(1) اللہ کی کتاب کو چھوڑنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ
ترجمہ:
۔۔۔اور تحقیق میں چھوڑے جا رہا ہوں تم میں اللہ کی کتاب، نہیں تم گمراہ ہوگے اگر تم اسے مضبوط پکڑوگے۔۔۔
[مصنف ابن أبي شيبة:32072، صحیح مسلم:1218، سنن ابوداؤد:1905، المنتخب من مسند عبد بن حميد:858+1135، أخبار مكة للفاکھی:1891، السنة لابن أبي عاصم:1556، السنن الكبرى للنسائی:3987، المنتقى لابن الجارود:469 صحیح ابن خزیمۃ:2809، صحیح ابن حبان:1457+3944، المستدرك الحاكم:318(321)، حجة الوداع لابن حزم:92، السنن الكبرى للبيهقي:8827، مستخرج أبي عوانة:3922]
تشریح:
"اور آپ نے صرف کتاب (اللہ) پر اکتفا فرمایا؛ کیونکہ وہ سنت پر عمل پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: 'اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو' (النساء: 59) اور فرمان: 'رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ' (الحشر: 7) کی وجہ سے۔ اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمسک کرنے میں اصل اور بنیادی اصول کتاب (اللہ) ہی ہے۔"
(1)شرح امام الطيبي الشافعی(م560ھ):
آپ ﷺ کے قول "لن تضلوا بعده" (تم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے) کے معنی ہیں: اس (کتاب) سے تمسک کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد۔
اور لفظ "کتاب" (کا منصوب ہونا) "ما" سے بدل ہے یا اس کا بیان۔ اور ابہام کے بعد تفسیر (تفصیل) کرنا قرآن کے شان کو عظمت دینے کے لیے ہے۔
اور اس کلام کے بعد یعنی "وقد تركت فيكم" (اور بے شک میں نے تم میں چھوڑا ہے) – یہ پچھلا کلام – تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔
[شرح المشكاة للطيبي:2553، ج6 / ص1966]۔(2)امام ابن هبيرة الحنبلی(ت560هـ) :
"اور آپ ﷺ کا یہ فرمان۔۔۔اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتاب اللہ ہی ہدایت کا ذریعہ ہے؛ پس جو شخص اسے تھامے رکھے گا وہ گمراہ نہیں ہو گا۔"
"اور کتاب اللہ ہی میں یہ فرمان ہے: {رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ}، پس کتاب اللہ سے تمسک کرنا ہر اس چیز (سنت نبوی وسنت الخلفاء راشدین) سے تمسک کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔"
تخریج:
(1)حديثِ ابن عباسؓ
[بيهقى:20123، حاكم:318]
(2)حديثِ ابوھریرہؓ
[حاكم :٣١٩، دارقطنى (٤/٢٤٥)]
(3)حديثِ زيد بن ثابتؓ:
إنى تارك فيكم كتاب الله هو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة۔
ترجمہ:
میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب چھوڑ رہا ہوں۔ یہ اللہ کی رسی ہے۔ جو اس کی پیروی کرتا ہے وہ راہ راست پر ہے اور جو اسے چھوڑتا ہے وہ غلط راستے پر ہے۔
[مصنف ابن أبى شيبة:30078، صحیح ابن حبان:123]
نوٹ:
اس میں نہ "سنتی" کا ذکر ہے اور نہ "وعترتى أهل بيتى" کا۔
