Friday, 9 September 2016

درود شریف کے فضائل ،مسائل اور آداب


إِنَّ اللَّهَ وَمَلٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا {33:56}
خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو



الله تعالیٰ نے تمام عبادتوں کے بارے میں اپنے بندوں کو کرنے کا حکم فرمایا ہے اور درود کے بارے میں پہلے بنفس نفیس اس عمل کے کرنے کا ذکر فرمایا، پھر اس پر فرشتوں کے مامور ہونے کا ذکر کیا،اس کے بعد مومنوں کو حکم دیا کہ تم آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجنا تمام عبادات سے افضل ہے۔

دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
(مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا)
’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ [ مسلم : ۴۰۸]




دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجات بلند کردیے جاتے ہیں:حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
(مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ عَشْرَصَلَوَاتٍ ، وَحَطَّ عَنْہُ عَشْرَ خَطِیْئَاتٍ ، وَرَفَعَ عَشْرَ دَرَجَاتٍ) [ صحیح الجامع : ۶۳۵۹ ]
’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘




حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
(مََنْ صَلّٰی عَلَیَّ حِیْنَ یُصْبِحُ عَشْرًا ، وَحِیْنَ یُمْسِیْ عَشْرًا ، أَدْرَکَتْہُ شَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ صحیح الجامع : 6357]

’’جو آدمی صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے ، اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔‘‘




حضور ﷺ کی طرف سے سلام کا جواب
فقیہابواللّیث سمرقندی رحمہ الله اپنی سند کے ساتھ حضرت محمد بن عبدالرحمن سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا یہ مبارک ارشاد نقل کرتے ہیں کہ میرے وصال کے بعد جو شخص بھی تم میں سے مجھ پر سلام بھیجے تو جبرائیل علیہ السلام حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں یا محمد ( صلی الله علیہ وسلم)! یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں ہے اور آپ پر سلام بھیجتا ہے تو میں جواب میں کہتا ہوں:

وعلیہ السلام ورحمة الله وبرکاتہ” اور اس بھیجنے والے پر سلام ہو اورالله تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔“


درود شریف کے بغیر دُعا قبول نہیں ہوتی
سعید بن مسیب حضرت عمر کا قول نقل کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب تک کسی دعا کے ساتھ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم پر درود شریف نہ ہو وہ دعا زمین وآسمان کے درمیان معلق رہتی ہے۔




جو شخص آپ کا نام سُنے اور درودنہ پڑھے وہ الله کی رحمت سے دور ہے:
حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے آمین کہی۔ پھر پاؤں اوپر رکھا اور آمین کہی ، پھر پاؤں مبارک اوپر رکھا تو آمین کہی۔ پھر درست ہو کر بیٹھ گئے ۔ تو حضرت معاذ بن جبل نے تین بار آمین فرمانے کی وجہ پوچھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے او رکہنے لگے اے محمد ( صلی الله علیہ وسلم)! جس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی اور وہ یونہی مر گیا تو وہ دوزخ میں جائے گا اور الله تعالیٰ اس کو رحمت سے دور رکھے ، میں نے اس پر آمین کہی اور پھر جبرائیل علیہ السلام نے یہ کہا کہ جو شخص اپنے والدین کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پائے او ران کے ساتھ حُسن سلوک نہ کرے، اسی حال میں مر جائے تو دورخ میں جائے گا اور الله کی رحمت سے دور رہے ، میں نے آمین کہی ۔ پھر انہوں نے کہا جس شخص کے پاس آپ کا ذکر ہو اور درود نہ پڑھے، مر جائے تو دوزخ میں جائے اور الله کی رحمت سے دور ہو میں نے آمین کہی۔



نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
(رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ)

’’اس آدمی کی ناک خاک میں ملے جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔‘ [ترمذی : ۳۵۴۵۔ وصححہ الالبانی ]
نیز ارشاد فرمایا :
(اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ)

’’ بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
[ ترمذی : ۳۵۴۶۔ وصححہ الابانی ]
ïاذان کے بعد
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
(إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلاَۃً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ بِہٖ عَشْرًا)

’’جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جیسے وہ کہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو ، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں بھیجتا ہے ( یا دس مرتبہ اس کی تعریف کرتا ہے)۔‘‘ [مسلم: ۳۸۴]





درود پڑھنے سے حاجتیں پوری ہوتی اور الله تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں:

حضرت جابر بن عبدالله حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ مبارک ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص دن میں سو مرتبہ مجھ پر درودبھیجتا ہے الله تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرماتے ہیں ، ستر آخرت کی اور تیس دنیا کی ۔

حضرت سعید بن عمیر، جو بدری صحابی ہیں، جنگ بدر میں شہید ہوئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں کہ میرا جو امتی اخلاص کے ساتھ ایک بار مجھ پر درود بھیجتا ہے۔ الله تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، دس درجات بلند فرماتے ہیں، دس برائیاں دور فرماتے ہیں۔

فقیہ رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے یہ حکایت سنی کہ حضرت سفیان ثوری طواف کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو ہر قدم پر درود شریف پڑھتا تھا۔ سفیان ثوری نے پوچھا اے شخص! کیا بات ہے کہ طواف کے درمیان تسبیح وتہلیل کے بجائے تو ہر قدم پر درود شریف پڑھتا ہے؟ اس سلسلہ میں کوئی علمیبات معلوم ہو تو بتاؤ۔ وہ کہنے لگا تو کون ہے الله تجھے معاف فرمائے ؟ انہوں نے کہا میرا نام سفیان ثوری ہے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ اگر تو اپنے وقت کا نادر شخص نہ ہوتا تو میں یہ راز تجھے نہ بتاتا اور نہ ہی اپنے حال پر مطلع کرتا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حج بیت الله کے سفر پر نکلا، اثنائے سفر میرے ا والد بیمار ہوگئے، میں ان کا علاج کرتا رہا۔ ایک رات میں والد کے سرہانے بیٹھا تھاکہ وہ فوت ہو گئے او رچہرہ سیاہ ہو گیا، میں نے انا لله وانا الیہ راجعون پڑھی اور چادر سے اپنے والد کا منھ ڈھانپ دیا۔ اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا او رمیں سو گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انتہائی حسین وجمیل شخص ہے کہ اس جیسا خوبصورت کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا ،نہ اس سے بڑھ کر پاکیزہ اور اجلا لباس کبھی دیکھا اور نہ اس سے بہتر کبھی کوئی خوش بو او رمہک نصیب ہوئی تھی، وہ قدم قدم چلا آرہا تھا، حتی کہ میرے والد کے قریب پہنچ گیا۔ اس کے چہرہ سے کپڑا ہٹا کر ہاتھ پھیرا، جس سے وہ سفیداور منور ہو گیا یہ شخص واپس ہونے لگا تومیں دامن سے لپٹ گیا اور پوچھا اے الله کے بندے! تو کون ہے جس کی برکت سے الله تعالیٰ نے میرے والد پر اس سفر کی حالت میں احسان فرمایا؟ارشاد ہوا کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ میں محمد بن عبدالله ( صلی الله علیہ وسلم) ہوں، جس پر قرآن نازل ہوا۔ تیرا باپ گو ذاتی طور پر کوتاہیاں کرتا رہتا تھا، لیکن مجھ پر درود بکثرت پڑھتا تھا، اب مصیبت میں مبتلا ہو کر اس نے فریاد کی او رمیں ہر اس شخص کی مدد کے لیے ہوں ،جو مجھ پر درود بکثرت پڑھتا ہے۔ میں خواب سے بیدار ہوا تو دیکھا میرے والد کا چہرہ سفید اور روشن تھا۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
مَنْ نَسِیَ الصَّلاَۃَ عَلَیَّ خَطِیَٔ طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ [ صحیح الجامع للألبانی : ۶۵۶۸]
جو شخص مجھ پر درود پڑھنا بھول جاتا ہے گویا وہ جنت کا راستہ بھولتا ہے۔


وہ مجلس جس میں درود شریف نہ پڑھا جائے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
(أَیُّمَا قَوْمٍ جَلَسُوْا مَجْلِسًا ثُمَّ تَفَرَّقُوْا قَبْلَ أَنْ یَّذْکُرُوا ﷲَ وَیُصَلُّوا عَلَی النَّبِیِّﷺکَانَ عَلَیْہِمْ مِنَ اﷲِ تِرَۃً)

’’ جو لوگ کسی مجلس میں اکٹھے ہوں ، پھر وہ اللہ کا ذکر اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے بغیر جدا جدا ہوجائیں تویہ مجلس ان کے لیے عیب اور نقص کا باعث ہو گی۔‘‘
[طبرانی:7751]




سخت ناپسندیدہ چیزیں
حضرت ابوبریدہ اپنے والد سے حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ چار چیزیں سخت ناپسندیدہ ہیں۔
1.  یہ کہ آدمی ( بلاوجہ) کھڑا ہو کر پیشاب کرے۔
2.  نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پیشانی پونچھنے لگے۔
3.  اذان سنتے ہوئے کلمات اذان کا جواب نہ دے۔
4.  یہ کہ میرا نام لیا جائے تو مجھ پر درود نہ پڑھے۔

حضرت ابوہریرہ  حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ مجھ پر خوب درود بھیجا کرو کہ یہ تمہارے لیے پاکیزگی ہے اور الله تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا کرو ، عرض کیا گیا یا رسول الله! وسیلہ کیا ہے؟ ارشاد ہوا جنت کا ایک اعلیٰ درجہ اور مقام ہے، جوایک ہی شخص کو نصیب ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا۔ فقیہ رحمہ الله فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے پاکیزگی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ درود شریف سے گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے۔ اگر آں حضور صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا امید شفاعت کے سواکوئی اجر وثواب نہ ہوتا تو بھی ہر صاحبِ عقل پر واجب ہے کہ اس سے غافل نہ رہے ۔ چہ جائیکہ اس میں گناہوں کی مغفرت بھی ہے اور الله تعالیٰ کی طرف سے رحمت بھی۔



حضرت کعب بن عجرہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول الله! ہم آپ پر صلوة کیسے بھیجیں تو ارشاد فرمایا کہ یوں پڑھا کرو۔

”اللھم صل علی محمد وعلی اٰل محمد، وبارک علی محمد وعلی اٰل محمد، کما صلیت و بارکت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم، انک حمید مجید“․
اے الله رحمتیں نازل فرما حضرت محمد پر اور آپ کی آل پر اور برکتیں نازل فرماحضرت محمد اور آپ کی آل پر، جیسا کہ تو نے رحمتیں او ربرکتیں نازل فرمائی ہیں حضرت ابراہیم پر اور ان کی آل پر، بے شک تو حمد وثنا او ربزرگی والا ہے۔“

اور بعض حضرات کا قول ہے کہ صلوة علی النبی یہ ہے:

”اللھم صلیت انت وملئٰکتک علی محمد“․
”اے الله! تو اور تیرے فرشتے حضرت محمد ا پر رحمتیں بھیجتے ہیں۔“

بعض نے یہ بتایا کہ یوں پڑھے:

”اللھم إنی اشھدک واشھد ملئٰکتک أنی اصلی علی محمد“․
”اے الله! میں تجھے اور تیرے فرشتوں کو اس پر گواہ بناتا ہوں کہ میں حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہوں۔“

اور بعض نے کہا کہ یوں کہے:

”اللھم صل علی محمد وعلی اٰل محمد النبی الامی وعلی اٰلہ واصحابہ، کلما ذکرک الذاکرون، وغفل عن ذکرہ الغافلون“․
اے الله! رحمتیں بھیج حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر، یعنی نبی امی پر، ان کی آل پر ،ان کے صحابہ پر، جب تک تیرا ذکر کرنے والے تیرا ذکر کرتے رہیں اور غافل جب تک غفلت میں رہیں۔“





درود شریف پڑھنے کے فوائد

علامہ ابن قیم ؒ نے درود شریف پڑھنے کے ۳۹ فوائد ذکر کئے ہیں ، ان میں سے چند اہم فوائد یہ ہیں :
ï درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل ہوتا ہے۔
ïایک مرتبہ درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔
ï دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔
ïدس گناہ معاف کردییجاتے ہیں ۔
ïدس درجات بلند کردیے جاتے ہیں ۔
ïدعاسے پہلے درود شریف پڑھنے سے دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
ï اذان کے بعد کی مسنون دعا سے پہلے درود شریف پڑھا جائے تو قیامت کے روز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی۔
ïدرود شریف کثرت سے پڑھنے سے پریشانیاں ٹل جاتی ہیں ۔
ïقیامت کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہو گا۔
ï درود شریف پڑھنے سے مجلس بابرکت ہو جاتی ہے۔
ïجب انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتا ہے تواللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے۔
ï درود شریف پڑھنے والے شخص کی عمر اس کے عمل اور رزق میں برکت آتی ہے۔
ï درود شریف کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
ï درود شریف پڑھنے سے دل کو ترو تازگی اور زندگی ملتی ہے۔
آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حقوق ادا کرنے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے کی توفیق دے ۔ اور روزِ قیامت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور آپ کے ہاتھوں حوضِ کوثر کا پانی نصیب کرے ۔ آمین ثم آمین







پرورد گار دو عالم نے جتنا مقام اپنی تمام مخلوق کے اندر سیدنا محمد رسول الله ﷺ کو عطائے فرمایا ہے اتنا مقام کسی اور کو نہیں بخشا، اس مقام تک آج تک نہ کوئی نبی پہنچ سکا ہے نہ کوئی فرشتہ، حضور صلی الله علیہ وسلم کے مقام کا اندازہ کل قیامت کے دن ہو گا، جب تمام انبیائے کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰة والسلام بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت کے طلب گار ہوں گے۔ الله تعالیٰ نے جہاں پر آپ صلی الله علیہ وسلم کو اورخصوصیات سے نوازا وہیں پر ایک خاصیت جو صرف آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہے وہ درود شریف ہے، جس میں نہ کوئی نبی آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہے اور نہ کوئی فرشتہ، جو صرف اور صرف آپ صلی الله علیہ وسلم کا ہی خاصہ ہے، یوں تو اگر آپ صلی الله علیہ وسلم کے خصائص، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اوصاف ، آپ صلی الله علیہ وسلم کے رفعت ذکر پر بحث کی جائے تو اس کے لیے دفتر چاہیے۔ لیکن پھر بھی بعد میں لکھنے والے کو لکھنا پڑتا ہے بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر۔

لیکن آج صرف اور صرف حضور صلی الله علیہ وسلم الف الف مرةً کی شان کے ایک اہم باب ” دورد پاک“ پر کچھ تحر یرکرنا چاہتا ہوں بخاری شریف میں حضرت ابو سعید خدری رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ﴿ان الله وملائکتہ یصلون علی النبی…﴾“ تو ہم نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا ”کیف نصلی علیک؟“ ہم آپ صلی الله علیہ وسلم پر درود شریف کیسے پڑھیں، جب کہ ہم سلام بھیجنا سیکھ چکے ہیں جو تشہدمیں پڑھتے ہیں؟”السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ“ تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” قل: اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد… الخ“ (درود ابراہیمی) پڑھو۔ یہ آیت مبارکہ مدینہ منورہ زادھا الله شرفاً میں ماہ شعبان 2 ہجری کو نازل ہوئی، جس کی رو سے اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ میرے نبی حضرت محمد علیہ الصلوٰة والسلام پر درود بھیجو۔

درود بھیجنے والے تین ہیں ،اول خود الله تعالیٰ، دوم فرشتے ، سوم اہل ایمان الله تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مقصد آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعریف فرمانا، آپ صلی الله علیہ وسلم پر رحمتوں کا نزول کرنا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے ذکر کو بلند کرنا ہے۔

ملائکہ کے درود بھیجنے کا مقصد آپ صلی الله علیہ وسلم کے حق میں الله تعالیٰ سے دعا کرنا کہ وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو اعلیٰ وارفع مراتب عطا فرمائے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے دین کو غلبہ اور آپ کی شریعت مطہرہ کو فروغ بخشے اور اہل ایمان کے درود وسلام کا مطلب بارگاہ الہٰی میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان کی بلندی کی التجا کرنا اور آپ کی مدح وثنا کرنا ہے ۔ جمہور مفسرین نے یہی معنی لکھے ہیں۔

فائدہ: قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے اندر یہ بات نہایت واضح طور پر موجود ہے کہ الله تعالیٰ نے سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جو خصائص اوصاف ،مناقب عطا فرمانے تھے، عطا فرما دیے، مثلاً رفعت ذکر، غلبہ دین، رسالت عامہ الی یوم القیامة، ختم نبوت ، مقام محمود ، شفاعت عظمی،گو کہ ان میں جن کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے وہ اس وقت وقوع ہوں گے تو پھر ملائکہ یا اہل ایمان کی دعاؤں کا کیا مقصد کہ وہ اعلیٰ وارفع مراتب کے لیے بارگاہ صمدیت کے اندر سراپا عجز وانکساری بنے ہوئے ہیں؟ تو علمائے محققین نے سمندر کے اندر غواصی کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ملائکہ او راہل ایمان دعا نہ بھی کرتے، جو درود سے مراد ہے ، توپھر بھی پروردگار نے جو جو فضیلتیں بخشی تھیں وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو بخش دیں لیکن ملائکہ اوراہل ایمان کو درود کا حکم دے کر اپنے نبی کی شان بیان کردی کہ ملائکہ اور اہل ایمان درود پڑھ کر اپنے کسی اور مقصد کی دعا نہیں کرتے بلکہ درود پڑھتے ہوئے میرے نبی صلی الله علیہ وسلم کے لیے دعا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور الله کی رحمت حاصل کرتے رہتے ہیں۔ علامہ سید محمود آلوسی رحمة الله علیہ نے ایک اہم بات اس آیت کے ضمن میں تحریر فرمائی کہ کسی نبی کی امت کو پرودرگار نے حکم نہیں دیا کہ وہ اپنے نبی پر درود سلام بھیجیں، سوائے اس امت کے کہتم اپنے نبی پر درود وسلام بھیجو اور یہ بات اگر خاص ہے تو صرف سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص نظر آتی ہے، جس سے جہاں پر ایک طرف حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا مقام نظر آتا ہے، وہیں پر اس امت کے ساتھ الله تعالیٰ کی محبت بھی نظر آتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ اس امت کو کسی نہ کسی صورت میں ہر وقت نوازنا چاہتے ہیں اور الله کی رضا حاصل کرنے کے لیے اتباع رسول صلی الله علیہ وسلم اور درود پاک سے بڑھ کر کوئی اہم عمل نہیں، کیوں کہ پرورد گار بھی اس عمل کے اندر اپنے ملائکہ اور اپنے بندوں کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں ۔ تمام دین کے کامو ں کے اندر الله تعالیٰ فرماتے ہیں ﴿لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة﴾ ساری زندگی ایک انسان، خاص کر مسلمان کیسے گزارے الله تعالیٰ نے بیان کر دیا ہے اور نمونہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی ذات کوبنایا ہے، لیکن درود پاک عمل ہے جس کے لیے نمونہ ملائکہ، انبیاء یا کسی اور کو نہیں بنایا، بلکہ اپنی ذات مبارکہ کو بنایا ہے کہ﴿ان الله وملائکتہ یصلون علی النبی﴾ کہ لوگو! آؤ آج اپنے الله تعالیٰ کی اتباع کرو۔ اور اپنے نبی پردرود بھیجو اور اس عمل مبارک کے اندر اپنے رب کے ساتھ شریک ہو کر خدا کی رحمت حاصل کرنے کے حق دار بن جاؤ۔﴿ان الله وملائکتہ… ﴾ جملہ اسمیہ ہے لفظ ان شروع میں ہے، تاکید بھی ہے، تفسیر کبیر میں امام رازی  فرماتے ہیں کہ جملہ اسمیہ استمرار کا فائدہ دیتا ہے، گویا یہ عمل جب سے الله تعالیٰ کی ذات ہے شروع ہے اور آج بھی جاری ہے او رہمیشہ جاری رہے گا۔ ہر چیز کی ایک ابتدا ہے او رایک انتہا ہے، لیکن درود وہ عمل ہے جس کی ابتدا تو ہے انتہا نہیں یہ عمل اس میں تھا، ہمیشہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

امام بخاری نے ابو العالیہ تابعی سے یہ اثر نقل کیا ہے کہ الله تعالیٰ کا صلوٰة سے مراد آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم او رملائکہ کے سامنے آپ صلی الله علیہ وسلم کی مدح وثنا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم دنیا میں تویہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو بلند مرتبہ نصیب فرمایا۔ آپ کے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ شامل فرمایا۔ اذان ، اقامت، نماز، درود وسلام، کلمہ طیبہ غرض ہر جگہ اپنے نام کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کے نام کو شامل فرما لیا۔ قال حسان بن ثابت رضی الله عنہ #
        وضم الالٰہ اسم النبی الیٰ اسمہ
        اذ قال فی الخمس المؤذن اشھد
        وشق لہ من اسمہ لیسجلہ
        فذو العرش محمود وھذا محمد

” الله تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کے نام کو ملا رکھا ہے، جیساکہ پانچ وقت موذن اشھد کہتا ہے۔ الله تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے اعزاز کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کا نام اپنے نام سے مشتق کیا، چناں چہ صاحب عرش محمود ہے اور آپ محمد، صلی الله علیہ وسلم #
        صلوٰة الله کلام الله جہاں دیکھا تو یہ دیکھا
        اگر لکھا الله دیکھا تو محمد بھی لکھا دیکھا

اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی یہ تعظیم بھی فرمائی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے دین کو دنیا بھر میں پھیلا دیا اور غالب کر دیا۔ ﴿لیظھرہ علی الدین کلہ﴾․ آپ کی شریعت کو قیامت تک کی شریعت بنا دیا اور شریعت کی حفاظت بھی خود فرمانے کا وعدہ کیا۔ ﴿انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون﴾ اور آخرت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم یہ کی کہ آپ کا مقام تمام مخلوقات سے بلند فرما دیا۔

حدیث کے الفاظ ہیں ”انا سید ولد آدم، ولافخر، وانا اول من تنشق عنہ الارض، وانا اول شافع، واول مشفع، ولافخر، ولواء الحمد بیدی یوم القیامة، ولا فخر“․

میں ساری اولاد آدم کا سردار ہوں، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر مبارکہ شق ہو گی اور حشر کے دن سب سے پہلے میں سفارش کروں گا، جو کہ قبول ہو گی اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا او رمیں ان تما م باتوں پر فخر نہیں کرتا، بلکہ الله تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔“( سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الشفاعة)

فائدہ! چاہیے تو یہ تھا کہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیائے کرام علی نبیا وعلیہم الصلوٰة والسلام کی قبور مبارکہ شق ہوتیں، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کی قبر سب سے پہلے شق ہونے کی وجہ کیاہے؟ تو علمائے کرام نے نکتہ آفرینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں پر آپ صلی الله علیہ وسلم کی قبر مبارک کا شق ہونا آپ کے لیے باعث اعزاز او روجہ تعظیم ہے وہیں یہ امت کے گناہ گار جن کی زندگی گناہوں سے بھری پڑی ہے قیامت کے دن گناہوں کی وجہ سے پریشان ہوں گے اور قیامت کے دن ہوش وحواس تک جواب دے دیں گے تو ان کی نگاہ جب قبروں سے اٹھتے ہی محشر کے میدان میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انور پر پڑے گی تو ان کی تسلی کا سامان ہو جائے گا۔ سبحان الله! کہ یہ شفیع المذبین پیغمبر سامنے موجود ہے، جیسے ایک شخص کسی نئی بستی میں جائے تو وہاں اجنبیت کی وجہ سے وہ تھوڑا بہت تنگ ہوتا ہے، لیکن کوئی جان پہچان والا نکل آئے تو پھر اس کی یہ تکلیف دور ہو جاتی ہے، ایسے ہی محشر کا میدان بھی ایک نیا جہاں ہے اور ایک ایسی جگہ جہاں انسان کے ہوش وحواس کام کرنا چھوڑ دیں گے اور اس مشکل ترین مقام کے اندر سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انورپر نگاہ پڑ جائے تو خدا کی نعمت نہیں تو اور کیا ہے، جن کو دیکھتے ہی تمام مصیبتیں دور ہو جائیں اور بے قرار دل کو قرار آجائے، بلکہ اکابرین تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو عالم برزخ کے اندر رکھنا بھی خدا کی نعمت ہے، پرورد گار چاہتے تو قیامت تک زندہ رکھتے، لیکن اس جہاں کے اندر زندہ نہ رکھنے کی جہاں اور حکمتیں ہیں جو تحریرکرنا اس وقت مقصود نہیں، وہیں پر ایک حکمت آپ صلی الله علیہ وسلم کو برزخ میں پہنچا کر حیات برزخی دے کر اس امت کے مرنے والوں کے لیے مغفرت کا سامان مہیا کرنا ہے، کیوں کہ اسی زمین کے اندر جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی امت کے آنے والے مدفون ہوں گے، وہیں پر اس زمین کے اندر سر کار دو عالم ،روح دوعالم، فخر دو عالم، اثاثہ دو عالم، سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی تشریف فرماہیں، یقینا ان کی برکات جہاں پر دنیا والوں کو مل رہی ہیں، وہیں پر برزخ والوں کو بھی ضرور عطا ہوں گی۔

لہٰذا محشر کے اندر جو شخص سب سے زیادہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے قریب ہو گا وہ، وہ خوش نصیب ہے جو متبع رسول ہو گا او رکثرت کے ساتھ درود پاک پڑھتا ہو گا۔

سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم وہ عظیم ترین ہستی ہیں جنہوں نے کفار کے احسانات کابدلہ بھی دیا۔ کسی نے تھوڑی سی اچھائی کی اس کو دوگنا بدلہ دیا تو جو آپ صلی الله علیہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود پڑھے گا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کل اس کو کیسے محروم فرمائیں گے؟!
        یارب صل وسلم دائماً ابداً
        علی حبیبک خیر الخلق کلھم

علامہ اسماعیل حقی آفندیؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف، تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے دین کی ترویج واشاعت کی، یہ آپ کا ہی خاصہ ہے، جو کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے، جس کا شکر ادا کرنے کے لیے آپ کی امت کو درود وسلام کا حکم دیا گیا ہے۔

علامہ قسطلانی رحمة الله علیہ نے مواہب لدنیہ میں ابن عربی رحمة الله علیہ کا قول نقل کیا ہے کہ درود پاک سے حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ دونوں جہانوں میں تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں رقم طراز ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس تمام بنی نوع انسان اور مخلوق کے لیے الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا اس کے شکر ادا کرنے کی ایک شکل درود پاک ہے، جتنی بھی جسمانی اور روحانی عبادات ہیں۔ ترقیاں ہیں، وصال حق ہے۔ قرب پروردگار ہے، وہ سب آپ صلی الله علیہ وسلم کے طفیل ہے۔ لہٰذا ان کا صلہ اگر کسی صورت میں ہے تو وہ درود پاک ہے۔

حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوریؒ، جو حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ ہیں ، فرماتے تھے کہ درود شریف ایک ایسی عبادت ہے جس میں منہ سے بیک وقت الله تعالیٰ کا نام بھی نکلتا ہے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا نام بھی نکلتا ہے ۔ الله تعالیٰ اور حضور صلی الله علیہ وسلم جس عبادت میں جمع ہو جائیں اس کا کیا کہنا ۔ الله تعالیٰ بھی راضی اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی راضی۔

درود شریف پڑھنے کا طریقہ
وضو کرکے قبلہ رخ ہو کر دوزانوں ساری دنیا سے توجہ ہٹا کر پڑھنے والا یہ تصور کرے کہ میں سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روضہٴ انور کے سامنے ہوں اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ انور سے جو انوارات پھیل رہے ہیں او رنکل رہے ہیں ان سے میں بھی مستفید ہو رہا ہوں۔ او رجو الفاظ زبان سے نکل رہے ہیں ان پر خصوصی توجہ ہو تو کچھ بعید نہیں کہ پڑھنے والا کل حضور صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت سے مستفید نہ ہو سکے او راس دنیا کے اندر حضور صلی الله علیہ وسلم کی زیارت اس کا مقدر نہ بن سکے۔ خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خان نور الله مرقدہ فرماتے تھے کہ نماز والا درود شریف روزانہ تین سوتیرہ بار پڑھ لینا چاہیے، اگر نہ ہو سکے تو تعداد کم کر لی جائے ،لیکن سو سے کم نہ ہو، چاہے تو کوئی اور درود شریف بھی پڑھ سکتا ہے، بالخصوص:”اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی آل سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم“․

الله تعالیٰ ہمیں کثرت کے ساتھ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر درود پاک پڑھنے والا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے بتائے ہوئے مبارک ارشادات پر عمل کرنے والا بنائے۔
        یارب صل وسلم دائماً ابداً
        علیٰ حبیبک خیر الخلق کلھم



روضہ اطہر پر حاضری کے آداب
حضرت ملاعلی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درودوسلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب ” ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری“ میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود وسلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔

جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے: ”اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔

مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔

جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر ” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے، پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، اس سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔

” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ، السلام علیک یا رسول الله، السلام علیک یا حبیب الله، السلام علیک باخیر خلق الله، السلام علیک یا صفوة الله، السلام علیک یا سید المرسلین، یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔ أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً، جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔ السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین، السلام علیک یا مبشر المحسنین ( ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔



انبیائے علیہم السلام کے ناموں کے ساتھ ”ص“ یا ”صلعم“ وغیرہ لکھنا
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جب انبیائے کرام علیہم السلام کے نام لکھے جاتے ہیں، تو بطور دعا ”صلی الله علیہ وسلم“ کو مختصر کرکے”ص“ لکھنا، علیہ السلام کو مختصر کرکے ’ ’ “ لکھنا یا ”صلعم“ لکھنا، اسی طرح صحابہ رضی الله عنہم کے لیے مختصرا ” رض“ لکھنا اور بزرگان دین کے لیے مختصراً ” رح“ لکھنا کیسا ہے؟ کیا ان سے درود کا مقصد ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ اور کوئی کراہیت ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ بعض اشخاص کے ساتھ ” علیہم السلام“ لکھا جاتا ہے، جیسے حضرت مریم کا نام ذکر کیا جاتا ہے تو ساتھ ” علیھا السلام“ لکھتے ہیں ، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب… انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے نام نامی اسم گرامی کے بعد ” علیہ الصلوٰة والسلام“ یا صلی الله علیہ وسلم“ لکھنے کے بجائے ”ع“ یا ”  “ یا ”ص“ یا ”صلعم“ لکھنا، اور حضرات صحابہٴ کرام کے اسمائے گرامی کے ساتھ ” رضی الله عنہ“ کے بجائے”رض“ اور بزرگانِ دین کے اسماء کے ساتھ ”رحمہ الله“ کی بجائے ”رح“ لکھنا اسی طرح ” تعالیٰ“ اور ”جل جلالہ“ کے بجائے ” تعہ“ اور ”ج“ لکھنا درست نہیں، اور خلافِ ادب ہونے کے ساتھ ساتھ قلتِ محبت پر دال ہے، او رمقصود جو کہ صلوٰة وسلام کہنا ہے ان حروف سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ” علیہ الصلوٰة وسلام“ اور صلی الله علیہ وسلم“ وغیرہ پورا کرکے لکھنا چاہیے۔

اور اگر دیکھا جائے تو تمام کتب حدیث میں محدثین رحمہم الله تعالیٰ نے جہاں بھی نام مبارکہ ذکر کیا ہے وہاں پر پورا پورا درود وسلام لکھا ہے، تو گویا کہ اس کو ایک طرح کی اجماعی حیثیت حاصل ہے، لہٰذا پورا پورا علیہ الصلوٰة والسلام لکھنا چاہیے، اور یہ بھی ملاحظہ ہو کہ بعض ائمہ کرام رحمہم الله تعالیٰ اس کے قائل ہیں کہ جب اسم گرامی مکرر ذکر ہو تو ہر ہر مرتبہ تکرار کے ساتھ درود پڑھنا واجب ہے، اگرچہ ایک مجلس میں ہو، تو یہ بھی صلوٰة وسلام کی اہمیت کی دلیل ہے، لہٰذا صلوة و سلام پورا لکھنا چاہیے، تاکہ مقصود اچھے طریقے سے حاصل ہو ۔

صلوة وسلام انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا دیگر بزرگ اشخاص کے ساتھ منفرداً صلوة وسلام پڑھنا یا لکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر تبعاً ان پر درود لکھا یا پڑھا جائے تو جائز ہے، اس طرح کہ ان اشخاص کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے ساتھ مذکور ہو اور صلوة وسلام میں ان کو بھی شامل کیا جائے۔ جیسے ” اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد وصحبہ وسلم․“




Monday, 5 September 2016

شكر کی فضیلت اور اس کا مفھوم

نعمتوں کی شکر گزاری کیوں اور کیسے؟
اللہ تعالی نے نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط،  اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں

اللہ تعالی نے نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں

    جب ایک شخص آپ پرکوئی معمولی احسان کرتا ہے تو بے ساختہ آپ کے زیرلب ‘‘شکریہ، تھینک یو، جزا ک اللہ خیرا جیسے الفاظ آجاتے ہیں اور اگر اسی نے آپ کو کسی تنگی سے نکال دیا اورنازک وقت میں آپ کے کام آیا توآپ اس کے احسان شناس بن جاتے ہیں اور اس کے احسان کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘‘نہ جانے کن الفاظ میں آپ کا شکرادا کروں’’ ،‘‘آپ کی شکرگزاری کےلیے ہمارے پاس الفاظ نہیں’’ ، اب ہمیں جواب دیجئےآپ کا یہ معاملہ ایک معمولی انسان کے ساتھ  ہوتا ہے اورایسے انسان کے ساتھ جس سے کبھی کبھار ایسا سابقہ پڑتا ہے،  تو پھرمالک ارض وسما اوررب العالمین کے ساتھ ہمارا معاملہ کیسا ہونا چاہئے جس کا ارشاد ہے:  

وآتاكم من كل ما سألتموه وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها (سوره ابراهيم 34)

‘‘اسی نےتمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے، اگرتم  اللہ تعالی کے احسان گننا چاہوتو انہیں گن نہیں سکتے’’  –

           اس منعم حقیقی کا فرمان ہے: وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (سورہ لقمان 20)

‘‘اور تمہیں اللہ تعالی نے اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں’’۔

جی ہاں !بندے پراللہ تعالی کی بے شمار، انگنت اور لامتناہی نعمتیں ہیں، قطرہ آب سے پیدا ہونے والا انسان کبھی کچھ نہیں تھا، اللہ تعالی نے اسے نو مہینہ تک رحم مادرمیں رکھا، کرہ ارض پر وجود بخشا، اور بے شمارظاہری وباطنی نعمتوں سے نوازا 

وَاللَّـهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ  (سورہ النحل آیت نمبر78

‘‘اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو’’ ۔

اس منعم حقیقی نے دیکھنے کے لیے دو آنکھیں دیں، سننے کے لیے دوکان دیا، چلنے کے لیے دو پیر دیا، پکڑنے کے لیے دو ہاتھ دیا، سونگھنے کے لیے ناک دیا، بولنے کے لیے زبان دیا اور سمجھنے اور رطب و یابس میں تمیز کرنے کے لیے عقل و دماغ دیا اور پھر مال و دولت، لباس و پوشاک، گھر و مکان، آب و دانہ ، صحت و عافیت، آل و اولاد اور خوشحال و سعادتمند زندگی عطا کی، ان نعمتوں کی قدر وہی جان سکتا ہے جو ان نعمتوں سے محروم ہو، مال ودولت کی اہمیت جاننا ہوتو فقیروں سے پوچھیے، گھر ومکان کی قیمت جاننا ہو تو بے گھروں اور وقتی خیموں میں پناہ لینے والوں سے پوچھیے، آب و دانہ کی اہمیت جاننا ہوتو فاقہ کشوں سے پوچھیے، آل و اولاد کی نعمت جاننا ہو تو آل اولاد سے محروم کو دیکھیے، صحت و عافیت کی اہمیت جاننا ہو تو بیماروں کی زندگی میں جھانک کر دیکھیے، خوشحال زندگی کی اہمیت جاننا ہو تو بدحالی کی زندگی گذارنے والوں کو دیکھیے، تعجب تو اس بات پر ہے کہ مصائب و شدائد میں بھی اللہ تعالی کی نعمتیں انسان سے جدا نہیں ہوتیں، چنانچہ اگر انسان نے مصیبت میں صبر و شکیبائی کے دامن کو تھامے رکھا تو اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اس کے اجر وثواب میں اضافہ کردیا جاتا ہے، اور اس سے بری بری بلائیں دور کردی جاتی ہیں، لیکن ان بنیادی نعمتوں سے اعلی و ارفع اور عظیم نعمت جو اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہے وہ ایمان کی نعمت ہے، جس سے شرفیاب وہی ہوتا ہے جو اللہ کی نظر میں محبوب ہو، اس نعمت کے سامنے دنیا کی ساری  نعمتیں ہیچ ہیں، کیونکہ اس کے بغیر انسانی زندگی تن مردہ بن جاتی ہے، غرضیکہ حضرت انسان سرتاپا اللہ تعالی کے احسانات اور نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے، جی ہاں! یہ نعمتیں انگنت، لاتعداد اور حیطہ تحریر سے باہر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان کی حفاظت کیسے کریں؟  انہیں ہم اپنے قابو میں کیسے کریں؟ اللہ تعالی نے ان بے بہا نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط،  اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (سورۃ البقرہ ۱۵۲  

لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو ۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالی ہمارے شکر کا محتاج ہے،  وہ ذات بے ہمتا تو اس قدر بے نیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی، اور اگر سب اس کے اطاعت گذار بن جائیں تو اس سے اس کی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا،اللہ تعالی نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ( سورہ الفاطر ۱۵

 ‘‘لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے’’۔

لہذا اگر کوئی شکرگزاری کرتا ہے تو اس کا پورا فائدہ شکرگذار ہی کو ملنے والا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے

 وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (سورہ النمل 40

‘‘اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے’’۔

تاہم اللہ تعالی اپنے بندے کی اطاعت اور شکرگزاری دیکھنا چاہتا ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے ہمیں شکرگزاری کا حکم دیا، شاکرین کی تعریف کی، اور اپنے خاص بندوں کو اس صفت سے متصف کیا، چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ  (سورہ النمل 120-121)

‘‘واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا،اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا’’۔ 

اور حضرت نوح علیہ السلام کی بابت فرمایا

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (سورۃ الاسرا ۳

‘‘ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا’’۔ 

اور پھر اللہ تعالی نے اپنا نام بھی شاکر اور شکور رکھا ہے جس سے شکرگزاری کی اہمیت مزید دوبالا ہوتی ہے، شکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے اندر شکر کا ذکر متعدد معانی میں تقریبا 75 مقامات پر کیا ہے۔

مومن نعمتوں میں شکر گذار ہوتا ہے
ایک مومن نعمتوں کو پاکر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے، اور ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بروز قیامت اس سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جانے والاہے، فرمان الہی ہے

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ    سورۃ التکاثر 8

پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔

چنانچہ اللہ تعالی اس کی شکرگزاری کی بنیاد پراس کی نعمتوں میں مزید اضافہ اور زیادتی کرتا ہے ،جب کہ کافر نعمتوں کو پاکر ظلم وعدوان کا شکار ہوجاتا ہے ، نافرمانی اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے، حالانکہ یہ نعمتیں حقیقت میں اس کے حق میں وبال جان ہوتی ہیں۔

شکرگذاری کے درجات
 نعمتوں کی شکرگذاری کے چند درجات ہیں: شکر کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان رب کریم کی ان نعمتوں کا شکر بجالائےجن سے وہ شبانہ روز مستفید ہورہا ہے۔

شکرگذاری کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ انسان مصائب وآلام اور شدائد سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالی کا شکر بجا لائے جن سے وہ بذات خود دوچار رہا ہے، یا اس کا کوئی بھائی، لیکن اللہ تعالی نے اسے اپنے فضل وکرم سے نجات بخشی۔

شکرگذاری کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان مصائب و آلام میں گھرے رہنے کے باوجود اللہ تعالی کو یاد کرے، اور اس بات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے کہ اس ذات پاک نے ہمیں بہیترے لوگوں سے اچھا رکھا ہے، اور مصائب پر صبر وشکیبائی اختیار کرنا شکر ہی تو ہے، اسی لیے ایک حدیث میں آتا ہے، صحیح مسلم کی روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله خير ، وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن ؛ إن أصابته سرّاء شكر ؛ فكان خيراً له ، وإن أصابته ضرّاء صبر ؛ فكان خيراً له . رواه مسلم 

‘‘مومن کا معاملہ بھی کیا خوب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے، تو یہ شکر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ یعنی صبر بھی بجائے خود نیک عمل اور باعث اجر و ثواب ہے’’۔

شکرگذاری کیسے کی جائے؟
نعمتوں کا اعتراف کریں

ایک اثر میں حضرت داود علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے: ” اے رب میں تیرا شکر کس طرح کروں، جبکہ شکر بجائے خود تیری طرف سے مجھ پر ایک نعمت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: اے داود اب تونے میرا شکر ادا کردیا، جبکہ تونے اعتراف کرلیا کہ اے اللہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں” ۔

 لہذا سب سے پہلے نعمت کی اہمیت و عظمت کو اپنے دل میں بٹھائیں اور یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی ذات نہیں جو نعمتیں عنایت کرنے کی طاقت رکھتی ہو۔

اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کریں

نعمتوں کی شکر گذاری میں یہ شامل ہے کہ ایک بندہ زبان سے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے

إن اللهَ ليرضى عن العبدِ أن يأكلَ الأكلةَ فيحمدَه عليها . أو يشربَ الشربةَ فيحمدَه عليها (صحیح مسلم 2734

‘‘بیشک اللہ تعالی ایسے بندے سے خوش ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھائے تو اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے اور ایک گھونٹ پانی پئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے’’۔

انگنت نعمتوں کا ذکر کرتے رہیں

نعمتوں کی شکرگذاری میں یہ بات داخل ہے کہ بندہ مومن اپنے اوپر اللہ تعالی کی انگنت نعمتوں کا ذکر کرتا رہے اور اس کی کرم نوازی کا عاجزانہ اظہار کرے، اللہ تعالی نے انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

یا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّـهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ   (سورۃ الفاطر ۳)

‘‘لوگو! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟ ’’

اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا:

من لم يشكرِ القليلَ لم يشكرِ الكثيرَ ، و من لم يشكرِ الناسَ ، لم يشكرِ اللهَ ، و التحدُّثُ بنعمةِ اللهِ شكرٌ ، وتركُها كفرٌ ۔۔۔ (صحيح الترغيب  ( 976

‘‘جو شخص تھوڑے پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرسکتا وہ زیادتی پر بھی شکرگذار نہیں بن سکتا، جس شخص نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا تو اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا اس کی شکر گذاری ہے، اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان نہ کرنا کفران نعمت ہے’’۔

پتہ یہ چلا کہ اللہ تعالی کے انعامات کا تذکرہ اور ان کا اظہار اللہ تعالی کو بہت پسند ہے، لیکن تکبر اور فخر کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے زیربار ہوتے ہوئے اور اس کی قدرت و طاقت سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم نہ کردے۔

نعمتوں کا اثرجسم پرظاہرہونا چاہئے

نعمتوں کا ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اثربھی جسم پرظاہرہونا چاہئےکیوں کہ اللہ تعالی کو یہ بات پسند ہے کہ بندے کے جسم پراپنی نعمتوں کا اثردیکھے، مسند احمد کی روایت ہے کہ ایک صحابی حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوئے اس وقت ان کے جسم پر نہایت ہی گھٹیا اور معمولی لباس تھا ،آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مال ودولت ہے ،اس نے کہا جی ہاں، دریافت فرمایا :کس طرح کامال ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے مجھے ہرقسم کامال دے رکھا ہے ،اونٹ بھی ہیں ،گائے بھی ہیں، بکریاں بھی ہیں، گھوڑے بھی ہیں، اورغلام بھی ہیں، آپ نے فرمایا :  اذا آتاک اللہ مالا فلیرعلیک   جب اللہ تعالی نے تجھے مال دے رکھا ہے تواس کا اثرتمہارے جسم پرظاہرہونا چاہئے

نعمتوں کا استعمال اللہ کے مکروہات میں نہ کریں

نعمتوں کی شکرگزاری یہ بات داخل ہے کہ ہم ان نعمتوں کا استعمال اللہ تعالی کے مکروہات میں نہ کریں، اللہ تعالی کے تابع وفرمابرداربن جائیں، اس کی رضامندی کاکام کریں اگریہ نعمت مال کی شکل میں ہے تو اس میں سے فقراء ومساکین کا حق اداکریں، رشتے داروں اورقرابتداروں کی مالی اعانت کریں، یتیموں اور بیواؤں کے ساتھ مواسات وغمخواری کریں

اعتدال اور توازن کو مدنظر رکھیں

نعمتوں کی شکرگزاری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم نعمتوں کے استعمال میں اعتدال اور توازن کو مدنظر رکھیں، بطورمثال بجلی اور پانی کو لیجئے جوبندوں پر اللہ تعالی کے احسانات میں سے ایک عظیم احسان ہے،یہ ایسی نعمت ہے جس سے کوئی مخلوق بے نیازنہیں ہوسکتی اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وجعلنا من الماء کل شئ حی  ‘‘ہم نے پانی سے ہرجاندارچیزکو زندگی بخشا۔’’

اور سورہ واقعہ میں اللہ تعالی ہمیں اس نعمت کا یوں احساس دلاتا ہے

 أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ  أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ 

 کیا تم اس پانی کی طرف نہیں دیکھتے جسے تم پیتے ہو، اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں، ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے۔

شکر گذاری کے فوائد و ثمرات

ایک انسان جب نعمتیں پاکر اللہ تعالی کا شکر بجا لاتا ہے تو ایسا نہیں کہ اس نے عقل وفطرت کے تقاضے پر عمل کیا اور بس بلکہ اسے شکرگزاری کے بے شمار نمبرات اورفوائد بھی حاصل ہوتے ہیں ۔

رضائے الہی اور بے پناہ اجر وثواب

شکرگزاری کاپہلافائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہوتاہے اور بے پناہ اجروثواب سے نوازتاہے، فرمان الہی ہے:

 نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ (سورہ القمر35

 ‘‘اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے۔’’

اور اللہ تعالی نے فرمایا

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ (سورہ آل عمران145

‘‘کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم اُن کی جزا ضرور عطا کریں گے۔’’ 

ان آیات سے پتہ یہ چلا کہ اللہ تعالی نے شکرگزاربندوں کے لیے بے پناہ اجروثواب کا وعدہ کیا ہے، اوراللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

نعمتوں میں اضافہ

شکرگزاری کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان مزید اللہ تعالی کی نعمتوں سے مالامال ہوتا ہے، اوراس پرنعمتوں کی بارش ہوتی ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (سورہ ابراہیم ۷

‘‘اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔’’

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے شکرکی بنیاد پرنعمتوں میں اضافہ کا وعدہ کیا ہے، اوراس زیادتی کی کوئی تحدید بھی نہیں کی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ تاریخ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 

جس شخص کو پانچ چیزوں کی توفیق مل گئی، وہ پانچ چیزوں سے محروم نہیں رہ سکتا ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جسے شکرکی توفیق مل گئی وہ (نعمتوں میں ) زیادتی سے محروم نہیں رہ سکتا ،

اسی لیے فضیل بن عیاضی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں

من عرف نعمۃ اللہ بقلبہ وحمدہ بلسانہ لم یستتم ذلک حتی یری الزیادۃ

‘‘جس نے اللہ تعالی کی نعمت کو اپنے دل سے پہچانا اور اپنی زبان سے اس کی حمد وثنا بیان کی، تووہ ضروراپنی نعمتوں میں زیادتی دیکھے گا’’ ۔

عذاب سے حفاظت

شکرگزاری کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی مخلوق سے عذاب کو روک لیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے

مَّا يَفْعَلُ اللَّـهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ شَاكِرًا عَلِيمًا  (سورہ النساآیت نمبر147

‘‘ آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے’’،

تاریخ شاہد ہے کہ اگراللہ تعالی نے کسی قوم پرعذاب بھیجا ہے تو یہ دراصل اس کی ناشکری کا نتیجہ رہاہے،لیکن جس قوم نے اللہ تعالی کی شکرگزاری کی ہے،اس کی مرضیات کے مطابق زندگی گذارا ہے اور شریعت اسلامیہ کی پاسداری کی ہے تو وہ دنیا وآخرت دونوں میں امن وامان اور سعادتمند زندگی سے ہمکنار ہوئی ہے ۔

رب کریم کے بے پایاں الطاف عنایات کا کیاکہنا کہ اسی ذات نے انسان پر ہرطرح کی نعمت نچھاور کی اور صرف بندے کی شکرگزاری کے نتیجے میں مزید دینے کاوعدہ کیا لیکن آہ انسان کس قدر ناشکرا واقع ہواہے کہ جس مالک کی روٹی کھا رہا ہے،اسی کی نمک حرامی پر تلا ہوا ہے، جس ذات کی نعمتوں میں پل رہا ہے اسی کے خلاف قدم اٹھا رہا ہے، حالانکہ اگر انسان کو اللہ تعالی کی معمولی ایک نعمت کا صحیح اندازہ ہو جائے تو کبھی ناشکری کی جرات بھی نہ کر سکے، ایک مرتبہ ابن سماک خلیفہ ہارون رشید کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کی، نصیحت سن کر ہارون رشید آب دیدہ ہو گئے، اس کے بعد خلیفہ نے پینے کے لیے پانی منگوایا،ابن سما ک نے کہا: امیرالمومنین! اگر آپ پیاس سے بے تاب ہوں اور ایک گلاس پانی پینے کے لیےدنیا اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ اس کے لیے تیار ہوجائیں گے؟ ہارون رشید نے کہا : جی ہاں ! ابن سماک نے کہا :اللہ برکت دے پی لیجئے

جب پانی پی چکے تو ابن سماک نے کہا: امیرالمومنین! ابھی آپ نے جو پانی پیا ہے اگر وہ پیشاب کے راستے میں رک جائے اور اسے نکالنے کے لیے دنیا اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ چکا دیں گے؟ ہارون رشید نے کہا: ہاں! بالکل، تب ابن سماک نے کہا: فما تصنع بشیء شربۃ ماء خیر منہ تو آخر اس حکومت کا کیا فائدہ جس سے بہتر ایک گھونٹ پانی ہو۔

عزیز قاری! رب کریم نے ہمیں بے شمار، انگنت اور لامتناہی نعمتوں سے مالامال کیا ہے جن سے ہم ہر وقت، ہر آن اور ہر لمحہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، پلک جھپکنے کے برابر بھی ہم اس کی نعمتوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ذات باری تعالی کا شکر ادا کریں، اس کے احکام کی تابعداری کریں اور ان نعمتوں کو خیر کے کام میں صرف کریں۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔




شكر گذار کیسے بن سکتے ہیں:
فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ {3:123}
پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو۔



ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ {2:52} 
پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو 


 يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} 
لیکن اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے، اور اپنی نعمت تم پر مکمل فرما دے، تا کہ تم اسکے شکر گزار بن جاؤ۔[المائدة : 6]


وَاذكُروا إِذ أَنتُم قَليلٌ مُستَضعَفونَ فِى الأَرضِ تَخافونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النّاسُ فَـٔاوىٰكُم وَأَيَّدَكُم بِنَصرِهِ وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ {8:26} 
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو 


وَهُوَ الَّذى سَخَّرَ البَحرَ لِتَأكُلوا مِنهُ لَحمًا طَرِيًّا وَتَستَخرِجوا مِنهُ حِليَةً تَلبَسونَها وَتَرَى الفُلكَ مَواخِرَ فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {16:14} 
اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو 



وَاللَّهُ أَخرَجَكُم مِن بُطونِ أُمَّهٰتِكُم لا تَعلَمونَ شَيـًٔا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۙ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ {16:78} 
اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو 



وَمِن رَحمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ لِتَسكُنوا فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {28:73} 
اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو 



وَمِن ءايٰتِهِ أَن يُرسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّرٰتٍ وَلِيُذيقَكُم مِن رَحمَتِهِ وَلِتَجرِىَ الفُلكُ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {30:46} 
اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو عجب نہیں کہ تم شکر کرو 




وَما يَستَوِى البَحرانِ هٰذا عَذبٌ فُراتٌ سائِغٌ شَرابُهُ وَهٰذا مِلحٌ أُجاجٌ ۖ وَمِن كُلٍّ تَأكُلونَ لَحمًا طَرِيًّا وَتَستَخرِجونَ حِليَةً تَلبَسونَها ۖ وَتَرَى الفُلكَ فيهِ مَواخِرَ لِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {35:12} 
اور دونوں دریا (مل کر) یکساں نہیں ہوجاتے۔ یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا۔ جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا۔ اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو۔ اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہیں تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو 



اللَّهُ الَّذى سَخَّرَ لَكُمُ البَحرَ لِتَجرِىَ الفُلكُ فيهِ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {45:12} 
خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو 




ما يَفعَلُ اللَّهُ بِعَذابِكُم إِن شَكَرتُم وَءامَنتُم ۚ وَكانَ اللَّهُ شاكِرًا عَليمًا {4:147} 
اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے ۔


وَإِذ تَأَذَّنَ رَبُّكُم لَئِن شَكَرتُم لَأَزيدَنَّكُم ۖ وَلَئِن كَفَرتُم إِنَّ عَذابى لَشَديدٌ {14:7} 
اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے 


وَمَن شَكَرَ فَإِنَّما يَشكُرُ لِنَفسِهِ {27:40}
اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے۔



أَلَم تَرَ أَنَّ الفُلكَ تَجرى فِى البَحرِ بِنِعمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِن ءايٰتِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ {31:31} 
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں۔


إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ {42:33} 

اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں۔










لَو نَشاءُ جَعَلنٰهُ أُجاجًا فَلَولا تَشكُرونَ {56:70} 
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟ 




ثُمَّ سَوّىٰهُ وَنَفَخَ فيهِ مِن روحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۚ قَليلًا ما تَشكُرونَ {32:9} 
پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی( طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو 





وَهُوَ الَّذى أَنشَأَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۚ قَليلًا ما تَشكُرونَ {23:78} 
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (لیکن) تم کم شکرگزاری کرتے ہو 




قُل هُوَ الَّذى أَنشَأَكُم وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۖ قَليلًا ما تَشكُرونَ {67:23} 
کہو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو 




وَلَقَد مَكَّنّٰكُم فِى الأَرضِ وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعٰيِشَ ۗ قَليلًا ما تَشكُرونَ {7:10} 
اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو 







جو سورة التکاثر پڑھے، نہیں حساب لے گا اس کا الله عزوجل ان نعمتوں کا جو انعام کیں اس پر دنیوی زندگی میں، اور عطا کرے گا اسے اجر جیسا کہ اس نے پڑھی ہوں ایک ہزار آیات.
رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالإِسْنَادِ السَّابِقِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَنْ قَرَأَ سُورَةَ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ، لَمْ يُحَاسِبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالنَّعِيمِ الَّذِي أَنْعَمَ عَلَيْهِ فِي دَارِ الدُّنْيَا ، وَأُعْطِيَ مِنَ الأَجْرِ كَأَنَّمَا قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ " .

کیا نہیں استطاعت رکھتا تم میں سے کوئی ایک کہ پڑھے ہزار آیات ہر دن میں؟ ان (صحابہ) نے کہا : کون استطاعت رکھتا ہے اس کی ؟ فرمایا : کیا نہیں استطاعت رکھتا تم میں سے کوئی ایک کہ وہ پڑھے الھاکم التکاثر.


أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلانِسِيُّ بِمِصْرَ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ ؟ " , قَالُوا : وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ " . رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَعُقْبَةُ هَذَا غَيْرُ مَشْهُورٍ ..[المستدرك على الصحيحين » رقم الحديث: 2014 ، إتحاف المهرة » رقم الحديث: 10511 ، شعب الإيمان للبيهقي » التَّاسِعَ عَشَرَ مِن شُعَبِ الإِيمَانِ هَو بَابٌ ... رقم الحديث: 2300]