گا۔ صورۃً و ظاہرًا بھی کسی کا حکم و اقتدار باقی نہ رہے گا۔ اے اللہ اس وقت اس گنہگار بندہ پر رحم فرمایئے اور اپنے غضب سے پناہ دیجئے۔ تم سورۃ القصص وللہ الحمد والمنۃ۔ 

یعنی ہر چیز اپنی ذات سےمعدوم ہے اور تقریبًا تمام چیزوں کو فنا ہونا ہے، خواہ کبھی ہو۔ مگر اس کا منہ یعنی وہ آپ کبھی معدوم تھا، نہ کبھی فنا ہو سکتا ہے۔ سچ ہے؎ { اَلَا کُلُّ شیءٍ مَا خَلَا اللہ بَاطِلٌ }۔ قال تعالیٰ { کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ} اور بعض سلف نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ سارے کام مٹ جانے والے اور فنا ہو جانے والے ہیں بجز اس کام کے جو خالصًا لوجہ اللہ کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ 

یہ آپ کو خطاب کر کے دوسروں کو سنایا۔ اوپر کی آیتوں میں بھی بعض مفسرین ایسا ہی لکھتے ہیں۔




وَأَنَّ المَسٰجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدعوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا {72:18}
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو 

یعنی یوں تو خدا کی ساری زمین اس امّت کے لئے مسجد بنادی گئ ہے۔ لیکن خصوصیت سے وہ مکانات جو مسجدوں کے نام سے خاص عبادت الہٰی کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ ان کو اور زیادہ امتیاز حاصل ہے۔ وہاں جا کر اللہ کے سوا کسی ہستی کو پکارنا ظلم عظیم اور شرک کی بدترین صورت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خالص خدائے واحد کی طرف آؤ اور اس کا شریک کر کے کسی کو کہیں بھی مت پکارو خصوصًا مساجد میں جو اللہ کے نام پر تنہا اسی کی عبادت کے لئے بنائی گئ ہیں۔ بعض مفسّرین نے "مساجد" سے مراد وہ اعضاء لئے ہیں جو سجدہ کے وقت زمین پر رکھے جاتے ہیں۔ اس وقت مطلب یہ ہو گا کہ یہ خدا کے دیئے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے اعضاء ہیں۔ جائز نہیں کہ ان کو اس مالک و خالق کے سوا کسی دوسرے کے سامنے جھکاؤ۔



حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ مَنْصُورٌ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ذَرٍّ هُوَ ذَرُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ ثِقَةٌ وَالِدُ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ .

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ دعا ہی تو عبادت ہے، پھر یہ آیت پڑھی:وَقالَ رَبُّكُمُ ادعونى أَستَجِب لَكُم ۚ إِنَّ الَّذينَ يَستَكبِرونَ عَن عِبادَتى سَيَدخُلونَ جَهَنَّمَ داخِرينَ {40:60}
 یعنی "اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری بندگی سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر"۔
[حديث النعمان بن بشير: أخرجه أحمد (4/271، رقم 18415) ، وابن أبى شيبة (6/21، رقم 29167) ، والبخارى فى الأدب المفرد (1/249، رقم 714) ، وأبو داود (2/76، رقم 1479) ، والترمذى (5/211، رقم 2969) وقال: حسن صحيح. والنسائى فى الكبرى (6/450، رقم 11464) ، وابن ماجه (2/1258، رقم 3828) ، وابن حبان
(3/172، رقم 890) ، والحاكم (1/667، رقم 1802) وقال: صحيح الإسناد. والبيهقى فى شعب الإيمان (2/37، رقم 1105م) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الصغير (2/208، رقم 1041) ، والقضاعى (1/51، رقم 29) .
حديث البراء بن عازب: أخرجه أبو يعلى (1/262، رقم 328) . وأخرجه أيضًا: الخطيب (12/279) .]


یعنی میری ہی بندگی کرو کہ اس کی جزا دوں گا اور مجھ ہی سے مانگو کہ تمہارا مانگنا خالی نہ جائے گا۔بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا۔ نہ مانگنا غرور ہے۔ اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ بندوں کی پکار کو پہنچتا ہے۔ یہ بات تو بیشک برحق ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کیا کرے۔ دعا کی فضیلت: یعنی جو مانگے وہ ہی چیز دے دے۔ نہیں اس کی اجابت کے بہت سے رنگ ہیں جو احادیث میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ کوئی چیز دینا اس کی مشیت پر موقوف اور حکمت کے تابع ہے۔ کما قال فی موضع آخر { فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ } (انعام رکوع۴) بہرحال بندہ کا کام ہے مانگنا اور یہ مانگنا خود ایک عبادت بلکہ مغز عبادت ہے۔


2) "سجدہ" کے عبادت ہونے کی دلیل:
القرآن : جَدتُها وَقَومَها يَسجُدونَ لِلشَّمسِ مِن دونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَصَدَّهُم عَنِ السَّبيلِ فَهُم لا يَهتَدونَ {27:24}
ترجمه: میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے. 

حضرت عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَىؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

( اگرمیں کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکے لیے سجدہ کرنے کاحکم دیتا توعورت کوحکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کوسجدہ کرے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے جب تک عورت اپنے خاوند کے حق ادا نہیں کرتی وہ اس وقت تک اپنے رب کے حقوق بھی ادا نہیں کرسکتی ، اوراگرخاوند اس سے اس کا نفس مانگے اوروہ کجاوہ پر ہو تو اسے نہیں روکنا چاہیے۔[سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر (1843)]
[حديث أبى هريرة: أخرجه الترمذى (3/465، رقم 1159) ، وقال: حسن غريب.
حديث بريدة: أخرجه الدارمى (1/406، رقم 1464) ، والحاكم (4/190، رقم 7327) وقال: صحيح الإسناد.
حديث معاذ: أخرجه أحمد (4/381، رقم 19422) . قال الهيثمى (4/310) : رواه البزار، والطبرانى فى الكبير والأوسط، وأحد إسنادى الطبرانى رجاله رجال الصحيح خلا صدقة بن عبد الله السمين، وثقه أبو حاتم وجماعة، وضعفه البخارى وجماعة.
حديث سراقة: أخرجه الطبرانى (7/129، رقم 6590) . قال الهيثمى (4/310) : رواه الطبرانى من طريق وهب بن على عن أبيه، ولم أعرفهما، وبقية رجاله ثقات.
حديث صهيب: أخرجه الطبرانى (8/31، رقم 7294) . قال الهيثمى (4/310) : رواه البزار، والطبرانى، وفيه النهاس بن فهم، وهو ضعيف.
حديث غيلان بن سلمة: أخرجه الطبرانى (18/263، رقم 660) . قال الهيثمى (4/311) : فيه شبيب بن شيبة، والأكثرون على تضعيفه، وقد وثقه صالح جزرة وغيره.]


اور ایک دفعہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔

[حديث أسامة بن زيد: أخرجه أحمد (5/203، رقم 21822) ، والطبرانى (1/164، رقم 393) ، والضياء (4/141، رقم 1355) .
حديث عائشة وابن عباس معا: أخرجه أحمد (1/218، رقم 1884) ، والبخارى (1/168، رقم 425) ، ومسلم (1/377، رقم 531) ، والنسائى (2/40، رقم 703) .
حديث أبى هريرة: أخرجه مسلم (1/377، رقم 530) .]


حدیث : میری قبر کو بت نہ ماننا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجْعَلُنَّ قَبْرِي وَثَنًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
[مسند أبي يعلى الموصلي » تَابِعُ مُسْنَدِ أَبِي هُرَيْرَةَ ...رقم الحديث: 6641]
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مت بنانا میری قبر کو بت ، لعنت ہو الله کی اس قوم پر جو اپنے انبیاء کی قبر کو سجدہ گاہ بناۓ.



حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » بَاقِي مُسْنَد المُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ » مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ... رقم الحديث: 7184]
ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یعنی یہ دعا فرمائی) اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُعْبَدُ یعنی : اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگیں۔ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)  لعنت ہو الله کی اس قوم پر جو اپنے انبیاء کی قبر کو سجدہ گاہ بناۓ.
[مسند احمد:7358، إسناده قوي، حمزة بن المغيرة: هو ابن نشيط المخزومي الكوفي، قال ابن معين: ليس به بأس، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وباقي رجاله ثقات رجال الصحيح.
وأخرجه الحميدي (1025) ، وابن سعد 2/241-242، وابن عبد البر في "التمهيد" 5/43 و44 من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد - وفي الموضع الأول عند ابن عبد البر الشطر الأول من الحديث فقط.
وأورد هذا الشطر منه البخاري في "التاريخ الكبير" 3/47 من طريق سفيان، به. وانظر ما سيأتي برقم (8804) .
والشطر الثاني، سيأتي نحوه في "المسند" برقم (7826) من طريق سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة.
وفي الباب عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار مرسلا، عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عند مالك في "الموطأ" 1/172، ومن طريقه ابن سعد 2/240-241. ووصله البزار (440- كشف الأستار) ، ومن طريقه ابن عبد البر 5/42-43 عن سليمان بن سيف، عن محمد بن سليمان بن أبي داود الحراني، عن عمر بن صهبان، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، عن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وفي سنده عمر بن صهبان، ويقال: عمر بن محمد بن صهبان المدني، وهو ضعيف باتفاقهم، والتبس أمره على أبي عمر ابن عبد البر فظنّه عمر بن محمد -وهو ابن زيد بن عبد الله بن عمر بن الخظاب- الثقة!
قال أبو عمر ابن عبد البر 5/45: الوثن: الصنم، وهو الصورة من ذهب كان أو من فضة، أو غير ذلك من التمثال، وكل ما يعبد من دون الله فهو وثن، صنما كان أو غير صنم؛ وكانت العرب تصلي إلى الأصنام وتعبدها، فخشي رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ على أمته أن تصنع كما صنع بعض من مضى من الأمم: كانوا إذا مات لهم نبي عكفوا حول قبره كما يصنع بالصنم، فقال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللهم لا تجعل قبري وثنا يصلى إليه، ويسجد نحوه ويعبد فقد اشتد غضب الله على من فعل ذلك"، وكان رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يحذر أصحابه وسائرته من سوء صنيع الأمم قبله، الذين صلوا إلى قبور أنبيائهم، واتخذوها قبلة ومسجدا كما صنعت الوثنية بالأوثان التي كانوا يسجدون إليها ويعظمونها وذلك الشرك الأكبر فكان النبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يخبرهم بما في ذلك من سخط الله وغضبه، وأنه مما لا يرضاه خشية عليهم امتثال طرقهم.]





3) "خوف" کے عبادت ہونے کی دلیل

إِنَّما ذٰلِكُمُ الشَّيطٰنُ يُخَوِّفُ أَولِياءَهُ فَلا تَخافوهُم وَخافونِ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ {3:175}
یہ جو ہے سو شیطان ہے کہ ڈراتا ہے اپنے دوستوں سے سو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو [۲۶۶]
It is only that the Satan frighteth you of his friends, wherefore fear them not, but fear Me, if ye are believers.
یعنی جو ادھر سے آ کر مرعوب کن خبریں پھیلاتا ہے وہ شیطان ہے یا شیطان کے اغواء سے ایسا کر رہا ہے جس کی غرض یہ ہے کہ اپنے چیلے چانٹوں اور بھائی بندوں کا رعب تم پربٹھلا کر خوفزدہ کر دے، سو تم اگر ایمان رکھتے وہ (اور ضرور رکھتے ہو جس کا ثبوت عملًا دے چکے) تو ان شیطانوں سے اصلًا مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو کہ ؂
 ہر کہ تر سید از حق و تقویٰ گزید تر سید ازو جن و انس و ہر کہ دید۔



4) "امید اور رجاء" کے عبادت ہونے کی دلیل:


قُل إِنَّما أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم يوحىٰ إِلَىَّ أَنَّما إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۖ فَمَن كانَ يَرجوا لِقاءَ رَبِّهِ فَليَعمَل عَمَلًا صٰلِحًا وَلا يُشرِك بِعِبادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا {18:110}

تو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سوہ وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو [۱۳۲]
Say thou: I am but a human being like yourselves; revealed unto me is that your God is One God. Whosoever then hopeth for the meeting with his Lord, let him work righteous work, and let him not associate in the worship of his Lord anyone.
یعنی میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں ، خدا نہیں ، جو خود بخود ذاتی طور پر تمام علوم و کمالات حاصل ہوں ، ہاں اللہ تعالیٰ علوم حقہ اور معارف قدسیہ میری طرف وحی کرتا ہے جن میں اصل اصول علم توحید ہے ، اسی کی طرف میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔ جس کسی کو اللہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق یا اس کے سامنے حاضر کئے جانے کا خوف ہو اسے چاہئے کہ کچھ بھلے کام شریعت کے موافق کر جائے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ظاہرًا و باطنًا کسی کو کسی درجہ میں بھی شریک نہ کرے۔ یعنی شرک جلی کی طرح ریا وغیرہ شرک خفی سے بھی بچتا رہے کیونکہ جس عبادت میں غیر اللہ کی شرکت ہو وہ عابد کے منہ پر ماری جائے گی۔ { اَللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ شرُوْرِ اَنْفُسِنَا } اس آیت میں اشارہ کر دیا کہ نبی کا علم بھی متناہی اور عطائی ہے ، علم خداوندی کی طرح ذاتی اور غیر متناہی نہیں۔ تم سورۃ الکہف بفضل اللہ تعالیٰ و منہ وللہ الحمد اولاً و آخرًا۔




5) "توکل" کے عبادت ہونے کی دلیل:

 وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلوا إِن كُنتُم مُؤمِنينَ {5:23}
اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر یقین رکھتے ہو
 and put your trust in Allah, if ye are indeed believers.


 وَمَن يَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسبُهُ {65:3}

اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو وہ اُسکو کافی ہے
And whosoever putteth his trust in Allah He will suffice him.



6) "رغبت و رہبت اور خشوع" کے عبادت ہونے کی دلیل:

 إِنَّهُم كانوا يُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَيَدعونَنا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكانوا لَنا خٰشِعينَ {21:90}
وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز
 Verily they Were wont to vie with one anot her in good deeds and to call upon us with longing and dread, and they were ever before us meek.




7) "خشیت" کے عبادت ہونے کی دلیل:

 فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونى  {2:150}
ان سے [یعنی انکے اعتراضوں سے] مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو
so fear them not, but fear Me




8) "انابت و رجوع" کے عبادت ہونے کی دلیل:

وَأَنيبوا إِلىٰ رَبِّكُم وَأَسلِموا لَهُ {39:54}
اور رجوع ہو جاؤ اپنے رب کی طرف اور اسکی حکمبرداری کرو
And turn penitently Unto your Lord and submit Unto Him
مغفرت کی امید دلا کر یہاں سے توبہ کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی گذشتہ غلطیوں پر نادم ہو کر اللہ کے بے پایاں جودوکرم سے شرما کر کفر و عصیان کی راہ چھوڑو، اور اس رب کریم کی طرف رجوع ہو کر اپنے کو بالکلیہ اسی کے سپرد کر دو۔ اس کے احکام کے سامنے نہایت عجز و اخلاص کے ساتھ گردن ڈالدو۔ اور خوب سمجھ لو کہ حقیقت میں نجات محض اسکے فضل سے ممکن ہے۔ ہمارا رجوع و انابت بھی بدون اس کے فضل و کرم کے میسر نہیں ہو سکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کیا۔ جو کفار دشمنی میں لگے رہے تھے سمجھے کہ لاریب اس طرف اللہ ہے۔ یہ سمجھ کر اپنی غلطیوں پر پچتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب ہماری مسلمانی کیا قبول ہو گی۔ دشمنی کی، لڑائیاں لڑے اور کتنے خدا پرستوں کے خون کئے تب اللہ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ کوئی نہیں جس کی توبہ اللہ قبول نہ کرے، ناامید مت ہو، توبہ کرو اور رجوع ہو، بخشے جاؤ گے مگر جب سر پر عذاب آیا یا موت نظر آنے لگی اس وقت کی توبہ قبول نہیں۔ نہ اس وقت کوئی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔


9) "استعانت یعنی (غائبانہ حاجات میں) مدد مانگنا" کے عبادت ہونے کی دلیل:
إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ {1:5} 
تیری ہی ہم بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں [۵] 
Thee alone do we worship and of Thee alone do we seek help,  
اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی "ذات پاک" کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے، ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض "واسطہ رحمت الہٰی" اور "غیر مستقل" سمجھ کر استعانت "ظاہری" اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔




No comments:

Post a Comment