Monday, 15 May 2023

رینڈ کارپوریشن اور مسلمانوں میں تفریق


1. مسلمانوں میں تفریق کون پیدا کر رہا ہے؟

* سیاسی اور ریاستی طاقتیں: بعض اوقات سیاسی مفادات کے لیے اسلام کی ایسی تشریحات اور نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے جو کسی خاص حکومت، ریاست یا نظام کے حق میں ہوں تاکہ عوام کو کنٹرول کیا جا سکے یا اپنے سیاسی ایجنڈے کو جواز فراہم کیا جائے۔

* بیرونی و عالمی طاقتیں: تاریخی اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، خطے میں یا عالمی سطح پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے مختلف فکری دھڑوں، انتہا پسند یا مغربی نواز نظریات کو دانستہ یا نادانستہ طور پر ہوا دی جاتی ہے تاکہ امتِ مسلمہ میں فکری انتشار پیدا کیا جا سکے۔

* گروہی اور مسلکی عصبیت: بعض نادان یا تنگ نظر عناصر اپنے مخصوص فرقے، گروہ یا شخصی نظریات کو ہی "اصل اسلام" ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسرے گروہوں کو رد کرتے ہیں، جس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے الگ الگ اسلام بنائے جا رہے ہیں۔

* جدیدیت پسندی اور مغرب زدگی: کچھ لوگ مغربی فکری سانچے میں اسلام کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے احکامِ شریعت میں تاویلیں پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب شدت پسند طبقے دین کا ایسا سخت اور محدود چہرہ پیش کرتے ہیں جو اعتدال سے ہٹ جاتا ہے۔

2. یہ سب کیوں کیا جا رہا ہے؟

* اہلِ حق میں تفریق اور کمزوری: جیسا کہ علمائے کرام اور مصلحین نے بھی بیان کیا ہے کہ امت میں گروہی، نسلی اور فروعی بنیادوں پر جھگڑے اور فساد کھڑے کرنے کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو آپس میں الجھانا اور ان کی اجتماعی قوت کو توڑنا ہے۔ 

* طاقت، لالچ اور خوف: سیاسی و معاشی مفادات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو خوف یا لالچ دے کر مختلف فکری راستوں پر لگایا جاتا ہے۔ 

* فکری ارتقا اور ذاتی تشریحات: بعض اوقات علم کی کمی یا نجی مفادات کے تحت قرآن و سنت کے مسلمہ اصولوں سے ہٹ کر نئے قوانین یا نظریات تراشنے کی کوشش کی جاتی ہے۔



"امریکی سازشی ٹولہ think tank رینڈ کارپوریشن (Rand Corporation) نے امریکی حکومت کے لیے 9/11 سے بہت پہلے جو مسلم دشمن ایجنڈہ بناکر دیا تھا، اس میں اہم ترین مسلمانوں کو اندرونی محاذ (یعنی عوام اور علماء وحکام کے درمیان آپسی لڑائی) کے فروغ کے ذریعہ کمزور کرنا بھی تھا۔"

 https://www.rand.org/pubs/monographs/MG574.html


امریکی تھنک ٹینک رينڈ كارپوريشن(RAND) کا اپنی تحقیقى رپورٹوں‘ كے ذريعے امريكى پاليسى كى تشكيل ميں بہت بڑا كردار ہے، 2003 میں اسکی مشہور سکالر شیرل برنارڈ نے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا جو اب بھی رینڈ کارپوریشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کا عنوان ہے
CIVIL DEMOCRATIC ISLAM- PARTNERS, RESOURCES & STRATEGIES
يعنى ”سول اور جمہورى اسلام: شركاے كار، وسائل اور حكمت ِعملى“ ہے ۔
اس میں اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے بارے میں امريكى پاليسى سازوں كے لئے رہنما ہدايات وسفارشات پیش کی گئیں. اس رپورٹ کے منتخب حصوں کا اُردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے.
مسلمانوں کی چار قسمیں یا گروہ:-
بنیاد پرست (Fundamentalist):-
یہ وہ گروہ ہے جو جہاد کو اسلام کے غلبہ کی حکمت عملی کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں یہ گروہ جمہوریت اور تمام مغربی افکار کا منکر ہے اور اسلامی نظام کو تمام نظاموں پر ترجیح دیتا ہے. یہ مذہبى رياست كا قيام چاہتا ہے جہاں وہ اسلامى قانون اور اخلاقيات كے متعلق اپنے انتہاپسندانہ نظريات كو نافذ كرسكے- يہ مغرب کا بالعموم اور امريكہ کا بالخصوص دشمن ہيں- اس کی دو قسمیں ہیں : ایک اسپریچوَل بنیاد پرست (Scriptural Fundamentalist) یہ گروہ اسی طریقہ کو اختیار کرتا ہے جو اسلامی مآخذ کے مطابق ہے اور جو خودکش حملہ کو صحیح نہیں قرار دیتا۔ اور دوسرا گروہ ریڈیکل بنیاد پرست (Radical Fundamentalist) یہ گروہ سب سے خطرناک گروہ ہے جو خودکش حملوں کو جائز سمجھتا ہے اس گروہ میں طالبان، القاعدۃ، حماس شامل ہیں
قدامت پسند (Traditionalist):-
یہ گروہ اسلامی ثقافت رسم و رواج کی بڑی شدومد سے پاسداری کرتا ہے یہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور بڑا گروہ ہے۔ یہ علماء، مدارس اور دیندار لوگوں پر مشتمل ہے۔
سیکولرسٹ (Secularist):-
یہ نجی طور پر اسلام پر عمل پیرا ہوتا ہے، مگر دیگر معاملاتِ زندگی میں مذہب کی مداخلت کا قائل نہیں.
موڈرنسٹ (Mederist):-
یہ گروہ اسلام کی جدید تعمیر پیش کرتا ہے اور اسلام کو ایک لبرل مذہب تصور کرتا ہے، یہ اسلام کی پرانی تعلیمات کے خلاف اور زمانہ سے ہم آہنگ اور جدید اسلام کے لیے کوشاں ہے.

سفارشات :-
“سیکولرز اور جديديت پسندوں كى امداد كرنا امريكہ كو مسلم دنيا كے متعلق اپنی خارجہ پاليسى كا اہم جز بنانا چاہیے- انکی تعلیمى اور ثقافتى سرگرميوں كے متعلق امداد فراہم كرنا ہمارى ترجيح ہونى چاہيے، انہيں وسائل كى ضرورت ہو تو فراہم كئے جائيں- جبكہ انتہا پسندوں كے لئے وسائل كا حصول ناممكن بنا ديا جائے. ان گروہوں كو توڑ پهوڑ كر ان كى جگہ اعتدال پسندوں كو كنٹرول دياجائے- مدارس اور مساجد كى اصلاحات پر خصوصى توجہ دى جائے- مدارس كے نصابِ تعليم كو جديد تقاضوں كے مطابق ڈهالا جائے- اعلىٰ تعليم كے ايسے بورڈ قائم كئے جائيں جو سركارى اور غير سركارى تعلیمى اداروں كے نصاب كى مانيٹرنگ كريں اور ضرورى ہو تو اس پر نظرثانى كريں- “

حکمت عملی، تجاویز اور لائحہ عمل:-
رپورٹ میں جديديت پسند اور سيكولر مسلمانوں کو مغرب كى اقدار اور پاليسيوں كے ذ ہنى طور پر بے حد قريب قرار دیا گیا اور جو حكمت ِعملى تجويز كى گئى ہے، اس كا اوّلين نقطہ ہے:
“Support the modernist first.”
يعنى ”سب سے پہلے جديديت پسندوں كى امداد كرو-“ اور امداد كے درج ذیل طریقے بتائے گئے :
* اسلام کی جدید تعبیر کرنے والے modernist علماء کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک بھرپور رسائی دی جائے۔
* جديد ذہن كے مالك مسلمان سكالرز كى نشاندہى كريں وہ ويب سائٹ پر روزمرہ زندگى كے مسائل كے حل بيان كريں اور اسلامى قانون كى جديد تشريحات پيش كريں-“
*”ان كے تصنيفى كاموں كو شائع كركے سستے داموں فروخت كريں-
* ان كى حوصلہ افزائى كريں كہ عوام اور بالخصوصى نوجوانوں كے لئے لكھیں-
* ان كے نظريات كو اسلامى ممالك كے تعليمى نصاب ميں شامل كرائيں-
* ان كوپبلك پليٹ فارم مہيا كريں-
* بنيادى مذہبى معاملات كے متعلق ان كى تعبيرات كو بنياد پرستوں كے مقابلے ميں عوام ميں متعارف كروائيں-
* مسلمان نوجوانوں كے سامنے ’سيكولر ازم‘ اور ’ماڈرن ازم‘ كو اسلام كے مقابلے ميں ايك متبادل ثقافت اور نظريہ كے طور پر پيش كريں-
* مسلمان ممالك كے ذرائع ابلاغ اور نصاب ميں اسلام سے پہلے كى غيرمسلم تاريخ كے متعلق زيادہ سے زيادہ آگاہى اور رغبت پيدا كريں-
* غير سركارى اداروں NGOs كو آگے لانے ميں بهرپور تعاون كريں-“
*” سيكولر ثقافتى اداروں اور پروگراموں كى بهرپور حوصلہ افزائى كريں-

دوسرى اہم حكمت ِعملى :-
“Support the traditionalists agaist the fundamentalists.”
يعنى: ”بنياد پرستوں كے خلاف روايت پسندوں (مساجد مدارس سے منسلک علماء و عام دیندار طبقہ) كى پيٹھ ٹهونكيں-“ ، روايت پسندوں اور بنياد پرستوں كے درميان اتحاد كى حوصلہ شكنى كريں- یہ کبھی بھی بنیاد پرستوں کے ساتھ مل کر ہمارے لیے خطرے کا مؤجب بن سکتے ہیں اس لیے بنياد پرستوں كے متشددانہ طرزِ عمل كے خلاف روايت پسندوں كى تنقيد كو بڑها چڑها كر بيان كريں اور روايت پسندوں اور بنياد پرستوں كے درميان اختلافات كو ہوا ديں-
* بنياد پرستوں پر پورى قوت سے ضرب لگائيں، ان كى اسلامى اور نظرياتى بنيادوں كے كمزور پہلووٴں كو شدت سے نشانہ بنائيں، ان كے نظريات كو اس طرح بيان كريں كہ نہ تو وہ نوجوان طبقہ، نہ ہى روايتى عوام الناس كے لئے باعث ِكشش يا باعث ِتسكین ہوں- ان كى بدعنوانى، بربريت، جہالت، تعصب، عدم روادارى اور اسلام كے اُصولوں كے انطباق ميں غلطیوں كى نشاندہى بار بار كريں اور يہ باور كرائيں كہ وہ حكومت اور قيادت كے اہل نہيں ہيں-


اسلام کو بدلنے کی سازش کا ثبوت

امریکہ اسلام کو کس شکل میں ڈھالنے کا خواہاں ہے اور کن کن ذرائع، پالیسیوں اور سوچ کے ذریعے اپنے من پسند اسلام کو دنیا میں فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، اس پر کسی سازشی تھیوری یا تجزیہ کی بجائے آئیں ذرا اُس دستاویز پر ہی نظر دوڑا لیتے ہیں جو امریکہ و یورپ کی پالیسی کا Focus ہے اور جسے امریکہ و یورپ اسلامی ممالک پر مسلط کرنے کے لیے پورے طریقے سے سرگرم ہیں۔ 

میری تو قارئین کرام کے ساتھ ساتھ سیاسی و مذہبی رہنماؤں، فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسروں، پارلیمنٹ کے ممبران اور حکمرانوں کے علاوہ میڈیا کے بڑوں سے بھی گزارش ہوگی کہ اس دستاویز کا ضرور مطالعہ کریں تاکہ لبرل ازم اور جدت پسندی کے اُس بخار کی وجہ کو بھی سمجھا جا سکے جو آج کل کئی دوسرے اسلامی ملکوں کے علاوہ ہمارے حاکم طبقات اور میڈیا کو بھی چڑھا ہوا ہے اور جہاں اسلام کے نفاذ اور شریعت کی بات کرنے والوں کو بنیاد پرستی اور شدت پسندی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

 آپ اس رپورٹ کو اس لئے بھی پڑھ کر حیران ہوں گے کہ کس طرح ایک پالیسی کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے تاکہ امریکہ کے ورلڈ آرڈر اور مغربی تہذیب کو اسلامی ممالک میں بھی لاگو کیا جا سکے، جس کے لئے اسلام کے اصل کو بدلنا شرط ہے۔ اِس رپورٹ کو پڑھ کر اپنے اردگرد اُن چہروں کو پہچاننے کی بھی کوشش کریں جو اسلام کو امریکہ کی خواہش کے مطابق بدلنا چاہتے ہیں۔

رینڈ کارپوریشن (Rand Corporation) امریکہ کا ایک اہم ترین تھنک ٹینک ہے جو امریکی حکومت کے لئے پالیسیاں بناتا ہے۔ 9/11کے بعد رینڈ کارپوریشن کے نیشنل سکیورٹی ریسرچ ڈویژن نے "CIVIL DEMOCRATIC ISLAM, PARTNERS, RESOURCES AND STRATEGIES" کے عنوان سے 72صفحات پر مشتمل ایک پالیسی پیپر تیار کیا جسے انٹرنیٹ پر اس تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر پڑھا جا سکتا ہے۔

 اس پالیسی پیپر کے ابتدا ہی میں بغیر کسی لگی لپٹی کے لکھا گیا کہ امریکہ اور ماڈرن انڈسٹریل ورلڈ کو ایسی اسلامی دنیا کی ضرورت ہے جو مغربی اصولوں اور رولز کے مطابق چلے جس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں میں موجود ایسے افراد اور طبقہ کی پشت پناہی کی جائے جو مغربی جمہوریت اور جدیدیت کو ماننے والے ہوں۔

 ایسے افراد کو کیسے ڈھونڈا جائے یہ وہ سوال تھا جس پر رینڈ کارپوریشن نے مسلمانوں کو چار Categoriesمیں تقسیم کیا۔ پہلی قسم بنیادپرست (Fundamentalists) جن کے بارے میں رینڈ کارپوریشن کہتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جومغربی جمہوریت اور موجودہ مغربی اقدار اور تہذیب کو ماننے کی بجائے اسلامی قوانین اور اسلامی اقدار کے نفاذ کے خواہاں ہیں۔ 

دوسری قسم قدامت پسند (Traditionalists) مسلمانوں کی ہے جو قدامت پسند معاشرہ چاہتے ہیں کیوں کہ وہ جدیدیت اور تبدیلی کے بارے میں مشکوک رہتے ہیں۔ رینڈ کارپوریشن کے مطابق تیسری قسم ایسے مسلمانوں کی ہے جنہیں جدت پسند (Modernists) کا نام دیا گیا جو بین الاقوامی جدیدیت (Global Modernity) کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں اسلام کو بھی جدید بنانے کے لئے اصلاحات کے قائل ہیں۔ چوتھی قسم ہے سیکولر (Secularists) مسلمانوں کی جو اسلامی دنیا سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی مغرب کی طرح دین کو ریاست سے علیحدہ کر دیں۔

پہلی قسم کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی تھنک ٹینک کا اسٹریٹجک پیپر لکھتا ہے کہ بنیادپرست امریکہ اور مغرب کے بارے میں مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے Footnotesمیں مرحوم قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا حوالہ بنیاد پرستوں کے طور پر دیا گیا اور یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ضروری نہیں کہ Fundamentalists دہشتگردی کی بھی حمایت کرتے ہوں۔ 

اس رپورٹ نے امریکی حکمرانوں کو تجویز دی کہ بنیاد پرست مسلمانوں کی حمایت کوئی آپشن نہیں۔ قدامت پسند مسلمان رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اعتدال پسند ہوتے ہیں لیکن ان میں بہت سے لوگ بنیادپرستوں کے قریب ہیں۔ 

امریکی پالیسی رپورٹ کے مطابق اعتدال پسندوں میں یہ خرابی ہے کہ وہ دل سے جدت پسندی کے کلچر اور مغربی ویلیوز کو تسلیم نہیں کرتے۔ جدت پسنداور سیکولر مسلمانوں کے بارے میں رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مغربی اقدار اور پالیسیوں کے قریب ترین ہیں۔ لیکن، رینڈ پالیسی رپورٹ کے مطابق، یہ دونوں طبقے (Modernists and Secularists) مسلمانوں میں کمزور ہیں، ان کو زیادہ حمایت حاصل ہے اور نہ ہی ان کے پاس مالی وسائل اور موثر انفراسٹرکچر موجود ہے۔

پالیسی رپورٹ نے اسلامی دنیا میں مغربی جمہوریت، جدت پسندی اور ورلڈ آرڈر کے فروغ اور نفاذ کے لئے کئی تجاویز دیں اور کہا کہ امریکہ اور مغرب کو بڑی احتیاط کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسلامی ممالک اور معاشروں میں کن افراد، کیسی قوتوں اور کیسے رجحانات کو مضبوط بنانے میں مدد دینی ہے تاکہ مقررہ اہداف حاصل ہو سکیں۔

ان اہداف کے حصول کے لئے امریکہ و یورپ کو پالیسی دی گئی کہ وہ جدت پسندوں (Modernists) کی حمایت کریں، اس طبقہ کے کام کی اشاعت اور ڈسٹری بیوشن میں مالی مدد کریں، اُن کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ عوام الناس اور نوجوانوں کے لئے لکھیں، ایسے جدت پسند نظریات کو اسلامی تعلیمی نصاب میں شامل کریں، جدت پسندوں کو پبلک پلیٹ فارم مہیا کریں،بنیادپرست اور قدامت پرست مسلمانوں کے برعکس جدت پسندوں کی اسلامی معاملات پر تشریحات، رائے اور فیصلوں کو میڈیا، انٹر نیٹ، اسکولوں کالجوں اور دوسرے ذرائع سے عام کریں، سیکولرازم اور جدت پسندی کو مسلمان نوجوانوں کے سامنے متبادل کلچر کے طور پر پیش کریں، مسلمان نوجوانوں کو اسلام کے علاوہ دوسرے کلچرز کی تاریخ پڑھائیں، سول سوسائٹی کو مضبوط کریں۔

 اس کے ساتھ ساتھ اس پالیسی میں امریکہ و یورپ کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ قدامت پسندوں کو بنیادپرستوں کے خلاف سپورٹ کریں، ان دونوں طبقوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دیں، پوری کوشش کی جائے کہ بنیاد پرست مسلمان اور قدامت پرست آپس میں اتحاد نہ قائم کر سکیں، 

قدامت پسندوں کی دہشت گردی کے خلاف بیانات کو خوب اجاگر کریں، بنیاد پرستوں کو اکیلا کرنے کے لئے کوشش کریں کہ قدامت پسند اور جدت پسند آپس میں تعاون کریں، جہاں ممکن ہو قدامت پسندوں کی تربیت کریں تا کہ وہ بنیاد پرستوں کے مقابلہ میں بہتر مکالمہ کر سکیں، بنیاد پرستوں کی اسلام کے متعلق سوچ کو چیلنج کریں، بنیاد پرست طبقوں کے غیرقانونی گروہوں اور واقعات سے تعلق کو سامنے لائیں، عوام کو بتائیں کہ بنیاد پرست حکمرانی کر سکتے اور نہ اپنے لوگوں کو ترقی دلوا سکتے ہیں، بنیاد پرستوں میں موجود شدت پسندوں کی دہشتگردی کو بزدلی سے جوڑیں۔

 اس پالیسی رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بنیاد پرستوں کے درمیان آپس کے اختلافات کی حوصلہ افزائی کریں۔ بنیاد پرستوں کو مشترکہ دشمن کے طور پر لیا جائے۔ رینڈ کارپوریشن نے اپنی پالیسی رپورٹ میں امریکہ و یورپ کو یہ بھی تجویز دی کہ اس رائے کی حمایت کی جائے کہ ریاست اور مذہب کو جدا کیا جائے اور اسے اسلامی طور پر بھی صحیح ثابت کیا جائے اور یہ بھی مسلمانوں کو بتایا جائے کہ اسلام کو ریاست سے جدا کرنے سے اُن کا ایمان خطرے میں نہیں پڑے گا بلکہ مزید مضبوط ہو گا‘‘۔

 https://www.rand.org/pubs/monographs/MG574.html




Thursday, 4 May 2023

مہنگائی اور نرخ کنٹرول کرنا

 

مہنگائی اور نرخ بھی اللہ کے قبضہ میں ہیں۔
القرآن:
۔۔۔اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 245]
تفسیر(امام)الطبری(م310ھ)» جلد5، صفحہ289

الحدیث:
«إِنَّ غَلَاءَ أَسْعَارِكُمْ وَرُخْصِهَا بِيَدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ فِي مَالٍ وَلَا دَمٍ»
ترجمہ:
 "یقیناً تمہارے نرخوں کی مہنگائی اور سستا پن اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں گا کہ میری طرف سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوا ہوگا نہ مال میں نہ جان میں ".
[المعجم الکبیر للطبرانی:761، کنزالعمال:9727]