Saturday, 30 April 2016

اسلام میں آزادی کا تصور

ہر چیز کے خالق، مالک، خوب قدرت وعلم رکھنے والے پالنہار اللہ نے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا تاکہ وہ اس کے بندوں کو مخلوق سے آزادی دلائیں:
اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿قرآن - سورۃ الدخان:18﴾
(حضرت موسٰیؑ نے یہ کہا) کہ اللہ کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو تمہاری طرف (خد اکا) پیغمبر (ہوکر آیا ) ہوں دیانت دار ہوں۔
saying, “Deliver to me the servants of Allah. I am an honest messenger to you,”
یعنی خدا کے بندوں کو اپنا بندہ مت بناؤ۔ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزادی دو اور میرے حوالہ کرو۔ میں جہاں چاہوں لے جاؤں۔
[saying], ‘Give over to me, what I summon you to in the way of faith, that is, manifest your faith to me, O, servants of God; indeed I am for you a messenger [who is] faithful’, in what he has been sent with,

حضرت موسیٰ کا فرعون سے اللہ کے بندوں کو آزاد کرنے کا مطالبہ:
سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰؑ کو قومِ فرعون کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ تم لوگ میرے حوالے کردو اللہ کے بندوں کو ۔ سو اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اللہ کے بندو اللہ کا رسول ہونے کے اعتبار سے جو میرا حقِّ اطاعت و اِتباع تم پر واجب ہوتا ہے اس کو میرے لئے ادا کرو کہ یہ میرا حقِّ واجب ہے۔ اور اسی میں خود تم لوگوں کا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو ان دونوں احتمالوں کا نتیجہ و مآل ایک ہی نکلتا ہے۔ چونکہ پیغمبر کا حق اِطاعت و اِتباع ہی ہوتا ہے اور حضرت موسیٰؑ کا حکم و ارشاد اور آپ علیہ السلام کا مطالبہ یہی تھا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو اور انکو عذاب مت دو ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا - { فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلاَتُعَذِّبْہُمْ } - (طٰہٓ: 47) ۔ البتہ یہاں پر حضرت موسیٰؑ نے اپنے مطالبہ کے حق میں ایک اہم اور ٹھوس دلیل بھی دے دی کہ یہ اللہ کے بندے ہیں ۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انکو اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ پس تم لوگ اللہ کے بندوں کو اپنی غلامی کی جکڑبندیوں سے آزاد کر کے ہمارے ساتھ روانہ کر دو کہ تم کو ان کے غلام بنائے رکھنے کا کوئی حق نہیں ۔
22 حضرت موسیٰ کا اپنی شان امانت و دیانت کا اِعلان و اِظہار :
سو حضرت موسیٰؑ نے ان لوگوں سے کہا اور اسلوبِ تاکید میں کہا کہ " یقینا میں تم لوگوں کے لیے ایک امانتدار رسول ہوں " ۔ پس میں چونکہ رسول ہوں اس لئے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ بلکہ اپنے رب کا پیغام تمہیں سناتا ہوں اور بس۔ اور چونکہ میں امانت دار ہوں اس لئے اپنے رب کا پیغام بدوں کسی کم و کاست کے پوری امانت داری کے ساتھ تمہیں پہنچا رہا ہوں ۔ پس تم پر میری اطاعت لازم ہے۔ اسی میں تمہارا بھلا اور بہتری ہے۔ اور اس کے برعکس اگر تم لوگوں نے مجھے مفتری قرار دے کر میری تکذیب کی تو اس کے نتائج نہایت مہلک اور خطرناک ہوں گے۔ اور جس ذات نے مجھے رسول بناکر بھیجا ہے وہ تم سے ضرور انتقام لے گی - والعیاذ باللہ جل وعلا - سو پیغمبر ہر اچھائی اور خوبی میں اعلی اور عمدہ نمونہ ہوتا ہے - علیہم الصلاۃ والسلام -

غلام اور آزاد کی مثال
ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبۡدًا مَّمۡلُوۡکًا لَّا یَقۡدِرُ عَلٰی شَیۡءٍ وَّ مَنۡ رَّزَقۡنٰہُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنۡفِقُ مِنۡہُ سِرًّا وَّ جَہۡرًا ؕ ہَلۡ یَسۡتَوٗنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿قرآن - سورۃ النحل:75﴾
 اللہ (ابطال شرک کے لئے) ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ (فرض کرو کہ) ایک غلام ہے جو دوسرے کا ایسا مملوک ہے کہ (اپنے جیسے مالک کی اجازت کے بغیر) وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، اور دوسرا وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنی طرف سے دے رکھی ہو عمدہ روزی، اور وہ اس میں سے (اپنی مرضی کے مطابق) پوشیدہ بھی خرچ کرتا ہو، اور ظاہراً بھی، تو کیا یہ دونوں آپس میں برابر ہو سکتے ہیں؟ (پس ثابت ہوا کہ معبود حقیقی بھی اللہ ہی ہے اور) ہر تعریف کا حقدار بھی اللہ ہی ہے، مگر لوگوں کی اکثریت ہے کہ وہ جانتے نہیں (حق اور حقیقت کو)۔
Allah gives an example: There is a slave owned (by someone), who has no power over anything, and there is a person whom We have given good provision from Us, and he spends out of it secretly and openly. Are they equal? Praise be to Allah. But, most of them do not know.
God strikes a similitude (mathalan, this is substituted by [the following, ‘abdan mamlūkan]) a slave who is a chattel (mamlūkan, an adjective to distinguish him [this type of slave] from a free man, who is the servant of God [alone]) having no power over anything, since he has no mastery, and one on whom (man, is an indefinite [noun], adjectivally qualified, in other words, a free man) We have bestowed a fair provision from Us, such that he spends thereof secretly and openly, that is, disposing of it as he wishes: the first similitude is for the idols, while the second is His, exalted be He. Are they equal?, the powerless slaves and the dispensing free men? No. Praise belongs to God, alone. But most of them, that is, the people of Mecca, do not know, the chastisement they will come to, and so they associate others with God.

ابطالِ شرک کے لئے ایک مثال کا ذکر و بیان :
اور توحید کے بارے میں صحیح مثال وہی ہوسکتی ہے جو وہ خود بیان فرمائے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ابطالِ شرک کیلئے ایک مثال بیان فرمائی ۔ یعنی وہ آزاد شخص چاہے اور جیسے چاہے اور جہاں چاہیے اور جس قدر چاہے خرچ کرتاہے کہ وہ آزاد اور خود مختار ہے۔ توایسا شخص اور دوسرا وہ شخص جو عاجز ہو اور کچھ نہ کرسکتاہو ، کیا یہ دونوں شخص باہم ایک برابر ہوسکتے ہیں؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم لوگ خداوند قدوس کے ساتھ اس کے مملوکوں کو برابر کس طرح مانتے ہو؟ جب وہ خالقِ کل اور مالکِ مطلق ہے۔ اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں ۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا اور تم کہاں اور کیسے اندھے اور اوندھے ہورہے ہو؟۔
مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا سوال : کہ کیا یہ دونوں شخص باہم برابر ہوسکتے ہیں؟ جب نہیں اور یقینا وہرگز نہیں ۔ حالانکہ یہ دونوں بشر ، انسان ، اور مخلوق ہیں، تو پھر حضرت خالق ، جل مجدہ ۔ کے ساتھ کسی کی برابری کا کیا سوال پیدا ہوسکتاہے؟(مراغی ، صفوۃ اور معارف وغیرہ) جبکہ وہ خالق کل مالک مطلق دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے ۔ تو پھر کیسے اندھے اور کس قدر اوندھے ہیں وہ لوگ جو اپنے خود ساختہ معبودوں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں ۔ (لایقدرعلی شی ء ) کہ " کسی چیز پر قدرت نہ رکھتا ہو " کی صفت کاشفہ سے اس غلام کی بے اختیاری کو اور واضح کردیا گیا۔ کیونکہ غلاموں میں ایک غلام وہ بھی ہوتا ہے جس کو کسی قدر تصرف کی اجازت ہوتی ہے ۔ جس کو " عبد ماذون " کہا جاتاہے۔ اور ایک وہ ہوتا ہے جو " مکاتب " کہلاتاہے ۔ جسے مالک نے بقدر ضرورت وحاجت کمائی کیلئے اجازت دے رکھی ہوتی ہے۔ جوفقہ کی اصطلاح میں " بدل کتابت " کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ کتب فقہ میں مذکورہے۔ مگر یہ غلام اس طرح کا کوئی اختیار بھی نہیں رکھتا۔ سو اس سوال سے مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑا گیا ہے تاکہ وہ باز آجائیں شرک کے گھناؤنے جرم سے۔ مگر کہاں ؟ الا ماشاء اللہ ۔
سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں: کہ وہی ہے جو ہرنقص وعیب سے پاک اور ہر خوبی وکمال سے متصف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ وبحمدہ۔ اور وہی معبود برحق ہے۔ اور ہرقسم کی عبادت وبندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے جبکہ تمہارے خود ساختہ معبودوں میں سے اے مشرکو!نہ کسی کے اختیار میں کچھ ہے ۔ اور نہ ان کیلئے کسی طرح کی تعریف وتوصیف کا کوئی حق ہے کہ وہ سب سراسر بے بنیاد ہیں ۔ جبکہ اس ساری کائنات کاخالق ومالک اور اس میں حاکم ومتصرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور جس کو جو کچھ ملا ، یا ملنا ہے یا آئندہ ملے گا، وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔



سب اللہ کے بندے ہیں:
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ إِلّا ءاتِى الرَّحمٰنِ عَبدًا (قرآن - سورۃ مریم:93)
تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے۔
There is none in the heavens and the earth, but bound to come to the All-Merciful as a salve.
یعنی سب خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں اور بندے ہی بن کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے پھر بندہ بیٹا کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور جس کے سب محکوم و محتاج ہوں اسے بیٹا بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ 

There is none in the heavens and the earth but he comes to the Compassionate One as a servant, servile, submissive, on the Day of Resurrection, including [individuals such as] Ezra and Jesus.



سیاسی آزادی اور تہذیبی غلامی
ملکوں نے سیاسی آزادی تو حاصل کرلی لیکن فکری وعلمی طور پر تہذیبی غلامی کی زنجیریں اور مضبوط ہوگئیں ہیں وہ حقیقی آزادی سے آشنا نہیں، انہیں ابھی تک حقیقی آزادی کا ذائقہ چکھنے کا موقع تک نہیں ملا۔ جس آزادی میں انسان، دشمن کی ہر قسم کی قید وبند سے چھوٹ جائے۔

انسانی تاریخ میں کہے جانے والے چند بڑے اقوال میں سیدنا عمرؓ کا قول ’’مائوں نے لوگوں کو آزاد جنا تھا، تم نے انہیں غلام بنانا کہاں سے سیکھ لیا؟‘‘ انسانیت کے آسمان پر صدیوں سے کہکشاں کی طرح جگمگارہا ہے۔ 14 سو سال پہلے کہا جانے والا یہ قول یقینا اسلام کی تعلیمات اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ ہے ورنہ عرب کے بادیہ نشین قبائلی معاشرے میں گندھے ہوئے عمرؓ ابن خطاب کو انسانی معراج کی بلندیوں کا کہاں علم تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں انسانوں پر انسانوں کی بادشاہت ہر سطح پر موجود ہو، گھروں میں غلام اور کنیزیں معاشرے میں اکھڑ اور مفرور سردار اور علاقوں پر ظالم بادشاہ اور فرمانروا۔ ایسے معاشرے میں صرف 23 سال کی تربیت کا یہ عالم کہ خطبہ حجۃ الوداع میں آقا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ اعلان کریں: ’’آج تمہاری جاہلیت کے نسل رنگ اور عصبیت کے بت میرے پائوں تلے کرچی کرچی ہو چکے۔‘‘ 
اگر کوئی سیاح 612 عیسوی کے لگ بھگ جزیرہ نمائے عرب کا دورہ کرتا جب ابھی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور اپنے ذہن میں عرب کے معاشرے کا ایک نقشہ بٹھا لیتا۔ اس نقشے کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ دنیا اس تہذیب و تمدن سے الگ تھلگ جنگ و جدل اور عصبیت میں رچے ہوئے عرب معاشرے کو خوب جانتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر نہ وہ ایک عظیم سلطنت تھے اور نہ ہی علوم و فنون سے آراستہ کوئی قوم۔ سیاح 23 سال کے بعد واپس لوٹتا تو دم بخود رہ جاتا۔ حیرت سے ان انسانوں کو دیکھتا جنہیں وہ صرف 2 دہائیاں پہلے انسانیت کے نچلے ترین درجے پر دیکھ کر گیا تھا، آج یہ لوگ کیسے پوری دنیا کے لیے انسانی اخلاقیات اور احترام آدمیت کے مشعل بردار بن چکے ہیں۔ اسے یقینا اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا۔ اس لیے کہ یہ انفراسٹرکچر اور عمارات کی تبدیلی نہیں تھی انسانوں کی تبدیلی تھی۔
آپ کسی بھی شہر میں ہزاروں لاکھوں مزدور لگا کر بڑے بڑے پلازہ، عالیشان عمارتیں، بہترین پل، دلکش باغات اور حیرت انگیز سہولیات فراہم کر سکتے ہیں اور یہ سب 23 سال کے عرصے، بلکہ اس سے بھی کم میں ممکن ہے۔ محنت سے آپ ایک پورا شہر نیا آباد کر سکتے ہیں، لیکن آپ ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر دیں جس میں غرور و نخوت میں ڈوبے ہوئے عرب معاشرے میں حضرت عمرؓ جیسا فرد پوری زندگی ایک حبشی غلام حضرت بلالؓ کو ’’سیدنا بلال‘‘ یعنی ’’میرے آقا بلال‘‘ کہہ کر پکارے۔ جہاں رسول اکرم ﷺ ایک بستی سے گزریں اور ایک شخص اپنے غلام پر سختی کر رہا ہو۔ آپ فرمائیں: ’’دیکھو! جتنا اختیار تمہیں آج اس غلام پر حاصل ہے، اللہ کو روزِ قیامت اس سے کئی گنا اختیار تم پر حاصل ہوگا۔‘‘ تو وہ تھر تھر کانپنے لگے اور فوراً یہ پکار اٹھے میں نے اللہ کی رضا کے لیے اس غلام کو آزاد کیا۔ عصبیت سے بھرے معاشرے میں کوئی سوچ سکتا تھا کہ خانۂ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اللہ کے گھر کی جانب بلانے کا اعزاز ایک حبشی غلام سیدنا بلالؓ کو حاصل ہوگا۔ کسی نے کبھی تصور بھی کیا تھا کہ لوگوں میں آخرت کی جوابدہی کا احساس اس قدر پختہ ہو جائے گا اور افراد اللہ کے سامنے جانے سے اس قدر ڈریں گے کہ ان کی خواہش یہ ہو گی کہ ان کے گناہوں کی سزا انہیں یہیں مل جائے۔ کسی کو علم نہیں تھا کہ مائدؓ نے زنا کا ارتکاب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ’’مائد ہلاک ہوگیا۔‘‘ فرمایا: ’’اللہ سے معافی طلب کرو، وہ غفور و رحیم ہے۔‘‘ دوسری دفعہ پھر دہرایا: ’’مائد ہلاک ہوگیا۔‘‘ 
وہی جواب ملا۔ تیسری دفعہ دہرایا اور کہا: ’’میں اپنے جرم کی سزا یہیں بھگتنا چاہتا ہوں، اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہوں۔‘‘ سنگسار کر دیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مائد نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر پورے مدینے پر تقسیم کردی جائے تو کافی ہے۔‘‘ 
غرور و نخوت سے بھرپور معاشرہ جس کی حالت یہ کہ جب ابوجہل بدر کے میدان میں معاذ و معوذ کے ہاتھوں زخمی ہو کر گر پڑا اور موت کی گھڑیاں گن رہا تھا تو عبداللہ بن مسعودؓ اس کے سینے پر چڑھ گئے۔ یہ وہی عبداللہ بن مسعود جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جائو! مکہ کے بازار میں جا کر قرآن سنانا شروع کرو۔‘‘ ان کو اللہ نے خوش الحانی بخشی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے رمضان میں قرآن پاک سنا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ’’اللہ نے تمہیں حضرت دائودؑ کے مضامیر میں سے ایک مضامیر عطا کیا ہے۔‘‘ انہوں نے قرآن سنانا شروع کیا تو ابوجہل کے حکم سے لوگوں نے انھیں تھپڑ مارنا شروع کردیے، لیکن آپ بازار کے آخر تک قرآن سناتے گئے۔ آج وہ عبداللہ بن مسعود ابوجہل کے سینے پر سوار ہوئے تو سرداری زعم میں بولا: ’’مجھے آج یہ دن بھی دیکھنا تھا۔‘‘ پھر کہنے لگا: ’’دیکھو! آج اگر میرا سر قلم کرو تو گردن کے نیچے سے کاٹنا تاکہ کٹے ہوئے سروں میں پڑا ہوا معلوم ہو کہ سردار کا سر ہے۔‘‘ ایسے معاشرے میں خوفِ خدا کا تصور جاگزیں کرانا، لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کر کے اللہ کی غلامی کا اسیر بنانا اور پھر اعلان کرنا: ’’تم میں سے کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ ہاں! فضیلت اس کو ہے جو اللہ سے تم سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔‘‘ یہ تھا معاشرہ جس سے ایسے افراد نے جنم لیا جو پڑوسی کی ناراضی سے ڈرتے تھے۔ یتیم، مسکین، لاچار اور بیوہ کا حق ادا نہ کرنے سے ڈرتے تھے۔ ایسے معاشرے میں ہی یہ قول تاریخ کی راہداریوں میں گونجتا ہے کہ ’’مائوں نے لوگوں کو آزاد جنا تھا، تم نے انہیں غلام بنانا کہاں سے سیکھ لیا۔‘‘ 
14 سو سال پہلے جس معاشرے نے جنم لیا تھا وہ معاشرہ زیادہ آزاد اور انسانی غلامی سے دور تھا یا آج کا جمہوریت اور جمہوری اقدار کا امین معاشرہ؟ اللہ کے رسول ﷺ کے ترتیب دیے گئے اور تربیت سے نکھرے ہوئے گروہ کو اگر ایک پارٹی تصور کر لیا جائے تو ان میں ہر کوئی صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا پابند تھا۔ ان کے گلے میں صرف اللہ کی غلامی اور سید الانبیاء کی فرمانبرداری کا طوق ہے۔ اب ذرا اس جمہوری اقدار کے معاشرے میں قائم پارٹیوں، گروہوں، انجمنوں، یونینوں اور ایسوسی ایشنوں کو دیکھیے تو آپ حیرت میں گم ہو جائیں گے۔ امریکا اور یورپ سے لے کر ترقی پذیر جمہوری ممالک تک سب جگہ یہ گروہ بدترین غلامی کی مثال ہے۔ مغرب میں جو گروہ پارٹی فنڈنگ کرتا ہے، اس کی مرضی کی پالیسی پارلیمنٹ یا کانگریس میں چلتی ہے۔ کوئی اس کے خلاف بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ جس تنظیم کے بورڈ آف گورنرز یا ڈونرز بورڈ کے افراد جس قدر سرمایہ فراہم کریں گے، وہ تنظیم اسی قدر ان کی رائے کا احترام اور ان کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو گی۔ ہمارے جمہوری معاشرے کا کیا کہنا۔ پارٹی کے لیڈر دن میں اتنا اللہ کا ذکر نہیں کرتے جتنا میرے قائد، میرے لیڈر، یا میرے رہنما کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ جرم کرے، کرپشن کرے، بددیانتی کرے، کسی کو قتل کرے یا قتل کروائے، کسی کو بھری محفل میں ذلیل و رسوا کر دے، وہ قائد ہی رہتا ہے، اس کے سامنے زبان نہیں کھولی جا سکتی۔ 
سب سے اہم بات یہ کہ ان تمام افراد کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ بددیانت ہے، چور ہے، ظالم ہے، لیکن مسلسل جھوٹ بول کر اس کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ وہ غلامی ہے جو بظاہر نظر آتی ہے۔ کبھی ان گروہوں، پارٹیوں، انجمنوں اور ایسوسی ایشنوں میں شامل ہو کر دیکھیں آپ کو انسانوں کی انسانوں پر حکومت اور بدترین غلامی کی وہ صورت نظر آئے گی کہ آپ کانپ اٹھیں۔ اقبالؔ نے اسی غلامی کو کتے کی زندگی سے بھی بدتر تعبیر کیا ہے۔ اقبالؔ فرماتے ہیں۔ 
آدم از بے بصری بندگی آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذر قباد و جم کرد
یعنی درخوئے غلامی ز سگان خوار تر است
من نہ دیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد 

عقل کو وحیِ الٰہی سے آزاد کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ کی پارلیامینٹ میں ہم جنس پرستی (Homo-Sexuality) کے جواز کا بل تالیوں کی گونج میں منظور کر رہی ہے۔ 

انسان اپنی بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان کی غلامی کرتا ہے۔ اسے اللہ نے آزادی کی نعمت عطا کی، لیکن وہ اسے بادشاہوں کے سامنے بیچ دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غلامی تو کتے کی زندگی سے بھی بدتر ہے۔ میں نے آج تک کسی کتے کو دوسرے کتے کے سامنے سر خم کرتے نہیں دیکھا۔ ٭٭٭





انسان کے بنیادی اور فطری حقوق کے تحت جن جن امور کو شامل کیا جاتا ہے ان میں حقوق اِنسانی کا جامع ترین تصور، انسانی مساوات کا حق، انسانی عزت وآبرو کی حفاظت، انسانی جان ومال اور جائداد کی حفاظت، مذہبی آزادی کا حق، آزادیٴ ضمیر کا حق ضروریات زندگی کا انتظام، انسانی حقوق میں فرد ومعاشرے کی رعایت، بچوں کے حقوق کی حفاظت،اسی طرح انسانوں کے معاشی وثقافتی اور تعلیمی حقوق نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔
تحفظ آزادی (شخصی ومذہبی): اسلامی معاشرہ میں چونکہ ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں کسی کا کسی پر بیجا دباؤ نہیں، ہر ایک آزاد اور خود مختار ہے اس لیے اسلام نے انسان کی شخصی آزادی کی بقاء کے لیے انسان کی نجی اور پرائیویٹ زندگی میں مداخلت سے دوسروں کو روکا ہے اور خواہ مخواہ کی دخل اندازی ٹوہ بازی اور بلا اجازت کسی کے گھر میں دخول سے منع کیا ہے۔ ارشاد حق ہے: مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں) کے گھروں میں گھروالوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہواکرو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ (بعض) گمان گناہ ہے اور ایک دوسرے کے حال کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ اسی طرح اسلام میں مذہب اور ضمیر واعتقاد کے تحفظ کی گارنٹی یوں دی گئی: دین اسلام میں زبردستی نہیں ہے، ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ ایک دانشور مفکر لکھتے ہیں ”صبر واعتقاد کی آزادی ہی کا قیمتی حق تھا، جسے حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ کے سیزدہ سالہ دور ابتلاء میں مسلمانوں نے ماریں کھاکھا کر کلمہ حق کہااور بالآخر یہ حق ثابت ہوکر رہا۔ اسلامی تاریخ اس بات سے عاری ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی غیرمسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے پرمجبور کیا ہو، یا کسی قوم کو مارمار کر کلمہ پڑھوایا ہو۔


آزادی کی حفاظت
میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ (مخلوق کی غلامی سے) آزادی حاصل کرنا تو بہت اچھا ہے مگر اسے برقرار رکھنا اس کے بغیر ناممکن ہے کہ ہماری اخلاقی حالت درست ہو اور ہماری زندگی میں انسانیت زندہ ہو۔ دنیا کی تاریخ بتلاتی ہے کہ کوئی ملک اور کوئی حکومت بغیر اخلاقی ترقی اور انسانیت کی بقا کے قائم نہیں رہ سکتی۔
آج یہ کام ہر طبقہ اور ہر درجہ کیلئے ضروری ہے، آپ اس یقین کے ساتھ اس سے تعاون کریں کہ بغیر ایک بےلوث خدمت کے جذبہ اور اخلاقی بلندی اور انسانیت کی بیداری کے ہماری زندگی کی مصیبتیں دور نہیں ہوسکتیں۔





آزادی کے نام پر - تہلکہ، آروشی، نرائن سائس



مرض کے بجائے علامات کا علاج کرنے والے جدید ہندوستانی معاشرہ کو ترون تیج پال کے بہانہ ایک اور سنسنی خیز معاملہ ہاتھ آگیا، گو کہ اس معاملہ میں ماڈرن ہندوستان کے رویّہ کا تضاد ویسا ہی ہے، جیسا کہ دہلی کے کچھ اردو اخباروں کا کہ ایک طرف وہ ہندو فرقہ پرستوں کو کوستے ہیں مودی کو دن رات بُرا بھلا کہتے ہیں؛ مگر اسی قاتل مودی کی تصویر کا آدھے صفحہ کا پہلے صفحہ کا اشتہار بھی شائع کرتے ہیں۔ ویسے ہی نام نہاد ماڈرن، لبرل معاشرہ ایک طرف جرم کیے جانے کے تمام اسباب مہیا کراتا ہے، دوسری طرف اس کے نتائج سے روبرو ہونے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتا۔ اگر ماں باپ کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ اپنے ایک بچہ کو بھی ڈھنگ سے پال سکیں، اسے وقت دے سکیں اسے پیار کے دوگھنٹہ دے سکیں تو انھیں کیا حق ہے کہ وہ اس بچہ کی غلط عادت جو کہ انھیں کی غفلت اور اپنی خودغرضی ونفس پرستی سے وجود میں آئی ہے، اسے قتل کردیں (آروشی قتل) سالوں سال بچی کو جوان نوکر نوکرانیوں کے درمیان چھوڑ کر ماں باپ دولت کمانے نکل جاتے ہیں، بچہ پیچھے کالج میں دوستوں کے ساتھ، لیپ ٹاپ پر، آئی پیڈ پر کیاکرتا ہے آپ کو خبر نہیں، جب شیطان بچہ کے پیار، محبت کے بھوکے ذہن پر ڈاکہ ڈال چکا ہوتا ہے تو آپ کواچانک ایک حادثہ کے تحت حقیقت سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور آپ اچانک انتہائی مشرقی مرد یا باغیرت بن جاتے ہیں اور اپنے جرم کو بھول کر پوری سزا بچہ کو دے دیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ضمیر کا بوجھ اور غیرت کا تقاضہ پورا کردیا۔
          حال کے دنوں میں جدید ہندوستانی سماج کی کشمکش مختلف بڑی بڑی خبروں کے حوالہ سے ایک بار پھر اُجاگر ہورہی ہے بڑے بڑے لال بجھکڑ چینلوں پر بیٹھ کر سخت قانون، عورتوں کی آزادی مردوں کے دماغ درست کرنے کی تراکیب وغیرہ وغیرہ پر غور کررہے ہیں اور حال یہ ہے کہ جس عطار کے لڑکے کی وجہ سے بیمار ہوئے اسے ہی معالج بنائے رکھنے کی ضد بھی ہے، ورنہ بیک وارڈ اور دقیانوسی کا طعنہ سہنا پڑے گا۔ ترون تیج پال کا معاملہ، سپریم کورٹ کا فیصلہ کہ بغیر شادی کے ساتھ رہنے والے جوڑوں کے بچوں اور خمار اترنے کی صورت میں علاحدگی پر خاتون کے تحفظ کا بندوبست ہونا چاہیے، گجرات میں ایک نوجوان بچی کی صوبہ کے بڑے نیتاؤں کے ذریعہ جاسوسی اور دہلی میں ایک ڈاکٹر خاتون جو کہ موجودہ M.P. کی بیوی بھی ہیں کے ذریعہ اپنی نوکرانی کا بے رحمانہ قتل (پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق قاتلہ ڈاکٹر نے مقتولہ پر ۲۸ وار کیے ہیں جن میں ۹ سرپر ہوئے ہیں)۔
          یہ پچھلے ایک دو ہفتہ کی سرخیوں والی خبریں ہیں جو بتارہی ہیں کہ سماج میں اندر اندر کیا چل رہا ہے۔ آج کی نام نہاد جدید تہذیب جسے بجا طور پر ”جاہلیتِ جدیدہ“ کہا گیا ہے، وہ ہزاروں سال پرانے اصول، ضوابط، اخلاقیات سب کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے اور یہ سب علم، سائنس اور ترقی کے نام پر کیاجارہاہے؛ جبکہ یہ ساری گمراہی سراسر غیرعملی، غیرسائنسی اور غیرحقیقی ہے۔ مثال کے طور پر جدید مغربی تہذیب نے مساواتِ مردو زن کا نعرہ زور شور سے بلند کیا؛ مگر قانونی اور جسمانی ساخت اور جسمانی افعال کا فرق سازشاً بحث میں نہیں لایاگیا۔ ہر دو صنف کو ہر طرح کے کام ، حالات اور ذمہ داریوں کا حقدار بتایاگیا؛ جبکہ ہر دو صنفوں میں بناوٹ، مزاج اورافعال کا فرق بالکل واضح ہے اور یہ فرق سائنس، تجربہ اور تاریخ ہر ایک سے ثابت شدہ ہے۔ یہ بہتر اور کمتر کا معاملہ نہیں؛ بلکہ مختلف صلاحیتوں کا معاملہ ہے، جسے شیطانی اغراض کے تحت بہتر وکمتر کی کشمکش بناکر شیطانی تہذیب نے عالمِ انسانیت کا استحصال کیا، خصوصاً خواتین کا۔ کچھ ازلی وابدی حقیقتیں ہیں ان سے سائنسی اعتبار سے انکار ممکن نہیں۔ مردوں کی بیرونی اندرونی بناوٹ، مختلف ہارمون کا پایا جانا، ان ہارمون کے مختلف کیمیائی اثرات اور نفسیاتی اثرات ایسی گھلی ہوئی حقیقتیں ہیں کہ ان کا انکار ہی خللِ دماغ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک دوسرے صنف کے لیے جنسی کشش سے کبھی کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس سب حقائق کے باوجود آپ بضد ہیں کہ دونوں کو ایک ساتھ رکھیں گے، ایک جیسی ذمہ داریاں دیں گے، ایک جیسے کپڑے پہنائیں گے، ایک جیسے کام کرائیں گے وغیرہ؛ مگر عملاً جدید جاہلیت کے دعویداروں نے آج تک اس خوشنما جال میں پھانس کر خواتین کے جسمانی، نفسیاتی، جنسی استحصال کو صرف بڑھاوا ہی دیا ہے۔ اس شیطانی تہذیب کے علمبرداروں نے کہیں بھی اہم کلیدی شعبوں اور عہدوں پر خواتین کو مقرر نہیں کیاہے۔ امریکہ کی آزادی کی تقریباً ۳۰۰ سال کی تاریخ میں ایک بھی خاتون صدر، خاتون آرمی چیف، خاتون پنٹاگن چیف نہیں مقرر ہوا۔ برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کے علاوہ کون نام نظر آتا ہے، اگر کسی ایک بھی شعبہ میں جو کہ سب سے اہم بھی مانا جاتاہو، خواتین کو عملاً ذمہ داریاں دنیا میں انھیں علمبرداروں نے نہیں دی ہیں جوکہ اس کے دعویدار ہیں تو اس کا مطلب یقینا یہ ہی ہے کہ صلاحیتوں میں اختلاف ہے۔ اور یہ عیب نہیں ہے یہ خالقِ کائنات کی طرف سے دنیا کا نظام چلانے کا منصفانہ نظام ہے۔ جدید جاہلیت کے علمبرداروں نے اس منصفانہ نظام کو ظالمانہ اور غلامانہ بتاکر انھیں آزادی اور برابری کا وہ خواب دکھایا، جس کی بھیانک تعبیر آج ساری دنیا بکھرتے رشتوں، ٹوٹتے خاندانوں، جنسی جرائم، ہم جنس پرستی، بڑھتی شرحِ طلاق، بغیر نسب کی نسل، کنواری مائیں، ایڈس، جسم فروشی، خودکشی، بوڑھاپے کی مایوسی اور تنہائی (خصوصاً خواتین) جیسے لاتعداد مسائل کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ بے حیائی، بے قید آزادی، بے لگام جنسی اختلاط اور اوپر سے میڈیا اور اشتہارات کی انڈسٹری نے سماج میں عورت کی جنسی کشش کو ہی عورت بناکر اتنا پیش کیاکہ سماج میں پوری طرح سے جنسی بارودی سرنگیں بھردی ہیں، جنھیں شیطانی وسوسہ کی ذراسی لہر دھماکہ میں تبدیل کرکے زندگیوں، خاندانوں اور سماج کو تباہ کررہی ہے۔ جب ایسی کوئی بارودی سرنگ پھٹ کر خبر بن جاتی ہے، تو پھر یہی جنس کا کاروبار کرنے والے چینلوں اور اخباروں میں عدالتیں سجاکر عورت کے حمایتی بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور سخت سے سخت سزا اور فوری سزا (مگر عورت زیادہ سے زیادہ آزادی اور ہر جگہ موجودگی پر اصرار کے ساتھ) کی مانگ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جتنا قانون بنا رہے ہیں، معاملہ اتنا الجھ رہا ہے۔ قانون تو آپ نے بنادیا کہ اگر کوئی خاتون کو چھوبھی لے گا، گھور کر دیکھ لے گا، کچھ اشارہ کردے گا تو وہ بھی جرم ہوگا۔ اب ہر مرد اور عورت اپنے آپ کو اس جگہ رکھ کر تصور کرے کہ آفس، کلاس روم، کوچنگ، ٹرین، میٹرو، سٹی بس وغیرہ کے ماحول میں اور میڈیا کی تمام جنسی اکساہٹ (فلمیں اور لٹریچر سمیت) کے بعد کیا مندرجہ بالا قوانین پر عمل کرنا آسان ہے؟ فرشتوں یا کم سے کم صوفی ہستیوں سے ہی یہ توقع رکھی جاسکتی ہے۔ نارمل مرد اور عورت سے یہ توقع کرنا بے وقوفی ہی ہے اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے لال بجھکڑ سخت سزا کی بات کرتے ہیں؛ مگر کسی بھی حفاظتی تدبیر خصوصاً صنفوں کی علاحدگی کی شدومد سے مخالفت کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے سخت قوانین اور تیز انصاف کی بات کرتے ہیں؛ مگر وہاں پر جنسی اختلاط پر پابندی ہے، اس سے نظریں چراتے ہیں؛ بلکہ مذاق اڑاتے ہیں۔ حفاظتی تدبیر کے نام پر محافظ رکھو، کمیٹی بناؤ، سی سی ٹی وی کیمرہ لگاؤ سب کچھ ہے، مگر یہ نہیں ہے کہ دونوں کے ساتھ ساتھ ہی کیوں رکھو؟ ساتھ ساتھ اسکورلنگ کے کیا فائدے ہوتے ہیں؟ ساتھ ساتھ بسوں میں یا دوکانوں میں جانے کے کیا فائدے ہوتے ہیں، اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا جاتا۔ بس ضد ہے کہ ترقی کی یہ علامت ہے کہ ساتھ ساتھ پڑھیں؛ بلکہ اب تو ہاسٹل میں بھی ساتھ ساتھ رہنے کی پابندی کی بات ہورہی ہے کہ اس سے ”اعتماد“ پیدا ہوتا ہے۔ اس کلچر کو فروغ دینے کے لیے کروڑوں لوگوں کو ”ریالٹی شو“ جیسے فحش اور شیطانی سیریل کروڑوں روپیہ خرچ کرکے دکھائے جاتے ہیں۔
          قانونی لحاظ سے ہمارے سپریم کورٹ نے بھی اس فساد کو پیدا کرنے میں پورا تعاون یہ کہہ کر کیاہے کہ اگر شادی کے علاوہ جنسی روابط بنائے گئے ہیں اوراس میں زور زبردستی نہیں ہوئی ہے تو یہ جرم نہیں ہے۔ اب اتنی بڑی شیطانی چھوٹ کے بعد آپ اگر عقل رکھتے ہیں تو خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ آج جو کچھ ہورہا ہے، وہ ہمارے اِن لال بجھکڑوں کی اُلٹی سیدھی تدبیروں اور سماج کو جنس کا غلام بناکر سماجی ذمہ داریوں سے بھگانے کی سازش کا ہی نتیجہ ہے، جس کے مظاہر ہم آج دن رات دیکھ رہے ہیں۔
          خواتین کی کسی بھی ترقی تعلیمی، معاشی، معاشرتی، تخلیقی کے لیے مخلوط سوسائٹی ناگزیر شرط نہیں ہے۔ ناگزیر ضرورت بھی نہیں؛ مگر اس پر دن رات اصرار بڑھ رہاہے کہ نہیں انھیں ساتھ ساتھ رکھنا ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ جنس کا داعیہ انسانوں میں بھوک کے بعد سب سے بڑا داعیہ ہوتا ہے۔ اب جو معاشرہ اتنے زبردست داعیہ کو بے لگام چھوڑ دے اوراس کو بے لگام کرنے کے اسباب لباس، نشست وبرخواست، ہیجان انگیز لباس اور ماحول سب کچھ مہیا کرادے، پھر امید کرے کہ سب ٹھیک ٹھاک رہے گا تو کیا عقلاً ممکن ہے۔ اتنا سب خلافِ فطرت رویہ اپناکر ہم اچانک مشرقی بھی بن جاتے ہیں۔ بیٹی کو کسی کے ساتھ دیکھ لیا، اسے قتل کردیا، بیوی کو دیکھ لیا آگ لگادی، محبوبہ کو کسی کے ساتھ بات کرتے دیکھ لیا تیزاب ڈال دیا، یہ سب کیا ہے۔ یا تو مکمل جانور بن جانا چاہیے (بے غیرت بے حس) اور اگر غیرت، حس، عزت، آبرو نامی الفاظ کے معانی بھی قدروقیمت رکھتے ہیں، تو ان الفاظ کی آبرو بھی رکھنی ہوگی۔ منافقانہ طرزِ عمل جو ہم نے آج اپنا رکھا ہے کہ فتنہ وفساد کے تمام اسباب مہیا کرادو اور پھر ”کھلاپن“ اور مخلوط معاشرہ بھی پروان چڑھایا جائے اورامید رکھی جائے کہ کوئی گھورے گا نہیں، چھیڑے گا نہیں، چھوئے گا نہیں، آنکھوں سے اشارہ بھی نہیں کرے گا، جسم سے بھی اشارہ نہیں کرے گا ، کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کبھی بھی ایساہوا ہے؟ کیا آج کا نام نہاد مغربی یا مغرب زدہ معاشرہ اسی فساد کی آخری انتہاؤں پر پہنچ کر واپسی کی راہ نہیں تلاش رہا ہے؟ کیا آج پھر وہاں ”بنیادوں کی طرف واپسی“ کی لہر نہیں چل رہی؟ جس روش سے اس کے موجد ہی عاجز ہوکر پناہ مانگ کر تائب ہورہے ہیں، اس روش کی اندھی نقل کرنے پر ہمیں کون مجبور کررہا ہے؟ اس مہم کو چلانے والے مغرب کی وظیفہ خوار، کارپوریٹ میڈیا، میک اپ کا سامان بنانے والی کمپنیوں کے اربوں روپیہ کے مقابلہٴ حسن اور اشتہارات اور اِن کے خریدے ہوئے نام نہاد حقوقِ نسواں کے دعویدار، ماڈلنگ کے نام پر سماج میں جسم کی نمائش کو پروان چڑھانے والے میڈیا گروپ، اسکول، تعلیمی ادارہ وغیرہ وغیرہ ہی اصل میں خواتین کے خلاف ہورہی زیادتیوں اور اخلاقی فساد وجنسی بے راہ روی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ان تمام طاقتوں کے خلاف خواتین کے ہر حقیقی بہی خواہ کو اٹھ کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ سماج میں کسی کی بھی عزت وآبرو، جان ومال محفوظ نہیں رہے گی۔ صرف سخت قوانین ہی نہیں؛ بلکہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنی بھی ضروری ہے، جو کہ اصلاً فطرت کا منشاء بھی ہے۔
***

آزادی کی آڑ میں پیغمبرِانقلاب کی تعلیمات میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ بس غلامی کے طوق کو اتار پھینکنے سے تمہاری آخرت سنور جائے گی اور بس!





مذہبی آزادی - بقائے باہم کا ایک درخشاں اصول

(قرآن وسنت کے تناظر میں)









اسلام ایک استدلالی وعقلی اور مبرہن ومدلل مذہب ہے۔ جسے مالک الملک نے ایک اصول وضابطے کی شکل میں کائنات انسانی میں بسنے والے لوگوں کے لئے طے کرکے دنیا میں اتار دیا ہے۔ یہ انسان کے لئے زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں اس کی مکمل رہنمائی کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، اس کی تبلیغ و دعوت کے اصول حکمت و دانشمندی، وعظ و تلقین اور بحث ومباحثہ پر قائم ہیں۔ پیغمبراسلام صلى الله عليه وسلم پر جو صحیفہٴ ربانی نازل ہوا، اس نے سب سے پہلے عقل انسانی کو مخاطب کیا۔اور غور وفکر، فہم و تدبر کی دعوت دی کہ اسلام اپنی کسی بھی تعلیم کو لوگوں پر زبردستی نہیں تھوپتا ہے۔ بلکہ وہ لوگوں کو غور وفکر کا موقع فراہم کرتا ہے۔ حق وباطل کے امتیاز کو واضح کرتا ہے۔ ضلالت وگمراہی اور نجات و فلاح کے راستے سے لوگوں کو روشناس کراتا ہے پھر یہ کہ جو مذہب اپنی ترویج واشاعت کے لئے دعوت و تبلیغ، ارشاد و تلقین کا راستہ اختیار کرنے اور سوچنے سمجھنے کا لوگوں سے مطالبہ کرتا ہو، وہ بھلا کیوں کسی مذہب کے پیروکاروں کو جبر وکراہ کے ذریعہ اپنے مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور زور زبردستی اختیار کرے گا۔متعصبین اور معاندین اسلام اس کی اشاعت کو فتوحات اور ملکی محاربات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھک رہی ہے کہ، اسلام کو بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ اسلام نے اپنی ذاتی خوبیوں اور محاسن سے لوگوں کو اپنا مطیع فرمان نہیں بنایا بلکہ اپنی طاقت و قوت سے جبر واکراہ کے ذریعہ دین اسلام کا قلاوہ ان کی گردن میں ڈال دیا ہے اور اسی جبر واکراہ نے امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ رضا ورغبت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لیکن ہم تعلیمات اسلام کی روشنی میں اس قسم کی مسموم ذہنیت رکھنے والوں کے باطل خیالات کو پرکھیں گے، کہ قرآنی آیات اور تعلیمات نبوی صلى الله عليه وسلم میں مذہبی آزادی کے سلسلہ میں کیا احکام وتعلیمات موجود ہیں اوراسلام کے ماننے والے ان تعلیمات پر کتنا عمل پیراہوئے ہیں۔



اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو طویل معرکہ آرائیوں سے سابقہ پڑا ہے۔ ان کے یہ محاربات جارحانہ ہوں یا مدافعانہ، فتوحاتِ ملکی کے لئے ہوں یا اعلاء کلمة اللہ کے لئے، ان تمام محاربات و فتوحات کا مقصد اور حاصل یہ نہ تھا کہ کسی کو بزورِ شمشیر اور حکومت و اقتدار کے بل بوتے پر مسلمان بنایا جائے اسلام نے تو صرف اور صرف اپنی خوبیوں اور محاسن سے عالم میں رسوخ اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس نے جس تیزی کے ساتھ اقوام وملل کے اذہان و قلوب کو مسخر کیا اس طرح کی نظیر دوسرے مذاہب میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ یہ بات کہ اسلام میں کوئی زور و زبردستی نہیں ہے، اس کو ثابت کرنے کے لئے شریعت اسلام کے اصول، رسول صلى الله عليه وسلم کے اوصاف وخصائل اخلاق حمیدہ وطریقہ تعلیم اور پھر آپ کے بعد آپ کے صحابہ کا طرز عمل یہ ساری چیزیں تاریخ میں محفوظ ہیں۔ شریعت اسلام نے بہ زور و تخویف کسی کو مسلمان بنانے کی سخت ممانعت کی ہے قرآن کی متعدد آیات اس بات پر شاہد عدل ہیں۔



(۱) لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللّٰہ فقد استمسک بالعروة الوثقٰی لا انفصام لہا واللّٰہ سمیع علیم. (سورہ البقرة ۲۵۶)



ترجمہ: زبردستی نہیں ہے دین کے معاملہ میں بے شک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے اب جب کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والوں کو اور یقین لائے اللہ پر تو اس نے پکڑلیا حلقہ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ جانتا اور سنتا ہے۔



(۲) افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین. (یونس ۹۹)



ترجمہ: کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پرکہ ہوجائیں با ایمان۔



(۳) ولا تسبو الذین یدعون من دون اللّٰہ فیسبو اللّٰہ عدواً بغیر علم. (الانعام۱۰۸)



ترجمہ: اور تم لوگ برا نہ کہو ان کو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا بس وہ برا کہنے لگیں گے بربنائے دشمنی بغیر جانے۔



(۴) ولو شاء ربک لجعل الناس امة واحدة ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک ولذٰلک خلقہم وتمت کلمة ربک لأملئن جہنم من الجنة والناس اجمعین. (ہود:۱۱۸-۱۱۹)

ترجمہ: اوراگر چاہتا تیرا رب تو بنادیتا لوگوں کو ایک جماعت اور لوگ ہمیشہ باہم اختلاف کرتے رہیں گے مگر جن پر رحم کیا تیرے رب نے اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ البتہ بھر دوں گا دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے۔

(۵) ولو شاء ربک لآمن من فی الارض کلہم جمیعا افانت تکرہ الناس حتّٰی یکونوا موٴمنین. (یونس۹۹)

ترجمہ: اوراگر تیرا رب چاہتا بے شک ایمان لے کر آتے جتنے لوگ کہ زمین میں ہیں سارے۔

(۶) ولو شاء اللّٰہ ما اشرکوا. (الانعام:۱۰۷)

ترجمہ: اوراگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے۔

(۷) ان نشأ ننزل علیہم من السماء آیة فظلت اعناقہم لہا خاضعین. (الشعراء:۴)

ترجمہ: اگر ہم چاہیں تو اتار دیں ان پر آسمان سے ایک نشانی پھر ہوجائیں ان کی گردنین ان کے آگے نیچی۔

(۸) انک لا تہدی من احببت ولکن اللّٰہ یہدی من یشاء وہو اعلم بالمہتدین. (القصص:۵۶)

ترجمہ: تو راہ پر نہیں لاسکتا جس کو تو چاہے لیکن اللہ راہ پر لاتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے۔

(۹) وما انت علیہم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید. (ق:۴۵)

ترجمہ: تو نہیں ہے ان پر زور کرنے والا سو تو سمجھا قرآن سے اس کو جوڈرے میرے ڈرانے سے۔

(۱۰) فذکر انما انت مذکر لست علیہم بمصیطر. (الغاشیہ: ۲۱-۲۲)

ترجمہ: سو تو سمجھائے جا تیرا کام سمجھانا ہے تو نہیں ہے ان پر مسلط۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے انسانوں کو ارادہ واختیار کی آزادی دی ہے۔ اور رد و قبول کے فیصلوں کو اس کے ہاتھوں سونپ دیا ہے۔ دین ومذاہب کے سلسلے میں وہ بالکل آزاد ہیں۔ چاہے تو قبول کرکے اپنی دنیا وآخرت کو سنواریں،اور چاہے تو انجامِ بد کے لئے تیار ہوجائیں۔ کیونکہ اسلامی ریاست کے ذریعہ ان پر زور زبردستی، طاقت وقوت اور جبر واکراہ اور حکومت واقتدار کا استعمال کرکے اپنا ہم مذہب بنانا ناجائز ہے۔ اسی لئے تمام انبیاء ورسل کو اللہ نے پیغام رساں بنایا اور انہیں حکم دیا کہ صرف میرا پیغامِ حق ان تک پہنچادو، تم پھر اپنے فرضِ منصبی سے آزاد ہو۔ تمہارا کام صرف پیغام رسانی کا ہے۔ وہ اپنے مذہبی رسم ورواج، دین ومذہب کے افعال واعمال کی ادائیگی میں قطعی طور پر کسی کے پابند نہیں ہیں حق و باطل کا فیصلہ تو ہم کریں گے۔ لا اکراہ فی الدین کی آیت کے ذیل میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں:

”لا یتصور الاکراہ فی ان یومن احد اذ الاکراہ الزام الغیر فعلا لایرضی بہ الفاعل وذا لایتصور الا فی افعال الجوارح واما الایمان فہو عقد القلب وانقیادہ لایوجد بالاکراہ“ (تفسیرمظہری،ج:۱، ص:۲۸۰)

کسی کے ایمان قبول کرنے کے باب میں مجبور کرنے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مجبور کرنے کا مطلب ہے کسی کے سر ایسا کام تھوپ دیا جس کو وہ ناپسند کرتا ہے لہٰذا یہ چیز افعال وجوارح میں تو پائی جاسکتی ہے لیکن ایمان جو تصدیق قلبی اور انقیاد محض کا نام ہے دباؤ کے ساتھ نہیں پایا جاسکتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں:

”اس اصل عظیم کا اعلان کہ دین واعتقاد کے معاملے میں کسی طرح کا جبر واکراہ جائز نہیں۔ دین کی راہ دل کے اعتقاد و یقین کی راہ ہے۔اور اعتقاد دعوت وموعظت سے پیداہوسکتا ہے نہ کہ جبر واکراہ سے۔ احکامِ جہاد کے بعد بھی یہ ذکر اس لئے کیاگیا تاکہ واضح ہوجائے کہ جنگ کی اجازت ظلم وتشدد کے انسداد کے لئے دی گئی ہے نہ کہ دین کی اشاعت کے لئے۔ دین کی اشاعت کا ذریعہ ایک ہی ہے اور وہ دعوت ہے۔ (مولانا ابوالکلام آزاد: ترجمان القرآن ص:۲۳۲ جلد دوم)

اس میں کچھ تردد شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم خداوندی اور عہدنامہٴ رسول کی پاسداری کی ہے بلکہ ان احکامات ومعاہدات کے مطیع و فرمانبردار بن کر رہے اور ان کا پورا پورا حق ادا کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین نے مختلف اقوام وملل سے جو معاہدے کیے اور ان کے ساتھ جو صلح نامے تیار کئے ان میں ہمیں اسلام کی وسعت نظری کا اندازہ اور دریادلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ غیر اقوام کے لوگوں نے بھی اس چیز کو تسلیم کیا ہے۔ کہ اسلام کس طرح سے غیر مذاہب کے لوگوں کا ادب واحترام محفوظ رکھتا ہے انھیں کس طرح سے مذہبی آزادی، معاشرتی و تجارتی آزادی کی چھوٹ دیتا ہے۔ بطور مثال کچھ معاہدات وصلح نامہ حوالہٴ قرطاس کئے جاتے ہیں اہل نجران کی درخواست پر نبی صلى الله عليه وسلم نے جو انہیں صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے۔“

ولنجران وحاشیتہم جوار اللّٰہ وذمة محمد النبی صلی اللّٰہ علی انفسہم وملتہم، وارضہم واموالہم وغائبہم وشاہدہم وغیرہم وبعثہم وامثلتہم لا یغیر ما کانوا علیہ ولا یغیر حق من حقوقہم. (فتوح البلدان ص ۷۳)

ترجمہ: نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں کے لئے پناہ اللہ کی اور محمد نبی صلى الله عليه وسلم کا عہد ہے ان کے جانوں کے لئے۔ ان کے مذہب ان کی زمین، ان کے اموال، ان کے حاضر وغائب، ان کے اونٹوں ان کے قاصدوں،اور ان کے مذہبی نشانات سب کے لئے جس حالات پر وہ اب تک ہیں اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔

حضرت عمر نے اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ اس طرح ہیں:

اعطاہم امانا لانفسہم واموالہم ولکنائسہم وصلبانہم وسقیمہا وبریہا وسائر ملتہا انہ لا یسکن کنائسہم ولا تہدم ولا ینتقص منہا ولا من صلبہم ولا من مثئی من اموالہم ولا یکرہون علی دینہم ولا یضار احد عنہم. (تاریخ طبری فتح المقدس، ج۴، ص۱۵۹)

ترجمہ: ان کو امان دی ان کی جان ومال اور ان کے کنیسوں اور صلیبوں اور ان کے تندرستوں اور بیماروں کے لئے یہ امان ایلیا کی ساری ملت کے ہے۔عہد کیاجاتا ہے کہ ان کے کنیسوں کو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گا اور نہ ہی ان کو منہدم کیا جائے گا۔ نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے اموال میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا ان پر دین کے معاملے میں کوئی جبر نہ کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو ضرر پہنچایاجائے گا۔

۱۴ھ میں فتح دمشق کا واقعہ پیش آیا حضرت خالد بن ولید نے اس موقع سے جو امان نامہ لکھ کر اہل دمشق کو دیا اس کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

اعطاہم امانا علی انفسہم واموالہم وکنائسہم وسور مدینتہم لا یہدم ولا یسکن شیٴ عن دورہم. (فتوح البلدان ص ۱۲۷-۱۲۸)

ان کو امان دی ان کی جان ومال کے لئے اوران کے کنیسوں اور ان کے شہر کے فصیل کے لئے ان کے مکانات میں سے نہ کوئی توڑا جائے گا اورنہ ہی مسلمانوں کا مسکن بنایا جائے گا۔

حضرت خالد بن ولید نے اہل عانات کو صلح نامہ لکھ کردیا تھا۔

لایہدم لہم بیعة ولا کنیسة وعلی ان یضربوا نواقیسہم فی ای ساعة شاوٴا من لیل او نہار الا فی اوقات الصلاة وعلی ان یخرجوا الصلبان فی ایام عیدہم. (فتوح البلدان ص۸۶)

ان کاکوئی معبد اور کوئی گرجا گھر منہدم نہ کیا جائے گا رات دن میں جس وقت چاہیں اپنے ناقوس بجائیں مگر اوقات نماز کا احترام ملحوظ رکھیں ان کو حق ہوگا کہ اپنے ایام عیدمیں صلیب نکالیں۔

اسلام نے غیرمسلموں کے ساتھ عزت واحترام کا معاملہ کیا اور ان کا کتنا پاس ولحاظ رکھا۔ اگر انھوں نے اسلامی ریاست میں رہنا قبول کرلیا اور ان سے عہد وپیمان ہوچکا تو۔ اب ان کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری قرار پائی۔ اب کسی طرح کی ظلم وزیادتی کا ان کو شکار نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا اندازہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان مبارک سے ہوتا ہے۔

الا من ظلم معاہدًا وانتقصہ او کلفہ فوق طاقتہ او اخد منہ شیئاً بغیر طیب نفس فانا حجیجہ یوم القیامة. (ابوداؤد : حدیث نمبر ۳۰۵۲)

”خبردار جس کسی نے معاہد (غیرمسلم) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اس کی استطاعت سے زیادہ اس سے کام لیا۔ اس کی رضا کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جھگڑوں گا۔ (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن ج:۸، ص:۱۱۵)

حضرت ابوبکررضى الله تعالى عنه جس کسی لشکر کو روانہ فرماتے اس کو یہ ہدایت دیتے تھے:

ولا تہدموا بیعة ولا تقتلو الولدان ولا الشیوخ ولا النساء وستجدون اقوامًا حبسوا انفسہم فی الصوامع فدعوہم، وما حبسوا انفسہم لہ وستجدون آحرین اتخد الشیطان فی روٴوسہم افحاصًا فاذا وجدتم اولیک فاضربوا اعناقہم.

کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو گرجا گھروں میں محبوس کررکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا۔ ان کے علاوہ تمہیں کچھ دوسرے لوگ ملیں گے جو شیطانی سوچ کے حامل ہیں جب تمہیں ایسے لوگ ملیں تو ان کی گردنیں اڑادینا۔ (البیہقی، السنن الکبریٰ، جلد ۹، ص:۸۵، عبدالرزاق المصنف ۵-۱۹۹)

ایک فعہ حضرت عمرو بن عاص ولی مصر کے بیٹے نے ایک غیرمسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفہ وقت امیرالمومنین حضرت عمر رضى الله تعالى عنه کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو انھوں نے سرعام گورنرمصر کے بیٹے کو اس غیرمسلم مصری سے سزادلوائی اور ساتھ ہی فرمایا تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔

حضرت عمر رضى الله تعالى عنه نے بیت المقدس کے کلیسا کے ایک گوشے میں نماز پڑھی پھر خیال آیا کہ کہیں مسلمان میری نماز کو حجت قرار دے کر عیسائیوں کو نکال نہ دیں اسلئے ایک خاص عہد نامہ لکھواکر بطریق (پادری) کو دیا۔ جس کی رو سے کلیسا کو عیسائیوں کیلئے مخصوص کردیاگیا۔ اور یہ پابندی لگادی گئی کہ ایک ہی مسلمان کلیسا میں داخل ہوسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ (اسلامی ریاست، امین احسن اصلاحی،ص:۲۹)

علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:

”حضرت عبداللہ بن عباس کا فتوی بھی اس لحاظ سے تھا کہ اس وقت تک مسلمان اور دوسری قومیں اچھی طرح ملی بھی نہیں تھیں۔ لیکن جب یہ حالت نہیں رہی، تو وہ فیصلہ بھی نہیں رہا۔ چنانچہ خاص اسلامی شہروں میں اکثریت کے ساتھ گرجا، بت خانے، آتش کدے بنے کہ ان کا شمار نہیں ہوسکتا۔ بغداد خاص مسلمانوں کا آباد کیا ہوا شہر ہے۔ وہاں کے گرجوں کے نام مجمع البلدان میں کثرت سے ملتے ہیں۔ قاہرہ میں جو گرجے بنے وہ مسلمانوں ہی کے عہد میں بنے۔ (رسائل شبلی)

اسلام قطعی طور پر مذہب کے سلسلہ میں جبر واکراہ کو سرے سے خارج قرار دیتا ہے۔ اس لئے کہ اسلام صرف ظاہری و روایتی رسوم کا نام نہیں ہے بلکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اپنی دعوت و تبلیغ کا نشیمن بنانا چاہتا ہے۔ وہ انسان کے خرمن دل کو نور ایمانی سے منور کرنا چاہتا ہے۔ کیسا اسلام اسے درکار ہے کیسے دین و مذہب کا متقاضی ہے سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

”اسلام کی دو حیثیت ہے ایک حیثیت میں وہ دنیا کے لئے اللہ کا قانون ہے۔ دوسری حیثیت میں وہ نیکی و تقویٰ کی جانب ایک دعوت اور پکار ہے۔ پہلی حیثیت کا منشاء دنیا میں امن قائم کرنا ہے اس کو ظالم و سرکش انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانا اور دنیا والوں کو اخلاق وانسانیت کے حدود کا پابند بنانا ہے۔ جس کے لئے قوت وطاقت کے استعمال کی ضرورت ہے لیکن دوسری حیثیت میں وہ قلوب کا تزکیہ کرنے والا ارواح کو پاک وصاف کرنے والا، حیوانی کثافتوں کو دور کرکے بنی آدم کو اعلیٰ درجہ کا انسان بنانے والا ہے۔ جس کے لئے تلوار کی دھار نہیں بلکہ ہدایت کا نور، دست و پاکا انقیاد نہیں بلکہ دلوں کا جھکاؤ اور جسموں کی پابندی نہیں بلکہ روحوں کی اسیری درکار ہے۔اگر کوئی شخص سرپر تلوار چمکتی ہوئی دیکھ کر لا الٰہ الا اللہ کہہ دے مگر اس کا دل بدستور ماسوی اللہ کا بتکدہ بنارہے تو دل کی تصدیق کے بغیر یہ زبان کا اقرار کسی کام کا نہیں اسلام کے لئے اس کی حلقہ بگوشی قطعاً بیکار ہے۔ (الجہاد فی الاسلام،ص:۱۶۵)

علامہ سید سلیمان ندوی اپنے مقالہ ”ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کیوں کر ہوئی“ میں لکھتے ہیں: ”تمام دنیا کے مذاہب میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے یہ فلسفہ دنیا میں ظاہر کیا کہ ”مذہب یقین کا نام ہے اور یقین تلوار کی دھار اور نیزہ کی نوک سے نہیں پیدا کیا جاسکتا“ (بحوالہ غیرمسلموں سے تعلقات اور مذہبی رواداری، مفتی سرور فاروقی، جمعیت پیام امن)

آپ صلى الله عليه وسلم اور سلاطین اسلام مذہبی آزادی اور رواداری کے ایسے نقوش چھوڑ گئے جس کی مثال پیش کرنے سے دنیا کی (قدیم وجدید تاریخ) قاصر ہے غزوئہ خیبر میں جو مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا اس میں توریت کے متعدد نسخے تھے۔ یہودیوں نے درخواست کی وہ ان کو عطا کردئیے جائیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ یہ سب صحیفے ان کے حوالے کردئیے جائیں۔ یہودی فاضل ڈاکٹر اسرائیل ولفنسون اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

”اس واقعہ سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان مذہبی صحیفوں کا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دل میں کس درجہ احترام تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کی اس رواداری اور فراخ دلی کا یہودیوں پر بڑا اثر پڑا۔ وہ آپ کے اس احسان کو کبھی بھول نہیں سکتے کہ آپ نے ان کے صحیفوں کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جن سے ان کی بے حرمتی لازم آتی ہو۔ اس کے بالمقابل انہیں یہ واقعہ بھی خوب یاد ہے کہ جب رومیوں سے یروشلم کو سن ۷۰ قبل مسیح میں فتح کیا تھا تو انھوں نے ان مقدس صحیفوں کو آگ لگادی اور ان کو اپنے پاؤں سے روندا۔ اسی طرح متعصب نصرانیوں نے اندلس میں یہودیوں پر مظالم کے دوران توریت کے صحیفے نذر آتش کئے یہ ہے وہ عظیم فرق جو ان فاتحین (جن کا ابھی ذکر گذرا ہے) اور اسلام کے نبی کے درمیان ہمیں نظر آتا ہے۔ (تاریخ الیہود فی بلاد العرب ص۱۷۰) (ماخوذ رسول اللہ کی انسانیت نوازی عبدالعلیم حبیب ندوی، ادارہ احیاء علم لکھنوٴ)

ایک اور فاضل موٴرخ مسٹرجیسن جو ایک بے باک تاریخ داں ہیں جنھوں نے موجودہ دور کے تمام عیسائیوں اور مسلم موٴرخوں کی تحریروں کا بہت ہی باریک بینی سے اور ناقدانہ مطالعہ کیا ہے، لکھتے ہیں:

”آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے نہایت فراخدلی کے ساتھ اسلامی مملکت میں آباد عیسائیوں کی جان، ان کی تجارت اور ان کے مال واسباب اور مذہبی امور کی ادائیگی اور ہر قسم کے تحفظ کی ضمانت دے دی۔ اور رواداری کے اصول پر نہ صرف خلفائے راشدین ہی نے پوری سختی سے عمل کیا تھا بلکہ تمام عرب حکمراں بھی رواداری کے اس اصول پر کاربند رہے۔ اسلام اورمسلمانوں کے عروج کی تاریخ رواداری، بے توجہی اور ان کے اعلیٰ قدروں کو اجاگر کرنے کی تاریخ ہے۔ اس دور کی مسلمانوں کی سلطنتیں ستم رسیدہ، یہودیوں،اور نسطوری، یعقوبی اور دوسرے عقائد رکھنے والے عیسائیوں کی پناہ گاہ تھیں اور ان کے مذہبی عقائد سے اختلاف کے باوجود مسلم ممالک میں انھیں پناہ لینے کی کھلی آزادی تھی۔ بلکہ انھیں مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اپنی عبادت گاہوں کو تعمیر کرنے کی بھی آزادی حاصل تھی“۔ (بحوالہ اسلام اور رواداری ص:۵۹، دعوت، دہلی ۱۳ ستمبر ۱۹۸۳/)

ہملٹن نامی ایک انگریز سیاح جو باشاہ عالمگیر کے زمانے میں ہندوستان آیا تھا وہ اپنے سفرنامے میں مختلف شہروں کا عینی مشاہدہ درج کرتے ہوئے شہر ٹھٹھ کے متعلق لکھتا ہے:

”حکومت کا مسلمہ مذہب اسلام ہے۔ لیکن تعداد میں اگر دس ہندو ہیں تو ایک مسلمان ہے، ہندوؤں کے ساتھ مذہبی رواداری پوری طرح برتی جاتی ہے۔ وہ اپنے برت رکھتے ہیں، پوجا پاٹ کرتے ہیں اور تہواروں کو اسی طرح مناتے ہیں جیسے کہ اگلے زمانے میں مناتے تھے۔ جبکہ بادشاہت ہندوؤں کی تھی۔ (سفرنامہ ہملٹن، ج:۱، ص:۱۲۷-۱۲۸)

سرولیم میور نے لکھا:

”رسول خدا نے بنی حارث اور نجران کے پادریوں کو پوری مذہبی آزادی دینے کا اقرار کیا تھا۔ وہ اپنے طریقے پر اپنے گرجاؤں میں جس طرح چاہیں عبادت کریں بشپ اور راہب اپنی جگہ پر بحال رہیں جب تک یہ لوگ امن وامان کے ساتھ رہیں ان کے ساتھ کچھ تعرض نہ ہوگا۔ (لائف آف محمد جلد دوم ص۲۹۹)

دین ومذہب کے سلسلے میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری اقوام نے کیا سلوک و برتاؤ کیا، کس طرح سے انھیں مذہبی جبر واکراہ کا شکار بنایا اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں آج تک محفوظ ہے۔ کہ اندلس کی سرزمین پر مسلمانوں نے کئی سو سال تک حکومت کی اور وہاں کے چپہ چپہ پر اسلامی تہذیب وثقافت کی یادگاریں قائم کیں۔ لیکن جب حکومت واقتدار ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ادبار نے ان کو آگھیرا تو عیسائیوں نے ان کے ساتھ کیسی سفاکی و درندگی کا مظاہرہ کیا۔ ایک انگریز مورخ کی زبانی سنئے وہ لکھتا ہے:

”غرناطہ کے سقوط کے بعد ان تمام عربوں کی موت تھی۔ جنھوں نے اسپین پر سات سو اکیاسی (۷۸۱) سال (۷۱۱-۱۴۹۲) تک حکومت کی، فردی ننڈ سے معاہدہ تو ضرور ہوگیا تھا۔ لیکن اس پر عمل کرنے کا اس کا مطلق ارادہ نہ تھا۔ اس نے غرناطہ پر قبضہ کرلیا۔ یہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ اپنی سیاسی زندگی میں ذاتی مفاد کی خاطر ہر چیز کو قربان کرسکتا تھا۔ اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ عربوں کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے مذہب اور طرز زندگی کو ترک کرکے یہاں کے باشندوں میں ضم ہوجائیں۔ وہ اپنے مذہبی قوانین میں تبدیلی اس طرح کرتا رہا کہ سارے مسلمان کیتھولک بنے رہیں۔ مسلمانوں پر عبادت کرنے کی پابندی عائد کی گئی۔ پھر وہ کھل کر اس اعلان کے ساتھ سامنے آگیا کہ وہ مسلمان جو عیسائیت قبول نہ کریں ملک بدر کردئیے جائیں۔ غرناطہ میں کہرام مچ گیا، مگر کوئی سماعت نہیں ہوئی مسلمان گرجا جاتے عیسائیوں کی طرح عبادت کرتے، مگر گھر آکر توبہ استغفار کرتے۔ “ (ہسٹری آف دی ورلڈ جلد ششم حصہ دوم ص ۲۵۸)

سنگدلی اور بے رحمی کی یہی تاریخ صقلیہ میں بھی دہرائی گئی۔ جہاں عربوں نے دوسوسال تک حکومت کی تھی۔ لیکن جب ۱۰۷۲ میں پلرمو کی لڑائی میں شکست ہوئی تو جس طرح مسلمانوں کو تباہ کیا وہ بھی ایک موٴرخ کی زبانی سنئے:

”پلرمو میں پانچ سو مسجدیں تھیں، ان کو منہدم کرکے گرجا گھر میں تبدیل کردیا گیا۔ وہاں علماء صوفیا اور حکماء کی جتنی قبریں تھیں، سب نیست و نابود کردی گئیں۔ چارلس دوم کے زمانے میں سسلی کے مسلمانوں کو زبردستی عیسائیوں کا بپتسہ دیاگیا۔ نوسیرا اور بوسیرا کے مسلمانوں کی تعداد اسّی (۸۰) ہزار تھی ان کو زبردستی عیسائی بنالیاگیا۔ ساری جگہیں مسلمانوں سے خالی کرالی گئیں۔ (ہسٹری آف ورلڈ ۹۰/۸۲)

اسلام نے دوسرے مذاہب وادیان کے ماننے والوں کو کتنا عزت وتوقیر سے نوازا، ان کو کس طرح کی مذہبی آزادی دی اور کس طرح ان کے حقوق کا پاس ولحاظ رکھا۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں نے کیا طریقہ کار اپنایا کس طرح سے ان کی عزت وناموس سے کھلواڑ کیا اور ان کے مذہبی حقوق کو چھین لیا۔ اور ان کو اپنا دین ومذہب ماننے پر مجبور کیا۔ ہم نے انھیں کی زبانی مندرجہ بالا سطروں میں ملاحظہ کیاہے۔ یہ ہے وہ واضح فرق اسلام میں اور دوسرے ادیان ومذاہب میں اسلام جیسی وسعت قلبی دنیا آج تک پیش کرنے سے قاصر ہے۔

قرآن کریم اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور خلفاء راشدین وسلاطین اسلام نے مذہبی آزادی کے معاملے میں جس وسعت ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے اور جتنا انھوں نے دین ومذہب کے سلسلہ میں استغنا سے کام لیا اس کی مثال اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ دوسرے مذہب کی تعلیمات میں اور ان کے ماننے والوں میں مذہبی امور کو انجام دینے کی اس طرح کی آزادی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ مذہبی آزادی اسلام میں کتنی ہے اس کے ثبوت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے کوئی کمیٹی یا کوئی ادارہ قائم نہیں کیاگیا۔ اسلامی ریاست میں یہود ونصاریٰ پوری آزادی کے ساتھ مذہبی امور کو ادا کرتے تھے ان کو بھی ملت اسلامیہ میں وہی حقوق حاصل تھے جو خود مسلمانوں کو حاصل تھے ان کے جان ومال کی وہی قدروقیمت تھی جو ایک مسلمان کے جان ومال کی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے اگر اس قسم کی تدبیریں کی جاتیں جو دوسرے ادیان و مذاہب کی ترویج واشاعت کیلئے اختیار کی گئی ہیں، تو بلاد اسلام میں کسی غیر مذہب یا اس کے ماننے والوں کا وجود بھی باقی نہ رہتا۔ اسلام کی ذاتی خوبیوں اور سادہ تعلیم کے ساتھ اگر سامانِ رضا ورغبت کو بھی جمع کردیا جاتا تو کیا ایک بھی ایسا انسان باقی رہ جاتا جو اسلام کو قبول نہ کرلیتا۔ کیا جس طرح ”اندلس“ (اسپین) جیسا وسیع ملک جہاں کروڑوں مسلمان تھے پھر مسلمانوں سے خالی ہوگیا۔ روم، شام، عراق، ہند وسندھ وغیرہ اور خود ”اندلس“ کا ہی حال پامال نہ ہوتا، تاآنکہ سوائے اسلام کے دوسرے مذاہب وادیان کا نام و نشان مٹ چکاہوتا، لیکن ایسا ہرگز نہ ہوا۔

بہرحال اسلام نے مساوات اور مذہبی آزادی کے وہ فراخدل اصول وضابطے تیار کیے جن کی وجہ سے سلطنت اسلامیہ کے عروج کے زمانہ میں یہودی وعیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے تھے اور بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے میں مسلمانوں سے مزاحمت کرتے تھے۔
***



عقیدہِ آخرت : عقل و نقل کی روشنی میں

آخرت کا عقیدہ بھی خدا کی ہستی کے عقیدہ کی طرح دین ومذہب کی اہم بنیاد ہے، اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان کی زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے اور اس کے بعد اعمال کی جزا اور سزا کا کوئی عالم نہیں ہے، تو پھر انسان کو کسی دین اور کسی مذہبی تعلیم کی مطلق ضرورت نہیں۔ پھر تو اُس کا مذہب بس یہ ہونا چاہیے #
        بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

عقیدہٴ آخرت کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن پاک میں جا بجا ”ایمان بالله“ اور ﴿ایمان بالیوم الآخر﴾ کا ذکر ساتھ ساتھ کیا گیا ہے ، کہیں ارشاد فرمایا گیا۔﴿ یؤمنون بالله وبالیوم الاخر﴾ اور کہیں فرمایا گیا ﴿ من آمن بالله والیوم الاخر﴾․

آخرت کے عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین کیا جائے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ایک اور عالم آنے والا ہے اور وہاں انسان کو اس دنیا میں کیے ہوئے اُس کے اچھے بُرے اعمال کی جزا اور سزا ملے گی ، آخرت کی اجمالی حقیقت اتنی ہے اور اس کو عقل سلیم بھی ضروری سمجھتی ہے ، انسان اگر غور وفکر سے کام لے تو یہاں تک اس کی عقل بھی پہنچا دیتی ہے کہ اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور ایسا عالم ہونا چاہیے، جہاں انسانوں کو ان کے اچھے اور بُرے اعمال کی جزا اور سزا ملے، کیوں کہ اس دنیا میں برائی اوربھلائی تو موجود ہے ، لیکن اس کی سزا اور جزا، جو الله تعالیٰ کی صفت عدل کا لازمی تقاضا ہے، یہاں نہیں ملتی، اس لیے کسی اور ایسی زندگی کا ہونا ضروری ہے، جس میں نیک بختوں کو اُن کی نیکوکاریوں کی جزا اور مجرموں کو اُن کی مجرمانہ بدکرداریوں کی سزا ملے، اس کو ذرا اور تفصیل سے یوں سمجھیے کہ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پیشہ ور مجرم عمر بھر بڑے ظلم اور پاپ کرتے ہیں ، لوگوں کی جان ومال پر ڈاکے ڈالتے ہیں، بندگان خدا کے حق مارتے ہیں ، کمزوروں اور غریبوں کو ستاتے ہیں ، رشوتیں لیتے اور خیانتیں کرتے ہیں اور عمربھر عیش کرتے ہوئے، بلکہ اولاد کے لیے بھی عیش وعشرت کا بہت کچھ سامان چھوڑ کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں او راس کے برعکس الله کے بہت سے بندوں کو اس حال میں بھی دیکھا جاتا ہے ، کہ وہ بیچارے بڑی پرہیز گاری اورپارسائی کی زندگی گزارتے ہیں ، کسی پر ظلم نہیں کرتے ، کسی کے ساتھ دغا اور دھوکا نہیں کرتے، کسی کا حق نہیں مارتے ، الله کی عبادت بھی کرتے ہیں اس کی مخلوق کی خدمت بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود طرح طرح کی تکلیفوں او رپریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں ، غربت وافلاس اور بیماریوں کا سلسلہ رہتا ہے او راسی حال میں زندگی کے دن پورے کرکے، بیچارے اس دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں او رنہیں دیکھا جاتا کہ ان کی اس نیکی او رپارسائی کا کوئی بھی صلہ اس دنیا میں ان کو ملا ، تو اگر اس دنیوی زندگی کے بعد بھی کوئی اور ایسا عالم اور ایسی زندگی نہ ہو ، جہاں ان نیکوکاروں اور بد کرداروں کو اپنے اپنے کیے کی جزا اور سزا ملے تو یقینا خدا پر الزام آئے گا کہ اس کے یہاں دنیا کے بے انصاف حکومتوں سے بھی زیادہ اندھیر ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی سلیم عقل اس کو قبول نہیں کرسکتی۔

الله کی ہستی تو بہت بلند ہے، وہ تو مالک الملک اور احکم الحاکمین ہے۔ یہ طرز عمل تو کسی بھلے آدمی کے بھی شایان شان نہیں کہ وہ شریفوں اور شریروں اور پرہیز گاروں اور پیشہ ور مجرموں کو ایک نظر سے دیکھے اور سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے ، قرآن مجید نے اسی بات کو اپنے بلیغ معجزانہ انداز اور نہایت مختصر الفاظ میں اس طرح کہاہے۔

إِنَّ السّاعَةَ ءاتِيَةٌ أَكادُ أُخفيها لِتُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما تَسعىٰ {طٰهٰ:20}
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے۔
Surely, the Hour (i.e. the Day of Judgment) has to come. I would keep it secret, so that everyone is given a return for the effort one makes.
[AL-QURAN, Soorah Ta-Ha, Verse#15]

The Hour is assuredly coming. [But] I will to keep it hidden, from mankind — and its nearness [in time] will manifest itself to them through its signs — so that every soul may be requited, thereupon, for what it strives for, of good or evil.


﴿افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون﴾․ ( القلم:35-36)
کیا ہم اپنے فرماں بردار بندوں کو مجرموں نافرمانوں کی طرح کردیں گے اور دونوں گروہوں کے ساتھ یکساں معاملہ کریں گے؟
Otherwise, shall We make the obedient like the sinners? What has happened to you? How do you judge?
[AL-QURAN, Soorah AL-Qalam, Verse#35-36]

کفّار کی خوش فہمی اور اس کا جواب:
کفّار مکّہ نے غرور و تکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہو گی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہیگا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اگر ایساہو تو یہ مطلب ہو گا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکمبرداری کے لئے تیار رہتا ہے، اورایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہو جائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ رَد کرتی ہے۔
Are We then to treat those who submit [to Us] as [We treat] the sinners?, that is to say, as belonging with them in terms of reward?
What is wrong with you? How do you judge?, with such corrupt judgement?


'Utbah Ibn Rabi'ah said: “if what Muhammad (pbuh) says to his Companions about Paradise and its bliss is true, we will surely be better than them in the Hereafter as we are better than them in the life of this world”, and so Allah revealed: (Shall We then treat those who have surrendered) shall We then make the reward of the Muslims in Paradise (as We treat the guilty) as the reward of the idolaters who are the owners of the Fire?
(What aileth you) O people of Mecca? (How foolishly ye judge!) Evil is what you judge for yourselves!



ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :﴿ام نجعل الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار﴾․ ( ص:28)
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان لوگوں کے برابر کر دیں گے ، جو دنیا میں فساد برپا کرتے پھرتے ہیں ، کیا ہم پرہیز گاروں اور بدکاروں کے ساتھ یکساں برتاؤ کریں گے( ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ [قرآن - سورۃ ص:28]
Shall We make those who believe and do righteous deeds equal to those who commit mischief on the earth? Or shall We make the God-fearing equal to the sinners?
[AL-QURAN, Soorah Saad, Verse#28]

مومن اور مفسد برابر نہیں ہو سکتے:
یعنی ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ نیک ایماندار بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کر دیں یا ڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈر لوگوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ اسی لئے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب و کتاب اور جزا سزا کا رکھا جائے۔ لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندر آدمی قسم قسم کی مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بیحیا مزے چین اڑاتے ہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کی جو خبر مخبر صادق نے دی ہے عین مقتضائے حکمت ہے۔ وہاں ہی ہر نیک و بد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ ملے گا۔ پھر "یوم الحساب" کی خبر کا انکار کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔
Or shall We treat those who believe and perform righteous deeds like those who cause corruption in the earth; or shall We treat the God-fearing like the profligate? This was revealed when the Meccan disbelievers said to the believers, ‘In the Hereafter we will receive the same [reward] as that which you will receive’ (am, ‘or’, contains the [rhetorical] hamza of denial).

ایک تیسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے :﴿ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلھم کالذین آمنوا وعملوا الصلحت سواء محیاھم ومماتھم ساء مایحکمون﴾․ ( الجاثیہ:21)

یہ مجرمین جنہوں نے بد کاریوں کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے ، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے ان نیک بندوں کی طرح کردیں گے ، جو ایمان لائے او رجنہوں نے اعمال صالحہ کیے اور دونوں گروہوں کا انجام اور جینا مرنا یکساں ہو گا ( او راپنے اپنے اعمال کا ان کو کوئی بدلہ نہیں ملے گا؟) بالکل غلط اور بیہودہ ہے ، ان کا یہ خیال ( ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا)۔

بہرحال عقل سلیم بھی کہتی ہے اور قرآن حکیم کا بھی ارشاد ہے کہ نیکوکاروں پرہیز گاروں کو ان کی نیکو کاری اور پرہیز گاری کی اور مجرموں بدکاروں کو ان کی بدکرداری کی جزا اور سزا ملنی ضروری ہے اور جب وہ اس دنیا میں نہیں مل رہی ہے ، تو اس دنیوی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ،کوئی اور عالم ہونا چاہیے ، جہاں یہ جزا اور سزا ملے اور الله تعالیٰ کی صفتِ عدل کا تقاضا پورا ہو۔ بس وہی عالم آخرت ہے۔

ہاں !یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا کو ، یعنی ثواب اور عذاب کو عالم آخرت کے لیے کیوں موخر کیا گیا اور کیوں نہ اسی دنیا میں اس کا بھی حساب بے باق کر دیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ الله تعالیٰ اپنے فرماں بردار اور نیکوکار بندوں کا جو صلہ اور انعام دینا چاہتا ہے اور جیسی لذت او رمسرت سے بھرپور غیر فانی زندگی ان کو بخشنا چاہتا ہے، جو اس کی شانِ رحمت اور صفت کریمی کا تقاضا ہے ، اس کا اس دنیا میں کوئی امکان ہی نہیں ہے او راسی طرح نافرمان او رباغی وسرکش مجرموں کو وہ سخت سزا اور لرزہ خیزعذاب دینا چاہتا ہے ، جو اس کی شان جلالی اور صفت قہاری کا تقاضا ہے، اس کی برداشت کی بھی ہماری اس دنیا میں طاقت نہیں ہے، یعنی وہ ایسا سخت اور المناک ہے کہ اگر اس دنیا میں اس کا ظہور ہو جائے تو یہاں کا سارا چین وآرام ختم ہو جائے ۔ یہ پوری دنیا سوخت ہو کر رہ جائے ۔ ہماری یہ دنیا تو بہت ہی کمزور اور ناپائیدار دنیا ہے ۔

آخرت کے مقابلہ میں ہماری اس دنیا کی حیثیت بالکل وہ ہے ، جو ہماری اس دنیا اور اس زندگی کے مقابلے میں ماں کے پیٹ والی زندگی کی تھی ۔ اس دینا میں آنے سے پہلے ہر آدمی چند مہینے اپنی ماں کے پیٹ میں رہ کے آیا ہے ۔ وہ اس کی سب سے پہلی دنیا تھی اور بڑی محدود دنیا تھی ، الله تعالیٰ اولاد آدم کو جو کچھ عطا فرمانا چاہتا تھا او رجہاں تک پہنچانا چاہتا تھا وہ ماں کے پیٹ والی اس پہلی دنیامیں ممکن نہیں تھا، اسی لیے انسان کو اس دنیا میں لایا گیا ، بالکل اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ اس دنیوی زندگی کی نیک کرداری کے صلہ میں ، الله تعالیٰ اپنے فرماں بردار اور پرہیز گار بندوں کو جن انعامات سے نوازنا چاہتا ہے اور لذت ومسرت سے بھرپور جو غیر فانی زندگی ان کوبخشا چاہتا ہے اور علی ہذا سرکش مجرموں اور نافرمانوں کو جو سخت سزا اور ابدی عذاب دینا چاہتا ہے ۔ وہ ہماری اس فانی دنیا میں ممکن ہی نہیں ، اس دنیا کے خاتمہ کے بعد عالم آخرت کا برپا ہونا او رجنت ودوزخ کا وجود میں آنا ضروری ہے ، تاکہ الله تعالیٰ کی صفات، کمال عدل وانصاف ، انعام واحسان رحمت ورافت اور قہاریت وجباریت کا بھرپور ظہور ہو۔

آخرت کے بارے میں ہماری عقل کی پرواز بس یہیں تک ہے ۔ آگے قیامت ، حشر، جنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی تفصیلات بس وحی کے ذریعہ ہی معلوم ہو سکتی ہیں اور قرآن مجید اور احادیث میں ان کا تفصیلی بیان ہے ۔

بعض لوگ اپنی عقل کی خامی ونارسائی کی وجہ سے ، آخرت اورجنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی ان تفصیلات کے بارے میں ، جو قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ، شکوک کا اظہار کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ، میں ایسے لوگوں سے کہا کرتا ہوں کہ اگر ایسے بچہ سے، جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہے ، کسی آلہ کے ذریعہ یہ بات کہی جائے کہ اے بچے! تو چند روز کے بعد ایک ایسی دنیا میں آنے والا ہے ، جہاں لاکھوں میل کی لمبی چوڑی زمین ہے او راس سے بھی بڑے سمندر ہیں اور آسمان ہے او رچاند سورج اور لاکھوں ستارے ہیں اور وہاں ریلیں دوڑتی ہیں، ہوائی جہاز اُڑتے ہیں ، لڑایاں ہوتی ہیں ، جن میں توپیں گرجتی ہیں اور ایٹم بم اور ہائیڈروجن بمپھٹتے ہیں تو وہ بچہ اگر کسی طرح ان باتوں کو سمجھ بھی لے تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے ان باتوں کا یقین کرنا بڑا مشکل ہو گا ، کیوں کہ وہ جس دنیا میں ہے اور جس کو دیکھتا اور جانتا ہے ، وہ تو اس کے ماں کے پیٹ کی صرف ایک بالشت بھر کی اندھیری دنیا ہے ، جس میں خون اور غلاظت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن چند دن کے بعد جب وہ بچہ الله کے حکم سے اس دنیامیں آئے گا اورکچھ دیکھنے سمجھنے کے قابل ہو گا تو وہ سب کچھ دیکھ لے گا اور یقین کرے گا ، جو ماں کے پیٹ والی دنیا میں اس کے لیے ناقابل فہم اور اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ، بالکل ایسا ہی معاملہ آخرت کے بارے میں اس دنیا کے انسانوں کا ہے ، آخرت کے عالم میں پہنچ کر سب انسان وہ سب کچھ دیکھ لیں گے ، جو الله کی کتابوں نے اور اس کے پیغمبروں نے آخرت کے بارے میں بتایا ہے اورجس کا نہایت مستند واضح اور مفصل بیان قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں محفوظ ہے۔

آخرت کے عقیدہ کے سلسلہ میں ، آخری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انسان کو برائیوں اور بد اخلاقیوں سے بچانے کی جتنی طاقت آخرت کے یقین میں ہے ، اتنی کسی دوسری چیز میں نہیں ہے۔ بے شک حکومت کا قانون اور تہذیبی ترقی یا برائی بھلائی کو فطری احساس اور نفس کی شرافت بھی ، انسان کو برائیوں او ربد اخلاقیوں سے بچانے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ اتنی موثر اور کار گر نہیں ہوتیں، جتنا کہ مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا یقین اور آخرت پر ایمان، بشرطے کہ زندہ یقین اور حقیقی ایمان ہو ، صرف نام کا ایمان اور بے جان عقیدہ نہ ہو ۔

یہ کوئی خالی منطق کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ برائیوں اور بد اخلاقیوں کی گنجائش ا س معاشرہ میں ہوتی ہے، جو آخرت اورمرنے کے بعد خدا کے سامنے پیشی او رجزا وسزا کے یقین سے خالی ہو، ورنہ جن کے دلوں میں یقین وایمان کا نور موجود ہو ، اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ برے خیالات او رگناہ کے وسوسوں سے بھی گھبراتے ہیں او رالله سے پناہ مانگتے ہیں ، تاریخ عالم گواہ ہے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ پاکیزہ، صاف ستھری اور مہذب ومبارک زندگی ان ہی بندگان خدا کی رہی ہے جو مرنے کے بعد کی پیشی اور آخرت کی جزا وسزا پر یقین رکھتے تھے او راس کی وجہ یہ ہے کہ یہ یقین آدمی کو برائی کے ارادہ سے وہاں بھی روکتا ہے ، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو اور دنیا میں کسی قانون پکڑ اور سزا کا خطرہ نہ ہو۔

الغرض اس دنیا کے خاتمہ کے بعد عالم آخرت کا برپا ہونا، الله کے پیغمبروں او راس کی کتابوں کی بتائی ہوئی ایک حقیقت بھی ہے اور خود ہماری عقل سلیم کا تقاضا بھی ہے اور اس پر ایمان وعقیدہ انسانی دنیا کی ایک بڑی مصلحت بھی ہے۔






کتاب وسنت سے معلوم ہوتاہے کہ اس دنیا کے علاوہ دوعالم اورہیں: برزخ آخرت۔ جب آدمی کوئی عمل کرتاہے توفوراًآخرت میں منعکس ہوجاتاہے، اس کے وجودپرکچھ آثاربھی مرتب ہوتے ہیں، اس عالم کوعالم قبراورعالم برزخ کہتے ہیں۔ پھران ہی اعمال کاایک وقت، کامل ظہورہوگا۔جس کویوم حشرو نشریعنی لوگوں کے جمع ہونے، اعمال نامہ کے ظاہرہونے کادن کہتے ہیں۔ تومعلوم ہواکہ ہرعمل کے وجودی مراتب تین ہیں: صدور ظہور مثالی اورظہورحقیقی۔ اس مضمون کوآج کی ایجادات مثلاً ٹیپ ریکارڈ اور ویڈیوریکاڈر سے سمجھاجاسکتاہے۔ جب آدمی کوئی بات یاعمل کرتاہے تواس کے تین مراتب ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ اس کامنہ یابدن سے صادر ہونا۔ دوسرامرتبہ اس کاٹیپ یاکیمرے میں بندہونا اورتیسرامرتبہ جب آدمی اس کی آوازکوسننا چاہے، یادیکھنا چاہے تواسے بعینہ دیکھ لے۔

بس اب اسی پرقیاس کریں، دنیامیں عمل صادرہوتاہے، عالمِ برزخ میں ریکارڈہوتاہے اوریوم الحشرکے دن سب ظاہرہوجائے گا۔

اب جب یہ ثابت ہوگیاتو کوئی عاقل اورذی شعوراپنے کرتوت کے ریکارڈکوسننے یادیکھنے کے بعدانکارنہیں کرسکتا،بالکل قیامت کے روزبھی ایساہی ہوگا۔لہٰذاجس طرح آدمی ریکاڈرکے سامنے ہونے کی صورت میں بچ بچ کر بات کرتاہے اورکوئی کام کرتاہے کہ کہیں کوئی غلط چیزریکارڈنہ ہوجائے، انسان کوبھی اسی طرح زندگی گذارنی چاہیے اورجان لیناچاہیے کہ یقینی طورپراس کی زندگی کے ہرلمحہ کوپوری باریکی کے ساتھ قیدکیاجارہاہے، قرآن میں ارشادالٰہی ہے :﴿ما یلفظ من قول إلا لدیہ رقیب عتید﴾۔ (سورہٴ قٓ:18) انسان جوبات بھی اپنے منہ سے اداکرتاہے توایک ریکاڈربرابر اسے ریکارڈکررہاہے ایک اورجگہ پرہے:﴿یوم تجدکل نفس ماعملت من خیرمحضرًا و ماعملت من سوء﴾․

”جس دن ہرشخص اپنے کئے ہوئے کواپنی نظروں کے سامنے پائے گا چاہے وہ اچھائی ہویابرائی۔“(سورہٴ آل عمران:30)

ذراہم ان آیتوں پرغورکریں، قرآن کیسی تنبیہ کوبیان کررہاہے!اللہ ہمیں اس کوسمجھنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین! 

بعض گناہوں کی مماثل سزاوٴں کوبھی قرآن وحدیث میں بیان کیاگیاہے، مثلاًزکوٰة نہ دینے پروہ مال سانپ کی شکل میں اس کے گلے کاطوق ہوگا:﴿سیطوقو ن مابخلوا بہ یوم القیامة﴾․ (سورہٴ آلِ عمران: 180)


جھوٹ بولنے والے چہرے کالے ہو جائیں گے، جوقرآن کاعلم حاصل کرکے اس پرعمل نہ کرے گااس کاسرباربارپتھرسے کچلاجائے گا۔معلوم ہواکہ دنیابرزخ، اورآخرت تینوں جگہ انسان کواس کے گناہوں کی سزادی جاتی ہے۔








آخرت کے دن پر ایمان کی حقیقت
اس بات کا پختہ یقین ہو کہ یہ دن آنا ہے اور اس کی تصدیق بھی یقین کے ساتھ کرنی چاہۓ اور یہ کہ اللہ تعالی نے جو بھی آخرت کے متعلق اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس کے متعلق بتایا اور جو کچھ موت کے بعد ہو گا اس کی تصدیق کرنی اور اس کا یقین رکھنا کہ یہ آۓ گا اور اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ ان علامات اور قیامت کی نشانیوں پر ایمان لایا جائے جو قیامت سے پہلے ہیں اور موت اور جو موت کے وقت سختیاں اور جو کچھ موت کے بعد عذاب قبر اور اس کے فتنہ اور قبر کی نعمتوں اور صور پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھنے اور قیامت کے دن میدان محشر میں کھڑے ہونے کی سختیاں اور حشر اور حساب وکتاب کی تفصیل جنت اور اس کی نعمتوں اور ان میں سب سے بڑی اللہ تعالی کے چہرے کا دیدار اور آگ اور اس کی سختی جو کہ سب سے زیادہ اللہ تعالی سے پردے میں آنا ہے ان سب پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور جو کچھ اس اعتقاد کے تقاضے ہیں ان پر عمل کرنا بھی –

تو جب بندے کے دل میں ایسا ایمان آجا ئے تو اس کے بہت سارے عظیم ثمرات ہیں جن میں سے کچھ ذکر کۓ جاتے ہیں :

پہلا – اس دن کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اطاعت کرنے کی رغبت اور حرص پیدا ہوتی ہے –

دوسرا – اس دن کی سزا اور عقاب سے ڈرتے ہوئے معصیت کرنے سے اور اس پر راضی ہونے سے خوف اور ڈر –

تیسرا – اس دنیا میں مومن سے ان نعمتوں کے چھن جانا جس کے بدلے میں اسے آخرت میں ثواب اور نعمتوں کی امید پر تسلی ہوتی ہے-




مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانےپرایمان لانا
یعنی اس بات پر مکمل اعتماد ہوکہ مرنے کے بعد ایک مقررہ دن میں ساری انسانیت کو اللہ تبارک وتعالیٰ دوبارہ پیدا کریگا اور سب کا حساب وکتاب ہوگا اور جو رائی کے دانہ کے برابر نیکی کیا ہوگا تو اس کا جزا حاصل کریگا اور اور جو ذرّہ برابر برائی کیا ہوگا تو وہ اس پر سزا کا مستحق ہوگا۔

("فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَہُ"الخ، الزلزال:۷،۸۔ "زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَن لَّن یُبْعَثُوا"الخ، التغابن:۷۔ "لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ"الخ، المطففین:۴،۶۔ "وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ"الخ، الانبیائ:۴۷)


قبر کی جزا وسزا پر ایمان لانا
یعنی یہ یقین رکھا جائے کہ قبر کی آسائشیں، راحتیں اور عذاب برحق ہے، فرشتوں کے سوالات حق ہیں اور یہ سب کچھ سچ ہے۔حوالہ
(بخاری، "عن أَنسؓ عن النبِیِ قال العبد إِذاوضِع فِی قبرِہِ"الخ، باب المیت یسمع خفق النعال، حدیث نمبر:۱۲۵۲۔ "عن عائِشۃؓ زوجِ النبِیِ أَخبرتہ أَن رسول اللہ کان یدعو فِی الصلاِۃ اللہم إِنِی ‘’الخ، وباب الدعاء قبل السلام، حدیث نمبر:۷۸۹۔ "عن ابنِ عباس قال مرّالنبِی بِحائِط مِن حِیطانِ المدِینِۃ أَو مکَّۃَ"الخ، وباب من الکبائر ان لایستتر من بولہ، حدیث نمبر:۲۰۹)






کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
Are We Really Free (Liberate)?
ہر شیٔ کے خالق، مالک، خوب قدرت وعلم رکھنے والے پالنہار اللہ نے فرمایا:
Allah...One and Only Powerful Creator, Lord, Sustainer, Knower of all thing, said:
پھر جب جان گلے تک آ پہنچتی ہے۔
So why (do you) not (intervene) when the soul (of a dying person) reaches the throat,
اور تم اس وقت کی حالت کو دیکھا کرتے ہو۔
and you are watching?
اور ہم اس مرنے والے کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تمکو نظر نہیں آتے۔
And We are closer to him than you, but you do not perceive.
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو۔


So, if you are not going to be recompensed (in the Hereafter for your deeds),
تو اگر سچے ہو تو تم جان کو لوٹا کیوں نہیں لیتے۔


then why do you not bring the soul back, if you are truthful?

[قرآن - سورۃ الواقعہ:83-87]



کیا تم کسی کے قابو میں نہیں ہو:

یعنی ایسی بے فکری اور بے خوفی سے اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہو، گویا تم کسی دوسرے کے حکم اور اختیار ہی میں نہیں، یا کبھی مرنا اور خدا کے ہاں جانا ہی نہیں۔ اچھا جس وقت تمہارے کسی عزیزو محبوب کی جان نکلنے والی ہو، سانس حلق میں اٹک جائے، موت کی سختیاں گذر رہی ہوں اور تم پاس بیٹھے اس کی بے بسی اور درماندگی کا تماشا دیکھتے ہو، اور دوسری طرف خدا یا اس کے فرشتے تم سے زیادہ اس کے نزدیک ہیں جو تمہیں نظر نہیں آتے اگر تم کسی دوسرے کے قابو میں نہیں تو اس وقت کیوں اپنے پیارے کی جان کو اپنی طرف نہیں پھیر لیتے اور کیوں بادل ناخواستہ اپنے سے جدا ہونے دیتے ہو دنیا کی طرف واپس لاکر اسے آنیوالی سزا سے کیوں بچا نہیں لیتے۔ اگر اپنے دعووں میں سچے ہو تو ایسا کر دکھاؤ۔




Why then, when it, the spirit, during the throes [of death], reaches the [dying person’s] throat (hulqūm is the passage for food)


and you are, O you attending the dying person, at that moment looking, at him —


and We are nearer to him than you are, to know [of his state], but you do not perceive (tubsirūna derives from al-basīra, ‘perception’) that is to say, you do not realise this —


why then, if you are not going to face a reckoning, [if] you are [not] going to be requited by your being resurrected, in other words, [why then, if] you are not going to be resurrected as you claim,


do you not bring it back, [why] do you not restore the spirit to the body after it has reached the throat, if you are truthful?, in what you claim (the second law-lā, ‘why … if’, is [repeated] to emphasise the first one; idhā, ‘when’, is an adverbial particle qualifying tarji‘ūna, ‘bring it back’, to which both conditions are semantically connected). The meaning is: ‘Why do you not bring it back, when, in repudiating resurrection, you are being truthful in this repudiation?’ That is to say, ‘Let death also be repudiated [as impossible] in its case just as [you claim that] resurrection is [impossible]’.
http://thetruthmag.com/
http://intellectmagazine.net/






تصورِ آخرت سے عاری معاشرے!!
جرم و سزا کی دنیا وقت کے ساتھ پیچیدہ اور گھنجلک ہوتی چلی جارہی ہے۔ جہاں انسان نے جرم کا سراغ لگانے کے لیے نت نئی ایجادات کیں، بیشمار طریقے اختیار کیے، وہیں مجرموں نے جرائم کرنے اور انہیں چھپانے کے سو طریقے ڈھونڈ نکالے۔ شہر بڑے ہوئے تو جرم بھی تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہوتا چلاگیا۔ انسانی معاشرہ سے جرائم کے خاتمے کے لیے بھی اداروں کا جال بچھتا چلاگیا، لیکن جرم و سزا کی اس داستان کا مرکزی خیال وہی ہے کہ قانون جس کام کوجرم قرار دے دے، وہی جرم ہے، وہی قابلِ تعزیر ہے، قابلِ دست اندازئی پولیس ہے اور اسی کا مجرم سزا کا مستحق ہے۔ خاوند یا بیوی کو دھوکا دینا، چونکہ اس قدر بڑا جرم نہیں کہ اس کے مجرم کو سزا دی جائے تو ایسا کرنے والے کے خلاف دوسرا فریق صرف طلاق کا مقدمہ درج کر کے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، لیکن اس علیحدگی کے نتیجے میں جو اولاد پر بیتتی ہے، جو ان کی نفسیاتی نشونما اور اخلاقی تربیت متاثر ہوتی ہے۔ 

وہ عمر بھر کے لیے نفسیاتی الجھنوں کو ساتھ لیے پھرتے ہیں، لیکن اس جرم کا مقدمہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک بھی دائر نہیں ہو سکتا۔ لاکھوں کے حساب سے جنس کا کاروبار کرنے والی خواتین جنہیں آج کے انسانی حقوق کی دنیا میں سیکس ورکرکے ’’باعزت لقب‘‘ سے یاد کیا جاتا ہے، اگر وہ اپنے اس پیشہ یا پروفیشن کے مخصوص حالات کی وجہ سے بد ترین بیماریوں کا شکار ہوکر بسترِمرگ سے لگ جاتی ہیں

تو کیا آج کے دور کاکوئی مہذب معاشرہ دنیا میں وجود رکھتا ہے کہ ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جن کی ہوس نے ان عورتوں کو موت کے دروازے پر جا پہنچایا ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ ایسی خواتین کی مدد کے لیے عالمی سطح پر این جی اوز متحرک ہو جاتی ہیں، لیکن چونکہ قانون ایسا کرنے والوں کو مجرم نہیں گردانتا، حکومت انہیں صرف بد احتیاط کہہ کر چپ ہو جاتی ہے، اس لیے چاہے ہزاروں عورتیں جان سے چلی جائیں ان مجرموں پر مقدمہ نہیں چل سکتا۔ایسے ہزاروں معاملات ہیں جہاں انسانوں نے اپنے مفادات کے تابع قانون سازی کی اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ 

آپ ہر ایسے قانون کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں جہاں انسان کے وضع کردہ ضابطۂ اخلاق کے تحت بہت سے جرائم کو قانون کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تو وہاں آپ کو اس کے پسِ پردہ اربوں ڈالر کا مفاد نظر ضرورآئے گا۔ شراب پینا جرم نہیں ہے، لیکن شراب پی کر گاڑی چلانا، جہاز اُڑانا جرم ہے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے اربوں ڈالر کا شراب کا کاروبار ہے۔ میڈیسن کے علم کے مطابق شراب کے استعمال سے جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں انہیں Alcholism سے جڑی بیماریوں اور پاگل پن کا کہا جاتا ہے۔ اسی طرح عورتوں کے کاروبار کو دنیا کے کسی ’’مہذب‘‘ ملک میں بذات خود منع نہیں کیا گیا ہے۔یعنی اگر ایک عورت خود اپنا جسم بیچتی ہے تو وہ جرم نہیں ہے، البتہ اس عورت کو ایسا کرنے پر مجبور کرنے یا پھر اس کے ایسا کرنے کی دلالی یا موجودہ دورمیں مارکیٹنگ جرم ہے۔ فحش فلموں کا کاروبار بذاتِ خود جرم نہیں ہے، البتہ ان فلموں میں کام کرنے والوں کے لیے بالغ یعنی 18 سال کا ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ اس کے پیچھے اربوں ڈالر کی انڈسٹری ہے۔ عورت کو کاروبار کے لیے استعمال کرنا جرم ہے، لیکن کاروبار کی مارکیٹنگ کے لیے اسے نیم برہنہ تک کر کے اور پھر ہر چوک و چوراہے پر اس کی تصاویر لگانا کوئی جرم نہیں ہے۔ انسان نے جب بھی قانون سازی کی اسے اپنے ذاتی سیاسی اور کاروباری مفاد کے تا بع رکھ کر کیا۔ بے راہ روی کو رواج دینے کے لیے شادی کی ایک حد مقرر کردی گئی۔ اس کے لیے سو طرح کی دلیلیں گھڑی گئیں، پوری دنیا میں ممالک سے قانون مرتب کروائے گئے۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی لگادی گئی، نتیجہ یہ نکلا کہ صرف امریکا میں ہر سال 10 لاکھ 18 سال سے کم عمر لڑکیاں مائیں بنتی ہیں۔ یعنی قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے اور قابلِ دست اندازی پولیس ہے، لیکن 18 سال سے کم عمر ماں بننا جرم نہیں، بلکہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور اس کے لیے این جی اوز کو آگے آنا چاہیے اور ان لڑکیوں کی مدد کرنا چاہیے۔ 

انسانوں نے اپنے لیے قانون بنائے، معاشرے تخلیق کیے، لیکن یہ تمام قوانین موجودہ سیکولر نظامِ زندگی کا تحفہ ہیں۔سیکولر نظامِ زندگی کی کوکھ سے سرمایہ دارانہ جمہوریت نے جنم لیا جس نے انسانوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ مذہبی اخلاقیات اور قوانین کا تعلق نہ حکومت سے ہے اور نہ ہی اجتماعی زندگی سے۔انسانوں کی اکثریت جیسا قانون چاہے بنا سکتی ہے اور اسے نافذ کر سکتی ہے اور یہی بہترین طرزِ زندگی اور انصاف کا موجودہ خوبصورت تصور ہے۔یعنی سب جرم، سزا، عدل و انصاف اسی دنیا میں ہی ہو گا چونکہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے جو قانون عطا کرنے کا اختیار رکھتا ہو، اس لیے کہ آخرت بھی وجود نہیں رکھتی۔ہمیں اسمبلیوں کے ذریعے ہی انصاف کو قوانین کے ذریعے نافذ کرنا ہے۔آپ دنیا کے دو سو کے قریب ممالک کے قوانین کامطالعہ کر لیں، آپ سوچتے سوچتے بے بس ہو جائیں گے، لیکن آپ حتمی اور آخری انصاف کی ایک جھلک بھی وہاںنظر نہیں آئے گی۔ یہ سب کے سب قوانین انسانوں کو مکمل انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔وہ قانون جس سے بچ نکلنے کے ہزار راستے موجود ہوں، وہاں مکمل انصاف کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔جہاں شہادت تلف کر کے گواہ خاموش کروا کر انصاف کو روکا جا سکے وہاں کیسے مکمل انصاف کیا جا سکتا ہے۔ 

اللہ اورآخرت کے تصور کے بغیر نہ معاشرے تخلیق پا سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل انصاف کا تصور وجود میں آتا ہے۔ تصور کیجیے دنیا کے مہذب ترین ممالک کا اور پھر سوچیئے کہ ایک شخص اپنے وسیع و عریض گھر میں رات کو انواع و اقسام کے کھانے کھا رہا ہے اور اس کا پڑوسی بھوک کی شدت سے مر جاتا ہے۔کیا دنیا کا کوئی قانون اس امیر شخص پر فردِ جرم عائد کرسکتا ہے؟کسی تیز رفتار گاڑی کو حادثہ پیش آتا ہے۔سنسان سڑک پر ایک شخص زخمی کو چھوڑ کر گزر جاتا ہے، زخمی مر جاتا ہے، کیا کوئی قانون اس شخص کو حراست میں لے سکتا ہے؟آپ دولت جمع کریں، ڈھیر لگا دیں، ذاتی عیاشیوں پر خرچ کریں۔اس دنیا میں کوئی قانون آپ کو گرفت میں نہیں لے سکتا۔یہی نا مکمل نظام انصاف ہے کہ اس وقت دنیا میں 430 کے قریب ایسے افراد ہیں جن کی دولت اگر دنیا میں تقسیم کر دی جائے تو کوئی بھوکا، ننگا، بے روز گار نہ رہے۔ 50 لوگوں کے پاس دنیا کی 65 فیصد دولت ہے، لیکن کوئی قانون انہیں اس دولت کو غریبوں پر تقسیم کرنے کے لیے جزا اور تقسیم نہ کرنے پر سزا نہیں دیتا۔ 

دنیا کا کوئی قانون اس دنیا میں ہونے والے جرائم پر مکمل انصاف فراہم کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ہزاروں لوگوں کے قتل کے بدلے صرف ایک انسان کی موت اور وہ بھی اب کئی ممالک میں ختم ہو چکی۔یہ نا مکمل نظامِ انصاف کیوں ہے؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو انصاف و عدل کے لیے نہیں امتحان کے لیے تخلیق کیا۔البتہ اس دنیا کو امن و آشتی اور سکون و اطمینان کا گہوارہ بنانے کے لیے اس نے کچھ قوانین بتا دیے تاکہ انسانی زندگی اچھی طرح رواں دواں ہو سکے۔جیسے کہا گیا کہ قصاص میں تمہارے لیے زندگی رکھ دی گئی۔ چوری اور زنا کو سخت ترین سزاؤں سے روکا گیاتاکہ معاشرہ صالح ہو مکمل انصاف کے لیے آ نے یوم آخرت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی لیے اللہ نے ایمان والوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ اللہ، اُس کے رسول، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان لائیں، لیکن آخرت کے دن پر یقین پیدا کریں۔آخرت کا دن دنیا میں دو طرح کے تصور کو جنم دیتا ہے، ایک مکمل انصاف اور دوسرا مکمل جزا اوراجر، روز حشر۔ انصاف کے مکمل ہونے کے لیے اللہ نے تمام لوازمات بنائے ہیں، گواہی کے لیے ہاتھ اور پاؤں کو خود بولنے کی اجازت دی جائے گی۔آخرت کا یہی خوف کسی بھی معاشرے کو پُرامن رکھتا ہے۔دوسرا اجر کا تصورہے۔یہ لوگوں میں نیکی اور انسانوں سے ہمدردی کو جنم دیتا ہے۔ آج دنیا کے مخیر حضرات کی فہرست اُٹھا لیں اور ان کی زندگیوں کے حالات پڑھیں۔مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، یہیودی سب کے سب آپ کو انسانوں کی مدد کرتے اس لیے نظر آئیں گے کہ انہیں آخرت میں مکمل اجر کی اُمید اور توقع ہوتی ہے۔ گزشتہ صدی میں آدھی دنیا پر ایک نظام رائج رہا جسے کیمونزم کہتے ہیں۔اس نظام میں آ کے تصور کو انسانی زندگی سے خارج کردیا گیا۔ پورے کے پورے معاشرے دہریے ہوگئے۔ آج جب کہ وہاں سرمایہ داری کا نظام لوٹ آیا ہے، معاشرے میں سرمایہ دار بھی آ گئے ہیں، لیکن روس، چین اور شمالی کوریا وغیرہ میں آپ کو انسانوں پر خرچ کرنے والے مخیر حضرات کا نشان نہیں ملے گا۔اس لیے کہ خیرات اور انسانی بھلائی کے پیچھے سب سے بڑا جذبہ آخرت میں اللہ کی خوشنودی ہے۔ کیا یہ دنیا، حکومتیں، انسان اور معاشرے مذہب کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیںہر گز نہیں۔ یہ تمام معاشرے جو آج زندہ ہیں انہوں نے تمام قوانین مذہب سے اُدھار لیے ہیں، سچ بولنا، غیبت نہ کرنا، جھوٹی گواہی نہ دینا، دھوکا اور فریب سے اجتناب وغیرہ یہ سب اصول مذہب نے متعین کیے اور دنیا میں کسی جمہوریت میںیہ دم نہیںکہ انہیں تبدیل کر سکے۔ 

کیا کوئی پارلیمنٹ 100 فیصد ووٹ سے جھوٹ بولنا، دھوکا دینا یا چوری کرنا جائز قرار دے سکتی ہے۔ مذہب تمام عالمی اخلاقیات کا باپ ہے۔ سیکولر طرزِ زندگی کا کمال یہ ہے کہ، اپنی زندگی میں باپ کے تمام اصولوں کو نافذ کر تاہے لیکن باپ کی اولاد ہونے سے انکار کردیتا ہے۔سیکولر ازم الحاد اور دہریت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اللہ اور آخرت کا تصور انسانی معاشرے سے خارج کرکے دیکھو، دنیا کی ہر حکومت ایسے ہوگی جیسے وہ ایک منہ زور گھوڑے کو قابو کر رہی ہے اور گھوڑا اُسے گرا کر دور نکل جاتا ہے۔ یہ گھوڑا حرص، ہوس، خود غرضی، لالچ، جنس اور خواہشات کا گھوڑا ہے جسے صرف قوانینِ الٰہی قابو کر سکتے ہیں۔ ورنہ سب خسارہ، جنگیں، کروڑوں کی موت، بے سکون، بے مہر اور بے اطمینان معاشرے۔