Wednesday, 24 July 2013

عورتوں کی امامت

عورت کی امامت مرد (بالغ ہو خواہ نابالغ) کے لیے متفقہ طور پر منع ہے، لیکن بعض کے نزدیک عورت کی امامت مطلقاً (ہر صورت) منع ہے چاہے صرف عورتوں ہی کے لیے ہو اور بعض کے نزدیک صرف عورتوں کے لیے جائز ہے مگر کسی فتنہ کا احتمال نہ ہو اور زیب و زینت سے پاک پردہ کی پابندی کے ساتھ جماعت میں آگے کھڑے ہونے کی بجاۓ عورتوں کے درمیاں کھڑا ہونے کی اہتمام کرے.


اللہ سبحانہ وتعالى نے مردوں کو بعض فضائل اور احكام كے ساتھ مخصوص كيا ہے، اور اسى طرح عورتوں كو كچھ فضائل اور احكام سے خاص كيا ہے، چنانچہ كسى بھى مرد كے ليے جائز نہيں كہ وہ اس چيز كى تمنا كرے جو عورتوں كے ساتھ خاص ہے، اور كسى بھى عورت كے ليے جائز نہيں كہ جو فضيلت مردوں كو دى گئى ہے اس كى تمنا كرتى پھرے، كيونكہ يہ تمنا اللہ تعالى پر اس كى شريعت اور حكم ميں اعتراض كا موجب ہے.
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿ اور اس چيز كى آرزو نہ كرو جس كے باعث اللہ تعالى نے تم ميں سے بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے، مردوں كا اس ميں حصہ ہے جو انہوں نے كمايا اور عورتوں كے ليے اس ميں حصہ ہے جو انہوں نے كمايا، اور اللہ تعالى سے اس كا فضل مانگو، يقينا اللہ تعالى ہر چيز كا جاننے والا ہے ﴾النساء ( 32 )؛

سعدى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: " اللہ تعالى مومنوں كو ممكن اور غير ممكن امور ميں ايك دوسرے پر دى گئى فضيلت كى آرزو اور تمنا كرنے سے منع كر رہا ہے، چنانچہ عورتيں مردوں كے خصائص جن كى بنا پر انہيں عورتوں پر فضيلت دى گئى ہے كى آرزو مت كريں، اور نہ ہى فقر ونقص والا شخص غنى اور كامل شخص كى حالت كى صرف مجرد تمنا كرے، كيونكہ يہ بعينہ حسد ہے... اور اس ليے كہ يہ اللہ تعالى كى تقدير پر ناراضگى كا متقاضى ہے" انتہى


مرد كو جو خصوصيات اللہ تعالى نے دى ان ميں وہ عبادات شامل ہيں جو قوت و طاقت كى محتاج ہيں، مثلا جھاد، يا پھر ولايت مثلا امامت وغيرہ ... الخ يہ مرد كے ساتھ خاص ہيں، عورتوں كا ان ميں كوئى دخل نہيں.


اس كے بہت سے دلائل ہيں جن ميں سے چند ايك يہ ہيں؛

 ١) اللہ تعالى كا فرمان ہے: ﴿مرد عورتوں پر حاكم ہيں اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ﴾النساء ( 34 )؛


امام شافعى رحمہ اللہ تعالى " الام " ميں كہتے ہيں: " جب عورت مردوں، عورتوں اور بچوں كو نماز پڑھائے تو عورت كى نماز ادا ہو جائيگى، اور مردوں اور نر بچوں كى نماز ادا نہيں ہو گى؛ كيونكہ اللہ عزوجل نے مردوں كو عورتوں پر حكمران بنايا ہے، اور عورتوں كو ولى بننے سے قاصر ركھا ہے، اور كسى بھى حالت ميں كبھى بھى عورت كا مرد كى امام بننا جائز نہيں " انتہى
ديكھيں: الام ( 1 / 191 )؛

سعدى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: عورتوں پر مردوں كو كئى ايك وجوہات كى بنا پر فضيلت دى گئى ہے: ولى صرف مردوں كے ساتھ خاص ہے، اور نبوت و رسالت بھى مردوں كے ساتھ خاص ہے، اور مردوں كو بہت عبادات ميں بھى خصوصيت حاصل ہے، مثلا جھاد، عيديں، جمعہ، اور اللہ تعالى نے مردوں كو عقل و دانش اور صبر و تحمل كى خصوصيت سے بھى نوازا ہے جو عورتوں ميں نہيں " انتہى

٢) اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے: ﴿ اور ان ( عورتوں ) كے بھى ويسے ہى حقوق ہيں جيسے ان مردوں كے ہيں اچھائى كے ساتھ، ہاں مردوں كو عورتوں پر فضيلت حاصل ہے﴾ البقرۃ ( 228 )؛


سعدى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: " اور مردوں كو ان پر فضيلت حاصل ہے "
يعنى رفعت و رياست، اور اس پر زيادہ حق حاصل ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے: مرد عورتوں پر حاكم ہيں (النساء: 34 )؛
نبوت و قضاء اور امامت صغرى اور كبرى اور باقى ہر قسم كا ولى ہونا مردوں كے ساتھ ہى مختص ہے" انتھى
3 - امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ابو بكرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كي ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" وہ قوم ہرگز كبھى بھى كامياب نہيں ہو سكتى جو اپنا حكمران عورت كو بنا لے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 4425 ).
يہ حديث اس بات كى دليل ہے كہ عمومى ولايت اور سربراہى عورت كو نہيں مل سكتى اس كو يہ سونپنا جائز نہيں، اور امامت بھى عمومى ولايت ميں شامل ہوتى ہے.
4 - ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تم اپنى عورتوں كو مسجدوں سے نہ روكو، اور ان كے گھر ان كے ليے بہتر ہيں "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 576 ) مسند احمد حديث نمبر ( 5445 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے سنن ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
صاحب عون المعبود كہتے ہيں:
" اور ان كے ليے ان كے گھر زيادہ بہتر ہيں "
يعنى ان كا اپنے گھروں ميں نماز ادا كرنا مسجدوں ميں نماز ادا كرنے سے زيادہ بہتر ہے اگر وہ اس كا علم ركھيں، ليكن انہيں علم نہيں اور وہ مسجد ميں جانے كى اجازت مانگتى ہيں، اور يہ اعتقاد ركھتى ہيں كہ ان كا مسجدوں ميں نماز ادا كرنا زيادہ اجروثواب كا باعث ہے.
ان كى گھروں ميں نماز افضل اور بہتر ہونے كى وجہ يہ ہے كہ اس سے فتنہ و فساد سے امن ميں رہتى ہيں، اور اس كى تاكيد اس سے بھى ہوتى جو آج عورتوں نے بے پردگى اور زيبائش كرنا شروع كردى ہے" انتہى
5 - امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" مردوں كى سب سے بہترين صف پہلى صف ہے، اور سب سے برى آخرى، اور عورتوں كى سب سے بہترين صف آخرى اور سب سے برى پہلى صف ہے.
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
" مردوں كى صفوف اپنے عموم پر ہى ہيں كہ اس ميں سب بہتر پہلى صف اور سب سے برى آخرى صف ہے، اور عورتوں كى صفوف كے متعلق جو حديث ميں بيان ہوا ہے اس سے مراد وہ صفيں ہيں جو عورتيں مردوں كے ساتھ نماز ادا كريں، ليكن اگر وہ مردوں سے عليحدہ نماز ادا كريں، نہ كہ مردوں كے ساتھ تو يہ مردوں كى طرح ہى ہو گى، يعنى ان كى پہلى صف سب سے افضل اور آخرى سب سے برى ہے.
مردوں اور عورتوں كى صف برى سے مراد كم از كم اجروثواب اور فضيلت، اور شرعى مطلوب سے زيادہ دور ہے، اور سب سے بہتر صف اس كے برعكس ہے، مردوں كے ساتھ نماز ميں حاضر ہونے والى عورتوں كى سب سے آخرى صف كو اس ليے فضيلت دى گئى ہے كہ وہ مردوں كے ساتھ خلط ملط ہونے اور انہيں ديكھنے، اور ان كى حركات و سكنات ديكھ كراور ان كى كلام سن كر ان سے دل لگانے كے تعلق سے بہت دور ہيں، اور ان كى پہلى صفوں كى مذمت اس كے برعكس ہونے كى بنا پر ہے. واللہ اعلم. انتہى
چنانچہ جب عورت گھر ميں نماز پڑھنے اور مردوں سے دور رہنے كى مامور ہے، اور عورتوں كى سب سے پہلى صف برى ہے، كيونكہ وہ مردوں كے زيادہ قريب تھى، تو پھر شرعى حكمت كے يہ كيسے لائق ہے كہ عورت مردوں كے آگے نماز پڑھتى پھرے، حالانكہ شريعت اسے مردوں سے دور رہنے كا حكم دے رہى ہے ؟ !!
6 - امام بخارى اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے سھل بن سعد الساعدى رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جسے نماز ميں كچھ پيش آجائے تو وہ سبحان اللہ كہے، كيونكہ جب سبحان اللہ كہا جائيگا تو اس كى طرف التفات كيا جائيگا، اور تالى بجانا عورتوں كے ليے ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 684 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 421 )
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" گويا كہ عورتوں كو سبحان اللہ كہنے سے اس ليے منع كيا گيا ہے كہ نماز ميں فتنہ كے خدشہ سے مطلقا آواز پست ركھنے كى مامور ہيں " انتہى
چنانچہ امام كے بھولنے كى صورت ميں عورت كو بول كر امام كو متنبہ كرنے سے منع كيا گيا ہے، بلكہ وہ تالى بجا كر متنبہ كرے گى، تا كہ مردوں كى موجودگى ميں وہ آواز بلند نہ كرے، تو پھر مردوں كو نماز كيسے پڑھا سكتى ہے اور كيسے نماز جمعہ كا خطبہ دے سكتى ہے ؟!
7 - امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:
انہوں نے اور ان كى نانى اور يتيم نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے نماز پڑھى وہ بيان كرتے ہيں:
" چنانچ ميں نے اور يتيم بچے نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے صف بنائى اور بڑھيا نے ہمارے پيچھے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 658 ).
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
" اس حديث ميں ہے كہ عورت مردوں كے ساتھ صف نہيں بنائےگى، اس كى اصل يہ ہے كہ اس سے فتنہ ميں پڑنے كا خدشہ ہے " انتہى
چنانچہ جب عورت صف كے پيچھے اكيلى كھڑى ہوگى اور مردوں كے ساتھ ان كى صف ميں كھڑى نہيں ہو سكتى تو پھر وہ آگے بڑھ كر امامت كراتے ہوئے انہيں نماز كيسے پڑھا سكتى ہے ؟!
عون المعبود ميں ہے:
اس ميں دليل ہے كہ عورت كے ليے مردوں كے امامت كرانى جائز نہيں كيونكہ جب اسے مردوں كے برابر صف ميں كھڑا ہونے سے منع كيا گيا ہے تو پھر اس كا آگے ہونا زيادہ ممنوع ہو گا " انتہى بتصرف
8 - چودہ صديوں سے مسلمانوں كا اس پر عمل رہا ہے كہ عورت مردوں كى امامت كے منصب پر فائز نہيں ہوئى.
ديكھيں بدائع الصنائع ( 2 / 289 ).
جس نے اس كى مخالفت كى وہ مسلمانوں كے طريقہ كى مخالفت كر رہا ہے، اور پھر اللہ تعالى كا فرمان ہے:
﴿ اور جو كوئى بھى ہدايت واضح ہو جانے كے بعد رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى مخالفت كرے، اور مومنوں كے طريقہ كے علاوہ كسى اور طريقہ كى پيروى كرے ہم اسے اسى طرف ہى متوجہ كر دينگے جدھر وہ متوجہ ہو اور اسے جہنم ميں ڈاليں گے، اور وہ بہت ہى برى جگہ ہے ﴾النساء ( 115 ).د
ذيل ميں علماء كرام كے چند ايك اقول پيش كيے جاتے ہيں:
الموسوعۃ الفقھيۃ ميں ہے:
" مردوں كى امامت كے ليے شرط ہے كہ امام مرد ہو، چنانچہ مردوں كے ليے عورت كا امام بننا صحيح نہيں، فقھاء كرام كے مابين يہ متفقہ مسئلہ ہے" انتھى
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 6 / 205 ).
ابن حزم رحمہ اللہ " مراتب الاجماع " ميں رقمطراز ہيں:
" اس پر متفق ہيں كہ عورت مردوں كى امامت نہيں كرواسكتى، مردوں كو اس كے عورت ہونے كا علم ہو، اور اگر وہ ايسا كرتے ہيں تو بالاجماع ان كى نماز باطل ہے "
ديكھيں: مراتب الاجماعت صفحہ نمبر ( 27 ).
اور " المحلى " ميں لكھا ہے:
" عورت كسى ايك مرد اور نہ ہى ايك سے زيادہ مردوں كى امامت نہيں كروا سكتى، اس ميں كوئى اختلاف نہيں، اور پھر نص ميں يہ بھى بيان ہوا كہ عورت اگر مرد كے آگے سے گزر جائے تو مرد كى نماز توڑ ديتى ہے... اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حكم ہے كہ وہ مردوں كے پيچھے كھڑى ہو خاص كر نماز ميں.
اور خاص كر نماز ميں امام يا تو مقتديوں سے آگے يا مقتدى كے ساتھ صف ميں كھڑا ہوتا ہے... ان نصوص سے عورت كا مردوں كى امام بننا يقينا باطل ثابت ہوتا ہے" انتہى
ديكھيں: المحلى ابن حزم ( 2 / 167 ).
امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع " ميں لكھتے ہيں:
" ہمارے اصحاب اس پر متفق ہيں كہ عورت كے پيچھے نہ تو بالغ مرد كى اور نہ ہى بچے كى نماز جائز ہے.... چاہے مردوں كى امامت كے ليے عورت كى امامت ميں مانع فرضى نماز ہو يا تراويح اور ہر قسم كے نوافل، ہمارا اور سلف و خلف جمہور علماء كرام كا مسلك يہى ہے، امام بيھقى رحمہ اللہ تعالى نے فقھاء سبعہ مدينہ كے فقھاء سے يہى بيان كيا ہے، اور امام مالك، امام ابو حنيفہ سفيان، امام احمد، اور داود رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے...
پھر اگر عورت كسى اور مرد يا زيادہ آدميوں كى امامت كروائے تو ان كى نماز باطل ہو جائے گى، ليكن عورت اور اس كے پيچھے نماز ادا كرنے والى عورتوں كى سب نمازوں ميں نماز صحيح ہے، ليكن اگر اس نے انہيں نماز جمعہ پڑھائى تو اس ميں دو وجھيں ہيں:
ان ميں سے زيادہ صحيح يہ ہے كہ: اس كى نماز نہيں ہوتى، اور دوسرى وجہ يہ ہے كہ: اس كى نماز ظھر كى ہو گى، اور كفائت كرے گى، يہ شيخ ابو حامد كا قول ہے، جو كچھ نہيں. اللہ اعلم
ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 152 )؛
اور " الانصاف" ميں ہے: قولہ: ( مرد كے ليے عورت كى امامت صحيح نہيں )؛
يہ مطلق ـ يعنى امام احمد رحمہ اللہ كا ـ مطلق مذہب ہے، المستوعب ميں ان كا كہنا ہے: مذہب ميں يہ صحيح ہے" انتہى.
ديكھيں: الانصاف ( 2 / 265 )؛

اور اس مسئلہ ميں سب سے سخت مذہب مالكيہ كا ہے، وہ عورت كى امامت كو
 ممنوع قرار ديتے ہيں، حتى كہ عورت عورتوں كى امامت بھى نہيں كروا سكتى، اور وہ امامت كے ليے مطلقا مرد ہونے كى شرط لگاتے ہيں.
چنانچہ " الفواكہ الدوانى " ميں ہے:
" يہ علم ميں ركھيں كہ امامت كے ليے كچھ شروط كمال ہيں، اور كچھ شروط صحت ہيں.
امامت صحيح ہونے كى تيرہ شرطيں ہيں: ان ميں سے پہلى ذكورہ محققہ يعنى يقينى مرد ہونا ہے، چنانچہ عورت اور خنثى مشكل ( ہيجڑہ ) كى امامت صحيح نہيں ہو گى، عورت جس نے امامت كرواتے ہوئے نماز ادا كى ہے اس كے علاوہ باقى سب كى نماز باطل ہو جائيگى" انتہى
ديكھيں: الفواكہ الدوانى ( 1 / 204 ).
شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
ايك شخص نے عورت كى امامت ميں عصر كى نماز ادا كى اس كا حكم كيا ہے ؟
شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
" عورت كے ليے مرد كى امامت كروانا جائز نہيں، اور بہت سے دلائل كى بنا پر اس كے پيچھے مرد كا نماز ادا كرنا صحيح نہيں، مذكورہ شخص كو نماز لوٹانا ہو گى "
ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 12 / 130 ).
دوم:
اور جس نے ابو داود كى حديث پر اعتماد كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ سلم نے ام ورقہ رضى اللہ تعالى عنہ كو اپنے گھروالوں كى امامت كرانے كى اجازت دى تھى "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 591 ).
ان كا كہنا ہے كہ: وہ اپنے گھر والوں كى امامت كروايا كرتى تھيں جن ميں مرد اور بچے بھى شامل تھے، علماء كرام نے اس كے كئى ايك جواب ديے ہيں؛

١)  يہ حديث ضعيف ہے
حافظ رحمہ اللہ تعالى " التلخيص " ميں كہتے ہيں: اس كى سند ميں عبد الرحمن بن خلاد ہے جس ميں جھالت پائى جاتى ہے" انتہى
ديكھيں: التلخيص صفحہ نمبر ( 121 )؛
اور " المنتقى شرح الموطاء " ميں ہے: " يہ حديث ان ميں سے ہے جس پر اعتماد ضرورى نہيں " انتہى
٢) اگر حديث صحيح بھى ہو تو اس سے مراد يہ ہے كہ: وہ اپنے گھر ميں سے عورتوں كى امامت كروايا كرتى تھيں.
٣) يہ ام رقہ رضى اللہ تعالى عنہا كے ساتھ خاص ہے، ان كے علاوہ كسى اور كے ليے مشروع نہيں.
٤) بعض علماء كرام نے اس سے مرد كے ليے عورت كى امامت كا جواز ليا ہے، ليكن يہ ضرورت كے وقت ہے، اور ضرورت كا معنى يہ ہے كہ كوئى مرد اچھى طرح سورۃ فاتحہ نہ پڑھ سكتا ہو"
ديكھيں: حاشيۃ ابن قاسم ( 2 / 313 )؛
مزيد ديكھيں: المغنى ( 3 / 33 )؛
واللہ اعلم .



نماز ميں عورت كے ليے مردوں كى امامت كروانى جائز نہيں، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" عورتوں كو پيچھے ركھو كيونكہ اللہ تعالى نے بھى انہيں پيچھے ركھا ہے"
مصنف عبد الرزاق حديث نمبر ( 5115 ) يہ روايت اس سے بھى لمبى ہے اور ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ پر موقوف ہے، اس كى سند صحيح ہے، ليكن مرفوع ہونا ثابت نہيں.
پھر مسجد ميں امامت كا منصب تو حكمرانى اور ولايت كى ايك قسم ہے، اور ولايت مردوں كے علاوہ كسى اور كے ليے صحيح نہيں.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" وہ قوم كبھى بھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات عورت كے سپرد كر ديے "
صحيح بخارى ( 13 / 46، 45 )؛
اس ليے كہ حنابلہ كے ہاں عورت كا مسئلہ مستثنى ہے، يہ قول ضعيف ہے كہ اگر عورت اچھى قاريہ ہو تو وہ تراويح ميں ان پڑھ مردوں كى امامت كروا سكتى ہے، عورت ان كے پيچھے ہو اور وہ اس كے آگے كھڑے ہوں.
ليكن اس كى كوئى دليل نہيں، حاصل يہ ہوا كہ عورت كے جائز نہيں كہ وہ مردوں كى امامت كروائے.
جى ہاں عورت اپنى جيسى عورتوں كى امامت كروا سكتى ہے، اگر وہ امامت كروائے تواس ميں كوئى حرج نہيں، اور اس ميں كوئى مانع نہيں جيسا كہ ام ورقہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے كہ وہ اپنى محرم عورتوں كى امامت كروايا كرتى تھيں.
ليكن اجنبى مردوں يا پھر عمومى ولايت مثلا مسجد كى امامت وغيرہ تو يہ عورت نہيں كر سكتى.
واللہ اعلم .
ديكھيں: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 130 ).
**************************************

٢) اگرعورت صرف عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھاتی ہے تو ان کی امام درمیان میں کھڑی ہوگی۔ حوالہ


دلیل # ١

عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا ، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا.
[سنن أبي داود: باب إمامۃ النساء، رقم الحديث: 499 (۵۹۲)]

ترجمہ : حضرت ام ورقہ بنت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر میں زیارت کے لیے جاتے تھے اور آپ نے اس کے لیے ایک مؤذن مقرر کر دیا جو اس کے لیے اذان کہتا اور آپ نے ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرائے۔ عبدالرحمن بن خلاد انصاری کہتے ہیں میں نے اس کے مؤذن کو دیکھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔‘‘


حکم الحدیث : مشہور اہل حدیث محب اللہ شاہ صاحب راشدی نے الاعتصام میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا تھا شاہ صاحب کی بات درست ہے کیونکہ اس کی سند میں ((لَيْلَى بِنْتِ مَالِكٍ)) اور ((عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ)) دونوں مجہول ہیں ایک مجہول کی دوسرا مجہول متابعت کرے تو دونوں میں سے کسی کا عادل وثقہ ہونا تو ثابت نہیں ہوتا لہٰذا عورت کی امامت صحیح ثابت نہیں۔




 دلیل # ٢

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے درمیان کھڑے ہوکر فرض نماز کی امامت کرواتی تھیں؛
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا " كَانَتْ تَؤُمُّ النِّسَاءَ تَقُومُ مَعَهُنَّ فِي الصَّفِّ " .
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ سُجُودِ السَّهْوِ » الْمَرْأَةُ تَؤُمُّ النِّسَاءَ ، رقم الحديث: 4818]
علامہ ظفر احمد تھانوی نے اعلاء السنن (۴/۲۴۳) میں اس کی سند کو صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔ 
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے صف کے درمیان میں کھڑے ہو کر عورتوں کو پڑھائی تھی؛
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ اسْمُهَا حُجَيْرَةُ ، قَالَتْ : " أَمَّتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ قَائِمَةً وَسَطَ النِّسَاءِ " .

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اسى طرح عورتوں كى امامت كروانے والى كے ليے ہر حالت ميں عورتوں كے درميان كھڑا ہونا مسنون ہے، كيونكہ وہ سب كى سب پردہ ہيں. ديكھيں: المغنى ( 1 / 347 )؛

اور امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: " سنت يہ ہے كہ عورت كى امام كروانے و الى ان كے وسط اور درميان ميں كھڑى ہو گى، اس كى دليل عائشہ اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے كہ انہوں نے عورتوں كى امامت كروائى اور وہ ان كے وسط ميں كھڑى ہوئيں " ديكھيں: المجموع شرح المھذب ( 4 / 192 )؛

اور " اگر عورتيں نماز باجماعت ادا كريں تو ان كى امام عورت ان كے وسط ميں كھڑى ہو گى، كيونكہ اس ميں زيادہ ستر اور پردہ ہے، اور پھر عورت سے تو بقدر استطاعت پردہ اور ستر مطلوب ہے، اور يہ معلوم ہے كہ عورت كا عورتوں كے درميان كھڑا ہونا ان كے سامنے كھڑا ہونے سے زيادہ پردہ اور ستر ہے اس كى دليل عائشہ اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے:
" وہ دونوں جب امامت كرواتيں تو ان كى صف ميں كھڑى ہوتيں "
يہ صحابيہ كا فعل ہے، جب اس كى مخالفت ميں كوئى نص نہيں تو صحيح يہى ہے كہ يہ حجب ہے، اور عورت ايك عورت كے ساتھ ہو تو وہ ايك مرد كے ساتھ كھڑا ہونے كى طرح ہى عورت كے پہلو ميں كھڑى ہو گى "

**************************************

 عورت کی امامت مکروہ ہے
عورت کی امامت کے حوالے سے یہ بھی یاد رہے کہ خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے:


دلیل # ١
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ أَوْ جِنَازَةٍ قتيل " .

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا خير في جماعة النساء إلا في مسجد جنازةعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2381937854أحمد بن حنبل241
2لا خير في جماعة النساء إلا في مسجد في جنازة قتيلعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2465124686أحمد بن حنبل241
3لا خير في جماعة النساء إلا في مسجد جماعة جنازة قتيلعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني95929359سليمان بن أحمد الطبراني360
4لا خير في اجتماعهن إنهن إذا اجتمعن قلن وقلنعائشة بنت عبد اللهتاريخ جرجان للسهمي5301 : 365حمزة بن يوسف السهمي345

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورتوں کی جماعت میں کوئی بھلائی نہیں ہے.....۔
کیونکہ عورتیں نہ مردوں کو نماز پڑھا سکتی ہیں اور نہ ہی عورتوں کو۔
(اعلاء السنن:۴/۲۱۵)
حکم الحدیث : اس روایت میں ایک راوی ((ابْنُ لَهِيعَةَ)) ضعیف (کمزور) ہیں ، جبکہ تاریخ جرجان کی سند علیحدہ (مختلف طریق) سے ہے، جس میں صرف ((لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ)) صدوق، رجل صالح عابد، بل ضعیف و سيئ الحفظ یعنی سچا، نیک عبادت گزر شخص ہے، لیکن کمزور ہے حافظہ کی خرابی کے سبب. 



لیکن اسی طرح کا ایک مضمون دوسری صحابیہ حضرت فاطمة (خولہ) بنت اليمان سے بھی مزید قوت دیتے بطور شواہد مروی ہے ؛
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ ثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ الْيَمَانِ أُخْتِ حُذَيْفَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ ، إِلا عِنْدَ مَيِّتٍ ، فَإنَّهُنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ قُلْنَ وَقُلْنَ "

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1
لا خير في جماعة النساء إلا عند ميت فإنهن إذا اجتمعن قلن وقلن
فاطمة بنت اليمانالمعجم الأوسط للطبراني73177130
سليمان بن أحمد الطبراني
360
2
لا خير في جماعة النساء إلا عند ميت فإنهن إذا اجتمعن قلن وقلن
فاطمة بنت اليمانالمعجم الكبير للطبراني20136632
سليمان بن أحمد الطبراني
360
3
لا خير في جماعة النساء إلا عند ميت فإنهن إذا اجتمعن قلن وقلن
فاطمة بنت اليمانالآحاد والمثاني لابن أبي عاصم29233273
ابن أبي عاصم
287
4لا خير في جماعة النساء إلا في مسجد جماعة جنازة قتيلفاطمة بنت اليمانمعرفة الصحابة لأبي نعيم70687642سليمان بن أحمد الطبراني430
5لا خير في جماعة النساء ولا عند ميت فإنهن إذا اجتمعن قلن وقلنفاطمة بنت اليمانأسد الغابة2234
---
سليمان بن أحمد الطبراني360










اور اسی طرح حضرت عبد الله بن عمرسے بھی مروی ایک روایت سے اس حدیث کی قبولیت کو بطور شواہد قوت ملتی ہے؛

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الأَنْطَاكِيُّ , ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ , ثنا مُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ , عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ سَالِمٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ وَلا عِنْدَ مَيِّتٍ , فَإِنَّهُنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ قُلْنَ وَقُلْنَ " .



جہاں پر بعض صحابیات رضی اللہ عنہن کے بارے میں آتا ہے کہ وہ امامت کرتی تھیں، ابتداء اسلام میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا، ابوداؤد کی شرح بذل المجہود میں ہے: و یرویٰ فی ذٰلک احادیث و لکن کانت فی ابتداء الاسلام ثم نسخت۔
(بذل المجہود:۱/۳۲۱)
ترجمہ: کہ جو روایت کی گئی ہے کہ عورتیں امامت کرواتی تھیں، یہ ابتداء اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔


اسی طرح مولانا عبد الحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: و حمل فعلھا ای عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فی الجماعۃ فی ابتداء الاسلام قال فی الفتح الحاصل انہ منسوخ۔

(حاشیہ ھدایہ:۱/۱۹۳)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عمل محمول کیا جائے گا ابتداء اسلام پر اور فتح میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ابتداء میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔




 دلیل # ٢
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لَا تَؤُمُّ الْمَرْأَةُ " . 

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: عورت امامت نہ کرے۔ 

علماء کے نزدیک تو عورت کی امامت خواہ فرض نماز میں ہو یا نفل نماز میں مکروہ تحریمی ہے اور یہ کراہت عورتوں کی نفل نماز کی جماعت میں اور زیادہ شدید ہے‘ کیونکہ نفل کی جماعت تداعی (اعلان) کے ساتھ مردوں کے لئے جائز نہیں تو عورتوں کے لئے کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ 

درمختار (۱:۵۶۵) میں ہے: یکرہ تحریما (جماعة النساء) ولو فی التراویح فی غیر صلاة الجنازة“ ۔ ؛ 
=============================================
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ أَذَانٌ وَلا إِقَامَةٌ ، وَلا جُمُعَةٌ ، وَلا اغْتِسَالُ جُمُعَةٍ ، وَلا تَقَدَّمُهُنَّ امْرَأَةٌ ، وَلَكِنْ تَقُومُ فِي وَسَطِهِنَّ " . هَكَذَا رَوَاهُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرُوِّينَاهُ فِي الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ ، الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَيْلِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَابْنِ سِيرِينَ وَالنَّخَعِيِّ .
ترجمہ : حضرت أسماء بنت أبي بكر فرماتی ہیں : رسول الله نے فرمایا: نہیں ہے (جائز) عورتوں پر آذان دینا اور نہ ہی اقامت کرنا اور نہ ہی جمعہ پڑھنا اور نہ ہی جمعہ کا غسل کرنا اور نہ ہی (امامت) کے لیے ان میں کسی عورت کا آگے (کھڑا) ہونا لیکن وہ (امامت کرنے کو) کھڑی ہو سکتی ہے ان کے درمیان میں.

حکم الحدیث : یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں ایک راوی ((الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَيْلِيُّ)) متروک الحدیث ہے، یعنی اس اکیلے کی بیان کردہ حدیث (جس کا کوئی دوسرا راوی شاہد نہ ہو) قابل ترک ہے.
====================================================================


No comments:

Post a Comment