Sunday, 23 June 2013

مرد اور عورت کی نماز میں فرق کے دلائل

اصول 1: نہ بدلنا اللہ کی بناوٹ کو [قرآن - سورۃ الروم:30]
تفسیرِ حدیث: تمہاری بدترین عورتیں وہ ہیں جو تمھارے مردوں کی مشابھت کرتی ہیں اور تمہارے بدترین مرد وہ ہیں جو تمہاری عورتوں کی مشابھت کرتی ہیں۔[شعب الایمان للبیھقی:7420]
ان کا ہم (مسلم) امت سے کوئی تعلق نہیں۔[احمد:462]
نبی ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی۔[بخاری:5885]
وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔[شعب الایمان للبیھقی:7420]

اصول 2: اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں [قرآن - سورۃ النور:31]
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو [قرآن - سورۃ الاحزاب:33]
تفسیرِ حدیث: عورت (سراپا) چھپانے کی چیز ہے، بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے غیرمردوں کی نظروں میں مزین کرکے دکھاتا ہے، اور یہ بات بلکل یقینی ہے کہ عورت اللہ کے سب سے زیادہ قریب اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔
[حديث ابن مسعود المرفوع: أخرجه الطبرانى (10/108، رقم 10115) ، وابن حبان (12/412، رقم 5598) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (8/101، رقم 8096) ، والخطيب (8/451) .
أخرجه الترمذى (3/476، رقم 1173) وقال: حسن صحيح غريب.
حديث ابن مسعود الموقوف: أخرجه ابن أبى شيبة (2/157، رقم 7616) .]



نماز میں فرق کے دلائل:
مردوں کا نماز میں ناف سے لیکر گھٹنوں تک جسم کا چھپانا کافی ہے۔
[حوالہ: دارقطنی:887+889، إرشاد الفقيه(ابن كثير):1/108]
مگر
عورتوں کیلئے دونوں ہتھیلیوں اور چہرہ کے علاوہ پورے جسم کا چھپانا فرض ہے:
حدیث نمبر1
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ , قَالَ:  «إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا تُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا».
[سنن الدارقطني:(2/414) رقم الحدیث:1785]
ترجمہ: حضرت امِ سلمہؓ نے نبی کریم ﷺ سے معلوم کیا کہ کیا عورت ایک اوڑھنی اور لمبے کرتے میں جس کے اندر لنگی نہ ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ فرمایا: اگر کرتا اتنا لمبا ہو کہ پیر کے پنجوں کو چھپالے تو ہوجاتی ہے۔ 



مردوں کی ننگے سر نماز ہوجاتی ہے مگرعورتوں کی نماز دوپٹہ کے بغیر ادا نہیں ہوتی:
حدیث نمبر2
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةَ امْرَأَةٍ قَدْ حَاضَتْ إِلا بِخِمَارٍ " .
حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہيں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ قبول نہیں کرتا بالغہ عورت کی  نماز کو اوڑھنی کے بغیر۔
[صحيح أبي داود:641، صحيح الترمذي: 377، صحيح ابن ماجه: 540، صحيح ابن خزيمة:758، صحيح ابن حبان:1745]
 امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث عائشہؓ حسن ہے اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت جب بالغ ہو جائے اور نماز پڑھے تو ننگے بالوں سے نماز جائز نہیں ہوگی یہ امام شافعیؒ کا قول ہے وہ فرماتے ہیں کہ عورت کے جسم سے کچھ حصہ بھی ننگا ہو تو نماز نہیں ہوگی امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ اگر اس کے پاؤں کھلے رہ جائیں تو اس صورت میں نماز ہو جائے گی.[جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 364(26235)]



اگر مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں تو کیا مرد حضرات کو بھی عورتوں کی طرح اوڑھنی پہن کر نماز پڑھنی ہوگی؟؟؟
جبکہ

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِ نِسَائِهِ " .[جامع الترمذي  » كِتَاب الْجُمُعَةِ  » أَبْوَابُ السَّفَرِ  » بَاب فِي كَرَاهِيَةِ الصَّلَاةِ فِي لُحُفِ النِّسَاءِ ... رقم الحديث: 545]
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ  اپنی بیویوں کی چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے.



مردوں کیلئے خوشبو کا استعمال پسندیدہ ہے[بخاری]
مگر
عورتیں اگر مسجد میں جانا چاہیں تو خوشبو کا استعمال کرنے پر سخت وعید آئی ہے:
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَإِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا "۔[احمد:27046]
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم عورتوں میں سے کوئی مسجد جائے تو خوشبو کا ہرگز استعمال نہ کرے۔
[وأخرجه ابن أبي شيبة 9/26، ومسلم (443) (142) ، والنسائي في "المجتبى" 8/189، وفي "الكبرى" (9426) ، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (3212) ، وابنُ خزيمة (1680) ، وأبو عوانة 2/16-17 و59، وابنُ حبان (2215) ، والطبراني في "الكبير" 24/ (720) ، والبيهقي في "السنن" 3/133 من طريق يحيى بن سعيد، بهذا الإسناد.
وأخرجه النسائي في "المجتبى" 8/154-155 و189، وفي "الكبرى" (9427) من طريق جرير بن عبد الحميد، والطبراني في "الكبير" 24/ (718) من طريق سفيان الثوري، والطبراني 24/ (719) من طريق سفيان بن عُيينة، والبيهقي في "السنن" 3/133 من طريق رَوْح بنِ القاسم، أربعتهم عن محمد ابن عجلان، به.]

 
حدیث نمبر3
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا".
[المعجم الكبير للطبراني » بَابُ الْوَاوِ » وَائِلُ بْنُ حَجَرٍ الْحَضْرَمِيُّ القيل، رقم الحديث: 17527(28)]
[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد » كتاب الصلاة، 2594، البدر المنير، لابن الملقن: 3/ 463]
حضرت وائل بن حجر رضی ﷲ عنہ فرماتے ہے کہ مجھے رسول ﷲ  نے فرمایا کہ اے وائل بن حجر تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔ (معجم طبرانی کبیر ج22ص18)


حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ «تَرْفَعُ يَدَيْهَا فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهَا»
[قرة العينين، للبخاری:23]
حضرت عبد ربہ بن سیمان بن عمیرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے (رسول اللہ ﷺ کی صحابیہ عورت) حضرت ام درداء رضی ﷲ عنہا کو ديکھا کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ کندہوں کے برابر اٹھاتی ہیں۔(جزء رفع الیدین للامام بخاری ص7)




حدیث نمبر4
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ تُشِيرُ الْمَرْأَةُ بِيَدَيْهَا بِالتَّكْبِيرِ كَالرَّجُلِ ، قَالَ : " لَا تَرْفَعُ بِذَلِكَ يَدَيْهَا كَالرَّجُلِ وَأَشَارَ فَخَفَضَ يَدَيْهِ جِدًّا وَجَمَعَهُمَا إِلَيْهِ جِدًّا ، وَقَالَ : إِنَّ لِلْمَرْأَةِ هَيْئَةً لَيْسَتْ لِلرِّجَالِ وَإِنْ تَرَكَتْ ذَلِكَ فَلَا حَرَجَ " .
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » فِي الْمَرْأَةِ إِذَا افْتَتَحَتِ الصَّلَاةَ إِلَى ... رقم الحديث: 2404]
حضرت ابن جریجؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاءؒ سے کہا کہ کیا عورت تکبیر تحریمہ کہتے وقت مرد کی طرح اشارہ (رفع یدین) کرے گی؟ آپ نے فرمایا: عورت تکبیر کہتے وقت مرد کی طرح ہاتھ نہ اٹھائے آپ نے اشارہ کیا اور اپنے دونوں ہاتھ بہت ہی پست رکھے اور ان کو اپنے سے ملایا اور فرمایا عورت کی (نماز میں) ايک خاص ہیئت ہے جو مرد کی نہیں۔ اور اگر وہ اسے چھوڑدے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(منصف ابن ابی شیبہ ج1ص239)


قلت لعطاء التشير المرأة بيديها کالر جال بالتکبير؟ قال لا ترفع بذلک يديها کالر جال وأشار أفخفض يديه جدا وجمعهما إليه وقال إن للمرأة هية ليست للرجل.
[عبدالرزاق، المصنف، 3 : 137، الرقم : 5066]
’’میں نے عطاءؒ سے پوچھا کہ عورت تکبیر کہتے وقت مردوں کی طرح ہاتھوں سے اشارہ کرے گی؟ انہوں نے کہا عورت تکبیر تحریمہ کے وقت مردوں کی طرح ہاتھ نہیں اٹھائے گی، اشارہ سے بتایا عطاء نے اپنے ہاتھ بہت نیچے کئے اور اپنے ساتھ ملائے اور فرمایا عورت کی صورت مرد جیسی نہیں۔‘‘

عطاءؒ کہتے ہیں:
تجمع المراة يديها فی قيامهاما استطاعت
[عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 137، الرقم : 5067]
’’عورت کھڑے ہوتے وقت نماز میں جہاں تک ہوسکے ہاتھ جسم سے ملا کر رکھے۔‘‘

حسن بصریؒ اور قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
إذا سجدت المرأة فأنها تنفم ما استطاعت ولا تتجافی لکی لا ترفع عجيز تها.
[عبدالرزاق، المصنف،3 : 137، الرقم : 5068]
جب عورت سجدہ کرے تو جتنا ہو سکے سمٹ جائے اعضاء کو جدا نہ کرے مبادا جسم کا پچھلا حصّہ بلند ہو جائے۔

”امام بخاری ؒ کے استاد ابوبکر بن ابی شیبہ ؒ نے حضرت عطاء تابعی ؒ کا فتویٰ نقل کیا ہے کہ عورت نماز میں اپنی چھاتیوں تک ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا ایسے نہ اُٹھائے جس طرح مرد اُٹھاتے ہیں اور آخر میں فرمایا نماز میں عورت…….. مردوں کی طرح نہیں ہے۔ [مصنف، لابی بکر بن ابی شیبہ: ص 1/239]

حضرت مولانا عبد الحیی لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ رہا(ہاتھ باندھنے کا معاملہ) عورتوں کے حق میں تو تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کےلئے سنت سینے پر ہاتھ باندھنا ہے۔ ( السعایة ج2ص156)

عورت سجدہ میں کیسے ہو؟
حدیث نمبر5
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ ، فَقَالَ : " إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ " .

ترجمہ : حضرت یزید بن ابی حبیبؒ سے مروی ہے کہ آنحضرت  دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں آپ نے فرمایا جب تم سجدہ کروتو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو کیونکہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے ۔
[مراسيل أبي داود » باب : مِنَ الصَّلاةِ » جَامِعُ الصَّلاةِ ۔۔۔ رقم الحديث: 77(87)،
الجامع الصغير وزيادته للسیوطی »  رقم الحديث:1557، جامع الأحاديث للسیوطی:2110
تحفة المحتاج ، لابن الملقن: 1/318 / خلاصة حكم المحدث : صحيح أو حسن [كما اشترط على نفسه في المقدمة]





عن مغيرة عن ابراهيم قال إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها والتضع بطنها عليها.
[ابن ابی شيبه، المصنف، 1 : 242، الرقم : 2779]
’’جب عورت سجدہ کرتے تو اپنے ران جوڑ کر اپنا پیٹ ان پر رکھے۔‘‘


عن الحسن (البصری) قال المرأة تضم فی السجود.
[ابن ابی شيبه، المصنف، 1 : 242، الرقم : 2781]
’’عورت سجدہ میں سمٹ جڑ کر رہے۔‘‘

عن إبراهيم قال إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها ولا ترفع عجيزتها ولا تجا فی کما يجافی الرجل.
[ابن ابی شيبه، المصنف،1 : 242، الرقم : 2782]
’’جب عورت سجدہ کرے تو پیٹ اپنے زانوؤں سے ملائے اور اپنی پیٹھ (سرین) مرد کی طرح بلند نہ کرے۔‘‘



حدیث نمبر6
عورت نمازمیں سمٹ کر سرین کے بل بیٹھے:
عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سُئِلَ : " كَيْفَ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ كُنَّ يَتَرَبَّعْنَ ، ثُمَّ أُمِرْنَ أَنْ يَحْتَفِزْنَ " .
[جامع المسانید ج1ص400؛ مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي: رقم الحديث: 114(37)]
حضرت عبدﷲؓ بن عمرؓ سے سوال ہوا کہ رسول ﷲ ﷺ کے زمانے میں عورتیں کیسے نماز پڑھتی تھیں آپ نے فرمایا چہار زانوں بیٹھ کر پھر انہیں حکم دیا گیا کہ وہ خوب سمٹ کر بیٹھا کریں۔


عورت زمین کے ساتھ چمٹ کر اور پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملاکر سجدہ کرے‘ حدیث شریف میں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَلَسَتِ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الأُخْرَى ، وَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذَيْهَا ، كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ لَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، وَيَقُولُ : يَا مَلائِكَتِي ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهَا "

حضرت عبد ﷲؓ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کہ جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے۔ اس طرح کہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے۔ بلا شبہ ﷲ تعالی اس کی طرف نظر (رحمت) فرما کر ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ میں نے اسے بخش دیا ہے۔(کنز العمال ج7ص549)

حدیث نمبر7
حضرت حارثؒ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ نے فرمایا کہ جب عورت سجدہ کرے تو خوب سمٹ کر کرے اور اپنی دونوں رانوں کو ملائے رکھے۔
(منصف ابن ابی شیبہ ج1ص279، سنن کبری بیہقی ج2ص222)



حد یث نمبر7

حضرت عبد ؓﷲ بن عباسؓ سے عورت کی نماز کے بارے میں سوال ہوا تو آپؓ نے فرمایا کہ وہ اکٹھی ہو کر اور خوب سمٹ کر نماز پڑھے۔
[منصف ابن ابی شیبہ:1/270، كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا؟ رقم الحديث: 2702]



حدیث نمبر8
عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : " إِذَا سَجَدَتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا وَلْتَضَعْ بَطْنَهَا عَلَيْهِمَا " .[ مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص270, كتاب الصلاة  » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا؟ رقم الحديث: 2703]
حضرت ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں سے چپکا لے اور اپنی سرین کو اوپر نہ اٹھائے اور اعضاء کو اس طرح دور نہ رکھے جیسے مرد دور رکھتا ہے۔



حدیث نمبر9
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ " كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ " .
[مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص270, كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ  » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا؟ رقم الحديث: 2704]
حضرت مجاہدؒ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔

حدیث نمبر10
کانت تؤمر المرأة ان تضع زراعيها بطنها علی فخذيها إذا سجدت ولا تتجا فی کما يتجا فی الرجل. لکی لا ترفع عجيز تها.
[عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 138، الرقم : 5071]
’’عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ سجدہ کرتے وقت اپنے بازو اور پیٹ رانوں پر رکھے اور مرد کی طرح کھلا نہ رکھے تاکہ اس کا پچھلا حصہ بلند نہ ہو۔‘‘





عورت نماز میں کیسے بیٹھے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : نا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زُرْعَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، قَالَ : " كُنَّ النِّسَاءُ يُؤْمَرْنَ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ إِذَا جَلَسْنَ فِي الصَّلَاةِ وَلَا يَجْلِسْنَ جُلُوسَ الرِّجَالِ عَلَى أَوْرَاكِهِنَّ يَتَّقِي ذَلِكَ عَلَى الْمَرْأَةِ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ مِنْهَا الشَّيْءُ " .

’’عورتوں کو نماز میں چوکڑی بھر کر (مربع شکل میں) بیٹھنے کا حکم تھا اور یہ کہ وہ مردوں کی طرح سرینوں کے بل نہ بیٹھیں تاکہ اس میں ان کی پردہ پوشی کھلنے کا ڈر نہ رہے۔‘‘





حدثنا أبو بكر قال : نا أبو خالد عن محمد بن عجلان عن نافع أن صفية كانت تصلي وهي متربعة . 
’’نافعؒ سے روایت ہے کہ حضرت سیدہ صفیہؓ نماز میں مربع شکل میں بیٹھا کرتی تھیں۔‘‘


عن نافع قال کانت صفية بنت أبی عبيد إذا جلست فی مثنی أوأربع تربعت.
[عبدالرزاق، المصنفً، 3 : 138، الرقم : 5074]
حضرت صفیہ بنت ابوعبید جب دو یا چار رکعت والی نماز میں بیٹھتیں، مربع ہو کر بیٹھیتں۔


عن قتاده قال جلوس المرأة بين السجدتين متورکة علی شقها الأيسر وجلوسها تشهد متربعة.
[عبدالرزاق، المصنف، 3 : 139، الرقم : 5075]
’’عورت دو سجدوں کے درمیان بائیں طرف سرینوں کے بل بیٹھے اور تشہد کے لئے مربع صورت میں۔‘‘



مرد اور عورت کیلئے کونسی صفیں افضل ہیں؟؟؟

عورت کو رکوع و سجود میں جسم کھلا نہیں رکھنا چاہیے:

أَحَدُهُمَا حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ الْعَجْلانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الأَوَّلُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الصَّفُّ الآخِرُ ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَتَجَافَوْا فِي سُجُودِهِمْ ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ يَنْخَفِضْنَ فِي سُجُودِهِنَّ ، وَكَانَ يَأْمُرُ الرِّجَالَ أَنْ يَفْرِشُوا الْيُسْرَى ، وَيَنْصِبُوا الْيُمْنَى فِي التَّشَهُّدِ ، وَيَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ يَتَرَبَّعْنَ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، لا تَرْفَعْنَ أَبْصَارَكُنَّ فِي الصَّلاةِ تَنْظُرْنَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ " ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ ، وَاللَّفْظُ الأَوَّلُ ، وَاللَّفْظُ الآخِرُ ، مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَشْهُورَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَيْنَهُمَا مُنْكَرٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا: ’’نماز میں مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری ہے۔ آپ ﷺ  سرکار مردوں کو نماز میں سجدہ کے دوران کھل کھلا کر رہنے کی تلقین فرماتے اور عورتوں کو سجدوں میں سمٹ سمٹا کر رہنے کی۔ مردوں کو حکم فرماتے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھائیں اور دایاں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو مربع شکل میں بیٹھنے کا حکم دیتے اور فرمایا عورتو! نماز کے دوران نظریں اٹھا کر مردوں کے ستر نہ دیکھنا۔‘‘

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1خير صفوف الرجال الصف المقدم شرها الصف المؤخر خير صفوف النساء المؤخر شرها المقدم لا ترفعن رءوسكن إذا سجدتن لا ترين عورات الرجال من ضيق الأزرسعد بن مالكمسند أحمد بن حنبل1091010737أحمد بن حنبل241
2خير صفوف الرجال المقدم شرها المؤخر خير صفوف النساء المؤخر شرها المقدم إذا سجد الرجال فاحفظن أبصاركنسعد بن مالكصحيح ابن خزيمة14801476ابن خزيمة311
3خير صفوف الرجال الأول خير صفوف النساء الصف الآخر يأمر الرجال أن يتجافوا في سجودهم يأمر النساء ينخفضن في سجودهن يأمر الرجال أن يفرشوا اليسرى وينصبوا اليمنى في التشهد يأمر النساء أن يتربعن يا معشر النساء لا ترفعن أبصاركن في الصلاة تنظرسعد بن مالكالسنن الكبرى للبيهقي29352 : 222البيهقي458
4خير صفوف الرجال المقدم شرها المؤخر خير صفوف النساء المؤخر شرها المقدمسعد بن مالكمسند أبي يعلى الموصلي10871102أبو يعلى الموصلي307
5إذا سجد الرجال فاخفضن أبصاركنسعد بن مالكإتحاف المهرة5073---ابن حجر العسقلاني852
6خير صفوف الرجال المقدم وشرها المؤخر الحديثسعد بن مالكإتحاف المهرة5077---ابن حجر العسقلاني852
7خير صفوف الرجال المقدم شرها المؤخر خير صفوف النساء المؤخر شرها المقدمسعد بن مالكالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء232261الهيثمي807
8خير صفوف الرجال مقدمها وشرها مؤخرها وخير صفوف النساء مؤخرها وشرها مقدمهاسعد بن مالككشف الأستار5094005نور الدين الهيثمي807
9خير صفوف الرجال المقدم وشرها المؤخر خير صفوف النساء المؤخر وشرها المقدمسعد بن مالكمصنف ابن أبي شيبة37183833ابن ابي شيبة235
10خير صفوف النساء المؤخر وشرها المقدمسعد بن مالكمصنف ابن أبي شيبة74577702ابن ابي شيبة235

تنبیہ: شروع میں عورتیں بھی مردوں کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھتی تھیں، لیکن بعد میں فرمایا:
خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ " .
أخرجه أحمد (6/297، رقم 26584) ، والبيهقى (3/131، رقم 5143) . وأخرجه أيضًا: ابن خزيمة (3/92، رقم 1683) وقال: إن ثبت الخبر فإنى لا أعرف السائب مولى أم سلمة بعدالة ولا جرح. والحاكم (1/327، رقم 756) ، والقضاعى (2/231، رقم 1252) ، والديلمى (2/182، رقم 2919) . قال المنذرى (1/141) : رواه ابن خزيمة فى صحيحه والحاكم من طريق دراج أبى السمح عن السائب مولى أم سلمة عنها وقال ابن خزيمة لا أعرف السائب مولى أم سلمة بعدالة ولا جرح وقال الحاكم صحيح الإسناد.

امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
عورت كے ليے اكٹھا ہونا اور سجدہ ميں اپنا پيٹ رانوں سے لگا لينا مستحب ہے، كيونكہ يہ اس كے ليے زيادہ پردہ كا باعث ہے، اور زيادہ پسنديدہ ہے، ركوع اور سارى نماز ميں.[المجموع للنووى ( 3 / 429 )]

فقہ حنبلی کی مشھور کتاب ((المغنی)) میں بھی لکھا ہے:
عورت ركوع اور سجدہ ميں اپنے آپ كو اكٹھا كرے گى اور كھلى ہو كر نہ رہے كيونكہ يہ اس كے ليے زيادہ پردہ كا باعث ہے.[المغنى ( 2 / 258 ).]

امام نووىؒ " المجموع" ميں كہتے ہيں:
عورتوں كى جماعت مردوں كى جماعت سے كچھ اشياء ميں مختلف ہے:
1 - جس طرح مردوں كے حق ميں ضرورى ہے اس طرح عورتوں كے ليے ضرورى نہيں.
2 - عورتوں كى امام عورت ان كے وسط ميں كھڑى ہو گى.
3 - اكيلى عورت مرد كے پيچھے كھڑى ہو گى نہ كہ مرد كى طرح امام كے ساتھ.
4 - جب عورتيں مردوں كے ساتھ صفوں ميں نماز ادا كريں تو عورتوں كى آخرى صفيں ان كى پہلى صفوں سےافضل ہونگى.[المجموع للنووى ( 3 / 455 ).]

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كا فائدہ يہ ہے كہ اس سے اختلاط كى حرمت كا علم ہوتا ہے. 



حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ أَبُو الْحَسَنِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْزَنَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُوسَى بِسَرَخْسَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْبَلْخِيُّ ، ثنا أَبُو مُطِيعٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَلَسْتِ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلَى فَخِذِهَا الأُخْرَى ، فَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا بِفَخِذَيْهَا كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ لَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، وَيَقُولُ : يَا مَلائِكَتِي ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهَا " .
حضرت عبد ﷲؓ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب عورت نماز میں اپنی ایک ران دوسرے ران پر رکھ کر بیٹھتی ہے اور دوران سجدہ اپنا پیٹ رانوں سے جوڑ لیتی ہے جیسے اس کے لئے زیادہ ستر والی صورت ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھ کر فرماتا ہے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر اس کی بخشش کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘

تنبیہ: یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اصول حدیث کے مطابق متعدد ضعیف روایات مضمون کی تقویت کا سبب بنتی ہیں، لہذا سلف کی طرح نقل کی گئی ہیں.




حدیث نمبر11
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْجُمُعَةِ » أَبْوَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ » بَاب التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ رقم الحديث: 1134]
حضرت ابو ہریرةؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (سامنے سے گذرنے والے کو خبردار کرنا ہو تو) تسبیح مردوں کے لئے ہے اور تصفیق (دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے کنارہ پر مارنا) عورتوں کےلئے۔
[احمد (7285) وأخرجه الشافعي 1/117، والحميدي (948) ، وابن أبي شيبة 2/341 و14/212، والدارمي (1363) ، والبخاري (1203) ، ومسلم (422) (106) ، وأبو داود (939) ، وابن ماجه (1034) ، والنسائي 3/11، وابن الجارود (210) ، وابن خزيمة (894) ، وأبوعوانة 2/213، والطبراني (5966) ، والطحاوي  في "شرح المشكل" (1756) ، وفي "شرح معاني الآثار" 1/447 من طريق قبيصة بن عقبة، عن سفيان، به. والبيهقي 2/246، والبغوي (748) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وفي بعض هذه المصادر: "والتصفيق للنساء".
وأخرجه عبد الرزاق (4070) ، ومسلم (422) ، والترمذي (369) ، والنسائي 3/11، وأبو عوانة 2/213-214، والبيهقي 2/247 من طرق عن الأعمش، به.
وأخرجه ابن حبان (2263) ، والبيهقي 2/246 من طريق عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، به. وهو في "مصنف عبد الرزاق" (4068) ، لكن وقع في المطبوع منه: "ابن المسيب" مكان: أبي سلمة.
وأخرجه أبو يعلى (5955) من طريق محمد بن عمرو، عن أبي سلمه، به.
وسيأتي برقم (10851) من طريق ابن أبي حفصة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة، عن أبي هريرة.
وله طرق أخرى عن أبي هريرة، انظر (7550) و (7895) و (8204) و (8891) و (10390) .
وفي الباب عن جابر بن عبد الله وعن سهل بن سعد الساعدي، سيأتيان في "المسند" 3/340 و5/330.]



تنبیہ: اسی طرح عورت پر اذان اور اقامت نہيں ہے، كيونكہ اذان ميں آواز بلند كرنا مشروع ہے، اور عورت كے ليے آواز بلند كرنا جائز نہيں.


عن ابن عمر َرضي اللهُ عنهُ أنَّه قال : ليس َعلى النساءِ أذانٌ ولا إقامةٌ۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نہیں ہے عورتوں پر (مشروع) اذان اور نہ ہی اقامت۔
[البدر المنير(ابن الملقن): 3/420 | خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح
الأحكام الكبير(ابن كثير): 1/272 | خلاصة حكم المحدث : جيد قوي صحيح
نيل الأوطار(الشوكاني): 2/11 | خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح




عورت کیلئے جمعہ فرض نہیں
حدیث نمبر13
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً : عَبْدٌ مَمْلُوكٌ ، أَوِ امْرَأَةٌ ، أَوْ صَبِيٌّ ، أَوْ مَرِيضٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا .[سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ » بَاب الْجُمُعَةِ لِلْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ ۔۔۔ رقم الحديث: 903]
حضرت طارق بن شھابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ ہر مسلمان پر حق واجب ہے سوائے چار (4) کے: زرخرید غلام، عورت، بچے اور بیمار۔ 
[حديث طارق بن شهاب: أخرجه أبو داود (1/280، رقم 1067) ، والبيهقى (3/172، رقم 5368) ، والطبرانى
(8/321، رقم 8206) ، والدارقطنى (2/3) ، والضياء (8/109، رقم 121) .]





مرد کو مسجد میں اور عورت کو گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے
عن عبدالله بن عمر عن النبي صلي الله عليه وسلم قال: صلاة المرة وحدها أفضل على صلواتها في الجمع بخمس و عشرين درجة.
ترجمہ: حضرت عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: عورت کا اکیلے نماز پڑھنا اس کی نماز باجماعت پر پچیس (٢٥) گنا فضیلت رکھتی ہے.


(أخرجه أيضًا: الديلمى (2/389، رقم 3726) ، وعزاه المناوى (4/223) : إلى أبى نعيم ومن طريقه الديلمى. التيسير الشرح الجامع الصغير للمناوي: 2/195؛ جامع الأحاديث للسيوطي:13/497، حديث # 13628)



جو مسجدِ نبوی میں نماز پڑھے تو اسے پچاس ہزار (50,000) نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔[ابنِ ماجہ:1413]
مگر
عورت کیلئے مسجدِ نبوی میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل اپنی قوم کی مسجد میں اور اس سے بھی افضل تر اس کے گھر کا اندرونی کمرہ (حجرے) میں نماز پڑھنا ہے:
حدیث نمبر14
عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ ؟ قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعي ,ِ وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِك ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي " , قَالَ : فَأَمَرَتْ فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِه ، فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .[مسند أحمد بن حنبل » 27090  ؛ صحيح ابن حبان » 2217 ؛ صحيح ابن خزيمة » 1689 ]
حضرت ام حمیدؓ زوجہ ابوحمید ساعدیؓ مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ کی معیت میں نماز پڑھنا محبوب رکھتی ہوں، نبی  نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کرتی ہو لیکن تمہارا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے صحن میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے چنانچہ ان کے حکم پر ان کے گھر کے سب سے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا ہوتا تھا نماز پڑھنے کے لئے جگہ بنادی گئی اور وہ آخری دم تک وہیں نماز پڑھتی رہیں۔


حدیث نمبر15 
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا ، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا " .
[سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ؛ رقم الحديث: 482]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے.
[ناسخ الحديث ومنسوخه للاثرم (ص113) ، أخرجه أبو داود (1/156، رقم 570) ، والبزار (2060+2063) وابن خزيمة (1690) ، والطبراني (9482) ، والبيهقى (3/131، رقم 5144 - 3/188 رقم5361) . وأخرجه أيضًا: الحاكم (1/328، رقم 757) وقال: صحيح على شرط الشيخين.]
یعنی عورت جس قدر بھی پردہ اختیار کرے گی اسی قدر بہتر ہے صحن میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ میں نماز پڑھنا افضل ہے اور کمرہ میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ کے اندر بنی ہوئی کوٹھری میں نماز پڑھنا افضل ہے۔





مرد امامت کرتے ہیں تو مقتدیوں سے آگے کھڑے ہوکر کرتے ہیں، عورتوں کیلئے اولاََ تو جماعت کا حکم نہیں لیکن اگر وہ نفل وغیرہ میں عورتوں کی امامت کررہی ہو تو آگے کھڑے ہونے کی اجازت نہیں، صف ہی کے درمیان کھڑے ہوکر نماز پڑھے گی:
حدیث نمبر16
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لَا تَؤُمُّ الْمَرْأَةُ " . 
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ: عورت امامت نہ کرے۔ 

عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ أَذَانٌ وَلا إِقَامَةٌ ، وَلا جُمُعَةٌ ، وَلا اغْتِسَالُ جُمُعَةٍ ، وَلا تَقَدَّمُهُنَّ امْرَأَةٌ ، وَلَكِنْ تَقُومُ فِي وَسَطِهِنَّ " .
[السنن الكبرى للبيهقي » كِتَابُ الْحَيْضِ » بَابُ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ أَذَانٌ وَلا إِقَامَةٌ ... رقم الحديث: 1749(1921)]
نہیں ہے عورت پر اذان اور نہ ہی اقامت، اور نہ ہی جمعہ، اور نہ ہی غسلِ جمعہ، اور وہ (نماز میں) دوسری عورتوں سے آگے نہیں بڑھے گی بلکہ ان کے درمیاں کھڑی ہوگی۔

 أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَفْوَانَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُصَلِّيَ الْمَرْأَةُ بِالنِّسَاءِ تَقُومُ فِي وَسَطِهِنَّ " . .[الأم للشافعي » كِتَابُ الْحَيْضِ » إِمَامَةُ الْمَرْأَةِ وَمَوْقِفُهَا فِي الْإِمَامَةِ ... رقم الحديث: 282(274)]
بےشک یہ نماز کی سنت میں سے ہے کہ عورت پڑھے گی نماز عورتوں کےساتھ کھڑے ہوکر ان کے درمیان میں۔ 



علماء کے نزدیک تو عورت کی امامت خواہ فرض نماز میں ہو یا نفل نماز میں مکروہ تحریمی ہے اور یہ کراہت عورتوں کی نفل نماز کی جماعت میں اور زیادہ شدید ہے‘ کیونکہ نفل کی جماعت تداعی (اعلان) کے ساتھ مردوں کے لئے جائز نہیں تو عورتوں کے لئے کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ 

درمختار (۱:۵۶۵) میں ہے: یکرہ تحریما (جماعة النساء) ولو فی التراویح فی غیر صلاة الجنازة“ ۔

قضا نمازیں مرد کو سب ادا کرنی ہیں ، جبکہ عورت کو ایام حیض میں نہ نماز ادا کرنی ہے اور نہ ہی بعد میں اس کی قضا لازم ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ . ح وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، " سَأَلَتْ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ " .
[صحيح مسلم » كِتَاب الْحَيْضِ » بَاب وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ ... رقم الحديث: 511(335)]
ترجمہ : حضرت معاذہؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کیا ہم میں سے کسی کو اسکی نماز صرف اسی قدر زمانہ میں جبکہ وہ طاہر رہے کافی ہے ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ کیا تو حرور یہ ہے، یقینا ہم نبی  کے ہمراہ رہتے تھے اور حیض آتا تھا، مگر آپ ہمیں نماز کی قضا پڑھنے کا حکم نہ دیتے تھے، یا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ کہا کہ ہم قضا نہ پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم)


جبکہ قضا نمازیں مرد کو سب ادا کرنی ہیں 
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ ، أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَضَاهَا ، وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَهُ ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
[جامع الترمذي » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبَوَاب الصَّلَاةِ » بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ تَفُوتُهُ الصَّلَوَاتُ ... رقم الحديث: 164]
ترجمہ : حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ نے فرمایا کہ مشرکوں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ  کو روک دیا چار نمازوں سے یہاں تک کہ رات گذر گئی جتنی اللہ نے چاہی پھر آپ نے حکم دیا بلال کو انہوں نے اذان دی پھر تکبیر کہی اور ظہر پڑھی پھر تکبیر کہی پھر عصر پڑھی پھر تکبیر کہی اور مغرب کی نماز پڑھی اور پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی اس باب میں ابوسعیدؓ اور جابرؓ سے بھی روایت ہے۔ امام ابوعیسٰیؒ فرماتے ہیں کہ عبداللہؓ کی حدیث کی سند میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن ابوعیبدہ نے عبداللہ سے نہیں سنا اور بعض اہل علم نے اس کو اختیار کیا ہے کہ فوت شدہ نمازوں کے لئے ہر نماز کے لئے تکبیر کہی جائے اور اگر ہر نماز کے لئے تکبیر نہ بھی کہے تب بھی جائز ہے اور امام شافعیؒ کا بھی یہی قول ہے۔
[جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 171 (26042) - نماز کا بیان : وہ شخص جس کی بہت سی نمازیں فوت ہو جائیں تو کس نماز سے ابتدا کرے]





خاوند یا محرم کے بغیر عورت کے سفر کی حد:
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَةٌ، تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ،وَسُهَيْلٌ ، وَمَالِكٌ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ... کوئی عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کے بقدر بھی سفر نہ کرے علاوہ یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔
[أخرجه مالك (2/979، رقم 1766) ، وأحمد (2/493، رقم 10406) ، والبخارى (1/369، رقم 1038) ، ومسلم (2/977، رقم 1339) ، وأبو داود (2/140، رقم 1723) ، والترمذى (3/473، رقم 1170) وقال: حسن صحيح. وأخرجه أيضًا: الشافعى (1/171)]
تشریح:
اس موقع پر حدیث اور فقہی روایت کا تضاد سامنے آ سکتا ہے وہ یوں کہ ہدایہ میں جو فقہ حنفی کی مشہور تین کتاب ہے لکھا ہے کہ عورتوں کو بغیر خاوند یا محرم کسی ایسی جگہ کا سفر مباح ہے جس کی مسافت حد سفر سے (کہ وہ تین منزل یعن ٤٨ میل سے کم ہو) لیکن یہاں حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی عورت بغیر خاوند یا محرم کسی ایسی جگہ کا سفر بھی نہیں کر سکتی جس کی مسافت ایک دن و ایک رات (ایک منزل یا ١٦میل کے سفر کے بقدر ہو۔ نیز بخاری و مسلم میں بھی یہ ایک روایت منقول ہے کہ کوئی عورت دو دن کی مسافت کے بقدر بھی سفر نہ کرے الاّ یہ کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا محرم ہو۔ لہٰذا فقہاء کا قول بظاہر ان روایات کے مخالف نظر آتا ہے لیکن اس تضاد و اختلاف کو دور کرنے کے لئے علماء یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں مطلق طور پر جو یہ منقول ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے تو چونکہ شرعی طور پر سفر کا اطلاق تین دن سے کم پر نہیں ہوتا اس لئے فقہاء نے اس حدیث کو تین دن (٤٨ میل ) کی مسافت کے بقدر سفر پر محمول کیا ہے اور یہ فقہی قاعدہ مرتب کر دیا کہ کوئی عورت اتنی دور کا سفر کہ جو تین دن کی مسافت کے بقدر ہو بغیر خاوند یا محرم کے نہ کرے اور جب تین دن کی مسافت کے بقدر تنمہا سفر نہیں کر سکتی تو اس سے زائد مسافت کا سفر کرنا تو بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہو گا۔ اور جن حدیثوں میں دو دن یا ایک دن کی مسافت کے بقدر سفر سے بھی منع کیا گیا ہے تو اس کو فتنہ و فساد پر محمول کیا ہے کہ اگر سفر تین دن کی مسافت سے بھی کم یعنی دو دن یا ایک دن کی مسافت کے بقدر ہو اور کسی فتنہ و فساد مثلاً عورت کی عزت و آبرو پر حرف آنے کا گمان ہو تو اس صورت میں بھی عوت کو تنہا سفر نہیں کرنا چاہئے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جہاں تین دن کی مسافت کے بقدر سفر کی ممانعت منقول ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ ہر منزل (یعنی ١٦میل) ایک دن کے اکثر حصے میں طے ہوتی ہو تو اس طرح تین دن میں تین منزلیں طے ہوں گی اور جہاں دو دن کے سفر کی ممانعت ہے۔ تو اس کی مراد یہ ہے کہ تمام دن چلے یعنی ایک دن میں ڈیڑھ منزل (٢٤ میل) طے ہو اس طرح دو دن میں تین منزلیں طے ہوں گی اور جہاں ایک دن و رات کے سفر کی ممانعت ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ شب و روز چلے، یعنی ڈیڑھ منزل پورے دن میں طے ہو ڈیڑھ منزل پوری رات میں طے ہو اس طرح ایک دن و رات میں تین منزلیں طے ہوں گی۔ اس تاویل کی وجہ سے ان تمام روایات کا مقصد تین دن کی مسافت کے بقدر عورت کو تنہا سفر کرنے سے روکنا ثابت ہو جائے گا اور تمام روایات میں باہم کوئی تضاد بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی یہ بات دل کو زیادہ لگتی ہے کہ ان تمام روایات ( کہ جن سے عورت کو تنہا سفر کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور جن میں حد سفر کے بارے میں اختلاف نظر آ رہا ہے) کا مقصد سفر کی کسی حد اور مدت کو متعین کرنا نہیں ہے بلکہ ان روایات کا مجموعی حاصل یہ ہے کہ عورت بغیر خاوند یا محرم تنہا سفر مطلقاً نہ کرے مسافت چاہے طویل ہو اور چاہے کتنی ہی مختصر ہو۔ لہٰذا موجودہ دور میں جب کہ فتنہ فساد کا خوف عام ہے اور انسانی ذہن غلط طریقہ تعلیم و تربیت اور فاسد ماحول کی وجہ سے بے حیائی اور فحاشی کا مرکز بن گئے ہیں تو احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ عورت مطلقاً تنہا سفر نہ کرے سفر چاہے تھوڑی دور کا ہو چاہے زیادہ فاصلے کا ۔ اس لئے کہ فتنہ و فساد کا خوف بہر صورت رہتا ہے۔ [مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 1052(39119)]








اسی بناء پر چاروں ائمہ کرام ‘ امام ابوحنیفہؒ‘ امام مالکؒ‘ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کا طریقہ نماز‘ مرد کے طریقہ نماز سے مختلف ہے اور فقہاء کرام نے اپنی کتابوں میں یہ فرق ذکر کیا ہے۔

چنانچہ ہدایہ میں ہے: ”والمرأة تنخفض فی سجودہا تلزق بطنہا بفخذیہا‘ لان ذلک استرلہا (وفی موضع اٰخر قال) وان کانت امرأة جلست علی الیتہا الیسری واخرجت رجلیہا من الجانب الایمن لانہ استرلہا“۔ (۱:۱۱۰‘۱۱۱)

شرح صغیر میں ہے: ”نَدبَ مجافاة‘ ای: مباعدة‘ رجل فیہ‘ ای: سجود (بطنہ فخذیہ) فلایجعل بطنہ علیہما ومجافاة (مرفقیہ رکبتہ) ای: عن رکبتیہ ومجافاة ضبعیہ‘ ای: ما فوق المرفق الی الابط‘ جنبیہ ای: عنہما مجافاة وسطا فی الجمیع‘ واما المرأة فتکون منضمة فی جمیع احوالہا“۔
(۱:۳۲۹‘ط:دارالمعارف مصر ۱۳۹۲ھ)

شرح مہذب میں ہے: ”قال الشافعی والأصحاب: یسن ان یجافی مرفقیہ عن جنبیہ‘ ویرفع بطنہ عن فخذیہ‘ وتضم المرأة بعضہا الی بعض ․․․(قال قبل اسطر)․․․ روی البراء بن عازب  ا ن النبی ا کان اذا سجد جخ وروی جخی․․․․ ‘والجخ الخاوی وان کانت امرأة ضمت بعضہا الی بعض لان ذلک استرلہا“۔ (۳:۴۲۹)

المغنی میں ہے: ”وان صلت امرأة بالنساء قامت معہن فی الصف وسطا‘ قال ابن قدامة فی شرحہ اذا ثبت ہذا فانہا اذا صلت بہن قامت فی وسطہن‘ لانعلم فیہ خلافا من رأی لہا ان تؤمہن ولان المرأة یستحب لہا التستر ولذلک یستحب لہا التجافی“۔ (۲:۳۶)

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ وآثار صحابہؓ اور ائمہ اربعہؒ کے اقوال سے عورت کا طریقہ ٴ نماز ثابت ہے‘ وہ مرد کے طریقہ ٴ نماز سے جدا ہے‘ اس لئے مرد اور عورت کی نماز کی ادائیگی کو یکساں کہنا غلط ہے۔ 
===========================
حضرت مولانا عبد الحیی لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ رہا( ہاتھ باندھنے کا معاملہ) عورتوں کے حق میں تو تمام فقہاءکا اس پر اتفاق ہے کہ ان کےلئے سنت سینے پر ہاتھ باندھنا ہے۔ ( السعایة ج2ص156)

امام ابو الحسن علی بن ابوبکرؒ فرماتے ہیں۔ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنے مونڈھوں تک اٹھائے يہی صحيح ہے کیونکہ یہ طریقہ اس کے لئے زیادہ پردہ کا ہے نیز آگے چل کر فرماتے ہیں اور عورت اپنے سجدہ میں پست رہے اور اپنے پیٹ کو رانوں سے ملائے کیونکہ يہ اس کے لئے زیادہ پردہ کا باعث ہے ۔ ( ہدایہ ج1ص100و110)

امام ابو زید قیروانی مالکیؒ فرماتے ہیں کہ عورت نماز کی ہیئت میں مرد ہی کی طرح ہے الايہ کہ عورت اپنے آپ کو ملا کر رکھے گی اپنی رانیں اور بازو کھول کر نہیں رکھے گی پس عورت اپنے جلسہ اور سجدے دونوں میں خوب ملی ہوئی اور سمٹی ہوئی ہو گی۔( الرسالة بحوالہ نصب العمود ص50)

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ﷲ تعالی نے عورتوں کو يہ ادب سکھلایا ہے کہ وہ پردہ کریں اور يہی ادب ﷲ کے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے بھی عورتوں کو سکھلایا ہے لہذا عورتوں کےلئے سجدہ میں پسندیدہ يہ ہے کہ وہ اپنے اعضاء کو ملا کر رکھیں اور پیٹ کو رانوں سے چپکا لیں۔ اور اس طرح سجدہ کریں کہ ان کےلئے زیادہ سے زیادہ پردہ ہو جائے اسی طرح ان کے لئے پسندیدہ ہے رکوع میں بھی جلسہ میں بھی بلکہ تمام نماز ہی میں کہ وہ اس طرح نماز پڑھیں کہ جس سے ان کے لئے زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے۔(کتاب الام ج1ص115)

امام خرقی حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ مرد وعورت اس میں برابر ہیں سوائے اس کے کہ عورت رکوع و سجود میں اپنے آپ کو اکٹھا کرے ( سکیڑے) پھر یا تو چہار زانو بیٹھے یا سدل کرے کہ دونوں پاؤں کو دائیں جانب نکال دے، ابن قدامہ حنبلی اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اصل يہ ہے کہ عورت کے حق میں نماز کے وہی احکام ثابت ہوں جو مرد کے لے ثابت ہیں کیونکہ خطاب دونوں کو شامل ہے بایں ہمہ عورت مرد کی طرح رانوں کو پیٹ سے دور نہیں رکھے گی بلکہ ملائے گی) کیونکہ عورت ستر کی چیز ہے لہذا اس کےلئے اپنے آپ کوسمیٹ کر رکھنا مستحب ہے تا کہ يہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ ستر کا باعث بنے وجہ يہ ہے کہ عورت کےلئے رانوں کو پیٹ سے جدا رکھنے میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس کاکوئی عضو کھل جائے ۔۔۔۔۔۔ امام احمد رحمہ فرماتے ہیں مجھے عورت کےلئے سدل ( بیٹھنے میں دونوں پاؤں کو دائیں جانب نکالنا) زیادہ پسند ہے اور اس کو خلال نے اختیار کیا ہے۔

مندرجہ بالا احادیث وآثار، اجماع امت اور فقہائے کرام کے اقوال سے ثابت ہو رہا ہے کہ مردوعورت کی نماز ايک جیسی نہیں دونوں میں فرق ہے۔

١) مرد تکبیر تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں گے۔ اور عورتیں کندھوں تک جیساکہ حدیث نمبر1 ،نمبر2،نمبر3 سے واضح ہے ۔

مراکزِ اسلام مدینہ طیبہ میں امام زہریؒ، مکہ مکرمہ میں حضرت عطاءؒ اور کوفہ میں حضرت حمادؒ يہی فتویٰ ديتے تھے ( کہ عورت اپنے کندھوں تک ہاتھ اٹھائے) تفصیل کےلئے ملاحظہ فرمائیں ۔( منصف ابن ابی شیبہ ج1ص239)

٢) مر د دونوں ہاتھ ناف کے نيچے باندھيں گے اور عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا اجماع امت سے ثابت ہے جیسا کہ مولانا عبد الحیی لکھنوی رحمہ اﷲ کے بیان سے واضح ہے۔

٣) مرد سجدے میں پیٹ رانوں سے اور باز وبغل سے جدا رکھیں گے اور عورتیں ملا کر( اس کو فقہا کی اصطلاح میں تجافی کہتے ہیں) جیساکہ احادیث نمبر4,5,6 سے واضح ہے۔

٤) مرد سجدے میں اپنے دونوں پاؤں پنچوں کے بل کھڑے اور دونوں بازو زمیں سے جدا رکھیں گے اور عورتیں دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر اور با وزمین سے لگا کر سجدہ کریں گی۔

٥) مرد دونوں سجدوں کے درمیان نیز دونوں قعدوں میں دایاں پاؤں کھڑاکر کے اور بائیں پاوں کو بچھا کر اس پر بیٹھیں گے اور عورتیں ان سب میں دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر کولھوں پر بیٹھیں گی۔

٦) اگر عورتیں مردوں کے ساتھ جماعت میں شريک ہو اور امام کو غلطی پر متنبہ کرنا پڑے تو مرد سبحان ﷲ کہیں گے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر مار کر متنبہ کریں جیسا کہ حدیث نمبر11 سے واضح ہے ۔

٧) مرد کی نماز ننگے سر بھی ہو جائے گی لیکن عورت کی نماز ننگے سر ہرگز نہیں ہو گی جیسا کہ حدیث نمبر12 سے ظاہر ہے۔

لیکن ان تمام احادیث وآثار، اجماع امت اور اقوال فقہاء کے خلاف غیرمقلدین کا کہنا ہے کہ مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں يہ فرق کرنا مداخلت فی الدین ہے ۔ العیاذ باﷲ

چنانچہ یو نس قریشی صاحب لکھتے ہیں: ”شریعت محمد میں مردو عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں بلکہ جس طرح مرد نماز پڑھتا ہے اسی طرح عورت کو بھی پڑھنا چاہيے“۔( دستور المتقی ص151)

حکیم صادق سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں: ”عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں........ پھر اپنی طرف سے يہ حکم لگانا کہ عورتیں سينے پر ہاتھ باندھیں اور مرد زیر ناف، اور عورتیں سجدہ کرتے وقت زمین پر کوئی اور ہیئت اختیار کریں اور مرد کوئی اور ........ يہ دین میں مداخلت ہے یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے شروع کر کے السلام علیکم روحمة ﷲ کہنے تک عورتوں اور مردوں کےلئے ايک ہیئت اور شکل کی نماز ہے سب کا قیام، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ، استراحت ، قعدہ اور ہر ہر مقام پر پڑھنے کی دعائیں یکساں ہیں رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے ذکور واناث کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں بتایا“ (صلوة الرسول ص190-191)

ملاحظہ فرمائيے! احادیث بتلا رہی ہے کہ ﷲ کے نبی کے نزدےک مرد وعورت کی نماز میں فرق ہے۔ خلیفہ راشد حضرت علیؓ اور دیگر صحابہ کرام کہہ رہے ہیں کہ مرد و عورت کی نماز میں فرق ہے۔ تابعین وتبع تابعین فرمارہے ہیں کہ مرد وعورت کی نماز میں فرق ہے، اجماع امت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مرد وعورت کی نماز میں فرق ہے۔ ائمہ اربعہ کے جلیل القدر متبعین فرما ہے ہیں کہ مرد وعورت کی نماز میں فرق ہے۔ قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مرد وعورت کی نماز میں فرق ہونا چاہيے لیکن غیر مقلدین ان سب سے آنکھیں موند کر کہہ رہے ہیں کہ مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں بلکہ يہ دین میں مداخلت ہے ۔

قارئین محترم! ذرا چشم بصیرت وا کیجئے اور سوچئے کہ يہ مداخلت فی الدین کا فتوی کس پر لگے رہاہے ؟؟ کیا ﷲ کے نبی دین میں مداخلت کرتے تھے ؟؟ سچی بات يہ ہے کہ غیر مقلدین خود دین میں مداخلت کرتے ہیں من پسند حدیث کومانتے ہیں چاہے وہ من گھڑت ہی کیوں نہ ہو ۔ اور اپنے موقف کے خلاف احادیث کوچھوڑ ديتے ہیں۔

قارئین فیصلہ فرمائیں کہ مرد وعورت کی نماز میں فرق کرنے کو مداخلت فی الدین قرار دینا يہ دحدیث کی موافقت ہے یا مخالفت ؟؟؟

غیرمقلدین سے سوال
اگر غیرمقلدین کے نزديک مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے تو مندرجہ ذیل چیزوں کی عورتوں کو اجازت ملنی چاہيے۔

١) وہ اگر اپنی مسجد الگ بنانا چاہيں تو بنالیں۔

٢) اس میں وہ موذن،امام خطیب بھی بننا چاہیں تو بنیں۔

٣) انہیں اذان دينے کی اجازت ہونی چاہيے۔

٤) اقامت کی امامت کی اجازت ہونی چاہيے۔

٥)  مردوں کی طرح عورت کو بھی آگے ہوکر امامت کرانی چاہيے درمیان میں کھڑے ہونے کی پابندی نہیں ہونی چاہيے۔

٦)  مردوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت ہونی چاہيے۔

٧) اونچی آواز سے قرات اور اونچی آواز سے آمین کہنے کی اجازت ہونی چاہيے۔

٨)  انہیں بھی ننگے سر نماز پڑھنے اور نیز کہنیاں اور ٹخنے کھول کر نماز پڑھنے کی اجازت ہونی چاہيے۔

٩) ان کے لئے بھی جماعت میں شرکت ضروری ہونی چاہيے۔

١٠) ان پر بھی جمعہ وعیدین کی نماز واجب ہونی چاہيے۔

لیکن غیر مقلدین حضرات عورتوں کو ان امور کی اجازت نہیں دیتے بلکہ مردووعورت میں فرق کرتے ہیں ہمیں بتلایاجائے کہ ان امور میں فرق کرنا مداخلت فی الدین نہیں توفقہائے نے جن امور میں فرق بیان کیا ہے ان میں فرق کرنا مداخلت فی الدین کیوں ہے ؟؟؟؟

یاد رہے کہ اس مسئلہ میں غیر مقلدین نے ابن حزم ظاہری کی تقلید کی ہے۔



مرد و عورت کی نماز میں فرق:

ابوداؤدؒ اپنے "مراسیل" میں زید بن ابی حبیب سے مرسلاََ روایت کرتے ہیں:

تحقیق رسول اللہ ﷺ عورتوں کے پاس سے گذرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، تو آپ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو سمٹ کر سجدہ کرو کیونکہ عورت اس فعل میں مرد کی طرح پر نہیں ہے۔

اور بیھقیؒ "سنن کبریٰ" میں مرفوعاََ (یعنی حدیثِ نبوی کے طور پر) یہ روایت کیا ہے کہ جب عورت سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملائے، اس میں زیادہ پردہ ہے۔

اور اسی پر تعاملِ اہلِ سنت مذاہبِ اربعہ وغیرہ سے چلا آرہا ہے۔
[فتاویٰ علماۓ حدیث : ج۲ / ص ۱۴۸-۱۴۹]
ایک نکتہ نے دلیل سے ذلیل بنادیا



Add caption