Sunday, 28 July 2024

جائز اور ناجائز شکوہ-شکایت کا بیان

شکوہ کے معنیٰ اظہارِ غم ہے۔

[المفردات فی غریب القرآن-امام الراغب اصفھانی]


قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞ 

ترجمہ:

یعقوب نے کہا : میں اپنے رنج و غم کا شکوہ (فریاد) (تم سے نہیں) صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔

[سورۃ نمبر 12 يوسف، آیت نمبر 86]

یعنی کیا تم مجھ کو صبر سکھاؤ گے؟ بےصبر وہ ہے جو مخلوق کے آگے خالق کے بھیجے ہوئے درد کی شکایت کرے۔ میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد پر پہنچ کر بس ہو۔


صبرِ جمیل کے منافی اگر کوئی شکایت ہے تو وہ خالق کی آزمائش ومصیبت کی شکایت مخلوق سے کرنا ہے۔ لہٰذا مخلوق کی شکایت خالق سے کرنا یہ صبرِ جمیل کے منافی نہیں بلکہ عین دعاء والتجا ہے۔




نبوی دعائے شکوہ»

جب ابوطالب وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے پیروں کے بل لوگوں کے پاس آئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے جواب بھی نہ دیا، پھر آپ لوٹے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی اور یہ دعا کی:

اے اللہ! میں شکوہ کرتا ہوں تجھ سے اپنی کمزوری کی اور حیلہ و تدبیر میں کمی کی اور لوگوں کے نزدیک اپنے بےوقعت ہونے کی۔ اے ارحم الراحمین! آپ مجھے کس کے حوالہ کرتے ہیں، ایسے دشمن کے جو مجھے دیکھ کر ترش رو ہوتا ہے؟ یا ایسے قریبی عزیز کے پاس جس کو تو نے میرے معاملات کا مالک بنادیا لیکن اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں۔ تیری عافیت میرے لیے کافی ہے۔ میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور کے طفیل، جس کی بدولت آسمان روشن ہوگئے تاریکیوں کے پردے چھٹ گئے اور دنیا و آخرت کے معاملے سلجھ گئے، کہ مجھ پر تیرا غضب اترے یا تیری ناراضگی اترے۔ تیری خوشامد فرض ہے حتی کہ تو راضی ہو اور ہر طرح کی طاقت و قوت تیرے ساتھ ہے۔

[طبراني:181، الاحاديث المختارة:162، مجمع الزوائد:9851]

[کنزالعمال:3613+3756+5120]






Thursday, 25 July 2024

ایمان کے معنی، فضائل، ارکان، شاخیں، اعمال وعلامات اور کمال


ایمان کی لغوی معنیٰ:
(1) ایمان لفظ امن سے لیا گیا ہے جو خوف کی ضد ہے۔

[مصباح اللغات: ص41]


فرامینِ رسول اللہ ﷺ:

أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ 

ترجمہ:

اشرف ایمان یہ ہے کہ انسانیت تجھ سے امن میں رہے۔

[المعجم الصغیر-للطبراني:10، جامع الاحادیث-للسيوطي:3499]


الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ.

ترجمہ:

مومن وہ ہے جس سے لوگ امن میں ہوں۔

[احمد:12561، ابن ماجہ:3934، حاکم:25، طبرانی:193، بغوی:14، ابن حبان:510، البزار:7432]





(2)تصدیق اور تسلیم کے ہیں۔
اور شریعت کی اصطلاح میں ایمان کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزیں جو نبی کریم ﷺاللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں ، جو قطعیت کے ساتھ نبی کریم ﷺسے ثابت ہیں ، ان کی دل سے تصدیق کرنا، اور زبان سے اس کا اقرار کرنا یہ ایمان کہلاتا ہے۔
حوالہ
’’الإيمان في اللغة التصديق بالقلب وفي الاعتقاد بالقلب والإقرار باللسان ۔‘‘
[التعریفات» ج:1،ص:60، ط:دارالکتاب العربی، بیروت]

ارکانِ ایمان»

حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ،  وَإِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ.

ترجمہ:

ایمان، (بدیہی طور پر ثابت نبوی باتوں پر) (1)دل کے یقین کرنے، (2)اور زبان سے اقرار کرنے، (3)اور اعضاء سے عمل کرنے کا نام ہے۔

[سنن ابن ماجہ:65، المعجم الأوسط-للطبراني:6254-8580، شعب الایمان-للبيهقي:16]

﴿تفسير الثعلبي:244-1609.سورۃ البقرۃ:3﴾

﴿تفسیر الدر المنثور-للسيوطي:7/583.سورة الحجرات:14﴾



************************



ایمان کی اصطلاحی معنیٰ:
ایمان کی ایک معنیٰ شریعتِ محمدی ﷺ کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ
[سورہ المائدة:69]
اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔
لہٰذا ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو توحید کا اقرار کرکے شریعت محمدی ﷺ میں داخل ہوجائے۔

اور بعض نے آیت:
{ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ }
[سورة يوسف 106]
اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں.

کو بھی اسی معنیٰ پر محمول کیا ہے۔
[المفردات في غريب القرآن: ص91-452-681]






مومن کون ہے؟

لغوی و اصطلاحی تعریف

لغوی معنی: "مومن" کا مادہ "أمن" ہے، جس کا معنی ہے امن، سکون، اور سلامتی۔ مومن وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے، اور جس سے دوسرے لوگ امن اور سلامتی میں رہیں۔

اصطلاحی معنی (شرعی تعریف): مومن وہ ہے جو:

1. دل سے اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن، اور تقدیر کے خیر و شر پر یقین رکھے۔
2. زبان سے اس کا اقرار کرے (کلمہ شہادت)۔
3. اعضاء سے اس پر عمل کرے (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اور دیگر نیکیاں)۔

نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ"
(ایمان کی ستتر (77) سے زیادہ شاخیں ہیں، سب سے افضل "لا إله إلا الله" ہے، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔)
(صحیح البخاری: 9، صحیح مسلم: 35)

---

قرآن مجید میں مومن کی صفات

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومن کی جو صفات بیان فرمائی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

1. سورۃ المؤمنون (23:1-11) – کامیاب مومنوں کی صفات

{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ}
(بیشک کامیاب ہو گئے مومن۔)

{الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ}
(وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔)

{وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}
(اور وہ لوگ جو فضول باتوں سے منہ موڑتے ہیں۔)

{وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ}
(اور وہ لوگ جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔)

{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ}
(اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔)

{وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ}
(اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔)

{وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ}
(اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔)

{أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ * الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ}
(یہی لوگ وارث ہیں، جو فردوس کی وراثت پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔)

2. سورۃ الأنفال (8:2-4) – مومنوں کی علامات

{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ}
(مومن تو صرف وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔)

{وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا}
(اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں۔)

{وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ}
(اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔)

{الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ}
(جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔)

{أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا}
(یہی لوگ سچے مومن ہیں۔)

3. سورۃ الحجرات (49:14) – اسلام اور ایمان کا فرق

{قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ}
(بدویوں نے کہا: ہم ایمان لائے۔ کہہ دو: تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو: ہم اسلام لائے، اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔)

تفسیر: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ظاہری اطاعت کا نام ہے، جبکہ ایمان دل کی گہرائیوں میں یقین اور تصدیق کا نام ہے۔ ہر مومن مسلم ہے، مگر ہر مسلم کامل مومن نہیں ہو سکتا۔

---

احادیث میں مومن کی صفات

1. مومن وہ ہے جس سے دوسرے محفوظ رہیں

نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"
(مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔)
(صحیح البخاری: 10)

2. مومن وہ ہے جو دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ"
(تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔)
(صحیح البخاری: 13، صحیح مسلم: 45)

3. مومن وہ ہے جس کا پڑوسی محفوظ ہو

نبی ﷺ نے فرمایا:
"وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ"
(اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔)
صحابہ نے پوچھا: کون، یا رسول اللہ؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ"
(وہ جس کے پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ ہوں۔)
(صحیح البخاری: 6016)

4. مومن ایک جسم کی مانند ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
"مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى"
(مومنوں کی آپس میں محبت، رحم، اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف ہو تو باقی تمام جسم بیداری اور بخار کے ساتھ اس کی تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے۔)
(صحیح مسلم: 2586)

5. مومن وہ ہے جو امانت دار اور عہد کا پابند ہو

نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ"
(اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پابند نہ ہو۔)
(مسند أحمد: 12383)

6. مومن وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے

نبی ﷺ نے فرمایا:
"أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا"
(ایمان کے لحاظ سے سب سے کامل مومن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔)
(سنن الترمذي: 1162)

7. مومن وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور اس کی رحمت کی امید رکھے

نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْمُؤْمِنُ بَيْنَ خَافَتَيْنِ: بَيْنَ أَجَلٍ قَدْ مَضَى، وَأَجَلٍ قَدْ بَقِيَ"
(مومن دو خوفوں کے درمیان ہے: ایک اجل جو گزر چکی، اور ایک اجل جو باقی ہے۔)
(سنن ابن ماجہ)

---

اسلام اور ایمان کا فرق

اسلام ایمان
ظاہری اطاعت اور اعمال دل کی تصدیق اور یقین
زبان سے اقرار دل سے تصدیق
اعضاء سے عمل قلب کی کیفیت
ہر مسلم کامل مومن
بڑھتا اور گھٹتا ہے بڑھتا اور گھٹتا ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
"الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ"
(ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔)
(مسند أحمد، سنن ابن ماجہ)

---

فقہی نکات

1. ایمان کی حقیقت: ایمان قول، فعل، اور تصدیق کا مجموعہ ہے۔ یہ صرف زبان سے کہنا نہیں، بلکہ دل سے ماننا اور اعضاء سے عمل کرنا ہے۔
2. ایمان کی کمی و بیشی: ایمان نیکیوں سے بڑھتا ہے اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔
3. کبیرہ گناہ اور ایمان: کبیرہ گناہ کرنے والا مومن کہلانے کا حقدار نہیں رہتا، مگر وہ کافر بھی نہیں ہوتا، بلکہ فاسق کہلاتا ہے۔
4. ایمان اور اسلام کا تعلق: ہر مومن مسلم ہے، مگر ہر مسلم کامل مومن نہیں۔
5. مومن کے حقوق: مومن کا خون، مال، اور عزت حرام ہے۔
6. ایمان کی حفاظت: ایمان کو شرک، کفر، نفاق، اور گناہوں سے بچانا ضروری ہے۔
7. توبہ: گناہ کے بعد توبہ کرنے سے ایمان دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔

---

تصوف کے نکات

1. مومن کا دل: صوفیاء کے نزدیک مومن کا دل اللہ کی معرفت کا مرکز ہے، اور اللہ اس میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
2. ایمان کی حلاوت: صوفیاء کہتے ہیں کہ ایمان کی اصل حلاوت ہے، یعنی دل میں ایمان کی مٹھاس کا محسوس ہونا۔
3. درجۂ احسان: نبی ﷺ نے فرمایا: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" (اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے)۔ یہ مومن کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔
4. مومن اللہ کا آئینہ: صوفیاء کہتے ہیں: مومن اللہ کا آئینہ ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی صفات کا عکس نظر آتا ہے۔
5. مومن کی عزت: مومن کی عزت اللہ کی عزت ہے، اور اس کی توہین اللہ کی توہین ہے۔
6. حسنِ ظن: مومن کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔

---

تاریخی پس منظر

1. صحابہ کرام: صحابہ کرام مومن کی کامل ترین مثال تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان کو قول، فعل، اور تصدیق سے ثابت کیا۔
2. حدیث جبریل: جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے اسلام، ایمان، اور احسان کے بارے میں پوچھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اسلام سے اعلیٰ درجہ ہے۔
3. ائمہ کرام: ائمہ اربعہ نے ایمان کی تعریف میں "قول، فعل، اور تصدیق" کو شامل کیا ہے۔
4. محدثین: محدثین نے ایمان کی کمی و بیشی کو تسلیم کیا ہے، اور اسے "یزید و ینقص" کہا ہے۔
5. صوفیاء: صوفیاء نے ایمان کو قلبی کیفیت اور حلاوت سے تعبیر کیا ہے۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. مومن کی تعریف: مومن وہ ہے جو اللہ پر دل سے ایمان لائے، زبان سے اقرار کرے، اور اعضاء سے عمل کرے۔
2. مومن کی صفات: خشوع، لغو سے اجتناب، زکوٰۃ، عفت، امانت داری، عہد کی پابندی، اور نماز کی حفاظت۔
3. مومن کا معیار: مومن وہ ہے جس سے دوسرے محفوظ رہیں، جو دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے، اور جس کا پڑوسی محفوظ ہو۔
4. ایمان کی کمی و بیشی: ایمان نیکیوں سے بڑھتا ہے اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔
5. اسلام اور ایمان کا فرق: اسلام ظاہری اطاعت ہے، ایمان دل کی تصدیق ہے۔
6. مومن کی عزت: مومن کی حرمت کعبہ سے بھی بڑی ہے۔
7. مومن کا دل: مومن کا دل اللہ کا عرش ہے۔
8. مومن کی مثال: مومن ایک جسم کی مانند ہے، جس کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو باقی تمام جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔

---

مقاصد

1. ایمان کی حقیقت: مومن کی تعریف اور اس کی صفات کو واضح کرنا۔
2. اسلام اور ایمان کا فرق: دونوں کے درجات اور تعلقات کو سمجھانا۔
3. مومن کے حقوق: مومن کے خون، مال، اور عزت کی حفاظت کا حکم دینا۔
4. ایمان کی حفاظت: شرک، کفر، نفاق، اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دینا۔
5. حسنِ اخلاق: مومن کے اخلاق اور سلوک کو بہتر بنانے کی ترغیب دینا۔
6. درجۂ احسان: مومن کو اعلیٰ ترین منزل (احسان) تک پہنچانے کی ترغیب دینا۔
7. قلبی کیفیت: ایمان کی حلاوت اور قلبی سکون کو فروغ دینا۔
8. آخرت کی تیاری: مومن کو آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرنا۔

---

خلاصہ

مومن وہ ہے:

· جو اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت، اور تقدیر پر دل سے یقین رکھے۔
· جو زبان سے کلمہ شہادت کا اقرار کرے۔
· جو اعضاء سے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اور دیگر نیکیاں کرے۔
· جس کی نماز میں خشوع ہو۔
· جو فضول باتوں سے منہ موڑے۔
· جو زکوٰۃ ادا کرے۔
· جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے۔
· جو امانت اور عہد کا پابند ہو۔
· جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرے۔
· جس سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
· جو دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔
· جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ ہو۔
· جو ایک جسم کی مانند دوسرے مومنوں کے ساتھ ہمدردی رکھے۔
· جو اللہ سے ڈرے اور اس کی رحمت کی امید رکھے۔

نتیجہ: مومن ایک کامل انسان ہے، جو اللہ کے ساتھ تعلق، اپنے نفس کے ساتھ تعلق، اور دوسروں کے ساتھ تعلق، تینوں کو بہترین انداز میں نبھاتا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب





نہیں بن سکتا(سچاپکاکامل)مومن تم میں سے کوئی شخص جب تک...

(1)میں(نبی)اسے اسکی جان

[احمد:18047]

مال واھل

[نسائی:5014]

اسکے والدین واولاد

[بخاری13]

اور سارے لوگوں سے(بھی)زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔

[بخاری:14]


(2)۔۔۔اسے کفر کی طرف واپسی،آگ میں جانے کی طرح ناپسند ہو۔

[احمد:13959]

(3)۔۔۔اسکی خواہش پیچھے چلے(اس دین کے)جو میں لایا ہوں۔

[بغوی:104]

(4)۔۔۔اپنے مسلمان بھائی (پڑوسی)کیلئے وہی نہ چاہے جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے۔

[بخاری:12]





ایمان کی اصل-بنیاد»
حکمِ رسول﴿محمد﴾ ﷺ کو ماننا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ» 
ترجمہ:
نہیں مومن ہوسکتا تم میں کوئی ایک بھی جب تک کہ اسکی خواہش اس ﴿دین/حکم﴾ کے تابع (پیچھے چلنے والی) نہ ہوجائے جو میں لایا ہوں۔
تخریج:

حکم:
حديث حسن صحيح
[الكبائر للذهبي:468، الأربعين النووية:41، معارج القبول-للحكمي:422/2-426/2، عمدة التفسير-أحمد شاكر:1/533]
رجاله ثقات


القرآن:
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 65]

القرآن:
اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 36]



فوائدِ حدیث:

فائدہ نمبر ۱: عقل یا عادت کو شریعت پر مقدم کرنے سے اجتناب
متن:

تحذير الإنسان من أن يحكم العقل أو العادة مقدماً إياها على ما جاء به الرسول ﷺ، وجه ذلك: نفي الإيمان عنه.
ترجمہ:
اس حدیث میں انسان کو اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنی عقل یا اپنی عادت کو اس چیز پر مقدم (ترجیح) دے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اور اس (ترجیح دینے) کی وجہ یہ ہے کہ اس سے اس کا ایمان (کمال) نفی ہو جاتا ہے۔

اعتراض اور اس کا جواب:
اگر کوئی کہے: تم نے اس حدیث کو ایمان کے کمال کے نفی پر کیوں محمول کیا ہے (جبکہ ظاہر میں یہ اصل ایمان کی نفی کرتی ہے)؟

جواب:
ہم نے اسے کمال کے نفی پر محمول کیا ہے کیونکہ یہ (بات) ہر مسئلے میں (حرف بہ حرف) صادق نہیں آتی، کیونکہ ایک شخص کا ہوی (خواہش) اکثر دینی مسائل میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع (پیروکار) ہو سکتا ہے، مگر بعض مسائل میں اس کا ہوی تابع نہیں ہوتا۔
پس (ایسی صورت میں) اسے کمال کے نفی پر محمول کیا جائے گا۔

اور اگر اس کا ہوی پورے دین میں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی چیز کا تابع نہ ہو، تو وہ (اس وقت) مرتد ہو گا (اور اس کا اصل ایمان ہی ختم ہو جائے گا)۔

فائدہ نمبر ۲: پہلے استدلال، پھر حکم کا اصول
متن:
أنه يجب على الإنسان أن يستدل أولاً ثم يحكم ثانياً، لا أن يحكم ثم يستدل.
ترجمہ:
یہ کہ انسان پر لازم ہے کہ پہلے (دلیل سے) استدلال کرے، پھر (اس کے مطابق) حکم لگائے، نہ کہ پہلے حکم لگائے اور پھر استدلال کرے۔

وضاحت:
اس کا مطلب ہے کہ اگر تم عقائد یا اعمال (جوارح) میں کوئی حکم ثابت کرنا چاہو تو پہلے دلیل (قرآن و سنت) دیکھو، پھر اس کے مطابق حکم لگاؤ۔
البتہ اگر تم پہلے حکم لگاؤ اور پھر (اس کی تائید میں) دلیل ڈھونڈو، تو اس کا مطلب ہے کہ تم نے "متبوع" (جس کی پیروی کی جائے) کو "تابع" (پیروکار) بنا دیا، اور تم نے اپنی عقل کو اصل اور کتاب و سنت کو فرع (ذیلی) بنا لیا۔

اور اسی وجہ سے تم بعض علماء کو دیکھو گے (اللہ ان پر رحم کرے) جو اپنے مذاہب سے وابستہ ہیں، وہ دلائل کو اپنے مذہب کا تابع بنا لیتے ہیں، پھر وہ نصوص (قرآنی آیات اور احادیث) کی گردنوں کو اس طرح موڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کے مذہب کے تقاضے کے مطابق ہو جائیں – اور یہ ایک مکروہ اور بعید (دور از کار) انداز میں ہوتا ہے۔
یہ ان مصیبتوں میں سے ہے جن میں بعض علماء مبتلا ہو گئے ہیں۔
اور واجب یہ ہے کہ تمہارا ہوی (خواہش) اس چیز کا تابع ہو جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں۔

فائدہ نمبر ۳: خواہش کی دو اقسام (محمود اور مذموم)
متن:
تقسيم الهوى إلى محمود ومذموم، والأصل عند الإطلاق المذموم.
ترجمہ:
اس حدیث سے ہوی (خواہش نفس) کی دو قسموں کا پتہ چلتا ہے: محمود (قابلِ تعریف) اور مذموم (قابلِ مذمت)۔
اور (ہوی کے لفظ کے) مطلق (بغیر قید کے) استعمال پر اصل یہ ہے کہ وہ مذموم ہی ہے، جیسا کہ قرآن و سنت میں وارد ہوا ہے۔
پس جب بھی اللہ تعالیٰ نے (کتاب و سنت میں) "اتباعِ ہوی" کا ذکر کیا، تو وہ مذمت کے انداز میں ہے۔

البتہ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہوی دو حصوں میں منقسم ہے:

محمود (قابلِ تعریف): وہ جو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع ہو۔

مذموم (قابلِ مذمت): وہ جو اس کے خلاف ہو۔

اور جب (ہوی کا لفظ) بغیر کسی قید کے استعمال ہو، تو اسے مذموم پر محمول کیا جائے گا۔
اور اسی وجہ سے (اس کے مقابل) "ہدایت" کا لفظ آتا ہے، اور اس کا مقابلہ "ہوی" ہے۔

فائدہ نمبر ۴: شریعت کا ہر معاملے میں حاکم ہونا واجب ہے
متن:
وجوب تحكيم الشريعة في كل شيء، لقوله: "لِمَا جِئتُ به".
ترجمہ:
شریعت کو ہر معاملے میں حاکم (فیصلہ کن) بنانا واجب ہے،
کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "لِمَا جِئْتُ بِهِ" (اس چیز کے لیے جو میں لے کر آیا ہوں)۔

وضاحت:
اور نبی کریم ﷺ ہر وہ چیز لے کر آئے ہیں جو مخلوق (انسانوں) کے لیے معاد (آخرت) اور معاش (دنیا) دونوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}
[سورۃ النحل: ۸۹]
(اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا بیان ہے)

پس کوئی بھی چیز نہیں ہے جس کی لوگوں کو دین یا دنیا کے معاملات میں ضرورت ہو، مگر اسے (نبی ﷺ نے) بیان فرما دیا ہے – اور الحمد للہ –
یا تو وہ واضح بیان ہے جسے ہر شخص جانتا ہے،
یا وہ پوشیدہ (باریک) بیان ہے جسے علم میں پختہ کار (راسخین) جانتے ہیں۔




📜تشریح امام ابن الملکؒ (متوفی 854ھ):
فرمایا: "نہیں مومن ہوسکتا تم میں کوئی ایک بھی"
یعنی کوئی شخص ایمان کا کمال حاصل نہیں کرتا، اور نہ ہی اس (ایمان) کے درجات کو مکمل کر پاتا ہے۔

"جب تک کہ اسکی خواہش ہوجائے پیچھے چلنے والی"
یعنی جب تک اس کا نفس اور اس کی خواہش (میلان) "تبعًا" (یعنی رغبت اور خوشی کے ساتھ منقاد اور پیرو) نہ ہو جائے۔

"اس ﴿دین/حکم﴾ کے جو میں لایا ہوں"
یعنی اس ہدایت اور شرعی احکام کے جو میں لے کر آیا ہوں۔

اور ایک قول (تفسیر) یہ بھی ہے کہ:
اس (حدیث) سے مراد "ایمان کی بنیاد کا نفی" ہے، یعنی وہ (حقیقتاً) اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ اپنی خواہش (ہوی) کی مخالفت نہ کرے، اور اسے (اپنی خواہش کو) اس حق کا تابع (پیرو) نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں۔ اور یہ (پیروی) عقیدت (یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف کی بنا پر نہیں۔






📜شرح عبد الحق الدهلويؒ (متوفی 1052ھ):
 
آپ ﷺ کا فرمان:
"لا يؤمن أحدكم"
یعنی کسی ایک کا بھی ایمان مکمل نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے ایمان کی حقیقت حاصل ہوتی ہے

"حتى يكون هواه تبعًا لما جئت به"
یعنی جب تک اس کا نفسانی میلان اور خواہش، اس (دین) کے تابع (پیرو) نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں – عمل اور اعتقاد دونوں میں۔
پس وہ (مومن) اپنی خواہش کو غالب نہ آئے جب حق کا داعیہ اور خواہش کا داعیہ آپس میں ٹکرائیں۔

اور آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: "اس کی خواہش ختم ہو جائے اور معدوم ہو جائے"،
کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی یہ (ایمان کا) کمال ہے،
بلکہ کمال یہ ہے کہ (خواہش) باقی رہے، مگر حق کے تابع، موافق، تسلیم کرنے والی اور اس پر راضی ہو۔
جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے:
{پس آپ کے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ کو آپس کے جھگڑوں میں حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ کریں اس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اسے پورے طور پر تسلیم کر لیں۔}
[سورۃ النساء:65]

اور آپ ﷺ کا فرمان:
"ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربًا، وبالإسلام دينًا، وبمحمد نبيًا"
(اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہو گیا۔)
[صحیح مسلم: 34، سنن الترمذی: 2623]

اور اگر "تبعية" (پیروی) سے مراد نبی ﷺ کی حقانیت کا اعتقاد لیا جائے،
تو اسے "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے
(یعنی اس کے بغیر اصل ایمان ہی نہیں ہے)۔






شرح الملا على القاري (متوفی 1014ھ):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ"
یعنی تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہش (نفسانی میلان) پیرو نہ ہو جائے۔
"هَوَاهُ" سے مراد نفس کا میلان ہے، اسے "ہوی" اس لیے کہا گیا کہ یہ اپنے مالک کو دنیا میں تنگنائیوں اور آخرت میں جہنم کی گہرائی (هاوية) کی طرف لے جاتا ہے، گویا یہ "هوی" (گرنا) سے مشتق ہے۔

"تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ"
یعنی جو کچھ میں لے کر آیا ہوں (شریعت اور احکام) اس کا پیروکار اور اس کی تقلید کرنے والا ہو جائے۔

📝 امکانِ حمل (تفسیر کے دو پہلو)
پہلا احتمال:
اس حدیث کو "ایمان کی اصل (بنیاد) کے نفی" پر محمول کیا جا سکتا ہے، یعنی:
جب تک وہ اپنی خواہش کو اس شریعت کا تابع نہ بنا لے جو میں لے کر آیا ہوں – اور یہ پیروی اعتقاد (دل سے یقین) کی بنا پر ہو، جبر اور تلوار کے خوف (منافقین کی طرح) کی بنا پر نہ ہو – تو اس کا اصل ایمان ہی نہیں ہے۔

دوسرا احتمال (جمہور کا قول):
اس سے مراد "ایمان کے کمال کا نفی" ہے، یعنی:
تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا نفسانی میلان اور اس کی خواہش (جو اسے پسند ہے) اس شریعت کے احکام کا تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔
پس اگر اس کی خواہش شریعت کے موافق ہو تو وہ اس لیے اس پر عمل کرے کہ یہ شریعت ہے، اس لیے نہیں کہ یہ اس کی خواہش ہے۔
اور اگر اس کی خواہش شریعت کے خلاف ہو تو وہ اپنی خواہش کو چھوڑ دے۔
اس وقت وہ کامل مومن ہو گا۔

🌟 عارفین کا قول (روحانی نکتہ)
بعض عارفین (باطنی علم رکھنے والے) نے کہا:
"یہاں تک کہ اس کی خواہش – جو اس کی نفسانی صفات کی اصل ہے، بلکہ وہ باطل معبود ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور جس کی پیروی محبوب ہوتی ہے – اس چیز کی پیرو بن جائے جو میں لے کر آیا ہوں (یعنی چمکتی ہوئی سنت اور پاکیزہ شریعت) ،
یہاں تک کہ اس کے مختلف ارادے اور بکھرے ہوئے خیالات، جو نفس کی خواہش اور طبیعت کے میلان سے پیدا ہوتے ہیں، سب ایک ہی ارادے میں جمع ہو جائیں جو اس کے رب کے حکم اور اس کی شریعت کی پیروی سے متعلق ہو – اللہ کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت کی خاطر۔

جیسا کہ شاعر نے کہا:

"میرے دل کی خواہشیں بکھری ہوئی تھیں،
مگر جب آنکھ نے تجھے دیکھا تو سب جمع ہو گئیں۔
اب وہی مجھ سے حسد کرتے ہیں جن سے میں حسد کرتا تھا،
اور میں تمام لوگوں کا سردار بن گیا جب سے تو میرا سردار بنا۔
میں نے لوگوں کے لیے ان کی دنیا اور ان کا دین چھوڑ دیا،
تیری محبت میں مشغول ہو کر، اے میرے دین اور میری دنیا!"

🧠 نفس، عقل اور خواہش کا فلسفہ
پس (کامل مومن) وہ ہے جو:

صرف دین کے حکم کے مطابق جھکتا ہے،

اور صرف شرعی حکم کے مطابق خواہش کرتا ہے۔

یہی نادر کامل مومن ہے، جس سے توحید قبول کی جاتی ہے۔
اور جو اس سے منہ موڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے اور اپنی مرضی کے مطابق چلے، وہ کافر ہے جو اپنی دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے میں ہے۔
اور جو شریعت کی اصولوں کی پیروی کرے مگر فروع (تفصیلات) کو چھوڑ دے تو وہ فاسق ہے۔
اور جو اس کے برعکس کرے (یعنی فروع کو مانے مگر اصولوں کو چھوڑ دے) تو وہ منافق ہے۔

"الهوى" لغت میں "هویه" (اس سے محبت کی) سے مشتق ہے،
اور شرعاً اس کا معنی ہے: نفس کا اس چیز کی طرف میلان جو شریعت کے تقاضے کے خلاف ہو۔
ہاں، اگر خواہش ہدایت کے موافق ہو تو وہ شہد پر مکھن کی طرح، نور پر نور اور سرور پر سرور ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنَ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ}
[سورۃ القصص:50]
(اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے؟)

❓ اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض:
رسول ﷺ جو لے کر آئے وہ نور اور روشنی ہے، اور خواہش نفس میں ایک تاریکی ہے جو مٹی کی طبیعت سے پیدا ہوتی ہے۔
پس یہ تاریک خواہش نورانی دین کی پیرو کیسے بن سکتی ہے؟

جواب:
نفس (نفس انسانی) جسم میں ایک لطیف (باریک) چیز ہے جو روح اور بدن کے امتزاج اور اتصال سے وجود میں آتی ہے۔

روح لطیف اور روحانی ہے،

جسم گہرا اور تاریک ہے،

اور نفس ان دونوں کے درمیان ایک متوسط چیز ہے، جو روحانی لطافت اور جسمانی کثافت دونوں کو قبول کرتی ہے۔

یہی وہ "تسویہ" (اعتدال) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا:

{وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا}
[سورۃ الشمس: ۷]
(اور قسم ہے نفس کی اور اس (اللہ) کی جس نے اسے درست کیا)

اس اعتدال کی وجہ سے نفس خیر و شر، فجور اور تقویٰ دونوں کو قبول کرنے والا ہے:

اگر تقویٰ کا پہلو غالب آئے تو نفس صفائی اور دین کی طرف رجوع کرتا ہے،

اور اگر فجور کا پہلو غالب آئے تو خواہش کا تابع بن کر ہلاکت کی راہوں پر چل پڑتا ہے۔

شاعر نے کہا:

"خواری کا نون (حرف) خواہش سے چرایا گیا ہے،
پس ہر خواہش کا شکار ذلت کا شکار ہے۔"

راغب اصفہانی نے کہا:
نفس کا بدن میں ہونا اس مجاہد کی مانند ہے جو ایک سرحد (محاذ) پر بھیجا گیا ہو تاکہ اس کی حالتوں کا خیال رکھے،

اس کی عقل اس کے مالک (اللہ) کی نائب ہے، جو اسے ہدایت دینے اور اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے اس کے ساتھ ہے،

اس کا بدن اس کی سواری ہے،

اس کی خواہش اور شہوتیں ایک شریر سائیس (جانوروں کو ہانکنے والا) ہیں جو اس کی سواری کو غائب کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے،

قرآن اس کتاب کی مانند ہے جو اس کے مالک کی طرف سے آئی ہے، جس میں ہر چیز کی وضاحت، ہدایت اور رحمت ہے،

اور نبیﷺ وہ رسول ہیں جو اس کتاب کو لے کر آئے تاکہ لوگوں کے لیے وہ کچھ واضح کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔

پس اگر وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرے، ان پر غالب آئے، عقل سے مدد لے اور اسے مسلط کرے، تو جب وہ اپنے رب کے حضور واپس جائے گا تو اس کی تعریف کی جائے گی اور وہ کامیاب لوگوں میں سے ہوگا۔
اور جس نے اپنی سرحد کو ضائع کیا، اپنی رعیت (نفس) کو نظر انداز کیا، اپنی سواری کی دیکھ بھال میں مشغول رہا، اور سواری کے سائیس (خواہش) کو اپنے رب کے خلیفہ (عقل) کی جگہ بٹھایا، تو وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔

📚 حدیث کا ماخذ اور درجہ
"رَوَاهُ" یعنی امام بغویؒ نے اپنی کتاب "شرح السنۃ" میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اور امام نوویؒ نے اپنی کتاب "الأربعون" (چالیس احادیث) میں کہا:
"یہ حدیث صحیح ہے، ہم نے اسے کتاب 'الحجة' میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔"
(کتاب "الحجة" ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن الفضل الاصفہانی التیمی کی تصنیف ہے، جو اتباعِ محجہ (سیدھے راستے کی پیروی) پر مشتمل ہے۔)






Wednesday, 24 July 2024

بائیکاٹ-قطع تعلق کے معنیٰ، مقاصد، اقسام اور دلائل



...میرے پروردگار ! آپ نے مجھ پر انعام کیا ہے تو میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔
[سورۃ القصص، آیت نمبر 17]
...نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو“۔
[سورۃ المائدہ: 2]
”جو تم سے دین کے بارے میں لڑتے ہیں اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمہیں نکالنے میں (دوسروں کی) مدد کرتے ہیں“۔
[سورۃ الممتحنہ:9]
نبی کریم ﷺ نے ثمامہ بن اثال ؓ کے اس اعلان کو تسلیم کیا کہ وہ اہلِ مکہ کو ”ایک دانہ گندم بھی نہیں دیں گے جب تک نبی ﷺ اجازت نہ دیں“۔
[بخاری:4355، مسلم:1764]
یہ اقتصادی بائیکاٹ کا واضح نبوی نمونہ ہے۔



Saturday, 20 July 2024

تحفہ(عطیہ، ھدیہ، ھِبہ) لینے دینے کے آداب

 

ھدیہ دینے والے کے آداب»

(1)اخلاص سے ہدیہ دینا۔

محبت بڑھانے کا نسخہ

حضرت ابوھریرہ ؓ ﴿عائشہ ؓ﴾ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

تهادوا تحابوا ﴿وتذهب الشحناء﴾ إن الهدية تذهب وحر الصدر

ترجمہ:

آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے آپس میں محبت ﴿زیادہ﴾ ہوگی۔ ﴿اور عداوت ختم ہوگی﴾۔ کیونکہ ہدیہ دل کا کینہ و عداوت ختم کرتا ہے۔
[الصحيحة:2306،  الإرواء الغليل:1601]

[مسند احمد:9239، الادب المفرد-للبخاري:594، سنن الترمذي:2130، مسند الطيالسى:2333، مسند ابويعلي:6148، شعب الإيمان-للبیھقي:8976، السنن الکبریٰ للبیھقی:11946+11947]

﴿موطا مالک:694، مشكاة المصابيح:4693﴾

﴿جامع الاحاديث-للسيوطي:11015+11016﴾

Friday, 12 July 2024

دین کیا ہے؟ اور دیندار کون؟


القرآن:

لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔

[سورۃ نمبر 9 التوبة،آیت نمبر 11]



دین کے معانی

دین کے مختلف معانی ہیں:

(1) طاعت یعنی اپنے اختیار سے فرمانبرادی ہے، قرآن میں ہے :۔ 

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ
بےشک دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔
[سورۃ آل عمران:19]

(2) جزا یعنی بدلہ، ایک جگہ قرآن مجید میں ہے:
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
بدلہ والے دن کا مالک ہے۔
[سورۃ الفاتحہ:4]

(3) شریعت یا طریقت یعنی زندگی گذارنے کا اصول و ضابطہ، قرآن میں ہے:-
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ۔۔۔
اس(اللہ)نے تمہارے لیے دین کا رستہ مقرر کیا۔
[سورۃ الشوریٰ:13]

لفظ شریعت کا مادہ ش۔ر۔ع ہے اور اس کا لغوی معنی ہے وہ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔

[امام راغب اصفهانی، مفردات القرآن : 259]


Wednesday, 10 July 2024

بھوک (الجوع) کے فضائل


بھوک کی آزمائش کس کیلئے اور کیوں؟

القرآن:

اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 155]


حضرت ابوھریرہ‌ؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔

[الصحيحة:1615(3539)، المعجم ابن الأعرابي:21]

Tuesday, 9 July 2024

پل صراط کا بیان

القرآن:

اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔

[سورۃ نمبر 19 مريم، آیت نمبر 71]


«يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثمَّ يصدون مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ»

تمام لوگ آگ (پل صراط) پر وارد ہوں گے، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے پار ہوں گے، ان میں سے سب سے پہلے بجلی چمکنے کی مانند گزر جائیں گے، پھر ہوا کی مانند، پھر تیز رفتار گھوڑے کی مانند، پھر سواری پر سوار کی مانند، پھر دوڑنے والے آدمی کی مانند اور پھر پیدل چلنے والے کی مانند (اس پل سے گزریں گے جو کہ جہنم پر نصب ہو گا)۔

[سنن الترمذي:3159، احمد:4141، الحاكم:8741، الدارمي:2810، الصحیحہ:311]

موسوعة التفسير المأثور:47014،سورۃ مریم:71




Thursday, 4 July 2024

خودکشی کرنے والے"مسلمان"کیلئے دعائے بخشش کرنے، کافر نہ ہونے اور نماز جنازہ پڑھنے کا امکان

 امام احمد کہتے ہیں کہ:

*خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ امام(راہنما-حاکم) نہ پڑھائے، لیکن غیر امام(عوام) پڑھیں گے۔*

[سنن الترمذی:1068]

حوالہ

آپ ﷺ نے فرمایا:

۔۔۔رہا میں تو میں اس کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھوں گا۔*

[سنن النسائی:1966، سنن ابوداؤد: 3185]


تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو۔

[سنن ابن ماجہ:1526]


۔۔۔اور اہلِ توحید(مسلمان) میں سے ہر مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔

[سنن دارقطنی: حدیث#1745]


القرآن:

بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔۔۔

[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 48]

تفسیر:

یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ؛ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرکے توحید پر ایمان لے آئے۔

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰