Friday, 12 October 2012

غریب الحدیث





اصطلاحی مفہوم




یہ عنوان غریب (نادر قسم کا) ہے،حدیث کی غرابت الفاظ و معانی کے اعتبار سے ہے، اسناد کے پہلو سے نہیں،غرابت وطن سے دوری کا نام ہے، غریب مسافر کو کہتے ہیں، جو مضمون ظاہر الفاظ سے دور یا فہم عام سے بالاہو وہ غریب ہے، عجیب ہے، اس کی غرابت اسی پہلو سے ہے اور یہ کوئی کمزوری کی بات نہیں نہ یہ کوئی جرح کی بات ہے،اس کا سندا غریب ہونے سے کوئی تعلق نہیں، حدیث اسناد کے پہلو سے غریب ہو تو اس پر اصول حدیث کے تحت بحث کی جاتی ہے،لغت، ادب اوراسالیب عرب کے تحت نہیں، سو حدیث غریب اور غریب الحدیث میں فرق ہے۔


حدیث غریب

حدیث صحیح کی وہ قسم ہے جس کا "سند کے کسی مرحلے میں"راوی صرف ایک ہو،یہ درجہ حدیث عزیز اورحدیث متواتر کے مقابل ہے، درجہ میں اول حدیث متواتر ہے،پھر حدیث عزیز اورپھر حدیث غریب، حدیث کاغریب ہونا اس کی صحت کے منافی نہیں، اصول حدیث کی کتابوں میں ہے: "ان الغرابۃ لاتنافی الصحۃ" حدیث کا غریب ہونا صحت کے منافی نہیں ۔
ہاں غریب کا لفظ کبھی شاذ کےمعنوں میں بھی آجاتا ہے،اس صورت میں حدیث غریب کی سند پر بحث ہوسکتی ہے، اس پہلو سے بھی حدیث غریب درجہ صحت سے نہیں نکلتی، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رسالہ اصول حدیث میں لکھتے ہیں:

"فالشذوذ بھذا المعنی لاینا فی الصحۃ کالغرابۃ"۔

اللہ تعالی نے قلم کو پیدا کیا، اس قلم نے تمام قدریں لکھیں، جو کچھ ہوا یا ہونے والا تھا سب"ماکان ومایکون" اس نے لکھ دیا، اس حدیث پر امام ترمذی لکھتے ہیں: ھذاحدیث غریب اسنادا معلوم ہوا غرابت کبھی الفاظ اورمتن کے پہلو سے بھی ہوتی ہے،مولانا سید عمیم الاحسان لکھتے ہیں:

"الغرابۃ کما تکون فی السند کذلک تکون فی المتن"۔

ترجمہ: غرابت جس طرح کبھی (حدیث کی)سند میں ہوتی ہے کبھی متن میں بھی ہوتی ہے۔





غریب الحدیث

علامہ خطابی (۳۸۸ھ) لکھتے ہیں:

"الغريب من الكلام إنماهوالغامضُ البعيدُ من الفهمِ"۔

(شذرات الذهب دراسة في البلاغة القرآنية:۲۱، مولف: محمود توفيق محمد سعد)

ترجمہ:وہ بات غریب (بہت عجیب اور نادر) ہوتی ہے جو گہری اور فہم عام سے اونچی ہو۔

الفاظ اور بات کی غرابت سے مراد وہ دقیق الفاظ اوراونچے مضامین ہیں جن کا سمجھنا آسان نہ ہو، ایسے غریب الفاظ اورنادر مضامین پر محدثین نے جس فن میں گفتگو کی ہے اسے غریب الحدیث کہتے ہیں، بعض محدثین کا ذوق ایسے مضامین اور الفاظ کی تلاش رہا ہے جو اپنی ندرت اورغرابت میں ہر ایک کی رسائی میں نہ ہوں، اس باب میں صرف وہی علماء فن آگے بڑھ سکے جن کو طلب حدیث میں خصوصی شغف اورخاص انہماک رہا، حافظ اسمعیل عبداللہ بن محمد الاصبہانی(۳۹۶ھ)غریب الحدیث کی طلب اور روایت میں خاص ذوق رکھتے تھے،حافظ ذہبی لکھتے ہیں:

"یروی الغریب من المحدثین فیبا لغ قال لی مرۃ ھذا الشان شان من لیس لہ شان سوی ھذا الشان یعنی طلب الحدیث"۔

(تذکرۃالحفاظ:۳/۳۷۷)

ترجمہ: آپ محدثین سے غریب الحدیث روایت کرتے اورآپ کی توجہ اس باب میں بہت زیادہ رہتی (راوی کہتا ہے) ایک دفعہ آپ نے مجھے کہا غریب(نادر الفاظ اورمعانی کی)احادیث کولینا صرف انہی لوگوں کا کام ہے جن کو اس حال سے سوا کسی اورحال سے غرض نہ ہو،ہر وقت طلب حدیث ان کا کام ہو۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ غریب الحدیث کی تلاش اورروایت کسی کمزوری کی بات نہیں ؛بلکہ یہ وہ باب کمال ہے جو اس فن کے متوالوں کو ہی نصیب ہوتا ہے اوراس کا ذوق وہ شان علم ہے جو اس فن کے اونچے علماء کو ہی میسر آتاہے۔
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا ذوقِ حدیث اس قسم کی روایات کا خاصا متلاشی رہتا تھا اور آپ پھران رویات کی تشریح اور تفصیل میں بہت اُونچی پرواز کرتے "سات زمینوں میں سات آدم آئے" یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک اثر ہے۔                                 

(مستدرک حاکم:۲/۴۹۳)

جواپنے معنی اور مفہوم میں بہت دقیق ہے، آپ نے اس پر ایک کتاب "تحذیرالناس من انکارِاثرابن عباس" لکھی، حدیث عما (مشکوٰۃ:۵۱۰) ایک نہایت دقیق اور غامض روایت ہے، آپ نے اس پر ایک مستقل رسالہ رقم فرمایا، چند اور روایات پربھی بحث کی ہے، علماء نے حدیث کے مشکل الفاظ پر مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں، انہیں بالمعنی الاخص لغات حدیث بھی کہا جاسکتا ہے، قرآن کریم کے غریب الفاظ پر بھی علماء نے بحث کی ہے، معلوم رہے کہ غرابت الفاظ، فصاحت کلمہ یافصاحت کلام کے خلاف نہیں اور افصح العرب والعجم کی زبانِ مبارک سے غریب الحدیث کا صدور ان کی اس شان کے منافی نہ تھا، صحیح بخاری کی حدیث "ا م ز ر ع" اس کی وافی مثال ہے۔
جن قدماء نے غریب الحدیث پر خاص توجہ کی ان میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔نضر بن الشمیل (۲۰۴ھ)                                        
۲۔قطرب (۲۰۶ھ)
۳۔ابوعبیدہ معمر بن المثنیٰ (۲۰۸ھ)                              
   ۴۔اصمعی (۲۱۸ھ)
غریب الحدیث پر لکھی گئی یہ کتابیں بہت اہم ہیں:
(۱)غریب الحدیث لابی عبید قاسم بن سلام (۲۲۴ھ)، ابوعبیدہ ہرات کے رہنے والے ہیں، اسحاق بن راہویہ (۲۳۸ھ) اور امام احمد (۲۴۱ھ) کے ہمعصر تھے، اسلامی معاشیات پر "کتاب الاموال" انہی کی تالیف ہے۔
(۲)غریب الحدیث لابن قتیبہ الدینوری (۲۷۶ھ)۔
(۳)غریب الحدیث لابی سلیمان الخطابی (۳۸۸ھ)۔
یہ تین کتابیں اس فن کی امہات سمجھی جاتی ہیں، یہ بڑی کتابیں نہیں رسائل سے ہیں لیکن اپنی نوع کے لحاظ سے بہت اہم ہیں؛ پھرہرات کے ایک مقتدر عالم جوابوسلیمان الخطابی اور ابومنصور ازہری کے شاگرد ہیں، ابوعبیداحمد بن محمد (۴۰۱ھ) نے غریب القرآن والحدیث کے موضوع پر"کتاب الغریبین" لکھی، آپ نے مقدمہ میں لکھا ہے:

"فان اللغۃ العربیۃ انما یحتاج الیہا لمعرفۃ غریبی القرآن والحدیث.... والکتب المولفۃ فیہا جمۃ وافرۃ"۔

ترجمہ:قرآن اور حدیث کے غریب الفاط کوجاننے کے لیے لغتِ عربی کی ضرورت پڑتی ہے.... اس باب میں بہت کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔

یہ کتاب اپنے موضوع پربہت معروف ہوئی، علامہ ابوموسیٰ المدینی (۵۸۱ھ) نے اس کا ایک قابل قدر تکملہ لکھا ہے، اس کے بعد اس موضوع پر یہ کتابیں معروف ہوئیں:
الفائق، علامہ محمود زمخشری (۵۳۸ھ) تفسیرِ کشاف انہی کی تالیف ہے، علومِ عربیہ میں امام فن سمجھے جاتے ہیں، فائق کا معنی ہے فوقیت سے جانے والا..... سو یہ کتاب واقعی اسم بامسمیّٰ ہے، اس نے غریب الحدیث کی ہرمشکل آسان کردی ہے، علامہ ابنِ اثیر جزری (۶۰۶ھ) جنھوں نے خود اس موضوع پرایک ضخیم کتاب لکھی ہے، الفائق کے بارے میں لکھتے ہیں:

"ولقد صادف ھذا الاسم المسمی وکشف من غریب الحدیث کل معی"۔






النہایہ


پورا نام "النہایہ فی غریب الحدیث والاثر" ہے، مولف مجدالدین مبارک بن محمدعبدالکریم ابن اثیر الجزری (۶۰۶ھ) ہیں، ان کی کنیت ابوالسعادات ہے "جامع الاصول من احادیث الرسول" ۱۲/جلدوں میں انہی کی تالیف ہے، ان کے بھائی عزالدین ابن اثیر تاریخ کی مشہور کتاب "کامل ابنِ اثیر"کے مؤلف ہیں، ابوالسعادات مجدالدین نے مسند امام شافعی کی بھی مبسوط لکھی ہے، علم تفسیر میں آپ نے "الانصاف فی الجمع بین الکشف والکشاف" لکھی، اس میں آپ نے علامہ ثعلبی اور علامہ زمخشری کی کتابوں کوجمع کردیا ہے، آپ حدیث، تفسیر، فقہ، ادب عربی اور علم اصول کے جلیل القدر امام تھے، النہایہ پانچ ضخیم جلدوں میں ہے اور عام ملتی ہے، خطیب تبریزی لکھتے ہیں:

"کان عالماً محدثا لغویا روی عن خلق من ائمۃ الکبار کان بالجزیرۃ وانتقل الی الموصل سنۃ خمس وستین وخمس مائۃ (۵۶۵ھ) ولم یزل بھا الی ان قدم بغداد"۔

(الاکمال:۶۳۲)

ترجمہ:آپ بڑے عالم، محدث اور ماہرلغت تھے، کثیر تعداد بڑے بڑے ائمہ سے حدیث روایت کی ہے، جزیرہ کے رہنے والے تھے؛ پھر سنہ۵۶۵ھ میں موصل چلے گئے اور بغداد روانہ ہونے تک وہیں رہے۔

حافظ ابنِ کثیر (البدایہ والنہایہ:۱۳/۵۴) اور ابنِ خلکان (وخیات الاعیان:۳/۳۸۹) ان کی عبقریت اور علمی بصیرت کے پورے معترف ہیں، آپ کی کتاب النہایہ لغتِ حدیث اور غریب الحدیث میں سند سمجھی جاتی ہے۔

مجمع البحار

"مجمع بحار الانوار" علامہ طاہرالفتنی الگجراتی (۹۸۶ھ) کی تالیف ہے، بڑی تقطیع کی تین ضخیم جلدوں میں طبع ہوئی، لغتِ حدیث میں مسند سمجھی جاتی ہے، غریب الحدیث پر اس میں کافی مواد ملتا ہے، برصغیر پاک وہند کی علمی دُنیا اس کتاب پر جتنا فخر کرے کم ہے، مؤلف مضمون کی غرابت پربھی پوری نظر رکھتے ہیں، مثلاً جریر بن حازم تابعی (۱۷۵ھ) نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے یہ روایت نقل کی تھی، جوظاہری سطح پر بہت عجیب مضمون بیان کرتی ہے:

"قُولُوْا: خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَلاَتَقُوْلُوْا:لاَنَبِيَّ بَعْدِیْ"۔           

(مصنف ابن ابی شیبہ:۹/۲۱۰)

مجمع البحار میں اس کی غرابت ساتھ ہی حل کردی گئی ہے "ھٰذَا نَاظِرٌ إِلیٰ نُزُوْلِ عِیْسَیٰ" (تکملہ مجمع البحار:۸۵) یعنی یہ بات نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے پیشِ نظر کہی گئی ہے، تذکرۃ الموضوعات بھی اسی مؤلف کی تالیف ہے، حدیث اور ادب عربی کے مسلم امام ہیں یہ اور النہایہ غریب الحدیث کے موضوع کا علمی سرمایہ ہے۔


اسراراللغہ الملقب بہ وحید اللغات

علامہ وحیدالزمان (۱۳۳۸ھ) اس کے مؤلف ہیں اُردو میں لغتِ حدیث پر یہ پہلی کتاب ہے، چھ ضخیم جلدوں میں ہے، مولانا وحیدالزمان مسلکاً غیرمقلد تھے، نہایت افسوس ہے کہ آپ نے حل لغات کے سائے میں کہیں کہیں ملحدانہ عقائد بھی سمودیئے ہیں، مثلاً مادہ "عجز" کے تحت لکھتے ہیں:

"حضرت علیؓ اپنے تئیں سب سے زیادہ خلافت کا مستحق جانتے تھے اور ہے بھی یہی"۔

یہ صحیح نہیں یہ توشیعہ عقیدہ ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آنحضرت   توآخری وقت میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپنی جگہ امام بنائیں اور حضرت علیؓ اپنے آپ کوان سے زیادہ مستحق سمجھیں، یہ بات باور کرنے کے لائق نہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سوچ کھلم کھلا منشاءِ رسالت کے خلاف کیسے ہوسکتی ہے؟ مولانا وحیدالزمان اہلحدیث تھے، افسوس کہ وہ شیعہ نظریات کا شکار بھی ہوگئے ہیں، آزادروی کا یہ پہلا پھل ہے جوانہوں نے چکھا، حضرت امیرمعاویہؓ کے بارے میں "مادہ عز" کے تحت لکھتے ہیں:

"ان کی نسبت کلماتِ تعظیم مثل حضرت ورضی اللہ عنہ سخت دلیری اور بیباکی ہے"۔

اہل السنۃ والجماعت کے ہاں تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں، شیعہ ہرسال محرم میں سوگ مناتے ہیں، مولوی وحیدالزماں صاحب بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے "مادہ عود" کے تحت لکھتے ہیں:

"یہ مہینہ خوشی کا مہینہ نہیں رہا..... محرم کا مہینہ شہادت کی وجہ سے غم کا مہینہ ہوگیا ہے"۔

"مادۂ عثم" کے تحت لکھتے ہیں:

"شیخین کواکثراہلِ سنت حضرت علیؓ سے افضل کہتے ہیں اور مجھ کواس امرپر بھی کوئی دلیل قطعی نہیں ملتی، نہ یہ مسئلہ کچھ اصولِ دین اور ارکانِ دین سے ہے، زبردستی اس کومتکلمین نے عقائد میں داخل کردیا ہے"۔

مولانا وحیدالزمان کی یہ بات صحیح نہیں، اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوا تھا، امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"افضلیت شیخین باجماع صحابہ وتابعین ثابت شدہ است چنانچہ نقل کردہ اند آں را اکابرائمہ کہ یکے ازایشاں امام شافعی است، شیخ ابوالحسن اشعری کہ رئیس اہلسنت است مے فرماید کہ افضلیت شیخین برباقی قطعی است، انکارنکند مگرجاہل یامتعصب"۔         

(مکتومات دفتر:۲۔ مکتوب:۶۷،صفحہ:۱۳۰، لکھنؤ)

مولانا وحیدالزماں کے شیعہ نظریات کی وجہ سے کچھ علمائے حدیث بھی ان کے خلاف ہوگئے، مولانا "مادہ شر" کے تحت لکھتے ہیں:

"مجھ کومیرے ایک دوست نے لکھا کہ جب سے تم نے یہ کتاب "ہدیہ المہدی" تالیف کی ہے اہلحدیث کا ایک بڑا گروہ..... تم سے بددل ہوگئے ہیں اور عامہ اہلحدیث کا اعتقاد تم سے جاتا رہا، میں نے ان کوجواب دیا، الحمد للہ کوئی مجھ سے اعتقاد نہ رکھے، نہ میرا مرید ہو..... مجھ کوپیشوا اور مقتدا جانے، نہ میرا ہاتھ چومے، نہ میری تعظیم وتکریم کرے، میں مولویت اور مشائخیت کی روٹی نہیں کھاتا"۔

آپ نے مادہ شعب کے تحت اہلحدیث پرکڑی تنقید کی ہے اور مادہ شر میں انہیں قاضی شوکانی (۱۲۵۰ھ) کا مقلد قرار دیا ہے، ان کے ہاں اہلحدیث غیرمقلد نہیں ہیں؛ بلکہ ابنِ تیمیہ، ابنِ قیم اور قاضی شوکانی کے مقلد ہیں۔
یہ چند مثالیں ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ وحیداللغات صرف لغات پر مشتمل نہیں ہے، اس میں مؤلف نے جگہ جگہ اپنے نظریات بھی سمودیئے ہیں، ہاں اس میں لغتِ حدیث پربڑی سیرحاصل بحث ملتی ہے، فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔
پہلے اس کتاب کا نام "انواراللغۃ" تھا، اس کی پانچ جلدیں مطبع احمدی لاہور نے شائع کی تھیں اس وقت کتاب ۲۸/حصوں میں تھی، مؤلف خود لکھتے ہیں:

"انواراللغۃ، جوجامع لغات احادیث مع احادیث فریقین یعنی امامیہ، واہلسنت ہے، بڑی محنت اورجانفشانی سے تالیف کی"۔

آپ نے پھراس کا نام "اسراراللغۃ" رکھا، اب بھی یہی نام ہے، اس کا لقب وحیداللغات ہے جواصح المطابع کے نئے ایڈیشن میں ۲۴/جلدں میں شائع ہوئی ہے، چھ مجلدات میں یہ ۲۴/جلدیں ملتی ہیں، آغاز میں لکھا ہے کہ آپ نے اس کی تالیف میں مندرجہ ذیل کتابیں کتابوں سے مدد لی ہے:
نہایہ ابن اثیر، مجمع البحار، قاموس المحیط، صحاح جوہری، محیط المحیط، منتہی الارب، مجمع البحرین، الدرالنشیرالغریبین، الفائق المغرب لسان العرب وغیرہ.... شیعہ کتابوں میں سے مجمع البحرین، مطلع النیرین مؤلفہ فخرالدین الطویحی (۱۸۵ھ) سے استفادہ کیا ہے، کہیں کہیں مولانا نے اہلِ لغت پربھی گرفت کی ہے؛ لیکن جہاں تک ہم ان مواقع پر غور کرسکے ہیں وہاں غلطی خود مولانا کی اپنی ہوتی ہے، غرائب لغات میں مولانا نے نہایہ اور مجمع بحار الانوار کے تقریباً تمام کے تمام مباحث لے لیے ہیں اور یہ حدیث کی ایک بڑی خدمت ہے کہ یہ مطولات وحیداللغات کی شکل میں اردو میں آگئی ہیں۔
مولانا وحیدالزماں کی یہ بداعتقادی ان سے استفادہ کرنے میں حارج نہیں ہونا چاہیے، علم حدیث میں کمال اور بات ہے اور لغت میں دسترس اور محنت دوسری بات ہے، اس ضرورت میں توعفان بن مسلم (۱۲۰ھ) جیسے محدثین بھی اخفش کے پاس آتے جاتے تھے اور ان سے اعراب کی اصلاح لے لیتے، امام اوزاعی (۱۵۷ھ) جیسے مجتہد بھی لحن کی صورت میں ان اہلِ فن سے رجوع کرتے ابوحاتم کہتے ہیں:

"كان عفان بن مسلم يجيء الى الأخفش وإلى أصحاب النحو يعرض عليهم الحديث يعربه فقال له الأخفش عليك بهذا يعنين"۔

(الكفاية في علم الرواية:۲۵۵، المؤلف: أحمد بن علي بن ثابت أبوبكر الخطيب البغدادي)

ترجمہ:عفان بن مسلم اخفش اور دوسرے نحویوں کے پاس آتے تھے اور انہیں احادیث دکھلاتے کہ وہ ان کے اعراب پڑھ دیں، اخفش انہیں کہتے ایسا ضرور کرلیا کریں ان کی مراد یہ ہوتی کہ یہ کام (اعراب کی درستگی) مجھی سے ہوتا ہے۔

امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ (۱۵۷ھ) کہتے ہیں:

"إذاسمعتم عني الحديث فاعرضوه على أصحاب العربية ثم أحكموه"۔

(الكفاية في علم الرواية:۲۵۵، المؤلف: أحمد بن علي بن ثابت أبوبكر الخطيب البغدادي)

ترجمہ:جب مجھ سے کوئی حدیث سنوتواسے علماء عربیت کودکھلالیا کرو؛ پھراس پر فیصلہ کرو۔

خطیب بغدادی نے یہ روایت اس باب کے تحت نقل کی ہیں:

"باب القول في المحدث يجد في أصل كتابه كلمة من غريب اللغة"۔

(الكفاية في علم الرواية:۲۵۵، المؤلف: أحمد بن علي بن ثابت أبوبكر الخطيب البغدادي)

ترجمہ:یہ باب محدثین کی اس بات میں ہے جب انہیں اپنی تحریرات حدیث میں غریب لغت کے کلمات ملیں تووہ کیا کریں۔

اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ علمائے حدیث غریب الحدیث او رکلمات کی غرابت میں ہمیشہ اس فن والوں کی طرف رجوع کرتے رہے ہیں، لغت پر محنت کرنے والوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ صحیح العقیدہ ہوں یایہ کہ فن حدیث میں ماہر بھی ہوں۔
اِس پہلو سے "اسراراللغۃ الملقب بہ وحیداللغات" اس لائق ہے کہ اس سے استفادہ کیا جائے، مولانا وحیدالزماں گوعلمائے عربیت میں سے نہ تھے؛ لیکن "النہایہ" پوری کی پوری نقل کردینے میں ان کی محنت کچھ کم لائقِ تحقین نہیں ہے..... ہاں ان کے بعض ناشرین نے ترجمہ صحیح مسلم میں صحیح مسلم کے جویہ الفاظ نکال دیئے ہیں ہم اس پرافسوس کیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
صحیح مسلم کی اس حدیث سے کون واقف نہیں کہ آنحضرت   نے فرمایا: "لَاصَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ" اس حدیث کوامام مسلم اپنے استاد اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید سے، اسطرح نقل کرتے ہیں کہ دونوں نے عبدالرزاق سے، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زھری سے، زھری نے محمود بن الربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے اسے اس طرح روایت کیا کہ حضورؐ نے فرمایا:

"جس نے سورۂ فاتحہ اور اس سے آگے نہ پڑھا اس کی نماز نہ ہوگی"۔

(مسلم، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَإِنَّهُ إِذَالَمْ يُحْسِنْ الْفَاتِحَةَ،حدیث نمبر:۵۹۷،شاملہ، موقع الإسلام)

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں "أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَاتَيَسَّرَ"(ابوداؤد، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،حدیث نمبر:۶۹۵، شاملہ، موقع الإسلام) ہمیں حضور   کا حکم ہے کہ سورۂ فاتحہ اور کوئی حصہ قرآن جوآسانی سے لے سکیں پڑھیں، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضور  نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کوحکم دیا کہ منادی کردیں:

"لَاصَلَاةَ إِلَّابِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَازَادَ"۔

(مسنداحمدبن حنبل،مسند أبي هريرة رضي الله عنه،حدیث نمبر:۹۵۲۵،شاملہ، موقع الإسلام)

ترجمہ:

سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور حصہ قرآن پڑھنے کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

صحیح مسلم کے اردو ترجمہ سے فصاعداً کے الفاظ کونکال دینا یہ بعض متعصب ناشرین کی حرکت معلوم ہوتی ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مولانا وحیدالزماں کی تراجم حدیث کی خدمت کا بھی انکار کردیں، وحیداللغات ان کی لائق داد محنت ہے اس کا مطالعہ النہایہ اور مجمع بحار الانوار جیسی ضخیم کتابوں سے مستغنی کردیتا؛ مؤلف ان حضرات کی ساری کاوش کواپنے لفظوں میں نقل کردیتے ہیں ان کی اپنی کوئی علیحدہ محنت نہیں ہے، مولانا وحیدالزماں کچھ شیعہ عقائد بھی رکھتے تھے؛ لیکن انکا یہ موقف کوئی دھوکہ نہ تھا اہلحدیث باصطلاح جدید کسی ایک منضبط ضابطہ عقائد اور لائحہ عمل پرجمع ہونے والوں کا نام نہیں ہرایک کی اپنی اپنی سوچ اور اپنی (تحقیق) ہے، ان میں صرف ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ترکِ تقلید اور اس میں بھی ان کے دوطبقے ہیں ایک وہ جوتقلیدکوگناہ سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جومذاہب اربعہ کوحق سمجھتے ہیں؛ لیکن تقلید کوضروری نہیں سمجھتے، جماعت اہلحدیث کا غزنوی مکتب فکر اس دوسرے طبقے میں سے ہے۔
غریب الحدیث پر موجود کتابوں کے اسالیب کا مطالعہ اور ان کے مناہج کا تقابلی جائزہ


حضور اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانو ں کی رہنمائی کیلئے آخری نبی کے طور پر مبعوث فرمایا۔لوگوں کی ہدایت کے لئے آپ کو دو عظیم تحفوں سے نوازا گیا، 1۔قرآن پاک، 2۔احادیث نبویہ۔عصر نبوت سے لے کر آج تک اس امت کے اہل علم اس کی حفاظت اور ترویج و اشاعت میں، اور عامۃ الناس اس پر عمل پیرا ہونے میں مصروف ہیں ۔

 

احادیث کی مختلف جہات سے خدمت کی گئی، جیسے تدوین حدیث، روایت حدیث، درایت حدیث، علم تخریج الحدیث اورعلم اسماء الرجال وغیرہ۔ایک قول کےمطابق صرف احادیث کی حفاظت کیلئے 500 کے لگ بگ علوم ایجادکئے گئے، ان میں سے ایک علم غریب الحدیث بھی ہے۔

 

غریب الحدیث کی تحقیق:

غریب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنیٰ ہے اپنے عزیزوں سے دور ۔یہاں اس سے مراد وہ لفظ ہے جس کا معنیٰ سمجھنا مشکل ہوگویا وہ ہمارے لئے اجنبی ہوتاہے[1]۔محمد بن علی ابن القاضی نے غریب کے کئی معانی ذکر کئے ہیں، جن میں سے ایک کے بارے میں فرماتے ہیں:

 

ومنہا ما ہومصطلح اہل المعانی۔قالوا: الغرابۃ کون الکلمۃ غیر ظاہرۃ المعنیٰ و لا مانوسۃ الاستعمال۔۔۔۔۔منہ غریب القرآن والحدیث و ہذا غیر مخل بالفصاحۃ[2]

 

اصطلاحی تعریف:

شیخ محمود الطحان نے اس کی تعریف یوں کی ہے،

 

ہو عبارۃ عما وقع فی متن الحدیث من الالفاظ الغامضۃ البعیدۃ من الفہم لقلۃ استعمالہا۔[3]

 

حدیث کے متن میں کوئی لفظ ایسا ہو جو مشکل ہونے کی وجہ سے آپ کو سمجھ میں نہ آئے غریب الحدیث کہلاتاہے۔

 

غریب الحدیث کی تشریح:

اگر حدیث میں کوئی لفظ ایسا ہو جو سمجھ میں نہ آئے اس کا حل ہے کہ دوسری روایت میں اسکی تشریح تلاش کریں، کیونکہ کبھی ایک موقع پر آپ ﷺ ایک بات اجمال کےساتھ ذکر کرتے ہیں، پھردوسری جگہ تفصیل کےساتھ ذکر کرتے ہیں[4]۔مثلاً بخاری شریف میں روایت ہے کہ مریض اگر کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھے اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑے۔بخاری شریف کے الفاظ یہ ہیں،

 

صل قائما فان لم تستطع فقاعدافان لم تستطع فعلی جنب۔[5]

 

اس روایت میں پہلو کے بل نماز پڑھنے کی وضاحت موجود نہیں ہے، لیکن اس کی وضاحت سنن دار قطنی کی ایک روایت میں موجود ہے، جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

 

علی جنبہ الایمن مستقبل القبلۃ بوجہہ۔[6]

 

یعنی داہنے پہلو پہ لیٹ کر قبلہ رو ہو کر نماز پڑھے۔

 

علم غریب الحدیث کی ابتداء:

اسکی ابتداء دو صدی ہجری میں ہوئی[7]۔سب سے پہلے جن اہل علم نے غریب الحدیث پر کام کیا وہ ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ، قطرب، اخفش، نضر بن شمیل ہیں۔انہوں نے اسناد ذکر نہیں کی ہیں۔اسکے بعد ابو عدنان النحوی نے غریب الحدیث کے موضوع پر کتاب لکھی جس میں اسناد ذکر کرنے کا بھی اہتمام کیا ۔اس کے بعد ابوعبیدہ نے ان تمام کتب کو یکجا کردیا۔[8]

 

اس فن میں موجود مشہور تصنیفات:

اب تک اس موضوع پر سینکڑوں کتب تصنیف کئے جاچکے ہیں۔صاحب معجم المعاجم کے مطابق اب تک 90سے زیادہ اعلیٰ پائے کے کتب منظر عام پر آچکے ہیں۔یہ وہ کتابیں ہیں جن کو صاحب معجم المعاجم نےشمار کیا ہے۔باقی بے شمار کتابیں ایسی ہیں جن کا اتہ پتہ کسی کو معلوم نہیں [9]۔ان میں سے چار کوچار دانگ عالم پزیرائی حاصل ہوئی ۔# غریب الحدیث ابوعبید قاسم بن سلام 224ھ (یہ اس موضوع پر پہلی کتاب ہے)

  1. النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر علامہ ابن اثیر الجزری۔ یہ اس موضوع پر سب سے عمد ہ کتاب ہے۔[10]
  1. الدر النثیر علامہ جلال الدین سیوطی۔یہ دراصل النہایہ کی تلخیص ہے۔[11]
  1. الفائق علامہ زمخشری کی مشہور تصنیف ہے۔

 

 

 

تاریخی کتب:

حاکم ابوعبداللہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے اس موضوع پر نضر بن شمیل203ھ نے لکھا[12]۔لیکن خطیب بغدادی کے مطابق معمر بن مثنیٰ نے سب سے پہلے اس پر کام کیاہے [13]۔ابن الاثیر[14]اور علامہ سیوطی[15]نے بھی اس کی تائید کی ہیں۔ابن اثیر کے مطابق معمر بن مثنیٰ کی کتاب بہت مختصر تھی جو گنے چنے اوراق پر مشتمل تھی[16]، [17]۔ مذکورہ دونو ں کتابیں (نضر بن شمیل اورمعمر بن مثنیٰ کی کتابیں) بہت چھوٹی ہیں۔اسکے بعد قاسم بن سلام ابو عبید نے غریب الحدیث کے نام سے مشہور کتاب تصنیف کی جسے کافی پزیرائی ملی۔ اسکے بعد قتیبی نےاس موضوع پر کتاب تصنیف کی۔آپ نے ابوعبیدکے نہج پر کام کیا اور آپ سے جو کچھ رہ چکا تھا اس کی تکمیل کی۔ پھر ابوسلیمان خطابی نے اپنی مشہور کتاب تصنیف کی۔یہ آخری تین کتابیں (قاسم بن سلام ابوعبید، قتیبی، ابوسلیمان خطابی کی کتابیں) اس فن کی امہات الکتب کہلاتی ہیں۔اس کے بعد جتنی کتابیں لکھی گئی وہ انہی کتابوں اور ان پر مزید کچھ اضافوں پر مشتمل ہیں۔[18]

 

غریب الحدیث پر موجود مخطوطات:

اس فن پر موجود تقریباً تمام مشہور کتب امت مسلمہ تک پہنچ چکی ہیں اور اہل علم انہیں بہ آسانی ملاحظہ کرسکتے ہیں[19]۔ماضی قریب میں اس فن کے کئی مخطوطات پر کام کیا گیا لیکن کئی پر کام کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ ان کی ایک ہلکی سی تفصیل درج ذیل ہے۔

 

(1) مجموع غریب الحدیث لابی منصور محمد بن عبد الجبار السمعانی 450ھ۔

اس پر ڈاکر عثمان السمعانی نے کام کیا اور اس کی تحقیق کی، جس پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سےآپ کو ڈاکڑیٹ کی ڈگری جاری ہوئی۔[20]

 

(2) مجمع الغرباء ومنبع الفوائد لابی عبداللہ محمد بن علی الکاشعری 705ھ۔

اس کے ایک جزء کی 1409ھ میں تحقیق کی گئی جس پر جامعہ ام القریٰ سے ایم فل کی ڈگری جاری کی گئی۔[21]

 

(3) جمل الغرائب لبیان الحق النیسابوری۔

آپ کا نام محمود بن ابی الحسن النیشاپوری تھا۔ تعلق غزنوی سے تھا، اوربیان الحق کے لقب سے جانا جاتا تھا۔آپ نے غریب الحدیث کے فن میں جمل الغرائب کے نام سے ایک عمدہ کتاب لکھی جو اب تک مخطوطے کی شکل میں موجود ہے۔اس پر محمد بن اجمل بن محمد ایوب اصلاحی نے ایک ناقدانہ مقالہ تحریر کیا ہے جس میں صاحب تصنیف کے احوال، غریب الحدیث کے تعارف پر مشتمل ایک جاندار مقدمہ اور اس کتاب کا منہج اور اسکے نمایا خدوخال تفصیل سے ذکر کئے گئے ہیں۔[22]

 

(4) مقاصد ابی عبید فی معرفۃ غرائب الحدیث، ابو منصور المظفر الفارسی۔

یہ کتاب 513 ھ میں تصنیف کی گئی جس کا ایک نسخہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں موجود ہے۔

 

(5) ایجاز الغرائب و انجاز الرغائب۔جمال الدین عبد الرزاق البیہقی النیسابوری۔

اس کا ایک نسخہ ترکی میں موجود ہےیہ غریب الحدیث کے موضوع پر نہایت مختصر کتاب ہے[23]۔

 

(6) مجمع الغرائب، حافظ ابوالحسن الفارسی النیسابوری 529ھ

(7) تقذیۃ ما یقذیٰ العین من ھفوات کتاب الغریبین۔ حافظ ابو موسیٰ المدینی الاصبھانی581ھ

غریب الحدیث پر ہونے والے کام کے مختلف کام کے مناہج کا جائزہ

ذیل میں غریب الحدیث پرہونے والے کا م کے مختلف مناہج کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

(1) ابوعبیدہ کے کام کا منہج:

غریب الحدیث کے موضوع پر سب سے پہلے باقاعدہ تصنیف کرنے والے ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ ہیں۔آپ 112ھ (730ء) کو پیدا ہوئے اور 208 ھ (823ء) کو وفات پائے۔آپ کی ولادت بصرہ میں ہوئی۔آپ کا تعلق اباضیہ فرقہ سے تھا۔آپ نے 200 کے لگ بگ کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں مشہور کتب کے نام مجاز القرآن، اعراب القرآن، امثال القرآن فی غریب الحدیث، نقایص جریر و الفرزدوق وغیرہ ہیں۔

 

کتاب غریب الحدیث:

آپ نےغریب الحدیث کے موضوع پر ایک کتاب لکھی، جو نہایت مختصر تھی، علامہ ابن کثیر کے مطابق یہ گنتی کے چند اوراق پر مشتمل تھی[24]۔آپ نے کم علمی کی وجہ سے چھوٹی اور مختصر کتاب نہیں لکھی بلکہ مختصر کتاب لکھنے کے بنیادی طور پر دو عوامل تھے۔# آپ پہلے شخص تھے جس نے اس موضوع پر قلم اٹھایا تھا، اور ہر مبتدی اور موجد ایسا ہی ہوتا ہے ۔اسکے بعد آہستہ آہستہ اس میں وسعت آتی ہے۔

  1. اس وقت ان میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے جو ان احادیث کے معانی اور مفہوم جانتے تھے۔

 

 

 

وألف أبو عبيدة معمر بن المثنى التميمي، فجمع من ألفاظ غريب الحديث والأثر كتابا صغيرا ذا أوراق معدودات، ولم تكن قلته لجهله بغيره من غريب الحديث، وإنما كان ذلك لأمرين: أحدهما أن كل مبتدئ لشىء لم يسبق إليه، ومبتدع لأمر لم يتقدم فيه عليه، فإنه يكون قليلا ثم يكثر، وصغيرا ثم يكبر. والثاني أن الناس يومئذ كان فيهم بقية وعندهم معرفة، فلم يكن الجهل قد عم۔[25]

 

کتاب کامنہج:

آپ نے اپنی کتاب جس نہج پر ترتیب دی ہے اسکی تفصیل درج ذیل ہے۔

 

(1) اسناد کا ترک کرنا: یہ نہ صرف آپ کا خاصہ تھا بلکہ اس وقت موجود آپ کے تمام ہم عصروں کا خاصہ تھاکہ غریب الحدیث کی تحقیق کے دوران صرف متن حدیث کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے۔ابوعبیدہ نے بھی اپنے ہم عصر اہل لغت کے پیروی کرتے ہوئے صرف متن حدیث ذکر کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔[26]

 

(2) اختصار: آپ کی نے اس کتاب میں کافی اختصار سے کام لیا ہے، حتیٰ کہ بعض نے اس کو چند گنے چنے اوراق کا نام دیا ہے۔

 

(2) ابوعدنان کا منہج:

آپ ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ کے ساتھیوں میں سے تھے۔دونوں ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ نے دیگر کئی تصانیف کیساتھ ساتھ غریب الحدیث کے موضوع پر بھی ایک کتاب لکھی ہے۔آپ نے اس تصنیف میں معمر بن مثنیٰ سے کچھ الگ سا طرز اپنایا ہے، جو کچھ یوں ہے:

 

(1) ذکر اسناد: معمربن مثنیٰ نے اسناد کوذکر نہیں کیا تھا لیکن آپ نے جس حدیث کا غریب لفظ ذکر کیا ہے اس کی سند بھی ذکر کی ہے۔

 

(2) فقہی ترتیب: آپ نے اپنی کتاب سنن کی طرز پرترتیب دی ہےاو ر اس میں فقہی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔[27]

 

(3) ابوعبید قاسم بن سلام کا منہج:

آپ ہرات میں 150ھ بمطابق 767ء کو پیدا ہوئے ۔آپ بلند پائے کے عالم تھے۔ علامہ ابن حجر نے اسے ثقہ اور علامہ ذہبی نے اسے ثقۃ علامۃ قرار دیا ہے۔آپ کے والد صاحب رومی تھے جو ہرات کے ایک شخص کے غلام تھے۔آپ بے شمار کتابوں کے مصنف تھے۔ان میں سے ایک غریب الحدیث بھی ہے۔آپ نے اس کتاب کی تصنیف میں چالیس سال لگائے۔ [28]

 

روایت ہے کہ جب آپ نے یہ کتاب مکمل کی تو عبداللہ بن طاہر کے پاس روانہ کیا، جو اس وقت وزیر تھے، ۔آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ جس شخص کے عقل نے اس سے یہ عظیم کام کروایا ہے وہ اس بات کے مستحق ہے کہ اسے طلب معاش کی فکر سے مستغنی کیا جائے اورآپ کی جملہ ضروریات پوری کی جائے۔ اس نے آپ کے لئے 10 ہزار دراہم کا ماہانہ وظیفہ جاری کیا۔ [29]

 

لَمَّا عَمِلَ أَبُو عُبَيْدٍ كِتَابَ (غَرِيْبِ الحَدِيْثِ) ، عُرِضَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بنِ طَاهِرٍ، فَاسْتَحْسَنَهُ، وَقَالَ: إِنَّ عَقْلاً بَعَثَ صَاحِبَهُ عَلَى عَمَلِ مِثْلِ هَذَا الكِتَابِ، لَحَقِيْقٌ أَنْ لاَ يُحْوَجَ إِلَى طَلَبِ المَعَاشِ. فَأَجْرَى لَهُ عَشْرَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ فِي الشَّهْرِ[30]. آپ نے اپنی اس کتاب میں ابوداؤد اورامام بخاری سےبھی روایت لی ہے۔[31]

 

آخری وقت میں آپ مستقل طور پر مکہ چلے گئے جہاں 224ھ کو خالق حقیقی سے جا ملے۔

 

وَسكن مَكَّة حَتَّى مَاتَ بهَا فِي الْمحرم سنة أَربع وَعشْرين وَمِائَتَيْنِ۔[32]

 

آپ کا منہج:

آپ نے اس کتاب میں درجہ ذیل نہج پر کام کیا ہے۔# ابو عبیدہ، اصمعی اور دیگر حضرات نے غریب الحدیث پر جو کام کیا وہ سب متفرق تھا ۔آپ نے ان سب کو یکجا کیا۔جیسے ==حقو== لفظ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

 

 

 

قَالَ الْأَصْمَعِي: الحَقو الْإِزَار وَجمعه حَقي۔[33]# اس ذخیرے میں مزید وسعت لانے کیلئےمزید احادیث اور آثار بھی ذکر کئے گئے۔

  1. تمام احادیث اور آثار کو اسناد کے ساتھ ذکر کیا گیا۔مثلاًلفظ ==زوی== کی وضاحت کرتے ہوئے متعلقہ حدیث کا سند بھی ساتھ مذکور ہے۔

 

 

 

زوى قَالَ أَبُو عبيد: سَمِعت أَبَا عُبَيْدَة معمر بْن الْمثنى التَّيْمِيّ - من تيم قُرَيْش مَوْلَى لَهُم - يَقُول: زُوِيَتْ جُمِعَتْ۔[34]# آپ نے ان میں ترتیب کا خاص خیال رکھا، چنانچہ پہلے احادیث پاک کو ذکر کیا پھر آثار صحابہ اور تابعین کو ذکر کیا۔

 

 

 

وهى فِي الجزءين جمعت فِي الْجُزْء الاول أَحَادِيث النَّبِيّ صلي الله عَلَيْهِ وَسلم، وفى الثَّانِي آثَار الصَّحَابَة وَالتَّابِعِينَ رضوَان الله عَلَيْهِم أَجْمَعِينَ، الْجَزَاء الاول من ورقة 1 إِلَى 90 / ألف، والثانى يَبْتَدِئ من 90 / ب وينتهى إِلَى 138۔[35]# ہر صحابی اور تابعی کے جملہ اثار کو ایک ہی ساتھ ایک جگہ ذکر کیا ہے۔[36]

  1. الفاظ کی تشریح میں آپ جا بجا اشعار کو بطور استشہاد کے پیش کرتے ہیں۔مثلاً فرط (آگے جانے ولا) کی تشریح کے ذیل میں یہ شعر بھی درج کیا گیا ہے۔

 

 

 

فاستعجلونا وَكَانُوا من صحابتنا. . . كَمَا تعجل فُرَّاطٌ لِوُرَّادِ۔[37]# غریب الفاظ کی تفسیر و تشریح میں فقہی مزاج اور گہرائی و گیرائی نظر آتی ہے۔جیسے ==شہر اللہ== کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں محرم مہینے کی عظمت بتانے کیلئے اسکی نسبت اپنی طرف کی جیسا کہ مال غنیمت کی نسبت بھی قرآن میں اپنی طرف کی ہےاور جہاں عظمت بتانا مقصود نہیں ہوتا وہاں اپنی طرف نسبت نہیں کرتے جیسا کہ صدقہ کی نسبت اپنی طرف نہیں کی ہے۔وَقد علمنَا أَن الشُّهُور كلهَا لله [تَعَالَى -] وَلكنه إِنَّمَا ينْسب إِلَيْهِ عز وَجل كل شَيْء يعظم ويشرف وَكَانَ سُفيان بْن عُيَيْنَة يَقُول: إِن قَول اللَّه تَعَالَى: {وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مَّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلهِ خُمُسَهُ} وَقَوله: {مَا أفاءَ اللهُ عَلى رَسُوْلِه مِنْ أَهْلِ الْقٌرَى فَلِلّهِ وَلِلرَّسُوْلِ} فنسب الْمغنم والفيء إِلَى نَفسه وَذَلِكَ أَنَّهُمَا أشرف الْكسْب إِنَّمَا هما بمجاهدة الْعَدو قَالَ: وَلم يذكر ذَلِك عِنْد الصَّدَقَة فِي قَوْله: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِيْنِ} وَلم يقل: لِلهِ وَلِلْفُقَرَاءِ لِأَن الصَّدَقَة أوساخ النَّاس واكتسابها مَكْرُوه إِلَّا للْمُضْطَر إِلَيْهَا۔[38]

 

 

 

(4) ابراہیم بن اسحاق الحربی (198ھ ۔285ھ) :

آپ مرو کے تھے۔بغداد میں مشہور بھی ہوئے اور وہی پر آپ کا انتقال بھی ہوا۔آپ بلند پائے کے محدث تھے۔آپ کو حافظ الحدیث کہا گیا ہے، بڑے فقیہ تھے، آپ امام احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔آپکی مشہور تصنیفات میں سے دلائل النبوۃ، اکرام الضیف، المناسک، سجدات القرآن وغیرہ ہیں۔آپ نے==غریب الحدیث والاثار== کے نام سے غریب الحدیث کے فن میں بھی ایک عمدہ کتاب تصنیف کی۔اس کتاب کی تحقیق ونظرثانی ڈاکٹرسلیمان بن ابراہیم نےکی اور جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کےالمرکزللبحث العلمی واحیاءالتراث الاسلامی سے1405ھ کوشائع کیا۔

 

آپ کا منہج:

آپ نے اپنی اس کتاب میں جس منہج کا اپنایا ہے وہ کچھ یوں ہے۔# آپ نے اپنی کتاب الگ الگ مسانید میں تقسیم کیا ہے۔جیسے مثلاً جلد اول کی ابتداء میں پہلے مسند عبداللہ بن عمر کو رکھا ہے جس کے تحت ترتیب سے آپ کی احادیث موجود ہیں اس کے بعد

 

 

 

مسند عبداللہ بن عباس کا ذکر ہے۔[39]# آپ نے ہر حدیث کے غریب الفاظ کو الگ الگ بیان کیا ہے، اور ان میں بھی حروف تہجی کا اعتبار کیا ہے۔

 

 

 

جیسے مسندعبدللہ بن عمر کے تحت حدیث اربعون کے عنوان سے پہلے لفظ غم کی تحقیق کرتے ہیں پھر غمد کی۔[40]# آپ الفاظ کی تحقیق میں جگہ جگہ اشعار بھی ذکر کرتے ہیں۔جیسے لفظ سہم کی تحقیق میں یہ شعر بھی ذکر کیا ہے ؎

 

 

 

وَإِذَا نَظَرْتَ رَأَيْتَ جِسْمِيَ سَاهِمًا. . . وَهُمُ أَشَابُوا الرَّأْسَ قَبْلَ الْمَكْبَرِ[41]# آپ دیگر ائمہ لغت سے بھی استفادہ کرتے ہیں، جیسے ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ، اصمعی، فراء وغیرہ۔اسی طرح ائمہ مفسرین جیسے قتادہ، مجاہد، محمد بن کعب القرظی وغیرہ سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔ جیسے لفظ ==یوریہ== کی تشریح میں امام اصمعی کا قول نقل کیا ہے۔

 

 

 

عَنِ الْأَصْمَعِيِّ قَوْلُهُ: «حَتَّى يُرِيَهُ» مِنَ الْوَرْيِ, يُقَالُ: رَجُلٌ مَوْرِيٌّ غَيْرُ مَهْمُوزٍ وَهُوَ أَنْ يَدْوَى جَوْفُهُ[42]

 

کتاب کی خامی:

ابن قتیبہ دینوری نے غریب الحدیث و الاثار کے موضوع پر لکھی گئی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابراہیم حربی نے کتابغریب الحدیث میں بہت طوالت سے کام لیا ہے ۔ ہر حدیث کیلئے سند ذکر کرنے کا التزام کیا ہے ۔ کبھی پوری حدیث میں صرف ایک لفظ مشکل ہوتاہے اس ایک لفظ کے لئے پوری حدیث مع سند کے ذکر کرتے ہیں۔باوجود اس کتاب کے نہایت مفید ہونے کے لوگوں نےاس کو اس بے جا طوالت کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔[43]

 

(5) ابو عبیداحمد بن محمد الہروی (401ھ)

آپ کا اور اما م خطابی کا زمانہ ایک تھا۔دونوں کا طبقہ بھی ایک تھا۔آپ شافعی المسلک تھے۔ دیگر تصانیف کے ساتھ ساتھ آپ نے غریب الحدیث میں بھی ایک اچھی کتاب تصنیف کی ہے۔[44]

 

==کتاب کا منہج: ==# آپ نے پہلی بار غریب القرآن و الحدیث کو جمع کیا۔

  1. اس میں حروف تہجی کی ترتیب کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔
  1. آپ نے متون احادیث میں موجود مشکل الفاظ لے کر انہیں حروف تہجی کی ترتیب سے یکجا کیا ہے، اور صرف انکی تشریح کی ہے۔باقی متن حدیث، سند اور روایوں کو ذکر نہیں کیا ہے کیونکہ غریب الحدیث سے انکا کوئی تعلق نہیں۔
  1. آپ نے ابوعبید، ابن قتیبہ، اور اپنے سے پیش رو دیگر ائمہ لغت سے بھی استفادہ کیا ہے، اور انکے ساتھ ساتھ ان کے کام میں مزید اضافہ کیا ہے۔[45]

 

 

 

کتاب کی شہرت کی وجہ:

اس کتاب میں آپ بلا کسی مشقت کے بہ آسانی مشکل لفظ تلاش کرسکتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے چار دانگ عالم پزیرائی ملی ۔ لوگوں کو یہ ترتیب اتنی پسند آئی کہ آپ کے بعد جس شخص نے بھی غریب الحدیث پر کام کرنے کا ارادہ کیا آپ ہی کے نہج کو اپنایا، حتیٰ کہ علامہ جاراللہ زمخشری کا زمانہ آیا اور آپ نے الفائق کے نام سے معرکۃ الآراء کتاب تصنیف کی۔[46]

 

اس کتاب میں جو کمی محسوس کی جارہی تھی اس کا ازالہ ابو موسیٰ الاصبہانی نے کیا اورآپ ہی کی ترتیب کی پیروی کرتے ہوئے اس پر استدراک لکھا ۔

 

واستدرك على كتاب الغريبين للهروي الحافظ أبو موسى محمد بن عمرالمدینی

 

الأصفهاني (581هـ) فجمع ما فاته في كتاب مرتب على ترتيب الأول، ومقارب له في حجمه وفائدته[47]

 

(6) علامہ ابن جوزی کا منہج:

آپ کا نام جمال الدین ابو الفراج عبدالرحمٰن بن علی الجوزی ہیں۔آپ کی ولادت باختلاف روایات 509ھ یا 510 ھ (1116ء) ہے۔ آپ بغداد میں پیدا ہوئے ۔

 

ابن جوزی کہلانے کی وجہ:

آپ کےگھر میں ایک ہی اخروٹ کا درخت تھا۔اس کے سوا پورے واسط میں اخروٹ کا کوئی درخت نہیں تھا۔اخروٹ کو عربی میں جوز کہتے ہیں، اسلئے آپ ابن الجوزی کہلائے۔ آپ بچپن ہی سے بڑے عابد و زاہد تھے[48]۔آپ نے 250 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں[49]۔آپ کے پوتے کے مطابق آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے دو ہراز جلدیں تحریر کی ہیں اور آپ کے ہاتھ پر بیس ہزار لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔

 

قال سبطه أبو المظفر: سمعت جدي على المنبر يقول: بأصبعي هاتين كتبت ألفي مجلدة، وتاب على يدي مئة ألف، وأسلم على يدي عشرون ألفا۔[50]

 

فن غریب الحدیث:

آپ نے غریب الحدیث کے نام سے اس فن میں نہایت عمدہ کتاب لکھی جو دار الکتب العلمیہ بیروت سے چھپ چکی ہے۔

 

آپ کا منہج:

1: آپ نے اپنی کتاب کوحروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی ہے۔

 

2: آپ نے ابوعبید الہروی کے منہج کی پیروی کی ہے، دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ ہروی

 

نے قرآن و حدیث دونوں کے مشکل الفاظ کی تشریح کی ہےجبکہ علامہ ابن الجوزی نے صرف غریب الحدیث کو لے کر کام کیا ہے، اس اعتبار سے یہ اس کی تلخیص بھی کہلائی جاسکتی ہے۔شیخ محمود الطحاں کے استاد ابو زہر ہ اپنی مشہور کتاب الحدیث و المحدثون میں لکھتے ہیں:

 

وکذالک صنف ابو الفراج ابن الجوزی (514) کتابا فی غریب الحدیث خاصۃ نہج فیہ منہج الھروی بل ان کتابہ مختصرمن کتاب الہروی، لایزیدعلیہ الاکلمۃ الشاذۃ[51]

 

3: آپ نے سند ذکر نہیں کی ہے۔حدیث کا بھی صرف اتنا ٹکڑا ذکر کرتے ہیں جس سے مفہوم سمجھ میں آسکے۔مثلاًباب الخاءمع الباء کے تحت ایک جگہ لکھتے ہیں:

 

قولہ: لایصلی الرجل و ھو یدافع الاخبثین یعنی الغائط والبول۔[52]

 

4: آپ غریب الحدیث کی تشریح میں صرف اس لفظ کی وضاحت کر دیتے ہیں۔باقی لفظ کی لغوی یا صرفی تحقیق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں

 

فی الحدیث کان عبداللہ اذا دخل دارہ استاءنس ای استاءذن۔[53]

 

5: آپ نے باوجود اہل سنت ہونے کے جب بھی حضرت علی کا تذکرہ کیا ہے آپ کے ساتھ علیہ السلام کا لفظ ضرور استعمال کیا ہے۔ اس کتاب میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام کل 142 مرتبہ آیا ہے۔ہربار اس کے ساتھ علیہ السلام کا لاحقہ ضرور لگایا گیا ہے، انظر۔[54]

 

6: آپ وقتاً فوقتاً تشریح کیلئے مختلف اشعار بطور استشہاد کے ذکر کرتے ہیں۔مثلاً: بیضۃ البلد مدح کے طور پر بھی مذکور ہے اور مذمت کے طور پر بھی۔ابن جوزی نے دونوں کیلئے ایک ایک شعر ذکر کیا ہے، ایک میں یہ لفظ مدح کے طور پر اور دوسرے میں مذمت کے طور پر استعمال ہو ا ہے۔[55]

 

(7) محمد ابن اثیر الجزری کا منہج:

آپ کا نام مجدالدین ابو سعادات مبارک بن محمد ابن عبدالکریم شیبانی جزری ابن اثیر تھا۔

 

آپ 544ھ بمطابق 1150ءکو پیدا ہوئے اور 606 ھ بمطابق 1210ء میں وفات پائے۔اسے جوڑوں کے درد کی بیماری (نقرس) لاحق تھی جو مرتے دم تک آپ پر مسلط رہی، لیکن عزم و ہمت کا کمال دیکھیے کہ آپ کی بیشتر تصنیفات آپ کی بیماری کے ایام کی ہیں۔آپ املاء کرواتےتھے اور کاتب لکھتے رہتے تھے۔آپ مسلک امام شافعی کے پیروکار تھے[56]۔آپ نے بے شمار کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں سے مشہور النہایہ فی غریب الحدیث و الاثر (چار جلد) جامع الاصول (10 جلدیں) ، الانصاف فی الجمع بین الکشف و الکشاف (یہ تفسیر کے فن میں ہے) وغیرہ ہیں۔[57]

 

کتاب کا اسلوب:

1: عمدہ ترتیب:

آپ نے النہایہ کے مقدمے میں لکھا ہےکہ علامہ ہروی نے غریب القرآن و الحدیث دونو ں پر کام کیا ۔ اسکے بعد علامہ زمخشری نے صرف غریب الحدیث کو منتخب کیا اور اس پر کا م کیا لیکن اسکی ترتیب کافی مشکل تھی، جس کی وجہ سے لوگ علامہ ہروی کی کتاب ہی کو ترجیح دیتے رہے باوجود یہ کہ علامہ زمخشری نے بھی علامہ ہروی سے استفادہ کیا تھا اور اس پر مزید اضافہ بھی کیا تھا۔اسکے بعد ابوموسیٰ الاصبہانی آئے ۔آپ نے مادہ اور منہج دونوں میں علامہ ہروی سے استفادہ کیااور اس پر مزید اضافہ کیا۔شیخ ابن الجوزی نے بھی علامہ ہروی کی کتاب سے استفادہ کیا۔آپ نے ہروی کی کتاب پر چند ہی شاذاور مشکل قسم کے الفاظ کا اضافہ کیا اور بس۔

 

ابن اثیر الجزری فرماتے ہیں کہ میں نے ہروی کی کتاب اور ابوموسیٰ کی کتاب کو سامنے رکھا اور قارئین کی آسانی کیلئے ایک نئی کتاب تصنیف کی جس کی ترتیب یہ رکھی گئی کہ ہر لفظ کو متعلقہ باب کے تحت ذکر کیا۔[58]

 

2: جامع کتاب:

آپ نے نہ صرف دونوں کتابوں میں موجود غریب الحدیث کو جمع کیا بلکہ متقدمین کی غریب الحدیث پر لکھی گئی کتابوں سے استفادہ بھی کیااور ساتھ ساتھ ان پر مفید اضافے بھی کئے[59]

 

3: حروف تہجی کی ترتیب:

آپ نے اپنی کتاب کو حروف تہجی کی ترتیب سے ترتیب دیا ہے، اس طور پر کہ ہر لفظ کے پہلے حرف کا اعتبار کیا ہے پھر دوسرے لفظ کا اور پھر تیسرے لفظ کا۔ مثلاً آپ نےحرف ہمزہ کے تحت پہلے باب الہمزہ کو ذکر کیا ہےپھر اسکے تحت پہلے لفظ ابب کو ذکر کیا ہےاسکے بعد ابد، پھر ابر کا مادہ ذکر کیا ہے۔اسکی اس عمدہ ترتیب کی وجہ سے اسے کافی پزیرائی ملی۔[60]

 

4: جس مادہ کے تحت جو لفظ آتا ہے صرف اسی کی تشریح کرتے ہیں۔اسی حدیث میں اگر اور بھی مشکل الفاظ موجود ہوتو انہیں یہاں نہیں چھیڑتے بلکہ ان کے متعلقہ ابواب میں ذکر کرتے ہیں۔مثلاً باب الہمزہ مع الواو میں لفظ اوب کے تحت ایک حدیث مذکور ہے: صلاۃ الاوبین حین ترمض الفصال۔[61]

 

اس حدیث کے تحت لفظ الاوبین کی تشریح تو مذکور ہے لیکن ترمض الفصال کی وضاحت یہاں موجود نہیں ہے بلکہ وہ اسکے متعلقہ باب میں رمض مادہ کے تحت درج ہے۔

 

صلاة الأوابين إذا رمضت الفصال وهي أن تحمى الرمضاء وهي الرمل، فتبرك الفصال من شدة حرها وإحراقها أخفافها۔[62]

 

==5: ==آپ نے جہاں سے بھی استفادہ کیا ہے ان مراجع کو ضرور ذکر کیا ہے۔یہ آپ کی بے غبار شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔مثلاً اتاکم اہل الیمن ہم ارق قلوبا و ابخع کےتحت لکھتے ہیں:

 

قال زمخشری ھو من نخع الذبیحۃ اذا بالغ فی ذبحہا ویبلغ بالذبح النخاع، بالباء،

 

وہو العرق الذی فی الصلب۔[63]

 

==6: ==آپ جابجا عربی اشعار کو بھی بطور دلیل اور بطور شاہد کے پیش کرتے ہیں۔مثلاً بدر مادہ کے تحت لکھتے ہیں: ومنہ قول النابغۃ ؎

 

ولاخیر فی حلم اذا تکن لہبوادر تحمی صفوہ ان یکدر [64]

 

(8) زمخشری کا منہج:

آپ کا پورہ نام ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشری ہے۔آپ بڑے مفسر اور نحوی گزرے ہیں۔ آپ کی ولادت 467ھ کو خوارزم میں ہوئی[65]۔ آپ کی تاریخ وفات 538ھ ہے۔

 

وتوفي أبو القاسم محمود بن عمر الزمخشري المفسر النحوي سنة ثمان وثلاثين وخمسمائة ۔[66]

 

آپ نے بے شمار کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں:

 

المفرد و المرکب، الفائق فی غریب الحدیث، اساس البلاغہ، ربیع الابرارو فصوص الاخبار شرح ابیات کتاب السیبویہ۔[67]

 

آپ نے مکہ ہجرت کی اور ایک لمبے عرصے تک وہیں مقیم رہے، جسکی وجہ سے آپ جار اللہ کے لقب سےمشہور ہوئے[68]آپ کٹر قسم کے معتزلی تھے، آپ جب کسی دوست کے پاس ملنے جاتے تو وہاں موجود دربان سے کہتے کہ حضرت سے کہو کہ ابو القاسم المعتزلی ملنے آئے ہیں[69]۔

 

غریب الحدیث کی تشریح میں آپ کا منہج:

(1) آپ نے ترتیب میں ابوعبید الہروی کی پیروی کے ہے۔دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ ابوعبید جب کسی لفظ کی تشریح کرتے ہیں تو اس کے علاوہ کو مس نہیں کرتے جبکہ علامہ زمخشری جب کسی حدیث کو ذکر کرتے ہیں تو اس میں موجود تمام غریب الفاظ کی تشریح کرتے ہیں مثلا ہمزہ مع الباء

 

کے تحت آپ نے تؤبن کے لفظ کی تشریح کی ہے، اس کے بعد کان علیٰ رؤسہم الطیر کی تشریح بھی کی ہے کیونکہ یہ بھی اس حدیث میں موجود ہےاگرچہ اس مادے کے تحت نہیں آتا ہے [70]

 

آپ کا یہ طرز لوگوں میں مقبولیت حاصل نہیں کرسکا کیونکہ اس کی وجہ سے بے شمار الفاظ اپنی جگہوں سے ہٹ کر ذکر کر دیئے گئے ہیں۔اس خامی کا تدارک آپ نے بعد میں اس طرح کیا کہ ہر

 

فصل کے آخر میں ان الفاظ کے اصل جگہوں کی وضاحت کردی۔[71]

 

==نوٹ: ==علامہ ابن اثیر کے سامنے الفائق کا شائد وہ نسخہ موجود تھا جس کے ہر فصل کے آخر میں ان الفاظ کے اصل جگہوں کی وضاحت موجود نہیں تھی، اسی لئے آپ نے النہایہ کے مقدمےمیں بطور شکایت کے لکھا ہے:

 

ولکن فی العصور علی طلب الحدیث منہ کلفۃ و مشقۃ ۔۔۔۔۔فترد الکلمۃ فی غیر حرفہا و اذا تطلبہا الانسان تعب حتیٰ یجدہا۔[72]

 

(2) آپ لفظ کی تشریح میں بطور ر استشہاد کےاشعار بھی ذکر کرتے ہیں۔مثلاً ==کان علی ٰرؤسہم الطیر== کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے کس شخص کی مکمل خاموشی اور ساکن ہونا مراد ہے، جیسا کہ شعر میں ہے ؎

 

اذا حلت بنو لیث عکاظا ًو رءیت علیٰ رؤسہم الغرابا[73]

 

جب بنو لیث نے عکاظ پر چڑھائی کی تو انکے سروں پر گویا کوے بیٹھے تھے۔

 

(3) اگر آپ کا ذکر کردہ غریب لفظ دیگر احادیث میں بھی موجود ہو تو آپ ان کی طرف بھی لطیف سااشارہ کرتے ہیں۔مثلاً== نہیٰ عن قتل شئیٍ من الدواب صبراً ==کے تحت لکھتے ہیں: 

 

صبر ان یمسک ثم یرمیٰ حتیٰ یقتل، ومنہ حدیثہﷺ: انہ قال فی رجل امسک رجلا و قتلہ آخر: اقتلوا القاتل و اصبروا الصابر ای احبسہ للموت حتیٰ یموت۔[74]

 

یہاں صبر کی تشریح کرتے ہوئے جہاں جہاں صبر مذکورہ معنیٰ میں مذکور ہے ان سب کی طرف اشارہ موجود ہے۔

 

(4) آپ مشکل الفاظ کی نہ صرف تشریح کرتے ہیں بلکہ کبھی اس حدیث میں چپھے حکمت سے بھر پور گہرے نکات کو بھی بیان کرتے ہیں۔مثلا فلا یشبکن یدہ کے تحت لکھتے ہیں:

 

شبک ہو ان یدخل اصابعہ بعضہا فی بعض و ہذا کنہیہ عقص شعرہ و اشتمال الصماء و قیل ان التشبیک و الاختباء مما یجلب النوم فنہیٰ عن التعرض لما ینقض الطہارۃ۔[75]

 

تشبیک اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنے کا نام ہے۔ یہ ممنوع ہے۔جس طرح بالوں کے گچھہ بنانے اور بڑا چادر اس انداز سے لپیٹنا ممنوع ہےجس میں آپ کے ہاتھ جم جائے اور ان سے کام نہ کرسکے ۔کہا گیا ہے کہ اس طرح چادر اوڑھنا اور تشبیک اس لیے ناجائز قرار دیا گیا ہے کہ ان سے نیند آتی ہے۔

 

تقابلی مطالعہ

(1) متقدمین سے استفادہ:

غریب الحدیث پر جن حضرات نے کام کیا ہے سوائے ابوعبید ہ معمر بن مثنیٰ کے کسی نے بھی سارہ کام خود نہیں کیا ہے بلکہ ہر ایک نے اپنے سے پیش رو مصنف کی کتاب سے ضرور استفادہ کیا ہے۔اور تقریباً ہر ایک نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ میں نے اس فن میں فلاں فلاں کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ہاں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک نے اپنے اپنی تصنیف میں کچھ نیا ضرور اس طرح ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے آپ کی کتاب اب تک اہل علم کے مکتبوں کی زینت بنتی آرہی ہے۔

 

(2) ترتیب:

غریب الحدیث میں اب تک تک کئی کتابیں تصنیف کیں جا چکی ہیں۔باوجود اس بات کے کہ ہر ایک نے اپنے سے پیش رو کے کام سے استفادہ کیا ہے، ہر ایک کی ترتیب ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے۔جسکی تفصیل یوں ہے۔

  1. ==مسند کی ترتیب: ==

 

 

 

ابو عبید قاسم بن سلام نے اپنی کتاب کو مسانید صحابہ کی ترتیب پر مرتب کیا ہے۔اس میں پہلے احادیث پھر اثار صحابہ پھر اثار تابعین کو ذکر کیا ہے۔

  1. ==تقالیب اور مخارج کی ترتیب: ==

 

 

 

ابو اسحاق حربی نے مخارج اور تقالیب کی ترتیب پر اپنی کتابیں تشکیل دی ہیں۔#

==معجم کی ترتیب: ==

 

 

 

علامہ ہروی، علامہ زمخشری ا ور ا بن اثیر جزری نے اپنی کتابیں حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی ہیں۔ان میں سب سے مقبول ترتیب: چونکہ معجم کی ترتیب حروف تہجی کے ترتیب ہوتی ہے اور اس میں کسی لفظ کو تلاش کرنا آسان ہوتا ہے، اس لئے اس ترتیب کو کافی پسند کیا گیا ۔چنانچہ الفائق، النہایہ اور ہروی کی غریبین کو لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔

فقہی ترتیب:

ابوعدنان نے ابنی کتاب میں فقہی ترتیب کو اپنایاہے۔

 

(3) اسناد کا ذکر:

  1. غریب الحدیث کی مذ کورہ کتابوں میں بعض احضرات نے صر ف متعلقہ غریب لفظ کوذکر کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔سند اور متن سے بحث کئے بغیر۔جیسے علا مہ احمد بن محمد الہروی کرتے ہیں کہ


آپ صرف غریب الفاظ کی تشریح پر اکتفاء کرتے ہیں۔# جبکہ بعض دیگر نے احادیث کا اتنا ٹکڑا بھی ذکر کیا ہےجسکی وجہ سے وہ لفظ سمجھ میں آسکے ۔ جیساکہ علامہ ابن جوزی کرتے ہیں۔

  1. بعض نے حدیث کا متن بھی مکمل ذکر کیا ہے جیسے ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ نے کیا ہے۔
  1. اگر غریب لفظ اس حدیث سمیت کسی اور حدیث میں بھی موجود ہو تو علامہ زمخشری کے علاوہ کسی نے بھی اس کی طرف اشارہ نہیں کیا ہےیہ خاصہ صرف علامہ زمخشری کا ہے۔
  1. اس کے ساتھ ساتھ بعض نے متن حدیث کے ساتھ اسکی سند بھی ذکر کی ہے، جسکی وجہ سے یہ کتابیں کافی طویل ہوگئی۔جیسے معمر بن مثنیٰ کے ہم عصر ابوعدنان، ابوعبید قاسم بن سلام، ابراہیم الحربی (خصوصاً آپ کی کتاب اس کی وجہ سے کافی طویل ہوگئی، کیونکہ کبھی پوری حدیث میں صرف ایک غریب لفظ ہوتا ہےلیکمن آپ اس کیلئے اس حدیث کا مکمل متن اور سند ذکر کرتے ہیں۔)

 

 

 

(4) اشعار:

سب نے بطور استشہاد کے اشعار کو بھی ذکر کیا ہے۔صرف اتنا فر ق ضرور ہے کہ بعض نےکبھی کبھی ذکر کیاہے اور دیگر بعض نے بہت کثرت سے انہیں ذکر کیا ہے۔

 

(5) نمایا ںمزاج اور رنگ:

تمام پر محدثانہ اور لغت کا رنگ غالب ہے۔البتہ اس کے ساتھ ساتھ: # ابوعدنان اور قاسم بن سلام پر فقہی رنگ غالب ہے۔

  1. علامہ ابن جوزی پر وعظ کا رنگ غالب ہے۔جسکی وجہ سے آپ اپنی کتاب میں کبھی کبھار لمبی حکایتیں ذکر کرتے ہیں۔
  1. علامہ زمخشری کا فلسفیانہ اور کلامی مزاج بھی آپ کی مذکورہ کتاب سے خوب چھلکتاہے جس کی وجہ سے آپ ہر لفظ کے تحت حدیث میں باریک نکات ذکر کرتے ہیں۔

 

 

 

== (6) طویل اور مختصر کتابیں: ==# مذکورہ کتابوں میں سب سے مختصر کتاب ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ کی ہے۔ جسکو ابن اثیر نے اوراق معدودۃ کے نام سے ذکر کیا ہے۔

  1. اسی طرح ابن جوزی کتاب بھی بایں معنیٰ مختصر ہے کہ آپ نے علامہ ہروی کی کتاب غریبین کے صرف ایک حصہ (غریب الحدث) پر کام کیا ہے اور اس پر کچھ اضافہ کیا ہے۔ابن اثیر کے مطابق آپ نے چند ہی الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
  1. ابراہیم حربی کی کتاب کافی طویل ہے۔کیونکہ آپ مکمل متن اور سند بھی ذکر کرتے ہیں۔ اس طوالت کی وجہ سے لوگوں نےاسے چھوڑ دیا۔
  1. احمد بن محمد ہروی کی کتاب بھی طویل ہے کیونکہ آپ نے غریب القرآن و الحدیث دونو ں کو جمع کیا ہے۔

 

 

 

(7) جس کتاب سے سب سے زیادہ استفادہ کیا گیا:

ان کتابوں میں احمد بن محمد ہروی کی کتاب سے سب سے زیادہ استفادہ کیا گیا۔ابن جوزی، زمخشری، ابن اثیر جزری اور ابوموسیٰ اصبہانی (جس کی کتاب سے ابن اثیر نے استفادہ کیا تھا) ان سب نے آپ ہی کی کتاب کو سامنے رکھ کر کتابیں تصنیف کیں۔

 

(8) ہمارے ہاں مشہور کتابیں:

ہمارے ہاں برصغیر باک وہند میں زمخشری کی الفائق، ابن جوزی کی غریب الحدیث لابن الجوزی اور ابن اثیر جزری کی النہایہ زیادہ مشہور کتاہیں۔ان میں زیادہ مفید کتاب النہایہ ہے۔باقی دو کتابیں بھی اگر چہ فائدے سے خالی نہیں ہیں لیکن ان کی بنیادی شہرت کی وجہ ان کے مصنفین کی شہرت ہے۔جسکی وجہ سے لوگ ان کی کتابوں کو بھی ہاتھوں ہاتھ لے لیتے ہیں۔

 

 

مشہور کتابیںزیادہ مستفادہ کتابطویل اور مختصرنمایا ں مزاج اور رنگاشعاراسناد کا ذکرمتقدمین سے استفادہترتیبنام مصنف
  سب سے مختصرلغت اور حدیثکیانہیںنہیں ابوعبیدہ

 

 

 

  متوسطفقہیکیاکیاکیامسند کی ترتیبابوعبید قاسم بن سلام

 

 

 

  سب سے طویل کتابلغت اور حدیثکیاکیاکیاتقالیب اور مخارج کی ترتیبابراہیم بن اسحاق الحربی

 

 

 

 سب سے زیادہ استفادہ اس سے ہواطویل کتابلغت اور حدیثکیانہیںکیامعجم کی ترتیبابو عبیداحمد بن محمد الہروی

 

 

 

مشہور مختصرمن غریبین للہرویوعظکیانہیںکیامعجم کی ترتیبعلامہ ابن جوزی

 

 

 

مشہور متوسط لیکن دلچسب ہےلغت اور حدیثکیانہیںکیامعجم کی ترتیبمحمد ابن اثیر الجزری

 

 

 

مشہور طوالت مملفلسفیانہ اور کلامیکیانہیںکیامعجم کی ترتیبعلامہ زمخشری
  مختصرفقہیکیاکیاکیافقہی ترتیبابو عدنان

حوالہ جات

  1.  محمود الطحان، تیسیر مصطلح الحدیث، مکتبہ المعارف للنشر و التوضیع، 2004ء، الباب الثالث، الفصل الاول، المبحث الرابع، صفۃ روایۃ الحدیث، ص 214
  2.  محمد بن علی القاضی، کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، مکتبہ لبنان ناشرون بیروت 1996ء، حرف العین، ج2، ص1250
  3.  مقدمۃ ابن الصلاح، دار الفکر، بیروت، 1988ء، النوع التاسع و العشرون، النوع الثانی، معرفۃ غریب الحدیث، ج1، ص272
  4.  ایضاً، ص214
  5.  البخاری، ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، دارطوق النجاۃ، 1422ھ، کتاب الجمعۃ، باب اذا لم یطق قاعداًصلی علی جنبٍ
  6.  سنن دار قطنی، دار المعرفہ بیروت، 1996ء، کتاب الوتر، باب صلاۃ المریض، ج2، ص42
  7.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب اصلاحی، کتاب جمل الغرائب للنیسابوری اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، مجمع الملک فھد لطباعۃ المصحف الشریف، ص 5
  8.  الخطیب البغدادی، أبو بكر أحمد بن علي، تاریخ بغداد، دارالكتب العلمية، بيروت، ج12، ص403
  9.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب، کتاب جمل الغرائب، اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، ص 11
  10.  محمود الطحان، تیسیر مصطلح الحدیث، مکتبہ المعارف للنشر و التوضیع، 2004ء، الباب الثالث، الفصل الاول، المبحث الرابع، صفۃ روایۃ الحدیث، ص 215
  11.  ایضاً
  12.  النيسابوري أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم، معرفۃ علوم الحدیث، دار الكتب العلمية، بيروت، 1977م، ص88
  13.  الخطیب البغدادی، أحمد بن علي، أبو بكر، تاریخ بغداد، دارالكتب العلمية، بيروت، ج12 ص405
  14.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد الجزری، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، المکتبۃ العلمیۃ بیروت، 1979، مقدمہ المؤلف، ج1، ص5
  15.  سیوطی، عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين، بغية الوعاة في طبقات اللغويين والنحاة، المكتبة العصرية، لبنان / صيدا، ج2، ص294
  16.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ج1، ص5
  17.  احمد بن محمد الخراط، ابوبلال، منہج ابن الاثیر الجزری فی مصنف النھایۃ فی غریب الحدیث و الاثر، ناشر مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف، المبحث الاول، ج1، ص، 6
  18.  ابن الصلاح، عثمان بن عبدالرحمٰن، مقدمۃ ابن الصلاح، دار الفکر، بیروت، 1988ء، النوع التاسع و العشرون، النوع الثانی، معرفۃ غریب الحدیث، ج1، ص273
  19.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب، کتاب جمل الغرائب اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، ص 15
  20.  ایضاً، ص 17
  21.  ایضاً
  22.  ڈاکٹر اجمل صاحب فراہی مکتب فکر پر تحقیق کے حوالے سے عالم عرب میں شہرت رکھتے ہیں۔حمید الدین فراہی ہندوستان میں حمید الدین کے نام سے معروف ہیں لیکن عالم عرب میں عبدالحمید فراہی کے نام سے معروف ہیں۔ڈاکٹر موصوف کا مذکورہ مقالہ سعودیہ عرب سے "کتاب جمل الغرائب للنیسابوری، اہمیتہ فی علم غریب الحدیث"کے نام سے چھپ چکا ہے۔
  23.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب، کتاب جمل الغرائب اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، ص 18
  24.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ج1، ص5
  25.  ایضاً
  26.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب، کتاب جمل الغرائب، اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، ص 11
  27.  ایضاً
  28.  قاسم بن سلام ہروی، غریب الحدیث، ط دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدرآباد دکن، 1964، مقدمہ، ج1، ص7تا10
  29.  ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ دمشق، دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، عام النشر1415 ھ، حرف القاف، قاسم بن سلام، ج49، ص74
  30.  الذہبی، شمس الدین، سير أعلام النبلاء، مؤسسۃ الرسالۃ، 1985ء، الطبقۃ الثانیۃ عشرۃ، ابوعبید قاسم بن سلام، ج 10، ص495
  31.  ایضاً
  32.  قاسم بن سلام ہروی، غریب الحدیث، ط دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدرآباد دکن، 1964، مقدمہ، ج1، ص12
  33.  ایضاً، ص46
  34.  ایضاً، ص3
  35.  ایضاً، ص13
  36.  ایضاً، ص13
  37.  ایضاً، ص45
  38.  ایضاً، ص4-5
  39.  ابواسحاق، إبراهيم بن إسحاق الحربي، غریب الحدیث، جامعة أم القرى، 1405ھ، مكة المكرمة، ج1، ص3، 42
  40.  ایضاً
  41.  ایضاً، ج3، ص1113
  42.  ایضاً، ج2، ص754
  43.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد الجزری، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ج1، ص6
  44.  الذہبی، شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، أَبُو عُبَيْدٍ الهَرَوِيُّ أَحْمَدُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ مُحَمَّدٍج17، ص147
  45.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ج1، ص9
  46.  ایضاً
  47.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب، کتاب جمل الغرائب، اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، ص 13
  48.  الذہبی، شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، أَبُو الفَرَجِ ابْنُ الجَوْزِيِّ عَبْدُ الرَّحْمَانِ بنُ عَلِيٍّ، ج21، ص370
  49.  ایضاً
  50.  ایضاً
  51.  محمد ابو زہوہ، الحدیث والمحدثون، دارالفکر العربی قاہرہ، 1378ھ، ص 477
  52.  ابن الجوزی، ابو الفراج عبد الرحمن بن علي بن محمد ابن الجوزی، غریب الحدیث لابن الجوزی، کتاب الخاء، باب الخاء مع الباء، ج 1، ص261
  53.  ایضاً، ص43
  54.  ایضاً، ص15، 27، 31، 49، 69، 78 ۔۔۔الخ
  55.  ایضاً، ص95
  56.  أحمد بن محمد الخراط، أبو بلال، منهج ابن الأثير الجزري في مصنفه النهاية في غريب الحديث والأثر، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف بالمدينة المنورة، المبحث الثانی، التعریف بمجدالدین ابن الاثیر، ص 19
  57.  الذہبی، شمس الدین، تاریخ الاسلام، وفیات المشاہیروالاعلام، دارالمغرب الاسلامی 2003ء، سنۃ ست و ست مائۃ، المبارک ابن الاثیر الجزری، ج 13، ص146
  58.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ج1، ص11
  59.  ایضاً، ص9
  60.  ایضاً، ص13
  61.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد الجزری، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، حرف الہمزہ باب الہمزہ مع الواو، ج1، ص79
  62.  ایضاً، حرف الراء، باب الراء مع المیم، 2، ص641
  63.  ایضاً، حرف الباء، باب الباء مع الخاء، ج1، ص102
  64.  ایضاً، حرف الباء باب الباء مع الدال، ج1، ص79
  65.  مبارک بن احمد ابن المستوفی، تاریخ اربل، دارالرشید للنشر، عراق، 1980، القسم الثانی، الورقہ 1142، ج 2، ص482
  66.  ابو العباس، القنفذ، الوفیات لابن القنفذ، دارالآفاق الجدیدۃ 1983، المائۃ السادسۃ، العشرۃ الرابعۃ، ص278
  67.  شمس الدین، الاربلی، وفیات الاعیان، دارالصادر بیروت 1990۔1996، حرف المیم، الزمخشری، صاحب الکشاف، ج5، ص168، 169
  68.  ایضاً، ص168
  69.  ایضاً، ص170
  70.  الزمخشری، محمود بن عمر، ابو القاسم جاراللہ، الفائق فی غریب الحدیث، دارالمعرفہ، لبنان، حرف الہزۃ، الہمزۃ مع الباء ج1، ص13
  71.  دکتور، محمد اجمل بن محمد ایوب، کتاب جمل الغرائب، اہمیتہ فی علم غریب الحدیث، ص 14
  72.  ابن الاثیر، مبارک بن محمدبن محمد، مجد الدین، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ج1، ص9
  73.  الزمخشری، محمود بن عمر، ابو القاسم جاراللہ، الفائق فی غریب الحدیث، حرف الہزۃ، الہمزۃ مع الباء ج1، ص13
  74.  ایضاً، حرف الصاد، الصاد مع الہمزۃ، ج1، ص276
  75.  ایضاً، حرف الشین، ج2، ص219




No comments:

Post a Comment