Monday, 3 November 2014

نیاز کرنے کے معنی اور حقیقت

نیاز کرنے کا معنی کسی "بزرگ" کے "نام" کا کھانا/نذر/بھینٹ/قربانی صدقہ کرنا ہے.
[اردو ڈکشنری، (فیروز اللغات:صفحہ#1392)]

نذر ونیازِ کا حکم:
ترجمہ : مت کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو.
ترجمہ : اس نے تم پر حرام کیا ہے مردار(مردہ جانور) ، خون ، سؤر کا گوشت اور جس (چیز) پر پکارا جاۓ الله کے غیر (دوسرے کسی) کو.

یعنی جو صدقہ/نذر/نیاز/قربانی/کھانا صرف الله کے نام پر نہ ہو، کسی بزرگ کے نام پر ہو تو وہ حرام اور کھانا منع ہے، الله کو ماننے والوں پر.

جو کام دین میں ثواب کا نہ ہو اسے کرنے میں ثواب سمجھنا اپنی خواھش کو خدا بنانا ہے، اور الله کے دین میں بدعت (نئی بات) نکالنا ہے. 

ترجمہ : بھلا دیکھ تو جس نے ٹھہرا لیا اپنا خدا (حاکم) اپنی خواہش کو اور راہ سے گمراہ کردیا اس کو اللہ نے باوجود علم (سمجھ بوجھ) کے، اور مہر لگا دی اس کے کان پر اور دل پر اور ڈال دی اس کی آنکھ پر پردہ پھر کون راہ پر لائے اس کو اللہ کے سوا سو کیا تم غور نہیں کرتے.

الحدیث : وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ، وَكُلُّ ضَلالَةٌ فِي النَّارِ
[صحيح النسائي (الألباني) -كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ » كَيْفَ الْخُطْبَةُ ... الصفحة أو الرقم: 1577]
ترجمہ : اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنّم میں لے جائیگی.
[أخرجه أحمد:14984(3/310، رقم 14373) ، ومسلم (2/592، رقم 867) ، والنسائى (3/188، رقم 1578) ، وابن ماجه (1/17، رقم 45) . جامع الاحادیث:5254]


اصول : جس طرح فرض عبادات میں تعداد، (اجتماعی) حالت ، جگہ اور وقت کی قید و پابندی اسلامی شریعت میں ہے، اسی طرح نفلی عبادات (خیرات و ایصال) کے لیے شریعت نے جب ایسی کوئی قید و پابندی نہیں لگائی تو اپنی طرف سے ایسی کوئی قید و پابندی لگانا ، بدعت (غیر دینی نئی بات) ہے.

اور جس کام میں ثواب کے بجاۓ گناہ ہوتا ہو، تو کیا ایصال ثواب میں "گناہ" مردوں کو بخشا جاۓ گا ؟؟؟

اور اگر عوام کو دلائل سے بات سمجھانے کے باوجود بھی "راہبر کے روپ میں رہزن" اسکالرس یا علامہ کے الفاظ و معانی کے کھیل سے کھیلتے گمراہ کرنے کے سبب، عوام تذبذب کا شکار ہو تو یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ "جس بات میں شک ہو اس کو چھوڑدو" یعنی ایسا چیز مت کھاؤ ، نہ دو ، نہ لو.
الحدیث : 
إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ ".
ترجمہ : بیشک (الله تعالیٰ کے احکام میں) حلال (اشیاء) بھی واضح ہیں اور حرام (اشیاء) بھی واضح ہیں، اور ان دونوں (حلال و حرام) کے درمیاں (ایسی اشیاء و باتیں ہیں جو) مشتبہات میں سے ہیں، جن (کی حقیقی صورت حال) کا علم اکثر لوگوں کو نہیں، پھر جس نے شبہات والی اشیاء سے تقویٰ (پرہیز) اختیار کی اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا، اور جو شخص ان شبھات (والی اشیاء) میں پڑگیا تو وہ حرام میں جا پڑےگا، جیسے کوئی چرواہا (اپنے جانور) کسی دوسرے کی حدود میں چراۓ تو خطرہ یہ ہے کہ وہ غیر کی چراگاہ میں داخل ہوجاۓ گا. خبردار! ہر ایک مالک کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ باتیں (اعمال و اشیاء) ہیں. خبردار! (الله تعالیٰ نے انسان کے) جسم میں ایک لوتھڑا (پیدا کیا) ہے، اور (وہ لوتھڑا اس قدر اہم ہے کہ) جب وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جب وہ بگڑ کیا تو سارا ہی بدن بگڑ کیا، اور وہ (لوتھڑا) دل ہے۔
[أخرجه أحمد (4/270، رقم 18398) ، والبخارى (1/28، رقم 52) ، ومسلم (3/1219، رقم 1599) ، وأبو داود (3/243، رقم 3329، رقم 3330) ، والترمذى (3/511، رقم 1205) وقال: حسن صحيح. والنسائى (7/241، رقم 4453) ، وابن ماجه (2/1318، رقم 3984) ، وأخرجه أيضًا: الدارمى (2/319، رقم 2531) ، والبيهقى(5/264، رقم 10180) .]


*********************************


إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللہِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللہ غَفُورٌ رَحِيْمٌ(۱۷۳)
إِنَّمَا
حَرَّمَ
عَلَيْكُمُ
الْمَيْتَةَ
وَالدَّمَ
درحقیقت
حرام کیا
تم پر
مردار
اورخون
وَلَحْمَ
الْخِنْزِيرِ
وَمَا
أُهِلَّ
بِهِ
اورگوشت
سور
اورجو
پکاراگیا
اس پر
لِغَيْرِ اللہِ
فَمَنِ
اضْطُرَّ
غَيْرَ بَاغٍ
اللہ کے سوا
پس جو
لاچار ہوجائے
نہ سرکشی کرنے والا
وَلَا
عَادٍ
فَلَا
إِثْمَ
اورنہ
حد سے بڑھنے والا
تو نہیں
کوئی گناہ
عَلَيْهِ
إِنَّ
اللہ
غَفُورٌ
رَحِيمٌ
اس پر
بیشک
اللہ
بخشنے والا
رحم کرنے والا
در حقیقت (ہم نے) تم پر حرام کیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت، اور جس پر اللہ کے سوا ( کسی اور کا نام) پکارا گیا ،پس جو لاچار ہو جائے مگر نہ سر کشی کرنے والا ہو ، نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے(۱۷۳)
تشریح:اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تواللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کےذمے لگارہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے ،حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تووہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔

اس مقام کے متعلق چند مسائل فقیہ ہیں ۔۱۔ جس جانور کا ذبح کرنا شرعا ضروری ہو اور وہ بلاذبح ہلاک ہوجاوئے وہ حرام ہوتا ہے اور جس جانور کا ذبح کرنا ضروری نہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک ٹڈی اور ایک مچھلی ۔ دوسرے وحشی جیسے ہرن وغیرہ۔ جب کہ اس کے ذبح پر قدرت نہ ہوئے تو اس کو دور ہی سے تیر یا اور کسی تیز ہتھیار سے اگر بسم اللہ کہہ کر زخمی کیا جائے تو حلال ہوجاتا ہے البتہ بندوق کا شکار بدون ذبح کیے ہوئے حلال نہیں کیونکہ گولی میں دھار نہیں ہوتی۔ ۲۔ خون جو بہتا نہ ہو اس سے دو چیزیں مراد ہیں جگر اور طحال۔ یہ حلال ہیں ۔ ۳۔ خنزیر کے سب اجزاء لحم و شحم و پوست و اعصاب سب حرام ہیں، اور نجس بھی ہیں۔

تفسیر معارف القرآن:- اِنَّمَا حَرَّمَ کلمہ انما حصر کے لئے آتا ہے اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف وہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا آگے ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا کچھ حرام نہیں اس آیت میں تو لفظ انما سے اس کی طرف اشارہ ہوا اور دوسری آیت میں اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ یہ بھی آیا ہے،قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ الآیۃ (۱٤۵:٦) اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ میری وحی میں بجز ان چند چیزوں کے جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے اور کوئی چیز حرام نہیں ، مگر اس پر اشکال یہ ہے کہ دوسری آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے ان چند چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی حرمت ثابت ہے تو یہ حصر اور حرمت ماسوٰی کی نفی کیسے درست ہوگی؟ جواب یہ ہے کہ یہاں مطلق حلال وحرام کا بیان نہیں بلکہ ان مخصوص جانوروں کی حلت و حرمت کا بیان ہے جن کے بارے میں مشرکین مکہ اپنے مشرکانہ عقائد کی غلطیاں کیا کرتے تھے پچھلی آیت میں اس کی وضاحت آچکی ہے کہ بہت سے حلال جانوروں کو مشرکین حرام سمجھ لیتےتھے یا اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے اس کی مخالفت کی گئی تھی اس کے بالمقابل یہاں یہ بتلایا گیا کہ اللہ کے نزدیک فلاں فلاں جانور حرام ہیں جن سے تم اجتناب نہیں کرتے اور جو اللہ کے نزدیک حلال ہیں ان سے پرہیز کرتے ہو اس لئے اس جگہ حصر مطلق نہیں بلکہ اضافی ہے مشرکانہ عقائد کے بالمقابل ۔ آگے اس آیت میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ چار چیزیں یہ ہیں ، (۱) میتہ (مردار) ،(۲) خون ۔ (۳) لحم خنزیر،(٤) وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، پھر چاروں چیزوں کی مزید تشریحات خود قرآن کریم کی دوسری آیات اور احادیث صحیحہ میں آئی ہیں جن کو ملانے کے بعد ان چاروں چیزوں کے احکام حسب ذیل ہیں ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھا جاتا ہے ، میتہ: جس کو اردو میں مردار کہتے ہیں اس سے مراد وہ جانور ہے جس کے حلال ہونے کے لئے ازروئے شرع ذبح کرنا ضروری ہے مگر وہ بغیر ذبح کے خود بخود مرجائے یا گلا گھونٹ کر یا کسی دوسری طرح چوٹ مار کر مار دیا جائے جو وہ مردار اور حرام ہے لیکن خود قرآن کریم کی دوسری آیت اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ (۹٦:۵) سے معلوم ہوا کہ دریائی جانور کے لئے ذبح کرنا شرط نہیں وہ بلا ذبح بھی جائز ہے اس بناء پر احادیث صحیحہ میں مچھلی اور ٹڈی کو میتہ سے مستثنیٰ قرار دے کر حلال کیا گیا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے لئے دو مردار حلال کردئیے گئے ایک مچھلی دوسرے ٹڈی اور دو خون حلال کردئیے گئے جگر اور طحال (ابن کثیر از احمد، ابن ماجہ ، دارقطنی ) معلوم ہوا کہ جانوروں میں سے مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کے حلال ہیں، خواہ وہ خود مرجائیں یا کسی کے مارنے سے مرجائیں البتہ جو مچھلی سڑ جانے کی وجہ سےخود پانی کے اوپر آجائے وہ حرام ہے (جصاص ) اسی طرح وہ شکاری جانور جو قابو میں نہیں کہ ذبح کرلیا جائے اور اس کو بھی بسم اللہ پڑھ کر تیر وغیرہ دھاردار چیز سے زخم لگا دیں تو بغیر ذبح کےحلال ہو جاتا ہے مطلقا زخمی ہوجانا کافی نہیں کسی آلہ جارحہ تیز دھار سے زخمی ہونا شرط ہے، بندوق کی گولی سے شکار: مسئلہ: بندوق کی گولی سے کوئی جانور زخمی ہوکر قبل ذبح مرجائے تو وہ ایسا ہے جیسے پتھر یا لاٹھی مارنے سے مرجائے جس کو قرآن کریم کی دوسری آیت میں موقوذۃ کہا گیا ہے اور حرام قرار دیا ہے ہاں مرنے سے پہلے اس کو ذبح کرلیا جائے تو حلال ہوجائے گا۔ مسئلہ: آج کل بندوق کی ایک گولی نوکدار بنائی گئی ہے اس کے متعلق بعض علماء کا خیال ہے کہ تیر کے حکم میں ہے مگر جمہور علماء کے نزدیک یہ بھی تیر کی طرح آلہ جارحہ نہیں بلکہ خارقہ ہے جس سے بارود کی طاقت کے ذریعہ گوشت پھٹ جاتا ہے ورنہ خود اس میں کوئی دھار نہیں جس سے جانور زخمی ہوجائے اس لئے ایسی گولی کا شکار بھی بغیر ذبح کے جائز نہیں ۔ مسئلہ: آیت مذکورہ میں مطلقًا میتہ کو حرام قرار دیا ہے اس لئے جس طرح اس کا گوشت کھانا حرام ہے اس کی خرید وفروخت بھی حرام ہے یہی حکم تمام نجاسات کا ہے کہ جیسے ان کا استعمال حرام ہے ان کی خرید وفروخت اور ان سے نفع اٹھانا بھی حرام ہے یہاں تک کہ مردار جانور یا ناپاک کوئی چیز باختیار خود جانور کو کھلانا بھی جائز نہیں ہاں ایسی جگہ رکھ دے کہ جہاں سے کوئی کتا بلی خود کھالے یہ جائز ہے مگر خود اٹھا کر ان کو کھلانا جائز نہیں (جصاص ، قرطبی وغیرہ) مسئلہ: اس آیت میں میتہ کے حرام ہونے کا حکم عام معلوم ہوتا ہے جس میں میتہ کے تمام اجزاء شامل ہیں لیکن دوسری آیت میں اس کی تشریح طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ کے الفاظ سے کردی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ مردار جانور کے وہ اجزاء حرام ہیں جو کھانے کے قابل ہیں ، اس لئے مردار جانور کی ہڈی ، بال جو کھانے کی چیز نہیں وہ پاک ہیں اور ان کا استعمال جائز ہے آیت قرآن کریم وَمِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا وَاَشْعَارِهَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ (۸۰:۱٦) میں ان جانوروں کے بالوں کو مطلقاً جائز الانتفاع قرار دیا ہے ذبیحہ کی شرط نہیں (جصاص) کھال پر چونکہ خون وغیرہ کی نجاست لگی ہوتی ہے اس لئے وہ دباغت سے پہلے حرام ہے مگر دباغت دینے کے بعد حلال اور جائز ہے احادیث صحیحہ میں اس کی مزید تصریح موجود ہے (جصاص) مسئلہ: مردار جانور کی چربی اور اس سے بنائی ہوئی چیزیں بھی حرام ہیں ان کا استعمال کسی طرح سے جائز نہیں اور خرید وفروخت بھی حرام ہے، مسئلہ: یورپ وغیرہ سے آئی ہوئی چیزیں صابوُن وغیرہ جن میں چربی استعمال ہوتی ہے ان سے پرہیز کرنا احتیاط ہے مگر مردار کی چربی ہونے کا علم یقینی نہ ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے نیز اس وجہ سے بھی کہ بعض صحابہ کرام ابن عمر ، ابوسعید خدری، ابو موسیٰ اشعری نے مردار کی چربی کا صرف کھانے میں استعمال حرام قرار دیا ہے خارجی استعمال کی اجازت دی ہے اس لئے اس کی خرید وفروخت کو بھی جائز رکھا ہے (جصاص) مسئلہ: دودھ کا پنیر بنانے میں ایک چیز استعمال کی جاتی ہے جس کو عربی زبان میں اِنفَحہ کہا جاتا ہے یہ جانور کے پیٹ سے نکالی جاتی ہے اس کو دودھ میں شامل کرنے سے دودھ جم جاتا ہے اب اگر یہ جانور اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا ہو تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں مذبوح جانور کا گوشت چربی وغیرہ سب حلال ہیں لیکن غیر مذبوح جانور کے پیٹ سے لیا جائے تو اس میں فقہا کا اختلاف ہے امام اعظم ابوحنفیہ اور امام مالک اس کو پاک قرار دیتے ہیں لیکن صاحبین امام ابو یوسف ومحمد اور ثوری وغیرہ اس کو ناپاک کہتے ہیں (جصاص ، قرطبی) یورپ اور دوسرے غیر اسلامی ملکوں سے جو پنیر بنا ہوا آتا ہے اس میں غیر مذبوح جانوروں کا انفحہ استعمال ہونے کا احتمال غالب ہے اس لئے جمہور فقہاء کے قول پر اس سے پرہیز کرنا چاہئے امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک کے قول پر گنجائش ہے ہاں یورپ سے آئے ہوئے بعض پنیر ایسے بھی جن میں خنزیر کی چربی استعمال ہوتی ہے اور ڈبہ پر لکھا ہوا ہوتا ہے وہ قطعا حرام اور نجس ہیں ، خون کے مسائل : دوسری چیز جو آیت مذکورہ میں حرام قرار دی گئی ہے وہ خون ہے لفظ دم بمعنی خون اس آیت میں اگرچہ مطلق ہے مگر سورہ انعام کی آیت میں اس کے ساتھ مسفوح یعنی بہنے والا ہونے کی شرط ہے، (آیت) او دما مسفوحا (۱٤۵:٦) اس لئے باتفاق فقہاء خون منجمد جیسے گردہ تلی وغیرہ وہ حلال اور پاک ہیں ، مسئلہ: جب کہ حرام صرف بہنے والا خون ہے تو جو خون ذبح کے بعد گوشت میں لگا رہ جاتا ہے وہ پاک ہے فقہاء وصحابہ وتابعین اور امت کا اس پر اتفاق ہے اسی طرح مچھر، مکھی ، کھٹمل وغیرہ کا خون بھی ناپاک نہیں لیکن زیادہ ہوجائے تو اس کو بھی دھونا چاہیں (جصاص) مسئلہ: جس طرح خون کا کھانا پینا حرام ہے اسی طرح اس کا خارجی استعمال بھی حرام ہے اور جس طرح تمام نجاسات کی خرید وفروخت بھی اور اس سے نفع اٹھانا حرام ہے اسی طرح خون کی خرید وفروخت بھی حرام ہے اس سے حاصل کی ہوئی آمدنی بھی حرام ہے کیونکہ الفاظ قرآنی میں مطلقا دم کو حرام فرمایا ہے جس میں اس کے استعمال کی تمام صورتیں شامل ہیں ، مریض کو دوسرے کا خون دینے کا مسئلہ: تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ انسانی خون انسان کا جزء ہے اور جب بدن سے نکال لیا جائے تو وہ نجس بھی ہے اس کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ ایک انسان کا خون دوسرے کے بدن میں داخل کرنا دو وجہ سے حرام ہو، اول اس لئے کہ اعضاء انسانی کا احترام واجب ہے اور یہ اس احترام کے منافی ہے دوسرے اس لئے کہ خون نجاست غلیظہ ہے اور نجس چیزوں کا استعمال ناجائز ہے، لیکن اضطراری حالات اور عام معالجات میں شریعتِ اسلام کی دی ہوئی سہولتوں میں غور کرنے سے امور ذیل ثابت ہوئے، اول یہ کہ خون اگرچہ جزء انسانی ہے مگر اس کو کسی دوسرے انسان کے بدن میں منتقل کرنے کے لئے اعضاء انسانی میں کانٹ چھانٹ اور آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی، انجکشن کے ذریعہ خون نکالا اور دوسرے کے بدن میں ڈالا جاتا ہے اس لئے اس کی مثال دودھ کی سی ہوگئی جو بدنِ انسانی سے بغیر کسی کاٹ چھانٹ کے نکلتا اور دوسرے انسان کا جزء بنتا ہے اور شریعتِ اسلام نے بچہ کی ضرورت کے پیش نظر انسانی دودھ ہی کو اس کی غذا قرار دیا ہے اور ماں پر اپنے بچوں کو دودھ پلانا واجب کیا، جب تک وہ بچوں کے باپ کے نکاح میں رہے طلاق کے بعد ماں کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا بچوں کا رزق مہیا کرنا باپ کی ذمہ داری ہے وہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے یا ان کی ماں ہی کو معاوضہ دے کر اس سے دودھ پلوائے قرآن کریم میں اس کی واضح تصریح موجود ہے، (آیت) فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ (٦:٦۵) اگر تمہاری مطلقہ بیوی تمہارے بچوں کو دودھ پلائے تو اس کو اجرت ومعاوضہ دیدو، خلاصہ یہ ہے کہ دودھ جزء انسانی ہونے کے باوجود بوجہ ضرورت اس کے استعمال کی اجازت بچوں کے لئے دی گئی ہے اور علاج کے طور پر بڑوں کے لئے بھی جیسا کہ عالمگیری میں ہے، ولابأ سَ بان یسعط الرجل بلبن المرأۃ ویشربہ للدواء (عالمگیری ص٤) اس میں مضائقہ نہیں کہ دوا کے لئے کسی شخص کی ناک میں عورت کا دودھ ڈالا جائے یا پینے میں استعمال کیا جائے، اور مغنی ابن قدامہ میں اس مسئلہ کی مزید تفصیل مذکور ہے (مغنی کتاب الصید ص ٦۰۲ج۸) اگر خون کو دودھ پر قیاس کیا جائے تو کچھ بعید از قیاس نہیں کیونکہ دودھ بھی خون کی بدلی ہوئی صورت ہے اور جزء انسان ہونے میں مشترک ہے فرق صرف یہ ہے کہ دودھ پاک ہے اور خون ناپاک، تو حرمت کی پہلی وجہ یعنی جزء انسانی ہونا تو یہاں وجہ ممانعت نہ رہی صرف نجاست کا معاملہ رہ گیا علاج ودواء کے معاملہ میں بعض فقہاء نے خون کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے، اس لئے انسان کا خون دوسرے کے بدن میں منتقل کرنے کا شرعی حکم یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں تو جائز نہیں مگر علاج ودواء کے طور پر اس کا استعمال اضطراری حالت میں بلاشبہ جائز ہے اضطراری حالت سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ ہو اور کوئی دوسری دوا اس کی جان بچانے کے لئے مؤ ثر یا موجود نہ ہو اور خون دینے سے اس کی جان بچنے کا ظن غالب ہو، ان شرطوں کے ساتھ خون دینا تو اس نص قرآنی کی رو سے جائز ہے جس میں مضطر کے لئے مردار جانور کھا کر جان بچانے کی اجازت صراحۃ مذکور ہے اور اگر اضطراری حالت نہ ہو یا دوسری دوائیں بھی کام کرسکتی ہوں تو ایسی حالت میں مسئلہ مختلف فیہا ہے بعض فقہا کے نزدیک جائز ہے بعض ناجائز کہتے ہیں جس کی تفصیل کتب فقہ بحث تداوی بالمحرم میں مذکور ہے واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم احقر کا ایک مستقل رسالہ بھی اس موضوع پر شائع ہوگیا ہے جس کا نام ہے اعضائے انسانی کی پیوند کاری اس کو ملاحظہ فرمایا جائے۔ تحریم خنزیر: تیسری چیز جو اس آیت میں حرام کی گئی ہے وہ لحم خنزیر ہے آیت میں حرمتِ خنزیر کے ساتھ لحم کی قید مذکور ہے، امام قرطبی نے فرمایا کہ اس سے مقصود لحم یعنی گوشت کی تخصیص نہیں بلکہ اس کے تمام اجزاء ہڈی ، کھال ، بال ، پٹھے سب ہی باجماع امت حرام ہیں لیکن لفظ لحم بڑھا کر اشارہ اس طرف ہے کہ خنزیر دوسرےحرام جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ وہ ذبح کرنے سے پاک ہوسکتے ہیں اگرچہ کھانا حرام ہی رہے کیونکہ خنزیر کا گوشت ذبح کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتا کہ وہ نجس العین بھی ہے حرام بھی صرف چمڑا سینے کے لئے اس کے بال کا استعمال حدیث میں جائز قرار دیا ہے (جصاص قرطبی ) مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کی تین صورتیں : چوتھی چیز جس کو آیت میں حرام قرار دیا گیا ہے وہ جانور ہے جو غیر اللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو جس کی تین صورتیں متعارف ہیں اول یہ کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے اور بوقت ذبح اسی غیر اللہ کا نام لیا جائے یہ صورت باتفاق و بااجماعِ امت حرام ہے اور یہ جانور میتہ ہے اس کے کسی جُزء سے انتفاع جائز نہیں کیونکہ یہ صورت آیت مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا مدلول صریح ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کو تقرب الی غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جائے یعنی اس کا خون بہانے سے تقرب الیٰ غیر اللہ مقصود ہو لیکن بوقت ذبح اس پر نام اللہ ہی کا لیا جائے جیسے بہت سے ناواقف مسلمان بزرگوں پیروں کے نام پر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بکرے ، مرغے وغیرہ ذبح کرتے ہیں لیکن ذبح کے وقت اس پر نام اللہ ہی کا پکارتے ہیں یہ صورت بھی باتفاق فقہا حرام اور مذبوحہ مردار ہے، مگر تخریج دلیل میں کچھ اختلاف ہے بعض حضرات مفسرین وفقہاء نے اس کو بھی مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا مدلول صریح قرار دیا ہے جیسا کہ حواشی بیضاوی میں ہے ۔ فکل ما نودی علیہ بغیر اسم اللہ فھو حرام وان ذبح باسم اللہ تعالیٰ حیث اجمع العلماء لو ان مسلماً ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحہ التقرب الیٰ غیر اللہ صار مرتدا وذبیحتہ ذبیحۃ مرتد ۔ "ہر وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام کردیا گیا وہ حرام ہے اگرچہ بوقت ذبح اللہ ہی کا نام لیا ہو اس لئے کہ علماء فقہاء کا اتفاق ہے کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لئے اگر کوئی مسلمان ذبح کرے تو وہ مرتد ہوجاوے گا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ کہلائے گا"۔ نیز درمختار کتاب الذبائح میں ہے: ذبح لقدوم الامیر ونحوہ کو احد من العظماء یحرم لانہ اھل بہ لغیر اللہ ولو ذکر اسم اللہ واقرہ الشامی (ص ۲۱٤ ج۵) " کسی امیر یا بڑے کے آنے پر جانور ذبح کیا تو وہ حرام ہوگا کیونکہ وہ ما اہل بہ ل غیر اللہ میں داخل ہے اگرچہ بوقت ذبح اللہ ہی کا نام لیا ہو اور شامی نے اس کی تائید کی "۔ اور بعض حضرات نے اس صورت کو مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا مدلول صریح تو نہیں بنایا کیونکہ وہ بحیثیت عربیت تکلف سے خالی نہیں مگر بوجہ اشتراک علت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی نیت کے اس کو بھی مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے ساتھ ملحق کرکےحرام قرار دیا ہے احقر کے نزدیک یہی وجہ احوط اور اسلم ہے۔ نیز اس صورت کی حرمت کے لئے ایک مستقل آیت بھی دلیل ہے یعنی وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ نصب ان تمام چیزوں کو کہا جاتا ہے جن کی باطل طور پر پرستش کی جاتی ہے معنی یہ ہیں کہ وہ جانور جس کو معبودات باطلہ کے لئے ذبح کیا گیا ہے اس سے پہلے وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مَآ اُهِلَّ کا مدلول صریح تو وہی جانور ہے جس پر بوقت ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا اور ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ (۳:۵) اس کے بالمقابل آیا ہے جس میں غیر اللہ کے نام لینے کا ذکر نہیں صرف بتوں و غیر اللہ کی خوشنودی کی نیت سے ذبح کرنا مراد ہے اس میں وہ جانور بھی داخل ہیں جن کو ذبح تو کیا گیا ہے غیر اللہ کے تقرب کے لئے مگر بوقت ذبح اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے (افادہ شیخ حکیم الامت) امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا ہے ان کی عبارت یہ ہے، وجرت عادۃ العرب بالصیاح باسم المقصود بالذبیحۃ وغلب ذلک فی استعمالھم حتی عبر بہ عن النیۃ اللتی ھی علۃ التحریم (تفسیر قرطبی ص ۲۰۷ج۲) " عرب کی عادت تھی کہ جس کے لئے ذبح کرنا مقصود ہوتا ذبح کرنے کے وقت اس کا نام بلند آواز سے پکارتے اور یہ رواج ان میں عام تھا یہاں تک کہ اس آیت میں تقرب الیٰ غیر اللہ کو جو کہ اصل علت تحریم ہی اہلال کے لفظ سے تعبیر کردیا، امام قرطبی نے اپنی اس تحقیق کی بنیاد صحابہ کرام میں سے دو حضرات حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت صدیقہ عائشہ عنہا کے فتاویٰ پر رکھی ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں فرزدق شاعر کے باپ غالب نے ایک اونٹ ذبح کیا تھا جس پر کسی غیر اللہ کا نام لینے کا کوئی ذکر نہیں مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کو بھی مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ میں داخل قرار دے کر حرام فرمایا اور سب صحابہ کرام نے اس کو قبول کیا اسی طرح امام مسلم کے شیخ یحیٰ بن یحییٰ کی سند سے حضرت صدیقہ عائشہ کی ایک طویل حدیث نقل کہ جس کے آخر میں ہے کہ ایک عورت نے حضرت صدیقہ سے سوال کیا کہ ام المؤ منین ہمارے کچھ رضاعی رشتہ دار عجمی لوگوں میں سے ہیں اور ان کے یہاں تو روز روز کوئی نہ کوئی تہوار ہوتا رہتا ہے یہ اپنے تہواروں کے دن کچھ ہدیہ تحفہ ہمارے پاس بھی بھیج دیتے ہیں ہم اس کو کھائیں یا نہیں؟ اس پر صدیقہ عائشہ نے فرمایا: اما ما ذبح لذلک الیوم فلا تاکلوا ولکن کلوا من اشجارہم (تفسیر قرطبی ص۲۰۷ج۲) "جو جانور اس عید کے دن کے لئے ذبح کیا گیا ہو وہ نہ کھاؤ لیکن ان کے درختوں کے پھل وغیرہ کھا سکتے ہو"۔ الغرض یہ صورت ثانیہ جس میں نیت تو تقرب الیٰ غیر اللہ کی ہو مگر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جائے اول تو اشتراک علت یعنی نیت تقرب الی غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے حکم میں ہے دوسرے آیت وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ کا بھی مدلول ہے اس لئے یہ بھی حرام ہے، تیسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کو کان کاٹ کر یا کوئی دوسری علامت لگا کر تقرب الی غیر اللہ اور تعظیم غیر اللہ کے لئے چھوڑ دیا جائے نہ اس سے کام لیں اور نہ اس کے ذبح کرنے کا قصد ہو بلکہ اس کے ذبح کرنے کو حرام جانیں یہ جانور مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ اور وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ دونوں میں داخل نہیں بلکہ اس قسم کے جانور کو بحیرہ یا سائبہ وغیرہ کہا جاتا ہے اور حکم ان کا یہ ہے کہ یہ فعل تو بنصِ قرآن حرام ہے جیسا کہ آیت مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ (۱۰۳:۵) میں انشاء اللہ تعالیٰ آئےگا، مگر ان کے اس حرام عمل سے اور اس جانور کو حرام سمجھنے کے عقیدہ سے یہ جانور حرام نہیں ہوجاتے بلکہ اس کو حرام سمجھنے میں تو ان کے عقیدہ باطلہ کی تائید وتقویت ہوتی ہے اس لئے یہ جانور عام جانوروں کی طرح حلال ہے، مگر شرعی اصول کے مطابق یہ جانور اپنے مالک کی ملک سے خارج نہیں ہوا اسی کا مملوک ہے اگرچہ وہ اپنے غلط عقیدہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میری ملک سے نکل کر غیر اللہ کے لئے وقف ہوگیا مگر شرعاً اس کا یہ عقیدہ باطل ہے وہ جانور بدستور اس کی ملک میں ہے، اب اگر وہ شخص خود اس جانور کو کسی کے ہاتھ فروخت کردے یا ہبہ کردے تو اس کے لئے یہ جانور حلال ہے جیسا بکثرت ہندو اپنے دیوتاؤں کے نام بکری یا گائے وغیرہ کو اپنے نزدیک وقف کرکے چھوڑ دیتے ہیں اور مندروں کے پجارویوں جوگیوں کو اختیار دیتے ہیں وہ جو چاہیں کریں یہ مندروں کے پجاری ان کو مسلمانوں کے ہاتھ بھی فروخت کردیتے ہیں ، یا اسی طرح بعض جاہل مسلمان بھی بعض مزارات پر ایسا ہی عمل کرتے ہیں کہ بکرا یا مرغا چھوڑ دیتے ہیں اور مزارات کے مجاورین کو اختیار دیتے ہیں وہ ان کو فروخت کردیتے ہیں تو جو لوگ ان جانوروں کو ان لوگوں سے خرید لیں جن کو اصل مالک نے اختیار دیا ہے ان کے لئے خریدنا اور ذبح کرکے کھانا اور فروخت کرنا سب حلال ہے، نذر غیر اللہ کا مسئلہ: یہاں ایک چوتھی صورت اور ہے جس کا تعلق حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں سے ہے مثلاً مٹھائی کھانا وغیرہ جن کو غیر اللہ کے نام پر نذر (منت ) کے طور سے ہندو لوگ بتوں پر اور جاہل مسلمان بزرگوں کے مزارات پر چڑھاتے ہیں حضرات فقہاء نے اس کو بھی اشتراک علت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے حکم میں قرار دے کر حرام کہا ہے اور اس کے کھانے پینے دوسروں کو کھلانے اور بیچنےخریدنے سب کو حرام کہا ہے کتب فقہ بحر الرائق وغیرہ میں اس کی تفصیلات مذکور ہیں یہ مسئلہ قیاسی ہے جس کو نص قرآنی متعلقہ حیوانات پر قیاس کیا گیا ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم، اضطرار ومجبوری کے احکام: آیت مذکورہ میں چار چیزیں حرام قرار دینے کے بعد ایک حکم استثنائی مذکور ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ اس حکم میں اتنی آسانی کردی گئی ہے کہ جو شخص بھوک سے بہت ہی بیتاب ہوجائے بشرطیکہ نہ تو کھانے میں طالب لذت ہو اور نہ قدر ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو تو اس حالت میں ان حرام چیزوں کو کھا لینے سے بھی اس شخص کو کوئی گناہ نہیں ہوتا بےشک اللہ تعالیٰ ہیں بڑے غفور ورحیم ۔ اس میں مضطر کے لئے جان بچانے کے واسطے دو شرطوں کے ساتھ ان حرام چیزوں کے کھا لینے سے بھی گناہ اٹھا دیا گیا ہے، مضطر: شرعی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی جان خطرہ میں ہو معمولی تکلیف یا ضرورت سے مضطر نہیں کہا جاسکتا تو جو شخص بھوک سے ایسی حالت پر پہنچ گیا کہ اگر کچھ نہ کھائے تو جان جاتی رہے گی اس کے لئے دو شرطوں کے ساتھ یہ حرام چیزیں کھا لینے کی گنجائش دی گئ ہے ایک شرط یہ ہے کہ مقصود جان بچانا ہو کھانے کی لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو دوسری شرط یہ ہے کہ صرف اتنی مقدار کھائے جو جان بچانے کے لئے کافی ہو پیٹ بھر کر کھانا یا قدر ضرورت سے زائد کھانا اس وقت بھی حرام ہے، اہم فائدہ : یہاں قرآن عزیز نے اضطرار کی حالت میں بھی حرام چیزوں کے کھانے کو حلال نہیں فرمایا بلکہ لآ اِثْمَ عَلَيْهِ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں تو اب بھی اپنی جگہ حرام ہی ہیں مگر اس کھانے والے سے بوجہ اضطرار کے استعمال حرام کا گناہ معاف کردیا گیا حلال ہوجانے اور گناہ معاف کردینے میں بڑا فرق ہے اگر اضطراری حالت میں ان چیزوں کو حلال کردینا مقصود ہوتا تو حرمت سے صرف استثناء کردینا کافی ہوتا مگر یہاں صرف استثناء پر اکتفاء کردینے کے بجائے لآ اِثْمَ عَلَيْهِ کا اضافہ فرما کر اس نکتہ کی طرف اشارہ کردیا کہ حرام تو اپنی جگہ حرام ہی ہے اور اس کا استعمال گناہ ہی ہے مگر مضطر سے یہ گناہ معاف کردیا گیا، حالت اضطرار میں دواء کے طور پر حرام چیزوں کا استعمال: آیت مذکورہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس شخص کی جان خطرہ میں ہو وہ جان بچانے کے لئے بطور دواء کے حرام چیز کو استعمال کرسکتا ہے مگر آیت مذکورہ ہی کے اشارہ سے اس میں چند شرطیں معلوم ہوتی ہیں ، اول یہ کہ حالت اضطرار کی ہو خطرہ جان جانے کا ہو، معمولی تکلیف وبیماری کا یہ حکم نہیں ہے دوسرے یہ کہ بجز حرام چیز کے اور کوئی چیز علاج ودواء کے لئے مؤ ثر نہ ہو یا موجود نہ ہو جیسے شدید بھوک کی حالت میں استثناء اسی وقت ہے جب کہ کوئی دوسری حلال غذا موجود ومقدور نہ ہو تیسرے یہ کہ اس حرام کے استعمال کرنے سے جان بچ جانا یقینی ہو جیسے بھوک سے مضطر کے لئے ایک دو لقمہ حرام گوشت کا کھا لینا عادۃ اس کی جان بچانے کا یقینی سامان ہے اگر کوئی دواء ایسی ہے کہ اس کا استعمال مفید تو معلوم ہوتا ہے مگر اس سے شفاء یقینی نہیں تو اس دواء کا استعمال آیت مذکورہ کے استثنائی حکم میں داخل ہوکر جائز نہیں ہوگا اس کے ساتھ مزید دو شرطیں آیت قرآنی میں منصوص ہیں کہ اس کے استعمال سے لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو اور قدرِ ضرورت سے زائد استعمال نہ کرے، آیت مذکورہ کی تصریح اور اشارات سے جو قیود وشرائط حاصل ہوئے ان شرائط کے ساتھ ہر حرام وناپاک دواء کا استعمال خواہ کھانے پینے میں ہو یا خارجی استعمال میں باتفاق فقہاء امت جائز ہے ان شرائط کا خلاصہ پانچ چیزیں ہیں ، (ا) حالت اضطرار کی ہو یعنی جان کا خطرہ ہو (۲) دوسری کوئی حلال دواء کارگر نہ ہو یا موجود نہ ہو (۳) اس دواء سے مرض کا ازالہ عادۃ یقینی ہو (٤) اس کے استعمال سے لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو (۵) قدر ضرورت سے زائد اس کو استعمال نہ کیا جائے، غیر اضطراری حالت میں عام علاج ودواء کے لئے حرام چیز کا استعمال : اضطراری حالت کا مسئلہ تو شرائط مذکورہ کے ساتھ نصِ قرآن سے ثابت اور اجماعی حکم ہے لیکن عام بیماریوں میں بھی کسی ناپاک یا حرام دواء کا استعمال جائز ہے یا نہیں اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے اکثر فقہاء نے فرمایا کہ بغیر اضطرار اور ان تمام شرائط کے جو اوپر مذکور ہوئیں حرام دواء کا استعمال جائز نہیں کیونکہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حرام میں شفاء نہیں رکھی (بخاری شریف) بعض دوسرے فقہاء نے ایک خاص واقعہ حدیث سے استدلال کرکےجائز قرار دیاوہ واقعہ عُرنیین کا ہے جو تمام کتب حدیث میں مذکور ہے کہ کچھ گاؤں والے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹ کا دودھ اور پیشاب استعمال کرنے کی اجازت دی جس سے ان کو شفاء ہوگئی، مگر اس واقعہ میں متعدد احتمالات ہیں جن سے حرام چیز کا استعمال مشکوک ہو جاتا ہے اس لئے اصل حکم تو یہی ہے کہ عام بیماریوں میں جب تک شرائط اضطرار مذکورہ موجود نہ ہوں حرام دواء کا استعمال جائز نہیں ۔ لیکن فقہاء متاخرین نے موجودہ زمانے میں حرام وناپاک دواؤں کی کثرت اور ابتلاء عام اور عوام کے ضعف پر نظر کرکے اس شرط کے ساتھ اجازت دی ہے کہ کوئی دوسری حلال اور پاک دواء اس مرض کے لئے کارگر نہ ہو یا موجود نہ ہو، کما فی الدر المختار قبیل فصل البیر اختلف فی التداوی بالمحرم وظاہر المذہب المنع کما فی رضاع البحر ولکن نقل المصنف ثم وھھنا عن الحاوی قیل یرخص اذا علم فیہ الشفاء ولم یعلم دواء اخر کما رخص فی الخمر للعطشان وعلیہ الفتوٰی ومثلہ فی العالمگیریۃ (ص۳۵۵ج۵) درمختار میں فصل بیر سے پہلے مذکور ہےحرام چیزوں کو بطور دواء استعمال کرنے میں اختلاف ہے اور ظاہر مذہب میں اس کی ممانعت آئی ہے جیسا کہ بحر الرائق کتاب الرضاع میں مذکور ہے لیکن مصنف تنویر نے اس جگہ رضاع میں بھی اور یہاں بھی حاوی قدسی سے نقل کیا ہے کہ بعض علماء نے فرمایا دواء وعلاج کے لئے حرام چیزوں کا استعمال اس شرط سے جائز ہے کہ اس دواء کے استعمال سے شفاء ہوجانا عادۃ یقینی ہو اور کوئی حلال دواء اس کا بدل نہ ہوسکے جیسا کہ پیاسے کے لئے شراب کا گھونٹ پینے کی اجازت دی گئی ہے، مسئلہ: تفصیل مذکور سے ان تمام انگریزی دواؤں کا حکم معلوم ہوگیا جو یورپ وغیرہ سے آتی ہیں جن میں شراب وغیرہ نجس اشیاء کا ہونا معلوم ویقینی ہو اور جن دواؤں میں حرام ونجس اجزاء کا وجود مشکوک ہے ان کے استعمال میں اور زیادہ گنجائش ہے اور احتیاط بہرحال احتیاط ہے خصوصاً جبکہ کوئی شدید ضرورت بھی نہ ہو، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔



تفسیر مدنی کبیر:- 462 حصر سے یہاں پر مراد حصر حقیقی نہیں اضافی ہے : یعنی " اِنَّما " کے کلمہء حصر سے جو حصر یہاں مستفاد ہو رہا ہے، اس سے مراد حصر حقیقی نہیں، اضافی ہے۔ یعنی یہ حصران محرمات کے اعتبار سے ہے جن کو مشرکین نے از خود تراش رکھا تھا، جیسے " بحیرہ " ، " سائبہ " ، اور " وصیلہ " وغیرہ۔ سو اس حصر کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو حرام نہیں فرمایا جن کو تم لوگوں نے ازخود حرام قرار دے رکھا ہے ۔ بلکہ اس نے تو محض ان اور ان چیزوں کو حرام فرمایا ہے ، جو کہ خود تمہارے لئے ضرر و نقصان کا باعث تھیں، اور ہیں ۔ دنیا و آخرت دونوں میں ۔ پس تم ہمیشہ انہی سے احتراز کرو ۔ سو دارین کی سلامتی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی و اِتباع میں ہے۔ اور اس سے انحراف و روگردانی میں محرومی و ہلاکت - والعیاذ باللہ - 463 لحم خنزیر کی حرمت کا ذکر وبیان : کہ خنزیر نجس العین ہے اور اس کے " لحم " یعنی گوشت کی تخصیص یہاں پر اس لئے فرمائی گئی کہ بڑا اور اصل مقصد جانور کے منافع میں سے یہی ہوتا ہے۔ باقی سب فوائد و منافع اس کے تابع ہوتے ہیں ۔ ورنہ خنزیر کی کسی بھی چیز سے انتفاع جائز نہیں، کہ وہ سراسر ناپاک اور نجس العین ہے۔ اور دین حق اسلام اپنے پیروکاروں کیلئے انہی چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے جو کہ پاکیزہ ہوتی ہیں اور خبیث اور گندی چیزوں کو وہ حرام اور ممنوع قرار دیتا ہے، جیسا کہ پیغمبر اسلام کی ان خصال و صفات کے بیان کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا گیا جو کہ انکے بارے میں تورات اور انجیل میں بیان فرمائی گئی ہیں - { وَیَحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَات وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَائِثَ } - (الاعراف: 157) یعنی " وہ پیغمبر آخر الزماں لوگوں کیلئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دے گا اور گندی و ناپاک چیزوں کو حرام " ۔ تاکہ ایسے لوگ پاکیزہ خصال لوگ بن سکیں - فالحمد للہ جل وعلا - 464 " مَا اُھِلَّ " میں کلمۂ " ما " کا عموم وشمول : یعنی کلمہ " ما " کا عموم ایسی ہر چیز کو شامل ہے جس پر اللہ تعالی کے سوا اور کسی کا نام لیا گیا ہو ۔ خواہ وہ کوئی جانور ہو، یا غلہ، یا کھانا، یا مٹھائی وغیرہ۔ ان میں سے جس چیز کو بھی غیر اللہ کے تقرب اور خوشنودی کیلئے نذر و نیاز کے طور پر پیش کیا گیا ہو ، وہ حرام ہے۔ اور اس کا کھانا ، کھلانا ، دینا، وغیرہ سب حرام ہے ۔ جیسا کہ " البَحْرُ الرّائق " وغیرہ کتب فقہ میں اس کی تفصیلات مذکور و مندرج ہیں ۔ (معارف القرآن وغیرہ) - والعیاذ باللہ العظیم - اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ اور نذر و نیاز کی حرمت کی وجہ اس کی باطنی گندگی ہے، جو اس کے اندر غیر اللہ کے نام پر نامزد کردینے سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ دین حق اسلام کے اندر یہ حقیقت اپنی جگہ ایک مسلم اور واضح حقیقت ہے کہ شرک سب سے بڑی عقلی اور باطنی نجاست ہے۔ اس لیے اس کی چھوت کسی بھی پہلو سے جس کسی پاک چیز کو لگ جاتی ہے، وہ بھی اس کی بناء پر نجس اور ناپاک ہوکر رہ جاتی ہے - وََالْعِیَاذُ بِاللّٰہ العلی العظیم۔ اللہ ہر ناپاک ونجس چیز سے ہمیشہ محفوظ رکھے - آمین۔ 465 " اُھِلََّّ لِغَیْر اللّٰہ " کا معنی و مطلب ؟ : " اُھِلَّ " ماخوذ ہے " اِھلال " سے جس کے معنی رفع صوت کے آتے ہیں ۔ جو دراصل ماخوذ ہے " ھلال " سے جو کہ ابتدائی دنوں کے چاند کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔ کیونکہ عربوں میں زمانہء قدیم ہی سے یہ رواج چلا آتا تھا کہ وہ نئے چاند کے دیکھنے پر " الہلال الھلال واللہ " جیسی آوازیں اٹھایا کرتے تھے۔ پھر یہ لفظ مطلق رفع صوت یعنی آواز اٹھانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ اسی لئے جب بچہ پیدا ہونے پر روتا، اور آواز لگاتا ہے ، تو اس پر کہتے ہیں " اَہَلَّ وَاسْتَہَلَّ " یعنی " بچہ رویا " ، یا " اس نے رونے کے آواز لگائی " ۔ سو اسی سے " مَا اُہِلَّ بِہٖ " کے یہ الفاظ ماخوذ ہیں ۔ یعنی جس چیز کو غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا جائے، جیسے مشرکین مکہ وغیرہ " لات " اور " عزی " وغیرہ بتوں کے ناموں سے نامزد کیا کرتے تھے۔ پس ایسی ہر شئی حرام ہے۔ کیونکہ ہر شئی کا خالق و مالک جب اللہ وحدہ لا شریک ہے، تو اس پر نام بھی صرف اسی کا لیا جانا چاہیئے اور خوشنودی بھی اسی وحدہ لاشریک کی مقصود ہونی چاہیئے۔ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا اور کسی چیز کو اس کے لئے نامزد کرنا شرک اور کھلا ظلم ہو گا - وََالْعِیَاذُ بِاللّٰہ العلی العظیم۔ اسی لئے صحیح احادیث میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کو لعنت کا موجب قرار دیا گیا۔ مثلاً صحیح مسلم کی ایک حدیث میں جو کہ حضرت علی - رضی اللہ عنہ - سے مروی ہے اور جس میں کئی چیزوں پر لعنت فرمائی گئی ہے، ان میں سے ایک ہے " وَلَعَنَََ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْر اللّٰہ " " اور خدا کی لعنت ہے اس پر جو غیر اللہ کیلئے ذبح کرے " (صحیح مسلم کتاب الاضاحی) ۔ امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اگر ذابح نے اس چیز کو غیر اللہ کی تعظیم کیلئے ذبح کیا تو یہ کفر ہوگا۔ اور ذابح اگر مسلمان تھا تو وہ کافر اور مرتد ہوجائیگا - وََالْعِیَاذُ بِاللّٰہ العلی العظیم۔ (بحوالہ کبیر ، محاسن التاویل) ۔ اور یہی بات دوسرے بہت سے ثقہ اہل علم نے تحریر فرمائی ہے، مثلاً( تفسیر کبیر ، جامع البیان ، نیسابوری ، تفسیر عزیزی، اور فتاوی عزیز یہ ج 1۔ ص 56) وغیرہ وغیرہ۔ پس اہل بدعت کا غیر اللہ کیلئے نامزد کی جانے والی چیز کو " عبداللہ کی گائے " ، " عقیقہ کا بکرا " اور " ولیمہ کا دنبہ " جیسی ، نسبتوں پر قیاس کر کے دھوکہ دینا سراسر باطل و مردود ہے ، کیونکہ ان میں سے کسی بھی چیز میں غیر اللہ کیلئے بطور تقرب و تعظیم نامزد کرنا، اور ذبح کرنا مقصود نہیں ۔ بلکہ یہ تو محض ملکیت کی نسبت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ " عبداللہ کی گائے " میں ہے۔ یا دین کے ایک ثابت شدہ حکم و ارشاد کی تعمیل و تکمیل کے اعتبار سے ہوتا ہے ۔ جیسے " عقیقہ کا بکرا " اور " ولیمہ کا دنبہ " میں ہے۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے۔ سو ان نسبتوں کو غیر اللہ کے نام پر نذر کی جانے والی اشیاء سے ملانا محض خلط مبحث اور مغالطہ آمیزی ہے - وََالْعِیَاذُ بِاللّٰہ العلی العظیم۔ اللہ تعالی ہر طرح کی مغالطہ آمیزی اور اس کے اثرات سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور حق کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ 466 " مضطر " کیلئے اکل حرام کی اجازت دو شرطوں کے ساتھ : سو " مضطر " کیلئے اکل حرام کی اس اِباحت و اجازت کی دو شرطیں ہو گئیں ۔ ایک یہ کہ اس میں بغاوت و سرکشی کا کوئی داعیہ اور شائبہ موجود نہ ہو ۔ اور وہ شوق و لذت کے طور پر کھانے والا نہ ہو ۔ اور دوسرے یہ کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز نہ کرے۔ بلکہ اسی قدر کھائے جس سے اس کی جان بچ سکے اور بس۔ کیونکہ ضرورت کو ضرورت کی حد تک ہی رکھنا ضروری ہوتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے " اَلضَّرُوْرَۃُ تُقَدَّرُ بِقَدْرِہَا " - یعنی " ضرورت کی چیز کو اسی قدر اپنایا اور اختیار کیا جائے گا جتنا کہ اس کی ضرورت ہو اور بس " اس سے زیادہ اس کو اپنانا جائز نہیں ۔ کہ ایسا کرنا حد سے تجاوز کرنا ہو گا جو کہ ممنوع و محرم ہے - والعیاذ باللہ العظیم -



نذر کی حقیقت


اس دنیا میں ہر انسان کی کچھ نہ کچھ خواہشات ہوتی ہیں، جس کی وہ تکمیل چاہتا ہے، اگر ایک انسان مصیبت زدہ ہے، پریشانی میں مبتلا ہے، تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو اس مصیبت وپریشانی سے چھٹکارا مل جائے اور ایک انسان فی الحال تو مصیبت وپریشانی میں مبتلا نہیں، لیکن مستقبل میں کوئی پریشانی، مصیبت پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے او راس کا خوف دامن گیر ہوتا ہے، یا کوئی انسان زندگی میں کسی چیز کے حصول کے لیے سرگرداں ہوتا ہے اور اس کے لیے تگ ودو میں لگا ہوتا ہے اور ہر وہ سبب وتدبیر اختیار کرتا ہے کہ جس سے اس کی خواہش کی تکمیل ممکن ہو سکے۔

ایسی صورت حال میں شریعت کی طرف سے تعلیم یہ ہے کہ انسان کی کوئی بھی خواہش ہو، چاہے وہ پریشانی ومصیبت سے نجات کی ہو، یا کسی چیز کے حصول کی خواہش ہو، ہر خواہش الله تعالیٰ کے سامنے رکھے اور الله تعالیٰ سے طلب کرے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”لیسأل أحدکم ربہ حاجتہ کلھا حتی یسأل شسع نعلہ إذا انقطع․“(سنن الترمذی، ابواب الداعوت، باب یسأل أحدکم ربہ، رقم الحدیث:3604)

چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے پروردگار سے اپنی تمام حاجتیں مانگے، یہاں تک کہ اگر چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے، تو وہ بھی الله تعالیٰ سے مانگے۔

اور اس یقین کے ساتھ الله تعالیٰ سے طلب کرے کہ الله تعالیٰ ضرور میری دعا قبول فرمائیں گے، کیوں کہ الله تعالیٰ خود فرماتے ہیں:﴿أُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان﴾․(سورة البقرہ:186) میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔الله تعالیٰ ہر مسلمان کی دعا سنتے ہیں او رقبول فرماتے ہیں، بشرطے کہ کوئی اس ”مجیب ذات“ سے بندہ ہو کر مانگے اور اس رحیم وکریم ذات کے در سے مایوس نہ ہو۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”یستجاب لأحدکم مالم یعجل، یقول: دعوت فلم یستجب لی“․ ( البخاری ، کتاب الدعوات، باب یستجاب للعبد مالم یعجل، رقم الحدیث:6340)

یعنی تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ مچائے اور (جلدی مچانا یہ ہے کہ) کہے میں نے دعا کی، مگر وہ قبول نہ ہوئی۔

اسی طرح ہمارا تعلق الله رب العزت کی ذات سے پوری زندگی مضبوط ہونا چاہیے، ہماری پوری زندگی الله تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق ہو، خوشی ہو یا غمی، تنگی ہو یا آسانی، ہر موقع پر ہم الله تعالیٰ کو نہ بھولیں۔

چناں چہ جو شخص خوش حالی کی زندگی میں الله تعالیٰ کے احسانات وانعامات کو نہیں بھولتا، اور الله تعالیٰ کو ناراض نہیں کرتا، ایسے شخص پر اگر کوئی تکلیف ومصیبت آتی ہے، تو الله تعالیٰ اس تکلیف ومصیبت میں اس کی دعا ضرور قبول فرماتے ہیں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” من سرہ أن یستجیب الله لہ عند الشدائد والکرب فلیکثر الدعاء فی الرخاء․“(سنن الترمذی، ابواب الدعوات، باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة، رقم الحدیث:3382)

جس کو یہ بات اچھی لگے کہ الله تعالیٰ سختیوں اور بے چینیوں میں اس کی دعا قبول فرمائیں، تو اس کو چاہیے کہ خوش حالی میں بکثرت دعا کیا کرے۔

اسی طرح اپنے کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے دنیاوی اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ نیک اعمال میں اضافہ کرے، خاص کروہ اعمال جو شریعت کی طرف سے ایسے موقع پر تعلیم کردہ ہیں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کا عمل مبارک
چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوتے:”عن حذیفة بن الیمان رضی الله عنہ قال: کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم إذا حزبہ أمر صلی․“(الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل ، کتاب الصلوٰة، باب ماجاء فی الصلوٰة مطلقاً2/207)

اسی طرح غزوہ بدر کے موقع پر جب مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور بے سروسامانی کی حالت میں تھے اور مقابلے میں ہتھیاروں سے لیس ایک ہزار کی تعداد میں کفار چنا ں چہ اس موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم پوری رات الله تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کرتے رہے۔

حضرت علی رضی الله عنہ فرماتے ہیں : ”لقد رأیتنا لیلة بدر وما فینا أحد إلا نائم إلا النبی صلی الله علیہ وسلم، بإنہ کان یصلی إلی شجرة ویدعو ویبکی حتی أصبح․“(کنز العمال، کتاب الغزوات، غزوة بدر، رقم الحدیث:181/10,2993)

جس صبح کو جنگ ہونے والی تھی غزوہ بدر میں ، اس رات میں سب صحابہ کرام رضی الله عنہم سوئے، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نہیں سوئے، بلکہ صبح تک آپ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھتے رہے اور الله تعالیٰ سے رو رو کر دعا اور التجا کرتے رہے۔

دفع مصیبت کے لیے ایک خاص دعا
ایک روایت میں ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”ألا أخبرکم بشیء إذا نزل بأحدکم کرب أو بلاء من أمر الدنیا دعا بہ فیفرج عنہ، دعاء ذی النون: لا إلہ إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظلمین․“(کنز العمال، کتاب الأذکار، الباب الثانی فی الدعاء، الفصل الخامس، رقم الحدیث:53/2,3416)

یعنی جو مصیبت، پریشانی کے وقت:”لا إلہ إلا أنت… الخ“ سے دعا کرے گا، تو الله تعالیٰ اس سے اس مصیبت پریشانی کو دور فرما دیں گے۔

صلوٰة الحاجة
اپنے خاص مقصد او ر حاجت پوری ہونے کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک خاص طریقہ بھی تعلیم فرمایا ہے۔

چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”من کانت لہ حاجة إلی الله أو إلی أحد من بنی آدم، فلیتوضأ فلیحسن الوضوء، ثم لیصل رکعتین، ثم یثن علی الله، ولیصلی علی النبی صلی الله علیہ وسلم، ثم لیقل: ”لا إلہ إلا الله الحلیم الکریم، سبحان الله رب العرش العظیم، الحمدلله رب العالمین، أسألک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک والغنیمة من کل بر والسلامة من کل إثم، لاتدع لی ذنبا إلا غفرتہ ولا ھما إلا فرجتہ، ولا حاجة ھی لک رضا إلا قضیتھا یا أرحم الراحمین․“(کنزل العمال، کتاب الصلاة، الباب السابع فی صلوٰة النوافل، الفصل الثالث، رقم الحدیث:336/7,21532)

یعنی جس شخص کو الله تعالیٰ یا کسی آدمی کی طرف کوئی حاجت ہو، تو اسے چاہیے کہ پہلے وضو کرے اور اچھا وضو کرے، یعنی پورے آداب کے ساتھ وضو کرے، اور دو رکعت نماز پڑھے، پھر الله تعالیٰ کی بڑائی بیان کرے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیج کر یہ دعا پڑھے، نہیں ہے کوئی معبود سوائے الله چشم پوشی اور بخشش کرنے والے کے، پاک ہے الله، جو مالک ہے عرش عظیم کا اورسب تعریفیں الله ہی کے لیے ہیں، جو سارے جہاں کا پروردگار ہے، اے الله! میں تجھ سے ان چیزوں کو مانگتا ہوں، جن پرر حمت ہوتی ہے اور جو تیری بخشش کاسبب ہوتی ہیں، اور مانگتا ہوں اپنا حصہ ہر نیکی سے اور بچنا چاہتا ہوں ہر گناہ سے۔ اے الله! میرے کسی گناہ کو بے بخشے ہوئے اور کسی غم کو بے دور کیے ہوئے اور کسی حاجت کو جو تیرے نزدیک پسند ہو، بے پورا کیے ہوئے نہ چھوڑ۔ اے بہت رحم کرنے والے رحم کرنے والوں سے۔

علامہ ابن حجر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ حاجت مند کو اپنی حاجت روائی اور اس نماز ودعا کو پڑھنے کے لیے ہفتہ کے دن صبح کا وقت اختیار کرنا چاہیے، کیوں کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ہفتہ کے دن صبح کے وقت نماز حاجت اور اس دعا کو پڑھ کر اپنی حلال وجائز حاجت کو طلب کرے، تو میں اس کی حاجت روائی کا ضامن ہوں۔ (مرقاة المفاتیح، کتاب الصلوٰة، باب التطوع، الفصل الثانی،372/3)

دفع مصیبت کے لیے صدقہ بہترین عمل
اگر انسان خدانخواستہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے، یا کسی مصیبت اور پریشانی سے دو چار ہونے کا اندیشہ ہو، تو ایسے موقع پر الله تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا ایک بہترین عمل ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”الصدقة تسد سبعین بابا من السوء․“(مجمع الزوائد، کتاب الزکوٰة، باب فضل الصدقہ109/3)

اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی ایک اور روایت ہے ،آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” بادروا بالصدقة، فإن البلاء لا یتخطاھا․“ (مجمع الزوائد، کتاب الزکوٰة، باب فضل الصدقة،110/3)

خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں جلدی کرو، کیوں کہ صدقہ دینے سے بلا نہیں بڑھتی، یعنی الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں جلدی کرو، کیوں کہ صدقہ دینے سے بلا نہیں بڑھتی، یعنی الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے بلائیں ٹلتی ہیں۔

یہ تو وہ امور میں کہ جب انسان کو کوئی حاجت ہو، یا مصیبت میں مبتلا ہو تو شریعت نے اس طریقے سے اس مصیبت سے نجات کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے۔

نذر ( منت)
لیکن ایسے موقع پر یعنی جب کوئی مصیبت سے چھٹکارا چاہتا ہو، یا کسی چیز کا حصول مقصود ہو، تو لوگ نذر مانتے ہیں، یعنی اگر میں اس بیماری سے شفا یاب ہو گیا یا میرا فلاں رشتہ دار بیماری سے شفا یاب ہو گیا، تو میں الله کے نام پر بکری صدقہ کروں گاہ یا میری نوکری لگ گئی، یا مجھے تجارت وغیرہ میں اتنا نفع حاصل ہوا تو اتنا مال الله کے راستے میں خیرات کروں گا یا اتنے روزے، یا اتنی نمازیں پڑھو ں گا۔

نذر کی حقیقت
حضرت سعید بن الحارث رحمہ الله نے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کو یہ کہتے ہوتے سنا:”أولم ینھوا عن النذر؟ إن النبی صلی الله علیہ وسلم قال: إن النذر لا یقدم شیئاً، ولا یؤخر، وإنما یستخرج بالنذر من البخیل․“(الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الأیمان والنذور، باب الوفاء بالنذر، رقم الحدیث:6692)

حضرت ابن عمر رضی الله عنہمانے فرمایا کہ کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نذر کسی چیز کو نہ تو مقدم کر سکتی ہے اور نہ مؤخر کر سکتی ہے، صرف نذر کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے۔

اس حدیث میں خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کے سلسلے میں سخی وبخیل کے درمیان ایک بڑا لطیف فرق بتایا گیا ہے کہ سخی کی شان تو یہ ہوتی ہے کہ وہ جب الله تعالیٰ کا تقرب اور خوش نودی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس میں عجلت کرتا ہے اور فوراً ہی اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، لیکن اس کے برخلاف بخیل کو اس کی توفیق نہیں ہوتی، اس کا دل یہ گوارہ نہیں کرتا کہ اپنے ہاتھ سے اپنا مال کسی کو دے، ہاں! اس کی کوئی غرض ہوتی ہے تو وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے، چناں چہ یا تو وہ اپنی حاجت پوری ہونے کے بعد الله کے نام پر اپنا کچھ مال نکال دیتا ہے، یا خدا کی راہ میں اپنا کچھ مال نکالنے کو حصول نفع یا دفع مضرت پر معلق کر دیتا ہے، یعنی یہ نذر مانتا ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا، یا اس مصیبت سے چھٹکارا مل گیا، تو میں اپنا اتنا مال خدا کی راہ میں خرچ کروں گا۔

اور ظاہر ہے کہ اس بات سے تقدیر کا فیصلہ نہیں بدل جاتا، لہٰذا اس صورت میں بھی اس کو مال خرچ کرنے کی نوبت نہیں آئی، ہاں! کبھی اس کی نذر تقدیر کے فیصلے کے موافق ہو جاتی ہے تو گویا وہ نذر اس بخیل کو اپنا وہ مال خرچ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جس کو وہ خرچ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

اور اگر اس اعتقاد وخیال کے ساتھ نذر مانی جائے کہ الله تعالیٰ نے جس کام کو مقدر نہیں کیا ہے، وہ نذر سے ہو جائے گا، اس اعتقاد کے ساتھ نذر ماننے سے حدیث شریف میں منع کیا گیا ہے، آسانی پہنچانے والی الله تعالیٰ کی ذات ہے، اس اعتقاد کے ساتھ اگر نذر مان لی، تو اس طرح نذر ماننا جائز ہے۔(ردالمحتار، کتاب الصلوٰة، باب الوتر والنوافل،504/1۔ فتح الباری، کتاب الأیمان والنذور، باب الوفاء بالنذر،705/11۔ مرقاة المفاتیح، کتاب العتق، باب فی النذور،544/6)

نذر کب منعقد ہو گی؟
نذر منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان الله تعالیٰ کے لیے کوئی چیز (عبادت) اپنے اوپر لازم کرے ۔ (بدائع الصنائع، کتاب النذر، قبیل فصل فی شرائط الرکن،333/6)

اسی طرح نذر منعقد ہونے کے لیے کسی عبادت کو زبان سے اپنے اوپر لازم کرنا ضروری ہے، اگر کسی نے صرف دل میں سوچا کہ فلاں کام ہونے پر اتنا صدقہ کروں گا، تو یہ نذر لازم نہ ہو گی۔ (احکام القرآن، لابن العربی، سورہ آل عمران، 18/2-35)

لزوم نذر کی شرائط
حضرات فقہاء نے لزوم نذر کی تین شرائط بیان کی ہیں، یعنی نذر انسان کے ذمے اس وقت لازم ہو گی، جب تینوں شرائط موجود ہوں:”کون المنذور لیس بمعصیة، وکونہ من جنس واجب، وکون الواجب مقصوداً لنفسہ․“(البحرالرائق، کتاب الصوم ، فصل فی النذر،514/2) رد المحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی احکام النذر،72/3)

پہلی شرط
نذر لازم ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان جس چیز کی نذر مان رہا ہے، وہ گناہ نہ ہو، اگر کسی نے گناہ کی نذر مان لی، تو نذر لازم نہ ہو گی، یعنی جو نذر مان رہا ہے، اس کے اوپر وہ گناہ کرنا لازم نہ ہو گا، بلکہ اس گناہ کو نہ کرنا ضروری ہو گا، مثلاً کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کا م ہو گیا، تو میں زید کو قتل کروں گا، تو یہ نذر لازم نہ ہو گی۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”من نذر أن یطیع الله فلیطعہ، ومن نذرأن یعصیہ فلا یعصہ․“ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الأیمان والنذور، باب النذر فی الطاعة، رقم الحدیث:6696)

یعنی جو شخص ایسی نذر مانے، جس سے الله تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، یعنی اس نذر کو پورا کرے اور جو شخص ایسی نذر مانے، جس سے الله تعالیٰ کی معصیت ونافرمانی ہوتی ہو، وہ اس کی معصیت نہ کرے، یعنی ایسی نذر کو پورا نہ کرے۔

اگر کسی نے گناہ کی نذر مانی، مثلاً اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں فلاں کوقتل کروں گا تواب اگر اس کاکام ہو گیا، تو اس کے لیے اس نذر کو پورا کرنا لازم نہیں، بلکہ اس نذر کو پورا نہ کرے، البتہ قسم کا کفارہ دے۔ (البحر الرائق، کتاب الصوم، فصل فی النذر514/2)

دوسری شرط
دوسری شرط یہ ہے کہ آدمی ایسی کوئی عبادت نذر میں اپنے اوپر لازم کرے کہ جس کے قبیل سے کوئی واجب ہو، جیسے نماز پڑھنے کی نذر ماننا ، کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو اتنی رکعات نماز پڑھوں گا تو یہ نذر لازم ہو گی، نماز کے قبیل سے فرض نماز ہے ،اسی طرح روزہ، صدقہ کی نذر وغیرہ، اگر ایسا نہیں تو وہ نذر منعقد نہ ہوگی۔

مثلاً عیادت مریض کی نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں فلاں کی عیادت کروں گا، تو یہ نذر منعقد نہ ہوگی، کیوں کہعبادت کے قبیل سے کوئی واجب نہیں۔ (البحرالرائق، کتاب الصوم، فصل فی النذر514/2)

جس چیز کو صدقہ کرنے کی نذر مانی ہے اس کا مالک ہونا ضروری ہے

آدمی جس چیز کو صدقہ کرنے کی نذر مان رہا ہے، اس چیز کا مالک ہوناضروری ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:”لیس علی العبد نذر فیما لا یملک․‘ ‘(سنن الترمذی، أبواب النذور والأیمان، باب ماجاء لا نذر فیما لایملک ابن آدم، رقم الحدیث،1527) جو چیز آدمی کی ملکیت میں نہیں، اس کی منت نہیں۔
٭... چناں چہ اگر کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا کام ہو گیا، تو میں فلاں کی بکری صدقہ کروں گا، تو یہ نذر منعقد نہ ہو گی۔(حاشیہ ابن عابدین، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،74/4)
٭...اسی طرح اگر آدمی نے اپنی ملکیت سے زائد چیز کی نذر مان لی، مثلاً یہ نذر مانی کہ اگر میرا کام ہو گیا، تو ایک ہزار روپے صدقہ کروں گا، حالاں کہ اس کے پاس پانچ سو روپے ہیں تو نذر پانچ سو روپے میں منعقد ہو گی۔ ( شامی،74/3)
٭... البتہ اگر نذر ملکیت کی شرط کے ساتھ مانی، یعنی اگر الله تعالیٰ وہ چیز مجھے دے دی، تو میں اسے الله تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کر دوں گا، تو اب یہ نذر منعقد ہو جائے گی اور جب وہ اس چیز کا مالک ہو گا، تو اس چیز کو صدقہ کرنا ضروری ہو گا۔(بدائع الصنائع، کتاب النذر، فصل فی شرائط رکن النذر،350/6)

عبدالمطلب کی نذر
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب الله تعالیٰ کے حکم سے اپنی اہلیہ حضرت ہاجر اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس غیر آباد وادی میں چھوڑا، جس کو بعد میں الله تعالیٰ نے زمزم کے پانی سے سر سبز وشاداب بنا دیا۔

قبیلہ جرھم جس کا اصلی وطن یمن تھا، مشیت ایزدی سے یمن میں قحط پڑا، اس وجہ سے بنو جرہم معاش کی تلاش میں نکلے، اتفاق سے اثناءِ راہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام او ران کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ سے چاہ زمزم کے قریب ملاقات ہو گئی، بنو جرھم کو یہ جگہ پسند آئی او راسی جگہ قیام پذیر ہو گئے او رپھر بعد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی اسی قبیلہ سے ہوئی اور نبی ہونے کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام عمالقہ، جرھم او راہل یمن کی طرف مبعوث ہوئے۔

مرورزمانہ کے بعد بنو اسماعیل اور بنو جرھم میں منازعت اور مخاصمت کی نوبت آئی، بالآخر بنو جرھم غالب آگئے او رمکہ میں جرھم کی حکومت قائم ہو گئی، چند روز کے بعد جرھم کے حکام لوگوں پر ظلم وستم ڈھانے لگے، یہاں تک ظلم کیا کہ اولاد اسماعیل مکہ کے اطراف وجوانب میں آباد ہوگئی، جرھم کا جب ظلم وستم اور فسق وفجور اور بیت الله کی بے حرمتی حد سے گزر گئی، تو ہر طرف سے قبائل عرب مقابلے کے لیے کھڑے ہو گئے، مجبوراً قبیلہ جرھم کو مکہ سے نکلنا پڑا، لیکن جس وقت مکہ سے نکلنے لگے تو خانہ کعبہ کی چیزوں کوبئر زمزم میں دفن کر گئے اور بیئر زمزم کو اس طرح بند کر گئے کہ زمین ہموار ہو گئی اور زمزم کا نشان بھی نہ رہا، جرھم کے چلے جانے کے بعد بنو اسماعیل مکہ میں واپس آگئے اور آباد ہو گئے، مگربئر زمزم کی طرف کسی نے کوئی توجہ نہ کی، مرورزمانہ سے اس کا نام ونشان بھی نہ رہا یہاں تک کہ جب مکہ کی حکومت اور سرداری عبدالمطلب کے قبضہ میں آئی اور ارادہ خداوندی اس جانب متوجہ ہوا کہ چاہ زمزم جو عرصہ سے بند اور بے نام ونشان پڑا ہے، اس کو ظاہر کیا جائے تو رویائے صالحہ یعنی سچے خواب کے ذریعہ سے عبدالمطلب کو اس جگہ کو کھودنے کا حکم دیا گیا اور اس جگہ کے نشانات اور علامات خواب میں بتلائے گئے۔

چناں چہ عبدالمطلب کہتے ہیں کہ میں حطیم میں سور ہا تھا کہ ایک آنے والا میرے پاس آیا او رمجھ سے خواب میں کہا” احفربرہ“ برہ کو کھودو، میں نے دریافت کیا، ” وما برہ“؟ برہ کیا ہے؟ تو وہ شخص چلا گیا، اگلے روز پھر اسی جگہ سو رہا تھا کہ خواب میں دیکھا کہ وہ شخص یہ کہہ رہا ہے ”احفر المضنونة“ مضنونہ کو کھودو، میں نے دریافت کیا، وما المضنونہ؟ مضنونہ کیا ہے؟ تو وہ شخص چلا گیا، تیسرے روز پھر اسی جگہ خواب میں دیکھا کہ وہ شخص کہہ رہا ہے، احفر طیبہ طیبہ کو کھود و، میں نے پوچھا طیبہ کیا ہے؟ تو وہ شخص چلا گیا، چوتھے روز پھر اسی جگہ یہ خواب دیکھا کہ وہ شخص یہ کہتا ہے ”احفر زمزم“ زمزم کو کھودو، میں نے پوچھا، وما زمزم یہ زمزم کیا ہے؟

اس نے جواب دیا:” لا تنزف أبدا ولا تذمہ تسقی الحجیج الاعظم“ وہ پانی کا ایک کنواں ہے کہجس کا پانی نہ کبھی ٹوٹتا ہے اور نہ کبھی کم ہوتا ہے، بے شمار حجاج کو سیراب کرتا ہے اور پھر اس جگہ کے کچھ نشانات اور علامات بتلائیں کہ اس جگہ کو کھودو، اس طرح با ربار دیکھنے اور نشانات کے بتلانے سے عبدالمطلب نے مخالفت کی کوئی پروا نہیں کی او رکدال لے کر اپنے بیٹے حارث کے ساتھ اس جگہ پہنچ گئے اور نشان کے مطابق کھودنا شروع کیا، عبدالمطلب کھودتے جاتے تھے اورحارث مٹی اٹھا اٹھا کر پھینکتے جاتے تھے، تین روز کے بعد ایک من ظاہر ہوئی، عبدالمطلب نے فرط مسرت سے نعر ہ لگایا او رکہا ھذا طوی اسماعیل“ یہی اسما عیل علیہ السلام کا کنواں ہے۔

بئر زمزم کے کھودتے وقت عبدالمطلب کا سوائے اکلوتے بیٹے حارثکے اور کوئی یارومدد گار نہ تھا، اس لیے منت مانی کہ اگر حق تعالیٰ مجھ کو دس بیٹے عطافرمائے جو جوان ہو کر میرے دست وبازو بنیں ، تو ایک فرزند کو الله کے نام پر ذبح کروں گا۔

جب الله تعالیٰ نے ان کی یہ تمنا اور آرزو پوری کی اور دس بیٹے پورے ہو گئے او ران کے نام یہ تھے: 1-حارث 2-زبیر3- حجل4- ضرار5- مقوم 6- ابو لہب7- عباس رضی الله عنہ8- حمزہ رضی الله عنہ 9-ابوطالب10- عبدالله (آپ صلی الله علیہ وسلم کے والد)

تو ایک رات خانہ کعبہ کے سامنے سو رہے تھے، خواب میں دیکھا کہ ایک شخص یہ کہہ رہا ہے، یا عبدالمطلب أوف بنذرک لربّ ھذاالبیتاے عبدالمطلب اس نذر کو پورا کیجیے، جو آپ نے اس گھر کے مالک کے لیے مانی تھی۔ عبدالمطلب خواب سے بیدار ہوئے اور سب بیٹوں کو جمع کیا اور اپنی نذر او رخواب کی خبر دی، سب نے یک زبان ہو کر یہ کہا:”أوف بنذرک وافعل ماشئتٌ“ آپ اپنی نذر پوری کریں اور جو چاہیں کریں۔ عبدالمطلب نے سب بیٹوں کے نام پر قرعہ ڈالا، حسن اتفاق سے قرعہ حضرت عبدالله کے نام پر نکلا، جن کو عبدالمطلب سب سے زیادہ محبوب رکھتے تھے، عبدالله کا ہاتھ پکڑ کر قربان گاہ کی طرف چلے او رچھری ساتھ تھی، حضرت عبدالله کی بہنیں یہ دیکھ کر رونے لگیں او ران میں سے ایک بہن نے یہ کہا کہ اے باپ! آپ دس اونٹوں اور عبدالله میں قرعہ ڈال کر دیکھیے، اگر قرعہ اونٹوں کے نام پر نکل آئے، تو دس اونٹوں کی قربانی کر دیجیے اور ہمارے بھائی کو چھوڑ دیجیے اور اس وقت دس اونٹ ایک آدمی کی دیت اور خون بہا ہوتے تھے ،قرعہ جو ڈالا گیا تو اتفاق سے حضرت عبدالله ہی کے نام پر نکلا، عبدالمطلب دس دس اونٹ زیادہ کرکے قرعہ ڈالتے تھے، مگر قرعہ عبدالله ہی کے نام پر نکلتا تھا، یہاں تک کہ سو اونٹ پورے کرکے قرعہ ڈالا گیا، تو قرعہ اونٹوں کے نام پر نکلا، اس وقت عبدالمطلب اور تمام حاضرین نے الله اکبر کہا، بہنیں اپنے بھائی عبدالله کو اٹھا لائیں اور عبدالمطلب نے وہ سو اونٹ صفا اور مروہ کے درمیان نحر کیے۔ (البدایہ والنہایہ، ذکر تجدید حفر زمزم، ذکر نذر عبدالمطلب،269-266/2۔ السیرة النبویہ لابن ہشام، ذکر نذر عبدالمطلب151/1) (جاری)



ایک صحابی کا عجیب واقعہ
حضرت ابو لبابہ رضی الله تعالیٰ کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک بڑا عجیب سبق آموز اور عدیم المثال واقعہ ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا، بنو قریظہ مدینہ منورہ میں یہود کا قبلہ تھا۔ اور یہود بنی قریظہ کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف کسی کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوں گے۔

غزوہ خندق کے موقع پر جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مسلمانوں کے خلاف مدینہ منورہ پر چڑھائی کے ارادے سے آئے، تو اس وقت بنو قریظہ نے اپنا عہدتوڑا اور مسلمانوں کے خلاف قریش کے ساتھ جا ملے۔

23/ذی قعدہ،5 ہجری کو جب احزاب کفار ذلیل ورسوا ہو کر واپس چلے گئے اور حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر مدینہ منورہ آگئے، تمام مسلمانوں نے ہتھیار کھول دیے، تو اسی دن ظہر کے قریب حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور آپ صلی الله علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، حضرت جبر ئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ فرشتوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں کھولے، اور نہ وہ واپس ہوئے ہیں ابھی فوراً بنو قریظہ کی طرف روانہ ہونا ہے۔

چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا اور پچیس دن تک محاصرہ جاری رہا اور بالآخر مجبور ہو کر بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ ان کے بارے میں حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم جو فیصلہ فرمائیں وہ انہیں منظور ہے۔

چناں چہ ان کے بارے میں فیصلہ کیا گیاکہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کیے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی ، غلام بنایا جائے اور ان کا تمام مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

بنو قریظہ کے محاصرے کے دوران بنو قریظہ نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنے صحابی ابو لبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیجیے، تاکہ ہم اپنے بارے میں ان سے مشورہ کریں،آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اس پیغام کو منظور فرمایا، اورحضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کو ان کے پاس بھیج دیا، جب بنو قریظہ نے حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کو دیکھا، تو ان کے مرد اور عورتیں اور بچے، بوڑھے، سب ہی ان کے آگے رونے، گڑگڑانے لگے، ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کادل پسیج گیا، پھر انہوں نے حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم محمد صلی الله علیہ وسلم کے حکم کو مان لیں او راپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیں ، تو وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ اس کے جواب میں حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ نے اپنے حلق پر ہاتھ پھیر کر ظاہر کیا کہ تمہیں ذبح کر ڈالیں گے۔

حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات کہی اور ابھی تک وہاں سے قدم نہیں اٹھایا تھا کہ میں متنبہ ہوا اور اس بات پر سخت نادم ہوا کہ تونے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں خیانت کی۔

اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی﴿یا ایھا الذین آمنوا لا تخونوا الله والرسول وتخونوا اٰمنتکم﴾․

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت ( یعنی ان کے پیغام واحکام) میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔

پھر کیا تھا؟ ایسا لگا جیسے احساس ندامت وشرمندگی نے حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کے قلب وشعور پر بجلی گرادی ہو، وہ بے تاب ہو گئے اور دیوانہ وار مسجد نبوی پہنچے اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا اور یہ اعلان کیا کہ جب تک کہ میں توبہ نہ کر لوں اور پھر جب تک الله تعالیٰ میری توبہ قبول نہ کرلے مجھ پر کھانا پینا حرام ہے۔

جب نماز کاوقت آتا تو ان کے بیٹے آتے او ران کو کھول دیتے، پھر جب وہ نماز پڑھ لیتے ، تو ان کے ہاتھ باندھ دیتے، لوگ ان کے پاس آتے اور کھولنے کے لیے کہتے تو انکار کر دیتے اور فرماتے کہ جب تک رسول کریم صلی الله علیہ وسلم خود آکر نہ کھولیں گے، میں یہاں سے نہ ہٹوں گا، چناں چہ مسلسل سات دن تک اسی طرح اس ستون سے بندھے کھڑے رہے، یہاں تک کہ غش کھا کر گر پڑے ۔ آخر کا ر الله تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ الله تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے، اب تو اپنے آپ کو کھول ڈالو، انہوں نے کہا خدا کی قسم! جب تک رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے مجھے نہیں کھولیں گے، میں خود اپنے آپ کو ہر گز نہیں کھولوں گا۔

چناں چہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے او راپنے دست مبارک سے انہیں کھولا۔

حضرت ابو لبابہ رضی الله عنہ کا گھر چوں کہ بنو قریظہ کے قبیلے میں واقع تھا او راس ساتھ رہنے کی وجہ سے حضرت ابولبابہ رضی الله عنہ کے دل میں بنو قریظہ کے لیے ہم دردی کا جذبہ پیدا ہوا، جو اس گناہ کا سبب بنا، اس لیے حضرت ابولبابہ رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول ! میں اپنا گھر الله کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، اسی طرح اپنا سب مال واسباب بھی صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے تہائی مال کو قبول فرمایا۔ ( السیرة النبویہ لابن ہشام، غزوہ بنی قریظہ237/3،والبدایہ والنہایہ، سنة خمس من الھجرة النبویہ، فصل فی غزوة بنی قریظہ125/4،والکامل فی التاریخ، السنة الخامسہ من الھجرة، ذکر غزوة بنی قریظہ75/2)

نذر کے متفرق مسائل
٭... اگر کسی نے صدقہ کرنے کی نذر مانی، مثلاً یہ کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں ایک ہزار روپے صدقہ کروں گا۔ تو اب کام ہو جانے کی صورت میں ایک ہزار فقراء پر صدقہ کرنا ضروری ہے، مال دار پر خرچ کرنے سے نذرادانہ ہو گی۔(رد المحتار، کتاب الصوم، مطلب فی النذر الذی یقع للأموات440/2)

٭...اگر کسی نے بکری ذبح کرکے صدقہ کرنے کی نذر مانی، تو ایسی بکری ذبح کرنا ضروری ہے، جس کی قربانی جائز ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب النذر، فصل، وأما شرائط الرکن،85/5)

٭... اگر کسی نے نذر کو کام سے معلق کیا، یعنی اگر میرافلاں کام ہو گیا، تو میں تین روزے رکھوں گا اور اس نے کام ہونے سے پہلے تین روزے رکھ لیے، تو اب کام ہونے کے بعد دوبارہ تین روزے رکھنا ضروری ہو گا۔ (ردالمحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،735/3)

٭... اگر کسی نے ایک مہینہ روزے رکھنے کی نذر مانی، تو تسلسل ضروری نہیں، البتہ اگر متعین مہینے مثلاً رجب کے مہینے کے روزوں کی نذر مانی ، تو اس صورت میں اس پورے مہینے کے روزے رکھنا لازم ہوں گے، البتہ اگر اس صورت میں بھی ایک دو روزے نہ رکھ سکا، تو صرف ان روزوں کی قضا لازم ہے جو نہیں رکھے۔ (ردالمحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،741/3)

٭... کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا کام ہو گیا، تو مسجد میں اتنے روپے دوں گا، یا فلاں جگہ کے مسکینوں پر صدقہ کروں گا، تو اب کام ہو جانے کی صورت میں کسی بھی مسجد میں اتنے روپے دینے سے نذر ادا ہو جائے گی، اسی طرح جس جگہ کے مسکینوں پر صدقہ کرنے کی نذر مانی تھی، اس جگہ کے علاوہ کسی اور مسکین پر صدقہ کیا، تب بھی نذر ادا ہو جائے گی۔(رد المحتار، کتاب الأیمان، مطلب فی أحکام النذر،740/3)

غیر الله کے نام کی نذر
مسلمان اپنے عمل میں آزاد نہیں، بلکہ شریعت کا پابند ہے او راس کے ہر عمل کے لیے شریعت کی طرف سے راہ نمائی موجود ہے، اپنے ذہن سے کسی عبادت میں کمی بیشی یا تبدیلی کرنا ہر گز جائز نہیں او راپنے ذہن سے کسی عمل کے بارے میں شریعت کی طرف سے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا سرسرا گم راہی ہو گی۔

چناں چہ نذر کے مسئلے میں شریعت کی طرف سے واضح تعلیمات موجود ہیں ، زمانہ جاہلیت میں مشرک بتوں کے نام کی نذر ونیاز مانتے تھے اور اب بعض جاہل مسلمان الله تعالیٰ کے علاوہ انبیا اولیا کے نام پر نذر ونیاز مانتے ہیں ، حالاں کہ الله تعالیٰ کی ان بزگزیدہ شخصیات نے اپنی پوری زندگیاں لوگوں کو جاہلی رسم ورواج اور شرک کی ظلمتوں سے نکالنے اور اسلام جیسے پاکیزہ مذہب اور الله تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف مائل کرنے میں صرف کر دیں۔

لہٰذا نذر ونیاز صرف الله تعالیٰ کے نام پر ہو گی، الله تعالیٰ کے علاوہ کسی اور مخلوق، چاہے کسی نبی کے نام کی ہو، یا کسی ولی کے نام کی، جائز نہیں۔ اس کی پھر مختلف صورتیں ہیں:

پہلی صورت
پہلی صورت یہ ہے کہ کسی نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں فلاں بزرگ کے نام کا بکرا ذبح کروں گا او رجب کام ہو گیا، تو اس بزرگ کے نام پر بکرا ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت بھی جانور پر الله تعالیٰ کا نام نہیں لیا، بلکہ جس بزرگ کے نام کی نذر مانی تھی، اس کا نام جانور ذبح کرتے وقت لیا۔

حکم:یہ صورت باتفاق واجماع امت حرام ہے اور یہ جانور میتہ (مردار) ہے۔ (التفسیر الکبیر، سورة البقرة، 173،و تفسیر روح المعانی، سورة البقرة،440/1,173،والجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة البقرة:221/1,173،وأحکام القرآن للجصاص، تحریم ما أھل بہ لغیر الله153/1،والکشف والبیان فی تفسیر القرآن، سورة البقرة:239/1,173،وتفسیر ابن کثیر، سورة البقرة،421/1,173)

دوسری صورت
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بزرگ کے نام کی نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا، تو میں فلاں بزرگ کے نام پر بکری ذبح کروں گا اور اس بزرگ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اس کے نام پر بکری ذبح کی، اگرچہ جس وقت بکری ذبح کررہا تھا، اس وقت اس پر الله تعالیٰ کا نام لیا، لیکن اس ذبح سے مقصد غیر الله کی خوش نودی مقصود تھی۔

حکم…یہ صورت بھی باتفاق فقہاء حرام ہے اور مذبوحہ جانور حرام ہے چناں چہ”التفسیر الکبیر للإمام رازی“ میں ہے:”قال العلماء: لو أن مسلما ذبح ذبیحة وقصد بذبحھا التقرب إلی غیر الله صار مرتدا، وذبیحتہ ذبیحة مرتد․“ (التفسیر الکبیر، سورة البقرة:11/5,173)

یعنی اگر مسلمان نے کوئی جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے اس کا مقصد تقرب الی غیر الله ہو، تو یہ مرتد ہو جائے گا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ ہو گا۔ اور”حاشیہ بیضاوی“ میں ہے:”فکل ما نودی علیہ بغیر اسم الله فھو حرام، وإن ذبح باسم الله تعالیٰ، حیث أجمع العلماء لو أن مسلما ذبح ذبیحة، وقصد بذبحھا التقرب إلی غیر الله صار مرتدا، وذبیحتہ ذبیحة مرتد․(حاشیہ علی تفسیر البیضاوی، سورة البقرہ:173، ص:123)

یعنی ہر وہ جانور جس کو غیر الله کے نام کر دیا گیا ہو، وہ حرام ہے، اگرچہ بوقت ذبح الله ہی کا نام لیا ہو، اس لیے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ کسی جانور کو غیر الله کے تقرب کے لیے کوئی مسلمان ذبح کرے، تو وہ مرتد ہو جائے گا اوراس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ کہلائے گا۔

”الدرالمختار“ میں ہے:”ذبح لقدوم الأمیر نحوہ کواحد من العظماء یحرم؛ لأنہ أھل بہ لغیر الله، ولوذکراسم الله، ولو ذبح للضیف لایحرم․“(الدرالمختار، کتاب الذبائح،217/5)

یعنی اگر کسی امیر یا بڑے کے آنے پر جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے اس کی تعظیم مقصود ہو، تو وہ حرام ہے، کیوں کہ وہ”وما أھل بہ بغیر الله“ میں داخل ہے، اگرچہ بوقت ذبح الله کا نام لیا ہو، لیکن اگر اس ذبح سے مقصد مہمان کو گوشت کھلاناہے، تو یہ جائز ہے۔

اسی طرح”تفسیر قرطبی“ میں ہے:
کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ ام المومنین! ہمارے کچھ رضاعی رشتہ دار عجمی لوگوں میں سے ہیں او ران کے یہاں تو روز روز کوئی نہ کوئی تہوار ہوتا ہے، یہ اپنے تہواروں کے دن کچھ ہدایا ہمارے پاس بھی بھیج دیتے ہیں، ہم اس کو کھائیں یا نہیں؟

اس پر حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا:”أما ما ذبح لذلک الیوم فلاتاکلوا، ولکن کلوا من أشجارھم․“(الجامع للأحکام القرآن للقرطبی، سورة البقرہ:224/2,173)

یعنی جو جانور اس دن کے لیے ذبح کیا گیا ہو، وہ نہ کھاؤ، لیکن ان کے درختوں کے پھل وغیرہ کھا سکتے ہو۔

ماأھل بہ لغیر الله کا مطلب
اگر کسی نے کسی بزرگ کے نام کی نذر مانی او رکسی بزرگ کے نام پر جانور ذبح کیا اور اس ذبح سے اس بزرگ کی خوش نودی اور تعظیم مقصود ہو، تو یہ جانور حرام ہو گا، اگرچہ ذبح کرتے وقت اس پر الله کا نام لیا ہو اور یہ جانور بھی ”وماأھل بہ لغیر الله“ میں داخل ہو گا۔

علامہ قرطبی رحمہ الله فرماتے ہیں:
”وجرت عادة العرب بالصیاح باسم المقصود بالذبیحة، وغلب ذلک فی استعمالھم حتی عبربہ عن النیة التي ھی علة التحریم․“ (الجامع لأحکام للقرطبی، سورة البقرہ:224/2,173)
یعنی اہل عرب کی عادت تھی کہ جس کے لیے ذبح کرنا مقصود ہوتا، ذبح کرتے وقت اس کا نام بلند آواز سے پکارتے اور یہ رواج ان میں عام تھا، یہاں تک کہ اس آیت میں تقرب إلی غیر الله، اس کو جو کہ اصل علت تحریم ہے، اہلال کے لفظ سے تعبیر کر دیا ۔

تیسری صورت
تیسری صورت یہ ہے کہ غیر الله کے نام پر نذر مانی اور اس میں غیر الله کے نام پر جانور ذبح کرنے کی نذر نہیں ہوتی، بلکہ جانور کو اس بزرگ کے نام پر زندہ چھوڑ دیا جاتا ہے او راس سے نفع اٹھانے اور ذبح کرنے کو حرام سمجھا جاتا ہے۔

حکم… اس صورت کا حکم یہ ہے کہ ایسا جانور” بحیرہ“ اور ”سائبہ“ کے حکم میں ہے۔

الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس فعل سے منع فرمایا ہے﴿مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَةٍ وَلاَ سَآئِبَةٍ ﴾․ سورہ المائدہ:103)

الله تعالیٰ نے نہیں مقرر کیا، بحیرہ کو اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حامی کو، لیکن کافر باندھتے ہیں الله تعالیٰ پر بہتان۔

حضرات مفسرین نے ”بحیرہ“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ”بحیرہ“ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کا دودھ بتوں کے نام کر دیتے تھے، کوئی اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔ اور ”سائبہ“ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب التفسیر، باب ماجعل الله من بحیرة… رقم: 4623، والجامع لأحکام القرآن للقرطبی، سورة المائدہ:209/6 ,103،وتفسیر روح المعانی، سورة المائدہ:41/4,103)

لہٰذا اگر کسی نے بزرگ کے نام پر کوئی جانور مزار وغیرہ پر چھوڑ دیا تو اس طرح جانور کو غیر الله کے نام پر چھوڑنا یہ عمل بنص قرآن حرام ہے، لیکن ان کے اس حرام عمل سے او راس جانو رکو حرام سمجھنے کے عقیدے سے یہ جانور حرام نہیں ہوتا، اس لیے وہ عام جانوروں کی طرح حلال ہے، البتہ وہ جانور مالک کی ملکیت ہے، اگر مالک نے اس کو بیچ دیا، تو خریدنے والے کے لیے حلال ہے۔

لیکن اگر کسی نے جانور کی بزرگ کے نام پر نذر مانی کہ فلاں بزرگ کے نام پر ذبح کروں گا اور پھر وہ جانور اس مالک نے شرعی طریقے پر ذبح کر لیا تو اس صورت میں ناذر کا مقصد ذبح ہوتا ہے، اس لیے وہ جانور ”وماأھل بہ لغیر الله“ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور جانور کو مزار پر زندہ چھوڑنے میں ناذر کا مقصد ذبح نہیں ہوتا۔ (کفایت المفتی:231/1،امداد الفتاوی99/4،فتاوی عزیزی،ص:484)

غیر الله کے نام کی نذر ونیاز ماننا اور اس طرح کی نذر ونیاز کو کھانا حرام ہے
کسی بھی پیغمبر ،صحابی، بزرگ کے نام کی نذر ونیاز ماننا جائز نہیں، اور اگر کسی نے اس طرح کی نذر ونیاز مانی ہے، تو اس کو کھانا حرام ہے۔

چناں چہ”کتب فقہ“ میں مذکور ہے:”اعلم أن النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام ومایؤخذ من الدراھم والشمع والزیت ونحوھا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا إلیھم فھو بالاجماع باطل وحرام، ( قولہ: باطل وحرام) لوجوہ: منھا أنہ نذر لمخلوق، ولا یجوز، لأن عبادة، والعبادة لا تکون لمخلوق، ومنھا: أن المنذور لہ میت، والمیت لا یملک․

ومنھا: أنہ إن ظن أن المیت یتصرف فی الأمور دون الله تعالیٰ کفر․“(حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالا یفسد471/1وحاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصوم، باب ما یلزم الوفاء بہ، ص:293)

یعنی اکثر عوام کی طرف سے مردوں کی خاطر جو نذر چڑھائی جاتی ہے اور بزرگوں کے مزارات پر جو موم بتی ، خوش بو ، روپیہ وغیرہ چڑھایا جاتا ہے، جس سے ان کا مقصد ان بزرگوں کو خوش کرنا اور ان کا تقرب حاصل کرنا ہوتا ہے اور یہ سب باتفاق ائمہ حرام ہے اور باطل ہے۔ اور اس کے حرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں:
ایک یہ کہ یہ مخلوق کے لیے نذر ماننا ہے، حالاں کہ نذر عبادت ہے، جو خالق کے ساتھ مخصوص ہے، دوسرے یہ کہ جس کے لیے نذر مانی ہے وہ مردہ ہے، بھلا وہ کسی چیز کا کیسے مالک ہو سکتا ہے؟ او رتیسرے یہ کہ اس میت کے ساتھ یہ اعتقاد بھی کیا جاتا ہے کہ وہ عالم میں تصرف کرتا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا تو کفر ہے۔
غیر الله کی نذر کا کھانا کیا کیا جائے؟
”فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال… غیر الله کی نذر ونیاز کا کھانا بلا علم تحفہ میں آجائے اور پھر واپس کرنے پر واپس نہ لیں، تو اس کو غرباء کو دیاجاسکتا ہے کہ نہیں؟ یا دفن کر دیا جائے، یا جانور کو دے دیا جائے؟

جواب… اگر غیر الله کے نام کی نذر ہے ، تو اس کو ایسی جگہ رکھ دیا جائے، کہ اسے جانور کھا لے۔ (فتاوی محمودیہ344/1)

مٹھائی وغیرہ پر غیر الله کی نذر ونیاز ہونے کا شبہ ہو تو کیا کرے؟
سوال… اگرجمعہ کے دن کسی قسم کی مٹھاتی کوئی لا کر تقسیم کرے، اور لوگ اس کو بغیر دریافتکیے کہ کیسی ہے؟ کس کے نام کی ہے؟ اور کس قسم کی؟ تو کیا ایسی مٹھائی کھانا جائز ہے؟

جواب… اگر شبہ ہو تو تحقیق کرے کہ یہ مٹھائی کیسی ہے، اگر شبہ نہ ہو تو بلاوجہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے، دل چاہے لے، نہ دل چاہے نہ لے۔(فتاوی محمودیہ،60/14)

ایصال ثواب کے لیے قبرستان میں ذبح کیے ہوئے جانور کا حکم
کسی پیغمبر، صحابی یا ولی کے نام کی نذر ماننا تو جائز نہیں، لیکن اگر کوئی الله کے نام پر کوئی جانور ذبح کرکے صدقہ کرے یا او رکوئی چیز صدقہ کرکے اس کا ثواب اس بزرگ کو بھیجے تو یہ جائز ہے۔

چناں چہ”کفایت المفتی میں ہے:
سوال… ایک جانور عندالله واسطے ایصال ثواب بزرگان دین کے ہے، جس کو زید نے قبرستان میں ذبح کیا، تو اس غرض سے کہ بزرگان دین کی قبریں بھی اسی قبرستان میں ہیں، جس میں جانور دبح کیا اور زید کو وہ ذبیحہ اس قبرستان میں مساکین کو کھلانا بھی مقصود ہے تو بموجب شرع شریف ذابح وذبیحہ کے واسطے کیا حکم ہے؟

جواب… جانور ذبح کرنے میں دو جہتیں ہیں ایک تو یہ کہ جانور کو ذبح کرنا، یعنی اس کی جان قربان کرنا اور اراقہ دم کسی کام کی غرض سے ہو، دوسرے یہ کہ اس کے ذبح سے صرف گوشت حاصل کرنا مقصود ہو اور گوشت کا صدقہ کرکے ثواب حاصل کرنا یا اپنے خرچ میں لانا، یا مہمان کو کھلانا یا دعوت میں خرچ کرنا مراد ہو۔

ایصال ثواب کے لیے بھی جانور کو ذبح کرنے میں یہی دونوں جہتیں متحقق ہو سکتی ہیں، دونوں کا حکم جدا جدا ہے۔ مفصل بیان کیا جاتا ہے:
اول یہ کہ نفس ذبح یعنی جان قربان کرنے سے مقصود تقرب الی غیر الله ہو، یعنی کسی بزرگ، ولی وغیرہ کی طرف تقرب حاصل کرنے او راس کی تعظیم کرنے او راس کی خوشی چاہنے کے لیے ذبح کیا جائے تو یہ حرام ہے اور وہ ذبیحہ بھی (مااھل بہ لغیر الله) میں داخل ہو کر حرام ہوجاتا ہے، خواہ اپنے گھر ذبح کیا جائے، یا قبرستان میں یا کسی اور جگہ میں۔

دوسری صورت یہ کہ ذبح سے مراد تقرب الی الله ہو، یعنی ذبح کرنے والا خاص خدا کی رضا مندی اور تعظیم عبادت کے خیال سے ذبح کرے اور پھر اس فعل پر اس کو جو ثواب ملے، وہ کسی دوسرے کو بخش دے اس صورت میں کوئی نقصان اور الزام ذابح اورذبیحہ میں نہیں ہے، یعنی ذابح کا یہ فعل حلال اورذبیحہ جائز ہے، مگر اس کے لیے کسی مکان او رجگہ کی تخصیص نہیں، او رنہ قبرستان میں لے جانے کی ضرورت ہے … ۔( کفایت المفتی، 249/1)



No comments:

Post a Comment