Sunday, 10 April 2016

دینی مدارس کی تاریخ ومقصد، افادیت واہمیت، قدر ومنزلت اور امتیازات


تاریخ میں دینی مدارس کی ابتداء اور ارتقاء

 

مدرسہ کا مفہوم اوراس کی ابتدائی شکل
مدرسہ اگر اس معنی میں لیا جائے جس کی اپنی مستقل عمارت ہو، اساتذہ اور طلبہ ہوں اور ایک خاص تعلیمی نظام اور منصوبہ بندی کے تحت علوم و فنون کی تدریس ہوتی ہو، تواس طرح کے مدرسہ کا وجود اسلام کے ابتدائی ادوار میں نہیں تھا اور مسجد ہی تمام مذہبی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اور محور تھی۔ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ حصول علم کے طور طریقے بدلنے لگے۔ علم کے حلقے بڑھ گئے، درس و تدریس اور تکرار کا شور پیدا ہوا اور بحث و مناظروں کی صدائے بازگشت گونجنے لگی، چنانچہ ان چیزوں نے مساجد سے مدارس کو الگ کردیا، کیونکہ مساجد میں ادا کی جانے والی عبادات کے لئے سکون و اطمینان کی فضا ضروری تھی۔(۱)
مذکورہ بالا تعریف کے مطابق مدرسہ کا وجود اسلام میں سب سے پہلے اہل نیشاپور (ایران) کے ہاں عمل میں آیا جہاں نیشاپور کے علماء نے ”مدرسہ بیہقیہ“ کی بنیاد رکھی تھی۔ نیشاپور میں اس کے علاوہ ایک مدرسہ سلطان محمود عزنوی نے، ایک اس کے بھائی نصر بن سبکتگین نے مدرسہ سعیدیہ کے نام سے قائم کیا تھا اور چوتھا مدرسہ امام ابن فورک (متوفی ۴۰۶ھ) کا وجود میں آیا تھا۔(۲)
یہ پانچویں صدی ہجری/ گیارہویں صدی عیسوی کی ابتدا تھی۔ اس زمانے میں ایک طرف کتب خانے منظم شکل میں سامنے آنا شروع ہوگئے تھے تو دوسری طرف مدارس تنظیمی و تعلیمی ڈھانچے سمیت وجود میں آگئے تھے گویا مدارس کا ایک جال پھیل گیا تھا جن میں سے بعض مشہور مدارس مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱)     مدرسہ نظامیہ، بغداد
اس مدرسہ کی نسبت اس کے بانی نظام الملک طوسی کی طرف ہے جو سلجوقی دور کا وزیراعظم تھا۔ یہ مدرسہ ۴۵۹ھ/۱۰۶۶/ میں قائم ہوا۔ شاہی سرپرستی میں چلنے والا یہ مدرسہ طلبہ اور اساتذہ کیلئے ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ تھا۔ امام عزالی اور امام ابواسحاق شیرازی اس مدرسہ کے اساتذہ تھے۔ مجد الدین فیروزآبادی اس مدرسہ کے فیض یافتہ تھے۔(۳)
(۲)     مدرسہ سلطان محمود غزنوی
سلطان محمود غزنوی ہندوستان میں فتوحات کے دوران متھرا شہر کی خوبصورت جامع مسجد سے متاثر ہوا تو حکم دیا کہ غزنی میں ایک عالی شان مسجد بنوائی جائے۔ چنانچہ ایک کثیر رقم خرچ کرکے ایک نادرئہ روزگار مسجد تیار کی گئی جسے عروس الفلک (آسمانی دلہن) کا نام دیاگیا۔ اسی مسجد میں علوم نقلیہ و عقلیہ کی تدریس کے لئے ایک بہترین دارالعلوم تعمیر کرایا۔ یہاں پر کامل ترین علماء و فضلاء ایشیاء بھر کے طلبہ کو درس دیا کرتے تھے۔ یہ کالج ایشیاء بھر میں اپنی نظیر آپ تھا۔(۴)
(۳)    جامعہ قرطبہ
یورپ کے ملک اندلس (اسپین) میں جو مسلمانوں کے زیرنگین تھا قرطبہ اور غرناطہ علم و فن اور ارباب کمال کے بڑے مرکز بن گئے تھے۔ قرطبہ کی مشہور عالَم ”جامع مسجد قرطبہ“ میں خلیفہ الحکم ثانی نے جامعہ قرطبہ کے نام سے ایک بڑی یونیورسٹی قائم کی تھی۔ جہاں پر مفت تعلیم کا انتظام تھا، یہاں پر مشرق و مغرب کے جلیل القدر اساتذہ تدریس کی خدمت پر مامور تھے اس یونیورسٹی کی عظمت کا اندازہ اس کے کتب خانہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، جس میں چار لاکھ نادر کتابیں موجود تھیں اور اس کی صرف فہرست چوالیس جلدوں پر مشتمل تھی۔(۵)
(۴)    مدرسہ امام ابوحنیفہ
یہ مدرسہ خلافت اسلامیہ کے دارالخلافہ بغداد میں علماء نے عوام کے تعاون سے ۱۰۶۶/ میں مدرسہ نظامیہ سے پہلے قائم کیاتھا۔ اس مدرسہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ دارالخلافہ بغداد میں سب سے پہلا مدرسہ ہے۔ اگرچہ بعض موٴرخین مدرسہ نظامیہ کو تاریخ اسلام کا پہلا مدرسہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ درست نہیں ہے۔ اس بارے میں علامہ عبدالصبوح قاسمی نے اپنے تحقیقی مقالہ میں سیرحاصل بحث کی ہے۔ وہ پشاور یونیورسٹی کے جرنل میں رقم طراز ہیں:
"Some have contended that Nizamiyah college was the first college in the history of Islam, but this is not correct. Besides the Dar al-Ilm of Al-Rashid and Al-Mamun,a number of Madrasahs existed in different parts of the Islamic empire. Nishapur was another centre of Islamic studies and a number of other colleges were founded before the establishment of Nizamiyah college.(6)
(۵)    جامعہ ازہر (مصر)
فاطمی امراء نے ۳۵۸ھ میں مصر فتح کیا تو قاہرہ کو اپنا مذہبی مرکز بناکر یہاں ۳۵۹ھ/ ۹۷۰/ میں جامعہ مسجد ازہر کی بنیاد رکھی۔ پہلے فاطمی خلیفہ العزیز باللہ نے اس میں ایک شاہی مدرسہ کھولا۔ جہاں پر منقولات اور معقولات کی تدریس کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ بہت جلد یہاں پر اطراف و اکناف کے طلبہ جمع ہوگئے۔ جن کی تعلیم، کھانے پینے، رہائش اور دیگر سہولتوں کا مفت انتظام تھا۔ فاطمی امراء شیعہ تھے اور انھوں نے اس مدرسہ کو زیادہ تر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ لہٰذا جب صلاح الدین ایوبی نے مصر فتح کیا تو یہاں پر شافعی مذہب کے مطابق تعلیمات کو رواج دیا۔ یہ مدرسہ آج تک جامعہ ازہر کے نام سے قائم ہے اور یہ عالم اسلام کی سب سے بڑی اور قدیم یونیورسٹی کے طور پر جانی جاتی ہے۔(۷)
مذکورہ مدارس کی پیروی میں بعد میں بہت سارے مدارس کا قیام عمل میں آیا۔ چنانچہ نورالدین محمود بن زنگی نے دمشق اور حلب میں اور پھر صلاح الدین ایوبی اوراس کے خاندان نے مصر، دمشق اور یروشلم میں بڑی تعداد میں مدارس قائم کئے جن کی تفصیل المقریزی کی کتاب ”الخطط“ اور نُعیمی کی کتاب ”الدارس فی تاریخ المدارس“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ان مدارس کے پیدا کردہ چند مشہور علماء کرام
ابتدائی دور کے ان مدارس نے چوٹی کے علماء کرام پیدا کئے جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کے علم و عمل کا ڈنکا ہزار سال گذرنے کے باوجود آج بھی بج رہا ہے۔ ان میں سے چند ایک کا ذکر اجمالی طور پر ذیل میں کیا جاتا ہے۔
(۱)     امام غزالی
امام محمد بن محمد الغزالی ۴۵۰ھ/۱۰۸۵/ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے امام الحرمین ابوالمعالی عبدالملک الجوینی کے پاس مدرسہ نظامیہ بغداد میں پڑھا۔ فراغت کے بعداسی مدرسہ میں استاذ مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے صدر نشین کے درجہ تک پہنچ گئے۔ آپ نے فلسفہٴ یونان کا مطالعہ کیا جس کے نظریات اسلام سے متصادم تھے اور اس کی رد میں اپنی مشہور کتاب ”تہافة الفلاسفہ“ لکھی۔ آپ کی تالیفات میں سے احیاء علوم الدین، یاقوت التاویل (تفسیر قرآن چالیس جلدوں میں) اور مقاصد الفلاسفہ مشہور ہیں۔ ۵۰۵ھ/۱۱۱۱/ میں وفات پائی ہے۔
(۲)     ابن سینا
ابوعلی حسین بن عبداللہ بن سینا ۳۷۰ھ/۹۸۰/ کو بخارا میں پیدا ہوئے۔ حفظ قرآن اور دینی علوم کے علاوہ ریاضی، منطق اور طبعیات کے علاوہ طب و ادب میں کمال حاصل کیا۔ مختلف شاہی درباروں سے منسلک رہے اور شاہی کتب خانے استعمال کئے۔ سوسے زیادہ کتابیں لکھی ہیں جن میں ”الشفاء“ اور ”القانون“ صدیوں تک یورپ کے طبی کالجوں میں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔ ۴۲۸ھ/۱۰۳۷/ کو ہمدان میں وفات پائی ہے۔
(۳)    البیرونی
ابوریحان محمد بن احمد البیرونی خوارزم میں ۳۶۲ھ/۹۷۳/ کو پیدا ہوئے۔ علوم وفنون میں کمال حاصل کیا۔ عربی، فارسی، سنسکرت، ترکی، عبرانی اور یونانی زبانوں کے ماہر تھے۔ ہیئت، طبعیات، جغرافیہ اور ریاضی میں عالمی سطح کے محقق تھے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد ۱۱۳ بتائی جاتی ہے۔ جن میں سے کتاب الہند اور الآثار الباقیہ مشہور ہیں۔ شاہی درباروں سے منسلک رہے۔ سلطان محمود غزنوی نے آپ کو اپنے دربار میں بلند مقام دیاتھا۔ ۴۴۰ھ/۱۰۳۵/ کو وفات پائی ہے۔
(۴)    امام بیہقی
امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی (۳۸۴ھ تا ۴۵۸ھ) نے نیشاپور کے مدرسہ میں الحاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ نیشاپوری کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کئے۔ آپ بلند پایہ مفسر، محدث، فقیہ اور علم اصول کے ماہر تھے۔ آپ کی تالیفات ایک ہزار جلدوں پر مشتمل ہیں۔ جن میں المبسوط فی فروع الشافعیہ، کتاب الکبیر اور دلائل النبوّہ مشہور ہیں۔
(۵)    ابن عبدالبرّ اندلسی
یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر ۳۶۸ھ/۹۷۸/ کو بمقام قرطبہ، اندلس (اسپین) پیدا ہوئے۔ تمام علوم خصوصاً علم حدیث میں بلند مقام حاصل کیا۔ آپ کی تصانیف کی ایک لمبی فہرست ہے۔ یہ تصانیف سینکڑوں جلدوں پر مشتمل ہیں جن میں التمہید (ستّرجلدوں میں) الاستیعاب، جامع بیان العلم وفضلہ اور الانتقاء مشہور ہیں۔ ۴۶۳ھ میں وفات پائی۔
ان مدارس کے اقسام
یہ مدارس تین طرح کے تھے۔ ایک بادشاہوں اور امراء کے قائم کردہ مدارس۔ دوسرے مخیرعلماء کرام کے قائم کردہ مدارس اور تیسرے عوام کے تعاون سے چلنے والے مدارس۔ ان تینوں قسموں کی قدرے تفصیل دی جاتی ہے۔
(۱)     بادشاہوں اورامراء کے قائم کردہ مدارس
یہ وہ مدارس تھے جو بادشاہوں یا ان کے وزیروں اور عام مالدار لوگوں نے قائم کئے تھے اور یہ لوگ ان مدارس کے تمام اخراجات کی کفالت کرتے تھے۔ نظام الملک طوسی کا ذکر پہلے گذرچکا یہ خود بھی عالم فاضل شخص تھا اور علماء و فضلاء کا حد درجہ قدر دان تھا۔ ان کی مجلس علماء اور صوفیاء سے بھری رہتی تھی اور اپنے اموال ان پر بے دریغ خرچ کرتا تھا۔ السبکی کے مطابق نظام الملک نے عراق اور خراسان کے ہر شہر میں ایک ایک مدرسہ قائم کیاتھا۔(۸)
ابن اثیر نے مدرسہ نظامیہ بغداد کے بارے میں لکھا ہے کہ یہاں پر مدرسین کیلئے تنخواہوں کے علاوہ طلبہ کیلئے خورد و نوش و رہائش اور وظائف کا مفت انتظام تھا۔ ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ بغداد میں مدرسہ نظامیہ کے قائم کرنے کے بعد نظام الملک نے نیشاپور، بلخ، ہرات، اور بصرہ میں نظامیہ مدارس قائم کئے۔ ان میں طلبہ اور اساتذہ کی رہائش، خوراک اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کا معقول انتظام تھا۔ طلبہ کے لئے کتابیں، کاپیاں اور تدریسی سامان مہیا کیا جاتا تھا۔ مصارف پورے کرنے کیلئے نظام الملک نے مختلف شہروں میں ان مدارس کیلئے اوقاف قائم کردئیے تھے۔ جہاں سے اساتذہ کو مشاہرے اور طلبہ کو وظائف ملتے تھے۔(۹)
قزوینی نے مزید لکھا ہے کہ ایک بار سلجوقی بادشاہ الپ ارسلان نے نیشاپور کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نظام الملک بھی ساتھ تھا۔ وہاں کے علماء نے جمع ہوکر بے کسی اور ذرائع معاش کے فقدان کی شکایت کی۔ نظام الملک کو موقع ملا۔ اور ان کیلئے ایک مدرسہ بنانے کی اجازت چاہی۔ بادشاہ نے نہ صرف اجازت دی بلکہ سرکاری آمدنی کا دس فیصد حصہ بھی اس کیلئے وقف کیا۔(۱۰)
تاریخ الاسلام کے موٴلف حسن ابراہیم حسن نے جامعہ ازہر کے بارے میں لکھا ہے کہ فاطمی خلیفہ العزیز باللہ نے جب یہ مدرسہ کھولا تو یہاں پر درس و تدریس کیلئے تمام سہولتوں کا انتظام کیا جس کی وجہ سے اطراف و اکناف کے طلبہ بہت جلد یہاں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ ان کیلئے کھانے پینے، رہائش اور دیگر سہولتوں کا مفت انتظام تھا۔(۱۱)
(۲)     مخیر علماء کے مدارس
مدارس کی ایک قسم وہ تھی جو صاحب استطاعت علماء کرام نے قائم کی تھی۔ یہ علماء کرام نہ صرف ان مدارس میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے بلکہ اپنی بساط کے مطابق اپنا مال بھی ان کے طلبہ پر خرچ کرتے تھے۔ امام ابن فورک (متوفی ۴۰۶ھ/۱۰۱۵/) شافعیہ کے امام تھے۔ انھوں نے نیشاپور میں ایک مدرسہ قائم کیاتھا۔ امام الحرمین ابوالمعالی عبدالملک الجوینی (متوفی ۴۳۸ھ/۱۰۴۶/) نے اسی مدرسہ سے فراغت حاصل کی تھی۔ امام عبدالعزیز بن احمد الحلوائی البخاری (متوفی ۴۴۸ھ) بخاریٰ میں احناف کے بڑے امام تھے۔ انھوں نے ایک مدرسہ قائم کیاتھا۔ حلوہ بیچ کر اس کی کمائی طلبہ پر خرچ کرتے تھے ۔ اس زمانہ میں علماء کرام نہ صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی سے گذر اوقات کرتے تھے اور درس و تدریس بلا معاوضہ کرتے تھے بلکہ اپنے اموال طلبہ پر خرچ کرتے تھے۔ شمس الائمہ محمد بن احمد السرخسی (متوفی ۴۸۳ھ) اس مدرسہ کے فیض یافتہ تھے اور اپنے استاذ کی وفات کے بعد ان کی جگہ پر علماء کے اتفاق سے مسند نشین ہوگئے تھے۔ بغداد میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے مدرسے ”مدرسہ نظامیہ“ کے قیام سے قبل مدرسہ امام ابوحنیفہ کی بنیاد پڑچکی تھی۔ یہ مدرسہ بھی چند علماء کے اشتراک عمل سے وجود میں آیا تھا۔ اس کی تعمیر اور قیام کی ذمہ داری ابوسعد المستوفی نے سال ۴۵۹ھ میں لی تھی اور مدرسہ کی تدریس کا اہتمام استاذ ابوطاہر الیاس بن ناصر دیلمی (متوفی ۴۶۱ھ) کے سپرد تھی جو بغداد کی ایک عالم و فاضل شخصیت تھی۔ مدارس کی یہ مثالیں نمونہ کے طور پر ہیں ، ورنہ علماء کے اپنے اخراجات سے قائم کردہ مدارس تمام اسلامی دنیا میں قائم تھے۔ (۱۲)
(۳) عوام کے قائم کردہ مدارس
مدارس کی تیسری قسم وہ تھی جو کہ مسلمانوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے عوامی چندوں کے ذریعہ مدارس قائم کئے تھے۔ ان چندوں سے مدرسین کی تنخواہیں، طلبہ کیلئے خورد و نوش کا انتظام، تعمیری ضروریات اور دیگر نظم و نسق کے اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔ مدرسہ بیہقیہ کا ذکر پہلے ہوچکا۔ یہ عوامی مدرسہ تھا اور اس کے اخراجات عوامی چندوں سے پورے کئے جاتے تھے۔ اس طرح کے مدارس بھی عالم اسلام میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔
اس دور کے مدارس کے ذرائع آمد و خرچ
گذشتہ سطور میں مدارس کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک قسم ان مدارس کی تھی جو بادشاہوں، وزیروں یا امراء نے قائم کی تھی۔ ظاہر ہے ان مدارس کے بانیان چونکہ مال و دولت سے مالامال تھے اسلئے اپنے قائم کردہ مدارس پر دل کھول کر خرچ بھی کیا کرتے تھے۔ بادشاہ اور وزیر قسم کے لوگ عموماً دنیاداری اور بے جا اسراف کے کاموں میں مال خرچ کرتے ہیں۔ اپنی ذاتی خواہشات اور خورد و نوش وغیرہ پر بے دریغ دولت لٹاتے ہیں اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ نیکی کے کام میں بھی پیسہ خرچ ہو۔ اس نیک خواہش کی تسکین کے لئے کبھی وہ مساجد اورمدارس تعمیر کرتے ہیں۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں بھی بعض بادشاہ اور وزراء جو علم و فن کے قدردان تھے انھوں نے علمی کاموں پر بے دریغ پیسہ خرچ کیا۔ اس کی زندہ مثال عباسی خلیفہ مامون الرشید کے بیت الحکمت کی ہے۔ جو دنیا کی سطح پر ایک عظیم الشان لائبریری ہونے کے علاوہ مختلف علوم و فنون کے ترجمہ، تحقیق، تدوین اور تجربہ گاہ کی حیثیت سے مشہور تھی۔ اس قسم کے اداروں کے حسابات کا طریق کار نہایت منضبط ہوا کرتا تھا۔ اور یہ ادارے مالی لحاظ سے خود کفیل ہوا کرتے تھے۔
مدارس کی دوسری قسم وہ تھی جو علماء کرام کی سرپرستی میں قائم تھی۔ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے وقتوں میں علماء کرام نے اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے اور نہ صرف اپنا معاشی بوجھ خود سنبھالا ہے بلکہ تعلیم و تدریس کی خلوص دل سے خدمت کی ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں قفّال (تالافروش) رزّار (چاول فروش) حدّاد (لوہار) حلوائی (حلوہ فروش) قدوری (ہانڈی فروش) وغیرہ القاب علماء کے ناموں کے ساتھ ملتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے پیشے علماء اپناکر نہ صرف اپنا معاشی مسئلہ حل کرتے بلکہ ساتھ ساتھ مدارس اور مکاتب بھی اپنے اخراجات سے چلاتے تھے۔
مدارس کے اخراجات برداشت کرنے میں عوام الناس کا بھی ہمیشہ سے بڑا حصہ رہا ہے بلکہ موجودہ دور میں تو تقریباً انہی کے اخراجات سے مدارس چلتے ہیں۔ یہ لوگ آخرت کے ثواب اور علم و دین کی تبلیغ کی نیت سے مدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور یہ تعاون اس قدر خلوص اور والہانہ انداز پر مشتمل ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی عطیات کا حساب کتاب بھی کبھی مدارس و مساجد والوں سے نہیں مانگا ہے۔
اس دور کے مدارس میں مروّجہ علوم و فنون
ہمارے اس زمانے میں نصاب تعلیم کسی بھی تعلیمی ادارے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ زمانہٴ قدیم میں مدارس کیلئے کوئی مقررہ نصاب تعلیم نہ تھا۔ اس زمانے میں کتاب پڑھنے کے بجائے فن پڑھایا جاتا تھا۔ اور اسلئے ہر فن کے ماہر عالم کے پاس اس علم کے تشنگان کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مدارس کا کوئی مرتب نصاب تعلیم نہیں تھا بلکہ اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ اس زمانے کے علوم و فنون کیا تھے اور کس درجہ کے تھے تواس کے لئے ہمیں اس زمانے کے علماء و فضلاء پر نظر دوڑانی پڑے گی۔ چنانچہ اس طرح جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت ہمارے سامنے کھل جاتی ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں میں نہ صرف دینی علوم کی تعلیم اعلیٰ پیمانہ پر موجود تھی بلکہ دنیاوی علوم اور زمانہ کے تقاضا کے مطابق تمام فنون کی بھی تعلیم دی جاتی تھی اوراس سلسلے میں مسلمان دنیا کے تمام متمدن اور مہذب اقوام سے بہت آگے تھے۔ آئیے اس زمانے میں مروجہ علوم و فنون کا اندازہ اس زمانے کی علمی شخصیات کے ذکر سے مختصراً لگاتے ہیں۔
ابن الہیثم (۹۶۵/ تا ۱۰۴۳/) کا تعلق مدارس کے اس ابتدائی دور سے تھا۔ ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا۔ روشنی اور علم بصریات کا ماہر تھا۔ اس نے جامع ازہر کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر روشنی پر ایک کتاب ”کتاب المناظر“ لکھی۔ اس نے سایوں، سورج گرہن اور چاند گرہن پر کتاب لکھی۔ اس نے سب سے پہلے روشنی کی ماہیت دریافت کی، اور روشنی کو توانائی قرار دیا۔ اسے ”بصریات کا امام“ کہا جاتا ہے۔
ابن النفیس (۱۲۱۳/ تا ۱۲۸۸/) دمشق میں پیدا ہوا۔ نورالدین زنگی کی بنائی ہوئی طبی درسگاہ (Medical College) سے علم حاصل کیا۔ طب کے علاوہ فقہ، ادب اور دینی علوم کا ماہر تھا۔ اسے قاہرہ میں نصری ہسپتال کا سربراہ بنایاگیا۔ انسانی جسم میں خون کی گردش کی دریافت اس کا کارنامہ ہے۔ اس نے خون کی شریانوں اور دل سے متعلق کئی مفید معلومات فراہم کیں اور آنکھوں کی تکالیف کی تحقیق کی۔ اس نے جالینوس اور بوعلی سینا کی کتب پر تحقیقی اور تنقیدی کام کیا۔ اس کی کتب ”الشامل فی الطب“ اور ”مجاز القانون“ سے آٹھ صدیوں سے علماء و حکماء فائدہ اٹھارہے ہیں۔
ابن رشد (۱۱۲۶/ تا ۱۱۹۸/) قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ دینی علوم میں مہارت کی وجہ سے قرطبہ کے قاضی القضاة مقرر ہوئے۔ علم طب میں نام اور شہرت پیدا کی۔ مراکش کے بادشاہ ابویعقوب یوسف نے اسے اپنی خدمت کیلئے بلایا۔ ابن رشد کی کتابوں کی تعداد ۷۵ بتائی جاتی ہے۔ اس کی کتاب ”الکلیات فی الطب“ نے بہت شہرت پائی کیونکہ یہ دنیا میں سب سے پہلی کتاب ہے جو طب میں چھپ گئی اوراس میں چیچک کے بارے میں معلومات ہیں۔ اس نے ارسطو اور افلاطون کی کتابوں کی شرحین لکھیں۔
ابوریحان البیرونی (۹۸۳/ تا ۱۰۴۸/) ہیئت، ریاضی اور تاریخ و تمدن کا عالمی طور پر تسلیم شدہ عالم و فاضل ہے۔ سلطان محمود غزنوی کی قائم کردہ رصدگاہ میں کام کیا۔ اسے ”علم کے دریا“ کا خطاب ملا۔ کتاب الہند، الآثار الباقیہ اور القانون المسعودی اس کی زندہ جاوید تالیفات ہیں۔
شیخ الرئیس بوعلی سینا (۹۸۰/ تا ۱۰۳۸/) اپنے عہد کا سب سے عظیم طبیب، فلسفی، ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھا۔ اس نے ہمدان میں رصدگاہیں بنائیں۔ اس کی کتابیں الشفاء اور القانون بہت مشہور ہیں۔
ماہر علم کیمیاء اور بلند پایہ طبیب جابر بن حیان (۷۲۲/ تا ۸۱۵/) کو برمکی خاندان کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس نے یونانی زبان سے علوم و فنون کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ اس نے تین معدنی تیزابوں کو دریافت کیا۔ شورے کے تیزاب کو پھٹکری، کسیس اور قلمی شورے سے تیار کیا۔ کیمسٹری کے موضوع پر اس نے بائیس کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ کتاب المیزان اس کی مشہور کتاب ہے۔
اسی طرح ابوالقاسم الزہراوی تاریخ اسلام میں علم جراحی (سرجری) کے ماہر، عمر الخیام فلکیات اور علم ہیئت کے ماہر، الفارابی یونانی فلسفے کے ماہر اور الفرغانی ماہر علم ہندسہ کے طورپر مشہور ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کے مدارس میں کس قسم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ اس دور کا نصاب تعلیم دین و دنیا اور مذہب و سائنس دونوں کو جامع تھا۔
$ $ $
حوالہ جات
(۱)         حسن ابراہیم حسن: تاریخ الاسلام، طبع مصر ۴/۴۲۱--- احمد شلبی: تاریخ تعلیم و تربیت اسلامیہ، طبع لاہور، ص: ۱۰۲۔
(۲)        المقریزی: کتاب الخطط، طبع بیروت: ۲/۳۶۳۔
(۳)        القزوینی: آثار البلاد و اخبار العباد، ص: ۴۱۳ ---- ابن اثیر: الکامل فی التاریخ: ۱۰/۷۷۔
(۴)        محمود الرحمن ندوی: دولت غزنویہ، ص: ۱۲۸۱ ---- محمد عبدالرحمن خان: تاریخ اسلام پر ایک نظر، ص: ۲۶۵۔
(۵)        اخبار الاندلس (س۔ پ سکاٹ کی کتاب ”ہسٹری آف مورش ایمپائر ان یورپ“ کا اردو ترجمہ، ص: ۶۵۶ و بعد۔
(۶)        A. S. Qasmi: Libraries in the early Islamic World, U.O.P. Journal, Jan 1958, pp3
(۷)        زاہد علی: تاریخ فاطمین مصر، طبع کراچی: ۱/۱۶۲ ---- حسن ابراہیم حسن: تاریخ الدولة الفاطمیہ، طبع قاہرہ، ص: ۳۲۹ و بعد
(۸)        السبکی، عبدالوہاب، تاج الدین: طبقات الشافعیہ، طبع قاہرہ: ۳/۱۳۷۔
(۹)         ابن الجوزی: المنتظم فی تاریخ الملوک والامم: ۸/۲۱۵۔
(۱۰)       القزوینی: آثار البلاد واخبار العباد، ص: ۴۱۳۔
(۱۱)        حسن ابراہیم حسن: تاریخ الاسلام، طبع مصر ۴/۴۲۲۔
(۱۲)       ابن الجوزی: المنتظم فی تاریخ الامم : ۸/۲۴۵۔
$ $ $
______________________________





دینی مدارس کی افادیت واہمیت
یہ ہوتا آیا ہے، مخلصین اور دین ملت کے لیے تڑپنے اور بے کل رہنے والوں او راس کی فکر میں جلنے، پگھلنے اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر بارگاہ خداوندی میں آہ وزاری کرنے والوں کی تعداد کم ہی رہی ہے ۔ انہی سے نورِ نبوت کی کرنیں پھوٹتی اور پھیلتی رہی ہیں اور دنیا میں پھیلے ہوئے ابلیسی نظام نے انہی مردان خدا کو اصل خطرہ جانا ہے، جو شکست کو فتح سے بدلنے ، ہاری ہوئی بازی کو جیتنے اور ڈوبتی ہوئی کشتی کو تیرانے کی اہلیت او رہمت رکھتے ہیں، اقبال مرحوم نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں ا بلیس کی زبان سے اس حقیقت کو اس طرح ادا کیاہے:
        ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
        جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو
        خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
        کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو
ابلیس اپنے خیالات اور خدشات کا اظہا رکرتے ہوتے مزید کہتا ہے : ” میں جانتا ہوں کہ یہ امت قرآنی پروگرام کی حامل او راس پر عامل نہیں، مال کی محبت، ذخیرہ اندوزی او رنفع رسانی کے بجائے نفع طلبی اور سرمایہ داری اس کا بھی مذہب بنتی چلی جارہی ہے، لیکن زمانے کے انقلابات اور مقتضیات سے مجھے خطرہ ہے کہ وہ کہیں اس امت کی بیداری کا سامان نہ بن جائیں۔“ (نقوش اقبال)

غور کیا جائے تو صاف محسوس ہو گا کہ دین اسلام کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر فتنہ کے بعد مسلم عوام میں بیداری پیدا ہوتی ہے اور غیروں میں اسلامی تعلیمات پرغور وفکر او رمعلومات وتجسس کا جذبہ کام کرنے لگتا ہے اور وہ اسلامیات کا مطالعہ کرنے لگتے ہیں اور اس کی حقیقت کو سمجھنے کی ٹوہ میں لگ جاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں بہت سے خوش نصیب اسلام کی آغوش میں آجاتے ہیں اور یہ بات قریباً دنیا کے تمام ملکوں میں پائی جارہی ہے، جس کو میڈیا نمایاں نہیں کرتا ہے، اس کو صرف کسی مسلمان کی معمولی، بلکہ فرضی غلطی کو نمایاں کرکے پیش کرنے سے دلچسپی رہتی ہے، کیا یہ حقیقت جھٹلائی جاسکتی ہے کہ وہی اندلس جہاں اقبال مرحوم نے بڑے درد سے کہا تھا: ” آہ! کہ صدیوں سے ہے تیری زمیں بے اذاں“

اب اسی اندلس میں اذان بھی ہونے لگی ہے ۔ وہاں پہنچنے والے مسلمان جمعہ او رجماعت کا بھی نظام قائم کرنے لگے ہیں، امریکا جہاں سے سب سے زیادہ اسلام او رمسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں ، اس کے نتیجے میں اسلام کے بارے میں معلومات کے جذبات ابھرتے ہیں، پھر اس کا مطالعہ او رحقیقت تک پہنچنے کے بعد بہت سے خوش نصیب ایمان لاتے ہیں۔

اس میں ہمارے ان مدارس ومکاتب کا بڑا دخل ہے جن پر تنقید ہوتی رہتی ہے، ان مدارس کو چلانے والے مخلصین اور بہی خواہان دین وملت تنکے تنکے جمع کرکے اس ماحول میں جہاں تعلیم مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے، طلبا کے لیے نہ صرف یہ کہ مفت تعلیم کا انتظام کرتے ہیں ، بلکہ نادار طلبا کے کھانے کا بھی انتظام کرتے ہیں اور خاص حالات میں ان کی دیگر ضروریات کا بھی خیال رکھتیہیں، کتابیں تک مفت مہیا کی جاتی ہیں ، پھر انہی طلبا میں سے اچھی خاص تعداد ایسی نکلتی ہے، جو دعوت واصلاح کے کام میں لگ جاتے ہیں ،ایک معتدبہ تعداد مدارس میں تعلیم وتربیت کا کام انجام دیتی ہے ، ان میں وہ بھی ہوتے ہیں جو اپنے علاقہ کی بنجر زمین میں عقیدہٴ توحید اور دین وایمان کابیج بوتے ہیں ، ایسے بھی ہوتے ہیں، جو دوسرے کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں پہنچ کر اسلامی شناحت کو باقی رکھنے میں بڑا کر دار ادا کرتے ہیں، اگر ان کی ظاہری وضع قطع میں اہل دین کی نظروں میں کچھ کمی محسو س ہوتی ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے دلوں میں دینی جذبات واحساسات موج زن رہتے ہیں، ان میں وہ جواں مرد بھی ہوتے ہیں جو دوسرے ملکوں میں دین وایمان کی قندیل روشن کرتے ہیں، اسلام کا تعارف کراتے ہیں۔

کم سے کم درجہ ہوتا ہے کہ مدار س میں آنے والے کا ایمان وعقیدہ محفوظ ہو جاتا ہے جو عمر کے کسی دور میں شعلہ جوالہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے ، ایسا بہت کم ہوتا ہے، بلکہ شاذ ونادر یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ کوئی جدید افکار ونظریات کا شکار ہو کر الحادو دہریت کی راہ اپنالے۔ جدید تعلیم یافتہ حضرات میں جو صاحبان اپنے خیالات ومشوروں سے اہل مدارس کو نوازنے کی فکر پیش کرتے ہیں ، یا یہ کہوں کہ نوجوانانِ ملت کے بارے میں اپنی فکر وہم دردی کا اظہار کرتے ہیں، ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں، اس لیے کہ یہ انسانی فطرت ہے، وہ جس ماحول میں رہتا ہے، اسی دائرہ میں اس کا علم وفکر بھی اپنا کام کرتا ہے اور اسی کا اظہار کرتا ہے ۔ مدارس کی افادیت واہمیت کو وہی بند گانِ خدا زیادہ جانتے اورسمجھتے ہیں جو اپنے خونِ جگر سے پوری انسانیت کو زندگی کا صحیح رُخ دینا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں جوانصاف پسند اہل علم حضرات اسلام کی تاریخ اصلاح و دعوت اور تجدید دین کی جانفشانیوں کا مطالعہ کریں گے، ان کو صاف معلوم ہو گا کہ روئے زمین پر اس وقت انسانیت کا جو بچا کھچا سرمایہ نظر آرہا ہے، وہ انہیں حضرات کا کارنامہ ہے، ورنہ تاریخ اسلام میں جو انقلابات آئے ہیں، وہ اس کی رہی سہی طاقت ختم کر دیتے اور اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح تحریف وغلو کا شکار ہو چکا ہوتا ہے، ہم زیادہ تفصیل میں نہ جاکر صرف اتنی ہی عرض کریں گے کہ دورِ اکبری میں اگر حضرت مجدد الف ثانی  کی شخصیت نے اپنا حکیمانہ رول ادا نہ کیا ہوتا تو آج یہاں اسلام کا کیا حال ہوتا؟ پھر اس سرمایہ کی حفاظت خانوادہ وسلسلہ ولی اللہی نے جس طرح کی، اس سے کون انصاف پسند صاحب علم انکار کر سکتا ہے؟ اور یہی سلسلہ اب تک جاری ہے۔

ایک اور پہلو سے غور فرمایا جائے کہ اسلام صرف مسجد اورادذکار تک محدود نہیں ہے، اس لیے زندگی کے دوسرے شعبوں میں، پیدائش سے لے کر موت کے مسائل میں، راہ نمائی کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟ حقوق الله کے ساتھ حقوق العباد، خرید وفروخت، گھریلو مسائل ، اولاد کی تعلیم وتربیت ، ملنے جلنے اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کرنے، نمازیوں کی امامت اور ان کو روزہ مرہ کے مسائل سے کون واقف کراتا ہے؟ اگر یہ نہ ہوتو کیا قومی نام کے علاوہ مسلمانوں میں کوئی اسلامی بات پائی جاسکتی ہے؟ جو اصل مقصد زندگی ہے۔

انہی حقائق کے پیش نظر علامہ اقبال  اپنے اشعار میں اہل مدارس وموجودہ دانش وروں کی طرح مشورہ دینے او ران میں مزید زندگی پیدا کرنے ، زور دینے کے باوجود ایک مرحلہ میں یہ کہنے پر مجبورہو ئے کہ ” ان مدارس کو کچھ نہ کہو، اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو ہندوستان اندلس بن چکا ہوتا۔“

خوش نصیب ہیں وہ حضرات جو ان دینی مدارس ومکاتب کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ،ہم اگر دینی زبان وپیمانہ کی روشنی میں ان حضرات کے اس انفاق فی سبیل الله کے اخرو ی اجر وثواب کے ذخیرہ کا حساب لگانا چاہیں تو بڑے سے بڑا ریاضی داں اس کا حساب نہیں لگا سکتا ہے، جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے :﴿ مثل ما ینفقون فی سبیل الله کمثل حبة انبتت سبع سنابل فی کل سنبلة مئة حبة والله یضاعف لمن یشاء﴾․

”جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ( ان کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے، جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بالی میں سو سودانے ہوں، خدا جس کے مال کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے ۔“

اہل مدارس جدید علوم وفنون اور زندگی کے جائز ودرست اسباب ووسائل کے اپنانے کی نفی نہیں کرتے کہ خود دین اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

مدارس اور علماء کا منصب یہی ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں رہنے والے مسلمانوں کی صحیح راہ نمائی کریں کہ وہ جاہ ومنصب اور کاروبار کے اندر مال کی فراوانی میں پڑ کر خدا فراموشی کا شکار ہو کر ابدی زندگی سے غافل نہ ہو جائیں، جس کا انجام نہایت بھیانک ہے، یہ بہت فکر کی بات ہے کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کا ایک بڑا طبقہ اپنی ساری صلاحیتوں، علوم وافکار اور حصولِ زر کی فکر میں اتنا ڈوب جاتا ہے کہ روح وقلب کی طرف متوجہ نہیں ہو پاتا، جو حاصل زندگی ہے ۔ جگر مرحوم کی زبان #
        نہیں جاتی کہاں تک فکر انسانی نہیں جاتی
        مگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی



اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کا کردار


دینی مدارس، اور اسلامی اداروں کا وجود افادیت کا حامل ہے یا مضرت کا؟ اس عنوان سے مکمل جہات کو محیط متعدد نظریات پیش کئے جاچکے ہیں، جو اپنی معتبریت، موزونیت کے اعتبار سے مکمل اور کامل ہیں۔ آج کا ہر رسالہ، اخبار اور ان سرناموں اور عنوانوں کی توضیح و تشریح کرتے ملتے ہیں کہ آیا موجودہ مدارس اپنے جلو میں امن کا کارواں رکھتا ہے یا فساد وتباہی کا آتش فشاں، اب تک مجموعی طور پر جو نظریات سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب مدارس اسلامیہ کی شبیہ کو متوازن، امن پسند اور قومیت پسند ماننے کی تعبیر ہیں۔
اپنے وضوح (clarity) اور ایمانداری کے باوجود دینی مدارس کے دامن پر، تشدد پسندوں کی جانب سے جو الزام (دینی مدارس دہشت گرد اور امن مخالف ادارے ہیں) لگاہے وہ واقعی تناظر میں صرف ایک تہمت کی حیثیت رکھتا ہے دراصل مدرسہ مشن سے جس خاص طبقہ (اسلام مخالف طبقہ) کو تکدر اور انقباض ہے وہی، مدرسہ مخالف کاز اور حرکات میں مساعد ومعاون ہوتا ہے، اس جہت سے اس کے افعال واعمال، مدارس مخالف ہی ہوتے ہیں،چونکہ نظریاتی سطح پر اس مفروضے کو تشہیر دی جاتی ہے اور اسے عوامی مقامات پر نمایاں کیاجاتا ہے جس سے ذہن سازی اور فکرسازی کی راہیں بھی ہموار ہوجاتی ہیں مگر تشہیرکا سہارا اسے ناقابل تکذیب سچ بنادیتا ہے اور غالباً اسی منہج عمل نے مدارس اسلامیہ کے پر امن ہونے کے حوالے سے غور وفکر کی راہ کھول دی ہے اور یہ دعوت دی ہے کہ مدارس کی امن پسند شبیہ کو سامنے لایا جائے اور ان کی خدمات کو اس تناظر میں جانچا جائے تاکہ زہرزدہ فضاء میں مدارس کے کردار کو زہریلی ہواؤں سے محفوظ رکھاجاسکے۔
مدارس اسلامیہ کی خشت اول امن کے گارے سے تیار ہوتی ہے اور اس کے مقاصد واہداف میں سلامتی اور تحفظ کا سایہ فگن ہوتا ہے اس واقعیت کے باوجود یہ پروپیگنڈہ کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے اور انتہاپسندی کے مراکز ہیں، معروضیت مخالف ہیں۔
پوری دنیا میں جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی وہ رحمة للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی، رحم جس کا کام، سلامتی جس کا اعلان اور تحفظ جس کا نظام تھا، اسی روشنی سے جلاپانے والے ہزاروں مدارس دینیہ گزرے دور سے لے کر آج تک اسی اساس پر قائم ہیں ہندوستان میں دینی مدارس بھی اسی نظام امن کے پیامبر اور محافظ ہیں، دینی مدارس کی بنیاد ہی امن وسلامتی کے عنوان سے بنتی ہے اوراس کی تشکیل بھی خیروخوبی کے صدائے عام سے ہوتی ہے۔
اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کے بنیادی کردار سے انکار، ایک برملا حقیقت کا انکار ہوگا! جن بنیادوں پر ان کا قیام عمل میں آیا ہے اس کا نتیجہ اور ہدف صالح اقدار کی تشکیل و تعمیر ہے، ان مدارس کا پس منظر یا ان کی تگ و دو (Works) کا نتیجہ، بہترین علماء، صاحب کردار فضلاء اور انسانیت کے علمبردار، حاملین اسلام کی پیداواری اور معاشرہ کی برائیوں، قباحتوں اور داخلی شورشوں کا انسداد ہے درحقیقت ان مدارس کا جو اساسی منثور اور بنیادی ہدف (Main target) ہے وہ ہے ”عالمی ضرورتوں کی اسلامی تکمیل“ یہی وہ دائرہ ہے جس کے تحت سارے مدارس کا وجود عمل میںآ یا ہے، گویا اپنے عمومی اور اساسی مفہوم میں مدارس دینیہ کی تاسیس عالمی ضرورتوں کی اسلامی تحصیل و تکمیل اورانسانی احتیاجوں کی بھرپائی ہے۔ یہی مدارس کا خاص ہدف ہے اور عام ہدف بھی، ان سے گریز، یا دامن کشی، اپنی اساس سے اعراض ہوگا، اوراگرایسا ہے تو واقعی یہ المیہ اور نامسعود (Unfortunate) ہے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ، حقائق کا صحیح اور مناسب جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اپنے اساسی منشور سے تھوڑے بہت گریزاں ہیں، یہ کوئی خواہ مخواہ کا قیاس اور رائے زنی نہیں، بلکہ موجودہ دینی اداروں کے اقدامات، رویوں اور عمل سے یہ بات معلوم ہوتی اور واقعی یہ بڑی تکلیف دہ ہے، اس حوالے سے دینی جامعات کو غور وفکر کی ضرورت ہے۔
جہاں تک میں سمجھتاہوں وہ یہ ہے کہ ہماری دینی جامعات کی گریزپائی یا دامن کشی، فقط یونہی نہیں، اس میں دینی مدارس کی جدیدکاری کے عنوان سے چلنے والی تحریکات کے ردعمل کی نفسیات اور خوف کارفرما ہے اور شاید اس معاملہ میں مسلم علماء اور قدامت پسند ماہرین شرعیات کا عناد اور ہٹ دھرمی قابل معافی ہے کیونکہ وہ رد عمل کی نفسیات ہے، اگرچہ یہ ردعمل انتہا پسندانہ اور منفی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسے رد عمل سے مسلم امة کا نقصان ہے،اس حوالے سے غور وفکر اور تدبر کے مظاہرہ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
بہرکیف ان نقائص (جوکہ کچھ خاص حالات کے پیداوار ہیں) کے باوجود دینی مدارس کی افادیت، تعمیری حیثیت، اخلاقی ساکھ، تشکیلی امیج اور بنیادی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، آج بھی وہ مشعل راہ اور نقوش ہیں، اسے اپناکر، اقدار کی اصلاح کرسکتے ہیں، اخلاقیات کی اشاعت ہوسکتی ہے، تعلیم کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے، ناخواندگی کا انسداد ہوسکتا ہے، برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور ہر طرح کی قباحتوں کو فنا کے گھاٹ اتارا جاسکتا ہے۔
درحقیقت دینی مدارس کا سارا نظام، عملہ طلبہ اور فاضلین جس کام اور مشن پر مامور ہیں وہ لاتفسدوا فی الارض کی تمثیل اطاعت پر مبنی ہے اس کا بنیادی مشن ہی معاشرے میں امن وسلامتی کی اشاعت ہے، جس قرآن وحدیث کی تعلیم ان مدارس میں ہوتی ہے اس کی خمیر ہی معاشرہ سازی اور انسانی نسل کی اصلاح وتعمیر ہے، مدارس دینیہ کے پورے مقاصد صرف اور صرف بنی نوع انسان کی اصلاح و تعمیر کے ارد گرد گھومتے نظر آتے ہیں، ان مدارس کا تعلیمی جائزہ یہ بتلاتا ہے کہ دنیا کا سب سے معتدل، اور متوازن نصاب مدارس اسلامیہ میں رائج ہے جس نصاب میں تشدد، انتہا پسندی اور غلو آمیزی کا درس نہیں ہوتاہے بلکہ امن وسلامتی، اصلاح وتعمیر اور معاشرہ سازی کی تعلیم دی جاتی ہے درحقیقت مدارس اسلامیہ کا نصاب وہ بہترین مشعل راہ ہے جس کی روشنی میں نصاب سازی اور ازسر نو تعلیمی نظام کی تخلیق پوری دنیا کو امن وسلامتی کی راہ پر لاکھڑا کرے گا، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سورج جیسے روشن حقیقت کو سمجھا جائے اوراسے برتاجائے۔
الغرض مدارس اسلامیہ کا مکمل تعلیمی، تربیتی، اخلاقی، انتظامی، معاشی اور سماجی نظام اعتدال و توازن کا مظہر ہے اس کا ہرحصہ قابل اعتماد،اور ہر شعبہ اعتدال وامن پسندی کا داعی ہے مدارس کے صرف وبذل میں جس اعتدال کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ اقتصاد وتوازن کا اعلیٰ ترین مظہر ہے جس میں عیاشی، عیش کوشی اور سامان عیش وطرب کی فراہمی کے لئے سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوتا بلکہ بنی نوع انسان کے لئے سامان درس ہوتاہے،اس کا متوازن معاشی نظام ان تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کو یہ درس دیتا ہے کہ کھربوں اور کروڑوں روپے خرچ کرنے اور سامان تزئین کے بے پناہ استعمال کرنے کی وجہ سے آنے والے تعلیمی خرچ میں جو اچھال پیدا ہے اور جس طرح تعلیم کو مہنگا بناکر پیش کیا گیا ہے جس کی بناء پر ہزاروں اور لاکھوں غریب بچوں کی دسترس سے تعلیمی حصولیابی دور ہوگئی ہے وہ افسوس ناک ہے کاش کہ یہ عیاشی اور دھماچوکڑی ختم کی جائے تاکہ غریب سے غریب بچہ تعلیمی اسلحہ سے لیس ہوسکے اور علوم وفنون کا حاصل کرنا آسان ہوسکے۔
مدارس دینیہ کا انتظامی نظام وقار وسنجیدگی اور عدل ومساوات کا بہترین نمونہ ہے اگر یہ نقوش ہماری ہم عصری، عصری یونیورسٹیاں اپنالیں توطلباء کی جانب سے ہونے والے احتجاجات اور اس کے نقصان میں ہونے والے ہرجوں سے محفوظ رہنا آسان ہوجائے گا۔
مدارس اسلامیہ کا اخلاقی نظام، اخلاق ومروت کے مظاہرہ کی دعوت دیتا ہے، سچ یہ ہے کہ طلباء علوم دینیہ کا حسن سلوک اور طرز معاشرت اتنا بلند اور ارفع ہے کہ اسے ہم سماوی رفعتوں سے تعبیر کرسکتے ہیں آج ضرورت ہے کہ دینی مدارس کے ان نقوش کو اپنایا جائے اور ریکنگ کی انتہاء پسندی جوکہ اخلاقی دہشت گردی کی ہی ایک نوع ہے، اسکا سدباب کیا جاسکے۔
الغرض دینی مدارس، سراپا امن وسلامتی ہیں اس کا کردار ماضی میں بھی صاف ستھرا اور روشن تھا آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا درحقیقت دینی مدارس، ایک ایسا مشعل ہیں جس کی روشنی میں امن کا شہر قائم کیاجاسکتا ہے اورپرامن معاشرہ کی تکمیل ہوسکتی ہے آج اس کی ضرورت ہے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس ضرورت کو ضروری اور لازم سمجھاجائے۔
***
_________________________________




مسلمانوں کی تعلیم میں دینی مدارس کا کردار
اسلام ایک آفاقی دین اور ملکوتی مذہب ہے ۔اس کی تعلیمات میں روحِ انسانیت کی ان تمام تشنگیوں کا مداوا ہے جو اسے دنیاوی امور میں مختلف موڑ پر محسوس ہوتی ہیں ؛لیکن اسے کسیے حاصل کیا جائے؟ان پریشانیوں کو خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام صُفہ کے قیام اور وہاں جمع ہو کر صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ دور کردیا اور امت کو گویا یہ سبق دیا کہ اگر تمہیں دین اسلام کی بقا اور اس کی صحیح اور اصل شکل میں اشاعت مطلوب ہے اور اس کے ذریعہ اپنی دینی و تعلیمی حالت کو سنوارنا چاہتے ہو،تو تم بھی مقام صفہ کی طرح دینی درس گاہیں قائم کر کے اپنے کو اور اپنی نسلوں کو تعلیمات اسلامیہ سے روشناس کراؤ اور علم کی شمع روشن کر کے جہالت کا خاتمہ کردو۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں نے اس مشن کو آگے بڑھایا اور مدارسِ اسلامیہ کے قیام کو کسی نہ کسی شکل میں لازمی سمجھ کر اس پلیٹ فارم کے ذریعہ امتِ مسلمہ کی تمام دینی ،اسلامی اور معاشرتی ضرورتوں کو پورا کرنے اور ان کی علمی تشنگی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی ،جس کا لازمی اثر یہ ہوا کہ آج مدارسِ اسلامیہ اپنی مرکزی حیثیت کی بنا پر حیاتِ اسلامی کا جزوِ لانیفک ثابت ہورہے ہیں۔

اسلامی مدارس حفاظتِ دین کے قلعے اور علوم اسلامیہ کے سرچشمے ہیں ۔ان کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو ایک طرف اسلامی علوم کے ماہر،دینی کردار کے حامل اور فکری اعتبار سے صراطِ مستقیم پر گام زن ہوں، دوسری طرف وہ مسلمانوں کی دینی و اجتماعی قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں۔ان میں تہذیب و ثقافت،غیرت و حمیت،ایما ن داری ،وفاشعاری اور ان تمام اخلاقی و معاشرتی قدروں کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے ،جن سے دنیا میں بسنے والے ایک امن پسند شخص کو آراستہ ہونا چاہیے۔

ان مدارس نے امتِ مسلمہ کو دین کے ہر شعبے میں رجالِ کاردیے ہیں؛خواہ عقائد ہوں یا عبادات،یا معاملات ،یا معاشرت ،یا اخلاق،غرض کہ دینی زندگی کے تمام شعبوں میں امت کی راہ نمائی کے لیے افراد تیار کیے ہیں۔ان اداروں میں امت کے نونہالان غذائے روحانی کے ذریعہ نشوونما پاتے ہیں اور شدہ شدہ تعلیمات اسلام و اخلاقیہ سے شادابی و سیرابی حاصل کر کے ایک مضبوط تناور درخت بن کر عوام الناس کو اپنے گھنے سائے اور میٹھے پھلوں سے مستفید کرتے ہیں ۔جس کے ذریعہ امت تازہ دم،تن درست و توانا ہو کر اسلامی دھارے کی طرف اپنی زندگی کورواں دواں رکھتی ہے۔

تمام مدرسوں اور دینی اداروں نے اپنے مقاصد تاسیس کی روشنی میں تعلیم و تربیت کو فروغ دیا ہے۔جہالت و ناخواندگی کا قلع قمع کیا اور مسلمانوں کی تعلیمی حالت کو درست سے درست تر بنایا ہے۔ملک کی شرحِ خواندگی کو بڑھانے میں نہ صرف حکومت کا ہاتھ بٹایا؛بلکہ اس سے آگے بڑھ کر حکومت کی مدد کی ہے۔اسلامی اخلاق اور انسانی قدروں کی آبیاری کی ہے۔برادرانِ وطن کے ساتھ یک جہتی ورواداری اور صلح و آشتی کے ساتھ پر امن بقائے باہم کے اسلامی اصول پر سختی سے عمل کیا ہے۔فرقہ وارانہ میل جول اور ربط و تعلق کو فروغ دیا ہے اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی ،وطنِ عزیز کی آزادی وخود مختاری کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سرفروش قائدین و راہ نما پیدا کیے ہیں۔

اگر یہ دینی ادارے اور مدارس نہ ہوتے تو امت کو دینِ متین کی صحیح شکل ملنی مشکل تھی۔معاشرہ میں باطل کے پھیلائے گئے جال سے چھٹکارا نہ ملتا۔صلح و آشتی اور امن و سکون قائم نہ ہوتا۔ملک وقوم کی ترقی نہ ہوتی۔وطنِ عزیز کو سام را جیت سے آزادی نہ ملتی اور امت ِ مسلمہ اپنے حقوق ِ اسلامیہ کو بھی حاصل نہ کرپاتی۔

استخلاصِ وطن کی تحریک میں دینی مدارس کے علماء وفضلاء کا جو رول رہا ہے،وہ ایک تاریخی ریکارڈ کا درجہ رکھتا ہے۔فضلائے مدارس نے ہی اسلام کی عزت و ناموس کی پاسبانی کی اور بگڑ ی ہوئی معاشرت کو سنوارا۔ان مدارس سے وطن کے سپاہی ،ملک کے محافظ اور مجاہدینِ ملت پیدا ہوئے ہیں ،جنہوں نے باطل کے ایوانوں میں رخنہ پیدا کردیا اور عملاً میدان میں اتر کر سرفروشی کی بھی سنت تازہ کردی۔

ملک کی آزادی کے بعد ملت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کوپھر سے جمع کرنا اور تنکے سے آشیانہ بنانا جیسے مشکل ترین کام کو صحیح معنوں میں مدارس کے تربیت یافتہ علماء نے ہی انجام دیا۔ملتِ اسلامیہ کی دست گیری کی اور اسے منزل جستجو میں سرگرم کرنے کا فریضہ انجام دیا۔

اس سلسلے کا سب سے اہم پہلو تعلیم کے پھیلاؤ اور خواندگی کے مشن کو تحریک دینے اور آگے بڑھانے کاہے ۔”تعلیم سب کے لیے“کے فارمولے کے تحت مدارس و مکاتب نے بنیادی تعلیم کو اُن فقرزدہ اور خاک نشین طبقات کے لیے بھی آسان اور قابل حصول بنادیا،جہاں تک پہنچنے میں حکومتی مشنریاں تھک ہار جاتی ہیں۔

تعلیم کے فروغ میں مدارس اور حکومت کی کارگردگی کا موازنہ کیا جائے تو مدارس کی خدمات نمایا ں اور محسوس شکل میں نظر آتی ہیں ۔ملک میں جوتعلیم گاہیں قائم ہیں، چاہے وہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے عصری ادارے ہوں یا اعلیٰ تعلیم کے، وہ پرائیوٹ سطح پر چل رہے ہوں یا حکومت کی سرپرستی میں،بچوں کے والدین یا حکومت کی طرف سے اس کی مکمل کفالت کی جاتی ہے۔جن والدین کے پاس مال و دولت کی کثرت ہے،وہ اپنے لختِ جگر کے لیے بڑی بڑی ڈگریاں آسانی سے خرید لیتے ہیں ۔ان اسکولوں میں ڈونیشن،ماہانہ اور سالانہ فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہیں۔گویا یہ اسکول اور کالج قوم کے فرزندوں سے روپے اینٹھتے ہیں، پھر انہیں تعلیم دیتے ہیں ۔ان کے برخلاف مدارس ہیں کہ وہ ملک کو دیتے بہت کچھ ہیں؛لیکن لیتے کچھ نہیں۔

مفت تعلیم، جو ایک فلاحی ریاست کے تصور میں ترجیحی حیثیت رکھتی ہے ،ملک کے مدارس اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔تعلیم کو ہر اعلیٰ و ادنی طبقہ تک یکساں طور سے پہنچانے میں حکومتی اسکیمیں ناکام رہی ہیں؛لیکن دینی مدارس کا تعلیمی و تنظیمی ڈھانچہ ہرطبقے کے لیے یکساں طور پر یکساں تعلیم کو یقینی بناتا ہے۔

خدمت خلق کے میدان میں دینی مدارس کے فضلاء کی خدمات نمایاں ہیں۔قدرتی آفات اور دیگر مواقع پر مدارس کے فضلاء اپنی خدمات فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔یہ مدارس اپنے طلبہ میں محنت و جفاکشی کا مزاج پیدا کرتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ بہت سے مدارس کے فضلاء آج ایسے عہدوں پر نظر آتے ہیں جو ان کے اختصاص سے ہٹ کر ہیں ۔حال میں کئی یونیورسٹیوں کے ذمہ دار اساتذہ دینی مدارس کے فضلاء ہوئے ہیں اور اب تو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور عالمی زبانوں پر حاوی ہونا ان کے لیے کوئی بڑی چیز نہیں رہ گئی۔

بہر حال امت کی تعلیمی حالت کو پروان چڑھانے،قوم و ملت کو عزت و شرافت اور باوقار زندگی عطا کرنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کو فروغ دینے میں مدارسِ دینیہ نے اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں۔مدارس مجموعی طور پر پورے ملک اور قوم کا اثاثہ ہیں۔ان کی حفاظت اور نصر ت و اعانت کی کوششوں میں ہاتھ بٹانا ہر ایک کا فریضہ ہے۔





دینی مدارس انسانیت کی فلاح وبہبود کے سرچشمے
ہماری آج کی دنیا جن طوفانی حوادث اور انسانی برادری جن تباہ کاریوں کے دور سے گزر رہی ہے ، عقل وفہم اور علم وفراست رکھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے صرف ایک دن کی اخباری خبریں کافی ہیں ، لیکن ان حوادث وتباہ کن حالات پر غور کرنے، ان کے حقیقی اسباب ومحرکات کو معلوم کرنے اور اس کا اعتراف کرنے او رپھر ان کے ازالہ ومداوا کرنے کے سلسلہ میں سوچنے اور فکر کرنے والے لوگ دور دور تک نظر نہیں آتے ، بلکہ اگر اس کی کچھ لوگ فکر کرتے ہیں تو اُلٹا انہیں کو مجرم ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے اورکوشش ہی نہیں بلکہ ان سے ایسا ڈرایا جاتا ہے ، جیسے پھاڑ کھانے والے درندوں، زہریلے سانپوں اور بچھوؤں سے ڈرایا جاتا ہے ، جو لوگ انسانوں میں انسانیت کی جُوت جگانے، ایک دوسرے سے پیار ومحبت کرنے، ایک دوسرے کے رنج وغم میں شریک ہونے کی تعلیم دیتے ہیں ، اچھے اخلاق سکھانے اور اچھا سماج بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کام کے لیے جگہ جگہ مدرسے قائم کر رکھے ہیں ، انہیں کے کام کو تخریب کاری اور فساد پھیلانیسے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ان دینی مدارس کا پہلا کام انسانی آبادی کے لیے ایسے انسان تیار کرنا ہوتا ہے جن کو انسانوں سے محبت ہو وہ انسانوں کی بھلائی اور سکون واطمینان پیدا کرنے والی باتوں کو رواج دیں ، ان کے اخلاق اچھے ہوں ، وہ سچے ہوں اور سچائی کا سبق سکھاتے ہوں ، ان کے اندر کم زوروں کی مدد کرنے کا شوق اور جذبہ ہو، وہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ان کے ذہنوں میں خدا کے آخری نبی محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد تازہ ہو :
”رحم کرنے والوں پر رحمن رحمت بھیجتا ہے ، تم زمین والوں پر رحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔“ ( ترمذی ،ا بوداؤد)

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ہر جان دار اورمخلوق کے ساتھ رحم ومحبت کا حکم دیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
” مخلوق الله کی عیال (کنبہ) ہے تو الله کو سب سے زیادہ محبوب وہ مخلوق ہے جو اس کے عیال ( کنبہ) کے ساتھ حسن سلوک کرے۔“ ( بیہقی فی شعب الایمان)

اعلیٰ اقدار کی حامل اسی طرح کی بہت سی چیزیں مدار س میں بتائی اور سکھائی جاتی ہیں ، مدرسہ کی تعلیم ظلم وزیادتی سے روکتی اور اس کے خطرناک نتائج سے ڈراتی ہے، جو انسانوں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں ، دوست تو دوست دشمنوں تک کے ساتھ انصاف کرنے کا مدرسہ سبق پڑھاتا ہے۔ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے :
ترجمہ:” اور کسی قوم کی عداوت تم کو اس گناہ پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ انصاف نہ کرو ، تم ہر حال میں ہر ایک کے ساتھ انصاف کرو، تقویٰ کی شان کے یہی زیادہ مناسب ہے۔“ ( المائدہ)

یہ ہے بہت مختصر بلکہ خلاصة الخلاصہ مدرسہ کے اس کام کا، جس میں پوری انسانیت، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ساری مخلوق کی راحت کا سامان ہے اور آج اسی کے نہ ہونے سے پوری دنیا میں قتل وخوں ریزی کا بازار گرم ہے اورانسانی جانوں کی قیمت کیڑے مکوڑوں کے برابر بھی نہیں رہ گئی ہے، فحش کاری اور بے حیائی نے جانوروں کو بھی مات کر دیا ہے ، مگر یہ کتنی حیرت ناک بات ہے کہ انسانیت کا سبق پڑھانے والے انہیں مدارس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں، حد یہ ہے کہ اخلاقی انار کی او ردہشت وبربریت سے روکنے کے جتن کرنے وا لے انہیں مدارس کو دہشت گردی کی تربیت گاہ بتایا جارہا ہے:
”خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہیے!“

کیا برسہا برس تک سری لنکا میں جو کچھ ہوا ، یہ کرنے والے لوگ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے؟ برما میں ظلم وجور کے جو پہاڑ مسلمانوں پر توڑے گئے ، کیا یہ ظلم کرنے والے لوگ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے؟ امریکا وافریقہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے کیا یہ لوگ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے اور ہیں ؟ فلسطینیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ برسہابرس سے توڑے جارہے ہیں کیا یہ ظلم کرنے والے لوگ کسی مدرسہ کے تربیت یافتہ ہیں؟ روسی مسلمانوں کے ساتھ ستر سال تک جو سلوک کیا گیا، کیا یہ سب لوگ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے؟ اور جو دو عظیم جنگیں ہوئی ہیں ، جن میں بے شمار جانیں گئی ہیں، کیا یہ جنگ کرنے والے لوگ کسی مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے ؟ ہیروشیما اور اس سے قبل جلیان والا باغ میں جو کچھ ہوا ہے کیا یہ سب مدارس کے فارغ لوگ تھے ؟ او رہمارے ملک میں جو رہ رہ کر ایک طوفان سا اٹھتا رہتا ہے ، عزتیں لٹتی ہیں ، بچے یتیم ہوتے ہیں ، املاک وجائیدادیں جلا کر خاک کر دی جاتی ہیں او رحد یہ ہے کہ بسا اوقات خود وہ لوگ اس میں پورے دھیان او رتوجہ کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں جو حفاظت کے لیے متعین ہوتے ہیں ، بوسنیا اور چیچنیا میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا، یہ خون بہانے والے مدرسہ کے پڑھے ہوئے لوگ تھے؟ آنکھ میں دھو ل جھوکنے کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے !!!

جس جگہ اگر سانپ نکلے آئے تو مارنے کے لیے ڈنڈا بھی نہ ملے اور جس جگہ پولیس وانتظامیہ کے لوگ آکر یہ کہیں کہ یہاں آکر روح کو بڑا سکون ملتا ہے ، اس کو تو دہشت گردی کی تربیت گاہ کہا جائے اور جہاں قتل کے واقعات ہوں ، ناجائز اسلحے برآمد ہوں، بم پھٹتے ہوں، ہر وقت پولیس کو چوکس رہنا پڑتا ہو ، گرفتاریاں ہوتی رہتی ہوں ، اس کو امن وامان کی جگہ کہا جائے یا کم از کم یہ کہ اس کے بارے میں زبان تک نہ ہلائی جائے۔

اس وقت مغربی میڈیا اپنی پوری توانائی اس پر صرف کیے دے رہا ہے کہ اسلام دہشت گردی سکھاتا ہے ، مسلمان دہشت گرد ہوتا ہے اوراپنے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالتا کہ وہ کیا کررہا ہے۔

اس وقت پورے میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے، اس نے اسلام ومسلمانوں کے خلاف آگ اگلنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، یہ ان کے پروٹوکول میں شامل ہے کہ ہمارے قبضہ وتصرف میں ایسے اخبارات ہوں گے جو مختلف گروہوں اور جماعتوں کی تائید کریں گے، خواہ یہ جماعتیں جمہوریت کی داعی ہوں یا انقلاب کی حامی، حتی کہ ہم ایسے اخبارات کی بھی سر پرستی کریں گے جو انتشار وبے راہ روی ، جنسی واخلاقی انار کی ، استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکم رانوں کی مدافعت او رحمایت کریں گے۔

انسانیت سے قدیم بغض وعداوت، یہودی نسل کے تقدس پر ایمان کامل، اسرائیلی خون کی عبادت وپرستش کی حد تک عظمت اور تاریخ انسانی کے ہر دور اور روئے زمین کے ہر گوشہ میں بقیہ انسانی نسلوں اور قوموں کو ہر اہلیت وصلاحیت سے محروم سمجھنا، پوری دنیا پر تسلط حاصل کرنے کا منصوبہ، شروفساد کا طبیعت ثانیہ اور افتاد طبع بن جانا، تشدد اور دہشت انگیزی کا قومی خصائص اور موروثی عادتوں کا درجہ اختیار کر لینا۔

یہ تصویر یہودیوں کی تاریخ کے ساتھ اس طرح وابستہ ہے جس طرح مزاج انسان کے ساتھ، اس لیے کہ سازش ان کی تاریخ کی سب سے بڑی بنیاد اور ان کے نظام زندگی کا سب سے بڑا ستون ہے، یہ وہ محور ہے ، جس کے گردان کی ساری ذہانت او رکاوش گھومتی ہے ، یہی وہ دماغ یا خفیہ ہاتھ ہے جو ہر بغاوت ، انقلاب ، سازش، تخریبی نظریات، تباہ کن فلسفوں اور ہر قسم کی بے چینی ، اضطراب ، انارکی او رہر طرح کے اقتصادی، سیاسی ، اجتماعی اور اخلاقی بحران کے پیچھے کام کر رہا ہے ، ان ساری باتوں کی تصویر ایک ممتاز یہودی ڈاکٹر آسکرلیوی نے اپنے اس فخریہ جملہ میں کھینچ دی ہے:

” ہم ہی دنیا کے حاکم اور مفسد ہیں، ہم ہی تمام فتنوں کو ہوا دیتے ہیں، ہم ہی جلاد ہیں۔“

جن یہودیوں نے اپنی تصویر خود اس طرح پیش کی ہے او راس پر فخر کرتے ہیں ، وہ کس منھ سے ان اسلامی تعلیمات کو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا، تلمود تک کی تعلیم یہ ہے کہ مسیحیوں کا قتل ان فرائض میں سے ایک ہے جن پر یہودی قاتل کو الله تعالیٰ بھرپور بدلہ عطا فرمائے گا۔

جن کی مذہبی تعلیم یہ ہو اور جن کا منصوبہ یہ ہو کہ پوری انسانی برادری کو اخلاق واقدار سے عاری کرکے جانوروں کی صفت میں لاکھڑا کیا جائے ، وہ ان لوگوں کو دہشت گردی کا الزام دیں جو انسانیت کا سبق پڑھاتے ہیں، ان کے اخبار، ٹیلی ویژن اور ریڈیو سب اس کے لیے وقف ہوں او راس جھوٹ میں ان کو ذرا جھجک نہ ہو ، یہ کتنی حیرت ناک بات ہے او را س سے بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں بھی انہیں کی راہ چلنے لگیں … اور انہیں انسانیت دشمن لوگوں کی بولیاں بولنے لگیں اور یہمعلوم کرنے کی قطعاً فکر نہ کریں کہ انسانوں کی فلاح وبہبود کا سبق کہاں سے ملتا ہے ؟ امن وسکون کے چشمے کہاں سے پھوٹتے ہیں ؟

دنیا میں جہاں کہیں اخلاق وکردار کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہو انہیں مدارس کی دین ہے ، وہ اس اسلام ہی کی دین ہے ، جس کو بد نام کرنے اورجس کی صورت کو بگاڑ کر پیش کرنے کے لیے مغربی میڈیا اربوں ،بلکہ کھربوں روپے خرچ کر رہا ہے ، یہودیوں کے پروٹوکول میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میڈیا کے ذریعہ ہم جب او رجہاں چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کریں گے اور جب مصلحت دیکھیں گے انہیں پر سکون کر دیں گے ، اس کے لیے ہم صحیح اور جھوٹی خبروں کا سہارا لیں گے، ہم یہودی ایسے مدیروں، ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں کی ہمت افزائی کریں گے جو بد کردار ہوں او ران کا مجرمانہ ریکارڈ ہو ، ہمارا یہی معاملہ بدعنوان سیاست دانوں، لیڈروں اور مطلق العنان حکم رانوں کے ساتھ ہو گا، جن کی ہم خوب تشہیر کریں گے او ران کو دنیا کے سامنے ہیروبنا کر پیش کریں گے ، لیکن ہم جیسے ہی محسوس کریں گے کہ وہ ہمارے ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں بس! فوراً ہم ان کا کام تمام کردیں گے۔

جو بات ان کے پروٹوکول میں شامل تھی آج کتنا کھل کر اپنے پورے اثرات کے ساتھ دنیا کی قوموں کے سامنے آگئی ہے ، مگر اس ترقییافتہ زمانہ میں بھی اپنی دانش وری کے دعوے کے ساتھ قومیں ان کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے کس طرح متاثر ہیں کہ عقل وخرد سے ادنیٰ کام لیے بغیر انہیں مکارّوں کے دام فریب میں پھنستی جارہی ہیں اور انسانوں کی فلاح وبہبود کے راستہ کی جستجو میں نہیں لگتیں، بلکہ یہ یہودی جوکہ دیں وہی پتھر کی لکیر بن جاتا ہے اور دنیا کی ساری قومیں اندھی بہری ہو کر اسی کے پیچھے دوڑنے لگتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت دنیائے انسانیت ہلاکت کے مہیب غار پر آکھڑی ہوئی ہے۔

ہم مشرقی قوموں کا فرض ہے کہ ان انسانیت دشمن لوگوں کی حقیقت کو سمجھیں او راپنی حفاظت کی فکر کریں، نہ یہ کہ ان کے پروپیگنڈے کا شکارہو کر ہم بھی انہیں کی بولی بولنے لگیں اور ان اصولوں اور فطری ضابطوں کی تعلیم دینے والے افرادو مراکز کو دہشت گرد اور دہشت گردی کا اڈا ہونے کا الزام دیں، جن لوگوں اور جگہوں سے انسانیت کی فلاح وبہبود کے چشمے پھوٹتے ہیں۔






مدرسہ اور طالبان علوم نبوت

قال الله عزوجل: ﴿ثم اورثنا الکتٰب الذین اصطفینا من عبادنا﴾․
ترجمہ: پھر ہم نے کتاب ( قرآن کریم) کا ان لوگوں کو وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا۔

قال النبی صلی الله علیہ وسلم:” العلماء ورثة الانبیاء“․
علماء (دین) انبیاء کے وارث ہیں

قارئین کرام !مضمون کا عنوان اس قدر وسیع ہے کہ بحر بیکراں، جس نکتے پر قلم اٹھایا جائے اس کی وسعت ختم نہیں ہوگی ،موضوع کی اہمیت اور وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ میں آپ کے سامنے اپنی مختصر سی جاری زندگی کے تجربات اور اپنے محدود مطالعہ کے نتائج بے تکلف رکھ دوں اور زندگی کے سفر کی سب سے قیمتی اور عزیز سوغات آپ کے سامنے پیش کردوں۔

مدرسہ کیا ہے؟
ہمیں سب سے پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دینی مدرسہ کامقام ومنصب کیا ہے؟مدرسہ کیا ہے؟چنا ں چہ مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے، جہاں سپاہی تیار ہوتے ہیں ، مد رسہ عالم اسلام کا بجلی گھر(Power House)ہے جہاں سے اسلامی آبادی، بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے،مدرسہ اس ٹیوب ویل اور نہرکی حیثیت رکھتا ہے جس سے پورے علاقے کی زمین سیراب ہوتی ہے ، مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب ونگاہ اور ذہن ودماغ ڈھلتے ہیں، مدرسہ وہ مقام ہے جہاں پور ی کائنات کا احتساب ہوتا ہے،اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے،جہاں کا فرمان پورے عالم پر نافذہے، عالم کا فرمان اس پر نافذ نہیں ،مدرسہ کا تعلق کسی تمدن، کسی عہد ، کسی کلچر،زبان وادب سے نہیں کہ اس کی قدامت کا شبہ اور اس کے زوال کا خطرہ ہو،بلکہ اس کا تعلق براہ راست نبوت محمدی سے ہے ،جو عالم گیر بھی ہے اور زندہ جاوید بھی ،اس کا تعلق اس انسانیت سے ہے جو ہر دم جواں ہے قدیم و جدید کی بحثوں سے بالاترہے ،وہ تو ایسی جگہ ہے جہاں پر نبوت محمدی کی ابدیت اور زندگی کا نمواور حرکت دونوں پائے جاتے ہیں۔

مدرسے کی ذمے داری اور گراں باری
معزز قا رئین !کسی مدرسے کے لیے اس سے بڑھ کر قابل احتجاج اور قابل اعتراض لفظ نہیں ہوسکتے کہ وہ محض دارالآثار یا کسی قدیم عہد کی یادگاررہے ،ہم اس کو مدرسہ کے حق میں ازالہٴ حیثیت عرفی کے مرادف سمجھتے ہیں ،مدر سے کوہر مرکز سے بڑھ کر مستحکم ،طاقتور ،زندگی کی صلاحیت رکھنے والا اور حرکت ونمو سیلبریز سمجھتے ہیں،وہ نبوت محمدی کے چشمہ حیواں سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے ان کشت زاروں میں ڈالتا ہے،وہ اگر اپنا کام چھوڑدے تو نہ نبوت محمدی کا دریا پایاب ہونے والا ہے،نہ انسانیت کی پیاس بجھنے والی ہے،نہ نبوت محمدی کے چشمہ فیض سے بخل اور انکار ہے،نہ انسانیت کے کاسئہ گدائی کی طرف سے استغنا کا اظہار،ادھر سے ”انماانا قاسم واللہ یعطی“ کی صدائے مکرر ہے تو ادھر سے”ھل من مزید،ھل من مزید“ کی فغانِ مسلسل ،مدرسہ سے بڑھ کر کو نسا زندہ متحرک اور مصروف ادارہ ہوسکتا ہے،زندگی کے مسائل بے شمار ،زندگی کے تغیرات بے شمار ،زندگی کی ضرورتیں بے شمار،زندگی کی غلطیاں بے شمار ،زندگی کے فریب بے شمار ،زندگی کے راہ زن بے شمار،زندگی کی تمنائیں بے شمار ،زندگی کے حوصلے بے شمار تو مدرسہ نے جب زندگی کے پر پہلو کی راہ نمائی ور دستگ گیری کا ذمہ لے لیا تواب اس کے پاس فرصت کہاں؟

دنیا میں ہر ادارہ ،ہر مرکز اور ہر فرد کو راحت و فراغت کا حق حاصل ہے ،اس کو اپنے کام سے چھٹی مل سکتی ہے، مگر مدرسہ کو چھٹی نہیں،دنیا میں ہر مسافرکے لیے آرام ہے، لیکن اس مسافر کے لیے راحت حرام ہے!اگر زندگی میں ٹھہراؤ ہو،سکون و وقوف ہو تو کوئی حرج نہیں کہ مدرسہ بھی چلتے چلتے دم لے لے، لیکن جب زندگی رواں دواں ہے تو مدرسہ میں جمود اور تعطل کی گنجائش کہاں ہے، اس کو قدم قدم پر زندگی کا جائزہ لیناہے ،بدلتے ہوئے حالات میں احکام دینے ہیں،ڈگمگاتے ہوئے پیروں کوجمانا ہے،وہ زندگی سے پیچھے رہ جائے یا تھک کر بیٹھ جائے،یاکسی منزل پر قیام کرلے ،یااس کو کوئی مقام اچھا لگنے لگے تو زندگی کی رفاقت اور قیادت کون کرے گا؟سرود ازلی اور پیغام محمدی کون سنائے گا؟تو مدرسہ کا تعطل ،قیادت سے کنارہ کشی ،کسی منزل پر قیام، خودکشی کا مرادف اور انسانیت کے ساتھ بے وفائی کا ہم معنی ہے اور کوئی خود شناس اور فرض آشنا مدرسہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

طلبہ و فضلا کی ذمہ داریاں
میرے عزیز طلبائے کرام !مدرسہ کے طالب علم کی حیثیت سے آپ کا کام سب سے زیادہ نازک اور سب سے زیادہ عظیم ہے،میں نہیں جانتا کہ اس وقت دنیا کی کسی جماعت کسی گروہ کاکام اتنا نازک ہو،اتنا وسیع اور اہم ہواور آپ کا کام آپ ہی کو کرنا ہوگا، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، آپ جہاں بھی ہوں ،جیسے بھی ہوں،جس حالت میں بھی ہوں، آپ کا کام آپ ہی کو کرنا ہوگا،آپ کے سامنے میدان بہت وسیع ہے اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے اور آپ کا کام گاؤں کے ایک ڈاکٹر کی طرح ہے کہ پورے گاؤں میں وہی ایک ڈاکٹر ہوتا ہے اور ہر قسم کی بیماری کا علاج کرتا ہے، بعینہ اسی طرح آپ کو بھی ہر علم وفن میں مہارت حاصل ہونی چاہیے ،علوم نقلیہ وعقلیہ دونوں میں پوری بصیرت اور دست گاہ حاصل ہو،تمام علوم میں مجتہدانہ نظر ہو،وسعت نظر کے ساتھ دولت یقین سے بھی مالا مال ہو،اپنے ذاتی تفکر ،تلاش وتحقیق اور ریاضت و عبادت سے دین کے ان ابدی حقائق پر نیا ایمان حاصل ہو،نئے اعتماد،تازہ یقین کے ساتھ، علی وجہ البصیرةدین کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداکا داعی ہو،نیز عالم اسلامی اور علمی دنیا میں اپنے علم و یقین اور فکرونظر سے ایک نئی روح اور زندگی کی ایک نئی لہر پیداکرتا ہواور ہر دقیق سے دقیق تر ،مغلق سے مغلق مسائل کا آپ کے پاس حل ہونا چاہیے ۔

اب ذرا دوبارہ ان الفا ظ پر غور کیجیے کہ آپ کا ایک سرا نبوت محمدی سے اور دوسرا سرا زندگی سے ملا ہوا ہے،نبوت محمدی سے وابستگی اور اتصال جہاں ایک بہت بڑی خوش نصیبی اور سر فرازی ہے، وہاں ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے کہ آپ کے دلوں میں انسانیت کی حمایت و نصرت کا جذبہ موجزن ہونا چاہیے ،آپ جہاں احکام خداوندی اور تعلیمات اسلامی کو سن کر سمعناو أطعنا کہیں ،وہاں جاہلیت کے علم بردار وں کو مخاطب کرکے کہیں کہ ﴿کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوة والبغضاء ابداً حتی توٴمنوا باللہ وحدہ﴾․

آپ اسلام ہی کی رہنمائی ،اور اسوہ محمدی ہی کی روشنی میں دنیا کی نجات کا یقین رکھتے ہوں اور اس پر عقیدہ ہوکہ اس طوفان نوح میں سفینہ نوح صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت وامامت ہے اوریہ بالکل حقیقت ہے کہ:
        محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسرا ست
        کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سر او

آپ تعلیمات نبوت کوعلم کالب لباب اور حقیقة الحقائق سمجھتے ہوں،آپ اس کے مقابلے میں تمام دنیا کی الہیات و فلسفہ مابعد الطبیعات اور قیاسات وروایات کو افسانہ و خرافات سے زیادہ وقت دینے کے لیے تیار نہ ہوں، اور بدعات کے مضر اور نامقبول ہونے پر آپ کو شرح صدر ہو،الغرض آپ اعتقادی ،ذہنی ،فکری ،قلبی ،ذوقی اور عملی حیثیت سے نبوت محمدی کی جامعیت اور عملیت کے قائل، اس کی عملی تفسیرہوں۔

طالبان علوم نبوت کامقام 
دنیا کے مقابلے میں آپ کا مقام وامتیاز یہ ہے کہ ان حقائق پر دوسروں کا اجمالی ایمان کافی ہے، مگر آپ کو اس پر پورا ذہنی اطمینان اور شرح صدر ہونا چاہیے ،آپ کا صرف قائل ہونا کافی نہیں، اس کا داعی ہونا ضروری ہے ،تو پھر تمہارا مقام کیاہوگا!کہ اپنے شہر نہیں، پورے ملک، بلکہ پوری امت اور ملت کی تقدیر بدل سکتے ہو،تم وہ پارس بن جاؤ گے کہ اگر تم سے کوئی خداکا باغی وسرکش چھو جائے تو وہ ولی کامل بن جائے ،جس بستی میں تم قدم رکھو وہاں بہار آجائے ،وہاں کا موسم اور فضا بدل جائے ،تمہاری وجہ سے پتہ نہیں کتنی قومیں جنت کی حق دار بن جائیں ،بے شک نبوت تو ختم ہوچکی، لیکن تم اٰیة من اٰیات اللہ بن سکتے ہو،حجةالا سلام اور شیخ الاسلام بن سکتے ہو، اگر تم کام یابی وترقی کا فیصلہ کرو تو اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ تمہاری مدد کرے گا ،پورا نظام کائنات تمہارے لیے وقف ہوجائے گا۔

بس عزیزو!محنت کرلو ،گھروں کو بھول جاؤ ،کھانے اور لباس کے معیار کونسیا منسیا کردو ،پس ! اپنے مقصد او رمنزل کو پیش نظر رکھو، اگر تم صاحب کمال بن جاؤ گے تو دنیا و آخرت دونوں تمہاری ہو جائیں گی۔

اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔






مدارس اسلامیہ، دین کے قلعے
الله تعالیٰ کا قانون ہے جس کا ذکر الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے اور حدیث میں بھی اس کو بیان کیاگیا ہے، وہ ہے بقائے انفع کا قانون ، جو چیز نافع ہے، جو اس کے علاوہ ہے بہہ جانے والی او رغائب ہو جانے والی ہے اور اسی کو حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے، یا جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے، تو یہ بقائے انفع کا قانون بے لاگ ہے، جو جتنا نفع پہنچانے والا ہو گا اتنا ہی باقی رہے گا، اتنا ہی مضبوط رہے گا، اتنا ہی توانا رہے گا او راپنی نفع پہنچانے والی صفت میں وہ کافی رہے گا تو ہم لوگوں کو یہ چیک کرتے رہنا چاہیے او ربار بار دیکھتے رہنا چاہیے کہ ہمارا نفع کم تو نہیں ہو رہا ہے ، کیوں کہ مدارس جو ہیں وہ نفع پہنچانے کے مراکز ہیں ،ایک طرف سے لیتے ہیں، دوسری طرف دے دیتے ہیں، وہاں سے لیتے ہیں جہاں سے کوئی نہیں لے پاتا او ران کو دیتے ہیں جو لے نہیں پاتے، جو خاص طور سے براہ راست لے نہیں پاتے ان کوپہنچاتے ہیں، تو الله تعالیٰ نے مدارس کے اندر یہ صفت رکھی تھی، اب یہ صفت ہمارے اندر سے ہی ختم ہوتی چلی جارہی ہے، اس وجہ سے نگاہیں اٹھ رہی ہیں لوگوں کی ہماری طرف، جب ہم نفع والے تھے تو نگاہیں اٹھنے سے دور تھے، جب نفع کم ہوگیا یاختم ہوتا جارہا ہے تو حالات خراب ہو رہے ہیں، جب آپس میں ناچاقی ہوتی ہے تو لڑائی ہوتی رہتی ہے۔

جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
آپ نے سنا ہو گا کہ جب زیادہ پیسے والے جمع ہو جاتے ہیں تو لڑائی زیادہ ہوتی ہے، آپ نے زیادہ آرام سے رہنے والوں کو، زیادہ پیسوں والوں کو بے تکے الفاظ سے لڑتے نہیں دیکھا ہو گا، کبھی بھی کہ سامنے گریبان پکڑ لیں، لڑنے لگیں، لیکن یہ جو چھوٹے لوگ ہوتے ہیں، ایک ایک دو دو پیسے پر لڑنے لگتے ہیں، کیوں کہ ان کے پاس خاکہ نہیں ہے اور جس کا نفع زیادہ ہوتا ہے اس کی سطح زیادہ بلند ہوتی ہے وہ لڑتے نہیں ہیں، تو اب اس طرح مدارس میں باتیں ہیں، کیوں کہ نفع ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر یہ سب نہیں ہے تو نفع باقی ہے۔

پاور ہاؤس کاConection صحیح ہو
یہ مدارس جو ہیں ان کے بہت سے کام ہیں، نمبر ایک وہ سارے کے سارے نفع سے وابستہ ہیں، ایک تویہ ہے کہ وہ بجلی لیتے ہیں، قرآن وحدیث سے اور قرآن وحدیث سے جو بجلی اکھٹاکرتے ہیں تو پاورہاؤس کی حیثیت ہوجاتی ہے اور جس کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی وہ استعمال کرتا ہے ، تویہ پاور ہاؤس ہیں، لیکن یہ پاور ہاؤس بجلی اس وقت پائیں گے، جب ان کا کنکشن ہو گا ، قرآن وحدیث سے جب ان کا تعلق ہو گا تب ان کو بجلی ملے گی اور ان سے تعلق نہیں ہو گا تو چاہے ادھر ادھر کتنے ہی تعلق ہوں۔ جتنے مذاہب ہیں ،عیسائی ہوں، یہودی ہوں، ان سب کا کیامعاملہ ہے؟ ان کا رابطہاصلسے نہیں ہے اور یہودیوں کا اور عیسائیوں کا بھی کٹ گیا ہے اور انہوں نے نمبر تین اور نمبر چار، بلکہ اس کے بعد بھی لوگوں کے اقوال سے ہی وابستگی اختیار کر لی ، تو جب اصل سے رشتہ کٹ گیا، تو انرجی جوتھی سپلائی کی، وہ ختم ہو گئی اور ان کا وہ حال ہو گیا جو عمومی طور پر ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے، تھوڑا بہت رہتا ہے وہ بھی بہت جلدی ختم ہو جاتا ہے اور وہ کام کا بھی نہیں رہتا، کیوں کہ اس کے اندر پاور نہیں رہتا، پاور پاور ہاؤس کے پاس رہتا ہے ، بڑی مشین اسی سے چلتی ہے ، چھوٹی مشینیں اس سے چل جاتی ہیں، تھوڑے وقت کے لیے، اس کے لیے کنکشن چاہیے تو ایک کام تو مدارس کا پاور ہاؤس کا ہے، تو اب خود دیکھ لیناچاہیے کہ ہمارا تعلق قرآن وحدیث سے کیسا ہے؟ اگر قوی ہے تو سمجھ لیں نفع ہے، ہمارے اندر۔ ہم پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں او رجب نفع نہیں ہے تو پھر ظاہر ہے کہ قلم جہاں لگاتے ہیں قلم دل کے پاس لگا ہوتا ہے، لیکن یہ کہ قلم دل کے پاس اس وقت تک رہتا ہے جب تک چل رہا ہے اور نفع باقی ہے اس کا، نفع اگر ختم ہو جائے قلم کا، تو نکال کے باہر پھینک دیا جاتا ہے، اس لیے کہ لکھنے کی اس کے اندر صلاحیت نہیں رہی، ایسے ہی مدارس کا معاملہ بھی ہے کہ آپ کیا دے رہے ہیں امّت کو؟ قرآن اور حدیث سے لیا کیا اور امّت کو دیا کیا؟ یہ ضروری ہے۔

مدارس شفا خانے ہیں 
نمبر دو یہ مدارس شفا خانے بھی ہیں، تاکہ مریض آکر یہاں اپنا علاج کراسکے، یہاں ہر طرح کی دوا ملتی ہے ، یہاں ہر طرح کا آپریشن ہوتا ہے، یہاں بڑے بڑے کیس آتے ہیں مریض کے اور مریض شفا پاکے چلے جاتے ہیں، تو اگر آپ کے پاس دوائیں ہیں اور نسخے ہیں تو ظاہر ہے اس کا تعلق بھی اسی سے ہے ، قرآن وحدیث سے ، یعنی قرآن مجید وحدیث سے ایسا تعلق ہے کہ آپ اس سے علاج کر سکیں، بتا سکیں مسئلہ کا حل یہ ہے اور اس کو بھی قرآن وحدیث میں ڈھونڈ سکیں، جس جگہ یہ مسئلہ آتا ہو کہ قرآن وحدیث سے مسئلہ پیش کرو، تو اس کے لیے ہے قرآن مجید میں ﴿ إِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرْکُمْ﴾․(سورہ محمد، آیت:7) مدد خدا کی کرو، مدد وہ تمہاری کرے گا، اس کی مدد کا مطلب کیا آپ جانتے ہیں؟ یعنی اس کے دین کی مدد کرو، الله تم پر احسان اس وقت کرے گا جب تم اس کی مخلوق پر احسان کرو گے اور تم مخلوق پر کیسے احسان کرو گے؟ یہ ذرا لمبی بات ہے، وقت کم ہے ، آپ ماشاء الله پڑھے لکھے حضرات ہیں، تو آپ سمجھ لیں کہ کیسے احسان کرنا ہے مخلوق پراور مخلوقات میں کتنی قسمیں ہیں جو آپ کا احسان چاہتی ہیں، ان سب پر احسان کرو تو الله کا احسان آپ پر ہو گا اور ان حالات سے بچائے جاؤ گے ، تو گویا کہ نسخے آپ کے پاس ہوں، جو مریض آئے، لگا دیجیے اس کو ، کہ یہ آپ استعمال کریں ۔یہ آپ استعمال کریں۔ تو یہ شفاخانے ہوں، کچھ دن رکھ لیا جائے، یہاں پر جس کو کہا جاتا ہے، ہر کم درکانِ نمک رفت نمک شد، تو اب یہاں کوئی آجائے تو شفا پاکر ہی نکلے گا، تو مدرسے جو ہیں وہ شفاخانے بھی ہیں۔

سابقہ کتب تھیں اور قرآن ہے
اب آپ سمجھ لیجیے، جیسے میں کہا کرتا ہوں، بہت سارے غیر مسلمین میں کہ تورات ، انجیل، زبور یہ تو قرآن میں ہیں اور وید اور گیتا یہ بھی ہیں اور اس کے اندر ایسی چیزیں ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ کی کتابیں ہیں یہ، بلکہ اس وقت تورات او رانجیل سے زیادہ توحید وید میں ہے، یہ عجیب بات ہے، توحید جتنی وید اور گیتا میں ہے، اتنی انجیل اور تورات میں نہیں ہے اور قرآن کے برابر بالکل تو نہیں کہہ سکتے، لیکن قریب قریب دونوں میں کھلی ہوئی توحید ملتی ہے، لیکن یہ کتابیں تھیں اور قرآن ہے، یہ فرق ہے، یہ تھیں، قرآن ہے، تو ایسے کہیں ہمارے ساتھ نہ ہو جائے، کہ ”تھے اور ہیں۔“ نہیں ہونا چاہیے، ایک شفاخانہ ہونا چاہیے۔

مدارس اسلام کے قلعے ہیں
نمبر تین یہ کہ یہ قلعے ہیں، پناگاہیں ہیں، کوئی دشمن کسی کو بھگا رہا ہو اور وہ مدرسوں میں آجائے گاتو محفوظ ہو جائے گا، یہ نہیں کہ مدرسوں میں آکر اور نظروں میں چڑھ جائیں کہ یہ گڑ بڑ ہے، یہ دہشت گرد ہے، یہ فلاں ہے۔ ایسا نہیں ہے پناہ گاہ پہنچ جانے کے بعد، ہے کسی کی ہمت کہ کوئی ہاتھ ڈال سکے اور کوئی گزند پہنچا سکے، اس لیے کہ اس کا تعلق کس سے ہے :﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُون﴾․(الحجر:9) سے ہے، کہ ہم نے الذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں تو گویا کہ ہمارا تعلق الذکر سے ہے تو الذکر کی حفاظت کا مطلب کیا ہوا؟ جو چیزیں الذکر سے وابستہ ہیں ان کی بھی حفاظت کی جائے، قرآن اعلان کررہا ہے، بڑے زور سے کر رہا ہے اور اس کا مشاہدہ کرارہا ہے تو ایک مشاہدہ تو یہ ہے ہی، ہر آدمی جانتا ہے کتنے حافظ ہیں، ہے کوئی جو قرآن کے سوا حافظ ہو جائے اور اس کو یا دکرلے؟ ابھی ایک سکھ صاحب ملنے آئے ہم سے، تو ہم نے کہا کہ آپ کے دھرم کا کوئی حافظ ہے؟ ندوہ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ۔ تو میں نے کہا ندوہ میں ماشاء الله ہزار حافظ ہوں گے ہی اور پورے ہندوستان میں پچاس لاکھ حافظ ہوں گے، چونک گئے، تو ہم نے کہا کہ کسی کی مجال ہے کہ قرآن مجید میں گھٹا بڑھا سکے، کرہی نہیں سکتے، حفاظت کا الله تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا۔ یہ بھی عجیب ہی ہے کہ علماء سے بھی حفاظت ہو گی، گویا کہ آپ اور ہم وابستہ ہو گئے ان علوم سے اور قرآن وحدیث سے تو ہم محفوظ ہیں۔

قرآن والے کی بھی حفاظت الله کے ذمہ ہے
جس کی آخری مثال حضرت شیخ عز الدین بن عبدالسلام ہیں ان کے بارے میں شاید آپ نے کچھ پڑھا ہو، شیخ عز الدین بن عبدالسلام جب مصر تشریف لے جارہے تھے، شام سے نکلے، راستہ میں ایک شہر پڑا تو پورا شہر استقبال کے لیے نکل آیا اور انہوں نے کہا ہمارے یہاں چلیے، ہم سب آپ کو بٹھاتے ہیں، کہا کہ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے، لیکن میرا علم بہت زیادہ ہے، میرا علم تمہارے شہر کا تحمل نہیں کر سکتا، مصر گئے، وہاں کے بادشاہوں نے استقبال کیا، شیخ الاسلام بنایا، شیخ الاسلام بنتے ہی انہوں نے فتوے جاری کیے اور کہا بادشاہ کی حکومت ناجائز ہے، لمباقصہ ہے، وقت نہیں ہے، آخر جو قصہ ہے ان کا وہ یہ ہے کہ سارا مصر خلاف ہو گیا، سارے بادشاہ ، وزراء اور سب نے کہا اس مولوی کو نکالو۔ یہی بہت گڑ بڑ ہے، وہ روز بیٹھے بیٹھے یہی سب کرتا رہے گا تو سب نے طے کر لیا کہ ان کی چھٹی کرنی ہے، سب آگئے، ان کے گھر پر، تلواریں وغیرہ لے کر اور سارے جمع ہوگئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، شیخ کے بیٹے باہر نکلے اورجب نکل کر دیکھا تو اس کو اندازہ ہو گیا کہ معاملہ گڑ بڑ ہے، تو بیٹے نے جاکر اندر کہا ابا با!باہر معاملہ گڑ بڑ ہے۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے سے بڑے اطمینان سے کہا تمہاے ابا کے حق میں شہادت کہاں لکھی ہے ؟ یہ ہے محفوظ ہونا۔ تمہارے ابا کے حق میں شہادت کہاں لکھی ہے ؟ بس یہ کہہ کر باہر نکلے اور یوں کہا: بھائی کیسے آئے؟ سب کی تلواریں نیچے گر گئیں اور کہنے لگے حضورکہیے کیا چاہتے ہیں؟ کہنے لگے میں تم سب کو بیچونگالے جاکر نخاس میں اور پھرنخاس میں بیچا، بیچنے کے بعد بادشاہ بنایا، میں سمجھتا ہوں پور ی انسانی تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا، یہ تجربہ نہیں ہے، لیکن یہ جو میں نے کہا ہے ، اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ یہ ہیں، یاتھے، یا کیا ہیں؟ آج بھی اگر وہ مقام پیدا ہو جائے تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا، لیکن اب چوں کہ پہلا ہی مسئلہ نہیں رہ گیا کہ قرآن وحدیث سے ہمارا تعلق ہو جائے اور اس سے ہم لیں، لیکن ہم تو اپنے ہی کو کھوئے ہوئے بیٹھے ہیں ،ہم کیا کام انجام دیں، بس میرے بھائیو اور دوستو! مختصر سا وقت ہے اور یہ مختصر سی بات ہے، لیکن اپنے کو سمجھو، پہلے ہم کیا تھے اور کیاہوگئے؟ ہم کو کیا کرنا تھا اور کیا کر رہے ہیں؟ اور کیا کرنا چاہیے؟ الله تعالیٰ ہم سب کی مدد فرمائے۔



آزاد دینی مکاتب ومدارس ۔۔۔ ضرورت،افادیت اور نئے چیلنجز
مولانا ابوالحسن علی ندویؒ
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ علم و تعلیم کی اشاعت وعمومیت کی تحریک اور اس کی سعی وجدوجہد تقریباًہر ملک میں اور تاریخ کے ہر دور میں،کسی نہ کسی درجہ میں خلوص وایثار،سادگی اور جفاکشی اور علمی نمونہ وکردار کے ساتھ متصف ومربوط رہی ہے اور اسی میں ناسازگار حالات،سلطنت ومعاشرہ کے انقلابات، جابر حکومتوں کی موجودگی،طبعی مرغوبات،معاشی ضروریات اور ہر زمانہ میں”معیارزندگی“بے رحم فرماں روائی کے باوجودتعلیم وثقافت (کلچر) کا ہر دور میں کام ہوتا رہا، نوشت و خواندکا دائرہ وسعت اور ترقی اختیار کرتارہا اور زندگی اور مذہب کی بہت سے حقیقتیں اور صداقتیں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہیں،اس تاریخی حقیقت کے امتحان وتصدیق کے لیے کہ تعلیمی خدمت کا ہرملک اورہردور میں کسی نہ کسی درجہ میں خلوص وایثار اور سادگی اور جفاکشی سے ربط وتعلق اور باہمی رفاقت رہی ہے، روایتی وعربی (Traditional)تاریخوں کے بجائے، جو سرکار، دربار، جنگوں اور انقلابات سلطنت اور (سیاسی، انتظامی طور پر) سر برآوردہ اشخاص سے تعلق رکھتی اور انہیں کے گرد گھومتی ہیں،ماہر علم وفن اور سماجی خدمت گاروں اور مذہبی پیشواؤں کی سوانح حیات اور تذکرے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہزاروں برس سے انسانی نسلوں میں (زبان وتہذیب اور مذہب عقائد کے اختلاف کے باوجود)جواحساسات وتاثرات نسل درنسل منتقل ہوتے رہے ہیں، ان میں ایک”پیشہ ور“(Proffessional ) اور ”غیرپیشہ ور“(Non-Proffessional)میں فرق کا تاثر اور تقلیدواتباع کا(خواہ اس پرعمل نہ ہوسکے) جذبہ اور شوق وابستہ رہاہے، فطرت انسانی کے اسی دائمی تاثر ورد عمل اور مسلمہ حقیقت کے پیش نظر،ہر دور اورہر امت میں مبعوث کیے جانے والے پیغمبر نے اپنی قوم میں ہدایت وتبلیغ کاکام شروع کرتے وقت اس کی وضاحت ضروری سمجھی کہ وہ کسی دنیاوی منفعت، مال ودولت او رمعاوضہ واجرت کا طالب نہیں، قرآن مجید کی سورہٴ شعراء میں حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام میں سے کسی کے تذکرہ میں بھی ان کے اس بیان اور اطمینان دہانی کو نظر انداز نہیں کیا گیا کہ ” میں تم سے کسی دنیاوی منفعت کا امید وار نہیں“ ہرایک کے تذکرہ میں اس کا بیان واعلان نقل کیا گیا ہے کہ:﴿ وَمَا اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العالمین﴾․

ترجمہ:”میں تم سے (اس دعوت ونصیحت اورمحنت وسعی پر) کسی معاوضہ ومنفعت کا طالب نہیں، میرا معاوضہ وانعام رب العالمین کے ذمہ ہے۔“

پھر جب خدا کا آخری دین اسلام دنیا میں آیا تو اس نے صحیح تعلیم کے کام کو اعلیٰ درجہ کی عبادت اور تقرب الی الله کا ذریعہ او راس کو انبیا کی نیابت کا منصب قرار دیا، اس کے نتیجہ میں پورے عالم میں آزاد دینی تعلیم کا نظام جاری ہوا اور آزاد دینی مدارس ومکاتب کی شکل میں مدرسے او رمکاتب قائم ہوئے اور بالعموم مسجدیں قرآن مجید اور ابتدائی دینیات کی تعلیم کا مرکز بن گئیں، سلاطین وقت کی علمی قدردانی و سرپرستی اور شوق وکوشش کے باوجود اکثر یہ مدارس اور تعلیمی مراکز آزادر ہے اور ان کا براہ راست عوام سے ربط وتعلق رہا اورعوام سے ربط وتعلق، گہرا نفسیاتی اثر اور فائدہ ظہور میں آیا، جو بالکل قدرتی ومنطقی ہے،انسان کی ایک فطرت ہے کہ جب وہ کسی ادارہ یا تحریک کی امداد میں براہ راست حصہ لیتا ہے (خواہ وہ کتنا ہی حقیر ہو)تو اس کو اس سے نفسیاتی اور جذباتی تعلق اور لگاؤ پیدا ہوجاتا ہے،اسی کا نتیجہ تھا کہ مستحکم اور طویل المیعاد اسلامی سلطنتوں کی موجودگی اور شاہان وقت کی فیاضی اور بعض اوقات دین داری کے باوجود،اس تحتی براعظم کے مسلمانوں کی اسلام سے ارادی وشعوری وابستگی،بقدر ضرورت دینی معلومات اور دینی احکام پر عمل کرنے کا جذبہ،اس آزاد دینی نظام،تعلیم اور انہیں آزاد مدارس کے ایثار پیشہ اور مخلص فضلاء کی سعی وجہد کا نتیجہ ہے،جس میں مسلم سلطنتوں اور فرماں رواؤں کا تقریباًکچھ حصہ نہیں، تاریخ وحقائق کی روشنی میں بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت تک نہ صرف اس برصغیر کے مسلمانوں کا بلکہ بیشتر یا تمام، حتیٰ کہ عرب ممالک تک کے مسلمانوں کا دین وشریعت سے ربط وتعلق اور ان کی دینی باخبری اور اسلامی ثقافت وتہذیب سے نہ صرف واقف ہونا،بلکہ اس کا حامل اور پر جوش حامی ہونا، انہیں ایثار پیشہ، رضا کار اور کسی حد تک زاہد ومتوکل فضلائے مدارس اور ناشرین علم دین کار ہین منت ہے۔

ان مدارس کے اساتذہ وفضلا میں سے متعدد اگر چہ اپنے فن کے ماہر اور یگانہ روزگار عالم ہوتے تھے۔لیکن وہ پورے افتخارواعتماد کے ساتھ یہ کہنے کے اہل تھے کہ #
        کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں
        غلام طغرل وسنجر نہیں میں
        جہاں بینی مری فطرت ہے لیکن
        کسی جمشید کا ساغر نہیں میں

اس آزاد دینی تعلیم کا ایک فائدہ یہ تھا کہ سلاطین وقت کے غلط اور بعض اوقات مخالف اسلام اور ماحی دین رجحانات،بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دین کی بیخ کنی اور استیصال کی باعزم اور منظم کوششوں کا اثر مسلم معاشرہ پر بالکل نہیں پڑسکااور درباریوں اور خوش آمدیوں کے ایک مختصر حلقہ میں محدود ہوکر رہ گیا،اس کا ایک روشن ثبوت یہ ہے کہ شہنشاہ اکبرکی(جو سلطان ترکی کے بعد اپنے وقت میں دنیائے اسلام کاسب سے طاقتوراور وسیع المملکت بادشاہ تھا) تحریک وحدت ادیان،تعطیل شریعت اسلامی،بلکہ تنسیخ دین محمدصلی الله علیہ وسلم کی منظم اور منصوبہ بند کوشش، جس میں اس عہد کے بعض ذکی ترین، بلکہ عبقری(Genius)افراد شریک تھے،مسلم معاشرہ پر قطعاًکوئی اثر نہیں ڈال سکی اور جیسا کہ بعض یورپین مورخین نے اعتراف کیا ہے،وہ چند درباری اشخاص تک محدود رہی اور مسلمان عوام اس سے کلی طورپرغیرمتاثررہے اوریہ نتیجہ ان حقانی،ربانی علماء ومصلحین اور داعیان دین کا فیض تھا،جس کا اثر عامة المسلین پر نہ صرف سرکاری درباری علماء سے زیادہ، بلکہ سلاطین وحکام سے بھی زیادہ تھا اور جن کے بعض افراد کے متعلق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ #
        جہانے را دگرگوں کردیک مردِ خود آگا ہے 

حکومت سے اسی بے نیازی،عامة المسلمین سے ربط وتعلق، وایثار و جذبہ قربانی کا نتیجہ تھا کہ جب1857ء میں مغلیہ سلطنت کا چراغ گل ہوااور مسلمان اقتدار اور اس کے منافع ومواقع سے محروم ہو گئے تو اس دینی تعلیم کے نظام و مراکز پر کوئی گہرا انقلاب انگیز اثر نہیں پڑا،بلکہ ان مدارس کے قیام کا ایک نیا جوش وولولہ پیدا ہو گیا،جو نہ صرف مسلمانوں کو دینی،ذہنی وتہذیبی ارتداد سے محفوظ رکھ سکیں ، بلکہ (نظم مملکت کو چھوڑکر)ہر طرح سے اسلامی سلطنت کی قائم مقامی کر سکیں۔

انگریز حکومت نے اپنے اقتداروتسلط اور سوچے سمجھے منصوبہ کے ذریعے مسلمانوں کے تعلیمی مراکز کی بقاوحیات کے سر چشموں کو خشک کرنے کی ایسی منظم کوشش کی جس کے بعد مدارس اور اس دینی تعلیم کے نظام کا باقی رہ جانا ایک معجزے سے کم نہیں اور وہ(تاریخی تجزیہ نگار اور فلسفئہ حیات کی روسے)محض مسلمانوں کے عزم وقوت ایمانی اور شروع سے دینی تعلیم کے آزاد رہنے کا نتیجہ تھا،انگریز حکومت کے ان انتظامات اور اقدامات کی بعض کڑیاں پیش کی جاتی ہیں جو ایک طویل اور آ ہنی زنجیر کا جز ہیں، جو کسی نظام تعلیم کے ختم کرنے کے لیے بھی کافی ہے۔

آنریبل مسٹر النفسٹن اورایف وارڈن نے مسئلہ تعلیم پر ایک یادداشت مرتب کی، جس میں حسب ذیل اعتراف موجود ہیں:

”ہم نے ہندوستانیوں کی ذہانت کے چشمے خشک کردیے اور ہماری فتوحات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ تعلیمی ترغیب نہیں ہوتی، بلکہ اس سے قوم کا علم سلب ہوا جاتا ہے اور علم کے پچھلے ذخیرے نسیاً منسیاً ہوئے جاتے ہیں“ (حکومت خود اختیاری،از مولوی سید طفیل احمد صاحب منگلوری علیگ ایم۔ایل سی، ص95)

ڈبلیو۔ڈبلیوہنٹر(W.W.Hunter)نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”ہمارے ہندوستانی مسلمان“(The Indian Musalmans) میں ہندوستانی مسلمانوں کی جائز شکایتوں کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے اور ان کو بجاقرار دیاہے:

”ان( مسلمانوں کو)شکایت ہے کہ ہم نے مسلمانوں سے مذہبی فرائض کو پورا کرنے کے ذرائع چھین لیے اور اس طرح روحانی اعتبار سے ان کے ایمان کو خطرہ میں ڈال دیا ، ہمارا بڑاجرم ان کے نزدیک یہ ہے کہ ہم نے مسلمانوں کے مذہبی اوقاف میں بددیانتی سے کام لیتے ہوئے،ان کے سب سے بڑے تعلیمی سرمایہ کا غلط استعمال کیا“۔(ہمارے ہندوستانی مسلمان، مترجمہ: ڈاکٹر صادق حسین،مطبوعہ اقبال اکیڈمی لاہور،ص219)۔

سر ولیم ہنٹر نے اپنی اس کتاب میں مسلمانوں کے نظام تعلیم ومدارس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
”انگریزوں کے ہندوستان پر قابض ہونے سے پہلے وہ ملک کی سیاسی ہی نہیں،بلکہ دماغی قوت بھی تسلیم کیے جاتے تھے،اس ہندوستانی مدبر کے الفاظ میں، جو ان سے بخوبی واقف تھا،اس کا تعلیمی نظام اگرچہ اس نظام کے مقابلہ میں کم درجہ پر ہے، جسے ہم نے رائج کیا ہے، لیکن پھر بھی اس کو حقارت کی نظر سے دیکھنا غلطی ہے ، کیوں کہ وہ اعلیٰ دماغی تعلیم و تربیت کااہل تھا ،اس کی بنیادیں بالکل ہی ناقص اصولوں پر نہ تھیں، گو ان کے پڑھانے کا طریقہ بہت پرانا تھا ،لیکن یقینی طور پر وہ ہر اس طریقہ سے برتر رہا جو اس وقت ہندوستان میں رائج تھا،مسلمان اس طریق تعلیم سے اعلیٰ قابلیت اور دنیاوی برتری حاصل کرتے“۔(ایضا!ص259)

ڈاکٹر ہنٹر کی اس کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد اور غیر سرکاری تعلیم گاہوں کا ذریعہ آمدنی کیا تھا اور وہ کیوں ہر طرح کے ناسازگار حالات کے باوجود نہ صرف زندہ بلکہ مفید اور کار آمد رہے وہ لکھتا ہے:

”ہم نے ان کے(مسلمانوں کے)طریقہ تعلیم کو بھی سرمایہ سے محروم کردیا،جس میں اس کی بقا کا دارومدار تھا،مسلمانان بنگال کا ہراعلیٰ خاندان ایسے اسکول کا خرچ بھی برداشت کرتاتھا جس میں خود اس کے اور غریب ہمسایوں کے بچے مفت تعلیم حاصل کر سکتے تھے،جوں جوں صوبہ کے مسلما ن خاندانوں پر ادبار چھاتاگیا، یہ خاندانی اسکول کم ہوتے گئے اور ان کے اثرات بھی کم ہوتے گئے، زمانہ قدیم سے ہندوستانی شہزادوں کا دستور چلا آتا تھا کہ وہ نوجوانوں کی تعلیم او ر خدا کی رضا جوئی کے لیے زمین کے قطعات وقف کر دیتے“۔(ایضاًص267)۔

حکومت برطانیہ کی اس منظم ومسلح معنوی وثقافتی نسل کشی (Genocide Cultural) ، اوقاف کی ضبطی، سرکاری ملازمتوں کے لیے فضلائے مدارس کی نااہلی کے قانون اور اس سب سے بڑھ کر قدیم دینی تعلیم کے متوازی پرائمری اور ہائی اسکولوں کی سطح سے لے کر کالجوں اوریونیورسٹیوں کے ملک گیر نظام کے قائم کرنے اور ان میں ہر طرح کی کشش اور ترغیب کے پہلو کے موجود ہونے کے باوجود ، مسلمان اپنے دین اور اس کی ثقافت ( کلچر) اور تہذیب ومعاشرہ سے وابستہ رہے اور وہ کسی بڑے پیمانہ پر بلکہ قابل ذکر سطح پر بھی دینی، تہذیبی وثقافتی ارتداد کا اس طرح شکار نہیں ہوئے، جس طرح اسپین کے مسلمان زوال حکومت اسلامی کے بعد شکار ہوئے ، یہ تنہا آزاد دینی تعلیم اور آزاد مدارس ومکاتب اور ان کے فضلاء، وہاں سے تعلیم پاکر نکلنے والے مفتیوں،قاضیوں، واعظوں او رائمہ مساجد کا فیض تھا اور انہی کی وجہ سے نہ صرف علوم دینیہ، بلکہ قرآن مجید پڑھنے اور یاد کرنے کی صلاحیت ، اردو میں نوشت وخواند کی قابلیت اس نسل تک باقی رہی، اس بنا پر عہد جدید کے نامور ترین مفکر او رترجمان حقیقت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے مدارس دینیہ پر تنقید کرنے والے ایک مسلمان صاحب قلم کی تنقید پر یہ فرمایا کہ ” ان دینی مدارس کو کچھ نہ کہو، اگر یہ باقی نہیں رہے تو ہندوستان بھی اسپین بن جائے گا۔“

ان مدارس او ران کے فضلاء کی اس خصوصیت او راس ملک میں اسلام سے واقفیت اور وابستگی کے تسلسل وبقا میں ان کے عظیم کارنامہ کا بقدر ضرورت اور اضطرار اً تذکرہ کرنے کے بعدہم ایک دوسرے پہلو کی طرف بھی قارئین وقائدین اور حقیقت پسند او رمنصف مزاج محبان وطن کی توجہ منعطف کرانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا حصہ اس قدیم نظام تعلیم کے ساختہ پرداختہ فضلا اور علمائے دین کا تھا ، آزاد مسلم مفکرین وقائدین میں سرفہرست علمائے دین ہی تھے ، جو سیاسی اور قومی تحریکات میں حصہ لینے کے نہ صرف قائل بلکہ داعی تھے اور سیاست کو مسلمانوں کے لیے ( بعض جدید تعلیم یافتہ قائدین کی طرح ) ”شجرہٴ ممنوعہ“ نہیں سمجھتے تھے ، انہیں علماء نے برطانوی حکومت کی مخالفت او راس کے خلاف جدوجہدمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، اس کے نتیجہ میں مولانا یحییٰ علی ، مولانا حمد الله عظیم آبادی، مولوی عبدالرحیم صادق پوری اور مولوی محمد جعفر تھانیسری کو پورٹ انڈمان روانہ کر دیا گیا، مولانا یحییٰ علی اور مولانا حمد الله صاحب کا انڈمان میں انتقال ہو گیا اور مولوی
 محمد جعفر اٹھارہ سال کی قید بامشقت اور جلا وطنی کے بعد اپنے وطن واپس ہوئے، ان کے علاوہ دوسرے ممتاز او رجلیل القدر علماء کو بھی انڈمان میں جلا وطنی کی سزا دی گئی ، جن میں مولانا فضل حق خیر آبادی ، مفتی عنایت احمد کاکوروی اور مفتی اظہر کریم دریا بادی کے نام قابل ذکر ہیں، مولانا فضل حق خیر آبادی کا وہیں انتقال ہوا اور بقیہ دو عالم طویل عرصہ کے بعدوطن واپس ہوئے۔

پھر جب ہندوستان میں تحریک خلافت اور اس کے ساتھ آزادی ہند کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں بھی علماء ہی پیش پیش تھے، اس طویل ونورانی فہرست میں یہاں صرف شیخ الہند مولانا محمود حسن ، قیام الدین ، مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا معین الدین اجمیری، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت الله دہلوی، مولانا احمد سعید، ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد بہاری ، مولانا سید سلیما ن ندوی، مولانا مسعود علی ندوی ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ، مولانا سید محمد داؤد غزنوی ، مولانا عطاء الله شاہ بخاری اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کا نام لینا کافی ہے ، ان میں شیخ الہند مولانا محمود حسن ، مولانا سیدحسین احمد مدنی ، مولانا عزیز گل ، مولانا حکیم نصرت حسین اور مولوی سید وحیداحمد کو 1917ء میں مالٹا جلا وطن کر دیا گیا، یہ جماعت 1920 ء تک وہیں رہی۔

انگریزوں سے نفرت او رحکومت انگریزی کی مخالفت میں ہر طرح کی سختیاں اورمصائب کے برداشت کرنے کی جس صلاحیت اور ہمت کا ثبوت جماعت علماء نے دیا ، اس سے یہ نتیجہ اخذ کر نا ہر طرح سے حق بجانب ہو گا کہ دینی تعلیم اور آزاد مدارس میں قربانی وایثار کا جذبہ، عزیمت وعالی ہمتی اوربلندنگاہی پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے او رملک وقوم کو درپیش مصائب وخطرات کے موقع پر یہی جماعت ( جو مادی ترقیات، معاشی آسودگی اور عزت واقتدار کے حصول سے زیادہ آسانی کے ساتھ صرف نظر کر سکتی ہے ) زیادہ کام آنے والی ہے۔

اس کے ساتھ ضمناً اس حقیقت کااظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ علم وتحقیق کی آبرو، ذوق مطالعہ اور علم وتصنیف کی راہ میں خود فراموشی اورمحنت کوشی انہیں عربی ودینی مدارس سے قائم ہے ، ان میں سے ایک ایک آدمی نے اکیڈمی کا کام کیا ہے، اس سلسلہ میں ان مصنفین کے تصنیفی کارناموں کا ذکر موجب طوالت وملال طبع کا باعث ہو گا۔

ان آزاد دینی مدارس ومکاتب کا یہ احسان او رکارنامہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے کہ اس دو رمیں زبان اردو انہیں کے ذریعہ نئی نسل کی طرف منتقل ہو رہی ہے اوراس نسل میں اردو نوشت وخواند اور قدیم دینی وعلمی ذخیرہ سے ربط وتعلق واستفادہ کی صلاحیت انہیں مدارس ومکاتب کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، ورنہ جدید تعلیم گاہوں میں تعلیم پانے والا ( اسکولوں سے لے کریونی ورسٹیوں کے طلبہ تک) اردو میں تحریر وتصنیف کا کیا ذکر؟ اردو میں پڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں او راپنے والدین اور سرپرستوں سے ہندی یاانگریزی میں خط وکتابت کرنے پر مجبور ہیں۔

حضرات! گذشتہ بیان او رمعروضات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کسی ملک میں دین سے وابستگی او رملت کے تشخص کی بقا حکومت کی ان پابندیوں سے آزاد رہنے اوران قوانین سے مستثنیٰ ہونے میں مضمر ہے، جو ملک کی مادی ضرورتوں کی تکمیل او رعام نظم ونسق کے شعبوں کے لیے ضروری یا مفیدہو سکتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اگر ذمہ داران حکومت صحیح معنی میں حقیقت پسند او رمحب وطن ہوں توان کو ہر ایسی کوشش اور ہر ایسے ادارے کو نہ صرف باقی رہنے کی اجازت دینی چاہیے بلکہ اس کی ہمت افزائی اور قدردانی کرنی چاہیے، جو ملک میں علم وخواندگی اور ثقافت وتہذیب کی اشاعت وترقی اور ان کی توسیع میں مدددے کہ اس وسیع ، طویل و عریض اور کثیر آبادی کے ملک میں اگر کوئی شخص درخت کے نیچے بیٹھ کر جسم وجان کارشتہ قائم رکھنے والی خوراک او ربقدر ستر پوشی پوشاک پر قناعت کرتے ہوئے تعلیم وتربیت کا کام کرے تو ہر محب وطن انسان او رعلم کے ہر قدردان کو اس کا نہ صرف خیر مقدم کرنا چاہیے، بلکہ اس کا شکر گزار ہونا اورا س پر فخر کرنا چاہیے کہ تمام تر سرکاری وسائل اورزیادہ سے زیادہ تعلیم گاہوں کے قیام او ران کے لیے اساتذہ کی فراہمی کے باوجود ملک کی آزادی کے بڑے حصہ کو خواندہ تعلیم یافتہ نہیں بنایا جاسکتا، چہ جائیکہ اخلاق وسیرت کی تعمیر ہواورباکردار شہری پیدا ہوں۔

اسی بنا پر ہم حکومت کے ان قوانین وضوابط کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبورہیں، جو آزاددینی مدارس ومکاتب کے قیام اوران کے آزادی سے تعلیمی خدمت اور علم وثقافت کی اشاعت اور مسلمانوں کو اپنے دین سے اس درجہ واقف کرانے کے کام میں خلل انداز ہوں، جو ان کے لیے مذہبی طور پر ضروری ہے اور وہ تعلیم گاہیں یا تو قائم نہ ہو سکیں،یا اگر قائم ہیں تو باقی نہ رہ سکیں، مثلاًکم سے کم تنخواہ ومعاوضہ(Minimum Wage)کا قانون یا مدارس و مکاتب کے لیے قیام وجواز کے لیے لائسنس لینے کی پابندی، جو حکومت کے دوسرے شعبوں، جن کا نظم و نسق(Administration)یا (Labour) سے تعلق ہے،کے لیے موزوں ہیں، لیکن دینی مدارس و مکاتب کے لیے، جن کا شعار اور طاقت وخصوصیات ،زمانہ قدیم سے لے کر اس وقت تک ایثارو قناعت رہی اورہمیشہ رہنا چاہیے،ناموزوں اور سخت ضرر رساں ہیں۔ہم اپنا جمہوری،مذہبی،اخلاقی اور شہری حق سمجھتے ہیں کہ اس کے خلاف آواز بلند کریں کہ ملک کے دستور نے ہر اقلیت اور ہر اکائی کو اس کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنی پسند کے مدارس قائم کرے اور اپنی پسند اور صواب دید کے مطابق ان کو چلائے۔ہم خالص حبُ الوطنی اور ہندوستا ن کے لیے اس کو باعث فخر سمجھنے کی بناپر بھی یہ کہتے ہیں کہ تعلیم وتربیت اور ثقافت وتہذیب کے پھیلانے میں ایثار وقربانی کی اس روایت کو جو ہندوستان کی قدیم تاریخ کا بھی طرئہ امتیاز رہا ہے،باقی رہنا چاہیے۔

آخر میں بڑی معذرت کے ساتھ ایک تلخ حقیقت کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتاہوں کہ ان مدارس و مکاتب کے سرکاری امداد قبول کرلینے کے بعدیہ اندیشہ ہے( جو واقعہ بن کر سامنے آگیا ہے)کہ ان مدارس کا عوام سے رابطہ بھی ٹوٹ جائے اور وہ مقصد بھی حاصل نہ ہو جس کے لیے سرکاری امداد اور ایڈ قبول کی گئی ہے۔کچھ عرصہ پہلے پٹنہ کے ایک جلسہ میں شرکت کے موقع پر، جو امارت شرعیہ بہارکے قائم کردہ مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحبکی یادگار میں ہسپتال کے افتتاح کے لیے منعقد کیا گیا تھا اور جس میں بہار کے چیف منسٹر بھی شریک تھے،ایک عربی مدرسہ کے ذمہ دارنے تقریر میں کہا کہ چھ مہینے سے ہم کو سرکاری امدادی رقم نہیں ملی،ہمارے بچے فاقہ کررہے ہیں،یہ بہار کا حال ہے، جہاں اکثرمدارس عربیہ سرکاری امداد قبول کرچکے ہیں،ابھی چند ہی دن پہلے”قومی آواز“(لکھنو)میں جھانسی کے ایک دینی مدرسہ کے صدر مدرس یا مہتمم صاحب کا مراسلہ شائع ہوا ہے،اس میں صاف لکھا گیا ہے کہ پانچ مہینے سے ہم کو سرکاری امداد نہیں ملی اور ہمارے بچے فاقہ کررہے ہیں،ایسی حالت میں بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا کہ ہمارا رشتہ عوام سے بھی ٹوٹ جائے اور ہم ان کی ہم دردی اور اعانت سے بھی محروم ہو جائیں اور حکومت کے تغافل یا اس کے نظم ونسق کی طوالت کا بھی شکار ہوں،اس طرح(بہت معذرت کے ساتھ) صرف اس مصرعہ پر اکتفاکروں گاکہ #

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
میں ایثار وقربانی کی اس دعوت کے ساتھ ،جو کسی نہ کسی درجہ میں دینی تعلیم کی بقاوملت کے تشخص کی حفاظت کے لیے ضروری ہے،حقائق اور زندگی کی طبعی وفطری، بلکہ شرعی ضروریات سے چشم پوشی نہیں کر سکتا، مدارس ومکاتب کے اساتذہ ومنتطمین کے لیے بقدر ضرورت وباعزت معاشی انتظام کی بے شک ضرورت ہے ادراس کے ذمہ داروں کواس پر ہم دردانہ غور کرنا اور اس تقاضے کو اپنے وسائل اور دائرہ اختیار میں رہ کر پورا کرنا ضروری ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور مدارس ومکاتب کے کارکنوں اور خدمت گزاروں کو کسی نہ کسی درجہ میں ایثار وقناعت کے اجروثواب کی امید میں کام کرنے کے ساتھ اس چراغ کو روشن رکھنے اور اس کی روشنی دور دور اور دیر تک پہنچاتے رہنے کی کوشش وجاں فشانی بھی جاری رکھنی چاہیے کہ اس دین کا ماضی ،حال او رمستقبل ایمان ویقین،ایثار وتوکل اور عزم حالات اور تیز وتند آندھیوں میں بھی اس چراغ کو گل ہونے سے بچاتارہاہے اور بچاتا رہے گا #
        ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
        وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ
        میں اقبال کے اس شعر پر گزارش کا اختتام کرتا ہوں کہ #
        دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامانِ موت
        فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم






مدارس اسلامیہ کا مقصد


الحمدللہ ! اللہ رب العزت نے انسان کو عقل عطا کی ہے اور عقل عطا کرنے کا مقصد ہی تمیز بین الخیر والشر ہے، یعنی اسی عقل کے سہارے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقلمند کا ہر کام بامقصد ہوتاہے، وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے، مقصد کی تعیین کرتا ہے، تاکہ اس کی محنت اکارت نہ ہو؛ جیسے کوئی انسان دوکان خریدتا ہے، تو مقصد اس میں تجارت کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر وہ اس میں تالالگادے تو لوگ بے وقوف کہیں گے، کہ عجیب آدمی ہے، دوکان خریدی یا بنائی اورایسے ہی تالا لگائے پڑی ہے، تو تعجب کیوں؟مقصد سے ہٹنے پر۔ ایسے ہی اللہ رب العزت نے انسان بنایا اوراسے اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا، تو تخلیق انسانی کا مقصد بھی بیان کردیا وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون“میں نے انسان اور جنات کو محض اپنی عبادت کی غرض سے پیدا کیا۔ تو معلوم ہوا کہ مقصد حیات انسانی، عبادت خداوندی ہے، بقیہ امور مثلاً: کمانا کھانا پینا سونا وغیرہ، مقصد نہیں، بلکہ ضرورت اور حاجت ہے، اگر کوئی انسان عبادت جل مجدہ سے منہ موڑکر محض کھانے پینے کمانے اور سیر و تفریح، کھیل کود میں لگ جائے، تو اس کا مطلب وہ اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی بسر کررہا ہے۔ اسی لیے اس کا انجام جہنم اور عذاب ہوگا۔ جیسے قلم لکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر اگر ایک مدت تک اسے استعمال نہ کیا جائے تو وہ بے کار ہوجاتا ہے۔ اب جب یہ بات سمجھ میں آگئی، تو آئیے! مدارس کے قیام کا مقصد اور پس منظر بھی معلوم کرتے چلیں، تاکہ بعض روشن خیال، نام نہاد دانشور اور مدارس اور مسلمانوں کے نادان خیرخواہوں کو بھی بات سمجھ میں آجائے، اور وہ مدارس سے ڈاکٹرز، انجینئر اور سائنس داں پیدا کرنے کی خواہش ترک کردے، اور خود اپنے گریبان کو جھانکیں کہ معاشرے کو خاص طور پر مسلمان معاشرے کو جو ڈاکٹرز، سائنس داں اور انجینئرز وغیرہ نہیں مل رہے ہیں، اس میں قصور ان کا ہے، مدارس کا نہیں۔ ابھی کچھ دنوں پہلے میں نے ایک روزنامہ میں پڑھا کہ اتنے کثیر تعداد میں مدارس ہونے کے باوجود پچھلے نوسوسال میں مدارس نے کوئی خوارزمی خیام رازی امت کو نہیں دیا، تو مجھے بڑا عجیب سا معلوم ہوا، کچھ ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی؛ تو میں نے قلم اٹھایا اور ارادہ کرلیا کہ ان جیسے مقالہ نگاروں کے سامنے مدارس کا مقصد بیان کردینا ضروری ہے تاکہ امت، خلطِ مبحث کا شکار نہ ہوجائے، امید ہے کہ اس کا بغور مطالعہ کریں گے۔
قیام مدارس کا پس منظر
۱۸۵۷/ میں متحدہ ہندوستان کے باشندوں کی مسلح تحریک آزادی ناکام ہوگئی اورہندوستان میں برطانوی حکومت باضابطہ قائم ہوگئی، تو اس نئی برطانوی ظالم حکومت نے دفتروں اور عدالتوں سے فارسی اور عربی زبان کی بساط لپیٹ دی، اس کے ساتھ ساتھ دیگر علومِ اسلامیہ کا بھی، خاص کر فقہ اسلامی، تفسیر، حدیث کی تعلیم دینے والے مدارس کے معاشرتی کردار پر بھی خطِ نسخ کھینچ دیاگیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مدارس اس نوآبادیاتی فیصلے کے نذر ہوگئے، ایسے سنگین حالات میں حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة الله عليه کی جماعت کے بچے کھچے درویش صفت بزرگوں نے دیوبند، سہارنپور، مرادآباد اور ہاٹ ہزاری میں دینی مدارس کے، ایک رضاکارانہ اور پرائیویٹ سلسلے کا آغاز کیا۔ جو ان بزرگوں کے خلوص اور معاشرے کی دینی ضرورت کے باعث بہت جلد ایک مربوط اور منظم نظام کی شکل اختیار کرگیا، اور جنوبی ایشیا کے کونے کونے میں ایسے مدارس کا جال بچھ گیا، اور اب تو ماشاء اللہ صرف ہندوستان اور جنوبی ایشیا ہی نہیں، بلکہ برطانیہ، امریکہ، کنیڈا، جرمنی، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور اب عرب ممالک میں بھی اس کے قیام کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، بلکہ قائم کئے جارہے ہیں، اور کئے جاتے رہیں گے (انشاء اللہ) کیوں کہ اس کا مقصد بڑا ہی پاکیزہ اور مقدس ہے۔
ع                پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
قیام مدارس کا مقصد
اہلِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے انفرادی، اجتماعی، شخصی ومعاشرتی تمام معاملات میں وحی الٰہی کے پابند ہوں، اور اخروی نجات کے ساتھ ساتھ ان کی دنیاوی کامیابی اور فلاح بھی آسمانی تعلیمات کی پیروی پر موقوف ہے، اہلِ اسلام حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم تک کے تمام انبیاء کی تعلیمات کو حق مانتے ہیں، اور اس پرایمان رکھتے ہیں، اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تعلیمات، تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔اور قرآن کریم وحی الٰہی کا فائنل ایڈیشن ہے، اور وہ مکمل محفوظ ہے؛ باقی تمام کتابیں عدم حفظ کا شکار ہیں، لہٰذا راہِ حق کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور سبیل ہی نہیں۔ اس پس منظر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہر مسلمان مرد اور عورت کا قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ ہونا، اس کے دینی فرائض میں شامل ہے؛ لہٰذا دنیا پر استعماری طاقتوں کے تسلط سے پہلے مسلمانوں کی مذہبی حکومت اور قیادت ہی، دینی تعلیم کے فروغ کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتی تھی، لہٰذا اس کے لیے جو کچھ ہو، کرگذرتی تھی، اس میں کوتاہی نہیں کرتی تھی، مگر استعماریوں کے تسلط کے بعد مذہبی تعلیمات علماً وعملاً صحیح طور پر باقی رکھنے کے لیے رضاکارانہ طور پر مدارس کی صورت میں پرائیویٹ تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی، قیام مدارس سے اکابر کا اصل مقصد، اسلامی معاشرہ میں دینی تعلیم کو باقی رکھنے کے لیے معاشرہ میں مساجد و مدارس کو رجال کار کی فراہمی تھا، تاکہ دینی تعلیم کا سلسلہ بلا کسی تعطل و خلا کے چلتا رہے الحمد للہ مدارس اپنے مقصد میں کامیاب ہیں، خود علامہ اقبال نے مدارس پر اعتراض کرنے والوں سے کہا تھا کہ ”ان مدارس کو اسی حالت پر کام کرنے دو۔ اس نے ہندوستان کو اسپین ہونے سے بچالیاہے۔“
خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ مدارس، ضرورت کے بقدر انگریزی کمپیوٹر وغیرہ تو اپنے نصاب میں داخل کرسکتے ہیں مگر مدارس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ڈاکٹرز اور انجینئر معاشرہ کو فراہم کرے۔ بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی دامت برکاتہم، ایساہی ہے جیسے کسی میڈیکل کالج کے نصاب میں انجینئرنگ کی کتابیں داخل کرنا یا کسی انجینئرنگ کالج میں ڈاکٹری کی کتابیں داخل کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس کو حماقت تصور کیا جاتا ہے، تو مدارس سے یہ مطالبہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے آم کے درخت سے جامن یا انگور کی امید رکھنا۔
بہرحال اس مضمون کا مقصد، صرف قیام مدارس کا بیان کرنا تھا جو اختصاراً بیان کردیاگیا، الحمدللہ! مدارس اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اور انشاء اللہ کامیاب رہیں گے، ان ہی مدارس نے حضرت تھانوی رحمة الله عليه، حضرت گنگوہی رحمة الله عليه، قاضی مجاہد الاسلام رحمة الله عليه، مولانا علی میاں ندوی رحمة الله عليه، مولانا تقی عثمانی، مفتی شفیع صاحب رحمة الله عليه، علامہ ادریس کاندھلوی رحمة الله عليه، علامہ بنوری رحمة الله عليه، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة الله عليه، علامہ ظفر عثمانی رحمة الله عليه، شیخ زکریا رحمة الله عليه، قاری طیب صاحب رحمة الله عليه، حضرت مدنی رحمة الله عليه، علامہ کشمیری رحمة الله عليه، عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة الله عليه، مولانا منظور نعمانی رحمة الله عليه وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اساطین علم وفضل امت کو عطا کئے اور کرتے چلے جارہے ہیں۔ ان ہی کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے پھرتے ہیں اپنی آستینوں میں
  
ڈاکٹرز اور سائنس داں کا مطالبہ علی گڑھ اور جامعہ ملیہ سے کرو، جو اسی مقصد پر قائم کئے گئے تھے، کہ ہم امت کو انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنس داں دیں گے، اگر ان مدارس سے بے جا مطالبات کرنے والوں کو شکایت ہی ہے۔
مدارس نے امت کو کیا دیا
مدارس کیسے چلتے ہیں اور انہیں کیسے چلایا جاتا ہے، اسے تو اللہ ہی خوب بہتر جانتے ہیں، کتنی قربانیوں اور کیسے کیسے طعنوں اور دربدر کی ٹھوکروں کے نتیجہ میں یہ اپنی خدمات میں مصروف ہیں، وہ کوئی پوشیدہ نہیں، سبھی جانتے ہیں، ایک طرف اعداء اسلام ان کو ”بنیاد پرست“، رجعت پسند“، ”دہشت گرد“، ”قدامت پسند“ کا طعنہ دیتے ہیں اور دوسری جانب روشن خیال مسلمان جو مدارس کے نادان دوست ہیں، وہ اپنی خطاؤں سے مدارس کو مورد الزام ٹھہرادیتے ہیں، انجینئرز اور ڈاکٹرز اور سائنس داں پیدا کرنے کا بیڑا ہم اہلِ مدارس نے لیا ہی کہاں ہے؟ یہ بات الگ ہے کہ دینی مدارس اب نونہالانِ امت کے ایمان کو بچانے کے لئے دینی ماحول میں عصری تعلیم کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں، مگر اس پر بھی امت کا ایک طبقہ ان کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ عجیب صورت حال، امت کو ہر جانب سے مدارس ہی کو نشانہ بنانے کی سوجھتی ہے، مگر مدارس الحمدللہ! اللہ کی توفیق اور مدد سے برابر اپنی خدمت میں بلاکسی لومة لائم کی پرواہ کئے بغیر مصروف کار ہیں؛ اللہ ہمارے ان مدارس کو ہر طرح کی داخلی وخارجی، ظاہری و باطنی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین!
مدارس نے امت کو یہ دیا
(۱)              لاکھوں نادار افراد کو تعلیم سے بہرہ ور کیا۔
(۲)             معاشرے میں بنیادی تعلیم اور خواندگی میں معقول اضافہ کیا۔
(۳)            قرآن وسنت کی تعلیم اور دینی علوم کی اشاعت و فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔
(۴)            عام مسلمانوں کو دینی رہنمائی اور مذہبی تعلیم کے لیے رجال کار فراہم کئے۔
(۵)             عام مسلمانوں کے عقائد وعبادات و اخلاق اور مذہبی کردار کو تحفظ فراہم کیا۔
(۶)             اسلام کے خاندانی نظام اور کلچر اور ثقافت کی حفاظت کی۔
(۷)            اسلامی عقائد اور احکامات کی اشاعت کی اور اس پر ہونے والے اعتراضات و شبہات کا جواب دیا۔
(۸)            اسلام کی بنیادی تعلیمات عقائد اوراحکام کی ہر طرح کی بغاوت اور تحریف سے حفاظت کی اور راسخ العقیدگی کو تحفظ دیا۔
(۹)             مادہ پرستی، اور خودغرضی کے دور میں قناعت اور ایثار و سادگی کو مسلمانوں کے ایک طبقہ میں باقی رکھا۔
(۱۰)           وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کو عملی نمونہ کے طور پر باقی رکھا۔
مذکورہ چیزیں امت کو دیں، دے رہے ہیں اور انشاء اللہ ! دیتے رہیں گے۔ اس طرح ان مدارس نے صرف مسلمانوں ہی نہیں؛ بلکہ پوری نسل انسانی کو آسمانی حقیقی سرچشمہ تک رسائی میں مرکزی کردار ادا کرکے، پوری انسانیت کی جانب سے فرض کفایہ ادا کیا، لہٰذا ساری انسانیت کو ان مدارس کا ممنون ومشکور ہونا چاہیے۔
* * *
------------------------------



دینی مدارس کی قدر ومنزلت
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے قرآن وحدیث کی تعلیم کا آغاز ایک ایسے چبوترے سے کیا تھا جس کے اوپر چھت بھی نہیں تھی، مطبخ تو بڑی بات ہے، لوگ کھجور کے خوشے ایک جگہ آویزاں کر دیا کرتے تھے، صحابہ کرام  حسب ضرورت چند کھجوریں کھا کر باقی دوسروں کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے، حضرت ابو ہریرہ بعض اوقات شدتِ بھوک کی وجہ سے بے ہو ش ہو کر گرجایا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ لوگ سمجھا کرتے تھے کہ مرگی کا دورہ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ میری گردن پر پاؤں رکھ کر گزرا کرتے تھے (بطور علاج)۔ حضرت ابوہریرہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! مرگی نہیں، بلکہ سخت بھوک کی وجہ سے بے ہوشی طاری ہوا کرتی تھی، صحابہ کرام رضی الله عنہم نے یہ عظیم قربانیاں دے کر دین ہم تک پہنچایا، یہی حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہ انہیں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی طویل صحبت میسر نہیں آئی، 7 ہجری میں غزوہ خیبر کے موقع پر مشرف با اسلام ہوئے اور سن 11ہجری میں آفتاب نبوت غروب ہو گیا ،حضرت ابوہریرہ  نے اس مختصر ترین مدت میں بہت زیادہ کسب فیض کیا، بلکہ کثرتِ روایت کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام  سے نمایاں نظرآتے ہیں، مرویات ابوہریرہ کی تعداد5364 ہے، جو سب سے زیادہ ہے، آج یہ سادہ سے مدارس جو نظر آرہے ہیں اگرچہ بے رنگ ہوں، بیٹھنے کے لیے بورے بھی میسر نہ ہوں، لیکن ان میں بیٹھ کر علوم قرآنی وحدیث حاصل کرنے سے حضرات صحابہ کرام کے ساتھ جو ایک نسبت قائم ہو جاتی ہے یہ اتنی بڑی نعمت اور انعامِ خداوندی ہے کہ جس کا حق اور شکر ادا نہیں ہو سکتا۔

دین ہم تک کیسے پہنچا؟
دین ہم تک اس طرح پہنچا ہے کہ ہر کسی نے باادب ہو کر زانوئے تلمذ تہہ کرکے ان اساتذہ سے سیکھا جن کی سند رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم تک متصل ہے،کتاب کا آپ خود مطالعہ کر لیجیے، ایک کتاب کسی کامل استاذ سے پڑھ لیجیے جس کا سلسلہٴ سند حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ملتا ہو، دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہو گا، آج کل اسٹڈی (مطالعہ) کرنے کا رواج اور وباء پھیلی ہوئی ہے، مطالعہ کرنے کا بڑا شوق ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اجتہادات کا ایک بازار گرم ہے۔

یاد رکھیے! اگر علم کا حاصل ہونا صرف مطالعہ کے ذریعے بغیر کسی استاذ کے ممکن ہوتا تو آسمانی کتابوں کے ساتھ کسی رسول کو بھیجنے کی حاجت نہ تھی، الله تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہ تھا کہ کسی رات ہر مسلمان کے سرہانے قرآن پاک کا ایک ایک عمدہ نسخہ اور خوب صورت جلد میں مجلد رکھ دیا جاتا اور غیب سے یہ آواز لگا دی جاتی کہ اسے پڑھو اور اس پر عمل کرو! لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ الله تعالیٰ نے قرآن مجید کے ساتھ شارح قرآن حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو بھیجا اور فرمایا”یعلمھم الکتاب“ تاکہ وہ پیغمبر کتاب کی ان کو تعلیم دیں ،ایسے ہی ہر کتاب کے ساتھ الله تعالیٰ نے ایک ایک پیغمبر بھیجے ہیں، ایسا تو ہوا ہے کہ انبیاء علیہم السلام تشریف لاتے، مگر کتاب نہیں تھی، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کتاب بغیر صاحب کتاب کے نازل ہوئی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ کتاب بغیر معلم ومربی کے انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ، اگر انسان کتاب کا خود مطالعہ کرتا تو جب اسے مطلب سمجھ نہ آتا تو گم راہ ہو جاتا۔

اس کی مثال تو ایسے ہے کہ ایک آدمی علم طب پر لکھی ہوئی کتب کا خود مطالعہ کرکے مطب کھول کر بیٹھ جائے تو سوائے اس کے کہ وہ قبرستان آباد کرے، انسانیت کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتا، کسی ڈاکٹر سے یہ علم حاصل کرنا پڑے گا، اس کے سامنے زانوائے تلمذ تہہ کرنے پڑیں گے، وگرنہ حکومت بھی اس کی اجازت نہیں دے گی، یہی معاملہ دین کا بھی ہے کہ اسے سیکھنے کے لیے کسی کامل مربی ومعلم کے پاس رہنا ہو گا ،وگرنہ گم راہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا، ان مدارس کی قدر پہچانئے، ان کی بدولت الله تعالیٰ کا کلمہ بلند ہے اور دین اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہے، ان ممالک میں جا کر دیکھیے جہاں یہ مدارس ختم کر دیے گئے، ان کا بیج ما ردیا گیا، وہاں بے دینی کا سیلاب امڈ رہا ہے، اور کوئی بند باندھنے والا نہیں ، بقول ہمارے حضرت علی میاں رحمہ الله کے ردة ولا ابا بکرلھا کہ ارتدار کا بازار گرم ہے لیکن کوئی ابوبکر رضی الله عنہ نہیں۔الله تعالیٰ نے مجھے دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں جانے اور وہاں کے اہل علم اور دینی حلقوں سے ملاقات کا موقع عطا فرمایا، پہلے تو تقلیداً یہ بات سمجھتا تھا کہ یہ دینی مدارس جن کا تعلق حضرات علماء دیوبند سے ہے، ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہیں ،لیکن ان ممالک میں حالات دیکھنے کے بعد تحقیقا یہ سمجھا ہے کہ دین کی حفاظت وتحفظ کا ذریعہ الله تعالیٰ نے ان دینی مدارس کو بنایا ہوا ہے، خواہ بہ ظاہر یہ کتنے ہی سادہ کیوں نہ ہوں؟ معاشرے پر ان کی برکات واثرات الحمدلله آج بھی نمایاں ہیں، جہاں یہ مدرسے نہیں وہاں بے عملی وبے راہ روی کی عجیب وغریب شکلیں او رمناظر دیکھنے میں آئے۔

یہ مناظر بھی دیکھے گئے کہ منھ میں سگریٹ گلے میں ٹائی کلین شیو اور انگریزی لباس زیب تن کیے ہوئے ایک آدمی بخاری شریف پڑھا رہا ہے، یہ مناظر بھی دیکھے گئے کہ درس بخاری کا ہو رہا ہے، لیکن نماز پڑھنے کا سوال ہی نہیں، یہ منظر بھی دیکھا گیا کہ مرد وزن باہمی مخلوط بیٹھے ہیں اور اسلامی تعلیمات کا درس ہو رہا ہے کیا کیا بتاؤں یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

آج سے کچھ عرصہ قبل مجھے عراق جانا ہوا، آج تو وہاں ایک طوفان برپا ہے، وہاں میں نے بعض دوستوں سے کہا کہ اگر کوئی پرانی طرز کا عالم ہو تو اس کی زیارت کو جی چاہتا ہے، یہ تقاضا اس لیے پیدا ہواکہ وہاں ایسے علماء وصلحاء کا بیج مار دیا گیا ہے تو کسی نے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ الله کے مزار کے قریب ایک مدرسہ میں پرانی طرز کے بزرگ ہیں، آپ ان سے ملاقات کیجیے، میں وہاں پہنچا، جاکر دیکھا تو واقعی ایک بزرگ جن کی چال ڈھال میں، اندازِ گفتگو میں نشست برخاست میں اسلاف کی جھلک نظر آئی ، انہوں نے مجھ سے پوچھا آپ پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا کراچی میں ہمارا ایک دارالعلوم ہے، اس میں پڑھنے پڑھانے کا کچھ سلسلہ ہے ،انہوں نے پوچھا وہ کون سی یونیورسٹی سے متعلق ہے؟ میں نے کہا ہمارے ہاں! یہ سلسلہ نہیں ہے، بلکہ عوامی قسم کے مدارس ہیں، انہوں نے حیران ہو کر پوچھا کیا تمہارے ہاں عوامی قسم کے مدارس ہیں؟ پھر خود ہی فرمایا ہم تو اس قسم کے تصور کو بھو ل گئے، آپ پر تو الله تعالیٰ کی یہ بہت بڑی نعمت ہے، پھر پوچھا وہاں کیا پڑھاتے ہو؟ میں نے مدارس میں پڑھائی جانے والی چند کتب کا نام لیا مثلاً شرح جامی اور سلم وغیرہ جب شیخ نے ان کتب کا نام سنا تو ان کی چیخ نکل گئی، پھر فرمایا: ” میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے دم میں دم ہے، اس طریق کار اور نصاب تعلیم کو نہ چھوڑنا، کیوں کہ ہمارے ہاں عراق میں جب اس نصاب کی کتابیں زیر تعلیم تھیں تو فضا کچھ اور تھی او رجب سے یونیورسٹیوں کا نظام رائج ہو گیا اور دینی کتب چھوڑ دی گئیں اس وقت سے فضا بالکل تبدیل ہو گئی، پھر فرمایا:” کسی زمانہ میں ہم بھی یہ کتابیں پڑھاتے تھے، اس وقت علماء متبع سنت اور دینی جذبہ رکھنے والے پیدا ہوتے تھے، بعد میں تمام مدارس سرکار کی تحویل میں لے لیے گئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت سے سرکاری مولوی پیدا ہونے لگے۔“

ان ممالک میں گھومنے پھرنے کے بعد یہ احساس مزید پختہ اور قوی ہو گیا کہ یہ مدارس جن کا سلسلہ ماضی قریب میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے جڑا ہوا ہے اور پھر بالآخر سند متصل کے ساتھ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم سے جاملتا ہے ایسی نعمتیں اور احسان ہے کہ جس پر شکر ادا نہیں ہو سکتا۔

ایک مرتبہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ( قدس سرہ) دارالعلوم کراچی تشریف لائے ( یہ الله کے بندے اخلاص کے پیکر عندالله اتنے مقبول ومنظور تھے کہ ان کی تصنیف شدہ کتب فضائل24 گھنٹوں میں سے کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں پڑھی نہ جاتی ہوں ) ہم نے عرض کیا کہ حضرت نصیحت فرما دیجیے ، تقریر کرنے کا تو معمول نہ تھا، صرف ایک جملہ ارشاد فرمایا:”طالب علمو! اپنی حقیقت پہچانو! اپنی قدر پہچانو“۔ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ بعض اوقات تمہارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم تو یوں ہی بوریوں پر بیٹھنے والے ہیں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،لیکن الله تعالیٰ نے جو نعمت عظمیٰ تمہیں عطا کی ہے اس کا مقابلہ دنیا اور اس کی دولت نہیں کر سکتی ،وہ نعمت ہے حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نسبت، یہ جو ہم پڑھتے ہیں ،حدثنا فلان حدثنا فلان عن فلان، عن رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس سند متصل کے ساتھ اپنے کو جوڑ دینا آج تو شاید اس کی قدر ومنزلت ہمیں معلوم نہ ہو، لیکن جب آنکھیں بندہوں گی اور الله تعالیٰ کے ہاں حاضری ہو گی اس وقت پتا چلے گا کہ اس سلسلہ کے ساتھ وابستگی کتنی بڑی نعمت ہے۔

میرے شیخ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی  مثال دیا کرتے تھے کہ کراچی سے صدر مملکت کی ایک ٹرین جارہی ہے، جس میں بہترین سیلون لگا ہوا ہے ، عمدہ اور عالی شان ڈبے لگے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ کھانے پینے کا بہترین انتظام موجود ہے، بہت ہی پر کیف خوشبو ئیں اٹھ رہی ہیں، روانگی کے وقت اسٹیشن ماسٹر نے ایک پرانا اور بوسیدہ ڈبہ بھی اس ٹرین کے ساتھ جوڑ دیا، یہ بھی ٹرین کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا، ایسے ہی ہم بوسیدہ اور خستہ حالت میں سہی، لیکن ہمارا کنڈا اعلیٰ اور عمدہ ڈبوں پر مشتمل ٹرین کے ساتھ جڑا ہوا ہے، ہمارا تعلق سند متصل کے ساتھ حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ قائم ہوچکا ہے، اس نسبت او رتعلق کی وجہ سے الله تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں ہم پر نازل ہوں گی، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس سلسلے کی قدر پہچانیں۔

پڑھنے پڑھانے والوں کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اپنے آپ کو محروم نہ سمجھیں ہ،و ان پڑھنے پڑھانے والوں کے ساتھ محبت کریں ”المرء مع من احب․“ اگر کسی کی محبت اس سلسلہ والوں کے ساتھ ہو گئی تو ان کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا خود بھی تعاون کریں، دوسروں کو بھی توجہ دلائیں تو اس سلسلہ کے ساتھ وابستگی ہو جائے گی، خدا کے لیے ان دینی مدارس کی قدر پہچاننے کی کوشش کریں۔




دینی مدارس کے امتیازات
یہ تاریخ اسلام کی ایک آشکار حقیقت ہے کہ جب بھی دشمنانِ اسلام او راعداء دین نے اسلامی تعلیمات کا چراغ گل کرنے اوررجال دین کی ہر طرح کی دینی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی ناپاک کوششیں کیں، اس چراغ کی ضیا پاشیوں اور ضوفشانیوں میں پہلے سے زیادہ بانکپن پیدا ہوا اور علماء ومشائخ ِدین کی سرگرمیوں او ران کے جو ش عمل میں مزید ترقی ہوئی ۔ اسلام کی تاب ناک تاریخ میں ایسے کئی ادوار گزرے ہیں جس میں اپنے وقت کے مقتدر اعداء اسلام اور دین دشمن طبقے، علماء دین کے درپے آزار ہوئے، انہیں اذیت ناک صعوبتوں میں ڈال کر اور طرح طرح کی تکلیفیں دے کر دینی سرگرمیوں سے دست کش او راسلامی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے اپنی خدمات سے دست بردار کرانے کی مذموم کاوشیں کی گئیں ، لیکن ان پاک باز ہستیوں نے ہر ایسے دور میں دین کی سربلندی اور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی روشن تعلیمات کی ترویج کے لیے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر قربانیاں دیں۔ انہوں نے اپنی لازوال خدمات اور قربانیوں کی لو سے دین کا چراغ ، ظم واستبداد اور وقت کے ہر مخالف ماحول میں روشن رکھا۔

برصغیر میں انگریزی استبداد کے دور میں بے پناہ صعوبتوں کے باوجود ہمارے اکابر نے دین کا چراغ روشن رکھ کر مسلمانوں کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت اور دینی علوم کی ترویج کے لیے جس شان جرأت واستقلال کے ساتھ اپنی خدمات پیش کیں، وہ تاریخ کے اسی تسلسل کا ایک حصہ ہے۔ اس وقت کی استبدادی قوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ علماء او رمسلمانوں کا اپنے دین ومذہب پر ایمان وایقان او راس کے ساتھ مضبوط وابستگی تھی۔ اس کا تدارک کرنے کے لیے انگریزوں نے مختلف تدابیر اور حربے اختیار کیے۔ عام مسلمانوں او ربالخصوص ان کے مذہبی پیشواؤں پر ظلم وستم اور قتل وغارت کا متشددانہ طریقہٴ واردات ناکام ثابت ہوا تو مسلمانوں کو سیاسی غلامی کے ساتھ ذہنی طور پر غلام بنانے کے لیے ایک نصاب تعلیم مرتب کرکے ہندوستان کے اسکولوں او رکالجوں میں رائج کیا گیا تاکہ مسلمانوں کی نئی پود فکر ونظر اور مسلک ومشرب کے اعتبار سے غیر شعوری طور پر انگریز کی ہم خیال بن جائے الغرض مسلمانوں کو ذہن او رتربیت کے اعتبار سے فرنگی بنانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے گئے، لیکن الله تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے اکابرین او رعلماء کرام نے ہر محاذ پر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ایسے دین شکن اورکٹھن حالات میں اسلام اور دین سے وابستگی کو قائم وبرقرار رکھنے، دینی علوم اور دینی ذہنیت کی حفاظت کے لیے دارالعلوم دیوبند کا قیام گھپ اندھیرے میں روشنی کا مینار ثابت ہوا۔ انگریزی تسلط کے بعد دینی علوم وفنون کی حفاظت او رمسلمانوں کو انگریزوں کی ذہنی غلامی کے شکنجے سے باہر نکالنے کی جدوجہد سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند نے کی۔

دارالعلوم دیوبند میں مستحکم بنیادوں پر ایسا نصاب تعلیم وضع کیا گیا ہے، جسے صحیح معنوں میں پڑھنے والا علم وفن کے تمام شعبوں پر پُرا اعتماد تبحر کے ساتھ حاوی ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہو سکتا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے بعد اسی نہج پر دوسری بڑی درس گاہ مظاہر علوم سہارنپور کا قیام عمل میں آیا۔ رفتہ رفتہ برصغیر کے طو ل وعرض میں دیوبند اور جامعات کا ایک کہکشاں بنتا گیا۔ ہمارے اکابر کی طرف سے دینی مدارس کے قیام کے اس مبارک اقدام کا مسلمان معاشرے میں والہانہ استقبال کیا گیا۔ اپنے دین کی حفاظت اور اسلامی علوم فنون کی تحصیل کا جذبہ رکھنے والے اندرون او ربیرون ملک سے جوق درجوق ان مدارس میں داخل ہونے لگے۔ ان مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں نے اکنافِ عالم میں پھیل کر علوم قرآن وسنت کی خدمات انجام دیں، حدیث ، تفسیر او رفقہ کے سلسلے میں امت مسلمہ کو اپنی تصنیفات وتالیفات کے ذریعے جو شان دار سرمایہ دیا، موجودہ صدی میں پورے عالم اسلام میں اس کی نظیر موجود نہیں۔

ہمارے اکابرین کی ان خدمات کے نتیجے میں قرآن وسنت کی حفاظت کا ایسا مضبوط او رمستحکم نظام تعلیم قائم ہو گیا کہ مسلسل سازشوں او رریشہ دوانیوں کے باوجود انگریز اس نظام تعلیم کے خدوخال ، اپنی منشاکے مطابق تبدیل کرنے میں کام یابی حاصل نہیں کر سکے ۔ ان دینی مدارس کا نصاب تعلیم وتربیت اپنی تمام تر خدوخال کے ساتھ موجود ہے او ران شاء الله تا قیامت موجود رہے گا ، لیکن بڑی جگر کاوی کے بعد لارڈ میکالے کی دماغی کاوشوں کے نتیجے میں مسلمانوں کو اپنا ذہنی غلام بنانے کے لیے انگریزوں نے جو نصاب تعلیم وضع کیا تھا ، وہ برصغیر کے اسکولوں، کالجوں او رعصری یونیورسٹیوں میں آج بھی اسلامیات اور دینیات کی معمولی پیوندکاری کے ساتھ رائج ہے۔ نتیجتاً وہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے مذہب وعقیدہ کے لحاظ سے قابل رشک اور قابل تقلید باعمل مسلمان نہیں رہتے۔ انگریزی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں ان کا طرز عمل غلامانہ ومحکومانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

ان عصری درس گاہوں کے مقابلے میں ہمارے دینی مدراس کئی خصوصیات وامتیازات کے حامل ہیں۔

خلوص اور درد مندی کے شرر سے دلوں کی آگ شعلہ بن کر ظاہر ہوتی ہے ، دینی مدارس کے اساتذہ اور طلباء تقوی ، للہیت، اخلاص اور ایثار کے جن جذبات سے سرشار ہو کر اپنے مستقبل کی تعمیر میں مصروف عمل رہتے ہیں اور دنیاوی جھمیلوں سے اپنا دامن بچا کر جس شوق او رجذبہ کے ساتھ علم دین حاصل کرتے ہیں ، وہ اس گئے گزرے دور میں ایسی صفات سے وابستگی کی بنا پر قابل فخر نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ الغرض اخلاص اور ایثار ان مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ دین دشمن اور سیکولر طبقہ، دینی مدارس سے وابستہ رہنے والوں پر غربت اور کسمپرسی کی پھبتیاں کستے ہوئے یہ پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ دینی مدارس کی طرف زیادہ رحجان ان لوگوں کا ہوتا ہے ، جوافلاس اور غربت کے سبب تعلیم کے اخراجات کا تحمل نہ کرسکنے کی وجہ سے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے لائق نہیں رہتے۔ یہ سراسر جھوٹا الزام ہے ، حقائق اور امر واقع کے بالکل برعکس ہے ، کالج،اسکول اور یونیورسٹیوں کی طرح یہاں بھی غریب ، امیر دونوں طرح کے طلبہ ہوتے ہیں، متمول اور ذی وجاہت خانوادوں سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد یہاں بھی ہوتی ہے ۔ وہ محض اخلاص اور دینی شوق وجذبہ کی بنیاد پر ان مدارس کی طرف رخ کرتے ہیں ۔ دینی مدارس کے اساتذہ کو بقدر کفایت تنخواہ دی جاتی ہے ۔ ان کی قابلیت ولیاقت اور علمی وجاہت سے متاثر ہو کر ملک اور بیرون ملک کی عصری درس گاہیں بھاری تنخواہوں اور پرکشش مراعات اور سہولیات کے ساتھ ، کوئی معقول عہدہ قبول کرنے کے لیے انہیں ترغیبات دیتی ہیں ، لیکن وہ اپنی موجودہ حالت پر قناعت کرتے اور اپنے موجودہ منصب کو ذریعہ نجات باور کرتے ہوئے ان کی پرکشش ترغیبات کو جس شانِ استغناء کے ساتھ رد کر دیتے ہیں ، یہ ان کے اخلاص اور ایثار کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

دینی مدارس کے طلبا او راساتذہ اپنے مقصد سے والہانہ شیفتگی رکھتے ہیں ، وہ اپنے کام کی دھن میں مگن، دن رات طلب علم کی مشغولیتوں میں منہمک رہتے ہیں۔ اساتذہ اور طلباء دونوں کی دلچسپیاں پڑھنے اور پڑھانے تک محدود ہوتی ہیں۔ دینی مدارس کے علم پر ور ماحول میں اپنی تعلیمی اور علمی سرگرمیوں سے عشق کی حدتک تعلق رکھنے والے ان اساتذہ وطلباء نے اپنے آپ کو اس علم کے لیے وقف کیا ہوا ہے۔ دنیا اپنیتمام تر رعنائیوں اور سازوسامان کے باوجود ان کے لیے ، اپنے اندر کوئی کشش نہیں رکھتی، اس لیے تعلیم وتعلم کے ساتھ ان کی بے پناہ وابستگی کی راہ میں پیسوں کی کھنک اور دنیا کی کشش کبھی حائل نہیں ہو سکی، اس کی بڑی وجہ الله تعالیٰ کی رضا کے حصول او راخلاص کا وہ جذبہ ہے جس نے ان کو دنیا کی آزمائشوں اور کشائش سے بے نیاز کر دیا ہے۔

کالجوں، یونیورسٹیوں اور عصری درس گاہوں میں یہ صفات جو ہر نایاب ہیں، یہاں کے ماحول میں اپنے علم وفن سے وہ وابستگی، وہ محنت وہ جدوجہد اور مخلصانہ ذوق شوق کے وہ مظاہر قطعاً نظر نہیں آتے، جو ہمارے دینی مدارس میں دن رات کے علمی وتعلیمی معمولات کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے کہ ان عصری اداروں میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کااصل مقصد دنیاوی جاہ وحشمت اور حصولِ معاش ہوتا ہے، چناں چہ وہ اپنی تمام تر توجہات سند اور ڈگری کے حصول پر مرتکز رکھتے ہیں کہ اس کے ذریعے ملازمت اور معاش کے معقول مواقع ملنے کے مکانات روشن ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں صرف امتحانات کے زمانے میں محنت او رجدوجہد کی وقتی طور پر کچھ سرگرمیاں نظر آتی ہیں جو امتحانات کے اختتام کے ساتھ ہی ماند پڑ جاتی ہیں۔

دینی مدارس کے استاذ اورشاگرد ایک دوسرے کے لیے عظمت واحترام اور محبت ویگانگت کے جذبات سے سر شار ہوتے ہیں ۔ اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ پدرانہ شفقت سے پیش آتے ہیں ، ان کی تعلیم وتربیت پر دن رات اپنی توجہات مرکوز کیے رکھتے ہیں۔ طلبا اپنے اساتذہ کے سامنے جس قدر تواضع او رادب واحترام کے ساتھ زانوے تلمذ تہہ کرتے اوران کی فرماں برداری وتابع داری کے لیے جس طرح ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ، کالجوں اور یونیورسیٹوں کے درو دیوار کو ایسے بے لوث جذبات کی جھلکیاں دیکھنا نصیب نہیں ہوئی ہوں گی ۔ یہ دینی مدراس کی عظیم خصوصیت ہے ۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء اپنے اساتذہ کے ساتھ جس ہتک آمیز سلوک سے پیش آتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وہ اپنے اساتذہ پرہاتھ اٹھانے سے بھی دریع نہیں کرتے ۔ وہاں احتجاجی جلسے جلوس اور اسٹرائیکیں ہوتی ہیں۔ کبھی حالات اس قدر ناگفتہ بہ بن جاتے ہیں کہ فوج اور رینجرز تک کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے دینی مدارس میں الحمدلله اس طرح کے افسوس ناک واقعات کبھی پیش نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں اساتذہ اور طلباء کے درمیان محبت اور شفقت کا بے لوث رشتہ استوار ہے۔

دین کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کو عقیدہ اور نظریہ کے لحاظ سے کمزور اور گمراہ کرنے کے لیے انفرادی یا اجتماعی سطح پر جس قدر فتنے اٹھے ، ان کی سرکوبی کے لیے دینی مدارس کے علماء ہی سب سے پہلیمیدان میں اترے۔ ہر زمانہ میں ہر باطل فتنہ کے سامنے سینہ سپر ہو کر، ان مدارس نے ڈٹ کر ایسا جرات مندانہ او رمجاہدانہ مقابلہ کیا کہ انہیں دیواروں سے لگا دیا۔ ان فتنوں کی سرکوبی کے لیے نکلنے والوں میں کبھی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تربیت یافتہ شامل نہیں ہوتے الا ماشاء الله دین کی حفاظت او رباطل سے مبارزت اور لا دینیت کے علم برداروں کو شکست دینے کا فریضہ ہمیشہ ان ہی علماء نے سرانجام دیا۔

برصغیرِ ہند کو انگریز کے استبدادی قبضہ سے آزاد کرنے اورمسلمانوں کی گردن سے غلامی اور محکومی کا طوق اتارنے کے لیے سب سے پہلی صدا علماء دیوبند نے بلندکی۔ آزادی اور حریت کے حصول کے لیے ان علماء ربانیین نے جو قربانیاں دیں، وہ ہماری تاریخ حریت کا ایک نمایاں عنوان ہے۔ شاملی کا میدان آج تک اس دور کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے ۔ جس میں سید الطائفہ حاجی امداد الله مہاجرمکی، مولانا رشید احمد گنگوہی او رمولانا قاسم نانوتوی رحمہم الله تلواروں اور نیزوں سے مسلح ہو کر انگریز کے خلاف آمادہٴ جنگ وپیکار ہوئے۔ گھمسان کا رن پڑا، کئی علماء بے جگری سے لڑکر خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ دوسری طرف علماء صادق پورنے پٹنہ اور بہار کے اندر انگریز کے خلاف مسلح جدوجہد کی ولولہ انگیریز داستانیں رقم کیں۔ الغرض آزادی کی جنگ میں ان علماء نے بے شمار قربانیاں دیں قتل کیے گئے، پھانسی گھاٹ پر چڑھائے گئے پابند سلاسل کر دیے گئے او رکالے پانی کی قید کی سزائیں بھگتیں۔ دارالعلوم دیوبند کے شیوخ حدیث، شیخ الہند مولانامحمود حسن، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد ، مولانا عزیز گل ، مولانا عبدالوحید اور حکیم نصرت حسین طویل عرصہ تک مالٹا کی جیل میں قیدوبند کی اذیت ناک تکلیفوں میں مبتلا کیے گئے۔ بہت سے علماء کو خنزیر کی کھال میں لپیٹ کر زندہ دورگور کر دیا گیا۔ دین کی حفاظت او رمملکت کی حریت کے لیے یہ ساری قربانیاں انہیں علماء دیوبند نے دیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ان کے جانشین او رحقیقی وارث آج بھی ایسے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں او ران شاء الله تیار رہیں گے۔

الله جل شانہ دین کے محافظ ان مدارس کی حفاظت فرمائے، ان کو فتنوں او رشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائے اور ان کے منتظمین او رمعاونین کو خلوص واستقامت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین






دینی مدارس اعتدال پسند اور انسانیت نواز ادارے ہیں



                مدارس اسلامیہ، مکاتب دینیہ شرعی اداروں کے قیام کے مقاصد، اغراض اور فوائد ارباب عقل ودانش پر مخفی نہیں ہے؛ کن عصری مجبوریوں، قومی ضرورتوں اور ملی تقاضوں کی بنیاد پر مدارس، مکاتب اوراسلامی تعلیم گاہوں کا باضابطہ طور پر قدیم اسلوب سے انحراف کرتے ہوئے انہیں روایتی خطوط پر مزید اضافہ، جدید اسلوب اور مفید ومستحکم عناصر کے ساتھ قیام عمل میں آیا؛ مدارس اسلامیہ کے تاریخی حالات سے آشنا حضرات اس پس منظر اور نکتہٴ تبدیلی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مدارس اسلامیہ کی اولین ترجیح اسلام کا تحفظ، اسلامی اقدار کی صیانت اور شرعی وملی مسائل کا حل ہے اوراس کا نمایاں ہدف ایسے رجال کار کو پیدا کرنا ہے جو امت کی فلاح و بہبود ی کی خواہش لئے ہوئے عصری شروروفتن کے انسداد، تخریبی و طاغوتی قوتوں کی سرکوبی کے لئے مستعد اور ہر نوعیت کی علمی، عملی، شعوری اور حربی سرگرمیوں کو انجام دینے کی طاقت رکھتے ہوں جو ملت اسلامیہ پر منڈلانے والے داخلی و خارجی خطرات کا دفاع کرسکتے ہوں، اسلامی اور قرآنی علوم کی اشاعت اور دینی امور کی تبلیغ کا مخلصانہ جذبہ رکھتے ہوں، امت میں بیداری، جذبہٴ حریت اور اسلامی ذہنیت کو وسعت کے ساتھ پھیلانے کی قوت رکھتے ہوں، اخلاص، للّٰہیت اور یکسوئی کے ساتھ خدمات انجام دینے کی سکت رکھتے ہوں، مسائل سے آشنا، حالات سے باخبر اور مخالف عناصر سے بخوبی آگاہ ہو، دعوتی و دینی راہوں میں ناپسندیدہ عوارض پیش آنے سے چراغ پا ہونے کے بجائے ضبط کا مادہ رکھتے ہوں اور قرآنی احکامات، نبوی ارشادات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اصول حیات پر عمل پیرا ہوں۔
                مدارس عربیہ اور دینی ادارے صدیوں سے ایک مخصوص نظم ونسق کے ساتھ آزادانہ دینی وملی خدمات انجام دے رہے ہیں ان مدارس سے ایسے علماء اور قرآن، احادیث اوراس سے متعلقہ علوم کے ایسے ماہرین پیدا ہورہے ہیں جو ہرمعاملے میں عوام وخواص کی ذاتی وانفرادی نیز اجتماعی زندگی میں راہنمائی کرتے ہیں۔ کل ملاکر مدارس اسلامیہ اور دینی ادارے جن اغراض ومقاصد کے تئیں متحرک وفعال ہیں ان کے بارے میں کسی بھی پہلو سے Rong Fellng نہیں ہوسکتی اور ویسے بھی مدارس اسلامیہ کی صحیح تاریخی اسناد، ملی خدمات اور مدارس کے انسانیت پر احسانات سے آگاہ افراد کا یہی خیال ہے کہ مدارس بے داغ، صاف ستھرے اور انسانیت شناس ادارے ہوتے ہیں، جس سے انسانیت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ان مدارس ومکاتب کے ذریعہ ہر زمانے میں قومی مقاصد کی تکمیل ہوئی ہے، تہذیب وتمدن کی حفاظت ہوئی ہے اور قومی سرمایوں کی حفاظت ہوئی ہے اور آج بھی ہورہی ہے۔ یہ ایک واشگاف اور حتمی حقیقت ہے۔ نیز جنگ آزادی کے تئیں مدارس کے مخلصانہ خدمات اور جانثارانہ کردار، دینی مدارس ومکاتب کی اہمیت، ضرورت اور افادیت کی تشریح کے لئے کافی ہے پھر بھی اگر کوئی طبقہ مدارس اسلامیہ کے امیج کو دیدہ ودانستہ غلط کردار میں پیش کرتا ہے یا نادانستہ حقائق سے ناواقفیت کی بناء پر مدارس اسلامیہ کو زک دیتا ہے تو اس میں مدارس اسلامیہ کا کیا قصور ہے؟
                موجودہ ہندوستان میں مدارس مخالف جو عام حالات ہیں یا مدارس پالیسی یا طریقہٴ کار کے خلاف جوصدائیں بازگشت کررہی ہیں وہ سب کے سب اسلام دشمنی کے جذبے سے معمور اور مغربی پروپیگنڈوں سے متاثر افراد کا کارنامہ ہے اور سچ یہ ہے کہ مدارس ومکاتب کو جو بعض برادران وطن دہشت گردی کے مراکز سے موسوم کرتے ہیں انہیں آزادی ہند کی صحیح تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
                کیونکہ مدارس اسلامیہ کی کوکھ سے جنم لینے والے حضرت مولانا امام قاسم نانوتوی-رحمہ اللہ-، حضرت شیخ الہند-رحمہ اللہ-، حضرت شیخ الاسلام-رحمہ اللہ-، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی-رحمہ اللہ-، حضرت مولانا ابوالکلام آزاد-رحمہ اللہ-، حضرت مولانا جعفرتھانیسری-رحمہ اللہ-، حضرت مولانا حسرت موہانی، حضرت مولانا محمد علی جوہر-رحمہ اللہ-، حضرت مولانا شوکت علی-رحمہ اللہ- اور حضرت مولانا مظہرالحق-رحمہ اللہ-نیز وہ متعدد علماء کرام جن کے قائدانہ کردار، سپاہیانہ رول اور رضاکارانہ خدمات سے جنگ آزادی کی تاریخ روشن ہے انہی مدارس کے سپوت تھے۔ جنھوں نے آزادی ہند کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، جنھوں نے تقسیم وطن کی کھل کر مخالفت کی اورمشترک قومی نظریہ کی تائید کی، ہندومسلم اتحاد کا نعرہ بلند کیا اور مذاہب کی بنیاد پر آپسی اختلاف کی کھل کر مخالفت کی، جنھوں نے ملک کی آزادی کے لئے تن، من، دھن سب کی بازی لگادی، قومی سالمیت کے لئے قربان ہوگئے۔ ہندوستان کو خارجی دخل اندازیوں، شورشوں اور تخریبی عناصر سے پاک کرنے کے لئے سولی پر چڑھ گئے وہ ہزاروں نڈر، بے خوف، جری اور ملک کی محبت لئے ہوئے افراد، علماء اور مجاہدین آزادی انہیں مدارس اسلامیہ اور دینی ادروں کے فرزند تھے۔ مدارس اسلامیہ نے ان کی تربیت کرتے ہوئے جو نقوش چھوڑے تھے وہ فقط انسانیت نوازی، انسانیت دوستی، اعتدال پسندی اور حب الوطنی پر محمول تھے۔ جن مدارس کے اغراض ومقاصد اتنے پاک ہوں؛ جن کے خدمات اتنے بے داغ ہوں اور ملک پرجن کے اتنے احسانات ہوں وہ ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ کیسے بن سکتے ہیں؟ وہ دہشت گردی کے مراکز کیسے قرار دئیے جاسکتے ہیں؟ ان پر انتہا پسندی کے الزامات کیسے لگ سکتے ہیں؟ (عصری ادارے اور جامعات وغیرہ)
                یہ ایک تاریخی و تحقیقاتی تجزیہ ہے مزید مدارس اور غیر مدارس کے ملکی وقومی سطح پر موجودہ خدمات کا موازنہ اور نظروں کے سامنے ہورہے ان کے سپوتوں کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا جائے کہ کس کے اندر انسانیت نوازی، عدم تشدد اور قومی سالمیت کا جذبہ ہے؟ قوانین اور آئین ہند کی پرواہ سب سے زیادہ کس کو ہے؟ مروت، اخوت، قرابت، رواداری اور اعتدال پسندی کس کا شیوہ ہے؟ ذہنی آوارگی، جنسی انارکی اور اخلاقی گراوٹ کس کا وطیرہ ہے؟ ہندوستان کلچروروایت اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کس کا طرئہ امتیاز ہے؟ انسانی قدروں کی بے حرمتی، انسانی اعتبار ووقار کو مجروح کرنا اور مشرقی ثقافت کو مجروح کرنا کس کا پیشہ ہے؟ احتجاج، ہنگامہ آرائی، گروہ بندی، اسٹرائک، سرکاری دفاتر اور گاڑیوں کو نذرآتش کرنا یہ کن کی کارستانی ہے؟ تعلیم کے اساسی مقصد اخلاقی اقدار کی حفاظت کا خیال کس کو ہے؟ اور بابائے قوم گاندھی جی کی مثالی زندگی، سادہ زندگی، بلند خیالی، فکری پاکیزگی اور ان کے بتائے ہوئے رہنما خطوط کو مشعل راہ کون مانتا ہے؟ مدارس اسلامیہ کے طلباء کے کارناموں اور نیورسٹیوں، مخلوط تعلیم گاہوں اور کالجوں کے نونہالانوں کی کارستانیوں کا موازنہ کرنے سے حقیقت عیاں ہوجائے گی۔ ان حقائق کو پیش نظر رکھ کر بسہولت یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی مقاصد کی تکمیل، ملکی مفاد کی پرواہ اورانسانیت کا خیال طلبہ مدارس کررہے ہیں نہ کہ کوئی اور...
                الغرض مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا مرکز اور طلباء مدارس کو شدت پسند، انتہا پسند اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہنا، یہ الزامات کتنے صحیح ہیں اور کتنے غلط ہیں ایک منصف کیا ایک سیدھا سادہ آدمی یہ فیصلہ کرسکتاہے کہ ملک کی یکجہتی، اتحاد واتفاق، ملکی سالمیت، دستور، قانون، عدلیہ اور سیکولرازم کا احترام جتنا دینی مدارس کرتے ہیں شاید ہی کوئی ادارہ کرتا ہوگا۔ بہرکیف دینی مدارس ومکاتب اعتدال پسند، انسانیت نواز اور اپنے ملک کے وفادار ادارے ہیں
$ $ $
---------------------------------





اگر یہ مدارس نہ رہے تو!
ایک مسلمان کے لیے یہ بات باعث افتخار ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صورت میں ایک مکمل اور زندہ جاوید دستور حیات مرحمت فرمایا ہے ،مسلمانوں کا چودہ صدیوں پر محیط ایک شان دار اور درخشاں ماضی ہے ،ان کے پاس ایک عظیم الشان تہذیب و ثقافت ہے ،قرآن و سنت کی شکل میں ان کے پاس خدائی راہ نمائی موجود ہے ، قران اول سے لے کر عصر حاضر تک علمائے اسلام کی جہد مسلسل کے نتیجے میں فقہ اسلامی کی عظیم علمی میراث اور بے مثال دستور حیات کا ذخیرہ انہیں میسر ہے ،یہ مسلمان ہی تھے اور ہیں کہ جنہوں نے دنیا کو خدائی ہدایت اور راہ نمائی سے روشناس کروایا ،انہیں شرک،کفر اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر ایمان و ایقان اور علم کی روشنیوں سے مالا مال کیا ،دنیائے انسانیت کو دستور حیات دیا ،تہذیب دی ،امن دیا ،مظلوموں اور ناداروں سمیت تمام طبقات انسانی کو حقوق دیے ،غرض انسانیت کو جینے کا سلیقہ اور قرینہ عطا کیا۔

مسلمانوں کے عروج سے انسانی دنیا اور ان کی زندگیوں پر جو مثبت اور زوال سے جو منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں تاریخ انسانی سے واقف ایک ادنی طالب علم بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا ،لیکن انسانوں میں ہمیشہ سے ایک ایسا استعماری طبقہ چلا آرہا ہے جو اپنے سینو ں میں موجود کینہ ،بغض اور حسد کی بنا پر انسانیت کو آسمانی ہدایت وراہ نمائی سے محروم کر کے ان کا استحصال کرنا چاہتا ہے، اسی غرض سے اس استعماری طبقہ نے ہردور میں خدائی ہدایت وراہ نمائی کے علم بردار مسلمانوں سے مختلف میدانوں میں جنگیں لڑیں ،مسلمانوں کی اجتماعیت جب تک وحی الہٰی کی راہ نمائی میں زندگی گزارتی رہی نصرت خداوندی ان کے شامل حال رہی ،لیکن جب مسلمانوں کی اجتماعیت اور معاشرہ خدائی تعلیمات کو چھوڑ کر نفس پرستی اور اپنی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہوگیا تو استعماری طبقہ کو اپنی سازشوں میں کام یاب ہونے کا موقع ملا،چناں چہ مذہبی بنیادوں پر استوار مغربی استعمار کو جب دنیا میں غلبہ حاصل ہوا تو اس نے باقاعدہ استعماری و تبشیری مشن کے تحت مسلمانوں کی عظیم الشان تاریخ ،تہذیب و تمدن اور بے مثال علمی ورثہ اور سرمایہ پر قدغن لگانے اور اس کی حقیقت کو مسخ کرنے کی خاطر ایک استشراقی تحریک چلائی،جس کے پس پردہ متعدد سیاسی ،دینی، تبشیری اور استعماری محرکات تھے ،جن کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کو اسلام و مسلمانوں کے پاس موجود لاریب خدائی وحی کی رہنمائی سے محروم کرنا تھا۔

ان مخصوص اہداف کی تکمیل کے لیے ان کی تمام تر دلچسپی اور کوشش یہ رہی کہ اسلام اور اس کے محاسن میں عیب جوئی کی جائے ،نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ اور آپ کی نبوت پر زبان طعن دراز کی جائے ،مغرب و یورپ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی میں گستاخی کرتے ہوئے خاکے شائع کرنا ہر گز بھی اتفاقی بات نہیں ،بلکہ یہ اسی حقد و کینہ کا اظہار ہے، جو زمانہ قدیم سے ان کے سینوں کو جلائے ہوئے ہے، غرض اسلام اور نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کا یہ مذموم گستاخانہ رویہ اس لیے ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین و تہذیب سے ہٹا کر فکری ،اعتقادی اور عملی ارتداد کا شکار کیا جاسکے اور باقی تمام انسانیت کو یہ باور کروایا جاسکے کہ اسلام کے ماننے والے مسلمان ایک وحشی وسفاک ،خون ریز اور دہشت گرد قوم ہے ،اہل مغرب نے ”دہشت گردی“کی مخصوص اصطلاح انہی مقاصد کی تکمیل لیے ایجاد کی ہے، یہ بات پورے شرح صدر کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مغربی استعماری تسلط سے پہلے دنیا میں اس اصطلاح کا کوئی وجود نہ تھا ،بلکہ نائن الیون سے قبل دنیا کی اکثریت کے لیے یہ اصطلاح نامانوس تھی ۔ان لوگوں نے اسی پر بس نہیں کیا ،بلکہ اپنے ان استعماری و تبشیری مقاصد کے حصول کے لیے کچھ نام کے مسلمان بھی تیار کیے ،جن کی باقاعدہ بالواسطہ یا بلا واسطہ انہیں استعماری خطوط پر پرورش ،تعلیم و تربیت کر کے ان کے دل و دماغ میں ایسا زہر بھر دیا کہ وہ اپنے مغربی آقاؤں سے بھی دو ہاتھ آگے نظر آتے ہیں ،ان لوگوں نے اس ذہن سازی کے نتیجہ میں اب اسلام کے خلاف کفری و قلمی ہتھیار خود تلاشنے شروع کردیے ہیں ،تبشیری مستشرقین کے تربیت یافتہ و فیض یافتہ ان نام نہاد مسلم مفکرین ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ اینکر پرسن اور قلم کاروں نے اپنی ہی نسل نو کے سامنے اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی اقدار کے امین ”مدارس“کی ایسی جھوٹی منظر کشی کی ہے کہ جس کا حقیقت کے ساتھ ذرہ برابر بھی تعلق نہیں ،پھر کچھ مسلمان ایسے بھی ہیں جو دیدہ دانستہ یا انجانے میں اپنی سادگی یا ان کے پروپیگنڈہ کی شدت سے متاثر ہو کر انہی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

عصر حاضر میں انہیں اسلام پر اپنے ناپاک حملہ میں مزید شدت لانے کی اس لیے بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ تہذیب جدید نے اہل مغرب کے عقائد سے لے کر معاشرتی نظام تک کی بنیادوں کو ہلا ڈالا ہے اور وہ اب اپنے اندر کی بے چینی سے مجبور ہو کر اسلام کی حقانیت میں سکون تلاش کرنے لگے ہیں ۔تو اس استعمار نے اہل مغرب کو اپنے عقیدہ اور مقدس کتاب میں موجود تحریفات پر غور و نقد سے روکنے اور دنیا کو اسلام کی حقانیت سے دور رکھنے کے لیے اسلام اور مسلمانوں پر سیاسی ،معاشی ،فکری اور استعماری و عسکری میدانوں میں ہلہ بول دیا ،مغربی استعمار چوں کہ قرونِ اولیٰ کی اسلامی فتوحات ،صلیبی جنگوں اور عثمانی خلفاء کی یورپ میں حاصل کی گئی فتوحات کے نتیجہ میں اہل مغرب میں پیدا ہونے والے خوف اور اسلام کی شان و شوکت سے اچھی طرح واقف ہے ،اس پر نائن الیون جیسے مجہول الحال واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ،چناں چہ انہوں نے خوف و ہراس کے اس نفسیاتی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس ماحول میں مزید اضافہ کے اقدامات کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی تشخص کو مٹانے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت متصلب مسلمانوں کو ”دہشت گرد“اور ان کی دینی، فکری اور عملی تربیت کرنے والے اداروں، خاص طور سے مدارس کو ”دہشت گردی کے مراکز اور فکری آماج گاہیں“قرار دینے کا ایک ناختم ہونے والا مسلسل پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے ،اس زہریلے پروپیگنڈے میں ان کے دیسی نمک خوار بھی ان کے شانہ بشانہ مصروف کار دکھائی دیتے ہیں۔

مدارس دینیہ چوں کہ اسلام ، اسلامی تہذیب و ثقافت اور امت مسلمہ کی چودہ صدیوں کے عظیم الشان دینی اور علمی ورثہ کے امین ہیں ،مدارس کی شبانہ روزمحنتوں سے اسلام اپنے حقیقی روح و عمل کے ساتھ روئے زمین پر موجود ہے ،یہ مدارس ہی ہیں جن کی جہد پیہم کی وجہ سے آج بر صغیر پاک و ہند استعمار کی شدید ترین کوششوں کے باوجود ”اندلس“نہیں بن سکا ہے ،مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ساٹھ سے زائد مسلمان ممالک اپنے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود بھی ان استعماری سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکے ،بلکہ اس پر مستزاد دکھ دینے والی صورت حال یہ ہے کہ اکثر مسلم ممالک استعماری سازشوں کا شکار ہو کر ان کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں ،چوں کہ مغربی استعماری قوتوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ان کے منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں آخری رکاوٹ ”دینی مدارس“ہیں ،اس لیے ان کا سا راز و راس پر ہے کہ کسی بھی طرح سے مدارس کو موجودہ”دہشت گردی“کے ساتھ نتھی کر کے انہیں راہ سے ہٹا دیا جائے ،اگر ایسا نہ ہو سکا(اور یقینا نہیں ہوگا ان شا ء اللہ )تو ان کے نصاب میں ایسی تبدیلیاں کروائی جائیں کہ مدارس سے بھی ”لارڈ میکالے“کے دیے ہوئے نظام تعلیم کی طرح انہیں کہ پروردہ لوگ نکلیں ،جن میں دنیا کو حقیقی اسلام سے متعارف کروانے کی صلاحیت مفقود ہو،جو ہر طرح کے جذبہ حریت سے خالی ہوں۔

اہل مغرب کی طرف سے ”مدارس دینیہ “کے بارے میں آئے روز جو نت نئے پرپیگنڈے کیے اور پنے دیسی نمک خواروں کے ذریعے کروائے جارہے ہیں ،ان میں جس طرح نائن الیون کے بعد شدت لائی گئی تھی، ٹھیک اسی طرح کچھ عرصة قبل رونما کروائے جانے والے سانحہ پشاور کے بعد بھی حکومتی سطح سے لے کر پرنٹ و الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں بھی ایک شور وغل بپا ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے مدارس ، نصاب تعلیم اور ان کے اساتذہ کی فکری و عملی تربیت کا ر فرما ہے ،اس بارے میں ہمیں مغرب سے کوئی گلہ نہیں، چوں کہ اپنی راہ کی اس آخری رکاوٹ کو ہٹانے اور اپنے استعماری و تبشیری مقاصد کی تکمیل کے لیے وہ ”مدارس“کو دہشت گردی کے اڈے بھی باور کروائیں گے،ان کے نصاب تعلیم پر بھی قد غن لگائیں گے اور جہاں تک ممکن ہو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں مشکلات سے بھی دو چار کرنے کی کوشش کریں گے ،لیکن ہمیں گلہ اور شکوہ ہے تو ان نام نہاد مسلم دانش وروں اور ان کے فیض یافتہ شاگردوں سے ، جو خود کو مسلمان اور اسلام کا خیر خواہ بھی ظاہر کرتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ یہ کہہ کر مدارس کو موجودہ”دہشت گردی“ سے نتھی کرنے پر کمر بستہ نظر آتے ہیں کہ ماؤ نے کہا تھا ::”کہ تم لوگوں کو ذہنی طور سے مسلح کردو، ہتھیار وہ خود تلاش کرلیں گے “۔

ان بے چاروں کا قصور نہیں ،یہ درحقیقت سیکولرازم کے داعی اساتذہ کی طرف سے ان کی ذہن سازی کا نتیجہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے تمام تیروں کا رخ دینی مدارس کی طرف کردیا ہے ،ہم ان سے اور مدارس کے خلاف پرو پیگنڈے کرنے والے دیگر تمام حضرات سے بصد احترام یہ کہیں گے کہ یہ ہر بات ذی شعور پاکستانی اچھی طرح جانتا ہے کہ موجودہ عسکریت پسندی اسی (80) کی دہائی میں عالمی امن کے ٹھیکیدار،صاحب بہادر امریکہ کی آشیرباد پر بنائی جانے والی ہماری اپنی حکومتوں کی خارجی اور داخلی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ،نہ کہ دینی مدارس ،ان کا نصاب تعلیم اور ان کے اساتذہ کی تربیت؛اس لیے کہ دینی مدارس کم و بیش اپنے اسی نصاب تعلیم اور اساتذہ کے اسی اندازِ فکر و تربیت کے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے اس خطے میں خدمات انجام دے رہے ہیں ،بقول کسے :”کہ مدارس کا تعلیمی ماحول اور تربیتی فضاہی عسکریت کا باعث ہیں“۔تو انہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے جیسا آپ باور کروانا چاہتے ہیں تو پھر قیام پاکستان کے ساتھ ہی عسکریت پسندی کیوں شروع نہ ہوئی؟اس نے اس (80) کی دہائی کاہی کیوں انتظار کیا؟!یہ کسے معلوم نہیں کہ جب صاحب بہادر کی ضرورت تھی تو اس وقت ”سرخ عفریت“کو شکست دینے کے لیے ہمارے حکم رانوں نے خود ان کی ہم نوائی میں سویلینز کو عسکریت کے فضائل سنائے ،انہیں مسلح کیا اور انہیں ہر طرح سے پروموٹ کر کے ان کے تمام تر اقدامات کو ریاستی سطح پر جہاد کا درجہ دیا،آج جب سوویت یونین کو شکست و ریخت سے دو چار ہوئے عرصہ گزر گیا اور صاحب بہادر امریکہ اپنے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے سے سرخ انقلاب کی طرح زوال پذیر ہونے جارہا ہے تووہ ان کے ہم نواکل جنہیں خود مجاہدین باور کروارہے تھے آج خود انہیں خوارج قرار دینا چاہتے ہیں #جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ،یہ کوئی سوچ ہے یا بازیچہٴ اطفال؟!…قطع نظر اس سے کہ ہمیں یا کسی کو بھی کل اور آج کی پالیسیوں سے اتفاق رہا یا نہیں ،اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ آج خون ریزی اور عسکریت پسندی کی شکل میں پوری قوم جس فصل کو کاٹ رہی ہے وہ گزشتہ دہائیوں ہی کی کاشت کردہ ایک زمینی حقیقت ہے،خروج و عدم خروج کی فکری بحث کے لیے صرف اخباری کالم نہیں، علمی وسعتوں ،حزم و احتیاط اور زمینی حقائق کے ساتھ اس کا واویلا کرنے والوں کے کل اور آج کے کردار و گفتار کو بھی ضرور پیش نظر رکھنا پڑے گا ،کیا یہ بات قرین انصاف ہوگی کہ خود اسلام سے عملی روگردانی کر کے دوسروں پر خروج کے فتوے لگائے جائیں؟دل چاہتا ہے کہ ان سے یہ پوچھا جائے کہ کیا زبردستی اور من مانی کر کے کسی پر خروج کے فتوے چسپاں کرنے سے وطن عزیز کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟ کوئی بھی صاحب عقل و شعور اسے موجودہ تمام مسائل کا حل وحید ہر گز بھی قرار نہیں دے گا ،تو پھر کیوں بعض نا عاقبت اندیش ان ”امپورٹڈ فتووں“سے ملک کو مزید آگ و خون ریزی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں ؟

طرفتہ تماشہ دیکھیے کہ یہ لوگ اسی پر بس نہیں کرتے ،بلکہ استعماری مقاصد کی تکمیل کی راہ ہم وار کرنے کے لیے مدارس کو بھی عسکریت پسندی سے نتھی کر کے ان کو اور عسکریت پسندوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتے ہیں، حالاں کہ اہل مدارس ،خاص طور سے وفاق المدارس العربیہ نے کچھ عرصہ قبل لاہور کے ملک گیر علماء کنونشن میں یہ بات واضح کردی تھی کہ وہ پاکستان کے اندر کسی بھی طرح کی عسکریت پسندی کے قائل نہیں ،عالمی اور ملکی میڈیا اس کا شاہد رہا ہے ،پھر بڑے وسیع پیمانے پر اس کانفرنس کا اعلامیہ شائع کروا کے ملک بھر میں باقاعدہ تقسیم بھی کیا گیا ۔مزید برآں مدارس کے خلاف زہر اگلنے والوں کو بھی اعتراف ہے کہ مدارس والے عسکریت پسندوں کے اس طرز عمل سے متفق نہیں ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اہل مدارس اس طریقہ کار سے اختلاف کرتے ہیں اور آپ کو بھی اس کااعتراف ہے تو پھر کیوں مدارس کو زبردستی عسکریت سے جوڑنے کی سعی نامسعود کی جارہی ہے ؟اگر حقائق کے برخلاف مدارس کو یوں ہی زبردستی اس آگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جائے گی کہ جس میں نہ ملک و قوم کا مفاد ہو اور نہ ہی حکومت کا ،تو پھر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب ضرور یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ”مدارس کے خلاف یہ یلغار امریکہ اور لادینی قوتوں کے کہنے پر کی جارہی ہے“،لیکن مولانا صاحب کے اس بیان سے نظم اجتماعیت کے ہونے یا نہ ہونے کا لفظی چکر چلا کر اسے عسکریت پسندی کے جواز پر محمول کرنا زبردستی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سستی شہرت کے حصول لیے آپ کسی اور میدان کا انتخاب کیجیے ،دنیا میں ریٹ بڑھانے کے تو اور بھی ذرائع ہیں ،کیا اس کے لیے مدارس کو ہی دوش دینا ضروری ہے ؟خدارا!اس مذموم پروپیگنڈے سے باز آجائیں، وگرنہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ،جس دن خدا کی لاٹھی حرکت میں آگئی تو پھر ان بوریہ نشینوں اور مدارس کے خلاف زہر اگلنے والی یہ زبانیں گنگ اور قلم کی سیاہی خشک ہوجائے گی۔

کوئی اور اگر آپ کی پیش کی ہوئی ”ماؤ“والی اس ”نرالی منطق“کا سہارا لے گا تو یقینا یہ کہنا بے جانہ ہوگاکہ گزشتہ ستر سالوں سے وطن عزیز میں جتنی بھتہ خوری ،ٹارگٹ ،کرپشن ،حقوق کی پامالی، منتخب حکومتوں پر آمریت کے شب خون ،ملک کو دولخت کرنے ،ملک و قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر سوئس بینکوں میں بھرنے ،علاقائیت، صوبائیت، قومیت اور لسانیت کے نام پر کشت و خون اور دہشت گردی ،پولیس گردی کے ذریعہ سینکڑوں معصوم شہریوں کو جان سے مارنے ،لاپتہ افراد کیس کے مطابق متعدد قوم کے فرزندوں کو تاحال غائب کرنے اور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ڈالروں کے عوض فروخت کرنے کے پیچھے کالجز اور یونیورسٹیوں میں رائج لارڈ میکالے کا نظام تعلیم ،وہاں کا نصاب اور وہاں پڑھانے والوں کی فکری اور ذہنی تربیت اور ماحول کارفرماہے ،یا پھر ملک کا اجتماعی نظام؟ اس لیے کہ مذکورہ کاموں میں یقینا کوئی ایک بھی مدارس کا فیض یافتہ یا وہاں کے اساتذہ سے فکری تربیت پانے والا نہیں ۔گزشتہ کل کے اخبار میں …خبر…کہ لاہور میں اغوا برائے تاوان اور بردہ فروشی کی وارداتیں کرنے والے مردو عورت دونوں یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں …؛لہٰذا مدارس سے زیادہ ان اداروں کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔

میں اپنی تحریر ختم کرنے سے پہلے وطن عزیز کے حکم رانوں ،قومی اداروں کے پالیسی ساز ذمہ داروں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی خدمت میں مدارس کے بارے میں شاعر مشرق ،مفکر و محسن پاکستان جناب علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے اس قول کو پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہو ں ،جو یقینا آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ،تم ہماری نہیں مانتے تو نہ مانو ،اگر تم اس ملک قوم کے خیر خواہ اور وفادار ہو تو اپنے محسن اور مفکر وطن کی تو مانو…، علامہ صاحب نے فرمایا :

”ان مکتبوں کو اسی حال میں رہنے دو ،غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو ،اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟جو کچھ ہوگا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں ،اگر ہندوستانی مسلمان(اور اب پاکستانی مسلمان بھی)ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، برصغیر پاک وہند میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لا ل قلعہ (لاہور کے شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد)کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا “۔







مدارس اسلامیہ اور ہمارا طرز عمل
اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدائے آفرینش ہی سے حق وباطل کے درمیان کشمکش ہے، باطل طاقتوں نے ہمیشہ اسلام کی حقیقی صورت کو مسخ کرنے کی ناہنجار کوشش کی ہے، مگر اللہ کے فرمان ﴿ان الدین عند اللہ الاسلام﴾ کے تحت وہ طاقتیں اللہ کے سامنے بے بس اور ناکام رہیں اور آفتاب اسلام آج بھی پوری آب و تاب پر ہے، کیوں کہ اسلام کی فطرت کو قدرت نے لچک دی ہے اسلام وہ پودا ہے جس کو جتنا کاٹو گے اتنا ہی ہرا ہوگا

لیکن رنج و الم اور دلی کوفت اس وقت ہوتی ہے جب غیروں کی ان ناپاک کوششوں میں مدعیان حق بھی پیش پیش نظر آتے ہیں اور اسلام کے زندہ وجاوید آشیانے میں آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان گھناؤنی حرکات کے بعد بھی اپنے آپ کو شیدائیان اسلام ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
        وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
        کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

یہ ایک تلخ، مگر مسلمہ حقیقت ہے کہ آج ہمارے سماج ومعاشرہ میں دینی مدارس اور اہل مدارس کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھا جاتا ہے، مدارس کے سفرا اور ذمہ داران حضرات کو قوم کے بدترین افراد شمار کیا جاتا اور ان کے ساتھ سوتیلا برتاوٴ کیا جاتا ہے، جب کہ ہندوستان کی آزادی سے لے کر اس کی نشوو نما تک مدارس اور اہل مدارس نے اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر جو کارہائے نمایاں انجام دیے شاید ان احسانات کو تاریخ کے صفحات کبھی بھی فراموش نہ کرسکیں، کسی بھی قوم کی ترقی وتعمیر میں تعلیم کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جنگ آزادی میں اپنا گراں قدر کردار ادا کرنے کے بعد مدارس اسلامیہ نے تعلیم کے میدان میں بھی بڑے جوش وخروش کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیا،ماشاء اللہ آزادی ہندوستان کے بعد سرزمین ہند کے جو سب سے پہلے وزیر تعلیم منتخب کیے گئے وہ ایک مولانا ہی تھے، جن کو ہندوستانی تاریخ مولانا ابو الکلام آزاد کے نام سے جانتی ہے، جو ایک دینی مدرسہ کی پیداوار تھے، جنہوں نے اپنے منصب کے لحاظ سے ہندوستانی نظام تعلیم کو عروج وارتقا کا سفر طے کرایا،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،عثمانیہ یونیورسٹی اور کشمیر یونیورسٹی جیسی عالمی شہرت یافتہ جامعات جن بزرگوں کی مرہون منت ہیں وہ سب مدارس ہی کے فارغین تھے۔
        جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی
        سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
        پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن
        یہ ہمارا چمن ہے تمہارا نہیں

افسوس ہے کہ دور حاضر میں ملک کی ترقی کے کچھ دشمن حضرات، انسانیت اور حب وطن کا درس دینے والے مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈاتصور کرتے ہیں، بلکہ اگر سچائی سے کام لیں تو مدارس کے قیام کا مقصد ہی ایمانداری، سچائی اور خدمت خلق کا درس دینا ہے، جب کہ دینی مدارس کے خلاف اغیار کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے زیادہ خطرناک ملت اسلامیہ کو اسلام سے وابستہ رکھنے کا واحد ذریعہ ان دینی مدارس سے مسلمانو ں میں بڑھتی بے اعتمادی ،بلکہ بدگمانی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان مدارس کی طرف سے بے اعتمادی اور بد گمانی خود اسلام سے بدگمانی اور دینی تعلیم سے محرومی ہے جب کہ ”طلب العلم فریضة علی کل مسلم ومسلمة “کا واضح فارمولا ہمارے سامنے موجود ہے۔

آج مسلم معاشرہ علماء کے تعلق سے عمومی چندہ کے سلسلے میں بھی بدظن ہے، جب کہ وہ حضرات بخوبی واقف ہیں کہ مدارس کے جملہ اخراجات انہیں دردمند محسنین اور اہل خیر کے تعاون ہی پر منحصر ہیں، جس کے لیے مدارس کے سفرا حضرات رمضان کے ماہ مبارک میں روزہ رکھتے ہوئے دربدر بھٹکتے ہیں روزہ کی حالت میں جب وہ سفراء اہل خیر حضرات کے دربار میں حاضری دیتے ہیں تو انہیں حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے، بسا اوقات کچھ امداد کیے بغیر اور الہی فرمان ﴿واما السائل فلاتنہر﴾ کا پاس ولحاظ نہ رکھتے ہوئے انھیں خالی ہاتھ واپس کردیا جاتا ہے، اللہ تعالی اخلاص کے ساتھ اس کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹانے کی لذت سے آشنا، خوش نصیبوں کو خدام مدارس کی قدرومنزلت سے واقفیت عطا کرتے ہیں اس کے برخلاف بخل کے مریضوں ،مہاجنو ں اور نام ونمود کے لیے خرچ کرنے کے خواہش مندوں کو ان قابل رشک خدام دین میں کمیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔دو پیسوں کے نشے میں یا مغربی پروپیگنڈہ سے متاثر بھولے بھالے مسلمانوں میں ان خدام مدارس کی عظمت کا بڑا فقدان پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے امت مسلمہ مدارس کے حقیقی فائدے سے محروم سی ہوتی جارہی ہے۔افسوس ہے کہ دینی اداروں، علمائے مدارس اور خدام مدارس کے سلسلے میں امت میں حد درجہ استخفاف اور اہانت کا معاملہ پایا جاتا ہے۔

ملک کا ایک بڑ ا تعلیم یافتہ طبقہ مدارس کے قیام کے سلسلے میں بھی بدظن ہے اور مدارس اسلامیہ کوعلما ء کے مالی وسائل اور معاش کا ذریعہ بتاتا ہے سفرا ئے مدارس کی بڑھتی تعداد سے عاجز نظر آتا ہے جب کہ مدارس اسلامیہ کی اتنی بڑی تعداد ہو جانے کے باوجود بھی اس ملک کے پانچ فیصد حصے میں بھی مسلمانوں کی بنیادی دینی تعلیم کی ضرورت پوری نہیں ہوپاتی ۔اس کے باوجود بھی مسلمانوں میں مدارس کے قیام کی فکر کے بجائے مدارس کی زیادتی ایک عیب اور برائی نظر آتی ہے، بنیادی دینی تعلیم کی ضرورت محسوس کرنے والے کچھ دردمند مسلمان بھی یہ خیال رکھتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں دینی مدارس کی ضرورت نہیں ہے ان دانشور حضرات کو خود محاسبہ کرنا چاہیے کہ آج مدارس اسلامیہ سے کتنے علماء فارغ ہوتے ہیں جن کی ایک لمبی تعدادحکومتی اسکولوں میں استاذ دینیات متعین کی جاتی ہے، پھر ائمہ مساجد بھی وہی علماء بنتے ہیں اس کے علاوہ مدارس اسلامیہ کو بھی ایک بڑی تعداد کی ضرورت پیش ہوتی ہے جو درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اس کے باوجود آج ہندوپاک کے کتنے علاقے، بلکہ صوبے ایسے ہیں جہاں کے مسلمان نہ تو قرآن کی تعلیم سے واقف ہیں اور نہ ہی شریعت اسلامیہ کے دیگر ضروری امور سے،ان کے دلوں کو اگر کوئی ایمان کی دولت سے ما لا مال کرے گا تو یہی علماء ہوں گے جن کے بارے میں خود مولائے حقیقی اعلان کر رہے ہیں ﴿ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر واولئک ہم المفلحون﴾․

جن فرشتہ صفت انسانوں کو اللہ رب العزت نے فلاح اور کام یابی کی ضمانت دی ہے وہ یہی علماء ہیں، اس کے باوجو د مدارس کی وقعت اور اہمیت کا اندازہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے تعلیمی معیار پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہو تا ہے، آج دینی مدارس میں صرف وہ طلباء داخل کیے جاتے ہیں جو مالی لحاظ سے بالکل کمزور ہوتے ہیں ،دوسرے وہ طلباء جو اسکولوں اور کالجوں میں فیل ہوجاتے ہیں یا پھر جو آخری درجے میں شریر ہوتے ہیں، افسوس ہے کہ اللہ کے نبی اکے فرمان ”العلماء ورثة الانبیاء“ کے تحت آپ نے جس لڑکے کو نبی کا نائب اور قوم کا امام بنانے کا انتخاب کیا ہے وہ نہایت خام مال ہے، جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں ہے، اس کے برعکس جو لڑکا ذہین اور ہونہار ہے اسے عصری علوم کے لیے چنا ہے، جس سے اس کی دنیا تو یقینا سنور جائے گی مگر میدان محشر میں کف افسوس ملنا ہوگا۔

اس لیے ضرورت ہے کہ مسلم قوم کا اپنی آئندہ نسلوں کو اسلام پر باقی رکھنے کے لیے اور ان کو دینی ،فکری، بلکہ کلی ارتداد سے بچائے رکھنے کا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ کم از کم ٹھوس بنیادوں پر ان کی ابتدائی دینی تعلیم کا نظم کیا جائے ،یہ گمان کہ دینی تعلیم سے محروم رہ کر آئندہ نسلیں اسلام پر باقی رہ سکیں گی خیال عبث ہے۔ بلکہ دینی تعلیم سے محروم بچوں کے ارتدادکا خطرہ یقینی ہے، اس لحاظ سے ہندوستان میں دینی اداروں کی حیثیت بڑی اہمیت کی حامل ہے، مدارس اسلامیہ کو بے فیض سمجھنے کے ساتھ مدارس اور اہل مدارس کے سلسلے میں مسلمانوں میں، جو استخفاف، بلکہ اہانت کا جذبہ پایا جاتا ہے، یہ ملت، خصوصا آئندہ نسلوں کے ایمان سے کھلواڑ ہے اور اس ناسو ر کے علاج کی ذمہ داری خود انہیں علماء پر ہے کہ وہ مدارس کی ضرورت وافادیت کا احساس دلاکر ملت اسلامیہ کی ذہن سازی کریں، حقائق کی روشنی میں ان کو اس بات کو باور کرانا ہوگا کہ ہماری دنیا و آخرت بنانے میں ان مدارس کا کیا کردار رہا ہے؟ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ علمائے اسلام اور اہل مدارس کوعوام کی ا ن ناشائستہ حرکتوں اور ذلت آمیز تنقیدوں سے ناامیدی کے بجائے تقویت ملے، تاکہ حق کا عروج ہو اور باطل دم توڑ دے ۔








دینی مدارس کا مزاج


صدیوں سے دینی مدارس قائم ہیں اور اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں، دین کی جو بہاریں آج نظر آرہی ہیں وہ ان دینی مراکز کی برکات ہیں۔ حکومتی تعاون سے الگ تھلگ اپنے مزاج کے مطابق خاموشی سے اپنے کام میں یہ ادارے مگن ہیں۔ مدارس کی نشأة ثانیہ کا آغاز اب سے ایک سو چالیس(۱۴۰) سال قبل محرم ۱۲۸۳ھ =۱۸۶۷/ میں دارالعلوم دیوبند اور پھر رجب ۱۲۸۳ھ= ۱۸۶۸/ میں مظاہر علوم سہارنپور سے ہوا۔ نشأة ثانیہ کے اس دور سے آج تک مدارس بڑے بحرانوں سے دوچار رہے، مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے غیروں کے بے پناہ سازشوں کے باوجود اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے۔ اربابِ مدارس اور علماء کرام کی مساعی اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اصحابِ خیر مسلمانوں کا تعاون بھی انتہائی قابل رشک ہے۔ اسی لیے مدارس کبھی حکومتی تعاون کے دستِ نگر نہیں رہے، اربابِ مدارس کے سامنے بانی دارالعلوم دیوبند قاسم العلوم والخیرات حجة الاسلام مولانا قاسم نانوتوی کے وہ آٹھ اصول ہیں جو آج بھی دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میں حضرت کے قلم سے محفوظ ہیں۔ ان میں سے ایک اصول نمبر ۸ یہ ہے کہ: ”اس مدرسہ میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں تب تک یہ مدرسہ انشاء اللہ بشرط توجہ الی اللہ اسی طرح چلے گا اور اگر کوئی آمدنی اس کی یقینی حاصل ہوگئی جیسے جاگیر، کارخانہٴ تجارت یا کسی امیر محکم القول کا وعدہ تو پھر یوں نظر آتا ہے کہ یہ خوف و رجاء جو سرمایہٴ رجوع الی اللہ ہے ہاتھ سے جاتا رہے گا اورامداد غیبی موقوف ہوجائے گی اور کارکنوں میں باہم نزاع پیدا ہوجائے گا۔“ القصہ آمدنی اور تعمیر میں ایک قسم کی بے سروسامانی رہی۔ (تاریخ دارالعلوم،ص:۱۰۶)
دارالعلوم دیوبند کے بارے میں مشہور موٴرخ شیخ محمد اکرام اپنی کتاب ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں کہ: ”دارالعلوم دیوبند کی ابتداء نہایت معمولی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم اور بانیوں کے حسنِ نیت سے جلدہی اس نے ترقی شروع کردی۔“ آگے لکھتے ہیں کہ: ”دیوبند کا قیام جنگ آزادی کے بیس پچیس سال بعد ہوا، لیکن جلد ہی اس نے قوم کے تعلیمی نظام میں معزز جگہ حاصل کرلی اور آج قدیم طرز کی اسلامی درس گاہوں میں سب سے ․․․ اس کی ترقی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کا بیج اچھا تھا اوراچھے ہاتھوں سے بویا گیا تھا۔“
آگے لکھتے ہیں: ”دارالعلوم کو خوش قسمتی سے ایسے اساتذہ ملے جنھوں نے قوم کی نظروں میں اس کا وقار بڑھا دیا۔ مثلاً مولانا محمود الحسن محدّث، مولانا انور شاہ محدّث اورمولانا شبیر احمد عثمانی یہ لوگ زہد و تقویٰ، راست گوئی، بے ریائی اور بے حرصی میں اسلاف کے بہترین علماء و صلحاء کا نمونہ تھے، خود غرضیوں اور کج بحثوں سے قطعاً پاک۔ نتیجہ یہ کہ مخالفین بھی ان کی عزت کرتے (موج کوثر،ص:۲۰۶ تا ۲۰۹) ان کے علاوہ شیخ المحدثین حضرت مولانا محمدیعقوب نانوتوی اور شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قابل ذکر ہیں۔
دور حاضر کی عظیم شخصیت، علم و روحانیت کا حسین امتزاج، زندگی کا بیشتر حصہ درس و تدریس میں گذارنے والے، علماء وطلباء کیلئے قابل تقلید ہستی، تقریباً پونے صدی مدارس کے نظام سے وابستہ یعنی حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب نے اپنی خود نوشت اور دلچسپ معلوماتی اوراکابر کے ذکر پر مشتمل ”آپ بیتی“ میں مدارس کے مزاج اور طلباء و علماء کے لئے بڑی فکر انگیز معلومات مہیا فرمائی ہیں۔ آج کل جب کہ سیکولر لابی اور مدارسِ دینیہ کے خلاف قوتیں و طاقتیں ان اسلامی مراکز کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں علماء و طلباء کیلئے ان اکابر کے تجربات قابل توجہ ہیں۔ ”آپ بیتی“ ص:۳۵ میں ”طلباء کی تربیت اور اس کی اہمیت“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”میرے اکابر کے ہاں طلباء کے آداب پر خصوصی نگاہ رہتی تھی۔ اوّل تو اس زمانہ میں اکابر اوراساتذہ کا احترام طلباء کے اندر مرکوز تھا، حضرت حکیم لامّة تھانوی کو بھی اس کا بہت احساس تھا ایک ملفوظ میں فرماتے ہیں کہ ”فلاں مدرسہ میں ایک وقت میں اکابر کی ایک ایسی جماعت تھی کہ ہر قسم کی خیروبرکات موجود تھیں، ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن کے اعتبار سے بھی، اس وقت تعمیر اتنی بڑی نہ تھی مگر ایک ایسی چیز اتنی بڑی تھی کہ مدرسہ خانقاہ معلوم ہوتا تھا ہر چہار طرف بزرگ ہی بزرگ نظر آتے تھے، اب سب کچھ ہے اور پہلے سے ہرچیز زائد ہے مگر وہی چیز نہیں جو اس وقت تھی گویا جسد ہے روح نہیں۔“ مدرسہ میں انجمن قائم کرنے پر فرمایا ”اب تعلیم و تربیت ختم اور نہ اب استاذ کا ادب رہا اورنہ مہتمم صاحب کا ادب رہا، نہ پیر کا ادب رہا نہ باپ کا“ یہ نہایت مشہور مقولہ اور نہایت مجرّب ہے کہ ”شاگرد استاذ کی بے حرمتی سے علم کی برکات سے ہمیشہ محروم رہتا ہے اور والدین کے بے حرمتی کرنے والا روزی سے ہمیشہ پریشان رہتاہے۔“
حضرت مولانا محمد الیاس صاحب دہلوی رئیس التبلیغ کے ملفوظات میں مولانا محمد منظور صاحب نعمانینے طلباء کے متعلق تین اصول تفصیل سے لکھوائے، مرض الوفات میں جب ضعف انتہاء کو پہنچا ہوا تھا بات کرنے کی طاقت نہیں تھی بعد نماز فجر خاکسار کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ کان بالکل میرے لبوں سے لگادو اور سنو! یہ طلباء اللہ کی امانت اوراس کا عطیہ ہیں ان کی قدر اور اس نعمت کا شکریہ یہ ہے کہ ان کا وقت ان کی حیثیت کے مناسب پورے اہتمام سے کام میں لگایا جائے اور ذرا سا وقت بھی ضائع نہ جائے، یہ بہت کم وقت لے کر آئے ہیں، پہلے میری دو تین باتیں ان کو پہنچادو: پہلی یہ کہ اپنے تمام اساتذہ کی توقیر اوران سب کا ادب و احترام آپ کا خصوصی اور امتیازی فریضہ ہے آپ کو ان کی تعظیم کرنی چاہیے جیسے کہ ائمہ دین کی کی جاتی ہے وہ آپ لوگوں کیلئے علم نبوی کے حصول کا ذریعہ ہیں علم دین کے اساتذہ کے حقوق کا معاملہ اور بھی زیادہ نازک ہے ان طلباء کو میرا ایک پیغام تو یہ پہنچاؤ کہ اپنی زندگی کے اس پہلو کے اصلاح کی یہ خاص طور سے فکر کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”علم لا ینفع“ سے پناہ مانگی اوراس کے علاوہ بھی عالم بے عمل کے لئے جو سخت وعیدیں قرآن وحدیث میں آئی ہیں وہ آپ کے علم میں ہیں۔ دوسری بات ان طلبہ سے یہ کہی جائے کہ ان کا وقت بڑا قیمتی ہے وہ بہت تھوڑا وقت لے کر آئے ہیں لہٰذا اس کا ایک لمحہ بھی یہاں ضائع نہ کریں آگے فرمایا یہ طے شدہ امر ہے اور عادت اللہ ہمیشہ سے یہی جاری ہے کہ اساتذہ کا احترام نہ کرنے والا کبھی بھی علم سے منتفع نہیں ہوسکتا۔“ حضرت مولانا محمد الیاس دہلوی کے مقبول اور مستجاب ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کا تبلیغی کارنامہ آج پوری دنیا میں جاری و ساری ہے۔ ان کا یہ ملفوظ علماء و طلباء کیلئے فکر انگیز ہے۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب آگے فرماتے ہیں کہ میرا تجربہ یہاں تک ہے کہ انگریزی طلبہ میں بھی جو لوگ طالب علمی میں اساتذہ کی مار کھاتے ہیں وہ کافی ترقیاں حاصل کرتے ہیں۔ اونچے اونچے عہدوں پر پہنچتے ہیں غرض جس سے وہ علم حاصل کیا تھا وہ نفع پورے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ اور جو اس زمانہ میں استاذوں کے ساتھ نخوت و تکبر سے رہتے ہیں وہ بعد میں اپنی ڈگریاں لئے ہوئے سفارشیں ہی کراتے ہیں کہیں اگر ملازمت مل بھی جاتی ہے تو آئے دن اس پر آفات آتی رہتی ہیں بہرحال جو علم بھی ہو اس کا کمال اس وقت تک ہوتا ہی نہیں اور اس کا نفع حاصل ہی نہیں ہوتا جب تک اس فن کے اساتذہ کا ادب نہ کرے چہ جائے کہ ان سے مخالفت کرے۔ (آپ بیتی،ص:۶۲)
”تذکرة الرشید“ میں لکھا ہے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے بارہا فرمایا کہ ”جب میں اور مولوی محمد قاسم دہلی میں استاذ (مولانا مملوک علی) سے پڑھتے تھے، منطق کی کتاب ”سلم العلوم“ شروع کرنے کا ارادہ ہوا۔ وقت میں کمی کی وجہ سے دوبار ہفتہ میں پڑھانے کا طے ہوا۔ ایک روز یہی سبق ہورہا تھا کہ ایک شخص نیلی لنگی کندھے پر ڈالے ہوئے آنکلے اور ان کو دیکھ کر حضرت مولوی صاحب مع تمام مجمع کے کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ لو بھئی حاجی صاحب (حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب) آگئے، حاجی صاحب آگئے اور حضرت مولانا نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا:لو بھائی رشید سبق پھر ہوگا مجھے سبق کا بہت افسوس ہوا اور میں نے مولوی محمد قاسم صاحب سے کہا بھئی یہ اچھا حاجی آیا ہے ہمارا سبق ہی گیا۔ مولوی محمد قاسم صاحب نے کہا ایسا مت کہو یہ بزرگ ہیں اور ایسے ہیں، ایسے ہیں۔ حضرت حاجی صاحب ہمارا حال دریافت فرمایا کرتے اوریوں کہا کرتے تھے کہ سارے طالب علموں میں وہ دو طالب علم (مولانا نانوتوی اور مولانا گنگوہی) ہوشیار معلوم ہوتے ہیں“ حضرت حاجی صاحب کی آمد پر مولانا مملوک علی صاحب کا اس عقیدت و احترام سے کھڑا ہونا دلیل ہے کہ بڑوں کی عزت کس طرح کی جاتی ہے۔
پہلے دور میں مدارس میں ہڑتالیں سٹرائی (Strike) وغیرہ ناپید تھیں بعد میں جب طلبہ کے مزاج میں آزادی، خودرائی، اساتذہ اور بڑوں کی بے ادبی کی فضاء پیدا ہونی شروع ہوئی تو یہ تحریکات بھی ظاہر ہونے لگیں۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب نے ”آپ بیتی“ میں ۱۳۸۴ھ میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں ناکام سٹرائیک پر تفصیلی بحث فرمائی ہے اوراس کے عبرت ناک اور حیرت انگیز نتائج کا ذکر فرمایا ہے جو اس دور کے طلبہ کیلئے انتہائی قابل توجہ ہیں۔
حضرت فرماتے ہیں: ”اس ناکارہ نے اپنی زندگی میں تکبر اور گھمنڈ کے بہت ہی نقصانات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور جھوٹوں اور نادانوں کی زبان کی بدولت بڑے بڑے اکابر کو پریشانیوں میں مبتلا دیکھا۔ مدرسہ مظاہر علوم کی ۱۳۸۴ھ کی ناکام سٹرائیک اسی عُجب و پندار کے ثمرات کا نتیجہ تھا۔ مدارس میں طلبہ کا اخراج ہوتا ہی رہتا ہے لیکن اس عجب کی نحوست نے ایک معمولی طالب علم کے اخراج کو سٹرائیک تک پہنچادیا۔ میرے نزدیک تو اس ہنگامہ کی بنیاد شاہ عبدالقادر رائے پوری کا سایہ سرپرستی سے اٹھنا تھا ۱۳۸۲ھ میں حضرت کا وصال لاہور میں ہوا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ مدرسہ کے ممبران میں اہل اللہ ضرور ہونے چاہئیں۔ ایک طالب علم جس کی بہت سی شکایتیں مدرسہ مظاہر علوم کی شاخ مدرسہ خلیلیہ کے ناظم کے پاس پہنچ رہی تھیں، سینمابینی، انگریزی بال، اساتذہ کا عدم احترام، نماز کی عدم پابندی، مدرسہ کے اہل شوریٰ کے مشورہ سے اس کا اخراج کیاگیا، اس طالب علم نے لیبر یونین کے ایک غیرمسلم لیڈر کے مشورہ سے رات تقریر کی کہ میرا اخراج تم سب کے اتفاق سے رک سکتا ہے۔ میں نے ناظم صاحب کو کہا کہ اس ہنگامہ کی خبر لے، مگران کو اپنی نظامت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ انھوں نے مجھے اطمینان دلایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ چند دن بعد معلوم ہوا کہ طلباء نے اندر سے دروازہ بند کرکے ایک درخواست ناظم صاحب کے پاس بھیجی، جس میں بہت سے لغومطالبات کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا فلاں طالب علم کا اخراج ملتوی کیا جائے، مدرسہ کے سب اکابر، ناظم صاحب مولانا اسعد اللہ صاحب، مولانا امیراحمد صاحب صدر مدرس وغیرہ نے بارہا سمجھایا، مگر وہ نہ مانے اس ہنگامہ میں (مرکزی) مدرسہ مظاہر علوم کے طلبہ نے بھی عصبیت جاہلیہ میں ان کا ساتھ دینے کا تہیہ کیا۔ فوراً ایک جمعیة الطلبہ قائم ہوئی، صدر اور ناظم متعین ہوکر حلف اٹھالئے گئے کہ جب تک شاخ والوں کے مطالبات پورے نہ ہوں مدرسہ میں بھی سٹرائیک کی جائے۔ مدرسہ کی مجلس شوریٰ میں جب یہ مسئلہ پیش ہوا تو میں نے بڑے زور سے کہا کہ اس میں دورئہ حدیث کا کوئی طالب شریک نہیں، مدرسہ کے نائب ناظم تعلیمات مولانا عبدالمجید صاحب نے دبی زبان سے کہا کہ دورہ والے بھی اس میں ہیں، میرے گھمنڈ کا مبنی یہ تھا کہ ۱۳۴۰ھ سے حدیث کے سبق میں طلبہ کو ہر سال ان کا مقام و حیثیت بتاتا اور یہ کہ تم عنقریب مقتدائے قوم بننے والے ہو۔ مجھے پختہ یقین تھا کہ اس سال دورئہ حدیث والوں کی اکثریت جنید و شبلی بنیں گے، مگر میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب تحقیق سے معلوم ہوا کہ دورئہ حدیث کی پوری جماعت اس میں پیش پیش ہے اور زیادہ قلق اس سے ہوا کہ مجھ سے اور دیگر اساتذہ سے خصوصی تعلق رکھنے والے طلبہ درپردہ شریک رہے دورہ کی اس جماعت کے حالات پر جو قلبی چوٹ لگی وہ آج دس برس تک بھی فراموش نہیں ہوئی۔ اس دوران ان طلبہ نے اپنے اساتذہ کی خوب بے عزتی کی۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مظاہر علوم تشریف لائے اور تبلیغی جماعتوں کو مسجد میں مستقل ٹھہرادیا جو ذکر و تلاوت اور دعاؤں میں مصروف رہتے، مختلف صوبوں و علاقوں کی جماعتیں آتی اور اپنے اپنے صوبہ وعلاقہ کے طلبہ کو سمجھاتے۔ آخر میں افریقہ ممباسہ کے الحاج ابراہیم اسحاق آئے، انھوں نے طلبہ کے اس گروہ کے صدر صاحب سے گفتگو کی۔ پہلے انھوں نے سٹرائیک کی وجوہ بیان کیں۔ حاجی صاحب نے پوچھا کہ آپ لوگ مدرسہ میں کتنی فیس داخل کراتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہمارے مدارس میں فیس نہیں ہوا کرتی۔ س: آپ لوگ فارغ ہونے کے بعد مدرسہ کی کیا خدمت کرتے ہو؟ ج: کوئی متعین نہیں۔ س: آپ لوگ کھانے کا اپنے خود انتظام کرتے ہو یامدرسہ میں قیمت داخل کرتے ہو؟ ج: ہمارا کھانا مدرسہ کی طرف سے مفت ملتا ہے۔ حاجی صاحب نے کہا کہ جب سب کچھ مدرسہ آپ کو مفت دیتاہے تو پھر سٹرائیک کیوں کررہے ہو۔ اس دوران مدرسہ کے منتظمین کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی بھی زبردست سازشیں کی گئیں جواللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ناکام ہوئیں۔
ایک اور مقام پر حضرت شیخ الحدیث مدارس میں طلبہ تنظیموں کے وجود کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ ناکارہ مدارس عربیہ میں جمعیة الطلبہ کا انتہائی مخالف ہے۔ اس کی قباحت تو طالب علمی کی زمانہ ہی سے میرے دل میں پڑی ہوئی ہے۔ مگر دن بدن تجربات نے مجھ کو تو اس سے اس قدر متنفر بنادیا کہ اس کے نام سے نفرت، اس کے شرکاء سے طبیعت میں انقباض ہوتا ہے۔ اس ناکارہ کا اپنے اکابر کے ساتھ ایک معمول ہمیشہ رہا ہے کہ یہ ناکارہ صحابہ کرام کی طرح کہ وہ ہر فعل کو یوں فرماتے تھے کیف افعل مالم یفعلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم - یعنی جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں - اور علامہ منذری نے ترغیب و ترہیب میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے ”البرکة مع اکابرکم“ (ترغیب،ج:۱، ص:۵۳) کہ برکت تمہارے اکابر کے ساتھ ہوتی ہے۔ میرے اکابر جو حقیقی معنی میں انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے وارثین و نائبین ہیں اور ان کے اقوال و افعال کو میں نے سنت کے بہت ہی زیادہ موافق پایا ہے اوراس کے خلاف میں ہمیشہ نقصان ہی پایا ہے، ان سب اکابر کو بھی میں نے ہمیشہ طلبہ تنظیموں کے مخالف ہی پایا ․․․ ان تنظیمات سے وابستہ طلباء میں اکابر کی بے حرمتی، اکابر مدرسہ اوراساتذئہ کرام کی حکم عدولی، توہین وغیرہ کے مناظر گذرے جب سے تو اس سے بہت ہی نفرت بڑھ گئی - ان طلباء میں اکابر کا احترام تو بالکل ہی نہیں رہتا۔ علوم سے مناسبت بھی قائم نہیں رہتی، اچھی تقریر تو مشق سے پیدا ہوجاتی ہے جس سے وہ اپنے آپ کو عالم فاضل سمجھنے لگتے ہیں اوراساتذہ پر تنقیدات شروع کردیتے ہیں جس سے علم سے محرومی طے شدہ ہے۔
ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ وفاق المدارس کو اللہ تعالیٰ نے جو مقبولیت عطا فرمائی ہے، اس سلسلة الذہب میں مدارس باہم منسلک ہیں، لیکن خطرہ ہے کہ گھمنڈ کی وجہ سے اس کو نظر نہ لگ جائے، اسلئے تعداد کی کثرت کو بیان کرنے کی بجائے اس کی کارکردگی اور تعلیمی معیار کی طرف توجہ دی جائے۔ مدارس کے طلبہ میں بڑوں کا ادب و احترام علمی صلاحیت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے جو آج کے دور میں مضمحل بلکہ مفقود ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان کے بزرگ عالم دین مولانا قاری صدیق احمد باندوینے ”آداب المتعلمین“ میں اپنے استاذ کا واقعہ لکھا ہے کہ ”حضرت استاذی مولانا شاہ عبدالرحمن صاحبمحدث صدرالمدرسین مظاہر علوم سہارنپور (راقم کے والد محترم) نے اپنا ایک واقعہ سنایا تھا کہ میں اپنے وطن سے جب سے سہارنپور پڑھنے کے لئے آیا تو ہر استاذ سے مل کر آیاتھا۔ ایک استاذ جن سے ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں ان سے ملاقات نہ ہوسکی جب سہارنپور آکر پڑھنا شروع کیا تو کتاب بالکل سمجھ میں نہ آئی حالانکہ میں اپنی جماعت میں بہت سمجھدار سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اسباب پر غور کیا۔ اللہ پاک نے رہنمائی فرمائی اور ان استاذ کی خدمت میں خط لکھ کر معافی مانگی اورملاقات نہ ہوسکنے کی وجہ لکھی۔ انھوں نے جواب میں فرمایا: میرے دل میں خیال ہوا تھا کہ مجھے چھوٹا سمجھ کر شاید تم نہیں ملے، لیکن تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ یہ بات نہیں تھی۔ اس کے بعد دعائیہ الفاظ لکھے۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ اساتذہ کے احترام ہی کا نتیجہ ہے کہ تمہارے سامنے ترمذی پڑھا رہا ہوں۔ درس کا یہ عالم تھا کہ سب کا اس پر اتفاق تھا کہ ان سے بہتر اس وقت ترمذی پڑھانے والا برصغیر میں کوئی نہیں۔ (آداب المتعلمین،ص:۳۱)
اس کتاب کے ص:۳۶ میں ہے کہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمدافضل صاحب سے حاصل کی تھی۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ تحصیل علم سے فراغت کے بعد حاجی صاحب نے اپنی ٹوپی جو پندرہ برس تک آپ کے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی مجھے عنایت فرمائی۔ میں نے وہ ٹوپی پانی میں بھگوئی۔ صبح وہ پانی پی گیا۔ اس پانی کی برکت سے دماغ ایساروشن اور ذہن ایسا تیزہوگیا کہ کوئی مشکل کتاب مشکل نہ رہی۔ اساتذہ کی ٹوپیاں اچھالنے والے اور مدرسہ کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی اسکیمیں کرنے والے طلبہ اس پر غور کریں کہ استاذ کی عظمت کرنے والوں نے کیا دولت حاصل کی اور پھرانھوں نے دنیا کو کیا فیض پہنچایا۔
ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر علماء و طلباء کو یہ چیز مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ لادین طبقہ ہمارے صفوں میں اختلافات برپا کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے درپے ہے۔ کفر کو بھی اگر اس وقت خطرہ ہے تو دینی مدارس سے ہے کہ یہ دین کو اصلی حالت میں باقی رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ وفاق المدارس کے خلاف پروپیگنڈا اسی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
سیموئیل ہینٹنگٹن Samuel Huntington جو تہذیبی تصادم کتاب کا مصنف ہے اپنی کتاب ”ہم کون ہیں“؟ Who are we میں کہتا ہے کہ ہمارا دشمن اسلام ہے اور خطرہ صرف اسلام سے ہے۔ اس میں اس نے کہاہے کہ اسلام کی طاقت کا منبع (Power House) اسلامی مدارس ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان کو بند کردیا جائے یا ان کے نصاب کو جدیدیت اور مغربیت سے ہم آہنگ کردیں۔ (نوائے وقت۔ کالم، کے ایم اعظم، ۱۲/جولائی ۲۰۰۶/)
ہمیں اس پر غور کرناہے کہ مدارس اسلام کے آخری مورچہ ہیں ان کا ختم ہونا پورے تمدن کا سقوط ہے۔کفر جن خطرناک منصوبوں کے ساتھ مدارس کو ختم کرنے اور کمزور کرنے پر لگا ہوا ہے وہ ہم سب کیلئے قابل غور ہیں۔ انہی منصوبوں میں مدارس کے خلاف بدگمانیاں پیداکرنا اور مدارس سے وابستہ حضرات کے درمیان خلیج بپا کرنا ان کااہم مقصد ہے ان سب سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مدارس کے نظام کو اکابر کے نقش قدم پر چلانا ہماری زندگی کا اہم مشن ہونا چاہیے تاکہ اسلام کے یہ قلعے مزید مستحکم و مضبوط ہوسکیں۔
$ $ $

______________________________



دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں
تعلیم کسی بھی قوم کی تہذیبی اور تمدنی روایات کی آئینہ دار ہوتی ہے، کسی ملت کی تہذیب کے گیسو سنوارنے اور کسی ملک کی تہذیب کو پروان چڑھانے کے لیے ایک ہمہ گیر نصاب تعلیم ہی کو معیار قرار دیا جاسکتا ہے، اس لیے ہر زندہ قوم اپنے تشخص اور ملی وجود کو برقراررکھنے کے لیے اپنے نظام تعلیم کو ایسے رنگ ڈھنگ سے مرتب کرتی ہے کہ اس میں اپنی ثقافت کی روح بھی پھونک دیتی ہے اور اپنے مزاج کو بھی سمو دیتی ہے، تاکہ معاشرہ میں ہر فرد کی عملی وفکری تعمیر اس کی ثقافت اور اقدار پر پختگی کے ساتھ ہو، تاکہ نئی نسل جب مستقبل میں ملک وملت کی باگ ڈور سنبھالے یا کسی بھی سطح کی عملی زندگی میں قدم رکھے تو اپنے بنیادی عقائد ونظریات اور اساسی افکار وخیالات کی اس خوش اسلوبی سے خدمت کرے کہ وہ اپنا تشخص اور وجود برقرار رکھ سکے۔

بعثتِ نبوی سے پہلے انسانی معاشرہ کرب انگیزحالات سے دور چار تھا، علم ومعرفت سے دور ہو کر جہالت کے اندھیروں میں پڑا سسک رہا تھا، انسانیت، شرافت، مروت، ہم دردی وغم خواری جیسی صفات معاشرہ میں ناپید ہو گئی تھیں، ہر سو ظلمت وتاریکی چھائی ہوئی تھی، ایسے پر خطر حالات میں نبی امی، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ صلی الله علیہ وسلم کو کوہِ حرا سے یہ پیغام سنایا جاتا ہے کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیداکیا۔ پھر دوبارہ حکم ملا پڑھیے، آپ کا پروردگار بڑا باعزت ہے، جس نے انسان کو قلم کے ذریعہ تعلیم دی اور وہ تمام باتیں سکھلائیں جو وہ نہیں جانتا تھا۔ دیکھیے! ایسے بگڑے ہوئے معاشرہ کی درستگی کے لیے جس چیز کو بنیاد بنایا گیا وہ تعلیم ہے، چناں چہ اس بات پر زور دیا گیا کہ خدائی تعلیمات اور آسمانی ہدایات کو حاصل کیا جائے، کیوں کہ ان کے ذریعہ انسان علم ومعرفت، انسانیت، شرافت، تہذیب واخلاق سے آراستہ ہو کر اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرسکے گا اور انسانی خوبیوں سے متصف ہو کر دنیا کے لیے رحمت کا سبب بنے گا۔ دنیا نے دیکھا کہ قرآن وحدیث کی حامل شخصیت محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی ذات بابرکت سے براہِ راست اکتسابِ فیض کرکے مصلحین امت کی وہ شان دار اور بے نظیر جماعت منصہ شہود پر آئی کہ رہتی دنیا تک لوگ ان کی مثال اور نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے بعد جس مبارک جماعت نے ان کے نقش قدم پر چل کر امت کی راہ بری کا فریضہ انجام دیا وہ بھی اس امت کے قائدین میں نہایت اعلیٰ مقام رکھتے ہیں، امتِ مسلمہ نے ان کو تابعین کے باوقار لقب کے ساتھ موسوم کیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور بڑے بڑے مفسرین، محدثین، فقہاء اور مجتہدین پیدا ہوئے ،درجہ بہ بدرجہ اسلامی تعلیمات وہدایات کی پاسبانی کے لیے افراد تیار ہوتے رہے۔ اس کے بعد افراد سازی کے لیے اسلامی مملکت کے سربراہوں کی نگرانی میں ادارے وجود میں آئے، جہاں نہایت باصلاحیت علماء کو تدریس کے لیے مقرر کیا گیا۔ یہ طریقہٴ کار امت کے سامنے پائیدار نمونہ کی شکل میں وجود میں آیا اور اسلامی معاشرہ کے درمیان پوری آب وتاب کے ساتھ باقی رہا۔

ہندو پاک میں مدارس کا تاریخی پس منظر
برصغیر ہند وپاک میں مسلمانوں کا فاتحانہ داخلہ پہلی صدی ہجری، یعنی ساتویں صدی عیسوی (93ہجری) میں ہوا ،محمد بنقاسم نے جس وقت سندھ پر حملہ کیا اس وقت مسلمان سندھ پہنچ چکے تھے۔ ان فتوحات کے بعد مزید ترقی ہوئی، اس سلسلہ میں کتب رجال میں ایسے متعدد علماء، محدثین اور ادیبوں کے نام ملتے ہیں، جنہوں نے حجاز وعراق کے علماء سے سند قبولیت حاصل کی تھی۔برصغیر میں اسلامی حکومت کی بنیاد سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کی مجاہدانہ مساعی کی مرہونِ منت ہے، لیکن ایک علمی فاتح البیرونی اس سے قبل یہاں آچکا تھا، جس نے اس ملک کے علوم کو اپنی زبان میں منتقل کیا۔ محمود غزنوی کے جانشین شہاب الدین مسعود کے عہد میں بہ کثرت مساجد کی بنیاد پڑی اور ان کے ساتھ مدارس کا بھی انتظام کیا گیا۔ شہاب الدین غوری کی فتوحات کے بعد اجمیر میں متعدد مدارس قائم کیے گئے اور غالباً وہیں اس ملک کی قدیم درس گاہیں ہیں۔ سلطان محمد غوری کے غلام اور نائب السلطنت قطب الدین ایبک نے بھی ترویجِ علم کی طرف توجہ دی اور ملک کے مختلف حصوں میں بے شمار مساجد تعمیر کیں اور مدارس قائم کیے۔ برصغیر کے اس قدیم عہد میں مدارس کے لیے الگ عمارتیں بنانے کا سلسلہ نہ تھا، بلکہ یہ کام عموماً مساجد سے لیا جاتا تھا۔ مساجد کے علاوہ بزرگانِ دین کی خانقاہیں بھی مدارس کا کام دیتی تھیں، اس عہد کے مشائخِ عظام مشائخِ طریقت ہی نہ تھے ، بلکہ وہ مدرس شریعت بھی تھے، بڑے بڑے متبحر علما کے گھر او رمکان بھی دارالعلوم کی حیثیت رکھتے تھے، حکومت نے ان علماء کو فکر معیشت سے آزاد کر دیا تھا اور علم وحکمت کے پیاسے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے، برصغیر کی علمی زبان فارسی تھی اور اسی میں درس و تدریس ہوتی تھی، صرف قرآن وحدیث کی تعلیم عربی میں دی جاتی تھی، ابتدائی جماعتوں میں قرآن پاک کے علاوہ لکھنا پڑھنا، حساب وکتاب اور خوش نویسی کی بنیادی تعلیم بھی دی جاتی تھی ، درمیانی تعلیم کے لیے طلبا قصبات اور شہروں کے فارسی مکتب میں داخل ہوتے تھے، جس کے بعد فارسی پڑھ کر سرکاری ملازمت سے منسلک ہو جاتے تھے او راعلی تعلیم کا شوق رکھنے والے طلباء بڑے شہروں اور بڑے مدارس میں اخلاقیات، ریاضیات ، زراعت، طب، الہیات او رتاریخ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

شہاب الدین غوری کے ہاتھوں ہندوستان میں 589ہجری بمطابق1192 عیسوی کو اسلامی حکومت قائم ہوئی اور سلطنت کے قائم ہوتے ہی درس وتدریس کا چرچا بھی ہندوستان بھر میں پھیل گیا، اس آغاز سے مدارس کا سلسلہ چل نکلا، امراء وسلاطین اور علماء وفضلاء کی کوششوں سے ہندوستان کے ہر کونے میں مدارس قائم ہوتے چلے گئے۔ سلطان محمدغوری کے عہد میں دہلی میں ایک ہزار اسلامی مدارس قائم تھے، جن میں ایک مدرسہ شوافع کا بھی تھا، مدرسین کے لیے شاہی خزانہ سے وظیفہ مقرر تھا، مدارس میں علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ ریاضی اور معقولات کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ مسلم حکم رانوں کی جانب سے مدرسوں اور علماء کی سرپرستی بدستور جاری رہی، دہلی کی مرکزی حکومت کے کم زور پڑ جانے کے بعد بھی صرف اضلاع روہیل کھنڈ میں جو دہلی سے قریب تر تھے، پانچ ہزار علماء مختلف مدارس میں درس دیتے تھے او رنواب رحمت خان کی ریاست سے تنخواہیں پاتے تھے۔ مغلیہ بادشاہوں کے دور حکومت میں بھی دینی مدارس کی بھرپور سرپرستی کی گئی۔

انگریزوں کے دور میں دینی مدارس کا قیام
اوررنگ زیب عالم گیر کی وفات کے بعد سلطنت مغلیہ کا زوال شروع ہو گیا تھا اور اشاعت تعلیم دینیہ کے لیے حکومت کی سرپرستی بھی کم ہو گئی تھی سلاطین دہلی اور سلاطین مغلیہ کے عہد میں قائم ہونے والے دینی مدارس اور ان کے مصارف واخراجات کے لیے قائم کردہ اوقاف اور وظائف کو انگریزوں نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ختم کر دیا اور ان کی جگہ انگریزی تعلیم کو رواج دیا۔ مسلمانوں کے پاس نہ حکومت تھی نہ سلطنت، نہ دولت تھی نہ ذرائع دولت ، مزید یہ کہ انگریز حکم ران وقت کے دشمنوں میں بھی مسلمان سر فہرست تھے۔

ان حالات میں مسلمانوں کا واحد سہارا الله تعالیٰ کی ذات اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیمات تھیں، چناں چہ مسلمانوں نے اسی ذاتِ لازوال پر بھروسہ کرکے اس کے دین حق کی حفاظت کی او رمسلمانوں میں اس کی تبلیغ واشاعت کے لیے نئے سرے سے دینی مدارس کے قیام کا آغاز کیا۔ علمائے اسلام اور دینی علوم کے اساتذہ نے توکل علی الله کرکے درختوں اور دیواروں کے سایہ تلے الله اور اس کے رسول کی تعلیمات کو جاری ساری رکھا، ان پیکرانِ علم وعرفان اور زہد وتقویٰ کے حلقہٴ تلامذہ میں صرف ونحو، قرآن وحدیث اور فقہ وکلام کا سلسلہ شروع ہوا، آگے چل کر یہ حلقہ ہائے تعلیم وتعلم دینی مدارس کی شکل اختیار کرنے لگے۔ دینی مدارس کے لیے نئے دور کی بنیاد علماء کے علم وزہد، مخیر حضرات کے عطیات ، دین دار مسلمان زمین داروں او رتاجروں کے دیہی وشہری اوقاف پر رکھی گئی اور یہ دینی مدارس حکومتِ وقت کی امداد اور سرپرستی کے بغیر ہی اسلام کی اشاعت وترویج میں مصروف رہے اور مسلمانوں کا ملی تشخص انہی کی بدولت قائم ودائم رہا۔

مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کے بعد تعلیم کی سرپرستی ختم ہوگئی، لیکن اس کے باد جو شاہ عبدالرحیم، حضرت شاہ ولی الله او ران کے خاندان نے علم کی تدریس وتبلیغ کا کام جاری رکھا، اسی طرح لکھنو میں علمائے فرنگی محل نے بھی تعلیم وتدریس کو آگے بڑھایا۔ اس کے بعد 1857ء کے ہنگامے نے جب دہلی کی سیاسی مرکزیت کو ختم کر دیا تو اس کی علمی اور تعلیمی مرکزیت بھی ختم ہو گئی، انگریز دہلی کی حکومت پر قابض ہو گئے، وہ متحدہ ہندوستان کے باشندوں کو جسمانی طور پر اپنا غلام بنانے میں کام یاب ہو چکے تھے او راب ان کو ذہنی غلامی کے شکنجے میں جکڑنا چاہتے تھے، تاکہ ان کی حکومت میں مزید استحکام پیدا ہو جائے، اس مقصد کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے مختلف جگہوں پر مشنری اسکول قائم کیے، جہاں انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ عیسائیت ، انگریری تہذیب وتمدن اور افکار وخیالات کی تعلیم دی جاتی تھی، انگریزوں کو اپنے مقصد میں کام یابی اس وقت خطرے میں پڑتی محسوس ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ سر زمین ہند پر ایک جماعت ایسی بھی ہے جو ان کے دام فریب میں آنے کے بجائے برٹش حکومت اور خاص طور پر اس کی ماتحتی میں قائم کیے گئے مشنری اسکولوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے۔ یہ جماعت بوریہ نشین علماء کی تھی، جن کا احتجاج روز افزوں ترقی کر رہا تھا۔ انگریزوں کو اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ اگر چنگاری کو بروقت نہیں بجھایا گیا تو کل یہی چنگاری آگ بن کر ان کے مشن او ران کی حکومت کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتی ہے، چناں چہ انہوں نے علمائے کرام کو نشانہ بنانا شروع کیا، نتیجہ یہ نکلا کہ علمائے کر ام پر طرح طرح کی زیادتیاں شروع ہوگئیں ، ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، تشدد کے نئے نئے طریقے آزمائے گئے، اتنا ہی نہیں بلکہ ہزاروں علماء کو سولی پر چڑھا کر یا آگ میں ڈال کر یا پھر گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا او راتنی ہی بڑی تعداد کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ ایسے پر آشوب حالات میں خاندان ولی الله سے فیض یافتہ تین علمائے کرام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے دوسرے علماء سے مل کر اسلامی تعلیم اورد ینی تبلیغ کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا اور مسلمانوں کے دین ومذہب، علوم وفنون، تہذیب وتمدن، اخلاق واعمال اور معاشرت وکلچر کی بقا کے لیے، نیز انگریزوں کی دینی وفکری یورش کا کام یابی سے مقابلہ کرنے کے لیے مدارس اسلامیہ کے قیام کی باقاعدہ جدوجہد کی او رمتحدہ ہندوستان میں مدارس کا جال بچھایا، جن میں سے چند مشہور مدرسوں کے نام درج ذیل ہیں۔

دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارن پور، دارلعلوم ندوة العلماء لکھنو، جامعہ قاسمیہ دارالعلوم شاہی مراد آباد، مدرسة الاصلاح سرائے میر، جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن۔ ان کے علاوہ اور بھی متعدد علمی مراکز وجود میں آئے اوراس طرح برصغیر ہند میں علوم اسلامیہ دینیہ کی ترویج واشاعت میں علماء کی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ آج ہندوپاک کے جس گوشے میں بھی اسلام کی روشنی نظر آرہی ہے اور قال الله وقال الرسول کی آواز سنائی دے رہی ہے وہ انہیں مدارس کی بدولت ہے۔

جدید تعلیم کا احیا
اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد کلکتہ میں مدرسہ قائم کیا اور اس کے بعد سنسکرت کالج قائم کیا۔ برصغیر میں جدید انگریزی تعلیم کی تاریخ1797ء سے شروع ہوتی ہے۔ سرچارلس گرانٹ نے کمپنی کو خط لکھ کر یہ منظوری حاصل کی کہ ابتدا میں ذریعہ تعلیم ہندوستانی زبان میں ہو اور بعد میں بتدریج انگریزی کو رواج دیا جائے۔ 1855ء میں راجہ رام موہن رائے کی شرکت سے کلکتہ میں ایک انگریز نے کالج قائم کیا، اس طرح آہستہ آہستہ انگریزی تعلیم زور پکڑتی گئی، ہندوانگریزی سے مستفیض ہو کر ملازمتیں حاصل کرتے رہے اور مسلمان انگریزی سے دور رہ کر ملازمتوں کے دروازے اپنے اوپر بند کرتے رہے۔ 1834ء میں عدالتوں سے فارسی زبان کو خارج کر دیا گیا اور اسی سال لارڈ میکالے نے اپنی کوششوں سے انگریزی تعلیم کا اجرا منظور کروایا اور کلکتہ، مدراس اور بمبئی میں یونی ورسٹیاں قائم کی گئیں، مسلمانوں کے تمام اوقاف ضبط کر لیے گئے اور ان اوقاف کی آمدنی دوسری قوموں پر صرف کی گئی، مسلمانوں کا نظام تعلیم جس کا دار ومدار انہی معاشیات پر تھاتہہ وبالا ہو گیا۔

مدارس کی تربیت کا رخ
ہندوستان کے بدلتے ہوئے حالات میں مدارس دینیہ کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمان کو بلحاظ دین ومذہب اور بلحاظ معاشرت موجودہ حالات کی رو میں بہنے نہیں دیا، بلکہ پختگی وعزیمت کے ساتھ انہیں اسلامی سادگی اور دینی ثقافت کے زاہدانہ ومتوکلانہ اخلاق پر قائم رکھا، جو بدلتے ہوئے تمدن ومعاشرت میں ایک مشکل امر تھا، اس طرح مسلمانوں میں اسلامی مدنیت کا عام نقشہ قائم رہا، جدید تمدن ومعاشرت میں اغیار کی نقالی کا غلبہ نہیں ہو سکا اور اسلامی غیرت وحمیت باقی رہ گئی۔ اغیار کی نقل کے بجائے سنتِ نبوی کو معیار زندگی بنانے کے جذبات عام مسلمانوں میں پیدا ہوگئے، جس سے آج تک عام تمدن ومعاشرت میں پرہیزگاری اور تقویٰ وطہارت قائم ودائم ہے اور اس طرح امکانی حد تک دین میں آزاد فکری، آزاد روشی اور بے قاعدگی کی مداخلت پر روک لگ گئی۔

قصہ مختصر یہ کہ آج برصغیر میں اسلام انہی مدارس کی وجہ سے قائم ہے، انہیں مدارس کے اہل علم سے فیض پاکر وہ علماء وفضلاء تیار ہوئے جنہوں نے تعلیم، تصنیف، خطابت ، تذکیر ، تبلیغ، تزکیہٴ اخلاق، افتاء درس وتدریس ،امامت وحکمت اور طب وغیرہ میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ ان علماء وفضلاء نے کسی مخصوص خطہ میں نہیں ،بلکہ ہندو پاک کے ہر صوبہ، ہر شہر، ہر قصبہ، ہر محلہ اور ہر قریہ سمیت بیرون ممالک میں بھی مذہب اسلام کی تعلیم وتبلیغ میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔

مدارس کا نصاب تعلیم 
مدارس کے نصاب تعلیم کو نہایت ہی بنیادی واساسی اہمیت حاصل ہے، جس سے یہاں کے فارغ التحصیل علماء کا دینی رخ متعین ہوتا ہے۔ درجات عربیہ میں بہت سارے علوم وفنون داخل ہیں، جن میں کچھ علوم عالیہ ہیں، جو مقاصد کا درجہ رکھتے ہیں او رکچھ علوم آلیہ ہیں جو علوم عالیہ کے لیے ممد ومعاون یا وسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علوم عالیہ قرآن وحدیث، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، علم عقائد وکلام وغیرہ۔ علوم آلیہ صرف ونحو، معانی وبیان، ادب عربی، منطق، فلسفہ وغیرہ۔ ان ہی کتابوں کو پڑھ کر بڑے بڑے مفسرین محدثین، علماء وفضلاء تیار ہوتے رہے ہیں، ہو رہے ہیں او رانشاء الله ہوتے رہیں گے۔



مدارس نے ملک کو کیا دیا؟
ملک میں ایک ماہ سے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے چلنے والی بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا بل پاس ہوگیا ہے جس کا مقصد ملک میں دہشت گردی کا زور توڑنا ہے۔ اس قسم کے قوانین اس لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہو۔ یہ ریاست کی ذمہ داریوں میں سے اہم ترین ذمہ داری ہے، بلکہ اگر کسی مملکت میں یہ چیز میسر نہ ہو تو اس مملکت، ریاست اور وطن کی وجہِ وجود ہی ختم ہوجائے گی اور اس کی جگہ کسی جنگل میں ڈیرہ ڈالنا زیادہ بہتر ہوگا۔ پس اس سے کسی کو انکار نہیں کہ دہشت گردی کے رجحانات کی روک تھام ہونی چاہیے، مگر اس وقت اہم ترین سوال یہ ہے کہ اس نئے قانون اور فوجی عدالتوں کا استعمال کس طرح ہوگا؟ دہشت گردی کی روک تھام اپنی حدود و قیود میں رہے گی۔ اس کا نشانہ حقیقی دہشت گرد بنیں گے یا بے قصور شہری، پُرامن ادارے اور معصوم لوگ بھی اس کی زد میں آئیں گے؟ اس سوال سے کئی ضمنی سوالات مزید برآمد ہوتے ہیںجن میں سب سے بڑا سوال دینی مدارس کے بارے میں ہے کہ آیا ان کا تعلق بھی دہشت گردی، بدامنی اور ملک دشمنی سے ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب پانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم دینی مدارس کے ثمرات (Out put) کا جائزہ لیں۔ یعنی ہم یہ دیکھ لیں کہ دینی مدارس نے معاشرے اور ملک کو کیا دیا؟ معاشرے پر ایک نگاہ ڈالیے تو اس وقت بدعنوانی، رشوت ستانی، حرام خوری، بے حیائی، فحاشی، آخرت فراموشی، نفس پرستی اور شیطان دوستی کے زہر آمیز ماحول میں اگر کچھ خداخوفی، کچھ فکرِ آخرت، کچھ نمازیں، کچھ اذانیں، کچھ مساجد کی آبادی اور کچھ دین کا نام باقی ہے تو اس کا ذریعہ صرف اور صرف وہ مولوی ہیں جو دینی مدارس کی پیداوار ہیں۔

معاشرتی برائیوں کو دیکھیے! مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، سیاسی ابتری، بدعنوانی، توانائی کی قلت، قرضوں کا ناقابل تحمل بوجھ، دلوں کی ویرانی، محبتوں اور خلوص کی کمی، خود غرضی، ہوس و حرص کی گرم بازاری، اولاد کی نافرمانی، شادی شدہ مردوں کی بے راہ روی، بیویوں کی آزادمنشی، اخلاقی اقدار کی پامالی، جائیداد اور وراثت پر بھائیوں کے جھگڑے، بھتہ خوری، چور بازاری، بلیک میلنگ، کالا دھن، ٹارگٹ کلنگ وغیرہ… غرض معاشرے کی وہ تمام برائیاں جن سے شریف لوگ پناہ مانگتے ہیں، ان میں سے کسی کی جڑیں آپ کو دینی مدارس سے ملتی دکھائی نہیں دیں گی، بلکہ اگر ان برائیوں میں کچھ کمی ہے تو وہ مدارس میں گونجنے والی قال اللہ اور قال الرسول کی روح پرور صدا ؤں کی برکت ہے۔ سوچیے! اگر یہ دینی مدارس نہ ہوتے، اگرمدارس میں اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کی حفاظت اور ان کی تشریح، منبر و محراب میں ان کی تلقین اور تعلیم نہ ہوتی تو پھر معاشرے کا کیا حال ہوتا؟

مدارسِ دینیہ کسی بھی معاشرے میں روحانی ایمانی اور اخلاقی بیماریوں کے لیے ہسپتال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں بیماریاں بڑھ جائیں، کوئی وبا پھیل جائے تو کوئی احمق بھی ہسپتالوں کو الزام نہیں دے سکتا۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ وبائی حالات میں ہسپتال کم پڑجائیں۔ ضرورت کے بقدر معالجین میسر نہ آئیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی، آلات کی نایابی اور دواؤں کی قلت کی وجہ سے کچھ مریض مرجائیں، کچھ کو واپس کردیا جائے، مگر پھر بھی کوئی ڈاکٹروں پر الزام عائد نہیں کرتا،بلکہ پوری قوم معالجین کی مشکور ہوتی ہے کہ وہ کٹھن حالات میں بھی دن رات ایک کرکے اپنی سی پوری کوشش کرکے لوگوں کو موت کے منہ سے نکال رہے ہیں۔ 

اس وقت ہمارا معاشرہ اخلاقی و ایمانی لحاظ سے موت کے دھانے پر ہے۔ اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں، بلکہ ہر شخص اپنے گردوپیش کے حالات، اپنے تجربات اور لوگوں کے رویوں سے اس کا اندازہ لگاسکتا ہے۔ ایک مسلم قوم ہونے کی حیثیت سے ہمارا اِس پر بھی ایمان ہے کہ معاشرے میں اخلاقی انحطاط کو دور کرنے اور ایمانی روح کو زندہ کرنے کے لیے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی انہی تعلیمات کی ضرورت ہے جن کی بدولت عرب کے اخلاق باختہ ماحول میں ایمان و معرفت اور علم و عمل کی بہار آئی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مدراسِ دینیہ ہی وہ ادارے ہیں جو اس وقت ان تعلیماتِ نبویہ کو اجاگر کررہے ہیں۔ مدارس کے نصاب میں کوئی کتاب اور کوئی باب نہیں جس سے دہشت گردی کی اجازت سمجھ آتی ہو، کوئی عبارت ایسی نہیں جو بے گناہ شہریوں اورمعصوم بچوں کی جان لینے پر اُکساتی ہو، کوئی سطر ایسی نہیں جو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف کام کرنے کے فضائل بتاتی ہو۔ 

ان مدارس سے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ جیسی شخصیات نکلیں جن کے بغیر برطانوی استعمار سے آزادی کی تاریخ ہی مکمل نہیں ہوتی۔ انہی مدارس سے مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیراحمد عثمانیؒ، مولانا ظفراحمد تھانویؒ اور مولانا ظفر احمد انصاریؒ جیسے حضرات نکلے جن کا تحریکِ پاکستان کی کامیابی اور یہاں کے دستور و آئین کی تدوین میں اہم ترین کردار سب کو معلوم ہے۔ مدارس کا وہ نصاب جسے آج بغیر دیکھے بھالے ’’دہشت گردانہ تعلیم‘‘ کا گردانا جارہا ہے، اسے پڑھ کر مولانا مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مفتی محمودؒ اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ جیسی شخصیت نے جنم لیا جن پر پاکستان کے بڑے بڑے چوٹی کے سیاست دان اعتماد کرتے اور ان کی سیاست دانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے تھے۔ دینی مدارس کے بانیوں کے نام دیکھیں تو مفتی محمد شفیعؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک، مفتی محمد حسن امرتسریؒ اور مولانا خیر محمد جالندھریؒ جیسے اولیاء واتقیاء دکھائی دیں گے، جن کے نام آج بھی پاکستان کی تاریخ میں تابندہ ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔ 

یہ حقائق اتنے واضح ہیں کہ ان کے لیے الگ سے شہادتیں جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر دہشت گردی میں ملوث بعض لوگوں کا مدارس سے تعلق ثابت ہوجائے تب بھی اس کے لیے مدارس کو موردِ الزام ٹھہرانا تب درست ہوگا، جب مدارس میں ان چیزوں کی تعلیم دی جاتی ہو، ورنہ یہ بالکل ایسا ہوگا کہ کچھ ڈاکٹر مریضوں کو لوٹ کر اپنی جیبیں گرم کرناشروع کردیں، تو الزام میڈیکل کالجوں کو دیا جائے۔ کسی انجینئر کے نقشے کے مطابق بنایا گیا پُل ٹوٹ کر 50 آدمیوں پر گرجائے تو اس یونیورسٹی کو الزام دیا جائے جہاں سے اس نے ڈگری لی ہے۔ 

کسی ٹیچر نے طلبہ پر زیادتی کی ہو تو معلم کے قابلِ احترام پیشے کو دہشت گردی کانام دے دیاجائے۔ ظاہر ہے ایسا نہیں کیا جاتا، کیونکہ نہ میڈیکل کالجوں کے نصاب میں مریضوں کو لوٹنے کی تکنیک شامل ہے، نہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں ناقص تعمیرات کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، نہ معلّم کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ طلبہ پر زیادتی کرے۔ یہ اس شخص کا ذاتی فعل ہوتا ہے اور عدالت میں وہی اس کے لیے جواب دہ ہوتا ہے۔ اگر دہشت گردی میں ملوث بعض لوگ مدرسوں میں پڑھتے پڑھاتے تھے توا ن سے کہیں زیادہ لوگ ان میں ایسے ملیں گے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں کی پیداوار ہیں۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ دہشت گردی کا مفہوم اتنا محدود کیوں کہ صرف ایک گروہ کی کارروائیوں پر اس کا اطلا ق کیا جائے جو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے سالانہ سینکڑوں لوگ قتل ہورہے ہیں، کیا وہ دہشت گردی نہیں؟ 

ان تمام باتوں کے باوجود اگر دہشت گردی کا تعلق مدارس سے جوڑنے کی کوشش کی جائے تو اسے ایک سوچی سمجھی سازش کہنا برحق ہوگا۔ ہمیں امید ہے حکومت اور فوج اس موقعے پر سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں گے اور بے گناہ شہریوں کو زد میں لے کر ایسے اشتعال کے مواقع پیدا نہیں ہونے دیں گے جن سے مزید دہشت گرد جنم لے سکیں۔

No comments:

Post a Comment