Wednesday, 24 October 2012

قربانی کے فضائل و مسائل

ثبوت قربانی:
القرآن : فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر۔ (سورۃ الکوثر:2)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا نما زپڑھئے اپنے رب کے لئے اور قربانی کیجئے.


القرآن: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا لِيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعٰمِ۔ (سورۃ الحج:34)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کردی تاکہ اللہ نے جو چوپائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام لیا کریں۔


القرآن:’’اور ہم نے ہر ایک اُمت کیلئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے تاکہ جو مویشی اللہ نے اُن کو دئیے ہیں (اُن کے ذبح کرنے کے وقت) اُن پر اللہ کا نام لیں،پس تمہارا معبود ایک ہی ہے ،اُسی کے فرمانبردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز (اہتمام اورپابندی سے) پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو عطا کیا ہے اُس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے اللہ کے شعائر مقرر کیا ہے، اس میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر اُن پر اللہ کا نام لو۔پھر جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں تو اُن میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔اس طرح ہم نے اُن جانوروںکو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔اللہ تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اُس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے اُن کو تمہارے ماتحت کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اُس نے تمہیں ہدایت بخشی ہے۔ اُ س کی بڑائی بیان کرو اور (اے پیغمبر!) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘(سورۃ الحج ،آیات ۳۴تا۳۷)





قربانی  کے فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ ، قَالُوا : وَلَا الْجِهَادُ ، قَالَ : وَلَا الْجِهَادُ ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْجُمُعَةِ » أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ » بَاب فَضْلِ الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ... رقم الحديث: 921(969)]
ترجمہ: حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذی الحجہ (یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! کیا یہ جہاد فی سبیل ﷲ سے بھی بڑھ کر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل ﷲ سے بھی بڑھ کر ہے، ہاںجس شخص نے اللہ کی راہ میں نکل کر اپنی جان اور اپنے مال کو ہلاکت اور خطرے کی جگہ ڈال دیا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا (سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دیا) بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔

دَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ أَبُو مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ , أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ , إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا , وَأَشْعَارِهَا , وَأَظْلَافِهَا , وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ , فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا " .[جامع الترمذي » كِتَاب الْأَضَاحِيّ » بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُضْحِيَّةِ ۔۔۔ رقم الحديث: 1409(1493)]

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ خوش دلی سے قربانی کرو۔ 

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ ؟ ، قَالَ : " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ " ، قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " ، قَالُوا : فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ " . [سنن ابن ماجه » كِتَاب الْأَضَاحِيِّ » بَاب ثَوَابِ الْأُضْحِيَّةِ ... رقم الحديث: 3126 (ص 266)]
ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ نے بیان فرمایا کہ صحابہؓ نے سوال کیا یا رسول ا  ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے ۔ صحابہؓ نے کہا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرامؓ نے (پھر سوال کیا) یا رسول اللہ   !اون (کے بدلے میں کیا ملے گا؟)فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔





قربانی واجب ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ دَلَالَتُھَا عَلٰی وُجُوْبِ صَلٰوۃِ الْعِیْدِ وَانْحَرْ اَلْبُدْنَ بَعْدَھَا ظَاھِرَۃٌ۔ (اعلا ء السنن ج17ص219)
ترجمہ: ’’ فَصَلِّ لِرَبِّکَ یعنی پس نماز پڑھ واسطے اپے رب کے‘‘سے جس طرح نماز عید کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے، اسی طرح ’’وَانْحَرْ  یعنی اور قربانی کر‘‘ سے قربانی کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔

صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے:
 قربانی ہر اس مسلمان عاقل، بالغ، مقیم پر واجب ہوتی ہے، جس کی ملک میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجاتِ اَصلیہ سے زائد موجود ہو، یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں، یا مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا مسکونہ مکان سے زائد کوئی مکان، پلاٹ وغیرہ۔
          قربانی کے معاملے میں اس مال پر سال بھر گزرنا بھی شرط نہیں، بچہ اور مجنون کی ملک میں اگر اتنا مال ہو بھی تو اس پر یا اس کی طرف سے اس کے ولی پر قربانی واجب نہیں۔ اسی طرح جو شخص شرعی قاعدے کے موافق مسافر ہو اس پر بھی قربانی لازم نہیں۔ جس شخص پر قربانی لازم نہ تھی اگر اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا تو اس پر قربانی واجب ہوگئی۔
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : كُنَّا وَقُوفًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً ، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ ؟ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَ " .
ترجمہ: حضرت مخنف بن سلیمؓ نے بیان کیا :’’ہم عرفہ کے دن رسول اللہ   کے پاس تھے آپ  نے فرمایا اے لوگو!ہر گھر والے یعنی صاحب نصاب )پر ہر سال قربانی (واجب)ہے۔‘‘


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الْأَضَاحِيِّ » بَاب الْأَضَاحِيِّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا ۔۔۔ رقم الحديث: 3122(3123) ص226]
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ’’جو شخص استطاعت(مالداری) کے باوجود بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔‘‘

المحدث : العيني | المصدر : نخب الافكار: 13/227|خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح
المحدث : أحمد شاكر | المصدر : مسند أحمد: 16/120 | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
المحدث : الألباني | المصدر : صحيح ابن ماجه: 2549 | خلاصة حكم المحدث : حسن
المحدث : الألباني | المصدر : مشكلة الفقر: 102 | خلاصة حكم المحدث : حسن
المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الترغيب: 1087 | خلاصة حكم المحدث : حسن
المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الجامع: 6092+6490 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : الألباني | المصدر : التعليقات الرضية: 126/3 | خلاصة حكم المحدث : صحيح مرفوعاً وموقوفا
المحدث : الألباني | المصدر : إصلاح المساجد: 21 | خلاصة حكم المحدث : ثابت

فقہی نکتہ:

١) اس حدیث میں قربانی نہ کرنے پر وعید آئی ہے اور وعید واجب چھوڑنے پر ہوا کرتی ہے.
٢) یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی ہر "صاحب_وسعت" پر واجب ہے، جسے صاحب_نصاب سے تعبیر کیا جاتا ہے. یعنی اگر گھر میں ایک ہی کو وسعت ہے تو ایک ہی (ہر گھر کا) کرے اور اگر سب صاحب_وسعت ہیں تو سب پر لازم ہے، اور اگر کوئی بھی صاحب_وسعت نہیں تو کسی پر بھی لازم نہیں.


غنی سے مراد کون؟؟؟  
وہ آدمی جو صاحبِ نصاب ہو (جس کی تحقیق آگے آرہی ہے)، بلکہ مصنف ابن ابی شیبہ اور دیگر کتبِ حدیث کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مال 200 درہم سے کم ہو، اس پر کچھ بھی(زکاۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی)واجب نہیں۔ اس عموم میں قربانی بھی داخل ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، وَعَنْ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ زُهَيْرٌ : أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّه قَالَ : " هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ۔۔۔
نبی ﷺ نے فرمایا: لاؤ چالیسواں حصہ، ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم(یعنی چالیسواں حصہ)، اور تم پر کچھ بھی(یعنی زکاۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی واجب) نہیں ہے یہاں تک کہ دو سو درہم (جدید ہندستانی اوزان کے مطابق، 52.5 تولہ چاندی)پورے ہوجائیں۔ پس جب دو سو درہم  ہوں  تو ان میں پانچ درہم ہیں۔ اور جو زیادہ ہو تو اس کی زکاۃ اس کے حساب سے ہوگی۔

الفاظ کے اختلاف کے ساتھ یہ حدیث مختلف کتبِ حدیث میں موجود ہے:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ شَيْءٌ " .
[مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الزَّكَاةِ » مَنْ قَالَ لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ ... رقم الحديث: 9644(9948)]

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ شَيْءٌ " .
[مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الزَّكَاةِ » مَنْ قَالَ لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ ... رقم الحديث: 9645(9949)]
نہیں ہے (لازم) دو سو درہم (جدید ہندستانی اوزان کے مطابق، 52.5 تولہ چاندی) سے کم میں کوئی شے(یعنی زکوٰۃ، فطرہ اور قربانی وغیرہ صدقات)۔ 
لہٰذا
ہر اس شخص پر قربانی واجب ہے جس پر صدقۃ الفطر واجب ہے۔
(فتاوی عالمگیری ج5ص360)
ذبح کون کرے؟
قربانی کے جانور کو مسلمان ذبح کرے گا۔
(فتاوی شامی ج9 ص474)






قربانی کے جانور:
قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِاثْنَیْنِ … الایۃ۔وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ …الایۃ
(سورۃ الانعام:143)
ترجمہ: آٹھ نر مادہ ہیں دو بھیڑوں میں سے،دوبکریوں میں سے،دو اونٹوں میں سے اوردو گایوں میں سے ۔
نوٹ: بھینس گائے کے حکم میں ہے اور بھینس کی قربانی جائز ہے۔

بھینس کی قربانی جائز ہے:
وَاجْمَعُوْا عَلٰی اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسَ حُکْمُ الْبَقَرَۃِ ۔
(کتاب الاجماع امام ابن منذر ص37)
ترجمہ: أئمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔(یعنی دونوں کا حکم ایک ہے) .
قاضی محمد عبداللہ ایم اے ایل ایل بی (خانپوری )کا فتویٰ:تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب بہیمۃ الانعام (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے۔
( ہفت روزہ الاعتصام لاہور ج20 شمارہ42،43ص9)

بھینس کی قربانی  غیرمقلدین علماء کی نظر میں
مولوی ثناء اللہ امرتسری کا فتویٰ:
جہاں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے وہاں یہ الفاظ مرقوم ہیں
قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا‘‘
(سورۃ الانعام:145)
ان چیزوں کے سواء جس چیز کی حرمت ثابت نہ ہو وہ حلال ہے بھینس ان میں نہیں اس کے علاوہ عرب لوگ بھینس کو بقرہ (گائے )میں داخل سمجھتے ہیں۔
تشریح: ہاں! اگر اس (بھینس )کو جنس بقر(گائے کی جنس)سے مانا جائے یا عموم بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکم جواز قربانی کے لیے یہ علت کافی ہے۔
(فتاویٰ ثنائیہ ج1 ص807اخباراہل حدیث ص11 دہلی)
حافظ محمد گوندلوی کا فتوی:
بھینس بھی بقر میں شامل ہے اس کی قربانی جائز ہے۔
(ہفت روزہ الاعتصام ج20 شمارہ9،10،ص 29 )
عبدالقادر حصاروی ساہیوال کا فتویٰ:
خلاصہ بحث یہ ہے کہ بکری گائے کی(قربانی ) مسنون ہے اور بھینس بھینسا کی قربانی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز لکھنے والے کا مسلک واضح نہیں ہے۔
(اخبار الاعتصام ج26 شمارہ150 بحوالہ فتوی علمائے حدیث ج13 ص71 )
ابوعمر عبدالعزیز نورستانی کا فتویٰ:
مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر میری ناقص رائے میں ان علماء کا مؤقف درست اور صحیح ہے جو(بھینس کی قربانی کے)قائل ہیں۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ،از حافظ نعیم الحق ملتانی ص154)

حافظ عبدالقہار نائب مفتی جماعت غرباء اہلحدیث کراچی کا فتویٰ:
واضح ہو کہ شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور اس کی قربانی کرنا درست ہے ۔کیونکہ گائے کی جنس سے ہے گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی جائز و درست ہے اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے تو گائے کے ہم جنس بھینس کے دودھ اور اس کا گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہو جائے گی۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص156)
حافظ احمداللہ فیصل آبادی کا فتویٰ:
میری کئی سالوں کی تحقیق ہے کہ بھینسے کی قربانی جائز ہے لہٰذا میں آپ کے ساتھ بھینسے کی قربانی کرنے میں متفق ہوں۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص159)
پروفیسر سعد مجتبیٰ السعیدی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آخر میں لکھتے ہیں کہ لہٰذا گائے کی مانند بھینس کی قربانی بلا تردد جائز ہے
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص18 )
مولوی محمد رفیق الاثری پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
یہ مسئلہ کہ قربانی میں بھینس ذبح کی جاسکتی ہے یا نہیں ۔سلف صالحین میں متنازعہ مسائل میں شمار نہیں ہوا چند سال سے یہ مسئلہ اہل حدیث عوام میں قابل بحث بنا ہوا ہے ۔جبکہ ایسے مسئلہ میں شدت پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
(بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ص19)

قربانی کے جانور کی عمر:
بھیڑ بکری ایک سال کی ہو یا ایسا دنبہ اور بھیڑ جو ہو تو چھ ماہ کا لیکن دیکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتا ہو اور گائے بھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا ہو تو ان سب جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے۔
عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہؓ سے ہے کہ رسول اللہ   نے فرمایا:’’ تم عمر والا جانور ذبح کرو اگر عمر والا جانور ملنا مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ جو دیکھنے میں سال کا لگتا ہو ذبح کرو۔‘‘
[سنن أبي داود:2797، صحیح مسلم:1963، سنن النسائي:4378، سنن ابن ماجه:3141، مسند ابن الجعد:2612، مسند أحمد:14348، المنتقى لابن الجارود (904) ، مسند أبو يعلى (2324) ، صحيح ابن خزيمة (2918) ، مستخرج أبي عوانة:7842، شرح السنة للبغوي:1115، والطحاوي في "شرح المشكل" (5722) ، السنن الكبرى للبيهقي:10164، 19057، 19128 من طرق عن زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.]


اونٹ اور گائے میں شرکاء کی تعداد:
عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ ، وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ " .
ترجمہ: حضرت جابرؓ نے کہا کہ ہم رسول اللہ  کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے اور آپ  نے ہم کو حکم دیا کہ ہم میں سے اونٹ اور گائے میں سات سات (آدمی) شریک ہوجائیں ۔
[صحیح مسلم:1213+1318، مسند ابن الجعد:2628، مسند احمد:14116، مستخرج أبي عوانة:3174+3268، المعجم الكبير للطبراني:6563، السنن الكبرى للبيهقي:10194+19235، شرح السنة للبغوي:1131]

عَعَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... اشْتَرِكُوا فِي الإِبِلِ وَالْبَقَرِ ، كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ۔
(اعلاء السنن ج17 ص204،صحیح ابن حبان ص3919 باب القران)
ترجمہ: حضرت جابرؓ سے ہے کہ رسول اللہ  نے ہمیں فرمایا: ’’تم اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوجاؤ۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہؓ نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ  کے ساتھ حدیبیہ کے سال قربانی کی اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور بیل سات آدمیوں کی طرف سے۔
[مسلم (1318)، والنسائي في "الكبرى" (4120) ، وأبو يعلى (2034) ، وابن خزيمة (2902) من طريق هشيم، به.
 وأخرجه أبو عوانة في الحج والذبائح كما في "إتحاف المهرة" 3/268 من طريقين عن عبد الملك بن أبي سليمان، به.
الترمذي (904)، الطيالسي (1904)۔]


بکری صرف ایک آدمی کی طرف سے:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ: اَنَّہٗ قَالَ اَلشَّاۃُ عَنْ وَاحِدٍ۔
(اعلاء السنن ج17 ص 210 باب ان البدنۃ عن سبعۃ)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ(قربانی میں)بکری ایک (آدمی ) کی طرف سے ہے۔
نوٹ : زبیر علی زئی لکھتے ہیں :’’ بکری اور مینڈھے میں اتفاق ہے کہ صرف ایک آدمی کی طرف سے ہی کافی ہے۔‘‘
(مقالات زبیر علی زئی ج2 ص215)

خصی جانور کی قربانی پسندیدہ ہے:
حدیث # 1
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ
ترجمہ: حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:’’ نبی اکرم  نے عید الاضحیٰ کے دن سینگوں والے دھبے دار خصی دو مینڈھے ذبح کیے۔‘‘
[سنن أبي داود:2795، سنن الترمذي:1521، سنن ابن ماجه:3122، مسند أبي يعلى:1792، السنن الكبرى للبيهقي:19087+19184، سنن الدارمي (1946)، شرح معاني الآثار للطحاوي(4/ 177)، جامع الأصول:1671، مجمع الزوائد:5969، جمع الفوائد:3845، وأخرجه ابن خزيمة (2899)، والحاكم 1/ 467 من طريق إبراهيم بن سعد، والحاكم 1/ 467 من طريق يونس بن بكير، كلاهما عن محمد بن إسحاق، عن يزيد ابن أبي حبيب، عن خالد بن أبي عمران، عن أبي عياش، عن جابر بن عبد الله.
وهو في "مسند أحمد" (15022) من طريق إبراهيم بن سعد.
قوله: مُوجَئين، وفي الرواية التي شرح عليها الخطابي: مُوجَيين: يريد مَنزوعَي الأنثيين، والوِجاء: الخصاء، يقال: وجأت الدابة فهي موجوءة: إذا خصيتها.
قال الخطابي: وفي هذا دليل على أن الخصيَّ في الضحايا غير مكروه.]



خصی جانور کی قربانی کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل وبہتر ہے، آں حضرتﷺ سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے، عن جابرؓ قال: ذبح النبي ﷺ یوم الذبح کبشین أملحین موجوئین (مشکاة) وفيالہدایة: ویجوز أن یضحی بالجماء والخصي لأن لحمہا أطیب) خصی جانور نہ ہونے پر مادہ جانور کی قربانی افضل ہے، افضلیت حاصل کرنے کے لیے قربانی کے موقع پر جانور کو خصی نہ کرنا چاہیے کیوں کہ خصی جانور کی قربانی افضل وبہتر اس لیے ہے کہ وہ فربہ اور اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں اس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ جانور کو پہلے سے ہی خصی کردیا جائے، بعض لوگوں کا خصی کرنے کو جانور پر مطلقا ظلم قرار دینا درست نہیں، خصی کرنا جانور پر اس وقت ظلم ہوگا جب کہ عمل خصاء سے مقصد لہو ولعب ہو، فقہاء نے اس کو ناجائز لکھا ہے، لیکن اگر جانور کو خصی کرنے سے مقصد منفعت ہو تو یہ جائز ہے اور جب آں حضرتﷺ کے عمل سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہوگیا تو اب ایک موٴمن کو اس میں کیا تردد ہونا چاہیے۔




حدیث # 2

 عَنْ عَائِشَةَ ،وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ ، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .


حضرت عائشہ رضی الله عنہا اور حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول  جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے موٹے سینگ دار، سفید وسیاہ رنگ کے خصی مینڈھے خریدتے ۔ ان میں سے ایک اپنی امت کے ان افراد کی طرف سے ذبح کرتے جو اللہ کے ایک ہونے اور رسول اللہ  کے احکامات پہنچانے کی شہادت دیں اور دوسری اپنی طرف سے اور اپنی آل کی طرف سے ذبح کرتے.

[سنن ابن_ماجہ : جلد سوم:حدیث نمبر 3 (33050) ، - قربانی کا بیان : رسول اللہ کی قربانیوں کا ذکر]
[صحيح لغيره، وهذا سند فيه ضعف لاضطراب عبد الله بن محمد بن عقيل فيه.
فرواه عنه سفيان الثوري، واختلف عليه فيه:
فرواه وكيع - كما في هذه الرواية - وعبد الرزاق كما في الرواية (25886) ، وعبد الله بن وهب كما عند الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 4 / 177، والفريابي كما عند البيهقي في "السنن" 9 / 267، وأبو حذيفة كما عند البيهقي كذلك في "السنن" 9 / 273، والحسين بن دينار، كما عند البيهقي 9 / 287، ستتهم عن سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن أبي سلمة، عن عائشة أو أبي هريرة -على الشك-. وعندهم ما خلا وكيعٍ زيادة: " فيذبح أحدهما عن أمته ممن أقر له بالتوحيد، وشهد له بالبلاغ. ويذبح الآخر عن محمد وآل محمد".
قلنا: وسترد هذه الزيادة برقم (25843) و (25886) .
ورواه إسحاق بن يوسف الأزرق - كما في الرواية (25901) - عن سفيان، فقال: عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة أن عائشة ...
ورواه حماد بن سلمة - كما عند عبد بن حميد (1146) ، وأبي يعلى (1792) ، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 4 / 177، والبيهقي في "السنن" 9 / 268 - عن عبد الله بن محمد بن عقيل، فقال: عن عبد الرحمن بن جابر ابن عبد الله، قال: حدثني أبي أن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فجعله من حديث جابر.
ورواه مبارك بن فضالة - كما ذكر الدارقطني في "العلل" 5 / الورقة 148، فقال: عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر.
ورواه شريك وزهير بن محمد وعبيد الله بن عمرو كما سيرد على التوالي 6 / 8 و391 و392، فقالوا: عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن علي بن حسين، عن أبي رافع، به. فجعله من حديث أبي رافع.
ورواه معمر - فيما ذكر الدارقطني في "العلل" عن أبي عقيل مرسلاً.
وقد نبه على اضطراب ابن عقيل فيه الدارقطني في " العلل "، وابن أبي حاتم في "العلل" 2 / 39 - 40.
وسيرد (25843) و (25886) .
وقد ثبت أنه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضحَّى بكبشين أقرنين أملحين من حديث أنس، وقد سلف برقم (11960) .
وسلف أنه ضحى بكبش عن محمد وآل محمد وعن أمة محمد بإسنادٍ صحيح برقم (24491) .
وانظر لزاماً حديث أبي سعيد الخدري السالف برقم (11051) .
قال السندي: قوله: أملحين: ما غلب بياضه.]




حدیث # 3
عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ ، فَقَالَ : أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ ، وَلَهُ بِالْبَلَاغِ ، وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، قَالَ : فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَفَانَا " .
حضرت ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم  نے دو خوبصورت اور خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی اور فرمایا ان میں سے ایک تو ہر شخص کی جانب سے تھا جو اللہ کی وحدانیت اور نبی کریم   کی تبلیغ رسالت کی گواہی دیتا ہو اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے تھا روای کہتے ہیں کہ اس طرح نبی کریم   نے ہماری کفایت فرمائی ۔
[الطبراني في "الكبير" (920) و (921) من طريقين عن عبد الله ابن محمد بن عقيل، به.
وأورده الهيثمي في "مجمع الزوائد" 4/21، وقال: رواه أحمد وإسناده حسن!
وأخرج الطبراني في "الكبير" (957) ، وفي "الأوسط" (246) من طريق المعتمر بن أبي رافع، عن أبيه، قال. ذبح رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كبشاً ثم قال: "هذا عنِّي وعن أُمتي". ووقع في مطبوع "الكبير" زيادة مقحمة، هي قوله: "عن جده"، ومعتمر بن أبي رافع هذا يقال في اسمه أيضاً: مغيرة، وهو مجهول، لكن له بهذا اللفظ شواهد يتقوَّى بها، انظر حديث أبي سعيد الخدري السالف برقم (11051) والتعليق عليه.

وأخرجه البزار (3867) "زوائد"، والحاكم 2/391 من طريق أبي عامر، بهذا الإسناد. قال الحاكم: هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، فتعقَّبه الذهبي بقوله: زهير ذو مناكير، وابن عقيل ليس بالقوي، وتحرف زهير في كلام الذهبي في المطبوع إلى سهيل.

وأخرجه الطبراني في "الكبير" (923) من طريق أبي حذيفة، عن زهير بن محمد، به.


قال السندي: قوله: "مَوْجِيَّين" هو تثنية مَوْجي كمَرْميٍّ، أصله: مَوْجوءٌ، بهمزة في آخره، فجُعِل كمرمىٍّ تخفيفاً، وجاء على الأصل أيضاً من وَجَأَه: إذا دَقَّ أُنثَيَي الفحل، فقوله: خَصِيَّين، كالتفسير له، والله تعالى أعلم.]


حدیث # 4

عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ مُوجِيَيْنِ " .
حضرت ابودرداءؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم  نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی ۔
[وأخرجه ابن أبي شيبة في "مسنده"، وكذا أحمد بن منيع كما في "إتحاف الخيرة" (6497) و (6498) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد - إلا أن ابن منيع لم يذكر "مَوجيَّينِ".
وأخرجه أحمد بن منيع، وأبو يعلى الموصلي كما في "الإتحاف" (6499) و (6500) و (6501) من طرق عن حجاج بن أرطاة، به - ولم يذكر فيه "موجيَّين".
وأخرجه أيضاً دون هذا الحرف ابن أبي شيبة، وعنه أبو يعلى كما في "الإتحاف" (6496) و (6500) عن علي بن مسهر، عن ابن أبي ليلى -وهو محمد بن عبد الرحمن- عن الحَكَم، عن عباد بن أبي الدرداء، عن أبيه.
وأخرجه كذلك البيهقي 9/272 من طريق علي بن مسهر، به.  قال البوصيري في "إتحاف الخيرة" 7/72: مدار هذه الأسانيد إما على الحجّاج بن أرطاة، أو محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وهما ضعيفان.
وفي الباب عن أبي رافع، سيأتي في "المسند" 6/8.
وعن عائشة أو أبي هريرة، سيأتي 6/136 و220 و225.
وعن جابر عند عبد بن حميد (1146) ، وأبي داود (2795) ، والطحاوي 4/177، والبيهقي 9/287. لكن مدار أسانيد هذه الشواهد الثلاثة على عبد الله ابن محمد بن عقيل، وهو ليِّن الحديث سيئ الحفظ.
وقد ثبت من غير وجه عن أنس بن مالك: أن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان يضحِّي بكبشين أَقرنين أملَحين. انظر ما سلف برقم (11960) .
ولإباحة التضحية بالجَذَع، انظر حديث أبي هريرة السالف برقم (9739) ، وحديث أنس بن مالك السالف برقم (12120) .
قوله: "مَوْجِيَّيْن": قال السندي: تثنية المَوْجي كمَرمي، وهو المدقوق خصيته، وأصله الهمز لكنه خفف.]


عن أبى طلحة قال: ضحى النبى - صلى الله عليه وسلم - بكبشين أملحين فقال عند الأول عن محمد وعن آل محمد وقال عند الثانى عمن آمن بى وصدقنى من أمتى (الطبرانى) [كنز العمال 12695]

أخرجه الطبرانى (5/106، رقم 4736) .



کیا خصی جانور عیب دار ہوتا ہے؟

بکرے کا خصی ہونا عیب نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت دُوسرے بکرے کی نسبت زیادہ ہوتی ہے، اور خصی جانور کی قربانی آنحضرت   نے کی ہے، جس سے جانور خصی کرانے کا جواز اور اس قسم کے جانور کی قربانی کرنے کا جواز دونوں معلوم ہوجاتے ہیں۔

خصی جانور کی قربانی کی علمی بحث
س… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلے میں کہ مندرجہ ذیل عبارت میں حدیث کی دلیل سے بہائم کو خصی کرنا سختی سے ممنوع قرار دیا ہے، جبکہ آپ نے شامی کے حوالے سے قربانی کے لئے خصی جانور نہ صرف جائز بلکہ افضل قرار دیا ہے۔
”جانور کو خصی بنانا منع ہے“
  عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ ، وَعَنْ إِخْصَاءِ الْبَهَائِمِ نَهْيًا شَدِيدًا .
[كشف الأستار » كِتَابُ الْجِهَادِ » بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِخْصَاءِ الْبَهَائِمِ ... رقم الحديث: 1595]
          ترجمہ:… ”حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے کسی ذی رُوح کو باندھ کر تیراندازی کرنے سے منع فرمایا ہے، اور آپ نے جانوروں کو خصی بنانے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔“
          اس حدیث کو بزاز نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ”صحیح بخاری“ یا ”صحیح مسلم“ کے راوی ہیں۔
(مجمع الزوائد جز:۵ ص:۲۶۵ (5/268) ، اس حدیث کی سند صحیح ہے، نیل الاوطار جز:۸ ص:۷۳ (8/249) ، فتح الغفار الرباعي : 1888/4 غاية المرام - الألباني: 482 الأحكام الصغرى-عبد الحق الإشبيلي: 782)
          برائے مہربانی مسئولہ صورتِ حال کی وضاحت سندِ صحاحِ ستہ سے فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

ج… متعدّد احادیث میں آیا ہے کہ آنحضرت  نے خصی مینڈھوں کی قربانی کی، ان احادیث کا حوالہ مندرجہ ذیل ہے:

          ۱:… حدیثِ جابرؓ (ابوداوٴد ج:۲ ص:۳۰، مجمع الزوائد ج:۴ ص:۲۲)

          ۲:… حدیثِ عائشہؓ                 (ابنِ ماجہ ص:۲۲۵)

          ۳:… حدیثِ ابی ہریرہؓ                         (ابنِ ماجہ)

          ۴:… حدیثِ ابی رافعؓ (مسندِ احمد ج:۶ ص:۸، مجمع الزوائد ج:۴ ص:۲۱)

          ۵:… حدیثِ ابی الدرداءؓ  (مسندِ احمد ج:۶ ص:۱۹۶)

          ان احادیث کی بنا پر تمام ائمہ اس پر متفق ہیں کہ خصی جانور کی قربانی دُرست ہے، حافظ موفق الدین ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلی (متوفی ۶۳۰ھ) ”المغنی“ میں لکھتے ہیں:
          ”ويجزئ الخصي لأن النبي صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين موجوءين والوجأ رض الخصيتين ، وما قطعت خصيتاه أو شلتا ، فهو كالموجوء ; لأنه في معناه ; ولأن الخصاء ذهاب عضو غير مستطاب ، يطيب اللحم بذهابه ، ويكثر ويسمن . قال الشعبي ما زاد في لحمه وشحمه أكثر مما ذهب منه . وبهذا قال الحسن وعطاء والشعبي والنخعي ومالك والشافعي وأبو ثور ، وأصحاب الرأي . ولا نعلم فيه مخالفا .“ (المغنی مع الشرح الکبیر  » كتاب الأضاحي » مسألة يجتنب في الضحايا العوراء البين عورها » فصل يجزئ الخصي في الأضحية ج:۱۱ ص:۱۰۲)

ترجمہ:… ”اور خصی جانور کی قربانی جائز ہے، کیونکہ نبی کریم   نے خصی مینڈھوں کی قربانی کی تھی، اور جانور کے خصی ہونے سے ناپسندیدہ عضو جاتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے گوشت عمدہ ہوجاتا ہے اور جانور موٹا اور فربہ ہوجاتا ہے۔ امام شعبی رح فرماتے: خصی جانور کا جو عضو جاتا رہا اس سے زیادہ اس کے گوشت اور چربی میں اضافہ ہوگیا۔ امام حسن بصری رح ، عطاء رح ، شعبی رح ، مالک رح ، شافعی رح ، ابوثور رح  اور اصحاب الرائے بھی اسی کے قائل ہیں، اور اس مسئلے پر ہمیں کسی مخالف کا علم نہیں۔“

          جب آنحضرت   سے خصی جانور کی قربانی ثابت ہے اور تمام ائمہٴ دین اس پر متفق ہیں، کسی کا اس میں اختلاف نہیں، تو معلوم ہوا کہ حلال جانور کا خصی کرنا بھی جائز ہے۔ سوال میں جو حدیث ذکر کی گئی ہے وہ ان جانوروں کے بارے میں ہوگی جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا اور جن کی قربانی نہیں کی جاتی، ان کے خصی کرنے میں کوئی منفعت نہیں۔

حلال جانور کے سات اعضاء کھانا مکروہ ہیں:
عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا : الدَّمَ ، وَالْحَيَا ، وَالأُنْثَيَيْنِ ، وَالْغُدَّةَ ، وَالذَّكَرَ ، وَالْمَثَانَةَ ، وَالْمَرَارَةَ ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ مِنَ الشَّاةِ مُقَدَّمَهَا " .
ترجمہ: حضرت مجاہدؒ بیان کرتے ہیں:’’ رسول اللہ  بکرے کے سات اعضاء کے (کھانے کو)پسند نہیں کرتے تھے۔ (1) خون (2) مادہ جانور کی شرمگاہ (3) خصیتین (4) حرام مغز(5) نرجانور کی پیشاب گاہ (6) مثانہ (7 ) پِتَّہ۔
      اوّل الذکر(خون)کا حرام ہونا تو قرآنِ کریم  (2:173) سے ثابت ہے، بقیہ اشیاء طبعاً خبیث ہیں، اس لئے ”ویحرم علیھم الخبائث“ (7:157) کے عموم میں یہ بھی داخل ہیں۔ نیز  ایک حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت   ان سات چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے۔ 
(مصنف عبدالرزاق ج:۴ ص:۵۳۵، مراسیل ابی داوٴد ص:۱۹، سننِ کبریٰ بیہقی ج:۱۰ ص:۷،  
[عن ابن عمر: المعجم الأوسط للطبراني:9715(9480)]









قربانی کا وقت:
مسئلہ:قربانی کاوقت دسویں ذوالحجہ کے دن طلوع فجر کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور بارھویں ذوالحجہ کے دن غروب سے پہلے پہلے تک باقی رہتا ہے ، لیکن شہر اور بڑے دیہات والوں کو عید کی نماز سے پہلے ذبح کرنا جائزنہیں ہے۔ حوالہ
 عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا (بخاري بَاب سُنَّةِ الْعِيدَيْنِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ۸۹۸)   عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى (موطا مالك بَاب الضَّحِيَّةِ عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ وَذِكْرِ أَيَّامِ الْأَضْحَى ۹۲۳) عن جُنْدَبَ بْن سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ   (بخاري بَاب مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَعَادَ ۵۱۳۶)عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنْ الْمَعْزِ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَالمسلمین(مسلم، بَاب وَقْتِهَا ۳۶۲۴) 
مسئلہ:چھوٹے گاؤں والوں کے لئے جہاں عید کی نماز واجب نہیں ہوتی،طلوع فجر کے بعد قربانی کا ذبح کرنا جائز ہے۔ حوالہ
 عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى(موطا مالك بَاب الضَّحِيَّةِ عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ وَذِكْرِ أَيَّامِ الْأَضْحَى ۹۲۳)  
مسئلہ:قربانی کے دنوں میں سے پہلے دن قربانی کا ذبح کرناافضل ہے، پھر دوسرے دن، پھر تیسرے دن۔ حوالہ
  عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ قَالُوا:أَيَّامُ النَّحْرِ ثَلَاثَةٌ، أَفْضَلُهَا أَوَّلُهَا (نصب الراية كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ ۲۱۳/۴)
مسئلہ:قربانی کو بذات خود ذبح کرنا مستحب ہے جبکہ وہ اچھی طرح ذبح کرسکتا ہو، ہاں! اگر وہ اچھی طرح ذبح نہ کرسکتا ہوتو بہتر یہ ہے کہ کسی سے مدد لے اس کو چاہئے کہ ذبح کے وقت موجود رہے ۔ حوالہ
 عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ (بخاري بَاب فِي أُضْحِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ  ۵۱۲۸)ٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ  صلى الله عليه وسلم  :« يَا فَاطِمَةُ قَوْمِى فَاشْهَدِى أُضْحِيَتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِى إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ المسلمین». قِيلَ :يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكَ وَلأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمسلمينَ عَامَّةً قَالَ :بَلْ لِلْمسلمينَ عَامَّةً (السنن الكبري للبيهقي باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ ذَبْحِ صَاحِبِ النَّسِيكَةِ نَسِيكَتَهُ بِيَدِهِ وَجَوَازُ الاِسْتِنَابَةِ فِيهِ الخ ۱۰۵۲۴)
مسئلہ: قربانی کا دن میں ذبح کرنا مستحب ہے، لیکن اگر اسے رات میں ذبح کرے تو کراہت کے ساتھ جائز ہے۔ لیکن اس کراہت کی اصل وجہ یہ ہے کہ رات سکون اور راحت حاصل کرنے کا وقت ہے اور اس کی وجہ سے راحت میں خلل پڑھ سکتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ رات کی تاریکی کی وجہ سے ذابح وغیرہ کے ہاتھ وغیرہ کٹنے کا خدشہ ہوتا ہے، تیسری اہم بات یہ ہے کہ ذبح میں جن رگوں کا کٹنا ضروری ہوتا ہے، رات کی تاریکی کی وجہ سے یہ ظاہر نہیں ہوپاتا کہ ذبح صحیح ہوا یانہیں؛ رگیں مکمل کٹی یانہیں؛ لہٰذا اگریہ وجوہات نہ پائی جائیں توپھرکراہت باقی نہ رہے گی۔ حوالہ
عن ابن عباس :أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن يضحى ليلا (المعجم الكبير أحاديث عبد الله بن العباس بن عبد المطلب بن هاشم ۱۱۴۵۸) وَأَمَّا مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ الذَّكَاةِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا ( فَمِنْهَا ) أَنَّ الْمُسْتَحَبَّ أَنْ يَكُونَ الذَّبْحُ بِالنَّهَارِ وَيُكْرَهُ بِاللَّيْلِ وَالْأَصْلُ فِيهِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْأَضْحَى لَيْلًا وَعَنْ الْحَصَادِ لَيْلًا } وَهُوَ كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ وَمَعْنَى الْكَرَاهَةِ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ لِوُجُوهٍ : أَحَدُهَا أَنَّ اللَّيْلَ وَقْتُ أَمْنٍ وَسُكُونٍ وَرَاحَةٍ فَإِيصَالُ الْأَلَمِ فِي وَقْتِ الرَّاحَةِ يَكُونُ أَشَدَّ ، وَالثَّانِي أَنَّهُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فَيَقْطَعُ يَدَهُ وَلِهَذَا كُرِهَ الْحَصَادُ بِاللَّيْلِ ، وَالثَّالِثُ أَنَّ الْعُرُوقَ الْمَشْرُوطَةَ فِي الذَّبْحِ لَا تَتَبَيَّنُ فِي اللَّيْلِ فَرُبَّمَا لَا يَسْتَوْفِي قَطْعَهَا (بدائع الصنائع فصل في بَيَان شَرْطِ حِلِّ الْأَكْلِ فِي الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ: ۲۳۶/۱۰)۔
مسئلہ:اگر کسی وجہ سے عید کی نماز چھوٹ جائے تو زوال کے بعد قربانی کے جانور کا ذبح کرنا جائز ہے۔ حوالہ
 عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى(موطا مالك بَاب الضَّحِيَّةِ عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ وَذِكْرِ أَيَّامِ الْأَضْحَى ۹۲۳)  
مسئلہ:اگر شہر میں کئی جگہ عید کی نماز کی جماعتیں ہوتی ہو ں تو شہر میں پڑھی جانے والی پہلی نماز کے بعد ذبح کرنا جائز ہے۔ حوالہ

عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنْ الْمَعْزِ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَالمسلمین(مسلم، بَاب وَقْتِهَا ۳۶۲۴) ۔

قربانی کا وقت شہر والوں کے لئے نماز عید ادا کرنے کے بعد اور دیہات والوں کے لیے (جن پر نماز جمعہ فرض نہیں ہے )صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن سورج طلوع ہونے کے بعد کرنابہتر ہے۔
(فتاویٰ عالمگیری ج5 ص364، فتاویٰ شامی ج9 ص528، موطا امام محمدص282باب الرجل یذبح اضحیتہ )
 أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ، " ذَبَحَ أُضْحِيَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى ، وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِأُضْحِيَةٍ أُخْرَى۔
[موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني » كِتَابُ الضَّحَايَا وَمَا يُجْزِئُ مِنْهَا » بَابُ : الرَّجُلِ يَذْبَحُ أُضْحِيَتَهُ قَبْلَ أَنْ ... رقم الحديث: 576]
ترجمہ: حضرت عویمر بن اشقرؓ نے عید الاضحیٰ کے دن صبح سے پہلے اپنی قربانی کرلی اس بات کا ذکر رسول اللہ   کے سامنے کیا تو آپ نے حکم دیا کہ دوسری قربانی کرو!
(موطا امام محمد ص282باب الرجل یذبح اضحیتہ، موطا امام مالک ص495)
وأخرجه الشافعي (587) (السنن المأثورة) ، والبيهقي في "المعرفة" (18885) من طريق عبد الوهَّاب بن عبد المجيد الثقفي، والترمذي في "العلل الكبير" 2/648، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2171) من طريق أبي ضمرة أنس بن عياض الليثي، وابن ماجه (3153) من طريق أبي خالد الأحمر، وابن أبي عاصم (2171) من طريق عبد العزيز الدراوردي، وابن حبان (5912) من طريق عمرو بن الحارث، خمستهم عن يحيى بن سعيد، بهذا  الإسناد.
وأخرجه مالك في "الموطأ" 2/484، ومن طريقه الشافعي (586) (السنن المأثورة) ، والبيهقي في "السنن" 9/263، وفي "المعرفة" (18881) ، وابن الأثير في "أسد الغابة" 4/318 عن يحيى بن سعيد، به.







شرائط قربانی:
قربانی کے واجب ہونے کی چار شرطیں ہیں:
(1) مسلمان ہونا: کافر پر قربانی واجب نہیں ہے۔ حوالہ
مِنْهَا الْإِسْلَامُ فَلَا تَجِبُ عَلَى الْكَافِرِ لِأَنَّهَا قُرْبَةٌ وَالْكَافِرُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْقُرَبِ (بدائع الصنائع فَصْل فِي شَرَائِطِ وُجُوبِ فِي الْأُضْحِيَّةَ: ۲۵۰/۱۰)عن أَنَس  أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمسلمينَ (بخاري بَاب زَكَاةِ الْغَنَمِ ۱۳۶۲)۔

(2) آزاد ہونا: غلام پر قربانی واجب نہیں۔ حوالہ
وَمِنْهَا الْحُرِّيَّةُ فَلَا تَجِبُ عَلَى الْعَبْدِ وَإِنْ كَانَ مَأْذُونًا فِي التِّجَارَةِ أَوْ مُكَاتَبًا ؛ لِأَنَّهُ حَقٌّ مَالِيٌّ مُتَعَلِّقٌ بِمِلْكِ الْمَالِ وَلِهَذَا لَا تَجِبُ عَلَيْهِ زَكَاةٌ وَلَا صَدَقَةُ الْفِطْرِ (بدائع الصنائع فَصْل فِي شَرَائِطِ وُجُوبِ فِي الْأُضْحِيَّةَ: ۲۵۱/۱۰)عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ :لَيْسَ فِي مَالِ الْعَبْدِ زَكَاةٌ. (مصنف ابن ابي شيبة فِي مَالِ الْعَبْدِ ، مَنْ قَالَ لَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ ۱۶۱/۳)  

(3) مقیم ہونا: مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے۔ حوالہ
 عن إبراهيم قال رخص للحاج والمسافر في أن لا يضحي (مصنف عبد الرزاق باب الضحايا ۳۸۲/۴)
مسافر پر قربانی واجب نہیں:
عَنْ عَلِیٍّ قَالَ لَیْسَ عَلَی الْمُسَافَرِ اُضْحِیَۃٌ۔(محلیٰ بالآثار ج6 ص37 کتاب الاضاحی )
[نصب الراية (الزيلعي) - الصفحة أو الرقم: 4/211]
ترجمہ: حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مسافر پر قربانی (واجب)نہیں۔

(4) مال دار ہونا: فقیر پر قربانی واجب نہیں ہے۔  حوالہ
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا(ابن ماجه بَاب الْأَضَاحِيِّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا ۳۱۱۴)

مسئلہ: قربانی کے واجب ہونے کے لئے نصاب پر مکمل سال کا گذرنا شرط نہیں ہے؛ بلکہ قربانی اس وقت واجب ہوتی ہے جبکہ مسلمان عیدالاضحی کے دن اپنی ضروریات اصلیہ کے علاوہ مقدار نصاب کا مالک ہو۔ حوالہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا (مسند احمد مسند أبي هريرة رضي الله عنه ۸۲۵۶)مذکورہ حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے قربانی کی گنجائش رکھتے ہوئے قربانی نہ کرنے والے پرغصہ ہوئے اور اس میں حولانِ حول کا کوئی تذکرہ نہ فرمایا؛ اسی وجہ سے فقہاء کرام اس کی شرط نہیں لگاتے ہیں۔  ( فَتَجِبُ ) التَّضْحِيَةُ : أَيْ إرَاقَةُ الدَّمِ مِنْ النَّعَمِ عَمَلًا لَا اعْتِقَادًا بِقُدْرَةٍ مُمْكِنَةٍ هِيَ مَا يَجِبُ بِمُجَرَّدِ التَّمَكُّنِ مِنْ الْفِعْلِ ؛ فَلَا يُشْتَرَطُ بَقَاؤُهَا لِبَقَاءِ الْوُجُوبِ لِأَنَّهَا شَرْطٌ مَحْضٌ لَا مُيَسَّرَةٌ ، هِيَ مَا يَجِبُ بَعْدَ التَّمَكُّنِ بِصِفَةِ الْيُسْر (رد المحتار كِتَابُ الْأُضْحِيَّةَ:۲۱۴/۲۶)۔

ایام قربانی کے دلائل
قربانی کے تین دن ہیں:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَلْاَیَّامُ الْمَعْلُوْمَات … فَالْمَعْلُوْمَاتُ یَوْمُ النَّحْرِ وَیَوْمَانِ بَعْدَہٗ
[تفسیر ابن ابی حاتم رازی: 13894، (ج6 ص261)]
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:’’ ایام معلومات۔چنانچہ ایام معلوم یوم نحر (دسویں ذی الحجہ)اور اس کے بعد دو دن (11،12ذی الحجہ) ہیں۔‘‘

عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى " . وحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِكٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، مِثْلُ ذَلِكَ .
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح [تخريج مشكاة المصابيح (الألباني) - الصفحة أو الرقم: 1418]

حضرت حضرت عبدالله بن عمرؒ فرماتے ہیں کہ : "قربانی دو دن بعد (بھی) ہے قربانی والے دن کے"، امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ بیشک اس جیسا قول حضرت علی بن ابی طالبؓ سے بھی پہنچا ہے، کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کہتے تھے : "قربانی دو دن بعد (بھی) ہے قربانی والے دن کے".
[أخرجه أبو مصعب الزهري، 1388 في المناسك؛ وأبو مصعب الزهري، 2138 في الضحايا؛ والجامع لابن زياد، 17 في الضحايا، كلهم عن مالك به.]




وَمَا قَدْ حَدَّثَنَا وَمَا قَدْ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " النَّحْرُ يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ " .
[أحكام القرآن الكريم للطحاوي » كِتَابُ الْحَجُّ وَالْمَنَاسِكَ » تأويل قَوْلِهِ تَعَالَى : /30 وَاذْكُرُوا اللَّهَ ... رقم الحديث: 1165]
حضرت عبدالله بن عمرؓ (سورة البقرة آية 203 کی تفسیر) فرماتے ہیں کہ "ایامِ معلومات، یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) اور اس کے بعد کے دو (11، 12 ذی الحجہ) دن ہیں.



عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " النَّحْرُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ " .
ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں :’’کہ قربانی تین دن ہے۔‘‘




3) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ اَلذَّبْحُ بَعْدَ النَّحْرِ یَوْمَانِ۔
4) عن ابن عبَّاسٍ رضي اللَّهُ تعالى عنهُما قال الأضحَى يومانِ بعدَ يومِ النَّحرِ.
[عمدة القاري (العيني) - الصفحة أو الرقم: 21/220 - خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد]


قربانی کے تین دن کے متعلق غیر مقلدین کا فیصلہ:
جناب زبیر علی زئی(غیر مقلد) لکھتے ہیں:’’ قول راجح میں قربانی تین ہیں۔‘‘
( مقالات علی زئی ج2 ص219 الحدیث44 ص6تا11)
نیز لکھتے ہیں: ’’سیدنا علی المرتضیٰؓ اور جمہور صحابہ کرامؓ کا یہی قول ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں ایک عید الاضحی اور دو دن بعد میں تو ہماری تحقیق میں راجح ہے اور امام مالکؒ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ۔ ‘‘
(فتاوی علی زئی ج2 ص181)
مولوی عمر فاروق غیرمقلد لکھتے ہیں:’’ تین دن قربانی کے قائلین کا مذہب راجح اور قرین صواب ہے۔‘‘
(قربانی اور عقیقہ کے مسائل ص 137)


أَيَّامُ التَّشْرِيقِ كُلُّهَا ذَبْحٌ۔ هَذَا حَدِيثُ كَذِبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ .(يعني) تشریق کے سارے دن قربانی کے ہیں۔ یہ حدیث جھوٹی ہے اس سند سے. 
[العلل لابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ)  : رقم الحديث: 831 (العلل الحدیث لابن ابی حاتم (المتوفى: 327هـ) :852(3/265)]
هذا حديث موضوع۔ (یعنی) یہ حدیث من گھڑت ہے۔
[العلل لابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ)  : رقم الحديث: 1571 (العلل الحدیث لابن ابی حاتم (المتوفى: 327هـ) :1594(4/493)]

عید کے چوتھے دن قربانی کرنا سنت سے ثابت نہیں:
مولوی محمد فاروق( غیر مقلد) لکھتے ہیں
بعض لوگ قصداً قربانی میں تاخیر کر کے تیرہ ذوالحجہ کو ذبح کرتے ہیں اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ دن بھی ایام قربانی میں شامل ہے اور اس دن لوگوں نے قربانی ترک کر دی ہے لہٰذا ہم یہ عمل سنت متروکہ کہ احیاء کی خاطر کرتے ہیں لیکن چوتھے دن قربانی کرنا سنت سے ثابت ہی نہیں تو متروکہ سنت کیسے ہوئی ؟بلکہ ایام قربانی تین دن (10،11،12 ذوالحجہ) ہیں ، تیرہ ذوالحجہ کا دن ایام قربانی میں شامل ہی نہیں۔
( قربانی اور عقیقہ کے مسائل ص141)

قربانی اور روشن خیالوں کے تاریک خیالات: 
سوال: ہمارے علاقہ کے ایک جدید تعلیم یافتہ استاذ نے نیا فتنہ شروع کررکھا ہے کہ جانور کی قربانی صرف حاجی حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں کرسکتا ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، ہر سال مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر فریضۂ حج کی ادائیگی کے بغیر جو دنیا کے مختلف حصوں میں قربانی کرتے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے۔ اس کے اس پروپیگنڈہ نے کئی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ کررکھا ہے۔ نیز بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ایامِ عید میں لاکھوں جانوروں کا خون بہا کر اربوں روپے کا نقصان کرتے ہیں، اس کے بجائے اگر یہی روپے نادار افراد پر صرف کئے جائیں، مساجد وغیرہ کی تعمیر پر یا رفاہ عامہ کے کاموں میں لگا دیئے جائیں تو پوری امت کا کتنا نفع ہو؟ ان حالات میں ہم نے آپ کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا، آپ مفصل فتویٰ صادر فرمائیں کہ: 
(۱) قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
(۲) رسول ﷲ ﷺ نے حج کے علاوہ بھی کبھی قربانی کی ہے؟ 
(۳) صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کا قربانی کے سلسلے میں کیا معمول رہا ہے؟ 
(۴) کیا صدقہ و خیرات قربانی کے قائم مقام ہوسکتا ہے؟ 
(ابو احسان کوثر نیازی، رحیم یار خان۔ عبدالقادر، کوٹلی پائیں، مانسہرہ۔ دیگرمتعدد سائلین) جواب: اس دور کے فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب بلکہ ذہنی غلامی کا شکار ایک طبقہ دین اسلام کے یقینی طور پر ثابت شدہ احکام و شعائر کو مسلمانوں کی مادی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھ کر ان میں قطع و بیونت اور ردوبدل کے در پے رہتا ہے اور جہاں اس سے بھی کام بنتا نہیں دیکھتا تو سرے سے انکار کر بیٹھتا ہے، یوں امت مسلمہ کے درد اور خیرخواہی کے پردوں میں الحاد کا بہت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے اور جاہل عوام احکام اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 

ایسے حالات میں عوام پر لازم ہے کہ وہ دینی مسائل میں جدید تعلیم یافتہ مغرب زدہ طبقہ… جو دین کی مبادیات سے بھی جاہل ہے… کی بے سروپا باتوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند علماء سے مضبوط تعلق قائم کریں اور احکام اسلام کے بارے میں ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ یہ انہی کا منصب ہے۔ 

ایک مسلمان کا مطمح نظر بہرکیف احکام الٰہیہ کی بجا آوری ہے، خواہ کسی حکم کی علت اس کی عقل کی ڈبیا میں آئے یا نہ آئے۔ بس اتنا کافی ہے کہ وہ حکم اور عمل قابل قبول دلیل سے ثابت ہو۔ 

قربانی ایک مستقل واجب عبادت بلکہ شعائر اسلام میں سے ہے، رسول ﷲ ﷺ نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی، حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین و اسلاف رحمہم اﷲ تعالیٰ غرض پوری امت کا متوارث و مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے، آج تک کسی نے نہ اسے حج اور مکہ معظمہ کے ساتھ خاص سمجھا ہے اور نہ صدقہ و خیرات کو اس کے قائم مقام سمجھا ہے۔ قربانی کے بارے میں جتنی آیات و احادیث ہیں وہ سب جانوروں کا خون بہانے سے متعلق ہیں، نہ کہ صدقہ و خیرات سے متعلق۔ نیز ان میں حج اور مکہ معظمہ کی کوئی تخصیص نہیں، بطورِ نمونہ چند آیات و احادیث ملاحظہ ہوں:

(۱)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِّیَذْکُرُوْا اسْمَ اﷲِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔(سورۂ حج: آیت ۳۴) ترجمہ: ہم نے (جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہر امت کے لیے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپائوں پر اﷲ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔ 

امام ابن کثیرؒ و امام رازیؒ وغیرہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں تصریح فرمائی ہے کہ خون بہا کر جانوروں کی قربانی کا دستور شروع دن سے ہی تمام اَدیان و مذاہب میں چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر:۳/۲۲۷، تفسیر کبیر۳/ ۳۴)

(۲)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً ھُمْ نَاسِکُوْہُ۔ (سورۂ حج: آیت۶۷) ترجمہ: ہم نے ہر امت کے لیے ذبح کرنے کا طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے۔ 

(۳)فَصَلِّ لِرَّبِکَ وَاْنَحْر۔(سورۂ کوثر۔ آیت:۲) 
ترجمہ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور (اسی کے نام کی) قربانی کیجئے۔ (۴)عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ: من وجد سعۃً فلم یضح فلا یقربن مصّلانا۔ (ابن ماجہ: ص۲۲۶) 
ترجمہ: رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔

(۵)عن ابن عمرؓ قال: أقام رسول اﷲ ﷺ بالمدینۃ عشر سنین یضحی۔ (ترمذی:۱/۱۸۲) 
ترجمہ: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے۔ 

ان آیات و احادیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے: 
(۱) صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پر رسول ﷲ ﷺ نے سخت ناراضی کا اظہار فرمایا، حتیٰ کہ اس کا عیدگاہ کے قریب آنا بھی پسند نہ فرمایا۔ (۲) رسول ﷲ ﷺ نے مدینہ منورہ کے ۱۰ سال میں ہر سال قربانی فرمائی، حالانکہ حج آپ نے صرف آخری سال فرمایا۔ معلوم ہوا کہ قربانی نہ حج کے ساتھ خاص ہے اور نہ مکہ معظمہ کے ساتھ، ورنہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں ۹ سال قربانی کیوں فرماتے؟ 
(۳) قربانی سے مقصد محض ناداروں کی مدد نہیں جو صدقہ و خیرات سے پورا ہوجائے، بلکہ قربانی میں مقصود جانور کا خون بہانا ہے، یہ عبادت اسی خاص طریقہ سے ادا ہوگی، محض صدقہ و خیرات کرنے سے نہ یہ عبادت ادا ہوگی، نہ اس کے مطلوبہ فوائد وثمرات حاصل ہوں گے، ورنہ رسول ﷲ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے دور میں غربت و افلاس دورِ حاضر کی نسبت زیادہ تھا، اگر جانور ذبح کرنا مستقل عبادت نہ ہوتی تو وہ حضرات جانور ذبح کرنے کے بجائے ناداروں کے لیے چندہ جمع کرتے یا اتنی رقم رفاہ عامہ کے کاموں میں صرف فرماتے۔ 

قربانی کے بجائے صدقہ و خیرات کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نادان یہ مشورہ دے کہ آج سے نماز، روزہ کے بجائے اتنا صدقہ کردیا جائے، ظاہر ہے کہ اس سے نماز، روزہ کی عبادت ادا نہ ہوگی، اسی طرح صدقہ و خیرات سے قربانی کی مستقل عبادت بھی ادا نہ ہوگی۔ 

درحقیقت قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے جس میں انہوں نے اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا تھااور ہونہار فرزند حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بلاچوں وچرا حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے ذبح ہونے کے لیے اپنی گردن پیش کردی تھی، مگر اﷲ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو فدیہ بنادیا تھا۔ اس پر ذبح کرکے ہی عمل ہوسکتا ہے، محض صدقہ و خیرات سے اس عمل کی یاد تازہ نہیں ہوسکتی۔ 

نیز حافظ ابن کثیرؒ اور امام رازیؒ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما، حضرت عطاءؒ، حضرت مجاہدؒ، حضرت عکرمہؒ، حضرت حسن بصریؒ، حضرت قتادہؒ، حضرت محمد بن کعب قرظیؒ، حضرت ضحاک رحمہم ﷲ تعالیٰ و غیرہم کا قول نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب غیراﷲ کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے، اس لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رب کے نام پر جانور ذبح کریں۔ (تفسیر ابن کثیر: ص۷۲۴، ج۴) اس بناپر جانور ذبح کرکے ہی اس حکم الٰہی کو پورا کیا جاسکتا ہے، صدقہ و خیرات اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ملحدین کی تحریف سے دین کی حفاظت فرمائیں اور مسلمانوں کو مستند علماء کرام سے دین حق کی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ واﷲ العاصم من جمیع الفتن وھوالموفق لما یحب و یرضیٰ۔ قربانی سے کیا سبق حاصل کیا جائے؟ 
(۱) قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے، اس کا دل و دماغ میں استحضار کیا جائے اور اس حقیقت کو سوچا جائے کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا جوئی کے لیے تھا۔ اور یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ اگر بیٹے ہی کو ذبح کرنے کا حکم باقی رہتا تو ہم بخوشی اس کی تعمیل کرتے۔ ہر والد کا جذبہ یہ ہو کہ میں ضرور اپنے لخت ِجگر کو قربان کرتا اور ہر بیٹے کا جذبہ یہ ہو کہ میں قربان ہونے کے لیے بدل و جان راضی ہوتا اور یہ عزم ہونا چاہیے کہ اگر یہ حکم آج نازل ہوجائے تو ہم اس میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کریں گے۔ 
(۲) قربانی کی اصل روح اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کردے۔ جانور ذبح کرکے قربانی دینے کے حکم میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تمام خواہشات نفسانیہ کو ایک ایک کرکے ذبح کرو۔ اگر کوئی شخص جانور کی قربانی تو بڑے شوق سے کرتا ہے مگر خواہش نفس اور گناہوں کو نہیں چھوڑتا، نہ اس کی فکر ہے تو اگرچہ واجب تو اس کے ذمّہ سے ساقط ہوگیا، مگر قربانی کی حقیقت و روح سے محروم رہا، اس لیے قربانی کی ظاہری صورت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت کو حاصل کرنے کا عزم، کوشش اور دُعابھی جاری رہنا چاہیے۔ 
(۳) حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف ایک جانور کی قربانی نہیں کی، بلکہ پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارا، جو حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا فوراً تعمیل کی۔ جان، مال، ماں باپ، وطن و مکان، لخت جگر غرض سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان فرمایا۔ ہمیں بھی اپنے اندر یہی جذبہ پیدا کرنا چاہیے کہ دین کا جو تقاضا بھی سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم بھی سامنے آئے اس پر عمل کریں گے۔ اپنے اعزہ و احباب، بیوی بچوں، ماں باپ، خاندان، قوم کسی چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں ترجیح نہیں دیں گے۔ 
سارا جہاں ناراض ہو پروا نہ چاہیے 
مدنظر تو مرضیٔ جاناناں چاہیے 
بس اس نظر سے دیکھ کر تو کر یہ فیصلہ 
کیا کیا کرنا چاہیے کیا کیا نہ چاہیے 
(۴) اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ بنادیا اور اس کی بناپر اب بیٹے کی قربانی کا حکم نہیں ہے، مگر جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی جان اور اولاد کو قربان کرنے کا حکم تو ہمیشہ کیلیے ہے۔ جہاد تو قیامت تک جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار جہاد کا حکم فرمایا ہے اور آج یہ حکم پوری تاکید کے ساتھ امت مسلمہ کی طرف متوجہ ہے۔ کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہے اور دنیا بھر کی مظلوم مائوں، بہنوں کی سسکیوں پر کان دھرنے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان کی بازی لگانے کی تڑپ دل میں پیدا کرے؟؟؟ 
مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: 
مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں، بلکہ وقت وجوب کے آخری جزومیں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان ہوگیا، یا مسافر وطن پہنچ گیا، یا غلام آزاد ہوگیا، یا بچہ بالغ ہوگیا، مجنون کو صحت ہوگئی، یا فقیر صاحب نصاب بن گیا تو ان پر قربانی واجب ہوگئی، اس میں مردوزن کا حکم یکساں ہے۔ 







فلسفہٴ قربانی اور ملحدین کے شکوک وشبہات



بیتے ایام کی ایک یاداشت
                دوپہر کے وقت کھانے سے فارغ ہو کر سونے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ ایک طالبِ علم ساتھی نے اعلان کیا ” سب طلبہ جامعہ کے میدان میں جمع ہو جائیں، نمازِ استسقاء ادا کی جائے گی۔“ اس کے اس اعلان سے کچھ تو ناگواری سی ہوئی کہ اب تو سونے کا وقت ہے، اس وقت کیا ہونے لگا! اس لیے کہ دوپہر کا سونا طلباء کے لیے کس قدر مرغوب ہوتا ہے، طلبہ ساتھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کرنا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے؛ لیکن اس اعلان کے ساتھ کچھ نیا سا شوق بھی پیدا ہوا کہ زندگی میں پہلی بار یہ نماز ادا کرنے کا موقع مل رہا ہے، یہ کس طرح ادا کی جاتی ہے؟ اس میں کیا ہوتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ، خیر! یہ سوچیں لیے ہوئے میں جلدی سے میدان کی طرف لپکا کہ پہلی صف میں جگہ ملے؛ تا کہ بہ سہولت اور خوب اچھی طرح سب کچھ دیکھنے اور سیکھنے کا موقع ملے۔
                سب طلبہ جمع ہو گئے، حضرت مہتمم صاحب (مدرسہ عربیہ اشرف العلوم، اٹھیل پور، ضلع قصور) حضرت مولانا محمود الحسن صاحب دامت برکاتہم العالیہ تشریف لائے، طلبہ پر نظر ڈالی اور پوچھا ”مکتب والے بچے نہیں آئے؟ انھیں بھی بلاوٴ“؛ چنانچہ وہ بھی پہنچ گئے، استاذِ محترم کھڑے ہوئے، کچھ اہم ترین باتیں ارشاد فرمائیں، اس کے بعد نماز پڑھائی، جو کچھ استاذِ محترم نے فرمایا، اس کا خلاصہ یہ تھا: ”جب بارش نہ ہو اور نہریں ، کنویں وغیرہ بھی نہ ہوں، یا کنویں وغیرہ تو ہوں؛ لیکن ان میں پانی بالکل نہ ہو، یا پانی ہو؛ لیکن لوگوں کے لیے بقدرِ حاجت نہ ہو، یعنی: خود پینے کے لیے، جانوروں کو پلانے کے لیے، کھیتیوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی نہ ہو، تو اس وقت صلاةِ استسقاء مشروع ہے اور جب پانی بقدرِ کفایت موجود ہو، تو مشروع نہیں ہے۔ “(ردالمحتار ، کتاب الصلاة، باب الاستسقاء: ۲/۱۸۴، سعید)
ہمیں تو حکم ہے، حکم پورا کرنے کا
                پھر فرمایا: ”یاد رکھو کہ ہمیں حکم ہے، حکم پورا کرنے کا، کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے حالات جن میں امت پانی کی کمی کی وجہ سے پریشان ہو، تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے کہ سب مسلمان مرد جوان، بوڑھے اور بچے شہر سے باہر کسی میدان میں جمع ہوں، توبہ و استغفار کریں، دلوں میں ندامت و شرمندگی ہو اور اللہ کی رحمت کے امید وار ہوں اور اپنی دعاوٴں کی قبولیت کا یقین ہو، پھر امام جہراً قراء ت کے ساتھ دو رکعت پڑھائے، اس کے بعد دو خطبے ہوں، اس کے بعد قبلہ رو ہو کر امام اپنی چادر کو پلٹے، پھر کھڑے کھڑے اُلٹے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور سب آمین کہیں، اس کے بعد حسبِ وسعت صدقہ وغیرہ بھی کیا جائے۔“(التعلیق الصبیح شرح مشکاة المصابیح، کتاب الصلاة، باب الاستسقاء، ۲/۱۸۵، رشیدیہ)
                تو ایسے موقع پر حکم ہے کہ نمازِ استسقاء ادا کی جائے، اس کے بعد اس نماز کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟! اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں؛ اس لیے کہ ہمیں تو حکم تھا نمازِ استسقاء ادا کرنے کا، تو ہم نے اس حکم کی تکمیل کر لی، اس کے بعد بارش ہوتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ہمارے پاس نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اس پر کسی کا زور نہیں ہے، اس کی مرضی، بارش دے یا نہ دے، بارش دینا اُس کا کام ہے اور نماز پڑھنا ہمارا کام، لہٰذا جب ہم نے نماز ادا کر لی تو ہم کامیاب ہو گئے، انشاء اللہ۔ ہم اس سوچ میں نہیں پڑیں گے کہ اس نماز کا کیا فائدہ ہے؟! اس نماز کی ادائیگی میں کیا حکمت ہے؟!“ (اللہ کی شان! اُس موقع پر ہم طلبہ اس میدان سے نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ زور دار بارش شروع ہو گئی تھی)
قربانی سے متعلق ملحدین ومنکرین کے شکوک وشبہات
                یہ تفصیلی قصہ ذکر کرنے کا مقصد محض قصہ گوئی نہیں ہے، جس طرح استاذِ محترم کی طرف سے ہم طلبہ کو ایک ذہنیت دے دی گئی کہ ”اللہ کے حکم کو حکم سمجھ کر پورا کردو، اس کی مصلحتوں اور حکمتوں کے پیچھے نہ پڑو“، اِسی طرح اُس ذہنیت میں آپ حضرات کو بھی شریک کرتے ہوئے اس ماہِ مبارک ذوالحجہ (جو شروع ہو چکا ہے) میں ادا کی جانے والی ایک بہت ہی عظیم الشان عبادت (قربانی)کے بارے منکرین وملحدین اور مستشرقین کی طرف سے پیدا کیے جانے والے شکوک وشبہات کا رد کرنا ہے، ذی الحجہ کا مبارک مہینہ شروع ہونے والا ہے، اس ماہ کے شروع ہوتے ہی جدید تہذیب کا دلدادہ اور مغربیت سے متأثر ذہنیت رکھنے والا شخصسادہ لوح اور مذہب پسند مسلمانوں کا ذہن خراب کرنا شروع کر دیتا ہے کہ قربانی کی وجہ سے جانوروں کی نسل کُشی ہوتی ہے، لاکھوں لوگوں کی یہ رقمیں بلا وجہ ضائع ہوتی ہیں، اس کے بجائے اگر اتنا مال رفاہِ عامہ کے مفید کاموں ، ہسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کیا جائے ، تو معاشرے کے بہت بڑے غریب اور مفلس طبقے کا بھلا ہو جائے گا، یہ افراد بھی زندگی کی ضروری سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے، وغیرہ وغیرہ، اس طرح منکرینِ قربانی اپنی عقلِ نارسا سے کام لیتے ہوئے بزعمِ خود قربانی کے نقصانات اور ترکِ قربانی کے فوائد بیان کرتے نظر آتے ہیں۔اور اس کی وجہ سے عام مسلمان ان نام نہاد دانشوروں کے زہریلے پروپیگنڈے اور بہکاوے میں آ کر اسلام کے اس عظیم الشان حکم کو ترک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ  ﷺ کا ان دنوں (دس ذی الحجہ)میں دائمی عمل
                اس صورتِ حال میں سب سے پہلے تو غور کرنے کی یہ بات ہے کہ عید الاضحی کے اس خاص موقع پر اگر قربانی کرنے کی بہ نسبت انسانیت کی فلاح وبہبود میں مال خرچ کرنااتنا ہی افضل، موزوں ومناسب یا ضروری ہوتا توجناب نبی اکرم  ﷺ کے زمانہ میں اہلِ ثروت اور صاحب ِ نصاب مسلمانوں پر قربانی کے حکم کے بجائے غریب، سسکتی اور بد حال انسانیت پر مال خرچ کرنا ضروری قرار دیا جاتا؛ جب کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہر دور میں غریب اور نادار طبقہ موجود رہا ہے، تو یقینا آپ علیہ الصلاة والسلام کے مبارک دور میں بھی یہ طبقہ موجود تھا؛ بلکہ ایسے افراد تو بکثرت موجود تھے؛ لیکن رحمة للعالمین  ﷺ (جو اپنی امت کے لیے بہت ہی زیادہ شفیق اور مہربان تھے)نے اپنے زمانہ کے اہلِ ثروت اور صاحب ِ نصاب مسلمانوں کو اس (عید الاضحی کے ) موقع پر یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنا مال رفاہِ عامہ کے مفید کاموں ، ہسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کریں؛ بلکہ یہ حکم فرمایا کہ اس موقع پر اللہ کے حضور جانور کی قربانی پیش کریں۔ اور خود رسول اللہ  ﷺ کا دائمی عمل ان دنوں میں قربانی کرنے کا ہی تھا، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران) آپ ﷺ قربانی کرتے رہے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ”أقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بالمدینة عَشْرَ سنین، یُضَحِّيْ“، سنن الترمذي، الأضاحي، باب الدلیل علی أنَّ الأضحیةَ سُنَّةٌ، رقم الحدیث: ۱۵۰۷) اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس عظیم حکم کو ہمیشہ قائم ودائم رکھنا، اس بات کی دلیل ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا ہی ضروری ہے۔
ایام ِ قربانی میں قربانی افضل ہے یا نقد صدقہ؟
                امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”قربانی کے ایام میں بنسبت صدقہ کرنے کے قربانی کرنا افضل ہے“، امام ابو داوٴد، امام ربیعہ اور ابو الزناد رحمہم اللہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔ (المغنی لابن قدامہ:۱۱/۶۹)
                نبی اکرم  ﷺ، ان کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا یہی عمل تھا، اگر ان حضرات کے نزدیک اس سے بہتر کوئی عمل ہوتا تو وہ یقینا قربانی کے بجائے اسی کو اختیار کرتے، دوسری بات یہ کہ ایسا کیسے ہوسکتا تھا، جب کہ نبی اکرم  ﷺ کا صریح فرمان مبارک موجود ہے کہ ”اس دن میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (قربانی کے جانور کا)خون بہانے سے بڑھ کر بنی آدم کا کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے“۔(عن عائشة رضي اللّٰہ عنھا أن رسول اللّٰہ ﷺ قال: ”ما عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ یومَ النَّحْرِ أَحَبُّ إِلی اللّٰہ مِن إِھراقِ الدَّمِ“ سنن الترمذي، فضل الأضحیة، رقم الحدیث:۱۴۹۳)
                اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے افضل نہیں“۔(عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰہ ﷺ: ”مَاأُنْفِقَتِ الْوَرَقُ فِيْ شَیْیٍٴ أَفْضَلُ مِنْ نَحِیْرَةٍ فِيْ یَوْمِ اْلعِیْدِ“ سنن الدراقطني، کتاب الأشربة، باب الصید والذبائح والأطعمة وغیر ذالک، رقم الحدیث: ۴۳)
                امام نووی رحمہ اللہ بھی اسی طرح ذکر کرتے ہیں کہ صحیح احادیثِ مشہورہ کی بنا پر شوافع کے نزدیک ان دنوں میں قربانی کرنا ہی افضل ہے، نہ کہ صدقہ کرنا؛ اس لیے کہ اس دن قربانی کرنا شعارِ اسلام ہے، یہی مسلک سلفِ صالحین کا ہے۔ (المجموع شرح المہذب: ۸/۴۲۵)؛ البتہ ! وہ افراد جن پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، اُن کے لیے یا اُن کی طرف سے قربانی کرنے کی بجائے صدقہ کرنا افضل شمار ہو گا۔(البحر الرائق: ۸/۲۰۲)
                صاحب مرقاة المفاتیح لکھتے ہیں کہ ”بعض فقہاء کے نزدیک قربانی واجب ہے اور بعض کے نزدیک سنتِ موٴکدہ ؛لیکن بہرصورت اس دن میں قربانی کرنا یعنی: خون بہانا متعین ہے، اس عمل کو چھوڑ کر جانور کی قیمت صدقہ کر دینا کافی نہیں ہو گا؛ اس لیے کہ صدقہ کرنے میں شعائرِ اسلام میں سے ایک بہت بڑے شعار کا ترک لازم آتا ہے؛ چنانچہ! اہل ثروت پر قربانی کرنا ہی لازم ہے۔ “(مرعاة المفاتیح: ۵/۷۳)
کیا قربانی سے جانوروں کی نسل کُشی ہوتی ہے؟
                 ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ نظام چلا آ رہا ہے کہ انسانوں یا جانوروں کو جس چیز کی ضرورت جتنی زیادہ ہوتی ہے، حق تعالی شانہ اس کی پیدائش اور پیداوار بڑھا دیتے ہیں اور جس چیز کی جتنی ضرورت کم ہوتی ہے تو اس کی پیداوار بھی اتنی ہی کم ہو جاتی ہے، آپ پوری دنیا کا سروے کریں اچھی طرح جائزہ لیں کہ جن ممالک میں قربانی کے اس عظیم الشان حکم پر عمل کیا جاتا ہے، کیا ان ممالک میں قربانی والے جانور ناپید ہو چکے ہیں یا پہلے سے بھی زیادہ موجود ہیں؟!، آپ کبھی اور کہیں سے بھی یہ نہیں سنیں گے کہ دنیا سے حلال جانور ختم ہو گئے ہیں یا اتنے کم ہو گئے ہیں کہ لوگوں کو قربانی کرنے کے لیے جانور ہی میسر نہیں آئے؛ جب کہ اس کے برخلاف کتے اور بلیوں کو دیکھ لیں، ان کی نسل ممالک میں کتنی ہے؟! حالاں کہ تعجب والی بات یہ ہے، کتے اور بلیاں ایک ایک حمل سے چار چار پانچ پانچ بچے جنتے ہیں؛ لیکن ان کی تعداد بمقابل حلال جانوروں کے بہت کم نظر آتی ہے۔
حضرت مفتی محمدشفیع دیوبند صاحب رحمہ اللہ کا قول
                حضرت مولانا مفتی محمدشفیع دیوبندی صاحب رحمہ اللہ قرآن پاک کی آیت﴿وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَھُوَ یُخْلِفُہ﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ” اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے خزانہٴ غیب سے تمہیں اس کا بدل دے دیتے ہیں، کبھی دنیا میں اور کبھی آخرت میں اور کبھی دونوں میں، کائنات ِ عالَم کی تمام چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے، انسان اور جانور اس کو بے دھڑک خرچ کرتے ہیں، کھیتوں اور درختوں کو سیراب کرتے ہیں، وہ پانی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا اس کی جگہ اور نازل ہو جاتا ہے، اسی طرح زمین سے کنواں کھود کر جو پانی نکالا جاتا ہے، اس کو جتنا نکال کر خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ دوسرا پانی قدرت کی طرف سے جمع ہو جاتا ہے، انسان غذا کھا کر بظاہر ختم کر لیتا ہے؛ مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسری غذا مہیا کر دیتے ہیں، بدن کی نقل وحرکت اور محنت سے جو اجزاء تحلیل ہو جاتے ہیں، ان کی جگہ دوسرے اجزاء بدل بن جاتے ہیں، غرض انسان دنیا میں جو چیز خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عام عادت یہ ہے کہ اس کے قائم مقام اس جیسی دوسری چیز دے دیتے ہیں، کبھی سزا دینے کے لیے یا کسی دوسری تکوینی مصلحت سے اس کے خلاف ہو جانا اس ضابطہٴ الٰہیہ کے منافی نہیں،․․․․․ اس آیت کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیاء صرف انسان اور حیوانات کے لیے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں، ان کا بدل منجانب اللہ پیدا ہوتا رہتا ہے، جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتے ہیں، جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اس کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں، جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے،کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں؛ حالانکہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے، گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی ہے، کتے بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا؛ مگر پھر بھی یہ مشاہدہ ناقابلِ انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بہ نسبت کتے بلی کے زیادہ ہے، جب سے ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہے، اس وقت سے وہاں گائے کی پیداوارگھٹ گئی ہے، ورنہ ہر بستی اور ہر گھر گایوں سے بھرا ہوتا جو ذبح نہ ہونے کے سبب بچی رہیں۔
                عرب سے جب سے سواری اور باربرداری میں اونٹوں سے کام لینا کم کر دیا، وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی، اس سے اس ملحدانہ شبہ کا ازالہ ہو گیا، جو احکامِ قربانی کے مقابلہ میں اقتصادی اور معاشی تنگی کا اندیشہ پیش کر کے کیا جاتا ہے۔“ (معارف القرآن، سورة السباء:۳۹، ۷/۳۰۳)
رفاہی کاموں کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے؟
                ہماری اس بحث کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ رفاہِ عامہ کے مفید کاموں ، ہسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے غرباء، مساکین اور ناداروں پر خرچ نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ ہمارا مقصود محض یہ ہے کہ دس ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی شام تک جس شخص پر قربانی کرنا واجب ہے، اس کے لیے قربانی چھوڑ کر اس رقم کا صدقہ کرنا جائز نہیں ہے، ہاں! جس شخص پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، اس کے لیے ان دنوں میں یا صاحب ِ نصاب لوگوں کے ان دنوں میں قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ یا سال کے دیگر ایام میں مالی صدقہ کرنا یقینا بہت زیادہ ثواب کی چیز ہے، رفاہِ عامہ کے مفید کاموں ، ہسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کرنے کے لیے اسلام نے زکاة، صدقة الفطر، عشر، کفارات، نذور، میراث، دیگر وجوبی صدقات اور ہدایا وغیرہ کے نظام وضع کیے ہیں، ان احکامات کوپوری طرح عملی جامہ پہنا کر مطلوبہ نتائج ومقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں، نہ یہ کہ اسلام کے ایک عظیم الشان حکم کو مسخ کر کے تلبیس سے کام لیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ معاشرے میں ہونے والی خرافات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے، طرح طرح کی مروج رسومات میں ضائع ہونے والی اربوں وکھربوں کی مالیت کو کنٹرول کیا جائے، نہ کہ ایک فریضے میں صرف کرنے والے لوگوں کو بھی بہکا کر اس سے روک دیا جائے۔
 شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ کا قول
                 شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”منکرینِ قربانی نے اپنی عقلِ نارسا سے کام لیتے ہوئے بزعمِ خود قربانی کے مضرات اور نقصانات اور ترکِ قربانی کے فوائد بیان کیے ہیں، مثلاً: یہ کہا ہے کہ قربانی کی وجہ سے جانوروں کی نسل کُشی ہوتی ہے اور لوگوں کی رقمیں بلا وجہ ضائع ہوتی ہیں، اگر یہ رقوم رفاہِ عامہ کے کسی مفید کام میں صَرف کی جائیں تو کیا ہی اچھا ہو، وغیرہ وغیرہ، مگر یہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو (جو حکیم الاطلاق ہے اور اس کا کوئی حکم عقل کے خلاف اور خالی از حکمت نہیں ہوتا) محض ان طفل تسلیوں سے کیوں کر رد کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس کو قربانی کا حکم دیتے وقت یہ معلوم نہ تھا کہ قربانی سے جانوروں کی نسل کشی ہوتی ہے اور اس کے یہ نقصانات ہیں؟ رب تعالیٰ کے صریح احکام میں معاذ اللہ کیڑے نکالنا کون سا ایمان ہے؟! اور پھر جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے صحیح اور صریح قول و فعل اور اُمتِ مسلمہ کے عمل کو جو تواتر سے ثابت ہوا ہے، خلاف ِ عقل یا مضر بتانا کون سا دین ہے؟!“۔ (مسئلہٴ قربانی مع رسالہ سیف یزدانی، ص: ۱۲)
مولانا مفتی محمد رضوان صاحب دامت برکاتہم کا قول
                حضرت مولانا مفتی محمد رضوان صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں: ” بعض لوگ روحانیت سے غافل ہو کر یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ قوم کا اتنا روپیہ جو تین دن میں جانوروں کے ذبح پر ہر سال خرچ ہو جاتا ہے اور اس کا خاطر خواہ مفاد نظر نہیں آتا، اگر یہی پیسہ رفاہی اور قومی مفادات پر لگایا جائے تو بہت فائدہ ہو ۔
                پہلی بات تو یہ ہے کہ قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم اور اہم عبادت ہے، جیسے: حج کرنا، زکاة دینا، اور دوسری عبادات۔ تو کیا ان عبادات کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ فضول خرچی اور مال کو بے جا خرچ کرنا ہے؟! اس طرح تو دین کا بہت بڑاحصہ اور بہت سے دینی احکام کا تعلق اسلام سے ختم ہو جاتا ہے۔ پس جب شریعت میں قربانی کا حکم ہے تو اسے عقلی اعتراضوں اور ذہنی ڈھکوسلوں کا شکار بنانا کسی طرح درست نہیں۔
                دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں ہونے والی دوسری اور اصل فضول خرچیاں (جن کا شریعت نے حکم بھی نہیں دیا) ان لوگوں کو نظر نہیں آتیں؛ جب کہ اصل میں تو ان کے ختم کرنے اور مٹانے کی ضرورت ہے، ملک کی کتنی بڑی تعداد ایسی ہے جو سگریٹ نوشی، منشیات، کرکٹ، ہاکی اور دوسرے کھیل جوئے بازی، گھوڑ دوڑ، ناچ گانا، فحش پروگرام، انٹرنیٹ، ٹی وی، کیبل، وی سی آر، سینما، فضول تصویر سازی اور مووی بازی اور دوسرے فحش میڈیائی پروگرام، فحش اخبار ورسائل اور دیگر ناول اور ڈائجسٹ، بسنت، عید کارڈ، شادی کارڈ، گانوں اور دیگر غلط پروگراموں کی آڈیو وویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز، ویڈیو گیمز، آتش بازی، شادی بیاہ، مرگ وموت اور غمی خوشی کی رسومات، مختلف فیشن، غیر شرعی بیوٹی پارلر وغیرہ کی زد میں ہے۔جن کو چھوڑے اور توبہ کیے بغیر دنیا وآخرت کی فلاح اور کامیابی ملنا مشکل ہے اور یہی پیسہ اگر قومی اور رفاہی مفادات پر خرچ کیا جائے تو بہت جلد ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔“ (ذوالحجہ اور قربانی کے مسائل واحکام، ص: ۱۶۷)
ذبح کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب
                منکرین اور ملحدین کی طرف سے ایک اعتراض یہ بھی سامنے آتا ہے کہ زندہ جانوروں کے گلے پر چھری پھیر دینا بھی عقلِ سلیم کے خلاف ہے، یہ فعل مسلمانوں کی بے رحمی پر دلالت کرتا ہے، اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
                ”ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ شریعتِ اسلامیہ سے زیادہ رحم کسی مذہب میں نہیں ہے، اور ذبحِ حیوان رحم کے خلاف نہیں؛ بلکہ ان کے حق میں اپنی موت مرنے سے مذبوح ہو کر مرنا بہتر ہے؛ کیوں کہ خود مرنے میں قتل وذبح کی موت سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے، رہا یہ سوال کہ پھر انسان کو ذبح کر دیا جایا کرے؛ تا کہ آسانی سے مر جایا کرے، اس کا جواب یہ ہے کہ حالتِ یاس سے پہلے ذبح کرنا تو دیدہ ودانستہ قتل کرنا ہے اور حالتِ یاس پتہ نہیں چل سکتی؛کیونکہ بعض لوگ ایسے بھی دیکھے گئے ہیں کہ مرنے کے قریب ہو گئے تھے، پھر اچھے ہو گئے اور شبہ حیوانات میں کیا جائے کہ ان کی تو یاس کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا، جواب یہ ہے کہ بہائم اور انسان میں فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کا تو اِبقا (باقی رکھنا) مقصود ہے، کیونکہ خلقِ عالم سے وہی مقصود ہے؛ اس لیے ملائکہ کے موجود ہوتے ہوئے اس کو پیدا کیا گیا؛ بلکہ تمام مخلوق کے موجود ہونے کے بعد اس کو پیدا کیا گیا؛ کیونکہ نتیجہ اور مقصود تمام مقدمات کے بعد موجود ہوا کرتا ہے؛ اس لیے انسان کے قتل اور ذبح کی اجازت نہیں دی گئی، ورنہ بہت سے لوگ ایسی حالت میں ذبح کر دیے جائیں گے، جس کے بعد ان کے تندرست ہونے کی امید تھی اور ذبح کرنے والوں کے نزدیک وہ یاس کی حالت میں تھا اور جانور کا اِبقاء مقصود نہیں؛ اس لیے اس کے ذبح کی جازت اس بنا پر دے دی گئی کہ ذبح ہو جانے میں ان کو راحت ہے اور ذبح ہو جانے کے بعدان کا گوشت وغیرہ بقائے انسانی میں مفید ہے، جس کا اِبقاء مقصود ہے، اس کو اگر ذبح نہ کیا جائے اور یونہی مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو وہ مردہ ہو کر اس کے گوشت میں سمّیت کا اثر پھیل جائے گا اور اس کا استعمال انسان کی صحت کے لیے مضر ہو گا، تو اِبقاء انسان کا وسیلہ نہ بنے گا اور قصاص، جہاد میں چونکہ افناء ِ بعض افرادبغرضِ اِبقاء جمیع الناس متیقن ہے؛ اس لیے وہاں قتل ِ انسانی کی اجازت دی گئی؛ مگر ساتھ ہی اس کی رعایت کی گئی کہ حتی الامکان سہولت کی صورت سے مارا جائے، یعنی: قصاص میں جو کہ قتلِ اختیاری ہے، تلوار سے۔ اور جہاد میں مُثلہ وغیرہ کی ممانعت ہے۔“ (اشرف الجواب، انیسواں اعتراض: ذبح کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب، ص: ۸۶، ۸۷مکتبہ عمر فاروق، کراچی)
قربانی کی حقیقت کیا ہے؟
                 اگر قربانی کی حقیقت پر نظر ہو تو بھی یہ وسوسہ پیدا نہیں ہو سکتا، قربانی تو یادگار ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنا بیٹا ذبح کرو؛ حالانکہ! دوسری طرف خود قرآن کا اعلان ہے کہ قتل کی سزا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے، نیز! بچوں کو تو جہاد کی حالت میں بھی قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، الغرض عقل کبھی بچے اور بالخصوص اپنے معصوم بچے کے قتل کو تسلیم نہیں کر سکتی؛ لیکن قربان جائیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر کہ انہوں نے اللہ سے یہ نہیں پوچھا کہ اے اللہ! جو بچہ مجھے برسہا برس دعائیں مانگنے کے بعد ملا، آخر اس کا قصور کیا ہے؟! اور اگر قصور ہے بھی تو اس کو مارنے سے کیا حاصل ہو گا؟! نہیں ، اس لیے کہ جہاں اور جس کام میں اللہ کا حکم آ جاتا ہے وہاں چون وچرا کی گنجائش نہیں رہتی، چاہے نفع نظر آئے یا نقصان۔
                دوسری طرف قربانی کے جانور پر آنے والے اخراجات کا جائزہ لیجیے، آج کے اس مہنگائی والے دور میں بڑے جانور میں حصہ لینے کے لیے آٹھ یا نو ہزار روپے کافی ہیں اور اگر چھوٹا جانور لینا چاہیں تو بارہ سے پندرہ ہزار روپے میں کام چل جاتا ہے۔ اس جائزے کے بعد سوچیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں حکم ہو کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم اپنا بیٹا قربانی کے لیے ذبح کرو، یا اس کی بجائے (بارہ سے پندرہ ہزار روپے کا)جانور ذبح کرو۔تو بتلائیے کہ کون کس کو ترجیح دے گا، یقینا بیٹے کے ذبح کے مقابلہ میں ہر عقل مند جانور ذبح کرنے کو ترجیح دے گا۔اب ایک نظر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف بھی ڈالیے کہ جب ان کو بیٹا ذبح کرنے کاحکم ملا (اور حکم بھی صراحتاً نہیں ملا؛ بلکہ خواب میں اشارةً بتلایا گیا) تو انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی رُک کر یہ نہ پوچھا کہ یا اللہ! اس میں میرے لیے کیا نفع ہے؟اور ایک ہم ہیں کہ معمولی سا جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا اور ہم پوچھتے پھرتے ہیں کہ اس میں میرا کیا نفع ہے؟اس کے بجائے یہ ہو جائے، وہ جائے، وغیرہ وغیرہ۔
                ایسی باتیں قربانی کی روح کے خلاف ہے، یہ سوال کرنے والا درحقیقت قربانی کی حقیقت سے ہی ناواقف ہے، قربانی کے ذریعے تو یہ جذبہ پیدا کرنا مقصود ہے کہ جب اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی حکم آ جائے توہم اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے اللہ کے حکم کی پیروی کریں، اس کے حکم کے سامنے اپنا سرِ تسلیم خم کریں، اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عمل میں اشارہ کیا ہے کہ ﴿فَلَمَّا أَسْلَمَا﴾ جب انہوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا․․․․․الخ۔ تو اچھی طرح سمجھ لیناچاہیے کہ قربانی محض رسم یا دل لگی نہیں ہے؛ بلکہ اس کے ذریعے ایک ذہنیت دینا مقصود ہے، جسے فلسفہٴ قربانی کا نام دیا جاتا ہے ، وہ یہی ہے کہ جب اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی حکم آ جائے توہم اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے اللہ کے حکم کی پیروی کریں، اس کے حکم کے سامنے اپنا سرِ تسلیم خم کریں۔
                آج ضرورت ہے کہ منکرینِ قربانی ، ملحدین اور مستشرکین وکفار کے اس زہریلے پروپیگنڈے کے مقابلے میں اہلِ اسلام پُرزور طریقے سے اس حکم پر عمل پیرا ہوں، اسی میں اہلِ اسلام کی خیر وبقا کا راز اور دینِ اسلام کی حفاظت مضمر ہے۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرضیٰ
$ $ $

تکبیراتِ تشریق:
عَنْ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ فِي الْمَكْتُوبَاتِ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ , وَكَانَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ , وَكَانَ يُكَبِّرُ يَوْمَ عَرَفَةَ صَلاةَ الْغَدَاةِ , وَيَقْطَعُهَا صَلاةَ الْعَصْرِ آخِرَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " .
[سنن الدارقطني » كِتَابُ الْعِيدَيْنِ ۔۔۔ رقم الحديث: 1523(1718)]

قربانی کے سلسلے میں امت کا تعامل
حقائق، مسلّمات اور غلط فہمیاں
(۱)

از: مفتی رشید احمد فریدی
مدرسہ مفتاح العلوم تراج، سورت، گجرات


(۱)    تعامل امت اصول کی روشنی میں

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم        اما بعد:

اہل علم اور عوام و خواص سب بخوبی واقف ہیں کہ ایک جگہ کی قربانی دوسری جگہ یعنی شہر کی قربانی دیہات میں اور دیہات کی قربانی شہر میں اور ایک شہر کی قربانی دوسرے شہر میں کرنے کرانے کا سلسلہ خیرالقرون سے چلا آرہا ہے۔ اس کے کلی وجزوی ضوابط وشرائط بھی ائمہ مجتہدین اور فقہاء رحمہم اللہ نے واضح لفظوں میں بیان کیا ہے جو کتب فقہ میں صراحتاً منقول ہیں۔

قربانی کے وجوب اوراداء سے متعلق اصول وشرائط کا حاصل آسان لفظوں میں صرف اتنا ہے کہ مطلق قربانی کے صحیح ہونے کے لئے ایام نحر کا ہونا ضروری ہے اور یوم النحر” دسویں ذی الحجہ“ کو شہر میں قربانی کیلئے مزید یہ شرط ہے کہ عیدالاضحی کی نماز ہوچکی ہو۔ خواہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہو اور جس کی طرف سے قربانی ہے اگر وہ واجب قربانی کرنا یا کرانا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ شخص شرعاً غنی یعنی مالک نصابِ فاضل ہو اس لئے کہ مالی عبادت کے لئے قدرت بالمال یعنی شرعی غنا ویسار ضروری ہے اور یہ غنا قربانی کے وجوب کے سلسلہ میں شرط فی معنی العلة ہے۔ أن لا نزاع لأحد أن علة وجوب الأضحیة علی الموسر ہی القدرة علی النصاب. (تکلمة فتح القدیر ج۹ ص ۵۰۷) وشرط الیسار لقولہ علیہ السلام من وجد سعة ولم یضح فلا یقربن مصلانا یدل علی الوجوب بالسعة ولا سعة للفقیر (بنایہ) پس اگر کوئی شخص (عاقل،بالغ، مسلمان) غنی بن گیا تو شرعاً اس کے ذمہ صدقہٴ فطر کی طرح قربانی کا بھی وجوب متعلق ہوجاتا ہے۔ اس میں کسی فقیہہ کا اختلاف نہیں ہے۔ یعنی مالک نصاب اس لائق ہوجاتا ہے کہ اس سے صدقة الفطر اور قربانی کا مطالبہ کیا جائے اور جب وہ اس قابل ہے تو پھر اس کیلئے صدقہ لینا حرام ہے۔ ویتعلق بہذا الیسار احکام ثلثة حرمة اخذ الصدقة و وجوب زکوٰة الفطر والاضحیة (مبسوط،ص:۱۰۳/۳) ونصاب تجب بہ احکام اربعة حرمة الصدقة، و وجوب الاضحیة وصدقة الفطر، ونفقة الاقارب ولا یشترط فیہ النمو بالتجارة ولا حولان الحول. (طحاوی وکذا فی العنایة) مالک نصاب کیلئے اخذ صدقہ کا حرام ہونا دلیل ہے کہ وجوب فی الذمہ متحقق ہوچکا ہے اور مطالبہ کی یہی لیاقت اور اہلیت کو مشائخ احناف کے نزدیک نفس وجوب سے تعبیر کیاگیا ہے۔

اور جس طرح غنٰی کی وجہ سے وجوب فی الذمہ ہوتا ہے اسی طرح نذر کی وجہ سے بھی ہوتا ہے اور نذر میں فقیر اور غنی دونوں برابر ہیں اور غنا ونذر کا حدوث وتحقق ایام نحر کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ والوجوب بسبب النذر یستوی فیہ الفقیر والغنی وان کان الواجب یتعلق بالمال. (بدائع) ولو قال ذلک (ای نذران یضحی بشاة وہو موسر) قبل ایام النحر یلزمہ التضحیة بشاتین بلا خلاف .... ولو قال ذلک وہو معسر ثم ایسر فی ایام النحر فعلیہ ان یضحی بشاتین (بدائع ج۵ ص ۶۳) تو وجوب فی الذمہ یعنی نفس وجوب غنا یا نذر کی وجہ سے ایام نحر سے پہلے متحقق ہوجاتا ہے۔ (دیکھئے نورالسنیٰ لمن یجب علیہ الاضحیة بالغنی)

اور فعل مامور بہ جس کو اپنے مقررہ وقت میں انجام دیا جائے تواسے ”اداء“ کہتے ہیں۔ اس کا مطالبہ خطاب الٰہی سے جس پر صیغہٴ امر دال ہے وقت مخصوص میں ہوتا ہے۔ فقہی تعبیر میں یہی ہے وجوبِ اداء جو وقت سے قبل نہیں ہوتا اور وقت اسی خطاب الٰہی مخفی کا جووجوب ادا کا حقیقی سبب ہے قائم مقام ہے اور وقت کے اندر فعل (مامور بہ) کو قضاء نہ کہا جائے اس لئے یہ وجوب (مطالبہ) اداء سے متصل مانا گیا ہے۔ پس یہ وقت مخصوص خطابِ الٰہی کی معرفت کا نشان اور سبب وجوب ادا ہے۔

لہٰذا واجب قربانی وقت کے اندر جب بھی ذبح کی جائے اداء کہلائے گی اور اداء یعنی ذبح سے متصل وقت کے جزء مقدم کو سبب وجوب قرار دیاگیا ہے۔ (جیسا کہ نماز میں) خواہ ذبح کرنے والا اصیل یعنی وہی شخص ہو جس کے ذمہ قربانی کا وجوب ہوا ہے یا وکیل ہو اس لئے کہ مالی عبادت میں شریعت نے نیابت کو درست قرار دیا ہے پس وکیل کا اپنے وقت کے اعتبار سے قربانی کرنا شرعاً ایسا ہی ہے جیسا کہ خود موٴکل کا وکیل کے مقام میں قربانی کرنا۔ گویا مطالبہٴ شارع نیابتہً وکیل کی جانب متوجہ ہے۔ جیسے مستطیع معذور کی طرف سے حج کرنے والا ارکان و واجبات کی ادائیگی میں مقاماتِ اداء کے اوقات کی رعایت کرتا ہے اور شرعاً اسی کا اعتبار ہے نہ کہ محجوج عنہ کے وقت کا۔

نیز اہلیت وجوب سے مقصود بالذات چونکہ اداء ہے یعنی قربت وعبادت کو اپنے وقت میں انجام دینا اس لئے اس کا مطالبہ یعنی وجوب اداء بھی مقصود ہے اور محققین ماوراء النہر صرف اسی ایک اداء کے وجوب کو مانتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل اہلیت اداء کو ضروری قرار دیتے ہیں اور اہلیت وجوب واداء کیلئے شرائط وجوب واداء کا ہونا ضروری ہے۔ قال اہل التحقیق من مشائخنا بما وراء النہر ان الوجوب فی الحقیقة نوع واحد وہو وجوب الاداء فکل من کان اہل الاداء کان من اہل الوجوب ومن لا فلا.... لأن الوجوب المعقول ہو وجوب الفعل کوجوب الصوم والصلوٰة وسائر العبادات. (بدائع ج۲ ص ۸۸) البتہ مشائخ احناف وجوبِ اداء کے قبل جس شیٴ کو تسلیم کرتے ہیں اس کو اصل وجوب یا نفس وجوب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جو وجوب اداء سے مقدم اور منفصل عن الاداء ہوتا ہے۔

یہ اہلیت یا نفس وجوب جن امورپر موقوف ہے۔ یعنی اسلام، عقل، بلوغ اور غناء واستطاعت وغیرہ دیکھئے وہ سب بندہ کی صفات ہیں پھر ان میں سے بعض کو فقہاء نے واجبات کے تحقق کیلئے شرط اور بعض کو سبب قرار دیا۔ نیز کسی صفت کو ایک جگہ شرط اور دوسری جگہ سبب اور کسی صفت کو ایک اعتبار سے شرط دوسرے اعتبار سے سبب کہاگیا ہے۔ بہرحال ذمہ کے مشغول بالواجب ہونے کا مدار فقط کسی چیز کو سبب کہے جانے پر نہیں ہے۔ بلکہ وصف علت پر ہے کہ علت مُوجِب ہوتی ہے۔ البتہ ادا کے وجوب کا تعدد وتکرار اور عدم تکرار کی معرفت یقینا صرف سبب کے لفظ سے وابستہ ہے۔ اسی لئے واجبات کی نسبت سبب کی طرف ہوتی ہے اور فقہاء نے نصوص کی روشنی میں جس چیز کو سبب وجوب قرار دیا ہے اس میں تکرار وعدم تکرار کا معنی مرعٰی ہوتا ہے خواہ وہ شئی وصف ہو یا وقت یا اس کے علاوہ۔

اب آپ دیکھئے کہ جس چیز کو مشائخ اصل وجوب سے تعبیر کررہے ہیں وہ وہی ہے جس کو اہلیت وجوب سے ذکر کیاگیا ہے کہ عقل وبلوغ وغیرہ کے پائے جانے پر ہی ذمہ مشغول بالواجب ہوگا اور اداء کی اہلیت پیدا ہوگی۔ مگر مطالبہ فعل (یعنی اداء) تو وقت کی آمد کے بعد ہی ہوگا۔ اور اسی کو وجوب اداء کہتے ہیں۔ پس وجوب اداء کا وقت (مخصوص) میں ہونا تمام فقہاء کے نزدیک قطعی ہے اور سببیت وقت سے متعلق فقہاء کا سارا کلام اسی وجوب متصل بالاداء ہی کے محور پر گردش کرتا ہے۔ مثلاً الاعصر یومہ عند الغروب لان السبب ہو الجزوٴ القائم من الوقت لانہ لو تعلق بالکل لوجب الاداء بعدہ ولو تعلق بالجزء الماضی فالمودی فی آخر الوقت قاضِ واذا کان کذلک فقد اداہا کما وجبت (ہدایہ ص ۸۵/۱) دیکھئے رسالہ دارالعلوم شمارہ شوال ۱۴۲۹ھ میں ”وجوب اداء وقت معین کے ساتھ خاص ہے“ ص ۳۷۔ غرض یہ کہ وجوب ادا کا وقت مخصوص میں ہونا اصولاً وفقہاً بالکل مسلّم ہے خواہ ادا بھی موقت ہو جیسے نماز روزة کے اوقات یا وجوب تو وقت معین میں ہوا اور ادا موقت نہ ہو جیسے زکوٰة وصدقة الفطر۔

ذمہ مشغول بالواجب ہونے کے بعد وقتِ وجوب اداء سے پہلے مالی عبادت زکوٰة وصدقہ الفطر میں ادائیگی درست ہے۔ یعنی مالک نصاب ہونے کے بعد حولان حول سے قبل زکوٰة اور صبح یوم الفطر سے قبل صدقہ ادا کرنا جائز ہے۔ اور قربانی میں مالی عبادت ہونے کی وجہ سے اصلاً ”تصدق“ کا وجوب ہوتا ہے۔اور تصدق بالمال موقت نہیں ہے مگر اداء بشکل اراقة الدم غیر معقولة المعنی ہونے کی وجہ سے نماز، روزہ کی طرح موقّت ہے۔ لہٰذا نفس وجوب ہونے کے بعد جب تک اداء کا وقت نہ ہو اداء صحیح نہیں ہے اور صحت اداء کے لئے شرائط وجوب کے علاوہ شرطِ ادا کا ہونا بھی ضروری ہے۔

اور ذبح اضحیہ کی ایک شرط طلوع صبح یوم النحر سے لے کر بارہویں کے غروب آفتاب تک وقت کا ہونا ہے۔ یہ شرط شہر وغیر شہر قریہ، دیہات اور بیابان سب جگہ کے لئے عام ہے۔ اور دوسری شرط خاص ہے ذبح فی المصر کے لئے عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہوجانا۔ یعنی شہر کیلئے دو شرطیں ہوئیں اور دیہات کیلئے فقط ایک۔ پس اگر کسی دیہات کے باشندہ نے اپنا اضحیہ خواہ وہ اس پر شرعاً واجب ہو یا نفل ذبح کیلئے شہر بھیج دیا اور وکیل نے نماز عید سے پہلے ذبح کردیاتو باوجود صبح یوم النحر ہوجانے کے قربانی بالاتفاق ادا ء نہیں ہوگی گویاشہر میں عیدالاضحی کے دن قربانی کا وقت نماز عید کے بعد شروع ہوتا ہے اور اگر شہری نے دیہات میں اپناجانور بھیج دیا اور وکیل نے دیہات میں صبح صادق کے فوراً بعد ذبح کیاتو بالاتفاق قربانی ادا ہوجائے گی۔ حالانکہ من علیہ الاضحیہ شہری کے اعتبار سے ابھی وقت جائز نہیں ہوا ہے۔ (دیکھئے کشف الغطاء عن اعتبار الوقت لمحل الاداء، دارالعلوم شمارہ ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ ص ۱۰۱)

اس سے معلوم ہوگیا کہ جہاں عبادت یعنی قربانی کی جارہی ہے وہیں کے وقت کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ اس شخص کے وقت کا جس کی طرف سے وہ قربت انجام دی جارہی ہے۔ اس کو اصول فقہاء نے یوں بیان کئے ہیں القربات الموقتة یعتبر وقتہا فی حق فاعلہا لا فی حق المفعول عنہ اسی کی ایک نوع ”المعتبر مکان الاضحیہ“ ہے۔ یہ بھی اصل کلی ہے اور حیلة المصری اذا اراد التعجیل الخ اسی پر متفرع ایک جزئی ہے۔

یہ اصول وکلیات جس طرح عام اور متفق علیہ ہیں اسی طرح اس کے مطابق امت کا عمل تسلسل کے ساتھ ۱۴/چودہ سوسال سے چلا آرہا ہے۔ یہاں تک کہ شعبان ۱۴۲۰ھ میں مولانا مفتی عصمت اللہ صاحب زیدمجدہ دارالعلوم کراچی نے ایک جگہ کی قربانی دوسری جگہ کرنے پر ایک استفتاء کا جواب لکھا جس کا پہلا جملہ یہ ہے۔ ”الجواب حامدًا ومصلیاً قربانی کے نفس وجوب کا سبب وقت ہے جو کہ یوم النحر کے طلوع صبح صادق سے شروع ہوکر بارہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک ہے۔“ یعنی وقت خاص (ایام نحر) کو جوکہ وجوب ادا کا سبب ہے نفس وجوب کا سبب قرار دیا۔ یہاں سے نقطئہ اختلاف رونما ہوا اور نتیجہ تواتر اور تعامل کے خلاف برآمد ہوتا چلا گیا۔

(۲) مفتی اعظم گجرات مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوریؒ کا فتویٰ

فقیہہ النفس امیر شریعت گجرات مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوری رحمة الله عليه سے وفات سے کئی سال پہلے قمری تاریخ کے اختلاف کے نتیجہ میں ایک علاقہ کی قربانی دوسرے علاقے میں کرنے سے متعلق استفتاء کیاگیا اور حضرت مفتی صاحب رحمة الله عليه نے جواب مرحمت فرمایا۔ ملاحظہ ہو۔

* ذبح قربانی میں قربانی کا جانور جس جگہ ہو اس کا اعتبار ہوتاہے

سوال: (۲۵۲۳) بھائی عبدالرشید نے مدراس سے یہاں حیدرآباد میں قربانی کرنے کو لکھا ہے۔ وہاں عید پیر کو ہے اور یہاں اتوار کو۔ ان کی قربانی ہم یہاں اتوار کو کرسکتے ہیں یا نہیں؟ یا پیر کو کرنا ہوگی؟ بینوا و توجروا۔

الجواب:

قربانی کا جانور جس جگہ ہو اس جگہ کا اعتبار ہوتا ہے۔ قربانی کرانے والے کی جگہ کا اعتبار نہیں ہوتا۔ چنانچہ اگر قربانی والا شہر میں ہو اور وہ اپنا قربانی کا جانور ایسے گاؤں میں بھیج دے جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی اور وہاں صبح صادق کے بعد اس کی قربانی کاجانور ذبح کردیا جائے تو اس شہر والے کی قربانی صحیح ہوجائے گی۔ ہدایہ آخرین میں ہے۔ والمعتبر فی ذلک مکان الاضحیہ حتی لو کانت فی السواد والمضحی فی المصر یجوز کما انشق الفجر ولو کان علی العکس لایجوز الا بعد الصلاة وحیلة المصری اذا اراد التعجیل ان یبعث بہا الی خارج المصر فیضحی بہا کما طلع الفجر الخ (ہدایہ آخرین ص ۴۳۰)

در مختار میں ہے۔ والمعتبر مکان الاضحیة لا مکان من علیہ فحیلة المصری اذا اراد التعجیل ان یخرجہا لخارج المصر فیضحی بہا اذا طلع الفجر (مجتبیٰ، درمختار)

قولہ ”والمعتبر مکان الاضحیہ“ الخ فلو کانت فی السواد والمضحی فی المصر جازت قبل الصلاة وفی العکس لم تجز. (قہستانی، درمختار وشامی ص۲۷۸/۵ کتاب الاضحیہ)

نَصَّ فِي هَدْيِ الْإِحْصَارِ عَلَى مَكَان بِقَوْلِهِ {حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ} [البقرة: 196]{المبسوط للسَّرَخْسِيّ:4/110}

ذرا یہ بھی گوشہٴ خیال میں رکھئے۔

حضرت مفتی سیدعبدالرحیم صاحب رحمة الله عليه کے ”فتاویٰ رحیمیہ“ میں قربانی کے سلسلہ میں مذکورہ بالا فتویٰ نویں جلد میں مرقوم ہے یہ اور دوسرے فتاویٰ حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری مدظلہ العالی خلیفہ حضرت فقیہہ الامت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمة الله عليه وصدر مفتی جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کی غائر نظر ثانی اور محقق عصر حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب دامت برکاتہم محشی امداد الفتاویٰ کی توجہ اور تصحیح کے مشکل ترین مرحلہ سے گذر کر صاحب فتاویٰ کی زندگی میں وفات سے کافی عرصہ قبل زیور طباعت سے آراستہ ہوکر مقبولِ خواص وعوام ہوگئے تھے۔

ان فتاویٰ کے بارے میں مفتی سعید احمد پالن پوری مدظلہ کا یہ وقیع جملہ ذہن نشیں رہے ”مجھے اس بات کے اظہار میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ فتاویٰ رحیمیہ کا ہر فتویٰ تسلی بخش اور پیاس بجھانے والا ہے۔“

قربانی کا مذکورہ فتویٰ اگر واقعتا فقہ واصول فقہ کے خلاف ہوتا (جیساکہ تسامح قرار دینے والوں کا خیال ہے) تو ترتیب ونظر ثانی وثالث کے وقت حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری مدظلہ العالی قطعاً اسے بغیر نقد کے نہ چھوڑتے اور حضرت مفتی سعید صاحب مدظلہ جیسے باریک بیں شخص سے ہرگز یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ خلافِ اصول فتویٰ کو بغیر اصلاح کے روا رکھیں۔ اس لئے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں ہے کہ مفتی سید عبدالرحیم صاحب رحمة الله عليه کا فتویٰ متواتر اصول اور متوارث عمل کے بالکل مطابق ہے جیساکہ اب بھی اہل علم کے نزدیک یہی معلوم ومعہود ہے۔

(۳) ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کافتویٰ

شریعت محمدی جس کے عناصر اربعہ قرآن وحدیث اور اجماع وقیاس ہیں اس کے تحفظ کا نقطئہ فکر موجودہ دور میں برصغیر میں دارالعلوم دیوبند مانا جاتاہے۔ جس کا مزاج حدیث وفقہ اور احسان وکلام کے اخلاط اربعہ سے مرکب ہے۔ فقہ میں بالخصوص احناف کا ترجمان اور سلف وخلف کے طریق مستقیم اور تعامل کی راہِ معتدل پر قائم ہے۔

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے طرف سے ذی الحجہ ۱۴۲۵ھ کے آخر میں حضرت مولانا مفتی محمد ظفیرالدین صاحب مدظلہ العالی نے قربانی کے اسی موضوع کے متعلق جو فتویٰ تحریر فرمایا ہے اور اس پر حضرت مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی مدظلہ وغیرہ نے دستخط فرمائے ہیں۔ وہ پیش خدمت ہے۔

تنبیہ: احقر نے ماہِ شعبان میں تعطیل سے پہلے براہِ راست حضرت مفتی محمد ظفیرالدین صاحب مدظلہ سے دارالعلوم دیوبند میں ملاقات کی۔ خیریت ومزاج پُرسی کے بعد راقم نے عرض کیا کہ حضرت والا نے قربانی سے متعلق جو فتویٰ لکھا ہے وہ اصول کے بالکل مطابق اور صحیح ہے اور مفتی شبیر صاحب مراد آبادی کا فتویٰ اصول کے خلاف جارہا ہے اس لئے میں آپ کے فتویٰ کو شائع کرنا چاہتا ہوں۔ تو آپ نے بخوشی اجازت مرحمت فرمائی۔ فجزاہم اللّٰہ احسن الجزاء.

السلام علیکم حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم

سوال: باہر ممالک سے قربانی کے لئے ہندوستان میں اپنے رشتہ دار اور اعزاء واقارب کے یہاں عید الاضحی کے موقع پر افریقہ، لندن، امریکہ، فرانس وغیرہ سے کاغذ اور فون کے ذریعہ کہتے ہیں کہ بکریوں یا سات حصہ والے جانوروں کی قربانی کرنا، تو اُن لوگوں کی طرف سے ہم لوگ یہاں جس دن عید الاضحی ہوتی ہے اس دن عید کی نماز کے بعد بکریوں یا سات حصہ والے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ دس، گیارہ، بارہ تین دن۔ تو شریعت کے اعتبار سے یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اس کا تفصیلی جواب مع حوالہٴ کتب دیجئے۔

دوسرے ملک والے ہندوستان والوں کو قربانی کرنے کیلئے وکیل بناتے ہیں۔ تو اب قربانی کرنے میں وکیل کے ایام قربانی کا اعتبار ہوگا یا جن حضرات کی قربانی ہیں ان کے ایام قربانی کا اعتبار ہوگا۔

فقط والسلام۔ اسماعیل یوسف داؤد جی
۲۳/۱۲/۱۴۲۵ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب: ہو الموفق قربانی جہاں کی جاتی ہے اس کا اعتبار ہوتا ہے۔ لہٰذا ہندوستان میں قربانی ہوگی تو اسی ملک کی تاریخ ۱۰/۱۱/۱۲ ذی الحجہ کا اعتبار ہوگا۔ اور انہی تاریخوں میں قربانی کی جائے گی۔ افریقہ، لندن وغیرہ ملکوں کا اعتبار نہ ہوگا۔ واللہ اعلم

الجواب صحیح: حبیب الرحمن خیرآبادی                   محمد ظفیرالدین غفرلہ
                                                                      مفتی، دارالعلوم دیوبند

جن اصول کے تحت امت کا تعامل چلا آرہا ہے اور کتب فقہ میں صراحتاً مذکور ہے اُسی اصل وضابطہ کو حضرت مفتی سید عبدالرحیم صاحب کے سابق فتویٰ اور مفتی محمد ظفیرالدین صاحب کے لاحق جواب میں بطور دلیل ذکر کیاگیاہے۔ جس کا لازمی مطلب یہ ہوا کہ یہ دونوں فتاویٰ اصول فقہیہ وشرعیہ اور سلف وخلف کے صحیح موقف کے بالکل مطابق ہیں۔

(۴) مباحثِ فقہیہ کی پذیرائی

قربانی کے مسئلہ میں اختلاف ۱۴۲۵ھ کے اواخر میں جب بڑھ گیا اور بتوفیق الٰہی غور وفکر کے بعد تفتیش وتحقیق میں قدم رکھا گیا تو بفضلہ تعالیٰ امت کا چودہ سوسالہ تعامل بدر کی طرح روشن معلوم ہوا۔ مگر اختلاف کی وجہ سے متقدمین ومتاخرین کے موقف پر ایسا لطیف حجاب آگیا کہ مسئلہ کے تمام متعلقہ پہلوؤں سے تعرض کرنا ناگزیر ہوگیا تاکہ کوئی شق طلبِ تحقیق نہ رہ جائے اور اس تحقیقی مسافت کے دوران نقد وقدح کے جو نشیب و فراز سامنے آئے وہ راہ نوردی میں وقفہٴ استراحت بنتے گئے۔ بالآحر منزل مقصود پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق خاص سے پہنچادیا اور اب مسئلہ مبحوث عنہا کے مالہ وماعلیہ پر ایسی سیر حاصل بحث کردی گئی ہے کہ بلا ریب عرض کرتا ہوں کہ سلف اور خلف کا موقف صحیح کالشمس فی نصف النہار واضح ہوگیا۔ جسے اہل علم وبصیرت بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ بالخصوص یہ مضمون ،،وجوبِ اداء وقتِ معین کے ساتھ خاص ہے“ اور ”تعدّد وتکرار کی بحث“ اختلاف کا عقدہ حل کرنے میں عظیم باب ثابت ہوا ہے اور یہ محض اللہ کا فضل اور اساتذہ کرام کی عنایتیں ہیں۔ ورنہ میری استعداد کہاں کہ پہاڑ کھود کر جوئے شیرلاسکوں۔ فلیتذوق ومن لم یذق لم یدر.

البتہ الفاظ کا اختصار اور اس میں اعتبارات وحیثیات کی قیدوں کو بطور خاص ملحوظ رکھا گیا ہے اور پورے جزم اور حزم کے ساتھ کلام پیش کیاگیا ہے۔ ان مقالات کے نام درج ذیل ہیں۔ (۱) تحقیق الکلام فی بیان السبب لوجوب الاحکام (۲) رفع الارتیاب من سببیة الوقت للموقتات (۳) تمیز الطرقات لتحقق الشرائط للقربات (۴) نور السنٰی لمن یجب علیہ الاضحیة بالغِنٰی (۵) تعقب الفرید علی تخصیص الوجوب بصبح العید (۶) کشف الغطاء عن اعتبار الوقت لمحل الاداء. سہولت کے لئے بہتر ہے کہ پہلے نورالسنٰی پھر کشف الغطاء اور پھر بقیہ مقالات کا مطالعہ فرمائیں۔ ان تحقیقات کی قدر کرنے والے اور اس سے موافقت کرنے والے ہند و بیرون ہند میں بے شمار اہل علم ہیں اور زبانی تائید کرنے والے بھی کثیر ہیں۔ اور تحریر سے جنھوں نے حوصلہ افزائی فرمائی ہے، ان میں سے یہاں صرف چار شخصیتوں کی تصدیق پر اکتفاء کرتا ہوں۔

(الف) از حضرت مولانا محمد انیس خاں صاحب دامت برکاتہم

استاذِ حدیث وفقہ، مدرسہ مظاہر العلوم، سلیم، تامل ناڈو

مکرم ومحترم مفتی رشید احمد صاحب فریدی زیدت مکارمکم

السلام وعلیکم ورحمة وبرکاته

جامعہ علوم القرآن جمبوسر ضلع بھروچ صوبہ گجرات میں ماہِ رمضان المبارک کے اعتکاف کے وقت آپ نے ”قربانی“ سے متعلق ایک رسالہ پیش فرمایاتھا۔ پھر بذریعہ ڈاک ملحقہ تحریر ملی۔ دونوں کو من اولہ الی آخرہ مطالعہ کیا۔ الحمد للہ ہر بات مدلل، مبرہن پیش کی گئی ہے۔ تحقیق و تدقیق خوب فرمائی ہے۔ جس سے زیربحث مسئلہ ”مضحی اور مکان اضحیہ کے وقت کا متحد ہونا یوم النحر میں لازم نہیں ہے“ ثابت ہوجاتا ہے۔

ماشاء اللہ آں محترم نے اس سلسلے میں بڑی تحقیق وجستجو فرمائی ہے۔ یہ علمی سرمایہ ہے۔ مختلف کتب کے مضامین ومواد کو یکجا فرمادیا ہے۔ اب یہ مقالہ نہیں رہا مستقل رسالہ بن گیا۔ علمی حلقہ کیلئے قیمتی سرمایا ہے۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء.

بندہ کی طرف سے آپ ممنون ومشکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے، طاقت دے، زور قلم میں اضافہ فرمائے۔

(۱) ”تعامل“ اصول فقہ میں نہایت ہی موثر اور جاندار دلیل ہے۔ اس سے صرف نظر کیسے کرلیاگیا تعجب ہے۔ (یعنی نئے موقف کے فتاویٰ میں۔ رشید)

(۲) ”ہدی“ فی ایام الحج نیز مسافر الی الحج کے ساتھ قربانی کرنے کے لئے رقم بھیجنا ابتدائے اسلام سے چلا آرہا ہے۔ آج تک کی ہدی اور قربانی جو اس طرح کی گئی ہے اس کا ”مضحی“ کے مکان وقیام گاہ سے وقت کے موافقت نہ ہونے کی صورت میں ضائع ہوجانا یا واجب کا اداء نہ ہونا لازم آتا ہے جو بالکل غیر مناسب بات ہے۔

(۳) ”بعد ادائے صلاة عید کی شرط“ (کی وجہ سے المعتبر مکان الاضحیہ کی شرط) کو جزوی شرط قرار دینا بلا دلیل وبرہان کی بات ہے۔ حالانکہ اس کے ساتھ یہ جزئیہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے تھا کہ مصر میں بدوی کا جانور قبل الصلوٰة ذبح کردیاگیا تو واجب ادا نہیں ہوتا اور قریہ میں مصری کا جانور قبل الصلاة فی المصر ذبح کردیا تو واجب ادا ہوجاتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ ”المعتبر مکان الذبیحة لامکان المضحی“

فقط     محمد انیس      ۱۴/۱۲/۱۴۲۶ھ         ۱۵/۱/۲۰۰۶ء

(ب) از ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ حضرت مولانا ابراہیم صاحب پٹنی مدظلہ العالی

سابق استاذ حدیث و تفسیر جامعہ اسلامیہ، ڈابھیل وخلیفہ حضرت فقیہ الامت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

از بندہ محمد ابراہیم پٹنی عفی عنہ

بخدمت گرامی مولانا مفتی رشید احمد صاحب فریدی زیدمجدہم

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ                    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد

آپ کا تحقیقی مقالہ پہنچا۔ اچھا ہوا کہ اس کو مرتب اور مزید مبرہن کردیا۔ چونکہ نفس وجوب، وجوب اداء اور ان کے مابین فصل، نیز سبب، علّت اور شرط اور ان کے مابین فرق، پھر ان میں سے انعقادِ حکم میں موٴثر یامانع کون ہے؟ وغیرہ مباحث اصولی اور دقیق بھی ہیں، آپ نے ان کو کافی حد تک سہل کردیا ہے اور نفس مسئلہ ”المعتبر مکان الاضحیہ“ بے غبار کردیا ہے۔

اور اخیر میں خلاصہ الکلام بھی تحریر فرمایا ہے۔ فجزاکم اللہ خیرا۔ حق تعالیٰ شانہ اس کو مفید سے مفید تر بنائے اور اس نوع کی مزید خدمات سے نوازے جو امت کیلئے باعث سہولت ونشاطِ عمل ہو۔ شرح المواقف اور البحرالمحیط فی اصول الفقہ للامام بدرالدین الزرکشی المتوفی ۷۹۲ھ ج۳ بحث المفہوم بھی دیکھ لیتے تو اچھاہوتا۔

محمد ابراہیم پٹنی عفی عنہ
۱۲/ذی قعدہ ۱۴۲۸ھ    بھٹئی

(ج) از حضرت مفتی محمد فاروق صاحب مدظلہ العالی

جامع ومرتب فتاویٰ محمودیہ، بانی و شیخ الحدیث جامعہ محمودیہ، نوگزہ پیر، میرٹھ

حامداً ومصلیاً   امابعد   محترمی ومحبی مولانا مفتی رشید احمد فریدی زیدمجدہم کا رسالہ ”ذبح اضحیہ کیلئے مکان اضحیہ کا اعتبار ہے“ سے متعلق دیکھنے کی سعادت میسر آئی۔ مسرت ہوئی۔ الحمدللہ موصوف نے بڑی محنت فرمائی ہے۔ بندہ کو موصوف کی رائے اور تحقیق سے اتفاق ہے۔ زمانہ قدیم سے اسی پر تعامل بھی چلا آرہا ہے۔ اسی میں آسانی اور سہولت بھی ہے۔

حق تعالیٰ شانہ موصوف کی محنت کو قبول فرمائے، ترقیات سے نوازے اور اس نوع کے علمی کاموں کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ فقط

محمد فاروق غفرلہ
۱۶/۹/۱۴۲۹ھ
خادم جامعہ محمودیہ، علی پور، ہاپوڑ روڈ، میرٹھ، یوپی

(د) از جامع المعقول والمنقول حضرت مفتی یوسف صاحب تاولوی دامت برکاتہم

استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم دیوبند

مکرم ومحترم جناب مولانا مفتی رشید احمد صاحب زید معالیکم

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

آپ کا تحقیقی علمی مقالہ مع مکتوب گرامی موصول ہوا۔ فجزاکم اللہ خیر الجزاء۔ اس باب میں اصول و فروع مکانِ تضحیہ کے اعتبارکے موٴید ہیں۔ آپ نے اس باب میں کافی وافی مواد جمع فرمادیا ہے۔ گو بعض مباحث غیرضروری بھی آگئے ہیں۔مگر ایسے مواقع میں یہ طریق اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ حق تعالیٰ آپ کی محنت کو مثمرِ خیر بنائے۔ آمین۔
والسلام

محمد یوسف
خادم تدریس دارالعلوم دیوبند     ۲۷/۷/۱۴۳۰ھ

(۵) وقت معین کے ساتھ وجوب اداء مختص ہے نہ کہ وجوب فی الذمہ

وجوبِ اداء یعنی مامور بہ کی ادائیگی کا مطالبہ خطابِ اِلٰہی سے اور خطاب وقت معین میں ہوتا ہے اس سے قبل نہیں یہ فقہ کا مسلّمہ اصول ہے۔

(۱) ان وجوب الاحکام متعلق باسبابہا وانما یتعلق بالخطاب وجوب الاداء (اصول بزدوی)

(۲) الثانی وجوب الاداء وہو اسقاط ما فی الذمة وتفریغہا من الواجب وانہ ثبت بالخطاب. (بدائع)

(۳) فسبب وجوب الصلوة الوقت بدلیل ان الخطاب باداء الصلاة لایتوجہ قبل دخول الوقت وانما یتوجہ بعد دخول الوقت والخطاب مثبت لوجوب الاداء ومعرف للعبد سبب الوجوب قبلہ (اصول الشاشی)

(۴) ووجہ ما تقرر فی علم الاصول من ان وجوب الاداء فی الموقتات التی یفضل الوقت عن ادائہا کالصلاة ونحوہا انما یثبت آخر الوقت اذہنا یتوجہ الخطاب حقیقةً (تکملہ فتح القدیر)

(۵) وسببہا الاصلی خطاب اللّٰہ تعالیٰ ای سبب وجوب ادائہا. (مراقی)

(۶) واسبابہا اوقاتہا وتجب ای یفترض فعلہا باول الوقت وجوباً موسعاً فلا حرج حتی یضیق عن الاداء ویتوجہ الخطاب حتماً (مراقی الفلاح)

(۷) ویخرج (ای لصلوة الجمعہ) حین تزول الشمس لان الخطاب یتوجہ بعدہ. (ہدایہ اول)

(۸) و سبب لزوم ادائہا ہذا ہو السبب الحقیقی توجہ الخطاب ای الخطاب المتوجہ الی المکلفین بالامر بالاداء (شامی)

(۹) واما وجوب الاداء الموقوف علی مطالبة الشارع فہو یتحقق بعد حولان الحول. (عمدة الرعایہ)

(۱۰) تجب علی حر مسلم مالک النصاب او قیمتہ و ان لم یحل علیہ الحول عن طلوع فجر یوم الفطر قولہ عند طلوع بیان لوقت وجوب الاداء (نورالایضاح مع حاشیہ)

(۱۱) وقد یجامع الشرط السبب مع اختلاف النسبة کوقت الصلاة فانہ شرط بالنسبة الی الاداء وسبب بالنسبة الی وجوب الاداء (تقریر وتحبیر)

(۱۲) .... ان الوجوب عند الاداء او فی آخر الوقت فاذا مات قبل الاداء مات قبل ان تجب علیہ کمن مات فی وقت الصلاة قبل ان یصلیہا انہ مات ولا صلوة علیہ (بدائع)

مذکورہ اصولی وفقہی عبارات سے قطعی طور پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وجوب اداء وقتِ معین کے ساتھ خاص ہے کیونکہ اداء کے وجوب کا ثبوت خطاب سے اور خطاب وقت سے قبل نہیں ہوتا۔ پس لامحالہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وقتِ معین کی آمد سے ثابت ہونے والا وجوب وہ وجوب الاداء ہے جو اداء یعنی مامور بہ کی ادائیگی سے متصل ہوا کرتا ہے نہ کہ وہ وجوب جو اداء سے منفصل اور وجوبِ اداء سے بھی مقدم ہوا کرتا ہے جسے اصلِ وجوب یا نفس وجوب اور اہلیت وجوب بھی کہتے ہیں۔

نیز انتقال سببیت والی دلیل جیسا کہ راقم نے اپنے پہلے مقالہ میں پیش کی ہے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ تقریباً تمام کتب اصول اورامہات کتب فقہ میں موجود ہے وہ بالکل صاف اور صریح ہے کہ سبب کا انتقال وجوبِ اداء سے متعلق ہے۔ اس کے باوجود اگر وقت خاص کو نفس وجوب یعنی ذمہ کے مشغول بالواجب ہونے کے لئے اساس وعلّت قرار دیتے ہیں تو اس کا نتیجہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ من علیہ الاضحیہ کے اعتبار سے وقتِ خاص کے گذر جانے کے بعد اداء تو کیا قضاء کا مسئلہ بھی باقی نہ رہے گا کیونکہ ما یثبت بہ الشیء کے عدم سے شئی کا نہ ہونا ظاہر ہے۔

(۱) پس وقتِ خاص کے گذرجانے سے نفس وجوب زائل ہوجائے گا۔

(الف) جیسے اسلام پر نفس وجوب موقوف ہے کوئی شخص نعوذ باللہ اگر مرتد ہوجائے گا تو نفس وجوب ہی ختم ہوجاتاہے۔

(ب) اور جیسے عقل پر نفس وجوب موقوف ہے لیکن اگر کسی کو جنون مطبق لاحق ہوگیا تو نفس وجوب باقی نہیں رہتا ہے۔ عبادات کی اداء بلکہ قضاء کا بھی مطالبہ نہیں رہ جاتا ہے۔ (مذکورہ دونوں امر شرط وجوب ہیں)

(ج) اور جیسے ملک نصاب پر زکوٰة کا نفس وجوب موقوف ہے۔ نصاب نامی فاضل عن حوائجہ الاصلیہ کا مالک بننے کے بعد حولان حول سے پہلے یا بعد میں بہرحال ادائے زکوٰة سے پہلے اگر وہ فقیر وکنگال ہوگیا تو سرے سے نفس وجوب ہی رخصت ہوجاتا ہے۔

(۲) صدقہ الفطر کے لئے وقت خاص یعنی طلوع صبح یوم الفطر شرط ہے وجوب اداء کی نہ کہ نفس وجوب کی۔ پس اگر وقت خاص کو نفس وجوب میں موثر مانیں تو لازم آئے گا کہ مالک نصاب ہونے کے باوجود طلوع فجر یوم الفطر سے پہلے صدقہ ادا کرنا صحیح نہ ہو۔ اور جب باتفاق احناف اور ظاہر الروایت کے مطابق صبح صادق سے قبل صدقہ الفطر اداکرنا صحیح ہے تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ وقت خاص کو نفس وجوب میں قطعاً دخل نہیں ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ صدقہ الفطر کا نفس وجوب رأس یمونہ ویلی علیہ کی وجہ سے ہے جس کو سبب وجوب کہا گیا ہے تویہ بھی صحیح نہیں ہے۔ ورنہ بغیر غنائے شرعی کے یوم العید سے پہلے واجب صدقہ اداء ہوجانا چاہیے اس لئے کہ وقت سے نفس وجوب کے قائلین نے غنا کو نفس وجوب کی شرط نہیں مانا ہے اور وجوب اداء کی شرط سے پہلے اداء جائز ہے جیسے حولان حول سے پہلے زکوٰة ادا کرنا۔ پس معلوم ہوا کہ رأس یمونہ کو سبب وجوب قرار دینا وجوب اداء کے تعدد و عدم تعدد کی معرفت کیلئے ہے۔

(۳) قربانی کے وقت خاص (از طلوع فجر یوم النحر تا غروب ثانی عشر) کو سبب وجوب کہا گیا ہے۔ راقم السطور نے پوری تحقیق و تدقیق سے فقہی واصولی صریح عبارتوں سے دکھادیا ہے کہ ایام نحر سبب وجوب اداء ہے۔ مگر جدید موقف کے قائلین دوسرے حقائق اورنتائج سے قطع نظر کرتے ہوئے وجوب اداء کے مقابل نفس وجوب (اصطلاحی) مراد لیتے ہیں۔

لہٰذا ایام نحر کی آمد پر ہی نفس وجوب (یعنی ذمہ مشغول بالواجب) ہوتا ہے تو.....

(الف) اگر فقیر (غیرمالک نصاب) نے ابتدائے یوم النحر میں قربانی کی اور ختم ایام سے پہلے غنی ہوگیا تو دوبارہ اس پر قربانی کرنا واجب الاعادہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بقول آپ کے قربانی نفس وجوب کے بعد وقت اداء میں کی گئی ہے۔ حالانکہ بالاتفاق وقت وجوب کے ختم سے پہلے غنا کا اگر تحقق ہوگیا تو قربانی واجب ہوگی اور پہلے والی قربانی بہرحال نفل کہلائے گی۔ اس صورت میں اگر آپ کہیں کہ شرطِ وجوب (غنا) نہیں پائی گئی اس لئے واجب اداء نہیں ہوئی تو میں کہوں گا کہ (آپ نے غنا کو محض شرطِ وجوبِ اداء کی حیثیت دی ہے اس لئے اداء مالی عبادت میں وقت وجوبِ اداء سے پہلے جائز ہے۔ جیسے زکوة حولان حول سے قبل اور صدقہ الفطر صبح یوم الفطر سے پہلے اداکرنا احناف کے نزدیک درست ہے اور یہاں فقیر کی قربانی وقت وجوبِ ادا میں ہوئی ہے۔ البتہ اداء شرطِ نفس وجوب اور شرط صحت اداء سے مقدم نہیں ہوسکتی)

(ب) اور اگر غنا کے تحقق کے بعد ذمہ مشغول بالواجب ہورہا ہے جیساکہ اوپر والے مسئلہ سے بخوبی ظاہر ہے تو بالیقین معلوم ہوا کہ وقت خاص کے دخول سے ذمہ مشغول بالواجب نہیں ہوا۔

(ج) اور اگر وقت خاص کو مع شرط غنا کے نفس وجوب کا سبب کہا جائے جیساکہ جدید موقف کا لازمی تقاضہ ہے تو پھرشرائط وجوب کا ابتدائے وقت سے ہونا ضروری ٹھہرے گا حالانکہ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ شرائط وجوب کا ابتدائے وقت سے ہونا لازم نہیں ہے۔ وقت اخیر میں ہونا معتبر ہے۔

(د) اور اگرمان لیں کہ مالدار (شرعاً غنی) پر صبح یوم النحر کی آمد سے نفس وجوب ہوگیا اب واجب قربانی صحیح ہے چاہے خود کرے یا اس کا نائب جیسا کہ کراچی کے فتویٰ میں موجود ہے تو میں عرض کروں گا:

اگر من علیہ الاضحیہ نے قربانی کرنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ ایام نحر گذرنے سے پہلے وہ فقیر ہوگیا تو دخولِ وقت سے نفس وجوب ماننے کا مقتضاء یہ ہے کہ پھر بھی واجب قربانی ادا ہوجانی چاہیے حالانکہ بالاتفاق قربانی کا وجوب ہی ساقط ہوجائے گا کیونکہ ملک نصاب (غنا) قربانی کے وجوب میں شرط محض نہیں ہے جس کا وقت وجوب میں (صدقہ الفطر کی طرح) صرف پایا جانا کافی ہے بعد میں چاہے وہ شرط نہ رہے بلکہ زکوٰة کی طرح یہ شرط فی معنی العلة ہے جس کا ادا تک باقی رہنا وقت اداء میں ضروری ہے۔ وہذہ لانہا تشبہ الزکوة من حیث انہا تسقط بہلاک المال قبل مضی ایام النحر کالزکوة بہلاک النصاب. (ہدایہ ص ۴۴۶ کتاب الاضحیہ)

... لانہا تسقط بالہلاک قبل مضی ایام النحر کالزکوة تسقط بہلاک النصاب (ای مطلقاً) (فتح العنایہ شرح نقایہ ص ۲۶۹/۲) ودیگر کتب فقہ

(ھ) مزید براں اگر نفس وجوب وقت (خاص) سے اور وجوب اداء غنا وغیرہ سے مانیں جیساکہ خیال کیاگیا ہے اور وقت (ایام نحر) شرط اداء تو ہے ہی تو لازم آئے گا کہ شرطِ اداء نفس وجوب کے ساتھ مجتمع ہوحالانکہ شرطِ اداء کا اجتماع سبب وجوب اداء کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے یہی وجوب متصل بالاداء ہوتا ہے۔ وقد یجامع الشرطُ السبب. مع اختلاف النسبة کوقت الصلاة فانہ شرط بالنسبة الی الاداء وسبب بالنسبة الی وجوب الاداء کیونکہ وجوبِ اداء میں وجوب متصل بالاداء ہوتا ہے نفس وجوب اداء سے منفک ومقدم ہوتا ہے۔

(۴) وقت خاص للعبادات ہی کو اگر نفس وجوب (ذمہ کے مشغول بالواجب ہونے) کا ذریعہ مانا جائے تو اس سے شرعی وفقہی مسلمہ اور اصل الاصول کی مخالفت ہوگی وہ ہے القربات الموقتة یعتبر وقتہا فی حق فاعلہا لا فی حق المفعول عنہ اور یہ متفق علیہ ضابطہ ہے۔ چنانچہ حج عن الغیر میں دیکھئے ارکان وواجبات کی ادائیگی میں وقت کی رعایت فاعل یعنی حاج عن الغیر کے حق میں ضروری ہے نہ کہ محجوج عنہ کے اعتبار سے اور حج عن الغیر کا سلسلہ حضور صلى الله عليه وسلم کے زمانہ سے جاری وساری ہے۔ ہر سال ایک معتد بہ مقدار اُن حاجیوں کی بھی ہوتی ہے جو کسی صاحب استطاعت معذور کی طرف سے حج فرض اداء کرنے کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔ وقوفِ عرفہ (مع دیگر فرائض حج کی ادائیگی) کے لئے وقت کا لحاظ حجاج کے حق میں ہے۔ حالانکہ جن کی طرف سے حج بدل کیاجارہا ہے ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو دنیا کے مختلف ایسے خطوں میں ہوتے ہیں جہاں یاتو یوم عرفہ نہیں ہے یا وقت وقوف عرفہ نہیں ہوا ہے یا پھر وقوف کا اصل وقت گذرچکا ہے۔

کیونکہ ذمہ کا مشغول بالحج ہونا استطاعت پر موقوف ہے اور استطاعت سے محجوج عنہ متصف ہے لہٰذا نفس وجوب قائم ہے۔ رہا بیت اللہ کو سبب وجوب قرار دینا سو یہ وجوبِ اداء کے توحد وعدم تکرار کی معرفت کے لئے مقرر کیاگیا ہے جو کہ سبب ظاہر ہے وانما اشکل علی الاقرع بن حابس لانہ من الجائز ان یکون سبب الحج ما یتکرر وہو وقتہ کالصوم والصلاة ومن الجائز ان یکون سببہ مالا یتکرر وہو البیت فبیّن   ان السبب ہو البیت فلہذا سأل لالکون الامر محتملاً للتکرار. (البحرالعمیق فی مناسک المعتمر والحاج الی بیت اللہ العتیق، ج۱،ص۳۵۷) اور وقت یعنی ایام حج فقط شرطِ اداء ہے۔

اسی اصل الاصول کی ایک فرع المعتبر مکان الاضحیہ ہے اور یہ بھی اصل کلی ہے جس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے یعنی وقت کا اعتبار فاعل یعنی ذابح کے حق میں ہوگا نہ کہ مذبوح عنہ (یعنی من علیہ الاضحیہ یا من منہُ الاضحیہ) کے حق میں لان الذبح ہو القربة فیعتبر مکان فعلہا لامکان المفعول عنہ (بدائع) اور اسی کلی پر متفرع وہ جزئی ہے جو حیلة المصری الخ کے عنوان سے کتب فقہ میں درج ہے اوریہ بھی مسلم اورمعمول بہ ہے۔ اس میں بھی احناف کا اختلاف نہیں ہے۔ ان اصول وقواعد کا تعلق اداء یعنی قربت کی انجام دہی سے ہے خواہ قربت (قربانی) واجب ہو کہ نفل۔ رہا قربانی کا واجب ہونا سو یہ اپنی جگہ بیان کیاگیا کہ وجوب اضحیہ کی علت غناء ہے۔

اب اگر وقت خاص ہی کو ذمہ کے مشغول بالواجب ہونے کا سبب مانیں کما زعموا تو ان کلیات ومسلّمات کا عموم ہی باطل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا دخول وقت سے نفس وجوب کے تحقق کا موقف شرعاً وفقہاً غلط ہے۔                                         





















No comments:

Post a Comment