Monday, 10 September 2012

فضیلتِ علم و مقامِ علماء پر چہل حدیث

تمہید: پہلے چند تفصیل طلب ضروری باتیں
نیک وہ نہیں جس سے کوئی گناہ نہ ہو، کیونکہ گناہوں سے ((پاک)) ذات اللہ ہی کی ہے اور گناہوں سے ((معصوم)) یعنی بچائے گئے صرف  فرشتے اور انبیاء ہی ہیں، (جیسے معصوم بچوں سے ابتدائی بےعلمی یا بےتوجہی وغیرہ کے سبب غلطیاں ہو تو سکتی ہیں لیکن وہ قابلِ معافی اور سزا سے محفوظ ہوتے ہیں) لہٰذا نیک وہ ہے جس کی نیکیاں ایمان وخوف کے سبب عموما اس کے گناہوں پر غالب وظاہر رہتی ہوں۔
دلائل:
رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا ۚ رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ {3:193}
اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے (نبی) کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے، اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیکو کاروں کے ساتھ اٹھا۔
لٰكِنِ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم لَهُم جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها نُزُلًا مِن عِندِ اللَّهِ ۗ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ لِلأَبرارِ {3:198}
لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے۔
فَوَقىٰهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذٰلِكَ اليَومِ وَلَقّىٰهُم نَضرَةً وَسُرورًا {76:11}
تو اللہ ان (نیکو کاروں) کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا.

******************************************
اندھی تقلید کیا ہے؟
اندھی تقلید اس کو کہتے ہیں کہ اندھا اندھے کے پیچھے چلے، تو لازماً دونوں کسی کھائی میں گرجائیں گے، اگر اندھا کسی آنکھوں والے کے پیچھے چلے تو آنکھ والا اپنی آنکھ کی برکت سے اپنے آپ کو بھی اور اس اندھے کو بھی ہر کھائی سے بچاکر لیجائے گا اور منزل تک پہنچادے گا۔[دلائلِ قرآن، سورۃ البقرۃ:170، المائدۃ:104]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے بلکہ علماء کو موت دیکر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔ [صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 100، - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]
یہ اندھی تقلید ہے، حضرات ائمہ مجتہدینؒ معاذ اللہ اندھے نہیں ہیں، عارف اور بصیر ہیں، البتہ اندھی تقلید کا شکار وہ لوگ ہیں جو خود بھی اندھے ہیں اور ان کے پیشوا بھی اجتہاد کی آنکھ سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پیغمبرِ معصوم ﷺ اور مجتہدِ ماجور رحمہم اللہ کی تحقیق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور فتنوں سے محفوظ فرمائیں۔ آمین
[وأخرجه عبد الرزاق (20481) ، وابنُ أبي شيبة 15/177، والحميدي (581) ، وابن المبارك في "الزهد" (816) ، والدارمي 1/77، والبخاري (100) ، ومسلم (2673) (13) ، وابن ماجه (52) ، والترمذي (2652) ، والنسائي في "الكبرى" (5907) ، وابن حبان (4571) و (6719) و (6723) ، والطبراني في "الأوسط" (55) و (992) ، والبغوي (147) ، وأبو نعيم في "الحلية" 10/25، و"تاريخ أصبهان" 1/196 و2/138 و142، والبيهقي في "الدلائل" 6/543،  و"المدخل" (850) و (851) ، وابن عبد البر في "جامع بيان العلم" ص 198، 201، والخطيب في "تاريخ بغداد" 3/74 و4/282 و8/368 و10/375 من طرق، عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد.
وأخرجه الطيالسي (2292) ، وعبد الرزاق (20477) ، وأبو نعيم في "الحلية" 2/181، من طريقين عن يحيى بن أبي كثير، عن عروة بن الزبير، به.
وأخرجه مسلم (2673) (14) ، والبيهقي في "المدخل" (852) من طريق أبي الأسود، عن عروة بن الزبير، عن عبد الله بن عمرو.
وأخرجه عبد الرزاق (20481) من طريق هشام بن عروة، عن قتادة، عن عبد الله بن عمرو.
وأخرجه مسلم (2673) (13) أيضاً من طريق عمر بن الحكم، عن عبد الله بن عمرو.
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (2322) ، وابن عدي في "الكامل" 5/1965 من طريق الأعمش، عن خيثمة، عن عبد الله بن عمرو.
وسيرد برقم (6896) .
وفي الباب عن أبي أمامة، وسيرد 5/266.
وعن عائشة عند البزار (233) (زوائد) ، وقال: تفرد به يونس، ورواه معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عبد الله بن عمرو -قلنا: هذه الرواية سترد برقم (6896) -، وعند الخطيب في "تاريخ بغداد" 5/313.
وعن أبي هريرة عند ابن أبي شيبة 15/176-177، وابن عدي 5/1865.
وعن ابن عباس عند الدارمي 1/78.
وعن مالك بن عوف الأشجعي عند البزار (232) .
وعن ابن عمر عند البزار (235) .]



***************************************


اہلِ حق کو پہچاننے کا عام فہم معیار:

سب سے بڑی دین دشمن شیطانی قوت کے نشانے پر، مسلمانوں کی جو جماعت (یعنی علماء) ہو، وہ حق پر ہے۔



جس طرح کوئی نادان شخص کسی مستند استاد سے علم سیکھے بغیر گاڑی چلاۓ یا ڈاکٹری کرے تو قبرستان ہی آباد کرے گا، اسی طرح جو شخص علمِ دین رسول الله ﷺ سے تعلیم وتربیت پانے والے (سند/سلسلہ یافتہ) علماء سے حاصل کرنے کے بجائے محض ((اپنی رائے)) پر چلے یا کسی ((دوسرے)) شعبہ کے ماہر یا محض ((کتابی عالم)) سے حاصل کرے گا تو وہ اپنی اور دوسروں کی روحانی واخروی گمراہی وناکامی کا سبب بنتا رہے گا.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ.»یعنی جب کام نا اہل (لوگوں) کے سپرد کیا جائے، تو تو قیامت کا انتظار کرنا۔ 
[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب فَضْلِ الْعِلْمِ ۔۔۔ رقم الحديث: 59]
کیونکہ اس سے ھدایت کے بجائے گمراہی ونافرمانی پھیلنا اور احکام ٹوٹنا، قیامت کے قرب اور قائم ہونے کی نشانیاں ہیں۔

امام عبداللہ بن المبارکؒ الحنفی (م 181ھ) فرماتے ہیں:«الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ» یعنی اسناد دین میں سے ہے، اگر اسناد نہ ہوتی تو ہر کہنے والا، جو اس کے جی میں آتا ، کہہ دیتا۔[صحیح مسلم:1/15، رقم :32، في المقدمة، باب بيان أن الإسناد من الدين.]
اسناد راویوں کے سلسلہ سند کو کہتے ہیں جن پر اعتماد کیا جائے، سند کو سند اس لیے کہتے ہیں کہ متن کا اعتماد اور سہارا اسی پر ہوتا ہے۔











علماءِ حق، دین کے ٹھیکیدار نہیں، چوکیدار ہوتے ہیں


حضرت ابراہیم بن عبد الرحمٰن العذري سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: اٹھاتے(یعنی سینوں میں محفوظ رکھتے)رہیں گے اس علم(دین)کو خلف(یعنی سلفِ صالحین کے قابل جانشین)عادل لوگ(یعنی حق بیان کرنے اور انصاف کرنے میں اپنوں سے رعایت اور دشمنوں پر ظلم نہیں کریں گے)، وہ اس(علمِ دین)سے غلو کرنے(یعنی حد سے بڑھنے)والوں کی تحریف(وتبدیلی)کو،اور باطل(یعنی مخلفین حق)لوگوں کی غلط نسبتوں(یعنی کسی پر یا کسی کی نام جھوٹی بات پھیلانے)کو،اور جاہل(یعنی غیر عالم)لوگوں کی(غلط) تاویلات(یعنی اصل مطلب،تفسیر وتشریح  سے ہٹادینے)کو دور کریں گے.
[جامع الاحادیث، للسیوطی:26643، حديث إبراهيم بن عبد الرحمن العذرى عن الثقة من أشياخه: أخرجه البيهقى (10/209، رقم 20701) ، وابن عساكر (7/38) ، وعزاه الحافظ فى اللسان (1/77، ترجمة 210 إبراهيم بن عبد الرحمن) لابن عدى ، وأخرجه أيضًا: العقيلى (4/256، ترجمة 1854 معان بن رفاعة السلامى) .
حدیثِ علي: مسند(امام)زيد:599،1/342
حديث أسامة: أخرجه ابن عساكر (7/39) .
حديث أنس: أخرجه ابن عساكر (54/225) .
حديث ابن عمر: أخرجه الديلمى (5/537، رقم 9012) وأخرجه أيضًا: ابن عدى (3/31، ترجمة 593 خالد بن عمرو القرشى) .
حديث أبى أمامة: أخرجه العقيلى (1/9) .
حديث ابن عمرو وأبى هريرة معا: قال الهيثمى (1/140) : رواه البزار، وفيه عمرو بن خالد القرشى كذبه يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، ونسبه إلى الوضع. وأخرجه العقيلى (1/10) .
وللحديث أطراف أخرى منها: "يرث هذا العلم من كل خلف عدوله".]


المحدث : الإمام أحمد | المصدر : تاريخ دمشق: 7/39 - لسان الميزان: 1/312 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : ابن حبان [الثقات: 4/10]
المحدث : السفاريني الحنبلي | المصدر : القول العلي: 227 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : ابن الوزير اليماني | المصدر : العواصم والقواصم: 1/308 | خلاصة حكم المحدث : صحيح






یہی الفاظِ حدیث حضرت علیؓ سے بھی رسول الله ﷺ کے مروی ہیں ...

عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ " .

سلسلہ سند:
(1) علي بن أبي طالب
| (2) حسين بن علي
| | (3) علي بن حسين
| | | (4) زيد بن علي
| | | | (5) الكتاب: مسند زيد [الحكم: إسناده متصل، رجاله ثقات]
یہ (چھوٹا یعنی بہتر) مسلسل قابلِ اعتماد راویوں کا سلسلہ ہے۔


الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1يرث هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تأويل الجاهلين وانتحال المبطلين وتحريف الغالينموضع إرسالالسنن الكبرى للبيهقي1925810 : 208البيهقي458
2يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرمسند الشاميين للطبراني588599سليمان بن أحمد الطبراني360
3يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعلي بن أبي طالبمسند زيد5991 : 342زيد بن علي بن الحسين122
4يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينكشف الأستار135143نور الدين الهيثمي807
5يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الله بن عمرمعجم السفر للسلفي2481585أبو طاهر السلفي576
6يحمل هذا العلم من كل خلف عدولهاسم مبهمالثلاثون من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي22---أبو طاهر السلفي576
7يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الله بن عمرفوائد تمام الرازي833899تمام بن محمد الرازي414
8يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينإسلام زيد بن حارثة وغيره من أحاديث الشيوخ51 : 148تمام بن محمد الرازي414
9يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه انتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرالأول من فوائد أبي الحسين بن غنائم16---أبو الحسين علي بن غنائم بن عمرالمالكي330
10يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرجمع الجيوش والدساكر على ابن عساكر2---يوسف بن عبد الهادي909
11يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الله بن عباسجمع الجيوش والدساكر على ابن عساكر15---يوسف بن عبد الهادي909
12يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينأسامة بن زيدبغية الملتمس7---العلائي761
13يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرالجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب138137الخطيب البغدادي463
14يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وتأويل الجاهلين وانتحال المبطلينموضع إرسالالجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب139138الخطيب البغدادي463
15يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينمعاذ بن جبلشرف أصحاب الحديث للخطيب101 : 39الخطيب البغدادي463
16يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرشرف أصحاب الحديث للخطيب471 : 67الخطيب البغدادي463
17يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الجاهلين وانتحال المبطلينأسامة بن زيدشرف أصحاب الحديث للخطيب481 : 68الخطيب البغدادي463
18يرث هذا العلم من كل خلف عدولهعبد الله بن مسعودشرف أصحاب الحديث للخطيب491 : 69الخطيب البغدادي463
19يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالشرف أصحاب الحديث للخطيب501 : 69الخطيب البغدادي463
20يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الجاهلين وانتحال المبطلين وتأويل الغالينموضع إرسالشرف أصحاب الحديث للخطيب511 : 70الخطيب البغدادي463
21يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينأسامة بن زيدإثارة الفوائد14---ابن عبد البر463
22يحمل هذا العلم من كل ذلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالبدع لابن وضاح11ابن وضاح المرواني287
23يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه انتحال المبطلين وتأويل الجاهلين وتحريف الغالينموضع إرسالالبدع لابن وضاح22ابن وضاح المرواني287
24يتحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالشريعة للآجري1---الآجري360
25يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالشريعة للآجري2---الآجري360
26يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالإبانة الكبرى لابن بطة2828ابن بطة العكبري387
27يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري651676عبد الله بن محمد الأنصاري481
28يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الله بن عباسذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري666691عبد الله بن محمد الأنصاري481
29يحمل هذا العلم من كل خلف عدلهعبد الرحمن بن صخرذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري667692عبد الله بن محمد الأنصاري481
30يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تأويل الجاهلين وانتحال المبطلينجابر بن سمرةذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري668693عبد الله بن محمد الأنصاري481
31يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعويمر بن مالكمشكل الآثار للطحاوي32873884الطحاوي321
32يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالتمهيد لابن عبد البر171 : 58ابن عبد البر القرطبي463
33يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وتأويل الجاهلين وانتحال المبطلينموضع إرسالالتمهيد لابن عبد البر181 : 59ابن عبد البر القرطبي463
34يحمل هذا العلم من كل خلف عدولهالتمهيد لابن عبد البر191 : 59ابن عبد البر القرطبي463
35يرث هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالدلائل النبوة للبيهقي13---البيهقي458
36يرث هذا العلم من كان خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالثقات لابن حبان842 : 7أبو حاتم بن حبان354
37يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالمعرفة الصحابة لأبي نعيم696732أبو نعيم الأصبهاني430
38يرث هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالتاريخ دمشق لابن عساكر4827---ابن عساكر الدمشقي571
39يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالتاريخ دمشق لابن عساكر48287 : 38ابن عساكر الدمشقي571
40يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه كذب الجاهلين وانتحال المبطلين وافتراء الغالينموضع إرسالتاريخ دمشق لابن عساكر48297 : 38ابن عساكر الدمشقي571
41يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الجاهلين وانتحال المبطلينأسامة بن زيدتاريخ دمشق لابن عساكر48307 : 39ابن عساكر الدمشقي571
42يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4551443 : 235ابن عساكر الدمشقي571
43يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينأنس بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر5794554 : 225ابن عساكر الدمشقي571
44يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالأسد الغابة9---علي بن الأثير630
45يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالجرح والتعديل782 : 17ابن أبي حاتم الرازي327
46ليحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالالجرح والتعديل792 : 17ابن أبي حاتم الرازي327
47يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلينموضع إرسالكتاب العلم171---أبو طاهر السلفي576






علماءِ حق اور علماءِ سوء میں فرق کا معیار:

حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السُّرِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَظْهَرَتْ أُمَّتِي الْبِدَعَ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَإِنَّ كَاتِمَ الْعِلْمِ يَوْمَئِذٍ كَكَاتِمِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
حضرت جابر بن عبداللهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے ، پس بیشک علم کو چھپانے والا اس دن ایسا ہوگا جیسے چھپانے والا ہو اس چیز کا جو(شریعت) نازل کی الله نے محمد ﷺ پر.
[الشريعة، للآجري :1987
السنة، لابن أبي عاصم (المتوفى: 287هـ)رقم الحديث:994
السنن الواردة، الداني (المتوفى: 444هـ) :287،الرسالة الوافية:1/285
الإبانة الكبرى لابن بطة(المتوفى: 387هـ):49
فيض القدير شرح الجامع الصغير (المتوفى: 1031هـ):751(1/401)
السيوطي في مفتاح الجنة (1/ 66) ،جامع الأحاديث:2335(2/352)
الديلمي:1/206،التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِير:747(2/140)
المدخل،لابن الحاج:1/6


حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَلَّبِ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ السَّاحِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَدَثَ فِي أُمَّتِي الْبِدَعُ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ : مَا إِظْهَارُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ : إِظْهَارُ السُّنَّةِ ، إِظْهَارُ السُّنَّةِ .
[الشريعة للآجري » كتاب أَهْلِ الْبَيْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ » بَابُ عُقُوبَةِ الإِمَامِ وَالأَمِيرِ لأَهْلِ الأَهْوَاءِ ... رقم الحديث: 2057(2075)]
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں پیدا ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے گا اس پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔ عبداللہ بن حسن ؒ نے فرمایا کہ میں نے ولید بن مسلم سے دریافت کیا کہ حدیث میں اظہار علم سے کیا مراد ہے ، فرمایا:اظہار سنت.
(الاعتصام للشاطبی:١/٨٨)1/104
فيض القدير شرح الجامع الصغير:751(1/401)
ديلمي:1/206، التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ:747(2/140)
جامع الأحاديث:2336،مفتاح الجنة:1/68
والربيع في مسنده (1 / 365)
والديلمي في الفردوس (1 / 321)
قال السيوطي في الدر المنثور (2 / 402)

والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي (2 / 118)
ابن عساكر في «تاريخ دمشق» (54/80 - ط. دار الفكر) (5/ق331) 
عن رسول الله (صلّى الله عليه وآله وسلّم) أنه قال : « إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدَعُ فِي أُمَّتِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ » الكافي ج 1 ص 54 باب البدع والرأي والمقاييس. ح 2.
 - عن رسول الله (صلّى الله عليه وآله وسلّم) : «إذا ظهرت البدع ولعن آخر هذه الأمة أولها ، فمن كان عنده علم فلينشره ، فإن كاتم العلم يومئذ ككاتم ما أنزل الله على محمد » الجامع الصغير : 1 / 115 / 751 ، كنز العمال : 1 / 178 / 903 وكلاهما عن ابن عساكر عن معاذ.




علم اور معلومات میں فرق:
*علم کثرتِ معلومات کا نام نہیں، حقیقت تک پہنچ جانے کا نام علم ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے سیر وسیاحت سے بہت سے چیزوں کو دیکھا ہو مگر کسی چیز کو اچھی طرح دیکھنے میں (یوں ہی سرسری طور دیکھنے والا) نگاہ کا کمزور ہے اور کسی نے سیر وسیاحت تو کم کی ہے لیکن نگاہ کا بہت تیز ہو چاہے اس نے تھوڑی چیزوں کو دیکھا ہو مگر حقیقت کو خوب پہچانا ہو۔[تحفۃ المدارس:1/350]

*علم وہ نور(سورۃ الانعام:122) ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد اس پر عمل کیے بغیر چین نہیں آتا کیونکہ وہ تمام خبریں جو انسان کے دماغ میں موجود ہیں مگر عمل ں نہیں، تو وہ معلومات کہلائیں گی۔[خطباتِ فقیر:4/127]

*علم وہ ہے جو العلیم (ہر چیز کے خوب جاننے والے اللہ) سے اس کے رسولوں (اور بزرگوں) کے واسطے (یعنی سچے نیک وپاکباز لوگوں کی نقل شدہ گواہیوں اور روایات) سے ملے۔


علم کی اقسام:
ابْنُ نُمَيْرٍ , قال : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِلْمُ عِلْمَانِ : عِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ , وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَتِلْكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ " .
ترجمہ: حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کی دو(2)قسمیں ہیں: ایک وہ جو دل میں(اللہ کا ڈر پیدا کرتا)ہے،یہی علم نافع ہے۔ اور جو علم(مال، شہرت یا مقابلے کیلئے)زبان پر ہو، وہ تو اللہ کی حجت(الزامی دلیل)ہے اس کے بندوں پر۔
[الزهد والرقائق لابن المبارك:1161، مصنف ابن ابی شیبہ:34361، دارمی:376، شعب الایمان للبیھقی:1686، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:1150، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:300، الإتحاف:23975، كنز العمال:28667+28947، جامع الأحاديث للسیوطی:14498، حکیم ترمذی:2/303، تفسیر الدر المنثور للسیوطی:7/21-تفسیر سورۃ فاطر:27]



علم اور سائنس میں فرق:
علم وہ روشنی ہے جس کے ذریعہ، سب کے مالک وخالق (وجود میں لانے والے) کی پہچان وعظمت کے سبب، اس کی بغاوت ونافرمانی پر مصیبت وعذاب کا ڈر پیدا ہو۔ جو کلامِ الٰہی پر ایمان میں پختگی اور بندگی(نیک اعمال) پر ابھارتا ہو۔ جو قرآنی باتوں کی سمجھ پیدا کرے۔
دلائلِ قرآن:
أَوَمَن كانَ مَيتًا فَأَحيَينٰهُ وَجَعَلنا لَهُ نورًا يَمشى بِهِ فِى النّاسِ كَمَن مَثَلُهُ فِى الظُّلُمٰتِ لَيسَ بِخارِجٍ مِنها ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلكٰفِرينَ ما كانوا يَعمَلونَ [الانعام:122]
بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔

إِنَّما يَخشَى اللَّهَ مِن عِبادِهِ العُلَمٰؤُا۟ [الفاطر:28]
ترجمہ: ...اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جو علماء ہیں۔

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ.
[آل عمران:٧]
ترجمہ:"وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب، اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی، اور دوسری ہیں متشابہ یعنی جنکے معنیٰ معلوم یا معین نہیں، سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے، اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے، اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں، اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے".

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّه ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ [الزمر:9]
ترجمہ:"بھلا ایک شخص جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہوا، خطرہ رکھتا ہے آخرت کا اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی, "تو کہہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ(علم) والے اور بے (علم)سمجھ", سوچتے وہی ہیں جن کو عقل ہے"۔

وَتِلكَ الأَمثٰلُ نَضرِبُها لِلنّاسِ ۖ وَما يَعقِلُها إِلَّا العٰلِمونَ [العنکبوت :43]
ترجمہ:"اور یہ مثالیں بٹھلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو سمجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ(علم) ہے."

دلائلِ حدیث:
إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ۔[بخاری:79، مسلم:2671]
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ(دینی)علم اٹھالیا جائےگا اور جہالت عام ہوجائے گی۔

وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا۔[ابوداود:5012]
اور بعض(اچھے سمجھے جانے والے غیرشرعی یا غیرنافع)علوم جہالت ہیں۔
جیسے قرآن میں فرمایا:
اور ہم نے نہیں سکھایا اس نبی کو شعر۔[سورۃ یٰس:69]
۔۔۔ بلکہ شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو۔۔۔[سورۃ البقرۃ:102]



نافرمان سائنسدانوں، ڈاکٹرز اور اسکالرز کے علم کی حد:
فَأَعرِض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِنا وَلَم يُرِد إِلَّا الحَيوٰةَ الدُّنيا {53:29} ذٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ {53:30}
تو اس سے تم بھی منہ پھیرلو جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو۔ ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔

أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {45:23}
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود علم ہونے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟ 



***************************************

حصولِ علم کی اہمیت
علم کی تعریف
کسی شے کی حقیقت کو جاننے کا نام علم ہے، علم کا اطلاق بہت سے معانی پر ہوتا ہے، جیسے عقائد کا علم، زبان کا علم، نسب کا علم، علوم طبیعیہ، جیسے ریاضی اور فزکس وغیرہ۔

اگر مذاہبِ عالم کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ مذہبِ اسلام نے علم اور حصول علم پر جس قدر زور دیا ہے دیگر مذاہب میں اس کی مثال ملنی مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔

قرآن کریم کی سب سے پہلی وحی جو ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی اس میں حصول علم کا ہی حکم ہے اور یہ حکم آپ ﷺ اور آپ کے ذریعہ آپ کی امت کے ہر فرد کو شامل ہے ۔ پہلی بابرکت اور ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والی وحی کی ابتدایوں ہوتی ہے:﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ،خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ، الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ﴾․ (سورة العلق:5-1)

ان پانچ آیات کے ذریعہ الله جل جلالہ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ او رامت کے ہر شخص کو پڑھنے کا حکم دیا اور اس علم کے حصول کی ترغیب دی، جو خالق کو پہچاننے کا ذریعہ بنے۔ الله تبارک وتعالیٰ نے علم کو کتنی اہمیت بخشی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لفظ” علم“ اپنے مختلف مشتقات کے ساتھ 779 مرتبہ قرآن پاک میں وارد ہوا ہے او ران کے علاوہ ان الفاظ کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو معنی علم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مثلاً: یقین، ہدیٰ، عقل، فکر، نظر، حکمت، برہان، دلیل، حجة، آیة،بینتہ وغیرہ۔

احادیث پاک میں جس کثرت سے علم اور حصول علم کی فضیلت کا ذکر ہے اس کا احاطہ کرنا محال ہے، چند احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے: رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:”ان الله وملائکتہ واھل السماوات والأرض، حتی النملة فی حجرھا وحتی الحوت فی جوف البحر، یصلون علی معلم الناس خیراً․“(سنن ترمذی)

بے شک الله تعالیٰ اور اس کے فرشتے، آسمان اور زمین والے، یہاں تک کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلیاں سمندر کی گہرائی میں لوگوں کو خیر اور بھلائی کی بات سکھانے والوں کے لیے دعا کرتی ہیں۔

ایک دوسری جگہ آپ ﷺ فرماتے ہیں:”من یرد الله بہ خیراً یفقہہ فی الدین“(صحیح بخاری) الله جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے طالب علم کی کچھ اس طرح حوصلہ افزائی فرمائی:”من سلک طریقا یلتمس فیہ علماً، سھل الله لہ بہ طریقاً إلی الجنة․“(صحیح مسلم) جو شخص علم کی طلب اور تلاش میں ایک راستہ پر چلا، الله تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔ تعلم او رحصول علم کو پیارے رسول الله ﷺ نے انبیائے کرام کی میراث قرار دیا ہے، اس سے بڑھ کر علم کی فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے؟! چناں چہ حدیث نبوی ہے:”إن الإنبیاء لم یورثوا درھما ولا دینارا وإنما ورثوا العلم، فمن أخذہ أخذ بحظ وافر من میراثھم․“(سنن ابوداؤد) یعنی انبیا کرام ورثہ میں درہم اور دینار چھوڑ کر نہیں جاتے، بلکہ علم چھوڑ کرجاتے ہیں توجس نے علم حاصل کیا اس نے انبیائے کرام کی میراث کا ایک وافر حصہ حاصل کیا۔

علم کی ضرورت
علم زندگی کا نور ہے ، تمام بھلائیوں، عظمتوں، بلندیوں اور شرف کے حصول کا واحد ذریعہ ہے، علم ہی سے انسان اپنا دین، اپنی دنیا او راپنے حقیقی مقصد کو پہچانتا ہے۔ زندگی کی بہت سی مشکلات ہم علم کے ذریعہ ختم کرتے ہیں، علم ہی کے ذریعہ ہم اپنے اندر کی چیزوں کو تنقیدی زاویہ سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں ۔ علم ہماری زندگیوں میں خوشیاں لاتا ہے، علم زندگی کے ہر موڑ پر ہماری مدد کرتا ہے اور علم کا سب سے بڑا فائدہ ہماری زندگی میں یہ ہے کہ یہ ہمیں ہماری حقیقت سے آگاہ کرتا ہے ۔ علم اس گھر کو بھی رفعت بخشتا ہے جس کے پائے نہ ہوں اور جہالت عزت وشرف والے مکان کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے ۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کی بنیاد علم ہے ، علم تمام اعمال میں سب سے افضل ہے اور کیوں نہ ہو؟! کسی چیز کی فضیلت اس کے نتیجہ کی فضیلت سے ناپی جاتی ہے اور علم کا نتیجہ رب العالمین کا قرب ہے، جو ہماری زندگی کا حقیقی اور واحد مقصد ہے اور ہماری تمام جدوجہد کا عین مطلوب ہے۔ الله تعالیٰ نے اپنے نبی ورسول حضرت محمد ﷺ کو علم کی زیادتی کی طلب کا حکم فرمایا، چناں چہ حکم دیا گیا:﴿ وَقُل رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْما﴾․(سورة طہ:114) ”آپ کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔“ علم ایمان کی علامات میں سے ہے او رجہالت اہل جہنم کی صفات میں سے ہے ۔ علم نوافل سے بہتر ہے او رایک عظیم جہاد ہے ۔ جناب رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:”من جاء مسجدي ھذا، لم یاتہ إلا لخیر، یتعلمہ، أو یعلمہ فھو بمنزلة المجاھد فی سبیل الله․“(سنن ابن ماجہ) ترجمہ: جو شخص میری اس مسجد میں صرف اچھی اور خیرکی بات سیکھنے یا سکھانے کے مقصد سے آتا ہے اس کا مرتبہ الله کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے۔ دینی علم انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اس کا رب کون ہے؟ اس کے رب کی صفات کیا ہیں؟ انبیائے کرام کون ہیں؟ ان کے اوامر کیا ہیں اور ان کی نواہی کیا ہیں؟ ایک انسان ان تمام باتوں کو جاننے اور اس کے مقتضا پر عمل کرنے کے بعد پرامن زندگی بسر کرتا ہے ۔ حضرت علی کرم الله وجہہ فرماتے ہیں کہ علم کے شرف کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ شخص بھی علم کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کا اہل نہیں او رجہالت کی عار کے لیے اتنی سی بات بہت ہے کہ جاہل بھی جہالت سے برأت کا اظہار کرتا ہے۔

علم، ایمان اور عمل
اسلام کی نظر میں علم او رحصول علم کی کوشش کی تمام مذکورہ بالا فضائل کے باوجود کوئی بھی اہمیت نہیں ہے اگر وہ علم ایمان سے خالی ہو، قرآن پاک میں الله تبارک وتعالی نے علم او رایمان کو ایک ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے، چناں چہ سورہٴ روم کی آیت نمبر56 میں ہے:﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللَّہِ إِلَی یَوْمِ الْبَعْثِ﴾ اور ان لوگوں نے کہا جن کو علم اورایمان عطا کیا گیا کہ تم لوگ جیسا کہ کتاب الله میں ہے یوم قیامت تک پڑے رہے۔ اور سورہٴ مجادلہ آیت نمبر11 میں ہے:﴿یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ﴾ الله تعالیٰ ان لوگوں کے درجات کو بلند فرماتے ہیں جو ایمان لائے او رجنہیں علم دیا گیا۔ علم اور ایمان کے علاوہ جو تیسری چیز انتہائی اہمیت کی حامل ہے وہ عمل ہے۔ اسلام کی نظر میں حصول علم کا مقصد اس پر عمل کرنا ہے، ورنہ وہ علم صاحبِ علم کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ اسلام نے علم کے اس پہلو پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے اور اجر ونجات کا انحصار عمل ہی پر رکھا ہے۔ بے شمار وعیدیں اور مذمت اس شخص کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جو اپنے علم پر عمل پیرا نہیں ہے ، قرآن پاک میں ہے: ﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ ﴾․(سورة البقرة:44) کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اوراپنے آپ کو بھول جاتے ہو اور تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا سمجھتے نہیں ہو ، حدیث پاک میں ہے:”من تعلم علما مما یبتغی بہ وجہ الله عزوجل لا یتعلمہ إلا لیصیب بہ عرضا من الدنیا لم یجد عرف الجنة یوم القیامة (یعنی ریحھا)“(سنن ابوداؤد وسنن ابن ماجہ) جس شخص نے علم سیکھا جس سے الله کی رضا حاصل کی جاتی ہے اور وہ صرف دنیا کے سامان کے حصول کے لیے سیکھتا ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوش بو نہیں پائے گا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ابن آدم کا قدم اپنے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکتا جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے او ران پانچ چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے علم پر کیا عمل کیا۔ ( معجم طبرانی) جناب رسول الله ﷺ اس علم سے پناہ مانگا کرتے تھے جو نفع بخش نہ ہو ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ فرماتے تھے تھے کہ ” اس علم کی مثال جس پر عمل نہ کیا جائے اس خزانہ کی طرح ہے جس کو الله کے راستہ میں خرچ نہ کیا جائے۔“ حضرت عمر رضی الله عنہ کا قول ہے:” وہ شخص تم کو دھوکہ میں نہ ڈالے جو قرآن پڑھتا ہے، بلکہ اس شخص کو دیکھو جو اس پر عمل کرتا ہے۔“

علوم شرعیہ کی اہمیت
الله تبارک وتعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جتنے بھی انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا، ان سب کا مقصد لوگوں کو الله کی طرف دعوت دینا تھا اورایک داعی کے کردار میں سب سے بڑا عنصر علم ہوتا ہے ۔ سردار انبیاء حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں آپ کو پڑھنے کا حکم دینا اور علم کا تذکرہ کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ علم اس دین کو، دنیا کو اور آخرت کو سمجھنے کی کنجی ہے، علم ہی کی روشنی میں دعوت کا کام پایہٴ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے، شریعت کا علم ہمارے لیے کھانے، پینے ، لباس اور دوا سے بھی زیادہ ضروری ہے، اس لیے کہ علم شریعت ہی سے دین ودنیا کی بقا ہے، علم عبادت کی بنیاد ہے۔ مثلاً نماز پڑھنے کے لیے ہمیں ایک عالم کی ضرورت ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمارے رسول صلی الله علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ نماز کے ارکان کیا ہیں؟ فرائض کیا ہیں؟ سنتیں کیا ہیں؟ علم شریعت کے بغیر نہ نماز پڑھی جاسکتی ہے ، نہ روزہ رکھا جاسکتا ہے، نہ زکوٰة ادا کی جاسکتی ہے، نہ جہاد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فریضہٴ حج ادا کیا جاسکتا ہے۔

عقیدہ کی سب سے مشہور کتاب”شرح العقیدہ الطحاویة“ میں ہے کہ ” اصول دین کا علم تمام علوم میں سب سے اشرف ہے اور اسی لیے امام ابوحنیفہ رحمة الله تعالیٰ علیہ نے اصول دین کے بارے میں جو کچھ کہا اور صفحات میں جمع کیا اس کا نام ”الفقہ الاکبر“ رکھا۔ بندوں کو اس کی ضرورت تمام ضرورتوں پر فوقیت رکھتی ہے ،اس لیے کہ وہ قلوب مردہ ہوتے ہیں جو اپنے رب کو نہ پہچانیں، دلوں کی زندگی اور اس کا اطمینان وسکون اپنے رب، اپنے معبود او راپنے خالق ومالک کو اس کے اسماء وصفات او رافعال کے ساتھ جاننے میں مضمر ہے۔“ ( ص:17)

کسی قوم کی گم راہی اور بددینی کی بنیادی وجوہات علم دین سے دوری او رخواہشاتِ نفسانی کی اتباع ہی ہیں، گم راہوں او رغلو کرنے والوں کے احوال کے بارے میں اگر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ یا تو شریعت کے علوم سے بے خبر تھے یا خواہشاتِ نفسانی کے مرض میں مبتلا تھے۔ لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں ، معاصی کے دلدل میں پھنستے جاتے ہیں، کم زوروں کے حقوق کو ہضم کر جاتے ہیں اور انہیں اس بات کااحساس نہیں ہوتا کہ ان کے یہ اعمال حرام ہیں جن پر دنیا وآخرت میں شدید ترین سزائیں مرتب ہوں گی، اگر انہیں شریعت کا علم ہوتا تو ان گناہوں کاارتکاب کرنے کی جرأت بھی نہ کرتے۔

جدید علوم
علوم کی فضیلت او راہمیت صرف علوم شریعہ کے ساتھ خاص نہیں ہے ، بلکہ ان فنون کی تعلیم بھی ثواب کا باعث بن سکتی ہیں جو الله کی رضا کے لیے دی جائیں اور ان کا مقصد الله کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہواور وہ مقاصد شریعت کے ساتھ ٹکراتے بھی نہ ہوں، یہ فنون دراصل کرہ ارض پر بسنے والی مخلوق کی زندگی کو بہتر اور آسان بنانے کا ممکنہ ذریعہ ہیں۔

قرآن پاک میں ہے :﴿ ہُوَ أَنشَأَکُم مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْہَا ﴾․(سورة ھود:61)اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اوراسی زمین میں تمہیں بسایا۔

حدیث پاک میں ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ:”انتم اعلم بشؤؤن دنیاکم“ یعنی تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جاننے والے ہو۔

زمین کی تعمیر کے لیے ، وہاں انسانوں کو آباد کرنے کے لیے اور انسانی معاشرے میں زندگی کی اجتماعی ضروریات کو بہتر انداز سے پورا کرنے کے لیے ریاضی ،فن صناعت، فن زراعت او ر اقتصاد وتجارت وغیرہ کی تعلیم کی ضرورت پڑتی ہے۔ موجودہ دو رمیں مسلمانوں کو علوم شرعیہ کے ساتھ ساتھ ان دوسرے فنون میں بھی مہارت حاصل کرنا چاہیے جو دنیاوی ضروریات پورا کرنے کا ذریعہ ہیں، جیسے کمپیوٹر سائنس، میڈیکل، انجینئرنگ، میتھ میٹکس(Mathematics) ایگری کلچرل(Agricultural) او رانڈسٹریل سائنس(Industrial Science) وغیرہ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ مذہب پر کاربند رہتے ہوئے اور دین کا ضروری علم حاصل کرنے کے بعد ان فنون کو بھی سیکھیں جو اسلامی شریعت اور اسلامی قواعد کے مخالف نہ ہوں، چناں چہ جوان فنون کو اس مقصد سے سیکھے کہ وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے لیے نافع بنے گا تو وہ ماجور ہو گا اور اس شخص سے افضل ہو گا جس نے موقع ہونے کے باوجود بیکار سمجھ کر نہیں سیکھا۔ اسی طرح میڈیکل ، انجینئرنگ اور دوسرے فنون کا مسئلہ ہے۔ جسے دینی علوم پر رسوخ حاصل ہے اور کمپیوٹر اورانٹرنیٹ پر بھی عبورہے اور وہ اس کا استعمال شریعت کے دائرے میں رہ کر( یعنی جاندار کی تصاویر آویزاں کیے بغیر، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتے ہوئے، اپنے قیمتی اوقات زندگی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہوئے، وغیرہ وغیرہ) کلمہٴ حق کو پورے عالم میں پہنچانے کی غرض سے کر رہا ہو تو وہ ان سے بہتر ہے جو اپنی فیملی اور اپنی اولاد سے ہٹ کر کچھ اور سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کتنی پیاری بات فرمائی:”إن ھذا الخیر، خزائن وتلک الخزائن مفاتیح، فطوبیٰ لعبد جعلہ الله مفتاحاً للخیر، مغلاقا للشر، وویل لعبد جعلہ الله مفتاحا للشر، مغلاقا للخیر․“(ابن ماجہ) بلاشبہ یہ خیر خزانے ہیں، تو خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جس کو الله نے خیر کو کھولنے والا اور شر کو بند کرنے والا بنایا اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کو الله نے شر کو کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا۔

قوانین الہٰیہ کی پابندی کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے واسطے قوم کے افراد کا اپنی اپنی پسند اور طبعی رجحان کے مطابق ایک تخصص(Specialization) کا انتخاب کرنا بالکل فطری تقاضا ہے۔ صرف اس طرح پورا معاشرہ ایک مہذب، مثقف اور بے مثال معاشرہ بن پاتا ہے۔

رسول الله ﷺ نے فرمایا تھا:”ألا إن الدنیا ملعونة ، ملعون ما فیھا إلا ذکر الله، وما والاہُ، وعالم أو متعلم․“(سنن ترمذی) دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے وہ ملعون ہے، یعنی الله کی رحمت سے دور ہے، مگر الله کا ذکر اور وہ چیزیں جو الله سے قریب کریں ( یعنی نیک عمل) اورعالم اورمتعلم(طالب علم)۔ اس کا اثر تمام اسلامی دنیا پر پڑا، چناں چہ علم ومعرفت کے مختلف میدانوں میں ایک وسیع پیمانہ پر اس طرح کی سرگرمیاں مشاہدے میں آئیں جن کی مثال تاریخ میں ملنی مشکل ہے، مسلمان علماء کے ذریعہ ایک تہذیب وتمدن کی بنیاد پڑی اور انسانیت کو شان دار علمی ذخیرہ میسر آیا۔

ہمارے اسلاف نے نہ صرف علوم وفنون کی قدر وقیمت کو پہچانا بلکہ انہیں ان کی حیثیت کے مطابق اسلامی معاشرے میں جگہ دی۔ دنیاوی فنون کی قدردانی بھی کی مگر علوم اسلامی کو نسل انسانی کی دنیاوی اور اخروی کام یابی کے لیے لازمی حیثیت دی۔ معاشرے کا مرکز یعنی مساجد تعلیمی حلقوں سے پُر رہا کرتی تھیں، مدارس وجامعات قائم کیے گئے۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ دس صدیوں تک اس دنیا کے اساتذہ تھے، مغربی دنیا نے ان سے علوم بھی اور فنون بھی حاصل کیے مگر اپنی متعین کردہ ترجیحات کے مطابق اپنی تہذیب وتمدن کی بنیاد رکھی۔

مسلمان اپنے تاب ناک ماضی کی عزت وشرف کو تبھی واپس پاسکتے ہیں جب اسلاف واکابرین کے نقش قدم پر چلیں، ہمارے اسلاف نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں اپنایا اور شرف وعزت والے کہلائے، دشمنانِ اسلام پوری طاقت کے ساتھ ان پر یلغار کرتے، مگر منھ کی کھاتے، انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے علم الہٰی کووسیلہ بنایا اور افسوس کہ ہم نے علم الہٰی کو چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ ان فنون پر مرکوز کر دی جن کا دنیا میں تو فائدہ ملنے کا امکان ہوتا ہے، مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

مختصراً یہ کہ ماضی کی شرف وعزت کا حصول علم شرعی او رعلوم دنیوی کے حصول پر ہی موقوف ہے۔

والله الموفق المستعان

علم دنیا میں دو راستوں سے آیا ہے
ایک علم الٰہی ہے، جو بذریعہٴ وحی انبیائے کرام علیہم السلام کے توسط سے دنیا والوں کو پہنچا ہے ،اس علم کے معلم اول خود حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ شانہ کی ذات گرامی صفات ہے اور اس کے اولین شاگرد حضرات انبیائے کرام علیہم السلام ہیں۔ اس مقدس سلسلہٴ تلا مذہ میں پہلے شاگرد اور متعلم ابولبشر سید نا آدم علیہ السلام ہیں،جن کے علم وفضل کا لوہا ملائکہ مقربین تک نے مانا ہے اور اس لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلا م کے ذریعہ ہی اس علم الٰہی کا پہلا درس حظیرئہ قدس کی درس گاہ میں ملائے اعلیٰ کے فرشتوں کو ہی دیا گیا ہے ۔یہ علم الٰہی وہ علم ہے جس کے ادراک و معرفت سے عقل انسانی قاصر وعاجز ہے،اس لیے کہ یہ حقائق الٰہیہ اور علوم غیبیہ عقل انسانی کی دست رس سے بالا تر اوروراء الوراء(دور سے دورتر )ہیں، ارشاد باری ہے :
﴿ وَلاَ یُحِیْطُونَ بِشَیْْء ٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلاَّ بِمَا شَآءَ ﴾․(البقرہ:255)
ترجمہ:۔”اور وہ (انسان)نہیں احاطہ کر سکتے اس کے علم کے کسی حصہ پربھی،بجزاس کے جو وہ خود (عطا فرمانا)چاہے“۔

اور اس ” بِمَا شَآءَ“کے استثنا کے تحت ان علوم کا جو حصہ انسانوں کو دیا گیا ہے،وہ علم الاولین والآخرین (اگلوں اور پچھلوں سب کاعلم)ہونے کے باوجودبھی ”’قدر قلیل “گویا بحرذخار کے ایک قطرہ کا مصداق ہے۔ارشاد الٰہی ہے:﴿ وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً﴾ (بنی اسرائیل:85)
ترجمہ:۔”اور جو علم تم کو دیا گیا ہے ،وہ تو بہت ہی تھوڑا علم ہے“۔

دوسرا وہ علم ہے جس کا ذریعہ عقل وادراک کا وہ جو ہر لطیف ہے جو خالق کائنات نے ہر انسان کی فطرت میں علی فرق المراتب (درجہ بدرجہ)ودیعت فرمایا ہے ۔ جس کا ظہور ہربچہ میں ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور سن وسال نیز محسوسات و مشاہدات اور تجربات کے اضافہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور ترقی کرتا رہتا ہے۔

بحیثیت مجموعی ہر دور میں عقل انسانی میں جتنی پختگی پیدا ہوتی گئی،، ”یہ فکر ی ونظری علم“بڑھتا اور ترقی و تنوع اختیار کرتا رہا اور جوں جوں نسل انسانی کونت نئی حاجات و ضروریات پیش آتی رہیں،ان کو پورا کرنے کی تگ دو میں اس علم کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتارہا۔

لیکن اس علم انسانی کے مبادی،محسوسات ومشاہدات وتجربات سے انتفاع میں بھی عقل انسانی کی ابتدائی راہ نمائی وحی والہام الٰہی کے ذریعہ ہی ہوئی ہے اور تمام ترصنعتوں اورحِرفوں کے اصول ومبادی اول بھی انبیائے کرام علیہم السلام ہی ہوئے ہیں۔

چناں چہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ آدم علیہ السلام کی وہ تمام تر آسمانی تعلیمات جن کی تبلیغ وتعلیم کے لیے اُنہیں مبعوث کیاگیا تھا، معبود حقیقی کی ابتدائی معرفت اور اس روئے زمین پر انسانی زندگی کے ابتدائی لوازمات :غذا،لباس اور مسکن کے مہیاّ کرنے کے طریقوں کی تعلیم پر مشتمل تھیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام خیاطت (کپڑا سینے)کے معلم اول تھے،حضرت نوح علیہ السلام کشتی سازی اور جہاز سازی کے معلم اول ہوئے ہیں،حضرت داوٴد علیہ السلام آلات حرب میں سے زرہ سازی کے معلم اول اور حضرت سلیمان علیہ السلام فنونِ لطیفہ میں سے عمارت سازی اور ظروف سازی کے معلم اول ہوئے ہیں۔معدنیات میں سے خام لوہے سے فولاد تیار کرنے اور تانبہ کوسیال کرنے کی صنعت کے معلم اول داوٴدوسلیمان علیہما السلام ہی ہوئے ہیں، قرآن کریم کی نصوص اور صریح آیات اس پر شاہد ہیں۔

لیکن یہ تمام علوم ،جو انسانی عقل اور قوت اختراع کے ذریعہ پرَوان چڑھے اور دنیا میں پھیلے ،در حقیقت علوم نہیں، بلکہ فنونِ صنعت وحرفت ہیں ، جنہیں انسانی عقل، موجوداتِ عالم،خصوصاََ زمین اور اس کی اندرونی وبیرونی پیداوار ،یعنی معدنیات ونباتات وحیوانات ،پہاڑوں اور جنگلات کی طبعی پیداوارکے افعال وخواص اور منفعتوں ،مضر توں کے مسلسل مطالعہ اور ا س کی تحلیل وترکیب سے انسانی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے والی نو ایجادات واختراعات کو سالہا سال تک بروئے کار لاتی رہی ہے اور یہ نو بنو مصنوعات وجود میں آتی رہی ہیں۔

بہر حال قرآن کریم کی روشنی میں یہ تو مسلم ہے کہ حیات انسانی کے ابتدائی مراحل میں عقل انسانی کی راہ نمائی بھی وحی الٰہی کے ذریعہ ہوئی ہے،بلکہ مستدرک حاکم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت میں نسلاً بعد نسل جو صنعتیں اور حرفتیں قیامت تک وجود میں آنے والی تھیں ،جن کی تعداد اس روایت کے بمو جب ایک ہزار ہے ،وہ سب الله جل شانہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائی ہیں، آیت کریمہ:﴿وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْأَسْمآءَ کُلَّھَا﴾سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے۔فلسفہ تو الدوتناسل کی رو سے بھی آدم یعنی ابو البشرکی خلقت اور فطرت میں اُن تمام کمالات وفنون کے اجمالی نقوش موجود ہونے ضروری ہیں، جو اُن کی ذریت میں بطورِ توراثِ نسلِ انسانی کے مختلف ادوار میں وجود میںآ نے والے ہیں۔

اس جہان ِحدوث وفنا، یعنی دنیا کے بقاوار تقا کے لیے یہ علوم عقلیہ صناعیہ اور ضروریات ِ زندگی کی کفیل صنعتیں بے حد ضروری ہیں اور ہر دور میں حق تعالیٰ شانہ عقل وادراکِ انسانی کی تحقیقات وتجربات کے ذریعہ اپنی گونا گوں عنصری ،معدنی ،نباتاتی اور حیوانی مخلوق میں چُھپی ہوئی بے شمار صلاحیتیں منفعتیں اور مضرتیں ظاہر فرماتے اور منظر عام پر لاتے رہے ہیں، اس لیے کہ خالق ِکائنات نے حضرت انسان کوہی ان پر متصرف بنایا ہے اورا نہی ارضی وسماوی کائنات و مخلوقات سے اس کی زندگی وابستہ ہے ،ارشاد ہے:

﴿وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ﴾․ (الجاثیہ:13)
ترجمہ:۔”وہ جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے،سب تمہارے تصرف میں دے دیا ہے“۔

﴿خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعا﴾․(البقرہ:29)
ترجمہ:۔”جو کچھ زمین میں ہے ،سب تمہارے لیے ہی پیدا کیا ہے“۔

چناں چہ انسانی عقل اور قوتِ اختراع کے ذریعہ ”خَلَقَ لَکُمْ“ اور ”سَخَّرَ لَکُمْ“کی عملی تفسیر ہمیشہ سامنے آتی رہی ہے اور رہتی دنیا تک آتی رہے گی،نئی نئی”دریافتیں“ ہوتی رہیں گی اور نو بنو ایجادات ومصنو عات منظر عام پرآتی رہیں گی ،نہ کائنات میں الله تعالیٰ کے ودیعت فرمودہ افعال وخواص اور منفعتوں اور مضرتوں کی کوئی حد و انتہا ہے اور نہ ہی انسانی ایجاد و ا ختراع کی کوئی حد و نہایت ہے۔در حقیقت خالق کائنات کی ان نو بنو شئو ن الٰہیہ کے تحت جن کے متعلق ارشاد ہے:﴿ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَأْن﴾․(رحمن:29)ہر روز اس کی نئی شان اور نرالی شان ہے ہر دن اپنے ساتھ نئی نئی در یافتیں اور نو بنو ایجادات واختراعات لاتا ہے ۔اس طرح ایک طرف اس کا رخانہٴ قدرت کی لا محدود وسعت ،ہمہ گیری اور احاطہ کا اور دوسری طرف روز افزوں دولت وثروت اور نو بنو لوازمِ معیشت کا ظہور ہوتا ہے اورحق جل وعلا کے کمال علم وقدرت اور محیر العقول کائناتی نظام کی حکمتیں اور اسرار ظاہر ہوتے رہتے ہیں،تاکہ یہ حضرت انسان ان آیات بینات (روشن دلائل)کو دیکھ کر زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں طریق پر اعتراف کرتے رہیں:

﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً﴾․ (آل عمران:191)
ترجمہ:”اے پروردگار!بے شک تو نے اس (کارخانہٴ قدرت)کو (یو نہی) بے کار، بے فائدہ نہیں پیدا کیا ہے“۔

ظاہر ہے کہ دنیا کی اِن گونا گوں ارضی وسماوی موجو دات اور ان کے حقائق و عجائبات، اسرار وحکم کے دریافت و اکتشافات کا کفیل عقل وادراکِ انسانی ہی کو بنایاگیا ہے،اسی میں وہ شب وروز مصروف ومنہمک ہے اور قیامت تک رہے گی،اسی لیے کسی رِند مشرب کا مقولہ ہے کہ:”خدا اور انسان اپنی تخلیق پیہم سے زندہ ہیں“۔بات ایک حد تک صحیح ہے ، لیکن انداز ِ بیان عظمت وجلال خداوندی کے منافی اور تعبیر گستاخانہ ہے۔

ان صناعی علوم کا انبیاء علیہم السلام کے فرضِ منصبی سے کوئی تعلق نہیں۔ نبوت کا فرض منصبی تو یہ ہے کہ ان حقائق الٰہیہ اور مرضیاتِ خداوندی کو وہ بیان کریں،جن کی معرفت سے عقل انسانی قاصر ہے،اسی لیے خاتم انبیاء ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ہے:”أنتم أعلم بأمور دنیاکم“۔”دنیاوی دھندوں کو تم ہی خوب جانتے ہو“۔

انبیاعلیہم السلام کا اصلی کام حق تعالیٰ کی ذات وصفات وکمالات کی معرفت ،عبادت ،وطاعت الٰہی کے طریقوں اور ﴿مَا فِیْ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ﴾سے انتقاع واستعمال کے سلسلہ میں مرضیاتِ الٰہیہ اور منشا خدا وندی سے آگاہ کرنا ،مبداو معاد کے احوال،مرنے کے بعد کی زندگی کے کوائف،حساب وکتابِ اعمال کی تفصیلات اور جزا وسزا ،جنت ودوزخ وغیرہ حقائق دینیہ کا بیان کرنا ہے ،یہ وہ علم ہے جس کو عقل انسانی قطعی ادراک نہیں کر سکتی۔

اگر اس نظام کا بقا وارتقا اُن دنیوی علوم وفنون اور وسائل وضروریات کی تکمیل پر موقوف ہے تو دنیا کا معنوی بقا، روحانی ارتقا انسان کی درندگی اور بہیمیت سے محفوظ ”انسانیت“ کی تعلیم و تربیت پر موقوف ہے ، اگر نفوس کی تعلیم وتربیت،قلوب کی اصلاح و تزکیہ اور اس﴿خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعا﴾․(البقرة:29)

یعنی ”جو کچھ زمین میں ہے،سب تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے “ سے انتفاع میں عقل انسانی کی صحیح راہ نمائی”علوم وحی “یعنی مذہب اور دین الٰہی کے ذریعہ نہ کی جائے اور عقل انسانی کو آزاد اور شتر بے مہار کی طرح بے لگام چھوڑدیا جائے تو یہ پورا کارخانہٴ قدرت اور سارا عالم خود اسی انسان کے ہاتھوں، جس کی فلاح وبہبود کے لیے یہ پیدا کیا گیا ہے،یکسر تباہ وبرباد ہوجائے اور روئے زمین فساد وبربریت،قتل وغارت اور درندگی کی آماج گاہ بن کر رہ جائے،جس کی نشان دہی آیت کریمہٴ ذیل میں کی گئی ہے:
﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْ النَّاسِ﴾(روم:41)
ترجمہ :”بحر وبر میں لوگوں کے کر توتوں کی وجہ سے ایک فساد برپا ہے“۔

اس لیے قانونِ قدرت کا تقاضا اور بقائے اصلح کے اصول کا فیصلہ یہی ہے کہ ہر دور میں اس سر زمیں پر انسانی دست رس سے بالا تر قانونِ الٰہی اور مذہب سماوی کا وجو د ضروری ہے،تاکہ انسان انسان رہیں ،حیوان اور درندے نہ بن جائیں۔

موجوداتِ عالم سے انتفاع اور ان کے استعمال پر مذہب ،یعنی احکام الٰہیہ کی یہ پابندی اس لیے بھی ضروری اور ناگزیر ہے کہ خالق کائنات نے جس طرح انسان کی ”عبدیت “یا کہیے عقل وخرد کی آزمائش اور اس کے اشرف المخلوقات ہونے کی اہلیت کو ظاہر کرنے کی غرض سے خود انسان کی خلقت میں نکوکاری وپرہیزگاری اور فسق وفجور اور بدکاری دونوں کے رجحانا ت فطری طور پر رکھ دیے،ارشاد ہے:
﴿فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا﴾․ (الشمس:8)
ترجمہ:۔”پس دل میں ڈال دیا اس کے اس کی بدکاری کو اور پرہیز گاری کو“ اورمتنبہ فرمادیا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا﴾ (الشمس:9،10)
ترجمہ:۔”بے شک جس نے اس نفس کو پاک وصاف کرلیا،اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو زندہ درگور کردیا،وہ خسارہ میں رہا“۔

اسی طرح انسان کے تصرف اور استعمال میں دی جانے والی تمام موجوداتِ عالم میں منفعت اور مضرت دونوں قسم کے خواص واثرات بھی رکھ دیے۔دنیا کی کوئی بھی چیز نہ اس طرح منفعت رساں ہے کہ اس میں مضرت کا شائبہ بالکل نہ ہو اور نہ ایسی مضرت رساں کہ اس میں منفعت کا کوئی شائبہ نہ ہو،حتی کہ سمّیات (زہریلی اشیا)میں بھی عظیم منافع موجود ہیں،پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ منفعت ومضرت کا کوئی یکساں ضابطہ نہیں،بلکہ ایک ہی چیز ایک وقت اور ایک حالت میں نافع،مفید اور حیات آفرین ہے اور وہی چیز دوسرے حالات میں سخت مضر اور ہلاکت خیز ہوتی ہے۔

طبائع اور امزجہ میں بھی اسی طرح کا فرق اور تفاوت رکھا کہ ایک ہی چیز ایک شخص کے لیے مضر اور مہلک ہے اور وہی چیز دوسرے شخص کے لیے مفید اور صحت بخش ہے اور اس متنوع اور متضاد افعال وخواص کی حامل موجودات پر متصرف بنادیا۔ اس نکوکاری اور بدکاری دونوں قسم کے متضاد رجحانات کی مالک مخلوق انسان کو پھر اچھی بری،مفید ومضر اشیا کے انتخاب کا اختیار صرف عقل وخرد کے ہاتھ میں نہیں دیا،بلکہ نفسانی اغراض وخواہشات کو اس انتخاب میں دراندازی کرنے کی پوری ”پاور“ (قدرت)دے دی۔نتیجہ یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر قدم پر عقل وخرد اور نفسانی اغراض وخواہشات میں زبردست کشمکش اور کھینچ تان برپا ہے اور یہ ظلوم وجہول مخلوق، یعنی حضرت انسان سر پکڑے حیران کھڑا ہے۔اسی ہوی وہوس اور عقل وخرد کی کشمکش کے مواقع کے لیے اللہ رب العالمین اپنی اس”حاملِ امانت مخلوق“حضرت انسان کی راہ نمائی فرماتے ہیں:
﴿عَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تُحِبُّواْ شَیْْئاً وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ﴾․(البقرة:216)
ترجمہ:۔”بہت ممکن ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نہ ہو اور وہی چیز تمہارے لیے بہتر ہواور ایسا بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور تمہارے لیے بری اور مضر ہو، اللہ ہی(حقیقت حال)جانتا ہے،تم نہیں جانتے“۔

یعنی زمامِ اختیار ”ہوی وہوس“کے ہاتھ میں ہرگز مت دینا اور ہمیشہ حکم خداوندی کے مطابق اچھے برے اور پسندونا پسند کافیصلہ کرنا،ورنہ تباہ ہوجاوٴگے۔اس لیے بھی موجودات عالم اور انسانی اختراع کردہ مصنوعات سے انتفاع اور ان کے استعمال کے بارے میں انسان کی راہ نمائی اور دست گیری کی شدید ضرورت ہے اور یہ کا م مذہب یعنی انسانی دست رس سے بالاتر آسمانی تعلیمات اور احکام الٰہیہ ہی انجام دے سکتے ہیں اور اس نظام عالم کے بقاوتحفظ کے لیے علوم دینیہ کا موجود ومحفوظ رہنا از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔

ذرا سوچیے!مذہب اگر انسان پر روز افزوں مادی ترقی کے دروازے بند کرے تو اس کے معنی تویہ ہوئے کہ لامحدود قدرتِ خداوندی کے نوبنو کرشموں اور عجائبات اسرار الٰہی کے اس ”مظہر“یعنی کارخانہٴ قدرت کی تخلیق عبث ہے اور یہ گردشِ لیل ونہار اور وقت کی رفتار بے معنی اور انسانی فطرت میں ایجاد واختراع کا جوہر ودیعت فرمانا عبث ہے،حالاں کہ خالق کائنات کا ازلی ابدی کلام”قرآن عظیم “اسی آسمان وزمین کی متنوع اور گونا گوں مخلوق اور اسی روز وشب کی گردش، یعنی وقت کی رفتار کو اربابِ بصیرت کے لیے خالق کائنات کی آیات (عجائبات اور کرشموں )کا مظہر قرار دے رہا ہے، ارشادہے:
﴿إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ لآیَاتٍ لِّأُوْلِیْ الألْبَابِ﴾․(اٰل عمران:109)
ترجمہ :۔”بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کی گردش میں ارباب عقل وخرد کے لیے بے شمار(قدرت کی)نشانیاں (رکھی ہوئی)ہیں“۔

﴿ربَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾․(اٰل عمران:191)
ترجمہ:۔”اے ہمارے رب!بے شک اس (آسمان وزمین)کو تو نے بے کار اور بے مقصد نہیں پیدا کیا تُو تو(بیکار وعبث کام کرنے سے)پاک ومبرا ہے،پس تو ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا(اور اس جہل وکج فہمی اورجحود وعناد سے محفوظ رکھ)“۔

اس لیے مذہب اور دینی تعلیمات پر اس سے بڑھ کر کوئی بہتان نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ روزافزوں ترقیات کے دروازے اپنے ماننے والوں پر بند کرتا ہے یا علوم دینیہ کی اشاعت دنیوی ترقیات کے منافی ہے اور ان علوم کی درس گاہوں کا وجود ملکی ترقی واستحکام کی راہ میں حائل ہے۔

بلکہ مذہب تو ان تمام انسانی ایجادات واختراعات اور مصنوعات پر(جو اب تک ہوئی ہیں یا آئندہ ہوتی رہیں گی)کنٹرول کرتا ہے۔جس کی بقاوارتقااور استحکام کے لیے شدید ضرورت ہے کہ ان کا استعمال صحیح اور برمحل ہو،خالق کائنات کے منشا اور مرضی کے خلاف اور منافی نہ ہو،انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کیا جائے، انسانیت کو ظلم وعدوان کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے لیے ان سے کام ہرگز نہ لیا جائے،روئے زمین پر امن وسلامتی قائم کرنے اور معاشی،اقتصادی اور سیاسی فتنہ و فساد،استعماری لوٹ کھسوٹ کو مٹانے کے لیے ان سے کام لیا جائے،کمزور قوموں کو مغلوب ومقہور کرکے ان کے ملکوں کے ذخائرِثروت ورفاہیت پر ڈاکہ ڈالنے اور استحصال بالجبر کرنے کی غرض سے ہرگز ہرگز ان سے کام نہ لیاجائے۔

اسلام تلوار بنانے پر پابندی نہیں لگاتا،ہاں! اس کے استعمال پر ضرور پابندی عائد کرتا ہے کہ صحیح طریقے پر اس کو استعمال کیا جائے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ تلوار ایک ظالم وبے رحم قاتل سے قصاص لینے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے اور ایک بے قصور اور بے گناہ انسان کو اپنی شیطانی اغراض وخواہشات کی راہ سے ہٹانے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

اسی طرح اسلام عہد حاضر کے حربی اسلحہ،ٹینک،طیارہ شکن توپیں،بمبار طیارے،میزائل ،ریڈار اور طرح طرح کے ہلاکت خیز بم بنانے سے منع نہیں کرتا،ہاں! ان کے استعمال پر پابندی ضرور لگاتا ہے کہ یہ تمام سامانِ حرب اور آلاتِ جنگ صرف ملک وملت کے دفاع اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ظلم وعدوان کے مقابلہ کرنے اور دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں۔استعماری اغراض ،کمزور قوموں اور ترقی پذیر ملکوں کو اس حربی طاقت کے دباوٴاور زور سے مغلوب ومرعوب کرکے ان ملکوں کی پیداوار،دولت وثروت پر ڈاکے ڈالنے کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے کہ یہ عمرانی عدل وانصاف اور مساوات منافی اور روئے زمین پر عالم گیر فتنہ وفساد برپا کرنے کا موجب ہے،جیسا کہ مذکورہ سابق آیتِ کریمہ میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے۔

غرض اسلام مقصد کی تعیین،نیت کی تصحیح،نفوس کے تزکیہ کی اہم ترین ضرورت کو پورا کرتااور مقدس ترین فرض کو انجام دیتا ہے،تاکہ عمل خود بخود صحیح ہوجائے۔حاصل یہ ہے کہ نظام عالم کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں قسم کے علوم،عقلی اور نظری علوم،دینی اور آسمانی علوم کا بقا اور تحفظ ضروری اور ناگزیر ہے۔عقلی اور صناعی علوم وفنون کے بقا، تحفظ اور ارتقاکی کفیل انسان کی نوبنوحوائج وضروریات ہیں،وہ خودانسان کو معاشی، اقتصادی ،سیاسی اور حربی امور میں وقت اور زمانہ کے تقاضوں کے تحت نوبنو فنون وصنائع،ایجادات واختراعات اور مصنوعات کو عدم سے وجود میں لانے پر مجبور کرتی رہیں گی۔

علوم دینیہ الٰہیہ کو دنیا میں لانے اور محفوظ رکھنے والے انبیائے کرام علیہم السلام ہیں اور ان کے بعد ان انبیاء علیہم السلام کے ورثا،یعنی حاملین علوم انبیاء ”علمائے حق“ ہیں ، اس لیے کہ انبیا علیہم السلام دینار ودرہم،مال ومتاع،جائداد وجاگیر ترکہ میں نہیں چھوڑتے، بلکہ علوم نبوت کی وراثت قرناً بعد قرن منتقل ہوتی چلی آتی ہے اور نظام عالم کے توازن کو برقرار رکھتی ہے،خاص کر خاتم النبیین سید الاولین والآخرین ﷺ کی امت کے علما اور حاملین علوم کتاب وسنت کہ ان کے متعلق تو سرور کائنات ﷺ کا ارشاد ہے: ”العلماء ورثة الأنبیاء“اس حدیث کے پیش نظر علمائے امت کا کام وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام کا کام ہے۔

اس بحث وتنقیح سے یہ بات تو بالکل ہی صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ علوم دنیا اور علوم آخرت میں کوئی نزاع یا تصادم قطعاًنہیں ہے،ہاں! دونوں کے مقاصد اور دائرہٴ کار جدا جدا ہیں ،اسی لیے یہ بالکل حقیقت ہے کہ اگر ان انسانی علوم وصنائع کو خالق کائنات کی مرضی اور منشا کی روشنی میں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیا جائے تو یہ ساری دین بن جائے اور پھر دین اور دنیا کی تفریق جومحض ایک شیطانی مفروضہ اور منصوبہ ہے،بالکل ہی مٹ جائے۔بالکل اسی طرح جیسا کہ اگر انہی علوم انبیاکو حصول دنیا اور جلب خواہشات واغراض نفسانی کا وسیلہ بنالیا جائے تو نہ صرف یہ کہ پورا دین دنیا بن جاتا ہے،بلکہ خالق کائنات کی امانت میں خیانت اور بہت بڑا جرم ہوجاتا ہے۔اس لیے کہ اگر دنیا کا حصول دنیا کے وسائل کے ذریعہ ہوتو عین مصلحت اور عقل کاتقاضا ہے،اس میں کوئی قباحت نہیں،لیکن اگر دین کو صرف حصول دنیا کا وسیلہ بنالیا جائے تو یہ”وضع الشیء فی غیر محلہ“چیز کا بے محل استعمال ہے اور بہت بڑا ظلم اور انتہائی قبیح جرم ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ علوم نبوت کا اصلی مقصد آخرت کے ثمرات وبرکات تو ہیں ہی،لیکن آخرت سے پہلے اسی دنیاوی زندگی میں انفرادی اور اجتماعی حیات طیبہ اور پا کیزہ ماحول کی تشکیل اور صالح، خدا شناس، خدا پرست معاشرے کی تخلیق بھی علوم انبیاکا اہم فریضہ ہے،جس کے بارے میں وہ دنیا وآخرت دونوں میں مسئول ہیں۔خداشناسی ،خداپرستی ،خدمت خلق،امن وامان کی ضمانت،انسانیت کی فلاح وبہبود وغیر ہ انسانی کمالات وفضائل اور وسائلِ سعادت ایک قابل رشک معاشرے کے وہ خدوخال ہیں،جو انسان کو صحیح معنی میں مسجود ملائک اور اشرف المخلوقات بنا دیتے ہیں اور علوم آخرت کے وہ ثمر پیش رس ہیں،جو اس دنیا کو بھی جنت بنا دیتے ہیں۔

یہ تو علوم الٰہیہ دینیہ کی برکات ہیں،اس کے برعکس نرے عقلی اور فنی علوم وفنون کی ہلاکت آفرینی اور ایک ایسے لادینی معاشرے کا جہنمی چہرہ اور انسانیت کے لیے نہ صرف باعث ننگ وعار،بلکہ انتہائی بھیانک خدوخال بھی دیکھیے جو علوم الٰہیہ دینیہ سے باغی اور خدا ورسول کی تعلیمات سے نہ صرف محروم،بلکہ ان کی بیخ کنی کے درپے ہے اور صرف نفسانی اغراض وخواہشات کے ہاتھوں میں اس کی با گ ڈور ہے،حالاں کہ (سائنسی)علوم وفنون اور اختراعات وایجادات کے اس معراج کمال پر پہنچا ہوا ہے کہ کائنات ارضی کو بزعم خود مسخر کرلینے کے بعد کائنات سماوی کی تسخیر کی تگ ودو میں مصروف ومنہمک ہے،ان فنی اور سائنسی علوم وفنون کی پیداوار کیا ہے؟اور ایسے لادینی معاشرہ کے خدوخال کیاہیں؟فرعونیت اور قہاریت ہے،بے پناہ ظلم وعدوان ہے ، عالم گیراقتدار وتسلط کا بھوت ہے،درندے بھی جس شرمائیں وہ بے رحمی اور قساوت ہے، جانوربھی جس سے کترائیں وہ خود غرضی اور نفس پرستی ہے،کمزور کشی اور استحصال بالجبر ہے،بے دریغ خوں ریزی اور جہاں سوزی ہے،عریاں درندگی اوربہیمیت ہے،یہ وہ انسانیت سوز نحوستیں اور لعنتیں ہیں جنہوں نے قیامت سے پہلے ہی اس روئے زمین کو جہنم بنارکھا ہے۔

ان فراعنہٴ وقت امریکہ،روس اور برطانیہ وغیرہ طاغوتی طاقتوں کے سیاہ کارنامے ،ننگِ انسانیت عزائم اور مادی طاقت کے مظاہرے آپ روزانہ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔دیکھا آپ نے ان نرے مادی علوم وفنون کے ارتقااور سائنسی اکتشافات وایجادات کی فراوانی نے اس وقت دنیا کو کس خطرناک دورا ہے بلکہ جہنم کے کنارے لاکر کھڑا کردیا ہے؟۔آپ کو معلوم ہے کہ روس میں امریکہ کو تباہ کرنے اور جہنم بنادینے کے لیے غیر معمولی پاور کے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اور میزائل راکٹوں کے اندر فٹ جہاں سوزی کے لیے تیاررکھے ہوئے ہیں اور امریکہ میں روس کو جہنم بنا دینے کے لیے ناقابل قیاس پاور والے آتش بار بم تیار رکھے ہوئے ہیں ، صرف بٹن دبانے کی دیر ہے،آن کی آن میں امریکہ روس کو ہیروشیما اور روس امریکہ کو ہیروشیما بناسکتا ہے اور ان دونوں براعظموں میں برسنے والے بموں کے ذرات اورتاب کاری کے اثرات یورپ اور ایشیا کو پھونک ڈالنے کے لیے کافی ہیں،یہ ہے علوم آخرت کی گرفت سے آزاد محض عقلی اور سائنسی علوم وفنون اور سائنسی ارتقا کا کارنامہ۔

ہاں!اگر علومِ آخرت کے کنٹرول میں رہ کر اور ان کی سرپرستی ونگرانی میں یہ فنی اور سائنسی علوم وفنون اور ایجادات واختراعات پروان چڑھیں اور ترقی کریں تو یقینا یہ سائنسی علوم وفنون فلاح انسانیت اور خدمت خلق ومخلوق کے بہترین وسائل بن سکتے ہیں،اس لیے بھی علوم دینیہ کی درس گاہوں اور حاملین علوم نبوت یعنی علمائے دین کا بابرکت وجود اس روئے زمین خصوصاً مملکت پاکستان کے لیے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔



علم کے ذریعے آدمی ایمان ویقین کی دنیا آباد کرتا ہے ،بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، بروں کو اچھا بناتا ہے، دشمن کو دوست بناتاہے ، بے گانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن وامان کی فضا پیدا کرتا ہے۔

علم کی فضیلت وعظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ ودل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم وتربیت، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزلاینفک ہے، کلام پاک کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم جل شانہ نے رحمت عالم ﷺ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا، وہ اِقْرَأ ہے، یعنی پڑھ۔ اور قرآن پاک کی چھ ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل فرمائی گئیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، ارشاد ہے:

ترجمہ: پڑھ اور جان کہ تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا۔(سورة القلم آیت 4،5)

گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس چیز کی طرف سرکار دوعالم ﷺ کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی ،وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم وتربیت کے جوہر وزیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔حضور ﷺ کو جب نبوت کے منصب عظیم سے نوازا گیا ،اس وقت جزیرة العرب کی کیا حالت تھی؟ قتل وغارت گری، چوری، ڈکیتی ،قتل اولاد، زنا،بت پرستی۔ کون سی ایسی برائی تھی جو ان میں پائی نہ جاتی ہو۔ بعضے وقت بڑے فخریہ انداز میں اسے انجام دیاجاتا تھا۔ اللہ کے رسول نے ان کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی اور زندگی گزارنے کے ایسے اصول بتائے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی حالت یکسر بدل گئی اور تہذیبی قدروں سے آشنا ہوگئے۔ جہاں اور جدھر دیکھیے لوگ تعلیم وتعلم سے جڑ گئے اور قرآن وحدیث کی افہام وتفہیم میں مشغول ہوگئے۔

ترجمہ :اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کردے گا جو ایمان لائے اور جنھوں نے علم حاصل کیا۔(سورة المجادلہ آیت 11)

دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:”(اے نبی ﷺ!)کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں؟نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (سورة الزمر، آیت 9، سورةالرعد،آیت 16)

ایک اورآیت میں تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے،چناں چہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:”کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتاہے اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) ؟یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا؟“۔(سورةالفاطر، آیت 19،20)

اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔

علم کی فضیلت اوراس کوحاصل کرنے کی ترغیب کے حوالے سے کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں ،جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:
علم والوں کو دوسروں کے مقابلے میں ایسی ہی فضیلت حاصل ہے ،جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر۔ یقینا اللہ عزوجل ،اس کے فرشتے اور آسمان وزمین والے، حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔(ریاض الصالحین)

ایک دوسری حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں ،وہ بیان کرتے ہیں:
ایک دن رسول اللہ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور مسجد (نبوی) میں داخل ہوے،وہاں دوحلقے لگے ہوئے تھے،ایک حلقہ قرآن کی تلاوت کررہا تھا اوراللہ سے دعا کررہا تھا،دوسرا تعلیم وتعلم کا کام سرانجام دے رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ حلقہ قرآن پڑھ رہا ہے اور اللہ سے دعا کررہاہے۔ اللہ چاہے تو اس کی دعا قبول فرمائے ، یا نہ فرمائے۔دوسرا حلقہ تعلیم وتعلم میں مشغول ہے (یہ زیادہ بہتر ہے) اور میں تو معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ پھر یہیں بیٹھ گئے۔(مشکوٰة شریف)

اہل علم کا صرف یہی مقام ومرتبہ نہیں ہے کہ انہیں دنیا کی تمام چیزوں پر فضیلت دی گئی ہے اور اس کام میں وہ جب تک مصروف ہیں ، اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق ان کے لیے دعا کرتی رہتی ہے،بلکہ ان کا مقام ومرتبہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں انبیا کا وارث اور جانشین قرار دیا ہے :

جو کوئی حصول علم کی غرض سے راستہ طے کرے،اللہ تعالیٰ اس کے سبب اسے جنت کی ایک راہ چلاتا ہے۔ فرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں اور یقینا عالم کے لیے آسمان اور زمین کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں،یہاں تک کہ وہ مچھلیاں بھی جو پانی میں ہیں۔ عابد پر عالم کو ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو تمام تاروں پر۔بلاشبہ علما ہی پیغمبروں کے وارث ہیں۔پیغمبروں نے ترکہ میں نہ دینار چھوڑا ہے اور نہ درہم۔ انہوں نے تو صرف علم کو اپنے ترکہ میں چھوڑا۔ پس جس کسی نے علم حاصل کیا اس نے ہی حصہ کامل پایا۔(منتخب احادیث)

طلب کرنا علم کا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (مشکوٰة شریف)


حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایاکہ علم کاسیکھنا ہر مومن پر فرض ہے اس سے مراد روزہ، نماز ، حلال وحرام اور حدود و احکام کی معرفت حاصل کرنا ہے۔حسن بن الربیع فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھاکہ ارشاد نبوی صلى الله عليه وسلم ”علم کا سیکھناہر مسلمان پر فرض ہے“ کا مطلب کیاہے؟تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے جواب دیا کہ اس سے وہ دنیوی علوم مراد نہیں جو تم حاصل کرتے ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی دینی معاملہ میں مبتلاہو تو اس کے بارے میں پہلے جان کار لوگوں سے علم حاصل کرلے۔(آداب المتعلمین)

حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول صلى الله عليه وسلم نے کہ جو شخص علم کی طلب میں نکلا وہ گویا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔(ریاض الصالحین،مشکوٰة شریف)

ابوامامہ رضی الله تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایک عالم کی برتری ایک عبادت گذار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اوراس کے فرشتے اور زمین وآسمان کی ہر شے، حتیٰ کہ بلوں کی چیونٹیاں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی علم سکھانے والوں کے لیے دعائے خیر کررہی ہیں۔(ایضاً)

پیغمبر اسلام صلى الله عليه وسلمنے کیسے بلیغ انداز میں فرمایا ہے: حکمت کو ایک گم شدہ لال سمجھو، جہاں پاوٴ اپنا اسے مال سمجھو۔ (بخاری،مسلم،ترمذی)

آپ ﷺ نے فرمایا:بلاشبہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(بحوالہ:الرسول المعلم ﷺ)

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو زندہ کرے گا اور اس میں علما کو ممتاز کرے گا اور فرمائے گا اے پڑھے لکھے لوگو!میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا کہ میں تمہیں عذاب دوں ،جاوٴ! تم سب کی مغفرت کردی۔(بحوالہ:دینی علوم کی عظمت اور فضیلت، اسلامی تعلیمات کی اخلاقی اور تہذیبی قدریں،از: مولانا حافظ محمد صدیق المیمنی)

آں حضرت صلى الله عليه وسلم نے جس انداز میں دین اسلام کی تبلیغ فرمائی وہ نہ صرف یہ کہ انتہائی کامیاب و موٴثر ہے ۔بلکہ اس میں تعلیم و تربیت کے ایسے اوصاف بھی نمایاں ہیں جو متعلمین و مربیین دونوں کے لیے روشن مثال کی حیثیت رکھتے ہیں ۔مسجد نبوی صلى الله عليه وسلم کی پہلی درس گاہ اور اصحاب صفہ پر مشتمل طالب علموں کی پہلی جماعت کے عمل نے جلدہی اتنی وسعت اختیار کرلی جس کی مثال دینے سے دنیا قاصر ہے ۔آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے خود تعلیم و تربیت دی۔ پھر دوسروں کو تعلیم و تربیت دینے کے لیے کامل افراد کا انتخاب فرما دیا،چناں چہ تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات کے بعد بھی جاری و ساری رہا۔ آپ ﷺ کے منتخب کردہ ، ان تربیت یافتہ معلمین نے درس و تدریس میں جس مہارت کا ثبوت دیا وہ آپ صلى الله عليه وسلم کی ہمہ گیر تربیت ہی کا نتیجہ ہوسکتا تھا، جس کے اثرات تا دیر محسوس کیے جاتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ علم وحکمت اور صنعت وحرفت کے وہ ذخائر، جن کے مالک آج اہل یورپ بنے بیٹھے ہیں، ان کے حقیقی وارث تو ہم لوگ ہیں، لیکن اپنی غفلت وجہالت اور اضمحلال وتعطل کے سبب ہم اپنی خصوصیات کے ساتھ اپنے تمام حقوق بھی کھوبیٹھے۔
        باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
        پھر پسر وارثِ میراث پدر کیوں کر ہو

ان تفصیلات سے واضح ہواکہ دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کوعلم حاصل کرنے سے نہیں روکا،بلکہ اس کی فضیلتیں بیان کرکے ہمیں اس کوحاصل کرنے کی ترغیب دی ہے،البتہ اسلام یہ حکم ضروردیتا ہے کہ اپنے آپ کو ضرر رساں نہیں، بلکہ نفع بخش بنا وٴ۔ایک انسان کے قول وعمل سے دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ اچھی اور بھلی باتوں کا تمیز وہی انسان کرسکتا ہے جس کے اندر شعور وفراست ہو اور یہ خوبی بغیر علم کے پیدا نہیں ہوسکتی۔ عقل و شعور تو جاہل کے پا س بھی ہے۔مگر جو فراست ایک پڑھے لکھے کو حاصل ہوگی وہ جاہل کو ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی۔اس کے دن رات کے عمل میں ،اس کی گفتگو میں ،اس کے معاملات میں ، اس کے فیصلہ لینے میں ایسی بات کا صادر ہونا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ جائے کوئی بعید نہیں ہے۔ اگر اسے اس کا ادراک ہوجائے تو وہ جاہل ہی کیوں رہے گا؟ اللہ کے رسول کی حدیث سے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:

جو علم نفع بخش نہ ہو اس کی مثال اس خزانے جیسی ہے جس میں سے خداکی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا جائے۔نیز آپ انے یہ بھی فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی وہ ہے جو سب سے زیادہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والاہے۔۔(بحوالہ:منبہات)

علم نافع اور رزق وسیع کے لیے اللہ کے حضور یہ دعا بھی کرتے تھے:”اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور پاک رزق کی درخواست کرتا ہوں“۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام عالم بے عمل کے متعلق فرماتے ہیں :عالم بے عمل کی مثال ایسی ہے جیسے اندھے نے چراغ اٹھایا ہو کہ لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور وہ خود محروم رہتاہے۔حضرت عثمان غنی  فرماتے ہیں کہ علم بغیر عمل کے نفع دیتاہے اور عمل بغیرعلم کے فائدہ نہیں بخشتا۔حضرت عبد اللہ بن عباس  کا مقولہ ہے کہ اگر اہل علم اپنے علم کی قدر کرتے اور اپنا عمل اس کے مطابق رکھتے تو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور صالحین اُن سے محبت کرتے اور تمام مخلوق پر اُن کا رعب ہوتا ۔ لیکن انہوں نے اپنے علم کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اُن سے ناراض ہوگیا اور وہ مخلوق میں بھی بے وقعت ہوگئے۔حضرت عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں: علم کے لیے پہلے حسن نیت، پھر فہم، پھر عمل، پھر حفظ اور اس کے بعد اس کی اشاعت اور ترویج کی ضرورت ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانی  فرماتے ہیں:دین کی اصل عقل ،عقل کی اصل علم اور علم کی اصل صبر ہے۔(بحوالہ:منبہات)

اسلام یا قرآن ہم کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتا نہیں، بلکہ تعلیم کو ہمارے لیے فرض قرار دیتا ہے، وہ تعلیم کے ذریعے ہم کو صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجہ پر پہنچانا چاہتا ہے، وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کو حقیقی علم ثابت کرتا ہے اور اس کو بنی نوع انسان کی حقیقی صلاح وفلاح اور کام یابی وبہبودی کا ضامن بتاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ قرآن حقیقی علم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علم حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے اورہم خواہ کوئی بھی علم حاصل کریں ،اس میں اس بات کومدنظررکھنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے،حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے امتی اوراس دین ہدایت کے حامل ہیں جس میں زندگی کے ہرشعبے سے متعلق کامل ومکمل احکامات موجودہیں۔اگریہ بات ہمارے پیش نظررہی توہم کسی موڑ پرنفس وشیطان کے بہکاوے کا شکار نہیں ہوں گے۔ان شاء اللہ !


دانش اور دانائی کی بہت ساری قسمیں ہیں ریاضی ، طبیعیات ، نباتیات ، حیوانیات ، کیمیا ، فلکیات ، ارضیات، نفسیات ، طب وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سارے وہ فنون ہیں جن کیحصول میں اپنی زندگیاں صرف کرنے والوں کو دنیا دانا اور دانشور کے لفظ سے یاد کرتی ہے ۔ 

اوپر ذکر کئے گئے تمام فنون دنیوی کہلاتے ہیں اورانسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے مدون کیے گئے ہیں ، قابل قدر ہیں وہ لوگ جنھوں نے بالقصد انسانیت کی خدمت کے لیے ان کو سیکھا اور آگے بڑھایا۔ ان کے بالمقابل ایک علم دینی اور شرعی ہے ، جس کا مدار اور محور اخروی راحت وسعادت ہے ، تخلیق انسان کا مقصد اسی علم میں پنہاں ہے ، کیوں کہ خالق کائنات نے بنی آدم کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:﴿وَمَاخَلَقْتُ الجِنَّ والإنْسَ إلا لِیَعْبُدُوْن﴾․(سورة الذاریات:56)۔ میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیاہے۔ عبادت نام ہے ہراس قول و عمل کا جس سے اللہ راضی ہوجائے ۔ اب اس قول و عمل کی صحیح طور پر ادائیگی اس لیے ضروری ہے، تاکہ عنداللہ مقبول ہوسکے ، اس کے لیے ہمیں شارع کی طرف سے دیے گئے احکام کا جاننا ضروری ہے، جواحکام امر و نہی یعنی کرنے اور نہ کرنے پر مشتمل ہیں جن کا تفصیلی علم انبیاء علیہم السلام یا ان کے وارثین کو ہوتا ہے۔ 

اب جو لوگ اس علم کو سیکھتے اور سکھاتے ہیں، اس کے حصول میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صرف کرتے ہیں انہیں ہم عالم دین یا علمائے اسلام کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں اور یہی لو گ ہماری گفتگو کا موضوع ہیں۔ ختم نبوت کے بعد اللہ کے احکام کو کھول کھول کر بیان کرنے کی ذمہ داری جن کندھوں پر آ پڑی ہے و ہ یہی علماء ہیں، جن کا مشغلہ قرآن و حدیث ، فقہ وتفسیراور امت کو درپیش مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرنا ہے۔

قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے ، اس لیے اللہ کو پہچاننے کے لیے اس سے بہترین ذریعہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ،مختلف انداز میں اور مختلف نشانیاں بیان کر کے قرآن اللہ کی ذات و صفات اور قدرت کاملہ کا تعارف کراتا ہے ، لہٰذا اس کتاب کا جتنا زیادہ مطالعہ کیاجائے اتنی ہی اللہ کی معرفت حاصل ہوگی اور اللہ کی جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوگی اتنا ہی بندہ اللہ سے ڈرے گا۔ اس کتاب کا پڑھنا اور پڑھاناعلمائے کرام کا خاص مشغلہ ہے\ جس کی وجہ سے یہ اللہ کے بندوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں ، خود اللہ تعالیٰ اس کی گواہی دیتا ہے: ﴿إنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ العُلَمَاءُ ﴾(سورة الفاطر: 28) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ نے کئی مقامات پر ان کو تحفہٴ قدرو منزلت سے نوازا ہے، بنی آدم میں ایک اعلیٰ مقام عطا فرمایا ہے ، حتیٰ کہ اللہ نے جب اپنی شان وحدانیت( کلمہ توحید) کے لیے گواہ بنانا چاہا تو جہاں گواہی کے لیے اپنی ذات کا انتخاب فرمایا وہیں فرشتوں اور بنی نوع انسان میں سے صرف علماء کو گواہی کے لیے منتخب کیا، جویقیناً انتہائی شرف و فضل کی بات ہے ﴿شَہِدَ اللّٰہُ أَنَّہُ لا إلٰہَ إلاہُوَ وَالْمَلٰئِکَةُ وَأُولُوا العِلْمِ قَائِماً بِالقِسْطِ، لاإلٰہَ إلا ھُوَالعَزِیْزُ الْحَکِیْم﴾ (سورةآل عمران:18) اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ،یہی شہادت فرشتوں اور سب اہل علم نے دی ہے ،وہ انصاف پہ قائم ہے ، اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی اللہ نہیں ہے۔ 

اللہ نے عالم اور غیر عالم کے درمیان برابری کو یکسر مسترد کردیاہے ، سورة الزمر آیت ۹ میں اللہ ارشاد فرماتاہے: ﴿قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الذِینَ یَعْلَمُوْنَ وَالذِیْنَ لایَعْلَمُونَ، إنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُولُوْا الألْبَاب﴾اے نبی! کہہ دیجیے کہ کیا جوعلم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے دونوں برابر ہیں؟ بلا شک عقل وفہم والے ہی نصیحت پکڑتے ہیں ،یعنی جن لوگوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہے اور جو شرعی احکام سے اچھی طرح واقف ہیں وہ اور جن کو ان سب چیزوں کا علم نہیں دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہوسکتے۔ ایک جگہ فرماتاہے کہ علماء ہی اصحاب عقل ودانش ہیں اور جو مثالیں قرآن کریم میں بیان کی جاتی ہیں، ان کو یہی لوگ سمجھتے ہیں۔ دیکھیے سورة العنکبوت آیت نمبر 43﴿وَتِلْکَ الأمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا إلا العَالِمُون﴾ یہ مثالیں ہیں جسے ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جس کو صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

علم والوں کا علم جیسے جیسے ترقی کرتاہے خشیت الٰہی ویسے ویسے بڑھتی جاتی ہے ، غیر اللہ کا خوف جاتا رہتا ہے ، اللہ سے قربت و محبت میں اضافہ ہوتا ہے ، فانی دنیا سے لگاوٴ کم ہوجاتا ہے ، اخروی شوق دنیوی خواہشات پہ غالب آتا ہے ، نتیجتاً ان کے ایمان میں جلا پیدا ہوتاہے، جو کثرت ِعبادت وریاضت کا سبب بنتا ہے، جس کی وجہ سے اللہ ان کے درجات بلند فرماتا ہے ، دیکھیے سورة المجادلة آیت 11 ﴿یَرْفَعِ اللّٰہُ الذِینَ آمَنُوا مِنْکُم وَالذِینَ أُوتُوا العِلْمَ دَرَجَات﴾ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور جن کو علم بخشا گیا اللہ ان کو بلنددرجے عطا فرمائے گا۔

ان علمائے کرام کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے دین اسلام کو آپ ﷺ کے عہد سے سینہ بسینہ محفوظ کرکے ہم تک پہنچایا، جان ومال تک کی پرواہ نہیں کی ، لذتِ عیش کو خیرباد کہا ، راتوں کو بیداری میں گذارا ، سفر کی مشقتوں کو برداشت کیا، تاکہ خاتم الرسل محمد مصطفی ﷺ کی بات صحیح سالم ہم تک پہنچ سکے ۔ آج بھی علمائے کرام اسی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ دین اسلام کا جو درخت آپ ﷺ چھو ڑ کر گئے ہیں وہ ترو تازہ باقی رہے۔ نبی اکرم ﷺ ایسے لوگوں کے لیے دعائیں فرما گئے ہیں، چناں چہ فرمایا: ”نَضَّرَاللّٰہُ اِمْرء اً سَمِعَ مِنَّا حَدِیثاً فَحَفِظَہ حَتی یُبَلِّغَہ غَیْرَہ“ (سنن ترمذی) ا للہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی بات سنی اور محفوظ کرلی، پھر اس کو دوسروں تک پہنچادیا۔

علمائے کرام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں ، حق بات کہنے میں تأمل سے کام نہیں لیتے ، شرعی مسائل کی وضاحت میں کسی ملامت کو خاطر میں نہیں لاتے ، قرآنی آیات اور اقوال رسول ﷺ کو باطل کی ملمع سازی ، جاہل کی بیجا تاویل اورغلو پسند حضرات کی تحریف سے بچاتے ہیں ، ان کی ان حرکتوں کو بلا خوف وخطر لوگوں کے سامنے لاکر ان کے ناپاک عزائم کا قلع قمع کرتے ہیں۔

ان کی صفات میں تواضع ، انکساری ، عوام الناس سے محبت اور ان کی دنیوی و اخروی خیرخواہی ہے ، عوام الناس کو خیر کی طرف بار بار دعوت اور لوگوں کی طرف سے اس سلسلے میں بیجا اور انتہائی غیر مناسب تنقید ان کے حلیم وبردبارہونے کی بین نشانی ہے ، یہ لوگ اللہ کے ان بندوں میں سے ہیں جو زمین پر انتہائی نرمی سے چلتے ہیں ، علم نہ رکھنے والوں سے الجھتے نہیں ہیں ،رات قیام و سجود میں گذارتے اور دن درس تدریس میں صرف کرتے ہیں ، فضول خرچی اور بخل دونوں سے الگ ہوکر درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں ، ناحق کسی کا قتل نہیں کرتے ہیں ، انہیں صرف اخروی غم لاحق ہوتاہے ، جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے ہیں، اللہ نے ان کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا تو انہیں علماء و فقہا بنا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہ خَیراً یُفَقِّہْہُ فِی الدِّینِ“․ اللہ جس کے ساتھ خیر کامعاملہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب سے بہترین گفتگو وہ ہوتی ہے جو دین ودعوت پر مبنی ہو ۔ علمائے کرام کی پوری زندگی دین ودعوت کے ارد گرد گھومتی ہے ، امامت وخطابت،دعوت و تبلیغ ، تعلیم و تدریس ، پندو نصیحت ، وعظ و ترغیب سب کا مقصد اللہ کے بندوں کو اللہ سے قریب کرنا ہے ، لہٰذا ان کی بات سب سے قیمتی اور عنداللہ محبوب ہوتی ہے ، سورة فصلت آیت 33 میں اللہ فرماتاہے: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَولاً مِمَّنْ دَعَا إلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إنَّنِی مِنَ المُسْلِمِیْن﴾․ اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔



علم کی فرضیت
خدا کی قسم علم اسی طرح فرض ہے، جس طرح نماز فرض ہے۔ ہر موٴمن مرد و عورت کے ذمے علم کا حاصل کرنا اسی طرح فرضِ عین ہے، جس طرح نماز کا پڑھنا فرضِ عین ہے۔ مدارِس کی طرف رُخ کرو اور اپنے بچوں کو دِینی مدارِس میں داخل کرو۔

ہر وہ عمل اللہ کے یہاں قبول ہوگا جو علم کے مطابق ہو۔ اتنا اِیمان کا سیکھنا ہر موٴمن کے ذمے فرضِ عین ہے کہ جو اس کو اللہ کی پہچان کرائے۔ اسی طرح اتنا علم سیکھنا ہر موٴمن کے ذمے فرضِ عین ہے جو اس کو حرام حلال کی تمیز کرادے۔ ہاں محدث بننا، فقیہ بننا، مفسر بننا یہ فرضِ کفایہ ہے۔ یہ ہر ایک کے ذمے فرض نہیں ہے۔ علماء کی مجالس اور علماء کی صحبت سے فائدہ اُٹھاوٴ۔ قدم قدم پر علماء سے پوچھ کر چلو۔ اس خیال میں نہ رہنا کہ میں تو بظاہر جو کررہا ہوں، ٹھیک ہی کر رہا ہوں۔ یاد رکھو کہ اللہ کے یہاں کوئی عمل جہالت کے ساتھ قبول نہیں ہوگا اور نہ جاننا اللہ کے یہاں عذر نہیں ہے کہ یا اللہ! مجھے تو معلوم نہیں تھا۔

جہالت عذر نہیں ہے۔ چوں کہ اللہ نے سکھانے کے لیے رسول کو بھیج دیا، ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْکُم مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَن تَذَکَّرَ وَجَاء کُمُ النَّذِیْر﴾․(فاطر:37)

”کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں وہ شخص سمجھ سکتا تھا جو سمجھنا چاہتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا“۔ یہاں تک کہ میرے دوستو، کوئی عمل اخلاص کے ساتھ بھی علم کے بغیر قبول نہیں ہوگا۔ ایک آدمی بڑا مخلص ہے، لیکن جہالت کے ساتھ عمل کر رہا ہے تو اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوگا۔

ہر نئی معلومات علم نہیں ہے
سب سے پہلے یہ سمجھو اور اُمت کو سمجھاوٴ کہ علم کیا ہے؟ اہل باطل نے دھوکہ دہی سے مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ ”اگر تم نے صرف قرآن اور حدیث کو علم سمجھا تو تم بہت پیچھے رہ جاوٴ گے، تمہیں دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ صرف قرآن و حدیث علم نہیں ہے، بلکہ سائنس بھی علم ہے، ڈاکٹری بھی علم ہے، انجینئرنگ، تجارت، دنیا کی خاک چھاننا اور اسباب کی تحقیق کرنا یہ بھی علم ہے۔ تم صرف قرآن و حدیث ہی کو علم نہ سمجھنا۔“ یہ میں وہ بات کہہ رہا ہوں جو غیروں نے ہمیں سکھلائی ہے۔ میرے دوستو، عزیزو، آج اس بات کا سمجھانا بڑا جہاد ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس زمانے میں نوجوانوں کے دماغوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ صرف قرآن و حدیث علم نہیں، بلکہ دنیوی فنون اور اس کی معلومات کا حاصل کرنا بھی علم کا حصہ ہے، لہٰذا جس علم سے ہمارا معاش متعلق ہے، اس علم کو اہم درجہ دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد سترہ اٹھارہ بیس پچیس سال تک پہنچ جاتی ہیں، انہیں کچھ خبر نہیں کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور کو ن سا علم ہم پر فرض ہے؟ چوں کہ انہیں یہ سمجھا دیا گیا کہ علم معاش کے حصول سے تمہاری زندگی متعلق ہے اس لیے وہی علم ہے اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ معاش سے متعلق جو نام نہاد علم مجھ پر فرض کیا جارہا ہے۔ یہ ایسا اندھا کنواں ہے کہ جس میں سمجھ دار بھی ڈوب رہے ہیں اور ناسمجھ بھی۔ یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور بے دینی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ ہائے افسوس!

میرے دوستو، عزیزو! باطل نے اپنے فنون کو علم قرار دے کر اُمت مسلمہ کو علم سے کاٹ دیا ہے اور یہ باور کرادیا کہ جو چاہو، سیکھو، سب علم ہے۔

نہیں، ہرگز نہیں! علم صرف وہ ہے جو اللہ ہم سے چاہتے ہیں اور محمد ﷺ کے طریقے سے چاہتے ہیں․․․ صرف وہ علم ہے۔ سارا علم قبر کے تین سوالات پر محدود ہے: ”من ربک، من نبیک، ما دینک․“گویا کہ علم نام ہے: ”ربوبیت کا علم، شریعت کا علم اور سنت کا علم“ ،جو کچھ اس کے سوا ہے وہ علم نہیں ہے اور اس پر علم کی حدیثوں کو فٹ کرنا بڑی حماقت ہے۔

دنیوی فنون کی رغبت کے لیے احادیث علم کا استعمال گمراہی ہے
یہ تو گم راہی ہے کہ دنیوی فنون کے لیے علم کی احادیث کو اِستعمال کرکے دنیوی فنون کی رغبت پیدا کی جائے۔ یہ بڑی گم راہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ یہ کہنا ہے کہ ”جدید آلات و اسباب نے علماء سے مستغنی کردیا۔“

اس لیے میں بار بار کہتا رہتا ہوں کہ علم علماء کی صحبت سے حاصل کرو۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ آلات و اسباب نے علماء سے مستغنی کردیا کہ ہم توعلم خود ہی حاصل کرلیں گے کہ اب تو سارا علم آلات پر آگیا ہے، کیا ضرورت ہے علماء کی؟ یہ اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ ہے کہ اُمت کو اپنی دینی رہبری کے لیے علماء کی ضرورت نہ رہے۔ اِس لیے میں اہتمام سے کہہ رہا ہوں کہ علماء کی زیارت کو عبادت یقین کرو اور اپنی اولاد کو دِینی مدارِس میں دَاخل کرو، وَرنہ میرے دوستو، عزیزو، اُمت اس دھوکے میں پڑ چکی ہے کہ بھئی! سب کچھ علم ہے، جو چاہو سیکھو۔ نہیں، ہرگز نہیں! علم صرف وہ ہے جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے طریقے پر اللہ ہم سے چاہتے ہیں۔ صرف اس کو ”علم“ کہتے ہیں۔ غیروں کے تجربات کو علم سمجھنا سب سے بڑی جہالت ہے۔

نئی پود کی جہالت کی وجہ
اس بات کو تسلی، سنجیدگی اور بہت ہی ٹھنڈے دماغ سے سمجھنا ہوگا۔ میں نئی پود کی جہالت کی وجہ بتارہا ہوں کہ اگر ان کو یہ سمجھا دیا جاتا کہ یہ (قرآن وسنت) علم ہے، وہ (عصری ذرائع) فن ہے، تب بھی معاملہ آسان تھا کہ یہ دونوں چیزوں کو حاصل کرلیتے، دنیوی فنون کو اپنی دنیوی ضرورت کے لیے اور علم اِلٰہی کو دنیا اور آخرت میں کام یابی کے لیے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کو صرف اتنا ہی نہیں سمجھایا گیا یہاں تک سمجھادیا گیا، کہ جو علم اِلٰہی ہے، وہ علماء سے متعلق چیز ہے۔ وہ علماء سمجھتے ہیں سمجھاتے ہیں، ہم سے متعلق جو علم ہے، یہ تو دنیا کا علم ہے۔

اپنی جہالت کا احساس کب ہوگا؟
جب تک علم اور فن ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کیا جائے گا، اُس وقت تک اپنی جہالت کا احساس نہیں ہوگا اور علم اِلٰہی کے حاصل کرنے کی فکر اور رغبت نہیں پیدا ہوگی۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھیے کہ علم صرف وہ ہے جو ہم سے ہمارا رب چاہتا ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ علم میں لگنا اس بات کی توفیق میں لگنے کو کہتے ہیں کہ ہم سے ہمارا رب کیا چاہتا ہے؟ مخلوق ہم سے کیا چاہتی ہے؟ اس میں لگنے کو تو کہیں بھی علم نہیں کہا گیا۔

اگر دُنیو ی فنون کو علم سمجھا ہے تو وہ صرف قارون نے سمجھا تھا، اسی قارونیت پر ہم سب چل رہے ہیں، کیوں کہ جب اس سے یہ کہا گیا کہ یہ اللہ نے تجھے جو کچھ دیا ہے، اس میں دارِ آخرت کی جستجو کرتا رہ اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش مت کر اور اس میں اللہ کے حکم کے مطابق چل :﴿وَابْتَغِ فِیْمَا اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا﴾ تو اُس نے کہا کہ یہ سب کچھ مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا ہے:﴿قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ‘﴾ جس علم کو قارون علم کہہ رہا ہو، اس کو ہم بھی علم کہیں، یہ ہماری جہالت نہیں ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ قارون کا یہ کہنا کہ ﴿اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِی﴾ یہ بتلارہا ہے کہ یہ قارون کا علم ہے، کسی نبی کا علم نہیں کہ جو کچھ مال میرے پاس ہے، یہ میں نے اپنے فن اور علم سے کمایا ہے۔ یہ اللہ نے نہیں دیا ہے۔ ہمیں علم اور فن میں فرق کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے دلوں میں اس علم کی اہمیت پیدا ہو، جس کو اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے، جس کو علم شریعت کہتے ہیں۔

ہم دنیوی فنون کی تحصیل سے نہیں روکتے
ہم دنیوی فنون سیکھنے سے نہیں روکتے، بالکل نہیں روکتے۔ یہ ایک ضرورت ہے۔ البتہ جس چیز کی جتنی اہمیت ہے، اسے اس کے درجے میں رکھنا چاہیے، لیکن دنیوی فنون کو حاصل کرنے کے لیے ان حدیثوں کا استعمال، جو محض علم اِلٰہی کے لیے ہیں، یہ انتہائی بے وقوفی کی بات ہے۔

توریت کے مطالعے پر نبی پاک ﷺ کا غصہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک بار یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں یہ بھی تو معلوم کرنا چاہیے کہ ہم سے پہلے نبیوں پر کیا احکامات نازل ہوئے تھے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو توریت اور انجیل پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور کچھ اوراق ہاتھ میں لیے آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا، یہ ہاتھ میں کیا ہے؟ یا رسول اللہ! میں نے توریت پڑھی ہے تاکہ ہماری معلومات میں اِضافہ ہو کہ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کیا احکامات نازل کیے تھے؟، آپ ﷺ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر اتنا غصہ آیا کہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم جمع ہوگئے۔ اتنا آپ کو غصہ تھا کہ انصار تلواریں لے کر آگئے کہ آپ کو کس نے ستایا ہے؟ سارا غصہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر تھا کہ ”عمر نے توریت کیوں پڑھی ہے؟ جو قرآن میں لے کر آیا ہوں، جو علم سنت اور طریقت و شریعت میں لایا ہوں، کیا عمر کی نجات کے لیے یہ کافی نہیں ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو کان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی․“ (مشکوٰة کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب و السنة، الفصل الثانی، ج:۱، ص:30۔ قدیمی) اگر آج موسیٰ زندہ ہوکر آجائیں تو ان کی نجات بھی میرے طریقہ پر ہے۔ اگر تم نے اب موسیٰ کا طریقہ اختیار کیا تو گم راہ ہوجاوٴ گے۔

بہت خطرے کی بات
آپ غور کریں اور اندازہ کریں کہ ایک اتنا بڑا عالم (عمر رضی اللہ عنہ) کہ جن کا مقام یہ ہے کہ ”لو کان بعدی نبیا لکان عمر“ کہ میرے بعد اگر نبوت کا دروازہ کھلا ہوتا تو عمر نبوت کی استعداد رکھتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اللہ کی کتاب کو سمجھنے والے تھے۔ اس درجے کا صحابی سب کچھ سیکھنے کے بعد توریت پڑھ رہا ہے۔ توریت بھی وہ پڑھی، جو غیر تحریف شدہ، پہلے نبی کا علم شریعت تھا، اللہ کی طرف سے ایک نبی پر نازل ہوا تھا۔ اُس پر بھی آپ ﷺ کو اتنا غصہ آیا کہ آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ آپ اندازہ کریں کہ جو علم علم تھا، لیکن اب منسوخ ہوگیا، اس کی تحصیل کی خواہش پر حضرت عمر پر آپ کو اتنا غصہ آیا تو جو علم سرے سے علم ہی نہیں، دنیوی فن ہے، اگر مسلمان اس زمانے میں علم الٰہی سے جاہل ہوکر اسے حاصل کر کے اپنے آپ کو عالم سمجھیں اور علم کی حدیثیں اس پر فٹ کریں تو ایسے لوگوں پر قیامت کے دن آپ ﷺ کو کس قدر غصہ آئے گا؟ اندازہ کرلیا جاوے۔

دعوت کے ذریعہ ایمان کی طرح علم کی بھی ضرورت ہے
ہمیں جس طرح دعوت سے اِیمان کی ضرورت ہے، اسی طرح دعوت کے ذریعہ سے علم کی بھی ضرورت ہے اور علم کو بھی اخلاص چاہیے، جو ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرے، کیوں کہ جس دل میں اللہ کا خوف نہیں ہے، وہ عالم نہیں ہوسکتا۔ اسے اسلام کی معلومات ضرور ہوں گی، لیکن وہ عالم نہیں ہوسکتا۔

عالم وہ ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو
عالم کے لیے تو شرط ہے کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو، کیوں کہ اللہ نے حصر کے ساتھ فرمادیا: ﴿انما یخشی اللّٰہ من عبادہ العلماء﴾علم تقویٰ کا نام ہے، علم زندگی کے تمام شعبوں میں چوبیس گھنٹے اللہ کے حکموں کا پابند ہوکر چلنے کا نام ہے۔ فرمایا علم دو قسم کا ہے: ”العلم علمان، علم فی القلب، فذاک العلم النافع، وعلم اللسان، فذاک حجة اللّٰہ لابن آدم․“ علم دو قسم کا ہے، ایک زبان کا اورایک دل کا۔ زبان کا علم وہ ہے حدیث میں آتا ہے جو انسان کے لیے قیامت کے دن مصیبت بنے گا، اس کے خلاف حجت بنے گا اور دل کا علم وہ ہے جو ابن آدم کو نفع دے گا، علم کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کا خوف پیدا ہو، علم کے ذریعے خشیت پیدا ہو۔ وہ علم الٰہی ہے۔ سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ اس لیے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یارسول اللہ! سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا ”اتق اللّٰہ تکن اعلم الناس“ کہ تقویٰ اختیار کرو، تم سب سے بڑے عالم ہوجاوٴ گے۔علم اللہ کی صفت ہے وہ اللہ سے تعلق کے بقدر حاصل کیا جاتا ہے۔

اللہ والا علم علماء کے پاس امانت ہے
اللہ والا علم ہر عالم کے پاس امانت ہے۔ امانت پہنچانے والا معاوضہ نہیں لیا کرتا یہ تو اس کے ذمے ہے، جس طرح ڈاکیا ڈاک پہنچاتا ہے، اس کی تنخواہ حکومت کے ذمے ہوتی ہے، اسی طرح میرے دوستو! عالم کا معاوضہ اللہ کے ذمہ ہے۔

جب اُمت میں دین سیکھنے کے لیے خرچ کرنے کا جذبہ نہ رہے تو اب علماء پر ذمہ داری ہے کہ اُمت کو ہر حال میں دین سکھلایا جائے اور اس کا معاوضہ نہ لیا جائے:﴿لااسئلکم علیہ مالا، لااسئلکم علیہ اجرا﴾ علم پہنچاوٴ، اُمت کی امانت سمجھ کر۔ لیکن کسی غلط فہمی میں نہ رہیے کہ اگر کسی کو دین پھیلانے، قرآن سکھلانے اور علم سکھلانے کی تنخواہ ملتی ہے تو یہ اس کے پڑھانے کا ہرگز بدل نہیں ہے، بلکہ یہ اس مشغلہ کا بدل ہے، جس مشغلہ کو چھوڑ کر یہ عالم دین کی خدمت میں لگا ہوا ہے اور وہ عالم بھی اس کو دینی خدمت کا بدل کبھی نہ سمجھے۔ علم سکھلانے کا کوئی بدل نہیں سوائے جنت کے۔ ظاہر بات ہے، یہ ایک انسان ہے۔ اس کے ساتھ ضروریات لگی ہوئی ہیں۔ اس کو دنیا میں کوئی مشغلہ بھی کرنا تھا، تجارت بھی کرنی تھی۔ لیکن اس نے تجارت اور دیگر معاشی کاموں کو چھوڑ کر بچوں کو پڑھانے میں اپنا وقت لگایا تو یہ اُس مشغلہ کا بدل ہے، جس کو چھوڑا گیا ہے۔

اگر علم اسباب پر موقوف ہوگیا تو․․․
آج کتنا پیسہ شادیوں پر خرچ ہورہا ہے؟ لیکن علم کے حصول پر خرچ کے لیے ہم تیار نہیں۔ تو جہالت کیسے ختم ہوگی؟ اور بغیر جہالت کے ختم ہوئے عبادت قبول ہے نہ اعمال․․․ کچھ قبول نہیں۔ علم حاصل کرو، تاکہ عبادتیں کامل ہوجائیں۔ عبادت کا کمال علم سے ہے۔ عبادت پر استقامت یقین سے ہے اور عبادت کی قبولیت اخلاص سے ہے۔

اگر علم اسباب پر موقوف ہوگیا تو امت کا بڑا طبقہ جاہل رہے گا، کیوں کہ وہ بھی جاہل رہیں گے جن کے پاس سیکھنے کے اسباب نہیں اور وہ بھی نہیں سکھلائیں گے جن کو معاوضہ نہ ملے۔ اجرت تو اس وقت کی ہے جو وقت تعلیم کے لیے فارغ کیا گیا ہے۔

علماء کی ذمے داری
علماء کی ذمے داری بھی بتلادی۔ علماء کیا کہتے ہیں کہ ”جی جاہل تو سیکھتے ہی نہیں، آتے ہی نہیں ہمارے پاس کہ ہم سکھلاویں!“ نہیں میرے دوستو! حضور ﷺ نے فرمایا کہ علماء جاہلوں کو دین سکھائیں، علماء جاہلوں کی تربیت کریں اور اُن کو دِین پر آمادَہ کریں اور علماء عوام کو دِین کی تعلیم دیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے تو یہ بہت بڑی بات تھی۔ چوں کہ جس بات کو محمد ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے فرمادیا ہے اس کا جو اثر اس وقت تھا، قیامت تک کے لیے اس کا وہی اثر ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ وہ سیکھنے آئیں تو سکھلادیں گے۔ عرض کیا، یارسول اللہ! وہ ہم سے سیکھتے ہی نہیں، ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ اپنی بات کو دہرایا۔ مطلب یہ تھا کہ اگر وہ سیکھنے نہیں آتے تو میرے تمہارے ذمہ ہے کہ ان کو جاکر سکھائیں۔

تبلیغ اور تعلیم میں کوئی فرق نہیں ہے
اس لیے تبلیغ اور تعلیم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آنے والوں کو سکھانا بھی شعبہ ہے اور جاکر سکھانا بھی شعبہ ہے۔ آپ نے تو ایک آیت کی تبلیغ کا بھی حکم دیا ہے۔ جاکر تعلیم دو، یہ تبلیغ ہے۔ آنے والوں کو تعلیم دو، یہ تعلیم ہے۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم دونوں کاموں میں برابر لگے رہتے تھے۔

علماء انبیاء کے وارث کیوں ہیں؟
یاد رکھنا کہ علماء کو انبیاء کا وارث اُس طریقہٴ تعلیم کے ساتھ قرار دیا گیا ہے جو طریقہٴ تعلیم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا تھا کہ وہ تعلیم نقل و حرکت کے ساتھ ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء اپنے کام چھوڑ کر نکلیں، امامت، خطابت، درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور شعبہ افتاء چھوڑ کر نکلیں۔ نہیں، ہم یہ نہیں کہتے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ بھی یہی فرمارہے ہیں، اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ ایمان والوں کو چاہیے کہ سب یک بارگی نہ نکلیں:﴿ماکان الموٴمنون لینفروا کافة﴾ کہ ایمان والوں کے لیے مناسب نہیں ہے کہ سب یک بارگی نکل جاویں:﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ﴾․

ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ایمان والوں کی جماعت کا ایک حصہ اللہ کے راستے میں نکلے۔ کیوں نکلیں؟دیکھو عجیب بات ہے اس آیت میں فرمایا ہے:﴿لیتفقہوا فی الدین﴾دین میں کمال اور سمجھ پیدا کرنے کے لیے نکلیں۔ لازم ہے کہ واپس آکر مقام پر علم کو پھیلائیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ”علماءِ صحابہ رضی اللہ عنہم“ کو حرکت پر رکھا تھا، تاکہ اُمت میں کہیں بھی جہالت پیدا نہ ہو اور علم صرف طلب والوں کے اندر محدود نہ ہوجائے کہ یہ پڑھنے کے لیے آئے ہیں، پڑھ لیں۔ 

آپ ﷺ نے اپنے علم کی مثال بادل سے دی ہے اور بادل میں حرکت ہے۔ آپ علمائے کرام تو ہلکی بات کرنے لگے ہیں کہ بھئی! ہم تو کنواں ہیں، پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے، کنواں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتا۔ نہیں۔ ہرگز نہیں، ایسی بات نہیں ہے، علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے اور انبیاء نے نقل و حرکت کے ذریعے علم کو پھیلایا ہے اور علم کی مثال بادل سے دی ہے۔ جو زمین کسی قابل نہیں، جس زمین میں اگانے کی صلاحیت نہیں، اس پر بھی بادل برستا ہے۔ اپنے علم کو لے کر حرکت میں آوٴ کہ اُمت کو علم پہنچانا ہے اور دعوت سے اپنے علم کے اندر رسوخ پیدا کرنا ہے۔




دعوت کی محنت کا مقصد اُمت سے جہالت کو ختم کرنا ہے
علم کی دعوت کے ذریعے جہالتیں ختم ہوں گی اور اُمت علماء سے جڑے گی۔ اس محنت کا مقصد جہالت کو ختم کرنا ہے، یہ محنت تو اُمت میں علم کے حصول کی طلب پیدا کرتی ہے۔ جب یہ محنت ہوگی تو یہ احساس ہوگا کہ ہمیں علماء کی ضرورت ہے۔ علماء کی صحبت و مجالست اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہی اس دعوت کا مقصود و مطلوب ہے۔

تمام دنیوی شعبوں میں دین کیسے زندہ ہوگا؟
میرا تو بہت جی چاہتا ہے کہ علماء آدھے دن دینی کاموں میں لگیں اور آدھے دن تجارت بھی کریں۔ حضرت ابو بکر و حضرت عمر دینی کاموں کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کیا کرتے تھے۔

ساری دنیا ہوجاہلوں کے ہاتھ میں اور ہم یہ سمجھیں کہ ہمارا کام صرف پڑھانا ہے۔ آج ہم نے سارا بازار اور ساری تجارت جاہلوں کے حوالے کردی ہے۔ جب تک ہم تجارتوں، زراعتوں، حکومتوں کو اور دنیا جہان کے تمام سرمایہ داری کے نقشوں کو یہ سمجھ کر چھوڑے رکھیں گے کہ یہ ہمارے کرنے کا کام نہیں ہے تو خدا کی قسم، اس میں کبھی دین نہیں آسکتا۔ کیسا مزا آئے کہ ایک عالم آدھے دن پڑھاتا ہو اور آدھے دن خود عملی طور پر بازار جاکر دیکھے کہ جو علم میں پڑھا رہا ہوں، اس کے مطابق تجارت ہورہی ہے یا نہیں؟ یہ کتنے بڑے نقصان کی بات ہے کہ ایک آدمی تجارت کا علم حاصل کرے اور اس کے محلہ کا بازار علم کے مطابق نہ ہو۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جو حرام راستے کی کمائیاں ہیں وہ سب علم و عمل کو لے ڈوبیں گی۔ حضرت مولانا محمد اِلیاس صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ”ہم تجارت چھڑانا نہیں چاہتے، بلکہ تجارت کو حکم الٰہی پر لانا چاہتے ہیں۔ ورنہ وہ ہوگا جو قوم شعیب کے ساتھ ہوا۔“ حکم پر لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ عملی طور پر ان شعبوں کا علم لے کر ان میں داخل ہوں۔

دین کے کسی شعبے کا انکار محمد ﷺ کے لائے ہوئے احکامات کا انکار ہے
اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے کہ دین کے کسی شعبے کا انکار یا اس کا استخفاف یا اس کی افادیت سے انکار کہ مثلاً مدارس سے کیا ہوگا؟ یہ بھی ایک مرض اور بیماری پیدا ہوگئی ہے لوگوں میں۔ غور سے سن لو، جو اس کام میں رہتے ہوئے دین کے کسی شعبے کا انکار کرے، خدا قسم! وہ محمد ﷺ کے لائے ہوئے دو کاموں میں سے ایک کا انکار کر رہا ہے، پکی بات ہے، بالکل سچی بات ہے۔

کیوں کہ اس کام کو کسی خیر کے کام کے معارض سمجھنا یہ محمد ﷺ کے لائے کاموں میں سے ایک کام کو دوسرے کے معارض سمجھنا ہے۔ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صفت ”صفت جامعیت“ ہے۔ یہ جامعیت اپنے اندر پیدا کرو، کیوں کہ اس محنت سے پورا دین وجود میں آتا ہے، اس لیے حرام حرام ہے۔ ہمارے لیے یہ سوچنا کہ ”اِس شعبے سے کیا ہوگا، اُس شعبہ سے کیا ہوگا؟“ 

جتنے دین کے شعبے ہیں، یہ دعوت کی آمدنی ہے۔ لوگ اپنی آمدنی کو سنبھال کر رکھتے ہیں کہ دعوت کی محنت سے لوگوں میں علم کی طلب پیدا ہو، مساجد قائم ہوں، مدارس قائم ہوں، تربیت گاہیں قائم ہوں، دین کے تمام شعبے وجود میں آنے ہیں دعوت کے کام سے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دعوت کا کام ہو اور دین کے شعبے مقصود نہ ہوں۔ یہ ایسا ہے کہ کوئی آدمی تجارت کرے اور کہے کہ مجھے آمدنی مقصود نہیں ہے یا آمدنی کو ضائع کردے۔ وہ کیسا بے وقوف آدمی ہوگا؟ لوگوں کو اپنی آمدنیوں سے ایسی محبت ہوتی ہے کہ وہ اس کو خون پسینا کہتے ہیں کہ یہ میرا خون پسینا ہے۔

دعوت سے دین کے سارے شعبے زندہ ہونے ہیں۔ میری یہ بات یاد رکھنا کہ یہ شعبے اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک دعوت کی نقل و حرکت قائم رہے گی۔ آپ ذرا پچھلا زمانہ اُٹھاکر دیکھیں، ساری تاریخ اس کی گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صحابی کو معلم بنایا تھا: ﴿بلغوا عنی ولو آیة﴾ جب علم نقل و حرکت سے الگ ہوجائے گا تو عام اُمت میں جہالت پھیل جائے گی اور علم اُمت کے ایک محدود طبقے کی چیز بن کر رہ جائے گا۔ اگر علم کے بغیر نقل و حرکت ہے تو جاہلانہ نقل و حرکت ہوگی۔ حضرت مولانا محمد اِلیاس صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ جتنی جماعتیں نکلیں، ان میں ایک عالم ہو اور ایک قاری ہوتاکہ نکلنے والے قرآن سیکھ کر آئیں۔


اربابِ علم و دانش میں کون شخص ایسا ہوگا جو” امام تفسیر، صاحب ِ تفسیرِکبیر، امام رازی“ رحمہ اللہ تعالی رحمة واسعة کے نام ِ نامی اور اسم گرامی سے ناآشنااور ناواقف ہو؟وہ اپنی اسی شہرہ آفاق تفسیر میں فرماتے ہیں :کہ اللہ وحدہ لاشریک نے اپنی لاریب اور بے عیب کتاب میں سات چیزوں کا سات چیزوں سے تقابل کیاہے :

﴿ومایستوي الأعمی والبصیر﴾․ ﴿ولا الظّلمات ولا النّور ﴾․﴿ولا الظّلّ ولا الحرور﴾․﴿ومایستوي الأحیاء ولا الأموات﴾․ (سورةفاطر، آیت:19تا22)﴿قل لا یستوي الخبیث والطّیّب﴾․(سورة المائدة،آیت:100)﴿لا یستوي أصحاب النّار وأصحاب الجنّة ﴾․ (سورة الممتحنة،آیت:20) ﴿قل ھل یستوي الّذین یعلمون والّذین لایعلمون﴾․(سورة الزّمر،آیت:9)

ان سات مقامات میں ایک طرف علم مراد ہے اور دوسری طرف جہالت، چناں چہ علم بینائی ہے اور جہالت نابینگی،علم روشنی ہے اور جہالت تاریکی ،علم ایک سایہ ہے اور جہالت دھوپ،علم ایک حیاتِ جاوداں ہے اور جہالت موت:
        الجاھلون فموتی قبل موتھم 
        والعالمون وان ماتوا فأحیاء 
        وفي الجھل قبل الموت موت لأھلہ
        فأجسامھم قبل القبور قبور 
        وان امرء لم یحی بالعلم میّت
        ولیس لہ حین النّشور نشور

علم پاکیزہ چیز ہے اور جہالت ناپاک،علم جنّت کی طرف رہنمائی کرتاہے ،لہذا اہل علم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔

قرآن ِپاک میں تدبّر کرنے سے ایک اور نکتہ بھی سمجھ میں آتاہے کہ اللہ بزرگ وبرتر نے چار طبقوں کا نام لے کر ان کے بلند مرتبہ ہونے کا ذکر فرمایاہے ،ایک طبقہ مجاہدین کاہے :﴿فضّل اللہ المجاہدین علی القاعدین أجرا عظیما درجات منہ ومغفرة ورحمة﴾․(سورة النّساء،آیت :95،96)

دوسرانیک لوگوں کا ہے: ﴿ومن یأتہ موٴمنا قد عمل الصّالحات فأولئک لہم الدّرجات العلی﴾․(سورة:طہ،آیت:75)

تیسرا اصحابِ بدر کا ہے:﴿انماالموٴمنون الّذین اذ اذکر اللہ وجلت قلوبہم… لہم درجات عند ربّہم ومغفرة ورزق کریم﴾․(أنفال ،آیت:4)

چوتھا طبقہ اہلِ علم کا ہے :﴿یرفع اللہ الّذین امنوامنکم والّذین أوتواالعلم درجات﴾(سورة المجادلة،آیت:11)

امام ِتفسیر فرماتے ہیں کہ مرتبہ تو ان چاروں طبقوں کابلند وبالاہے،لیکن قرآن کا انداز بتلاتا ہے کہ اہل علم کا مقام اور مرتبہ باقی طبقوں سے بھی بلند و بالاہے۔

جی ہاں! علم کا مقام حکومت اور سلطنت سے بھی بڑھ کر ہے ،حضرتِ طالوت کو جب بادشاہ بناکر بھیجا گیاتو برادری اور قوم کے لوگوں نے کہا کہ: ﴿ونحن أحقّ بالملک منہ ولم یوٴت سعة من المال﴾کہ بادشاہت کے حق دار تو ہم ہیں، اس لیے کہ مال دارتو ہم ہیں،بڑے گھرانوں والے تو ہم ہیں ،طالوت تو ایک غریب اور نادار آدمی ہے، پھر اس کو باد شاہت کیوں کر اور کیسے مل گئی ؟تو حضرت طالوت کا دفاع کرنے کے لیے اللہ ربّ العزّت نے ان کے علم کو لا کے کھڑا کر دیا اور فرمایا: ﴿ان اللہ اصطفٰہ علیکم وزادہ بسطة في العلم والجسم﴾․(سورة البقرة،آیت:247)

تو جب حضرت طالوت کا دفاع علم کے ذریعے کیا گیا تو اس سے پتہ چل گیا کہ علم کی ضرورت سلطنت چلانے کے لیے بھی پڑتی ہے ،نیز دنیا میں خلافت کے نظام کو قائم کرنے کے لیے بھی علم کی ضرورت ہے۔ادھر دیکھو آسمان میں ایک مکالمہ چل رہا ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا:﴿انّي جاعل في الأرض خلیفة﴾ کہ میں زمین میں اپنا ایک نائب و خلیفہ بناناچاہتاہوں ،تو اس پر فرشتوں نے کہا:﴿ أتجعل فیہا من یفسد فیہا ویسفک الدّماء﴾․

کہ یہ تو زمین میں جاکے قتل و غارت کا بازار گرم کرے گا ،اے رب! خلافت کے حق دار تو ہم ہیں ،اس لیے کہ ہمہ وقت آپ کی تسبیح و تہلیل میں تو ہم ہی لگے ہوئے ہیں :﴿ونحن نسبّح بحمدک ونقدّس لک﴾․(سورة البقرة،آیت :30)

ملت کے پاسبانو! غور کرو کہ خالق ِ کائنات نے اس مقام پر یہ نہیں فرمایا کہ یہ انسان دنیا میں جاکر خونریزی نہیں کرے گا ،نہ یہ فرمایا کہ انسان پر یہ اعتراض نہ کرو ،نہ یہ فرمایا کہ یہ زیادہ عبادت کرے گا ،بلکہ مالک الملک نے اس سوال کا جواب دینے کے لیے علم کو لاکے کھڑا کر دیا، جس کی تعبیر قرآن پاک نے یوں کی ہے :﴿وعلّم آدم الأسماء کلہا﴾ (سورة البقرة،آیت :31)

اس میں اشارہ مل گیا کہ انسان خونریزی کرے گا ،لیکن اس کا یہ فعل علم کے مطابق ہو گا جو علم اس کی لڑائی کو جہاد بنادے گا، جی ہاں جو شعبہ علم سے جتنا منسلک ہوگا وہ اتناہی اعلی ہوگااور جو شعبہ علم سے جتنا دور ہوگا وہ اتنا ہی پستی کا شکار ہوگا ،اگر تصوّف سے علم کو نکال دیا جائے ،تو وہ محض کھانے پینے کا نام بن کر کے رہ جائے ،اگر تبلیغ سے علم نکل جائے ،تو وہ سیر سپاٹے کا نام بن کر رہ جائے،اگر جہاد سے علم کو نکال دیا جائے ،تووہ دہشت گردی ،غارت گری اور بربریّت کا نام بن کر رہ جائے، کوئی شریعت کا عمل ایسا نہیں کہ جس میں علم کی ضرورت نہ ہو۔

اس کا ایک دوسرا پہلویہ ہے کہ مسلم سماج کا علمائے دین اور مذہبی راہ نماوٴں سے روحانی اور ایمانی بنیادوں پر رشتہ اور تعلق قائم رہتاہے،ان سے ان کے دینی وشرعی احکام ومسائل وابستہ رہتے ہیں، لوگ اپنی شرعی زندگی گزارنے کے لیے قدم قدم پر ان کی راہ نمائی اور رہبری کے محتاج ہوتے ہیں، حدیث پاک میں اس کی تلقین کی گئی کہ علماء سے مسائل پوچھا کرو۔جالسوا الکبراء، وسائلوا العلماء، وحافظوا الحکماء،بڑے لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرو،علماء سے مسائل دریافت کرو،حکماء اور دانش وروں سے تعلق رکھو۔ یہی علماء کرام کہیں منبر ومحراب کو زینت بخشتے ہیں تو کہیں دار ورسن ان کی جلوہ سامانیوں سے عزت پاتے ہیں ،کہیں تخت وتاج ان کی ہیبت سے کانپتے ہیں تو کہیں مدارس ان کے قال اللہ اور قال الرسول کے نغموں سے گونجتے ہیں،کہیں خانقاہیں ان کے وجد وحال اور ذکر واشغال سے بقعٴہ نو ر بنتی ہیں تو کہیں ان کی حق گوئی سے ایوان سیاست میں کپکپی طاری ہوتی ہے، وہ امت کی عزت ووقار کو قائم رکھنے کے لیے ہر جہت سے کوشش کرتے ہیں ،سماج میں امن و آشتی کو فروغ دینے کے لیے احترام انسانیت کے جذبے کو ابھارتے ہیں،حقوق وفرائض کی ادائیگی پر لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں ،سماج میں ایسے علمائے صالحین ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے بلا تفریق مذہب وملت ہر طبقہ کی قابل لحاظ خدمات انجام دیں،ان کی نگاہ زمانے کے بدلتے ہوئے تیور سے کبھی نہیں ہٹی ،جب اور جس وقت امت کو رہبری کی ضرورت پیش آئی بڑھ کر قدم اٹھایا اور کتاب وسنت کی روشنی میں امت کی راہ نمائی کی ۔
        ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
        وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ




شوقِ علم یوں ہوتا ہے
ایک حدیث میں آیا ہے: ”منھومان لا یشبعان، منھوم فی العلم لا یشبع منہ، ومنھوم فی الدنیا لا یشبع منھا․ وقال عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ: ولا یستویان، اما صاحب العلم فیزداد رضی الرحمن، واما صاحب الدنیا فیتمادیٰ فی الطغیان، ثم قرأ عبدالله: ﴿کلاّ ان الانسان لیطغیٰ ان راٰہ استغنیٰ ﴾․ (مشکوٰة، ص:37)

دو بھوکے کبھی سیرنہیں ہوتے، ایک علم کا بھوکا علم سے سیر نہیں ہوتا، دوسرا دنیا کا بھوکا، اس کا دنیا سے پیٹ نہیں بھرتا۔

حضرت عبدالله بن مسعود نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں برابر نہیں ( بلکہ ان کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے)جو علم کا بھوکا ہے ،اس کے لیے مسلسل رحمان کی رضا میں اضافہ ہوتا رہتا ہے او رجو دنیا کا حریص ہے تو وہ سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ، حضرت عبدالله بن مسعود  نے ( اس پر دلیل کے طور پر ) یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿کلا ان الانسان لیطغیٰ ان راٰہ استغنیٰ﴾ ہر گز نہیں ،بے شک انسان سرکش ہو جاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو غنی پاتا ہے ۔

رسول الله ﷺ کی علم کی زیادتی کے لیے دعا مانگنا
ہمارا یقین ہے کہ الله تعالیٰ نے رسول الله ﷺ کو اتنا علم عطا فرمایا ہے کہ اتنا بڑا عالم نہ دنیا میں آج تک آیا ہے اور نہ قیامت تک آسکتا ہے کیوں کہ الله تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعلق فرمایا ہے ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ﴾․ (النحل آیت:89)
ترجمہ:” اور تجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے۔“

تو دنیا میں جتنے علوم ہیں خواہ کتابوں میں ہیں یا انسانوں کے دلوں اور دماغوں میں ہیں ، وہ سارے علوم قرآن مجید فرقان حمید میں اجمالاً موجود ہیں اور قرآن مجید کو الله تعالیٰ نے رسول الله ﷺ کے دل مبارک پر نازل کیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :﴿وَإِنَّہُ لَتَنزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِیْنُ،عَلَی قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنَ الْمُنذِرِیْنَ﴾․ (الشعراء، آیت:194-192)
ترجمہ:” یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے ، تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو۔“

تو آپ ﷺ کا دل مبارک منبع علوم ہے، اسی بنا پر احادیث کا جتنا ذخیرہ ہے یہ سب قرآن کریم کی تفسیر ہے، تو آپ ﷺ اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود الله تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں رب زدنی علماً اے میرے رب میرے علم! اور اضافہ فرما۔

حضرت عبدالله بن عباس کا شوق علم
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما نے رسول الله ﷺ کے گھر میں ایک رات گزاری ہے ،اس واقعے کو امام بخاری نے صحیح البخاری میں غالباً دس مرتبہ مختلف انداز او رمختلف الفاظ میں ذکرکیا ہے، اسی طرح دیگر صحاح خمسہ میں بھی اس واقعہ کا ذکر ہوا ہے، ان سب روایات کو اگر مرتب کیا جائے تو مفصل واقعہ اس طرح بنتا ہے کہ جب رسول الله ﷺ کی رات گزارنے کی نوبت حضرت میمونہ کے گھر میں ہو گئی ۔ اس موقع پر حضرت عباس  نے اپنے بیٹے عبدالله  کو کہا کہ بیٹا ! آج رات آپ نے حضرت میمونہ کے گھر میں گذارنی ہے اور وہاں رسول الله ﷺ کی ساری رات کے اعمال ملاحظہ کرکے مجھے بتانا ہے، تاکہ میں بھی رات رسول الله ﷺ کے اتباع کے مطابق گذاروں ۔ حضرت عباس  نے عبدالله کے لیے حضرت میمونہ کے گھر کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ عبدالله کی خالہ ہیں، کیوں کہ عبدالله بن عباس کی والدہ لبابة الکبریٰ اور خالد بن ولید کی والدہ لبابة الصغریٰ دونوں حضرت میمونہ کی بہنیں ہیں اور یہ تینوں حارث بن حزن کی بیٹیاں ہیں۔

چناں چہ عبدالله بن عباس حضرت میمونہ کے گھر میں رات گزارنے کے لیے تشریف لائے۔ رسول الله ﷺ اور حضرت میمونہ کا یہ خیال تھا کہ خالہ ہونے کی وجہ سے آیا ہے، کیوں کہ بسا اوقات بھانجا خالہ کا مہمان بنتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بچہ صرف خالہ ہونے کے ناطے نہیں آیا، بلکہ ایک عظیم مقصد لے کر خالہ کا مہمان بنا ہے۔ تو رسول الله ﷺ حسب معمول عشا کی نماز کے بعد جب سونے لگے تو گھر میں صرف ایک سرہانہ ہے جب کہ سونے والے تین ہیں، ایک سید الکونین ہیں ، دوسری ان کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ ہیں ، تیسرا ان کا مہمان حضرت عبدالله بن عباس  ہیں، ان تینوں نے ایک ہی سرہانے پر سر لگائے وہ اس طرح کہ رسول الله ﷺ اور حضرت میمونہ نے سرہانے کے طول پر سر رکھے اور عبدالله بن عباس نے سرہانے کے عرض پر۔

اس کے بعد رسول ﷺ عادت کے مطابق تہجد کے لیے اٹھے۔ آپ ﷺ کا خیال تھا کہ بچہ سویا ہوا ہے ( مگر عبدالله بن عباس  نے تو ساری رات جاگنے کا تہیہ کر رکھا تھا) اس لیے آپ ﷺ ایسے انداز میں اٹھے کہ اس کی آہٹ سے کوئی سویا ہوا بیدار نہ ہو جائے چناں چہ آپ سب سے پہلے بیت الخلا تشریف لے گئے، عبدالله بن عباس نے سوچا کہ حضور ﷺ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو جائیں گے تو استنجا کے لیے وضو کا برتن لیں گے، پھر پانی سے بھر یں گے، پھر بیت الخلا جائیں گے۔ تو یہ آپ ﷺ کے لیے بہت تکلیف دہ ہے، کیوں نہ یہ کام میں کروں ۔ چناں چہ عبدالله بن عباس اٹھے، وضو کا برتن پانی سے بھرا اور بیت الخلا کے دروازے پر رکھا او رواپس آکر لیٹ گئے۔

رسول الله ﷺ جب بیت الخلا سے باہرآ ئے تو دروازے کے سامنے وضو کا برتن پانی سے بھرا ہوا دیکھا، پوچھا کہ یہ کام کس نے کیا ہے؟ حضرت میمونہ نے بتایا کہ یہ کام اس چھوٹے بچے نے کیا ہے ؟ آپ ﷺ بچپنے کی حالت میں ایسی بہترین خدمت پر بہت خوش ہوئے، اس موقع پر آپ ﷺ نے ان کے لیے جو دعا فرمائی ہے، بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں ”اللھم فقھہ فی الدین“․ (بخاری، ص:26)”اے الله !اس کو دین کی سمجھ عطا فرما۔“

اسی دعا کی برکت تھی کہ یہ بچہ بعد میں رئیس المفسرین اور حبر الامة کے القاب سے مشہور ہوا۔

ایک حدیث کے لیے مدینہ منورہ سے شام تک جانا
کثیر بن قیس تابعی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابودرداء رضی الله عنہ کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا او رکہا کہ میں مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث سننے کے لیے آیا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے وہ حدیث رسول الله ﷺ سے سنی ہے۔ حضرت ابو درداء نے پوچھا کوئی تجارتی کام تو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ حضرت ابو درداء نے پھر پوچھا کوئی دوسری غرض تو نہیں تھی ؟ کہا نہیں صرف حدیث معلوم کرنے کے لیے آیاہوں ۔ حضرت ابو دردا نے فرمایا کہ میں نے رسول الله ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے ، الله تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں اورفرشتے اپنے پر طالب علم کی خوش نودی کے لیے بچھا دیتے ہیں اور طالب علم کے لیے آسمان و زمین کے رہنے والے استغفار کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی اس کے لیے مغفرت کی دعا مانگتی ہیں۔ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے کہ چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر او رعلماء انبیاء کے وارث ہیں اورانبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کسی کو دینار ودرہم کا وارث نہیں بناتے، بلکہ علم کاوارث بناتے ہیں تو جو شخص علم حاصل کرتاہے وہ ایک بڑی دولت حاصل کرتا ہے ۔ ( ترمذی، ج2 ص:97، ابن ماجہ ، ص:20)

ربیعة الرائے کا حصول علم
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن فروخ اہل مدینہ منورہ کے فقہاء میں سے ہیں اور صحابہ کی ایک جماعت سے مل چکے ہیں ، تابعین میں بہت بڑے امام الفقہ والحدیث تھے، بڑے مجتہدین میں ان کا شمار ہوتا ہے ، اس لیے ان کا لقب رائے پڑ گیا۔ امام مالک  نے ان سے روایت کی ہے ، ربیعہ کے والد فروخ بنو امیہ کے دور میں فوج کے ساتھ خراسان گئے ربیعہ اس وقت ماں کے پیٹ میں تھے ،ابو عبدالرحمن فروخ سفر پر روانہ ہونے کے وقت اپنی بیوی کے پاس تیس ہزار دینار چھوڑ گئے او رپھر ستائیس سال کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے۔ گھوڑے پر سوار تھے، نیزہ ہاتھ میں تھا۔ اپنے گھر جب پہنچے تو گھوڑے سے اتر کر دروازہ پاؤں سے دھکیلا۔ ربیعہ نکلے او رکہنے لگے ، اے الله کے دشمن !تو میرے حرم میں کیوں داخل ہوا؟ فروخ نے جوابا کہا کہ الله کا دشمن توتو ہے کہ میرے حرم میں داخل ہوا ہے، دونوں آپس میں الجھ گئے۔ دنوں ایک دوسرے سے کہتے ہیں ، ” میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔“

ادھر ہمسائے ربیعہ کی مدد کے لیے پہنچ گئے ۔ اس کی اطلاع امام مالک کو پہنچی، وہ جلدی سے موقع پر تشریف لائے، جب امام مالک کو دیکھا تو خاموش ہو گئے، امام مالک  نے کہا کہ چاچا محترم! آپ کے لیے کسی اورمکان میں گنجائش ہو سکتی ہے ۔ آپ زبردستی اس مکان میں کیوں داخل ہونا چاہتے ہیں ؟ بڑے میاں نے جواب دیا کہ میں فروخ ہوں اور یہ میرا مکان ہے ۔ بیوی نے ان کی بات سنی تو نکل آئیں اور کہنے لگیں، یہ میرے خاوند ہیں اور یہ میرے بیٹے ہیں، جنہیں حمل کی حالت میں چھوڑ گئے تھے۔ اب باپ بیٹا گلے ملے او ربہت روئے ۔ اس کے بعد ربیعہ تومسجد نبوی میں چلے گئے، وہاں اپنے درس میں بیٹھے اور فروخ گھر کے اندر آئے،بیوی سے پوچھاکیا یہ میرا بیٹا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یہ تیرے بیٹے ہیں۔ فروخ نے بیوی سے پوچھا کہ میں سفر پر جاتے وقت تمہارے پاس جو مال چھوڑ گیا تھا وہ کہاں ہے؟ بیوی نے کہا اب آپ مسجد نبوی تشریف لے جائیں، وہاں نماز پڑھیں وہاں سے واپس آئیں پھر آپ کو جواب دوں گی۔ فروخ مسجد نبوی میں آئے تو وہاں ایک بڑا حلقہ دیکھا جس میں امام مالک ، حسن بصری جیسے بڑے بڑے علماء بیٹھے ہیں ، کھڑے ہو کر صاحب درس کو وہاں سے دیکھنے لگے ۔ اپنے بیٹے کا شک ہوا۔ ربیعہ نے بھی اس انداز سے سرجھکا یا کہ وہ گمان کریں کہ میں اس کو نہیں دیکھ رہاہوں۔ فروخ نے دریافت کیا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ جواب ملا کہ یہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن فروخ ہیں۔ کہنے لگے سبحان الله! ان کو الله تعالیٰ نے کتنی بڑی شان عطا فرمائی ہے ۔ گھر آکر بیوی کو کہا کہ میں نے تمہارے بیٹے کو ایسے بلند مرتبے میں دیکھا ہے جو اہل علم وفقہاء میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ ربیعہ کی ماں نے کہا کہ آپ کو تیس ہزار دینار زیادہ پسند ہیں یا اپنے بیٹے کی یہ شان! کہنے لگے والله! مجھے اپنے بیٹے کی یہ شان زیادہ پسند ہے۔ بیوی نے کہا کہ وہ ساری رقم میں نے اس پر خرچ کی تو فروخ نے کہا کہ والله! تم نے وہ مال ضائع نہیں کیا ہے۔ ( فضل الباری ، ج2، ص:70، بحوالہ دائرة ، المعارف، فرید وجدی، ج4، ص:185)

امام محمد کا مطالعہ میں انہماک
ایک دفعہ امام محمد کسی سڑک کے کنارے پر بیٹھے ہوئے کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے ، اسی اثنا میں ایک بہت شان دار بارات گزری، جس میں گانے باجے بھی بج رہے تھے۔ امام محمد رحمہ الله کو اس بارات کا کوئی پتا نہیں چلا اوربرابر اپنے مطالعہ میں مشغول رہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد چند آدمی جو بارات سے پیچھے رہ گئے تھے امام صاحب کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا کہ یہاں سے کوئی بارات تو نہیں گذری ؟ امام صاحب نے جواب دیا کہ مجھے تو پتا نہیں چلا ، البتہ کتاب پر اچانک گردوغبار پڑ گیا، اس کو میں نے پھونک مار کر اڑا دیا، اس سے زیادہ مجھے بارات کی کوئی خبر نہیں ہے۔ ( میری نماز، ص:53)

میر سید شریف کا علوِ سند کے لیے سفر کرنا
آٹھویں صدی ہجری میں ایک بہت بڑے عالم گذرے ہیں، جو میر سید شریف سے مشہور ہیں، جنہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں، جن میں صرف میر، نحو میر او رمیر ایساغوجی بہت مشور ہیں ،ان کو یہ شوق ہوا کہ میں شرح مطالع خود مصنف سے پڑھوں، چناں چہ اس مقصد کے لیے وہ ہرات گئے اور علامہ قطب الدین رازی ( تحتانی) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، علامہ رازی نے ان سے پوچھا، کون ہو ؟ کہاں سے آئے ہو ؟ کس مقصد کے لیے آئے ہو ؟ آپ نے جواب دیا کہ میرا نام محمد بن علی ہے اور میر سید شریف سے معروف ہوں، جرجان سے آیا ہوں اور آنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اگرچہ شرح مطالع ایک دفعہ پڑھ چکا ہوں، مگر میری خواہش ہے کہ خود آپ سے پڑھوں۔

علامہ رازی کو میر سید کی باتوں سے ان کی ذہانت کا اندازہ ہو گیا، اسی بنا پر فرمایا کہ میں پیر فرتوت ہو چکا ہوں ،اس لیے اب میں شرح مطالع پڑھانے کے قابل نہیں ہوں۔ آپ کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ میرے خاص شاگرد مبارک شاہ کے پاس جائیں، ان سے شرح مطالع پڑھنا ایسا سمجھو گویا مجھ سے پڑھ لیا ہو۔ تو میر سید صاحب خراسان سے چل کر مصر پہنچے، وہاں قاہرہ میں مبارک شاہ کی خدمت میں حاضرہو کر اپنا مدعا بیان کیا ، مبارک شاہ نے فرمایا میں آپ کو شرح مطالع پڑھاؤں گا، مگر تین شرطوں کے ساتھ ، ایک یہ کہ آپ روزانہ ایک اشرفی دیں گے ، دوسری یہ کہ آخری صف میں بیٹھیں گے، تیسری یہ کہ کوئی بات نہیں پوچھیں گے ۔

میر سید شریف نے عرض کی کہ یومیہ ایک اشرفی دینے کی شرط میں اتنی ترمیم فرمائیں کہ جب بھی میں ایک اشرفی دوں گا آپ سبق پڑھائیں گے ۔ مبارک شاہ نے کہا صحیح ہے، ایسا ہی کروں گا۔ اب میر سید صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ فی سبق ایک اشرفی کہاں سے لاؤں۔ مزدوری کروں یا جھولی پھیلا کر بھیک مانگوں ۔ وہ اسی فکر میں تھے کہ ایک رئیس کو پتا چلا کہ یہاں ایک سید طالب علم آیا ہے، جو بہت مفلس او رپریشان حال ہے تو اس نے میر سید کو بلایا او ران سے حال احوال پوچھا۔ میر سید نے پورا ماجرا سنایا۔ رئیس نے تسلی دی کہ فکر نہ کرو، آپ ہر روز مجھ سے ایک اشرفی لے لیا کرو اور دل جمعی سے اپنا سبق پڑھ لیا کرو ۔

چناں چہ میر سید شریف نے شرط کے مطابق سبق پڑھنا شروع کیا تو ایک ہفتہ کے بعد مبارک شاہ نے لی ہوئیں ساری اشرفیاں واپس کر دیں اور فرمایا کہ اشرفی لینے سے میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کا شوق علم معلوم کروں، سو معلوم کر لیا۔ اس لیے آئندہ یہ شرط نہیں ہے، البتہ باقی دو شرطیں اب بھی برقرار ہیں۔ میر صاحب کے لیے تیسری شرط بھی بڑا امتحان تھا، کیوں کہ وہ میر سید تھے، سبق کے دوران بے شمار شکوک شبہات پیدا ہوتے تھے، ان کے ازالہ کے لیے جوش میں آجاتے تھے ، مگر اجازت نہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہوجاتے۔

مبارک شاہ ایک دفعہ چپ چاپ مدرسہ کے احاطے میں آئے، تاکہ معلوم کریں کہ طلباء تکرار یا مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں تو ایک حجرے میں ایک طالب علم اپنے ساتھ عجیب انداز سے سبق دہرا رہا ہے، کہتا ہے کہ مصنف نے یوں لکھا ہے، شارح نے اس طرح تشریح کی ہے، استاذ نے یوں پڑھایا ،مگر میری توجیہ اس میں یہ ہے۔ استاذ نے جب اس کی توجیہ پر غور کیا تو بہت عمدہ پایا، اس پر استاذ بہت زیادہ خوش ہوئے، طالب علم کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ بتایا گیا کہ میرسید شریف ہے اور ہر رات اس قسم کا تکرار کرتا ہے ۔ اگلی صبح جب مبارک شاہ مسند درس پر بیٹھے تو میر سید کو آخری صف سے بلاکر پہلی صف میں اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا کہ جو پوچھنا چاہو، پوچھو! اس کے بعد میر سید شریف کو وہ رتبہ ملا جو سب کو معلوم ہے ۔ (فضل الباری، ج2 ص:65 ظفر المحصلین، ص:326)

شیخ سعدی نے بالکل سچ فرمایا #
        چو شمع پئے علم باید گداخت
        کہ بے علم نہ توان خدا را شناخت
علم کے لیے موم بتی کی طرح پگھلنا چاہیے، کیوں کہ علم کے بغیر الله تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔



عصر حاضر میں علماء اور طلبہ کی ذمے داریاں
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ،اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ ، الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ﴾․العلق:5-1)

مدارس دینیہ اور یونی ورسٹیوں کے مقاصد الگ الگ
آپ حضرات جس مدرسہ میں پڑھ رہے ہیں آپ نے سوچ سمجھ کر اس مدرسہ میں داخلہ لیا ہو گا؟ اس مدرسے کی تعلیم کا مقصد او رمطمح نظر اور ذریعہ تعلیم اور جو علم آپ حاصل کر رہے ہیں وہ عام جامعات سے مختلف ہے مدارس جیسی درس گاہوں میں قربانی کا تصور، خواہ وہ مالی ہو، جسمانی ہو ، فکری ہو، ذہنی ہو، تعلیمی ہو، وہ (عصری) جامعات (یونی ورسٹیوں) سے مختلف ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں مدارس میں جو طلبہ ہیں ان پر اپنے نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے ، لیکن مدارس کے جو مہتمم اور ان کے جو منتظمین ہیں ان کے کندھوں پر بہت بڑی ذمے داری عائد ہے کہ دو ہزار طلبہ کو دوپہر اور شام کا کھانا کیسے پہنچایا جائے؟ او رکہاں سے یہ نقد رقم ملے جس کے ذریعہ یہ انتظام کیا جاسکے؟ تاکہ آپ ان امور سے فارغ رہ کر یکسوئی کے ساتھ ہمہ تن تعلیم کی طرف متوجہ رہیں۔ ان حضرات نے اپنے کندھوں پر یہ ذمے داری لے رکھی ہے۔ اس کے برخلاف جامعات اور دوسری یونی ورسٹیوں میں اس کا نظم دوسری قسم کا ہوتا ہے، وہاں طلبہ سے فیس بھی لی جاتی ہے اور ان کو اسکالر شپ بھی ملتا ہے اور بعض بعض اداروں میں بڑے کرو فر اور ٹھاٹ باٹ سے یہ لوگ رہتے ہیں، ان کے ہاں ایک ، علمی تعیش ہوتا ہے، لیکن جس چیز کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کئی معاملوں میں مدارس اور جامعات دو مختلف چیزیں ہیں، ان کا مقصد دوسرا اور ذریعہ حصول مقصد دوسرا ہے۔

اوّلین وحی اور سوالات کے جوابات
جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کیں وہ پہلی وحی ہے، ان آیات کا جو پہلا لفظ اقراء وہ اس زمانے میں ایک عجیب اور نامانوس سی چیز معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ رسول الله ﷺ کے ذہن میں کئی سوالات تھے، وہ ان سوالات کے جوابات چاہتے تھے۔ عرب جو اس زمانے میں تھے ان کے ذہن میں بھی اس قسم کے سوالات پیدا ہوتے تھے، مگر ان کے پاس سوچنے، سمجھنے اور فکر وتدبر کرنے کا وقت نہیں تھا اور یہی حالات آج بھی ہیں ، خود عوام اور مسلمانوں تک میں یہی چیز ہے کہ ذہن میں سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارا خالق کون ہے ؟ ہمارے خلق کا مقصد کیا ہے ؟ کہاں واپس جائیں گے؟ موت کیا ہوتی ہے؟ ہمارا دائرہ عمل کیا ہے؟ یہ تمام سوالات ہمارے ذہن میں بھی پیدا ہوتے ہیں، لیکن چوں کہ ہمیں اس کے جواب کے لیے سوچنے، فکر کرنے اور تدبر کا وقت نہیں ملتا، اس لیے ہم اس سے صرف نظر کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن جب اچانک کوئی حادثہ پیش آتا ہے، کوئی صدمہ پیش آتا ہے، کوئی زلزلہ پیش آتا ہے یا کوئی ایسا فطری تغیر پیدا ہوتا ہے اس وقت اچانک یہ خیال آتا ہے کہ کچھ تو ہے کہ رسول الله ﷺ کے ذہن میں بھی سوالات تھے، اس لیے آپ غارا حرا تشریف لے جاتے تھے ، وہاں فکر وتدبر کرتے، سوالات کے جوابات چاہتے تھے او رجب وحی نازل ہوئی تو ان سوالات کے جوابات مل گئے، اگر جوابات نہ ملتے تو رسول الله ﷺ کیسے مطمئن ہوتے اور پھر اگر خود مطمئن نہ ہوتے تو دوسروں کو کیسے مطمئن کرتے؟ … اس لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ خالق کون ہے؟ مخلوق کون ہے ؟ اور خود کیا ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے ؟ بہرحال وحی میں الله تعالیٰ نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ خالق ہے …﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ﴾ اور یہی سوال تھا اور عجیب چیز یہ ہے کہ جو دوسری آیت سے﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾… بظاہر اس کی کوئی ضرورت تو نہ تھی، اس لیے کہ انسان بھی ایسا ہی مخلوق ہے جیسا کہ اور چیزیں مخلوق ہیں۔ الله تعالیٰ نے ایک مرتبہ فرما دیا کہ میں ہی خالق ہوں، پڑھ اپنے رب کے نام پر جس نے پیدا کیا۔ اگر دوسری آیات نہ بھی ہوتیں ظاہر ہے کہ انسان بھی شجر وحجر کی طرح ایک مخلوق ہے، ہر وہ چیز جو دنیا میں پیدا کی گئی ہے مخلوق ہی ہے، لیکن ہمارا ایمان واعتقاد اور قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ قرآن مجید کا ہر ہر لفظ اور آیت جو مکرر ہو اس کا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے، اس لیے جو دوسری آیت ہے﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾… وہ بہت ضروری تھی، اس لیے کہ وحی کا مخاطب انسان تھا اور انسان دوسری مخلوقات سے مختلف تھا۔

مخلوقات کی دو قسمیں اور اپنا اپنا دائرہ عمل
دنیا میں دو قسم کی مخلوق ہیں، ایک تو وہ مخلوق جس کا دائرہ عمل پہلے سے طے شدہ ہے ، وہ اپنے دائرہ عمل سے نکل نہیں سکتے، فرشتے گناہ نہیں کر سکتے، پانی بہے گا، آگ جلائے گی، یہ ساری پراپرٹیز ( خصوصیات) ہیں، جوان میں رکھ دی گئیں ، وہ اس سے انحراف نہیں کرسکتے، سورج نکلے گا غروب ہو گا، چاند نکلے گا غروب ہو گا، ستارے نکلیں گے، رات آئے گی، دن جائے گا ، یہ تمام چیزیں ہیں اور ان میں کوئی انکسار نہیں کر سکتا کہ صاحب آج میں تھک گیا ہوں، آج میں نہیں نکلوں گا، ان کا دائرہ عمل طے ہے،وہ کرتے رہیں گے، اسی لیے کفار کے بارے میں آتا ہے کہ وہ روز قیامت کہیں گے﴿یٰلیتنی کنت ترابا﴾”کاش! ہم پتھرومٹی ہوتے“… یعنی مکلف نہ ہوتے اور ایک دائرہ کار کے پابند رہتے تو یہ سوال جواب تو ہم سے نہ ہوتا، لیکن انسان کو الله تعالیٰ نے ایک ممتاز درجہ عطا فرمایا، ان کو فکر وتدبر اور عقل دی، جس کی بدولت وہ دیگر مخلوقات سے ممتاز ہوا، جب یہ طے ہو گیا تو اب آیت کا مقصد سمجھ میں آتا ہے، لیکن آگے چل کر قرآن جو کہتا ہے﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ﴾ دوبارہ انسان کاذکر علم کے سلسلے میں کیا جارہا ہے، اب علم میں کیا چیز ہے ؟ ایک تو وہ چیز جو سیکھی جائے، ایک سکھانے والا چاہیے، ایک سیکھنے والا چاہیے، تو ہمارے ہاں تینوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، جو چیز سیکھی جائے اور پھر سکھانے والا اور اس کا پڑھنے والا۔ سیکھنے سکھانے کے بارے میں جو حدیث ہے، خواہ وہ حدیث ضعیف ہو یا اس کی اسناد پر کوئی گفت گو کر بھی لی جائے، لیکن اس کا جو معنی ہے وہ صحیح ہے، انسان روزانہ سیکھتا ہے، بچہ روزانہ سیکھتا ہے، بوڑھے ہونے کے بعد بھی سیکھتا ہے، بلکہ میں ایک قدم اور آگے بڑھتا ہوں کہ مرنے کے بعد بھی آدمی سیکھتا ہے ،وہاں بھی نئی نئی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔

حصول علم کا مقصد متعین ہونا چاہیے
جہاں تک سیکھنے کا تعلق ہے اس سے نجات نہیں، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، سیکھتا تو ہے۔ اب اس کے بعد مسئلہ اتنا رہ جاتا ہے کہ کس چیز کے لیے… اس کا مقصد کیا ہے؟ علم کے دیے جانے کے بارے میں الله تعالیٰ ایک مقام پر فرماتے ہیں:﴿وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلا﴾․(بنی اسرائیل:85)
ترجمہ:” تمہیں علم کا تھوڑا سا حصہ دیا گیا ۔“

تو آپ یہ خیال فرمائیں کہ تھوڑے سے حصے کے دیے جانے پر انسان خدا بننے کو تیا رہے۔ قرآن کی ایک دوسری آیت میں علم کی زیادتی کے لیے دعا تلقین کی گئی ہے ﴿قل رب زدنی علماً…﴾آپ یہ بتائیں کہ ان آیات کے اوّلین مخاطب کون لوگ تھے؟صحابہ کرام حضور ﷺ کے وساطت سے اوّلین مخاطب تھے اور صحابہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم یہ دعا مانگو کہ الله تعالیٰ ہمیں علم عطا فرمائے اور پھر حدیث میں مزید تاکید فرمائی کہ اس طرح دعا کرو” اے الله! ہمیں علم نافع عطا فرما“… لیکن ایک بات سمجھنے کی ہے، جس کے لیے میں نے تمہید باندھی کہ علم کا حاصل کرنا خود کوئی مابہ الامتیاز چیز نہیں، علم تو شیطان کو بھی حاصل تھا، اسی لیے اس نے بحث بھی کی، تو علم حاصل کرنا خود کوئی غیر معمولی چیز نہیں ،وہ تو غیر مسلم بھی حاصل کرتے ہیں۔

علم نافع اور غیر نافع میں فرق
لیکن کس چیز کے لیے حاصل کیا جائے کس کے نام پر؟ او رکیا آپ خود اس سے نفع اٹھاسکتے ہیں ،کسی دوسرے کو نفع آپ پہنچائیں گے؟ اس لیے حدیث میں”علم نافع“ کا ذکر آتا ہے ، ایسا علم جس سے نفع پہنچ سکے اور جس سے نقصان پہنچے وہ بے کار ہے اور یہ طے ہوچکا ہے رومی کا شعر ہے…
        علم را برتن زنی مارے بود
        علم را برجاں زنی یارے بود

اگر علم کو تعیش جسمانی اور اپنے ترفع کے لیے استعمال کرو گے تو وہ تمہارے لیے سانپ بن جائے گا اور سانپ بن کر ڈسے گا، لیکن اگر اس کو اپنے ایقان کے ساتھ قلب پروارد کرواور اسے ایمان کی سلامتی کے ساتھ استعمال کر وگے تو وہ تمہارا دوست بن جائے گا، اگر یہ صحیح ہے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ آتا ہے کہ جب آپ یہاں مدرسے سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں تو عام طور سے یہ تاثر ہوتا ہے کہ اب ہم فارغ ہو گئے، الحمدلله ہم عالم ہو گئے۔ ایک زمانہ تھا جب اس کے لیے مولوی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، مولوی کے بعد مولانا کا لفظ استعمال ہوا، پھر علامہ کا لفظ آیا اور رفتہ رفتہ دیگر بہت سے خطابات اس میں شامل ہوتے چلے گئے، لیکن اصل خطاب تو وہ ہے جو امت آپ کو دے، آپ اگر خود اپنے نام کے ساتھ لگائیں گے تو وہ کچھ بھی نہیں اور قابل اعتبار نہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوا کہ جو علم آپ نے حاصل کیا اگر وہ صرف علم رہا بغیر تربیت ، بغیر جذبہ احسان کے ، بغیر تقویٰ کے، اگر آپ نے علم کا حصول کیا اور اس علم کو آپ نے بدون مذکورہ خصوصیات کے استعمال کیا تو پھر وہ علم آپ کے لیے نافع نہیں۔

استاذ شاگرد کا رشتہ… ایک مثال
ہمارے والد ماجد سے کسی نے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج کل کے جو نئے او رتازہ متخرجین علماء ہیں ان میں اسلاف جیسی برکت نہ رہی اوران میں انتشار بھی ہے؟ اور یہی تاثر عام حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے، مولانا حبیب الرحمن اعظمی صاحب محدث نے ایک جگہ اسی مسئلہ پر گفت گو بھی فرمائی ہے ، اسلاف میں شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا اور ان کے استاد کا رشتہ دیکھ لیجیے، ہمارے والد ماجد او رمولانا شبلی کارشتہ دیکھ لیجیے اور دوسرے حضرات کا دیکھیے، یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنے استاد کے کہنے پر اپنے عیش اور آرام کو چھوڑ دیا اور پوری عمر ان کے ساتھ گزار دی۔ یہ ایثار وقربانی جامعات، یونی ورسٹی میں کہاں ملتی ہے؟ یہ ایثار وقربانی ان چٹائی والے مدارس کی ہے۔

علم نبوت اور نور نبوت
آمدم برسر مقصد ہمارے والد ماجد نے اس سوال کا جواب دیا کہ آخر یہ علماء میں کمزوری کیوں ہے؟ فرمایا کہ دیکھیے ایک تو ہے علم نبوت اور ایک ہے نور نبوت ، علم نبوت تو مدارس میں حاصل ہو جاتا ہے، لیکن نور نبوت حاصل نہیں ہوتا، نور نبوت کا مطلب تزکیہ واحسان ہے، اپنے قلب میں تقویٰ، خوف اور خشیتِ الہیٰ کی کیفیت پیدا کرنے کا نام ہے، جو انسان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے، اس لیے علم بدون عمل کچھ نہیں۔

مستشرقین کی قرآن وحدیث سے دلچسپی
جہاں تک علم کا تعلق ہے، چاہے عیسائی ہو یا یہودی ،وہ بھی علم حاصل کرتے ہیں۔ ایک مشہور ڈچ اسکالر، جس کا نام اے جے ونسنگ ہے، اس نے 8,7 ضخیم جلدوں میں احادیث نبویہ کا انڈکس تیا ر کیا ہے، جس کا نام معجم المفھرس لالفاظ الاحادیث النبویة… صحاح ستہ کے علاوہ مسند امام احمد بن حنبل او رموطا امام مالک کو اس میں پیش نظر رکھا گیا اور اس طرح اس نے آٹھوں احادیث کے مجموعوں کا اشاریہ بنایا، اس کے تیار کرنے کے لیے اس نے ان آٹھوں مجموعوں کی احادیث کو لفظاً لفظاً پڑھا، تب جا کر یہ اشار یہ تیار ہوا، لیکن وہ مسلمان تو نہیں تھا، بعض غیر مسلم لوگوں نے قرآن پاک کے تراجم کیے، ایک بڑے مشہور انگریز مستشرق نے بھی قرآن مجید کا ترجمہ کیا، قرآن کی ہر آیت کو اس نے لفظاً لفظاً پڑھا ہے، لیکن وہ مسلمان تو نہیں تھا۔ بہرحال اخلاص اور تقویٰ اور احسان کی کیفیت پیدا کرنا ہو گی اور اس کے لیے کسی کے ساتھ آپ کو بیٹھنا پڑے گا اورباقاعدہ سیکھنا ہو گا تو پھر آپ علم کو اپنی صحیح جگہ پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکے تو آپ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنے اندر وہ جذبہ پیدا کریں اور ظاہر ہے کہ یہ جذبہ ایثار وقربانی سے حاصل ہو گا اور اس کے لیے اپنے آپ کو تربیت کے ان تمام منازل ومراحل سے گزارنا ہو گا جو اس کا مطالبہ کرتی ہے۔

اساطین کی اپنے آپ کو شیخ او راستاذ کو سپردگی
بڑے بڑے علما، اساطین علم… آخر ان کو کیا ضرورت پڑی کہ انہوں نے اپنے تمام تر علمی کمال اور پہاڑ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کسی استاد کے حوالے کیا ، خواہ وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی ہوں، شیخ الحدیث مولانا زکریا ہوں خواہ وہ کوئی اور ہو، ہر شخص کسی نہ کسی منزل پر پہنچ کر، پھر اس کی تلاش کرتا ہے۔ بہت مشہور اور طویل حدیث ہے، جس میں ہے کہ الله تعالی فرماتے ہیں سات لوگ قیامت کے دن الله کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے یوم لاظل الاظلہ جب کوئی دوسرا سایہ نہ ہو گا، حدیث میں جو پہلی قسم امام عادل کی ہے وہ تو سمجھ میں آتی ہے، اس لیے کہ اس نے اپنے کندھے پر پوری رعایا کا بوجھ لیا ہے، اس لیے حضرت عمر رضی الله عنہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں خلافت کے بعد روتے پھرتے او رکہتے کہ کوئی ایک بکری یا بھیڑ اگر بھوکی رہی تو اس کا جواب بھی مجھے دینا ہو گا۔ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اپنی خلافت کے بعد گلیوں میں دوڑتے پھرتے کہ مجھ سے یہ منصب لے لو، یہ منصب بڑی ذمے داری کا ہے … تو امام عادل سمجھ میں آتا ہے لیکن دوسری قسم وہ عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اور تمام اقسام اس کے بعد میں آتی ہیں اور وہ ہے” شاب نشأ فی عبادة الله“ ایک ایسا نوجوان جس کی زندگی الله تعالیٰ کی اطاعت میں گزری ہو، یعنی الله تعالیٰ کی عبادت آزمائش ٹھہری کہ صاحب! اس کے ذریعے تمہارا امتحان ہو سکتا ہے ۔ آپ حضرات نوجوان جو یہاں سے فارغ ہو کر نکل رہے ہیں تو آپ کی زندگی، طرز حیات اور جو علم حاصل کیا یہ تمام چیزیں صرف اور صرف الله تعالیٰ کی خوش نودی کے لیے ہونی چاہییں۔

نصاب سے جہادی آیات کے نکالنے کا مسئلہ
آج کل کے اخباروں میں ہنگامہ ہے کہ مدارس کے نصاب کو تبدیل کیا جائے، یہ بھی خبریں ہیں کہ اسکولوں کے نصاب سے جہاد کی آیتیں نکالی جارہی ہیں،بدر اور اُحد کے واقعات نکالے جارہے ہیں… تو میں کہتا ہوں کہ نکال دینے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ قرآن سے تو نہیں نکال سکتے ہیں؟ قرآن کی آیات تو موجود ہیں، ابھی یہ قاری صاحب نے تلاوت فرمائی ﴿ ان الذین قالوا ربنا الله ثم استقاموا…﴾ استقامت کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ الله کی اطاعت میں جو بھی قربانیاں پیش آئیں وہ پیش کرنی ہوں گی اور صحابہ نے کرکے دکھائیں۔

جہاد کا وسیع مفہوم اور فکری جہاد
خواہ عملی جہاد ہو، قلمی ہو، عملی ہو، فکری ہو، لیکن جہاد سے مفر نہیں ہے، یہ تو انگریزوں اور انگریزی پڑھے لکھے مسلمانوں نے جہاد کے مفہوم کو تنگ اور محدود کر دیا کہ جہاد کا اصل معنی صرف یہ ہے کہ جہاد تلوارسے کیا جائے، یہ صحیح ہے کہ تلوار کاجہاد افضل ہے، اس لحاظ سے کہ جب اس کا موقع آئے تو وہ ہی کرنا ہو گا، لیکن جہاد کا مطلب آپ کا الله کے راستے میں علم کی قربانی دینا بھی ہے، آپ نے اگر راستہ سے پتھر ہٹا دیا تو وہ بھی جہاد ہے، جہاد کے سلسلے میں اسلام کے کئی محاذ ہیں ، لیکن اس میں سب سے بڑا جہاد جس کا ذکر مولانا بوالحسن علی ندوی نے بھی کیا ہے الغزو غزو الفکری ہے، جو فکری انحطاط، فکری لامذہبیت ولادینیت ہے اس کے خلاف آپ کو جہاد کرنا ہے، آپ یہاں پڑھ رہے ہیں، آپ کو یہ معلوم نہیں کہ زہر کہاں سے آرہا ہے؟ او رکہاں کہاں پھیل رہا ہے ؟ اور اس زہر کا تریاق کیا ہو گا؟ تو آپ کیسے جہاد کریں گے؟

میثاق مدینہ کو سیکرلر معاہدہ کہنے والے
پچھلے سال کا واقعہ ہے ،میں ”ڈان“ اخبار میں ایک مضمون دیکھ رہا تھا جس میں یہ ذکر تھا کہ میثاق مدینہ ایک سیکولر قسم کا معاہدہ تھا، یعنی دوسرے لفظوں میں مطلب یہ تھا کہ پاکستان میں سیکولرازم کو رائج کیا جائے، کیوں کہ یہاں پر غیر مسلم بھی رہتے ہیں اور نمونہ کے طور پر انہوں نے میثاق مدینہ کا حوالہ دیا کہ میثاق مدینہ ایک سیکولر قسم کا معاہدہ تھا، تو اگر نبی وقت سیکولر معاہدہ کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے؟ دیکھیے! کتنی بے وقوفی او رایمان کی کمی اور کمزوری کی بات ہے کہ نبی وقت سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ سیکولر معاہدہ کرے گا، اگر میثاق مدینہ کو بنظر غائر دیکھے اور سمجھے تو اس میں کون سا سیکولرازم تھا؟ عربی کا ایک لفظ ہے امة،اس کو انہوں نے قوم کے نام پر ترجمہ کرتے ہوئے استعمال کیا، عربی زبان کا جان لینا کسی کو تفسیر کا حق دیتا ہے ؟ … جواب نفی میں ہے، اگر صرف زبان کسی علم کے حاصل کرنے کے لیے معیارہے تو میں بھی انگریزی جانتا ہوں، کیا میں انگریزی کی اصطلاحات اورانگریزی ٹرمینالوجی کی تشریح کرسکتا ہوں؟ نہیں کر سکتا ہوں، اگر ایک وکیل کسیغیر وکیل کو حق نہیں دیتا کہ وہ ان کے قانون کی تشریح کرے تو وہ یہ حق اپنے آپ کے لیے کیسے لے لیتا ہے کہ صاحب! عربی جاننے کے بعد سب کچھ ہمارے لیے سہل ہو گیا، یہ کتنی بے وقوفی کی بات ہے؟! بہرحال اس فکری حملے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان حالات سے واقفیت پیدا کریں اور حالات عامة کا مطالعہ کریں اور ایسے مجلے اور رسالے زیر نظر رکھیں، آپ کے اساتذہ ہیں، ان سے سمجھنے او رسیکھنے کی کوشش کریں، آپ کو یہاں سے نکل کر اس میدان میں جانا ہے جہاں جنگ ہی جنگ ہے۔

گوشہٴ نشینی کا وقت نہیں
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ جب رسول الله ﷺ غار حرا تشریف لے گئے اور ان کو پہلی وحی مل گئی تو کیا رسول الله ﷺ اس پہلی وحی کو لینے کے بعد دوبارہ غار حرا تشریف لے گئے؟ اس کے بعد آپ کا غار حرا سے کوئی تعلق نہ تھا ،اس لیے کہ اب جو جنگ لڑنی تھی ﴿ یایھا المدثر قم فانذر…﴾ اب جنگ سڑکوں، گھروں، بازاروں، جنگلوں میں لڑی جارہی تھی، اب عبادت گذاری، قفس گیری اور گوشہ نشینی کا وقت نہ تھا، یہ عملی جہاد کا وقت تھا، جب آپ اپنے اس قلعے سے باہر نکلیں گے اور جس میدان میں آپ کو جانا ہے وہاں جنگ ہی جنگ ہے، اس جنگ کی تیاری کے لیے آپ کوفکری مطالعہ بڑھانا ہو گا اور ان کے جوابات کے لیے آپ کو تیاری کرنی ہو گی، کوئی آپ کی یہ بات نہیں سنے گا کہ میں فلاں مدرسے کا طالب ہوں اور وہ ادارہ مستند ہے، اس کے لیے دلائل کے ہتھیار سے اپنے آپ کو لیس کرنا ہو گا، تب ہی آپ آگے بڑھ سکتے ہیں، اقبال کا شعر ہے #
        ہم نے سوچا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم
        کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

تو ان کا مطمح نظر کچھ اور ہے اور آپ کا کچھ اور … تو جب مطمح نظر کا فرق ہے تو پھر آپ کو وہ ذرائع استعمال کرنے ہوں گے جس سے آپ کا م یابی پاسکیں۔ اس کے ساتھ میں اپنی گزارشات ختم کرتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں، میرے لیے بھی دعا فرمائیں ،میں بھی اس کا مستحق ہوں اور اگر آپ تک یہ بات پہنچ گئی اور آپ اس کو سمجھ گئے تو میں سمجھوں گا کہ الحمدلله کام یابی حاصل ہوئی، اقبال کا ایک شعر #
        خرد نے کہہ بھی دیا لا اِلٰہ تو کیا حاصل؟
        دل ونگہ جو مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

اگر آپ کی نگاہ، دل ،فکر، ذہن، خیالات اور جسم نہیں بدلا تو پھر آپ گھاٹے میں ہیں، جو ہمارے یہاں مسلمان ہیں وہ اپنے آپ کو بڑے عالم سمجھتے ہیں، لیکن ان کا ذہن اصلاً مغربی افکار کا گھر ہوتا ہے، ان پرمغربی افکار کی وجہ سے ایک رعب سا طاری ہوتا ہے۔ آپ پر الحمدلله وہ رعب نہیں، آپ لوگوں کا مصالحہ تیار ہے اور مصالحہ تیار ہو تو اس مصالحے کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو وہ نشانہ پر صحیح پہنچے گا۔








١) ڈرنے-والے:

إِنَّما يَخشَى اللَّهَ مِن عِبادِهِ العُلَمٰؤُا۟ [الفاطر:٢٨]


ترجمه:"...اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جن کو علم (سمجھ) ہے..."



اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں:

یعنی بندوں میں نڈر بھی ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے بھی مگر ڈرتے وہ ہی ہیں جو اللہ کی عظمت و جلال، آخرت کے بقاء و دوام، اور دنیا کی بے ثباتی کو سمجھتے ہیں اور اپنے پروردگار کے احکام و ہدایات کا علم حاصل کر کے مستقبل کی فکر رکھتے ہیں۔ جس میں یہ سمجھ اور علم جس درجہ کا ہو گا اسی درجہ میں وہ خدا سے ڈرے گا۔ جس میں خوف خدا نہیں وہ فی الحقیقت عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی سب آدمی ڈرنے والے نہیں۔ اللہ سے ڈرنا سمجھ والوں کی صفت ہے اور اللہ کا معاملہ بھی دو طرح ہے وہ زبردست بھی ہے کہ ہر خطا پر پکڑے، اور غفور بھی کہ گنہگار کو بخشے"۔ پس دونوں حیثیت سے بندہ کر ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ نفع و ضرر دونوں اسی کے قبضے میں ہوئے۔ تو جب چاہے نفع کو روک لے اور ضرر لاحق کر دے۔
----------------------------------
اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتاده رح نے فرمایا: "علم کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ دل میں الله کا خوف اور خشیت ہو".[حلية الأولياء: جز#٢، حديث # ٢٦٤٥]




علماء کی مغفرت:
سیدنا عبدالله بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "نہیں ہے کوئی عالم مگر الله تعالیٰ نے اس سے (یعنی ہر نیک عالم سے) وعدہ لیا ہے، جس دن الله تعالیٰ نے انبیاء علیہ السلام سے وعدہ لیا تھا، (کہ) ان سے گناہ ان کے علمی-مجلس کی وجہ سے ہٹ جاتا ہے (یعنی معاف کرتا ہے)، لیکن (انبیاء اور علماء میں یہ فرق ہے کہ) ان پر وحی نہیں ہوتی. (كنزالعمال١٠/١٧٦، حدیث # ٢٨٨٩٧، عن ابن_مسعود)




حضرت عبدللہ بن مسعودؓ، رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ: الله تعالیٰ قیامت کے دن علماء کو جمع کرکے فرماۓ گا کہ میں نے تمہارے دلوں میں اپنی حکمت کی باتیں صرف اس لئے ڈالی تھیں کہ میں تمہارے ساتھ خیر (بھلائی) کرنا چاہتا تھا، جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ، میں نے تمہارے گناہوں کو جو تم پر بوجھ تھے معاف کردیا.
خیر (بھلائی) کیا ہے:
القرآن:
1) نتیجہ_ایمان و تقویٰ = ٢:١٠٣، ٩٨:٧
2) تقویٰ کا سامان(زادِ راہ) = ٢:١٩٧، ٧:٢٦، ٢٩:١٦، ٦٤:١٦
3) حکمت = ٢:٢٦٩
4) صبر کرنا = ٤:٢٥، ١٦:١٢٦، ٢٨:٨٠، ٤٩:٥،
5) صلح کرنا = ٤:١٢٨
6) ایمان لانا = ٤:١٧٠، ١١:٨٦
7) شرکیہ کلمہ(بول) نہ کہنا(بولنا) = ٤:١٧١
8) آخرت کا گھر (اور اجر) = ٦:٣٢، ٧:١٦٩، ١٢:١٠٩، ١٦:٣٠،(١٢:٥٧)، ٤٢:٣٦، ٧٣:٢٠، ٨٧:١٧، ٩٣:٤
9) فرمانبرداری (سے اصلاح کرنا اور فساد کو مٹانا) = ٧:٨٥، ٦٤:١٦
10) حق سننے (ماننے) کی توفیق = ٨:٢٣، ٦٤:١٦
11) بہتر مال ملنا = ٨:٧٠
12) توبہ کرنا = ٩:٣، ٩:٧٤
13) جہاد فی سبیل الله میں مال اور جان سے نکلنا =٩:٤١، ٩:٨٨، ٦١:١١،
14) نبی_مکرم (صلے الله علیہ وسلم) کی (ہم پر) چشم-پوشی = ٩:٦١
15) الله کا فضل، رحمت اور نعمت (کتاب الله) = ١٠:58, ١٦:٣٠،٢٨:٢٤، ٤٣:٣٢،
16) سب سے آزادی، صرف الله واحد کی غلامی = ١٢:٣٩، ٢٧:٥٩،
17) (باقی رہنے والے نیک اعمال کا) بدلہ/ثواب = (١٨:٤٦، ١٩:٧٦)،١٦:٩٥،١٨:٤٤،٢٧:٨٩، ٢٨:٨٠+٨٤، ٧٣:٢٠
18) پورا ناپنا تولنا = ١٧:٣٥
19) جنّت اور باغ = ١٨:٤٠، ٢٥:١٠، ٢٥:١٥، ٢٥:٢٤، ٦٨:٣٢،
20) صالح و نیک اولاد = ١٨:٨١،
21) مال و دولت = ١٨:٩٥، ٣٣:١٩، ٣٨:٣٢، ٥٠:٢٥، ١٠٠:٨
22) الله تعالیٰ = ٢٠:٧٣، ٢٧:٥٩،
23) "رب کا" رزق (مادی دولت کے مقابلے میں روحانی دولت) = ٢٠:١٣١(٢٧:٣٦)
24) ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں "عظمت" رکھنا = ٢٠:٣٠
25) کعبے کے قربانی کے اونٹ "شعائر الله" = ٢٢:٣٦
26) نیک کام = ٢٢:٧٧، ٢٣:٦١، ٢٧:٨٩،
27) نیک گمان = ٢٤:١١-١٢
28) اجازت و سلام کے بغیر گھروں میں داخل نہ ہونا =٢٤:٢٧
29) (بڑی عورتوں کا) پردہ نہ چھوڑنا = ٢٤:٦٠
30) امین اور قوی ماتحت ملنا = ٢٨:٢٦
31) حقوق العباد ادا کرنا = ٣٠:٣٨
32) مہمانی ملنا = ٣٧:٦٢
33) قیامت میں امن و امان ملنا = ٤١:٤٠
34) صداقت و سچائی = ٤٧:٢١
35) جنّت کی عورتیں = ٥٥:٧٠
36) جنّتی میوے = ٥٦:٢٠
37) خیرات دینا = ٥٨:١٢، ٦٤:١٦ 
38) جمعہ نماز کے ذکر کے لئے کاروبار چھوڑکر جلدی کرنا = ٦٢:٩
39) پسندیدہ چیزیں ملنا = ٦٨:٣٨
40) ہزار مہینوں سے بہتر ليلة القدر (كا ملنا) = ٩٧:٣
اس کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے "خیر_کثیر" = ٢:٢٦٩

اور یہ سب "خیر" اسی (الله) کے ہاتھ (قبضہ) میں ہے = ٣:٢٦


اور اگر وہ تجھ کو پہنچاوے "بھلائی" تو وہ ہر چیز پر قادر ہے = ٦:١٧، ١٠:١٠٤


عَنْ عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى الْعُلَمَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَمْ أَجْعَلْ حِكْمَتِي فِي قُلُوبِكُمْ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ بِكُمُ الْخَيْرَ ، اذْهَبُوا إِلَى الْجَنَّةِ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ " .[مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي » كِتَابُ الْعِلْمِ ... رقم الحديث: 33]

حضرت عبدللہ بن مسعودؓ رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ: الله تعالیٰ قیامت کے دن علماء کو جمع کرکے فرماۓ گا کہ میں نے تمہارے دلوں میں اپنی حکمت کی باتیں صرف اس لئے ڈالی تھیں کہ میں تمہارے ساتھ خیر (بھلائی) کرنا چاہتا تھا، جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ، میں نے تمہارے گناہوں کو جو تم پر بوجھ تھے معاف کردیا.

حكم :
1 - يقولُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ للعلماءِ يومَ القيامةِ إذا قعدَ علَى كرسيِّهِ لفصلِ عبادِهِ :إنِّي لم أجعلْ علمي وحلمي فيكُم إلَّا وأَنا أريدُ أن أغفرَ لَكُم علَى ما كانَ فيكُم ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: المنذري المصدر: الترغيب والترهيب - الصفحة أو الرقم:1/81
خلاصة حكم المحدث: رواته ثقات

2 - يقولُ اللهُ – عزَّ وجلَّ – للعلماءِ يومَ القيامةِ – إذا قعد على كرسيِّهِ لفصلِ عبادِه -: إني لم أجعلْ علمي وحلمي فيكم إلا وأنا أريدُ أنْ أغفرَ لكم على ما كان منكم ولا أبالي.
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: الدمياطي المصدر: المتجر الرابح الصفحة أو الرقم: 19
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد

3 - يقولُ اللهُ تعالى للعُلَماءِ يومَ القيامةِ إذا قعَد على كُرسِيِّه لقَضاءِ عِبادِه : إنِّي لَم أجعلْ عِلمي وحكمَتي فيكُم إلَّا وأنا أريدُ أن أغفرَ لكُم ، على ما كانَ منكُم ، ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: ابن كثير المصدر: تفسير القرآن - الصفحة أو الرقم: 5/267
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد
فضیلتِ علم و مقامِ علماء
الحدیث : 
الله تعالیٰ قیامت کے دن علماء کو فرماۓ گا جب کرسی پر (اپنی شان کے مطابق) بیٹھے گا فیصلہ کو اپنے بندوں کے : میں نے تم میں اپنے علم اور اپنی حکمت (یعنی علم سے فائدہ پانے کی عقل)  کی باتیں صرف اس لئے ڈالی تھیں کہ میں تمہیں بخشنا چاہتا تھا، میں نے (تمہارے گناہوں کو) جو تم پر بوجھ تھے معاف کردیا، اور (اس بات میں) مجھے کوئی پرواہ نہیں.
اس (حدیث) کی سند عمدہ ہے.[تفسير القرآن لابن كثير: 5/267 ، سورة طه:2]
تخریج : [مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي  » كِتَابُ الْعِلْمِ ... رقم الحديث: 33]



4 - يقولُ اللهُ عزَّ وجلَّ للعلماءِ يومَ القيامةِ إذا قعَد على كرسيِّه لفصلِ عبادِه إنِّي لم أجعَلْ علمي وحِلْمي فيكم إلَّا وأنا أُرِيدُ أن أغفِرَ لكم على ما كان فيكم ولا أُبالِي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: الهيثمي المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 1/131
خلاصة حكم المحدث: رجاله موثقون

5 - يقولُ اللهُ , عزَّ وجلَّ , للعُلماءِ يومَ القيامَةِ إذا قعَد على كُرسيِّهِ لفصلِ عبادِه: إنِّي لم أجعَلْ عِلمي وحِلمي فيكُم إلَّا وأنا أُريدُ أنْأغفرَ لكمْ على ما كان فيكُم ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: البوصيري المصدر: إتحاف الخيرة المهرة - الصفحة أو الرقم: 8/266
خلاصة حكم المحدث: سنده رواته ثقات

6 - يقولُ اللهُ عزَّ وجلَّ للعلماءِ يومَ القيامةِ إذا قعدَ على كرسيِّهِ لفصلِ عبادِهِ : إنِّي لم أجعلْ عِلمي وحِلمي فيكم إلا وأنا أريدُ أنْ أغفرَ لكم على ما كان فيكُم ولا أُبالي
الراوي: ثعلبة بن الحكم المحدث: السيوطي المصدر: البدور السافرة - الصفحة أو الرقم: 281
خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات

7 - يبعثُ اللهُ العلماءَ يومَ القيامةِ فيقولُ يا معشرَ العلماءِ إنِّي لم أضعْ علْمي فيكم إلا لِعلْمي بكم ولم أضعْ علْمي فيكم لِأُعذِّبَكم انطلقوا فقد غفرتُ لكم ويقولُ اللهُ تعالى لا تحتقروا عبدًا أتيتُه علمًا فإنِّي لم أُحُقِّرْهُ حين علَّمْتُه
الراوي: أبو موسى الأشعري عبدالله بن قيس المحدث: ابن عراق الكناني المصدر: تنزيه الشريعة - الصفحة أو الرقم: 1/268
خلاصة حكم المحدث: له شاهد رجاله موثقون

8 - يجمع اللَّهُ تعالى العلماءَ يومَ القِيامةِ ثمَّ يقولُ يا معشرَ العلماءِ إنِّي لم أضَع علمي فيكم إلا لعِلمي بكُم ولم أضَع عِلمي فيكُم لأعذِّبَكُم اذْهبوا فقد غفرتُ لَكم
الراوي: - المحدث: ابن القيم المصدر: مفتاح دار السعادة - الصفحة أو الرقم: 1/400
خلاصة حكم المحدث: هذا وإن كان غريبا فله شواهد حسان
9 - إنَّ اللَّهَ - سبحانَهُ - إذا جمعَ النَّاسَ يومَ القيامَةِ في صعيدٍ واحدٍ، قالَ للعُلَماءِ: إنِّي كنتُ أعبدُ بفتواكُم، وقد علمتُ أنَّكم كنتُم تخلِطونَ كما يخلطُ النَّاسَ، وإنِّي لم أضع عِلمي فيكم وأنا أريدُ أن أعذِّبَكم، اذْهَبوا فقد غفرتُ لَكم
الراوي: - المحدث: ابن القيم المصدر: مدارج السالكين - الصفحة أو الرقم: 1/582
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد وروي مسنداً ومرسلا

10 - يقولُ اللهُ يومَ القيامةِ يا معشرَ العلماءِ إنِّي لم أضَعْ علمي فيكُم
الراوي: أبو موسى الأشعري عبدالله بن قيس المحدث: السيوطي المصدر: النكت على الموضوعات - الصفحة أو الرقم: 54
خلاصة حكم المحدث: للحديث شاهد من حديث ثعلبة بن الحكم رجاله موثقون


==========================
٢) عقل والے کون؟

وَتِلكَ الأَمثٰلُ نَضرِبُها لِلنّاسِ ۖ وَما يَعقِلُها إِلَّا العٰلِمونَ [العنکبوت :٤٣]
ترجمہ:"اور یہ مثالیں بٹھلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو "سمجھتے" وہی ہیں جن کو سمجھ(علم) ہے."



اللہ تعالیٰ کی مثال کو عاقل ہی سمجھتے ہیں:

مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ "مکڑی" اور "مکھی" وغیرہ حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرتا ہے جو اس کی عظمت کے منافی ہیں اس کا جواب دیا کہ مثالیں اپنے موقع کے لحاظ سے نہایت موزوں اور ممثل لہٗ پر پوری منطبق ہیں۔ مگر سمجھدار ہی اس کا مطلب ٹھیک سمجھتے ہیں ۔ جاہل بے وقوف کیا جانیں۔ مثال کا انطباق مثال دینے والے کی حیثیت پر نہیں کرنا چاہئے بلکہ جس کی مثال ہے اس کی حیثیت کو دیکھو، اگر وہ حقیر و کمزور ہے تو تمثیل بھی ایسی ہے حقیر و کمزور چیزوں سے ہو گی۔ مثال دینے والے کی عظمت کا اس سے کیا تعلق۔


جو شخص الله کے دین میں فقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کرتا ہے، الله تعالیٰ اس کے کاموں میں اس کی کفایت فرماتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہ گیا ہو.


الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1من تفقه في دين الله كفاه الله مهمه ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن الحارثمسند أبي حنيفة رواية الحصكفي303أبو حنيفة150
2من تفقه في دين الله كفاه الله ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن الحارثمسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم4---أبو حنيفة150
3من تفقه في دين الله رزقه الله من حيث لا يحتسب وكفاه همهعبد الله بن الحارثتاريخ بغداد للخطيب البغدادي8324 : 50الخطيب البغدادي463
4من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسبأنس بن مالكالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1179---عبد الكريم الرافعي623
5من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن جزءذيل تاريخ بغداد لابن النجار740---ابن النجار643
6من تفقه في دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسبعبد الله بن الحارثجامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر172216ابن عبد البر القرطبي463


طالبان علوم دين کے سبب رزق کا ملنا:
الحدیث : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ : سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو بھائی تھے ایک علم کے حصول کے لیے رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتا اور دوسرا حصول معاش کے لیے محنت کرتا محنت کرنے والے نے اپنے بھائی کی شکایت جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کی آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
'' شاید کہ تمہیں اُسی کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو ''.
امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے.


تشریح : حضور کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ تم یہی کیوں سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق ملتا ہے وہ حقیقت میں تمہارے کمانے کی وجہ سے ملتا ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تم اپنے اس بھائی کے ساتھ جو ایثار کا معاملہ کرتے ہو اور اس کی معاشی ضروریات کا بوجھ برداشت کر کے جس طرح اس کو فکر و غم سے دور رکھتے ہو اسی کی برکت کی وجہ سے تمہیں بھی رزق دیا جاتا ہو، پس اس صورت میں شکوہ وشکایت کرنے اور اس پر احسان رکھنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علم وعمل اور دینی خدمات کی طرف متوجہ رہنے اور زاد عقبی کی تیار کے لئے دنیاوی مشغولیات کو ترک کرنا جائز ہے ، نیز یہ حدیث اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ فقراء اور خاص طور پر اپنے ضرورت مند اور غریب اعزاء واقرباء کی خبر گیری کرنا اور ان کی معاشی ضروریات کی کفالت کرنا، رزق میں وسعت وبرکت کا باعث ہے۔
القرآن : اعانت کے اصل مستحق وہ حاجت مند ہیں، جو الله کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے، بے خبر آدمی ان کی خودداری دیکھ کر انہیں غنی خیال کرتا ہے ، تم ان کو ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے او رجو مال تم خرچ کروگے الله اس کو جانتا ہے۔(سورة البقرة:273)
اللہ والے اہل حاجت کی مدد:
یعنی ایسوں کو دینا بڑا ثواب ہے جو اللہ کی راہ اور اس کے دین کے کام میں مقید ہو کر چلنے پھرنے کھانے کمانے سے رک رہے ہیں اور کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرت ﷺ کے اصحاب تھے اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کر حضرت ﷺ کی صحبت اختیار کی تھی علم دین سیکھنے کو اور مفسدین فتنہ پر جہاد کرنے کو اسی طرح اب بھی جو کوئی قرآن کو حفظ کرے یا علم دین میں مشغول ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں اور چہرہ سے ان کو پہچاننا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے چہرے زرد اور بدن دبلے ہو رہے ہیں اور آثار جدوجہد ان کی صورت سے نمودار ہیں۔

علی العموم اور خاص کر ایسے لوگوں پر جن کا ذکر ہوا۔




=========================
٣) باعمل:
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّه ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ [الزمر:٩]
ترجمہ:"بھلا ایک شخص جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہوا، خطرہ رکھتا ہے آخرت کا اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی, "تو کہہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ(علم) والے اور بے (علم)سمجھ", سوچتے وہی ہیں جن کو عقل ہے"



فرمانبردار اور نافرمان برابر نہیں ہو سکتے:

یعنی جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا۔ کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا، کبھی سجدہ میں گرا۔ ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بیقرار کئے ہوئے ہے اور دوسری طرف اللہ کی رحمت نے ڈھارس بندھا رکھی ہے۔ کیا یہ سعید بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت خدا کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی ٹلی خدا کو چھوڑ بیٹھا، دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہوتا تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل یا سمجھدار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا۔ مگر اس بات کو بھی وہ ہی سوچتے سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے۔


نبی کے بعد سب سے بڑا سخی:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " اللَّهُ أَجْوَدُ جُودًا ، ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ ، وَأَجْوَدُ مَنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ , يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحْدَهُ " ، قَالَ : " أُمَّةً وَحْدَهُ " .
٢) مسند أبي يعلى الموصلي  » مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ  » مَا أَسْنَدَهُ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ ...رقم الحديث: ٢٧٦٤(٢٧٩٠)]


ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:"کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت کے اعتبار سے کون سب سا زیادہ سخی ہے؟ صحابہ رضی الله عنہم نے فرمایا کہ: الله اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں. آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ"سخاوت کے اعتبار سے سب سے زیادہ سخی الله تعالیٰ ہے، پھر میں بنی آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعد سب سے زیادہ سخی وہ ہے سب سے بڑا سخی وہ ہوگا جس نے علم سکھا اور پھر اس کو پھیلایا وہ شخص قیمت کے دن ایک امیر ہوگا یا ایک امت ہوگا"



فائدہ: ارشاد فرمایا کہ "سب سے زیادہ سخی الله تعالیٰ ہے" کہ دوست و دشمن سب کو رزق دیتا ہے، پھر انسانوں میں سب سے بڑا سخی الله کے رسول صلے الله علیه وسلم ہیں اور پھر عالم ہیں یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ ہے جس نے مال خرچ کیا، لوگوں کو کھانا کھلایا بلکہ یہ فرمایا کہ سب سے بڑا سخی وہ ہوگا جس نے دین کا علم سکھا اور پھر پھیلایا. الله تعالیٰ ہم سب کو دین کا علم سکھادے اور پھر پھیلانے کی توفیق عطا فرماۓ. آمین.

اور پھرآخر میں یہ فرمایا کے یہ مانند(ایسا) آئیگا کہ وہ کسی کے تابع (عوام کا پیرو) نہیں ہوگا بلکہ اس کے تابع اور لوگ ہونگے یا یہ فرمایا کہ وہ ایک جماعت کی مانند(جیسا) ہوگا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مخلوق اور خالق کے درمیاں معزز و مکرم ہوگا.[ماخذ: علماء کا کام اور مقام:صفحہ#٩، از شیخ امداد الله پشاوری]
==========================
٤) رب پر صحیح اور سچا ایمان لانے والے:

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ.[آل عمران:٧]



ترجمہ:"وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب، اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی، اور دوسری ہیں متشابہ یعنی جنکے معنیٰ معلوم یا معین نہیں، سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے، اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے، اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں، اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے".



جو لوگ مضبوط علم رکھتے ہیں وہ محکمات و متشابہات سب کو حق جانتے ہیں انہیں یقین ہے کہ دونوں قسم کی آیات ایک ہی سرچشمہ سے آئی ہیں جن میں تناقض و تہافت کا امکان نہیں۔ اسی لئے وہ متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹا کر مطلب سمجھتے ہیں۔ اور جو حصہ ان کے دائرہ فہم سے باہر ہوتا ہے اسے اللہ پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ہی بہتر جانے ہم کو ایمان سے کام ہے.

==========================
٥) ایمان و عمل والے پختہ علم والے ہوتے ہیں:



لَّٟكِنِ ٱلرَّٟسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٟٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا. [النساء:١٦٢]



ترجمہ:"لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں، اور ایمان والے سو مانتے ہیں اسکو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے، اور (آفریں ہے) نماز پر قائم رہنے والوں کو اور جو دینے والے ہیں زکوٰۃ کے اور یقین رکھنے والے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو ایسوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب."

==========================
٦) علماء کا بلند درجہ:
القرآن : ...یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ...[المجادلہ:١١]
...جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور (خصوصاً) جنکو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کے درجے بلند کرے گا۔...
حسن نے کہا حضرت ابنِ مسعودؓ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا لوگو! اس آیت کو سمجھو، یہ تم کو علم کی رغبت دلا رہی ہے، الله تعالیٰ فرما رہا ہے کہ مومن عالم، مومن ناواقف سے بہت درجہ اونچا ہے.
یعنی سچّا ایمان اور صحیح علم انسان کو ادب و تہذیب سکھلاتا (علم سے صحیح ایمان بنتا ہے.) اور متواضع بناتا ہے۔ اہل علم و ایمان جس قدر کمالات و مراتب میں ترقی کرتے ہیں، اسی قدر جھکتے اور اپنے کو ناچیز سمجھتے جاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ان کے درجے اور زیادہ بلند کرتا ہے مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ
باعمل علماء کو الله تعالیٰ دو درجہ عنایت فرماتا ہے: ایک اپنے علم جو جاہل باعمل لوگوں کو عطا نہیں فرماتا. کیونکہ عالم کے علم و عمل کی اقتدا کی جاتی ہے، بس عالم کو اپنے کیے ہوۓ کا ثواب تو دیا جاتا ہے، اور اقتدا کرنے والوں کا بھی پورا پورا اجر عطا فرماتا ہے اور ان اقتدا کرنے والوں کو ان کے عمل کا دیا جاتا ہے.
حدیث: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ حضرت انسؓ سے رسول الله ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: نیکی کے کام پر رہنمائی کرنے والا ایسے ہی ہے، جیسے نیکی کرنے والا.[مسند امام_اعظم:٤٧١؛ احمد: ٢١٧٧١؛ ابو يعلي: ٤٢٣٤؛ ترمذی:٢٦٧٠]


حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ... » بَاب فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ... رقم الحديث: 215]
الحدیث : حضرت ابوذرؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سے ارشاد فرمایا: تو صبح کو جا کر کتاب اللہ کی ایک آیت سیکھے یہ تیرے لیے سو رکعت نماز سے بہتر ہے اور تو صبح جا کر علم کا ایک باب سیکھے خواہ اس پر (اسی وقت) عمل کرے یا نہ کرے یہ تیرے لیے ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔

[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 219 (30142) - سنت کی پیروی کا بیان : قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت]
خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
شواھد:
أخرجه الديلمى (1/278، رقم 1084) عن أبى ذر.
أخرجه الديلمى من طريق ابن لال (1/2/291-292) عن ابن عمر.
أخرجه الخطيب (6/504) عن ابن عباس.



==========================================

٧) قرآن کے ورثاء:

القرآن : ثُمَّ أَورَثنَا الكِتٰبَ الَّذينَ اصطَفَينا مِن عِبادِنا ۖ فَمِنهُم ظالِمٌ لِنَفسِهِ وَمِنهُم مُقتَصِدٌ وَمِنهُم سابِقٌ بِالخَيرٰتِ بِإِذنِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَضلُ الكَبيرُ {35:32}
پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی [۴۱]
یعنی پیغمبر کے بعد اس کتاب کا وارث اس امت کو بنایا جو بہیأت مجموعی تمام امتوں سے بہتر و برتر ہے ہاں امت کے سب افراد یکساں نہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں جو باوجود ایمان صحیح کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں (یہ { ظَالِمٌ لِنَفْسِہٖ } ہوئے) اور وہ بھی ہیں جو میانہ روی سےرہتے ہیں۔ نہ گناہوں میں منہمک نہ بڑے بزرگ اور ولی (ان کو مقتصد فرمایا) اور ایک وہ کامل بندے جو اللہ کے فضل و توفیق سے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں سمیٹتے اور تحصیل کمال میں مقتصدین سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ مستحب چیزوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اور گناہ کے خوف سے مکروہ تنزیہی بلکہ بعض مباحات تک سے پرہیز کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجہ کی بزرگی اور فضیلت تو ان کو ہے۔ ویسے چنے ہوئے بندوں میں ایک حیثت سے سب کو شمار کیا۔ کیونکہ درجہ بدرجہ بہشتی سب ہیں۔ گنہگار بھی اگر مومن ہے تو بہرحال کسی نہ کسی وقت ضرور جنت میں جائے گا۔ حدیث میں فرمایا کہ ہمارا گنہگار معاف ہے، یعنی آخر کار معافی ملے گی۔ اورمیانہ سلامت ہے اور آگے بڑے سو سب سے آگے بڑھے، اللہ کریم ہے اس کے یہاں بخل نہیں۔

انبیاء علیہم السلام مال ودولت کا وارث نہیں بناتے، بلکہ وہ علم دین کا وارث بناتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے:
”انما العلماء ورثة الانبیاء، وان الانبیاء لم یورثوا دیناراً ولادرہماً، انما ورثوا العلم…،،۔
أخرجه أحمد (5/196، رقم 21763) ، وأبو داود (3/317، رقم 3641) ، والترمذى (5/48، رقم 2682) وقال: لا نعرف هذا الحديث إلا من حديث عاصم بن رجاء بن حيوة وليس هو عندى بمتصل. ثم أورد له إسنادًا وقال هذا أصح. وابن ماجه (1/81، رقم 223) ، وابن حبان (1/289، رقم 88) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/262، رقم 1696) أخرجه الطبرانى كما فى مجمع الزوائد (1/202) قال الهيثمى: فيه عثمان بن أيمن ولم أر من ذكره وكذلك إسماعيل بن صالح. والبيهقى فى شعب الإيمان (2/263، رقم 1699) . وأخرجه أيضًا: الرافعى (3/462) . أخرجه ابن عساكر (38/318) .


اس حدیث کی بنیاد پر علماء ملت کی بھی وہی ذمہ داریاں ہوگئیں جو ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو سونپی تھیں، گویا اب دنیا کی کسی سپر پاور کو انبیاء علیہم السلام کی یہ وراثت کتنی ہی چبھے اور کتنی ہی ان سیاہ کاروں کے لئے سوہان روح ہو، علماء اس وراثت سے دست بردار ہونے والے نہیں، بلکہ رسول اللہ ا کے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ اس وراثت کے علم برداروں کو پیدا کرتا رہے گا اور وہ اس وراثت کا حق ادا بھی کریں گے اور جب علماء ملت انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں تو ان وارثین کے ساتھ بھی وہی معاملات ہوں گے اور ہوتے چلے آئے ہیں کہ جو خود انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوئے۔ البتہ علمائے ملت ان مصائب میں اپنے ایمانی، روحانی درجات کے بقدر مبتلا ہوں گے۔ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے: 
”اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل،،۔ (مستدرک حاکم)

یعنی لوگوں میں سخت ترین امتحان انبیاء کا ہوتا ہے پھر درجہ بدرجہ۔

منور کردے یا رب! مجھ کو تقویٰ کے معالم سے،
ترے در تک جو پہنچادے ملادے ایسے عالم سے؛
کتب خانہ تو ہیں "اختر" بہت آفاقِ عالم میں،
جو ہو الله کا عالم، ملوں ایسے عالم سے.
(عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمّد اختر صاحب دامت برکاتہم)





بہترین اعمال کے بہترین عامل
القرآن : كُنتُم خَيرَ أُمَّةٍ أُخرِجَت لِلنّاسِ تَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤمِنونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَو ءامَنَ أَهلُ الكِتٰبِ لَكانَ خَيرًا لَهُم ۚ مِنهُمُ المُؤمِنونَ وَأَكثَرُهُمُ الفٰسِقونَ {3:110} 
ترجمہ : (مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں .


عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ".

ترجمہ : حضرت عثمانؓ رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھاۓ.(ترمذی)


نبی ﷺ کے بعد سب سے بڑا سخی:
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الأَجْوَدِ الأَجْوَدِ ؟ اللَّهُ الأَجْوَدُ الأَجْوَدُ ، وَأَنَا أَجْوَدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَأَجْوَدُهُمْ مِنْ بَعْدِي رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا ، فَنَشَرَ عِلْمَهُ ، يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَّةً وَاحِدَةً .[مسند أبي يعلى الموصلي » رقم الحديث: 2764
ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے ارشاد فرمایا کہ:"کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت کے اعتبار سے کون سب سے زیادہ سخی ہے؟ صحابہ رضی الله عنہم نے فرمایا کہ: الله اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں. آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "سخاوت کے اعتبار سے سب سے زیادہ سخی الله تعالیٰ ہے، پھر میں بنی آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعد سب سے زیادہ سخی وہ ہے سب سے بڑا سخی وہ ہوگا جس نے علم سیکھا اور پھر اس کو پھیلایا وہ شخص قیامت کے دن ایک امیر ہوگا یا ایک امت ہوگا
أخرجه أبو يعلى (5/176، رقم 2790) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/281، رقم 1767) .

فائدہ: ارشاد فرمایا کہ "سب سے زیادہ سخی الله تعالیٰ ہے" کہ دوست و دشمن سب کو رزق دیتا ہے، پھر انسانوں میں سب سے بڑا سخی الله کے رسول صلے الله علیه وسلم ہیں اور پھر عالم ہیں یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ ہے جس نے مال خرچ کیا، لوگوں کو کھانا کھلایا بلکہ یہ فرمایا کہ سب سے بڑا سخی وہ ہوگا جس نے دین کا علم سیکھا اور پھر پھیلایا. الله تعالیٰ ہم سب کو دین کا علم سکھادے اور پھر پھیلانے کی توفیق عطا فرماۓ. آمین.
اور پھر آخر میں یہ فرمایا کے یہ مانند(ایسا) آئیگا کہ وہ کسی کے تابع (عوام کا پیرو) نہیں ہوگا بلکہ اس کے تابع اور لوگ ہونگے یا یہ فرمایا کہ وہ ایک جماعت کی مانند(جیسا) ہوگا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مخلوق اور خالق کے درمیاں معزز و مکرم ہوگا.[ماخذ: علماء کا کام اور مقام:صفحہ#٩، از شیخ امداد الله پشاوری]




علماء کے حقوق :
فضیلتِ علم و مقامِ علماء
القرآن : (1) پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے ...[الفاطر:32] (2)...اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جو علماء ہیں. [الفاطر:28] (3)...اور نہیں عقل (سمجھ) رکھتے ان (باتوں) کی سوا عالموں کے.[العنکبوت :43] (4) بھلا ایک شخص جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہوا، خطرہ رکھتا ہے آخرت کا اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی ، تو کہہ کیا برابر ہوتے ہیں علم والے اور بے علم؟ سوچتے وہی ہیں جن کو عقل ہے.[الزمر:9] (5)...اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں ...[آل عمران:7] (6) لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں، اور ایمان والے سو مانتے ہیں اسکو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے...[النساء:162] (7) پس تم سوال کرو اہلِ علم سے، اگر تم نہیں علم رکھتے.[النحل:43 ، انبیاء:7]

عَنْ  عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ "


ترجمہ : حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ((وہ شخص میری امت میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی عزت چھوٹوں پر شفقت اور ہمارے (مسلم) عالم کا حق(مقام) نہ پہچانے))۔



تشریح : علماء کا حق یہ ہے کہ دین و آخرت کے سلسلہ میں ان کی جانب رجوع کیا جاۓ. اگر وہ دین و علم کی خدمت اور اشاعت کریں تو دینی معاملہ میں ان کی مدد و نصرت کی جاۓ تاکہ وہ دین کی خدمت کرکے دین کو باقی رکھ سکیں اور آنے والی نسلوں میں اس کا سلسلہ جاری رہ سکے. دین کی خدمت اور اس کی ہمہ تن مشغولی سے اگر وہ دنیا نہ کما سکیں تو ان کی دنیوی ضرورتوں کا خیال رکھیں. ان کی توقیر و تعظیم کی جاۓ، دینی امور میں ان کی اطاعت کی جاۓ. معمولی معمولی باتوں پر ان سے بدگمانی نہ کی جاۓ، ان پر طعن و ملامت نہ کی جاۓ. ایسا کرنے کی صورت میں عوام کا دین جاتا رہیگا. آخر وہ دین کس سے حاصل کریں گے. اس لئے حتى المقدور ان سے حسن_ظن اور بہتر تعلق رکھا جاۓ اور قابل_اعتراض معاملہ پر دل میں کچھ پیدا ہو تو توجیہ کرتے ہوے ان کا معاملہ خدا کے حوالے کردیا جاۓ. یہ عجیب طرزِ عمل ہے کہ امام کو چپڑاسی کی حیثیت بھی نہیں دیتے اور توقع اس سے قائدانہ کردار کی رکھتے ہیں۔


حضرت علیؓ نے فرمایا : عالم کے تمہارے اوپر بہت سارے حقوق ہیں، منجملہ ان میں سے یہ ہے کہ تم لوگوں کو عمومی سلام کرو اور عالم کو عمومی سلام کے علاوہ خصوصی سلام کرو، عالم کے سامنے بیٹھو، اس کے سامنے بیٹھ کر ہاتھ سے اشارے مت کرو آنکھوں سے اشارے مت کرو، اس کی مجلس میں کسی سے سرگوشی (کانوں میں باتیں) مت کرو، اس کے کپڑے مت پکڑو، جب وہ اکتاتا ہو تو اس کے پاس مت بیٹھ جاؤ اس کی طویل (لمبی) صحبت سے پہلو تھی مت کرو چونکہ وہ کھجور کے کے مانند ہے تو اس کے انتظار میں ہے کہ کب تجھ پر گرے گی. مومن عالم کا اجر و ثواب روزہ دار قاری قرآن، غازی فی سبیل الله سے کہیں زیادہ ہے، جب عالم مرجاتا ہے اسلام میں دراڑ پڑجاتی ہے جسے تاقیامت پر نہیں کیا جا سکتا.[کنز العمال (مترجم) :٥/٤٦١]


قرآن_پاک میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی...[٣:٨١]


فائدہ: جس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام سے وعدہ لیا تھا، اس طرح علماء سے بھی الله تعالیٰ نے وعدہ لیا تھا کہ تم بھی ایک دوسرے کی مدد و تائید کرو.


اس حدیث سے (یہ بھی) صاف معلوم ہوتا ہے کہ علماء_کرام اور انبیاء_کرام علیھم السلام کا کام ایک ہے یعنی دین کی اشاعت کرنا اور لوگوں پر محنت کرنا اور آپس میں محبت رکھنا. الله تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمت نصیب فرماۓ. آمین

=========================================



حَدِيثِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا يَسْتَخِفُّ بِحَقِّهِمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، ذُو الشَّيْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ , وَالْإِمَامُ الْمُقْسِطُ , وَمُعَلِّمُ الْخَيْرِ»
[جامع بيان العلم:1/542، رقم الحدیث:898]


رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ جن کے حق کو منافق کے سوا کوئی شخص حقیر وذلیل نہیں سمجھ سکتا: ایک وہ شخص جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا، دوسرا خیر کی تعلیم دینے والا(عالم)  اور تیسرا عادل بادشاہ۔




عن أبي أمامةَ عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال:

"ثلاثٌ لا يَستَخِفُّ بهم إلا منافقٌ: ذو الشيبة في الإسلام، وذو العلمِ، وإمامٌ مُقسِط".
[الأموال لابن زنجويه » بَابٌ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَوْقِيرِ أَئِمَّةِ الْعَدْلِ ... رقم الحديث: 49 - المعجم الكبير للطبراني » بَابُ الصَّادِ » مَنِ اسْمُهُ الصَّعْبُ » صُدَيُّ بْنُ الْعَجْلانِ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ... رقم الحديث: 7720(7817) - التَّرْغِيب وَالتَّرْهِيب، للمنذري:1/65، كتاب الْعلم، حديث:174 - مجمع الزوائد، للهيثمي: 1/132]
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ جن کو منافق کے سوا کوئی شخص حقیر وذلیل نہیں سمجھ سکتا: ایک وہ شخص جو اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوگیا، دوسرا صاحبِ علم اور تیسرا عادل بادشاہ۔


حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ: ثَلَاثٌ لَا يَسْتَخِفُّ بِحَقِّهِنَّ إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنٌ نِفَاقُهُ: الْإِمَامُ الْمُقْسِطُ وَمُعَلِّمُ الْخَيْرِ وَذُو الشَّيْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ.
[مصنف ابن أبي شيبة : كِتَابُ الْسير، باب مَا جَاءَ فِي الْإِمَامِ الْعَادِلِ ... 32562(6/421)]



علماء سے مقابلہ کرنے والوں کا انجام
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ ، تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
[جامع الترمذي » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَطْلُبُ بِعِلْمِهِ الدُّنْيَا ... رقم الحديث: 2598(2654)]
الحدیث : حضرت کعب بن مالکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اس لیے علم سیکھا کہ اس کے ذریعہ سے علماء کا مقابلہ کرے یا بے وقوف لوگوں سے بحث و جھگڑا کرے اور لوگوں کو اس سے اپنی طرف متوجہ کرے (تاکہ وہ اسے مال وغیرہ دیں) تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو جہنم میں داخل کرے گا۔
[أخرجه الترمذى (5/32، رقم 2654) وقال: غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه وإسحاق بن يحيى ليس بذاك القوى عندهم تكلم فيه من قبل حفظه. وأخرجه أيضًا: ابن أبى الدنيا فى الصمت (ص 106، رقم 141) ، والطبرانى (19/100، رقم 199) .]
خلاصة حكم المحدث : حسن
[المحدث : الألباني| صحيح الترمذي: 2654 - صحيح ابن ماجه: 207 صحيح الجامع: 6383 ]

حضرت ابن عمر رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں: جس نے اس لئے علم حاصل کرنا چاہا کہ بے وقوفوں سے تکرار کرے یا علم والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی ظاہر کرے یا عوام کے قلوب اپنی طرف مائل کرے وہ دوزخ میں جائے گا۔


عن جابر : لا تعلموا العلم لتباهوا به العلماء ولا لتماروا به السفهاء ولا لتجترئوا به المجالس فمن فعل ذلك فالنار النار۔ 
أخرجه ابن ماجه (1/93، رقم 254) ، قال البوصيرى (1/37) : هذا إسناد رجاله ثقات على شرط مسلم. وابن حبان (1/278، رقم 77) ، والحاكم (1/161، رقم 290) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/282، رقم 1771) ، وابن عدى (7/216، ترجمة 2113 يحيى بن أيوب الغافقى) ، وقال: صدوق لا بأس به.




*************************************

نفس پرستی علم ہونے کے باوجود بھی گمراہ کردیتی ہے:

القرآن : بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا رکھا ہے اور باوجود علم کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو (اس نفس پرستی کے سبب) گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟ (الجاثیہ : 23)

الحدیث : حضرت عبدالله بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول الله ﷺ نے: "کبھی کوئی شخص مومن کامل نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ اس کی خواھش_نفسانی ان احکام کے تابع (چلنے ولی) نہ ہوجائیں جن کو میں لایا ہوں".
[مشكوة بحوالہ شرح السنة : كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابُ بَيَانِ أَعْمَالِ الإِسْلامِ وَثَوَابِ إِقَامَتِهَا، بَابُ رَدِّ الْبِدَعِ وَالأَهْوَاءِ, رقم الحديث: 103]
یعنی جو خواھش اس دین کے مطابق ہو تو وہ اچھی ہے.

غیر عالم کی فتویٰ اور راۓ:
1) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» قَالَ الفِرَبْرِيُّ: حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ۔
[صحيح البخاري- كِتَابُ العِلْمِ، بَابٌ: كَيْفَ يُقْبَضُ العِلْمُ، رقم الحدیث:100]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے) نکال لے بلکہ علماء کو موت دیکر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔
[وأخرجه عبد الرزاق (20481) ، وابنُ أبي شيبة 15/177، والحميدي (581) ، وابن المبارك في "الزهد" (816) ، والدارمي 1/77، والبخاري (100) ، ومسلم (2673) (13) ، وابن ماجه (52) ، والترمذي (2652) ، والنسائي في "الكبرى" (5907) ، وابن حبان (4571) و (6719) و (6723) ، والطبراني في "الأوسط" (55) و (992) ، والبغوي (147) ، وأبو نعيم في "الحلية" 10/25، و"تاريخ أصبهان" 1/196 و2/138 و142، والبيهقي في "الدلائل" 6/543، و"المدخل" (850) و (851) ، وابن عبد البر في "جامع بيان العلم" ص 198، 201، والخطيب في "تاريخ بغداد" 3/74 و4/282 و8/368 و10/375 من طرق، عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد.
وأخرجه الطيالسي (2292) ، وعبد الرزاق (20477) ، وأبو نعيم في "الحلية" 2/181، من طريقين عن يحيى بن أبي كثير، عن عروة بن الزبير، به.
وأخرجه مسلم (2673) (14) ، والبيهقي في "المدخل" (852) من طريق أبي الأسود، عن عروة بن الزبير، عن عبد الله بن عمرو.
وأخرجه عبد الرزاق (20481) من طريق هشام بن عروة، عن قتادة، عن عبد الله بن عمرو.
وأخرجه مسلم (2673) (13) أيضاً من طريق عمر بن الحكم، عن عبد الله بن عمرو.
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (2322) ، وابن عدي في "الكامل" 5/1965 من طريق الأعمش، عن خيثمة، عن عبد الله بن عمرو.
وسيرد برقم (6896) .
وفي الباب عن أبي أمامة، وسيرد 5/266.
وعن عائشة عند البزار (233) (زوائد) ، وقال: تفرد به يونس، ورواه معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عبد الله بن عمرو -قلنا: هذه الرواية سترد برقم (6896) -، وعند الخطيب في "تاريخ بغداد" 5/313.
وعن أبي هريرة عند ابن أبي شيبة 15/176-177، وابن عدي 5/1865.
وعن ابن عباس عند الدارمي 1/78.
وعن مالك بن عوف الأشجعي عند البزار (232) .]



تشريح : (١) اس حديث میں واضح طور پر فتویٰ دينا علماء كا كام قرار ديا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں، یہی حاصل ہے تقلید (ائمہ و علماء) کا.
(٢) نبی ﷺ نے (بعد کے) ایک ایسے زمانہ کی خبر دی، جس میں علماء مفقود ہوجائیں گے، اور (فقہِ دین - قرآن:9/122) جاہل قسم کے لوگ فتویٰ دینے شروع کردیں گے، یھاں سوال یہ ہے کہ اس دور میں احکامِ شریعت پر عمل کرنے کی سواۓ اس کے اور کیا صورت ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ گزرے ہوے (علم و عمل میں معتبر) علماء کی تقلید کریں،کیونکہ جب زندہ لوگوں میں کوئی عالم نہیں بچا تو کوئی شخص براہِ راست قرآن و سنّت سے احکام مستنبط کرنے کا اہل رہا، اور نہ ہی کسی (معتبر) زندہ عالم کی طرف رجوع کرنا اس کی قدرت میں ہے، کیونکہ کوئی عالم موجود ہی نہیں، لہذا احکامِ شریعت پر عمل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں رہتی کہ جو علماء وفات پاچکے ہیں اس کی تصانیف وغیرہ کے ذریعہ ان کی تقلید کی جاۓ.
لہذا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک علماءِ اہلِ اجتہاد موجود ہوں اس وقت ان سے مسائل معلوم کے جائیں، اور ان کے فتووں پر عمل کیا جاۓ، اور جب کوئی علم باقی نہ رہے تو نااہل لوگوں کو مجتہد سمجھہ کر  ان کے فتووں پر عمل کرنے کی بجاۓ گزشتہ علماء میں سے کسی کی تقلید کی جاۓ.




علم، علماء کی موت سے اٹھالیا جائیگا:
زمانے میں تبدیلی آنے اور اس میں نئے امور پیدا ہونے کا تذکرہ
2) حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ مَوْلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى, عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الله قَالَ: لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ إِلاَّ وَهُوَ شَرٌّ مِنَ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ, أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَعْنِي عَامًا أَخْصَبَ مِنْ عَامٍ، وَلَا أَمِيرًا خَيْرًا مِنْ أَمِيرٍ, وَلَكِنْ عُلَمَاؤُكُمْ وَخِيَارُكُمْ وَفُقَهَاؤُكُمْ يَذْهَبُونَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ مِنْهُمْ خَلَفًا, وَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ.
[سنن الدارمي » بَاب تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَمَا يَحْدُثُ فِيهِ ۔۔۔ رقم الحديث: 190(194)]
حضرت عبداللہ بن مسعود ارشاد فرماتے ہیں تمہارا آنے والا ہر برس گزرے ہوئے برس سے زیادہ برا ہوگا میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک سال دوسرے سال سے زیادہ خراب ہے یا ایک حکمران دوسرے حکمران سے زیادہ بہتر ہے بلکہ تمہارے علماء تمہارے معزز لوگ اور تمہارے فقہاء رخصت ہوجائیں گے پھر تمہیں ان کا حقیقی نائب نہیں ملے گا اور وہ لوگ آجائیں گے جو معاملات میں اپنی رائے کے ذریعے قیاس کرکے حکم بیان کریں گے۔
[دارمي:194،البدع لابن وضاح:228(1:159)، المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي:147(1:188)، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:1219-1221(2:1042)، ذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري:258(279)، الإتحاف:13235]



تشريح : (١) اس حديث میں واضح طور پر فتویٰ دينا علماء كا كام قرار ديا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں، یہی حاصل ہے تقلید (ائمہ و علماء) کا.

(٢) نبی ﷺ نے (بعد کے) ایک ایسے زمانہ کی خبر دی، جس میں علماء مفقود ہوجائیں گے، اور (فقہ_دین- قرآن:9/122) جاہل قسم کے لوگ فتویٰ دینے شروع کردیں گے، یھاں سوال یہ ہے کہ اس دور میں احکام_شریعت پر عمل کرنے کی سواۓ اس کے اور کیا صورت ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ گزرے ہوے (علم و عمل میں معتبر) علماء کی تقلید کریں،کیونکہ جب زندہ لوگوں میں کوئی عالم نہیں بچا تو کوئی شخص براہ_راست قرآن و سنّت سے احکام مستنبط کرنے کا اہل رہا، اور نہ ہی کسی (معتبر) زندہ عالم کی طرف رجوع کرنا اس کی قدرت میں ہے، کیونکہ کوئی عالم موجود ہی نہیں، لہذا احکام_شریعت پر عمل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں رہتی کہ جو علماء وفات پاچکے ہیں اس کی تصانیف وغیرہ کے ذریعہ ان کی تقلید کی جاۓ.
لہذا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک علماء_اہل_اجتہاد موجود ہوں اس وقت ان سے مسائل معلوم کے جائیں، اور ان کے فتووں پر عمل کیا جاۓ، اور جب کوئی علم باقی نہ رہے تو نا اہل لوگوں کو مجتہد سمجھہ کر ان کے فتووں پر عمل کرنے کی بجاۓ گزشتہ علماء میں سے کسی کی تقلید کی جاۓ.

*******************************
لہذا، دعا_نبوی ﷺ کرتے رہیے:

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، ابن عجلان، سعید بن ابی سعید، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا یہ بھی ہے اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں علم غیر نافع سے (یعنی جس کے مطابق عمل نہ کرے) اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے اور اس دل سے جس میں خوف نہ اور ایسے نفس سے جو کبھی بھی سیر نہ ہو۔


[سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 250]

سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 251 ,30174 

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، موسیٰ بن عبیدة، محمد بن ثابت، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ! جو علم آپ نے مجھے عطا فرمایا اس سے نفع بھی دیجئے اور مجھے ایسے علوم سے نواز دیجئے جو میرے لئے نافع اور مفید ہوں اور میرے علم میں خوب اضافہ فرما دیجئے اور ہر حال میں تمام تعریفیں آپ ہی کے لیے ہیں۔ ایک اور روایت سے بھی یہ مضمون ایسے ہی مروی ہے۔
[جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1556, 29490]


نبوی دعا (ﷺ) : 
أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآَلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لا يُدْرِكُنِي زَمَانٌ ، أَوْ لا أُدْرِكُ زَمَانَ قَوْمٍ ، لا يَتَّبِعُونَ الْعِلْمَ ، وَلا يَسْتَحْيُونَ مِنَ الْحَلِيمِ ، قُلُوبِهُمُ الأَعَاجِمُ ، وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ .[المستدرك على الصحيحين » :رقم الحديث: 8655 
قَالَ أَبِي : الأَعْجَمُ الدَّوَابُّ ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ. (بخاري:6429)
[شعب الإيمان للبيهقي » رقم الحديث: 7226 (6/143)]
[الترغیب والترہیب: ١/٤١٤، شمائل_کبریٰ: ٢/٣١٨]

اے الله! مجھے وہ زمانہ نہ ملے، یا میں نہ پاؤں ایسے زمانہ کی قوم ،  جس میں علماء کی اتباع (پیروی) نہ کی جاۓ (اپنی نفس و مزاج کی مانی جاۓ)، اور حلیم (بردبار) سے حیا نہ کی جاۓ، لوگوں کے دل تو عجم کی طرح ہوں اور زبان عرب کی طرح ہو (یعنی چرب زبان محبت سے خالی دل ہوں). 
میرے والد نے کہا کہ اعجم چوپاۓ ہیں. اور اس قول کی تفسیر یہ قولِ رسول ﷺ ہے کہ : چوپاۓ اگر کسی کو زخمی کردیں تو ان کا کوئی خون بہا نہیں.



تشریح: ((قُلُوبُ الأَعَاجِمِ)) سے مراد ان کے دل دنیا کی محبّت اور دیہاتیوں کے طریقے میں ایسی ہوجائیں گی کہ جو عطا ہوگا ان کو الله کا رزق (دیا ہوا) بنائیں گے اس کو حیوانوں میں  دیکھیں(سمجھیں) گے جہاد کو نقصاندہ اور صدقہ (و ذكواة) کو تاوان کا بوجھ .
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي شُفَيٌّ الأَصْبَحِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تَكُونُ قُلُوبُهُمْ فِيهِ قُلُوبَ الأَعَاجِمِ ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا قُلُوبُ الأَعَاجِمِ ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا ، وَسُنَّتُهُمْ سُنَّةَ الأَعْرَابِ : مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ رِزْقٍ جَعَلُوهُ فِي الْحَيَوَانِ ، يَرَوْنَ الْجِهَادَ ضِرَارًا ، وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا " .
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ليأتين على الناس زمان قلوبهم قلوب الأعاجم قيل وما قلوب الأعاجم قال حب الدنيا سنتهم سنة الأعراب ما آتاهم الله من رزق جعلوه في الحيوان يرون الجهاد ضرارا والصدقة مغرماعبد الله بن عمروالمطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر46474493ابن حجر العسقلاني852
2يأتي على الناس زمان قلوبهم قلوب الأعاجم ما آتاهم الله من رزق جعلوه في الحيوان يعدون الصدقة مغرما والجهاد ضراراعبد الله بن عمروبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث2941 : 103الهيثمي807
3ليأتين على الناس زمان تكون قلوبهم فيه قلوب الأعاجم فقيل له وما قلوب الأعاجم قال حب الدنيا وسنتهم سنة الأعراب ما آتاهم الله من رزق جعلوه في الحيوان يرون الجهاد ضرارا والصدقة مغرماعبد الله بن عمروتهذيب الآثار للطبري171201ابن جرير الطبري310


عن سهل بن سعد الساعدي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال : اللهم لا يدركني زمان - أو لا تدركوا زمانا - لا يتبع فيه العليم ، ولا يستحيا فيه من الحليم ، قلوبهم قلوب الأعاجم ألسنتهم ألسنة العرب " .
[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد » كتاب العلم » باب فيمن لا يتبع أهل العلم ... ٢/٩٠ ، ٨٦١]
حضرت سہلؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! میں ایسا دور کبھی نہ پاؤں - اور تم (صحابی) بھی نہ پاؤ - جس میں اہل علم کی پیروی نہ کی جائے ، بردبار سے شرم نہ کی جائے ، جن کے دل عجمیوں کی طرح اور زبانیں اہل عرب کی طرح ہوں ۔
[مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2883 (68082)]
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم لا يدركني زمان و لا تدركوا زمانا لا يتبع فيه العليم ولا يستحيى فيه من الحليم قلوبهم قلوب الأعاجم وألسنتهم ألسنة العربسهل بن سعدمسند أحمد بن حنبل2228322371أحمد بن حنبل241
2اللهم لا يدركني زمان لا يتبع فيه العليم ولا يستحيا فيه من الحليم قلوبهم قلوب العجم وألسنتهم ألسنة العربسهل بن سعدمسند الروياني11111116محمد بن هارون الروياني307
3اللهم لا يدركني زمان أو لا تدركوا زمانا لا يتبع العليم ولا يستحيا فيه من الحليم قلوبهم قلوب الأعاجم وألسنتهم ألسنة العربسهل بن سعدإتحاف المهرة5968---ابن حجر العسقلاني852
4اللهم لا يدركني زمان ولا أدركه لا يتبع فيه العالم ولا يستحيى فيه من الحليم قلوبهم قلوب العجم وألسنتهم ألسنة العربسهل بن سعدالسنن الواردة في الفتن للداني224221عثمان بن سعيد الداني444
5اللهم لا يدركني زمان ولا أدركه لا يتبع فيه العالم ولا يستحيا فيه من الحليم قلوبهم قلوب العجم ألسنتهم ألسنة العربسهل بن سعدأخلاق حملة القرآن للآجري611 : 68الآجري360
***************************************
عالم کی موت:

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لا تُجْبَرُ ، وَثُلْمَةٌ لا تُسَدُّ , وَنَجْمٌ طُمِسَ ، مَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ .[شعب الإيمان للبيهقي، ٢:٢٤٦]



حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ ایک قبیلہ کی موت ایک عالم کی موت سے آسان ہے.(کنزالعمال: ١/١٦٦)
کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو
تم ڈھونڈھنے نکلوگے ؛ مگر پا نہ سکوگے



یعنی ایک قبیلہ یا قوم مرجاتے تو اس کا غم اتنا نہیں، جتنا ایک عالم کی موت کا غم ہے. اس لئے کہ عالم کی زندگی سے انسانوں کو دنیا و آخرت کی زندگی کی رہنمائی اور کامیابی ملتی ہے.
ایک حدیث میں رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عالم کی موت پر غمزدہ نہ ہو، تو(تین مرتبہ فرمایا کہ) وہ منافق ہے، منافق ہے، منافق ہے.
حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ ایک ہزار عابد جو شب_بیدار ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہوں، ان کی وفات ایک ایسے عالم سے زیادہ سہل ہے جو حلال و حرام سے واقف ہو.(احیاء العلوم، للغزالی)


عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا ، وَلا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلَكَ 

حضرت ابو بکرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:"تم یا تو عالم بنو، یا طالب_علم، یا علم توجہ سے سننے والے بنو، یا ان (سب) سے محبت کرنے والے بنو، (ان چار کے علاوہ) پانچویں قسم کی مت بننا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے. اور پانچویں قسم یہ ہے کہ تم علم اور علم-والوں سے بغض رکھنے لگو".[رواہ طبرانی فی ثلاثه والبزار ورجاله موثقون، مجمع الزوائد:١/٣٢٨، منتخب احادیث: کتاب العلم، صفحہ # ٢٧٧]




علم دین سے ہر بھلائی اور بہتر ودائمی نفع پانا اور ہر برائی اور بہتر ودائمی نقصان سے بچنا ممکن ہے، خالق ومخلوق کے رضا، ان کے حقوق(عبادت و اخلاق)کا علم حاصل کیے بغیر ممکن نہیں.

================================

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ الدِّمَشْقِيُّ , عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُولُ : " الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ , مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرَ اللَّهِ , وَمَا وَالَاهُ أَوْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مَثَلُ الدُّنْيَا ... رقم الحديث: 4110]



[أخرجه الترمذى (4/561 رقم 2322) وقال: حسن غريب. وأخرجه أيضًا: ابن ماجه (2/1377 رقم 4112) . والحكيم (4/179) ، والبيهقى فى شعب الإيمان(2/265، رقم 1708) . أخرجه ابن عساكر (47/145) .
أخرجه البزار (5/145، رقم 1736) . قال الهيثمى (7/264) : فيه المغيرة بن مطرف، ولم أعرفه وبقية رجاله وثقوا.
حديث ابن مسعود: أخرجه الطبرانى فى الأوسط (4/236، رقم 4072) . قال الهيثمى (1/122) : أبو المطرف المغيرة بن مطرف لم أر من ذكره.]
خلاصة حكم المحدث: حسن

================================


فضیلت علم پر چالیس احادیث شریفہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم


الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔



چونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص چالیس حدیثیں یاد کرے تو اس کا حشر علماء کے ساتھ ہوگا، اس لئے فضائل علم میں چالیس احادیث منتخب کرکے جمع کی گئی ہیں‘ گو ان کے سوا بھی اس باب میں بکثرت احادیث وارد ہیں:





ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے :علم‘ عبادت سے افضل ہے۔[جامع الاحایث:14691+14692]
[أخرجه الطبرانى (11/38، رقم 10969) قال الهيثمى (1/120) : فيه سوار بن مصعب ضعيف جدا. وأخرجه أيضًا: القضاعى (1/59، رقم 40) ، وابن عدى (3/455، ترجمة 871 سوار بن مصعب) وقال: قال البخارى: منكر الحديث. والخطيب (4/436) ، وابن عبد البر فى جامع بيان العلم (1/23) ، وابن الجوزى فى العلل المتناهية (1/77، رقم 77) .
أخرجه البزار (7/371، رقم 2969) ، والطبرانى فى الأوسط (4/197، رقم 3960) قال الهيثمى (1/120) : فيه عبد الله بن عبد القدوس وثقه البخارى وابن حبان وضعفه ابن معين. والحاكم (1/171، رقم 317) .]


(2) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلم حیاۃ الاسلام و عماد الدین۔ (ابوالشیخ)



ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے علم اسلام کی زندگی اور دین کا ستون ہے۔




عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دِينٍ ، وَلَفَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ، وَلِكُلِّ دِينٍ عِمادٌ , وَعِمادُ الدِّينِ الْفِقْهُ " .
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللهؐ سے مروی ہیں : نہیں عبادت کی گئی الله کی کسی شی سے افضل دین میں فقہ حاصل کرنے سے، اور ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے، اور ہر دین کے لئے ایک ستون ہوتا ہے، اور (اس) دین کا ستون فقہ ہے.[جامع الاحایث:20160]
[ذكره الحكيم (1/135) ، وأخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (2/266، رقم 1711) وقال: تفرد به عيسى بن زياد بهذا الإسناد وروى من وجه آخر ضعيف والمحفوظ هذا اللفظ من قول الزهرى.]



(3) عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعِلْمُ مِيرَاثِي وَمِيرَاثُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي ، فَمَنْ كَانَ يَرِثُنِي فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " وَقَدْ رَوَى أَبُو الدَّرْدَاءِ بَعْضَ هَذَا اللَّفْظِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
[مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم » باب الألف » رِوَايَتُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ...رقم الحديث: 51]



ترجمہ:روایت ہے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے کہ علم میری اور مجھ سے سابق انبیاء کی میراث ہے تو جو میری میراث پاۓ تو وہ جنّت میں ہوگا۔[جامع الاحادیث:14502]
[أخرجه أبو نعيم فى مسند أبى حنيفة (1/57) قال المناوى (4/391) : فيه إسماعيل بن عبد الملك، قال الذهبى: قال النسائى: غير قوى.]



(4) عَنْ سَلْمَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَوْمٌ عَلَى عِلْمٍ خَيْرٌ مِنْ صَلاةٍ عَلَى جَهْلٍ "۔
[حلية الأولياء لأبي نعيم » إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ : رقم الحديث: 6201]


ترجمہ: حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے کہ علم کے ساتھ سو رہنا بہتر ہے اس نماز سے جو جہل کے ساتھ ہو۔
[جامع الاحایدث:24900، أخرجه أبو نعيم فى الحلية (4/385) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (4/247، رقم 6732) .]


(5) عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَعِّبدُ بِغَيْرِ فِقْهٍ كِالْحِمَارِ فِي الطَّاحُونَةِ "۔
[حلية الأولياء لأبي نعيم » خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ: رقم الحديث: 7115]




ترجمہ:روایت ہے حضرت واثلہؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: عبادت بغیر فقہ (سمجھ) کے ایسی ہے جیسے گدھا چکی سے باندھا جاتا ہے۔



(6) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: قلب لیس فیہ شیء من الحکمۃ کبیت خرب، فتعلموا وعلموا، و تفقھوا ولا تموتوا جھالاً فان اللہ لا یعذر علی الجھل۔ (ابن السنی)



ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: جس دل میں حکمت نہ ہو وہ مثل ویران گھر کے ہے، پس سیکھو اور سکھاؤ اور سمجھ پیدا کرو اور مت مرو حالت جہل میں کیونکہ اللہ تعالیٰ عذرِ جہل قبول نہیں فرماتا ہے۔



(7) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُيِّرَ سُلَيْمَانُ بَيْنَ الْمَالِ وَالْمُلْكِ وَالْعِلْمِ ، فَاخْتَارَ الْعِلْمَ ، فَأُعْطِيَ الْمُلْكَ وَالْمَالَ لِاخْتِيَارِهِ الْعِلْمَ " .


ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: سلیمان علیہ السلام کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں ملک و سلطنت و مال اختیار کریں یا علم‘ انہوں نے علم اختیار کیا جس کے باعث ان کو ملک بھی دیا گیا اور مال بھی۔[أخرجه ابن عساكر (22/274) ، والديلمى (2/192، رقم 2957) .]


(8) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لکل شیء طریق و طریق الجنۃ العلم ۔(دیلمی فی الفردوس)



ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر چیز کے لئے ایک راستہ ہوتا ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔


(9) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَسْأَلَةٌ وَاحِدَةٌ يَتَعَلَّمَهَا الْمُؤْمِنُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ عِبَادَةٍ سَنَةٍ ، وَخَيْرٌ لَهُ مِنْ عِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ وَالْمَرْأَةَ الْمُطِيعَ لِزَوْجِهَا ، وَالْوَلَدَ الْبَارَّ بِوَالِدَيْهِ ، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مَعَ الأَنْبِيَاءِ بِغَيْرِ حِسَابٍ .
[التدوين في أخبار قزوين للرافعي » القول فيمن بعد الصحابة والتابعين » حرف الباء في الآباء » حرف الحاء في الآباء ... رقم الحديث: 213كنز العمال:28828 (10/160)



ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: ایک مسئلہ جو مسلمان سیکھے بہتر ہے اس کے لئے ایک برس کی عبادت سے اور آزاد کرنے سے ایسے غلام کے جو اولاد سے اسماعیل علیہ السلام کے ہو‘ اور طالب علم اور جو عورت کہ فرمانبردار اپنے شوہر کی ہو اور جو لڑکا کہ ماں باپ کا فرمانبردار ہو‘ یہ سب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
[جامع الاحادیث:21118 ، أخرجه الرافعى (1/255) .]



(10) عن الحسین بن علی، و ابن عباس ، و انس وغیرھم رضی اللہ تعالیٰ عنھم، قالوا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ۔(عب‘ ھب‘ ط‘ ص‘ خط‘ طس)



ترجمہ: روایت ہے حضرت حسین بن علی و انس و ابن عباس وغیرہم رضی اللہ عنہم سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
[جامع الاحادیث:13931]
حديث أنس: أخرجه ابن عدى (1/202، ترجمة 48 أحمد بن هارون بن موسى) وقال: له نسخ موضوعة مناكير ليس عند أحد منها شىء كنا نتهمه بوضعها. وأخرجه ابن عبد البر فى جامع بيان العلم وفضله (1/7) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/254، رقم 1665) ، وابن عساكر (52/341) . وأخرجه أيضًا: أبو يعلى (5/223، رقم 2837) ، والطبرانى فى الأوسط (1/7، رقم 9) ، وفى الصغير (1/36، رقم 22) ، وأبو نعيم فى الحلية (8/323) ، والإسماعيلى فى معجم الشيوخ (3/775) ، والقضاعى (1/136، رقم 175) ، والبزار (1/172، رقم 94) وقال: هذا كذب ليس له أصل عن ثابت عن أنس فأما ما يذكر عن النبى - صلى الله عليه وسلم - أنه قال طلب العلم فريضة على كل مسلم فقد روى عن أنس من غير وجه وكل ما يروى فيها عن أنس فغير صحيح.
حديث ابن عباس: أخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (4/245، رقم 4096) قال الهيثمى (1/120) : فيه عبد الله بن عبد العزيز بن أبى رواد ضعيف جدًا.
حديث ابن عمر: أخرجه الرافعى من طريق الخليلى (2/340) . وأخرجه أيضًا: ابن عدى (1/179، ترجمة 19 أحمد بن إبراهيم بن موسى) وقال: هذا الحديث منكر بهذا الإسناد. وابن جميع الصيداوى فى معجم الشيوخ (ص 177) .
حديث على: أخرجه الخطيب (1/407) ، وابن عساكر (43/12) .
حديث أبى سعيد: أخرجه الطبرانى فى الأوسط (8/258، رقم 8567) ، قال الهيثمى (1/120) : فيه يحيى بن هاشم السمسار كذاب. والبيهقى فى شعب الإيمان (2/254، رقم 1667) ، والخطيب (4/427) ، وابن عساكر (57/7) . وأخرجه أيضًا: الإسماعيلى فى معجم الشيوخ (2/652) ، والقضاعى (1/135، رقم 174) .

حديث الحسين بن على: أخرجه الطبرانى فى الصغير (1/58، رقم 61) ، والخطيب (5/204) ، وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (2/297، رقم 2030) قال الهيثمى (1/120) : رواه الطبرانى فى الصغير وفيه عبد العزيز بن أبى ثابت ضعيف جدًّا.
حديث ابن مسعود: أخرجه الطبرانى فى الكبير (10/195، رقم 10439) ، وفى الأوسط (6/96، رقم 5908) قال الهيثمى (1/119) : فيه عثمان بن عبد الرحمن القرشى عن حماد بن أبى سليمان وعثمان هذا قال البخارى مجهول ولا يقبل من حديث حماد إلا ما رواه عنه القدماء شعبة وسفيان الثورى والدستوائى ومن عدا هؤلاء رووا عنه بعد الاختلاط. وأخرجه ابن عساكر (53/43) وأخرجه أيضًا: أبو يعلى فى معجمه (ص 257، رقم 320) . قال المناوى (4/267) : قال النووى: ضعيف وإن كان معناه صحيحًا، وقال ابن القطان: لا يصح فيه شىء وأحسن ما فيه ضعيف، وسكت عنه مغلطاى، وقال المصنف [أى الإمام السيوطى] : جمعت له خمسين طريقًا وحكمت بصحته لغيره، ولم أصحح حديثًا لم أسبق لتصحيحه سواه، وقال السخاوى: له شاهد عند أبى شاهين بسند رجاله ثقات عن أنس، ورواه عنه نحو عشرين تابعيًا.]



(11) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي ذَرٍّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ الْمَوْتُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا وَهُوَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ مَاتَ وَهُوَ شَهِيدٌ " .
[كشف الأستار » كِتَابُ الْعِلْمِ » بَابُ فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ؛ رقم الحديث: 131]



ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو ذر و حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جب طالب علم کو موت آجائے اور وہ حالت طالبِ علمی میں ہو تو وہ شہید مرے گا۔(جامع الاحادیث:1727)
[أخرجه البزار كما فى كشف الأستار (1/84، رقم 138) ، وقال الهيثمى (1/124) : رواه البزار، وفيه هلال بن عبد الرحمن الحنفى، وهو متروك. والخطيب (9/247) . وضعفه المنذرى (1/54) وقال: رواه البزار والطبرانى فى الأوسط.]



(12) عَنْ سَخْبَرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى "


ترجمہ:روایت ہے حضرت سخبرہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: علم کی طلب گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔(جامع الاحادیث:22871)
[أخرجه الترمذى (5/29، رقم 2648) وقال: ضعيف الإسناد. وابن قانع (1/321) ، والطبرانى كما فى مجمع الزوائد (1/123) قال الهيثمى: فيه أبو داود الأعمى وهو كذاب. وأخرجه أيضًا: الدارمى (1/149، رقم 561) ، والديلمى (4/34، رقم 6105) ۔]



(13) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ "۔
[جامع الترمذي » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب فَضْلِ طَلَبِ الْعِلْمِ...رقم الحديث: 2590]



ترجمہ:روایت ہے حضرت انسؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺنے: جو (گھر سے)  نکلے علم طلب کرنے کیلئے، سو وہ حق تعالیٰ کی راہ میں رہے گا جب تک کہ لوٹے۔(جامع الاحادیث:22127)
[أخرجه الترمذى (5/29، رقم 2647) وقال: حسن غريب. والضياء (6/124، رقم 2119) وقال: إسناده حسن. وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الصغير (1/234، رقم 380) ، والعقيلى (2/17، ترجمة 428 خالد بن يزيد اللؤلؤى) وقال: لا يتابع على كثير من أحاديثه.]



(14) عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ تَبْسِطُ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ " .[كشف الأستار » رقم الحديث: 128 ، كنز العمال: 28745 ، مجمع الزوائد: 509] 



ترجمہ: روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ فرمایا نبی ﷺ نے: فرشتے طالب علم کے لئے پر اپنے بچھاتے ہیں اور استغفار کرتے رہتے ہیں اس کے لئے.
[جامع الاحادیث:7916 ، أخرجه البزار كما فى كشف الأستار (1/83، رقم 135) ، قال الهيثمى (1/124) : فيه محمد بن عبد الملك وهو كذاب. وأخرجه أيضًا: الديلمى (2/440، رقم 3916) .]





عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ، يَقُولُ : " طَالِبُ الْعِلْمِ تَبْسُطُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَطْلُبُ " .
[الجامع الصغير للسيوطي- الصفحة أو الرقم: 5249 ، تاريخ دمشق لابن عساكر » حرف الألف » ذكر من اسمه إِبْرَاهِيم » إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو إِسْحَاقَ ...رقم الحديث: 4780 ، والطيالسي والبزار والديلمي]

ترجمہ: روایت ہے انسؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: فرشتے طالب علم کے لئے پر اپنے بچھاتے ہیں بسبب رضامندی اس چیز کی جس کو وہ طلب کررہا ہے۔
[جامع الاحادیث:13908 ، أخرجه ابن عساكر من طريق الخطيب (7/18) .]


(15) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان المؤمن اذا تعلم بابا من العلم عمل بہ او لم یعمل بہ کان افضل من ان یصلی الف رکعۃ تطوعاً۔ (ابن لال)



ترجمہ:روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے کہ مسلمان جب ایک باب علم کا سیکھتا ہے خواہ اس پر عمل کرے یا نہ کرے، سو یہ صرف سیکھنا ہزار رکعت نفل پڑھنے سے افضل ہے۔
[جامع الاحادیث:7372+21805 أخرجه الديلمى من طريق ابن لال (1/2/291-292) كما فى الضعيفة للشيخ الألبانى (7/135، رقم 3139) . أخرجه الخطيب (6/504) .]




(16) عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طالب العلم أفضل عند الله من المجاهد فی سبیل اللہ -(مسند الفردوس للديلمي ، كنز العمال : 28727)



ترجمہ: روایت ہے حضرت انسؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: طالب علم اللہ کے نزدیک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے افضل ہے۔



(17) عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ انْتَقَلَ لِيَتَعَلَّمَ عِلْمًا غُفِرَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْطُوَ " .(جامع الأحاديث للسيوطى21553؛ كنز العمال :28816 ، الشيرازى فى الألقاب ، وابن شاهين ، والحاكم فى تاريخه)


ترجمہ: روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جو شخص طلب علم کی غرض سے نکلنا چاہے تو قدم اٹھانے سے پہلے جوتا پہنتے ہی گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔[جامع الاحدیث:21553]



(18)  عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ أَجَلُهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ إِلا دَرَجَةُ النُّبُوَّةِ "۔ 
[المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْيَاءِ » مَنِ اسْمُهُ يَعْقُوبُ؛ رقم الحديث: 9688 ؛ الفقيه والمتفقه للخطيب » الْفَقِيهُ وَالْمُتَفَقِّهُ لِلْخَطِيبِ الْبَغْدَادِيُّ ... » بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعُلَمَاءِ؛ رقم الحديث: 458 ؛ جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابُ الْحَضِّ عَلَى اسْتِدَامَةِ الطَّلَبِ وَالصَّبْرِ ... رقم الحديث: 425]



ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جس کی موت طالب علمی کی حالت میں آجائے تو حق تعالیٰ سے وہ ایسی حالت میں ملے گا کہ اس میں اور نبیوں میں سوائے درجۂ نبوت کے اور کوئی فرق نہ ہوگا۔[جامع الاحادیث:21933+21934، أخرجه أيضًا: الطبرانى فى الأوسط (9/174، رقم 9454) قال الهيثمى (1/123) : فيه محمد بن الجعد وهو متروك.
 وأخرجه الخطيب (3/78) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (3/559، رقم 5755) .]




(19) عن حسان بن ابی سنان، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " طَالِبُ الْعِلْمِ بَيْنَ الْجُهَّالِ كَالْحَيِّ بَيْنَ الْأَمْوَاتِ " . (العسکری فی "الصحابۃ "و ابو موسی فی "الذیل")

[معجم السفر، للسلفي (576 ھہ) » حَرْفُ الْعَيْنِ » مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، رقم الحديث: 78]

ترجمہ:روایت ہے حضرت حسان بن ابی سنانؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: طالب علم جاہلوں میں ایسا ہے جیسے زندہ مُردوں میں۔[جامع الاحادیث:13907، قال الحافظ فى الإصابة (2/210، ترجمة 2091 حسان بن أبى سنان البصرى) : أحد زهاد التابعين مشهور أرسل حديث فذكره على بن سعيد العسكرى فى الصحابة.
حديث حذيفة: أخرجه الديلمى (2/439، رقم 3911) .
حديث أنس: أخرجه حمزة السهمى فى سؤالاته للدارقطنى (ص 228، رقم 318) وقال: قال أبو زرعة أحمد بن الحسين الرازى: عبد الله بن محمد بن يعقوب الحارثى ضعيف.]





(20) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَالِمُ أَمِينُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .[جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ، رقم الحديث: 200]

العالم أمين الله في الأرض ترجمہ: روایت ہے حضرت معاذؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: عالم زمین پر اللہ کا امین (نائب) ہے۔
[جامع الاحادیث:14429 ، أخرجه الديلمى (3/72، رقم 4204) قال المناوى (4/370) : قال الحافظ العراقى: سنده ضعيف.]




(21) عن علی رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء مصابيح الأرض  , و خلفاء الأنبياء , وورثتي وورثة الأنبياء۔ (ابن عدی فی الکامل، كشف الخفاء - الصفحة أو الرقم: 2/84)



ترجمہ: روایت ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے کہ علماء زمین کے چراغ اور انبیاء کے خلفاء (جانشین) اور میرے اور دوسرے نبیوں کے وارث ہیں۔
[جامع الاحادیث:14508، أخرجه أيضًا: الرافعى (2/129) .]




(22) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ ، يُحِبُّهُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .[الوسيط في تفسير القرآن المجيد : رقم الحديث: 1]

عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء ورثة الانبياء ، يحبهم أهل السماء و یستغفر لھم الحیتان فی البحر اذا ماتوا الی یوم القیامۃ۔ (ابن النجار)


ترجمہ: روایت ہے حضرت براء بن عازب اور انس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: علماء انبیاء کے وارث ہیں جن کو آسمان والے دوست رکھتے ہیں اور جب وہ مرتے ہیں تو قیامت تک دریا میں مچھلیاں ان کی مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔



(23) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " إذا اجتمع العالم والعابد على الصراط ، قيل للعابد : ادخل الجنة وتنعم بعبادتك قبل العالم ، وقيل للعالم : ههنا فاشفع لمن أحببت ، فإنك لا تشفع لأحد إلا شفعت ، فقام مقام الأنبياء "۔ (ابوالشیخ فی "الثواب" ؛ رواه الديلمي في " مسند الفردوس " ( 1/1/158 - 159) - مختصره)

الشواهد:
عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْعَابِدِ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَإِنَّمَا كَانَتْ مَنْفَعَتُكَ لِنَفْسِكَ ، وَيُقَالُ لِلْعَالِمِ : اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَإِنَّمَا كَانَتْ مَنْفَعَتُكَ لِلنَّاسِ " .
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ الْعَالِمُ وَالْعَابِدُ ، فَيُقَالُ لِلْعَابِدِ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، وَيُقَالُ لِلْعَالِمِ : اثْبُتْ حَتَّى تَشْفَعَ لِلنَّاسِ بِمَا أَحْسَنْتَ أَدَبَهُمْ " .


ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جب عالم اور عابد صراط پر ملیں گے تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں چلا جا اور عبادت کے سبب سے جنت میں عیش کر‘ اور عالم سے کہا جائے گا کہ یہاں ٹھہر اور جس سے محبت رکھتا ہے اس کی شفاعت کر! جس کی شفاعت تو کرے گا قبول کی جائے گی‘ چنانچہ وہ انبیاء کے مقام میں کھڑا ہوگا۔
[جامع الاحادیث:1107، أخرجه الديلمى (1/326، رقم 1293) . قال المناوى (1/245) : فيه عثمان بن موسى عن عطاء أورده الذهبى فى الضعفاء وقال: له حديث لا يعرف إلا به، وفى الميزان قال: له حديث منكر. والحديث موضوع كما قال الحافظ أحمد الغمارى فى المغير (ص13) .]




(24) عَنْ انس، و عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، و أَبِي الدَّرْدَاءِ ، والنُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوزَنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ وَدَمُ الشُّهَدَاءِ ، فَيَرْجَحُ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ عَلَى دَمِ الشُّهَدَاءِ " ۔ (الشیرازی، و الموھبی، و جامع بيان العلم وفضله لابن عبدالبر: 122 ، و ابن الجوزی فی "العلل"، جزء ابن عمشليق : رقم الحديث: 14، تاريخ جرجان للسهمي » باب حرف الألف » من اسمه أَحْمَد : (1 : 92 ، رقم الحديث: 76) - (1 : 222، رقم الحديث: 289)



ترجمہ: روایت ہے حضرت انس و حضرت عمران و حضرت ابی الدرداء و حضرت نعمان رضی اللہ عنہم سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: قیامت کے دن سیاہی علماء کی اور خون شہیدوں کا تولا جائے گا اور علماء کی سیاہی کا وزن شہیدوں کے خون سے بڑھ جائے گا۔
[جامع الاحٓدیث:2694+19136+ ، عزاه المناوى (6/466) للشيرازى فى كتاب الألقاب عن أنس بن مالك.
11786(27145)حدیث النعمان: أخرجه ابن الجوزى فى العلل المتناهية (1/81، رقم 85) وقال: هذا لا يصح. قال المناوى (6/466) : قال الزين العراقى: سنده ضعيف.
11785(27146)حدیث ابی الدرداء: أخرجه ابن عبد البر فى جامع بيان العلم (1/31)]




(25) عن علی رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عالم ينتفع به خير من ألف عابد ۔(دیلمی فی الفردوس،  كنز العمال : 28723 )

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَّقُونَ سَادَةٌ وَالْفُقَهَاءُ قَادَةٌ ، وَالْجُلُوسُ إِلَيْهِمْ زِيَادَةٌ ، وَعَالِمٌ يُنْتَفَعُ بِعِلْمِهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ .


ترجمہ: روایت ہے حضرت علیؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: متقی لوگ سيد (سردار) ہیں اور فقہاء قائد ہیں اور ان کی طرف (صحبت میں) زیادہ بیٹھا کرو، ایک عالم جس سے نفع ہو بہتر ہے ہزار عابدوں (بہت عبادت کرنے والوں) سے۔
[جامع الاحادیث:14037، أخرجه الديلمى (3/41، رقم 4100) قال المناوى (4/299) : فيه عمرو بن جميع قال الذهبى فى الضعفاء: قال ابن عدى: متهم بالوضع.]




(26) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَالِبُ الْعِلْمِ أَوْ صَاحِبُ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ " ۔ (ابو یعلی)

ترجمہ: روایت ہے حضرت انسؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: ہر چیز عالم کے لئے مغفرت کی دعا کرتی ہے‘ یہاں تک کہ مچھلیاں دریا میں۔


(27) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا : عَابِدٌ وَالْآخَرُ عَالِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا ، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ۔
[جامع الترمذي » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ ...رقم الحديث: 2628]

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو امامہؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے : عالم کی فضیلت‘ عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر‘ یقینا اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں، لوگوں کو اچھی بات سکھلانے والے کے حق میں دعا کرتے اور رحمت بھیجتے ہیں۔


(28) عن واثلۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من شئ أقطع لظهر إبليس من عالم يخرج في قبيلة ۔ (جامع الاحادیث:20515 ، دیلمی فی الفردوس:4/48، رقم 6150؛ كنز العمال: 28755)

ترجمہ: روایت ہے حضرت واثلہؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: کوئی چیز ابلیس کی پیٹھ توڑنے میں زیادہ اثر نہیں رکھتی اس عالم سے جو کسی قبیلے میں پیدا ہو۔




(29) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُجَالَسَةُ الْعُلَمَاءِ عِبَادَةٌ " . ۔(فوائد أبي عبد الله الجمال (سنة الوفاة:330) : رقم الحديث: 9 ؛ دیلمی فی الفردوس، كنز العمال : 28756)

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: عالموں کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے۔
[جامع الاحادیث:21069 ، أخرجه الديلمى (4/156، رقم 6486) .]



(30) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ ، فَإِنَّهُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ ، فَمَنْ أَكْرَمَهُمْ فَقَدْ أَكْرَمَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ۔ (كنز العمال:28765، جامع الأحاديث،لسيوطي: 4353، تاريخ بغداد، للخطيب البغدادي (سنة الوفاة:463) » باب الألف » حرف الميم، رقم الحديث: 1663)


عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ ، فَإِنَّهُمْ عَبِيدٌ عَلَى اللَّهِ ، كُرَمَاءُ غيرُ هُوَنَاءٍ " .
[حديث مشرق الحنيفي (سنة الوفاة:463) رقم الحديث: 22]
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ فَإِنَّهُمْ - يَعْنِي - وَرَثَةُ الأَنْبِيَّاءِ " .
[تاريخ دمشق، لابن عساكر(سنة الوفاة:571) » حَرْفُ الْخَاءِ » ذِكْرُ مِنِ اسْمُهُ عَبْدُ الْمُغِيثِ » عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ بْنِ ...رقم الحديث: 37789(37/104) جامع الاحادیث:4352]


ترجمہ: روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: عالموں کی بزرگی (عزت و اکرام) کرو! اس لئے کہ وہ نبیوں کے وارث ہیں، جس نے ان کی بزرگی کی اس نے خدا اور رسول کی بزرگی کی۔
[جامع الاحادیث:4353 +4352، أخرجه الخطيب (4/437) ، والديلمى (1/1/32) كما فى السلسلة الضعيفة للألبانى (6/199، رقم 2678) . قال المناوى (2/93) قال الزيلعى كابن الجوزى: حديث لا يصح، فيه الحجاج بن حجرة، قال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به، وقال الدارقطنى يضع الحديث. قال العجلونى (1/196) : رواه الخطيب والديلمى بسند ضعيف.





(31) عن جابر رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ساعة من عالم متكئ على فراشه ينظر فى علمه خير من عبادة العابد سبعين عامًا ۔(دیلمی فی الفردوس: 2/333 ، رقم 3504 ؛ جامع الأحاديث،للسيوطي: 12947 ؛ كنز العمال : 28789، سنده ضعيف)



ترجمہ: روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جو عالم کہ ٹیکا لگائے ہوئے اپنے بستر پر‘اپنے علم میں ایک ساعت غور کرے ‘سو وہ عابد کی ستر (70) برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
[جامع الاحایدث:12947 ، أخرجه الديلمى (2/333، رقم 3504) . والحديث موضوع كما قال الغمارى فى المغير (ص 57) .]




(32) عن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ سَبْعِينَ دَرَجَةً ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ۔ (مسند أبي يعلى الموصلي » رقم الحديث: 844)



ترجمہ: روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: فضیلت عالم کی عابد پر ستر(70) درجے ہے‘ ہر درجے میں اتنی مسافت ہے جتنی آسمان و زمین میں ہے۔




(33) عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَقْبَلَ الْعُلَمَاءَ فَقَدِ اسْتَقْبَلَنِي ، وَمَنْ زَارَ الْعُلَمَاءَ فَقَدْ زَارَنِي ، وَمَنْ جَالَسَ الْعُلَمَاءَ فَقَدْ جَالَسَنِي ، وَمَنْ جَالَسَنِي فَكَأَنَّمَا جَالَسَ رَبِّي . (التدوين في أخبار قزوين للرافعي » القول فيمن سوي المحمدين » باب العين في هذا الحرف أسماء كثيرة، رقم الحديث: 1219؛ كنز العمال: 28883)



ترجمہ: روایت ہے حضرت بہز بن حکیم سے کہ ۔۔۔ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جس نے علماء کا استقبال کیا‘ اس نے میرا استقبال کیا‘ اور جس نے علماء سے ملاقات کی اس نے مجھ سے ملاقات کی‘ اور جو علماء کے ساتھ بیٹھا وہ میرے ساتھ بیٹھا، اور جو میرے ساتھ بیٹھا گویا وہ میرے رب کے ساتھ بیٹھا۔
[جامع الاحادیث:45710]

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1من زار العلماء فكأنما زارني ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ومن جالسني في الدنيا أجلسه ربه في الجنةعبد الله بن عباستاريخ جرجان للسهمي2361 : 197حمزة بن يوسف السهمي345
2من زار العلماء فكأنما زارني ومن صافح العلماء فكأنما صافحني ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ومن جالسني في الدنيا أجلس إلى يوم القيامةعبد الله بن عباسأخبار أصبهان لأبي نعيم26622 : 343أبو نعيم الأصبهاني430
3من استقبل العلماء فقد استقبلني ومن زار العلماء فقد زارني ومن جالس العلماء فقد جالسني ومن جالسني فكأنما جالس ربيمعاوية بن حيدةالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1219---عبد الكريم الرافعي623
4من زار العلماء فقد زارني ومن صافح العلماء كأنه صافحني ومن جالس العلماء فكأنما جالسني ومن جالسني في الدنيا أجلس إليه يوم القيامةلم يذكر المصنف اسمهالفوائد المجموعة للشوكاني7271 : 249الشوكاني1255


(34) عن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من علم علماً فلہ اجر من عمل بہ لا ینقص من اجر العامل شیئاً۔



ترجمہ:روایت ہے حضرت معاذؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جو علم سکھلائے اس کو ثواب اس شخص کا ہے جو اس پر عمل کرے اور عمل کرنے والے کا ثواب کچھ کم نہ ہوگا۔
[جامع الاحایدث:22981 ، أخرجه ابن ماجه (1/88، رقم 240) قال البوصيرى (1/34) : هذا إسناد فيه مقال. والطبرانى (20/198، رقم 446) .]




(35) عن ابی سعید رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من علم آیۃ من کتاب اللہ او باباً من علم انمی اللہ اجرہ الی یوم القیامۃ۔ (ابن عساکر)



ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو سعیدؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: جو کوئی قرآن شریف کی ایک آیت یا کوئی باب علم کا کسی کو سکھلادے تو حق تعالیٰ اس کا ثواب قیامت تک بڑھاتا جائے گا۔



(36) عن سمرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما تصدق الناس بصدقۃ افضل من علم ینشر۔ (طب)



ترجمہ:روایت ہے حضرت سمرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: کوئی صدقہ علم کی اشاعت سے بہتر نہیں ہے۔
[جامع الاحادیث:19976 ، أخرجه الطبرانى (7/231، رقم 6964) قال الهيثمى (1/166) : فيه عون بن عمارة، وهو ضعيف.]




(37) عن ابی بکر رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اغد عالما او متعلما او مستمعاً او محباً ولا تکن الخامس فتھلک۔ (طس)



ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوبکرؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: بن تو عالم یا علم سیکھنے والا‘ یا سننے والا‘ یا دوست اس کا‘ اور پانچویں قسم سے مت بن کہ ہلاک ہوجائے گا۔
[جامع الاحایدث:3881  ، أخرجه البزار (9/94، رقم 3626) ، والطبرانى فى الأوسط (5/231، رقم 5171) ، والبيهقى فى شعب الإيمان
(2/265، رقم 1709) . وأخرجه أيضاً: الطبرانى فى الصغير (2/63، رقم 786) ، قال الهيثمى (1/122) : رواه الطبرانى فى الثلاثة، والبزار، ورجاله موثوقون. وأخرجه أبو نعيم فى الحلية (7/237) . قال المناوى (2/17) : قال الحافظ أبو زرعة العراقى: هذا حديث فيه ضعف، ولم يخرجه أحد من أصحاب الكتب الستة، وعطاء بن مسلم وهو الخفاف مختلف]





(38) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلم دین، والصلاۃ دین فانظروا عمن تاخذون ھذا العلم و کیف تصلون ھذہ الصلاۃ فانکم تسئلون یوم القیامۃ۔ (فر)



ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: علم دین ہے اور نماز بھی دین ہے‘ تو دیکھو کہ تم اس علم کو کیسے شخص سے سیکھتے ہو اور یہ نماز کیسی ادا کرتے ہو‘ کیونکہ تم سے قیامت کے دن اس کا سوال ہوگا۔
[جامع الاحایدث:14496 ، أخرجه الديلمى (3/67، رقم 4190) .]



(39) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیار امتی علماؤھا و خیر علمائھا رحماؤھا‘ الا! و ان اللہ تعالیٰ لیغفر للعالم اربعین ذنباً قبل ان یغفر للجاھل ذنباً واحدا‘ الا! وان العالم الرحیم یجیء یوم القیامۃ و ان نورہ قد اضاء یمشی فیہ ما بین المشرق و المغرب کما یضیء الکوکب الدری۔ (حل‘ خط)



ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: میری امت کے وہ لوگ بہتر ہیں جو علماء ہیں‘ اور علماء میں وہ بہتر ہیں جو رحم دل ہیں‘ اور حق تعالیٰ عالم کے چالیس گناہ بخش دیتا ہے قبل اس کے کہ جاہل کا ایک گناہ بخشے‘ رحم دل عالم قیامت کے دن اس شان سے آئے گا کہ نور اس کا مشرق و مغرب تک روشن ہوگا جیسے کوئی ستارہ روشن ہوتا ہے‘ اور وہ اس نور میں راہ طئے کرے گا۔
[جامع الاحادیث:12000 ، حديث أبى هريرة: أخرجه أبو نعيم فى الحلية (8/188) وقال: غريب لم نكتبه إلا من هذا الوجه، والخطيب (1/237) ، وابن عساكر (56/118) ، وابن الجوزى فى العلل المتناهية (1/139، رقم 203) وقال: هذا حديث أنكره الخطيب وكأنه لم يتهم فيه إلا السلمى. وأخرجه أيضًا: والديلمى (2/174، رقم 2865) .
حديث ابن عمر: أخرجه القضاعى (2/241، رقم 1276) . وقال الذهبى فى الميزان (6/64، ترجمة 7211 محمد بن إسحاق السلمى المروزى) : فيه جهالة وأتى بخبر باطل متنه خيار أمتى علماؤها. والحديث موضوع كما قال الحافظ أحمد الغمارى فى المغير (ص 44) .]



(40) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا حسد ولا تملق الا فی طلب العلم۔ (عد‘ ھب والخطیب)



ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے: سوائے طلب علم کے حسد اور خوشامد کسی چیز میں نہ کرنا چاہئے۔
[جامع الاحادیث:17048 ،أخرجه ابن عدى (6/222، ترجمة 1692 محمد بن عبد الله بن علاثة) وقال: هذا حديث منكر. والبيهقى فى شعب الإيمان (4/224، رقم 4862) ، والخطيب (13/275) . وأورده أيضًا: ابن حبان فى الضعفاء (2/280، ترجمة 973 محمد بن علاثة) ، وقال: يروى الموضوعات عن الثقات.]



٭٭٭



یہ چالیس حدیثیں کنز العمال سے نقل کی گئی ہیں‘ اور جو رموز کہ ہر حدیث کے آخر میں مذکور ہیں ان کی تفسیر یہ ہے:



(ت) ترمذی، (د) ابو داؤد، (طب) طبرانی فی الکبیر، (عد) ابن عدی فی الکامل، (حل) ابو نعیم فی الحلیہ، (ص) سعید بن منصور، (طس) طبرانی فی الاوسط ، (فر) دیلمی فی الفردوس، (ھب) بیہقی فی شعب الایمان، (خط) خطیب، (ط) ابو داؤد طیالسی، (ع) ابو یعلی، (ک) حاکم۔



مذکورہ بالا احادیث سے ظاہر ہے کہ علم ایک دینی حق ہے‘ اس کو دنیا سے کوئی تعلق نہیں‘ یہ بات اور ہے کہ اس کے ضمن میں دنیا حاصل ہوجائے جیسا کہ تجربے اور ساتویں حدیث سے ظاہر ہے-

یہ نہیں ہوسکتا کہ علم صرف دنیا کی غرض سے حاصل کیا جائے اور اس پر ان فضائل و ثواب کی توقع کی جائے جن کا وعدہ دیا گیا ہے‘ اس وعدے کا ایفا توجب ہی ہو کہ نیت میں للہیت اور خلوص ہو جیسا کہ حدیث شریف " انما الاعمال بالنیات " سے اور آیت شریفہ " من کان یرید حرث الاٰخرۃ نزد لہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاٰخرۃ من نصیب " سے ظاہر ہے۔


البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ عربی علوم پڑھنے کے بعد بھی آدمی دنیاوی ترقی بھی کرسکتا ہے یا نہیں؟ جن کی نظر تاریخی کتابوں پر ہے‘ وہ جانتے ہیں کہ ہر زمانے میں علماء نے کیسی کیسی ترقیاں کیں بلکہ اگر کلیہ نہیں تو اکثر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی نے ابتدائً ترقی کی وہ شخص عالم تھا گو بوجہ اشتغال دنیاوی اس کا نام طبقات علماء میں نہ لکھا گیا ہو‘ کیونکہ علوم عربیہ میں بعض وہ علوم ہیں جو صرف قوت فکریہ کو بڑھانے اور ہر قسم کے مطالب سونچنے اور صحیح مقصود نکالنے میں مدد دیتے ہیں اور بعض دائرۂ خیال کو وسیع کرتے ہیں‘ اور عموماً ترتیب تعلیم و انتخاب کتب درسیہ میں یہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ قوت فہم بتدریج ترقی پذیر اور دقت پسند و نکتہ رس ہوجائے –

یہ امر ظاہر ہے کہ جب کئی سال تک ذہن سے وہ کام لیا جائے جس سے روز بروز قوت بڑھے اور صفائی پیدا ہو تو ذہن کس اعلیٰ درجے کی قوت پر ہوگا! پھر کیا؟ باوجود اس مشاقی کے کسی کام میں رکے گا؟ ہرگز نہیں‘ بلکہ بذریعہ ان قواعد کے جس کی مشق ایک مدت تک کی ہے کامیاب ہی ہوگا‘ یہ بات اور ہے کہ قسمت یاوری نہ کرے‘ اس میں تو وہ لوگ بھی برابر ہیں جنہوں نے عمر بھر دوسرے فنون و ذرائع دنیاوی حاصل کئے اور نان شبینہ تک کے محتاج ہیں‘ لیکن باایں ہمہ عالم اوروں سے بڑھا ہوا ہی رہے گا۔


دیکھ لیجئے کسی اجنبی ملک سے کوئی عالم آجاتا ہے تو بحسب مدارج علم لوگ اس کی تعظیم و توقیر کرنے لگتے ہیں‘ نہ اس کو اس بات کے حاصل کرنے میں مال کی ضرورت ہوتی ہے نہ شان و شوکت کی-

غرض عالم اگر خاص فقر و فاقہ میں بھی رہے تو کسی ایک قوم کا سردار اور ان میں معزز بنارہے گا اور اس کو وہ وجاہت حاصل ہوگی جو دوسروں کو نہ ہوگی‘ اور ظاہر ہے کہ وہ وجاہت ترقی دنیا کی اگر مقصود اصلی نہیں تو اس کے رکن اعظم ہونے میں کلام نہیں۔


غرض علوم عربیہ ترقی دنیاوی کے لئے بھی کمال درجے کی ممد و معاون ہیں-

اب اہل دانش سمجھ سکتے ہیں کہ وہ شئے جس کو دین میں وہ وقعت اور دنیا میں وہ شوکت حاصل ہے تو کس قدر اس کے حاصل کرنے میں سعی و جانفشانی کرنا چاہئے۔


حق تعالیٰ اہل اسلام کو توفیق دے کہ تحصیل علوم میں سعی کرکے مدارج دارین حاصل کریں اور جو خود حاصل نہ کرسکیں تو اتنا تو کریں کہ ان مدارس میں جہاں تدریس اپنے دینی علوم کی ہوتی ہے تائید و معاونت پیش کریں اور بفحوائے حدیث شریف " الدال علی الخیر کفاعلہ " اس ثواب عظیم میں شریک ہوں۔

وباللہ التوفیق-
(مقاصد الاسلام ،حصہ چہارم،ص:28/43)


جنتی حضرات علماء کرام کے جنت میں محتاج ہوں گے:
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے اور وہ اس طرح سے کہ جنتی ہرجمعہ کواللہ تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہوں گے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے تم جوچاہو تمنا کریں؟ تووہ بتائیں گے کہ تم اس اس طرح کی تمنا کرو؛ چنانچہ یہ حضرات جنت میں علماء کرام کے اسی طرح سے محتاج ہوں گے جس طرح سے یہ ان کے دنیا میں محتاج ہیں۔ (مسند الفردوس، للديلمي :۸۸۰، لسان المیزان:۵/۵۵، میزان الاعتدال: ٦/٢٢، ۷۰۶۶ ، تاريخ دمشق لابن عساكر : ٥٠/٥٠)



***************************


علما و صلحا کی مجالس
حضرت حسن بصری رحمہ الله تعالی فرمایا کرتے تھے : علماء وصلحاء کی مجالس کے علاوہ ساری دنیا میں تاریکی ہی تاریکی ہے ۔ ( جامع بیان العلم وفضلہ، ابن عبدالبر:51/1)

سہل بن عبدالله تستری فرماتے ہیں : جو انبیا کی مجالس کا منظر دیکھنا چاہتا ہو وہ علما کی مجالس کو دیکھ لے۔ ( مفتاح دارالسعادة ابن القیم :129)

اکابر ائمہ صلحاء کی مجالس کا اثر
مقتدیٰ وصاحب سیرت ذات کو دیکھنے میں اس سے نصیحت کے سننے میں زیادہ اثر پذیری ہے اور دیکھنے والے میں اس کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں ، نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام نے اس زیارت کا بہت حصہ حاصل کیا او راس سے بھر پور مستفید ہوئے ،کیوں کہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین آپ کی صحبت میں بیٹھتے، آپ کی زیارت سے محظوظ ہوتے اور آپ کا قرب تلاش کرتے تھے اس لیے وہ حضرات امت کا بہترین وافضل ترین عنصر کہلائے، جس کو نبی کریم علیہ الصلوات والسلام کے بعد لوگوں کو راہ نمائی وہدایت کے لیے منتخب کیا گیا۔

نیک وقابل اقتداء شخصیت کی زیارت الله تعالیٰ کی یاد دلاتی ہے کہ ان پر انوار وتحلیات کی ضیا پاشیاں، انس واطمینان، محبت وسکینت کی جھلکیاں، ان کی چال ڈھال، عاجزی، بول چال، خاموشی وفکر مندی، حرکت وسکون اورتمام احوال میں برستی نظر آتی ہیں تو ہر دیکھنے والے کی نظر اس منظر سے خدا تعالیٰ تک پہنچتی ہے اور یہ اس کے لیے ” مذکر“ ( یاد دلانے والی ) ہوتی ہے اوران لوگوں کی شکل وصورت توجہ الی الله کی وجہ سے نظروں کو الله تعالیٰ کی طرف پھیر دیتی ہے” یہی وہ لوگ ہیں جن کے دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے۔“

اہل الله کی مجالس میں بیٹھنے والوں میں خیر کیسے سرایت کرتی ہے؟
حکیم ترمذی رحمہ الله تعالیٰ”نوادر الاصول صفحہ140“ میں آپ ﷺ کے فرمان ”من ذکَّرکم بالله رؤیتُہ“ (جس کا دیدار تمہارے اندر الله تعالیٰ کی یاد تازہ کر دے) کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کی نشانیاں ظاہر وباہر ہیں ۔ ان سے قرب خداوندی کی رونق، عظمت ایزدی کا نور، کبریائی کا رعب ودبدبہ، وقار وسکینت کی انسیت ٹپکتی ہے، ان پر ملکوتیت کے آثار کے ظہور کی وجہ سے ان کو دیکھ کر الله تعالیٰ کی یاد ستاتی ہے۔

انسانی دل ان تمام صفات کا مخزن اور نور کا مستقر ہے، چہرہ بھی دل ہی کے رنگ سے رنگ جاتا ہے تو جب دل پر وعدہ وعید والے بادشاہ کا نور غالب ہو گا تو یہی نور چہرے سے ظاہر ہو گا، جب انسان کی نظر اس چہرہ پر پڑے گی ، نیکی وتقوی کو ابھارے گی، پھر اس سے الله تعالیٰ کے اوامر کے علم اور صلاح کی ہیبت دل میں جاگزیں ہو گی۔

دل میں جب حق تعالیٰ کی ہیبت کا نور ہو گا تو یہ چہرہ کو متاثر کرے گا، پھر جب تمہاری نظر اس چہرے پر پڑے گی تو تمہیں صدق وحق کی یاد دلائے گی، تم پر حق واستقامت کی ہیبت چھا جائے گی، (اسی طرح) جب الله جل شانہ کی عظمت وہیبت وبادشاہت کا نور دل میں ضو فشاں ہو گا تو یہ چہرے تک سرایت کرے گا، پھر جب اس چہرے سے نظریں دو چار ہوں گی تو الله جل جلالہ کی شان وشوکت ورُعب کی یاد دلائے گی ، ( اسی طرح) دل میں الله تعالیٰ کا نور ( جاگزیں) ہو گا، جو کہ منبع انوار ہے، تو ایسے انسان کا دیدار تمہیں عیوب ونقائص اور الله تعالیٰ کے حکموں کی خلاف ورزی سے مانع ہو گا، اس لیے کہ دل کی شان یہ ہے کہ اس سے چہرے کے سوتوں کو سیراب او راس کو تروتازہ زندگی کے پانی سے معطر کر دے گا اور چہرہ تک صرف وہی چیز سرایت کرے گی جو دل میں ہو گی ، پھر ان انوارات میں سے جو نور دل میں ہو گا وہی چہرے سے عیاں ہو گا، الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ ولقّٰھم نضرة وسروراً﴾․ (سورة الانسان)

”اور عنایت کردی ان کو ( چہرے کی ) تازگی اور ( دل کی ) خوشی۔“

پھرجب بندے کا دل الله تعالیٰ کی رضا او راس سے چمکنے والے نور کی وجہ سے خوش ہو گا تو چہرہ دلی رضا مندی کی وجہ سے ( چمک دار ) تروتازہ ہو گا۔ اسی کو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی رؤیت سے یاد خدا وندی پیدا ہوتی ہے اور آپ نے اس کو ولایت کی نشانی او رعلامت بتلایا ہے “۔ ( فیض القدیر مناوی:467/2)

شیخ ابو غدہؒ فرماتے ہیں : سلف صالحین واکابر میں یہ وصف بہت زیادہ تھا، لوگ محض ان کی زیارت سے استفادہ کے لیے حاضر ہوتے، کیوں کہ محض ان کی زیارت ہی دلوں کو جگ مگا دیتی اور دل میں اصلاح کا داعیہ پیدا کر دیتی، دین کو محبوب بنا دیتی اور الله تعالیٰ کی یاد دلاتی تھی۔

علما کی مجالس میں جاتے وقت نیت کیا ہو؟
امام ابن الجوزی اپنی کتاب”صید الخاطر303/2“ پر فرماتے ہیں :” سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی نیک بندے کے پاس اس کی راہ نمائی وتوجہ کے حصول کے لیے جاتی تھی ، علم حاصل کرنا ان کا مقصد نہ ہوتا، کیوں کہ ان کی رشد وہدایت اور کسی جہت پر گامزن ہونا ان کے علم کا ہی ثمر ونتیجہ ہوتا۔ 


ابو طالب مکی” قوت القلوب“ میں فرماتے ہیں : ”وہ حضرات شہروں کا رخ صرف علماء وصلحاء کی ملاقات وزیارت ان سے برکت کے حصول کے لیے کرتے اوران سے ادب سیکھنے جاتے تھے۔



حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا:

تم علم تو جو چاہے سیکھ لو لیکن اللہ تعالی تمہیں علم پر اجر تب دیں گے جب تم اس پر عمل کرو گے،علماء کا اصل مقصد تو علم کی حفاظت کرنا ہے(کہ اسے یاد رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے)اور نادان لوگوں کا مقصد تو خالی آگے بیان کردینا ہے۔

(حیاۃ الصحابۃ:۳/۲۷۴)





حضرت حسن بصریؓ (م:۱۱۰ھ)نے فرمایا:

 (۱)اہلِ علم زمانہ کے چراغ ہیں ، اور ہر عالم اپنے زمانہ کی روشنی ہے کہ اس کے علم سے اسکے اقران روشنی حاصل کرتے ہیں ؛اگر عالم نہ ہوتے تو لوگ کوڑے کرکٹ کی طرح ہوتے۔

(۲) ابدال نہ ہوتے تو زمین دھنسادی جاتی ، صالحین نہ ہوتے تو برے لوگ ہلاک ہوجاتے ، علماء نہ ہوتے تو عوام الناس جانور ہوتے ، حکمراں  نہ ہوتے تو لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کردیتے ،  بے وقوف نہ ہوتے تو دنیا خراب ہو جاتی ،اس لئے کہ عقل کی قدر سمجھ میں نہ آتی ، اور ہوا نہ ہوتی تو  سب چیزیں سڑ جاتیں۔

(۳) علماء پر اس وقت تک اللہ کی رحمت رہی جب تک انہوں نے امراء کی طرف میلان نہیں کیا (یعنی ان کے خلافِ شریعت باتوں میں ان کے ساتھی نہیں بنے) ، اور جب وہ  امراء کی طرف مائل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور ان پر ایسے ظالموں کو مسلط کردیا جنہوں نے ان کو سخت تکلیفیں دیں اور ان کے دلوں میں رعب بھر دیا ۔






راہبروں کے روپ میں راہزن


آنحضرت ﷺ نے بارگاہِ الٰہی سے اطلاع پاکر قیامت تک پیش آنے والے حالات و واقعات کی امت کو اطلاع دے دی ہے اور انہیں ممکنہ خطرات و اندیشوں سے آگاہ فرمادیا ہے۔ اسی طرح قربِ قیامت میں جو جو فتنے ظہور پذیر ہوں گے یا جن جن طریقوں سے امت کو گمراہ کیا جاسکتا تھا، آپ ﷺ نے ان کی پیشگی اطلاع دے کر امت کو ان سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ اہل علم اور علماء جانتے ہیں کہ احادیث کی تمام متداول کتب میں حضرات محدثینؒ نے ”ابواب الفتن“ یا ”کتاب الفتن“ کا عنوان قائم کرکے ایسی تمام احادیث اور روایات کو یکجا کردیا ہے۔
یوں تو قربِ قیامت میں بہت سے فتنے اٹھیں گے، مگر ان میں جو سب سے بڑا فتنہ، دجال کا فتنہ ہوگا۔ جو انسانیت کو اپنی شعبدہ بازیوں سے گمراہ کرے گا۔
دجالِ اکبر تو ایک ہوگا، جس کو حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوکر مقام ”لُدّ“ میں قتل کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو امت کو گمراہ کرنے میں دجالِ اکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔
اسی لئے آنحضرت ﷺ نے امت کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان کُش راہ زنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے، کیونکہ قرب قیامت میں شیاطین انسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس کامیابی سے اپنی تحریک کو اٹھائیں گے کہ کسی کو ان کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ گزرے گا۔
چنانچہ علامہ علأ الدین علی متقیؒ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "کنزالعمال" میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ان انسان نما شیاطین کے دجل و اضلال ،فتنہ پروری کی سازشوں اور دجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ:
”انظروا من تجالسون وعمن تأخذون دينكم فإن الشياطين يتصورون في آخر الزمان في صور الرجال فيقولون: حدثنا وأخبرنا، وإذا جلستم إلى رجل فاسألوه عن اسمه وأبيه وعشيرته فتفقدونه إذا غاب.“
(تاریخ مستدرک حاکم، مسند فردوس، لامام الدیلمی:1/107، رقم الحدیث#35، کنزالعمال، جلد:10،صفحہ:214، رقم الحدیث#29131، جامع الاحادیث، لامام سیوطی: رقم الحدیث#5862)
ترجمہ: ۔”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ․․․ تم لوگ یہ دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اور کن لوگوں سے دین حاصل کررہے ہو؟ کیونکہ آخری زمانہ میں شیاطین انسانوں کی شکل اختیار کرکے ․․․انسانوں کو گمراہ کرنے․․․ آئیں گے․․․ اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچا باور کرانے کے لئے من گھڑت سندیں بیان کرکے محدثین کی طرز پر․․․کہیں گے حدثنا واخبرنا․․․․مجھے فلاں نے بیان کیا، مجھے فلاں نے خبر دی وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا جب تم کسی آدمی کے پاس دین سیکھنے کے لئے بیٹھا کرو، تو اس سے اس کا، اس کے باپ کا اور اس کے قبیلہ کا نام پوچھ لیا کرو، اس لئے کہ جب وہ غائب ہوجائے گا تو تم اس کو تلاش کروگے۔“
قطع نظر اس روایت کی سند کے، اس کا نفس مضمون صحیح ہے۔ جیسا کہ امام مسلمؒ نے اپنی صحیح مسلم (حدیث:7) کے مقدمہ کے باب: ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل (یاد رکھنے) میں احتیاط کے بیان میں تین روایات لائے ہیں:
(1) حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
آخری زمانہ میں ایسےدجل وفریب دینے والے اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپوں نے سنا ہوگا لہٰذا ان سے بچو اور ان کو اپنے آپ سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔ 
[صحیح مسلم:7-9، مسند أحمد:8267+8596، شرح مشكل الآثار:2954، کنز العمال:29024، جامع الاحادیث:27046]
(2) وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ، فَيَتَفَرَّقُونَ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَعْرِفُ وَجْهَهُ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ "
ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، مسیب بن رافع، عامر بن عبدہ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ شیطان انسانی شکل وصورت میں قوم کے پاس آکر ان سے کوئی جھوٹی بات کہہ دیتا ہے لوگ منتشر ہوتے ہیں ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے ایسے آدمی سے سنا یہ بات سنی ہے جس کی شکل سے واقف ہوں لیکن اس کا نام نہیں جانتا۔
(3) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْبَحْرِ شَيَاطِينَ مَسْجُونَةً، أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ، يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ، فَتَقْرَأَ عَلَى النَّاسِ قُرْآنًا»
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، طاؤس، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ سمندر میں بہت سے شیاطیں گرفتار ہیں جن کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گرفتار کیا ہے قریب ہے کہ ان میں سے کوئی شیطان نکل آئے اور لوگوں کے سامنے قرآن پڑھے۔

 بہرحال ان روایات میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً:
۱:… مسلمانوں کو ہر ایرے غیرے اور مجہول انسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اس کی تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے؟کیسا ہے؟ کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اس کے اساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اس نے علم حاصل کیا ہے؟ اس کا علم خودرو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اور مستشرق اساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟
۲:… اس شخص کے اعمال و اخلاق کیسے ہیں؟ اس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ خاندانی پس منظر کیا ہے؟ نیز یہ شعبدہ باز یا دین کے نام پر دنیا کمانے والا تو نہیں؟
۳:… اس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں (راویوں کا سلسلہ) نقل کرنے اور ”اخبرنا“ و” حدثنا“ کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالم ربانی نہیں کہلاسکتا، اس لئے کہ بعض اوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کافر و ملحد بھی اس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مقرر و مدرس ،واعظ یا ”وسیع معلومات“ رکھنے والے کتابی ”اسکالر“وڈاکٹر کی بات پر کان دھریں بلکہ اس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور ان کے علم و تحقیق کا حدود اربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ اور ان سے ائمہ کے سلسلہ وار قابلِ اعتماد واسطوں (سندوں) سے حاصل شدہ اصلی تعلیماتِ دین کا مخالف یعنی منکرِ حدیث وسنت، منکرِ اجماعِ صحابہ، منکرِ معجزاتِ اولیاء، منکرِ ختمِ نبوت یا ان کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟ چنانچہ ہمارے دور میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی یا عام اجتماعات میں ایسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے جو اپنی چرب زبانی اور ”وسعتِ معلومات“ اور تُک بندی کی بنا پر مجمع کو مسحور کرلیتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے عقیدت مند ہوجاتے ہیں، ان کے بیانات، دروس اور لیکچرز کا اہتمام کرتے ہیں، ان کی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنا بناکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں، جب ان بے دینوں کا حلقہ بڑھ جاتا ہے اور ان کی شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے تو وہ کھل کر اپنے کفر وضلال اور باطل و گمراہ کن نظریات کا پرچار شروع کردیتے ہیں، تب عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو بےدین، ملحد، بلکہ زندیق اور دھریہ تھا اور ہم نے اس کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کی اشاعت و ترویج میں اس کا ساتھ دیا اور جتنا لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس کر گمراہ ہوئے ہیں، افسوس ! کہ ان کے گمراہ کرنے میں ہمارا مال و دولت اور محنت و مساعی استعمال ہوئی ہے۔ اس روایت میں یہی بتلایا گیا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جائے کہ ہم جس سے علم اور دین سیکھ رہے ہیں یہ انسان ہے یاشیطان؟مسلمان ہے یاملحد؟موٴمن ہے یامرتد؟ تاکہ خود بھی اور دوسرے بھی ایسے شیاطین کی گمراہی سے بچ سکیں۔





حاملین علم کا مقام اور ذمہ داریاں

احادیث مبارکہ کی روشنی میں


جہاں جہاں نظر آئیں تمہیں لہو کے چراغ
مسا  فر  ا  ن   محبت   ہمیں    د عا    د ینا
ہرہوش مند مسلمان کو اس بات کا علم ہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد سب سے اہم چیز ”علم دین“ ہے۔ کیونکہ جو چیزیں ایمان میں مطلوب ومقصود ہیں، کہ جن پر عمل کرنے سے ایمان میں کمال آتا ہے، اور جن پر دین کی اشاعت و حفاظت کا مدار ہے، وہ چزیں دین کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے کتاب الایمان کے معاً بعد، علم سے متعلق احادیث کو جمع فرمایا ہے، اور انہی کی پیروی کرتے ہوئے ”صاحب مشکوٰة“ علامہ بغوی نے بھی اپنی تالیف ”مشکوٰة“ شریف میں کتاب الایمان کے بعد ”کتاب العلم“ کو جگہ دی ہے۔
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک علم دین بہت ہی افضل شیٴ ہے لہٰذا ”صاحب علم“ کا بھی مخصوص ترین مقام ہے قرآن پاک میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”ہَلْ یَسْتوی الذینَ یَعْلَمُون والذین لا یعلمون“ یعنی جاہل آدمی خواہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہوجائے، کتنی ہی زیادہ عبادت و ریاضت کرلے؛ لیکن وہ صاحب علم کے مقام کو پالے یہ ناممکن اور محال بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عالم دین کی عزت و توقیر کے لئے نیز اس کے حق میں دعاء مغفرت کرنے کیلئے ساری کائنات کو لگارکھا ہے، اسی کے ساتھ میدان محشر میں اس کو ایسے انعامات سے سرفراز کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، جن کو سن کر فرشتے تک رشک کرتے ہیں؛ لیکن جس طرح اہل علم کا بلند و بالا مقام و مرتبہ ہے، اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی بہت نازک ہیں، جس طرح ان کے چھوٹے چھوٹے کاموں پر بے شمار بشارتیں ہیں۔ اسی طرح مفوضہ ذمہ دار سے کنارہ کشی کی صورت میں، ان کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی ہیں، ایسی صورت میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علماء کرام اس دنیا کے اندر قابل رشک بن کر رہتے، لیکن آج اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ اپنے مقام و مرتبہ کو فراموش کرکے، اپنی فضیلتوں و عظمتوں کو نظر انداز کرکے، نیز کوتاہیوں کی صورت میں وارد شدہ وعیدوں اور دھمکیوں سے تغافل برت کر، ان کاموں میں لگا ہوا ہے جن سے پورے طبقہٴ علماء کی جگ ہنسائی ہورہی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بے مصرف اور بے فیض چیز سمجھی جارہی ہے تو یہ اہل علم کی جماعت ہے، حالانکہ اس جماعت کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں لاجواب زندگی گزارنے کا، ایسا بہترین نسخہ بتایا تھا، جس پر یہ حضرات عمل کرتے تو ساری کائنات ان کے قدموں میں جھک جاتی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو اہل دنیا کے سامنے کاسہ گدائی لیکر پھرنے والا راستہ نہیں بتایا تھا، بلکہ ان کو سرداروں اور سربراہوں کی طرح جینے کا سلیقہ عطاء فرمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زندگی گزاری، دنیا والوں نے ان کو اپنے سروں پر بٹھایا، اور آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی جولوگ استقامت کے ساتھ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں دنیا ان کے سامنے ذلیل ہوکر آرہی ہے۔ اور یہ دنیا کو اپنی ٹھوکروں سے مار رہے ہیں۔ زیر نظر مقالہ میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرامین کو جمع کیاگیا ہے، مقصد یہ ہے کہ جو شخص بھی علم کی کسی طور پر بھی خدمت کررہا ہے اس کو اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور وہ آقا کے فرمان کے مطابق اپنی زندگی ڈھال کر اپنا کھویا مقام حاصل کرسکے اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کو اپنا مقدّر بنالے۔
حصول علم میں مشغول رہنے والے کیلئے بشارت
طالب علم ہو، عالم دین ہو، یا ان کے علاوہ دینی مشغلہ رکھنے والا کوئی بھی شخص ہو، اگر وہ علم دین کے حصول اور اس کی اشاعت میں لگا ہوا ہے تواس کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار بشارتیں ہیں، ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”لَنْ یَشْبَعُ الْمُوٴمِنُ مِن خَیْرٍ سَمِعَہُ حَتّٰی یکونَ مُنْتَہَاہُ الجنَّةَ“ مومن کا پیٹ خیر کی بات سننے سے کبھی نہیں بھرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی ساری زندگی طلب علم میں لگادی، اس کو جنت کی بشارت ہے۔ اس حدیث کے پیش نظر بہت سے اولیاء کرام ساری زندگی طالب علم ہی بنے رہے، حدیث میں طلب علم کی کوئی خاص شکل متعین نہیں ہے؛ لہٰذا جو شخص بھی مرتے وقت تک کسی طرح کے بھی علمی کام میں مشغول ہے، وہ اس بشارت کا مستحق ہے۔
ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص طلب علم کیلئے نکلا تو وہ جب تک واپس نہ آجائے اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہد کی طرح ہے؛ کیونکہ جس طرح مجاہد، اللہ کے دین کو زندہ کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے، اسی طرح طالب علم بھی احیاء دین کے مقصد سے اپنا سب کچھ قربان کرتا ہے؛ لہٰذا فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق طالب علم گھر واپس آنے تک مجاہد کے مانند ہے، یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ طلب علم کے بعد گھر لوٹنے سے طالب علم کے مرتبہ میں کمی نہیں آتی؛ بلکہ اس کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے؛ کیونکہ حصول علم کے بعد اب وہ عالم دین ہوگیا، اور عالم دین ہونے کی وجہ سے وہ انبیاء کا وارث بن گیا۔(۲) طلب علم کا اس قدر فائدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کفَّارَةً لِمَا قَضٰی“(۳) یعنی طلب علم کی وجہ سے ماضی میں کئے ہوئے گناہ معاف ہوجاتے ہیں گناہوں سے یا تو صغیرہ گناہ مراد ہیں، یا پھر یہ مطلب ہے کہ طلب علم کے ذریعہ سے توبہ کی توفیق ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں سارے گناہ زائل ہوجاتے ہیں معلوم ہوا کہ طلب علم کے نتیجہ میں جنت کی بشارت بھی ہے، مجاہدوں جیسا ثواب بھی ہے اور ماضی میں کئے ہوئے گناہوں کی بخشش کا پروانہ بھی ہے۔
دین میں بصیرت بڑی خوش نصیبی کی بات ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، جن کی سچائی اور راست گوئی کی دوست و دشمن ہر شخص نے تصدیق کی اور جن کی ہر بات کے واقع کے مطابق ہونے کا یقین ہر مسلمان کے عقیدہ کا جز ہے، انھوں نے فرمایا: ”مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِیْ الدِّیْن“(۴) اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اس کو دین کی بصیرت عطا فرماتے ہیں، اس حدیث سے نہ صرف تفقہ فی الدین کی عظمت معلوم ہوئی؛ بلکہ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہ ایسا کمال ہے جو اللہ تعالیٰ ہر کس و ناکس کو نہیں عطا فرماتے، لہٰذا جس کو دین کی بصیرت حاصل ہوجائے اس کو اپنے آپ کو نہایت خوش نصیب سمجھنا چاہیے اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے رہنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کی بناء پر پورے اطمینان سے یہ بات کہی جاسکتی ہے، ایسے تو کوئی انسان یہ نہیں بتاسکتا کہ خدا وند قدوس کااس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا، لیکن فقیہ اس حدیث کے پیش نظر یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ خیر کا ارادہ ہے کیونکہ ”تفقہ فی الدین“ عطاء ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ نے میرے لئے خیر کا ارادہ فرمارکھا ہے؛ لیکن اس بشارت کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت حسن بصری کی صراحت کے مطابق ”فقیہ“ وہ ہے جو دنیا سے کنارہ کش ہوکر فکر آخرت میں لگا رہتا ہو، ہمیشہ دینی معاملات اس کے مدّنظر رہتے ہوں اور اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتا ہو۔(۵) جب کوئی اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرلے اس کے بعد ہی اس کو اپنے آپ کو اس بشارت کا مستحق سمجھنے کا حق ہے۔
علم سے خوبیوں میں جلا پیدا ہوتا ہے
کون ایسا انسان ہوگا جس میں کوئی نہ کوئی خوبی اور اچھائی نہ ہو۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ اچھائیاں ضرور ہوتی ہیں۔ اگرکوئی شخص اپنی خوبیوں میں نکھار پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو علم دین حاصل کرنا چاہئے۔ علم دین سے خوبیوں میں جلا پیدا ہوتا ہے ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خِیارُہُمْ فِیْ الجاہِلِیّةِ خِیَارُہُمْ فی الاِسْلاَمِ اذَا فَقِہُوْا(۶) یعنی جولوگ حالت کفر میں معزز سمجھے جاتے تھے، اگر وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں بھی ان کو عزت و توقیر ملے تو ان کیلئے سب سے مفید نسخہ یہ ہے کہ وہ ”احکام شرعیہ“ کے عالم ہوجائیں، احکام شرعیہ کے علم سے زمانہ جاہلیت کی خوبیوں میں نکھار آجائے گا اوروہ کام کی بن جائیں گی۔ اِس حدیث میں ہر مسلمان کے لئے یہ درس ہے کہ ایک مسلمان کی عزت و عظمت اوراس کی سربلندی کا راز نہ مال و دولت میں ہے نہ حسب و نسب میں؛ بلکہ اس کی خیریت و عافیت اور اس کی ترقی کا انحصار احکام شرعیہ کے علم اوراس کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔
علم دین قابل رشک چیز ہے
علم دین بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا اس کے حاصل ہونے پر جتنا بھی رشک کیا جائے کم ہے ایک موقعہ پر سرورکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوطرح کے لوگ ہی رشک کے قابل ہیں ایک شخص تو وہ ہے جو مال پاکر اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور دوسرے شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا: ”وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الحِکْمَةَ فَہُوَ یَقْضِیَ بِہَا“(۷) دوسرا شخص وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم عطا فرمایا اور وہ اس علم کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اوراس علم کو لوگوں کو سکھاتا بھی ہو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دین عطا فرمایا اوراس نے دین کے سکھانے اوراس کے مطابق فیصلہ کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا تو یہ قابل رشک آدمی ہے لوگوں کو اس کے نصیب کی بلندی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے مقام و مرتبہ کی رفعت پر جتنا رشک ہو کم ہے۔
علماء ہی بقائے علم کا سبب ہیں
یہ علماء ہی کا مقام و مرتبہ ہے کہ ان کے دم سے علم کا وجود ہے جب اللہ تعالیٰ اس دنیا سے علماء کو اٹھالیں گے تو علم بھی اٹھ جائے گا اور علم کے اٹھ جانے کے سبب ہر جانب تاریکی پھیل جائے گی کوئی صحیح راہ دکھانے والا نہ ہوگا ہر شخص گمراہی کے عمیق غار میں سرتاپیر غرق ہوگا، جہلاء علماء کی جگہ بیٹھ کر ایسی ایسی باتیں بتائیں گے؛ جن پر عمل کرکے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس لئے علماء کے وجود کو باعث خیر و برکت سمجھ کر ان سے حتی المقدور استفادہ کی ہر ایک کوشش کرنا چاہئے اور ان سے محبت رکھنے کو اپنے لئے سعادت خیال کرنا چاہئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ”اِنَّ اللّٰہَ لا یَقْبِضُ الْعِلْمَ انتزاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ العِبَادِ وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعَلَمَاءَ“(۸) اللہ تعالیٰ دین کا علم اس طرح نہیں اٹھائیں گے کہ لوگوں کے اندر سے کھینچ لے؛ بلکہ علماء کو اٹھالینے کی صورت میں دین کا علم اٹھ جائے گا، یعنی علماء زندہ رہیں اور ان کے سینوں سے علم نکال لیاجائے یہ نہیں ہوگا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ حاملین علم کو اٹھالیں گے اور ان کی جگہ دوسرے علماء پیدا نہیں ہوں گے۔ اس طرح علم خود بخود ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا بقائے علم کے لئے ہر عالم کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے بعد کچھ علماء چھوڑے۔
عالم دین عابد سے افضل ہے
ایسا عالم دین جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہو، وہ عابد سے بہت زیادہ بلند مقام رکھتا ہے اس کے مقام و مرتبہ کے آگے راتوں کو جاگ کر اللہ اللہ کی ضربیں لگانے والے شب زندہ دار عابد کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ عالم دین نہ صرف اپنے آپ کو جہنم سے بچاتا ہے، بلکہ دوسرے بہت سے لوگوں کو بھی جہنم سے بچاکر جنت والے راستہ پر ڈال دیتا ہے، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اِنَّ فَضْلَ العَالِم عَلَی العابدِ کَفَضْلِ القَمَرِ لَیْلَةَ البدرِ عَلیٰ سَائِرِ الکَوَاکِبِ“(۹) عالم کو عابد پر ایسی فضیلت ہے جیسے کہ چودھویں رات کے چاند کو تمام تاروں پر بڑائی اور برتری حاصل ہوتی ہے، دوسری جگہ عالم کو عابد پر ترجیح دیتے ہوئے فرمایا: ”فضل العالِمِ عَلَی العَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلَی اَدْنَاکمْ“(۱۰) عالم کو عابد پر ایسی ہی فضلیت ہے جیسے کہ مجھ کو تم میں سے ادنیٰ شخص پر حاصل ہے، اس ارشاد سے یہ بات سمجھ میں آئی، کہ جب عالم کوعابد پر اتنی فضیلت ہے تو عام لوگوں پر عالم کو جو فضیلت ہوگی اس کا اندازہ کرنا بہت دشوار بات ہے، لہٰذا عالم کے ساتھ بدکلامی کرنا اس کے بارے میں فاسد خیال رکھا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی توہین اور ان کے ارشاد کی پامالی ہے، عالم کو عابد پر اس قدر ترجیح دینے کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر کیاگیا کہ عالم کا فائدہ متعدّی ہوتا ہے جبکہ عابد کا فائدہ لازم ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عالم شیطان کے ہتھکنڈوں سے واقف ہونے کی بناء پر اس کے دام میں آنے سے خود بھی محفوظ رہتا ہے اورامت کی بھی حفاظت کرتا ہے؛ جبکہ عابد شیطان کے دام میں الجھے رہنے کے باوجود اپنے آپ کو عبادت و ریاضت میں مشغول خیال کرتا ہے، اسی بنیاد پر آپ نے فرمایا: ”فقیہ واحِدٌ اَشدُّ عَلَی الشَیْطَانِ مِن الفِ عابدٍ“(۱۱) ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے، لہٰذا عام لوگوں کو نیک عالم کا قرب اختیار کرنا چاہیے، تاکہ وہ عالم کی صحبت کی برکت سے شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہیں۔
علماء وارثین انبیاء ہیں
اگرکوئی عالم دین کی قدر و منزلت کا اندازہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس بات سے کرے، کہ علماء کرام انبیاء عظام کے وارث ہوتے ہیں انبیاء کے بعد علماء ہی کامرتبہ ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اِنَّ الْعُلَمَاءَ ورثَةُ الانبیاءِ وانَّ الانبیاءَ لَمْ یورِّثو دِیْنَارًا ولاَ دِرْہَمًا وانَّمَا وَرَّثُوالْعِلْمَ فَمَنْ اخَذَہُ اَخْذَ بحظٍ وَافِرٍ“(۱۲) علماء دین انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء دینار و درہم کے وارث نہیں بناتے ہیں وہ تو علم کا وارث بناتے ہیں جس نے دین کا علم حاصل کرلیا اس نے پورا حصہ پالیا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ بازار سے گزر رہے تھے لوگوں نے دیکھا کہ وہ تجارت میں مشغول ہیں آپ  نے فرمایا تم لوگ یہاں کاروبار میں مشغول ہو اور مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہورہی ہے لوگ فوراً مسجد کی طرف دوڑگئے، وہاں جاکر دیکھا کہ کچھ لوگ تلاوت میں مشغول ہیں، کچھ حدیث پڑھ رہے ہیں، کچھ دوسرے لوگ علمی مذاکرہ میں مصروف ہیں کچھ لوگ ذکر و اذکار اور تسبیح و مناجات میں لگے ہوئے ہیں۔ آنے والوں نے یہ دیکھ کر ابوہریرہسے کہا آپ نے تو فرمایا تھا کہ مسجد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہورہی ہے، اور یہاں تو کچھ ایسا نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا جن چیزوں میں یہ لوگ مشغول ہیں، یہی چیزیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہیں۔ یاد رکھو! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث دنیا نہیں ہے۔“(۱۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فدک زمین اسی طرح دیگر انبیاء کرام کسی چھوڑی ہوئی دنیوی چیزوں کا مالک ان کی اولاد میں سے کوئی نہیں بنا، اور اُن چیزوں میں وراثت نہیں چلی؛ بلکہ وہ سب چیزیں تمام مسلمانوں کیلئے وقف ہوگئی تھیں۔(۱۴) علماء اور انبیاء کا اتنا قریبی تعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ جاء ہُ المَوْتُ وہُوَ یَطْلبُ الْعِلْمَ لِیحْی بہ الاِسْلاَمَ فَبَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّبیینَ درَجَةٌ واحدةٌ فی الجنَّةِ“(۱۵) جس شخص کو موت ایسی حالت میں آئی، کہ وہ دین کا علم اسلام کو زندہ کرنے کی غرض سے حاصل کررہا تھا، تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا۔
عالم کے لیے ساری کائنات دعاء گو رہتی ہے
کائنات کی سب سے عزیز ترین اور محبوب ترین ہستی، دین کے طالب کی ہستی ہے، یہی وجہ ہے کہ دین کے طالب کیلئے کائنات کی ہر ہر شی مصروف دعا رہتی ہے؛ حتی کہ فرشتہ اس کے اعزاز میں پر بچھائے رہتے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ سَلَکَ طَرِیقًا یَطْلبُ مِنْہُ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وانَّ المَلاَئِکَةَ لتَضَعُ اَجْنِحَتہَا رِضًی لِطَالِب العِلْمِ وانّ العالِمَ یستغفرلَہُ مَنْ فی السمٰواتِ وَمَن فِیْ الاَرْضِ والْحِیْتَان فی جَوْفِ المَاءِ“(۱۶) اس حدیث سے جہاں ایک طرف یہ بات معلوم ہوئی کہ علم دین کیلئے سفر کرنا نہایت مستحسن ومتبرک فعل ہے وہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ علم کیلئے سفر کرنا درحقیقت جنت کی راہ پر گامزن ہونا ہے، دین کا طالب اتنا معزز ہے کہ فرشتے اس کیلئے پر بچھاتے ہیں، پر بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے طالب علم کی نہایت عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آتے ہیں، یا پھر یہ مطلب ہے کہ وہ حقیقتاً پر بچھاتے ہیں لیکن ہم اپنی اِن کوتاہ آنکھوں سے اس کا نظارہ نہیں کرپاتے ہیں اور عالم کیلئے آسمان و زمین کی تمام مخلوق حتی کہ پانی میں مچھلیاں مغفرت کی دعا کرتی رہتی ہیں، لیکن یہ تمام عظمتیں و رفعتیں، اور ساری کی ساری سعادتیں و برکتیں اس وقت ہیں، جب علم کا طالب اپنے علم کی حق تلفی نہ کرے، حصول علم کے دوران اور اس کے بعد کی جو ذمہ داریاں ہیں ان سے پہلو تہی نہ کرے۔
علم کی راہ میں اخلاص ضروری ہے
علم دین حاصل کرنے میں، لوگوں کو اس کے سکھانے میں،اس کے مطابق فیصلہ کرنے میں، غرضیکہ ہر وقت اور ہر قدم پر اخلاص لازمی شی ہے، علم دین اخلاص کے بغیر بجائے نفع کے نقصان کا سبب ہے،اگر کوئی طالب علم دکھاوے کیلئے علم کا جوئندہ بنتا ہے، یا کسی عالم نے دنیا داری کے لئے تعلیم و تعلّم کا پیشہ اختیار کررکھا ہے تو ایسے ریاکار لوگوں کے انجام کے بارے میں آقا ﷺ نے بہت پہلے فرمایا ہے ”رجُلٌ تعلَّمَ القرآن وعلَّمَہُ و قرالقُرآنَ فاُتِیَ بہ فعرّفَہُ نِعَمَہُ، فعرفَہَا، قَالَ فَمَا عَلِمْتَ فِیْہَا قَالَ تعلَّمتُ العِلْمَ، وعَلَّمْتُہُ وقراتُ القرآن فیک قَالَ کذبْتَ ولٰکِنَّکَ تعلّمتَ العلْمَ لیُقَالَ اِنَّکَ عَالِمٌ وقراتَ القرآنَ لِیُقَالَ اِنک قَارِیٌ، فَقَدْ قِیلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہ فسُحّبَ عَلیٰ وَجْہِہ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ“(۱۷) اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایک ایسا شخص لایا جائے گا جس نے دین کا علم حاصل کیاتھا، دوسروں کو اس کی تعلیم بھی دی تھی، قرآن پاک بھی پڑھا تھا، پہلے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں اپنی عطا کردہ نعمتوں کو یاد دلائے گا، وہ شخص ان نعمتوں کا اعتراف بھی کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائیں گے تم نے ان نعمتوں کے شکرانہ میں میری رضا کے خاطر کون سے کام انجام دئیے، وہ شخص کہے گا میں نے دین کا علم حاصل کیا، دوسروں کو اس کی تعلیم دی اور تیری خوشنودگی کے لئے قرآن پاک پڑھا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تونے جھوٹ کہا، دراصل علم تونے اس غرض سے حاصل کیا تھا، کہ مخلوق کے درمیان تو عالم مشہور ہوجائے اور قرآن پڑھنے کی غرض یہ تھی، کہ لوگ تیرے بارے میں کہیں کہ قاری تو فلاں شخص ہی ہے، تو جو تونے چاہا وہ تجھ کو دنیا میں مل گیا، چہار دانگ عالم میں تمہاری شہرت کے خوب ڈنکے بجے، اب یہاں تم کو کچھ بھی نہیں ملے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں حکم دیں گے، کہ اس کو منھ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لیجاؤ اوراس کو منھ کے بل جہنم میں ڈال دو، یاد رکھنا چاہئے کہ اخلاص سے عاری، ریاکار عالم، قاری، اور عابد وغیرہ کے لئے ایسی ہولناک سزائیں ہیں جن کا اگر دل میں یقین جاگزیں ہوجائے، تو اِن میں سے کوئی ریا کے قریب سے بھی نہ گزرے، ایک موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”جبُّ الحزن“ سے یعنی رنج و غم کے کنویں سے اللہ کی پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ”جب الحزن“ کیا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جہنم میں ایک کھائی ہے جس سے خود دوزخ ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس میں کون ڈالا جائے گا، آپ نے فرمایا: ”القرّاءُ المرأونَ باَعْمَالِہِم“(۱۸) وہ قرآن پڑھنے والے جو اپنے عمل میں ریا کاری کرتے ہیں، شراح حدیث نے ذکر کیا ہے، اس حکم میں ریاکار عابد، عالم، قاری، سب داخل ہیں۔ یہیں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اخلاص کے فقدان کی وجہ سے قیامت کے دن نیک اعمال بھی وبال بن جائیں گے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں عظیم سے عظیم ترین کام اور بڑی سے بڑی قربانی بغیر اخلاص کے ایسی ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم اور خوشبو کے بغیر پھول ۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں مجاہدین، علماء اور راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کی جو تعریف وارد ہوئی ہے اور ان کے لئے جن بلند درجات کا وعدہ فرمایاگیا ہے، وہ سب اس وقت ہیں جب یہ لوگ اپنی ذمہ داریاں انتہائی اخلاص کے ساتھ انجام دیتے ہوں۔(۱۹)
اخلاص کا حاصل رضائے الٰہی
علماء اور طلباء کے لئے علم کی راہ میں اخلاص کو ضروری قرار دیاگیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ علم کی راہ میں جو بھی کوشش اور محنت کریں وہ صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کریں، حصول علم اور اشاعت علم کا مقصد حصولِ دنیا نہ ہو۔ اگر کوئی حصول دنیا کی غرض سے علم کی راہ میں لگا ہوا ہے، تو اس کے لئے آقا ﷺ کی سخت وعیدیں ہیں۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”مَنْ تعلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُتْبغیٰ بِہ وَجہُ اللّٰہِ لا یتعَلّمہُ اِلاّ لِیُصِیبَ بِہ عرضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یجِدْ عَرَفَ الجَنَّةِ یَوْمَ القِیَامَةِ یعْنِی رِیحَہَا“(۲۰) جس شخص نے اللہ کی رضا حاصل کرنے والا علم دنیاوی سازوسامان حاصل کرنے کی غرض سے سیکھا اس کو قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی، علم کی غرض کسب دنیا نہ ہونا چاہئے، البتہ اگر اس کے ذریعہ سے بلا طلب دنیا مل رہی ہے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح کسب معاش کیلئے دنیوی علوم سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے؛ لیکن جن علوم کے سیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے مثلاً کہانت وغیرہ، ان کو کسب معاش کیلئے بھی سیکھنا درست نہیں ہے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ علم دین محض اللہ کی رضا کیلئے سیکھنا چاہئے اس میں کسی طرح کی ریاکاری، کوئی دنیوی غرض، اور کسی بھی طرح کا فخر وغرور شامل نہ ہونے دینا چاہئے۔ اوراگر کوئی علم کو اپنی بڑائی اور فوقیت قائم کرنے کیلئے سیکھتا ہے تو یہ بھی سخت جرم ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ طَلَبَ العلْمَ لِیُجاری بِہ العُلَمَاءَ اَوْ لیُمَارِی بِہ السُّفَہَاءَ اَوْ یَصْرِفَ بہ وجُوہَ النَّاسِ اِلَیْہِ ادخَلَہُ اللّٰہُ النّارَ“(۲۱) جس شخص نے علم اس وجہ سے حاصل کیا کہ اس کے ذریعہ سے علماء دین کا مقابلہ کرے یا بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے یا لوگوں کو اپنی شخصیت کی طرف متوجہ کرے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال دیں گے۔
عالم دین کی فرائض سے غفلت
عالم دین کا فرض منصبی ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت دے، کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اورانبیاء کرام کا اصل مشن بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ دکھانا تھا۔ لہٰذا علماء کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غافل لوگوں کے دلوں میں اس کی یاد پیدا کرنے کی کوشش کریں، اسلام کی اشاعت اور دین کی تبلیغ کیلئے بھرپور جدوجہد کریں، اگر کوئی عالم اپنے اس فریضہ کو فراموش کربیٹھا ہے، یا اس سے غفلت برت رہا ہے تو اس کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے حساب سے دین کو ڈھارہا ہے۔ حضرت زیاد ابن جدیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کو ڈھانے والی کیا چیز ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”یَہْدمُہُ زلة العَالِمِ“(۲۲) عالم کا پھسلنا اسلام کو ڈھادیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عالم اگر اپنے فرائض سے غافل ہوکر، خواہش نفس پر عمل کرنے لگے تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی احکامِ اسلام پر عمل ترک کردیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کی بنیادیں ہل جائیں گی اور اسلام منہدم ہوجائے گا۔
علم چھپانا سخت گناہ ہے
جو شخص دین کا عالم ہے اس کو چاہئے کہ وہ دوسروں کو سکھائے، اگر لوگ اس سے فیض نہیں حاصل کرپارہے ہیں، تو صاحب علم کو سمجھنا چاہئے کہ اس کا علم نفع بخش نہیں ہے، اگر کسی عالم سے کوئی دینی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود لوگوں کو مطلع نہیں کیا تو ایسے شخص کے بارے میں آقا ﷺ کا فرمان ہے کہ ”مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ یعَلِمَہُ، ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ القِیَامَةِ بِلِجَامٍ مِن النَّارِ“(۲۳) جس شخص سے علم دین کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود چھپایا تو ایسے شخص کو قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی، قیامت کے دن اس کو اتنی سخت سزا اس وجہ سے دی جائے گی کہ اس نے علم کے مقصد نشرواشاعت کو زائل کردیا، اس نے معلوم شدہ بات میں سکوت اختیار کرکے دنیا میں اپنے منھ میں لگام ڈالی لہٰذا آخرت میں آگ کی لگام اس کے منھ میں ڈالی جائے گی، اسی وجہ سے ہر عام کو خوب متنبہ رہنا چاہئے، جو شخص بھی اس سے دین کی کوئی ضروری بات پوچھے تو اگر صحیح طور پر جانتا ہے تو اس کو بتانے سے ہرگز ہرگز دریغ نہ کرے؛ تاکہ اس وعید کا مستحق نہ بنے۔
علم کو صلاحیت کے مطابق سکھانا چاہئے
عالم دین کو خود علم کی وقعت اور عزت کرنا چاہئے علم کو سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے بھی بہتر سمجھنا چاہئے جس طرح ایک دنیا دار آدمی کبھی کتے اور خنزیر کی گردن میں ہیرے جواہرات کے زیور نہیں ڈالتا ہے؛ اسی طرح علماء دین کو بھی چاہئے کہ ناقدروں کو علم نہ سکھائیں، مسئلہ بتادینا یہ دوسری بات ہے؛ لیکن علم سکھانا اور علمی نکات بتانا یہ دوسری چیز ہے، مسئلہ تو جوبھی دریافت کرنے آئے اس کو اس کے فہم کے اعتبار سے بتادینا بہتر ہے؛ لیکن جہاں تک علم دین سکھانے کا تعلق ہے؛ تو وہ صرف قدردانوں تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔ اسی طرح کسی شخص کی صلاحیت سے بڑھ کر، اس کو علم سکھانا بھی علم پر ظلم کرنا ہے؛ جو شخص معمولی باتیں نہ سمجھتا ہو اس کے سامنے تصوف کی باریکیاں بیان کرنا؛ یہ علم کے ساتھ مذاق کرنا ہے۔ آقا ﷺ نے فرمایا: ”واضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غیر اَہْلِہ کمُقَلِّدِ الحَنَازِیْرِ الجوہَر والّلوْلُو والذہَب“(۲۴) نااہلوں کو علم سکھانے سے اس لئے منع فرمایا کہ وہ علمی باریکیوں کو سمجھ نہیں سکیں گے، اور بغیر سمجھے عمل شروع کرنے کے نتیجے میں شیطان کے دام میں پھنس کر گمراہ ہوجائیں گے۔ لہٰذا علماء دین کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ علم دین سکھاتے وقت طلباء و عوام کی صلاحیتوں کا خاص خیال رکھ کر ان کو مستفید کریں۔
علماء کرام کو اشاعت حدیث کا خاص خیال رکھنا چاہئے
آقا ﷺ کے فرامین کو یاد کرنا اور ان کو لوگوں تک پہنچانا بہت بڑی سعادت کی بات ہے اس امت کے سیکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اس سعادت کا اپنے آپ کو مستحق بنایا ہے اور ساری زندگی اللہ کے نبی کے فرامین کی خدمت میں گزار دی یہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نَضَّر اللّٰہُ اِمْراءً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہُ“(۲۵) اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے مجھ سے کچھ سنا پھر جس طرح سے اس نے سنا تھا اسی طرح دوسرے تک پہنچادیا۔ اللہ کے نبی نے اپنے فرامین کی اشاعت کرنے والے کیلئے یہ دعاء کی ہے ۔ بعض محققین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی یہ دعا فوراً قبول ہوگئی، یہی وجہ ہے کہ حدیث کی خدمت کرنے والوں کے چہروں پر نورانیت رہتی ہے۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: مَنْ حَفِظَ عَلیٰ اُمَّتِی اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا فِیْ اَمْرِ دِیْنِہَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْہًا وکنْتُ لَہُ یَوْمَ القِیَامَةِ شَافعًا وشہیدًا“ (٢٦) جس شخص نے میری امت کے نفع کے لئے دینی امور سے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو فقیہ بناکر اٹھائیں گے اور میں اس کی شفاعت کرنے والا اور اس کی نیکیوں پر گواہی دینے والا ہوں گا۔ حفظ حدیث اور نشر حدیث کرنے والے کیلئے آقا ﷺ نے خود شفارش کی ذمہ داری لی ہے اور اس بات کی بشارت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو فقیہ بناکر اٹھائیں گے ان تمام بشارتوں کے باوجود اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ علم حدیث سے تغافل برت رہا ہے۔ اس طبقہ نے صرف حدیث کا پڑھ لینا ہی کافی سمجھ لیا ہے۔ حدیث کے یاد کرنے اوراس کے پھیلانے کی طرف کوئی قابل ذکر توجہ نہیں ہے۔ اگرکسی شخص کی یہ خواہش ہے کہ قیامت کے روز اس کا شمار فقیہوں میں ہو تو اس کو اولین فرصت میں کم از کم چالیس اَحادیث یاد کرکے لوگوں تک پہنچانے کی تگ و دو کرنا چاہئے، لیکن اس کے ساتھ حدیث کے انتخاب اور اس کے یاد کرکے روایت کرنے میں پوری احتیاط برتنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ موضوع روایات یا منسوخ و متروک روایات یاد کرکے اس کو نشر کردے اور بجائے فائدہ کے نقصان اٹھانا پڑجائے اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط لازم ہے اسی وجہ سے آقا ﷺ نے فرمایا: ”اتَّقو الحَدِیْثَ اِلاَّ مَا علِمْتُمْ فَمن کذبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّار“(۲۷) آقا ﷺ نے فرمایا مجھ سے حدیث روایت کرنے سے بچو۔ صرف وہی حدیث نقل کرو جس کے بارے میں تم کو یقین ہو کہ یہ میری حدیث ہے جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں ڈھونڈھنا چاہئے۔“ لہٰذا احادیث یاد کرنے اور ان کو نقل کرنے میں یا تو کسی حدیث کی معتبر کتاب کا انتخاب کرنا چاہئے یا پھر کسی ماہر عالم کی طرف رجوع کریں۔ اور عام علماء کو اگر کسی چیز میں تشویش ہو تو وہ راسخ فی الدین اور جید الاستعداد عالم سے اپنا مسئلہ دریافت کریں اپنی طرف سے کوئی بات نہ کہہ دینا چاہئے۔ آقا ﷺ نے فرمایا: ”فَمَا عَلِمْتُمْ مِنہ فقُوْلوا وَمَا جعَلْتُم فکلوہُ اِلیٰ عالِمِہ“(۲۸) تم لوگ وہی بات کہو جو علماء کے ذریعہ سے تمہارے علم میں ہے اور جس بات سے تم ناواقف ہو اس کو علم رکھنے والوں کے سپرد کردو اپنی طرف سے دین میں دخل اندازی اور اپنے نفس سے حدیث کے بارے میں موشگافی نہ کرنا چاہئے۔