Thursday, 21 October 2021

اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کی خاطر نفرت کیا ہے؟


اللہ سے محبت کی علامت» اللہ والوں سے محبت کرنا۔
القرآن:
...اور جو کوئی ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے وہ ان سے محبت کرتے ہیں۔۔۔
[سورۃ الحشر:9]
یعنی جو لوگ  نافرمانی پر لانے والے نافرمانوں کو چھوڑ کر آتے ہیں ان اللہ والوں سے یہ اللہ والے محبت کرتے ہیں۔
حدیثِ قدسی:
میری خاطر محبت کرنے والوں، میری خاطر مجلسیں قائم کرنے والوں، میری خاطر ایک دوسرے سے ملنے والوں اور میری خاطر خرچ کرنے والوں کے لئے میری محبت واجب ہو گئی۔
[صحیح ابن حبان:575]
(1)انبیاء (2)صحابہ (3)اولیاء (4)علماء (5)صلحاء (6)مساکین سے محبت رکھنا خالص اللہ کیلئے محبت ہے، لہٰذا ان سے محبت کریں، ان کے ساتھ بیٹھیں، ان سے ملنے جائیں، ان پر خرچ کریں۔

Saturday, 16 October 2021

اسلام میں خوشی منانے کا تصور اور جائز وناجائر طریقے

خوشی غمی میں بھی عدل (حق بات/طریقہ) سے بےاعتدالی ہوجاتی ہے، لہٰذا خوشی کا عدل جاننے، مانگنے اور ماننے کی ضرورت ہے۔


ناحق خوشی پر لوگوں کے سامنے اکڑنا:

القرآن:

ان سے یہ پہلے ہی کہہ دیا گیا ہوگا کہ : یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق بات پر خوش ہوتے تھے اور اس لیے کہ تم زمین میں اکڑ دکھاتے تھے۔

[سورۃ غافر:75]

Monday, 4 October 2021

قرطاس کی حدیث اور واقعہ


لکھوانے والی بات لکھوا دی جاچکی۔

لکھوانے کا حکم کسے دیا گیا تھا؟

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک طبق لانے کا حکم دیا تاکہ آپ اس میں ایسی ہدایات لکھ دیں جن کی موجودگی میں نبی ﷺ کے بعد امت گمراہ نہ ہوسکے، مجھے "اندیشہ" ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کاغذ لینے کے لیے جاؤں اور پیچھے سے نبی ﷺ کی روح پرواز کرجائے، اس لیے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے زبانی بتا دیجئے، میں اسے یاد رکھوں گا، فرمایا: میں نماز اور زکوۃ کی وصیت کرتا ہوں، نیز غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتا ہوں۔ 

حوالہ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، قَالَ: فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي. قَالَ: " أُوصِي ‌بِالصَّلاةِ، ‌وَالزَّكَاةِ، ‌وَمَا ‌مَلَكَتْ ‌أَيْمَانُكُمْ۔

[مسند أحمد:693، الأدب المفرد:156، الأحاديث المختارة:762]


اگر اس کے علاوہ کوئی اور بات بھی ہوتی تو اللہ کی گواہی ہے کہ:

نبی ﷺ غیب کی بات چھپانے والے نہیں۔

[سورۃ التکویر:24]



کیوں حضرت علیؓ نے پہلے خود نہ پوچھا؟ 

حضرت علیؓ رسول اللہ ﷺ کے یہاں سے واپس آئے، یہ رسول اللہ ﷺ کے مرض موت کا واقعہ ہے، صحابہ کرام نے پوچھا: ابو الحسن! رسول اللہ کی طبیعت کیسی ہے؟ کہا: الحمد اللہ! کافی بہتر ہے، پھر سیّدنا عباس بن عبدالمطلب نے سیّدنا علی کا ہاتھ تھام کر فرمایا: اللہ کی قسم! تین دن بعد آپ محکوم ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! مجھے آثار نظر آرہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اس مرض سے جانبر نہیں ہو سکیں گے، مجھے خوب شناخت ہے کہ وفات کے وقت بنی عبد المطلب کے چہرے کیسے ہوتے ہیں، ہمیں آپ کے پاس چلنا چاہیے اور پوچھنا چاہئے کہ خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے، اگر کوئی دوسرا ہے تو بھی پتا چل جائے اور اس کے بارے میں ہمیں وصیت فرما دیں، حضرت علیؓ نے کہا: اللہ کی قسم! اب اگر پوچھا اور نبی کریم ﷺ نے انکار کر دیا تو لوگ ہمیں کبھی خلافت نہیں دیں گے، میں تو نہیں پوچھوں گا۔

[صحیح البخاری :4447]




خلافت کیلئے نبی ﷺ کا رجحان کس کیلئے تھا؟

سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے مرض الموت میں فرمایا تھا:

ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ ‌يَتَمَنَّى ‌مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ

ترجمہ:

اپنے والد ابوبکر اور بھائی عبدالرحمن کو بلائیں تاکہ میں تحریر لکھ دوں، میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ کوئی خلافت کا متمنی کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مومن ابوبکر کے علاوہ انکار کردیں گے۔

[مسند الامام أحمد:24751، صحیح مسلم :2387، صحيح ابن حبان:6598]





تبھی تو حضرت علیؓ نے فرمایا:

آگے رکھا رسول الله ﷺ نے ابوبکر کو، اور یقیناً میں دیکھ رہا تھا اپنی جگہ سے، اور میں صحتمند بھی تھا مریض نہ تھا، اور میں میں حاضر بھی تھا غائب نہ تھا، اور اگر میں ارادہ کرتا آگے بڑھنے کا تو یقیناً بڑھ سکتا تھا، بس ہم راضی ہوئے اپنے دین کیلئے جس سے راضی تھے رسول اللہ ﷺ ہماری دنیا کیلئے۔

حوالہ

قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ,وَقَدْ رَأَى مَكَانِي,وَمَا كُنْتُ غَائِبًا وَلَا مَرِيضًا,وَلَوْ أَرَادَ أَنْ يُقَدِّمَنِيَ لَقَدَّمَنِي,فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَنْ رَضِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِدِينِنَا۔

[ابن بطة:218، الآجري:1193]



جب قبض کیا گیا نبی ﷺ (کی روح)کو ہم نے نظر کی ہمارے معاملہ(امارۃ وخلافت)میں، تو ہم نے پایا کہ نبی ﷺ نے آگے کیا ابوبکر کو نماز میں، تو ہم بھی راضی ہوئے اپنی دنیا کیلئے جیسے راضی تھے نبی ﷺ ہمارے دین کیلئے، لہٰذا آگے رکھا ہم نے ابوبکر کو۔

حوالہ

«لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ ﷺ نَظَرْنَا فِي أَمْرِنَا، فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ ﷺ قَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ، فَرَضِينَا لِدُنْيَانَا مَا رَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِدِينِنَا، فَقَدَّمْنَا أَبَا بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ»

[السنة-أبي بكر بن الخلال:333]






حضرت ابن عباسؓ سے لمبی روایت میں ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔آخر نبی ﷺ نے اپنی وفات کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ (1)یہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کردینا۔ (2)دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا ‘ جیسے میں کرتا رہا (ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔

حوالہ

۔‌۔۔۔۔وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ، قَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ، أَوْ قَالَ: فَنَسِيتُهَا.»

[صحیح بخاری:3053+ 3168+ 4431، صحيح مسلم:1637، السنن الكبرى للنسائي:5823]








سب سے آخری کلام:

(نبی کے بیوی اور مومنین کی ماں)حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی آخری وصیت یہ تھی کہ (1)نماز کا خیال رکھنا (2)اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی ﷺ کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔

حوالہ

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ مِنْ آخِرِ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، ‌وَمَا ‌مَلَكَتْ ‌أَيْمَانُكُمْ۔ حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ، وَمَا يَفِيصُ بِهَا لِسَانُهُ۔

[مسند أحمد:26483+ 26657+ 26684، سنن ابن ماجه:1625، السنن الكبرى للنسائي:7060+7061+7063، صحيح الترغيب والترهيب:2286، صحيح الجامع الصغير:3873، سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌868]






📌 خلاصہ واقعہ (حدیث قرطاس)

رسول اللہ ﷺ کی آخری بیماری کے دوران، جب آپ شدید تکلیف میں تھے، آپ نے فرمایا:

"میرے پاس قلم اور کاغذ لاؤ، میں تمہارے لیے ایک کتاب لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔"

صحابہ کرام میں دو رائے ہو گئیں:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ پر درد کا غلبہ ہے، ہمارے پاس قرآن ہی کافی ہے۔

دوسرے صحابہ نے کہا: نبی ﷺ جو چاہتے ہیں، انہیں لکھنے دیں۔

تھوڑا شور و غل ہوا تو نبی ﷺ نے خود فرمایا: "میرے پاس سے اٹھ جاؤ" اور پھر آپ نے تین وصیتیں زبانی فرمائیں:

مشرکین کو جزیرہ نما عرب سے نکال دو۔

آنے والے وفود کو اسی طرح عزت دو جیسے مجھے ملتی تھی۔

تیسری وصیت بھولی جا چکی ہے (بعض روایات میں اسے نماز و زکاۃ سے تعبیر کیا گیا ہے)۔

یہ ہے پوری کہانی۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے صحابہ کی بے ادبی یا نبی ﷺ کی توہین ثابت ہوتی ہو۔


⚖️ کیا صحابہ نے نبی ﷺ کی بات ماننے سے انکار کیا؟

نہیں، ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:


نبی ﷺ نے خود وصیت لکھنے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ صحابہ میں اختلاف ہو رہا تھا۔ اگر آپ واقعی اسے ضروری سمجھتے تو اپنے حکم پر اصرار کرتے، جیسا کہ دوسرے مواقع پر کیا۔ لیکن آپ نے فرمایا: "مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے" – اس سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی واجب چیز نہیں تھی۔


حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد نبی ﷺ کی بے عزتی نہیں بلکہ شفقت تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ بے حد تکلیف میں ہیں، اور قرآن پہلے سے موجود ہے، اس لیے آپ کو مزید مشقت میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔ ان کا قول تھا: "إن النبي صلى الله عليه وسلم غلبه الوجع" (نبی ﷺ پر درد کا غلبہ ہے) – یہ کوئی الزام نہیں بلکہ حقیقت بیان تھی۔


نبی ﷺ نے کسی صحابی کو ڈانٹا نہیں، نہ ان پر غصہ کیا۔ آپ نے صرف اتنا کہا: "قوموا عنی" (میرے پاس سے اٹھ جاؤ)۔ اگر یہ کوئی بڑی معصیت ہوتی تو آپ خاموش نہ رہتے۔


یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب صحابہ کا آپس میں اختلاف ہوا ہو۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ قربانی کر کے احرام کھول دیں، مگر وہ کچھ دیر ٹھہرے رہے۔ آپ نے انہیں ڈانٹا نہیں، بلکہ خود اپنے ہاتھ سے پہلے قربانی کی، پھر سب نے عمل کیا۔ اسی طرح بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی اختلاف ہوا۔ یہ سب صحابہ کے اجتہادی اختلافات تھے، جنہیں نبی ﷺ نے برداشت کیا۔


❌ کیا کسی صحابی نے نبی ﷺ کو "ہذیان گو" کہا؟

یہ سب سے بڑا غلط فہمی ہے۔ کسی بھی صحیح روایت میں یہ ثابت نہیں کہ کسی صحابی نے نبی ﷺ کو "یہجُر" (ہذیان بول رہے ہیں) کہہ کر پکارا۔ ہجر بمعنی ہذیان لینا غیرمتبادر ہے۔ یہ لفظ جدائی کے معنی میں کثیر الاستعمال ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:﴿وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا﴾(المزمل:۱۰) دوسری آیت میں ہے: ﴿وَاهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ﴾(النساء:۳۴)

جو الفاظ روایات میں آئے ہیں، وہ استفہامیہ ہیں: "أَهَجَرَ؟" (کیا وہ ہذیان بول رہے ہیں؟) – یہ کوئی جملہ نہیں بلکہ ایک سوال تھا جو کسی نادیدہ شخص نے کیا، اور اس پر بھی وہ شاید شدتِ رنج اور دہشت کی حالت میں تھا۔ ہجر کے بعد ’’اِسْتَفْھَمُوْہ‘‘ کا لفظ موجود ہے جس کے معنی یہ ہیں۔ آپ سے پوچھو تو سہی کیا ارشاد فرماتے ہیں اگر ہجر کے معنی ہذیات کے لیے جائیں تو ’’اِسْتَفْھَمُوْہ‘‘ سے بے ربط اور بے کار ہو جاتا ہے جس کو ہذیان ہو گیا ۔ اس سے پوچھنا خلافِ عقل ہے۔ ثابت ہوا هَجَر یَهْجُرُ کے معنی جدائی کے ہیں نہ کہ ہذیان۔

محدثین نے صاف کہا ہے کہ یہ لفظ استفہام کے لیے ہے، یقین کے لیے نہیں۔ یعنی کسی کو شبہ ہوا کہ کہیں مرض کی شدت کی وجہ سے آپ کوئی نامکمل بات تو نہیں فرما رہے؟ پھر انہوں نے دوسروں سے کہا: "اس سے پوچھو، سمجھو" – یہ تو درحقیقت نبی ﷺ کی حفاظت کا جذبہ تھا۔

مزید یہ کہ جس صحابی نے یہ استفہام کیا، اس کا نام کسی روایت میں نہیں آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام اس سے منسوب کرنا سراسر جھوٹ ہے۔ بخاری و مسلم کی روایت میں صرف یہ ہے کہ حضرت عمر نے کہا: "غلبه الوجع" – اور "أهجر" کہنے والا کوئی اور مبہم شخص تھا۔

امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا: یہ جملہ دہشت اور حیرت کی حالت میں کسی سے صادر ہوا، جیسے حضرت عمر نے خود نبی ﷺ کی وفات کے وقت انکار کر دیا تھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے۔ یہ کوئی بے ادبی نہیں بلکہ شدید محبت اور صدمے کا اظہار تھا۔



🧠 عقلی دلیل: کیا نبی ﷺ کوئی اہم کتاب لکھنا چاہتے تھے؟

اگر وہ کتاب دین کا کوئی نہ سنا ہوا حصہ ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کا فرمان "اليوم أكملت لكم دينكم" (آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا) جھوٹا ہو جاتا – حالانکہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی، جو اس واقعے سے کچھ ہی دن پہلے تھا۔ لہٰذا کوئی نیا دینی حکم باقی نہیں تھا۔


نبی ﷺ خود فرماتے ہیں:

"والله ما تركت شيئا يقربكم إلى الله(الْجَنَّةِ) إلا أمرتكم به"

(اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جو تمہیں اللہ(جنت) کے قریب کرتی ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے)

[مسند الشافعي: ص233 (ترتيب السندي:673)(ترتيب سنجر:1798)، شرح السنة-البغوي:4111-4113]

شواہد:

[المصنف-عبد الرزاق:21167، الجامع-معمر بن راشد:20100، المصنف-ابن أبي شيبة:34332، المستدرك الحاكم:2165، الزهد للهناد:494، ثلاثة مجالس من أماليه-ابن مردويه:24، شعب الإيمان-البيهقي:9891، الصحيحة:2866][طبراني:1647، الصحيحة:1803]

اس لیے وہ کتاب محض ایک تاکیدی یا انتظامی وصیت ہو سکتی تھی، جیسے خلیفہ کی تعیناتی، یا اہل بیت کے حقوق وغیرہ۔ لیکن جب صحابہ نے اختلاف کیا تو آپ نے اسے چھوڑ دیا تاکہ فتنہ نہ ہو۔


📚 علماء کی رائے

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"اگر اس کتاب میں کوئی واجب چیز ہوتی تو نبی ﷺ اسے ضرور لکھواتے، کسی کی روک ٹوک نہ مانتے۔ جب آپ نے لکھنا چھوڑ دیا تو معلوم ہوا کہ یہ واجب نہیں تھا۔" (منہاج السنہ)


امام مازری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"صحابہ کا اختلاف اس لیے جائز تھا کہ نبی ﷺ کے حکم کے ساتھ کوئی قرینہ تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ حکم حتمی نہیں، بلکہ اختیاری ہے۔" (فتح الباری)


ڈاکٹر عثمان الخمیس فرماتے ہیں:

"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ نبی ﷺ ہذیان بول رہے ہیں۔ یہ ان پر بہتان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے شفقتاً کہا: 'آپ پر درد کا غلبہ ہے' اور یہ درست تھا۔" (حقبہ من التاریخ)


✅ نتیجہ

  • حدیث قرطاس صحیح اور ثابت ہے، اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو صحابہ کی بے ادبی یا نبی ﷺ کی توہین پر دلالت کرتی ہو۔
  • صحابہ کا اختلاف ایک اجتہادی معاملہ تھا، جسے نبی ﷺ نے برداشت کیا اور خود ہی وصیت لکھنے سے منع فرما دیا۔
  • کسی نے نبی ﷺ کو ہذیان گو نہیں کہا؛ جو لفظ آیا ہے وہ استفہام ہے، اور وہ بھی کسی نامعلوم شخص کی طرف سے حیرت و دہشت کی حالت میں۔
  • مسلمان کا فرض ہے کہ وہ صحابہ کے بارے میں حسن ظن رکھے اور ان پر بے جا الزامات لگانے سے بچے۔
  • اللہ ہمیں سمجھنے اور صحیح عقیدے پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ آمین۔
  • اگر آپ کے ذہن میں کوئی اور شبہ ہو تو ضرور پوچھیے۔







حدیث قرطاس اور اس کی آڑ میں حضرت عمرؓ  پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ


رسالہ ماہنامہ بینات کے سابق مدیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمہ اللہ نے رجب المرجب 1431ھ کے شمارے میں مولانا محمدنافع رحمہ اللہ کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ’’حدیث قرطاس اور اہل سنت کا موقف‘‘ کے عنوان سے مفصل و مدلل جواب تحریر فرمایا تھا، آپ کے سوال کے جواب میں حضرت رحمہ اللہ کا لکھا ہوا جواب ہی من و عن نقل کیا جارہا ہے۔


’’روزِ اول سے اہل تشیع ’’حدیث قرطاس‘‘ کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کیچڑ اچھالتے آرہے ہیں اور اکابر اہل سنت نے ہر زمانے میں اس کا مفصل و مدلل جواب دیا ہے، واقعۂ قرطاس کا آسان اور عام فہم انداز میں جن جن حضرات نے جواب لکھا ہے، ان میں سے حضرت اقدس مولانا محمد نافع محمدی شریف جھنگ نے اپنی کتاب ’’فوائد نافعہ‘‘ میں اس کا بہت ہی عمدہ جواب دیا ہے، بہتر ہوتا کہ آپ اس کے ص:166 سے 199 کا مطالعہ فرمالیتے۔تاہم آسانی کے لیے اس سے اور دوسرے اکابر کی تصانیف میں سے چند اقتباسات یہاں نقل کیے دیتا ہوں، ملاحظہ ہوں:


اول:


آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض وفات کے آخری دنوں ربیع الاول کے پہلے عشرہ یوم الخمیس شدتِ مرض میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرطاس طلب فرمایا، چنانچہ اسی سلسلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ملاحظہ ہو:


"حدثنا ابن عيينة، عن سليمان الأحول، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: يوم الخميس وما يوم الخميس ‌يوم ‌اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه فقال: «ائتوني أكتب لكم كتابا لا تضلون بعده». - فتنازعوا ولا ينبغي عند نبي تنازع - قال: «دعوني فما أنا فيه خير مما تسألون عنه». قال: أمرهم بثلاث: قال: «أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم...الخ."


(مسند أبي يعلى، 4/ 298، الرقم: 2409، ط: دار المأمون للتراث - دمشق)


یعنی ’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خمیس کا دن کیا ہے؟ خميس كایوم وہ ہے کہ جس میں جناب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا درد شدت اختیار کر گیا تو اپنے حاضرینِ مجلس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: (قرطاس) لاؤ، میں تمہیں ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے، (اس پر حاضرین مجلس میں) اختلاف اور تنازع ہوا، جبکہ نبی اقدس کے پاس تنازع مناسب نہیں، توآں جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے چھوڑیے، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کے متعلق تم مجھ سے سوال کرتے ہو ، پھر آں جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے متعلق حکم فرمایا کہ: جزیرۃ العرب سے مشرکین کو نکال دو اور وفود کے ساتھ بہتر سلوک کرو...‘‘


اسی خمیس کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت سنبھل گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں متعدد اہم امور ارشاد فرمائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرطاس کے ذریعه خلافت علی (كرم الله وجهه) سے متعلق کوئی دستاویز لکھوانا چاہتے تھے اور حضرت عمررضي الله عنه نے قرطاس نہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبہ میں اس کا اعلان کیوں نہ فرمایا؟


دوم:


آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے خميس کےدن قرطاس کا مطالبہ فرمايا اور اس کے بعد تقریباً چار دن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیدِ حیات رہے اور آئندہ سوموار کو انتقال فرماکر رفیقِ اعلیٰ سے جاملے، سوال یہ ہے کہ ان چار دنوں میں معارضہ کرنے والے لوگ کبھی نہ کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہوئے ہوں گے اور تخلیہ کے مواقع بھی میسر آئے ہوں گے تو ان اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت علی (کرم اللہ وجہہ) کی وہ تحریر کیوں نہ لکھوائی؟ اور اس مسئلہ کو کنارے کیوں نہ لگایا؟ چنانچہ علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں اس کو بایں عبارت لکھا ہے:


"ولو كان ما يريد النبي صلى الله عليه وسلم أن يكتب لهم شيئا ‌مفروضا، لا يستغنون عنه. لم يتركه باختلافهم ولغطهم لقول الله عز وجل «بلغ ما أنزل إليك من ربك» كما لم يترك تبليغ غيره بمخالفة من خالفه، ومعاداة من عاداه."


(‌‌باب ما جاء في همه بأن يكتب لأصحابه كتابا، 7/ 184، ط:دارالكتب العلمية)


ترجمہ: ’’اگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی واجب امر جس کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا کے لکھوانے کا ارادہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے باہمی اختلاف اور شور کرنے کی وجہ سے اسے ترک نہیں فرماسکتے تھے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ : تمھارے رب کی طرف سے جو چیز تمھاری طرف نازل کی گئی ہے، اس کو پہنچائیے، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفین کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی کی وجہ سے تبلیغ دین کا عمل کبھی ترک نہیں فرمایا تھا۔‘‘


اس سے واضح ہوا کہ قرطاس منگوانے اور کچھ لکھنے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کی سند اور دستاویز لکھوانا مقصود نہیں تھا، بلکہ دوسرے اہم امور تھے، جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے خطبات میں اس کا اظہار و اعلان فرما دیا، اگر خلافت علی کرم اللہ وجہہ لکھوانا مقصود ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بعد کے ایام میں اس کی تحریر لکھوا دیتے یا کم از کم اپنے خطبات میں اس کا اعلان فرما دیتے، کیونکہ ارشاد الہی "بلغ ما أنزل إليك من ربك"کا تقاضہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں اس کا اعلان و اظہار فرما دیتے۔ واللہ اعلم


سوم:


جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرطاس کے مطالبہ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف سے بچانے کے لیے قرطاس دینے کی ضرورت نہیں سمجھی، اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرطاس نہ دینے کا عمل دہرایا تھا، ملاحظہ ہو:


 "عن علي بن أبي طالب قال: أمرني النبي - صلى الله عليه وسلم - أن آتيه ‌بطَبَق يكتب فيه ما لا تَضل أمتُه من بعده، قال فخشيت أن تفوتني نفسُه، قال: قلت: إني أحفظَ وأَعي، قال: أُوصي بالصلاة والزكاة وما ملكت أيمانكم."


(مسند أحمد، 1/ 468، الرقم: 693، دارالحديث القاهرة)


ترجمہ: ’’حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ (مرض وفات کے دوران) ایک مرتبہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طبق (قرطاس) لانے کےلیے ارشاد فرمایا تاکہ اس میں وہ بات تحریر کردیں جس سے امت آپ کے بعد گمراہی میں نہ پڑے، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کی پریشانی دیکھ کر مجھے خوف ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میری عدم موجودگی میں انتقال نہ ہوجائے، تو میں نے عرض کیاکہ: آپ ارشاد فرمائیں، میں اس فرمان کو محفوظ کروں گا اور نگاہ میں رکھوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، زکات کی ادائیگی اور غلاموں ، لونڈیوں کے بارہ میں نیک سلوک کی وصیت فرمائی۔‘‘ 


اس روایت سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ جو کام قرطاس نہ دینے کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیاتھا، ٹھیک وہی کام حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی کیا تھا، اگر اس کی وجہ سے حضرت علی مطعون قرار نہیں قرار پاتے تو حضرت عمر پر اس کی وجہ سے کیوں طعن و تشنیع کیا جاتا ہے؟


چلیے! اگر اس کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مطعون قرار پاتے ہیں تو اہل تشیع اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارہ میں کیا فتوی صادر فرمائیں گے؟


چہارم:


اگر تعصب و عنادکی عینک اتار کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبۂ قرطاس کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرطاس نہ دینا دراصل اسی محبت و عقیدت کی وجہ سے تھا جس کی بنا پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح اور واضح حکم کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹانے سے انکار کیا تھا، اگر اس موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ عمل قابلِ ملامت نہیں بلکہ زیادتی محبت و عقیدت کا مظہر تھا، تو اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کی شدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راحت پہنچانا کیونکر باعثِ طعن و تشنیع ہے؟


پنجم:


اس سب سے ہٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعۂ قرطاس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت نماز کے لیے حکم دینا اور یہ فرمانا کہ: "يأبى الله والمؤمنون إلا أبابكر"(أبوداؤد، كتاب السنة، باب في استخلاف أبي بكر رضي الله عنه، 2/ 258)یعنی اللہ تعالی اور اہل ایمان ابوبکر کے سوا سب کا انکار کرتے ہیں، کیا اس کی واضح دلیل نہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرطاس کا مطالبہ کرنا، خلافت علی کی دستاویز لکھوانے کے لیے نہیں تھا، امید ہے کہ یہ چند معروضات آپ کی تشفی کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘


(ماخوذ: ماہنامہ بینات، رجب المرجب 1431ھ ، عنوان: حدیث قرطاس اور اہل سنت کا موقف)



حدیث ِ قرطاس

یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام کا ہے جب آپ شدید بیمار تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پاس موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کچھ لکھنے کے لیے لائیں، میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ آپ کو ہمیشہ یاد رہے۔” اس موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ تکلیف میں ہیں، لہٰذا ایسی حالت میں آپ کو یہ زحمت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار دیگر صحابہ سے کیا اور کہا کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے، اور ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے، جو ہمارے لیے کافی ہے۔”

اس موقع پر حاضرین میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ کچھ صحابہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ تحریر نہ دی جائے، جبکہ کچھ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریر دی جائے۔ اس تکرار کی صورت حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کاغذ اور قلم رہنے دیں اور صحابہ سے کہا: "آپ یہاں سے چلے جائیں، مجھے تنہائی چاہیے۔”

اس واقعہ سے متعلق مختلف روایات:

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِي الْبَیْتِ رِجَالٌ فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ : ہَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ، ، قَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَلَبَہُ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ القُرْآنُ فَحَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ، وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْبَیْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُولُ : قَرِّبُوا یَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ،، وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قُومُوا عَنِّي .

"جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کچھ لوگ موجود تھے، جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘قلم کاغذ لائیں، تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد آپ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔’ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس قرآن موجود ہے، ہمیں کتاب اللہ کافی ہے۔ اس پر گھر میں موجود لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ کچھ نے کہا: ‘قلم کاغذ دیں تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں کہ اس کے بعد گمراہی کا اندیشہ نہ رہے’، جبکہ کچھ نے کہا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور شور بڑھ گیا تو آپ نے فرمایا: ‘میرے پاس سے اُٹھ جاؤ۔'”

(صحیح البخاري: 7366، صحیح مسلم: 1637)

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

"قُومُوا عَنِّي، وَلَا یَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ”
"میرے پاس سے اٹھ جائیں، میری موجودگی میں اختلاف مناسب نہیں۔”

(صحیح البخاري: 114)

ایک اور روایت میں ہے:
اِئْتُونِي بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ، أَبَدًا ، فَقَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَہْجُرُ .

"لائیں ہڈی اور دوات یا تختی اور دوات، میں ایسی تحریر لکھ دیتا ہوں کہ اس کے بعد آپ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔” صحابہ نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیماری کی حالت میں ہیں، اور یہ تکلیف کی شدت سے نہیں ہے۔”

(صحیح البخاري: 4431، صحیح مسلم: 1637)

سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جمعرات کا دن کتنا پریشان کن تھا۔ وہ روتے ہوئے فرما رہے تھے:

اِشْتَدَّ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَعُہ،، فَقَالَ : ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ، أَبَدًا، فَتَنَازَعُوا وَلَا یَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا : مَا شَأْنُہ،، أَہَجَرَ اسْتَفْہِمُوہُ؟ فَذَہَبُوا یَرُدُّونَ عَلَیْہِ، فَقَالَ : دَعَوْنِي، فَالَّذِي أَنَا فِیہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْعُونِي إِلَیْہِ .

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کی شدت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘میرے پاس کچھ لاؤ تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد آپ کبھی بھٹک نہ سکیں۔’ صحابہ میں اختلاف ہو گیا، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اختلاف مناسب نہیں تھا۔ صحابہ کہنے لگے: ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا معاملہ پیش آیا ہے، کیا آپ شدت تکلیف کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں؟’ صحابہ نے بار بار لکھنے کا کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی آپ مجھ سے توقع کر رہے ہیں۔'”

(صحیح البخاري: 4431، صحیح مسلم: 1637)



سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اجتہاد

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کی شدت تھی۔ اسی وجہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجتہاداً کہا کہ ہمارے لیے قرآن و حدیث کافی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کو درست سمجھا اور صحابہ کے اصرار کے باوجود تحریر نہیں لکھوائی۔

لفظ ہجر کی تحقیق

ہجر کا مطلب ہے "شدت بخار کی حالت میں بے معنی باتیں کرنا۔” تاہم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کا انکار کیا ہے۔ حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ ”أَہَجَرَ“ میں موجود ہمزہ، استفہام انکاری کے لیے ہے، جبکہ ہجر ماضی کا فعل ہے۔ کچھ روایات میں بغیر ہمزہ کے "ہجر” اور "یہجر” کے الفاظ بھی ملتے ہیں، جو دراصل ہمزہ محذوف ہونے کی مثال ہے، اور عربی زبان میں اس طرح کے محذوفات عام ہیں۔

لفظ "أَہَجَرَ” کی وضاحت

حدیث میں مذکور الفاظ "فَقَالُوا مَا لَهُ أَہَجَرَ” (یعنی "انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدتِ بخار کی وجہ سے بے معنی باتیں کر رہے ہیں؟”) سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الفاظ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نہیں تھے بلکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تھے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کر رہے تھے۔ ان کا مدعا یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیماری کے باوجود شعور کے ساتھ بات کر رہے ہیں، بے معنی گفتگو نہیں فرما رہے۔ اس لیے اس حدیث میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی توہین کا کوئی پہلو نہیں ہے بلکہ یہ حدیث ان کی عظمت کی عکاس ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کی موافقت کرتے ہوئے تحریر لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

صحیح بخاری (4431) اور صحیح مسلم (1637) میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دَعَوْنِي، فَالَّذِي أَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْعُونِي إِلَیْہِ” ”مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، آپ جو مجھے لکھنے کا کہہ رہے ہیں میرے مطابق نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔”

موافقاتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اجتہادات کی متعدد مثالیں قرآن و حدیث میں ملتی ہیں، جن میں ان کی رائے کو شریعت کا درجہ دیا گیا۔ اس ضمن میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ مشہور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر چلے گئے۔ طویل غیرحاضری پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فکر لاحق ہوئی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو ایک باغ میں پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا جوتا دیا اور پیغام دیا کہ راستے میں ملنے والے ہر کلمہ گو کو جنت کی خوشخبری دے دو۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملے اور جنت کی بشارت دی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں زور سے تھپڑ مارا، جس سے وہ زمین پر گر پڑے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگے اور شکایت کی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟”
عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "يَا رَسُولَ اللّٰہِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ، مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ” آقا میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جوتا دے کر بھیجا تھا کہ جو بھی کلمہ گو ملے اسے جنت کی بشارت دو؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ” آقا، ایسا نہ کریں، مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، انہیں چھوڑ دیں تاکہ یہ عمل کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فَخَلِّهِمْ”انہیں چھوڑ دو۔
(صحیح مسلم: 31)

حدیثِ قرطاس میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا موقف

اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنا موقف پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اتفاق کیا۔ اسی طرح حدیث قرطاس میں بھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید تکلیف میں ہیں اور اس حالت میں تحریر لکھنے کی زحمت نہ دی جائے۔ اس پر بعض صحابہ نے ان سے اختلاف کیا، جب کہ بعض نے موافقت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر کار سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دی اور تحریر کا ارادہ ترک کر دیا۔

فہم اور بصیرت کی نعمت

اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو گہری بصیرت اور شاندار فہم عطا کیا تھا۔ انہوں نے یہ بات اجتہادی طور پر کہی تھی اور اس کے لیے دلیل بھی دی۔ حافظ نووی رحمہ اللہ (631-676ھ) اس بارے میں لکھتے ہیں: "وَأَمَّا كَلَامُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ فَقَدِ اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ الْمُتَكَلِّمُونَ فِي شَرْحِ الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّهُ مِنْ دَلَائِلِ فِقْهِ عُمَرَ وَفَضَائِلِهِ وَدَقِيقِ نَظَرِهِ”
”شارحین حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بصیرت، دین میں ان کی فقاہت، اور ان کی گہری نظر کا ثبوت ہے۔”

(شرح صحیح مسلم للنووي: 11/90)

کیا اختلاف صحابہ نے خلافت کی تحریر میں رکاوٹ ڈالی؟

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: "إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ”
”بہت بڑی مصیبت تب واقع ہوئی جب صحابہ کا باہمی اختلاف اور شور ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔”

(صحیح البخاري: 7366، صحیح مسلم: 1637)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تحریر کا ارادہ ترک کرنا

یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اجتہادی رائے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ صحابہ کے اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ہی ترک کر دیا تھا۔ اس سے چند دن قبل بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ابوبکر اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلائیں، تاکہ میں خلافت کی بابت کچھ لکھ دوں، مگر پھر ارادہ ترک کر دیا اور فرمایا: "وَيَأْبَى اللّٰہُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ” ”خلافت کے لیے ابوبکر کے علاوہ کسی کا نام آئے گا تو اللہ تعالیٰ اور مومن اس سے انکار کر دیں گے۔” (مسند الإمام أحمد: 6/144، صحیح مسلم: 2387)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وضاحت

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كِتَابَةَ الْكِتَابِ بِاخْتِيَارِهِ، فَلَمْ يَكُنْ فِي ذٰلِكَ نِزَاعٌ، وَلَوِ اسْتَمَرَّ عَلَى إِرَادَةِ الْكِتَابِ مَا قَدِرَ أَحَدٌ أَنْ يَمْنَعَهُ” ”اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ اپنے اختیار سے ترک کیا، اگر آپ لکھنا چاہتے تو کسی کی مجال نہ تھی کہ آپ کو روکے۔” (منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 6/317)

انہوں نے مزید فرمایا: "وَلَا فِي شَيْءٍ مِّنَ الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ عِنْدَ أَهْلِ النَّقْلِ أَنَّهُ جَعَلَ عَلِيًّا خَلِيفَةً…فَإِنْ كَانَ قَدْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ أَغْنَى عَنِ الْكِتَابِ…”
”کسی صحیح حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بلا فصل خلافت پر کوئی نص موجود نہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صحیح ثابت نصوص موجود ہیں… اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر قطعی نص قائم کی تھی، تو پھر لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟”

(منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 6/318)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مصیبت کس کو کہتے ہیں؟

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے شک اور انکار کو بڑی مصیبت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں تحریر فرما دیتے تو انکار کرنے والوں اور گمراہ لوگوں کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہتا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"یَقْتَضِي أَنَّ ہٰذَا الْحَائِلَ کَانَ رَزِیَّۃً، وَہُوَ رَزِیَّۃٌ فِي حَقِّ مَنْ شَکَّ فِي خِلَافَۃِ الصِّدِّیقِ، أَوِ اشْتَبَہَ عَلَیْہِ الْـأَمْرُ؛ فَإِنَّہ، لَوْ کَانَ ہُنَاکَ کِتَابٌ لَّزَالَ ہٰذَا الشَّکُّ، فَأَمَّا مَنْ عَلِمَ أَنَّ خِلَافَتَہ، حَقٌّ فَلَا رَزِیَّۃَ فِي حَقِّہٖ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ”
”سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا کلام ظاہر ہے کہ وہ خلافتِ صدیق رضی اللہ عنہ میں شک و انکار کو بڑی مصیبت اور ہلاکت قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اگر خلافت کے بارے میں تحریر ہوتی، تو یہ شک ختم ہو جاتا۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو حق سمجھتا ہے، اس کے لیے کوئی مصیبت نہیں، اور الحمدللہ۔”

(منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 6/25)

خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ بات اس وقت فرمایا کرتے تھے، جب شیعہ جیسے گمراہ فرقے سامنے آ چکے تھے۔ وہ خلافتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے انکار کو امت کی ہلاکت کا سبب قرار دیتے تھے۔ یہ بات واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت لکھنا نہیں چاہتے تھے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت و امامت لکھ کر دینا چاہتے تھے، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے اس کو منع کر دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث کا باریک بینی سے مطالعہ کریں، اس میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت لکھنا چاہتے تھے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کی رائے

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "وَہٰذَا الْحَدِیثُ مِمَّا قَدْ تَوَہَّمَ بِہٖ بَعْضُ الْـأَغْبِیَاءِ مِنْ أَہْلِ الْبِدَعِ مِنَ الشِّیعَۃِ وَغَیْرِہِمْ… وَہٰذِہِ طَرِیقَۃُ الرَّاسِخِینَ فِي الْعِلْمِ کَمَا وَصَفَہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِي کِتَابِہٖ”
”اس حدیث سے اہلِ بدعت، خاص طور پر شیعہ کے بعض کم فہم لوگوں نے وہم کھایا ہے۔ ان میں سے ہر شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے موقف کے مطابق کچھ لکھنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ متشابہ امور کو پکڑتے ہیں اور محکم کو چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ اہلِ سنت محکم کو لیتے ہیں اور متشابہ کو اس کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ یہ طریقہ ان علمائے راسخین کا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔”

انہوں نے مزید فرمایا: "وَہٰذَا الَّذِي کَانَ یُرِیدُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَنْ یَّکْتُبَہ، قَدْ جَاءَ فِي الْـأَحَادِیثِ الصَّحِیحَۃِ التَّصْرِیحُ بِکَشْفِ الْمُرَادِ مِنْہُ…”
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لکھنے کا ارادہ فرما رہے تھے، اس کی وضاحت صحیح احادیث میں واضح طور پر آ چکی ہے۔”

(البدایۃ والنہایۃ: 5/227-228)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا لکھنا چاہتے تھے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضِ وفات میں کی گئی گفتگو اور احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کے حوالے سے ایک تحریر لکھنا چاہتے تھے، تاکہ خلافت کے بارے میں بعد میں کوئی اختلاف نہ ہو۔ اور یہ تحریر دراصل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حق میں تھی، تاکہ ان کی خلافت پر کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔

حدیث نمبر 1

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

"لَمَّا کَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِیہِ، قَالَ: ادْعُوا لِي أَبَا بَکْرٍ وَّابْنَہُ، فَلْیَکْتُبْ لِکَیْلَا یَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَکْرٍ طَامِعٌ، وَلَا یَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ، ثُمَّ قَالَ: یَأْبَی اللّٰہُ ذٰلِکَ وَالْمُسْلِمُونَ مَرَّتَیْنِ….، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَبَی اللّٰہُ وَالْمُسْلِمُونَ.”
"جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری میں مبتلا تھے، جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ نے فرمایا: ‘ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے (عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ، تاکہ وہ لکھ لیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوئی خواہش مند طمع نہ کرے اور کوئی آرزو کرنے والا امید نہ لگائے۔’ پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا: ‘اللہ تعالیٰ اور مسلمان کسی اور کی خلافت کو تسلیم نہیں کریں گے۔’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ‘چنانچہ اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے میرے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے سوا کسی اور کو تسلیم نہیں کیا۔'”
(مسند الإمام أحمد: 6/106، وسندہ حسن)

حدیث نمبر 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أُدْعِي لِي أَبَا بَکْرٍ، أَبَاکِ، وَأَخَاکِ، حَتّٰی أَکْتُبَ کِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ یَّتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ وَّیَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ وَالْمُوْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ.”
"اپنے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو بلاؤ تاکہ میں تحریر کر دوں۔ مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی خلافت کا متمنی کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر کے علاوہ کسی کو تسلیم نہیں کریں گے۔”
(مسند الإمام أحمد: 6/144، صحیح مسلم: 2387)

وضاحت

ان احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ تحریری طور پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تصدیق فرما دیں تاکہ بعد میں کوئی اختلاف یا تنازعہ نہ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے بہترین جانا اور یہ یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان بھی اسی فیصلے کی تائید کریں گے۔

حدیث نمبر 3

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا:

"لَقَدْ ہَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُّ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰی أَبِي بَکْرٍ وَّابْنِہٖ فَأَعْہَدَ، أَنْ یَّقُولَ : الْقَائِلُونَ أَوْ یَتَمَنَّی الْمُتَمَنُّونَ”
"میں نے ارادہ کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن کی طرف پیغام بھیجوں اور خلافت کی وصیت کر دوں تاکہ کوئی خلافت کا دعویدار نہ بنے اور نہ ہی کوئی تمنا کرے۔”
(صحیح البخاری: 7217)

وضاحت

یہ احادیث واضح طور پر اشارہ کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تحریری طور پر لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا، لیکن پھر اسے ترک کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارادہ اس وجہ سے تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ خلافت کے کسی دوسرے دعوے دار کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ اور مسلمان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں متفق ہیں، تو آپ نے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ اور مومنین کی طرف سے قبول کر لیا گیا۔

دین کی حفاظت اور خلافتِ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ موقف

دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے، اس لیے یہ تصور کرنا کہ خلافت و امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے اوّل حقدار ہوں، لیکن امت اس کے خلاف متفق ہو جائے، درست نہیں ہے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت لکھنا چاہتے تھے، تو وہ زبانی طور پر ہی بیان فرما دیتے، کیونکہ اس میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خلیفہ بلافصل ہیں اور انہیں ان کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض لوگ یہ مانتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حق کے لیے جنگ کا اعلان نہیں کیا تاکہ امت کو مزید آزمائش میں نہ ڈالا جائے، لیکن ان کے دورِ خلافت میں بھی ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ اگر یہ معاملہ واقعی خلافت کا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دوران اس بات کو بیان کر سکتے تھے۔ لیکن نہ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور نہ ہی کسی اور صحابی نے اس بات کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافتِ علی لکھنا چاہتے تھے لیکن لکھ نہ سکے۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، جو اس واقعہ کے راوی بھی ہیں اور جنہوں نے اس صورت حال کو بیان کرتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے بھی یہ نہیں کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ناانصافی ہوئی ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خلافت لکھنا چاہتے تھے مگر نہ لکھ سکے۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافتِ علی کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے، تو وہ زبانی کہہ سکتے تھے کہ "میرے بعد علی خلیفہ بلا فصل ہیں”، لیکن اس سلسلے میں کوئی ممانعت سامنے نہیں آئی۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اعتراف کیا ہے اور ان کی خلافت کو برحق تسلیم کیا۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آخری وقت میں ان کے پاس جا کر کہا:

"دَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ حِینَ طُعِنَ فَقُلْتُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ یَا أَمِیرَ الْمُوْمِنِینَ، أَسْلَمْتَ حِینَ کَفَرَ النَّاسُ، وَجَاہَدْتَّ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ خَذَلَہُ النَّاسُ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْکَ رَاضٍ، وَلَمْ یَخْتَلِفْ فِي خِلَافَتِکَ اثْنَانِ، وَقُتِلْتَ شَہِیدًا…”
"سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس آیا۔ میں نے کہا: ‘امیر المومنین! جنت کی خوش خبری ہو! جب لوگوں نے اسلام کا انکار کیا، تو آپ نے اسے قبول کیا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت ساتھ دیا جب لوگوں نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپ سے راضی تھے۔ آپ کی خلافت میں دو لوگوں نے بھی اختلاف نہیں کیا اور اب آپ شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں۔'”
(المستدرک للحاکم: 3/92، وصحّحہ ابن حبّان: 6891، وسندہ صحیح)
نیز دیکھیں: (صحیح البخاری: 3692)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ دعویٰ کہ وہ وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، یا یہ کہ وہ خود کو خلافت کے لیے زیادہ حق دار سمجھتے تھے، درست نہیں ہے۔ احادیث اور روایات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کبھی خود کو خلافت کا بلا فصل حق دار یا وصی رسول نہیں سمجھا۔ بلکہ اس کے برعکس روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ انہوں نے خلافت کے مطالبے سے اجتناب کیا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی موقف کی وضاحت

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران ان کے پاس سے نکلے۔ صحابہ نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ بہتر ہیں۔ اس پر سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا:

"اللہ کی قسم! تین دن بعد آپ محکوم ہو جائیں گے۔ اللہ کی قسم! میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے جانبر نہیں ہوں گے۔ ہمیں ان سے خلافت کے بارے میں پوچھنا چاہیے، اگر یہ ہمارے لیے ہے، تو ہمیں معلوم ہو جائے، اور اگر کسی اور کے لیے ہے تو ہمیں وصیت کر دی جائے۔”

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

"اللہ کی قسم! اگر ہم نے ان سے اس وقت مطالبہ کیا اور انہوں نے انکار کر دیا، تو لوگ ہمیں خلافت نہیں دیں گے۔ میں ہرگز مطالبہ نہیں کروں گا۔”
(صحیح البخاری: 4447)

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت:

سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی خاص تحریر ہے؟ انہوں نے جواب دیا:

"نہیں، صرف کتاب اللہ، یا وہ فہم جو کسی مسلمان کو دیا گیا ہو، یا اس صحیفہ میں موجود کچھ مسائل ہیں۔”

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس صحیفہ میں دیت، قیدیوں کی آزادی، اور یہ حکم ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
(صحیح البخاری: 111)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا تبصرہ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) نے اس بات کو رد کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت لکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے لکھا:

"جو یہ سمجھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافت علی رضی اللہ عنہ کے لیے تحریر لکھنا چاہتے تھے، وہ سنی اور شیعہ علما کے ہاں بالاتفاق گمراہ ہے۔ اہل سنت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تفضیل اور تقدیم پر متفق ہیں۔”
(منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ: 3/135)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تحریر کا ارادہ ترک کرنا

یہ بات بھی ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر لکھنے کا ارادہ اپنے اختیار سے ترک کیا تھا، نہ کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کہنے پر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کی طرف سے تبلیغ دین میں رکاوٹوں کے باوجود تبلیغ جاری رکھتے تھے، تو صحابہ کی طرف سے کوئی مزاحمت انہیں کیسے روک سکتی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو ہمیشہ آپ کے معاون و مددگار رہے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول "حسبنا کتاب اللہ”

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول "حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ” کا مطلب یہ تھا کہ کتاب اللہ کا حکم ہمارے لیے کافی ہے۔ قرآن کے ساتھ حدیث کی بھی التزامی دلالت موجود ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت دیکھ کر ترس آیا اور انہیں خیال آیا کہ دین کی تکمیل ہو چکی ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ” (آج ہم نے تمہارا دین مکمل کر دیا)۔ لہٰذا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید تکلیف دینے سے بچانے کی کوشش کی، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے یہ بات کہی۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی رائے

حافظ ذہبی رحمہ اللہ (673-748ھ) لکھتے ہیں:

"سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تکلیف کو دیکھتے ہوئے صرف تخفیف کا ارادہ کیا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دین مکمل ہو چکا ہے۔ اگر یہ تحریر واجب ہوتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازماً اسے لکھ دیتے۔”
(تاریخ الإسلام: 1/813، ت بشار، سیر أعلام النبلاء: 2/338)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عہدِ ثلاثہ میں دعویٰ خلافت

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت میں کبھی بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ وہ تینوں خلفاء کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے۔ اس کے باوجود بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان ادوار میں خلافت کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس کا کوئی مستند اور صحیح ثبوت نہیں ملتا۔

① پہلی ضعیف روایت:

کہا جاتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بیعت کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ بیعت کریں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا:

"أَنَا أَحَقُّ بِھٰذَا الْـأَمْرِ مِنْکُمْ، لَا أُبَایِعُکُمْ، وَأَنْتُمْ أَوْلٰی بِالْبَیْعَۃِ لِي، أَخَذْتُمْ ھٰذَا الْـأَمْرَ مِنَ الْـأَنْصَارِ”
"میں آپ سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں، میں آپ کی بیعت نہیں کرتا، بلکہ آپ کو میری بیعت کرنا چاہیے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا حوالہ دے کر انصار سے خلافت حاصل کر لی، اور اب آپ ہم اہل بیت سے خلافت لینا چاہتے ہیں۔”
(کتاب الإمامۃ والسیاسۃ لابن قتیبۃ، ص : ١٢، مطبوعہ مصر)
تبصرہ:

یہ روایت غیر معتبر اور بے سند ہے۔ یہ کتاب "الإمامۃ والسیاسۃ” سے منسوب ہے، جو ابن قتیبہ کی طرف منسوب کی گئی ہے، لیکن اس کی اسناد موجود نہیں ہیں۔ اس قسم کی روایات کے بارے میں علماء کا متفقہ موقف ہے کہ یہ ضعیف اور موضوع ہیں۔ اس کے باوجود بعض لوگ اس روایت کو مستند مان کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس کی کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں ہے۔ اس روایت کو شیعہ و دیگر گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کی نسبت اہل بیت کی طرف ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں جو شواہد ملتے ہیں، وہ اس روایت کی کمزوری کو واضح کرتے ہیں۔

② دوسری ضعیف روایت:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا:

"کُنَّا نَرٰی أَنَّ لَنَا فِي ہٰذَا الْـأَمْرِ حَقًّا، فَاسْتَبَدَدْتُّمْ بِہٖ عَلَیْنَا.”
"ہم سمجھتے تھے کہ خلافت میں ہمارا حق ہے، لیکن آپ لوگوں نے خود ہی اس پر قبضہ کر لیا۔”

پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا ذکر کیا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔
(تاریخ الطبري: 3/202، طبع مصر)

تبصرہ:

یہ روایت ضعیف ہے اور اس کی سند ناقابل اعتماد ہے، کیونکہ:

  • امام عبدالرزاق بن ہمام ایک مدلس راوی ہیں، اور انہوں نے اس روایت میں سماع کی صراحت نہیں کی۔
  • امام زہری بھی مدلس ہیں اور یہاں سماع کی صراحت نہیں کرتے۔ حدیث کے اصول کے مطابق، اگر ثقہ مدلس راوی سماع کی صراحت نہ کرے تو اس کی روایت کو ضعیف شمار کیا جاتا ہے، سوائے صحیح بخاری و مسلم کے۔ اس لیے یہ روایت کمزور ہے۔
  • یہ روایت ان صحیح روایات کے خلاف بھی ہے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا ذکر ہے۔

③ تیسری ضعیف روایت:

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
عامر شعبی رحمہ اللہ کے مطابق جب سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا، تو ام فضل بنت حارث نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

"تعجب ہے طلحہ و زبیر پر، وہ کس طرح میرے مخالف ہوگئے؟ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا، تو ہم نے کہا تھا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت اور ولی ہیں۔ آپ کی خلافت کے سلسلے میں کوئی شخص ہمارے ساتھ نزاع اور اختلاف نہیں کرے گا۔ ہماری قوم نے انکار کیا اور ہمارے غیر (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ بنا لیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ جائے گا، کفر لوٹ آئے گا اور دین اسلام خراب و برباد ہو جائے گا، تو ہم اس امر (خلافتِ ابوبکر) کو بدل کر رکھ دیتے۔ ہم نے مصلحت کے پیش نظر بعض مصائب و آلام پر صبر کیا۔”
(الاستیعاب لابن عبد البر، مطبوعہ بر حاشیہ الاصابۃ: 1/502)

تبصرہ:

یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے اور اسلام و مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی نیت سے گھڑی گئی ہے۔ اس روایت کی کوئی معتبر سند موجود نہیں ہے، اور امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اسے بغیر سند کے ذکر کیا ہے۔ اس میں موجود راویان کا حال محدثین کے نزدیک ناقابل اعتماد ہے۔

راویوں کی حالت

لوط بن یحییٰ ابو مخنف کوفی:

ابو مخنف ایک معروف رافضی شیعہ راوی ہے، جو بالاجماع ضعیف مانا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں ائمہ حدیث نے شدید تنقید کی ہے:
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لَیْسَ بِشَيْءٍ” (یہ کچھ بھی نہیں ہے)۔
(تاریخ یحییٰ بن معین بروایۃ الدُّوري: 1358)
نیز فرماتے ہیں:
"لَیْسَ بِثِقَۃٍ” (یہ معتبر نہیں ہے)۔
(تاریخ یحییٰ بن معین بروایۃ الدُّوري: 1780)

امام ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"شِیْعِيٌّ مُّحْتَرَقٌ، صَاحِبُ أَخْبَارِھِمْ” (یہ کٹر شیعہ تھا اور ان کی جھوٹی خبروں کا راوی تھا)۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال: 6/93)

امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے اسے "متروک الحدیث” قرار دیا ہے۔
(الجرح والتعدیل: 7/182)

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"إِخْبَارِيٌّ، ضَعِیفٌ” (یہ جھوٹی روایات بیان کرنے والا اور ضعیف ہے)۔
(الضعفاء والمتروکون: 669)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا:
"وَکَانَ شِیعِیًّا، وَھُوَ ضَعِیفٌ عِنْدَ الْـأَئِمَّۃِ” (یہ شیعہ تھا اور ائمہ کے نزدیک ضعیف تھا)۔
(البدایۃ والنہایۃ: 8/220)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا:
"کَذَّابٌ” (یہ جھوٹا ہے)۔
(تاریخ الاسلام: 2/188)
نیز فرمایا:
"إِخْبَارِيٌّ، تَالِفٌ، لاَ یُوثَقُ بِہٖ” (یہ جھوٹی روایات بیان کرنے والا ہے، اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا)۔
(میزان الاعتدال: 3/419)

جابر جعفی:

یہ بھی ایک کذاب، متروک، اور رافضی راوی ہے، جسے محدثین نے ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔

اہل سنت کے اجماعی موقف کے خلاف

اس روایت کو اہل سنت کے اجماعی موقف کے خلاف استعمال کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، کیونکہ اس کے راوی جھوٹے اور ناقابل اعتماد ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں جو باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں، وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلافت کے لیے بیعت کی اور امت کی وحدت کو ترجیح دی۔

④ چوتھی ضعیف روایت:

سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
"میں شوریٰ کے دن دروازے پر کھڑا تھا، اور اہل شوریٰ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ‘لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی، حالانکہ اللہ کی قسم! ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار تھے۔ لیکن میں نے اس اندیشے کے تحت سکوت اختیار کیا کہ (اگر میں نے مخالفت کی) تو لوگ کفر کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے نہ لگ جائیں۔'”
(الضعفاء الکبیر للعقیلی: 2/211)

تبصرہ:

یہ روایت انتہائی ضعیف ہے اور اس کی سند کے حوالے سے کئی مسائل ہیں۔ امام عقیلی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود لکھا:

"وَہٰذَا الْحَدِیثُ لَا أصْلَ لَہ، عَنْ عَلِيٍّ.” "اس حدیث کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔”
(الضعفاء للعقیلی: 2/212)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا موقف:

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو "منکر” قرار دیا، یعنی یہ روایت قابل قبول نہیں ہے:
"وَھُوَ خَبَرٌ مُّنْکَرٌ.” "یہ خبر منکر ہے۔”
(میزان الاعتدال: 1/441)

مزید لکھتے ہیں:
"فَھٰذَا غَیْرُ صَحِیْحٍ وَّحَاشَا أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ قَوْلِ ھٰذَا.” "یہ روایت صحیح نہیں ہے، اور امیر المومنین (علی رضی اللہ عنہ) ایسی بات ہرگز نہیں کر سکتے۔”
(میزان الاعتدال: 1/442)

روایت کی کمزوری کی وجوہات

راوی حارث بن محمد:

اس روایت کا راوی حارث بن محمد ہے، جسے امام ابن عدی (الکامل: 1/194) اور امام عقیلی (الضعفاء: 1/212) نے "مجہول” کہا ہے، یعنی یہ راوی نامعلوم حیثیت رکھتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی بیان کردہ روایات کو معتبر نہیں مانا جا سکتا۔

امام ابن حبان نے اگرچہ اسے الثقات میں شامل کیا ہے، مگر اس سے روایت کی کمزوری ختم نہیں ہوتی، کیونکہ دیگر معتبر محدثین نے اسے ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔

رجل مبہم:

اس روایت میں ایک رجل مبہم یعنی نامعلوم شخص کا ذکر ہے، جو کہ روایت کو مزید کمزور بنا دیتا ہے۔ جب روایت میں کوئی راوی مبہم ہو، تو روایت کی قبولیت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اس شخص کی وثاقت کا علم نہیں ہوتا۔

محمد بن حمید رازی:

اس روایت کی ایک اور سند میں محمد بن حمید رازی کا ذکر ہے، جو کہ ضعیف راوی ہیں۔ انہوں نے حارث بن محمد سے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح نہیں کی، جس سے سند میں مزید کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، المزید فی متصل الاسانید کی صورت بنتی ہے، جس سے روایت کا ضعف مزید واضح ہو جاتا ہے۔

⑤ پانچویں روایت:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
"ہم آپ کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مرتبے کو پہچانتے ہیں اور اس خیر پر حسد نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہے۔ لیکن آپ نے خلافت کا معاملہ خود ہی طے کیا (یعنی ہم سے مشورہ نہیں کیا)، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی بنا پر ہم سمجھتے تھے کہ مشورے میں ہمارا بھی حق ہے۔”
سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل گفتگو کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
(صحیح البخاری: 4240، 4241، صحیح مسلم: 1759)

تبصرہ:

یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو تسلیم کیا۔ اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ان کی امارت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چیلنج نہیں کیا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ "ہم سے مشورہ کیوں نہیں کیا گیا؟” دراصل ان کی ایک شکایت تھی، جو فطری ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت میں سے تھے۔ یہ شکایت خلافت پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ خلافت کے انتخاب کے طریقہ کار پر ان کا موقف تھا۔

اس حدیث کے سیاق و سباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو اللہ کی طرف سے ملنے والا فضل سمجھتے ہوئے تسلیم کیا تھا، اور ان کے خلافت کے حق کو تسلیم کیا تھا۔

غلط فہمیاں اور ان کا جواب:

بعض لوگوں نے اس حدیث کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کا حق دار سمجھتے تھے اور ان کی حق تلفی کی گئی تھی۔ تاہم، اس حدیث میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق خلافت کو چیلنج کیا ہو۔ بلکہ یہ صرف اس بات کا اظہار ہے کہ انہیں مشورے میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس انداز میں بات کرنا ان کے بیچ کے تعلقات اور باہمی احترام کو ظاہر کرتا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات کو سنجیدگی سے سنا اور اس پر رنج کا اظہار بھی کیا، جس کا ذکر حدیث میں آنسوؤں کے بہنے سے ہوتا ہے۔

حافظ احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی رحمہ اللہ کا قول:

حافظ احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی رحمہ اللہ کا قول اس حوالے سے مزید وضاحت فراہم کرتا ہے:

"شیعہ اور رافضیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کی جھوٹی احادیث گھڑ لیں اور دعویٰ کیا کہ یہ تواتر کو پہنچ گئی ہیں، حالانکہ یہ سب جھوٹ ہے۔ اگر یہ باتیں واقعی صحیح ہوتیں، تو سقیفہ کے دن صحابہ ان کا ذکر کرتے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کو اپنے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو خاموش رہنا جائز نہ ہوتا، کیونکہ یہ حق اللہ کا، رسول کا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اور تمام مسلمانوں کا تھا۔”
(المفہم لما أشکل من تلخیص صحیح مسلم: 4/557)

نہج البلاغہ کی گواہی:

نہج البلاغہ میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلافت کے انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں کہا:

"میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے جنہوں نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر بن خطاب، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کی بیعت کی تھی۔ اگر مہاجرین اور انصار کسی شخص کو امام منتخب کریں، تو اللہ کی رضا مندی اس میں شامل ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس کے خلاف بغاوت کرتا ہے، تو اسے واپس پلٹایا جائے گا۔”

خلاصہ:

  • اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم کیا اور ان کی فضیلت کا اعتراف کیا۔
  • ان کی شکایت خلافت کے حق کی نہیں بلکہ مشورے کے حق کی تھی، جو کہ قرابت دار ہونے کی وجہ سے فطری تھی۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس انداز میں بات کرنا ان کے باہمی احترام اور محبت کا مظہر ہے۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمانوں کے اتحاد کو ترجیح دی، جس کا مقصد امت میں تفرقہ اور انتشار کو روکنا تھا۔




حدیثِ قرطاس کے پسِ منظر میں مطاعنِ عمر رضی اللہ عنہ پر تحقیقی نظر

 اہلِ تشیع صحیح بخاری شریف میں وارد ’’واقعہ قرطاس‘‘ کو بنیاد بنا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر چند بے بنیاد الزام تراشتے ہیں – نعوذ باللہ من ذلک- ذیل کی سطور میں ہم نے ان کے مطاعن کو ذکر کر کے ان کا اجمالی اور تفصیلی جواب ذکر کرتے ہیں – وباللہ التوفیق

پہلا اعتراض:

کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کو رد کیا جو بحکم  آیت:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ‎﴿٣﴾‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ

النجم – 3/4

سراسر وحی تھی اور وحی کو ٹھکرانا سراسر کفر ہے-

دوسرا اعتراض:

کہتے ہیں نبی کریم ﷺ سے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ آپ کو ہذیان اور اختلاطِ کلام کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے- حالانکہ انبیاء کرام ان امور سے مبرا ہیں-

تیسرا اعتراض:

کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کے روبرو جھگڑا اور شور و شغب کیا حالانکہ آپ ﷺ کے پاس بلند آواز گناہ کبیرہ ہے- جیساکہ قرآن مجید کی سورہ حجرات میں ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ

الحجرات – 2

اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آوازسے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔

چوتھا اعتراض:

کہتے ہیں امت کی حق تلفی کی اگر تحریر لکھ لی جاتی تو بعد میں امت گمراہی سے بچ جاتی، مگر اب وہی لوگ ہر وادی میں سراسیمہ اور پریشان ہیں- لہٰذا اس سارے اختلاف کا سارا وبال عمر رضی اللہ عنہ کی گردن پر ہے- وغیرہ وغیرہ

اجمالی جواب:

ان چاروں باتوں کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ یہ سارے کام اکیلے عمر رضی اللہ عنہ سے سرزرد نہیں ہوئے، موجودین حجرہ مبارک سب کےسب اس معاملے میں دو گروہ ہوگئے تھے جن میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے- اب اگر یہ دونوں حضرات منع کرنے والوں میں تھے تو گویا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے سے متفق اور اُن کے شریک تھے ۔ ایسی صورت میں یہ دونوں بھی اُن مطاعن کا نشانہ بنیں گے اور اگر اجازت دینے والوں میں تھے تو پھر بھی بعض مطاعن سے نہیں بچتے ،ان کا الزام ان پر بھی آئے گا ۔ مثلاً ایسے نازک وقت میں  نبی اکرم ﷺ کے روبرو اونچی آواز سے بولنا  یا امت کی حق تلفی کا معاملہ کہ ساتھیوں کے منع کرنے سے رک گئے۔ نہ اس وقت لائے نہ بعد میں جبکہ موقع  بھی تھا اور پوری فرصت بھی ملی تھی تو اس وقت قلم  دوات لاکر لکھوادیتے ،اس وحی الٰہی کے رد میں ایک طرح سے یہ بھی شریک ہوگئے ۔ لہٰذا یہ طعن اکیلے عمر رضی اللہ عنہ پر نہیں لگتا دوسرے سب شرکاء بھی طعن میں شامل ہیں جن میں سے بعض باتفاق شیعہ و سنی مطعون نہیں ہوسکتے۔تو جب طعن مطعون اور غیر مطعون سب کو شامل ہو تو وہ غیر معتبر ہوجاتاہے۔ پھر جب وہ طعن ہی غیر معتبر ہوا تو اُس کے جواب کی ضرورت ہی کیا رہی  اور اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو طعن کی وجہ اول بھی سب میں مشترک ہے اس لئے کہ نبی علیہ السلام کا خطاب مبارک ’’ایتونی بقرطاس‘‘ سارے ہی حاضرین سے تھا-

اور اگر آپ ﷺ کا یہ حکم وجوب و فرضیت کے لئے نہیں بلکہ ارشاد و ہدایت کےلئےتھا تو جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دیگر موجودین اس کے ترک کی بنا پر مورد طعن نہیں کررہے اور نہ ہی کسی وجہ سے ان کو قابلِ ملامت کہا جاسکتا ہے کیونکہ محض صلاح و ارشاد پرمبنی احکام کی تعمیل بالاجماع قابلِ گرفت نہیں ہوتی-

اعتراضات کے تفصیلی جوابات

جواب اول:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کو رد نہیں کیا بلکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آرام و راحت پہنچانا چاہا، ان کویہ گوارہ نہ تھا کہ اس شدتِ مرض میں آپ ﷺ کو کسی قسم کی مشقت و رنج پہنچایا جائے-سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کو رد نہیں کیا بلکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آرام و راحت پہنچانا چاہا، ان کویہ گوارہ نہ تھا کہ اس شدتِ مرض میں آپ ﷺ کو کسی قسم کی مشقت و رنج پہنچایا جائے-

جس کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی چڑھی ہو وہ معاملے کا یہ دلآویز پہلو نہیں دیکھ سکتا- ہر محب اپنے محبوب کوہر عالم میں راحت اور آرام میں ہی دیکھنا چاہتا ہے-

اسی لئے تو امیرعمر رضی اللہ عنہ نے براہِ راست آپ ﷺ سے خطاب نہیں کیا بلکہ دوسرے احباب و رفقاء سے کہا کہ آپ ﷺ کو مزید مشقت و تکلیف میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے-

اور حسبنا کتاب اللہ کہہ کر تو آپ نے تکمیلِ دین والی آیت کی طرف بلیغ اشارہ کردیا تھا- اھلِ عقل کے نزدیک تو آپ کی یہ دقتِ نظری قابلِ تحسین و صد آفرین ہونی چاہیئے تھی نہ کہ موجبِ طعن، یہ آیت اس واقعہ سے تین ماہ بیشتر نازل ہوچکی تھی، اسی میں فرمایا گیا تھا:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

المائدۃ – 3

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔

جنابِ فاروق رضی اللہ عنہ کا اشارہ اسی آیت کی طرف تھا۔ اب ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کوئی ایسی نئی چیز تو نہیں لکھنا یا لکھوانا چاہتے ہوں گے جو کتاب،شریعت میں نہ ہوتی، ہاں  ممکن ہے کہ آپ ﷺ سابقہ احکام الٰہی پر کسی طرح کی تاکیدی تحریر ثبت کرنا چاہتے ہوں-

اگر امرِ پیغمبر ہر صورت میں وحی سماوی ہی باور کیا جائے اور اصحاب کی رائے  ومشورہ اور ادائے محبت کے انداز کو انکارِ وحی الٰہی کہا جائے تو کیا فرمائیں گے حدیبیہ کے اس موقع پر کہ جب کفار مکہ کے اصرار پر نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبد اللہ ہی لکھ دو اور سابقہ عبارت کو مٹا دو تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم کے باوجود وہ لفظ نہیں کاٹا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر نعوذباللہ وحی الٰہی کے انکار یا رد کاحکم لگے گا؟ کلا

بس یہی تاویل و توجیہ ہے اور بالاتفاق ہے کہ انہوں نے یہ سب بوجہ محبتِ رسول ﷺ  و بوجہ تعظیمِ رسول ﷺ کیا-

جہاں تک بات ہے ردِ وحی کی ہے تو سن لیجئے کہ شیعہ و سنی کے نزدیک مصلحت پیش کرنا ،مشقت سے بچنے کی صورت نکالنا اور حکم ِالٰہی بلاواسطہ کو جو قطعی طور پر وحی منزل من اللہ ہے خلاف اصرار اور بار بار اس میں ترمیم کی درخواست ردِ وحی شمار نہیں ہوتا-

چنانچہ شبِ معراج بسلسلہ نماز کی فرضیت ، نبی کریم ﷺ اور بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوئے کہ اس حکم کو میری امت برداشت نہ کرسکے گی، اس میں تخفیف فرما دیجئے-

اگر یہ امر ردِ وحی ہوتا توپیغمبرانِ عظام علیھما السلام سے اس کا صدور کیسے ممکن ہوتا؟

دوسرا جواب:

لفظ ھجرا کی نسبت امیر عمر رضی اللہ عنہ کی طرف صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کا خود ساختہ معنیٰ ’ھذیان‘ وغیرہ اس جگہ پر قابلِ قبول ہے کیونکہ معاملہ امام الانبیاء محمد ﷺ کا ہے-

اکیلے عمر رضی اللہ عنہ اس جملے کے ادا کرنے والے قرار نہیں دئے جاسکتے کیونکہ بعض روایات میں قالوا ھجراً وارد ہوا ہے جو متقاضی ہے کہ اس کی نسبت تمام حاضرینِ مجلس کی طرف کی جائے۔

اور اھجر کا صحیح ترین معنیٰ یہی ہے کہ آپ ﷺ کے جدا ہونے کو صحابہ کرام نے بصیغہ استفہام بیان کیا ہے اور بس-1

تیسرا جواب:

یہ وجہ سراسر غلط ہے اور حق سے چشم پوشی پر مبنی ہے اس لئے کہ نبی علیہ السلام کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنا بے شک ممنوع اور ناجائز ہے، مگر اس قصے میں تو کہیں سے یہ حرکت سرزد نہیں ہوئی نہ سیدنا عمر رضی اللہ سے اور نہ ہی کسی اور سے-

غور سے کام لیں تو بات واضح  ہی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مخاطب ہوتے ہوئے یاآپ ﷺ کی گفتو مبارکہ کے درمیان بلند آواز منع ہے نہ کہ آپس میں گفتگو  کرتے ہوئے اور ایسا تو ہوہی جاتا ہےکہ جب چند اشخاص باہم گفت و شنید کریں تو آواز تو بلند ہو ہی جاتی ہے نادانستہ طورپر ہی صحیح-

لہٰذا وہاں رفع صوت وہ نہیں تھا کہ جسے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ

الحجرات – 2

اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آوازسے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔

سے تعبیر کرکے تنقید و طعن کیا جائے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے بھی فقط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ’قم عنی‘ نہیں فرمایا تھا بلکہ ’قوموا عنی‘ فرما کر تمام حاضرین  کو اٹھ جانے کا حکم فرمایا تھا-

اب نہ جانے وہ کونسی دوربین و خوردبین ہے جو ’قم یا عمر‘ بغیر کہے بھی لکھا ہوادکھاتی ہے اور ’قوموا عنی‘  کے بمصداق قم یا عباس اور قم یا علی کو شامل ظاہر لکھا ہونے کے باوجود نہیں دکھاتی؟

چوتھا جواب:

معترضین کی وجہ چہارم بھی خیالِ باطل پر مبنی ہے کہ جی حق تلفی ہوئے ہے۔ کیونکہ یہ تو اس وقت ہوتا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نئی بات آئی ہوتی اور اس کوباوجود منفعت کے لکھنے لکھوانے سے روک دیا جاتا۔

 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ

المائدۃ – 3

کی بنیاد پر معلوم تھا کہ اب کوئی دین و شرع کی نئی بات نہیں ہوگی-

اس اعتراض کے باطل اور لغو ہونے کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ اس تحریر کے لکھنے یا لکھوانے پر منجانب اللہ حتمی طور پر مامور ہوتے اور پھر بعدازاں 4 دن کا وقت ملنے کے باوجود آپ ﷺ نے اس طرف توجہ نہ فرمائی تو کیا نعوذ باللہ اس وجہ سے فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں تساہل کا الزام نہیں آتا؟ وہ کون بدبخت ہوگا جو ایسا خیال بھی دل میں لائے جبکہ وہ یہ آیت بھی تلاوت کرتا ہے کہ:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ

المائدۃ – 67

اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی-

پھر یہ بھی غور کیا جائے کہ بعض روایات میں وہ بات آگئی ہے جو لکھوانا مقصود تھا مثلاً مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو، قاصدوں کو انعام و اکرام جاری رکھنا اور تیسری بات تو جیشِ اسامہ کی روانگی یا اوصیٰ بالقرآن کے زمرے میں آتی ہے-

اگر کوئی یہ کہے کہ ’لن تضلوا بعدی‘ سے معلوم ہوتا ہے وہ ایک ایسا امر لازم تھا کہ جس سے امت کی ہدایت بندھی ہوئی تھی؟ تو جواب یہ ہے کہ فقط ترجمہ الفاظ میں ہیرا پھیری سے ایسا سمجھا جارہا ہے وگرنہ تو اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ تم میرے لکھوادینے کے بعد بھولوگے نہیں-

اور یہ اس لئے کہ لفظ ’ضل یضل‘  ’نسی ینسی‘ کے معنی میں بھی آتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا:

فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ

البقرۃ – 282

تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گوہوں میں سے پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے-

حاصل کلام یہ کہ کسی بھی صورت میں اس تحریر سے روک دینے میں امت کی حق تلفی نہیں ہوتی-

(ملخصاً من التحفہ الاثنا عشریہ)

(تفصیل کے لئے تحفہ اثنا عشریہ، تفھیم الاسلام  اور تحفہ المسلم شرح صحیح مسلم وغیرہ دیکھئے)






حدیث قرطاس پر شیعوں کے اعتراضات کے جوابات

سوال، پیغمبر علیہ السلام جناب علی (رضی اﷲ عنہ) کی خلافت تحریر فرمانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر (رضی اﷲ عنہ) سے کاغذ، قلم ودوات طلب فرمائی تو انہوں نے نہ دی بلکہ یہ کہا کہ رسول اﷲﷺ ہذیان کہتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے۔ یہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بڑی غلطی کی۔

جواب، جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ آپ کی ابتداء ہی غلط بلکہ کتب اہل اسلام میں الٹایہ موجود ہے کہ پیغمبر علیہ السلام اپنے مرض الموت میں جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت تحریر فرماگئے تھے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف صفحہ 555 پر واضح الفاظ میں موجود ہے۔ نیز اس طعن کرنے سے اتنا پتہ چل گیا کہ خم غدیر کے موقع پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر نہیں ہوئے تھے اور عید غدیر مناکر شیعہ لوگ خواہ مخواہ بدنام ہورہے ہیں۔ آپ کا یہ دعویٰ پیغمبر علیہ السلام نے کاغذ، قلم، دوات حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے طلب فرمائی تو یہ بھی جھوٹ ہے بلکہ آپ نے جمیع حاضرین سے کہ جن میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ، حضرت عباس رضی اﷲ عنہ اور گھر کی عورتیں وغیرہ بھی شامل ہیں، کاغذ، قلم، دوات طلب فرمایا جیسا کہ : بخاری شریف کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب جلد 10،ص 426، رقم الحدیث 2932 پر موجود ہے۔فقال ائتونی بکتف اکتب لکم کتابا : یعنی حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ کتب لاؤ تاکہ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم راہ حق کو نہ گم کرو۔

غور فرمایئے حدیث میں ’’ائتونی‘‘ صیغہ جمع مذکر مخاطب بول کر پیغمبر علیہ السلام جمیع حاضرین سے کتف طلب فرمارہے ہیں۔ فقط حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے اور ان سے طلب ہی کیوں فرماتے جبکہ وہ ان کا گھر ہی نہ تھا کہ جس میں قلم دوات طلب کی گئی بلکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا حجرہ تھا، جیسا کہ بخاری شریف جلد 1، صفحہ 382 پر ہے اور پھر اگر قریب تھا تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا گھر لہذا اگر خاص طور پر طلب فرماتے تو ان سے کہ جن کا گھر بعید تھا۔ بہرحال نقل و عقل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے پیغمبر علیہ السلام نے قلم دوات طلب نہیں فرمائی۔

(تمام شیعہ متفق ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا گھر مدینہ شریف کے شہر کے آخری کونے پر تھا)

2۔ آپ اس کا کیا جواب دیں گے کہ حضور اکرمﷺ تین دن زندہ (دنیوی زندگی) رہے اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ باوجوہ قریب البیت ہونے کے بھی ان کی تعمیل حکم نہ کرسکے اور بقول شیعہ خلافت بھی انہیں کی تحریر ہوئی تھی اور ادھر حکم رسول بھی تھا لہذا اگر باقی سب صحابہ مخالف تھے تو ان پر لازم تھا کہ چھپے یا ظاہر ضرور لکھوا لیتے تاکہ یوم سقیفہ یہی تحریر پیش کرکے خلیفہ بلافصل بن جاتے مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ یا تو تحریر ہی سرے سے ضروری نہ تھی بلکہ ایک امتحانی پرچہ تھا کہ جس میں حضور اکرمﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی رائے سے اتفاق فرمایا ورنہ آپ پر کتمان حق اور وحی کا الزام عائد ہوگا حالانکہ جماعت انبیاء اس سے بالاتر ہے۔

3۔ اگر یہ ضروری تحریر تھی یا وحی الٰہی تھی اور کاغذ دوات نہ لانے والا خواہ مخواہ ہی مجرم ہوتا تو اس جرم کے مرتکب حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے بجائے اہل بیت کو ہونا لازم آتا ہے۔ اس لئے کہ وہ ہر وقت گھر میں رہتے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کہ جن کا گھر باقی صحابہ کی نسبت قریب تھا اور اگر وہ مجرم نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بھی مجرم نہیں۔ لہذا شیعوں کا یہ کہنا کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے کاغذ اور دوات حضورﷺ نے طلب فرمائی، باطل ہوا۔

سوال، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے العیاذ باﷲ حضور اکرمﷺکی طرف ہذیان کی نسبت کی؟

جواب، یہ بھی جھوٹ اور افتراء ہے بلکہ بخاری شریف کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہودمن جزیرۃ العرب، جلد 10، ص 426، رقم الحدیث 2932 پر یوں موجود ہے: فقالو مالہ اہجر استفہموہ ۔ یعنی حاضرین نے کہا کہ حضورﷺ کا کیا حال ہے۔ کیا آپﷺ دنیا سے ہجرت فرمانے لگے ہیں۔ آپ سے دریافت تو کرلو۔

اور عبارت میں قالوا بصیغہ جمع مذکر غائب موجود ہے لہذا پہلی جہالت تو شیعوں کی یہ ہوئی کہ صیغہ جمع سے ایک شخص واحد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ مراد لے لیا۔ دوسری جہالت یہ کہ ہجر کا معنی برخلاف عربیت بلکہ برخلاف سباق و سیاق ہذیان لکھ مارا حالانکہ ہجر معنی ہذیان کیا جائے تو آگے استفہموہ نے بتادیا کہ ہجر کے معنی وہی دار دنیا سے جدا ہونے کا ہی ہے نہ کچھ اور۔

(2) اگر ہجر بمعنی ہذیان بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی مفید نہیں کیونکہ اہجر سین ہمزہ استفہام انکاری موجود ہے کہ جس سے نفی ہذیان مفہوم ہورہی ہے معنی یہ ہوگا کہ کیا حضورﷺ کوئی ہذیان فرما رہے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہوش سے فرمارہے ہیں ذرا دریافت تو کرلو۔ بہرکیف حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تو ویسے ہی اس مقولہ کے قائل نہ تھے۔ باقی رہے قائلین تو چونکہ ہجر بمعنی ہذیاب ثابت نہیں ہوا، اگر ہوا تو بوجہ ہمزہ استفہام منفی ہوگیا لہذا وہ بھی اس سے بری ہوگئے۔

سوال، اگر یہی بات ہے تو پھر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حسبنا کتاب اﷲ کیوں کہا؟

جواب، اول تو اکثر روایات میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا یہ مقولہ ہی نہیں شمار ہوا۔
(2) حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے جب یہ خیال فرمایا کہ اﷲ کا دین اور قرآن مکمل ہوچکا ہے کہ جس پر ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ شاہد ہے اور حضورﷺ کا یہ حکم بطور وحی الٰہی اور وجوب نہیں بلکہ بطور مشورہ ہے تو آپ نے بطور مصلحت اور مشورہ عرض کردیا کہ یارسول اﷲﷺ آپ تحریر قرطاس کی تکلیف نہ فرمائیں۔ کتاب اﷲ کو ہمارے لئے کافی سمجھیں جس پر حضورﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے موافقت ظاہر فرمائی اور تحریر قرطاس پر زور دینے والوں کو ڈانٹ دیا۔ چنانچہ بخاری شریف کتاب الجہاد والسیر، باب ہل یستشفع الی اہل الذمۃ ومعاملتہم جلد 10، ص 268، رقم الحدیث 2825 پر ہے:دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعونی الیہ ۔ اور اگر قرآن کو کامل مکمل کتاب جاننا ہی جرم ہے تو اﷲ تعالیٰ کے ارشاد گرامی کا کیا مطلب ہوگیا ’’واعتصموا بحبل اﷲ جمیعا‘‘ نیز حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا نہج البلاغہ جلد 3ص 57 پر ہے۔ واﷲ واﷲ فی القرآن نیز کتاب مذکور جلد 2 صفحہ 27 پر ہے فاوصیک بالاعتصام بحبلہ اور جلد 2 صفحہ 22 پر ہے ومن اتخذ قولہ دلیلا ہدیٰ دیکھئے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی ہدایت کے لئے قرآن کو کافی قرار دیا لہذا ان کے قول سے اگر انکار بالسنۃ لازم نہیں آئے گا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے حق میں کیونکر مفہوم مخالف لیا جاسکے گا۔ اگر بربنائے نیستی وبربنائے مصلحت مشورہ دینا رسول اﷲﷺ کی نافرمانی ہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ حسب روایت مذہب شیعہ یقینا منکر رسول ہیں۔ چنانچہ جنگ حدیبیہ کے موقع پر حضورﷺ نے فرمایا۔ اے علی! مٹایئے مگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پیغمبر علیہ السلام کو صاف جواب دیا کہ میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ رسول اﷲﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اسے مٹایا۔ اگر اس واقعہ میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو نافرمان نہیں کہا جاسکتا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی نہ کہا جائے کیونکہ بربنائے مصلحت و حکمت حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حکم نبوی کی خلاف ورزی کی ہے تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے خلاف ورزی کی ہے، نہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے، بلکہ وہی ہوا جو رسول اﷲﷺ چاہتے تھے۔

فضائل عمر از لسان حیدر رضی اﷲ عنہ : تتمہ شیعہ صاحبان خواہ مخواہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جو کچھ فرمایا، وہ بھی ملاحظہ ہو۔ جب خلیفہ ثانی عمر رضی اﷲ عنہ نے روم پر چڑھائی کی اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا کہ نواحی اسلام کو غلبہ دین سے بچانے اور مسلمانوں کی شرم رکھنے کا اﷲ ہی کفیل ہے۔ وہ ایسا خدا ہے جس نے انہیں اس وقت فتح دی جب ان کی تعداد نہایت قلیل تھی اور کسی طرح فتح نہیں پاسکتے تھے۔ انہیں اس وقت مغلوب ہونے سے روک رہا ہے جب یہ کسی طرح روکے نہیں جاسکتے اور وہ خداوند عالم حی لایموت ہے۔ اب اگر تو خود دشمن کی طرح کوچ کرے اور تکلیف اٹھائے تو پھر یہ سمجھ لے کہ مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلاؤ تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد کوئی ایسا مرجع نہ ہوگا جس کی طرف وہ رجوع کریں لہذا تو دشمن کی طرف اس شخص کو بھیج جو کار آزمودہ ہو، اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کرو جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں اور اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں۔ اب اگر خدا غلبہ نصیب کرے گا تب تو وہ چیز ہے جسے تو درست رکھتا ہے اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع تو موجود ہے (نیرنگ فصاحت، ص 19)

ہم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے عربی کلام کا ترجمہ شیعہ کی کتب نیرنگ فصاحت سے لیا ہے، تاکہ ان کو یہ عذر نہ ہوکہ ترجمہ میں دست اندازی کی گئی ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے اس کلام سے حسب ذیل امور ثابت ہوئے ہیں:

1: حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر پورا اعتماد تھا۔ ہر معاملہ میں ان سے مشورہ لیا جاتا، ورنہ یہ مسلّم ہے کہ کوئی شخص اپنے دشمن سے اس طرح کا مشورہ ہرگز نہیں لیا کرتا۔

2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا ملجا و ماوا سمجھتے تھے، اسی وجہ سے آپ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اس مہم میں بذات خود معرکہ کارِزار میں جائیں۔ اگر خدانخواستہ باہمی کدورت ہوتی تو یہ مشورہ نہ دیتے کہ آپ لڑائی میں نہ جائیں بلکہ ان کو تو یہ خواہش چاہئے تھی کہ یہ خود وہاں جائیں، ان کا کام تمام ہو اور آپ کے لئے جگہ خالی ہو۔ اس بات سے ظاہر ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے صادق دوست تھے۔

3: حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی کامیابی کو اسلام کی کامیابی تصور کرتے تھے۔ اس لئے ان کو تسلی دی کہ اﷲ تعالیٰ تمہارا اور مسلمانوں کا خود حامی و ناصر ہے۔ جب مسلمان تھوڑے تھے، اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمائی اور اب تو بفضل خدا مسلمانوں کی تعداد کثیر ہے پھر اس کی تائید و نصرت پر کیوں نہ بھروسہ کیا جائے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے کلام سے یار لوگوں کی اس من گھڑت بات کی بھی تردید ہوتی ہے کہ مسلمان بعد وفات رسولﷺ صرف تین چار ہی رہ گئے ہیں۔ ایسا ہوتا تو آپ یوں فرماتے پہلے مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی۔ اب گنتی کے چند آدمی رہ گئے ہیں۔ ان کو اس مہم پر بھیجو تو فتح ہوگی ورنہ شکست۔