Friday, 28 August 2015

گناہوں کے سبب رزق سے محرومی ؟؟؟


عَنْ ثَوْبَانَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ , وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ , وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ " .
[سنن ابن ماجه » رقم الحديث:87+4020]
حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھلائی عمر کو زیادہ کر دیتی ہے، اور تقدیر کو سوائے دعا کے کوئی چیز نہیں لوٹاتی، اور آدمی (حلال)رزق سے اپنی اس گناہ کی وجہ سے محروم کر دیا جاتا ہے جس کو وہ کر بیٹھتا ہے۔ 
It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah P.B.U.H said: ‘Nothing extends one’s life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he conmijts’”.


تشریح: یہ سزا گناہوں کے کفارہ کے طور پر مسلمانوں کے حق میں ہے۔
[مرقاۃ:5/330، مظاہرِ حق:4/519]

ایک رزق ہے اور ایک اس کا ثمرہ اور نتیجہ، اصل مقصود رزق نہیں بلکہ اسکا ثمرہ اور نتیجہ مقصود ہوتا ہے۔ رزق کا ثمرہ اطمینان وسکون اور راحت وفرحت ہوتی ہے۔ کفار اگرچہ مال سے مالامال ہوتے ہیں لیکن ان کو مال کا نتیجہ اطمینان وسکون اور راحت وفرحت حاصل نہیں ہوتی (یعنی ہمیشہ فکر واندیشہ میں بےسکون رہتے ہیں) بلکہ خود یہی مال ان کیلئے وبالِ جان ہوتا ہےاور وہ زندگی میں اس مال کی وجہ سے شدید عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں تو درحقیقت وہ گناہ کی وجہ سے رزق کے اصل فائدہ سے محروم رہ گئے۔ یہ جواب کفار اشرار اور فساق وفجار سب کو شامل ہے۔[مرقاۃ:8/661]


رزق کیا ہے؟
رزق کی لغوی وشرعی تعریف
لغت میں رزق ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے نفع اٹھایا جائے ۔ اصطلاح شریعت میں رزق ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو الله تعالیٰ کی طرف سے ہر ذی حیات کو نفع اٹھانے کے لیے مہیا ہو جائے، یہ چیز حلال بھی ہو سکتی ہے، حرام بھی، بہر صورت رزق ہی کہلائے گی۔ ( النبراس شرح شرح العقائد، ص:196)


رزق کی اقسام واحوال ہیں، جیسے:
(1) حلال وطیب:
وَكُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ {5:88}
اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو
And eat of that wherewith Allah hath provided you as lawful and clean; and fear Allah in whom ye are believers.
پچھلے رکوع میں یہود و نصاریٰ کی جو فضائح بیان کی گئیں سمجھنے والوں کے نزدیک ان کا خلاصہ دو چیزیں تھیں یعنی یہود کا لذات و شہوات دنیا اور حرام خوری میں انہماک جو تفریط فی الدین کا سبب ہوا اور نصاریٰ کا دین میں غلو اور افراط جو آخر کار رہبانیت وغیرہ پر منتہی ہوا۔ بلاشبہ رہبانیت جسے دینداری یا روحانیت کا ہیفہ کہنا چاہئے، نیت اور منشائے اصلی کے اعتبار سے فی الجملہ محمود ہو سکتی تھی اسی لئے { ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُھْبَانًا } کو من وجہ معرض مدح میں پیش کیا گیا۔ لیکن چونکہ اس طرح کا تجرد و ترک دنیا اس مقصد عظیم اور قانوں قدرت کے راستہ میں حائل تھا جو فاطر عالم نے عالم کی تخلیق میں مرعی رکھا ہے۔ اس لئے وہ عالمگیر مذہب جو ابدی طور پر تمام بنی نوع انسان کی فلاح دارین اور اصلاح معاش و معاد کا متکفل ہو کر آیا ہے ضروری تھا کہ اس طرح کے مبتدعانہ طریق عبادت پر سختی سے نکتہ چینی کرے۔ آسمانی کتاب آج تک ایسی جامع، معتدل، فطری تعلیم انسانی ترقیات کے ہر شعبہ کے متعلق پیش نہیں کر سکتی، جو قرآن کریم نے ان دو آیتوں میں پیش کی ہے۔

فَكُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَاشكُروا نِعمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُم إِيّاهُ تَعبُدونَ {16:114}
پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو
So eat of that which Allah hath provided you of lawful and clean things, and give thanks for Allah's favour, if it is He whom ye are went to Worship.
یعنی جس کو خدا کی پرستش کا دعویٰ ہو ، اسے لائق ہے کہ خد اکی دی ہوئی حلال و طیب روزی سے تمتع کرے اور اس کا احسان مان کر شکر گذار بندہ بنے۔ حلال کو حرام نہ سمجھے اور نعمتوں سےمنتفع ہوتے وقت منعم حقیقی کو نہ بھولے۔ بلکہ اس پر اور اس کےبھیجے ہوئے پیغمبروں پر ایمان لائے ۔ اور اسی کے احکام و ہدایات کی پابندی کرے۔


(2) جنتی وجھنمی:
وَنادىٰ أَصحٰبُ النّارِ أَصحٰبَ الجَنَّةِ أَن أَفيضوا عَلَينا مِنَ الماءِ أَو مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قالوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الكٰفِرينَ {7:50}
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
And the fellows of the Fire will cry unto the fellows of the Garden: pour out on us water or aught wherewith Allah hath provided you. They will say verily Allah hath forbidden it unto infidels.


(3) حلال جانوروں کا گوشت:
وَمِنَ الأَنعٰمِ حَمولَةً وَفَرشًا ۚ كُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلا تَتَّبِعوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ ۚ إِنَّهُ لَكُم عَدُوٌّ مُبينٌ {6:142}
اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے
And of the cattle He hath created beasts of burden and small ones. Eat of that which Allah hath provided for you; and follow not the foot-steps of the Satan; verily he is unto you a manifest foe.
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے منتفع ہونا چاہیئے۔ شیطان کے قدموں پر چلنا یہ ہے کہ ان کو خواہی نخواہی بدون حجت شرعی کے حرام کر لیا جائے یا شرک و بت پرستی کا ذریعہ بنا لیا جائے۔ شیطان کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی دشمنی کیا ہوگی کہ ان نعمتوں سے تم کو دنیا میں محروم رکھا اور آخرت کا عذاب رہا سو الگ۔
بوجھ اٹھانے والے جیسے اونٹ وغیرہ اور زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قدو قامت کے جانور جسے بھیڑ بکری۔


(4) سببِ رزق، بارش:
وَفِى السَّماءِ رِزقُكُم وَما توعَدونَ {51:22}
اور تمہارا رزق(بارش) اور جس چیز(یعنی جنت) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے
And in the heaven is Your provision and that which ye are promised.
یعنی سائلوں اور محتاجوں پر خرچ کرنے سے اس لئے نہیں ڈرنا چاہیئے کہ خرچ کرکے ہم کہاں سے کھائیں گے۔ اور نہ خرچ کرکے ان مساکین پر احسان جتلائے کیونکہ تمہاری سب کی روزی اور اجروثواب کے جو وعدے کئے گئے ہیں آسمان والے کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر ایک کی روزی پہنچ کر رہے گی کسی کے روکے نہیں رک سکتی۔ اور خرچ کرنے والوں کو ثواب بھی مل کررہیگا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں " آنیوالی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے"۔






المحدث : الألباني
المصدر : صحيح ابن ماجه الصفحة أو الرقم: 3264 خلاصة حكم المحدث :حسن دون قوله: "وإن الرجل"
المحدث : ابن حبان
المصدر : صحيح ابن حبان الصفحة أو الرقم: 872 خلاصة حكم المحدث :أخرجه في صحيحه
المحدث : المنذري
المصدر : الترغيب والترهيب الصفحة أو الرقم: 2/391 (3/294) خلاصة حكم المحدث :[إسناده صحيح  أو حسن أو ما قاربهما] المصدر : الترغيب والترهيب الصفحة أو الرقم: 3/289 خلاصة حكم المحدث :إسناده صحيح
المحدث : ابن مفلح
المصدر : الآداب الشرعية الصفحة أو الرقم: 1/409 خلاصة حكم المحدث : [ رواته ] كلهم ثقات
المصدر : تخريج مشكاة المصابيح الصفحة أو الرقم: 4/411 خلاصة حكم المحدث : [حسن كما قال في المقدمة]
المصدر : التلخيص الحبير الصفحة أو الرقم: 3/858 خلاصة حكم المحدث : بغير إسناد
المحدث : ابن باز
المصدر : حاشية بلوغ المرام لابن باز الصفحة أو الرقم: 778 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح
المصدر : مجموع فتاوى ابن باز الصفحة أو الرقم: 242 /24 خلاصة حكم المحدث : صح بإسناد جيد
المصدر : مجموع فتاوى ابن باز الصفحة أو الرقم: 51/12 خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : مجموع فتاوى ابن باز الصفحة أو الرقم: 196/6 خلاصة حكم المحدث : إسناده جيد
المصدر : مجموع فتاوى ابن باز الصفحة أو الرقم: 336/5 خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : مجموع فتاوى ابن باز الصفحة أو الرقم: 174/5 خلاصة حكم المحدث : صحيح
المصدر : فتاوى نور على الدرب لابن باز الصفحة أو الرقم: 11/127 خلاصة حكم المحدث : صحيح

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بخطيئة يعملهاثوبان بن بجددسنن ابن ماجه8790ابن ماجة القزويني275
2لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددسنن ابن ماجه40204022ابن ماجة القزويني275
3الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددمسند أحمد بن حنبل2179521880أحمد بن حنبل241
4لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددمسند أحمد بن حنبل2182521906أحمد بن حنبل241
5العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبه لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددمسند أحمد بن حنبل2184921931أحمد بن حنبل241
6الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه لا يرد القدر إلا بالدعاء لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددصحيح ابن حبان879872أبو حاتم بن حبان354
7لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالمستدرك على الصحيحين17471 : 493الحاكم النيسابوري405
8الدعاء يرد القضاء البر يزيد في الرزق وإن العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالمستدرك على الصحيحين60323 : 479الحاكم النيسابوري405
9الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالسنن الكبرى للنسائي1127411775النسائي303
10لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبه في التوراة لمكتوب يابن آدم اتق ربك وبر والدك وصل رحمك أمدد لك في عمرك وأيسر لك يسرك وأصرف عنك عسركثوبان بن بجددمسند الروياني621626محمد بن هارون الروياني307
11لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر العبد ليحرم الرزق بالذنب يعملهثوبان بن بجددمسند الروياني638643محمد بن هارون الروياني307
12لا يرد القضاء إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددمسند الشهاب780831الشهاب القضاعي454
13لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددمصنف ابن أبي شيبة2928230365ابن ابي شيبة235
14لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالمعجم الكبير للطبراني14251442سليمان بن أحمد الطبراني360
15الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددمعجم أبي يعلى الموصلي279282أبو يعلى الموصلي307
16لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددمما أسند سفيان بن سعيد الثوري54---عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم330
17لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالقضاء والقدر للبيهقي1921 : 211البيهقي458
18لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددشعب الإيمان للبيهقي955910233البيهقي458
19لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددشرح السنة33213418الحسين بن مسعود البغوي516
20لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القضاء إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددمشكل الآثار للطحاوي26163069الطحاوي321
21العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبه ولا يرد القدر إلا الدعاء ولا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددتهذيب الكمال للمزي1584---يوسف المزي742
22الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالزهد والرقائق لابن المبارك8586عبد الله بن المبارك180
23ما يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه لا يرد القدر إلا الدعاءثوبان بن بجددالزهد لوكيع بن الجراح400407وكيع بن الجراح197
24ما يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه لا يرد القدر إلا الدعاءثوبان بن بجددالزهد لهناد بن السري10111009هناد بن السري243
25العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالعقوبات لابن أبي الدنيا6364ابن أبي الدنيا281
26لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددالمجالسة وجواهر العلم للدينوري19561892أبو بكر الدينوري333
27لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر العبد ليحرم الرزق بذنب يذنبهثوبان بن بجددالدعاء للطبراني2731سليمان بن أحمد الطبراني360
28الرجل يحرم الرزق بالذنب يصيبه ولا يرد القدر إلا الدعاء ولا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددبحر الفوائد المسمى بمعاني الأخيار للكلاباذي153152محمد بن إسحاق الكلاباذي384
29لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددالبر والصلة لابن الجوزي2022أبو الفرج ابن الجوزي597
30لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء العبد ليحرم الرزق بالذنب يصنعه في التوراة مكتوب يا ابن آدم اتق ربك وبر والديك وصل رحمك أمدد لك في عمرك وأيسر لك يسرك وأصرف عنك عسركثوبان بن بجددالترغيب في الدعاء والحث عليه لعبد الغني المقدسي1212عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي600
31لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البرثوبان بن بجددكتاب الدعاء19---أبو طاهر السلفي576
32لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددكتاب الدعاء20---أبو طاهر السلفي576
33لا يزيد في العمر إلا البر لا يرد القدر إلا الدعاء الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبهثوبان بن بجددكتاب الدعاء21---أبو طاهر السلفي576
34لا يرد القدر إلا الدعاء لا يزيد في العمر إلا البر الرجل ليحرم الرزق بالذنب يفعلهثوبان بن بجددكتاب الدعاء22---أبو طاهر السلفي576




قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ ، " الرِّزْقُ رِزْقَانِ : رِزْقًا تَطْلُبُهُ وَرِزْقًا إِنْ لَمْ تَأْتِهِ يَأْتِي " .
[تاريخ جرجان للسهمي » حرف الميم » من اسمه مُحَمَّد مِمَّن سكن جُرْجَان من الْعُلَمَاء ... رقم الحديث: 533(1 : 366)]

=======================================
رزق میں برکت کیسے ہو؟


اٹھارہویں صدی میں یورپ کے اقتصادی انقلاب کے بعد جب سے دنیا کا معاشی نظام کفرو الحاد کے ہاتھوں میں آیا، تب لوگوں کی سوچ کا دھارا بدل گیا۔ پہلے جب تجارت ومعاملات میں مذہب کا عمل دخل تھا، لوگوں کی ذہنیت امانت ودیانت اور فکر آخرت سے معمور تھی، لوگ اگر ایک طرف رزق کے حصول کی تدبیریں کرتے تھے ، تو دوسری طرف رازق کائنات پر توکل کرتے تھے او راس کی رضا جوئی کے لیے کوشاں رہتے تھے، مگر آج دنیا کا نقشہ بد ل چکا ہے ، چاروں طرف کفر ومادیت کا دور دورہ ہے ، پورا کا پورا اقتصادی ومعاشی نظام غیر اسلامی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے ، اسی لیے مذہبی قدریں اور دینی روایات پامال ہو رہی ہیں، ہر شخص جائز وناجائز کسی بھی طریقے سے دولت اکٹھا کرنے کی دھن میں ہے اور تو اور ، خود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ حصولِ زرق کے لیے اسلامی تعلیمات کو بالائے طاق رکھنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا، ان کے دلوں میں (معاذ الله) یہ خیال گھر کر چکا ہے کہ اسلامی احکامات کی پیروی کرتے ہوئے اقوامِ عالم کی طرح دولت نہیں کمائی جاسکتی، حالاں کہ یہ ایک نہایت بے ہودہ اور مہمل خیال ہے، اسلام نے دنیا کو ایک مکمل اور دائمی نظام حیات پیش کیا ہے، جو ہر طرح کے حالات میں اس کی ہمہ جہت رہ نمائی کا فریضہ انجام دیتا ہے ، عوام تو عوام، اچھے خاصے مذہبی لوگ بھی حصول رزق کے لیے حیران وپریشان نظر آتے ہیں ، لیکن ان کی نظر کبھی ان اعمال کی طرف نہیں جاتی ، جنہیں الله تعالیٰ نے کشادگیٴ رزق اور کثرتِ مال کا سبب قراردیا ہے ، قرآن وحدیث میں بہت سے ایسے اعمال کی طرف واضح اشارہ موجود ہے، جو رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا باعث ہیں، ہم درج ذیل سطور میں مختصراً دس اصول پیش کرتے ہیں ، جن کی بجا آوری پر الله تعالیٰ کی طرف سے رزق میں برکت وفراوانی کا وعدہ ہے:

توبہ واستغفار
قرآن پاک میں کئی مقامات پر توبہ واستغفار کے ذریعہ رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا ذکر ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے :﴿فقلت استغفروا ربکم انہ کان غفاراً، یرسل السماء علیکم مدراراً﴾․ (سورة النوح، آیت:11-10)

”میں نے ان ( قوم) سے کہا اپنے رب سے معافی مانگو ، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، تمہیں مال واولاد کی فراوانی بخشے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔“

اسی طرح حضرت ہود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو استغفار کی دعوت دی :﴿یقوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السماء علیکم مدراراً ویزدکم قوة الی قوتکم ولا تتولوا مجرمین﴾․ (سورہ ہود، آیت:52)

” اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اپنے رب سے رجوع کرو، وہ تم پر خوب برسنے والے بادل بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید اضافہ کرے گا اور ( دیکھو) مجرم بن کر منھ نہ پھیرو۔“

حضرت عبدالله بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص بکثرت استغفار کرتا ہے ، الله تعالیٰ اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں اور اسے ایسی راہوں سے رزق عطا فرماتے ہیں، جس کا اس کے وہم وگمان میں گزر تک نہیں ہوتا۔“ (ابوداؤد:1518)

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ لوگوں کے ساتھ طلبِ بارش کے لیے نکلے، آپ صرف استغفار کرکے واپس آگئے، لوگوں نے عرض کیا حضرت! ہم نے آپ کو استسقاء کی دعا کرتے سنا ہی نہیں ، آپ نے فرمایا میں نے آسمان سے بارش برسانے والے سے بارش طلب کی ہے، پھر آ پ نے آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی۔ امام حسن بصری ہر اس شخص کو استغفار کا حکم دیتے جو آپ سے خشک سالی، فقر، اولاد کی کمی اور باغات سوکھنے کی شکایت کرتا۔

توبہ واستغفار کی حقیقت یہ ہے کہ انسان گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے، اپنے کیے پر شرمندہ ہو ، آئندہ ترکِ معصیت کا پختہ عزم کرے اور جہاں تک ممکن ہواعمال خیر سے اس کا تدارک کرے، اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہو ، تو اس کی توبہ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب حق سے معاملہ صاف کرے۔ ان شرائط کے بغیرتوبہ بے حقیقت ہے۔

تقوی وپرہیز گاری
تقویٰ الله کے احکام پر عمل او رممنوعات سے اجتناب کا نام ہے ، تقوی ان امور میں سے ایک ہے ، جن سے رزق میں برکت ہوتی ہے ۔ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ومن یتق الله یجعل لہ مخرجا، ویرزقہ من حیث لا یحتسب﴾․ (سورہ طلاق، آیت:3,2)

”جو الله سے ڈرے گا الله اس کے لیے راہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔“

حضرت عبدالله بن مسعود فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں کشادگیٴ رزق کے متعلق یہ سب سے مہتم بالشان آیت ہے ، دوسری جگہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السماء والارض ولکن کذبوا فاخذنٰھم بما کانوا یکسبون﴾․ (سورة الاعراف:96)

”اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے ، تو ہم آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے ، لیکن انہوں نے جھٹلایا اس لیے ہم نے ان کی کمائی کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔“

سورہٴ مائدہ میں الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ولو انھم اقاموا التوراة والانجیل وما انزل الیھم من ربھم لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم، منھم امة مقتصدة، وکثیر منھم فاستقون﴾․ (سورہ مائدہ:66)

”اگر وہ تورات اور انجیل او راس (کتاب) کو جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی ہے قائم کرتے، تو انہیں اوپر سے بھی رزق ملتا اور ان کے قدموں کے نیچے سے بھی ، ا ن میں ایک گروہ ضرور راہ راست پر ہے، لیکن زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جو فسق وفجور کے مرتکب ہیں“۔

اوپر سورة الاعراف کی آیت میں لفظ ”برکات“ استعمال کیا گیا ہے، جو برکت کی جمع ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ برکتیں مختلف انواع واقسام کی ہوا کرتی ہیں ، نیز یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ برکت کا مطلب کثرت مال نہیں ، بلکہ کفایت مال ہے ، ورنہ بہت سے لوگ کثرت مال کے باوجود معاشی تنگی کا رونا روتے ہیں او رمعاشی طور پر بہت سے بہ ظاہر درمیانی درجے کے لوگ انتہائی اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں ، امام رازی فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ میں آسمان کی برکت سے مراد بارش او رزمین کی برکت سے مراد نباتات ، میوہ جات، مویشی، چوپایوں کی کثرت او رامن وسلامتی ہے ، کیوں کہ آسمان باپ اور زمین ماں کے قائم مقام ہے اور مخلوق خداکی تمام بھلائیوں اور منافع انہیں دونوں سے وابستہ ہیں ، امام خازن کے بقول برکت کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز میں من جانب الله خیر پائی جائے۔

عبادت خدا وندی میں انہماک
اس سے مراد یہ ہے کہ عبادت کے دوران بندہ کا دل وجسم دونوں حاضر رہیں ، الله کے حضور میں خشوع وخضوع کا پاس رکھے، الله کی عظمت ہمیشہ اس کے دل ودماغ میں حاضر رہے، حضرت ابوہریرہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” بلاشبہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! میری عبادت میں منہمک رہو، میں تیرا دل غنا سے بھردوں گا اورتمہاری محتاجگی کا دروازہ بند کروں گا، اگر تم نے ایسا نہیں کیا، تو تمہارے ہاتھوں کو کثرت مشاغل سے بھردوں گا او رتمہاری محتاجگی کا دروازہ بندہ نہیں کروں گا۔“ ( ابن ماجہ، ج:4107)

توکل علی الله
ارشاد باری ہے : ﴿ومن یتوکل علی الله فھو حسبہ ان الله بالغ امرہ قد جعل الله لکل شیء قدراً﴾․ (سورہٴ طلاق:3)

”جو الله پر بھروسہ کرے گا ، تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا الله اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، الله نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ( وقت) مقرر کر رکھا ہے۔

حضرت عمر ابن الخطاب نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اگر تم حسن وخوبی کے ساتھ الله پر توکل کرو، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے ، وہ صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کے وقت آسودہ ہو کر لوٹتے ہیں۔“ (مسنداحمد، ح:205)

امام غزالی احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ الله پر دل کے اعتماد کو توکل کہتے ہیں ، علامہ مناوی فرماتے ہیں کہ الله پر بھروسہ اور اپنی طرف سے عاجزی کے اظہار کو توکل کہتے ہیں۔ ملا علی قاری  کے بقول اس بات کا یقین کہ موجودات میں صرف الله کی ذات مؤثر ہے، کسی چیز کا نفع ، نقصان ،امیری، غریبی، صحت، مرض ، حیات او رموت وغیرہ تمام چیزیں الله تعالیٰ کے قبضہٴ قدرت میں ہیں۔

توکل کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ کسبِ معاش کی تمام کوششوں کو ترک کر دیا جائے او رہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا جائے ، خود حدیث مذکور میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے پرندوں کی مثال پیش کی ہے کہ وہ تلاشِ رزق میں صبح سویرے نکل جاتے ہیں ، پرندوں کا صبح سویرے اپنے آشیانوں سے نکلنا ہی ان کی کوشش ہے ، ان کی انہیں کوششوں کی وجہ سے الله تعالیٰ ان کو شام کے وقت آسودہ وسیراب واپس کرتے ہیں ، لہٰذا اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے ، بلکہ اسباب اختیار کرنا عین تقاضائے شریعت ہے ، ایک مرتبہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں اپنی اونٹنی کو چھوڑ دوں اور توکل کر لوں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسے باندھو، پھر توکل کرو۔ ( مسند الشہاب، حدیث نمبر:368/14633)

الله کے راستے میں خرچ کرنا
الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وما انفقتم من شیِء فھو یخلفہ وھو خیر الرزقین﴾․ (سورة سبا:39)

”اور جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا اجر اس کے پیچھے آئے گا اور وہ بہترین رازق ہے۔“

دوسری جگہ فرمان جاری ہے:﴿الشیطن یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشآء، والله یعدکم مغفرة منہ وفضلا، والله واسع علیم﴾․ ( سورة البقرہ:268)

”شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے، مگر الله اپنی طرف سے مغفرت او رفضل ( رزق میں کشادگی اور برکت) کا وعدہ کرتا ہے ، الله بڑی وسعت والا اور بڑا علم والا ہے۔“

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے ” اے ابن آدم! خرچ کر، میں تیرے اوپر خرچ کروں گا۔“ ( ابن ماجہ، ج:2123)

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا:” اے بلال! خرچ کرو اور عرش والے سے افلاس کا خوف نہ کرو۔“ ( مشکوٰة، ح:1885)

طالبانِ علوم اسلامیہ پر خرچ کرنا
امام ترمذی اور حاکم نے حضرت انس بن مالک  سے روایت کیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ایک بھائی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں علم ومعرفت حاصل کرنے آیا کرتا تھا اور دوسرا بھائی کسبِ معاش میں لگا ہوا تھا، بڑے بھائی نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی ( کہ میرا بھائی کسبِ معاش میں میرا تعاون نہیں کرتا)۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ تمہیں اسی کی برکت سے رزق دیا جاتا ہو۔ (ترمذی، ح:2448)

علماء نے لکھا ہے کہ علوم اسلامیہ میں مشغول رہنے والے لوگ درج ذیل آیت کریمہ کے مفہوم میں داخل ہیں:﴿للفقراء الذین احصروا فی سبیل الله لا یستطیعون ضربا فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف، تعرفھم بسیمٰھم، لا یسئلون الناس الحافا، وما تنفقوا من خیر فان الله بہ علیم﴾․ (سورة البقرة:273)

”اعانت کے اصل مستحق وہ حاجت مند ہیں، جو الله کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں کہ زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے، بے خبر آدمی ان کی خودداری دیکھ کر انہیں غنی خیال کرتا ہے ، تم ان کو ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو ، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے او رجو مال تم خرچ کروگے الله اس کو جانتا ہے۔“

صلہ رحمی واقربا پروری
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”جسے وسعت رزق اور درازیٴ عمر کی خواہش ہو اسے رشتہ داروں کے ساتھ برتاؤ کرناچاہیے۔“ ( صحیح البخاری، کتاب الادب، حدیث:5985)

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” جسے درازیٴ عمر، وسعتِ رزق اور بری موت سے چھٹکارہ پانے کی خواہش ہو ، اسے الله سے ڈرنا چاہیے اور شتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔“ ( مسنداحمد، حدیث:1212)

رحَم سے مراد رشتہ دار ہیں، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں رحم کا اطلاق رشتہ داروں پر ہوتا ہے، خواہ ان کے درمیان وراثت او رمحرمیت کا تعلق ہو یا نہ ہو، صلہ رحمی کا جامع مفہوم یہ ہے کہ حسب وسعت رشتہ داروں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کا معاملہ کیا جائے اور شروروفتن سے انہیں محفوظ رکھا جائے۔

کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندوں کو ان کے کمزوروں کی وجہ سے رزق ملتا ہے او ران کی مدد کی جاتی ہے ، حضرت مصعب بن سعد  روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ سعد نے دیکھا کہ انہیں دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ، تو رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” کمزوروں کے طفیل ہی تم کو رزق ملتا ہے او رتمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ ( بخاری، کتاب الجہاد والسیر:179/14,108)

حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ” تم لوگ میری رضا اپنے کمزوروں کے اندر تلاش کرو، کیوں کہ تمہیں کمزوروں کی وجہ سے رزق ملتا ہے او رتمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ ( مسند احمد،198/5، ابوداؤد، حدیث:2591، ترمذی، ابواب الجہاد،1754)

یکے بعد دیگرے حج وعمرہ کرنا
حضرت عبدالله بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” پے درپے حج وعمرہ کرو، کیوں کہ یہ فقر او رگناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں ، جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور حج مبرور ( مقبول) کا بدلہ صرف جنت ہے۔“ (مسند احمد، حدیث:73669،ترمذی، حدیث:807)

الله کے راستے میں ہجرت
الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ ومن یھاجر فی سبیل الله یجد فی الارض مراغماً کثیراً وسعة﴾․ (سورة النساء:100)

”جو کوئی الله کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا“۔

ہجرت دارالکفر ( جہاں امورِ ایمان کی ادائیگی کی آزادی مسلوب ہو) سے دارالایمان کی طرف نکلنے کو کہتے ہیں، حقیقی ہجرت اس وقت ہو گی جب مہاجر کا ارادہ الله کا دین قائم کرکے اسے خوش کرنا ہو اور ظالم کافروں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرنی ہو ۔

یہ وہ دس اصول ہیں جن کے بارے میں قرآن وحدیث میں وضاحت ہے کہ ان سے بندہ کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے او راس کی تنگی دور کر دی جاتی ہے ، لیکن انسان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصل بے نیاز تو الله کی ذات ہے ، انسان کی بے نیازی یہ ہے کہ وہ اس غنی ذات کے سوا پوری دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور یہ سمجھ لے کہ جو کچھ اسے ملے گا اس سے ملے گا ، غیر کے آگے ہاتھ پھیلانا بے کار ہے ۔ خدا کی رزاقیت وکار سازی کا یقین دلوں کو قناعت وطمانینت کی دولت سے مالا مال کرتا ہے ۔ قانع شخص کسی کے زروجواہر پر نظر نہیں رکھتا، بلکہ اس کی نگاہ ہمیشہ پرورد گار عالم کی شان ربوبیت پر رہتی ہے، مال ودولت کی حرص کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس لیے قناعت ضروری ہے، کیوں کہ یہی باعث سکون واطمینان ہے ۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تونگری مال واسباب کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اصل تو نگری دل کی تو نگری ہے۔ حضرت ابوذر راوی ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ” ابو ذر! تمہارے خیال میں مال کی کثرت کا نام تو نگری ہے ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر فرمایا: تو تمہارے خیال میں مال کی قلت کا نام محتاجی ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: استغناء دل کی بے نیازی ہے او رمحتاجی دل کی محتاجی ہے۔“ ( فتح الباری، ج:11، ص:232)


مسئلہ معاش اور اسلامی تعلیمات
انسان کی معاشی کفالت کا خدائی اعلان
اللہ بزرگ وبرترنے حضرت آدم علی نبیناوعلیہ الصلاة والسلام کی تخلیق سے سلسلہ بنی آدم کی بنیادرکھی اوربتقاضا حکمت الہٰی جسم آدم کی تخلیق کے ساتھ اس میں مختلف نوع کے تقاضہائے بشریت کوبھی ودیعت فرمایا،بنی نوع انسان ان ہی تقاضوں کے پیش نظرکائنات ارضی میں مصروف کار نظرآتے ہیں۔حضرت انسان کی ابتدائے آفرینش میں غورکرنے سے پتہ چلتاہے کہ جس طرح خالق بشریت نے اسے وجودعطافرمایا، اسی طرح اس کی تمام ضروریات کابھی انتظام فرمایا، تخلیق آدم علیہ الصلاة والسلام کے وقت سے ہی انسان کی بنیادی ضرورتوں اورحوائج کے پیش نظراللہ رب العزت نے جب اسے جنت میں مکین فرمایاتواس کی معاشی کفالت بھی فرمائی، اوراس کی بھوک،پیاس،لباس اوررہائش کے انتظام کااعلان بھی ان الفاظ میں فرمایا:﴿إِنَّ لَکَ أَلَّا تَجُوعَ فِیْہَا وَلَا تَعْرَی، وَأَنَّکَ لَا تَظْمَأُ فِیْہَا وَلَا تَضْحَی﴾․ (طہ:118،119)
(ترجمہ):”تجھ کویہ ملاکہ نہ بھوکاہوتواس میں اورنہ ننگا اوریہ کہ نہ پیاس کھینچے تواس میں نہ دھوپ“۔

حضرت مولاناادریس کاندھلوی رحمہ اللہ آیت مذکورہ کی تفسیرمیں فرماتے ہیں:”غرض یہ کہ کھانے اورپینے اورغذااورقیام اورطعام اورلباس کے سب آرام تجھ کویہاں حاصل ہیں،اگریہاں سے نکالاگیاتودنیاوی رزق اورغذاکے حصول کے لیے تجھے بڑی مشقتیں اٹھانی پڑیں۔“ (معارف القرآن،سورة طہ،آیت :118،119:166/5، (1422ھ)ط، مکتبہ المعارف، شہدادپور، سندھ)

حضرت مولانامفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”جنت میں ضروریات زندگی کی یہ بنیادی چاروں چیزیں بے مانگے بلامشقت ملتی ہیں“۔
(معارف القرن،سورة طہ،آیت :118،119:166/5، (1422ھ) ط، ادارة المعارف،کراچی)

یعنی جنت میں توضروریات زندگی کی ان چاربنیادوں کاحصول بغیرکسی مشقت کے ہے،لیکن دنیامیں ان کے حصول میں مشقت ومحنت کی ضرورت ہوگی،لہٰذاجب اللہ تعالی نے انسان کودنیاکے اندربھیجاتوضرورت معاش کے ساتھ اسے کسب معاش کی صلاحیتوں سے بھی نوازا اوراس صلاحیت کو خوب سے خوب ترکی مہمیزلگائی،چناں چہ بتدائے انسانیت سے لے کرعصرحاضرتک انسان اپنی ضرورتوں اورصلاحیتوں کے مطابق کسب معاش کے لیے تگ ودوکرتانظرآتاہے اوراسے ہمیشہ سے خوب سے خوب ترکی جستجورہی ہے۔

انسانی ضروریات اور معیشت کا تعلق 
یہ بات بھی روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ انسانی ضروریات کا عمومی تعلق انسانی معیشت کے ساتھ جوڑاگیاہے اورمعیشت کوآسمانی بارش اورزمین کے خزانوں سے منسلک کردیاگیاہے۔اللہ رب العزت کاارشادہے:﴿وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِش﴾․ (الأعراف:10)

ارشادربانی کامطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں زمین میں باختیار بنا کرتمہاری معیشت کاسامان اس میں رکھ دیاہے،جس طرح اللہ رب العزت نے انسان کے رزق اورمعیشت کوزمین اوراس کے خزانوں کے ساتھ مربوط فرمایاہے، اسی طرح آسمان سے بذریعہ بارش رزق اتارکرجسم کی غذا کے اسباب مہیاکیے ہیں،قرآن مجیدمیں ارشادربانی ہے:﴿وَفِیْ السَّمَاء رِزْقُکُمْ وَمَا تُوعَدُون﴾ ․(الذاریات:22)
(ترجمہ)”اورآسمان میں ہے روزی تمہاری اورجوکچھ تم سے وعدہ کیا“۔

﴿وفی السماء رزقکم﴾کی تفسیرمیں بعض حضرا ت نے بیان کیاکہ یہ بارش ہے، جس سے اللہ بندوں کارزق پیدافرماتاہے۔ (معارف القرآن للکاندھلوی :6/7ص5،طةمکتبہ المعارف، شہدادپور)

خالق کون ومکان نے انسان کی تخلیق فرماکرپیدائش سے لے کرموت تک،ہرمرحلے میں اس کے حال کے مناسب اس کی ضروریات کے اسباب مہیافرمائے ہیں،نہ صرف اس کی غذا،بلکہ پرورش کانظام بھی قائم فرمایاہے،پیدائش کے روزاول سے ہی اللہ کی مہربانیوں کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے کہ نومولودکی ماں کے محبت اوردردبھرے سینے سے دودھ کے چشمے جاری فرمادیتے ہیں،پھرجوں جوں بچپن سے لے کربلوغ اورشعورکوپہنچتاہے تواس کے رزق اوروسائل رزق رزّاق العالمین کی طرف سے فراہم کیے جاتے ہیں،جن کے ذریعے وہ اپنی ضروریات کاانتظام کرتاہے،اللہ تعالی کی رزاقی کاکیاکہناکہ وہ تمام عالم کے انسانوں کوان کے ماحول کے مطابق رزق فراہم کرتاہے،اس کی عطاسے بدترین دشمن اورنافرمان بھی محروم نہیں رہتا۔

انسان کی بے راہ روی
مگریہ انسان ہی ہے کہ جب اس پرنفسیاتی خواہشات کاغلبہ ہوجاتاہے اورشیطان اس کوراہِ مستقیم سے ہٹاکراتباع نفس کی راہ پرڈال دیتا ہے تویہ اپنی جائز وناجائزخواہشات کی تکمیل کے لیے افراط وتفریط سے کام لیتاہے ،دیگرانسانوں کے حقِ معاش پربھی ڈاکا ڈالنے لگتاہے،کبھی طاقت کے نشے میں مست ہوکردولت اوروسائلِ دولت پرقابض ہوجاتاہے،توکبھی دوسرے انسانوں سے محنت مزدوری کرواکران کاحق محنت اور اجرت ادا نہیں کر تا اورکبھی خوب سے خوب ترکی تلاش وجستجومیں خدائی پابندیوں کو پھلانگ کرسود اوردیگرناجائزذرائع آمدن کواختیارکرتاہے،غرض ہرممکن طریقہ سے اپنی ناجائزخواہشات کی تکمیل ہوتی ہے۔

کسب معاش میں افراط وتفریط سے ممانعت
رب العالمین نے تمام مخلوقات کی روزی اپنے ذمہ لی ہے، اوردنیاکودارالاسباب قراردے کراپنی سنت جاری فرمائی کہ محنت اور کوشش کے بقدرمعاش اوراسباب معاش فراہم کیے جائیں گے،انسان خداکی عطاکردہ کسبی صلاحیتوں سے خداکے خزانوں سے بھرپوراستفادہ کرسکتاہے،مگریادرہے کہ انسانیت کاتقاضا ہے کہ اس حوالے سے افراط وتفریط سے کام نہ لیاجائے ، عدل وانصاف کادامن چھوٹنے نہ پائے، جائز اورصحیح ذرائع آمدن ومعاش کواختیارکیاجائے،خداکی منع کردہ چیزوں سے مکمل اجتناب کیاجائے، جوچیزجس شخص کی ملکیت میں ہے اس کے حق کااحترام کیاجائے،البتہ دوسرے کی شے مملوکہ کوحاصل کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ خریدوفروخت اورلین دین کے ذریعے تبادلہ کی شکل اختیارکی جائے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا قول 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”حجة اللہ البالغہ“ میں اس مضمون کو بہت ہی خوبصورت پیرائے میں بیان فرمایاہے: ”اعلم!أن اللہ تعالی لماخلق الخلق وجعل معایشہم فی الأرض، وأباح لہم الانتفاع بما فیہا، وقعت بینہم المشحة والمشاجرة، فکان حکم اللہ عند ذلک تحریم أن یزاحم الإنسان صاحبہ فیما اختص بہ؛ لسبق یدہ إلیہ أو یدمورثہ،أولوجہ من الوجوہ المعتبرة عندہم؛ إلا بمبادلة أو تراض معتمد علی علم من غیر تدلیس ورکوب غرر، وأیضاً الما کان الناس مدنیین بالطبع لاتستقیم معایشہم إلا بتعاون بینہم، نزل القضاء بإیجاب التعاون، وأن لایخلو أحد منہم مما لہ دخل فی التمدن، إلا عند حاجة لایجد منہا بدّا․“(حجة اللہ البالغہ، باب من أبواب ابتغاء الرزق: 273/2، ط،زمزم پبلشرز،کراچی)

(ترجمہ)یہ واضح رہے کہ اللہ تعالی نے جب مخلوق کو پیدا کیا اور زمین میں اس کی معاشی ضروریات کے لیے سامان فراہم کردیا اوران کوسب کے لیے مباح اورعام کردیاتومخلوق میں(ان سے متمتع ہونے کے حوالے سے) مزاحمت اورمناقشت شروع ہوگئی،تب اللہ تعالی نے حکم دیاکہ کوئی شخص سبقت اور پہل کرکے کسی شے کواپنے قبضے میں کرلے، یامورث کے قبضہ کی وجہ سے اس کی وراثت میں آجائے،یاان کے علاوہ ایسے دوسرے طریقوں سے اس کاقبضہ ہوجائے جواللہ تعالی کے نزدیک جائزطریقے قرارپاچکے ہیں، تودوسرے شخص کواس کی مقبوضہ شے میں مزاحمت کاحق نہیں،البتہ دوسرے کی مقبوضہ شے کوحاصل کرنے کے لیے جائز طریقہ یہ ہے کہ خریدوفروخت اورلین دین کے ذریعے تبادلہ کی شکل اختیارکی جائے، یامعتبرطریقوں یاباہمی رضامندی سے لین دین انجام پائے توبہت بہترہے، انسان چوں کہ مدنی الطبع یعنی معاشرے میں مل جل کررہنے والا واقع ہواہے ،لہٰذااس کی زندگی تعاون واشتراک کے بغیر ناممکن ہے، تواللہ تعالی نے تعاون واشترک ِباہمی کوواجب قراردیاہے اوریہ بھی لازم کیاکہ بغیرضرورت ِ شدیدہ کے کسی فردکوایسے امورسے کنارہ کش ہونے کاحق نہیں جوتہذیب ومعاشرت کے مسئلہ میں دخیل ہوں“۔

مسئلہ معاش اور انسانی کوششیں
مشاہدہ ہے کہ انسان اپنے معاشی مسائل کے حل اوراس کے تقاضوں کوپوراکرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ سرگرم عمل رہتاہے، بلکہ جنون کی حد تک اس میں مصروف کارہوتاہے،اسی تگ ودومیں بعض دفعہ اس کی سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں ماؤف ہوجاتی ہیں اوروہ اپنے ہوش وحواس تک کھو بیٹھتا ہے، غرض معاشی تحفظ کے لیے جوبھی راہ سوجھتی ہے ،یاجس راہ پربھی روشنی دکھائی دیتی ہے اس کے نتائج وعواقب سے بے نیازہوکر خواہشات کے بے لگام گھوڑے پرسوارہوکر سرپٹ دوڑے چلے جاتاہے،کبھی ایک راہ اختیار کرتا ہے توکبھی دوسری،درست راہ کی طرف راہ نمائی نہ ہونے کی وجہ سے ہربارگوہرمقصودہاتھ نہیں آتا،اس کادامن یاس وحرمان کے کانٹوں میں مزیدالجھ جاتاہے،مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں، معاشی بوجھ سے سبک دوش ہونے کے بجائے وہ مزیداس کے پنجے میں دبتاچلاجاتاہے۔

مختلف زمانوں میں انسانی ذرائع معاش
ہرزمانہ میں انسان نے اپنے معاشی مسائل کے حل اورضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے مختلف ذرائع کواختیارکیا،اوّلارزق کے تمام ذرائع زمین سے تھے اورانسانی زندگی کاپہلادوراسی زمین کی پیداوارپراکتفا کرتا تھا، یا زمین پرچلنے والے جانور اسے شکارکی صورت میں مل جاتے تھے، صدیوں تک یہی عمل جاری رہا،پھرتہذیب وتمدن کاعمل بڑھتا گیا اور ضروریات میں اضافہ ہواتونئے نئے ذرائع معاش بھی وجود میں آنے لگے اوریوں مصنوعات کادورشروع ہوا،انسانی زندگی کے ابتدائی دورمیں تبادلہ اشیا کانظام رائج ہوااورایک طویل زمانہ تک اسی کارواج رہا،ہرایک اپنی ضرورت کی چیزلے کردوسرے کواس کی ضرورت کی چیزفراہم کرتاتھا،مرورِزمانہ کے ساتھ اس مقصدکے لیے مختلف ذرائع ایجادہوتے رہے،یہاں تک کہ سونے، چاندی ، دھاتوں کے بدلے معاملات انجام پانے لگے،پھرسکوں کادورآیا، پھرمعیشت کی جدیدشکلیں اورنظریے وجودپذیر ہوئے اور دنیا سکوں سے کاغذی کرنسی کی طرف آگئی اورآج نوبت کاغذی کرنسی سے مختلف کارڈزتک پہنچ گئی کہ ضرورت مندخریداری کرکے بجائے عوض میں کاغذی نوٹ دینے کے تاجرکوکارڈدکھاتاہے اور اپنی مطلوبہ اشیا حاصل کر لیتاہے،جس رفتارسے ایجادات ہورہی ہیں اورجس طرح انسان لامحدود خواہشات کی تکمیل میں لگاہواہے،اس سے یہ محسوس ہوتاہے ہے کہ اسی پر بات رکے گی نہیں،بلکہ مزیدبھی نئی صور تیں جودمیں آئیں گی۔

کسب معاش اور اسلامی تعلیمات 
اسلام کسی معاشی نظام اورمعاشی نظریے کانام نہیں،بلکہ یہ ایک دین اورمکمل نظام حیات ہے،جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق کامل واکمل راہ نمائی موجودہے،دیگرشعبہ جات زندگی کی طرح معاش،کسب معاش اوران سے متعلقہ امورکے لیے اسلام نے احکامات بیان فرمائے ہیں،بعض حضرات اسلام کوبھی ایک معاشی نظریہ اورنظام سمجھ کراس کاتقابل دیگر جدید وقدیم معاشی نظاموں سے کرتے ہیں،جوکسی طرح بھی درست نہیں،اس لیے کہ تاریخ انسانی کے ہردورمیں معاشی مسائل کے حل کے لیے ہمہ نوع اورباہم دیگرمتضادنظریات پیش کیے جاتے رہے ہیں اورآئندہ بھی ایسا ہوتارہے گا، لیکن زمانہ شاہدہے کہ یہ نظریات زمان ومکان کے ساتھ سا تھ بدلتے مٹتے اورتبدیل ہوتے رہتے ہیں،جب کہ اسلام نوع انسانی کے لیے عالم گیر،دائمی ،ابدی ،حتمی اورکام یابی کاضامن لائحہ عمل مہیا کرتا ہے،اپنی وسعت ،ہمہ گیری،جامعیت اوراکملیت کے باوصف اسلام نے حیات انسانی کے تمام پہلوؤں کے لیے جامع ومانع پروگرام مرحمت فرمایاہے،اس میں معاشی زندگی کے حوالے سے بھی راہ نمائی کی گئی ہے۔

کسب معاش کے لیے اسلامی احکامات اوراس کے فراہم کردہ اصولوں میں محنت،اس کی ضرورت واہمیت، سرمایہ کاحصول وحرفت،زمین کی ملکیت ،پیداواری صلاحیت اورپیداوارکے احکام،لین دین میں معاہدات اورعہدکی پابندی،صداقت ،امانت،دیانت داری ،راست بازی ،حق گوئی اورسچائی کی تلقین،دھوکہ دہی،ذخیرہ اندوزی،ناجائزمنافع خوری ،بلیک مارکیٹنگ اورملاوٹ کی مذمت و ممانعت،رشوت اورسودکی قباحت وحرمت اورمخرب اخلاق ذرائع آمدنی سے اجتناب ودیگرکئی اورپہلوؤں سے متعلق احکام وہدایات کووضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔اس کے علاوہ معاشرتی زندگی کے حوالہ سے ہم دردی ،غم گساری ،ایثاروقربانی اوراللہ کی راہ میں خرچ کواہمیت دی گئی ہے،فرداورمعاشرہ کوان کاحکم دیاگیاہے۔

محنت
کسب معاش کی جدوجہدمیں محنت کوخاص اہمیت حاصل ہے، خود محنت کرکے کمانے کوسراہاگیاہے،چناں چہ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے :”ماأکل أحدطعاماقط خیرا من أن یأکل من عمل یدہ، وأن نبی اللہ داؤدعلیہ السلام کان یأکل من عمل یدہ“․ (البخاری، ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح، کتاب البوع، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ، (رقم الحدیث: 2074) :412، دارالکتاب العربی ،بیروت․)
(ترجمہ):تم میں کوئی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہترکوئی چیز نہیں کھاتااوراللہ کے نبی داؤدعلیہ السلام اپنے ہاتھ سے کماکرکھاتے تھے۔

ایک دوسری روایت میں ہے: ”لأن یحتطب أحدکم حزمة علی ظہرہ خیرمن أن یسأل أحدافیعطیہ أویمنعہ“۔(حوالاسابقہ،رقم :2074)
(ترجمہ):”تم سے کوئی اپنی پشت پرلکڑیوں کاگٹھااٹھائے یہ اس بات سے بہتر ہے کہ کسی سے کوئی سوال کرے،کوئی اسے دے یانہ دے۔“

حلال کمائی کوفریضہ سے تعبیرکیاگیاہے،چناں چہ ارشادنبوی صلی الله علیہ وسلم ہے:”کسب الحلال فریضة بعدالفریضة“․ (البیہقی، أبوبکرأحمد بن الحسین بن علی، السنن الکبری،کتاب الاجارة، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ“․(رقم الحدیث:1230):128/6‘ط 1344ھ ،مجلس دائرة النظامیة،حیدرآباد،الہند)
(ترجمہ):”حلال روزی کمانافرائض (لازمہ)کے بعدفریضہ ہے۔“

حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نے طلب معاش کی فکرکو(مخصوص)گناہوں کاکفارہ قراردیاہے، چناں چہ ارشاد گرامی ہے:”ان من الذنوب ذنوبا،لاتکفرہا الصلوة ولاالصیام ولاالحج ولاالعمرة، قالوا:فما یکفرہا یارسول اللہ؟! قال: الہموم فی طلب المعیشة“․(الہیثمی، نورالدین علی بن أبی بکر، مجمع الزوائد، کتاب البیوع،باب الکسب والتجارة ومحبتہا والحث علی طلب الرزق(رقم الحدیث: 6239): 109/4، دارالفکر‘بیروت)․
(ترجمہ):”گناہوں میں سے بعض گناہ ایسے ہیں،جنہیں نہ نماز معاف کرواتی ہے‘نہ ہی روزہ اورنہ حج وعمرہ معاف کراتے ہیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یارسول اللہ!پھرانہیں کون سی چیزمعاف کرواتی ہے؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:ان کاکفارہ کسب معاش میں پیش آنے والی پریشانیاں ہیں“۔

خودحضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کااولین پہلویہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم خودمحنت فرماکراللہ تعالی کے خزانوں سے روزی کماتے، خود کھاتے اوردوسروں کوکھلاتے تھے،قبل ازنبوت کی حیات طیبہ میں کئی ایک تجارتی اسفارجوشام،بصرہ اوریمن کی طرف اختیارفرمائے قابل ذکرہیں۔ (علامہ شبلی نعمانی،سیرة النبی صلی الله علیہ وسلم ، ظہورقدسی،شغل تجارت: 187/1 کواپریٹیو کیپٹل پرنٹنگ پریس،لاہور،ط:پنجم)

حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مبارک اورپاکیزہ تعلیمات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ خوداپنے ہاتھ سے محنت کرکے حلال روزی کماناشریعت میں محمود اورمطلوب ہے۔

سرمایہ اوراس کاحصول
اسلام دولت اورسرمایہ کوناپسندیدہ نظرسے نہیں دیکھتا،بلکہ اسلامی تعلیمات میں جگہ جگہ اسے ”خیر“کے لفظ سے تعبیرکیاگیاہے،چناں چہ قرآن مجید میں ارشادربانی ہے:﴿وَإِنَّہُ لِحُبِّ الْخَیْْرِ لَشَدِیْد﴾․(العادیات:8)
(ترجمہ):”بے شک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہیں“۔

سورة البقرة میں ارشادخداوندی ہے:﴿وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَیْْرٍ یُوَفَّ إِلَیْْکُم﴾․(البقرة:272)
(ترجمہ):”اورتم مال میں سے جوکچھ خرچ کروگے تمہیں پورا پورا کردیاجائے گا“۔

حلال ذرائع آمدن 
لیکن یادرہے کہ مال کاحصول حلال طریقے سے ہوناضروری ہے،حلال مال وہی ہوگا جس کاذریعہ بھی حلال ہو،ورنہ حلال رزق بھی حرام اورناپاک تصورہوگا،جیسے حلال اناج اورگندم چوری کے ذریعے ،اسی طرح حلال روپے رشوت اورغبن کے ذریعے،ناپ تول میں کمی،یاملاوٹ کرکے اورجھوٹ بول کرکمائے جائیں تویہ ساری چیزیں حلال رزق کوبھی حرام کردینے والی ہیں۔

مال کے حصول میں دیانت وامانت کے اصول کومرکزی نکتہ کی حیثیت دی گئی ہے،تاکہ باہمی مفادات کااحترام وتقدس قائم رہ سکے، چناں چہ باطل طریقہ سے ایک دوسرے کے مال کوکھانے سے منع کیا گیاہے، ارشاد باری تعالی ہے:﴿وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِل﴾․ (البقرة:188)
(ترجمہ)”اور اپنے مال آپس میں باطل طریقہ سے مت کھاؤ“۔

حلال رزق کوحلال طریقہ سے کمانے کی ترغیب آپ علیہ الصلوة السلام نے ایک دوسرے اندازمیں بھی ارشاد فرمائی ہے،چناں چہ ارشاد مبارک ہے:”أیماعبد نبت لحمہ من السحت والربا،فالنارأولی بہ“․(الطبرانی،أبوالقاسم سلیمان بن أحمد،المعجم الأوسط، (رقم الحدیث:6495) :310/6،ت:طارق بن عوض اللہ الحسینی، ط:دارالحرمین‘القاہرة 1415ھ)
(ترجمہ):”جس شخص کا گوشت پوست ظلم اور سود سے پلے بڑھے، اس کے لیے جہنم کی آگ ہی زیادہ بہترہے“۔

دوسرے کاحق، چاہے زیادہ ہویامعمولی ،ناجائزطریقہ سے قبضہ کرنے سے منع کیاگیاہے، حدیث میں آیا ہے:”من اقتطع شبرامن الأرض ظلما طوقہ اللہ ایاہ یوم القیمة من سبعین أرضین“․ (القشیری، أبوالحسین مسلم بن حجاج بن مسلم، صحیح مسلم،کتاب البیوع، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرہا، (رقم الحدیث:4132)،ص:703،ط،دارالسلام ،الریاض 1419ھ)
(ترجمہ):”جس شخص نے ظالمانہ طورپرکسی سے زمین کاکچھ حصہ لے لیا، قیامت کے روزاللہ تعالی سات زمینوں کابوجھ اس کے گلے میں ڈال دے گا“۔

ایک اورروایت میں معمولی اشیا کے بارے میں فرمایا: ”من اقتطع حق امرئ مسلم بیمینہ فقد أوجب اللہ لہ النار وحرم علیہ الجنة، فقال لہ رجل: وإن کان شیئا یسیرا یارسول اللہ؟!قال:وإن کان قضیبا من أراک“۔(الأصبحی،مالک بن أنس بن مالک بن أبی عامربن الحارث، مؤطاالإمام مالک،کتاب الأقضیة، باب ماجاء فی الحنث علی منبرالنبی صلى الله عليه وسلم،ص:636،قدیمی،کراچی)
(ترجمہ):”جس نے کسی مسلمان کاحق قسم کے ذریعے ختم کردیا، اللہ نے اس کے لیے جہنم واجب کردی اوراس پرجنت کوحرام کر دیا، ایک شخص نے عرض کیاکہ اگربہت معمولی سی چیزکامعاملہ ہوتو؟(پھربھی ایساہی ہوگا) فرمایا:اگرچہ اراک (پیلو) کے درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو“۔

جدیدمعاشی نظریات اوراسلام
معاشی مسائل میں غوطہ زنی سے پہلے ایک بنیادی نکتے کا سمجھنا ضروری ہے، جس کی وجہ سے جدیدمعاشی نظریات اورمعاش کے اسلامی احکام میں تمیزاورفرق سہل ہوجاتاہے،وہ یہ کہ اسلام اگرچہ سہولیات دنیوی کے ترک اورطلب رزق کی مشغولیت کوناپسندیدہ سمجھنے میں رہبانیت کامخالف ہے اورمعاشی میدان میں انسانی حرکت کونہ صرف مباح بلکہ بعض اوقات اسے پسندیدہ اورضروری قراردیتاہے،لیکن اس سب کے باوجود معاش کوانسان کے لیے بنیادی اوراساسی مشکل ومسئلہ قرار نہیں دیتا، جیسا کہ معاشی ترقی کوحیات انسانی کامقصودومنتہانہیں سمجھتا،یہیں سے مادیت پرمبنی معیشت اورمعیشت کے اسلامی احکام میں بڑااوربنیادی فرق واضح ہوجاتاہے کہ مادیت پرست معیشت ہی کوانسان کی زندگی کا مقصود ومنتہا قرار دیتے ہیں، جب کہ اسلام یہ کہتاہے کہ بقدرضرورت طلب معاش سے کوئی فرد بشر مستغنی نہیں،لیکن اسی کوانسانیت کی معراج سمجھنے کی ہرگزاجازت نہیں کہ انسان اسے اپنے علم، فکر وچاہت اورکام یابی وناکامی کے لیے معیار قرار دے۔ (مفتی محمدتقی عثمانی صاحب،تکملة فتح الملہم، کتاب البیوع، مسئلہ الاقتصاد فی الإسلام (ملخصا):300/1، 301، مکتبة دارالعلوم کراتشی، 1414ھ)

مسائل اربعہ کا حل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں 
معاش کوانسانی زندگی کامقصدومنتہاقراردینے والوں نے جن چارمسائل کومعیشت کی بنیادبنایااورانہیں حل کرنے کے لیے اپنے مذعومہ نظریات پیش کیے ،اسلامی احکامات کے تناظرمیں ان کاجائزہ لینے سے جوباتیں سامنے آتی ہیں،ان کاخلاصہ درج ذیل ہے:

طلب ورسدکے فطری قوانین کااعتراف
اسلام طلب ورسدکے فطری قوانین کانہ صرف معترف ہے ،بلکہ اس حوالے سے ہدایات بھی فراہم کرتاہے،قرآن کریم میں اللہ رب العزت کاارشادہے:﴿ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضاً سُخْرِیّاً﴾ (الزخرف:32)
(ترجمہ):”ہم نے ان کے درمیان معیشت کوتقسیم کیاہے اوران میں سے بعض کوبعض پردرجات میں فوقیت دی ہے ،تاکہ ان میں سے ایک دوسرے سے کام لے سکیں“۔

یہاں کام لینے والے کوطلب اورکام کرنے والے کورسدسے تعبیرکیاجاسکتاہے،یہی وہ چیزہے جس کی باہمی کشمکش اورامتزاج سے ایک متوازن معیشت وجودمیں آسکتی ہے۔

ہم نے پہلے عرض کیاتھاکہ اسلام اس حوالے سے ہدایات بھی فراہم کرتاہے،لہذاایک موقعہ پرجب آپ علیہ السلام سے بازارمیں فروخت ہونے والی اشیا کی قیمتیں اورنرخ متعین کرنے کی درخواست کی گئی توجواب میں آپ علیہ السلام نے ارشادفرمایا:”إن اللہ ہو المسعر القابض الباسط الرازق“․ (السجستانی، أبوداؤد سلیمان بن الأشعث الأزدی، سنن أبی داود، کتاب الإجارة، باب فی الشعیر، (رقم الحدیث:3451) :374/3، 375، دارإحیاء التراث العربی،1421ھ)
(ترجمہ):”بے شک اللہ تعالی ہی قیمت مقررکرنے والے ہیں، وہی چیزوں کی رسدمیں کمی اورزیادتی کرنے والے ہیں اوروہی رزاق ہیں“۔

ایک اورحدیث میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایاگیاہے کہ بازارمیں رائج طلب ورسدکے قوانین فطری ہیں،ان میں تبدیلی درست نہیں،آپ نے شہریوں کودیہات والوں کے لیے یعنی ان سے مال لے کرخودشہرمیں مہنگے داموں فروخت کرنے سے منع فرمایااورساتھ ہی یہ بھی ارشادفرمایا:”دعوا الناس یرزق اللہ بعضہم من بعض“․ (الترمذی، أبوعیسی محمد بن عیسی بن سورة،سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء لایبیع حاضرلباد، (رقم الحدیث:1223) :266/2، دارالکتب العلمیة،بیروت 1421ھ)
(ترجمہ):”لوگوں کوآزادچھوڑدو،تاکہ اللہ تعالی ان میں سے بعض کوبعض کے ذریعے رزق عطافرمائے“۔

اس حدیث میں تیسرے شخص کی مداخلت کومنع فرمایاگیا،تاکہ طلب ورسدکاصحیح توازن قائم ہواورذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیداکرکے طلب ورسدکے قدرتی نظام میں بگاڑسے حفاظت ہوسکے، گویا اسلام کے معیشت کے حوالے سے بیان کردہ احکام سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فی الجملہ طلب ورسداورذاتی منافع کے محرک کا اعتبار ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیاکہ جدیدمعاشی نظریات کی طرح ان کوبے لگام نہیں چھوڑاگیاکہ جس طرح چاہیں معاملہ کریں،کیوں کہ مطلق آزادی ذخیرہ اندوزیوں کوجنم دیتی ہے، جس سے مارکیٹ کانظام درہم برہم ہوجاتاہے۔ (مفتی محمدتقی عثمانی صاحب، تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع، المذہب الاقتصادی الإسلامی: 311,310/1،مکتبة دارالعلوم کراتشی)
 (جاری)
متوازن معیشت
مارکیٹ کوسرمایہ داروں کے تسلط اوردیگرمفاسدسے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے معیشت کے حوالے سے بیان کردہ احکامات سے واقف ہوں اوران پرعمل پیراہوں،تاکہ شخصی آزادی اورمارکیٹ کی آزادفضاکے درمیان توازن اورمعاشرہ کی آزادی کے درمیان بھی توازن قائم ہوسکے۔

اسلام کے بتائے ہوئے احکام میں سود،قماراورسٹہ بازی کی حرمت خاص اہمیت رکھتی ہے،کیوں کہ یہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے سے مال وسرمایہ سمٹ کرصرف چندسرمایہ داروں کے ہاتھوں میں آجاتاہے،تاریخ گواہ ہے کہ سرمایہ داری اورمادیت کاطوفان انہی مذکورہ بالااسباب کے نتیجے میں برپاہوا،اورآج پورے خطہ ارضی کواپنے لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ذخیرہ اندوزی، قافلوں کی شہرمیں آمدسے قبل ہی خریدوفروخت،شہری کادیہاتی کے لیے معاملہ اورتمام بیوعات فاسدہ اورباطلہ کی حرمت کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان سے مارکیٹ کی فطری اصول متاثرہوتے ہیں،رسدوطلب کے قوانین معطل ہوکرچندسرمایہ داروں کے ہاتھ کھلونا بن کررہ جاتے ہیں۔ (تکملة فتح الملھم، کتاب البیوع، المذھب الاقتصادی الاسلامی: 312,311/1)

ذاتی منافع کے محرک پرعائد اسلامی پابندیاں
اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے مقابلے میں سرمایہ دارانہ نظام میں ذاتی منافع کے محرک کو بالکل آزاد چھوڑدیاگیا ہے،جس کے نتیجے میں وہ خرابیاں پیداہوئیں جن کاذکرگذشتہ سطورمیں کیاگیا،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ذاتی منافع کے محرک پرجوپابندیاں عائد ہوتی ہیں وہ تین طرح کی ہیں:

خدائی پابندیاں
سب سے پہلے تواسلام نے معاشی سرگرمیوں پرحلال وحرام کی کچھ ایسی ابدی پابندیاں عائد کی ہیں جوہرجگہ اورہرزمانے میں نافذالعمل ہیں،یہ پابندیاں نہ صرف عقل انسانی کے موافق ہیں،بلکہ وحی الہی کے ذریعہ سے ان کوابدی حیثیت بھی دی گئی ہے،تاکہ کوئی مادہ پرست اورفاسدالعقل شخص اپنی عقلی تاویلات فاسدہ کے ذریعے ان سے چھٹکاراحاصل کرکے معیشت اورمعاشرے کوناہمواریوں میں مبتلانہ کرسکے ۔

تکملة فتح الملہم میں ان پابندیوں کوان الفاظ میں بیان کیاگیاہے: ”فلایجوز لأحد من المکتسبین أن یکسب المال بطریقة غیر مشروعة من الربو، والقمار، والتخمین، وسائرالبیوع الفاسدة، أو الباطلة“․ (تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع،المذہب الاقتصادی الإسلامی:312/1،مکتبة دارالعلوم کراتشی)

یعنی” کسی تاجرکے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ سود،قمار،سٹہ بازی اوردیگرتمام بیوع فاسدہ وباطلہ کے غیرمشروع طریقہ سے مال کمائے“۔ (کیوں کہ یہ چیزیں عمومااجارہ داریوں کے قیام کاذریعہ بنتی ہیں)۔

حکومتی پابندیاں
تمام حالات میں جب کہ معاملات ہدایات الہٰیہ کی روشنی میں انجام دیے جارہے ہوں تواسلام معاشی سرگرمیوں میں حکومت کومداخلت کی اجازت نہیں دیتا،البتہ اگرکوئی عمومی مصلحت ہو،یاکوئی اپنی ذاتی اجارہ داری قائم کررہاہوتوحکومت وقت تاجروں پرایسی پابندیاں عائدکرسکتی ہے،جن سے معیشت ناہمواری کاشکارہونے سے بچ جائے۔

چناں چہ ایک مرتبہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ بازارتشریف لائے تودیکھاکہ ایک شخص کوئی چیزاس کے معروف نرخ سے بہت کم داموں میں فروخت کررہاہے ،توآپ نے اس سے فرمایا:”إماأن تزیدفی السعر،وإماأن ترفع من سوقنا“․(إمام دارالہجرة،مالک بن أنس،مؤطاالإمام مالک،کتاب البیوع،باب الحکرة والتربص،ص:591،قدیمی،کراچی)
(ترجمہ)”یاتم دام میں اضافہ کرو،ورنہ ہمارے بازارسے اٹھ جاؤ“۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہواکہ حکومت کسی مصلحت کے تحت کوئی پابندی عائدکرسکتی ہے؛کیوں کہ مارکیٹ میں اگرکوئی معروف نرخ سے کم قیمت پرخریدوفروخت کرے تواس سے دیگرتاجروں کے لیے جائزنفع کاراستہ بندہوسکتاہے،لہذااس سے کہاگیایاتم معروف نرخ پرفروخت کرو،ورنہ یہ بازارچھوڑکرچلے جاؤ۔البتہ یہ ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے عائدکردہ پابندیاں قرآن وسنت کے کسی حکم سے متصادم نہ ہوں،وگرنہ وہ پابندیاں قابل التفات وقابل عمل نہیں ہوں گی، کیوں کہ اسلام ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے کہ خدائی احکام کے مقابلہ میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں،جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: ”لاطاعة لمخلوق فی معصیة الخالق“․((التبریزی، الخطیب، ولی الدین ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ، مشکاة، المصابیح، کتاب الامارة والقضاء، الفصل الثانی، (رقم الحدیث: 3696) :8/3، دارالکتب العلمیة،بیروت،1424 ھ۔2003م))
(ترجمہ):”خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں“۔

اخلاقی پابندیاں
اسلامی تعلیمات میں قدم قدم پرانسان کویہ بتایاگیاہے کہ معاشی سرگرمیاں اوران سے حاصل ہونے والے مادی فوائدانسان کی زندگی کامنتہائے مقصودنہیں،بلکہ وجہ تخلیق آدم اخروی زندگی کی لازوال کام یابیوں کاحصول ہے،اگرکائنات کے کسی بھی خطے میں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اوراحکام کامکمل نفاذہوتووہاں سے اشتراکیت،شیوعیت اورسرمایہ داریت کے تمام زہریلے اثرات ختم ہوجائیں گے،جس کے نتیجہ میں وہاں ظلم،قساوت اورنفس پرستی سے پاک معیشت وجودمیں آئے گی۔(تکملة فتح الملہم،کتاب البیوع،المذہب الاقتصادی الإسلامی،تدخل الأخلاق:313/1، مکتبة دارالعلوم کراتشی)

اسلام نے تجارت ومعیشت کوپاکیزہ اورصاف ستھرارکھنے کے لیے جوضوابط وقوانین مقررکیے ہیں وہ نہ صرف دنیامیں حلال رزق کے حصول کاذریعہ ہیں،بلکہ آخرت میں اعلی درجات کاباعث بھی ہیں۔

عقیدہ ،اخلاق اور معیشت 
اسلام نے معیشت کی بنیادعقیدہ اوراخلاق پررکھی ہے اوروہ تجار کوفہمائش کرتاہے کہ اللہ ان کے ہرڈھکے چھپے کوہروقت دیکھتا اور جانتا ہے: ﴿ إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلَیْْکُمْ رَقِیْباً﴾(النساء:1)

اسلام تمام مسلمانوں کوآپس میں بھائی قراردے کران کویہ تعلیم دیتاہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسندکریں جوانہیں اپنے لیے پسندہے:”لایؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ مایحب لنفسہ“․ (البخاری،الجامع الصحیح،کتاب الإیمان،باب من الإیمان أن یحب لأخیہ مایحب لنفسہ۔(رقم الحدیث:13)
(ترجمہ)”تم میں کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے (مسلمان)بھائی کے لیے وہی پسندنہ کرے جو اپنے لیے پسندکرتاہے،،۔

غورفرمائیں!جب ایک مسلمان دوسرے کے لیے وہی پسندکرے گاجواس کی اپنی پسندہے توپھریہ کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ناپ تول میں کمی کرکے،یاعیب داراورناقص چیزفروخت کرکے زیادہ اورکھرے مال کی قیمت وصول کرے اوریوں اپنے بھائی کامعاشی استحصال کرے،اسلام تواپنے ماننے والوں کواس بات کی تعلیم دیتاہے کہ وہ عیوب کوچھپاکرچیزوں کوفروخت نہ کریں،ورنہ ان کایہ عمل نہ صرف ان کے کاروبارسے برکت کوختم کردے گا،بلکہ اللہ کی لعنت کاباعث بھی بن جائے گا،حدیث شریف میں اس مضمون کویوں بیان فرمایاگیاہے:”من باع عیبا لم یبینہ، لم یزل فی مقت اللہ، أولم تزل الملائکة تلعنہ“․(القزوینی،أبوعبداللہ محمد بن یزید، سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب من باع عیبا فلیبینہ(رقم الحدیث:2247):578/3،دارالجیل،بیروت 1418ھ)
(ترجمہ)”جس کسی نے کوئی شے فروخت کی،جس کے عیب پراس نے خریدارکوآگاہ نہیں کیاتھا،تووہ ہمیشہ اللہ کے غصہ میں رہے گا،یافرشتے ہمیشہ اس پرلعنت کرتے رہیں گے“۔

اسی طرح اسلامی تعلیمات میں یہ بھی ہے کہ خریدوفروخت کرنے والابااخلاق ہو،نرم خوئی اس کی طبیعت میں رچی بسی ہوئی ہو،دوران معاملہ عزت نفس کادامن ہاتھ سے جانے نہ دے،ایسے افرادکے لیے زبان نبوت سے ان الفاظ میں دعاکے الفاظ واردہوئے ہیں:”رحم اللہ رجلا اسمحا إذا باع وإذا اشتری وإذا اقتضی“․(البخاری، أبوعبداللہ محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح،کتاب البیوع، باب: السھولة والسماحة فی الشراء، والبیع ومن طلب حقا فلیطلبہ فی عفاف، (رقم الحدیث :2075) ، ص:412،دارالکتاب العربی)
(ترجمہ)”اللہ کی رحمت ہواس شخص پرکہ جب کبھی بیچے،خریدے یاقرض لینے کامطالبہ کرے تونرم گوئی سے کرے اوردرگزرکرے“۔

ذیل میں ہم کچھ خدائی قیودات اوراخلاقی پابندیوں کاذکرکرتے ہیں:

ذخیرہ اندوزی کی ممانعت
معیشت کے عمل کوصاف شفاف رکھنے اوراجارہ داریوں سے حفاظت کے پیش نظراسلام نے ذخیرہ اندوزی(Hoarding)کواس کی تمام انواع واقسام کے ساتھ ممنوع قراردیاہے اوراسلامی حکومت کواس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ ا س ملعون عمل کوروکنے کے لیے دخل اندازی کرے۔

جو تاجر ذخیرہ اندوزی کرکے مصنوعی قلت پیدا کرے اور پھر مارکیٹ میں اپنامال اپنی مرضی کی قیمت پرفروخت کرے،اسے خطاکار اورملعون قراردیاگیاہے،ارشادنبوی صلی الله علیہ وسلم ہے:”من احتکر یرید أن یتعالی بہاعلی المسلمین فہوخاطیٴ“․ (النیسابوری، ابوعبد اللہ محمد بن عبداللہ الحاکم، المستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع،(رقم الحدیث:2211، :145/2،قدیمی کراچی)
(ترجمہ)”جس نے ذخیرہ اندوزی اس ارادہ سے کی کہ وہ اس طرح مسلمانوں پراس چیزکی قیمت چڑھائے وہ خطاکارہے“۔

دوسری روایت میں ہے: ”الجالب مرزوق والمحتکر ملعون“․ (القزوینی، ابوعبد اللہ محمد بن یزید، سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات،باب الحکرة والجلب (رقم الحدیث: 2153): 518/3،دار الجیل،بیروت )
(ترجمہ)”تاجرکو(اللہ تعالی کی طرف سے)رزق دیاجاتاہے اورذخیرہ اندوزی کرنے والالعنتی ہے“۔

اسلام کے قانون تجارت نے ذخیرہ اندوزی کی تمام ممکنہ صورتوں کوبھی مردودقراردیاہے،دورحاضرمیں سرمایہ داربسااوقات کسی جنس کومکمل طورپرمارکیٹ سے خریدتے ہیں،یاپھروہ جنس صرف ان کے کارخانے اورمل میں بنتی ہے،اسے ذخیرہ کرلیتے ہیں،پھربعدازاں اپنی مرضی سے رسدوطلب میں عدم توازن قائم کرکے من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں،کچھ عرصہ قبل وطن عزیزمیں آٹے اورچینی کابحران اس کی واضح مثالیں ہیں کہ حکم رانوں اورچندسرمایہ داروں کی ملی بھگت سے غریب ایک ایک لقمے کوترس گئے تھے۔

ذخیرہ اندوزی کی مہذب صورتیں
موجودہ دور میں ذخیرہ اندوزی کی مندرجہ ذیل مہذب صورتیں رائج ہیں:

شرکت قابضہ
ایسی شرکت میں پیداواری کاروبارکے اکثرحصص حصہ دارہی خریدتے ہیں،لہذاوہ کسی شے یاخدمت کی پیداواری حداورقیمت اپنی مرضی سے معین کرتے ہیں اوریوں خریداروں کااستحصال کرتے ہیں۔

اوماج
یہ ایک ایسااستحصالی طریقہ ہے جس میں چندکمپنیاں مل کرایک وحدت(Uonit)قائم کرتی ہیں،جس سے اشیا کی پیداواراورقیمتوں پران کی اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے ،وہ اپنی مرضی سے اشیا کی پیداوارکوبڑھاتے اورگھٹاتے ہیں،مارکیٹ میں ضرورت کے باوجودصرف قیمتیں بڑھانے کے لیے اسے گوداموں میں اسٹاک کردیاجاتاہے اور قیمتیں چڑھ جانے کے بعد بیچا جاتا ہے۔

وحدت قیمت
سرمایہ دارانہ نظام کی ”آفات“ میں سے یہ بھی ہے کہ چندمل مالکان یاکارخانہ دارمل کرکسی شے کی بازارمیں ایک قیمت طے کرلیتے ہیں، چوں کہ وہ شے ان کے علاوہ کوئی اورنہیں بناتا،تواس متعین قیمت سے کم پرکہیں اورسے دست یاب نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے گاہک ان کی من مانی قیمت پرخریداری کرنے پرمجبورہوجاتاہے،یوں اس طرح سرمایہ دارعوام کااستحصال کرکے اپنے نفع کازیادہ سے زیادہ حصول ممکن بنالیتے ہیں۔

سودکی حرمت
دنیاکے قدیم اورجدیدمعاشی نظریوں میں سودکومرکزی حیثیت حاصل ہے،سرمایہ دارانہ نظام نے پورے معاشی ڈھانچے اورکاروباری لین دین کوکچھ اس طرح ترتیب دیاہے کہ سودبین الاقوامی طورپرمعاملات میں جزولاینفک کی حیثیت اختیارکرچکاہے،معاشی تعلقات کے انفرادی اور اجتماعی تمام پہلو اس کینسرمیں مبتلاہوچکے ہیں۔

سوداوراس کی تمام اقسام، حتی کہ شبہ سودسے بھی مسلمانوں کومنع کیاگیاہے،مسلمان ہونے کے باوجودکسی کے لیے یہ ہرگزروانہیں کہ وہ سودی معاملات میں ملوث ہو،اللہ نے سودکی حرمت کونہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایاہے: ﴿وَأَحَلَّ اللّہُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾․(البقرة:275)

اس جرم میں ملوث افرادکوشدیدترین وعیدسنائی گئی ہے، قرآن مجیدمیں ارشادربانی ہے:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَذَرُواْ مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہ﴾․ (البقرة:278)
(ترجمہ)”اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو،اورسودکی باقی (تمام رقم)چھوڑدو،اگرتم واقعی ایمان دارہواوراگرتم نے ایسانہ کیا،تواللہ اوراس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو“۔

سودی معاملات میں کسی بھی طرح ملوث ہونے والے پراللہ نے لعنت فرمائی ہے،اللہ کے رسول کاارشادہے:”لعن اللہ آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، و قال:ہم سواء“․(القشیری،أبوالحسن مسلم بن حجاج، صحیح مسلم،کتاب المساقاة، باب لعن آکل الربوا وموکلہ، (رقم الحدیث:4093)، ص:697، دارالسلام، الریاض)
(ترجمہ)”اللہ نے سودخور اورسودکھلانے والے اورسودی دستاویز لکھنے والے اوراس کی گواہی دینے والوں پرلعنت کی ہے اورفرمایاکہ اللہ کی لعنت میں وہ سب برابرہیں“۔

سودی معاملات اورسودخواری کی شناعت وقباحت بیا ن کرتے ہوئے فرمایا:”الرباسبعون حوبا أیسرہانکاح الرجل أمَّہ“․ (العبسی، أبوبکرعبداللہ بن محمدبن أبی شیبہ، المصنف، کتاب البیوع والأقضیة، (رقم الحدیث:22437) :319/11، المجلس العلمی 1327ھ)
(ترجمہ)”سودکے سترگناہ ہیں،(یعنی اس کے گناہ کے ستردرجے ہیں)اس کاکم تردرجہ آدمی کااپنی ماں سے ہمبستری کرناہے“۔

ملاوٹ سے ممانعت
کسب معاش کی جدوجہدکے دوران حصول دولت کی بعض آسان راہیں بھی نکلتی ہیں،اشیائے صرف کی کوالٹی کوتبدیل کرکے گھٹیااورمعمولی شے کوصحیح داموں میں فروخت کرنا،ملاوٹ سے کام لیناعصرحاضرمیں ہنراورنفع آوری کابہترین ذریعہ بن چکاہے،اسلام میں اس طرح کے عمل کونہایت قبیح اورانسانیت سوزقراردے کرممنوع قراردیاگیاہے،حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نے ملاوٹ کرنے والوں کوانتہائی شدیدوعیدسنائی ہے:”من غش فلیس منا“․ (القشیری،أبوالحسین مسلم بن مسلم بن الحجاج بن مسلم، صحیح مسلم،کتاب الإیمان، باب قول النبی صلی الله علیہ وسلم: من غش فلیس منا․ (رقم الحدیث:283)، ص:57، دارالسلام،الریاض 1419ھ)
(ترجمہ)”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“۔

مدینہ منورہ میں ایک بازارسے گزرتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم نے غلہ کے ڈھیرکی نچلی سطح کو گیلاپاکر اس کے تاجرسے ارشاد فرمایا: ”أفلاجعلتہ فوق الطعام کی یراہ الناس“․(حوالہ سابق)
(ترجمہ)”گیلی گندم کواس ڈھیرکے اوپرکیوں نہیں ڈالتا تاکہ لوگ اسے بہ آسانی دیکھ سکیں؟“۔

بغیرعیب بتائے شے کوفروخت کرنے سے منع کیاگیاہے: ارشاد نبوی ہے: ”لایحل لمسلم باع من أخیہ بیعا فیہ عیب إلا بینہ“․ (القزوینی،أبو عبداللہ محمد یزید، سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب من باع عیبا فلیبینہ․ (رقم الحدیث:2246 ) :578/3، دارالجیل ،بیروت)
(ترجمہ)”کسی مسلمان کے لیے جائزنہیں کہ وہ بغیربتائے کسی عیب دارچیزکودینی بھائی کے ہاتھ فروخت کرے“۔

غرض اسلام نے ملاوٹ اوردھوکہ دہی کے تمام چوردروازوں کو بندکرکے ایک مامون اورپاکیزہ معیشت کاماحول فراہم کیاہے۔

رشوت اورسٹہ بازی کی ممانعت
آج کی معاشی زندگی میں رشوت معاشرہ کاایک جزولاینفک بن چکاہے،لوگ اسے آسان اورسہل ذرائع آمدنی میں شمارکرتے ہیں،اسلام نے اسے ان الفاظ میں ممنوع قراردیا:”لعن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم الراشی والمرتشی“۔(الترمذی، أبوعیسی محمد بن عیسی بن سورة، سنن الترمذی،کتاب الأحکام، باب ماجاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم،(رقم الحدیث:1337):335/2دارالکتب العلمیة،1421ھ)
(ترجمہ)”رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے“۔

جوا،سٹہ ،قماربازی،شراب سازی وشراب فروشی،زنااورمحرکات زنااوردیگرمخرب اخلاق کام، جن سے معاشرے کااخلاقی معیارپست ہوتا ہے، اسلام ایسے ذرائع آمدنی ووسائلِ دولت کوکسب معاش کے اسباب کے طورپراختیارکرنے سے منع فرماتاہے،موجودہ دورمیں لاٹری،ریس،سٹہ بازی کی مختلف صورتیں جنہیں جدید ترین سائنٹیفک بنیادوں پر رواج دیا گیا ہے، وہ بھی اسلامی نقطہ نظرسے ممنوع قرارپاتی ہیں،قرآن مجیدمیں ارشادباری تعالی ہے: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہ﴾․(المائدہ:90)
(ترجمہ)”بے شک شراب ،جوا،بت اور(پانسے)جوئے کے تیرسب ناپاک ہیں اورکارشیطان ہیں،ان سے بچو“۔

اجرت زنا کی حرمت 
زناکاری کو بطورذریعہ معاش اپنانے سے منع کر تے ہوئے حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نے زناکاری کی اجرت کوناجائزقراردیا،حضرت ابومسعودانصاری فرماتے ہیں:”إن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب ومہر البغی وحلوان الکاہن“․ (النسائی، أبوعبدالرحمن أحمدبن شعیب، سنن النسائی، کتاب الصید والذبائح، النہی عن ثمن الکلب (رقم الحدیث: 4303)الجزء الرابع:215/4،دارالمعرفة،بیروت 1422ھ)
(ترجمہ)”رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ،زناکی اجرت اورکہانت کامعاوضہ لینے سے منع فرمایاہے“۔

اسی طرح فلم سازی،فلم فروشی ،ٹی وی،وی سی آراورجرائدکے ذریعہ مخرب اخلاق مناظراورلٹریچرکی ترویج واشاعت ،ڈانسنگ کلب اورتھیٹر، غیراخلاقی کام اورجان داروں کی تصویرسازی وغیرہ تمام مخرب ایمان واخلاق ذرائع آمدن سے اسلام منع کرتاہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے: ”إن اللہ إذاحرّم شیئا حرّم ثمنہ“․ (الدارمی، أبوحاتم محمدبن حبان بن أحمد بن حبان، صحیح ابن حبان کتاب البیوع، ذکر الخبر الدال علی أن بیع الخنازیر والکلاب محرم، ولایجوز استعمالہ،(رقم الحدیث:4938): 313/11، مؤسسة الرسالة)
(ترجمہ)”اللہ تعالی نے جس چیزکوحرام کیاہے اس کی قیمت کوبھی حرام فرمایاہے“۔ (جاری)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی کا قول
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”زناکی اجرت خبیث ہے اورآپ صلی الله علیہ وسلم نے کاہن کواجرت دینے اورمغنیہ کے کسب سے منع فرمایاہے،اس کی دوحکمتیں نظرآتی ہیں،ایک تویہ کہ ممنوعہ کسب اختیارکرنے سے لوگوں کومعصیت کی ترغیب ملتی ہے،جب کہ اس مال کی حرمت اوراس سے انتفاع کی ممانعت لوگوں کواس برائی سے روکنے کاسبب بنتی ہے“۔

چندسطروں کے بعدفرماتے ہیں:
”الإعانة فی المعصیة وترویجہا وتقریب الناس إلیہا معصیة وفسادفی الأرض“․ (الدہلوی، أحمدبن عبدالرحیم شاہ ولی اللہ، حجة اللہ البالغة، باب البیوع المنہی عنہا، وجوہ کراہیة البیوع:288/2،زمزم پیلشرز کراتشی)
(ترجمہ)”گناہ کے کام میں معاونت اوراس کی ترویج اور لوگوں کو گناہ کے قریب کرنا(یعنی اس کاماحول فراہم کرنا)اللہ کی نافرمانی اورزمین پرفسادپھیلانے کاباعث ہے“۔

ناپ تول میں کمی کی حرمت
ناپ تول میں کمی ایک ایسی لعنت ہے جس میں آج کے لوگوں کی طرح بعض امم سابقہ کے تجاربھی مبتلاتھے،اللہ تعالی نے ہرزمانے میں جب یہ قبیح عادت لوگوں میں رائج ہوئی تووقت کے نبی کے ذریعے اس کی مذمت کی اوراس سے بازرہنے کاحکم دیا،سورہ اعراف میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کواس قبیح حرکت سے بازرہنے کاحکم دیاگیاہے۔ (الأعراف:85)

ناپ تول میں کمی یہ ایسامکروہ حیلہ ہے جس کے ذریعے تاجرکم مال دے کرزیادہ دام وصول کرلیتے ہیں،قران مجیدمیں اس حوالے سے ارشادباری تعالی ہے:
﴿وَیْْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ، الَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُواْ عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُونَ، وَإِذَا کَالُوہُمْ أَو وَّزَنُوہُمْ یُخْسِرُون﴾․(المطففین:3-1)
(ترجمہ)”خرابی ہے گھٹاکردینے والوں کے لیے ،وہ لوگ کہ جب دوسروں سے مال لیں توپوراپورالیں اورجب دوسروں کوناپ کریاتول کردیں تو کم دیں“۔

اسلام توناپ تول میں عدل وانصاف سے آگے بڑھ کرلوگوں کے ساتھ مزیداحسان کادرس دیتاہے ،آپ صلی الله علیہ وسلم نے ا سی بات کی تعلیم دیتے ہوئے ارشادفرمایا:”زن وارجح“۔(القزوینی، أبوعبداللہ محمد بن یزید، سنن ابن ماجة،کتاب التجارات، باب الرجحان فی الوزن۔(رقم الحدیث:222) :562/3، دارالجیل ،بیروت 1418ھ) (ترجمہ)”تول اورجھکتاتول“۔

ناپ تول پوراپورادینے سے خوش گوارمعاشرتی نتائج برآمدہوتے ہیں،لوگ ایک دوسرے پراعتمادکرنے لگ جاتے ہیں اورتعلقات میں بہتری پیداہوجاتی ہے،اسلام اپنے ماننے والوں کوہمیشہ سے اس بات کی تعلیم دیتا ہواآیاہے کہ وہ نہ صرف ناپ تول میں عدل وانصاف سے کام لیں،بلکہ مزیداحسان کرنے کواختیارکریں۔

معیشت سے متعلق اسلامی احکامات کاسیکھنا 
اس کے علاوہ معیشت کے اسلامی احکام میں خریدوفروخت سے متعلق عاقدین(معاملہ کرنے والے)کی اہلیت،رضامندی،خریدوفروخت میں اختیار،شرائط،بیع کی جملہ اقسام،مرابحہ،سلم،قبضہ کے مسائل،شرکت ومضاربت،قرض وتجارتی معاہدات، حتی کہ غیرمسلموں سے بھی معاشی معاملات کے حوالے سے مکمل تفصیلات موجودہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کوسیکھ کرعمل کیاجائے، تاکہ ایک بہترین اورمتوازن معیشت وجود میں آئے۔

خیرالقرون کے زمانہ میں اس بات کاباقاعدہ اہتمام کیاجاتاتھاکہ لوگ معیشت سے متعلق اسلام کے احکامات کوسیکھنے کے بعدمارکیٹ اور بازارمیں آئیں،جولوگ اس حوالے سے اسلامی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے انہیں بازارمیں خریدوفروخت کے لیے بیٹھنے سے منع کیاجاتاتھا،حضرت عمررضی اللہ عنہ سے یہی بات منقول ہے:

”کان عمربن الخطاب یضرب بالدرة من یقعد فی السوق وہولایعرف الأحکام، ویقول:لایقعد فی سوقنا من لایعرف الربا“․ (الکتانی، عبدالحی، نظام الحکومة النبویة المسمی ب ”التراتیب الإداریة، القسم التاسع، حتی یتعلموا أحکامہ وآدابہ وما ینجی من الربا:18/2،دارالکتاب العربی،بیروت)
(ترجمہ)”حضرت عمررضی اللہ عنہ ایسے شخص کو درہ سے مارتے جو بازار میں آکر (خریدوفروخت)کے لیے بیٹھتا،مگروہ ان کے احکام سے جاہل ہو اورفرماتے:جوشخص ربا(سود)کے احکام نہیں جانتاوہ ہمارے بازارمیں نہ بیٹھاکرے“۔

اس زمانے میں باقاعدہ محتسب(بازارکانگران) مقررکیاجاتا تھا،جوبازارمیں گھوم پھرکرمختلف دکان داروں سے بیع وشراء کے متعلق سوالات کرتا،اگرکسی کواحکام کاعلم نہ ہوتاتووہ اسے دکان سے اٹھادیتاتھا۔امام مالک رحمہ اللہ امراء کویہ ہدایت فرماتے تھے کہ وہ تجارکواکٹھاکرکے ان کے سامنے پیش کریں،آپ ان میں کسی کواس حوالے سے جاہل پاتے تواس سے ارشادفرماتے:”پہلے خریدوفروخت کے احکام سیکھو، پھر بازارمیں آکر بیٹھو“۔ (حوالہ سابق:19/2)

قارئین کرام!جب تک اسلامی خلافت وحکومت قائم تھی تو مسلمانوں نے جیسے زندگی کے دیگر شعبوں میں قابل تقلیداوربے مثال کارنامے سرانجام دیے،ایسے ہی معیشت اورکفالت عامہ کے حوالے سے بھی ایسابھرپورکرداراداکیاکہ رہتی دنیا تک کوئی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا، مسلمان حکم رانوں اورارباب حل وعقدکی جہاں یہ کوشش ہوتی تھی کہ تجارمعیشت کے احکام سیکھ کرتجارت کریں؛تاکہ سوداوردیگرناجائزوحرام معاملات سے بچ سکیں،وہاں کفالت عامہ کاایساجامع نظام ترتیب دیاجس میں بلاکسی تخصیص واعتبارمعاشرے کے ہرفردکوکسی نہ کسی شکل میں اتناسامان معاش ہرحال میں ضرورمیسرہو،جس کے بغیرعام طورپرکوئی بھی انسان نہ اطمینان کے ساتھ جی سکتاہے اورنہ ہی اپنے متعلقہ فرائض وحقوق سرانجام دے پاتاہے۔(مروجہ تکافل کاجائزہ،باب اول،اسلام کانظام کفالت، ص:10،دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی ،غیرمطبوع)

ان حضرات نے اسلام کے دیے ہوئے مقدس اورپاکیزہ احکام کوعملی طورپرنافذکیا،جس کی وجہ سے ملکی اورقومی دولت کی گردش چندمال داروں اوربڑے مال دارلوگوں تک محدودہونے کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچی، خصوصاًغربا اورمستحقین کواس سے بھرپورطورسے مستفید ہونے کاموقعہ ملا،یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام افراد معاشرہ کے درمیان جس معاشی مساوات کوپیداکرناچاہتاہے وہ یہ نہیں کہ معاشرے کے تمام افراددولت وثروت میں یکساں اوربرابرہوں،جتنی دولت اوروسائل معاش ایک فردکے پاس ہوں،اتنے ہی دیگرتمام کے پاس بھی ہوں،کیوں کہ ایسی مساوات خیالی دنیامیں توممکن ہے،لیکن حقیقت کی دنیامیں ایسانہ توممکن ہے اورنہ ہی سنت الہیہ کے مطابق ؛کیوں کہ اللہ تعالی نے درجات معیشت میں تفاوت کاجونظام قائم فرمایاہے،وہ اس کے ذریعے اپنے بندوں کو آزما رہے ہیں کہ کون اس کابندہ ہے اورکس نے مادے کوالٰہ بنایاہواہے۔

اسلام میں دولت کے بہاؤ کا رخ 
اسلام کے بتائے ہوئے اصول وضوابظ کے مطابق معیشت میں ہمیشہ دولت کابہاؤاوپرسے نیچے کی طرف رہتاہے،دولت وسرمایہ سمٹ کرچندمخصوص ہاتھوں میں کھلونا بننے کے بجائے معاشرے کے ہرفردکی پہنچ میں ہوتاہے،اگرکسی خطے میں بھی اسلامی نظام حکومت نافذکردیا جائے اور کفالت عامہ کے شعبوں میں سے صرف زکوة کاعمل ہی صحیح معنوں میں شروع ہوجائے،توسوفیصدیقین سے کہاجاسکتاہے کہ وہ خطہ ہرطرح کے افلاس اورمعاشی بدحالی سے پاک ہوجائے گااورپھرسے قرون اولی کی یادتازہ ہوجائے گی کہ معاشرہ میں پھرزکوة کابھی کوئی محتاج نہیں رہے گا۔

اسلام میں معیشت وکفالت عامہ 
اسلام میں معیشت کے احکام کوجاننے اوراسلام میں کفالت عامہ کے تصورکوسمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن وحدیث اورفقہ اسلامی میں مذکوربیوع اور اس کی اقسام، قرض، سود، لین دین، ہبہ، عاریت، مضاربت، شرکت، مزارعت،پانی کے احکام،زمینوں کے احکام،زکوة کی فرضیت، وصولی اورتقسیم کے مسائل،غنائم ،فئ،خراج اورجزیہ کے احکام،تقسیم دولت، وراثت،حلال وحرام،اجارہ ،احتکارواکتنازکی ممانعت،ضرائب ونوائب،صدقات نافلہ اوران سے متعلقہ دیگر تمام مضامین کابغورمطالعہ کریں،تاکہ علی وجہ البصیرة مذکورہ نظام کوسمجھاجاسکے ،اس فقہی معاشی خزانہ کے علاوہ مسلمان علمائے کرام نے اس حوالے سے مستقل تصانیف بھی چھوڑی ہیں، جواپنی جامعیت کے اعتبارسے مختلف مسائل کاحل بتاتی ہیں،افسوس! صد افسوس!کہ ان کتب کاترجمہ یورپ کے مستشرقین اپنی اپنی زبانوں میں کرکے ان سے استفادہ کررہے ہیں اورہم مسلمان اپنے اس وقیع علمی ورثے سے غافل ہیں۔

ان گراں قدرکتب میں سے چندیہ ہیں:
(۱)کتاب الأموال:حمیدبن زنجویہ اورابوعبیدقاسم بن سلام رحمہم اللہ کی ایک ہی عنوان سے الگ الگ تصنیف ہے۔
(۲)کتاب الخراج:امام ابویوسف اوریحییٰ بن آدم القرشی رحمہما اللہ کی مایہ نازتصانیف ہیں۔
(۳)الأحکام السلطانیة:ابوالحسن علی بن حبیب البصری اورابویعلی محمدبن حسین الفراء کی بیش بہااورمستندکتب ہیں۔
(تفصیلی تعارف کے لیے دیکھیے:اسلام کامعاشی نظام، ڈاکٹرنورمحمدغفاری، اسلامی معاشیات کے مصادرومراجع:57-43،مرکزتحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری،لاہور1994ء)

اسلام جواپنی حقانیت اورسچائی کی وجہ سے مختصرسے عرصے میں جزیرہ عرب سے نکل کرسارے عالم پرچھاگیااورہزاروں سال تک دنیاپرحکم رانی کی، لوگوں کوہدایت کی راہیں دکھائیں، زندگی کے تمام شعبوں میں بہترین قابل تقلیدکارنامے انجام دیے،باطل روزاول سے ہی اس سے نالاں تھا،اس نے ہرممکن کوشش اورسازش کے ذریعہ یہ چاہاکہ اسلام کامقدس نظام زندگی خطہ ارض پرنافذ نہ رہے،وگرنہ لوگ اسلام کے نظام زندگی کے محاسن کی وجہ سے نہ صرف دیگرتمام باطل نظاموں کو ٹھکرا دیں گے، بلکہ خود مذہب اسلام کے پیروکار بن بیٹھیں گے، چھٹیصدی عیسوی کو وجود میں آنے والے نظام زندگی کومٹانے کے لیے دنیانے کیاکیانہ کیا!!،تاریخ کاہرادنی طالب علم اس سے پوری طرح واقف ہے۔

افسوس! خلافت کے زوال کے بعدسے دنیائے باطل کواس بات کابھرپورموقع ملاکہ وہ اسلام اوراس کے پاکیزہ نظام کے خلاف کھل کرپروپیگنڈہ کرے اوراسے ایک ناقص اورپرانے زمانے کانظام قراردے، خاص کرمعاشیات کے شعبے میں نئے نظریات متعارف کرواکے اس نے انسانیت کوجس دردناک عذاب میں مبتلاکیاہے اس کاصرف اورصرف ایک ہی حل ہے اوروہ اسلامی نظام حکومت، یعنی خلافت ہے۔

فقدان ِخلافت کے نقصانات 
اب چوں کہ بدقسمتی سے اور بوجہ شامت اعمال ہمارے سامنے کوئی ایساماڈل اسلامی طرزحکومت وخلافت کاموجودنہیں کہ عملی طورسے جس میں زندگی کے دیگرشعبوں کی طرح معاش کانظام بھی عملی طورسے نافذہوتااورتمام طبقات کے لوگوں کی کفالت عامہ کاکوئی عملی مظہرسامنے موجودہوتا،توہم عالم انسانیت کوبتادیتے کہ اسلام نے معیشت کے مسائل کا یوں حل بتایاہے۔خیر!اسلام چوں کہ قیامت تک کے لیے راہ نمائی اوررہبری کرنے آیاہے،تواب ہم اسلام کے اصول وضوابط ہی کی روشنی میں موجودہ جدیدنظریات کوپرکھیں گے اوران کے صحیح اورغلط ہونے کافیصلہ کریں گے۔

جدیدمعاشی نظریات میں بینک اورکمپنی کومرکزی حیثیت حاصل ہے،پھران دونوں سے سینکڑوں مسائل نے جنم لیاہے،ان میں سے ایک کریڈٹ کارڈاوراس طرح کے دیگرکارڈزکے ذریعے معاملات کانجام دیناہے۔

جدیدمعاشی نظریات سے پیداشدہ مسائل
آج کی دنیاصنعتی انقلاب کے بعدتکنیکی اعتبارسے بہت آگے جا چکی ہے،تجارت اورسرمایہ کاری کی اس قدرجدیداورمتنوع شکلیں پیدا ہوچکی ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیرنہیں ملتی،مثلابینکنگ کانظام،کرنسی کا نظام، موجودہ عالمی تجارت کانظام،کریڈٹ کارڈزکانظام، انشورنس اور تکافل، شیئرز کی خریدوفروخت کانظام اوران سب نظاموں کوچلانے کے لیے اداروں،فرموں اورکمپنیوں کانظام وغیرہ۔(شیئرزکی شرعی حیثیت اوراس کے احکام،مقدمہ، ص :2,1،دارالإفتاء جامعہ فاروقیہ کراچی، غیرمطبوع )

اس طرح کے تجارتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیاخریدی ہوئی شے پرقبضہ کرنے سے پہلے اس کوفروخت کیاجاسکتاہے یانہیں؟اوراس کامنافع حاصل کرناجائزہوگایانہیں؟آج قبضہ کے عنوان سے بہت سارے مسائل پیداہورہے ہیں،کیاچیک،ڈرافٹ،کریڈٹ کارڈیادوسری سندات مالی کوقبضہ تصورکیاجائے گایانہیں؟یاکریڈٹ کارڈکے ذریعہ ادائیگی کوفوری قبضہ تسلیم کیاجائے گایانہیں؟بین الاقوامی تجارت میں آج زیادہ ترمعاملات، فیکس اورای میل کے ذریعے انجام پارہے ہیں،کروڑہاکروڑ روپے کے معاملات اور لین دین طے پاتے ہیں،جب کہ ہر دو فریق ہزارہامیل کی دوری پرہوتے ہیں،اسی طرح ایک ملک کاتاجردوسرے ملک میںLC (سنداعتماد)کھلواکرکاروبارکرتاہے،دوسرے ملک کاتاجرمال کاشپمنٹ (Shipment)کرتاہے اورقبل اس کے کہ مال خریدارتک پہنچے،خریداریہ محسوس کرتے ہوئے کہ بازارمیں تیزی آچکی ہے،اگرمیں ابھی اس مال کوفروخت کرڈالوں تومجھے زیادہ نفع ملے گا،وہ اس مال کواپنے قبضہ میں آنے سے قبل ہی( جب کہ مال راستہ میں ہوتاہے)،فروخت کرڈالتاہے۔

(جدیدتجارتی شکلیں،مولانامجاہدالاسلام قاسمی صاحب،ابتدائیہ،ص:8,7 ادارة القرآن والعلوم الإسلامیة،کراچی)

عصر حاضر میں ان تمام جدیدصورتوں میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنامقصودہوتاہے،معاملات میں عدل وقسط کی رعایت کم سے کم، یامعدوم ہے اورغرراوردھوکہ عام ہے ،نہ ذہنوں میں خداکاتصورہے،نہ آخرت کی جواب دہی کی فکر،اس لیے تجارت کے رائج طریقوں میں صرف مادی اورنقدنفع مطلوب رہ گیاہے۔(،حوالاسابق)

ایک متوازن معاشی نظام کو وجود دینے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی نظام خلافت کوقائم کیا جائے اور معیشت سے متعلق تمام اسلامی احکامات کو عملی شکل دی جائے۔




===================




گناہ ــــــپریشانیوں کا سبب




آج ہر انسان پریشان ہیکسی کوجانی پریشانی ہے تو کسی کومالی، کسی کو منصب کی پریشانی ہے تو کسی کوعزت وآبرو کی، امیر اپنی کوٹھی میں پریشان تو غریب جَھونپڑی میں، کوئی روزگار اور حالات سے نالاں ہے تو کوئی عزیز واقارب اور دوست واحباب سے شاکی۔ تقریباً ہر آدمی کسی نہ کسی فکر، ٹینشن اور پریشانی میں مبتلاہے۔
 دلی سکون،قرار اور اطمینان حاصل کرنے کے لیے ہر ایک اپنے ذہن اوراپنی سوچ کے مطابق اپنی پریشانیوں کی از خود تشخیص کرکے ان کے علاج میں لگتاہے۔ کوئی اقتدار،منصب یا عہدہ میں سکون تلاش کرتاہے؛ مگر جب اُسے مطلوبہ منصب مل جاتا ہے تو پتہ چلتاہے کہ اس میں تو سکون نام کی کوئی چیز ہی نہیں؛ بلکہ منصب کی ذمہ داریوں اورمنصب کے زوال کے اندیشوں کی صورت میں اور زیادہ تفکرات ہیں۔ 
کسی نے سمجھا کہ سکون صرف مال ودولت کی کثرت وفراوانی میں ہے؛ مگرحقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو یہ مال ودولت حاصل ہوا، اُن میں سے اکثر کا حال یہ ہے کہ کاروباری تفکرات، ترقی کا شوق،دن بدن بڑھتی ہوئی حرص اور تجارت میں نقصان کے اندیشوں سے اُن کی راتوں کی نیند حرام ہے،الا ماشاء اللہ۔کسی نے رقص وسرود اور شراب وکباب کو باعثِ سکون جانا؛ مگروقتی اور عارضی لذت کے بعد پھر بھی بے چینی اور اضطراب برقرار۔ کسی نے منشیات کا سہارا لیا؛ مگر اس میں بھی صرف عارضی دل بہلاوا، عارضی فائدہ اور دائمی نقصان۔ کسی نے نت نئے فیشن کرکے دل بہلانے کی کوشش کی؛ مگر سکون وقرار نہ ملا۔
 جب کہدینی ذہن رکھنے والوں کا یہ خیال ہے کہ مختلف پریشانیوں اور مصیبتوں سے بچاؤ کا اصل طریقہ اور اُن کا حقیقی علاج صرف ایک ہی ہے کہ اپنے آپ کو گناہگار،خطاکار، نافرمان اور قصوروار سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جائے اور گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیا جائے؛ کیونکہ سکون وراحت کے سب خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں،وہی ان کا مالک ہے، جب مالک راضی ہوگا تو خوش ہوکر اپنی مملوکہ چیز(سکون وراحت) اپنے فرمانبردار بندوں کو عطا کرے گا اور وہ مالک راضی ہوتا ہے نافرمانی اور گناہوں کو چھوڑنے اور فرمانبرداری اختیارکرنے سے۔
ہر آدمی جانتا ہے کہ ہراچھے یا بُرے عمل کا رد عمل ضرور ہوتاہے، دنیا میں پیش آنے والے حالات پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز انسان کے اچھے یا بُرے اعمال ہیں جن کا براہِ راست تعلق اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ناراضی سے ہے۔ کسی واقعہ اور حادثہ کے طبعی اسباب جنہیں ہم دیکھتے، سُنتے اور محسوس کرتے ہیں، وہ کسی اچھے یا برے واقعہ کے لیے محض ظاہری سبب کے درجہ میں ہیں۔ سادہ لوح لوگ حوادث وآفات کو صرف طبعی اورظاہری اسباب سے جوڑتے اورپھراِسی اعتبار سے اُن حوادث سے بچاؤ کی تدابیر کرتے ہیں۔ شرعی تعلیمات کی روشنی میں بحیثیت مسلمان ہمیں یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور امر سے ہوتا ہے، جس کاعقل اورحواس خمسہ کے ذریعہ ادراک کرنے سے ہم قاصر ہیں، وحی الٰہی اورانبیاء علیہم السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جزاء وسزا کا جو نظام سمجھایا ہے، وہ ہمیں اس غیبی نظام کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، وہ یہ کہ کسی بھی واقعہ اور حادثہ کا اصل اورحقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور ناراضی ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے حالات کو (خواہ اچھے ہوں یا بُرے) انسانی اعمال سے جوڑا اور وابستہ فرمایا ہے، چنانچہ انسان کے نیک وبداعمال کی نوعیت کے اعتبار سے احوال مرتب ہوتے ہیں؛ صحت ومرض، نفع ونقصان، کامیابی وناکامی، خوشی وغمی، بارش وخشک سالی، مہنگائی وارز انی، بدامنی ودہشت گردی، وبائی امراض، زلزلہ، طوفان، سیلاب وغیرہ،یہ سب ہمارے نیک وبد اعمال کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر :ان سب احوال کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں؛ مگر حقیقی اسباب ہمارے نیک وبد اعمال ہوتے ہیں۔اس طرح کے خوفناک اور عبرت انگیز واقعات (خواہ انفرادی ہوں یااجتماعی ) دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”الارم“ اور ”تنبیہ“ ہوتے ہیں؛ تاکہ انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور کوئی تنبیہ اس کے غفلت شعار دل کو جُنبش دینے میں کامیاب ہوجائے : 
جب بھی میں کہتا ہوں: اے اللہ! میرا حال دیکھ
حکم   ہو  تا    ہے   کہ    ا   پنا     نا   مہٴ   ا   عما    ل   د  یکھ
دُنیا میں پیش آمدہ اچھے یا بُرے واقعات سے حاصل ہونے والا انسانی تجربہ بھی اسی پر شاہد ہے کہ بہت سارے لوگوں اور قوموں پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے دُنیا میں ہی مختلف قسم کے عذاب آئے ہیں، مثلاً:کوئی مسخ کیاگیا، کوئی زمین میں دھنسایا گیا، کوئی دریا میں غرق کیاگیا،کوئی طوفان کی نذر ہوا۔ ان تباہ شدہ اقوام کی بستیوں کے کھنڈرات آج بھی اس حقیقت پر دال ہیں کہ نافرمانی سببِ پریشانی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیثِ مبارکہ میں اعمال کی حسبِ نوعیت تاثیرات کو(جیسی کرنی ویسی بھرنی کے بہ مصداق) مختلف پہلوؤں اور طریقوں سے بیان فرمایا ہے، امت کوبدعملیوں کے بُرے نتائج سے آگاہ فرماکر اعمال کی اصلاح کا حکم دیا ہے؛ چنانچہ یہ مضمون قرآن کریم کی دسیوں آیات اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیکڑوں احادیث سے صراحةً ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
۱- ”مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہ حَیٰوةً طَیِّبَةً“․ (النحل:۹۷)
ترجمہ:”جو کوئی نیک کام کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطے کہ صاحبِ ایمان ہو، تو ہم اُسے پاکیزہ (یعنی عمدہ) زندگی دیں گے“۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی پُرسکون زندگی کا سبب ہے؛چنانچہ دو چیزوں (ایمان اور اعمال صالحہ) کے موجود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ”حیٰوة طیبة“ یعنی پرلطف اور پُرسکون زندگی عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔ عام آدمی بھی یہ آیت پڑھ کر یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ نہ ہوں یا کوئی ایک نہ ہو تو ”حیٰوة طیّبة“ یعنی ”پُرسکون زندگی“ نصیب نہ ہوگی، بلکہ ”پریشان زندگی“ نصیب ہوگی۔
۲- ”وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہ مَعِیْشَةً ضَنْکاً وَّنَحْشُرُہ یَوْمَ الْقِیَامَةِ أَعْمیٰ“․ (طہ:۱۲۴)
ترجمہ:”اور جو شخص میری نصیحت سے اعراض کرے گا تو اس کے لیے (دنیا اور آخرت میں) تنگی کا جینا ہوگا۔“
مطلب یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہ کی؛ بلکہ نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ اس پر دنیا کی زندگی تنگ کردیں گے، ظاہری طور پر مال ودولت، منصب وعزت مل بھی جائے تو قلب میں سکون نہیں آنے دیں گے، اس طور پر کہ ہر وقت دنیا کی حرص، ترقی کی فکر او ر کمی کے اندیشہ میں بے آرام رہے گا۔ اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوا کہ” نافرمانی سببِ پریشانی اور فرمانبرداری سببِ سکون ہے“۔
۳- ”ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ“․(الروم:۴۱)
ترجمہ: ”خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھادے؛تاکہ وہ باز آجائیں“۔
۴- ”وَمَآ أَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ“․ (الشوریٰ:۳۰)
ترجمہ:”اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سارے (گناہوں) سے تو وہ (اللہ تعالیٰ) درگزر کردیتا ہے“۔
ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ مصیبت اور فساد کا سبب خود انسان کے اپنے کیے ہوئے بُرے اعمال ہیں، اور یہ بھی بآسانی سمجھ میں آرہاہے کہ: اگر بُرے اعمال نہ ہوں تو یہ مصائب، آفات اورفسادات وغیرہ بھی نہ ہوں گے۔ نتیجہ یہی نکلا کہ” نافرمانی سببِ پریشانی اور فرمانبرداری سببِ سکون ہے“۔
۵- ”وَلَوْ أَ نَّ أَہْلَ الْقُرَیٰ أٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمآءِ وَالْأَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَأَخَذْنٰہُمْ بِمَاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ“․(الاعراف:۹۶)
ترجمہ:”اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے؛ لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا“۔
یعنی ایمان اور تقویٰ( اعمالِ صالحہ) برکت وخوشحالی کا ذریعہ اور بُرے اعمال عذاب وپکڑ اور پریشانی کا سبب ہیں۔
۶- ”وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا إِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلاََتتََوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ“․(ہود:۵۲)
ترجمہ:”اور اے میری قوم! تم اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ اور اس کے سامنے توبہ کرو، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا او رتم کو قوّت دے کر تمہاری قوّت میں زیادتی کرے گا اور مجرم رہ کر اعراض مت کرو“۔
۷- ”فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہ کَانَ غَفَّارًا، یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا، وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ أَنْہٰرًا“․(نوح:۱۲) 
ترجمہ: ”تو میں نے کہا کہ گناہ بخشواؤ اپنے رب سے، بے شک وہ بخشنے والا ہے، تم پر آسمان کی دھاریں (تیز بارشیں) برسائے گا اور بڑھادے گا تم کو مال اور بیٹوں سے اور بنادے گا تمہارے واسطے باغ اور بنادے گا تمہارے لیے نہریں“۔
ان دونوں آیات میں نعمتوں اور برکات کے حصول کا طریقہ گناہوں سے توبہ، استغفار اور تقویٰ کو بیان فرمایا ہے، جب معلوم ہوا کہ گناہوں کا چھوڑنا اور توبہ کرنا مال واولاد کی کثرت اور خوشحالی کا سبب ہے تو اس سے لازمی طور صاحبِ عقل وشعور یہی نتیجہ نکالے گا کہ” گناہ اور نافرمانی، نعمتوں میں کمی اور بدحالی کا سبب ہے“۔
۸- ”وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہ مَخْرَجًا، وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَیَحْتَسِبُ“․ (الطلاق:۲،۳)
ترجمہ:”اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے، جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا“۔
اس آیت میں تقویٰ کو نجات اور وسعتِ رزق کا سبب بتایا ہے اور اس کا عکس یہی ہے کہ نافرمانی اور گناہ‘ پریشانیوں میں گرفتار ہونے اور قلتِ رزق اورنعمت میں کمی کا سبب ہے۔
۹- ”وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَةً کَانَتْ أٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّأْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بأَنْعُمِ اللّٰہِ فَأَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ“․(النحل: ۱۱۲)
ترجمہ:”اور بتائی اللہ نے ایک بستی کی مثال جو چین وامن سے تھے، چلی آتی تھی اس کی روزی فراغت سے ہرجگہ سے، پھر ناشکری کی اللہ کی نعمتوں کی، پھرمزہ چکھایا اس کو اللہ نے بھوک اور خوف کے لباس کا“۔
اگر غور کیا جائے تو یہ آیت درحقیقت ایک آئینہ ہے، جس میں ہر بستی اور ہر ملک والے اپنی حالت دیکھ اور جانچ سکتے ہیں۔ جس کی حالت اس بستی کی طرح ہے، وہ سمجھ لے کہ اُس سے غلطی بھی اُنھیں کی طرح ہوئی ہے۔اپنے ملک کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے آیت کے ترجمہ کودوبارہ پڑھیں اور غورکریں تو صاف پتہ چلے گا کہ ہم میں اور ان بستی والوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اسلامی ملک پاکستان کے ساتھ مسلمانانِ پاکستان نے جو غیر اسلامی سلوک روا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری ہے ،جس کے نتیجہ میں ہم پر آج برے حالات مسلط ہیں ۔ہمارے وطن کے من جملہ بڑے مسائل میں سے دو مسئلے بہت خطرناک اور انتہائی پریشان کن ہیں۔ (۱)مہنگائی۔ (۲)بدامنی اور دہشت گردی۔ اس آیت میں بھی ناشکری کی دو سزائیں مذکور ہیں، ہم نے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور اُس کی نافرمانی کی ہے؛ اس لیے ہم ان حالات کا شکار ہیں۔بہرحال قرآن مجید کی یہ آیت ٹھیک ٹھیک ہمارے حالات پر چسپاں ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔
بہت سی احادیث بھی صراحةً اسی مضمون ” نافرمانی سببِ پریشانی اور فرمانبرداری سببِ سکون“ پر دلالت کرتی ہیں۔ ”مشتے نمونہ ازخروارے“یہاں چنداحادیث پیش کی جاتی ہیں، حضرت ابن عمرسے روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” اس وقت کیا ہوگا؟ جب پانچ چیزیں تم میں پیدا ہوجائیں گی اور میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تم میں پیدا ہوں یا تم ان (پانچ چیزوں) کو پاؤ، (وہ یہ ہیں):
 ۱-بے حیائی: جسے کسی قوم میں علانیہ (ظاہراً) کیا جاتا ہو تو اس میں طاعون اور وہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو ان سے پہلوؤں میں نہیں تھیں۔
۲- اور جو قوم زکوٰة سے رک جاتی ہے تو وہ (درحقیقت) آسمان سے ہونے والی بارش کو روکتی ہے اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر بارش برستی ہی نہیں۔
 ۳-اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط سالی، رزق کی تنگی اور بادشاہوں کے ظلم میں گرفتار ہوجاتی ہے۔
۴- اور امراء جب اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے بغیر فیصلے کرتے ہیں تو ان پر دشمن مسلط ہوجاتا ہے جو ان سے ان کی بعض چیزوں کو چھین لیتا ہے۔
۵- اور جب اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلمکی سنت کو چھوڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں جھگڑے پیدا کردیتا ہے“۔(الترغیب،ج:۳،ص:۱۶۹)
مذکورہ حدیث میں مختلف گناہوں کو مختلف آفات وپریشانیوں کا سبب بتایا گیا ہے، اس قدر صراحت کے بعد بھی کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ” نافرمانی سببِ پریشانی اور باعثِ عذاب ہے“؟۔
ایک اور روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکا ارشاد ہے:
”عبادَ اللّٰہ! لَتُسَوُّنَّ صفوفَکم أو لیخالفَنَّ اللہ بین وجوہکم“․(مشکوٰة،ص:۹۷)
ترجمہ:”اے اللہ کے بندو! تم اپنی صفوں کو درست کرلو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں (یعنی دلوں) میں اختلاف پیدا کردے گا“۔
مذکورہ حدیث میں صفوں کو سیدھا نہ کرنے کے فعل بد پر(جو ہے بھی بظاہر چھوٹا گناہ) آپس میں اختلافات پیدا ہونے کی وعید ہے،اس سے واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ بُرے اعمال سبب پریشانی ہیں۔ حضرت حسن بصریسے منقول ایک حدیث میں ہے کہ:
 ”أعمالکم عمالکم وکما تکونوا یولی علیکم“(کشف الخفاء ج:۱، ص:۱۴۷، بحوالہ طبرانی)
 ترجمہ:”تمہارے اعمال ہی (درحقیقت) تمہارے حاکم ہیں اور جیسے تم ہوگے ایسے ہی حاکم تم پر مسلّط ہوں گے“۔
یہ حدیث بھی اعمالِ بد کے برے نتائج برآمد ہونے پر دلالت کرتی ہے؛ چنانچہ برے اور ظالم حکمران بھی اعمالِ بد کی وجہ سے مسلط ہوتے ہیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہاں ذکر کردیا جائے، جومذکورہ مسئلہ پر دلالت کرتا ہے :”حضرت عمرکے دور خلافت میں ایک دفعہ مدینہ اور حجاز کے علاقہ میں زبردست قحط پڑا، حضرت عمرنے مصر وشام کے علاقہ سے کثیر مقدار میں غذائی اشیا منگوائیں؛ مگر قحط کسی طور پر کم نہ ہوا، ایک صحابی بلال بن حارث مزنیکو خواب میں حضوراکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: میں تو سمجھتا تھا کہ عمر  سمجھدار آدمی ہے! اس صحابی نے حضرت عمرکو خواب سنایا، حضرت عمر بہت پریشان ہوئے اور نمازِ فجر کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں نے میرے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلمکے بعد کوئی تبدیلی محسوس کی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: نہیں اورحضرت عمرکی کچھ تعریف کی۔ حضرت عمرنے خواب دیکھنے والے صحابیکو فرمایا کہ اپنا خواب بیان کریں۔ خواب سن کرصحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: امیر المؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جانب متوجہ فرمارہے ہیں کہ قحط کے حالات سے نمٹنے کے لیے آپ دنیا کے ظاہری اسباب تو اختیار فرمارہے ہیں؛ لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ سے رجوع نہیں کیا، یعنی نمازِ استسقاء نہیں پڑھی، حضرت عمر چونکہ حق قبول کرنے کا مزاج رکھتے تھے تو آپ  نے نمازِ استسقاء ادا فرمائی اور ایسی بارش ہوئی کہ مدینہ کا طویل قحط دور ہوا۔ (البدایہ والنہایہ،ج:۷، ص:۲۰۳،۲۰۴)
اس واقعہ پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ اچھے اعمال کا اثر بھی اچھا اور بُرے اعمال کا اثر بھی بُرا ہوتا ہے،جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں نمازِ استسقاء کا اثر اچھا ہوا۔ اوراس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسائل صرف ظاہری اسباب سے حل نہیں ہوتے؛ بلکہ ان کے لیے باطنی اسباب بھی ضروری ہوتے ہیں۔
ممکن ہے کسی کو یہ تردّد اور اشکال ہو کہ عجیب بات ہے، پریشانی دنیوی ہے اور مشورہ دنیوی اسباب کے بجائے گناہوں اور نافرمانیوں کے چھوڑنے کادیا جارہا ہے، یعنی بظاہر ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا۔
اس اعتراض کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہوں کو پریشانی اور نیکی کو راحت واطمینان کا سبب قرار دے دیا تو ایک مسلمان کے ایمان کاتقاضا یہ ہے کہ عقل میں آئے یا نہ آئے، بلاتردُّد ”آمَنَّا وَصَدَّقْنَا“کہے اور بزبانِ حال یوں گویا ہو کہ: 
سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
کیونکہ جس ذات پر ایمان لائے ہیں، اس کا یہی فرمان ہے، اس لیے ماننے کے سوا چارہٴ کار نہیں۔
دوسرا جواب عقلی لحاظ سے یہ ہے کہ مال ودولت، عزت ومنصب، صحت وتندرستی، راحت وسکون وغیرہ،یعنی دنیا کی ہر نعمت اللہ تعالیٰ کے خزانہ اور ملکیت میں ہے، جب ہر نعمت اللہ تعالیٰ کے خزانہ اور ملکیت میں ہے تو پھر سوچئے کہ کیا مالک (اللہ تعالیٰ) جس کے دربار میں نہ ہی چوری ممکن ہے اور نہ زبردستی سفارش، اس کو راضی کیے بغیر کچھ لیا جاسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرکے ہی پریشانیوں سے چھٹکارا اور راحت وسکون مل سکتا ہے۔
ایک شبہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں : بعض اوقات نیک وصالح،دین دار، حتیٰ کہ بزرگ حضرات بھی مصیبت وپریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں؛ حالانکہ وہ گناہوں سے بھی بچ رہے ہوتے ہیں، فرمانبرداری بھی کر رہے ہوتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟۔
اس کاایک جواب تو یہ ہے کہ یہ قاعدہ اکثریہ ہے یعنی اکثر پریشانیاں گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے آتی ہیں؛ مگر بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جو بہ طورِ آزمائش ہوتی ہیں اور نتیجتاً نعمت کے حصول کا سبب بنتی ہیں،وہ اس طرح کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کو کسی خاص اخروی درجہ اور مرتبہ پر فائز کرنا چاہتے ہیں؛ مگر وہ اپنی بشری کمزوری کی وجہ سے نیکیوں کی بنیاد پر اُس کا مستحق نہیں بن سکتا تو اللہ تعالیٰ اُس کے مرتبہ کو مزید بڑھانے اور اونچا کرنے کے لیے دنیا کے اندر آزمائش (بیماری، پریشانی وغیرہ) میں مبتلا کردیتے ہیں تو یہ مصیبت درحقیقت مصیبت نہیں ہوتی، بلکہ ایک طرح کی نعمت ہوتی ہے جو نتیجتاً رفعِ درجات کا سبب بنتی ہے، انبیاء علیہم السلام کی تکالیف اور آزمائشیں اسی قبیل سے ہیں،ان کی مثال اُس محنت کی طرح ہے جو کسی نعمت کے حصول میں کرنی پڑتی ہے،جیسے شہد کے حصول میں بعض اوقات شہد کی مکھی کے ڈنک سہنے پڑتے ہیں، تو اس طرح کی پریشانیاں دراصل شہد کی مکھی کے اُن ڈنکوں کی طرح ہیں جو بالآخر شہد جیسی نعمت کے حصول پر منتج ہوتے ہیں۔
اس شبہ کا دوسرا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس نیک بندے سے بشری کمزوری کی بنا پر کبھی کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ جو بڑے رحیم وکریم ہیں، اپنے خاص بندے کے اس گناہ کو دنیا ہی میں دھونے کے لیے اُسے مصیبت میں مبتلا کردیتے ہیں؛ تاکہ وہ آخرت کی بڑی رُسوائی اور بڑے عذاب سے بچ جائے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ایک صورت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ انسان نہیں کرسکتا۔
ان دو جوابات کا حاصل یہ ہے کہ انسان پر آنے والی پریشانی دو قسم کی ہوتی ہے:ایک پریشانی وہ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے،جو اخروی عذاب کی ایک جھلک ہوتی ہے۔ اصل دارالجزاء تو آخرت ہے، دنیا دارالعمل ہے؛ مگر کبھی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے اخروی عذاب کا ایک ادنیٰ سا نمونہ دنیا میں بھی دکھا دیتا ہے؛ تاکہ انسان نافرمانی سے باز آجائے، جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْن“․(السجدة:۲۱)
ترجمہ: ”اور ہم ضرور ان کو قریب کاچھوٹا عذاب چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے، تاکہ وہ لوٹ آئیں ۔“
اور پریشانی کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں ہوتی؛ بلکہ اس کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے جو رفع درجات یا گناہوں کے مٹنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اور یہ پریشانی اور تکلیف درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوتی ہے کہ اس چھوٹی سے تکلیف کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے کمزور بندے کو آخرت کے بڑے عذاب سے بچالیتے ہیں یا رفع درجات کی صورت میں آخرت کی بڑی نعمت عطا فرمادیتے ہیں حتیٰ کہ ایک حدیث میں ہے کہ:
”أشد الناس بلاء الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل“
ترجمہ:”سب سے زیادہ آزمائش انبیاء علیہم السلام پر آتی ہے ، پھر جو اُن کے جس قدر زیادہ مشابہ ہوں۔“
یعنی انبیاء علیہم السلام پر زیادہ آزمائشیں آئیں اور پھر جس کا جس قدر اُن سے زیادہ تعلق ہوگا، زیادہ قرب ہوگا، زیادہ اتباع ہوگی، اس پر بھی آزمائشیں زیادہ آئیں گی؛ مگر خدانخواستہ انبیاء علیہم السلام پر آنے والی یہ تکالیف اور آزمائشیں کوئی سزا نہیں تھیں؛ بلکہ ان کے درجات کو مزید بلند کرنا مقصد تھا۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ نافرمان لوگ جومال دار ہیں، بظاہر خوش نظر آتے ہیں۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ بات مسلم ہے کہ مالداری ایک نعمت ہے اور خوشی اور آرام کا ظاہری سبب ہے؛ مگر ضروری نہیں کہ جو مال دار ہو، وہ خوشحال اور پرسکون بھی ہو؛کیونکہ بعض لوگوں کے پاس بہ ظاہر مال ودولت اور سامانِ عیش وعشرت تو ہوتا ہے؛ مگر ان کا دل قناعت وتوکل سے خالی ہونے کی بنا پر ہروقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر، اور کمی کے اندیشہ میں بے آرام رہتا ہے، ذرا اُن سے پوچھ کر تو دیکھیے کہ وہ راحت وآرام کے سارے اسباب اپنے پاس رکھنے کے باوجود سکونِ دل کی دولت سے کتنے محروم ہیں؟ ہاں! اگر کوئی ایک آدھ فرد ا یسامل جائے جو نافرمان ہونے کے باوجودبھی خوش ہو تو وہ شاذ ونادر مثال ہوگی اور شاذ ونادر کا اعتبار نہیں ہوتا، حکم اکثریت پر لگتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ نافرمانوں کی اکثریت پریشان ہی رہتی ہے۔ دراصل قلبی سکون اور حقیقی اطمینان مال سے حاصل ہونے والی چیز ہی نہیں ہے، اس کا تعلّق اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اوراس کے ذکر سے ہے، جیساکہ ارشاد خداوندی ہے: ”أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ“ یعنی ”خبر دار اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ہوتا ہے“۔ مگر ہم میں سے اکثر لوگ چونکہ ذکر اللہ کی لذت سے بالکل کورے ہیں؛ اس لیے ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا،دراصل ہم نے اس وادی میں قدم ہی نہیں رکھا، بقولِ شاعر:
ذوقِ ایں بادہ ندانی بخدا تانہ چشی
مذکورہ اعتراض کا یہ جواب بھی ہے کہ جو نافرمان بہ ظاہر خوشحال ہیں، انھیں دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہے، جو چند روزہ ہے، یہ چند روزہ خوشحالی لمبی پریشانی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ جس خوشحالی کا انجام چند روز کے بعد دائمی تباہی ہو، اسے خوشحالی کہنا کہاں زیبا ہے؟ جیسے چوہا زہر ملی ہوئی چیز کھاکر خوش ہوتا ہے؛ مگر اس میں اس کی تباہی پوشیدہ ہوتی ہے۔
اصل نکتہ کی بات یہ ہے کہ سکون وراحت کا تعلّق صرف جسم سے نہیں ہے؛ بلکہ جسم کے ساتھ ساتھ روح بھی ان کا تقاضہ کرتی ہے، مادی وسائل اور راحت وسکون کے ظاہری اسباب جسم کو تو آرام دے سکتے ہیں؛ مگر روح کو قرار اور دل کو سکون بخشنا اُن کے بس کی بات نہیں۔ روح کی تسکین اور اس کی غذا عبادت اور ذکر اللہ ہیں؛ کیونکہ انسان کی فطری خواہش ہے کہ وہ کسی لافانی ذات کی بندگی کرے، اس فطری خواہش کی تسکین مادہ پرست زندگی کے اسباب ووسائل سے پوری نہیں ہوسکتی،روح کی تسکین کے لیے روحانی اسباب (اعمال صالحہ جیسے ذکر اللہ اور عبادت وغیرہ) کا اختیار کرنا ضروری ہے۔
ایک بزرگ نے یہی بات کیا ہی خوب صورت انداز میں بیان فرمائی ہے :
”یہ خدا نا آشنا زندگی کا لازمی خاصّہ ہے کہ اس کے شیدائی ایک انجانی سی بے قراری کا شکار رہتے ہیں، اس بے قراری کا ایک کرب انگیز پہلو یہ ہے کہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بے قرار کیوں ہیں؟ وہ ہمہ وقت اپنے دل میں ایک نامعلوم اضطرار اور پراسرار کسک محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ اضطراب کیوں ہے؟ کس لیے ہے؟ وہ نہیں جانتے“۔
خلاصہ یہ کہ ہم پر جو پریشانیاں اور مصیبتیں آتی ہیں، وہ ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں، لہٰذا پُرسکون اورپُرلطف زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی گزشتہ کوتاہیوں پر نادم ہوکر اللہ تعالیٰ سے ان پر معافی مانگیں،فی الفور نافرمانی چھوڑ کر آئندہ اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔ والله الموفّق والمعین ․
$ $ $

===================