ترجمہ:
اس دنیا سے رسول اللہ ﷺ کے رخصت ہو جانے کے بعد آپ ﷺ کی لائی ہوئی اللہ کی کتاب قرآن مجید اور آپ ﷺ کی تعلیمات جن کا معروف عنوان سنت ہے اس دنیا میں ہدایت کا مرکز و سرچشمہ اور گویا آپ ﷺ کی مقدس شخصیت کے قائم مقام ہے اور امت کی صلاح و فلاح ان کی پیروی و پابندی سے وابستہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں امت کو مختلف عنوانات سے ہدایت و آگاہی دی ہے اور محدثات و بدعات سے اجتناب کی تاکید فرمائی ہے اگلی امتیں اسی لیے گمراہ ہوئی کہ محدثات و بدعات کو اپنا دین بنا لیا اسی سلسلہ میں آپ ﷺ کے چند اہم ارشادات ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔
عنوان: نبی ﷺ کی جامع وصیت – تقویٰ، سنت، اور بدعت سے اجتناب
---
عربی متن
عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ - رضي الله عنه - قَالَ:
"صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - صَلَاةَ الصُّبْحِ (1) ذَاتَ يَوْمٍ (2) ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً (3) (4) وَجِلَتْ (5) مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ (6) مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ (7) (8) فَمَاذَا تَعْهَدُ (9) إِلَيْنَا؟ (10)
قَالَ: "أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ (11) وَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ (12) لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ (13) عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ (14) وَمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا (15) عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ (16) وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ (17) فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ (18) وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ (19) وَأُوصِيكُمْ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ (20) وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ (21) (22) فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ (23) كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ (24) حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ (25) وَإِذَا أُنِيخَ عَلَى صَخْرَةٍ اسْتَنَاخَ." (26)
---
ترجمہ:
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں فجر کی نماز پڑھائی (1) (2)، پھر آپ اپنا چہرہ ہماری طرف کر کے متوجہ ہوئے اور ہمیں ایک بلیغ (مؤثر) نصیحت فرمائی (3) (4)، جس سے دل لرز گئے (5) اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے (6)۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جیسے کوئی رخصت ہونے والا نصیحت کرتا ہے (7) (8)، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ (9) (10)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں تمہیں تقویٰ (اللہ کا خوف) کی وصیت کرتا ہوں (11)۔ اور میں نے تمہیں ایک روشن راستے پر چھوڑا ہے (12)، جس کی رات اس کے دن کی طرح (روشن) ہے، اس سے میرے بعد کوئی ہی بھٹکے گا جو ہلاک ہو گا (13) (14)۔
اور تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت اختلاف دیکھے گا، پس تمہیں میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا چاہیے، اسے مضبوطی سے تھام لو (15) اور اسے داڑھوں سے پکڑ لو (16)۔
اور نئے ایجاد کردہ امور سے بچو (17)، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے (18) اور ہر بدعت گمراہی ہے (19)۔
اور میں تمہیں سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں (20)، اگرچہ تم پر ایک حبشی غلام کو امیر بنایا جائے (21) (22)۔ پس بیشک مومن نرم اور آسان ہوتے ہیں (23)، جیسے مہار والا اونٹ (24) جہاں بھی لے جایا جائے چلا جاتا ہے (25)، اور جب کسی پتھر پر بٹھایا جائے تو بیٹھ جاتا ہے۔" (26)
---
حواشی وحوالہ جات:
(1) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 44؛ جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676۔
(2) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 42؛ سنن أبی داود، حدیث نمبر 4607۔
(3) "بلیغہ" سے مراد مؤثر نصیحت ہے، جس میں ڈرایا اور خوف دلایا گیا ہو۔
(4) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 44؛ جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676۔
(5) "الوجل" کا معنی: خوف، خشیت اور گھبراہٹ۔
(6) "ذرفت العیون" کا معنی: آنکھوں سے آنسو بہنا۔
(7) یعنی: گویا آپ ہمیں اس نصیحت کے ساتھ رخصت کر رہے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت میں بہت مبالغہ تھا۔
(عون المعبود: 10/127)
(8) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 42؛ جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676۔
(9) یعنی: آپ ہمیں وصیت فرماتے ہیں۔
(عون المعبود: 10/127)
(10) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 42۔
(11) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676؛ سنن أبی داود، حدیث نمبر 4607۔
(12) "البیضاء" سے مراد واضح اور خالص طریقہ ہے۔
(13) "الزیغ" کا معنی: حق سے دور ہونا اور راہِ راست سے ہٹ جانا۔
(14) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 43؛ مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر 17182۔
(15) "العض" سے مراد التزام اور مضبوطی سے تھامنا ہے۔
(16) "النواجذ" سے مراد دانت کے آخری حصے ہیں، یا وہ دانت جو انیاب کے بعد ہوتے ہیں۔
(17) "محدثہ" سے مراد نیا ایجاد کردہ امر ہے جو پہلے موجود نہ تھا۔
(18) "بدعت" سے مراد وہ نئی چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو جو اس پر دلالت کرے۔ رہی وہ چیز جس کی شریعت میں اصل موجود ہو، تو وہ شرعاً بدعت نہیں، اگرچہ لغوی اعتبار سے بدعت ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول "ہر بدعت گمراہی ہے" جامع الکلم میں سے ہے، جس سے کوئی چیز خارج نہیں ہوتی، اور یہ دین کی عظیم بنیادوں میں سے ایک ہے۔
رہی سلف کے کلام میں بعض بدعات کو مستحسن کہنا، تو وہ لغوی بدعات کے بارے میں ہے، شرعی بدعات کے بارے میں نہیں۔
مثال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تراویح کے بارے میں فرمانا: "نعمت البدعة ہذہ" (یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے)۔ اور ان سے مروی ہے: "اگر یہ بدعت ہے تو کیا ہی اچھی بدعت ہے"۔
مثال: جمعہ کا پہلا اذان، جسے عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے بڑھایا، اور علی رضی اللہ عنہ نے اسے برقرار رکھا، اور مسلمانوں کا عمل اسی پر جاری رہا۔
(عون المعبود: 10/127)
(19) سنن أبی داود، حدیث نمبر 4607؛ جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676۔
(20) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2676؛ سنن أبی داود، حدیث نمبر 4607۔
(21) اس سے مراد اس شخص کی اطاعت ہے جسے امام تم پر والی بنائے، اگرچہ وہ حبشی غلام ہو۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ امام حبشی غلام ہو۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے: "الأئمة من قریش" (امام قریش سے ہوں گے)۔
اور بعض چیزوں میں مثال ایسی چیز سے دی جاتی ہے جو وجود میں شاذ ہی صحیح ہوتی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: "جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، اگرچہ قطاۃ (پرندے) کے گھونسلے کے برابر ہو، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا"۔ حالانکہ قطاۃ کے گھونسلے کی مقدار کسی انسان کی مسجد نہیں ہو سکتی۔ اور اس قسم کے کلام کی مثالیں بہت ہیں۔
(عون المعبود: 10/127)
(22) المستدرک للحاکم، حدیث نمبر 329؛ سنن أبی داود، حدیث نمبر 4607؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 42۔ نیز دیکھیں صحیح الجامع: 2549۔
(23) امام عقیلی نے "الضعفاء" (214) میں روایت کیا۔ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 936۔
(24) "الأنف" سے مراد مأنوف ہے، یعنی وہ اونٹ جس کی ناک مہار سے زخمی کر دی گئی ہو، پس وہ اپنے چلانے والے سے درد کی وجہ سے انکار نہیں کرتا۔ اور کہا گیا: "الأنف" یعنی ذلیل اور فرماں بردار۔
(25) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 43؛ مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر 17182۔
(26) امام عقیلی نے "الضعفاء" (214) میں روایت کیا۔ صحیح الجامع: 4314؛ السلسلة الصحيحة: 937؛ صحیح الترغیب والترہیب: 59۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج1 ص349(5/22)]
---
قرآن سے شواہد:
1. تقویٰ کا حکم:
{وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} (النساء: 131)
(اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو وصیت کی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، اور تمہیں بھی کہ اللہ سے ڈرو۔)
2. بلیغ قول:
{وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا} (النساء: 63)
(اور ان سے ان کے دلوں میں مؤثر بات کہو۔)
3. آنکھوں کا اشکبار ہونا:
{تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ} (المائدة: 83)
(آپ ان کی آنکھیں دیکھیں گے کہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔)
4. اطاعت کا حکم:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} (النساء: 59)
(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور تم میں سے اولو الامر کی۔)
5. بدعت سے ممانعت:
{وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ} (الشوریٰ: 10)
(اور تم جس چیز میں اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔)
6. صراطِ مستقیم:
{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ} (الأنعام: 153)
(اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اس کی پیروی کرو، اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو۔)
7. اختلاف سے بچنا:
{وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ} (الأنفال: 46)
(اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور ہو جاؤ گے۔)
8. سنت کی اتباع:
{وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا} (الحشر: 7)
(اور رسول تمہیں جو دیں، وہ لے لو، اور جس سے روکیں، رک جاؤ۔)
---
شرح مظهر الدين الزيداني(م727ھ):
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: "وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً"
یعنی: ایسی کامل اور مؤثر نصیحت جو ڈرانے اور خوف دلانے میں پوری ہو۔
"ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ"
"ذَرَفَ" — ماضی میں عین کے فتحہ کے ساتھ اور مضارع میں کسرہ کے ساتھ — "ذَرْفًا" اور "تَذْرَافًا" کا معنی ہے: آنکھوں سے آنسو جاری ہونا۔ یعنی: اس نصیحت کے خوف سے حاضرین کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"وَجِلَتْ"
یعنی: دل ڈر گئے، خوف زدہ ہو گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول: "كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ"
"مُوَدِّع" "تَوْدِيع" سے اسم فاعل ہے۔
یعنی: آپ نے ہمیں ایسی کامل نصیحت فرمائی گویا آپ ہمیں رخصت کر رہے ہیں۔
"فَأَوْصِنَا"
یعنی: ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس میں ہماری رہنمائی اور بھلائی ہو، آپ کی وفات کے بعد۔
"بِتَقْوَى اللهِ"
یعنی: اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وصیت۔
"وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ"
یعنی: میں تمہیں خلیفہ اور ائمہ کی بات سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
"وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا"
یہ جائز نہیں کہ خلیفہ غلام ہو، لیکن یہاں "عبد" سے مراد وہ شخص ہے جسے خلیفہ کسی قوم پر ہر شہر میں حاکم بنائے۔
یعنی: خلیفہ اور اس کے نائبین کی بات قبول کرو اور ان کی اطاعت کرو، اگرچہ خلیفہ نے تم پر ایک حبشی غلام کو والی بنایا ہو۔
کیونکہ خلیفہ کے نائب کی اطاعت خلیفہ کی اطاعت ہے، خلیفہ کی اطاعت رسول کی اطاعت ہے، اور رسول کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔
"فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا"
"مَنْ يَعِشْ" کی اصل "يَعِيشُ" ہے، پھر یاء کی کسرہ عین پر منتقل کی گئی اور یاء ساکن ہونے اور شین ساکن ہونے کی وجہ سے حذف ہو گئی۔
یعنی: میرے بعد فتنے ظاہر ہوں گے اور مذہبوں کا اختلاف ہو گا۔ ہر گروہ ایسے عقیدے کا دعویٰ کرے گا جو اہلِ سنت کے عقیدے کے خلاف ہو گا، اور لوگوں کے درمیان بہت لڑائیاں ظاہر ہوں گی۔ پس تم خلیفہ اور اس کے نائبین کی اطاعت کرنے والے بنو، اور اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کی پیروی کرو۔
"فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ"
"مہدی" "هَدَى يَهْدِي هِدَايَةً" سے مفعول ہے، یعنی: جسے راستہ مستقیم کی طرف رہنمائی دی گئی ہو۔
"خلفائے راشدین" سے مراد: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں کہ ان چار کے سوا کوئی خلیفہ نہ ہو گا، بلکہ قیامت کے قریب تک ایک کے بعد ایک خلیفہ موجود رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ان چار کی فضیلت، دین پر ان کے حسنِ قیام، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ان کی حفاظت کو بیان کرنا ہے۔
یعنی: میری سنت اور ان چاروں کی سنت کو تھام لو، اور جس چیز پر اہلِ سنت کے علماء کا اجماع ہو وہ حق ہے اور اس کا قبول کرنا واجب ہے، کیونکہ وہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت ہے۔ کیونکہ ہمارے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی سنت کو پہچاننے کا راستہ صرف اجماع اور صحیح احادیث کی کتابوں کی پیروی ہے۔
"وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ"
"عَضُّوا" مخاطبین کے لیے امر ہے، "عَضَّ" سے — ماضی میں عین کے کسرہ کے ساتھ اور مضارع میں فتحہ کے ساتھ — "عَضًّا" کا معنی: کسی چیز کو دانت سے پکڑنا۔
"عَلَيْهَا" میں ضمیر سنت کی طرف لوٹتی ہے۔
"النواجذ" "ناجذ" کی جمع ہے، اور وہ دانت کا ضاحک (ہنسنے والا دانت) ہے، یا ناب، یا آخری دانت۔
یہاں اس لفظ سے مراد: سنت کو شدت سے لازم پکڑنا ہے، کیونکہ جو شخص کسی چیز کو شدت سے پکڑنا چاہے وہ اسے دانتوں سے پکڑتا ہے۔
یعنی: ہاتھوں اور دانتوں سے پکڑنا نہایت شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔
"وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ"
یعنی: خبردار! ایسی چیز کی پیروی سے بچو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کہی ہو، اور جس پر اہلِ سنت کا اجماع نہ ہو۔
(1) یعنی: ادغام سے پہلے، اور "عین" سے مراد دوسرا حرف ہے۔
[المفاتيح في شرح المصابيح: 129 (1/271-272)]
---
شرح امام ابن الملک (م854ھ):
"حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک بلیغ (مؤثر) نصیحت فرمائی" — یعنی: ڈرانے اور خوف دلانے میں مکمل اور بھرپور نصیحت۔
"اس سے آنکھیں بہہ نکلیں" — یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت سے آنکھوں کے آنسو بہنے لگے۔
"اور دل لرز گئے" — یعنی: دل ڈر گئے، کیونکہ اس نصیحت کا نفس پر گہرا اثر ہوا، اور خوف دلوں پر چھا گیا۔
"تو ایک کہنے والے نے کہا: یا رسول اللہ! گویا یہ تو رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے" — اضافت کے ساتھ، یعنی: گویا آپ اس نصیحت کے ذریعے ہمیں رخصت کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت میں بہت مبالغہ دیکھا۔
"تو ہمیں وصیت فرمائیں" — یعنی: ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس میں ہماری رہنمائی اور بھلائی ہو آپ کی وفات کے بعد۔
"تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں" — یعنی: اللہ کا خوف اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وصیت کرتا ہوں، یہ ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملے کے بارے میں ہے۔
"اور سننے اور اطاعت کرنے کی" — ان امیروں کی جو تم پر حکمران ہوں، جب تک وہ گناہ کا حکم نہ دیں۔
"اگرچہ اطاعت کیا جانے والا حبشی غلام ہو" — یعنی: اگر تم پر ایک حبشی غلام بھی حاکم ہو جائے تو اس کی اطاعت کرو، فتنہ بھڑکنے کے خوف سے۔
"تو تم صبر اور مدارات کو لازم پکڑو" — یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔ اور کہا گیا: یہ حکمرانوں کی اطاعت پر ترغیب اور مبالغہ کے طور پر وارد ہوا ہے۔ اور کہا گیا: یہ بطورِ مثال ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ حبشی غلام کی خلافت درست نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: "الائمہ من قریش" (امام قریش سے ہوں گے)۔
"پس بیشک تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت اختلاف دیکھے گا" — مختلف مذہبوں کا، ہر ایک اہلِ سنت کے عقیدے کے خلاف عقیدہ کا دعویٰ کرے گا، اور بدعات اور خواہشات کو ظاہر کرے گا۔
"تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو" — یعنی: جنہیں اللہ نے حق کی طرف ہدایت دی۔ اور کہا گیا: وہ چار خلفاء ہیں: ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے بعد خلافت تیس سال ہے"، اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر ختم ہوئی۔
اور کہا گیا: وہ اور وہ لوگ جو ان کے طریقے پر چلے، اسلام کے ائمہ مجتہدین میں سے، کیونکہ وہ حق کو زندہ کرنے، دین کو بلند کرنے، اور مخلوق کی حق کی طرف رہنمائی کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں۔
"اسے مضبوطی سے تھام لو" — یعنی: سنت کو۔
"اور اسے داڑھوں سے پکڑ لو" — "نواجذ" جو "ناجذ" کی جمع ہے، کہا گیا: یہ ناب (کانٹا / سامنے کا دانت) ہے، اور اس سے پکڑنا اس وصیت کو مضبوطی سے تھامنے میں مبالغہ کی کنایہ ہے، جیسے کوئی چیز کو دانت سے پکڑ کر زیادہ محفوظ کرے۔
"اور نئے ایجاد کردہ امور سے بچو" — یعنی: وہ جو دین کی کسی اصل کے خلاف ایجاد کیے گئے ہوں، یعنی: ان سے بچو؛ "کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔
[شرح المصابيح لإبن الملك: 129 (1/172)]
---
شرح ملا علی قاری (ت ۱۰۱۴ھ):
"اور ان سے (یعنی عرباض رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز پڑھائی" — یعنی امام بن کر۔ "ذات یوم" میں "ذات" اس لیے لایا کہ مجاز کی نفی ہو، یعنی دن کے وقت۔
"پھر آپ اپنا چہرہ ہماری طرف کر کے متوجہ ہوئے" — یہ تأکید ہے۔ "تو آپ نے ہمیں نصیحت فرمائی" — یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی۔ "ایک بلیغ نصیحت" — یعنی ڈرانے میں مکمل۔
سید جمال الدین نے کہا: یعنی الفاظ میں مختصر مگر معنی میں بہت زیادہ، یا ڈرانے اور خوف دلانے میں مبالغہ۔ توریبشتی نے کہا: یعنی ڈرانے اور خوف دلانے میں مبالغہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: {وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا} (النساء: 63)۔
"اس سے آنکھیں بہہ نکلیں" — راء کے فتحہ کے ساتھ، یعنی آنکھوں سے آنسو بہے۔ "اور دل لرز گئے" — جیم کے کسرہ کے ساتھ، اور "وجل" کا معنی خوف کے ساتھ حذر ہے، یعنی دل ڈر گئے۔
طیبی نے کہا: "ذرفت" یعنی بہہ نکلیں، اور اسے آنکھوں کی طرف منسوب کرنا مبالغہ ہے۔ اور "ذرفت" کو "وجلت" پر مقدم کرنے کی حکمت یہ ہے کہ یہ اشعار ہے کہ اس نصیحت نے ظاہر و باطن دونوں پر اثر کیا۔ ابن حجر نے بھی اس کی تائید کی۔
"تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! گویا یہ رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے" — یعنی گویا آپ اس کے ذریعے ہمیں رخصت کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے آپ کی نصیحت میں مبالغہ دیکھا۔
"تو ہمیں وصیت فرمائیں" — یعنی ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس میں ہماری بھلائی اور رہنمائی ہو۔
"تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں" — یعنی اللہ کا خوف اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی وصیت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} (النساء: 131)۔
"اور سننے اور اطاعت کرنے کی" — خلیفہ اور ائمہ کی بات سننے کی۔ "امیروں کی اطاعت کی" — جب تک وہ گناہ کا حکم نہ دیں، عادل ہوں یا ظالم، ورنہ مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
"اگرچہ وہ حبشی غلام ہو" — اس کی اطاعت کرو، اس کے نسب کو نہ دیکھو۔
"پس بیشک تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت اختلاف دیکھے گا" — بہت سے مذاہب کا، ہر ایک دوسرے کے عقیدے کے خلاف عقیدہ کا دعویٰ کرے گا۔
"تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو" — خلفائے راشدین سے مراد چار خلفاء ہیں: ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الخلافة بعدی ثلاثون سنة" (میرے بعد خلافت تیس سال ہے)۔
"اسے مضبوطی سے تھام لو اور اسے داڑھوں سے پکڑ لو" — "نواجذ" سے مراد آخری داڑھیں ہیں، اور یہ سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی کنایہ ہے۔
"اور نئے ایجاد کردہ امور سے بچو" — وہ جو دین کی کسی اصل کے خلاف ایجاد کیے گئے ہوں۔ "کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے" ۔
(رواہ أحمد، وأبو داود، والترمذی) اور ترمذی نے کہا: "حدیث حسن صحیح" ۔
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: 165 (1/251)]
---

سیدنا علی المرتضیٰؓ کی نظر میں، خلفاء راشدین کا عمل بھی سنت ہے:
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا:
جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، " وَكُلٌّ سُنَّةٌ.
نبی ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے شرابی کو چالیس کوڑے سزا دی، اور حجرت عمرؓ (اور حضرت عثمانؓ) نے اسّی کوڑے سزا دی، اور دونوں باتیں سنت ہیں۔
سأل ابن الكواء عليا عن السنة والبدعة وعن الجماعة والفرقة فقال يا ابن الكواء حفظت المسألة فافهم الجواب السنة والله سنة محمد - صلى الله عليه وسلم - والبدعة ما فارقها والجماعة والله مجامعة أهل الحق وإن قلوا والفرقة مجامعة أهل الباطل وإن كثروا.
[جامع الأحاديث:33424، كنز العمال:1644، تاريخ ابن عساكر:7/ 301 ط بيروت]
ترجمہ:
حضرت علیؓ سے جب سنت اور بدعت ، اجتماعیت اور فرقہ وایت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؓ نے جواب میں ارشاد فرمایا :
”سنت، اللہ کی قسم! محمد ﷺ کا طریقہ ہے اور بدعت ہر وہ کام جسے حضور ﷺ نے نہیں کیا ہے، اور جماعت (اجتماعیت) اللہ کی قسم! اہلِ حق کا اجتماع اور ملنا ہے، اگرچہ وہ تھوڑے اور کم ہوں اور فرقہ واریت اہلِ باطل سے ملنا ہے اور ان کا جمع ہونا ہے اگرچہ وہ تعداد میں زیادہ ہوں“ ۔
[حياة الصحابة:2/232، الناشر: مؤسسة الرسالة، حیاة الصحابہ :2/9 دار القلم ،دمشق]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہمارے حکم (دین) میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں نہیں، تو وہ مردود ہے.
حضرت عائشہؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
تشریح:
(1) حکم یعنی دین "میں" نکالنا مردود ہے، لیکن دین کی ضرورت "کیلئے" نہیں۔ جیسے:- (1)قرآن مجید کی حفاظت کیلئے اسے ایک کتابی شکل میں صحابہ کا جمع کرنا (2)یا عجمیوں کے اختلاف وغلطیوں سے حفاظت کیلئے قرآن مجید میں اعراب لگانا (3)یا عربی قاعدے سکھانا بدعت نہیں۔
(2) لفظ ’’ہمارا حکم‘‘ فرمانا دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کی جماعت کو بھی شامل فرمایا ہے۔ صحابہ کے طریقہ کی پیروی کی فضیلت قرآن مجید نے بھی فرمائی ہے۔
[دیکھیے، سورۃ التوبۃ:100]
(3) اتباع جیسے فعل(یعنی کرنے) میں ہے اسی طرح ترک(یعنی نہ کرنے) میں بھی ہے، سو جس نے ایسے نئے فعل،طریقہ،تعداد،جگہ،وقت،کیفیت یا درجہ دینے پر مواظبت(ہمیشگی/پابندی) کی جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام نے نہیں کی، تو وہ بدعت(یعنی دین میں نئی بات نکالنا) ہے، جو مردود ہے۔
تشریح:
استغفر اللہ، کتنی عظیم محرومی ہے؟ کہ ایسے لوگوں کا نبوی تعلق بھی مردود ہے۔
یعنی
(1)وه نیک باتوں کا لوگوں کو حکم کریں گے لیکن اپنے آپ کو بھول جائیں گے
[سورۃ البقرہ:44]
دعوے کریں گے لیکن وہ کام نہیں کریں گے
[سورۃ الصف:2-3]
(2)جس بات کا انہیں حکم نہیں دیا گیا اسے دین وثواب کا عمل سمجھ کر مضبوطی سے پکڑیں گے۔
[دلائل سورۃ فاطر:8، محمد:14، الاعراف:30، الکھف:104،الزخرف:37]
[مجمع البحرین: م ۱۸ ص ۱۲۹، رسالة إنقاذ الهالكين-البركوي: ص۱۰۵، نظم البیان: ص۷۳، لجنہ ۱۶۵]
امام ابوحنیفہؒ(م150ھ)نے فرمایا:
عَلَيْكَ بِالْأَثَرِ وَطَرِيقَةِ السَّلَفِ، وَإِيَّاكَ وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ، فَإِنَّهَا بِدْعَةٌ
ترجمہ:
تم لازم کرلو نقش قدم اور طریقے سلف(پیشرو) کے، اور بچو ہر نئی بات (دین میں) نکالنے سے، کیونکہ یہ بدعت ہے۔
[أحاديث في ذم الكلام وأهله-أبو الفضل الرازي(م454ھ) : صفحہ86، حدیث نمبر 1006]
نبی ﷺ خود فرماتے ہیں:
"مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا أَمَرَكُمُ اللَّهُ بِهِ إِلَّا وَقَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ إِلَّا وَقَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ"
(میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جو تمہیں اللہ(جنت) کے قریب کرتی ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے، اور میں نے اللہ کی طرف سے جن چیزوں سے تمہیں روکا گیا تھا، ان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی مگر میں نے تمہیں اس سے روک دیا ہے۔)
[مسند الشافعي: ص233 (ترتيب السندي:673)(ترتيب سنجر:1798)، شرح السنة-البغوي:4111-4113]
شواہد:
[المصنف-عبد الرزاق:21167، الجامع-معمر بن راشد:20100، المصنف-ابن أبي شيبة:34332، المستدرك الحاكم:2165، الزهد للهناد:494، ثلاثة مجالس من أماليه-ابن مردويه:24، شعب الإيمان-البيهقي:9891، الصحيحة:2866][طبراني:1647، الصحيحة:1803]
اہل بدعت کا یہ کہنا کہ جس چیز کی منع کتاب و سنت میں موجود نہ ہو اس کا نکالنا اور کرنا برا نہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ باپ کو گھر سے نکالنے سے منع قرآن وسنت میں نہیں لہذا یہ کام برا نہیں ۔۔۔۔ سراسر باطل اور قطعا مردود ہے اور محدثین عظام اور فقہائے کرام کے صریح ضوابط کے خلاف ہے ۔۔علماء اسلام نے اس کی تصریح فرمائی ہے کہ جیسے عزائم سے خدا تعالیٰ کی بندگی اور عبادت و خشنودی کی جاتی ہے اسی طرح رخصتوں سے بھی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی متعلق ہے اور جس طرح جناب رسول اللہ ﷺ کا کسی کام کو کرنا سنت ہے اسی طرح کسی کام کا چھوڑنا بھی سنت ہے ۔ لہذا آپ کے ترک فعل کی اتباع بھی سنت ہے اور اس کی مخالفت بدعت ہے ۔۔۔چناچہ ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث شریف یوں پیش فرماتے ہیں :
(مرقات ج 2 ص 15)(اشعۃ اللمعات ج 1 ص 12
)نیز حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مشکوۃ شریف کی پہلی حدیث "انما الاعمال بالنیات"کی شرح میں یہ نقل کرتے ہیں کہ "متابعت جیسے فعل میں ہوتی ہے اسی طرح ترک میں بھی متابعت ہوتی ہے ۔سو جس نے کسی ایسے کام پر مواظبت کی جو شارع علیہ السلام نے نہیں کیا تو وہ بدعتی ہے"(مرقات ج 1 ص 41)
اور اسی موقع پر شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ " اتباع جیسے فعل میں واجب ہے اسی طرح ترک میں بھی اتباع ہوگی ۔سو جس نے کسی ایسے کام پر مواظبت کی جو شارع علیہ السلام نے نہیں کیا وہ بدعتی ہوگا ۔اسی طرح محدثین کرام نے فرمایا ہے "
(اشعۃ اللمعات ج 1 ص 20)
شرح مسند امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ میں ہے "اتباع جیسے فعل میں ہے اسی طرح ترک میں بھی ہے سو جس نے ایسے فعل پر مواظبت کی جو شارع علیہ السلام نے نہیں کیا تو وہ مبتدع ہوگا ۔کیوں کہ اس کو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا یہ قول شامل ہے کہ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا ثبوت نہیں تو وہ مردود ہوگا"(انتہی)
(مواہب لطیفہ شرح مسند ابی حنیفہ بحث تلفظ بالنیۃ)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ ، مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا " ، يَعْنِي : إِلَى الصَّدْرِ .
خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
المحدث : الهيثمي / المصدر : مجمع الزوائد

علامہ سدید الدین کاشغری الحنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "رات کے وقت آٹھ رکعت سے زیادہ اور دن کے وقت چار رکعت سے زیادہ ایک سلام کے ساتھ نفلی نماز پڑھنا آئمہ احناف کے اجماع سے مکروہ ہے"(منیۃ المصلیٰ ص 102)
اور علامہ علاوالدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 587ھ) بعض فقہائے کرام سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "اس لئے مکروہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے اس سے زیادہ مروی نہیں ہے"
(البدائع والصنائع ج 1 ص 295)
صاحب ہدایہ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ "اور عید گاہ میں نماز عید سے پہلے نماز نہ پڑھی جائے کیوں کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے باوجود نماز پر حریص ہونے کے ایسا نہیں کیا پھر اس میں اختلاف ہے کہ یہ کراہت عیدہ گاہ کے ساتھ خاص ہے ،یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید گاہ اور غیر عید گاہ دونوں میں کراہت ہوگی کیوں کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ اور غیر عید گاہ دونوں میں نماز نہیں پڑھی"
(ہدایہ ج 1 ص 153)
آپ نے ملاحظ فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے عدم فعل کو حجت اور دلیل کو طور پر پیش کیا حالانکہ صراحتہ مرفوع حدیث سے نہی اس پر پیش کرنا ایک دشوار امر ہے کہ آپ نے عید گاہ میں یا عید کے دن کسی دوسری جگہ نفل پڑھنے سے علی الخصوص منع کیا ہے ۔۔۔ تو پھر اہل بدعت کے نزدیک اس فعل کو برا اور مکروہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نہی اس پر موجود نہیں

علامہ ابراہیم حلبی الحنفیؒ (المتوفی 956ھ) نے صلوۃ رغائب(جو رجب میں پڑھی جاتی ہے)وغیرہ کے بدعت اور مکروہ ہونے کی یہ دلیل پیش کی ہے:
"حضرات صحابہ کرام اور تابعین کرام اور بعد کے آئمہ مجتہدین سے یہ منقول نہیں ہے"
(کبیری ص 433)
اور مشہور حنفی امام احمد بن محمدؒ (المتوفی 446ھ ) ایک مسئلہ کی تحقیق میں یوں ارقام ہیں:
"یہ بدعت ہے حضرات صحابہ کرام اور تابعین کرام سے منقول نہیں ہے"
(الواقعات)
(1) غیردین کو دین بنانا، (2) کسی کام کو اچھا یا برا خود قرار دینا جو ایک طرح سے خود کو خدا بنانا ہے. (3) دین کو نامکمل سمجھنا (4) اور نبی پر پورا دین نہ پہنچانے یا چھپانے کا الزام ظاہر کرنا اور (5) خود کو خدا کا پیغام(دین) پہنچانے والا نبی ہونے کا خفیہ دعوا کرنا ہے۔ جو بدعت کی سب سے خطرناک برائی اور تلبیس ابلیس ہے.
خواہش پرست، مشرک اور گمراہ ہے:
القرآن :
ترجمہ:
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) اللّٰه نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللّٰه کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
کیا کوئی بات خالق کے علم سے باہر ہوسکتی ہے؟
بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار
کیا رسول الله ﷺ نے دین کی کوئی بات چھپائی؟
وَما هُوَ عَلَى الغَيبِ بِضَنينٍ {81:24}
اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں
کیا دین مکمل نہیں ہوا ہے؟
... اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلٰمَ دينًا ۚ ... {5:3}
... آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا.
کیا محمد رسول الله ﷺ انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے نہیں؟ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّۦنَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا {33:40}
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے.
کیا رسول الله ﷺ نے بدعت سے نہیں روکا؟
قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿۱۰۳﴾ اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُهُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ هُمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمْ یُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴿۱۰۴﴾ سورۃ الکھف
ترجمہ:
یہ سب سے پہلا فرقہ تھا جس نے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) اور صحابہ کے رفقاء یعنی تابعین (رحمھم الله) کے خلاف بغاوت کی اور بغاوت کو حق سمجھا۔
مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود و نصاریٰ وغیرہ کفّار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ آیت عام ہے. جو بھی الله کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لاۓ جو طریقہ الله کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اپنے اعمال سے "خوش" ہو اور "سمجھ" رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کرلیا ہے، میرے نیک اعمال الله کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجر و ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے. اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے.
صحابہؓ کے اعمال پر بدعت کا اطلاق نہیں
پس ہرچہ خلفائے راشدین بداں حکم کردہ باشند....اطلاق بدعت برآں نتواں کرد۔
[أشعة اللمعات: ١/١٣٠]
"ہر مومن کو سنت اور جماعت (اہلِ سنّت-والجماعت) کی پیروی کرنا واجب ہے، سنّت اس طریقے کو کہتے ہیں جس پر آپ ﷺ چلتے "رہے" اور جماعت اسے کہتے ہیں جس پر چاروں خلفاءِ راشدین نے اپنے خلافت کے زمانے میں "اتفاق(اجماع)" کیا، یہ لوگ سیدھی راہ دکھانے-والے تھے، کیوں کہ انہیں سیدھی راہ دکھائی گئی تھی."
[غنية الطالبين: صفحة # ١٨٥]
"وأماأهل السنةوالجماعة فيقولون في كل فعل وقول لم يثبت عن الصحابة: هوبدعة؛ لأنه لو كان خيرا لسبقونا إليه، لأنهم لم يتركوا خصلة من خصال الخير إلا وقد بادروا إليها"۔
(تفسیر ابن کثیر۔تفسیر الاحقاف:۱۱،شاملہ)
ترجمہ:اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ہر وہ قول وفعل جو حضورﷺ کے صحابہ سے ثابت نہ ہو بدعت ہے کیوں کہ اس(دینی کام)میں کوئی خیر ہوتی تو صحابہ کرام ہم سے پہلے اس کام کی طرف رخ کرتے انہوں نے نیکی کی کسی بات کو نہ چھوڑا مگر یہ کہ وہ اس کی طرف دوڑتے تھے۔
"کل عبادۃ لم یتعبد ھااصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا تعبدوھا"۔
(الاعتصام:۱/۵۴)
ترجمہ:دین کا ہر وہ عمل جسے صحابہ نے دین نہیں سمجھا اسے تم بھی دین نہ سمجھنا۔
جو دینی-کام نبی ﷺ اور خلفاء راشدین کی سنّت سے ثابت نہ ہو وہ دین میں "بدعت" ہے.
[تفسیر_ابن_کثیر: سورہ احقاف، آیت # ١١]
ما تركت من شيءٍ يقربُكم إلى الجنةِ إلا وقد حدثتكم به ، ولا تركتُ من شيءٍ يبعدُكم عن النارِ إلا وقد حدثتكم به
ترجمہ :
ما تركتُ شيئًا مما أمركم اللهُ به إلا قد أمرتُكم به ، وما تركتُ شيئًا مما نهاكم عنه إلا قد نهيتُكم به
المصدر : السلسلة الصحيحة الصفحة أو الرقم: 2866 خلاصة حكم المحدث :حسن على أقل الأحوال
المصدر : صحيح الترغيب الصفحة أو الرقم: 1700 خلاصة حكم المحدث : صحيح لغيره
المصدر : الترغيب والترهيب الصفحة أو الرقم: 3/9 خلاصة حكم المحدث : [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما]
المصدر : إتحاف الخيرة المهرة الصفحة أو الرقم: 3/271 خلاصة حكم المحدث :له شاهد
کیا ہر نئی چیز بدعت ہے؟
بدعت کی برائی:
غیر-دین کو دین بنانا ، کسی کام کو اچھا یا برا خود قرار دینا ایک طرح سے خود کو خدا بنانا ہے. دین کو نامکمل اور نبی پر پورا دین نہ پہنچانے یا چھپانے کا الزام لگانا اور خود کو خدا کا پیغام(دین) پہنچانے والا نبی ہونے کا خفیہ دعوا کرنا بدعت کی سب سے خطرناک برائی اور تلبیس ابلیس ہے ہے.
قرآن :
أَم لَهُم شُرَكٰؤُا۟ شَرَعوا لَهُم مِنَ الدّينِ ما لَم يَأذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَولا كَلِمَةُ الفَصلِ لَقُضِىَ بَينَهُم ۗ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ {42:21}
کیا ان کے لئے اور شریک ہیں کہ راہ ڈالی ہے انہوں نے انکے واسطے دین کی کہ جس کا حکم نہیں دیا اللہ نے [۳۰] اور اگر نہ مقرر ہو چکی ہوتی ایک بات فیصلہ کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں اور بیشک جو گنہگار ہیں انکو عذاب ہے دردناک [۳۱]
أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {45:23}
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟
... قُل إِنَّ الأَمرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ... {3:154}
... تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں ...
أَلا يَعلَمُ مَن خَلَقَ وَهُوَ اللَّطيفُ الخَبيرُ {67:14}
بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار
====================
وَما هُوَ عَلَى الغَيبِ بِضَنينٍ {81:24}
اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں
یعنی یہ پیغمبر ہر قسم کے غیوب کی خبر دیتا ہے ماضی سے متعلق ہوں یا مستقبل سے۔ یا اللہ کے اسماء و صفات سے یا احکام شرعیہ سے یا مذاہب کی حقیقت و بطلان سے یا جنت ودوزخ کے احوال سے یا واقعات بعدالموت سے اور ان چیزوں کے بتلانے میں ذرا بخل نہیں کرتا نہ اُجرت مانگتا ہے۔ نہ نذرانہ، نہ بخشش، پھر کاہن کا لقب اُس پر کیسے چسپاں ہو سکتا ہے، کاہن محض ایک جزئی اور نامکمل بات غیب کی سو جھوٹ ملا کربیان کرتا ہے اور اُس کے بتلانے میں بھی اس قدر بخیل ہے کہ بدون مٹھائی یا نذرانہ وغیرہ وصول کیے ایک حرف زبان سے نہیں نکالتا۔ پیغمبروں کی سیرت سے کاہنوں کی پوزیشن کو کیا نسبت۔
... اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلٰمَ دينًا ۚ ... {5:3}
... آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا.
| مِنَ الَّذينَ فَرَّقوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزبٍ بِما لَدَيهِم فَرِحونَ {30:32} |
| جنہوں نے کہ پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہو گئے ان میں بہت فرقے ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر فریفتہ ہے [۳۸] |
| (اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے |
| یعنی دین فطرت کے اصول سے علیحدہ ہو کر ان لوگوں نے اپنے مذہب میں پھوٹ ڈالی، بہت سے فرقے بن گئے۔ ہر ایک کا عقیدہ الگ، مذہب و مشرب جدا، جس کسی نے غلط کاری یا ہوا پرستی سے کوئی عقیدہ قائم کر دیا یا کوئی طریقہ ایجاد کر لیا۔ ایک جماعت اسی کے پیچھے ہو گئ، تھوڑے دن بعد وہ ایک فرقہ بن گیا۔ پھر ہر فرقہ اپنے ٹھہراے ہوئے اصول و عقائد پر خواہ وہ کتنے ہی مہمل کیوں نہ ہوں ایسا فریفتہ اور مفتون ہے کہ اپنی غلطی کا امکان بھی اس کے تصور میں نہیں آتا۔ |
ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّۦنَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا {33:40}
محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے.
شرک کے بعد سب سے زیادہ برائی بدعت کی آئی ہے
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ الله فرماتے ہیں: ”آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے بدعت کی جتنی مذمت فرمائی ہے شاید کفر وشرک کے بعد کسی او رچیز کی اتنی برائی نہیں کی ۔“ (اختلاف امت اور صراطِ مستقیم :74)
دین میں اضافہ الله تعالیٰ کے ہاں ناقابل قبول ہے
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی تو وہ مردود ہو گی ۔“( بخاری:371/1)
بدعت کی نحوست کی وجہ سے سنت کے نور سے محرومی ہو جاتی ہے
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جب کوئی قوم اپنے دین میں کوئی بدعت گھڑ لیتی ہے تو الله تعالیٰ اسی کے بقدر سنت اس سے چھین لیتے ہیں او رپھر قیامت تک ان کی طرف واپس نہیں لوٹاتے۔“ ( مشکوٰة:31/1)
نیز فرمایا:” جب کوئی قوم کوئی بدعت ایجاد کر لیتی ہے تو اس کی مثل سنت اس سے اٹھالی جاتی ہے ، اس لیے چھوٹی سے چھوٹی سنت پر عمل کرنا بظاہر اچھی سے اچھی بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے ۔“ (ایضا)
بدعت شیطان کا جال ہے
حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” ابلیس نے کہا میں نے انہیں گناہوں کے ذریعہ ہلاک کیا اور لوگوں نے مجھے استغفار کرکے ہلاک کیا، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے انہیں خواہشات نفسانی ( بدعات) سے ہلاک کیا، تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں اور استغفار نہیں کرتے۔“ ( الترغیب والترہیب:46/1)
پل صراط پر دیر نہ لگنے کا طریقہ
حضرت حسن بصری رحمہ الله فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ پل صراط پر تمہیں دیر نہ لگے اور سیدھے جنت میں جاؤ تو الله تعالیٰ کے دین میں اپنی رائے سے کوئی نیا طریقہ پیدا نہ کرو۔ (سنت و بدعت بحوالہ اعتصام)
بدعت کی وجہ سے حوض کوثر کا پانی نصیب نہ ہو گا
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” میں حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص میرے پاس آئے گا وہ اس کا پانی پئے گا او رجو ایک بارپی لے گا ،پھر اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی ، کچھ لوگ میرے پاس وہاں آئیں گے ، جن کو میں پہچانتا ہوں گا او روہ مجھے پہچانتے ہوں گے، مگر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی جائے گی ، میں کہوں گا کہ یہ تو میرے آدمی ہیں۔ مجھے جواب ملے گا کہ آپ نہیں جانتے، انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ یہ جواب سن کر میں کہوں گا:” پھٹکار، پھٹکار ان لوگوں کے لیے جنہوں نے میرے بعد میرا طریقہ بدل ڈالا۔“ (مشکوٰة:488)
بدعتیں کس قدر عام ہوں گی؟
حضرت حذیفہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا، خدا کی قسم! آئندہ زمانے میں بدعتیں اس طرح پھیل جائیں گی کہ اگر کوئی شخص اس بدعت کو چھوڑ دے گا تو لوگ کہیں گے کہ تم نے سنت چھوڑ دی۔ ( سنت وبدعت)
ہر سال بدعتوں میں اضافہ ہو گا
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ آئندہ لوگوں پر کوئی نیا سال نہیں آئے گا جس میں وہ بدعت ایجاد نہیں کریں گے اور کسی سنت کو مردہ نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جائیں گی۔ (ایضا)
اتباعِ سنت کیا ہے ؟
حضرت ابوعلی جوزانی رحمہ الله سے پوچھا گیا اتباع سنت کیا ہے ؟ فرمایاکہ بدعات سے اجتناب او ران عقائد واحکام کا اتباع جن پر پچھلے علمائے اسلام کا اتفاق ہے او ران کی پیروی کو لازم سمجھنا ۔ ( ایضا)
بدعتی کا کوئی عمل مقبول نہیں
رسول کریم ا نے فرمایا: ”الله تعالیٰ بدعتی کا نہ روزہ قبول کرتا ہے ، نہ نماز، نہ حج ، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل، نہ فرض ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔“ (الترغیب والترہیب:46/1)
بدعتی کی تعظیم کرنا ممنوع ہے
حضرت ابراہیم بن میسرة رضی الله تعالی عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جس شخص نے کسی بدعتی کی تعظیم کی تو اس نے اسلام کو گرانے میں مدد دی ۔“
بدعتی آں حضرت ا پر خیانت کا الزام لگاتا ہے
امام مالک رحمہ الله نے فرمایا جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے تو وہ گویا یہ دعوی کرتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ( معاذ الله) رسالت میں خیانت کی کہ پوری بات نہیں بتائی ( اور میں بتا رہا ہوں )۔ نیز فرمایا جو کام اس زمانے میں دین نہیں تھا وہ آج بھی دین نہیں کہا جاسکتا ۔ ( سنت و بدعت)
بدعتی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ہے
الله تعالیٰ فرماتے ہیں :”آپ فرمائیے! کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ کون لوگ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں، وہ لوگ جن کی کوشش عمل دنیا کی زندگی میں ضائع اور بے کار ہو گئی او روہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم اچھا عمل کر رہے ہیں۔ “( سورة الکہف:104,103)
بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” الله تعالیٰ نے ہر بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند کر دیا ہے ۔ ( مجمع)
بدعتی کی نماز اسے الله تعالیٰ کے قریب نہیں کرتی
حضرت حسن رحمہ الله نے فرمایا:” بدعتی جتنا زیادہ روزہ او رنماز میں مجاہدہ کرتا ہے اتنا ہی الله تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے۔“ نیز فرمایا: ” بدعتی کے پاس نہ بیٹھو ، وہ تمہارے دل کو بیمار کر دے گا۔“ ( سنت و بدعت)
بدعتی کو توبہ نصیب نہیں ہوتی
حضرت ابو عمر وشیبانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ بدعتی کو توبہ نصیب نہیں ہوتی۔
بدعتوں کے پھیلنے پر علمائے کرام کی ذمہ داری
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جب میری امت میں بدعتیں پیدا ہو جائیں اور میرے صحابہ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ وہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے گا تو اس پر الله تعالیٰ اور فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔“
بدعت کیا ہے ؟
جو چیز آں حضرت صلی الله علیہ وسلم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم، تابعین او رتبع تابعین رحمہم الله کے دور میں معمول ومروج نہ رہی ہو اسے دین کی بات سمجھ کر کرنا، بدعت کہلاتا ہے۔ (اختلاف امت:72)
لوگ بدعتوں میں کیوں مبتلا رہتے ہیں؟
اس کی پہلی وجہ جہالت ہے ، کہ اصل سنت ودین کا بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں او رنہ سیکھنے کی طلب ہے۔
دوسری وجہ شیطان کا بہکانا ہے ، کہ شیطان بنی آدم کا بھلا کبھی نہیں چاہ سکتا ، وہ لوگوں کو بدعت کے نت نئے راستوں پر چلاتا ہے۔
تیسری وجہ شہرت پسندی کامرض ہے کہ چھپ کر صدقہ کرنے میں وہ دکھاوا کہاں ہو سکتا ہے۔ جو مسجدوں، گھروں اور سڑکوں کو سجانے میں ہوتا ہے۔
چوتھی وجہ غیر قوموں کی تقلید ہے کہ انہوں نے اہم شخصیات کے دن منائے تو مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی دن منانے میں لگ جاتے ہیں۔( ملخص از اختلاف امت)
سنت اور بدعت کی پہچان
جس طرح اصلی نوٹ پورے پاکستان میں ایک ہوتا ہے ، جب کہ جعلی کئی طرح کے ، کمپنیوں کی مصنوعات اصلی ایک سی اور جعلی کئی طرح کی ہوتی ہیں، اسی طرح سنت او راس کا رنگ پوری دنیا میں ایک جیسا ہو گا جب کہ بدعات او ررسم ورواج ہر جگہ کے الگ ہوں گے ۔
رسول کریم صلی الله علیہ وسلم، صحابہ رضی الله عنہم، تابعین وتبع تابعین رحمہم الله کے مبارک زمانوں میں 12 ربیع الاول کی بدعات، محرم کی بدعات، صفر کو منحوس سمجھنا، رجب کے کونڈے، سوئم، چہلم، عرس، جنازہ کے بعد دعا ،قبر پر اذان اور عہد نامہ رکھنے کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔
قارئین کرام! حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے بہشتی زیور او راغلاط العوام میں ، مفتی محمد شفیع رحمہ الله نے ” سنت وبدعت “ نامی رسالے میں ، حضرت لدھیانوی رحمہ الله نے ” اختلاف امت اور صراطِ مستقیم“ میں ،مولانا سرفراز خان صاحب صفدر نے ” راہِ سنت“ میں بدعات جمع فرمائی ہیں ، مگر دین دار سے دین دار گھرانے کے حضرات ذرا اپنی خوشی او رغمی کے مواقع پر گھر کی خواتین کے معمولات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ آج بھی ہم کس قدر بدعات او ررسم ورواج کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بہرحال حکمت وبصیرت سے، اگر ابھی سے ہم نے گھر کے افراد، بالخصوص خواتین کی ” ذہن سازی‘ نہ کی تو عین موقع پر ہمارا ان کو سمجھا نا فائدہ مند نہ ہو گا۔ الله کریم ہمیں سنتوں کو عام کرنے اور بدعات او ررسوم ورواج کو ختم کرنے کا ذریعہ بنائے!
وصلی الله علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟
(ترویج الجنان ۔۔والجنہ ص 161)
(عمدۃ القاری ج 5 ص 356)
)









عمدہ مضمون ہے
ReplyDelete