Sunday, 27 October 2019

لغوی اور اصطلاحی معنیٰ میں فرق

لغوی اور اصطلاحی معنیٰ میں فرق:
لفظ کا وہ اصلی معنیٰ جو اہلِ زبان مراد لیتے ہیں اسے لغوی معنیٰ کہتے ہیں۔ اور لفظ کا وہ معنیٰ جو (1)ماہرِ زبان Linguists یا (2)اہلِ علاقہ یا (3)اہلِ فن ’’متعین‘‘ کرلیں اسے اصطلاحی(یا عُرفی) معنیٰ کہتے ہیں۔




Saturday, 7 September 2019

پیغامِ کربلاء


اسوۂ حسینؒ» حفاظتِ دینِ نبوی:


سیدنا حسینؒ کا وہ خط جو اہلِ بصرہ کو لکھا تھا، میں یہ فرمایا:
وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ، فَإِنَّ السُّنَّةَ قَدْ أُمِيتَتْ، وَإِنَّ الْبِدْعَةَ قَدْ أُحْيِيَتْ
ترجمہ:
*میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ (کی حفاظت اور پھیلانے) کی طرف، کیونکہ سنت مِٹ رہی ہے، اور بدعات زندہ کی جارہی ہیں۔*


---

حاصل اسباق اور نکات

1. سنت کی حفاظت ذمہ داری ہے: جب سنت کو "مار دیا جائے" اور بدعت کو "زندہ کر دیا جائے" تو خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں۔ اس صورت میں حق گو افراد کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
2. دعوتِ حق کا طریقہ: سیدنا حسینؑ نے لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف بلایا — یہی انقلابی تحریک کا اصل مقصد تھا، محض حکومت حاصل کرنا نہیں تھا۔
3. باطل کی شناخت: "سنت کا مرنا" اور "بدعت کا زندہ ہونا" ظالم حکمرانی کی دو بڑی علامات ہیں، جن کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
4. حقیقی اصلاح کا راستہ: اصلاحِ امت صرف کتاب اللہ اور سنت نبویﷺ کی پیروی سے ممکن ہے، نہ کہ نئی ایجادات یا بدعات سے۔
5. مظلوم کا کردار: سیدنا حسینؑ نے اپنی مظلومیت کے باوجود اعلانِ حق کیا اور لوگوں کو راہِ رشد کی طرف بلایا — یہ اسوۂ حسنہ ہے۔
6. دعوت میں شفافیت: آپ نے اپنے خط میں کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں رکھا، بلکہ کھلے الفاظ میں اپنا مقصد اور اپنی اہلیت بیان کی۔
7. ذمہ داری کا احساس: جب دین کے بنیادی اصول خطرے میں ہوں تو علماء اور رہنماؤں پر فرض ہے کہ وہ عوام کو بیدار کریں — جیسا کہ سیدنا حسینؑ نے کیا۔








Friday, 30 August 2019

بیعت کا معنی، حکم، طریقہ، فوائد کے شرائط اور اقسام

عقیدہ:
بیعت کرنا سنت ہے، فرض یا واجب نہیں۔
تشریح:
البیع کے معنی بیجنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔۔ بایع السلطان ( بادشاہ کی بیعت کرنا ) اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ۔ اس اقرارِ بیعۃ یا مبایعۃ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [سورۃ التوبة:111] تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ میں بیعتِ رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کہ آیت : لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح:18] اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے راضی ہوا ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ ... [ التوبة:111] اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ انکے لئے جنت ہے میں پایا جاتا ہے۔
[تفسیر مفردات القرآن، امام راغب اصفہانیؒ]

اللہ عزوجل نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ [الفتح : 10]
بےشک جنہوں نے بیعت کی ہے آپ ﷺ سے، انہوں نے تو درحقیقت اللہ سے بیعت کی ہے۔

بیعت سنت ہے، لازم نہیں۔
البيعة سنة وليست بواجبه
[القول الجمیل: ص12، فتح البیان فی مقاصد القرآن:13/97]

Monday, 19 August 2019

برے علماء کون؟



برے علماء کون؟
(1) اپنی رائے کی "ملاوٹ" سے نئی تفسیر و تشریح کرنے والے یا مکمل بات کو "چھپانے" والے۔
القرآن:
اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ(اصل حقیقت)تم اچھی طرح جانتے ہو۔
[سورۃ البقرۃ:42]




(2) بےعمل اسکالرز:
کیا تم حکم تو کرتے ہو لوگوں کو نیکی کا لیکن بھلادیتے ہو اپنے آپ کو جبکہ(سمجھ کر)پڑھتے بھی ہو کتاب کو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
[سورۃ البقرۃ:44]




(3) دنیا کیلئے دین کو بدلنے والے:
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی"قیمت"وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[سورۃ البقرۃ:174]

اے ایمان والو !(یہودی)عالموں اور(عیسائی)راہبوں درویشوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ (رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔)
[سورۃ التوبۃ:34]






(4) جمہور متقدمین علماء سے اختلاف رکھنے سے بڑھ کر مخالفت ومقابلہ كرے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ» ۔
ترجمہ:
جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا(بحث)کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے۔
[ترمذي2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]
تشریح:
جو علم حاصل کرے یعنی وہ بعد والا چھوٹا-اکیلا شخص ہے جو پہلے والے بڑے اور بہت سے علماء سے صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ مخالفت ومقابلہ کرے، تاکہ سستی اور جلد شہرت پائے تو یہ نافرمانی گناہِ کبیرہ ہی نہیں بلکہ "فساد" ہے، جو صرف نافرمان کو ہی نقصاندہ نہیں بلکہ خالق کی مخلوق اور دین میں بگاڑ پیدا کرنا ہے، جو قرآن کے مطابق لوگوں کو قتل کرنے سے بھی زیادہ سخت[سورۃ البقرۃ:191] اور بڑا [سورۃ البقرۃ:217] گناہ ہے کیونکہ قتل کرنے سے اس مقتول کا صرف دنیاوی نقصان ہوا، لیکن جو دین کو بگاڑے اور لوگوں کو گمراہ کرے وہ تو آخرت کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔

ایسا شخص کم علم عوام سے بحث کرتا ہے تو اس کا ارادہ ومقصد انہیں اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے، اور جب یہ خود جہنم میں داخل ہوگا تو اس کے پیروکاروں کا انجام کیا ہوگا۔

اس حدیث میں بڑی اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً تو اسلام کی ترقیات وفتوحات کا ذکر کیا، پھر کچھ علماء وقُراء کا ذکرکیا، جو خود پسندی یا اَنانیت میں مبتلا ہوں گے کہ بڑے پرانے علماء کی بڑی جماعت کی اختلافی رائے کا علمی حق کے نام پر ان سب کو گمراہ قرار دے گا۔ اور اس گروہ کو اس طور پر ذکر کیا ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقیات اور فتوحات میں یہی لوگ رکاوٹ ہیں؛ کیوں کہ اس گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد بہ طورِ تقابل پیش کیا ہے۔
یہ بڑی قابلِ عبرت بات ہے اور سو فیصد صحیح ہے ، کیوں کہ خود پسندی اور اَناپرستی کی وجہ سے یہ لوگ نہ علمائے حق کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ علمائے حق کو آگے آنے دیتے ہیں؛ بل کہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں اپنی ہمت اور وقت واستعداد خرچ کرتے ہیں، مقصد صرف اپنی اَنا کی تسکین اور اپنی عزت وشہرت کا بقا وتحفظ ہوتا ہے؛ پھر دین کو ترقی کیسے ہوگی اور فتوحات کا دروازہ کہاں سے کھلے گا؟اس سے معلوم ہوا کہ علمائے سُو ہی اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں؛ لہٰذا اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں سے مراد علمائے سُو ہیں، جوصرف اپنے دنیوی مفادات اور نام وشہرت کے لیے دینی علوم حاصل کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔


Wednesday, 3 July 2019

فضیلتِ فقہ اور مقامِ فقہاء

فقہ کسے کہتے ہیں؟
فقہ کی لغوی معنی ﴿سمجھ، فہم﴾ ہے۔

فقہ کی اصطلاح معنیٰ:
امام راغب اصفھانی(م502ھ) لکھتے ہیں:
الفقہ کے معنی علمِ حاضر سے علمِ غائب تک پہنچنا کے ہیں ، قرآن میں ہے:
فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً
۔۔۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ حدیث(بات)کی فقہ(سمجھ)نہیں پارہے ہیں۔
(سورۃ النساء: 78)
وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ۔۔۔۔۔ لیکن منافقین فقہ(سمجھ)نہیں رکھتے۔(سورۃ المنافقون:7)[مفردات في غريب القرآن: ص ؍ 642]

یعنی فقہ وہ باطنی علم کی گہرائی ہے جو ظاہری الفاظ کے سرسری پڑھ یا سُن لینے سے نہیں حاصل ہوتی، بلکہ اس کیلئے مسلسل فکرونظر کی ضرورت پڑتی ہے۔



Wednesday, 29 May 2019

فوت شدہ نمازوں کی قضا کے احکام ومسائل


قضا کے معنیٰ:
القضاء کے معنیٰ قولا یا عملا کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں، اور قضاءِ (1)قولی اور (2)عملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں:

(1)قضاءِ الہیٰ اور (2)قضاءِ بشری، چناچہ قضاءِ الہیٰ کے متعلق فرمایا:۔
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ
ترجمہ:
اور تمہارے پروردگار نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو
[سورۃ الإسراء:23]
القرآن:
فَاِذَا قَضَيۡتُمُ الصَّلٰوةَ
ترجمہ:
پھر جب تم پوری کرچکو نماز۔۔۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 103]

Thursday, 21 March 2019

اللہ کے راستے۔۔۔اللہ کی راہیں


اللہ کی خاطر کی گئی ہر نیکی، اللہ کے راستے ہیں:
القرآن:
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[سورۃ العنکبوت:69]

امام مُجَاهِدٌ نے فرمایا:
«لَيْسَ سَبِيلُ الله وَاحِدًا، كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فهو فِي سَبِيلِ الله»
ترجمہ:
"اللہ کا راستہ صرف ایک نہیں ہے۔ ہر نیک عمل جو بھی کیا جائے، وہ اللہ کے راستے میں ہے۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ:30839]

تشریح:
یہ عبارت دو اہم نکات پر روشنی ڈالتی ہے:  
1. اللہ تک پہنچنے کے راستوں کی کثرت:
پہلا جملہ "لَيْسَ سَبِيلُ الله وَاحِدًا" اس تصور کو رد کرتا ہے کہ اللہ کی رضا صرف ایک مخصوص طریقے یا رسمی عبادت تک محدود ہے۔ یہ تنگ نظری اور جمود کے خلاف ایک واضح بیان ہے، جو بتاتا ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے مختلف مظاہر بھی اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔  

2. ہر نیکی کو اللہ کا راستہ قرار دینا:
دوسرا حصہ "كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فهو فِي سَبِيلِ الله" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کوئی بھی اچھا کام، چاہے وہ مالی مدد ہو، علمی خدمت ہو، یا معاشرتی بہتری، اگر نیک نیت سے کیا جائے تو وہ "اللہ کے راستے" میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ایمان صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نیکی اور احسان (بہترین عمل) کو شامل کرتا ہے۔  

نوٹ:
- قرآن و حدیث میں "سَبِيلِ الله" کا لفظ اکثر جہاد(یعنی اللہ کی اطاعت میں مشقت اٹھانے) یا مالی قربانیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے سورۃ التوبہ:24، التوبہ:60)، لیکن یہاں اس کا دائرہ وسیع کرکے ہر نیک عمل کو شامل کیا گیا ہے۔  
- یہ تصور "نیت" کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے، کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" (صحیح بخاری:1)۔  
- یہ فقرہ اسلامی اخلاقیات کی وسعت کو بیان کرتا ہے، جس کے مطابق ہر وہ کام جو معاشرے کی بہتری یا کسی کی مدد کے لیے ہو، شرک اور گناہ سے پاک ہونے کی شرط پر، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔  

خلاصہ:
اس عبارت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین کو تنگ دائرے میں نہ سمجھا جائے۔ ہر نیک عمل، چھوٹا ہو یا بڑا، اگر خلوصِ نیت سے کیا جائے تو وہ اللہ کے راستے میں قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ نظریہ انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Wednesday, 20 February 2019

گمراہی کے اسباب اور علاج

(1) اللہ کی کتاب کو چھوڑنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ
ترجمہ:
۔۔۔اور تحقیق میں چھوڑے جا رہا ہوں تم میں اللہ کی کتاب، نہیں تم گمراہ ہوگے اگر تم اسے مضبوط پکڑوگے۔۔۔
[مصنف ابن أبي شيبة:32072، صحیح مسلم:1218، سنن ابوداؤد:1905، المنتخب من مسند عبد بن حميد:858+1135، أخبار مكة للفاکھی:1891، السنة لابن أبي عاصم:1556، السنن الكبرى للنسائی:3987، المنتقى لابن الجارود:469 صحیح ابن خزیمۃ:2809، صحیح ابن حبان:1457+3944، المستدرك الحاكم:318(321)، حجة الوداع لابن حزم:92، السنن الكبرى للبيهقي:8827، مستخرج أبي عوانة:3922]



تشریح:
"اور آپ نے صرف کتاب (اللہ) پر اکتفا فرمایا؛ کیونکہ وہ سنت پر عمل پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: 'اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو' (النساء: 59) اور فرمان: 'رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ' (الحشر: 7) کی وجہ سے۔ اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمسک کرنے میں اصل اور بنیادی اصول کتاب (اللہ) ہی ہے۔"

(1)شرح امام الطيبي الشافعی(م560ھ):
آپ ﷺ کے قول "لن تضلوا بعده" (تم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے) کے معنی ہیں: اس (کتاب) سے تمسک کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد۔
اور لفظ "کتاب" (کا منصوب ہونا) "ما" سے بدل ہے یا اس کا بیان۔ اور ابہام کے بعد تفسیر (تفصیل) کرنا قرآن کے شان کو عظمت دینے کے لیے ہے۔
اور اس کلام کے بعد یعنی "وقد تركت فيكم" (اور بے شک میں نے تم میں چھوڑا ہے) – یہ پچھلا کلام – تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔
[شرح المشكاة للطيبي:2553، ج6 / ص1966]۔

(2)امام ابن هبيرة الحنبلی(ت560هـ) :
"اور آپ ﷺ کا یہ فرمان۔۔۔اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتاب اللہ ہی ہدایت کا ذریعہ ہے؛ پس جو شخص اسے تھامے رکھے گا وہ گمراہ نہیں ہو گا۔"
"اور کتاب اللہ ہی میں یہ فرمان ہے: {رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ}، پس کتاب اللہ سے تمسک کرنا ہر اس چیز (سنت نبوی وسنت الخلفاء راشدین) سے تمسک کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔"








تخریج:
(1)حديثِ ابن عباسؓ
[بيهقى:20123، حاكم:318]
(2)حديثِ ابوھریرہؓ
[حاكم :٣١٩، دارقطنى (٤/٢٤٥)]
(3)حديثِ زيد بن ثابتؓ:
إنى تارك فيكم كتاب الله هو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة۔
ترجمہ:
میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب چھوڑ رہا ہوں۔ یہ اللہ کی رسی ہے۔ جو اس کی پیروی کرتا ہے وہ راہ راست پر ہے اور جو اسے چھوڑتا ہے وہ غلط راستے پر ہے۔
[مصنف ابن أبى شيبة:30078، صحیح ابن حبان:123]

نوٹ:
اس میں نہ "سنتی" کا ذکر ہے اور نہ "وعترتى أهل بيتى" کا۔