Monday, 18 January 2016

تربیتِ اَولاد کی فرضیت


القرآن:
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ ﴿دینی علم ادب سکھاکر، خیر کا حکم اور شر سے روک کر، اللہ کی فرمانبرداری اور تقویٰ کا حکم ووصیت کر کے﴾ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اس پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
[سورۃ التحريم، آیت نمبر 6]
﴿مستدرك الحاكم:3826، شرح السنة للبغوي:505، شعب الإيمان:8647}

Wednesday, 13 January 2016

دین اسلام میں آسانی ضرور ہے، مگر من مانی نہیں ہے


اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ

اللہ تعالٰی کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:185]


Tuesday, 12 January 2016

اذان اور اقامت کے فضائل ومسائل


اذان کے جواب کی فضیلت:
صبح کی اذان میں الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ دو بار کہنا:

حضرت ابومحذورہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیجئے آپ ﷺ نے میرے سر پر آگے کی جانب ہاتھ پھیرا اور فرمایا پہلے بآواز بلند اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر پھر آہستہ سے دو مرتبہ اَشھَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اور دو مرتبہ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ اور پھر بلند آواز سے دونوں کلمے دہراؤ اور حَیَّ عَلَی الصَلوٰہ دو مرتبہ حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ دو مرتبہ کہو اور اگر صبح کی اذان ہو تو دو مرتبہ الصَّلوٰةُ خَیرُ مِّنَ النَّوم کہو پھر اَللہ اَکبَر اَللہ اَکبَر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔


Friday, 8 January 2016

عورت کی حقیقت، مقام، حقوق اور ذمہ داریاں


اردو لفظ "عورت" کی ایک معنی "شرم گاہ یا قابلِ پردہ" ہے۔
[فیروز اللغات: ص906]
عربی لفظ "عَوْرَةٌ" کے بھی یہی معنی ہے۔

امام الراغب الأصفهانيؒ (م 502ھ) لکھتے ہیں:

عورت انسان کی "شرمگاہ" کو کہتے ہیں، اور یہ کنایہ ہے، اس کی اصل "عار" (رسوائی) سے ہے کیونکہ اس کے ظاہر ہونے پر جو عار (یعنی مذمت) لازم آتی ہے، اسی لیے عورتوں کو "عورت" کہا گیا۔۔۔۔۔

اور "عوار" اور "عورت" کسی چیز (جیسے کپڑا، گھر وغیرہ) میں شگاف/دراڑ (غیرمحفوظ ہونے) کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان: "إِنَّ بُيُوتَنا عَوْرَةٌ وَما هِيَ بِعَوْرَةٍ" (سورہ احزاب: ١٣) یعنی ہمارے گھر غیرمحفوظ ہیں، حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہیں ہیں، یعنی پھٹے ہوئے اور جو چاہے اس کے لیے ممکن (کھلے)۔ اسی سے کہا جاتا ہے: "فلاں اپنی عورت کی حفاظت کرتا ہے" یعنی اپنی خرابی/کمزوری کی۔

اور اللہ کا فرمان: "ثَلاثُ عَوْراتٍ لَكُمْ" (سورہ نور: ٥٨) یعنی تین عورتیں (اوقاتِ پردہ) تمہارے لیے ہیں، اور ان سے مراد دوپہر، رات کا آخری حصہ، اور عشاء کے بعد کا وقت ہے۔

اور اللہ کا فرمان: "الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلى عَوْراتِ النِّساءِ" (سورہ نور: ٣١) یعنی جو عورتوں کی شرمگاہوں پر ظاہر نہیں ہوئے، اور اس سے مراد وہ بچے جو بلوغت کو نہیں پہنچے ہیں۔








حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ،» فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ.
ترجمہ:
عورت چھپاکر(محفوظ)رکھنے کی چیز ہے کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان(کا چیلا)اسے  گھورتا ہے۔
[سنن ترمذى:1173(1207)، سنن أبو داود:570، الصَّحِيحَة:2688]

وَإِنَّهَا أَقْرَبُ مَا يَكُونُ إِلَى اللهِ وَهِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا»۔
ترجمہ:
اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اللہ کے سب سے زیادہ قریب(حفاظت میں) اسی وقت ہوتی ہے جب  وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
اسے طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
اسے طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔

پردہ داری کی وجہ سے صرف مسلم خواتین کے حق میں ہی ہر نوع کا تشدد کیوں روا رکھا جارہا ہے؟ حالانکہ عیسائی راہبات اور بدھسٹ مذہب پرست عورتوں میں بھی اس کا خوب رواج اور چلن ہے۔






مغرب میں عورت کا مقام:- (1)جانور كي طرح


کیا ایسے لوگ عورت سے شادی کرکے ان کے حقوق ہمیشہ ادا کرتے رہنے والے ہوسکتے ہیں؟



مرد وعورت مثال میں برابر ہیں:
اسلام میں عورت کی تشبیہ-مثال:- لباس کی طرح
القرآن:
۔۔۔ وہ(بیویاں) لباس ہیں تمہارے لئے اور تم لباس ہو ان(عورتوں)کے۔۔۔
[سورۃ البقرۃ:187]

 
(1)شرمگاہوں کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔
[حوالہ سورۃ النور:30+31، الاحزاب:35]

(2)جسم کو ڈھانکنے
(3)زینت وسجاوٹ
(4)اور تقویٰ(پرہیزگاری-تہذیب) کا باعث ہیں۔
[حوالہ سورۃ الاعراف:26]

(5)وہ تمہارے لیے سکون(ساتھ رہنے)کا سبب ہیں اور تم ان کے لیے سکون کا باعث ہوں۔

[تفسير الطبري:2934، تفسير ابن أبي حاتم:1674، حاكم:3087]

(6)رات کو لباس بنایا [سورۃ الفرقان:47، النبا:10] لہذا بیوی کو رات کی طرح سکون اور ڈھانکنے کا باعث بنایا۔

(7)اپنائیت یگانگت:- ایک دوسرے سے مربوط اور لازم وملزوم ہوتے ہیں۔
[الجامع لأحکام القرآن،قرطبیؒ :۲/۳۱۴]



Thursday, 7 January 2016

دعوت وتبلیغ، تعلیم وتذکیر اور أمر بالمعروف ونهي عن المنكر کے معانی، ضرورت، فضائل، احکام وآداب


(1)دعوت و تبلیغ، (2)تعلیم و تذکیر اور (3)أمر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا....دینِ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہیں۔ یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جن کے ذریعے انسانیت کو راہِ راست دکھایا جاتا ہے، معاشرے میں نیکی کا بول بالا ہوتا ہے اور برائی کا سدِّ باب کیا جاتا ہے۔ قرآن و سنت میں ان فرائض کی اہمیت، فضیلت، احکام اور آداب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں ان تینوں موضوعات کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔

📖 دعوت و تبلیغ
معانی
لغوی معنی: ”دعوت“ کا لفظ عربی زبان کے مادہ ”دَعَا“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی کسی کو بلانا، پکارنا یا کسی چیز کی طرف راغب کرنا ہیں۔
شرعی معنی: شریعت کی اصطلاح میں دعوت و تبلیغ سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلانا، یعنی انہیں ایمان، توحید اور اسلام کی تعلیمات کی طرف راغب کرنا ہے۔

ضرورت
دعوت و تبلیغ کا فریضہ امتِ مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ کریم میں امتِ مسلمہ کو ”خیر امت“ قرار دیتے ہوئے اس کی پہچان ہی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے:

﴿ولتکن منکم اُمة یدعون الی الخیر یامرون بالمعروف وینہون عن المنکر وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
ترجمہ:
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت (یعنی) نیک کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔
(سورۃ آل عمران:104)