یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔ [القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3] یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Thursday, 10 June 2021
متواتر عمل سند(حدیث) کا محتاج نہیں، ورنہ۔۔۔
Monday, 7 June 2021
روحِ شریعت»محافظینِ شریعت پر اعتماد
عقیدت کا عقیدہ:
کسی امتی پر اللہ کی طرف سے احکامِ شریعت نہیں اترتے اور جس آخری نبیؐ پر آخری شریعت اترچکی، ان سے صحابہ کرامؓ کے بعد کوئی بلاواسطہ اماموںؒ کے شریعت نہیں جان سکتا، اور جن مسلم اماموںؒ کے علم و سمجھ، عمل و صداقت پر امت مسلمہ متفق ہو، اس جماعت سے نہ نکلنا چاہیے.
القرآن:
۔۔۔۔(دکھا ہمیں ان لوگوں کا) راستہ جن پر تیرا انعام ہوا۔۔۔
[سورۃ الفاتحہ:7]
۔۔۔انعام کیا اللہ نے نبیوں، اور صدیقوں، اور شہیدوں، اور نیکوکاروں پر۔۔۔
[سورۃ النساء:69]
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے (احکام کی) وضاحت کردے، اور جو (نیک) لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، تم کو ان کے طور طریقوں پر لے آئے، اور تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائے، اور اللہ ہر بات کا جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ہے۔
[سورۃ النساء:26]
اور (1)مہاجرین اور (2)انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور (3)جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
[سورۃ التوبہ:100]
اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی (1)رسول کی مخالفت کرے، اور (2)مومنوں کے "راستے" کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
[سورۃ النساء:115]
۔۔۔اور پیچھے چل اس کے راستہ پر جو رجوع کرے میری طرف۔۔۔
[سورۃ لقمان:15]
۔۔۔اور تم میں جو صاحبِ اختیار ہیں ان کی بھی (اطاعت کرو)....
[سورۃ النساء:59]
تفسیر:
صاحبِ اختیار سے مراد (1)نبی کے بعد خلیفہ یعنی ابوبکر (2)خلفاء راشدین (3)علمائے صحابہ (4)ملک/گھر/آفیس/ماتحتوں کے سربراہ وحکام
Tuesday, 18 May 2021
قنوتِ نازلہ کیا ہے
Monday, 22 March 2021
مساوات اور عدل میں فرق
بعض اوقات ”عدالت“ کا ”مساوات“ سے مغالطہ کیا جاتا ہے اور تصور کیا جاتا ہے کہ عدالت کے معنیٰ یہ ہیں کہ مساوات کی رعایت کی جائے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔
عدالت میں ہرگز مساوات شرط نہیں ہے بلکہ حق اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔
مثال کے طور پر ایک جماعت کے شاگردوں میں عدالت یہ نہیں ہے کہ سب کو مساوی نمبر دئے جائیں اور دو مزدوروں کے در میان یہ عدالت نہیں ہے کہ دونوں کو مساوی مزدوری دی جائے۔ بلکہ عدالت یہ ہے کہ ہر شاگرد کو اس کی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق نمبر دئے جائیں اور ہر مزدور کو اس کی محنت کے مطابق مزدوری دی جائے۔
اسی طرح مرد وعورت کی بناوٹ، صلاحیت وخوبیاں مختلف ہونے کے سبب حقوق برابر نہیں۔
Thursday, 11 March 2021
موضوع اور من گھڑت روایات اور انکارِ حدیث کا فتنہ
مستشرقین اور منکرین حدیث کہتے ہیں کہ حدیث قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں نے حدیثیں گھڑ بھی لی تھیں، حالانکہ حدیثوں کا گھڑا جانا خود اِس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آغازِ اسلام میں بھی پُوری امّت رسول اللہ ﷺ کے اقوال و اعمال کو قانون کا درجہ دیتی تھی، ورنہ آخر گمراہی پھیلانے والوں کو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ جعل ساز لوگ وہی سکّے تو جعلی بناتے ہیں جن کا بازار میں چلن ہو۔ جن نوٹوں کی بازار میں کوئی قیمت نہ ہو ،انہیں کون بیوقوف جعلی طور پر چھاپے گا؟ مزید یہ بات کہ کچھ احادیث گھڑی گئی سب سے پہلے علمائے اسلام نے ہی بتائی ہے۔حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔تمام بڑے بڑے محدثین نے علم پیغمبر کے گرد حفاظت کے پہرے دیئے اور ایسے حضرات بھی سامنے آئے ؛ جنہوں نے موضوع روایات کی نشاندہی میں مستقل کتب تصنیف فرمائی ہیں۔
یاد رہے کہ احادیثِ موضوعہ کا بیان کرنا بھی پہلے دن سے حرام ہے کیونکہ یہ حضورﷺ پر افتراء اور بہتان ہے۔حضورﷺ نے فرمایا:
«مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
جس نے جان بوجھ کرمجھ پر بہتان باندھا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔
[صحيح البخاري، كتاب العلم، بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، حدیث نمبر:108]
موضوع احادیث کے بارے میں اہم کتابیں:
(۱)موضوعات ابن جوزیؒ (۵۹۷ھ)
بے شک اس کتاب کواولیت کا شرف حاصل ہے؛ مگرچونکہ یہ اس فن کی پہلی محنت ہے؛ اس لیئے آپ سے اس میں کئی فروگذاشتیں ہوئی ہیں؛ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ آپ نے اس باب میں ایک بڑا علمی مواد فراہم کیاہے۔آپ نے بعض حدیثوں کوبھی موضوعات میں رکھ دیا تواس کی اصلاح کے لیئے امام سیوطیؒ (۹۱۱ھ) نے تعقبات علی الموضوعات تحریر فرمائی ہے، جولائقِ مطالعہ ہے۔
(۲)موضوعات حضرت شیخ حسن الصنعانی (۶۵۰ھ)
حضرت علامہ حسن صنعانی (لاہوریؒ) صاحب مشارق الانوار نقد حدیث میں بہت سخت تھے، ان کے سامنے ابنِ جوزیؒ کی موضوعات نشان راہ تھی، آپ نے اپنی طرف سے بھی اس باب میں گرانقدر معلومات مہیا کیئے ہیں، بعد کے آنے والے مؤلفین نے اس باب میں آپ کی کتاب سے بہت استفادہ کیا ہے۔
(۳)موضوعات المصابیح
حضرت شیخ سراج الدین عمر بن علی القروینی (۸۰۴ھ) کی تصنیف ہے اور بہت نایاب ہے۔
(۴)اللالی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ
یہ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ (۹۱۱ھ) کی تصنیف ہے، آپ نے اس کے علاوہ کتاب الذیل اور کتاب الوجیز بھی اس باب میں تحریر فرمائی ہیں، جوقابل مطالعہ ہیں۔
(۵)تذکرۃ الموضوعات اور قانون الموضوعات
تذکرۃ الموضوعات اور قانون الموضوعات کے مصنف حضرت علامہ محمدطاہر پٹنی صاحب مجمع البحار (۹۸۶ھ) لغت حدیث کے جلیل القدر امام تھے، آپ کی کتابیں تذکرۃ الموضوعات اور قانون الموضوعات جو ۲۲۹/صفحات اور ۸۰/صفحات پر مشتمل ہیں، اس باب کی بہت مفید کتابیں ہیں۔
(۶)موضوعات کبیر اور اللالی المصنوع فی الحدیث الموضوع
موضوعات کبیر محدث ِجلیل حضرت ملا علی قاریؒ (۱۰۱۴ھ) کی تالیف ہے، یہ اس باب میں بہت جامع اور مرکزی کتاب ہے، اللالی المصنوع اس کے بعد کے درجے میں ہے۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ مفت ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے جائین:
https://besturdubooks.net/?s=%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9
(۷)الفوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ
یہ علامہ شوکانیؒ (۱۲۵۰ھ) کی تالیف ہے، اس میں آپ ابنِ جوزیؒ کی راہ پر چلے ہیں اور بہت سختی کی ہے، کئی ضعیف اور حسن حدیثیں بھی موضوع ٹھہرادی ہیں۔
(۸)الآثارالمرفوعہ فی الاحادیث الموضوعہ
یہ حضرت مولانا عبدالحیی لکھنویؒ (۱۴۰۷ھ) کی تالیف ہے۔
ان تمام کوششوں کے باوجود اہلِ باطل موضوع حدیثوں کی روایت سے رُکے نہیں وہ اس کی برابر اشاعت کرتے رہتے ہیں
چند موضوع روایات:
ہم یہاں فائدہ عام کے لیئے چند روایات بھی ذکر کرتے ہیں، جن کی کوئی سند نہیں، نہ صحیح، نہ حسن، نہ ضعیف، ان سے آپ اندازہ کرسکیں گے کہ حدیث کے باب میں کس قدر بے احتیاطی ہماری صفوں میں گھس آئی ہے۔
(۱)”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل”
ترجمہ:میری امت کے علماء ایسے ہیں جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء۔
ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:” بہر حال حدیث:علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل،جس کے متعلق حفاظ نے صراحت کی ہے جیسے زرکشی ، عسقلانی ،دمیری اور سیوطی نے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(مرقات شرح مشکوٰۃ طبع قدیم:۵/۵۶۴،مصر)
(2)”من تکلم بکلام الدنیا فی المسجد احبط اللہ اعمالہ اربعین سنۃ” جس نے مسجد میں دنیا کی کوئی بات کی اللہ اس کے چالیس سال کے اعمال ضائع کردیتا ہے، علامہ صنعانی (۶۵۰ھ) فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے ملاعلی قاریؒ فرماتے ہیں “وھو کذالک لانہ باطل منبی ومعنی”۔
(موضوعاتِ کبیر:۴۸، مطبوع:دہلی)
(3)”حدیث لانبی بعدی” کتنی مشہور متواتر اور واضح المعنی ہے مگر محمد بن سعید شامی نے اسے حضرت انس بن مالک کی روایت بناکر حضورﷺ کے نام پر یہ حدیث وضع کردی “اناخاتم النبین لانبی بعدی الا ان یشاء اللہ” میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں؛ مگریہ کہ جواللہ چاہے، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”فوضع ہذا الاستثناء لماکان یدعوالیہ من الالحاد والزندقۃ ویدعی النبوۃ”۔(فتح الملہم:۱/۶۵)
(4)”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیّین ماوسعھما الااتباعی” حدیث میں صرف موسیٰ کا نام تھا (اگرموسیٰ زندہ ہوتے توانہیں بھی میری پیروی سے چارہ نہ ہوتا) حضرت عیسیٰ کوفوت شدہ ثابت کرنے کے لیے یہ نام بھی ساتھ بڑھادیا گیا، علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں اس کی سند کا کتبِ حدیث میں کہیں پتہ نہیں۔ (فوائد القرآن:۳۹۸، سورۂ مریم، پارہ:۱۶)
(5)”موتوا قبل ان تموتوا” کتنی مشہور روایت ہے ملاعلی قاری حافظ ابن حجر عسقلانی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ حدیث کہیں ثابت نہیں۔
(موضوعات:۷۵)
(6)حسن پرستوں نے اپنے ذوق کوتسکین دینے کے لیے یہ حدیث گھڑلی ہے “النظر الی الوجہ الجمیل عبادۃ” خوبصورت چہروں کو دیکھنا عبادت ہے۔حافظ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں: “ھٰذا کذب باطل علی رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لویروہ احد باسناد صحیح بل ھو من الموضوعات”۔ (موضوعات:۷۷)
اس طرح علماء نے بہت سی احادیث میں ایسے فقروں کی نشاندہی بھی کی ہے جو گھڑے ہوئے ہیں مثلا فرض نمازوں کے بعد جودعا مانگتے ہیں اس میں یہ الفاظ “والیک یرجع السلام حینا ربنا بالسلام” حدیث میں اضافہ کئے گئے ہیں معلوم نہیں کس نے یہ جملے حدیث میں ڈال دیئے ہیں، ملا علی قاری لکھتے ہیں “فلااصل لہ” (موضوعات:۸۹) اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔
حدیث اپنی جگہ موجود ہو اور کچھ الفاظ زیادہ کردیئے جائیں یہ روایت ان کی مثال ہے۔ بعض لوگوں نے الفاظ تبدیل کررکھے ہیں مثلا حدیث میں تھا”اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنوراللہ” (جامع صغیر:۱/۹) انہوں نے بدل کر “من نوراللہ” بنادیا(ملفوظات:۱/۱۰۸)
حضورﷺ کی خدمت میں ایک شخص پیتل کی انگوٹھی پہنے حاضرہوا آپ نے اسے کہا:”مَالِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ”۔ ترجمہ:میں تجھ میں بتوں کی ہوا کیا محسوس کررہا ہوں۔
(ابوداؤد، كِتَاب الْخَاتَمِ،بَاب مَاجَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ،حدیث نمبر:۳۶۸۷، شاملہ، موقع الإاسلام)
اسے یوں بدلا “مَالِیْ اَرَفِیْ یَدک حلیۃ الاصنام” (ملفوظات:۳/۲) تیرے ہاتھ میں بتوں کا زیور کیوں دیکھ رہا ہوں۔
وضع حدیث کا کام صدیوں سے رکا ہوا تھا مرزا غلام احمد نے پھر سے اسے زندہ کیا اور لکھا احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ مسیح موعود صدی کے سرپر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا (ضمیمہ براہین احمد:۵/۱۸۸) آنحضرتؐ زندگی بھرچودھویں صدی کا لفظ اپنی زبان پر نہیں لائے نہ کبھی کہا کہ قیامت چودھویں صدی کے ختم پر آئے گی، مرزا غلام احمد نے خود ہی یہ بات تجویز کی اور خود ہی اس کی علامات پورا کرنے کے لیے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کردیا اور چودھویں صدی کی روایات گھڑی اور اسے حضور اکرمﷺ کے ذمہ لگادیا اور پھریہ روایات بھی گھڑی کہ مسیح موعود تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا:”بل ھو امامکم منکم”۔ (ازالہ اوہام:۱/۲۳)
“بَلْ ھُوَ” کے الفاظ کتبِ احادیث میں کہیں نہیں ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ خود گھڑے ہیں، معلوم ہوا اہلِ باطل وضع احادیث کا سلسلہ اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں، حدیث کے اصل الفاظ یہ تھے:”كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَانَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ”۔ ترجمہ: تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تم میں اتریں گے اور اس وقت تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔(مسلم،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:۲۲۲، شاملہ، موقع الإاسلام)
اس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیثیں وضع کرنے والے اعتراض کے تحت حدیثیں گھڑتے تھے اور باطل فرقوں کا یہ عام طریقہ رہا ہے۔
حدیث اورمستشرقین-چند بڑے اعتراضات کا جائزہ
Tuesday, 9 March 2021
مشاجراتِ صحابہؓ
تقدیر کب کب تجدید کی جاتی ہے؟
Tuesday, 23 February 2021
بن دیکھے ڈرنے اور ایمان لانے کے فضائل
Sunday, 21 February 2021
خوفِ مصطفیٰﷺ - امت کی غربت یا مالداری
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کو بحرین (کا گورنر بناکر) جزیہ لانے کے لیے بھیجا، رسول اللہ ﷺ نے بحرین والوں سے صلح کرلی تھی اور ان پر علاء بن الحضرمی کو امیر مقرر کیا تھا۔ جب ابوعبیدہؓ بحرین سے جزیہ کا مال لے کر آئے تو انصار نے ان کے آنے کے متعلق سنا اور صبح کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی اور جب رسول اللہ ﷺ انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ ابوعبیدہ کے آنے کے متعلق تم نے سن لیا ہے اور یہ بھی کہ وہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار نے عرض کیا : جی ہاں، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہیں خوشخبری ہو تم اس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے گی، اللہ کی قسم ! فقر و محتاجی وہ چیز نہیں ہے جس سے میں تمہارے متعلق ڈرتا ہوں بلکہ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر بھی اسی طرح کشادہ کردی جائے گی، جس طرح ان لوگوں پر کردی گئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور تم بھی اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی اسی طرح کوشش کرو گے جس طرح وہ کرتے تھے اور تمہیں بھی اسی طرح غافل(نافرمان) کر دے گی جس طرح ان کو غافل(کافر) کیا تھا۔
[صحيح البخاري : كِتَابُ الرِّقَاقِ ، بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهَرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا ، حدیث نمبر#6425]
https://www.madarisweb.com/ur/articles/4593
((مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ ))’’جھے تمھارے بارے میں فقر کا ڈر نہیں ہے بلکہ مجھے تو ڈر ہے تم پر (دنیا کی) کثرت کا،اور مجھے تمھارے بارے میں یہ ڈر نہیں ہے کہ تم غلطی کرو گے بلکہ مجھے خطرہ ہے کہ تم جان بوجھ کر گناہ کرو گے۔‘‘[مسند احمد:8074، مسند البزار:9374، معجم ابن الأعرابي:2212، صحيح ابن حبان:3222، المستدرک الحاكم:3970]
دنیا سے مراد کیا ہے؟
القرآن:
لوگوں کے لیے ان چیزوں کی "محبت" خوشنما بنادی گئی ہے جو ان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہے ،۔ یعنی (1)عورتیں، (2)بچے، (3)سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، (4)نشان لگائے ہوئے گھوڑے، (5)چوپائے اور (6)کھیتیاں۔ یہ سب دنیوی زندگی کا سامان ہے (لیکن) ابدی انجام کا حسن تو صرف اللہ کے پاس ہے۔
[سورۃ آل عمران:14]
محبت کی حدود ودرجات:
(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا (سزا کا) فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
[سورۃ التوبۃ:24]
لہٰذا، جو شخص قرآنی تعلیمات پہچانے والوں کو نہ سمجھ پائے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نافرمانی کے سبب اس علم سے گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور توبہ یعنی دل کی ندامت کے ساتھ، زبان سے معافی مانگتے ہوئے، فرمانبرداری کے عہد کرکے، اللہ کی طرف لوٹے بغیر ہدایت سے ہمیشہ محروم رکھا جاتا ہے۔
فقہی نکات:
(1) دنیا، آخرت کے مقابلے میں ادنیٰ چیز کو کہنے ہیں، بری چیز کو نہیں، اسي لئے حدیث میں جزیہ لینے اور قرآن مجید میں متاعِ دنیا کی محبت سے بلکل روکا نہیں گیا
(2) دنیا کی محبت اور کثرت، آخرت سے غفلت اور ہر نافرمانی کی جڑ ہے۔
(3) غفلت دل کا وہ گناہ ہے، جس میں اکثر لوگ اکثر لمحے مبتلا رہتے ہیں۔
(4) دنیا کا فتنہ اور مذموم محبت میں مبتلا ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا کیلئے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی جائے اور (خصوصا) جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کردیا جائے۔
(5) فقر پر صبر اور جہاد کرنا اللہ اور رسول ﷺ سے اشد محبت کی دلیل ہے۔
(6) لوگوں سے نہ مانگنا اور نہ امید رکھنا، دل کا غنی ہونا یعنی اصل مالداری ہے۔
(7) امت کی ترقی، صبر وجہاد فی سبیل اللہ سے (محبت میں) ہے۔
آ، تجھ کو بتاؤں میں، تقدیرِ اُمم کیا ہے؟
شاعرِ حقیقت شناس علامہ اقبال نے خوب کہا تھا :
آ ، تجھ کو بتاؤں میں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سنان اول ، طاوٴس و رباب آخر
یعنی جب کوئی قوم ترقی و عروج کا سفر طے کرتی ہے تو وہ تلواروں اور نیزوں سے مزین ہوتی ہے ، وہ مشکل حالات کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے ، وہ عیش و عشرت کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے بجائے جد وجہد کے میدان میں آگے بڑھتی ہے ، اور جب قوموں کے زوال و انحطاط کا زمانہ آتا ہے تو وہ عیش و عشرت کے نقشے بنانے لگتی ہے اور رقص و سرود سے اپنے دل کو بہلانے کی عادی ہوجاتی ہے ، یہی وہ بات ہے کہ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندیشہ رکھتے تھے ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا قول ہے کہ جب کسی قوم میں خیانت اور بد دیانتی پیدا ہوجاتی ہے تو وہ کم ہمت اور بزدل ہوجاتی ہے۔
”مَا ظَهَرَ الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا أُلْقِيَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبُ“
[موطأ (امام) مالك (تحقيق) الأعظمي : حديث 1670]
اس وقت عالمِ اسلام کی صورت حال یہی ہے کہ اپنی قوم کے ساتھ حکمرانوں کا معاملہ بدترین بد دیانتی کا ہے اور صیہونی و صلیبی طاقتوں کے سامنے شرمناک بزدلی اور کم حوصلگی کا ، عام مسلمانوں کی بھی صورت حال یہ ہے کہ وہ (دینی)علم و (دنیاوی)تحقیق ، محنت اور جدو جہد میں پیچھے ہیں اورعیش پرستی میں آگے، دوسری قومیں ہمیں دیکھتی ہیں اور خندہ زن ہوتی ہیں کہ یہ لٹی پٹی اور ذلیل و رسوا کی ہوئی قوم اپنی محرومی اور کم نصیبی کو بھول کر کس طرح دادِ عیش دے رہی ہے ، کاش! ہم اس طرزِ عمل میں تبدیلی لائیں ، اپنے اندر حالات کا مقابلہ کرنے اور جدو جہد کے ذریعہ آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کریں اور عیش و عشرت کے نقشوں کو تج کر، ایک باعزت اور آبرو مند امت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اپنے آپ کو لانے کی کوشش کریں ۔








