Thursday, 10 June 2021

متواتر عمل سند(حدیث) کا محتاج نہیں، ورنہ۔۔۔

دین کے مسائل تین طرح کی اخبار (احادیث) سے ثابت ہوتے ہیں:

(1) متواترات:
کسی محسوس واقعہ (مَثَلاً : کسی قول یا فعل وغیرہ) کو خود سننے اور دیکھنے والوں کی ابتداء سے آخر (اب) تک ہر زمانہ میں ایسی بڑی تعداد اس واقعہ کی خبر دے کہ ان سب کا جھوٹ یا غلطی پر متفق ہونا عادتاً محال سمجھا جاۓ.
[الاحکام فی اصول الاحکام: جلد1 / صفحہ 151؛ التوضیح والتلویح: جلد2 / صفحہ 2-3؛ تسہیل الوصول: صفحہ140؛ فتح الملھم : 1/ 5-6]
یعنی عقل یہ باور نہ کرے کہ ان سب نے سازش کرکے جھوٹ بولا ہوگا یا ان سب کو مغالطہ لگ گیا ہوگا۔
ترجمہ:
متواترات، علم یقینی(بدیہی) کا فائدہ دیتی ہیں۔
وَالمُتَواتِرُ لا يُبْحَثُ عَن رِجَالِهِ، بَل يَجِبُ العَمَلُ بِهِ مِن غَيْرِ بَحْثٍ في رواته
ترجمہ:
اور متواتر(frequent, continual) کے رجال(transmitters) کے متعلق بحث نہیں کی جاتی (کہ وہ سچے-قابلِ اعتماد تھے یا نہیں، گواہوں کی کثرتِ تعداد کی وجہ سے) بلکہ بغیربحث کے اس(متواتر خبر) پر عمل(یقین) کرنا واجب(لازم) ہے۔



جیسے:-
()قبلہ اول بیت المقدس کا منسوخ ہونا اور قبلہ آخر بیت الله کا ناسخ بننا۔
()پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ  پر نازل کردہ الله کی کتاب کے الفاظ اور پیغمبرانہ تشریح(احادیث) کو متعدد سینوں میں یاد رکھنے، دوسروں تک پہنچانے اور کتابوں میں محفوظ کرنے والے (پاک-نیک-مضبوط یادداشت والے گواہ) ہر زمانہ میں، اتنی تعداد میں رہے اور بڑھتے ہی جارے ہیں، کہ جن کا کسی جھوٹی بات پر متفق ہونا عقلاً اور عادتاً محال ہے۔



دنیاوی باتوں میں:-
(1)انسان کے وجود سے پہلے سورج چاند کے موجود ہونے پر یقین
(2)کون شخص کس کا باپ/دادا ہے، اس پر یقین
(3)آنکھوں سے نہ دکھنے والی چیزوں پر یقین:-
انتہائی چھوٹی مخلوق جیسے:-جراثیم، بیکٹیریا، وائرس، فنگس وغیرہ،
انتہائی ہلکی مخلوق جیسے:- تمام گئسز، سانس، روح، خوشبو وغیرہ
انتہائی بڑی مخلوق جیسے:- بڑے بڑے سیارے، ستارے، گیلیکسیز وغیرہ



■ حدیث متواتر پر مشتمل اہم کتب
1. امام جلال الدین سیوطی کی تصانیف
امام سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ) نے حدیث متواتر کے موضوع پر دو اہم کتابیں تصنیف کیں:
(الف) الفوائد المتکاثرة فی الأخبار المتواترة
یہ امام سیوطی کی پہلی اور مفصل تصنیف ہے، جس میں انہوں نے متواتر احادیث کو جمع کیا۔
(ب) الأزهار المتناثرة فی الأحادیث المتواترة
یہ پہلی کتاب کا اختصار (خلاصہ) ہے، جسے امام سیوطی نے ایک مستقل جزء کی صورت میں مرتب کیا۔

2. قطف الأزهار
یہ بھی امام سیوطی ہی کی ایک تصنیف ہے، جو متواتر احادیث کے موضوع پر ہے۔

3. نظم المتناثر من الحدیث المتواتر
یہ کتاب امام محمد بن محمد بن طولون (متوفی ۹۵۳ھ) کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے متواتر احادیث کو منظوم شکل میں پیش کیا ہے۔

4. الآلاء المتناثرة فی الأحادیث المتواترة
یہ کتاب امام محمد بن محمد بن طولون کی ایک اور تصنیف ہے، جسے انہوں نے متواتر احادیث کے موضوع پر لکھا۔

5. المتواترات (مجموعہ)
یہ ایک جامع مجموعہ ہے جسے امام الحافظ احمد بن محمد بن الصدیق الغماری الحسنی نے مرتب کیا ہے۔ یہ سترہ (۱۷) اجزاء پر مشتمل ہے اور اس میں متواتر احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔

6. المتناثر من الحدیث المتواتر
شیخ محمد الکتانی کی یہ کتاب متواتر احادیث کے موضوع پر ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ۳۱۰ متواتر احادیث جمع کی ہیں۔








(2) مشہورات:
اصولِ حدیث میں مشہورات ان اخبار و احادیث کو کہتے ہیں جنہیں دو سے زائد راوی(Transmitters) روایت(Transmit) کریں لیکن وہ تواتر کی حد تک نہ پہنچیں.

اور اصول فقہ میں:- اول (صحابہ کے) زمانہ میں تو وہ واقعہ خبرِ واحد ہو، پھر وہ پھیل جاۓ کہ دوسرے یا بعد کے زمانوں میں اتنی قوم اس کو روایت کرے کہ جن کا جھوٹ پر اتفاق کا وہم نہ ہو۔
[نور الأنوار: صفحہ 180]

اگر وہ (خبر/واقعہ) اول زمانہ میں بھی اس طرح (متعدد لوگوں سے روایت ہوتی چلی آتی) ہو تو وہ متواتر ہوگی، اور اگر وہ دوسرے زمانہ میں بھی اس طرح نہ ہو تو وہ (اخبار/واقعات) آحاد سے ہیں۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اصولیین(Jurists-Scholars of Fiqh) کے نزدیک مشہورات آحاد(یعنی وہ خبریں جنھیں ہر دور کے "ایک" راوی نے بیان کیا ہو) اور متواتر (کے درمیان) کی قسم ہے، اور محدثین(Scholars of Hadith) کے نزدیک وہ آحاد کی قسم ہے جو تواتر کی حد تک نہ پہنچے.
[رد المختار: جلد 1 / صفحہ 446]





(3) آحاد:
یہ خبرِ واحد کی جمع ہے، اور جس خبر یا واقعہ کو (ہر دور میں چند) ایک شخص روایت(Transmit) کرے، اسے لغتاً خبرِ واحد کہتے ہیں، اور اصطلاحاً جس میں متواتر کی تمام شرائط نہ ہوں۔ پھر متواتر(خبر) چونکہ علمِ یقینی کا فائدہ دیتی ہے اس لئے وہ مردود نہیں صرف مقبول ہوتی ہیں، لیکن آحاد(واحد کی خبریں) مقبول بھی ہوتی ہیں اور مردود بھی، اس لئے کہ ان کا واجب العمل ہونا ان کے راویوں کا حالات پر مبنی ہے۔
[شرح نخبة الفكر]
اس لئے وہ اخبار آحاد اپنی سند اور ان میں موجود راویوں کے حالات پر مقبول و مردود اوصاف کی تحقیق سے واجب العمل یا متروک العمل سمجھی جائیں گی.





موضوع اور من گھڑت روایات اور انکارِ حدیث کا فتنہ
متواتر عمل سند کا محتاج نہیں، ورنہ۔۔۔

علمِ حدیث، تاریخِ حدیث، موضوعِ حدیث، ضرورتِ حدیث

متونِ حدیث، اقسامِ حدیث، قواعد الحدیث

فن اسماء الرجال

http://raahedaleel.blogspot.com/2012/09/funasmaa-ul-rijaal.html

رجال الحدیث

غریب الحدیث

ضعیف حدیث پر عمل کے شرائط

روحِ شریعت : بزرگوں پر اعتماد

اصولِ محدثین : ضعیف حدیث "تلقی بالقبول" کے سبب صحیح کا حکم رکھتی ہے.
اصولِ جرح و تعدیل

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
[مندرجہ مضمون الزامی جواب ہے، یعنی معترض کا اعتراض رفع کرنے کی بجائے ویسا ہی اعتراض اُس پر وارد کر دینا جیسا کہ اس نے کیا ہے.]

متواتر عمل سند کا محتاج نہیں، ورنہ۔۔۔۔

اہلِ اصول کے ہاں دین کے مسائل تین طرح کے ثابت ہوتے ہیں:
(1) متواترات، (2) مشہوات، (3) آحاد۔
اور اہلِ اصول متواترات کی مثال میں قرآن اور نماز کا ذکر بطور مثال کرتے ہیں۔ جس طرح قرآن پاک تلاوۃً متواتر ہے، اسی طرح نماز عملاً متواتر ہے۔ بلکہ حقیقت میں نماز قرآن پاک سے بھی زیادہ متواتر ہے، کیوں کہ قرآن پاک روزانہ ایک دفعہ بھی ختم کرنا فرض نہیں مگر نماز ہر مکلف مسلمان پر روزانہ پانچ مرتبہ پڑھنی فرض ہے۔ دوسری بات یہ یاد رکھیں کہ متواترات سند کی محتاج نہیں ہوتیں۔ اسی طرح مسلمان قرآن پاک کی ہر ہر آیت کی سند تلاش نہیں کرتے۔ اسی طرح نماز کی روزمرہ پیش آنے والے مسائل اور طریقہ عملاً متواتر ہیں۔ وہ بھی سند کا محتاج نہیں ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ رافضیوں کے ایک گروہ نے متواتر قرآن کا انکار کر دیا ہے اور دوسرے گروہ نے متواتر نماز کی صحت کا انکار کر دیا ہے۔ اور دوسرے گروہ سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اگر متواترات کے لیے بھی سند ضروری ہے اس کے بغیر ثبوت نہیں ہو سکتا تو۔۔۔۔

(1) قرآن پاک کی ہر ہر آیت کریمہ کو سند سے ثابت کردیں، بصورتِ دیگر قرآن کے ثبوت کا انکار کریں جیسے متواتر نماز کا انکار کیا ہے۔

(2) قرآن پاک کی آیات اور سورتوں کی ترتیب کو فرداً فرداً سند سے ثابت کرو، ورنہ بڑے بھائیوں کی طرح اس متواتر ترتیب کا انکار کردیں۔

(3) قرآن و حدیث کے ترجمہ کے لیے لغت کی ضرورت ہے۔ اس متواتر لغت سے قرآن کے ہر ہر لفظ کا معنیٰ واضح لغت تک سند سے ثابت کریں، ورنہ لغت اور اس کے معنیٰ کا اسی طرح برملا انکار کریں جس طرح متواتر نماز کا انکار کیا ہے؟؟؟

(4) متواتر قرآن کے بارے میں کوئی یہ کہے کہ میں اس کو اس لیے نہیں مانتا کہ اس کی ہر آیت کے ثبوت اور ترتیب کی سند مجھے نہیں ملی تو اسے آپ کافر کہتے ہیں یا نہیں۔ تو جو شخص متواتر نماز کے ثبوت کا انکار کرے اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟؟؟

(5) جو قرآن پاک تلاوۃً متواتر ہے اس میں ایک آیت کریمہ یوں ہے:
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ۔ وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ۔ وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ۔ (سورۃ اللیل:1-3)
اور بخاری شریف میں ﴿وَٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ﴾ ہے۔ امام بخاری سند کے ساتھ بخاری میں پانچ جگہ لائے ہیں: (حدیث نمبر: 3742، 3743، 3761، 4943، 4944، 6178)۔ کوئی شخص قرآن پاک میں یہ آیت اس طرح چھاپ دے، اور یہ کہے کہ یہ سند سے ثابت ہے اور وہ بے سند اور بے ثبوت ہے، اس کی بھی سند بخاری میں دکھاؤ ورنہ میں اس کو ہرگز نہیں مانتا، تو کیا یہ درست ہے؟ اور کیا آپ نے کوئی ایسا قرآن شائع کیا ہے؟؟؟





(6) جو قرآن پاک تلاوۃً متواتر ہے اس میں ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ﴾(سورۃ الشعراء:214) ہے، بخاری نے صحیح سند کے ساتھ یہ بھی روایت کیا ہے: وَرَهْطَكَ ‌مِنْهُمُ ‌المُخْلَصِينَ[صحيح البخاري:4971] اب کوئی شخص اس طرح قرآن شائع کرے اور اسی طرح تلاوت کریں اور یہ شور مچائے کہ لوگوں نے بے سند اور بے ثبوت آیتوں کو قرآن میں شامل کیا ہوا ہے اور اس صحیح سند والی آیتوں کو قرآن سے نکال رکھا ہے۔ اسی طرح وہ تواتر قران کو غلط کہیں جس طرح آپ متوازن نماز کو کہتے ہیں تو کیا یہ درست ہے؟؟؟

(7) متواتر قرآن میں ایک آیت یوں ہے: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورۃ المسد:1] ، مگر بخاری شریف[حدیث#4971] میں صحیح سند کے ساتھ (مزید) اس کے ساتھ (وَقَدْ ‌تَبَّ) بھی ہے۔ اب کوئی شخص متواتر قرآن میں درج آیت کو بے سند کے کر ماننے سے اسی طرح انکار کردے جس طرح آپ نے متواتر نماز کو پسند کے ماننے سے انکار کر دیا ہے اور بخاری کی سند والی آیت کو قرآن میں شامل کرے تو کیا یہ جائز ہے؟ اگر یہ جائز نہیں تو آپ کا متواتر نماز کے خلاف بخاری کی کوئی حدیث دیکھ کر متواتر نماز کو غلط کہنا کس طرح جائز ہے؟؟؟

(8) مسلمانوں میں عملاً یہ متواتر ہے کہ مرد عورتیں سب بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں، جبکہ بخاری[224، 225، 226، 2471] پر چار جگہ، اور مسلم[273]، ابوداؤد[23]، ترمذی[13]، نسائی[18، 26، 27، 28]، ابن ماجہ[305، 306] ، مسند احمد[18150، 23246، 23345، 23414] پر آنحضرت ﷺ کا کھڑے ہو کر پیشاب فرمانا ثابت ہے۔ اس لئے اہل حدیث کے مرد عورتیں ہمیشہ کھڑے ہو کر پیشاب کریں، بلکہ اگر کوئی اہل حدیث مرد یا عورت بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہوں، ان کو اسی حالت میں کھڑا کر دیا کریں کہ ساری امت تو بخاری مسلم کی متفق علیہ حدیث کے خلاف بیٹھ کر پیشاب کرنے کی وجہ سے دوزخی بن گئی ہے، تم کیوں دوزخی بن رہے ہو؟ اور بار بار مطالبہ کریں کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث کا منسوخ ہونا صرف بخاری مسلم سے دکھاؤ؟ ورنہ تم سب کے سب گمراہ ہو۔ تو کیا یہ جائز طریقہ ہے؟

(9) ہمارے ملک میں عموماً وضو کے وقت مسواک کرتے ہیں، اگرچہ اہل حدیث کے ہاں مسواک کا عمل "عمل النادر کالمعدوم" ہے، مگر ایک آدمی کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے لیے اپنی امت کو مشقت میں ڈالنے والی بات نہ ہوتی تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔
[بخاری:887، مسلم:252، ابوداؤد:47، ترمذی:22+23، نسائی:7، ابن ماجہ:287، احمد:607+967+7339+7853+9179 +9549+10617+17032+17048+21674 +23486]
اس لیے مسواک بوقتِ اقامت کیا کرو۔ جو بوقتِ وضو مسواک کرتے ہیں وہ صحاح ستہ کی اس حدیث کی مخالفت کی وجہ سے گنہگار ہیں۔

(10) ایک حدیث میں ہے:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ «إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، ‌يَشُوصُ فَاهُ ‌بِالسِّوَاكِ» رسول اللہ ﷺ جب بھی رات کو اٹھتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف فرماتے۔
[بخاري:245، مسلم:255، ابوداؤد:55]
آج کل اکثر اہل حدیث اس حدیث پر عمل نہیں کر رہے۔ کیا یہ اونچی آمین کی حدیث سے زیادہ صحیح حدیث نہیں ہے؟ اس پر عمل کرانے کے لیے رسالے، جلسے، کتابیں، چیلینج بازیاں، سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس پر نہ خود عمل نہ دوسروں کو چیلنج۔ وجہ فرق کیا ہے؟

(11) ایک حدیث میں ہے: كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا ‌دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: «‌بِالسِّوَاكِ» (مختصراً) آپ ﷺ جب بھی گھر تشریف لاتے تو ہمیشہ پہلے مسواک کرتے۔ [مسلم:253، ابن ماجه:290ابوداؤد:51، نسائی:8] کیا اہل حدیثوں کے ساتھ ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، کسی مرد یا عورت کو اس حدیث پر عمل کرتے نہیں دیکھا، حالانکہ یہ حدیث سینے پر ہاتھ باندھنے والی ضعیف حدیث کے مقابلے میں بہت قوی ہے، اُس ضعیف حدیث پر عمل کے لئے پورے ملک میں شور ہے اور اِس صحیح حدیث پر عمل نہ کوشش؟

(12) ایک حدیث میں ہے: «‌إِذَا ‌اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى المَسْجِدِ، فَأْذَنُوا لَهُنَّ» رات کو جس وقت بھی تمہاری عورتیں مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں، ان کو دے دیا کرو۔  [بخاري:865، مسلم:442، احمد:5211+6304+6444] اس صحیح حدیث پر غیر مقلد مردوں اور عورتوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ کیا یہ حدیث حضرت جابر کی آٹھ تراویح والی ضعیف ترین روایت سے بھی گئی گزری ہے؟ اُس پر عمل کے لیے چیلنج بازیاں اور اِس پر عمل بلکل ترک، وجہِ فرق کیا ہے؟

(13) امت کا متواتر عمل یہ ہے کہ جوتا اتار کر نماز پڑھتے ہیں، بخاری ومسلم میں جوتے اتار کر نماز پڑھنے کی کوئی حدیث نہیں، بلکہ اس کے خلاف جوتے پہن کر نماز پڑھنے کی حدیث ہے: يُصَلِّي ‌فِي ‌نَعْلَيْهِ ۔۔۔۔۔ یعنی آپ ﷺ ہمیشہ ہمیشہ جھوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
[بخاری:386+5850، مسلم:554، نسائی:727، ابن ماجه:1037، ترمذي:400، احمد:16364+16353]
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جوتے اتار کر نماز پڑھنا بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث کے خلاف ہے۔ یہ نماز نبی پاک ﷺ والی نماز ہرگز نہیں۔ تو کیا واقعتاً امت کے متواتر عمل کو ان احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط کہا جائے گا؟ یاد رہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنے والی حدیث کو محدثین متواتر کہتے ہیں۔
[شرح معاني الآثار،الطحاوي:2911، مجموعة رسائل علمية(الوادعي):ص7، سلسلة الأحاديث الصحيحة:6/1066(2943)]
جس سے نماز میں متواتر حدیث کے مخالف ہو، کیا وہ نماز صحیح ہوگی؟ ایک طرف حدیث ہے جو سنداً متواتر ہے، دوسری طرف حدیث کے مخالف عامل ہیں۔

(14) بخاری [516] اور مسلم [543] پر بے: (كَانَ ‌يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ ‌أُمَامَةَ) کہ آپ ﷺ ہمیشہ بچی کو اٹھا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ جبکہ اس فعل کے ترک یا نسخ کی کوئی حدیث بخاری مسلم میں نہیں، جب کہ امت کی متواتر نماز میں یہ عمل نہیں، اب کیا یہ متواتر نماز بخاری مسلم کی متفق علیہ حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے؟ اگر کوئی شخص اس متفق علیہ حدیث پر عمل کرنے کی کوشش کرے کہ جب کوئی اہل حدیث مرد یا عورت نماز کی نیت باندھے ان پر ایک بچی سوار کر دے تو کیا اس صورت کو زندہ کرنے پر فی بچہ لادنے پر سو شہید کا ثواب ملے گا یا نہیں، تو کیوں؟؟؟

(15) بخاری[353+354+355+356+360+370] اور مسلم[517+518+519] کی متفق علیہ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی، اور محدثین نے اس حدیث کو متواتر قرار دیتے ہیں، مگر امت کا متواتر عمل اس متواتر حدیث کے خلاف تین کپڑوں میں نماز ادا کرنے کا ہے۔ اب اگر کوئی اہل حدیث امت کی متواتر نماز کو غلط قرار دے اور متواتر حدیث پر عمل کروانے کے لیے اہل حدیث مرد عورتوں کے کپڑے نماز میں اتارنا شروع کردے، صرف ایک ایک پڑا رہنے دے تو کیا اس متواتر حدیث پر عمل کرانے کی کوشش میں اسے فی مردوعورت ہے سو سو شہید کا ثواب ملے گا یا نہیں، تو کیوں؟؟؟

(16) ایک اہلِ حدیث جس کو متفق علیہ احادیث کی مخالفت برداشت نہیں، وہ دوسرے اہل حدیثوں کو چار تکبیروں کے ساتھ ترجیع والی اذان (یعنی اذان میں شہادتین کو پست آواز سے ادا کرنا، پھر بلند آواز سے پڑھنے) سے روکتا ہے، کیونکہ بلا ترجیع اذان بخاری [605+606] مسلم [378] ترمذی [193] ابوداؤد [508] نسائی [627] ابن ماجہ[729+730] مسند احمد[22027] پر ہے، اور امت کا متواتر عمل بھی ہے، اور چار تکبیروں کے ساتھ ترجیع والی اذان نہ بخاری میں ہے نہ مسلم میں۔ باقی اہل حدیث اس پر ضد کرتے ہیں کہ ہم متفق علیہ حدیث کی مخالفت کریں گے تو ان میں سے کس کو سچا اہلحدیث سمجھیں؟

(17) اہل سنت والجماعت کا متواتر عمل یہ آرہا ہے کہ وہ نماز میں ثناء ﴿سُبْحَانَكَ ‌اللَّهُمَّ۔۔۔﴾ پڑھتے ہیں، جب کہ بخاری و مسلم میں میں﴿اللَّهُمَّ ‌بَاعِدْ ‌بَيْنِي۔۔۔﴾ کی کوئی مرفوع حدیث نہیں، وہاں ﴿﴾ ہے۔[بخاری:744، مسلم:598]
تو﴿سُبْحَانَكَ ‌اللَّهُمَّ۔۔۔﴾پڑھنے والوں کی بوجہ مخالفت متفق علیہ حدیث کے باطل ہوگی یا نہیں؟؟؟

(18) بخاری[1927]، مسلم[1106] میں ہے کہ آپ ﷺ روزہ رکھ کر ہمیشہ بیوی سے مباشرت فرماتے۔ ایک اہلحدیث کہتا ہے آپ کا وزن دگی بھر میں ایک روزہ بھی (ایسا) ثابت نہیں کہ گھر میں روزہ رکھا ہو اور بیوی سے مباشرت نہ کی ہو۔ جو شخص بھی روزہ رکھتا ہے اور بیوی سے مباشرت نہیں کرتا میاں بیوی دونوں کا روزہ خلافِ سنت ہے۔

(19) بخاری[297] مسلم[301] پر ہے کہ آنحضرت ﷺ ہمیشہ حائضہ بیوی کی گود میں ٹیک لگا کر قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے حائضہ کی گود میں ٹیک لگا کر قرآن پاک کی تلاوت کرنا تو سنت سے ثابت ہے۔ جو اہل حدیث مسجد کی چٹائی پر بیٹھ کر تلاوت کرتے ہیں، یہ بخاری مسلم کی کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

(20) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ وضو کے بعد ہمیشہ کسی بیوی کا بوسہ لیتے، پھر نماز پڑھتے اور دوبارہ وضو نہ کرتے۔[ترمذي:86، نسائی:170، ابن ماجہ:502، احمد:25766] ایک اہلحدیث کا کہنا ہے کہ جس طرح وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا ترک کرنے سے وضو خلاف سنت ہے، ایسے ہی وضو کے بعد بیوی کا بوسہ لینے سے بھی وضو خلاف سنت ہوتا ہے،اور خلاف سنت وضو سے نماز بھی خلاف سنت ہے۔ جبکہ امت کا متواتر عمل ہر وضو میں کلی کرنے پر تو ہے مگر ہر وضو کے بعد بوسہ لینے پر نہیں ہے۔ تو یہاں متواتر عمل کا ساتھ دیا جائے گا۔ یہ خلاف تواتر حدیث کا؟

(21) تمام امت کی متواتر نماز میں یہ ہے کہ رکوع میں ﴿سُبْحَانَ ‌رَبِّي ‌الْعَظِيمَ﴾ پڑھتے ہیں، مگر یہ تسبیح "متفق علیہ" حدیث میں نہیں بلکہ اس کے خلاف یہ ہے: (سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي)[بخاري:794، مسلم:484]
تو کیا رکوع سجدے میں مذکورہ تسبیحات پڑھنے والوں کی نمازوں کو اس لیے باطل قرار دیا جائے گا کہ یہ "متفق علیہ" حدیث کے خلاف ہیں، یا عملی تواتر کا لحاظ کر کے ان کو سنت کہا جائے گا؟

بات دور نکل گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کا جس قدر قرآن تلاوۃً متواتر ہے، اسی طرح نماز اس سے بھی زیادہ عملاً متواتر ہے۔ اس متواتر قرآن کو جس طرح سندو کے ماتحت کرنا قرآن دشمنی ہے، کیونکہ ایک تو یقینی کو ظنی(غیریقینی) کر دیا، دوسرے تواتر سے ثابت کو بیس پسند کہہ کر اس کے ثبوت کا انکار ہے۔
اس ساری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ:
(1) اہل سنت والجماعت جو نماز پڑھتے ہیں وہ عمل قرآن پاک سے زیادہ متواتر ہے، اور غیر مقلد جو نماز پڑھتے ہیں وہ عملی تواتر کے خلاف ہے۔
(2) اہل سنت والجماعت کی نماز یقین الثبوت ہے مثلِ قرآن، اور غیر مقلدین کی نماز ظنی الثبوت ہے اور وہ ظنی بھی ایسا جو یقین سے ٹکرا رہا ہے۔
(3) اہل سنت والجماعت کی نماز کی مکمل ترکیب جس طرح روزمرہ ہر جگہ پڑھی جاتی ہے  عملی تواتر سے ثابت ہے، اور غیر مقلدین کی نماز کے روز مرہ پیش آنے والے مسائل اور مکمل ترکیب اخبار آحاد سے ظنی طور پر بھی ثابت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ غیر مقلد علماء اپنی مکمل نماز صرف قرآن و حدیث سے ثابت کرنے سے ایسے بھاگتے ہیں ہیں ﴿‌كَأَنَّهُمْ ‌حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ 0 فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ﴾  بیچارے اردو دان حضرات کو دھوکے میں ڈالتے ہیں کہ بخاری و مسلم کا اردو ترجمہ پڑھ لو مکمل نماز کا طریقہ میں جائے گا۔
ایک پروفیسر صاحب کو اسی دھوکے میں ڈالا، میں نے اس سے مکمل نماز کے بارے میں سوالات کیے، وہ ان کی احادیث نہ نکال سکا، آخر اس نے دھوکہ دینے والے اسکالر صاحب سے کہا کہ آپ نے پندرہ سال قرآن حدیث پڑھا اور پچاس سال سے پڑھا رہے ہیں، آپ ہی قرآن کی ہر آیت کی سند اور ترتیب اور اپنی نماز کے ہر مسئلے کا ثبوت اور ترتیب بخاری مسلم سے نکال دیں۔ اب تو اسکالر صاحب ایسے خاموش ہوئے جیسے: ﴿‌صُمٌّ ‌بُكْمٌ﴾ والی آیت ان کے لیے ہی نازل ہوئی ہو اور ﴿‌فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ﴾  کا منظر بن گیا۔ آخر اسے پروفیسر نے کہا کہ تم نے 65 سال قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا اور 65 سال کے مطالعے سے اپنی "ظنی" نماز کے مکمل مسائل جو روزمرہ عمل میں ہے نہ ثابت کر سکے تو ہم لوگوں کو کس چکر میں ڈال دیا ہے کہ متواتر کو چھوڑ کر زمین نماز پڑھیں اور کامل کو چھوڑ کر ناقص کی طرف آئیں، ثابت کی بجائے غیرثابت پڑھیں۔










٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
[مندرجہ مضمون الزامی جواب ہے، یعنی معترض کا اعتراض رفع کرنے کی بجائے ویسا ہی اعتراض اُس پر وارد کر دینا جیسا کہ اس نے کیا ہے.]

غیر مقلدین سے سند کی تحقیق کے بارے میں سوالات:
یہ چند علمی سوالات ہیں، ان کے جوابات صرف قرآن پاک یا صحیح حدیث سے عنایت فرمائیں؟
(1) امام مسلم [صیح مسلم:27] پر امام ابن سیرین(م110ھ) سے نقل فرماتے ہیں:
پہلے زمانے میں کوئی حدیث بیان کرتا تو اس سے سند نہ پوچھتے۔ پھر جب فتنہ پھیلا (یعنی گمراہی شروع ہوئی اور بدعتیں روافض اور خوارج اور مرجیہ اور قدریہ کی شائع ہوئیں) تو لوگوں نے کہا: اپنی اپنی سند بیان کرو۔ پھر دیکھا جائے گا اگر روایت کرنے والے اہل سنت ہیں تو قبول کی جائے گی روایت ان کی اور جو بدعتی ہیں تو نہ قبول کریں گے روایت ان کی۔
اور امام عبداللہ بن مبارک (م181ھ) کا فرمان نقل فرماتے ہیں:
اسناد، دین میں داخل ہے اور اگر اسناد نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا کہہ ڈالتا (اور اپنی بات چلا دیتا)۔
سوال یہ ہے کہ جب پہلی صدی میں سند دین نہیں تھی تو دوسری صدی میں کس وہیں سے اسے دین قرار دیا گیا، کیا پہلی صدی کے لوگ معاذ اللہ بے دین ہی تھے؟؟؟

(2) سند کی تحقیق فرض ہے یا سنت یا واجب یا مستحب، صرف ایک صریح آیت یا صحیح صریح حدیث پیش فرمائیں، جس سے سند کے مطالب و تحقیق کا فرض ہونا ثابت ہو۔ اور یہ بھی فرمائیں کہ پہلی صدی والے مسلمان اس آیت یا حدیث کو کیوں نہیں مانتے تھے؟
ابن سیرین اور ابن مبارک نے بھی کوئی آیت یا حدیث پیش نہیں کی، محض قیاسی وجہ بیان کی ہے۔

(3) خیر القرون والوں نے اپنے قیاس سے یہ اصول بنایا کہ اہل بدعت سے حدیث نہ لی جائے، مگر بعد والوں نے خصوصا صحاح ستہ والوں نے اس اصول کو نہیں مانا، مثلاً: امام بخاریؒ مندرجہ ذیل راویوں سے حدیث لاتے ہیں:
(1) عمر بن ذر الهمداني جو مرجئہ کے سردار تھے۔
[تهذيب التهذيب: ج7/ ص444-445، الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند]
(2) ابومعاویہ بھی خبیث مرجئہ کے رئیس تھے۔
[تهذيب التهذيب:6/ 139]
(3) عبد العزیز بن ابی رواد والی مرجئہ سے تھے۔
[تهذيب التهذيب:6/ 339]
(4) اسحاق بن سوید، حضرت علی کا سخت دشمن تھا۔
[تهذيب التهذيب:1/ 236]
(5) حریز بن عثمان، صبح و شام حضرت علی پر ستر ستر مرتبہ لعنت بھیجتا تھا اور اپنے مذہب کا داعی تھا۔
[تهذيب التهذيب:2/ 240]
(6) جریر بن عبدالحمید حضرت معاویہ کو اعلانیہ گالیاں دیتا تھا۔
[تهذيب التهذيب:2/ 77]
(7) بہز بن اسد، حضرت عثمان کا مخالف بدمذہب تھا۔
[تهذيب التهذيب:1/ 498]
(8) واحد بن یعقوب غالی شیعہ تھا، حضرت عثمان کو گالیاں دیتا تھا۔
[تهذيب التهذيب:5/ 109]
(9) عوف بن ابی جمیلہ قادری رافضی شیطان تھا۔
[تهذيب التهذيب:8/ 167]
(10) عبد الملک بن اعین، ذراہ اور حمران تینوں بھائی رافضی تھے اور ان میں بڑا خبیث کال والا عبدالملک ہی تھا۔
[تهذيب التهذيب:6/ 385-386]
یہ دس راوی بطور مثال لکھے ہیں،ورنہ بخاری مسلم میں ایسے راوی بہت ہیں۔

(4) خیرالقرون کے خلاف جس طرح امام بخاری نے بہت سے اہل بدعت کی حدیث لی ہے، خیرالقرون کا اصول تھا کہ اہل سنت سے حدیث لی جائے مگر امام بخاری نے بہت سے اہل سنت بلکہ ائمہ اہل سنت سے حدیث نہیں لی۔

(5) جب اسناد دین ہے اور تو تعلیقاتِ بخاری جن کی اسانید محدثین کو نہیں ملی یا ترمذی کے فی الباب کی بعض سندیں نہیں ملیں، اس بارے میں امام بخاری اور امام مسلم کو بے دین کہا جائے گا؟ یا بعد والے سب محدثین کو کم علم کہا جائے گا؟

(6) آجکل جو لوگ اپنی تقریر یا تحریر میں احادیث پیش کرتے ہیں وہ نہ سند بیان کرتے ہیں نا رواۃ کی توثیق(Authentication) بیان کرتے ہیں، ایسی کتاب لکھنے والے یا ایسی تقریر کرنے والے اور ان کے پڑھنے سننے والے سب بے دین ہیں یا نہیں؟؟؟

(7) تقريب التهذيب، تهذيب التهذيب، خلاصہ، طبقات الحفاظ، ميزان الاعتدال وغیرہ کتب کتبِ اسماء الرجال جن پر آج کل تنفیذِ حدیث کا مدار ہے، یہ سب بھی سند اقوال کا مجموعہ ہیں، اور اکثر جرحیں بے دلیل (بلا معقول وجہ) بھی ہیں، ان کے لکھنے یا پڑھنے والوں کے دین کے بارے میں کیا حکم ہے؟ مثلاً: آٹھویں صدی کا ایک آدمی بغیر سند کے دوسری صدی کے آدمی کا قول نقل کرتا ہے۔

(8) جب پہلی صدی کے اصول حدیث (کہ سند کا مطالبہ ضروری نہیں) دوسری صدی والوں نے نہیں مانا (کہ سند کو دین قرار دے دیا) اور دوسری صدی والے اصول حدیث کہ اہل سنت کی حدیث قبول اور اہل بدعت کی حدیث مردود ہے کو صحاح ستہ والوں نے نہیں مانا نا کہ بہت سے اہل بدعت کی احادیث لے لیں اور بہت سے امام اہلسنت کی احادیث رد کر دیں تو بعد والوں کا بنایا ہوا اصول حدیث جو آج رائج ہے اس کا ماننا کس آیت یا حدیث صحیح کی بنا پر ضروری ہے اور پہلے لوگ اس آیت وحدیث پر عمل سے کیوں محروم رہے؟؟؟

(9) ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ (اسناد دین میں سے ہے)، دوسری طرف محدثین یہ بھی فرماتے ہیں کہ صحت سند، صحت متن کو مستلزم نہیں۔ کیا یہ صحیح احادیث کے انکار کا چور دروازہ تو نہیں؟؟؟

(10) محدثین یہ بھی فرماتے ہیں کہ حدیث کی سند صحیح نہ ہو، لیکن امت میں تلقی بالقبول حاصل ہو تو وہ حدیث بھی صحیح ہے۔
[تدریب الراوی:1/ 66، التمهيد - ابن عبد البر:10/ 251، 16/ 218 ، مقدمة ابن الصلاح:80]
اب سند کی کیا حیثیت رہی؟

(11) تهذيب التهذيب میں صحاح ستہ کے رواۃ کا ذکر ہے جن کی تعداد تقریباً ساڑھے بارہ ہزار ہے، اور "میزان الاعتدال" ضعیف راویوں کے لیے مرتب کی گئی ہے جس میں تعداد تقریبا گیارہ ہزار ہے، گویا صحاح ستہ کے رواۃ کا اگر یہ حال ہے تو باقی کتب حدیث کا کیا حال ہوگا، اور سند کی تحقیق اور تنقید میں اولیت راوی کو ہی حاصل ہے؟ باقی سند کے عیوب الگ رہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

غیر مقلدین(نام نہاد اہل حدیث) سے چند سوالات

غیر مقلدین سے چند سوالات
سوال1۔ کیا قرآن پاک میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل موجود ہے؟
(نوٹ) بالتفصیل سے مراد شرائط، ارکان، واجبات، سنن موکدہ، مستحبات، مباحات، مکروہات اور مفسدات ہیں، ان میں ہر ایک کی تعداد، ہر ایک کی تعریف،ہر ایک کے عمد اور سہوا چھوٹ جانے کا حکم صرحة موجود ہونا ہے۔
سوال2۔کیا بخاری شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال3۔کیا مسلم شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال4۔کیاسنن نسائی میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال5۔ کیا جامع ترمذی میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال6۔ کیا سنن ابی داؤد میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
سوال7۔ کیا سنن ابن ماجہ میں نماز پڑھنے کا طریقہ بالتفصیل و بالترتیب موجود ہے؟
(نوٹ) جب صحاح ستہ میں سے کسی ایک کتاب میں بھی نماز کے مکمل مسائل بالتفصیل وبالترتیب موجود نہیں تو یہ چھ6محدثین نماز کس طرح پڑھا کرتے تھے
سوال8۔ کیا کسی محدث نے نماز کی ایسی جامع کتاب مرتب فرمائی ہے جس میں نماز کا طریقہ مکمل بالتفصیل و بالترتیب ہو، اس میں ہر ہر مسئلہ صحیح، غیر معارض سے پیش فرمایا ہو۔ اور اس کتاب کی صحت پر کوئی آیت یا حدیث صریح دلیل ہو؟
سوال9۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زیر نگرانی کوئی ایسی کتاب مرتب کروائی، جس میں نماز کا مکمل طریقہ بالتفصیل و بالترتیب درج ہو؟ اور وہ کتاب آج تک امت میں متداول ہو؟
سوال10۔ کیا خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں سے کسی خلیفہ راشد نے اپنی زیر نگرانی کوئی نماز کی ایسی جامع کتاب مرتب کروائی جس کو آج تک امت میں تلقی بالقبول کا شرف حاصل ہو؟
سوال11۔ اس امت میں سب سے پہلے کس نے نماز کو بالتفصیل و بالترتیب مرتب کروایا، جن کی مرتب نماز امت میں آج تک متداول ہے؟
(نوٹ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت میں فرائض کا حساب ہوگا، اور ان میں اگر کمی ہوگی تو نوافل سے پوری کی جائے گی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرائض اور سنتوں کا بیان فرمایا ہے۔
(نماز پڑھنے سے پہلے جو باتیں ضروری ہیں، ان کو ائمہ مجتہدین شرائط نماز کہتے ہیں، ائمہ اربعہ کی فقہ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ امت کا اجماع ہے کہ نماز کی کچھ شرائط ہیں)
سوال12۔ آپ یہ بتائیں کہ نماز کی شرائط قرآن کریم میں کتنی مذکور ہیں؟ اور کیا کیا ہیں؟
سوال13۔ آپ یہ بیان فرمادیں کہ نماز کے ارکان کون کون سے ہیں؟ اور رکن کی تعریف کیا ہے؟
سوال14۔آپ یہ بیان فرمادیں کہ نماز میں واجبات کتنے ہیں؟ نیز واجب کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟
سوال15۔ آپ یہ بیان فرمائیں کہ نماز میں کتنی چیزیں سنت موکدہ ہیں؟ اور سنت موکدہ کی تعریف بھی بیان فرمادیں؟
سوال16۔ آپ کے نزدیک نماز میں کتنے کام مستحب ہیں اور مستحب کی تعریف بھی بیان ہو؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال17۔ آپ کے نزدیک نماز میں کتنے کام مباح ہیں،اور مباح کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال18۔ آپ کے نزدیک کتنی چیزوں سے نماز مکروہ ہوتی ہے، اور مکروہ کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال19۔ آپ کے نزدیک نماز میں کتنی چیزوں نماز کو فاسد کردیتی ہیں؟ باطل اور فاسد کی تعریف بھی بیان فرمائیں؟ (قرآن، و صریح صریح غیر معارض حدیث سے)
سوال20۔ آپ کے یہاں فجر کے نماز کی کتنی رکعتیں ہیں؟سنت اور فرض کا لفظ صراحة حدیث میں ہو۔
سوال21۔ آپ کی یہاں ظہر کی کتنی رکعت ہیں؟ فرض ، سنت و نفل کا لفظ صراحة حدیث میں موجود ہو۔
سوال22۔ آپ کی یہاں عصر کی کتنی رکعت ہیں؟ سنت اور فرض کی صراحت حدیث میں ہو۔
سوال23۔ آپ کے یہاں مغرب کی کتنی رکعات ہیں؟ فرض و سنت کی تفصیل صراحة حدیث میں ہو۔
سوال24۔ آپ کے یہاں عشاءکی کتنی رکعت ہیں؟ فرض، سنت و نفل کی تفصیل صراحة حدیث میں موجود ہو۔
سوال25۔ آپ کے یہاں جو مجتہدین، محدثین، اور دیگر مسلمان نماز کی شرائط، ارکان، واجبات، سنن،مکروہات و مفسدات کے قائل ہیں، وہ مسلمان ہیں یا کافر؟
سوال26۔تکبیر تحریمہ فرض ہے یا واجب یا سنت یا مستحب؟ حکم صراحة آیت یا حدیث میں مذکور ہو۔
سوال27۔ آپ کے یہاں تکبیر تحریمہ امام کے لئے بلند آواز سے کہنا سنت ہے اور مقتدی کے لئے آہستہ آواز سے۔ یہ حدیث میں دکھائیں؟

Monday, 7 June 2021

روحِ شریعت»محافظینِ شریعت پر اعتماد

عقیدت کا عقیدہ:

کسی امتی پر اللہ کی طرف سے احکامِ شریعت نہیں اترتے اور جس آخری نبیؐ پر آخری شریعت اترچکی، ان سے صحابہ کرامؓ کے بعد کوئی بلاواسطہ اماموںؒ کے شریعت نہیں جان سکتا، اور جن مسلم اماموںؒ کے علم و سمجھ، عمل و صداقت پر امت مسلمہ متفق ہو، اس جماعت سے نہ نکلنا چاہیے.


القرآن:

۔۔۔۔(دکھا ہمیں ان لوگوں کا) راستہ جن پر تیرا انعام ہوا۔۔۔

[سورۃ الفاتحہ:7]

۔۔۔انعام کیا اللہ نے نبیوں، اور صدیقوں، اور شہیدوں، اور نیکوکاروں پر۔۔۔

[سورۃ النساء:69]

اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے (احکام کی) وضاحت کردے، اور جو (نیک) لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، تم کو ان کے طور طریقوں پر لے آئے، اور تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائے، اور اللہ ہر بات کا جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ہے۔

[سورۃ النساء:26]

اور (1)مہاجرین اور (2)انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور (3)جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

[سورۃ التوبہ:100]

اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی (1)رسول کی مخالفت کرے، اور (2)مومنوں کے "راستے" کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

[سورۃ النساء:115]


۔۔۔اور پیچھے چل اس کے راستہ پر جو رجوع کرے میری طرف۔۔۔

[سورۃ لقمان:15]

۔۔۔اور تم میں جو صاحبِ اختیار ہیں ان کی بھی (اطاعت کرو)....

[سورۃ النساء:59]

تفسیر:

صاحبِ اختیار سے مراد (1)نبی کے بعد خلیفہ یعنی ابوبکر (2)خلفاء راشدین (3)علمائے صحابہ (4)ملک/گھر/آفیس/ماتحتوں کے سربراہ وحکام



Tuesday, 18 May 2021

قنوتِ نازلہ کیا ہے

قنوت کا معنیٰ :
”قنوت“ کے کئی معانی آتے ہیں ، علّامہ ابن العربیؒ نے اس کے دس معانی ذکر کیے ہیں ۔
[مرعاۃ شرح مشکاۃ:4/299]
چند مشہور معانی یہ ہیں :
(1)طاعت : ﴿كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ﴾
[سورۃ البقرۃ:116]
(2)صلوۃ : ﴿يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ﴾۔
[سورۃ آلِ عمران:43]
(3)طولِ قیام: أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ۔
[صحیح مسلم:756]
(4)سکوت: ﴿قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾۔
(البقرۃ:238) أی:سَاكِتِينَ۔
[تفسیر جلالین]
(5)دعاء: جیسے : قنوت الوتر یعنی وتر کی دعاء۔ یہاں اِس باب میں ”قنوت“ کا یہی آخری معنی یعنی دعاء مراد ہے۔
[مرقاۃ شرح مشکاۃ:3/958]

[الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ : 34/56]

Monday, 22 March 2021

مساوات اور عدل میں فرق

بعض اوقات ”عدالت“ کا ”مساوات“ سے مغالطہ کیا جاتا ہے اور تصور کیا جاتا ہے کہ عدالت کے معنیٰ یہ ہیں کہ مساوات کی رعایت کی جائے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔


عدالت میں ہرگز مساوات شرط نہیں ہے بلکہ حق اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔


مثال کے طور پر ایک جماعت کے شاگردوں میں عدالت یہ نہیں ہے کہ سب کو مساوی نمبر دئے جائیں اور دو مزدوروں کے در میان یہ عدالت نہیں ہے کہ دونوں کو مساوی مزدوری دی جائے۔ بلکہ عدالت یہ ہے کہ ہر شاگرد کو اس کی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق نمبر دئے جائیں اور ہر مزدور کو اس کی محنت کے مطابق مزدوری دی جائے۔

اسی طرح مرد وعورت کی بناوٹ، صلاحیت وخوبیاں مختلف ہونے کے سبب حقوق برابر نہیں۔








Thursday, 11 March 2021

موضوع اور من گھڑت روایات اور انکارِ حدیث کا فتنہ

 مستشرقین اور منکرین حدیث کہتے ہیں کہ حدیث قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں نے حدیثیں گھڑ بھی لی تھیں، حالانکہ حدیثوں کا گھڑا جانا خود اِس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آغازِ اسلام میں بھی پُوری امّت رسول اللہ ﷺ کے اقوال و اعمال کو قانون کا درجہ دیتی تھی، ورنہ آخر گمراہی پھیلانے والوں کو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ جعل ساز لوگ وہی سکّے تو جعلی بناتے ہیں جن کا بازار میں چلن ہو۔ جن نوٹوں کی بازار میں کوئی قیمت نہ ہو ،انہیں کون بیوقوف جعلی طور پر چھاپے گا؟ مزید یہ بات کہ کچھ احادیث گھڑی گئی سب سے پہلے علمائے اسلام نے ہی بتائی ہے۔حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتنے کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔تمام بڑے بڑے محدثین نے علم پیغمبر کے گرد حفاظت کے پہرے دیئے اور ایسے حضرات بھی سامنے آئے ؛ جنہوں نے موضوع روایات کی نشاندہی میں مستقل کتب تصنیف فرمائی ہیں۔

یاد رہے کہ احادیثِ موضوعہ کا بیان کرنا بھی پہلے دن سے حرام ہے کیونکہ یہ حضورﷺ پر افتراء اور بہتان ہے۔حضورﷺ نے فرمایا:

«مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ ‌مَقْعَدَهُ ‌مِنَ ‌النَّارِ»

جس نے جان بوجھ کرمجھ پر بہتان باندھا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔

[صحيح البخاري، كتاب العلم، ‌‌بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، حدیث نمبر:108]






موضوع احادیث کے بارے میں اہم کتابیں:

(۱)موضوعات ابن جوزیؒ (۵۹۷ھ)

بے شک اس کتاب کواولیت کا شرف حاصل ہے؛ مگرچونکہ یہ اس فن کی پہلی محنت ہے؛ اس لیئے آپ سے اس میں کئی فروگذاشتیں ہوئی ہیں؛ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ آپ نے اس باب میں ایک بڑا علمی مواد فراہم کیاہے۔آپ نے بعض حدیثوں کوبھی موضوعات میں رکھ دیا تواس کی اصلاح کے لیئے امام سیوطیؒ (۹۱۱ھ) نے تعقبات علی الموضوعات تحریر فرمائی ہے، جولائقِ مطالعہ ہے۔


(۲)موضوعات حضرت شیخ حسن الصنعانی (۶۵۰ھ)

حضرت علامہ حسن صنعانی (لاہوریؒ) صاحب مشارق الانوار نقد حدیث میں بہت سخت تھے، ان کے سامنے ابنِ جوزیؒ کی موضوعات نشان راہ تھی، آپ نے اپنی طرف سے بھی اس باب میں گرانقدر معلومات مہیا کیئے ہیں، بعد کے آنے والے مؤلفین نے اس باب میں آپ کی کتاب سے بہت استفادہ کیا ہے۔


(۳)موضوعات المصابیح

حضرت شیخ سراج الدین عمر بن علی القروینی (۸۰۴ھ) کی تصنیف ہے اور بہت نایاب ہے۔


(۴)اللالی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ

یہ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ (۹۱۱ھ) کی تصنیف ہے، آپ نے اس کے علاوہ کتاب الذیل اور کتاب الوجیز بھی اس باب میں تحریر فرمائی ہیں، جوقابل مطالعہ ہیں۔


(۵)تذکرۃ الموضوعات اور قانون الموضوعات

تذکرۃ الموضوعات اور قانون الموضوعات کے مصنف حضرت علامہ محمدطاہر پٹنی صاحب مجمع البحار (۹۸۶ھ) لغت حدیث کے جلیل القدر امام تھے، آپ کی کتابیں تذکرۃ الموضوعات اور قانون الموضوعات جو ۲۲۹/صفحات اور ۸۰/صفحات پر مشتمل ہیں، اس باب کی بہت مفید کتابیں ہیں۔


(۶)موضوعات کبیر اور اللالی المصنوع فی الحدیث الموضوع

موضوعات کبیر محدث ِجلیل حضرت ملا علی قاریؒ (۱۰۱۴ھ) کی تالیف ہے، یہ اس باب میں بہت جامع اور مرکزی کتاب ہے، اللالی المصنوع اس کے بعد کے درجے میں ہے۔

اس کتاب کا اردو ترجمہ مفت ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے جائین:
https://besturdubooks.net/?s=%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9


(۷)الفوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ

یہ علامہ شوکانیؒ (۱۲۵۰ھ) کی تالیف ہے، اس میں آپ ابنِ جوزیؒ کی راہ پر چلے ہیں اور بہت سختی کی ہے، کئی ضعیف اور حسن حدیثیں بھی موضوع ٹھہرادی ہیں۔


(۸)الآثارالمرفوعہ فی الاحادیث الموضوعہ

یہ حضرت مولانا عبدالحیی لکھنویؒ (۱۴۰۷ھ) کی تالیف ہے۔

ان تمام کوششوں کے باوجود اہلِ باطل موضوع حدیثوں کی روایت سے رُکے نہیں وہ اس کی برابر اشاعت کرتے رہتے ہیں


چند موضوع روایات:

ہم یہاں فائدہ عام کے لیئے چند روایات بھی ذکر کرتے ہیں، جن کی کوئی سند نہیں، نہ صحیح، نہ حسن، نہ ضعیف، ان سے آپ اندازہ کرسکیں گے کہ حدیث کے باب میں کس قدر بے احتیاطی ہماری صفوں میں گھس آئی ہے۔

(۱)”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل”

ترجمہ:میری امت کے علماء ایسے ہیں جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء۔

ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:” بہر حال حدیث:علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل،جس کے متعلق حفاظ نے صراحت کی ہے جیسے زرکشی ، عسقلانی ،دمیری اور سیوطی نے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔

(مرقات شرح مشکوٰۃ طبع قدیم:۵/۵۶۴،مصر)


(2)”من تکلم بکلام الدنیا فی المسجد احبط اللہ اعمالہ اربعین سنۃ” جس نے مسجد میں دنیا کی کوئی بات کی اللہ اس کے چالیس سال کے اعمال ضائع کردیتا ہے، علامہ صنعانی (۶۵۰ھ) فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے ملاعلی قاریؒ فرماتے ہیں “وھو کذالک لانہ باطل منبی ومعنی”۔

(موضوعاتِ کبیر:۴۸، مطبوع:دہلی)


(3)”حدیث لانبی بعدی” کتنی مشہور متواتر اور واضح المعنی ہے مگر محمد بن سعید شامی نے اسے حضرت انس بن مالک کی روایت بناکر حضورﷺ کے نام پر یہ حدیث وضع کردی “اناخاتم النبین لانبی بعدی الا ان یشاء اللہ” میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں؛ مگریہ کہ جواللہ چاہے، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”فوضع ہذا الاستثناء لماکان یدعوالیہ من الالحاد والزندقۃ ویدعی النبوۃ”۔(فتح الملہم:۱/۶۵)


(4)”لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیّین ماوسعھما الااتباعی” حدیث میں صرف موسیٰ کا نام تھا (اگرموسیٰ زندہ ہوتے توانہیں بھی میری پیروی سے چارہ نہ ہوتا) حضرت عیسیٰ کوفوت شدہ ثابت کرنے کے لیے یہ نام بھی ساتھ بڑھادیا گیا، علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں اس کی سند کا کتبِ حدیث میں کہیں پتہ نہیں۔ (فوائد القرآن:۳۹۸، سورۂ مریم، پارہ:۱۶)


(5)”موتوا قبل ان تموتوا” کتنی مشہور روایت ہے ملاعلی قاری حافظ ابن حجر عسقلانی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ حدیث کہیں ثابت نہیں۔

(موضوعات:۷۵)


(6)حسن پرستوں نے اپنے ذوق کوتسکین دینے کے لیے یہ حدیث گھڑلی ہے “النظر الی الوجہ الجمیل عبادۃ” خوبصورت چہروں کو دیکھنا عبادت ہے۔حافظ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں: “ھٰذا کذب باطل علی رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لویروہ احد باسناد صحیح بل ھو من الموضوعات”۔ (موضوعات:۷۷)

اس طرح علماء نے بہت سی احادیث میں ایسے فقروں کی نشاندہی بھی کی ہے جو گھڑے ہوئے ہیں مثلا فرض نمازوں کے بعد جودعا مانگتے ہیں اس میں یہ الفاظ “والیک یرجع السلام حینا ربنا بالسلام” حدیث میں اضافہ کئے گئے ہیں معلوم نہیں کس نے یہ جملے حدیث میں ڈال دیئے ہیں، ملا علی قاری لکھتے ہیں “فلااصل لہ” (موضوعات:۸۹) اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔

حدیث اپنی جگہ موجود ہو اور کچھ الفاظ زیادہ کردیئے جائیں یہ روایت ان کی مثال ہے۔ بعض لوگوں نے الفاظ تبدیل کررکھے ہیں مثلا حدیث میں تھا”اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنوراللہ” (جامع صغیر:۱/۹) انہوں نے بدل کر “من نوراللہ” بنادیا(ملفوظات:۱/۱۰۸)

حضورﷺ کی خدمت میں ایک شخص پیتل کی انگوٹھی پہنے حاضرہوا آپ نے اسے کہا:”مَالِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ”۔ ترجمہ:میں تجھ میں بتوں کی ہوا کیا محسوس کررہا ہوں۔

(ابوداؤد، كِتَاب الْخَاتَمِ،بَاب مَاجَاءَ فِي خَاتَمِ الْحَدِيدِ،حدیث نمبر:۳۶۸۷، شاملہ، موقع الإاسلام)

اسے یوں بدلا “مَالِیْ اَرَفِیْ یَدک حلیۃ الاصنام” (ملفوظات:۳/۲) تیرے ہاتھ میں بتوں کا زیور کیوں دیکھ رہا ہوں۔


وضع حدیث کا کام صدیوں سے رکا ہوا تھا مرزا غلام احمد نے پھر سے اسے زندہ کیا اور لکھا احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ مسیح موعود صدی کے سرپر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا (ضمیمہ براہین احمد:۵/۱۸۸) آنحضرتؐ زندگی بھرچودھویں صدی کا لفظ اپنی زبان پر نہیں لائے نہ کبھی کہا کہ قیامت چودھویں صدی کے ختم پر آئے گی، مرزا غلام احمد نے خود ہی یہ بات تجویز کی اور خود ہی اس کی علامات پورا کرنے کے لیے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کردیا اور چودھویں صدی کی روایات گھڑی اور اسے حضور اکرمﷺ کے ذمہ لگادیا اور پھریہ روایات بھی گھڑی کہ مسیح موعود تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا:”بل ھو امامکم منکم”۔ (ازالہ اوہام:۱/۲۳)


“بَلْ ھُوَ” کے الفاظ کتبِ احادیث میں کہیں نہیں ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ خود گھڑے ہیں، معلوم ہوا اہلِ باطل وضع احادیث کا سلسلہ اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں، حدیث کے اصل الفاظ یہ تھے:”كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَانَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ”۔ ترجمہ: تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تم میں اتریں گے اور اس وقت تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔(مسلم،كِتَاب الْإِيمَانِ،بَاب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حدیث نمبر:۲۲۲، شاملہ، موقع الإاسلام)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیثیں وضع کرنے والے اعتراض کے تحت حدیثیں گھڑتے تھے اور باطل فرقوں کا یہ عام طریقہ رہا ہے۔



حدیث اورمستشرقین-چند بڑے اعتراضات کا جائزہ

1۔ذخیرہ احادیث میں موضوع روایات کی موجودگی :
احادیث کی کتابوں میں بعض موضوع روایات کے پائے جانے کی وجہ سے دوسری احادیث کی حیثیت مشکوک ہے ۔
چنانچہ آرتھر جیفری (Arthur Jeffery)اپنی کتاب “Islam, Muhammad and his religion”میں لکھتاہے :
“”تاہم پیغمبر(ﷺ)کے انتقال کے بعد، ان کے پیروکاروں کی بڑھتی ہوئی جماعت نے محسوس کیا کہ مذہبی اور معاشرتی زندگی میں بے شمار ایسے مسائل ابھر رہے ہیں جن کے متعلق قرآن میں کوئی رہنمائی موجود نہیں ،لہٰذا یسے مسائل کے متعلق راہنمائی حدیث میں تلاش کی گئی۔ احادیث سے مراد وہ چیزیں جو پیغمبر (ﷺ)نے اپنی زبان سے کہیں یا آپ ان پر عمل پیرا ہوئے یا وہ چیزیں جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ پیغمبر (ﷺ)کے اقوال یا افعال ہیں ۔صحیح ،جزوی طور پر صحیح اور اور جعلی احادیث کا بہت بڑا ذخیرہ حدیث کی کتابوں میں جمع کردیا گیا ۔” Muhammad and his religion”Page12)
آتھرجیفری نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ صحیح اور جزوی طور پر صحیح احادیث بھی تھیں لیکن جعلی احادیث بھی وضع کی گئیں تھیں مسلمانوں نے صحیح احادیث کے ساتھ من گھڑت احادیث کو بھی کتابوں میں درج کردیا جس سے دوسری صحیح حدیثوں کی حیثیت مشکوک ہوگئی۔
مستشرقین کا یہ اعتراض انتہائی کمزور اور سطحی درجہ کا ہے احادیث کی کتابوں میں موضوع احادیث کی موجودگی کوئی ایسی بات نہیں جس کے انکشاف کا سہرا مستشرقین کے سر پر ہو، بلکہ مسلمان ہر زمانے میں اس قسم کی حدیثوں سے آگاہ رہےہیں اور علماء نے اپنے دینی بھائیوں کو ہمیشہ ایسی احادیث سے آگاہ اور خبردار کیا ہے۔
چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے “اللآلی المصنوعہ فی الا حادیث الموضوعۃ”کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں تمام مو ضوع احادیث کو جمع کیا اور اسی طرح حافظ ابو الحسن بن عراق نے”تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃالموضوعۃ “کتاب لکھی جس میں موضوع روایات کا ذکر ہے تاکہ مسلمان موضوع احادیث سے ہوشیار رہیں۔جب مسلم علماء کا حدیث کے ساتھ اس قدر اسشتغال ہے کہ وہ موضوع اور صحیح، ضعیف اور سقیم حدیث میں تمیز کرسکتے ہیں اور انہوں نے ایسے قوانین اور اصول مرتب کیے جن کی روشنی میں احادیث صحیحہ کو پرکھا جاسکتا ہے۔تو موضوع روایات کے پائے جانے کی وجہ سے احادیث صحیحہ کی حیثیت کیسے مشکوک ہوگئی ؟
صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، نسائی شریف میں کوئی حدیث موضوع نہیں اور ابن ماجہ میں گو چند ایک موضوع احادیث ہیں لیکن محدثین ان کی بھی نشاندہی کی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین کو ایسی احادیث کے موضوع ہونے کا علم ہی مسلمانوں کی خوشہ چینی سے ہوا ہے وگر نہ جو قوم بائبل کے ہر رطب ویابس کے کلام اللہ ہونے پر یقین رکھتی ہو اسے کیا خبر کہ صحیح حدیث کونسی ہے اور موضوع کونسی؟


2۔تدوین حدیث :
سرولیم میور اور گولڈ زیہر کا دعویٰ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حدیثیں لکھنے کا کام آپ کی وفات کے نوے برس بعد شروع ہوا، اور بعد میں آنے والے مستشرقین اورمنکرین حدیث نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر کہہ دیا کہ احادیث کی تدوین تیسری صدی ہجری میں ہوئی ہے اس لیے حدیث کو دین اسلام کا مصدر قرار دینا صحیح نہیں اور اس پر اعتماد بھی نہیں کیا جاسکتا؟(نظریہ عامۃ فی تاریخ الفقہ لعلی حسن عبدالقادر: ۱۲۶)
مستشرقین کا یہ اعتراض زبردست مغالطے پر مبنی ہے اس لیے کہ حدیث کی حفاظت کا طریقہ محض کتابت نہیں ہے بلکہ دورنبوی ﷺ میں مختلف طریقے اختیار کیے گئے ہیں۔
۱)بذریعہ یادداشت :
عربوں کو غیر معمولی یادداشت اور قوت حافظہ عطا کی گئی تھی ان کو اپنی شاعری کے سینکڑوں اشعار یاد ہوتے تھے، وہ نہ صرف اپنے سلسلہ نسب کو یاد رکھتے تھے بلکہ اکثر لوگوں کو تو اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کے نسب تک یاد ہوتے تھے۔صحیح بخاری شریف میں حضرت جعفر بن عمر و الضمری بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ حضرت وحشی سے ملنے “حمص” گیا ،عبیداللہ نے پوچھا کہ آپ مجھے پہچانتے ہیں؟
تو حضرت وحشیؓ نے جواب دیا کہ آج سے کئی سال پہلے ایک دن عدی بن خیار کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا تھا اورمیں اس بچے کو چادر میں لپیٹ کر مُرضَعہ کے پاس لے گیا تھا بچہ کا سارا جسم ڈھکا ہوا تھا میں نے صرف پاؤں دیکھے تھے، تمہارے پاؤں اس کے پاؤں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں (درس ترمذی جلد اول صفحہ۳۵، مفتی تقی عثمانی صاحب)
غور کرنے کی بات ہے کہ جو قوم اتنی معمولی باتوں کو اتنے وثوق سے یاد رکھتی ہے وہ آنحضرت ﷺ کے اقوا ل وافعال یاد رکھنے کا کتنا اہتمام کرے گی جبکہ وہ انہیں اپنے لیے راہ نجات سمجھتے ہوں اور اس ارشاد عالی کو بھی سن رکھا ہو ۔
” نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّی يُبَلِّغَهُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَی مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ “(ابو داؤد شریف ،کتاب العلم )
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے حدیث سنی اور سے یاد کیا یہاں تک کہ اسے آگے دوسروں تک پہنچایا پس بہت سے فقہ کے حامل ایسے ہیں جو اس کو زیادہ فقیہ لوگوں تک پہنچا دیں گے اور بہت سے فقہی مسائل کے واقف ایسے ہیں جو خود فقیہ نہیں ہیں۔”چنانچہ صحابہ کرامؓ احادیث زبانی یاد کرنے کے عادی تھے۔
سیدنا حضرت ابو ہریرۃ ؓ جو رسول اکرم ﷺ کے ممتاز صحابی ہیں اور پانچ ہزارتین سو چوہتر(5374(احادیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں:۔”میں نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے ایک تہائی رات میں نماز پڑھتا ہوں، ایک تہائی میں سوتا ہوں،اور باقی ایک تہائی رات میں رسول اکرم ﷺ کی احادیث یاد کرتا ہوں ۔” (حجیت حدیث صفحہ ۱۱۱،از شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب)

۲)مذاکرے :
حفاظت حدیث کا دوسرامصدر وماخذ اور طریقہ صحابہ کرام ؓ کے باہمی مذاکرے تھے انہیں جب بھی کسی سنت کے بارے میں علم ہوتا تو وہ اسے بیان کرکے دوسروں تک پہنچاتے اور یہ طریقہ کار درحققیت حضور اکرم کے حکم کی تعمیل پر مبنی تھا۔
ارشادنبوی ﷺ ہے ” فَلْيبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ”جو لوگ حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔(بخاری شریف ،کتاب المناسک )
چونکہ اصحاب رسول ﷺ کی نظروں میں علم حدیث کی بہت اہمیت تھی اس لیے ان کا مشغلہ یہی تھا کہ جب کبھی وہ باہم یکجا ہوتے تو آپ ﷺ کے ارشادات کا تذکر ہ کرتے ان مسلسل اور متواتر مذاکروں نے سنت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیااور جو احادیث مبارکہ چند افراد تک محدود تھیں وہ دوسروں تک پہنچ گئیں۔

۳)تعامل :
سنت کی حفاظت کا تیسرا راستہ یہ تھا کہ اس پر عمل کیا جائے، صحابہ کرام ؓ جو کچھ آپ ﷺ سے حاصل کیا اسے عملی طور اپنے جاری کیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی سنت کو بھول جاتے جبکہ انہوں نے اپنی زندگیوں کی عمارت اسی بنیاد پر استوار کی تھی۔

۴)کتابت :
حدیث مبارکہ کی حفاظت کا چوتھا طریقہ ” کتابت “ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور مبارک میں شروع ہوچکا تھا مستشرقین کا یا منکرین حدیث یہ کہنا کہ احادیث تیسری صدی ہجری میں یا اڑھائی سو سال بعد لکھی گئیں یہ تاریخی حقائق کو جھٹلانے والی بات ہے جو محض ہٹ دھرمی اور تعصب پر مبنی ہے۔تاریخی طور پر کتابت حدیث کو چار مراحل پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
ا۔متفرق طور پر احادیث جمع کرنا ۔
ب۔کسی شخصی صحیفہ میں احادیث کو جمع کرنا جس کی حیثیت ذاتی یادداشت کی ہو۔
ج۔احادیث کو کتابی صورت میں بغیر تبویب (ابو اب بندی )کے جمع کرنا ۔
د۔احادیث کو کتابی صورت میں تبویب کے ساتھ جمع کرنا۔
عہد رسالت ﷺ اور عہد صحابہ ؓ میں کتابت کی پہلی دوقسمیں اچھی طرح رائج ہوچکیں تھیں۔ (حجیت حدیث صفحہ۱۰۹تا ۱۲۴)
حضوراکرم ﷺ کا احادیث لکھوانا ،صحابہؓ کا احادیث کو لکھنا اور ان کی حفاظت کے لیے زبردست کوششیں کرنا ،اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک احادیث کی حفاظت انتہائی اہم ذمہ داری تھی اور وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔
عہد تابعین میں کتابت وتدوین حدیث
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ،اسلامی سرحدیں دنیا کے طول وعرض میں پھیلنے لگیں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی ،صحابہ کرامؓ ایک ایک کر کے اس دنیا سے رخصت ہوتے گئے ان حالات میں حضرت عمربن عبدالعزیز ؓ نے سرکاری سطح پر احادیث طیبہ کی تدوین کے لیے اقدامات کیے اور یہ 100؁ کی بات ہے لیکن حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کی اس کوشش اور حکم سے پہلے بھی عہد تابعین میں احادیث کی تدوین کے آثار ملتے ہیں ۔اس سلسلے میں صحیفہ ہمام بن منبہؒ نمایاں ہے جس میں حضرت ابو ہریرہؓ کے جلیل القدر شاگرد حضرت ہمام بن منبہؒ نے اپنے استاد محترم سے حاصل کردہ روایات کو جمع کیا اور اس کا نام “الصحیفہ الصحیحہ”رکھا ۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی مسند میں اس صحیفہ کو بتما مہا نقل کردیا ہے ۔حسن اتفاق سے چند سال پہلے اس صحیفہ کااصل مخطوطہ دریافت ہوگیا ہے اس کا ایک نسخہ جرمنی میں برلن کے کتب خانہ میں موجود ہے اور دوسرا نسخہ دمشق کے کتب خانہ “مجمع علمی “میں ،سیرت اور تاریخ کے مشہور محقق ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے ان دونوں نسخوں سے مقابلہ کرکے یہ صحیفہ شائع کردیا ہے اس میں ایک سے اڑتیس احادیث ہیں ،اور جب مسند احمد سے اس کا مقابلہ کیا گیا تو کہیں ایک حرف یا ایک نقطہ میں بھی فرق نہیں تھا ۔ (درس ترمذی جلد اول صفحہ ۴۲)

خلاصہ کلام :
حضوراکر مﷺ کے دور مبارک میں ہی احادیث کو لکھا جانے لگا تھا لیکن وہ احادیث کسی ترتیب سے نہیں تھیں جس نے جو سنا اس کونقل کرلیا ، بعدمیں جیسے جیسے علم حدیث کے ساتھ اہل علم کا اشتغال بڑھتا گیا تو مختلف اعتبار سے علم حدیث پرکتب لکھی جانے لگیں کسی نے فقہی نقطہ نظر سے اپنی کتاب کو تالیف کیا اور کسی نے “عقائد “اور “ایمانیات”سے آغاز کیا ۔”طہارت “سے متعلقہ احادیث کو “کتاب الطہارت”میں اور “نماز “سے متعلقہ احادیث کو “کتاب الصلوۃ”میں اور زکوۃ کی احادیث کو “کتا ب الزکوۃ”میں علی ہذالقیاس اس طرح باقی احکامات کو ابواب بندی کرکے درج کیا ۔




3۔ حضور ﷺ کا احادیث لکھنے سے منع کرنا :
حضوراکر م ﷺ کا کتابت حدیث سے منع کرنا ” قَالَ لَا تَکْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ کَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ “(مسلم شریف جلد دوم صفحہ۴۱۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے کوئی بات نہ لکھو اور جس آدمی نے قرآن مجید کے علاوہ مجھ سے کچھ سن کر لکھا ہے تو وہ اس مٹا دے اور مجھ سے سنی ہوئی احادیث بیان کرو اس میں کوئی گناہ نہیں اور جس آدمی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
اس بات کی دلیل ہے کہ احادیث حجت نہیں،تو پھر حدیثوں کی کیا اہمیت اور ان پر اعتماد کیسا ؟
مستشرقین کی خدمت میں گزارش ہے کہ جب ان کا دعویٰ یہ ہے کہ احادیث قابل اعتماد اور لائق حجت نہیں تو پھر اپنے موقف کی تائید میں حدیث کو پیش کرکے استدلال کرنا کیسے صحیح ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین اسلام کی دشمنی میں اس قدر سچا ئی اور حق سے دور جاچکے ہیں کہ اسلام میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لیے ایک بات پر نکتہ اعتراض اٹھارہے ہوتے ہیں تو دوسرے مقام پر اسی رد کی ہوئی بات سے دلیل پکڑ رہے ہوتے ہیں قطع نظر اس بات سے اس عمل سے ان کے اپنے اقوال میں تضاد واقع ہورہا ہے۔
کتابت حدیث کی ممانعت اس زمانےکی بات ہے جب تک قرآن کریم کسی ایک نسخہ میں مدون نہیں ہوا تھا بلکہ متفرق طور پر صحابہ کے پاس لکھا ہوا تھا دوسری طرف صحابہ کرام بھی ابھی تک اسلوب قرآن سے اتنے مانوس نہ تھے کہ وہ قرآن اور غیر قرآن میں پہلی نظر تمیز کرسکیں، ان حالات میں اگر احادیث بھی لکھی جائیں تو خطرہ تھا کہ وہ قرآن کے ساتھ گڈ مڈ ہوجائیں اس خطرہ کے پیش نظر آپ ﷺ نے کتابت حدیث سے ممانعت فرما دی لیکن جب صحابہ کرام اسلوب قرآن سے اچھی طرح واقف ہوگئے تو آپ ﷺ نے کتابت حدیث کی اجازت دیدی جس کے متعدد واقعات کتب حدیث میں منقول ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک صحابیؓ نے شکایت کی کہ وہ بسا اوقات احادیث کو بھول جاتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا”اسْتَعِنْ بِيَمِينِکَ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ لِلْخَطِّ ”
(ترمذی شریف صفحہ۱۰۷جلد ۲)اپنے داہنے ہاتھ سے مدد لو اور (یہ فرماکر )آپ نے اپنے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ فرمایا ۔
“عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو باتیں سنا کرتا تھا انہیں لکھا کرتا تھا یاد کرنے لیے۔ لیکن مجھے قریش نے منع کیا اور کہنے لگے کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات کو جو سنتے ہو لکھ لیا کرتے ہو حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر ہیں (اور بشری تقاضا کی وجہ سے آپ کو غصہ بھی آتا ہے، خوشی کی حالت بھی ہوتی ہے) اور آپ کبھی غصہ میں اور کبھی خوشی کی حالت میں گفتگو کرتے ہیں لہٰذا میں نے کتابت سے ہاتھ روک لیا اور اس کا تذکرہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا، حضور نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ لکھا کرو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس منہ سے سوائے حق بات کے اور کچھ نہیں نکلتی۔”) ابو داؤدشریف جلددوم صفحہ ۵۱۳)
فتح مکہ کے موقع پر (8-ھ) حضوراکرم ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انسانی حقوق پر مشتمل کئی احکام شریعت تھے، ایک یمنی شخص نے جس کا نام “ابو شاہ “تھا اس نے حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ یہ خطبہ اسے تحریری صورت میں مہیا کیا جائے جس پر آپ ﷺ نے فرمایا “اکْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ” ابو شاہ کے لیے تحریر کرو ۔ (صحیح بخاری ،کتاب العلم صفحہ ۲۲)
یہ چند مثالیں اس بات کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ عہد رسالت ﷺ اور عہد صحابہ میں کتابت حدیث کا طریقہ خوب اچھی طرح رائج ہوچکا تھا لیکن یہ کوششیں سب انفرادی تھیں اور کتابت حدیث سے ممانعت اک مخصوص وقت میں تھی ۔
امام نوویؒ (شارح صحیح مسلم )نے منع کتابت حدیث کی ایک اور توجیہ ذکر کی ہے کہ علی الاطلاق کتابت کسی بھی زمانہ میں ممنوع نہیں ہوئی ،بلکہ بعض حضرات صحابہ ایسے کرتے تھے کہ آیات قرآنی لکھنے کے ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ کی بیان فرمودہ تشریح وتفسیر بھی اسی جگہ لکھ لیا کرتے تھے۔
یہ صورت بڑی خطرناک تھی، کیونکہ اس سے آیات قرآنی کے التباس کا قوی اندیشہ تھا اس لیے صرف اس صورت کی ممانعت کی گئی تھی ،قرآن سے الگ احادیث لکھنے کی کوئی ممانعت نہیں تھی( درس ترمذی جلداول صفحہ ۳۷)




4۔سند گھڑنے کے اعتراضات:
منٹگمری واٹ احادیث طیبہ کی اسناد کے متعلق اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمان اپنی بات کو حضوراکرم (ﷺ) کی طرف منسوب کرنے کے لیے اسناد کو گھڑا کرتے تھے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے ” “احادیث کی مکمل اسناد بیان کرنے کو “الشافعی “کی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیا جاسکتاہے جو تقریباالواقدی کےہم عصر تھے ۔جب احادیث کی مکمل اسناد بیان کرنے کا رواج ہوگیا تو لازما علماء کی یہ خواہش ہوتی ہوگی کہ وہ اپنی اسناد کو حضرت محمد (ﷺ)کے صحابہ تک پہنچائیں ۔خواہ انہیں اپنی اسناد میں اضافہ کرنا پڑے ،تاہم اس قسم کے اضافوں کو بھی قابل اعتبار سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ غالباً وہ عام طور پر جانتے تھے کہ ان کے پیش روؤں نے یہ معلومات کہاں سے حاصل کیں،اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم جس طرح اسناد کی آخری کڑیوں پر اعتبار کرسکتے ہیں اس طرح ان کی ابتدائی کڑیوں پر اعتبار نہیں کرسکتے ۔”(Muhammad at madina oxford university Press Karachi Page 388 pub year1981)
منگمری واٹ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہاہے کہ مسلمان احادیث کی سند کو گھڑا کرتے تھے بظاہر وہ یہ نہیں کہہ رہاکہ وہ احادیث کو گھڑا کرتے تھے اس لیے کہ جب اسناد مشکوک ہوجائیں گی تو احادیث طیبہ خود بخود اپنا اعتماد واعتبار کھو بیٹھیں گی ۔منٹگمری واٹ کا یہ اعتراض یا تو مسلمانوں کے اصول حدیث کے فن سے اس کی کلیۃ جہالت کا نتیجہ ہے اور یا پھر احادیث طیبہ کے قصر رفیع کی بنیادوں پر عمدا کلہاڑا چلانے کی بہت بڑی سازش ہے۔
روایت حدیث میں کڑی احتیاط کی خاطر محدثین کرام نے سند کی پابندی اپنے اوپر لگائی جو اسی امت کی خصوصیت ہے۔ تاکہ کسی دشمن اسلام کو دخل اندازی کا موقعہ نہ مل سکے ۔محدثین “اسناد “کی جانچ پڑتال کرتے تھے نہ کہ گھڑتے تھے۔
سند کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی حدیث بیان کرے، پہلے وہ یہ بتائے کہ اس کو یہ حدیث کس نے سنائی ہے؟ اور اس سنانے والے نے کس سے سنی ہے؟ اسی طرح جتنے راویوں کا واسطہ اس حدیث کی روایت میں آیا ہے، ان سب کے نام بہ ترتیب بیان کر کے اس صحابی کا نام بتائے جس نے یہ حدیث حضور اکرم ﷺ سے خود سن کر روایت کی ہے، چنانچہ آج حدیث نبوی ﷺ کے جو عظیم الشان مجموعے مشہور ومعروف کتب حدیث کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ اور پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، ان میں ہر ہر حدیث کے ساتھ اس کی سند بھی محفوظ چلی آرہی ہے، جس کی بدولت آج ہر حدیث کے بارے میں نام بہ نام یہ بتایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ہم تک یہ حدیث کن کن اشخاص کے واسطے سے پہنچی ہے۔
کسی حدیث کی سند میں اگر درمیان کے کسی راوی کا نام چھوڑ دیا جائے تو محدثین ایسی سند کو “منقطع “کہہ کر ناقابل اعتماد قرار دیتے ہیں، اوراگر نام تو سب راویوں کے بیان کردے جائیں، مگر ان میں کوئی راوی ایسا آجائے جو ثقہ، اور متقی وپرہیزگار نہ ہو، یا اس کاحافظہ کمزور ہو یا وہ ایسا غیر معروف شخص ہو جس کے تقویٰ اور حافظے کے متعلق کچھ معلوم نہ ہو، تو ایسی تمام صورتوں میں محدثین، اس سند پر اعتماد نہیں کرتے، اور جب تک وہ حدیث کسی اور قابل اعتماد سند سے ثابت نہ ہوجائے اسے قابل استدلال نہیں سمجھتے۔ اور یہ ساری تفاصیل جاننے کے لیے “اسماء الرجال “کا فن ایجاد کیا گیا جسمیں راوی کے تمام ضروری حالات مثلاً، پیدائش وفات، تعلیم کب اور کس سے حاصل کی، شاگرد کون تھے، ناقدین کیا رائے تھی وغیرہ ذالک سب اس میں موجود ہیں ۔ (کتابت حدیث عہدرسالت وعہد صحابہ میں ،صفحہ ۳۰)
فن اسماء الرجال کے بارے میں ڈاکٹر اسپرنگر جیسے متعصب یورپین کو یہ لکھنا پڑا کہ “کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں گزری، نہ آج موجود ہے، جس نے مسلمانوں کی طرح “اسماء الرجال “کا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو ،جس کی بدولت آج پانچ لاکھ شخصوں کا حال معلوم ہوسکتا ہو۔”( خطبات مدراس صفحہ ۴۲)
خلاصہ کلام :
محدثین روایت کو لینے اور بیان کرنے میں بڑی احتیاط کرتے تھے اور باقاعدہ اسناد کی جانچ پڑتال کرتے تھے اور اس کا مقصد ہی یہی ہوتا تھا کہ وہ “سند ” من گھڑت تو نہیں اگر کسی قسم کا کوئی شبہ یا شک ہوتا تو روایت کو چھوڑ دیتے تھے چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ وہ “اسناد “کو گھڑتے تھے ۔
اور راویوں کی چھان بین کے سلسلے میں”اسماء الرجال “جیسا عظیم الشان فن یجاد ہوا جس کی بدولت کسی بھی راوی کے مکمل حالات معلوم کیے جاسکتےہیں لہٰذا یہ کہناکہ محدثین اسنا د کو گھڑا کرتے تھے یہ سراسر ا بے جا الزام ہے جو دعویٰ بلادلیل کے قبیل سے ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔



5۔متن کی جانچ پڑتال:
گولذ زیہر اور شاخت نے متن حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ محدثین نے اسناد کے پرکھنے میں جس قدر محنت کی، اس قدر محنت “متن”کی جانچ پڑتال میں نہیں کی کہ آیا وہ بات جس کو حدیث بیان کررہی ہے وہ اس معاشرے او ر واقعہ پر بھی منبطق ہوتی ہے؟
مستشرقین کا یہ کہنا کہ “متن “کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی یہ حقائق سے چشم پوشی کرنا ہے۔
محدثین نے جس طرح احادیث کی “اسناد “کو پرکھا اسی طرح”متون حدیث “کو بھی پرکھا اور اس سلسلے میں اصول وقواعد مرتب کیے ،شاذ ومعلل کی اصطلاحات مقرر کیں جس طریقے سے سند میں شذوذ پایا جاسکتا ہے اسی طرح متن میں بھی، جس طریقے سے کوئی علت خفیہ قادحہ سند میں ہوسکتی ہے متن میں بھی پائی جاسکتی ہے، جس طرح سند “منکر،مضطرب،مصحف،مقلوب “ہوسکتی ہے اسی طرح بعینہ متن میں بھی یہ صورت حال ہوسکتی ہے۔
لہٰذا جب محدثین کرام نے سند اور متن دونوں کے پرکھنے کے اصول وضع کیے ہیں تو پھر کہاں اس بات کی گنجائش ہے کہ یہ کہا جائے محدثین نے “متن حدیث “کو نہیں پرکھا۔
احادیث کے “متون”کی جانچ پڑتال تو صحابہ کرامؓ کے زمانے میں بھی ہوتی تھی جس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ باوجود “سند”کے صحیح ہونے کے ،”متن “کو رد کردیا گیا ۔جیسا کہ فاطمہ بنت قیس کا مشہور واقعہ ہے حضرت عمرؓ نے جب ان کی حدیث کو سنا کہ جب ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا (یعنی یہ مسئلہ سامنے آیا کہ مطلقہ ثلاث کو سکنی ونفقہ نہیں ملے گا )حضرت عمرؓ نے فرمایا” “ہم ایک عورت کے بیان پر اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترک نہیں کریں گے پتہ نہیں اس کو ٹھیک سے یاد بھی رہا یا نہیں(ایسی عورت کو خرچہ وغیرہ ملے گا)۔”(سنن ابی داؤود ،طلاق کا بیان )

اسی طرح حضرت عائشہؓ نے جب حدیث ابن عمرؓ کو سنا ” إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ” ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔”
تو فرمایا ” لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَحَدٍ وَلَکِنَّهُ قَالَ إِنَّ الْکَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَذَابًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی ”
“نہیں اللہ کی قسم رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا مردہ کر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کافر پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب اور زیادہ ہو جاتا ہے اور اللہ ہی ہنساتے اور رلاتے ہیں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔”
راوی حدیث حضرت ابوب کہتے ہیں کہ :۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث پہنچی تو فرمایا “”تم مجھے ایسے آدمیوں کی روایت بیان کرتے ہو جو نہ جھوٹے ہیں اور نہ تکذیب کی جا سکتی ہے البتہ کبھی سننے میں غلطی ہو جاتی ہے”(صحیح مسلم ،جنازوں کا بیان )اس کے علاوہ اور بھی کئی مثالیں ہیں۔
خلاصہ کلام:
محدثین نے جس طرح “اسناد “کو پرکھا اسی طرح “متون “کو بھی پرکھا اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں بھی یہ طریقہ رائج تھا جیساکہ ابھی دو مثالیں گزری ہیں ۔





Tuesday, 9 March 2021

مشاجراتِ صحابہؓ


مردہ لوگوں کیلئے ہدایاتِ الٰہی:
القرآن:
یہ امت ہے جو گزر گئی جو اس نے کمایا اس کیلیے وہی ہے اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم نے کمایا، اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
[سورۃ البقرة:134، 141]

۔۔۔اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔
[سورۃ نمبر 59 الحشر،آیت نمبر 10]

ان کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اسے ہم نکال پھینکیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے (جنت کی) اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔
[سورۃ نمبر 15 الحجر،آیت نمبر 47]



تقدیر کب کب تجدید کی جاتی ہے؟

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
نہیں پلٹتی قضا/تقدیر کو مگر دعا...
[صحیح ترمذی-البانی: کتاب القدر، باب ماجاء لایرد القدر الا الدعاء،حدیث#2139]
[صحیح ابن ماجہ-البانی :باب فی القدر،حدیث#73]

القرآن:
مٹاتا ہے اللہ جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے ،اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب(لوحِ محفوظ).
[سورہ الرعد:39]

مراتبِ تقدیر:
1-علمِ ازلی میں 
2-پیدائشِ عرش کے بعد زمین وآسمان سے پہلے لوحِ محفوظ میں قلم سے لکھواتے وقت
3-وہ امور جو صلبِ آدم سے ذریتِ آدم نکالنے کے وقت عہدِ الست میں طے ہوۓ
4-جب ماں کے پیٹ میں بچہ ہو
5-وہ امور جو دیگر بعض امور(دعا وقیامِ شبِ قدر وبرأت)پر موقوف ہیں۔
[مرقاۃ شرح مشکاۃ: ج1 /ص145]


Tuesday, 23 February 2021

بن دیکھے ڈرنے اور ایمان لانے کے فضائل

القرآن:
جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے، اُنکے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا۔
[سورۃ الملک:12]
تشریح :
یعنی اللہ کو دیکھا نہیں، مگر اس پر اور اس کی صفات پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور اس کی عظمت و جلال کے تصوّر سے لرزتے اور اس کے عذاب کا خیال کر کے تھرتھراتے ہیں۔ یا "بالغیب" کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے مجمع سے الگ ہو کر خلوت وعزلت میں اپنے رب کویاد کرکے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر:-
نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے مسند بزار میں ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ نے فرمایا یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟ جواب دیا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا جاؤ پھر یہ نفاق نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بےخبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بیحد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ زمین کو اس نے تمہارے لئے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے اس میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں، پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے، حضرت ابن عباس وغیرہ تو (مناکب) سے مراد راستے کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں ، قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں ۔ حضرت بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر (مناکب) کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا مراد اس سے پہاڑ ہیں آپ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔


تفسیر مدنی کبیر:-
خوف و خشیت خداوندی ذریعۂ نجات و سرفرازی:
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرنے والوں کیلئے بڑی بخشش بھی ہے اور اجر کبیر بھی یعنی ان کے ان گناہوں کی بخشش جو بشری تقاضوں کی بناء پر ان سے سرزد ہوگئے‘ والعیاذ باللہ کہ ان کو معاف کردیا جائے گا سو منکرین کے انجام کے بیان کے بعد اب یہاں سے ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا جا رہا ہے‘ جو اپنی زنڈگیوں میں بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے‘ کہ ان کیلئے ایک عظیم الشان بخشش اور رحمت ہے‘ سو اسی سے ان خوش نصیبوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا بھی واضح ہو جاتا ہے‘ کہ انہوں نے اپنے کان‘ آنکھ بند کرکے اور اندھے بہرے بن کر زندگی نہیں گزاری‘ اور نہ ہی وہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آ جائے گا تب مانیں گے‘ نہیں بلکہ انہوں نے کائنات کی نشانیوں کو دیکھ کر اور اپنی عقلوں سے کام لے کر اور دعاۃ حق کی باتوں کو مان کر حق قبول کرلیا اور فائز المرام ہوگئے اور بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ سو بالغیب کا یہ لفظ بڑا عظیم الشان اور نہایت معنی خیز لفظ ہے اور یہ اس لئے کہ اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر غیب سے تعلق رکھنے والے ان حقائق کو تسلیم کرے اور ان پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے اور ان حقائق کو اسی طرح مانے جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے بتایا۔ سو ایسوں کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے عظیم الشان مغفرت و بخشش بھی ہے اور ایک بہت بڑا اجر بھی۔ اتنا بڑا اجر کہ اس کی عظمت و بڑائی کا اندازہ کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے بس میں نہیں‘ کہ ان کیلئے ان کے رب کریم نے وہاں پر وہ کچھ تیار کر رکھا ہوگا‘ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا‘ اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا ہوگا‘ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف انہوں نے اپنی عقل و فکر کو صحیح طور پر ساتعمال کرکے اور دعاۃ حق و ہدایت کی دعوت حق کو قبول کرکے نور ہدایت سے سرفرازی حاصل کرلی‘ تو اس بناء پر وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ ان کا رب ان کو اپنے فضل عظیم اور اجر کبیر سے نوازے‘ سو جس شخص نے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر دعوت حق کو قبول کرلیا‘ وہ امتحان میں کامیاب ہوکر فائز المرام ہوگیا اور جنہوں نے اس کے برعکس دعوت حق و ہدایت کو سننے اور ماننے سے انکار کیا اور وہ اسی بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے آئیگا تب وہ مانیں گے۔ تو وہ محروم اور ناکام رہے خواہ دنیاوی اعتبار سے انہوں نے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو اور وہ اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھتے اور مانتے ہوں اور دنیا میں ان کا کتنا ہی غلغلہ اور دبدبہ کیوں نہ ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید و علی مایحب ویرید۔ 

Sunday, 21 February 2021

خوفِ مصطفیٰﷺ - امت کی غربت یا مالداری

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کو بحرین (کا گورنر بناکر) جزیہ لانے کے لیے بھیجا، رسول اللہ ﷺ نے بحرین والوں سے صلح کرلی تھی اور ان پر علاء بن الحضرمی کو امیر مقرر کیا تھا۔ جب ابوعبیدہؓ بحرین سے جزیہ کا مال لے کر آئے تو انصار نے ان کے آنے کے متعلق سنا اور صبح کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی اور جب رسول اللہ ﷺ انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ ابوعبیدہ کے آنے کے متعلق تم نے سن لیا ہے اور یہ بھی کہ وہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار نے عرض کیا : جی ہاں، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہیں خوشخبری ہو تم اس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے گی، اللہ کی قسم ! فقر و محتاجی وہ چیز نہیں ہے جس سے میں تمہارے متعلق ڈرتا ہوں بلکہ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر بھی اسی طرح کشادہ کردی جائے گی، جس طرح ان لوگوں پر کردی گئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور تم بھی اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی اسی طرح کوشش کرو گے جس طرح وہ کرتے تھے اور تمہیں بھی اسی طرح غافل(نافرمان) کر دے گی جس طرح ان کو غافل(کافر) کیا تھا۔

[صحيح البخاري : كِتَابُ الرِّقَاقِ ، ‌‌بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهَرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا ، حدیث نمبر#6425]

https://www.madarisweb.com/ur/articles/4593

((‌مَا ‌أَخْشَى ‌عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ ))’’جھے تمھارے بارے میں فقر کا ڈر نہیں ہے بلکہ مجھے تو ڈر ہے تم پر (دنیا کی) کثرت کا،اور مجھے تمھارے بارے میں یہ ڈر نہیں ہے کہ تم غلطی کرو گے بلکہ مجھے خطرہ ہے کہ تم جان بوجھ کر گناہ کرو گے۔‘‘[مسند احمد:8074، مسند البزار:9374، معجم ابن الأعرابي:2212، صحيح ابن حبان:3222، المستدرک الحاكم:3970]


















دنیا سے مراد کیا ہے؟

القرآن: 

لوگوں کے لیے ان چیزوں کی "محبت" خوشنما بنادی گئی ہے جو ان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہے ،۔ یعنی (1)عورتیں، (2)بچے، (3)سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، (4)نشان لگائے ہوئے گھوڑے، (5)چوپائے اور (6)کھیتیاں۔ یہ سب دنیوی زندگی کا سامان ہے (لیکن) ابدی انجام کا حسن تو صرف اللہ کے پاس ہے۔

[سورۃ آل عمران:14]


محبت کی حدود ودرجات:

(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا (سزا کا) فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

[سورۃ التوبۃ:24]


لہٰذا، جو شخص قرآنی تعلیمات پہچانے والوں کو نہ سمجھ پائے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نافرمانی کے سبب اس علم سے گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور توبہ یعنی دل کی ندامت کے ساتھ، زبان سے معافی مانگتے ہوئے، فرمانبرداری کے عہد کرکے، اللہ کی طرف لوٹے بغیر ہدایت سے ہمیشہ محروم رکھا جاتا ہے۔


فقہی نکات:

(1) دنیا، آخرت کے مقابلے میں ادنیٰ چیز کو کہنے ہیں، بری چیز کو نہیں، اسي لئے حدیث میں جزیہ لینے اور قرآن مجید میں متاعِ دنیا کی محبت سے بلکل روکا نہیں گیا

(2) دنیا کی محبت اور کثرت، آخرت سے غفلت اور ہر نافرمانی کی جڑ ہے۔

(3) غفلت دل کا وہ گناہ ہے، جس میں اکثر لوگ اکثر لمحے مبتلا رہتے ہیں۔

(4) دنیا کا فتنہ اور مذموم محبت میں مبتلا ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا کیلئے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی جائے اور (خصوصا) جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کردیا جائے۔

(5) فقر پر صبر اور جہاد کرنا اللہ اور رسول ﷺ سے اشد محبت کی دلیل ہے۔

(6) لوگوں سے نہ مانگنا اور نہ امید رکھنا، دل کا غنی ہونا یعنی اصل مالداری ہے۔

(7) امت کی ترقی، صبر وجہاد فی سبیل اللہ سے (محبت میں) ہے۔



آ، تجھ کو بتاؤں میں، تقدیرِ اُمم کیا ہے؟

شاعرِ حقیقت شناس علامہ اقبال نے خوب کہا تھا :

آ ، تجھ کو بتاؤں میں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سنان اول ، طاوٴس و رباب آخر

          یعنی جب کوئی قوم ترقی و عروج کا سفر طے کرتی ہے تو وہ تلواروں اور نیزوں سے مزین ہوتی ہے ، وہ مشکل حالات کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے ، وہ عیش و عشرت کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے بجائے جد وجہد کے میدان میں آگے بڑھتی ہے ، اور جب قوموں کے زوال و انحطاط کا زمانہ آتا ہے تو وہ عیش و عشرت کے نقشے بنانے لگتی ہے اور رقص و سرود سے اپنے دل کو بہلانے کی عادی ہوجاتی ہے ، یہی وہ بات ہے کہ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندیشہ رکھتے تھے ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا قول ہے کہ جب کسی قوم میں خیانت اور بد دیانتی پیدا ہوجاتی ہے تو وہ کم ہمت اور بزدل ہوجاتی ہے۔

”مَا ‌ظَهَرَ ‌الْغُلُولُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا أُلْقِيَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبُ“

[موطأ (امام) مالك (تحقيق) الأعظمي : حديث 1670]


          اس وقت عالمِ اسلام کی صورت حال یہی ہے کہ اپنی قوم کے ساتھ حکمرانوں کا معاملہ بدترین بد دیانتی کا ہے اور صیہونی و صلیبی طاقتوں کے سامنے شرمناک بزدلی اور کم حوصلگی کا ، عام مسلمانوں کی بھی صورت حال یہ ہے کہ وہ (دینی)علم و (دنیاوی)تحقیق ، محنت اور جدو جہد میں پیچھے ہیں اورعیش پرستی میں آگے، دوسری قومیں ہمیں دیکھتی ہیں اور خندہ زن ہوتی ہیں کہ یہ لٹی پٹی اور ذلیل و رسوا کی ہوئی قوم اپنی محرومی اور کم نصیبی کو بھول کر کس طرح دادِ عیش دے رہی ہے ، کاش! ہم اس طرزِ عمل میں تبدیلی لائیں ، اپنے اندر حالات کا مقابلہ کرنے اور جدو جہد کے ذریعہ آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کریں اور عیش و عشرت کے نقشوں کو تج کر، ایک باعزت اور آبرو مند امت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اپنے آپ کو لانے کی کوشش کریں ۔