اصولِ حدیث

علم کی دوقسمیں ہوتی ہیں پہلا یہ کہ وہ علم خبرکے ذریعے حاصل کیا جائے۔خبری علم میں اذعان ویقین کی صرف یہ صورت ہے کہ خبردرست اور صدق پرمبنی ہو۔ محدثین نے اسی مقصد کو حاصل کرنےکےلیے خبر کی صداقت کے کڑےاصول وضع کیے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی علم کو محدثین کی اصطلاح میں اصول حدیث کےنام سےیاد کیاجاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ علم استدلالی واستنباطی ہو جو فقہاء (فقیہ علماء) سرانجام دیتے رہے اور طریقہ استدلال و استنباط کے اصول وضع کیے، چنانچہ ایسے علم کو اصول فقہ کہا جاتا ہے. علم اصول حدیث وہ علم ہے جو محدثین نے صرف اس لئے وضع کیاتھا تاکہ احادیث رسولﷺ میں تحقیق کرسکیں۔





حدیث کی تعریف

حدیث (خبر) عام ہے کہ وہ قول نبی کا ہو یا صحابی و تابعی کا ، اور ان کے افعال ہوں ، یا ان کی تقریر.(تدریب الراوی:٧٢) اور شیخ الاسلام ((شرح نخبة)) میں فرماتے ہیں : لفظ خبر اس فن کے علماء کے نزدیک مترادف (ہم معنی) ہیں، پس اس کا اطلاق ہوتا ہے مرفوع (حدیث_نبوی)، اور موقوف (حدیث_صحابی) پر اور مقطوع (حدیث_تابعی) پر بھی. 

١) حدیث_مرفوع : حدثنا محمد بن عبيد الغبري حدثنا أبو عوانة عن أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من کذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار۔
[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 6 (7145) - مقدمہ مسلم : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی سختی کے بیان میں]

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔


٢) حدیث_موقوف : حدثنا يحيی بن يحيی أخبرنا هشيم عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي قال قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه بحسب المر من الکذب أن يحدث بکل ما سمع۔
[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 11 (7150) - مقدمہ مسلم : بلا تحقیق ہر سنی ہوئی بات بیان کرنے کی ممانعت کے بیان میں]

ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا ہر سنی ہوئی بات کو بیان کردینا ہی آدمی کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی ہے۔


٣) حدیث_مقطوع : حدثني أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن سرح قال أخبرنا ابن وهب قال قال لي مالک اعلم أنه ليس يسلم رجل حدث بکل ما سمع ولا يکون إماما أبدا وهو يحدث بکل ما سمع.
[صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 12 (7151) - مقدمہ مسلم : بلا تحقیق ہر سنی ہوئی بات بیان کرنے کی ممانعت کے بیان میں]

ترجمہ : حضرت امام مالک نے فرمایا جان لے اس بات کو کہ جو شخص ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے وہ غلطی سے محفوظ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ایسا شخص کبھی مقتدا اور امام بن سکتا ہے اس حال میں کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کردے ۔

نوٹ : اس تعریف (اور محدثین کے اس پر عمل) کے اعتبار سے سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رح کے اقوال و افعال اور تقریرات بھی حدیث کہلائیں گے یعنی فقہ حنفی حدیث ہی ہے. کیونکہ آپ رح کو تابعیت کا شرف حاصل ہے، آپ نے تو صحابہ سے حدیث بھی سنی ہیں. یہ شرف ائمہ اربعہ (چاروں اماموں) میں سے صرف سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رح کو ہی حاصل ہے.






=================================
دین کے مسائل تین طرح کی اخبار (احادیث) سے ثابت ہوتے ہیں:

١) متواترت: کسی محسوس واقعہ (مَثَلاً : کسی قول یا فعل وغیرہ) کو خود سننے اور دیکھنے والوں کی ابتداء سے آخر (اب) تک ہر زمانہ میں ایسی بڑی تعداد اس واقعہ کی خبر دے کہ ان سب کا جھوٹ یا غلطی پر متفق ہونا عادتاً محال سمجھا جاۓ. (یعنی عقل یہ باور نہ کرے کہ ان سب نے سازش کرکے جھوٹ بولا ہوگا یا ان سب کو مغالطہ لگ گیا ہوگا). [الاحکام فی اصول الاحکام : ١/١٥١؛ التوضیح والتلویح : ٢ / ٢-٣؛ تسہیل الوصول : صفحہ ١٤٠؛ فتح الملھم : ١ /٥-٦]؛ متواترت علم یقینی(بدیہی) کا فائدہ دیتی ہیں[شرح نخبة الفكر:٢٤-٢٥]، اور متواتر کے رجال سے بحث نہیں کی جاتی بلکہ بغیر بحث کے اس پر عمل واجب ہے.[شرح نخبة الفكر:٢٥]
٢) مشہورات: اصول حدیث میں ان اخبار و احادیث کو کہتے ہیں جنہیں دو سے زائد راوی روایت کریں لیکن وہ تواتر کی حد تک نہ پہنچیں. [نخبة الفكر] اور اصول فقہ میں : اول (صحابہ کے) زمانہ میں تو وہ واقعہ خبر_واحد ہو پھر وہ پھیل جاۓ کہ دوسرے یا بعد کے زمانوں میں اتنی قوم اس کو روایت کرے کہ جن کا جھوٹ پر اتفاق کا وہم نہ ہو، [نور الأنوار:١٨٠] اگر وہ اس طرح ہو پہلے زمانہ میں بھی تو وہ متواتر ہوگی اور اگر وہ دوسرے زمانہ میں بھی اس طرح نہ ہو تو وہ (اخبار و واقعات) آحاد سے ہیں. اس سے معلوم ہوگیا کہ اصولیین کے نزدیک مشہورات آحاد اور متواتر (کے درمیان) کی قسیم ہے اور محدثین کے نزدیک وہ آحاد کی قسم ہے جو تواتر کی حد تک نہ پہنچے.[رد المختار:١/٤٤٦]
٣) آحاد: یہ خبر واحد کی جمع ہے، اور جس خبر یا واقعہ کو ایک ہی شخص روایت کرے اسے لغتاً خبر واحد کہتے ہیں، اور اصطلاحاً جس میں متواتر کی کل شرائط نہ ہوں. پھر متواتر چونکہ مفید علم یقینی کے ہوتی ہے اس لئے وہ مردود نہیں صرف مقبول ہوتی ہیں، لیکن آحاد مقبول بھی ہوتی ہیں اور مردود بھی، اس لئے کہ ان کا واجب العمل ہونا ان کے راویوں کا حالات پر مبنی ہے[شرح نخبة الفكر]. اس لئے وہ اخبار آحاد اپنی سند اور ان میں موجود راویوں کے حالات پر مقبول و مردود اوصاف کی تحقیق سے واجب العمل یا متروک العمل سمجھی جائیں گی.

جس خبر کے ہر دور میں، خود دیکھ یا سن کر نقل کرنے والے، مسلسل گواہوں کی ایسی بڑی تعداد، جن کا جھوٹ یا غلطی پر اتفاق کرنا عادۃََ محال سمجھا جائے۔ایسی(سورج وچاند کی طرح متواتر قرآن وحدیث کی)خبروں کا منکر، بغیر شہادت کے اپنے اصلی والد کو کیسے جانتے رہے ہوں گے؟؟؟









سوال : احادیث کی صحت اور ضعف میں جب محدثین کی آراء کا باہم اجتہادی اختلاف ہے تو پھر ان میں سے کس کی تقلید (پیروی) کرنی چاہیے ؟؟؟

جواب : تحقیق میں تین باتوں کی ضرورت ہوتی ہے : (١) یہ حدیث ثابت ہے یا نہیں ، (٢) اس کا مطلب کیا ہے ، (٣) اگر یہ حدیث کسی دوسری نص (قرآن و حدیث کے واضح الفاظ) یا تعامل (سلسلۂ تواتر سے چلتا امتِ مسلمہ کے عمل) سے متعارض (ٹکرا رہی) ہو تو (اصول حدیث کے مطابق) ان میں سے کون سی حدیث راجح ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ اور کون سی حدیث مرجوح ہے کہ جس کو (ترجیح نہ دیتے) ترک کیا جاۓ. محدثین صرف پہلی بات کی تحقیق میں اپنی (تحقیقی) راۓ صرف کرتے ہیں ، دوسری اور تیسری بات میں وہ خود فقہاءِ مجتہدین کے محتاج و مقلد ہیں. اس سے معلوم ہوا کہ کامل تحقیق بھی فقہاءِ مجتہدین کی ہے اور کامل تقلید بھی ان کی ہی ہو سکتی ہے. اس لئے دیکھا جاۓ گا کہ ان کتبِ احادیث میں جو ایسی احادیث ہیں کہ چاروں ائمہِ کرامؒ (امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ) کا ان پر عمل کرنے میں اتفاق ہے تو ان احادیث پر اجماعاً عمل کیا جاۓ گا ، اور جن احادیث کے راجح یا مرجوح ہونے میں ائمہ اربعہؒ کا اختلاف ہے ان میں وہی طریقہ اختیار کیا جاۓ گا جو خیر القرون سے آج تک چلا آرہا ہے اور فتنہ سے بھی بلکل محفوظ ہے کہ جس امام مجتہدؒ کا کا مذھب (طریقہ و راۓ) جس علاقہ میں متواتر ہوگا ، اس نے ان اختلافی احادیث میں جس کو راجح قرار دیا اسی پر عمل کیا جاۓ گا ، وہاں کے متواتر عمل کے خلاف دوسری حدیث پر عمل کرکے علاقہ میں فتنہ و فساد کھڑا نہ کیا جاۓ گا. جہاں سب حنفی ہوں گے وہ امام صاحبؒ کے مختارات (اختیار کردہ مذھب و راۓ) پر عمل کریں گے ، جہاں شافعی ہوں گے وہ امام شافعیؒ کے مختارات پر عمل کریں گے ، تاکہ (ہر) سنت پر بھی عمل ہوجاۓ اور امت فتنہ سے بھی محفوظ رہے. یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اختلاف قرات کے وقت ہر علاقہ میں وہی قرات پڑھی جاۓ گی جو وہاں تلاوت میں معروف و متواتر یا یا جیسے سعودیہ والے (وہاں چاند دکھنے کے سبب) عید ہی پڑھیں گے اور ہم (یہاں چاند نہ دکھنے کے سبب) روزہ ہی رکھیں گے.
جمہور علماء امت (حنفی) ان احادیث کو راجح قرار دیتے ہیں جن کو امام ابو حنیفہؒ نے صحابہ (رضی اللہ عنھم) کے پیمانہ عمل کو دیکھ کر راجح قراردیا. کیونکہ (١) بقیہ ائمہ ثلاثہؒ کے مقابلہ میں امام ابوحنیفہؒ صحابہؓ کے صحبت یافتہ تابعی تھے اور حدیث : نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ((دیکھو)) ...[بخاری] کے مطابق آپ نے دین نبویؐ صحابہؓ سے دیکھ دیکھ کر سیکھا اور (٢) اپنی اکیلی راۓ کی بجاۓ ہمعصر علماء کی مشاورتی جماعت سے ہر ہر مسئلہ میں کئی ہفتوں کی بحثوں کے بعد اتفاقی راۓ پر مبنی صحابہؓ کی فقہ دین [قرآن : ٩/١٢٢] اپنے تلامذہ (شاگردوں) سے لکھواکر جمع کرواتے رہے.
القرآن : یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے.[الجمعہ : ٤]
واللہ اعلم بالصواب
=================================
صحیح روایت سے زیادہ تعامل امت قطعی (حجت) ہے
سنت صرف روایت سے ثابت نہیں ہوتی، اس کے ساتھ امت کا تعامل بھی ضروری ہے کوئی حدیث سند کے لحاظ سے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو؛ اگر اس پر امت کا عمل نہیں تو اس کی حجیت قطعی نہ رہے گی، زیادہ گمان یہی ہوگا کہ وہ عمل منسوخ ہوچکا، محدثین حدیث کی حفاظت پر اس کے معمول بہ ہونے سے بھی استدلال کرتے رہے ہیں، امام وکیع نے اسمعیل ابن ابراہیم مہاجر سے نقل کیا ہے: "کان یستعان علی حفظ الحدیث بالعمل بہ"۔(تاریخ ابی زرعہ الدمشقی: ۱/۳۱۱)؛
ترجمہ: حفظ حدیث میں اس کے عمل سے بھی مدد لی جاتی تھی (یعنی یہ کہ اس پر عمل بھی ہو)۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث کے معمول بہ ہونے کا اس کی صحت اورمقبولیت پر بہت اثر رہا اور محدثین کو ایسی روایات بہت کھٹکتی رہی ہیں جو معمول بہ نہ رہی ہوں۔



 امام ترمذیؒ ایک مقام پر لکھتے ہیں:

"جَمِيعُ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ مِنْ الْحَدِيثِ فَهُوَ مَعْمُولٌ بِهِ وَبِهِ أَخَذَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَاخَلَا حَدِيثَيْنِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ وَحَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجلدوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ"۔

(جامع ترمذی، کتاب العلل:۶۲۶/۲، موقع الإسلام)

ترجمہ: جو کچھ اس کتاب میں ہے اس پر (کسی نہ کسی حلقے میں) عمل ضرور رہا ہے اوراس کے مطابق اہل علم کی ایک جماعت نے فیصلہ کیا ہے سوائے ان دو حدیثوں کے ایک حدیث حضرت ابن عباسؓ کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خوف، سفر اوربارش کے کسی عذر کے بغیر مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر یکجا اورمغرب اور عشاء اکٹھی پڑھی ہیں، اور دوسری حضور   کی یہ حدیث کہ جب کوئی شراب پیئے تو اسے کوڑے لگاؤ اور چوتھی دفعہ پئے تو اس کوقتل کردو۔



یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے لائق استدلال ہیں، لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ ائمہ دین میں کسی نے ان کے ظاہر پر عمل نہیں کیا، بلکہ اس کے ترک پراہل علم کا اجماع رہا ہے۔
 ائمہ مجتہدین اوران کے تمسکات کو علم حدیث کے موضوع میں شامل نہ کیا جائے تو بڑی مشکلات پیدا ہو جائیں گی، صحت حدیث کا مدار صرف سند پر نہیں،  اہل علم کے عمل سے بھی حدیث قوی ہوجاتی ہے، یہ صحیح ہے کہ اکثراوقات عمل صحت پر متفرع ہوتا ہے؛ لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کبھی صحت عمل پر بھی متفرع ہوتی ہے۔
مشہور غیر مقلد عالم مولانا عبدالحق سیالکوٹی لکھتے ہیں:

اکثر اوقات عمل صحت پر متفرع ہوتا ہے اورصحت روایت اصول کی رو سے شروط معتبرہ مجوزہ ائمہ جرح و تعدیل کے ساتھ ہوتی ہے اور بعض دفعہ صحت عمل پر متفرع ہوتی ہے، صورت اول عام ہے،صورت دوم خاص ہے اور اس کی تصریح محققین نے کردی ہے، امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب التعقبات علی الموضوعات میں لکھتے ہیں:

"ان الحدیث اعتضد بقول اھل العلم وقد صرح غیر واحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علی مثلہ"۔

(تنزیہ الشریعۃ للکنانی/۱۲۰)       

ترجمہ:اہل علم کے قول اورتعامل کے ساتھ حدیث ضعیف، ضعف سے نکل کر صحیح اورقابل عمل ہوجاتی ہے؛ اگرچہ اس کی اسناد لائق اعتماد نہ ہو، بہت سے اہل علم کا یہ قول ہے۔

بعض فضلائے امت و امناء ملت میں اس صورت دوم کے اپنے موضع میں پائے جانے کی وجہ سے بعض کوتاہ اندیش جاہل اپنی کج فہمی کی وجہ سے ان پر اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں مولوی حدیث کا تارک ہے۔

(الانصاف لرفع الاختلاف:۷۷۶،مطبوعہ:۱۹۱۰ ء، مطبع: رفاہ عام اسٹیم پریس، لاہور)


حافظ ابن صلاح “مقدمہ ابن صلاح” میں لکھتے ہیں کہ جب ہم کسی حدیث کو صحیح قرار دیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حدیث یقینا صحیح ہے اور اس کی صحت درجہ علم تک پہنچتی ہے؛ بلکہ اس حکم صحت سے مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ اس میں صحیح کی وہ فنی شرائط موجود ہیں جو محدثین کے یہاں صحت حدیث کے لیے درکار ہیں،لہذا گمان یہی ہے کہ وہ حدیث صحیح ہوگی، اسی طرح ضعیف کا مطلب بھی یہ نہیں کہ یقینی طور پر وہ خلاف واقعہ ہے، ہوسکتا ہے کہ نفس الامر میں صحیح ہو؛ یہی وجہ ہے کہ اہل علم کا تعامل اس کی فنی کمزوریوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ علامہ ابن حجر العسقلانی رح فرماتے ہیں : کسی حدیث کو “لا یصح” یعنی وہ صحیح نہیں، کہنے سے اس (حدیث) کا موضوع (جھوٹی/من گھڑت) ہونا لازم نہیں آتا.[شرح الفیہ : ١/١٥]

ملا علی قاری رح فرماتے ہیں : عدم_ثبوت سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا.[تذكرة الموضوعات للقاری : ٨٢]

===========================================

لیکن (جدید) اہلحدیث مطلقاً ضعیف کو قابل عمل نہیں ٹھہراتے۔ گو اس پر اہل علم کا عمل ہوا؟ (فتاویٰ اہلحدیث: کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص6) جبکہ قدیم اصول حدیث کے اصولی جیسے : 


موضوع ِحدیث میں "تعامل امت" پر نظر


امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب "التعقبات علی الموضوعات" میں اور 
امام على بن محمد بن عراق الكناني "تنزیہ الشریعۃ" میں لکھتے ہیں: 
"وقال : حنش ضعيف عند أهل الحديث والعمل على هذا عند أهل العلم ، فأشار بهذا إلى أن الحديث اعتضد بقول أهل العلم ، وقد صرح غير واحد بأن دليل صحة الحديث قول أهل العلم به ، وإن لم يكن له إسناد يعتمد على مثله"۔
ترجمہ: اور (امام ترمذیؒ)  نے کہا : اہل حدیث کے نزدیک (یہ حدیث) ضعیف ہے لیکن عمل ہے اسی پر اہل علم کا" بس یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بیشک (ضعیف) حدیث اہل علم کے قول اور تعامل کے ساتھ حدیث ضعیف، ضعف سے نکل کر صحیح اور قابل عمل ہوجاتی ہے؛ اگرچہ اس کی اسناد لائق اعتماد نہ ہو، بہت سے اہل علم کا یہ قول ہے۔ (تنزیہ الشریعۃ، للکنانی: ۲/۱۰٤) 

==================================

تقریباً 200 کتب کے مصنف مصنف محدث، فقیہ، اصولی، مؤرخ علامہ سخاوی رح لکھتے  ہیں؛

وقال الحافظ السخاوي في شرح ألفية : إذا تلقت الأمة الضيف بالقبول يعمل به الصحيح حتى أنه ينزل منزلة المتواتر في أنه ينسخ المقطوع به، ولهذا قال الشافعي رحمة الله تعالیٰ في حديث "لا وصية الوارث" أنه لا يثبت أهل العلم بالحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوه ناسخا لاية الوصية الوارث...إنتهى
ترجمہ : علامہ سخاوی رح نے "شرح الفیہ" میں کہا ہے کہ: جب امت حدیث_ضعیف کو قبول کرلے تو صحیح یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ ، یہاں تک کہ وہ یقینی اور قطعی حدیث کو منسوخ کرنے میں ((متواتر حدیث کے رتبہ میں سمجھی جاۓ گی))، اور اسی وجہ سے امام شافعی رح نے حدیث : "لاوصية لوارث" کے بارے میں یہ فرمایا کہ اس کو حدیث کے علم والے (علماۓ حدیث) ((ثابت نہیں)) کہتے ہیں لیکن عامه علماء نے اس کو قبول کرلیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو آیت_وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے. [فتح المغيث بشعره ألفية الحديث: ص # ١٢٠ ؛ المعجم الصغیر لطبرانی: باب التحفة المرضية في حل مشكلات الحديثية،٢/١٧٩؛
(فتاویٰ علماۓ_حدیث : ٢/٧٤ ; فتاویٰ غزنویہ : ١/٢٠٦)
-----------------------------
علامة ابن مرعي ألشبرخيتي المالكي رح 

"ومحل كونه لايعمل بالضعيف في الأحكام ما لم يكن تلقته الناس بالقبول فان كان كذلك تعين وصار حجة يعمل به في الاحكام وغيرها.[شرح الأربعين النووي]
ترجمة: اس بات کا محل کہ ضعیف حدیث پر احکام میں عمل نہیں کیا جاتا یہ ہے کہ اس کو تلقی بلقبول حاصل نہ ہو، اگر اسے تلقی بلقبول حاصل ہوجاۓ تو وہ حدیث متعین ہوجاۓ گی اور حجت ہوجاۓ گی اور احکام وغیرہ میں اس پر عمل کیا جاۓگا.
=================================


=================================















اصولِ حدیث سب اجتہادی ہیں، مقصود صحیح بات کوپالینا ہے، وہ جس طرح بھی میسر آسکے اور یقین بڑھاسکے، خطیب بغدادی اصولِ حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
"وجب الاجتہاد فی علم اصولہا" (الکفایہ فی علوم الروایہ:۳) 
جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس موضوع کی ہربات میں اجتہاد سے کام لیا گیا ہے، فقہاء حدیث نے اپنے اپنے تفقہ کی روشنی میں اس کے اصول طے کئے ہیں؛

وقال العلامة بدر الدين بن بهادر في النكت على مقدمة ابن الصلاح (3\341-342) : "فلا شك أن في الجرح والتعديل ضربين من الاجتهاد ؛ وأئمة النقل يختلفون في الأكثر فبعضهم يوثق الرجل إلى الغاية وبعضهم يوهنه إلى الغاية وهما إمامان إليهما المرجع في هذا الشأن".
علم جرح وتعدیل میں ناقدین رجال کے احکام ظنی اوراجتہادی ہیں اوریہ ان کے روات کے حالات،روایات کا استقراء اوتتبع پرمبنی ہے۔یہ بات حافظ ذہبی نے بھی کہی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں۔
قالالحافظالذهبيفيالموقظة : "هذاالدينمؤيدمحفوظمناللهتعالى،لميجتمععلماؤهعلىضلالة،لاعمداولاخطأ،فلايجتمعاثنانعلىتوثيقضعيف،ولاعلىتضعيفثقة،وإنمايقعاختلافهمفيمراتبالقوةأومراتبالضعف؛والحاكممنهميتكلمبحسباجتهادهوقوةمعارفه،فإنقدرخطؤهفينقده،فلهأجرواحد" ." .
یہی بات حافظ ذہبی نے دوسرے مقام پر بھی دوہرایاہے چنانچہ وہ ذکر من یعتمدقولہ فی الجرح والتعدیل میں کہتے ہیں۔

"فمنأئمةالجرحوالتعديلبعدمنقدمنايحيىبنمعين؛وقدسألهعنالرجالعباسالدوريوعثمانالدراميوأبوحاتموطائفة؛وأجابكلواحدمنهمبحسباجتهاداتالفقهاءالمجتهدينوصارتلهمفيالمسألةأقوال". ۔
حافظ ذہبی نے یہ بات میزان الاعتدال میں بھی دوہرائی ہے چنانچہ وہ میزان الاعتدال میں ہشام بن عمار السلمی الدمشقی کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔
ومازال العلماء الاقران یتکلم بعضھم فی بعض بحسب اجتہادھم وکل احد یوخذ منہ قولہ ویترک الارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔(میزان الاعتدال 3/256)
اس امر کا اعتراف حافظ الدنیا حافظ ابن حجر کو بھی ہے کہ ناقدین رجال اورجرح وتعدیل کے ائمہ کے اقوال بعینہ اسی طرح اجتہادی ہیں جس طرح کے فقہاء کے اقوال اجتہادی اور استنباطی ہوتے ہیں۔
وقالالحافظابنحجرفيلسانالميزان (1\3) : "أقاماللهطائفةكثيرةمنهذهالأمةللذبعنسنةنبيهصلىاللهعليهوسلمفتكلموافيالرواةعلىقصدالنصيحة؛ولميعدذلكمنالغيبةالمذمومةبلكانذلكواجباعليهموجوبكفايةثمألفالحفاظفيأسماءالمجروحينكتباكثيرةكلمنهمعلىمبلغعلمهومقدارماوصلاليهاجتهاده" ." .
حافظ سخاوی کہتے ہیں کہ جرح وتعدیل کے ائمہ کے اختلافی کلام میں اسی طرح اجتہادی ہیں جس طرح کے فقہاء کرام کے مختلف اقوال کسی ایک مسئلہ میں اجتہادی ہوتے ہیں۔اسی طرح کسی ایک مسئلہ میں ایک فقیہہ کا مختلف قول اجتہادی ہوتاہے اسی طرح ایک راوی پرایک ناقد حدیث کے مختلف احکام بھی اجتہادی ہوتے ہیں۔ جیساکہ ابن معین سے ایک ہی راوی کے سلسلہ میں مختلف احکام منقول ہیں۔
وقالالسخاويفيفتحالمغيث (3\352) : "وولاةالجرحوالتعديلبعدمنذكرنايحيىبنمعين , وقدسألهعنالرجالغيرواحدمنالحفاظ ,ومنثماختلفتآراؤهوعباراتهفيبعضالرجالكمااختلفاجتهادالفقهاءوصارتلهمالأقوالوالوجوهفاجتهدوافيالمسائلكمااجتهدابنمعينفيالرجال" ." .
سلفی علماء میں سے اس امر کا اعتراف شیخ جمال الدین قاسمی نے بھی کیاہے کہ حدیث کی تصحیح وتضعیف کامعاملہ ہو یاپھر بات راوی پر کلام کی ہو ۔یہ اجتہادی امر ہے اورقائل کی اپنے معلومات،دائرہ اطلاع،فکر ونظر کی گہرائی وگیرائی کے اعتبار سے ہے۔
"ومعرفة الرجال علم واسع ثم قد يكون المصيب من يعتقد ضعفه لاطلاعه على سبب جارح , وقد يكون الصواب مع الآخر لمعرفته أن ذلك السبب غير جارح : إما لأن جنسه غير جارح , أو لأنه كان له فيه عذر يمنع الجرح -وهذا باب واسع- , وللعلماء بالرجال وأحوالهم في ذلك من الإجماع والاختلاف مثل ما لغيرهم من سائر أهل العلم في علومهم" .
في قواعد التحديث (ص 377)




حدیث کی تقویت میں اصولِ درایت کا اثر

بعض قرائن اور دلائل ایسے بھی ہوتے ہیں جواصولِ درایت کی روشنی میں غیرمقبول حدیث کومقبول اور قابل عمل بنادیتے ہیں؛ چنانچہ خطیب بغدادی اپنی کتاب الکفایہ میں لکھتے ہیں:
ترجمہ: پہلی قسم جس سے حدیث کی صحت کا علم ہوتا ہے، اس کی جانکاری کی راہ ہے اگروہ روایت متواتر نہ ہو کہ جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے کہ وہ روایت مقتضائے عقل کے مطابق ہو، کبھی اس کی صحت یوں معلوم ہوتی ہے کہ وہ خبرنص قرآنی یاسنت مشہورہ کے مطابق ہو یاامت نے اس روایت کودرست گردانا ہو اور اس پرعمل درآمد کیا جاتا رہا ہو۔

(الکفایۃ فی علم الروایۃ،باب الكلام في الاخبار وتقسيمها:۱/۱۷،شاملہ،الناشر: المكتبة العلمية،المدينة المنورة)




===============================================================


سوال : کیا دین میں سند مطلوب ہے یا نہیں ؟ اور اس کی کیا حیثیت ہے ؟

جواب : سند (نبیؐ تک راویوں کے سلسلہ) کا اگر یہ مطلب ہے کہ ((حدثنا فلان عن فلان)) تو اس کا حکم نہ قرآن پاک میں ہے نہ کسی حدیث میں ، اسی لئے ابتداۓ اسلام میں اسے ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا ، چنانچہ امام ابن سیرینؒ (110ھہ) فرماتے ہیں : لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الإِسْنَادِ ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ ، قَالُوا : سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ ، فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ ، فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ ، وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ ، فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ [صحيح مسلم (مقدمہ) » بَاب بَيَانِ أَنَّ الإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ وَأَنَّ ... ١/١١] یعنی "پہلے سند نہیں پوچھا کرتے تھے ، جب فتنہ واقع ہوا تو کہنے لگے کہ راویوں کے نام بتاؤ تاکہ دیکھا جاۓ کہ اگر راوی اہلِ سنّت ہوگا تو حدیث لی جاۓ گی اور اگر اہلِ بدعت ہوگا تو نہیں لی جاۓ گی".؛
اس سے معلوم ہوا کہ متقدمین نے تو اسناد کو مصلحتاً مخالفینِ اہلِ سنّت کے واسطے نکالا تھا ، اس کے بدعتِ حسنہ ہونے میں شک نہیں ، یہ خود مقصود نہیں ، بلکہ ایک مقصود کا ایک ذریعہ ہے . جس  طرح امت کے انتظام کے لئے تقلیدِ شخصی کا وجوب بالغیر ہے ، اسی طرح سند کا لزوم بھی بالغیر ہے ، بالذات نہیں . امام ابن سیرینؒ کے بعد جن تبع تابعین یا بعد والوں نے سند کو ضروری کہا ، (تو وہ) عقلی دلائل سے کہا ، کسی نے سند کو پرندے کے پروں سے تشبیہ دی ، کسی نے اسلحہ سے تشبیہ دی . عجیب بات تو یہ ہے کہ خیر القرون میں اس پر اتفاق تھا کہ اہلِ سنّت کی حدیث لی جاۓ گی اور اہلِ بدعت کی حدیث نہیں لی جاۓ گی ، لیکن خیر القرون کے ختم ہوتے ہی اس اتفاق کو ختم کردیا گیا ، خود بخاری ومسلم نے کتنے ائمۂ اہلِ سنّت سے حدیث نہیں لی اور ان کو چھوڑ اہلِ بدعت سے احادیث لیں اور آج کل سنّت کے مسئلہ میں بہت افراط و تفریط ہو رہی ہے . ایک طرف اہل بدعت ہیں ، وہ ثبوتِ مسئلہ کے لئے کسی سند کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے اور خوب بے پر کی اُڑاتے ہیں ، اور دوسری طرف غیر مقلدین (جدید اہل حدیث) ہیں ، وہ متواترات کے لئے بھی سند تلاش کرتے ہیں ، اگر نہ ملے تو انکار کردیتے ہیں . یہ دونوں گمراہی کے راستہ ہیں . پہلی بات کا نقصان یہ ہے کہ بہت سی باتیں جن کا دین میں ثبوت نہیں ان کو دین میں داخل کرلیا جاتا ہے ، اور دوسری بات کا نقصان یہ ہے کہ بہت سی متواترات تک کا انکار کردیا جاتا ہے .
راہِ اعتدال اس میں یہی ہے کہ جس طرح سورج اور بدر کامل گواہی کے محتاج نہیں اسی طرح متواتر کی چاروں اقسام اور مشھورات سند کی محتاج نہیں . دیکھو قرآن پاک متواتر ہے ، اس کی آیات کی سندیں تلاش کرنا بے فائدہ ہیں ، بلکہ یقینی کو ظنی بنانا ہے. اسی طرح کتاب و سنّت کی سمجھ کے لئے ہمیں (عربی) لغت کی بھی ہمیں سب سے پہلے ضرورت پڑتی ہے ، مگر لغت کے لفظ مَثَلاً : کتاب کا واضع کون ہے ؟ اور اس تک کوئی سند ہے ؟ ہرگز نہیں . مگر کوئی جاہل یہ نہیں کہتا کہ ساری لغت بے سند ہے بے ثبوت ہے ، بلکہ یہ متواتر اور یقینی الثبوت ہے . اسی طرح (علم) صرف ، نحو ، معانی ، بیان اور منطق کے اصول اور اصطلاحات اہلِ فن کے ہاں متواتر یا مشہور ہیں ، کوئی شخص نہ ہی ان کی سند تلاش کرتا ہے ، نہ ہی ان کو بے ثبوت کہتا ہے . اسی طرح اصولِ حدیث ، اصولِ تفسیر ، اور اصولِ فقہ یا تصوف کی اصطلاحات اہلِ فن کے ہاں متواتر یا مشہور ہیں . ان کتابوں پر اعتماد کیا جاتا ہے ، نہ ہی ان کی سند تلاش کی جاتی ہے ، نہ ہی ان کو بے ثبوت کہا جاتا ہے ، راویوں کی بحث (ثقہ، یا ضعیف ہونے) میں اسماء الرجال کی کتابوں : تقریب التھذیب ، تہذیب التھذیب ، خلاصہ ، تذكرة الحفاظ ، اور میزان الاعتدال کے حوالہ دیے جاتے ہیں ، حالانکہ جن راویوں کو انہوں نے ثقہ (قابل اعتماد) یا ضعیف (حافظہ/عمل میں کمزور) لکھا ہے وہ ان کتابوں کے مصنفین سے چھ سات سو سال پہلے کے ہیں ، نہ (ہم تک پہنچانے والے سے) جارح (ضعیف یا جھوٹا وغیرہ کی جرح کرنے والے ان مصنفین) تک (اس جرح کے ثبوت کے لئے کوئی) سند ہے، نہ جارح سے راوی تک . اسی لئے (شيخ عز الدين عبد السلامؒ سے ایک سوال پر شيخؒ نے ابو محمد عبد الحميد کی طرف یہ جواب لکھا، جسے) مولانا عبد الحی لکھنویؒ تحریر فرماتے ہیں : اما الاعتماد على كتب الفقه الصحيحة الموثوقة بها فقداتفق العلماء في هذا العصرعلى جواز الاعتماد عليها والاستناد اليها لأن الثقة قد حصلت بها كما تحصل بالرواية وبعد التدليس ومن اعتقد ان الناس قد اتفقوا على الخطأ في ذلك فهو اولى بالخطأ منهم ولولا جواز الاعتماد على ذلك لتعطل كثير من المصالح المتعلقة بها وقد رجع الشارع الى قول الأطباء في صور وليست كتبهم ماخوذة فى الأصل الاعن قوم كفار ولكن لما بعد التدليس فيها اعتمد عليها كما اعتمد في اللغة على أشعار العرب وهم كفار لبعد التدليس قال وكتب الحديث أولى بذلك من كتب الفقه وغيرها لاعتمادهم بضبط النسخ وتحريرها فمن قال ان شرط التخريج من كتاب يتوقف على اتصال السند اليه فقدخرق الاجماع [اسعاد الرفيق : الجزء الثانى , ص/ 90-91 ، الأجوبة الفاضلة : ص # 45]؛ 
اس سے معلوم ہوا کہ غیر مقلدینِ زمانہ (جدید اہل حدیث) کی یہ روش کہ فقہ کی کتاب مشہورہ کی سند مانگتے ہیں ، مگر لغت ، صرف ، نحو ، اسماء الرجال ، قرآن پاک کی سند نہیں مانگتے ، ضد اور جہالت ہے ، مشہورات کی سند مانگنا خرقِ اجماع ہے ، اور قرآن پاک نے خرقِ اجماع کو جہنمی قرار دیا ہے . اعاذنا الله منه
سند عالی : محدثین کے ہاں سند عالی کی بہت اہمیت ہے ، اور اس میں امامِ اعظم ابوحنیفہؒ کا مقام بعد والوں میں سب سے بلند ہے ، ان کی مسند میں "وحدانیت" بھی ہیں ، جن میں امام صاحبؒ اور نبی اقدسؐ کے درمیان ایک ہی (راوی کا) واسطہ ہے اور وہ (راوی) بھی صحابی کا . بہت سی سندیں "ثنائيات" ہیں ، جن میں دو ہی واسطہ ہیں :  صحابی اور تابعی کا . کتب صحاح ستہ (بخاری ،  مسلم ،ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)  "وحدانیت" اور "ثنائيات" سے بالکل خالی ہیں ، ان کی اعلیٰ ترین سندیں "ثلاثيات" ہیں . فاين الثريا من الثرى . اسی طرح امام صاحبؒ نے صحابہؓ کی بھی زیارت کی اور صحابہؓ ، تابعینؒ ، تبع تابعینؒ کا متواتر عمل ان کے مشاہدہ میں تھا ، جس سے اصحابِؒ صحاحِ ستہ محروم رہے.
القرآن : یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے.[الجمعہ:4]
تعلیقات (بلا سند روایات) : موطا امام مالکؒ اور کتب امام محمدؒ میں بعض بلاغات ہیں جن کی سند مذکور نہیں ، اسی طرح بخاریؒ میں تقریباً (2037) تعلیقات ہیں جن میں سے (٨٨٠) کو تو امام بخاریؒ نے موصول فرمایا ہے لیکن (1157) کو انہوں نے موصول نہیں فرمایا ، البتہ ان میں سے اکثر کی سندیں نہیں ملیں ، اسی طرح امام ترمذیؒ ((فی الباب)) لکھ کر بہت سے نام بغیر سند کے لکھ دیتے ہیں . ایسی احادیث جن کی سند مذکور نہ ہو "تعلیقات" کہلاتی ہیں . ایسی احادیث کتب حدیث میں بھی ہوتی ہیں اور کتب فقہ میں بھی . غیر مقلدین کی کتنی بڑی نا انصافی ہے کہ اگر بے سند حدیث بخاری ، ترمذی ، موطا یا کسی اور حدیث کی کتاب میں ملے تو اس کو "تعلیق" کہتے ہیں ، لیکن اگر فقہ کی کتابوں میں ملے تو اس کا نام جھوٹ ، بہتان اور موضوع رکھتے ہیں ، حالانکہ وہ قیامت تک ان کے کسی راوی کو وضع الحدیث ثابت نہیں کرسکتے. ایسی احادیث کے بارے میں راہ اعتدال یہی ہے کہ ان کو حجتِ ملزمہ تو نہیں مانا جاسکتا ، لیکن جن کو اکابر فقہاۓؒ تقویٰ و ثقاہت پر اعتماد ہے ، ان کے لیے وہ حجتِ مطمئنہ کا درجہ ضرور رکھتی ہیں ، اسی لئے فقہی کتابوں میں جیسے فقہاءؒ ان کو نقل در نقل کرتے آرہے ہیں بطور حجتِ مطمئنہ درست ہے.
واللہ اعلم و علمہ احکم.





حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهْ ، فَقَالُوا : مَنْ هَذَا ؟ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ؟ " قَالُوا : مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا ، قَالَ : " فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " ، قَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ مَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ، ثُمَّ قَامَ ، فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ سورة المسد آية 1 ، وَقَدْ تَبَّ هَكَذَا قَرَأَهَا الْأَعْمَشُ يَوْمَئِذٍ .





کیا عمل کے لیے ”صحیح حدیث “ہی ضروری ہے؟

بعض حضرات کہتے ہیں کہ احادیث صحیحہ پر ہی عمل کرنا چاہیے ۔ان سے احادیث صحیحہ کی تشریح معلوم کی جاتی ہے تو کہتے ہیں: بخاری اور مسلم۔یعنی کہ بخاری اور مسلم کے علاوہ جتنی حدیث کی دیگر کتابیں ہیں؛ عمل سے ان کا تعلق نہیں؛چوں کہ وہ سب ضعیف احادیث کا مجموعہ ہیں۔ضعیف احادیث کویہ لوگ موضوع روایت سمجھتے ہیں۔یہ بڑا ہی خطر ناک اوربھیانک نظریہ ہے ؛اس لیے کہ ضعیف روایات کو اگر منکر اورموضوع مان لیا جائے ؛ جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں؛تب تو ہمارے تمام محدثین بشمول امام بخاری اور امام مسلم ،سب کے سب موضوع روایات کو فروغ دینے اور دنیا میں پھیلانے والے شمارہوں گے۔ اوررسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے موضوع اورجھوٹی روایات کو پھیلانے والوں کو سخت ترین انجام کی دھمکی دی ہے،چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہ مِنَ النَّارِ ․
ترجمہ :جس نے قصداً ہماری جانب جھوٹی بات منسوب کی ؛وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔(بخاری ،ترمذی )

امام بخاری،امام مسلم ،امام نسائی، امام ترمذی اور امام ابوداؤد وغیرہ تمام محدثین اپنی کتابوں میں ضعیف احادیث کو جگہ دیتے ہیں۔امام بخاری ”بخاری شریف“ میں نہ سہی؛ مگر اپنی دیگر کتابوں میں ضعیف احادیث ذکر کرتے ہیں۔

یہ انتہائی جہالت کی بات ہے؛ورنہ جن حضرات کو علم حدیث کی ”ہوا “ بھی لگی ہے ؛وہ جانتے ہیں کہ احادیث کی صرف دو ہی قسمیں :صحیح اورضعیف نہیں ؛بلکہ اس کی متعدد اقسام ،مثلا: صحیح ،صحیح لغیرہ ؛حسن ،حسن لغیرہ وغیرہ ہیں۔اوروہ یہ بھی جانتے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے چوں کہ التزام کررکھا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف انہی راوایات کو جگہ دیں گے ؛ جوان قسموں میں سے اول درجے کی ہوں گی۔ بقیہ قسمیں بخاری اورمسلم میں جگہ نہیں پاسکیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حدیثیں منکرہیں ۔بات یہ ہے کہ محدثین کو جو روایات پہنچیں؛ان کو انھوں نے جانچا ،ان کے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے درمیان جتنے لوگ اس روایت کو نقل کرنے میں واسطہ بنتے ؛ ان کے احوال زندگی،ان کے قوت حفظ ،مہارت ،ضبط اور عدالت وغیرہ کو جانچنے کے بعد اس حدیث پر صحیح ،حسن ،صحیح لغیرہ یا حسن لغیرہ اورضعیف وغیرہ کا حکم لگادیا ۔اگر روایت سب سے اعلی درجہ کی ہوتی ہے ؛تو اس کو صحیح کہہ دیتے، اگر کہیں کوئی کمی کوتاہی نظر آتی تو اس کو حسن وغیرہ کہہ دیتے،بعض مرتبہ تمام شرائط پائی جاتیں؛مگر اس کو محض اپنے خاص ذوق(علة خفیہ)کی وجہ سے چھوڑ دیتے۔ہاں! اگر اس روایت کے بارے میں معلوم ہوجاتاکہ وہ جھوٹی ہے تو اس کو منکراور موضوع قرار دیتے اوراسے اپنی کتابوں میں نقل ہی نہ کرتے ۔ موضوعا ت کی کتابیں الگ سے لکھی گئی ہیں؛تاکہ کسی موضوع روایت کے بارے میں تحقیق کرنی ہوتو اس کتاب میں اس کی تفصیل مل جائے۔مگر یہ سارے فیصلے اجتہادی ہوا کرتے ہیں؛ان میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔یہ با ت نہیں ہے کہ امام بخاری اورامام مسلم رحمة اللہ علیھما نے جن روایتوں کو ترک کردیا ہے ؛وہ صحیح نہیں ہوسکتی ہیں،یا جن کواختیار کیا ہے وہ ہراعتبار سے صحیح ہی ہیں۔کیوں کہ ان حضرات کی بیسیوں روایات پر محدثین نے کلام کیا ہے ؛بلکہ بعض کو توشاذ بھی کہا ہے ۔ مثلا:بخاری کی وہ روایت جس میں واقعہ” افک“ کے تعلق سے حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کانام آیا ہے۔ ایسے ہی امام مسلم کی وہ روایت جس میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکے نکاح کے تعلق سے حضرت سفیان کانام آیا ہے ۔ جن روایات کو ان حضرات نے ترک کیا ہے ؛ان کے لیے بھی ضروری نہیں کہ وہ صحیح نہ ہوں؛چوں کہ بہت ساری ایسی روایات ہیں؛جو ان دونوں اماموں کی شرائط پرمکمل اترتی تھیں؛مگر ان حضرات نے اپنے خاص ذوق(علة خفیہ) کی وجہ سے ان کو ترک کردیا ۔چناں چہ بعد میں”امام حاکم نیساپوری“ نے انہی روایات کو جمع کرکے ” مستدرک حاکم “ تصنیف فرمائی؛ اسی وجہ سے مستدک حاکم کی روایات کو” صحیح علی شرط الشیخین“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ بارہا ایساہوتا ہے کہ ایک محدث ایک حدیث پر صحیح ہونے کا حکم لگاتاہے تو دوسرا اسی حدیث پرحسن ہونے کا حکم لگادیتا ہے ،کسی حدیث پر ایک محدث صحت کا حکم لگاتا ہے تو دوسرا اسی پرضعف کا حکم لگا دیتا ہے۔اسی وجہ سے امام بخاری اور امام مسلم نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ تمام صحیح احادیث ان کی کتاب میں آگئی ہیں،یا ان کی کتاب کے علاوہ صحیح روایات کہیں اور نہیں ہیں۔

مگر احکام شرعیہ اور حرام وحلال کا فیصلہ کرنے کے لیے احادیث کا صرف صحیح ہونا کافی نہیں ہے ۔بلکہ حدیث کا صحیح اورحسن ہونا؛احکام شرعیہ کی راہ میں ابتدائی مرحلہ کی چیز ہے۔چوں کہ روایت کتنی بھی مضبوط ہو؛ مگر اس پر عمل ہونا ضروری نہیں ،مثلاً : وُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّار․ یعنی آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹنے کی روایت بہت ہی مضبوط ہے؛ایسے ہی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والی روایت بہت ہی اعلی درجے کی ہے ؛ مگر ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔چوں کہ روایات کا محض صحیح اور مضبوط ہونا ہی عمل کے لیے کافی نہیں ۔عمل کے باب میں اصل چیز ان روایات کی گہرائی میں جاکر ان کی صحیح سمجھ حاصل کرنا ہے۔اوراسی گیرائی و گہرائی کو” فقہ“ سے تعبیر کیاجاتاہے۔ شریعت اسلامی میں یہی درجہ مطلوب ہے ۔فقہ کہتے ہیں دینی سمجھ کو ۔یہ ایسا فن ہے جس میں صحابہ کرام کے مابین بھی باہم فرق مراتب تھا،چناں چہ صحابہ میں بھی اختلافات ہوئے اور کہناچاہیے کہ ائمہ اربعہ کے اکثر اختلافات کی بنیاد صحابہ کے اختلافات ہی ہیں؛اور وہ غلط بھی نہیں،چناں چہ حضرت عون بن عبد اللہ تابعی فرما تے ہیں مجھے یہ بات ناپسندنہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف نہ ہوتا اس لیے کہ اگروہ حضرات کسی چیز پر مجتمع ہوں اورپھر کوئی شخص ان کے خلاف کرے تو وہ تارک سنت ہے اوراگر اختلاف ہو،پھر کوئی شخص ان میں سے کسی کے بھی قول کے مطابق عمل کرے تو وہ حدود سنت سے نہیں نکلا۔ (دارمی)

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے فرمایا:

«مَا يَسُرُّنِي لَوْ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْتَلِفُوا , لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَخْتَلِفُوا لَمْ تَكُنْ رُخْصَةً»
[الإبانة الكبرى لابن بطة:2/565 - کتاب الاول:الایمان - المجلد الثانی - بَابُ التَّحْذِيرِ مِنِ اسْتِمَاعِ كَلَامِ قَوْمٍ يُرِيدُونَ نَقْضَ الْإِسْلَامِ۔۔۔رقم الحدیث:703]
ترجمہ:مجھے یہ بات پسند نہیں کہ صحابہ میں اختلاف نہ ہوتا؛ کیوں کہ اگر صحابہ میں اختلاف نہ ہوتا تو رخصتیں نہ ہوتیں۔
(زرقانی علی المواہب بحوالہ اعتدال فی مراتب الرجال)۔

حضرت عبد اللہ بن المبارکؒ فرمایا کرتے تھے:

قرآن وحدیث کے مقابلے میں،ایسے ہی صحابہ کے اجماعی قول کے مقابلے میں نہ کسی کا قول معتبر ہے نہ رائے ۔ہاں جہاں صحابہ میں اختلاف ہے؛ اس میں ہم اس چیز کو اختیار کریں گے۔ جو قرآن وحدیث کے زیادہ قریب ہوگی۔
(اعتدال فی مراتب الرجال )

اگر احکام شرعیہ کے لیے صرف حدیث کا صحیح ہونا ہی کافی ہوتا۔ تو صحابہ میں اختلاف کیوں ہوتا؛ان کے حق میں تو تمام روایات صحیح سے بھی بڑھ کر قطعی یعنی قرآن کے ہم پلہ تھیں۔انھوں نے احادیث کو اپنے کانوں سے جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا، صحابہ میں سب سے زیادہ حدیث روایت کرنے والے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں؛مگرفتاوی حضرت عمروحضرت علی رضی اللہ عنہما وغیرہ کے چلتے تھے ۔وجہ اس کی یہی ہے کہ احکام شرعیہ کے لیے صرف نصوص کافی نہیں ؛بلکہ اس کے لیے ”تفقہ“اوردینی سمجھ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :﴿فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْہُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوافِی الدِّیْنِ ﴾․
ترجمہ :کیوں نہیں نکلی ہرگروہ میں سے ایک جماعت کہ وہ دین میں سمجھ پیداکرے اور قوم کے لوگوں کوجب لوٹ کر آئیں؛ تو ان کوبا خبرکرے، تاکہ وہ لوگ بچیں(قرآن)۔ 

اسی فقہ کے بارے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :رُبَّ مُبَلَّغٍ اَوعٰی مِنْ سَامِعٍ ۔ترجمہ :جن لوگوں کو حدیث پہنچائی جاتی ہے ؛ان میں بہت سے ایسے ہیں؛جو حدیث کوسننے والوں سے زیادہ حفاظت کرنے والے ہیں۔(مسند احمد ،ابوداؤد،ترمذی ،ابن ماجہ)اسی ملکہ کے بار ے میں حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:رُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ غَیْرُ فَقِیْہٍ :یعنی بہت سے لوگ جو (حدیث جس میں) فقہ( کا خزانہ ہے،اس)کے حامل ہیں(مگر)وہ (خود)غیر فقیہ ہیں۔ (ترمذی ) اسی ملکہ کی وجہ سے حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایاتھا :معاذمیرے صحابہ میں سب سے زیادہ حرام وحلال کو جاننے والے ہیں۔(ترمذی)اگر صرف حدیث کا مضبوط ہونا ہی کافی ہوتا ،جیسا کہ یہ دین کے نادان دوست سمجھ رہے ہیں؛تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم یہ کہتے : جس نے سب سے زیادہ مجھ سے حدیثیں سنیں ہیں؛ وہی سب سے بڑا احکام شرعیہ کا جاننے والا ہے۔چوں کہ جس شخص نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے براہ راست (ڈائرکٹ) حدیث سنی ؛اس کے حق میں وہ حدیث قرآن کے برابرہے۔چوں کہ وہ بالکل قطعی اوریقینی ہے ۔وہاں کسی صحیح اور ضعیف کا احتمال ہی نہیں۔

اہل علم جانتے ہیں کہ صرف احادیث کا مضبوط ہوناہی عمل کے لیے کافی نہیں؛انہی وجوہات کی بنا پرغیر مجتہد محدثین احکام شرعیہ نہیں نکالاکرتے تھے؛بلکہ وہ خودبھی فقہاء ہی کی اتباع کرتے تھے۔ مشہورمحدث حضرت امام شعبی کا مقولہ مشہور ہے :نَحْنُ الصَّیَادِلَہْ وَأنْتُمُ الْأطِبَّاءُ․
ترجمہ :ہم محدثین تو دواخانہ والے ہیں،ڈاکٹر تو آپ(فقہاء ) حضرات ہیں۔ امام ترمذی رحمة اللہ علیہ کے طرز کو دیکھیے!حضرت اپنی سنن”ترمذی “ میں جہاں حدیث کے صحیح اورحسن وضعیف وغیرہ ہونے کا حکم لگاتے ہیں ؛تووہاں محدثین اصولیین کے اقوال نقل کرتے ہیں؛لیکن جہاں احکام شرعیہ ،حرام اورحلال کو بیان کرتے ہیں،وہاں فقہاء ہی کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ایک جگہ” امام ترمذی“ فقہائے عظام کے مسالک نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:کَذَالِکَ قَالَ الْفُقَہَاءُ وَہُمْ اَعْلَمُ بِمَعَانِی الْأحَادِیْثِ․
ترجمہ:فقہاء نے ایسا ہی کہاہے اوروہی لوگ حدیث کے مطلب کوزیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ (ترمذی باب ماجاء فی غسل ا لمیت)

اکثرمحدثین خود بھی مقلد تھے ،چناں چہ مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی صاحب امام بخاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: وہ شافعی المسلک تھے۔(ابجد العلوم 810)اسی طرح امام مسلم رحمة اللہ کے بارے میں بھی نواب صاحب نے شافعی المسلک ہونا ذکر کیا ہے۔ (الحطہ98) وجہ بالکل ظاہر ہے کہ احادیث کے مابین تطبیق دینا اور ان سے احکام شرعیہ نکالنا ؛اس کے لیے حدیث کا صحیح اور حسن ہونا ہی کا فی نہیں، بلکہ اس کے لیے اور بھی بہت سی دیگر چیزیں درکا ر ہوتی ہیں۔ 

احکام شریعت کے لیے جودیگرچیزیں درکار ہیں؛ان میں سب سے اہم چیز صحابہ کے آثار ہیں ۔ احکام اسلام اور شریعت محمدی میں صحابہ کے آثار فیصلہ کن چیز ہواکرتے ہیں ۔چناں چہ حضرت ابراہیم نخعی (96ھ)،جو خود بھی صحابہ کے شاگر د ہیں،فرماتے ہیں:اگر صحابہ کو دیکھ لیتا کہ وہ کلائی تک وضو کرتے ہیں؛ تو میں عمل اس پر کرتا؛ جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھتا اور قرآن میں جو آیاہے:﴿الی المرافق﴾․ یعنی وضو میں کہنیوں تک ہاتھ دھوؤ(مائدہ)تو اس کو ایسے ہی پڑھتا ؛جیساکہ قرآن میں ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صحابہ پرترک سنت کی تہمت نہیں لگا ئی جاسکتی ،وہ اہل علم تھے اور تمام مخلوق میں سب زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے خواہاں اور مشتاق تھے۔ ان کے عمل کے بارے میں کسی قسم کا شک وہی کرسکتا ہے ؛جس کو اپنے دین میں شبہ ہو۔ (الحجہ فی بیان المحجہ 2/401)

حضرت عمر بن عبد العزیر رحمة اللہ علیہ (جن کو جامع احادیث کہاجاسکتا ہے؛یعنی احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوة والسلام کو کتابی شکل میں جمع کرانے اوراس کے لیے سرکاری طور پر کام شروع کرانے کا سہرا آپ ہی کے سرجاتا ہے ۔) صحابہ کی اتباع کی بابت اپنے ایک خط (جسے امام ابوداؤد نے بھی نقل کیا ہے،اس ) میں فرماتے ہیں :
فَمَا دُوْنَہُمْ مِنْ مُقَصِّرٍ وَمَا فَوقَہُمْ مِنْ مُحَسِّرٍ، وَمَنْ قَصَرَ دُوْنَہُمْ فَجَفُوا، أوْ طَمَحَ عَنْہُمْ أقْوَامٌ فَغَلُوا، وَإنَّہُمْ بَیْنَ ذٰلِکَ لَعَلٰی ہُدًی مُسْتَقِیْمٌ ․
ترجمہ :صحابہ کی اتباع نہ کرنا (دین میں) کمی اورتقصیر ہے ۔اور ان سے آگے بڑھنا (دین میں)زیادتی اورتکان ہے۔ایک جماعت نے(ان کی اتباع نہیں کی ؛بلکہ) ان سے کوتاہی کی ،تو اس نے ظلم کیا اوردوسری ان سے آگے بڑھ گئی تو انھوں نے غلو کیا ،صحابہ کرام اسی افراط وتفریط کے درمیا ن سیدھی راہ پر تھے۔ (الاعتدال فی مراتب الرجال)

حضرت ابو زید قیروانی مالکی (متوفی :386ھ)نے اپنی کتا ب ”الجامع“ میں” اہل سنت والجماعت“ کے عقائد اور ان کے طریق کا ر کوا س طرح بیان کیا ہے :
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سنتو ں کے بارے میں یہ بات مسلم ہے کہ نہ اس کا مقابلہ رائے سے ہوگا اور نہ قیاس سے۔ اور سلف صالحین(صحابہ ) نے جہاں تاویل کی ہے ؛ہم بھی تاویل کریں گے اور جس پر عمل در آمد کیا؛ ا س پرہم بھی عمل کریں گے اور جس پر عمل نہیں کیا ؛اس پر ہم بھی عمل نہیں کریں گے اور جہاں انھوں نے توقف اختیار کیا ؛ہمارے لیے بھی توقف کی گنجائش ہے اور جہاں انھوں نے کچھ بیان کیا ہے ؛ہم اس کی اتباع کریں گے، اور جو استنباط کیا ہے؛ اس کی اقتدا کریں گے اور جہاں انھوں نے تاویل میں اختلاف کیا ہے؛ تو ہم ان کی جماعت سے نہ نکلیں گے ۔(الجامع)

امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں:ہمارے نزدیک سنت کے اصول وہ ہیں ؛جن پر حضرا ت صحابہ کرام تھے ۔(فتاوی ابن تیمیہ 4/155)

حاصل کلام یہ کہ احادیث کا صرف صحیح اور مضبوط ہونا ہی عمل کے لیے کافی نہیں ہے ؛بلکہ اس کے لیے اوربھی بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اوراگربالفرض تسلیم کرلیا جائے کہ جو روایت زیادہ مضبوط ہو؛اس پر عمل کیا جائے اور اس کے بالمقابل جو کمزور ہو ؛اس کو ترک کردیا جائے ؛تب تو دین کا جنازہ نکل جائے گا۔ چوں کہ سندکے اعتبار سے سب سے مضبوط ترین روایت ”قرآن کریم“ کی ہے ؛جو معناً اور لفظاً دونوں اعتبار سے متواتر ہے ، ذخیرہ احادیث کی کوئی بھی روایت سند کی مضبوطی و قوت میں اس کا مقابل نہیں ہوسکتی ۔قرآن مجید بہرصورت ”حدیث“ کے مقابلے میں مضبوط ہے۔اب اگر کسی جگہ قرآن وحدیث میں بظاہرتعارض نظرآئے ،یعنی قرآن سے ایک حکم نکل رہا ہو؛جب کہ حدیث سے اس حکم کے بالکل خلاف دوسرا حکم نکل رہا ہو؛تو کیا محض اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے مدمقابل کے سامنے کمزورہے ؟اگر یہی اصول تسلیم کرلیا جائے ؛تو ان احادیث کے ساتھ آپ کیا کریں گے،جس میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو خصوصی طورپر چار سے زائد شادیوں کی اجازت تھی۔چوں کہ قرآن کریم جو حدیث کے بالمقابل مضبوط ہے ؛اس کا تو حکم یہ ہے :﴿فَانْکِحُوا مَاطَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنٰی وَثُلاَثَ وَرُبَاع﴾.

یعنی بیک وقت صرف چارعورتوں سے ہی شادی کرسکتے ہو(اس سے زیادہ نہیں)-(سورہ نساء آیت نمبر 3)۔کیا حضور صلی الله علیہ وسلم کو آپ بھی یہود ونصاری کی طرح اپنے طعن وتشنیع کا نشانہ بناؤگے ؟۔ نعوذ با للہ من ذلک!

اسی طرح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن شفاعت ہوگی ؛جب کہ قرآن کہتا ہے : ﴿لَابَیْعٌ وَلاَخُلَّةٌ وَلَاشَفَاعَةٌ ﴾(سورہ بقرہ آیت نمبر 254) یعنی قیامت کے دن شفاعت نہیں ہو گی ؛تو کیا محض اس وجہ سے شفاعت کی احادیث کا انکار کردیا جائے گا کہ وہ قرآن کے مقابلے میں سنداًکمزورہیں۔ ایسے ہی حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:لَانُورِثُ مَاتَرَکْنَاہ صَدَقَةٌ(ہم(انبیاء وارث نہیں بناتے ؛ہمارا جو کچھ ترکہ ہوتا ہے ؛وہ صدقہ ہوتا ہے۔) جب کہ قرآن کہتا ہے:﴿یُوصِیْکُمُ اللّٰہُ فِی أوْلَادَکُمْ﴾․

ترجمہ: اللہ تعالی تم کو حکم دیتاہے تمہاری اولاد(کی میراث)کے باب میں۔(سورہ نساء)یعنی ہربچے کا حصہ منجانب اللہ متعین ہے ؛ماں باپ اس کے حصے کو ختم نہیں کرسکتے ۔تو کیا اس حدیث کو محض اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے مقابل والی آیت کے مقابلے میں سنداًکمزور ہے ۔ایسے ہی احادیث میں آتا ہے کہ ایک وضو سے متعدد نمازیں ہوجاتی ہیں،جب کہ قرآن کہتاہے :﴿إذَاقُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ ﴾․یعنی نماز کے لیے کھڑ ے ہو،تو وضو کرو! اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی نماز کے لیے کھڑے ہو،تو وضو کیا کرو ۔توکیا ان احادیث، جن سے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے،ان کا انکار کیا محض اس وجہ سے کردیا جائے گا کہ وہ سنداً قرآن کے بالمقابل کمزور ہیں ؟ہرگز ہر گز ایسا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چوں کہ یہ اصول ہی غلط ہے ۔اگراس اصول کو تسلم کرلیا جائے تو قرآن وحدیث کا ایک ٹکڑااپنے ہی دوسرے حصے کی تکذیب کرتا ہوا نظر آئے گا۔ قرآن” حدیث “کی تکذیب کرے گا اورحدیث ”قرآن“ کی تکذیب کرے گی۔اوریہ ایسی بھیانک مصیبت ہوگی ؛جس کی وجہ سے پوری امت ہلاک ہوجائے گی۔ سابقہ امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہو ئیں۔حدیث میں آتاہے: عَنْ عَمْروٍ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہ قَالَ :سَمِعَ النَّبِیُّ صلی الله علیہ وسلم قَومًا یَتَدَارَئُونَ فِی الْقُرْآنِ، فَقَالَ :إنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِہٰذَا․ ضَرَبُوا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہ بِبَعْضٍ، إنَّمَا نَزَلَ کِتَابُ اللّٰہِ یُصَدِّقُ بَعْضَہ بَعْضًا، فَلاَ تُکَذِّبُوا بَعْضَہ بِبَعْضٍ، فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہ فَقُولُوا وَمَا جَہِلْتُمْ فَکِلُوہ إلٰی عَالِمِہ․
ترجمہ :عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے نقل کرکے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے بارے میں سنا کہ وہ قرآن پاک میں باہمی اختلاف کررہے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑرہے ہیں تو (سخت نارا ض ہوئے اور)فرمایا :تم سے پہلے جو لوگ تھے؛ان کی ہلاکت وبربادی کا باعث یہی چیز بنی تھی کہ انھوں نے اللہ کی کتاب کے ایک حصہ سے دوسرے حصے کی تردید (تکذیب )کی ۔سن لو!اللہ کی کتاب اس شان سے نازل ہوئی ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو سچاثابت کرتا ہے ۔لہذا اس کے کسی حصہ کو کسی دوسرے حصے کے ذریعہ مت جھٹلاؤ۔اور اس (طرح کی کسی آیت کے مفہوم ومراد کے بارے میں)تم وہی بات کہوجو (کتاب اللہ کے صحیح معنی ومرادجاننے اور بتانے والوں کے ذریعہ )تمہارے علم میں (آئی ) ہے ۔اور جو چیز تمہارے علم میں نہیں ہے ؛اس کو علم رکھنے والوں کے حوالہ کردو۔ (مسند احمد ،بخاری فی خلق افعال العباد /30) 

کیا ہر آدمی کو قرآن وحدیث سے خودمسائل نکالنے چاہییں؟بعض لوگ یہ نظریہ امت میں بڑے زوروشور سے پھیلارہے ہیں کہ ہر آدمی کو اجتہاد کرنا چاہیے اوراپنے اجتہاد کے مطابق احکام شرع پر عمل پیراہونا چاہیے ،شریعت کسی مجتہدیا فقیہ کے باپ کی جائداد نہیں۔یہ نظریہ بڑا ہی آسان، صاف ستھرا اور بے داغ معلوم ہوتا ہے ۔یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص سفر میں جارہا تھا ۔ گھر والوں نے زاد راہ کے لیے ”جو“ اور ”چنا“ وغیرہ کو پیس کر ”ستو “بنایااور اس کے سپر د کردیا کہ راستے میں جب بھوک کا احساس ہو ؛تو ”ستو“ کو پانی میں گیلاکرکے کھالے گا۔ اس کے ہم راہ ایک عیار اورمکارآدمی تھا ،جس کے پاس زادِراہ کے لیے صرف ”جَو“ تھا۔ بھوک محسو س ہوئی؛ تو اس نے دقت محسوس کی ؛چوں کہ ’جو“کو کوٹنا ،صاف کرنااورقابل استعمال بنانا مشکل کام تھا۔ جسے دوران سفر انجام نہیں دیا جا سکتا؛اس لیے اس نے پیٹ بھرنے کے لیے ایک ترکیب کی اوراپنے ساتھی کے پاس آیا اور بڑے ناصحانہ و خیرخواہانہ انداز میں بولا: تمہارے پاس کھانے کے لیے تو” ستو “ ہے؟ اس نے کہا:ہاں!تو اس نے کہا کہ اس کے کھانے میں تو بھائی بہت پریشانی ہے ،ستو !!!لپتو !!! کب کھاؤگے ؟؟؟تو کب چلوگے ؟؟؟۔ اورہمارے پاس تو ”جو“ہے ؛جس کا کھانا بہت ہی آسان ہے۔”جو“ کو کوٹو! کھاؤ! اور چلتابنو۔وہ ”سیدھا سادھاآدمی“ اس عیار شخص کی باتوں میں آگیا اوراس دجال سے ”ستو“کے بدلے میں ”جو“لے لیا،پھر پورے راستے دشواریوں کا سامنا کرتا رہا۔ 

بعینہ یہی صورت حال ان لوگوں کی اس دعوت کی ہے ؛جو مجتہدین کے معتبر فقہ کوپس پشت ڈالنے اور اجتہادکی دعوت دیتے پھر رہے ہیں،اسلام عام آدمی کو شریعت میں خود برد کرنے کی اجازت نہیں دیتا،ارشاد خداوندی ہے: ﴿فَاسْئَلُوا أہْلَ الذَِّکْرِ إنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُونَ﴾ ترجمہ :اگر نہیں جانتے ؛تو اہل علم سے معلوم کرلو۔ (القرآن ) رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّمَاشِفَاءُ الْعِیِّ اَلسُّوَالُ ۔ترجمہ:(علمی امور سے)عاجزشخص(کے دینی معاملات ) کاعلاج (جاننے والوں سے )سوال کرنا ہے۔(ترمذی ) ۔ کتاب اللہ ، سنت رسول صلی الله علیہ وسلم اورآثار صحابہ سے ماخوذ معتبر ”فقہ اسلامی“ و”شریعت “ہمارے سامنے” ستو“ کی مانند موجودہے کہ جب بھی ضرورت محسوس ہو ؛ان راجح اور مقبول فتاوی سے امت استفادہ کرے ۔اسے ائمہ مجتہدین ،محدثین عظام اور فقہائے دین متین نے بڑی عرق ریزی اور دیدہ وری سے مرتب کیا ہے ۔اس کے تیارکرنے ، ترتیب دینے ا ور اصلاح وتہذیب میں نہ جانے کتنے علماء اور محدثین نے خون پسینے ایک کئے ہیں اور صدیوں سے اس کی اصلاح ہوتی چلی آرہی ہے۔ مگر یہ لوگ عوام سے کہتے ہیں کہ اگر اس فقہ کے مطابق زندگی گزاروگے تو گم راہ ہوجاؤ گے۔ قرآن وحدیث سے خود مسائل نکالو اور اس پر عمل کرو۔ کسی عالم، کسی فقیہ اور محدث کے اخذکردہ مسائل کے مطابق زندگی مت گزارو۔

گویا کہ اجتہاد کرنا اور قرآن وحدیث سے مسائل نکالنا بچوں کا کھیل ہے ! یہ دعوت اسی مکار اور عیار شخص کی سی ہے ؛جو” ستو“ کے استعمال کو مشکل کہتاہے اور ”جو‘ ‘کے استعمال کو آسان !کیوں کہ قرآن وحدیث سے مسائل نکالنے اور اجتہاد کرنے کے لیے بہت سارے علوم کی ضرورت ہوتی ہے ؛کم از کم اتنا علم تو انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ قرآن کی آیاتِ ناسخہ ومنسوخہ،احادیث ِصحیحہ ،ضعیفہ اور سقیمہ، نیز آثارِ صحابہ واقوال ِمحدثین پر آدمی دست گاہ ِتام رکھتا ہو، اصول ِتفسیر وحدیث ،فصاحت، بلاغت ،عروض و قوافی اور نحو وصرف کے ایک معتدبہ حصے پرقدرت ِتام رکھتا ہو؛جو کہ ایک عام آدمی کے بس سے باہر کی چیزیں ہیں ۔

اس دعوت کا مقصد مسلمانوں کو صراط مستقیم پرچلانا نہیں؛بلکہ غلط مقاصد کی تکمیل ہے۔ مقصدیہ ہے کہ خواہش نفس کے مطابق شریعت کی تدوین کی جائے ۔یعنی جو مسئلہ نفس کو بھائے اور اس پر عمل کرنے میں نفس کو راحت ملے ؛اسی کو قرآن وحدیث کا نام دے کر اس پر عمل کیا جائے،بقیہ جو مسائل نفس پر شاق گزریں،یا ان پر عمل کرنے میں تکلیف محسوس ہو ؛ ان کو غلط اور باطل کہہ دیاجائے ۔ آپ کے سامنے اس طرح کے مجتہدین کے دوفتاوے پیش ہیں؛ جن سے ان کے مقاصدکو بخوبی سمجھاجاسکتا ہے۔پچھلے دنوں( ہفت روزہ”نئی دنیا“) نے اس طرح کے ایک مجتہد صاحب(جو سعودی عرب میں رہتے ہیں،ان) کا فتوی شائع کیا تھا ۔اس فتوی کو سن کر عالم اسلام دم بخود رہ گیا، سعودی حکومت ورطہٴ حیرت میں پڑ گئی اوراس نے ان جیسے مجتہدین سے اپنے دامن کو بچانے ہی میں عافیت محسوس کی۔

سعوی عرب میں عورتیں بھی اعلی سرکاری ونیم سرکاری عہدوں پر فائز ہونے لگی ہیں۔ ان کے ماتحت ملازمین ہواکرتے ہیں ۔مسئلہ یہ آیا کہ ان کے پرد ے کا کیا ہو؟چوں کہ پردہ فرض ہے۔ ایک مجتہد صاحب نے اجتہاد کیا اور جھٹ سے اپنا فتوی جاری کردیا۔انھوں نے فتوی دیا کہ ایسی تمام اعلی عہدوں پر فائز عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو چھاتی کا دودھ پلادیں؛تاکہ ماتحت لوگ اس کے بیٹوں کے حکم میں ہو جائیں اور پر دہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ ( ہفت روزہ نئی دنیا10ء ) 

اسی قسم کے ایک اور مجتہد صاحب کا فتوی ابھی تازہ تازہ آیاہے، اخبار لکھتاہے:سوڈان میں خواتین کے حجاب سے متعلق ایک فتوی کے بعد ملک کے مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے (فتوی یہ ہے:) اسلام خواتین کے لیے کسی مخصوص پردہ اور لباس کا حکم نہیں دیتا۔وہ صرف ایک باوقار لباس کی تلقین کرتاہے ۔اور قرآن کریم میں جو حجاب کی اصطلاح ہے؛ وہ صرف ازواج مطہرات کے لیے مخصوص ہے ۔(راشٹریہ سہارا، 22/جنوری 12ء)

ان فتاوی کو ملاحظہ کیجیے! اور بزعم خود ان نئے مجتہدین کی تلذذِطبعی اورتفنن خاطری کو داد ددیجیے۔ کسی حرام(خصوصاً جس میں لذت ہو؛اس) میں اتنی سکت کہاں کہ ان لوگوں کی زد میں آ نے کے بعد اپنی حرمت برقرار رکھ سکے؟ان حضرا ت کے مزاج کی رنگینی اسے کب حرام رہنے دے گی؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ا ن مجتہدین یا اجتہادکی دعوت دینے والوں کے پاس دلائل کی کمی ہے، دلائل تو ابلیس کے پاس بھی تھے ،پھر یہ بے چارے کیوں کر اس دولت بے بہا سے بے بہرہ رہ سکتے ہیں؟دلائل ان کے پاس بہت ہیں اور ایسے ایسے دلائل کہ رات کو دن اوردن کو رات کہنے پر مجبور کردیں ۔ مثلاًان مجتہدین کے اجتہاد کو کسی د ن اگر زیادہ جو ش آگیا ؛تو آیت قرآنیہ :﴿یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی﴾ (اے ایمان والو !نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جا ؤ!)سے استدلال کرتے ہوئے شراب کی حلت کا بھی فتوی دے ماریں گے ۔ کو ن ان سے جاکرپوچھ سکتا ہے کہ بھائی !یہ آیت شراب کی حرمت سے پہلے کی ہے ۔چوں کہ ان کے یہاں اجتہاد کے لیے کسی صلاحیت کی ضرورت ہی نہیں،صرف کسی کتاب میں لکھا ہوا آیت کا یا حدیث کاترجمہ ان کے اجتہاد وفتاوی بازی کے لیے کافی ہے۔ان کو اس سے کیا لینا دینا کہ یہ آیت حرمت شراب سے پہلے کی ہے یہ بعد کی؟ ناسخ ہے یا منسوخ؟مقبول ہے یا مردود؟کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دلائل ان کے یہاں سارے کے سارے قرآن اورحدیث ہی سے ملیں گے ؛ گرچہ اس سے دین و اسلام منہدم ہو کررہ جائے ۔

شریعت کا مقصد ہے کہ انسان ہر معاملے میں اللہ کے احکام کو پیش نظر رکھے ،اگر شریعت کا حکم معلوم نہ ہو تو علمائے حق سے رجوع کرے اور حکم خداوند ی معلوم ہو نے کے بعد ا پنی اطاعت گزاری اور بندگی کا ثبوت دیتے ہوئے اس پر عمل کرے ۔لیکن ان حضرات کا مقصد دوسراہے؛ان کا مقصد ہے کہ اگر کسی کام کے کرنے میں دشواری معلوم ہو اور اس پر عمل نہ کرنا ہو ؛تواس آیت یا حدیث ہی میں نقص نکال دو،مثلاً :کہو کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔یہ بخاری میں نہیں ،مسلم میں نہیں ۔ اگر آپ نے حدیث دکھاہی دی ؛تو کہیں گے : حدیث صحیح مرفوع متصل ان ان الفاظ کے ساتھ دکھاؤ ؛تو ہم مان سکتے ہیں!ورنہ نہیں۔ان کی اصل بیماری تلذذ طبعی اورسہولت پسندی ہے ؛ جس کی باعث یہ لوگ امت کے تمام طبقات سے نالاں ہیں ۔اور بسا اوقات تو خیر القرون سے لے کر اب تک کے تمام اہل حق علماء کو ناحق اور اہل بدعت کہنے سے بھی نہیں کتراتے ۔امت کے اس اجماع سے انہیں بے حد چڑ ہے کہ تقلید صرف ائمہ اربعہ کی ہوگی۔ اور فتاوے صرف انہی مکاتب فکرکے علماء کے چلیں گے۔اللہ سب کی حفاظت فرمائے اور اپنے دین پر قائم ودائم رکھے۔

کیا کسی امام کی تقلید کرنا شرک ہے؟
یاد پڑتاہے کہ بچپن میں ہمارے کچھ ساتھی جب کسی اپنے ہم عمر اورمعاصر لڑکے کے ساتھ مذاق او رتمسخر کاارادہ کرتے؛ تو بطور امتحان اس سے پوچھتے ،بتاؤ : تم زنانی ہوکہ زنانہ؟ اب اگر ساتھی سمجھ دار ا ورہوش مند ہوتا ؛تو کہتا :نہ تو میں زنانی ہوں اور نہ زنانہ(عورت) ؛بلکہ میں تو مردہوں۔لیکن اگر ساتھی نافہم اور بے عقل ہوتا ؛تو تھوڑے سے توقف اورسوچ بچار کے بعد کہہ اٹھتا:میں زنانہ(عورت) ہوں۔اور اس طرح وہ اپنی نادانی اورکم علمی کی وجہ سے ان کے مذاق اور تمسخر کا شکاربن جاتا۔ان کی چال اورجال یہ ہوتی کہ وہ سوال ہی غلط ڈھنگ سے کرتے اور اس کے سامنے ایک چیز کو جو ظاہرمیں الگ الگ (دوچیزیں) معلوم ہوتیں ؛جب کہ حقیقت میں وہ ایک ہی ہوتی ہے؛ اس کو تقسیم کرکے اس کے سامنے پیش کرتے اوراس نادان کو اپنے جال میں پھنسالیتے۔

تقلید سے بے زارکرنے کی مہم اور نظر یہ اسی قبیل کی چیز ہے ۔ یہ لوگ عوام اور کم دینی علم رکھنے والے لوگوں کے پاس جاکرسوال کرتے ہیں کہ بتاؤ:اللہ اوررسول کو مانوگے یاکہ ابوحنیفہ ؛مالک ؛شافعی اوراحمد کو؟ بھلا! ایک مسلمان، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو ؛وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کے علاوہ کسی اورکو مانتاہے۔لہذا وہ کہتا ہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں ۔اس کے بعد اگر وہ بھولا بھالا آدمی ان کے جال میں صحیح طور پر پھنس گیا؛تو وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتا ؛بلکہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر صحابہ ،ائمہ مجتہدین ا ورسلف صالحین پر لعن طعن کی زبان بھی دراز کرتا ہے ؛لیکن اگر وہی شخص پڑھا لکھا اور علمی میدان کا بالغ آدمی ہوتا ہے؛ تو کہتاہے :میں اللہ اور رسول کو بھی مانتاہوں ؛ابوحنیفہ ،مالک ،شافعی اوراحمد وغیرہ کو بھی مانتاہوں۔ چوں کہ میں اللہ کو رب اور خالق ومالک ہونے کی حیثیت سے مانتاہوں؛ رسول کو نبی اورپیغام برہونے کی حیثیت سے مانتاہوں اور ائمہ(ابوحنیفہ، مالک ؛شافعی اوراحمد) کو شریعت کی تشریح و توضیح کرنے والا ہونے کی حیثیت سے مانتاہوں ۔اوراس میں کوئی تضاد اوراختلاف بھی نہیں کہ ایک کو ماننے سے دوسرے پر کوئی ضرب پڑتی ہو ؛جیسے ماں ،باپ ،بھائی اوربہن ۔کیا ماں کو ماں کہنے سے باپ پر کوئی اثر پڑتاہے ،یا بہن کو بہن کہنے سے ماں کی حیثیت متاثرہوتی ہے؟لیکن اگر ماننے سے تیری مراد بندگی ہے؛ تو اے دھوکے باز!کان کھول کرسن لے !میں اللہ کے علاوہ کسی کی بھی عبادت نہیں کرتا؛چہ جائے کہ ائمہ ومحدثین عظام وغیرہ!

زمانہ آخری چل رہاہے ،قیامت قریب ہے ، اند راورباہر ہر طرف سے فتنوں کی یلغار ہے اورہر فتنہ ایک جاذب نظر ، خوب صورت اور پرکشش انداز اورٹائٹل میں سامنے آتاہے۔ مثلا یہی فتنہ جس کا میں نے اوپر تذکرہ کیا کہ ائمہ کی تقلید کرنا حرام ہے ۔ یہ کوئی معمولی فتنہ نہیں ہے، اس کے عوامل اوراثرات پر اگر غورکیا جائے ؛تو معلوم ہوگاکہ صرف یہی ایک فتنہ پوری امت کو صراط مستقیم سے ہٹاکر گم راہی اورضلالت کے راستے پرڈالنے کے لیے کافی ہے ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا زمانہ ہم سے بہت دور ہوچکا ہے ؛ نہ ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ رہے ہیں اور نہ ان کی مجلسوں میں حاضر ہی ہوسکتے ہیں؛ لامحالہ ہمیں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی باتو ں کے لیے ذخیرہ احادیث کی جانب رجوع کرناپڑ ے گا۔ اور حدیث نام ہے تین چیزوں کا:
1... حضور صلی الله علیہ وسلم کی وہ باتیں ؛جو صحابہ نے آپ سے سنیں اور بعد والوں سے روایت کی،
2... حضور صلی الله علیہ وسلم کے وہ کام جو آپ نے صحابہ کے سامنے عملی طور پرکیے،پھر صحابہ نے اپنے اپنے الفاظ میں اسے ادا کیے،
3... رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف ۔مثلاً آپ کے بال کا رنگ ؛چہرہ بشرہ ؛ آپ کی شجاعت اورسخاوت وغیر ہ کے واقعات ۔

اب(1)  یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کے اقوال کو لیجیے !حضور صلی الله علیہ وسلم جب بات کرتے تھے ؛تو صحابہ کبھی کم ہوتے ؛تو کبھی ان کا اژدہام اورمجمع ہوتا ،چناں چہ بعض صحابہ کبھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی باتوں کودور تک پہنچانے کے لیے بطور ”مکبر ‘ ‘ کے بھی الفاظ دہراتے؛ جس کی وجہ سے ایک صحابی کوبات اگرمکمل پہنچتی؛ توکبھی دوسرے صحابی کو ناقص۔اورروایت دونوں نے کی ؛جس کی وجہ سے روایت میں اختلاف ہوگیا۔ایسے ہی (2) یعنی افعال نبی صلی الله علیہ وسلم کو لیجیے! صحابہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو کچھ کرتے ہوئے دیکھا،تواس کام کے طریقے اورانداز کو اپنے اپنے الفاظ میں ڈھال کربیان کردیا۔بعض مرتبہ اس طرز بیان میں اختلاف ہوگیا ؛چوں کہ ایک صحابی نے ایک تعبیر استعمال کی ؛مگر دوسرے نے دوسری تعبیر استعمال کردی ؛حتی کہ تعبیرکا یہ اختلاف معانی تک پہنچ گیا۔اسی طرح بعض اعمال حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھے ؛مثلا نو بیویوں کو نکاح میں رکھنا؛صوم وصال رکھنا، تہجدکافرض ہونا وغیرہ وغیرہ ۔ اب اگر کوئی فقیہ تمام روایا ت کو جمع کرکے خلاصہ نکالتا ہے اور تحقیق وتفتیش کے بعد اصل مسئلہ حل کرنے کے لیے اُن صحابہ کے عمل کا بھی سہارا لیتاہے؛جو حضور صلی الله علیہ وسلم کے آخری دور میں آپ کے ساتھ تھے اوراس طرح حدیث کا ایک معنی متعین کردیتا ہے؛ پھر عام مسلمان (جن کی رسائی ذخیرہ احادیث پر اس درجہ نہیں) وہ اسی فقیہ کی تحقیق پر؛اللہ کے حکم :﴿ فَاسْئَلُو ا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُون﴾َ(اگر تم نہیں جانتے ؛تو جاننے والوں سے معلو م کرلو) کی بنا پرعمل کرلیتا ہے ؛تو اس گروپ کے نزدیک ایسا مسلمان اللہ اور رسول کے مقابلے میں اس فقیہ کو معبود ٹھہرنے والا شمار ہوتا ہے۔اور وہ فقیہ جس نے اپنی پوری عمر اس مسئلہ کو حل کرنے اوراس گتھی کو سلجھانے میں صرف کی ہے ؛وہ ان لوگوں کے گما ن میں اللہ کے مقابلے میں اپنی الوہیت اور معبودیت کا دعوے دار ہے۔تبھی تو یہ لو گ عوام سے کہتے ہیں کہ اللہ اوررسول کی مانوگے یاکہ ابو حنیفہ ،مالک ،شافعی اور احمد کی؟ان کے نزدیک اللہ اوررسول کا حکم کچھ اور ہے اورائمہ کے فتاوے کچھ اور ہیں۔

ایسے ہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی حدیثیں کسی نہ کسی واسطے اورذریعہ ہی سے ہمارے پاس آئی ہیں اور وہ ذرائع محدثین کی کتابیں ہیں۔ ہر محدث نے کیف ما اتفق احادیث کو جمع نہیں کیا ہے ؛بلکہ بعض نے ابواب فقہیہ کے حساب سے حدیثیں جمع کی ہیں؛تو بعض نے مسندات صحابہ وغیرہ کے اعتبار سے۔صحاحِ ستہ :بخاری ،مسلم ،ترمذی ،ابوداؤد ،نسائی ،ابن ماجہ اورموطامالک وغیرہ ابواب فقہیہ پر جمع ہیں۔ امام بخاری احادیث کو لانے سے پہلے ،اس حدیث سے نکلنے والے مسئلہ کو سمجھانے کے لیے صحابہ اورتابعین یا تبع تابعین کے اقوال و اعمال ا ورفتاوی کو بھی تعلیق(یعنی تمہید) میں نقل کردیتے ہیں،پھر احادیث کو ذکر کرتے ہیں؛تاکہ حدیث کے سمجھنے میں اگرکسی طرح کا خلجان ہو ؛ تو وہ دور ہوجائے اورحدیث کا واضح ترین مطلب سامنے آجائے ۔ مثلا امام بخاری نے جہاں ”دونوں ہاتھوں“ سے مصافحہ کا باب باندھا ہے ؛وہاں حدیث نقل کرنے سے پہلے تعلیق میں یہ بھی لکھا ہے : وَصَافَحَ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَاِبْنُ الْمُبَارَکِ بِیَدَیْہِ (حماد بن زید اورعبد اللہ بن المبارک نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا ۔)(بخاری2/926)

اب اگر کوئی مسلمان امام بخاری کے بیان کردہ معانی کے مطابق عمل کرتاہے ؛تو اس گروپ کے نزدیک وہ مشرک اور مرتد ہے ؛چوں کہ ان کے خیال میں وہ حدیث پر عمل کرنے والا نہیں ہے ۔تبھی تو عوام سے جاکر یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ اورر سول کو مانوگے یاکہ ائمہ کو؟ان کے نزدیک حدیث اورقرآن کی تفسیر وتوضیح کرنا ،اپنی نبوت کا دعوی کرنا ہے ۔اسی وجہ سے زنانی اورزنانہ والی تقسیم سامنے لاتے ہیں اوربتانا چاہتے ہیں کہ فقہاء اور محدثین اللہ اوررسول کے دین کے دشمن ہیں،اللہ اوررسول کی باتیں کچھ اورہوتی ہیں اور یہ لوگ بیان کچھ اورکرتے ہیں۔

بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتاہے کہ ایک صحابی ابتدائے اسلام میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور چلے گئے ۔انھوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کوجو کچھ کرتے ہوئے دیکھا یا کہتے ہوئے سناتھا؛اسی کوبیان کرتے رہے۔ حالاں کہ بعد میں وہ حکم منسوخ بھی ہوگیا ؛مگران صحابی کو اس کی منسوخیت کاعلم نہیں ہوا ۔البتہ جن صحابہ کو اس کا علم تھا؛وہ اس کے خلاف حدیث بیان کرنے لگے۔اب یہ دوطرح کی روایتیں سامنے آئیں ؛جو بالکل مدمقابل کی ہیں کہ اگر ایک پر عمل کیاجائے ؛تو یقینا دوسری کو ترک کرنا پڑے گا۔ بڑی مشکل ہوئی،اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ان ائمہ پر کہ انھوں نے دونوں روایتوں کو دیکھا ؛مگر فتوی اس روایت کے مطابق دیا ؛جو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے آخری ایام میں آپ کے پاس رہنے والے صحابہ کے عمل سے موید پائی اورپہلی والی روایت کے منسو خ یامرجوح ہونے کا فیصلہ کردیا۔اس طرح امت کے لیے سنت (یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کے آخری معمول)پرچلنا آسان ہوگیا ۔لیکن اس گروپ کے نزدیک اگر مسلمان ان فقہاء کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق شریعت پر کار بند ہوتے ہیں ؛تو وہ مرتد اور مشرک ہیں۔تبھی توعوام سے پوچھتے ہیں کہ اللہ اور رسول کی مانوگے یا کہ ائمہ کی ؟ان کے نزدیک فقہاء کا یہ عمل الوہیت اور نبوت کا دعوی ہے۔یہ فقہاء اوران کے ماننے والے سب کے سب مرتد اور مشرک ہیں۔

یہ باتیں جو پیش کی گئی ہیں ؛یہ کوئی انوکھی اور نادر باتیں نہیں ہیں کہ اہل علم اس سے ناواقف ونا بلد ہوں؛اسے تو ہر وہ مسلمان بخوبی جانتاہے ؛جسے ادنی درجہ میں بھی علوم اسلامیہ کی ہوا لگی ہے؛لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب چیزوں کے باوجود یہ گروہ کیوں کر ائمہ اورسلف صالحین کے راستے سے عوام کو برگشتہ اور بدگمان کرنے پرتُلاہواہے اور اس سلسلے میں ایسی ایسی کوششیں اورجدوجہد کررہا ہے ؛جیسے مسلمان اسلام کو پھیلانے کے لیے کرتے ہیں؟ تومعلوم ہونا چاہیے کہ اس کا جواب خود جنا ب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم آج سے چودہ سوسال پہلے دے چکے ہیں، حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :اِنَّ مِنْ عَلَامَاتِ السَّاعَةِ اَن یَّلْعَنَ آخِرُہٰذِہ الاُّمَّةِ اَوَّلَہَا․
ترجمہ:قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس امت کے آخرکے لوگ پہلے کے لوگوں پر لعن طعن کریں گے۔(ترمذی کتاب الفتن )

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے محدثین لکھتے ہیں کہ لعن طعن سے مراد غلط انداز سے ان کو یاد کرنا اور اعمال صالحہ میں ان کے طریقے سے ہٹ کرالگ راہ بنانا ہے۔ (طیبی شرح مشکوٰة)

یہ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ مسلمان سلف صالحین کے راستہ کو چھوڑ کرخود ان کے بنائے ہوئے طریقے کو اپنا لیں،حالاں کہ یہ غلط ہے، چوں کہ قیامت تک کے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر نمازمیں صحابہ،ائمہ اورمحدثین کی راہ پر چلنے کی دعاکریں اور کہیں :﴿اِہْدِنَالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ﴾․
ترجمہ:اے اللہ! ہمیں سیدھے اوراپنے انعام یافتہ بندوں (یعنی صحابہ ؛تابعین اور تبع تابعین وغیرہ)کی راہ پر چلائیے!

اور اگر کوئی شخص ان حضرا ت کی راہوں سے ہٹتا ہے اور اعراض کرناچاہتا ہے ؛تو اللہ اوررسول کی دھمکی بھی سن لیجیے! :﴿وَمَن یَّتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُومِنِیْنِ نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہ جَہَنَّمَ﴾․
ترجمہ:اور جو شخص مسلمانوں (یعنی صحابہ وغیرہ)کی راہ سے ہٹ کر(کسی اور کی راہ پر )چلے گا؛تو ہم حوالہ کردیں گے اس کے وہی ؛ جو اس نے اختیار کیا ہے اور اس کو جہنم میں پھینک دیں گے ۔(سورہٴ نساء )

د و اہم سوالات
اگر کوئی یہ کہے کہ امام بخاری ہی کو کیوں نہ امام الائمہ تسلیم کرکے تمام مسلمانو ں کوایک پلیٹ فارم پر متحد کرلیاجائے؟توسوال ہے کہ امام بخاری کی کتاب” بخاری شریف“ کو قرآن کے بعد سب سے اچھی کتاب تسلیم کس نے کیا؟جواب ہوگا: امت نے ۔پھر سوال ہوتاہے کہ کیا امت نے امام بخاری کوامام مجتہد بھی تسلیم کیا ہے ؟تو جواب ملتاہے کہ امت تو کیا کرتی ؟ خود حضرت کے شاگر دوں نے ان کو مجتہد تسلیم نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ امام ترمذی اپنی کتاب کے اندر جہاں فقہاء ومجتہدین کے مذاہب نقل کرتے ہیں؛وہاں اپنے استاذ امام بخاری کے مسلک کونقل نہیں کرتے ، حالاں کہ وہ ان کے بہت ہی چہیتے شاگرد ہیں،البتہ اسی امت، جس نے بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ تسلیم کیا ہے؛اسی نے ابوحنیفہ ،مالک ،شافعی اور احمد کو بطورمجتہد کے قبول کیا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ امام بخاری کی اصل نظر راویوں کے کمزور اور ضعیف ہو نے پر رہتی ہے،روایتیں جمع کرنے سے ان کا مقصدفتوی دینا نہیں ہوتاہے ؛تبھی تو وہ منسوخ روایات کو بھی اپنی کتاب میں جگہ دیتے ہیں؛حالاں کہ عمل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔

دوسری بات:ہرامام کے مسلک میں کچھ نہ کچھ فتاوی ایسے ضرور ہیں؛جو احادیث کے خلاف معلوم ہوتے ہیں ؛لہٰذا کیوں نہ ایک ایسے نئے مسلک کی بنیاد ڈال دی جائے؛جو اس طرح کی کمیوں اورکمزوریوں سے پاک ہوں؟جواب یہ ہے کہ ان کمیوں کے قائل تو مسلمان روز اول ہی سے ہیں؛چوں کہ غیر نبی معصوم نہیں ہوتا،غلطیاں اس سے سرزد ہونا بشریت کالازمہ ہے ؛اسی وجہ سے تو ہرمسلک کے علماء شروع سے یہ کام کرتے چلے آرہے ہیں کہ ان کے ائمہ سے اگر کسی مسئلہ میں کوئی فروگزاشت ہوگئی ہے اور وہ مسئلہ حدیث اور قرآن سے ٹکراتاہے ؛تو تحقیق اور تفتیش کے بعد اصول وضوابط کے دائرے میں رہ کر اس فتوی کو تبدیل کردیتے ہیں۔چناں چہ چاروں ائمہ کے مسالک والوں میں دیکھا جاتاہے کہ امام کا مسلک کچھ ہوتاہے ؛مگران کے مقلدین کا عمل کسی اور فتوی پرہوتاہے۔بات یہ ہے کہ ابتدامیں مسالک بہت تھے؛مگرشروع سے اس طرح سے تنقیح و تہذ یب انہی چار مسالک کی ہوتی رہی ہے؛اسی وجہ سے کہاجاتاہے کہ یہ چاروں مسالک منقّہ اورمنزّہ ہیں،غیر مجتہد کے عمل کے لیے ان سے بہتر کوئی اور مذہب (امام مہدی سے قبل )ہوہی نہیں سکتا ۔

اور اس زمانہ میں جن لوگوں نے ان مذاہب حقہ سے بغاوت کرکے الگ سے ایک نئے مسلک کی بنیاد رکھنی چاہی ہے ؛انھوں نے منھ کی کھائی ہے ۔ان کے فتاوے کو دیکھیے اورسر پیٹیے کہ کس طرح ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول پر بہتان باندھا اورکتنی ڈھٹائی اوردلیری سے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال کردہ اشیا کو حرام ٹھہرایا۔بتایئے! اپنے عمل کے خلاف پائی جانے والی احادیث کو ضعیف کہہ کران کا انکارکون کرتاہے؟ (دانستہ یا نادانستہ طور پر شریعت کو ناقص کرنیکے لیے) بخاری اورمسلم کے علاوہ تمام احادیث کی کتابوں سے دست بردا ر ہونے کی مہم امت میں کون چلا رہا ہے ؟ تمام صحابہ کو بدعتی کون کہتا ہے؟ بیوی کے ساتھ لواطت کے جواز کا فتوی کون دیتاہے ؟زمانہ حیض میں عورتوں کوتلاوت قرآن کی اجازت کو ن دیتا ہے ؟ عورتوں کی چھاتی سے نامحرم مردوں کو دودھ پینے کی اجازت کس نے دی؟ان تمام کرتوتوں کا سہرا اسی گروپ کے سرجاتاہے؛جو مسالک قدیمہ سے بغاوت کرکے ایک نئے مسلک کی بات کرتا ہے اورعوام سے جاکر کہتاہے کہ اللہ اور رسول کو مانو گے یا کہ ابوحنیفہ ،شافعی ،مالک اوراحمد رحمہم اللہ کو؟۔اللہ ہم سب کی اس فتنہ سے حفاظت فرمائے !









اہلِ بدعت سے لی گئی روایات کا حکم



اہلِ بدعت سے وہ لوگ مراد ہیں جوبدعت فی العقائد کے مجرم ہوئے، جیسے: معتزلہ، قدریہ، شیعہ، خوارج، کرامیہ اور جہمیہ وغیرہ، بدعت فی الاعمال اس سے اخف ہے اور اہلِ بدعت دونوں ہیں، جن محدثین نے فن حدیث پر بطور ایک فن کے نظر کی ان کا نقطۂ صرف یہ رہا کہ جوصورت بھی ہو روایت صحیح ہو انہیں کسی بدعتی میں بھی بیان کی پختگی نظر آئی توانہوں نے اس سے روایت لے لی، جن علماء نے حدیث کومحض ایک فن کے طور پر نہیں پورے تدین اور اعتماد سے دیکھا انہوں نے اہلِ بدعت سے روایت لینے کوجائز نہ سمجھا، وہ دین کو بدعتی سے حاصل کرنا جائز نہ سمجھتے تھے۔
حضرت امام ابنِ سیرینؒ (۱۱۱ھ) اور حضرت امام مالکؒ (۱۷۹ھ) اہلِ بدعت سے روایت لینے کے حق میں نہیں، وہ اس کی اجازت نہیں دیتے، امام ابویوسفؒ (۱۸۲ھ)، حضرت سفیان ثوریؒ(۱۶۱ھ) اور امام شافعیؒ (۲۰۴ھ) اس کے جواز کے قائل ہیں، یہ حضرات کہتے ہیں کہ سوائے روافض (اثناعشری شیعوں) کے دیگراہلِ بدعت سے (اگروہ جھوٹ بولنے والے نہ ہوں اور ان کی یادداشت کمزور نہ ہو) روایت لی جاسکتی ہے، امام احمد بن حنبلؒ (۲۴۱ھ) اس میں تفصیل کے قائل ہیں، جواہلِ بدعت اپنی بدعات کوفروغ دینے والے ہوں ان کی روایت کسی صورت میں قبول نہ کی جائے گی اور غیرداعی اہل بدعت کی روایت دیگر شرائط پوری ہونے پر قبول کی جاسکتی ہے۔
روافض سے روایت نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ تقیہ ان کے مذہب کا جزو ہے وہ کسی مذہبی مصلحت سے خلاف واقعہ بات کہنا جائز سمجھتے ہیں؛ سونہیں کہا جاسکتا کہ وہ کہاں کہاں جھوٹ بول رہے ہیں       ؎
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
خطیب بغدادی لکھتے ہیں:

"وقال کثیر من العلماء یقبل اخبار غیرالدعاۃ من اہل الاھواء فاما الدعاۃ فلایحتج باخبارہم"۔

(الکفایہ فی علوم الروایہ:۱۲۱)

ترجمہ:بہت سے علماء نے کہا ہے کہ ان اہل بدعت کی جوداعی الی البدعۃ نہ ہوں روایت قبول کی جاسکتی ہے؛ لیکن ان لوگوں کی جواپنی بدعات کی طرف دعوت دیتے ہیں روایت سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے شرح صحیح مسلم میں اس پرتفصیل سے بحث کی ہے۔      

(فتح الملہم:۱/۶۵)

امام مالکؒ تویہاں تک فرما گئے کہ:

"لایوخذ العلم عن اربعۃ عن مبتدع ولاعن سفیہ ولاعمن یکذب فی احادیث الناس وان کان یصدق فی احادیث النبی   ولاعمن لایعرف ھٰذا الشان"۔

ترجمہ:علم حدیث چارشخصوں سے نہ لیا جائے، نہ بدعتی سے نہ بیوقوف سے نہ اس شخص سے جولوگوں کی باتوں میں جھوٹ بول لیتا ہو؛ اگرچہ حدیث نبوی میں سچ ہی کہتا ہو اور نہ اس سے جواس (موضوع) کی شان کو ہی نہ جانتا ہو۔         

(مقدمہ اوجز المسالک:۶)

جہاں تک ہوسکے اہلِ بدعت سے روایت نہ لے اگر کہیں روایت بایں نظرلی ہے کہ شاید کسی دوسری روایت میں متابعت کے کام آئے توبھی ان لوگوں کی مجلس کولازم نہ پکڑے؛ تاکہ انہیں باقاعدہ استاد نہ کہنا پڑے اور وہ بھی پوری احتیاط کے ساتھ، سیدنا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:

"ولا شک ان اخذ الحدیث من ہذہ الفرق یکون بعد التحری والاستصواب ومع ذلک، الاحتیاط فی عدم الاخذ لانہ قد ثبت ان ھؤلاءِ الفرق کانوا یضعون الاحادیث لترویج مذاھبھم وکانوا یقرون بہ بعد التوبۃ والرجوع واللہ اعلم"۔        

(مقدمہ مشکوٰۃ:۶)

ترجمہ:اس میں شک نہیں کہ ان فرقوں سے حدیث لینا غور اور پڑتال کے بعد ہی چاہئے اور اس کے باوجود احتیاط نہ لینے میں ہی ہے؛ کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ لوگ اپنے خیالات باطلہ کورواج دینے کے لیے حدیثیں گھڑتے تھے اور جب (ان میں کسی کو) توبہ کی توفیق ہوجاتی تواقرار کرتے (کہ انہوں نے بدعقیدگی کے دور میں کیا کیا حدیثیں گھڑی تھیں)۔

یہ ادب واحترام توشیخ کے عقائد واعمال کے متعلق ہے کہ اہلِ حق میں سے ہو گمراہ فرقوں میں سے نہ ہو،تاہم اس ادب واحترام کا بھی اپنا ایک مقام ہے جواخلاق وعادات کی راہ سے قائم ہوتا ہے۔








"مضطرب" حدیث کی تعریف:
جو ثقہ (قابل اعتماد) راویوں کی صحیح سند (راویوں کے سلسلہ) سے مذکور تو ہو، لیکن اس کی سند (راویوں کے سلسلہ) یا متن (الفاظ حدیث) میں ایسا اختلاف ہو کہ اس میں کسی کو ترجیح یا تطبیق (جوڑ) نہ دی جا سکے؛

لغوی اعتبار سے "مضطرب"، "اضطراب" کا اسم فاعل ہے جس کا معنی ہے کسی معاملے میں اختلال پیدا ہو جانا اور نظام میں فساد پیدا ہو جانا۔ اپنی اصل میں یہ لہروں کے اضطراب سے نکلا ہے کیونکہ لہریں کثرت سے حرکت کرتی ہیں اور بے ترتیبی سے ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔

          اصطلاحی مفہوم میں یہ ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جو متعدد اسناد سے روایت کی گئی ہو۔ تمام اسناد قوت میں ایک دوسرے کے برابر ہوں لیکن ان میں کوئی تضاد پایا جاتا ہو۔


"مضطرب" حدیث کی تعریف کی وضاحت:
مضطرب وہ حدیث ہوا کرتی ہے جس میں ایسا تضاد پایا جاتا ہو جس کی موافقت کرنا ممکن ہی نہ ہو۔ یہ تمام روایات ایسی اسناد سے مروی ہوں جو قوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے برابر ہوں جس کے باعث ایک روایت کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جا سکے۔


اضطراب کی تحقیق کرنے کی شرائط:
مضطرب حدیث کی تعریف اور اس کی وضاحت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی حدیث کو اس وقت تک مضطرب قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ اس میں دو شرائط نہ پائی جاتی ہوں:

·       حدیث کی مختلف روایات میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہو جس میں موافقت پیدا کرنا (Reconciliation) ممکن ہی نہ ہو۔

·       روایات سند کی قوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے برابر ہوں جس کے باعث ایک روایت کو دوسری پر ترجیح دینا بھی ممکن نہ ہو۔

اگر ایک روایت کو دوسری پر ترجیح دینا ممکن ہو یا ان میں کسی وضاحت کے ذریعے موافقت پیدا کی جا سکتی ہو تو اس حدیث میں سے "اضطراب" ختم ہو جائے گا۔ اگر کسی ایک روایت کو ترجیح دی گئی ہے تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اگر ان میں موافقت پیدا کر دی گئی ہے تو تمام احادیث پر عمل کریں گے۔


"مضطرب" حدیث کی اقسام:
مضطرب حدیث کو اضطراب کی جگہ کے اعتبار سے دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مضطرب السند اور مضطرب المتن۔ ان میں سے پہلی قسم زیادہ طور پر پائی جاتی ہے۔

مضطرب السند کی مثال یہ حدیث ہے:

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا، "یا رسول اللہ! میں آپ کے بال سفید ہوتے دیکھ رہا ہوں۔" آپ نے فرمایا، "ہود اور ان کے بھائیوں (یعنی دیگر انبیاء کی قوموں پر عذاب) کے واقعات نے میرے بال سفید کر دیے ہیں۔" (رواه الترمذي ـ كتاب التفسير)

          امام دارقطنی بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ اس حدیث کو صرف ابو اسحاق کی سند سے روایت کیا گیا ہے۔ ان کی بیان کردہ اسناد میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ کہیں تو کسی راوی نے اسے مرسل (صحابی کا نام بتائے بغیر) روایت کیا ہے اور کہیں موصول (ملی ہوئی سند کے ساتھ)۔ کسی نے اس کا سلسلہ سند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تک پہنچایا ہے، کسی نے سعد رضی اللہ عنہ تک اور کسی نے عائشہ رضی اللہ عنہا تک۔ ان تمام روایتوں کے راوی ثقہ ہیں جس کی وجہ سے کسی ایک روایت کو ترجیح دینا ممکن نہیں اور ان میں مطابقت پیدا کرنا بھی ممکن نہیں۔

مضطرب المتن حدیث کی مثال یہ حدیث ہے:

ترمذی شریک سے، وہ ابو حمزہ سے، وہ شعبی سے اور وہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے زکوۃ سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، "زکوۃ کے علاوہ بھی مال سے متعلق ذمہ داری ہے۔"

ابن ماجہ نے یہی حدیث ان الفاظ میں روایت کی ہے "زکوۃ کے علاوہ مال سے متعلق کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے۔" عراقی کہتے ہیں کہ یہ ایسا اضطراب ہے جس کی کوئی توجیہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

اضطراب کس سے واقع ہو سکتا ہے؟
اضطراب کسی ایک راوی سے بھی واقع ہو سکتا ہے اگر وہ مختلف الفاظ میں ایک ہی حدیث کو روایت کر رہا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اضطراب ایک سے زائد راویوں سے ہو جائے کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے مختلف الفاظ میں اس حدیث کو روایت کر رہا ہو۔

"مضطرب" حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ:
مضطرب حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اضطراب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ راوی حدیث کو صحیح طور پر محفوظ نہیں کر سکے۔

"مضطرب" حدیث سے متعلق مشہور تصنیف:
حافظ ابن حجر کی کتاب "المقترب فی بیان المضطرب۔"
================================
آج کل ایک چھوٹا سا طبقہ قرآن و حدیث کے نام پر لوگوں کو ائمہ اور ان کی فقہ (دینی سمجھ و تفسیر) کے خلاف گمراہ کرتے، تہجد اور تراویح نماز کا ایک ہونا ثابت کرنے کی بھونڈی و ناکام کوشش کرتے اس حدیث کو ٨ رکعت تراویح کے لئے پیش کرتے ہیں:
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .[صحيح البخاري » رقم الحديث: 1883]
[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 793 (3356)]
ترجمہ : حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں کتنی رکعت نماز پڑھتے تھے؟۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھتے تھے نہ رمضان میں اور نہ غیر رمضان میں آپ چار رکعت پڑھتے تھے اس کی خوبی اور درازی کی کیفیت نہ پوچھو پھر چار رکعت نماز پڑھتے تھے تم ان کی خوبی اور درازی کی کیفیت نہ پوچھو اس کے بعد تین رکعت پڑھتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے آرام فرماتے ہیں۔ فرمایا میری آنکھ سو جاتی ہے لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے۔

یہ استدلال کسی طرح صحیح نہیں؛ اس لیے کہ
﴿۱لف﴾ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی اس روایت میں رمضان ((اور غیر رمضان)) میں گیارہ رکعات اس ترتیب سے پڑھنے کا ذکر ہے چار، چار اور تین۔[بخاري : ١٨٨٣ ؛ مسلم : 1225] اور دوسری صحیح حدیث میں دس اور ایک رکعات پڑھنے کا ذکر ہے،[مسلم : 1228] اور ایک صحیح حدیث میں آٹھ رکعات اور پانچ رکعات ایک سلام کے ساتھ جملہ تیرہ (۱۳) رکعات پڑھنے کا ذکر ہے[مسلم : 1223] اور ایک صحیح حدیث میں نو (۹) رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے۔[مسلم : 1226] حضرت عائشہ کی روایت کردہ یہ تمام حدیثیں ایک دوسرے سے رکعات اور ترتیب میں معارض (باہم ٹکراتی) ہیں۔ ایک روایت پرعمل کرنے سے دوسری حدیثوں کا ترک لازم آئے گا؛ لہٰذا ان حدیثوں کی توجیہ و تاویل کرنی ضروری ہوگی۔ علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضی الله عنہم سے مروی روایات بھی حضرت عائشہ کی اس روایت سے ترتیب اور رکعات میں مختلف ہیں، جیسا کہ حضرت عبدالله ابن عباس کی صحیح روایت میں دو رکعات چھ مرتبہ جملہ بارہ (۱۲) رکعات پھر وتر پڑھنے کا ذکرہے۔ اورایک مرسل حدیث میں سترہ (۱۷) رکعات پڑھنا مذکور ہے۔(مصنف عبدالرزاق: ۴۷۱۰) لہٰذا حضرت عائشہ کی صرف ایک ہی روایت سے تراویح کی گیارہ رکعات پر اصرار کرنا اور باقی حدیثوں کا ترک کرنا صحیح نہ ہوگا۔

(۲) حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی اس روایت میں "أتنام قبل أن توتر" کے الفاظ ہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ سو کراٹھنے کے بعد نماز ادا فرماتے تھے، اور دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم رمضان کی راتوں میں سوتے نہیں تھے، جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ: إذا دَخَلَ رمضانَ شَدَّ مِئْزَوَہ ثم لم یَأتِ فِراشَہ حتی یَنْسَلِخَ (یعنی پورا رمضان بستر کے قریب نہیں آتے تھے) [صحيح ابن خزيمة : 2070] نیز حضرت ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں پوری رات تراویح پڑھانا ثابت ہے؛ لہٰذا اس حدیث کو تراویح پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے۔

(۳) حضرت عائشہ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے کمرہ میں نماز ادا فرما کر آرام فرمایا، جب کہ تراویح کی احادیث میں اکثر مسجد میں ((جماعت)) سے نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؛ لہٰذا گیارہ (۱۱) رکعات کی اس حدیث کو تراویح سے جوڑنا، اور بیس (۲۰) رکعات کی نفی میں اس حدیث کو پیش کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔

(۴) حدیث کے مطابق اس نماز کے بعد وتر بھی اسی کی طرح اکیلے ہی پڑھتے، جبکہ یہ لوگ اسی حدیث کے خلاف خود وتر بھی جماعت سے پڑھتے ہیں، کیوں ؟؟؟

(٥) حضرت عائشہ کی گیارہ (۱۱) رکعات کی روایت کے اخیر میں أتَنَامُ قَبْلَ أن تُوتِرَ (کیا وتر پڑھے بغیر آپ سوگئے تھے؟) کے الفاظ قابلِ غور ہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ نماز وتر ہو؛ اس لیے کہ حضرت عائشہ کی دوسری حدیث (صحیح مسلم۱۷۷۳) میں نو (۹) رکعات وتر پڑھ کر دو رکعات جملہ گیارہ پڑھنے کا ذکر ہے۔

اس حدیث کو امام بخاریؒ((كتاب التهجد)) میں بھی لائیں ہیں اور ((كِتَاب : صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ)) میں بھی لائیں ہیں، اور اس پوسٹ میں یہ بات ثابت کی جا چکی کہ امام بخاریؒ تراویح کے بعد تہجد بھی پڑھتے، معلوم ہوا کہ آپ ان دونوں کو الگ الگ نماز سمجھتے پڑھتے اور انھیں علیحدہ علیحدہ باب میں ذکر بھی ذکر کرتے ان کا الگ الگ ہونا مانتے.

ویسے تو یہ بخاری بخاری چلاتے ہیں، لیکن اپنا مسلک ثابت کرنے کے لئے بخاری کو چھوڑ کر ((مسلم)) کی طرف چلے، مسلم کی اس حدیث میں سرے سے تراویح کا ذکر ہی نہیں، تہجد کا ذکر ہے جس کا کون منکر ہے؟ لہذا موضوع سے ہی خارج ہے.
اور اس حدیث پر خود ان کا بھی عمل نہیں اس لئے کہ خود ترجمہ یہ کیا ہے کہ "فجر کی اذان تک" یہ نماز جس کو خود تراویح کہہ رہے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم پڑھتے تھے، جبکہ آج خود عشاء کی نماز کے فوراً بعد آٹھ (٨) رکعت پڑھ کر نیند کے مزے لیتے ہیں. صحیح حدیث پر تو ان کا بھی عمل نہیں ہم سے گلا کس بات کا؟؟؟


اسی لیے امام قرطبی (المتوفى : 463هـ) (اس حدیث کا حکم) فرماتے ہیں : قال القرطبي : أشكلت روايات عائشة على كثير من العلماء حتى نسب بعضهم حديثها إلى الاضطراب ، وهذا إنما يتم لو كان الراوي عنها واحداً أو أخبرت عن وقت واحد .

[فتح الباری شرح صحیح البخاری ، لامام ابن حجر : ٣/١٧، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، علامہ عینی : 11/294 ، شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك: ، شرح الزرقاني علي المواهب اللدنيه : 1/549]؛

ترجمہ : "مشتبہ ہوئیں حضرت عائشہ کی روایات بہت ہی زیادہ علماء پر حتاکہ منسوب کیا ان میں سے بعض نے اس حدیث کو اضطراب کی طرف (یعنی مضطرب حدیث کہا)"؛


==================================================================

محدثین میں حدیث کی تصحیح کے دونوں طریقے رائج رہے ہیں:
(۱) راویوں کی ثقاہت ان کے باہمی اتصال اور شذوذ ونکارت سے سلامتی معلوم کرکے بھی کسی حدیث کوصحیح کہہ سکتے ہیں۔
(۲) کبھی ان تفصیلات میں جائے بغیر اکابر علمائے فن کی تصحیح پر اعتماد کرکے بھی کسی حدیث کوصحیح کہا جاسکتا ہے۔
قبولیت روایت میں اصل الاصول اعتماد ٹھہرا توجس طرح سے بھی یہ اعتماد حاصلہوسکے روایت قابلِ قبول ہوجاتی ہے۔
ہرفن میں اکابرِ فن کی تقلید کی جاتی ہے، اس سے انسان اسی وقت نکلتا ہے جب خود براہِ راست راویوں کی جانچ پڑتال کرسکے اور اس کی جملہ طرق پر نظر ہوسکے، اس کے بغیراعتماد سے چارہ نہیں، اس اعتماد کوبھی علم کی ہی ایک شان سمجھنا چاہیے، تقلید سے مراد دوسرے کے علم پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی دلیل مانگے بغیر اس کی بات کوقبول کرنا ہے، جس بات میں خود مضبوط علم حاصل نہ ہو تقلید سے چارہ نہیں، ہاں جب کسی بات کی براہِ راست تحقیق ہوجائے اور اس میں کوئی شک اور دغدغہ نہ رہے توپھرتقلید درست نہیں؛ لیکن جب تک راویوں کا پورا علم خود حاصل نہ ہو محدثین کرام جوائمہ فن ہیں ان کی تصحیح اور ان کی تضعیف سے بھی علماءِ حدیث کسی روایت کوصحیح یاضعیف کہہ سکتے ہیں۔
حضرت عبدالرحمن بن مہدیؒ (۱۹۸ھ) جرح وتعدیل کے جلیل القدر امام ہیں، آپ اس اعتماد کے یہاں تک قائل تھے کہ اسے الہام کا درجہ دیتے تھے، جس طرح الہام کی خارج میں کوئی دلیل نہیں ہوتی، ایک وجدان ہے جواندر ہی اندر بولتا رہتا ہے؛ اسی طرح محدثین کرام کوفن کے کمال سے جوذوق ووجدان ملتا ہے اس پر وہ بعض حدیثوں کوراویوں کی ثقاہت اور سند کے اتصال کے باوجود قبول نہیں کرتے، حضرت عبدالرحمن بن مہدیؒ (۱۹۸ھ) کہتے ہیں:

"ومعرفۃ الحدیث الھام فلوقلت للعالم لعلل الحدیث من این قلت ھذا؟ لم یکن لہ حجۃ"۔             (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:۱۱۳)

ترجمہ: حدیث کی معرفت ایک الہامی چیز ہے جودل میں اُترتی ہے؛ اگرمیں علل حدیث کے کسی عالم سے کہوں کہ تم یہ بات کہاں سے کہہ رہے ہوتواس کے پاس اس کا جواب نہ ہوگا۔



تصحیح روایت میں محدثین پر اعتماد

حافظ شمس الدین الذہبیؒ لکھتے ہیں:
إذ العمدة في زماننا ليس على الرواة بل على المحدثين والمفيدين والذين عرفت عدالتهم وصدقهم في ضبط أسماء السامعين (میزان الاعتدال:۱/۴)
ترجمہ: ہمارے پاس اس دور میں (تحقیق حدیث میں) اعتماد راویوں پر نہیں کیا جاسکتا؛ بلکہ محدثین اور اساتذہ پر ہے اور ان لوگوں پر جن کی عدالت اور سچائی راویانِ حدیث کے ناموں کو یاد رکھنے میں جانی پہچانی جاچکی ہے۔

جب تک راویانِ حدیث اپنی سند سے حدیثیں روایت کرتے رہے تحقیق حدیث کا طریق راویوں کی جانچ پڑتال ہی رہا؛ لیکن جب سندوالی کتابیں مدون ہوچکیں اور اس جمع شدہ ذخیرے سے ہی حدیث آگے چلی تواس دور میں علیحدہ علیحدہ راویوں کی جانچ پڑتال کے ساتھ حاذق محدثین کی تحقیق اور اکابراساتذہ فن کا ذوق بھی ساتھ Instinct چلنے لگے تواب راویوں کی بجائے اساتذہ فن کے فیصلوں پراعتماد کے بغیر آگے نہیں چل سکتے؛ یہاں اہلِ فن کی تقلید سے چارہ نہیں، ہرشخص کا ذوق اس درجے میں پختہ نہیں ہوتا کہ محض راویوں کے حالات جان کرپوری سندع اور پوری حدیث پر وہ کوئی حکم لگاسکے، حافظ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:

"ان الجرح انما جرز فی الصدرالاول حیث کان الحدیث یوخذ من صدور الاحبار لامن بطون الاسفار فاحتیج الیہ ضرورۃ للذب من الاثارومعرفۃ القبول والمردود من الحدیث والاخبار واماالآن فالعمدۃ علی الکتب المدونۃ"۔

(الکادی فی تاریخ السخاوی کما فی الرفع والتکمیل:۵۰)

ترجمہ:راویوں پرجرح کرنا پہلے دور میں اس لیئے جائز رہا کہ حدیث علماء کے سینوں سے لی جاتی تھی نہ کہ کتابوں کے اوراق سے؛ سواس کی ضرورت رہی تاکہ آثار کی حفاظت کی جاسکے اور احادیث واخبار میں مقبول ومردود کو پہچانا جاسکے؛ لیکن اب اعتماد کتب مدونہ پر ہونا چاہیے۔

امام احمد بن حنبلؒ (۲۴۱ھ) کی کتاب "کتاب العلل" ومعرفۃ الحدیث، امام ترمذیؒ (۲۷۹ھ) کی "کتاب العلل" اور ابن ابی حاتم کی "کتاب الجرح والتعدیل" اس سلسلہ کی بہت مفید کتابیں ہیں اور امام احمدؒ کی یہ کتاب انقرہ سے اور ابن ابی حاتم کی یہ کتاب حیدرآباد دکن سے شائع ہوئی ہے، ایک موضوع پر دوحدیثیں مروی ہوں راوی ہردوکے ثقہ ہوں اور اتصالِ رواۃ بھی اپنی جگہ قائم ہواور سند صحیح ہے توایسے موقعوں پر محدثین علل روایت میں چلے جاتے ہیں، علت کا پالینا ایک بڑی علمی مرتبہ ہے، عبدالرحمن بن مہدی اس کوالہامِ الہٰی سے تعبیر کرتے تھے؛ پھربھی کوئی حل نہ ملے توترجیح وتطبیق کی راہ لینے سے چارہ نہیں۔
=============================================



من گھڑت اور غیرمعتبر روایات:

بنیادی عوامل اور ان کے سدِّباب کی راہیں



اسلام میں اَحادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مصدر ثانی کی اساسی حیثیت حاصل ہے،جس میں نقب زنی سے حفاظت کا انتظام عہد رسالت کی ابتداء ہی سے کر دیا گیا تھا،اور یہ صیانت و حفاظت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا نتیجہ تھی:
”مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہ مِنَ النَّارِ“(۱)
ترجمہ:”جس نے مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔
جاں نثار صحابہ آپ صلّی الله علیہ وسلّم کے اس ارشاد سے ہر دَم خوفزدہ رہتے تھے اور آپ صلّی الله علیہ وسلّم کا یہ دستور، ہمہ وقت اُن کی نگاہوں کے سامنے رہتا تھا،صحابہ کی اسی کیفیت کوعلامہ جلال الدین سیوطی نے اِن لفظوں میں بیان کیا ہے :
”سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان، محافل صحابہ میں اتنی شہرت اختیار کر گیا تھا کہ آج بھی کتبِ حدیث میں سو سے زائد ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام محفوظ ہیں،جن سے یہ روایت منقول ہے“۔(۲)
اگراِن تمام طُرق اور روایات کو بنظر غائردیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہمہ گیری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا،کیونکہ جہاں اِبتدائے نبوت کی خفیہ مجالس میں اِس حدیث کی سرگوشیاں تھی،وہاں اِکمال نبوت یعنی خطبہ حجة الوداع کے عظیم اجتماع میں بھی اسی اعلان کی گونج تھی،جہاں عشرہ مبشّرہ اس روایت کو نقل کر رہے ہیں، وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے عام وخاص بھی اس کو دُہرا رہے تھے،صحابہ رضی اللہ عنہم میں جس طرح یہ ارشاد زبان زَد خاص و عام تھا، صحابیات رضی اللہ عنہن کی مجالس بھی اس فرمان سے مزیّن تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کا اثر تھا کہ جب ذخیرہٴ اَحادیث میں من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے ذریعے رَخنہ اندازی کی مذموم کوششیں شروع ہو گئیں، تو محدثینِ کرام نے احادیث کے صحت و سُقَم کے مابین ”اِسناد“ کی ایسی خلیج قائم کر دی،جس کی مثال اُممِ سابقہ میں ملنا مُحال ہے،محدثینِ کرام نے احادیث کو خس وخاشاک سے صاف کرنے کے لیے یہی ”میزانِ اِسناد“ قائم کی، جس کے نتیجے میں اصولِ حدیث کے مبارک علوم وجود میں آتے رہے، ضعیف اور کذّاب راویوں پر مستقل تصانیف کی گئیں،انہی متقدمین علماء نے کتب العِلَل میں ساقط الاعتبار(غیر معتبر) احادیث کو واضح کیا، علماء متأخرین نے بھی باقاعدہ مُشتَہَرات (زبان زَد عام روایات پر مشتمل کتابیں)، ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات پر کتابیں لکھیں؛چنانچہ ہر زمانے میں احادیث کا ذخیرہ محفوظ شاہراہ پر گامزن رہا، غرضے کہ روئے زمین پر جہاں کہیں اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے،وہ حدیث کے محافظین خودساتھ لایا ہے۔
ہندوپاک میں ساقط الاعتبار اور من گھڑت روایات اور اُن کا سدّباب
اگر ہم اپنے خطّے برّصغیرہندوپاک کا جائزہ لیں،تو موضوعات کی روک تھام میں سرفہرست علامہ ابو الفضل الحسن بن محمد صاغانی لاہوری کا نام نظر آتا ہے، آپ ۵۷۷ھ لاہور (پاکستان) میں پیدا ہوئے،اور حدیث و لغت کی دیگر خدمات کے ساتھ، خود ساخطہ روایات پر دو گراں قدر کتابیں لکھی:
۱- الدُرَرُ المُلْتَقَط في تَبْیَینِ الغَلَط
۲- موضوعات الصَّغَانِي
من گھڑت اور غیر معتبر روایات کے بنیادی عوامل
ہندوپاک میں َمن گھڑت اور باطل روایات کا مطالعہ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے،جن میں یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ برّصغیر ہندوپاک میں وہ کونسے قدیم بنیادی طبقات ہیں،جو یہاں خود ساختہ روایات کی ترویج میں راہ ہموار کرتے رہے ہیں؟اس سوال کے جواب میں سب سے قدیم تحریر علامہ صاغانی  ہی کی ملتی ہے، جس سے ہمیں بڑی حد تک اس مسئلے کے جواب میں رہنمائی ملتی ہے، چنانچہ علامہ صاغانی ”الدُّررُ المُلْتقَط“(۳) میں اپنی تصنیف کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”وقد کَثُرَتْ في زَمَانِنا الأحادیث الموضوعةُ، یروِیھا القصاصُ علی رُوٴوس المَنَابِر والمجالسِ، ویَذْکُرُ الفُقَرَاءُ والفُقَھَاءُ في الخَوَانِقِ والمَدَارِسِ، وتَدَاوَلَتْ في المَحَافِل، واشْتُھِرَتْ في القَبَائِل، لِقِلَّة مَعْرِفَةِ النَّاس بعِلْمِ السُنَنِ، وانْحِرَافِھم عن السُّنَنِ“
اس عبارت میں امام صاغانی نے موضوعات اور غیر معتبر روایات کی اِشاعت میں مُلوَّث چند عوامل کا ذکر کیا ہے،ملاحظہ ہو:
$  قصہ گَو برسرِ منبر اورعام مجالس میں من گھڑت روایتیں بیان کرتے تھے،ایسے ہی جاہل صوفیاء اور جاہل فقہاء کی مجالس بھی ان باطل مرویّات سے پُر تھیں۔
$  اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ یہ خود ساختہ عبارتیں ملّت اسلامیہ کے ہر طبقے اور قبیلے میں رواج پاتی رہیں، اور یہی کلام، مجالس کی زینت بنتا رہا،بالآخر موضوعات کی یہ گرم بازاری پورے معاشرے میں سرایت کر گئی۔
$  اس شرعی اِنحطاط کا باعث صرف معرفتِ حدیث سے دوری تھی۔
وضّاعین کی اقسام اور ان کے مذموم مقاصد
علامہ صاغانی  کا گزشتہ اِقتباس ہماری قدیم خستہ حالی کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جس میں مذکورطبقات ہمارے سابقہ سوال کا اجمالی جواب ہیں،مزید وضاحت کے لیے ہم علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ کے اس مقدمے (۴)کو بہت ہی معاون پاتے ہیں،جس میں انھوں نے حدیث گھڑنے والوں کی اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے، انھیں کئی اقسام پر تقسیم کیا،اِن اقسام سے ہم بخوبی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ برصغیر ہندوپاک میں وہ کونسے حلقے،اَفراد اور گروہ ہیں،جن کے ہاں موضوع روایات کا ایک بڑا ذخیرہ جنم لیتا رہا ہے،بالفاظ دیگر یہ روایات انھیں کے راستے سے مشہور ہوئیں۔
۱-زَنادِقہ
زَنادِقَہ،ان کا مقصد اُمت میں رطب ویابس پھیلا کر شریعت کو مسخ کرنا ہے،علامہ عبدا لحی لکھنوی نے اس عنوان کے تحت ہندوپاک کے ”فرقہٴ نیچریہ“ اور اُن کے گمراہ کُن عقائد کا ذکر کیا ہے، آپ نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ فرقہ نصوصِ شرعیہ میں تحریف(تبدیلی) لفظی ومعنوی کا مرتکب رہا ہے۔
۲-موٴیدینِ مذاہب
دوسری قسم اُن افراد کی ہے،جنہوں نے اپنے مذہب اور موقف کی تائید میں روایتیں گھڑیں،اِس عنوان کے تحت علامہ عبد الحی لکھنوینے حدیث میں خوارج کے طریقہٴ واردات کو بیان کیا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ بعض خوارج نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ہم نے اپنے موقف اور رائے کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی احادیث گھڑی ہیں ۔
یہاں برّصغیر ہندوپاک میں موجود اہل سوء اور بدعتیوں کا ذکر بھی برمحل ہے،جنہوں نے اس خطّے میں بہت سی مُحدَثَات(دین میں نئی باتیں) اور بدعات کو سند جواز فراہم کیا، اور اپنی اِختراعات کے ثبوت میں، من گھڑت اورساقط الاعتبار روایتوں کا سہارا لیا۔
۳-اصلاح پسند اَفراد
تیسرا طبقہ اُن افراد کا ہے،جنہوں نے لوگوں کی اصلاح کے خیال سے ترغیب وترہیب کی احادیث گھڑیں۔اس میں علامہ عبدالحی لکھنوینے ایک دلچسپ مثال بیان کی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ہندوپاک کے بعض اصلاح پسند لوگوں نے تمباکو نوشی سے زَجرووَعِید پر مشتمل احادیث وضع کی ہیں،پھر موصوف نے اس مضمون پر مشتمل وضّاعین کی آٹھ ایسی روایتیں لکھی ہیں، جو سب کی سب جعلی ہیں۔
۴-طبقہٴ جہلاء
چوتھی قسم اُن لوگوں کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ہر اَمرِخیر،اقوال زَرِیں وغیرہ کا انتساب، جائز سمجھتے ہیں؛حالانکہ معتبر سند کے بغیر اس طرح انتساب کرنا ہر گز جائز نہیں۔
 ۵-اہل غلو
ایک قسم اُن لوگوں کی ہے،جو عقیدت ومحبت میں اِفراط وغُلُوّ کا شکار ہوجاتے ہیں،اور اہل بیت، خلفائے راشدین،ائمہ کرام اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے باطل،بے اصل مضامین مشہور کردیتے ہیں۔
۶-واعظین
چھٹا طبقہ ان قصہ گَو واعظین کا ہے جو جعلی غرائبِ زمانہ سُنا کر عوام سے دادِ تحسین وُصول کرتے ہیں۔
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ کہ یہی طبقات اور اَفراد، خطہٴ ہند وپاک میں حدیث کی جعل سازی کا بیڑا اٹھائے رہے ہیں؛بلکہ اس تفصیل کے بعد ہم بصیرت سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے گرد و پیش ایسی بہت سی ہم معنی باطل احادیث پھیلی ہوئی ہیں،جو بلا تردّدانھیں خاص طبقات کی مذموم کوششوں کانتیحہ ہے۔
ہندوپاک میں تکاسلِ حدیث اور اس کے اسباب
اگرچہ برصغیر پاک و ہند میں زبان زَدْ عام رِوایات کی تنقیح بجا طور پر ہوتی رہی ہے،لیکن پھر بھی یہ سوال، جواب کا مستحق ہے کہ افرادِ اُمت عام طورپراحادیث میں صرف سطحی ذہن رکھنے والے ہیں،اور اکثر احادیث کی چھان بین کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، آخر، حدیث کے عنوان سے مزاجوں میں حسّاسیت اتنی مَدھم کیوں رہی ہے؟
تلاشِ بسیار کے بعد علامہ عبدالغزیز فرہاروی (۱۲۳۹ ھ) کی عبارت میں اس مُعِمّہ کا حل مل گیا۔علامہ عبد العزیز فرہاروی نے ”کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِہ الرَّوِي“(۵)میں ایک مقام پر بعض ایسی کتبِ تفسیر،کتب ِزہد،کتب ِ اَورَاد وغیرہ کا تذکرہ کیا،جن میں غیر مُعتبر احادیث بھی ہیں،پھر اِن کتابوں میں موجود ساقط الاعتبار احادیث کے اسباب ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”والسَّبَبُ أنّہ قَلَّ اشْتِغَالُھم بِصنَاعَةِ الحَدِیث، وأنّھم اعْتَمَدُ وا علی المشہورفي الألْسِنَة مِنْ تَحْسِیْنِ الظَّنّ بالمُسْلِم وأنَّھم انْخَدَعُوا بالکُتُب الغَیرِ المُنَقَّحَةِ الحَاوِیَةِ لِلرَّطْبِ والیَابِسِ،وأنَّہ لم یَبْلُغْھُم وَعِیدُ التَّھَاوُنِ في روایةِ الحَدِیثِ، وأیضاً منھم مَنْ یَعْتَمِدُ علی کُلِّ ما أسْنِدَ مِنْ غَیرِ قَدْحٍ وتَعْدِیلٍ في الرُّوَاة“
”(اِن کتب میں رطب ویابِس احادیث کی )وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے مصنّفین فنِ حدیث سے کم اِشتغال رکھتے ہیں،اور مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہوئے،زبان زَد عام روایتوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں(حا لانکہ ایسا اعتماد صرف ماہرِ فن پر ہی کیا جا سکتا ہے،نہ کہ حدیث میں کم اشتغال رکھنے والے پر)اور یہ مصنّفین رطب ویابس پر مشتمل، غیر منقّح کتابوں سے دھوکے میں پڑ جاتے ہیں،اور(ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ) ان مصنّفین کو حدیث نقل کرنے میں تہاون(حقیر سمجھنا) کی وعید نہیں پہنچی ہوگی،اور بعض مصنّفین سند کے راویوں کی جرح وقدح دیکھے بغیر، ہر سند والی روایت پر اعتمادکر لیتے ہیں“۔
اسبابِ تکاسل کا جائزہ
دراصل علامہ عبدالعزیز فرہاروی نے جن کتبِ حدیث و تفسیر وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے،یہ کتب برصغیر میں مُتَدَاول اور مُرَوّج ہیں اور ان کتابوں کے موٴلفین کی جلالت اور علوّ شان بلا شبہ مُسَلَّم ہے؛ لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اِن موٴلفین کافنِ حدیث میں اشتغال ناقص رہا ہے؛چنانچہ صاحبِ کتاب کی یہ کمزوری عوام میں بھی سرایت کرتی رہی اور احادیثِ موضوعہ معاشرے میں پھیلتی رہیں، بہرحال ذَیل میں ہم مولانا عبد العزیز فرہاروی کے بیان کردہ نِکات اور ان سے ماخوذ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔
فنّ حدیث میں اشتغال کی کمی
ان مصنّفین کی تالیفات میں رَطب و یابس روایات کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان موٴلفین نے علومِ حدیث سے ایسا اشتغال نہیں رکھا،جس سے ان میں اُصولِ حدیث کے مطابق،حدیث کے ردّو قبول کا مَلَکَہ اور اسے پرکھنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی،حتی کہ ہمارے زمانے میں بھی مُعتَد بہ تالیفات اس بات کی مقتضی ہیں کہ ان کے موٴلفین احادیث کے معاملے میں محض تحویل(حوالہ دینا) پر اکتفا نہ کریں؛ بلکہ حسبِ ضرورت اس بات کا پورا اطمینان حاصل کریں کہ یہ حدیث، معتبر سند سے ثابت ہے۔
محض حسنِ ظن کی بناء پر، روایات پر اعتماد
ان کتابوں میں باطل اور بے اصل روایتوں کے شُیوع کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مصنّفین ہر مسلم کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے،اور زبان زَد عام روایتوں کو حسنِ ظن کی بناء پر بلا تحقیق قبول کر لیتے تھے۔
واضح رہے کہ اس مقام پر مولانا عبد الحی لکھنوی نے لکھا ہے حدیث میں اعتماد کا مدار صرف ماہرینِ فن ہیں؛چنانچہ اگر کوئی شخص صناعتِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا ہو، توایسے شخص پر بلا تحقیق حسنِ ظن سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا(۶)۔
تہاونِ حدیث پر وعید سے نا آشنائی
ان کتب میں قابلِ رَدّ مواد کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات تہاونِ حدیث( یعنی رِوایتِ حدیث میں پوری احتیاط سے کام نہ لینا ) کی وعیدوں سے واقف نہیں ہوں گے، بلاشبہ ان حضرات کی عُلوّ شان اسی حسنِ ظن کی مقتضی ہے؛البتہ اس تہاون سے اجتناب کی اہمیت اپنی جگہ ہے، خاص طور پر عوامی حلقوں میں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کہ ملّت اسلامیہ کا ہر فرد یہ محسوس کر رہاہو کہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات ہرگز منسوب نہ کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو؛تاکہ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً․․․․․․ کا مصداق بننے سے بچ جاوٴں،ورنہ یہی تہاون نہ صرف غیر مستند روایات کو پھیلانے میں کام آتا ہے؛ بلکہ اِن روایتوں کو تحفّظ بھی فراہم کرتا ہے۔
تحقیق کا فقدان
ان تالیفات میں جو احادیث مُسنَد (سند والی روایات)تھیں،ان میں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ فن جرح و تعدیل کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے؛تاکہ قابلِ احتراز روایتیں ظاہر ہوجاتیں۔
ایک اہم فائدہ
اگر ہم بھی اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں،تو ہم دیکھتے ہیں کہ علم الروایہ(علمِ حدیث) میں ہمارا منتہیٰ صرف سندِ حدیث پانا ہے، اس کے بعد ہم کسی چیز کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؛حالانکہ صاحبِ کتاب سند بیان کر کے ایک حد تک اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے،اب اگلا مرحلہ ہم سے متعلق ہے کہ ہم حسبِ ضرورت،متقدمین اصحاب ِتخریج اور ائمہٴ علل کی جانب رجوع کریں،اور روایات کے قابل تحمّل(روایت لینا) ہونے کا پورا اطمینان حاصل کریں۔
حاصل کلام
سابقہ اسبابِ تکاسل خطہٴ ہندوپاک میں موضوعات کی اشاعت اور ان کی ترویج میں انتہائی موٴثر رہے ہیں؛بلکہ اگر ان اسباب کے سدّ باب کے لیے اکابر کے طرز پر عملی اِقدامات جاری رکھے جائیں تو کافی حد تک اس ساقط الاعتبار ذخیرے کی روک تھام ہو سکتی ہے۔
من گھڑت اور ساقط الاعتبار روایات کے سدِّ باب میں علماء ہندوپاک کی خدمات :
سابقہ اقتباسات سے ہمیں من گھڑت روایات کی اِشاعت میں ملوث بہت سے گروہوں اور طبقات کا بخوبی علم ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کی اغراض، اَفکار، اورطریقہٴ کار بھی وضاحت سے سامنے آگئے،لیکن واضح رہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہوا کہ عمائدینِ اُمت نے اس فتنے کے سدّباب کے لیے اپنی خدمات پیش نہ کی ہو؛بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ برّ صغیرپر ایسے شب وروز بھی آئے ہیں،جن میں صیانتِ حدیث کا تاج، علماء برّصغیرکے سر رہا ہے؛ چنانچہ علامہ زاہدالکوثری فرماتے ہیں:
”دسویں صدی ہجری کے نصف آخر میں جب کہ علمِ حدیث کی سر گر میاں ماند پڑ گئی تھیں،برّ صغیر میں یہ سر گر میاں عروج پر تھیں“(۷)۔
گویا کہ یوں کہنا چاہیے کہ اس وقت عالمِ اسلام کی سر براہی کی سعادت برِ صغیر کو حاصل رہی ہے،بہر حال یہاں ہم اُن چند مشہور مشایخ کا مختصر تذکرہ کریں گے،جنہوں نے زبان زَد عوام و خواص،روایات کی حقیقت واضح کی،اور ذخیرہٴ احادیث میں تنقیح کی خدمات انجام دیں۔
۱-امام رضی الدین ابوالفضائل الحسن بن محمد (المتوفی ۵۷۷ھ)
آپ کی تالیف ”الدُّ رَرُ المُلْتَقَط“ اور ”رسالة موضوعات الصَّغَانِی“ کا شمار فن ہذا کے اوّلین مصادر میں ہوتا ہے۔مشتہرات پر مشتمل شاید ہی کوئی کتاب موصوف اقوال سے خالی ہو۔
۲-ملک المحدّثین علامہ محمد طاہر صدیقی پٹنی  (المتوفی ۹۸۶ھ)
آپ نے اس فن میں ”تذکِرةُ الموضوعات“ اور ”قانون الموضوعات“ لکھیں،بلاشبہ مشتہرات کا یہ مجموعہ ایک انسا ئیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔
۳-امام علامہ سید محمد بن محمد حسینی زَبِیدی الشہیر بمرتضی (المتوفی ۱۲۰۵ھ)
آپ نے ”إتَّحاف السَّادَة المُتَّقِین“ میں”إحیاء علوم الدین للغزالي“ کی احادیث پر، تخریج و تشریح میں محدثانہ شان کا مظاہرہ کیا ہے،اہل علم کا طبقہ اس سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔
۴-امام عبدالعزیز بن احمد فرہاروی (المتوفی ۱۲۳۹ ھ)
آپ نے تقریباً ۲ ہزار موضوع اور زبان زَد عام روایتوں پر مشتمل مجموعہ تیار کیا ہے،فی الحال یہ مخطوطہ ہے۔آپ کے بارے میں مولانا موسیٰ خان روحانی بازی  فرماتے ہیں کہ اگر میں اس بات پر قسم کھاوٴں کہ اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ پنجاب کو جب سے وجود بخشا ہے،ان جیسی کسی دوسرے شخصیت نے یہاں جنم نہیں لیا،تو میں حانث نہیں ہوں گا(۸)۔
۵-علامہ ابو الحسنات محمد عبدالحی لکھنوی (المتوفی ۱۳۰۴ ھ)
آپ کی شخصیت اور حدیثی خدمات، محتاج تعریف نہیں ہے،اس فن میں آپ نے ”الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة“ کے نام سے یادگار چھوڑی ہے۔
۶-حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (المتوفی۱۲۸۰ھ/۱۳۶۲ ھ)
آپ امراضِ امت کی پہچان اور اس کے علاج میں وَہْبی بصیرت رکھتے تھے،آپ نے مُتَدَاوَل من گھڑت،بے اصل روایتوں کا سدّباب عملاً بھی کیا اور عوام کو بھی اس سے اجتناب کی طرف توجہ دلائی؛چنانچہ بہشتی زیور،حصہ دہم میں یہ عنوان قائم کیا ہے : ”بعضی کتابوں کے نام جن کے دیکھنے سے نقصان ہوتا ہے“اس عنوان کے تحت ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
”دعا گنج العرش،عہد نامہ یہ دونوں کتابیں اور بہت سی کتابیں ایسی ہیں کہ ان کی دعائیں تو اچھی ہیں؛مگران میں جو سندیں لکھی ہیں،ا ور ان میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے لمبے چوڑے ثواب لکھے ہیں،وہ بالکل گھڑی ہوئی باتیں ہیں“(۹)۔
اسی طرح حضرت تھانوی  اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ سلوک و تصوّف کی مجالس میں ایک معتد بہ تعداد بے اصل روایتوں کی ہیں؛چنانچہ آپ نے ”التَشَرَّفُ بِمَعْرِفَة أحَادِیثِ التَّصَوُّف“میں ایسی بہت سی روایات پر روایتی اور درایتی پہلوٴوں سے بحث کی ہے،جو درجہٴ اعتبار سے ساقط ہیں۔
ایک اہم التماس
یہ مختصر اور محدود مقالہ اس کی مزید گنجائش رکھنے سے قاصر ہے کہ ہم اکابرینِ ہندوپاک کی متعلقہ موضوع میں تاریخی خدمات سے تفصیلی بحث کریں؛ البتہ اگر کوئی فرد علامہ عبد الحی الحَسَنی کی تصنیف”نزہة الخواطر وبہجة المسامع والنّواظر“کوسامنے رکھ کر ان محدثینِ کرام کی خدمات کو جمع کرے، جنہوں نے باطل اور من گھڑت روایتوں کا تعاقب کیا ہے،تو یہ کام نہ صرف ہمارے اسلاف کے منہج کی جانب رہنمائی کرے گا بلکہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے اُن مخطوطات کی جانب بھی رہنمائی کرے گا جو آج دِیمک اور گرد وغبار سے تحلیل ہوتے جارہے ہیں،بلاشبہ نت نئی تحقیقات، شروحات،تسہیلات وغیرہ نا گزیر تالیفات ہیں؛لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن مخطوطات کو ہم محفوظ کر سکتے ہیں، کل ان کا نام ”حَسَراتِ زمانہ“ کی فہرست میں شامل کر دیا جائے ۔
$ $ $
حوالہ جات اور مآخذ
(۱)الجامع الصحیح للبخاري: باب إثم من کذب علی النبيﷺ۱/۳۳، رقم الحدیث:۱۰۷،ت:محمد زھیربن الناصر، دار طوق النجاة․ بیروت، الطبعة الأولی۱۴۲۲ھ․
(۲)اللآلي المصنوعة:ص:۳۵، ت: محمد عبد المنعم رابح، دارالکتب العلمیة․ بیروت،الطبعة الثانیة ۱۴۲۸ھ․
(۳)الدُرَرُ الملتقظ: بحوالہ مجلّہ ”فکر ونظر“، ص:۷۶، خصوصی اشاعت، ربیع الأول شعبان ۱۴۲۶ھ، ادارہ تحقیقات اسلامی بین الأقوامی، اِسلامي یو نیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان․
(۴)الآثار المرفوعة: ص: ۱۲، دارالکتب العلمیة بیروت․
(۵)کوثر النَّبِیّ وزُلَالُ حَوْضِہ الرَّوِي (فن معرفة الموضوعات):ص:۱۰۸، المخطوط،نَسَخَہ العلامة عبد الله الوَلْہَارِي(۱۲۸۳ھ)․
(۶)الآثار المرفوعة: ص: ۱۹، دارالکتب العلمیة بیروت․
( ۷)مقالات الکوثري:ص:۶۷،دار السلام مصر، الطبعة الثانیة ۱۴۲۸ھ․
(۸)بغیة الکامل السامي في شرح المحصول والحاصل للجامي:ص:۲۲۷،مکتبة مدینة بلاہور باکستان، الطبعةالخامسة ۱۴۱۴ھ․
 (۹)بہشتی زیور:ص:۷۰۴،حصہ دہم،دار الإشاعت،ایم اے جناح روڈ،ارد و بازار کراچی․


=================================

امام السنن حضرت امام ابوداؤد السجستانی (۲۷۵ ھ) لکھتے ہیں: "قَالَ أَبُو دَاوُد إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَاعَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ"۔ (سنن ابی داؤد:۱/۳۷۶، مع البذل،حدیث نمبر:۶۱۸، موقع الإسلام)؛
ترجمہ: جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی موضوع پر دو مختلف روایتیں ملیں تو انہیں حل کرنے کے لیے یہ دیکھا جائے گا کہ آپ کے صحابہ نے آپ کے بعد کیا عمل کیا ہے۔

اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ حدیث کے موضوع میں صحابہ بھی داخل ہیں اور ان کے اقوال واعمال کے بغیر مشکلات حدیث کو حل نہیں کیا جاسکتا، یہ انہی کے اعمال ہیں جن کی روشنی میں تعلیم نبوت کی تفہیم ہوتی ہے۔

حافظ ابوبکرجصاص رازی (۳۷۰ھ) لکھتے ہیں: "إذكان متى روي عن النبي عليه السلام خبران متضادان وظهر عمل السلف بأحدهما كان الذي ظهر عمل السلف به أولى بالإثبات"۔  
(احکام القرآن:۱/۱۷، طبع:۱۳۴۱ھ)
ترجمہ: جب حضورﷺ   سے دو حدیثیں اس طرح کی مروی ہوں جو آپس میں ٹکراتی ہوں اور سلف کا عمل ان میں سے کسی ایک پر ہو تو سنتِ قائمہ وہ ہوگی جس پر سلف کا عمل ہو۔

حافظ ابن عبدالبر مالکیؒ (۴۶۳ھ) حضرت امام محمدؒ (۱۸۹ھ) سے روایت کرتے ہیں: "روى محمد بن الحسن عن مالك بن أنس أنه قال إذا جاء عن النبيﷺ  حديثان مختلفان وبلغنا أن أبا بكر وعمر عملا بأحد الحديثين وتركا الآخر كان في ذلك دلالة أن الحق فيما عملا به"۔
               (التمہید:۳/۳۵۳)

ترجمہ: آنحضرتﷺ   سے جب دو مختلف حدیثیں مروی ہوں اور ہمیں یہ بات پہنچے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے ایک پر عمل کیا ہے اور دوسری کو چھوڑدیا ہے تو اس سے پتہ چلے گا کہ حق وہ ہے جس پر ان کا عمل ہوا۔

امام طحاویؒ (۳۲۱ھ) لکھتے ہیں: اختلافِ آثار میں عمل امضار کا اعتبار کیا جائے گا، جس بات پر پچھلوں کا عمل پایا جائے اسے پہلی بات کا ناسخ سمجھا جائے گا، آپ لکھتے ہیں:
"فلما تضادت الآثار في ذلك، وجب أن ننظر إلى ماعليه عمل المسلمين، الذي قد جرت عليه عاداتهم، فيعمل على ذلك، ويكون ناسخا لماخالفه"۔  (طحاوی:۱/۳۴۱)؛
=====================================
مثال: (١) ترمذی شریک سے، وہ ابو حمزہ سے، وہ شعبی سے اور وہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے زکوۃ سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، "زکوۃ کے علاوہ بھی مال سے متعلق ذمہ داری ہے۔" [سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1581]
ابن ماجہ نے یہی حدیث ان الفاظ میں روایت کی ہے "زکوۃ کے علاوہ مال سے متعلق کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے۔" [مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3016]

(٢) حضرت ابوایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت یا پیشاب کے لئے جاؤ تو قبلہ رخ نہ کرو اور نہ پشت بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کیا کرو [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 8]
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ منع کیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے سے پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفات سے ایک سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی طرف رخ کرتے ہوئے دیکھا [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 9 ; طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے : قبلہ کی طرف رخ کرنے میں رخصت]

(٣) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ اگر تم میں سے کوئی کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو اس کی تصدیق نہ کرو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 12]
حضرت حذیفہ نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے ڈھیر پر آئے اور اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 13]


(٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وضو واجب ہو جاتا ہے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے چاہے وہ پنیر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 77 - آگ سے پکی چیز کھانے سے وضو]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر نکلے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا پھر ایک انصاری عورت کے گھر داخل ہوئے اس عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک بکری ذبح کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھایا پھر وہ کھجوروں کا ایک تھال لے آئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی کھجوریں کھائیں پھر وضو کیا ظہر کی نماز ادا کی پھر واپس آئے تو وہ عورت اسی بکری کا کچھ بچا ہوا گوشت لائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز ادا کی وضو نہیں کیا [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 78 - آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا]

(٥) حضرت بسرہ بنت صفوان سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اپنے ذکر کو چھوئے وہ نماز نہ پڑھے جب تک وضو نہ کرے [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 80 - ذکر چھونے سے وضو ہے]
حضرت قیس بن طلق بن علی حنفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ ایک ٹکڑا ہے اس کے بدن کا اور راوی کو شک ہے کہ (مُضْغَةٌ) فرمایا یا (بَضْعَةٌ) جبکہ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہےامام ابوعیسٰی کہتے ہیں کئی صحابہ اور بعض تابعین سے روایت ہے کہ وہ عضو خاص کو چھونے سے وضو کو واجب قرار نہیں دیتے تھے یہ قول اہل کوفہ اور ابن مبارک کا ہے اور یہ حدیث اس باب میں احادیث میں سب سے زیادہ اچھی ہے اسے ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر بن قیس بن طلق سے اور وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں بعض محدثین محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ پر اعتراض کرتے اور ملازم بن عمرو کی عبداللہ بن بدر سے منقول حدیث صحیح اور احسن ہے۔ [جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 81 - ذکر چھونے سے وضو نہ کرنا]

١) اختلاف الحديث ، للشافعي ( ت 203هـ ) ؛
٢) تأويل مختلف الحديث ، لابن قتيبة الدينوري ( ت 276هـ ) ؛
٣) شرح مشكل الآثار ، للطحاوي ( ت 221هـ ) ( 1 – 16 ) ؛
٤) كشف مشكل الصحيحين ، لابن الجوزي ( ت 597هـ ) ( 1 – 4 ) ؛
٥) منهاج العوارف إلى روح المعارف في شرح مشكل الحديث ، للقاضي عياض ( ت 544 هـ ) ؛
٦) الأحكام الشرعية الكبرى ، لعبد الحق الإشبيلي ( ت 581هـ ) ( 1 – 5 ) ؛
٧) الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار ، للحازمي ( ت 584هـ ) ؛
٨) منهج الشافعي في ظاهرة مختلف الحديث ، لعبد اللطيف السيد علي ؛
٩) وجوه الترجيح الحديثية في شرح مشكل الآثار للطحاوي ، لصالح حمد محمد الحواس / رسالة ماجستير ؛
١٠) مختلف الحديث وموقف النقاد والمحدثين منه ، د . أسامة خياط ؛
11- منهج التوفيق والترجيح بين مختلف الحديث وأثره في الفقه الإسلامي ، د . عبد المجيد محمد إسماعيل / رسالة دكتوراه .

(جاری ہے)



اصول الحدیث
شمار
نام کتاب
مصنف
سنہ اشاعت
جلد
ضخامت
۱
کتاب الاعتبار (الطبعۃ الثالثۃ)
ابوبکر الحازمی، المتوفی:۵۸۴ھ
۱۴۰۱ھ م ۱۹۸۱ء
۱
۲۵۸
۲
الأمم لایقاظ الھمم
برہان الدین الکورانی، المتوفی:۱۱۰۲ھ
۱۳۲۸ھ م ۱۹۱۰ء
۱
۱۳۴
۳
بغیۃ الطالبین
احمد النخلی، المتوفی:۱۱۱۴ھ
۱۳۲۸ھ م ۱۹۱۰ء
۱
۸۴
۴
الامدا
عبداللہ البصری، المتوفی ۱۱۳۴ھ
۱۳۲۸ھ م ۱۹۱۰ء
۱
۹۲
۵
قطف ا لثمر
صالح العمری، المتوفی ۱۲۱۸ھ
۱۳۲۸ھ م ۱۹۱۰ء
۱
۷۶
۶
اتحاف الاکابر
ابوعلی الشوکانی، المتوفی ۱۲۵۵ھ
۱۳۲۸ھ م ۱۹۱۰ء
۱
۱۱۹
۷
الکفایۃ فی علوم الروایۃ
الخطیب البغدادی، المتوفی: ۶۴۳ھ
۱۳۹۰ھ م ۱۹۷۰ء
۱
۶۱۲
۸
مشکل الحدیث (الطبعۃ الثانیہ)
ابن فورک، المتوفی ۴۰۶ھ
۱۴۱۵ھ م ۱۹۹۴ء
۱
۲۸۶
۹
معرفۃ علوم الحدیث (الطبعۃ الثنانیۃ)
الحاکم النیسابوری، المتوفی ۴۱۵ھ
۱۴۰۱ھ م ۱۹۸۱ء
۱
۲۶۹
۱۰
الاتحافات السنیۃ فی الاحادیث القدسیۃ (الطبعۃ الثانیۃ)
محمد المدنی، المتوفی ۱۲۷۱ھ
۱۳۵۸ھ م ۱۹۳۹ء
۱
۱۹۵
۱۱
جامع مسانید الامام الاعظم ابی حنیفہؒ
ابوالمؤید الخوارزمی، المتوفی:۶۶۸ھ
۱۲۳۲ھ م ۱۹۱۳ء
۲
۱۱۶۵
۱۲
الجوھر النقی
ابن الترکمانی، المتوفی:۶۶۵ھ
۱۳۱۶ھ م ۱۸۹۸ء
۲
۶۷۱
۱۳
السنن الکبریٰ وفی ذیلھا
الجوہر النفی
ابوبکر البیہقی، المتوفی:۴۵۸ھ

۱۰
۴۵۹۵
۱۴
شرح تراجم أبواب صحیح البخاری (الطبعۃ الخامسۃ)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی،
المتوفی:۱۱۷۶ھ
۱۴۱۵ھ م ۱۹۹۵ء
۱
۱۶۲
۱۵
القول المسدد فی الذب عن المسند (الطبعۃ الخامسۃ)
ابن حجر العسقلانی، المتوفی:۸۵۲ھ
۱۴۱۵ھ م ۱۹۹۴ء
۱
۲۰
۱۶
عمل الیوم واللیلۃ (الطبعۃ الثالثۃ)
ابن السنی، المتوفی:۳۶۴ھ
۱۳۹۸ھ م ۱۹۷۸ء
۱
۲۳۵
۱۷
کنزالعمال فی سنن الأقوال والأفعال (الطبعۃ الثانیۃ)
علی المتقی الہندی، المتوفی:۹۷۵ھ

۲۲
۸۸۵۳
۱۸
المستدرک علی الشیخین مع التلخیص للذھبی
الحاکم النیسابوری، المتوفی:۴۰۵ھ

۱۔۴

۱۹
المسند
ابوداؤد الطیالسی، المتوفی:۲۰۴ھ
۱۳۲۱ھ م ۱۹۰۳ء
۱
۴۰۴
۲۰
المسند (الطبعۃ الثانیۃ)
ابوعوانہ، المتوفی:۳۰۶ھ

۵
۱۹۷۷
۲۱
مشکل الآثار (الطبعۃ الثانیۃ)
الامام ابوجعفر الطحاوی، المتوفی:۳۲۱ھ

۱۰
۴۲۹۰
۲۲
المعتصر من المختصر (الطبعۃ الثانیۃ)
القاضی یوسف الحنفی، المتوفی:۳۲۱ھ
۱۳۶۲ھ م ۱۹۴۳ء
۲
۷۷۶
۲۳
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاف مع الفھرس(الطبعۃ الثانیۃ)
الحافظ ابن عبدالبر القرطبی،
المتوفی:۴۶۳ھ
۱۳۳۶ھ م ۱۹۱۶ء
۲
۱۲۷۲
۲۴
التاریخ الکبیر
الامام محمد بن اسماعیل البخاری، المتوفی:۲۵۶ھ



۲۵
تجرید اسماء الصحابۃ مختصر اسدالغابۃ لابن الاثیر الجزری
الحافظ شمس الدین الذہبی،
المتوفی:۷۴۸ھ
۱۳۱۵ھ م ۱۸۹۵ء
۲
۸۲۷
۲۶
تذکرۃ الحفاظ من الطبعۃ الاولیٰ الی السابعۃ (الطبعۃ الرابعۃ)
الحافظ شمس الدین الذہبی،
المتوفی:۷۴۸ھ
۱۳۹۰ھ م ۱۹۷۰ء
۴
۱۶۵۱
۲۷
تعجیل المنفعۃ بزوائد رجال الائمۃ الاربعۃ
الحافظ ابن حجر العسقلانی،
المتوفی:۸۵۲ھ
۱۳۲۴ھ م ۱۹۰۴ء
۱
۵۷۵
۲۸
تہذیب التہذیب
الحافظ ابن حجر العسقلانی، المتوفی:۸۵۲ھ

۱۲
۶۷۲۰
۲۹
مقدمۃ الجرح والتعدیل
الحافظ ابن أبی حاتم الرازی، المتوفی:۳۲۷ھ
۱۳۷۱ھ م ۱۹۵۲ء
۱
۴۱۵
۳۰
الجرح والتعدیل
الحافظ ابن أبی حاتم الرازی، المتوفی:۳۲۷ھ

۱۴
۵۰۲۵
۳۱
قرۃ العین
عبدالغنی البحرانی
۱۳۳۵ھ م ۱۹۰۵ء
۱
۶۳
۳۲
کتاب الکنی والاسماء
ابوبشرالدولابی، المتوفی:۳۱۰ھ
۱۳۲۴ھ م ۱۹۰۴ء
۲
۴۶۹
۳۳
کتاب الکنی
الامام البخاری، المتوفی:۲۵۶ھ
۱۳۹۸ھ م ۱۹۷۸ء
۱
۱۰۶
۳۴
لسان المیزان
ابن حجرالعسقلانی، المتوفی:۸۵۲ھ

۶
۲۳۸۶
۳۵
الموضح الاوھام الجمع والتفریق
الحافظ الخطیب البغدادی، المتوفی:۴۶۳ھ
۱۳۷۹ھ م ۱۹۶۰ء
۲
۱۰۰۸
۳۶
بیان خطأ البخاری فی تاریخہ (الطبعۃ الثانیۃ)
ابن أبی حاتم الرازی، المتوفی:۳۲۷ھ
۱۴۱۷ھ م ۱۹۹۶ء
۱
۲۰۶
۳۷
الثقات
الحافظ محمدبن حبان البستی، المتوفی:۳۵۴ھ

۹
۴۱۷۰
۳۸
التقیید لمعرفۃ رواۃ السنن والمسانی
الحافظ ابن نقطۃ، المتوفی:۶۲۹ھ

۲
۷۳۹
۳۹
نزہۃ الالباب فی الالقاب
الحافظ ابن حجر العسقلانی، المتوفی:۸۵۲ھ
۱۴۱۵ھ م ۱۹۹۴ء
۱
۶۱۰
۴۰
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
ابن عبدالبر
۱۳۳۶ھ


۴۱
مفتاح السعادہ
طاش کبری زادہ
۱۳۲۸ھ
















No comments:

Post a Comment