Sunday, 9 June 2013

کیا امتی بھی نبی کی طرح عطائی عالم الغیب ہیں؟



علم غیب کی نفی میں نبی اور اس کی قوم دونوں شامل ہیں:
تِلكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيها إِلَيكَ ۖ ما كُنتَ تَعلَمُها أَنتَ وَلا قَومُكَ مِن قَبلِ هٰذا ۖ فَاصبِر ۖ إِنَّ العٰقِبَةَ لِلمُتَّقينَ {11:49}
یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے
یعنی یہ دلائل نبوت میں سے ہے کہ ایک امّی کی زبان سے امم سابقہ کے ایسے مستند و مفصل واقعات سنوائے جائیں۔
جیسے نوحؑ اور ان کے رفقاء کے انجام بھلا ہوا آپ کے ساتھیوں کا مستقبل بھی نہایت تابناک اور کامیاب ہے۔ آپ کفار کی ایذاؤں پر صبر کریں ، گھبرا کر تنگدل نہ ہوں۔ جیسے نوحؑ نے ساڑھے نو سو برس صبر کیا۔

یعنی الله کے خبر دینے سے پہلے نبی کی طرح قوم بھی اس غیب (پوشیدہ باتوں) کو نہ جانتے تھی ،  اسی طرح غیبی خبر کے ظاہر کرنے کے بعد الله کے ساتھ جب قوم کو عالم الغیب نہیں کہا جاتا اسی طرح نبی کو بھی الله کی اس خاص صفت میں شریک کرتے قرآن و سنّت میں کہیں بھی عالم الغیب نہیں کہا گیا. کیونکہ قرآن و سنّت میں اس صیغہ و لفظ عالم الغیب کو صرف الله کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے جو  (بلا واسطہ) ذاتی علم رکھنے والے ہی کو کہتے ہیں



نبی کا معنی (غیبی) خبر بتلانے والا ہے، جاننے والا نہیں، بلکہ جب نبوت کا کام لیا جائے اس وقت اللہ نے جو غیب ظاہر کیا یا جن غیبی باتوں کو پہنچانے پر مامور کرتے ان غیبی باتوں کی اطلاع دی، اس ذمیداری کو نبوت اور (اچھی یا بری) خبر پہنچانے والے مرد کو نبی کہتے ہیں۔
أَكانَ لِلنّاسِ عَجَبًا أَن أَوحَينا إِلىٰ رَجُلٍ مِنهُم أَن أَنذِرِ النّاسَ وَبَشِّرِ الَّذينَ ءامَنوا أَنَّ لَهُم قَدَمَ صِدقٍ عِندَ رَبِّهِم ۗ قالَ الكٰفِرونَ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ مُبينٌ {10:2}
کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے
یعنی وحی قرآنی کو فوق العادت مؤثر و بلیغ ہونے کی وجہ سے جادو ، اور اس کے لانے والے کو جادوگر کہتے ہیں۔
یعنی اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ انسانوں کی اصلاح و ہدیات کے لئے حق تعالیٰ ایک انسان ہی کو مامور فرما دے اور اس کی طرف وہ پیغام بھیجے جس کی دوسروں کو بلاواسطہ خبر نہ ہو وہ تمام لوگوں کو خدا کی نافرمانی کے مہلک نتائج و عواقب سے آگاہ کرے ۔ اور خدا کی بات ماننے والوں کو بشارت پہنچائے کہ رب العزت کے یہاں اعمال صالح کی بدولت ان کا مرتبہ کتنا اونچا اور کیسا بلند پایہ ہے ۔ اور کیسی سعادت و فلاح ازل سے ان کے لئے لکھی جا چکی ہے۔





عالم الغیب ذاتی علم والے ہی کو کہتے ہیں
لفظ عالم الغیب (ذاتی طور) بلا واسطہ علم غیب جاننے والے کو کہتے ہیں، جو قرآن مجید میں صرف الله کے لیے آیا ہے (التوبہ: ١٠٧ ، الرعد :٩ ، المومنون: ٩٢ ، السجدہ: ٦ ، فاطر: ٣٨ ، الحشر: ٢٢ ، التغابن: ١٨ ، الجن: ٢٦) اور نبیؐ سے خود کیلیے علم غیب کی نفی ثابت ہے(الانعام: ٥٠ ، الاعراف: ١٨٨ ،ھود: ٣١) اور (پچھلے واقعات پر حاضر و عالم) نہ ہونے کے سبب جو وحی سے غیب کی خبروں (آل عمران: ٤٤ ، ھود : ٤٩ ، یوسف : ١٠٢) کی اطلاع (آل عمران : ١٧٩) اور اظہار (الجن : ٢٧) قوت والا متفقہ امین (التکویر : ٢٠-٢١) پاک فرشتہ (النحل : ١٠٢) یعنی جبرائیلؑ کے ذریعہ کیا گیا، وہ خبریں نبیؐ نے اپنی امت کو بھی بتائیں (التکویر : ٢٤)؛ جیسے : آخرت، جنت، جہنم وغیرہ
تو جس طرح انبیاءؑ کو بواسطہ فرشتہ کے علم غیب عطا ہوا ، وہ ہم امت کو بھی بواسطہ انبیاءؑ کے عطا ہوا ، تو اگر نبیؐ کو علم غیب کسی واسطہ سے عطا ہونے کے باوجود عالم الغیب کہلاۓ جائیں تو کیا امت بھی بواسطہ انبیاءؑ کے علم غیب عطا ہونے کے سبب عالم الغیب کہلائی جائیگی ؟؟؟

ہرگز نہیں، کیونکہ

الله کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں:

قُل لا يَعلَمُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ الغَيبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَما يَشعُرونَ أَيّانَ يُبعَثونَ {27:65}
تو کہہ خبر نہیں رکھتا جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں چھپی ہوئی چیز کی مگر اللہ اور ان کو خبر نہیں کب جی اٹھیں گے۔

يَومَ يَجمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقولُ ماذا أُجِبتُم ۖ قالوا لا عِلمَ لَنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلّٰمُ الغُيوبِ {5:109}
جس دن اللہ جمع کرے گا سب پیغمبروں کو پھر کہے گا تم کو کیا جواب ملا تھا، وہ کہیں گے ہم کوعلم نہیں، تو ہی ہے چھپی باتوں کو جاننے والا


وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ ۚ وَيَعلَمُ ما فِى البَرِّ وَالبَحرِ ۚ وَما تَسقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلّا يَعلَمُها وَلا حَبَّةٍ فى ظُلُمٰتِ الأَرضِ وَلا رَطبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ {6:59}
اور اُسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی کہ انکو کوئی نہیں جانتا اسکے سوا، اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اسکو اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے


کیونکہ غیب (یعنی پوشیدہ بات/چیز) کسی واسطہ سے معلوم ہوجانے کے بعد غیب (پوشیدہ) نہیں رہتی.

علمِ غیب : وہ چیزیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں یا آچکی ہیں لیکن ابھی تک کسی مخلوق پر ان کا ظہور نہیں ہوا، بدرجہ کسی رسول یا نبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ کشف و الہام کی باتوں کا علم دیا گیا ہے تو وہ غیب کی حدود سے نکل گیا، اسی طرح جن چیزوں کا علم اسباب و آلات کے ذریعہ بھی ہو تو اس کو بھی غیب نہیں کہیں گے۔


مخلوق پر کوئی غیب کی بات کھلے تو کوئی عاقل اسے علم غیب نہیں کہتا، اسے اس کے سبب نسبت کرتے ہیں، ہرشخص یہی سمجھے گا کہ خدا کے بتلانے سے ایسا ہوا ہے، علم غیب اپنے علم کو کہتے ہیں جو بات عالم بالا سے لوح قلب پر اترے اسے علم غیب نہیں کہتے، وہ اس کا محض ایک عکس ہوتا ہے، حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

وجدان صریح بتلاتا ہے کہ بندہ کتنی روحانی ترقی کیوں نہ کرجائے بندہ ہی رہتا ہے اور رب اپنے بندوں کے کتنا قریب کیوں نہ ہوجائے وہ رب ہی رہے گا، بندہ واجب الوجود کی صفات یا وجوب کی صفات لازمہ سے کبھی متصف نہیں ہوتا، علم غیب وہ جانتا ہے جو از خود ہو کسی دوسرے کے بتلانے سے نہ ہو؛ ورنہ انبیاء واولیاء یقیناً ایسی بہت سی باتیں جانتے ہیں جو دوسرے عام لوگوں کی رسائی  میں نہ ہوں۔(تفہیماتِ الہٰیہ:۱/۲۴۵)

پتہ چلا کہ غیب کی بات معلوم ہونے میں اگر کوئی اس کا بتلانے والا ہو تو اسے علم غیب نہیں کہتے نہ علم غیب کی کوئی عطائی قسم ہے؛ بلکہ اسے خبر غیب کہا جائے گا،اللہ تعالی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کرکے ارشاد فرماتے ہیں:

"ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ  "۔               (آل عمران:۴۴)

ترجمہ:یہ خبریں ہیں غیب کی ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس۔

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی صرف خبر غیب ہے علم غیب نہیں تو اور کون ہے جو علم غیب کا دعویٰ کرے،علم غیب صرف خدا کیلیےہے جو ہر بات کو خود جانے، اس تفصیل سے علم غیب کے معنی معلوم ہوگئے کہ وہ اپنے طور پر کسی غیب کی بات کو جانتا ہے؛ سو کسی مخلوق کے لیے خواہ پیغمبر ہو یا کوئی فرشتہ یا کوئی جن علم غیب کا دعویٰ بالکل غلط ہوگا، علم کا لفظ جب غیب کی طرف مضاف ہو تو یہ اسی علم کے لیے آتا ہے جو اپنا ہو کسی کا عطا کردہ نہ ہو، فقہ حنفی کے امام  حضرت علامہ ابن عابدینؒ الشامی ( 1198ھ ۔ 1252ھ / 1783ء ۔ 1836ء ) لکھتے ہیں:
أن علم الأنبياء والأولياء إنما هو بإعلام من الله لهم ، وعلمنا بذلك إنما هو بإعلامهم لنا وهذا غير علم الله تعالى الذي انفرد به وهو صفة من صفاته القديمة الأزلية الدائمة الأبدية المنزهة عن التغير وسمات الحدوث والنقص والمشاركة والانقسام ، بل هو علم واحد علم به جمع المعلومات كلياتها وجزئياتها ما كان منها وما يكون أو يجوز أن يكون ليس بضروري ولا كسبي ولا حادث بخلاف علم سائر الخلق . إذا تقرر ذلك فعلم الله المذكور هو الذي تمدح به وأخبر في الآيتين المذكورتين بأنه لا يشاركه فيه أحد فلا يعلم الغيب إلا هو ومن سواه إن علموا جزئيات منه فهو بإعلامه واطلاعه لهم.[مجموعة رسائل ابن عابدين:2/313 , الفتاوى الحديثية لابن حجر الهيتمي:1/733]

بیشک انبیاء و اولیاء کا علم الله تعالی کے بتلانے سے ہوتا ہے اور ہمیں جو علم ہوتا ہے وہ انبیاء و اولیاء کے بتلانے سے ہوتا ہے اور یہ علم اس علم خداوندی سے مختلف ہے جس کے ساتھ صرف ذات باری تعالی متصف ہے، الله تعالی کا علم اس کی ان صفات قدیمہ ازلیہ دائمہ و ابدیہ میں سے ایک صفت ہے جو تغیر اور علامات حدوث سے منزہ ہے اور کسی کی شرکت اور نقصِ انقسام سے بھی پاک ہے وہ علم واحد ہے جس سے الله تعالی تمام معلومات کلیہ و جزئیہ ماضیہ و مستقبلہ کو جانتا ہے، نہ وہ بدیہی ہے نہ نظری اورنہ حادث، بخلاف تمام مخلوق کے علم کے کہ وہ بدیہی و نظری اور حادث ہے، جب یہ بات ثابت ہوگئی تو الله تعالی کا علم مذکور جس کے ساتھ وہ لائق ستائش ہے اور جس کی مذکورہ دو آیتوں میں خبر دی گئی ہے ایسا ہے کہ اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں، سو غیب صرف الله تعالی ہی جانتا ہے، الله تعالی کے علاوہ اگر بعض حضرات نے غیبی باتیں جانیں تو وہ الله تعالی کے بتلانے اور اطلاع دینے سے جانیں۔

(مجموعہ رسالہ ابن عابدین شامیؒ،۲، ۳۱۳، ان اللہ سبحانہ تعالی منفرد بعلم الغیب المطلق وانما یطلع رسلہ علی بعض غیبہ المتعلقۃ بالرسالۃ اطلا عاجلیا واضحالاشک فیہ بالوحی الصریح:۳۱۴)

اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ علم غیب رکھتے ہیں؛ کیونکہ یہ ان کی کوئی ایسی صفت نہیں جس سے وہ مستقل طور پر کسی چیز کوجان لیا کریں اور یہ بات بھی ہے کہ انہوں نے اسے خود نہیں جانا؛ بلکہ انہیں یہ باتیں بتلائی گئی ہیں۔
علامہ شامی کے اس بیان کے بعد کسی اور وضاحت کی ضرورت نہیں رہ جاتی، فقہاء کی بات آپ کے سامنے آچکی، اب آئیے کتب عقائد میں دیکھئے: "شرح عقائد نسفی" کی مشہور شرح "النبر اس" میں ہے:
وبهذا التحقيق اندفع الإشكال فى الأمور التي يزعم أنها من الغيب وليست منه لكونها مدركة بالسمع أو البصر أو الضرورة أو الدليل فأحدها إخبار الأنبياء لأنها مستفادة من الوحي ومن خلق العلم الضروري فيهم أو من انكشاف الكوائن على حواسهم.(النبراس علی شرح العقائد:۵۷۴)

ترجمہ : اور تحقیق یہ ہے کہ غیب وہ ہے جو ہمارے حواس اورعلم بدیہی اورنظری سے غائب ہو،بیشک قرآن نے اللہ تعالی کے علاوہ سب سے اس علم غیب کی نفی کی ہے، پس جو دعویٰ کرے کہ وہ علم غیب رکھتا ہے تو وہ کافر ہوجائیگا اور جوایسے شخص کی تصدیق کرے وہ بھی کافر ہوجائے گا باقی جو علم حواس خمسہ میں سے کسی حاسہ (دیکھ کر یا سن کر یا چھو کر یا سونگھ کر یا چکھ کر) یا ہدایت سے یا کسی دلیل سے حاصل ہو وہ غیب نہیں کہلاتا اور نہ محققین کے نزدیک ایسے علم کا دعویٰ کرنا کفر ہے اور نہ ایسے دعویٰ کی (یقینی امور میں یقین کے ساتھ اورظنی امور میں ظن کے ساتھ) تصدیق کرنا کفر ہے، اس تحقیق سے ان امور سے متعلق اشکال رفع ہوگیا جن کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ علم غیب میں سے ہیں؛ حالانکہ وہ علم غیب میں سے نہیں، اس لیے کہ وہ سمع وبصر یا دلیل سے حاصل ہوئے ہیں،انہی امور میں سے اخبار انبیاء بھی ہیں، انبیاء علیہم السلام کی خبر یں وحی سے مستفاد ہوتی ہیں یا نبیوں میں علم ضروری پیدا کردیا جاتا ہے یا ان کے حواس پر حقائق کائنات کا انکشاف ہوتا ہے۔    

(النبراس علی شرح العقائد:۵۷۴)

معلوم ہوا کہ انبیاء کرام اور اولیاء عظام سے جو بھی خبریں منقول ہیں وہ سب اللہ کے بتلانے سے تھیں اور یہ بھی نہ تھا کہ اللہ تعالی اپنے کسی مقرب بندے پر ایک ہی دفعہ غیب کے جملہ دروازے کھول دے کہ آئندہ اسے غیب کی بات جاننے میں کسی ذریعہ علم کا احتیاج نہ رہے ؛بلکہ مختلف موقعوں پرحسب ضرورت اور بتقاضائے مصلحت انہیں کچھ نہ کچھ اطلاع بخشی جاتی تھی،خود حضور   ہی کودیکھئے تئیس ۲۳/ سال میں وحی قرآن "نجماً نجماً" اترتی رہی اوراس طرح وحی قرآنی کی تکمیل فرمائی گئی بالتدریج یہ سلسلہ وحی جاری رہا۔


محدث (ملھم) امّت حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ کا واقعہ:
عن ابنِ عمرَ قال وجَّهَ عمرُ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يُدعى ساريةَ فبينا عمرُ يخطبُ جعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ فقال يا أميرَ المؤمنين هُزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتًا يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندنا ظهْرَنا إلى الجبلِ فهزمَهُمُ اللهُ تعالَى قال قيل لعمرَ إنك كنتَ تصيحُ بذلك.
[الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر العسقلاني- الصفحة أو الرقم: 2/3  (الجزء 3 - الصفحة 5)،
كشف الخفاء (العجلوني) - الصفحة أو الرقم: 2/515،
المصدر: البداية والنهاية (ابن كثير) - الصفحة أو الرقم: 7/135،
السلسلة الصحيحة (الألباني) - الصفحة أو الرقم: (3/101) 1110،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "فاروق اعظمؓ نے حضرت ساریہؓ کی قیادت میں جہاد کی غرض سے ایک لشکر روانہ فرمایا ، حضرت فاروق اعظمؓ ایک دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اپنے اسی خطبہ کے دوران میں فرمانے لگے :اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہٹ جا ، آپؓ نے تین دفعہ اسی طرح فرمایا ؛ کیونکہ پہاڑ کی طرف ہٹ جانے سے مسلمانوں کے غالب ہوجانے کی امید تھی ، جب تھوڑے دنوں بعد اس فوج کا قاصد آیا تو فاروق اعظمؓ نے اس لڑائی کا حال پوچھا ، قاصد نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین!ایک دن شکست کھانے والے تھے کہ ہمیں ایک آواز سنائی دی ، جیسے کوئی پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے ساریہ!پہاڑ کی طرف ہٹ جا ، اس آواز کو ہم نے تین مرتبہ سنا اور ہم نے پہاڑ کی طرف پیٹھ کرکے سہارا لیا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو شکست فاش دی ، حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے فاروق اعظمؓ سے کہا :جبھی تو آپؓ جمعہ کے دن خطبہ کے درمیان اسی لئے چیخ رہے تھے اور یہ پہاڑ جہاں حضرت ساریہؓ اور ان کی فوج تھی مشرق کے شہر نہاوند میں تھا"۔(تاریخ الخلفاء ، ص : ۸۹، )

علامہ ابن قیم رح اس کو "کشف" میں شمار کرتے لکھتے ہیں:
والكشف الرحماني من هذا النوع: هو مثل كشف أبي بكر لما قال لعائشة رضي الله عنهما: إن امرأته حامل بأنثى. وكشف عمر- رضي الله عنه- لما قال: يا سارية الجبل، وأضعاف هذا من كشف أولياء الرحمن .[مدارج السالکین ( 3 /  228)]
اور کشف رحمانی یہ ہے ، جس طرح کہ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہا کہ ان کی بیوی کو بچی حمل ہے ، اور اسی طرح عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا کشف جب کہ انہیوں نے یا ساریـۃ الجبل کہا تھا یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف دھیان دو ، تو یہ اللہ رحمن کے اولیاء کے کشف میں سے ہے۔


القرآن : وَلا يُحيطونَ بِشَيءٍ مِن عِلمِهِ إِلّا بِما شاءَ [ البقرة:255]؛ 
 اور وہ سب احاطہ نہیں کر سکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے 
وقال امام ابن تيمية الحنبلي (٧٨٤ ھہ) في مجموع الفتاوى ( 11 / 65 ) : وأما خواص الناس فقد يعلمون عواقب أقوام بما كشف الله لهم ...؛
یعنی (الله کے) مخصوص بندے کچھ لوگوں کے انجام بذریعہ کشف معلوم کرلیتے.؛


ولی کا کشف کئی طرح کا ہوتا ہے:
فتارة يري الشئ نفسه إذا كشف له عنه، وتارة يراه متمثلا في قلبه الذي هو مرآته، والقلب هو الرأي أيضا، وهذا يكون يقظه، ويكون مناما، كالرجل يري الشئ في المنام، ثم يكون إياه في اليقظه من غير تغير.[مجموع الفتاوى : 11 / 638]
ترجمہ : ولی بذریعہ کشف کبھی بعینہ اسی شے کو دیکھتا ہے اور کبھی اس شے کی صورت کو اپنے دل میں دیکھتا ہے، اور اس وقت ولی کی شان آئینہ کی ہوتی ہے اور یہ مشاہدہ دل سے ہوتا ہے اور اس طرح کا مشاہدہ بیداری میں بھی ہوتا ہے اور خواب میں بھی ہوتا ہے جس طرح آدمی خواب میں کوئی چیز دیکھتا ہے، پھر وہی چیز اس کو بلا کسی تبدیلی کے بیداری میں نظر آتی ہے.


تصرفاتِ ولی کا انکار ممکن نہیں
علامہ ابن تیمیہؒ حنبلی (٧٨٤ ھہ) فرماتے ہیں کہ : بہت سے لوگ ولی اسے سمجھتے ہیں جس کے ہاتھ میں خوارقِ عادت چیزوں کا ظہور ہو، اور اس سے کشف کا ظہور ہو، اس سے بعض خارقِ عادت تصرفات کا ظہور ہو، مَثَلاً : وہ کسی کی طرف اشارہ کرے تو وہ مرجاۓ یا وہ ہوا میں اڑ کر مکہ یا دوسرے شہر پہنچ جاۓ یا وہ پانی پر چلے یا وہ ہوا سے لوٹا بھردے یا اس کے پاس کچھ نہیں مگر وہ غیب سے خرچ کرتا ہے، یا وہ نگاہوں سے غائب ہوجاتا ہے، یا جب کوئی اس سے مدد چاہتا ہے اور وہ اس کے پاس نہیں ہے، یا وہ اپنی قبر میں ہے تو وہ اس کے پاس آتا ہے اور وہ اس کی مدد کرتا ہے، یا چوری شدہ مال کی خبر دیتا ہے یا غائب آدمی کا حال بتلادیتا ہے، یا مریض کے احوال سے آگاہ کردیتا ہے .......... ان خوارق عادت باتوں کا صدور اگرچہ کبھی الله کے ولی سے ہوتا ہے مگر کبھی اس طرح کی باتیں الله کے دشمنوں سے بھی ظاہر ہوتی ہیں ............. بلکہ ولی الله ہونے کا اعتبار ان کی صفات، افعال اور احوال سے ہوگا کہ وہ کتاب الله اور سنّت کے مطابق ہیں؟  [مجموع الفتاوى : 11 / 214]؛





================================
اللہ کے علاوہ  علم غیب کی نفی کا ثبوت قرآن کریم سے
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی میں ماسوی اللہ سے علم غیب کی نفی۔

۱۔       قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللہ ۔

(نمل:۶۵)

ترجمہ:   آپ کہدیجئے کہ جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں اللہ کے سوا کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔

۲۔      وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۔

(انعام:۵۹)

ترجمہ:   غیب کی کنجیاں اللہ کے پاس ہیں، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

۳۔      قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللہ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ  o 

(اعراف:۱۸۸)

ترجمہ:   آپ کہدیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے بھی نفع و ضرر کا اختیار نہیں رکھتا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا تو میں سب سے منافع حاصل کرلیتا اور کوئی مضرت مجھے نہ چھوتی، میں تو محض اہل ایمان کو ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔

۴۔      إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌo

(لقمان:۳۴)

ترجمہ:   بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس جگہ مرے گا، اللہ سب باتوں کا جاننے والا سب خبر رکھنے والا ہےؤ

۵۔      يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا o

(طٰہٰ:۱۱۰)

ترجمہ:   اللہ تعالیٰ ان سب کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے اور اس کو ان کا علم احاطہ نہیں کرسکتا۔





وَلَقَد أَرسَلنا رُسُلًا مِن قَبلِكَ مِنهُم مَن قَصَصنا عَلَيكَ وَمِنهُم مَن لَم نَقصُص عَلَيكَ ۗ وَما كانَ لِرَسولٍ أَن يَأتِىَ بِـٔايَةٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ فَإِذا جاءَ أَمرُ اللَّهِ قُضِىَ بِالحَقِّ وَخَسِرَ هُنالِكَ المُبطِلونَ {40:78}
اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ الله کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب الله  کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے
قرآن میں مذکور اور غیرمذکور انبیاء:یعنی بعض کا تفصیلی حال تجھ سے بیان کیا، بعض کا نہیں کیا۔ (اور ممکن ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ان کا بھی مفصل حال بیان کر دیا ہو) بہرحال جن کے نام معلوم ہیں ان پر تفصیلًا اور جن کے نام وغیرہ معلوم نہیں ان پر اجمالًا ایمان لانا ضروری ہے۔ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ (البقرۃ۔۲۸۵)۔
یعنی اللہ کے سامنے سب عاجز ہیں رسولوں کویہ بھی اختیار نہیں کہ جو معجزہ چاہیں دکھلا دیا کریں، صرف وہ ہی نشانات دکھلا سکتے ہیں جس کی اجازت حق تعالیٰ کی طرف سے ہو۔
اللہ کا فیصلہ:یعنی جس وقت اللہ کا حکم پہنچتا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کے درمیان منصفانہ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اس وقت رسول سرخرو اور کامیاب ہو تے ہیں۔ اور باطل پرستوں کے حصہ میں ذلت و خسران کے سوا کچھ نہیں آتا۔
نہیں ہے کوئی عالم الغیب اور مختار کل  ، سواۓ الله کے:
ترجمہ : اور ہم نے بھیجے ہیں بہت رسول تجھ سے پہلے بعضے ان میں وہ ہیں کہ سنایا ہم نے تجھ کو ان کا احوال اور بعضے ہیں کہ نہیں سنایا ، اور کسی رسول کو مقدور نہ تھا کہ لے آتا کوئی نشانی مگر الله کے حکم سے ، پھر جب آیا حکم الله کا فیصلہ ہوگیا انصاف سے اور ٹوٹے میں پڑے اس جگہ جھوٹے. [المومن:٧٨]
تفسیر : ((وَلَقَد أَر‌سَلنا)) یہ دلیل نقلی کا اعادہ ہے. یہ دلیل نقلی اجمالی ہے تمام انبیاء علیھم السلام سے، تمام گزشتہ انبیاء علیھم السلام کو اس دعوے کے ساتھ بھیجا گیا. ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا لیکن بہرحال دعوت سب کی ایک ہی تھی کہ الله کے سوا کوئی معبود و کارساز نہیں، لہذا حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو. ((وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ)) یہ سوال مقدر کا جواب ہے. مشرکین ازراہ عناد کہتے ہم تب مانیں گے اگر پیغمبر ہمیں مطلوبہ معجزہ دکھاۓ، فرمایا معجزہ دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں کہ جب کوئی اس سے مطالبہ کرے فوراً دکھادے، بلکہ معجزہ اللہ کے اختیار میں ہے، جب الله تعالیٰ چاہے بتقاضاۓ حکمت بالغہ، پیغمبر علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر فرمادے. فالمعجزات على تشعب فنونها عطايا من الله تعالى قسمها بينهم حسا اقتضته مشيئته المبنية على الحكم البالغة كسائر القسم ليس لهم اختيار في إيثار بعضها والاستبداد بإتيان المقترح بها [روح المعاني:٢٤/٨٩] ((فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ)) جب الله کے عذاب کا معیّن وقت آ پہنچتا ہے تو حق بات کا فیصلہ کردیا جاتا ہے یعنی انبیاء علیھم السلام اور ان کے متبعین کو غالب کیا جاتا ہے، اس وقت باطل پرست خسارے میں رہتے ہیں. کیونکہ ان کو رسوا کن اور ذلّت آمیز عذاب کے ساتھ تباہ و برباد کیا جاتا ہے.




ماسوا اللہ سے علم غیب کی نفی کا ثبوت احادیث سے
احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ علم غیب یہ اللہ کا خاصہ ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

ذخیرہ احادیث میں سے چند احادیث یہ ہیں:
۱۔       حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  کا ایک راستہ سے گذرے تو آپ کو ایک کھجور پڑی ہوئی ملی، تو آپ نے ارشاد فرمایا:

لولا انی اخاف ان تکون من الصدقہ لاکلتھا۔

(بخاری و مسلم و کذا مشکوٰۃ:۱۶۱)

ترجمہ:   اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی کھجور ہوگی تو میں اُسےکھالیتا۔

۲۔      ایک موقع پر رسول اللہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی شادی میں حاضر ہوئے تو وہاں پر انصار کی بچیاں اپنے آباء و اجداد کے مناقب بیان کررہی تھیں جو بدر میں شہید ہوگئے، ان بچیوں میں سے ایک نے یہ کہا: وفینا نبی یعلم ما فی غد۔ کہ ہم میں ایک نبی موجود ہیں جو کل کی باتیں جانتے ہیں، تو آپ نے فرمایا:

دعی ھذہ و قولی بالذی کنت تقولین۔

(مشکوٰۃ:۲۷۱)

ترجمہ:   اس بات کو چھوڑدو وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔

۳۔      حضرت ابوسعید خدریؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا:

اریتُ ھذہ اللیلۃ ثم انسیتُھا فاتمسوھا فی العشر الاواخر و التمسوھا فی کل وتر۔

(بخاری و مسلم و کذا مشکوٰۃ:۱۸۲)

ترجمہ:   مجھے یہ رات بتلائی گئی تھی، پھر میں بھول گیا ، پس تم آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔




ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا عقیدہ یہ تھا کہ :


جو شخص اس بات کا مدعی ہے کہ حضور   نے کتاب اللہ سے بعض چیزوں کو چھپالیا ہے وہ رسول   پر بہتان باندھتا ہے؛حالانکہ اللہ ارشاد فرمارہے ہیں، "یَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ"۔ (المائدۃ:۶۷) (اے پیغمبر! جو کچھ آپ  پر نازل  کیا گیا اسے لوگوں تک پہنچا دیں اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ   نے فریضہ رسالت کا حق ادا نہیں کیا)۔


پھر فرمایا کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضور   کل آئندہ کے بارے میں خبردے سکتے تھے (کہ کیا پیش آنے والا ہے یعنی عالم الغیب تھے) تو وہ بھی خدا پر جھوٹ باندھتا ہے؛ اس لیے کہ رب العزت فرماتے ہیں  "لَايَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّااللَّهُ" (النمل :۶۵) زمین وآسمان میں غیب کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔      

(مسلم،باب معنی قول اللہ عزوجل ولقد راہ،حدیث نمبر:۲۵۹)




حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ ، وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عُرْسِي ، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَتَغَنَّيَانِ ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ ، وَتَقُولَانِ فِيمَا تَقُولَانِ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ، فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ " .
جو کچھ کل ہوگا اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔


الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يعلم ما في غد إلا اللهعائشة بنت عبد اللهالمستدرك على الصحيحين26782 : 184الحاكم النيسابوري405
2لا يعلم ما في غد إلا اللهعائشة بنت عبد اللهالسنن الكبرى للبيهقي136017 : 287البيهقي458
3الأنصار قوم فيهم غزل فلو أرسلتم من يقول أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكمعائشة بنت عبد اللهالسنن الكبرى للبيهقي136027 : 288البيهقي458
4أرسلتم معها من يقول أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم فإن الأنصار قوم غزلعائشة بنت عبد اللهإتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة23584239البوصيري840
5لا يعلم ما في غد إلا الله ألا قلتم أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكمعائشة بنت عبد اللهكشف الأستار19852106نور الدين الهيثمي807
6لا يعلم ما في غد إلا اللهعائشة بنت عبد اللهالمعجم الصغير للطبراني344124سليمان بن أحمد الطبراني360
7هل بعثتم معها بجارية تضرب بالدف وتغني قالت تقول ماذا قال تقول أتيناكم أتيناكم فحيونا نحييكم لولا الذهب الأحمر ما حلت بواديكم ولولا الحبة السمراء ما سمنت عذاريكمعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني33733265سليمان بن أحمد الطبراني360
8لا يعلم ما في غد إلا اللهعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني35123401سليمان بن أحمد الطبراني360
9أفلا قلتم أتيناكم أتيناكم فحيونا نحييكم ولولا الذهب الأحمر ما حلت بواديكم ولولا الحبة السمراء لم تسمن عذاريكمعائشة بنت عبد اللهتلبيس إبليس لابن الجوزي105187أبو الفرج ابن الجوزي597
10الأنصار قوم يعجبهم الغزل ألا قلت يا عائشة أتيناكم أتيناكم فحيونا نحييكمعائشة بنت عبد اللهأسد الغابة2331---علي بن الأثير630
11أفلا قلتم أتيناكم أتيناكم فحيونا نحييكم ولولا الذهب الأحمر ما حلت بواديكم ولولا الحبة السمراء لم تسمن عذاريكمعائشة بنت عبد اللهالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر للخلال181---أبو بكر الخلال311
12الأنصار فيهم غزل فلو أرسلتم من يقول أتيناكم أتيناكم فحيونا وحياكمعائشة بنت عبد اللهالرسالة القشيرية831 : 181القشيري465



تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1مفتاح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم أحد ما يكون في غد ولا يعلم أحد ما يكون في الأرحام ولا تعلم نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت وما يدري أحد متى يجيء المطرعبد الله بن عمرصحيح البخاري9861039محمد بن إسماعيل البخاري256
2مفاتح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرصحيح البخاري42864627محمد بن إسماعيل البخاري256
3مفاتح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا اللهعبد الله بن عمرصحيح البخاري43534697محمد بن إسماعيل البخاري256
4مفاتيح الغيب خمس ثم قرأ إن الله عنده علم الساعةعبد الله بن عمرصحيح البخاري44304778محمد بن إسماعيل البخاري256
5مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا اللهعبد الله بن عمرصحيح البخاري68557379محمد بن إسماعيل البخاري256
6مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل46264752أحمد بن حنبل241
7مفاتيح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم نزول الغيث إلا الله ولا يعلم ما في الأرحام إلا الله ولا يعلم الساعة إلا الله وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموتعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل49885112أحمد بن حنبل241
8مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل50765204أحمد بن حنبل241
9أوتيت مفاتيح كل شيء إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل54285554أحمد بن حنبل241
10مفاتيح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل58776007أحمد بن حنبل241
11مفاتيح الغيب خمس لا يعلم ما تضع الأرحام أحد إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعةعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان7070أبو حاتم بن حبان354
12مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام أحد إلا الله ولا ما في غد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة أحد إلا اللهعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان7171أبو حاتم بن حبان354
13مفاتح العلم خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام أحد إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا يعلم متى تقوم الساعة أحد إلا اللهعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان626813 : 504أبو حاتم بن حبان354
14مفاتح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي74227681النسائي303
15مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام أحد إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر إلا الله ولا تعلم نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة أحد إلا اللهعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للنسائي1074411194النسائي303
16أتي نبيكم مفاتيح الغيب إلا الخمس ثم تلا هذه الآية إن الله عنده علم الساعةعبد الله بن عمرمسند أبي داود الطيالسي19081918أبو داود الطياليسي204
17مفاتيح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي53995456أبو يعلى الموصلي307
18مفاتح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمسند عبد بن حميد741733عبد بن حميد249
19خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم الساعة ولا متى ينزل الغيث إلا الله ولا يعلم ما في الأرحام إلا الله وما تدري نفس ماذا تكسب غدا إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت إلا اللهعبد الله بن عمرمسند عبد بن حميد799791عبد بن حميد249
20مفاتيح الغيب خمس ثم يتلو هذه الآية إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني19581917سليمان بن أحمد الطبراني360
21مفاتح الغيب خمس ثم يتلو هذه الآية إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرالمعجم الكبير للطبراني1307513246سليمان بن أحمد الطبراني360
22أوتيت مفاتيح كل شيء إلا الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرالمعجم الكبير للطبراني1317113344سليمان بن أحمد الطبراني360
23مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام أحد إلا الله ولا يعلم ما في غد أحد إلا الله ولا يعلم متى المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة أحد إلا اللهعبد الله بن عمرحديث إسماعيل بن جعفر3131إسماعيل بن جعفر180
24مفاتيح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم ما في غد إلا الله ولا متى تقوم الساعة إلا الله ولا ما في الأرحام إلا الله وما تدري نفس ماذا تكسب غدا إلا الله وما تدري نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا ينزل الغيث إلا اللهعبد الله بن عمرفوائد ابن أخي ميمي الدقاق159168أبو الحسين البغدادي390
25سئل عن الساعة متى هي قال هي في خمس لا يعلمها إلا الله قال هي إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيثعبد الله بن عمرالأمالي الخميسية للشجري2095---يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني499
26مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم أحد الساعة ولا يعلم أحد ما يكون في غد ولا يعلم أحد ما في الأرحام ولا تعلم نفس ماذا تكسب غدا ولا تدري نفس في أرض تموت وما يدري أحد متى يجيء المطرعبد الله بن عمرالتوحيد لله عز وجل لعبد الغني بن عبد الواحد المقدسي13---عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي600
27مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام أحد إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة أحد إلا اللهعبد الله بن عمرشرح السنة11591170الحسين بن مسعود البغوي516
28مفاتيح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم متى الساعة ولا يعلم ما تغيض الأرحام ولا يعلم ما في غد ولا تعلم نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا يعلم أحد متى ينزل الغيث إلا اللهعبد الله بن عمرتفسير سفيان الثوري549770سفيان الثوري161
29مفاتيح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرتفسير القرآن لعبد الرزاق الصنعاني22282297عبد الرزاق الصنعاني211
30مفاتح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحامعبد الله بن عمرجامع البيان عن تأويل آي القرآن2586218 : 586ابن جرير الطبري310
31مفاتح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرجامع البيان عن تأويل آي القرآن2586318 : 586ابن جرير الطبري310
32مفاتيح الغيب في خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم نزول الغيث إلا الله ولا يعلم ما في الأرحام إلا الله ولا يعلم الساعة إلا الله وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموتعبد الله بن عمرتفسير ابن أبي حاتم73977367ابن أبي حاتم الرازي327
33مفاتح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله لا يعلم ما تغيض الأرحام أحد إلا الله ولا يعلم ما في الغد إلا الله ولا يعلم متى يأتي المطر أحد إلا الله ولا تدري نفس بأي أرض تموت ولا يعلم متى تقوم الساعة أحد إلا اللهعبد الله بن عمرمعالم التنزيل تفسير البغوي511509الحسين بن مسعود البغوي516
34مفاتيح الغيب خمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرمعالم التنزيل تفسير البغوي925921الحسين بن مسعود البغوي516
35مفاتح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله ولا يعلم ما تغيض الأرحام إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا تعلم نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا يعلم متى ينزل الغيث إلا اللهعبد الله بن عمرالوسيط في تفسير القرآن المجيد3282 : 279الواحدي468
36مفاتيح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله لا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله ولا يعلم متى تغيض الأرحام إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا يعلم نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا يعلم متى ينزل الغيث إلا اللهعبد الله بن عمرالوسيط في تفسير القرآن المجيد7243 : 447الواحدي468
37خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث إلى آخر السورة الآيات الخمسعبد الله بن عمرتفسير يحيى بن سلام81---يحيى بن سلام240
38خمس لا يعلمهن إلا الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرتفسير يحيى بن سلام483---يحيى بن سلام240
39مفاتيح الغيب خمسة لا يعلمهن إلا الله ولا يعلم ما في غد إلا الله ولا تعلم نفس بأي أرض تموت إلا الله ولا يعلم متى ينزل الغيث إلا اللهعبد الله بن عمرأسباب النزول الواحدي283716الواحدي468
40مفاتيح الغيب الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرالجامع المسند (فضائل القرآن للبجيري)15---عمر بن محمد بن بجير السمرقندي البجيري311
41هي خمس من الغيب لا يعلمها إلا الله إن الله عنده علم الساعة سأنبئك عن أشراطها إذا ولدت الأمة ربتها وإذا تطاولوا في البناء وإذا كان رءوس الناس العراة العالة قلت من هم قال العريب ثم انطلق الرجل موليا قال علي بالرجل فذهبوا لينظروا فلم يروا شيئاعبد الله بن عمرحلية الأولياء لأبي نعيم70637069أبو نعيم الأصبهاني430
42خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبيرعبد الله بن عمرالثقات لابن حبان4685 : 4أبو حاتم بن حبان354
43مفاتيح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله ثم قرأ إن الله عنده علم الساعةعبد الله بن عمرالإرشاد في معرفة علماء الحديث لأبي يعلى الخليلي1941 : 288أبو يعلى الخليلي القزويني446
44مفاتيح الغيب خمس لا يعلمهن إلا الله ثم قرأ إن الله عنده علم الساعةعبد الله بن عمرالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1211---عبد الكريم الرافعي623

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يعلم ما في غد أحد إلا الله لا تقولوا هكذا وقولوا أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكمموضع إرسالالسنن الصغير للبيهقي11762724البيهقي458
2لا يعلم ما في غد إلا الله لا تقولوا هكذا وقولوا أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكمموضع إرسالالسنن الكبرى للبيهقي136007 : 287البيهقي458
3كان بدريا فوجدته في عرس له قال وإذا جوار يغنين ويضربن بالدفوف فقلت ألا تنهي عن هذا قال لا إن رسول الله رخص لنا في هذاموضع إرسالتلبيس إبليس لابن الجوزي120213أبو الفرج ابن الجوزي597






علماءِ عقائد کا متفقہ فیصلہ
ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ (شارح مشکوٰۃ) فرماتے ہیں:

۱۔       اعلم ان الانبیاء علیھم السلام لم یعلموا المغیبات من الاشھار الانبیاء علیھم الللہ تعالیٰ احیاناً و ذکر الحنفیۃ تصریحاً بالتکفیر باعتقاد ان النبی  الغیب لمعارضتہ قولہ تعالیٰ: قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا لِلَّهُ ۔  

 (شرح فقہ اکبر)

ترجمہ:   جان لو کہ بالیقین حضرات انبیاء علیہم السلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے سوائے اس کے جو علم اللہ تعالیٰ انہیں دیدیں اور احناف نے صراحت کے ساتھ اس کی تکفیر کی ہے کہ جو یہ کہے کہ نبی کریم  غیب جانتے ہیں کیونکہ یہ اعتقاد اللہ تعالیٰ کے قول: قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ.....کے مقابل میں ہے۔

۲۔      لو تزوج بشھادۃ اللہ و رسولہ لا ینعقد النکاح و کفر  لاعتقاد انہ یعلم الغیب۔

(بحر الرائق:۱/۶)

ترجمہ:   اگر کوئی شخص شادی کرے اور اس میں اللہ اور اس کے رسول کو گواہ بنائے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس کا یہ اعتقاد کفریہ ہے کہ نبی کریم  غیب جاننے والے ہیں۔

شرح عقائد نسفی میں ہے:

۳۔      وبالجملۃ العلم بالغیب ھو تفرِّد بہ اللہ تعالیٰ لا سبیل الیہ للعباد الا باعلام منہ او الھام۔

(شرح عقائد نسفی:۱۲۳)

ترجمہ:   خلاصہ یہ ہے کہ علم غیب یہ ایسی چیز ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں، بندوں کی رسائی وہاں نہیں ہے، صرف اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ وحی یا الہام سے بتادیں۔

فتاویٰ قاضی خان (متوفی۵۹۲ھ) میں ہے:

۴۔      و بعضھم جعلوا ذالک کفراً لانہ یعتقد ان رسول اللہ یعلم الغیب وھو کفر۔

(فتاویٰ قاضی خان، کتاب النکاح)

ترجمہ:   اور بعض نے اس کو کفر قرار دیا ہے، کیونکہ یہ اعتقاد رکھنا کہ نبی کریم  غیب جانتے ہیں اور یہ بات کفر کی ہے۔

ان کے علاوہ مزید محدثین فقہاءکی عبارتیں طوالت کے خوف سے حذف کردی ہیں، صرف حوالوں پر اکتفاء کیا جارہا ہے:فتاویٰ عالمگیری:۲/۴۱۲۔ خلاصۃ الفتاویٰ:۴/۳۵۴۔ فصول عمادیہ:۶۴۔ فتاویٰ بزازیہ:۳۲۵۔ عمدۃ القاری شرح بخاری:۱/۵۲۰۔ شامی:۳۰۶۔ مالابدّ منہ:۱۷۶۔ وغیرہ




الله پاک تو غیبی تو دور ظاہری علوم میں اشعار کے علم کو نبی کے شایان شان نہ ہونے کے سبب واضح  طور پر نہ سکھلانا (عطا نہ کرنا) فرماتا ہے:
القرآن : اور نہیں علم دیا ہے ہم نے انھیں شعر کا اور نہ ہی وہ ان کے شایان شان ہے...[یٰس:٦٩]

تو آپکا یہ کہنا کہ نبی کو تدریجاً سارے علوم غیبیہ (( عطا )) کردے گنے ، یہ آپ کے بدعتی عقائد ہیں جو کسی امام سے اس طرح منقول نہیں.


علماءِ عقائد کا متفقہ فیصلہ
ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ (شارح مشکوٰۃ) فرماتے ہیں:
١) اعلم ان الانبیاء علیھم السلام لم یعلموا المغیبات من الاشھار الانبیاء علیھم الللہ تعالیٰ احیاناً و ذکر الحنفیۃ تصریحاً بالتکفیر باعتقاد ان النبی ﷺ الغیب لمعارضتہ قولہ تعالیٰ: قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا لِلَّهُ ۔ 
(شرح فقہ اکبر)

ترجمہ: جان لو کہ بالیقین حضرات انبیاء علیہم السلام غیب کی چیزوں کا علم نہیں رکھتے سوائے اس کے جو علم اللہ تعالیٰ انہیں دیدیں اور احناف نے صراحت کے ساتھ اس کی تکفیر کی ہے کہ جو یہ کہے کہ نبی کریم ﷺ غیب جانتے ہیں کیونکہ یہ اعتقاد اللہ تعالیٰ کے قول: قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ..... کے مقابل میں ہے۔



٢) لو تزوج بشھادۃ اللہ و رسولہ لا ینعقد النکاح و کفر لاعتقاد انہ ﷺ یعلم الغیب۔
(بحر الرائق:۱/۶)

ترجمہ: اگر کوئی شخص شادی کرے اور اس میں اللہ اور اس کے رسول کو گواہ بنائے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس کا یہ اعتقاد کفریہ ہے کہ نبی کریم ﷺ غیب جاننے والے ہیں۔


شرح عقائد نسفی میں ہے:
٣) وبالجملۃ العلم بالغیب ھو تفرِّد بہ اللہ تعالیٰ لا سبیل الیہ للعباد الا باعلام منہ او الھام۔
(شرح عقائد نسفی:۱۲۳)

ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ علم غیب یہ ایسی چیز ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں، بندوں کی رسائی وہاں نہیں ہے، صرف اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ وحی یا الہام سے بتادیں۔

فتاویٰ قاضی خان (متوفی۵۹۲ھ) میں ہے:
٤) و بعضھم جعلوا ذالک کفراً لانہ یعتقد ان رسول اللہ ﷺ یعلم الغیب وھو کفر۔
(فتاویٰ قاضی خان، کتاب النکاح)

ترجمہ: اور بعض نے اس کو کفر قرار دیا ہے، کیونکہ یہ اعتقاد رکھنا کہ نبی کریم ﷺ غیب جانتے ہیں اور یہ بات کفر کی ہے۔

ان کے علاوہ مزید محدثین فقہاء کی عبارتیں طوالت کے خوف سے حذف کردی ہیں، صرف حوالوں پر اکتفاء کیا جارہا ہے: فتاویٰ عالمگیری:۲/۴۱۲۔ خلاصۃ الفتاویٰ:۴/۳۵۴۔ فصول عمادیہ:۶۴۔ فتاویٰ بزازیہ:۳۲۵۔ عمدۃ القاری شرح بخاری:۱/۵۲۰۔ شامی:۳۰۶۔ مالابدّ منہ:۱۷۶۔ وغیرہ




حضرت ابو سعید ن الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
”قام فینا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم خطیبا بعد العصر فلم یدع شیئا یکون الیٰ قیام الساعة الا ذکرہ حفظہ من حفظہ و نسیہ من نسیہ الخ (ترمذی ۔مستدرک ۔مشکوة)
یعنی ایک دن عصر کے بعد جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر ہمارے سامنے ایک خطبہ ارشاد فرمایا پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اس میں سے کوئی چیز آپ نے ایسی نہ چھوڑی جو آپ نے بیان نہ کردی ہو جس نے اس کو یاد رکھا سو یاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔
ان جملہ روایات سے بریلویوں نے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کلی پر استدلال و احتجاج کیا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایت کی شرح میں علامہ عینی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ :
”وفیہ دلالةً علیٰ انہ اخبرنی المجلس الواحد بجمیع احوال المخلوقات من ابتدا ئھا الیٰ انتھائھا“(عمدة القاری ج 15 ص 110)
یعنی اس میں اس امر کی دلالت ہے کہ آپ نے ایک ہی مجلس میں مخلوقات کے جمیع احوال ابتداءسے لے کر انتہا تک بیان فرمادئیے
چناچہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ”فلم یدع شیئا“کی شرح میں حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
ای مما یتعلق بالدین مما لا بد منہ الخ (مرقات ج 5 ص8 )
”یعنی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس خطبہ میں دین کی ہر ضروری بات کو بیان فرمایا“
حضرت شیخ عبد الحق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ای مما یتعلق بالدین ای کلیاتہ اوھومبالغة اقامة للاکثر مقام الکل الخ (لمعات ہامش مشکوٰة ج2 ص437 )
”یعنی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس خطبہ میں دین کی ہر ضروری بات کو بیان فرمایا یا مبالغہ کے طور پر اکثرچیزوں کو ”کل“ کہا گیا “
نیز لکھتے ہیں :
فلم یدع شیئا پس نگذاشت چیز یرااز قواعد مہمات دین کہ واقع میشود تاقیامت مگر آنکہ ذکر کرد آنرایا ایں مبالغہ است بگر دانیدن اکثر درحکم کل الخ (اشعتہ اللمعات ج 4 ص181 )
”سو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لئے قواعد اور مہمات دین میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑی جو بیان نہ فرمادی اور یا یہ مبالغہ ہے جس میں” اکثر“کو” کل“ کے معنی میں کر دیا گیا ہے“
بریلویوں نے اپنے موقف کی تائید میں اکثر حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی عبارتوں میں سے فریق مخالف لفظ”کلی“ کو لے کر” کلی علم غیب پر“ استدلال کرتے ہیں۔مگر یہاں شیخ عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ نے خود بیان فرمادیا کہ ایسے عام لفظ کو کبھی مبالغتہ”ً اکثر“ کے معنی میں لیا جاتا ہے ،اس سے ہر مقام پر ”کل حقیقی“ اور”عموم استغراقی“ ہی مراد نہیں ہوتی اور جس جس مقام پر ایسے عام لفظ آتے ہیں ان کو دیگر دلائل کی رو سے یہی مطلب اور معنی لیا جائے گا کہ مبالغتہً ”اکثر“ کو” کل“ کے معنی میں لیا گیا ہے


ابن حجر العسقلانی الشافعی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 852 ھ) فرماتے ہیں:
قولہ انماانا بشر ،ای کواحد من البشر فی عدم علم الغیب الخ (فتح الباری ج3 ص 139 )
”میں بشر ہوں یعنی علم غیب نہ ہونے میں دوسرے انسانی افراد کی طرح ہوں“
اور دوسرے مقام پر اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اتی بہ رداعلیٰ من زعم ان من کان رسولا فانہ یعلم کل غیب الخ (فتح الباری ج 13 ص151 )
”انما ان بشر“کا جملہ خاص طور پر ان لوگوں کے باطل خیال کی تردید کے لئے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول کو کلی علم غیب ہوتا ہے“
علامہ بدر الدین محمود بن احمد العینی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ(المتوفی 855ھ )لکھتے ہیں:
”انما انا بشر ۔یعنی کواحد منکم ولا اعلم الغیب و بواطن الامور کما ھو مقتضی الحالة البشریة وانا حکم بالظاھر الخ (عمدة القاری ج 11 ص271 )
”میں تمہاری طرح ایک بشر ہی ہوں اور میں غیب کا علم نہیں رکھتا اور تمہارے معاملات کے اندرونی احوال کو میں نہیں جانتا جیسا کہ بشریت کا تقاضا ہوتا ہے اور میں تو صرف ظاہری حال پر ہی فیصلہ دیتا ہوں“
اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے دوسرے مقام پر یوں رقمطراز ہیں :
انما انا بشر ۔ای من البشر ولا ادری باطن ماتتحا کمون فیہ عندی وتختصمون فیہ لدی وانما اقضی بینکم علیٰ ظاھر ماتقولون فاذا کان الانبیاءعلیھم الصلوة والسلام لایعلمون ذٰلک فغیرجائزان یصح دعویٰ غیرھم من کاھن او منجم العلم وانما یعلم الانبیاءمن الغیب ما اعلمو بہ بوجہ من الوحی الخ (عمدة القاری ج 11 ص 411)
یعنی میں انسانوں میں سے ایک بشر ہوں اور جو مقدمات تم میرے پاس لاتے ہو تو ان کے باطن کو میں نہیں جانتا اور میں تو تمہاری ظاہری باتوں کو سن کر ہی فیصلہ کرتا ہوں ۔(علامہ عینی فرماتے ہیں ) جب حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام غیب اور باطنی امور نہیں جانتے تو نجومی اور کاہن وغیرہ کا غیب اور باطنی امور کے علم کا دعوی کیسے جائز اور صحیح ہوسکتا ہے ؟اور حضرات انبیاءکرام علیہم الصلوة والسلام بھی غیب کی صرف وہی باتیں جانتے ہیں جن کا بذریعہ وحی ان کو علم عطاءکیا گیا ہو۔
امام قسطلانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”انما انا بشر ۔مشارک لکم فی البشریة بالنسبہ لعلم الغیب الذی لم یطلعنی اللہ علیہ وقال ذالک توطئة لقولہ وانہ یاتینی الخصم الخ فلا اعلم باطن امرہ الخ (ارشاد الساری ج 10ص 204 )
یعنی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ”انما انا بشر “ اُن لوگوں کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول کو کل غیب کا علم ہوتا ہے حتی کہ اس پر مظلوم اور ظالم مخفی نہیں رہتے“
یہی علامہ قسطلانی رحمتہ اللہ علیہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ:
’’اتی بہ علی الرد علیٰ من زعم ان من کان رسولا یعلم الغیب فیطلع علی البواطن ولا یخفی علیہ المظلوم و نحو ذٰلک فا شاران الوضع البشری یقتضی ان لاید رک من الامور الاظواھر ھا فانہ خلق خلقا لا یسلم من قضا یا تحجبہ عن حقائق الاشیاءفاذا ترک علیٰ ماجبل علیہ من القضایا البشریة ولم یوید بالوحی السماوی طراءعلیہ ماطراءعلی سائرالبشر الخ (ارشاد الساری ج ۴ ص ۲۱۴)
یعنی انماانا بشر ۔آپ نے ان لوگوں کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کو غیب کا علم ہوتا ہے اور وہ باطن پر مطلع ہوتا ہے اور اس پر مظلوم وغیرہ مخفی نہیں رہتا ،آپ نے اس ارشاد میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وضع بشری اس کا مقتضی ہے کہ وہ صرف ظاہری امور کا ادارک کرے کیوں کہ بشر ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس کے اور حقائق اشیاءکے ادارک کے درمیان پردے حائل ہوجاتے ہیں ۔جب اس کی جبلت بشری تقاضوں پر چھوڑ دیا جائے اور وحی سماوی سے تائید نہ ہو تو اس پر باوجود رسول ہونے کے وہی کچھ طاری ہوتا ہے جو تمام انسانوں پر طاری ہوتا ہے ۔


No comments:

Post a Comment