Sunday, 2 July 2017

تسبیح نماز کے مشہور طریقہ کا ثبوت


تسبیح کی ترتیب دو طرح سے منقول ہے، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے آنحضور ﷺ سے اس طرح نقل کیا ہے :
’’اللّٰہ أکبر، والحمد للّٰہ، وسبحان اللّٰہ، ولا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘
(الجامع للترمذی: حدیث نمبر ۴۸۲، باب ماج في صلاۃ التسبیح)

اور امام عبد اللہ بن مبارکؒ سے اس طرح منقول ہیں :
’’سبحان اللّہ، والحمد للّٰہ، ولا الہ الا اللّٰہ، و اللّٰہ اکبر،،
(الجامع للترمذی: حدیث نمبر ۴۸۱، باب ماجاء في صلاۃ التسبیح)


تسبیح نماز کی ترتیب بھی دو طرح منقول ہے،  حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے آنحضور ﷺ سے اس طرح نقل کیا ہے :
اے چچا! چار رکعت پڑھئے اور ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت۔ پس ان سے فارغ ہونے کے بعد رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ اللَّهُ أَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھئے پھر رکوع کیجئے اور رکوع میں دس مرتبہ یہی پڑھئے پھر رکوع سے کھڑے ہو کر دس مرتبہ پھر سجدے میں دس مرتبہ اور پھر سجدے سے اٹھ کر دس مرتبہ پھر دوسرے سجدے میں دس مرتبہ اور پھر سجدے سے اٹھ کر کھڑے ہونے سے پہلے دس مرتبہ یہی کلمات پڑھئے یہ ہر رکعت میں (75) مرتبہ ہوا اور چاروں رکعتوں میں (300) تین سو مرتبہ ہوا۔ 
(الجامع للترمذی: حدیث نمبر ۴۸۲، باب ماج في صلاۃ التسبیح)

اور امام عبد اللہ بن مبارکؒ سے اس طرح منقول ہیں :
فرمایا اللَّهُ أَکْبَرُ کہے اور پھر یہ پڑھے (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ ) اس کے بعد (سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ ) پندرہ مرتبہ پڑھے پھر أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ و بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر سورت فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے پھر دس مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ پڑھے پھر رکوع میں دس مرتبہ پھر رکوع سے کھڑے ہو کر دس مرتبہ پھر سجدے میں دس مرتبہ پھر سجدے سے اٹھ کر دس مرتبہ پھر دوسرے سجدے میں دس مرتبہ یہ پڑھے اور چار رکعتیں اسی طرح پڑھے یہ ہر رکعات میں 75 تسبیحات ہوئیں پھر ہر رکعت میں پندرہ مرتبہ سے شروع کرے پھر قرأت کرے اور دس مرتبہ تسیبح کرے اور اگر رات کی نماز پڑھ رہا تو ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرنا مجھے پسند ہے اگر دن کو پڑھے تو چاہے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرے ابو وہب کہتے ہیں مجھے عبدالعزیز نے عبداللہ کے متعلق کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ رکوع میں پہلے تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِيَ الْعَظِيمِ اور سجدے میں پہلے تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِيَ الْأَعْلَی پڑھے اور پھر یہ تسبیحات پڑھے احمد بن عبدہ وہب بن زمعہ سے اور وہ عبدالعزیز سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا کہ اگر اس نماز میں بھول جائے تو کیا سجدہ سہو کرکے دونوں سجدوں میں بھی دس دس مرتبہ تسبیحات پڑھے کہا کہ نہیں یہ تین سو تسبیحات ہی ہیں ۔
(الجامع للترمذی: ابواب الوتر، باب ماجاء في صلاۃ التسبیح، حدیث#481
المستدرک للحاکم: کتاب الوتر، حدیث#1197
شعب الإيمان للبيهقي:باب-10 محبۃ اللہ عزوجل، فصل-فی ادامۃ ذکر اللہ، حدیث#603)


یہ دوسرا مشہور طریقہ مرفوعاََ بھی ثابت ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أَحْبُوكَ أَلا أُعْطِيكَ أَلا أُبَجِّلُكَ أَلا أُجِيزُكَ ؟ ، أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ مَنْ صَلاهُنَّ غُفِرَ لَهُ كُلُّ ذَنْبٍ ؛ قَدِيمٍ أَوْ حَدِيثٍ ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، خَطَإٍ أَوْ عَمْدٍ ، يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ أَوَّلَ الصَّلاةِ ، ثُمَّ يَقُولُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً ، ثُمَّ يَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا .
[نسخة أبي مسهر رقم الحديث: 35  ]



وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ، عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ: " ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ "، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً قَالَ: " إِذَا زَالَ النَّهَارُ فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ "، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ: " ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ". قَالَ: " فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ "، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ؟ قَالَ: " صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَبُو جَنَابٍ عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا. غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ التَّسْبِيحَ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَجَعَلَ مَا بَعْدَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبَى الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
[السنن الكبرى للبيهقي: كِتَابُ الصَّلَاةِ ، جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ، رقم الحديث 4919]



وَرَوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، مَرْفُوعًا، وَمَوْقُوفًا وَرُوِيَ عَنْهُ مَرْفُوعًا فِي رِوَايَةٍ  «ثُمَّ يَقُولُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ»، ثُمَّ يَقُولُهُنَّ عَشْرًا وَلَمْ يَذْكُرْهُنَّ فِي جِلْسَةِ الِاسْتِرَاحَةِ.
[السنن الصغير للبيهقي: كِتَابُ الصَّلَاةِ ، بَابُ صَلَاةِ التَّسْبِيحِ ، رقم الحديث 834]



أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ المقرئ ، أنا أَبُو شَيْبَةَ دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغْدَادِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا جَرِيرٌ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّي ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أَحْبُوكَ ، أَلا أُعْطِيكَ ، أَلا أَصِلُكَ ، أَلا أُجِيزُكَ ؟ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ مَنْ صَلاهُنَّ غُفِرَ لَهُ كُلُّ ذَنْبٍ قَدِيمٍ ، أَوْ حَدِيثٍ صَغِيرٍ ، أَوْ كَبِيرٍ , خَطَأ ، أَوْ عَمْدٍ ، تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ أَوَّلَ الصَّلاةِ ، ثُمَّ تَقُولُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ تَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، ثُمَّ تَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ الثَّانِيَةَ فَتَقُولُهُنَّ عَشْرًا " ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : وَمَنْ يُطِيقُ هَذَا ؟ قَالَ : " وَلَوْ فِي سَنَةٍ ، وَلَوْ فِي شَهْرٍ ، وَلَوْ فِي جُمُعَةٍ ، وَلَوْ أَنْ تَقْرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، قَالَ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَهَذَا يُوَافِقُ مَا رَوَيْنَاهُ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَرَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، قَالَ : نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَخَالَفَهُ فِي رَفْعِهِ فَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرِ التَّسْبِيحَاتِ ابْتِدَاءَ الْقِرَاءَةِ إِنَّمَا ذَكَرَ هَذَا بَعْدَ هَذَا ، ثُمَّ ذَكَرَهَا فِي جِلْسَةِ الاسْتِرَاحَةِ كَمَا ذَكَرَهَا سَائِرُ الرُّوَاةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ َمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، مَوْقُوفًا .
[شعب الإيمان للبيهقي: باب-10 محبۃ اللہ عزوجل، فصل-فی ادامۃ ذکر اللہ، حدیث#604]




دن میں صلاۃ التسبیح 
سوال:- {644} صلاۃ التسبیح کیا رات ہی میں پڑھنی ضروری ہے؟ یا دن کے وقت میں بھی پڑھ سکتے ہیں ؟ کیا میں ظہر کی نماز کے بعد صلاۃ التسبیح پڑھ سکتی ہوں ؟                 ( فوزیہ جبین ، جگتیال )
جواب:- مکروہ اوقات کو چھوڑ کر کسی بھی وقت صلاۃ التسبیح پڑھی جاسکتی ہے: 
’’ یفعلھا في کل وقت لا کراھۃ فیہ ، أو في کل یوم أو لیلۃ ‘‘ (۱)
 بلکہ ظہر کے بعد ادا کرنا بہتر ہے ۔
صلاۃ التسبیح کا بہتر وقت 
سوال:-{645} میں مسلسل ایک سال سے زیادہ عرصہ سے صلاۃ التسبیح پڑھتی ہوں، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ میری کم مائیگی کے باوجود اچانک مع شوہر کے حج کو جانے کا موقع بھی مل گیا ، مگر میں کس ٹائم پر پڑھوں یہ طے نہیں کرپاتی ، جب بھی وقت ملتا ہے پڑھ لیتی ہوں ، فضیلت والا وقت بتائیں، تو مہربانی ہوگی ؟           ( ت، ق، س، بورابنڈہ )
جواب:-  حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص  ص  سے منقول ہے کہ رسول اللہ  ا نے ان کو آفتاب ڈھلنے ، یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد نماز تسبیح پڑھنے کی تلقین کی تھی، حضرت عبد اللہ ص نے پوچھا کہ اگر اس وقت یہ نماز نہ پڑھ سکوں ؟تو ارشاد فرمایا کہ پھر دن 


(۱) رد المحتار: ۳/ ۳۷۱۔
ورات میں جس وقت بھی موقع ملے پڑھ لو : ’’ صلھا من اللیل والنھار‘‘ (۱) اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کے ابتدائی وقت میں اس نماز کا پڑھنا بہتر ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے ، بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو ۔ 





صلاۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ ان سے اصلاحی تعلق قائم کرلوں انہوں نے میری درخواست قبول کرلی اور مجھے کچھ معمولات بتائے جن میں سے ایک صلوٰۃ التسبیح بھی ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ صلوٰۃ التسبیح ضرور پڑھا کرو اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسے پڑھی جاتی ہے۔ اب آپ حضرات اس کے پڑھنے کا طریقہ بتادیں نیز یہ بھی بتائیں کہ صلوٰۃ التسبیح پڑھنا آپ ﷺسے ثابت ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب… صلاۃ التسبیح بڑی اہم نماز ہے۔ آپ ﷺنے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو یہ نماز بڑی تاکید کے بعد بطور تحفہ سکھائی تھی۔ امام حاکم نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے صحیح ہونے پر یہ دلیل ہے کہ تبع تابعین کے زمانہ سے ہمارے زمانہ تک مقتداء حضرات اس پر مداومت کرتے اور لوگوں کو تعلیم دیتے رہے ہیں جن میں عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہیں۔ یہ چار رکعات والی نماز ہے جس میں تین سو مرتبہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔
......۱نیتـ:چار رکعت صلوۃ التسبیح کی نماز پڑھ رہا ہوں’’اللہ اکبر‘‘ پھر ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لے اور حسب معمول ثناء پڑھے ، ثناء یہ ہےـ:
’’ سبحانك اللهم وبحمد ك، وتبارك اسمك وتعالى جَدُّك، ولا إله غيرك‘‘
  پھر  أعوذ بالله من الشيطان الرجيم  اور  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورئہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےپھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے:
’’ سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر‘‘
......۲رکوع میں جانے کے بعد حسب معمول تین مرتبہ ’’ سبحان ربی العظیم‘‘ پڑھے پھر دس مرتبہ مذکورہ بالا تسبیح پڑھے اس کے بعد رکوع سے اٹھے۔
......۳رکوع سےاٹھتے ہوئے پہلے حسب معمول ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہے اور کھڑا ہو کر’’ ربنا لک الحمد‘‘کہے پھرکھڑے کھڑے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے۔
......۴پھر ’’ اللہ أکبر‘‘ کہتے ہوئے سجدے میں جائے اور حسب معمول ’’ سبحان ربی الأعلیٰ‘‘تین مرتبہ پڑھے پھر سجدے میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے اس کے بعد ’’ اللہ أکبر‘‘ کہہ کر سجدے سے اٹھے۔
......۵سجدے سے اٹھ کر بیٹھے اور بیٹھے بیٹھے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر’’ اللہ أکبر‘‘کہہ کر دوسرے سجدے میں جائے۔
......۶دوسرے سجدے میں جا کر حسب معمول پہلے  ’’ سبحان ربی الأعلیٰ‘‘ تین مرتبہ پڑھے پھر سجدے میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے۔
......۷ دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ کرمذکورہ بالا تسبیح دس مرتبہ پڑھے، پھر  دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہو جائے۔
اس طرح ایک رکعت میں پچھتر(۷۵) مرتبہ یہ تسبیحات پڑھی گئیں اسی طرح باقی تین رکعتیں بھی پڑھ لے۔یوں چار رکعتوں میں کل تین سو تسبیحات ہو جائیں گی دوسری اور چوتھی رکعت کے قعدے میں یہ تسبیحات التحیات پڑھنے کے بعد پڑھے۔
چ......حضرت عبد اللہ بن مبار ک  سے ایک اور طریقہ بھی ثابت ہے،وہ طریقہ یہ ہے :
 ’’ نیت باندھنے کے بعد ثناءپڑھے اور اس کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے پھرأعوذ باللہ، بسم اللہ ، سورئہ فاتحہ اور دوسری سورت کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے ان تسبیحات کو دس مرتبہ پڑھے پھر دوسرے سجدے تک دس دس مرتبہ پڑھتا رہے،دوسرے سجدے سے اٹھتے ہوئے ان تسبیحات کو نہ پڑھے بلکہ سجدے سے براہ راست ’’ اللہ أکبر‘‘ کہتاہوا سیدھا کھڑا ہو جائے۔
علامہ شامی  نے لکھا ہے کہ ان دونوں طریقوں سے صلوۃ التسبیح پڑھنی چاہیئے کبھی پہلے طریقے سے کبھی دوسرے طریقے سے۔یہ نماز آپ ﷺنے حضرت ابن عباس اور دیگر صحابہ  کو سکھائی تھی لیکن آپ ﷺنے خود پڑھی ہے یا نہیں یہ بات تتبع کے باوجود نہیں مل سکی۔
لمافی المشکوۃ (صـ۱۱۷): صلوۃ التسبیح ـ عن ابن عباسؓ ان النبی ﷺ قال للعباس بن عبدالمطلب یا عباس یا عماہ الا اعطیک الا امنحک الا اخبرک الا افعل بک عشر خصال اذا انت فعلت ذالک غفراﷲ لک ذنبک اولہ واخرہ قدیمہ وحدیثہ خطأہ وعمدہ صغیرہ وکبیرہ سرہ وعلانیتہ ان تصلی اربع رکعات تقرء فی کل رکعۃ فاتحۃ الکتاب وسورۃ فاذا فرغت من القرائۃ فی اول رکعۃ وانت قائم قلت سبحان اﷲ والحمد ﷲ ولا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر خمس عشرۃ مرۃ ثم ترکع فتقولھا وانت راکع عشرا ثم ترفع راسک من الرکوع فتقولھا عشرا ثم تھوی  ساجدا فتقولھا وانت ساجد عشراً ثم ترفع راسک من السجود فتقولھا عشرا ثم تسجد فتقولھا عشرا ثم ترفع راسک فتقولھا عشرا فذالک خمس وسبعون فی کل رکعۃ تفعل ذالک فی اربع رکعات ان استطعت ان تصلیھا فی کل یوم مرۃ فافعل۔۔الخ۔
وفی مرقاۃ المفاتیح(۳۷۷/۳): وینبغی للمتعبد ان یعمل بحدیث ابن عباس تارۃ ویعمل بحدیث ابن مبارک أخری۔
(۲۵۷) صلوٰۃ التسبیح میں چھوٹ جانے والی تسبیح کو دوسرے رکن میں پڑھنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مولانا صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ ہفتہ میں ایک مرتبہ صلوٰۃ التسبیح پڑھا کرو میں نے معمول بنالیا کہ جمعہ والے دن اذان کے فوراً بعد پڑھا کروں گا اس جمعہ کو میں نے پڑھنا شروع کی تو پہلی رکعت میں رکوع سے اٹھنے کے بعد کی تسبیحات بھول گیا پھر میں نے سجدے میں دوگنی پڑھ دیں گویا کہ تین سو تعداد مکمل ہوگئی آیا میری نماز صحیح ہوگئی یا دوبارہ لوٹانا ضروری ہوگا صلوٰۃ التسبیح میں تسبیحات پڑھنا واجب ہیں یا مسنون یا مستحب ان کی کیا حیثیت ہے؟ 
الجواب بعون الملک الوھاب… صلوٰۃ التسبیح پڑھنا مستحب ہے اور احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی ہر رکعت میں ۷۵ مرتبہ تسبیح پڑھی جاتی ہے جن کی تعداد چار رکعات میں ۳۰۰ بنتی ہے اور اس میں اصل مطلوب ۳۰۰ کا عدد پورا کرنا ہے اور ان تسبیحات کا پڑھنا مسنون عمل ہے اگر کسی سے ایک رکن میں تسبیح ادا کرنا رہ گئی تو وہ دوسرے رکن میں دگنی ادا کرکے تعداد پوری کرسکتا ہے پس صورت مسئولہ میں جب آپ نے رکوع سے اٹھنے کی تسبیحات کو سجدے میں اد ا کرلیا تو تسبیحات کی تعداد مکمل ہوگئی اس لیے آپ کی نماز درست ہے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
لمافی الھندیۃ(۱۱۲/۱): (ومن المندوبات)… واما صلوۃ التسبیح فذکرھا فی الملتقط یکبرو یقرأ الثناء ثم یقول سبحان اﷲ والحمدﷲ ولا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر خمس عشر مرۃ ثم یتعوذ ویقرأ فاتحۃ الکتاب وسورۃ ثم یقرأ ھذہ الکلمات عشرا وفی الرکوع عشرا وفی القیام عشرا وفی کل سجدۃ عشرا وبین السجدتین عشرا ویتمھا اربع رکعات۔
وفی الشامیۃ(۲۷/۲): والطعن فی ندبھا بان فیھا تغییرا لنظم الصلوۃ انما یتاتی علی ضعف حدیثھا فاذا ارتقی الی درجۃ الحسن اثبتھا… قال الملا علی فی شرح المشکاۃ مفھومہ انہ سہا ونقص عددا من محل معین یاتی بہ فی محل آخر تکملۃ للعدد المطلوب قلت و استفید انہ لیس لہ الرجوع الی المحل الذی سھا فیہ وھو ظاھر وینبغی کما قال بعض الشافعیۃ ان یاتی بما ترک فیما یلیہ ان کان غیر قصیر فتسبیح الاعتدال یاتی بہ فی السجود اما تسبیح الرکوع فیاتی بہ فی السجود ایضا لافی الاعتدال لانہ قصیر قلت وکذا تسبیح السجدۃ الاولیٰ یاتی بہ فی الثانیۃ لافی الجلسۃ لان تطویلھا غیر مشروع عندنا علی مامر فی الواجبات۔

No comments:

Post a Comment