Thursday, 7 January 2016

آدابِ تبلیغ اور ضرورتِ تبلیغ

آدابِ تبلیغ
”بُلا اپنے رب کی راہ پر پکی باتیں سمجھا کر اور نصیحت سنا کر بھلی کی طرح اور الزام دے ان کو جس طرح بہتر ہو۔تیر ارب ہی بہتر جانتا ہے ان کو جو بھول گیا اس کی راہ اور وہی بہتر جانتا ہے ان کو جو راہ پر ہیں اور اگر بدلہ لو تو بدلہ لواسی قدر جس قدر کہ تم کو تکلیف پہنچائی جائے اور اگر صبر ہو سکے اللہ ہی کی مدد سے اور ان پر غم نہ کھا اور تنگ مت ہو ان کے فریب سے، اللہ ساتھ ہے ان کے جو پرہیز گار ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں“۔(القرآن) 

خلاصہ تفسیر
ربط آیات:سابقہ آیات میں رسول الله ﷺ کی رسالت و نبوت کے اثبات سے مقصود یہ تھا کہ امت آپ ﷺ کے احکام کی تعمیل رسالت کے حقوق ادا کریں۔مذکورہ آیات میں خود رسول کریم ﷺ کو ادائے رسالت کے حقوق و آداب کی تعلیم دی ہے، جس کے عموم میں تمام مومنین شریک ہیں، مختصر تفسیر یہ ہے۔

آپ اپنے رب کی راہ(یعنی دین اسلام)کی طرف(لوگوں کو) حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلائیے۔(حکمت سے وہ طریقہ دعوت مراد ہے جس میں مخاطب سے مراد یہ ہے کہ خیرخواہی ہمدردی کے جذبے سے بات کہی جائے اور اچھی نصیحت سے مراد یہ ہے کہ عنوان بھی نرم ہو،دل خراش توہین آمیر نہ ہو)اور ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے بحث کیجیے۔(یعنی اگر مباحثہ کی نوبت آجائے تو وہ بھی شدت اور خشونت سے اور مخاطب پر الزام تراشی میں بے انصافی سے خالی ہونا چاہیے، بس اتنا کام آپ کا ہے، پھر اس تحقیق میں نہ پڑئیے کہ کس نے مانا، کس نے نہیں مانا، یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے، پس)آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو بھی جو اس کے رستہ گم ہوگیا اور وہی راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے اور اگر کبھی مخاطب علمی بحث و مباحثہ کی حد سے آگے بڑھ کر عملی جدال اور ہاتھ یا زبان سے ایذا ،پہنچانیلگے اس میں آپ کو اور آپ کے متبعین کو بدلا لینا بھی جائز ہے اور صبر کرنا بھی)پس اگر پہلی صورت اختیار کرو، یعنی بدلا لینے لگو تو اتنا ہی بدلا لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے،اس سے زیادہ نہ کرو)اور اگر (دوسری صورت یعنی ایذاؤں پر)صبر کرو تو وہ(صبر کرنا)صبر کرنے والوں کے حق میں بہت ہی اچھی بات ہے (کہ مخالف پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور دیکھنے والوں پر بھی اور آخرت میں موجب اجر عظیم ہے)اور(صبر کرنا اگرچہ سبھی کے لیے بہتر ہے، مگر آپ کی عظمت شان کے لحاظ سے آپ کو خصوصیت کے ساتھ حکم ہے کہ آپ انتقام کی صورت اختیار نہ کریں، بلکہ آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر کرنا خدا ہی کی توفیق خاص سے ہے۔(اس لیے آپ اطمینان رکھیں کہ صبر میں آپ کو دشواری نہ ہوگی)اور ان لوگوں کے( ایمان نہ لانے پر یا مسلمانوں کو ستانے پر)غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ تدبیریں کیا کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہو جائیے ( ان کی مخالف تدبیروں سے آپ کا کوئی ضرر نہ ہوگا۔کیوں کہ آپ کو احسان اور تقویٰ کی صفات حاصل ہیں اور)اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔(یعنی ان کا مددگار ہوتا ہے)جو پرہیز گار ہوتے ہیں اور نیک کردار ہوتے ہیں۔

معارف ومسائل
اس آیت میں دعوت و تبلیغ کا مکمل نصاب، اس کے اصول اور آداب کی پوری تفصیل چند کلمات میں سموئی ہوئی ہے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت حرم ابن حبان کی موت کا وقت آیا تو عزیزوں نے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے تو فرمایا کہ وصیت تو لوگ اموال کی کیا کرتے ہیں۔ وہ میرے پاس ہے نہیں ۔لیکن میں تم کو اللہ کی آیات خصوصاً سورہ نحل کی آخری آیتوں کی وصیت کرتا ہوں کہ ان پر مضبوطی سے قائم رہیں۔یہ آیات وہی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔

دعوت کے لفظی معنی بلانے کے ہیں۔انبیاء علیہم السلام کا پہلا فرض منصبی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے، پھر تمام تعلیمات نبوت و رسالت اس دعوت کی تشریحات ہیں، قرآن میں رسول اللہ کی خاص صفت داعی الی اللہ ہونا ہے۔

﴿وداعیاًالی الله باذنہ و سراجاً منیرا﴾(احزاب:46)

﴿ویاقومنا اجیبواداعی اللہ﴾(احقاف:31)

اُمت پر بھی آپ کے نقشِ قدم پر دعوت الی اللہ کو فرض کیا گیا ہے۔ سورہ آل عمرانِ میں ارشاد ہے:

﴿ولتکن منکم اُمة یدعون الی الخیر یامرون بالمعروف وینہون عن المنکر﴾(104)
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت (یعنی)نیک کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں۔

اور ایک آیت میں ارشاد ہے۔

﴿ومن احسن قولاممن دعا الی اللہ﴾․
گفتار کے اعتبار سے اس شخص سے اچھا کون ہوسکتا ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا؟

تعبیر میں کبھی اس لفظ کو دعوت الی اللہ کا عنوان دیا جاتا ہے اور کبھی دعوت الی الخیر کا اور کبھی دعوت الی سبیل اللہ کا۔حاصل سب کا ایک ہے، کیوں کہ اللہ کی طرف بلانے سے اس کے دین اور صراطِ مستقیم ہی کی طرف بلانا مقصود ہے۔ الی سبیل ربک اس میں اللہ جل شانہ کی خاص صفت ”رب“اور پھر اس کی نبی کریم ﷺ کی طرف اضافت میں اشارہ ہے کہ”دعوت“کا کام صفت ربوبیت اور تربیت سے تعلق رکھتا ہے ۔جس طرح حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کی تربیت فرمائی، آپ کو بھی تربیت کے انداز سے دعوت دینا چاہیے۔ جس میں مخاطب کے حالات کی رعایت کر کے وہ طرز اختیار کیا جائے کہ مخاطب پر بارنہ ہو اور اس کی تاثیر زیادہ سے زیادہ ہو۔خود لفظ دعوت بھی اس مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ پیغمبر کا کا م صرف اللہ کے احکام پہنچا دینا اور سنا دینا نہیں، بلکہ لوگوں کو ان کی تعمیل کی طرف دعوت دینا ہے اورظاہر ہے کہ کسی کو دعوت دینے والا اس کے ساتھ ایسا خطاب نہیں کیا کرتا جس سے مخاطب کو وحشت ونفرت ہو۔یا جس میں اس کے ساتھ استہزاوتمسخر کیا گیا ہو۔

بالحکمة:لفظ حکمت قرآن کریم میں بہت سے معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔اس جگہ بعض ائمہ تفسیر نے حکمت سے قرآن، بعض نے قرآن و سنت، ،بعض نے حجة قطعیہ قرار دیا ہے اور روح المعانی نے بحوالہ بحر محیط حکمت کی تفسیر یہ کی ہے ۔

انہا الکلام الصواب الواقع من النفس اجمل موقع․(روح)

یعنی حکمت اس درست کلام کا نام ہے جو انسان کے دل میں اتر جائے۔

اس تفسیرمیں تمام اقوال جمع ہوجاتے ہیں اور صاحبِ روح البیان نے بھی تقریباً یہی مطلب ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ”حکمت سے مراد وہ بصیرت ہے جس کے ذریعہ انسان مقتضیات احوال کو معلوم کر کے اس کے مناسب کلام کرے، وقت اور موقع ایسا تلاش کرے کہ مخاطب پر بار نہ ہو۔نرمی کی جگہ نرمی اور سختی کی جگہ سختی اختیار کرے اور جہاں یہ سمجھے کہ صراحةً کہنے میں مخاطب کو شرمندگی ہوگی،وہاں اشارے سے کلام کرے۔یا کوئی ایسا عنوان اختیار کرے کہ مخاطب کو نہ شرمندگی ہو اور نہ اس کے دل میں اپنے خیال پر جمنے کا تعصب پیدا ہو۔

الموعظة:موعظت اور وعظ کے لغوی معنی یہ ہیں کہ کسی خیر خواہی کی بات کو ایسی طرح کہا جائے کہ اس سے مخاطب کا دل قبولیت کے لیے نرم ہوجائے۔مثلا اس کے ساتھ قبول کرنے کے ثواب و فوائد اور نہ کرنے کے عذاب و مفاسد ذکر کیے جائیں ۔(قاموس و مفردات راغب)

الحسنة:کے معنی یہ ہیں کہ بیان اور عنوان بھی ایسا ہو جس سے مخاطب کا قلب مطمئن ہو، اس کے شکوک و شبہات دور ہوں اور مخاطب یہ محسوس کرلے کہ آپ کی اس میں کوئی غرض نہیں ۔صرف اس کی خیر خواہی کے لیے کہہ رہے ہیں ۔

موعظت کے لفظ سے خیر خواہی کی بات موثر انداز میں کہناتو واضح ہو گیا تھا، مگر خیر خواہی کی بات بعض اوقات دلخراش عنوان سے یا اس طرح بھی کہی جاتی ہے جس سے مخاطب اپنی اہانت محسوس کرے۔ (روح المعانی)اس طریقہ کو چھوڑنے کے لیے لفظ حسنہ کا اضافہ کردیا گیا۔

وجادلھم باللتی ہی احسن لفظ جادل سے مشتق ہے ۔اس جگہ مجادلہ سے مرادبحث و مناظرہ ہے اور باللتی ہی احسن سے مراد یہ ہے کہ اگر دعوت میں کہیں بحث و مناظرہ کی ضرورت پیش آجائے تو وہ مباحثہ بھی اچھے طریقے سے ہونا چاہیے۔روح المعانی میں ہے کہ اچھے طریقہ سے یہ مراد ہے کہ گفتگو میں لطف اور نرمی اختیار کی جائے ۔دلائل ایسے پیش کیے جائیں جو مشہور معروف ہوں ،تا کہ مخاطب کے شکوک دور ہوں اور وہ ہٹ دھرمی کے راستہ پر نہ پڑ جائے اور قرآن کریم کی دوسری آیات اس پر شاہد ہیں کہ یہ احسان فی المجادلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ۔اہل کتاب کے بارے میں تو خصوصیت کے ساتھ قرآن کا ارشاد ہے ۔ولا تجادلوا اہل الکتاب الا باللتی ہی احسن اور دوسری آیات میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام کو قولالہ قولالیناکی ہدایت دے کر یہ بھی بتلا دیا فرعون سے سرکش کافر کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرنا ہے۔

دعوت کے اصول و آداب
آیت مذکورہ میں دعوت کے لیے تین چیزوں کا ذکر ہے، اول حکمت۔دوسرے موعظت حسنہ۔ تیسرا مجادلہ باللتی ہی احسن۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ تین چیزیں مخاطبین کی تین قسموں کی بنا پر ہیں ۔دعوت بالحکمة اہل علم و فہم کے لیے۔دعوت بالموعظت عوام کے لیے۔مجادلہ ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں شکو ک و شبہات ہوں۔یا جو عناد اور ہٹ دھری کے سبب بات ماننے سے منکر ہوں۔

سیدی حضرت حکیم الاُمت تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ ان تین چیزوں کے مخاطب الگ الگ تین قسم کی جماعتیں ہونا سباق آیت کے لحاظ سے بعید معلوم ہوتا ہے ۔انتہی۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آداب دعوت ہر ایک کے لیے استعمال کرنا ہے کہ دعوت میں سب سے پہلے حکمت سے مخاطب کے حالات کا جائز ہ لے کر اس کے مناسب کلام تجویز کرنا ہے ۔پھر اس کلام میں خیر خواہی و ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ ایسے شوابد اور دلائل سامنے لانا ہے جس سے مخاطب مطمئن ہو سکے اور طرز بیان و کلام ایسا مشفقانہ اور نرم رکھے کہ مخاطب کو اس کا یقین ہو جائے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے شرمندہ کرنا یا میری حیثیت کو مجروح کرنا ان کا مقصد نہیں۔

البتہ صاحب روح المعانی نے اس جگہ ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے نسق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصولِ دعوت اصل میں دو ہی چیزیں ہیں ۔ حکمت اور موعظت ۔تیسری چیز اصول مجادلہ اصول دعوت میں داخل نہیں ۔ہاں! طریق دعوت میں کبھی اس کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔صاحب روح المعانی کا استد لال اس پر یہ ہے کہ اگر یہ تینوں چیزیں اصول دعوت ہوتیں تو مقتضائے مقام یہ تھا کہ تینوں چیزوں کو عطف کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا بالحکمة و المواعظة الحسنہ والجدال الاحسن مگر قرآن کریم نے حکمت و موعظت کو تو عظف کے ساتھ ایک ہی نسق میں بیان فرمایا اور مجادلہ کے لیے الگ جملہ جادلہم باللتی ہی احسن اختیار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجادلہ فی العلم دراصل دعوت الی اللہ کا رکن یا شرط نہیں، بلکہ طریق دعوت میں لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کرنا ناگزیر ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اصولِ دعوت دو چیزیں ہیں، حکمت اور موعظت، جن سے کوئی دعوت خالی نہیں ہونی چاہیے ،خواہ علماء و خواص کو ہو یا عوام الناس کو البتہ دعوت میں کسی وقت ایسے لوگوں سے بھی سابقہ پڑ جاتا ہے جو شکوک واوہام میں مبتلا اور داعی کے ساتھ بحث و مباحثہ پر آمادہ ہیں ۔تو ایسی حالت میں مجادلہ کی تعلیم دی گئی ،مگر اس کے ساتھ باللتی ہی احسن کی قید لگا کر بتلا دیا کہ جو مجادلہ اس شرط سے خالی ہو اس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔

دعوت الی اللہ کے پیغمبر انہ آداب
دعوت الی اللہ دراصل انبیاء علیہم السلام کا منصب ہے ۔امت کے علماء اس منصب کو ان کا نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں ۔تو لازم یہ ہے کہ اس کے آداب اور طریقے بھی انہیں سے سیکھیں، جو دعوت اُن طریقوں پر نہ رہے وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ و جدل کا موجب ہو جاتی ہے، دعوت پیغمبرانہ کے اصول میں جو ہدایت قرآن کریم میں حضرت موسیٰ و ہارون کے لیے نقل کی گئی ہے ۔﴿قولا لہ قولالینا لعلہ یتذکراو یخشی﴾ ۔یعنی فرعون سے نرم بات کرو، شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔

یہ ہر داعی حق کو ہر وقت سامنے رکھنا ضروری ہے کہ فرعون جیسا سرکش کا فر جس کی موت بھی علم الہٰی میں کفر ہی پر ہونے والی تھی، اس کی طرف بھی جب اللہ تعالیٰ اپنے داعی کو بھیجتے ہیں تو نرم گفتار کی ہدایت کے ساتھ بھیجتے ہیں ۔آج ہم جن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ فرعون سے زیادہ گم راہ نہیں اور ہم میں سے کوئی موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے برابر ہادی و داعی نہیں تو جو حق اللہ نے اپنے دونوں پیغمبروں کو نہیں دیا کہ مخاطب سے سخت کلامی کریں، اس پر فقرے کسیں ،اس کی توہین کریں،وہ حق ہمیں کہاں سے حاصل ہوگیا؟

قرآن کریم انبیاء علیہم السلام کی دعوت و تبلیغ اور کفار کے مجادلات سے بھرا ہوا ہے، اس میں کہیں نظر نہیں آتا کہ کسی اللہ کے رسول نے حق کے خلاف ان پر طعنہ زنی کرنے والوں کے جواب میں کوئی ثقیل کلمہ بھی بولا ہو۔اس کی چند مثالیں دیکھیے۔

سورہٴ اعراف کے ساتویں رکوع میں آیات 59 سے 67 تک دو پیغمبر حضرت نوح اور حضرت ہود علیہم السلام کے ساتھ ان کی قوم کے مجادلہ اور سخت سست الزامات کے جواب میں ان بزرگو ں کے کلمات قابل ملاحظہ ہیں۔

حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ اولوالعزم پیغمبر ہیں جن کی طویل عمر دنیا میں مشہور ہے، ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو دعوت و تبلیغ، اصلاح وار شاد میں دن رات مشغول رہے ۔مگر اس بدبخت قوم میں سے معدودے چند کے علاوہ کسی نے ان کی بات نہ مانی اور تو اور خود ان کا ایک لڑکا اور بیوی کافروں کے ساتھ لگے رہے۔ان کی بات نہ مانی، ان کی جگہ آج کا کوئی مدعی دعوت و اصلاح ہوتا تو اس قوم کے ساتھ اس کا لب و لہجہ کیا ہوتا؟ اندازہ لگائیے، پھر دیکھیے کہ ان کی تمام ہم دردی و خیر خواہی و دعوت کے جواب میں قوم نے کہا:ہم تو آپ کو کھلی ہوئی گم راہی میں مبتلا پاتے ہیں ۔(اعراف)

ادھر سے اللہ کے پیغمبر بجائے، اس کے اس سرکش قوم کی گم راہیوں بدکاریوں کا پر دہ چاک کرتے، جواب میں کیا فرماتے ہیں۔

”میرے بھائیو!مجھ میں کوئی گم راہی نہیں ۔میں تو رب العالمین کا رسول اور قاصد ہوں (تمہارے فائدہ)کی باتیں بتلاتا ہوں“۔

ان کے بعد آنے والے دوسرے اللہ کے رسول حضرت ہود علیہ السلام کو ان کی قوم نے معجزات دیکھنے کے باوجود ازراہ عناد کہا کہ آپ نے اپنے دعوے پر کوئی دلیل پیش نہیں کی اور ہم آپ کے کہنے سے اپنے معبو دوں (بتوں)کو چھوڑنے والے نہیں ۔ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے معبودوں کی شان میں بے ادبی کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم جنون میں مبتلا ہوگئے ہو۔حضرت ہود علیہ السلام نے یہ سب سن کر کیا جواب دیا ؟سنیے:

”میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان بتوں سے بری اور بیزار ہوں، جن کوتم اللہ کا شریک مانتے ہو“۔(سورہ ہود)

اور سورہٴ اعراف میں ہے کہ ان کی قوم نے ان کو کہا۔”ہم تو آپ کوبے وقوفی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں“۔

قوم کے اس دل آزار خطاب کے جواب میں اللہ کے رسول ہود علیہ السلام نہ ان پر کوئی فقرہ کستے ہیں اور نہ ان کی بے راہی اور کذب وافتراعلی اللہ کی کوئی بات کہتے ہیں، جواب کیا ہے ؟صرف یہ کہ:

”اے میری برادری کے لوگو،مجھ میں کوئی بے وقوفی یا کم عقلی نہیں، میں تو رب العالمین کا رسول ہوں“۔(اعراف)

حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو حسب دستورِ انبیاء اللہ کی طرف دعوت دی اور ان میں جو بڑا عیب ناپ تول میں کمی کرنے کا تھا اس سے باز آنے کی ہدایت فرمائی تو ان کی قوم نے تمسخر کیا اور تو ہین آمیز خطاب کیا۔

”اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور یہ جن اموال کے ہم مالک ہیں ان میں اپنی مرضی کے موافق جو چاہیں کریں ؟واقعی آپ ہیں بڑے عقل منددین پر چلنے والے“۔(القرآن)

انہوں نے ایک تو یہ طعنہ دیا کہ تم جو نماز پڑھتے ہو یہی تمہیں بے وقوفی کے کام سکھاتی ہے۔دوسرے کہ مال ہمارے ہیں، ان کی خرید و فروخت کے معاملات میں تمہارا یا خدا کا کیا دخل ہے؟ہم جس طرح چاہیں ان میں تصرف کا حق رکھتے ہیں۔ تیسراجملہ تمسخر و استہزا کا یہ کہا کہ آپ ہیں بڑے عقل مند بہت دین پر چلنے والے ۔ معلوم ہوا کہ یہ لادینی معاشیات کے پجاری صرف آج نہیں پیدا ہوئے، ان کے بھی کچھ اسلاف ہیں، جن کا نظریہ وہی تھا جو آج کے بعض نام کے مسلمان کہہ رہے ہیں ، ہم مسلمان ہیں ،اسلام کو مانتے ہیں، مگر ہماری معاشیات سوشل ازم سے وابستہ ہے۔ 

بہر حال اس ظالم قوم کے اس مسخرے پن اور دل آزار گفتگو کا جواب اللہ کے رسول کیا دیتے ہیں،سنیے:

اے میری قوم! بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے عمدہ دولت، یعنی رسالت دی ہو تو پھر میں کیسے اس کی تبلیغ نہ کروں؟ اور میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں۔ جہاں تک میری قدرت میں ہے اور مجھ کو جو کچھ اصلاح اور عمل کی توفیق ہوجاتی ہے، وہ صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے۔میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہو ں اور تمام امور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔(ہود)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجنے کے وقت جو نرم گفتار کی ہدایت منجانب اللہ دی گئی تھی، اس کی پوری تعمیل کرنے کے باوجود فرعون کا خطاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تھا۔

”فرعون کہنے لگا(اہا! تم ہو؟)کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا؟ اور تم اس عمر میں برسوں ہمارے پاس رہا سہا کیے اور تم نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی (یعنی قبطی کو قتل کیا تھا )اور بڑے ناشکرے ہو۔(سورة شعراء)

اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اپنا یہ احسان بھی جتلایا کہ بچپن میں ہم نے تجھے پالا؟ پھر یہ احسان بھی جتلایا کہ بڑے ہونے کے بعد بھی کافی عرصہ تم ہمارے پاس رہے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے جو ایک قبطی بغیر ارادہٴ قتل کے مارا گیا تھا اس پر غصہ اور ناراضی کا اظہار کر کے یہ بھی کہا کہ تم کافروں میں سے ہوگئے۔یہاں کافروں میں سے ہونے کے لغوی معنی بھی ہوسکتے ہیں ۔یعنی ناشکری کرنے والے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تو تم پر احسانات کیے اور تم نے ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا جو احسان کی ناشکری تھی اور اصطلاحی معنی بھی ہو سکتے ہیں، کیوں فرعون خود خدائی کا دعوے دار تھا تو جو اس کی خدائی کا منکرہو وہ کافر ہوا۔

اب اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جواب سنیے، جو پیغمبرانہ اخلاق کا شاہ کار ہے کہ اس میں سب سے پہلے اس کمزوری و کوتاہی کا اعتراف کرلیا جو ان سے سرزد ہوگئی تھی ۔یعنی اسرائیلی آدمی سے لڑنے والے قبطی کو ہٹانے کے لیے ایک مُکہ اس کے مارا تھا، جس سے وہ مرگیا تو گویہ قتل عمداً ارادہً نہیں تھا، اس لیے پہلے اعتراف فرمایا :

”یعنی میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جب میں ناواقف تھا“۔(القرآن)

مراد یہ ہے کہ یہ فعل عطائے نبوت سے پہلے سرزد ہوگیا تھا، جب کہ مجھے اس بارے میں اللہ کا حکم معلوم نہ تھا، اس کے بعد فرمایا:

”پھر مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے یہاں سے مفرور ہوگیا، پھر مجھ کو میرے رب نے دانش مندی عطا فرمائی اور مجھ کو اپنے پیغمبروں میں شامل کرایا“۔(القرآن)

پھر اس کے احسان جتلانے کا جواب یہ دیا کہ تمہارا یہ احسان جتانا صحیح نہیں ،کیوں کہ میری پرورش کا معاملہ تمہارے ہی ظلم و عدوان کا نتیجہ تھا کہ تم نے اسرائیلی بچوں کو قتل کاحکم دے رکھا تھا ،اس لیے والدہ نے مجبور ہو کر مجھے دریا میں ڈالا اور تمہارے گھر تک پہنچنے کی نوبت آئی۔فرمایا:

(رہا احسان جتلانا پرورش کا)سو یہ وہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت میں ڈال رکھا تھا۔(القرآن)

اس کے بعد فرعون نے جب سوال کیا ﴿وما رب العٰلمین﴾ یعنی ﴿رب العالمین﴾ کو ن اور کیا ہے؟ تو جواب میں فرمایا کہ وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا ۔اس پر فرعون نے بطور استہزا کے حاظر ین سے کہا ﴿الا تسمعون﴾ یعنی تم سن رہے ہو ،یہ کیسی بے عقلی کی باتیں کہہ رہے ہیں ۔اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :﴿ربکم ورب آباءِ کم الاولین﴾ یعنی تمہارے اور تمہارے باپ دادوں کا بھی وہی رب پروردگار ہے۔اس پر فرعون نے جھلا کر کہا :﴿ان رسولکم الذی أرسل الیکم لمجنون﴾ یعنی یہ جو تمہاری طرف اللہ کے رسول ہونے کا مدعی ہے وہ دیوانہ ہے ۔مجنون دیوانہ کا خطاب د ینے پر بھی موسیٰ علیہ السلام بجائے اس کے کہ ان کا دیوانہ ہونا اور اپنا عاقل ہونا ثابت کرتے، اس طرف کوئی التفات ہی نہیں کیا، بلکہ اللہ رب العالمین کی ایک اور صفت بیان فرمادی۔

”وہ رب ہے مشرق و مغرب کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔اگر تم کو عقل ہو ۔“(شعرأء)

یہ ایک طویل مکالمہ ہے، جو فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہو رہا ہے ،جو سورہ شعراء کے تین رکوع میں بیان ہوا ہے۔اللہ کے مقبول رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس مکالمہ کو اوّل سے آخر تک دیکھیے نہ کہیں جذبات کا اظہار ہے ،نہ اس کی بدگوئی کا جواب ہے،نہ اس کی سخت کلامی کے جواب میں کوئی سخت کلمہ ہے،بلکہ مسلسل اللہ جل شانہ کی صفات کمال کا بیان اور تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ مختصر سا نمونہ ہے انبیاء علیہم السلام کے مجادلات کا، جو اپنی معاند اور ضدی قوم کے مقابلہ میں کیے گئے ہیں اور مجادلہ باللتی ہی احسن جو قرآن کی تعلیم ہے اس کی عملی تشریح ہے، مجادلات کے علاوہ دعوت و تبلیغ میں ہر مخاطب اور ہر موقع کے مناسب کلام کرنے میں حکیمانہ اصول اور عنوان و تعبیر میں حکمت و مصلحت کی رعائتیں بھی جو انبیاء علیہم السلام نے اختیار فرمائیں اور دعوت الی اللہ کو مقبول و موثر اور پائیدار بنانے کے لیے جو طرز عمل اختیار فرمایا ہے وہی در اصل دعوت کی روح ہے، اس کی تفصیلات توتمام تعلیمات نبوی علیہ السلام میں پھیلی ہوئی ہیں۔نمونہ کے طور پر چند چیزیں دیکھیے ۔رسول کریم ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت میں اس کا بڑا لحاظ رہتا تھا کہ مخاطب پر بار نہ ہونے پائے۔

صحابہ کرام جیسے عشاق رسول، جن سے کسی وقت بھی اس کا احتمال نہ تھا کہ وہ آپ کی باتیں سننے سے اکتا جائیں گے ،ان کے لیے بھی آپ علیہ السلام کی عادت یہ تھی کہ وعظ و نصیحت روزانہ نہیں بلکہ ہفتہ کے بعض دنوں میں فرماتے تھے، تا کہ لوگوں کے کاروبار کا حرج اور ان کی طبیعت پر بار نہ ہو۔صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ہفتہ کے بعض ایام ہی میں وعظ فرماتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں اور دوسروں کو بھی آپ کی طرف سے یہی ہدایت تھی۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:

لوگوں پر آسانی کرو، دشواری نہ پیدا کرو اور ان کو اللہ کی رحمت کی خوش خبری سناؤ ،مایوس یا متنفر نہ کرو۔(بخاری)

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ تمہیں چاہیے کہ ربانی، حکماء،علماء،فقہاء بنو۔صحیح بخاری میں یہ قول نقل کر کے لفظ ربانی کی یہ تفسیر فرمائی کہ جوشخص دعوت و تبلیغ اور تعلیم میں تربیت کے اصول کو ملحوظ رکھ کر پہلے آسان آسان باتیں بتلائے، جب لوگ اس کے عادی ہوجائیں تو اس وقت دوسرے احکام بتلائے، جو ابتدائی مرحلے میں مشکل ہوئے۔



ضرورتِ تبلیغ
انسان بہت ہی زیادہ خطا کار اوربھول جانے والا ہے ، نفس اسے برائ کا حکم دیتا رہتا ہے اورشیطان اسے معاصی اورگناہوں سے آلودہ کرکے خراب کرتا ہے ، اورجب جسموں کوبیماری لگتی اوراسے کئ قسم کی علتیں اورآفات آتی ہیں تواس کی وجہ سے طبیب اورڈاکٹر بھی ہونا ضروری ہے اوراس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جوکہ اس کے لیے مناسب دوائ اورعلاج تجویز کرتا ہے تاکہ جسم اپنے اعتدال پرواپس آسکے تونفوس کی بھی یہی حالت ہے ۔
اوردلوں کوشبھات اورشہوات کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں تووہ اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء کا ارتکاب کرتا ہوا کبھی توکسی کا ناحق خون بہاتا اورکبھی زناکاری کا مرتکب ہوتا اورکبھی شراب نوشی کا مرتکب ٹھرتا ہے ، اوربعض اوقات لوگوں پرظلم کرتاہوا باطل اورغلط طریقے سے ان کے اموال ہڑپ کرتا ہے اوراللہ تعالی کے راستے سےروکتا اوراللہ تبارک وتعالی کے ساتھ کفرجیسے شنیع جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔

امراض قلب اوردل کی بیماریاں جسمانی امراض وبیماریوں سے زيادہ خطرناک ہوتی ہيں لھذا اس کے لیے کسی ایسے ماھر طبیب وڈاکٹر کی ضرورت ہے جواس کا علاج کرے اورامراض قلوب کی کثرت اوراس سے پیدا ہونے والے شرو فساد کی بہتات کی بنا پرہی اللہ تعالی نے مومنوں کواس کا مکلف ٹھرایاہے کہ وہ ان بیماریوں کا علاج امربالمعروف وارنہی عن المنکرکے ساتھ کریں فرمان باری تعالی ہے :

{ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہيۓ جوبھلائ کی طرف بلاۓ اورنیک کاموں کا حکم کرے اوربرے کاموں سے روکے ، اوریہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں } آل عمران ( 104 ) ۔

امربالمعروف اورنہی عن المنکر ایک ایسا کام ہے جواسلامی امورمیں سے سب سے اعلی واشرف ہے بلکہ یہ کام توانبیاء رسل کا وظیفہ اورکام تھا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :

{ ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اورآگاہ کرنے والے تاکہ رسول بھیجنے کے بعد اللہ تعالی پرلوگوں کی کوئ حجت اورالزام باقی نہ رہ جاۓ } النساء ( 165 ) ۔

اللہ تعالی نے امت اسلامیہ کویہ کام سرانجام دینے کے لیے سب سے بہتراوراچھی امت بنایا ہے جوکہ لوگوں کواس کا حکم دیتی ہے جس طرح کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

{ تم ایک بہترین امت ہوجولوگوں کےلیے پیدا کی گئ ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اوربری باتوں سے روکتے ہو اوراللہ تعالی پرایمان رکھتے ہو } آل عمران ( 110 ) ۔

جب امت امربالمعروف اورنہی عن المنکرکے عظیم شعارکومعطل کرکے رکھ دے امت میں ظلم وفساد پھیل جاتا اوروہ امت اللہ تعالی کی لعنت کی مستحق ٹھرتی ہے ۔

اللہ تعالی نے یقینی طورپر ان بنی اسرائیل کے کافروں پرلعنت کی جنہوں نے اس عظیم شعارکومعطل کرکے رکھ دیا تھا ، اللہ تعالی نےاسی کی اشارہ کرتے ہوۓ کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ بنی اسرائیل کے کافروں پرداود ( علیہ السلام ) اورعیسی بن مریم ( علیہ السلام ) کی زبانی لعنت کی گئ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے اورحد سے آگے بڑھ جاتے تھے ، آپس میں ایک دوسرے کوبرے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتےنہیں تھے جوکچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا وہ بہت برا ہے } المائدۃ ( 78-79 )

امربالمعروف اورنہی عن المنکر اصول دین میں سے ایک اصل ہے اوران دونوں کا قیام جھاد فی سبیل اللہ ہے جو کہ تکالیف پر مشقت اورصبرکا محتاج ہے ، جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے کوکہا :

{ اے میرے پیارے بیٹے ! نمازقائم کرتے رہنا اوراچھے کاموں کی نصیحت اوربرے کاموں سےروکتے رہنا اورتم پرجومصیبت آجاۓ اس پرصبرکرنا یقین جانو کہ یہ بڑے تاکیدکاموں میں سے ہے } لقمان ( 17 ) ۔

امربالمعروف اورنہی عن المنکر ایک عظیم کام اورپیغام ہے اس لیے اس کام کوکرنے والے کے ليے ضروری ہے کہ وہ اخلاق حسنہ سے آراستہ اورمقاصد حسنہ پرعمل پیرا ہو اورلوگوں کو حکمت اورموعظہ حسنہ سے دعوت دے اوران کے ساتھ نرم برتا‎ؤکرے اورمہربانی سے پیش آۓ ہوسکتا ہے اللہ تعالی جسے چاہے اس کے ہاتھ پرھدایت نصیب فرماۓ ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کوحکمت اوراچھی نصیحت کے ساتھ بلایۓ اوران سے بہتر اندازمیں گفتگو کیجۓ یقینا آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کوبی بخوبی جانتا ہے اورراہ راست پرچلنے والوں سے بھی پورا پورا واقف ہے } النحل ( 125 ) ۔

جوامت اسلامی شعائر پرعمل پیرا ہوتی اورامربالمروف اورنہی عن المنکرکا کام کرتی ہے وہ دنیاوآخرت کی کامیابی وسعادت حاصل کرتی ہے اوراس پراللہ تعالی کی مدد ونصرت اورتائيد کا نزول ہوتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

{ جواللہ تعالی کی مدد کرے گا اللہ تعالی بھی ضرور اس کی مدد کرگا ، بلاشبہ اللہ تعالی بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جمادیں تویہ پوری پابندی سے نمازقائم کریں اورزکاۃ ادا کریں اوراچھے کاموں کا حکم اوربرے کاموں سے روکیں ، تمام کاموں کاانجام اللہ تعالی کے اختیارمیں ہے } الحج ( 40 - 41 ) ۔

امربالمعروف اورنہی عن المنکرایک ایسا پیغام ہے جوقیامت تک کبھی بھی منقطع نہیں ہوگا ، اوریہ پوری امت پرواجب ہے اور رعایا میں سے ہرایک مرد وعورت پراوراسی طرح حکام پربھی واجب ہے کہ وہ امربالمروف اورنہی عن المنکرکا کام اپنے حسب حال کريں نبی ﷺ نے کچھ اس طرح فرمایا ہے :

( تم میں سےجوبھی کوئ برائ دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھ سے روکے اگروہ ہاتھ سے روکنے کی استطاعت نہیں رکھتا تواپنی زبان سے اوراگراس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تواپنے دل کے ساتھ روکے ، اوریہ ایمان کا کمزورترین حصہ ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 49 ) ۔

اورامت اسلامیہ ایک ہی امت ہے اگراس میں فساد پھیل جاۓ اوراس کے حالات خراب ہوجائيں توسب مسلمانوں پراصلاح کا کام کرنا واجب ہوجاتا ہے ، اوراسی طرح منکرات کاخاتمہ اورامربالمعروف اورنہی عن المنکر اورہرایک کونصیحت کرنے کی سعی کرنا واجب ہوجاتا ہے ۔

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے :

( دین نصیحت وخیرخواہی کا نام ہے ، ( صحابہ کہتے ہیں ) ہم نے عرض کیا اے اللہ تعالی کے رسول کس کے لیے ؟

تو نبی ﷺ فرمانے لگے : اللہ تعالی اوراس کی کتاب اوراس کے رسول ، اورمسلمانوں کے اماموں اورعام مسلمانوں کے لیے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 95 ) ۔

جب مسلمان کسی دوسرے کوکسی کام کا حکم دے تواس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس پرعمل کرے اوراگر لوگوں کو کسی چيزسے منع کرے تواسے اس بات کی کوشش کرنی چاہۓ کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ اس چيز سے دور رہے ، اس کی مخالفت کرنے والے کواللہ تعالی نے بہت سخت وعید سنائ ہے ، فرمان باری تعالی ہے :

{ اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہوجوخود نہیں کرتے ، تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالی کوسخت ناپسند ہے } الصف ( 2 - 3 ) ۔

انسان جتنا بھی صحیح اورسیدھی راہ پرہووہ پھر بھی کتاب وسنت کے مطابق نصیحت وراہنمائ اوریاددھانی کا محتاج ہے ، اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول ﷺ کوجوکہ افضل الخلق اوراکمل الخلق ہيں کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ اے نبی (ﷺ) اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا اورکافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آجانا اللہ تعالی بڑے علم والا اوربڑي حکمت والا ہے } الاحزاب ( 1 ) ۔


اس لیے ہم سب پریہ ضروری ہے کہ ہم امربالمعروف اورنہی عن المنکرکا کام کرتے رہیں تاکہ ہم اللہ تعالی کی رضامندی اورجنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں ۔

******************************************
ایک مرتبہ مشہور صحابی حضرت ابوالدرداءؓ کا گزر ایک ایسے شخص سے ہوا جس نے کوئی گناہ کیا تھا، اور لوگ اسے برا بھلا کہہ رہے تھے، لوگوں کا یہ طرزعمل آپ کو پسند نہ آیا، آپ نے انہیں نہایت حکیمانہ انداز میں سمجھایا، آپ نے فرمایا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدْتُمُوهُ فِي قَلِيبٍ أَلَمْ تَكُونُوا مُسْتخْرِجِيهِ ؟ اگرتم اُسے کسی گڈھے میں گرا ہوا پاتے تو کیا تم اُسے گڈھے سے نکالتے نہیں؟

لوگوں نے کہا: ہاں ضرور، تب آپ نے فرمایا: فَلا تَسُبُّوا أَخَاكُمْ ، وَاحْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي عَافَاكُمْ  “تو پھر اپنے بھائی کو برا بھلا مت کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اُس نے تجھے اس بُرائی سے محفوظ رکھا” لوگوں نے کہا:  کیا ہم اسے مبغوض نہ سمجھیں؟ آپ نے فرمایا:  إِنَّمَا أَبْغَضُ عَمَلَهُ ، فَإِذَا تَرَكَهُ فَهُوَ أَخِي  “میں اس کے عمل کو مبغوض سمجھتا ہوں ‘‘اُسے نہیں’’ اگر وہ اپنے عمل سے باز آجائے تو وہ میرا بھائی ہے”۔
[أخرجه ابن عساكر (47/177)، جامع الاحادیث:41517، كنز العمال 8901]

دیکھا آپ نے! اس واقعے میں حضرت ابو الدردءؓ نے ہمیں نہایت پتے کی بات بتائی ہے، وہ یہ کہ جب کبھی کسی سے کوئی خلاف شرع کام سرزد ہوتو اُسے ہم طعن وتشنیع کا نشانہ نہ بتائیں، اُسے سخت سست نہ کہیں، بلکہ ہماری ہر ممکن کوشش یہ ہو کہ اس کے اندر سے وہ برائی ختم ہو جائے۔

گویا کہ اس واقعے میں داعیان دین کے لیے یہ سبق ہے کہ جب کبھی کسی کے اندر کوئی بُرائی دیکھیں تو انہیں چاہئے کہ وہ برائی سے نفرت کریں نہ کہ بُرائی کرنے والے سےاور ان کی کو شش ہو کہ اس کے اندر سے بُرائی ختم ہو جائے، اسی لیے علمائے کرام نے بتایا ہے کہ منکر میں مبتلا شخص کے ساتھ معاملہ ایک بچہ کا سا ہونا چاہئے کہ جب آپ بچے کو پڑھنا سکھانا چاہ رہے ہوں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اُسے حروف پہچاننے کے لیے خوبصورت وسیلہ عطا کریں تاکہ پڑھنے لکھنے سے اس کی دلچسپی بڑھے اور اس کے اندر علم سے نفرت نہ پیدا ہو، بالکل ایسا ہی معاملہ کسی منکر میں مبتلا شخص کا ہے، یہ دراصل بیمار ہے یا جاہل ہے لہذا ہمیں بیماری اور جہالت سے دشمنی ہونی چاہئے نہ کہ بیمار اور جاہل سے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ نے منکر کے سدباب کے لیے تین مراحل کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ داعیان دین کو چاہئے کہ وہ ترتیب وار تین مراحل میں کسی منکر کا ازالہ کریں، پہلے مرحلہ میں اس کے سامنے منکر کی تعریف کی جائے کہ یہ امر واقعی منکر ہے، بالعموم ایک آدمی جہالت کی بنیاد پر ہی کوئی منکر کام کرتا ہے، جب وہ جان لے گا کہ ایسا کرنا غلط ہے تو وہ ضرور اُس سے رُک جائے گا، لہذا ضروری ہے کہ نہایت نرمی کے ساتھ اس کے سامنے منکر کی تعریف کی جائے۔ مثلا یوں کہا جائے کہ:

میرے بھائی! میرے عزیز! انسان دین کا علم سیکھ کر ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتا، ہم سب شریعت  کی بہت ساری باتیں نہیں جانتے تھے لیکن علماء نے ہمیں سکھایا، شاید آپ کی بستی اہل علم سے خالی ہے، جس کی وجہ سے کسی نے آپ کو اس بُرائی کی بابت نہیں بتایا۔

بہر کیف ایسا اسلوب اپنائے کہ دل شکنی کے بغیر وہ منکر کو منکر سمجھ لے، اگر وہ نہیں سمجھ پاتا ہے تو دوسرے مرحلہ میں اُسے اللہ کا خوف دلایا جائے، اسے منکر سے متعلق قرآن واحادیث کے نصوص بتائے جائیں، سلف صالحین اور اللہ والوں کی زندگی کے عبرت آموز قصے سنائے جائیں یہ سب نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ ہو، اگر اس کے اندر تبدیلی آجاتی ہے اور وہ منکر سے باز آجاتا ہے تو ٹھیک ورنہ تیسرے مرحلے میں اس کے ساتھ سخت کلامی سے پیش آیا جائے، لیکن یہ واضح ہونا چاہئے کہ سخت کلامی کا مطلب فحش گوئی نہیں، بلکہ اس کے سامنے بُرائی کی قباحت کو بیان کرکے اُسے ترک نہ کرنے پر سخت سست کہا جائے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی فرمایا: جبکہ آپ نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورہ الانبیاء67)

” تف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبُودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کررہے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے”۔

اگر اب بھی سدھار نہیں ہو رہی ہے تو چوتھے مرحلہ میں طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اُسے قدرت حاصل ہو، صحیح مسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

مَن رأى مِنكُم مُنكرًا فليغيِّرهُ بيدِهِ ، فإن لَم يَستَطِع فبِلسانِهِ ، فإن لم يستَطِعْ فبقَلبِهِ  وذلِكَ أضعَفُ الإيمانِ. (صحيح مسلم: 49)

“جب تم میں سے کوئی بُرائی کا کام دیکھے تو اُسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ سے روکے اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے، ورنہ دل سے ضرور بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے”۔

حدیث میں ہاتھ کے استعمال کی جو بات کہی گئی ہے یہ آخری علاج ہے اور سب کے لیے نہیں بلکہ جسے اس کی طاقت ہو، ایک شخص نے سمجھانے بجھانے میں پوری کوشش صرف کردی، خیر خواہانہ انداز اپنایا، نرم لب و لہجہ اختیار کیا، حکمت کے سارے اصول کو برتا لیکن سامنے والے میں کوئی تبدیلی نہ آسکی تو اب وہ منکر کے ازالہ کے لیے ہاتھ کا استعمال کر سکتا ہے، لیکن دو شرطوں کے ساتھ پہلی شرط یہ کہ ایسا کرنے پر وہ قادر ہو اور دوسری شرط یہ کہ ظن غالب ہو کہ اس کا کوئی غلط رد عمل سامنے نہ آئے گا۔

1- نصیحت تنہائی میں کی جائے :
امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ نصیحت تنہائی میں کی جائے، فطری طور پر ایک انسان کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ سب کے سامنے اس کی کوتاہیاں بیان کی جائیں، اور جو شخص کسی کی کمی کو بھرے مجمع میں بیان کردیتا ہے ایسے شخص سے اس کی طبیعت نفرت کرنے لگتی ہے اور وہ اصلاح کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، گوکہ نقد برمحل ہو اور وہ عیب واقعی اس کے اندر پایا جا رہا ہو۔

ممکن ہے اس اصول سے بعض پاکیزہ طبیعتیں مستثنی ہوں اور حق کو قبول کرلیں لیکن ان کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے عیوب سب کے سامنے بیان نہ کئے جائیں، اسی قبیل سے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ شعر ہے۔؎

تعمدني بنصحك في انفرادي ….. وجنبني النصيحة في الجماعة
فإن النصح بين الناس نوع ….. من التوبيخ لا أرضى استماعه
وإن خالفتني وعصيت قولي ….. فلا تجزع إذا لم تعط طاعه

اگر تم مجھے نصیحت کرنا چاہتے ہوتو تنہائی میں کرو، اور بھرے مجمع میں نصیحت کرنے سے بچو، کیوں کہ لوگوں کے بیچ نصیحت کرنا ایک طرح کی تو بیخ ہے، جسے میں سننا پسند نہیں کرتا، اگر تم نے اس کے خلاف کیا اور میری بات کی نافرمانی کی تو اطاعت نہ ملنے پر پریشان مت ہونا۔

لہذا اگر ہم کسی کے اندر کوئی کمی دیکھیں اور ہمیں اس کی اصلاح مقصود ہے تو ہمیں چاہئے کہ ہم اسے تنہائی میں لے جاکر سمجھانے کی کوشش کریں، اور سمجھانے کا اسلوب ایسا اچھوتا ہوکہ مخاطب کو بُرا نہ لگے، کچھ حساس طبیعت کے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ تنہائی میں بھی براہ راست نصیحت کو پسند نہیں کرتے، اللہ کے رسول ﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے آپ کا معمول تھا کہ جب کسی کی اصلاح کرنی ہوتی تو اشارہ اور کنایہ سی اس کی اصلاح کرتے تھے، براہ راست ٹوکتے نہ تھے، چناچہ جب آپ کے سامنے کسی کی بابت کوئی بات پہنچتی تو آپ اُس شخص کو نشانہ بنائے بغیر عام خطاب کے انداز میں کہتے: ما بالُ أقوامٌ يفعلونَ كذا وكذا  کیا بات ہے لوگ ایسا ویسا کرتے ہیں۔

ابن المفلح رحمہ اللہ سے الآداب الشرعیہ (108/2) میں بیان کیا ہے کہ ابراہیم الادہم سے کسی نے پوچھا: ایک شخص کسی دوسرے کے اندر کوئی عیب دیکھتا ہے تو کیا وہ اُسے صراحۃ کہہ دے؟ آپ نے فرمایا: هذا تبكيت ولكن تعريض یہ تو اسے رسوا کرنا ہوا، البتہ اسے چاہئے کہ اشارٰتا اسے بتا دے۔

شاید ہم میں سے ہر ایک نے یہ حدیث سنی ہوگی:

المؤمِنُ مِرآةُ المؤمِنِ  (صحیح الجامع: 6656، حسن)

ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے، مطلب یہ کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ کی حیثیت رکھتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر مومن کو آئینہ سے تشبیہ کیوں دی گئی؟ تو اہل علم نے اس کی متعدد توجیہ بیان کی ہے:

1- جس طرح آئینہ چہرے کے داغ اور دھبے کو بتا دیتا ہے اسی طرح ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو خاموش نہ رہ جائے بلکہ اسے بتا دے۔

2- اسی طرح چہرے کے داغ کو آئینہ تنہائی میں بتاتا ہے، آئینہ کے سامنے چہرہ دیکھنے والا ہوتا ہے اور آئینہ ہوتا ہے، تیسرا کوئی نہیں ہوتا، اسی طرح ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو تنہائی میں نصیحت کرے۔

3- جب آئینہ چہرے کا داغ بتاتا ہے تو ہمیں اُس پر غصہ نہیں آتا بلکہ آئینہ سے ہمارا تعلق مزید استوار ہوتا ہے، ویسے ہی ایک مسلمان کو چاہئے کہ اپنے بھائی کے عیب کو نہایت خیر خواہانہ انداز میں، نرمی و شفقت کے ساتھ بیان کرے یہاں تک کہ اس کے دل میں خیر خواہ کی عقیدت ومحبت بیٹھ جائے۔

2- تدریج کو ملحوظ رکھا جائے:
منکر کے ازالے میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ تدریج کو ملحوظ رکھا جائے، انسانی طبیعت کچھ ایسے واقع ہوئی ہے، کہ جب وہ کسی چیز کی عادی بن جاتی ہے تو اسے ترک کرنا اس کے لیے مشکل بن جاتا ہے گوکہ وہ چیز اس کے حق میں نقصاندہ ہو، اسلام چونکہ دین فطرت ہے، اور انسان کی طبعی رجحانات کا خیال کرتا ہے اس لیے اُس نے منکر کے ازالے میں بھی تدریج کو ملحوظ رکھنے کی تاکید کی ہے۔

اس نکتے کو سمجھنے کے لیے حرمت شراب کے نزول پر غور کیا جا سکتا ہے، شراب کی حرمت بیک وقت نازل نہیں ہوئی، کیوں؟ اس لیے کہ عرب اس کے رسیا تھے، شراب اس کی گھٹی میں سمائی ہوئی تھی، اس کے بغیر اُن کا جینا دوبھر تھا، چناچہ شروع میں اس وقت ایمان و یقین پر زور دیا گیا، ترغیب و ترہیب کی باتیں بتائی گئیں۔ شراب کے تعلق سے سب سے پہلی آیت اُتری تو اس میں بتایا گیا کہ:

تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا  (سورۃ النحل 5)

کہ تم کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے شراب بنا لیتے ہو، گویا اس میں شراب کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا تھا، اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں بحالت نشہ نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا، چنانچہ فرمایا گیا:

لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ (سورۃ النساء 43)

کہ جب تم نشہ کی حالت میں ہوتو نماز سے قریب مت ہو ۔

جب لوگوں کا ذہن تیار ہو گیا تو تیسرے مرحلہ میں دو ٹوک انداز میں شراب کی حرمت نازل کردی گئی چنانچہ فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ  الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ  (سورہ المائدہ 90)

“اے ایمان والو! یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی”۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جلیل القدر تابعی یوسف بن مالک سے بیان کیا تھا کہ شروع اسلام میں مفصل کی سورتیں اتریں جن میں جنت وجہنم کا تذکرہ ہوتا تھا یہاں تک کہ جب لوگ اسلام پر ثابت قدم ہو گئے تو حلال و حرام کی آیتیں اُتریں، اگر اوائل اسلام میں یہ نازل ہوتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا ترک نہ کریں گے۔( صحیح البخاری: 4993) 

عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ بات ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ہم دعوت کے میدان میں تدریج کو ملحوظ رکھیں جی ہاں! اسلام قبول کرنے کے پہلے ہی دن ایک شخص کو ختنہ کرانے کے لیے کہا جائے تو یہ حکمت دعوت کے خلاف ہوگا،  پہلے ایمان پر دھیان دیا جائے جب اس کے دل میں ایمان بیٹھ جائے تو دھیرے دھیرے  احکامات بتائے جائیں، ایسا ہی معاملہ ہر شخص کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ فرض کیجئے کہ ایک آدمی نماز نہیں پڑھتا اور داڑھی حلق کرتا ہے، ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم اسے  پہلے نماز کی طرف سے دعوت دیں، جب نماز کا پابند ہو جائے گا تو اس کے بعد ہم داڑھی کے موضوع پر اس سے گفتگو کر سکتے ہیں۔

اسی طرح ایک دوسرا شخص ہے جو شرک میں مبتلا ہے اور شراب بھی پیتا ہے، ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم پہلے اسے شرک کی کھائی سے نکالنے کی طرف دھیان دیں، جب وہ شرک سے نکل جاتا ہے تو اسے نماز کا پابند بنائیں پھر اس کے بعد ہم شراب پینے سے روکیں۔

یہیں سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ کام اسلوب دعوت کے خلاف ہوگا کہ ایک آدمی کسی کو داڑھی نہ رکھنے پر ٹوک دے حالاں کہ وہ جان رہا ہو کہ وہ  نماز نہیں پڑھتا، اسی طرح یہ کام بھی اسلوب دعوت کے خلاف ہوگا کہ ایک آدمی کسی کو بائیں ہاتھ سے کھانے پر ٹوک دے حالاں کہ وہ جان رہا ہو کہ کبھی اس نے مسجد کا منہ نہیں دیکھا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے یہی قاعدہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو سکھایا تھا جب کہ انہیں یمن بھیج رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا تھا: معاذ! تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو جب تم ان کے پاس پہنچنا تو انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اگر وہ تیری بات مان لیتے ہیں تو انہیں حکم دینا کہ اللہ تعالی نے اُن پر شب و روز میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کیا ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور فقیروں میں تقسیم کر دی جائے گی، اگر وہ اسے مان لیں تو تم زکاۃ میں اُن کا عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کیوں کہ ان کی بد دعا اور اللہ کے بیچ کوئی پردہ حائل نہیں۔ (صحيح بخارى 1458، صحيح مسلم 19)

دیکھا یہ ترتیب بتائی گئی ہے، پہلے توحید کی طرف دعوت دی جائے اس کے بعد نماز کی طرف بلایا جائے، اس کے بعد زکاۃ اور دیگر احکام بتائے جائیں۔ دعوت میں کامیابی کے لیے ترتیب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے.

3- نصیحت کے لیے مناسب وقت اختیار کیا جائے:
اسی طرح منکر کے ازالہ کے لیے مناسب وقت کا انتخاب بھی بہت اہمیت رکھتا ہے، مناسب وقت میں جب بات کہی جاتی ہے تو دل کی گہرائی میں اُترتی ہے، لہذا ایسے وقت جب کہ صاحب منکر غصہ میں ہو، یا کسی کام میں مشغول ہو، یا کوئی دوسری گفتگو چل رہی ہو ایسے وقت میں منکر پر نکیر کرنا غیر مناسب ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھئے جب آپ جیل میں تھے تو آپ کے پاس دو شخص خواب کی تعبیر جاننے کے لیے آئے تھے، آپ نے اسے کہا کہ کھانا آنے سے پہلے پہلے میں تجھے خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتاؤں گا، دونوں اپنے مقصد کے لیے آئے تھے، ان کے اندر سننے کی قبولیت پائی جارہی تھی، چنانچہ آپ نے مناسب وقت سے فائدہ اُٹھایا اور ان کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کردیا، غرضیکہ جب مناسب وقت میں کوئی بات  کسی کے سامنے رکھی جاتی ہے، تو قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔


اخیر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو دعوت دین کی عملی اور بصیرت عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔        


******************************************

علما ء - اور - وعظ ونصیحت

وعظ ونصیحت کے سلسلے میں ایک روایت آتی ہے : ”: عَنْ عَوفِ بْنِ مَالِکٍ الأشْجَعِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :لَایَقُصُّ إلَّاأمِیْرٌ أومَامُورٌ أو مُخْتَالٌ “․

ترجمہ :حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب کوئی وعظ و بیان کرے گا تو وہ یاتو حاکم ہوگا،یا (حاکم کا) مقررکردہ شخص ہوگا اور یا متکبر ہوگا۔(ابوداؤد حدیث نمبر3665)



ایک عالم نے، مجدد ملت، حضرت اقدس، مولانا اشرف علی تھانوی سے استفسار کیا کہ حضرت !”میں جمعہ میں وعظ وبیان کیا کرتا تھا ؛مگر جب سے یہ حدیث: لایَقُصُّ إلَّاأمِیْرٌ… الخ، نظر سے گزری ہے ؛وعظ کہنا بند کردیا ہے،چوں کہ” امیر“ اور” مامور“ تو ہوں نہیں اورمتکبر بننے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں!حضرت تھانوی نے ارشاد فرمایا :آپ ”مامور“ ہیں؛کیوں کہ ”امیر“کے مقابلے میں جو ”مامور“ آیا ہے،مراد اس سے مامورمنَِ الأمیر ہے، یعنی مَنْ نَصَبَہ الْأمِیْرُ لِوَعْظِ النَّاسِ․

ترجمہ :امیر نے جس کو وعظ کے لیے متعین کیا ہو ۔اورقواعد شرعیہ سے ثابت ہے کہ جہاں امیر نہ ہو ؛عامة المسلمین ،جن میں اہل حل وعقد بھی ہوں؛ امیر کے قائم مقام ہوتے ہیں۔لہذا اگر عامة المسلمین کسی سے وعظ کی درخواست یا رغبت کریں اور اس شخص کے وعظ پر اہل فہم انکار نہ کریں؛تو وہ شخص یقینا ” مامور“ ہے ۔(بوادر النوادر ،1/75)



اس حدیث کی تشریح یہ ہے کہ وعظ وبیان کرنے کاکام، عام طور پر تین طرح کے لوگ کرتے ہیں۔اور ان میں سے دو طرح کے لوگ تو واقعی اس کام کا حق اور منصب رکھتے ہیں،ایک تو امیریعنی اسلامی سربراہ وحاکم۔ اور دوسرے وہ لوگ جن کو اس کام پر مامور کیا گیا ہو؛لہٰذا انہی دو طرح کے لوگوں کو وعظ وبیان کا کام انجام دینا چاہیے ۔رہا تیسری طرح کے لوگ یعنی ”متکبرین“ کا معاملہ ؛تو انہیں چوں کہ اس کام کا کوئی حق ہی نہیں پہنچتا ؛اس لیے وہ اس میدان میں ہرگز نہ اتریں ۔حکمت اس میں یہ ہے کہ اسلامی حاکم ،اپنی رعایا پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مملکت کے لوگوں کے حالات ونفسیات سے واقفیت رکھنے کے سبب ان گوشوں اور پہلوؤں کو خوب جانتا ہے جن میں اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے؛لہٰذا جب وہ وعظ و نصیحت کرے گاتوبصیرت کے ساتھ کرے گا؛جس کا اثر زیادہ اچھاپڑے گا۔اس طرح موعظت ونصیحت کا اول حق تو اسی سربراہ وحاکم کا ہے۔ اور اگر وہ خود یہ کام نہیں کرپائے گا؛تو پھر اس…ذمہ داری کو ان علمائے دین کے سپر د کرے گا؛جوبصیرت اورتقوی کے حامل ہوں گے اورطمع ولالچ سے خالی ہوں گے ،پس ”مامور “ سے مراد ایک تو وہ شخص ہوا ؛جس کو اسلامی حاکم نے مقر ر کیا ہو اور دوسرا وہ شخص بھی مراد ہے ؛جس کو اللہ تعالی کی طرف سے ”مامور “ہونے کی حیثیت حاصل ہو،یعنی وہ علمائے دین اور اولیاء اللہ ؛جو لوگوں کی ہدایت واصلاح کے نیک جذبے سے اور اپنے دینی فرائض منصبی کے تحت وعظ وبیا ن کرتے ہیں۔اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ ان دو طرح کے لوگوں کے علاوہ اور کوئی شخص یہ کام نہ کرے ۔اگر کوئی شخص مذکورہ منصب اور اہلیت نہ رکھنے کے باوجو د وعظ وبیان کا کام کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ وہ محض اپنی بڑائی کے اظہار اور پیشوابننے کی طلب وخواہش کے تحت یہ کام کررہا ہے اور مذکور ہ ممانعت کو جانتے ہوئے بھی ایسا کرکے ایک” متکبر“ انسان یا ایک ”ریا کار “شخص ہونے کا ثبوت دے رہا ہے ۔(مظاہر حق جدید،1/190)



در اصل اسلام کی دعوت کی قسمیں تین ہیں:1..تبلیغ 2..  تنکیر 3..  تذکیر۔ 
1... تبلیغ : یہ لفظ اگرچہ عام ہے ؛جو تذکیر وغیرہ کو بھی شامل ہے؛ تاہم عرف میں ”غیر مسلموں“ میں اسلام کی دعوت دینے کو تبلیغ کہاجاتا ہے؛ بَلَّغَ تَبْلِیْغا ًکے معنی ہیں؛ابتداء ً کوئی بات پہنچانا ۔تبلیغ اسلام کے مخاطب امت کے تمام افراد ہیں،سب مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور عمل سے اسلام کو پھیلانے اوراس کوعام کرنے میں حصہ لیں۔

2... تنکیر یہ کوئی اصطلاحی لفظ نہیں ہے ؛مگر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے مسئلہ کو سمجھنے کے لیے یہ تعبیر استعمال کی گئی ہے ۔ ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کی تشریح یہ ہے کہ معاشرہ میں آدمی اگر کوئی” برائی“ یا” ناحق بات“ دیکھے تو اپنی حیثیت اوربساط بھر اس کو روکنے کی کوشش کرے ؛ اگرطاقت ہے تو ہاتھ سے روک دے؛ورنہ زبان سے اس کے غلط ہونے کو کہے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو اپنے دل ہی میں اسے براسمجھے،ایسے ہی اچھے کام کرنے کا حکم کرتا رہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مخاطب بھی امت کے تمام افراد ہیں،امت کے ہر فرد کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ اچھائیوں کو اپنے قول وفعل سے پھیلائے اور برائیوں سے منع کرے۔

3... ”تذکیر“ یعنی مسلمانوں کو وعظ ونصیحت کرنا، تقریر اور بیان کرنا۔ذَکَّرَ تَذْکِیْرًا کے معنی ہیں:یاد دہانی کرانا۔یاد دہانی مسلمانوں کو کرائی جاتی ہے ؛چوں کہ اسلام کے تمام احکام اجمالا اس کو پہنچ چکے ہیں؛اب تفصیلا ان کو یاد دہانی کرائی جارہی ہے اور یاد دلایا جارہا ہے ۔اسی ” تذکیر “کی بابت حدیث میں کہاجارہا ہے کہ یہ امیر اور مامور کا کام ہے۔ 

” تذکیر “دراصل ”تذکیہ “و”تعلیم “ کے قبیل سے ہے۔اس میں شریعت کے احکام ومسائل اوراسرار ونکات بیا ن کیے جاتے ہیں۔یہ کام خصوصی طورپر وارثین انبیاء کا ہے ؛ انبیاء کے وارث کون لوگ ہیں ؟اورآپ کی وراثت کیا چیز ہے ؟ اس سلسلے میں حدیث ہے : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: إنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأنْبِیَاءِ، وَإنَّ الأنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوا دِیْنَارًا وَلاَ دِرْہَما ً، وَإنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أخَذَہ ُأخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ․
ترجمہ : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علماءِ دین ”انبیاء“ کے وارث ہیں ،اور انبیا اپنا ورثہ دینار ودرہم ( مال واسباب)کی صورت میں چھوڑ کر نہیں جاتے ؛وہ تو اپنا ورثہ صرف” علم دین“ کی صورت میں چھوڑ کرجاتے ہیں۔لہذاجس نے دین کاعلم حاصل کیا ؛اس نے پورا حصہ پالیا۔(ترمذی 5/47،ابوداؤد4/57 ) ۔اس نیابت کو نبھا نے کے لیے نبی اکر م ﷺ کی وراثت کا حامل ہونا ضروری ہے ۔جس کے حصول کے لیے سب کو مواقع نہیں اور جس نے اس کام کے لیے موقع نکالا ،جد و جہد اور محنت کی ہے ؛اسی کو عالم کہاجاتا ہے ۔

وعظ ونصیحت میں ذرا سی کوتاہی اور غلطی وبال جان بن سکتی ہے، اس میں بڑ ی احتیاط کی ضرورت ہے ؛ چوں کہ اگر حدیث کے بیان میں کچھ کوتاہی ہوئی ؛تو اس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں :
 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: إتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّی إلَّا مَاعَلِمْتُمْ، فمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَالْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہ مِنَ النَّارِ ․
ترجمہ :حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میری طرف سے حدیث بیان کرنے میں احتیاط برتو؛(کیوں کہ) جو(شخص )میری جانب غلط بات جان بوجھ کر منسوب کرے ؛وہ شخص اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔(ترمذی 5/183وقال حدیث حسن،مرقات 1/444)۔ایسے ہی قرآنی آیات کا مطلب بیان کرنے کی بابت حدیث میں آتا ہے :
 عن جُنْدُ بٍ قَالَ :قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ”مَنْ قَالَ فِی الْقُرآنِ بِرَأیِہ فَأصَابَ فَقَدْ أخْطَا․“
ترجمہ:جس نے قرآن (کے بیان) میں اپنی طرف سے کوئی بات کہی ؛ گوکہ اس نے صحیح بات کہی ہو؛مگراس نے غلط کیا ہے۔(ابوداؤد 4/63، ترمذی 5/183، مرقات المفاتیح 1/446) 
ایک دوسری حدیث ہے : مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِرَأیِہ فَلْیَتَبَوَّأمَقْعَدَہ مِنَ النَّارِ․
ترجمہ:جس نے قرآن (کے بیان )میں اپنی طرف سے کوئی بات کہی ؛وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔(ترمذی 5/183وقال: حدیث حسن،مرقات 1/444) وعظ ونصیحت میں سامعین کے مزاج و مذاق اوروقت کے لحاظ کی بھی بڑی ضرورت ہے ؛چوں کہ اگرلوگوں نے اکتاہٹ یا روگردانی کا مظاہر کیا؛ تو یہ روگردانی اور اکتاہٹ درحقیقت کتاب اللہ ا ورسنت رسول اللہ ﷺ سے شمارہو گی ؛جس کا انجام بڑا بھیانک ہے، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا: لَاتُمِلَّ النَّاسَ ہٰذَاالْقُرْآنَ ․ لوگوں کو اس قرآن سے اکتاہٹ میں مت ڈالو!(بخاری ،11/38)۔

مقام اورجگہ کا خیال بھی نہایت ضروری ہے؛چوں کہ ایک چیز اگر چہ فی نفسہ صحیح اوردرست ہوتی ہے ؛لیکن وقت اورمقام کے بدلنے سے وہی چیز باطل اورغلط ہوجاتی ہے،صحابہ کرام کے شاگر د اورتابعین کے سردار حضرت سعید بن مسیب رحمة اللہ علیہ نے ایک شخص کونماز عصر کے بعد نفل پڑھتے ہوئے دیکھا؛تو اس نے کہاحضرت !کیا اللہ مجھے اس (عبادت)کی وجہ سے عذاب دیں گے؟ حضرت نے فرمایا : ہاں! لیکن یہ عذاب نماز کی وجہ سے نہیں ہوگا ؛بلکہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے کی مخالفت کی وجہ سے ہوگا۔(دارمی) معلوم ہواکہ نیک کام بھی اگر اپنے محل اور مقام پر ہو ؛تبھی مفید ہے ؛ورنہ مضر اورنقصان دہ ہے۔آج کل دیکھاجارہا ہے کہ بعض لوگ جاوبے جاجگہوں مثلا نماز جنازہ وغیرہ میں وعظ وبیان کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں،حالاں کہ ”نماز جنازہ“ وعظ ونصیحت کا مقام نہیں ؛یہ تو میت کی خوبیاں بیان کرنے اور فکر آخرت کی جگہ ہے ،حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزراتو آپ نے فرمایا :”أثْنوا عَلَیْہِ “․یعنی اس کی خوبیاں بیان کرو ۔(السنن الکبری، با ب الثناء علی المیت) علامہ شامی فرماتے ہیں: وَیَنْبَغِی لِمَنْ تَبِعَ الْجَنَازَةَأن یُّطِیْلَ الصَّمْتَ۔یعنی میت کے ساتھ چلنے والے شخص کے لئے بہتریہ ہے کہ وہ خاموش ہی رہے ۔(ردالمحتار3/138)اور اگرذکر واذکار میں مشغول ہوناہی ہے تو اس کے لیے حکم یہ ہے: فَإنْ اَرَادَ أن یَّذْکُرَا اللّٰہ تَعالی یَذْکُرُہ فِی نَفْسِہ۔یعنی اگر کوئی ذکر واذکار کرنا چاہتاہے تودل ہی دل میں کرے۔ (ردالمحتار3/138) 

جنازہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کیسے رہا کرتے تھے ؟روایت ہے: عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ:کَانَ أصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ یَکْرَہُونَ رَفْعَ الصَّوتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ، وَعِنْدَ الْقِتَالِ، وَعِنْدَ الذِّکْرِ․“
ترجمہ: حضرت قیس بن عبادہ فرما تے ہیں کہ رسول للہ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جنازے ،جہاد اورذکر کے وقت آواز بلند کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔(السنن الکبری ،باب کراہیة رفع الصوت عند الجنائز) ۔

حضر ت حسن بصری ،حضرت سعید بن مسیب،حضرت سعیدبن جبیر اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہم اللہ (یہ تمام حضرا ت ،صحابہ کرام کے شاگرا ور کبار تابعین میں ہیں،ان)کے بارے میں آتا ہے کہ یہ حضرات جناز ہ میں اس بات کو بھی مکروہ سمجھے تھے کہ کوئی شخص کہے :إسْتَغْفِرُوااللّّٰہَ غَفَرَ اللّٰہ لَکُمْ!
ترجمہ :لوگو!ستغفار کرو:اللہ تمہاری مغفرت فرمائے (السنن الکبری ) (ضروری احوال اورخصوصی تقاضے اس سے مستثنی ہیں) ۔

حاصل کلام یہ کہ وعظ ونصیحت بڑی ذمہ دار ی کا کام ہے ؛اس میں علمی پختگی ہی نہیں؛بلکہ لوگوں کے مزاج ومذاق اوروقت وحالات کی پہچان بھی ضروری ہے ،حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: حَدِّثِ النَّاسَ کُلَّ جُمْعَةٍ مَرَّةً، فَإنْ أبَیْتَ فَمَرَّتَیْنِ، فَإنْ أکْثَرْتَ فَثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلَاتُمِلَّ النَّاسَ ہٰذَاالْقُرْآنَ، وَلَااُلْفِیَنَّکَ تَاتِی الْقَومَ وَہُمْ فِی حَدِیْثٍ مِنْ حَدِیْثِہِمْ، فَتَقُصَّ عَلَیْہِمْ، فَتَقْطَعُ عَلَیْہِمْ حَدِیْثَہُمْ، فَتُمِلَّہُُمْ، وَلٰکِنْ أنْصِتْ، فَإنْ أمَرُوکَ فَحَدِّثْہُمْ، وَہُمْ یَسْتَشْہَدُونَ․
ترجمہ : ہرہفتہ میں ایک بار لوگوں میں وعظ ونصیحت کرواوراگر تمہیں یہ پسند نہ ہو تو پھر دو بار اوربہت کرو تو تین بار ۔لوگو ں کو اس قرآن سے اکتاہٹ میں مت ڈالو!اور( دیکھو!)میں تمہیں اس حال میں نہ پاؤں کہ تم کچھ لوگوں کے پاس آؤ اور وہ اپنی کسی بات میں مشغول ہوں ،پھر تم ان کے سامنے وعظ کرنا شروع کرکے؛ ان کی بات بیچ میں کاٹ دو ،نتیجتاًوہ تمہارے سبب اکتاہٹ میں مبتلاہو جائیں؛بلکہ (اس وقت تمہیں چاہیے کہ )خاموش رہواورجب لوگ تم سے (وعظ ونصیحت کی ) فرمائش کریں تو ان کے سامنے بیان کرو؛درآ نحالیکہ وہ (تمہاری باتیں سننے میں)رغبت ودلچسپی رکھتے ہوں۔ (بخاری ،11/138،مسند احمد)

علماء کو ن لوگ ہیں؟
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ علماء سے مراد ہیں کون لوگ ؟کیا ہرٹوپی ،کرتا اورداڑھی والاعالم کہلانے کا مستحق ہے ؟یا اس کے لیے کسی خاص صلاحیت کی ضرورت ہے ؟عالم وہ ہے ؛جو قرآن وحدیث جانتاہو،تفسیر ،اصول تفسیر اور اصول حدیث پر دست رس رکھتاہو۔اوریہ بھی جانتاہوکہ قرآن وحدیث سے مسائل نکالنے کا طریقہ کیاہے؟یعنی فقہ و اصول فقہ وغیرہ۔مگر ان چیزوں کوجاننے سے پہلے علوم عربیہ :نحو ،صر ف ،علم معانی اوربیان کے ایک معتد بہ حصہ کو جاننا بھی ضرروی ہے ؛چوں کہ اس کے بغیر آدمی قرآن وحدیث تک پہنچ ہی نہیں سکتا ہے۔چہ جائے کہ اسے سمجھے۔پھر قرآن وحدیث کسی معتبر آدمی سے پڑھنا بھی ضروری ہے ،چوں کہ استاذ کے نظریات شاگر د پر پڑتے ہیں؛چناں چہ”امام مسلم“ نے مقدمہ مسلم میں لکھا ہے :إنَّ ہٰذَا الْعِلْمَ دِیْنٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَاخُذُونَ دِیْنَکُمْ.
ترجمہ: یہ(قرآن وحدیث کا) علم درحقیقت دین ہے ،لہذا اچھی طرح دیکھ بھال لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کررہے ہو؟۔ 

ایسا ماہر وکامل شخص ”عالم“ کہلا سکتا ہے ؛لیکن دیکھا جائے گا کہ اس کے اندرخشیت الہٰی اور تقوی ہے کہ نہیں ؟ اگر نہیں ہے؛ تو اس حدیث کو بھی یاد رکھناچاہیے ؛نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :ألَا! إنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ۔ 
ترجمہ :سن لو! برے لوگوں میں سب سے بدترین علماء ہیں۔ (دارمی266) لیکن اگر خشیت اورتقوی ہے(جس کا پتہ حرام سے بچنے اور رسول ﷺ کی سنتوں پر عامل ہونے سے چلتاہے )؛تو سمجھ لیجیے ؛یہی لوگ عالم کہلانے کے حقیقی مصداق ہیں۔

حضرت عمرؓ نے حضرت کعب احبارؓ سے سوال کیا کہ علماء کون ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا :اَلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ بِمَا یَعْلَمُونَ .
ترجمہ :علماء وہ لوگ ہیں جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔(درامی 587)

انہی علماء کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :﴿إنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِ ہ الْعُلَمَاءَ﴾.

ترجمہ:اللہ کے بندو ں میں علماء ہی اللہ سے ڈر نے والے ہیں۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا :إنَّ خَیْرَالْخَیْرِ خِیَارُ الْعُلَمَاءِ.

ترجمہ:اچھوں میں سب سے اچھے علماء ہیں۔(دارمی)یہی علماء نبی اکرم ﷺ کے حقیقی وارث اور دین اسلام کے سچے نگہبان ہیں۔ان کی شان یہ ہے کہ اگر کسی شخص،کسی تحریک یا کسی جماعت کی جانب ان حضرا ت کا رحجان ہے اور یہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں تو سمجھ لیجیے، وہ جماعت عند اللہ مقبول ہے ۔ چوں کہ اللہ کی محبت کا اثرمخلصین بندوں پر سب سے پہلے پڑتاہے،چناں چہ حدیث میںآ تا ہے کہ اللہ اپنی محبوبیت کا اعلان اولاً ملائکہ مقربین کے درمیان کرتے ہیں ؛پھر وہاں سے رفتہ رفتہ”الأقرب فالأقرب“ اس محبت کا اثر پہنچتا ہے،بالآخر یہ مجبوبیت سارے عالم میں پھیل جاتی ہے۔ اورقرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس دنیا میں اللہ کے مخلص ومقرب ترین لوگ علماء ہیں ،تو معلوم ہوا کہ اس دنیا میں اگر کوئی شخص، کوئی جماعت یاتحریک اللہ کو پسند اورمحبوب ہے ؛ تو یقینا وہ ان علماء کے نزدیک بھی پسندیدہ اورمقبول ہوگی؛چوں کہ ان سے بڑا نہ کوئی بزرگ ہے اورنہ کوئی ولی۔ 

تم بحمد اللہ، وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین․



امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت ... قرآن و حدیث کی روشنی میں
اس وقت دنیا میں مسلمان کس قدر بے راہ روی کا شکار ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،خود گناہوں سے اجتناب کرنے کی بجائے دوسروں کو گناہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں ،بہت سے مسلمان شیطان کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں ،سودی کاروبار کو فروغ دیا جارہا ہے ،کھیل کود کے ایسے آلات ایجاد کرلیے گئے جو سراسر اسلام کے خلاف اور اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے ،جگہ جگہ منی سینما گھر،فلمی اڈے ،جوئے کے اڈے ،ہیروئن منشیات کے اڈے، شراب خانے ،گلی ،محلوں اور بازاروں میں ٹی وی ،وی سی آراور کیبل کے ذریعہ فحاشی پھیلانے کی کوششیں ،اب نت نئے ڈیزائینوں کے کیمرہ والے موبائل ،بڑے بڑے سائن بورڈوں میں خواتین کی ننگی تصویریں ،شادی بیاہ دیگر پروگراموں میں مرد وعورتوں کا مخلوط ماحول ،اسی طرح کالج یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکیوں کا بے تحاشا اختلاط ۔اس جیسے سینکڑوں اعلانیہ گناہوں میں مسلمان معاشرہ مبتلا ہوگیا ہے۔ نیز خلاف شرع رسم ورواج کی پابندی ،آپس میں ظلم وستم ،چوری، ڈاکہ ،جھوٹ،غیبت،بہتان باندھنا،الزام تراشی،خودغرضی،بداخلاقی،بدگمانی،بدزبانی،زناکاری، گانا سننا سناناوغیرہ دیگر بہت ظاہری وباطنی گناہوں میں انفرادی واجتماعی طور پر ابتلائے عام ہے۔

ہر موٴمن بندے کی دوطرح کی ذمہ داریاں بنتی ہیں: 
1... ایک توخود ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کرنے کی کوششیں کرے ،جہاں کہیں گناہ کا کام ہوجائے تو فوری طور پر توبہ استغفار کرے اور گناہوں سے پاک وصاف ہونے کی کوشش کرے ۔

نہی عن المنکر کا فریضہ
2... اس کے ساتھ ہر مسلمان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ دوسرے مسلمان کو گناہوں سے روکنے کی کوشش کرے۔

یہ کام انفرادی واجتماعی دونوں طرح انجام دیا جانا ضروری ہے، ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون﴾․ (آل عمران:104)
ترجمہ:تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے ،جو نیکی کی طرف لوگوں کو بلائے اور ان کو بھلائی کا حکم کرے اور برائی سے روکے، وہی فلاح پانے والے ہیں ۔

منکرات سے روکنے کے درجات
دوسروں کو برے کاموں سے روکنے کے درجات میں ہر شخص پر اپنی استطاعت وقدرت کے مطابق یہ ذمہ داری ادا کرنا لازم ہے ۔

قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ، وذلک اضعف الایمان․(مسلم:177)

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر ناجائز کام کو اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھے تو چاہیے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل ڈالے (یعنی بزور طاقت برے کام کو روک دے)،پس اگر اتنی طاقت نہ رکھے تو زبان سے منع کرے۔(کہ غلط اور گناہ کے کام ہیں، باز آجاوٴ) اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو(بلکہ زبان سے روکنے میں فتنے کا بھی اندیشہ ہو تو پھر)اپنے دل سے(اس کو برا جانے)اور یہ کمزور ایمان ہے۔یعنی ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بری بات کو صرف دل سے برا جانتا رہے اور اگر دل سے بھی اس کو برا نہ سمجھا تو پھر ایمان کہاں رہا؟(مسلم شریف)

نہی عن المنکر نہ کرنے والے علماء کی مذمت
قال اللہ تبارک وتعالیٰ :﴿لَوْلاَ یَنْہَاہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ عَن قَوْلِہِمُ الإِثْمَ وَأَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَصْنَعُون﴾․(المائدة:63)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ا ن کو مشائخ اور علماء گناہوں کی بابت کہنے سے (یعنی جھوٹ بولنے سے )اور حرام مال کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے:واقعی ان کی یہ عادت بری ہے کہ اپنا فرض منصبی امربالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے،قوم کو ہلاکت کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں اور ان کو نہیں روکتے۔اس آیت کے آخری جملہ بہت ہی قابل غور ہے﴿لبئس ما کانو ا یصنعون﴾․

ان علماء ومشائخ کا برائیوں سے نہ روکنا بہت بری حرکت ہے، ان بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے۔

مفسر قرآن شیخ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ جس قوم کے لوگ جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے اور ان کے علماء اور مشائخ کو یہ بھی اندازہ ہو کہ ہم روکیں گے تو یہ باز آجائیں گے۔ ایسے حالات میں اگر کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے ان جرائم اور گناہوں سے نہیں روکتے تو ان کا جرم اصل مجرموں ،بدکاروں کے جرم سے بھی زیادہ سخت ہے“۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ مشائخ اور علماء کے لیے پورے قرآن میں اس آیت سے زیادہ سخت تنبیہ کہیں نہیں۔اور امام تفسیر حضرت ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ برے علماء اور مشائخ کے لیے یہ آیت سب سے زیادہ خوف ناک ہے۔(تفسیر ابن کثیر وابن جریر)

گناہوں سے روکنے کی کوشش نہ کرنے پر دنیا میں سزا
گناہوں سے روکنے کی کوشش نہ کرنے پر آخرت کی سزا تو الگ رہی ،اس کے علاوہ دنیا میں بھی سخت سزا ہوگی ۔

قال رسول اللہ ﷺ :مامن رجل یکون فی قوم یعمل فیھم بالمعاصی یقدرون علی ان یغیروا ولا یغیرون الا اصابھم اللہ بعقاب من قبل ان یموتوا․ (ابوداوٴد:4339)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی قوم میں ہو اور وہاں گناہ کے کام ہو رہے ہوں وہ گناہ کرنے والوں کو گناہ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو،(پھر بھی)نہ روکے توا للہ تعالیٰ (گناہ سے روکنے میں غفلت کرنے والوں کو)مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔(ابوداوٴد)

اب دنیا میں آنے والے عذاب عمومی بھی ہوسکتے ہیں ،جیسے زلزلہ، طوفان،قحط سالی،خشک سالی،مہنگائی،آپس کے لڑائی جھگڑے، قومیت، وطنیت کے نام پر قتال، ظالم بادشاہوں کا مسلط ہونا وغیرہ۔

اسی طرح خصوصی نوعیت کے مختلف عذاب بھی ہوسکتے ہیں،جیسے ذاتی اور خاندانی دشمنی،اولاد کا نافرمان ہونا،قسم قسم کی نت نئی بیماریاں ،بھوک، افلاس،تنگ دستی ،وغیرہ یہ سب اجتماعی انفرادی گناہوں کا وبال ہے۔

چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیْر﴾․(شوریٰ :30)
”اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچ جائے سو وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے ،اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتاہے “۔

گناہ گاروں کی بستی الٹ دی گئی
قال رسول اللہ ﷺ: اوحی اللہ عزوجل الی جبرائیل علیہ السلام: ان اقلب مدینة کذا وکذا باھلھا، قال: فقال: یارب، ان فیھم عبدک فلان لم یعصک طرفة عین، قال: فقال:اقلبھا علیہ وعلیھم، فان وجھة لم یتمعر في ساعة قط․ (شعب الایمان للبیہقی:7595)

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل عليه السلام کی طرف وحی بھیجی کہ فلاں شہر کو الٹ دو(عذاب میں اس بستی کو الٹ پلٹ دو)،اس کے باشندوں سمیت،پس جبرائیل عليه السلام نے عرض کیا ،باری تعالیٰ !بے شک اس میں تیر افلاں بندہ ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تیری نافرمانی نہیں کی ؟تو ارشاد باری تعالیٰ ہو ا کہ اس شہر کو الٹ دو، اس نیک بند ے پر اور ان لوگوں پر،کیوں کہ میری خاطر (یعنی میری نافرمانیوں اور کھلے عام گناہوں کو دیکھ کر)کبھی اس کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلا ۔(شعب الایمان)

اور ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے نیک کاموں کا حکم کیا کرو،اور برے کاموں سے روکا کرو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر ایساعذاب نازل کرے ،پھر تم اس سے (عذاب دور کرنے کی )دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔ (ترمذی)

بس میرے مسلمان بھائیوں سے عرض کرنے کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کریں کہ خود پورے دین پر عمل کریں،مکمل طور پر شریعت مطہرہ کی پابندی کریں اور ساتھ ہی دوسروں کی بھی فکر کریں ،وہ بھی سنت وشریعت کے پابند بن جائیں اور جو برا کام ہوتا ہوا نظر آئے ، اسے روکنے کی حتی المقدور کوشش کریں، خصوصا اپنے گھر کے افراد ،محلے کے افراداورجہاں تک ممکن ہو کوشش کریں۔

ان کو گناہوں سے بچالیں ،زبان سے بھی منع کریں اور اس برے کام کو دل سے بھی برا جانے اور اس کے لیے انفرادی اور اجتماعی ہر طرح کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھیں،آج نہیں تو کل ضرور ہماری کوشش بار آور ثابت ہو گی،اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔(آمین)!









          ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘ ایك خوبصورت عنوان اور دو لفظوں كی حسین ودلكش تعبیر ہے، اس لفظ كے سننے، بولنے اور پڑھنے والے كےذہن ودماغ كے دریچوں میں معاشرے كی وہ تمام برائیاں گردش كرنے لگتی ہیں،جنھوں نے مسلم معاشرے كو گندہ اور زہرآلود كردیاہے،آج یہ لفظ نہ جانے كتنے حلقوں میں بار بار پڑھا، لكھا، بولااور سناجاتا ہے اور باربار اس كا استعمال ہوتا ہے، بے شمار جماعتیں اصلاحِ معاشرہ كے مقصد سے قائم ہیں، ان گنت ادارے وانجمن موجود ہیں، نہ جانے كتنی كانفرنس اور اجلاس كا انعقاد اسی مقصد سے ہوتا ہے، تقریباً ہر بڑی تنظیم كے اندر ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘ كا مستقل شعبہ قائم ہے، غیرمسلموں نے بھی اس مقصد كے لیے اپنی علیحدہ كمیٹی تشكیل دی، اخبارات ومیڈیا بھی اس مقصد كی تكمیل میں كسی سے پیچھے نہیں، حكومتی سطح پر بھی كوششیں ہوتی رہتی ہیں؛ لیكن اتنے حلقوں وگروہوں كی ہمہ جہت كوششوں كے باوجود نتیجہ اس كہاوت سے زیادہ نہیں كہ ’’یہ تیلی كے بیلوں سے كچھ كم نہیں ہیں، جہاں سے چلے تھے وہیں كے وہیںہیں‘‘ معاشرہ آج بھی انھیں بگاڑ وفساد كے ساتھ سانس لے رہا ہے  ؎
چل چل كے پھٹ چكے ہیں قدم اس كے باوجود
اب تك وہیں كھڑا ہوں جہاں سے چلا تھا میں
          غور كرنے كی بات یہ ہےكہ آخر یہ ساری محنتیں بے كار كیوں ہیں، ساری كوششیں اكارت كیوں ہوتی ہیں، اصلاح معاشرہ كی كوئی تدیبر كامیاب كیوں نہیںہورہی ہے، معاشرہ بجائے اصلاح كے بگاڑ وفساد كی طرف مزید كیوں بڑھ رہا ہے۔
          كیا اللہ تعالیٰ نے قرآن كریم كے اندر اس وعدہ كا اعلان نہیں فرمایا: ’’وَالَّذِینَ جَاہدُوْا  فِینَا لَنَہدِینَّہمْ سُبُلَنَا‘‘ كہ جو لوگ ہماری راہ میں كوشش كریں گے ہم انھیں اپنے راستوں كی ہدایت كریں گے۔ دوسری جگہ یہ وعدہ مذكور ہے  ’’اِنْ تَنْصُرُاللّٰہ ینْصُركُمْ وَیثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ‘‘ اگر تم اللہ كے دین كی مدد كروگے تو ہم تمہاری مدد كریں گے اور تمہارے قدموں كو استقامت بخش دیں گے‘‘ ظاہر ہے كہ نہ تو خدا كا فرمان غلط ہوسكتا ہے نہ ہی خدا كا كلام جھوٹ ہوسكتا ہے، نہ رب ذوالجلال سے وعدہ خلافی كا صدور ممكن ہے، لیل ونہار میں تبدیلی ہوسكتی ہے، سورج كا بجائے مشرق كے مغرب سے طلوع ہونا ممكن ہوسكتا ہے، زمین وآسمان كا اپنی جگہ سے ٹلنے كا یقین كیا جاسكتا ہے، مگر رب كریم سے وعدہ خلافی كا صدور ناممكن ہے، خدائے بزرگ وبرتر كے كلام میں شك وربیب نہیں كیا جاسكتا؛ چنانچہ ان ساری كوششوں سے ایك ہی نتیجہ نكل سكتا ہے كہ ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘ كے نام پر كی جانے والی ساری تدبیروں اور كوششوں كا رخ صحیح نہیں، دراصل یہ كوششیں ان صفات وخوبیوں سے آراستہ نہیں، جو دوسرے كو اپنی طرف متوجہ كرسكیں، جو نصرتِ خداوندی كو دعوت دے سكیں۔ اگر ’’اصلاح معاشرہ‘‘ كے سلسلے میں كی جانے والی ہماری كوششیں اور تمام تدبیریں اخلاص وللہیت سے بھرپور ہوں اور صحیح ڈگر پر چلیںتو ضرور اللہ كی مدد شامل حال ہوگی اور نصرت خداوندی متوجہ ہوگی، پھر عوام اس سے متاثر ہوں گے اور اس كے صحیح، بہتر اور خوش كن نتائج ضرور برآمد ہوں گے  ؎
اگر سینے میں دل ہے اور تڑپ اسلام كی دل میں
اترسكتا ہے ابرِ رحمتِ پروردگار اب بھی
          اور
فضائے بدر پیدا كر فرشتے تیری نصرت كو
اترسكتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
          اگر ہم غور وفكر كے دریچے كو كھولیں اور اپنے گریبان میںجھانك كر دیكھیں اور تحقیق كے دائرے كو ذرا وسیع كریں تو ہمیں اتنا تو ضرور معلوم ہوجائے گا كہ ’’اصلاح معاشرہ‘‘ كے خوب صورت عنوان پر كی جانے والی ساری كوششوں كے درپردہ اتنے اغراض پوشیدہ ہیں اور یہ جدوجہد اتنے عیوب ونقائص سے بھری اور اصلاح كے حقیقی اصول وضوابط اور اصلاح كے لوازمات سے اتنی خالی ہیں كہ صحیح معنی میں اس كو ’’اصلاح معاشرہ‘‘ كا نام دینا یا ’’اصلاح كی كوشش‘‘ كہنا ہی درست نہیں ہے، مثال كے طور پر اس كی سب سے بڑی خامی اور خرابی  یہ ہے كہ ہر جگہ دوسروں كی اصلاح كی فكر ہوتی ہے اور دوسروں سے اصلاح كا آغاز كرنے كی كوشش كی جاتی ہے، اصلاح كے لیے ہماری ہر تقریر وتحریر، ہماری ہر نصیحت اور ہمارا ہر اجلاس  دوسروں كے لیے ہوتا ہے، ہر وقت ہماری یہ خواہش ہوتی  ہے كہ معاشرے سے تمام برائیوں كا خاتمہ دوسرے كی ذات اور دوسروں كے گھرسے شروع ہو، معاشرے كے تمام رسوم وبدعات كے خاتمہ كا آغاز دوسرا كرے اور ہر طرح كی تبدیلی كی ابتداء دوسرا كرے یہ خیال وگمان  شاید ہی كسی شخص كو آتا ہو كہ رسومات كے خاتمے كا مطالبہ خود ہماری ذات سے بھی ہے، برائیوںكے خاتمے میںہماری بھی كوئی ذمہ داری ہے، زندگی میں تبدیلی لانے كا فریضہ ہمارے اوپر بھی عائد ہوتا ہے اور شاذونادر ہی كوئی شخص یہ سوچتاہو كہ ہمیں خود بھی اپنے اخلاق وكردار بے داغ بنانا چاہیے، جب تك ہم كو یہ فكر دامن گیر نہیں ہوتی اور ہماری سوچ میں كوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی ہے اور خود ہمارے اندر اخلاق وكردار كے بنانے اور سنوارنے كے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں كا احساس پیدا نہیں ہوتا، اس وقت تك ہمارے معاشرے  میں اصلاحِ معاشرہ كا كام آسان نہیں ہوسكتا اور نہ ہمارا معاشرہ اصلاح كی طرف گامزن ہوسكتا اور نہ ہی ہماری زبان وقلم اور وعظ وتقریر كے اندر تاثیر پیدا ہوگی؛ كیونكہ  ؎
آدمی صاحبِ كردار اگر ہوتا ہے
اس كی آواز میں، باتوں میں اثر ہوتا ہے
          اصل وجہ یہی ہے كہ ہماری اصلاح كی ساری كوششیں ناكام ہیں، اصلاح كی تمام محنتوں كا نتیجہ صفر ہے اور ہمہ جہت كوششوں كے باوجود بجائے اصلاح كے ہمارا یہ پاكیزہ معاشرہ فساد كی طرف رواں دواں ہے اور اس كاانجام جوكچھ ہے ہم اور آپ روزانہ مشاہدہ كرتے ہیں كہ مغربی معاشرے كا پورا عكس ہمارے میں نظرآنے لگا، خدا حفاظت فرمائے۔
          انبیاء كرام، صحابہ وتابعین اور اولیاء عظام كا اصلاح كے سلسلے كا طرزِ عمل ہمارےطریقۂ كار سے بالكل علیحدہ تھا، ان كی ہر اصلاح كا آغاز اپنی ذات سے ہوتا تھا، اپنے اہل وعیال سے ہوتا تھا، اپنے گھر خاندان كی فكر ان كو دامن گیر ہوتی تھی، وہاں اعمال وكردار كے ذریعہ دعوت كا كام ہوتا تھا، زبانی وعظ ونصیحت كا دوسرا درجہ تھا۔
          قرآن كریم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام كے خصوصی اوصاف میں سے یہ بھی بیان كیا ہے  وَكَانَ یأمُر اَہلَہٗ بِالصَّلوٰةِ وَالزَّكَاةِ كہ وہ اپنے اہل وعیال كو نماز اور زكوٰة كا حكم دیتے تھے۔
          اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام كے سلسلے میں لكھا ہے  وَوَصّٰی بِہآ اِبْرَاہیمُ نَبِیہ وَیعْقُوْبُ. یا بَنِی اِنَّ اللّٰہ اصْطَفٰی لَكُمْ الدِّینَ فَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (كہ وصیت كیا اس كی ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں كو اور یعقوب علیہ السلام نے بھی (اپنے بیٹوں كو) كہ اے بیٹو! بیشك اللہ نے منتخب كیا ہے تمہارے لیے دین كو لہٰذا تم مسلمان ہوكر ہی مرنا)۔
          اور آگے قرآن كریم نے حضرت یعقوب علیہ السلام كے بارے میں پھر ذكر كیا ہے  اِذْ حَضَرَ یعْقُوْبَ الْمَوْت اِذْ قَالَ لِبَنِیہ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِی. (كہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام كے موت قریب آئی جب اپنے بیٹوں سے كہا كہ میرے بعد تم كس كی عبادت كروگے) انبیاء علیہما السلام كے اصلاحی فریضہ كی تبلیغ كے سلسلے میں اہل وعیال سے آغاز میں حكمت ومصلحت یہ ہے كہ اصلاح كی جو ہدایت عام مخلوق كو دی جائے اس كو پہلے اپنے اہل وعیال، گھر اور خاندان سے شروع كرے، اپنے گھر كے لوگوں كو اس پر عمل كرنا اور اس كا ماننا اور منوانا نسبتاً آسان بھی ہوتا ہے،اس كی نگرانی اور كمی كوتاہی پر تنبیہ بھی ہروقت كی جاسكتی ہے اور جب وہ كسی خاص رنگ كو اختیار كرلیں اور پھر اس میں پختہ ہوجائیں تو اس سے ایك دینی ماحول پیدا ہوكر دعوت كو عام كرنے اور دوسروں كی اصلاح كرنے  پھر دوسروں كو اسی ماحول میں ڈھالنے میں بڑی قوت پیدا ہوجائے گی۔ اصلاحِ خلق كے لیے سب سے زیادہ ضروری اور مؤثر ایك صحیح دینی ماحول كا وجود میں لانا ہے، تجربہ شاہد ہے كہ صحابۂ كرام اور تابعینِ عظام كا دور اس كی روشن مثال ہے كہ ہر بھلائی تعلیم وتعلم افہام و تفہیم اور وعظ وتقریر سے زیادہ ماحول ومعاشرے اور اخلاق و كردار كے سانچے میں ڈھلنے سے پھیلتی اور بڑھتی ہے۔
          انبیاء علیہم السلام كے اس طرزِ عمل سے ایك اصولی بات یہ معلوم ہوتی ہے جو عام انسانوں كے لیے خاص طور پر ہدایت ہے وہ یہ كہ والدین كا فرض اور اولاد كا حق ہے كہ سب سے پہلے ان كی صلاح وفلاح كی فكر كی جائے ان كے بعد دوسروں كی توجہ كی جائے جس كے اندر دوحكمتیں ہیں:  اوّؔل یہ كہ طبعی اور جسمانی تعلقات كی بناء پر وہ نصیحت كا اثر زیادہ جلد اور آسانی سے قبول كرسكیں اور پھر وہ ان كی تحریك اور اصلاحی كوششوں میں ان كے دست بازو بن كر اشاعت حق میں ان كے معین ہوں گے۔
          دوسرے یہ كہ اشاعتِ حق كا اس سے زیادہ سہل اور مفید راستہ كوئی نہیں كہ ہر گھر كا ذمہ دار آدمی اپنے اہل وعیال كو حق بات سكھانے اور اس پر عمل كرانے كی سعی میں دل وجان سے لگ جائے كہ اس طرح تبلیغ وتعلیم اور اصلاح وتربیت كا دائرئہ عمل سمٹ كر صرف گھروں كے ذمہ داروں تك آجاتا ہے اور ان كو سكھلانا پوری قوم كو سكھلانے كے ہم معنی ہوجاتا ہے، قرآن كریم نے اسی تنظیمی اصول كے پیش نظر یہ اعلان فرمایا:  یا اَیہا الَّذِینَ اٰمَنُوا قُوا اَنْفُسَكُمْ وَاَہلِیكُمْ نَاراً (اے ایمان والو! اپنے آپ كو اور اپنے اہل وعیال كو جہنم كی آگ سے بچاؤ اور ارشاد فرمایا  وامُر اَہلَكَ بِالصَّلوٰة واَصْطَبِرْ عَلَیہا (كہ اپنے اہل وعیال كو نماز كا حكم كیجیے اور خود بھی اس كے پابند رہیے) نبی كریم جو ساری دنیا كے رسول ہیں اور جن كی ہدایت قیامت تك آنے والی نسلوں كے لیے عام ہے، آپ كو بھی سب سے پہلے اس كا حكم دیاگیا كہ  واَنْذِر عَشِیرَتَكَ الاَقْرَبِینَ (كہ اپنے رشتہ داروں كو اللہ كے عذاب سے ڈرائیے) حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ نے لكھا ہے ’’كہ خاندان كے لوگوں كی تخصیص كی ایك وجہ یہ بھی ہے كہ اس میں تبلیغ ودعوت كو آسان اور مؤثر بنانے كا ایك خاص طریقہ بتلایا ہے، جس كے آثار دور  رس ہیں قریبی رشتہ دار جب كسی اچھی تحریك كے حامی بن جائیں تو ان كی اخوت وامداد پختہ بنیاد پر قائم ہوتی ہے اور خاندانی جمعیت كے اعتبار سے بھی ان كی تائید پر مجبور ہوتے ہیں اور جب قریبی رشتہ داروں، عزیزوں كا ایك ماحول حق وصداقت كی بنیادوں پر تیار ہوگیا تو روزمرہ كی زندگی  میں ہر ایك كو دین كے احكام پر عمل كرنے میں بہت سہولت ہوجاتی ہے اور پھر ایك مختصر سی طاقت تیار ہوكر دوسروں كو دعوت وتبلیغ كرنے میں مدد دیتی ہے‘‘ اس لیے قرآن كریم نے  قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَاَہلِیكُمْ نَارًا  كہہ كر اہل وعیال كو جہنم كی آگ سے بچانے كی ذمہ داری خاندان كے ہر ہر فرد پر ڈالی جو اصلاحِ اعمال واخلاق كا آسان اور سیدھا راستہ ہے اور غور كیا جائے تو كسی انسان كا خود اعمال واخلاقِ صالحہ كا پابند ہونا اور پھر اس پر قائم رہنا اس وقت تك  عادةً ممكن نہیں ہوتا جب تك معاشرہ وماحول اس كے لیے سازگار نہ ہو سارے گھر میں ایك آدمی نماز كی پوری پابندی كرنا چاہے تو اس پكے نمازی كو بھی اپنے حق كی ادائیگی میں مشكلات حائل ہوںگی،آج كل جو حرام چیزوں سے بچنا دشوار ہوگیا ہے اس كی وجہ یہ نہیں ہے كہ حقیقتاً اس كا چھوڑنا كوئی بڑا مشكل اور دشوار كام ہے؛ بلكہ اصل وجہ یہ ہے كہ سارا ماحول ساری برادری اور خاندان جب ایك گناہ میں مبتلا ہے تو اكیلے ایك آدمی كو بچنا دشوارہوجاتا ہے۔ حضور  پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے اپنے خاندان كے لوگوں كو جمع كركے دعوتِ حق سنایا، اس وقت اگرچہ لوگوں نے قبولِ حق سے انكار كیا، مگر رفتہ رفتہ خاندان كے لوگوں میں اسلام داخل ہونا شروع ہوگیا۔
          خاندان واہل وعیال كی تخصیص كی اصل وجہ یہ ہے كہ جب تك كسی شخص كے اہل وعیال اور قریبی رشتہ دار وخاندان كے افراد اس كے نظریات اور عملی پروگرام میں اس كے ساتھی اور ہم رنگ نہیںہوتے، تو اس كی تعلیم وتبلیغ دوسروں پر اتنی مؤثر نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے كہ حضور  كی دعوت وتبلیغ كے جواب میں ابتداء اسلام میں عام لوگوں كا یہ جواب ہوتا تھا كہ پہلے اپنے خاندان قریش كو تو آپ درست كرلیں، پھر ہماری خبر لیں اور جب خاندان میں اسلام پھیل گیا اور فتح مكہ كے وقت اس كی تكمیل ہوئی تو اس كا نتیجہ قرآن كریم كے الفاظ  میں یہ ظاہرہوا كہ  ’’یدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہ اَفْوَاجاً‘‘
          اگر ہمارے معاشرے میںاصلاح كا یہی طرز اپنایا جائے، ہمارے واعظین ومقررین مصلحین وقائدین (چاہے وہ حكومتی سطح كے ہوں یا عوامی سطح كے) جو ہمارے معاشرے اور معاشرے كے افراد كے لیےنمونہ ہیں وہ اس ڈگر كو اپنالیں اور ہمارا نوجوان طبقہ جو معاشرے كا اہم عنصر او رمعاشرے كی ریڑھ كی ہڈی كہاجاتا ہے، وہ اس میدان میں آگے آئے اور اصلاح كے ہر كام كو عملی جامہ پہنانے كے لیے ہمہ تن متوجہ ہوجائے اور اپنی ذات سے اصلاح كا آغاز كرنے لگے اور ہر اصلاح كو قبول كرنے لگے، تو جلدہی ان شاء اللہ ہمارے معاشرے كی كایاپلٹ جائے گی، ہمارا معاشرہ واقعی چین وسكون كا گہوارہ بن جائے گا اور حقیقی اسلامی معاشرہ كہلانے كا مصداق ہوجائے گا اور معاشرے میں صالح انقلاب آئے گا جو قرنِ اوّل كی یاد تازہ كردے گا۔
یہ حوصلہ بھی عطا كر مجھے خدائے كریم
كہ اپنے آپ كو خود آئینہ دكھاؤں میں
٭٭٭



نصیحت اور خیر خواہی

”الدین النصیحة، للہ ولرسولہ ولکتاب اللہ ولائمة المسلمین وعامتھم“․(الحدیث)

نصیحت خیر خواہی اور بھلائی کو کہتے ہیں،نصیحت کے معنی اخلاص کے آتے ہیں۔ امام نوویفرماتے ہیں کہ یہ حدیث پورے دین کا خلاصہ ہے۔ کیوں کہ نصیحت کے معنی اخلاص کے ہیں اور تصوف سے مقصود اخلاص ہے، تصوف کہتے ہیں ہر نیک کام خالص الله تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا۔ حافظ ابن حجر اور علامہ عینی فرماتے ہیں یہ حدیث تمام امور دین کو شامل ہے۔ کیوں کہ نصیحت للهِ سے قرآن پاک کے احکام معلوم ہوتے ہیں اور دوسرے جملے ولرسولہسے سنت نبوی اور معاشرتی امور معلوم ہوتے ہیں۔ 



النصیحةللہاللہ کے لیے نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر اور حضور اکرم  کی تعلیمات ،ہدایات کے مطابق ایمان لانا ،شرک و بدعت اور اس کی تمام انواع و اقسام سے اجتناب کرنا، اطاعت و فرماں نبرداری اختیار کرنا اور اخلاص کے ساتھ تمام اوامربجالانا،نواہی سے مکمل اجتناب کرنا ،انعامات واحسانات خداوندی کا اعتراف کرنا ان پر شکر بجالانا،اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ساتھ موالات ،صحبت کا تعلق رکھنا،نافرمانوں کے ساتھ معادات (دشمنی) کا تعلق رکھنا ،کسی کی خیرو بھلائی قدرت خداوندی میں نہ کچھ اضافا کر سکتی ہے اور نہ ہی شروفساد اس میں کچھ کمی لا سکتے ہیں، البتہ اس کا فائدہ عامل خیرو شرکوہی پہنچتاہے: حدیث مبارک کے اگلے جملے میں،”النصیحة لکتاب اللہ“ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے لیے نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، جو نہ تو محلوق کے کلام کے مشابہ ہے اور نہ مخلوق اس طرح کے کلام پر قادر ہے ،اس کے الفاظ وحرو ف کو درست کیا جائے ،محرفین کی تاویلات کا ابطال کیا جائے، زبانِ طعن دراز کرنے والوں کی زبان کو بند کیا جائے ،اس کے بیان کردہ فرائض و سنن و آداب کا علم حاصل کیا جائے، اس میں جو محکمات ہیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے ،متشابہات کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ،اس کے مواعظ سے عبرت حاصل کی جائے اس کے وعدہ وعید کی تصدیق کی جائے ۔



علوم قرآن کی تحصیل میں ہر ممکن کوشش کی جائے اور دوسروں تک پہنچانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے۔



”ولرسولہ “:رسول اللہ  کے لیے نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم جو کچھ لے کر آئے ہیں اس میں آپ کی مکمل تصدیق کی جائے ،آ پ نے جو شرائع و احکام بتائے اور دین کی تشریح فرمائی اس کے مطابق عمل کیا جائے ،آپ نے حق کو تمام مخلوقات کے حق پر مقدم رکھا جائے اور آپ کے طریقہ دعوت کو اختیار کیا جائے ،ہر مسلمان اپنا محاسبہ کرے کہ میں خدا کے لائے ہوئے دین پر کتنا عمل پیرا ہوں اور میری زندگی میں کتنا دین ہے۔


ولأئمة المسلمین :ائمہ مسلمین سے مرد مسلمانوں کے امرا و خلفاء ہیں ان کے ساتھ نصیحت ،خیر خواہی کامطلب یہ ہے کہ معروف کاموں میں ان کی اطاعت کرنا، ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا ،ان کے ساتھ مل کر کفار کے مقابلے میں جہاد کرنا، ان پر خروج بالسیف نہ کرنا، اگرچہآپ کے امرا ظالم ہی کیوں نہ ہوں، غفلت کے مواقع پر ان کو متنبہ کرنا۔ جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو فرمایا کہ اگر میں سنت نبوی اور سیرت صدیقی کے خلاف کوئی کام کروں تو مجھے متنبہ کرنا تو مجمع خاموش رہا، یہا ں تک کہ ایک نوجوان کھڑا ہوا اورکہا کہ میں اس تلوار کے ساتھ آپ کی اصلاح کروں گا۔ اس پر حضرت عمر نے الله کا شکر ادا کیا۔جھوٹی تعریفیں کر کے امراء کو دھوکے میں نہ ڈالنا اور ان کی اصلاح و ہدایت کے لیے دعا کرنا۔

لعامة المسلمین:عا مة المسلمین کے ساتھ نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ ان کو دین کی تعلیم ان کی دینی و دینوی مصالح کی طرف راہ نمائی کر نا ،ان کے ساتھ مشقت ومہربانی کا معاملہ کرنا ،ان کو امر بالمعروف نہی عن المنکر کرنا۔ سب سے آخر میں جو رسول اللہ کی امت کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے، ویسے تو اور بھی بہت سی نصیحتیں ہیں ،مگر جہاں کسی چیز میں کمی ہوئی تو پہلے اس کمی کو پورا کیا جاتا ہے، آج کل مسلمانوں میں اس کی بہت غفلت پائی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ بڑوں کے ساتھ توقیر اور چھوٹو ں کے ساتھ ترحم کا برتاؤ کرنا ۔

آپ  کا یہ ارشاد” الدین النصیحة“ (کہ دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے )پورے کے پورے دین کا خلاصہ ہے، صدق دل، اخلاص و للہیت کے ساتھ اگر اسی ارشاد نبوی کومشعل راہ بنایا جائے تو انفرادی واجتمائی زند گی کے تمام شعبہ ہائے دین کا احیا یقینی ہے۔ اللہ پاک ہمیں سنت نبوی پر عمل پیراہونے کی توفیق عطاء فرمائے ۔(آمین )




خیر خواہی کرنا مسلمان کا حق ہے

ایک مسلمان کی بھلائی چاہنا ، اس کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ کرنا اور اچھے امور کی طرف اس کی راہ نمائی کرنا اس کا حق ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ آپ  کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ : 



” ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے ، چھینک آئے تو الحمد للہ کہے ، دعوت دے تو قبول کرے ، بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرے ، انتقال ہوجائے تو وہاں موجود رہے اور جب وہ سامنے نہ ہو تو اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے“ ۔ (مسند اسحاق بن راہویہ ، حدیث نمبر : 328، ما یروی عن ابی ادریس )



اور حضرت ابو ہریرہؓ ہی سے مروی ہے کہ ایک موٴمن کے دوسرے موٴمن پر چھے حقوق ہیں : اس میں بھی مذکورہ امور ہی کو شمار کیا گیا ہے البتہ اس میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ذکر موجود ہوتو بھی اور موجود نہ ہوتو بھی دونوں صورتوں میں ہے ، حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: 

”وینصح لہ إذا غاب او شہد“ (ترمذی، حدیث نمبر : 2737 ، باب ما جاء في تشمیت العاطس)

” اور مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرے، خواہ وہ سامنے موجود ہو یا نظروں سے دور ہو “ ۔



اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہر حال میں اس کا حق ہے اور بعض احادیث میں جو غائبانہ خیر خواہی کا ذکر ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سامنے موجود ہوتو اس کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ نہیں کرنا چاہئے ؛ بلکہ یہ سمجھانا مقصود ہے کہ سامنے تو ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خود کو خیر خواہ ثابت کرتا ہے ؛ البتہ غائبانہ بھی ہو تو اس میں تملق ، چاپلوسی اور دکھاوا مقصود نہیں ہوتا ہے ، واقعی محبت اور اخلاص پر مبنی وہ خیر خواہی ہوتی ہے ، اس پہلو پر توجہ دلانے کے لیے بعض احادیث میں صرف غائبانہ خیر خواہی کا ذکر ہے۔ (جامع العلوم والحکم: 224/1، الحدیث السابع: الدین النصیحة)


اسی طرح اگر کوئی کسی معاملہ میں مشورہ لے یا نصیحت کا طالب ہو تو صحیح مشورہ دینا اوراس میں اس کی خیر خواہی کرنا بھی اس مسلمان کا حق ہے ، حضرت ابو ہریرہؓ ہی آپ  سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ، ان میں سے ایک حق یہ بھی ہے : 
” وإذا استنصحک فانصح لہ․ “(مسلم ، حدیث نمبر : 2162، باب من حق المسلم رد السلام)
” اور جب تم سے نصیحت و خیر خواہی کا طالب ہوتو اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرو ۔“ 

نصوص بالا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا، خواہ وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے ، اسی طرح وہ سامنے موجود ہو یا نہ ہو ، بہر صورت اس کا حق ہے اور اس ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے تعلق سے فکر مند رہنا چاہیے ۔

نصح و خیر خواہی انبیا کا شیوہ تھا 
انبیا کرام علیہم السلام کی جماعت اللہ تعالیٰ کے بعد انسانیت کی سب سے بڑی خیر خواہ جماعت تھی ، اپنی اپنی قوم کے تعلق سے جیسی ان کو فکر مندی تھی اور خدا سے ان کا رشتہ جوڑنے اور مضبوط کرنے کے بارے میں جس دل سوزی سے وہ حضرات کام لیا کرتے تھے ،وہ انہی کا حصہ ہے ، کوئی دوسرا ان کی ہم سری کا دعوی بھی نہیں کرسکتا اور اس میں وہ حضرات اتنا آگے بڑھ جاتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے روکنا پڑتا تھا ، (الشعراء : 3) کئی انبیا کے بارے میں نصح و خیر خواہی کا ذکر قرآن پاک میں مذکور ہے ، حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا : ﴿أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْن﴾․(الأعراف : 68)
” میں تمہیں پیغامات پہنچاتا ہوں اپنے رب کے اور میں تمہارا قابل اعتماد خیر خواہ ہوں “ ۔

اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا :
﴿أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنْصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْن﴾․(الأعراف :62)
” تمہیں پیغامات پہنچاتا ہوں اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تم سب کی اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے“ 

اور حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے یوں فرمایا : ﴿یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لاَّ تُحِبُّوْنَ النَّاصِحِیْنَ﴾․(الأعراف :79)
” اے میری قوم ! میں نے تو پہنچا دیا تھا تم کو پیغام اپنے رب کا، اورپوری خیر خواہی کی تھی تمہارے لیے، مگر تم لوگ ہو کہ تم پسند ہی نہیں کرتے اپنے خیر خواہوں کو“ ۔

اور حضرت شعیب علیہ السلام نے جب اپنی قوم پر اتمامِ حجت کردی اور قوم اپنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر تلی رہی تو آخر میں انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ﴿یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ﴾․(الأعراف : 93)
” اے میری قوم!بے شک میں نے پہنچا دیے تم کو پیغامات اپنے رب کے اور پوری طرح خیرخواہی کی تمہارے لیے “ 

خیر خواہی صالحین کی عادت تھی ، انبیائے کرام علیہم السلام کے نقش قدم پر چلنے والے جن کو صلحاء ، دیندار اور متقی کہا جاتا ہے ، وہ بھی عا م مسلمانوں کے تعلق سے شفقت و ہم دردی اور خیر خواہی کا جذبہ رکھتے تھے اور جن کا تعلق خدائے تعالیٰ سے جتنا زیادہ استوار ہوتا تھا ، اس کے بقدر مخلوق خدا سے ان کو ہم دردی اور خیر خواہی ہواکرتی تھی ، حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ :

” بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ارشاد فرماتے تھے کہ جس ذات کے قبضہ میں میری جان ہے ، اگر تم چاہو تو میں خدا کی قسم کھاکر کہہ سکتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندے وہ حضرات ہیں جو بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کرتے ہیں اور انہیں ایسے اعمال کی ترغیب دیتے ہیں ، جس سے اللہ ان سے محبت کرنے لگیں اور روئے زمین پر نصح و خیر خواہی کو عام کرتے ہیں “․(جامع العلوم والحکم : 224/1 ، الحدیث السابع)

ابن علَیّہ حضرت ابو بکر مزنی سے نقل کرتے ہیں کہ صحابہٴ کرام ؓ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا جو نمایاں مقام ہے اور ان میں سب سے بڑھ کر صاحب فضل وکمال ہیں ، اس کا سبب صرف نماز اور روزہ نہیں ہے ؛بلکہ ان کو یہ مقام ان کے دلی احوال کی وجہ سے حاصل ہوا ، ان کے دل میں اللہ کی محبت اور مخلوق سے خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ (حوالہ سابقہ ، ص : 225) حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں کہ جن کو بھی اللہ تعالیٰ کا قرب اور ان سے خصوصی تعلق قائم ہوا ہے ، میرے خیال میں نماز و روزے کی کثرت سے نہیں ہوا ؛بلکہ سخاوت ، دل کی صفائی اور لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کے نتیجے میں حاصل ہوا ، (حوالہ سابقہ) حضرت عبد اللہ بن مبارک سے پوچھا گیا کہ بہترا ور افضل عمل کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ سے خیر خواہی سب سے اچھا عمل ہے۔ (حوالہ سابقہ) ظاہرہے کہ جو اللہ کے ساتھ خیر خواہی کرے گا وہ اس کی مخلوق کے ساتھ ضرور خیر خواہی کرے گا ، بعض اسلاف سے منقول ہے کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی مطیع و فرماں بردار ہوجائے ، اگرچہ اس جد و جہد میں میرے گوشت کو قینچی سے کاٹ ڈالاجائے ۔ (حوالہ سابقہ)

حضور صلى الله عليه وسلم کا جریرؓ سے خیر خواہی پر بیعت 
حضرت جریر بن عبد اللہ بجلیؓ سے منقول ہے کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں بیعت ہونے کے لیے حاضر ہوئے تو آپصلى الله عليه وسلم نے فرمایا : 

” اے جریر ! اپنا ہاتھ بڑھاوٴ ، حضرت جریر ؓنے عرض کیا : آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لینا چاہتے ہیں ؟ آپ صلى الله عليه وسلمنے فرمایا : اسلام لانے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کرو “ ․(المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : 3465، داوٴد بن یزید اودی)

اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہؓ جب ایک جگہ کے گورنر تھے تو اس وقت انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلمکے دست مبارک پر ابتداءً جو بیعت کی تھی اس میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا ذکر نہیں ہوا تھا ، میں بیعت سے فارغ ہوکر جب واپس جانے لگا تو آپ صلى الله عليه وسلمنے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میں صرف مذکورہ امور پر بیعت کرنے سے راضی نہیں ہوں ، تم اس بات پر بھی مجھ سے بیعت کرو کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کیا کروگے ، حضرت جریر ؓفرماتے ہیں کہ میں نے اس پر بھی بیعت کی ۔ (حوالہ سابقہ ، حدیث نمبر :2457 ، المستظل بن حصین عن جریر )

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جریرؓ نے حضور صلى الله عليه وسلمسے عرض کیا کہ میں آپ کے دست مبارک پرہجرت کرنے کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلمنے ہجرت پر مجھ سے بیعت لے لی اور یہ شرط بھی لگائی کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروگے ، میں نے اس شرط کو قبول کیا اور اس پر بھی بیعت کی ۔ (حوالہ سابقہ ، حدیث نمبر : 2464 ، زیاد بن علاقة عن جریر)

ان احادیث سے نصح و خیر خواہی کی اور زیادہ اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلمنے بلاکر دوبارہ اس پر بیعت لی اور اپنی طرف سے اس کا اضافہ کرکے اس پر بھی بیعت لی ؛ البتہ بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلمنے جن امور پر بیعت لی تھی ان میں مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی ابتدا ہی سے شامل تھی ۔(دیکھیے : بخاری، حدیث نمبر: 57، باب قول النبي ا الدین النصیحة الخ) 

حضرت معاویہ ؓ، حضرت جریر ؓ کے درمیان خط و کتابت 
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہؓ نے اہلِ کوفہ کو ایک فوج تیار کرنے کا حکم دیا ، کوفہ میں حضرت جریر ؓ اور ان کے صاحب زادے بھی قیام پذیر تھے ، حضرت معاویہ ؓ نے ان کو ایک خصوصی خط لکھا کہ فوج میں شرکت آپؓ اور آپ کے صاحب زادے کے لیے ضروری نہیں ہے ، میں آپ دونوں کا اس سے استثنا کرتاہوں۔ حضرت جریر ؓنے حضرت معاویہؓ کو جواباً خط لکھا کہ میں نے حضور اکرم صلى الله عليه وسلمکے دست مبارک پر اسلام پر بیعت کی، آپ صلى الله عليه وسلمنے میرا ہاتھ پکڑ کر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بھی شرط لگائی تھی ، اگر آپ ترتیب دی جانے والی فوج میں ہم لوگوں کی شرکت کے تعلق سے سنجیدہ ہیں تو ہم اس میں ضرور شریک ہوں گے ، ورنہ ہم اتنا مال ضرور دیں گے جس سے ایک فوجی کی ضرورت پوری ہوسکے ۔(الطبقات الکبری، تذکرہ جریر بن عبد اللہ)

سامان خریدتے وقت حضرت جریر ؓکا طرز عمل
حضرت جریر ؓ جس کسی سے کوئی سامان خریدتے اور ثمن بیچنے والے کو حوالہ کردیتے تو فرماتے : 
” میں نے تم سے جو چیز خریدی ہے ظاہر ہے کہ وہ مجھے پسند ہے اور جو ثمن ہم نے تمہارے حوالہ کیا ہے وہ اس سامان کے مقابلہ میں مجھے محبوب نہیں ہے ، اب تم کو ایک بار پھر غور کرلینا چاہیے کہ تم یہ سامان مجھ سے بیچنے پر راضی ہو یا نہیں ؟ تمہیں اختیار ہے، چاہے اپنا سامان اپنے پاس رکھو یا سامان مجھے دے کر اس کا ثمن تم لے لو ۔(السنن الکبری، حدیث نمبر : 10451، باب المتبایعان بالخیار)

سامان بیچتے وقت حضرت جریر ؓ کا معمول 
جس طرح سامان خریدتے وقت حضرت جریر ؓ سامان بیچنے والے کو اچھی طرح غور و فکر کرنے کی تلقین کرتے تھے ، اسی طرح جب آپؓ کوئی سامان بیچتے تو خریدنے والے کو سامان کے عیوب اور اس کی خرابی سے اچھی طرح واقف کرادیا کرتے تھے ، پھر فرمایا کرتے کہ : 
” اب تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو لو، ورنہ چھوڑ دو ، بعض حضرات ان سے کہتے ہیں کہ آپ اس طرح اگر سامان فروخت کریں گے تو گھاٹے میں رہیں گے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کے دست مبارک پر بیعت ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے تعلق سے کی ہے اور عیوب کو چھپاکر سامان فروخت کرنا خیر خواہی کے خلاف ہے ؛ اس لیے میں یہ کام ہر گز نہیں کرسکتا “ (المعجم الکبر للطبراني، حدیث نمبر : 2510 ، عون بن عبد اللہ بن عتبہ عن جریر)

حضرت مغیرہ ؓکی وفات پر حضرت جریرؓ کی تقریر
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ایک جلیل القدر صحابی ہیں ، حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں وہ کوفہ کے گورنر تھے ، ۵۰ھ میں ان کا انتقال ہوا ، ایک روایت کے مطابق انہوں نے اپنا نائب اپنے صاحب زادے عروہ کو بنایا تھا اور دوسری روایت کے مطابق حضرت جریر بن عبد اللہ بجلیؓ کو بنایا تھا ، (فتح الباری: 139/1 ، باب قول النبي ا الدین النصیحة) حضرت جریر بن عبد اللہؓنے ان کے انتقال کے بعد لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی ، جس میں لوگوں سے پُر سکون رہنے کی اپیل کی اور جب تک حضرت امیر معاویہؓ کی طرف سے کسی گورنر کی تقرری نہیں ہوتی ، اس وقت تک کوئی اقدام نہ کریں اور جلد ہی وہ اس کا انتظام کریں گے ، پھر فرمایا کہ اپنے سابق کے لیے دعائے مغفرت کرو ، اگر ان سے کوئی زیادتی کسی کے حق میں ہوگئی ہو تو معاف کردو ؛ کیوں کہ وہ بھی عفو و درگذر سے کام لیا کرتے تھے ، اس کے بعد فرمایا کہ میں حضور صلى الله عليه وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو میں نے آپ صلى الله عليه وسلمسے عرض کیا کہ میں اسلام پر بیعت کرنا چاہتاہوں تو آپصلى الله عليه وسلم نے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بھی شرط لگائی ؛ چناں چہ میں نے اس پر بھی بیعت کی تھی ، اس مسجد کے رب کی قسم ! میں تم سبھوں کا خیر خواہ ہوں ، پھر استغفار کرتے ہوئے ممبر سے نیچے اترآئے ۔ (بخاری ، حدیث نمبر : 58 ، باب قول النبي صلى الله عليه وسلمالدین النصیحة)

بائع کے ساتھ خیر خواہی کا نادر نمونہ 
حضرت جریر ص نے حضور اکرمصلى الله عليه وسلم کے دستِ مبارک پر تمام مسلمانوں سے خیر خواہی کی بیعت کی تھی اور وہ اس معاملہ میں کبھی چوکتے نہ تھے ، ایک مرتبہ ان کے ایک وکیل نے تین سو درہم میں ان کے لیے گھوڑا خریدا ، جب آپ ؓ نے گھوڑا دیکھا تو محسوس ہوا کہ یہ تو چار سو درہم کے مساوی ہے تو آپ ؓ نے گھوڑے کے مالک سے فرمایا کہ تم اسے چارسو درہم میں بیچنے پر راضی ہو؟ اس نے کہا بالکل راضی ہوں ، پھر آپ کو خیال ہوا کہ یہ تو پانچ سوکا لگتا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا : اسے پانچ سو میں بیچو گے ؟ مالک نے رضامندی کا اظہار کیا ، پھر ان کو خیال ہوا کہ یہ تو چھ سو درہم کا لگتا ہے، پھر اسی طرح کا سوال و جواب ہوا ، پھر سات سو ، پھر آٹھ سو تک پہنچے اور جس گھوڑے کی قیمت تین سو درہم طے ہوچکی تھی ، بائع بھی تین سو درہم پر دینے کے لیے رضامند تھا ؛ لیکن آپ ؓ نے یہ خیر خواہی کے خلاف سمجھا کہ جو گھوڑا آٹھ سو کا ہو، اسے صرف تین سو میں خریدا جائے ؛ چناں چہ آپ ؓ نے بائع کو آٹھ سو درہم دے کر گھوڑا خریدا ۔ (تہذیب الأسماء واللغات: 148/1، حرف الجیم) 

خیر خواہی کا یہ اعلیٰ درجہ ہے ، وہ حضرات اسی کے لیے پیداکیے گئے تھے ، ظاہر وباطن ان کا بالکل یکساں تھا ۔

نصیحت عربی لفظ ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ اگرچہ خیرخواہی سے کیا جاتا ہے ؛ لیکن خیر خواہی کا لفظ نصیحت کے پورے مفہوم کو ادا کرنے سے قاصر ہے ، علامہ خطابی (م:388) فرماتے ہیں کہ لفظ نصیحت بہت ہی جامع کلمہ ہے ، جس کی نظیر دوسری زبانوں میں نہیں ملتی ، دیکھنے میں تو ایک لفظ ہے ؛ لیکن اپنے اندر سامنے والے کے لیے ہرطرح کی خیر و بھلائی کو سموئے ہوئے ہے ، علامہ مازری مالکی (م:536) فرماتے ہیں کہ نصیحت عربی زبان میں ”نصحت العسل “ سے مشتق ہے ، یہ اس وقت بولاجاتا ہے جب کہ موم سے شہد کو اچھی طرح الگ کرلیا جائے اور بالکل صاف ستھرا کرلیا جائے، اس لحاظ سے نصیحت کا مطلب یہ ہوگا کہ مخاطب کو اخلاص کے ساتھ کوئی بات کہی جائے۔ یا ”نصح“ بمعنی سلائی سے مشتق ہے ، اس صورت میں نصیحت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اپنے پراگندہ حال بھائی کے احوال کی اصلاح کی جائے ، جس طرح سوئی سے پھٹے ہوئے کپڑے کی اصلاح کی جاتی ہے ، اسی سے توبہٴ نصوح آتا ہے ، گویا گناہ دین کے قبا کو چاک کردیتا ہے اور توبہ اس کی اصلاح و درستگی کردیتی ہے ۔ (فتح الباری :136/1 ، باب قول النبي صلى الله عليه وسلمالدین النصیحة الخ)

خیر خواہی کی اہمیت 
اسلام میں خیر خواہی کی بڑی اہمیت ہے ، اللہ کے نزدیک کسی انسان کے ساتھ خیرخواہی کرنا محبوب ترین عمل ہے ، حضرت امامہؓآپ صلى الله عليه وسلمکا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
” میرے بندے کے اعمال میں محبوب ترین عمل میرے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے “۔ (مسند احمد ، حدیث نمبر :22191 ،من حدیث ابی امامة الباہلی)

اور طبرانی کی روایت میں ہے : ”أحب عبادة عبدي إلي النصیحة “․ (المعجم الکبیر ، حدیث نمبر : 7880 ، حدیث عثمان بن أبي عاتکة)
” میرے بندے کی میرے نزدیک محبوب ترین عبادت دوسروں کے ساتھ نصح وخیر خواہی کرنا ہے “ ۔

حضرت حسن بصری حضرت ابو الدرداء ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے قسم کھاکر فرمایا کہ : 
” اللہ کے نزدیک بندوں میں سے محبوب تر بندے وہ ہیں جو سورج اور چاند کی نگرانی کرنے والے (یعنی موٴذنین) ہیں اور جو چلتے پھرتے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے والے ہیں “۔(الزہد لوکیع ، باب من یحب الرب إلی خلقہ)

حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں اور خیر خواہی جن کا شیوہ ہوتا ہے وہ در حقیقت روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں۔ (شرح صحیح البخاري لابن بطال :130/1) بعض تابعین سے منقول ہے کہ اگر میں جامع مسجد میں داخل ہوں اور وہ لوگوں سے بھری ہوئی ہو اور مجھ سے پوچھا جائے کہ ان سب میں بہتر کون ہے؟ تو میں جواب دوں گا کہ جو لوگوں کے ساتھ زیادہ خیر خواہی کرنے والا ہے اور اگر یہ پوچھا جائے کہ ان میں سب سے بُرا کون شخص ہے ؟ تو میں کہوں گا کہ جو لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا معاملہ زیادہ کرنے والا ہے ۔ (إحیاء علوم الدین : 77/2 ، کتاب آداب الکسب والمعاش)

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب تر بندے وہ ہیں جو اللہ کی محبت لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورروئے زمین پر نصح و خیر خواہی کرنے کو عام کرنا جن کا عظیم مقصد ہوتا ہے ۔ (الزہد لأحمد بن حنبل، حدیث نمبر : 1648، أخبار الحسن بن أبي الحسن )

خیر خواہی قول و فعل دونوں سے ہو
علامہ ابن بطال (م:449ھ) کہتے ہیں کہ بعض احادیث میں نصح و خیر خواہی کو دین قرار دیا گیا ہے ، تمیم داری کی حدیث میں ہے : ” الدین النصیحة “ (مسلم ، حدیث نمبر : 55، باب بیان أن الدین النصیحة) ”دین خیر خواہی کا نام ہے “ اوردین قول وفعل کے مجموعہ کا نام ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت جریرؓ سے بیعت آپ صلى الله عليه وسلمنے جس طرح نماز وزکوة پر لی، جو اعمال کے قبیل سے ہے ، اسی طرح نصح و خیر خواہی کرنے پر بھی لی ہے ؛ لہٰذا خیر خواہی قول و فعل دونوں سے ہونا چاہیے ، (شرح بخاری لابن بطال : 129/1) قولی خیر خواہی تو یہ ہے کہ جو چیزیں مفید ہوں، خواہ دنیوی لحاظ سے یا دینی اعتبار سے ، اس کی طرف لوگوں کی راہ نمائی کی جائے او ر انہیں باخبر کیا جائے ، اخلاص ، نرمی اور شفقت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا جائے ، عبادات اور دیگر امور خیر میں انہیں رغبت دلائی جائے اور فعلی خیر خواہی یہ ہے کہ بڑوں کی تعظیم و توقیر کی جائے ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا جائے ، جو اپنے لیے پسند ہو وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کیا جائے ، حسد اور دھوکہ دہی سے گریز کیا جائے ، عیوب کو دور کرنے کی فکر اور اس کی پردہ پوشی کی جائے ، ضرر رساں چیزوں سے ان کو محفوظ رکھا جائے ، امور خیر کے لیے راہ ہم وار کی جائے اور ان کے اموال و اعراض کی حفاظت کی شکلیں پیدا کی جائیں۔ (نووی حاشیہ مسلم، حدیث نمبر :95 ، باب الدین النصیحة)

نصیحت کا حکم 
علماء کا کہنا ہے کہ نصح و خیر خواہی کرنا فرض کفایہ ہے ، اگر ایک صاحب بھی اس کو انجام دے دیں تو سب سے فریضہ ساقط ہوجائے گا ، نیز نصیحت بقدر استطاعت ضروری ہے ، جب کہ نصیحت کرنے والے کو معلوم ہو کہ مخاطب اس کی نصیحت کو قبول کرلے گا اور کہا مان جائے گا اور یہ بھی اطمینان ہو کہ نصیحت کی وجہ سے اسے ایذا و تکلیف نہیں پہنچے گی اوراگر اس کا خوف ہو تو اسے نصیحت نہ کرنے کی گنجائش ہے اور چاہے تو عزیمت پرعمل کرے اور پیش آنے والی تکلیف کو برداشت کرے ۔ (مرقاة المفاتیح، حدیث نمبر : 4966 ، باب الشفقة والرحمة علی الخلق)

صاحبِ مشورہ کے ساتھ خیر خواہی
نصح و خیر خواہی کا ایک اہم پہلو مشورہ بھی ہے کہ اگر کوئی مشورہ طلب کرے تو ان کو اچھے سے اچھا مشورہ دیا جائے ، حدیث پاک میں مشورہ دینے والے شخص کو امانت دار کہا گیا ہے۔ (حلیة الأولیاء : 190/6، تذکرہ سلام بن أبي مطیع) اس لیے مشورہ دیتے وقت خیر خواہی پورے طور پر ملحوظ رکھے ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ :
” جب میں اپنے پہلے شوہر کی عدت سے فارغ ہوگئی تو مجھے پیغام نکاح معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم دونوں نے دیا تو میں مشورہ کی غرض سے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پہنچی ، اور آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے ان دونوں کے پیغام کا ذکر کیا ، اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ابو جہم تو عام طور پر سفر میں رہتے ہیں ، یا وہ اپنی بیوی کو تنبیہ اور زجر وتوبیخ کرتے رہے ہیں ، اس کے ساتھ خوش گوار زندگی مشکل سے گذرے گی اور جہاں تک معاویہ کی بات ہے تو وہ ایک محتاج وغریب آدمی ہیں ، معاشی پریشانی تم کو لاحق ہوگی ؛ اس لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ، اولاً مجھے یہ مشورہ اچھا نہیں لگا ، مگر آپ صلى الله عليه وسلمکے دوبارہ ارشاد فرمانے پر میں نے اسامہؓ سے نکاح کرلیا اور ان کے ساتھ میری ازدواجی زندگی واقعةً بڑی اچھی رہی “ ۔ (مسلم ، حدیث نمبر : 1480 ، باب المطلقة ثلاثا)

آپ صلى الله عليه وسلمنے اگرچہ پیغام دینے والوں کے عیب کا ذکر کیا ہے ؛ لیکن مقصود چوں کہ مشورہ لینے والی صاحبہ کے ساتھ خیر خواہی کرنا تھا اور اس کے بغیر چوں کہ صحیح خیر خواہی نہیں ہوسکتی تھی ؛ اس لیے آپ صلى الله عليه وسلمکو عیب ذکر کرنا پڑا اور پھر ایک تیسرے صاحب کی نشان دہی اورایک گونہ اس کے ساتھ نکاح کرنے پر اصرار کرکے واقعةً بہت بڑی خیر خواہی آپ صلى الله عليه وسلم نے ان صاحبہ کے ساتھ کی تھی اور بعد میں ان کو بھی آپ صلى الله عليه وسلمکے صحیح مشورہ دینے کا اعتراف کرنا پڑا ۔(جاری)

غیر موجود شخص کے ساتھ خیر خواہی 

جو شخص سامنے نہ ہو ، نظروں سے اوجھل ہو ، یا سفر میں ہو تو اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کا برتاوٴ کرنا اس کا حق ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ : ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھے حقوق ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ موجود نہ ہو تو اس کے ساتھ خیرخواہی کی جائے ، (شعب الإیمان ، حدیث نمبر :8379 ، باب مقاربة أہل الدین وموادتہم الخ) 



اور حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه ہی کے واسطے سے حضورصلى الله عليه وسلم کا ارشاد علامہ اصبہانی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ”وإذا غاب حفظ غیبتہ“․ (التوضیح والتنبیہ لأبي الشیخ الأصبہاني:27/1 ، باب ما یلزم المسلم)



” مسلمان کے چھ حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جب وہ موجود نہ ہوتو اس کے پیچھے اس کی حفاظت کرے “۔



غائب مسلمان کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ اس کی بُرائی لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے ، اس کی غیبت کرنے سے اپنی زبان کی حفاظت کرے ، کسی مسلمان کی پیٹھ پیچھے بُرائی کرنا گویا اس سے حسد کرنا ہے ، حضرت عوف کہتے ہیں کہ میں نے وہب بن منبہ کی کتاب میں یہ لکھا ہوا پایا کہ حاسد کی تین علامتیں ہیں ، جب کوئی آدمی اس کے سامنے ہو تو چاپلوسی کرے ، سامنے نہ ہو تو اس کی غیبت کرے اور جب اس پر کوئی مصیبت آئے تو مذاق اڑائے ، (حوالہ سابقہ ، ص : 44 ، باب ما أدبہ النبي صلى الله عليه وسلمالخ)اسی طرح اگر کوئی دوسرا شخص اس کی غیبت یا ہتک عزت کررہا ہو تو جہاں تک بس میں ہو اسے روکنے کی کوشش کرے ، حدیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے ، علامہ بیہقی (م: 458ھ) نے حضرت عمران بن حصین رضي الله عنه سے آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے : 


”من نصر أخاہ بالغیب، وہو یستطیع نصرہ، نصرہ اللہ في الدنیا والآخرة “․(شعب الإیمان ، حدیث نمبر : 7234 ، التعاون علی الصبر) 

” جو شخص اپنے بھائی کی غائبانہ مدد کرے اور وہ مدد کرنے پر قادر بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد دنیا و آخرت دونوں میں کرے گا “ ۔

دعاکرنا بھی خیرخواہی ہے
غائب مسلمان کو اپنی دعاوٴں میں یاد رکھنا بھی اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے ، غائبانہ دعا کرنے والوں کی تعریف قرآن پاک میں بھی ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوْا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴾ (الحشر:10)

”نیز (یہ مال)ان لوگوں کا (حق ہے)جوان سب کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں بھی اورہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اورہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہ رکھ۔ اے ہمارے رب !بلاشبہ تو بڑا ہی شفیق ،انتہائی مہربان ہے ۔“ 

نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم  کو موٴمنین اور موٴمنات کے لیے استغفار کا حکم دیا ہے: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ﴾ (محمد : 19)
ترجمہ:”اور معافی مانگو اپنے گناہ کے لیے اور ایمان دار مردوں اور عورتوں کے لیے بھی “۔ 

اور حضرت نوح عليه السلام نے اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کی :﴿رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْْتِیَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾۔ (نوح : 28)

”اے میرے رب! بخشش فرما دے تو میری بھی، میرے ماں باپ کی بھی اور ہر اس شخص کی بھی جو داخل ہو میرے گھر میں، ایمان کی حالت میں، اور سب ہی ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو “۔ 

اور حضرت ابراہیم عليه السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی ہے :﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَاب﴾․ (إبراہیم :41)

” اے ہمارے رب! بخشش فرما دے میری بھی اور میرے والدین کی بھی، اور سب ایمان والوں کی بھی، اس دن جب کہ حساب قائم ہوگا“۔ 

اور حضرت ابو الدرداء رضي الله عنه آپصلى الله عليه وسلمکا ارشاد نقل کرتے ہیں :” ما من عبد مسلم یدعو لأخیہ بظہر الغیب إلا قال الملک: ولک بمثل“ (مسلم ، حدیث نمبر : 2732 ، باب فضل الدعاء)

” جو مسلمان اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی طرح ہو “۔

اور حضرت صفوان کہتے ہیں کہ میں اپنے خسر حضرت ابو الدرداء رضي الله عنه سے ملنے کے لیے گیا ، وہ گھر پر تشریف فرما نہ تھے ؛ البتہ ہماری خوش دامن حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، انہوں نے پوچھا کہ امسال آپ کا حج کا ارداہ ہے ؟میں نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا ؛ کیوں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم فرماتے تھے کہ ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے ، دعا کرنے والے کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے ، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو موجود فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔ (حوالہ سابقہ ، حدیث نمبر : 2733)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کی بڑی فضیلت ہے ، اس سے اپنے بھائی کے بارے میں اس شخص کا غیر معمولی خلوص و محبت اورخیر خواہی کا بہترین جذبہ ظاہر ہوتا ہے ، اسی حکم میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی متعین مسلمان کے لیے تو دعا نہیں کرتا ؛ لیکن جماعت مسلمین کے لیے دعا کرتا ہے ، حدیث مذکور میں یہ بھی خوش خبری کہ اس سے دعا قبول ہوگی ؛ (دلیل الفالحین : 299/7) کیوں کہ دعا کرنے والا اللہ کی رضا وخوش نودی والا کام کررہا ہے ؛ اس لیے اللہ تعالیٰ خوش ہوکر اس کی دعا قبول کرلیتا ہے ۔ (حوالہ سابقہ)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي الله عنه روایت کرتے ہیں : ”أسرع الدعاء إجابة دعاء غائب لغائب “ (الأدب المفرد ، حدیث نمبر : 623 ، باب دعاء الأخ بظہر الغیب)

” تمام دعاوٴں سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب شخص کے لیے ہو “ ۔

اس لیے اسلاف کا طریقہ رہا ہے کہ جب وہ اپنے لیے دعا کرنا چاہتے تھے تو ان دعاوٴں میں اپنے بھائیوں کو بھی شامل کرتے تھے ؛ تاکہ ان کی برکت سے خود ان کی دعا قبول ہوسکے اور انہیں بھی اس کے بقدر حاصل ہوجائے اور ایک حدیث میں تو صراحة مذکور ہے کہ کسی بھائی کے لیے اگر غائبانہ دعاکی جائے تو وہ ردنہیں کی جاتی ہے ۔ (مسند أحمد ، حدیث نمبر : 3577، أول حدیث عمران بن حصین)گویا وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے ۔

حضرت ابو الدرداء رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ میں اپنے ستر بھائیوں کے لیے سجدہ کی حالت میں نام لے کر دعا کرتا ہوں (إحیاء علوم الدین : 186/2، کتاب آداب الألفة) یہ خیر خواہی کا اعلیٰ درجہ ہے ، پوری جماعت مسلمین کے لیے دعا کرنے میں وہ خصوصی حضرات بھی شامل ہوجاتے ، لیکن ناموں کی اتنی لمبی فہرست سجدہ کی حالت میں لیتے اور ہر ایک کے لیے جداگانہ دعا فرمایا کرتے تھے ، یہی حضرات تھے جو حدیث پر عمل کرکے دکھاگئے ، وہ گویا اس کے لیے پیدا کیے گئے تھے ، غائبانہ دعا کرنے کی جو فضیلت ہے اس پر انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود عمل کیا ؛ بلکہ بعد میں آنے والوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بھی چھوڑ کر گئے کہ کس طرح غائبانہ دعا کی جائے اوراس میں کیا نیت کی جائے ، غائبانہ دعا کرنے میں خود دعاکرنے والے کا فائدہ ہے ، اس سے جہاں خلوص ومحبت کا اظہار ہوتا ہے ، وہیں اس کی دعا خود اپنے حق میں بھی قبولیت کے لائق بن جاتی ہے اور فرشتوں کی آمین کی مستحق بن جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس فضیلت کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! آمین ۔

گھر میں بلی رکھنے سے انکار 
جو شخص اللہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے اور خدا کا خاص بندہ ہوتا ہے اس میں مخلوق خدا سے خیر خواہی اور جذبہٴ محبت اسی قدر زیادہ ہوتی ہے ، ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے گھر میں چوہوں کی کثرت ہوگئی اور گھرکے سامان کو نقصان پہنچانے لگے تو کچھ لوگوں نے ان کو یہ مشورہ دیا کہ آپ ایک بلی پال لیں ، اس سے سارے چوہے یا تو بھاگ جائیں یا پھر بلی اسے اپنی غذا بنالے گی ؛ لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ خوف ہے کہ ہماری بلی کی آواز سن کر کہیں یہ چوہے ہمارے پڑوسی کے گھر نہ چلے جائیں اور ان سے جو تکلیف مجھے پہنچ رہی ہے اس سے وہ حضرات بھی دوچار ہوجائیں گے ، جو خیر خواہی کے خلاف ہے اور میں اپنے پڑوسیوں کے لیے ایسی بات پسند کرنے والا بن جاوٴں گا ، جسے خود اپنے لیے پسند نہیں کرتا ہوں ۔(إحیاء العلوم : 213/2 ، کتاب آداب الألفة)

ظالموں پر رحم
نصح و خیر خواہی کا اہتمام اسلاف میں اس قدر تھا کہ خود مصیبت وپریشانی برداشت کرلیتے تھے ؛ لیکن جن کی طرف سے پریشانی آتی تھی ، ان کے میدانِ محشرکی پریشانی کا احساس کرکے غم زدہ ہوجاتے تھے ، حضرت علی بن الفضیل کو ایک مرتبہ روتے ہوئے لوگوں نے دیکھا ، جب رونے کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جن لوگوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے وہ جب میدان حشرمیں اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان سے ظلم کے متعلق سوال ہوگا اور اس کا وہ جواب نہیں دے سکیں گے تو اس وقت کی ان کی بے چارگی اور بے کسی کا احساس مجھے رلا رہا ہے کہ ان کا کیا حال ہوگا ؟ (إحیاء العلوم : 209/2، کتاب آداب الألفة)

ان ہی کے بارے میں آتا ہے کہ طوا ف کی حالت میں کسی نے ان کے ساتھ موجود دینار کو چرالیا ، ان کے والد بزرگوار نے ان کو روتا ہوا دیکھ کر پوچھا کہ کیا دینار کے چوری ہوجانے پر رورہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں چوری ہوجانے پر نہیں رورہا ہوں ، خدا کی قسم! مجھے تو اس مسکین پررونا آرہا ہے جس سے قیامت کے دن اس چوری کا حساب ہوگا اوروہ اس تعلق سے کوئی صفائی پیش نہ کرسکے گا۔(إحیاء العلوم :283/4 ، بیان آداب المتوکلین)

ایک بزرگ کے اوپر کسی نے ظلم و زیادتی کی ، ان کی ہم دردی میں ایک صاحب نے ان سے عرض کیا کہ آپ اس ظالم کے حق میں بد دعا کردیجئے، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے انجام سے بڑا متفکر ہوں ، غم زدہ اور افسردہ ہوں ، اس مشغولیت کی وجہ سے مجھے اس کے حق میں بد دعا کرنے کا وقت کہاں مل رہا ہے ؟ (حوالہ سابقہ)ظاہر ہے کہ یہ فکر نصح و خیر خواہی کا اعلیٰ درجہ ہے ۔

اسلاف کی خیر خواہی کے چند مظاہر 
حضرت یونس بن عبید ایک جلیل القدر تابعی ہیں ، کپڑوں کا کاروبار کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ کے یہاں جوڑے مختلف قیمت کے تھے ، بعض جوڑے چار سو درہم کے اور بعض دو سو درہم کے تھے ، نمازکا وقت ہوگیا تو جلدی سے مسجد تشریف لے گئے اور دوکان پر اپنے بھتیجے کو چھوڑ گئے ، اس دوران ایک دیہاتی آگیا اور اس نے چار سو درہم والے جوڑے بتانے کو کہا ، ان کے بھتیجے نے دو سو درہم والے جوڑے کو اس کے سامنے رکھا ، اسے یہ جوڑا اچھا لگا ، پسند آگیا اور چار سو درہم کے عوض لینے پر راضی ہوگیا ؛ چناں چہ چار سو درہم ادا کرکے وہ جوڑا لے لیا ، راستے میں اس دیہاتی سے حضرت یونس بن عبید کی ملاقات ہوگئی ، انہوں نے وہ جوڑا ان کے ہاتھ میں دیکھ کر پوچھا کہ اسے تم نے کتنے میں خریدا ہے ؟ اس نے کہا : چار سو درہم میں ، آپ نے فرمایا کہ یہ دو سو درہم سے زیادہ قیمت کا نہیں ہے ، ہمارے ساتھ چلو، میں بقیہ پیسہ لوٹادوں گا ، دیہاتی نے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایسے جوڑے کی قیمت پانچ سو درہم ہے ، پھر میں چار سو درہم ادا کرنے پر بھی راضی تھا ، میں نے تو اپنی خوشی سے چار سو درہم ادا کرکے یہ جوڑا لیا ہے ؛ لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ چلو ، خیر خواہی دنیا وما فیہا سے بہتر چیز ہے ، اسے کسی طرح دکان پر لائے اور دوسو درہم واپس کیے اور اپنے بھتیجے پر بہت خفا ہوئے اور فرمایا تم کو اللہ سے حیا نہیں آئی ؟ تم کو اللہ تعالیٰ سے خوف نہیں ہوا کہ اتنا زیادہ نفع لے کر فروخت کیے اور مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنا بھول گئے ، بھتیجے نے کہا کہ اس شخص نے اپنی رضامندی سے یہ جوڑا چار سو درہم میں خریدا ہے، اس لیے اس میں میرا کیا قصور ؟ مگر آپ نے فرمایا کہ جس قیمت پر اپنے لیے تم لینا چاہتے ہو اسی قیمت پر اس دیہاتی کے لیے بھی تمہیں راضی ہونا چاہیے تھا ۔ (مفتاح الأفکار ولتأہب لدار القرار : 170/1، موعظة : 8)

آپ کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ ایک صاحب ریشم کے کپڑے آپ سے خریدنے کے لیے آئے ، آ پ نے اپنے غلام سے ریشم کا گٹھر لانے کو کہا ، وہ لے کر آیا اورمشتری کو کھول کر بتایا اور اس غلام کے منہ سے نکلا ” اللہم ارزقنا الجنة “ اے اللہ ! مجھے جنت نصیب فرما ،یہ سننا تھا کہ آپ نے غلام سے کہا کہ اس گٹھر کو پھر باندھ کر اپنی جگہ رکھ دو ، اسے ابھی نہیں بیچنا ہے ، مشتری نے اصرار بھی کیا ؛ لیکن آپ راضی نہ ہوئے ؛ کیوں کہ غلام کی زبان سے ” اللہم ارزقنا الجنة “ نکل جانے سے آپ کو یہ خوف ہوا کہ غلام نے اشارةً سامان کی تعریف اور اس کی خوبی بیان کردی ہے ، کہیں یہ دھوکہ میں شمار نہ ہوجائے ۔ (حوالہ سابقہ)

محمد بن منکدر بھی تجارت کرتے تھے ، ان کے یہاں بھی مختلف قیمت کے مختلف گٹھر تھے ، کچھ گٹھر پانچ درہم کے اور کچھ دس درہم کے تھے ، ان کے ایک غلام نے پانچ والے کو دس درہم کے عوض فروخت کردیا ، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو اس خریدنے والے کو تلاش کرنے لگے، تاکہ اس کے پانچ درہم واپس کردیں ، دن بھر اسے تلاش کرتے رہے ، بالآخر وہ ملا ، آپ نے ان سے فرمایا کہ ہمارے غلام نے غلطی سے پانچ درہم کے گٹھر کو دس درہم میں بیچ دیا ہے ، اس لیے تم اپنی زائد رقم لے لو ، اس شخص نے عرض کیا کہ میں نے تو دس درہم پر راضی ہوکر ہی خریدا تھا ، مجھے تو اب یہ رقم لینے کا حق نہیں ہے ، آپ نے فرمایا کہ تم اگرچہ راضی تھے ؛ لیکن میں اس قیمت پر لینے سے راضی نہیں ؛ کیوں کہ ہم تمہارے لیے اسی قیمت کے عوض لینے پر راضی ہوں گے جس پر لینے کو ہم خود چاہتے ہیں ؛ لہٰذا تم کو تین باتوں میں سے ایک کو اختیار کرنا پڑے گا ، یا تو تم وہ گٹھرلے لو جس کی قیمت دس درہم ہے ، یا تم وہ نہیں لیتے اور اس موجود گٹھر کے لینے پر راضی ہوتو یہ زائد پانچ درہم لے لو ، یا پھر ہماراگٹھر واپس کردو اور اپنے درہم لے لو ، خریدار نے کہا کہ مجھے تو یہی گٹھر پسند ہے ، مجھے پانچ درہم دے دو ، آپ نے اسے ادا کیا اور وہ گٹھر اور پانچ درہم لے کر واپس ہوا ؛ لیکن اسے بہت تعجب ہوا ، اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیر خواہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن منکدرحمة الله علیہ ہیں۔ (حوالہ سابق، ص : 171 ) یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ یہ ایسی شخصیت ہیں کہ قحط سالی میں ان کی طفیل میں اگر بارش طلب کی جائے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو بارش سے نوازے گا ۔ (إحیاء علوم الدین : 80/2 ، الکسب والمعاش)

حضرت یونس بن عبید کے بارے میں آتا ہے کہ ان کا ایک غلام گنے کا کاروبار کرتا تھا ، ایک مرتبہ آپ کو معلوم ہوا کہ اس مرتبہ گنے کی فصل اچھی نہیں ہے ، آپ نے از راہ خیر خواہی اپنے غلام کو خط لکھا کہ گنا اس مرتبہ ضرور خریدو ؛ چناں چہ اس نے خرید لیا اور جب اس کے بیچنے کا وقت آیا تو تیس ہزار منافع کے ساتھ فروخت ہوا ، آپ جب گھر واپس ہوئے تو رات بھر سوچتے رہے کہ میں نے تیس ہزار کا نفع حاصل کرلیا اور مسلمان کے ساتھ جو مجھے خیر خواہی کرنی تھی وہ ہم سے رہ گئی ؛ چناں چہ وہ صبح سویرے بائع کے پاس پہنچے اور اسے تیس ہزار درہم دیا اور فرمایا : اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے ، اس نے عرض کیا کہ یہ مال مجھے کہاں سے آیا؟ آپ نے فرمایا کہ در اصل میں نے گنا خریدتے وقت تم کو حقیقت سے آگاہ نہیں کیا تھا ، اس وقت میں گنا مہنگا تھا ؛ لیکن تم سے ہم نے سستے دام پر خرید لیا تھا ، بائع آپ کی طے کردہ قیمت پر دل سے راضی تھا تو درہم لینے سے انکار کردیا ،آپ درہم لے کر واپس آگئے ، رات بھر پھر آپ کو نیند نہیں آئی اور یہ سوچتے رہے کہ شاید بائع کو مجھ سے حیا وشرم آئی ؛ اس لیے درہم لینے سے انہوں نے انکار کردیا ہوگا ، دوسرے دن صبح سویرے پھر بائع کے پاس پہنچے اور فرمایا : اللہ آپ کو صحت و عافیت سے رکھے آپ اپنا مال لے لیجیے ، میں خوش دلی سے آپ کو دے رہا ہوں ؛ چناں چہ انہوں نے لے لیا ، جب کہ وہ رقم تیس ہزار درہم تھی ۔ (حوالہ سابقہ ، ص :171)

ایک بزرگ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے ساٹھ قفیز اخروٹ ساٹھ دینار میں خریدا اور اپنے نوٹس بورڈ پر لکھا کہ اسے تین دینار منافع لے کر میں بیچوں گا ؛ لیکن اچانک اخروٹ کی قیمت میں اچھال آیا اور ساٹھ قفیز اخروٹ کی قیمت نوے دینار ہوگئی ، ایک نیک اور صالح خریدار اخروٹ خریدنے کے لیے آئے اور قیمت دریافت کی ، مالک نے تریسٹھ دینار قیمت بتائی ، خریدارنے کہا کہ اس کی قیمت بڑھ گئی، اب یہ نوے دینار میں فروخت ہورہا ہے ؛ اس لیے میں نوے دینار میں خریدوں ، مگر مالک تریسٹھ دینار ہی پر بیچنے پر مصر رہے اورخریدار نوے دینار دینے پر بضد تھے ، بالآخر کوئی اپنے موقف سے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوا اور بیع نہ ہوسکی اور دونوں طرف سے خیر خواہی کے جذبے نے بیع ہونے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو جدا کردیا ۔ (حوالہ سابقہ ، ص : 172) امام غزالی نے اس بزرگ کا نام سری سقطی لکھا ہے۔ (إحیاء علوم الدین :80/2 ، الکسب والمعاش) 

ابن سیرین بڑے اونچے درجے کے تابعین میں سے ہیں ، خواب کی تعبیر میں ید طولی حاصل تھا ، ورع و تقوی سے بھی ان کو حصہ وافر ملا تھا ، ایک مرتبہ انہوں نے اپنی ایک بکری ایک صاحب کے ہاتھ فروخت کی اور مشتری کو یہ بتایا کہ اس بکری میں ایک عیب ہے کہ یہ چارہ کو اپنے پاوٴں سے الٹتی پلٹتی ہے ؛(حوالہ سابقہ) حالاں کہ عام طور پر بکریوں میں یہ بات پائی جاتی ہے ، مگر نصح و خیر خواہی کا جذبہ ان پر اتنا غالب تھا کہ جو چیز فطرت و عادت کے قبیل سے ہواکرتی تھی اسے بھی سامنے والے کو بیان کردینا ضروری سمجھتے تھے اور اس کو چھپالینے اور نہ بیان کرنے کو خیر خواہی کے خلاف سمجھتے تھے ۔

حسن بن صالح مشہور محدث ہیں ، ورع و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ، بڑی محتاط زندگی گذارتے تھے ، امام بخاری نے ان سے استفادہ کیا ہے اور بخاری شریف میں ان کی احادیث ذکر کی ہیں ، ان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی ایک باندی فروخت کی تو مشتری سے فرمایا کہ اس میں ایک عیب ہے اور وہ یہ کہ ہمارے یہاں رہتے ہوئے اسے ایک مرتبہ ناک صاف کرتے وقت خون آیا تھا ۔ (إحیاء علوم الدین :77/2 ، کتاب آداب الکسب والمعاش) 

حضرت فضیل نے اپنے صاحب زادے کو دیکھا کہ دینار کو اچھی طرح دھو رہے ہیں اوراس پر جم جانے والی میل کو اچھی طرح صاف کررہے ہیں ؛ تاکہ اس کی وجہ سے وزن میں زیادتی نہ ہو ؛ کیوں کہ اس کی وجہ سے وزن میں اضافہ کرکے کسی کو دینا خیر خواہی کے خلاف ہے ، یہ دیکھ کر حضرت فضیل نے اپنے صاحب زادے کو مخاطب کرکے فرمایا :” یا بنیَّ، فعلک ہذا أفضل من حجتین وعشرین عمرة“․ (إحیاء علوم الدین ، کتاب آداب الکسب والمعاش: 77/2) 

” اے پیارے ! تمہارا یہ فعل دو حج اور بیس عمرہ سے بہتر ہے “ 

حسن بصری نے ایک صاحب کے ہاتھ ایک خچر چار سو درہم میں بیچا ، اس نے خچر پر قبضہ کرنے کے بعد کہا کہ کچھ سہولت کا معاملہ کیجیے ، حسن بصری نے سو درہم معاف کردیا ، اس نے مزید احسان کی درخواست کی تو آپ نے پھر سو درہم معاف کردیا اور مشتری سے صرف دو سو درہم لیا ، لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے تو صرف آدھی قیمت وصول کی اور آدھی قیمت مشتری کو معاف کردی ، انہوں نے فرمایا کہ احسان و خیر خواہی تو اسی کا نام ہے ، جسے کسی کے ساتھ احسان وخیرخواہی کرنی ہو تو اسی طرح کرنی چاہیے ۔ (حوالہ سابقہ ، ص : 81)

حضرت واثلہ بن اسقع رضي الله عنه ایک بائع کے پاس کھڑے تھے ، اس نے ایک صاحب کو ایک اونٹنی تین سو درہم میں فروخت کی ، آپ رضي الله عنه کو محسوس نہیں ہو ا، خریدار اونٹنی لے کر چلا بھی گیا ، جب حضرت واثلہ رضي الله عنه کو شبہ ہوا تو اس کے پیچھے دوڑے اور زور زور سے اسے آواز دینے لگے ، اس کے قریب پہنچ کر پوچھا کہ تم نے یہ اونٹنی گوشت حاصل کرنے کے لیے خریدی ہے یا سواری کے لئے ؟ اس نے کہا : سواری کے واسطے ، آپ رضي الله عنه نے فرمایا کہ اس کے کُھر میں سوراخ ہے ، جس کی وجہ سے یہ تیز نہیں چل سکتی ، مشتری بائع کے پاس آیا اور اسے لوٹانا چاہا ، مگر بائع سو درہم کم کرکے دو سو درہم پر دینے کے لیے راضی ہوگیا ، اور مشتری بھی اس پر راضی ہوگیا ، اب بائع نے حضرت واثلہ رضي الله عنه سے کہا کہ آپ رضي الله عنه نے تو میرے سو درہم کا نقصان کردیا ، آپ رضي الله عنه نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلمکے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کریں گے ، (إحیاء علوم الدین : 76/2، کتاب آداب الکسب والمعاش) اور عیب جانتے ہوئے نہ بتانا خیر خواہی کے خلاف تھا ؛ اس لیے میں مشتری کو وہ عیب بتانے پر مجبور تھا ۔

خیرخواہی کے تعلق سے ایک نہایت جامع حدیث ہے، جسے بہت سے حضرات نے ان چار احادیث میں سے شمار کیا ہے جن پراسلام کا مدار ہے، اور جن میں پورا دین سمٹ کر آگیا ہے، بلکہ علامہ نووی نے تو صرف اسی حدیث کو مدار دین قرار دیا ہے۔(شرح النووی علی مسلم ،حدیث نمبر:55، باب بیان ان الدین النصیحة) 

اس سے اس حدیث کی غیر معمولی عظمت واہمیت معلوم ہوتی ہے؛ اس لیے اس عنوان کے آخر میں وہ حدیث اور اس کی مختصر تشریح کا ذکرکردینا مناسب معلوم ہوتا ہے، حضرت تمیم داری رضي الله عنه حضورصلى الله عليه وسلمکا ارشاد نقل کرتے ہیں: ”الدین النصیحة، قلنا لمن؟ قال للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمة المسلمین وعامتہم“․ (مسلم، حدیث نمبر: 55، باب بیان ان الدین النصیحة)

دین خیرخواہی کانام ہے، ہم لوگوں نے عرض کیا کہ خیر خواہی کس کے ساتھ کی جائے؟ آپ صلى الله عليه وسلمنے ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ، اس کی کتاب کے ساتھ، اس کے رسول کے ساتھ، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے ساتھ۔

مطلب یہ ہے کہ نصح وخیرخواہی دین کا بنیادی ستون ہے، اس پر اسلام کا مدار ہے، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: ”الحج عرفة“․(ترمذی، حدیث نمبر: 889،باب ما جاء فیمن أدرک الإمام بجمع الخ) کہ حج کی بنیادی چیز اور اس کا اہم رکن عرفہ ہے۔( فتح الباری:94/11، کتاب الدعوات) ایک حدیث میں ہے کہ جس کی صبح وشام اس حال میں نہ ہو کہ وہ اللہ کا، اس کے رسول کا، اس کی کتاب کا ، ائمہ کا اور عام مسلمانوں کا خیر خواہ نہ ہو تو وہ مسلمانوں میں سے نہیں۔ (المعجم الصغیر للطبرانی ،حدیث نمبر: 907) (جاری)

اللہ کے ساتھ خیر خواہی

ایک حدیث قدسی میں ہے کہ میرے بندوں کی عبادت میں سے میرے نزدیک محبوب ترین عبادت میرے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے (مسنداحمدحدیث نمبر: 22191،مسند ابی امامہ) حضرت عبد اللہ ابن مبارک سے سوال کیا گیا کہ سب سے اچھا اور بہتر عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ خیر خواہی کرنا افضل وبہترعمل ہے۔(جامع العلوم والحکم 225/1) ابوثمامہ رضي الله عنه سابقہ مذہبی کتابیں پڑھا کرتے تھے، ان کا کہنا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام سے حواری حضرات نے دریافت کیا :اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیر خواہی کرنے والا کسے کہا جائے گا؟ آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے حق ادا کرنے سے پہلے خدا کا حق ادا کرتا ہو اور جب ایک ساتھ دو امور پیش آجائیں: ایک دنیا سے متعلق اور دوسرا آخرت سے متعلق تو آخرت کو ترجیح دے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد دنیا سے متعلق امر انجام دیا کرے۔(الزہد للوکیع، حدیث نمبر: 247) 



اللہ کے ساتھ خیر خواہی کا مفہوم

اللہ کے ساتھ خیرخواہی کا مطلب یہ ہے کہ اسکی ذات وصفات پر ایمان لائے، سارے صفات کمالیہ اور جلالیہ سے اسے متصف مانے اور تمام نقائص سے منزہ اور پاک سمجھے، اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اوامر کو بجالائے، نواہی کے ارتکاب سے خود کی حفاظت کرے، اللہ کے مطیع اور فرماں بردار بندوں سے دوستی کرے اور نافرمانوں سے دوری اور قطع تعلق کرے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر گذار رہے اور تمام معاملات کو اخلاص اور رضائے خداوندی کے جذبہ کے تحت انجام دیا کرے اور ان امور کی لوگوں کو بھی نرمی وشفقت کے ساتھ دعوت دے۔



اللہ کے ساتھ خیر خواہی کے درجات

علماء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیر خواہی کے دو درجات ہیں، پہلا درجہ فرض اور ضروری کا ہے کہ اس کے انجام دیے بغیر چارہ نہیں، مثلا: حتی الوسع فرائض کو ادا کرے، محرمات سے بچے اور اگر کسی مرض یا عذر کی بنا پر اسے انجام نہ دے سکے تو اس بات کا عزم مصمم رکھے کہ اعذار ختم ہوتے ہی ہم اس کو ضرور ادا کریں گے، قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ جو ضعیف وکمزور اور بستر مرض پر پڑے حضرات جہاد میں بنفس نفیس شریک نہ ہوسکیں، اسی طرح جو معاشی لحاظ سے کم زور ہوں اور جہاد میں شریک ہونے والوں پر خرچ نہ کرسکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ طاقت سے زیادہ احکام کا کسی کو مکلف نہیں بناتا۔(البقرہ: 286)اور ان حضرات کو چوں کہ جہاد میں شرکت کرنے کی سکت نہیں ہے، اور مال بھی نہیں ہے کہ مجاہدین کے لیے اسباب جہاد مہیا کرسکیں، اس لیے گناہ نہ ہونے کی وضاحت کردی گئی، البتہ عدم شرکت اور عدم انفاق کے باوجود دل سے خدا اور رسول کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ رکھنا بہر حال ضروری ہے اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو محسنین کی جماعت میں داخل ہیں اور خدا کی وسیع مغفرت ورحمت سے مستفید ہوں گے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: 


﴿لَیْْسَ عَلَی الضُّعَفَاء وَلاَ عَلَی الْمَرْضَی وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُونَ مَا یُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلّہِ وَرَسُولِہِ مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِن سَبِیْلٍ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْم﴾ (التوبہ: 91)
کم طاقت لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو خرچ کرنے کو میسر نہیں، جب کہ یہ لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ(اور احکام میں) خلوص رکھیں۔ (ان) نیکوکاروں پر کسی قسم کا الزام (عائد )نہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے، بڑی رحمت والے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اعذار وموانع کی وجہ سے دیگراعمال شرعیہ موٴخر اورکبھی ساقط بھی ہوجاتے ہیں، لیکن اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ نصح وخیر خواہی ایسا مامور بہ ہے جو کبھی ساقط نہیں ہوتا ہے، دل سے تو انسان اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ بہر صورت ہوسکتا ہے، اس سے اس مامور بہ کی مزید اہمیت واضح ہوتی ہے۔

اور خیر خواہی کا دوسرا درجہ نفل کہلاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی تمام تر محبوبات ومرغوبات کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کردے، دل میں اللہ کے مقابلے میں کسی اور کی محبت نہ ہو، اعضا وجوارح سے بھی صرف اس کے اوامر کو بجالایا جائے اور دنیا کی کسی چیز کو اللہ کے اوامرکے بجالانے میں حارج نہ سمجھاجائے اور اس پر دل میں فرحت وانبساط محسوس کرے، یہ درجہ بہت اونچاہے اور مقربین کو حاصل ہوا کرتا ہے۔(جامع العلوم والحکم220/1)

کتاب اللہ کے ساتھ خیر خواہی کا مفہوم
قرآن پاک خدا کی طرف سے بندوں کے لیے ایک پیغام ہے، اسے پڑھے، اس کے معانی ومطالب کو سمجھے، اس میں غوروفکر کرے، اس کے مطالبات پر عمل کرے اور ممنوعات ومحرمات سے بچے، جیسا کہ اپنے بڑوں اور عزیزوں کی طرف سے آئے ہوئے خطوط کو انسان سمجھنے اور اس کے مندرجات سے واقف ہونے کی کوشش کرتا ہے، اگر خود اس میں کام یاب نہیں ہوتا ہے کہ زبان سے واقف نہیں ہے، یا مضمون ہی سمجھ سے باہر ہے تو دوسروں کی خدمات حاصل کرتا ہے، لیکن بہرحال سمجھنے کی غیر معمولی کوشش کرتا ہے، یہی حال اس کا قرآن پاک کے ساتھ بھی ہونا چاہیے، خود اس زبان کو سیکھے اور اس کے مطالبات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اگر ابتدا میں ایسا نہ ہوسکے تو کوشش جاری رکھے اور واقف کار سے اس بارے میں راہ نمائی حاصل کرے، تلاوت کرنے میں اس کے حروف کی صحیح ادائیگی پر توجہ دے، غنہ، اخفاء، مد اور دیگر صفات کی رعایت کرتے ہوئے تلاوت کرے اور لحن جلی وخفی سے بچے ، آواز میں درد اور حسن پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اسے عام کرنے کی کوشش کرے، تاکہ دوسرے حضرات بھی اسی طرح تلاوت کریں اور اس کے معانی ومطالب کو سمجھیں۔

اللہ کے رسول کے ساتھ خیر خواہی کا مفہوم
حضورصلى الله عليه وسلم کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کی رسالت کی تصدیق کی جائے، اللہ کی طرف سے جو بھی پیغام لے کر وہ آئے ہیں ان پر ایمان لایا جائے، ان کے اوامر ونواہی کی بجا آوری کی جائے، ان کی تعظیم وتوقیر کی جائے، احادیث وسنت کی نشرواشاعت میں حصہ لیا جائے، علوم حدیث کی تحصیل میں جدوجہد کی جائے اور اس سے منتسب افراد کی بھی توقیر وتعظیم کی جائے، ان کے ساتھ ادب واحترام کا معاملہ کیا جائے، اہل بیت اور صحابہ کرام سے اظہار محبت اور عزت وتکریم کا برتاوٴ کیا جائے، بدعات کو رواج دینے، انہیں عملی جامہ پہنانے اور صحابہ کی شان میں بے ادبی کرنے والوں سے نفرت کا اظہار کیا جائے اور اخلاق وعادات میں حضورصلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام کواپنا نمونہ بنا جائے۔

علامہ آجری فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول  کے ساتھ خیر خواہی کی دوصورتیں ہیں، ایک تو وہ حضرات ہیں جنہوں نے آپ  کو دیکھا، آپ ﷺ کی صحبت سے مستفید ہوئے اور ایک وہ ہیں جو آپ  کے بعد آئے جو آپ  کا دیدار نہ کرسکے، تو جن حضرات نے آپ  کا زمانہ پایااور جنہیں عرف عام میں صحابہ جیسے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے یہ لازم کیا تھاکہ آپ  کی وہ توقیر وتعظیم کریں، نصرت وحمایت کریں،آپ  کی باتوں کو غورسے سنیں اور اس پر عمل کریں، ا ن حضرات نے اپنی یہ ذمہ داری بحسن وخوبی ادا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی وفاداری کی تعریف کرکے اس پر مہر تصدیق ثبت فرمادی۔

اور جو حضرات آپ  کے زمانے میں نہ تھے، بعد میں آئے مثلا: تابعین، تبع تابعین اور بعد میں آنے والے حضرات تو ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ  کی سنت کو محفوظ کریں، آپ کی امت تک اسے پہنچائیں اور احکام شریعت سے ان کو واقف کرائیں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کریں، اگر وہ ان ذمہ داریوں کو نبھائیں گے توہ وہ وارثین انبیاء کہلائیں گے۔ (شرح بخاری لابن بطال 131/1) ، باب الدین النصیحة) 

ائمہ مسلمین کے ساتھ خیر خواہی اور احادیث
ائمہ مسلمین میں مسلمان حکام اور علماء دونوں داخل ہیں، دونوں کے ساتھ خیر خواہی اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا مستقل حکم ہے، ائمہ مسلمین کا متبادر معنی چوں کہ مسلمان حکم راں ہے؛ اس لیے ان کے تعلق سے احادیث میں جو تاکید ہے اسی طرح ان کے ساتھ خیر خواہی کا جو مفہوم ہے اسے مختصر طور پر ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے، حضرت ابوہریرةؓ آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین باتوں سے خوش ہوتے ہیں اور تین باتوں سے ناراض ہوتے ہیں، جن تین باتوں سے خوش ہوتے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراوٴ، دوسرے یہ کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو اور تیسری بات یہ ہے کہ اپنے حکم رانوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرو اور جن تین باتوں سے اللہ کو ناراضگی ہوتی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان قیل وقال کرنا شروع کردے، مال ضائع کرنے لگے اور سوال کی کثرت کردے۔ (مسند احمد حدیث نمبر: 8799، مسند ابی ہریرہ) اور حضرت زید بن ثابت رضي الله عنه آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ تین صفات ایسی ہیں جن کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کبھی بھی دغا نہیں کرسکتا، عمل میں اخلاص، مسلمانوں کے حکام کے ساتھ خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ مل کر رہنا، کیوں کہ جماعت مسلمین کی دعائیں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ (مسند احمد حدیث نمبر: ۲۱۵۹، مسند زید بن ثابت) حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ ایک صاحب نے حضرت عمر بن خطاب رضي الله عنه سے دریافت کیا کہ میرا ملامت کرنے والوں کی ملامت سے خوف کھانا بہتر ہے یا اس سے بے پروا ہو کر اپنے کام کی طرف متوجہ رہنا اچھا ہے؟ جو اب میں آپ رضي الله عنه نے فرمایا کہ جو حاکم وقت ہو، اور مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار ہو، اسے تو اپنا کام کرتے رہنا چاہیے اور ملامت کرنے والوں کی ملامت سے خوف نہیں کھانا چاہیے اور جو حاکم وقت نہ ہو اور کوئی ذمہ داری اس پر نہ ہوتو وہ اپنی اصلاح میں لگا رہے اور اپنے امیر اور حاکم وقت کے ساتھ خیر خواہی کرتا رہے۔ (التمہید لابن عبد البر285/21) 

ائمہ مسلمین کے ساتھ خیر خواہی کا مفہوم
مسلمان حکام کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ صحیح کاموں میں ان کا تعاون کیاجائے، ان کے احکام مانے جائیں، لوگوں کو بھی ماننے پر آمادہ کیاجائے، حدود سے تجاوز کرنے پر نرمی وملاطفت کے ساتھ انہیں نصیحت کی جائے اور مسلمانوں کے معاملات بہتر طور پر حل کرنے کی تلقین کی جائے، ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کیاجائے ، لوگوں میں ان کی محبت عام کرنے کی کوشش کی جائے۔ امام خطابی فرماتے ہیں کہ ان کے ساتھ خیر خواہی میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے، ان کے جھنڈے تلے جہاد کیا جائے اور اموال زکوٰة بیت المال میں جمع کیا جائے اور اگر ان کی طرف سے ظلم ہونے لگے تو پند ونصائح سے اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائی جائے، ان کے حق میں خیر وصلاح کی دعا کی جائے، ان کی واقعی تعریف کی جائے، خلاف واقعہ تعریف کرنے سے گریز کیاجائے، ان کے بارے میں لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں ہوں تو انہیں زائل کرنے کی جدوجہد کی جائے اور ان کے ساتھ حسن ظن سے کام لیا جائے۔

ائمہ مسلمین کو نصیحت کب کی جائے؟
حضرت مالک بن انس سے پوچھا گیا کہ حکام وقت کے پاس آدمی بغرض وعظ ونصیحت جا سکتا ہے، تاکہ اسے امور خیر کی طرف راہ نمائی کی جاسکے؟ آپ نے فرمایا کہ جب قبول کرنے کی توقع ہو تو جانا چاہیے اور اگر ایسی توقع نہ ہو تو پھر ان کے یہاں پندو نصیحت کے لیے جانا ضروری نہیں ہے۔(التمہید لابن عبد البر285/21) حضرت ابو عمرو فرماتے ہیں کہ اگر حکام وقت کو پندو نصیحت کرنے پر قادر نہ ہوتو صبر کرے اور صلاح وتقوی کی دعا کرے۔ (حوالہ سابقہ) 

ائمہ مسلمین کو نصیحت کیسے کرے؟
ائمہ مسلمین کو نصیحت کرنے میں بڑی نزاکت ہے، ایک طرف ان کی حیثیت عرفی کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کو حق کی اطاعت کرنے پر آمادہ کرنا ہوتا ہے، بسا اوقات بھرے مجمع میں ٹوکنا ان کی حیثیت عرفی پر حملہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے، اس لیے تنہائی اور خلوت میں ان کو نصیحت کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے، حضور اکرم صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد ہے کہ جو شخص حاکم کو کسی معاملہ میں پندونصیحت کرنا چاہے تو علی الاعلان نصیحت نہ کرے، بلکہ تنہائی میں نصیحت کرے، اگر اس نے قبول کر لیا تو مقصد حاصل ہوگیا، ورنہ تو تم نے اپنی ذمہ داری ادا کردی۔ (مسند احمد، حدیث نمبر: 15333، ومن حدیث ہشام بن حکیم) اس حدیث کی بنا پر علما نے لکھا ہے کہ حکام وقت کو نصیحت خلوت میں کی جائے، علانیہ نہ کی جائے، کیوں کہ نصیحت کے مفہوم ہی میں خیرداخل ہے، اور سراً نصیحت کرنے میں خیر کا پہلو غالب ہوا کرتا ہے، اس لیے اس کو ترجیح دینی چاہیے، البتہ کسی منکر پر انکار علانیہ ہوا کرتا ہے؛ اس لیے انکار تو علانیہ کرنا چاہیے، آپ صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد ہے کہ جو کسی منکر کو دیکھے تو اس کی اصلاح اپنے ہاتھ سے کرے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے کرے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے اسے بُرا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔ (مسلم، حدیث نمبر: 49، باب بیان کو ن النہی عن المنکر من الایمان الخ) اور تنہائی میں نصیحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات صرف ناصح اور منصوح کے علم میں ہو، دوسرے حضرات اس پر آگاہ نہ ہوسکیں، لہٰذا اگر کسی نے نصیحت تو تنہائی میں کی، لیکن بعد میں لوگوں کے سامنے واضح کردیا کہ میں نے حاکم وقت کو ایسا ایسا کہا ہے اور اس کے تحت انہوں نے فلاں حکم جاری کیا ہے، تو پھر یہ تنہائی کی بات نہیں ہے، بلکہ علانیہ ہوگئی، اس لیے اس سے ہر ناصح کو بچنا چاہیے اور اس کو اپنی فضیلت وبزرگی میں اضافہ کا ذریعہ نہ سمجھا جائے، کیوں کہ اس سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور حکام وقت کو اپنی ہتک عزت محسوس ہوتی ہے، اور پھر وہ نصیحت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ حضرت ابن عباس رضي الله عنه سے پوچھا گیا کہ حاکم وقت پر علانیہ انکار کیا جاسکتا ہے؟ آپ رضي الله عنه نے فرمایا: ایسا نہ کرو، ان کو نصیحت کرنی ہو تو تنہائی میں کرو۔( جامع العلوم والحکم 225/1) بخاری کی روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدرضي الله عنه   کے پاس ایک جماعت آئی اور کہا کہ آپ حضرت عثمان رضي الله عنه کو نصیحت کیوں نہیں کرتے ہیں؟ آپ رضي الله عنه فرمایا کہ میں ان کو نصیحت کر چکا ہوں ؛لیکن میں علانیہ نکیر کر کے فتنہ کا دروازہ نہیں کھولوں گا۔(بخاری مع فتح الباری، حدیث نمبر: 7098 ،باب الفتنة التی تموج) اسی لیے سلف صالحین جب کسی کو نصیحت کرتے تھے تو تنہائی میں کرتے تھے، حضرت امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ جو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے تو وہ واقعی خیر خواہ ہے اور جو علانیہ نصیحت کرتا ہے وہ فضیحت کرتا ہے۔ (مرقاة المفاتیح، باب الامر بالمعروف ،حدیث نمبر: 5137) حضرت ابن عباس رضي الله عنه سے پوچھا گیا کہ حاکم وقت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا جائے یا نہیں؟ آپ رضي الله عنه نے فرمایا کہ اگر تم کرنا چاہتے ہو تو تنہائی میں کرو، علانیہ نہ کرو۔(جامع العلوم والحکم 225/1) ایک صاحب نے مامون کو نصیحت کی اور اس نے سخت وسست جملے استعمال کیے، مامون نے کہا کہ تم سے بہتر آدمی نے مجھ سے زیادہ شریر شخص کو نصیحت کی تھی، مگر ان کو حکم تھا کہ نرمی وملاطفت سے نصیحت کرنا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کو نبی بنا کر فرعون کے پاس بھیجا تھا، لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا تھا:
﴿فَقُولَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّنًا لَّعَلَّہ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشٰی﴾ (طہ:44)
پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ (برغبت) نصیحت قبول کرلے، یا (عذاب الہی سے) ڈر جائے۔ 

ماتحتوں کی رعایت
جس طرح اسلام نے امیر اور حاکم وقت کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی اطاعت فرماں برداری کا پابند بنایا ہے، اسی طرح امیر وحاکم کو بھی اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، جو حاکم وذمہ دار اپنے ماتحتوں سے غفلت برتتا ہے، اس کے بارے میں بڑی وعیدیں آئی ہیں، حضرت معقل بن یسار رضي الله عنه آپ صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جس انسان کو کسی جماعت کا نگراں بنایا گیا اور وہ اس کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ نہیں کرتا ہے تو وہ جنت کی خوش بو بھی نہیں پائے گا۔ (بخاری، حدیث نمبر: 7150، باب من استرعی الخ) اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔ (مسلم، حدیث نمبر: 142 ،باب استحقاق الوالی) اور ایک روایت میں ہے کہ ایسا حاکم اپنے ماتحتوں کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔ ( مسلم، حدیث نمبر: 142، باب استحقاق الوالی) حضرت ابن عمر رضي الله عنه آپ صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ذمہ دار سے اس کے ماتحت کے متعلق سوال ہوگا، مرد اپنے گھروالوں کا ذمہ دار ہے، اس سے ان کے متعلق سوال ہوگا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا، سن لوکہ ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ذمہ دار سے اس کے ماتحت کے بارے میں سوال ہوگا،(بخاری، حدیث نمبر: 2409، باب العبد راع فی مال الخ) اس لیے حاکم وقت کو بھی اپنی رعایا کے تعلق سے ہروقت فکر مند رہنا چاہیے، ان کے مسائل سے دل چسپی لینی چاہیے، ان کے دکھ در د اور آلام ومصائب میں شریک رہنا چاہیے، ان کے ساتھ خیر خواہی کا برتاوٴ کرنا چاہیے، ان سے صرف کام لینے کا طریقہ جاننے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ ان کے آرام، ذاتی ضروریات اور پیش آمدہ مسائل پر بھی سنجیدگی سے غور کر نا چاہیے۔

عامة المسلمین کے ساتھ نصیحت کا مفہوم
عامة المسلمین کے ساتھ نصح وخیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مصالح اور نفع بخش امور کی طرف راہ نمائی کی جائے، ان کے عیوب کی پردہ پوشی کی جائے، کم زوریوں کو دور کرنے پر توجہ دی جائے، دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کی جائے، دھوکہ نہ دیاجائے اور حسد اور کینہ ان سے نہ رکھا جائے، ان کی لیے وہی چیز پسند کی جائے جو اپنے لیے پسند ہو، اگر وہ فسق وفجور میں مبتلا ہوں تو نرمی کے ساتھ ان کو سمجھا یاجائے، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا اکرام کیاجائے، ان کی عزت وآبرو پرحرف آرہا ہو یا مال ودولت پر کسی قسم کا حملہ ہورہا ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے، محتاجوں کی مدد کی جائے، جاہلوں کی جہالت کو ختم کرنے کی جدوجہد کی جائے، اگر اپنی دنیا کا نقصان کرکے بھی دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی شکل بن سکتی ہو تو اس سے بھی گریز نہ کیاجائے،سلف صالحین کہا کرتے تھے کہ اگر مخلوق اللہ کی اطاعت وفرماں بردای میں لگ جائے اور اس کے نتیجے میں میرے جسم کا گوشت قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو بھی میں اس پر تیار ہوں (جامع العلوم والحکم223/1) 

حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے تھے کہ کاش! میں خدائی حکم کو روئے زمین پر نافذ کرتا اورمیں بھی اس پر عمل کرتا اور لوگ بھی اس کی پابندی کرتے اور اس کے نتیجے میں میرا ایک ایک عضو گرتارہتا، حتی کہ آخری حکم کی تنفیذ کے ساتھ میری روح بھی تن سے جدا ہوجاتی ۔(جامع العلوم والحکم 223/1)

کاش ! نصح وخیر خواہی کے بارے میں ایسے ہی بلند خیالات ہم لوگوں میں بھی عام ہو جائیں اور ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں اس پرعمل پیرا ہوجائے، تاجر اپنی تجارت میں، کارخانے کامالک اپنی ایجادات میں، معلم اپنے شاگرد کے بارے میں، باپ اپنے بیٹے اور افراد خانہ کے بارے میں، شوہر اپنی شریک حیات کے بارے میں، کاشت کار اپنی زراعت میں، طالب علم اپنے مذ۱کرہ اور اپنے مدارس وجامعات کے بارے میں، معالج مریض کے حق میں اور آجر مزدور کے حق میں ویسا ہی خیر خواہ بن جائے تو یہ دنیا جنت نشاں بن جائے گی اور کسی کو دوسرے سے تکلیف نہیں پہنچے گی اور ہر ایک بھائی بھائی بن کر زندگی گذارے گا۔

نصیحت کے وقت درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھے
نصیحت کرتے وقت اگر چند باتوں کو ناصح ملحوظ رکھے تو اس سے فائدہ کی توقع زیادہ ہے۔

نرمی وملاطفت سے نصیحت کرے، خفگی کا اظہار نہ کرے، سخت وسست جملوں کے استعمال سے پرہیز کرے، بسا اوقات خشونت ودرشتی سلجھے ہوئے کاموں کو بھی الجھادیتی ہے،۔

موقع ومحل دیکھ کر نصیحت کرے، بے موقع نصیحت کا اثر الٹا پڑتا ہے، بے محل گفتگو کرنے سے بھی مخاطب پر اچھا اثر نہیں پڑتا ہے اور ایک طرح کا تکدر پیدا ہوجاتا ہے، جو قبولِ نصیحت کے لیے مانع بن جاتا ہے۔

نصیحت ایک کڑوی چیز ہے، اس لیے ناصح کو حکمت سے کام لینا چاہیے، نصیحت کے لیے عمدہ الفاظ اور اچھے اسلوب کو اختیار کرنا چاہیے، اسی لیے قرآن پاک میں حکمت اور موعظہٴ حسنہ کے ساتھ دعوت دینے کی تلقین کی گئی ہے اور اسے پہلے اور دوسرے نمبر پر ذکر کیا گیا ہے، جب کہ جدال حسن کو تیسرے نمبر پر جگہ دی گئی ہے۔(النحل: 125)

نصیحت کرتے وقت ناصح خود کو مخاطب سمجھے، سامنے والے شخص کو مخاطب نہ سمجھے، ایک مرتبہ حضرت حسین وحسن رضی الله عنہما نے ایک بوڑھے شخص کو صحیح طور سے وضو نہ کرتے ہوئے دیکھا تو ان میں سے ہر ایک وضو کرنے لگے اور بوڑھے سے کہا کہ آپ ہم دونوں کے بارے میں فیصلہ کریں کہ کون صحیح وضوکرتا ہے، بوڑھے نے غور سے دیکھنے کے بعد کہا کہ تم دونوں صحیح کرتے ہو، میں نے ہی غلط وضو کیا تھا۔ اس حکمت سے ان دونوں نے ایک بوڑھے کو نصیحت کی اور اسے احساس بھی نہیں ہوا۔

نصیحت کا جواب اگر تلخی سی ملے تو ہمت نہیں ہارنی چاہیے، ناصح کی ہمیشہ یہی تاریخ رہی ہے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک کے بجائے بد سلوکی کی گئی ہے، پھولوں کے تاج کے بجائے کانٹوں کا تاج پہنایا گیا ہے، اسے خیر خواہ سمجھنے کے بجائے بدخواہ سمجھاگیا ہے، انبیاء اور مصلحین قوم کی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے، اس لیے کام کرتے رہنا چاہیے ، ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔




 



عہدِ نبوی میں نظامِ تعلیم وتربیت کی اہمیت


 


          حضرت محمدِ عربی  جس زمانے میں پیدا ہوئے اس وقت مکہ بت پرستی کا سب سے بڑا مرکز تھا۔کعبہ میں تین سوساٹھ بت تھے۔حضور  کے خاندان کا تمغہٴ امتیاز صرف یہ تھا کہ اس صنم کدے کے متولی اور کلید بردار تھے ۔ آں حضرت  نے کبھی بتوں کے آگے سر نہیں جھکایا۔مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک غار تھا۔ جسے حراء کہتے ہیں، آپ وہاں جاکر قیام فرماتے اور مراقبہ کرتے۔ کھانے پینے کا سامان لے جاتے، بخاری شریف کی روایت کے مطابق آپ غارِ حرا میں ”تحنث“ یعنی عبادت کیا کرتے تھے۔علماء نے لکھا ہے کہ یہ عبادت غور و فکر اور عبرت پذیری تھی؛ چنانچہ اس غار میں آپ کو نبوت کے عظیم ترین منصب پر فائز کیا گیا۔ نبوت کے بعد جو حالات پیش آئے وہ کسی بھی طالبِ سیرت کی نگاہ سے مخفی نہیں ہے؛ چنانچہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی متعین تعلیمی و دعوتی مرکز نہ تھا، جہاں رہ کر وہ اطمینان اور سکون کے ساتھ اپنی دعوتی سرگرمیوں کو جاری رکھتے۔ در حقیقت مکی دور میں خود رسول  کی ذاتِ اقدس ہی متحرک درس گاہ تھی۔ سفر و حضر، دن اور رات ہر حال اور ہر مقام میں آپ  ہی کی ذات دعوت و تبلیغ تھی۔ صحابہٴ کرام عام طور پر چھپ کر ہی قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے ۔کفارِ مکہ کی ستم رانیوں کے باوجود رسول اللہ  کے صحابہٴ کرام  اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے۔ مکی دور کے ایسے مقامات اور حلقہ جات کو دعوت و تبلیغ کے مراکز سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جہاں حالات کی نزاکت اور ضرورت کے مطابق کسی نہ کسی انداز میں اسلام کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا رہا، بنا بریں۔سطور ذیل میں مکے کے تعلیمی و تربیتی نظام پر روشنی ڈالی جائے گی۔
 درس گاہ بیت ابو بکر
          مکی دور میں دعوت و تبلیغ کا اولین مرکز حضرت صدیق اکبر کا گھر تھا، آپ نے گھر کے صحن کومسجدبنارکھا تھا۔ ابتدا میں یہ ایک کھلی جگہ تھی جس میں آپ قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھا کرتے تھے۔ عام طور پر آپ بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو کفارِ مکہ کے بچے اور عورتیں ان کے گرد جمع ہوکر قرآن سنتے۔ جس سے وہ خود بخود اسلام کی طرف مائل ہوتے۔ یہ صورتِ حال مشرکینِ مکہ کو بھلا کب گوارا تھی؛ چنانچہ انھوں نے حضرت ابوبکر کو سخت اذیت میں مبتلا کیا، جس کی وجہ سے آپ نے مکہ سے ہجرت کا ارادہ کرلیا؛ مگر راستے میں قبیلہٴ قارہ کے رئیس ابن الدغنہ سے ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا اے ابوبکر کدھر کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایاقوم نے مجھے ہجرت پر مجبور کردیا ہے، اب دنیا کی سیر کروں گا اور کسی گوشہ میں اطمینان سے اپنے رب کی عبادت کروں گا؛ مگر ابن الدغنہ یہ کہہ کر آپ کو واپس لے آیا کہ آپ جیسے باکردار شخص کو ہجرت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور پھر حضرت صدیق اکبر کے لیے اپنی پناہ کا اعلان کیا۔ ابوبکر واپس تشریف لے آئے اور گھر کے صحن میں باقاعدہ مسجد بنالی:(۱)
          مسجد ابی بکر میں نہ کوئی مستقل معلم مقرر تھا اور نہ کوئی باقاعدہ طالب علم تھا؛ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے یہ مسجد تعلیم و تربیت اور دینی مسائل سیکھنے کے لیے مکی دور کی اولین درس گاہ تھی اوریہیں سے تبلیغی خدمات انجام دی جاتی تھیں، نیز یہاں کفار مکہ کے بچے بچیاں اور عورتیں قرآن کے آفاقی پیغام کو سنتے تھے اور مائل بہ اسلام ہوتے تھے:
          ”حضرت ابوبکر رقیق القلب انسان تھے، جب قرآن پڑھتے تو روتے، اس وجہ سے آپ  کے پاس لڑکے، غلام اور عورتیں کھڑی ہوجاتیں، اور آپ کی اس ہئیت کو پسند کرتے، قریش کے چند لوگ ابن الدغنہ کے پاس گئے اور اس سے کہا : اے ابن الدغنہ تو نے اس شخص کو اس لیے تو پناہ نہیں دی تھی کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچائے۔ وہ ایسا شخص ہے کہ جب نماز میں وہ کلام پڑھتا ہے جو محمد  کا لایا ہوا ہے تو اس کا دل بھر آتا ہے اور وہ روتا ہے۔ اس کی ایک خاص ہیئت اورطریقہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں بچوں، عورتوں اور دیگر لوگوں کے متعلق خوف ہے کہ کہیں یہ انھیں فتنے میں نہ ڈال دے؛ اس لیے تو اس کے پاس جا اور حکم دے کہ وہ اپنے گھر کے اندر رہے اور اس میں جو چاہے کرے“۔
          چنانچہ ابن الدغنہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کہ یا تو آپ اس طریقے سے باز آجائیں یا میری پناہ مجھے واپس لوٹادیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں نے تیری پناہ تجھے واپس کردی۔ میرے لیے اللہ کی پناہ کافی ہے(۲)۔
درس گاہ بیتِ فاطمہ
          اسی طرح فاطمہ بنت خطاب کا گھر بھی دینی، تبلیغی،دعوتی، اور تربیتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ حضرت عمر بن خطاب کی بہن ہیں جنہوں نے ابتدائی دور میں ہی اپنے خاوند سعید بن زید سمیت اسلام قبول کرلیا۔ یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر میں ہی حضرت خباب بن الارت سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ حضرت عمر ایک دن اسلام لانے سے پہلے تلوار لیے ہوے رسول اللہ  کے قتل کے ارادے سے نکلے؛ لیکن راستے میں اپنی بہن اور بہنوئی کے مسلمان ہونے کی خبر ملی تو انتہائی غصے کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لے کر ان کے مکان پر پہنچے تو ان کو قرآن کی تلاوت اور تعلیم میں مشغول پایا ابن اسحاق نے لکھاہے :
          وَعِنْدَھُمَا خباب بنُ الارْتِ مَعَہ صحیفة فیھا طہ یقرھما ایاھا(۳)
          ”ان دونوں کے پاس خباب بن الارت تھے جن کے پاس ایک صحیفہ تھا جس میں سورہٴ طہ لکھی ہوئی تھی جو وہ ان دونوں کو پڑھا رہے تھے۔“
           حضرت عمر کی زبانی منقول ہے کہ رسول اللہ  نے میرے بہنوئی کے یہاں دو مسلمانوں کے کھانے کا انتظام کیا تھا، ایک خباب بن الارت اور دوسرے کا نام مجھے یاد نہیں۔ خباب بن الارت میری بہن اور بہنوئی کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کو قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ (۴) اس سلسلہ میں حضرت عمر کا یہ بیان ہے:
          وکان القوم جُلوساً یقروٴن صحیفةً معہم(۵)
          ”اور ایک جماعت بیٹھ کر صحیفہ پڑھ رہی تھی جوان کے پاس موجود تھا“
          بیت فاطمہ بنت خطاب کو مکی دور میں قرآن مجید کی تعلیم و اشاعت کا مرکز کہا جاسکتا ہے جہاں کم از کم دو طالب علم اور ایک معلم تھا۔ اور اگر حضرت عمر کے بیان میں لفظ ”قوم“ کا اعتبار کیا جائے تو یقینی طور پر یہاں قرآن پڑھنے والی ایک پوری جماعت کا پتہ چلتا ہے۔
درس گاہِ شعب ابی طالب
          کفارِ مکہ کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے وحشیانہ جبر و تشدد سے اسلام کی اس تحریک کو موت کی نیند سلادیں گے؛ لیکن جب ان کی تمام مساعی اور تدبیروں کے باوجود اسلام کا دائرہ پھیلتا ہی چلا گیا اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت حمزہ  اور عمر جیسے لوگوں نے بھی اسلام قبول کرلیا اور نجاشی کے دربار میں بھی ان کے سفیروں کو ذلت آمیز ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس چوٹ نے کفار مکہ کو مزید حواس باختہ کردیا؛ چنانچہ ان لوگوں نے طویل غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ  اور ان کے خاندان کو محصور کرکے تباہ کردیا جائے؛ چنانچہ تمام قبائل نے ایک معاہدہ کیاکہ کوئی شخص خاندان بنی ہاشم سے قربت کرے گا؛ نہ ان کے ہاتھ خرید و فروخت کرے گا اور نہ ہی ان کے پاس کھانے پینے کا سامان جانے دے گا۔ یہ معاہدہ لکھ کر کعبة اللہ کے دروازے پر آویزاں کردیاگیا(۶)۔
          حضرت ابو طالب مجبور ہوکر رسول اللہ  اور تمام خاندان بنی ہاشم سمیت شعب ابی طالب میں محرم ۷/نبوی میں محصور ہوگئے۔ رسول اللہ  نے اپنے خاندان سمیت اس حصار میں تین سال بسر کیے۔ ایامِ حج میں چونکہ تمام لوگوں کو امن کی خواہش تھی؛ اس لیے حج کے موسم میں رسول اللہ  شعب ابی طالب سے باہر نکل کر مختلف قبائلِ عرب کو دعوت دیتے؛ جبکہ باقی اوقات میں آپ  اسی گھاٹی میں مسلمانوں کی تربیت فرماتے۔ شعب ابی طالب میں خاندانِ بنی ہاشم کے علاوہ صحابہٴ کرام کی موجودگی کے اشارات بھی ملتے ہیں۔ امام سہیلی نے سعد بن ابی وقاص کا بیان نقل کیا ہے جو خود بھی محصور ین میں شامل تھے۔ وہ فرماتے ہیں:
          ”میں ایک دن از حد بھوکا تھا۔ رات کو اندھرے میں میرا پاوٴں کسی گیلی چیز پر آگیا میں نے اسے اٹھا کر منہ میں ڈالا اور نگل لیا۔ مجھے اتنا ہوش بھی نہ تھا کہ میں پتہ کرتا کہ وہ کیا چیز ہے اور اب تک مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں“(۷)۔
          اسی طرح حضرت عتبہ بن غزوان نے ایک دفعہ خطبہٴ جمعہ میں ارشاد فرمایا:
          ”میں رسول اللہ  کے ساتھ ساتواں مسلمان تھا اور ہمارے پاس کھانے کے لیے درختوں کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا، حتی کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں“(۸)۔
درس گاہِ دارارقم
          حضرت ارقم بن ابی ارقم ابتدائی دور میں اسلام لانے والوں میں سے ہیں، حافظ ابن حجر نے بھی الاصابہ میں ابن سعد کے قول کو ہی اختیار کیا ہے؛ تاہم ابن الاثیرکے مطابق حضرت ارقم کا قبول اسلام میں دسواں یا بارہواں نمبر ہے(۹)۔
          وَکَانَتْ دَارُہ عَلَی الصَّفاء(۱۰) ”مکہ میں ان کا مکان کوہِ صفا کے اوپر تھا“۔
          دارِارقم کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے اس مکان کو اسلامی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مکان ”دارُالاسلام“ کے متبرک لقب سے بھی یاد کیا جا تا ہے(۱۱)۔
          مشرکینِ مکہ جب اسلام کے پھیلاوٴ کو کسی طرح بھی نہ روک سکے تو انھوں نے کمزور مسلمانوں پر عرصہٴ حیات تنگ کردیا۔ رسول اللہ  اور مسلمانوں کو بیت اللہ میں آزادانہ نماز ادا کرنے سے روکتے، ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن میں خلل انداز ہوتے۔ دست درازی کرتے اور اکثر ان کا رویہ انتہائی گستاخانہ ہوتا تھا۔ حالات اس قدر نازک ہوچکے تھے کہ مسلمانوں کے لیے گوشوں اور گھاٹیوں تک میں محفوظ اور آزادانہ طور پر عبادت اور نماز کا ادا کرنا ممکن نہ تھا۔
          ”ایک دفعہ مسلمان مکہ کی گھاٹی میں نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین کے ایک گروہ نے انھیں دیکھ لیا اور ان کو سخت سست کہنا شروع کیا۔ بات بڑھتے بڑھتے لڑائی تک پہنچ گئی اور حضرت سعد بن ابی وقاصنے ایک شخص کو اونٹ کی ہڈی کھینچ ماری جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ یہ پہلا خون تھا جو اسلام کے بارے میں بہایا گیا“(۱۲)۔
          یہ وہ سنگین حالات تھے جن میں رسول اللہ  مسلمانوں کو لے کر ”دارارقم“ میں پناہ گزیں ہوگئے؛ تاکہ مسلمان پورے انہماک سے اپنے رب کے حضور اپنی جبینِ نیاز کو جھکاسکیں؛ چنانچہ جلد ہی ”دار ارقم“ دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، جہاں پر نہ صرف لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا جاتا تھا؛ بلکہ ان کی مناسب تعلیم و تربیت اور تزکیہٴ نفس بھی کیا جاتا تھا۔ابن سعد اسدالغابہ میں اس کی تائید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
          ”رسول اللہ  ابتدائے اسلام میں اس مکان میں رہتے تھے، لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور بہت سے لوگ یہاں مشرف بہ اسلام ہوئے“(۱۳)۔
          صاحب طبری نے بھی مکی عہدِ نبوت میں دارارقم کو دعوتی،تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کا مرکز قرار دیاہے، جہاں پر کثیر لوگوں نے اسلام قبول کیا؛ چنانچہ حضرت ارقم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
          وَکَانَتْ دَارُہ عَلَی الصَّفَا، وَہِيَ الدَّارُ الَّتِي کَانَ النَّبِیُّ  یَکُوْنُ فِیْہَا فِیْ أوَّلِ الاِسْلاَمِ وَفِیْہَا دَعَا النَّاسَ الیَ السَّلامِ فَأسْلَمَ فِیْہَا قَوْمٌ کَثِیْرٌ(۱۴)
          ”حضرت ارقم کا گھر کوہِ صفا پر واقع تھا، آغازِ اسلام میں رسول اللہ  اسی گھر میں رہا کرتے تھے، یہیں آپ  لوگوں کودعوتِ اسلام دیا کرتے تھے اور یہاں پر بہت سے لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے“
          تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دارارقم تعلیمی و تربیتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ مکی عہد میں دعوتی انتظام و انصرام کا بھی مر کز تھا۔
          ”یہ ارقم بن ابی ارقم وہی ہیں جن کے گھر میں رسول اللہ  مکہ مکرمہ میں قریش سے پوشیدہ مقیم رہتے تھے۔ کھل کر سامنے آنے سے قبل، اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ حضرت ارقم کا یہ مکان مکہ میں کوہِ صفا پر واقع تھا؛ چنانچہ یہاں پر بہت بڑی جماعت نے اسلام قبول کیا“(۱۵)۔
          دارارقم کومرکزِ اسلام بننے کے بعد دعوت و تبلیغ کا کام قدرے اطمینان کے ساتھ ہونے لگا۔ دعوتِ اسلام کا یہ وہ مرحلہ ہے جس میں مکہ مکرمہ کے بے کس، غریب اور غلام اس نئی تحریک میں اپنی دنیاو آخرت کی نجات تصور کرتے ہوئے داخل ہوتے تھے۔
          نیز دارارقم نہ صرف ضعفائے اسلام کی جائے پناہ تھی؛ بلکہ یہاں صحابہٴ کرام کی تعلیم و تربیت کے ساتھ اجتماعی طور پر عبادات، ذکر اللہ اور دعاوٴں کا سلسلہ ہمہ وقت جاری رہتا تھا۔اس میں وہ دعا خصوصیت سے قابل ذکر ہے جو رسول اللہ  نے عمر بن خطاب اور (ابوجہل) عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کے قبولِ اسلام کے لیے مانگی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دن حضرت عمر (معاذ اللہ) رسول اللہ  کو قتل کرنے کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں اپنی بہن فاطمہ بنت خطاب کے گھر سورہٴ طہٰ کی تلاوت سنی تو کایا ہی پلٹ گئی، ان کو مائل بہ اسلام دیکھ کر حضرت خطاب بن الارت نے انھیں خوشخبری کے انداز میں بتایا کہ میں نے رسول اللہ  کو دارارقم میں یہ دعا کرتے سنا ہے:
          اَللّٰہُمَّ أیِّدِ الاسْلاَمَ بِأبي الْحَکَمِ بْنِ ہِشَامٍ أوْ بِعُمَر َبْنِ الْخَطَّابِ(۱۶)
          ”اے اللہ ! ابوالحکم بن ہشام یا عمر بن خطاب سے اسلام کی تائید فرما“؛چنانچہ حضرت عمر یہاں سے سیدھے دارااقم پہنچے اور اسلام قبول کرلیا۔
دارارقم بحیثیت دارالشوریٰ
          دارارقم ”دارالاسلام“ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان کے لیے ”دارالشوریٰ“ بھی تھا۔پہلی اور دوسری ہجرتِ حبشہ جیسے اہم معاملات بھی اسی جگہ باہمی مشاورت ہی سے انجام پائے۔
          ” رسول اللہ  نے صحابہٴ کرام سے فرمایا! اگر تم سر زمین حبشہ کی طرف نکل جاوٴ تو وہاں ایک بادشاہ ہے، جس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ سچائی کی سر زمین ہے، حتی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس مشکل سے نجات دلادے جس میں تم گرفتار ہو“(۱۷)
          ان الفاظ پر غور کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطاب صحابہٴ کرام کے کسی اجتماع سے ہی ہوگا جو دارارقم میں انعقاد پذیر ہوگا۔ اسی طرح ایک روز رسول اللہ  کے صحابہ جمع ہوئے اور باہمی مشاورت سے طے کیا کہ قریش نے قرآن کو اپنے سامنے بلند آواز سے پڑھتے ہوئے کبھی نہیں سنا، لہٰذا کوئی ایسا شخص ہو جو یہ فریضہ انجام دے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ ذمہ داری قبول کی اور قریش کو ان کی مجلس میں جاکر قرآن کی طرف دعوت دی(۱۸)۔
           البتہ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے کہ صحابہٴ کرام کی یہ مجلس مشاورت کہاں پر منعقد ہوئی؟ تاہم غالب گمان یہی ہے کہ یہ مجلسِ مشاورت دارارقم ہی میں قائم ہوئی ہوگی؛کیونکہ اس کے علاوہ صحابہ کا اجتماع کسی اور جگہ پر مشکل تھا۔
           جس طرح ”عام الفیل“ اور ”حلف الفضول“، جیسے واقعات کے حوالے سے اہلِ مکہ اپنی معاصر تاریخ کے واقعات کا تعین کرتے تھے، مسلمان مورخین بھی مکی نبوت میں سیرت و تاریخِ اسلام کے واقعات کا تذکرہ اور اندراج بھی محمد  کے دارارقم میں فروکش ہونے کے حوالے سے کرتے ہیں۔ مثلامورخ ابن الاثیر نے مسعود بن ربیعہ، عامربن فہیرہ، معمر بن حارث وغیرہ کے تراجم (تذکروں ) میں وضاحت کی ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ  کے داررقم میں منتقل ہونے سے قبل مسلمان ہوچکے تھے۔ اسی طرح معصب بن عمیر، صہیب بن سنان، طلیب بن عمیر، عمار بن یاسر، عمر فاروق وغیرہ کے تذکروں میں ابن الاثیر نے تصریح کی ہے کہ یہ لوگ دارارقم میں جاکر اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے تھے(۱۹)۔
           مہاجرینِ مکہ میں سے اولین و سابقین اسلام کے قبول دینِ حق کودو مرحلوں میں تقسیم کیا ہے کہ وہ حضرات کون کون تھے جو دارارقم کو دعوتِ دین کا مرکز بنانے کے بعد حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ ابن سعد نے مندرجہ ذیل صحابہٴ کرام کے تذکروں میں یہ بات خصوصیت سے ذکر کی ہے کہ وہ رسول اللہ  کے دارارقم میں تشریف فرماہونے سے قبل اسلام قبول کرچکے تھے:
           حضرت خدیجہ، ابوبکر، عثمان غنی، علی المرتضی، زیدبن حارثہ، عبیدہ بن حارث، ابوحذیفہ بن عتبہ، عبداللہ بن حجش، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، خباب بن الارت، مسعودبن ربیع، واقد بن عبداللہ، عامر بن فہیرہ، ابوسلمہ بن اسد، سعید بن زید، عامر بن ربیعہ، خنیس بن حذافہ، عبداللہ بن مظعون اور حاطب بن عمرو۔
          اسی طرح ابن سعد نے ان بزرگوں کی بھی نشاندہی ضروری سمجھی ہے جو دارارقم کے اندر آکر رسول اللہ  کے دستِ مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان صحابہٴ کرام میں حضرت صہیب، عمار بن یاسر،معصب بن عمیر،عمر بن خطاب، عاقل بن ابی بکر، ایاس بن ابی بکر اور خالد بن ابی بکر شامل ہیں(۲۰)۔
دارارقم میں قیام کی مدت
          تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ اس طرز ترتیب سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک دارارقم کو دین حق کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز و محور بنانے کا واقعہ ایک ایسا نقطئہ تغیر ہے جس نے دنیا کی بے مثال اور انقلابی اسلامی تحریک کو ایک نیا رخ عطا کرنے میں ایک محفوظ پناہ گاہ اور بے مثال تربیت گاہ کا کام دیا۔ اس بات پر تمام مورخین اورمحققین کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ  حضرت عمر فاروق کے قبول اسلام تک دارارقم میں ہی مقیم رہے؛ جبکہ بعض روایات کے مطابق حضرت عمر نے نبوت کے چھٹے سال میں اسلام قبول کیا تھا؛ البتہ مورخین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ رسول اللہ  دارارقم میں کب فروکش ہوئے اور کتنا عرصہ دارارقم مسلمانوں کی پناہ گاہ کا کام دیتا رہا۔ اگر چہ بعض مورخین نے دارارقم میں قیام کی مدت کے حوالے سے چھ ماہ اور ایک ماہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں(۲۱)۔
           لیکن اگر ماخذ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دارارقم میں رسول اللہ  کا قیام کافی مدت تک رہا ہے۔ اگر چہ اس مدت کا تعین تو مشکل ہے اور یہ بتانا بھی ممکن نہیں کہ رسول اللہ  کب دارارقم میں پناہ گزین ہوئے؛ تاہم مورخین کے بعض نامکمل اشارات سے ہم اس مدت کا اندازہ کرسکتے ہیں، مثلاً ابن الاثیر نے حضرت عمر کے قبولِ اسلام کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:”عمر بن خطاب تلوار لٹکائے گھر سے نکلے۔ ان کا ارادہ (معاذ اللہ) رسول اللہ  کو قتل کرنے کا تھا ۔ مسلمان بھی آپ  کے ساتھ دارارقم میں جمع تھے۔ جو کوہِ صفا کے پاس تھا۔ اس وقت آں حضرت  ان مسلمانوں میں سے تقریباً چالیس مرد و زن کے ساتھ وہاں پناہ گزین تھے جو ہجرت حبشہ کے لیے نہیں نکلے تھے(۲۲)۔
          ابن الاثیر کے اس قول سے واضح ہوتا ہے:
          (۱) حضرت عمر نے ہجرتِ حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا جبکہ ابن قیم نے تصریح کی ہے کہ پہلی ہجرت حبشہ ما ہ رجب ۵ نبوی میں پیش آئی(۲۳)۔
          (۲) دارارقم میں صرف وہ مسلمان پناہ گزین ہوئے تھے جو کسی وجہ سے حبشہ کی طرف ہجرت نہ کرسکے تھے۔ لہٰذا ان باقی ماندہ مسلمانوں کی تعداد تقریبا چالیس تھی، نہ کہ اس وقت تک اسلام قبول کرنے والوں کی کل تعداد ہی چالیس تھی۔
          پہلی اور دوسری ہجرت حبشہ کا فیصلہ دارارقم ہی میں باہمی مشاورت سے ہوا تھا۔ اس لحاظ سے اگر حضرت عمر کے قبولِ اسلام اور ہجرتِ حبشہ کے درمیانی عرصہ کو شمار کیا جائے تو وہ بھی ایک سال سے زائد ہی بنتا ہے؛ جبکہ یہ یقینی بات ہے کہ رسول اللہ  ہجرتِ حبشہ سے کافی پہلے دارارقم میں پناہ گزیں ہوچکے تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایک دو سالوں میں ہی رسول اللہ  دارارقم میں مقیم ہوگئے تھے۔ مثلا! ابن الاثیر حضرت عمار بن یاسر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:”میں نے رسول اللہ  کو (اپنے اسلام لانے کے بعد) دیکھا تو آپ  کے ساتھ صرف پانچ غلام، عورتیں اور ابوبکر صدیق تھے“(۲۴)۔ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ابتدا میں اسلام قبول کرنے والے سات آدمیوں میں سے تھے(۲۵)؛ جبکہ اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دارارقم میں جاکر اسلام قبول کیا(۲۶)۔ اس صورت میں تو رسول اللہ  کا ابتدائے اسلام ہی میں دارارقم میں قیام پذیر ہونا ثابت ہوتا ہے۔
          اسی طرح حضرت حمزہ نے کب اسلام قبول کیا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں، بعض نے کہا ہے کہ اعلانِ نبوت کے پانچویں سال اور بعض نے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال۔ لیکن محققین کی تحقیق یہ ہے کہ آپ اعلان نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے؛ چنانچہ علامہ ابن حجر تحریر فرماتے ہیں:
          وَأسْلَمَ فِی السَّنَةِ الثَّانِیَةِ مِنَ الْبِعْثَةِ وَلاَزَمَ نَصْرَ رسولِ اللّٰہ  وَہَاجَرَ مَعَہ (۲۷)
          ”آپ بعثت کے دوسرے سال ایمان لائے اور ہمیشہ رسول اللہ  کی مدد کرتے رہے اور آپ  کے ساتھ ہی ہجرت کی“
          أسْلَمَ فِی السَّنَةِ الثَّانِیَةِ مِنَ الْمَبْعَثِ(۲۸) ”آپ بعثت کے دوسرے سال ایمان لائے“ حضرت عمر نے حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کے صرف تین دن بعد اسلام قبول کیا اور علماء محققین کی یہ رائے بھی بیان کی گئی ہے کہ صحیح قول کے مطابق حضرت حمزہ نبوت کے دوسرے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت عمر نے نبوت کے دوسرے سال حضرت حمزہ کے تین دن بعد رسول اللہ  کے دستِ مبارک پر اسلام کی بیعت کی۔ اس قول کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اکثر علماء کی یہ رائے ہے کہ آپ سے پہلے انتالیس مرد مسلمان ہوچکے تھے۔ آپ کے مسلمان ہونے سے چالیس کا عدد پورا ہوا۔ حضرت عمر کا بیان ہے:
          ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ  کے ساتھ صرف انتالیس آدمی اسلام لاچکے ہیں اور میں نے ایمان لاکر چالیس کا عدد مکمل کیا“(۲۹)۔
          حاصلِ بحث یہ ہے کہ اگر محققین کے اس قول کا اعتبار کیا جائے کہ حضرت حمزہ اور عمر نے نبوت کے دوسرے سال ہی اسلام قبول کرلیا تھا تو یہ حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ بہت ابتدا ہی میں دارارقم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنا چکے تھے؛ کیونکہ اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ان دونوں حضرات نے دارارقم میں ہی جاکر اسلام قبول کیا تھا۔
خلاصہ
          مورخینِ اسلام اور سیرت نگاروں کی مذکورہ بالا تصریحات سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ:
$       رسول اللہ  یہاںآ نے والے طالبانِ حق کو دعوتِ اسلام دیتے تھے اور جو یہاں آیا فیض ہدایت پاکر ہی نکلا۔
$       دارارقم مسلمانوں کے لیے اطمینانِ قلب کا مرکز تھا، بالخصوص نادار، ستائے ہوئے اور مجبور و مقہور اور غلام یہاںآ کر پناہ لیتے تھے۔
$       یہاں پر ذکر اللہ اور وعظ و تذکیر کا فریضہ بھی مسلسل انجام پاتا تھا۔ رسول اللہ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ اجتماعی دعائیں بھی فرماتے تھے۔ حضرت خباب کے بیان سے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ محسنِ انسانیت یہاں راتوں کو بھی بندگان خدا کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور التجا فرماتے تھے۔
$       اس مکان میں مبلغینِ اسلام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا تھا، تبلیغ کے آئندہ منصوبے بنتے تھے اور خود مبلغین کی تربیت کا کٹھن کام بھی انجام پاتا تھا۔ دارارقم کے تربیت یافتہ معلّمین میں سے حضرت ابوبکر،خباببن الارت، عبداللہ بن مسعود اور مصعب بن عمیر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
$       دارارقم مسلمانوں کے لیے ”دارالاسلام“ ہونے کے ساتھ ساتھ ”دارالشوریٰ “ بھی تھا، جس میں باہمی مشاورت سے آئندہ تبلیغ کے منصوبے بنتے تھے۔ ہجرتِ حبشہ کا فیصلہ بھی باہمی مشورہ سے یہیں پر طے ہوا، اور اس جگہ کو تاریخِ اسلام میں وہی مقام حاصل تھا جو قریش کے ہاں دارالندوہ کو حاصل تھا۔
$       دارارقم میں رسول اللہ  کا پناہ گزین ہونا ایک تاریخ ساز مرحلہ تھا اور یہ بھی حلف الفضول، حرب الفجار اور عام الفیل جیسا واقعہ تھا جس طرح کفار مکہ اپنی معاصر تاریخ کا تعین ان واقعات سے کرتے تھے، اسی طرح مسلمان مورخین بھی مکی عہد نبوت میں پیش آنے والے واقعات کا تعین دارارقم میں رسول اللہ  کے داخل ہونے سے قبل اور بعد کے حوالے سے کرتے ہیں۔
$       حضرت ارقم ان لوگوں میں سے جو اسلام کی دولت سے سرفراز ہوگئے تھے اور انھوں نے شروع میں ہی اپنے مکا ن کو تعلیمی ، تربیتی اور دعوتی سرگرمیوں کے لیے وقف کردیا تھا۔جومکی دور میں اسلام کی نشرواشاعت کا اہم ترین مرکز قرار پایا۔
$       مورخین کے مختلف بیانات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ دارارقم میں رسول اللہ  کے قیام کی مدت ایک سال سے بہر حال زائد تھی۔
$       کفار مکہ مسلمانوں کے دارارقم میں پناہ گزیں ہونے سے پوری طرح واقف تھے؛تاہم دارارقم کی اندرونی سرگرمیوں اور منصوبہ بندیوں سے وہ قطعاناواقف تھے۔
$       شعب ابی طالب میں صحابہٴ کرام کی موجودگی کا بھی واضح طور پر اشارہ ملتا ہے۔ محصوری کے اس دور میں جس قدر وحی نازل ہوئی، یقینا شعب ابی طالب میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہٴ کرام کو اس کی تعلیم دی ہوگی اور یہاں صحابہٴ کرام بھی دینی امور پر تبادلہٴ خیال کرتے ہوں گے۔ اس لحاظ سے شعبِ ابی طالب کو بھی مکی عہدِ نبوت کا ایک دعوتی مرکز قرار دیا جاسکتا ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ اور صحابہٴ کرام تین سال تک تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ میں مشغول رہے۔
$       اخری بات یہ ہے کہ ہمیں موجودہ زمانے میں حضور ﷺ کے اُسوہ سے سبق حاصل کرناچاہیے، سطورِ بالا میں، مکی دور میں اسلام کی نشر و اشاعت اور دعوتی مساعی کو بڑی حکمت اور مصلحت سے پیش کیاہے آپ کایہ اسوہ تمام انسانیت کے لیے نمونہ ہے۔
$ $ $
حوالہ جات
(۱)         صحیح البخاری، کتاب الکفالة ، باب جورارابی بکر الصدیق فی عہد النبی ﷺ
(۲)        ابن ہشام۔ دخول ابی بکر فی جوارا بن الدغنہ ورد جوار ہ علیہ، ۱/۴۱۱
(۳)        ابن ہشام، اسلام عمر بن الخطاب  ۱/۳۸۲
(۴)        السیرة الحلبیة، ۲/۱۳
(۵)        السمہودی، نور الدین علی بن احمد السیرة الجیلہ“ ۲/ ۱۳ دارالعفائس۔ الریاض
(۶)        ابن ہشام، خبرالصحیفة ۔ ۱/۲۸۸
(۷)        الروض الانف، حدیث نقض الصحیفة ، ۱/۲۳۲، حلیة الاولیا، تذکرہ سعد بن ابی وقاص، ۱/۱۳۵،۱۳۶
(۸)        المسند، حدیث عتبہ بن غزوان، ح:۲۰۰۸۶، ۲۲/۵۲۔ الاستیعاب ، تذکرہ عتبہ بن غزوان ۳/۱۰۲۶۔حلیہ الاولیا، تذکرہ سعد بن ابی وقاص ،۱/۱۳۴     
(۹)        اسد الغابہ، تذکر ارقم بن ابی ارقم،۱/۶۰
(۱۰)       المستدرک ۔ تذکرہ ارقم بن ابی الارقم ۳/۵۰۲
(۱۱)        ابن سعد تذکرہ ارقم بن ابی ارقم ۔ ۳/۲۴۳
(۱۲)       ابن ہشام مباداة رسول اللہ ﷺ قومہ وماکان منھم ،۱/۲۳۶
(۱۳)       المستدرک تذکرہ ارقم بن ابی ارقم ، ۳/۵۰۲
(۱۴)       الطبری، محمد بن جریر۔ تاریخ الامم والملوک“ ۳/۲۳۰ا
(۱۵)       ابن عبدالبر ”الاستیعاب الاصحاب “ تذکرہ ارقم بن ابی الارقم ۱/۳۱۔ دار الجلیل بیروت ۱۹۹۲ء
(۱۶)       ابن ہشام اسلام عمر بن الخطاب  ۱/۳۸۳۔ الکامل فی التاریخ ۲/۵۸
(۱۷)       ابن ہشام، ذکر الحجرة الاولی الی ارض الحبثہ، ۱/۳۵۸
(۱۸)       ایضاً اول من جہربالقرآن، ۱/۳۵۱
(۱۹)       تفصیل کے لیے ”اسد الغابہ “ میں ان صحابہٴ کرام کے تراجم ملاحظہ کیجیے
(۲۰)       ابن سعد، ۳/۱۱۵،۲۷۳،۴۲۵
(۲۱)       حلیة الاولیا ، ۱/۱۹۲۔۱۹۵
(۲۲)       الکامل فی التارخ، ۲/۵۸
( ۲۳)     زاد المعاد، ۲/۱۰۰۔ تاریخ الامم ولملوک، ۱/۹۵
(۲۴)      اسدالغابہ تذکرہ عمار بن یاسر ۴/۴۴
(۲۵)      ایضاً
(۲۶)       ایضاً
(۲۷)      الاصابہ ،تذکرہ حمزہ  بن عبدالمطلب، ۱/۳۵۴         
(۲۸)      الاصابہ، تذکرہ حمزہ  بن عبدالمطلب، ۱/۴۶
(۲۹)       ابن حجر، ابوالحسن، احمد بن علی ”فتح الباری“ کتاب فضائل الصحابہ، مناقب عمر بن الخطاب ، ۷/۴۸، دارالمعرفہ بیروت
$ $ $


نصیحت کا نبوی انداز :
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِىِّ قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَرَمَانِى الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَىَّ. فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِى لَكِنِّى سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَبِأَبِى هُوَ وَأُمِّى مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَ بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِى وَلاَ ضَرَبَنِى وَلاَ شَتَمَنِى قَالَ « إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ لاَ يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ » (صحیح مسلم: 1227 ، باب تَحْرِيمِ الْكَلاَمِ فِى الصَّلاَةِ)



No comments:

Post a Comment