Friday, 10 January 2014

محبت رسول اللہؐ کی علامات




1) سنت پر عمل اور بدعت سے اجتناب کرنا:
القرآن: تو کہہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
[سورۃ آلِ عمران:31]

جو دعویٰ کرے اس کی محبت کا ، اور (عملاً) مخالفت کرے اس کے رسول کی سنّت کی تو وہ جھوٹا ہے اور الله کی کتاب اس کو جھٹلا رہی ہے.
[تفسیر مدارک، لامام نسفی (المتوفي: 710 ھہ)]





***************************************



سنّتِ جہاد کی اہمیت اور ضرورت:
القرآن: کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ محبوب ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا.[سورۃ التوبۃ:24]
یعنی اگر اللہ و رسول کے احکام کا امتثال اور ہجرت یا جہاد کرنے سے یہ خیال مانع ہو کہ کنبہ برادری چھوٹ جائے گی اموال تلف ہوں گے ، تجارت مندی پڑ جائے گی یا بند ہو جائے گی۔ آرام کے مکانوں سے نکل کر بے آرام ہونا پڑے گا تو پھر اللہ کی طرف سے حکم سزا کا انتظار کرو۔ جو اس تن آسانی اور دنیا طلبی پر آنے والا ہے ۔ جو لوگ مشرکین کی موالات یا دنیوی خواہشات میں پھنس کر احکام الہٰیہ کی تعمیل نہ کریں ان کو حقیقی کامیابی کا راستہ نہیں مل سکتا۔ حدیث میں ہے کہ جب تم بیلوں کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جس سے کبھی نکل نہ سکو گے یہاں تک کہ پھر اپنے دین (جہاد فی سبیل اللہ) کی طرف واپس آؤ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْإِيمَانِ » بَاب حُبُّ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... رقم الحديث: 14]
ترجمہ :”تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اورتمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں “۔

ایمان کیسا ہو؟؟؟

وَإِذا قيلَ لَهُم ءامِنوا كَما ءامَنَ النّاسُ قالوا أَنُؤمِنُ كَما ءامَنَ السُّفَهاءُ ۗ أَلا إِنَّهُم هُمُ السُّفَهاءُ وَلٰكِن لا يَعلَمونَ {2:13}
اور جب کہا جاتا ہے ان کو ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں [۱۸] کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف [۱۹] جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے [۲۰]
And when it said unto them: believe even as mankind have believed, they say: shall we believe even as the fools have believed? Lo! verily it is they who are the fools; and yet they know not.
فساد فی الارض: یعنی اپنے دلوں میں یہ کہتے ہیں یا آپس میں یا اُن ضعفائے مسلمین سے جو کسی وجہ سے اُن کے رازدار بن رہے تھے ۔
سفہاء کہا سچے مسلمانوں کو کہ احکام خدا وندی پر دل سے ایسے فدا تھے کہ لوگوں کی مخالفت اور اسکے نتائج بد سے اور انقلاب زمانہ کی مضرات گوناں گوں سے اپنا بچاؤ نہ کرتے تھے بخلاف منافقین کے کہ مسلمان و کفار سب سے ظاہر بنا رکھا تھا اور اغراض نفسانی کے سبب آخرت کاکچھ فکر نہ تھا مصلحت بینی اس درجہ غالب تھی کہ ایمان و پابندی احکام شرع کی ضرورت نہ سمجھتے تھے فقط دعویٰ زبانی اور ضروری اعمال بمجبوری ادا کرلینے پر قناعت تھے۔
منافقین ہی بےوقوف ہیں: یعنی بیوقوف حقیقت میں منافقین ہی ہیں کہ مصالح و اغراض دینوی پادر ہوا کی وجہ سے آخرت کا خیال نہ کیا فانی کو لینا اور باقی کو چھوڑنا کس قدر حماقت ہے اور مخلوقات سے ڈرنا کہ جن سے ہزار طرح اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں اور علام الغیوب سے نہ ڈرنا کہ جہاں کسی طرح کوئی امر پیش ہی نہ جا سکے کتنی جہالت ہے اور صلح کل کیسے کہ جس میں احکم الحاکمین اور اس کے مقبول بندوں سے مخالفت کی جاتی ہے ۔ مگر منفافقین اس درجہ بیوقوف ہیں کہ ایسی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے۔


سنّت کی نبوی تعریف:
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ " إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ وَذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي ، وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ " .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ.
[جامع الترمذي » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ ... رقم الحديث: 2621(2678)]
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے بیٹے اگر تجھ سے ہو سکے تو اپنی صبح و شام اس حالت میں کر کہ تیرے دل میں کسی کے لیے کوئی برائی نہ ہو پس تو ایسا کر۔ پھر فرمایا اے بیٹے یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا گویا کہ اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔
[ترمذى :2678، أبي يعلى:3624، المعجم الصغير للطبراني:856، المعجم الأوسط للطبراني:5991، كنز العمال:19981، جامع الأحاديث:25836]
تشریح : 
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کے طریقہ کو پسند کرنا اور اسے محبوب رکھنا رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے کا سبب اور جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت جیسی نعمت عظیم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب آپ ﷺ کی سنت کو پسند کرنے پر یہ خوشخبری ہے تو سنت نبوی ﷺ پر عمل کرنا کتنی بڑی سعادت و خوش بختی کی بات ہوگی۔ ذراغور کرنا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو پسند کرنے والوں کا کتنا بڑا مرتبہ ہے وہ یہ ہے کہ انہیں جنت میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت و معیت کا شرف حاصل ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ دونوں جہان کی تمام نعمتیں اگر ایک طرف ہوں اور دوسری طرف یہ نعمت ہو تو یقینًا سعادت و خوشی کے اعتبار سے یہ نعمت بڑھ جائے گی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ ﷺ کی مقدّس سنت کو محبوب رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب اس نعمت سے بہرہ ور ہو سکیں۔ (آمین)۔
تنبیہ:
محمد رسول اللہ کا اور جو لوگ اسکے ساتھ ہیں زورآور ہیں کافروں پر نرم دل ہیں آپس میں۔۔۔ [الفتح:29]
نرم خُو کفار سے حسنِ سلوک:
القرآن : اللہ تم کو منع نہیں کرتا اُن لوگوں سے جو لڑے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارےگھروں سے کہ اُن سے کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک بیشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو۔[الممتحنۃ:8]
تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ (دلی)دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اُسکے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے۔۔۔[المجادلۃ:22]



مقاصد_بعثت:
القرآن : لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَسولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ {3:164}
ترجمہ : اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے.
تشریح : اس مضمون کی آیت سورۂ بقرہ میں دو جگہ گذر چکی ہے خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی چار شانیں بیان کی گئیں۔ (۱) تلاوت آیات: (اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا) جن کے ظاہری معنی وہ لوگ اہل زبان ہونے کی وجہ سے سمجھ لیتےتھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ (۲) تزکیہ نفوس: (نفسانی آلائشوں اور تمام مراتب شرک و معصیت سے ان کو پاک کرنا اور دلوں کو مانجھ کر صقیل بنانا) یہ چیز آیات اللہ کے عام مضامین پر عمل کرنے، حضور کی صحبت اور قلبی توجہ و تصرف سے باذن اللہ حاصل ہوتی تھی۔ (۳) تعلیم کتاب: (کتاب للہ کی مراد بتلانا) اس کی ضرورت خاص خاص مواقع میں پیش آتی تھی ۔ مثلًا ایک لفظ کے کچھ معنی عام تباور اور محاورہ کے لحاظ سے سمجھ کر صحابہ کو کوئی اشکال پیش آیا، اس قت آپ کتاب اللہ کی اصلی مراد جو قرائن مقام سے متعین ہوتی تھی بیان فرما کر شبہات کا ازالہ فرما دیتے تھے، جیسے { اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَلَمْ یَلْبِسُوْااِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ } الخ اور دوسرے مقامات میں ہوا۔ (۴) تعلیم حکمت: (حکمت کی گہری باتیں سکھلانا) اور قرآن کریم کے غامض اسرار و لطائف اور شریعت کی دقیق و عمیق علل پر مطلع کرنا خواہ تصریحًا یا اشارۃً۔ آپ نے خد اکی توفیق و اعانت سے علم و عمل کے ان اعلیٰ مراتب پر اس درماندہ قوم کو فائز کیا جو صدیوں سے انتہائی جہل و حیرت اور صریح گمراہی میں غرق تھی۔ آپ کی چند روزہ تعلیم و صحبت سے وہ ساری دنیا کے لئے ہادی و معلم بن گئ۔ لہذا انہیں چاہیئے کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر پہچانیں۔ اور کبھی بھولے سے ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ کا دل متالم ہو۔
یعنی انہی کی جنس اور قوم کا ایک آدمی رسول بنا کر بھیجا جس کے پاس بیٹھنا بات چیت کرنا، زبان سمجھنا اور ہر قسم کے انوار و برکات کا استفادہ کرنا آسان ہے، اس کے احوال، اخلاق سوانح زندگی، امانت و دیانت خدا ترسی اور پاکبازی سے وہ خوب طرح واقف ہیں۔ اپنی ہی قوم اور کنبے کے آدمی سےجب معجزات ظاہر ہوتے دیکھتےہیں تو یقین لانے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ فرض کرو کوئی جن یا فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو معجزات دیکھ کر یہ خیال کر لینا ممکن تھا کہ چونکہ جنس بشر سے جداگانہ مخلوق ہے شاید یہ خوارق اس کی خاص صورت نوعیہ اور طبیعت ملکیہ و جنیہ کا نتیجہ ہوں، ہمارا اس سے عاجز رہ جانا دلیل نبوت نہیں بن سکتا بہرحال مومنین کو خدا کا احسان ماننا چاہیئے کہ اس نے ایسا رسول بھیجا جس سے بےتکلف فیض حاصل کر سکتے ہیں اور وہ باوجود معزز ترین اور بلند ترین منصب پر فائز ہونے کے ان ہی کے مجمع میں نہایت نرم خوئی اور ملاطفت کے ساتھ گھلا ملا رہتا ہے ﷺ۔

****************************************
2) اصحاب رسول ﷺ سے محبت رکھنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي , اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي ، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي ، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » أبوابُ الْمَنَاقِبِ ... رقم الحديث: 3826]
حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔
[أخرجه أحمد (16803+20549+20578) ، والبخارى فى التاريخ الكبير (5/131) ، والترمذى (5/696، رقم 3862) وقال: غريب. وأبو نعيم فى الحلية (8/287) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/191، رقم 1511) . وأخرجه أيضًا: ابن حبان (16/244، رقم 7256) ، والديلمى (1/146، رقم: 525) .]

تشریح : 
اللہ سے ڈرو" یہ الفاظ آپ ﷺ نے تاکیدومبالغہ کے لئے دوبار ارشاد فرمائے صحابہ کے حق میں اللہ سے ڈرنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی عزت وتوقیر کی جائے ۔ ان کی عظمت وفضیلت کو ہر حالت میں ملحوظ رکھا جائے اور صحبت رسول کا جو بلند ترین مقام ان کو حاصل ہے اس کا حق ادا کیا جائے ۔ " نشانہ ملامت نہ بناؤ " کا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرف بدگوئی کے تیر مت پھینکو ، ان کی عظمت کے منافی کوئی بات زبان سے نہ نکالو ، ان کی عیب جوئی اور نکتہ چینی سے پرہیز کرو۔ " میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے " کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ان کو دوست رکھنے والا اس سبب سے دوست رکھتا ہم کہ میں ان کو دوست رکھتا ہوں ، یا یہ مطلب ہے کہ ان کو دوست رکھنے والا اس سبب سے دوست رکھتا ہے ۔ کہ میں ان کو دوست رکھتا ہوں یہ مطلب اگلے جملہ کے سیاق میں زیادہ موزوں ہے ، بہرحال اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ میرے صحابہ کو دوست رکھنے والا مجھ کو دوست رکھنے والا ہے اور میرے صحابہ کو دشمن رکھنے والا مجھ کو دشمن رکھنے والا ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ مالکیہ کا یہ مسلک حق ہے کہ جس شخص نے صحابہ کو برا کہا وہ دنیا میں واجب القتل قرار پاتا ہے ۔ علماء نے لکھا ہے کہ کسی ذات سے محبت کے صحیح وصادق ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ محبت محبوب کی ذات سے گزر کر اس کے متعلقین تک پہنچ جائے ، پس حق تعالیٰ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اس کے رسول سے بھی محبت ہو اور رسول سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اس کے آل واصحاب سے بھی محبت ہو۔ " جب اللہ اس کو پکڑے گا " کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص اپنے اس جذبہ وعمل کے ذریہ یہ ظاہر کرے گا کہ گویا وہ اللہ کی اذیت پہنچانے کے لئے پے درپے ہے تو وہ شخص اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گا یعنی آخرت میں تو وہ عذاب اللہ وندی میں گرفتار ہوگا ہی اس دنیا میں بھی اس کو عذاب بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث شائد اس ارشاد اللہ وندی سے ماخوذ ہے : ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والاخرۃ واعدلہم عذابا مہینا{33:57}والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنت بغیر ما اکتسبوا فقد الحتملوا بہتانا واثما مبینا{33:58}۔ بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا وآخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان لانے والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو ایذاء پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ بار لیتے ہیں ۔"
... قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ : اعْلَمْ رَحِمَكَ اللَّهُ : مَنْ أَحَبَّ أَبَا بَكْرٍ فَقَدْ أَقَامَ الدِّينَ ، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَوْضَحَ السَّبِيلَ ، وَمَنْ أَحَبَّ عُثْمَانَ فَقَدِ اسْتَنَارَ بِنُورِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ أَحَبَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَدِ اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى ، وَمَنْ قَالَ الْحُسْنَى فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ .
[الأربعين حديثا للآجري » رقم الحديث: 12]

اہل بیت اور مخصوص صحابہ میں سے خصوصی محبت:
نا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الأَقْمَرِ ، قَالَ : بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " , وَلَوْلا عَزْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ " .
[مسند ابن أبي شيبة » مَنْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ...رقم الحديث: 947]

زہیر بن اقمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہادت حضرت علیؓ کے بعد سیدنا حسنؓ تقریر فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک گندم گوں طویل قد کا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ اس سے بھی محبت کرے اور حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اگر نبی کریم ﷺ نے پختگی کے ساتھ یہ بات نہ فرمائی ہوتی تو میں تم سے کبھی بیان نہ کرتا۔
[أخرجه ابن أبى شيبة (32188)، جامع الاحادیث:42776+45339 ، كنز العمال 37652.]





حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْحَجَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ... » بَاب فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ ...رقم الحديث: 140]
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرات حسنینؓ (حسنؓ و حسینؓ) کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
[أحمد:7876، ابن ماجة:143، أبي يعلى:6215، طبراني:2645+2648،
وأخرجه النسائي في "الكبرى" (8112) من طريق أبي نعيم، عن سفيان، بهذا الإسناد.]


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ , وَحُسَيْنٍ , فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ , وَأَبَاهُمَا , وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور محبت رکھے ان دونوں (حسنؓ و حسینؓ) سے  اور ان دونوں کے ابو (علیؓ) اور ان دونوں کی امی (فاطمہؓ) سے بھی ، وہ ہوگا میرے ساتھ میرے درجے میں قیمت کے دن.
[أخرجه الترمذى (5/641، رقم 3733) ، وعبد الله فى زوائده على المسند (1/77، رقم 576) ، والضياء (2/44، رقم 421) ،جامع الاحادیث(32339)،  كنز العمال 37616]




حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ واللہ! اللہ جس مومن کو پیدا کرتا ہے اور وہ میرے متعلق سنتا ہے یا مجھے دیکھتا ہے تو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ فرمایا دراصل میری والدہ مشرک عورت تھیں میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو نبی کریم ﷺ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری میں روتا ہوا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں آج میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو آپ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما دے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ اپنی والدہ کو نبی کریم ﷺ کی دعا کی بشارت دوں جب میں گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہ اندر سے بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز آئی اور پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی والدہ نے اندر سے کہا کہ ابوہریرہ تھوڑی دیر رکے رہوتھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو وہ اپنی قمیض پہن چکی تھیں اور جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں انی اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یہ سنتے ہی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دوبارہ خوشی کے آنسو لئے حاضر ہوا جیسے پہلے غم کے مارے رو رہا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مبارک ہو اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت نصیب فرما دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مومن بندوں کے دل میں میری اور میری والدہ کی محبت پیدا فرما دے اور ان کی محبت ان دونوں کے دلوں میں ڈال دے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرما دی کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں کے دل میں اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کی محبت پیدا فرما اور ان کی محبت ان کے دلوں میں پیدا فرما اس کے بعد اللہ نے جو مومن بھی پیدا کیا اور وہ میرے بارے سنتا یا مجھے دیکھتا ہے یا میری والدہ کو دیکھتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔




 وَأَنْبَأَنَا ابْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَوْفِيُّ الْقَاضِي ، عَنْ أَبِيهِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَمِيعًا ، عَنْ جَدِّهِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّنِي فَبِحُبِّي أَحَبَّ الأَنْصَارَ ، وَمَنْ أَبْغَضَنِي ، فَبِبُغْضِي أَبْغَضَ الأَنْصَارَ ، لا يُحِبُّهُمْ مُنَافِقٌ ، وَلا يُبْغِضُهُمْ مُؤْمِنٌ ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ، النَّاسُ دِثَارٌ وَالأَنْصَارُ شِعَارٌ ، وَلَوْ سَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا وَسَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ ، وَلَوْلا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ دَارَهُمْ دَارًا لإِعْزَازِ دِينِهِ ، وَلِنَبِيِّهِ أَنْصَارًا ، وَاللَّهِ مَا شُرِعَ لِلَّهِ مِنْ شَرِيعَةٍ ، وَلا سُنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سُنَّةٍ ، وَلا فُرِضَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَرِيضَةٍ ، وَلا جُمِعَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جُمُعَةٍ ، وَلا ازْدَحَمَتْ مَنَاكِبُ الرِّجَالِ فِي الصَّلاةِ إِلا فِي دُورِهِمْ ، وَبَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ وَبِأَسْيَافِهِمْ " .
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ (مہاجر صحابہ کی نصرت کرنے والے مدینہ کے) انصار (صحابہ) سے محبت رکھے ، اور جو مجھ سے بغض رکھتا ہے وہ ان سے بغض رکھےگا ، نہیں محبت رکھتا ان (انصار) سے منافق ، اور نہیں بغض رکھتا ان (انصار) سے مومن ، جو ان سے محبت رکھے گا الله ان کو محبوب رکھے گا ، جو ان سے بغض رکھے گا الله اس سے بغض رکھے گا ، ...




حضرت علىؓ سے مروى ہے كہ نبى كريمﷺ نے فرمايا:
اپنى اولاد كو تين خصلتوں سكھاؤ: اپنے نبى كى محبت، اور نبى ﷺ كے اھل بيت كى محبت، اور قرآن مجيد كى تلاوت، كيونكہ قرآن مجيد كے حافظ اس روز اللہ تعالى كے سائے ميں انبياء اور اصفياء كے ساتھ ہونگے جس دن كوئى سايہ نہيں ہوگا۔
[جامع الاحادیث:961، أخرجه الديلمى (1/1/24) كما فى الضعيفة للألبانى (5/181، رقم 2162) . قال المناوى (1/226) : ضعيف لأن فيه صالح بن أبى الأسود له مناكير، وجعفر بن الصادق، قال فى الكشاف عن القطان: فى النفس منه شىء انتهى. والحديث موضوع كما قال الغمارى فى المغير (ص 12) .]





******************************************
3) فقر (تنگ-دستی) کا اس پر تیزی سے آنا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ ، فَقَالَ : " انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ " قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ ، فَقَالَ : " انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ " قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : " إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا , فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ " , حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي طَلْحَةَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو الْوَازِعِ الرَّاسِبِيُّ اسْمُهُ : جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ بَصْرِيٌّ .
[جامع الترمذي » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفَقْرِ ... رقم الحديث: 2285]

حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا: سوچو کیا کہہ رہے ہو۔ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ اس نے تین مرتبہ یہ بات کہی، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقر کے لئے تیار ہو جا کیونکہ(نبوی طریقہ میں مسکینی اختیار کرنا بھی شامل ہے، تو)جو مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف فقر اس سیلاب سے بھی تیز رفتاری سے آتا ہے جو اپنے بہاؤ کی طرف تیزی سے چلتا ہے.
[أخرجه الترمذى (4/576، رقم 2350) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/173، رقم 1471) . وأخرجه أيضًا: ابن حبان (7/185، رقم 2922) ، جامع الأحاديث:380+5591، كنز العمال 17102]
وأخرجه الطبرانى فى الأوسط (7/160، رقم 7157) . وقال المنذرى (4/94) ، والهيثمى (10/314) : إسناده جيد.]


الراوي: عبد الله بن المغفل المحدث: ابن حبان المصدر: صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 2922
خلاصة حكم المحدث: أخرجه في صحيحه

الراوي: عبدالله بن مغفل المحدث: السيوطي المصدر: الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 2674
خلاصة حكم المحدث: حسن [ ثم تراجع الشيخ وصححه في " السلسلة الصحيحة " رقم : 2827 والنصيحة : ص14 ]

الراوي: أبو سعيد الخدري المحدث: الألباني المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 2828
خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات

الراوي: كعب بن عجرة المحدث: الهيثمي المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 10/316
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد

الراوي: كعب بن عجرة المحدث: الألباني المصدر: صحيح الترغيب - الصفحة أو الرقم: 3271
خلاصة حكم المحدث: حسن






تشریح : محبوب کے احکام و نبوی اسوۂ حسنہ (القرآن: سورۃ الاحزاب:21) کے مطابق حرام چھوڑتے صرف حلال روزی پر قناعت، پھر اس میں سے زکوات و حج کی ادائیگی اور غیر موکّدہ سنتوں کو بھی اختیار کرنا وغیرہ.
تجفاف" کے معنی ہیں " پاکھر" اور پاکھر اس آہنی جھول کو کہتے ہیں جو میدان جنگ میں ہاتھی گھوڑے پر ڈالی جاتی ہے تاکہ ان کا جسم زخمی ہونے سے بچا رہے جیسا کہ زرہ ، سوار سپاہی کے جسم کو نیز و تلوار وغیرہ کے زخم سے محفوظ رکھتی ہیں۔ یہاں حدیث میں" پاکھر" کے ذریعہ " صبر و استقامت" کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جس طرح پاکھر ہاتھی گھوڑے کے جسم کو چھپاتا ہے۔ اسی طرح صبر و استقامت اختیار کرنا، فقر و فاقہ کی زندگی کا سرپوش بنتا ہے حاصل یہ کہ صبر و استقامت کی راہ پر بہر صورت گامزن رہو، خصوصا اس وقت جب کہ فقر و افلاس تمہاری زندگی کو گھیر لے تاکہ تمہیں مراتب و درجات کی بلندی و رفعت نصیب ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حضور ﷺ کی محبت سے پوری طرح سرشار ہوتا ہے اس کو فقر و فاقہ کا جلد پہنچنا اور اس پر دنیاوی آفات و بلاؤں اور سختیوں کا کثرت سے نازل ہونا ایک یقینی امر ہے کیونکہ منقول ہے کہ دنیا میں جن لوگوں کو سب سے زیادہ آفات شدائد کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ انبیاء ہیں ان کے بعد درجہ بدرجہ ان لوگوں کا نمبر آتا ہے جو عقیدہ و عمل کے اعتبار سے اعلیٰ مرتبہ کے ہوتے ہیں پس حضور ﷺ بھی انہی انبیاء میں سے تھے لہٰذا آپ ﷺ نے اس شخص پر واضح فرمایا کہ اگر واقعتا تم میری محبت رکھو گے تو میرے تئیں تمہاری محبت جس درجہ کی ہو گی اسی درجہ کی دنیاوی سختیوں اور پریشانیوں کا تمہیں سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ اصول ہے الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ. [صحيح البخاري » كِتَاب الْأَدَبِ » باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ ... رقم الحديث: 5729] {یعنی جو شخص جس کو دوست رکھتا ہے اسی جیسی حالت (یعنی تقویٰ یا فجور) میں رہتا ہے} حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے اس ارشاد " فقر کے لئے پاکھر تیار کرلو " کے ذریعہ بطور کنایہ اس امر کی تلقین فرمائی کہ فقر و فاقہ کے وقت صبر کی راہ پر چلنے کے لئے تیار رہو کیونکہ یہ صبر ہی ہے جو فقر افلاس کی آفتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنے کی طاقت بہم پہنچاتا ہے، دینی و دنیاوی ہلاکت تباہی سے محفوظ رکھتا ہے ، جزع و فزع اور شکوہ شکایت کی راہ سے دور رکھتا ہے اور غضب الٰہی سے بچاتا ہے حضرت شیخ آگے فرماتے ہیں کہ " اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ فقر و فاقہ کی زندگی اختیار کئے بغیر اور حضور ﷺ کے طرز حیات پر عمل پیرا ہوئے بغیر آپ ﷺ کی محبت کا دعویٰ بالکل ناروا اور جھوٹ ہے۔ کیونکہ حقیقت میں اسوہ نبوی کی اتباع اور حضور ﷺ کی محبت دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور محبوب کی اتباع وپیروری کے بغیر محبت کا دعویٰ درست ہو ہی نہیں سکتا، ان المحب لمن یحب مطیع، تاہم واضح رہے کہ حب نبی کا یہ سب سے اعلی مرتبہ ہے کہ کسی مسلمان کا حضور ﷺ کے اسوہ حیات کی کامل اتباع کو اپنا شیوہ بنا لینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ حضور ﷺ کے تئیں دعویٰ محبت میں بالکل سچا اور درجہ کمال کا حامل ہے۔ اگرچہ " محبت" کی حقیقت و ماہیت یہ ہے کہ انسان کا کسی کی طرف اندر سے کھنچنا اور اس کے دل کا اس محبوب کی خوبیوں ، اس کی ذات وصفات کی تحسین اور اس کی شکل وصورت اور عادات واطوار کی تعریف وتوصیف سے معمور ہو جانا کہ وہ اپنے محبوب کو سب سے اچھا دیکھنے اور سب سے اچھا جاننے لگے۔ مگر جیسا کہ پہلے بتایا گیا تکمیل محبت کا انحصار، محبوب کی کامل اتباع اور پیروی پر ہے، اگر باطنی تعلق ومحبت کے ساتھ عمل واتباع کی دولت بھی نصیب ہو تو اصل اور کامل محبت وہی کہلائے گی ورنہ محض دل میں محبت کا ہونا اور زبان سے اس کا اعتراف واقرار بھی کرنا، مگر عمل واتباع کی راہ میں غفلت و کوتاہی کا شکار ہونا، محبت کے ناقص ہونے کی دلیل ہے، جیسا کہ عمل کے بغیر ایمان درجہ تکمیل تک نہیں پہنچاتا۔


آپ عموماً فقر وفاقہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے، صحابہ کرام کے سامنے آپ کی خانگی زندگی کا منظر آجاتا تو فرط محبت سے آبدیدہ ہوجاتے ایک بار حضرت عمرؓ کا شانۂ نبوت میں تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں جس پر کوئی بستر نہیں ہے، جسم مبارک پر تہبند کے سوا کچھ نہیں پہلو میں بدھیاں پڑ گئی ہیں، توشہ ٔخانہ میں مٹھی بھر جو کے سوا اورکچھ نہیں، آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے، ارشاد ہوا کہ عمرؓ کیوں روتے ہو؟ کیوں نہ رؤں آپ کی یہ حالت ہے، اور قیصروکسریٰ دنیا کے مزے اُڑارہے ہیں، فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت اوران کے لئے دنیا ہو۔                

   (مسلم، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ،حدیث نمبر:۲۷۰۴)

آپ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ کو جب آپ کی یہ حالت یاد آتی تھی تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے تھے، ایک بار حضرت ابوہریرہ ؓکے سامنے چپاتیاں آئیں تو دیکھ کر روپڑے کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے چپاتی نہیں دیکھی۔

( ابن ماجہ، کتاب الاطعمہ، باب الرقاق،حدیث نمبر:۳۳۲۹)

ایک دن حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اپنے دوستوں کو گوشت روٹی کھلایا تو رو پڑے اور کہا کہ رسول اللہ کا وصال بھی ہوگیا اورآپ نے پیٹ بھر جو کی روٹی کبھی نہیں کھائی۔              

    (ترمذی ،باب ماجاء فی عیش النبی ،حدیث نمبر:)

اگر آپ کسی چیز سے متمتع نہ ہوسکتے تو صحابہ کرام ؓ اس سے متمتع ہونا پسند نہ کرتے ،آپ کا وصال ہوا تو آپ کے کفن کے لئے ایک حلہ خریدا گیا ؛لیکن بعد کو آپ دوسرے کپڑوں میں کفنائے گئے، اوریہ حلہ حضرت عبداللہ بن ابی بکر نے اس خیال سے لے لیا کہ اس کو اپنے کفن کے لئے محفوظ رکھیں گے؛ لیکن پھر کہا کہ جب خدا کی مرضی نہ ہوئی کہ وہ رسول اللہ  کا کفن ہو تو میرا کیوں ہو، یہ کہہ کے اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت صدقہ کردی۔

(مسلم ،کتاب الجنائز، باب فی کفن المیت،حدیث نمبر:۱۵۶۴)

غزوہ تبوک سخت گرمیوں کے زمانہ میں واقع ہوا تھا ،حضرت ابو خثیمہؓ ایک صحابی تھےجو اس غزوہ میں شریک نہ ہوسکے تھے ،ایک دن وہ گھر میں آئے تو دیکھا کہ بی بیوں نے ان کی آسائش کے لئے نہایت سامان کیا ہے، بالاخانے پر چھڑکاؤ کیا ہے، پانی سرد کیا ہے، عمدہ کھانا تیار کیا ہے ؛لیکن وہ یہ تمام سامانِ عیش دیکھ کر بولے، رسول اللہ  اس لو اور گرمی میں کھلے ہوئے میدان میں ہوں، اورابو خثمیہ سایہ، سرد پانی، عمدہ غذا، اورخوبصورت عورتوں کے ساتھ لطف اُٹھائے ،خدا کی قسم یہ انصاف نہیں ہے میں ہرگز بالاخانہ پر نہ آؤں گا؛ چنانچہ اسی وقت زادِراہ لیا اور تبوک کی طرف روانہ ہوگئے۔

(اسد الغابہ،مالك بن قيس بن خيثمة،۲/۴۶۶،۴۶۷)

وصال کے بعد آپ یاد آتے تو صحابہ بے اختیار روپڑتے،ایک دن حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا، جمعرات کا دن اورجمعرات کادن کس قدر سخت تھا، اس کے بعد اس قدر روئے کہ زمین  کی کنکریاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں، حضرت سعید بن جبیرؓ نے پوچھا جمعرات کا دن کیا؟ بولے اس دن آپ کے مرض الموت میں اشتداد ہوا تھا۔

(مسلم، کتاب الوصیۃ ،بَاب تَرْكِ الْوَصِيَّةِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ،حدیث نمبر:۳۰۸۹)

آپ کی مبارک صحبتوں کی یاد آتی تو صحابہ کرام کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوجاتے، ایک بار حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عباسؓ انصار کی ایک مجلس میں گئے، تو دیکھا کہ سب لوگ رو رہے ہیں، سبب پوچھا تو بولے کہ ہم کو آپ کی مجلس یاد آگئی ۔

(بخاری ،کتاب المناقب، بَاب قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ،حدیث نمبر:۳۵۱۵)


 حافظ ابن حجر ؓ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ آپ کی بیماری کے زمانہ کا ہے جس میں انصار کو یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر اس مرض میں آپ کا وصال ہوا تو پھر آپ کی مجلس میسر نہ ہوگی اس لئے وہ اس غم میں روپڑے۔

(فتح الباری،۱۱/۱۰۸)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ جب رسول اللہ  کا تذکرہ فرماتے تھے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔

(طبقات ابن سعد، تذکرہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ)



سلام اس پر کہ جس نے: عن عبد الله قال نام رسول الله ﷺ على حصير فقام وقد أثر في جنبه فقلنا يا رسول الله لو اتخذنا لك وطاء فقال ما لي وما للدنيا ما أنا في الدنيا إلا كراكب أستظل تحت شجرة ثم راح وتركها قال وفي الباب عن عمر وابن عباس قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح (سنن ترمذي:2377)






فقر اور قرآن مجید:

يٰأَيُّهَا النّاسُ أَنتُمُ الفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ {35:15} 
لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد وثنا) ہے 
یعنی سب لوگ اسی اللہ کے محتاج ہیں جسے کسی کی احتیاج نہیں۔ کیونکہ تمام خوبیاں اور کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں ۔ پس وہ ہی مستحق عبادت و استعانت کا ہوا۔

فَسَقىٰ لَهُما ثُمَّ تَوَلّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقالَ رَبِّ إِنّى لِما أَنزَلتَ إِلَىَّ مِن خَيرٍ فَقيرٌ {28:24}
تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے
یعنی اے اللہ کسی عمل کی اجرت مخلوق سے نہیں چاہتا۔ البتہ تیری طرف سے کوئی بھلائی پہنچے اس کا ہمہ وقت محتاج ہوں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے۔ دور سے آیا ہوا، تھکا، بھوکا۔ جا کر اپنے باپ سے کہا (وہ حضرت شعیبؑ تھے علی القول المشہور) ان کو درکار تھا کہ کوئ مرد ملے نیک بخت جو بکریاں تھامے اور بیٹی بھی بیاہ دیں" (موضح)
پیغمبروں کے فطری جذبات و، ملکات ایسے ہوتے ہیں، تھکے ماندے، بھوکے پیاسے تھے مگر غیرت آئی کہ میری موجودگی میں یہ صنف ضعیف ہمدردی سے محروم رہے۔ اٹھے اور مجمع کو ہٹا کر یا ان کے بعد کنویں سے تازہ پانی نکال لڑکیوں کے جانوروں کو سیراب کیا۔


هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ تُدعَونَ لِتُنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَن يَبخَلُ ۖ وَمَن يَبخَل فَإِنَّما يَبخَلُ عَن نَفسِهِ ۚ وَاللَّهُ الغَنِىُّ وَأَنتُمُ الفُقَراءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوا يَستَبدِل قَومًا غَيرَكُم ثُمَّ لا يَكونوا أَمثٰلَكُم {47:38} 

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو۔ تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے 
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یعنی مال خرچ کرنے کی جو تاکید ستنے ہو یہ نہ سمجھو کہ اللہ یا اس کا رسول مانگتا ہے۔ نہیں۔ یہ تمہارے بھلے کو فرماتا ہے۔ پھر ایک کے ہزار ہزار پاؤ گے۔ ورنہ اللہ کو اور اسکے رسول کو کیا پروا ہے۔
یعنی ایک حصہ خدا کے دئے ہوئے مال کا اسکے راستہ میں اپنے نفع کی خاطر۔
یعنی اللہ تعالٰی جس حکمت و مصلحت سے بندوں کو خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اس کا حاصل ہونا کچھ تم پر منحصر نہیں۔ فرض کیجئے تم اگر بخل کرو اور اسکے حکم سے روگردانی کرو گے۔ وہ تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم کھڑی کر دے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہو گی۔ بلکہ نہایت فراخدلی سے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اسکی راہ میں خرچ کرے گی۔ بہرکیف اللہ کی حکمت و مصلحت تو پوری ہو کر رہے گی۔ ہاں تم اس سعادت سے محروم ہو جاؤ گے۔ حدیث میں اہل فارس کی تعریف: حدیث میں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ دوسری قوم کون ہے جسکی طرف اشارہ ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا "اسکی قوم" اور فرمایا "خدا کی قسم اگر ایمان ثریّا پر جا پہنچے تو فارس کے لوگ وہاں سے بھی اسکو اتار لائیں گے" الحمد للہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس بے نظیر ایثار اور جوش ایمانی کا ثبوت دیا کہ انکی جگہ دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم فارس والوں نے اسلام میں داخل ہو کر علم اور ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی زبردست دینی خدمات انجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص کو ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ بیشک حضور ﷺ کی پیشینگوئی کے موافق یہ ہی قوم تھی جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پر کر سکتی تھی۔ امام ابوحنیفہؒ پیشینگوئی کا مصداق ہیں: ہزار ہا علماء و ائمہ سے قطع نظر کر کے تنہا امام اعظم ابوحنیفہؒ کا وجود ہی اس پیشینگوئی کے صدق پر کافی شہادت ہے۔ بلکہ اس بشارت عظمٰی کے کامل اور اولین مصداق امام صاحب ہی ہیں۔ رضی اللہ تعالٰی عنہ و ارضاہ۔ تمَّ سورۃ محمد ﷺ بتوفیقہ و اعانتہ فلہ الحمد والمنہ
یعنی تمہارا دینا خود اپنے فائدہ کے لئے ہے۔ نہ دو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے اللہ کو تمہارے دینے نہ دینے کی کیا پروا۔





لِلفُقَراءِ الَّذينَ أُحصِروا فى سَبيلِ اللَّهِ لا يَستَطيعونَ ضَربًا فِى الأَرضِ يَحسَبُهُمُ الجاهِلُ أَغنِياءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعرِفُهُم بِسيمٰهُم لا يَسـَٔلونَ النّاسَ إِلحافًا ۗ وَما تُنفِقوا مِن خَيرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ {2:273} 

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے 
علی العموم اور خاص کر ایسے لوگوں پر جن کا ذکر ہوا۔
یعنی ایسوں کو دینا بڑا ثواب ہے جو اللہ کی راہ اور اس کے دین کے کام میں مقید ہو کر چلنے پھرنے کھانے کمانے سے رک رہے ہیں اور کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرت ﷺ کے اصحاب تھے اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کر حضرت ﷺ کی صحبت اختیار کی تھی علم دین سیکھنے کو اور مفسدین فتنہ پر جہاد کرنے کو اسی طرح اب بھی جو کوئی قرآن کو حفظ کرے یا علم دین میں مشغول ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں اور چہرہ سے ان کو پہچاننا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے چہرے زرد اور بدن دبلے ہو رہے ہیں اور آثار جدوجہد ان کی صورت سے نمودار ہیں۔


الشَّيطٰنُ يَعِدُكُمُ الفَقرَ وَيَأمُرُكُم بِالفَحشاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَغفِرَةً مِنهُ وَفَضلًا ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ {2:268} 
(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے 
جب کسی کے دل میں خیال آئے کہ اگر خیرات کروں گا تو مفلس رہ جاؤں گا اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی یہی ہمت ہو اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدہ الہٰی سے


إِن تُبدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمّا هِىَ ۖ وَإِن تُخفوها وَتُؤتوهَا الفُقَراءَ فَهُوَ خَيرٌ لَكُم ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِن سَيِّـٔاتِكُم ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ {2:271}
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے
اگر لوگوں کو دکھانے کی نیت نہ ہو تو خیرات کرنا لوگوں کے روبرو بھی بہتر ہے تاکہ اوروں کو بھی شوق اور رغبت ہو اور چھپا کر خیرات کرنا بھی بہتر ہے تاکہ لینے والا نہ شرمائے خلاصہ یہ کہ اظہار و اخفا دونوں بہتر ہیں مگر ہر موقع اور مصلحت کا لحاظ ضروری بات ہے۔

وَابتَلُوا اليَتٰمىٰ حَتّىٰ إِذا بَلَغُوا النِّكاحَ فَإِن ءانَستُم مِنهُم رُشدًا فَادفَعوا إِلَيهِم أَموٰلَهُم ۖ وَلا تَأكُلوها إِسرافًا وَبِدارًا أَن يَكبَروا ۚ وَمَن كانَ غَنِيًّا فَليَستَعفِف ۖ وَمَن كانَ فَقيرًا فَليَأكُل بِالمَعروفِ ۚ فَإِذا دَفَعتُم إِلَيهِم أَموٰلَهُم فَأَشهِدوا عَلَيهِم ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ حَسيبًا {4:6}
اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے



يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كونوا قَوّٰمينَ بِالقِسطِ شُهَداءَ لِلَّهِ وَلَو عَلىٰ أَنفُسِكُم أَوِ الوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ ۚ إِن يَكُن غَنِيًّا أَو فَقيرًا فَاللَّهُ أَولىٰ بِهِما ۖ فَلا تَتَّبِعُوا الهَوىٰ أَن تَعدِلوا ۚ وَإِن تَلوۥا أَو تُعرِضوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا {4:135}
اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے




إِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلفُقَراءِ وَالمَسٰكينِ وَالعٰمِلينَ عَلَيها وَالمُؤَلَّفَةِ قُلوبُهُم وَفِى الرِّقابِ وَالغٰرِمينَ وَفى سَبيلِ اللَّهِ وَابنِ السَّبيلِ ۖ فَريضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ {9:60}
صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے


فقر اور احادیث مبارکہ:




مصیبت پر صبر کرنا:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ , قَالَ : " إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً ؟ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الصَّالِحُونَ , إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يُحَوِّيهَا , وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الْفِتَنِ » بَاب الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ ... رقم الحديث: 4022]
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کو شدید بخار ہو رہا تھا میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو چادر کے اوپر بھی (بخار کی) حرارت محسوس ہو رہی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو اتنا شدید بخار ہے۔ فرمایا ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے آزمائش بھی دگنی ہوتی ہے اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ فرمایا انبیاء کرام پر۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان کے بعد؟ فرمایا ان کے بعد نیک لوگوں پر بعض نیک لوگوں پر فقر کی ایسی آزمائش آتی ہے کہ اوڑھے ہوئے کمبل کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا اور نیک لوگ آزمائش سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے تم لوگ وسعت اور فراخی۔ 




فقیر کی فضیلت:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ : مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ " , قَالُوا : رَأْيَكَ فِي هَذَا , نَقُولُ : هَذَا مِنْ أَشْرَفِ النَّاسِ , هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُخَطَّبَ , وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ , وَإِنْ قَالَ , أَنْ يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ , فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَرَّ رَجُلٌ آخَرُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا " , قَالُوا : نَقُولُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ : هَذَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ , هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ لَمْ يُنْكَحْ , وَإِنْ شَفَعَ لَا يُشَفَّعْ , وَإِنْ قَالَ لَا يُسْمَعْ لِقَوْلِهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب فَضْلِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4118]
محمد بن صباح، عبدالعزیز بن ابی حازم، سہل بن سعد ساعدی، علی سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے سامنے سے گزرا آپ نے فرمایا تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا آپ کی رائے ہو وہی ہم بھی کہتے ہیں ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ شخص اشراف میں سے ہے۔ اگر یہ کہیں نکاح کا پیام بھیجے تو لوگ اس کو قبول کریں گے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو لوگ اس کی سفارش کو مان لیں گے اور اگر کوئی بات کہے تو لوگ اس کو توجہ سے سنیں گے یہ سن کر آپ خاموش رہے پھر ایک دوسرا شخص گزرا آپ نے فرمایا اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! واللہ یہ تو مسلمانوں کے فقراء میں سے ہے یہ بیچارہ اگر کہیں نکاح کا پیام بھیجے تو لوگ اس کو قبول نہ کریں گے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ سنیں گے اور اگر کوئی بات کہے تو لوگ اس کی بات نہ سنیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ شخص بہتر ہے پہلے شخص سے دنیا بھر کے لوگوں سے۔ 



... عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِن , الْفَقِيرَ , الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ " .[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب فَضْلِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4119]
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے محتاج مومن کو جو عیال دار ہو کر سوال سے باز رہتا ہے (اور فقر اور فاقہ پر صبر کرتا ہے اکثر اہل اللہ یسے ہی لوگ ہوتے ہیں نہ بھیک مانگنے والوں میں عیالداری کے ساتھ کم معاشی اور پھر قناعت اور صبر ہی فضیلت کیا کم ہے۔ 


فقیروں کا مرتبہ:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ , بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مَنْزِلَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4120]
 حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں جو فقیر ہیں وہ مال داروں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے اور آدھا دن پانچ سو برس کا ہے۔ 


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ , قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ , بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " .[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مَنْزِلَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4121]
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان فقیر یا مہاجر فقیر مال داروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے۔ 



حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو غَسَّانَ بَهْلُولٌ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ : اشْتَكَى فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ عَلَيْهِمْ أَغْنِيَاءَهُمْ , فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ , أَلَا أُبَشِّرُكُمْ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ , يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ , خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " , ثُمَّ تَلَا مُوسَى هَذِهِ الْآيَةَ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سورة الحج آية 47 .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مَنْزِلَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4122]
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے مہاجرین میں جو لوگ فقیر تھے انہوں نے شکایت کی آنحضرت ﷺ سے کہ اللہ تعالیٰ نے مالدار مہاجرین کو ان کے اوپر فضیلت دی ہے آپ نے فرمایا اے فقراء کے گروہ! میں تم کو خوش خبری دیتا ہوں کہ فقراء مومنین مال داروں سے آدھا دن یعنی پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے۔ موسیٰ بن عبیدہ نے پھر یہ آیت پڑھی ( وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) 22۔ الحج : 47)۔ 



فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَبُو يَحْيَى , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ, عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : كَانَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ , وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ : " أَبَا الْمَسَاكِينِ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4123]
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے حضرت جعفر بن ابی طالب فقیروں سے محبت کرتے تھے ان کے پاس بیٹھا کرتے ان سے باتیں کرتے اور آنحضرت ﷺ نے جعفر کی یہ کنیت رکھی تھی ابوالمساکین یعنی مسکینوں کے باپ۔ 



حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ , عَنْ عَطَاءٍ, عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ : أَحِبُّوا الْمَسَاكِينَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا , وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا , وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4124]
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا مسکینوں سے محبت رکھو اس لئے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ اپنی دعا میں فرماتے تھے یا اللہ ! مجھ کو چلا مسکین اور میرا حشر کر مسکینوں میں۔ 



حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ , حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ , عَنْ السُّدِّيِّ , عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيِّ , وَكَانَ قَارِئَ الْأَزْدِ , عَنْ أَبِي الْكَنُودِ , عَنْ خَبَّابٍ , فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِلَى قَوْلِهِ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ سورة الأنعام آية 52 , قَالَ : جَاءَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ , وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ , فَوَجَدَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ صُهَيْبٍ , وَبِلَالٍ , وَعَمَّارٍ , وَخَبَّابٍ , قَاعِدًا فِي نَاسٍ مِنَ الضُّعَفَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ , فَلَمَّا رَأَوْهُمْ حَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَرُوهُمْ , فَأَتَوْهُ فَخَلَوْا بِهِ , وَقَالُوا : إِنَّا نُرِيدُ أَنْ تَجْعَلَ لَنَا مِنْكَ مَجْلِسًا تَعْرِفُ لَنَا بِهِ الْعَرَبُ فَضْلَنَا , فَإِنَّ وُفُودَ الْعَرَبِ تَأْتِيكَ , فَنَسْتَحْيِي أَنْ تَرَانَا الْعَرَبُ مَعَ هَذِهِ الْأَعْبُدِ , فَإِذَا نَحْنُ جِئْنَاكَ فَأَقِمْهُمْ عَنْكَ , فَإِذَا نَحْنُ فَرَغْنَا فَاقْعُدْ مَعَهُمْ إِنْ شِئْتَ , قَالَ : " نَعَمْ " , قَالُوا : فَاكْتُبْ لَنَا عَلَيْكَ كِتَابًا , قَالَ : فَدَعَا بِصَحِيفَةٍ وَدَعَا عَلِيًّا لِيَكْتُبَ وَنَحْنُ قُعُودٌ فِي نَاحِيَةٍ , فَنَزَلَ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ سورة الأنعام آية 52 ثُمَّ ذَكَرَ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ , وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ , فَقَالَ : وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ سورة الأنعام آية 53 ثُمَّ قَالَ : وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ سورة الأنعام آية 54 , قَالَ : فَدَنَوْنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعْنَا رُكَبَنَا عَلَى رُكْبَتِهِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَامَ وَتَرَ كَنَا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ سورة الكهف آية 28 وَلَا تُجَالِسْ الْأَشْرَافَ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا يَعْنِي : عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا سورة الكهف آية 27 ـ 28 , قَالَ : هَلَاكًا , قَالَ : أَمْرُ عُيَيْنَةَ , وَالْأَقْرَعِ , ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلَ الرَّجُلَيْنِ , وَمَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " , قَالَ خَبَّابٌ : فَكُنَّا نَقْعُدُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِذَا بَلَغْنَا السَّاعَةَ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا قُمْنَا وَتَرَكْنَاهُ حَتَّى يَقُومَ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4125]
احمد بن محمد بن یحییٰ بن سعید قطان، عمرو بن محمد عنقزی، اسباط بن نصر، سعد، ابی سعد ازدی، ابوکنود، خباب سے روایت ہے اس آیت کی تفسیر میں (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ) 6۔ الانعام : 52) یعنی مت نکال ان لوگوں کو جو صبح شام اللہ کی یاد کرتے ہیں اپنے پاس سے انہوں نے کہا کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری آئے دیکھا تو آنحضرت ﷺ صہیب اور بلال اور عمار اور خباب کے پاس بیٹھے ہیں اور چند غریب مومنین کے ساتھ۔ جب اقرع اور عیینہ نے آنحضرت ﷺ کے گرد ان لوگوں کو دیکھا تو ان کو حقیر جانا اور آنحضرت ﷺ کے پاس آکر آپ سے خلوت کی اور عرض کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے ایک مقام اور وقت آنے کے مقرر کر دیجئے جس کی وجہ سے عرب لوگوں کو ہماری بزرگی معلوم ہو کیونکہ آپ کے پاس عرب کی قوموں کے قاصد آتے ہیں اور ہم کو شرم معلوم ہوتی ہے کہ وہ دیکھیں ہم کو ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا۔ تو جب ہم آپ کے پاس آئیں آپ ان کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کیجئیے پھر جب ہم فارغ ہو کر چلے جائیں تو آپ کا اگر جی چاہے ان کے ساتھ بیٹھئے۔ آپ نے فرمایا ہاں یہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا آپ ایک تحریر اس مضمون کی لکھ دیجئیے آپ نے کاغذ منگوایا اور جناب علی مرتضی کو لکھنے کے لئے بلایا۔ خباب کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک کونے میں (خاموش) بیٹھے تھے کہ جو مرضی اللہ اور اس کے رسول کی۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے اور یہ آیت لائے (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ) 6۔ الانعام : 52) یعنی مت ہانک اپنے پاس سے ان لوگوں کو جو اللہ کی یاد کرتے ہیں صبح اور شام وہ اللہ کی رضا مندی کے طالب ہیں تیرے اوپر ان کا حساب کچھ نہ ہوگا اور تیرا ان پر کچھ نہ ہوگا اگر تو ان کو ہانک دے تو تو ظالموں میں سے ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اقرع بن حابس اور عیینہ کا ذکر کیا تو فرمایا (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْ ا اَهٰ ؤُلَا ءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِيْنَ 53 وَاِذَا جَا ءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ) 6۔ الانعام : 53) خباب نے کہا یہ جب آیتیں اتریں تو ہم پھر آپ سے نزدیک ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے اپنا گھٹنا آپ کے گھٹنے پر رکھ دیا اور آنحضرت ﷺ کا یہ حال ہوگیا کہ آپ ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے اور جب اٹھنے کا آپ قصد کرتے تو آپ کھڑے ہو جاتے اور ہم کو چھوڑ دیتے تو یہ آیت اتاری (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ) 18۔ الکہف : 28) یعنی روکے رکھ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے مالک کی یاد کرتے ہیں صبح اور شام اور (وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَه عَنْ ذِكْرِنَا) 18۔ الکہف : 28) یعنی مت کہا مان ان لوگوں کا جن کے دل ہم نے غافل کر دئیے اپنی یاد سے۔ خباب نے کہا پھر تو یہ حال ہوگیا کہ ہم برابر آنحضرت ﷺ کے ساتھ بیٹھے رہتے جب آپ کے اٹھنے کا وقت آتا تو ہم خود اٹھ جاتے اور آپ کو چھوڑ دیتے اٹھنے کے لئے۔



حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ , وَلَا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ , وَلَكِنْ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ , وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أُصِبْتَ بِهَا , أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ " , قَال هِشَامٌ : كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , يَقُولُ : مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَحَادِيثِ كَمِثْلِ الْإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ ... رقم الحديث: 4126]





حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا سِتَّةٍ فِيَّ وَفِي ابْنِ مَسْعُودٍ , وَصُهَيْبٍ , وَعَمَّارٍ , وَالْمِقْدَادِ , وَبِلَالٍ , قَالَ : قَالَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نَرْضَى أَنْ نَكُونَ أَتْبَاعًا لَهُمْ فَاطْرُدْهُمْ عَنْكَ , قَالَ : فَدَخَلَ قَلْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْخُلَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 .
حضرت سعد ؓ سے روایت ہے یہ آیت ہم چھ آدمیوں کے بارے میں اتری میں، ابن مسعود، صہیب، عمار، مقداد اور بلال میں قریش کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے ان کو آپ اپنے پاس سے ہٹا (دھتکار) دیجئے اس بات کو سن کر آپ کے دل میں آیا جو اللہ کو آنامنظور تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (وَلَا تَطْرُدْ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ) 6۔ الانعام : 52) اس کا ترجمہ اوپر گزر چکا۔ 



أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ فَقُلْتُ مَا خَرَجَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَعَمْ سَأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ فَأَدَّاهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ لَا يَعْتَقِدُ قَلْبُ مُسْلِمٍ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَمَنْ كَانَتْ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ شَمْلَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ هِيَ الظُّهْرُ.
[سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 231 (43133) حدیث متواتر - علماء کی پیروی کرنا]
حضرت زید بن ثابت، مروان بن حکم کے ہاں سے دوپہر کے وقت باہر نکلے راوی کا بیان ہے میں نے دریافت کیا آپ اس وقت مروان کے ہاں سے کیوں آرہے ہیں۔ ضرور اس نے آپ سے کوئی سوال کیا ہوگا میں حضرت زید کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا انہوں نے جواب دیا ہاں اس نے مجھ سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا تھا جو میں نے نبی ﷺ کی زبانی سنی ہے آپ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جو ہماری زبانی کوئی بات سن کر اسے یاد کرلے اور اسے اس شخص تک منتقل کر دے جو اس سے زیادہ بہتر طور اسے یاد رکھے کیونکہ بعض اوقات علم رکھنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات علم رکھنے والا شخص کسی ایسے شخص تک بات منتقل کر دیتا ہے جو زیادہ بڑا عالم ہو۔ جس مسلمان کا دل تین باتوں پریقین رکھے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا راوی بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا وہ کیا باتیں ہیں آپ نے ارشاد فرمایا عمل میں اخلاص، حکام کے لئے خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم کرنا چونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں پر بھی محیط ہوتی ہے۔ جس شخص کی نیت آخرت ہوگی اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل میں بے نیازی پیدا کردے گا اور اس کے تمام معاملات سیدھے کردے گا دنیا اس کے پاس سرجھکا کر آئے گی لیکن جس شخص کی نیت دنیا کا حصول ہوگی اللہ اس کے معاملات بکھیر دے گا اس کے فقر کو اس کے سامنے کردے گا اور دنیا اسے اس کی نصیب کے مطابق ملے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے ان سے نماز وسطی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا اس سے مراد ظہر کی نماز ہے۔

[هذا الأثر ذكره أبو طالب المكي في " قوت القلوب " (2/283) ، وأبو حامد العزالي في " إحياء علوم الدين " (3/86) ، والصنعاني في " سبل السلام " (2/652)، فرواه ابن أبي الدنيا في كتاب " الجوع " (ص: 43) ، الترغيب والترهيب - الصفحة أو الرقم:3/167]
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا، "سب سے پہلی بدعت جو اس امت میں ظاہر ہوئی ، وہ شبع (یعنی پیٹ بھر کر کھانا کھانا) تھی".

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پرکہ اسرار محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیات جاوداں دے دی
سلام اس پر، ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں
سلام اس پر، ہوا مجروح جو بازار طائف میں

سلام اس پر، وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے
سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا
سلام اس پر، جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا

سلام اس پر، جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
سلام اس پر، جو فرش خاک پر جاڑے میں سوتا تھا

سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے
سلام اس پر کہ جس کی ذات فخر آدمیت ہے

سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی
سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی

سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی

سلام اس پر، شکستیں جس نے دیں باطل کی فوجوں کو
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا
سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا

سلام اس پر کہ جس کا نام لیکر اس کے شیدائی
الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت، اوج دارائی

سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھادیتے ہیں ٹکڑا، سرفروشی کے فسانے میں

سلام اس ذات پر، جس کے پریشاں حال دیوانے
سناسکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے

درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی
درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی

درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں
درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں

درود اس پر، جسے شمع شبستان ازل کہئے
درود اس ذات پر، فخرِ بنی آدم جسے کہئے


****************************************

4) زیارت (قبر) نبوی کی چاہت میں سب کچھ قربان کرنا:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
[صحيح مسلم » كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا ... » بَاب فِيمَنْ يَوَدُّ رُؤْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ... رقم الحديث: 5064]

****************************************
عن عبد الرحمن بن أبي قراد أن النبي صلى الله عليه و سلم توضأ يوما فجعل أصحابه يتمسحون بوضوئه فقال لهم النبي صلى الله عليه و سلم : " ما يحملكم على هذا ؟ " قالوا : حب الله ورسوله . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : " من سره أن يحب الله ورسوله أويحبه الله ورسوله فليصدق حديثه إذا حدث وليؤد أمانته إذا اؤتمن وليحسن جوار من جاوره " (مشکاۃالمصابیح:4990)








اردو ادب ونثر میں "لفظ عشق" کا استعمال اللہ اور رسول اللہ دونوں کے لیے مستعمل ہے. تصوف میں بهی "عشق حقیقی" کی اصطلاح موجود ہے. رہی بات غلط استعمال کی تو وہ تو لفظ محبت پر بهی صادق آتی ہے.

لفظ "عشق" کا احادیث سے ثبوت:
1) إبراهيم بن محمد بن عرفة نفطويه : حَدَّثَنَا محمد بن داود بن علي , حَدَّثَنَا أبي , حَدَّثَنَا سويد بن سعيد , حَدَّثَنَا علي بن مسهر , عنأبي يحيى القتات , عن مجاهد , عن ابن عباس ، مرفوعا , قال : " من عشق ، وكتم ، وعف ، وصبر , غفر الله له , وأدخله الجنة " .
[سير أعلام النبلاء الذهبي » الطبقة الثانية عشرة » سويد بن سعيد ابن سهل بن شهريار ... رقم الحديث: 797]

من عشِق وعفَّ وكتمَ فمات مات شهيدًا
الراوي: عبدالله بن عباس المحدث: الزركشي (البدر) - المصدر: اللآلئ المنثورة - الصفحة أو الرقم: 179
خلاصة حكم المحدث: [روي] بإسناد صحيح

من عشَقّ فعَفّ فماتَ : ماتَ شهيدا
الراوي: عائشة أم المؤمنين المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: لسان الميزان - الصفحة أو الرقم: 1/647
خلاصة حكم المحدث: [روي من طريق آخر محفوظ]

من عشِقَ وعفَّ وكتم وماتَ مات شهيدًا
الراوي: عبادة بن الصامت المحدث: العيني - المصدر: عمدة القاري - الصفحة أو الرقم: 14/179
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

مَن عشقَ فعفَّ وكتمَ فماتَ ، فَهوَ شَهيدٌ
الراوي: [عبدالله بن عباس] المحدث: الزرقاني - المصدر: مختصر المقاصد - الصفحة أو الرقم: 1055
خلاصة حكم المحدث: حسن

من عشِقَ فعفَّ فكتَمَ فمات مات شهيدًا
الراوي: عبدالله بن عباس المحدث: محمد جار الله الصعدي - المصدر: النوافح العطرة - الصفحة أو الرقم: 393
خلاصة حكم المحدث: [روي] بإسناد صحيح

2) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَيْخًا يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ ، وَكَانَ قَدِيمًا يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا ، وَلا تَقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ أَهْلِ الْعِشْقِ وَأَهْلِ الْكِتَابَيْنِ ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ مِنْ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ ، لا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، مَفْتُونَةٌ قُلُوبُهُمْ وَقُلُوبُ الَّذِينَ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ " .
[مختصر قيام الليل للمروزي (سنة الوفاة: 294) رقم الحديث: 185(1 : 135)]


3) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَفِيهِمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنِّي لَسْتُ مِنْهُمْ ، عَشِقْتُ امْرَأَةً فَلَحِقْتُها فَدَعُونِي أَنْظُرْ إِلَيْهَا ، ثُمَّ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ طَوِيلَةٌ أدماءُ فَقَالَ لَهَا : اسْلَمِي حُبَيْشُ قَبْلَ نفادِ الْعَيْشِ ، أَرَأَيْتِ لَوْ تَبِعْتُكُمْ فَلَحِقْتُكُمْ بِحِلْيَةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ أَمَا كَانَ حَقٌّ أَنْ يَنولَ عاشِقٌ تَكَلَّفَ إِدْلاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقَ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَدَيْتُكَ ، قَالَ : فَقَدَّمُوهُ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ فَشَهِقَتْ شَهْقَةً ، أَوْ شَهْقَتَيْنِ ، ثُمَّ مَاتَتْ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَحِيمٌ " .
[المعجم الكبير للطبراني » بَابُ التَّاءِ » الاخْتِلافُ عَنِ الأَعْمَشِ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ ... » أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ ... رقم الحديث: 11876]

المحدث: الهيثمي - المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 6/212
خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن

المحدث: الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 6/184
خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن


محبت رسول ﷺایمان میں سے ہے !


غالباً سنہ ۲۰۰۸ء کا واقعہ ہے کہ جامعة ازہر مصر کی جانب سے ایک کانفرنس کوالالمپور مالیشیا میں ”ملتقیٰ خرّیجی الأزہر“ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کی میزبانی مالیشیا گورنمنٹ کی مذہبی امور کی وزارت کررہی تھی، مجھے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی، اس کانفرنس میں میری ملاقات فضیلة الشیخ الدکتور نور الدین عتر سے ہوئی، جو دمشق یونیورسٹی کے شعبہ علوم القرآن والسنة کے سابق نگران اعلیٰ ہیں، جامعة ازہر سے دکتورہ کیا ہے، اور چند سال جامعة اسلامیة مدینہ منورہ میں بھی استاذ رہے ہیں، میں نے بھی اس دوران ان سے ”مصطلح اصول حدیث“ کا مضمون پڑھا ہے، اس اعتبار سے وہ میرے استاذ ہیں، البتہ اس وقت یہ جوان تھے، اب بوڑھے اور کمزور ہوگئے ہیں، بہت محبت اور شفقت سے ملے، اور مجھے اپنی لکھی ہوئی کتاب ”حب الرسول ﷺ من الإیمان“ دی اور اس کے سرورق پر لکھدیا کہ یہ ہدیہ ہے اور آپ کو اس کی نشر واشاعت اور ترجمہ کی اجازت ہے، میں نے مسلمان اردو خواندہ بھائیوں تک پہنچانے کے لئے اس کا اردو ترجمہ کیاہے۔
”حبّ الرسول ﷺ من الإیمان“یہ عنوان ہی جاذبِ نظر ہے اور جب آپ اس رسالہ کو پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ محبت نبوی کیا ہے؟ اس کے تقاضے کیاہیں؟ اور صحابہ کرام نے کس انداز میں آپ ﷺ سے محبت کی؟ یہ سب کچھ آپ اس کتاب میں پڑھیں گے۔
حضور ﷺ سے محبت، ایمان کا جز ہے اور محبت کی منجملہ علامات میں سے یہ ہے کہ تمام معاملات میں حضور ﷺ کا اتباع کیا جائے، قرآن کریم سے محبت اور تلاوت ہو، آپ کی احادیث پڑھی جائیں، آپ ﷺ کی سنت اور طریقہ پر عمل کیا جائے، آپ کی سیرت اور شمائل کو اپنایا جائے، آپ کا ذکر خیر کثرت سے کیا جائے، آپ پر درود پڑھا جائے، آپ ﷺ سے ملنے کا اشتیاق ہو، یہ سب محبت کی علامات ہیں اور ایسی محبت کا عملی نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت تھی۔
صحابہ کرام حضور ﷺ کی نبوت کے عینی شاہد اور گواہ، آپ ﷺ کی تعلیمات سے آراستہ وپیراستہ، آپ ﷺ کی تربیت وصحبت یافتہ اور آپ کے دین کو پہچانے اور پھیلانے کا اولین ذریعہ اور وسیلہ تھے، صحابہ کرام کی زندگی رسول اللہ ﷺ کی محبت سے معمور اور بھر پور تھی، اپنی جان ومال اور آل واولاد کی پرواہ کئے بغیر آپ ﷺ کے ہر حکم پر تعمیل کرنا ان کا خاصہ اور طرہ ٴ امتیاز تھا۔
صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی اسی محبت کو اقوام عالم میں روشناس کرایا اور پھیلایا جو آپ ﷺ کے مکارم اخلاق اور جود وکرم کے ذریعہ ان کے اعمال واخلاق پر چھائی ہوئی تھی۔ صحابہ کرام کی یہ اعلیٰ سیرت اسلام کی طرف دلوں کے میلان کا ذریعہ اور اقوام عالم پر ان کی عظمت وفضیلت کا سبب بنی۔
صحابہ کرام آپس میں الفت ومحبت، عزت واحترام اور مرتبہ و مقام کاپاس اور لحاظ رکھتے تھے، آپ اس کتاب میں پڑھیں گے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور پوچھا کہ سب سے بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا :”امیر المؤمنین وہ آپ ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھ سے جس نے بھی مقابلہ کیا، میں نے اس سے بدلہ لیا ہے، لیکن سب سے بہادر حضرت ابوبکر ہیں اور پھر غزوہٴ بدر میں ان کی بہادری کا ذکر کیا۔
حضرت علی نے پھر فرمایا: مجھے بتاؤ ! کہ فرعون کے خاندان کا مؤمن بہتر ہے یا حضرت ابوبکر؟ لوگ خاموش ہوگئے ۔ حضرت علی نے فرمایا: بخدا! حضرت ابوبکر کی ایک گھڑی فرعون کے خاندان کے مؤمن سے زمین بھر جائے ان سے بہتر ہے، کیونکہ فرعون کے خاندان کے شخص نے ایمان چھپا رکھا تھا اور حضرت ابوبکر وہ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کا برملااعلان کیا تھا۔
اللہ پاک ہمیں بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی سچی محبت اور اتباع نصیب فرمائے۔ آمین
وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
مقدمہ مؤلف
نبی کریم ﷺ کی محبت، فضائل اورکمالات کے حصول کے لئے ایک عظیم شاہراہ ہے،اس لئے کہ آپ ﷺ کی محبت ایمان میں سے ہے ،بلکہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو ایمان کی پہچان بھی نہ ہوتی ۔
یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جو اس محبت کی حقیقت کو بیان کرتی ہے ، جس پر عامل باعمل ہوکر امت کے پہلے طبقہ (جوسب سے اعلی طبقہ ہے یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے اونچامقام حاصل کیا ۔
ایمان کی اس علمی اور عملی تعریف کے بعد اس سے انتفاع آسان اور وہ بلند مقام حاصل کرنا سہل ہوجائے گا، جس کی آپ ﷺ نے ان الفاظ میں بشارت دی ہے :” اَلمَرْأُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“یعنی ہرشخص کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی ہوگی۔
میں نے اس مختصر رسالہ کے نام کا انتخاب امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی کتاب ”صحیح بخاری“ کی ” کتاب الإیمان“ کے اس عنوان ”حُبُّ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم منَ الإیمانِ“سے لیا ہے،یعنی رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کا جزء ہے، نیز میں نے جوروایات اس موضوع سے متعلق ذکر کی ہیں، وہ صحیح اور ثابت ہیں اوریہ تنبیہ یہاں اس لئے کردی ہے تاکہ تخریج احادیث اور اسانید پر کلام کی تفصیلات سے بچاجائے ۔ ہاں بعض خاص خاص جگہو ں پر تاکید مزیدکے لئے میں نے ان احادیث کے ثقاہت و ثبوت پر کلام کیا ہے ، وگرنہ اس مختصر کتاب کا مضمون اللہ کے فضل سے صحیح ثابت اور مقبول ہے ۔
اے اللہ! ہمیں محبت کا وہ مقام نصیب فرما جس کے بارے میں ہمارے سردار حضرت محمد ﷺ نے فرمایا :”المرأ مع من أحبّ “۔”ہر شخص کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی “۔
”الحبّ اور المحبّة“یہ دونوں الفاظ ایسے معنی کواداکرتے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے ، جودوسری صفات کے مقابلہ میں اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے ، اور اپنی تاثیر کے اعتبارسے سب سے زیادہ عظیم ہے ، کیونکہ اس میں دل کا میلان اور محبوب کی طرف کھچاؤ پایا جاتا ہے ،اور وہ انسان کی طبیعت میں ایسا شعور اورسلوک کا جذبہ پید ا کردیتا ہے کہ کبھی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربا ن کردیتاہے ، بلکہ اپنے محبوب کی محبت میں وہ اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہوجاتا ہے اور اپنی صفات چھوڑ کر محبوب کی صفات اختیار کرلیتاہے ۔
بے شک اللہ تعالی جو رب العالمین ہیں اور سب کے خالق ہیں وہ ہر قسم کی محبت اور عظیم ترمحبت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ،کیونکہ وہ اعلیٰ صفاتِ کمال سے متصف ہیں ،جن کی کوئی انتہاء اور کوئی حدنہیں ہے، جن کی نہ کوئی تعداد ہے اور نہ انہیں گِنا جاسکتا ہے ،وہی ہے جو بندوں پر اپنے جود و سخا کے خزانوں سے وہ نعمتیں برساتا ہے جن کا شمار نہیں ہوسکتا ، اور وہ احسانا ت کرتا ہے جن کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ ارشاد باری ہے :
﴿وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا﴾ ( ابراہیم:۳۴)
ترجمہ : ۔”اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ان کا شما ر نہیں کرسکتے ۔“
بلکہ بہت ہی کم ان کی نعمتوں کا احاطہ اور شمار کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں لفظ ”لَاتُحْصُوْھَا “ سے اشارہ ملتا ہے ۔
ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم مخلوق میں اس محبت کے سب سے زیادہ مستحق اورحق دار ہیں، بلکہ آپ ﷺ ہماری ذات سے زیادہ ہماری محبت کے حق دار ہیں۔ ارشاد باری ہے :
﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہُ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ (الأحزاب:۶)
ترجمہ :” نبی سے لگاوٴ ہے ایمان والوں کو زیادہ اپنی جان سے اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں ۔“
تو اس آیت نے بغیر کسی قیدو تحدید کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کو ہرمسلمان کی ذات پر فوقیت دی ہے،یہ آیت ہرچیزکو شامل ہوگئی ہے ، لہذا اس میں غورو فکر کرو اور خوش ہو جاؤ:
﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہُ أمَّہَاتُھُمْ﴾
محبت کو واجب کرنے والی صفات
جس شخص کو رسول اللہ ﷺ کی معرفت حاصل ہوگئی ،وہ اس حقیقت کو نہ صرف یہ کہ جان لے گا ، بلکہ ذوقاً بھی محسوس کر لے گا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت کو واجب کرنے والی جتنی بھی صفات ہو سکتی ہیں وہ بدرجہ کمال صرف آپ میں موجود ہیں اورکسی اور مخلوق میں نہیں ،، آپ ﷺ کی ان کامل صفات کا خلاصہ ائمہ علم و عرفان اور اہل محبت نے دو عظیم حصوں میں تقسیم کیا ہے :
۱: ۔وہ کامل صفات جن سے آپ ﷺ متصف تھے۔
۲:۔آپ کی جود و سخاوت ۔
جہاں تک صفات ِ کمالیہ کا تعلق ہے جن کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے ، مثلاً ایک انسان کبھی دوسرے انسان سے اس کے خوبصورت چہرے کی وجہ سے محبت کرتا ہے یا اس کی خوش الحانی کی وجہ سے یا ایسی دوسری صفات جمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے جو محبت کو واجب کرتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ اپنے جمال خلقت اور جمال صورت میں تمام مخلوق سے اعلیٰ اور افضل ہیں، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تواتر اور یقینی طریقہ سے ثابت ہے کہ:
” کان رسول ُ الله ﷺ أحسن الناس وجہاً وأحسنَہم خَلقاً“۔
ترجمہ :” رسول اللہ ﷺ سب انسانوں میں زیادہ حسین چہرے والے اور سب سے زیادہ خوب صورت جسم والے تھے “۔
حضرت ھند بن ابی ھالہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں :
”کان رسول الله ﷺ فخمًا مفخّماً، یتلأ لأ وجہہ تلألوٴ القمر لیلة البدر“
ترجمہ :”حضور ﷺ اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے بھی عظیم الشان تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے رتبہ والے تھے، آپ ﷺ کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔“
حضرت ابوھریرةؓ فرماتے ہیں:
”مارأیت أحسن من رسول الله ﷺ کأنّ الشمس تجری فی وجہہ“۔
ترجمہ :” رسول اللہ ﷺ سے زیادہ میں نے کسی کو حسین نہیں دیکھا۔ گویا سورج آپ کے چہرہ مبارک میں گردش کررہاہے “۔
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں :
”مامَسِسْت دیباجةً ، ولا حریرةً ألین من کفّ رسول الله ﷺ، ولا شممت مسکةً ولا عنبرةً أطیب من رائحة النبی ﷺ، وفی روایة : أطیب من عرق النبی ﷺ“․
ترجمہ :” میں نے کسی موٹے یا باریک ریشم کو رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیاد ہ نرم نہیں پایا ، اورنہ ہی مشک اور عنبر کی خوشبو کو نبی کریم ﷺ کی خوشبو سے عمدہ پایا ،اورایک روایت میں ہے کہ نہ ہی آپ ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبودار اورعمدہ پایا “۔
جس نے بھی آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے ہیں، سب نے یہی کہا:
” لم أر قبلہ ولا بعدہ مثلَہ ﷺ “۔
ترجمہ :” آپ ﷺ جیسا ہم نے نہ آپ سے پہلے کسی کو دیکھا اور نہ آپ کے بعد کسی کو دیکھا “۔
لہٰذا آپ مخلوق کے جمال سے کتنے ہی متاثر ہوں، آپ پر لازم ہے کہ آ پ تمام مخلوق اور اپنے نفس سے بھی زیادہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کریں ، کیونکہ آپ ﷺ ہر قسم کے جمال کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہیں ۔
اسی طرح ایک عقلمند انسان کسی سے محبت اس کے حسن اخلاق اور اعلیٰ سیرت کی بنا پر کرتا ہے ،اگرچہ وہ خوداس سے کتنا ہی دور ہو ۔جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺپورے عالم میں سب سے زیادہ اخلاق میں کامل ہیں ، اور جس کے لئے اللہ تعالی کی گواہی کافی ہے :
﴿وَاِنّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ (سورة القلم :۴)
ترجمہ :” بے شک آپ اخلاق کے عظیم مقام پر ہیں “۔
اللہ تعالی کے اس قول ”لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ“میں غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جتنے بھی اخلاق حسنہ اور انسان کی صفاتِ کمالیہ ہوسکتی ہیں آپ ﷺ ان صفات کے اعلیٰ مقام پرفائز ہیں، کیونکہ ”علٰیٰ“ بلندی پردلالت کرتا ہے ، لہٰذا جس قسم کے بھی اعلیٰ اخلاق ہو سکتے ہیں ،آپ ان اخلاق میں سب سے اعلیٰ و ارفع مقام پرفائز ہیں اور جس قسم کے انسانی کمالات ہو سکتے ہیں ،آپ ان کمالات میں سب سے بلند درجہ پر ہیں۔
رہابہت زیادہ عطااور احسان کی وجہ سے کسی سے محبت کرنا، تو انسان دنیا میں ہراس شخص سے محبت کرتا ہے جس نے اس پر ایک یا دو بار کوئی احسان کیا ہو، اور وہ احسان کتنا ہی زیادہ قیمتی اور نفیس کیوں نہ ہو بالآخروہ فانی اور زائل ہونے والا ہے ، جیسے کسی نے اسے ایسی مصیبت سے بچایا جس میں اس کی ہلاکت یقینی تھی یااس میں کسی نقصان کا خطرہ تھا۔کچھ بھی ہو یہ احسان بالا ٓ خرختم ہونے والا ہے، جس کے لئے دوام نہیں ۔
بھلا دنیوی احسان کا مقابلہ نبی کریم اور رسول عظیم ﷺ کے احسانات سے ہوسکتا ہے جوتما م محاسنِ اخلاق و تکریم کے جامع ہیں ،جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام مکارمِ اخلاق ، عظیم صفات اور فضیلت عامہ سے نوازا۔جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں کفر کی تاریکیوں سے نکال کر نورِ ایمان میں داخل کیا ،اور جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں جہالت کی آگ سے نجات دے کر یقین اور معرفت کی جنت میں پہنچادیا ۔
خوب اچھی طرح غور و فکر کرلوتاکہ آپ کوبخوبی معلوم ہوجائے کہ آپ ﷺ ہی آپ کے جنت کی نعمتوں میں ہمیشہ رہنے کا سبب ہیں ، اب خود بتاوٴکہ حضور ﷺ کے اس جلیل القدر اور عظیم الفضل احسان سے بڑھ کر کو ن سااحسان ہوسکتا ہے ۔
اب اس احسان کا شکر اور اس کا حق ہم کیسے ادا کریں ؟ جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں آپ ﷺ ہی کے ذریعہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے نوازا ہے اور اپنی ظاہر ی وباطنی نعمتوں کی ہم پر بوچھاڑ کردی ہے ، اسی لئے آپ ﷺ ہی آپ کی کامل ومکمل محبت کے مستحق ہیں جو ہر ایک کے نفس ،اس کے اہل وعیال اور سب مخلو ق کی محبت سے زیادہ ہو، بلکہ بعض اہل معرفت حضرات نے یہاں تک کہاہے کہ ”اگر جسم کے رویں رویں سے آپ ﷺ کی محبت کا اظہار ہورہاہوتب بھی آپ ﷺ کا جو حق محبت ہے اس کا یہ جزء ہوگا، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہرچیز پر فوقیت حاصل ہے 

محبت رسولﷺ ایمان میں سے ہے !


(۲)
اسی لئے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ’نبی سے لگاوٴ ہے ایمان والوں کو زیادہ اپنی جان سے اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“
اور ارشاد ہے :
قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ نافْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سود اگر ی جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“
اس آیت کریمہ نے محبت کی تمام اقسام کو جمع کردیا ہے اور یہ فرض قراردیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہر چیز پر غالب ہونی چاہیے ، بلکہ مجموعی طور پر ان تمام چیزوں کی محبتوں پر بھی الله اور اس کے رسول کی محبت غالب ہونی چاہیے ۔
اسی مضمون کو ثابت کرنے کے لئے صحیح تر احادیث وارد ہوئی ہیں ، جیسا کہ صحیحین میں حضرت انَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین“․
ترجمہ :”تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد ، اس کی اولاد اورتمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں “۔
یہ حدیث ہر قسم کی محبت کو شامل ہے، جس میں آپ کی اپنے نفس سے محبت بھی ہے ۔
امام بخاری اور دوسرے حضرات نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”والذی نفسی بیدہ لایؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ “
ترجمہ :”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوں “۔
یہاں والد اور اولاد کو ذکر فرمایا، کیوں کہ یہ دونوں دوسروں کے مقابلے میں انسان کو زیادہ محبوب ہوتے ہیں ، اور ان دونوں کی وجہ سے انسان اس دنیا میں جیتااور محنت کرتا ہے، اس لئے دوسری اقسامِ محبت کو چھوڑ کر صرف ان پر اکتفا فرمایا۔ لہذا یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مومن پر فرض ہے کہ آپ ﷺ کی محبت کو ہرقسم کی محبت ، اور ہر محبو ب چیزکی محبت ، حتی کے اپنے نفس کی محبت پر بھی مقدم رکھے۔محبت کی بہت سی اقسام ہیں، جن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں :
۱۔شفقت و رحمت کی محبت ۔اور یہ باپ کی اپنے بیٹے سے محبت ہے ۔
۲۔ تعظیم اور بزرگی کی محبت۔ اور یہ بیٹے کی اپنے باپ سے اور شاگرد کی اپنے استاذ سے محبت ہے ۔
۳۔ نفس کی محبت۔اور یہ مرد کی اپنی بیوی سے محبت ہے ۔
۴۔ خیر خواہی اور انسانیت کی محبت ۔ اوریہ سب انسانوں کی آپس کی محبت ہے۔
۵۔ انانیت کی محبت ۔ اوریہ انسان کی اپنی نفس سے محبت ہے اور یہ ان محبتوں میں سب سے زیادہ مضبوط محبت ہے ، اور یہ ایسی محبت ہے جس کو ازل سے نفس کی سرشت میں رکھا گیا ہے، جیسا کہ دوسری محبتیں اس کی سرشت میں رکھی گئی ہیں ۔
غور و فکر کا مرحلہ
اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ مومن کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمام اقسام محبت سے زیادہ ہونی چاہیے اور محبت کے تمام مراتب سے اعلی وارفع ہونی چاہیے ، اور اس کے معلوم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اپنی تمام محبوبات اور حضور ﷺ کی محبت میں غور و فکر کرے اورسوچے تو یقینا اس کی عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ،انانیت کی سرشت پر غالب ہے ، اور اس انانیت کا نام و نشان ختم کردیتی ہے ، اے مسلمان عقلمند! آپ کے لئے سیدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی سیر ت میں بہترین نمونہ ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ ﷺ حضرت عمر کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ،حضرت عمر نے عرض کی : یارسول اللہ ! بے شک آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، سوائے میرے نفس کے !
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایسانہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میر ی جان ہے ، جب تک میں آپ کے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا: بے شک اب تو آپ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہاں! اب تمہار ا ایمان مکمل ہوگیا، اے عمر۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا جواب اس فطرت کے مطابق تھا جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے ،پھر جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (لا) یعنی تیر اایمان کامل نہیں ہوگا (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میر ی جان ہے جب تک کہ میں آپ کے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوں) توحضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ نبی کریم ﷺ ان کو ان کے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں ، کیوں کہ آپ ﷺ ہی اس نفس کو دنیا اور آخرت کی ہلاکتوں سے بچانے والے ہیں،حضرت عمرؓ نے اس بات کی خبردی جس تک وہ غور و فکر سے پہنچے ، اور خبر بھی قسم کے ساتھ دی کہ: فإنہ الآن والله ۔لأنت أحبّ إلیّ من نفسی) بے شک اب تو بخدا! آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں تو اس کے جواب میں حضرت عمر کو عظیم تسلی بخش جواب ملا (الآن یاعمر) یعنی اے عمر !اب آپ کو صحیح معرفت حاصل ہوئی اور آپ اس حقیقت تک پہنچ گئے، جس تک پہنچناضروری ہے ۔
تو بھائی! اگر آپ بھی اپنے اندر اس محبت میں غور و فکر کریں گے تو آپ بھی اسی نتیجہ پرپہنچیں گے کہ رسول اللہ ﷺ آپ کی محبت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں، کیوں کہ جب آپ اس بات میں غور و فکر کریں گے کہ آپ کے نفس کی بقا ء، خوشی اور دائمی نعمتوں کا ذریعہ صرف اورصرف رسول اللہ ﷺ ہی ہیں اور یہ وہ منفعت ہے جو ہرقسم کی نعمتوں سے اعلی وارفع ہے ،جن سے آپ منتفع ہوسکتے ہیں، اسی وجہ سے آپ ﷺ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آ پ کے ساتھ محبت دوسری محبتوں سے زیادہ ہو، اور (ہر انسان کواپنے ) نفس سے جو اس کے دونوں پہلووٴں کے درمیان ہے ، اس لئے کہ وہ نفع اور خیر جو محبت پر ابھارتے ہیں وہ آ پ کو حضور ﷺ کی طرف سے دوسرں کے مقابلہ میں بلکہ اپنے نفس سے زیادہ حاصل ہیں اور جیسے آپ ﷺ کمالات و فضائل میں سب مخلوق سے افضل اور اعلی ہیں، اسی طرح آپ ﷺ تمام کمالات،برکات اور فضائل کے جامع ہیں ۔
یہ وہ حقائق ہیں جو نفس کی گہرائیوں میں قرار پکڑے ہوئے اور عقل کے ادارک میں جاگزین ہیں ،اس لیے کہ ہر مسلمان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے، کیوں کہ اسلام دل میں اس محبت کے بغیرداخل ہوہی نہیں سکتا ، البتہ عام لوگوں کے اندر ان احسانات میں غوروفکر نہ کرنے اور ان میں غفلت برتنے کی وجہ سے کافی تفاوت پایا جاتا ہے ،اسی لئے دعوت الی اللہ کے جواعلی طریقے ہیں ان میں ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ سیدنا رسول اللہ ﷺ کے فضائل وکمالات کو بیان کیا جائے ، اور کثرت سے بیان کیا جائے ،تاکہ خود آپ کو اس سے فائدہ ہو اور آپ کے علاوہ باقی ایمان والوں کو بھی اس سے فائدہ ہو، اور غیر مسلموں کے لئے تالیف قلب اور دین حق سے قربت کا ذریعہ بنے ،اور اس کے ذریعہ آپ، حضور ﷺ کی محبت کے پھلوں میں سے ایک عظیم پھل حاصل کرلیں گے، جس کے بارے میں صحیح اور قطعی الثبوت احادیث وارد ہوئی ہیں ، جن میں کوئی شک وشبہ نہیں ۔
امام بخاری او ر امام مسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”ثلاث من کن فیہ وجد حلاوة الإیمان : أن یکون الله ورسولہ احبّ إلیہ مماسواھما، وأن یحبّ المرء لایحبّہ الا الله ، وأن یکرہ أن یعود فی الکفرکمایکرہ أن یقذف فی النار“
ترجمہ :”تین صفات ایسی ہیں جس شخص میں وہ پائی جائیں گی ،اس نے ایما ن کا مزہ چکھ لیا ،۱:․․․ ایک یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔۲:․․․ اگر کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لئے کرے۔۳:․․․کفر کی طرف لوٹنے کو اس طرح ناپسند کرے جیسے اپنے آپ کو آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے “۔
اور امام مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا :
”ذاق طعم الإیمان من رضی باللّٰہ ربّا، وبالاسلام دینا ، وبمحمد رسولاً“
ترجمہ :۔”اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا“ ۔

محبت کیسے ثابت ہوگی ؟
میرے مسلمان بھائی! جاننا چاہیے کہ محبت دعویٰ اور آرزؤں کانام نہیں، بلکہ محبت کو بتلانے والی چیز اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کو بجالانے اور ان کی منہیات سے بچنا ہے ،اس اعتبار سے محبت کبھی فرض ہوتی ہے اور کبھی سنت ہوتی ہے ۔

محبت فرض
یہ وہ محبت ہے جو نفس کو فرائض کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے پر آمادہ کرے ، اور اللہ نے جو کچھ اس کے لئے مقدّر کیا ہے، یہ محبت اس پرراضی ہونے پر آمادہ کرے ۔ پس جو شخص کسی معصیت میں مبتلا ہے یااس نے کسی فرض کو چھوڑ دیا یاکسی حرام فعل کا ارتکاب کیا تو اس کا سبب اس محبت میں کوتاہی ہوتا ہے کہ اس نے اس محبت پر نفس کی خواہشات کو مقدم کیا ، اور یہ -العیاذ باللہ -غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔

محبت سنت
وہ یہ ہے کہ انسان نفلی عبادات کی پابندی کرے اور مشتبہ امور سے بچتا رہے ۔
اس بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ وہ مومن جو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے، اس کے پاس شریعت کے جو بھی اوامر اور منہیات پہنچے ہیں وہ مشکاةِ نبوت سے ہی پہنچے ہیں اور وہ صرف آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتا ہے ، آپ کی شریعت سے راضی اور انتہائی خوش ہوتا ہے ، آپ ﷺ کے اخلاق اپناتا ہے ، اور آپ ﷺ نے جو فیصلے فرمائے ہیں ان سے اپنے نفس میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا ، جس شخص نے ان امور پر اپنے نفس سے جہاد کیا ،اس نے ایمان کی حلاوت حاصل کرلی ۔
امام بخاری  نے اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
”إن الله تعالٰی قال : من عادیٰ لی ولیّاً فقد آذنتہ بالحرب، وما تقرّب إلیّ عبدی بشئ أحب إلیّ ممّا افترضت علیہ ، ولا یزال عبدی یتقرّب إلیّ بالنوافل حتی أحبّہ …“ الحدیث ․
ترجمہ:۔”اللہ تعالی نے فرمایا : جس نے میرے دوست سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے ، اور میرا بندئہ مومن میرا تقرب (اعمال میں سے) کسی ایسے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرتا جو میرے نزدیک ان اعمال میں سے زیادہ مقبول ہو جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں اور میرا وہ بندہ جسے ادائیگی فرائض کے ذریعے میرا تقرب حاصل ہے ہمیشہ نوافل کے ذریعے( یعنی ان طاعات وعبادات کے ذریعے جو فرائض کے علاوہ ہیں) میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا دوست بنالیتا ہوں“۔
پس اس حدیث نے محبت الٰہی کے اسباب کو دو امور میں بند کردیا، ایک وہ جو فرائض کے اہتمام سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو کثرت نوافل سے۔
بے شک اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا کثرت نوافل میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ جب بندہ اشتغال نوافل سے اللہ کا محبوب بن جاتا ہے تو اس اشتغال نوافل کی برکت سے اسے ایک اور محبت یا محبوبیت حاصل ہو جاتی ہے، جو پہلی محبت یا محبوبیت سے بڑھ کرہوتی ہے۔ پس یہ تیسری محبت یا محبوبیت اس کثرت نوافل سے حاصل ہونے والی محبت سے بڑھ کر ہوتی ہے اور یہ بندے کے دل کو محبت الٰہی میں اس قدر مشغول ومستغرق کردیتی ہے کہ وہ ذات الٰہی اور ان کے ذکر وعبادت کے علاوہ ہر قسم کی فکر وسوچ اور افکار واوہام سے بے نیاز ہوجاتا ہے اور اس پر اس کی روح مکمل طور پر غالب آجاتی ہے، چنانچہ اس وقت اس کے ہاں محبوب کے ذکر، محبت اور اس جیسی دوسری چیزوں کے علاوہ کسی شئ کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، بلکہ اس کے دل کی باگ ڈور ذکر الٰہی اور محبت خداوندی وغیرہ کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ نیز اس کی روح اس کی جسمانی خواہشات پر اور ذکر اس کی روح پر غالب آجاتا ہے یعنی اس وقت ذکر وعبادت اس کے دل کی آواز ورورح کی غذا بن جاتی ہے اور ملائکہ کی طرح اس کے اعمال واذکار اس کے سانسوں کے ساتھ چلنے لگتے ہیں۔
تو حاصل کلام یہ ہے کہ مؤمن کے دل کے لئے ایک عمدہ اور باسعادت زندگی کا حصول اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے بغیر ممکن نہیں اور حقیقی زندگی تو مُحبّین کی زندگی ہے جن کی آنکھیں اپنے حبیب سے ٹھنڈی ہیں ،ان کے نفوس کو محبوب کی وجہ سے سکون مل چکا ہے، اس کی وجہ سے ان کے دل مطمئن ہوچکے ہیں ،اس کے قرب سے وہ مانوس ہوچکے ہیں اور اس کی محبت سے مزے لے رہے ہیں ۔

محبت کی علامات اور محبت میں تاثیر پیدا کرنے والے امور
نبی کریم ﷺ سے آپ کی محبت وہ قیمتی جوہر ہے جو دل میں ایک عظیم نور سے چمکتا ہے ، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اس سے ایسی نورانی شعائیں نکلیں جو اس محبت کو بتائیں اور جیسے یہ شعائیں اس کے آثارمیں سے ہیں، اسی طرح اپنے اندر تاثیر بھی رکھتی ہیں جس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے، یہاں تک کہ محبت کرنے والا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں محبوبیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے ۔ معاملہ صرف یہی نہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺ سے محبت کریں بلکہ اصل معاملہ نجاح وفلا ح اور عظیم کامیابی کا یہ ہے کہ آ پ سے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ محبت کریں ۔ اے اللہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دیجئے ۔

محبت رسول ﷺ ایمان میں سے ہے !


(۳)
رسول اللہ ﷺ کا اتباع
اتباع، محبت کی سب سے بڑی علامت اور محبت کی ترقی میں قوی تاثیر رکھتی ہے ، اتباع کا محبت کی علامت ہونا تو عیاں اورظاہر ہے، کیوں کہ محبت کرنے والاہمیشہ اپنے محبوب کی موافقت کرتاہے، وگرنہ وہ اپنے دعوی محبت میں جھوٹا ثابت ہوگا ، اور اتباع :محبت میں مؤثر ہے تو اس لئے کہ مومن رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کے جمال اور کمال کو عملی طور پر محسوس کرتا ہے اورتجربہ سے اس میں ایک ذوق پیدا ہوجاتا ہے ،اس سے رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اضافہ ،اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا اسے قرب اورمحبوبیت حاصل ہوتی ہے ۔
اللہ کے ساتھ سچی محبت کے دعویٰ کو پرکھنے کے لئے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے اتباع کو معیار بنایا ہے۔ ارشاد باری ہے :
﴿ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ﴾ (آل عمران :۳۱)
ترجمہ :۔”آپ ان سے کہہ دیں !اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا“ ۔


۲: قرآن کریم سے محبت
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کاکلام ہے ، حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا ثبوت اسی سے ہے، آپ ﷺ نے قرآن کریم کے ذریعے مخلوق کو حق کی راہ بتائی ہے اور اس کے بتائے ہوئے اخلاق کو پوراپورا اپنایا ہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ مخلوق میں سب سے اعلیٰ اخلاق پر فائز ہوگئے ۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
﴿وَاِنّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ ( القلم :۴)
ترجمہ :” بے شک آپ اخلاق کے عظیم مقام پر ہیں“۔
اب آپ قرآن کریم کے ساتھ اپنے دل کی محبت کا امتحان لیجئے ، اور اس کے سننے سے جو آپ کو لذت حاصل ہوتی ہے ،اس کا امتحان لیجئے ، کہ کیا قرآن کریم سننے کی لذت گانے باجے سننے کی لذت سے زیادہ ہے؟ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو آپ سمجھ لیجیے کہ آپ قرآن کریم کی محبت میں سچے ہیں ، کیوں کہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے، اس کے نزدیک تو اس کی باتیں، اس کا کلام ،سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ،اور ایسی محبت قرآن کریم سے کیوں نہ ہو ، جب کہ وہ اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے تمام آسمانی کتب پر فائق وبرترہے ، اور جس کے الفاظ اپنی گیرائی اور گہرائی کے اعتبار سے حق کی تجلیات پر مشتمل ہیں،جس کے بیان کے جمال اور نظم کے کمال نے انسانوں اور جنوں کو اس کی مثل لانے سے عاجز کردیا ہے اور اللہ تعالی نے اسے روح سے تعبیر فرمایاہے ، ارشاد بار ی ہے :
﴿وَکَذٰلِکَ أوْحَیْنَا إلَیْکَ رُوْحاً مِّنْ أمْرِنَا﴾ ( الزخرف ، آیة:۵۲)
ترجمہ :۔”اور اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے۔“
جس طرح روح اجساموں کے لئے حیات اور زندگی کا سبب ہے ، اسی طرح قرآن کریم تمام ارواحوں کی روح کی حیات اور زندگی کا سبب ہے ، لہذا ایک مُحب اپنے محبو ب کے کلام سے کیسے سیر ہوسکتا ہے جب کہ وہ محبوب ہی اس کا مطلوب ومقصود ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیاخوب فرمایا : ”اگر ہمارے دل پاک وصاف ہوتے تو ہم اللہ تعالی کے کلام سے کبھی سیر نہ ہوتے ۔“
۳: آپ اکی سنت سے محبت ، اور آپ کی حدیث پڑھنا
محبت کالازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ محب اپنے محبوب کے ساتھ ہر چیز میں موافقت اور اتفاق کرے۔ لہذا نبی کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی سنت اور طریقہ کی اتباع کی جائے اور جو شخص خود اس سنت کو معلوم کرنے پر قادرنہیں ،اسے چاہیے کہ جو اس کا عالم ہے اس سے پوچھے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے کلام کا حال ہے ، جو ایسے محبوب کا کلام ہے جو افضل البشر ہے ، اور وہ سب سے بہتر کلام ہے جوکسی انسان کی زبان سے نکلا ہے ، یہ کلام معنی کے اعتبار سے خوبصورت اور الفاظ کے اعتبار سے نہایت عمدہ ہے ،، اگر آپ اس درجہ تک نہیں پہنچ سکے تو آپ اسے غور سے سنیں اور ایسی مجلس میں جائیں جہاں آپ ﷺ کی حدیث پڑھی جاتی ہو ، اب آپ خود فیصلہ کریں کہ حدیث کی ان مجالس اور ان حلقوں سے آپ کی کیا نسبت ہے ؟
۴:آپ ﷺ کی سیر ت اور شمائل سے محبت
یہ محبت کا طبعی تقاضا ہے کہ محب اپنے محبوب کو پہچانے ، آپ ﷺ کی سیر ت اور شمائل ہی آپ کو آپ ﷺ کی ذات کی پہچان کرائیں گے ۔ علیہ افضل الصلاة واتمّ التسلیم ۔ اور آپ کی سیرت اور شمائل کے اعتبار سے جتنا آپ کے علم میں اضافہ ہوگا اتناہی آپ ﷺکے ساتھ آپ کی محبت میں اضافہ ہوگا ، کیوں کہ آپ ﷺ کے کمالات کے علم کے بعدآپ کی معرفت میں اضافہ ہوگا ۔اور پھر آپ کو آپ ﷺ کی محبت میں کمال حاصل ہوگا، اور آپ ﷺ کی روحانیت شریفہ آپ کے دل پر چھا جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ، آپ ﷺ کی روحانیت شریفہ کو آپ کے لئے استاذ معلم ، شیخ اور مُقتدیٰ بنادیں گے، جیسا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنا نبی اپنا رسول اوراپنا ہادی بنایا ہے ۔
اس سے معلو م ہوا کہ ایک مومن محب کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپ ﷺ کی سیر ت ، آپ کے ابتدائی حالات ، آپ پر وحی کے نزول کی کیفیت کا علم، آپ ﷺ کی صفات ، اخلاق ، حرکات و سکنات ، آپ کے جاگنے اورسونے ، اپنے رب کی عبادت کرنے ، گھروالوں کے ساتھ حسن معاشرت ، صحابہ کرام کے ساتھ آپ کا کریمانہ معاملہ اور اس طرح کے دوسرے امور کو پہچانے اور ان کا علم حاصل کرے، اور ایسا ہوجائے گویا وہ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ میں سے ایک ہے ۔
۵: آپ ﷺ کا ذکرِ خیر کثرت سے کرنا
اورجب بھی آپ کا ذکر آئے آپ کی تعظیم کرنا
بعض بزرگوں کا قول ہے کہ ” محبت نام ہے محبوب کو ہر وقت یا دکرنے کا “ اور تمام عقلا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جوشخص کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کا ذکر بار بار کرتا ہے ۔
اور آپ ﷺ کے ذکر کے ساتھ آپ کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ ﷺکے لئے ” سیدنا“ استعمال کیا جائے ، اور آپ کے نام کے ذکر کرنے یا سننے کے وقت خشوع و خضوع کا اظہار کیا جائے ، اور یہ بہت سے صحابہ کرام اور ان کے بعد آنے والے حضرات سے ثابت ہے ۔
بطور مثال :حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک دن فرمایا :”قال رسول الله ﷺ : تو تھرتھرانے لگے اور ان کے کپڑے بھی ہلنے لگے۔
یہ کیفیت رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے طاری ہوئی، عنقریب صلح حدیبیہ کی حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ ﷺ سے محبت اورتعظیم کا بیان آنے والا ہے ۔
۶:آپ ﷺ سے ملنے کا انتہائی شوق
ہر مُحبّ اپنے محبوب سے ملنے کا مشتاق ہوتا ہے ، تونبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کرنے والے کا کیا حال ہوگا ! وہ چاہتا ہے کہ آپ ﷺ کوخواب میں دیکھے اور آخرت میں آپ کی ذات سے ملاقات ہو ، اسی لئے لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ” محبت تو محبوب کے اشتیاق کانام ہے :“
اس سلسلہ میں ایک مشہور واقعہ حضرت بلالؓ کا ہے کہ جب ان کو موت کا استحضار ہوا تو ان کی بیوی کی زبان سے پریشانی کی حالت میں یہ الفاظ نکلے ”واہ حَرَباہ“ہائے میرا گھر ویران ہوگیا ، تو اس کے جواب میں حضرت بلال رضی اللہ نے فرمایا :
” واطَربا، غداً ألقی الأحبة، محمداً و صحبہ“․
ترجمہ :”او میری خوشی ! کل میں اپنے محبوبوں سے ملوں گا ، حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ سے “۔
۷:آپ ﷺ پر کثرت سے درود وسلام پڑھنا
آپ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام پڑھنا، یہ تو آپ ﷺ کو کثرت سے یاد کرنے ،آپ کی تعظیم کرنے اور آپ سے ملنے کا شوق رکھنے کا لازمی نتیجہ ہے اور اس سلسلہ میں ہمارے لئے اللہ تعالی کا یہ فرمان ہی کافی ہے :
﴿اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ (سورة الأحزب:۵۶ )
ترجمہ:۔” الله اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر ، اے ایمان والو! رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔“
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:
” من صلّٰی علیّ صلاةً واحدةً صلَّی الله علیہ بہا عشراً“
(اخرجہ مسلم واصحاب السنن․)
ترجمہ :”جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا ،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں “۔
اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد کہ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا :
”ألاأبشّرک ۔ إن الله عزوجل یقول: من صلیّٰ علیک صلّیتُ علیہ ، ومن سلّم علیک سلّمتُ علیہ“ (رواہ أحمد وحاکم وصححہ ووافقہ الذھبی․)
ترجمہ :” کیا میں آپ کو خوش خبری نہ سناوٴں… اللہ عز وجل فرماتے ہیں، جس نے آپ پر درود پڑھا، میں اس پر رحمت نازل کروں گا، اور جس نے آپ پر سلام بھیجا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔“
اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے :
”إن أولی الناس بی یوم القیامة أکثرھم علیّ صلاةً ‘ ( صححہ ابن حبان)
ترجمہ :”قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھے گا۔“
اور آپ ﷺ کے محبین کے لئے خصوصاً یہ حدیث قابل ذکر ہے ، جسے حضرت انسؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
”من صلّٰی علی بلغتنی صلاتُہ ، و صلّیتُ علیہ ، و کُتِبَ لہ سوی ذلک عشرُ حَسناتٍ“(طبرانی فی الاوسط باسناد لا باس بہ و لہ شواھد بإسناد حسن عن ابن مسعود)
ترجمہ :”جس نے مجھ پر درور پڑھا ، اس کا درود مجھ تک پہنچتا ہے اور میں اس کے لئے دعائے رحمت کرتا ہوں اور اس کے لئے دس مزید نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔“
آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنا گویا آپ ﷺ کے ساتھ بمنزل مناجات کے ہے، کہ جب آپ یہ کہتے ہیں:”اللّٰھم صَلِّ علی سیدنا محمد و سلم“
ترجمہ:” اے اللہ! رحمت اور سلامتی نازل فرما، ہمارے سردار حضرت محمد (ﷺ) پر۔“
آپ ﷺ جواب میں فرماتے ہیں:”صلی الله علیک یا فلان “
ترجمہ :”اللہ تعالی تجھ پر اپنی رحمت فرمائے ، اے فلانے “۔
اے اللہ ! آپ ﷺ کے قلب مبارک کو ہمارے اوپر پھیر دے ، اور آپ ﷺ کو ہماری جانب سے وہ بہترین بدلہ دے جو آپ ﷺ نے کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے دیا ہے ۔




صحابہ کرام کی نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت کے خاص خاص واقعات !


امام بزّارؒ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت نقل کی ہے ۔(اس کی اصل صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مختصر روایت ہے) کہ حضرت علیؓ نے خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ لوگو ں نے کہا : اے امیر المؤمنین! وہ آپ ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے ، مجھ سے جس نے بھی مقابلہ کیا تو میں نے اس سے بدلہ لیا ہے ۔ لیکن سب سے زیادہ بہادر ابوبکرؓ ہیں ، ہم نے غزوہِ بد ر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک سائبان بنایا اور ہم آپس میں کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آج کون ہوگا، تاکہ مشرکین میں سے کوئی آپ کی طرف نہ آسکے ! پس بخدا ہم میں سے ابوبکر کے سوا کوئی بھی آپ ﷺ کے قریب نہیں گیا ۔ وہ تلوار تانے ہوئے آپ ﷺ کے سرپر کھڑے ہوگئے ، اور جو مشرک بھی آپ کی طرف آتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے ۔ یہ سب لوگوں میں زیادہ بہادر ہیں ۔
نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : میں نے قریش کو دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پکڑا ہوا ہے ، کوئی آپ کو مار رہاہے ،کوئی برا بھلا کہہ رہا ہے، کوئی دھکے دے رہا ہے اور کہہ رہے ہیں : تو نے اتنے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود چن لیا ہے ؟ پس بخدا !ہم میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کے قریب نہیں آیا سوائے ابوبکررضی اللہ عنہ کے ، وہ آئے اور کسی کو ماررہے ہیں ، کسی سے لڑ رہے ہیں اور کسی کو دھکادے رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : تم ہلاک ہوجاؤ، تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ؟!
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر سے چادر اتاری اور رونے لگے ،یہاں تک کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی ۔پھر فرمانے لگے کہ مجھے بتاؤ کہ فرعون کے خاندان کا مؤمن بہتر ہے یا ابوبکر؟ لو گ خاموش ہوگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخدا ابوبکر کی ایک گھڑی فرعون کے خاندان کے مؤمن سے زمین بھر جائے ،ان سے بہتر ہے ۔ کیونکہ فرعون کے خاندان کے شخص نے ایمان چھپا رکھا تھا اور ابوبکر وہ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کا اعلان کیا تھا ۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے محمد بن سیرین سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کچھ لوگ آپس میں تبصر ہ کررہے تھے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے رہے ہیں، جب حضرت عمررضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو وہ فرمانے لگے : بخدا! ابوبکر کی ایک رات آل عمر سے بہتر ہے اور ابوبکر کا ایک دن آل عمر سے بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک رات گھر سے نکلے اور غار کی طرف روانہ ہوگئے اور آپ کے ساتھ ابوبکر بھی اور وہ کبھی آپ ﷺ کے آگے اور کبھی آپ کے پیچھے چلتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ سمجھ گئے اور فرمانے لگے : اے ابوبکر ! کیا بات ہے؟ کبھی آپ میرے پیچھے اور کبھی میرے آگے چلتے ہیں ؟ تو آپ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہمارا پیچھا کوئی نہ کررہا ہوتو میں پیچھے چلتا ہوں اور کبھی سوچتا ہوں کہ کوئی آگے تاک لگائے نہ بیٹھا ہو تو آپ کے سامنے چلتا ہوں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابو بکر ! اگر کوئی چیز ہو تو کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ میرے سامنے آجائیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا: جی ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ،پھر جب وہ دونوں غار کے پاس پہنچے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ ذرا ٹھہر جائیں ،تاکہ میں آپ کے لئے غار کو صاف کردوں ، ابوبکرغار میں داخل ہوئے اور اسے صاف کیا ، بعد میں انہیں خیال آیا کہ ایک سوراخ بند نہیں کیا ، تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ذرا ٹھہر یں، میں اسے بند کردوں، پھر وہ غا ر میں داخل ہوئے اور اس سوراخ کو بند کرکے عرض کیا :یا رسول اللہ ! تشریف لائیں ! پھر آپ ﷺ اند ر تشریف لے گئے ۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہٴ قدرت میں میر ی جان ہے ،وہ رات آل عمر سے بہتر ہے ۔
حضرت ابوبکرؓ اسلام سے پہلے بھی ان اوصاف کے ساتھ اپنی قوم میں مشہور تھے کہ : وہ غریبوں کی مدد کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے ، بے نواؤں کا سہارا تھے ، مہمان نوازی کرتے تھے اور آسمانی آفات میں مدد کرتے تھے، جاہلیت میں بھی کسی گناہ میں ملوث نہیں ہوئے ، نرم دل تھے ، کمزوروں کے ساتھ نہایت رحم دل، یہ صفات ہیں جو نبی کریم ﷺ کی صفات تھیں ، لہذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ابوبکرؓ نبی کریم ﷺ کی طرف مائل ہوں اور مردوں میں آپ کے دین پر ایمان لانے والے پہلے مرد ہوں ۔
حضر ت ابوبکرؓ کی دعوت بہت پر تاثیر تھی، آپ تاجر تھے اور تجارت کی وجہ سے لوگوں میں جا ن پہچان تھی تو آپ نے ایمان لانے کے بعد ایمان کی دعوت شروع کردی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوگوں کو بلانے لگے ، اس لئے بہت سے لوگ آپ کی وجہ سے ایمان لے آئے ، جن میں حضرت سعد بن ابی وقاص ، عبدالرحمن بن عوف ، عثمان بن عفان ، طلحہ ، زبیر اور سعید بن زید رضی اللہ عنہم جیسے حضرات تھے ۔
حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے اور آپ کے دین کی خدمت کے لئے اپنا مال خرچ کرتے تھے ، غلاموں کوآزاد کرتے ، آپ نے بہت سے غلاموں کو آزاد کیا، جن میں حضرت بلال بن ابی رباح ،عامربن فُہَیرہ، اُم عُبیسں، زِنِّیرہ ، نہدیہ اوران کی بیٹی ، بنومؤمل کی باندی وغیرہ کے نام مشہور ہیں ، جس کی وجہ سے آپ کو لو گ ” واھب الحرّیات “ آزادیاں دینے والے اور ” محرر العبید “ غلاموں کو آزاد کرنے والے کے القاب سے یاد کرتے تھے ۔
اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی نصرت کے لئے اپنا مال خرچ کیا ، اور ہجرت کے سفر میں تو اپنا سار ا مال اپنے ساتھ رکھ لیا تھا ، اس کے بعد بھی جب کبھی مال خرچ کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا تو آپ دوسروں سے سبقت لے جاتے اور کتنے ہی ایسے مواقع آئے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کیلئے اپناسار ا مال خرچ کر ڈالا اور گھر والوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نام کو چھوڑا۔اور ان تما م اعمال میں اللہ تعالی کی رضامندی مقصود ہوتی تھی اور آپ ہی کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں :
﴿وَسَیُجَنَّبُھَاالأْتْقٰی الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالہ یتزکیَ وَمَا لِاَحَدٍعِنْدَہ مِّنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰی اِلَّاابْتِغَاءَ َوجْہِ رَبِّہِ الأْعْلٰی﴾ ( الیل:۱۷ ۲۱ )
ترجمہ :۔”اور بچا دیں گے اس سے بڑے ڈرنے والے کو جو دیتا ہے اپنا مال دل پاک کرنے کو اور نہیں کسی کا اس پر احسان ،جس کا بدلہ دے مگر واسطے چاہے مرضی اپنے رب کی جو سب سے بر تر ہے اور آگے وہ راضی ہو گا۔“
اور جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر اسلام لائے تو سورة لقمان کی بعض آیا ت نازل ہوئیں ،جن میں ایک آیت یہ بھی ہے :
﴿واتَّبِع سَبِیْلَ مَنْ أنَابَ إِلَیَّ﴾ ( لقمان :۱۵)
ترجمہ:۔”اور راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف ۔“
نیز حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ کے ہاں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ محبوب تھے، حضرت عمررضی اللہ عنہ کا قول ہے :
” ابوبکرسیدنا،وخیرنا،واحبّناإلی رسول الله ﷺ“
ترجمہ:۔” ابوبکر ہمارے سردار ہیں ، اور ہم میں سب سے بہتر ہیں ۔اور سب سے زیادہ رسو ل اللہ ﷺ کو محبوب ہیں ۔“
اور حضرت ابوبکرؓ کو سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی معرفت حاصل تھی ،صحیح اور مشہور حدیث میں آیا ہے کہ جب آپ ﷺ نے زندگی کے آخری خطبے میں یہ فرمایا :
”إن عبداً خیّرہ اللّٰہ بین أن یؤتیہ من زھرة الدنیا ماشاء و بین ماعندہ ، فاختار ماعندہ “
یعنی ایک بند ہ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے کہ یا دنیا کی زیبائش میں سے جو چاہے اسے دے دے یا جو اللہ کے ہاں ہے وہ اسے مل جائے تو اس بند ہ نے جو اللہ کے پاس ہے اسے پسند کر لیا ہے ۔“
حضرت ابوبکرؓ یہ سن کر رونے اور کہنے لگے :
” فدیناک یا رسول الله بآبائناو أمّہاتنا“
ترجمہ:۔”یارسول اللہ ! ہمارے باپ اور مائیں سب آپ پر قربان ہوجائیں۔“
تو راوی کہتے ہیں کہ ہمیں تعجب ہو ا کہ یہ بزرگ کیوں رو رہے ہیں ، آپ ﷺنے تو ایک شخص کا ذکر فرمایا ہے ، پھر پتا چلا کہ جس بندہ کو اللہ نے اختیار دیا ہے وہ خود رسول اللہ ﷺ تھے ، اور حضرت ابوبکرؓ کو ہم سے زیادہ آپ کی معرفت حاصل تھی ۔اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”مامن الناس أحد أمنّ إلینا فی صحبتہ وذات یدہ من ابن أبی قُحافة ، ولوکنت متّخدا خلیلاً لاتّخذت ابن أبی قحافة خلیلاً ،وفی روایة ابابکر“․
ترجمہ:۔”لوگوں میں سے کسی شخص کا رفاقت اور مال میں مجھ پر اتنا احسان نہیں جتنا کہ ابوبکر کا مجھ پر ہے ․اور اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابن ابو قحافہ کو اپنا خلیل بناتا ، اور ایک روایت میں (ابن ابوقحافہ کے بجائے ابوبکر ہے )۔“
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ایک خطبہ میں فرمایا :”ہم پر جس کسی کا بھی احسان ہے ہم نے اس کا بدلہ اسے دے دیا ، سوائے ابوبکر کے ، کہ اس کا ہم پر ایسا احسان ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عطا فرمائیں گے ․اور جتنا کہ ابوبکر کے مال نے مجھے فائدہ پہنچایا اتنا کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا ۔ پھر آپ ﷺ نے خطبہ کے آخر میں فرمایا : ابوبکر کے تاقچہ کے علاوہ کسی کا دروازہ مسجد میں کھلانہ رکھا جائے ․ اور ایک روایت میں ہے کہ : ”ابوبکر کے دروازہ کے علاوہ کسی کا دروازہ نہ رکھا جائے، کیونکہ میں نے اس پر نور دیکھا ہے ․،،
آپ ﷺ کے اس ارشاد میں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ صرف ان کا تاقچہ باقی رکھا جائے ․ اور خوخہ ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو براہ راست مسجد نبوی میں کھلتا تھا،لہذااسے باقی رکھا گیا، کیونکہ وہ حضرت ابوبکرؓ کی ضرورت تھی ․تاکہ وہ مسلمانوں کے معاملات کی نگرانی کر سکیں ․ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے بارے میں اشارہ کرنے والی احادیث بہت ہیں ․ اور ان کی خلافت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور رسول اللہ ﷺ کے اہلبیت کا اجماع ہے ۔ 



حضرت عمرؓ کی حضور ﷺ سے محبت !


حضرت عمرؓ اپنی جاہلیت کے دور میں مسلمانوں کے سخت مخالف تھے ، اور ان کا اسلام لانا اسلام کی عظیم نصرت تھی ․ اور آپ کا اسلام لانا رسول اللہ ﷺ کی دعاء کی قبولیت کا نتیجہ تھا،جس میں آپ نے فرمایا :
”اللّٰھم أعز الاسلام بأحب العمرین إلیک : عمرو بن ھشام ۔ ھو ابوجھل ۔ أو عمر بن الخطاب“
ترجمہ: اے اللہ عمرین میں سے جو آپ کو زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت بخش : عمرو بن ھشام - ابوجھل - یا عمر بن الخطاب “․
اور جب سے حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے ،مسلمان اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرنے لگے ․ اور نبی کریم ﷺ ان کو لے کر بیت اللہ میں تشریف لے گئے اور سب نے طواف کیا ، اور کوئی ان کو خوف زدہ نہ کر سکتا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ نے اپنی جان اور ہر قیمتی چیز کو نبی کریم ﷺ پر قربان کر دیا ․ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت سے بھی زیادہ ثابت کیا ، جیسا کہ ان کی گفتگو صحیح بخاری میں گزر چکی ہے ۔
اور ان کی اس شدید محبت کا نتیجہ تھا کہ ان کی اکثر رائے وحی کے موافق ہوتی تھی ․ ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” إن الله جعل الحق علی لسان عمرو قلبہ“․
ترجمہ:۔”بیشک اللہ تعالی نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کیا ہے ۔“
نیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ : جب بھی مسلمانوں کو کوئی معاملہ در پیش ہوا اور انہوں نے اس میں اپنی رائے دی ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی رائے دی ہو تو حضرت عمرؓ کی رائے کے مطابق قرآن اترا ۔ حضرت عمرؓ کی محبت کے واقعات میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے عمرہ ادا کرنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا :
”لا تنسنا یا اُخَیّ من دعائک ،،
ترجمہ:۔”میرے پیارے بھائی! مجھے اپنی دعامیں نہیں بھلانا ۔“
حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ : یہ ایسی بات ہے کہ اس کے بدلے اگر مجھے پوری دنیا مل جائے تو مجھے اتنی خوشی نہ ہوتی یعنی آپ ﷺ کا یہ فرمانا : ”یا اُخَیّ “ اے میرے پیارے بھائی ! جتنی خوشی مجھے اس بات سے ہوئی ہے ۔
نیز صحیح حدیث میں حضرت عمرؓ کا یہ قول وارد ہوا ہے کہ : میں رسول اللہ ﷺکے پاس حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک چٹائی پر تشریف فرماتھے ․ تو میں بیٹھ گیا، آپ ازارباندھے تھے، آپ کے جسم مبارک پر دوسرا کپڑا نہ تھا ، اس چٹائی کے نشانات آپ کے جسم مبارک پر ظاہر تھے ․ دیکھتا کیا ہوں کہ کمرہ میں ایک طرف ایک صاع کے قریب جو کے دانے پڑے ہیں ․ دوسرے کونے میں چمڑا پکانے کے چھلکے ․ ایک کچا چمڑا لٹکا ہوا ، یہ دیکھ کر میری آنکھیں بہہ پڑیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! کیوں روتے ہو ؟میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ رووٴں ، حال یہ ہے کہ اس چٹائی نے آپ کے جسم مبارک پر نشانات بنا دیئے ہیں ․ اور کمرہ میں آپ کی کل پونجی وہ ہے جو مجھے نظر آ رہی ہے ․ ادھر وہ قیصر و کسریٰ ہیں جو باغوں اور نہروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، اور آپ اللہ کے نبی ہیں اور اس کے برگزیدہ ہیں اور یہ آپ کا پورا خزانہ ہے ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! کیا آپ کو یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے تو آخرت ہو اور ان کے لئے دنیا ؟ اور ایک دوسری صحیح حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں : یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی دنیا کی لذات دنیا میں ہی دے دی گئی ہیں ․
اور حضرت عمرؓ کی حضورﷺ سے محبت کی علامت آپ کے اہل بیت سے ان کی شدید محبت ہے ․ اور یہی تمام صحابہ کرام کی عام عادت مبارک تھی، حضرت عمرؓ اہل بیت رضی اللہ عنہم کو بہت عطیات پیش کرتے تھے ، اور دوسرے لوگوں سے پہلے ان کو دیتے ․ اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے قریب رکھتے ۔
نیز آپ حضرت علیؓ کو بھی اپنے بہت قریب رکھتے ، اور اہم معاملات میں اس وقت تک فیصلہ نہ فرماتے جب تک حضرت علیؓ سے مشورہ نہ فرمالیتے ․ اور ان کا یہ حکیمانہ مقولہ مشہور ہے ” قضیة و لا اباحسن لہا “ ؟ اور ان کا یہ مقولہ : ” لولا علی لہلک عمر“ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتے ۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت محبت اور اخلاص سے انہیں مشورہ دیتے ․ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں تمام امور خلافت کا نائب مقرر فرمایا ۔
محترم قاری ! آپ ایسے لوگوں کی طرف توجہ نہ دیں جو تاریخ کو بگاڑتے ہیں ، اور حضرت عمراور دوسرے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی صاف ستھری سیرت کو تبدیل کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے آخری دور تک مسلمان ایک جماعت تھے اور کسی مسلمان کے ذہن میں خلافت کے بارے میں کوئی اشکال نہیں تھا ، اور اس بارے میں بھی کوئی اشکال نہیں تھا کہ کون خلافت کا زیادہ حق دار ہے ۔
حضرت علی اور حضرت عمررضی اللہ عنہما کے درمیان خصوصی اخوّت اور محبت کے لئے یہی ذکر کردینا کافی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی گوشہٴ جگر صاحبزادی حضرت ام کلثوم کا نکاح کردیا تھا ، جو کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی تھیں ۔
نیز اس اخوّت اور محبت کے لئے یہ بھی ذکر کردینا کافی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک صاحبزادہ کا نام عمر، اور ایک کا ابوبکر اور ایک کا عثمان رکھا ، اور انسان اپنی اولاد کے لئے ان ناموں کاانتخاب کرتا ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں اور جن کو وہ اپنے لئے اقتداء کا بہترین نمونہ سمجھتا ہے ۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
”قدیکون فی الأمم محدّثون أی ملہمون کمافی روایة ،فإن یکن فی أمّتی أحد فعُمربن الخطاب “
ترجمہ:۔”کبھی امتوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو الہام ہوتا ہے ، اور اگر میری امت میں کوئی ہے تو وہ عمر بن الخطاب ہیں ۔“
بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ۔میں نے جنت میں ایک سونے کا محل دیکھا ، تو میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ تو مجھے جواب ملا کہ : یہ عمربن الخطاب کا ہے ، رضی اللہ عنہ و ارضاہ ۔


حضرت عثمان بن عفّانؓ کی حضورﷺ سے محبت


حضرت عثمان بن عفّانؓ اسلام کے سابقین اولین میں سے ہیں ، اور عظیم قدر و منزلت کے مالک ہیں، انہوں نے اللہ کی راہ میں سخت تکلیفیں اٹھائیں،اس کے باوجود وہ نبی کریم کی محبت میں آگے بڑھتے گئے اور نبی کریم کی محبت ان سے بڑھتی گئی اور جب ابو لہب کے دوبیٹوں نے ( جو نبی کریم ﷺ کے داماد تھے)اپنے والدین کے حکم سے آپ ﷺ کی دو صاحبزادیوں: رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دے دی، تاکہ اس طرح نبی کریم ﷺ کو دکھ پہنچے تو حضرت عثمانؓ آگے بڑھے اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کردیا۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ان کی حسنِ معاشرت سے بہت خوش ہوئیں ۔
حضرت عثمانؓ کو مشرکین مکہ کی طرف سے بہت تکلیفیں اٹھانی پڑیں، آخر کار اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ کی طرف دوبار ہجرت فرمائی ، پھر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ میں محبت اتنی بڑھ گئی کہ آپ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں دے دیا اوریہ سنہ ۳ہجری کا واقعہ ہے ۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اے عثمان! یہ جبریل ہیں ، انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی نے ام کلثوم کا آپ سے نکاح کردیا ہے، رقیہ جیسے مہراور اس جیسے حسن ِ معاشرت کے ساتھ۔“
آپ ﷺ کی حضرت عثمانؓ سے اگر انتہائی محبت نہ ہوتی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی آپ ﷺ سے غایت محبت نہ ہوتی تو آپ ان سے دوسری صاحبزادی کانکاح نہ فرماتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو مستقبل میں حضرت عثمانؓ پر بڑا اعتماد تھا اور حضرت عثمانؓ کی یہ ایک عظیم منقبت ہے کہ سابقہ امتوں میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے پیغمبر کی دوبیٹیوں سے شادی کی ہو، سوائے حضرت عثمان بن عفان کے ۔
سیدنا عثمان بن عفانؓ بڑے شرم و حیا والے اور کریم النفس تھے یہاں تک کہ فرشتے بھی ان سے شرم کرتے تھے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہو اہے ، اور ہروہ کام جس سے اللہ اوراس کے رسول اللہ ﷺ خوش ہوتے اس میں کبھی انہوں نے کوتا ہی نہیں کی ، اور مشہور ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جیش عسرہ کی پوری تیاری آپ نے کی تھی اور یہ غزوہ مسلمانوں کی تنگی کے وقت یعنی مال کی کمی کے وقت پیش آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پور ے لشکر کی تیاری کی، یہاں تک کہ اونٹوں کے لئے نکیل اور رسی تک مہیا کی ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جیش العسرہ کے لئے نو سوچالیس اونٹ اور ساٹھ گھوڑے پیش کر کے ایک ہز ار مکمل کردئیے ، ایک روایت میں ہے :تین سو اونٹ ان کے پالان اور جُھل کے ساتھ اللہ کی راہ میں دئیے ۔غالباً یہ ابتداء میں ایسا ہوا پھر ہزار پورے کردئیے جیسے پہلے ذکر ہوا ، جس پر نبی کریم ﷺ فرمانے لگے : ” ماضرّ عثمان ماعمل بعد الیوم“ یعنی۔”آج کے بعد عثمان جو کام کرے اسے کوئی نقصان نہیں ۔“
اور آپ ﷺ نے یہ جملہ بار بار دُہرایا ،اس کے علاوہ حضرت عثمانؓ نے مزید ایک ہزار اشرفی مصارف کے لئے آپ ﷺ کی جھولی میں لا کر ڈال دی (اور دینا ر پانچ گرام سونے کا ہوتا ہے )اس کے بعد آپ ﷺ کے اس قول پر کسی تعجب کی ضرورت نہیں ۔
آئیے! آپ کو ایک سخاوت کی قیمت بتاوں ، ایک اونٹ قربانی کے سات بکروں کے برابر ہوتا ہے اور دینا رکم ازکم ایک قربانی کے جانور کے برابر اور کبھی دو جانور کے برابر ہوتا تھا۔تواب آپ ﷺ کے حضرت عثمان ؓ کے حق میں ”ما ضرّ عثمان ماعمل بعد الیوم“یعنی:۔”آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اس کے لئے مضر نہیں“۔فرمانے کے بعد آپ کو ان جاہلوں کے اتہامات کا اندازہ ہوجائے گا جو انہوں نے حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ولات پرباندھے ہیں، کیوں کہ انہوں نے انہی حضرات کو مختلف عہدے سونپے ہیں جن کو نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں سونپے گئے تھے ۔
نبی کریم ﷺ کے ہاں حضرت عثمانؓ کی قدر و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب آپ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کو اپنا نمائندہ بنا کر قریش مکہ کے پاس بھیجا اور ان کے واپس آنے میں تاخیر ہوگئی تو مسلمانوں کو گمان ہوگیا کہ قریش نے ان کو قتل کردیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے مشرکین سے لڑنے کے لئے بیعتِ رضوان کی دعوت دی ، تاکہ حضرت عثمان ؓ کے خون کا بدلہ لیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے درخت کے نیچے بیعتِ رضوان فرمائی اور رسو ل اللہ ﷺ نے اپنے دو مبار ک ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو اٹھاتے ہوئے فرمایا : یہ عثمان کی طرف سے ہے اور اس سے دوسرے ہاتھ مبارک پر بیعت فرمائی اور حضرت عثمانؓ کی یہ وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ مبار ک ان کے لئے ان سب کے ہاتھوں کے مقابلہ میں بہترتھا ۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی عظیم کارناموں سے بھری پڑی ہے ، جب سے وہ حبشہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے آپ ﷺ کے ساتھ رہے اور جو ان سے ممکن ہوا خیر کے کاموں میں حصہ لیتے رہے ، پھر ان کی خلافت کا دور بھی عظیم فتوحات سے بھرا پڑا ہے ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقام اور رسول اللہ ﷺ سے غایت ِ محبت کا اندازہ آپ اس گفتگو سے لگائیں جس سے انہوں نے خوارج کو لاجواب کردیا تھا۔ چنانچہ محدثین حضرات کی اسانیداور باریک شرائط کے ساتھ حضرت ثُمامہ بن حَزْن قشیر ی مشہور ثقہ تابعی رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں : میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت عثمانؓ نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر باغیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : اپنے ان دو ساتھیوں کو میرے سامنے لاؤ جنہوں نے تمہیں میرے خلاف ابھارا ہے ! چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا کہ وہ دو اونٹ ہیں یا جیسے وہ دوگدھے ہیں ! اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا، میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں : کیا تمہارے علم میں ہے کہ جب رسو ل اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ میں سوائے ” بئر رَومہ “ کے میٹھے پانی کا کوئی کنواں نہ تھا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :کوئی ہے جو بئر رُومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کردے اوراس میں اس کا حصہ ہواس خیر کے بدلے جو اسے جنت میں دی جائے گی ؟ تومیں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خریدا ؟ اور آج تم نے مجھے اس کے پانی پینے سے بھی روک رکھا ہے، جبکہ میں عام کھارا پانی پی رہا ہوں ! سب نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہے ۔
پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسجد نبوی نمازیوں کے لئے تنگ ہوگئی تھی تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین خرید کر مسجد میں شامل کردے؟ اس خیر کے بدلے جو اسے جنت میں دی جائے گی ؟ تو میں نے وہ زمین اپنے ذاتی مال سے خرید کر مسجد میں شامل کی، اور آج تم نے مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روک رکھا ہے ؟ سب نے کہا :اللہ گواہ ہے، ایسا ہی ہے۔
پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ ” جیش العسرہ “ کا انتظام میں نے اپنے مال سے کیا تھا؟ سب نے کہا اللہ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے ۔
پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ ثبیر کے پہاڑ پر کھڑے تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر وعمر اور میں کھڑا تھا تو پہاڑ ہلنے لگا یہاں تک کہ اس کے پتھر نیچے گرنے لگے توآپ ﷺ نے اس پر اپنا پاؤں مبار ک مارا اور فرمایا : ٹھہر جاؤ اے ثبیر! تجھ پر اس وقت ایک نبی ایک صدیق اور دوشہید کھڑے ہیں ؟ تو سب نے کہا:اللہ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہو اتو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” اللہ اکبر “ سب نے میری گواہی د ی ہے اور رب کعبہ کی قسم میں شہیدہونے والا ہوں۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی ۔یہاں تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو ذکر ہو ا،یہ بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے فضائل اور مناقب میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔
نیز بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صحیح اور حسن اسانید سے یہ بھی ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس فتنہ کے بارے میں خبر دی ہے جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوں گے اور وہ حق پر ہوں گے ۔اور وہ مظلوم قتل ہوں گے۔ ان احادیث میں ایک حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺنے ایک فتنہ کاذکر فرمایا، اتنے میں ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ شخص جو منہ پر کپڑا لٹکائے جارہا ہے، یہ اس فتنہ میں مظلوم قتل ہوگا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیاء اور لوگوں کی جان کی فکر کا یہ حال تھا کہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اپنے محافظوں اور اپنے غلاموں کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ ان کی طرف سے باغیوں سے قتال کریں اور فرمایا کہ : میری وجہ سے کسی کا خون نہ بہایاجائے ، اور انہیں قسم دے کر فرمایا کہ وہ چلے جائیں، اور اپنے غلاموں سے فرمایا: جس نے اپنے ہتھیار پھینک دئیے وہ آزاد ہے اوران کے گھر میں سات سو کے قریب ایک بڑی جماعت تھی، اگر ان کو چھوڑ دیتے تو وہ ان باغیوں کو ماربھگاتے ۔
آخری دن انہوں نے اپنی شہادت کے بارے میں بھی گفتگو فرمائی اور فرمایا کہ: یہ لوگ مجھے قتل کریں گے، پھر فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو اور آپ کے ساتھ ابوبکر و عمرکو خواب میں دیکھاہے تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عثمان ! ہمارے ساتھ افطار کرو، چنانچہ اس دن آپ نے روزہ رکھا اور روزہ کی حالت میں شہید کردئیے گئے ۔”رضی الله عنہ وأرضاہ وأجزل عن القرآ ن و خدمات الاسلام مثوبتہ وأعلیٰ مأ واہ ۔

حضرت علی ؓ کی حضور ﷺ سے محبت کا بیان


آپ، رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں اور آپ کی گود میں پلے ہیں ، آپ ﷺکی نبوت سے تقریباً پانچ سال پہلے پیدا ہوئے اور ایک قول کے مطابق دس سال پہلے۔ مکہ والوں میں قحط سالی آئی، آپ کے چچا ابو طالب کثیر العیال تھے تو نبی کریم ﷺ نے حضرت عباسؓ کے ساتھ یہ طے کیا کہ چچا ابو طالب کا بوجھ ہلکا کیا جائے ،اور ہرایک ہم میں سے ابوطالب کے بیٹوں میں سے ایک ایک کو لے لے ، تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت جعفر کو اپنے ساتھ لے لیا ۔
جب نبی کریم ﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو حضرت علیؓ آپ ﷺ کے پاس آئے، آپ کو دیکھا کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں ،آپ نے ان دونوں سے پوچھا : یہ کونسا دین ہے ؟ آپ ﷺ نے ان کو دینِ اسلام کے بارے میں بتایا ، اور ان کو اسلام کی دعوت دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ چلے گئے ، دوسرے دن پھر حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے ،آپ ﷺ کے ساتھ گھر میں اور پہاڑوں کی وادیوں میں نماز پڑھنے لگے، نیز دوسروں کی رہنمائی کرتے اور انہیں نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے۔
جب آپ ﷺ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ آپ میرے بستر پر سو جائیں ، تاکہ مشرکین کو دھوکہ دے سکیں ، چنانچہ آپ حکم بجالائے اور خطرے کی پرواہ نہیں کی ، اور پھر وہ امانتیں جو نبی کریم ﷺ کے پاس تھیں ان امانت والوں کو پہنچا دیں ، حضرت علیؓ کایہ کارنامہ اس کارنامے کی تکمیل تھی جو حضرت ابوبکر صدیقؓ آپ ﷺ کی رفاقت میں سرانجام دے رہے تھے اور بڑے خطرات اور عظیم مصائب کا مقابلہ کررہے تھے، ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضر ت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے درمیان سیرت نگاروں کے بقول مواخات کا رشتہ قائم فرمایا ،لیکن امام ترمذیؒ نے بسند حسن روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم فرمایا، پھر مدینہ منورہ کے قیام کے دوران آپ کی کو شش ہوتی کہ آپ وہ کام کریں جو آپ ﷺ کو پسند ہیں، چنانچہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے چہرے مبار ک پر بھوک کے آثار ہیں تو فوراً ایک یہودی کے باغ میں تشریف لے گئے اور اس کی کھیتی کو کنویں سے پانی دینا شروع کیا اور ستر ہ ڈول نکالے، اس کے بدلے ان کو سترہ کھجوریں ملیں ۔وہ لاکر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے اس کا م پرآمادہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں! یارسو ل اللہ ۔
سنہ دو ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ان کے ساتھ وہ زاھدانہ زندگی گزاری جو نبی کریم ﷺ نے اپنے اہل بیت کے لئے پسند فرمائی تھی۔ اور آپ ﷺ نے محبت اور پیار سے ان کا لقب ” ابوتراب “ رکھا ۔
رسول اللہ ﷺ کے ہاں حضرت علیؓ کی محبت کا خاص مقام تھا ، غزوہ خیبر میں جب ایک قلعہ کا فتح ہونا مسلمانوں پر مشکل ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اوراللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اس موقع پر بڑے بڑے حضرات اس کی خواہش کرنے لگے ہر ایک کی آرزوتھی کہ اسے یہ فضیلت حاصل ہو، آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا: ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، وہ تشریف لائے ، تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور دعا فرمائی ، تو وہ اچھے ہوگئے ، گویا ان کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا پکڑایا، اللہ نے ان کے ذریعہ وہ قلعہ فتح کردیا ۔
حضرت علیؓ اپنے سلف خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے بہت محبت رکھتے تھے،حضرت عثمان ؓ کے محاصرہ کے وقت خود بھی ان کا دفاع کیا اور اپنے صاحبزادوں: حضرت حسن اور حضر ت حسین رضی اللہ عنہما کو بھی دفاع کرنے کا حکم دیا۔اور آپ ان لوگوں پر نکیر فرماتے جو ان کو خلفاء راشدین پر فضیلت دیتے تھے ، اس سلسلے میں بہت سی روایات آئی ہیں، ان میں مشہور تابعی حضرت علقمہ رحمہ اللہ کی روایت ہے ،انہوں نے بیان کیا کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا ، حمد و ثنا کے بعد فرمایا:مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں، اگر مجھے اس سے پہلے اس بات کی خبر ملتی تو میں ایسے لوگوں کو سز اد یتا ، لیکن معلومات سے پہلے سزادینا پسند نہیں کرتا ۔
لہذا جس شخص نے بھی آج میرے اس خطبہ کے بعد اس قسم کی گفتگو کی تو وہ بہتان باندھنے والا شمار ہوگا،اور اسے وہی سزا دی جائے گی جو بہتان باندھنے والے کو دی جاتی ہے۔ یاد رکھو !رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر عمر ہیں رضی اللہ عنہما ، ان کے بعد ہم نے ایسے کام کئے ہیں اللہ جو چاہے گا ان میں فیصلہ کرے گا۔
زید بن وھبؒ روایت کرتے ہیں کہ سُوید بن غَفَلہ حضرت علیؓ کے پاس ان کی اِمارت کے زمانے میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین! میر ا ابھی کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزر ہوا ہے جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا جومقام و منزلت ہے اس کے خلاف باتیں کررہے تھے ، تو حضرت علیؓ فوراً اٹھے اور منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑ کر اس سے پورا نکالا ہے اور جس نے انسان کو پیدا کیا ہے ،ان دونوں سے وہی محبت کرے گا جو اونچا مؤمن ہوگا اور ان سے بغض وہی رکھے گا جو بدبخت اوردین سے دور ہونے والا ہوگا ، ان دونوں کی محبت اللہ تعالی کا قرب اور ان دونوں سے بغض دین سے دوری ہے، ان لوگوں کو کیا ہوگیا جو رسول اللہ ﷺ کے دو بھائیوں، آپ کے دو وزیروں ، آپ کے دو ساتھیوں ، قریش کے دو سرداروں ، اور مسلمانوں کے دو باپوں کے بارے میں باتیں کرتے ہیں ؟! میں ہر اس شخص سے برأت کا اظہار کرتا ہوں جو ان دونوں کے حق میں گستاخی کرتا ہے اور اسے سز ابھی دوں گا ۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت علیؓ کے بارہ میں یہ کہتے سنا جب آپ ﷺ نے ان کو ایک غزوہ کے موقع پر اپنا نائب بنایا اور حضرت علی ؓ نے فرمایا : یارسول اللہ ! آپ مجھے عورتوں اور بچو ں پر اپنا نائب بنارہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے علی ! کیاتجھے پسند نہیں کہ تو میر ا ایسا نائب ہو جیسا کہ حضرت ہارون حضرت موسی کے نائب تھے (جب وہ کوہِ طور پر تشریف لے گئے ) ہاں اتنی بات ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے ۔
حضرت علیؓ خود فرماتے ہیں کہ نبی امی ﷺ نے مجھے خود فرمایا ہے، تجھ سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن ہوگا ، اور تجھ سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا۔
اہل سنت والجماعة کا یہی عقیدہ ہے ، حضرت علیؓ اور اہل بیت سے محبت کرنا، ان کے لے دعا کرنا ،نمازوں میں ، ذکر کی مجالس میں ، تنہائیوں میں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اہل بیت پر صلاة و سلام بھیج کر برکت اور خیرطلب کرنا۔ رضوان الله علیہم اجمعین وعلی أصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم أجمعین․

صحابہ کرام  کی نبی کریم ﷺسے محبت !


اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی کریم ﷺ سے محبت دوسروں کی نسبت زیادہ تھی ، اس لیے کہ یہ محبت مشاھدے اوردیکھنے کی تھی ، اور دیکھنا اور سننا برابر نہیں ، (شنیدہ کے بود مانند دیدہ)
یہاں تک کہ جو حضرات آخر میں اسلام لائے ، وہ بھی آپ ﷺ کے فضل و کمال کے معترف تھے ، کیونکہ انہوں نے آپ ﷺ کے کمال اورآپ کی نبوت کے دلائل کاخود مشاہدہ کیا تھا ۔ لیکن ان کیلئے قبول حق سے جو چیز رکاوٹ بنی ،وہ حمیتِ جاہلیت اور اپنے باپ دادوں پر فخر کرنا تھا ،لیکن جوں ہی اس حمیت کا پردہ چاک ہوا، وہ ایمان لے آئے ، اور ان کا ایمان بھی عظیم ایمان تھا، اور آپ ﷺ سے ان کی محبت بھی عظیم تھی ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے مال اور اپنی جانیں آپ پر قربان کر دیں ۔حضرت عمر و بن العاصؓ کا بیان سنیے :
”ما کان احد احبّ الیّ من رسول الله ﷺ ۔۔۔“
ترجمہ :”رسول اللہ ﷺ سے زیاد ہ مجھے کوئی بھی محبو ب نہ تھا “۔
اور ان ہی جیسے حضرت خالد بن ولیدؓ ہیں ، جن کی عقل سلیم نے ان کی راہنمائی کی اور وہ اسلام لے آئے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کر دیا ، جن کورسول اللہ ﷺ نے ” سیف اللہ ، اللہ کی تلوار کا لقب دیا ۔ یہی وہ خالد ہیں جن کی زبان سے وفات کے وقت یہ الفاظ نکل رہے ہیں :
”حضرت مائة معرکة ، وما فی جسمی موضع إلّا فیہ ضربة بسیف ، أو طعنة برمح ، او رمیة بسہم ، ثم ھا انذا أموت علی فراشی کما یموت البعیر ، فلا نامت أعین الجبناء“․
ترجمہ :”میں سو معرکوں میں شریک رہا ہوں اور میرے جسم میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار ،نیزہ یا تیر کے زخم کا نشان نہ ہو ،لیکن اب بستر پر مر رہا ہوں جیسے اونٹ اپنی جگہ مر تا ہے، اللہ کرے بزدلوں کو نیند نہ آئے۔“
عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات مشہور اور تواتر سے ہم تک پہنچے ہیں اور خاص خاص افرادکے حالات بھی صحیح اور ثابت ہیں، اس لیے یہاں ہم ان کے حالات کو نہایت اختصار سے ذکر کرتے ہیں ۔ اور اس کی ابتداء ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات سے کرتے ہیں جن کو مکہ مکرمہ میں سخت ترین ایذائیں دی گئیں اور انہوں نے اللہ کے ذکر اور اس کی توحید سے اس کا مقابلہ کیا، حضرت بلال  جن کی زبان سے :” أحد أحد “ کی آواز بلندہوتی ہے ، اور وہ اس شدید ترین عذاب کو ایمان کی حلاوت اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی چاشنی سے ملادیتے ہیں ،اور جس کے بعد حضرت بلال اوران جیسے دوسرے حضرات ۔رضی اللہ عنہم ۔ اس ایذاء اور عذاب کی پرواہ نہ کرتے تھے، چاہے وہ کتناہی سخت ہو ۔
غزوہ بد ر میں صحابہ کرام کی آپ ﷺ سے محبت
اہل بد ر کا رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اپنی جانوں کا قربان کرنا سب کو معلوم ہے۔
معرکہ بدر کی تیاری کے وقت حضرت سعد بن معاذؓ جوانصار کے بڑے سرداروں میں سے تھے ، اور جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے سائبان بنانے کا مشورہ دیا، تاکہ آپ اس کے سائے میں بیٹھیں۔انہوں نے فرمایا:
”یارسول اللہ ! مدینہ میں کچھ لوگ ایسے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہم ان کے مقابلہ میں آپ سے زیادہ محبت کرنے والے نہیں ،اگر ان کو معلوم ہوجاتا کہ آپ کو جنگ درپیش ہوگی تو وہ ہرگز آپ کے پیچھے نہ رہتے ، اللہ ان کی وجہ سے آپ کی حفاظت فرمائے گا،وہ آپ کے خیر خواہ ہیں ، آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والے ہیں “۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی اور ان کے لئے خیر کی دعاء فرمائی ۔ آپ ﷺ کے لئے سائبان بنایا گیا ،جس میں آپ نے آرام فرمایا اور سوائے حضرت ابوبکرؓ کے کسی کو تلوار اٹھا کر آپ ﷺ کی چوکیدار ی کی جرأت نہیں ہوئی، پھر جب معرکہ شروع ہوا تو آپ ﷺ دشمنوں کی صفوں میں داخل ہوگئے ، اور زرہ پہنے ہوئے آپ ﷺ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ رہے تھے:
﴿ سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ ویُوَلُّوْنَ الدُّبُر﴾ (القمر :۴۵)
ترجمہ:۔” اب شکست کھائے گا یہ مجمع اور بھاگیں گے پیٹھ پھیر کر۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی درجہ کی محبت پر یہ غزوئہ بدر شہادت ہے، ایسی محبت جس میں اپنی جان اور ہر قیمتی چیز کی قربانی ہے ، جس کا آپ ﷺ نے اقرار فرمایا ۔
غزوہ ِ رجیع میں صحابہ کرام کی آپ ﷺ سے محبت
مشرکین نے قرّاء صحابہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر عہد شکنی کی اور جب مقابلہ ہوا تو بعض کو قتل کردیا اور دو صحابہ ان مشرکین کے امن کے وعدہ سے دھوکا کھا کر ان کی قید میں چلے گئے ۔اور پھر وہ ان کو مکہ مکرمہ لے گئے، تاکہ مکہ کے مشرک ان کو اپنے ان مقتولین کے بدلے میں قتل کریں، جن کو مسلمانوں نے بد ر میں قتل کیا تھا ۔وہ دوحضرات : زیدبن دَثِنَہ اور خبیب بن عدی رضی اللہ عنہما تھے ۔
حضرت خبیب رضی اللہ سے مشرکین نے کہا : کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تمہاری جگہ محمدہوتے؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا:اللہ عظیم کی قسم! ہرگز نہیں ۔ مجھے تویہ بھی پسند نہیں کہ میری جان کے بدلے آپ ﷺ کے پاؤ ں مبارک میں کانٹا چبھ جائے ۔
حضرت زید بن دَثنہؓ سے مشرکین کے سردار ابو سفیان نے قتل کے وقت کہا: اے زید! میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، بتاؤ! کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ محمد اس وقت ہمار ے پاس تمہاری جگہ ہوتے اور ان کی گردن مارڈالی جاتی ، اور تم اپنے گھر میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہوتے ؟ تو انہوں نے جوا ب دیا : کہ بخدا مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد ﷺ جہاں بھی اس وقت تشریف فرماہیں ،وہاں ان کے پاؤں مبارک میں کانٹا چبھے اور اس سے ان کو تکلیف ہو، اور میں اپنے گھر میں بیٹھا رہوں ۔
اس پر ابو سفیان نے کہا: میں نے لوگوں میں کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتا نہیں دیکھا جتنا کہ محمد کے صحابہ محمد سے محبت کرتے ہیں ۔عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نبی کریم ﷺ سے انتہائی محبت پریہ شہادت کافی ہے ۔
غزوہ مصطلق میں صحابہ کرام کی آپ ﷺ سے محبت
نبی کریم ﷺ کو اطلاع ملی کہ قبیلہ بنو المصطلق اپنے سردار حارث بن ابوضرار کی قیادت میں آپ سے جنگ کی تیاری کررہا ہے ،آپ ﷺ نے قبل اس کے کہ وہ حملہ کریں، آپ نے ان پر حملہ کردیا ، اور بے شمار لوگوں کو قیدی بنالیا ، اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا،اور ان کی تعداد بھی بہت تھی اور پھر ان کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا ، ان غلاموں میں اس قبیلہ کے سردار حارث بن ابوضرار کی بیٹی جُویریہ بھی تھی، جویریہ نے اپنے مالک سے (جس کے حصہ میں آئی تھی) مکاتبت کردی یعنی اس سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ اگروہ اتنا مال اسے دے دے گی تووہ اسے آزاد کردے گا۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جویریہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے مکاتبت کے سلسلہ میں مدد کی درخواست کی ، آپ ﷺنے فرمایا : کیا اس سے بھی بہترصورت پسند کروگی؟ وہ کہنے لگی، یارسو ل اللہ! وہ کیا صورت ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری کتابت کا سارا مال ادا کردوں اور تجھ سے نکاح کرلوں ، اس نے کہا ہاں !یارسول اللہ ، آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے ایسا کردیا ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :یہ خبر جب لوگوں تک پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے جویرہ بنت حارث بن ابوضرار سے شادی کرلی ہے تو صحابہ کرام  فرمانے لگے :
حضرت جویریہ کا قبیلہ وقوم رسول اللہ ﷺ کے سسرال والے بن گئے ہیں ، اور صحابہ کرام نے تمام ان غلاموں کو جن کے وہ مالک بن گئے تھے، آزاد کردیا ،یعنی بغیر کوئی بدلہ لئے ہوئے اللہ کے لئے آزاد کردیا ۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کے اس نکاح سے بنو مصطلق کے ایک سو خاندان آزاد ہوئے اور میں نے اس عورت سے زیادہ اپنی قوم کے لئے برکت والی کوئی عورت نہیں دیکھی ۔
صحابہ کرام  کی رسول الله ﷺ سے کیا خوب محبت ہے ،بنی مصطلق کے سو گھر انے یعنی سو خاندان ، جن کے افراد کی تعداد سات سو بتائی گئی ہے ، جن میں ہر فرد کی قیمت ہمارے آج کے دور میں عمدہ قسم کی گاڑی کے برابر ہے ، ان سب کو صرف اس لئے صحابہ کرام نے آزاد کردیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس قبیلہ کی ایک خاتون سے شادی کی ہے ، یہ سب ان کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت کا نتیجہ تھا ، کیوں کہ وہ قبیلہ والے آپ کے سسر ال بن چکے تھے ۔
غزوہ حدیبیہ میں صحابہ کرام کی آپ سے محبت
مشرکین مکہ نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور عمرہ اداکرنے سے روک دیا تھا ، جب کہ آ پ ﷺ بار بار اعلان فرمارہے تھے اور عوام و خواص کو تاکید کے ساتھ فرمارہے تھے کہ وہ قتال کے لئے نہیں آئے بلکہ بیت اللہ کی تعظیم اور عمرہ اداکرنے آئے ہیں ، ادھر قریش کے نمائندے بھی برابر آرہے تھے اور اس سلسلے میں گفتگو کررہے تھے، ان نمائندوں میں ایک عروہ بن مسعود ثقفی بھی تھا اور اس کے مذاکرات بخاری اور حدیث کی دوسری کتابوں میں مذکور اور مشہور ہیں اور اس میں یہ بھی ہے کہ عروہ ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو غور سے دیکھ رہا تھا، جن کا نقشہ اس نے ان الفاظ میں کھینچا ہے ۔
”بخدا ، رسول اللہ ﷺ اگر تھوکتے تو وہ ان صحابہ کرام کے ہاتھ میں پڑتا ہے جسے وہ اپنے منہ اور جسم پر مل لیتے ہیں،جب آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں تو اس کی تعمیل میں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کو شش کرتا ہے ، اور جب آ پ وضو فرماتے تو قریب تھا کہ اس پانی کو لینے کے لئے جھگڑ پڑیں اور جب آپ گفتگو فرماتے تو وہ سب خاموش ہوجاتے ۔اور ادب و تعظیم کی بنا پر آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے ۔“
عروة نے واپس جاکر اپنے لوگوں سے کہا : اے میری قوم ! بخدا میں بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہواہوں، میں قیصر ، کسریٰ ، اور نجاشی کے دربار میں حاضر ہوا، لیکن بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کی رعایااس کی اتنی تعظیم کرتی ہو جتنی محمد ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں ۔اور عام اوقات میں (صحابہ کرام کی محبت کی) یہ دو مشہور حدیثیں ہیں ۔
امام بیہقی نے انصار میں سے ایک صحابی سے روایت نقل کی ہے کہ : رسول اللہ ﷺ جب وضو فرماتے یا تھوکتے تو آپ کے پانی اور تھوک کو حاصل کرنے کے لئے ہر ایک شخص آگے بڑھتا اور اسے لے کر اپنے چہروں اور جسم پر ملتا ،تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم ایساکیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ: برکت حاصل کرنے کے لئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:” جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کریں تو اسے چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولے، امانت ادا کرے اور اپنے پڑوسی کو ایذاء نہ دے ۔“
آپ ﷺ کا یہ فرمانااس لئے تھا کہ صحابہ کرام کے جواب میں محبت جھلک رہی تھی تو آپ نے ان کو ایسے سلوک کی رہنمائی فرمائی جو اس محبت کی طرف لے جانے والا ہے ،حالانکہ پہلے سے صحابہ کرام کو آپ ﷺ سے اتنی محبت حاصل تھی ، کہ آپ کے بچے ہوئے پانی کو چہروں پر ملتے تھے ۔
امام طبرانیؒ نے حضرت عبدالرحمن بن حارث سُلَمیؓ سے روایت نقل کی ہے کہ : ہم ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے پانی منگایا ، اس میں ہاتھ ڈال کر وضو فرمایا،ہم نے وہ پانی لے کر پی لیا ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کس چیز نے اس عمل پر آمادہ کیا ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:” اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول تم سے محبت کریں تو تم( یہ کام کرو) اگر تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو، اور جب بات کرو تو سچ بولو ، اور جو تمہارے پڑوس میں آکر رہے، اس سے اچھا سلوک کرو۔“
غزوہ ِ حنین میں آپ ﷺ کا انصارکو خوشخبری دینا
امام بخاریؒ نے حضر ت انسؓ سے روایت نقل کی ہے جب حنین کا معرکہ ہوا تو ھَوازِن اور غَطَفان وغیرہ قبائل آپ ﷺ کے مقابلہ میں اپنے جانوروں اور عورتوں اور بچوں کے ساتھ آکھڑے ہوئے اور رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ دس ہزار صحابہ اور مکہ کے نو مسلم تھے ، جب مقابلہ ہوا تو ابتداء میں صحابہ ادھر ادھر ہوگئے اور آپ ﷺ تنہارہ گئے ،اس موقع پر آپ نے دو الگ الگ آوازیں لگائیں ،دونوں کو ملایا نہیں ، آپ ﷺ نے دائیں جانب نگاہ فرمائی اور آوا ز دی : او انصار کی جماعت! تو سب نے بیک آواز جوا ب دیا : ہم حاضر ہیں یارسول اللہ! آپ خوش ہو جائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، پھر آپ ﷺ نے بائیں جانب نگاہ فرمائی اور آواز دی :”او انصار“ تو انصا ر نے جواب دیا : ہم حاضر ہیں یارسول اللہ !آپ خوش ہوجائیں، آپ ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے ، آپ ﷺ اس سے اتر ے اور فرمایا : میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔مشرکین کو شکست ہوئی اور اس دن بہت زیادہ مالِ غنیمت حاصل ہوا، آپ ﷺنے وہ مال مہاجرین اور نومسلموں میں تقسیم کردیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا تو بعض نوجوان انصار نے کہا: سختی کے وقت تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور مالِ غنیمت دوسروں کو دیا جاتا ہے ! آپ ﷺ کو جب ان کا یہ مقولہ پہنچا تو آپ نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا: اے انصار کی جماعت ! مجھے کیا بات پہنچی ہے ؟ وہ خاموش ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا : اے انصار کی جماعت ! کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ لوگ تو دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اورتم اللہ کے رسول کو ساتھ لے کراپنے گھروں کو جاؤ؟ سب نے جواب دیا : کیوں نہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرلوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا “۔
قبیلہ ثقیف اورھوازن وغیرہ اپنے ساتھ معرکہ میں مال، مویشی ، عورتیں اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائے تھے ،تاکہ ان کی موجودگی میں خوب جوش سے لڑیں اور شکست سے بچ جائیں ، لیکن اس کے برعکس وہ سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھ مالِ غنیمت کے طور پر آگیا،یہاں تک کہ قیدیوں اور غلاموں سے گھر ،جھونپڑیاں اور جگہیں بھر گئیں ، لیکن مہاجرین اور انصار قیدیوں اور غلاموں میں اپنا حصہ وصول کرنے سے دستبردار ہوگئے، اس طرح وہ سب آزاد ہوگئے ، اور یہ سب صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے کیا ، اوریہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ ﷺ سے انتہائی محبت کی دلیل ہے ۔
اسی واقعہ کے ساتھ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ” صفا“ پر کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالی سے دعا فرمانے لگے ، انصار آپ کو غو ر سے دیکھ رہے تھے اور آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ ایسا تو نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے جب اللہ تعالی ان کے شہر اور سرزمین کو فتح فرمادے تو آپ یہاں ہی اقامت فرمالیں؟ جب آپ ﷺ دعا سے فارغ ہوئے تو انصار سے فرمایا : تم کیا بات کررہے تھے ؟ انصار نے عرض کیا :کوئی خاص بات نہیں تھی ،لیکن آپ ﷺ برابر اصرار فرماتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی بات ظاہر کردی، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” معاذ اللہ! میرا تو جینا بھی آ پ کے ساتھ اور مرنا بھی آپ کے ساتھ ہے ۔“ اس واقعہ میں انصار کی آپ ﷺ سے محبت اور اس بات کا خوف کہ کہیں آپ ﷺ ان کو چھوڑ نہ دیں ، اور آپ ﷺ کی ان سے محبت واضح ہے ۔ اور اس میں آپ کا غیب کی خبر دینا معجزہ ہے ، کیوں کہ کسی شخص کو معلوم نہیں کہ کس زمین میں اس کی وفات ہوگی۔


1) حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا: سوچو کیا کہہ رہے ہو۔ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ اس نے تین مرتبہ یہ بات کہی، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقر کے لئے تیار ہو جا کیونکہ(نبوی طریقہ میں مسکینی اختیار کرنا بھی شامل ہے، تو)جو مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف فقر اس سیلاب سے بھی تیز رفتاری سے آتا ہے جو اپنے بہاؤ کی طرف تیزی سے چلتا ہے.
[أخرجه الترمذى (4/576، رقم 2350) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/173، رقم 1471) . وأخرجه أيضًا: ابن حبان (7/185، رقم 2922) ، جامع الأحاديث:380+5591، كنز العمال 17102]
وأخرجه الطبرانى فى الأوسط (7/160، رقم 7157) . وقال المنذرى (4/94) ، والهيثمى (10/314) : إسناده جيد.]

2) میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔
[أخرجه أحمد (16803+20549+20578) ، والبخارى فى التاريخ الكبير (5/131) ، والترمذى (5/696، رقم 3862) وقال: غريب. وأبو نعيم فى الحلية (8/287) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (2/191، رقم 1511) . وأخرجه أيضًا: ابن حبان (16/244، رقم 7256) ، والديلمى (1/146، رقم: 525) .]

3) اگر تجھ سے ہو سکے تو اپنی صبح و شام اس حالت میں کر کہ تیرے دل میں کسی کے لیے کوئی برائی نہ ہو پس تو ایسا کر۔ پھر فرمایا اے بیٹے یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا گویا کہ اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔
[ترمذى :2678، أبي يعلى:3624، المعجم الصغير للطبراني:856، المعجم الأوسط للطبراني:5991، كنز العمال:19981، جامع الأحاديث:25836]
http://raahedaleel.blogspot.com/2014/01/blog-post_10.html