Tuesday, 29 March 2016

اللہ نے چاہا کہ سچا کردے سچ کو اپنے کلاموں سے ۔۔۔ القرآن:سورۃ الانفال:7



متقی کون؟
الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ وَيُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ {2:3}
جو کہ یقین کرتے ہیں بن دیکھی چیزوں کا [۵] اور قائم رکھتے ہیں نماز کو [۶] اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اسمیں سے خرچ کرتے ہیں [۷]

وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ وَبِالءاخِرَةِ هُم يوقِنونَ {2:4}
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں [۸]
اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کا بیان تھا جن مشرکین نے ایمان قبول کیا (یعنی اہل مکہ) اور اس آیت میں ان کا بیان ہے جو اہل کتاب (یعنی یہود و نصارٰی) مشرف با اسلام ہوئے۔

الَّذينَ يُنفِقونَ فِى السَّرّاءِ وَالضَّرّاءِ وَالكٰظِمينَ الغَيظَ وَالعافينَ عَنِ النّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ المُحسِنينَ {3:134}
جو خرچ کئے جاتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں [۱۹۸] اور دبا لیتےہیں غصہ اور معاف کرتے ہیں لوگوں کو اور اللہ چاہتا ہے نیکی کرنے والوں کو [۱۹۹]
جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
غصہ کو پی جانا ہی بڑا کمال ہے اس پر مزید یہ کہ لوگوں کی زیادتی یا غلطیوں کو بالکل معاف کر دیتے ہیں اور نہ صرف معاف کرتے ہیں بلکہ احسان اور نیکی سے پیش آتے ہیں۔ غالبًا پہلے جن لوگوں کی نسبت بد دعا کرنے سے روکا تھا۔ یہاں ان کے متعلق غصہ دبانے اور عفو و درگذر سے کام لینے کی ترغیب دی گئ ہے نیز بعض صحابہ نے جنگ احد میں عدول حکمی کی تھی، یا فرار اختیار کیا تھا، ان کی تقصیر معاف کرنے اور شان وعفو و احسان اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
یعنی نہ عیش و خوشی میں خدا کو بھولتے ہیں نہ تنگی و تکلیف کے وقت خرچ کرنے سے جان چراتے ہیں۔ ہر موقع پر اور ہر حال میں حسب مقدرت خرچ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں سود خواروں کی طرح بخیل اور پیسہ کے پجاری نہیں۔ گویا جانی جہاد کے ساتھ مالی جہاد بھی کرتے ہیں۔

وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُوا اللَّهَ فَاستَغفَروا لِذُنوبِهِم وَمَن يَغفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَم يُصِرّوا عَلىٰ ما فَعَلوا وَهُم يَعلَمونَ {3:135}
اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ کھلا گناہ یا برا کام کریں اپنے حق میں [۲۰۰] تو یاد کریں اللہ کو اور بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی اور کون ہے گناہ بخشنے والا سوا اللہ کے اور اڑتے نہیں اپنے کئے پر اور وہ جانتے ہیں
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
یعنی کھلم کھلا کوئی بےحیائی کا کام کر گذریں جس کا اثر دوسروں تک متعدی ہو یا کسی اور بری حرکت کے مرتکب ہو جائیں جس کا ضرر ان ہی کی ذات تک محدود رہے۔







ھدایت یافتہ اور بامراد کون؟
أُولٰئِكَ عَلىٰ هُدًى مِن رَبِّهِم ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ {2:5}
وہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے پروردگار کی طرف سے اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے [۹]
یعنی اہل ایمان کے دونوں گروہ مذکورہ بالا دنیا میں ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں ان کو ہر طرح کی مراد ملے گی جس سے معلوم ہو گیا کہ جو نعمت ایمان اور اعمال حسنہ سے محروم رہے ان کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہیں اب ان دونوں فریق مومنین سے فارغ ہو کر اس کے آگے کفار کی حالت بیان کی جاتی ہے۔




رب کون؟
يٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ {2:21}
اے لوگو بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ

الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ فِرٰشًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ {2:22}
جس نے بنایا واسطے تمہارے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتار آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے میوے تمہارے کھانے کے واسطے سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے مقابل اور تم تو جانتے ہو [۳۲]
اب سب بندوں کو مومن ہوں یا کافر یا منافق خطاب فرما کر توحید جناب باری سمجھائی جاتی ہے جو ایمان کے لئے اصل الاصول ہے ۔ خلاصہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو پیدا کیا اور تمہاری ضروریات اور کل منافع کو بنایا ۔ پھر اُس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود بنانا جو تم کو نہ نفع پہنچا سکے نہ مضرت (جیسے بت) کس قدر حماقت اور جہالت ہے حالانکہ تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس جیسا کوئی نہیں۔

رَبُّكُمُ الَّذى يُزجى لَكُمُ الفُلكَ فِى البَحرِ لِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ ۚ إِنَّهُ كانَ بِكُم رَحيمًا {17:66}
تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے واسطے کشتی دریا میں [۱۰۴] تاکہ تلاش کرو اس کا فضل [۱۰۵] وہی ہے تم پر مہربان
تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے
یہ خدا کی کارسازی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے ، جس میں ایک مشرک کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کے سوا کوئی کارساز نہیں۔ کہ ہیں عارضی زور کمزور سارے۔
یعنی روزی کو اکثر قرآن میں "فضل" فرمایا ہے۔ "فضل" کے معنی زیادہ کے ہیں۔ سو مسلمان کی بندگی ہے آخرت کے واسطے اور دنیا لبھاؤ میں ملتی ہے۔




فاسق اور خاسر کون؟
الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَرضِ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ {2:27}
جو توڑتے ہیں خدا کے معاہدہ کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے فرمایا ملانے کو [۴۰] اور فساد کرتے ہیں ملک میں [۴۱] وہی ہیں ٹوٹے والے [۴۲]
جیسے قطع رحم کرنا،انبیاء اور علماء اور واعظین اور مومنین اور نماز اور دیگر جملہ امور خیر سے اعراض کرنا۔
فساد سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ایمان سے نفرت دلاتے تھے اور مخالفان اسلام کو ورغلا کر مسلمانوں سے مقاتلہ کراتے تھے اور حضرات صحابہ اور صلحائے امت کے عیوب نکال کر تشہیر کرتے تھے تاکہ آپ کی اور دین اسلام کی بےوقعتی لوگوں کے ذہن نشین ہو جائے اور مسلمانوں کا راز مخالفوں تک پہنچاتے تھے اور طرح طرح کی رسوم و بدعات خلاف طریقہ اسلام پھیلانے میں سعی کرتے تھے۔
مطلب یہ کہ ان حرکات ناشائستہ سے اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں،توہین اسلام اور تحقیر صلحائے امت کچھ بھی نہ ہو سکے گی۔


خاسر کون؟
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَتلونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ أُولٰئِكَ يُؤمِنونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكفُر بِهِ فَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ {2:121}
وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب وہ اسکو پڑھتے ہیں جو حق ہے اسکے پڑھنے کا وہی اس پر یقین لاتے ہیں اور جو کوئی منکر ہو گا اس سے تو وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں [۱۷۵]
یہود میں تھوڑے آدمی منصف بھی تھے کہ اپنی کتاب کو پڑھتے تھے سمجھ کر وہ قرآن پر ایمان لائے (جیسے حضرت عبداللہ ابن سلامؓ اور ان کے ساتھی) یہ آیت انہی لوگوں کے بارہ میں ہے ۔ یعنی انہوں نے توریت کو غور سے پڑھا انہی کو ایمان نصیب ہوا اور جس نے انکار کیا کتاب کا یعنی اس میں تحریف کی وہ خائب و خاسر ہوئے۔



جھنمی کون؟
وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ {2:39}
اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

بَلىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحٰطَت بِهِ خَطيـَٔتُهُ فَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ {2:81}
جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے [۱۲۴] سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
گناہ کسی کا احاطہ کر لیں ۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کر لیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو ۔ حتٰی کی دل میں ایمان و تصدیق باقی ہو گی تو بھی احاطہ مذکور محقق نہ ہو گا۔ تو اب کافر ہی پر یہ صورت صادق آ سکتی ہے۔

الَّذينَ يَأكُلونَ الرِّبوٰا۟ لا يَقومونَ إِلّا كَما يَقومُ الَّذى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيطٰنُ مِنَ المَسِّ ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّبوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّمَ الرِّبوٰا۟ ۚ فَمَن جاءَهُ مَوعِظَةٌ مِن رَبِّهِ فَانتَهىٰ فَلَهُ ما سَلَفَ وَأَمرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَن عادَ فَأُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ {2:275}
جو لوگ کھاتےہیں سود نہیں اٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اٹھتا ہے وہ شخص کہ جس کے حواس کھو دیے ہوں جن نے لپٹ کر یہ حالت انکی اس واسطے ہو گی کہ انہوں نے کہا کہ سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود لینا حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری اور حرام کیا ہے سود کو [۴۴۴] پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آ گیا تو اس کے واسطے ہے جو پہلے ہو چکا اور معاملہ اس کا اللہ کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لیوے تو وہی لوگ ہیں دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے [۴۴۵]
یعنی ربٰو کھانے والے قیامت کو قبروں سے ایسے اٹھیں گے جیسے آسیب زدہ اور مجنون اور یہ حالت اس واسطے ہو گی کہ انہوں نے حلال و حرام کو یکساں کر دیا اور صرف اس وجہ سےکہ دونوں میں نفع مقصود ہوتا ہے دونوں کو حلال کہا حالانکہ بیع اور ربٰو میں بڑا فرق ہے کہ بیع کو حق تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام ۔ فائدہ بیع میں جو نفع ہوتا ہے وہ مال کے مقابلہ میں ہوتا ہے جیسےکسی نے ایک درہم کی قیمت کا کپڑا دو درہم کو فروخت کیا اور سود وہ ہوتا ہے جس میں نفع بلا عوض ہو جیسے ایک درہم سے دو درہم خرید لیوے اول صورت میں چونکہ کپڑا اور درہم دو جدی جدی قسم کی چیزیں ہیں اور نفع اور غرض ہر ایک کی دوسرے سے علیحدہ ہے اس لئے ان میں فی نفسہ موازنہ اور مساوات غیر ممکن ہے۔ بضرورت خرید و فروخت موازنہ کرنے کی کوئی صورت اپنی اپنی ضرورت اور حاجت کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی اور ضرورت اور رغبت ہر ایک کی ازحد مختلف ہوتی ہے کسی کو ایک درہم کی اتنی حاجت ہوتی ہے اور دس روپیہ کی قیمت کے کپڑے کی بھی اس قدر نہیں ہوتی اور کسی کو ایک کپڑے کی جو بازار میں ایک درہم کا شمار ہوتا ہے اتنی حاجت ہو سکتی ہے کہ دس درہم کی بھی اتنی احتیاج اور رغبت نہیں ہوتی تو اب ایک کپڑے کو درہم میں کوئی خریدے گا تو اس میں سود یعنی نفع خالی عن العوض نہیں اور اگر بالفرض اسی کپڑے کو ایک ہزار درہم کو خریدے گا تو سود نہیں ہو سکتا کیونکہ فی حد ذاتہ تو ان میں موازنہ اور مساوات ہو ہی نہیں سکتی اس کے لئے اگر پیمانہ ہے تو اپنی اپنی رغبت اور ضرورت اور اس میں اتنا تفاوت ہے کہ خدا کی پناہ، تو سود متعین ہو تو کیونکر ہو اور ایک درہم کو دو درہم کے عوض فروخت کرے گا تو یہاں فی نفسہ مساوات ہو سکتی ہے جس کے باعث ایک درہم کے مقابلہ میں معین ہوگا اور دوسرا درہم خالی عن العوض ہو کر سود ہو گا اور شرعًا یہ معاملہ حرام ہو گا۔
یعنی سود کی حرمت سے پہلے تم نے جو سود لیا دنیا میں اس کو مالک کی طرف واپس کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا یعنی تم کو اس سے مطالبہ کا حق نہیں اور آخرت میں حق تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اپنی رحمت سے اس کو بخش دے لیکن حرمت کے بعد بھی اگر کوئی باز نہ آیا بلکہ برابر سود لئے گیا تو وہ دوزخی ہے اور خدا تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی عقلی دلیلوں کو پیش کرنے کی سزا وہی سزا ہے جو فرمائی۔



جنتی کون؟
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ {2:82}
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے






خاشعین کون؟
الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلٰقوا رَبِّهِم وَأَنَّهُم إِلَيهِ رٰجِعونَ {2:46}
جن کو خیال ہے کہ وہ روبرو ہونے والے ہیں اپنے رب کے اور یہ کہ انکو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے [۷۲]
یعنی صبر اور نماز حضور دل سے بہت بھاری ہے مگر ان پر آسان ہے جو عاجزی کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں جن کا خیال اور دھیان یہ ہے کہ ہم کو خدا کے روبرو ہونا اور اس کی طرف پھر جانا ہے (یعنی نماز میں خدا کا قرب اور گویا اس سے ملاقات ہے) یا قیامت میں حساب و کتاب کے لئے روبرو جانا ہے۔

أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ (86)

ظالمین کون؟
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَعرِفونَهُ كَما يَعرِفونَ أَبناءَهُم ۖ وَإِنَّ فَريقًا مِنهُم لَيَكتُمونَ الحَقَّ وَهُم يَعلَمونَ {2:146}
جن کو ہم نے دی ہے کتاب پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو اور بیشک ایک فرقہ ان میں سے البتہ چھپاتے ہیں حق کو جان کر


صابرین کون؟
الَّذينَ إِذا أَصٰبَتهُم مُصيبَةٌ قالوا إِنّا لِلَّهِ وَإِنّا إِلَيهِ رٰجِعونَ {2:156}
کہ جب پہنچے ان کو کچھ مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں





ھدایت اور رحمت یافتہ کون؟
أُولٰئِكَ عَلَيهِم صَلَوٰتٌ مِن رَبِّهِم وَرَحمَةٌ ۖ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُهتَدونَ {2:157}
ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر [۲۲۱]
یعنی جن لوگوں نے ان مصائب پر صبر کیا اور کفران نعمت نہ کیا بلکہ مصائب کو وسیلہ ذکر و شکر بنایا تو انکو اے پیغمبر ہماری طرف سے بشارت سنا دو۔



لعنتی کون؟
إِنَّ الَّذينَ يَكتُمونَ ما أَنزَلنا مِنَ البَيِّنٰتِ وَالهُدىٰ مِن بَعدِ ما بَيَّنّٰهُ لِلنّاسِ فِى الكِتٰبِ ۙ أُولٰئِكَ يَلعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلعَنُهُمُ اللّٰعِنونَ {2:159}
بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں بعد اس کے کہ ہم انکو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں [۲۲۴] ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے [۲۲۵]
لعنت کرنے والے یعنی جن و انس و ملائکہ بلکہ اور سب حیوانات کیونکہ انکی حق پوشی کے وبال میں جب عالم کے اندر قحط وبا طرح طرح کی بلائیں پھیلتی ہیں تو حیوانات بلکہ جمادات تک کو تکلیف ہوتی ہے اور سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔
اس سے مراد ہیں یہود کہ توریت میں جو آپ کی تصدیق تھی اس کو اور تحویل قبلہ وغیرہ امور کو چھپاتے تھے اور جس نے غرض دنیا کے واسطے اللہ کے حکم کو چھپایا وہ سب اس میں داخل ہیں۔

إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَماتوا وَهُم كُفّارٌ أُولٰئِكَ عَلَيهِم لَعنَةُ اللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ {2:161}
بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور مر گئے کافر ہی انہی پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی [۲۲۷]
یعنی جس نے خود حق پوشی کی یا کسی دوسرے کی حق پوشی کے باعث گمراہ ہوا اور اخیر تک کافر ہی رہا اور توبہ نصیب نہ ہوئی تو وہ ہمیشہ کو ملعون اور جہنمی ہوا مرنے کے بعد توبہ مقبول نہیں، بخلاف اول فریق مذکور سابق کے کہ توبہ نے ان کی لعنت کو مقطع کر دیا کہ زندگی ہی میں تائب ہو گئے۔




تَوَّاب کن کیلئے؟
إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَبَيَّنوا فَأُولٰئِكَ أَتوبُ عَلَيهِم ۚ وَأَنَا التَّوّابُ الرَّحيمُ {2:160}
مگر جنہوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کام کو اور بیان کر دیا حق بات کو تو انکو معاف کرتا ہوں [۲۲۶] اور میں ہوں بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان
یعنی اگر چہ انکی حق پوشی کے باعث بعض آدمی گمراہی میں پڑ گئے لیکن جنہوں نے حق پوشی سے توبہ کر کے اظہار حق پوری طرح کر دیا تو اب بجائے لعنت ہم ان پر رحمت نازل فرماتے ہیں کیونکہ ہم تو اب و رحیم ہیں۔








بندے کون؟
الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا إِنَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَقِنا عَذابَ النّارِ {3:16}
وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے ہیں سو بخش دے ہم کو گناہ ہمارے اور بچا ہم کو دوزخ کے عذب سے [۲۱]
جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ
معلوم ہوا کہ گناہ معاف ہونے کے لئے ایمان لانا شرط ہے۔

الصّٰبِرينَ وَالصّٰدِقينَ وَالقٰنِتينَ وَالمُنفِقينَ وَالمُستَغفِرينَ بِالأَسحارِ {3:17}
وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور گناہ بخشوانے والے پچھلی رات میں [۲۲]
یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں
یعنی اللہ کے راستہ میں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر بھی اس کی فرمانبرداری پر جمے رہتے اور معصیت سے رکے رہتے ہیں۔ زبان کے، دل کے، نیت کے، معاملہ کے سچے ہیں۔ پوری تسلیم و انقیاد کے ساتھ خدا کے احکام بجا لاتے ہیں۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو اس کے بتلائے ہوئے مواقع میں خرچ کرتے ہیں۔ اور پچھلی رات میں اٹھ کر (جو طمانیت و اجابت کا وقت ہوتا ہے لیکن اٹھنا اس وقت سہل نہیں ہوتا) اپنے رب سے گناہ اور تقصیرات معاف کراتے ہیں۔ { کَانُوْ اقَلِیْلاً مِّنَ الَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ وَ بِالْاَ سْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ } (ذاریات رکوع ۱) یعنی اکثر رات عبادت میں گذارتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے کہ خداوند ! عبادت میں جو تقصیر رہ گئ اپنے فضل سے معاف فرمانا۔






منافقین کون؟
الَّذينَ قالوا لِإِخوٰنِهِم وَقَعَدوا لَو أَطاعونا ما قُتِلوا ۗ قُل فَادرَءوا عَن أَنفُسِكُمُ المَوتَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ {3:168}
وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو اور آپ بیٹھ رہے ہیں اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے [۲۶۱] تو کہہ دے اب ہٹا دیجو اپنے اوپر سے موت کو اگر تم سچے ہو [۲۶۲]
یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
یعنی اگر گھر میں بیٹھ رہنے سے جان بچ سکتی ہے تو دیکھیں موت کو گھر میں کس طرح نہ آنے دیں گے۔ اگر یہاں رہ کر بھی موت پیچھا نہیں چھوڑتی تو پھر بہادروں کی طرح میدان میں عزت کی موت کیوں نہ مریں۔
یعنی خود نامرد بن کر بیٹھ رہے اور اپنی برادری کے بھائیوں (انصار مدینہ) کو کہتے ہیں کہ ہماری بات مان کر گھر میں بیٹھے رہتے تو مارے نہ جاتے۔




مومنین کون؟
الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ {3:172}
جن لوگوں نے حکم مانا اللہ کا اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچ چکے تھے ان کو زخم جو ان میں نیک ہیں اور پرہیزگار ان کو ثواب بڑا ہے
جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

الَّذينَ قالَ لَهُمُ النّاسُ إِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَكُم فَاخشَوهُم فَزادَهُم إيمٰنًا وَقالوا حَسبُنَا اللَّهُ وَنِعمَ الوَكيلُ {3:173}
جن کو کہا لوگوں نے کہ مکہ والے آدمیوں نے جمع کیا ہے سامان تمہارے مقابلہ کو سو تم ان سے ڈرو تو اور زیادہ ہوا ان کا ایمان اور بولے کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے [۲۶۴]
(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے
ابوسفیان جب احد سےمکہ کو واپس گیا تو راستہ میں خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی، ہزیمت یافتہ اور زخم خوردہ مسلمانوں کو یونہی چھوڑ کر چلے آئے، مشورے ہونے لگے کہ پھر مدینہ واپس چل کر ان کا قصہ تمام کر دیں آپ کو خبر ہوئی تو اعلان فرما دیا کہ جو لوگ کل ہمارے ساتھ لڑائی میں حاضر تھے آج دشمن کا تعاقب کرنے کے لئے تیار ہو جائیں، مسلمان مجاہدین باوجودیکہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے اللہ اور رسول کی پکار پر نکل پڑے۔ آپ ان مجاہدین کی جمعیت لے کرمقام حمراء لاسد تک (جو مدینہ سے آٹھ میل ہے ) پہنچے ابوسفیان کے دل میں یہ سن کر کہ مسلمان اس کے تعاقب میں چلے آ رہے ہیں سخت رعب و دہشت طاری ہو گئ۔ دوبارہ حملہ کا ارادہ فسخ کر کے مکہ کی طرف بھاگا۔ عبدالقیس کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ آ رہا تھا۔ ابوسفیان نے ان لوگوں کو کچھ دیکر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں شائع کریں جن کو سن کر مسلمان ہماری طرف سے مرعوب وخوف زدہ ہو جائیں انہوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ مکہ والوں نے بڑا بھاری لشکر اور سامان مسلمانوں کے استیصال کی غرض سے تیار کیا ہے ۔ یہ سن کر مسلمانوں کے دلوں میں خوف کی جگہ جوش ایمان بڑھ گیا اور کفار کی جمعیۃ کا حال سن کر کہنے لگے { حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ } ساری دنیا کے مقابلہ میں اکیلا خدا ہم کو کافی ہے، اسی پر یہ آیات نازل ہوئیں، بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد تمام ہونے پر ابوسفیان نے اعلان کیا تھا کہ اگے سال بدر پر پھر لڑائی ہے۔ حضرت نے قبول کر لیا۔ جب اگلا سال آیا حضرت نے لوگوں کو حکم دیا کہ جہاد کے لئے چلو۔ اگر کوئی نہ جائے گا تب بھی اللہ کا رسول تنہا جائے گا۔ ادھر سے ابوسفیان فوج لے کر مکہ سے نکلا۔ تھوڑ دور چل کر ہمت ٹوٹ گئ رعب چھا گیا۔ قحط سالی کا عذر کر کے چاہا کہ مکہ واپس جائے۔ مگر صورت ایسی ہو کہ الزام مسلمانوں پر رہے۔ ایک شخص مدینہ جاتا تھا اس کو کچھ دینا کیا کہ وہاں پہنچ کر اس طرف کی ایسی خبریں مشہور کرنا جن کو سن کو مسلمان خوف کھائیں اور جنگ کو نہ نکلیں وہ مدینہ پہنچ کر کہنے لگا کہ مکہ والوں نے بڑی بھاری جمعیت اکٹھی کی ہے، تم کو لڑنا بہتر نہیں مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے استقلال دیا، انہوں نے یہ ہی کہا کہ ہم کو اللہ کافی ہے۔ آخر مسلمان حسب وعدہ بدر پہنچے۔ وہاں بڑا بازار لگتا تھا۔ تین روز رہ کر تجارت کر کے خوب نفع کماکر مدینہ واپس آئے۔ اس غزوہ کو "بدر صغریٰ" کہتے ہیں اس وقت جن لوگوں نے رفاقت کی اور تیار ہوئے ان کو یہ بشارت ہے کہ احد میں زخم کھا کر اور نقصان اٹھا کر پھر ایسی جرات کی۔ مسلمانوں کی اس جرأت و مستعدی کی خبر سن کر مشرکین راستہ سے لوٹ گئے۔ چنانچہ مکہ والوں نے اس مہم کا نام "جیش السویق" رکھ دیا، یعنی وہ لشکر جو محض ستو پینے گیا تھا، پی کر واپس آ گیا۔ (تنبیہ) یہ جو فرمایا { لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْ امِنْھُمْ وَاتَّقَوْا } محض ان کی مدح سرائی اور تنویہ شان کے لئے ہے ورنہ وہ سب کے سب ایسے ہی تھے۔






عقل والے (اولی الالباب) کون؟
الَّذينَ يَذكُرونَ اللَّهَ قِيٰمًا وَقُعودًا وَعَلىٰ جُنوبِهِم وَيَتَفَكَّرونَ فى خَلقِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ رَبَّنا ما خَلَقتَ هٰذا بٰطِلًا سُبحٰنَكَ فَقِنا عَذابَ النّارِ {3:191}
وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے [۲۸۸] اور فکر کرتے ہیں آسمان اور زمین کی پیدائش میں کہتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ عبث نہیں بنایا تو پاک ہے سب عیبوں سے ہم کو بچا دوزخ کے عذاب سے [۲۸۹]
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
یعنی کسی حال خدا سے غافل نہیں ہوتے اس کی یاد ہمہ وقت ان کے دل میں اور زبان پر جاری رہتی ہے جیسے حدیث میں رسول اللہ کی نسبت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا { کان یذکر اللہ علیٰ کل احیانہٖ } نماز بھی خدا کی بہت بڑی یاد ہے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ جو کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر پڑھ لے بعض روایات میں ہے کہ جس رات میں یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حالت میں اللہ کو یاد کر کے روتے رہے۔
یعنی ذکر و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ خداوندا! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بیکار پیدا نہیں کیا جس کا کوئی مقصدنہ ہو، یقینًا ان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا سلسلہ کسی عظیم و جلیل نتیجہ پر منتہی ہونا چاہئے۔ گویا یہاں سے ان کا ذہن تصور آخرت کی طرف منتقل ہو گیا جو فی الحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی کا آخری نتیجہ ہے اسی لئے آگے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی دعا کی اور درمیان میں خدا تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہہ بیان کر کے اشارہ کر دیا کہ جو احمق قدرت کے ایسے صاف و صریح نشان دیکھتے ہوئے تجھ کو نہ پہچانیں یا تیری شان کو گھٹائیں یا کارخانہ عالم کو محض عبث و لعب سمجھیں تیری بارگاہ ان سب کی ہزلیات و خرافات سے پاک ہے۔ ا س آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین اور دیگر مصنوعات الہٰیہ میں غور و فکر کرنا وہ ہی محمود ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو، باقی جو مادہ پرست ان مصنوعات کے تاروں میں الجھ کر رہ جائیں اور صانع کی صحیح معرفت تک نہ پہنچ سکیں، خواہ دنیا انہیں بڑا محقق اور سائنس داں کہا کرے، مگر قرآن کی زبان و میں وہ اولوالالبا ب نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ پرلے درجہ کے جاہل و احمق ہیں۔

رَبَّنا إِنَّكَ مَن تُدخِلِ النّارَ فَقَد أَخزَيتَهُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ {3:192}
اے رب ہمارے جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا سو اس کو رسوا کر دیا [۲۹۰] اور نہیں کوئی گنہگاروں کا مددگار [۲۹۱]
اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
جو شخص جتنی دیر دوزخ میں رہے گا اسی قدر رسوائی سمجھو۔ اس قاعدہ سے دائمی رسوائی صرف کفار کے لئے ہے ۔ جن آیات میں عامۂ مومنین سے خزی (رسوائی) کی نفی کی گئ ہے وہاں یہ ہی معنی سمجھنے چاہئیں۔
یعنی جس کو خدا دوزخ میں ڈالنا چاہے کوئی حمایت کر کے بچا نہیں سکتا۔ ہاں جن کو ابتداء میں یا آخر میں چھوڑنا اور معاف کر دینا ہی منظور ہو گا (جیسے عصاۃ مومنین) ان کے لئے شفعاء کو اجازت دی جائے گی کہ سفارش کر کے بخشوائیں۔ وہ اس کے مخالف نہیں بلکہ آیات و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

رَبَّنا إِنَّنا سَمِعنا مُنادِيًا يُنادى لِلإيمٰنِ أَن ءامِنوا بِرَبِّكُم فَـٔامَنّا ۚ رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا وَكَفِّر عَنّا سَيِّـٔاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الأَبرارِ {3:193}
اے رب ہمارے ہم نے سنا کہ ایک پکارنے والا پکارتا ہے ایمان لانے کو کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر [۲۹۲] سو ہم ایمان لے آئے [۲۹۳] اے رب ہمارے اب بخش دے گناہ ہمارے اور دور کر دے ہم سے برائیاں ہماری اور موت دے ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ [۲۹۴]
اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا
یعنی ہمارے بڑے بڑے گناہ بخش دے اور چھوٹی موٹی برائیوں پر پردہ ڈال دے اور جب اٹھانا ہو نیک بندوں کے زمرہ میں شامل کر کے دنیا سے اٹھا لے۔
یعنی نبی کریم جنہوں نے بڑی اونچی آواز سے دنیا کو پکارا۔ یا قرآن کریم جس کی آواز گھر گھر پہنچ گئ۔
پہلے ایمان عقلی کا ذکر تھا، یہ ایمان سمعی ہوا جس میں ایمان بالرسول اور ایمان بالقرآن بھی درج ہو گیا۔

رَبَّنا وَءاتِنا ما وَعَدتَنا عَلىٰ رُسُلِكَ وَلا تُخزِنا يَومَ القِيٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لا تُخلِفُ الميعادَ {3:194}
اے رب ہمارے اور دے ہم کو جو وعدہ کیا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے واسطہ سے اور رسوا نہ کر ہم کو قیامت کے دن [۲۹۵] بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا [۲۹۶]
اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا
یعنی آپ کے ہاں تو وعدہ خلافی کا احتمال نہیں، ہم میں احتمال ہے کہ مبادا ایسی غلطی نہ کر بیٹھیں جو آپ کے وعدوں سے مستفید نہ ہو سکیں ۔ اس لئے درخواست ہے کہ ہم کو ان اعمال پر مستقیم رہنے کی توفیق دیجئے جن کی آپ کے وعدوں سے متمتع ہونے کے لئے ضرورت ہے۔
یعنی پیغمبروں کی زبانی، ان کی تصدیق کرنے پر جو وعدے آپ نے کئے ہیں (مثلًا دنیا میں آخر کار اعداء اللہ پر غالب و منصور کرنا اور آخرت میں جنت و رضوان سے سرفراز فرمانا) ان سے ہم کو اس طرح بہرہ اندوز کیجئے کہ قیامت کے دن ہماری کسی قسم کی ادنیٰ سے ادنیٰ رسوائی بھی نہ ہو۔







11 - "ليس الإيمان بالتمنى ولا بالتحلي، ولكن: هو ما وقر في القلب وصدقه العمل" (ابن النجار فرص عن أنس) .
ایمان، تزئین و تمنا سے (یعنی محض زبانی اقرار سے) حاصل نہیں ہوتا، بلکہ ایمان تو وہ ہے جو دل میں راسخ (پختہ) ہوجائے اور عمل اس کی تصدیق کرنے لگ جائے۔
] جامع الاحادیث: 19318 ، أخرجه أيضًا: الديلمى (3/404، رقم 5232) مختصرا.[


503 - "ليس أحد منكم بأكسب من أحد. قد كتب الله المصيبة والأجل، وقسم المعيشة والعمل، فالناس يجرون فيها إلى منتهى". (حل عن ابن مسعود) .
تم میں سے کوئی ایک دوسرے سے زیادہ کمانے والا نہیں ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ نے مصیبت اور موت کو لکھ دیا ہے، اور رزق وعمل کو تقسیم فرمادیا ہے۔ لھٰذا لگ اپنے انجام کی طرف کھنچے چلے جارہے ہیں۔
] جامع الاحادیث: 19313، أخرجه أبو نعيم فى الحلية (6/116) وقال: غريب.]



829 - " ليس بمؤمن مستكمل الإيمان من لم يعد البلاء نعمة والرخاء مصيبة قالوا كيف يا رسول الله قال لأن البلاء لا يتبعه إلا الرخاء وكذلك الرخاء لا يتبعه إلا البلاء والمصيبة، وليس بمؤمن مستكمل الإيمان من لم يكن في غم ما لم يكن في الصلاة قالوا ولم يا رسول الله قال لأن المصلي يناجي ربه وإذا كان في غير صلاة إنما يناجي ابن آدم". (طب عن ابن عباس) .
وہ شخص کامل الایمان مومن نہیں ہے، جو مصیبت کو نعمت نہ سمجھے اور نرمی وآسانی کو مصیبت نہ سمجھے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر مصیبت کے بعد نرمی وفراخی اور ہر نرمی وفراخی کے بعد مصیبت وبلاء آتی ہی ہے۔
اور (فرمایا) کوئی مومن کامل الایمان نہیں ہوتا سوائے نماز کی حالت کے، کیونکہ وہ اس وقت مکمل سنجیدگی وغم میں ہوتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ وہ کیسے اور کیونکر؟ تو فرمایا: اس لیے کہ بندہ نماز میں اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتا ہے اور غیر نماز میں وہ ابنِ آدم سے گفتگو کرتا ہے۔
[جامع الاحادیث: 19354 ، أخرجه الطبرانى (11/32، رقم 10949) . قال الهيثمى (1/96) : فيه عبد العزيز بن يحيى المدنى قال البخارى: كان يضع الحديث.]





1220 - "ليس الأعمى من يعمى بصره إنما الأعمى من تعمى بصيرته". (الحكيم هب عن عبد الله بن
جراد) .
وہ شخص اندھا نہیں ہے، جس کی بصارت (آنکھوں کی نظر) زائل ہوجائے، بلکہ (حقیقی) اندھا تو وہ ہے جس کی بصیرت (دل کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت) زائل ہوجائے۔
[جامع الاحادیث: 19316 ، أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (2/126، رقم 1372) ، والديلمى (3/403، رقم 5227) ، والحكيم فى نوادر الأصول (1/211) . قال المناوى (5/355) : فيه يعلى بن الأشدق أورده الذهبى فى الضعفاء وقال: قال البخارى: لا يكتب حديثه.]





6401- ليس البر في حسن اللباس والزي ولكن البر في السكينة والوقار. "فر عن أبي سعيد".
نیکی، اچھے لباس اور اچھی صورت میں نہیں، بلکہ نیکی تو اطمینان اور وقار میں ہے۔
[جامع الاحادیث: 19319+ 6787  ، قال المناوى (2/226) : فيه محمد بن سليمان بن أبى داود الحرانى قال الذهبى: ضعفوه. انظر المقتنى فى سرد الكنى (1/100، 563) ، المغنى فى الضعفاء (2/587، 5579) ، الضعفاء والمتروكين (2/17، 1515) ، ميزان الاعتدال (3/293، 3459) ، الكاشف (2/176، 4884) وغيرها من المصادر وكذا موسوعة رواة الأحاديث.
أخرجه الديلمى (1/2/227 228) كما فى السلسلة الضعيفة للألبانى (7/68، رقم 3068) . قال المناوى (2/226) : فيه سليمان بن أبى داود الحرانى، قال الذهبى: ضعفوه.]





29010- "ليس البيان كثرة الكلام ولكن فصل فيما يحب الله ورسوله وليس العي عي اللسان ولكن قلة المعرفة بالحق". "فر" عن أبي هريرة.
کثرت سے کلام کرنا بیان نہیں ہے، البتہ دوٹوک کلام وہ ہے جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتا ہو۔
عاجز وہ نہیں جو زبان سے عاجز ہو البتہ حق کی معرفت (پہچان) کی قلت (حقیقی) عاجزی ہے۔
[جامع الاحادیث: 19320 ، أخرجه الديلمى (3/399، رقم 5215) . ضعیف الجامع:4882]






45494- "ليس الجهاد أن يضرب الرجل بسيفه في سبيل الله، إنما الجهاد من عال والديه وعال ولده فهو في جهاد، ومن عال نفسه فكفاها عن الناس فهو في جهاد. " ابن عساكر - عن أنس".
جہاد (صرف) یہ نہیں کہ آدمی اللہ کی راہ میں تلوار لے کر دشمن کو مارے، جہاد تو یہ (بھی) ہے کہ آدمی اپنے والدین اور اولاد کی دیکھ بھال کرے تو وہ آدمی جہاد میں ہوتا ہے۔ اور جو شخص اپنی ذات کی دیکھ بھال کرے اور لوگوں کی طرف سے اس کی کفایت کرے تو وہ شخص بھی جہاد میں ہے۔ 
[جامع الاحادیث: 19321، أخرجه أبو نعيم فى الحلية (6/300) ، وابن عساكر (21/172) ، والديلمى (3/402، رقم 5225) .]




44110- ليس الخبر كالمعاينة. "طس - عن أنس؛ خط - عن أبي هريرة".
سنائی ہوئی خبر دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی۔
[جامع الاحادیث: 19323 ، حديث ابن عباس: أخرجه الخطيب (6/56) . وأخرجه أيضًا: أحمد (1/215، رقم 1842) ، والديلمى (3/399، رقم 5217) .
حديث أبى هريرة: أخرجه الخطيب (8/27) .
حديث أنس: أخرجه الطبرانى فى الأوسط (7/90، رقم 6943) . قال الهيثمى (1/153) : رجاله ثقات. والخطيب
(3/360) ، والديلمى (3/400، رقم 5218) .
للحديث أطراف منها: "ليس المعاين كالمخبر".







44130- ليس المعاين كالمخبر. "ابن خزيمة، والحسن بن سفيان، والخطيب - عن أنس".
دیکھنے والا خبر سننے والے کی طرح نہیں ہوتا۔
[جامع الاحادیث: 19346 ، حديث أنس: أخرجه الخطيب (3/200) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (3/399، رقم 5216) .
حديث تمامة: أخرجه الضياء من طريق ابن خزيمة (5/202 رقم 1827) وقال: إسناده صحيح. وأخرجه أيضًا: الخطيب (3/200)
وللحديث أطراف منها: "ليس الخبر كالمعاينة"].








6871- ليس الخلف أن يعد الرجل ومن نيته أن يفي، ولكن الخلف أن يعد الرجل ومن نيته أن لا يفي. "ع عن زيد بن أرقم".
وعدہ خلافی یہ نہیں کہ انسان اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت وعدہ پورا کرنی کی ہو، بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ انسان اپنے بھائی وعدہ کرے اور اس کی نیت (وعدہ پورا) کرنی کی ‘‘نہ’’ ہو۔
[جامع الاحادیث: 19325 ، أخرجه أيضًا: الخطيب فى الجامع لأخلاق الراوى (2/60، رقم 1179) .]






9819- "ليس الربا إلا في النسيئة أو النظرة". "2عن أسامة بن زيد".
نہیں ہے سود مگر ادھار یا جھوٹ دینے میں۔
[جامع الاحادیث: 19326 ، أخرجه الطبرانى (1/172، رقم 431) .]
                                       





11377- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم افتقد رجلا فقال: أين فلان؟ فقال قائل: ذهب يلعب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لنا وللعب؟ فقال رجل: يا رسول الله ذهب يرمي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس الرمي بلعب، الرمي خير ما لهوتم به. "الديلمي".
حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم نے ایک شخص کو موجود نہ پایا تو دریافت فرمایا کہ فلاں شخص کہاں ہے؟ تو کسی نے عرض کیا کہ کھیلنے گیا ہے، آپ نے فرمایا کہ ہمارا کھیل سے کیا تعلق؟ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! وہ تیر اندازی کرنے گیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ تیراندازی کھیل نہیں ہے بلکہ تیراندازی ان سب سے بہتر ہے جو تم کھیلتے ہو۔
[جامع الاحادیث: 19327+39378 ، قال المناوى فى فيض القدير (4/59) : فيه عبد الرحمن بن عبد الله العمرى قال الذهبى: تركوه واتهمه بعضهم أى بالوضع. وقال الحسينى فى البيان والتعريف (2/176) أخرجه الديلمى عن ابن عمر.]





قحط سالی کیا ہے؟

19328- ليس السنة بأن لا تمطروا ولكن السنة أن تمطروا وتمطروا ولا تنبت الأرض شيئا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔
[أخرجه الشافعى (1/82) ، وأحمد (14/325، رقم 8703 + 14/364، رقم 8754) (2/358، رقم 8688) ، ومسلم (4/2228، رقم 2904) (8511) عن أبى هريرة].

اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط مصائب اور بادشا ہوں (حکرانوں) کے ظلم وستم میں مبتلا کر دی جاتی ہے
[جامع الاحادیث: ، أخرجه ابن ماجه (2/1332، رقم 4019) ، وأبو نعيم (8/333) ، والحاكم (4/583، رقم 8623) وقال: صحيح الإسناد. والبيهقى فى شعب الإيمان (3/197، رقم 3315) ، وابن عساكر (35/260) ].


وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ، أَنْبَتَهَا لَكَ [سنن أبي داود:4084]
اور اگر تمہیں کسی سال قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے تو اسے پکارو تو وہ تمہارے واسطے (اناج) اگائے گا۔







بہادر کون؟

7715- ليس الشديد الذي يغلب الناس، إنما الشديد الذي غلب نفسه عند الغضب. "العسكري في الأمثال عن أبي هريرة".
[جامع الاحادیث: 19329 ، أخرجه أيضًا: إسحاق بن راهوية (1/446، رقم 516) .]

19330- ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور اور پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو پچھاڑ دے اور اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
[بخاري: 6114، مسلم:2609، مسند أحمد:7219، وهو في "موطأ مالك" 2/906، ومن طريقه أخرجه البخاري في "الصحيح" (6114) ، وفي "الأدب المفرد" (1317) ، ومسلم (2609) (107) ، والنسائي في "عمل اليوم والليلة" (394) ، والبغوي (3581) ، والقضاعي في "مسند الشهاب" وأخرجه بنحوه هناد في "الزهد" (1302) ، والطيالسي (2525) ، والنسائي في "عمل اليوم والليلة" (397) ، وابن حبان (717) ، والبغوي (3582) من طريق أبي حازم، عن أبي هريرة.]
تشریح:  اس ارشاد گرامی کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ اصل میں اگر کوئی چیز انسان کی سب سے بڑی دشمن اور اس کے مقابلہ میں سب سے زیادہ طاقتور ہے تو وہ خود اس کا نفس ہے اگر کوئی شخص بڑے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑتا رہا اور اپنے آپ کو طاقتور ترین دشمن کو بھی زیر کرتا رہا مگر خود اپنے نفس پر غالب نہیں آ سکا تو یہ کوئی کمال نہیں ہے اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو زیر کرے جو اس کا اصل دشمن ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے،" تمہارے دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو تمہارے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہے۔ واضح رہے کہ بدن کی قوت ظاہری اور جسمانی ہے جو زوال پذیر اور فنا ہو جانے والی ہے اس کے برخلاف جو قوت نفس کو زیر کرتی ہے وہ دینی اور روحانی ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور ہمیشہ باقی رہتی ہے لہذا نفس امارہ کو مارنا وصف اور کمال کی بات ہے کہ جب کہ آدمی کو پچھاڑنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ مردے نہ بقوت بازو ست دزور کتف بانفس اگر با ئی دانم کہ شاطرے





حقیقی روزہ کیا ہے؟
23864- "ليس الصيام من الأكل والشرب، إنما الصيام من اللغو والرفث فإن سابك أحد أو جهل عليك فقل: إني صائم إني صائم". (ك هق عن أبي هريرة) . وإن كنت قائما فاجلس [ابن حبان (8/259، رقم 3483)]۔
صرف کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام روزہ نہیں، بلکہ روزہ تو لغویات اور بیہودہ گوئی سے رکنے کا نام ہے۔ اگر تمہیں کوئی گالی دے یا تمہارے اوپر کوئی جہالت کا مظاہرہ کرے تو کہہ دو کہ میں روزہ سے ہوں۔ اور اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔
[جامع الاحادیث: 6490+19331 ، أخرجه الحاكم (1/595، رقم 1570) وقال: صحيح على شرط مسلم. والبيهقى (4/270، رقم 8096) ، وابن حبان (8/255، رقم 3479) ، والديلمى (3/402، رقم 5224)].



حقیقی مالداری کیا ہے؟

7159- ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس. ("حم ق ت هـ" عن أبي هريرة).
غنیٰ (مالداری)، کثرتِ مال کا نام نہیں ہے، غنیٰ تو دل کی غیرمحتاجی ہے۔
[جامع الاحادیث: 19332 ، حديث أنس: أخرجه أبو يعلى (5/404، رقم 3079) ، والطبرانى فى الأوسط (7/203، رقم 7274) ، قال الهيثمى (10/237) : رواه الطبرانى فى الأوسط، وأبو يعلى، ورجال الطبرانى رجال الصحيح. والضياء (6/100، رقم 2086) .
حديث أبى هريرة: أخرجه أحمد (2/243، رقم 7314) ، وهناد فى الزهد (1/339) ، والبخارى (8/95، رقم 6446) ، ومسلم (2/726، رقم 1051) ، والترمذى (4/586، رقم 2373) وقال: حسن صحيح. وابن ماجه
(2/1386، رقم 4137) .

43549- سأل موسى ربه عن ست خصال كان يظن أنها له خاصة، والسابعة لم يكن موسى يحبها، قال: يا رب أي عبادك أتقى؟ قال: الذي يذكر الله ولا ينسى، قال: فأي عبادك أهدى؟
قال: الذي يتبع الهدى، قال: فأي عبادك أحكم؟ قال: الذي يحكم للناس كما يحكم لنفسه، قال: فأي عبادك أعلم؟ قال: عالم لا يشبع من العلم، يجمع علم الناس إلى علمه؛ قال: فأي عبادك أعز؟ قال: الذي إذا قدر عفا، قال: فأي عبادك أغنى؟ قال: الذي يرضى بما أوتي، قال: فأي عبادك أفقر؟ قال: صاحب سفر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحديث: ليس الغنى عن ظهر المال، إنما الغنى غنى النفس، وإذا أراد الله بعبد خيرا جعل غناه في نفسه وتقاه في قلبه، وإذا أراد الله بعبد شرا جعل فقره بين عينيه."الروياني، وأبو بكر بن المقرئ في فوائده، وابن لال، وابن عساكر - عن أبي هريرة؛ وروى هب بعضه".
حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے چھ باتوں کے بارے میں پوچھا جن کے متعلق ان کا گمان تھا کہ وہ ان کے ساتھ خاص ہیں اور ساتویں چیز حضرت موسیٰ ؑ کو پسند نہ تھی۔ عرض کیا: اے میرے رب! آپ کا کونسا بندہ زیادہ پرہیزگار ہے؟ اللہ نے فرمایا: جو اللہ کا ذکر کرتا رہے اور بھولے نہیں۔ عرض کیا: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ فرمایا: جو ہدایت کی پیروی کرے۔ عرض کیا: آپ کا کونسا بندہ زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والا ہے؟ فرمایا: جو بندوں کیلئے وہی فیصلہ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے۔ عرض کیا: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ علم والا ہے؟ فرمایا:  وہ عالم جو علم سے کبھی سیر نہیں ہوتا، وہ لوگوں کو اپنے علم کے ساتھ جمع کرتا رہتا ہے۔ عرض کیا: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ عزت مند ہے؟ فرمایا: وہ جسے جب قدرت ہو تو معاف کردے۔ عرض کیا: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ غنی (مالدار) ہے؟ فرمایا: جسے جو ملے اس پر راضی رہے۔ عرض کیا: آپ کا کونسا بندہ زیادہ محتاج ہے؟ فرمایا: مسافر۔ پھر رسول اللہ نے حدیث میں فرمایا: مال کی وجہ سے مالداری نہیں، مالداری تو دل کی مالداری ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو بھلائی دینا چاہتے ہیں تو اس کے دل میں غنیٰ (مالداری) پیدا فرمادیتے ہیں، اس کے دل کو متقی بنادیتے ہیں اور جب کسی بندے کو برائی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو محتاجی اس کا مقصد بنادیتے ہیں۔
[جامع الاحادیث: 12957 ، أخرجه ابن أبى شيبة (7/37، رقم 34018) ، ومسلم (1/176، رقم 189) ، والترمذى (5/347، رقم 3198) وقال: حسن صحيح. وأخرجه أيضًا: الحميدى (2/335، رقم 761) ، وابن حبان (14/99، رقم 6216) ].






19261- ليس الفجر بالأبيض المستطيل في الأفق ولكنه الأحمر المعترض.
فجر وہ نہیں ہے جو سفید ہوتی ہے اور طولأ افق میں پھیلتی ہے، بلکہ فجر وہ ہے جو سرخ ہوتی ہے اور عرضأ پھیلتی ہے۔
[جامع الاحادیث: ، أخرجه أحمد (4/23، رقم 16334) ، والطبرانى (8/331، رقم 8236) . وأخرجه أيضًا: الترمذى (3/85، رقم 705) وقال: حسن غريب].
حديث حسن، محمد بن جابر: وهو ابن سَيار الحنفي- وإن كان ضعيفاً- قد توبع، وعبد الله بن النعمان: وهو السُّحَيْمي، وثقه ابن معين، والعجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات". وقيس بن طلق، مختلف فيه، حسن الحديث، وقد سلف الكلام عليه في الرواية رقم (16285) . موسى: هو ابن
داود الضَبّي.
وأخرجه ابن أبي شيبة 3/27، وأبو داود (2348) ، والترمذي (705) ، وابن خزيمة (1930) ، والطبراني في "الكبير" (8257) ، والدارقطني 2/166 من طريق ملازم بن عمرو، عن عبد الله بن النعمان، بهذا الإسناد. بلفظ: "كلوا واشربوا، ولا يهيدنكم الساطع المصْعِدُ، وكلوا واشربوا حتى يعترض لكم الأحمر". ومعنى: لا يهيدنكم، أي: لا تنزعجوا للفجر المستطيل فتمتنعوا عن السجود، فإنه الصبح الكذاب.
وهذا لفظ الترمذي، وقال: حديث طلق بن علي حديث حسن غريب من هذا الوجه، والعمل على هذا عند أهل العلم أنه لا يحرم على الصَّائم الأكل والشرب حتى يكون الفجر الأحمر المعترض، وبه يقول عامَّةُ أهل العلم.
وباللفظ السَّالف أخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 2/54 من طريقين عن ملازم بن عمرو، عن عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، به.
وقد أورد الحافظ في "أطراف المسند" 2/624 إسناداً آخر من طريق محمد بن جابر، رواه عنه أبو زكريا السيلحيني، ولم نجده فيما بين أيدينا من النسخ الخطية من المسند.
وفي الباب عن سمرة بن جندب عند مسلم (1094) ، وسيرد 5/13.
قال السندي: قوله: "ليس الفجر" بالرفع، والمراد هو الفجر الصادق المنوط به أمر الصوم والصلاة.







2462 - "ليس القرآن بالتلاوة ولا العلم بالرواية ولكن القرآن بالهداية والعلم بالدراية". (الديلمي عن أنس) .
قرآن محض تلاوۃ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی علم محض روایۃ کرنے کا نام ہے، بلکہ قرآن ہدایت اور علم درایت (سمجھنے) کا نام ہے۔
[جامع الاحادیث: 19334 ، أخرجه الديلمى (3/398، رقم 5214) ].






تکبر کیا ہے؟
7767- ليس الكبر أن يحب أحدكم الجمال، ولكن الكبر أن يسفه الحق ويغمص الناس.
ابن عساكر عن خريم بن فاتك، إنه قال يا رسول الله: إني لأحب الجمال، حتى إني لأحبه في شراك نعلي، وجلاز سوطي، وإن قومي يزعمون أنه من الكبر، قال: فذكره. "طب عن فاطمة بنت الحسين عن أبيها"، "طب وسمويه عن ثابت بن قيس "طب وسمويه عن سواد بن عمرو الأنصاري".
تکبر یہ نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی خوبصورتی کو پسند کرے، لیکن تکبر حق کو ٹھکرانہ اور لوگوں کو کم تر سمجھنا ہے۔
ابنِ عساکرؒ، خریم بن فاتک سے مروی ہیں کہ، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میں اپنے کوڑے کے دستہ اور جوتے کے تسمہ میں بھی خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میری قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ تکبر ہے۔تو آپ نے ایسا فرمایا۔  
[جامع الاحادیث: 19336 ، حديث خريم: أخرجه ابن عساكر (16/351) .
حديث ثابت بن قيس بن شماس: أخرجه الطبرانى (2/69، رقم 1317) . قال الهيثمى (5/134) : رواه الطبرانى فى الكبير والأوسط، والبزار بنحوه، وفيه محمد بن أبى ليلى، وهو سيئ الحفظ وحديثه حسن.
حديث سواد بن عمرو الأنصارى: أخرجه الطبرانى (7/96، رقم 6477) . قال الهيثمى (5/134) : رجاله رجال الصحيح].








24903- "ليس المؤمن الذي لا يأمن جاره بوائقه". "طب عن طلق بن علي".
وہ مومن نہیں ہوسکتا جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی بےخوف نہ ہو۔
[جامع الاحادیث: 19337 ، أخرجه الطبرانى فى الكبير (8/334، رقم 8250) . وأخرجه أيضًا: فى الأوسط (8/66، رقم 7979) . قال الهيثمى (8/169) : فيه أيوب بن عتبة ضعفه الجمهور، وهو صدوق كثير الخطأ.





24904- "ليس المؤمن الذي يشبع وجاره جائع إلى جنبه". "خد، طب، ك، هق عن ابن عباس".
وہ مومن نہیں ہوسکتا جو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کے پہلو میں اس کا پڑوسی بھوکا پڑا رہے۔                                                                                                   
[جامع الاحادیث: 19338 ، أخرجه البخارى فى الأدب المفرد (1/52، رقم 112) ، وأبو يعلى (5/92، رقم 2699) ، والطبرانى (12/154، رقم 12741) ، قال الهيثمى (8/167) : رجاله ثقات. والحاكم (4/184، رقم 7307) ، وقال: صحيح الإسناد. والبيهقى (10/3، رقم 19452) ، والخطيب (10/391) . وأخرجه أيضًا: البيهقى فى شعب الإيمان (3/225، رقم 3389)].






24929- "ليس بالمؤمن الذي يبيت شبعان وجاره جائع إلى جنبه".
وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جو پیٹ بھر کر رات گذارے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا پڑا ہو۔
[جامع الاحادیث: 19350 ، أخرجه الحاكم (2/15، رقم 2166) .عن عائشة].



24905+24926- "ليس بمؤمن من لا يأمن جاره غوائله". "ك عن أنس".
وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہوں۔
[جامع الاحادیث: 19355 ، أخرجه الحاكم (4/182، رقم 7300) ومن غريب الحديث: "غوائله": أى بوائقه وشره. انظر الغريب لإبن سلام (1/348) ، واللسان (10/30)].






720 - "ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش البذيء". (حم خد حب ك عن ابن مسعود) .
مومن ۔۔۔ طعنہ زن اور لعنت کرنے والا اور فحش گو نہیں ہوتا۔
حديث ابن مسعود: أخرجه البخارى فى الأدب المفرد (1/116، رقم 312) ، وأحمد (1/404، رقم 3839) ، والترمذى (4/350، رقم 1977) ، وقال: حسن غريب. وأبو يعلى (9/20، رقم 5088) ، وابن حبان (1/421، رقم 192) ، والطبرانى (10/207، رقم 10483) ، وأخرجه أيضًا: فى الأوسط (2/225، رقم 1814) ، والحاكم (1/57، رقم 29) ، وقال: صحيح على شرط الشيخين. والبيهقى فى شعب الإيمان (4/293، رقم 5149) ، والبزار (5/296، رقم 1914) . قال الهيثمى (1/97) : رواه البزار، وفيه عبد الرحمن بن مغراء، وثقه أبو زرعة وجماعة، وضعفه ابن المدينى، وبقية رجاله رجال الصحيح.
حديث أبى هريرة: أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (4/293، رقم 5150) .







 مسکین کون؟
16498- "ليس المسكين الذي يطوف على الناس فترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس". "مالك، حم، ق، د، ن، عن أبي هريرة".
مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس چکر کاٹتا پھرے اور اس کو ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں واپس کردیں، بلکہ مسکین وہ ہے جو مالداری نہ پائے جو اس کو لوگوں سے بےنیاز کردے اور نہ اس کو کوئی مسکین سمجھ سکے کہ پھر اس پر صدقہ کرے اور نہ وہ کھڑا ہوکر لوگوں سے سوال کرتا پھرے۔
[جامع الاحادیث: 19344 ، حديث أبى هريرة: أخرجه مالك (2/923، رقم 1645) ، وأحمد (2/395، رقم 9129) ، والبخارى (2/538، رقم 1409) ، ومسلم (2/719، رقم 1039) وأبو داود (2/118، رقم 1631) ، والنسائى (5/85، رقم 2572) ، وابن حبان (8/139، رقم 3352) ].





16500- "ليس المسكين الذي ترده الأكلة والأكلتان ولكن المسكين الذي ليس له غنى ويستحيي ولا يسأل الناس إلحافا". "خ د عن أبي هريرة".
مسکین وہ نہین جسے ایک دو لقمے لوٹادیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو اور وہ شرم وحیا بھی کرتا ہو اور لوگوں سے چمٹ کر (پیچھے پڑکر) سوال نہ کرتا ہو۔  
[جامع الاحادیث: 19342 ، أخرجه البخارى (2/537، رقم 1406) ، والنسائى (5/85، رقم 2572) ].






16551- "ليس المسكين الذي ترده الأكلة والأكلتان واللقمة واللقمتان ومن سأل الناس ليثري ماله فإنما هو رضف من النار يتلهب فمن شاء فليقل ومن شاء فليكثر". "ابن عساكر عن ابن عمرو".
مسکین وہ شخص نہیں جسے ایک دو لقمے ٹال دیتے ہیں یا ایک دو کھجوریں واپس کردیتی ہیں اور جو شخص مال کو بڑھانے کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ جھنم کے دہکتے ہوئے پتھر اکٹھے کرتا ہے، پس جو چاہے کم سوال کرے اور جو چاہے زیادہ سوال کرے۔
[جامع الاحادیث: 19341 ، أخرجه ابن عساكر (52/48) . ومن غريب الحديث: "رضف": الرَّضفُ: الحجارة المُحْماة على النار. انظر (النهاية 2/231)] .






16552- "ليس المسكين بالطواف ولا بالذي ترده التمرة والتمرتان واللقمة واللقمتان، ولكن المسكين المتعفف الذي لا يسأل الناس شيئا ولا يفطن له فيتصدق عليه". "حم عن ابن مسعود".
مسکین وہ چکر لگانے والا فقیر ہے اور نہ ہی وہ سائل ہے جسے ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے ٹال دیں ، بلکہ مسکین وہ عفت دار شخص ہے جو لوگوں سے کچھ سوال کرتا ہے اور نہ ہی اس کو مستحق سمجھا جاتا ہے تاکہ اس پر صدقہ کیا جائے۔
[جامع الاحادیث: 19345 ، أخرجه أحمد (1/384، رقم 3636) . قال الهيثمى (3/92) : رجاله رجال الصحيح].







16553- "ليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان والأكلة والأكلتان ولكن المسكين الذي ليس له ما يستغني به ولا يعلم بحاجته فيتصدق عليه فذلك المحروم". "حب وابن مردويه عن أبي هريرة".
مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے ٹال دین، بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس لوگوں سے بےنیاز کردینے کے لیے گذر بسر کا سامان بھی ہو اور نہ اس کی مفلسی کو عام لوگ جانتے ہوں تاکہ اس پر صدقہ کردیا جائے، ایسا شخص واقعتأ محروم (زکاۃ سے مدد کیے جانے کا عین مستحق) ہے۔
[جامع الاحادیث: 19343 ، أخرجه ابن حبان (8/138، رقم 3351) ].





رحم یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص (صرف) اپنے ساتھی ہی پر رحم کرے، بلکہ رحمت تو ساری انسانیت کےلئے عام ہونی چاہیے۔
لن تؤمنوا حتى تحابوا أولا أدلكم على ما تحابون عليه أفشوا السلام بينكم والذى نفسى بيده لا تدخلون الجنة حتى تراحموا قالوا يا رسول الله كلنا رحيم قال إنه ليس برحمة أحدكم خاصة ولكن رحمة العامة رحمة العامة۔
[کنز العمال:25268 ، جامع الاحادیث:18825، أخرجه الطبرانى كما فى مجمع الزوائد (8/30) ، وقال الهيثمى: فيه عبد الله بن صالح، وقد وثق وضعفه جماعة. وأخرجه الحاكم (4/185، رقم 7310) ، وقال: صحيح الإسناد.]






صلہ رحمی کرنے والا کون؟

6984- ليس الواصل بالمكافيء، ولكن الواصل الذي إذا انقطعت رحمه وصلها. "حم خ د ت عن ابن عمرو".
صلہ رحمی کرنے والا وہ نہین جو بدلہ دینے والا ہو، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے جس سے جب رشتہ داری توڑی جائے تو وہ اسے جوڑے۔
[جامع الاحادیث: 19347 ، أخرجه أحمد (11/394 رقم 6785) (2/163، رقم 6524) ، والبخارى (5991) ، وابن حبان (2/188، رقم 445) ، وأبو داود (2/133، رقم 1697) ، والترمذى (4/316، رقم 1908) وقال: حسن صحيح. والبيهقى (7/27، رقم 12998) . وأخرجه أيضًا: الحميدى (2/271، رقم 594) ، والبزار (6/359، رقم 2371)] .






3030- "ليس بأرض ولا امرأة ولكنه رجل ولد عشرة من العرب، فتيامن منهم ستة وتشاءم أربعة". "طب ك" إن رجلا قال: يا رسول الله، أخبرنا عن سبأ، ما هو؟ أرض أم امرأة؟ قال: فذكره "حم وعبد بن حميد عد ك عن ابن عباس" طب عن يزيد ابن حصين السلمي.
(سبا) نہ زمین کا نام ہے نہ کسی عورت کا، بلکہ وہ عرب کا ایک مرد تھا، جس کی دس نرینہ اولاد تھی، چھ ان میں سے صاحبِ برکت وسعادت مند نکلے اور چار بدبخت۔
فائدہ: اس کی تشریح دوسری روایات میں یوں آئی ہے کہ ایک شخص نے نبی سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں سبا کے بارے میں بتائیے (جس کے نام پر قرآن کی سورت ہے) کہ وہ کیا شیء ہے؟ کوئی زمین ہے یا کسی عورت کا نام ہے؟ تب آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
[جامع الاحادیث: 19348 ، حديث فروة بن مسيك المرادى: أخرجه الطبرانى (18/324، رقم 835) ، والحاكم (2/460، رقم 3586) . وأخرجه أيضًا: أبو داود (4/34، رقم 3988) ، والترمذى (5/361، رقم 3222) ، وقال: حسن غريب. والطبرانى فى الشاميين (1/259، رقم 448) .
حديث ابن عباس: أخرجه أحمد (1/316، رقم 2900) ، وابن عدى (4/152، ترجمة 977 عبد الله بن لهيعة) ، والحاكم (2/459، رقم 3585) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى (12/240، رقم 12992) قال الهيثمى (1/193) : فيه ابن
لهيعة، وهو ضعيف. وقال فى (7/94) : فيه ابن لهيعة، وفيه ضعف، وبقية رجالهما ثقات.
حديث يزيد بن حصين: أخرجه الطبرانى (22/245، رقم 639) . قال الهيثمى (7/94) : رجاله رجال الصحيح غير شيخ الطبرانى على بن الحسن بن صالح الصائغ، ولم أعرفه].








24761- "ليس بحكيم من لم يعاشر بالمعروف من لا بد له من معاشرته حتى يجعل الله له من ذلك مخرجا". (الحاكم فى تاريخه، وأبو الشيخ عن ابن المبارك موقوفا. الديلمى عن ابن المبارك عن الحسن بن عمرو الفقيمى عن منذر الثورى عن محمد ابن الحنفية رفعه به مرسلا. البيهقى فى شعب الإيمان، [والديلمى عن أبى فاطمة الإيادى مرسلاً] )
وہ شخص حکیم ودانا نہیں ہوسکتا جو اچھا برتاؤ نہ کرتا ہو جس کے برتاؤ کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس سے نکلنے کا راستہ نہ پیدا کردے۔

[جامع الاحادیث: 19351 ، حديث محمد ابن الحنفية الموقوف: أخرجه أيضًا: البخارى فى الأدب المفرد (1/306، رقم 889) ، والبيهقى شعب الإيمان من طريق الحاكم (6/267، رقم 8105) ، وأبو نعيم (3/175) .
حديث أبى فاطمة الإيادى: أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (6/266، رقم 8104) ، والديلمى (3/407،
رقم 5243) ].حدیث ضعیف (الاتقان:1538، اسنی المطالب:1201)








6334- ليس بخيركم من ترك دنياه لآخرته ولا آخرته لدنياه حتى يصيب منهما جميعا، فإن الدنيا بلاغ إلى الآخرة، ولا تكونوا كلا على الناس. "ابن عساكر عن أنس".
تم میں سے وہ شخص بہتر نہیں جو اپنی دنیا کو اپنی آخرت کیلئے چھوڑدے اور نہ وہ بہتر ہے جو اپنی آخرت کو اپنی دنیا کیلئے چھوڑدے (بلکہ بہتر وہ ہے جو ایسا طریقہ اختیار کرے) یہاں تک کہ ان دونوں سے اپنا حصہ حاصل کرے، اس واسطے کہ دنیا، آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، اور لوگوں پر (جان بوجھ کر خود سے) کبھی بوجھ نہ پڑنا۔
[جامع الاحادیث: 19352 ، أخرجه الديلمى (3/409، رقم 5249) ، وابن عساكر (65/197) ].





37268- "أيضا" عن سعد قال: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة جاءت جهينة فقالت: إنك قد نزلت بين أظهرنا فأوثق لنا حتى نأمنك وتأمنا، فأوثق لهم ولم يسلموا، فبعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجب ولم نكن مائة وأمرنا أن نغير على حي من كنانة إلى جنب جهينة فأغرنا عليهم وكانوا كثيرا، فلجأنا إلى جهينة وشعبها فقالوا: لم تقاتلون في الشهر الحرام؟ فقلنا: إنما نقاتل من أخرجنا من البلد الحرام في الشهر الحرام، فقال بعضنا لبعض: ما ترون؟ قالوا:
نأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فنخبره، وقال قوم: لا بل نقيم ههنا، وقلت أنا في أناس معي: لا بل نأتي عير قريش هذه فنضيبها، فانطلقنا إلى العير وانطلق أصحابنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه الخبر، فقام غضبانا محمرا لونه ووجهه فقال: ذهبتم من عندي جميعا وجئتم متفرقين، إنما أهلك من كان قبلكم الفرقة، ولأبعثن عليكم رجلا ليس بخيركم أصبركم على الجوع والعطش، فبعث علينا عبد الله بن جحش الأسدي، فكان أول أمير في الإسلام. "ش".
حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جھینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے عرض کیا: آپ ہمارے درمیان اترے ہیں لہٰذا آپ ہمارے کو استوار کرجائیں تاکہ آپ ہم پر بھروسہ کریں اور ہم آپ پر۔ چنانچہ نبی کریم نے ان کے لیے میثاق لکھ دیا جبکہ یہ قبیلہ ابھی اسلام نہیں لایا تھا۔ رسول اللہ نے ہمیں ماہِ رجب میں کنانہ کی بستی میں غارتگری ڈھانے بھیجا، یہ بستی جھینہ کے پاس ہی آباد تھی، ہماری تعداد سو سے زیادہ نہیں تھی، جبکہ وہ ہم سے زیادہ تھے، ہم نے انہیں لوٹا، ہم جھینہ میں آکر ٹھہرے، جہینہ کے لوگوں نے آکر پوچھا: تم نے حرمت والے مہینے میں قتال کیوں کیا ہے؟ ہم نے کہا کہ ہم نے تو ان لوگوں سے قتال کیا ہے جنہوں نے ہمیں حرمت والے مہینے میں حرمت والے شہر سے نکالا ہے، اس متعلق ہم ایک دوسرے سے چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ صحابہؓ نے کہا:  ہمیں رسول اللہ کے پاس جاکر انہیں خبر کرنی چاہئے۔ جبکہ بعض صحابہؓ نے کہا: نہیں بلکہ ہمیں یہیں قیام کرنا چاہئے۔ میں نے کہا جبکہ میرے ساتھ بھی کچھ لوگ تھے کہ نہیں بلکہ ہمیں قریش کے اس قافلہ کے پاس جانا چاہئے اور انہیں لوٹنا چاہئے۔ ہم قریش کے قافلہ کو لوٹنے چل پڑے جبکہ ہمارے دوسرے ساتھی نبی کریم کی طرف چل پڑے انہوں نے آپ کو سارا واقعہ سنایا، آپ سخت غصہ میں سرخ چہرے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور اب جدا جدا واپس لوٹ رہے ہو، تم سے پہلی قوموں کو تفرقہ نے ہلاک کیا، البتہ میں تمہارے اوپر ایسے شخص کو امیر مقرر کرتا ہوں جو بھوک اور پیاس پر زیادہ سے زیادہ صبر کرتا ہے۔ چنانچہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن جحش اسدیؓ کو ہمارا امیر مقرر کیا اور یہ اسلام میں پہلے امیر مقرر کیے گئے۔
[جامع الاحادیث: 37268 ، أخرجه ابن أبى شيبة (7/352، رقم 36651) كنز العمال 37268].