Thursday, 31 December 2015

عمامہ یا ٹوپی کے بغیر، ننگے سر رہنا سنت نہیں


”ننگے سر“ رہنا، اسلامی تہذیب کے خلاف ہے
یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان بالخصوص نوجوانوں میں دینی احکام اور اسلامی تہذیب کا احترام دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے، اس کے برخلاف مغربی تہذیب کو عام کرنے کی کوششیں چاروں طرف سے او رمختلف ذرائع سے عام ہوتی جارہی ہیں ، نتیجتاً ایک ٹوپی ہی کیا، سارا لباس، بلکہ پوری معاشرت ہی اسلامی خصوصیات وامتیازات سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورت حال افسوس ناک ضرور ہے، مگر تہذیبی تصادم او رمغرب کے ناحق دباؤ، نیز عالم اسلام کی تہذیبی مغلوبیت کے مدنظر تعجب خیز بالکل نہیں ہے، تعجب صرف اس پر ہوتا ہے کہ بعض جدیدوغیر معتبر افکار کے حاملین ان یورپ سے درآمدہ فیشنوں کو کلین چٹ، بلکہ اسلامک لیبل کس طرح دیتے ہیں ؟ بیماری حد سے بڑھ جائے اور بد عملی قابو سے نکل جائے تو اسے صحت او رنیکی کا نام دے کر قبول کر لینا او ربڑھاوا دینا کسی عقل مند کے نزدیک صحیح نہیں ہو سکتا۔

ننگے سر رہنے یا نماز پڑھنے کا چلن انگریزوں کی آمد سے پہلے مسلم معاشرے میں کہیں نظر نہیں آتا، علماء وصلحاء تو سر ڈھانک کر رہتے ہی تھے، عام شرفاء بھی اسے تہذیب وشرافت کا لازمہ سمجھتے تھے، امام ابن جوزی  تلبیس ابلیس میں فرماتے ہیں:” سمجھ دار آدمی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ سرکا کھلا رکھنابری بات اور ناپسندیدہ حرکت ہے ، کیوں کہ اس میں ترک ادب اور شرافت کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔“

شیخ عبدالقادر جیلانی  غنیة الطالبین میں فرماتے ہیں:
”ننگے سر لوگوں میں گھومنا پھرنا( مسلمانوں کے لیے) مکروہ ہے۔“ (بحوالہ فتاوی رحیمیہ:150/8)

ہندوستانی مسلمانوں میں ننگے سر پھرنا انگریزوں کی آمد کے بعد اورعالم عرب میں مغربی ممالک سے تعلقات کے بعد وجود میں آیا ہے، لیکن یہ تقلید فرنگ شروع میں صرف دفتروں ، کالجوں اور بازاروں تک محدود تھی، مذہبی مجلسوں مسجدوں میں لوگ اس طرح شرکت کو سخت معیوب سمجھتے او راس سے احتزار کرتے تھے ، گویا یہ پہلا مرحلہ تھا، جب مسلمانوں نے اسلامی تہذیب کو اسلامی سرگرمیوں کے ساتھ مخصوص کرکے انگریزی تہذیب کو زندگی کے بقیہ مرحلوں میں اختیار کر لیا تھا، پھر جب طبیعتیں اس اجنبی تہذیب سے مانوس ہو گئیں او رایک نسل گزر گئی تو اگلی نسل کے لیے یہ جدید کلچر ہی پسندیدہ کلچر بن گیا اور سابقہ تہذیب اجنبی سی ہو گئی۔

اب جدید تعلیم یافتہ طبقے میں ٹوپی پہننا ایسا ہی معیوب ہو گیا ہے جیسے چند سال قبل ننگے سر رہنا معیوب تھا، یہ سب تہذیب جدید یہودیوں کی عالمی واحد تہذیب ( یعنی گلوبلائزیشن) کی کوششوں کی دین ہے ، لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ علمائے دین او رامت کے مصلحین کا کام بہر صورت اسلامی ثقافت اور تہذیب کا تحفظ کرنا اور قوم کے اندر اس کے شعور کو باقی رکھنے کی فکر کرتے رہنا ہے، چاہے قوم اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے ، ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے، بلکہ جب ایسا نہ ہو االله تعالیٰ نے سخت پکڑ فرمائی، قرآن کریم میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، اس لیے بطور اتمام حجت کے یہ چند سطریں تحریر کی جارہی ہیں:

قرآن کریم میں نماز وعبادت کے لیے مکمل لباس اور کامل زینت اختیار کرنے کی ترغیب موجود ہے ، سورة الاعراف میں ارشاد ربانی ہے: ﴿یبنی ادم خذوا زینتکم عندکل مسجد﴾ (الاعراف:31) ، ”اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوش نمائی کا سامان( یعنی لباس جسم پر) لے کر آؤ۔“ یہ اگرچہ ننگے بدن کعبة الله کا طواف کرنے والوں کو دی گئی ہدایت ہے، مگر مفسرین کرام نے” کل مسجد“ کے عموم سے یہی سمجھا ہے کہ اس میں نمازوں اور دیگر عبادات کے ادا کرنے اور مقدس مقامات پر جانے کے لیے بھی مکمل لباس اختیار کرنا داخل وشامل ہے او رکل لباس میں جہاں کرتا پاجامہ داخل ہے ، وہیں ٹوپی یا عمامہ بھی شامل ہے۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ننگے سر رہنا یا نماز پڑھانا ثابت نہیں ہے ، حسن سلمان نے ”الدین الخالص“ سے نقل کیا ہے کہ ”نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے حالت احرام کے علاوہ ننگے سر نماز پڑھانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، اگر آپ نے پڑھائی ہوتی تو احادیث میں ضرور منقول ہوتا، اگر کسی کو اس کے ثبوت کا دعویٰ ہے تو دلیل اس کے ذمہ ہے ۔ والحق أحق ان یتبع“․ (القول امبین، ص:57)

متعدد روایتوں میں آپ کے سر مبارک کا عمامہ یا ٹوپی سے آراستہ ہونا مروی ہے ، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ سفید ٹوپی استعمال فرماتے تھے۔ ( شعب الایمان:256/13)

حضرت عائشہ سے بھی اس طرح منقول ہے۔(جامع صغیر:120/2)

حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ آپ ﷺ ٹوپی عمامے کے تحت بھی اور بغیر عمامے کے بھی استعمال فرماتے تھے۔ ( جامع صغیر:120/2)

حضرت ابو قرصافہ سے مروی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں ایک ٹوپی دے کر اس کے استعمال کی ہدایت دی تھی۔ ( فتح الباری:223/10)

جب آپ صلی الله علیہ وسلم مرض الوفاة میں آخری خطبہ دینے کے لیے مسجد میں تشریف لائے تھے ، تو حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا سر مبارک عمامہ یا سرخ پٹی سے ڈھکا ہوا تھا۔ (بخاری:536/1)

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس تین ٹوپیاں تھیں، ایک کنٹوپ بھی تھی، جسے سفر میں استعمال فرماتے تھے۔ (تخریج احادیث الاحیاء:110/6)

ابن قیم  فرماتے ہیں: ”آپ صلی الله علیہ وسلم عمامہ باندھتے تھے، اس کے نیچے ٹوپی بھی پہنتے تھے، کبھی بغیر ٹوپی کے بھی عمامہ باندھتے تھے، کبھی بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی پہن لیتے تھے۔“ (زادالمعاد:51)

یہی بات حضرت ابن عباس سے روایتاً بھی منقول ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ٹوپی استعمال فرماتے تھے، عمامے کے ساتھ بھی، بلاعمامے کے بھی۔ (جامع صغیر120/2)

یہ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا معمول او رعادت شریفہ تھی، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں صحابہ کرام کا رواج بھی یہی تھا اور کیوں نہ ہوتا؟ وہ لوگ تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی ہر ہر ادا کے عاشق اور اس کے متبع تھے، بخاری شریف میں ہے کہ جب حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم سے مُحرِم کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” قمیص، شلوار، عمامہ اور ٹوپی نہ پہنے۔“ (بخاری:24/2)

معلوم ہوا کہ ٹوپی او رعمامہ کا پہننا صحابہ کرام کے معاشرے کی عام بات تھی، تب ہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے دوسرے لباس کے ساتھ اس کا بھی ذکر فرمایا۔ ا بن عاصم سے مروی ہے کہ جب وہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے ملنے کے لیے پہنچے تھے تو صحابہ کرام کو کپڑوں اور ٹوپیوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ ( مجمع الزوائد:184/2)

اسی طرح ترمذی میں ہے کہ حضرت عمر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے شہید کے فضیلت بیان کرتے ہوئے بتلا رہے تھے کہ ” اس کے بلند ترین مقام کو یوں سر اٹھا کر دیکھا جائے گا، جب آپ نے سر پیچھے کیا تو ٹوپی سر سے گر گئی۔“ (ترمذی:241/3)

اس کے علاوہ متعدد صحابہ کرام او رتابعین عظام کے بارے میں روایات موجود ہیں کہ وہ ٹوپی کا استعمال فرمایا کرتے تھے ، بخاری شریف میں ہے ، حضرت انس ریشم کی ٹوپی پہنے ہوئے دیکھے گئے۔ (270/4) اسی طرح ابو اسحاق کے بارے میں ہے کہ انہوں نے نماز کی حالت میں ٹوپی نکال کے رکھی، پھر اٹھا کر پہن لی۔ (515/1)

مصنف ابن ابی شیبہ میں تو متعدد احادیث موجود ہیں، مثلاً جلد دوم کتاب الصلوٰة میں حضرت شریح، اسود، عبدالله بن زید، سعید بن جبیر، علقمہ، مسروق رحمہم الله کے بارے میں اور جلد(12) کتاب اللباس میں حضرت علی بن حسین، حضرت عبدالله بن زبیر، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت انس بن مالک اور ابراہیم نخعی اور ضحاک کے بارے میں ٹوپیوں کا استعمال کرنا منقول ہے، اسی طرح حضرت حسن بصری سے بخاری شریف میں مروی ہے کہ صحابہ کرام ٹوپیوں او رعمامے کی کوروں پر سجدہ کر لیا کرتے تھے۔ (بخاری:232/1)

اس سے تو صحابہ کرام کا عمومِ استعمال صراحتاً معلوم ہو گیا، فتح الباری میں عبدالله بن ابی بکر سے مروی ہے کہ قرآن کریم کے تمام قراء( صحابہ) کے پاس ٹوپیاں ہوا کرتی تھیں۔ (34/16)

اسی لیے ابن عربی  فرماتے ہیں:
”ٹوپی انبیا ، صالحین واولیا کے لباس میں داخل ہے، سر کی حفاظت کرتی ہے او رعمامہ کو جماتی ہے ، جو کہ سنت ہے ، البتہ سر سے چمٹی ہوئی ہو بلند نہ ہو، البتہ اگر آدمی بخارات دماغ کے خروج کی ضرورت محسوس کرے تو سوراخ دار بلند ٹوپی بھی پہن سکتا ہے ۔“ ( فیض القدیر:299/5)

فتح الباری کتاب الحج(186/5) میں محرم کے لیے سر ڈھانکنے کے متعدد طریقوں کا ذکر کرکے ان کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ جس سے اتنا تو معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ سر ڈھانکنا قدیم رواج ہے۔

مذکورہ بالا احادیث وآثار، جن میں بعض صحیح اور بعض ان کی مؤید ہیں، یہ بتلا رہی ہیں کہ سر کو ڈھکنا یعنی ٹوپی یا عمامہ سے آراستہ رکھنا، بالخصوص نماز کے اندر ننگے سر ہونے سے بچنا اسلامی تہذیب کا حصہ اور مسنون لباس میں داخل وشامل ہے ، اس کے برخلاف ٹوپی نہ پہننے یا ننگے سر رہنے کی ترغیب وفضیلت کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، نہ صحیح حدیثوں میں، نہ ہی ضعیف روایتوں میں ۔معلوم ہوا کہ موجودہ زمانے کا یہ فیشن اور آزادی چاہنے والوں کا چلایا ہوا چلن غیر اسلامی اورناپسندیدہ ہے، جس سے احتیاط ضروری ہے۔

جہاں تک ان لوگوں کا ان روایتوں سے استدلال کرنے کا تعلق ہے جن میں ایک اور دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے وہ یا تو وقتی ضرورت پر محمول ہے یا بیان جواز کے لیے ہے ، ورنہ دائمی معمول نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا سر ڈھانک کر رہنا ہی ہے ، بالخصوص نمازوں میں تو کبھی ننگے سرامامت فرمائی ہی نہیں۔

شیخ ناصر الدین البانی ایک بڑے عالم گزرے ہیں (غیر مقلد) علماء اور عوام کا ایک طبقہ انہیں خاتمة المحدثین سمجھتا ہے ، چوں کہ ننگے سر کا کلچر عام ہو رہا ہے، بلکہ باقاعدہ عام کیا جارہا ہے، ان کی چشم کشائی کے واسطے شیخ کی تحقیق ذیل میں نقل کی جارہی ہے، وہ فرماتے ہیں:

”جہاں تک ہمار ی تحقیق کا تعلق ہے تو ہمارے نزدیک ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے کہ نماز کا مکمل ہیئت اسلامی میں ادا کرنے کا پسندیدہ ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے ، کیوں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” الله تعالیٰ اس بات کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے اپنے آپ کو سنوارا جائے “، نیز ننگے سررہنے کی عادت ڈال لینا ،یا بازاروں میں ننگے سر گھومنا یا مقامات عبادت میں ننگے سر داخل ہونا، سلف صالحین کے مبارک عرف میں ہئیت حسنہ کے خلاف اور غیر اسلامی تہذیب کا امتیاز ہے ، جو کفار کے بلاد اسلامی میں داخل ہونے کے بعد شائع ہوا ہے، وہاں کے مسلمانوں نے بلاد لیل شرعی ان بری عادتوں کو قبول کرکے اس مسئلے میں اسی طرح بعض او رتہذیبی مسائل میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید ترک کر دی ہے ، پس یہ نئی رسم اس لائق نہیں ہے کہ اسلام کے سابقہ عرف اور طریقے کے مقابل بن سکے اور نہ ہی اس رسم کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنے کا جواز نکالا جاسکتا ہے۔“

اس کے بعد بعض علماء کے غلط استدلال کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”جہاں تک مصر کے بعض علماء کا حج کے دوران سر کھلے رکھنے اور اسی طرح نماز پڑھ لینے سے استدلال کا تعلق ہے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان کا یہ قیاس، قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے فاسد ہے، اس لیے کہ اولاً تو وہ مناسک حج کے ساتھ خاص ہے اور شعائر حج میں سے ہے، اس کو عام نہیں کیا جاسکتا او راگر اس سے ہر حال میں سرکھلے رکھ کر نماز پڑھنے کا ثبوت نکل سکتا ہے تو پھر وجوباً ماننا پڑے گا، جوازاً نہیں، کیوں کہ احرام میں سرکھلا رکھنا واجب ہے ، یعنی ننگے سر نماز پڑھنے کو واجب کہنا پڑے گا جوکوئی نہیں کہتا، پس یہ ایسا الزام ہے کہ ان لوگوں کو اپنے قیاس فاسد سے رجوع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ، ہمیں امید ہے کہ یہ علماء اپنی غلطی سے رجوع کر لیں گے۔“ (تمام المنہ فی التعلیق علی فقہ السنة:164/65)



حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رُكَانَةُ : وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ " .
[سنن أبي داود » كِتَاب اللِّبَاسِ » بَاب فِي الْعَمَائِمِ ... رقم الحديث: 3558]
قتیبہ بن سعید، محمد بن ربیعہ، ابوحسن، ابوجعفر بن محمد بن علی بن رکانہ کہتے ہیں کہ رکانہ نے حضور  سے مقابلہ کیا پچھاڑنے کا ۔ تو حضور  نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارے اوپر مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں اور عمامہ کا ہے، وہ ٹوپی پر عمامہ نہیں پہنتے جبکہ ہم پہنتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ عمامہ بغیر ٹوپی کے نہیں پہننا چاہیے۔
[أخرجه أبو داود (4/55، رقم 4078) ، والترمذى (4/247، رقم 1784) وقال: حسن غريب وإسناده ليس بالقائم. والطبرانى (5/71، رقم 4614) . وأخرجه أيضًا: ابن سعد (1/374) ، والبخارى فى التاريخ الكبير (1/82) وقال: إسناده مجهول لا يعرف سماع بعضه من بعض. والحاكم (3/511، رقم 5903) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (5/175، رقم 6258) ، وعزاه الحافظ فى الإصابة (6/336، ترجمة 8524 محمد بن ركانة) لابن شاهين من طريق البغوى وقال قال ابن منده: ذكره البغوى فى الصحابة وهو تابعى.]

Narrated Ali ibn Rukanah:
Ali quoting his father said: Rukanah wrestled with the Prophet (peace_be_upon_him) and the Prophet (peace_be_upon_him) threw him on the ground. Rukanah said: I heard the Prophet (peace_be_upon_him) say: The difference between us and the polytheists is that we wear turbans over caps.

سائل کو اس کے سوال سے زیادہ بتانے کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ " .



حضرت ابن عمر ؓ نبی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ محرم کیا پہنے؟ آپ نے فرمایا نہ کرتہ پہنے اور نہ عمامہ اور نہ پائجامہ اور نہ برقع اور نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگ گئی ہو، پھر اگر نعلین نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انہیں کاٹ دے، تاکہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔
Narrated Ibn 'Umar: A man asked the Prophet : "What (kinds of clothes) should a Muhrim (a Muslim intending to perform 'Umra or Hajj) wear? He replied, "He should not wear a shirt, a turban, trousers, a head cloak or garment scented with saffron or Wars (kinds of perfumes). And if he has n slippers, then he can use Khuffs (leather socks) but the socks should be cut short so as to make the ankles bare." (See Hadith No. 615, Vol. 2).

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه الورس أو الزعفران إن لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا تحت الكعبينعبد الله بن عمرصحيح البخاري132134محمد بن إسماعيل البخاري256
2لا يلبس القميص ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه الزعفران ولا ورس من لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرصحيح البخاري356366محمد بن إسماعيل البخاري256
3لا يلبس القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران أو ورسعبد الله بن عمرصحيح البخاري14481542محمد بن إسماعيل البخاري256
4لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين وليقطع أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا مسه زعفران ولا الورس ولا تنتقب المرأة المحرمة ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرصحيح البخاري17161838محمد بن إسماعيل البخاري256
5لا يلبس القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرنس ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس إن لم يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرصحيح البخاري17201842محمد بن إسماعيل البخاري256
6لا يلبس المحرم القميص ولا السراويل ولا البرنس ولا الخفين إلا أن لا يجد النعلين فليلبس ما هو أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرصحيح البخاري53745794محمد بن إسماعيل البخاري256
7لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه زعفران ولا الورسعبد الله بن عمرصحيح البخاري53825803محمد بن إسماعيل البخاري256
8لا تلبسوا القميص السراويل العمائم البرانس الخفافعبد الله بن عمرصحيح البخاري53845805محمد بن إسماعيل البخاري256
9لا يلبس المحرم القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس ولا الخفين إلا لمن لم يجد النعلين فإن لم يجدهما فليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرصحيح البخاري53855806محمد بن إسماعيل البخاري256
10لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرصحيح مسلم20191178مسلم بن الحجاج261
11لا يلبس المحرم القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرصحيح مسلم20201179مسلم بن الحجاج261
12لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا البرانس ولا العمائم ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين وليقطعهما ما أسفل من الكعبين لا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس لا تنتقب المرأة الحرام لا تلبس القفازينعبد الله بن عمرجامع الترمذي762833محمد بن عيسى الترمذي256
13لا يلبس القميص ولا البرنس ولا السراويل ولا العمامة ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا الخفين إلا لمن لا يجد النعلين فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرسنن أبي داود15561823أبو داود السجستاني275
14لا يلبس القميص ولا البرنس ولا السراويل ولا العمامة ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا خفين إلا لمن لا يجد نعلين فإن لم يجد نعلين فليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26322667النسائي303
15لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26342669النسائي303
16لا تلبسوا القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا الخفين إلا أن لا يكون لأحدكم نعلان فليقطعهما أسفل من الكعبين ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26352670النسائي303
17لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين ما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المرأة الحرام ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26382673النسائي303
18لا تلبسوا القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26392674النسائي303
19لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26402675النسائي303
20لا تلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا الخفين إلا أن لا تجد نعلين فإن لم تجد النعلين فما دون الكعبينعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26412676النسائي303
21لا تلبس القميص العمائم البرانس السراويلعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26422677النسائي303
22لا تلبسوا في الإحرام القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفافعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26432678النسائي303
23لا تلبسوا القمص ولا السراويلات لا الخفاف إلا أن يكون رجل له نعلان فليلبس الخفين أسفل من الكعبين ولا يلبس شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس لا تنتقب المرأة الحرام لا تلبس القفازينعبد الله بن عمرسنن النسائى الصغرى26462681النسائي303
24لا يلبس القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران أو الورسعبد الله بن عمرسنن ابن ماجه29242929ابن ماجة القزويني275
25لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين وليجعلهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرسنن الدارمي17491798عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
26لا يلبس القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن لا يجد نعلين فليلبس خفين ويقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرسنن الدارمي17511800عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
27لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرموطأ مالك رواية يحيى الليثي698716مالك بن أنس179
28لا يلبس القميص ولا السراويل ولا العمامة ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فمن لم يجد نعلين فليلبسهما أسفل من الكعبين ولا البرنس ولا شيئا من الثياب مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل43414468أحمد بن حنبل241
29لا يلبس القميص ولا البرنس ولا السراويل ولا العمامة ولا ثوبا مسه الورس ولا الزعفران ولا الخفين إلا لمن لا يجد نعلين فمن لم يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل44004524أحمد بن حنبل241
30لا تلبسوا القميص ولا العمامة ولا البرانس ولا السراويلات ولا الخفاف إلا أن لا تكون نعال فإن لم تكن نعال فخفين دون الكعبين ولا ثوبا مسه ورس قال ابن عون إما قال مصبوغ وإما قال مسه ورس وزعفرانعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل46954820أحمد بن حنبل241
31لا تلبسوا العمائم ولا القمص ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفين إلا أن يضطر مضطر إليهما فيقطعهما أسفل من الكعبين ينهى النساء عن القفاز النقاب ما مس الورس والزعفران من الثيابعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل47284853أحمد بن حنبل241
32لا يلبس السراويل ولا القميص ولا البرنس ولا العمامة ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس ليحرم أحدكم في إزار ورداء ونعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من العقبينعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل47584881أحمد بن حنبل241
33لا يلبس المحرم البرنس ولا القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا الخفين إلا أن يضطر يقطعه من عند الكعبين ولا يلبس ثوبا مسه الورس ولا الزعفران إلا أن يكون غسيلاعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل48564983أحمد بن حنبل241
34لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا البرانس ولا السراويلات ولا الخفين إلا أحد لا يجد نعلينعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل50205144أحمد بن حنبل241
35لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا البرانس ولا السراويلات ولا الخفاف إلا من لا يجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب ما مسه ورس أو زعفرانعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل51575286أحمد بن حنبل241
36لا تلبسوا القميص ولا السراويل ولا العمامة ولا الخفين إلا أحد لم يجد نعلين فليلبسهما أسفل من الكعبين ولا البرنس ولا شيئا من الثياب مسه ورس أو زعفرانعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل51745303أحمد بن حنبل241
37لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون رجل ليست له نعلان فيلبس الخفين ويجعلهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل53205449أحمد بن حنبل241
38لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين ما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الورس ولا الزعفران ولا تنتقب المرأة الحرام ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل58385967أحمد بن حنبل241
39لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا البرانس ولا العمائم ولا القلانس ولا الخفاف إلا أحد ليست له نعلان فيلبسهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرصحيح ابن خزيمة24242434ابن خزيمة311
40يلبس المحرم القمص أو الأقبية أو الخفين إلا أن لا يجد نعلين أو السراويلات أو يلبس شيئا مسه ورس أو زعفرانعبد الله بن عمرصحيح ابن خزيمة24252435ابن خزيمة311
41لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا البرانس ولا السراويلات ولا الخفاف إلا أن يكون رجلا ليست له نعلان فليلبس الخفين ما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب ما مسه الزعفران والورس قال ولا تنتقب المرأة الحرام ولاعبد الله بن عمرصحيح ابن خزيمة24262436ابن خزيمة311
42لا تلبسوا السراويل ولا القمص ولا البرنس ولا العمامة ولا ثوب مسه الزعفران ولا ورس وليحرم أحدكم في إزار ورداء ونعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما حتى يكونا إلى الكعبينعبد الله بن عمرصحيح ابن خزيمة24282438ابن خزيمة311
43لا يلبس القمص ولا السراويل ولا العمامة ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فليلبسهما أسفل من الكعبين ولا شيئا من الثياب مسه ورس أو زعفران ولا البرنسعبد الله بن عمرصحيح ابن خزيمة25072517ابن خزيمة311
44لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا البرانس ولا العمائم ولا القلانس ولا الخفاف إلا أحد ليست له نعلان فليلبسهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرصحيح ابن خزيمة25092519ابن خزيمة311
45لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون الرجل ليست له نعلان فليقطع الخفين أسفل من الكعبين ولا يلبس ثوبا مسه زعفران أو ورسعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان38473761أبو حاتم بن حبان354
46لا يلبس القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الورس والزعفرانعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان38713784أبو حاتم بن حبان354
47لا تلبسوا القمص ولا السرويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون ليس له نعلان فليلبس الخفين أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران والورسعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان40463955أبو حاتم بن حبان354
48لا تلبسوا القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه زعفران ولا ورسعبد الله بن عمرالمسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم24462685أبو نعيم الأصبهاني430
49لا تلبسوا القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرانس ولا ثوبا مسه الزعفران ولا ورس ولا خفين إلا لمن لم يجد نعلين فمن لم يجد نعلين فليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرالمسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم24472686أبو نعيم الأصبهاني430
50عما يلبس المحرم فقال لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرانس ولا السراويل ولا ثوبا مسه ورس أو زعفران ولا الخفين إلا لمن لم يجد نعلين فليلبسهما ويقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين يقال هذا حديث حسن صحيحعبد الله بن عمرمختصر الأحكام المستخرج على جامع الترمذي686759الطوسي312
51لا يلبس القميص ولا البرنس ولا السراويل ولا العمامة ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا خفين إلا لمن يجد نعلين فإن لم يجد نعلين فليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35363633النسائي303
52لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35383635النسائي303
53ما نلبس من الثياب إذا أحرمنا قال لا تلبسوا القميص وقال عمرو مرة أخرى القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا الخفين إلا أن لا يكون لأحدكم نعلان فليقطعهما أسفل من الكعبين ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35394 : 23النسائي303
54لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين ما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المرأة الحرام ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35423639النسائي303
55لا تلبسوا القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35433640النسائي303
56لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35443641النسائي303
57ما نلبس إذا أحرمنا قال لا تلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا الخفين إلا أن لا تجد نعلين فإن لم تجد النعلين فما دون الكعبينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35453640النسائي303
58ما نلبس إذا أحرمنا قال لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا البرانس ولا السراويلات ولا الخفاف إلا أن لا يكون نعال فإن لم يكن نعال فخفين دون الكعبين ولا ثوبا مصبوغا بورس أو زعفران أو مسه ورس أو زعفرانعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35463641النسائي303
59لا تلبسوا في الإحرام القمص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفافعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35473644النسائي303
60ماذا تأمرنا أن نلبس من الثياب في الإحرام فقال رسول الله لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا الخفاف إلا أن يكون رجلا ليس له نعلان فليلبس الخفين أسفل من الكعبين ولا يلبس شيئا من الثياب مسه الزعفران والورس ولا تتنقب المرأة الحرام ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي35503645النسائي303
61لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليست له نعلان فليلبس الخفين ما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المرأة الحرام ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي56755847النسائي303
62لا يلبس السراويل ولا القميص ولا البرنس ولا العمامة ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس وليحرم أحدكم في إزار ورداء ونعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما حتى يكونا إلى العقبينعبد الله بن عمرالمنتقى من السنن المسندة412404ابن الجارود النيسابوري307
63لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه الورس ولا الزعفران ولا الخفين إلا لمن لم يجد نعلين فمن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرسنن الدارقطني21762451الدارقطني385
64لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران والورسعبد الله بن عمرالسنن الصغير للبيهقي7091567البيهقي458
65لا يلبس خفين إلا لمن لا يجد النعلين فليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي12341 : 283البيهقي458
66لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن يكون أحد ليس له نعلان فيلبس الخفين ما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا شيئا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المرأة المحرمة ولا تلبس القفازينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي83575 : 45البيهقي458
67لا يلبس المحرم القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس ولا الخفين إلا لمن لا يجد نعلين فإن لم يجدهما فليقطعهما حتى يكون أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي83705 : 48البيهقي458
68لا تلبسوا القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفين إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران والورسعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي83715 : 48البيهقي458
69لا يلبس السراويل ولا العمامة ولا القميص ولا الخفين إلا أحد لا يجد نعلين فليقطعهما فليلبسهما أسفل من الكعبين ولا شيء من الثياب مسه ورس وزعفران ولا البرنسعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي83725 : 48البيهقي458
70لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا القباء ولا ثوبا مسه ورس أو زعفران ولا يلبس الخفين إلا أن لا يجد النعلين فيقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي83735 : 49البيهقي458
71لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا الخفين إلا لمن لا يجد نعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمعرفة السنن والآثار للبيهقي24792825البيهقي458
72لا يلبس القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمعرفة السنن والآثار للبيهقي24802826البيهقي458
73لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا القباءعبد الله بن عمرمعرفة السنن والآثار للبيهقي24822829البيهقي458
74لا يلبس القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فيلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرموطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني384421مالك بن أنس179
75لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرموطأ مالك برواية أبي مصعب الزهري6121038مالك بن أنس179
76لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا يلبس الخفين إلا أن لا يجد نعلين فيقطعهما إلى أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي داود الطيالسي19051915أبو داود الطياليسي204
77لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فليلبس خفين يقطعهما إلى أسفل من الكعبين ولا يلبس ثوبا مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرمسند أبي داود الطيالسي19381948أبو داود الطياليسي204
78لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس ولا خفين إلا لمن لم يجد نعلين فمن لم يجد نعلين فليقطعهما حتى يكون أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند الحميدي608639عبد الله بن الزبير الحميدي219
79لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا الخفين إلا لمن لا يجد النعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند الشافعي499538الشافعي204
80يلبس المحرم من الثياب فقال رسول الله لا يلبس المحرم القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند الشافعي500539الشافعي204
81ما نلبس من الثياب إذا أحرمنا قال لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا الخفين إلا ألا يجد أحدكم نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين ولا ثوبا مسه ورس أو زعفرانعبد الله بن عمرالبحر الزخار بمسند البزار 10-1312815578أبو بكر البزار292
82ما يلبس المحرم من الثياب قال لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا ألا يكون نعال فخفين دون الكعبين ولا ثوبا مصبوغا بورس أو زعفرانعبد الله بن عمرالبحر الزخار بمسند البزار 10-1312825579أبو بكر البزار292
83ما يلبس المحرم من الثياب قال لا يلبس القميص ولا السراويل ولا الخفين إلا ألا يجد نعلين ولا ثوبا مسه زعفران أو روسعبد الله بن عمرالبحر الزخار بمسند البزار 10-1314295797أبو بكر البزار292
84لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس ولا خفين إلا لمن لم يجد نعلين فمن لم يجد نعلين فليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي53685425أبو يعلى الموصلي307
85لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا تلبسوا الخفين إلا رجل ليست له نعلان فليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي54305488أبو يعلى الموصلي307
86لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا ثوبا مسه زعفران ولا ورس ولا خفين إلا لمن لم يجد النعلين فمن لم يجد النعلين فليقطعهما حتى تكونا أسفل عند الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي54775533أبو يعلى الموصلي307
87لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويلات ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فيلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا يلبس من الثياب ما مسه الزعفران ولا الورسعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي57565805أبو يعلى الموصلي307
88لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا الخفين إلا لأحد لا يجد نعلين فما أسفل من الكعبين ولا شيء من الثياب مسه ورس ولا زعفرانعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي57645812أبو يعلى الموصلي307
89لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرانسعبد الله بن عمرمسند الشاميين للطبراني704711سليمان بن أحمد الطبراني360
90لا يلبس القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه زعفران ولا الورسعبد الله بن عمرمسند الموطأ للجوهري515661الحسن بن علي الجوهري381
91لا يلبس القميص ولا العمامة ولا القباء ولا السراويل ولا البرانس ولا ثوبا مسه ورس أو زعفران ومن لم يكن له نعلان فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي حنيفة رواية الحصكفي2236أبو حنيفة150
92لا يلبس القميص ولا العمامة ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أن لا يجد نعلين فيلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا يلبس من الثياب شيئا مسه ورس أو زعفرانعبد الله بن عمرمسند عبد الله بن عمر للطرسوسي4747أبو أمية الطرسوسي273
93لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فإن لم يجد نعلين فليلبسهما وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا ثوب مسه الزعفران أو الورسعبد الله بن عمرمسند عبد الله بن عمر للطرسوسي8182أبو أمية الطرسوسي273
94لا يلبس المحرم القميص ولا السراويلات ولا العمائم ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس الخفين ويقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند الإمام الشافعي ( ترتيب سنجر)564---الأمير سنجر745
95لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرانس ولا السراويل ولا الخفين إلا لمن لا يجد نعلين فإن لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند الإمام الشافعي ( ترتيب سنجر)565---الأمير سنجر745
96من لم يكن له نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي حنيفة لابن يعقوب144---عبد الله بن محمد بن يعقوب بن البخاري340
97ما يلبس المحرم من الثياب قال لا يلبس القميص ولا العمامة ولا القباء ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ومن لم يكن له نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمسند أبي حنيفة لابن يعقوب145---عبد الله بن محمد بن يعقوب بن البخاري340
98لا يلبس القميص ولا السراويل ولا العمامة ولا الخفين إلا ألا يجد نعلين فليلبسهما أسفل من الكعبينعبد الله بن عمرمصنف ابن أبي شيبة3541937102ابن ابي شيبة235
99لا تلبس القميص ولا القباء ولا العمامة ولا السراويل ولا الخفين إلا أن لا يكون لك نعلان فإن لم يكن لك نعلان فالبس الخفين لا تلبس شيئا من الثياب مسه زعفران ولا ورسعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني51765034سليمان بن أحمد الطبراني360
100لا يلبس القميص ولا العمامة ولا البرنس ولا السراويل ولا الخفين إلا أن لا يجد نعلين فليلبس خفيه ويقطعهما أسفل من الكعبين ولا يلبس ثوبا مصبوغا بزعفران ولا ورسعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني51775035سليمان بن أحمد الطبراني360



موزوں پر مسح کرنے کا بیان


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ " ، وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .



عبدان، عبداللہ ، اوزاعی، یحیی، ابوسلمہ، جعفر بن عمروبن امیہ،حضرت عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ کو اپنے عمامہ اور دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور معمر نے بروایت یحیی، ابوسلمہ عمرو سے اسی کی متابع حدیث روایت کی ہے کہ میں نے آنحضرت کو دیکھا۔

Narrated Ja'far bin 'Amr: My father said, "I saw the Prophet passing wet hands over his turban and Khuffs (leather socks)."


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1يمسح على الخفينعمرو بن أميةصحيح البخاري199204محمد بن إسماعيل البخاري256
2يمسح على عمامته وخفيهعمرو بن أميةصحيح البخاري200205محمد بن إسماعيل البخاري256
3توضأ ومسح على الخفينعمرو بن أميةسنن النسائى الصغرى118119النسائي303
4يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةسنن ابن ماجه555562ابن ماجة القزويني275
5مسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةسنن الدارمي706710عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
6يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1690516793أحمد بن حنبل241
7يمسح على الخفين والخمارعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1690616794أحمد بن حنبل241
8يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1690716795أحمد بن حنبل241
9يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1690816796أحمد بن حنبل241
10يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1727017163أحمد بن حنبل241
11يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1727117164أحمد بن حنبل241
12يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل1727417167أحمد بن حنبل241
13يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل2188821971أحمد بن حنبل241
14مسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل2189121974أحمد بن حنبل241
15يمسح على الخفين والخمارعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل2189221975أحمد بن حنبل241
16يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل2189321976أحمد بن حنبل241
17يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أحمد بن حنبل2189621979أحمد بن حنبل241
18توضأ ومسح على خفيه وعلى عمامتهعمرو بن أميةصحيح ابن خزيمة186181ابن خزيمة311
19توضأ ومسح على العمامة والخفينعمرو بن أميةصحيح ابن حبان13701343أبو حاتم بن حبان354
20توضأ ومسح على الخفينعمرو بن أميةالسنن الكبرى للنسائي123125النسائي303
21مسح على عمامته وخفيهعمرو بن أميةالسنن الكبرى للبيهقي11751 : 270البيهقي458
22يمسح على خفيهعمرو بن أميةالسنن الكبرى للبيهقي11761 : 271البيهقي458
23يمسح على العمامة والخفينعمرو بن أميةسنن الأثرم12---محمد بن أحمد بن حماد بن إبراهيم البغدادي الأثرم336
24يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند أبي داود الطيالسي13381350أبو داود الطياليسي204
25يمسح على الخفين والخمارعمرو بن أميةمسند ابن أبي شيبة904903ابن ابي شيبة235
26يمسح على الخفينعمرو بن أميةمسند ابن أبي شيبة906905ابن ابي شيبة235
27يمسح على خفيهعمرو بن أميةمصنف عبد الرزاق720746عبد الرزاق الصنعاني211
28يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةمصنف ابن أبي شيبة227231ابن ابي شيبة235
29يمسح على الخفينعمرو بن أميةمصنف ابن أبي شيبة18151885ابن ابي شيبة235
30مسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةمصنف ابن أبي شيبة18161886ابن ابي شيبة235
31يمسح على خفيهعمرو بن أميةمعجم ابن الأعرابي14161442ابن الأعرابي340
32يمسح على الخفين والخمارعمرو بن أميةمعجم الصحابة لابن قانع11091247ابن قانع البغدادي351
33يمسح على الخفينعمرو بن أميةمعجم الصحابة لابن قانع11101248ابن قانع البغدادي351
34يمسح على الخفينعمرو بن أميةمعجم الصحابة لابن قانع11111249ابن قانع البغدادي351
35يمسح على الخفينعمرو بن أميةفوائد تمام الرازي13311428تمام بن محمد الرازي414
36يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةحديث أبي علي الشعراني85---الحسن بن علي الشعراني330
37يمسح على خفيهعمرو بن أميةالفوائد المنتقاة عن الشيوخ الثقات لأبي سعد المظفر19---المظفر بن الحسين بن السبط532
38يمسح على الخفين وعلى العمامةعمرو بن أميةفوائد أبي بكر الزبيري50---محمد بن بشر الزبيري332
39يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةنسخة طاهر بن محمد10---طاهر بن محمد التميمي319
40يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةفوائد ابن دحيم29---ابن دحيم352
41يمسح على خفيهعمرو بن أميةالأمالي في آثار الصحابة لعبد الرزاق الصنعاني9094عبد الرزاق الصنعاني211
42يمسح على الخفينعمرو بن أميةتغليق التعليق لابن حجر832 : 134ابن حجر العسقلاني852
43يمسح على عمامته وخفيهعمرو بن أميةتغليق التعليق لابن حجر842 : 135ابن حجر العسقلاني852
44يمسح على خفيهعمرو بن أميةتغليق التعليق لابن حجر852 : 136ابن حجر العسقلاني852
45يمسح على الخفينعمرو بن أميةالأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر418436محمد بن إبراهيم بن المنذر318
46مسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةالأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر472491محمد بن إبراهيم بن المنذر318
47يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةالمحلى بالآثار لابن حزم2231 : 303ابن حزم الظاهري456
48يمسح على الخفين والعمامةعمرو بن أميةالتحقيق في مسائل الخلاف لابن الجوزي160163أبو الفرج ابن الجوزي597
49مسح على الخفينعمرو بن أميةالتاريخ الكبير للبخاري5422168محمد بن إسماعيل البخاري256
50مسح على العمامةعمرو بن أميةتاريخ بغداد للخطيب البغدادي10784 : 450الخطيب البغدادي463
51يمسح على خفيه مراتعمرو بن أميةتاريخ بغداد للخطيب البغدادي415514 : 200الخطيب البغدادي463
52توضأ فمسح على الخفينعمرو بن أميةكتاب اللطائف من علوم المعارف535---محمد بن أبي بكر بن أبي عيسى المديني581
53توضأ ومسح على الخفينعمرو بن أميةكتاب اللطائف من علوم المعارف536---محمد بن أبي بكر بن أبي عيسى المديني581


پیشانی اور عمامہ پر مسح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ، وَعَلَى عِمَامَتِهِ " ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
[صحيح مسلم » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ ۔۔۔ رقم الحديث: 416(276)]حدیث متواتر-



حضرت ابن مغیرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے موزوں پر اور سر کے اگلے حصہ پر اور عمامہ پر مسح فرمایا۔
Ibn Mughira narrated it from his father: The Apostle of Allah (may peace be upon him) wiped over his socks and over his forehead and over his turban.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ کُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهِنَّ قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1210- کفن کے لئے سفید کپڑوں کا بیان ۔



محمد بن مقاتل، عبداللہ ، ہشام، بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ کو سوت کے بنے ہوئے سحولی (کوئی ایک جگہ کانام) تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ان میں نہ ہی تو قمیص تھی اور نہ ہی عمامہ تھا۔
Narrated 'Aisha:
Allah's Apostle was shrouded in three Yemenite white Suhuliya (pieces of cloth) of cotton, and in them there was neither a shirt nor a turban."





حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ رِجَالًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيکٍ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِينُ عَلَيْهِ وَکَانَ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُ وَقَدْ غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ اجْلِسُوا مَکَانَکُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ وَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ فَأَقْبَلَ حَتَّی دَنَا مِنْ الْبَابِ ثُمَّ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ کَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ کُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ فَدَخَلْتُ فَکَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَغَالِيقَ عَلَی وَتَدٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَی الْأَقَالِيدِ فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ وَکَانَ فِي عَلَالِيَّ لَهُ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ کُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ قُلْتُ إِنْ الْقَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلَيَّ حَتَّی أَقْتُلَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنْ الْبَيْتِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ قَالَ مَنْ هَذَا فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ وَأَنَا دَهِشٌ فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا وَصَاحَ فَخَرَجْتُ مِنْ الْبَيْتِ فَأَمْکُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ لِأُمِّکَ الْوَيْلُ إِنَّ رَجُلًا فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنَتْهُ وَلَمْ أَقْتُلْهُ ثُمَّ وَضَعْتُ ظِبَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّی أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی دَرَجَةٍ لَهُ فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أُرَی أَنِّي قَدْ انْتَهَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْکَسَرَتْ سَاقِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّی جَلَسْتُ عَلَی الْبَابِ فَقُلْتُ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّی أَعْلَمَ أَقَتَلْتُهُ فَلَمَّا صَاحَ الدِّيکُ قَامَ النَّاعِي عَلَی السُّورِ فَقَالَ أَنْعَی أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ فَانْطَلَقْتُ إِلَی أَصْحَابِي فَقُلْتُ النَّجَائَ فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ أَبَا رَافِعٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ ابْسُطْ رِجْلَکَ فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا فَکَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَکِهَا قَطُّ

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1264(3874) قصہ قتل ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا نام سلام بن ابی الحقیق ہے اور وہ خیبر میں رہتا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ اپنے قلعہ واقع حجاز میں رہتا تھا زہری کا بیان ہے کہ ابورافع کو کعب بن اشرف کے بعد قتل کیا گیا ہے (رمضان 6ھ میں) 

یوسف بن موسی، عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، ابواسحاق، براء بن عازب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ابورافع کے پاس کئی انصاریوں کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک ؓ کو سردار مقرر کیا ابورافع دشمن رسول تھا اور مخالفین رسول کی مدد کرتا تھا اس کا قلعہ حجاز میں تھا اور وہ اسی میں رہا کرتا تھا جب یہ لوگ اس کے قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج ڈوب گیا تھا اور لوگ اپنے جانوروں کو شام ہونے کی وجہ سے واپس لا رہے تھے عبداللہ بن عتیک ؓ نے ساتھیوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی بہانہ کرکے اندر جانے کی کوشش کروں گا چنانچہ عبداللہ گئے اور دروازہ کے قریب پہنچ گئے پھر خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپایا جیسے کوئی رفع حاجت کے لئے بیٹھتا ہے قلعہ والے اندر جا چکے تھے دربان نے عبداللہ ؓ کو یہ خیال کرکے کہ ہمارا ہی آدمی ہے آواز دی اور کہا! اے اللہ کے بندے اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آ جا کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر اندر گیا اور چھپ رہا اور دربان نے دروازہ بند کرکے چابیاں کیل میں لٹکا دیں جب دربان سو گیا تو میں نے اٹھ کر چابیاں اتارلیں اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا تاکہ بھاگنے میں آسانی ہو ادھر ابورافع کے پاس رات کو داستان ہوتی تھی وہ اپنے بالا خانے پر بیٹھا داستان سن رہا تھا جب داستان کہنے والے تمام چلے گئے اور ابورافع سو گیا تو میں بالا خانہ پر چڑھا اور جس دروازہ میں داخل ہوتا تھا اس کو اندر سے بند کرلیتا تھا اور اس سے میری یہ غرض تھی کہ اگر لوگوں کو میری خبر ہوجائے تو ان کے پہنچنے تک میں ابورافع کا کام تمام کردوں غرض میں ابورافع تک پہنچا وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے بچوں کے ساتھ سو رہا تھا میں اس کی جگہ کو اچھی طرح معلوم نہ کر سکا اور ابورافع کہہ کر پکارا اس نے کہا کون ہے؟ میں نے آواز پر بڑھ کر تلوار کا ہاتھ مارا میرا دل دھڑک رہا تھا مگر یہ وار خالی گیا اور وہ چلایا میں کوٹھڑی سے باہر آ گیا اور پھر فورا ہی اندر جا کر پوچھا کہ اے ابورافع تم کیوں چلائے؟ اس نے مجھے اپنا آدمی سمجھا اور کہا تیری ماں تجھے روئے ابھی کسی نے مجھ سے تلوار سے وار کیا ہے یہ سنتے ہی میں نے ایک ضرب اور لگائی اور زخم اگرچہ گہرا لگا لیکن مرا نہیں آخر میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھ دی اور زور سے دبائی وہ چیرتی ہوئی پیٹھ تک پہنچ گئی اب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ہلاک ہوگیا پھر میں واپس لوٹا اور ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا اور سیڑھیوں سے اترتا جاتا تھا میں سمجھا کہ زمین آگئی ہے چاندنی رات تھی میں گر پڑا اور پنڈلی ٹوٹ گئی میں نے اپنے عمامہ سے پنڈلی کو باندھ لیا اور قلعہ سے باہر آکر دروازہ پر بیٹھ گیا اور دل میں طے کرلیا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کے مرنے کا یقین نہ ہوجائے آخر صبح ہوئی مرغ نے اذان دی اور قلعہ کے اوپر دیوار پر کھڑے ہو کر ایک شخص نے کہا کہ لوگو! ابورافع حجاز کا سوداگر مر گیا میں یہ سنتے ہی اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا اور ان سے آکر کہا اب جلدی چلو یہاں سے اللہ نے ابورافع کو ہلاک کرا دیا اس کے بعد ہم نے رسول اللہ کو آکر خوشخبری سنائی آپ نے میرے پیر کو دیکھا اور فرمایا کہ اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے پھیلایا آپ نے دست مبارک پھیر دیا بس ایسا معلوم ہوا کہ اس پیر کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔ 
Narrated Al-Bara bin Azib: 
Allah's Apostle sent some men from the Ansar to ((kill) Abu Rafi, the Jew, and appointed 'Abdullah bin Atik as their leader. Abu Rafi used to hurt Allah's Apostle and help his enemies against him. He lived in his castle in the land of Hijaz. When those men approached (the castle) after the sun had set and the people had brought back their livestock to their homes. Abdullah (bin Atik) said to his companions, "Sit down at your places. I am going, and I will try to play a trick on the gate-keeper so that I may enter (the castle)." So 'Abdullah proceeded towards the castle, and when he approached the gate, he covered himself with his clothes, pretending to answer the call of nature. The people had gone in, and the gate-keeper (considered 'Abdullah as one of the castle's servants) addressing him saying, "O Allah's Servant! Enter if you wish, for I want to close the gate." 'Abdullah added in his story, "So I went in (the castle) and hid myself. When the people got inside, the gate-keeper closed the gate and hung the keys on a fixed wooden peg. I got up and took the keys and opened the gate. Some people were staying late at night with Abu Rafi for a pleasant night chat in a room of his. When his companions of nightly entertainment went away, I ascended to him, and whenever I opened a door, I closed it from inside. I said to myself, 'Should these people discover my presence, they will not be able to catch me till I have killed him.' So I reached him and found him sleeping in a dark house amidst his family, I could not recognize his location in the house. So I shouted, 'O Abu Rafi!' Abu Rafi said, 'Who is it?' I proceeded towards the source of the voice and hit him with the sword, and because of my perplexity, I could not kill him. He cried loudly, and I came out of the house and waited for a while, and then went to him again and said, 'What is this voice, O Abu Rafi?' He said, 'Woe to your mother! A man in my house has hit me with a sword! I again hit him severely but I did not kill him. Then I drove the point of the sword into his belly (and pressed it through) till it touched his back, and I realized that I have killed him. I then opened the doors one by one till I reached the staircase, and thinking that I had reached the ground, I stepped out and fell down and got my leg broken in a moonlit night. I tied my leg with a turban and proceeded on till I sat at the gate, and said, 'I will not go out tonight till I know that I have killed him.' So, when (early in the morning) the cock crowed, the announcer of the casualty stood on the wall saying, 'I announce the death of Abu Rafi, the merchant of Hijaz. Thereupon I went to my companions and said, 'Let us save ourselves, for Allah has killed Abu Rafi,' So I (along with my companions proceeded and) went to the Prophet and described the whole story to him. "He said, 'Stretch out your (broken) leg. I stretched it out and he rubbed it and it became All right as if I had never had any ailment whatsoever."



حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ هَلْ لَکَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ وَکَانَ وَحْشِيٌّ يَسْکُنُ حِمْصَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاکَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ کَأَنَّهُ حَمِيتٌ قَالَ فَجِئْنَا حَتَّی وَقَفْنَا عَلَيْهِ بِيَسِيرٍ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ قَالَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ مَا يَرَی وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا بِمَکَّةَ فَکُنْتُ أَسْتَرْضِعُ لَهُ فَحَمَلْتُ ذَلِکَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّهِ فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ فَلَکَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَی قَدَمَيْکَ قَالَ فَکَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ فَقَالَ لِي مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ قَالَ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ وَعَيْنَيْنِ جَبَلٌ بِحِيَالِ أُحُدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَی الْقِتَالِ فَلَمَّا أَنْ اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ خَرَجَ سِبَاعٌ فَقَالَ هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ يَا سِبَاعُ يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَکَانَ کَأَمْسِ الذَّاهِبِ قَالَ وَکَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّی خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِکَيْهِ قَالَ فَکَانَ ذَاکَ الْعَهْدَ بِهِ فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ فَأَقَمْتُ بِمَکَّةَ حَتَّی فَشَا فِيهَا الْإِسْلَامُ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَی الطَّائِفِ فَأَرْسَلُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا فَقِيلَ لِي إِنَّهُ لَا يَهِيجُ الرُّسُلَ قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّی قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ آنْتَ وَحْشِيٌّ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ قُلْتُ قَدْ کَانَ مِنْ الْأَمْرِ مَا بَلَغَکَ قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَکَ عَنِّي قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْکَذَّابُ قُلْتُ لَأَخْرُجَنَّ إِلَی مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُکَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ فَکَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا کَانَ قَالَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ کَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرُ الرَّأْسِ قَالَ فَرَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّی خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ کَتِفَيْهِ قَالَ وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَی هَامَتِهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَی ظَهْرِ بَيْتٍ وَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1296- شہادت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا بیان۔



ابوجعفر، محمد بن عبداللہ بن مبارک، حجین ابن مثنیٰ، عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی مسلمہ، عبداللہ بن فضیل، سلیمان بن یسار، جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ سفر کے لئے نکلا تو جب ہم لوگ حمص پہنچے تو عبیداللہ بن عدی نے کہا کہ چلو وحشی بن حرب سے مل کر حضرت حمزہ ؓ کے قتل کا حال پوچھیں میں نے کہا چلو وحشی حمص ہی میں رہتا تھا چنانچہ ہم نے لوگوں سے پتہ معلوم کیا تو بتایا گیا کہ دیکھو! وہ اپنے مکان کے سایہ کے نیچے مشک کی طرح پھولا ہوا بیٹھا ہے جعفر کہتے ہیں کہ ہم وحشی کے قریب گئے اور سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اس وقت عبیداللہ اپنا عمامہ سر پر اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں وحشی کو اس سے زیادہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہ ان کی آنکھیں اور پیر دیکھ رہا تھا آخر عبیداللہ نے پوچھا وحشی مجھے پہچانتے ہو؟ وحشی نے ان کو دیکھا اور کہا اللہ کی قسم! میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت ام قتال بنت ابی العیص سے شادی کی تھی ام قتال کے مکہ میں جب ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اس بچہ کے لئے ان کو تلاش کر رہا تھا کہ جب اچانک اس بچہ کو اس کی ماں کے پاس لے گیا اور وہ بچہ اس کو دے دیا میں نے اس کے دونوں پیر دیکھے تھے گویا اب بھی میں اس کے پاؤں دیکھ رہا ہوں جعفر کہتے ہیں کہ عبیداللہ نے منہ پر سے پردہ ہٹادیا اور وحشی سے کہا کہ ذرا حمزہ کے قتل کا حال بیان کرو وحشی نے کہا بات یہ ہے کہ بدر کے دن حمزہ ؓ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو مار ڈالا تھا۔ جبیر بن مطعم نے جو کہ میرے مالک تھے مجھ سے یہ کہا کہ اگر تو حمزہ ؓ کو میرے چچا طعیمہ کے بدلے میں مار ڈالے تو تو آزاد ہے وحشی نے بیان کیا کہ جب لوگ حنین کی لڑائی کے سال نکلے جو احد کے قریب ایک پہاڑ کا نام ہے احد اور اس کے درمیان ایک نالہ ہے اس وقت میں بھی لڑنے والوں کے ساتھ نکلا جب لڑائی کے لئے صفیں درست ہو چکیں تو سباع بن عبدالعزیٰ نے آگے نکل کر کہا کیا کوئی لڑنے والا ہے حمزہ بن عبدالمطلب نے اس کے بالمقابل پہنچ کر کہا او سباع! ام نمارہ کے بیٹے جو بچوں کا ختنہ کیا کرتی تھی کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے پھر حضرت حمزہ ؓ نے سباع کو گزرے ہوئے دن کی طرح بنا دیا وحشی نے کہا پھر میں قتل حمزہ کی فکر میں ایک پتھر کی آڑ میں بیٹھ گیا جب حمزہ میرے قریب آئے میں نے ان کو اپنا ہتھیار پھینک کر مار دیا اور آخر میرا بھالا ان کے زیر ناف ایسا لگا کہ وہ سرین سے پار ہوگیا وحشی نے کہا یہ ان کا آخری وقت تھا جب اہل قریش مکہ میں واپس آئے تو میں بھی ان کے ہمراہ مکہ آ گیا جب فتح مکہ کے بعد مکہ میں اسلام پھیل گیا تو میں طائف میں جا کر مقیم ہوگیا اس کے بعدطائف والوں نے رسول اللہ کے پاس قاصد بھیجے اور مجھ سے کہا کہ وہ قاصدوں کو نہیں ستاتے تو پھر میں بحیثیت قاصد رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوگیا آپ نے مجھ کو دیکھ کر کہا کیا تم ہی وحشی ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے پوچھا کیا حمزہ ؓ کو تم ہی نے شہید کیا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں! آپ کو تو سب کیفیت معلوم ہے آپ نے فرمایا کیا تم اپنا منہ مجھ سے چھپا سکتے ہو میں یہ بات سن کر باہر آ گیا اور پھر رسول اللہ کی وفات کے بعد جب مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو میں نے سوچا کہ مسلمانوں کے ساتھ مسیلمہ کو مارنے جاؤں گا شاید اس کو مار کر حمزہ کے قتل کا کفارہ ہو سکے میں مسلمانوں کے ساتھ مسیلمہ کے مقابلہ پر نکلا مسیلمہ کے لوگوں نے جو کچھ کیا وہ میں دیکھ رہا تھا اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ مسیلمہ ایک دیوار کی آڑ میں کھڑا ہے سر پر نشان اور اونٹ کا سا رنگ ہے میں نے وہی حربہ جو حمزہ ؓ کے لئے استعمال کیا تھا نکالا اور اس کے مار دیا جو دونوں چھاتیوں کے درمیان سے ہوتا ہوا دونوں مونڈھوں کے درمیان سے پار نکل گیا۔ اتنے میں ایک انصاری کود کر اس کی طرف گیا اور میں نے اس کی کھوپڑی پر ایک تلوار بھی لگائی عبداللہ بن فضیل اس حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن یسار نے ان کو عبداللہ بن عمر ؓ نے بتایا کہ جب مسیلمہ مارا گیا تو ایک چھوکری مکان کی چھت پر چڑھ کر کہنے لگی ہائے امیرالمومنین! (مسیلمہ) کو ایک کالے غلام نے مار ڈالا۔
Narrated Jafar bin 'Amr bin Umaiya:
I went out with 'Ubaidullah bin 'Adi Al-Khaiyar. When we reached Hims (i.e. a town in Syria), 'Ubaidullah bin 'Adi said (to me), "Would you like to see Wahshi so that we may ask him about the killing of Hamza?" I replied, "Yes." Wahshi used to live in Hims. We enquired about him and somebody said to us, "He is that in the shade of his palace, as if he were a full water skin." So we went up to him, and when we were at a short distance from him, we greeted him and he greeted us in return. 'Ubaidullah was wearing his turban and Wahshi could not see except his eyes and feet. 'Ubaidullah said, "O Wahshi! Do you know me?" Wahshi looked at him and then said, "No, by Allah! But I know that 'Adi bin Al-Khiyar married a woman called Um Qital, the daughter of Abu Al-Is, and she delivered a boy for him at Mecca, and I looked for a wet nurse for that child. (Once) I carried that child along with his mother and then I handed him over to her, and your feet resemble that child's feet." Then 'Ubaidullah uncovered his face and said (to Wahshi), "Will you tell us (the story of) the killing of Hamza?" Wahshi replied "Yes, Hamza killed Tuaima bin 'Adi bin Al-Khaiyar at Badr (battle) so my master, Jubair bin Mut'im said to me, 'If you kill Hamza in revenge for my uncle, then you will be set free." When the people set out (for the battle of Uhud) in the year of 'Ainain ..'Ainain is a mountain near the mountain of Uhud, and between it and Uhud there is a valley.. I went out with the people for the battle. When the army aligned for the fight, Siba' came out and said, 'Is there any (Muslim) to accept my challenge to a duel?' Hamza bin 'Abdul Muttalib came out and said, 'O Siba'. O Ibn Um Anmar, the one who circumcises other ladies! Do you challenge Allah and His Apostle?' Then Hamza attacked and killed him, causing him to be non-extant like the bygone yesterday. I hid myself under a rock, and when he (i.e. Hamza) came near me, I threw my spear at him, driving it into his umbilicus so that it came out through his buttocks, causing him to die. When all the people returned to Mecca, I too returned with them. I stayed in (Mecca) till Islam spread in it (i.e. Mecca). Then I left for Taif, and when the people (of Taif) sent their messengers to Allah's Apostle, I was told that the Prophet did not harm the messengers; So I too went out with them till I reached Allah's Apostle. When he saw me, he said, 'Are you Wahshi?' I said, 'Yes.' He said, 'Was it you who killed Hamza?' I replied, 'What happened is what you have been told of.' He said, 'Can you hide your face from me?' So I went out when Allah's Apostle died, and Musailamah Al-Kadhdhab appeared (claiming to be a prophet). I said, 'I will go out to Musailamah so that I may kill him, and make amends for killing Hamza. So I went out with the people (to fight Musailamah and his followers) and then famous events took place concerning that battle. Suddenly I saw a man (i.e. Musailamah) standing near a gap in a wall. He looked like an ash-colored camel and his hair was dishevelled. So I threw my spear at him, driving it into his chest in between his breasts till it passed out through his shoulders, and then an Ansari man attacked him and struck him on the head with a sword. 'Abdullah bin 'Umar said, 'A slave girl on the roof of a house said: Alas! The chief of the believers (i.e. Musailamah) has been killed by a black slave."



حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَهُ قَالَ أَمَعَکَ مَائٌ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ فَغَسَلَ کَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ کُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَی الْجُبَّةَ عَلَی مَنْکِبَيْهِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَی الْعِمَامَةِ وَعَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَی الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَکَعَ بِهِمْ رَکْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّی بِهِمْ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَکَعْنَا الرَّکْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 633 حدیث متواتر - پیشانی اور عمامہ پر مسح کرنے کا بیان



محمد بن عبداللہ بن بزیع، یزید بن زریع، حمید طویل، بکر بن عبداللہ مزنی، عروہ بن مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ اور میں ایک سفر میں پیچھے رہ گئے جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تیرے پاس پانی ہے تو میں پانی کا برتن لایا پس آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرہ مبارک کو دھویا پھر آپ نے کلائیوں کو دھونے کا ارادہ فرمایا جبہ کی آستین تنگ ہونے کی وجہ سے آپ نے اپنے ہاتھ کو جبہ کے نیچے سے نکالا اور جبہ کو اپنے کندھوں پر ڈال دیا اور دونوں کلائیوں کو دھویا اور اپنی پیشانی اور عمامہ اور موزوں پر مسح فرمایا پھر آپ سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا اور اپنے ساتھیوں تک پہنچ گئے اور وہ نماز میں کھڑے ہو چکے تھے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ان کو نماز کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے پس جب انہوں نے نبی کریم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنا شروع ہوئے تو آپ نے اشارہ فرمایا انہوں نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو نماز پڑھائی جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی کریم کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا اور ہم نے اپنی فوت شدہ رکعت ادا کی۔
'Urwa b. al Mughira b. Shu'ba reported it on the authority of his father that he said: The Messenger of Allah (may peace be upon him) lagged behind (in a journey) and I also lagged behind along with him. After having relieved himself he said: Have you any water with you? I brought to him a jar of water; he washed his palms, and face, and when he tried to get his forearms out (he could not) for the sleeve of the gown was tight. He, therefore, brought them out from under the gown and, throwing it over his shoulders, he washed his forearm. He then wiped his forelock and his turban and his socks. He then mounted and I also mounted (the ride) and came to the people. They had begun the prayer with 'Abd ar-Rabmin b. 'Auf leading them and had completed a rak'a. When he perceived the presence of the Apostle of Allah (may peace be upon him) he began to retire. He (the Holy Prophet) signed to him to continue and offered prayer along with them. Then when he had pronounced the salutation, the Apostle (may peace be upon him) got up and I also got up with him, and we offered the rak'a which had been finished before we came.




أَخْبَرَنَا ابْنُ الْبَاغَنْدِيِّ ، نَا ابْنُ مُصَفَّى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالَتِهِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَلْبَسُ مِنَ الْقَلانِسِ فِي السَّفَرِ ذَوَاتِ الآذَانِ ، وَفِي الْحَضَرِ الْمُشَمَّرَةَ ، يَعْنِي الشَّامِيَّةَ " .


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1يلبس من القلانس ذات الآذانعائشة بنت عبد اللهفوائد تمام الرازي9351011تمام بن محمد الرازي414
2يلبس القلانس ذات الآذانعائشة بنت عبد اللهالجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب905897الخطيب البغدادي463
3كان يلبس من القلانس في السفر ذوات الآذان وفي الحضرعائشة بنت عبد اللهأخلاق النبي لأبي الشيخ الأصبهاني2991 : 104أبو الشيخ الأصبهاني369
4يلبس من القلانس في السفر ذوات الأذنين وفي الحضر المشمرة يعني الشاميةعائشة بنت عبد اللهالأنوار في شمائل النبي المختار810---الحسين بن مسعود البغوي516

عمامہ یا ٹوپی نبی اکرم ﷺ کی سنت
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ہرہر ادا ایک سچے اور شیدائی امتی کے لیے نہ صرف قابل اتباع، بلکہ مرمٹنے کے قابل ہے، خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا روز مرہ کی عادات واطوار، مثلاً طعام یا لباس وغیرہ سے۔ ہر امتی کو حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ہر سنت کو اپنی زندگی میں داخل کرے اور جن سنتوں پر عمل کرنا مشکل ہو ان کو بھی اچھی اور محبت بھری نگاہ سے دیکھے اور عمل نہ کرنے پر ندامت اور افسوس کرے۔

امت مسلمہ متفق ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم عموماً عمامہ یا ٹوپی کا استعمال فرماتے تھے، جیساکہ مندرجہ ذیل احادیث وعلمائے امت کے اقوال میں مذکور ہیں۔

عمامہ سے متعلق احادیث
٭… حضرت عمرو بن حُریث سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے (سر کے) اوپرکالا عمامہ تھا۔ (مسلم)
٭… متعدد صحابہٴ کرام، مثلاً حضرت جابر  اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے سر پر کالا عمامہ تھا۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ)
٭… حضرت عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے (مرض الوفات) میں خطبہ دیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم (کے سر ) پر کالا عمامہ تھا۔ (شمائل ترمذی، بخاری)
٭… حضرت ابو سعید الخدری  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام رکھتے عمامہ یا قمیص یا چادر، پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ اَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِہِ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہُ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ․ اے میرے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ پہنایا، میں اس کپڑے کی خیر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ (ترمذی) معلوم ہوا کہ عمامہ بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کے لباس میں شامل تھا۔
٭… حضرت انس  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ صلی الله علیہ وسلمپر قطری عمامہ تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلمنے عمامہ کے نیچے اپنا ہاتھ داخل فرمایا اور سر کے اگلے حصہ کا مسح فرمایا اور عمامہ کو نہیں کھولا۔ (ابو دوٴد)

قِطری: یہ ایک قسم کی موٹی کھردری چادر ہوتی ہے، سفید زمین پر سرخ دھاگہ کے مستطیل بنے ہوتے ہیں۔
٭… حضرت عبد اللہ بن عمر  سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مُحرِم(یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا مرد) کرتا، عمامہ، پائجامہ اور ٹوپی نہیں پہن سکتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے زمانہ میں عمامہ عام طور پر پہنا جاتا تھا۔

غرضیکہ حدیث کی کوئی بھی مشہور کتاب دنیا میں ایسی موجود نہیں ہے، جس میں آپ صلى الله عليه وسلم کے عمامہ کا ذکر متعدد مرتبہ وارد نہیں ہوا ہو۔

عمامہ کا سائز
عمامہ کے سائز کے متعلق مختلف اقوال ملتے ہیں البتہ زیادہ تحقیقی بات یہی ہے کہ عمامہ کا کوئی معین سائز مسنون نہیں ہے، پھر بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کا عمامہ عموماً 5 یا 7 ذراع لمبا ہوا کرتا تھا، 12 ذراع تک کا ثبوت ملتا ہے۔

عمامہ کا رنگ
آپ صلی الله علیہ وسلم کا عمامہ اکثر اوقات سفید یا سیاہ ہوا کرتاتھا، البتہ وقتاً فوقتاً آپ صلی الله علیہ وسلم کسی دوسرے رنگ کا بھی عمامہ استعمال کرتے تھے۔ سیاہ عمامہ سے متعلق بعض احادیث مضمون میں گزر چکی ہیں، جب کہ مستدرک حاکم اور طبرانی وغیرہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے سفید عمامہ کا تذکرہ موجود ہے ،نیز آپ صلی الله علیہ وسلم سفید کپڑوں کو بہت پسند فرماتے تھے، متعدد احادیث میں اس کا تذکرہ ملتا ہے:
٭…حضرت عبد اللہ بن عباس  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کپڑوں میں سے سفید کو اختیار کیا کرو،کیوں کہ وہ تمہارے کپڑوں میں بہترین کپڑے ہیں اور سفید کپڑوں میں ہی اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔ (ترمذی ، ابو داوٴد، ابن ماجہ، مسند احمد، صحیح ابن حبان)
٭…حضرت سمرہ  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفید لباس پہنو کیوں کہ وہ بہت پاکیزہ ، بہت صاف اور بہت اچھا ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔ (نسائی ، ترمذی، ابن ماجہ)

عمامہ میں شملہ لٹکانا
شملہ لٹکانا مستحب ہے اور سنن زوائد میں سے ہے۔ شملہ کی مقدار کے سلسلہ میں بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ 4ا نگل ہو تو بہتر ہے۔
٭…حضرت عمرو بن حریث  سے روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم پرکالا عمامہ تھا۔ اس کے دونوں کناروں کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دونوں شانوں کے درمیان (یعنی پیچھے) لٹکایا تھا۔ (مسلم، ابن ماجہ، ابو داوٴد)
٭…حضرت عبداللہ بن عمر  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اسے دونوں کندھوں کے درمیان ڈالتے تھے۔ یعنی عمامہ کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکارہتا تھا۔ حضرت نافع  (حضرت عبداللہ بن عمر کے شاگرد) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر  بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (ترمذی)
٭…حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ ایک آدمی ترکی گھوڑے پر سوار عمامہ پہنے ہوئے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے دونوں کندھوں کے درمیان عمامہ کا کنارہ لٹکا رکھا تھا۔ میں نے ان کے متعلق حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا، تو فرمایا: تم نے ان کو دیکھ لیا تھا۔ وہ جبرئیل علیہ السلام تھے۔ (مستدرک حاکم)

عمامہ اور نماز 
عمامہ پہن کر نماز پڑھنے کی کیا کوئی خاص فضیلت ہے؟ اس بارے میں متعدد احادیث کتب احادیث میں مذکور ہیں، مگر وہ عموماً ضعیف یا موضوع ہیں، مثلاً: عمامہ پہننا عربوں کا تاج ہے۔ (دیلمی) عمامہ باندھا کرو، تمہاری بردباری بڑھ جائے گی۔ (بیہقی، مستدک حاکم) عمامہ لازم پکڑ لو، یہ فرشتوں کی نشانی ہے اور پیچھے لٹکایا کرو۔ (بیہقی، طبرانی، دیلمی) عمامہ کے ساتھ 2رکعتیں بغیر عمامہ کے 70 رکعتوں سے افضل ہیں۔ (دیلمی) عمامہ کے ساتھ جمعہ بغیر عمامہ کے 70 جمعہ سے افضل ہے۔ (دیلمی)

علماء وفقہاء نے تحریر کیا ہے کہ عمامہ پہن کر نماز پڑھنے کی اگرچہ کوئی خاص فضیلت احادیث صحیحہ میں وارد نہیں ہوئی ہے، لیکن چوں کہ عمامہ پہننا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت وعادت کریمہ ہے اور صحابہٴ کرام وتابعین وتبع تابعین بھی عموماً عمامہ پہنا کرتے تھے، نیز یہ کسی دوسری قوم کا لباس نہیں، بلکہ مسلمانوں کا شعار ہے اور انسانوں کے لیے زینت ہے۔ لہٰذا ہمیں عمامہ اتارکر نماز پڑھنے کا اہتمام نہیں کرنا چاہیے، بلکہ عام حالات میں بھی عمامہ یا ٹوپی پہننی چاہیے اور عمامہ یا ٹوپی پہن کر ہی نماز ادا کرنی چاہیے ،اگرچہ عمامہ یا ٹوپی پہننا واجب یا سنت موٴکدہ نہیں ہے۔

جب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے عمامہ کا استعمال کرنا ثابت ہے، جس پر امت مسلمہ متفق ہے تو کوئی خاص فضیلت ثابت نہ بھی ہو تب بھی محض نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کا عمل کرنا بھی اس کی فضیلت کے لیے کافی ہے، مثلاً سفید لباس نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو پسند تھا، اس لیے سفید لباس پہننا افضل ہوگا، خواہ کسی خاص فضیلت اور ثواب کی کثرت کا ثبوت ملتا ہو یا نہیں۔

عمامہ کو ٹوپی پر باندھنا
ؤحضرت رکانہ  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سنا ، فرمارہے تھے کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہے۔ (ترمذی) بعض محدثین نے اس حدیث کی سند میں آئے ایک راوی کو ضعیف قرار دیا ہے۔

ٹوپی سے متعلق احادیث
٭…حضرت عبد اللہ بن عمر  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سفید ٹوپی پہنتے تھے۔ (طبرانی) علامہ سیوطی نے الجامع الصغیرمیں تحریر کیا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ الجامع الصغیر کی شرح لکھنے والے شیخ علی عزیزی نے تحریر کیا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (السراج المنیر لشرح الجامع الصغیر ج 4 ص 112)
٭…حضرت عبد اللہ بن عمر  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سفید ٹوپی پہنتے تھے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی) اس حدیث کی سند میں آئے ایک راوی حضرت عبد اللہ بن خراش ہیں، ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے، نیز فرمایا کہ بسا اوقات غلطی کرتے ہیں۔ (مجمع الزوائد للہیثمی ج 2 ص 124)
٭…حضرت عبد اللہ بن عمر  سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مُحرِم(یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا مرد) کرتا، عمامہ، پائجامہ اور ٹوپی نہیں پہن سکتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں ٹوپی عام طور پر پہنی جاتی تھی۔

٭…ؤحضرت عائشہ  سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سفر میں کان والی ٹوپی پہنتے تھے اور حضر میں پتلی یعنی شامی ٹوپی ۔ (ابو شیخ اصبہانی نے اس کو روایت کیا ہے) شیخ عبد الروٴوف مناوی  نے تحریر کیا ہے کہ ٹوپی کے باب میں یہ سب سے عمدہ سند ہے۔ (فیض القدیرشرح الجامع الصغیرج 5 ص246)
٭…ابو کبشہ انماری  فرماتے ہیں کہ صحابہٴ کرام کی ٹوپیاں پھیلی ہوئی اور چپکی ہوئی ہوتی تھیں۔ (ترمذی)
٭…حضرت خالد بن ولید  کی غزوہٴ یرموک کے موقعہ پر ٹوپی گم ہوگئی تو حضرت خالد بن ولید  نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میری ٹوپی تلاش کرو۔ تلاش کرنے کے باوجود بھی ٹوپی نہ مل سکی۔ حضرت خالد بن ولید  نے کہا کہ دوبارہ تلاش کرو، چناں چہ ٹوپی مل گئی۔ تب حضرت خالد بن ولید  نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عمرہ کی ادائیگی کے بعد بال منڈوائے تو سب صحابہٴ کرام آپ صلی الله علیہ وسلم کے بال لینے کے لیے ٹوٹ پڑے تو میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے سر کے اگلے حصہ کے بال تیزی سے لے لیے اور انہیں اپنی اس ٹوپی میں رکھ لیا، چناں چہ میں جب بھی لڑائی میں شریک ہوتاہوں یہ ٹوپی میرے ساتھ رہتی ہے، انہیں کی برکت سے مجھے فتح ملتی ہے (اللہ تعالیٰ کے حکم سے)۔ (رواہ البیہقی فی دلائل النبوة، والحاکم فی مستدرکہ 229/3 )امام ہیثمی  نے مجمع الزوائد میں تحریر کیا ہے کہ اس حدیث کے راوی صحیح ہیں۔349/9)
٭…امام بخاری  نے اپنی کتاب میں ایک باب باندھا ہے: باب السجود علی الثوب فی شدة الحر، یعنی سخت گرمی میں کپڑے پر سجدہ کرنے کا حکم۔ جس میں حضرت حسن بصری  کا قول ذکر کیا ہے کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے صحابہٴ کرام اپنی ٹوپی اور عمامہ پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
٭…حضرت عمر  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شہید وہ ہے جس کا ایمان عمدہ ہو اور دشمن سے ملاقات کے وقت اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی تصدیق کرتے ہوئے بہادری سے لڑے اور شہید ہوجائے، اس کا درجہ اتنا بلند ہوگا کہ لوگ قیامت کے دن اس کی طرف اپنی نگاہ اس طرح اٹھائیں گے۔ یہ کہہ کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یا حضرت عمر  نے جو حدیث کے راوی ہیں اپنا سر اٹھایا، یہاں تک کہ سر سے ٹوپی گرگئی۔ (ترمذی)

حضرت عبد اللہ بن عمر  نے اپنے غلام نافع کو ننگے سر نماز پڑھتے دیکھا تو بہت غصہ ہوئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ زیادہ مستحق ہے کہ ہم اس کے سامنے زینت کے ساتھ حاضر ہوں۔
٭… حضرت زید بن جبیر  اور حضرت ہشام بن عروہ  فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر (کے سر) پر ٹوپی دیکھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
٭… حضرت عبد اللہ بن سعید  فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب(کے سر) پر سفید مصری ٹوپی دیکھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
٭…حضرت اشعث  کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اشعری  بیت الخلاء سے نکلے اور ان(کے سر) پر ٹوپی تھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)

وضاحت… حدیث کی اس مشہور کتاب ”مصنف ابن ابی شیبہ“ میں متعدد صحابہٴ کرام کی ٹوپیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں سے اختصار کی وجہ سے میں نے صرف تین صحابہٴ کرام کی ٹوپی کا تذکرہ یہاں کیا ہے۔

ٹوپی سے متعلق بعض علمائے امت کے اقوال
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کی ٹوپیوں کا تذکرہ اس مختصر مضمون میں کرنا مشکل ہے، لہٰذا انہیں چند احادیث پر اکتفا کرتا ہوں، البتہ بعض علماء وفقہاء کے اقوال کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
٭…شیخ نعمان بن ثابت، یعنی امام ابوحنیفہ کی رائے ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنے سے نماز تو ادا ہوجائے گی ،مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ فقہ حنفی کی بے شمار کتابوں میں یہ مسئلہ مذکور ہے۔
٭…علامہ ابن القیم  نے تحریر کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم عمامہ باندھتے تھے اور اس کے نیچے ٹوپی بھی پہنتے تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم عمامہ کے بغیر بھی ٹوپی پہنتے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم ٹوپی پہنے بغیر بھی عمامہ باندھتے تھے۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد)
٭…شیخ ناصر الدین البانی  کی رائے ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنے سے نماز تو ادا ہوجائے گی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (تمام المنة صفحہ164 )
٭… شیخ ابن لعربی  فرماتے ہیں کہ ٹوپی انبیاء اور صالحین کے لباس سے ہے۔ سر کی حفاظت کرتی ہے اور عمامہ کو جماتی ہے۔ (فیض القدیر)
٭…ہندوپاکستان وبنگلادیش وافغانستان کے جمہور علماء فرماتے ہیں کہ ننگے سر نماز پڑھنے سے نماز تو ادا ہوجائے گی، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
٭… ایک اہل حدیث عالم دین نے تحریر کیا ہے کہ ننگے سر نماز ہوجاتی ہے، صحابہٴ کرام سے جواز ملتا ہے، مگر بطور فیشن لاپرواہی اور تعصب کی بنا پر مستقل کے لیے یہ عادت بنالینا جیساکہ آج کل دھڑلے سے کیا جارہا ہے۔ ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خود یہ عمل نہیں کیا۔ (مجلہ اہل حدیث سوہدرہ، پاکستان، ج 15، شمار22 … بحوالہ کتاب ٹوپی وپگڑی سے یا ننگے سر نماز؟)
٭… اہل حدیث عالم مولانا سید محمد داوٴد غزنوی  نے تحریر کیا ہے کہ سر اعضائے ستر میں سے نہیں ہے، لیکن نماز میں سر ننگے رکھنے کے مسئلہ کو اس لحاظ سے، بلکہ آداب نماز کے لحاظ سے دیکھنا چاہیے اور آگے کندھوں کو ڈھانکنے پر دلالت کرنے والی بخاری وموٴطا امام مالک کی روایات اور موٴطا کی شرح زرقانی (وتمہید)، ابن عبد البر، بخاری کی شرح فتح الباری، ایسے ہی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  کی کتاب الاخیارات اور امام ابن قدامہ کی المغنی سے تصریحات واقتباسات نقل کرکے ثابت کیا ہے کہ کندھے بھی اگرچہ اعضائے ستر میں سے نہیں ہیں، اس کے باوجود نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک کپڑا ہونے کی شکل میں ننگے کندھوں سے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح سر بھی اگرچہ اعضائے ستر میں سے نہ سہی ،لیکن آداب نماز میں سے یہ بھی ایک ادب ہے کہ بلاوجہ ننگے سر نماز نہ پڑھی جائے اور اسے زینت کا تقاضا بھی قرار دیا ہے… ابتدائے عہد اسلام کو چھوڑکر، جب کہ کپڑوں کی قلت تھی، اس کے بعد اس عاجز کی نظر سے کوئی ایسی روایت نہیں گزری، جس میں صراحتاً مذکور ہو کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یا صحابہٴ کرام نے مسجد میں اور وہ بھی نماز باجماعت میں ننگے سر نماز پڑھی ہو، چہ جائیکہ معمول بنالیا ہو۔ اس رسم کو جو پھیل رہی ہے بند کرنا چاہیے۔ اگر فیشن کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھی جائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ (فتاویٰ علماء ِاہل حدیث ج 4 ص 290۔291 … بحوالہ کتاب ٹوپی وپگڑی سے یا ننگے سر نماز؟)
٭… ایک دوسرے اہل حدیث عالم مولانا محمد اسماعیل سلفی  نے تحریر فرمایا ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم، صحابہٴ کرام اور اہل علم کا طریق وہی ہے جو اب تک مساجد میں متوارث ہے اور معمول بہا ہے۔ کوئی مرفوع حدیث صحیح میری نظر سے نہیں گزری جس سے ننگے سر نماز کی عادت کا جواز ثابت ہو، خصوصاً باجماعت فرائض میں، بلکہ عادت مبارکہ یہی تھی کہ پورے لباس سے نمازادا فرماتے تھے… سر ننگا رکھنے کی عادت اور بلاوجہ ایسا کرنا اچھا فعل نہیں ہے۔ یہ فعل فیشن کے طور پر روز بروز بڑھ رہا ہے اور یہ بھی نامناسب ہے۔ … اگر حسِ لطیف سے طبیعت محروم نہ ہو تو ننگے سر نماز ویسے ہی مکروہ معلوم ہوتی ہے۔ ضرورت اور اضطرار کا باب اس سے الگ ہے۔ (فتاویٰ علماءِ اہل حدیث ج ۴ ص 286۔289 بحوالہ کتاب ٹوپی وپگڑی سے یا ننگے سر نماز؟)
٭…سعودی عرب کے تمام شیوخ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ ٹوپی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت اور تمام محدثین ومفسرین وفقہاء وعلماء وصالحین کا طریقہ ہے۔ نیز ٹوپی پہننا انسان کی زینت ہے اور قرآن کریم (سورہٴ الاعراف 31) کی روشنی میں نماز میں زینت مطلوب ہے، لہٰذا ہمیں ٹوپی پہن کر ہی نماز پڑھنی چاہیے۔ یہ فتاوے سعودی عرب کے شیوخ کی ویب سائٹ پر پڑھے اور سنے جاسکتے ہیں۔ سعودی عرب کی موجودہ حکومت کے نظام کے تحت کسی بھی حکومت کے دفتر میں کسی بھی سعودی باشندہ کا معاملہ اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب کہ وہ ٹوپی اور رومال کے ذریعہ سر ڈھانک کر حکومت کے دفتر میں جائے۔ سعودی عرب کے خواص وعوام کا معمول بھی یہی ہے کہ وہ عموماً سر ڈھانک کر ہی نمازادا کرتے ہیں۔

پہلا نکتہ
ان دنوں امت مسلمہ کی ایک چھوٹی سی جماعت حضرت عبد اللہ بن عباس  کی ایک حدیث کو بنیاد بناکر ننگے سر نماز پڑھنے کی بظاہر ترغیب دینے لگتی ہے : اَنَّ النَّبِیَّ کَانَ رُبَمَا نَزَعَ قَلَنْسُوَتَہ، فَجَعَلَہَا سُتْرَةً بَیْنَ یَدَیْہِ (ابن عساکر) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کبھی کبھی اپنی ٹوپی اتارکر اسے اپنے سامنے بطور سترہ رکھ لیتے تھے۔ اس حدیث سے مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر ننگے سر نماز پڑھنے کی کسی بھی فضیلت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یہ روایت ضعیف ہے، نیز اس روایت کو ذکر کرنے میں ابن عساکر متفرد ہیں، یعنی حدیث کی مشہور ومعروف کسی کتاب میں بھی یہ حدیث مذکور نہیں ہے۔

اور اگر علی وجہ التنزل اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی یہ مطلق ننگے سر نماز پڑھنے کے جواز کے لیے دلیل نہیں بن سکتی، بلکہ اس حدیث کے ظاہری الفاظ بتارہے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا ایک اہم ضرورت کے وقت کیا جب ایسی کوئی چیز میسر نہ آئی، جسے بطور سترہ آپ صلی الله علیہ وسلم اپنے سامنے رکھ لیتے اور احادیث میں سترہ کی کافی اہمیت وارد ہوئی ہے۔

اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ مرد حضرات کے لیے نماز میں ٹوپی یا عمامہ سے سر کا ڈھانکنا واجب نہیں ہے، جس پر امت مسلمہ متفق ہے۔

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ننگے سر صرف حج یا عمرہ کے احرام کی صورت میں ہی نماز پڑھنا ثابت ہے۔ رہا کوئی چیز نہ ملنے کی وجہ سے سترہ کے لیے اپنے آگے ٹوپی کا رکھنا توپہلی بات یہ عمل آپ صلی الله علیہ وسلم نے ایک دوسرے اہم حکم کو پورا کرنے کے لیے کیا ۔ دوسری بات اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ننگے سر نماز پڑھی۔ ممکن ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اونچی والی ٹوپی جو آپ صلی الله علیہ وسلم سفر میں پہنتے تھے اس کو سترہ کے طور پر استعمال کیا ہو اور عمامہ یا سر سے چپکی ہوئی ٹوپی آپ صلی الله علیہ وسلم کے سر پر ہو کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی دو یا تین قسم کی ٹوپی کا تذکرہ احادیث وسیرت وتاریخ کی کتابوں میں آتا ہے۔

اس حدیث کے علاوہ ابن عساکر میں وارد ایک مقولہ سے بھی اس چھوٹی سے جماعت نے استدلال کیا ہے:(مساجد میں ننگے سر آوٴ اور عمامہ باندھ کر آوٴ، بے شک عمامہ تو مسلمانوں کے تاج ہیں)، لیکن محدثین نے اس مقولہ کو حدیث نہیں، بلکہ موضوع ومن گھڑت بات شمار کیا ہے۔ اور اگر یہ مقولہ حدیث مان بھی لیا جائے تو اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہمیں مسجد میں عمامہ باندھ کر آنا چاہیے۔

دوسرا نکتہ 
بعض حضرات ٹوپی کا استعمال تو کرتے ہیں، مگر ان کی ٹوپیاں پرانی، بوسیدہ اور کافی میلی نظر آتی ہیں۔ ہم اپنے لباس ومکان ودیگر چیزوں پر اچھی خاصی رقم خرچ کرتے ہیں، مگر ٹوپیاں پرانی اور بوسیدہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ میرے عزیز بھائیو! سر کو ڈھانکنا زینت ہے، جیساکہ مفسرین ومحدثین وعلماء نے کتابوں میں تحریر کیا ہے اور نماز میں اللہ تعالیٰ کے حکم (خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ) کے مطابق زینت مطلوب ہے، نیز ٹوپی یا عمامہ کا استعمال اسلامی شعار ہے ، اس سے آج بھی مسلمانوں کی شناخت ہوتی ہے، لہذا ہمیں اچھی وصاف ستھری ٹوپی کا ہی استعمال کرنا چاہیے۔

تیسرا نکتہ 
نماز کے وقت عمامہ یا ٹوپی پہننی چاہیے، لیکن عمامہ یا ٹوپی پہننا واجب نہیں ہے۔ لہذا اگر کسی شخص نے عمامہ یا ٹوپی کے بغیر نماز شروع کردی تو نماز پڑھتے ہوئے اس شخص پر ٹوپی یا رومال وغیرہ نہیں رکھنا چاہیے ،کیوں کہ اس کی وجہ سے عموماًنمازی کی نماز سے توجہ ہٹتی ہے (خواہ تھوڑے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو)، البتہ نماز شروع کرنے سے قبل اس کو عمامہ یا ٹوپی پہننے کی ترغیب دینی چاہیے۔

خلاصہٴ کلام
عمامہ یا ٹوپی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی سنت ہے (کیوں کہ احادیث وسیر وتاریخ کی کتابوں میں جہاں جہاں بھی عام زندگی کے متعلق نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے سر پر کپڑے ہونے یا نہ ہونے کا ذکر وارد ہوا ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم کے سر پر عمامہ یا ٹوپی کا تذکرہ 99 فیصد وارد ہوا ہے) صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء اور علمائے کرام عمامہ یا ٹوپی کا استعمال فرماتے تھے، نیز ہمیشہ سے اور آج بھی یہ مسلمانوں کی پہچان ہے۔لہٰذا ہم سب کو عمامہ وٹوپی یا صرف ٹوپی کا استعمال ہر وقت کرنا چاہیے۔ اگرہر وقت ٹوپی پہننا ہمارے لیے دشوار ہو تو کم از کم نماز کے وقت ٹوپی لگاکرہی نماز پڑھنی چاہیے۔ ننگے سر نماز پڑھنے سے نماز ادا تو ہوجائیگی، مگر فقہاء وعلماء کی ایک بڑی جماعت کی رائے ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنے کی عادت بنانا صحیح نہیں ہے، حتی کہ بعض فقہاء وعلماء نے متعدد احادیث، حضرت عبد اللہ بن عمر جیسے جلیل القدر صحابی کا اپنے شاگرد حضرت نافع  کو تعلیم اور صحابہٴ کرام کے زمانہ سے امت مسلمہ کے معمول کی روشنی میں ننگے سر نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، جن میں سے شیخ نعمان بن ثابت امام ابوحنیفہ (80ھ ۔150ھ) اور شیخ ناصر الدین البانی  (1333ھ۔1420ھ)کا نام قابل ذکر ہے۔ آخر الذکر شیخ البانی صاحب کا تذکرہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ اِن دنوں جو حضرات ننگے سر نماز پڑھنے کی بات کرتے ہیں ان میں سے بعض حضرات عموماً احکام ومسائل میں شیخ ناصر الدین البانی  کے اقوال کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ ننگے سر نماز کے متعلق انہوں نے واضح طور پر تحریر کیا ہے اوران کے اقوال کیسٹوں میں ریکارڈ ہیں کہ ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

ہم ہند وپاک کے رہنے والے سعودی عرب میں مقیم عموماً فیشن کی وجہ سے ٹوپی کے بغیر نماز پڑھتے ہیں، حالاں کہ سعودی عرب میں 13-12 سال کے قیام کے دوران میں نے کسی بھی سعودی عالم یا خطیب یا مفتی یا مستقل امام کو سر کھول کر نماز پڑھتے یا پڑھاتے یا خطبہ دیتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ ان کو ہمیشہ سر ڈھانکتے ہوئے ہی دیکھا۔ نہ صرف خواص، بلکہ سعودی عرب کی عوام بھی عموماً سر ڈھانک کر ہی نماز ادا کرتی ہے۔

وضاحت… یہ مضمون صرف مردوں کے سر ڈھانکے کے متعلق تحریر کیا گیا ہے، رہا خواتین کے سر ڈھانکنے کا مسئلہ تو امت مسلمہ متفق ہے کہ خواتین کے لیے سر ڈھانکنا ضروری ہے، اس کے بغیر ان کی نماز ہی ادا نہیں ہوگی۔

ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا :۔
آجکل بہت سارے لوگ غیر مقلدین کی سازشوں اور مکروہ پروپیگنڈے کا شکار ہو کر جہاں اور بہت اعمال بد میں مبتلا ہو چکے ہیں وہاں ننگے سر نماز پڑھنے والا عمل بھی شامل ہے ۔ حالانکہ نہ تو اس طرح نماز پڑھنے کا ثبوت قرآن پاک سے ملتا ہے اور نہ ہی ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیاہے ، بلکہ نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو پوری زندگی میں ایک دفعہ بھی ننگے سر نماز پڑھنے کا ثبوت نہیں ملتا ، پھر نہ جانے لوگوں نے اس طرح نماز پڑھنے کی عادت کیوں بنا ڈالی ہے۔
مسجد میں زیب و زینت اختیار کر کے آنے کا حکم خداوندی:۔
مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے آنے والے حضرات کو اللہ تعالٰی نے کیا حکم دیا ہے ، اس کو اس آیت میں پڑھ لیجیے ۔ چنانچہ فرمان خداوندی ہے ” یبنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجد” (سورہ اعراف )۔ یعنی ہر نماز کے وقت زیب و زینت والا لباس پہن لیا کرو۔ اس اٰیت میں زیب و زینت کر کے نماز پڑھنے کے لیے آنے کو کہا جارہاہے ۔ اور زیب و زینت مکمل لباس کے بعد ہی اختیار کی جاتی ہے ۔ مکمل لباس میں لباس ساتر بھی شامل ہے اور پورے جسم کو ڈھانپ کر رکھنے والا لباس بھی۔ گویا ان دونوں کے علاوہ ایک ایسا لباس پہننے کا حکم ہو رہا ہے جس سے انسان کی زینت ظاہر ہو ۔ ذرا سوچیں کہ ایک آدمی نے سر پر ٹوپی یا عمامہ باندھا ہوا ہو اور دوسرے آدمی نے سر پر کچھ بھی نہ رکھا ہو ، بالوں کو سنوار کر یا بغیر سنوارے کھڑا ہوا ، دونوں کا موازنہ کر کے دیکھ لیں آپ کو خود ہی اندازہ ہو جایے گا کہ زیب و زینت کس نے اختیار کی ہے اور کون اس کا تارک ہے ۔ باادب ہو کر کون نماز پڑھ رہا ہے اور بے ادبی کس کی نماز سے ظاہر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ؟
اگر سر کو ننگا رکھنا بہتر ، سنت یا ضروری ہوتا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی اپنے سر پر عمامہ رکھنے کا معمول نہ بناتے ۔ لیکن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مباک پر عمامہ یعنی پگڑی کا ذکر اتنی کثرت سے آتا ہے کہ اس کے ضروری ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے ۔ ان روایات کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجیے تاکہ آپ کو یقین ہو جایے کہ سر کو ننگا رکھن خلاف سنت ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہویے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا ۔ اور دوسری روایت حضرت عمروابن حریث رضٰی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ دیکھا ۔ تیسری روایت بھی انہی سے خطبہ کے وقت عمامہ باندھنے کی ہے ۔ اور چوتھی روایت حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان پچھلی جانب ڈال لیتے تھے ۔ اور پانچویں روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک خطبہ پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ تھا یا چکنی پٹی تھی۔
یہ تمام روایات شمایل ترمذی میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی ہیں ۔ کتب احادیث میں مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے عمامہ باندھنے کی متعلق اتنی کثرت سے احادیث منقول ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتے تھے ۔ عمامہ سے یا کسی کپڑے سے لیکن سر ننگا رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر گز عادت مباکہ نہ تھی۔
عمامہ باندھنے کا حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکما” بھی عمامہ باندھنے کا ثبوت احادیث کے اندر ملتا یے ۔ چنانچہ ایک روایت یوں ملتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اعتموا تزدادو حلما” عمامہ باندھا کرو اس سے حلم میں بڑھ جاؤ ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر ج ا ص 194 مرفوعا )۔
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۔
( فتح البار ج 10 ص 335 )
ایک اور روایت حضرت رُکانہ سے اس طرح آتی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ” ہمارے اور مشرکوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامہ باندھتے ہیں ” (مشکوۃ باب اللباس )
ان روایات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامہ باندھا بھی ہے اور اس کے باندھنے کا اپنی امت کو حکم بھی دیا ہے ۔ اب اس بات کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو اور اس کے کرنے کا حکم بھی دیں تو کیا وہ سنت نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔؟ لیکن غیر مقلدین کو کون سمجھائے کہ نہ تو وہ خود اس سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسرے مسلمانوں کو اس سنت پر عمل کرنے دیتے ہیں بلکہ اس سنت کے برعکس ہر ایک کو سر ننگا کر کے گھومنے کی دعوت دیتے ہیں۔
عمامہ اور ٹوپی کا ثبوت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین اور تابعین رحمہ اللہ علیھم سے
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین وہ شخصیات ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دل وہ جان سے ایمان لائے ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے قرآن میں فرمایا ” اٰمنوا کما اٰمن الناس ” (سورہ بقرہ)۔ کہ ایسے ایمان لاؤ جیسے یہ لوگ (یعنی صحابہ کرام ) ایما لائے ۔
ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صدق دل سے ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین ہی تھے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے ان کے ایمان کو آنے والی نسلوں کے لئے معیار حق قرار دیا ۔ آئیے ذرا ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں کہ انہوں نے سر پر عمامہ یا ٹوپی پہنا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
چنانچہ حضرت ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ٹوپیاں اس طرح کی ہوتی تھیں کہ سروں پر چپکی رہتی تھی ۔ (مشکوۃ باب اللباس )۔ اس روایت کو اگرچہ امام ترمذی نے منکر کہا ہے لیکن یہ روایت متناصحیح ہے نیز اسے تلقی بالقبول کا درجہ بھی حاصل ہے کیونکہ امت میں ہر دور کے اندر اس روایت پر عمل ہوتا رہا ہے جو اس روایت کا مؤید ہے۔
حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہھا کو شملہ اپنے دونوں منڈھوں کے درمیان ڈالتے دیکھا ۔ (شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)۔
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کسی نے پوچھا کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ۔ فرمایا ” ہاں سنت ہے “۔ اور مزید فرمایا ” عمامہ باندھا کرو کہ اسلام کا نشان ہے ، مسلمان اور کافر میں فرق کرنے والا ہے ” ( عینی عمد ۃ القاری ج 21 ص30)۔
عبید اللہ جو نافع رحمۃ اللہ علیہ تابعی کے شاگرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے )اورسالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے ) کو ایسا کرتے ( یعنی شملہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان ڈالتے ) دیکھا۔ ۔ (شمایل ترمذی باب ماجاء فی عمامہ)۔
اس روایت کے متعلق علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیںکہ ” واشارہ بذالک الی انہ سنۃ مؤکدہ محفوظۃ لم یترکھا الصلحا “(مواہب لدنیہ ص 101)۔ یعنی سر پر پگڑیاں باندھنا ایک ایسی سنت مؤکدہ ہے جو ہمیشہ محفوظ رکھی گئی اور اس کو صلحاء یعنی نیک بندوں نے کبھی نہیں چھوڑا ۔ نیز حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی مندرجہ بالا روایت جس میں سیاہ عمامہ باندھ کر خطبہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں صاحب اتحافات والے لکھتے ہیں کہ ” ھذہ الخطبۃ وقعت فی مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم الذی توفٰی فیہ “۔( شرح شمایل اتحافات ص 159 )
یعنی یہ خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخر لمحات تک سر پر عمامہ باندھا۔ علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ” والعامۃ سنۃ لا سیما للصلوٰۃ و بقصد التجمل لا خبار کثیرۃ فیھا ” ۔ (مواہب لدنیہ )۔ اس عبات میں علامہ بیجوری رحمۃ اللہ علیہ نے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ۔
(۱) کہ عمامہ باندھنا سنت ہے ۔
(۲) کہ عمامہ نماز کے لئے اور زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔
(۳) کہ خوبصورتی کی علامت ہے ۔
(۴) کہ بہت ساری روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے ۔
ان تمام روایات و آثار سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ، تابعین عظام رحمۃ اللہ علیھم اور شارحین حدیث سر پر ٹوپی بھی پہنتے تھے اور اس کے اوپر عمامہ بھی باندھا کرتے تھے ۔ نیز اس کو سنت بھی سمجھتے تھے ۔ اور یہی کچھ احناف اہلسنت والجماعت بھی کہتے ہیں۔
غیر مقلدین کے اپنے علماء کی گواہی :۔
غیر مقلدین کو اگر محدیثین اور مجتہدین کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو اپنے علمائے غیر مقلدین ہی کو دیکھ لیں ۔ شاید انہیں ان پر یقین آجائے ۔ چنانچہ میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں ” ٹوپی و عمامہ سے نماز پڑھنا اولٰی ہے کیونکہ یہ امر مسنون ہے “۔ ( فتاوٰی نذیریہ ج 1 ص 240 )۔
غیرمقلد مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ “نماز کا مسنون طریقہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالدوام ثابت ہے یعنی بدن پر کپڑا اور سر ڈھکا ہوا، پگڑی یا ٹوپی سے”۔( فتاوٰ ی ثنایہ ج 1 ص 525 )۔
یہی کچھ ابوداود غزنوی اور دیگر علمائے اہل حدیث نے لکھا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھیے کنزل الحقائق۔ (ص 27 اور نزل الابرار ج1ص114)۔ یہاں پر غیر مقلدین کے دلدادہ علامہ ابن قیم کے حوالے سے بھی ایک بات سن لیجئے وہ فرماتے ہیں کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس وقت تک شہر کا حاکم مقرر نہ فرماتے تھے جب تک اسے عمامہ نہ بندھواتے تھے ۔(زادالمعاد ج 1ص50)۔ اسی طرح ابن قیم اپنے استاد علامہ ابن تیمیہ سے پگڑی اور سملہ کی حمایت میں ایک طویل روایت لانے کے بعد فرماتے ہیں ” جو اس سنت کا منکر ہے وہ جاہل ہے”۔
(زادالمعاد ج1ص50 )۔
یہ ہیں غیرمقلدین کے وہ علماء جنہوں نے انکو اس راہ پر لگایا ہے ۔ اور یہی سر ڈھانپ کر سنت نماز کا سبق دے رہے ہیں۔ اور علامہ ابن قیم اور ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیھم اجمعین تو وہ شخصیات ہیں جن کے تذکرہ سے شاید ہی غیر مقلدین کی کوئی مجلس خالی ہوتی ہو ۔ ان ہر دو حضرات کے اقوال بھی ان کے سامنے ہیں۔ اب تو غیر مقلدین کو یقین آجانا چاہئے کہ ننگے سر نماز پڑھنا سنت طریقے کے خلاف ہے ۔ ان تمام روایات و آثار سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر عمامہ باندھتے تھے اور اس کا حکم بھی دیتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے بھی اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھ کر اپنے سروں پر سجائے رکھا اور تابعین نے بھی ایسا ہی کیا لیکن آج کل کے غیر مقلدین سرننگے کر کے پھرتے ہوئے عمامہ والی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری اختیار کرتے ہیں حالانکہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پوری طرح اپنے سروں کو ڈھانپ لینا چاہئے۔
غیر مقلدین کی ایک دلیل کا جواب :۔
غیر مقلدین اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی تہبند میں نماز پڑھی جس کو گردن کے پیچھے سے گرہ لگا رکھی تھی ، حالانکہ ان کے کپڑے پیچھے کھونٹی پر لٹک رہے تھے ۔ اس پر کسی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ہی کپڑے میں نمازپڑھتے ہیں تو انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں ، میں نے ایسا اس لئے کیا کہ تیرے جیسا احمق مجھے دیکھ لے ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم میں سے کون تھا جس کے پاس دو کپڑے تھے ۔ ( مشکوۃ ص72)۔ غیر مقلدین اس روایت کو دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں حالانکہ اس روایت میں سر پر کپڑا یا پگڑی نہ باندھنے کا ذکر سرے سے ہے ہی نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ کام بیان جواز کے لئے تھا ۔ یعنی یہ بتلانا مقصود تھا کہ ایک ایسے کپڑے میں جس میں ستر چھپ جائے باامر مجبوری نماز ہو جاتی ہے ۔ اس سے ان کی مراد کپڑا ہونے کے باوجود سر پر عمامہ نہ باندھنے کی ہر گز نہیں تھی۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس روایت پر تو غیر مقلدین کا خود بھی عمل نہیں بلکہ وہ اس روایت کا بالکل ہی الٹ کرتے ہیں ۔ کیونکہ نہ تو وہ ایک کپڑا لے کر گردن سے باندھتے ہی اور نہ ہی کپڑے اتار کر کھونٹی پر لٹکاتے ہیں ۔ بہرحال اس روایت سے ننگے سر استدلال کرنا کسی جاہل ہی کا کام ہو سکتا ہے ۔ آج تک کسی محدث ، مفسر اور مجتہد نے اس روایت اور ان جیسی دوسری روایات سے ننگے سر نماز پڑھنا نہیں لیا۔ اگر محدیثین یا فقہاء کی طرف سے کوئی حوالہ ان روایات کے سلسلے مں اسی قسم کا غیر مقلدین کے پاس ہے تو اسے منظر عام پر لائیں وگرنہ عوام کو گمراہ نہ کریں۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنے والے کو تنبیہہ کرنا
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کپڑے میں نمازپڑھنا بھی سنت ہے ۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ اور اسے معیوب نہیں سمجھتے تھے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا یہ اس وقت تھا ” اذا کان فی الثیاب قلۃ ” جب کپڑوںکی قلت تھی لیکن جب اللہ تعالٰی نے وسعت عطا فرمادی تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا مستحب اور پاکیزہ کام تھا ۔ (مسند احمد بحوالہ مشکوۃ)۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اندر اگر ایک کپڑے میں نماز پرھتے تھے تو ان کا ایسا کرنا کپڑے کی قلت کی وجہ سے تھا نہ کہ شوقیہ ۔ اور بعد میں جب کپڑوں کی فراوانی ہوئی تو دو کپڑوں میں ہی نماز پڑھنا مستحب کہلوایا۔ اب اگر کوئی ان روایات کو سامنے رکھ کر سر پر کپڑا نہ لینے کا کہے تو یہ اس کے دماغ کا فتور ہے کیونکہ کسی بھی مجتہد اور محدث نے ان روایات سے سر پر کپڑا نہ لینے کی دلیل نہیں پکڑی ۔ پھر ان روایات کے علاوہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات بھی تو موجود ہیں جن میں سر پر پگڑی باندھنے کا حکم ، ان کے بارے میں غیر مقلدین کیا رائے دینگے ۔۔۔۔ ؟ اگر یہ کہا جائے کہ پگڑی باندھنا اور سر پر کپڑا لینا ضروری نہیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کا رد لازم نہیں آئے گا ۔۔ ؟
سر پر پگڑی رکھنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے
اس تفصیل سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ سر کو پگڑی یا ٹوپی سے ڈھانپنا اور عام حالات میں بھی سر کو ننگا نہ رکھنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت حضرت جعفر بن عمرو کے طریق سے اس طرح مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمامہ اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا ۔ (بخاری کتاب الوضو باب مسح علی الخفین )۔ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے صحیح مسلم کتاب الطہارت میں بھی اسی کرح کی ایک روایت موجود ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت سر پر عمامہ رکھتے تھے ، حتٰی کہ وضو فرماتے وقت بھی عمامہ سر پر ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے صاحب مواہب لدنیہ فرماتے ہیں “والعمامۃ سنۃ لا سیما للصلوٰۃ ” ۔ ( مواہب لدنیہ ص 99)۔
یعنی عمامہ سنت ہے اور نماز کے لئے نہایت ضروری ہے ۔
آخری گذارش :۔
قارئین محترم ! مندرجہ بالا روایات ، آثار اور تشریحات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت عمامہ اپنے سر پر رکھتے تھے ۔ جب عام حالات میں آداب کا تقاضا یہ ہے کہ سر ننگا نہ ہو تو پھر خاص حالات میں بالخصوص نماز جیسی عبادت کے اندر ربّ ذولجلال کے حضور کھڑے ہو کر ننگا سر سامنے کرنا کیسے ادب میں داخل ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟۔ اگر استاد کے سامنے شاگرد ، اور بزرگ کے سامنے مرید اور آفیسر کے سامنے فوجی سر سے کپڑا اتارنے کی جراءت نہیں کرتا اور اسے بے ادبی خیال کرتا ہے تو ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و افعال اور قرآن پاک کی تعلیمات نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سر ڈھانپ کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نماز کے لئے حاضر ہونا چاہئے اور ان ارشادات کی روشنی میں سر پر پگڑی یا ٹوپی رکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔


اللہ تعالٰی ہمیں اس سنت پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے ۔ اٰمین ۔