Friday, 12 August 2016

سورۃ الکافرون کی فضیلت چوتھائی قرآن کے برابر


 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : ثُلُثُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی سے کہا: اے فلاں! کیا تم نے شادی کرلی؟ انہوں نے کہا: نہیں،قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کرسکوں۔ آپ نے فرمایا:' کیاتمہارے پاس سورہ 'قل هو الله أحد' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا:سورہ' قل هو الله أحد' ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابرہے۔ آپ نے کہا: کیاتمہارے پاس سورہ 'إذا جاء نصر الله والفتح' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا :کیوں نہیں، (ہے) آپ نے فرمایا:' یہ ایک چوتھائی قرآن ہے، آپ نے فرمایا:' کیا تمہارے پاس سورہ 'قل يا أيها الكافرون' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ (ہے) آپ نے فرمایا:' (یہ) چوتھائی قرآن ہے ۔ آپ نے فرمایا:' کیا تمہارے پاس سورہ'إذا زلزلت الأرض' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا:کیوں نہیں(ہے) آپ نے فرمایا: 'یہ ایک چوتھائی قرآن ہے، آپ نے فرمایا: تم شادی کرو '۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
[مسند احمد:12488+13309، سنن ترمذیؒ:2895، مسند البزار:6247، معجم ابن الأعرابي:1648، شعب الإيمان للبيهقي:2300، جامع الأحاديث:15260، كنز العمال:2717]

المحدث : أحمد شاكر | المصدر : عمدة التفسير الصفحة أو الرقم: 1/308 | خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة إلى صحته]
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1هل تزوجت يا فلان قال لا والله يا رسول الله ولا عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ثلث القرآن أليس معك إذا جاء نصر الله والفتح قال بلى قال ربع القرآن أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا زلزلت الأرضأنس بن مالكجامع الترمذي28392895محمد بن عيسى الترمذي256
2هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحدأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1305812896أحمد بن حنبل241
3أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا جاء نصر الله والفتح قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك الله لا إله إلا هو الحي القيوم قال بلى قال ربع القرآن قال تزوج تزوجأنس بن مالكالبحر الزخار بمسند البزار 10-1318126246أبو بكر البزار292
4هل تزوجت قال ليس عندي ما أتزوج قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا جاء نصر الله والفتح قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن قالأنس بن مالككشف الأستار2177---نور الدين الهيثمي807
5هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا جاء نصر الله قال بلى قال ربع القرآن أليس معك قل يا أيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا زلزلت قال بلى قال ربع القرآن أليس معك آأنس بن مالكمعجم السفر للسلفي139878أبو طاهر السلفي576
6آية الكرسي ربع القرآنأنس بن مالكمعجم مشايخ أبي علي الحداد12---الحسن بن أحمد بن الحسن الحداد515
7هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحدأنس بن مالكالمجالس الخمسة السلماسية للسلفي2424أبو طاهر السلفي576
8هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا جاء نصر الله قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا زلزلت قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معكأنس بن مالكالأحاديث المائة للحافظ العلامة محمد بن علي بن طولون9---محمد بن علي بن طولون953
9هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج قال أليس معك قل هو الله أحدأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي2298---البيهقي458
10أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا زلزلت قال بلى قال ربع القرآن ثم قال تزوج تزوج تزوجأنس بن مالكالوسيط في تفسير القرآن المجيد11704 : 541الواحدي468
11آية الكرسي ربع القرآنأنس بن مالكسير أعلام النبلاء الذهبي1242---الذهبي748
12هل تزوجت فقال لا وليس عندي ما أتزوج به فقال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ثلث القرآن أليس معك قل يا أيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا زلزلت الأرض زلزالها قال بلى قال ربع القرآن أليس معك آية الكرسي قال بلى قال ربع القرآن قالأنس بن مالكفضائل القرآن لابن الضريس287297محمد بن الضريس294

سورۃ الکافروں مکیہ
اس سورت کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک بار چند روسا نے آپ سے عرض کیا کہ آیئے ہمارے معبودوں کی آپ عبادت کیا کیجئے اور آپ کے معبود کی ہم عبادت کیا کریں جس میں ہم اور آپ طریق دین میں شریک رہیں جونسا طریقہ ٹھیک ہوگا اس سے سب کو کچھ کچھ حصہ مل جائے گا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی ۔ کذا فی الدر المنثور۔

قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْكَٰفِرُونَ
ترجمہ: آپ (ان کافروں سے) کہہ دیجیئے کہ اے کافرو (میرا اور تمہارا طریقہ متحد نہیں ہوسکتا اور ) ۔ (1)

لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
ترجمہ: نہ (تو فی الحال) میں تمہارے معبود کی پرستش کرتا ہوں ۔ (2)

وَلَآ أَنتُمْ عَٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ
ترجمہ: اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو ۔ (3)

وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌۭ مَّا عَبَدتُّمْ
ترجمہ: اور نہ ( آئندہ استقبال میں) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا ۔ (4)

وَلَآ أَنتُمْ عَٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ
ترجمہ: اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے ۔ (ف ٥)
تفسیر:
ف ٥۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ موحد ہوکر بلائے شرک میں گرفتار نہیں ہوسکتا، نہ اب نہ آئندہ ، اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے ، نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہوسکتے یعنی جب تک تم اپنے معبودوں کے عابد اور مشرک رہو گے اس وقت تک میرے معبود کے عابد یعنی موحد نہ سمجھے جاوگے ، پس اس کو پیشنگوئی پر محمول کرنے کی اور اس پر جو سوال ہوتا ہے کہ بعضے تو مسلمان ہوگئے ، اس کے جواب میں الکافرون کو معہود پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں ۔

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ
ترجمہ: تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرا بدلہ ملے گا ۔ (ف ٦)
تفسیر:
ف ٦۔ اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنادی ، پس یہ سورت مشتمل ہے اظہار خلاف و وعید پر۔

************************************

     ربط و خلاصہ : سورت کا موضوع توحید اور نفی شرک ہے۔ جس طرح ناصح وعظ و نصیحت میں پورے افہام و تفہیم اور تفصیل و توضیح کے بعد کہتا ہے کہ مسئلہ تو میں نے واضح کردیا ہے اگر اب بھی نہیں مانتے تو میرا راستہ یہ ہے اور تمہارا راستہ وہ ہے۔ اسی طرح یہاں کہا گیا کہ اتنے بیانات کے بعد بھی باز نہیں آتے ہو۔ تو ہمارے اور تہارے درمیان سلام متارکہ ہے۔ تائید : ’’ اعرض عمن تولی عن ذکرنا (النجم رکوع 2)۔ اس میں سلام متارکہ کا اعلان کرنا مقصود ہے۔


*ف 2:۔ ’’ قل یا ایہا الکفرون ‘‘ ۔ ماتعبدون میں ما سے معبودان باطل مراد ہیں۔ جن کی مشرکین اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے۔ ما اعبد میں ما سے معبود حقیقی مراد ہے جس کی پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خالص عبات بجا لاتے تھے فرمایا اگر اس طرح ایضاح و تفصیل اور ایسے دلائل قاطعہ کے باوجود بھی مشرکین مسئلہ توحید کو نہیں مانتے تو آپ اعلان فرما دیں اے کفار، تم اپنی راہ پر چلو، میں اپنی راہ پر چل رہا ہوں۔ تم جن باطل اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرسکتا اور نہ تم ہی اپنے ان معبودوں کی عبادت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کو تیار ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

*ف 3:۔ ’’ ولا انا عابد ‘‘ تکرار تاکید کے لیے ہے یا پہلے زمانہ حال و استقبال کا ذکر تھا اور اب زمانہ ماضی کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اب اور آئندہ ہوسکتا ہے کہ میں تمہارے باطل معبودوں کی عبادت کروں اور تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور نہ گذشتہ زمانہ میں کبھی ایسا ہوا کہ میں نے تمہارے باطل معبوددوں کی عبادت کی ہو اور تم نے ان معبودوں کی عبادت چھوڑ کر صرف خدائے واحد کی عبادت کی ہو۔

*ف 4:۔ ’’ لکم دینکم ‘‘ یہ سلام متارکہ کا اعلان ہے۔ اگر تم نہیں مانتے ہو تو تم اپنے دین شرک پر چلتے رہو اور میں اپنے دین توحید پر چلتا ہوں، بہت جلد دونوں فریق میں اور تم اپنا اپنا انجام دیکھ لیں گے۔



اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے کوئی ایسی مصالحت جائز نہیں ہے جس میں ان کے دین کے شعائر کو اختیار کرنا پڑے، البتہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے امن کا معاہدہ ہوسکتا ہے ، جیسا کہ قرآن کریم نے سورۂ انفال (٦۔ ٨) میں فرمایا ہے۔



آج کل کی ایک بے ہودہ رسم 
جیسا آج کل یہ بیہودہ رسم نکلی ہے کہ مسلمان کفار کے میلوں ٹھیلوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کو اپنی عید بقر عید کے موقع پر شریک کرتے ہیں یہ تو وہی قصہ ہے جیسا کہ اہل شرک نے حضور سے کہا تھا کہ اے محمد ہم اور آپ صلح کرلیں ایک سال آپ ہمارے دین کو اختیار کرلیں اور دوسرے سال ہم آپ کے دین کو اختیار کرلیں گے اسی وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں یعنی نہ میں تمہارا دین اختیار کروں گا اور نہ تم میرا دین قبول کرو گے ۔ یہ بطور اخبار کے فرمایا پس لکم دینکم الخ کو اس تقریر پر منسوخ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ پس کفار سے تو بالکل علیحدہ ہی رہنا چاہیے ۔ یہاں چونکہ ایک جگہ رہتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ آپس میں لڑیں نہیں باقی ان کے مذہبی میلے اور مجامع میں جانا بالکل بند کرنا چاہیے ۔ 
جیسا کرو گے ویسا بھروگے 
بعض لوگوں نے ایک غلطی کی ہے کہ لکم دینکم ولی دین کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ تمہارے واسطے تمہارا دین ہے ہمارے واسطے ہمارا دین ہے اور یہ تفسیر کرکے اسی آیت کے حکم کو باقی سہی سمجھا ہے چنانچہ بعض صوفیہ نے اسی کو اپنا معمول بنالیا اور صلح کل اپنا مذہب بنالیا کہ موسیٰ بدین خود عیسیٰ بدین خود کسی سے لڑنے جھگڑے کی ضرورت نہیں مگر یہ استدلال اس لئے غلط ہے کہ اول تو یہاں دین بمعنے مذہب ہونا مسلم نہیں بلکہ بمعنے جزاہونا محتمل ہے یعنی جیسا تم کرو گے ویسا بھرو گے پس لکم دینکم ایسا ہے جیسا محاورہ میں کہتے ہیں کما تدین تدان اور اس صورت میں منسوخ ماننے کی بھی ضرورت نہ ہوگی اور اگر یہی تفسیر کی جاوے تو اس صورت میں یہ آیت منسوخ ہوگی ۔ 
احتیاط خطاب 
کاندھلہ میں ایک بار مولویوں کے مجمع میں یہ گفتگو ہورہی تھی کہ کافر کو کافر کہنا کیسا ہے ایک جماعت یہ کہہ رہی تھی کہ تہذیب کے خلاف ہے اور ایک جماعت کہہ رہی تھی کہ جائز ہے کیونکہ قرآن میں بکثرت کافر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے پہلی جماعت نے اس کا یہ جواب دیا کہ قرآن میں خطاب کے موقعہ پر کافروں کو کافر نہیں کہا گیا (بلکہ یایھا الناس سے خطاب کیا گیا ) اور گفتگو اس میں ہے کہ کافر کو کافر کہہ کر خطاب کرنا کیسا ہے پھر ایک مولوی صاحب کو حکم بنایا گیا کہ اس اختلاف کا فیصلہ کریں انہوں نے کہا کہ قرآن میں خطاب کے موقعہ پر بھی کافروں کو کافر کہا گیا ہے قل یایھا الکافرون لاعبدماتعبدون مگر میں اس محاکمہ کا بھی محاکمہ کرتا ہوں کہ قرآن میں کفار کو کافر کہہ کر بلا ضرورت خطاب نہیں کیا گیا اور جہاں اس لفظ سے خطاب کیا گیا ہے وہاں ضرورت تھی وہ یہ کہ ان ظالموں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک بے ڈھنگی درخواست کی تھی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں ایک سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کرلیا کریں گے اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی کہ ان سے فرما دیجئے کہ اے کافرو ، میں تمہارے معبودوں کی پرستش نہ کروں گا نہ تم میرے معبودوں کی عبادت کرو گے نہ اب نہ آئندہ تو یہاں ان لوگوں کی امیدیں قطع کرنے کے لئے سختی کے ساتھ کافر کہہ کر ان کو خطاب کیا گیا ہے باقی آیات میں اس لفظ سے خطاب نہیں کیا گیا کیونکہ ضرورت نہ تھی پس فیصلہ یہ ہوا کہ خش خطاب بلاضرورت نہ کرنا چاہیے ہاں ضرورت سے ہوتو جائز ہے ۔ (المرابط ملحقہ مواعظ حقیقت مال وجاہ ص ٥٦ )


تفسیر الدر المنثور(از امام سیوطیؒ):
١۔ ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ سورۃ قل یا ایہا الکفرون مکہ میں نازل ہوئی ۔ 
٢۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر (رض) سے روایت کیا کہ آیت قل یا ایہا الکفرون مدینہ میں نازل ہوئی ۔ 
٣۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعوت دی کہ وہ لوگ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ مالدار لوگوں میں سے ہوجائیں گے ۔ اور عورتوں میں سے جس کے ساتھ آپ پسند کریں گے وہ آپ کی شادی کردیں گے ۔ اور کہنے لگے یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جائیں اور ہمارے معبودوں کا تذکریں برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آپ پر ایک بات کو پیش کرتے ہیں اور یقیناً اس میں آپ کا فائدہ اور نفع ۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے ۔ آپ نے فرمایا یہاں تک کہ میں انتظار کروں گا کہ میرے پاس میرے رب کا کیا حکم آتا ہے چنانچہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی آیت قل یا ایہا الکفرون لا اعبد ماتعبدون الایۃ فرمادیجیے اے کافروں! میں نہیں عبادت کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی نازل فرمایا آیت قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایہا الجہلون فرمادیجیے کہ اللہ کے علاوہ تم مجھ کو حکم دیتے ہو کہ میں عبادت کروں اے جاہلو۔ سے لے کر من الشکرین تک ۔ 
٤۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے وہب رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کیا آپ کو یہ بات خوش لگتی ہے کہ ایک سال ہم تیری تابعداری کریں اور ایک سال تو ہمارے دین کی طرف لوٹ آئے ۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت قل یا ایہا الکفرون سورۃ کے آخر تک۔ 
٥۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے المصاحف میں سعید بن میناء ابو البختری کے آزاد کردہ غلام سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ عاص بن وائل الاسود بن المطلب اور امیہ بن خلف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے اور کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آجاؤ ۔ آپ اس کی عبادت کریں جس کی ہم عبادت کرتے ہیں اور ہم اس کی عبادت کریں گے جس کی تو عبادت کرتا ہے تاکہ ہم اور آپ تمام کاموں میں شریک ہوجائیں پس اگر وہ دین زیادہ صحیح ہے جس پر ہم ہیں ۔ اس دین سے جس پر آپ ہیں تو آپ اس سے حصہ لے لیں گے اور اگر وہ دین جس پر آپ ہیں وہ زیادہ صحیح ہے اس دین سے جس پر ہم ہیں تو ہم اس سے حصہ لے لیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت قل یا ایہا الکفرون لا اعبد ماتعبدون نازل فرمائی ۔ یہاں تک کہ سورۃ ختم فرمائی۔ 
٦۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ قریش نے کہا اگر آپ چوم لیں ہمارے معبودوں کو تو ہم بھی تیرے معبود کی عبادت کریں گے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت قل یا ایہا الکفرون مکمل سورۃ کو ۔ 
ے۔ ابن ابی حاتم نے زرارہ بن اوفی رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ اس سورۃ کو نام دیا جاتا تھا المقشقشہ ۔ 
٨۔ ابن مردویہ نے ابو رافع (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ مقام ابراہیم رپ آئے اور یہ آیت پڑھی آیت واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی (البقرہ آیت ١٣٥) اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنایلجیے ۔ پھر آپ نے نماز پڑھی ۔ اور سورۃ فاتحہ اور قل ہوا اللہ احد کو پڑھا۔ اور فرمایا کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہے ۔ یعنی آیت لم یلد ولم یولد نہ اس نے کسی کو جنا اور انہ اس سے کوئی جنا گیا پھر فرمایا یہ وہ اللہ ہے آیت ولم یکن لہ کفوا احد ۔ اور اس کے برابر کوئی نہیں ۔ پھر فرمایا اسی طرح اللہ تعالیٰ ہیں پھر رکوع کیا اور سجدہ کیا ۔ پھر سورۃ فاتحہ پڑھی اور آیت قل یا ایہا الکفرون ، لا اعبد ماتعبدون ولا انتم عبدون ما اعبد ۔ پڑھا اور فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروں گا۔ آیت لکم دینکم ولی دین۔ تمہارے لیے تمہارادین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے ۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور سجدہ کیا۔ 
٩۔ ابن ماجہ نے ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز میں آیت قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد پڑھا کرتے تھے ۔ 
سورۃ کارون واخلاص کی تلاوت
١٠۔ ابن ماجہ وابن مسعود (رض) سے روایت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مغرب کے بعد دو رکعتوں میں قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد پڑھی ۔ 
١١۔ بیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ اور ان میں قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد کی قراءت فرمائی ۔ 
١٢۔ حاکم وصححہ نے ابی (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سورتوں کے ساتھ وتر پڑھتے تھے آیت وقل للذین کفرو اور اللہ الواحد الصمد اور کافروں سے کہہ دیجیے اور اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اور بےنیاز ہے ۔ 
١٣۔ مسلم وبیہقی نے اپنی سنن میں ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی دو رکعتوں میں قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد کو پڑھا۔ 
١٤۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی وحسنہ ولنسائی وابن ماجہ وابن حبان وابن مردیوہ نے ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پچیس مرتبہ دیکھا اور ایک روایت میں ہے کہ ایک مہینہ تک دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر سے پہلے دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد دو رکعتوں میں آیت قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد پڑھا کرتے تھے ۔ 
١٥۔ ابن الضریس والحاکم فی الکنی وابن مردویہ نے ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ میں نے چالیس صبحوں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غزوۂ تبوک کے دوران دیکھا اور میں نے آپ کو فجر کی دو رکعتوں میں قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد پڑھتے ہوئے سنا۔ اور آپ فرماتے تھے دونوں سورتیں کیا ہی اچھی ہیں ایک سورۃ برابر ہے چوتھائی قرآن کے اور دوسری تہائی قرآن کے ۔ 
١٦۔ بیہقی نے شعب الایمان میں انس (رض) سے روایت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کے بعد دو رکعتوں میں اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتوں میں قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد پڑھا کرتے تھے ۔ 
١٧۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے قل یا ایہا الکفرون کو بڑھا تو یہ اس کے لیے چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ 
١٨۔ طبرانی فی الصغیر اور بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن ابو العاص (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے قل یا ایہا الکفرون کو پڑھا تو گویا اس نے چوتھائی قرآن کو پڑھا اور جس نے قل ہوا اللہ احد کو پڑھا تو گویا اس نے ایک تہائی قرآن کو پڑھا 
١٩۔ مسدد نے صحابہ (رض) میں سے ایک آدمی سے روایت کیا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیس سے زائد مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا ہی اچھی یہ دونوں سورتیں ہیں جو دو رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں الاحد الصمد ۔ یعنی قل ہوا اللہ احد اور قل یا ایہا الکفرون۔ 
٢٠۔ احمد وابن الضریس والبغوی وحمید وزنجویہ نے اپین ترغیب میں ایک شیخ سے روایت کیا کہ جس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ا۔ اس نے کہا میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں نکلا اور آپ ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو قل یا ایہا الکفرون پڑھا رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا یہ آدمی شرک سے بری ہوگیا۔ اور دوسرا آدمی قل ہوا اللہ احد پڑھ رہا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کے اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اس کی مغفرت کردی گئی ۔ 
٢١۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن الانباری فی المصاحف والحاکم وصححہ وابن مردویہ ، والبیہقی نے شعب الایمان میں مروہ بن نوف بن معاویہ اشجعی رحمہ اللہ سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بتائیے جو میں اپنے بستر پر سوتے وقت پڑھا کروں؟ آپ نے فرمایا قل یا ایہا الکفرون پڑھ پھر اس کے ختم پر سو جا کیونکہ وہ شرک سے براءت ہے ۔ 
٢٢۔ سعید بن منصور اب ابی شیبہ وابن مردویہ نے عبدالرحمن بن نوفل اشجعی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میر انیا نیا زمانہ شرک سے گذرا ہے ۔ مجھے ایسی آیت کا حکم فرمادیجیے جو مجھے شرک سے بری کردے ۔ آپ نے فرمایا قل یا ایہاا لکفرون پڑھ ۔ اور فرمایا میرے باپ نے اس کے پڑھنے میں خطا نہیں کی یعنی نہیں بھولے نہ کسی دن اور نہ کسی رات میں یہاں تک کہ دنیا سے جدا ہوگئے ۔ 
٢٣۔ ابن مردویہ نے براء (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوفل بن معاویہ الاشجعی (رض) سے فرمایا جب تو نیند کے لیے اپنے بستر پر آئے تو آیت قل یا ایہا الکفرون بےشک جب تو اس کو پڑھے گا۔ تو شرک سے بری ہوجائے گا۔ 
٢٤۔ احمد والطبرانی فی الاوسط عن الحارث بن جبلہ والطبرانی نے کہا کہ جبلہ بن حارث اور وہ بھائی ہیں زید بن حارثہ (رض) نے ان سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں سوتے وقت پڑھا کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تو رات کو اپنے بستر پر جائے تو قل یا ایہا الکفرون کو اس کے آخر تک پڑھ بےشک یہ شرک سے براءت ہے ۔
٢٥۔ بیہقی نے شعب الایمان میں انس (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ (رض) سے فرمایا اپنی نیند کے وقت قل یا ایہالکفرون پڑھ بےشک یہ شرک سے براءت ہے ۔
٢٦۔ الدیلمی نے عبداللہ بن جراد (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ منافق چاشت کی نماز نہیں پڑھتا ۔ اور نہ قل یا ایہالکفرون پڑھتا ہے ۔ 
٢٧۔ ابو یعلی والطبرانی نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو تم کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے نجات دے دے ۔ تم لوگ اپنی نیند کے وقت قل یا ایہا الکفرون پڑھ اکرو۔ 
٢٨۔ البزار والبطرانی وابن مردویہ نے خباب (رض) سے روایت کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تو اپنے لیٹنے کی جگہ پر آجائے تو قل یا ایہا الکفرون پڑھ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بستر مبارک پر کبھی بھی تشریف نہیں لے گئے مگر قل یا ایہا الکفرون پڑھی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمائے ۔ 
٢٩۔ ابن مردویہ نے زید بن ارقم (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ان دو سورتوں قل یا ایہا الکفرون اور قل ہوا اللہ احد کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس پر کوئی حساب نہ ہوگا۔ 
٣٠۔ ابوعبید فی فضائلہ وابن الضریس نے ابو مسعود انصاری (رض) سے روایت کیا کہ جس شخص نے قل ہواللہ احد اور قل یا ایہا الکفرون کو رات میں پڑھا تو اس کے مال میں اضافہ ہوگا اور وہ خوشحال ہوگا۔ 
٣١۔ طبرانی نے الصغیر میں حضرت علی (رض) سے روایت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بچھو نے کاٹ لیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے ۔ جب آپ فارغ ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت کرے کہ نہ کسی نماز پڑھنے والے کو اور نہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کو چھوڑتا ہے پھر آپ نے پانی اور نمک منگوایا اور اس پر ملنے لگے اور ساتھ ہی قل یا ایہا الکفرون قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس بھی پڑھتے رہے ۔ 
٣٢۔ ابو یعلی نے جبیر بن مطعم (رض) سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے جبیر! کیا تو پسند کرتا ہے جب تو سفر میں نکلے تو بیت میں اپنے ساتھیوں کی مثل اور زاد راہ کے اعتبار سے تو ان سے زیادہ ہوجائے میں نے عرض کیا ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ اور فرمایا یہ پانچ سورتیں پڑھاکرو ۔ قل یا ایہا الکفرو۔ اذا جاء انصر اللہ والفتح ۔ قل ہوا اللہ احد قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ۔ اور ہر سورۃ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کرے ۔ جبیر (رض) نے فرمایا کہ میں غنی اور زیادہ دولت مند ہوگیا ۔ میں سفر میں نکلتا تھا ۔ تو میری حالت کمزور اور زاد کم ہوتا تھا اور جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سورتیں بتائیں اور میں نے وہ پڑھیں تو میری حالت سب سے اچھی ہوگئی ار زاد راہ بڑھ گیا ساتھیوں سے یہاں تک کہ میں سفر سے واپس لوٹ آتا ۔ 
٣٢۔ ابن الضریس نے عمرو بن مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ ابو الجوزاء کہا کرتے تھے آیت قل یا ایہا الکفرون کو کثرت سے پڑو اور ان جھوٹ معبودوں سے براءت کا اظہار کرو۔



تفسیر(امام)ابن کثیر:
مشرک سے براۃ اور بیزاری :
صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر (رض) سے مروی ہوے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کو اور سورۃ قل ھواللہ کو طواف کے بعد کی دو رکعت نماز میں تلاوت فرمایا صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ صبح کی دو سنتوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلوم انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے مسند احمد میں حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کے فرضوں سے پہلے کی دو رکعتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں بیس اوپر کچھ دفعہ یا دس دفعہ اوپر کچ مرتبہ سورۃ قل یآایھا الکفرون اور سورۃ قل ھواللہ احد پڑھی یعنی اتنی مرتبہ میں نے آپ کو یہ سورتیں ان نمازوں میں پڑھتے ہوئے سنا مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے چوبیس یا پچیس مرتبہ صبح کی دو سنتوں میں ان دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے بخوبی دیکھا، مسند ہی کی دوسری روایت میں آپ سے مروی ہے کہ مہینہ بھر تک میں نے آپ کو ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے پایا یہ روایت ترمذی ابن ماجہ اور نسائی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں وہ روایت پہلے بیان ہوچکی ہے کہ یہ سورت چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورۃ اذا زلزلت بھی مسند احمد میں روایت ہے حضرت نوفل بن معاویہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ ہماری ربیبہ زینب کی پرورش تم اپنے ہاں کرو میرخ یال سے یہ حضرت زینب تھیں یہ ایک مرتبہ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہو بچی کیا کر رہی ہے کہا میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ آیا ہوں فرمایا اچھا کیوں آئے ہو عرض کیا اس لیے کہ آپ سے کوئی وظیفہ سیکھ جاؤں جو سوتے وقت پڑھ لوں آپ نے فرمایا قل یا ایھا الکفرون پڑھ کر سو جایا کرو اس میں شرک سے براۃ اور بیزاری ہے طبرانی کی روایت میں ہے کہ جبلہ بن حاثرہ (رض) کو بھی آپ نے یہی فرمایا تھا طبرانی کی اور روایت میں ہے کہ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے بسترے پر لیپ کر اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت حارث بن جبلہ (رض) نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے کہ میں سونے کے وقت اسے کہہ لیا کروں آپ نے فرمایا جب تو رات کو اپنے بستر پر جا تو قل یآایھا الکفرون پڑھ لیا کرو یہ شرک سے بیزاری ہے واللہ اعلم۔

مشرکین الگ اور موحدین الگ :
اس سورۃ مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کارفوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کو نہ پوجو پس ما یہاں پر معنی میں من کے ہے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ میں تم جیسی عبادت نہ کروں گا تمہارے مذہب پر میں کاربند نہیں ہوسکتا نہ میں تمہارے پیچھے لگ سکتا ہوں بلکہ میں تو صرفاپنے رب کی عبادت کروں گا اور وہ بھی اس طریقے پر جو اسے پسند ہو اور جیسے وہ چاہے اسی لیے فرمایا کہ نہ تم میرے رب کے احکام کے آگے سر جھکاؤ گے نہ اس کی عبادت اس کے فرمان کے مطابق بجا لاؤ گے بلکہ تم نے تو اپنی طرف سے طریقے مقرر کر لیے ہیں جیسے اور جگہ ہے ان یتبعون الا الظن الخ یہ لوگ صرف وہم و گمان اور خواہش نفسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت پہنچ چکی ہے پس جناب نبی اللہ احم دمجتبیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر طرح اپنا دامن ان سے چھڑا لیا اور صاف طور پر ان کے معبودوں سے اور ان کی عبادت کے طریقوں سے علیحدگی اور ناپسندیدگی کا اعلان فرما دیا ظاہر ہے کہ ہر عابد کا معبود ہوگا اور طریقہ عبادت ہوگا پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت صر فاللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور طریقہ عبادت ان کا وہ ہے جو سرور رسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تعلیم فرمایا ہے اسی لیے کلمہ اخلاص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا راستہ وہی ہے جس کے بتانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہویں جو اللہ کے پیغمبر ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے معبود بھی اللہ کے سوا غیر ہیں اور طریقہ عبادت بھی اللہ کا بتلایا ہوا نہیں اسی لیے فرمایا کہ متہارا دین تمہارے لیے میرا میرے لیے جیسے اور جگہ ہے وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریون مما اعمل وانا بری مما تعملون یعنی اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے متہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے الگ ہو اور میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں اور جگرہ فرمایا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم ہمارے عمل ہمارے ساتھ اور تمہارے تمہارے ساتھ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے تمہارے لیے متہارا دین ہے یعنی کفر اور میرے لیے میرا دن ہے یعنی اسلام یہ لفظ اصل میں دینی تھا لیکن چونکہ اور آیتوں کا وقف نون پر ہے اس لیے اس میں بھی "یا" کو حذف کردیا جیسے فھوا یھدین میں اور یسقین میں بعض مفسرین نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ میں اب تو تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا نہیں اور آگے کے لیے بھی تمہیں ناامید کر دیتا ہوں کہ عمر بھر میں کبھی بھی یہ کفر مجھ سے نہ ہو سکے گا اسی طرح نہ تم اب میرے اللہ کو پوجتے ہو نہ آئندہ اس کی عبادت کرو گے اس سے مراد وہ کفار ہیں جن کا ایمان نہ لانا اللہ کو معلوم تھا جیسے قرآن میں اور جگہ ہے ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا یعنی تیری طرف جو اترتا ہے اس سے ان میں سے اکثر تو سرکشی اور کفر میں بڑھ جاتے ہیں ابن جرری نے بعض عربی دان حضرات سے نقل کیا ہے کہ وہ مرتبہ اس جملے کا لانا صرف تاکید کے لیے ہے جیسے فان مع العسر یسرا ان معالعسر یسرا میں اور جیسے لترون الجحیم ثم لترونھا عین الیقین پس ان دونوں جملوں کو دو مرتبہ لانے کی حکمت میں یہ تین قول ہوئے ایک تو یہ کہ پہلے جملے سے مراد معبود دوسرے سے مراد طریق عبادت دوسرے یہ کہ پہلے جملے سے مراد حال دوسرے سے مراد استقبال یعنی آئندہ تیسرے یہ کہ پہلے جملے کی تاکید دوسرے جملے سے ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں ایک چوتھی توجیہ بھی ہے جسے حضرت امام ابن تیمیہ اپنی بعض تصنیفات میں قوت دیتے ہیں وہ یہ کہ پہلے تو جملہ فعلیہ ہے اور دوبارہ جملہ اسمیہ ہے تو مراد یہ ہوئی کہ نہ تو میں غیر اللہ کی عبادت کرتا ہو نہ مجھ سے کبھی بھی کوئی امید رکھ سکتا ہے یعنی واقعہ کی بھی نفی ہے اور شرعی طور پر ممکن ہونے کا بھی انکار ہے یہ قول بھی ہت اچھا ہے واللہ اعلم حضرت امام ابو عبداللہ شافعی کر رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے اس لیے یہود نصرانی کا اور نصرانی یہود کا وارث ہوس کتا ہے جبکہ ان دونوں میں سنب یا سبب ورثے کا پایا جائے اس لیے کہ اسلام کے سوا کفر کی جتنی راہیں ہیں وہ سب باطل ہونے میں ایک ہی ہیں حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے موافقین کا مذہب اس کے برخلاف ہے کہ نہ یہودی نصرانی کا وارث ہوسکتا ہے نہ نصرانی یہود کا کیونکہ حدیث ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے سورۃ کافرون کی تفسیر ختم ہوئی فالحمد اللہ احسانہ۔



تفسیر(امام)قرطبی:
حضرت ابن مسعود ، حضرت حسن بصری اور عکرمہ کے قول میں یہ مکی ہے ۔ اور حضرت ابن عباس کے ایک قول ، قتادہ اور ضحاک کے نزدیک یہ مدنی ہے ۔ اس کی چھ آیات ہیں ۔
ترمذی شریف میں حضرت انس سے مروی روایت ہے : یہ سورت قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے ۔

قل یا ایھا الکافرون ۔ تا ۔ ولا انتم عبدون ما اعبد ۔
علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہوکر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی ، جماعتوں ں کو جدا کرنے والی ، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت و حیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے ۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو ، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے فتنوں کے خلاف ان سے مدد لے اگر موت کا ذکر کثرت سے کرنے سے اس نے فائدہ اٹھا لیا اور اس کے دل کی سختی چھٹ گئی تو یہی اس کا مقصود ہے اگر اس پر دل کا میل بڑھ گیا اور گناہ کے اسباب مستحکم ہوگئے تو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا لوگوں کے پاس جانا اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرنا ان گناہوں کو دور کرنے میں وہاں تک پہنچ سکتا ہے جہاں تک پہلی صورت نہ پہنچ پائی تھی ۔ کیونکہ کوت کا ذکر دل کے لیے ایک خبر ہے جس کی طرف اس کا ٹھکانہ ہے اور یہ اسے خبردار کرنے کے قائم مقام ہے ۔ جو آدمی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے اس کے پاس جانا اور مسلمانوں میں سے جو کوئی مرچکا ہے اس کی قبر کی زیارت کرنا یہ آنکھوں سے مشاہدہ ہے اس وجہ سے دوسری صورت پہلی سے زیادہ موثر ہے رسول اللہ کا ارشاد ہے : لیس الخبر کالمعاینۃ خبر آنکھوں دیکھی چیز جیسی نہیں ہوتی ۔ اسے حضرت ابن عباس نے روایت کیا ہے ۔ جو لوگ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے حال سے عبرت حاصل کرنا ہر وقت ممکن نہیں ہوتا جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اس کا علاج بعض اوقات ایک لمحے میں نہیں ہوپاتا ، جہاں تک زیارت قبول کا تعلق ہے تو اس کا وجود یعنی اثر بہت تیز ہوتا ہے اور ان سے نفع حاصل کرنا زیادہ مناسب اور موزوں ہوتا ہے ۔ جو آدمی قبروں کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے مناسب یہ ہے وہ اس کے آداب اپنائے ، آتے وقت اس کا دل حاضر ہو اس کے پیش نظر صرف قبر کی زیارت نہ ہو کیونکہ یہ تو صرف اس کی ایسی حالت ہے جس میں حیوان بھی اس کے ساتھ شریک ہیں ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہ یں ، بلکہ اس کے پیش نظر اللہ تعالی کی رضا اور اپنے فاسد دل کی اصلاح ہونی چاہیے ۔ یا میت کو نفع پہنچانے کا ارادہ ہونا چاہیے جو زیارت کرنے والا اس کے پاس قرآن پڑھے گا ، دعا کرے گا ، قبروں کے اوپر چلنے اور ان پر بیٹھنے سے اجتناب کرے جب قبرستان میں داخل ہو تو وہ انہیں سلام کرے جب وہ اپنے میت کی قبر تک پہنچے جسے وہ پہچانتا ہے تو اسے بھی سلام کرے اور اس کے چہرے کی جانب سے آئے کیونکہ وہ اس کی زیارت میں اس طرح ہے جس طرح وہ زندہ حالت میں اس سے مخاطب تھا اگر زندہ حالت میں اس سے خطاب کرتا تو آداب یہی ہوتے کہ اس کے چہرے کے بالمقابل ہوتا یہاں بھی اسی ہے پھر جو مٹی کے نیچے جا چکا ہے اپنے گھر والوں اور احباب سے الگ ہوچکا ہے اس سے عبرت حاصل کرنے کے بعد کہ اس میت نے چھوٹے بڑے لشکروں کی قیادت کی ہوگی ، ساتھیوں اور قبائل سے مقابلہ کیا ہوگا اموال اور ذخائر کو جمع کیا ہوگا تو اسے موت ایسے وقت میں آپہنچی کہ اسے گمان تک نہ تھا ایسی ہولناکی میں موت آئی جس کا اسے کوئی انتظار نہ تھا تو زیارت کرنے والے کو اس بھائی کی حالت میں غور کرنا چاہیے جو گزر چکا ہے اور ان ساتھیوں میں شامل ہوچکا ہے جنہوں نے امیدوں کو پایا اور اموال کو جمع کیا کہ ان کی آرزوئیں کیسے ختم ہوگئیں ، ان کے اموال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا ، مٹی نے ان کے چہروں کے محاسن کو مٹا دیا اور قبروں میں ان کے اجزا بکھر گئے ، ان کے بعد ان کی بیویاں بیوہ ہوگئیِ ان کی اولادیں یتیم ہوگئیں ، دوسروں نے ان کے عمدہ اموال کو تقسیم کرلیا تاکہ اسے ان کا مقاصد میں گھومنا پھرنا ، حصول مطالب میں ان کا حرص ، اسباب کے حصول میں ان کا دھوکہ اور جوانی اور صحت کی طرف ان کا میلان سب کو یاد کرسکے اور یہ بھی جان سکے کہ اس کا لہو و لعب کی طرف میلان ان کے میلان اور غفلت کی طرح ہے جس کے سامنے خوفناک موت اور تیز ہلاکت ہے یقینا وہ اس طرف جارہا ہے جس طرف وہ گئے تھے اسے اپنے دل میں اس آدمی کے ذکر کو یا د کرنا چاہیے جو اپنی اغراض میں متردد تھا کہ اس کے پاؤں کیسے ٹوٹ گئے ، وہ اپنے دوستوں کو دیکھ کر لذت حاصل کرتا تھا جبکہ اب اس کی آنکھیں بہہ چکی ہیں ، وہ اپنی قوت گویائی کی بلاغت سے حملہ کیا کرتا تھا جبکہ کیڑے اس کی زبان کو کھا گئے ہیں ، وہ لوگوں کی موت پر ہنسا کرتا تھا جب کہ مٹی نے اس کے دانتوں کو بوسیدہ کردیا ہے ، وہ یقین کرلے کہ اس کا حال اس کے حال جیسا ہوگا اور اس کا انجام اس کے انجام جیسا ہوگا ۔ اس یاد اور عبرت کی وجہ سے اس سے تمام دنیوی غیرتیں زائل ہوجائیں گی اور اور وہ اخروی اعمال پر متوجہ ہوگا ۔ وہ دنیا میں زہد اختیار کرے گا اپنے رب کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوگا اس کا دل نرم ہوجائے گا اور اعضاء میں خشوع واقع ہوجائے گا ۔
فراء نے کہا : کلا سے مراد یہ ہے معاملہ اس طرح نہیں جس باہم فخر اور کثرت پر تم ہو تم عنقریب اس کا انجام جان لوگے ۔
یہاں وعید پر وعید ہے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں کلام میں جو تکرار ہے وہ تاکید اور تغلیظ کے طریقہ پر ہو ؛ یہ فراء کا قول ہے ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : قبر میں جو تم پر عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے پھر آخرت میں تم پر جو عذاب آئے گا اس کو تم جان لو گے ۔ پہلی کلام قبر کے عذاب کے بارے میں ہے اور دوسری کلام آخرت کے بارے میں ہے ۔ تو یہ تکرار دو حالتوں کے بارے میں ہے ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون ۔ یہ آنکھ سے دیکھنے کے بارے میں ہے کہ جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے وہ حق ہے ، ثم کلا سوف تعلمون ۔ یہ دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت ہوگا کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا وہ سچ ہے ۔ زر بن حبیش نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ ہم عذاب قبر میں شک کرتے تھے یہاں تک کہ یہ سورت نازل ہوئی ۔ تو اللہ تعالی کے فرمان : کلا سوف تعلمون ، سے مراد ہے تم قبروں میں دیکھ لو گے ، ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون ، سے مراد ہے جب موت تم پر واقع ہوگی اور فرشتے تمہاری روحیں نکالنے کے لیے تمہارے پاس آئیں گے ۔ 
ثم کلا سوف تعلمون ۔ جب تم قبروں میں داخل ہوگے اور تمہارے پاس منکر و نکیر آئیں گے ، سوال کی ہولناکی تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گی اور جو اب تم سے ختم ہوجائے گا ۔
میں کہتا ہوں : یہ سورت عذاب قبر کے بارے میں قول کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں ذکر کیا ہے کہ اس پر ایمان واجب ہے اس کی تصدیق لازم ہے جیسے نبی صادق و امین نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی قبر میں مکلف بندے کی طرف زندگی لوٹا کر زندہ کردیتا ہے ، عقل کی جس صفت پر اس نے زندگی بسر کی تھی اتنا عقل اسے عطا فرماتا ہے تاکہ جو اس سے سوال کیا جارہا ہے اسکی اسے سمجھ ہو ، اس کا وہ جواب دے سکے ، اس کے رب کی جانب سے جو اسے چیز مل رہی ہے اس کا ادراک کرسکے اور قبر میں اس کے لیے جو کرامت اور ذلت مقدر کی گئی ہے اس کو جان سکے ؛ یہ اہل سنت کا مذہب ہے جس پر اہل اسلام کی جماعت قائم ہے ہم نے التذکرہ میں اس پر مفصل بحث کی ہے ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلا سوف تعلمون یہ دوبارہ اٹھانے کا وقت ہوگا کہ تم جان لو گے کہ جو تمہیں کہا جاتا تھا کہ تم کو اٹھایا جائے گا ۔ ثم کلا سوف تعلمون یہ قیامت میں ہوگا کہ تم جان لو گے کہ تمہیں جو کچھ کہا جاتا تھا کہ تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔ یہ سورت قیامت کے احوال یعنی دوبارہ اٹھانا ، میدان محشر میں جمع کرنا ، سوال کرنا ، پیشی ہونا وغیرہ دوسرے اموال اور نزاع سب کو شامل ہے ، جس طرح ہم نے کتاب التذکرہ میں مردوں کے احوال اور آخرت کے امور پر گفتگو کی ہے ۔ ضحاک نے کہا : کلا سوف تعلمون کا مصداق کفار ہیں ثم کلا سوف تعلمون کا مصداق مومن ہیں ، اس طرح وہ اسے پڑھا کرتے تھے پہلی آیت تاء کے ساتھ اور دوسری آیت یاء کے ساتھ ۔
یہ ایک اور وعید ہے ۔ یہ کلام اس بنا پر ہے کہ قسم محذوف ہے یعنی تم آخرت میں ضرور دیکھو گے ۔ یہ خطاب ان کفار کو ہے جن کیلیے جہنم لازم ہوچکی ہے ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم عام ہے جس طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے : وان منکم الا واردھا ۔ (مریم) یہ کفار کے لیے گھر ہے اور مومن کے لیے گزرگاہ ہے ۔ صحیح میں ہے : ان میں سے پہلا بجلی کی سی تیزی سے پھر ہوا کی سی تیزی سے پھر پرندے کی سی تیزی سے گزرے گا ۔ سورہ مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے ۔ کسائی اور ابن عامر نے اسے لترون پڑھا ہے یہ اریتہ الشی سے مشتق ہے یعنی تمہیں اس کی طرف اٹھایا جائے گا اور تمہیں وہ دکھائی جائے گی تاء کے فتحہ کے ساتھ یہ عام قراء کی قرات ہے ۔ یعنی تم دور ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں سے جہنم کو دیکھو گے پھر تم اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرو گے ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ہمیشہ جہنم میں رہنے کی خبر ہے یعنی یہ دائمی اور متصل روایت ہے اس بنا پر خطاب کفار کے لیے ہے ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لو تعلمون علم الیقین ۔ کا معنی ہے تم دنیا میں آج اس امر کو علم یقین سے جان لیتے جو آگے ہونے والا ہے جس کی تمہارے سامنے صفت بیان کی گئی ہے کہ تم ضرور اپنے دل کی آنکھوں سے اسے دیکھو گے ، کیونکہ علم یقین تجھے جہنم کو تیرے دل کی آنکھوں سے دکھائے گا وہ یہ ہے تیرے لیے قیامت کے مراحل اور اس کی قطع مسافت تیرے لیے عیاں ہوگی ۔ پھر معاینہ کے وقت سر کی آنکھوں سے دیکھے گا تو تو اسے یقینا دیکھ لے گا وہ تیری آنکھ سے غائب نہیں ہوگی پھر سوال اور پیشی کے وقت تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ایک دن یا ایک رات باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر موجود ہیں ، پوچھا : تمہیں اس وقت کس چیز نے گھروں سے نکالا ؟ دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھوک نے ۔ فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے دونوں اٹھو ، دونوں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے رسول اللہ ایک انصاری کے گھر آئے تو وہ گھر پر نہیں تھا جب اس کی بیوی نے رسول اللہ کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا ۔ رسول اللہ نے اس سے پوچھا : فلاں کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہوا ہے ، اسی اثنا میں وہ انصاری بھی پہنچ جاتا ہے اس نے رسول اللہ اور آپ کے دونوں صحابہ کو دیکھا پھر گویا ہوا : الحمدللہ آج مجھ سے بڑھ کر کوئی عزت والے مہمانوں والا نہیں ۔ وہ گیا تو کھجور کا ایک خوشہ ان کے پاس لے آیا ۔ عرض کی : اسے کھاؤ اور چھری لی رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا ۔ اس انصاری نے جانور ذبح کیا تو انہوں نے اس بکری اور اس خوشے سے کھانا کھایا اور پانی پیا ۔ جب یہ حضرات خوب سیر ہوگئے تو رسول اللہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ْ تم سے اس دن کی نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا ، تمہیں تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم نہ لوٹے یہاں تک کہ تمہیں اس نعمت نے آلیا ۔ 
اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں : ھذا والذی نفسی بیدہ من النعیم الذی تسالون عنہ یوم القیامۃ ظل بارد و رطب طیب وماء بارد ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے روز تم سے پوچھا جائے گا ۔ ٹھنڈا سایہ ، عمدہ تر کھجوریں اور ٹھنڈا پانی اور اس انصاری کی کنیت ذکر کی اور کہا : ابو ہیثم بن تیہان اور اس واقعہ کا ذکر کیا ۔
میں کہتا ہوں : اس انصاری کا نام مالک بن تیہان تھا اس کی کنیت ابو ہیثم تھی اس واقعہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اشعار کہتے ہیں اور ابو ہیثم بن تیہان کی مدح کرتے ہیں :
فلم ار کالاسلام عزا لامۃ۔ ۔ ۔ ولا مثل اضیاف الا راشی معشرا
میں نے کسی قوم کے لیے اسلام جیسی کوئی عزت نہیں دیکھی اور نہ میں نے اراشی کے مہمانوں جیسی کوئی جماعت دیکھی ہے ۔
نبی و صدیق و فاروق امۃ۔ ۔ ۔ و خیر بنی حواء فرعا و عنصرا
نبی ، صدیق اور امت کا فاروق ، بنی حواء میں سے عنصر کے اعتبار سے سب سے بہتر ۔
فوافوا لمیقات و قدر قضیۃ۔ ۔ ۔ و کان قضاء اللہ قدرا مقدرا
انہوں نے وعدہ و پیمان کا حق ادا کیا ۔ اللہ کا فیصلہ ہوکر رہنے والا ہے ۔
الی رجل نجد یباری بجودہ ۔ ۔ ۔ شموس الضحی جودا و مجدا و مفخرا
نجد کے ایک معزز آدمی کی طرف جو اپنی سخاوت ، بزرگی اور فخر میں چاشت کے سورجوں کا مقابلہ کرتا ہے ۔
و فارس خلق اللہ فی کل غارۃ ۔ ۔ ۔ اذا لبس القوم الحدید المسمرا
یہ غزوہ میں اللہ کی مخلوق کا شاہسوار ہے جب قوم گندمگوں نیزے زیب تن کرلیں ۔
ففدی و حیا ثم ادنی قراھم ۔ ۔ ۔ فلم یقرھم الا سمینا متمرا

لکم دینکم ولی دین ۔
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ۔
اس میں تہدید کا معنی ہے ، یہ اایت بھی اللہ تعالی کے اس فرمان کی طرح ہے لنا اعمالنا ولکم اعما لکم (القصص) اگر تم اپنے دین پر راضی ہو تو ہم اپنے دین سے راضی ہیں ۔ یہ قتال کے حکم سے قبل کا حکم ہے اسے آیت سیف سے منسوخ کردیا گیا ہے ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پوری آیت منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں سے کوئی چیز بھی منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور لم دینکم کا معنی ہے تمہارے لیے دین کی جزا اور میرے لیے میرے دین کی جزا ہے ۔ ان کے دین کو دین کا نام دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اسی کا اعتقاد رکھا تھا اور اس سے اپنی وابستگی کی تھی ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے لیے تمہاری جزا اور میرے لیے میرا جزا ہے کیونکہ دین کا معنی جزا ہے ۔ نافع نے ولی دین میں یاء کو فتحہ دی ہے اور بزی نے ابن کثیر سے اسی طرح روایت کی ہے جبکہ ان سے اختلاف مروی ہے ۔ ہشام نے ابن عامر سے اور احفص نے عاسم سے اسی طرح نقل کیا ہے دین میں دونوں حالتوں میں نصر بن عاصم ، سلام اور یعقوب نے یاء کو ثابت رکھتا ہے انہوں نے کہا : یہ بھی ایک اسم ہے جس طرح دینکم میں کاف ہے اور قمت میں تاء ہے جبکہ باقی قراء نے یاء کے بغیر پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے : فھو یھدین (الشعرائ) فاتقوا اللہ واطیعون (آل عمران) اس کی مثل دوسری آیات ہیں ان میں کسرہ پر اکتفا کیا گیا ہے اور مصحف کے خط کی اتباع کی گئی ہے کیونکہ اس میں یہ یاء کے بغیر واقع ہے ۔









Saturday, 16 July 2016

سورۃ النصر کی فضیلت چوتھائی قرآن کے برابر

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : ثُلُثُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی سے کہا: اے فلاں! کیا تم نے شادی کرلی؟ انہوں نے کہا: نہیں،قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کرسکوں۔ آپ نے فرمایا:' کیاتمہارے پاس سورہ 'قل هو الله أحد' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا:سورہ' قل هو الله أحد' ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابرہے۔ آپ نے کہا: کیاتمہارے پاس سورہ 'إذا جاء نصر الله والفتح' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا :کیوں نہیں، (ہے) آپ نے فرمایا:' یہ ایک چوتھائی قرآن ہے، آپ نے فرمایا:' کیا تمہارے پاس سورہ 'قل يا أيها الكافرون' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ (ہے) آپ نے فرمایا:' (یہ) چوتھائی قرآن ہے ۔ آپ نے فرمایا:' کیا تمہارے پاس سورہ'إذا زلزلت الأرض' نہیں ہے؟ انہوں نے کہا:کیوں نہیں(ہے) آپ نے فرمایا: 'یہ ایک چوتھائی قرآن ہے، آپ نے فرمایا: تم شادی کرو '۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
[مسند احمد:12488+13309، سنن ترمذیؒ:2895، مسند البزار:6247، معجم ابن الأعرابي:1648، شعب الإيمان للبيهقي:2300، جامع الأحاديث:15260، كنز العمال:2717]

المحدث : أحمد شاكر | المصدر : عمدة التفسير الصفحة أو الرقم: 1/308 | خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة إلى صحته]
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1هل تزوجت يا فلان قال لا والله يا رسول الله ولا عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ثلث القرآن أليس معك إذا جاء نصر الله والفتح قال بلى قال ربع القرآن أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا زلزلت الأرضأنس بن مالكجامع الترمذي28392895محمد بن عيسى الترمذي256
2هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحدأنس بن مالكمسند أحمد بن حنبل1305812896أحمد بن حنبل241
3أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا جاء نصر الله والفتح قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك الله لا إله إلا هو الحي القيوم قال بلى قال ربع القرآن قال تزوج تزوجأنس بن مالكالبحر الزخار بمسند البزار 10-1318126246أبو بكر البزار292
4هل تزوجت قال ليس عندي ما أتزوج قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا جاء نصر الله والفتح قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن قالأنس بن مالككشف الأستار2177---نور الدين الهيثمي807
5هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا جاء نصر الله قال بلى قال ربع القرآن أليس معك قل يا أيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا زلزلت قال بلى قال ربع القرآن أليس معك آأنس بن مالكمعجم السفر للسلفي139878أبو طاهر السلفي576
6آية الكرسي ربع القرآنأنس بن مالكمعجم مشايخ أبي علي الحداد12---الحسن بن أحمد بن الحسن الحداد515
7هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحدأنس بن مالكالمجالس الخمسة السلماسية للسلفي2424أبو طاهر السلفي576
8هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج به قال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا جاء نصر الله قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا زلزلت قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معكأنس بن مالكالأحاديث المائة للحافظ العلامة محمد بن علي بن طولون9---محمد بن علي بن طولون953
9هل تزوجت قال لا وليس عندي ما أتزوج قال أليس معك قل هو الله أحدأنس بن مالكشعب الإيمان للبيهقي2298---البيهقي458
10أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك قل يأيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن قال أليس معك إذا زلزلت قال بلى قال ربع القرآن ثم قال تزوج تزوج تزوجأنس بن مالكالوسيط في تفسير القرآن المجيد11704 : 541الواحدي468
11آية الكرسي ربع القرآنأنس بن مالكسير أعلام النبلاء الذهبي1242---الذهبي748
12هل تزوجت فقال لا وليس عندي ما أتزوج به فقال أليس معك قل هو الله أحد قال بلى قال ثلث القرآن أليس معك قل يا أيها الكافرون قال بلى قال ربع القرآن أليس معك إذا زلزلت الأرض زلزالها قال بلى قال ربع القرآن أليس معك آية الكرسي قال بلى قال ربع القرآن قالأنس بن مالكفضائل القرآن لابن الضريس287297محمد بن الضريس294

إِذا جاءَ نَصرُ اللَّهِ وَالفَتحُ {110:1}
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)
بڑی فیصلہ کن چیز یہ تھی کہ مکہ معظمہ ( جو گویا زمین پر اللہ کا دارالسلطنت ہے) فتح ہو جائے۔ اسی پر اکثر قبائل عرب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے ایک ایک دو دو آدمی اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جوق در جوق داخل ہونے لگے۔ حتّٰی کہ سارا جزیرہ عرب اسلام کا کلمہ پڑھنے لگا۔ اور جو مقصد نبی کریم کی بعثت سے تھا پورا ہوا۔
وَرَأَيتَ النّاسَ يَدخُلونَ فى دينِ اللَّهِ أَفواجًا {110:2}
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَاستَغفِرهُ ۚ إِنَّهُ كانَ تَوّابًا {110:3}
تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے
یعنی اپنے لئے اور امت کے لئے استغفار کیجیے۔ (تنبیہ) نبی کریم کا اپنے لئے استغفار کرنا پہلے کئ جگہ بیان ہوچکا ہے، وہیں دیکھ لیا جائے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں " یعنی قرآن میں ہر جگہ وعدہ ہے فیصلہ کا، اور کافر شتابی کرتے تھے۔ حضرت کی آخر عمر میں مکہ فتح ہوچکا، قبائل عرب دَل کے دَل مسلمان ہونے لگے۔ وعدہ سچا ہوا اب امت کے گناہ بخشوایا کر کہ درجہ شفاعت کا بھی ملے۔ یہ سورت اتری آخر عمر میں، حضرت نے جانا کہ میرا جو کام تھا دنیا میں کرچکا اب سفر ہے آخرت کا۔
یعنی سمجھ لیجیے کہ مقصود بعثت کا اور دنیا میں رہنے کا (جو تکمیل دین و تمہید خلافت کبریٰ ہے) پورا ہوا، اب سفر آخرت قریب ہے۔ لہٰذا ادھر سے فارغ ہو کر ہمہ تن ادھر ہی لگ جائیے۔ اور پہلے سے بھی زیادہ کثرت سے اللہ کی تسبیح و تحمید اور ان فتوحات اور کامیابیوں پر اس کا شکر ادا کیجیے۔



کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے۔

[قرآن، سورۃ البقرۃ:214]



تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے۔
[آل عمران:13]


اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔
[آل عمران:81]


اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی۔
[آل عمران:111]


اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو۔
[آل عمران:123]


اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے۔
[آل عمران:126]


اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔
[آل عمران:160]


اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے۔
[النساء:45]


(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار۔
[النساء:123]


اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے۔
[الانفال:10]


اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔
[الانفال:26]


ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔
[التوبۃ:14]


خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے
[التوبۃ:24]


اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے
[التوبۃ:40]


جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس(نبی)کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے۔
[الحج:15]


جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔ اور خدا (ان کی مدد کرے گا وہ) یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔
[الحج:39]


یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے۔
[الحج:40]


پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔
[القصص:18]


اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟۔
[العنکبوت:10]


جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔
[محمد:4]


ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے۔
[الحدید:25]


اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب ہوگی اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو۔
[الصف:13]


بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے؟ کافر تو دھوکے میں ہیں۔
[الملک:20]


جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی) اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے۔[سورۃ النصر]







خلاصہ تفسیر

(اے محمد ﷺ ) جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح (ع اپنے آثار کے) آ پہنچے اور) اس فتح پر مرتب ہونے والے آثار یہ ہیں کہ) آپ لوگوں کو اللہ کے دین (اسلام) میں جوق جوق داخل ہوتا دیکھ لیں، تو (اس وقت سمجھئے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور آپ کی بعثت کا جو تکمیل دین تھا وہ پورا ہو چکا اور اب سفر آخرت قریب ہے اس کے لئے تیاری کیجئے اور) اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیجئے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے (یعنی ایسے امور جو خلاف اولیٰ واقع ہو گئے ان سے مغفرت مانگئے) وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
معارف و مسائل یہ سورة با جماع مدنی ہے اور اس کا نام سورة التودیع بھی ہے، تو دیع کے معنی کسی کو رخصت کرنے کے ہیں اس سورة میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات قریب ہونے کی طرف اشارہ ہے اس لئے اس کو سورة التودیع بھی کہا گیا ہے۔
حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ یہ سورة حجتہ الوداع میں نازل ہوئی اس کے بعد آیت الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی، ان دونوں کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں صرف اسی روز رہے (اسی روز کے بعد وفات ہو گئی) ان دونوں کے بعد آیت کلالہ نازل ہوئی جس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی عمر شریف کے کل پچاس دن رہ گئے تھے اس کے بعد آیت لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم الآیہ نازل ہوئی جس کے بعد عمر شریف کے کل پینتیس روز باقی تھے اس کے بعد آیت اتقوایوماً ترجعون فیہ الی اللہ نازل ہوئی جس کے بعد صرف اکیس روز اور مقاتل کی روایت میں صرف سات روز کے بعد وفات ہو گئی۔ (قرطبی)
قرآن مجید کی آخری سورة اور آخری آیات:- صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ سورة نصر قرآن کی آخری سورة ہے (قرطبی) مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی مکمل سورة نازل نہیں ہوئی بعض آیات کا نزول جو اس کے بعد ہونا بعض روایات میں ہے وہ اس کے منافی نہیں، جیسا کہ سورہ فاتحہ کو قرآن کی سب سے پہلی سورة اسی معنی میں کہا جاتا ہے کہ مکمل سورة سب سے پہلے فاتحہ نازل ہوئی ہے۔ سورة اقراءاور مدثر وغیرہ کی چند آیات کا اس سے پہلے نازل ہونا اس کے منافی نہیں ۔
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح میں فتح سے فتح مکہ مراد ہے اور اس یں اختلاف ہے کہ یہ سورة فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے یا بعد میں لفظ اذا جاء سے بظاہر قبل فتح نازل ہونا معلم ہوتا ہے اور روح المعانی میں بحر محیط سے ایک رویات بھی اس کے موافق نقل کی ہے جس میں اس سورة کا نزول غزوہ خیبر سے لوٹنے کے وقت بیان کیا گیا اور خیبر کی فتح فتح مکہ سے مقدم ہونا معلوم و معروف ہے اور روح المعانی میں بسند عبدابن حمید حضرت قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس سورة کے نزول کے بعد دو سال زندہ رہے اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ اس کا نزول فتح مکہ سے پہلے ہوا کیونکہ فتح مکہ سے وفات تک دو سال سے کم مدت ہے۔ فتح مکہ رمضان 8ہجری میں ہوئی اور وفات ربیع الاول 11ہجری میں اور جن روایات میں اس کا نزول فتح مکہ یا حجتہ الوداع میں نازل ہونا بیان کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ سورة پڑھی ہوگی جس سے لوگوں کو یہ خیال ہو اکہ یہ ابھی نازل ہوئی ہے۔ مزید تحقیق اس کی بیان القرآن میں مذکورہ ہے۔

متعدد احادیث مرفوعہ اور آثار صحابہ میں ہے کہ اس سورة میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آ جانے کی طرف اشارہ ہے کہ اب آپ کی بعثت اور دنیا میں قیام کا کام پورا ہو چکا اب تسبیح و استغفار میں لگ جایئے۔ مقاتل کی روایت میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام کے ممجع کے سامنے اس کی تلاوت فرمائی جن میں حضرت ابوبکر، عمر اور سعد بن ابی وقاص وغیرہ موجود تھے سب اس کو سنکر خوش ہوئے کہ اس میں فتح مکہ کی خوشخبری ہے مگر حضرت عباس رونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ رونے کا کیا سبب ہے تو حضرت عباس نے عرض کیا کہ اس میں تو آپ کی وفات کی خبر مضمر ہے آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے یہی مضمون روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس کو حضرت عمر نے سنا تو فرمایا کہ اس سورت کے مفہوم سے میں بھی یہی سمجھتا ہوں (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح ، قرطبی)



ورایت الناس فتح مکہ سے پہلے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جن کو رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور اسلام کی حقانیت پر تقریباً یقین ہو چکا تھا مگر اسلام میں داخل ہونے سے ابھی تک قریش کی مخالفت کے خوف سے یا کسی تذبذب کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔ فتح مکہ نے وہ رکاوٹ دور کر دی تو فوج فوج ہو کر یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یمن سے سات سو نفر مسلمان ہو کر پہنچے جو راستہ میں اذانیں دیتے اور قرآن پڑھتے ہوئے آئے۔ اسی طرح عام عرب فوج فوج ہو کر داخل اسلام ہوئے۔

جب موت قریب محسوس ہو تو تسبیح و استغفار کی کثرت چاہئے:- فسبح بحمد ربک واستغفرہ حضرت صدیقہ ائشہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے تھے سبحانک ربنا و بحمدک الھم اغفرلی (٤واہ البخاری) 
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد اٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے ہر وقت میں یہ دعا پڑھتے تھے، سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ اور فرماتے تھے کہ مجھے اس کا حکم کیا گیا اور دلیل میں اذا جاء نصر اللہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ  ؓ فرماتے ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عبادت میں بڑا مجاہدہ فرمایا یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم کر گئے۔ (قرطبی) 
تمت سورة النصر بحمد اللہ تعالیٰ


**********************************

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے میرے نبی ! اب جبکہ آپ اپنے دشمنوں کے خلاف ہر معرکے میں غالب آنے لگے ہیں، مکہ کو فتح کر لیا ہے اور وہ دار الکفر سے دار الاسلام بن گیا ہے اور قبائل عرب گروہ درگروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں، جب یہ سب نعمتیں حاصل ہو گئیں تو آپ اپنے رب کا شکر بجا لانے کے لیے اس کی پاکی اور اس کی حمد و ثنا بیان کیجیے اور اس سے مغفرت طلب کرتے رہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے بندوں کی توبہ کو بہت جلد قبول کرتا ہے، ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا اور ان کے حال پر رحم کرتا ہے۔ 
اس سورت میں نبی کریم ﷺ کے لیے ایک خوشخبری ہے کہ اللہ اپنے رسول کی مدد کرے گا، مکہ مکرمہ فتح ہو گا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گے۔ ایک تنبیہ بھی ہے کہ چونکہ دنیا سے آپ کے رخصت ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اس کی یاد میں لگائیں، تاکہ عمر کا آخری حصہ اس کی یاد میں گزرے۔ 
سیدنا عبداللہ بن عباس  ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق  ؓ بڑی عمر والے بدری صحابہ کے ساتھ مجھے بھی (اپنی مجلس میں) شامل کر لیا کرتے تھے، تو اس پر بعض صحابہ (یعنی عبد الرحمن بن عوف  ؓ ) کو اعتراض ہوا، انھوں نے کہا، آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ مجلس میں کیوں بٹھاتے ہیں ؟ اس کی عمر کے تو ہمارے بچے ہیں۔ فاروق اعظم  ؓ نے فرمایا، اس کی وجہ تم خوب جانتے ہو۔ پھر ایک دن عمر  ؓ نے انھیں بلایا اور مجھے بھی بلایا، میں سمجھ گیا کہ آج مجھے اس لیے بلایا، تاکہ آپ انھیں میرے بارے میں بتا سکیں، پھر امیر المومنین  ؓ نے ان سے پوچھا، سورۃ : (اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ ) کی نسبت تمھیں کیا علم ہے؟ بعض نے کہا، اس میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں اور اس سے استغفار کریں کہ اس نے ہماری مدد کی اور ہمیں فتح عنایت فرمائی اور بعض بالکل خاموش رہے، کچھ جواب نہ دیا تو آپ نے میری طرف توجہ فرمائی اور کہا، اے ابن عباس ! کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا، نہیں۔ فرمایا، تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح حاصل ہو گئی یعنی فتح مکہ، تو یہ آپ کی وفات کی نشانی ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کی حمد اور تسبیح کریں اور اس کی مغفرت طلب کریں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر  ؓ نے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا وہی میں سمجھتا ہوں۔ [ بخاری، کتاب التفسیر، باب ( فسبح بحمدک ربک ۔۔ الخ ) : ٤۹۷۰، ٤۲۹٤ ]
اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ : فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مکہ فتح کرنے کے لیے) مدینہ منورہ سے نکلے، رمضان کا مہینا تھا۔ آپ ﷺ کے ہمراہ دس ہزار کا لشکر تھا اور آپ کو مدینہ میں تشریف لائے ہوئے ساڑھے آٹھ سال ہونے کو تھے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے وہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے، تو اس وقت آپ ﷺ بھی روزہ رکھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا۔ [ بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان : ٤۲۷٦۔ مسلم، کتاب الصیام، باب جواز الصوم والفطر ۔۔ الخ : ۱۱۱۳ ]
سیدنا ابوہریرہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کل ان شاء اللہ ہمارا قیام مقام خیف بنی کنانہ میں ہو گا، جہاں قریش کے لوگوں نے کفر پر قسم کھائی تھی۔‘‘ [ بخاری، کتاب المغازی، باب أین رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح ؟ : ٤۲۸۵ ]
سیدنا ابوہریرہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلتے رہے، یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ نے ایک جانب زبیر  ؓ کو بھیجا اور دوسری جانب خالد بن ولید  ؓ کو اور ابو عبیدہ بن الجراح  ؓ کو ان لوگوں کا سردار بنایا جن کے پاس زرہیں نہ تھیں۔ انھوں نے گھاٹی کے اندر سے راستہ اختیار کیا اور رسول اللہ ﷺ لشکر کے ایک حصے میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ’’ ابوہریرہ!‘‘ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’صرف انصارکو بلاؤ کہ وہ میرے پاس آئیں۔‘‘ میں نے انھیں آواز دی اور وہ سب آپ کے اردگرد جمع ہو گئے۔ دوسری جانب (کفار) قریش کا منظر یہ تھا کہ انھوں نے ایک منصوبے کے تحت اپنے اوباش اور تابع دار اکٹھے کیے اور طے کیا کہ ہم مقابلے کے لیے ان کو مسلمانوں کے آگے کرتے ہیں۔ اگر کامیابی کے کوئی آثار پیدا ہوئے تو ہم بھی مدد کو ان کے ساتھ مل جائیں گے اور اگر کوئی آفت آئی (یعنی یہ مارے گئے) تو (مقابلہ کرنے کے جرم میں) جو ہم سے مانگا گیا وہ دے دیں گے۔ ( اس صورت حال کا آپ کو علم ہوا تو) آپ نے فرمایا : ’’تم دیکھتے ہو قریش کے اوباش چھوکروں اور ان کے تابع داروں کو؟‘‘ اور اس کے ساتھ ہی آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر مارا (یعنی مارو مکہ کے کافروں کو اور ان میں سے کسی کو نہ چھوڑو)۔ اور فرمایا : ’’(اس کے بعد) تم مجھے صفا پر ملو۔‘‘ ابوہریرہ  ؓ نے فرمایا، پھر ہم چل پڑے، ہم میں سے جس کا دل چاہتا کہ کسی(کافر) کو قتل کر دے تو وہ اسے قتل کر ڈالتا، کسی (کافر) میں ہمارا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ [ مسلم، کتاب الجھاد، باب فتح مکۃ : ۱۷۸۰ ]
سیدنا انس  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! عبداللہ بن خطل کعبے کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے (وہیں) قتل کر دو۔‘‘ [ بخاری، کتاب المغازی، باب أین رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح؟ : ٤۲۸٦ ]
سیدنا عبداللہ بن مسعود  ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد چاروں طرف تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کے ساتھ بت کو کچوکا مارتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے : (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) [ بنی إسرائیل : ۸۱ ] ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔‘‘ اور یہ آیت : (جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) [ سبا : ٤۹ ] ’’حق آ گیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔‘‘ [ بخاری، کتاب المغازی، باب أین رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح ؟ : ٤۲۸۷، ٤۷۲۰۔ مسلم، کتاب الجہاد، باب إزالۃ الأصنام من حول الکعبۃ : ۱۷۸۱]
سیدنا عبداللہ بن عباس  ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے وقت مکہ پہنچے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ آپ نے ان سب کو نکالنے کا حکم دیا، چنانچہ انھیں باہر نکال دیا گیا، ان میں سے ایک تصویر ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی بھی تھی، ان کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’اللہ ان مشرکوں کو ہلاک کرے، ان مشرکوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام نے کبھی ان تیروں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرنے کے لیے فال نہیں نکالی۔‘‘ [ بخاری، کتاب المغازی، باب أین رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح ؟ : ٤۲۸۸ ]

وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا: یعنی فتح مکہ کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے، جیسا کہ سیدنا عمرو بن سلمہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایسے چشمے کے پاس ر ہا کرتے تھے جو لوگوں کی عام گزر گاہ تھی، سوار ہمارے پاس سے گزرا کرتے تھے۔ ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے، کہو ! لوگوں کا کیا حال ہے؟ اس شخص کی کیا کیفیت ہے؟ وہ کہتے، وہ شخص دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ اس پر وحی نازل کرتا ہے، یا، اللہ نے ان پر وحی نازل کی ہے (اور وہ قرآن کی کوئی آیت سناتے) تو میں اس وحی کو یاد کر لیتا تھا۔ گویا وہ میرے سینے میں جم جاتی تھی۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کیے ہوئے تھے۔ وہ کہتے تھے، انھیں اور ان کی قوم کو چھوڑ دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو وہ سچے پیغمبر ہیں۔ پھر جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں سبقت کی۔ میرے باپ نے بھی اسلام قبول کرنے میں میری قوم کے مقابلہ میں سبقت کی۔ جب وہ آئے تو کہنے لگے، اللہ کی قسم! میں سچے پیغمبر سے مل کر تمھارے پاس آ رہا ہوں، آپ نے فرمایا : ’’فلاں وقت فلاں نماز پڑھو، فلاں وقت فلاں نماز پڑھو اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان دے اور جس کو زیادہ قرآن یاد ہو وہ نماز پڑھائے۔‘‘ میری قوم کے لوگوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن یاد نہ تھا، کیونکہ میں مسافر سواروں سے سن سن کر قرآن یاد کر لیا کرتا تھا۔ انھوں نے مجھ ہی کو امام بنایا، حالانکہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی۔ [ بخاری، کتاب المغازی، بابٌ : ٤۳۰۲ ]

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ڼ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا: سیدنا شداد بن اوس  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ یوں کہے : (( اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ، وَاَبُوْءُ بِذَنْبِیْ، فَاغْفِرْ لِیْ فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اَنْتَ ))’’اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں جہاں تک طاقت رکھتا ہوں تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں ان نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں جو تونے مجھ پر کیں اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں ، پس تو مجھے معاف کر دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔‘‘ آپ نے فرمایا : ’’جو شخص یہ کلمات استغفار دن میں یقین کے ساتھ پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے موت آ جائے تو وہ جنتی ہے اور جو اسے یقین کے ساتھ رات کو پڑھے اور صبح ہونے سے پہلے اسے موت آ جائے تو وہ جنتی ہے۔‘‘ [ بخاری، کتاب الدعوات، باب أفضل الاستغفار ۔۔ الخ : ٦۳۰٦ ]
سیدہ عائشہ  ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے : ((سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللَّھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ))’’پاک ہے تو اے اللہ! اے ہمارے رب ! اپنی تعریف کے ساتھ، اے ہمارے رب مجھے بخش دے۔‘‘ آپ قرآن ( میں جو حکم دیا گیا تھا اس) کی تعمیل کرتے تھے۔ [بخاری، کتاب التفسیر، بابٌ : ٤۹٦۸۔ مسلم، کتاب الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود ؟: ٤۸٤ ]
سیدہ عائشہ  ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے : (( سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ )) میں نے عرض کی، اے اللہ کے رسول! میں دیکھتی ہوں کہ آپ یہ دعا : (( سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ )) بہت زیادہ پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھ سے میرے رب نے بیان کیا کہ تم اپنی امت میں ایک نشانی دیکھو گے تو جب میں نے اس نشانی کو دیکھ لیا تو میں نے کثرت سے یہ تسبیح پڑھنا شروع کر دی : (( سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ )) یعنی وہ نشانی میں نے دیکھ لی (اور وہ یہ ہے) : (اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ)’’جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔‘‘ یعنی فتح مکہ اور : (ۙوَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا Ą۝ۙفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ڼ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا) ’’اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقیناًوہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ [ مسلم، کتاب الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود؟ :۲۲۰؍٤۸٤ ]
سیدنا ابوہریرہ  ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں اس کی غپ شب اور لغو باتیں زیادہ ہو جائیں اور وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے : (( سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ ))’’اے اللہ ! تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔‘‘ تو اس مجلس میں اس سے جو کچھ ہوا وہ معاف کر دیا جاتا ہے۔‘‘ [ ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا قام من مجلسہ : ۳٤۳۳ ]