یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔ [القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3] یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Saturday, 28 June 2025
اہل بیت اور آلِ محمد ﷺ کون؟ ان کا مقام اور حقوق
Wednesday, 25 June 2025
کلماتِ کفر، کلماتِ ایمان اور کلماتِ نفاق

Friday, 20 June 2025
دینِ محفوظ
نصیحتِ الٰہی کے محافظ کون؟
القرآن:
بےشک ہم نے ہی یہ ذکر (نصیحت) نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی یقیناً حفاظت کرنے والے ہیں۔
[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 9]
قرآنی تفسیر:
اللہ نے (1)کتاب اور (2)حکمت نازل کی ہے۔
[حوالہ«سورۃ البقرۃ:236، النساء:113]
رسول ﷺ کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دینے کیلئے بھیجا گیا۔
[حوالہ»سورۃ البقرۃ:129+151، آل عمران:164، الجمعۃ:2]
پچھلے انبیاء کو بھی کتاب اور حکمت عطا کی گئی تھی۔
[حوالہ»سورۃ الانعام:89، الجاثیۃ:16، آل عمران:48، النساء:54، المائدۃ:110]
تشریح:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم سے پہلے بھی آسمانی کتابیں بھیجی گئی تھیں، لیکن چونکہ وہ خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لیے آئی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی، بلکہ ان کی حفاظت کا کام انہی لوگوں کو سونپ دیا گیا تھا جو ان کے مخاطب تھے، ﴿جیسا کہ سورة مائدہ:44 میں فرمایا گیا ہے﴾ لیکن قرآن کریم چونکہ آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے، چنانچہ اس میں قیامت تک کوئی رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اس طرح فرمائی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں میں اسے اس طرح محفوظ کردیا ہے کہ اگر بالفرض کوئی دشمن قرآن کریم کے سارے نسخے (معاذ اللہ) ختم کردے تب بھی چھوٹے چھوٹے بچے اسے دوبارہ کسی معمولی تبدیلی کے بغیر لکھوا سکتے ہیں جو بذات خود قرآن کریم کا زندہ معجزہ ہے۔
Friday, 13 June 2025
پانچ اوقاتِ نماز کا ثبوت اور فضائل
نماز کی وقت پر ادائیگی سے متعلق آیات قرآنیہ اور متواتر احادیث کی روشنی میں مفسرین، محدثین، فقہاء وعلماء کرام کا اتفاق ہے کہ فرض نماز کو اس کے متعین اور مقرر وقت پر پڑھنا فرض ہے اور بلا عذر شرعی مقرر وقت سے مقدم وموٴخر کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
کائنات کے خالق ومالک اللہ پاک نے حکم فرمایا:
.....اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا
[سورة المعارج:34]
مفسر قرآن ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ وہ لوگ نماز کے اوقات، ارکان، واجبات اور مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں۔
مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ وقت پر نماز کی ادائیگی نہ کرنا اس آیت کی وعید میں داخل ہے۔

Tuesday, 10 June 2025
تکبیراتِ تشریق اور ایامِ تشریق
"اکثر اہل علم کا رجحان اس طرف ہے کہ تکبیرات (تشریق) کا آغاز عرفہ (9 ذی الحجہ) کے دن فجر کی نماز کے فوراً بعد ہوتا ہے، اور اختتام ایام تشریق کے آخری دن کی عصر کی نماز کے بعد ہوتا ہے۔ یہی حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ مکحول نے بھی اسی کو اپنایا ہے۔
[شرح السنة للبغوي:1924(7/146)]
کیونکہ
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يكبر يوم عرفة صَلَاةَ الْغَدَاةِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ آخِرَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
ترجمہ:
"نبی ﷺ عرفہ(9 ذی الحجہ) کے دن فجر کی نماز سے لے کر ایام تشریق(یعنی 11-12-13 ذی الحجہ) کے آخری دن کی عصر کی نماز تک تکبیرات (تکبیرات تشریق) پڑھا کرتے تھے۔"
[بیھقی:6278]

Monday, 9 June 2025
بیماری اور عیادت کے فضائل، احکام وآداب
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال اور جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Thursday, 5 June 2025
علاماتِ قیامت: قبر وحشر، جنّت وجہنّم
Wednesday, 4 June 2025
عوامی شبہات ومغالطوں کی اصلاح
=
*صحیح اور غلط کا معیار»*
اگر سب لوگ زہر کھائیں تو کیا زہر "حلال" ہو جائے گا؟ اگر سب ڈاکٹر جھوٹ بولیں تو کیا جھوٹ "اچھا" ہو جائے گا؟ اگر سب وکیل رشوت لیں تو کیا رشوت "قانونی" ہو جائے گی؟
ہرگز نہیں۔ اکثریت کسی چیز کو صحیح یا غلط نہیں بناتی۔
*کثرت کو بطورِ دلیل پیش کرنا کیسا ہے؟*
*”سب کرتے ہیں“ یہ کوئی شرعی دلیل نہیں:*
اگر سب لوگ کوئی غلط کام کریں تو اس سے وہ غلط، صحیح نہیں ہو جاتا۔ اللہ پاک نے فرمایا:
”وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ“
*”اگر (اے پیغمبر!) آپ اکثر لوگوں کی بات مانیں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔“*
(سورۃ الأنعام: 116)
نیز ارشاد ہے:
”قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ“
*”(اے پیغمبر!) کہہ دو: خبیث اور پاک برابر نہیں، اگرچہ خبیث کی کثرت تمہیں بھلی لگے۔“*
(سورۃ المائدہ: 100)
(کیونکہ) اکثر لوگ ہیں...
جاھل[الانعام:111]
بےعقل[المائدۃ:103]
نافرمان [الاعراف:102]
بےعلم [الاعراف:187]
بےایمان [ھود:17]
ناشکرے [یوسف:38]
مشرک [یوسف:106]
انکاری [الاسراء:89]
جھگڑالو [کھف:54]
ناحق پسند [المومنون:70]
جھوٹے [الشعراء:223]
(2)وہی اکثریت معتبر ہے جو مردود اکثریت والی بری عادتیں نہ رکھتی ہو:
یعنی خلافِ شریعت خواہشات وخیالات والی اکثریت کے بجائے شریعت کی موافقت رکھنے والی اکثریت معتبر ہے۔
جاہلوں[الانعام:111]کے بجائے عالموں کی اکثریت معتبر ہے۔
بےعقل[المائدۃ:103] کے بجائے عقلاء کی اکثریت معتبر ہے ۔۔۔ *اور نہیں عقل رکھتے ان(اللہ کی مثالوں کی)سوائے علماء کے۔*[العنکبوت:43]
نافرمان [الاعراف:102] کے بجائے فرمانبرداروں کی اکثریت معتبر ہے ۔۔۔ اور فرمان کا علم نہ رکھنے والا یقینا فرمانبردار نہیں ہوسکتے۔
بےعلم [الاعراف:187] کے بجائے علماء کی اکثریت معتبر ہے۔
بےایمان [ھود:17] کے بجائے مومنوں کی اکثریت معتبر ہے۔
ناشکرے [یوسف:38] کے بجائے شاکرین(یعنی ہر شرعی حکم اور تقدیری فیصلہ پر راضی رہنے والوں) کی اکثریت معتبر ہے۔
مشرک [یوسف:106] کے بجائے موحدین کی اکثریت معتبر ہے۔
انکاری [الاسراء:89] کے بجائے مسلمین کی اکثریت معتبر ہے۔
جھگڑالو [کھف:54] کے بجائے مصلحین یعنی صلح کرنے والے صالحین کی اکثریت معتبر ہے۔
ناحق پسند [المومنون:70] کے بجائے حق(اللہ کی بات)پسند کرنے والوں کی اکثریت معتبر ہے۔
جھوٹے [الشعراء:223] کے بجائے قول میں سب سے سچے اللہ کی باتیں زیادہ پھیلانے والوں کی اکثریت معتبر ہے۔
(3)حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا.
ترجمہ:
تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔
[سنن الترمذي:2007، شرح السنة للبغوي:3444، جامع الاحادیث السیوطي:16901، كنزالعمال:43035، مشكاة المصابيح:5129]
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
[سنن الترمذي: حديث نمبر 2007]
(1) اگر انسان کی تخلیق کا مقصد صرف عبادت ہی ہے تو کیا عبادت کیلئے فرشتے کافی نہیں تھے؟
جواب:
اسلامی عقیدے کے مطابق انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
*"وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ"* (الذاریات: 56)
(ترجمہ: میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے)۔
سوال یہ ہے کہ اگر مقصد صرف عبادت تھا تو پہلے سے موجود فرشتے کیوں کافی نہیں تھے؟ اس کا جواب عقلی و نقلی دلائل سے درج ذیل ہے:
---
### *1. عبادت کی نوعیت میں فرق: آزاد مرضی کا امتحان:*
- **فرشتوں کی عبادت**: وہ فطری طور پر مکمل مطیع ہیں، ان میں آزاد مرضی نہیں۔ قرآن میں ہے:
*"لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ"* (التحریم: 6)
(ترجمہ: وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو انہیں حکم دیا جاتا ہے اور جو کچھ انہیں حکم دیا جائے وہی کرتے ہیں)۔
یہ عبادت "مجبوری" پر مبنی ہے۔
- *انسان کی عبادت*: انسان کو *آزاد مرضی* دی گئی تاکہ وہ اپنے اختیار سے اللہ کی بندگی کا انتخاب کرے۔ یہ عبادت "امتحان" کی بنیاد پر ہے، جس کا مقصد ایمان و عمل کی آزمائش ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
*"اَلَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا"* (الملک: 2)
(ترجمہ: جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے)۔
*عقلی دلیل*:
جبری عبادت (جیسے فرشتے) اور اختیاری عبادت (جیسے انسان) میں بہت فرق ہے۔ اختیاری عبادت میں *اخلاص، جدوجہد اور خدمت* شامل ہوتی ہے، جو انسان کو روحانی ترقی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے لیے اجر بھی فرشتوں سے زیادہ ہے۔
---
### *2. انسان کی منفرد حیثیت: خلافتِ الٰہی کا منصب:*
اللہ تعالیٰ نے انسان کو **خلیفۃ اللہ فی الارض* (زمین پر اپنا نائب) بنایا، جیسا کہ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے:
*"وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً"* (البقرہ: 30)
فرشتوں نے اعتراض کیا: **"اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَ يَسْفِكُ الدِّمَآءَ"** (کیا آپ ایسے کو خلیفہ بنائیں گے جو فساد کرے گا اور خونریزی کرے گا؟)۔
اللہ نے جواب دیا: *"اِنِّيْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ"* (بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)۔
*عقلی دلیل*:
- فرشتے صرف عبادت کر سکتے ہیں، لیکن انسان کو *تخلیقی صلاحیتیں* دی گئی ہیں تاکہ وہ زمین کو آباد کرے، علم حاصل کرے اور عدل قائم کرے۔
- انسان کا امتحان ہی اسے فرشتوں سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ وہ *شہوات اور شیطان کے وسوسوں* کے باوجود عبادت پر قائم رہتا ہے۔
---
### *3. معرفتِ الٰہی کا کمال: اللہ کے اسماء و صفات کا ظہور*
انسان کو *اشرف المخلوقات* بنایا گیا، کیونکہ وہ اللہ کے اسماء و صفات (جیسے رحیم، غفور، حکیم) کو پہچاننے اور ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فرشتے اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے، جیسا کہ سورۃ البقرہ (آیت 31-33) میں حضرت آدمؑ کو فرشتوں پر فضیلت دینے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
*عقلی دلیل*:
اگر صرف عبادت کا ہدف ہوتا تو فرشتے کافی تھے، لیکن انسان کی تخلیق کا مقصد *اللہ کی صفات کا مکمل ظہور* تھا، جو صرف آزاد مرضی، آزمائش اور اختیار کے ذریعے ممکن ہے۔
---
### *4. نتیجہ: عبادت کا جامع تصور*
- *عبادت:* محض نماز/روزہ نہیں، بلکہ پوری زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزارنا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
*"قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ"* (الأنعام: 162)
(ترجمہ: کہہ دو میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے)۔
- فرشتے صرف *عبادتِ خاصہ* (نماز وغیرہ) کر سکتے ہیں، جبکہ انسان *عبادتِ عامہ* (تعلیم، معاشرتی خدمت واصلاح، عدل قائم کرنا) کے ذریعے بھی اللہ کو راضی کرتا ہے۔
### *خلاصہ*:
فرشتوں کی عبادت "فطری" ہے، جبکہ انسان کی عبادت "اختیاری اور آزمائشی" ہے، جو اسے *اعلیٰ درجے کی روحانی بلندی* پر پہنچاتی ہے۔ انسان کو خلافت، علم اور آزاد مرضی جیسے اعزازات دیے گئے، جو فرشتوں کے پاس نہیں۔ لہٰذا، انسان کی تخلیق کا مقصد محض عبادت نہیں، بلکہ *امتحان کے ذریعے کمالِ عبادت تک پہنچنا* ہے، جو فرشتوں کے لیے ممکن نہ تھا۔






