Friday, 21 December 2012

دین و مذھب میں فرق !!!

بعض علماء کے نزدیک دین و مذہب میں فرق نہیں، چاہے وہ الہامی ہو یا نہ ہو۔ دلیل:


لَكُم دينُكُم وَلِىَ دينِ {109:6}
تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر

اور بعض کے نزدیک اسلام کو قرآن و حدیث میں مذھب نہیں "دین" کہا گیا ہے، اور دین "مکمل ضابطہِ حیات"  یعنی پوری زندگی کی ابتدا سے انتہا اور اٹھنے سے سونے تک کے ہر وقت اور ہر قدم پر عبادات کے طور طریقہ اور تعلیمات فراہم کرتا ہے، جو صرف انفرادی ہی نہیں بلکہ اجتمائی سب کو شامل ہے. مگر دوسرے مذاھب میں مذھب انفرادی حیثیت کا حامل ہے.



اسلام، عوام میں دین و مذھب کے عنوان سے معروف و مشہور ہے. مذہب اسلام میں لفظ مذہب دین اور دھرم کے معنی میں ہے جب کہ حنفی مذہب یا شافعی مذہب میں لفظ مذہب، یہ مسلک کے معنی میں ہے، ایک ہی لفظ نسبت واضافت کے فرق سے مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے، ایسا عرف میں شائع وذائع ہے، لہٰذا کسی شبہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن آج کل بعض لوگ قرآن و حدیث کے نام پر الفاظوں کے استعمال کی الجھنوں میں عرفی و اصطلاحی معنی کے اختلاف کو آئمہ اسلام کے فقہی مذاھب کو فرقہ واریت قرار دیکر عوام کو دھوکہ دیتے انھیں اپنا پیرو (مقلد) بنانے کو اپنی سمجھ (فقہ) پر لاکر  سلفِ صالحین (گزرے ہوۓ نیک) ائمہِ مجتہدین کی دینی سمجھ (فقہ الدین - القرآن : التوبہ /١٢٢) سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں. جن ائمہ اسلام نے صحابہِ رسول و تابعین سے "فقہِ دین" حاصل کی، وہ یقیناً قرآن و حدیث کی تفسیر و تشریح میں بعد کے آنے والوں کی سمجھ سے زیادہ بہتر سمجھنے والے تھے، جس کی مثال اصحابِ رسول (رضی الله انھم اجمعین) سے بھی ملتی ہے: کہ 

عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّمِيمِيِّ قَالَ: خَلَا عُمَرُ ـ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ـ ذَاتَ يَوْمٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ: كَيْفَ تَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ وَنَبِيُّهَا وَاحِدٌ؟ فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ـ فَقَالَ: كَيْفَ تَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ وَنَبِيُّهَا وَاحِدٌ وَقِبْلَتُهَا وَاحِدَةٌ ـ زَادَ سَعِيدٌ وَكِتَابُهَا وَاحِدٌ ـ قَالَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: إِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ فَقَرَأْنَاهُ، وَعَلِمْنَا فِيمَا أُنْزِلَ، وَأَنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَنَا أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَلَا يَدْرُونَ فِيمَا نَزَلَ، فَيَكُونُ لَهُمْ فِيهِ رَأْيٌ، فَإِنْ كَانَ لَهُمْ فِيهِ رَأْيٌ اخْتَلَفُوا، وَقَالَ سَعِيدٌ: فَيَكُونُ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ اخْتَلَفُوا۔
[وأخرجه عبد الرزاق في "جامع معمر" "11/ 217-218/ رقم 20368", ومن طريقه الهروي في "ذم الكلام" رقم "198"، والفسوي في "المعرفة والتاريخ" "1/ 516-517" عن علي بن بذيمة الجزري عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس به نحوه، وإسناده صحيح]
تخریج الحدیث:
فضائل القرآن للقاسم بن سلام (المتوفى: 224هـ):1/103
فضائل القرآن للمُسْتَغْفِرِيُّ (المتوفى: 432هـ) : 1/303، حدیث:320
العجاب في بيان الأسباب، لابن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) :1/97
التفسير من سنن سعيد بن منصور (المتوفى: 227هـ) :فَضَائِلُ الْقُرْآنِ، 1/176، حدیث:42
تفسير ابن عطية (المتوفى: 542هـ):1/12، 
الاعتصام، للشاطبی(790ھ):2/691، الْبَابُ التَّاسِعُ فِي السَّبَبِ الَّذِي لِأَجْلِهِ افْتَرَقَتْ فِرَقُ الْمُبْتَدَعَةِ عَنْ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَصْلُ أَسْبَابِ الْخِلَافِ رَاجِعَةٌ إِلَى الْجَهْلِ بِمَقَاصِدِ الشَّرِيعَةِ وَالتَّخَرُّصِ عَلَى مَعَانِيهَا بِالظَّنِّ مِنْ غَيْرِ تَثَبُّتٍ
الموافقات:(4/148) 3/ 348، أصول التشريع الإسلامي
 والبيهقي في "الشعب" (5 / 230 - 231 رقم 2086)
والخطيب في "الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع" (2 / 194 رقم 1587) 
"كنز العمال" (2 / 333 رقم 4167)]

ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے دریافت فرمایا: "اس امت کا جب نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک تو اس میں اختلاف کیوں کر پیدا ہوگا؟" تو حضرت ابنِ عباسؓ نے جواب دیا : "اے امیر المومنین قرآن ہمارے سامنے اترا ہے، ہم تو اس کے مواردِ نزول کو اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن آئندہ ایسے لوگ آئیںگے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر انھیں صحیح طور پر اس کے موارد و مصادر (یعنی جس پر جو آیات وارد و صادر ہوئیں ) کا علم نہ ہوگا پھر اس میں (بےعلم ہوتے ہوۓ بھی) اپنی طرف سے راۓ زنی شروع کرینگے اور اٹکل کے تیر چلائیںگے. اس لئے ان میں اختلاف ہوجاۓ گا اور جب اختلاف ہوگا تو لڑائیاں ہوں گی. شروع میں تو اس خیال سے حضرت عمرؓ نے اتفاقِ راۓ نہ کیا لیکن غور کرنے کے بعد انھیں بھی حضرت ابنِ عباسؓ سے اتفاقِ راۓ کرنا پڑا".[ترجمان السنة : ١/٤٥]

مذھب کی لغوی و اصطلاحی معنی:

مذھب کی لغوی معنی "شاہراہ" ہے، یعنی جس پر چلا جاۓ.
 یہ عربی لفظ "ذ - ھ - ب" سے مشتق ہے، جس کی معنی جانا (چلنا)، گزرنا یا مرنا ہے، جیسے ...الأمر: ختم ہونا، ...على الشئ: بھول جانا، ....به: لے جانا، ساتھ جانا، جگہ سے ہٹانا اور اسی سے ہے "ذهبت به الخيلاء" اس کو تکبر لے گیا یعنی اس کو اس کے مرتبہ سے گرادیا.
في المسئلة إلى كذا : (کسی مسئلہ میں) فلاں راۓ اختیار کرنا
[المنجد : صفحہ # ٢٦٦]
اسی لئے ائمہ اسلام کے اصطلاح میں لفظ مذھب "راۓ یا مسلک" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے.


جیسے علم حدیث کے ماہر محدثین فرماتے ہیں:
شرحنا من مذهب الحديث وأهله بعض ما يتوجه به من أراد سبيل القوم 
[صحیح مسلم:جلد اول: مقدمہ مسلم ، حدیث نمبر 1 : ثقات سے روایت کرنے کے وجوب اور جھوٹے لوگوں کی روایات کے ترک میں]
ترجمہ :ہم نے حدیث اور اس کے اہل (یعنی محدثین) کے مذھب (طریقہ و راۓ) کی تشریح کردی ہے تاکہ اس کی جانب وہ شخص (جو اصولِ روایتِ حدیث سے ناواقف ہے) متوجہ ہو سکے جو (اس) قوم (محدثین) کی سبیل (راہ و طریقہ) اختیار کرنا چاہتا ہے.


احادیث میں لفظ مذهب کا استعمال 

طریقہ / راۓ / مسلک (یعنی جس پر چلا جاۓ)
1) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، قَالَ أَحْمَدُ : مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ ، يَقُولُ : لَا يَنْقُصَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ شَهْرُ رَمَضَانَ وَذُو الْحِجَّةِ ، إِنْ نَقَصَ أَحَدُهُمَا تَمَّ الْآخَرُ ، وقَالَ إِسْحَاق : مَعْنَاهُ لَا يَنْقُصَانِ ، يَقُولُ : وَإِنْ كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَهُوَ تَمَامٌ غَيْرُ نُقْصَانٍ ، وَعَلَى مَذْهَبِ إِسْحَاق يَكُونُ يَنْقُصُ الشَّهْرَانِ مَعًا فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ .



ترجمہ : عبدالرحمن بن ابوبکر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "عید کے دونوں مہینے (یعنی رمضان اور ذو الحج) ایک ساتھ کم (یعنی انتیس دن کے) نہیں ہوتے". امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اور عبدالرحمن بن ابی بکر سے بحوالہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرسلا روایت کی گئی ہے. امام احمد کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سال میں رمضان اور ذوالحج دونوں انتیس انتیسں دن کے نہیں ہوتے،اگر ایک انتیس کا ہوگا تو دوسرا تیس کا ہوگا. لیکن امام اسحاق اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ دونوں ماہ اگر ایک انیتس دن کے بھی ہوں تب بھی ان میں اجر ثواب تیس دن کا ہی ہوتا ہے، اس میں کمی نہیں ہوتی. چنانچہ اسحاق کے مذھب (راۓ) کے مطابق دونوں ماہ انتیس دن کے بھی ہو سکتے ہیں.






2) حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا ، وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي ، وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ " ، وقَالَ : إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ ، إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ ، فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ ، أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ : يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ ، وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَالْأَوْزَاعِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، وَوَكِيعٍ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ


ترجمہ : اسحاق بن موسی، مالک، عبداللہ بن ابی بکرہ، عمر، عائشہ سے نقل کیا ہے حضرت عائشہ اور بعض ازواج مطہرات کا فتوی بھی اسی پر ہے امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے امام احمد قائل ہیں اس حدیث کے جو مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ ایک دوبار (دودھ) چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا اگر کوئی حضرت عائشہ (پانچ بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی) کے قول کو اپنائے تو یہ بھی مذهب (طریقہ/راۓ) قوی ہے امام احمد اس مسئلے میں حکم دینے سے ڈرتے تھے بعض صحابہ کرام اور تابعین فرماتے ہیں کہ کم اور زیادہ دونوں ہی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے بشرطیکہ دودھ پیٹ میں گیا ہو سفیان ثوری، مالک، ابن مارب، وکیع، اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔




3)  أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَغْدَادِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ ، فَقَالَ : أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثُ حِيَضٍ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، إِنَّ عِدَّةَ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ ، قَالَ إِسْحَاق : وَإِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ إِلَى هَذَا فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ .


ترجمہ : محمد بن عبدالرحیم، علی بن بحر، ہشام بن یوسف، معمر، عمر بن مسلم، عکرمہ، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم کے زمانے میں ثابت بن قیس کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے خلع لینے والی عورت کی عدت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس کی عدت بھی مطلقہ کی طرح ہے ثوری، اہل کوفہ، کا یہی قول ہے بعض اہل علم کے نزدیک خلع لینے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے اسحاق فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اس راستہ کو جاۓ (مسلک پر عمل کرے) تو یہی مذھب (مسلک /طریقہ /راۓ) قوی ہے۔



4) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رُوِيَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ , وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي فَرَسٍ بَعْدَ مَا تَبَايَعَا ، وَكَانُوا فِي سَفِينَةٍ ، فَقَالَ : لَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ ، إِلَى أَنَّ الْفُرْقَةَ بِالْكَلَامِ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَرُوِي عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، أَنَّهُ قَالَ : كَيْفَ أَرُدُّ هَذَا ؟ وَالْحَدِيثُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحِيحٌ وَقَوَّى هَذَا الْمَذْهَبَ ، وَمَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " مَعْنَاهُ : أَنْ يُخَيِّرَ الْبَائِعُ الْمُشْتَرِيَ بَعْدَ إِيجَابِ الْبَيْعِ ، فَإِذَا خَيَّرَهُ فَاخْتَارَ الْبَيْعَ ، فَلَيْسَ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ ذَلِكَ فِي فَسْخِ الْبَيْعِ ، وَإِنْ لَمْ يَتَفَرَّقَا هَكَذَا فَسَّرَهُ الشَّافِعِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَمِمَّا يُقَوِّي قَوْلَ : مَنْ يَقُولُ الْفُرْقَةُ بِالْأَبْدَانِ ، لَا بِالْكَلَامِ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ترجمہ : محمد بن بشار، یحیی بن سعید، شعبہ، قتادہ، صالح، ابی خلیل، عبداللہ بن حارث، حضرت حکیم بن حزام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "فروخت کرنے والے خریدنے والے کو جدا ہونے تک اختیار ہے پس اگر ان لوگوں نے بیع میں سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا تو ان کی بیع میں برکت دے دی گئی لیکن اگر انہوں نے جھوٹ کا سہارا لیا تو اس بیع سے برکت اٹھالی گئی۔" یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت ابوبرزہ، عبداللہ بن عمرو، سمرہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس سے بھی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر کی حدیث بھی حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اسی پر عمل ہے امام شافعی، احمد، اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے کہ جدائی سے مراد جسموں کی جدائی ہے نہ بات کی۔ بعض اہل علم نے اسے کلام کے اختتام پر محمول کیا ہے لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے اس لیے کہ نبی کریم سے نقل کرنے والے راوی وہ خود ہیں اور وہ اپنی نقل کی ہوئی حدیث کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں ابن عمر سے ہی منقول ہے کہ وہ بیع کا ارادہ کرتے تو اٹھ کر چل دیتے تاکہ اختیار باقی نہ رہے حضرت ابوبرزہ اسلمی سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ ان کے پاس دو شخص ایک گھوڑے کی خرید و فروخت کے متعلق فیصلہ کرانے کے لیے حاضر ہوئے جس کی بیع کشتی میں ہوئی تھی تو ابوبرزہ نے فرمایا تمہیں اختیار ہے اس لیے کہ کشتی میں سفر کرنے والے جدا نہیں ہوسکتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدائی کو اختیار کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ بعض اہل علم کا مسلک یہی ہے کہ اس سے مراد افتراق بالکلام ہے اہل کوفہ، ثوری، اور امام مالک کا بھی یہی قول ہے ابن مبارک کہتے ہیں کہ جسموں کے افتراق کا مذہب زیادہ قوی ہے کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح حدیث منقول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے معنی یہ ہیں کہ فروخت کرنے والا خریدنے والے کو اختیار دے لیکن اگر اس اختیار دینے کے بعد خریدنے والے نے بیع کو اختیار کرلیا تو پھر خریدنے والے کا اختیار ختم ہوگیا خواہ جدا ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں امام شافعی اور کئی اہل علم حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث کی یہی تفسیر کرتے ہیں کہ اس سے مراد افتراق ابدان (یعنی جسموں کا جدا ہونا ہے) ۔



5) وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِوَايَاتٌ كَثِيرَةٌ مِثْلُ هَذَا مَا يُذْكَرُ فِيهِ أَمْرُ الرُّؤْيَةِ أَنَّ النَّاسَ يَرَوْنَ رَبَّهُمْ ، وَذِكْرُ الْقَدَمِ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ وَالْمَذْهَبُ فِي هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَوَكِيعٍ ، وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ رَوَوْا هَذِهِ الْأَشْيَاءَ ، ثُمَّ قَالُوا : تُرْوَى هَذِهِ الْأَحَادِيثُ وَنُؤْمِنُ بِهَا ، وَلَا يُقَالُ : كَيْفَ ؟ وَهَذَا الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ أَنْ تُرْوَى هَذِهِ الْأَشْيَاءُ كَمَا جَاءَتْ ، وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا تُفَسَّرُ وَلَا تُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ ، وَهَذَا أَمْرُ أَهْلِ الْعِلْمِ الَّذِي اخْتَارُوهُ وَذَهَبُوا إِلَيْهِ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ فِي الْحَدِيثِ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ يَعْنِي يَتَجَلَّى لَهُمْ .


ترجمہ :  اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی احادیث منقول ہیں جن میں دیدارالہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے قدم اور اس جیسی دوسری باتوں کے بارے میں سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک اور وکیع وغیرہم کا مذہب یہ ہے کہ ان کا ذکر جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں ہم ان احادیث کو روایت کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔ البتہ ان کی کیفیت کے بارے میں بات نہ کی جائے۔ محدثین نے بھی یہی (مذہب) اختیار کیا ہے کہ ہم ان سب چیزوں پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح یہ مذکور ہیں۔ ان کی تفسیر نہیں کی جاتی نہ ہی وہم کیا جاتا ہے اور اسی طرح ان کی کیفیت بھی نہیں پوچھی جاتی اور یہ بات کہ وہ ان کو پہچان کر آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر اپنی تجلی ظاہر کرے گا۔

***************************************

دین و شریعت میں فرق:
سب انبیاء کا دین (اصول - عقیدہ_توحید : نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوا الله کے) ایک ہی ہے (القرآن: ٤١/١٣)، مگر شریعت (احکام) اور منہاج (اعمال و طریقہ) مختلف رہی ہیں(القرآن: ٥/٤٨).
مَثَلاً: (١) پہلے حضرت آدم و یوسف علیھما السلام کو سجدہ (تعظیمی) حکم_الہی سے جائز تھا، لیکن اب اس حکم کو منسوخ کرتے ناسخ حکم_الہی سے (القرآن:٢٧/٢٤) الله کے سوا کسی مخلوق کے لئے سجدہ حرام ہے.
(٢) پہلے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں بہن بھائی کے نکاح جائز تھے (اس طرح کہ پہلی ولادت کے وقت جو بہن بھائی پیدا ہوتے، اس کا نکاح دوسری ولادت سے پیدا ہونے والے بہن بھائی سے کردیا جاتا.
(٣) پہلے نماز کو رخ کرنے کو قبلہ "بیت المقدس" تھا، اب قبلہ "بیت الله/مسجد الحرام/مکہ" ہے.
(٤) حضرت سلیمان علیہ السلام کی شریعت میں جاندار وغیر جاندار کی تصویریں بنانے کی اجازت تھی(القرآن: ٣٤/١٣)، لیکن بعد کی شریعت میں "جاندار کی تصویر و مورت بنانا" ممنوع ہو گئی.(بخاری)
(٥) پہلے عبادت صرف عبادت گھروں میں ہی جائز تھی، مگر اب امت_محمدیہ کے (مسافروں و مجاہدوں کے) لئے پوری زمین مسجد (سجدہ گاہ) کے حکم میں شامل کردی گئی.
الله تعالیٰ نے باقضاۓ حکمت و مصلحت ہر زمانہ اور ہر امت کے احوال اور استعداد کے مناسب انبیاء_کرام کو شریعتیں و ہدایتیں عطا فرماتے رہے، لیکن اصول_دین اور مقصد_کلیہ جن پر نجات_ابدی کا مدار ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر لفظ "دین" سے بھی تعبیر کیا ہے (الشوریٰ : ١٣)، تمام انبیاء کا ایک ہے.







 
دستورِ حیات:


(از مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح)



زندگی کا مکمل دستور العمل، ہدایت نامہ اور نظام زندگی، عقائد، عبادات و اخلاق اور عادات و شمائل کے بارے میں تعلیمات اور اسوہ نبوی کی ہدایت اور اصلاح و تربیت نفس کے لئے قرانی و نبوی ہدایات و تعلیمات کتاب الله اور سنّت و سیرت نبوی صلی الله عالیہ وسلم کی روشنی میں http://islamicbookslibrary.wordpress.com/2011/12/10/dastoor-e-hayat-by-shaykh-syed-abul-hasan-ali-nadvi-r-a








اسلامی شریعت علم و عقل کی میزان میں:

 

فلسفہ شریعت پر اپنی نوعیت کی اولین تحقیقی کتاب جسمیں اسلامی شریعت کی برتری اور معقولیت کے ساءنسی دلاءل؛ حقیقت و ماہیت پر نیا طرز فکر؛ شریعت کی ابدیت و عالمگیریت اور بعض شبہات و اعتراضات کے مسکت تحقیقی جوابات کو موضوع بحث بناکر مولف نے خوب وضاحت کی ہے۔

The subject matter of the Book is the Philosophy of Islamic Sharia in the eyes of Knowledge and wisdom. It deals with the Nature of Sharia, its Foreverness and Universalit, which was proved By Scientific and Logical evidences.





 
عصرِ حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح:

یہ کتاب ہر اس عزیز دوست کی خدمت میں تحفہ اور نذر ہے، جس کا عقیدہ ہے کہ ہر حال میں رضاۓ الہی کا حصول، زندگی میں کتاب و سنّت پر عمل اور آخرت میں جنّت کی یافت اور جہنّم سے نجات ہی مقصودِ اصلی ہے، اس کے سوا ہر طرح کی دینی جدوجہد، (مسلم) جماعتوں اور قیادتوں کی تشکیل، نظامِ معاشرت اور حکومتوں کی اصلاح کی کوشش محض ذرائع و وسائل ہیں، جو اس مقصد کے حصول اور اسلامی ترقی و سربلندی کے لئے اختیار کے جاتے ہیں، اس لئے شخصیتوں سے اس کی محبت و وابستگی محض الله کے لئے ہوتی ہے اور تحریکوں اور تنظیموں کے کام میں اس کی دلچسپی و سرگرمی محض دینی حمیت و حمایت (نہ کہ جاہلی و گروہی عصبیت) پر مبنی ہوتی ہے.

یہ کتاب ہر اس شخص کے پیشِ خدمت ہے، جس کا ایمان ہے کہ خدا کی نعمتوں میں سے (جو وہ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے) ایک ہی مخصوص نعمت ہے، جو ایک برگزیدہ ہستی پر ختم ہوئی ہے، وہ "نبوت" کی نعمت ہے، جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ختم ہوگئی. باقی دوسری تمام نعمتیں باقی اور جاری و ساری ہیں، جیسے علمی تبحر کی نعمت، ذہنِ سلیم اور فکرِ رسا کی نعمت، صحت و وسعتِ تحقیق کی نعمت، ان میں سے کسی پر کسی کی اجارہ داری نہیں، اور نہ وہ کسی انسان پر ختم ہوچکی ہے. وما كان عطاء ربك محظورا (اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں=١٧:٢٠)

یہ کتاب ان لوگوں کی خدمت میں ہدیہ ہے جو"خوب سے خوبتر"، "زیبا سے زیباتر" کی تلاش میں رہتے ہیں اور ان کو بہتر چیز کے حاصل کرنے اور ایضاحِ حق اور اتمامِ حجت کے بعد اس کو قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللھ عنہ نے ایک فرمان میں ارشاد فرمایا کہ: "اصل حق ہے، کسی وقت بھی اس کی طرف رجوع کرلینا نہ شرم کی بات ہے نہ کوئی انوکھا اور نرالہ کام".

یہ کتاب ایسے لوگوں کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ نقد و احتساب کا حق ایک مشترک حق ہے، جس سے ہر ایک کام لے سکتا ہے، اور اس سے کسی صاحبِ علم و نظر کو محروم نہیں کیا جاسکتا، صحتمند تنقید اور منصفانہ اظھارِ خیال پر بلدیہ کا بے لچک قانون (one way traffic) "سواریاں صرف جائیں اور آئیں نہیں" لاگو نہیں ہوسکتا.

یہ کتاب ایسے حضرات کی خدمت میں پیش ہے جو کسی کتاب کو اسے پوری طرح پڑھے اور سمجھے بغیر حکم نہیں لگاتے اور نہ منصف کی طرف سے حملہ اور اس کے مقصد کی طرف سے بدگمانی میں جلدبازی سے کام لیتے ہیں.

وصدق الله العظيم

فَبَشِّرۡ عِبَادِ الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ (الزمر:٣٩/١٨)

تو میرے بندوں کو بشارت (خوشخبري) سنا دو۔ جو بات کو غور سے سنتے ہیں پھر سب سے اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنکو اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔

پیشِ نظر کتاب ایک علمی و اصولی تبصرہ و جائزہ ہے، وہ نہ مناظرانہ انداز میں لکھی گئی ہے، نہ فقہ و فتاویٰ کی زبان میں، وہ ایک اندیشہ کا اظھار ہے اور "الدین النصيحة" (دین تو خیرخواہی کا نام ہے) کے حکم پر عمل کرنے کی مخلصانہ کوشش، اس کی کوئی نہ سیاسی غرض ہے نہ جماعتی مقصد. اس ناخوشگوار کام کو محض عنداللہ مسؤلیت و شہادتِ حق کے خیال سے انجام دیا گیا ہے. جو لوگ دین کی سنجیدہ اور مخلصانہ خدمات کرنا چاہتے ہیں، ان میں طلبِ حق کی سچی جستجو اور اپنی دینی ترقی و تکمیل کا جذبہِ صادق پایا جاتا ہے، انہوں نے ہمیشہ صحتمند اور تعمیری تنقید اور مخلصانہ مشورہ کی قدر کی ہے اور فکر و سعیِ اسلامی کی طویل تاریخ میں دین کی صحیح فہم و تفہیم اور اسلام کی سیانت و حفاظت میں اس سے ہمیشہ مدد لی گئی ہے.















No comments:

Post a Comment