Sunday, 27 October 2019

لغوی اور اصطلاحی معنیٰ میں فرق

*لغوی اور اصطلاحی معنیٰ میں فرق:*
لفظ کا وہ اصلی معنیٰ جو اہلِ زبان مراد لیتے ہیں اسے لغوی معنیٰ کہتے ہیں۔ اور لفظ کا وہ معنیٰ جو (1)ماہرِ زبان Linguists یا (2)اہلِ علاقہ یا (3)اہلِ فن ’’متعین‘‘ کرلیں اسے اصطلاحی(یا عُرفی) معنیٰ کہتے ہیں۔

جیسے:
لفظ Calculate اور Compute کے لغوی اصلی معنیٰ حساب کرنا ہے لیکن کوئی بھی Calculator اور Computer سے ایک ہی بات مراد نہیں لیتا، کیونکہ اہلِ فن نے Computer اور Calculator کی علیحدہ علیحدہ معنیٰ ’’متعین‘‘ Specified,Particularise کی ہیں۔ اس علم کو Terminology کہتے ہیں۔
مثلا:

طبّی اصلاحات Medical Terminology، قانونی اصطلاحات Legal Terminology وغیرہ



نوٹ: فن بدل جائے تو معنیٰ اصطلاحی بدل جاتا ہے، جیسے: لفظ ’’کلمہ‘‘ جب درجہ حفظ کی درسگاہ میں بولا جائے تو اس سے مراد ’’کلمہ طیبہ‘‘ ہوگا، علمِ نحو میں اس سے مراد ’’لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ‘‘ (یعنی وہ لفظ جو ایک معنیٰ کیلئے وضع کیا گیا ہو)۔
[شرح مختصر الروضة:1/ 128، غاية السول إلى علم الأصول: ص35]



شرعی مثال:
(1) حدیث میں لفظ ہے: أَطْوَلُ يَدًا (یعنی سب سے زیادہ لمبے ہاتھ والا) سے مراد سب سے زیادہ سخی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ازواجِ مطھراتؓ سے فرمایا:  «أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» [صحیح مسلم:2452] یعنی میری وفات کے بعد سب سے پہلے اس بیوی کی وفات ہوگی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہوں گے۔بظاہر لمبے ہاتھ تو حضرت سودہؓ کے تھے لیکن انتقال ہوا حضرت زینب بنت جحشؓ کا، اب اشکال پیش آیا کہ رسول اللہ ﷺ کے کلام کا مقصد کیا ہے؟ اور یہ تو ہو نہیں سکتا نبی ﷺ سچی بات ارشاد نہ فرمائیں۔ تو غور کیا گیا کہ یہاں لفظ أَطْوَلُ يَدًا سے مراد لمبے ہاتھ والا نہیں بلکہ سخاوت میں سب سے ممتاز سخی۔ اور ازواجِ مطھرات کے اندر سخاوت کا مادہ تو تھو لیکن سخاوت کے وصف میں سب سے زیادہ لمبے ہاتھ والی ام المومنین زینبؓ بنت جحش تھیں۔

ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ’’فلاں کہ ہاتھ بہت لمبے ہیں، اس سے پنگا نہ لینا ورنہ مار کھائے گا‘‘، سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس کے ہاتھ حقیقتا لمبے (دکھتے) ہیں اور اس کا ہاتھ اڈھائے یا چار فُٹ کا ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس شخص کے تعلقات کی وسعت اور طاقت کو لمبے ہاتھ سے تعبیر کردیتے ہیں۔

اب فقہ(سمجھ) سے نابلد منافقین[سورۃ المنافقون:7] انکارِ فقہ کے سبب اس حدیث کے ’’نئے‘‘ معنیٰ ومراد پھیلاکر اسلام ہی کے دوسری بنیاد:حدیث کا ہی انکار کرتے کرانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں حق کلمہ سے باطل مراد لینا۔





مصادر ومراجع Sources & References:
(1) طلبة الطلبة في اصطلاحات الفقهية، امام النسفي (المتوفى: 537هـ)

اصولِ حدیث:
(2) الاقتراح في بيان الاصطلاح، امام ابن دقيق العيد (المتوفى: 702هـ)

(3) مقدمة ابن الصلاح ومحاسن الاصطلاح (577 هـ - 643 هـ).

متعدد فنون وعلوم:
(4)  كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون (المتوفى: 1067هـ)
(5) موسوعة كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم (المتوفى: بعد 1158هـ)




Saturday, 7 September 2019

پیغامِ کربلا

وجہ اور ذمیدارِ کربلا اور پیغامِ سیدنا حسینؓ:

أَيُّهَا الناس، ان رسول الله ص قَالَ: [مَنْ رَأَى سُلْطَانًا جَائِرًا مُسْتَحِلا لِحَرَمِ اللَّهِ، نَاكِثًا لِعَهْدِ اللَّهِ، مُخَالِفًا لِسُنَّةِ رَسُولِ الله، يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللَّهِ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيْهِ بِفِعْلٍ وَلا قَوْلٍ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مُدْخَلَهُ] أَلا وَإِنَّ هَؤُلاءِ قَدْ لَزِمُوا طَاعَةَ الشَّيْطَانِ، وَتَرَكُوا طَاعَةَ الرَّحْمَنِ، وَأَظْهَرُوا الْفَسَادَ، وَعَطَّلُوا الْحُدُودَ، وَاسْتَأْثَرُوا بِالْفَيْءِ، وَأَحَلُّوا حَرَامَ اللَّهِ، وَحَرَّمُوا حَلالَهُ، وَأَنَا أَحَقُّ من غير، قَدْ أَتَتْنِي كُتُبُكُمْ، وَقَدِمَتْ عَلِيَّ رُسُلُكُمْ بِبَيْعَتِكُمْ، أَنَّكُمْ لا تُسْلِمُونِي وَلا تَخْذَلُونِي، فَإِنْ تَمَمْتُمْ عَلَى بَيْعَتِكُمْ تُصِيبُوا رُشْدَكُمْ، فَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ على، وابن فاطمه بنت رسول الله ص، نَفْسِي مَعَ أَنْفُسِكُمْ، وَأَهْلِي مَعَ أَهْلِيكُمْ، فَلَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَنَقَضْتُمْ عَهْدَكُمْ، وَخَلَعْتُمْ بَيْعَتِي مِنْ أَعْنَاقِكُمْ، فَلَعَمْرِي مَا هِيَ لَكُمْ بِنُكْرٍ، لَقَدْ فَعَلْتُمُوهَا بِأَبِي وَأَخِي وَابْنِ عَمِّي مُسْلِمٍ، وَالْمَغْرُورُ مَنِ اغْتَرَّ بِكُمْ، فَحَظَّكُمْ أَخْطَأْتُمْ، وَنَصِيبَكُمْ ضَيَّعْتُمْ، وَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ، وَسَيُغْنِي اللَّهُ عَنْكُمْ، وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ.

اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [جو شخص کسی ایسے ظالم بادشاہ کو دیکھے جو اللہ کے حرام کو حلال سمجھے اور اللہ کے عہد کو توڑدے، سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے، اللہ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور ظلم کا معاملہ کرے، اور یہ شخص اس بادشاہ کے ایسے اعمال دیکھنے کے باوجود کسی قول یا فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے، تو اللہ تعالی کے ذمہ ہے کہ اس کو بھی اس ظالم بادشاہ کے ساتھ ساتھ اس کے ٹھکانے (یعنی دوزخ)میں پہنچادے۔]

اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یزید اور اس کے حکام نے شیطان کی پیروی کو اختیار کر رکھا ہے، اور ہم ان کی اطاعت کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور زمین میں فساد پھیلادیا، الله کی حدود کو معطل کردیا، اسلامی بیت المال کو اپنی ملکیت سمجھ لیا، اللہ کے حرام کو حلال کر ڈالا اور حرام کو حلال ٹھہرا دیا، اور میں دوسروں سے زیادہ حقدار ہوں، اور میرے پاس تمہارے خطوط اور وفود تمہاری بیعت کا پیغام لیکر پہنچے ہیں، کہ تم میرا ساتھ نہ چھوڑو گے، اور میری جان کو اپنی جان کے برابر سمجھو گے، اب اگر تم اپنی بات پر قائم ہوں تو ہدایت پاؤ گے، میں رسول اللہ کی لخت جگر فاطمہ کا بیٹا ہوں، میری جان آپ لوگوں کی جانوں کے ساتھ اور میرے اہل و عیال آپ لوگوں کے اہل وعیال کے ساتھ، تم لوگوں کو میرا اعتبار کرنا چاہیے۔

اور اگر تم ایسا نہیں کرتے بلکہ میری بیعت کو توڑتے ہو اور میرے عہد سے پھر جاتے ہو تو وہ تم لوگوں سے کچھ بعید نہیں،کیونکہ یہی کام تم میرے باپ علی اور بھائی حسن اور چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کے ساتھ کرچکے ہو۔

اور وہ آدمی بڑا فریب میں ہے جو تمہارے عہد و پیمان سے دھوکہ کھائے،سو تم نے خود اپنا آخرت کا حصہ ضائع کر دیا، اور اپنے حق میں ظلم کیا، اور جو شخص بیعت کرکے توڑتا ہے، وہ اپنا نقصان کرتا ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالی مجھے تم سے مستغنی فرما دیں۔
اور سلامتی ہو تم سب پر اور رحمتیں اللہ کی اور برکتیں بھی۔


[أنساب الأشراف للبَلَاذُري:3/171 ، تاريخ الطبري:5/403، الکامل فی التاریخ (امام)ابن اثیر:3/159، مرآة الزمان في تواريخ الأعيان:8/118]






سیدنا حسینؓ کی سیدہؓ زینب کو نصیحت:

قَالَ: يَا أُخَيَّةُ لَا يُذْهِبَنَّ حِلْمَكِ الشَّيْطَانُ.
فرمامیا: اے میری بہن! شیطان کہیں تمہارا حلم(حوصلہ) ختم نہ کردے ۔۔۔ بےشک زمین والوں کو مرنا ہے، اور آسمان والے بھی باقی نہیں رہیں گے۔

[[أنساب الأشراف للبَلَاذُري:3/186، المنتظم فی التاریخ الملوک والامم(امام)ابن الجوزی:5/338، الکامل فی التاریخ (امام)ابن الاثیر:3/168، البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/192، صفة مقتله]




وإني أقسم عليك يا أخية لا تشقي علي جيبا ولا تخمشي وجها. ( وَلَا تَدْعِي عَلَيَّ بِالْوَيْلِ وَالثَّبُورِ إِنْ أَنَا هَلَكْتُ.)
ترجمہ:
اور میں تمہیں قسم دیتا ہوں اے میری بہن! کہ(میری شہادت پر) تم کپڑے پھاڑنا سینہ پیٹنا وغیرہ ہرگز نہ کرنا اور آواز سے رونے چلانے سے بچنا۔
[المنتظم فی التاریخ الملوک والامم(امام)ابن الجوزی:5/338، الکامل فی التاریخ (امام)ابن الاثیر:3/168]




اتَّقِي اللَّهَ (واصبري) وَتَعَزَّيْ بِعَزَاءِ اللَّهِ وَاعْلَمِي أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ يَمُوتُونَ وَأَهْلَ السَّمَاءِ لَا يَبْقَوْنَ، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَ اللَّهِ  الَّذِي خَلَقَ الْخَلْقَ بقدرته، ويميتهم بقهره وعزته، ويعيدهم فيعبدونه وحده، وَهُوَ فَرْدٌ وَحْدَهُ
ترجمہ:
اے میری بہن! الله سے ڈرو (اور صبر کرو) اور الله کی راحت(بدلہ)کے ساتھ راحت پاؤ، اور یاد رکھنا کہ زمین میں بسنے والی ہر مخلوق کو مرنا ہے اور آسمان والوں کو بھی بقا نہیں، اور بےشک ہر شیء ہلاک ہونے والی ہے سوائے الله کی ذات کے، جس نے اپنی قدرت سے مخلوقات بنائی، اور وہ انہیں موت دےگا اپنے قھر وغلبہ سے، اور وہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا، تو وہ اسی اکیلے کی(ہمیشہ)عبادت کریں گے، اور وہی تنہا باقی رہے گا۔
[الکامل فی التاریخ (امام)ابن الاثیر:3/167، البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/192، صفة مقتله]


وَاعْلَمِي أَنَّ أَبِي خَيْرٌ مِنِّي، وَأُمِّي خَيْرٌ مِنِّي، وَأَخِي خَيْرٌ مِنِّي، ولي ولهم ولكل مسلم برسول اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، ثم حرج عليها أن لا تَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا بَعْدَ مَهْلِكِهِ۔
ترجمہ:
اور یاد رکھنا کہ میرا باپ مجھ سے بہتر ہے اور میری ماں بھی مجھ سے بہتر ہے اور میرا بھائی بھی مجھ سے بہتر ہے، اور میرے لئے اور ان کیلئے اور سارے مسلمانوں کیلئے اسوۃ(زندگی گذارنے کا نمونہ) رسول الله ﷺ ہیں۔
پھر فرمایا:ان کے فوتگی کے بعد ان باتوں میں سے کوئی کام نہ کرنا۔
[الکامل فی التاریخ (امام)ابن الاثیر:3/167]
[البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/192، صفة مقتله]



سیدنا حسنؓ بن علیؓ کا عقیدہ توحید اور دعائے کرب:
جب صبح کے وقت دشمنوں کا سامنا ہوا تو سیدنا حسینؓ ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی:
اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي فِي كُلِّ كَرْبٍ وَرَجَائِي فِي كُلِّ شِدَّةٍ، وَأَنْتَ لِي فِي كُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِي ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ، كَمْ مِنْ هَمٍّ يَضْعُفُ فِيهِ الْفُؤَادُ وَتَقِلُّ فِيهِ الْحِيلَةُ وَيَخْذُلُ فِيهِ الصَّدِيقُ وَيَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ أَنْزَلْتُهُ بِكَ وَشَكَوْتُهُ إِلَيْكَ رَغْبَةً إِلَيْكَ عَمَّنْ سِوَاكَ فَفَرَّجْتَهُ وَكَشَفْتَهُ وَكَفَيْتَنِيهِ، فَأَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ نِعْمَةٍ، وَصَاحِبُ كُلِّ حَسَنَةٍ، وَمُنْتَهَى كُلِّ رَغْبَةٍ.
اے اللہ! آپ ہی میری ہر مشکل میں مضبوط قلعہ ہیں، ہر پریشانی میں میری امید ہیں، اور آپ ہی آنے والی ہر مصیبت میں راحت رساں ہیں، کتنے ہی غم ایسے ہیں جو دلوں کو کمزور کر دیتے ہیں، ان سے چھٹکارے کی راہیں کم ہوجاتی ہیں دوست بھی اس موقع پر ناکام ہوجاتے ہیں، دشمن خوش ہوجاتے ہیں، میں نے آپ سے مانگا اور آپ ہی کی طرف رجوع کیا، آپ کے علاوہ کسی طرف رغبت نہیں ہے، آپ نے میری ان پریشانیوں کو دور کردیا، آپ ہی میری ہر نعمت کے والی ہیں، پر بھلائی میں میرے مددگار وساتھی ہیں، ہر عنایت کی آپ ہی انتہاء ہیں۔
[تاريخ الطبري:5/423، الکامل فی التاریخ (امام)ابن الاثیر:3/169، البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/193، صفة مقتله]













جہاد میں نماز کا اہتمام:
وَدَخَلَ عَلَيْهِمْ وَقْتُ الظُّهْرِ فَقَالَ الْحُسَيْنُ: مُرُوهُمْ فَلْيَكُفُّوا عَنِ الْقِتَالِ حَتَّى نُصَلِّيَ۔
اور جب ظہر(نماز)کا وقت آیا تو سیدنا حسینؓ نے فرمایا: جنگ ملتوی کرلو یہاں تک کہ ہم نماز پڑھ لیں۔
[البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:8/198، صفة مقتله]








Friday, 30 August 2019

بیعت کا معنی، حکم، طریقہ، فوائد کے شرائط اور اقسام

عقیدہ:
بیعت کرنا سنت ہے، فرض یا واجب نہیں۔
تشریح:
البیع کے معنی بیجنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔۔ بایع السلطان ( بادشاہ کی بیعت کرنا ) اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ۔ اس اقرارِ بیعۃ یا مبایعۃ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [سورۃ التوبة:111] تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ میں بیعتِ رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کہ آیت : لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح:18] اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے راضی ہوا ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ ... [ التوبة:111] اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ انکے لئے جنت ہے میں پایا جاتا ہے۔
[تفسیر مفردات القرآن، امام راغب اصفہانیؒ]

اللہ عزوجل نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ [الفتح : 10]
بےشک جنہوں نے بیعت کی ہے آپ ﷺ سے، انہوں نے تو درحقیقت اللہ سے بیعت کی ہے۔

بیعت سنت ہے، لازم نہیں۔
البيعة سنة وليست بواجبه
[القول الجمیل: ص12، فتح البیان فی مقاصد القرآن:13/97]

کسی بزرگ کے ہاتھ پر یہ معاہدہ کرنا کہ میں آئندہ معصیت نہ کروں گا اور تصفیہ قلب کے لیے آپ کی ہدایات پر عمل کروں گا، اس کا نام بیعت ہے۔
 اعلم أن البیعة المتوارثة بین الصوفیة علی وجوہ: أحدہا بیعة التوبة من المعاصي الخ [القول الجمیل: ص12]

یعنی بیعت ایک معاہدہ کرنے کا نام ہے، کسی عالم باعمل، متقی پرہیزگار، مصلح کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر ہرقسم کے گناہ کے کاموں سے توبہ کرے اور صحیح عقائد اوراچھے اعمال پر گامزن رہنے کا وعدہ کرے۔ اخلاقِ رذیلہ کو دور کرنے اور اخلاقِ حسنہ پیدا کرنے کا عہد کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس طرح کا صحابہٴ کرام سے اور بہت سی صحابیات سے عہد لیا تھا۔ اس لیے یہ مسنون طریقہ ہے۔ اس کا فائدہ ظاہر ہے کہ اس کے ذریعہ آدمی اپنے اندر سے تکبر، ریاکاری، حرص و لالچ، حب جاہ، حب مال کو نکال کر اپنے اندر تواضع، اخلاص، خشیتِ الٰہی، اتحاد و اتفاق، محبت و ہمدردی، صلہ رحمی پیدا کرے اور اعلیٰ درجے کے اچھے اخلاق، انسانیت وشرافت سیکھ کر مثالی دین دار، دیانت دار شریف انسان بنے۔ پیر طریقت کی صحبت میں رہ کر یہ اوصاف بہت جلد پیدا ہوجاتے ہیں۔

کسی ’’متبع سنت‘‘ پیرو مرشد سے بیعت ہونا لازم و واجب نہیں لیکن اصلاح نفس و تزکیہ باطن لازم ہے، اور تزکیہ عامةً کسی متبعِ سنت(شیخِ کامل، مرشد، پیر و بزرگ) سے اصلاحی تعلق قائم کئے(صحبت اٹھائے) بغیر دشوار ہوتا ہے، اس لئے اصلاح و تزکیہ کی غرض سے کسی پیر و مرشد سے بیعت ہوجانا بہتر ہے۔


بیعت کے فوائد حاصل کرنے کی 4 شرائط:
اعتقاد، اطلاع ، اتباع اور انقیاد۔

بیعت کی پانچ قسمیں ہیں:
(۱) بیعتِ اسلام۔ (۲) بیعتِ جہاد۔ (۳) بیعتِ خلافت۔ (۴) بیعتِ سلوک۔ (۵) بیعت ِمعاہدہ۔

[القول الجمیل: ص9]

عورتوں سے بیعت:
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّبِىُّ إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلَىٰٓ أَن لَّا يُشۡرِكۡنَ بِٱللَّهِ شَيۡـًٔ۬ا وَلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِينَ وَلَا يَقۡتُلۡنَ أَوۡلَـٰدَهُنَّ وَلَا يَأۡتِينَ بِبُهۡتَـٰنٍ۬ يَفۡتَرِينَهُ ۥ بَيۡنَ أَيۡدِيہِنَّ وَأَرۡجُلِهِنَّ وَلَا يَعۡصِينَكَ فِى مَعۡرُوفٍ۬‌ۙ فَبَايِعۡهُنَّ۔۔۔
اے نبی جب آئیں تیرے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کو اس بات پر کہ شریک نہ ٹھہرائیں اللہ کا کسی کو اور چوری نہ کریں اور بدکاری نہ کریں اور اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں، اور طوفان(الزام) نہ لائیں باندھ کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں، اور تیری نافرمانی نہ کریں کسی بھلے کام میں تو اُنکو بیعت کر لے۔۔۔
[سورۃ الممتحنۃ:12]

بیعتِ سلوک وطریقت:
پھر رسول اللہ ﷺ فرماتے:
«قَدْ بَايَعْتُكِ» كَلاَمًا، وَلاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي المُبَايَعَةِ، مَا يُبَايِعُهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ
میں نے تم کو بیعت کرلیا اور اللہ کی قسم ! بیعت کرتے وقت آپ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو مس Touch نہیں کیا ، آپ ﷺ ان کو صرف اپنے کلام سے بیعت کرتے تھے۔
[بخاری:4891: کتاب تفسیر القرآن : سورة الممتحنۃ]
https://www.youtube.com/watch?v=8YNEUuaEPz0

رسول اللہ ﷺ کے پاس انصاری خواتین دینِ اسلام پر بیعت کیلئے حاضر ہوئیں اور درخواست کی کہ آپ ﷺ اپنا دستِ مبارک آگے فرمائیں تاکہ ہم بھی (مردوں کی طرح) بیعت کرلیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ۔۔۔ میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔
[نسائی:4181 ابن ماجہ:2874]


وَقَدْ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْمَنْصُورِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُ النِّسَاءَ وَعَلَى يَدِهِ ثوب
نبی ﷺ عورتوں سے مصافحہ کرتے اور (وہ اس حالت میں کہ) ان کے ہاتھ پر کپڑا ہوتا تھا۔
[التمهيد لما في الموطأ:12/243]

وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَايَعَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ إِلَّا وَعَلَى يَدِهِ ثَوْبٌ .
نبی ﷺ عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے مگر (صرف اس طریقے سے  کہ) ان کے ہاتھ پر کپڑا ہوتا تھا۔
[التمهيد لما في الموطأ:12/244، شرح الزرقاني على موطأ:4/633]

وَقَدْ جَاءَ فِي أَخْبَارٍ أُخْرَى أَنَّهُنَّ كُنَّ يَأْخُذْنَ بِيَدِهِ عِنْدَ الْمُبَايَعَةِ مِنْ فَوْقِ ثَوْبٍ.
[فتح الباري:8/637 إرشاد الساري:10/268]


عن أم عطية قالت بايعنا رسول الله ﷺ فقرأ علينا أن لا تشركن بالله شيئًا ونهانا عن النياحة فقبضت منا امرأة يدها.
[صحيح البخاري:4829+4829، السنن الكبرى للبيهقي:7104+7105]
يدل على معالجة البيعة باليد.
[الكوكب الدري على جامع الترمذي:2/418]





حضرت عوف بن مالک اشجعیؒ کی روایت ہے کہ ایک موقع پر ہم نو یا آٹھ یا سات افراد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے (تین مرتبہ) فرمایا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے؟ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر عرض کیا کہ یارسول اللہ! کس امر پر بیعت کریں؟ فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے، (احکام کو) سنو گے اور ان کی اطاعت کروگے(اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے)".
[مسلم:1043، (ابوداوؐد:1642) ابن ماجہ:2867 نسائی:460]

نوٹ:
یہ بیعتِ اسلام نہ تھی، وہ پہ؛ے سے ہی مسلمان ہوچکے تھے۔



انصاری عورتوں سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت لی کہ وہ نوحہ نہ کریں گی۔
[نسائی:1852]

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے ۔۔۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تم مجھ سے اس شرط پر بیعت کرو کہ(۱)چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے، (۲)تنگی اور آسانی ہر حال میں خرچ کرنے، (۳)نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے، (۴) اور حق بات کہنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کرنے، (۵)اور میری مدد اور حفاظت کرنے جس طرح اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔
[مسند احمد:14456, صحیح ابن حبان:6273]




شیخ کے ضروری اوصاف یہ ہیں:
(۱) کتاب وسنت کا ضروری علم رکھتا ہو خواہ اساتذہ کرام سے پڑھ کر یا علمائے کرام کی صحبت میں رہ کر، یعنی: صحیح وضروری علم دین اور عقائد حقہ کا حامل ہو۔ (۲) عدالت اور تقوی میں پختہ ہو، بدعات اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو۔ (۳) دنیا سے بے رغبت ہو اور آخرت سے رغبت رکھتا ہو، یعنی: حب جاہ، حب مال، ریا، تکبر، حسد، بغض، کینہ وغیرہ اخلاق رذیلہ کی اصلاح کراچکا ہو۔ اورفرائض اور واجبات کے علاوہ طاعات موٴکدہ اور اذکار منقولہ کا اہتمام رکھتا ہو۔ (۴) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو، ان چاروں کا حاصل یہ ہے کہ ظاہر وباطن ہر اعتبار سے متبع شریعت وسنت ہو۔ (۵) کسی متبع شریعت سنت اور صاحب نسبت شیخ کامل سے اصلاحی تعلق قائم کرکے ان سے سلوک واحسان کی منزلیں طے کی ہوں اور اس شیخ کامل نے اس کے حالات سے مطمئن ہوکر اس پر اعتماد کیا ہو اور اسے خلافت سے نوازا ہو۔ (۶) اور خلافت کے بعد وہ دینی تنزلی وانحطاط کا شکار نہ ہو؛ بلکہ نفس کی نگرانی کے ساتھ محنت ومجاہدات کے ذریعے مزید ترقیات میں کوشاں رہتا ہو۔ پس جس شخص میں یہ امور پائے جائیں، اسے شیخ طریقت بنانا اور اس سے بیعت ہوکر سلوک واحسان کی منزلیں طے کرنا درست ہے.
[فتاوی محمودیہ جدید ڈابھیل ۴: ۳۵۲-۳۵۹، سوال: ۱۴۹۰-۱۴۹۵، القول الجمیل: ص13]




Monday, 19 August 2019

بدترین علماء Scholars



عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسوْلُ اللہِﷺ: يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقىٰ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اِسْمُهُ، وَلَا يَبْقىٰ مِنَ الْقُرْاٰنِ إِلَّا رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدىٰ، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَاۗءِ مِنْ عِنْدِهُمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيْهِمْ تَعُوْدُ۔
ترجمہ:
حضرت علیؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ *عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں صرف اِسلام کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف نقوش باقی رہیں گے۔ اُن کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ اُس زمانہ کے علماء(Scholars) آسمان کے نیچے سب سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ خود اُن ہی میں سے فتنہ پھوٹے گا اور اُنہی میں جاکر ٹھہرے گا۔*
[شعب الإيمان،للبیھقی:1908]

فائدہ:
یہاں علماءِ دنیا Scholars کی مذمت فرمائی گئی ہے جو دین میں لب کشائی کرتے ہیں، جیسے حضرت ابوہريرهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ كُلَّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ جِيفَةُ اللَّيْلِ، حِمَارُ النَّهَارِ، عَالِمٌ بِالدُّنْيَا، جَاهِلٌ بِالْآخِرَةِ»
یعنی
بےشک اللہ عز وجل نفرت رکھتے ہیں ہر بدخلق، اجڈ اور بازاروں میں شور مچانے والے، رات کو گوشت کا لوتھڑا(بغیر سوئے)رہنے والے، دن کے گدھے، *دنیا کے عالم*، آخرت سے جاہل سے۔
[صحيح ابن حبان:72، السنن الكبرى للبيهقي:20804، صحيح الجامع:1879]

لہٰذا، اکثر لوگوں کو آج کی حدیث کا خالی ترجمہ پڑھنے سے دھوکہ ہوجاتا ہے، اور وہ آخرت کی طرف متوجہ رہنے والے اور لوگوں کو توجہ دلانے والے علماء پر اس حدیث کو فِٹ کرتے، خود بھی گمراہ رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دین کی من چاہی تشریح وتفسیر کرنے پر لوگوں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔
https://youtu.be/m0aMa2pLtLQ
*برے علماء کون؟*
(1) اپنے معنی ومطلب کی ملاوٹ سے نئی تفسیر و تشریح کرنے والے یا مکمل بات،معنی ومطلب کو چھپانے والے۔
القرآن:
اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ(اصل حقیقت)تم اچھی طرح جانتے ہو۔
[سورۃ البقرۃ:42]



*(2) بےعمل اسکالرز:*
کیا تم حکم تو کرتے ہو لوگوں کو نیکی کا لیکن بھلادیتے ہو اپنے آپ کو جبکہ(سمجھ کر)پڑھتے بھی ہو کتاب کو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
[سورۃ البقرۃ:44]



*(3) دنیا کیلئے دین کو بدلنے والے:*
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی"قیمت"وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[سورۃ البقرۃ:174]

اے ایمان والو !(یہودی)عالموں اور(عیسائی)راہبوں درویشوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ (رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔)
[سورۃ التوبۃ:34]



*(4) جمہور(اکثر)علماء کی متفقہ باتوں کی مخالفت، علماء سے اعلانیہ چیلنج بازی کرے، لوگوں کو علماء سے متنفر کرے، عوام کو صرف اپنی طرف متوجہ رکھنے کی کوشش کرے۔*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ» ۔
*جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا(بحث)کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے۔*
[ترمذي2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]



*(5) بعد والے یا چھوٹی عمر والے علماء*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَلْتَمِسَ الْعِلْمَ عِنْدَ الْأَصَاغِرِ ".
*قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اصاغر(یعنی چھوٹے عمر والے)لوگوں سے علم حاصل کیا جائے گا۔*
[صحیح الجامع الصغیر:2207]



*(6) نافرمان حکمرانوں کے خلافِ شرع باتوں میں ساتھ دینے والے:*
رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے:
*العلماء أمناء الرسل على عباد الله ما لم يخالطوا السلطان ويداخلوا الدنيا۔۔۔*
علماء الله کے بندوں پر رسولوں کے امین(یعنی حفاظتِ دین کے ذمہ دار)ہیں، بشرطیکہ وہ(ظلم میں)حکمرانوں سے گھل مل نہ جائیں اور (دینی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر)دنیا میں نہ گھس پڑیں...
[جامع الاحادیث:14504]



*(7) بدعات کے حامی اور صحابہ کی فضیلت چھپانے والے:*
رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے:
*إذا ظهرت البدعُ فى أمتى وشُتِمَ أصحابى فليُظْهِر العالمُ علمَه فإنْ لم يفعلْ فعليه لعنةُ اللهِ۔*
جب میری امت میں بدعتیں نکالی جائیں اور میرے صحابہ کو برا کہا جاۓ تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم(سنت)کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرےگا تو اس پر لعنت(یعنی رحمت سے دوری)ہے الله کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی بھی.
[الشریعۃ،لامام آجری:2875]
جامع الاحادیث:2336
الاعتصام،لامام شاطبی:1/104
مفتاح الجنۃ،للسیوطی:1/66
فیض القدیر،للمناوی:1/401


Wednesday, 3 July 2019

فضیلتِ فقہ اور مقامِ فقہاء

فقہ کسے کہتے ہیں؟
امام راغب اصفھانی(م502ھ) لکھتے ہیں:
الفقہ کے معنی علمِ حاضر سے علمِ غائب تک پہنچنا کے ہیں ، قرآن میں ہے:
فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً ۔۔۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ حدیث(بات)کی فقہ(سمجھ)نہیں پارہے ہیں۔[ النساء: 78]
وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ۔۔۔۔۔ لیکن منافقین فقہ(سمجھ)نہیں رکھتے۔[المنافقون:7]
[مفردات في غريب القرآن: ص ؍ 642]


یعنی فقہ وہ باطنی علم کی گہرائی ہے جو ظاہری الفاظ کے سرسری پڑھ یا سُن لینے سے نہیں حاصل ہوتی، بلکہ اس کیلئے مسلسل فکرونظر کی ضرورت پڑتی ہے۔



فقہ کے فضائل:
اللہ عزوجل نے فقہ حاصل کرنے کو مسلمانوں پر فرضِ کفایہ(کہ ایک گروہ ادا کردے تو باقی لوگ سبکدوش ہوجاتے ہیں)کرتے فرمایا:
 اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں) وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو خبردار کریں، تاکہ وہ بچ کر رہیں۔
[سورۃ التوبۃ:122]

فقہاءِ دین کی ظاہری صفات؟
(1)  جو دین میں سمجھ حاصل کرنے کیلئے ’’محصور‘‘ رہیں۔
(2)  اور اپنی قوم کو ’’خبردار‘‘ کرنے والے ہوں، بشرطیکہ قوم ان کے پاس آئے یعنی اعتماد کرے۔
(3)  تاکہ وہ انہیں (گناہوں کے سبب اللہ کے عذاب) سے ’’بچانے‘‘ کا سبب بنیں۔



رسول اللہ ﷺ سے اس کی فضیلت میں کئی احادیث بھی مروی ہیں:
مَنْ يُرِدْ اللہُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"۔
اللہ تعالیٰ جس کے حق میں بہتری چاہتے ہیں، اس کو دین کا تفقہ عطا فرماتے ہیں۔
[صحیح بخاری:71، صحیح مسلم:1037، سنن ابن ماجہ:221]

«فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ»
ایک فقیہ(عالم) شیطان پر ہزارعابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔
[سنن ابن ماجہ:222، الأحاديث المختارة:126]

اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے گا جو ہماری بات (حدیثسن کر اسے محفوظ (یادکرلے اور اسے پھر دوسرے اس شخص تک پہنچادے جس نے اسے براہ راست نہیں سنا کیونکہ بہت سے فقہ (علمِ حدیث) کے محافظ حقیقتاً   * فقیہ (دینی سمجھ رکھنے والا عالم) نہیں ہوتے * اور بہت سے فقیہ (علمِ حدیث کی فقہ رکھنے والے) تو ہیں لیکن جن کی طرف (یہ فقہ) منتقل کر رہے ہیں * وہ ان سے زیادہ فقیہ ہیں * ....
[سنن ابوداؤد:3660، سنن ترمذی: 2656، سنن ابن ماجه:230]


بےشک لوگ تمہاری(اے میرے ساتھیو!) ’’اتباع‘‘ کریں گے اور زمین کے کناروں سے دین کی فقہ (گہری سمجھ) حاصل کرنے آئیں گے، تو میری طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو.
[سنن ترمذی:2650، سنن ابن ماجہ:249، مسند الشاميين للطبراني:405]

جو شخص الله کے دین میں فقہ(سمجھ بوجھ)حاصل کرتا ہے، الله تعالیٰ اس کے کاموں میں اس کی کفایت فرماتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہ گیا ہو.
[مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم: رقم الحديث:4]





فقہ کی اہمیت حدیث کے ائمہ(اماموں)کی نظر میں:
(1) امام اعمشؒ نے امام ابوحنیفہؒ کی گہری سمجھ سے متاثر ہوکر بے ساختہ فرمایا:
یعنی
آپ طبیب(Doctor) ہیں اور ہم لوگ عطار(Pharmacists) ہیں.
[جامع بيان العلم وفضله، (امام) ابن عبد البر  » بَابُ ذِكْرِ مَنْ ذَمَّ الإِكْثَارَ مِنَ الْحَدِيثِ ...، رقم الحديث: 1195]
جیسے
علامہ سیوطیؒ(المتوفى: 911ه) ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں لکھتے ہیں :
قَالَتِ الْأَقْدَمُونَ: الْمُحَدِّثُ بِلَا فِقْهٍ كَعَطَّارٍ غَيْرِ طَبِيبٍ، فَالْأَدْوِيَةُ حَاصِلَةٌ فِي دُكَّانِهِ وَلَا يَدْرِي لِمَاذَا تَصْلُحُ، وَالْفَقِيهُ بِلَا حَدِيثٍ كَطَبِيبٍ لَيْسَ بِعَطَّارٍ يَعْرِفُ مَا تَصْلُحُ لَهُ الْأَدْوِيَةُ إِلَّا أَنَّهَا لَيْسَتْ عِنْدَهُ.
[الْحَاوِي لِلْفَتَاوِي: جلد 2 صفحہ 398(2/277)]
ترجمہ: پہلے اہلِ علم نے کہا ہے کہ وہ محدث جو فقہ نہ جانتا ہو اس عطار(دوا فروش) کی طرح ہے جو طبیب (ڈاکٹر) نہ ہو، سب دوائیں اس کی دکان میں موجود ہوتی ہیں اور وہ نہیں جانتا کہ وہ کس مرض کا علاج ہیں۔ اور فقیہ بلاحدیث اسی طرح ہے جیسے وہ طبیب جو جانتا تو ہے کہ یہ دوائیں کس مرض کی ہیں مگر وہ رکھتا نہیں۔


(2) حافظ ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
عن الْإِمَامُ أَحْمَدُ قَالَ: إذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ الْكُتُبُ الْمُصَنَّفَةُ فِيهَا قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاخْتِلَافُ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَعْمَلَ بِمَا شَاءَ وَيَتَخَيَّرَ فَيَقْضِيَ بِهِ وَيَعْمَلَ بِهِ حَتَّى يَسْأَلَ أَهْلَ الْعِلْمِ مَا يُؤْخَذُ بِهِ فَيَكُونُ يَعْمَلُ عَلَى أَمْرٍ صَحِيحٍ.
[اعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ44(1/35)]
ترجمہ:
امام احمدؒ (م241ھ) سے مروی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس حدیث کی کتابیں ہوں تو اس کے لئے جائز نہیں کہ جس پر چاہے عمل کر لے اور جو قول چاہے اختیارکرلے اور اس کے مطابق فیصلہ دے جب تک علماء سے نہ پوچھ لے کہ کون سی بات اختیار کرنی ہے۔ اس صورت میں اس کا عمل صحیح طریق پر ہوسکے گا۔

پہلے دنوں وہ اہلِ علم جن کی بات سند سمجھی جائے ”فقہاء“ کہلاتے تھے۔


(3) امام شافعیؒ کے شاگرد امام مزنیؒ (المتوفى: 264هـ) جو امام طحاویؒ کے استاد اور ماموں تھے فرماتے ہیں:
فَانْظُرُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَحَادِيثِكُمُ الَّتِي جَمَعْتُمُوهَا، وَاطْلُبُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَهْلِ الْفِقْهِ تَكُونُوا فُقَهَاءَ۔
[الفقیہ والمتفقہ: جلد 2 صفحہ15(2/35)]
ترجمہ:
اللہ تم پر رحم کرے، ان احادیث پر جو تم نے جمع کیں نظر رکھو اور علم اہلِ فقہ سے حاصل کرو۔ تم خود بھی فقہاء(میں)بن جاؤگے۔


(4) امام ترمذیؒ(م279ھ ) ایک بحث میں لکھتے ہیں:
وَكَذَلِكَ قَالَ الفُقَهَاءُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِمَعَانِي الحَدِيثِ۔
[جامع ترمذی: جلد 1 صفحہ118  (3/306)]
ترجمہ: *اور یہی بات فقہاء نے کہی ہے اور فقہاء ہی حدیث کے معنی بہتر جانتے ہیں۔*



(5) حافظ ابن رجب حنبلیؒ(795ھ) اپنے رسالہ ’’الطیبۃ النافعۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:
فأما الأئمة وفقهاء أهل الحديث فإنهم يتبعون الحديث الصحيح حيث كان إذا كان معمولا به عند الصحابة: ومن بعدهم: أو عند طائفة منهم فأما ما اتفق على تركه فلا يجوز العمل به لأنهم ما تركوه إلا على علم أنه لا يعمل به قال عمر بن عبد العزيز خذوا من الرأي ما يوافق من كان قبلكم فإنهم كانوا أعلم منكم.
[فضل علم السلف علم الخلف: صفحہ4]
ترجمہ:
تو ائمہ اور فقہاءِ حدیث، حدیث صحیح کی پیروی کرتے ہیں، وہ جہاں بھی ہو بشرطیکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین کے ہاں یا ان کے کسی ایک حلقے میں عمل میں رہی ہو لیکن جب اسے سب نے چھوڑ رکھا ہو تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ ان حضرات نے اسے کسی علم کی بناء پر ہی چھوڑا ہوگا۔

ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقہ اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں، فقہ حدیث کا غیر نہیں، حدیث قالب(body) ہے تو فقہ روح(sprit) ہے، حدیث متن(Statement) ہے تو فقہ تشریح (Explanation) ہے - فقہاء نے کبھی قیاس(Logic) اور استنباط(elicitation) کو نص(Text) پر مقدم(forefront) نہیں کیا۔

مزید دیکھیئے: امام خطیب البغدادی(المتوفى: 463هـ) کی کتاب ’’الفقيه و المتفقه‘‘ کو۔