Friday, 11 April 2014

دعا کے آداب وموانع اور چہل (40) ربنا دعائیں


دعا کے آداب:
1- دعا کرنے والا شخص توحید  ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت  الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا  چاہیے؛ کیونکہ  دعا کی قبولیت  کیلئے شرط  ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی  سے   دور ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ} 
ترجمہ: اور جس وقت  میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی  پائیں [البقرة : 186]

2- دعا میں اخلاص ہونا، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ} 
ترجمہ: اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ  یکسو ہو کر صرف اللہ کی عبادت کریں۔[البينة : 5] 
اور یہ بات  سب کیلئے عیاں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق دعا  ہی عبادت ہے، چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے اخلاص شرط ہے۔

3- اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ}اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، انہی کے واسطے سے اللہ کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں سے متعلق الحاد کا شکار ہیں۔ [الأعراف : 180]

4- دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی شایانِ شان حمد و ثنا، چنانچہ ترمذی: (3476) میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے، کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی [پھر اسی دوران دعا کرتے ہوئے]کہا: "یا اللہ! مجھے معاف کر دے، اور  مجھ پر رحم فرما" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے نمازی! تم نے جلد بازی سے کام لیا، جب تم نماز میں [تشہد کیلئے ]بیٹھو، تو پہلے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کرو، پھر مجھ پر درود پڑھو، اور پھر اللہ سے مانگو)
ترمذی (3477)کی ہی ایک اور روایت  میں ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو [تشہد میں] سب سے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، اور اس کے بعد جو دل میں آئے مانگ لے) راوی کہتے ہیں: "اس کے بعد  ایک اور شخص نے نماز پڑھی، تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: (اے نمازی! اب دعا مانگ لو، تمہاری دعا قبول ہوگی)" اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ترمذی" (2765 ، 2767) میں صحیح کہا ہے۔

5- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (ہر دعا شرفِ قبولیت سے محروم رہتی ہے، جب تک اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے)
طبرانی نے "الأوسط" (1/220)  میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے اسے  "صحیح الجامع" (4399) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ لْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَنْجَحَ»[المعجم الكبير للطبراني:8780]




6- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا، چنانچہ مسلم: (1763) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر  کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا  کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد 319  ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی آپ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنے لگے: (اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ)[یعنی: یا اللہ!  مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ! مجھے دیا ہوا عہد  و پیمان  مکمل فرما، یا اللہ  اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ  کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے  رہے، حتی کہ آپکی چادر  کندھوں سے گر گئی۔۔۔ الحدیث

نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں کہتے ہیں:
"اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا  ، اور ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے"

7- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا، چنانچہ ابو داود: (1488) میں سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک تمہارا  پروردگار  انتہائی  باحیا اور سخی ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے اسی حیا آتی ہے) اس حدیث کو شیخ البانی  نے "صحیح ابو داود": (1320) میں صحیح کہا ہے۔

دعا میں ہاتھ اٹھانے کیلئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان  کی طرف ہوگی، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے، چنانچہ ابو داود: (1486) میں مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی  کی پشت  سے مت مانگو) اس حدیث کو شیخ البانی  نے "صحیح ابو داود": (1318) میں صحیح کہا ہے۔

یہاں یہ مسئلہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے  ملا کر رکھے یا فاصلہ بھی ڈال سکتا ہے؟
تو اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے "الشرح الممتع" (4/25) میں صراحت کیساتھ کہا ہے کہ ہاتھ ملا کر رکھنا بہتر ہے، چنانچہ آپ کہتے ہیں: 
"ہاتھوں میں فاصلہ ڈالنا یا الگ الگ رکھنے  سے متعلق کوئی  دلیل احادیث یا علمائے کرام کی گفتگو سے میرے علم میں نہیں ہے " انتہی

8- اللہ تعالی کے بارے میں قبولیت کا مکمل یقین ہو، اور صدق دل سے دعا مانگے؛  اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ سے مانگو تو قبولیت کے یقین سے مانگو، یہ یاد رکھو! اللہ تعالی کسی غافل اور لا پرواہ دل کی دعا قبول نہیں فرماتا) ترمذی: (3479) اس حدیث کو شیخ البانی  نے "صحیح ترمذی": (2766) میں حسن کہا ہے۔

9- کثرت سے دعا کی جائے، اس لیے انسان کو اللہ تعالی سے دنیاوی اور اخروی  ہر قسم کی دعا مانگنی چاہیے، خوب الحاح اور چمٹ کر دعا کرے، قبولیت کیلئے جلد بازی سے کام مت لے؛ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، بشرطیکہ کہ جلد بازی نہ کرے) کہا گیا: "جلد بازی سے کیا مراد ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان یہ کہے: دعائیں تو بہت کی ہیں، پر مجھے لگتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی، اوراس پر  مایوس ہو کر  دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے)
بخاری(6340)  مسلم (2735)

10-      دعا میں پختہ انداز ہو اور گزارشانہ انداز میں دعا نہ کی جائے؛ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، یا اللہ! اگر تو چاہے  تو مجھ پر رحم فرما" بلکہ دعا مانگتے ہوئے پورے عزم کیساتھ مانگے، کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا)  
بخاری(6339) مسلم (2679)

11-      عاجزی ، انکساری،  اللہ کی رحمت کی امید اور  اللہ سے ڈرتے ہوئے دعا مانگے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً} ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]

اسی طرح فرمایا: 
{إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ}
ترجمہ: بیشک وہ نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ہمیں امید و خوف کیساتھ  پکارتے تھے، اور وہ ہم سے ڈرتے بھی تھے۔[الأنبياء : 90]

اسی طرح فرمایا:
{وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ } 
ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف سے صبح و شام یاد کریں اور بلند آواز کے بغیر بھی اور غافلوں سے نہ ہو جائیں۔ [الأعراف : 205]

12-      تین ، تین بار دعا کرنا، بخاری (240) مسلم (1794) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : " رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم  بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، وہیں پر ابو جہل اپنے ساتھیوں کیساتھ  بیٹھا  تھا، [قریب ہی ]گزشتہ شام اونٹ بھی نحر کیے گئے تھے، تو ابو جہل نے کہا: "کون  ہے جو فلاں قبیلے والوں  کے اونٹوں کی اوجھڑی  اٹھا کر  جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم  سجدے میں جائے تو اس کی کمر پر رکھ دے" یہ سن کر ایک بد بخت  اٹھا  اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو  اوجھڑی کو دونوں کندھوں کے درمیان  رکھ دیا ، پھر سب اوباش  ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے، لیکن میں کھرا دیکھتا ہی رہ گیا، اگر میرے کنبے والے میرے ساتھ ہوتے تو میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک سے اسے ہٹا دیتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدے کی حالت میں پڑے رہے، یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر فاطمہ کو بتلایا، تو وہ دوڑتی ہوئی  آئیں، حالانکہ آپ بالکل چھوٹی عمر کی تھیں، پھر بھی آپ نے  اوجھڑی کو ہٹایا، اور پھر  اوباشوں کو برا بھلا  کہنے لگیں، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو بلند آواز سے ان کے خلاف بد دعا فرمائی، -آپ جب مانگتے تو تین ، تین بار مانگتے، اور جب دعا کرتے تو تین ، تین بار  کرتے-  آپ نے تین بار فرمایا: (یا اللہ! قریش پر اپنی پکڑ نازل فرما )، جب اوباشوں نے آپکی آواز سنی تو انکی ہنسی بند ہوگئی، اور آپکی بد دعا سے سہم گئے ، پھر آپ نے فرمایا: (یا اللہ! ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن  خلف، اور عقبہ بن ابی معیط پر اپنی پکڑ نازل فرما-آپ نے ساتویں کا نام بھی لیا لیکن مجھے اب یاد نہیں ہے- قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جن لوگوں کے نام آپ نے لیے تھے وہ سب کے سب بدر کے دن  قتل ہوئے، اور پھر ان سب کو بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا)"

13-      حلال کھانے پینے کا اہتمام کرنا، مسلم (1015) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! اللہ تعالی پاکیزہ ہے، اور پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ تعالی نے مؤمنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا، چنانچہ فرمایا: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی عمل کرتے ہو میں   اسے جانتا ہوں۔[المؤمنون : 51] اور مؤمنین کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ}اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ [البقرة : 172] پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا، جو لمبے سفر میں  پراگندہ حالت کیساتھ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے  یا رب! یا رب! کی صدائیں بلند کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا  حرام کا، لباس حرام کا، اسکی  پرورش حرام پر ہوئی، تو اس کی  دعائیں کیونکر قبول ہوں!؟)
ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
"اس سے معلوم ہوا کہ حلال کھانا پینا، پہننا، اور حلال پر نشو و نما پانا قبولیتِ دعا کا موجب ہے" انتہی

14-      اپنی دعاؤں کو مخفی رکھنا، جہری طور پر دعا نہ کرنا، فرمانِ باری تعالی ہے: {ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً} ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندے زکریا علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: {إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا} جب انہوں نے اپنے رب کو مخفی انداز میں پکارا [مريم : 3]




دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟؟؟
امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"دعائیں، اور تعوّذات[ایسی دعائیں جن میں اللہ کی پناہ حاصل کی جائے] کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے، اور اسلحے کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے، صرف اسلحے کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو، اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو، اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے، اور ان تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متأثر ہوتا ہے"

"الداء والدواء " از ابن قیم، صفحہ: 35

مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوا کہ کچھ حالات، آداب ، اور احکام ہیں جنکا دعائیہ الفاظ اور دعا مانگنے والے میں ہونا ضروری ہے، اور کچھ رکاوٹیں، اور موانع ہیں جنکی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی، چنانچہ ان اشیاء کا دعا مانگنے والے، اور دعائیہ الفاظ سے دور ہونا ضروری، لہذا جوں ہی یہ تمام اشیاء موجود ہونگی، دعا قبول ہوجائے گی۔

چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے معاون اسباب میں چند یہ اسباب شامل ہیں:

1- دعا میں اخلاص: دعا کیلئے اہم اور عظیم ترین ادب ہے، اللہ تعالی نے بھی دعا میں اخلاص پر زور دیتے ہوئے فرمایا: (وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ) ترجمہ: اور عبادت اللہ تعالی کیلئے خالص کرتے ہوئے [دعا میں]اسی کو پکارو۔ الاعراف/29، اور دعا میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ : دعا کرنے والا یہ نظریہ رکھے کہ صرف اللہ عز وجل کو ہی پکارا جاسکتا ہے، اور وہی اکیلا تمام ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، اور دعا کرتے ہوئے ریا کاری سے گریز کیا جائے۔

2- توبہ ، اور اللہ کی طرف رجوع: چونکہ گناہ دعاؤں کی عدمِ قبولیت کیلئے بنیادی سبب ہے، اس لئے دعا مانگنے والے کیلئے ضروری ہے کہ مانگنے سے پہلے گناہوں سے توبہ و استغفار کرے، جیسے کہ اللہ عزو جل نے نوح علیہ السلام کی زبانی فرمایا: (فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا (12))

ترجمہ: [نوح علیہ السلام کہتے ہیں] اور میں نے ان سے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (10) اللہ تعالی تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (11) اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا ۔ نوح/ 10-12

3- عاجزی، انکساری، خشوع،و خضوع، [قبولیت کی ]امید اور [دعا مسترد ہونے کا]خوف، حقیقت میں دعا کی روح، دعا کا مقصود ، اور دعا کا مغز ہے: فرمانِ باری تعالی ہے:( اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ)

ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ الاعراف/ 55

4- دعا الحاح کیساتھ بار بار کی جائی، دعا کرنے میں تنگی، اور سستی کا شکار نہ ہو: دو تین بار دعا کرنے سے الحاح ہوجاتا ہے، تین پر اکتفاء کرنا سنت کے مطابق ہوگا، جیسے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ، تین باردعا اور استغفار پسند تھی۔ ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

5- خوشحالی کے وقت دعا کرنا، اور آسودگی میں کثرت سے دعائیں مانگنا، اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (خوشحالی میں اللہ کو تم یاد رکھو، زبوں حالی میں وہ تمہیں یاد رکھے گا)احمد نے اسے روایت کیا ہے۔

6- دعا کی ابتداء اور انتہا میں اللہ تعالی کے اسمائے حسنی، اور صفاتِ باری تعالی کا واسطہ دیا جائے، فرمان باری تعالی ہے:

(وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا) ترجمہ: اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی کا واسطہ دیکر اُسے پکارو۔ الاعراف/ 180

7- جوامع الکلم، واضح، اور اچھی دعائیں اختیار کی جائیں، چنانچہ سب سے بہترین دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں ہیں، ویسے انسان کی ضرورت کے مطابق دیگر دعائیہ الفاظ سے بھی دعا مانگی جاسکتی ہے۔

اسی طرح دعا کے مستحب آداب [یعنی یہ واجب نہیں ہیں]میں یہ بھی شامل ہے کہ : با وضو، قبلہ رُخ ہوکر دعا کریں، ابتدائے دعا میں اللہ تعالی کی حمد وثناء خوانی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں، اور دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے۔

قبولیتِ دعا کے امکان زیادہ قوی کرنے کیلئے قبولیت کے اوقات، اور مقامات تلاش کریں۔

چنانچہ دعا کیلئے افضل اوقات میں : فجر سے پہلے سحری کا وقت، رات کی آخری تہائی کا وقت، جمعہ کے دن کے آخری لمحات، بارش ہونے کا وقت، آذان اور اقامت کے درمیان والا وقت۔

اور افضل جگہوں میں تمام مساجد ، اور مسجد الحرام کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔

اور ایسے حالات جن میں دعاؤں کی قبولیت کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، روزہ دار کی دعا، مجبور اور مشکل میں پھنسے ہوئے شخص کی دعا، اور ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اسکی عدم موجودگی میں دعا کرنا شامل ہے۔

جبکہ دعا کی قبولیت کے راستے میں بننے والی رکاوٹوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

1- دعا کرنے کا انداز ہی نامناسب ہو: مثال کے طور پر دعا میں زیادتی ہو، یا اللہ عزوجل کیساتھ بے ادبی کی جائے، دعا میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ: اللہ تعالی سے ایسی دعا مانگی جائے جو مانگنا جائز نہیں ہے، جیسے کہ اپنے لئے دائمی دنیاوی زندگی مانگے، یا گناہ اور حرام اشیاء کا سوال کرے، یا کسی کو موت کی بد دعا دے،چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے)مسلم

2- دعا کرنے والے شخص میں کمزوری ہو، کہ اسکا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہ ہو، یا پھر اللہ کیساتھ بے ادبی کا انداز اپنائے، مثال کے طور پر: دعا اونچی اونچی آواز سے کرے، یا اللہ سے ایسے مانگے کہ جیسے اُسے اللہ تعالی سے دعا کی قبولیت کیلئے کوئی چاہت ہی نہیں ہے، یا پھر تکلّف کیساتھ الفاظ استعمال کرے، اور معنی مفہوم سے توجہ بالکل ہٹ جائے، یا بناوٹی آہ و بکا اور چیخ و پکار میں مبالغہ کیلئے تکلّف سے کام لے۔

3- دعا کی قبولیت کیلئے کوئی رکاوٹ موجود ہو: مثلا اللہ کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب کیا جائے، جیسے کہ: کھانے ، پینے، پہننے، جائے اقامت اور سواری میں حرام مال استعمال ہو، ذریعہ آمدنی حرام کاموں پر مشتمل ہو، دلوں پر گناہوں کا زنگ چڑھا ہوا ہو، دین میں بدعات کا غلبہ ہو، اور قلب پر غفلت کا قبضہ ہو۔

4- حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ اشیاء ہی قبول کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے متقی لوگوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ، فرمایا: (يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ) ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی کرتے ہو میں اسکو بخوبی جانتا ہوں۔ المؤمنون/51

اور مؤمنین کو فرمایا: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ترجمہ:اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ اشیاء عنائت کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ البقرہ/172، پھر اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے: یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو!!) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا: کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے، لیکن اسکے باوجود دعا اس لئے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایا، اللہ تعالی ہمیں ان سے محفوظ رکھے، اور عافیت نصیب فرمائے۔

5- دعا کی قبولیت کیلئے جلد بازی کرنا، اور مایوس ہوکر دعا ترک کر دینا: چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک قبولیت دعا کیلئے جلد بازی نہ کرے، اور کہہ دے: "میں نے دعائیں تو بہت کی ہیں، لیکن کوئی قبول ہی نہیں ہوتی")اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

6- مشیئتِ الہی پر قبولیت دعا کو معلق کرنا: مثال کے طور پر یہ کہنا کہ : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے" بلکہ دعا کرنے والے کو چاہئے کہ وہ پر عزم، کامل کوشش، اور الحاح کیساتھ دعا مانگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی بھی دعا کرتے ہوئے ہرگز یہ مت کہے کہ : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے"، "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما" بلکہ پختہ عزم کیساتھ مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا)بخاری و مسلم

قبولیتِ دعا کیلئے یہ لازمی نہیں کہ ان تمام آداب کو بیک وقت ملحوظِ خاطر رکھے، اور تمام یہ تمام رکاوٹیں بھی نہ ہو، کیونکہ ایسی صورت حال نادر ہی پائی جاتی ہے، لیکن پھر بھی انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق ان آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ قبولیتِ دعا کی کئی صورتیں ہیں:

• اللہ تعالی بندے کی دعا قبول کرتے ہوئے اسے وہی عنائت کردے جسکی وہ تمنا کرتا ہے۔

• یا پھر اس دعا کے بدلے میں کسی شر کو رفع کردیتا ہے۔

• یا بندے کے حق میں اسکی دعا سے بہتر چیز میسر فرما دیتا ہے۔

• یا اسکی دعا کو قیامت کے دن کیلئے ذخیرہ کردیتا ہے، جہاں پر انسان کو اِسکی انتہائی ضرورت ہوگی۔






دعا ایک نادیدہ خزانہ ہے



دعا ایک عظیم نعمت اور انمول تحفہ ہے ، اس دنیا میں کوئی بھی انسان کسی بھی حال میں دعا سے مستغنی نہیں ہوسکتا ، دعا اللہ کی عبادت ہے، دعا اللہ کے متقی بندے اور انبیا ئے کرام علیہم السلام کے اوصافِ حمیدہ میں سے ایک ممتاز وصف ہے ، دعا اللہ تعالی کے دربارِ عالیہ میں سب سے باعزت تحفہ ہے ، اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لَیْسَ شَیْءٌ أکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجّلَّ مِنَ الدُّعاء (دعا سے بڑھ کر اللہ تعالی کے یہاں کوئی چیز باعزت نہیں) دعا اللہ تعالی کے یہا ں بہت پسندیدہ عمل ہے ، سَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہ فَانَّہ یُحِبُّ أنْ یُسْأَلَ ( اللہ سے اس کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اپنے سے مانگنے کو پسند کرتاہے ) دعا شرحِ صدر کا سبب ہے ، دعا سے اللہ تعالی کے غصہ کی آگ مدھم پڑتی ہے، دعا اللہ تعالی کی ذا ت پر بھروسہ کی گائیڈ لاین ہے ، دعا آفت و مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے، بلاشبہ دعا اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَلدُّعَاءُ سِلاَحُ الْمُؤمِنِ وَعِمَادُ الدِّیْنِ وَنُوْرُ السَّمٰواتِ وَالأرْضِ (دعا موٴمن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے ، اللہ نے اپنے بندوں کو دعا کی تاکید کی ہے ، اس کی قبولیت کا وعدہ کیاہے نیز اس پر انبیاء کرام علیہم السلام اور رسولوں کی تعریف کی ہے ، اللہ کا ارشاد ہے: إنَّہُمْ کَانُوْا یُسَارِعُوْنَ فِیْ الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَرَہَبًا وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْن ( بے شک وہ سب نیک کاموں میں جلدی کرنے والے تھے اور وہ ہمیں امید اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے)اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صاف صاف اعلان کیا : وَإذَا سَألَکَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَإنِّي قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إذَا دَعَانِ(جب میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں ، تو میں قریب ہوں ، دعا کرنے والاجب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ) یقینا یہ اللہ کا فضل اور کرم ہی ہے کہ بندوں کے ہر عمل سے بے نیازی کے باوجود وہ اپنے ہی سے مانگنے کا حکم کرتا ہے : یَأیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِیْد ( اے لوگو ، تم اللہ تعالی کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز، بڑی تعریف والا ہے) سورئہ فاطرمیں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : وَاللّٰہُ الْغَنِيُّ وَأنْتُمُ الْفُقَرَاءُ ( اللہ تعالی بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو ) حدیثِ قدسی میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کُلُّکُمْ ضَالٌّ الاَّ مَنْ ہَدَیْتُہ فَاسْتَہْدُوْنِيْ اَہْدِکُمْ یَا عِبَادِيْ، کُلُّکُمْ جَائِعٌ الاَّ مَنْ أطْعَمْتُہ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِيْ انَّکُمْ تَخْطَئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَأنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْلَکُمْ ( اے میرے بندے! تم بے راہ ہو؛جب تک میں تمہیں ہدایت نہ دوں ، لہٰذا تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا ، اے میرے بندے تم سب بھوکے ہو،سوائے اس شخص کے جسے میں کھلاؤں ، لہٰذا تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندے، تم رات اور دن غلطیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخشنے والا ہوں ، لہٰذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو ، میں بخشش کرنے والا ہوں )۔
        لہٰذا دعا کا حیاتِ انسانی سے گہرا تعلق ہے اور اپنے اثرات کے لحاظ سے ایک مسلمہ تاریخ ہے اور ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں سے بھی اس کا عظیم ربط وتعلق ہے ، اللہ تعالی نے بہت کریمانہ انداز میں قرآنِ پاک میں حضرت موسی علیہ السلام کا تذکرہ کیا ہے : وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰی قَالَ انَّ الْمَلاَ یَأتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ انِّيْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ( اور ایک شخص شہر کے پرے سرے سے دوڑتا ہوا آیا ، اس نے کہا: اے موسی! بے شک سردار تیرے بارے میں مشورہ کررہے ہیں؛ تاکہ تجھے قتل کرڈالیں ، پس تو ( یہاں سے ) نکل جا ، بے شک میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں ۔ پس وہ نکلا وہا ں سے ڈرتے ہوئے اور انتظار کرتے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ) چنان چہ حضرت موسی علیہ السلام فرعون کی طاغوتیت وملوکیت کی حدود کو پارکرکے مدین جا پہونچے اور اللہ تعالی سے دعاکی: رَبِّ نَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (اے میرے پرورگار مجھے ظالم قوم سے بچالے ) اللہ نے حضرت شعیب کو ان کی معاونت کے لیے لاکھڑا کیا اور ان کی زبانی اعلان کروایا : قَالَ: لاَتَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (ڈرو نہیں تم ظالموں کی قوم سے بچ آئے ہو) حضرت موسی علیہ السلام بے نوا مسافر کی طرح تھکے ہارے ایک صحرائی درخت کی چھاؤں میں فروکش ہوئے اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور دعاکی : اے ربِ کریم جو بھلائی میرے لیے نازل فرمائے میں اس کا شدید محتاج ہوں : رَبِّ إِنِّي لِمَا أنْزَلْتَ إلَيَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْر () اسی لمحے رب کریم کے نادیدہ خزانوں کا منہ کھل گیا اور رزق حسنہ کے سوتے ابل پڑے ، : فجا ئتہ إحدہما تمشی علی استحیاء قالت إن ابی یدعوک لیجزیک اجر ما سقیت لنا فلما جاء ہ وقص علیہ القصص ، قال لاتخف نجوت من الظلمین ، قالت إحدہما یابت استاجرہ إن خیر من استاجرت القوي الأمین، قال : إنی ارید انکحک إحدی ابنتي ھاتین علی ان تاجرنی ثمانی حجج فإن اتممت عشرا فمن عندک وماارید ان اشق علیک ستجدنی إن شاء اللّٰہ من الصلحین،قال ذلک بینی وبینک ایما الأجلین قضیت فلاعدوان علي (پھر ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی( یعنی حضرت موسی علیہ السلام نے مدین کے کنوئیں پر دو عورتوں کو بالکل تمام پانی پلانے والے چرواہوں سے علیحدہ پایا تو انھوں نے معلوم کیا کہ آخر کیا ماجرہ ہے؟ تو اس نے بتا یا کہ ہم پانی نہیں پلاتے یہاں تک کے یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلاکر واپس نہ لے جائیں اور ہمارے ابا بوڑھے ہیں تو حضرت موسی علیہ السلام نے بکریوں کو پانی پلانے میں مددکی ) وہ بولی بے شک ہمارے والد تمہیں بلارہے ہیں کہ تمہیں اس کا صلہ دیں جو تونے ہمارے لیے بکریوں کو پانی پلایاہے پھر جب موسی علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس آئے اور ان سے احوال بیان کیا تو اس نے کہا ڈرونہیں تم ظالموں کی قوم سے نکل آئے ہو، ان(بیٹیوں) میں سے ایک نے کہا : اے میرے والد! اسے ملازم رکھ لیں ، بے شک جسے تم ملازم رکھو بہتر وہ ہے جو طاقت ور امانت دار ہو، شعیب علیہ السلام نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی ان دوبیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے اس شرط پرکردوں کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو، اگر دس سال پورے کرو تو وہ تمہاری طرف سے نیکی ہوگی ، میں نہیں چاہتا کہ میں تم پر مشقت ڈالوں ، اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب مجھے خوش معاملہ لوگوں میں سے پاؤگے ، موسی علیہ السلام نے کہا: یہ میرے اور تمہارے درمیان ( عہد) ہے میں ان دونوں میں سے جومدت پوری کروں مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں) لہٰذا اب موسی علیہ السلام کی دعا قبول ہوگئی ، روٹی کا بندوبست ہوگیا ، مکان کا انتظام کردیاگیا ، اہل وعیال والے بن گئے ، ریوڑ چرانے کے لیے مل گیا ، یعنی باروزگار ہوگئے ا ور تربیت کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام سا مربی مل گیا ۔
اگر کوئی شعیب آئے میسر        *       شبانی سے کلیمی دوقدم ہے
          حضرت موسی علیہ السلام کی دعاکی وجہ سے بنی اسرائیل پر نادیدہ خزانوں کے منہ وا ہوگئے اور صحرائے سنین میں وہ لطف اندوز ہوتے رہے ، من وسلوی کا نزول ہوتا رہا اور بادلوں کے سائے سایہ فگن رہے ، جب پیاس لگی تو لاٹھی ماری ۱۲ قبیلوں کے لیے بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔
          علماء نے لکھا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی ہر حال میں اللہ تعالی سے مانگنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ دونوں حالتوں میں یادکرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور اس کو نوازتا ہے ، اس کی مثال حضرت یونس علیہ السلام ہیں کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یادکرتے تھے ، اسی کی تسبیح وتحمید کیا کرتے تھے، انھیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل اعتماد تھا؛ چناں چہ جب مچھلی کے پیٹ میں بند ہوگئے، اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کو یادکیا : لَاإلٰہَ إلّا أنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (کوئی إلٰہ نہیں سوائے تیرے اور میں ظالموں میں سے ہوں ) بس اللہ تعالی نے اس سے نکلنے کی سبیل پیداکردی اور تین اندھیریوں کی گرفت سے نجات نصیب ہوئی ، فَلَوْلاَ أنَّہ کَانَ مشنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِہ الیٰ یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ( کہ اگر وہ تسبیح کرنے والے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے اور وہی ان کے لیے قبر بن جاتی، اس کے برعکس فرعون نے دریائے نیل میں غرق ہوتے ہوئے اللہ میا ں کو یاد کیا : حَتّٰی إذَا أدْرَکَہ الْغَرْقُ قَالَ آمَنْتُ أنَّہ لاَ الٰہَ الاّ الَّذِيْ آمَنَتْ بَنُو اسْرَائِیْلَ وَأنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، آلآنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ، فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً (یہاں تک کہ جب اس کو غرقآبی نے آپکڑا، اس نے کہا : میں ایمان لایاکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں،جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں ہوں فرماں برداروں میں سے۔ کیا ایمان کی بات کرتاہے اور پہلے سے تونافرمانی کرتارہااورفساد کرنے والوں میں سے رہا۔ سوآج تجھے تیرے بدن سے بچادیں گے( غرق نہیں کریں گے)؛ تاکہ تو(تیری لاش) ان کے لیے جو تیرے بعد آئیں ( عبرت کی ) ایک نشانی رہے ) لیکن اب تک خوش حالی کے ایام میں کبھی بھی خدا کویاد نہیں کیا ؛ بل کہ وہ اتراتا رہا غرور اور سرکشی میں مبتلا رہا؛ اس لیے اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول نہ کی اور وہ ہلاک وبرباد ہوگیا نیز اس نے براہِ راست دعا نہ کی؛ بل کہ ہارون اور موسی علیہما السلام کو واسطہ بنایا، لہٰذا دعا میں کسی کو واسطہ نہ بنائیں براہِ راست اللہ سے مانگے اللہ تعالی ہم سے بہت قریب ہے : وَ اذَا سَألَکَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَانِّيْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اذَا دَعَانِ، اللہ تعالی نے براہِ راست مانگنے کی تاکید کی ہے : اُدْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ( تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ) ۔
          حضرت ابراہیم علیہ السلام ابوالانبیا ہیں اور احترام واکرام کے بلند وبالا مقام پر فائز ہیں ، ان کی دعاکی قبولیت نے روئے زمین پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے لیے امن اور پھلوں کا رزق ساتھ ہی باشندگان عالم کے قلوب کا التفات مانگاکہ اے ہمارے رب ، بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بغیر کھیتی والے میدان میں بسایا ہے تیرے احترام والے گھر کے نزدیک ، اے ہمارے رب؛ تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے دلوں کو ایسا کردے کہ ان کی طرف مائل ہوں ، اور انھیں پھلوں سے رزق دے؛ تاکہ وہ شکر کریں) انھیں سب سے نوازا گیا ، آپ نے ہونہار وسعادت مند فرزند کے ہمراہ کعبہ کی دیوار بنائیں تو دعا کی: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِہ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ کہ ان کی نسل میں ایک بہترین امت وجود میں آئے ، جس میں ایک رسول مبعوث ہو جو انھیں کلامِ الٰہی کی تعلیم دے، اس میں موجود حکمت کی باتوں سے انھیں روشناس کرائے اور ان کی زندگیا ں سنوارے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی دعا قبول کی اور اس کرہ ارضی پر امت مسلمہ خیر کے ساتھ نمودار ہوئی ، جس نے تاریخ کا رخ موڑدیا ، اس امت کو خیرِامت کے لقب سے نوازا گیا ، اس امت کا وجود کائناتِ عالم کے لیے پیغامِ خیر ہے ، اس کا نبی رحمة للعالمین ہے ، جس کے فرمان لوگوں کے قلوب پر اور جن کا نقوشِ پا زمانے کے ریگستانوں پر یوں ثبت ہوئے ہیں کہ وقت کی تیزوتند ہوا اور خطرناک آندھیاں انھیں مدھم نہ کرسکیں، تاریخی حیثیت سے فتنہء تاتار ان نقوش کو مدھم کرتے کرتے خود بجھ گیا اور دنیا نے یہ منظر دیکھا کہ :
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے
          بقول کسے : دعائے ابراہیمی کی قبولیت کا ابدی انداز ملاحظہ ہو ، دن بہ دن رفع ذکر کے سامان ہوتے چلے جارہے ہیں اور اقرا کی ضیا پاشیوں میں اپنی منازل طے کرتا چلاجارہا ہے ۔
          دعا انبیا ئے کرام علیہم السلام کی سنت ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقدیر بدل گئی اور اسلام کے صفحہء اول میں داخل ہوگئے ،اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاسْلاَمَ بِأحَدِ الْعُمْرَیْنِ عُمَرَیْنِ الْخَطَّابِ أوْ عُمَرَ بْنَ ہِشَامٍ ( اے اللہ عمرین عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام میں سے کسے ایک ذریعہ اسلام کو تقویت عطاکر) بدر کے سنگلاخ میدان میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نے جبرئیلِ امین کو لا کھڑا کیا اور شیطان کو شکست کھانی پڑی ، اُحد میں فتح کے بعد فاتحِ لشکر کو مدینہ منورہ کے دروازے پردستک دینے کی ہمت نہ ہوئی؛ حالاں کہ ظاہری اعتبار سے اب کوئی رکاوٹ نہ تھی اور کوئی رکاوٹ تھی تو وہ نالہء نیم شب کی اثر انگیزی تھی کہ وہ بد قسمت لشکر مدینہ کے بجائے مکہ روانہ کردیاگیا ، جنگِ خندق میں دعاؤں نے افواج عرب کو ہواؤں اور ان دیکھے لشکروں کے ذریعے پسپا کردیا ، جنگ یرموک میں بھی وہی ہواؤں کا ریلا مدد کو موجود تھا ، اسی طرح قادسیہ کے مقام پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہٴ کرام کی پشت پرایرانیوں کے خلاف وہ تیزوتندہواؤں کا لشکر موجود تھا۔
          یقینا دعا مومن کا ہتھیار ہے ، ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے، دعا مومن کا بہت اہم خزانہ ہے ، دعا عبادت کا مغز ہے( الدعاء مخ العبادة ) لیکن اس کی حقیقت عقلیت پسندوں کی سمجھ میں نہیں آتی؛ جب کہ یہ تو جبلِ ہمالیہ سے کہیں بڑھ کر ٹھوس اور باوزن ہے اور بدیہی اعتبار سے ثابت بھی ہے ، اللہ تعالی کے نادیدہ خزانوں کا عظیم وعمیق ربط دعا سے ہے ، جس کی قبولیت کے مختلف انداز ہیں ، کبھی بعینہ وہی مل جائے ، یا اس کا بدل؛ بل کہ نعم البدل مل جائے ، جو ں کاتوں قبول نہ ہو؛ بل کہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں اور وہ انسان کے انجام سے بخوبی واقف ہے؛ چناں چہ اس کے ذریعہ کوئی مصیبت دور کردے ، یا یہ کہ اسے مومن کے لیے بطور توشہء آخرت محفوظ کردیاجائے؛ لیکن دعاکی قبولیت کے ان گونا گوں انداز کو عقلیت پسند ذہن تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے؛ لیکن انھیں یہ پتا ہو نا چاہیے کہ پُرخلوص کوشش اور دعا سے وہ نتائج نکلتے ہیں جن کی عقلی لحاظ سے بالکل امید نہیں ہوتی ۔
          دعا کی قبولیت کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے خوب خوب بندگی کرے ، تقوی اور پرہیزگاری کی راہ اور روش اپنائے یقینا دعامیں تقوی کَالْمِلْحِ فِی الطَّعَامِکا درجہ رکھتا ہے ، جس کے بارے میں کسی نے لکھا ہے کہ:
          یہ مخصوص اوقات میں محدود مقامات پر ایک خاص قسم کی پر تکلف کیفیت پیدا کرنے کانام نہیں ہے؛ بل کہ یہ خشیتِ الٰہی سے عبارت ہے اگر تقوی اور پرہیزگاری کی روح نہ رہے تو انسان کی زندگی میں امن وسکون عنقا ہو جاتا ہے اور پھر یہ صراطِ مستقیم سے منحرف ہو کر اپنی ناکامی اور نامرادی کا نوشتہء تقدیر خود اپنے ہاتھوں تیار کرلیتا ہے ، تقوی تو یہ ہے کہ کبرونخوت اور غرور وسرکشی سے عاری اور تواضع وانکساری کے جذبات سے سرشار ہو ، جس کے لیے خدا کی عطاکردہ نوازش کا احساس اور خالقِ دوجہاں کے منبعِ علم ہونے کا ایمان مہمیز کرتا ہے ۔
          اسی طرح جوبھی صلاحیت ، لیاقت اور توانائیاں ہوں وہ راہِ خدا میں کھپادے ، پھر اللہ تعالی سے نصرت واعانت اور سرخروئی وفتح وکامرانی کی دعا کرے ، اللہ تعالیٰ کو تو پرخلوص جدوجہد اور صرف اسی پر توکل کرنا اور اسی سے مانگنا محبوب ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کو فاتح اور غالب کرنے وعدہ کیا ہے خواہ تعداد میں تھوڑے ہوں اور وسائل کی قلت ہو بقول علامہ اقبال :
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے                 دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے
          دعا کی قبولیت میں بے شمارموانع ہیں، مثال کے طور پر حرام کھانا ، حرام پینا اور حرام لباس زیب تن کرنا ، اللہ کے رسول ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا :اَلرَّجُلُ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ أغْبَرَ، یَمُدُّ یَدَہ الٰی السَّمَاءِ، یَارَبِّ، یَارَبِّ، وَمَطْعَمُہ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُہ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأنّٰی یُسْتَجَابُ لَہ ( آدمی لمبا لمبا سفر کرے گا ، پراگندہ حال ، غبار آلود معلوم ہوگا، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے گا، یارب یارب (کہے گا) اور اس کا کھانا حرام ، اس کا پینا حرام ، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہو ئی ہو تو اس کی دعا کہا ں سے قبول کی جائے گی ؟) ایک دوسری حدیث میں ہے: اَطِبْ مَطْعَمَکَ تَکُنْ مُجَابَ الدَّعْوَةِ ( اپنے کھانے کو عمدہ کرو ۔ حلال کھانا کھاؤ۔ تمہاری دعا قبول کی جائے گی)۔
          دوسری چیز جو موانعِ دعا میں سے ہے وہ اخلاص کی کمی ہے؛ اس لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہ الدِّیْنَ ( پس اللہ تعالی کو پکارو ، اسی کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے ) ایک دوسری آیت اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : فَلَاتَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ أحَدًا ( اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو) اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تَعْرِفُ إلٰی اللّٰہِ فِیْ الرَّخَاءِ یَعْرِفُکَ فِی الشِّدَّةِ ( اللہ تعالیٰ کو خوش حالی میں یاد کرو اللہ تعالیٰ تم کو سختی میں یادکرے گا ) یعنی یہ کہ جب بندہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے، اس کے حدود کی پاسداری کرتاہے اور خوش حالی میں اس کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے معرفتِ خداوندی حاصل ہوجائے گی اور اللہ تعالی اس کو سختیوں سے بچائے رکھے گا اور حدیث میں ہے : بندہ مجھ سے نوافل کے ذریعہ قربت حاصل کرتاہے تو میں اس سے محبت کرتاہوں ، لہٰذا جب میں اسے محبوب سمجھتاہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں(بخاری شریف )۔
          اللہ تعالی غافل کی دعا قبول نہیں کرتا ہے؛ چنا ن چہ مستدرکِ حاکم میں مروی ہے کہ : اُدْعُوا اللّٰہَ وَأنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالإجَابَةِ ( اللہ تعالی سے دعاکرو اور قبولیت کا یقین رکھو)یعنی اللہ تعالی غافل اور لاپرواہ دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتاہے ۔
          حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : إنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُلْحِیْنَ فِی الدُّعَاءِ اللہ تعالی دعامیں بہت زیادہ تضرع اور خضوع وخشوع کرنے والے اور بہت زیادہ مانگنے والے کو پسند کرتاہے ۔
          دعا عبادت ہے ، نجات کا ذریعہ ہے، لہٰذا جو بھی دعا سے اعراض کرے ، اللہ سے نہ مانگے اللہ ان سے ناراض ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ انَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ لیکن اس کے برعکس جو خوب اللہ تعالی سے مانگے گا اس کے سامنے آہ و فغاں اور خشوع وخضوع کرے گا وہ اس دعا کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن میں ہے : اور ان میں سے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوگا آپس میں پوچھتے ہوئے وہ کہیں گے بے شک ہم اس سے پہلے اپنے اہلِ خانہ میں ڈرتے تھے تو اللہ تعالی نے ہم احسان کیا اور گرم ہوا کے عذا ب سے بچالیا، بے شک وہ بہت ہی احسان کرنے والا اور رحم کرنے والاہے۔
          ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَةً انَّہ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ وَلاَ تُفْسِدُوْا فِي الْأرْضِ بَعْدَ اصْلاَحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَطَمَعًا انَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ( اپنے رب کوپکاروگڑگڑاکر اور آہستہ سے ، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور فساد نہ مچاؤزمین میں اس کی اصلاح کے بعد ، اور اسے پکارو ڈرتے اور امید رکھتے ہوئے ، بے شک اللہ تعالی کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے ) بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت قریب ہے فَلاَ تَیْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ لہٰذا اسی سے سب کچھ ہونے کی لولگائیں، وہی حاجت روا مشکل کُشا ہے، اس کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں اور ہرلمحہ ، ہرپل اسی سے مانگیں ، وہ بہت نوازنے والا اورخوب دینے والا ہے۔

***


وَإِذ يَرفَعُ إِبرٰهۦمُ القَواعِدَ مِنَ البَيتِ وَإِسمٰعيلُ رَبَّنا تَقَبَّل مِنّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّميعُ العَليمُ {2:127}
اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
And recall what time Ibrahim was raising the foundation of the House and also Ismai'l, praying: our Lord! accept of us; verily Thou! Thou art the Hearer, the Knower!
قبول کر ہم سے اس کام کو (کہ تعمیر خانہ کعبہ ہے) تو سب کی دعا سنتا ہے اور نیت کو جانتا ہے۔

رَبَّنا وَاجعَلنا مُسلِمَينِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنا أُمَّةً مُسلِمَةً لَكَ وَأَرِنا مَناسِكَنا وَتُب عَلَينا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوّابُ الرَّحيمُ {2:128}
اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے
Our Lord! make us twain submissive unto Thee, and of our progeny community submissive unto Thee, and show us our rites, and relent toward us! verily Thou! Thou art the Relentant, the Merciful!

وَمِنهُم مَن يَقولُ رَبَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا حَسَنَةً وَفِى الءاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النّارِ {2:201}
اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو
And of mankind are some who say: our Lord! vouchsafe unto us good in the world and good in the Hereafter,and save us from the torment of the Fire.

وَلَمّا بَرَزوا لِجالوتَ وَجُنودِهِ قالوا رَبَّنا أَفرِغ عَلَينا صَبرًا وَثَبِّت أَقدامَنا وَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ {2:250}
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر
And when they arrayed themselves against Jalut and his hosts, they said: our Lord pour forth on us patience, and set firm our feet, and make us triumph over the infidel people

لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها ۚ لَها ما كَسَبَت وَعَلَيها مَا اكتَسَبَت ۗ رَبَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا ۚ رَبَّنا وَلا تَحمِل عَلَينا إِصرًا كَما حَمَلتَهُ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِنا ۚ رَبَّنا وَلا تُحَمِّلنا ما لا طاقَةَ لَنا بِهِ ۖ وَاعفُ عَنّا وَاغفِر لَنا وَارحَمنا ۚ أَنتَ مَولىٰنا فَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ {2:286}
خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما
Allah tasketh not a soul except according to its capacity. For it shall be the good it earnoth, and against it the evil it earnoth. Our Lord! reckon with not if we forget or er. Our Lord! ray not on us a burthen like unto that which Thou laidest on those before us, Our Lord! impose not on US that for which we have not strength. And Pardon us; forgive US; and have mercy on us; Thou art our Patron: so make US triumph over the disbelieving people!
اول آیت پر حضرات صحابہ کو بڑی تشویش ہوئی تھی ان کی تسلی کے لئے یہ دو آیتیں { اٰمَنَ الرَّسُوْلُ } الخ اور { لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا } الخ نازل ہوئیں اب اس کے بعد { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ } آخر سورت تک نازل فرما کر ایسا اطمینان دیا گیا کہ کسی صعوبت اور دشواری کا اندیشہ بھی باقی نہ چھوڑا کیونکہ جن دعاؤں کا ہم کو حکم ہوا ہے ان کا مقصود یہ ہے کہ بیشک ہر طرح کا حق حکومت اور استحقاق عبادت تجھ کو ہم پر ثابت ہے مگر اے ہمارے رب اپنی رحمت و کرم سے ہمارے لئے ایسے حکم بھیجے جائیں جن کے بجا لانے میں ہم پر صعوبت اور بھاری مشقت نہ ہو نہ بھول چوک میں ہم پکڑے جائیں نہ مثل پہلی امتوں کے ہم پر شدید حکم اتارے جائیں نہ ہماری طاقت سے باہر کوئی حکم ہم پر مقرر ہو اس سہولت پر بھی ہم سے جو قصور ہو جائے اس سے درگذر اور معافی اور ہم پر رحم فرمایا جائے حدیث میں ہے کہ یہ سب دعائیں مقبول ہوئیں ۔ اور جب اس دشواری کے بعد جو حضرات صحابہ کو پیش آ چکی تھی اللہ کی رحمت سے اب ہر ایک دشواری سے ہم کو امن مل گیا تو اب اتنا بھی ہونا چاہیئے کہ کفار پر ہم کو غلبہ عنایت ہو ورنہ انکی طرف سے مختلف دقتیں دینی اور دنیوی ہر طرح کی مزاحمتیں پیش آ کر جس صعوبت سے اللہ اللہ کر کے اللہ کے فضل سے جان بچی تھی کفار کے غلبہ کی حالت میں پھر وہی کھٹکا موجب بے اطمینانی ہو گا۔

رَبَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا وَهَب لَنا مِن لَدُنكَ رَحمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ {3:8}
اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
Our Lord Suffer not our hearts to deviate after that Thou hast guided US, and bestow from Thine presence mercy. Verily Thou! Thou art the Bestower!
یعنی راسخین فی العلم اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور و مطمئن نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ حق تعالیٰ سے استقامت اور مزید فضل و عنایت کے طلبگار رہتے ہیں تاکہ کمائی ہوئی پونجی ضائع نہ ہو جائے اور خدانکردہ دل سیدھے ہونے کے بعد کج نہ کر دیئے جائیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم (امت کو سنانے کے لئے) اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے { یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ }۔

رَبَّنا إِنَّكَ جامِعُ النّاسِ لِيَومٍ لا رَيبَ فيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُخلِفُ الميعادَ {3:9}
اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا
Our Lord! verily Thou art the Assembler of mankind for a Day whereof there is no doubt. Verily Allah faileth not the tryst.
وہ دن ضرور آ کر رہے گا اور "زائغین" (کجرو) جن مسائل میں جھگڑتے تھے سب کا دوٹوک فیصلہ ہو جائے گا پھر ہر ایک مجرم کو اپنی کجروی اور ہٹ دھرمی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسی خوف سے ہم ان کے راستہ سے بیزار اور آپ کی رحمت و استقامت کے طالب ہوتے ہیں۔ ہمارا زائغین کے خلاف راستہ اختیار کرنا کسی بدنیتی اور نفسانیت کی بنیاد پر نہیں محض اخروی فلاح مقصود ہے۔

الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا إِنَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَقِنا عَذابَ النّارِ {3:16}
جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ
Those who say our Lord! verify we! we have believed, wherefore forgive us our sins, and protect us from the torment of the Fire.
معلوم ہوا کہ گناہ معاف ہونے کے لئے ایمان لانا شرط ہے۔

رَبَّنا ءامَنّا بِما أَنزَلتَ وَاتَّبَعنَا الرَّسولَ فَاكتُبنا مَعَ الشّٰهِدينَ {3:53}
اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ
Our Lord! we believe in that which Thou hast sent down, and, follow the apostle; write us up wherefore with the witnesses.
پیغمبر کے سامنے اقرار کرنے کے بعد پروردگار کے سامنے یہ اقرار کیا کہ انجیل پر ایمان لا کر تیرے رسول کا اتباع کرتے ہیں۔ آپ اپنے فضل و توفیق سے ہمارا نام ماننے والوں کی فہرست میں ثبت فرما دیں۔ گویا ایمان کی رجسٹری ہو جائے کہ پھر لوٹنے کا احتمال نہ رہے۔

وَما كانَ قَولَهُم إِلّا أَن قالوا رَبَّنَا اغفِر لَنا ذُنوبَنا وَإِسرافَنا فى أَمرِنا وَثَبِّت أَقدامَنا وَانصُرنا عَلَى القَومِ الكٰفِرينَ {3:147}
اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما
And their speech was naught but that they said: our Lord! forgive us our sins and our extravagance in our affairs, and make our foothold firm, and make us triumph over the disbelieving people.
یعنی مصائب و شدائد کے ہجوم میں نہ گھبراہٹ کی کو ئی بات کہی نہ مقابلہ سے ہٹ جانے اور دشمن کی اطاعت قبول کرنے کا ایک لفظ زبان سے نکالا۔ بولے تو یہ بولے کہ خداوندا! تو ہم سب کی تقصیرات اور زیادتیوں کو معاف فرما دے۔ ہمارے دلوں کو مضبوط و مستقل رکھ۔ تا ہمارا قدم جادۂ حق سے نہ لڑکھڑائے اور ہم کو کافروں کے مقابلہ میں مدد پہنچا وہ سمجھے کہ بسا اوقات مصیبت کے آنے میں لوگوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو دخل ہوتا ہے۔ اور ہم میں کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس سے کبھی کوئی تقصیر نہ ہوئی ہو گی۔ بہرحال بجائے اس کے کہ مصیبت سے گھبرا کر مخلوق کی طرف جھکتے اپنے خالق و مالک کی طرف جھکے۔

الَّذينَ يَذكُرونَ اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِهِم وَيَتَفَكَّرونَ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ رَبَّنا ما خَلَقتَ هٰذا بٰطِلًا سُبحٰنَكَ فَقِنا عَذابَ النّارِ {3:191}
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
Who remember- Allah Standing and sitting and lying on their sides, and reflect on the creation of the heavens and the earth: our Lord Thou createdest not all this in vain. Hallowed be Thou! Save us, Thou, from the torment of the Fire!
یعنی ذکر و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ خداوندا! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بیکار پیدا نہیں کیا جس کا کوئی مقصدنہ ہو، یقینًا ان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا سلسلہ کسی عظیم و جلیل نتیجہ پر منتہی ہونا چاہئے۔ گویا یہاں سے ان کا ذہن تصور آخرت کی طرف منتقل ہو گیا جو فی الحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی کا آخری نتیجہ ہے اسی لئے آگے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی دعا کی اور درمیان میں خدا تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہہ بیان کر کے اشارہ کر دیا کہ جو احمق قدرت کے ایسے صاف و صریح نشان دیکھتے ہوئے تجھ کو نہ پہچانیں یا تیری شان کو گھٹائیں یا کارخانہ عالم کو محض عبث و لعب سمجھیں تیری بارگاہ ان سب کی ہزلیات و خرافات سے پاک ہے۔ ا س آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین اور دیگر مصنوعات الہٰیہ میں غور و فکر کرنا وہ ہی محمود ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو، باقی جو مادہ پرست ان مصنوعات کے تاروں میں الجھ کر رہ جائیں اور صانع کی صحیح معرفت تک نہ پہنچ سکیں، خواہ دنیا انہیں بڑا محقق اور سائنس داں کہا کرے، مگر قرآن کی زبان و میں وہ اولوالالبا ب نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ پرلے درجہ کے جاہل و احمق ہیں۔
یعنی کسی حال خدا سے غافل نہیں ہوتے اس کی یاد ہمہ وقت ان کے دل میں اور زبان پر جاری رہتی ہے جیسے حدیث میں رسول اللہ کی نسبت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا { کان یذکر اللہ علیٰ کل احیانہٖ } نماز بھی خدا کی بہت بڑی یاد ہے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ جو کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر پڑھ لے بعض روایات میں ہے کہ جس رات میں یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حالت میں اللہ کو یاد کر کے روتے رہے۔

رَبَّنا إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ {3:192}
اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
Our Lord verily whomsoever Thou makest to enter into the Fire, him Thou hast surely humiliated and for the wrong-doers there shall be no helpers.
جو شخص جتنی دیر دوزخ میں رہے گا اسی قدر رسوائی سمجھو۔ اس قاعدہ سے دائمی رسوائی صرف کفار کے لئے ہے ۔ جن آیات میں عامۂ مومنین سے خزی (رسوائی) کی نفی کی گئ ہے وہاں یہ ہی معنی سمجھنے چاہئیں۔
یعنی جس کو خدا دوزخ میں ڈالنا چاہے کوئی حمایت کر کے بچا نہیں سکتا۔ ہاں جن کو ابتداء میں یا آخر میں چھوڑنا اور معاف کر دینا ہی منظور ہو گا (جیسے عصاۃ مومنین) ان کے لئے شفعاء کو اجازت دی جائے گی کہ سفارش کر کے بخشوائیں۔ وہ اس کے مخالف نہیں بلکہ آیات و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا ۚ رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ {3:193}
اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا
Our Lord verily we heard a caller calling to belief: believe in your Lord, wherefore we have come to believe. Our Lord forgive us our sins, and expiate from us our misdeeds, and let us die along with the pious.
یعنی ہمارے بڑے بڑے گناہ بخش دے اور چھوٹی موٹی برائیوں پر پردہ ڈال دے اور جب اٹھانا ہو نیک بندوں کے زمرہ میں شامل کر کے دنیا سے اٹھا لے۔
پہلے ایمان عقلی کا ذکر تھا، یہ ایمان سمعی ہوا جس میں ایمان بالرسول اور ایمان بالقرآن بھی درج ہو گیا۔
یعنی نبی کریم جنہوں نے بڑی اونچی آواز سے دنیا کو پکارا۔ یا قرآن کریم جس کی آواز گھر گھر پہنچ گئ۔

رَبَّنا وَءاتِنا ما وَعَدتَنا عَلىٰ رُسُلِكَ وَلا تُخزِنا يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لا تُخلِفُ الميعادَ {3:194}
اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا
Our Lord! vouchsafe unto us that which Thou hast promised us by Thine apostles, and humiliate us not on the Day of Resurrection. Verily Thou failest not the tryst.
یعنی پیغمبروں کی زبانی، ان کی تصدیق کرنے پر جو وعدے آپ نے کئے ہیں (مثلًا دنیا میں آخر کار اعداء اللہ پر غالب و منصور کرنا اور آخرت میں جنت و رضوان سے سرفراز فرمانا) ان سے ہم کو اس طرح بہرہ اندوز کیجئے کہ قیامت کے دن ہماری کسی قسم کی ادنیٰ سے ادنیٰ رسوائی بھی نہ ہو۔
یعنی آپ کے ہاں تو وعدہ خلافی کا احتمال نہیں، ہم میں احتمال ہے کہ مبادا ایسی غلطی نہ کر بیٹھیں جو آپ کے وعدوں سے مستفید نہ ہو سکیں ۔ اس لئے درخواست ہے کہ ہم کو ان اعمال پر مستقیم رہنے کی توفیق دیجئے جن کی آپ کے وعدوں سے متمتع ہونے کے لئے ضرورت ہے۔

وَإِذا سَمِعوا ما أُنزِلَ إِلَى الرَّسولِ تَرىٰ أَعيُنَهُم تَفيضُ مِنَ الدَّمعِ مِمّا عَرَفوا مِنَ الحَقِّ ۖ يَقولونَ رَبَّنا ءامَنّا فَاكتُبنا مَعَ الشّٰهِدينَ {5:83}
اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمد) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے
And when they hear that which hath been sent down unto the apostle, then thou beholdest their eyes overflow, with tears because of the truth they have recognised. They say: Our Lord! we believe, so write us down with the witnesses.

قالَ عيسَى ابنُ مَريَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنا أَنزِل عَلَينا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ تَكونُ لَنا عيدًا لِأَوَّلِنا وَءاخِرِنا وَءايَةً مِنكَ ۖ وَارزُقنا وَأَنتَ خَيرُ الرّٰزِقينَ {5:114}
(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے
'Isa, son of Maryam, said: O Allah, our Lord send down unto us some food from the heaven, that it may become unto us an occasion of joy, unto the first of us and the last of us, and a sign from Thee. And provide us Thou; and Thou art the Best of providers.
یعنی بدون تعب و کسب کے روزی عطا فرمائے۔ آپ کے یہاں کیا کمی ہے اور کیا مشکل ہے۔
یعنی تیری قدرت کی اور میری نبوت و صداقت کی نشانی ہو۔
یعنی وہ دن جس میں مائدہ آسمانی نازل ہو، ہمارے اگلے پچھلے لوگوں کے حق میں عید ہو جائے کہ ہمیشہ ہماری قوم اس دن کو بطور یادگار تہوار منایا کرے۔ اس تقریر کے موافق { تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا } کا اطلاق ایسا ہوا جیسا کہ آیۂ { اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ } کے متعلق بخاری میں یہود کا یہ مقولہ نقل کیا ہے۔ { انکم تقرؤن اٰیۃ لو نزلت فینا لا تخذ ناھا عیدًا } جس طرح آیۃ کو عید بنانے کا مطلب اس کے یوم نزول کو عید بنانا ہے۔ کما ہو مصرح فی الروایات الاخر۔ اسی پر مائدہ کے عید ہونے کو بھی قیاس کر لو کہتے ہیں کہ وہ خوان اترا اتوار کو جو نصاریٰ کے یہاں ہفتہ کی عید ہے جیسے مسلمانوں کے یہاں جمعہ۔

قالا رَبَّنا ظَلَمنا أَنفُسَنا وَإِن لَم تَغفِر لَنا وَتَرحَمنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ {7:23}
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
The twain said. our Lord! we have wronged our souls, and if Thou forgivest us not and hath not mercy on us, we shall of a surety be of the losers.

وَإِذا صُرِفَت أَبصٰرُهُم تِلقاءَ أَصحٰبِ النّارِ قالوا رَبَّنا لا تَجعَلنا مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ {7:47}
اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
And when their eyes Will be turned toward the fellows of the Fire, they will say: our Lord! place us not with these wrong-doing people.
جنت و دوزخ کے درمیان ہونے کی وجہ سےان لوگوں کی حالت خوف و رجاء کے بیچ میں ہو گی ادھر دیکھیں گے تو امید کریں گے اور ادھر نظر پڑے گی تو خدا سے ڈر کر پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان دوزخیوں کے زمرہ میں شامل نہ کیجئے۔

قَدِ افتَرَينا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِن عُدنا فى مِلَّتِكُم بَعدَ إِذ نَجّىٰنَا اللَّهُ مِنها ۚ وَما يَكونُ لَنا أَن نَعودَ فيها إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا ۚ وَسِعَ رَبُّنا كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلنا ۚ رَبَّنَا افتَح بَينَنا وَبَينَ قَومِنا بِالحَقِّ وَأَنتَ خَيرُ الفٰتِحينَ {7:89}
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں)۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
We must have been fabricating a lie against Allah if we returned to your faith after Allah hath delivered us therefrom. And it is not for us to return thereunto except that Allah our Lord so willed; everything our Lord comprehendeth in His knowledge; in Allah we place our trust. O our Lord! decide Thou between us and our people with truth, Thou art the Best of the deciders.
یعنی اپنے اختیار یا تمہارے اکراہ و اجبار سے ممکن نہیں کہ ہم معاذ اللہ کفر کی طرف جائیں۔ ہاں اگر فرض کرو خدا ہی کی مشیت ہم میں سے کسی کی نسبت ایسی ہو جائے تو اس کے ارادہ کو کون روک سکتا ہے۔ اگر اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہو تو وہاں کوئی نہیں بول سکتا۔ کیونکہ اس کا علم تمام مصالح اور حکمتوں پر محیط ہے۔ بہرحال تمہاری دھمکیوں سے ہم کو کوئی خوف نہیں کیونکہ ہمارا بالکلیہ اعتماد اور بھروسہ اپنے خدائے واحد پر ہے۔ کسی کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جو ہوگا اسی کی مشیت اور علم محیط کے تحت میں ہوگا۔ اسی لئے ہم اپنے اور تمہارے فیصلہ کے لئے بھی اسی سے دعا کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے قادر اور علیم و حکیم سے بہتر کسی کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ حضرت شعیبؑ کے ان الفاظ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ انبیاء کے قلوب حق تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اپنی عبودیت و افتقار کے کس قدر عظیم و عمیق احساس سے معمور ہوتے ہیں اور کس طرح ہر آن اور ہر حال میں ان کا توکل و اعتماد تمام و سائط سے منقطع ہو کر اسی وحدہٗ لا شرک لہٗ پر پہاڑ سے زیادہ مضبوط اور غیر متزلزل ہوتا ہے۔
کسی کو تو ابتداءً نجات دے چکا کہ اس میں داخل ہی نہ ہونے دیا جیسے حضرت شعیبؑ اور بعضوں کو داخل ہونے کے بعد اس سے نکالا جیسے عامۂ مومنین۔
باطل اور جھوٹے مذہب کو سچا کہنا ہی خدا پر افتراء کرنا اور بہتان باندھنا ہے۔ پھر بھلا ایک جلیل القدر پیغمبر اور اس کے مخلص متبعین سے یہ کب ممکن ہے کہ وہ معاذ اللہ سچائی سے نکل کر جھوٹ کی طرف واپس جائیں اور جو سچے دعوے اپنی حقانیت یا مامور من اللہ ہونے کے کر رہے تھے، ان سب کا جھوٹ اور افتراء ہونا تسلیم کریں۔

وَما تَنقِمُ مِنّا إِلّا أَن ءامَنّا بِـٔايٰتِ رَبِّنا لَمّا جاءَتنا ۚ رَبَّنا أَفرِغ عَلَينا صَبرًا وَتَوَفَّنا مُسلِمينَ {7:126}
اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو
And what is it for which thou takest vengeance on us save that we have believed in the signs of our Lord when they came unto us? Our Lord! pour out upon us perseverance and cause us to die as Muslims.
یعنی جس رب کی نشانیوں کو مان لینے سے ہم تیری نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں، اسی رب سے ہماری دعا ہے کہ وہ تیری زیادتیوں اور سختیوں پر ہم کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور مرتے دم تک اسلام پر مستقیم رکھے ایسا نہ ہو کہ گھبرا کر کوئی بات تسلیم و رضاء کے خلاف کر گذریں۔

فَقالوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلنا رَبَّنا لا تَجعَلنا فِتنَةً لِلقَومِ الظّٰلِمينَ {10:85}
تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال
So they said: on Allah We rely, our Lord! make us not a trial for the wrong-doing people.
موسٰیؑ کی نصیحت پر انہوں نے اخلاص کا اظہار کیا کہ بیشک ہمارا بھروسہ خالص خدا پر ہے اسی سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو ان ظالموں کا تختہ مشق نہ بنائے اس طرح کہ یہ ہم پر اپنے زور و طاقت سے ظلم ڈھاتے رہیں۔ اور ہم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ ایسی صورت میں ہمارا دین بھی خطرہ میں ہے اور ان ظالموں یا دوسرے دیکھنے والوں کو یہ ڈینگ مارنے کا موقع ملے گا اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو تم پر ایسا تسلط و تفوق کیوں حاصل ہوتا اور تم اس قدر پست و ذلیل کیوں ہوتے۔ یہ خیال ان گمراہوں کو اور زیادہ گمراہ کر دے گا۔ گویا ایک حیثیت سے ہمارا وجود ان کے لئے فتنہ بن جائے گا۔

وَنَجِّنا بِرَحمَتِكَ مِنَ القَومِ الكٰفِرينَ {10:86}
اور چھڑا دے ہم کو مہربانی فرما کر ان کافر لوگوں سے [۱۱۹]
یعنی ان کی غلامی اور محکومیت سے ہم کو نجات دے اور دولت آزادی سے مالا مال فرما۔



رَبَّنا إِنَّكَ تَعلَمُ ما نُخفى وَما نُعلِنُ ۗ وَما يَخفىٰ عَلَى اللَّهِ مِن شَيءٍ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ {14:38}
اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں
Our Lord! verily Thou knowest that which We conceal and that which We make known; and not of aught is concealed from Allah in the earth or in the heaven.
یعنی زمین و آسمان کی کوئی چیز آپ سے پوشیدہ نہیں ۔ پھر ہمارا ظاہر و باطن کیسے مخفی رہ سکتا ہے یہ جو فرمایا "جو ہم کرتے ہیں چھپا کر اور جو کرتے ہیں دکھا کر" اس میں مفسرین کے کئ اقوال ہیں ، لیکن تخصیص کی کوئی وجہ نہیں ۔ الفاظ عام ہیں جو سب کھلی چھپی چیزوں کو شامل ہیں ۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ ظاہر میں دعاء کی سب اولاد کے واسطے اور دل میں دعاء منظور تھی پیغمبر آخرالزماں کی۔

رَبِّ اجعَلنى مُقيمَ الصَّلوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتى ۚ رَبَّنا وَتَقَبَّل دُعاءِ {14:40}
اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما
My Lord! make me establisher of prayer and also from my progeny, our Lord! and accept Thou my supplication.
یعنی میری ذریت میں ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نمازوں کو ٹھیک طور پر قائم رکھیں۔
یعنی میری سب دعائیں قبول فرمائے۔

رَبَّنَا اغفِر لى وَلِوٰلِدَىَّ وَلِلمُؤمِنينَ يَومَ يَقومُ الحِسابُ {14:41}
اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو
Our Lord! forgive me and my parents and the believers on the Day whereon will be set up the reckoning.
یہ دعاء غالبًا اپنے والد کے حالت کفر پر مرنے کی خبر موصول ہونے سے پہلے کی۔ تو مطلب یہ ہو گا کہ اسےاسلام کی ہدایت کر کے قیامت کے دن مغفرت کا مستحق بنا دے۔ اور اگر مرنے کی خبر ملنے کے بعد دعا کی ہے تو شاید اس وقت تک خدا تعالیٰ نے آپ کو مطلع نہیں کیا ہو گا کہ کافر کی مغفرت نہیں ہو گی۔ عقلاً کافر کی مغفرت محال نہیں ، سمعًا ممتنع ہے۔ سو اس کا علم سمع پر موقوف ہو گا اور قبل از سمع امکان عقلی معتبر رہے گا۔ بعض شیعہ نے یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم میں ابراہیمؑ کے باپ کو جو کافر کہا گیا ہے وہ ان کے حقیقی باپ نہ تھے بلکہ چچا وغیرہ کوئی دوسرے خاندان کے بڑے تھے ۔ واللہ اعلم۔

إِذ أَوَى الفِتيَةُ إِلَى الكَهفِ فَقالوا رَبَّنا ءاتِنا مِن لَدُنكَ رَحمَةً وَهَيِّئ لَنا مِن أَمرِنا رَشَدًا {18:10}
جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر
Recall what time the youths betook themselves to the cave, then said: our Lord! vouchsafe unto us mercy from before Thee, and prepare for us in our affair a right course.

قالا رَبَّنا إِنَّنا نَخافُ أَن يَفرُطَ عَلَينا أَو أَن يَطغىٰ {20:45}
دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے
The twain said: O our Lord! verily we fear that he may hasten against us or wax exorbitant.
یعنی اس کے ڈرنے کی امید تو بعد کو ہو گی ، فی الحال اپنی بے سرو سامانی اور اس کے جاہ و جلال پر نظر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سننے کے لئے آمادہ بھی ہو گا یا نہیں ۔ ممکن ہے ہماری پوری بات سننے سے پہلے ہی وہ بھبک پڑے یا سننے کے بعد غصہ میں بپھر جائے اور تیری شان میں زیادہ گستاخی کرنے لگے۔ یا ہم پر دست درازی کرے جس سے اصل مقصد فوت ہو جائے (تنبیہ) موسٰیؑ کے اس خوف اور شرح صدر میں کچھ منافات نہیں۔ کاملین بلاء کے نزول سے پہلے ڈرتے ہیں اور استعادہ کرتے ہیں ۔ لیکن جب آ پڑتی ہے اس وقت پورے حوصلہ اور کشادہ دلی سےاس کا مقابلہ کرتے ہیں۔

إِنَّهُ كانَ فَريقٌ مِن عِبادى يَقولونَ رَبَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا وَارحَمنا وَأَنتَ خَيرُ الرّٰحِمينَ {23:109}
میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو تُو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے
Verily there was a party of My bondmen who said: our Lord! we have believed, wherefore forgive us and have mercy upon us, and Thou art the Best of the merciful ones!
یعنی بک بک مت کرو، جو کیا تھا اب اس کی سزا بھگتو۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جواب کے بعد پھر فریاد منقطع ہو جائے گی۔ بجز فیروشہیق کے کچھ کلام نہ کر سکیں گے۔ العیاذ باللہ۔

وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنَا اصرِف عَنّا عَذابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذابَها كانَ غَرامًا {25:65}
اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے
And these who say: our Lord! avert from us the torment of Hell verily the torment thereof is perishment.

إِنَّها ساءَت مُستَقَرًّا وَمُقامًا {25:66}
اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے
Verily ill it is as an abode and as a station.
یعنی اتنی عبادت پر اتنا خوف بھی ہے۔ یہ نہیں کہ تہجد کی آٹھ رکعت پڑھ کر خدا کے عذاب و قہر سے بے فکر ہو گئے۔

وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا هَب لَنا مِن أَزوٰجِنا وَذُرِّيّٰتِنا قُرَّةَ أَعيُنٍ وَاجعَلنا لِلمُتَّقينَ إِمامًا {25:74}
اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا
And those who say: our Lord bestow on us coolness of eyes from our wives and our offspring, and make us unto the God-fearing a pattern.
یعنی ایسا بنا دے کہ لوگ ہماری اقتداء کر کے متقی بن جایا کریں۔ حاصل یہ کہ ہم نہ صرف بذات خود مہتدی، بلکہ دوسروں کے لئے ہادی ہوں۔ اور ہمارا خاندان تقویٰ و طہارت میں ہماری پیروی کرے۔
یعنی بیوی بچے ایسے عنایت فرما جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور قلب مسرور ہو۔ اور ظاہر ہے مومن کامل کا دل اسی وقت ٹھنڈا ہو گا جب اپنے اہل و عیال کو اطاعت الہٰی کے راستہ پر گامزن اور علم نافع کی تحصیل میں مشغول پائے ۔ دنیا کی سب نعمتیں اور مسرتیں اس کے بعد ہیں۔

الَّذينَ يَحمِلونَ العَرشَ وَمَن حَولَهُ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم وَيُؤمِنونَ بِهِ وَيَستَغفِرونَ لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا وَسِعتَ كُلَّ شَيءٍ رَحمَةً وَعِلمًا فَاغفِر لِلَّذينَ تابوا وَاتَّبَعوا سَبيلَكَ وَقِهِم عَذابَ الجَحيمِ {40:7}
جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے
Those who bear the Throne and those who are round about it, hallow the praise of their Lord and believe in Him and ask forgiveness for those who believe, saying: our Lord! Thou comprehendest everything in mercy and knowledge, wherefore forgive these who repent and follow Thine path, and protect them from the torment of the Flaming Fire.
یہ فرشتوں کے استغفار کی صورت بتلائی۔ یعنی بارگاہ احدیت میں یوں عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کا علم اور رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔ پس جو کوئی تیرے علم محیط میں برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے تیری طرف رجوع ہو اور تیرے راستہ پر چلنے کی کوشش کرتا ہو، اگر اس سے بمقتضائے بشریت کچھ کمزوریاں اور خطائیں سرزد ہو جائیں، آپ اپنے فضل و رحمت سے اسکو معاف فرما دیں۔ نہ دنیا میں ان پر داروگیر ہو اور نہ دوزخ کا منہ دیکھنا پڑے۔ باقی جو مسلمان توبہ و انابت کی راہ اختیار نہ کرے اس کا یہاں ذکر نہیں۔ آیت ہذا اس کی طرف سے ساکت ہے بظاہر حاملین عرش انکے حق میں دعا نہیں کرتے۔ اللہ کا ان کےساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ یہ دوسری نصوص سے طے کرنا چاہئے۔
پہلی آیات میں مجرمین و منکرین کا حال زبوں بیان ہوا تھا۔ یہاں انکے مقابل مومنین تابئین کا فضل و شرف بیان کرتے ہیں۔ یعنی عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے گرد طواف کرنے والے بیشمار فرشتے جنکی غذا صرف حق تعالیٰ کی تسبیح و تحمید ہے اور جو مقربین بارگاہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ درجہ کا ایمان و یقین رکھتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے آگے مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ سبحان اللہ! اس عزت افزائی اور شرف و احترام کا کیا ٹھکانا ہے کہ فرش خاک پر رہنے والے مومنین سے جو خطائیں اور لغزشیں ہو گئیں ملائکہ کَرُّوبیین بارگاہ احدیت میں ان کے لئے غائبانہ معافی چاہیں ۔ اور جب ان کی شان میں { وَیَفْعلُوْنَ مَا یُوْمَرُوْنَ } آیا تو وہ حق تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر مامور ہوں گے۔

رَبَّنا وَأَدخِلهُم جَنّٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدتَهُم وَمَن صَلَحَ مِن ءابائِهِم وَأَزوٰجِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ {40:8}
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
Our Lord! make them enter the Everlasting Gardens Which Thou hast promised them, and also such of their fathers and their spouses and their offspring as verify Thou: Thou art the Mighty, the Wise.
یعنی اگر چہ بہشت ہر کسی کو اپنے عمل سے ملتی ہے (جیسا کہ یہاں بھی { صَلَحَ } کی قید سے ظاہر ہے) بدون اپنے ایمان و صلاح کے بیوی، بیٹا اور ماں باپ کام نہیں آتے لیکن تیری حکمتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک کےسبب سے کتنوں کو ان کے عمل سے زیادہ اعلٰی درجہ پر پہنچا دے۔ کما قال تعالیٰ { وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَابِھِمْ وَمَآ اَلَتْنٰھُمْ مِّنْ عَمَلِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ } (طور رکوع۱) اور گہری نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت میں وہ بھی ان ہی کے کسی عمل قلبی کا بدلہ ہو۔ مثلًا وہ آرزو رکھتے ہوں کہ ہم بھی اسی مرد صالح کی چال چلیں۔ یہ نیت اور نیکی کی حرص اللہ کے ہاں مقبول ہو جائے یا اس مرد صالح کے اکرام و مدارات ہی کی ایک صورت یہ ہو کہ اس کے ماں باپ اور بیوی بچے بھی اس کے درجہ میں رکھے جائیں۔

وَقِهِمُ السَّيِّـٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّـٔاتِ يَومَئِذٍ فَقَد رَحِمتَهُ ۚ وَذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ {40:9}
اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے
And protect them from evils. And whosoever Thou shalt protect from evils on that Day, him Thou hast of a surety taken into mercy and that: it is an achievement mighty.
یعنی محشر میں ان کو کوئی برائی (مثلًا گھبراہٹ اور پریشانی وغیرہ) لاحق نہ ہو۔ اور یہ عظیم الشان کامیابی صرف تیری خاص مہربانی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ بعض مفسرین نے سئیات سے اعمال سئیہ مراد لئے ہیں یعنی آگے کو انہیں برے کاموں سے محفوظ فرما دے۔ اور ان کی خو ایسی کر دے کہ برائی کی طرف نہ جائیں۔ ظاہر ہے جو آج یہاں برائی سے بچ گیا اس پرتیرا فضل ہو گیا۔ وہ ہی آخرت میں اعلٰی کامیابی حاصل کرے گا۔ اس تفسیر پر { یَوْمَئِذٍ } کا ترجمہ بجائے "اُس دن" "اِس دن" ہونا چاہئے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی تیری مہر ہی ہو کہ برائیوں سے بچے۔ اپنے عمل سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ تھوڑی بہت برائی سے کون خالی ہے"۔ یہ الفاظ دونوں تفسیروں پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔

وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخوٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا إِنَّكَ رَءوفٌ رَحيمٌ {59:10}
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
And it is also due Unto those who came after them, saying: 'Our Lord! forgive us and our brethren who have preceded us in the faith, and place not in our hearts any rancour toward those who had believed. Our Lord! verily Thou art Tender, Merciful.'
یعنی سابقین کے لئے دعاء مغفرت کرتے ہیں اور کسی مسلمان بھائی کی طرف سے دل میں بیر اور بغض نہیں رکھتے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ "یہ آیت سب مسلمانوں کے واسطے ہے جو اگلوں کا حق مانیں اور انہی کے پیچھے چلیں اور ان سے بیر نہ رکھیں"۔ امام مالکؒ نے یہیں سے فرمایا کہ جو شخص صحابہؓ سے بغض رکھے اور ان کی بدگوئی کرے اس کے لئے مال فئ میں کچھ حصہ نہیں۔
یعنی ان مہاجرین و انصار کے بعد عالمِ وجود میں آئے، یا ان کے بعد حلقہ اسلام میں آئے یا مہاجرین سابقین کے بعد ہجرت کرکے مدینہ آئے۔ والظاہر ہوالاوّل۔

قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبرٰهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَءٰؤُا۟ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَدٰوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ إِلّا قَولَ إِبرٰهيمَ لِأَبيهِ لَأَستَغفِرَنَّ لَكَ وَما أَملِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۖ رَبَّنا عَلَيكَ تَوَكَّلنا وَإِلَيكَ أَنَبنا وَإِلَيكَ المَصيرُ {60:4}
تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہوسکتے) اور جب تک تم خدائے واحد اور ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ ہاں ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے
Surely there hath been an excellent pattern for you in Ibrahim and those with him, when they said Unto their people; verily we are quit of you and of that which ye worship beside Allah; we renounce you; and surely there hath appeared between us and you hostility and hatred for evermore until ye believe in Allah alone, - except the saying of Ibrahim Unto his father: surely I shall beg forgiveness for thee, and I have no power with Allah for thee at all. Our Lord! in Thee we put our trust, and Unto Thee we turn, and Unto Thee is the journeying.
یعنی صرف دعا ہی کرسکتا ہوں کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ خدا جو کچھ پہنچانا چاہے۔ اسے میں نہیں روک سکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں " یعنی ابراہیمؑ نے ہجرت کی پھر اپنی قوم کی طرف منہ نہیں کیا۔ تم بھی وہی کرو۔ ایک ابراہیمؑ نے دعا چاہی تھی، باپ کے واسطے۔ جب تک معلوم نہ تھا۔ تم کو معلوم ہو چکا۔ لہٰذا تم کافر کی بخشش نہ مانگو"۔ (تنبیہ) باپ کے حق میں ابراہیمؑ کے استغفار کا قصہ سورۃ "براءۃ" میں گزر چکا۔ آیت { وماکان استغفار ابراھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایّاہ } الخ کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔
یعنی سب کو چھوڑ کر تجھ پر بھروسہ کیا اور قوم سے ٹوٹ کر تیری طرف رجوع ہوئے اور خوب جانتے ہیں کہ سب کو پھر کر تیری ہی طرف آنا ہے۔
یعنی یہ دشمنی اور بیر اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب تم شرک چھوڑ کر اسی ایک آقا کے غلام بن جاؤ جس کے ہم ہیں۔
یعنی جو لوگ مسلمان ہو کر ابراہیمؑ کے ساتھ ہوتے گئے اپنے اپنے وقت پر سب نے قولًا یا فعلًا اسی علیحدگی اور بیزاری کا اعلان کیا۔
یعنی تم اللہ سے منکر ہو۔ اور اس کے احکام کی پروا نہیں کرتے۔ ہم تمہارے طریقہ سے منکر ہیں۔ اور ذرّہ برابر تمہاری پروا نہیں کرتے۔

Our Lord, do not make us a cause of beguilement for those who disbelieve, that is to say, do not make them prevail over us, lest they think that they are following the truth and are beguiled as a result, in other words, [lest] they lose their reason because of us; and forgive us. Our Lord, You are indeed the Mighty, the Wise’, in Your kingdom and Your actions.

رَبَّنا لا تَجعَلنا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا وَاغفِر لَنا رَبَّنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ {60:5}
اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
Our Lord! make us not a trial for those who disbelieve, and forgive us, our Lord! verily Thou! Thou art the Mighty, the Wise.
یعنی ہم کو کافروں کے واسطے محل آزمائش اور تختہ مشق نہ بنا۔ اور ایسے حال میں مت رکھ جس کو دیکھ کر کافر خوش ہوں، اسلام اور مسلمانوں پر آوازے کسیں اور ہمارے مقابلہ میں اپنی حقانیت پر استدلال کرنے لگیں۔
تیری زبردست قوت اور حکمت سے یہی توقع ہے کہ اپنی وفاداروں کو دشمنوں کے مقابلہ میں مغلوب و مقہور نہ ہونے دیگا۔
یعنی ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور تقصیرات سے درگذر کر۔

يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا توبوا إِلَى اللَّهِ تَوبَةً نَصوحًا عَسىٰ رَبُّكُم أَن يُكَفِّرَ عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَيُدخِلَكُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ يَومَ لا يُخزِى اللَّهُ النَّبِىَّ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ ۖ نورُهُم يَسعىٰ بَينَ أَيديهِم وَبِأَيمٰنِهِم يَقولونَ رَبَّنا أَتمِم لَنا نورَنا وَاغفِر لَنا ۖ إِنَّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ {66:8}
مومنو! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا (بلکہ) ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا۔ اور وہ خدا سے التجا کریں گے کہ اے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف کرنا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
O ye who believe! turn Unto Allah with a sincere repentance. Belike your Lord will expiate from you your misdeeds and cause you to enter Gardens whereunder rivers flow, on the Day whereon Allah will not humiliate the prophet and those who believe with him. Their light will be running before them and on their right hands, and they will say: our Lord! perfect for us our light, and forgive us; verily Thou art over everything Potent.
صاف دل کی توبہ یہ کہ دل میں پھر گناہ کا خیال نہ رہے۔ اگر توبہ کے بعد ان ہی خرافات کا خیال پھر آیا تو سمجھو کہ توبہ میں کچھ کسر رہ گئ ہے۔ اور گناہ کی جڑ دل سے نہیں نکلی { رزقنا اللہ منھا حظا وافرابفضلہ وعونہ وھو علٰی کل شئی قدیر }۔
یعنی ہماری روشنی آخر تک قائم رکھیے، بجھنے نہ دیجئے۔ جیسے منافقین کی نسبت سورۃ "حدید" میں بیان ہوچکا کہ روشنی بجھ جائیگی اور اندھیرے میں کھڑے رہ جائیں گے۔ مفسرین نے عمومًا یہ ہی لکھا ہے لیکن حضرت شاہ صاحبؒ { اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا } کی مراد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "روشنی ایمان کی دل میں ہے، دل سے بڑھے تو سارے بدن میں، پھر گوشت پوست میں "(سرایت کرے)۔
یعنی نبی کا کہنا کیا۔ اس کے ساتھیوں کو بھی ذلیل نہ کریگا۔ بلکہ نہایت اعزارواکرام سے فضل و شرف کے بلند مناصب پر سرفراز فرمائے گا۔
اس کا بیان سورۃ "حدید" میں ہو چکا۔




دعاؤں کی آیات
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

(۱)اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَoالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِoمٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِoاِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُoاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَoصِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ۥۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ۔آمین!۔         

  (سورۃالفاتحۃ)

 

ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جوسب جہانوں کا رب ہے،بہت رحمت والا اوربڑامہربان ہے،قیامت کےدن کا مالک ہے اے اللہ!ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور بس تجھ سے ہی مددچاہتے ہیں تو ہم کوسیدھا راستہ چلا،ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا نہ ان کا جن پر تیرا غضب ہوااوران کاجوگمراہ ہوئے،خداونداہماری یہ دعاقبول فرما۔آمین

 

(۲)رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار۔         

 (البقرۃ:۲۰۱)

 

اے ہمارے پروردگار!ہم کودنیا میں بھلائی دے اورآخرت میں بھی بھلائی عطافرما اور دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا۔

 

(۳)رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔               

   (آل عمران:۱۶)

 

خداوندا!ہم ایمان لائے پس توہمارے سب گناہ بخش دے اوردوزخ کے عذاب سے ہم کوبچادے۔

 

(۴)رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔

(البقرۃ:۲۵۰)

 

اے ہمارے رب !ہمارے گناہ بخش دے اورہم سے ہمارے کاموں میں جوزیادتیاں اورغلطیاں ہوئیں انہیں معاف فرمااورحق پر ہمارے پاؤں جمادے اورکفرکرنے والوں کے مقابلے میں ہماری مددفرما۔

 

(۵)رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّاo رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِoرَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِo اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔             

  (آل عمران:۱۹۳) 

 

اے ہمارے رب!ہم نے ایک پکارنے والے کو ایمان کا بلاوادیتے ہوئے سنا(کہ لوگو!اپنے پروردگارپرایمان لاؤ)تو ہم ایمان لے آئے پس اے ہمارے پروردگار!ہمارے گناہ بخش دے، اورہماری برائیاں مٹادے اوراپنے نیک بندوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ کر،خداوندا!ہم کووہ سب کچھ عطافرمادے جس کا اپنے رسولوں کی زبانی تونے ہم سے وعدہ فرمایااور قیامت کےدن ہم کو رسوانہ کر تیراوعدہ خلاف نہیں ہوتا۔

 

(۶)رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَاo وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔

(الاعراف:۲۳)

 

اےہمارے پروردگار!تیری نافرمانیاں کرکے ہم نے اپنے ہی اوپر بہت ظلم کیا ہے اور اگرتونے ہمیں نہ بخشا تو ہم نامراد اوربرباد ہی ہوجائیں گے۔

 

(۷)رَبَّنَالَاتَجْعَلْنَافِتْنَۃًلِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِیْنَ oوَنَجِّنَابِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔

(یونس:۸۶)

 

اے ہمارے رب!توہمیں ظالم قوم کے ظلم وستم کے لیے تختہ مشق نہ بنا اوراپنی رحمت کے صدقے میں ہم کو قوم کافرین کے ظلم سے نجات دے۔

 

(۸)وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَoاَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِoتَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔               

  (یوسف:۱۰۱)

 

اے زمین وآسمان کےپیدا کرنے والے!دنیا اور آخرت میں صرف توہی میراوالی ہے(اسلام پر میراخاتمہ کراوراپنےنیک بندوں کے ساتھ مجھے شامل فرما۔

 

(۹)رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْoرَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِoرَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۔        

    (ابراہیم:۴۱)

 

میرے پروردگار!مجھے اورمیری نسل کو نماز قائم کرنے والا بنادے،خدایاہماری دعاکو قبول کرمیرے مالک مجھے اورمیرے ماں باپ کو اورسب ایمان والوں کو بخش د یجئے جس دن کہ حساب کتاب ہو۔

 

(۱۰)رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَـمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا۔            

 (بنی اسرئیل:۲۴)

 

میرے پروردگار!میرے ماں باپ پررحمت فرما،جیساکہ انہوں نے مجھے پیارسے پالا جبکہ میں ننھاساتھا۔

 

(۱۱)رَبِّ زِدْنِی عِلْما۔                               

   (طہٰ:۱۱۴)

 

خداوندا!میرے علم میں اضافہ اوربرکت فرما۔

 

(۱۲)رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۔    

   (المؤمنون:۱۱۸ )

 

پروردگار!بخش دے اوررحم فرماتوسب سے اچھا رحم کرنے والا ہے۔

 

(۱۳)رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ o اِنِّىْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(الاحقاف:۱۵)

 

میرے رب!میری قسمت میں کرکہ جو نعمتیں تونے مجھ پر اورمیرے والدین پرفرمائیں میں ان کاشکراداکروں اورایسے عمل کروں جن سے تو راضی ہواورمیرے واسطے میری نسل میں بھی صلاحیت اورنیکی دے میں نے تیرے حضور میں توبہ کی اورمیں تیر ےحکم برداروں میں ہوں۔

 

(۱۴)رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۔        

  (الحشر:۱۰ )

 

خداوندا!ہم کوبخش دے اورہمارے ان بھائیوں کی بھی مغفرت فرماجوایمان کے ساتھ ہم سے آگے گئے اورصاف رکھ ہمارے سینوں کوایمان والوں کے کینہ سے،خداوندا!توبڑا مہربان اوربڑی رحمت والاہے۔

 

(۱۵)رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَاo اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔  

(التحریم:۸ )

 

اے پروردگار!ہمارے واسطے نورکی تکمیل فرما اورہم کو بخش دے تو سب کچھ قدرت رکھتا ہے۔

دعاؤں کی احادیث

 

(۱۶)یَاحَیُّ  یَاقَیُّوم بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ لِیْ شَانِیْ کُلَّہٗ۔

(شعب الایمان، الحادي عشر من شعب الإيمان وهوباب في الخوف من الله،مايمنعك أن تسمعي ماأوصيك به أن تقولي إذا،حدیث نمبر:۷۸۰، صفحہ نمبر:۲/۳۲۴، شاملہ،موقع جامع الحدیث)

 

اے ہمیشہ زندہ رہنے والے اور سب کے تھامنے والے!بس تیری رحمت ہی سے فریادہے، تومیراسب حال درست کردے۔

 

(۱۷)اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلْ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلْ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ۔          

    (مسلم،حدیث نمبر:۴۸۹۷، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میرادین درست فرمادے جس سے میرا سب کچھ ہے اورمیری دنیادرست فرمادے جس میں میری زندگی کا سامان ہے اور میری آخرت درست فرمادے جہاں مجھے واپس جانا اورہمیشہ رہنا ہے، اورمیری زندگی کو ذریعہ بناہر بھلائی اوربہتری میں ترقی کا اورموت کو ذریعہ بناہر برائی اورخرابی سے نجات کا۔

 

(۱۸)اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔

(ابن ماجہ،باب الدعاء با لعفو والعافیۃ،حدیث نمبر:۳۸۳۸، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتاہوں گناہوں کی معافی کااورآرام کادنیا میں اورآخرت میں۔

 

(۱۹)اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى۔

(مسلم:حدیث نمبر:۴۸۹۸ ، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ہدایت کا اورتقوے کا اورشرم وعارکی باتوں سے بچے رہنے کا اورمحتاج نہ ہونے کا۔

 

(۲۰)اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔

(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر:۹۱۵، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں پاک روی کا اورنفع دینے والے علم کااور قبول ہونے والے عمل کا۔

 

(۲۱)اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِك َ، وَسَهِّلْ لَنَا أَبْوَابَ رِزْقِك۔

(مسند عبدالرزق، حدیث نمبر:۱۶۶۵، شاملہ، موقع یعسوب)

 

اے اللہ!ہمارے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اوررزق کے دروازے ہمارے لیے آسان کردے۔

 

(۲۲)اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔

(ترمذی، حدیث نمبر:۳۴۸۶، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!اپنی حلال کی ہوئی چیزوں کو میرے لیے کافی کراورحرام سے میری حفاظت فرما اور اپنے فضل وکرم سے اپنے سواسب سے مجھے بے نیاز رکھ۔

 

(۲۳)اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنِیْ لِمَا تُحِبُّ  وَتَرْضٰی۔

(مسند الفردوس للدیلمی،مسندا لفردوس،حدیث نمبر:۱۹۱۶)

 

اے اللہ!ان باتوں کی توفیق دے جو تجھے محبوب اورپسندیدہ ہیں اورآخرت کو میرے لیے دنیا سے بہتر بنا۔

 

(۲۴)اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَاَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِي۔

(ترمذی،باب ماجاءفی جامع الدعوات،حدیث نمبر:۳۴۰۵، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!بھلائی اورراست روی کی باتیں میرے دل میں ڈال دے اور نفس کی شرارتوں سے مجھے محفوظ رکھ۔

 

(۲۵)اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔

(ابوداؤد، حدیث نمبر:۱۳۰۱، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ اپنے ذکروشکر اوراچھی عبادت پر میری مددفرما اورمجھے اپنا ذاکروشاکراوراچھا عبادت گزار بندہ بنادے۔

 

(۲۶)يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ۔

(ترمذی، حدیث نمبر:۲۰۶۶ ، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم کر اور قائم رکھ۔

 

(۲۷)اَللّٰهُمَّ أَحِيْنِيْ مُسْلِمًا , وَأَمِتْنِيْ مُسْلِمًا۔

(المعجم الکبیر لطبرانی، حدیث نمبر:۶۹۰۳)

 

اے اللہ!مجھے اسلام کے ساتھ زندھ رکھ اور بحالت اسلام مجھے موت دے۔

 

(۲۸)اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ ْعَمَلَ یُّقَرِبُ اِلٰی  حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔

(ترمذی ،باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید،حدیث نمبر:۳۴۱۲، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!مجھے اپنی محبت دے اورتیرے جوبندے تجھ سے محبت رکھتے ہوں ان کی محبت دے اور جو اعمال تیری محبت سے مجھے قریب کریں ان کی محبت دے اے میرے اللہ!اپنی محبت مجھے اپنی جان اور اپنے اہل وعیال اورٹھنڈے پانی سب چیزوں سے زیادہ محبوب کردے۔

 

(۲۹)اَللّٰھُمَّ غَشِّنِیْ بِرَحْمَتِکَ وَجَنَبْنِیْ عَذَابَکَ۔

 

اے اللہ!مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک لے اوراپنے عذاب سے بچادے۔

 

(۳۰)اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَدَمَیَّ یَوْمَ نَزِلُّ فِیْہِ الْاَقْدَامُ۔

 

اے میرے اللہ!جس دن لوگوں کے قدم ڈگماگنے لگیں اس دن تو مجھے ثابت قدم رکھ۔

 

(۳۱)اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا۔

  (مسند احمد، حدیث نمبر:۲۳۰۸۲، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!قیامت کے دن میراحساب آسانی سے ہو۔

 

(۳۲)رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ۔  

  (مسلم، حدیث نمبر:۳۱۵، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!قیامت کے دن میری خطائیں بخش دے۔

 

 (۳۳)اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ۔

   (ابوداؤد،حدیث نمبر:۴۳۸۸، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!حشر کے دن تو مجھے اپنے عذاب سے بچالے۔

 

(۳۴)اَللّٰهُمَّ مَغْفِرَتِك َأَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِيْ وَرَحْمَتِك أِرْجِىْ عِنْدِيْ مِنْ عَمَلِيْ۔

(شعب الایمان،باب فی معالجۃ کل ذنب،حدیث نمبر:۶۸۶۱، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!تیری رحمت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور تیری رحمت کا مجھے اپنے عملوں سے زیادہ آسراہے۔

 

(۳۵)اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَّ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ۔

 

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رضاکا اورجنت کا اورپناہ مانگتا ہوں تیری ناراضی سے اور دوزخ کے عذاب سے۔

 

(۳۶)اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ۔

(ترمذی، حدیث نمبر:۳۴۸۹، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ لیتاہوں اورتیری سزاسے تیری معافی کی پناہ چاہتاہوں اورتیری پکڑ سے تیری ہی پناہ لیتاہوں،خداوندامیں تیری صفت بیان نہیں کرسکتا،بس توویساہی ہے جیسا کہ تونے اپنے کو بیان کیا۔

 

(۳۷)اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔

(مسند احمد، حدیث نمبر:۵۱۰۰، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے میرے اللہ!مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما مجھ پر عنایت کر،توبڑاعنایت فرما اور بہت ہی مہربان ہے۔

 

(۳۸)اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔                

(بخاری،باب افضل الاستغفار،حدیث نمبر:۵۸۳۱، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!توہی میرارب ہے،تیرے سواکوئی معبودمولانہیں،تونے ہی مجھے پیدافرمایااورمیں تیراہی بندہ ہوں اورجہاں تک مجھ سے بن بڑا تیرے عہد اوروعدے پر قائم رہا،میرے مالک ومولا میں اپنے برے کرتوتوں سے تیری پناہ چاہتاہوں،میں اعتراف کرتا ہوں تیری نعمتوں کا اوراقرار کرتاہوں اپنے گناہوں کا،اے اللہ میرے گناہ بخشے دےگناہوں کابخشنے والا تیرے سواکوئی نہیں۔

 

(۳۹)اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي (بخاری، باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید،حدیث نمبر:۳۴۱۴، شاملہ، موقع الإسلام وأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جھنم و من عذاب الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ واعوذبک مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ۔

(بخاری، باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید،حدیث نمبر:۳۴۱۶  شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اپنے کانوں کے شرسے اور اپنی نگاہ کے شرسے اوراپنی زبان کے شرسے اوراپنے دل کے شرسےاوراپنی نفسانی شہوت کے شرسےاورمیں تیری پناہ چاہتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اورقبر کے عذاب سے اور دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ لیتا ہوں زندگی اورموت کے سب فتنوں سے۔

 

(۴۰)اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه ۔            

 (ترمذی،حدیث نمبر:۳۴۴۳، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ!میں تجھ سے ان سب بھلائیوں کا سوال کرتا ہوں جن کا سوال تجھ سے تیرے نبی محمد   نےکیا اور میں ان سب برائیوں اوربری باتوں سے تیری پناہ چاہتاہوں جن سے تیرے نبی محمد   نے پناہ مانگی۔

 

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَابْلِغْہُ الْوَسِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَوَابْعَثْہُ مُقَامًا مَّحْمُوْدًان الَّذِیْ وَعَدْتَّہ۔

(مسنداحمد، اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،حدیث نمبر:۶۳۷۷، شاملہ، موقع الإسلام)

 

اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی اٰل پر رحمتیں نازل کر جیسے کہ تونے حضرت ابراہیم پر اوران کی اٰل پر نازل کیں اے اللہ جیسے کہ تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر برکتیں نازل کیں توہی تعریف کے لائق ہے بزرگی والا ہے، اے اللہ!قیامت کے دن ان کے اپنے خاص مقام قرب میں اتار اوروسیلہ اوردرجے کے مقامات تک ان کو پہونچا اور وہ مقام محمود ان کو عطا فرما جس کا تونے ان کے لیے وعدہ فرمایا ہے۔




حضور اکرمﷺ کی دین ودنیا کے اعتبار سےجامع دعائیں


ان دعاؤں کا ہمیشہ جب فرصت ہو صبح وشام یومیہ وردرکھا جائے،خصوصاً مستجاب اوقات ومقامات میں اس کا اہتمام کیا جائے،مثلاً شب آخر میں تہجد کے وقت، رمضان المبارک میں،شب قدر میں،جمعہ کے دن شام کو،افطاری کے وقت، شب براءت کے موقع میں،سفر کی حالتوں میں،زیارت بیت اللہ،حج کے موقعہ پر مستجاب مقامات وغیرہ میں اورمسجد نبوی میں اس کا ورد رکھا جائے،خواہ ان دعاؤں کو زبانی یاد کرلیں، یاد دیکھ کر پڑھیں خدائے پاک ہم سب کو اپنے مقرب محبوب بندوں میں شامل فرمائے اورسنت کے اعمال وافعال پر عمل کی اخلاص کے ساتھ توفیق عطا فرمائے،آمین۔

(۱)حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی پاک  سے یہ دعاء نقل کرتے ہیں :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِیْشَۃً وَنَقِیَّۃٌ وَمِیْتَۃٌ سَوِیَّۃٌ وَمَرَدّاً غَیْرَ مَخْزِیٍّ وَلَا فَاضِجٍ

(بزار:۴/۵۷،حاکم:۱/۵۴۱)

ترجمہ: (۱)اے اللہ میں سوال کرتا ہوں خوشگوار زندگی کا اچھی موت کا ایسی واپسی کا جو ذلت اوررسوائی سے خالی ہو۔

(۲)حضرت زبیرؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرمارہے تھے:

اَللّٰھُمَّ بَاِرکْ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ اَلَّذِیْ ھُوَ عِصْمَۃُ اَمْرِیْ وَفِیْ آخِرَۃِ الَّتِیْ اِلَیْھَا مَصِیْرِیْ وَفِیْ دُنْیَاَی الَّتِیْ فِیْھَا بَلَاغِیْ وَاجْعَلْ حَیَاتِیْ زِیَادَۃً فِیْ کُلِّ خَیْرٍوَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃٌ لِیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ

(بزار:۴/۵۷)

ترجمہ:

(۲)اے اللہ برکت عطا فرما ہمارے دین میں جو میرا آسراہے اورہماری آخرت میں جس کی طرف میرا لوٹنا ہے اوراس دنیا میں جس میں میری ضرورت ہے اورمیری حیات کو ہر خیر کی زیادتی کا باعث اور میری موت کو ہر برائی سے راحت کا ذریعہ بنادے۔

(۳)حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک  کہ یہ دعاء ہے :

اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِسَمْعِی وَبَصْرِیْ وَاجْعَلْھُمَا الْوَارِثَ مِنِّیْ وَانْصُرْنِیْ عَلٰی مَنْ ظَلَمَنِیْ وَاَرْنِیْ مِنْہُ ثَارِیْ

(بزار:۴/۵۹)

ترجمہ:

(۳)اے اللہ میری قوت سماع وبصارت سے ہمیں فائدہ پہنچا اوران دونوں کے خیر کو ہمارے بعد باقی رکھ اورمجھ پر جو ظلم کرے اس کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما اوراس کی علامت ہمیں دکھا۔

(۴)حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ احْفِظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَائِماًوَاحْفِظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَاعِداً وَاحْفِظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ رَاقِداً وَلَا تُشْمِتْ بِیْ عَدُوّاً وَلَا حَاسِداً اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ خَزَائِنُہُ بِیَدِکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ کُلِّ شَرٍّ خَزَائِنُہُ بِیَدِکَ

(حاکم:۱/۵۲۵)

ترجمہ:

(۴)اے اللہ اسلام سے ہماری حفاظت قیام کی حالت میں قعود کی حالت میں اور سونے کی حالت میں فرما اورحاسدین اوردشمنوں کو خوشی کا موقع نہ دے،اے اللہ میں ہر خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا خزانہ تیرے قبضہ میں ہے اور ہر برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس کا خزانہ تیرے قبضہ میں ہے۔

(۵)حضرت بریدہ اسلمی ؓ سے مروی ہے کہ نبی پاک  نے یہ دعاء ہمیں فرمائی۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّنِیْ رِضَاَک ضَعْفِیْ وَخُذْلِیَ الْخَیْرَبِنَاصِیَتِی وَاجْعَلِ الْاِسْلَامَ مُنْتَھٰی رَضَائِیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّنِیْ وَاِنِّیْ ذَلِیْلٌ فَاَعِزَّنِیْ وَاِنِّیْ فَقِیْرٌ فَارْزُقْنِی

(حاکم:۱/۵۲۷،ابن ابی شیبہ)

ترجمہ:

(۵)اے اللہ میں کمزور ہوں، پس میری کمزوری کو اپنی رضا کے لئے قوت دے اورمیری پیشانی کو بھلائی کے لئے قبول کرلے اوراسلام کو میری پسندیدگی کی انتہا بنا،اے اللہ میں کمزور ہوں،مجھے قوت دے، میں ذلیل ہوں مجھے عزت دے اورمیں فقیر مسکین ہوں مجھے رزق عطا فرما۔

(۶)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعا فرماتے :

اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي وَزِدْنِي عِلْمًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ

(ابن ماجہ:۲۷۲،بیہقی فی الشعب:۹۱)

ترجمہ:

(۶)اے اللہ جس علم سے آپ نے نوازا ہے اس سے نفع پہنچا اورنفع بخش علم ہمیں عطا فرما اورہمارے علم میں ترقی عطا فرما،ہر حال میں آپ کی تعریف ہے، اے میرے رب آپ سے جہنم کے احوال سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۷)حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ  یہ دعاء پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا

(الدعا:۳/۱۴۵۴،ابن ماجہ،باب الاستغفار:۲۷۰)

ترجمہ:

(۷)اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں بنا جب نیکی کریں تو خوش ہوں اور جب برائی ہوجائے تو استغفار کریں۔

(۸)حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ آپ  نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا مانگو اے محمد! میں نے یہ دعا مانگی۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْك الْمِنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ بَیْنَ عِبَادِکَ  فِتْنَةً  فَاقْبِضْنِی اِلَیْکَ وَاَنَا غَيْرَ مَفْتُونٍ ، اللَّهُمَّ  اِنِّی أَسْئَلُکَ حُبَّك وَحُبَّ مَنْ اَحَبُّك وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّك

(مسند احمد:۵/۴۲۳،الدعاء:۱۴۶۱،حاکم:۱/۵۲۱)

ترجمہ:

(۸)اے اللہ میں آپ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کے چھوڑنے اورمساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس بات کا کہ تو ہماری مغفرت فرمادے، اوررحم فرمادے اورجب آپ بندوں کی آزمائش کا ارادہ فرمائیں تو ہماری روح قبض کرلیں اور اس حال میں کہ میں فتنہ میں مبتلا نہ ہوا ہوں، اے اللہ میں آپ سے آپ کی محبت کا اورجو آپ سے محبت رکھے اس کی محبت کا اورآپ سے قریب کردینے والے اعمال کی محبت کا سوال کرتا ہوں۔

(۹)حضرت ابوامامہ باہلیؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے آپ سے دعا کی درخواست کی تو آپ نے یہ دعاء فرمائی۔

 اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا وَتَقَبَّلْ مِنَّا وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَنَجِّنَا مِنْ النَّارِ وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ

(ابن ماجہ:۲۷۲)

ترجمہ:

(۹)اے اللہ ہماری مغفرت فرما، ہم سب پر رحم فرما ،ہم سب سے راضی ہوجا، ہمیں قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، جہنم سے نجات عطا فرما اورہمارے سارے احوال کو درست فرما۔

فائدہ:کوئی عام دعاء کرنے کی درخواست کرے تو یہ دعاء دینی مسنون ہے۔
 (۱۰)حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ

(بخاری،مسلم،ابوداؤد،اذکار:۴۲۴)

ترجمہ:

(۱۰)اے اللہ میں عاجزی،سستی ،بزدلی،زیادہ بڑھاپے اوربخل سے پناہ مانگتا ہوں اورعذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں اور موت وحیات کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۱۱)حضرت قطبہ بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ  یہ دعاء پڑھتے تھے۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ مِنْکَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَهْوَاءِ

(صفحہ:۴۲۷،ترمذی،حاکم،مشکوٰۃ:۲۱۷،اذکار:۴۲۶)

ترجمہ:
(۱۱)اے اللہ میں آپ سے برے اخلاق اعمال وخواہشات سے پناہ مانگتا ہوں۔
(۱۲)حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ نبی پاک  نے میرے والد حصین کو دعاء کے یہ دو کلمات بتائے تھے۔

اَللّٰھُمَّ الْھِمْنِیْ رُشْدِیْ،وَاَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ

(ترمذی،اذکار:۴۲۸)

ترجمہ:
(۱۲)اے اللہ ہمیں بھلائی کا الہام فرما اور اپنے نفس کی برائی سے حفاظت  فرما۔
(۱۳)حضرت ابو الیسر صحابی فرماتے ہیں کہ رسول پاک  یہ دعاء فرماتے تھے۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَدْمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ التَّرَدِّي وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِکَ مُدْبِرًا وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا

(ابوداؤد،نسائی:۳۲۰،اذکار:۴۲۷،حاکم:۱/۵۳۱)

ترجمہ:

(۱۳)اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں مکان گرکر مرنے سے ،یا گر کر مرنےسے اورمیں پناہ مانگتا ہوں ڈوبنے سے اورجلنے سے اورسخت بڑھاپے سے اورپناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت شیطان حملہ کرے اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرے راستہ سے پیٹھ پھیرتا مروں اورپناہ مانگتا ہوں کہ سانپ کے کاٹنے سے مروں۔

(۱۴)حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک  یہ دعامانگتے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالرِّضَابِالْقَدْرِ           

(الدعاء للطبرانی:۳/۱۴۵۶)

ترجمہ:

(۱۴)اے اللہ میں آپ سے صحت، پاکدامنی،امانت،حسن خلق،اورتقدیر پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں۔

(۱۵)حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول پاک  نے مجھے یہ دعاء بتائی ہے۔

اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُکَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنْ الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَالْوَلَدِ غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا الْمُضِلِّ

(مشکوٰۃ:۲۲۰،ترمذی:۲/۱۹۹،الدعاء:۳/۱۴۶۹)

ترجمہ:

(۱۵)اے اللہ میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنادے، اورمیرے ظاہر کو صالح بنادے، اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ نے جن لوگوں کو اہل، مال و اولاد دیا ہے ان میں سے مجھے افضل عطا فرما جونہ گمراہ ہونا گمراہ کرنے والا ہو۔

(۱۶)حضرت بسربن ارطاۃ کہتے ہیں کہ میں نے رسول پاک  کو یہ دعاء فرماتے سنا

اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِیْ الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْ نَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ

(مجمع الزوائد،الدعاء:۳/۱۴۷ٍ)

ترجمہ:

(۱۶)اے اللہ میرے تمام امور کے انجام کو بہتر بنا اوردنیا کی رسوائی اورآخرت کے عذاب سے بچا۔

(۱۷)حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول پاک  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ وَاقِیَۃًکَوَاقِیَۃِ الْوَلِیْدِ          

  (الدعاء:۱۴۷۵،مجمع:۱۰/۱۸۲)

ترجمہ:

(۱۷)اے اللہ ہماری ایسی حفاظت فرما جس طرح نومولود کی حفاظت فرماتا ہے۔

(۱۸)حارث اعور کہتے ہیں کہ میں عشاء کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے پوچھا اس وقت کیسے آئے؟ میں نے کہا محبت کی وجہ سے حضرت علی ؓ نے فرمایا واللہ! تم ہم سے محبت کرتے ہو، میں نے کہا واللہ میں آپ سے محبت رکھتاہوں ،حضرت علی ؓ نے فرمایا ایک دعاء نہ سکھادوں جو آپ  نے مجھے سکھائی ہے میں نے کہا ہاں،انہوں نے کہا کہو:

اَللّٰھُمَّ افْتِحْ مَسَامِعَ قَلْبِیْ لِذِکْرِکَ وَارْزُقْنِیْ طَاعَتَکَ وَطَاعَۃَ رَسُوْلِکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَمَلاً بِکِتَابِکَ              

(طبرانی اوسط ،الدعاء:۳/۱۴۷۷)

ترجمہ:
(۱۸)اے اللہ میرے قلب کے مسامع کو اپنے ذکر کے لئے کھول دے ،اپنی اطاعت اپنے رسول پاک  کی اطاعت اوراپنی کتاب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
(۱۹)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول پاک  کے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اوریہ دعاء سکھائی:

یَا نُورَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَیَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ وَیَاصَرِیْخَ الْمُسْتَصْرِ خِیْنَ یَا غَوْثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ وَیَامُنْتَھٰی رَغْبَۃِ الرَّاغِبِیْنَ وَالْمُفَرِّجَ عَنِ الْمَکْرُوْبِیْنَ وَالْمُرَوِّحَ عَنِ الْمَغْمُومِیْنَ وَمُجِیْبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّیْنَ وَکَاشِفَ السُّوءِ وَاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَاِلٰہَ الْعَالَمِیْنَ نُنْزِلُ بِکَ کُلَّ حَاجَۃٍ

(الدعاء للطبرانی:۳/۱۳۸۰)

ترجمہ:

(۱۹)اے آسمان وزمین کے روشن کرنے والے،اے آسمان وزمین کے زبردست ،اے جلال واکرام والے،اے چیخ وپکار کو سننے والے، اے فریاد کرنے والے کی فریاد قبول کرنے والے، اے رغبت کرنے والوں  کے رغبت کے منتہا اور پریشان حال کی پریشانی کو دور کرنے والے اورغمگین لوگوں کو راحت دینے والے،مضطر کی دعاؤں کو قبول کرنے والے مصیبتوں کو حل کرنے والے ،اے ارحم الراحمین اے جہانوں کے معبود تجھ سے ہی ہر ضرورتوں کے پورا کرنے کا سوال کرتا ہوں۔

(۲۰)ابو اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب نے کہا ایسی دعاء نہ سکھادوں جو رسول پاک نے سکھلائی ہے فرمایا جب تم لوگوں کو دیکھو کہ سونے چاندی(مال) میں لوگ ایک دوسرے پر بڑھتے چڑھتے ہیں تو تم یہ دعاء پڑھنے لگو۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّیْ اَسْئَلُک فِیْ الثُّبَاتِ فِیْ الْاَمْرِ وَاَسْئَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ وَاَسْئَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ وَالرِّضَا بِقَضَائِکَ وَاَسْئَلُکَ قَلْباً سَلِیْماً وَلِسَاناً صَادِقاً وَاَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ  

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۷۶)

ترجمہ:

(۲۰)اے اللہ میں امور میں ثبات قدمی  کا سوال کرتا ہوں، نیکی کے پختہ ارادے کا سوال کرتا ہوں، آپ کی نعمت کے شکر کا حسن عبادت کا، آپ کے فیصلے پر رضا کا سوال کرتا ہوں، سوال کرتا ہوں آپ سے قلب سلیم کا،صدق زبان کا اوراے اللہ میں سوال کرتا ہوں اس بھلائی کا جو آپ جانتے ہیں اوراس برائی سے پناہ مانگتا ہوں جسے آپ جانتے ہیں اور آپ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جس کو آپ جانتے ہیں۔

(۲۱)حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ  یہ دعا پڑھتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِیْ وَآمِنْ رَوْعَتِیْ وَاحْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنَ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَاَعُوْذُبِکَ اَللّٰھُمَّ مِنْ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ

(بزار:۶۰،مجمع الزوائد:۱۰/۱۷۸،حاکم:۱/۵۱۷)

ترجمہ:

(۲۱)اے اللہ میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اورمال میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ میرے عیوب کو چھپا، اورخوف سے مامون فرما اور سامنے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں کہ اچانک نیچے سے ہلاک کردیاجاؤں یعنی دھنسا دیا جاؤں۔

نوٹ:حاکم میں بروایت حضرت ابن عمر عوراتی اور روعاتی جمع کے ساتھ ہے،مجمع میں بروایت حضرت ابن عباس عورتی،روعتی واحد منقول ہے،دونوں صحیح ہے۔
(۲۲)حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک  نے یہ دعاء کی۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ نَفْساً بِکَ مُطْمَئِنَّۃٌ تُوْمِنُ بِلِقَائِکَ وَتَرْضٰی بِقَضَائِکَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِکَ

(طبرانی،مجمع الزوائد:۱۰/۱۸۰)

ترجمہ:

(۲۲)اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں ایسے نفس کا جو مطمئن ہو تیری ملاقات پر یقین رکھے اور تیرے فیصلے سے راضی ہوجائے اور تیری بخشش پر قناعت اختیار کرے۔

(۲۳)حضرت بریدہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ شُکُوْراً وَاجْعَلْنِیْ صُبْوراً وَاجْعَلْنِیْ فِیْ عَیْنِیْ صَغِیْراً وَفِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ کَبِیْراً

(بزار:۶۱،مجمع الزوائد:۱۰/۱۸۱)

ترجمہ:

(۲۳)اے اللہ ہمیں شکر گزار بنادیجئے، ہمیں صبر گذار بنادیجئے اورہمیں اپنی نگاہوں میں چھوٹا اورلوگوں کی نگاہوں میں بڑا بنادیجئے۔

(۲۴)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ جب آپ  نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو حبشہ بھیجا تو آپ نے ساتھ چلتے ہوئے یہ دعاء تعلیم فرمائی:

اَللّٰھُمَّ الْطُفْ بِیْ فِیْ تَیْسِیْرِ کُلِّ عَسِیْرٍ فَاِنَّ تَیْسِیْرَ کُلِّ عَسِیْرٍ عَلَیْکَ یَسِیْرٌ وَاَسْئَلُکَ الْیُسْرَ وَالْمُعَافَاۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ

(طبرانی،مجمع الزوائد:۱۰/۱۸۲)

ترجمہ:

(۲۴)اے اللہ ہر مشکل کے آسان فرمانے میں ہمارے ساتھ مہربانی کا معاملہ فرما ہر مشکل کا آسان کرنا تیرے اوپر آسان ہے، اے اللہ میں دنیا اورآخرت میں سہولت کا معافی کا سوال کرتا ہوں۔

(۲۵)حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آپ  یہ دعا(جو بہت ہی جامع ہے) کرتے تھے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ خَیْرَ الْمَسْئَلَۃِ وَخَیْرَ الدُّعَاءِ وَخَیْرَالنَّجَاۃِ وَخَیْرَالْعَمَلِ وَخَیْرَ الثَّوَابِ وَخَیْرَ الْحَیَاۃِ وَخَیْرَالْمَمَاتِ وَثَبِّتْنِیْ وَثَقِّلْ مَوَازِیْنِیْ وَاَحِّقَ اَیْمَانِیْ وَارْفَعْ دَرَجَتِیْ وَتَقَبَّلْ صَلَاتِیْ وَاغْفِرْ خَطِیْئَتِیْ وَاَسْئَلُکَ الدَّرَجَاتِ الْعُلیٰ مِنَ الْجَنَّۃِ آمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فَوَاتِحَ الْخَیْرِ وَخَوَاتِمَہُ وَجَوَامِعَہُ وَاَوَّلَہُ وَآخِرَہُ وَظَاھِرَہُ وَبَاطِنَہُ وَالدَّرَجَاتِ الْعُلیٰ مِنَ الْجَنَّۃِ آمِیْنَ ،اَللّٰھُمَّ نَجِّنِیْ مِنَ النَّارِ وَمَغْفِرَۃً بِاللَّیْلِ وَمَغْفِرَۃً بِالنَّھارِ وَالْمَنْزِلِ الصَّالِحِ مِنَ الْجَنَّۃِ آمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَلَاصاً مِنَ النَّارِ سَالِماً وَادْخِلْنِیْ الْجَنَّۃَ آمِناً،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اَنْ تُبَارِکَ لِیْ فِیْ نَفْسِیْ وَفِیْ سَمْعِیْ وَفِیْ بَصَرِیْ وَفِیْ رُوْحِیْ وَفِیْ خَلْقِیْ وَفِیْ خِلْقَتِیْ وَفِیْ اَھْلِیْ وَفِیْ حَیَاتِیْ وَمَمَاتِیْ وَفِیْ عِلْمِیْ اَللّٰھُمَّ وَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِیْ وَاَسْئَلُکَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ آمِیْنَ

(الدعاء:۳/۱۴۶۵،مجمع الزوائد:۱۰/۱۷۷،حاکم:۱/۵۲۰)

ترجمہ:

(۲۵)اے اللہ میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعاء ،بہترین نجات، بہترین عمل، بہترین بدلہ، بہترین زندگی، بہترین موت کا طالب ہوں، اے اللہ مجھے ثابت قدم رکھ اور میرے ترازو کو بھاری کردے اورمیرے ایمان کو محقق کردے، میرے درجہ کو بلند فرما، میری نماز کو قبول فرما، میرے گناہوں کو معاف فرما اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجہ کا سوال کرتا ہوں،آمین، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ابتداء وانتہاء میں خیر کا اورجامع خیر کا اوراس کے اول خیر کا، اس کے اخیر خیر کا، خیر کے ظاہر کا،خیر کے باطن کا اورجنت کے بلند وبالا درجات کا،اے اللہ مجھے جہنم سے نجات دے اوررات دن ہماری مغفرت فرما اورجنت میں بہترین منزل عطا فرما اے اللہ میں سوال کرتا ہوں آپ سے جہنم کی خلاصی کا اورسلامتی کا اورجنت میں امن کے ساتھ داخل فرما ،اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میری جان میں ،میرے کان میں اورمیری بصارت میں اورمیری جان میں اورمیری پیدائش میں اورمیری سیرت میں اورمیرے کنبہ میں اورمیری زندگی میں ،میری موت میں، میرے علم میں، اے اللہ میری نیکی قبول فرما اور میں آپ سے بلند وبالا جنت کا سوال کرتا ہوں ،آمین۔

(۲۶)حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ یہ دعاء فرماتے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَاَعُوْذُبِکَ اَنْ اَظْلِمَ اَوْاُظْلَمَ

(الاداب المفرد:۳۱۷)

ترجمہ:

(۲۶)اے اللہ میں تنگدستی،کمی اورذلت سے پناہ مانگتا ہوں اورپناہ مانگتا ہوں کہ میں ظالم یا مظلوم ہوں۔

(۲۷)حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ  نے چاشت کی نماز پڑھی اوریہ دعاء کی۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَّی اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ

(الادب المفرد:۶۱۹)

ترجمہ:

اورآپ سے سوال کرتے ہیں کہ ہر فیصلہ جو آپ ہمارے حق میں کریں بہتر اور بھلائی کا فیصلہ کریں۔

(۲۸)حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ آپ  کی اکثر دعاء یہ ہوتی تھی۔

اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ

(ابن ماجہ:۲۷۲،حاکم:۵۲۶)

ترجمہ:
(۲۸)اے اللہ میرے قلب کو دین پر مضبوطی سے جمادے۔

(۲۹)حضرت عمرو بن شعیب ؓ کی روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آسمان سے اس دعاء کو لے کر مسکراتے ہوئے نہایت ہی حسین شکل میں تشریف لائے کہ اس جیسی شکل اس سے قبل نہیں دیکھے گئے تھے، آئے تو کہا،السلام علیک یا محمد  ،آپ نے فرمایا: وعلیک السلام یا جبرئیل (علیہ السلام)، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا، اللہ تعالی نے ایک ہدیہ دے کر بھیجا ہے، آپ نے پوچھا کیا ہدیہ ہے، کہا عرش کے خزانوں کا ایک (دعائی) کلمہ ہے جس سے اللہ نے آپ کا اکرام کیا ہے،آپ نے فرمایا وہ کون سے کلمات ہیں،حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا:

یَا مَنْ اَظْھَرَ الْجَمِیْلَ وَسَتَرَ الْقَبِیْحَ یَا مَنْ لَا یُوَاخِذُہُ  بِالْجَرِیْرَۃِ وَلَا یَھْتِکْ السِّتْرَ یَا عَظِیْمَ الْعَفْوِ یَا حُسْنَ التَّجَاوُزِ وَیَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْویٰ یَا مُنْتَھیٰ کُلِّ شَکْویٰ یَا کَرِیْمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیْمَ الْمَنِّ یَا مُبْتَدِیَ النِّعم قَبْلَ اِسْتِحْقَا قِھَا یَا رَبَّنَا وَیَا سَیِّدَنَا وَیَا مَوْلَانَا وَیَا غَایَۃَ رَغْبَتِنَا أَسْئَلُکَ بِاللّٰہِ اَنْ لَا تَشْوِیْ خَلْقِیْ بِالنَّارِ۔               

(حاکم:۱/۵۴۵)

ترجمہ:

(۲۹)اے وہ ذات جس نے اچھائی کو ظاہر کیا اوربرائی کو چھپایا ،اے وہ جو جرموں پر مواخذہ نہیں کرتا اورعیوب کی پردہ دری نہیں کرتا، اے بڑے معاف کرنے والے،اے بہتر درگزر کرنے والے،اے وسیع مغفرت والے،اے رحمت کے دونوں ہاتھ کشادہ کرنے والے، اے ہر راز کے رازدار،اے ہر شکایتوں کے منتہی،اے بڑے درگذر کرنے والے،اے بڑے احسان کرنے والے،اے استحقاق سے قبل انعام کرنے والے،اے میرے پالنے والے،اے میرے آقا،اے میرے مولیٰ،اے ہماری رغبت کے انتہائی تجھ ہی سے اس بات کی بھیک مانگتا ہوں کہ اے اللہ میرے بدن کو جہنم کی آگ سے نہ جلا۔

(۳۰)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ  نے مجلس سے اٹھنے سے قبل یہ دعاء فرمالیتے تھے:

اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِکَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيکَ وَمِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَکَ وَمِنْ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلْ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا

(سنن الترمذی،باب ماجاء فی عقد التسبیح بالید،حدیث نمبر:۳۴۲۴)

ترجمہ:

(۳۰)اے اللہ ہمیں اپنا خوف عطا فرما، جس سے تو ہمارے اورگناہوں کے درمیان روک بن جائے اورایسی طاعت عطا فرما جو ہمیں اپنی جنت میں پہنچادے،اورایسا یقین جس سے دنیا کی مصیبتیں آسان ہوجائیں اورجب تک تو ہمیں زندہ رکھے، ہمارے کان ،ہماری آنکھ اورہماری قوت سے ہمیں فائدہ عطا فرما اوراس کے خیر کو ہمارے بعد بھی باقی رکھ اور ہم پر جو ظلم کرے اس سے ہمارا بدلہ لے جو ہم سے دشمنی رکھے اس پر ہمیں غلبہ دے، اور ہمیں دین کے امور میں آزمائش میں مبتلا نہ فرما اوردنیا کو ہمارا مقصود اعظم نہ بنا اور ہمارے خواہش کا منزل مقصود بنا اور جو ہم پر نامہربان ہو اس کو ہمارا حاکم نہ بنا۔

(۳۱)حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقَکَ عَلیَّ عِنْدَ کِبَرِ سِنِّیْ وَاِنْقِطَاعِ عُمْرِیْ

(حاکم:۱/۵۴۲،جامع صغیر:۱/۹۲)

ترجمہ:

(۳۱)اے اللہ ہمارے رزق کو بڑھاپے کے وقت اوراختتام عمر کے وقت وسیع فرما۔

(۳۲)حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے:

اَللّٰھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْہ وَاخْلُفْ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍ لِیْ بِخَیْرٍ

(حاکم:۱/۵۱۰،الادب المفرد:۶۸۱)

ترجمہ:

(۳۲)اے اللہ جو رزق آپ  ہمیں نوازیں اس میں ہمیں قانع بنا اور اس میں ہمیں برکت عطا فرما اور  ہمارے غائب پر(اہل وعیال) میں بھلائی کے بارے میں نائب بن جا۔

(۳۳)حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ لَا سَھْلَ اِلَّا مَاجَعَلْتَہُ سَھْلاً وَاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ سَھْلاً  اِذَا شِئْتَ

(الاحسان:۳/۳۵۵،ابن سنی)

ترجمہ:

(۳۳)اے اللہ کوئی چیز آسان نہیں مگر یہ کہ جسے آپ آسان فرمادیں،آپ ہی جب چاہیں رنجیدہ امور کو حل فرمادیں۔

(۳۴)حضرت ابو موسیٰ    ؓ فرماتے ہیں کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ جِدِّیْ وَھَزَلِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمَدِیْ وَکُلُّ ذَالِکَ عِنْدِیْ

(الاحسان:۳/۲۳۵،الادب المفرد:۳۲۱،۶۸۹)

ترجمہ:

(۳۴)اے اللہ معاف فرمادیجئے ہمارے ان گناہوں کو جو دانستہ ہوں، مذاق سے ہوں، غلطی سے ہوں یا ارادہ سے ہو، تمام گناہ جو ہم سے صادر ہوئے ہوں۔

(۳۵)حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ  یہ دعا فرماتے:

 اَللّٰھُمَّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى لِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَکَ شَكَّارًا لَکَ ذَكَّارًا لَکَ رَهَّابًا لَکَ مُطِيعًا إِلَيْکَ مُخْبِتًا إِلَيْکَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي

(الاحسان:۳/۲۲۹،ابن ماجہ:۳۸۳۰،الادب المفرد:۳۱۴،۵۶۵،حاکم:۱/۵۱۵)

ترجمہ:

(۳۵)اے اللہ میری اعانت فرما، میرے خلاف کسی کی اعانت نہ فرما،میری مدد فرما ،میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما،میرے لئے تدبیر فرما میرے خلاف تدبیر نہ فرما ہدایت سے نوازئیے اورہدایت کو آسان فرمائیے،میرے خلاف جو سرکشی پر آمادہ ہوسکے اس کے مقابل میری مدد فرما، اے اللہ مجھے شکر گذار،بکثرت ذکر کرنے والا،اپنا مطیع فرما نبردار، اپنی طرف عاجزی کرنے والا،آہ کرنے والا، رجوع کرنے والا بنا، اے میرے رب میری توبہ کو قبول فرما،میرے گناہوں کو دھل دے،میری دلیل کو ثابت فرما، میری زبان کو درست فرما اور میرے قلب سے کینہ کو دور فرما۔

(۳۶)حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَھْدِیْکَ لَاَرْشَدٍ اُمُوْرِیْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّنَفْسِیْ

(الاحسان:۳/۱۸۳،مجمع الزوائد،مسند احمد:۴/۲۱)

ترجمہ:

(۳۶)اے اللہ میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں اپنے امور میں اچھائی کی اوراپنے نفس کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۳۷)حضرت عائشہؓ کو نبی پاک  نے یہ دعا سکھائی:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُکَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُکَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُکَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا

(ابن ماجہ،باب الجوامع من الدعاء،حدیث نمبر:۳۸۳۶)

ترجمہ:

(۳۷)اے اللہ میں تجھ سے دنیا اورآخرت کی تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا مجھے علم ہے اورنہیں بھی اوردین و دنیا کی تمام برائی سے پناہ مانگتا ہوں، جس کا علم ہو یا نہ ہو، اے اللہ میں ان تمام بھلائیوں کا سوال کرتا ہوں جسے آپ کے بندے اورنبی نے مانگا ہے اور تمام ان برائیوں سے پناہ مانگتا ہوں جس سے آپ کے بندے اورنبی نے پناہ مانگی ہے، میں جنت کا سوال کرتا ہوں اوراس عمل وقول کا جو جنت سے قریب کردے، میں عذاب دوزخ سے اوراس قول وعمل سے جو جہنم سے قریب کردے پناہ مانگتا ہوں میں سوال کرتا ہوں کہ جو فیصلہ ہمارے حق میں فرما بہتر فرما۔

(۳۸)حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضور پاک  یہ دعا فرماتے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجْأَۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیْعٍ سَخَطِکَ

(الادب المفرد:۳۱۹،۶۸۵)

ترجمہ:

(۳۸)اے اللہ میں تجھ سے نعمت کے زوال عافیت کے ختم ہوجانے اور اچانک گرفت اورتیرے غضب کی تمام چیزوں سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۳۹)حضرت شکل بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے رسول پاک  سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعاء سکھادیجئےجس سے مجھے فائدہ ہو، آپ نے فرمایا یہ دعاء پڑھا کرو۔

اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَلِسَانِیْ وَقَلْبِیْ وَشَرِّمَنِی              

(الادب المفرد:۶۶۳،۳۱۳)

ترجمہ:

(۳۹)اے اللہ مجھے کان ،آنکھ ،زبان ،دل اورمنی کی برائی سے عافیت وحفاظت عطا فرما۔

(۴۰)حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی پاک  نے میرا ہاتھ پکڑا اورفرمایا اے معاذ میں نے عرض کیا، حاضر،آپ  نے فرمایا میں تم سے محبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا خدا کی قسم میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں ،آپ نے فرمایا میں تم کو چند کلمات نہ سکھادوں جسے تم ہر نماز کے بعد پڑھ لیا کرو، میں نے کہا ہاں،آپ نے فرمایا یہ پڑھو۔

اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ

(الادب المفرد:۶۹۰،۳۲۲،ابوداؤد:۲۱۳،ترغیب:۴۵۴،حاکم:۱/۴۹۹)

ترجمہ:

(۴۰)اے اللہ اپنے ذکر وشکر اور حسن عبادت پر ہماری اعانت فرما۔

(۴۱)حضرت ابو موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ وَجَھْلِیْ وَاِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ کُلِّہ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہ مِنِّیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطَأیْ کُلِّہ وَعَمَدِیْ وَجَھْلِیْ وَھَزْلِیْ وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ اَنْتَ الْمُقَّدَمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُوَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْر

(ادب مفرد:۶۸۸،مشکوۃ:۲۱۸)

ترجمہ:اے اللہ میرے گناہ اورمیری جہالت کو اورتمام چیزوں میں حد سے زیادہ گذرنے کو اوراسے جسے آپ بخوبی جانتے ہیں(غلطیوں کو) معاف فرما،اے اللہ ہمارے تمام گناہوں اورجو بالقصد ہوں اورجہالت کو،ہز کو، اوروہ تمام (کوتاہیاں) جو میری جانب سے ہیں معاف فرما، اے اللہ ہمارے اگلے اور پچھلے اورچھپے اورکھلم کھلا سب کو معاف فرما،آپ ہی سب سے پہلے اورسب سے بعد ہیں،آپ ہر شئی پر قادرہیں۔

(۴۲)حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے یہ دعاء مرفوعا منقول ہے:

اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃِ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ اِلٰی عَدُوِّ یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی قَرِیْبٍ مَلَّکْتَہُ اَمْرِیْ اِنْ لَمْ تَکُنْ سَاخِطاً عَلیَّ فَلَا ابَالِیْ غَیْرَ اَنَّ عَافِیَتَکَ اَوْسَعُ لِیْ،اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الْکَرِیْمَ الَّذِیْ اَضَاءَ تْ لَہُ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ وَاَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْآخِرۃَ اَنْ تَحِلَّ عَلیَّ غَضَبُکَ اَوْتَنْزِلُ عَلَیَّ سَخَطُکَ وَلَکَ الْعُتْبیٰ حَتَّیٰ تَرْضٰی وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ

(طبرانی،جامع صغیر:۹۲)

ترجمہ:

(۴۲)اے اللہ تجھ ہی سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری کا، بیکسی کا ،لوگوں میں حقیر ہونے کا، اے ارحم الراحمین اے اللہ تو مجھے کسی کے حوالہ کرتا ہے دشمن کے،جو مجھ پر حملہ کرتا ہے،یاکسی قریب کے جس کو میرے معاملہ کا مالک بنادیا ہے،اگر تومجھ سے نارض نہیں تو کوئی پرواہ نہیں،تیری حفاظت وعافیت میرے لئے بہت کافی ہے،پناہ مانگتا ہوں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے زمین وآسمان چمک اٹھا ہے،تاریکیاں روشن ہوگئیں، دنیا اورآخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں؛کہ تیرا غصہ ہم پر حلال ہو، یا تیری ناراضگی مجھ پر اترے،تجھ سے ہی معافی کا خواستگار ہوں تاوقتیکہ توراضی نہ ہوجائے،تیرے سوانہ کوئی طاقت نہ قوت

(۴۳)حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے کہ آپ  سے بکثرت دعائیں منقول ہیں جو مجھے یاد نہیں،تو میں نے آپ سے کہا اے اللہ کے رسول  آپ نے اللہ سے بہت دعائیں کی ہیں جو مجھے یاد نہیں، آپ 

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَکَ مِنْهُ نَبِيُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْکَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالّٰلہِ

(سنن الترمذی،باب منہ،حدیث نمبر:۳۴۴۳)

ترجمہ:

(۴۳)اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں تمام بھلائیوں کا جس کا سوال آپ کے نبی محمد  نے کیا ہے اوران تمام برائیوں سے پناہ مانگتا ہوں جس سے آپ کے نبی پاک نے پناہ مانگی ہے،آپ ہی اعانت کے لائق ہیں نہ کوئی طاقت نہ کوئی قوت سوائے اللہ کے۔

(۴۴)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء کرتے تھے:

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ أَخْشَاک َحَتّٰى كَأَنِّنْى أَرَاك وَاَسْعِدْنِيْ بِتَقْوَاکَ وَلَا تُشْقِنِىْ بِمَعْصِيَّتِکَ وَخِرْ لِىْ فِيْ قَضَائِکَ وَبَارِك لِىْ فِيْ قَدْرِك حَتّٰى لَا أُحِبَّ تَعْجِيْلَ مَا أَخَّرْتَ وَلَا تَأخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ وَاجْعَلْ غِنَائِيْ فِيْ نَفْسِيْ وَأَمْتِعْنِىْ بِسَمْعِيْ وَبَصْرِىْ وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّىْ وَانْصُرْنِيْ عَلٰى مَنْ ظَلَمَنِىْ وَأَرِنِيْ فِيه ثَأرِيْ وَأَقِرَّ بِذَلِك عَیْنِیْ

(مجمع الزوائد:۱۷۸،جامع صغیر:۱/۹۵)

ترجمہ:

(۴۴)اے اللہ مجھے سب سے زیادہ خوف کرنے والا بنادے،گویا کہ میں آپ کو دیکھ رہا ہوں،اوراپنے خوف کی سعادت مندی عطا فرما،اپنی نافرمانی سے ہمیں بدبخت نہ بنا اورمیرے لئے بہتر فیصلہ فرما اور اپنے فیصلے میں مجھے برکت عطا فرما،تاکہ تاخیر سے آنے والے کی جلدی کو اورجلد ہونے والی کی تاخیر کو پسند نہ کروں، اے اللہ میرے نفس کو غنا سے پر فرما اورمیرے کان آنکھ سے فائدہ پہنچا اور اس کے خیر کو ہمارے بعد جاری رکھ،جو ظلم کرے اس کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما اوراس کا انتقال مجھے دکھا اورمیری آنکھ کو ا س سے ٹھنڈی فرما۔

(۴۵)حضرت ابن عمرؓ نے آپ  کی یہ دعا نقل کی  ہے۔

اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ قُدْرَتِکَ وَاَدْخِلْنِیْ فِیْ رَحْمَتِکَ وَاقْضِ اَجَلِیْ فِیْ طَاعَتِکَ وَاخْتِمْ لِیْ بِخَیْرِ عَمَلِیْ وَاجْعَلْ ثَوَابَہُ الْجَنَّۃَ              

(جامع صغیر:۹۶)

ترجمہ:

(۴۵)اے اللہ ہمیں اپنی قدرت سے عافیت عطا فرما اپنی رحمت میں داخل فرما،میرے وقت کو اپنی عبادت میں گذاردے،بہتر عمل پر ہمارا خاتمہ فرما اور اس کا ثواب جنت بنا۔

(۴۶)حضرت عمار بن یاسرؓ سے نبی پاک  کی یہ دعا منقول ہے:

اللَّهُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُکَ خَشْيَتَکَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُکَ کَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُکَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَسْأَلُکَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُکَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُکَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُکَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُکَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِکَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِکَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ

(نسائی،باب نوع اخر،حدیث نمبر۱۲۸۸)

ترجمہ:

(۴۶)اے اللہ اپنے علم غیب اورمخلوق پر قدرت کے صدقے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں زندگی میرے لئے بہتر ہوں اورجب تیرے علم میں وفات بہتر ہو،تو مجھے وفات دےدے، اوراے اللہ میں تجھ سے تیرے ظاہر وباطن میں خوف کا سوال کرتا ہوں،ناخوشی کے موقعہ پر کلمہ اخلاص مانگتا ہوں اورسوال کرتا ہوں فقر اورمالدار میں اعتدال کا اورایسی راحت آمیز زندگی کا سوال کرتا ہوں،جو ختم نہ ہو اورآنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا جو منقطع نہ ہو اورتیرے فیصلہ پر تسلیم ورضا  کا اورموت کے بعد پر لطف زندگی کا اورتیرے دیدار کی لذت کا اورتیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں تکلیف وہ مصیبت سے،گمراہ کرنے والی بلا سے،اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ فرما اورہمیں ہدایت یافتہ رہنمابنا۔

(۴۷)حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  سے جب سے میں نے یہ دعا سنی  ہے نہیں چھوڑی:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ اُعَظِّمُ شُکْرَکَ وَاُکْثِرُ ذِکْرَکَ وَاَتِبِّعُ نَصِیْحَتَکَ وَاَحْفِظُ وَصِیَّتَکَ

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۷۲،ترمذی،جامع صغیر:۹۴)

ترجمہ:

(۴۷)اے اللہ مجھے بنادیجئے خوب شکر کرنے والا،زیادہ ذکر کرنے والا،اپنی نصیحت کی اتباع کرنے والا اوروصیت کی حفاظت کرنے والا۔

(۴۸)حضرت ابن عباسؓ نبی پاک  سے یہ دعا نقل کرتے ہیں کہ آپ  یہ دعا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَتَریٰ مَکَانِیْ وَتَعْلَمُ سَرِّیْ وَعَلَانِیَتِیْ لَا یَخْفٰی عَلَیْکَ شَیْ ءٌ مِنْ اَمْرِیْ وَاَنَا الْبَائِسُ الْفَقِیْرُ الْمُسْتَغِیْثُ الْمُسْتَجِیْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْبِہ اَسْئَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمِسْکِیْنَ وَاَبْتَھِلُ اِلَیْکَ اِبْتِھَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِیْلِ وَاَدْعُوْکَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِیْرِ مَنْ خَضَعَتْ لَکَ رَقْبَتَہُ وَفَاضَتْ لَکَ عَبْرَتَہُ وَذَلَّ لَکَ جِسْمُہُ وَرَغِمَ لَکَ اَنْفُہُ،اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَائِکَ شَقِیًّا وَکُنْ بِیْ رَؤُفاً رَحِیْماً یَاخَیْرَ الْمَسْئُولِیْنَ وَیَا خَیْرَ الْمُعْطِیْنَ

(جامع صغیر:۹۱،الدعاء:۱۲۰۸)

ترجمہ:

(۴۸)اے اللہ آپ میری بات سن رہے ہیں اورمیرے مکان ومرتبہ کو دیکھ رہے ہیں اورآپ میری مخفی اور ظاہر کو جانتے ہیں میری کوئی بات آپ پر مخفی نہیں اورمیں کوفزدہ فقیر ہوں،فریاد کنندہ پناہ کا طالب ہوں، خوفزدہ ہوں لرزرہا ہوں،اپنے گناہوں کا پورا پورا اقرار کرتا ہوں، تجھ سے سوال کرتا ہوں، جس طرح مسکین سوال کرتا ہے،گڑ گڑاتا ہوں تیرے سامنے ذلیل مجرم کی طرح اورتجھ کو پکارتا ہوں جیسا ایک مصیبت زدہ ڈرنے والا پکارتا ہے اور اس کی طرح پکارتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور جس کے آنسو جاری ہوں اورجس کا سارا جسم تیرے سامنے ذلیل پڑا ہو اوراس کی ناک خاک آلودہو اے اللہ مجھے اپنی دعاء  سے محروم نہ فرما اورمجھ پر نہایت ہی شفیق ومہربان ہوجا، اے مسئولین میں سب سے بہتر اوربخشنے والے میں سب سے بہتر۔

(۴۹)زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ نبی پاک  یہ دعاء پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِوَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا

(مشکوۃ:۲۱۶،جامع صغیر:۹۷،مسلم:۳۴۷)

ترجمہ:

(۴۹)اے اللہ میں عاجزی،سستی ،بزدلی،بخل،زیادہ بڑھاپے ،عذاب قبر، اورفتنہ دجال سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اوراس کا تزکیہ فرما اور تو ہی سب سے اس کاتزکیہ کرنے والا ہے،توہی اس کا مالک اورآقا ہے،اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں غیر نافع علم سے ،نہ ڈرنے والے قلب سے ،نہ سیراب ہونے والے نفس سے ،نہ قبول ہونے والی دعاء سے۔

(۵۰)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مرفوعا یہ دعاء مروی ہے:

اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ وَنَجِّنَا مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِينَ بِهَا قَابِلِيهَا وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا

  (سنن ابی داؤد،باب التشھد،حدیث نمبر:۸۲۵)

ترجمہ:

(۵۰)اے اللہ ہمارے دلوں میں الفت ڈال دے اورہمارے آپس کے تعلقات کو خوشگوار کردے اور ہمیں سلامتی کے راستے دکھا،ہمیں تاریکی سے نجات دے کر روشنی میں لا، ہمیں ظاہری اورباطنی بے حیائیوں سے الگ رکھ،ہمارے کانوں میں آنکھوں میں دلوں میں ہماری بیویوں میں ہماری اولادوں میں برکت عطا فرما ہماری توبہ قبول فرما ،بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گذار اورتعریف کرنے والا بنا اور نعمتوں کے قابل بنا اورنعمتوں کو پورا پورا عنایت فرما۔

(۵۱)حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ  نے فرمایا جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر دورکعت نماز پڑھی، اس وقت اللہ تعالی نے اس دعاء کا الہام کیا،آپ  نے فرمایا پھر اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو یہ وحی بھیجی کہ تمہاری توبہ قبول تمہارے گناہ معاف، جو بھی اس دعاء سے یاد کرے گا اس کے گناہ معاف کردوں گا،اس کی ضرورتوں کو پورا کروں گا، شیطان سے اس کو دور رکھوں گا، ہر چہار جانب سے (رزق کے اسباب) تجارت کو متوجہ کردوں گا، دنیا اس کے پاس مجبور ہوکر آئے گی اگرچہ وہ اس کو نہ چاہے۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ سَرِیْرَتِیْ وَعَلَانِیَّتِیْ فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاعْطِنِیْ سُؤَلِیْ وَتَعْلَمُ مَافِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَاناً یُبَاشِرُ قَلْبِیْ وَیَقِیْناً صَادِقاً حَتّٰی اَعْلَمَ اَنَّہُ لَا یُصِیْبُنِیْ اِلَّا مَا کَتَبْتَ لِیْ وَ رِضاً بِمَا قَسَمْتَ لِیْ

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۸۳)

ترجمہ:

(۵۱)اے اللہ آپ ہمارے باطن اورظاہر سے واقف ہیں،پس ہماری معذرت قبول فرما اورہماری  ضرورت سے واقف ہیں پس میری حاجت پوری فرما اورمیرے نفس میں کیا ہے، واقف ہیں پس میرے گناہوں کو معاف فرما اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں ایسے ایمان کا جو دل میں سرایت کرجائے اور یقین صادق کا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ کوئی بات نہیں پہنچتی مگر جسے آپ نے میرے حق میں لکھ دیا ہےاوررضا مندی کا جو آپ نے میرے لئے مقدر کیا ہے۔

(۵۲)شدادبن اوس نے نبی پاک  سے یہ استغفار نقل کیا ہے،آپ نے اسے سید الاستغفار فرمایا ہے:

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَکَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ

(بخاری،باب افضل الاستغفار،حدیث نمبر:۵۸۳۱)

ترجمہ:

(۵۲)اے اللہ تو ہی میرا پروردگار ہے،تیرے سواکوئی معبود نہیں ،تونے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں،جو کچھ میں نے کیا ہے ،اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اورجو تو نے مجھ پر انعام کیا ہے، اس کا اقرار کرتا ہوں اوراپنے گناہ کا معترف ہوں،پس تو میری مغفرت فرما، کیوں کہ تیرے سوا اور کوئی گناہ کو بخش نہیں سکتا۔

(۵۳)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَاناً لَا یَرْتَدُّ وَنَعْیْماً لَا یَنْفُدُ وَمُرَافَقَۃَ نَبِّیِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فِیْ اَعْلٰی دَرَجَۃِ الْجَنَّۃ ِجَنَۃَ الْخُلْدِ (حصن:۴۸۰،حاکم:۵۲۶،ابن حبان)َ

ترجمہ:

(۵۳)اے اللہ میں تجھ سے ایسا ایمان چاہتا ہوں جو جاتا نہ رہے اورایسی نعمتیں  وراحتیں جو ختم نہ ہوں اورجنت کے اعلی درجہ ،درجہ خلد میں نبی پاک  کی رفاقت ۔

(۵۴)حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی پاک  سے یہ دعاء نقل کی ہے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِیْ وَاَسْتَھْدِیْکَ لِمَرَاشِدِ اَمْرِیْ وَاَتُوبُ اِلَیْکَ فَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ رَبِّیْ اَللّٰھُمَّ فَاجْعَلُ رَغْبَتِیْ اِلَیْکَ وَاجْعَلْ غِنَائِیْ فِیْ صَدْرِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ وَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّکَ اَنْتَ رَبِّیْ

(حصن:۴۹۱)

ترجمہ:

(۵۴)اے اللہ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتاہوں،اپنے معاملات میں اچھائی کو طلب کرتا ہوں،توبہ کرتا ہوں،میری توبہ قبول فرما،بیشک تو ہی میرا رب ہے،اے اللہ مجھے اپنی طرف راغب کردے اورمیرا دل مستغنی کردے اورجو کچھ آپ نے مجھے نواز ہے،اس میں برکت عطا فرما اورمجھ سے قبول فرما تو ہی میرا رب ہے۔

(۵۵)حضرتابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوذُبِکَ مِنْ جُھْدِ الْبَلاءِ وَدَرُکِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَہِ الْاَعَدَاءِ

(بخاری:۲/۹۳۹)

ترجمہ:

(۵۵)اے اللہ ہم بلا ومصیبت ،بدقسمتی اوردشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

(۵۶)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ التُّقیٰ وَالْھُدیٰ وَالْعِفَافَ وَالْغِنیٰ

(مسلم،ترمذی،ابن ماجہ،مشکوۃ:۲۱۸)

ترجمہ:

(۵۶)اے اللہ میں تجھ سے پرہیز گاری،ہدایت،عفت اورغنا طلب کرتا ہوں۔

(۵۷)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی پاک  یہ دعاء فرماتےتھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ

(نسائی،ابوداؤد:۲۱۶،مشکوٰۃ:۲۱۷،جامع صغیر:۹۷)

ترجمہ:

(۵۷)اے اللہ میں نفاق،اختلاف اور بداخلاقی سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۵۸)حضرت ابن عمرؓ نے نبی پاک  سے یہ دعا سنی ہے کہ آپ  یہ دعا پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَکَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُکَ الْعَافِيَةَ

(مسلم،باب مایقول عند النوم وآخذ الضحج،حدیث نمبر ۴۸۸۷)

ترجمہ:

(۵۸)اے اللہ آپ نے میری جان کو پیدا کیا،آپ ہی اسے وفات دینے والےہیں، آپ ہی کے لئے مرنا جینا ہے،اگر زندہ رکھیں تو حفاظت فرمائیں، اگر موت دیں تو مغفرت فرمادیں،اے اللہ میں آپ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

(۵۹)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نبی پاک  کی دعاء نقل فرماتے ہیں۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ فَاِنَّہُ لَا یَمْلِکُھَا اِلَّا اَنْتَ         

(طبرانی،جامع صغیر:۹۶)

ترجمہ:

(۵۹)اے اللہ میں آپ سے آپ کے فضل کا آپ کی رحمت کا سوال کرتا ہوں، آپ کے علاوہ کسی کو اختیار نہیں۔

(۶۰)حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ دعاء مرفوعا منقول ہے۔

اللّهُمَّ إنّي أَعُوذُ بِك منْ عِلْمٍ لا يَنْفَعُ وقَلْبٍ لا يَخْشَعُ ودُعاءٍ لا يُسْمَعُ ونَفْسٍ لا تَشْبَعُ ومِنَ الْجُوعِ فإنّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَمِنَ الْخِيانَةِ فإنَّها بِئْسَتِ البِطانَةُ وَمِنَ الكَسَلِ والبُخْلِ والجُبْنِ وَمِنَ الهَرَمِ وَأَنْ أُرَدَّ إلٰى أَرْذَلِ العُمُرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ القَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالْمَمَاتِ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَسْئَلُکَ قُلُوباً أوَّاهَةً مُخْبِتَةً مُنِيبَةً في سَبِيلِکَ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَسْأَلُکَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ ومُنْجِياتِ أمْرِکَ والسَّلامَةَ منْ كُلِّ إثْمٍ والغَنِيمَةَ منْ كُلِّ بِرَ والفَوْزَ بالجَنّةِ والنَّجاةَ منَ النَّارِ

(حاکم،جامع صغیر:۹۲)

ترجمہ:

(۶۰)اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں،اس علم سے جو نفع نہ دے،اس دل سے جو نہ ڈرے، اس دعاسے جو نہ سنی جائے، اس نفس سے جو نہ بھرے اوربھوک سے کہ وہ برا ساتھی ہے اورخیانت سے کہ وہ براہمراز ہے اورسستی سے بخل سے ،بزدلی سے سخت بڑھاپے سے اوریہ کہ ناکاراہ عمر کو پہنچوں ،اوردجال کے فتنہ سے اورعذاب قبر سے اورزندگی اورموت کے فتنہ سے اے اللہ میں سوال کرتا ہوں تجھ سے ایسے دل کا جو گریہ وزاری کرنے والا تیری طرف رجوع کرنے والا ،تیری طرف متوجہ ہونے والا ہو اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں  مغفرت کے سامان کا ،نجات دینے والے اعمال کا،ہرگناہ سے،ہر بھلائی کے حاصل ہونے کا،جنت کی کامیابی کا جہنم سے نجات کا۔

(۶۱)حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ  نے کبھی فرض نماز کے بعد اس دعاء کو ترک نہیں فرمایا:

اَللُّھُّمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنْ کُلِّ عَمَلٍ یُخْزِیْنِیْ وَاَعُوذُبِکَ مِنْ کُلِّ صَاحِبٍ یُوذِیْنِیْ وَاَعُوذُبِکَ مِنْ کُلِّ اَمَلٍ یُلْھِیْنِیْ وَاَعُوذُبِکَ مِنْ کُلِّ فَقْرٍ یَنْسِیْنِیْ وَاَعُوذُبِکَ مِنْ کُلِّ غِنی یُطْغِیْنِیْ

(مسندبزار:۲/مجمع الزوا:۱۰/۱۱۰)

ترجمہ:

(۶۱)اے اللہ میں رسوا کن عمل سے پناہ مانگتا ہوں ،پناہ مانگتا ہوں میں تکلیف پہنچانے والے مصاحب سے،پناہ مانگتا ہوں بھلادینے والے فقر وفاقہ سے ،پناہ مانگتا ہوں میں سرکشی میں ڈال دینے والی مالداری سے۔

(۶۲)حضرت ام معبدؓ سے روایت ہے کہ آپ  یہ دعاء فرماتے تھے:

اَللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِی مِنَ الرِّیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکِذْبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَاِنَّکَ تَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَاتُخْفِی الصُّدُوْرُ

(مشکوٰۃ:۲۲۰،بیہقی)

ترجمہ:

(۶۲)اے اللہ میرے دل کو نفاق سے،عمل کو ریاء سے ،زبان کوجھوٹ سے ،نگاہ کو خیانت (بدنگاہی) سے محفوظ فرما ،یقیناً آپ نگاہوں کی خیانت سے اورسینے میں ہے خوب واقف ہیں۔

(۶۳)اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ الْاَشْیَاءِ اِلیَّ وَاجْعَلْ خَشْیَتَکَ اَخْوَفَ الْاَشْیَاءِ عِنْدِیْ وَاقْطَعْ عَنِّی حَاجَاتِ الدُّنْیَا بِالشَّوْقِ اِلٰی لِقَائِکَ وَاِذَا اَقْرَرْتَ اَعْیُنَ اَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ دُنْیَا ھُمْ فَاقِّرْ عَیِنِیْ مِنْ عِبَادَتِکَ

(جامع صغیر:۹۵)

ترجمہ:

(۶۳)اے اللہ تمام محبوب اشیاء سے اپنی محبت زائد عطا فرما اورسب سے زیادہ اپنا خوف عطا فرما اوراپنی ملاقات کے شوق کے مقابلہ میں دنیا کی ضرورتوں کو ختم فرما اور دنیا والوں کی نگاہوں کو جب دنیا سے ٹھنڈی کریں تو عبادت میں منہمک فرما کر میری آنکھیں ٹھنڈی فرمائیں۔

(۶۴)حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ آپ  کو قبلہ رخ ہاتھ اٹھا کر یہ دعاء فرماتے ہوئے سنا:

اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَارْضِنَا وَارْضَ عَنَّا

(ترمذی،باب ومن سورۃ المؤمنون،حدیث نمبر:۳۰۹۷)

ترجمہ:

(۶۴)اے اللہ ہمیں زیادہ عطا فرما،کمی نہ فرما، اے اللہ ہمیں باعزت بنا ہمیں ذلیل نہ فرما، اے اللہ ہمیں عطا فرما، محروم نہ فرما، اے اللہ ہمیں ترجیح عطا فرما ہم پر کسی کو ترجیح نہ دے، ہمیں خوش فرمادے  اور ہم سے خوش ہوجا۔

(۶۵)حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ  یہ دعاء فرماتے:

اللَّهُمَّ اغْسِلْ عَنِّي خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ

(بخاری،باب التعوذ من الماثم والمغرم،حدیث نمبر:۵۸۹۱)

ترجمہ:

(۶۵)اے اللہ ہمارے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھل دے اورہمارے دل کو ایسا پاک فرما جیسا کہ میل سے سفید کپڑے کو اورہمارے اورگناہوں کے درمیان ایسی دور عطا فرما جیسی دوری آپ نے مشرق و مغرب میں رکھ ہے۔

(۶۶)حضرت ابودرداء ؓ سے مروی ہے کہ آپ  کی یہ دعاء تھی:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّکَ مَنْ یُحِبُّکَ وَالْعَمَلِ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبُّکَ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ  اَحَبَّ اِلَّی مَنْ نَفْسِیْ وَاَھْلِیْ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ (کنزالعمال:۲/۲۰۹)

ترجمہ:

(۶۶)اے اللہ میں آپ سے آپ کی محبت کا سوال کرتا ہوں اوراس کی محبت کا جو آپ سے محبت کرے اور اس معل کا جو آپ کی محبت تک پہنچائے،اے اللہ ہمیں اپنی محبت عطا فرما جو اپنی جان سے بھی اہل وعیال سے بھی اورٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہو۔

(۶۷)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  کی یہ دعاء تھی:

اَللّٰھُمَّ اِنکَ رَبٌّ عَظِیْمٌ لَا یَسْعُکَ شَیْ ءٌ مِمَّا خَلَقْتَ وَاَنْتَ تَریٰ وَلَا تُریٰ وَاَنْتَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی وَاِنَّ لَکَ الْآخِرَۃَ وَالْاُوْلیٰ وَلَکَ الْمَمَاتُ وَالْمَحْیَا وَاِنَّ اِلَیْکَ الْمُنْتَھٰی وَالرُّجْعیٰ نَعُوذُبِکَ اَنْ نَذِلَّ وَنَخْزِیَ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ سَأَلْتَنَا مِنْ اَنْفُسِنَا مَالَا نَمْلِکُہُ اِلَّا بِکَ فَاَعْطِنَا مِنْھَا مَایُرْضِیْکَ عَنَّا

(کنزالعمال:۲/۲۰۷)

ترجمہ:

(۶۷)اے اللہ یقیناً آپ بلند بالا ریب ہیں جو آپ نے پیدا کیا ہے اس میں سے کوئی چیز بھی آپ نہیں سما سکتی، آپ دیکھتے ہیں مگر آپ کو نہیں دیکھا جاسکتا،آپ بلند منظر پر فائز ہیں۔

(۶۸)حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کے آپ  یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِنِعْمَتِکَ السَّابِغَۃِ عَلیَّ وَبَلائِکَ الْحَسَن الَّذِیْ اِبْتَلَیْتَنِیْ بِہ وَفَضْلِکَ الَّذِیْ اَفْضَلْتَ عَلیَّ اَنْ تُدْخِلَنِیْ الْجَنَّۃَ بِمَنِّکَ وَفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ              

(کنزالعمال:۲/۲۰۷)

ترجمہ:

(۶۸)اے اللہ آپ سے اپنے اوپر کامل نعمتوں کا سوال کرتے ہیں اور اچھی آزمائش کا جس کے ذریعہ آپ ہمارا امتحان لیں اوراس فضل کا جس کی نوازش ہم پر فرمائیں یہ کہ اپنے احسان سے فضل سے اوررحمت سے ہمین جنت میں داخل فرمادیں۔

(۶۹)حضرت علیؓ سے آپ  نے فرمایا پانچ ہزار بکریاں تم کو دوں یا یہ پانچ کلمے تم کو بتادوں جس میں دین اوردنیا کی خوبیاں جمع ہیں۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ خُلْقِیْ وَطَیّبْ لِیْ کَسْبِیْ وَقَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَلَا تُذْھِبْ طَلْبِیْ اِلٰی شَیْ ءٍ صَرَّفْتَہُ عَنِّیْ

(کنزالعمال:۲/۲۱۷)

ترجمہ:

(۶۹)اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ہمارے اخلا ق میں وسعت فرما، ہماری کمائی کو پاکیزہ بنا جو آپ ہمیں نوازیں اس پر قناعت کرنے والا بنا اورہمیں اس کی طلب میں نہ لے جائے جسے آپ نے ہم سے روک رکھا ہے۔

(۷۰)حضرت عائشہؓ سے مروی دعا میں آپ  کی یہ دعاء ہے جو آپ کیا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا

(ابن ماجہ،باب الجوامع من الدعاء،حدیث نمبر۳۸۳۶)

ترجمہ:

(۷۰)اے اللہ آپ  سے ہم جنت کا اوراس قول اور عمل کا سوال کرتے ہیں جو اس سے قریب کردے اورآپ سے جہنم سے پناہ مانگتے ہیں اوراس قول اور عمل سے جو جہنم کے قریب کردے،

(۷۱)حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعا پڑھتے:

اَللّٰھُمَّ اَغْنِنِیْ بِالْعِلْمِ وَزَیِّنِّی بِالْحِلْمِ وَاَکْرِمْنِیْ بَالتَّقْویٰ وَجَمِّلْنِیْ بِالْعَافِیَۃِ               

(جامع صغیر:۹۶)

ترجمہ:

(۷۱)اے اللہ ہمیں علم کے ذریعہ سے غنی بنا اور حلم سے مزین فرما اور تقویٰ سے مکرم بنا اور عافیت سے مشرف فرما۔

(۷۲)حضرت ابن عمرؓ سے روایت میں ہے کہ آپ  یہ دعا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَاعِلُ اللَّیْلِ سَکَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنِیْ مِنَ الْفَقْرِ وَمَتِّعْنِیْ بِسَمْعِیْ وَبَصْرِیْ وَقُوَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ               

(سبل الہدیٰ:۵۲۶)

ترجمہ:

(۷۲)اے اللہ اپنی قدرت سے ہمیں عافیت عطا فرما اوراپنی رحمت میں داخل فرما اوراپنی عبادت میں ہمارے اوقات کو قبول فرما اچھے عمل پر ہمارا خاتمہ فرما اور ثواب میں جنت عطا فرما۔

(۷۴)حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ  کے پاس حضرت جبرئیل ؑ تشریف لائے اورفرمایا کہ اللہ پاک نے آپ کو ان دعاؤں کا حکم دیا ان میں سے ایک سے آپ کو نوازیں گے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ تَعْجِیْلَ عَافِیَتِکَ وَصَبْراً عَلٰی بَلِیَّتِکَ اَوْخُرْو جاًمِنَ الدُّنْیَا اِلٰی رَحْمَتِکْ

(حاکم:۵۲۲)

ترجمہ:

(۷۴)اے اللہ ہم آپ سے جلد عافیت کا سوال کرتے ہیں اور مصائب وآزمائش پر تحمل کا اور دنیا سے آپ کی رحمت کے ساتھ دنیا کے نکلنے کا۔

(۷۵)حضرت سلمان فارسی ؓ کو آپ  نے ترغیب دی تھی کہ یہ دعاء رات اوردن میں پڑھ لیا کرو۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ صِحَّۃً فِیْ اِیْمَانٍ وَاِیْمَاناً فِیْ حُسْنِ خُلْقِ وَنَجَاحاً یَتْبَعُہ فَلَاحٌ وَرَحْمَۃٌ مِنْکَ وَرِضْوَانًا

(حاکم:۱/۵۲۳)

ترجمہ:

(۷۵)اے اللہ ہم آپ سے سوال کرتے ہیں صحیح ایمان کا اور ایمان کے ساتھ حسن سلوک کا اور ایسے نجاح کا جس کے بعد کامیابی ہو اور آپ کی جانب سے رحمت اوررضا مندی کا۔

(۷۶)حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آپ  نے ایک شخص کو یہ دعاء سکھائی۔
اَللّٰھُمَّ مَغْفِرَتُکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ ،وَرَحْمَتَکَ اَرْجٰی عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِیْ

(حاکم:۱/۵۴۴)

ترجمہ:
اے اللہ دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دل کو اپنی اطاعت پر لگادیجئے۔
(۷۷)حضرت عبید بن رفاعہ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ آپ  نے جنگ احد کے موقعہ پر صف بستہ ہونے کے بعد یہ دعاء پڑھی:

اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ اَللّٰھُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ اَللّٰھُمَّ اَبْسُط عَلَیْنَا مِنْ بَرَکَاتِکَ وَرَحْمَتِکَ وَفَضْلِکَ وَرِزْقِکَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ النَّعِیْمَ الْمُقِیْمَ الَّذِیْ لَا یَحُولُ وَلَا یَزُوْلُ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ النَّعِیْمَ یَوْمَ الْعَیْلَۃِ وَالْاَمْنَ یَوْمَ الْخَوْفِ اَللّٰھُمَّ عَائِذاً بِکَ مِنْ سُوءٍ مَا اَعْطَیْتَنَا وَشَرِّمَا مَنَعْتَ مِنَّا، اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْاِیْمَانَ وَزَیِّنْہُ فِیْ قُلُوْبِنَا وَکَرِّہُ اِلَیْنَا الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِیْنَ اَللّٰھُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ، وَاَحْیِیْنَا مُسْلِمِیْنَ وَالْحِقْنَا بِالصَّالِحِیْنَ غَیْرَ خَزَایَا وَلَا مَفْتُونِیْنَ                

(الادب المفرد:۲۰۹،حاکم:۱/۵۰۷)

ترجمہ:

(۷۶)اے اللہ آپ ہی کے لئے ساری تعریف ہے،اے اللہ جس سے آپ روک لیں، اس کا کوئی دینے والا نہیں جسے آپ قریب کرنے والا نہیں جسے آپ نہ دیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے آپ عطا فرمائیں،اے اللہ آپ ہم پر اپنی برکتوں کو، رحمت کو فضل کو اوررزق کو خوب کشادہ کردیجئے، اے اللہ ہم آپ سے ایسی دائمی نعمتوں کا سوال کرتے ہیں جو نہ منتقل ہو اورنہ ختم ہو،اے اللہ ہم  آپ سے اس تنگی کے موقعہ پر،دائمی نعمتوں کا سوال کرتے ہیں جو نہ منتقل ہو اورنہ ختم ہو، اے اللہ ہم آپ سے تنگی کے موقعہ پر ،دائمی نعمتوں  اورخوف و دہشت کے وقت امن کا سوال کرتے ہیں، اے اللہ ہمیں اس چیز کی برائی سے پناہ دیجئے جو آپ ہمیں نوازیں، اسی طرح اس کے شر سے محفوظ رکھئے، جس کو ہم سے روک دیں، اے اللہ ایمان ہم کو محبوب بنادیجئے اوراس سے ہمارے قلوب کو مزین فرمادیجئے، کفر، فسق اورگناہوں  سے ہم کو محبوب بنادیجئے اوراس سے ہمارے قلوب کو مزین فرمادیجئے، کفر، فسق اورگناہوں سے ہم کو نفرت پیدا فرمادیجئے اورہمیں اہل رشد میں داخل فرمادیجئے اوراسلام کی حالت میں وفات دیجئے،اسلام کے ساتھ زندہ رکھئے، صالحین کے ساتھ شامل فرمادیجئے بلا رسوائی اورفتنہ میں گرفتار ہوئے۔

(۷۸)حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعا کیا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَا شَیٌٔ قَبْلَکَ وَاَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَیْ ءَ بَعْدَکَ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ کُلِّ دَابَّۃٍ نَاصِیَتِھَا بِیَدِکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْاِثْمِ وَالْکَسْلِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْغِنٰی وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقَبَرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاثَمِ وَالْمَغْرَمِ              

    (سبل الہدیٰ:۸/۵۳۰،طبرانی)

ترجمہ:

(۷۸)اے اللہ آپ ہی اول ہیں،آپ سے پہلے کچھے نہیں ،آپ ہی آکر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں، اے اللہ میں ہر جاندار سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی آپ کے قبضہ میں ہے، میں گناہ سے، سستی سے  اور عذاب دوزخ سے اورعذاب قبر سے اورمالداری کے فتنہ  سے اورقبر کے فتنہ سے پناہ چاہتا ہوں اور میں پناہ مانگتا ہوں گناہ سے اورتاوان سے۔

(۷۹)حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ  کی یہ دعاء تھی:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ

(ابی داؤد،باب فی الاستعاذۃ،حدیث نمبر:۱۳۲۹)

ترجمہ:

(۷۹)اے اللہ میں برص سے، جنون سے، جذام سے اورتمام بری بیماریوں سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۸۰)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ  اپنی دعاء میں یہ کہتے تھے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَارِ السُّوْءِ فِیْ دَارِ الْمَقَامَۃِ فِانَّ جَارَ الْبَادِیَۃِ یَتَحَوَّلُ          

  (حاکم:۱/۵۳۲)

ترجمہ:

(۸۰)اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں جائے جائے سکونت کے برے پڑوسی سے، اس لئے کہ(جنگل گھر کےباہر کا پڑوسی ہے) تو منتقل ہوجائے گا۔

(۸۱)حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ جَسَدِیْ وَعَافِنِیْ فِیْ بَصْرِیْ وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ         

(حاکم:۱/۵۳۰)

ترجمہ:

(۷۳)اے صبح کے نکالنے والے، رات کو سکون اورراحت بنانے والے،سورج اورچاند کو حساب کا ذریعہ بنانے والے ،ہمارے قرض کو ادا کرنا،تنگدستی سے ہمیں غنی بنا، ہمارے کان، ہماری آنکھ اورہماری قوت کو اپنے راستہ میں قبول کرنا۔

(۸۲)حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ  یہ دعا فرماتے تھے:

اَللّٰهُمَّ إنَّا نَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِك وَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِك وَ السَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ وَ الْغَنِيْمَةَ مِنْ كُلِّ بِرِّ وَ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ وَ النَّجَاةَ بِعَوْنِك مِنَ النَّارِ

(حاکم:۱/۵۲۵)

ترجمہ:

(۸۲)اے اللہ ہم آپ سے رحمت کے باعث امور کا مغفرت کا ،ہرگناہ سے سلامتی کا ہر بھلائی کے پانے کا، جنت کے ذریعہ کامیابی کا اورآپ کی اعانت سے دوزخ سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔

(۸۳)حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ  کی یہ دعا تھی:

اَللّٰھُمَّ لَا تِکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنِ وَلَا تَنْزِعُ مِنِّیْ صَالِحَ مَا اَعْطَیْتَنِیْ                 

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۸۱،بزار)

ترجمہ:

(۸۳)اے اللہ پل جھپکنے کے برابر بھی ہمیں اپنے نفس کے حوالہ نہ فرمائیے اوروہ بہتر چیز جو آپ نے نوازا ہے اس کو ہم سے نہ لیجئے۔

(۸۴)حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ آپ  نے فرمایا آدمی کے لئے کافی ہے یہ دعاکرے۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاَدْخِلْنِیْ اَلْجَنَّۃَ

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۸۰)

ترجمہ:

(۸۴)اے اللہ ہماری مغفرت فرمائیے ،ہم پر رحم فرمائیے اورہمیں جنت میں داخل فرمائیے۔

(۸۵)حضرت ثوبان ؓ کی ایک طویل روایت میں یہ دعا ہے کہ اللہ پاک نے آپ سے کہا یہ دعا کیجئے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ

(الدعاء:۱۷۱۴)

ترجمہ:

(۸۵)اے اللہ ہم آپ سے آپ کی محبت کا اور اس کی محبت کا جو آپ سے محبت کرے اوراس عمل کی محبت کا جو آپ کی محبت کا باعث ہے سوال کرتےہیں۔

(۸۶)حضرت ابن عمرؓ کی روایت میں ہے کہ آپ  کو یہ پسند تھی :

اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنِیْ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَالنِّیَۃِ وَالْھُدیٰ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ

(الدعاء:۱۴۷۸)

ترجمہ:

(۸۶)اے اللہ ایسے اعمال اوراقوال اورزینت اورہدایت کی ہمیں توفیق عطا فرما جس کو آپ پسند کرتےہیں اورجس سے آپ خوش ہوتے ہیں یقینا آپ ہر شئی پر قادر ہیں۔

(۸۷)حضرت معاذؓ سے مروی ہے کہ آپ  نے فرمایا اللہ کے نزدیک بندہ کے لئے اس محبوب کوئی دعا نہیں ہے کہ یہ مانگے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْمُعَافَاۃَ وَالْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۷۵)

ترجمہ:

(۸۷)اے اللہ ہم معافی اوردین و دنیا کی عافیت کا سوال کرتےہیں۔

(۸۸)حضرت انس اورحضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ  اکثر یہ دعا پڑھتے تھے:

اَللّٰھُمَّ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ

(مسلم،سب الہدیٰ:۸/۵۲۳)

ترجمہ:
(۸۸)اے اللہ دلوں کے پلٹنے والے ہمارے دل کو دین پر جمادیجئے۔
(۸۹)ابوالاحوص اورزید بن علی کی روایت میں ہے کہ آپ  نے یہ دعا فرمائی:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُخْبِتِیْنَ الْغُرِّ الْمُحَجِّلِیْنَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبِّلِیْنَ

(مجمع الزوائد،سبل الہدیٰ:۸/۵۳۰)

ترجمہ:

(۸۹)اے اللہ ہمیں اپنے ان منتخب اورچنندہ بندوں میں بنادیجئے جو روشن چہرے والے ہوں گے چمکدار ہاتھ پیر والے ہوں گے جو مقبول جماعتوں میں ہوں گے۔

(۹۰)حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ بہت ہی مستحکم یہ دعا ہے جسے تم کرو۔

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ وَاَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ

(الادب المفرد:۲۰۰)

ترجمہ:

(۹۰)اے اللہ آپ میرے رب ہیں، میں آپ کا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے ، اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، سوائے آپ کے گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں، میرے رب ہماری مغفرت فرمادیجئے۔

(۹۱)حضرت فاطمہؓ نے جب آپ  سے خادمہ سے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس سے بہتر ایک دعا نہ بتادوں ؛چنانچہ یہ دعا بتادی:

اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْ ءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرآنِ الْعَظِیْمِ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْ ءٌ وَاَنْتَ الْاخِرَ فَلَیْسَ بَعْدَ کَ شَیْ ءٌ وَاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَاَنْتَ البَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْ ءٌ اِقْضِ عَنَّا الدِّیْنَ وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ             (ابن ابی شیبہ:۲۶۳)

ترجمہ:

(۹۱)اے اللہ ساتوں آسمان کے رب عرش عظیم کے رب ہر شے کے رب، تورات انجیل اورقرآن عظیم کے نازل کرنے والے،آپ ہی اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں، آپ ہی آخیر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں، آپ ہی ظاہر ہیں آپ سے اوپر کوئی شے نہیں، آپ ہی باطن ہیں آپ کے علاوہ کوئی شئے نہیں، آپ ہمارے قرضہ کو ادا کردیجئے ہماری تنگدستی دور کرکے غنی بنادیجئے

(۹۲)حضرت سعید بن جبیرؓ سے مروی ہے کہ آپ  نے یہ دعا فرمائی۔

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ فَضْلِکَ وَلَا تَحْرِمْنَا رِزْقَکَ وَبَارِکْ لَنَا فِیْمَا رَزَقْتَنَا وَاجْعَلْ رَغْبَتَنَا فِیْمَا عِنْدَکَ وَاجْعَلْ غِنَاءَ نَا فِیْ اَنْفُسِنَا

(ابن ابی شیبہ:۱۰/۲۸۳)

ترجمہ:

(۹۲)اے اللہ ہمیں اپنے فضل سے رزق عطا فرمائیے،ہمیں اپنے رزق سے محروم نہ کیجئے اورجو ہمیں آپ رزق دیں اس میں برکت عطا فرمائیے،جو آپ کے پاس ہے اس کی طرف ہمیں رغبت عطا فرمائیے اورہمارے نفس میں غنا عطا فرمادیجئے۔

(۹۳)حضرت عائشہؓ سے آپ نے فرمایا اے عائشہ جامع اورمختصر یہ دعا کرو۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہ وَآجِلِہ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہ عَاجِلِہ وَآجِلِہ وَمَاقَضَیْتَ مِنْ قَضَاءٍ فَبَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاجْعَلْ عَاقِبَتَہُ اِلٰی خَیْرٍ

(ابن ابی شیبہ:۴۴۷)

ترجمہ:

(۹۳)اے اللہ ہم آپ سے سوال کرتے ہیں تمام بھلائی کا ،دنیا کی اورآخرت کا اورپناہ مانگتے ہیں تمام برائیوں سے دنیا اورآخرت کی برائیوں کا اورجو فیصلہ میرے حق میں آپ فرمائیں اس میں برکت عطا فرمائیں اوراس کا انجام بھلائی کی جانب فرمائیں۔

(۹۴)حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ  تہجد کے موقع پر یہ دعا پڑھتے تھے:

اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَیِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ اِلٰہُ السَّماوَاتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاءُ کَ حَقَّ وَالْجَنَّۃُ حَقّ وَالنَّارُ حَقٌّ اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَااَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ اَنْتَ اِلٰھِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ          

  (الدعاء:۱۱۴۶)

ترجمہ:

(۹۴)اے اللہ آپ ہی کے لئے تعریف ہے، آپ آسمان و زمین کے نور ہیں، آپ ہی کے لئے تعریف ہے آپ آسمان اورزمین کے قائم کرنے والےہیں اورجو اس میں ہے، آپ ہی کے لئے تعریف ہے،آپ آسمان و زمین اور اس کے درمیان جو ہیں اس کے رب ہیں، آپ ہی کے لئے تعریف ہے آپ آسمان و زمین کے معبود ہیں، آپ حق ہیں، آپ کی بات حق ہے،آپ کا وعدہ حق ہے،آپ کی ملاقات حق ہے،جنت حق ہے،جہنم حق ہے، اے اللہ میں آپ کے لئے اسلام لایا ،آپ پر ایمان لایا، آپ ہی سے مخاصمہ ہے آپ ہی سے فیصلہ ہے،ہمارے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادیجئے اورجو ظاہر ہوں اورجو چھپے ہوں آپ ہی میرے معبود ہیں،آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

(۹۵)حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی روایت ہے کہ آپ  نے نماز پڑھی اوریہ دعا کی۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکِ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ

(کنزالعمال:۲/۶۸۶)

ترجمہ:

(۹۵)اے اللہ ہمارے گناہوں کو بخش دیجئے، ہمارے گھر میں وسعت فرمادیجئے ہمارے رزق میں برکت عطا فرمادیجئے

(۹۶)حضرت ابن مسعودؓ کی روایت میں ہے کہ آپ  نے نماز پڑھی اوریہ دعا کی۔

اِلَیْکَ رَبِّیْ فَحَبِّبْنِیْ وَفِیْ نَفْسِیْ لَکَ رَبِّیْ فَذَلِّلْنِیْ وَفِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ فَعَظِّمْنِیْ وَمِنْ سَیِّئِی الْاَخْلَاقِ فَجَنِّبْنِیْ         

(کنزالعمال:۲/۶۸۸)

ترجمہ:

(۹۶)اے میرے رب آپ مجھے اپنی نگاہ میں محبوب بنالیجئے، اے رب اپنے لئے میرے نفس کوذلیل بنادیجئے اورلوگوں کے نزدیک باعظمت بنادیجئے اور برے اخلاق سے مجھے محفوظ رکھئے۔

(۹۷)حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آپ  یہ دعا کیا کرتے تھے

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تَوَکَّلَ عَلَیْکَ فَکَفَیْتَہُ وَاَسْتَھْدَاکَ فَھَدَیْتَہُ وَاسْتَنْصَرَکَ فَنَصْرَتَہُ

(کنزالعمال:۲/۶۹۳)

ترجمہ:

(۹۷)اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں بنادیجئے جنہوں نے آپ پر بھروسہ کیا تو آپ اس کے لئے کافی ہوگئے، آپ سے ہدایت مانگی تو آپ نے ہدایت دے دی، آپ سے مدد چاہا تو آپ نے ان کی مدد فرمادی۔

(۹۸)حضرت فاطمہؓ کو آپ  نے اس دعا کی تعلیم کی اورفرمایا یہ دعا کرو۔

یَا حَیُّ یَا قَیُّوم بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرَفَۃَ عَیْنِ وَاَصْلِحْ لِیْ شَانِیْ کُلَّہُ

(بیہقی،کنز العمال:۲/۲۳۹)

ترجمہ:

(۹۸)اے ہمیشہ زندہ رہنے والے،اے ہمیشہ باقی رہنے والے،آپ ہی سے میں فریاد کرتا ہوں ،پل جھپکنے کے برابر بھی آپ ہمیں ہمارے نفس کے حوالہ نہ فرمائیے اورمیری تمام حالت کو درست فرمادیجئے۔

(۹۹)حضرت عائشہ اورزید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ آپ  کی یہ دعاء تھی:

اَللّٰھُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلَیُّھَا وَمَوْلَاھَا

(کنزالعمال:۱۷۷)

ترجمہ:

(۹۹)اے اللہ ہمارے نفس کو تقویٰ سے نوازئیے اور اس کا تزکیہ فرمادیجئے،آپ ہی اس کا بہتر تزکیہ کرنے والے ہیں، آپ ہی اس کے ولی ہیں آپ ہی اس کے مولی ہیں۔

(۱۰۰)حضرت اوس بن صامت ؓ کو آپ  نے جس دعا کی تعلیم دی تھی اس میں یہ دعا بھی تھی۔

اَللّٰھُمَّ لَا تَدَعْ لِیْ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہُ وَلَا ھَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہُ وَلَا کَرْباً اِلَّا نَفَّسْتَہُ وَلَا ضَرّاً اِلَّا کَشَّفْتَہُ وَلَا دَیْناً اِلَّا قَضَیْتَہُ وَلَا عَدُوّاً اِلَّا اَھْلَکْتَہُ وَلَاحَاجَۃُ مِنْ حَوائِجِ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃ ٍاِلَّاقَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ

(الدعاء:۱۰۸۳)

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہِ مُحَمَّدِ وَآلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ

ترجمہ:

(۱۰۰)اے اللہ ہمارے کسی گناہ  کونہ چھوڑئیے ،کوئی رنج نہ چھوڑئیے، کوئی قرض نہ ہو مگر یہ کہ اسے ادا فرمادیجئے،کوئی دشمن نہ ہو مگر یہ کہ اسے ہلاک فرمادیجئے، دین و دنیا کی کوئی ضرورت نہ ہو مگر یہ کہ آپ اسے پورا فرمادیں، اے ارحم الراحمین۔آمین

No comments:

Post a Comment