Monday, 2 January 2017

القرآن: اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں-سورۃ یوسف:106

اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں۔[سورۃ یوسف:106]
تفسیر الدر المنثور(از امام سیوطیؒ 849ھ -911ھ)
۱:۔ ابن جریرؒ وابن ابی حاتمؒ وابوالشیخؒ رحمہم اللہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’’وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون‘‘ کے بارے میں فرمایا ان سے سوال کیجئے کس نے ان کو پیدا کیا اور کس نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا ؟ تو وہ کہیں گے: اللہ تعالیٰ نے۔ یہ ان کا ایمان تھا جبکہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔
۲:۔ سعید بن منصورؒ وابن جریرؒ وابن منذرؒ وابوالشیخؒ رحمہم اللہ نے عطاءؒ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’’ وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون ‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ جانتے تھے کہ بلاشبہ ان کا رب ہے وہی ان کا خالق اور رازق ہے لیکن اس کے باوجود وہ شرک بھی کرتے ہیں ۔
۳:۔ ابن جریرؒ وابن منذرؒ وابن ابی حاتمؒ نے مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’’ وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون ‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا یہ ایمان ہے کہ وہ یہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا فرمایا اور وہی ہم کو رزق دیتا ہے ۔ اور وہی ہم کو موت دے گا تو یہ ایمان ہے لیکن وہ غیر اللہ کی عبادت کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔
۴:۔ ابن جریرؒ وابن منذرؒ نے ضحاک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’’ وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون ‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے تلبیہ میں شرک کرتے ہوئے کہتے تھے ۔
لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وملک :
ترجمہ : اے اللہ میں حاضر ہو، حاضر ہوں ساتھ کوئی شریک نہیں وہ شریک جس کو تو نے شریک بنایا تو اس کا بھی مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے تو اس کا بھی مالک ہے ۔

۵:۔ ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حسنؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’’ وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون ‘‘ کے بارے میں فرمایا کہ وہ منافق ہے جو ریاکاری سے عمل کرتا ہے اور شرک ہے اپنے عمل کی وجہ سے ۔

تفسیر امام ابن کثیر(701ھ - 774ھ)
قدرت کی بہت سی نشانیاں ، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں ، دن رات ان کے سامنے ہیں ، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے ۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان ، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی ، زمین ، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج ، چاند ، یہ درخت اور یہ پہاڑ ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں ، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر ، یہ بزور چلنے والی ہوائیں ، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے ، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آ سکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے ، صمد ہے ، فرد ہے ، واحد ہے ، لا شریک ہے ، قادر و قیوم ہے ، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہو جائیں؟ 
بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں ۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں ۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں ، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں ، جو بھی شریک ہیں ، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے بس بس ، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو ۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت ۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود (رض) نے رسالت پناہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں ۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے ۔ قرآن کا فرمان ہے آیت ( اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا ١٤٢؁ۡۙ) 4- النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں ۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں ، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا ۔ چنانچہ حضرت حذیفہ (رض) ایک بیمار کے پاس گئے ، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا ۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کر دیتا ہے ۔ ( ابو داؤد وغیرہ ) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی ، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے ، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے ۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے ۔ خود میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں ۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی ، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی ، وہ دم جھارا کر دیتا تھا تو سکون ہو جاتا تھا ، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) ( مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے ۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے ، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے ۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا ۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے ، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں ۔ ( مسلم ) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے ، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے ، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کر لے ، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے ۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے ، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری ، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے ، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا ۔ صحابہ (علیہ السلام) نے دریافت کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے ، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر (رض) سے آپ کی شکایت کریں ۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو ۔ ہمیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو
دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابو بکر صدیق (رض) تھے ۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے ۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم ( مسند ابو یعلی ) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ 
دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ )
ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم ۔ )
فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے ۔ جیسے ارشاد ہے آیت ( اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45؀ۙ) 16- النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے ۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں ، یہ تو صرف اس کی رحمت و رافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں ۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آ جائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں ۔


تفسیر امام قرطبیؒ (600ھ - 671ھ)
قولہ تعالیٰ : ومایؤمن اکثر ھم باللہ الاوھم مشرکون یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کا اور سب اشیاء کا خالق ہے جبکہ وہ پوجا بتوں کرتے ہیں ۔ یہ حضرت حسن بصری ، مجاہد ، عامر ، شعبی اور اکثر مفسرین کا قول ہے ۔ عکرمہ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ (الزخرف :87) اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو پیدا کرنے والا کون ہے تو ضرور کہیں گے : اللہ ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے ہیں اور اس کے شریک بناتے ہیں ۔ حضرت حسن سے یہ بھی مروی ہے یہ اہل کتاب ہیں ان کے پاس شرک ایمان دونوں ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لاتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکفیر کرتے ہیں تو ان کے ایمان صحیح نہیں ۔ ابن الانباری نے یہ روایت بیان کی ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ آیت مشرکین عرب کے تلبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کا تلبیہ یہ تھا ۔ لبیک لاشریک لک إلاشریکا ھولک تملکہ وما ملک حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ تیرا شریک ہے جس کو تو نے اپنا شریک بنایا ہے تو اس کا مالک ہے اور جس کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے ۔ آپ ہی سے روایت ہے کہ یہ نصاری ہیں اور یہ بھی رایت ہے کہ یہ مشتبھہ ہیں اجمالی طور پر ایمان لاتے ہیں اور تفصیلی طور پر شرک کرتے ہیں ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، معنی یہ ہوگا ومایومن اکثرھم باللہ یعنی زبان سے ایمان لاتے ہیں مگر دل سے وہ کافر ہیں ۔ یہ ماوردی نے حضرت حسن سے روایت کی ہے ۔ عطا نے کہا : یہ دعا کے متعلق ہے ، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار خوشحالی میں اپنے رب کو بھول جاتے اور جب ان پر کوئی مصیبت نازل ہوتی تو بڑے خلوص سے دعا مانگتے اس کی تفصل ان آیات میں ہے وظنو اانھم احیط بھم الآیہ (یونس :22) اور انہوں نے گمان کیا کہ انہیں گھیرلیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واذامس الانسان الضردعانالجتبہٖ الایہ (یونس : 12) اور جب انسان کو کوئی مصیبت آتی ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے ہم سے دعا مانگتا ہے ۔ اور ایک اور آیت میں ہے واذا مسہ الشرفذددعآءٍ عریض ۔ (فصلت) اور جب اسے کوئی برائی لاحق ہو تو وہ لمبی چوڑی دعا والا ہوتا ہے ۔ ایک قول یہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہلاکت کی نجات کے لیے دعا مانگتے ہیں اور جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو کوئی کہتا ہے : اگر فلاں نہ ہوتا تو ہم نجات نہ پاتے ، اگر فلاں نہ ہوتا تو چور ہمارے پاس آجاتے اور اس طرح کے کلمات کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی نعمت کو فلاں کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو چور سے بچایا ہوتا ہے اس کو کتے کہ طرف منسوب کردیتے ہیں ۔
 میں (قرطبی) نے کہا : اس قسم کی باتیں تو اکثر وام مسلمانوں سے بھی سرزد ہوجاتی ہے ۔ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔ ایک قول کے مطابق یہ آیت واقعہ دخان کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ وہ واقعہ یوں ہے کہ قحط کے سالوں میں اہل مکہ کو دھویں نے ڈھانپ لیا تو انھوں نے کہا : ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون ۔ (الدخان) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے عذاب کو دور فرماہم ایمان دار ہیں تو یہ ان کا ایمان تھا اور عذاب کے چھٹ جانے کے بعد ان کا شرک ، کفر کی طرف لوٹ گیا اس کا بیان اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے انکم عآبدون ۔ (الدخان) تم لوٹ کرجانے والے ہو ۔ لوٹ کر جانا ابتدا کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ تو الا وھم مشرکون کا معنی ہوگا : الاوھم عائدون ۔ واللہ اعلم ۔
 قولہ تعالیٰ : افامنوٓا ان تاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ ، غاشیۃ کا معنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجللۃ کیا ہے یعنی ڈھانپا ہوا ۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد ایسا عذاب ہے کو ان کو ڈھانپ لیتا ہو ، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : یوم یغشھم العذاب من فوقھم ومن ارجلھم (العنکبوت :55) جس دن ان کو ڈھانپ لے گا عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ لڑائی ہے جو ان کے لیے بپا ہوگی ۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد کڑک اور پھڑ پھڑانے والی ہے ۔ اوتاتیھم الساعۃ یعنی قیامت بغتۃً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ، اس کی اصل مصدر ہے ۔ مبرد نے کہا : عربوں سے نکرہ کے بعد حال کے جملے آئے ہیں جیسا کہ ان کا یہ قول : وقع امرھم بغتۃ وفجأۃ نحاس نے کہا : بغتۃ کا معنی مصیبت کا ایسی جگہ سے آنا ہے جہاں سے توقع نہ ہو ۔ وھم لایشرون یہ تاکید ہے بغتۃ کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ چیخنے والی لوگوں پر چیخے گی اس حال میں کہ وہ اپنے بازاروں اور اپنے مقامات پر ہوں گے ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تاخذھم وھم یخصمون ۔ (یٰسین ) وہ ان کو پکڑے گی در آنحالیکہ کردہ جھگڑرہے ہوں گے ۔




حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رُكَانَةُ : وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ " .
[سنن أبي داود » كِتَاب اللِّبَاسِ » بَاب فِي الْعَمَائِمِ ... رقم الحديث: 3558(4078)]
قتیبہ بن سعید، محمد بن ربیعہ، ابوحسن، ابوجعفر بن محمد بن علی بن رکانہ کہتے ہیں کہ حضرت رکانہؓ نے حضور  سے مقابلہ کیا پچھاڑنے کا ۔ تو حضور  نے حضرت رکانہؓ کو پچھاڑ دیا۔ حضرت رکانہؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارے اوپر مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ کا ہے، وہ ٹوپی پر عمامہ نہیں پہنتے جبکہ ہم پہنتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ عمامہ بغیر ٹوپی کے نہیں پہننا چاہیے۔
[أخرجه أبو داود:4078 ، والترمذى:1784 وقال: حسن غريب وإسناده ليس بالقائم. والطبرانى:4614 . وأخرجه أيضًا: ابن سعد (1/374) ، والبخارى فى التاريخ الكبير (1/82) وقال: إسناده مجهول لا يعرف سماع بعضه من بعض. والحاكم :5903 ، والبيهقى فى شعب الإيمان:6258 ، وعزاه الحافظ فى الإصابة (6/336، ترجمة 8524 محمد بن ركانة) لابن شاهين من طريق البغوى وقال قال ابن منده: ذكره البغوى فى الصحابة وهو تابعى.]
Narrated Ali ibn Rukanah:
Ali quoting his father said: Rukanah wrestled with the Prophet (peace_be_upon_him) and the Prophet (peace_be_upon_him) threw him on the ground. Rukanah said: I heard the Prophet (peace_be_upon_him) say: The difference between us and the polytheists is that we wear turbans over caps.


میں تو بس ایک بشر ہوں۔۔۔[سورۃ الکھف:110،فصلت:6]


اللہ پا ک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (سورۃ الکھف:110)
تو کہہ میں تو بس ایک آدمی ہوں جیسے تم، حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سوہ وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو۔

پیغمبر کا علم بھی متناہی ہوتا ہے:
یعنی میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں ، خدا نہیں ، جو خود بخود ذاتی طور پر تمام علوم و کمالات حاصل ہوں ، ہاں اللہ تعالیٰ علوم حقہ اور معارف قدسیہ میری طرف وحی کرتا ہے جن میں اصل اصول علم توحید ہے ، اسی کی طرف میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔ جس کسی کو اللہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق یا اس کے سامنے حاضر کئے جانے کا خوف ہو اسے چاہئے کہ کچھ بھلے کام شریعت کے موافق کر جائے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ظاہرًا و باطنًا کسی کو کسی درجہ میں بھی شریک نہ کرے۔ یعنی شرک جلی کی طرح ریا وغیرہ شرک خفی سے بھی بچتا رہے کیونکہ جس عبادت میں غیر اللہ کی شرکت ہو وہ عابد کے منہ پر ماری جائے گی۔ اَللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ شرُوْرِ اَنْفُسِنَا اس آیت میں اشارہ کر دیا کہ نبی کا علم بھی متناہی اور عطائی ہے ، علم خداوندی کی طرح ذاتی اور غیر متناہی نہیں۔ تم سورۃ الکہف بفضل اللہ تعالیٰ و منہ وللہ الحمد اولاً و آخرًا۔

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (سورۃ فصلت:6)
تو کہہ میں تو بس ایک آدمی ہوں جیسے تم، حکم آتا ہے مجھکو کہ تم پر بندگی ایک حاکم کی ہے سو سیدھے رہو اسکی طرف اور اس سے گناہ بخشواؤ اور خرابی ہے شریک کرنے والوں کو۔

آنحضرت ﷺ کی بشریت:
یعنی نہ میں خدا ہوں کہ زبردستی تمہارے دلوں کو پھیر سکوں، نہ فرشتہ ہوں جس کے بھیجے جانے کی تم فرمائش کیا کرتے ہو نہ کوئی اور مخلوق ہوں، بلکہ تمہاری جنس و نوع کا ایک آدمی ہوں جس کی بات سمجھنا تم کو ہم جنسی کی بنا پر آسان ہونا چاہئے، اور وہ آدمی ہوں جسے حق تعالیٰ نے اپنی آخری اور کامل ترین سچی وحی کیلئے چن لیا ہے۔ بناءً علیہ خواہ تم کتنا ہی اعراض کرو اور کتنی ہی یاس انگیز باتیں کرو، میں خدائی پیغام تم کو ضرور پہنچاؤں گا۔ مجھے بذریعہ وحی بتلایا گیا ہے کہ تم سب کا معبود اور حاکم علی الاطلاق ایک ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔ لہذا سب کو لازم ہے کہ تمام شئون و احوال میں سیدھے اسی خدائے واحد کی طرف رخ کر کے چلیں اس کے راستہ سے ذرا ادھر ادھر قدم نہ ہٹائیں اور پہلے اگر ٹیڑھے ترچھے چلے ہیں تو اپنے پروردگار سے اس کی معافی چاہیں۔ اور اگلی پچھلی خطائیں بخشوائیں۔


ایک مقام پر اللہ تعالی نے [انبیاء کی بشریت کے متعلق ] فرمایا:

( وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ )

ترجمہ:اور ہم نے ان[انبیاء] کو ایسی جان نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ ہی انہیں ہمیشہ رہنے والا بنایا۔ الأنبياء/8

جبکہ اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کی بشریت پر تعجب کرنے والوں کی تردید بھی کی اور فرمایا:

( وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الأَسْوَاقِ )

ترجمہ:[ان کفار نے رسول کی تردید کیلئے کہاکہ ] یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے، اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ الفرقان/7

چنانچہ نبی ﷺ کی رسالت اور بشریت کے بارے میں جو قرآن نے کہہ دیا ہے اس سے تجاوز کرنا درست نہیں ہے، چنانچہ نبی ﷺ کو نور کہنا، یا آپکے بارے میں عدم سایہ کا دعوی کرنا ، یا یہ کہنا کہ آپکو نور سے پیدا کیا گیا ، یہ سب کچھ اس غلو میں شامل ہے جس کے بارے میں خود نبی ﷺ نے منع فرمایا: (مجھے ایسے بڑھا چڑھا کر بیان نہ کرو جیسے عیسی بن مریم کو نصاری نے بڑھایا، بلکہ [میرے بارے میں]کہو: اللہ کا بندہ اور اسکا رسول) بخاری (6830)

اور یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ صرف فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں، آدم علیہ السلام کی نسل میں سے کوئی بھی نور سے پیدا نہیں ہوا، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا، اور ابلیس کو دہکتی ہو آگ سے، اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جو تمہیں بتلادی گئی ہے) مسلم (2996)

شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ (458)میں کہا:

"اس حدیث میں لوگوں کی زبان زد عام ایک حدیث کا رد ہے، وہ ہے: (اے جابر! سب سے پہلے جس چیز کو اللہ تعالی نے پیدا کیا وہ تیرے نبی کا نور ہے)!اور اسکے علاوہ ان تمام احادیث کا بھی رد ہے جس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور سے پیدا ہوئے، کیونکہ اس حدیث میں واضح صراحت موجود ہے کہ جنہیں نور سے پیدا کیا گیا ہے وہ صرف فرشتے ہیں، آدم اور آدم کی نسل اس میں شامل نہیں ہیں، اس لئے خبردار رہو، غافل نہ بنو" انتہی۔

دائمی فتوی کمیٹی (سعودیہ) سے مندرجہ ذیل سوال پوچھا گیا:

"ہمارے ہاں پاکستان میں بریلوی فرقہ کے علماء کا نظریہ ہے کہ نبی ﷺ کا سایہ نہیں تھا، اور اس سے آپکے بشر نہ ہونی کی دلیل ملتی ہے، تو کیا یہ بات درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا؟

تو انہوں نے جواب دیا:

یہ باطل قول ہے، جو کہ قرآن وسنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے، جن میں صراحت کے ساتھ ہے کہ آپ ﷺ بشر تھے، اور بشر ہونے کے ناطے آپ لوگوں سے کسی بھی انداز میں مختلف نہیں تھے، اور آپکا سایہ بھی تھا جیسے ہر انسان کا ہوتا ہے، اور اللہ تعالی نے آپ کو رسالت دے کر جو کرم نوازی فرمائی اسکی بنا پر آپ کی والدین ذریعے پیدائش اور بشریت سے باہر نہیں ہوجاتے، اسی لئے تو اللہ تعالی نے فرمایا: ( قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحَى إِلَيَّ ) کہہ دیں : کہ میں تو تمہارے جیسا ہی بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر رسولوں کا قول قرآن مجید میں ذکر کیا: ( قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاْ بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ) انہیں رسولوں نے کہابھی: ہم تو تمہارے جیسے ہی بشر ہیں۔

جبکہ نبی ﷺ کے بارے میں بیان کی جانے والی روایت کہ آپکو اللہ کے نور سے پیدا کیا گیا، یہ حدیث موضوع ہے"


اقتباس از: "فتاوى اللجنة الدائمة" (1/464)



اللہ کے رسول ﷺ بیک وقت نور بھی ہیں اور بشر بھی، اور یہ کہ آپ ﷺ کے نور اور بشر ہونے میں کوئی منافات نہیں کہ ایک کا اثبات کرکے دوسرے کی نفی کی جائے، بلکہ آپ صفتِ ہدایت اور نورانیتِ باطن کے اعتبار سے نورِ مجسم ہیں اور اپنی نوع کے اعتبار سے خالص اور کامل بشر ہیں۔

بشر اور انسان ہونا کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا انتساب خدانخواستہ معیوب سمجھا جائے، انسانیت و بشریت کو خدا تعالیٰ نے چونکہ “احسن تقویم” فرمایا ہے، اس لئے بشریت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کمالِ شرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا انسانیت کے لئے موجبِ صد عزت و افتخار ہے۔

میرے علم میں نہیں کہ حضراتِ سلف صالحین میں سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرکے آپ کو دائرہ انسانیت سے خارج کیا ہو۔ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بشریت میں بھی منفرد ہیں، اور شرف و منزلت کے اعتبار سے تمام کائنات سے بالاتر اور: “بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!” کے مصداق ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اکمل البشر، افضل البشر اور سید البشر ہونا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، کیوں نہ ہو جبکہ خود فرماتے ہیں:

“انا سید ولد آدم یوم القیامة ولا فخر!”(مشکوٰة ص:۵۱۱، ۵۱۳)
ترجمہ:…”میں اولاد آدم کا سردار ہوں گا قیامت کے دن، اوریہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا!”

قرآن کریم میں اگر ایک جگہ:
“لقد جائکم من الله نور و کتاب مبین۔”
فرمایا ہے (اگر نور سے آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی مراد لی جائے) تو دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے:

“قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا۔”(بنی اسرائیل:۹۳)
ترجمہ:…”آپ فرمادیجئے کہ: سبحان للہ! میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں مگر پیغمبر ہوں اور کیا ہوں؟”


“وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد، افان مت فھم الخالدون۔” (الانبیاء:۳۴)
ترجمہ:…”اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے کسی بھی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا، پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتقال ہوجائے، تو کیا یہ لوگ دنیا میں ہمیشہ کو رہیں گے؟”
قرآن کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ نوعِ بشر ہی سے بھیجے گئے:
“ما کان لبشر ان یوٴتیہ الله الکتاب والحکمة والنبوة ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون الله۔”
(آل عمران:۷۹)
ترجمہ:…”کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور فہم اور نبوت عطا فرماوے، پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ میرے بندے بن جاوٴ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر۔”
“وما کان لبشر ان یکلمہ الله الا وحیا او من ورایٴِ حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء۔”
(الشوریٰ:۵۱)
ترجمہ:…”اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوے مگر (تین طریق سے) یا تو الہام سے، یا حجاب کے باہر سے، یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے پیغام پہنچادیتا ہے۔”
اور انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ اعلان بھی کرایا گیا ہے:
“قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم ولکن الله یمن علی من یشاء من عبادہ۔” (ابراہیم:۱۱)
ترجمہ:…”ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے۔”
قرآن کریم نے یہ بھی بتایا کہ بشر کی تحقیر سب سے پہلے ابلیس نے کی، اور بشرِ اول حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا:
“قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصال من حماءٍ مسنون۔” (الحجر:۳۳)
ترجمہ:…”کہنے لگا میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے، جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے، پیدا کیا ہے۔”
قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ کفار نے ہمیشہ انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ تو بشر ہیں، کیا ہم بشر کو رسول مان لیں؟
“فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعہ انا اذا لفی ضلال وسعر۔” (القمر:۲۴)
ترجمہ:…”پس کہنے لگے: کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں گے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے، تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور جنون میں پڑجائیں گے۔”
“وما منع الناس ان یوٴمنوا اذ جائھم الھدی الا ان قالوا ابعث الله بشر رسولا۔ قل لو کان فی الارض ملٰئکة یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا۔” (بنی اسرائیل:۹۴،۹۵)
ترجمہ:…”اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی اس وقت ان کو ایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہ ہوئی کہ انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بناکر بھیجا ہے؟ آپ فرمادیجئے: اگر زمین میں فرشتے رہتے ہوتے کہ اس میں چلتے بستے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتے کو رسول بناکر بھیجتے۔”
ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں، گویا کسی نبی کی نبوت پر ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان کو بشر اور رسول تسلیم کیا جائے، اسی لئے تمام اہل سنت کے ہاں رسول کی تعریف یہ کی گئی ہے:
“انسان بعثہ الله لتبلیغ الرسالة والاحکام۔”
(شرح عقائد نسفی)
ترجمہ:…”رسول وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے پیغامات اور احکام بندوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث فرماتے ہیں۔”
جس طرح قرآن کریم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت کا اعلان فرمایا ہے، اسی طرح احادیث طیبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بغیر کسی دغدغہ کے اپنی بشریت کا اعلان فرمایا ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہاں یہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میرا نور تخلیق کیا گیا (اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے) وہاں یہ بھی فرماتے ہیں:
۱:…”اللّٰھم انما انا بشر فای المسلمین لعنتہ او سببتہ فاجعلہ لہ زکوٰة واجراً۔”
(مسلم ج:۲ ص:۳۲۳ عن عائشہ)
ترجمہ:…”اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہی ہوں، پس جس مسلمان پر میں نے لعنت کی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، آپ اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے۔”
۲:…”اللّٰھم انی اتخذ عندک عھداً لن تخلفنیہ فانما انا بشر فای الموٴمنین اٰذیتہ، شتمتہ، لعنتہ، جلدتہ فاجعلھا لہ صلوٰة وزکوٰة وقربة تقربہ بھا الیک یوم القیامة۔” (مسلم ج:۲ ص:۳۲۴ عن ابی ہریرہ)
ترجمہ:…”اے اللہ! میں آپ کے یہاں سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں، آپ اس کے خلاف نہ کیجئے! کیونکہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں، پس جس موٴمن کو میں نے ایذا دی ہو، گالی دی ہو، لعنت کی ہو، اس کو مارا ہو، آپ اس کے لئے اس کو رحمت و پاکیزگی بنادیجئے کہ آپ اس کی وجہ سے اس کو قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائیں۔”
۳:…”اللّٰھم انما محمد (صلی الله علیہ وسلم) بشر یغضب کما یغضب البشر۔ الحدیث۔”
(عن ابی ہریرہ مسلم ج:۲ ص:۳۲۴)
ترجمہ:…”اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی ایک انسان ہی ہیں، ان کو بھی غصہ آتا ہے جس طرح اور انسانوں کو غصہ آتا ہے۔”
۴:…”انی اشترطت علی ربی فقلت: انما انا بشر ارضی کما یرضی البشر واغضب کما یغضب البشر۔” (مسلم ج:۲ ص:۳۲۴ عن انس)
ترجمہ:…”میں نے اپنے رب سے ایک شرط کرلی ہے، میں نے کہا کہ: میں بھی ایک انسان ہی ہوں، میں بھی خوش ہوتا ہوں، جس طرح انسان خوش ہوتے ہیں اور غصہ ہوتا ہوں جس طرح دوسرے انسان غصہ ہوتے ہیں۔”
۵:…”انما انا بشر وانہ یأتینی الخصم فلعل بعضھم ان یکون ابلغ من بعض، فاحسب انہ صادق، فاقضی لہ، فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعة من النار فلیحملھا او یذرھا۔”
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۳۲، مسلم ج:۲ ص:۷۴ عن ام سلمہ)
ترجمہ:…”میں بھی ایک آدمی ہوں اور میرے پاس مقدمہ کے فریق آتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض زیادہ زبان آور ہوں، پس میں اس کو سچا سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں، پس جس کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کردوں وہ محض آگ کا ٹکڑا ہے، اب چاہے وہ اسے اٹھالے جائے، اور چاہے چھوڑ جائے۔”
۶:…”انما انا بشر مثلکم انسیٰ کما تنسون فاذا نسیت فذکرونی۔”
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۸، صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۱۲ عن ابن مسعود)
ترجمہ:…”میں بھی تم جیسا انسان ہی ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو، پس جب میں بھول جاوٴں تو مجھے یاد دلادیا کرو۔”
۷:…”انما انا بشر اذا امرتکم بشیٴ من دینکم فخذوا بہ، واذا امرتکم بشیٴ من رائی فانما انا بشر۔” (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۶۴ عن رافع بن خدیج)
ترجمہ:…”میں بھی ایک انسان ہی ہوں، جب تم کو دین کی کسی بات کا حکم کروں تو اسے لے لو اور جب تم کو (کسی دنیوی معاملے میں) اپنی رائے سے بطور مشورہ کوئی حکم دوں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔”
۸:…”الا ایھا الناس! فانما انا بشر یوشک ان یأتی رسول ربی فأجیب ․․․․․ الخ۔”
(صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷۹ عن زید بن ارقم)
ترجمہ:…”سنو! اے لوگو! پس میں بھی ایک انسان ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد (یہاں سے کوچ کا پیغام لے کر) آئے تو میں اس کو لبیک کہوں۔”
قرآن کریم اور ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صفتِ نور کے ساتھ موصوف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی نفی کردی جائے، نہ ان نصوصِ قطعیہ کے ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار ممکن ہے۔
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ بشریت کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں، جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا سوءِ ادب کا موجب ہو، بشر اور انسان تو اشرف المخلوقات ہے، اس لئے بشریت آپ کا کمال ہے، نقص نہیں، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشرف المخلوقات میں سب سے اشرف و افضل ہونا خود انسانیت کے لئے مایہٴ افتخار ہے۔
“اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر، انسان اور آدمی ہونا نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طرہٴ افتخار ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے سے انسانیت و بشریت رشکِ ملائکہ ہے۔” (اختلاف امت اور صراطِ مستقیم ج:۱ ص:۳۵)
یہی عقیدہ اکابر اور سلف صالحین کا تھا، چنانچہ قاضی عیاض رحمہ اللہ “الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ (صلی الله علیہ وسلم)” القسم الثانی ص:۱۵۷، مطبوعہ ملتان میں لکھتے ہیں:
“قد قدمنا انہ صلی الله علیہ وسلم وسائر الانبیاء والرسل من البشر۔ وان جسمہ وظاھرہ خالص للبشر یجوز علیہ من الآفات والتغیرات والآلام والاسقام وتجرع کأس الحمام ما یجوز علی البشر وھذا کلہ لیس بنقیصة، لأن الشیٴ انما یسمی ناقصاً بالاضافة الیٰ ما ھو اتم منہ واکمل من نوعہ، وقد کتب الله تعالیٰ علیٰ اھل ھذہ الدار: فیھا یحیون وفیھا یموتون ومنھا یخرجون وخلق جمیع البشر بمدرجة الغیر۔”
ترجمہ:…”ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء و رسل نوعِ بشر میں سے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک اور ظاہر خالص بشر کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر پر وہ تمام آفات و تغیرات اور تکالیف و امراض اور موت کے احوال طاری ہوسکتے تھے۔ جو انسان پر طاری ہوتے ہیں اور یہ تمام امور کوئی نقص اور عیب نہیں، کیونکہ کوئی چیز ناقص اس وقت کہلاتی ہے جبکہ اس کی نوع میں سے کوئی دوسری چیز اتم و اکمل ہو، دار دنیا کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات مقدر فرمادی کہ وہ زمین میں جئیں گے، یہیں مریں گے اور یہیں سے نکالے جائیں گے، اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تغیر کا محل بنایا ہے۔”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف کی چند مثالیں پیش کرنے کے بعد ص:۱۵۸،۱۵۹ لکھتے ہیں:
“وھکذا سائر انبیائہ مبتلی ومعافی وذلک من تمام حکمتہ لیظھر شرفھم فی ھذہ المقامات، ویبین امرھم، ویتم کلمتہ فیھم، ولیحقق بشریتھم، ویرتفع الالتباس من اھل الضعف فیھم، لئلا یضلوا بما یظھر من العجائب علیٰ ایدیھم، ضلال النصاریٰ بعیسیٰ بن مریم۔ قال بعض المحققین: وھذہ الطواری والتغیرات المذکورة انما تختص باجسامھم البشریة المقصودة بھا مقاومة البشر ومعانات بنی اٰدم لمشاکلة الجنس واما یواطئھم فمنزھة غالباً عن ذالک معصومة منہ متعلقة بالملأ الاعلیٰ والملٰئکة لاخذھا عنھم وتلقیھا الوحی منھم۔” (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ج:۲ ص:۱۵۷، ۱۵۹)
ترجمہ:…”اسی طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کہ وہ تکالیف میں بھی مبتلا ہوئے اور ان کو عافیت سے بھی نوازا گیا، اور یہ حق تعالیٰ کی کمالِ حکمت تھی تاکہ ان مقامات میں ان حضرات کا شرف ظاہر ہو، اور ان کا معاملہ واضح ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی بات ان کے حق میں پوری ہوجائے، اور تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی بشریت کو ثابت کردے اور امت کے اہل ضعف کو ان کے بارے جو التباس ہوسکتا تھا وہ اٹھ جائے، تاکہ ان عجائبات کی وجہ سے جو ان حضرات کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، گمراہ نہ ہوجائیں۔ جس طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گمراہ ہوئے۔ بعض محققین نے فرمایا ہے کہ: یہ عوارض اور تغیرات مذکورہ ان بشری اجسام کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے مقصود بشریت کی مقاومت اور بنی آدم کی مشقتوں کا برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جنسوں کے ساتھ مشاکلت ہو، لیکن ان کی ارواح طیبہ ان امور سے متأثر نہیں ہوتیں، بلکہ وہ معصوم و منزہ اور ملأ اعلیٰ اور فرشتوں سے تعلق رکھتی ہیں، کیونکہ وہ فرشتوں سے علوم اخذ کرتی ہیں، اور ان سے وحی اخذ کرتی ہیں۔”
الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوعِ انسان میں داخل نہیں۔ آپ نے جو حوالے نقل کئے ہیں ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت کا اثبات کیا گیا ہے، مگر اس سے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار لازم نہیں آتا اس لئے وہ میرے مدعا کے خلاف نہیں، اور نہ میرا عقیدہ ان بزرگوں سے الگ ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے “نشر الطیب” میں سب سے پہلے نورِ محمدی (علیٰ صاحبہ الصلوٰة والتسلیمات) کی تخلیق کا بیان فرمایا ہے، اور اس کے ذیل میں وہ احادیث نقل کی ہیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔ لیکن حضرت نے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح بھی فرمادی ہے، چنانچہ پہلی روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مسند عبدالرزاق کے حوالے سے یہ نقل کی ہے:
“آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کہ نورِ الٰہی اس کا مادہ تھا، بلکہ اپنے نور کے فیض سے) پیدا کیا ․․․․․ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اور مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کئے، ایک حصہ سے قلم پیدا کیا، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش، آگے حدیث طویل ہے۔”
اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں:
“اس حدیث سے نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اول الخلق ہونا باولیت حقیقیہ ثابت ہوا کیونکہ جن جن اشیاء کی نسبت روایات میں اولیت کا حکم آیا ہے، ان اشیاء کا نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متأخر ہونا اس حدیث میں منصوص ہے۔”
اور اس کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:
“ظاہراً نورِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) روح محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عبارت ہے، اور حقیقت روح کی اکثر محققین کے قول پر مادہ سے مجرد ہے، اور مجرد کا مادیات کے لئے مادہ ہونا ممکن نہیں۔ پس ظاہراً اس نور کے فیض سے کوئی مادہ بنایا گیا اور اس مادہ سے چار حصے کئے گئے ․․․․ الخ۔ اور اس مادہ سے پھر کسی مجرد کا بننا اس طرح ممکن ہوا کہ وہ مادہ اس کا جزو نہ ہو، بلکہ کسی طریق سے محض اس کا سبب خارج عن الذات ہو۔”
دوسری روایت جس میں فرمایا گیا ہے کہ: بے شک میں حق تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہوچکا تھا، اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے تھے ․․․․ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
“اور اس وقت ظاہر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بدن تو بنا ہی نہ تھا، تو پھر نبوت کی صفت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح کو عطا ہوئی تھی، اور نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) اسی روحِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام ہے، جیسا اوپر مذکور ہوا۔”
اس سے واضح ہے کہ حضرت تھانوی کے نزدیک نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس روح ہے، اور اس فصل میں جتنے احکام ثابت کئے گئے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مقدسہ کے ہیں، اور ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک روح کے اول الخلق ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار لازم نہیں آتا۔
اور حضرت تھانوی کی تشریح سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے خدا تعالیٰ کے نور سے پیدا کئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) نعوذ باللہ! نورِ خداوندی کا کوئی حصہ ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ نورِ خداوندی کا فیضان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مقدسہ کی تخلیق کا باعث ہوا۔
آپ نے قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی “امداد السلوک” کا حوالہ دیا ہے کہ:
“احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سایہ نہیں رکھتے تھے، اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔”
“امداد السلوک” کا فارسی نسخہ تو میرے سامنے نہیں، البتہ اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے “ارشاد الملوک” کے نام سے کیا ہے، اس کی متعلقہ عبارت یہ ہے:
“آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اولادِ آدم ہی میں ہیں، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کو اتنا مطہر بنالیا تھا کہ نورِ خالص بن گئے، اور حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا۔ اور شہرت سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا، اور ظاہر ہے کہ نور کے علاوہ ہر جسم کے سایہ ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو اس قدر تزکیہ اور تصفیہ بخشا کہ وہ بھی نور بن گئے، چنانچہ ان کی کرامات وغیرہ کی حکایتوں سے کتابیں پُر اور اتنی مشہور ہیں کہ نقل کی حاجت نہیں۔ نیز حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: “جو لوگ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑتا ہوگا۔” اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ: “یاد کرو اس دن کو جبکہ موٴمنین کا نور ان کے آگے اور داہنی طرف دوڑتا ہوگا، اور منافقین کہیں گے کہ ذرا ٹھہر جاوٴ تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ اخذ کریں۔” ان دونوں آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے ایمان اور نور دونوں حاصل ہوتے ہیں۔” (ارشاد الملوک مطبوعہ سہارنپور ص:۱۱۴، ۱۱۵)
اس اقتباس سے چند امور بالکل واضح ہیں:
اول:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اولادِ آدم علیہ السلام میں سے ہونا تسلیم کیا گیا ہے، اور آدم علیہ السلام کا بشر ہونا قرآن کریم میں منصوص ہے۔
دوم:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جس نورانیت کا اثبات کیا گیا ہے، وہ وہ ہے جو تزکیہ و تصفیہ سے حاصل ہوتی ہے، اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ اس قدر اکمل و اعلیٰ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم “نورِ خالص” بن گئے تھے۔
سوم:…جسم اطہر کا سایہ نہ ہونے کو متواتر نہیں کہا گیا، بلکہ “شہرت سے ثابت” کہا گیا ہے۔ بہت سی روایات ایسی ہیں کہ زبان زد عام و خاص ہوتی ہیں، مگر ان کو تواتر یا اصطلاحی شہرت کا مرتبہ تو کیا حاصل ہوتا، خبر آحاد کے درجہ میں ان کو حدیث صحیح یا قابل قبول ضعیف کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوتا، بلکہ وہ خالصتاً بے اصل اور موضوع ہوتی ہیں، سایہ نہ ہونے کی روایت بھی حد درجہ کمزور ہے، یہ روایت مرسل بھی ہے اور ضعیف بھی اس درجہ کی کہ اس کے بعض راویوں پر وضعِ حدیث کی تہمت ہے۔
(اس کی تفصیل حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کے مضمون میں ہے جو آخر میں بطورِ تکملہ نقل کر رہا ہوں۔)
چہارم:…احادیث کی تصحیح و تنقیح حضراتِ محدثین کا وظیفہ ہے، حضراتِ صوفیاء کرام کا اکثر و بیشتر معمول یہ ہے کہ وہ بعض ایسی روایات جو عام طور سے مشہور ہوں ان کی تنقیح کے درپے نہیں ہوتے، بلکہ برتقدیر صحت اس کی توجیہ کردیتے ہیں۔ یہاں بھی شیخ قطب الدین مکی قدس سرہ نے (جن کے رسالہ مکیہ کا ترجمہ حضرت گنگوہی نے کیا ہے) اس مشہور روایت کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی پر نورانیت اور تصفیہ کا اس قدر غلبہ تھا کہ بطورِ معجزہ آپ کا سایہ نہیں تھا ․․․․․ بہرحال اگر سایہ نہ ہونے کی روایت کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ بطورِ معجزہ ہی ہوسکتا ہے۔ گویا غلبہ نورانیت کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روح کے احکام جاری ہوگئے تھے، اور جس طرح روح کا سایہ نہیں ہوتا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا بھی سایہ نہیں تھا، لیکن اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی نفی لازم نہیں آتی، ایک تو اس لئے کہ شیخ خود آپ کی بشریت کی تصریح فرما رہے ہیں۔ دوسرے نور کی یہ صفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام متبعین اہل ایمان کے لئے ثابت فرما رہے ہیں، ظاہر ہے کہ اس نور کی بشریت سے منافات ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام متبعین کی بشریت کا انکار لازم آئے گا۔ تیسرے ام الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو سب سے زیادہ جانتی ہیں، وہ فرماتی ہیں:
“کان بشراً من البشر۔ رواہ الترمذی۔”
(مشکوٰة ص:۵۲۰)
ترجمہ:…”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔”
سایہ نہ ہونے کی روایت کے بارے میں فتاویٰ رشیدیہ سے ایک سوال و جواب یہاں نقل کرتا ہوں۔
“سوال:… سایہ مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑتا تھا یا نہیں؟ اور جو ترمذی نے نوادر الاصول میں عبدالملک بن عبداللہ بن وحید سے انہوں نے ذکوان سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا، سند اس حدیث کی صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع؟ ارقام فرماویں۔
جواب:… یہ روایت کتب صحاح میں نہیں، اور “نوادر” کی روایت کا بندہ کو حال معلوم نہیں کہ کیسی ہے؟ “نوادر الاصول” حکیم ترمذی کی ہے، نہ ابوعیسیٰ ترمذی کی، فقط والله اعلم!
رشید احمد گنگوہی عفی عنہ۔”
اس اقتباس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ سایہ نہ ہونے کی روایت حدیث کی متداول کتابوں میں نہیں۔
امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کے حوالے سے آپ نے تین باتیں نقل کی ہیں:
۱:…حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک نور ہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “خلقت من نور الله۔” میں اللہ کے نور سے پیدا ہوا ہوں۔
۲:…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔
۳:…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظاہر فرمایا۔”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے پیدا ہونے اور سایہ نہ ہونے کی تحقیق اوپر عرض کرچکا ہوں، البتہ یہاں اتنی بات مزید عرض کردینا مناسب ہے کہ: “خلقت من نور الله” کے الفاظ سے کوئی حدیث مروی نہیں، مکتوبات شریفہ کے حاشیہ میں اس کی تخریج کرتے ہوئے شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کی “مدارج النبوة” کے حوالے سے یہ روایت نقل کی گئی ہے:
“انا من نور الله والموٴمنون من نوری۔”
ترجمہ:…”میں اللہ کے نور سے ہوں، اور موٴمن میرے نور سے ہیں۔”
مگر ان الفاظ سے بھی کوئی حدیث ذخیرہٴ احادیث میں نظر سے نہیں گزری، ممکن ہے کہ یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث (جو “نشر الطیب” کے حوالے سے گزرچکی ہے) کی روایت بالمعنی ہو، بہرحال اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کی شرح وہی ہے جو حضرت حکیم الامت تھانوی کی “نشر الطیب” سے نقل کرچکا ہوں۔
سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نور اجزاء و حصص سے پاک ہے، اس لئے کسی عاقل کو یہ تو وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور، نورِ خداوندی کا جز اور حصہ ہے، پھر اس روایت میں اہل ایمان کی تخلیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ذکر کی گئی، اگر جزئیت کا مفہوم لیا جائے تو لازم آئے گا کہ تمام اہل ایمان نورِ خداوندی کا جز ہوں، اس قسم کی روایات کی عارفانہ تشریح کی جاسکتی ہے، جیسا کہ امام ربانی نے کی ہے، مگر ان پر عقائد کی بنیاد رکھنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ․․․ نصوصِ قطعیہ کے علی الرغم ․․․ نوعِ انسان سے خارج کردینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
تیسری بات جو آپ نے حضرت مجدد رحمہ اللہ سے نقل کی ہے، اول تو وہ ان دقیق علوم و معارف میں سے ہے کہ جو عقولِ متوسطہ سے بالاتر ہیں، اور جن کا تعلق علوم مکاشفہ سے ہے، جو حضرات تصفیہ و تزکیہ اور نورِ باطن کے اعلیٰ ترین مقامات پر فائز ہوں وہی ان کے افہام و تفہیم کی صلاحیت رکھتے ہیں، عام لوگ ان دقیق علوم کو سمجھنے سے قاصر ہیں، ان لوگوں کو اگر ظاہر شریعت سے کچھ مس ہوگا تو ان اکابر کی شان میں گستاخی کریں گے (جس کا مشاہدہ اس زمانے میں خوب خوب ہو رہا ہے)، اور جن لوگوں کو ان اکابر سے عقیدت ہوگی وہ ظاہر شریعت اور نصوصِ قطعیہ کو پس پشت ڈال کر الحاد و زندقہ کی وادیوں میں بھٹکا کریں گے: “فان الجاھل إما مفرط وإما مفرِّط”، اس لئے اکابر کی وصیت یہ ہے کہ:
نکتہ ہا چوں تیغ پولاد است تیز
چوں نداری تو سپر واپس گریز
پیش ایں الماس بے اسپر میا
کز بریدن تیغ را نبود حیا
چہ شبہا نشستم دریں سیر گم
کہ دہشت گرفت آستینم کہ قم
محیط است علم ملک بر بسیط
قیاس تو بروے نہ گردد محیط
نہ ادراک در کنہ ذاتش رسد
نہ فکرت بغور صفاتش رسد
دوسرے، آپ نے حضرت مجدد کا حوالہ نقل کرنے میں خاصے اختصار سے کام لیا ہے، جس سے فہمِ مراد میں التباس پیدا ہوتا ہے، حضرت مجدد فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق حق تعالیٰ کے علمِ اضافی سے ہوئی ہے:
“ومشہود می گردد کہ علم جملی کہ از صفات اضافیہ گشتہ است نوریست کہ در نشاة عنصری بعد از انصباب از اصلاب بار حام متکثرہ بمقتضائے حکم و مصالح بصورت انسانی کہ احسن تقویم است ظہور نمودہ و مسمّیٰ بمحمد و احمد شدہ۔”
ترجمہ:…”اور ایسا نظر آتا ہے کہ علم اجمالی جو کہ صفاتِ اضافیہ میں سے ہوگیا ہے، ایک نور ہے جو کہ نشاة عنصری میں بہت سی پشتوں اور رحموں میں منتقل ہوتا ہوا حکم و مصالح کے تقاضے سے انسانی صورت میں جلوہ گر ہوا، اور محمد و احمد کے پاک ناموں سے موسوم ہوا۔ صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً کثیراً۔”
حضرت امام ربانی کے اقتباس سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے:
ا:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق حق تعالیٰ کے علمِ اجمالی سے ․․․ صفتِ اضافیہ کے مرتبہ میں ․․․ ہوئی۔
۲:…یہ صفتِ اضافیہ ایک نور تھا، جس کو انسانی قالب عطا کیا گیا۔
۳:…چونکہ انسانی صورت سب سے خوبصورت سانچہ ہے، اس لئے حکمتِ خداوندی کا تقاضا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان اور بشر کی حیثیت سے پیدا کیا جائے۔ اگر بشری ڈھانچے سے بہتر کوئی اور قالب ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی انسانی شکل میں پیدا نہ کیا جاتا۔ اس سے واضح ہے کہ حضرت امام ربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر نہیں، اور نہ وہ نور، بشریت کے منافی ہے جس کا وہ اثبات فرما رہے ہیں۔
آپ نے رسالہ “التوسل” اور “تفسیر کبیر” کے حوالے سے لکھا ہے کہ آیتِ کریمہ : “قد جائکم من الله نور وکتاب مبین۔” میں “نور” سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے۔
اس آیت میں “نور” کی تفسیر میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ دوم یہ کہ اسلام مراد ہے۔ اور سوم یہ کہ قرآن کریم مراد ہے۔ اس قول کو امام رازی نے اس بنا پر کمزور کہا ہے کہ معطوفین میں تغایر ضروری ہے، لیکن یہ دلیل بہت کمزور ہے۔ بعض اوقات ایک چیز کی متعدد صفات کو بطورِ عطف ذکر کردیا جاتا ہے، چنانچہ حضرت حکیم الامت تھانوی نے “بیان القرآن” میں اسی کو اختیار کیا ہے۔
بہرحال “نور” سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، یا اسلام ہو، یا قرآن کریم، بہرصورت یہاں “نور” سے “نورِ ہدایت” مراد ہے جس کا واضح قرینہ آیت کا سباق ہے۔
“یہدی بہ الله من اتبع رضوانہ سبل السلام ویخرجھم من الظلمات الی النور باذنہ ویھدیھم الی صراط مستقیم۔” (المائدہ:۱۶)
ترجمہ:…”اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کو، جو رضائے حق کے طالب ہوں، سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں (یعنی جنت میں جانے کے طریقے کہ عقائد و اعمال خاصہ ہیں، تعلیم فرماتے ہیں۔ کیونکہ پوری سلامتی بدنی و روحانی جنت ہی میں نصیب ہوگی) اور ان کو اپنی توفیق (اور فضل) سے (کفر و معصیت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و طاعت کے) نور کی طرف لے آتے ہیں، اور ان کو (ہمیشہ) راہِ راست پر قائم رکھتے ہیں۔” (بیان القرآن)
امام رازی فرماتے ہیں:
“وتسمیة محمد والاسلام والقرآن بالنور ظاھرة لان النور الظاھر ھو الذی یتقوی بہ البصر علیٰ ادراک الاشیاء الظاھرة۔ والنور الباطن ایضاً ھو الذی تتقوی بہ البصیرة علیٰ ادراک الحقائق والمعقولات۔”
(تفسیر کبیر ج:۱۱ ص:۱۸۹)
ترجمہ:…”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور قرآن کو نور فرمانے کی وجہ ظاہر ہے، کیونکہ ظاہری روشنی کے ذریعہ آنکھیں ظاہری اشیاء کو دیکھ پاتی ہیں، اسی طرح نورِ باطن کے ذریعہ بصیرت حقائق و معقولات کا ادراک کرتی ہے۔”
علامہ نسفی “تفسیر مدارک” میں لکھتے ہیں:
“او النور محمد صلی الله علیہ وسلم لانہ یہتدی بہ کما سمی سراجاً۔” (ج:۱ ص:۳۱۶)
ترجمہ:…”یا نور سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہدایت ملتی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چراغ کہا گیا ہے۔”
قریب قریب یہی مضمون تفسیر خازن، تفسیر بیضاوی، تفسیر صاوی، روح البیان اور دیگر تفاسیر میں ہے۔
اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:
“جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نوع کے اعتبار سے بشر ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفت ہدایت کے لحاظ سے ساری انسانیت کے لئے مینارہٴ نور ہیں۔ یہی نور ہے جس کی روشنی میں انسانیت کو خدا تعالیٰ کا راستہ مل سکتا ہے، اور جس کی روشنی ابد تک درخشندہ و تابندہ رہے گی، لہٰذا میرے عقیدے میں آپ بیک وقت نور بھی ہیں اور بشر بھی۔”
میری ان تمام معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت دلائل قطعیہ سے ثابت ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت ثابت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانیت اور بشریت کے دائرے سے خارج کردینا ہرگز صحیح نہیں۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا اعتقاد لازم ہے، اسی طرح آپ کی انسانیت و بشریت کا عقیدہ بھی لازم ہے، چنانچہ میں فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے یہ نقل کرچکا ہوں:
“ومن قال لا ادری ان النبی صلی الله علیہ وسلم کان انسیًّا او جنّیًّا یکفر، کذا فی الفصول العمادیة (ج:۲ ص:۳۶)، وکذا فی البحر الرائق (ج:۵ ص:۱۳۰)۔” (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ص:۲۶۳)
ترجمہ:…”اور جو شخص یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے یا جن، وہ کافر ہے۔”