Sunday, 28 December 2025

تکبر کے معنیٰ وحقیقت، خرابیاں وانجام اور علاج


تکبر کی حقیقت قرآن کی روشنی میں:

الکبر والتکبیر والاستکبار کے معنیٰ قریب قریب ایک ہی ہیں، پس کبر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے۔

الاستکبار ( اسعاےل ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ۔

(1)ایک یہ کہ انسان بڑا بننے کا قصد کرے۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو جس پر تکبر کرنا انسان کو سزاوار(لائق-حق) ہے تو محمود ہے۔

(2)دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں، یہ مذموم ہے۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے؛ فرمایا:

أَبى وَاسْتَكْبَرَ

[البقرة:34]

مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔


[المفردات في غريب القرآن-للراغب:]




Thursday, 25 December 2025

خشوع کے معنیٰ، اہمیت، فضیلت، نشانیاں اور حصول کے طریقے


خشوع کا مطلب:

خشوع سے مراد ایسا قلبی سکون اور انکساری ہے جو اللہ تعالی کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اور خضوع کا لفظ بھی تقریبا خشوع کے ہم معنیٰ ہے؛ لیکن اصل کے اعتبار سے خشوع کا لفظ آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو؛ بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے:

[معارف القرآن، سورہ بقرہ، آیت نمبر:45]


فضیلتِ خشوعِ نماز:

(1) اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان ؓ کے پاس حاضر تھا آپ نے وضو کے لئے پانی منگوا کر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ:

مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وخشوعها وركوعها، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ

ترجمہ:

جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

[صحیح مسلم:228(543) ]



Tuesday, 23 December 2025

ملائکہ (فرشتوں) پر ایمان

فرشتوں پر ایمان
عقیدہ:
اللہ تعالی نے کچھ مخلوقات نور سے پیدا کرکے(1) ان کو ہماری نظروں سے چھپادیا ہے۔ ان کو فرشتہ کہتے ہیں۔ بہت سے کام انکے حوالے ہیں۔(2) وہ کبھی اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔ جس کام میں لگادیا ہے اس میں لگے رہتے ہیں۔(3) ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں۔ حضرت جبریل(4)، میکائیل(5)، اسرافیل(6)، ملک الموت (عزرائیل)(7) علیہم السلام۔

Thursday, 27 November 2025

خیر کے کاموں میں سبقت(جلدی) کرنا۔

نیکی میں سبقت(جلدی) کرنا۔

القرآن:

اور ہر گروہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے، لہذا تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے الله تم سب کو (اپنے پاس) لے آئے گا۔ یقینا الله ہر چیز پر قادر ہے۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 148]

القرآن:

اور (اے رسول محمد ! ﷺ ہم نے تم پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو الله نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ تم میں سے ہر ایک (امت) کے لیے ہم نے ایک (الگ) شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر الله چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن (الگ شریعتیں اس لیے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہٰذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ الله ہی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 48]


نیک اعمال میں جلدی کرنا۔  

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  

بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، ‏‏‏‏‏‏أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ۔

 ‏‏‏‏‏ترجمہ:

سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے۔

[سنن الترمذي:2306، ، حاكم:7906، شعب الإيمان:10572، أبويعلى:6542، المعجم الأوسط:3945، والقضاعى:823، جامع الأحاديث-للسيوطي:10306]

[صحيح مسلم:2947، صحيح ابن حبان:6790، سنن ابن ماجة:4056، 



القرآن:
اب کیا یہ لوگ قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ یکایک ان پر آن پڑے ؟ (اگر ایسا ہے) تو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آہی جائے گی تو اس وقت ان کے لیے نصیحت ماننے کا موقع کہاں سے آئے گا ؟
[سورۃ نمبر 47 محمد،آیت نمبر 18]


Tuesday, 11 November 2025

سود کے معنیٰ، اقسام، احکام


ربا یعنی سود کے لغوی معنی:
زیادتی اوراضافہ کے ہیں۔
حوالہ
الرِّبَا الْفَضْلُ وَالزِّيَادَةُ
[المصباح المنير ۳۴۵/۳]



ربا کی اصطلاحی تعریف:
مال کا تبادلہ مال کے ذریعہ کرنے میں جو زیادتی بلا معاوضہ حاصل ہو، وہ سود ہے۔
حوالہ
فَضْلُ مَالٍ بِلَا عِوَضٍ فِي مُعَاوَضَةِ مَالٍ بِمَالٍ
[كنز الدقائق علي البحر» باب الربا، ۲۶۰/۱۶]





Sunday, 5 October 2025

سب سے جلد قبول ہونے والی دعا

 

سب سے جلد قبول ہونے والی دعا»
اپنے مسلمان بھائی کے لئے"غائبانہ"دعا کرنا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:
إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ.
ترجمہ:
بےشک سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو (ایک)غائب(شخص) (دوسرے)غائب(شخص) کے لیے کرے۔
[المنتخب عبد بن حميد:331، الأدب المفرد-البخارى:623، سنن أبوداود:1535، المعجم الكبير-الطبرانى:74، مكارم الأخلاق-الخرائطي:783، مسند الشهاب-القضاعي:1330]




Saturday, 4 October 2025

کفار کی نیکیاں صرف دنیا میں انکے کام آئیں گی

 

عقیدہ:- کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا، وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَإِنَّ اللهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ»
ترجمہ:
جب کافر کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کی وجہ سے دنیا سے ہی اسے لقمہ کھلا دیا جاتا ہے اور مومن کے لئے اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو آخرت کے لئے ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور دنیا میں اپنی اطاعت پر اسے رزق بھی عطا کرتا ہے۔
[صحیح مسلم:2808(7090)]



Tuesday, 23 September 2025

الحاسب:حساب لینے والا، الحسیب:سب کیلئے کافی ہوجانے والا

حساب کے معنیٰ گننے اور شمار کرنے کے ہیں۔ قرآن میں ہے:

لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ

[يونس:5]

تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لو۔

[المفردات فی غریب القرآن-امام راغب اصفھانی: ج1 ص232]


اللہ کیسا حاسب (حساب لینے والا) ہے؟

القرآن:

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب الله ہی کا ہے، اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں، خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، الله تم سے ان کا حساب لے گا (188) پھر جس کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا (اور الله ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 284]

تفسیر:

(188) آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کردیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں "آجاتے" ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے(لیکن ناجائز خیالات "لانے" مثلاً: چالبازی،دکھلاوے وغیرہ پر پکڑ ہے)۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدے دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کرلے تو اس کا حساب ہوگا۔


اللہ کے ننانوے خوبصورت ناموں میں سے ایک نام ﴿الحسیب یعنی سب کیلئے کافی ہوجانے والا﴾ بھی ہے۔



حساب کی دو اقسام:

(1)آسان حساب (2)سخت حساب

القرآن:

پھر جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔

[سورۃ الإنشقاق، آیت نمبر 7-8]


القرآن:

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا، اور انہیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

[سورۃ نمبر 65 الطلاق، آیت نمبر 8]



Tuesday, 9 September 2025

بارش»دلیلِ وجود اور قدرتِ الٰہی

بارش» اللہ(کے وجود)کی نشانی اور قدرت کا شاہکار۔

القرآن:

اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔

[سورۃ الشورى،آیت نمبر 28]


بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) الله کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (نہیں ! بلکہ) الله اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔

[سورۃ نمبر 27 النمل،آیت نمبر 63]




القرآن:

اور وہ ہوائیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، ہم نے بھیجی ہیں، پھر آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے، پھر اس سے تمہیں سیراب ہم نے کیا ہے، اور تمہارے بس میں یہ نہیں ہے کہ تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھ سکو۔

[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 22]





Saturday, 6 September 2025

محمد رسول اللہ ﷺ کی مصیبت (رحلت-وصال) کو یاد کرنا




حضرت سابطؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت (صدمہ) پہنچے (یعنی کوئی قریبی عزیز فوت ہوجائے) تو میرے دکھ (وفات) کو یاد کرلے، بےشک (میری رحلت) اس کیلئے سب سے بڑا غم ودکھ ہے۔

حوالہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُصِيبَ أَحَدُكُمْ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي، فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ عِنْدَهُ»


القرآن:
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:156]






امام ابن الحاج(م737ھ) تشریح فرماتے ہیں:
وَهَذَا أَمْرٌ مِنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِأُمَّتِهِ وَتَسْلِيَةٌ لَهُمْ، أَمَّا الْأَمْرُ فَقَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي، وَأَمَّا التَّسْلِيَةُ فَقَوْلُهُ: - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ، فَإِذَا تَذَكَّرَ الْمُؤْمِنُ مَا أُصِيبَ بِهِ مِنْ فَقْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَانَتْ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْمَصَائِبِ وَاضْمَحَلَّتْ، وَلَمْ يَبْقَ لَهَا خَطَرٌ وَلَا بَالٌ.
ترجمہ:
اور یہ (بات) آپ ﷺ کی اپنی امت کے لیے ایک حکم اور ان کے لیے تسلی ہے۔ رہا حکم تو وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: "اسے چاہیے کہ وہ میری مصیبت (یعنی میرے وصال کے غم) کو یاد کرے۔" اور رہی تسلی تو وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: "بے شک وہ (یعنی میری جدائی) سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے۔" پس جب ایک مومن یہ یاد کرے کہ اسے نبی ﷺ کے فراق میں کیا مصیبت پہنچی ہے تو اس پر دیگر تمام مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں، اور ان (دیگر مصیبتوں) کا کوئی وزن اور غم نہیں رہتی۔



📜 شرح المناوي:

جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ میری (نبی کی) مصیبت کو یاد کرے یعنی میری وفات کو یاد کرے، جو اس امت کے درمیان سے میرا اٹھ جانا، وحی کا منقطع ہو جانا اور آسمانی امداد کا ختم ہو جانا ہے، کیونکہ یہ مصیبت سب سے بڑی (اور دوسری روایت میں: سب سے شدید) مصیبت ہے – بلکہ یہ سب مصیبتوں سے بڑی ہے، جیسا کہ ابن ماجہ کی اس حدیث سے ثابت ہے: "میری امت میں سے کوئی شخص میرے بعد کسی ایسی مصیبت میں مبتلا نہیں ہوگا جو اس پر میری مصیبت سے زیادہ سخت ہو۔"

(یہ کہنا کہ یہ "سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے" اس بات کے منافی نہیں کہ یہ "بلا مقابلہ سب سے بڑی مصیبت ہے"، کیونکہ "سب سے بڑی میں سے ایک" کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے کوئی بڑی بھی ہو سکتی ہے، بلکہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہم جنسوں میں سب سے بڑی ہے۔ کیا تم نے انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نہیں سنا: "نبی کریم ﷺ سب لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے" – حالانکہ آپ سب کے سب سے اچھے اخلاق والے تھے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ (یہ نکتہ ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا جنہوں نے "مِن" کے جزوی معنی پر زور دیا)۔

اور نبی ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت اس لیے ہے کہ اس کے ساتھ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، شر کا ظہور ہوا (عربوں کے ارتداد اور منافقوں کی سازشوں کی صورت میں)، اور آپ کی وفات خیر کے زوال کا آغاز تھی۔
انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم نے آپ کو دفن کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑی بھی نہ تھی کہ ہمارے دلوں کو (ایسی گھبراہٹ) نے آ لیا جو ہم نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔"

اور کسی نے اپنے بھائی کو اس کے بیٹے کی وفات پر تعزیت اور تسلی دیتے ہوئے بہت عمدہ شعر کہے ہیں:

"ہر مصیبت پر صبر کرو اور مضبوط رہو،
اور جان لو کہ انسان ہمیشہ رہنے والا نہیں۔
اور جب تم محمد ﷺ اور ان کی مصیبت کو یاد کرو،
تو اپنی مصیبت کو نبی محمد ﷺ کی مصیبت کے ساتھ یاد کرو (تاکہ یہ ہلکی ہو جائے)۔"

اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مصیبت زدہ شخص نبی کریم ﷺ کی وفات (جو سب سے بڑی عمومی مصیبت ہے) کو یاد کرے، تاکہ اس کی اپنی مصیبت اس پر ہلکی ہو جائے اور اسے تسلی حاصل ہو۔
اور یہ اس (پچھلی) حدیث کے منافی نہیں کہ "اللہ جب کسی امت پر رحمت کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا نبی اس سے پہلے وفات پا جاتا ہے" – کیونکہ دونوں کا اعتبار اور زاویۂ نظر مختلف ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: 452]

---

💡 اس حدیث سے اہم نکات

1. نبی ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت ہے
   · وحی کا خاتمہ، آسمانی امداد کا رک جانا، اور خیر کا زوال۔
2. مصیبت کو ہلکا کرنے کا طریقہ
   · جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت آئے تو نبی ﷺ کی وفات کو یاد کرو، کیونکہ اس کے مقابلے میں آپ کی مصیبت بہت معمولی ہے۔
3. امت کے لیے نبی ﷺ کی عظمت
   · آپ ﷺ کی ذات اور آپ کا جانا امت کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے۔
4. صحابہ کا حال
   · انس رضی اللہ عنہ کا قول: "ہم نے مٹی جھاڑی بھی نہ تھی کہ ہمارے دلوں کو گھبراہٹ نے آ لیا" – یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کو نبی ﷺ کی وفات کا کتنا گہرا صدمہ تھا۔
5. تعزیت کا بہترین طریقہ
   · مصیبت زدہ کو نبی ﷺ کی مصیبت کی یاد دلا کر تسلی دینا، جیسا کہ شعر میں ہے۔

---

💎 خلاصہ

· یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت کے وقت نبی کریم ﷺ کی وفات کو یاد کیا جائے، کیونکہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔
· اس سے انسان کی اپنی مصیبت ہلکی ہو جاتی ہے اور اسے تسلی ملتی ہے۔
· اگرچہ اس حدیث کی سند میں کچھ ضعف ہے، لیکن اس کے دوسرے شواہد (متعدد طرق) اسے قابلِ قبول بناتے ہیں۔
· یہ حدیث ایمان، محبت اور تسلی کا ایک بہترین سبق دیتی ہے۔


1. کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں۔

القرآن:

وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ

ترجمہ:
اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ (18) چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟
[سورۃ الأنبياء:34]
تفسیر:
(18)سورة طور:30 میں مذکور ہے کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے انتقال کے موقع پر وہ خوشی منائیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اول تو موت ہر شخص کو آنی ہے، اور کیا خود یہ خوشی منانے والے موت سے بچ جائیں گے۔



وفات یا شہادت کی صورت میں استقامت

القرآن:

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ

ترجمہ:

اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ الله کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں الله ان کو ثواب دے گا۔

[سورۃ آل عمران، آیت 144]

تفسیر:

یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی، جب ایک افواہ پھیلی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور کچھ مسلمان حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس آیت نے واضح کیا کہ آپ ﷺ بھی ایک بشر اور رسول ہیں، جن سے پہلے دوسرے رسول بھی گزر چکے ہیں۔ آپ کی وفات یا شہادت دین کے خاتمے کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس آیت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی وفات کے موقع پر پڑھ کر ان لوگوں کو تسلی دی جو اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔


وفات کی حتمی خبر

القرآن:

إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ

ترجمہ:

بے شک تم (بھی) مرنے والے ہو اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔

[سورۃ الزمر (۳۹:۳۰)]

تفسیر:

یہ آیت نبی ﷺ کو مخاطب کرکے بتاتی ہے کہ آپ کو بھی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے، جیسے آپ کے مخالفین اور تمام انسانوں کو جانا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کرانا اور یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ آپ ﷺ، باوجود اپنے بلند مقام کے، موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔








سیلاب کا بیان


(1)سیلاب کا بیان

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار بیان کیا کرتے تھے کہ ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے سعید کے دادا حزن سے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ (مکہ کی) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا۔ سفیان نے بیان کیا کہ بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کا ایک بہت بڑا قصہ ہے۔

[صحيح البخاري: كتاب مناقب الأنصار،حدیث: 3833]

حافظ ابن حجر نے کہا، موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ کعبہ میں سیلاب اس پہاڑ کی طرف سے آیا کرتا تھا جو بلند جانب میں واقع ہے ان کو ڈر ہوا کہ کہیں پانی کعبہ کے اندر نہ گھس جائے اس لیے انہوں نے عمارت کو خوب مضبوط کرنا چاہا اور پہلے جس نے کعبہ اونچا کیا اور اس میں سے کچھ گرایا وہ ولید بن مغیرہ تھا۔

پھر کعبہ کے بننے کا وہ قصہ نقل کیا کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے ہوا اور امام شافعی نے کتاب ''الأم '' میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے نقل کیا کہ جب وہ کعبہ بنا رہے تھے تو حضرت کعب نے ان سے کہا: خوب مضبوط بناؤ کیونکہ ہم(اہل کتاب) کتابوں میں یہ پاتے ہیں کہ آخر زمانے میں سیلاب بہت آئیں گے۔

تو قصے سے مراد یہی ہے کہ وہ اس سیلاب کو دیکھ کر جس کے برابر کبھی نہیں آیا تھا یہ سمجھ گئے کہ آخر زمانے کے سیلابوں میں یہ پہلا سیلاب ہے۔

[فتح الباري:189/7]




Friday, 5 September 2025

قیلولہ کی اہمیت وفضیلت

"قیلولہ "کے معنی ہیں: دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لیٹنا، خواہ نیند آئے یا نہ آئے. ( عمدۃ القاری للعینی)


"قیلولہ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول رہا ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "دن کے سونے کے ذریعے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو. (شعب الایمان للبیہقی) نیز دوپہر کو سونا عقل کی زیادتی اور کھانے کے ہضم کا باعث بھی ہے. قیلولہ کی کم ازکم یا زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق تلاش کے باوجود کوئی روایت نہیں ملی.


حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

قِيلُوا فَإِنَّ الشيطان لا يقيل.

ترجمہ:

قیلولہ کیا کرو؛ اس لئے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔

[المعجم الأوسط-للطبراني:28، سلسلة الأحاديث الصحيحة:1647]





شجرکاری کی اہمیت اور فضائل


حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو جسے وہ لگا رہا ہو، تو اگر قیامت برپا ہونے سے پہلے پہلے وہ اس پودے ک ولگا سکے تو ضرور لگادے۔

حوالہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالْكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةً، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فليغرسها»

[مسند احمد:12902، مسند الطيالسي:2068، مسند عبد بن حميد:1216، الأدب المفرد-البخاري:479 ، مسند البزار:7408، معجم ابن الأعرابي:180]










Friday, 15 August 2025

اصلاح اغلاط العوام» سماجی خرابی کی اعلانیہ عملی دائمی مخالفت


القرآن:

اور (اے پیغمبر !) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر الله نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا (32) یہ کہہ رہے تھے کہ : اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور الله سے ڈرو، (33) اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے الله کھول دینے والا تھا (34) اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ الله اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے (اے پیغمبر!) تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور الله نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 37]





Thursday, 14 August 2025

دو قومی نظریہ .... یومِ آزادی پاکستان


دو قومی نظریہ، قرآن پاک کی روشنی میں

---

📌 پہلا اصول: ایمان اور کفر کی بنیادی علیحدگی


1. سورۃ التغابن (64:2)


"وہی ہے جس نے تمہیں بنایا، پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی تم میں مومن، اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔"


استدلال:

اللہ نے خود انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے – مومن اور کافر۔ یہ بنیادی علیحدگی ہے، جو دو قومی نظریے کی روح ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم ایک نہیں ہو سکتے۔

---

2. سورۃ الاعراف (7:30)


"ایک فریق کو ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی مقرر ہو چکی، کیونکہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت پر ہیں۔"


استدلال:

گمراہ قوم اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتی ہے، مگر حقیقت میں وہ شیطان کی راہ پر ہے۔ مسلمانوں کو ان سے الگ رہنا چاہیے۔

---

3. سورۃ الروم (30:47)


"ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے، پھر جنہوں نے جرائم کیے، ہم نے ان سے انتقام لیا، اور ایمان والوں کی مدد کرنا ہمارے ذمہ تھا۔"


استدلال:

اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ مومن قوم کی مدد کرے گا اور مجرم(نافرمان) قوم سے انتقام لے گا – یہ دو قوموں کے درمیان فرق ہے۔

---

📌 دوسرا اصول: قوموں کا بدلنا۔

4. سورۃ ہود (11:57)


"پھر بھی اگر تم منہ موڑتے ہو تو میرا پروردگار تمہاری جگہ کسی اور قوم کو بسا دے گا، اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔"


استدلال:

جب کوئی قوم حق سے منہ موڑ لیتی ہے، تو اللہ اس کی جگہ دوسری قوم لا دیتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ قومیں بدلتی رہتی ہیں اور کوئی قوم دوسری پر فوقیت نہیں رکھتی۔

---

5. سورۃ الدخان (44:28)


"ان کا انجام یہی ہوا، اور ہم نے ان سب چیزوں کا وارث ایک دوسری قوم کو بنا دیا۔"


استدلال:

فرعون کی قوم کو تباہ کر کے بنی اسرائیل کو وارث بنایا گیا تھا – قومیں بدلتی رہتی ہیں۔

---

6. سورۃ محمد (47:38)


"اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کر دے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔"


استدلال:

اللہ کسی قوم کا محتاج نہیں – اگر بنی اسرائیل اپنی شناخت بھول گئے یا مسلمان بھلادیں گے تو اللہ ان کی جگہ بہتر قوم لا سکتا ہے۔

---

7. سورۃ الممتحنة (60:4)


"تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تمہارے منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہو گیا، جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔"


استدلال:

حضرت ابراہیمؑ نے اپنی کافر قوم سے مکمل براءت (علیحدگی) کا اعلان کیا۔ یہی دو قومی نظریے کی عملی مثال ہے – ایمان والوں کی قوم الگ، کافروں کی الگ۔

---

8. سورۃ الاعراف (7:75)


"ان کی قوم کے سرداروں نے جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، ان کمزوروں سے پوچھا جو ایمان لے آئے تھے: کیا تمہیں یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیشک ہم تو اس پیغام پر پورا ایمان رکھتے ہیں۔"


استدلال:

ایک ہی قوم میں مومن اور کافر ہوتے ہیں، مگر ان کے درمیان عقیدے کا فرق انہیں الگ کر دیتا ہے۔

---

9. سورۃ ہود (11:27-30)


نوح کی قوم کے سرداروں نے کہا: "تم ہم جیسے انسان ہو، اور تمہارے پیچھے صرف بےحیثیت لوگ لگے ہیں۔" نوحؑ نے جواب دیا: "میں اپنے رب کی ہدایت پر ہوں، اور جو ایمان لا چکے ہیں، میں انہیں دھتکارنے والا نہیں۔"


استدلال:

انبیاء اپنے ایمان والوں کو کافروں سے الگ رکھتے ہیں، چاہے وہ ایک ہی نسل سے ہوں۔

---

📌 تیسرا اصول: نافرمان قوموں کا انجام


10. سورۃ ہود (11:48)


"اے نوح! اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تمہارے لیے اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جنہیں ہم عارضی لطف دیں گے، پھر انہیں عذاب آئے گا۔"


استدلال:

پیغمبر نوحؑ کی نسل سے متعدد قومیں نکلیں – کچھ مومن، کچھ کافر۔ ہر قوم کا اپنا الگ انجام ہے۔

---

11. سورۃ الاعراف (7:127-128)


فرعون کے سرداروں نے کہا: "کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہیں تاکہ زمین میں فساد مچائیں؟" فرعون بولا: "ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔" موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا: "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، وہ جسے چاہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔"


استدلال:

بنی اسرائیل ایک الگ قوم تھی، جو فرعون کی قوم سے مظلوم تھی۔ اللہ نے انہیں نجات دی اور وارث بنایا۔

---

12. سورۃ یونس (10:84-86)


موسیٰؑ نے کہا: "اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو۔" انہوں نے کہا: "اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا، اے رب! ہمیں ظالم قوم کے ہاتھوں آزمائش میں نہ ڈال اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات دے۔"


استدلال:

مومن ہمیشہ کافر قوم سے نجات کی دعا کرتے ہیں – یہ علیحدگی کا تقاضا ہے۔

---

13. سورۃ الصف (61:5)


"موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم مجھے تکلیف کیوں دیتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔"


استدلال:

ایک ہی قوم میں ہٹ دھرمی کرنے والوں کو اللہ گمراہ کر دیتا ہے – جس سے ثابت ہوا کہ ایمان اور کفر کی علیحدگی اللہ کی سنت ہے۔

---

14. سورۃ الاعراف (7:90)


"شعیب کی قوم کے سرداروں نے کہا: اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو سخت نقصان اٹھاؤ گے۔"


استدلال:

کافر سردار اپنی قوم کو ایمان سے روکتے ہیں، جس سے ظاہر ہے کہ مومن اور کافر کبھی متحد نہیں ہو سکتے۔

---

15. سورۃ ہود (11:88-89)


شعیبؑ نے کہا: "میرا مقصد اصلاح کے سوا کچھ نہیں، اور میں تمہاری ضد کی وجہ سے ڈرتا ہوں کہ تم پر نوح، ہود اور صالح کی قوموں جیسا عذاب نہ آئے۔"


استدلال:

ہر پیغمبر کو ماننے والے اور انکار کرنے والے الگ تھے اور ہر قوم کا انجام الگ تھا۔

---

16. سورۃ النمل (27:24)


"میں نے ایک عورت (ملکہ سبا) اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں، اور شیطان نے انہیں راستے سے روک رکھا ہے۔"


استدلال:

یہ قوم اللہ کے بجائے سورج کی عبادت کرتی تھی – مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

---

📌 چوتھا اصول: قوموں کا انجام اور وارثت


17. سورۃ الانبیاء (21:77)


"اور جس قوم نے ہماری آیات کو جھٹلایا، ہم نے انہیں غرق کر دیا۔"


استدلال:

جھٹلانے والی قوم کو ہلاک کر دیا گیا – یہ ظاہر کرتا ہے کہ کافر قوم مومن قوم سے جدا ہے۔

---

🏁 اختتامیہ (ترتیب شدہ نتیجہ)

قرآن مجید کی ان آیات سے پانچ بنیادی نکات ثابت ہوتے ہیں:

1. ایمان اور کفر کی بنیادی علیحدگی (آیت 1-2) – اللہ نے انسانوں کو مومن اور کافر میں تقسیم کیا۔

2. براءت (علیحدگی) کا اعلان (آیت 3) – ابراہیمؑ نے کافروں سے مکمل براءت کا اظہار کیا۔

3. انبیاء اور ان کی قوموں کا فرق (آیت 4-13) – ہر نبی کی اپنی مومن قوم اور کافر قوم تھی۔

4. قوموں کا بدلنا (آیت 7، 16، 17) – اللہ جب چاہتا ہے ایک قوم کو ہٹا کر دوسری قوم لا دیتا ہے۔

5. مومنین کی مدد اور کافروں کا انجام (آیت 14-15) – اللہ نے مومنوں کی مدد کو اپنے ذمہ لیا اور کافروں سے انتقام لیا۔


دو قومی نظریہ عین قرآن کا اصول ہے – مسلمان اور غیر مسلم دو الگ قومیں ہیں، ان کے عقائد، تہذیب، قانون اور انجام الگ ہیں۔ اسی اصول پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔








Friday, 25 July 2025

پسندیدہ اور ناپسندیدہ غیرت

’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔


Sunday, 13 July 2025

قرآن خوانی کے ناجائز طریقے


(1)حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وأَصْوَاتِها، وَإِيَّاكُمْ ولُحُونَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَأَهْلِ الْفسقِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مفتونةٌ قُلُوبُهُمْ، وقلوبُ مَنْ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ

ترجمہ:

تم قرآن کریم کو اہل عرب کے لہجوں اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو، اہل کتاب اور فاسق﴿عاشق﴾ لوگوں کے طرز پر پڑھنے سے بچو۔ میرے بعد ایک جماعت پیدا ہوگی جس کے افراد (خوشی میں)راگ اور (غمی میں)نوحہ کی طرح آواز بناکر قرآن پڑھیں گے، (ان کا یہ حال ہوگا) قرآن ان کی حلق سے آگے نہیں بڑھے گا(یعنی قرآن ان کے دل پر اثر نہ کرے گا)۔ ان کے اور ان کی قرأت سن کر خوش ہونے والوں کے دل فتنہ(گمراہی) میں مبتلا ہوں گے۔

[المعجم الاوسط للطبرانی:7223، شعب الایمان-للبیھقی:2406، جامع الاصول-ابن الاثیر:913، تفسیر القرطبی:1/17، جامع الاحادیث-للسیوطی:4180]

Friday, 11 July 2025

ریاء-دکھلاوہ»چھوٹا-خفیہ شرک


جس شخص نے اپنا عمل لوگوں کو سنانے کے لیے کیا تو اللہ تعالی بھی مخلوق کے کانوں میں یہ بات پہنچادے گا کہ یہ آدمی ریا کار ہے، اور اسے ذلیل و رسوا اور حقیر کر دیتا ہے۔

[ابن الجعد:135، احمد:7085، البغوي:4138]


القرآن:

۔۔۔نماز پڑھتے ہیں تو سستی سے پڑھتے ہیں لوگوں کو دکھانے کیلئے...

[تفسير ابن كثير»سورة النساء:142]

Saturday, 5 July 2025

کیوں جنت میں برا-مسلمان تو بالآخر جائے گا لیکن اچھا-کافر نہیں؟


عقلی ونقلی توجیہات:

جنت میں داخلے کے بنیادی شرائط:

1. ایمان-اسلام:

- کافر کی نیکی بے کار کیوں؟

  قرآن و حدیث کے مطابق جنت میں داخلے کے لیے "ایمان" لازمی شرط ہے۔ چاہے کوئی کتنا ہی نیک عمل کرے، اگر وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا، تو اس کی نیکیاں آخرت میں اسے نجات نہیں دلائیں گی۔  

  مثال:

  - اللہ فرماتے ہیں: "جو ہماری آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے تکبر کرے، ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ نکل جائے".

[سورۃ الاعراف:40]

  - حدیث میں آیا ہے: "جو شخص میری نبوت کی خبر پائے اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے بغیر مر جائے، وہ دوزخی ہے."

[احمد:8203 مسلم:153 بغوي:56]

---

2. گناہ گار مسلمان کا انجام: عذاب یا مغفرت؟

- چھوٹے گناہ: توبہ یا نیکیوں سے معاف ہو سکتے ہیں۔  

- بڑے گناہ (قتل، شرک کے بغیر):

  - اگر توبہ نہیں کی، تو اللہ چاہے تو براہ راست معاف کر دے یا جہنم میں عارضی عذاب دے۔  

  - عذاب کے بعد جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

  مثال:

  - قرآن میں ہے: "اللہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا جسے چاہے بخش دے، اور جسے چاہے عذاب دے"۔ [سورة النساء: 48]

---

3. اچھا کافر جنت میں کیوں نہیں جائے گا؟

- کفر کی سنگینی: اسلام میں "کفر" سب سے بڑا گناہ ہے، جو تمام نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے۔  

  مثال:  

  - اللہ فرماتے ہیں: "کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے" [سورۃ الحجر:2].  

- اللہ کی حکمت:

  - کافر کی "نیکی" دنیاوی مفاد یا ریاکاری کی ہوتی ہے، جبکہ "سچی نیکی" وہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر اللہ کے لیے کی جائے۔

---

4. اللہ کا عدل: انسان کی محدود سوچ سے بالاتر۔

- انسانی تنقید کا جواب:

  انسان کا علم محدود ہے، جبکہ اللہ ہر نفس کے نیتوں، حالات اور اختیارات کو جانتا ہے۔ جو ہماری نظر میں "نیک کافر" ہے، ہو سکتا ہے اس نے حق کو جان بوجھ کر رد کیا ہو۔  

مثال:

  - قرآن میں ارشاد ہے: "تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔" (سورۃ الکہف:49)

- جہنم کافروں کے لیے ہمیشہ کیوں؟

  کفر ایک ایسی بغاوت ہے جو اللہ کے ساتھ تعلق ہی توڑ دیتی ہے۔ اور جس کی موت کفر کی حالت میں ہو اس کی بغاوت "دائمی" ثابت ہوئی، لہٰذا اس کی سزا بھی "دائمی" ہے۔

---

 نتیجہ:

اللہ کا نظامِ عدل انسان کی سوچ سے بالاتر ہے۔ گناہ گار مسلمان کو جنت ملنا "اللہ کے رحم اور ایمان کی قدر" کی وجہ سے ہے، جبکہ نیک کافر کا جنت سے محروم رہنا "کفر کی سنگینی" کی وجہ سے ہے۔ یاد رکھیں:  

"بے شک اللہ اس کے ساتھ شرک کرنے کو معاف نہیں کرتا، لیکن اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے

[سورۃ النساء:48]


اسلامی تعلیمات کے مطابق، حتمی فیصلہ اللہ کے علم اور حکمت پر چھوڑنا چاہیے، کیونکہ وہی ہر بندے کی نیتوں اور حالات کو مکمل جانتا ہے۔

موحدین کا جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچ جانا۔

https://raahedaleel.blogspot.com/2026/01/blog-post_8.html






جس کی جنت ہے، اسی کو حق ہے کہ وہ جسے چاہے جنت دے اور جس کو چاہے اس سے محروم رکھے، یہی حق ہے۔

جنّت کیا ہے؟ کہاں ہے؟ کیسی ہے؟
http://raahedaleel.blogspot.com/2012/12/blog-post.html








بغیرایمان، نیک اعمال بےفائدہ:

القرآن:

اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

[سورۃ النساء:124]

کیونکہ ایمان ہی کی وجہ سے مومن جو بھی نیک عمل کرتا ہے، اس میں اسکی نیت خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوجاتی ہے، نہ کہ دنیاوی اغراض۔ اور اس طرح اللہ بھی اس کی نیکیاں قبول فرماتا ہے اور ان کے دنیاوی اور اخروی انعامات وبرکات، اصلاح واطمینان، اجر وثواب، درجات واعزازات نصیب فرماتا ہے۔



Saturday, 28 June 2025

اہل بیت اور آلِ محمد ﷺ کون؟ ان کا مقام اور حقوق


تمام اهل السنة والجماعة، اهل بیت سے محبت کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں ۔ اس لیے کہ رسول اللہ کے اہل بیت کی محبت اور ان کی تعظیم وتکریم دراصل آپ ﷺ ہی کی تعظیم وتکریم ہے۔
خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ کہا کرتے تھے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ﴾ ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ
ترجمہ:
﴿اے لوگو!﴾ رسول اللہﷺ کے گھرانے کے لوگوں کا پاس ولحاظ رکھو، انھیں کسی قسم کی تکلیف مت پہنچائو اورنہ ہی انھیں برا بھلا کہو۔
﴿فضائل الصحابة-لامام احمد بن حنبل:971﴾
[بخاری:3713، کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب قرابۃ رسول اللہ]
[جامع الاصول-ابن الاثیر:6709]

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
وَاللَّهِ لِقَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي
ترجمہ:
اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں سے (حسنِ سلوک کرنا) میرے نزدیک اپنے رشتہ داروں سے (حسنِ سلوک کرنے) سے زیادہ محبوب ہے۔"
[تفسیر ابن کثیر:7/ 185، مصنف عبد الرزاق:9774، فضائل الصحابة-لامام احمد بن حنبل:531، صحیح بخاری:3712-4035-4240، صحیح مسلم:1759، صحیح ابن حبان:4823-6607، بیھقی:12733]