مومن کون ہے؟
لغوی و اصطلاحی تعریف
لغوی معنی: "مومن" کا مادہ "أمن" ہے، جس کا معنی ہے امن، سکون، اور سلامتی۔ مومن وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے، اور جس سے دوسرے لوگ امن اور سلامتی میں رہیں۔
اصطلاحی معنی (شرعی تعریف): مومن وہ ہے جو:
1. دل سے اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن، اور تقدیر کے خیر و شر پر یقین رکھے۔
2. زبان سے اس کا اقرار کرے (کلمہ شہادت)۔
3. اعضاء سے اس پر عمل کرے (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اور دیگر نیکیاں)۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ"
(ایمان کی ستتر (77) سے زیادہ شاخیں ہیں، سب سے افضل "لا إله إلا الله" ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔)
(صحیح البخاری: 9، صحیح مسلم: 35)
---
قرآن مجید میں مومن کی صفات
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومن کی جو صفات بیان فرمائی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
1. سورۃ المؤمنون (23:1-11) – کامیاب مومنوں کی صفات
{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ}
(بیشک کامیاب ہو گئے مومن۔)
{الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ}
(وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔)
{وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}
(اور وہ لوگ جو فضول باتوں سے منہ موڑتے ہیں۔)
{وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ}
(اور وہ لوگ جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔)
{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ}
(اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔)
{وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ}
(اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔)
{وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ}
(اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔)
{أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ * الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ}
(یہی لوگ وارث ہیں، جو فردوس کی وراثت پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔)
2. سورۃ الأنفال (8:2-4) – مومنوں کی علامات
{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ}
(مومن تو صرف وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔)
{وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا}
(اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں۔)
{وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ}
(اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔)
{الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ}
(جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔)
{أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا}
(یہی لوگ سچے مومن ہیں۔)
3. سورۃ الحجرات (49:14) – اسلام اور ایمان کا فرق
{قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ}
(بدویوں نے کہا: ہم ایمان لائے۔ کہہ دو: تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو: ہم اسلام لائے، اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔)
تفسیر: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ظاہری اطاعت کا نام ہے، جبکہ ایمان دل کی گہرائیوں میں یقین اور تصدیق کا نام ہے۔ ہر مومن مسلم ہے، مگر ہر مسلم کامل مومن نہیں ہو سکتا۔
---
احادیث میں مومن کی صفات
1. مومن وہ ہے جس سے دوسرے محفوظ رہیں
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"
(مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔)
(صحیح البخاری: 10)
2. مومن وہ ہے جو دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ"
(تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔)
(صحیح البخاری: 13، صحیح مسلم: 45)
3. مومن وہ ہے جس کا پڑوسی محفوظ ہو
نبی ﷺ نے فرمایا:
"وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ"
(اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔)
صحابہ نے پوچھا: کون، یا رسول اللہ؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ"
(وہ جس کے پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ ہوں۔)
(صحیح البخاری: 6016)
4. مومن ایک جسم کی مانند ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى"
(مومنوں کی آپس میں محبت، رحم، اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو باقی تمام جسم بیداری اور بخار کے ساتھ اس کی تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے۔)
(صحیح مسلم: 2586)
5. مومن وہ ہے جو امانت دار اور عہد کا پابند ہو
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ"
(اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پابند نہ ہو۔)
(مسند أحمد: 12383)
6. مومن وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا"
(ایمان کے لحاظ سے سب سے کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔)
(سنن الترمذي: 1162)
7. مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور اس کی رحمت کی امید رکھے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْمُؤْمِنُ بَيْنَ خَافَتَيْنِ: بَيْنَ أَجَلٍ قَدْ مَضَى، وَأَجَلٍ قَدْ بَقِيَ"
(مومن دو خوفوں کے درمیان ہے: ایک اجل جو گزر چکی، اور ایک اجل جو باقی ہے۔)
(سنن ابن ماجہ)
---
اسلام اور ایمان کا فرق
اسلام ایمان
ظاہری اطاعت اور اعمال دل کی تصدیق اور یقین
زبان سے اقرار دل سے تصدیق
اعضاء سے عمل قلب کی کیفیت
ہر مسلم کامل مومن
بڑھتا اور گھٹتا ہے بڑھتا اور گھٹتا ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ"
(ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔)
(مسند أحمد، سنن ابن ماجہ)
---
فقہی نکات
1. ایمان کی حقیقت: ایمان قول، فعل، اور تصدیق کا مجموعہ ہے۔ یہ صرف زبان سے کہنا نہیں، بلکہ دل سے ماننا اور اعضاء سے عمل کرنا ہے۔
2. ایمان کی کمی و بیشی: ایمان نیکیوں سے بڑھتا ہے اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔
3. کبیرہ گناہ اور ایمان: کبیرہ گناہ کرنے والا مومن کہلانے کا حقدار نہیں رہتا، مگر وہ کافر بھی نہیں ہوتا، بلکہ فاسق کہلاتا ہے۔
4. ایمان اور اسلام کا تعلق: ہر مومن مسلم ہے، مگر ہر مسلم کامل مومن نہیں۔
5. مومن کے حقوق: مومن کا خون، مال، اور عزت حرام ہے۔
6. ایمان کی حفاظت: ایمان کو شرک، کفر، نفاق، اور گناہوں سے بچانا ضروری ہے۔
7. توبہ: گناہ کے بعد توبہ کرنے سے ایمان دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔
---
تصوف کے نکات
1. مومن کا دل: صوفیاء کے نزدیک مومن کا دل اللہ کی معرفت کا مرکز ہے، اور اللہ اس میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
2. ایمان کی حلاوت: صوفیاء کہتے ہیں کہ ایمان کی اصل حلاوت ہے، یعنی دل میں ایمان کی مٹھاس کا محسوس ہونا۔
3. درجۂ احسان: نبی ﷺ نے فرمایا: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" (اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)۔ یہ مومن کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔
4. مومن اللہ کا آئینہ: صوفیاء کہتے ہیں: مومن اللہ کا آئینہ ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی صفات کا عکس نظر آتا ہے۔
5. مومن کی عزت: مومن کی عزت اللہ کی عزت ہے، اور اس کی توہین اللہ کی توہین ہے۔
6. حسنِ ظن: مومن کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
---
تاریخی پس منظر
1. صحابہ کرام: صحابہ کرام مومن کی کامل ترین مثال تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان کو قول، فعل، اور تصدیق سے ثابت کیا۔
2. حدیث جبریل: جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے اسلام، ایمان، اور احسان کے بارے میں پوچھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اسلام سے اعلیٰ درجہ ہے۔
3. ائمہ کرام: ائمہ اربعہ نے ایمان کی تعریف میں "قول، فعل، اور تصدیق" کو شامل کیا ہے۔
4. محدثین: محدثین نے ایمان کی کمی و بیشی کو تسلیم کیا ہے، اور اسے "یزید و ینقص" کہا ہے۔
5. صوفیاء: صوفیاء نے ایمان کو قلبی کیفیت اور حلاوت سے تعبیر کیا ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. مومن کی تعریف: مومن وہ ہے جو اللہ پر دل سے ایمان لائے، زبان سے اقرار کرے، اور اعضاء سے عمل کرے۔
2. مومن کی صفات: خشوع، لغو سے اجتناب، زکوٰۃ، عفت، امانت داری، عہد کی پابندی، اور نماز کی حفاظت۔
3. مومن کا معیار: مومن وہ ہے جس سے دوسرے محفوظ رہیں، جو دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے، اور جس کا پڑوسی محفوظ ہو۔
4. ایمان کی کمی و بیشی: ایمان نیکیوں سے بڑھتا ہے اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔
5. اسلام اور ایمان کا فرق: اسلام ظاہری اطاعت ہے، ایمان دل کی تصدیق ہے۔
6. مومن کی عزت: مومن کی حرمت کعبہ سے بھی بڑی ہے۔
7. مومن کا دل: مومن کا دل اللہ کا عرش ہے۔
8. مومن کی مثال: مومن ایک جسم کی مانند ہے، جس کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو باقی تمام جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
---
مقاصد
1. ایمان کی حقیقت: مومن کی تعریف اور اس کی صفات کو واضح کرنا۔
2. اسلام اور ایمان کا فرق: دونوں کے درجات اور تعلقات کو سمجھانا۔
3. مومن کے حقوق: مومن کے خون، مال، اور عزت کی حفاظت کا حکم دینا۔
4. ایمان کی حفاظت: شرک، کفر، نفاق، اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دینا۔
5. حسنِ اخلاق: مومن کے اخلاق اور سلوک کو بہتر بنانے کی ترغیب دینا۔
6. درجۂ احسان: مومن کو اعلیٰ ترین منزل (احسان) تک پہنچانے کی ترغیب دینا۔
7. قلبی کیفیت: ایمان کی حلاوت اور قلبی سکون کو فروغ دینا۔
8. آخرت کی تیاری: مومن کو آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرنا۔
---
خلاصہ
مومن وہ ہے:
· جو اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت، اور تقدیر پر دل سے یقین رکھے۔
· جو زبان سے کلمہ شہادت کا اقرار کرے۔
· جو اعضاء سے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اور دیگر نیکیاں کرے۔
· جس کی نماز میں خشوع ہو۔
· جو فضول باتوں سے منہ موڑے۔
· جو زکوٰۃ ادا کرے۔
· جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے۔
· جو امانت اور عہد کا پابند ہو۔
· جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرے۔
· جس سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
· جو دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
· جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ ہو۔
· جو ایک جسم کی مانند دوسرے مومنوں کے ساتھ ہمدردی رکھے۔
· جو اللہ سے ڈرے اور اس کی رحمت کی امید رکھے۔
نتیجہ: مومن ایک کامل انسان ہے، جو اللہ کے ساتھ تعلق، اپنے نفس کے ساتھ تعلق، اور دوسروں کے ساتھ تعلق، تینوں کو بہترین انداز میں نبھاتا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب