Sunday, 7 June 2015

فضائلِ ماہِ رمضان اور اس کے مسنون اعمال

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رمضان ''رمض'' سے ماخوذ ہے اور رمض کا معنٰی ''جَلانا ''ہے۔ چونکہ یہ مہینہ مسلمانوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا اس لئے یہ نام رکھا گیا ہے کہ یہ ''رمض'' سے مشتق ہے جس کا معنٰی ''گرم زمین سے پاؤں جلنا'' ہے۔ چونکہ ماہِ صیّام بھی نفس کے جلنے اور تکلیف کا موجب ہوتا ہے لہٰذا اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا رمضان گرم پتھر کو کہتے ہیں۔ جس سے چلنے والوں کے پاؤں جلتے ہیں۔ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا تھا اس وقت بھی موسم سخت گرم تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ رمض کے معنی برساتی بارش ، چونکہ رمضان بدن سے گناہ بالکل دھو ڈالتا ہے اور دلوں کو اس طرح پاک کردیتا ہے جیسے بارش سے چیزیں دھل کر پاک و صاف ہو جاتی ہیں۔ (غنیۃ الطالبین: صفحہ ٣٨٣-٣٨٤)



رمضان کے پانچ حروف ہیں:

''ر'' رضوان اللہ (اللہ کی خوشنودی) ہے۔
''م'' محابۃ اللہ کی ہے (اللہ کی محبت)۔
''ض'' ضمان اللہ کا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری)
''الف'' الفت کا ہے اور
''ن'' سے مراد نور اور نوال ہے (مہربانی اور بخشش) (غنیۃ الطالبین ، صفحہ ٣٩٠)




شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُرقانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ ۖ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ ۗ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {2:185}
مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کو اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی [۲۷۹] سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے [۲۸۰] اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیئے اور دنوں سے [۲۸۱] اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو [۲۸۲]
The month of Ramadhan: therein was sent down the Qur'an: is a guidance unto mankind, and with evidences: one of the Books of guidance and the distinction. So whosoever of you witnesseth the month, he shall fast it, and whosoever sick or journeying, for him the like number of other days. Allah intendeth for you ease, and intendeth not for you hardship; so ye shall fulfil the number and shall magnify Allah for His having guided you,and haply ye may give thanks.
مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اول رمضان میں روزہ کا حکم فرمایا اور بوجہ عذر پھر مریض اور مسافر کو افطار کرنے کی اجازت دی اور دیگر اوقات میں ان دنوں کے شمار کے برابر روزوں کا قضا کرنا تم پر پھر واجب فرمایا ایک ساتھ ہونے یا متفرق ہونے کی ضرورت نہیں تو اس میں اس کا لحاظ ہے کہ تم پر سہولت رہے دشواری نہ ہو اور یہ بھی منظور ہے کہ تم اپنے روزوں کا شمار پورا کر لیا کرو ثواب میں کمی نہ آ جائے اور یہ بھی مدنظر ہے کہ تم اس طریقہ سراسر خیر کی ہدایت پر اپنے اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس کو بزرگی سے یاد کرو اور یہ بھی مطلوب ہے کہ ان نعمتوں پر تم شکر کرو اور شکر کرنے والوں کی جماعت میں داخل ہو جاؤ سبحان اللہ روزہ جیسی مفید عبادت ہم پر واجب فرمائی اور مشقت و تکلیف کی حالت میں سہولت بھی فرمادی اور فراغت کے وقت میں اس نقصان کے جبر کا طریقہ بھی بتلا دیا۔
اس حکم عام سے یہ سمجھ میں آتا تھا کہ شاید مریض اور مسافر کو بھی افطار و قضا کی اجازت باقی نہیں رہی اور جیسے روزہ رکھنے کی طاقت رکھنے والوں کو اب افطار کی ممانعت کر دی گئ ایسے ہی مسافر اور مریض کو بھی ممانعت ہو گئ ہو اس لئے مریض و مسافر کی نسبت پھر صاف فرما دیا کہ ان کو رمضان میں افطار کرنے اور اور دنوں میں اس کے قضا کرنے کی اجازت اسی طرح باقی ہے جیسے تھی۔
یعنی جب اس ماہ مبارک کے فضائل مخصوصہ عظیمہ تم کو معلوم ہو چکے تو اب جس کسی کو یہ مہینہ ملے اس کو روزہ ضرور رکھنا چاہیئے اور بغرض سہولت ابتداء میں جو فدیہ کی اجازت برائے چندے دی گئ تھی وہ موقوف ہو گئ۔
حدیث میں آیا ہے کہ صحف ابراہیمی اورتوریت اور انجیل سب کا نزول رمضان ہی میں ہوا اور قرآن شریف بھی رمضان کی چوبیسویں رات میں لوح محفوظ سے اول آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا پھر تھوڑا تھوڑا کر کے مناسب احوال آپ پر نازل ہو تا رہا اور ہر رمضان میں جبرئیلؑ قرآن نازل شدہ آپ کو مکرر سنا جاتے تھے ان سب حالات سے مہینے رمضان کی فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی مناسبت اور خصوصیت خوب ظاہر ہو گئ اس لئے اس مہینے میں تراویح مقرر ہوئی پس قرآن کی خدمت اس مہینے میں خوب اہتمام سے کرنی چاہیئے کہ اسی واسطے مقرر اور معین ہوا ہے۔


تفسیر ابن کثیر
نزول قرآن اور ماہ رمضان:
ماہ رمضان شریف کی فضیلت وبزرگی کا بیان ہو رہا ہے اسی ماہ مبارک میں قرآن کریم اترا
مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے ابراہیمی صحیفہ رمضان کی پہلی رات اترا اور توراۃ چھٹی تاریخ اگلے تمام صحیفے اور توراۃ و انجیل تیرھویں تاریخ اور قرآن چوبیسویں تاریخ نازل ہوا.
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الشَّامِيِّينَ » حَدِيثَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ... رقم الحديث: 16640(16536)]
ایک اور روایت میں ہے کہ زبور بارھویں کو اور انجیل اٹھارہویں کو، اگلے تمام صحیفے اور توراۃ و انجیل و زبور جس پیغمبر پر اتریں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ اتریں لیکن قرآن کریم بیت العزت سے آسمانی دنیا تک تو ایک ہی مرتبہ نازل ہوا اور پھر وقتًا فوقتًا حسب ضرورت زمین پر نازل ہوتا رہا یہی مطلب آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ) 97۔ القدر:1) آیت اور آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ) 44۔ الدخان:3) اور آیت (اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) 2۔ البقرۃ:185) مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ساتھ آسمان اول پر رمضان المبارک کے مہینے میں لیلتہ القدر کو نازل ہوا اور اسی کو لیلہ مبارکہ بھی کہا ہے ، ابن عباس وغیرہ سے یہی مروی ہے، آپ سے جب یہ سوال ہوا کہ قران کریم تو مختلف مہینوں میں برسوں میں اترتا رہا پھر رمضان میں اور وہ بھی لیلتہ القدر میں اترنے کے کیا معنی؟ تو آپ نے یہی مطلب بیان کیا (ابن مردویہ وغیرہ) آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آدھی رمضان میں قرآن کریم دنیا کے آسمان کی طرف اترا بیت العزۃ میں رکھا گیا پھر حسب ضرورت واقعات اور سوالات پر تھوڑا تھوڑا اترتا رہا اور بیس سال میں کامل ہوا اس میں بہت سی آیتیں کفار کے جواب میں بھی اتریں کفار کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ قرآن کریم ایک ساتھ سارا کیوں نہیں اترا ؟جس کے جواب میں فرمایا گیا آیت (لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا) 25۔ الفرقان:32) یہ اس لئے کہ تیرے دل کو برقرار اور مضبوط رکھیں پھر قرآن کریم کی تعریف میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں کی ہدایت ہے اور اس میں واضح اور روشن دلیلیں ہیں تدبر اور غور و فکر کرنے والا اس سے صحیح راہ پر پہنچ سکتا ہے یہ حق وباطل حرام وحلال میں فرق ظاہر کرنے والا ہے ہدایت وگمراہی اور رشدوبرائی میں علیحدگی کرنے والا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ صرف رمضان کہنا مکروہ ہے شہر رمضان یعنی رمضان کا مہینہ کہنا چاہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے رمضان نہ کہو یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے شہر رمضان یعنی رمضان کا مہینہ کہا کرو، حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور محمد بن کعب سے بھی یہی مروی ہے، حضرت ابن عباس اور حضرت زید بن ثابت ؓ کا مذہب اس کے خلاف ہے، رمضان نہ کہنے کے بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے لیکن سندا وہ وہی ہے امام بخاری نے بھی اس کے رد میں باب باندھ کر بہت سی حدیثیں بیان فرمائی ہیں ایک میں ہے جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رکھے اس کے سبب اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں.[صحيح البخاري » كِتَاب الْإِيمَانِ » بَاب صَوْمُ رَمَضَانَ احْتِسَابًا مِنَ الْإِيمَانِ ... رقم الحديث: 37(38)]
وغیرہ غرض اس آیت سے ثابت ہوا کہ جب رمضان کا چاند چڑھے کوئی شخص اپنے گھر ہو، سفر میں نہ ہو اور تندرست بھی ہو اسے روزے رکھنے لازمی اور ضروری ہیں، پہلے اس قسم کے لوگوں کو بھی جو رخصت تھی وہ اٹھ گئی اس کا بیان فرما کر پھر بیمار اور مسافر کے لئے رخصت کا بیان فرمایا کہ یہ لوگ روزہ ان دنوں میں نہ رکھیں اور پھر قضا کرلیں یعنی جس کے بدن میں کوئی تکلیف ہو جس کی وجہ سے روزے میں مشقت پڑے یاتکلیف بڑھ جائے یا سفر میں ہو تو افطار کرلے اور جتنے روزے جائیں اتنے دن پھر قضا کرلے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان حالتوں میں رخصت عطا فرما کر تمہیں مشقت سے بچا لینا یہ سراسر ہماری رحمت کا ظہور ہے اور احکام اسلام میں آسانی ہے، اب یہاں چند مسائل بھی سنئے (١) سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص اپنے گھر میں مقیم ہو اور چاند چڑھ جائے رمضان شریف کا مہینہ آجائے پھر درمیان میں اسے سفر درپیش ہو تو اسے روزہ ترک کرنا جائز نہیں کیونکہ ایسے لوگوں کو روزہ رکھنے کا صاف حکم قرآن پاک میں موجود ہے، ہاں ان لوگوں کو بحالت سفر روزہ چھوڑناجائز ہے جو سفر میں ہوں اور رمضان کا مہینہ آجائے، لیکن یہ قول غریب ہے، ابو محمد بن حزم نے اپنی کتاب "محلی"میں صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا یہی مذہب نقل کیا ہے لیکن اس میں کلام ہے واللہ اعلم۔ نبی ﷺ رمضان المبارک میں فتح مکہ کے غزوہ کے لئے نکلے روزے سے تھے"کدید"میں پہنچ کر روزہ افطار کیا اور لوگوں کو بھی حکم دیا کہ روزہ توڑ دیں (متفق علیہ) (٢) صحابہ رحمۃ اللہ تابعین کی ایک اور جماعت نے کہا کہ سفر میں روزہ توڑ دینا واجب ہے کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت (فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ) 2۔ البقرۃ:185) لیکن صحیح قول جو جمہور کا مذہب ہے یہ ہے کہ آدمی کو اختیار ہے خواہ رکھے خواہ نہ رکھے اس لئے کہ ماہ رمضان میں لوگ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلتے تھے بعض روزے سے ہوتے تھے بعض روزے سے نہیں ہوتے تھے پس روزے دار بےروزہ پر اور بےروزہ دار روزہ دار پر کوئی عیب نہیں پکڑاتا تھا اگر افطار واجب ہوتا تو روزہ رکھنے والوں پر انکار کیا جاتا، بلکہ خود نبی ﷺ سے بحالت سفر روزہ رکھنا ثابت ہے، بخاری ومسلم میں ہے حضرت ابو درداء ؓ فرماتے ہیں رمضان المبارک میں سخت گرمی کے موسم میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر ہاتھ رکھے رکھے پھر رہے تھے ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا سوائے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کے۔ (٣) تیسرا مسئلہ۔ ایک جماعت علماء کا خیال ہے جن میں حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں کہ سفر میں روزہ رکھنا نہ رکھنے سے افضل ہے کیونکہ حضور ﷺ سے بحالت سفر روزہ رکھنا ثابت ہے، ایک دوسری جماعت کا خیال ہے کہ روزہ نہ رکھنا افضل ہے کیونکہ اس میں رخصت پر عمل ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے سفر کے روزے کی بابت سوال ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا جو روزہ توڑ دے اس نے اچھا کیا اور جو نہ توڑے اس پر کوئی گناہ نہیں.[صحيح مسلم » كِتَاب الصِّيَامِ » بَاب التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ ... رقم الحديث: 1898(1123)]
تیسری جماعت کا قول ہے کہ رکھنا نہ رکھنا دونوں برابر ہے۔ ان کی دلیل حضرت عائشہ والی حدیث ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ !میں روزے اکثر رکھا کرتا ہوں تو کیا اجازت ہے کہ سفر میں بھی روزے رکھ لیا کروں فرمایا اگر چاہو تو روزہ رکھو، اور اگر چاہو نہ رکھو. (بخاری ومسلم)[صحيح البخاري » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ » سُورَةُ الْبَقَرَةِ ... رقم الحديث: 4167
بعض لوگوں کا قول ہے کہ اگر روزہ بھاری پڑتا ہو تو افطار کرنا افضل ہے، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا اس پر سایہ کیا گیا ہے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا حضور ﷺ یہ روزے سے ہے آپ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں (بخاری ومسلم)[صحيح البخاري » كتاب الْصَوْمِ » بَاب : قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... رقم الحديث: 1819(1946)
یہ خیال رہے کہ جو شخص سنت سے منہ پھیرے اور روزہ چھوڑنا سفر کی حالت میں بھی مکروہ جانے تو اس پر افطار ضروری ہے اور روزہ رکھنا حرام ہے ۔ مسند احمد وغیرہ میں حضرت ابن عمر حضرت جابر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہ کرے اس پر عرفات کے پہاڑوں برابر گناہ ہوگا۔[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ المُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ » مُسْنَدُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ... رقم الحديث: 5240(5369)
چوتھا مسئلہ: آیا قضاء روزوں میں پے درپے روزے رکھنے ضروری ہیں یا جدا جدا بھی رکھ لئے جائیں تو حرج نہیں؟ ایک مذہب بعض لوگوں کا یہ ہے کہ قضا کو مثل ادا کے پورا کرنا چاہئے ، ایک کے پیچھے ایک یونہی لگاتار روزے رکھنے چاہئیں دوسرے یہ کہ پے درپے رکھنے واجب نہیں خواہ الگ الگ رکھے خواہ ایک ساتھ اختیار ہے جمہور سلف وخلف کا یہی قول ہے اور دلائل سے ثبوت بھی اسی کا ہے، رمضان میں پے درپے رورزے رکھنا اس لئے ہیں کہ وہ مہینہ ہی ادائیگی روزہ کا ہے اور رمضان کے نکل جانے کے بعد تو صرف وہ گنتی پوری کرنی ہے خواہ کوئی دن ہو اسی لئے قضاء کے حکم کے بعد اللہ کی آسانی کی نعمت کا بیان ہوا ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر دین وہی ہے جو آسانی والا ہو، بہتر دین وہی ہے جو آسانی والا ہو،[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الْمَكِّيِّينَ » حَدِيثُ أَعْرَابِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ... رقم الحديث: 15618(15506)]
مسند ہی میں ایک اور حدیث میں ہے ، عروہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ تشریف لائے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے معلوم ہوتا تھا کہ وضو یا غسل کر کے تشریف لا رہے ہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے سوالات کرنے شروع کر دئے کہ حضور ﷺ کیا فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ آخر میں حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کا دین آسانیوں والا ہے تین مرتبہ یہی فرمایا، [مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ » حَدِيثُ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ ... رقم الحديث: 20166(20145)]
بخاری ومسلم کی حدیث میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تم دونوں خوشخبریاں دینا، نفرت نہ دلانا، آسانیاں کرنا سختیاں نہ کرنا، آپس میں اتفاق سے رہنا اختلاف نہ کرنا.[صحيح البخاري » كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ » بَاب دَوَاءِ الْجُرْحِ بِإِحْرَاقِ الْحَصِيرِ وَغَسْلِ ... رقم الحديث: 2827(3038)
محجن بن ادرع ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا غور سے آپ اسے دیکھتے رہے پھر فرمایا کیا تم اسے سچائی کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تمام اہل مدینہ سے زیادہ نماز پڑھنے والا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے نہ سناؤ کہیں یہ اس کی ہلاکت کا باعث نہ ہو سنو اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس امت کے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں، [مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ » حَدِيثُ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ ... رقم الحديث: 19870(19833)]

پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ مریض اور مسافر وغیرہ کو یہ رخصت دینا اور انہیں معذور جاننا اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ آسانی کا ہے سختی کا نہیں اور قضا کا حکم گنتی کے پورا کرنے کے لئے ہے اور اس رحمت نعمت ہدایت اور عبادت پر تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑائی اور ذکر کرنا چاہئے جیسے اور جگہ حج کے موقع پر فرمایا آیت (فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا) 2۔ البقرۃ:200) یعنی جب احکام حج ادا کر چکو تو اللہ کا ذکر کرو اور جگہ جعمہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد فرمایا کہ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور رزق تلاش کرو اور اللہ کا ذکر زیادہ کرو تاکہ تمہیں فلاح ملے، اور جگہ فرمایا آیت (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ) 15۔ الحجر:98) یعنی سورج کے نکلنے سے پہلے سورج کے ڈوبنے سے پہلے رات کو اور سجدوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیا کرو، اسی لئے مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد تسبیح اور تکبیر پڑھنی چاہئے، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کا نماز سے فارغ ہونا صرف اللہ اکبر کی آوازوں سے جانتے تھے، یہ آیت دلیل ہے اس امر کی کہ عیدالفطر میں بھی تکبیریں پڑھنی چاہئیں داود، بن علی اصبہانی ظاہری کا مذہب ہے کہ اس عید میں تکبیروں کا کہنا واجب ہے کیونکہ اس میں صیغہ امر کا ہے ولتکبرو اللہ اور اس کے بالکل برخلاف حنفی مذہب ہے وہ کہتے ہیں کہ اس عید میں تکبیریں پڑھنا مسنون نہیں ، باقی بزرگان دین اسے مستحب بتاتے ہیں گو بعض تفصیلوں میں قدرے اختلاف ہے پھر فرمایا تاکہ تم شکر کرو یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لا کر اس کے فرائض کو ادا کر کے اس کے حرام کردہ کاموں سے بچ کر اس کی حدود کی حفاظت کر کے تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔






تفسیر الدر المنثور

قرآن کریم رمضان میں نازل ہوا(۱) ابن ابی حاتم، ابو الشیخ ، ابن عدی، بیہقی نے السنن میں اور دیلمی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے فرفوعا اور موقوفا روایت کیا ہے کہ رمضان نہ کہو اس لئے کہ رمضان اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بلکہ تم شہر رمضان کہو یعنی رمضان کا مہینہ۔
[فتح الباري لابن حجر : 4/135 / خلاصة حكم المحدث : ضعيف]

(۲) امام وکیع، ابن جریر نے مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ رمضان نہ کہو کیونکہ تو نہیں جانتا کہ رمضان کیا ہے؟ شاید یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ہو لیکن تم کہو شہر رمضان یعنی رمضان کا مہینہ جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا۔
(۳) ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں گناہوں کو جلا دیا جاتا ہے اور شوال اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں گناہوں کو اوپر اٹھا لیا جاتا ہے جیسے اونٹنی اپنی دم کو اوپر اٹھاتی ہے۔[التدوين في أخبار قزوين للرافعي » القول فيمن سوي المحمدين » باب الألف » الاسم الثاني أَحْمَد ... رقم الحديث: 614]

(٤) ابن مردویہ اور الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کا نام اس لئے ہے کہ کیونکہ اس میں گناہ جل جاتے ہیں۔ 

(۵) ابن مردویہ اور الاصبہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ! رمضان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس میں مؤمنین کے گناہوں کو جلا دیتے ہیں اور ان کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں (پھر) پوچھا گیا شوال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اس میں لوگوں کے گناہوں کو اوپر اٹھا لیتے ہیں (یعنی ختم فرما دیتے ہیں! کوئی گناہ اس میں باقی نہیں رہتا مگر یہ کہ اس کو بخش دیتے ہیں۔ 


(٦) بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے یعنی رمضان اور ذوالحجہ۔
[صحيح البخاري » كتاب الْصَوْمِ » بَاب : شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ ... رقم الحديث: 1788(1912)

رمضان المبارک پانے کی دعا
(۷) البزار ، طبرانی نے الاوسط میں بیہقی نے شعب میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب رجب (کا مہینہ) داخل ہوتا یہ دعا فرماتے: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.
ترجمہ: اے اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہم کو رمضان کا مہینہ پہنچا۔
[البحر الزخار بمسند البزار 10-13 » بَقِيَّةُ مُسْنَدِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ » زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ عَنْهُ... رقم الحديث: 2032(6496)]

(۸) مالک، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی نے طلحہ بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بکھرے ہوئے بالوں والا آیا اور کہا رسول اللہ ! مجھ کو بتائیے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے فرض کئے ہیں آپ نے فرمایا رمضان کا مہینہ (فرض ہے) مگر یہ کہ تو نفل روزے رکھ لے پھر اس نے پوچھا مجھ کو بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر زکوٰۃ فرض کی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اسلام کے احکام بتائیے اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی ہے میں کوئی نفلی عمل نہیں کروں گا اور اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر فرض فرمایا ہے اس میں کمی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ کہا یا جنت میں داخل ہوگا اگر اس نے سچ کہا۔


(۱۰) ابن ابی شیبہ، احمد، نسائی اور بیہقی نے عرفجہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ہم عتبہ بن فرقد رحمہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہم کو رمضان کے بارے میں بیان فرما رہے تھے اچانک نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی داخل ہوئے تو عتبہ بن فرقد خاموش ہوگئے اور (اس صحابی سے) فرمایا اے ابو عبید اللہ ہم کو رمضان کے بارے میں بتائیے کس طرح آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سنا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان مبارک ایسا مہینہ ہے اس میں جنت کا دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں شیاطین کو قید کر لیا جاتا ہے اور ہر رات ایک آواز لگانے والا آواز لھاتا ہے اے خیر کے متلاشی متوجہ ہو اور اے شر کے متلاشی بس کر یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا ہے۔

(۱۱) امام احمد، طبرانی، بیہقی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر افطار کے وقت اللہ تعالیٰ کے چند بندے ہیں جو دوزخ سے آزاد کئے گئے ہیں۔

روزہ کفارہ سیئات
(۱۲) مسلم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچوں نمازیں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک مٹانے والے ہیں ان گناہوں کو جو ان کے درمیان ہو جائیں جب بڑے گناہوں سے بچے۔

(۱۳) ابن حبان اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اس کی حدود کو بچانا اور حفاظت کی ان چیزوں کی جن کی حفاظت کرنی چاہئے تھی تو پہلے سب گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔

(۱٤) ابن ماجہ نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر افطار کے وقت اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ (دوزخ سے) آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات میں ایسا ہوتا ہے۔

(۱۵) ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینے کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات کو باندھ دیا جاتا ہے دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے اے خیر کے متلاشی متوجہ ہو اور اس شر کے متلاشی بس کر، اور اللہ تعالیٰ کے لئے دوزخ سے آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات کو ایسا ہوتا ہے۔

(۱٦) ابن ابی شیبہ، نسائی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا ہم تم کو خوشخبری دیتے ہیں کہ تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آچکا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرما دئیے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم ہوگیا تو وہ (پوری خیر) سے محروم ہوگیا۔

(۱۷) احمد، البزار، ابو الشیخ نے بیہقی اور الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ میں میری امت کو پانچ باتیں دی گئیں جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں۔ جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں۔ (۱) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (۲) ان کے لئے فرشتے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ افطار کر لیں۔ (۳) ہر دن اللہ تعالیٰ اپنی جنت کو سمجھاتے ہیں پھر (جنت سے) فرماتے ہیں عنقریب میرے نیک بندے جو (دنیا میں) مشقت اور تکلیف کو اٹھائیں وہ تیری طرف لوٹ آئیں۔ (٤) اس (مبارک مہینہ) میں شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ اس مہینہ میں نجات پاتے ہیں اتنے کسی اور مہینہ میں نجات نہیں پاتے۔ (۵) اور ان کے لئے آخری رات میں مغفرت کی جاتی ہے کہا گیا یا رسول اللہ ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن عمل کرنے والے کو اس کو پورا اجر دیا جاتا ہے جب وہ اپنے عمل کو پورا کر لیتا ہے۔

(۱۸) بیہقی اور الاصبہانی نے جابر بن عبدا للہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ میں میری امت کو پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بنی کو نہیں دی گئیں پہلی یہ ہے کہ جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر (رحمت) فرماتے ہیں اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرما دیتے ہیں اس کو کبھی عذاب نہیں دیا جاتا۔ دوسری چیز یہ ہے کہ منہ کی بوجب شام ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاک ہوتی ہے اور تیسری چیز یہ ہے کہ فرشتہ ہر دن اور رات میں ان کے لئے استغفار کرتے ہیں اور چوتھی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت کو حکم فرماتے ہیں کہ وہ تیار ہو جائے اور میری بندوں کے لئے مزین (یعنی خوبصورت) ہو جائے۔ عنقریب وہ دنیا کی تھکان سے آرام حاصل کرنے کے لئے میرے گھر اور میری کر امت میں آجائیں۔ اور پانچویں چیز یہ ہے کہ جب آخری رات ہوتی ہے تو ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا کیا یہ لیلۃ القدر ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں کیا تم مزدوں کی طرف دیکھتے ہو جو کام کرتے ہیں جب وہ کام سے فارغ ہوتے ہیں تو ان کو پورا پورا اجر دیا جاتا ہے۔

(۱۹) بیہقی نے شعب الایمان میں اور اصبہانی نے الترغیب میں حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے لئے رمضان کی ہررات میں چھ لاکھ (آدمی) کو جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور جب آخری رات ہوتی ہے۔ تو گزشتہ تمام راتوں کی تعداد کے برابر آزاد کئے جاتے ہیں۔

(۲۰) بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رمضان کے مہینہ کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو جنتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور سارا مہینہ کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور سارا مہینہ اس میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ اور سرکش جن کو ہتھکڑی ڈال دی جاتی ہے (یعنی باندھ دیا جاتا ہے) اور ایک پکارنے والا ہررات صبح ہونے تک پکارتا ہے اے خیر کے تلاش کرنے والو! (خیر کو) پورا کرو اور خوش ہو جاؤ اور اے شر کے تلاش کرنے والے بس کر اور آسمان کی طرف کہہ۔ آسمان سے (آواز آتی ہے) ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ ہم اس کو بخش دیں، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ ہم اس کی توبہ قبول کریں، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں، ہے کوئی سوال کرنے وال کہ ہم اس کا سوال پورا کریں۔ اور ہر افطاری کے وقت رمضان کے مہینہ کی ہر رات سے اللہ تعالیٰ ساٹھ ہزار بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں اور جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو سارے مہینے میں جتنے لوگ آزاد کئے گئے تھے اس کے برابر مزیر آزاد کئے جاتے ہیں۔ یعنی بیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار آزاد کئے جاتے ہیں۔ 

(۲۱) ابن ابی شیبہ، ابن خریمہ نے الصحیح میں بیہقی اور الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر یہ رمضان کا مہینہ پہنچ چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قسم مسلمان ہر مسلمان کے لئے اس سے بہتر مہینہ نہیں گزرا۔ اور منافقوں پر اس سے برا مہینہ نہیں گزرا رسول اللہ ﷺ کی قسم اللہ تعالیٰ اس کا اجر و ثواب اس کے داخل ہونے سے پہلے لکھ دیتا ہے۔اور (اس مال کے) داخل ہونے سے پہلے اس کا گناہ اور اس کی بدبختی لکھ دی جاتی ہے اور یہ اس وجہ سے مؤمن اس میں نفقہ تیار کرتا ہے عبادت میں قوت حاصل کرنے کے لئے اور منافق اس میں تیار کرتا ہے مؤمنین کی غیبت اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑنے کو اور یہ (مہینہ) مؤمنین کے لئے غنیمت ہے اور فاجر لوگوں پر تاوان ہے۔ 


(۲۲) العقیلی انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ابن خزیمہ نے صحیح میں بیہقی ، خطیب، الاصبہانی نے الترغیب میں سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن میں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا اے لوگو تمہارے پاس بڑا برکت والا عظمت والا مہینہ پہنچ چکا ہے یہ ایسا مہینہ ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کئے ہیں اور رات کے قیام مستحب بنایا ہے جو اس میں ایک نیکی کرے گا وہ اس طرح ہوگا جیسے اس نے باقی مہینوں میں فرض ادا کیا اور جو اس میں فرض (نماز) ادا کرے کرے گا تو اس کو اتنا ثواب ملے گا گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرض ادا کئے اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے یہ مہینہ غم خواری کا ہے اور اس مہینہ میں مؤمن کا رزق زیادہ کر دیا جاتا ہے جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرا ئے گا تو اس کے لئے گناہوں سے مغفرت ہوگی اور آگ سے چھٹکارا ہوگا اور اس کے لئے اتنا ہی اجر ہوگا جتنا روزہ دار کو ملے گا اور وہ روزہ دار کے اجر میں کمی نہ ہوگی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے ہر ایک اس چیز کو نہیں پاتا جس سے روزہ دار کو افطار کرائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس کو بھی عطا فرمائیں گے جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور ایک گھونٹ پانی سے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرا دے۔ اور جس نے روزہ دار کا پیٹ بھرد یا اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس کو اس طرح پلائیں گے جس سے کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور اس مہینہ کا اول اور درمیانی عشرہ مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ آگ سے چھٹکارا ہے اور جس نے اس مہینہ میں اپنے غلام سے ہلکا کر دیا (کام کو) تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اور آگ سے چھٹکارا ہو جائے گا اس میں چار کاموں کو کثرت سے کر و دو کان ایسے ہیں کہ ان دونوں کے ذریعے تمہارا رب راضی ہوگا اور دو کام ایسے ہیں جس سے تم بے پرواہ نہیں ہو وہ دو کام جن سے تمہارا رب راضی ہوگا وہ یہ ہیں کہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس سے استغفار کرنا اور دو کام جن سے تم بے پرواہ نہیں ہو وہ یہ ہیں کہ تم جنت کا سوال کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔






تراویح سنت ہے


(۲۳) ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر آتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے تم پر فرض کئے ہیں اور میں اس کے قیام کو سنت قرار دیتا ہوں سو جو شخص اس کا روزہ رکھے گا اور اس کا قیام کرے گا ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے تو وہ گناہوں سے ایسا نکل جائے گا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ تو اس دن اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صَلاةِ التَّرَاوِيحِ ... رقم الحديث: 7533(7779)

(۲٤) بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرض نماز (کے بعد دوسری) نماز تک جو اس سے ملی ہوئی ہے (درمیان والے گناہوں کا) کفارہی ہے۔ اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک جو اس سے ملا ہوا ہے کفارہ ہے ان (گناہوں) کا جو ان کے درمیان ہوئے۔ اور ایک مہینہ ، دوسرے ،مہینہ یعنی رمضان کا مہینہ (دوسرے) رمضان کے مہینہ تک کفارہ ہے ان (گناہوں) کا جو ان کے درمیان ہوئے مگر تین گناہ (معاف نہیں ہوتے) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا سنت طریقہ کو چھوڑ دینا۔ اور عہدکو توڑ دینا یا رسول اللہ صلی اللہ ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کو تو ہم نے سمجھ لیا (لیکن) نکث الصفۃ اور ترک السنۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نکث الصفۃ یہ ہے کہ تو ایک شخص کے داہنے ہاتھ کے ساتھ بیعت کرے پھر اس کی مخالفت کرے اور اسے اپنی تلوار کے ساتھ قتل کر دے اور ترک السنۃ یہ ہے کہ (مؤمنین کی) جماعت سے نکل جانا۔


(۲۵) ابن خزیمہ، بیہقی اور الاصبہانی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سبحان اللہ تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟ اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے؟ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! کیا وحی نازل ہوئی یا دشمن پہنچ چکا ہے؟ فرمایا نہیں لیکن رمضان کا مہینہ ہے اس کی پہلی رات میں اللہ تعالیٰ ان تمام قید والوں کو مغفرت فرماتے ہیں۔ صحابہ میں سے ایک آدمی اپنے سر کو ہلا کر کہنے لگا واہ واہ (آپ نے کیا فرما دیا؟) نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا یہ سن کر کیا تیرا سینہ تنگ ہوگیا اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ لیکن میں نے منافق کافر ہے اور کافر کے لئے اس میں سے کچھ نہیں۔

(۲٦) بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا جب رسول اللہ ﷺ کے لئے منبر تیار فرمایا تو اس کی تین سیڑھیاں تھیں جب رسول اللہ ﷺ پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو آمین آمین کہتے ہوئے سنا اور کسی کو ہم نے نہیں دیکھا آپ نے فرمایا جبرئیل علیہ السلام مجھ سے پہلے پہلی سیڑھی پر چڑھتے اور فرمایا اے محمد ﷺ میں نے کہا لبیک وسعد یک جبرئیل نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پایا (اور ان کی خدمت کرکے) اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ و برباد کرے۔ (اور مجھ سے کہا) آپ کہہ دیجئے آمین۔ میں نے کہا آمین پھر جب وہ دوسری سیڑھی پر چڑھے تو جبرئیل نے جبرئیل نے فرمایا اے محمد ﷺ میں نے کہا لبیک وسعد یک۔ پھر فرمایا جس نے رمضان کا مہینہ پایا۔ دن کو روزہ رکھا اور رات کو قیام کیا پھر مرگیا اس کی مغفرت نہ ہوئی اور دوزخ میں داخل ہوگیا اللہ تعالیٰ ا س کو بھی تباہ و برباد کرے آپ کہہ دیجئے آمین۔ میں نے کہا آمین۔ میں نے کہا آمین۔ جب جبرئیل تیسری سیڑھی پر چڑھے تو کہا اے محمد ﷺ میں نے کہا لبیک وسعد یک۔ پھر فرمایا جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا اور پھر مر جائے (اس حال میں) کہ اس کی مغفرت نہ ہوئی اور دوزخ میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی تباہ و برباد کرے۔ آپ فرما دیجئے آمین میں نے کہا آمین۔


رمضان میں گناہ بخشوانے کی کوشش
(۲۷) امام حاکم (انہوں نے اسی صحیح کہا ہے) نے سعد بن اسحاق کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منبر لے آؤ تو ہم منبر لے آئے جب آپ پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین جب دوسری پر چڑھے تو فرمایا آمین جب تیسری پر چڑھے تو فرمایا آمین جب آپ نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ سے آج ایسی چیز سنی ہے جو پہلے ہم نے نہیں سنی تھی آپ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا (ہلاکت ہو) اس شخص کے لئے جو رمضان (کا مہینہ) پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، میں نے کہا آمین۔ جب دوسری سیڑھی پر چڑھے تو انہوں نے فرمایا ہلاکت ہو اس شخص کے لئے جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا آمین۔ جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو انہوں نے فرمایا ہلاکت ہو اس شخص کے لئے جس نے اپنے بوڑھے والدین کو یا ان میں سے ایک کو پایا اور (ان کی خدمت نہ کی) انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کرایا تو میں نے کہا آمین (کہ ایسا ہی ہو)۔

(۲۸) امام ابن حبان نے حسن بن مالک حویرث رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ منبر پر پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر فرمایا میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے تھے اور فرمایا محمد جس نے رمضان (کا مہینہ) پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے میں نے کہا آمین پھر انہوں نے فرمایا جس نے اپنے والدین یا ان میں سے ایک کو پایا پھر وہ دوزخ میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ہلاک کرے میں نے کہا آمین۔ پھر فرمایا جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی تباہ وبرباد کرے میں نے کہا آمین۔

(۲۹) ابن خدیجہ اور ابن حابن نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف لائے تو فرمایا آمین آمین عرض کیا گیا یا رسول اللہ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا آمین آمین آمین آپ نے فرمایا جبرئیل علیہ السلام میر ے پاس تشریف لائے اور فرمایا جس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا اس کی بخشش نہ ہوئی اور جہنم میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ و برباد کرے آپ فرما دیجئے آمین آمین آمین۔

(۳۰) امام بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو آپ اپنی چادر مبارک کو مضبوطی سے کس لیتے پھر رمضان کے گزرنے تک بستر مبارک پر تشریف نہ لاتے یہاں تک کہ مہینہ گزر جاتا۔

(۳۱) بیہقی، اصبہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ کثرت سے نماز پڑھتے اور گڑ گڑاہٹ سے دعا مانگتے اور رمضان میں انتہائی خوف زدہ ہو جاتے۔

(۳۲) البزار، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو رسول اللہ ﷺ پر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر سائل کو عطا فرما دیتے تھے۔

(۳۳) بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا رمضان میں پہلی تہائی رات یا آخری تہائی رات کے بعد ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ ہے کوئی سائل جو سوال کرے اور اس کو عطا کیا جائے ہے کوئی استغفار کرنے والا جو استغفار کرے اور اس کو بخش دیا جائے ، ہے کوئی توبہ کرنے والا جو توبہ کرے اور اس کی توبہ قبول کی جائے۔

(۳٤) بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کو سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے مہینہ کے لئے اور حوروں کو سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے روزہ داروں کے لئے جب رمضان داخل ہوتا ہے تو جنت کہتی ہے کہ اس ماہ میں میرے لئے کچھ اپنے بندوں میں سے تجویز کر دیجئے۔ اور حور کہتی ہیں اے اللہ! اس ماہ میں اپنے بندوں میں سے میرے لئے شوہر بنا دیجئے ۔ جس نے اس ماہ میں کسی مسلمان پر بہتان نہیں لگایا اور نشہ آور چیز نہیں پی اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں اور جس شخص نے اس ماہ میں کسی مسلمان پر تہمت لگائی یا کوئی نشہ آور چیز پی لی۔ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو ایک سال کے لئے ختم فرما دیتے ہیں سو ڈرو تم رمضان کے مہینے میں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گیارہ مہینے بنائے کہ تم اس میں کھاتے ہو پیتے ہو اور لذت حاصل کرتے ہو اور اپنے لئے ایک مہینہ بنایا سو ڈرو تم رمضان کے مہینہ سے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔

(۳٦) دارقطنی نے(ا لا فر ادمیں) طبر انی، ابو نعیم نے (الحلیہ میں بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کو رمضان کے لئے مزین کیا جاتا ہے ایک سال کے شروع سے آنے والے سال تک جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جنت کے پتوں سے حور عین پر تو وہ کہتی ہے اے میرے رب ہمارے لئے اپنے بندوں میں سے شوہر بنا دیجئے کہ جس سے ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں۔


(۳۷) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ، ابن خزیمہ، ابو الشیخ نے الثواب میں، ابن مردویہ ، بیہقی الاصبہانی نے الترغیب میں أبو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک دن سنا اور رمضان کا اچانک نکلا ہوا تھا آپ نے فرمایا اگر بندے جان لیتے جو رمضان کی فضیلت بیان کیجئے؟ آپ نے فرمایا جنت کو رمضان کے لئے سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے تو جنت کے پتے آواز دینے لگتے ہیں حورعین اس کی طرف دیکھ کر کہتی ہے۔ اے میرے رب ہمارے لئے اس مہینہ میں اپنے بندوں میں سے شوہر بنا دیجئے کہ ہم ان کے ساتھ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ہمارے ساتھ آنکھیں ٹھنڈی کریں ان سے کہا جاتا ہے جو بندہ رمضان کا ایک مہینہ روزہ بھی رکھتا ہے تو اس کا نکاح حورعین سے کر دیا جاتا ہے موتی کے ایسے خیمہ میں جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی لفظ آیت ’’حور مقصورات فی الخیام‘‘ ان میں سے ہر عورت پر ستر جوڑے ہوں گے اور کوئی بھی جوڑہ دوسرے رنگ کا نہ ہوگا اور اس کو ستر قسم کی خوشبو دی گئی ہوگی اور اس میں سے ہر ایک رنگ دوسری سے مختلف نہ ہوگا اور ان میں سے ہر عورت کی خدمت کے لئے ستر ہزار خادمات اور ستر ہزار خادم ہوں گے اور ہر خادم کے پاس ایک سونے کا بڑا تھال ہوگا جس میں ایک رنگ کا کھانا ہوگا۔ دوسرے لقمہ میں وہ لذت پائے گا جو پہلے میں نہ ہوگی اور عورت کے لئے اس میں سے ستر سرخ یاقوت کے تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر بستر ہوں گے جس کا اندر حصہ موٹے ریشم کا ہوگا ہر بستر صوفے ہوں گے اور اس کے شوہر کو بھی اسی طرح سر یاقوت کا تخت دیا جائے گا موتیوں سے جڑا ہوا اس پر سونے کے دو کنگن ہوں گے یہ اس دن کا بدل ہے جس دن اس نے روزہ رکھا۔ دوسری نیکیوں کی جزاء اس کے علاوہ ہے۔

(۳۸) بیہقی اور الصبہانی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان کی پہلی روات ہوتی تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور رمضان کی آخری رات تک ان میں سے کوےء دروازہ بند نہیں کیا جاتا مؤمن بندہ جب اس میں سے کسی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر سجدہ کے بدلہ میں ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور سرخ یاقوت کا ایک گھر اس کے لئے جنت میں بنا دیتے ہیں جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اس میں ایک سونے کا محل ہوگا جو سرخ یاقوت سے جڑا ہوگا جب رمضان کے پہلے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور اس دن کی طرح رمضان کے مہینہ کے ہر دن میں (گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور اس کے لئے روزانہ ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں صبح کی نماز سے سورج غروب ہونے تک اور ہر سجدہ کے بدلہ میں جو وہ رمضان کے مہینہ میں دن یا رات میں سجدہ کرتا ہے ایک درخت ہوگا جس کے سایہ میں ایک سوار پانچ سو سال تک چلے گا۔

(۳۹) بزار اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور حرمت کے لحاظ سے عظیم ذوالحجہ کا مہینہ ہے۔

(٤۰) ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور دنوں کا سردار جمعہ ہے۔

(٤۱) بیہقی نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی اوقات کا چناؤ کیا اور ان میں فرض نمازیں مقرر فرمائیں پھر دنوں کو چنا اور ان میں سے جمعہ بنایا اور مہینوں کو چنا کا چنا پھر ان سے رمضان کا مہینہ بنایا اور راتوں کو چنا اور ان میں سے لیلۃ القدر بنائی جگہوں کو چنا اور ان میں سے مساجد بنائیں۔

(٤۲) ابو الشیخ نے الثواب میں بیہقی اور اصبہانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جنت کا تیار کیا جاتا ہے اور سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے مہینہ کے داخل ہونے کے لئے جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے جس کو مشیرہ کہا جاتا ہے۔ جس سے جنت کے پتے ہلتے ہیں اور کواڑ بجتے ہیں۔ آواز سنی جاتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز نہیں سنی ہوگی پھر موٹی آنکھوں والی حوریں کودتی ہیں یہان تک کی جنت کی بلندی میں جھانکتی ہیں اور آواز لگاتی ہیں ہے کوئی اللہ کی طرف نکاح کا پیغام دینے والا کہ اللہ تعالیٰ اس کا نکاح کر دے پھر حورعین کہتی ہیں اے جنت کے رضوان یہ کون سی رات ہے؟ وہ ان کو تلبیہ کے ساتھ جواب دیتا ہے پھر کہتا ہے یہ رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہے امت محمدیہ کے روزہ داروں پر جنت کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں اے جبرئیل! نیچے زمین پر اتر جا سرکش شیاطین کو باندھ دے اور ان کو لوہے کی بیڑیوں میں جکڑ دے پھر ان کو سمندر میں ڈال دے یہاں تک کہ میرے حبیب محمد ﷺ کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینہ کی ہر رات میں ایک آواز دینے والے کو فرماتے ہیں کہ آواز لگا کوئی ہے سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ کو قبول کروں، ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اس کی مغفرت کروں، کون مالدار بھرے ہوئے خزانوں والی ذات کو قرض دے گا جو کسی چیز سے محروم نہیں ہے جو پورا پورا بدلہ دینے والا ہے ذرہ برابر بھی کمی کرنے والا نہیں ہے۔ پھر فرمایا اور اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینہ میں ہر دن افطار کے وقت دس لاکھ ایسے لوگ کو آزاد فرماتے ہیں جن پر دوزخ واجب ہو چکی تھی۔ جب رمضان کا مہینہ کا آخری دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دن میں اتنی مقدار میں لوگوں کو آزاد فرماتے ہیں جتنی شروع مہینے سے آخری دن تک آزاد فرمایا تھا۔


لیلۃ القدر میں فرشتوں کی جماعت کا نزول
جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرماتے ہیں تو وہ فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور ان کے ساتھ سبز جھنڈا ہوتا ہے اس جھنڈا کو کعبہ کی پشت پر لگایا جاتا ہے اور ان کے چھ سوپر ہوتے ہیں ان میں سے دو پروں کو اس رات میں کھولتے ہیں جب ان کو اس رات میں کھولتے ہیں تو وہ مشرق سے مغرب تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام اس رات میں فرشتوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ہر اس شخص کو سلام کریں جو کھڑا ہے، بیٹھا ہے، نماز پڑھ رہا ہے یا ذکر کر رہا ہے وہ فرشتے ان سے مصافحہ کرتے ہیں اور ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ جب فجر طلوع ہو جاتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں: اے فرشتوں کی جماعت کوچ کوچ (یعنی زمین سے اب کوچ کر جاؤ) تو وہ کہتے ہیں کہ احمد ﷺ کی امت کے مؤمنین کی ضروریات کا اللہ تعالیٰ نے کیا کیا؟ جبرئیل علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات میں ان کی طرف دیکھا ہے۔ اور ان کو معاف کر دیا ہے اور ان کی مغفرت فرما دی مگر چار آدمیوں کی مغفرت نہیں ہوتی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو شراب کا عادی ہو، والدین کی نافرمانی کرنے والا قطع رحمی کرنے والا، مشاحن ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ مشاحن کیا ہے؟ آپ نے فرمایا قطع تعلق کرنے والا جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس رات کو بدلہ دینے کی رات کہا جاتا ہے۔ جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہر شہر میں فرشتوں کو بھیجتے ہیں وہ زمین کی طرف اترتے ہیں اور ہر گلی کے شروع میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں آواز کے ساتھ جس کو اللہ کی ساری مخلوق سوائے انسان اور جنات کے سنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کی امت رب کریم کی طرف نکلو بہت بڑا (اجر) دے گا اور بڑے بڑے گناہ معاف کر دے گا۔ جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام (پورا) کرے؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے معبود! ہمارے سرداران کا بدلہ یہ ہے کہ ان کوپورا پورا بدلہ دیا جائے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! رم گواہ ہو جاؤ میں رمضان کے مہینہ کے روزے اور اس کے قیام کے ثواب کو اپنی رضا مندی اور ان کی مغفرت بنا دیا ہے۔ اور فرماتے ہیں اے میرے بندو! مجھ سے سوال کرو میری عزت اور جلال کی قسم تمہارے اس مجمع میں آج کے دن مجھ سے تم اپنی آخرت کے لئے کچھ بھی مانگو گے میں تم کو عطا کروں گا۔ اور اپنی دنیا کے لئے مانگو گے تو تمہاری طرف دیکھوں گا۔ میری عزت کی قسم میں تمہاری لغزشوں کو چھپا دوں گا۔ جب تک تم مجھے دیکھتے رہو گے اور میری عزت کی قسم! میں تم کو حد نافذ کرنے والوں کے سامنے رسوا نہیں کروں گا اب بخشے بخشائے لوٹ جاؤ تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے راضی ہوں پس فرشتے خوش ہو جاتے ہیں اور اس امت کو جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے رمضان کے مہینہ میں افطاری کے وقت اس کی وجہ سے استغفار کرتے ہیں

(٤۳) بیہقی نے شعب الایمان میں کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے اپنے بندوں پر رمضان کے مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اے موسیٰ جو شخص قیامت کے دن آئے گا اور اس کے اعمال نامہ میں دس رمضان ہوں گے تو وہ ابدال میں سے ہوگا اور جو شخص قیامت کے دن آئے گا اور اس کے اعمال نامہ میں بیس رمضان ہوں گے تو وہ مخبتین میں سے ہوگااور جو شخص قیامت کے دن آئے گا اور اس کے اعمال نامہ میں تیس رمضان ہوں گے تو وہ میرے نزدیک ثواب کے لحاظ سے افضل الشہداء میں سے ہوگا۔ اے موسیٰ میں عرش اٹھانے والے (فرشتوں) کو حکم دیتا ہوں کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہو جائے تو عبادت سے رک جاؤ اور جو کوئی رمضان کے روزے رکھنے والا دعا کرے تو تم آمین کہو اور میں نے اپنی ذات پر یہ واجب کر لیا ہے کہ رمضان کے روزہ رکھنے والوں کی دعا کو رد نہ کروں۔


روزے دار کے حق میں مخلوقات کا استغفاراے موسیٰ میں نے رمضان میں آسمانوں زمین پہاڑوں جانوروں اور حشرات الارض کو الہام کرتا ہوں کہ رمضان کے روزہ رکھنے والوں کے لئے استغفار کریں اے موسیٰ! تین آدمیوں کو تلاش کرو جو رمضان کے روزے رکھنے والے ہوں ان کے ساتھ نماز پڑھو اور ان کے ساتھ کھاؤ اور پیو بلاشبہ میں زمین کے اس ٹکڑے پر عذاب نازل نہیں کرتا جس میں تین آدمی روزہ رکھنے والے ہوں گے اے موسیٰ اگر تو سفر کر رہا ہو تو آگے اور اگر تو مریض ہوتو ان کو حکم کر کہ وہ تجھ کو اٹھا کر لء جائیں اور کہہ دو عورتوں سے اور حیض والیوں کو اور چھوٹے بچوں سے کہ وہ تیرے لئے ظاہر نہ ہوں۔ جہاں رمضان کے روزے رکھنے والے روزہ کے وقت ظاہر ہوتے ہیں اگر میں اپنے آسمانوں اور اپنی زمین کو اجازت دوں تو روزے داروں کو سلام کریں اور ان سے کلام کریں اور ان کو خوشخبری دیں اس چیز کی جو میں ان کو انعام دینے والا ہوں میں اپنے ان بندوں سے کہتا ہوں جنہوں نے رمضان کے روزے رکھے کہ واپس لوٹ جائیں اپنی سواریوں کی طرف کیا تم مجھ سے اس بات پر راضی نہیں ہوکہ میں نے تمہارے روزوں کے ثواب کے بدلہ میں تم کو جہنم سے آزاد کر دیا ہے اور میں تمہارا بہت آسان حساب لوں گا اور میں تمہاری لغزشوں کو معاف کر دوں گا اور میں تم کو خرچ کرنے کا بدلہ دے دوں گا اور میں کسی کے سامنے تم کو رسوا نہ کروں گا۔ میری عزت کی قسم رمضان کے روزہ کے بعد اور اس جگہ ٹھہرنے کے بعد آخرت کے متعلق مجھ سے جو سوال کروگے میں تم کو عطا کروں گا اور جو تم مجھ سے دنیا کے کسی کام کے بارے میں سوال کرو گے تو میں تم کو دیکھوں گا۔

(٤٤) طبرانی نے الاوسط میں بیہقی اور الاصبہانی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ذکر کرنے والا رمضان میں بخشا ہوا ہے اور اس (رمضان) میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔

(٤۵) بخاری، مسلم ، ترمذی نے شمائل میں نسائی اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی سخاوت میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوتے تھے جب آپ جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات فرماتے تھے اور رمضان کی ہر رات میں جبرئیل سے ملاقات ہوتی تھی یہاں تک کہ رمضان ختم ہو جاتا تھا یا وہ نبی اکرم ﷺ پر قرآن کا دور کرتے تھے جب جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملاقات فرماتے تو رسول اللہ ﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے۔
[صحيح البخاري » بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ ... رقم الحديث: 5(6) صحيح البخاري » كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ » بَاب ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ... رقم الحديث: 2999(3220)، صحيح البخاري » كِتَاب الْمَنَاقِبِ » بَاب صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... رقم الحديث: 3312(3554)


لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے افضل ہے


(٤٦) ابن ماجہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رمضان (کا مہینہ) داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ مہینہ تمہارے پاس حاضر ہوا ہے اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے جو اس سے محروم ہوگیا تو (گویا) وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہوگیا اور اس کی خیر سے محروم نہیں ہوتا مگر (جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے) محروم کیا گیا۔ 


(٤۷) البزار نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے رمضان کے ہر دن اور ہر رات میں لوگ آزاد کئے جاتے ہیں اور ہر رات اور دن میں ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔


(٤۸) الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف (رحمت کی نگاہ سے) دیکھتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بنرے کی طرف (رحمت کی نگاہ سے) دیکھتے ہیں تو اس کو کبھی بھی عذاب نہیں دیتے اور ہر دن اللہ کے لئے دس لاک بندے جہنم سے آزاد شدہ ہوتے ہیں اور جب انتیس کی رات ہوتی ہے جو پورے ماہ میں جتنے لوگ آزاد کئے گئے تھے ان کے برابر ضرور (مزید) لوگوں کو آزاد فرماتے ہیں اور جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو فرشتے ڈرے ہوئے ہوتے ہیں اور جبار (یعنی اللہ تعالیٰ) اپنے نور کے ساتھ تجلی فرماتے ہیں ایسے نور کے ساتھ جس کی صفت بیان کرنے والے اس کی صفت کو بیان نہیں کر سکتے اور اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں جبکہ لوگ کل عید منائیں گے اے فرشتوں کی جماعت کا کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جب وہ اپنا کام پورا کر لے تو فرشتے عرض کرتے ہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم گواہ ہو جاؤ میں نے ان کی مغفرت فرما دی۔ 


(٤۹) طبرانی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن فرمایا جب رمضان کا مہینہ آچکا تھا (فرمایا) تمہارے پاس ایسا برکت والا مہینہ آچکا ہے جس میں اللہ تعالیٰ (اپنی رحمت سے) تم کو ڈھانپ لیں گے رحمت کو نازل فرمائیں گے ، گناہوں کو معاف فرمائیں گے اور اس میں دعاؤں کو قبول فرمائیں گے اللہ تعالیٰ تمہارے نیکیوں کے مقابلے کو دیکھے گا اور اپنے فرشتوں پر تمہارے ذریعے فخر فرمائیں گے سو تم اللہ تعالیٰ کو اپنی نیکیاں دکھاؤ بلاشبہ بدبخت وہ ہے جو اس (مبارک مہینہ) میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہے۔


(۵۰) ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے الاوسط میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا یہ رمضان تمہارے پاس آچکا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس نے رمضان کو پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی جب رمضان میں اس کی مغفرت نہ ہوئی تو پھر کب ہوگی۔ 


(۵۱) ابو الشیخ نے الشواب میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کا مہینہ میری امت کا مہینہ ہے ان میں مریض ہوتا ہے تو وہ اس کی بیمار پرسی کرتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان روزہ رکھتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا غیبت نہیں کرتا اور اس کا افطار کرنا پسندیدہ ہے اور وہ اپنے فرائض کی حفاظت کے لئے عشاء کی نمازوں کی طرف کوشش کرتا ہے۔ تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے (یعنی گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے) جیسے سانپ اپنی جھلی سے نکل جاتا ہے۔


(۵۲) ابن مردویہ اور اصبہانی نے ترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ رکھا اور تین چیزوں سے محفوظ رہا تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس میں تین چیزیں کیا ہیں جو اس میں برابر ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس میں تین چیزیں یہ ہیں اس کی زبان ، اس کا پیٹ اور اس کی شرم گاہ یہ تینوں چیزیں اس میں برابر ہیں۔


(۵۳) الاصبہانی نے زہرہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ رمضان کا مہینہ ایک تسبیح دوسرے مہینوں میں ہزار تسبیح (یعنی سبحان اللہ کہنا) سے افضل ہے۔ 


(۵٤) الاصبہانی نے معلیٰ بن فضل رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (ایسے) لوگ (بھی تھے جو) چھ ماہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ رمضان کا مہینہ ان تک پہنچے۔ اور چھ ماہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ یہ ان سے قبول فرمائے۔ 


(۵۵) الاصبہانی نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا رمضان کے مہینے میں جمعہ کی فضیلت سارے دنوں پر ایسی ہے جیسے رمضان کی فضیلت سارے مہینوں پر۔ 


(۵٦) الاصبہانی نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ رمضان کا ایک دن کا روزہ ہزار دنوں سے افضل ہے اور رمضان میں ایک تسبیح ہزار تسبیحوں سے افضل ہے اور ایک رکعت رمضان میں ہزار رکعتوں سے افضل ہے۔


(۵۷) الاصبہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان سلامتی سے گزر جائے تو پورا سال سلامت ہوتا ہے اور جب عجمہ سلامت ہوتو سارے دن سلامت ہوتے ہیں۔ 


(۵۸) الاصبہانی نے اوزاعی کے طریق سے مکحول قاسم بن مخیمرہ اور عبدہ بن ابی لبابہ رحمہم اللہ سے روایت کیا ہے کہ ہم نے ابو لبابہ باہلی ، واثلہ بن اسقع اور عبد اللہ بن بشیر ؓ سے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جنت ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے مہینہ کے لئے سجائی جاتی ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنی جان اور اپنے دین کو محفوظ کر لیا رمضان کے مہینے میں تو اللہ تعالیٰ حورعین سے اس کا نکاح فرما دیں گے اور اس کو جنت کے محلوں میں سے ایک محل عطا فرما دیں گے اور جس نے برا کام کیا یا کسی مؤمن پر بہتان باندھا رمضان کے مہینہ میں نشہ لانے والی چیز پی لی تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے (نیک) اعمال ختم فرما دیں گے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ میں ڈرو اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گیارہ مہینے بنا دئیے ہیں جس میں تم سیر شکم ہوکر کھاؤ اور پیو اور رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اس میں (گناہوں سے بچنے) کی اپنی حفاظت کرو۔ 


(۵۹) الاصبہانی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت ہرگز کبھی مصیبت میں مبتلا نہ ہوگی جب تک رمضان کے مہینہ کو قائم رکھیں گے ایک انصاری صحابی نے عرض کیا ان کے رمضان کے مہینہ کو ضائع کر دینے سے ان کی مصیبت پڑے گی آپ نے فرمایا حرام کاموں کا ارتکاب کرنا جس نے برا کوم کیا یا زنا کیا یا چوری کی تو اس سے رمضان کے مہینہ کے روزے قبول نہیں کئے جائیں گے اور رب تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اسی طرح ایک سال تک لعنت برستی رہے گی اور اگر وہ (دوسرا) رمضان آنے سے پہلے مر جائے تو چاہئے کہ اس کو جہنم کی خوشخبری دے دو۔ رمضان کے مہینے میں ڈرو اس میں نیکیوں (کا ثواب) کئی گناہ ہو جاتا ہے اور اسی طرح برائیاں بھی کئی گناہ ہو جاتی ہیں۔ 


(٦۰) الاصبہانی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رمضان کی جب پہلی رات تھی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا اے لوگوں اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن سے تمہاری جنت سے کفایت فرمائی ہے اور تم سے دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جیسے فرمایا لفظ آیت ’’ادعونی استجب لکم‘‘ (یعنی مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا) خبردار اللہ تعالیٰ نے ہر سرکش شیطان پر سات فرشتے مسلط کئے ہیں رمضان کے ختم ہونے تک وہ ان کو نہیں چھوڑیں گے خبردار! آسمان کے روازے پہلی رات سے آخری رات تک کھول دئیے جاتے ہیں خبردار دعا اس میں قبول کی جاتی ہے۔ جب پہلے عشرہ کی پہلی رات ہوتی تھی تو رسول اللہ ﷺ عبادت کے لئے کمر بستہ ہو جاتے آپ اپنے گھر سے باہر تشریف لے آتے اور راتوں میں اعتکاف بیٹھتے اور راتوں کو اللہ کی عبادت کرتے کہا گیا ’’شد المئذر‘‘ سے کیا مراد ہے تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ اپنی عورتوں سے جدا ہو جاتے تھے۔ 


(٦۱) بیہقی نے شعب الایمان میں اسحاق بن ابی اسحاق سے روایت کیا ہے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب ؓ سے فرمایا تم اپنے اعمال میں رمضان کو کیسا پاتے ہوتو انہوں نے فرمایا ہم اس کو گناہوں سے اتارنے والا پاتے ہیں۔ 


(٦۲) امام احمد البزار بن خریمہ، ابن حبان، ابن مردویہ اور بیہقی نے عمرو بن مرہ جہنی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی قضاء قبیلہ کا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا آپ مجھ کو بتائیے اگر میں لا الہ الا اللہ اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دوں اور پانچوں نمازیں پڑھوں رمضان کے روزے رکھوں اور اس کا قیام کروں اور زکوٰۃ ادا کروں تو میں کن کے ساتھ ہوں گا آپ ﷺ نے فرمایا جس کی موت ان (کاموں) پر آئے تو وہ قیامت کے دن انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا اور آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو کھڑا فرمایا جب تک کہ والدین کی نافرمانی نہ کرے۔






رمضان المبارک میں نیکیوں کی طرف سبقت کرنا


(٦۳) بیہقی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ جب رمضان (کا مہینہ)آتا تو آپ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ کہتے تھے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض فرمائے ہیں لیکن اس کے قیام کو فرض نہیں فرمایا تاکہ آدمی ایسا کہتے ہوئے ڈرے کہ جب فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھو گا اور جب فلاں افطار کرے گا تو میں بھی افطار کروں گا کبردار بلاشبہ روزہ کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ جھوٹ سے باطل سے اور لگو باتوں سے بھی روزہ ہونا چاہئے۔ خبردار اس مہینہ سے آگے نہ بڑھو جب تم پہلی کا چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب تم (شوال کا چاند) دیکھو تو روزہ چھوڑ دو جب بادل ہو جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کر لو۔


وأما قولہ تعالیٰ: ’’الذی انزل فیہ القران‘‘


(٦٤) امام احمد، ابن جریر، محمد بن نصر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی نے شعب الایمان میں اصبہانی نے الترغیب میں واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں اتارے گئے تو رات رمضان کے چھ (دن) گزرنے پر اتاری گئی۔ اور انجیل رمضان کے تیرہ (دن) گزرنے پر اتاری گئی۔ اور زبور رمضان کے اٹھارہ دن گزرنے پر اتاری گئی۔ اور قرآن مجید چوبیس دن گزرنے پر اتارا گیا۔ 


تمام کتب سماویہ رمضان میں نازل کئے گئے


(٦۵) ابو یعلی ، ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں اتارے گئے اور موسیٰ علیہ السلام پر تورات رمضان کے چھ راتیں گزرنے پر اتاری گئیں اور داؤد علیہ السلام پر زبور بارہ (راتیں) گزرنے پر اتاری گئی اور عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل رمضان کے اٹھارہ راتیں گزرنے پر اتاری گئی۔ اور محمد ﷺ پر فرقان (یعنی قرآن) رمضان کے چوبیس راتیں گزارنے پر اتارا گیا۔ 


(٦٦) ابن الضریس نے ابو الجعد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں اتارے گئے اور انجیل رمضان کے اٹھارہ راتیں گزرنے پر اتاری گئی اور قرآن رمضان کے چوبیس راتیں گزرنے پر اتارہ گیا اور ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مجھے تورات کے بدلہ میں سبع طوال (یعنی سات لمبی سورتیں) دی گئیں اور انجیل کے بدلہ میں مجھے مئین (وہ سورتیں جن میں تقریبا سو آیتیں ہیں) دی گئی۔ اور زبور کے بدلہ میں مجھے المثانی دی گئی اور مجھے فضیلت دی گئی مفصل سورتوں کے ساتھ۔


(٦۷) محمد بن نصر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ پہلے صحیفے اتارے گئے رمضان کے پہلے دن اور تورات رمضان کے چھٹے دن میں اتاری گئی اور انجیل رمضان کے بارھویں دن میں اتاری گئی اور زبور رمضان کے اٹھارویں دن میں اتاری گئی اور قرآن مجید رمضان کے چوبیسویں دن میں اتارا گیا۔ 


(٦۸) ابن جریر، محمد بن نصر نے کتاب الصلوٰۃ میں ابن ابی حاتم ، طبرانی، ابن مردویہ بیہقی نے الاسماء والصفات میں مقسم رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے عطیہ بن اسود نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ’’شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن‘‘ اور ’’انا انزلنا فی لیلۃ القدر‘‘ اور ’’انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ‘‘ کے بارے میں میرے دل میں شک ہوگیا ہے حالانکہ (قرآن) تو شوال، ذی القعد، ذی الحجہ، محرم اور ربیع الاول میں (بھی اتارا گیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رمضان اور لیلۃ المبارکہ میں ایک دفعہ اکٹھا ہی اتارا گیا پھر اس کے بعد مختلف مہینوں میں اور مختلف دنوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا گیا۔ 


(٦۹) الفریابی، ابن جریر، محمد بن نصر، طبرانی، ابن مردویہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بیہقی اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن اکٹھا اتارا گیا اور (دوسرے) لفظ میں قرآن لوح محفوظ سے چوبیس رمضان کو اتارا گیا پھر آسمان دنیا کے بیت العزۃ میں رکھا گیا (اس کے بعد) جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ پر تھوڑا تھوڑا کرکے اتارتے رہے اور ترتیل سے پڑھتے رہے۔


(۷۰) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شھر رمضان لیلۃ المبارکۃ اور لیلۃ القدر تین چیزوں کا ذکر ہے ہے کہ لیلۃ القدر وہی لیلۃ المبارکہ ہے اور وہ رمضان میں ہے قرآن ایک مرتبہ اکٹھا لوح محفوظ سے بیت المعمور کی طرف نازل کیا گیا اور وہ ستاروں کے دوسری جگہ سے آسمان دنیا میں جہاں قرآن رکھا گیا پھر محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔ اس کے بعد امر اور نہی کی صورت میں اور جنگوں کے حکم کی صورت میں تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا۔ 


(۷۱) ابن الضریس ، نسائی، محمد بن نصر، طبرانی، حاکم انہوں نے اسے صحیح کہا ہے، ابن مردویہ اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن ایک دفعہ اکٹھا رمضان کی لیلۃ القدر میں آسمان دنیا کی طرف نازل کیا گیا جب اللہ تعالیٰ زمین میں کسی کام کا ارادہ فرماتے تھے تو اس کے متعلق قرآن کو نازل فرماتے یہاں تک کہ سارے قرآن کو جمع فرما دیا۔ 


(۷۲) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قرآن مجید ایک دفعہ اکٹھا لیلۃ القدر میں جبرئیل علیہ السلام پر نازل ہوا پھر وہ اس کو لے کر اترتے تھے جس کے لانے کا ان کو حکم دیا جاتا تھا۔


(۷۳) ابن الضریس نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ قرآن مجید ایک مرتبہ اکھٹا رمضان کے مہینہ میں لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا (اور) بیت العزہ میں رکھا گیا پھر نبی اکرم ﷺ پر لوگوں کی باتوں کے جواب میں بیس سال میں اتارا گیا۔


(۷٤) ابو یعلی، ابن عساکر نے حضرت حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ جب (ان کے والد) حضرت علی ؓ شہید کئے گئے تو آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم تم نے ایسے شخص کو ایسی رات میں قتل کیا جس میں قرآن نازل ہوا اور اس رات میں عیسیٰ علیہ السلام (آسمان کی طرف) اٹھا لئے گئے اور اسی رات میں یوشع بن نون قتل کئے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی


(۷۵) ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابن جریج رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس رمضان کے مہینہ میں قرآن نازل ہوتا تھا یہاں تک کہ وحی (آنا) بند ہوگئی اور محمد ﷺ کی وفات ہوگئی قرآن مجید میں سے ہر چیز لیلۃ القدر میں نازل ہوتی تھی (اور) اس سال میں نازل ہوئی تھی۔ پھر ساتویں آسمان پر آسمان دنیا میں جبرئیل علیہ السلام پر نازل ہوئے (اور) جبرئیل محمد ﷺ پر وحی لے کر آئے تھے جس کا اس کے رب نے حکم دیا ہوتا۔ 


(۷٦) عبد بن حمید، ابن الضریس نے داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عامر بن شعبی رحمہ اللہ علیہ سے پوچھا رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔ کیا آپ پر سارے سال میں قرآن نازل ہوتا تھا یا صرف رمضان میں؟ انہوں نے فرمایا ہاں (سارے سال میں نازل ہوتا تھا) لیکن جبرئیل علیہ السلام محمد ﷺ پر رمضان میں پیش کرتے تھے جو پورے سال میں نازل ہوتا تھا پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتے تھے اس کا حکم فرما دیتے تھے اور جس کو چاہتے تھے اس کو ثابت رکھتے۔ جس کو چاہتے تھے اس کو منسوخ کر دیتے تھے اور جس کو چاہتے تھے اس کو بھلا دیتے تھے۔ 


(۷۷) ابن ابی حاتم نے ضحاک رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن‘‘ سے مراد ہے کہ رمضان کے ہر روزے کو قرآن میں نازل کیا گیا۔ 


وأما قولہ تعالی: ’’ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان‘‘


(۷۸) ابن المنذر نے ابن جریج رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’ھدی للناس‘‘ سے مراد ہے کہ اس سے (لوگ) ہدایت پاتے ہیں اور لفظ آیت ’’وبینت من الھدی‘‘ سے مراد ہے کہ اس میں حلال و حرام اور حدود کے بارے میں احکام ہیں۔ 


(۷۹) ابن جریر نے سدی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’وبینت من الھدی والفرقان‘‘ سے مراد ہے کہ (اس قرآن میں) حلال و حرام کی کھلی ہوئی دلیلیں ہیں۔


وأما قولہ تعالی: ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘:


(۸۰) ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رمضان کے مہینہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا جاتا تھا جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو چھوڑ دیا گیا۔


(بقیہ حاشیہ آیت نمبر 192 پر ملاحظہ کریں)


(آیت نمبر185 کا بقیہ حاشیہ)


(۸۱) ابن ابی شیبہ، مسلم نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور اس پر ہم کو آمادہ فرماتے تھے اور آپ اپنی طرف سے اس کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ جب رمضان فرض کیا گیا پھر ہم کو نہ تو (عاشورہ کے روزہ کا) حکم دیا گیا اور نہ ہم کو منع کیا گیا اور نہ ہم کو اس کی ترغیب دی۔ 


(۸۲) عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘ سے مراد ہے کہ جو گھر میں ٹھہرا ہوا ہو۔ 


(۸۳) عبد بن حمید نے مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘ سے مراد ہے کہ جو شخص شہر میں مقیم ہوتا ہے سفر کی حالت میں اس کو چاہئے کہ روزے رکھے۔ 


(۸٤) عبد بن حمید نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو مقیم ہے۔


(۸۵) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان کو اس حال میں پایا کہ وہ مقیم تھا پھر اس نے سفر اختیار کر لیا تو اس پر روزے لازم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘۔


(۸٦) سعید بن منصور نے حضرت ابن عمر ؓ سے لفظ آیت ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘کے بارے میں روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان (کے مہینہ) کو اپنے اہل و عیال میں پایا پھر اس نے سفر کا ارادہ کیا تو اس کو چاہئے کہ روزے رکھے۔


(۸۷) دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان کے مہینہ کا ایک دن کا روزہ نہ رکھے اپنے گھر پر موجود ہوتے ہوئے اس کو چاہئے کہ ایک اونٹ کی قربانی کرے اگر اس کو نہ پائے تو اس کو چاہئے کہ تیس صاع کھجوروں کے مسکینوں کو کھلائے۔


وأما قولہ تعالیٰ: ’’ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر‘‘:


(۸۸) ابن جریر نے حسن اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ جب مریض کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے تو وہ روزے نہ رکھے۔ 


(۸۹) ابن ابی شیبہ نے عطا رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ رکھنا نماز کی طرح سے ہے جب روزہ نہ رکھا جائے تو قصر کرے۔ اور روزہ رکھے تو پوری نماز پڑھے۔ (پوری نماز پڑھے تو روزہ بھی رکھے)


(۹۰) سفیان بن عینیہ، ابن سعد، عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن جریر اور بیہقی سنن میں انس بن مالک قشیری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز ساقط کر دی ہے اور حمل والی عورت اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی روزہ ساقط کر دیا ہے۔ 


(۹۱) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا (اس میں) آسانی بھی ہے اور تنگی بھی ہے تو اللہ کی طرف سے آسانی کو لے لو۔ 


(۹۲) امام مالک، شافعی، عبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حمزہ سلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔


(۹۳) دار قطنی نے حمزہ بن عمرو ا سلمی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں کیا مجھ کو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔


(۹٤) امام احمد نے عبد بن حمید اور مسلم رحمہ اللہ علیہ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں نقل کیا ہے کہ اگر تو روزہ رکھنا چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھ۔


(۹۵) عبد بن حمید، دار قطنی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہر کام کیا آپ نے (سفر میں) روزہ بھی رکھا اور نہ بھی رکھا اور آپ نے سفر میں نماز پوری پڑھی اور قصر بھی کی۔ 


(۹٦) خطیب نے کتاب التلخیص میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں رخصت کی آیت نازل ہونے کے بعد بھی نبی اکرم ﷺ نے روزہ رکھا۔


(۹۷) عبد بن حمید نے ابو عیاض ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے رمضان میں سفر فرمایا تو لوگوں میں یہ آواز لگائی کہ جو شخص چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ابو عیاض ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیسے کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ نے روزہ رکھا تھا اور آپ اس بات کے زیادہ حق دار تھے۔ 


(۹۸) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والے کسی پر میں عیب نہیں لگاتا۔ 






سفر کے دوران روزے رکھنا


(۹۹) عبد بن حمید نے سعید بن مسیب اور عامر رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ دونوں حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رمضان میں سفر کرتے تھے اور روزہ رکھنے والے روزہ رکھتے تھے اور نہ رکھنے والے بھی ہوتے تھے روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے پر اور روزہ رکھنے والے روزہ نہ رکھنے والوں پر عیب نہیں لگاتے تھے۔ 


(۱۰۰) امام مالک ، شافعی، عبد بن حمید، بکاری، ابو داؤد نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کیا ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا (لیکن) روزہ رکھنے والے نے روزہ نہ رکھنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ رکھنے والے پر عیب نہیں لگایا۔ 


(۱۰۱) امام مسلم، ترمذی، نسائی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رمضان کے مہینہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا ہم میں سے روزہ رکھنے والا بھی تھا اور نہ رکھنے والا بھی تھا روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ رکھنے والے پر اور روزہ رکھنے والے نے روزہ نہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کیا (یعنی کسی نے کسی کو برا نہیں کہا) اور وہ جانتے تھے کہ جس نے طاقت پائی روزہ رکھ لیا یہ بھی اچھا ہے اور جس نے کمزوری پائی اس نے نہ رکھا یہ بھی اچھا ہے۔ 


(۱۰۲) ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔ 


(۱۰۳) ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، نسائی، ابن ماجہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) نے کعب بن عاصم اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی سے نہیں ہے۔ 


(۱۰٤) عبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھوں میرے نزدیک زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں روزہ رکھ لوں۔ 

(۱۰۵) عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر صدقہ فرمایا ہے۔

(۱۰٦) عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ رخصت آسمان سے نازل ہوئی ہے اگر تم چاہو تو اس کو واپس کردو۔ 

(۱۰۷) عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان میں سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر تو صدقہ کر لے اور وہ واپس کر دیا جائے تو تجھ کو غصہ نہیں آئے گا ، (اس طرح) یہ بھی صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر صدقہ کیا ہے۔ 

(۱۰۸) نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا حضر میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔

(۱۰۹) ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سفر میں روزہ رکھنے والا سفر میں روزہ نہ رکھنے والے کی طرح ہے۔

(۱۱۰) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا سفر میں روزہ نہ رکھنا ضروری ہے۔

(۱۱۱) عبد بن حمید نے محرز بن ابی ہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سفر میں روزہ رکھا جب وہ واپس آئے تو ابوہریرہ ؓ نے روزہ قضا کرنے کا حکم فرمایا۔ 

(۱۱۲) عبد بن حمید نے عبد اللہ عامر بن ربیعہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے نہیں اس شخص کو جس نے سفر میں روزہ رکھا تھا حکم فرمایا کہ وہ روزہ کو لوٹالے (یعنی دوبارہ رکھ لے)۔

(۱۱۳) وکیع، عبد بن حمید نے عامر بن عبد العزیز رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر تجھ پر آسانی ہوتو روزہ رکھ لو اور ایک روایت میں ہے اگر آسانی ہو (اور تکلیف نہ ہو) تو روزہ رکھ لو اور اگر مشکل ہوتو روزہ نہ رکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ’’یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر‘‘۔ 


سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے
(۱۱٤) عبد بن حمید، نسائی، ابن جریر نے خیثمہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا روزہ رکھ لے میں نے کہا اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ لفظ آیت ’’فعدۃ من ایام اخر‘‘ (یعنی دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرو) تو انہوں نے جواب دیا یہ آیت ان دنوں نازل ہوئی جب ہم بھوکے سفر کرتے تھے اور سواریوں سے بھوکے ہی اترتے تھے اور آج ہم سیر ہو کر سفر کرتے ہیں اور پیٹ بھر کر (سواریوں سے) اترتے ہیں۔ 

(۱۱۵) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص روزہ نہ رکھے یہ رخصت ہے اور جو روزہ رکھ لے یہ افضل ہے۔

(۱۱٦) عبد بن حمید نے ابراہیم سعید بن جبیر اور مجاہد سے روایت کیا کہ یہ تینوں حضرات سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو اور گار چاہو تو روزہ رکھ لو اور روزہ رکھنا افضل ہے۔

(۱۱۷) عبد بن حمید نے العوام کے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں روزہ رکھتے بھی تھے اور نہ بھی رکھتے تھے اور آپ کے اصحاب کو دیکھا گیا کہ وہ روزہ رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے تم لوگ کھاؤ میں (اس حال میں) ہوتا ہوں کہ میرا رب مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے (راوی) عوام نے کہا کہ میں نے مجاہد سے پوچھا اس بارے میں تیری کیا رائے؟ تو انہوں نے فرمایا رمضان میں روزہ رکھنا افضل ہے غیر رمضان میں روزہ رکھنے سے۔ 

(۱۱۸) عبد بن حمید نے ابو البختری کے طریق سے روایت کیا ہے کہ عبیدہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ایک آدمی نے سفر کیا جبکہ اس نے رمضان کے پہلے روزے رکھے تھے تو اس کو چاہئے کہ باقی دنوں میں بھی روزے رکھ لے پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ’’فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ‘‘ اور بتایا کہ ابن عباس ؓ فرماتے تھے جو شخص چاہے روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے نہ رکھے۔

(۱۱۹) عبد بن حمید نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ہے کہ میں نے عبیدہ رحمہ اللہ علیہ سے پوچھا کیا میں رمضان میں سفر کروں؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔


سفر میں رمضان کے روزے رکھنا افضل ہے

(۱۲۰) عبد بن حمید نے ابراہیم رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ جب آدمی رمضان کو پالے تو سفر پر نہ نکلے۔ اگر وہ نکلے اور وہ رمضان کے پہلے روزے رکھ چکا ہے تو اس کو چاہئے کہ سفر میں بھی روزے رکھے کیونکہ رمضان میں اس کی قضا کرنا میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے غیر رمضان میں قضا کرنے سے۔ 

(۱۲۱) عبد بن حمید نے ابو مجلز رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ جب رمضان آجائے تو کوئی آدمی ہرگز سفر نہ کرے اگر وہ انکار کرے اس بات سے کہ وہ سفر کرے گا تو اس کو چاہئے کہ روزہ رکھے۔

(۱۲۲) عبد بن حمید نے عبد الرحمن بن قاسم رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ابراہیم بن محمد رحمہ اللہ علیہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور یہ رمضان کا مہینہ تھا حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ عرض کیا عمرہ کا تو انہوں نے فرمایا تو بیٹھا رہا یہاں تک کہ یہ مہینہ داخل ہوگیا (یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے) لہٰذا اب سفر نہ کر عرض کیا میرے ساتھی اور میرے اہل و عیال (سفر میں) نکل چکے ہیں تو انہوں نے فرمایا اور اگر ہوکے تو ان کو واپس بلالو پھر ٹھہرے رہوں یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ گزر جائے۔ 

(۱۲۳) عبد بن حمید نے ام دردہ ؓ سے روایت کیا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھی میرے پاس ایک قاصد آیا اور یہ رمضان کا مہینہ تھا مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا یہ کون ہے؟ میں نے کہا میرے بھائی کا قاصد ہے وہ سفر پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا (گھر سے) نہ نکلو یہاں تک کہ (رمضان کا) مہینہ ختم ہو جائے اگر رمضان کا مہینہ راستے میں آجائے تو میں وہیں قیام کر لوں۔ 

(۱۲٤) عبد بن حمید نے حسن رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ رمضان میں آدمی کے سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔

(۱۲۵) عبد بن حمید نے حسن رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان (کے مہینہ) کو قید نہیں بنایا (کہ آدمی گھر میں قید رہے اور سفر نہ کرے)۔ 

(۱۲٦) عبد بن حمید نے عطا رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان کا مہینہ پالیا اس کو سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں پھر اس میں کوئی حرج نہیں کہ روزہ نہ رکھے۔

(۱۲۷) عبد بن حمید وأبو داؤد نے سنان بن علمہ بن محبق ھذلی سے وہ اپنے والد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس سواری ہو جو اسے ایسی جگہ میں پہنچاتی ہو جہاں انسان کھانے سے سیر ہو سکتا ہے اور اس کو رمضان آجائے تو روزہ رکھے۔

(۱۲۸) ابن سعد نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے مریض اور مسافر پر روزہ نہ رکھنے کا صدقہ فرمایا۔ 


(۱۲۹) طبرانی نے انس بن مالک سے اور انہوں نے (قبیلہ) لعب میں سے ایک آدمی سے روایت کیا کہ ہم پر رسول اللہ ﷺ کے شہسواروں نے حملہ کیا تو میں آپ کے پاس پہنچا آپ کھانا تناول فرما رہے تھے آپ نے فرمایا بیٹھ جا ہمارے اس کھانے میں سے کھالے۔ میں نے عرج کیا یا رسول اللہ ! میں روزہ دار ہوں آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا میں تجھ کو نماز اور روزہ کے بارے میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف کر دی ہے اور مسافر سے اور مریض سے اور حاملہ عورت سے روزہ معاف کر دیا ہے۔ 

(۱۳۰) ابن ابی شیبہ نے عکرمہ رحمہ اللہ علیہ سے لفظ آیت ’’فعدۃ من ایام اخر‘‘ کے تحت نقل کیا اگر مسافر چاہے تو حضر میں روزے ملا کر رکھ لے یا متفرق کرکے رکھ لے۔

(۱۳۱) ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے قضاء رمضان کرکے رکھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ’’فعدۃ من ایام اخر‘‘ یہ دوسرے ایام میں گنتی پوری کرے۔

(۱۳۲) ابن ابی شیبہ، دار قطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے قضاء رمضان کے بارے میں روایت فرمایا جیسا تو چاہے روزہ رکھ لے ابن عمر ؓ نے فرمایا جیسے تو نے افطار کئے ویسے رکھ۔

(۱۳۳) امام مالک، وابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رمضان کے مہینہ کی (قضا روزے لگاتار رکھے جو شخص مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکا۔ 


قضا روزے رکھنا
(۱۳٤) سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے رمضان کے قضا روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ’’فعدۃ من ایام اخر‘‘ جب گنتی پوری ہوتو پھر متفرق رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

(۱۳۵) ابن ابی شیبہ، دار قطنی، بیہقی نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ قضاء رمضان کے روزے متفرق رکھنے کے بارے میں پوثھا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم کو روزہ نہ رکھنے کے بارے میں اجازت اس لئے نہیں دی اور وہ اس کے قضا کرنے میں تم پر مشقت ڈالے سو تم گنتی کو پورا کر لو اور جیسے چاہو کرو۔ 

(۱۳٦) دار قطنی نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا کہ گنتی کو پورا کرو اور جیسے چاہو روزے رکھو۔ 

(۱۳۷) ابن ابی شیبہ، دار قطنی نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ ان سے قضاء رمضان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا گنتی کو پورا کرو یعنی جیسے چاہو روزے رکھو۔ 

(۱۳۸) دار قطنی نے عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ قضاء رمضان کے روزے میں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ’’فعدۃ من ایام اخر‘‘۔

(۱۳۹) امام وکیع، ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے سوال کیا کہ میں رمضان کے روزوں کو کس طرح قضا کروں؟ انہوں نے فرمایا جیسے تو چاہے روزے رکھ اور گنتی پوری کر لفظ آیت ’’فانما یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر‘‘۔

(۱٤۰) ابن المنذر، دار قطنی، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت اسی طرح) نازل ہوئی لفظ آیت ’’فعدۃ من ایام اخر متشابعت‘‘ (پھر) ’’متشابعات‘‘ (کا لفظ) ختم کر دیا گیا بیہقی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ لفظ منسوخ کر دیا گیا اس حدیث کو دار قطنی نے صحیح کہا۔ 


قضاء کے روزے متواتر رکھنا ضروری نہیں

(۱٤۱) دار قطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص پر رمضان کے (قضا) روزے ہوں تو اس کو چاہئے متواتر روزے رکھے اور ان میں متفرق نہ کرے۔

(۱٤۲) دار قطنی نے عبد اللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے رمضان کے قضا روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا لگاتار روزے رکھے اور اگر جدا جدا کرکے رکھے تو بھی کافی ہو جائیں گے۔

(۱٤۳) دار قطنی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے قضا روزوں کے بارے میں فرمایا اگر چاہو تو متفرق رکھو اور اگر چاہو تو لگاتار رکھو۔

(۱٤٤) ابن ابی شیبہ، امام دار قطنی نے ابن عبا س ؓ سے اسی طرح روایت کیا محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ سے رمضان تک قضاء روزے متفرق طور پر رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ تیری مرضی ہے مثلا کسی پر قرضہ ہو اور وہ ایک ایک دو یا دو درہم کرکے ادا کرے تو قرضہ ادا نہیں ہوجائے گا؟ (یقیناًہو جائے گا) اللہ تعالیٰ زیادہ حق دار ہیں کہ اس کو قبول فرمائیں اور مغفرت بھی فرما دیں۔ 


(۱٤۵) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدیکم العسر‘‘ میں ’’الیسر‘‘ سے مراد سفر میں روزہ نہ رکھنا ہے اور عسر سے مراد سفر میں روزہ رکھنا ہے۔

(۱٤٦) ابن مردویہ نے محجن بن ادرع ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا اور آپ نے ایک لمحہ کے لئے اسے دیکھا۔ پھر فرمایا کیا تو نے اس کو دیکھا کہ وہ سچی نماز پڑھ رہا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو نہ سنا ورنہ تو اس کو ہلاک کر دے گا اور آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کے ساتھ آسانی کا ارادہ فرمایا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں۔ 

(۱٤۷) امام احمد نے أعرج ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہو بلاشبہ تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسان ہے۔

(۱٤۸) ابن سعد، احمد، ابو یعلی، طبرانی، ابن مردویہ نے عروہ تمیمی ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا ہم پر اس (دین) میں کچھ حرج ہے؟ آپ نے فرمایا اے لوگو! اللہ کا دین آسان ہے تین دفعہ آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔ 

(۱٤۹) البزار نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسانی پیدا کرو تنگی پیدا نہ کرو، نرمی پیدا کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔

(۱۵۰) امام احمد نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے اس میں نرمی کے ساتھ لوگوں کو داخل کرو۔

(۱۵۱) البزار نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے اس میں نرمی کے ساتھ داخل کرو تیزی سے دوڑنے والا نہ تو زمین کا سفر طے کرتا ہے۔

(۱۵۲) احمد نے ابو ذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسلام نرم اور (مطیع گھوڑے کی طرح ہے اس پر سوار نہیں ہوتا مگر جو نرم طبیعت ہو۔


(۱۵۳) امام بخاری، نسائی، بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا دین آسان ہے اور ہرگز کوئی دین نہیں آئے گا مگر دین (اسلام) اس پر غالب آجائے گا (ہر کام میں) میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کو قرب حاصل کرو اور (لوگوں کو) خوشخبری دو۔ اور مدد طلب کرو صبح و شام اور رات کے کچھ وقت میں۔ 

(۱۵٤) امام طیالسی، احمد، بیہقی نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم آپ کے ساتھ اکٹھے چلتے رہے اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے نماز پڑھ رہا تھا (اور) کثرت سے رکوع اور سجدے کر رہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اس کو ریا کار خیال کرتا ہے میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا تم اپنے اوپر اعتدال کا راستہ لازم کر لو سو جو شخص اس دین پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے یہ دین اس پر غالب آجاتا ہے۔


دین میں داخل ہونے کی ترغیب
(۱۵۵) بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے پس اس میں لوگوں کو نرمی کے ساتھ داخل کرو اور اس کے بندوں کی طرف اللہ کی عبادت کو ناپسندیدہ نہ بنا دو کیونکہ تیز دوڑنے والا نہ سفر طے کرتا ہے اور نہ سواری کو باقی رکھتا ہے۔

(۱۵٦) بیہقی نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین مضبوط ہے سوا س میں لوگوں کو نرمی کے ساتھ داخل کرو اور اپنے رب کی عبادت کو اپنی ذات کے نزدیک مبغوض نہ بنادو کیونکہ تیز دوڑنے والا نہ سفر طے کرتا ہے اور نہ سواری کو باقی رکھتا ہے ۔ پس اس آدمی کی طرح عمل نہ کر جو خیال کرتا ہے کہ وہ کبھی نہیں مرے گا تو ڈرجا ایسا ڈرنا کہ تو (اس بات کا) خوف کرتا ہو کہ توکل مر جائے گا۔

(۱۵۷) طبرانی اور بیہقی نے سہل بن ابی امام رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنی جانوں پر سختی کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے اور ان کے باقی لوگوں کو تم گرجا گھروں اور نصاری کے عبادت خانوں میں پاؤں گے۔

(۱۵۸) بیہقی نے معبد جہنی رحمہ اللہ علیہ کے طریق سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم افضل ہے عمل سے۔ بہترین اعمال درمیانی درجہ کے ہیں اللہ کا دین سختی اور غلو کے درمیان ہے۔ نیکی دو چیزوں کے درمیان ہے اس کو نہیں پاتا ہے مگر اللہ کی مدد سے اور بہت برا چلنا تیز چلنا ہے۔

(۱۵۹) ابن عبید اور بیہقی نے اسحاق بن سوید رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن مطرف نے بتکلف عبادت کی تو اس کو مطرف نے کہا اے عبد اللہ! علم افضل ہے عمل سے اور نیکی دو چیزوں کے درمیان ہے اور بہترین کام درمیانی درجہ کے ہیں اور بہت برا چلنا، تیز چلنا ہے۔

(۱٦۰) ابو عبید اور بیہقی نے تمیم داری رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ اپنے دین میں سے اپنے لئے کچھ حاصل کرلو اور اپنی ذات میں سے اپنے دین کچھ حاصل کرلو یہاں تک کہ تیرے ذریعہ (اللہ کا) حکم قائم رہے (ایسی) عبادت پر جس کی تو طاقت رکھتا ہے۔

(۱٦۱) بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تو یہ پسند فرماتے ہیں کہ تو اس کی رخصت پر عمل کرے جیسے وہ پسند کرتا ہے کہ تو اس کے فرائض پر عمل کرے۔

ّ(۱٦۲) البزار و الطبرانی وابن حبان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ پسند فرماتے ہیں کہ تو اس کی رخصت پر عمل کرے۔ جیسے وہ پسند فرماتا ہے کہ تو اس کے فرائض پر عمل کرے۔

(۱٦۳) احمد، البزار، ابن خزیمہ، ابن حبان، طبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ پسند فرماتے ہیں کہ اس کی رخصت پر عمل کرے۔ جس طرح وہ ناپسند کرتا ہے کہ تو اس کی نافرمانی کرے۔

(۱٦٤) بخاری نے الادب المفرد میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا اللہ تعالیٰ کو کون سا دین پسند ہے؟ آپ نے فرمایا جو سیدھا اور آسان ہو (یعنی دین اسلام)۔

(۱٦۵) الطبرانی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا اس کو عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوگا۔

(۱٦٦) الطبرانی نے عبد اللہ بن یزید بن ادیم رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے ابو درداء ، واثلہ بن اسقع ابو امامہ اور انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ ان کی رخصت کو قبول کیا جائے جیسے بندہ اپنے رب کی مغفرت کو پسند کرتا ہے۔

(۱٦۷) احمد نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ٹھوڑی کو اپنے کندھے پر رکھا تاکہ میں حبشی لوگوں کا کھیل دیکھ لوں یہاں تک کہ میں دیکھتے دیکھتے تھک گئی اور ان کے (دیکھنے سے ہٹ گئی) اور حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ اس دن آپ ﷺ نے فرمایا یہود جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) یعنی میں سیدھا اور آسان دین دیکر بھیجا گیا ہوں۔

(۱٦۸) ترمذی نے نوارد الاصول میں حضرت حسن رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ کا دین غلو سے نیچے اور کوتاہی سے بلند ہے۔

(۱٦۹) عبد الرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طعن نہ کرو اس شخص پر جس نے سفر میں روزہ رکھا اور جس نے نہیں رکھا اور اس میں سے اپنے لئے آسانی اختیار کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ’’یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر‘‘۔

(۱۷۰) عبد الرزاق نے مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ تجھ پر لازم ہے کہ آسانی کو اختیار کر کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف آسانی کا ادارہ فرماتے ہیں۔

(۱۷۱) ابن ابی حاتم نے ربیع رحمہ اللہ سے لفظ آیت ’’ولتکملوا العدۃ‘‘ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رمضان (کے روزوں) کی تعداد پوری کرو۔ 


پورے مہینے کے روزے فرض ہیں

(۱۷۲) ابو داؤد، نسائی، ابن المنذر، دار قطنی نے اپنی سنن میں حضرت حذیقہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ سے پہلے روزے نہ رکھو یہاں تک کہ تم چاند دیکھ لو یا تیس دن پورے کر لو پھر روزے رکھو یہاں تک کہ عید کا چاند دیکھ لو یا تیس دن پورے کرلو۔ 

(۱۷۳) امام ابو داؤد، ترمذی، نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینے سے پہلے ایک یا دو روزے نہ رکھو مگر یہ کہ کوئی ایسا دن آجائے جس میں تم نفلی روزہ پہلے رکھتے ہو۔ اور روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند کو دیکھ لو پھر روزے رکھو اگر اس کے آگے بادل حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کر لو پھر عید کرو۔ 

(۱۷٤) بخاری، مسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا چاند دیکھ کر افطار کرو اگر مطلع ابر آلود ہو جائے تو گنتی پوری کر لو اور دوسرے لفظ میں یوں ہے تیس کی گنتی پوری کر لو۔

(۱۷۵) دار قطنی نے رافع بن خدیج ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے لئے شعبان کی گنتی پوری کرو اور مہینے کو ایک روزہ کے ساتھ بھی آگے نہ بڑھاؤ۔ جب تم (رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزے رکھو اور جب تم (شوال کا چاند) دیکھ لوتو افطار کرو اگر تم پر بادل چھا جائے تو تیس دونوں کی گنتی پوری کرکے پھر افطار کرلو۔ بلاشبہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے اور آپ نے تیسری مرتبہ میں اپنے انگوٹھے کو بند فرما لیا۔ 

(۱۷٦) دار قطنی نے عبد الرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہم نے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ سے صحبت اختیار کی تو انہوں نے ہم سے یہ بیان فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس دن شمار کرو اگر دو انصاف والے گواہی دیدیں تو روزے رکھو اور افطار کرو اور قربانی کرو۔ 

(۱۷۷) دار قطنی نے ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے تیس روزے پورے کرنے کے لئے صبح کو روزہ رکھا پھر دو دیہاتی آئے اور انہوں نے لا الہ الا اللہ کے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا تو آپ نے سب کو (روزہ) افطار کرنے کا حکم فرما دیا۔ 

(۱۷۸) ابن جریر نے ضحاک رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’ولتکملوا العدۃ‘‘ سے مراد ہے کہ مریض اور مسافر نے جو روزے نہیں رکھے تھے ان کی گتنی پوری کر لیں۔

(۱۷۹) ابن المنذر نے ابن ابی حاتم اور مروزی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ وہ عیدین کی کتاب میں زید بن اسلم ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لفظ آیت ’’ولتکبروا اللہ علی ما ھدکم‘‘ سے مراد ہے کہ تم لوگ عید الفطر کے دن تکبیریں کہو۔

(۱۸۰) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں پر حق ہے کہ جب وہ شوال کا چاند دیکھیں تو وہ اللہ کی بڑائی بیان کریں (یعنی تکبیریں کہیں) یہاں تک کہ اپنی عید سے فارغ ہو جائیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ’’ولتکبروا العدۃ ولتکبروا اللہ‘‘۔ 


(۱۸۱) طبرانی نے معجم صغیر میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی عیدوں کو تکبیروں کے ساتھ مزین کرو۔ 

(۱۸۲) المروزی، دار قطنی، بیہقی نے سنن میں ابو عبد الرحمن سلمی ؓ سے روایت کیا کہ (ہم لوگ) عید الفطر میں عید الاضحی سے زیادہ تکبیروں میں شدت کرتے تھے۔ 

(۱۸۳) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں زہری رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ (اپنے گھر سے) عید الفطر کے دن (جب عید کی نماز کے لئے) تشریف لے جاتے تھے تو (راستہ میں) تکبیر پڑھتے جاتے تھے یہاں تک کہ عید گاہ میں پہنچ جاتے نماز ادا فرما لیتے جب آپ نماز ادا فرما لیتے تھے تکبیر ختم فرما دیتے۔ 

(۱۸٤) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت نافع بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اونچی آواز سے تہلیل اور تکبیر کہتے ہوئے عیدین کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔

(۱۸۵) ابن ابی شیبہ نے عطا رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ سنت طریقہ میں سے ہے کہ عید کے دن تکبیر کہی جائے۔ 


(۱۸٦) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، المروزی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں تکبیر کہا کرتے تھے ’’اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ وللہ اکبر وللہ الحمد‘‘۔

(۱۸۷) ابن ابی شیبہ، المروزی، بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں تکبیر کہا کرتے تھے ’’اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا اللہ اکبر وللہ الحمد اللہ اکبر واجل علی ما ھدانا‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے لئے سب تعریفیں ہیں، اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑا ہے اور طاقتور ہے۔ 

(۱۸۸) امام بیہقی نے ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ ہم کو تکبیر سکھایا کرتے تھے: 
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا اللہم انت الاعلی وأجل من ان یکون بک صاحبۃ أو یکون لک ولد أو یکون لک شریک فی الملک أو تکون لک ولی من الذل وکبرہ تکبیرا اللہم اغفرلنا اللہم ارحمنا
ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ بڑا ہے، بہت بڑا ہے، اے اللہ! تو سب سے اعلیٰ طاقتور ہے اس بات سے کہ تیری بیوی ہو، اس سے بات سے کہ تیرا لڑکا ہو، اس بات سے کہ تیرے ملک میں تیرا کوئی شریک ہو، یا اس بات سے کہ تیرا کوئی مدد گار ہو پھسلنے سے (یعنی تو ان سب چیزوں سے پاک ہے) اور اس کی بڑائی بیان کرو تکبیر کہتے ہوئے۔ اے اللہ! ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما۔





حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کا کام سمجھ کر قیام کرے تو اس کے اگلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔





حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ وَإِنَّمَا حَفِظَ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رکھے اس کے سبب اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، اور جو شخص شب_قدر میں ایمان اور ثواب کا کام سمجھ کر قیام کرے تو اس کے اگلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُخْبِرُنَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا : " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا ؟ , قَالَتْ : كَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَكِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا ، وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ " .[صحيح البخاري » كِتَاب الْحَجِّ » أَبْوَابُ الْعُمْرَةِ » بَاب عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ ... رقم الحديث: 1664(1782)]


مسدد، یحیی، ابن جریج، عطاء سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خبر دیتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی ایک عورت سے (جس کا نام ابن عباس نے لیا تھا لیکن میں بھول گیا) فرمایا کہ تمہیں میرے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک پانی بھرنے والا اونٹ تھا جس پر اس کا بیٹا اور فلاں شخص (یعنی اس کا شوہر) سوار ہو کر چلے گئے اور صرف ایک اونٹ چھوڑ گیا، جس ہر ہم پانی لادتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو اس مہینہ میں عمرہ کرلے اس لئے کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے یا اسی کے مثل کچھ فرمایا۔
یا (یہ فرمایا کہ) میرے ساتھ حج کیا۔






حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " .
[صحيح مسلم » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب الصَّلَوَاتِ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ ... رقم الحديث: 349(233)]
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : پنج وقتہ نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، ان گناہوں کا جو درمیانی اوقات میں سرزد ہوئے ہوں، کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
أخرجه أحمد (2/400، رقم 9186) ، ومسلم (1/209، رقم 233) ، والترمذى (1/418، رقم 214) . وأخرجه أيضًا: البيهقى (10/187، رقم 20548) .











ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْسَلْمَانَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً ، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا ، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً ، كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ ، وَشَهْرٌ يَزْدَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ " . قَالُوا : لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا يُفَطِّرُ الصَّائِمَ . فَقَالَ : " يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى تَمْرَةٍ ، أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ ، أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ ، مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ ، وَاسْتَكْثِرُوا فِيهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ : خَصْلَتَيْنِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ ، وَخَصْلَتَيْنِ لا غِنًى بِكُمْ عَنْهُمَا ، فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضُونَ بِهِمَا رَبَّكُمْ : فَشَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَتَسْتَغْفِرُونَهُ ، وَأَمَّا اللَّتَانِ لا غِنًى بِكُمْ عَنْهَا : فَتُسْأَلُونَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَتَعُوذُونَ بِهِ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ أَشْبَعَ فِيهِ صَائِمًا ، سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ " .
ابن خزيمہ رحمہ اللہ نے حديث سلمان روايت كرتے ہوئے كہا ہے:
اگر يہ حديث صحيح ہو تو فضائل رمضان كے بارہ ميں باب .
پھر كہتے ہيں:
ترجمہ : ہميں على بن حجر السعدى نے حديث بيان كى، وہ كہتے ہيں ہميں يوسف بن زياد نے بيان كيا، وہ كہتے ہيں ہميں ہمام بن يحي نے على بن زيد بن جدعان نے سعيد بن مسيب سے اور انہوں نے سلمان رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا وہ كہتے ہيں كہ ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شعبان كے آخرى دن خطبہ ديتے ہوئے فرمايا:

" لوگو تم پر عظيم الشان مہينہ سايہ فگن ہو رہا ہے، يہ بابركت مہينہ ہے، اس ميں ايك ايسى رات ہے جو ايك ہزار مہينوں سے بہتر ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے اس كے روزے فرض كيے ہيں، اور اس مہينے كى راتوں كا قيام نفلى ہے، جس نے بھى اس مہينہ ميں كوئى خير و بھلائى كا كام سرانجام دے كر قرب حاصل كيا تو وہ ايسے ہى ہے جيسے كسى نے اس مہينہ كے علاوہ كوئى فرض ادا كيا، اور جس نے اس مہينہ ميں كوئى فرض سرانجام ديا تو وہ ايسے ہى ہے جيسے كسى نے اس مہينہ كے علاوہ ستر فرض ادا كيے، يہ صبر كا مہينہ ہے، اور صبر كا ثواب جنت ہے، يہ خير خواہى كا مہينہ ہے.

اس ماہ مبارك ميں مومن كا رزق زيادہ ہو جاتا ہے، اور جس كسى نے بھى اس مہينہ ميں روزے دار كا روزہ افطار كرايا اس كے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں، اور اس كى گردن جہنم سے آزاد كر دى جاتى ہے، اور اسے بھى روزے دار جتنا اجروثواب حاصل ہوتا ہے اور كسى كے ثواب ميں كمى نہيں ہوتى.

صحابہ كرام نے عرض كيا: ہم ميں سے ہر ايك كے پاس تو روزہ افطار كرانے كے ليے كچھ نہيں ہوتا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى يہ اجروثواب ہر اس شخص كو ديتا ہے جس نے بھى كسى كا روزہ كھجور يا پانى كے گھونٹ يا دودھ كے ساتھ افطار كرايا، اس ماہ كا ابتدائى حصہ رحمت ہے، اور درميانى حصہ بخشش اور آخرى حصہ جہنم سے آزادى كا باعث ہے "

جس كسى نے بھى اپنى لونڈى اور غلام سے تخفيف كى اللہ تعالى اسے بخش ديتا اور اسے جہنم سےآزاد كر ديتا ہے، اس ماہ مبارك ميں چار كام زيادہ سے زيادہ كيا كرو: دو كے ساتھ تو تم اپنے پروردگار كو راضى كروگے، اور دو خصلتيں ايسى ہيں جن سے تم بےپرواہ نہيں ہو سكتے:

جن دو خصلتوں سے تم اپنے پروردگار كو راضى كر سكتے ہو وہ يہ ہيں: اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور اس سے بخشش طلب كرنا.

اور جن دو خصلتوں كے بغير تمہيں كوئى چارہ نہيں: جنت كا سوال كرنا، اور جہنم سے پناہ مانگنا.

جس نے بھى اس ماہ مبارك ميں كسى روزے دار كو پيٹ بھر كر كھلايا اللہ سبحانہ و تعالى اسے ميرے حوض كا پانى پلائيگا وہ جنت ميں داخل ہونے تك پياس محسوس نہيں كريگا ".


[المحدث : الهيتمي المكي | المصدر : الزواجر
الصفحة أو الرقم: 1/197 | خلاصة حكم المحدث : في سنده من صحح ، وحسن له الترمذي لكن ضعفه غيره]
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أظلكم شهر عظيم شهر مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساةسلمان بن الإسلامصحيح ابن خزيمة17851778ابن خزيمة311
2أظلكم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر فرض الله صيامه قيام ليله تطوعا من تطوع فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وهو شهر المواساة وهو شهر يزاد فيه رزق المؤمنسلمان بن الإسلامالمطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر10471006ابن حجر العسقلاني852
3أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر فرض الله صيامه قيام ليله تطوعا من تطوع فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فما سواه من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وهو شهر المواساةسلمان بن الإسلامبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث325318الهيثمي807
4أظلكم شهر عظيم شهر مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة قيامه تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر وشهر المواساة وشهر يزاد في رزق المرء فيه من فطر فيه صائما كان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجسلمان بن الإسلاممشيخة أبي الطاهر بن أبي الصقر4543ابن مفلح اللخمي476
5أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فاستكثروا فيه من أربع خصال خصلتين ترضون بهما ربكم وخصلتين لا غنى بكم عنهما فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم فشهادة أن لا إله إلا الله تستغفرونه اللتان لا غنى بكم عنهما فتسألون الله الجنة تعوذون به من النارسلمان بن الإسلامأربعون حديثا لابن بابويه37---علي بن عبيد الله بن بابويه الرازي القمي330
6أظلكم شهر عظيم مبارك فيه ليلة خير من الف شهر فرض الله صيامه وجعل قيامه تطوعا فمن تطوع فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وهو شهر المواساة وشهر يزاد في رزق المؤمن فيه من فطر صائما كان له عتق رسلمان بن الإسلامكتاب الأربعين حديثا عن أربعين شيخا لأربعين صحابيا28---عبد الخالق بن زاهر الشحامي399
7أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر افترض الله صيامه قيامه تطوعا من تطوع فيه خيرا فحظه من ذلك الخير كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة وهو شهر الصبر والمواساة ويزاد في رزق المؤمن فيهسلمان بن الإسلامأمالي المحاملي رواية ابن يحيى البيع295293الحسين بن إسماعيل المحاملي330
8أظلكم شهر عظيم مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر افترض الله صيامه قيامه تطوعا من تطوع خيرا كان حظه من ذلك الخير كمن أدى سبعين سنة وهو شهر الصبر والمواساة ويزاد في رزق المؤمن فيه من فطر صائما كان له كعتق رقبة ومغفرة لذنوبه ودخول الجنةسلمان بن الإسلامالأمالي الخميسية للشجري896---يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني499
9أظلكم شهر عظيم مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر افترض الله صيامه قيامه تطوعا من تطوع خيرا كان حظه من ذلك الخير كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فريضته كان كمن أدى سبعين فريضة وهو شهر الصبر والمؤاساة ويزاد في رزق المؤمن فيه من فطر صائما كان له كعتق رقبةسلمان بن الإسلامالأمالي الخميسية للشجري1016---يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني499
10أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فريضة فيه كان كمن أدى فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساةسلمان بن الإسلامشعب الإيمان للبيهقي33293608البيهقي458
11أظلكم شهر عظيم وفي رواية قد أطلكم بالطاء أطل أشرف شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة القدر خير من ألف شهر شهر جعل الله صيامه فريضة قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من خصال الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فيه فريضة كمن أدى سبعين فريضة فيما سواهسلمان بن الإسلاممعالم التنزيل تفسير البغوي8181الحسين بن مسعود البغوي516
12أظلكم شهر عظيم شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدى فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة وشهر يزاد فيه رزق المؤمن مسلمان بن الإسلامالوسيط في تفسير القرآن المجيد771 : 277الواحدي468
13أظلكم شهر عظيم شهر مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر شهر جعل الله صيامه فريضة قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من خصال الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواسسلمان بن الإسلامفضائل شهر رمضان4141ابن أبي الدنيا281
14أظلكم شهر عظيم مبارك شهر فيه ليلة القدر وهي خير من ألف شهر شهر فرض الله صيامه قيام ليله تطوعا من تطوع فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وهو شهر المواساةسلمان بن الإسلامتنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين لسمرقندي202---نصر بن محمد بن إبراهيم373
15أظلكم شهر رمضان فصيامه فريضة قيامه تطوع من أدى في شهر رمضان فريضة فكأنما أدى سبعين فريضة في غير رمضان من تطوع فيه بتطوع فكأنما تطوع بسبعين في غير رمضان من صام يوما من شهر رمضان كان خيرا له من ألف شهر ليس فيها ليلة القدر من قام ليلة القدر كان خيرسلمان بن الإسلامفضائل شهر رمضان لابن شاهين1515ابن شاهين385
16أظلكم شهر عظيم شهر مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه من أدى فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساةسلمان بن الإسلامفضائل شهر رمضان لابن شاهين1816ابن شاهين385
17أظلكم شهر عظيم فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة وشهر يزاد في رزق المؤمنسلمان بن الإسلامفضائل الأوقات للبيهقي3937البيهقي458
18أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة وقيام ليلة تطوعا قال الميانجي من تصرف فيه بخصلة من الخير وقال إسماعيل من تفوت فيه بخصلة من الخير ثم اتفقا كان كمن أدى فريضة ومن أدى فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر السلمان بن الإسلامفضائل شهر رمضان لعبد الغني المقدسي2424عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي600






عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّاتِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ وَاحِدٌ الشَّهْرَ كُلَّهُ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ وَاحِدٌ الشَّهْرَ كُلَّهُ ، وَغُلَّتْ عُتاةُ الْجِنِّ ، وَنَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى انْفِجارِ الصُّبْحِ ، يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ يَمِّمْ وَأَبْشِرْ ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ، وَانْظُرْ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ نَغْفِرُ لَهُ ، هَلْ مِنْ تَائِبٍ نَتُوبُ عَلَيْهِ ، هَلْ مِنْ دَاعٍ نَسْتَجِيبُ لَهُ ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ نُعْطِي سُؤْلَهُ ، وَلِلَّهِ تَعَالَى عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ عُتَقَاءَ مِنَ النَّارِ سِتُّونَ أَلْفًا ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ أَعْتَقَ مِثْلَ مَا أَعْتَقَ فِي جَمِيعِ الشَّهْرِ ثَلاثِينَ مَرَّةً سِتِّينَ أَلْفًا " .

حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ہوتی پہلی رات رمضان کی تو کھولے جاتے ہیں دروازے جنّت کے تو نہیں بند کیا جاتا ہے کوئی ایک دروازہ بھی پورے ماہ کو، رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کراوراے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔ کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ۔ کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ اللہ بزرگ و برتر رمضان شریف کی ہر رات میں افطاری کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتاہے جب عید کا دن آتا ہے تو اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے کہ جتنے تمام مہینہ میں آزاد فرماتا ہے۔ تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار۔(یعنی اٹھارہ لاکھ).


قال المنذرى (2/63) : حديث حسن لا بأس به فى المتابعات [جامع الأحاديث-السيوطي:2583(3/461)]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1إذا كان أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنات فلم يغلق منها باب واحد الشهر كله غلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب واحد الشهر كله غلت عتاة الجن نادى مناد من السماء كل ليلة إلى انفجار الصبح يا باغي الخير يمم وأبشر يا باغي الشر أقصر وانظر هل من مستغفر نغفرعبد الله بن مسعودشعب الإيمان للبيهقي33273606البيهقي458
2إذا دخل عليك شهر رمضان تغل الشياطين تغلق أبواب جهنم تفتح أبواب الجنان لا يجوز فيه سحر السحرةعبد الله بن مسعودتاريخ جرجان للسهمي4931 : 342حمزة بن يوسف السهمي345
3إذا دخل شهر رمضان تغل الشياطين تغلق أبواب النار تفتح أبواب الجنان لا يجوز فيه السحر يدفع الله عن الصائمين شر أهل السماء وأهل الأرض يسكن غضب الله تنزل الرحمة من السماء كما ينزل القطر من السماء إلى الأرض من أول الشهر إلى آخره يستجاب فيه الدعاء ويغفرعبد الله بن مسعودتاريخ جرجان للسهمي4971 : 343حمزة بن يوسف السهمي345
4إذا كان أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنان فلم يغلق منها باب واحد الشهر كله غلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب واحد الشهر كله غلت عتاة الجن نادى مناد من السماء كل ليلة إلى انفجار الصبح يا باغي الخير تمم وأبشر يا باغي الشر أقصر وأبصر هل من مستغفر يعبد الله بن مسعودفضائل الأوقات للبيهقي5151البيهقي458


عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ تَزَّخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ الْقَابِلِ " ، قَالَ : " فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ نَشَرَتْ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ ، فَيَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرُّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَنُقِرُّ أَعْيُنَهُمْ بِنَا " .
[شعب الإيمان للبيهقي » الْبَابُ الثَّالِثُ وَالْعِشْرُونَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ ... » فَضَائِلُ شَهْرِ رَمَضَانَ ... رقم الحديث: 3352]

حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہوا سفید اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ اے پروردگار اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول إلى رأس الحول المقبل فإذا كان أول ليلة من رمضان هبت ريح من تحت العرش فشققت ورق الجنة عن الحور تقلن يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرمسند الشاميين للطبراني8691سليمان بن أحمد الطبراني360
2الجنة تزخرفت لرمضان من رأس الحول إلى الحول فإذا كان أول يوم من رمضان هبت ريح من تحت العرش فصفقت ورق الجنة عن الحور العين فقلن يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهن أعيننا وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني69786800سليمان بن أحمد الطبراني360
3الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول إلى الحول فإذا كان أول يوم من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش فينبعث من ورق الجنة عن الحور العين فقلن اللهم اجعل لنا من أوليائك أزواجا تقر أعيننا بهم وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرفوائد تمام الرازي3234تمام بن محمد الرازي414
4الجنة تزخرف لرمضان من رأس الحول إلى الحول القابل قال فإذا كان أول يوم من رمضان هبت ريح تحت العرش نشرت من ورق الجنة على الحور العين فيقلن يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا ونقر أعينهم بناعبد الله بن عمرشعب الإيمان للبيهقي33523633البيهقي458
5الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول إلى الحول فإذا كان أول ليلة من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش فتفتقت ورق الجنة عن الحور العين فقلن اللهم اجعل لنا من أوليائك أزواجا تقر أعيننا بهم وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر5854---ابن عساكر الدمشقي571
6الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول المقبل فإذا كان أول ليلة من رمضان هبت ريح من تحت العرش فشققت ورق الجنة عن الحور العين يقلن يارب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر58558 : 107ابن عساكر الدمشقي571
7الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول إلى الحول فإذا كان أول يوم من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش فشققت عن ورق الجنة عن الحور العين فقلن اللهم اجعل لنا من أولئك أزواجا تقر أعيننا بهم وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر6684---ابن عساكر الدمشقي571
8الجنة لتزخرف لرمضان من رأس الحول فإذا كان أول يوم من شهر رمضان هبت ريح تحت العرش فشققت ورق الجنة عن الحور العين فقلن يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرسير أعلام النبلاء الذهبي1335---الذهبي748
9الجنة تزخرف في شهر رمضان من رأس الحول إلى الحول المقبل فإذا كان أول يوم من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش فشققت ورق الجنة عن الحور العين فقلن يا رب اجعل لنا من أزواجنا ما تقر أعيننا بهم وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرفضائل شهر رمضان لابن شاهين1313ابن شاهين385
10الجنة تزخرف لرمضان من رأس الحول إلى حول قابل قال فإذا كان أول يوم من رمضان هبت ريح تحت العرش من فوق الجنة على الحور العين فيقلن يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بناعبد الله بن عمرفضائل الأوقات للبيهقي4544البيهقي458




عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْضُرُوا الْمِنْبَرَ " ، فَحَضَرْنَا ، فَلَمَّا ارْتَقَى دَرَجَةً ، قَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّانِيَةَ ، قَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّالِثَةَ ، قَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا فَرَغَ ، نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ ، قَالَ : فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَسْمَعُهُ ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامِ عَرْضَ لِي ، فَقَالَ :بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ ، فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّانِيَةَ ، قَالَ : بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّالِثَةَ ، قَالَ : بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ الْكِبَرَ عِنْدَهُ ، أَوْ أَحَدُهُمَا ، ثُمَّ لَمْ يُدْخِلاهُ الْجَنَّةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ : فَقُلْتُ : آمِينَ " .
[المحدث : السخاوي / المصدر : القول البديع الصفحة أو الرقم: 207 / خلاصة حكم المحدث : رجاله ثقات]
المحدث : الهيتمي المكي / المصدر : الزواجر الصفحة أو الرقم: 1/197 / خلاصة حكم المحدث : صحيح أو حسن
المحدث : المنذري / المصدر : الترغيب والترهيب الصفحة أو الرقم: 2/114(2/406) خلاصة حكم المحدث : [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما]

حضرت کعب بن عجرہؓ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہو۔ پس ہم منبرکے پاس حاضر ہوئے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا''آمین''۔ اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب منبر شریف سے اترے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ فرمایا بے شک جبرئیل ں نے آکر عرض کی کہ ــ''بے شک وہ شخص دور ہو (رحمت سے یا ہلاک ہو) جس نے رمضان شریف کو پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی'' میں نے کہا ــ''آمین ''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا: ''وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے ''میں نے کہا ''آمین''جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا کہ'' دور ہو وہ شخص جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع پائے پھر بھی کوتاہی کے نتیجے میں جنت میں داخل نہ ہوسکے ''میں نے کہا ''آمین''.

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفر له قلت آمين فلما رقيت الثانية قال بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصل عليك قلت آمين فلما رقيت الثالثة قال بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة قلت آمينكعب بن عجرةالمستدرك على الصحيحين73214 : 148الحاكم النيسابوري405
2جبريل عرض لي حين ارتقيت درجة فقال بعد من أدرك أبويه عند الكبر أو أحدهما لم يدخلاه الجنة قال قلت آمين من ذكرت عنده ولم يصل عليك فقلت آمين من أدرك رمضان فلم يغفر له فقلت آمينكعب بن عجرةالمعجم الكبير للطبراني15668315سليمان بن أحمد الطبراني360
3من أدرك أحد والديهكعب بن عجرةشعب الإيمان للبيهقي14681571البيهقي458
4من أدرك رمضان فلم يغفر له فقلت آمين فلما رقيت الثانية قال بعد من ذكرت عنده فلم يصل عليك فقلت آمين فلما رقيت الثالثة قال بعد من أدرك أبويه الكبر أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة فقلت آمينكعب بن عجرةفضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم لإسماعيل بن إسحاق1819إسماعيل بن إسحاق القاضي282
5من ذكرت عنده فلم يصل عليك فأبعده الله قلت آمين ومن أدرك والديه أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة فأبعده الله قلت آمين ومن أدرك شهر رمضان ثم مات فلم يغفر له فأبعده الله قلت آمينكعب بن عجرةتاريخ واسط لأسلم بن سهل الرزاز7581 : 254أسلم بن سهل الرزاز292
6من أدرك أبويه فلم يدخل الجنة فقلت آمين من ذكرت عنده فلم يصل عليك فقلت آمين من أدرك رمضان فلم يغفر له فقلت آمينكعب بن عجرةفضائل شهر رمضان لابن شاهين33ابن شاهين385



عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أُمَّتِي لَنْ تَخْزِيَ مَا أَقَامُوا صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا خِزْيُهُمْ فِي إِضَاعَةِ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " انْتِهَاكُ الْمَحَارِمِ فِيهِ ، مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً ؛ زَنَا أَوْ شَرِبَ ، لَمْ يَتَقَبَّلِ اللَّهُ مِنْهُ شَهْرَ رَمَضَانَ ، وَلَعَنَهُ اللَّهُ وَالْمَلائِكَةُ ، وَالسَّمَوَاتُ إِلَى مِثْلِهِ مِنَ الْحَوْلِ ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنَةٌ يَتَّقِي بِهَا النَّارَ ، فَاتَّقُوا شَهْرَ رَمَضَانَ ، فَإِنَّ الْحَسَنَاتِ تُضَاعَفُ فِيهِ مَالا تُضَاعَفُ فِي سِوَاهُ ، وَكَذَلِكَ السَّيِّئَاتِ " .
[فضائل شهر رمضان لعبد الغني المقدسي » رقم الحديث: 43]





تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أمتي لم تخز ما أقاموا شهر رمضان قيل يا رسول الله وما خزيهم في إضاعة شهر رمضان قال انتهاك المحارم فيهفاختة بنت أبي طالبالمعجم الصغير للطبراني698247سليمان بن أحمد الطبراني360
2أمتي لن تخزى ما أقاموا صيام رمضان قيل يا رسول الله وما خزيهم في إضاعة شهر رمضان قال انتهاك المحارم فيهفاختة بنت أبي طالبالمعجم الأوسط للطبراني49674827سليمان بن أحمد الطبراني360
3أمتي لن تخزى ما أقاموا صيام شهر رمضان فقال رجل ما خزيهم في إضاعة شهر رمضان قال انتهاك المحارم فيهفاختة بنت أبي طالبمعجم أسامي شيوخ أبي بكر الإسماعيلي1592 : 511أبو بكر الإسماعيلي371
4أمتي لن يخزوا ما أقاموا شهر رمضان فقال رجل يا رسول الله ما خزيهم في إضاعة شهر رمضان قال انتهاك المحارم فيهفاختة بنت أبي طالبتاريخ جرجان للسهمي3951 : 293حمزة بن يوسف السهمي345
5أمتي لن تخزى ما أقاموا صيام رمضان قيل يا رسول الله وما خزيهم في إضاعة شهر رمضان قال انتهاك المحارم فيهفاختة بنت أبي طالبتاريخ بغداد للخطيب البغدادي352112 : 178الخطيب البغدادي463
6أمتي لن تخزى ما أقاموا صيام شهر رمضانفاختة بنت أبي طالبالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1210---عبد الكريم الرافعي623
7أمتي لن تخزي ما أقاموا صيام شهر رمضان فقال رجل ما خزيهم في إضاعة شهر رمضان قال انتهاك المحارم فيه من عمل سيئة زنا أو شرب لم يتقبل الله منه شهر رمضان ولعنه الله والملائكة والسموات إلى مثله من الحول فإن مات قبل أن يدرك شهر رمضان فليس له عند الله حسنة يتقي بفاختة بنت أبي طالبفضائل شهر رمضان لعبد الغني المقدسي4342عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي600









فضائل شهر رمضان، لابن أبي الدنيا   (المتوفی:281ھہ)

فضائل شهر رمضان، لابن شاهين  (المتوفی:385ھہ)

فضل شهر رمضان، لابن عساكر (المتوفی:571ھہ)

فضائل شهر رمضان، لعبد الغني المقدسي (المتوفی:600ھہ)







ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ




رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/۳۷۵، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیجیے کہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب ہوجائے۔
آپ غور فرمائیں کہ رمضان المبارک آنے سے دو ماہ پہلے ہی رمضان کا انتظار اوراشتیاق ہورہا ہے، اوراس کے حاصل ہونے کی دعا کی جارہی ہے، یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں رمضان کی صحیح قدروقیمت ہو۔
رمضان کے معنی
”رمضان“ عربی زبان کالفظ ہے، جس کے معنی ہیں ”جھُلسادینے والا“ اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آیا تو سخت اور جھلسادینے والی گرمی میں آیا تھا۔ لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی خاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گناہوں کو جھلسادیتے ہیں اورمعاف فرمادیتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ”رمضان“ کہتے ہیں۔ (شرح ابی داؤد للعینی ۵/۲۷۳)
رمضان رحمت کا خاص مہینہ
اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہوجاتی ہے، تو رمضان المبارک میںآ دمی اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کرسکتا ہے، دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کرسکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیادور شروع ہوجائے، جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعداس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا۔
روزے کا مقصد
روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اورایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایاجائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے، اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا، قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ آیت ۱۸۳) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے (روزوں کا یہ حکم تم کو اس لیے دیا گیا ہے) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
کیوں کہ یہ بات یقینی ہے کہ نفس انسانی انسان کو گناہ، نافرمانی اور حیوانی تقاضوں میں اسی وقت مبتلاکرتا ہے جب کہ وہ سیراور چھکاہوا ہو، اس کے برخلاف اگر بھوکا ہوتو وہ مضمحل پڑا رہتا ہے اور پھر اس کو معصیت کی نہیں سوجھتی، روزے کا مقصد یہی ہے کہ نفس کو بھوکا رکھ کر مادّی وشہوانی تقاضوں کو بروئے کار لانے سے اس کو روکا جائے تاکہ گناہ پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سُسْت پڑجائے اور یہی ”تقویٰ“ ہے۔
اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ عالم بالا کی پاکیزہ مخلوق (فرشتے) نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں اورنہ بیوی رکھتے ہیں، جبکہ روزہ (صبح صادق سے غروب آفتاب تک) انہی تین چیزوں (کھانا، پینا اور جماع) سے رکنے کا نام ہے، تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روزے کا حکم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم ان تینوں چیزوں سے پرہیز کرکے ہماری پاکیزہ مخلوق کی مشابہت اختیار کروگے تو ہماری اس پاکیزہ مخلوق کی پاکیزہ صفت بھی تمہارے اندر پیدا ہوجائے گی اور وہ صفت ہے: لاَیَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُوٴْمَرُوْنَ۔ (سورئہ تحریم) ترجمہ: وہ (فرشتے) خداکی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیاجاتا ہے اس کو فوراً بجالاتے ہیں۔ (بیان القرآن) اور اسی کاحاصل ”تقویٰ“ ہے۔
تقریباً اسی بات کو اس حدیث شریف میں بھی فرمایاگیاہے جو ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِکُلِّ شَیْءٍ زَکوٰةٌ وَزَکوٰةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ۔ (ابن ماجہ ص۱۲۵) ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ہے اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ”روزہ“ ہے۔
بہرحال روزے کا مقصد تقویٰ ہے، اسی تقویٰ کے حصول کے لیے اس آخری امت پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے اور روزے کا وقت طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھا گیا اور یہ زمانہ اِس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت وتربیت کے مقصد کے لیے بالکل مناسب اورنہایت معتدل مدت اور وقت ہے۔ پھر اس کے لیے مہینہ وہ مقرر کیاگیا جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (شبِ قدر) ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ یہی مبارک مہینہ اس کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور موزوں زمانہ ہوسکتاتھا، اسی کے ساتھ ساتھ اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیاگیا جس کو ”تراویح“ کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس مبارک مہینے کی نورانیت اور تاثیر میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ان دونوں عبادتوں کے احادیث شریفہ میں بہت زیادہ فضائل ارشاد فرمائے گئے ہیں، چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ وَمَنْ قَامَ رَمضََانَ اِیْمَانًا وَّ احتِسَابًا غُفِرَ لَہ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ (صحیح بخاری ۱/۲۷۰، صحیح مسلم۱/۲۵۹) ترجمہ: جو شخص ماہِ رمضان کے روزے رکھے بحالت ایمان اور بامید ثواب تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے اور جو شخص ماہِ رمضان میں کھڑاہو یعنی نوافل (تراویح وتہجد وغیرہ) پڑھے بحالت ایمان اور بامید ثواب اس کے بھی گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
تقویٰ کے حصول میں معاون چیزیں
لیکن صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ماہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غفلت کے پردوں کو دل سے دور کیاجائے، اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے، گزشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ ہوئے ان کو معاف کراکر آئندہ گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے استحضار اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ گناہ نہ کرنے کا داعیہ اور جذبہ دل میں پیدا کیا جائے، جس کو ”تقویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کی صحیح روح اوراس کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر ہم فائدہ نہیں اٹھاپائیں گے، بلکہ جس طرح ہم پہلے خالی تھے ویسے ہی خالی رہ جائیں گے، اس لیے چند ایسی چیزوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن پر عمل کرکے ہمیں روزے کا مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(۱) عبادت کی مقدار میں اضافہ
رمضان المبارک کی برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنی عبادت کی مقدار میں اضافہ کرنا ہے، دوسرے ایام میں جن نوافل کو پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی ان کو اس مبارک ماہ میں پڑھنے کی کوشش کریں، مثلاً: مغرب کے بعد سنتوں سے الگ یا کم از کم سنتوں کے ساتھ چھ (۶) رکعت اوّابین پڑھیں۔ (جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ اوّابین افطار کی نذر ہوجاتی ہیں) عشاء کی نماز سے چند منٹ پہلے آکر چار رکعت یادو رکعت نفل پڑھیں۔ سحری کھانے کے لیے اٹھنا ہی ہے تو چند منٹ پہلے اٹھ کر کم از کم چار رکعت تہجد پڑھ لیں۔ اسی طرح اشراق کی نماز اور اگراشراق کے وقت نیند کا غلبہ ہوتو چاشت کی چند رکعتیں تو پڑھ ہی لیں۔ ظہر کے بعد دو سنتوں کے ساتھ دو رکعت نفل اور عصر سے پہلے چار رکعت نفل پڑھ لیں۔ کیوں کہ نماز کا خاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا رشتہ جوڑتی ہے اوراس کے ساتھ تعلق قائم کراتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، جیساکہ حضرت ابوہریرہ سے مروی حدیث شریف میں ہے: اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہ وَہُوَ سَاجِدٌ (مسلم شریف حدیث ۱۱۱۱، باب ما یقال فی الرکوع والسجود) یعنی بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتاہے، تو گویا نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم تحفہ عطا کیاہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، آمین!
(۲) تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت
دوسرا کام یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کا خاص اہتمام کرنا ہے، کیوں کہ رمضان المبارک کے مہینے کو قرآن کریم کے ساتھ خاص مناسبت اور تعلق ہے، اسی مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا، ارشادِ مبارک ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ، (سورئہ بقرہ آیت ۱۸۵) خود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف۱/۳، حدیث۶) تمام بزرگانِ دین کی زندگیوں میں یوں تو قرآنِ کریم میں اشتغال بہت زیادہ نظر آتاہے، لیکن رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی تلاوت کے معمول میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ، چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس مبارک مہینے میں ایک قرآنِ کریم دن میں، ایک رات میں اور ایک تراویح میں، اس طرح اکسٹھ (۶۱) قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ ماضی کے ہمارے تمام اکابر (حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی،مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا شاہ عبدالرحیم رائپوری، شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا یحییٰ کاندھلوی، مولانا محمد الیاس کاندھلوی، شاہ عبدالقادر رائپوری، شیخ الحدیث مولانا زکریا مہاجر مدنی، فقیہ الامت مولانا مفتی محمودحسن گنگوہی، مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی، مولانا شاہ ابرارالحق ہردوئی، فدائے ملت مولانا سیداسعدمدنی وغیرہم) کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کریم کا معمول دیدنی ہوتا تھا۔ لہٰذا ہم کو بھی اس مبارک ماہ میں عام دنوں کے مقابلے میں تلاوت کی مقدار زیادہ کرنی ہے، عام آدمی کو بھی روزانہ کم از کم تین پارے پڑھنے چاہئیں، تاکہ پورے مہینے میں کم از کم تین قرآنِ کریم ختم ہوجائیں۔
(۳) تراویح میں قرآنِ کریم صحیح پڑھنے اور سننے کا اہتمام
اس مبارک مہینے میں ہرموٴمن کو اس بات کی بھی فکر کرنی ضروری ہے کہ تراویح میں قرآنِ مجید صحیح اور صاف صاف پڑھا جائے، جلدی جلدی اور حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے، کیوں کہ اس طرح قرآنِ کریم پڑھنا اللہ کے کلام کی عظمت کے خلاف ہے، نیز پڑھنے والے کو خود قرآنِ کریم بددعا دیتا ہے۔ (احیاء العلوم عن انس ۱/۲۷۴، فی ذمّ تلاوة الغافلین) اس طرح قرآن کریم پڑھنے والا اور سننے والے سب گنہگار ہوتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ حافظ صاحب نہایت تیزگامی کے ساتھ حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھتے چلے جارہے ہیں، ایک سانس میں سورئہ فاتحہ کو ختم کردیا جاتا ہے ، صحیح طریقے سے رکوع، سجدہ اور تشہد ادا نہیں ہورہا ہے، چالیس پینتالیس منٹ میں پوری نماز ختم، اب گھنٹوں مجلسوں میں بیٹھ کر گپ شپ ہورہا ہے اورحافظ صاحب وسامعین میں سے کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم نے قرآنِ کریم کی توہین میں کتنا حصہ لیا اور رمضان کی مبارک ساعتوں میں کتنی بے برکتی اور قرآن کریم کی کتنی بددعا لی؟ خدا را اس صورتِ حال سے بچئے اور اس مبارک مہینے میں برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کو اپنے اوپر بند نہ کیجیے اور صاف صحیح قرآن کریم پڑھنے اور سننے کا اہتمام کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔
(۴) استغفار کی کثرت
چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہے، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی پہلی، دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ”آمین“ فرمایا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین علیہ الصلاة والسلام میرے سامنے آئے تھے اورجب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، الیٰ آخر الحدیث (مستدرک حاکم ۴/۱۷۰، کتاب البر والصلة، الترغیب والترہیب ۲/۵۶)
ظاہر ہے کہ اس شخص کی ہلاکت میں کیا شبہ ہے جس کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام بددعا کریں اورحضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہیں، اس لیے اس مبارک مہینے میں نہایت کثرت کے ساتھ گڑگڑا کر اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔
(۵) دعا کا اہتمام
رمضان المبارک کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے دعاؤں کا اہتمام بھی لازم ہے، بہت سی روایات میں روزے دار کی دعا کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثَلٰثَةٌ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُہُمْ اَلصَّائِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ، الحدیث۔ (ترمذی شریف ۲/۲۰۰، حدیث ۳۵۹۸، مسند احمد حدیث ۹۷۴۳) ترجمہ: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی (ضرور قبول ہوتی ہے) ایک روزے دار کی افظار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی، تیسرے مظلوم کی بددعاء، اس کو اللہ تعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھالیتے ہیں اورآسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اورارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا گو(کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہوجائے۔
بہرحال یہ مانگنے کا مہینہ ہے، اس لیے جتنا ہوسکے دعا کا اہتمام کیا جائے، اپنے لیے، اپنے اعزہ واحباب اور رشتے داروں کے لیے، اپنے متعلقین کے لیے، ملک وملت کے لیے اور عالم اسلام کے لیے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں، اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(۶) صدقات کی کثرت
رمضان المبارک میں نفلی صدقات بھی زیادہ سے زیادہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا دریا پورے سال ہی موجزن رہتا تھا، لیکن ماہِ رمضان المبارک میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت ایسی ہوتی تھی جیسے جھونکے مارتی ہوئی ہوائیں چلتی ہیں (بخاری شریف ۱/۳) جو شخص بھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اس کو ضرور نوازتے۔ لہٰذا ہم کو بھی اس بابرکت مہینے میں اس سنت پر عمل کرتے ہوئے صدقات کی کثرت کرنی چاہیے۔
(۷) کھانے کی مقدار میں کمی
ساتویں چیز جس کالحاظ رمضان المبارک کے مقصد کو حاصل کرنے میں معاون ہے ”کھانے کی مقدار میں کمی کرنا“ ہے، کیوں کہ روزے کا مقصد قوتِ شہوانیہ وبہیمیہ کا کم کرنا اور قوتِ ملکیہ ونورانیہ کا بڑھانا ہے، جب کہ زیادہ کھانے سے یہ غرض فوت ہوجاتی ہے، بقول شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ افظار کے وقت تلافیٴ مافات میں (کہ پورے دن بھوکا رہا)اور سحر کے وقت حفظ ماتقدم میں (کہ پورے دن بھوکا رہناہے) اتنی زیادہ مقدار میں کھالیتے ہیں کہ بغیر رمضان کے بھی اتنی مقدار کھانے کی نوبت نہیں آتی جس کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، حقیقتاً ہم لوگ صرف کھانے کے اوقات بدلتے ہیں یعنی افظار میں، تراویح کے بعد اور پھر سحری میں، اس کے علاوہ کچھ بھی کمی نہیں کرتے، بلکہ مختلف قسم کی زیادتی ہی ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے قوتِ شہوانیہ و بہیمیہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہے اورمقصد کے خلاف ہوجاتاہے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا مَلَأ اٰدَمِیٌّ وِعَاءً شَرَّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ اٰدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہ فَاِنْ کَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہ وَثُلُثٌ لِنَفسِہ۔ (ترمذی شریف ۲/۶۰) یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی برتن کا بھرنا اتنا ناپسند نہیں جتنا پیٹ کا بھرنا ناپسند ہے،ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے کمرسیدھی رہے، اگر زیادہ ہی کھانا ہے تو ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے رکھے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔ البتہ اتنا کم نہ کھائے کہ عبادات کے انجام دینے میں اور دوسرے دینی کاموں میں خلل واقع ہو۔
(۸) گناہوں سے پرہیز
رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر موٴمن کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان اور زبان غلط استعمال نہیں ہوگی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز کرے، یہ کیا روزہ ہوا کہ روزہ رکھ کر ٹیلی ویژن کھول کر بیٹھ گئے اور فحش وگندی فلموں سے وقت گزاری ہورہی ہے، کھانا، پینا اورجماع جو حلال تھیں ان سے تو اجتناب کرلیا لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر کسی کی غیبت ہورہی ہے، چغل خوری ہورہی ہے، جھوٹے لطیفے بیان ہورہے ہیں، اس طرح روزے کی برکات جاتی رہتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَةٌ فِیْ اَن یَّدَعَ طَعَامَہوَشَرَابَہ۔ (صحیح بخاری ۱/۲۵۵) ترجمہ: جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات ومنکرات سے بھی زبان ودہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے، اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی پروا نہیں۔ (معارف الحدیث۴/۰۰۰۰)
ایک اور حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ صِیَامِہ اِلَّا الْجُوْعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ قِیَامِہ اِلَّا السَّہْرُ۔ (سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۹۰۔ سنن نسائی حدیث ۳۳۳۳) ترجمہ: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں سے بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر گناہوں (غیبت وریا وغیرہ) سے نہ بچے تو روزہ، تراویح اور تہجد وغیرہ سب بیکار ہے۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مَالَمْ یَخْرِقْہَا۔ (نسائی شریف حدیث ۲۲۳۳، مسند احمد حدیث ۱۶۹۰) ترجمہ: روزہ آدمی کے لیے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ یعنی روزہ آدمی کے لیے شیطان سے، جہنم سے اور اللہ کے عذاب سے حفاظت کا ذریعہ ہے، جب تک گناہوں (جھوٹ وغیبت وغیرہ) کا ارتکاب کرکے روزے کو خراب نہ کرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ایک حدیث شریف میں ہے کہ اگر روزے دار سے کوئی شخص بدکلامی اور جھگڑا وغیرہ کرنے کی کوشش کرے تو روزے دار کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔ یعنی میں ایسی لغویات میں پڑکر روزے کی برکات سے محروم ہونا نہیں چاہتا۔ (صحیح بخاری ۱/۲۵۴، حدیث ۱۸۹۴، صحیح مسلم حدیث ۱۱۵۱)
ان تمام احادیث شریفہ کا مدعا یہ ہے کہ روزے کے مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے لیے معصیات ومنکرات سے پرہیز نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر تقوے کی سعادت سے متمتع نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق بخشے اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین!

$ $ $




روزہ اور رمضان کی اہمیت
استقبالِ رمضان
ماہِ رمضان بڑی فضیلت،عظمت،رحمت،مغفرت اور برکت کا مہینہ ہے،رمضان کی صحیح قدرو قیمت کا احساس در اصل اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کو تھا ،اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم رجب کے مہینے کے شروع ہوتے ہی رمضان کا استقبال و انتظار فرمایا کرتے تھے،بلکہ پوری امت کو یہ حکم فرمایا کہ :”احصوا ہلال شعبان لرمضان“․رمضان کے لیے شعبان کے چاندکو اچھی طرح یاد رکھو۔(ترمذی) اور رمضان تک پہنچنے کی دعا مانگناشروع فرما دیا کرتے تھے،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:”اللّٰھمَّ باَرِکْ لَنَافِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان“اے اللہ!ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔(مسند احمد ،رقم الحدیث2228)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب رمضان کا چاند دیکھتے تو قبلہ کی طرف رخ فرما کر یہ دعا فرمایا کرتے تھے :اے اللہ!اس(چاند) کو ہمارے اوپر امن وایمان اور سلامتی واسلام ،وعافیت داربنا ،بیماریوں سے حفاظت اور روزے ،نماز(وتراویح)اور قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ مزّین رکھیے،یا اللہ! ہمیں رمضان کے لیے اور رمضان کو ہمارے لیے سلامتی وعافیت کے ساتھ رکھیے،اور رمضان اس حال میں مکمل ہو کہ آپ نے ہماری مغفرت فرما دی ہو اور ہم پر رحم فرما دیا ہو اور ہمارے قصور معاف کر دیے ہوں۔ (فضائل رمضان لابن ابی الدنیا ،رقم الحدیث20)۔

بعض احادیث میں یہ دعا منقول ہے:اے اللہ!مجھے رمضان کے لیے اور رمضان کو میرے لیے صحیح سالم رکھیے اور رمضان کو میرے لیے سلامتی کے ساتھ قبولیت کا ذریعہ بنا دے۔(کنزالعمال)

رمضان کی نسبت اللہ کے ساتھ:حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر ودیلمی ،فیض القدیر)

رمضان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان کی خاطر چاند دیکھنے اور شعبان کے چاند کی تاریخوں کو یاد کرنے کا حکم دیااور فرمایا:شعبان کے چاند(اور اس کی تاریخوں)کے حساب کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تا کہ رمضان کا حساب صحیح ہو سکے(ترمذی واللفظ لہ،سنن دار قطنی،السنن ا لکبری)۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم شعبان کے(چاند اور اس) مہینے کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے،پھررمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے اور اگر(29شعبان)کو چاند دکھائی نہ دیتا تو تیس (شعبان کے)دن پورے کرکے پھر رمضان کے روزے رکھتے تھے۔(ابو داود،مسند احمد،سنن دار قطنی)

آپ صلی الله علیہ وسلم اس مہینے میں عبادت واطاعت کا اور زیادہ اہتمام فرماتے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے :جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتاتھااور آپ صلی الله علیہ وسلم کی نمازوں میں زیادتی ہو جاتی تھی اور دعاوٴں میں تضرع وزاری بڑھادیتے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا رنگ سرخ ہو جاتا تھا ۔(شعب الایمان للبیھقی)ایک دوسری جگہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے :کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا تھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم اپنا تہبند کس لیتے تھے پھر اپنے بستر پر نہیں آتے تھے یہاں تک کہ رمضا ن کا مہینہ گزر جاتا۔ (شعب ا لایمان للبیھقی)

معلی ابن الفضل تابعی فرماتے ہیں :صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین رمضان سے چھ مہینے پہلے اللہ سے دعائیں مانگنا شروع فرما دیا کرتے تھے کہ:اے اللہ!ہمیں رمضان تک پہنچا دے اور رمضان کے بعد چھ مہینے تک یہ دعا کیا کرتے تھے کہ:اے اللہ!رمضان میں جو عبادتیں کیں ان کو قبول فرما ۔

ہمارے بزرگوں کا معمول بھی رمضان میں اپنے آپ کو دیگر مصروفیات سے فارغ کرنے کا تھا۔لہٰذا ہمیں بھی رمضان کا استقبال اور انتظار کرنے کے لیے مذکورہ باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے:
1...یہ دعا کی جائے کہ اللہ ہم کو بخیر وعافیت رمضان تک پہنچائے اور پھر رمضان کی رحمت،خیروبرکت سے خوب استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
2...دوسری مصروفیات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
3...رمضان کے جو کام پہلے ہو سکتے ہیں ان کو پہلے کر لیں اور جو کام موٴخر ہو سکتے ہیں ان کو موٴخر کریں۔
4...29شعبان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کریں۔
5...رمضان سے پہلے ہی گناہوں سے پکی وسچی توبہ کر کے اپنے گناہوں کی بخشش اور دل کی صفائی کر لیں تا کہ پہلے ہی دن سے رمضان کی برکتوں سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں۔

روزے کی اہمیت
روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے،اللہ رب العزت نے فرمایا:اے ایمان والو! تمہارے اوپر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے،تاکہ تم متقی بن جاوٴ۔(سورہ بقرہ:183)

1... روزہ گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ روزہ رکھا اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابوداوٴد، ترمذی)
2... روزہ گناہوں سے ڈھال ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دے۔
3... روزہ جہنم کی آگ سے بچاوٴ کا مضبوط قلعہ ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ ڈھال ہے اور جہنم کی آگ سے بچاوٴ کا مضبوط قلعہ ہے۔(شعب الایمان،کتاب الصیام،مسند احمد:رقم الحدیث:8857)
4... روزہ جہنم کی آگ سے ہزاروں میل دوری کا سبب ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھا تو اللہ تعالی اس کو جہنم سے اتنا دور فرمادیتے ہیں کہ جتنی مقدار کوّا اپنی عمر کی ابتداء سے بوڑھے ہو کر مرنے تک اڑتے ہوئے مسافت طے کرتا ہے۔ (شعب الایمان،کتاب الصیام،مسند احمد:رقم الحدیث:10388)
5... روزہ بہترین سفارشی ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ اور قرآن سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔
6... روزہ دار کی نیند عبادت،سانس لینا، تسبیح اوردعا مقبول ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ دار کی نیند عبادت ہے،اس کاسانس لینا تسبیح ہے،اوراس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔(حلیة الاولیاء،کنزالایمان)
7.... روزہ دار کے لیے جنت کی حور آراستہ اور مزین کی جاتی ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:کہ جنت ماہِ رمضان کے لیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہے،اورحوریں بھی روزہ داروں کے لیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہیں۔(شعب الایمان:کتاب الصیام،رقم الحدیث:3359)
8... روزہ دار کے لیے جنت میں داخلے کا اسپیشل گیٹ…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں ایک دروازہ ہے اس کا نام ”ریّان“ہے اورقیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار داخل ہونگے،کہاجائے گا”روزے دار کہاں ہیں؟“،پھر وہ کھڑے ہو جائیں گے اورجب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تووہ دروازہ بند کر دیاجائیگا۔ (بخاری،مسلم)
9... روزہ جسم کی زکوة ہے(شعب الایمان،کتاب الصیام)روزہ رکھو تندرست رہو۔

رمضان اور روزے کے فضائل پر قرآن وحدیث میں بیسیوں دلیلیں موجود ہیں ،سب کا مقصدیہ ہے کہ رمضان کا مہینہ ہمارے لیے حاضر ہو گیا ہے،یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک پیکج ہے جس کی مدت بہت محدود ہے،جس قدر چاہیں ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور فائدہ وہی اٹھاتا ہے جو عقل مند ہو،اگر آپ اپنے آپ کو عقل مندوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں تو خوب خوب فائد ہ اٹھا کر اپنے عقل مند ہونے کا ثبوت دیں۔

حدیث مبارکہ میں ہے:
رمضان کی پہلی رات ہی سے شیطانوں،اور سر کش جنوں کو قید کر دیا جا تا ہے، اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جا تا ہے اور ان میں سے کو ئی دروا زہ بھی کھلا نہیں رہتا ،اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جا تا ہے اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ” اے خیر کے طلب کرنے والے! آگے بڑھ، اور اے شر کے طلب کرنے والے! رک جا“ اور اللہ کی طرف سے دوزخ سے بہت سے لوگ آزاد کیئے جا تے ہیں اور یہ واقعہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔

حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ:بلا شبہ جنت ماہ رمضان کیلیے شروع سال سے اخیر تک سجائی جا تی ہے، اور حوریں بھی رمضان کے روزے رکھنے والوں کیلیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہیں، جب رمضان شریف کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت (اللہ تعالی) سے عرض کرتی ہے اے اللہ ! اس مبارک مہینہ میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے میرے اندر قیام کرنے والے مقرر فرما دیجئے؛( جو عبا دت کر کے میرے اندر داخل ہو سکیں)اور (اسی طرح) حوریں بھی عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ ذوالجلال! اس با برکت مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے واسطے کچھ خاوند مقرر فرما دیجئے۔

رمضان آچکا ،آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے،جنت کے دروازے کھول دئیے گئے،رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے،جہنم کے دروازے بند کردئے گئے،سرکش شیاطین کی گردن میں طوق ڈال کر سمندروں میں پھینک دیا گیا،رمضان کورحمت مغفرت اور بخشش کاذریعہ بنادیا گیا،چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ رمضان کا اول حصہ رحمت ہے اور اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔

ہماری بھرپور کوشش ہونی چاہیے کہ اس ماہِ مبارک میں اپنے اللہ کو راضی کرلیں ،اپنے گناہوں کی بخشش کروالیں،وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سید الملائکہ کی بد دعا ہو اور سید الانبیاء کی آمین ہو،ایک روایت میں ہے کہ:حضور صلی الله علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لائے، اور اپنے منبر کے پہلے درجے پر قدم مبارک رکھا تو فرما یا :آمین، جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرما یا :آمین جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا :آمین،جب آپ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو ہم (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین)نے عرض کیا کہ: ہم نے آج آپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی ،آپ صلی الله علیہ وسلم سے فرما یا ، کیا تم نے بھی وہ بات سنی ہے؟ ہم نے عرض کیا جی ، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے( جب پہلے درجے پر میں نے قدم رکھا تو)انہوں نے کہا :ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اسکے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھا پے کو پائے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائے میں نے کہا :آمین! پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا :ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ صلی الله علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے میں نے کہا :آمین! پھر انہوں نے کہا کہ: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضا ن المبارک کا مہینہ پایاپھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی ،میں نے کہا :آمین۔

اس بد دعا کی قبولیت میں کس کو شک ہو سکتا ہے؟لہذا اس حدیث کو ہر وقت سامنے رکھیں ،اور یہ خیال رہے کہ اس بد دعا میں ہم داخل نہ ہو جائیں۔ جبکہ روزہ رکھنے سے آدمی اللہ کا محبوب بن جاتا ہے کہ روز ہ دار کے منہ کی بو (جو معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے)اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیا دہ پاکیزہ(اور پسندیدہ ہے)کما فی الحدیث۔

روزے کا صلہ اللہ جل شانہ خود دیتے ہیں ،چناچہ ایک روایت میں ہے:اللہ عزوجل فرما تے ہیں کہ: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا ، دوسری روایت کے مطابق اللہ فرماتے ہیں:روزہ کا بدلہ میں خود ہوں۔اسی محبت کی وجہ سے فرمایا کہ:روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ کے ہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے“،اوریہ محبت ہی تو ہے کہ محبوب کو محب سے ملاقات میں مزہ آتا ہے ،فرمایا:کہ روزہ دار کو اپنے رب سے ملاقات کے وقت فرحت ملے گی۔

روزہ دار کے اعزاز کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جنت میں داخلہ کے لیے اللہ نے روزہ داروں کے لیے ایک علیحدہ دروازہ کا اہتمام فرمایا جیساکہ حدیث میں ہے جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ”ریاّن“ ہے۔اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار داخل ہونگے ، قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے روزہ داروں کا نام لے کر بلا یا جائے گا ۔ وہ اس دعوت پر کھڑے ہونگے ، اور ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازہ سے داخل نہ ہوگا۔

رمضان کس طرح قیمتی بنائیں
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے :” ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس پر رمضان کا مہینہ گزر گیا اور اس نے اپنے گناہ نہ بخشوائے۔ “،آج رمضان کا مہینہ آتا ہے اور گزر جاتا ہے مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ،معمول کی طرح زندگی چل رہی ہوتی ہے ،احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم پر رمضان کا مہینہ گزر رہا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سستی کرتے ہیں اور رمضان کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں ،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں اور کوشش کریں کہ ہمارا رمضان اس طرح گزرے جس طرح ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم گزارا کرتے تھے،اصحابِ پیغمبر گزارا کرتے تھے ،اسلافِ امت اور اکابرین گزارا کرتے تھے،اس کے لیے ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ ٹائم ٹیبل اور نظام الاوقات کے ساتھ گزارنا ہوگااور رمضان کے لیے ایک مضبوط پلاننگ اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے دستور العمل تیار کرناہوگا،تاکہ اس ماہ میں کسی بھی خیرکے کام اور اللہ کے وعدوں سے محروم نہ ہوسکیں اور رمضان کے یہ قیمتی اوقات اور ساعتیں قیمتی سے قیمتی تر ہو سکیں،لہٰذا دیگر امور اور معاملات کو جتنا موٴخر کر سکتے ہیں ان کو موٴخر کریں،اگر رمضان میں چھٹی کا اختیار ہو اور پیچھے معاملات میں حرج نہ آتا ہو تو چھٹی کریں،اگر چھٹی کا اختیار نہ ہو توکم از کم اپنے اوقات کو ایسا مرتب کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی براہِ راست عبادت میں گذر جائے۔چناں چہ:

1...سب سے پہلے پکی وسچی توبہ کریں،تاکہ گناہوں سے پاک وصاف ہوکررمضان کے انوارات اور برکات سے مستفید ہو سکیں۔
2... اخلاص کے ساتھ روزہ کا اہتمام کریں …آج کل دین سے بہت دوری ہونے کی وجہ سے بعض مسلمان روزوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے اور اکثر روزہ چھوڑ دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ روزے اور رمضان کے تمام فضائل سامنے رکھتے ہوئے اور بندگی بجا لاتے ہوئے اخلاص کے ساتھ روزوں کا اہتمام کریں۔
3...تراویح کا باجماعت اہتمام کریں…کیوں کہ تراویح مغفرت کا ذریعہ ہے کہ اللہ کے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” من قام رمضان إیماناً واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ،“جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس کے گذشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، تراویح کے واسطہ سے روزانہ اللہ کے چالیس مقاماتِ قرب حاصل ہوتے ہیں،سجدہ مقامِ قرب ہے،اور یہی سجدہ معراج کے دن تحفہ میں ملا،پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے” الصلوة معراج الموٴمن“فرماکر اس کو موٴمن کی معراج قرار دیا۔اللہ ربّ العزت نے بڑے عجیب انداز سے اس بات کو قرآنِ کریم میں سمجھایا،فرمایا:”واسجد واقترب“کہ سجدہ کرو اور ہمارے قریب آجاوٴ۔
4...تلاوت قرآنِ کریم کی کثرت کریں…رمضان اور قرآن میں ایک خاص مناسبت اور جوڑ ہے،اسی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم،صحابہ کرام اور بزرگانِ دین اس ماہِ مقدس میں اور دنوں کی بنسبت تلاوت کلامِ پاک کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے،حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ایک قرآن دن میں،ایک رات میں اور ایک تراویح میں،اسی طرح پورے رمضان میں اکسٹھ قرآن کریم کے ختم فرماتے تھے،علامہ شامی رحمہ اللہ روزانہ ایک قرآن ختم فرماتے تھے۔
5...سنتوں اورنوافل کا اہتمام کثرت سے کریں…ایک تو اس وجہ سے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”من تقرب فیہ بخصلة من الخیر کان کمن أدی فریضة فیماسواہ“رمضان میں نفل پر فرض کا ثواب ہوگا،دوسرا اس وجہ سے کہ جب نوافل کا اہتمام کیا جائے تو سنتوں پر پختگی ہوتی ہے اور جب سنتوں کا اہتمام کیا جائے تو فرائض پر پختگی ہوتی ہے،جب کہ رمضان میں ایک فرض کی ادائیگی سے ستر فرضوں کا ثواب ملتا ہے،تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن فرائض کی کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا۔

لہٰذا سنت موٴکدّہ اورغیر موٴکدہ کی پابندی کے ساتھ مندرجہ ذیل نوافل کا بھی اہتمام کیا جائے:
تہجد…سحری کے لیے تو بیدار ہوتے ہی ہیں صرف اتنا اہتمام کر لیا جائے کہ سحری سے آگے پیچھے تھوڑا سا وقت نکال کرچند رکعات نماز پڑھ لی جائیں۔کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ فرائض کے بعد سب سے افضل نماز تہجدکی نماز ہے(ترمذی:90)َ،نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جو رات کو اٹھے اوراپنے اہل کو بھی اٹھا کر دو رکعت نفل پڑھے تو ان کانام ذکر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے “(ابن ماجہ)۔

اشراق (2سے 8 رکعت)… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ جل شانہ فرماتے ہیں ”کہ اے ابن آدم!تو دن کے شروع حصہ میں چار رکعت نمازخالص میرے لیے پڑھ،میں تجھ کو اس دن کی شام تک کفایت کرونگا“(ترمذی)۔

صلا ة الضحی یعنی چاشت(6سے 12 رکعت )…نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے”کہ جو شخص چاشت کی دورکعت میں مواظبت(پابندی) اختیار کرے، اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں“ (ترمذی:1/108)۔

صلاةالاوابین( 6سے 20 رکعت )…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :” کہ جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھیں اور درمیان میں کوئی بری بات نہیں کی اس کو بارہ(12)سال کی عبادت کے برابر ثواب ملتا ہے “،اور فرمایا:”کہ جس نے بیس(20)رکعت پڑھیں اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“ (ترمذی:1/98)

تحیة الو ضو…جب بھی وضو کریں تو اگر مکروہ وقت نہ ہو تو کم ازکم دورکعت پڑھ لیں۔یہی وہ نماز ہے جس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اس مقام پر فائز کیا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ،اے بلال( رضی اللہ عنہ!)تمہارا وہ کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے جنت میں تمہارے جوتوں کی کھٹکھٹاہٹ میں نے اپنے سامنے سنی،حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا،اے اللہ کے رسول !اور تو کوئی عمل یاد نہیں لیکن جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس سے نماز ضرور پڑھتا ہوں…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کریگا اس کے لیے جنت واجب ہوگی۔

تحیة المسجد …جب بھی مسجد میں داخل ہوں تو کم از کم دو رکعت پڑھ لیا کریں۔(ترمذی:1/71)

صلاة تسبیح …جس کے بارے میں اللہ کے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے اپنے چچا کو فرمایا،اے چچا میں آپ عطیہ نہ دوں،ہدیہ وگفٹ نہ دوں،کیا (بڑی) خبر نہ دوں،جب آپ یہ کام کروگے تو اللہتعالیٰ آپ کے اول وآخر،قدیم وجدید ،اور عمداً(وسہواً)،صغیرہ وکبیرہ،پوشیدہ وظاہرسب گناہ بخش دیگا،یہ نماز اگر ہر دن ہو سکے تو پڑھو ،ورنہ ہر جمعہ،ورنہ سال میں ایک دفعہ،اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے توعمر میں ایک دفعہ (ضرور)پڑھو۔

صلاةالحا جہ…جب بھی کوئی حاجت پیش آئے تو نماز پڑھیں۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ”کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم میرے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالی مجھے بینائی عطا فرمائیں حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اگر تم صبر کرو تو بہت ثواب ہوگا اگر کہو تو میں دعا کروں، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ دعا فرمائیے، اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کو صلاةالحاجة کی تعلیم فرمائی، جسے پڑھ کر اللہ تعالی نے دوبارہ بینائی عطا فرمائی“۔(ترغیب وترھیب :174)

صلاة التوبہ…حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کہ کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس کے بعد فورا ًطہارت کرکے دورکعت نماز پڑھے، پھر اللہ تعالی سے مغفرت چاہے اللہ جلّ شانہ اس کے گناہ بخش دے گا“(ترمذی:1/92)۔

صدقات کی کثرت…آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو ٹھنداکرتا ہے اوربری موت کو ٹالتا ہے“اور فرمایا: ” تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے کیوں نہ ہو “۔(ترغیب وترہیب:221)

ذکراللہ کی کثرت…(تیسرا کلمہ ، درودشریف اور استغفار صبح وشام سو سودفعہ۔)․ذکر اللہ کی کثرت:جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ پاگل ہے“          اور فرمایا:”کہ اللہ جل شانہ کا ایسا ذکر کرو کہ منا فقین کہیں کہ یہ ریاکار ہے“۔(ترغیب وترہیب:383)

گناہوں سے بچنے کا اہتمام…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جو جھوٹ بولنااور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔(بخاری وترمذی)

دعا کی کثرت …حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کہ اگر کوئی چاہے کہ اللہ تعالی تنگی اور مصیبت کے وقت اس کی دعا ئیں قبول فرمائے تو اس کو چاہیے کہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کیا کرے ۔(ترمذی)

اللہ ربّ العزت ہم سب کو رمضان کی قدر کی توفیق نصیب فرمائے۔






ماہِ رمضان اور سخاوت
اہل عرب کی جو بنیادی صفات زمانہٴ جاہلیت کی مذکور ہیں وہ یہ کہ ان میں شجاعت بہت زیادہ تھی، اور سخاوت بھی ان کا طرہٴ امتیاز تھا، جاہلی دور میں ہزار ہا خرابیوں کے باوجود یہ بنیادی خوبیاں اسلام سے قبل بھی ان میں ودیعت تھیں، اسلام نے ان صفات کو مزید نکھار ا، ان کے لئے مرنا کوئی دشوار ومشکل نہ تھا؛ لیکن اسلام نے انہیں اسلام کے لئے مرنا سکھایا، اسی طرح مال خرچ کرنا مہمانوں کی ضیافت جو سخاوت ہی کا اثر ہے ان کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا، ابو ذر غفاری اسلام قبول کر نے کے لئے مکہ مکرمہ آئے ہوئے ہیں؛ مگر تین دن تک حضرت علی نے ان سے بغیر کسی گفت گو کے ضیافت فرمائی، نیز اہل عرب میں زمانہٴ جاہلیت میں بھی سخاوت بہت ہی زیادہ رائج تھی، جس کا عربی اشعار سے بھی بخوبی اندازہ ہوتاہے، نیز حضرت خدیجہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی جو صفات بیان کیں ہیں ان میں یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ ”انک تقری الضیف“کہ آپ صلی الله علیہ وسلم مہمانوں کی ضیافت فرماتے ہیں، مہمان نوازی در حقیقت سخاوت ہی کا اثر ہے۔

رمضان المبارک میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے معمولات میں یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم تیز وتند ہوا کی طرح سخاوت ، فرمایا کرتے تھے۔(بخاری1/3)

تیز وتند آندھی سے اس لئے تشبیہ دی گئی کیوں کہ اس آندھی کا نفع وفائدہ ہر ایک کو پہنچتا ہے اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کی سخاوت اور رحمت کا اثر سب کو پہنچتا ہے، اس حدیث سے امام نووی نے کچھ فوائد ذکر فرمائے ہیں: ہر وقت انسان سخاوت کرے، رمضان میں خیر کی راہوں میں خرچ کرنے میں اضافہ ہونا چاہئے، نیک لوگوں کے ا جتماع پر خرچ کرے، نیکوکاروں کی زیارت کے موقع پر خرچ کرے۔(فتح الباری 1/31)

ایک اور حدیث میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا معمول کچھ یوں ذکر کیا گیا کہ جب رمضان آجاتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم ہر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر مانگنے والے کو عطا کردیتے۔ (طبقات الکبری1/99)

ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے کسی سائل کو کبھی ”لا“ نہیں کہایعنی انکار نہیں فرمایا، اس کے سوال کو ٹالا نہیں، کبھی کسی بھی مانگنے والے کو واپس نہیں لوٹایا۔ (فتح الباری1/31)

حافظ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852) فرماتے ہیں: ر مضان میں چوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم قرآن کریم کا زیادہ دور فرماتے تھے، اور قرآن کریم کے ورد سے دل میں استغناء کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور یہی استغناء کی کیفیت انسان کو سخاوت کی راہ پر ڈالدیتی ہے، نیز رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیگر دنوں کے مقابلہ میں زیادہ نعمتوں سے نوازتے ہیں اسی سنت الہیہ کو اپناتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم بھی رمضان میں اپنی امت پر زیادہ خرچ کرتے تھے۔(فتح الباری1/31)

اسی کا اثر تھا کہ صحابہ کرام اور بزرگانِ دین بالخصوص رمضان المبارک میں سخاوت میں اضافہ کو ترجیح دیا کرتے تھے، ابن عمر رمضان میں افطار یتیموں ، مسکینوں کے ساتھ فرماتے تھے،بیت المال ان کے لئے کثیر مقدار میں نفقہ جاری کرتا تھا پھر بھی کچھ جمع کرکے نہ رکھتے تھے، ایوب بن وائل کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر کے پاس چار ہزار درہم اور ایک چادر آئی، دوسرے دن ایوب نے ابن عمر کو دیکھا کہ وہ بازار میں جانور کے لئے ادھار گھاس خرید رہے ہیں، جب ایوب بن وائل نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ابن عمر نے وہ رقم ایک فقیر کو ہدیہ دے دی۔ (المعجم الوسیط) 

امام شافعی فرماتے ہیں: میں لوگوں کے لئے رمضان میں سخاوت کو زیادہ پسند کرتا ہوں، اس میں لوگوں کا فائدہ زیادہ ہے کیوں کہ لوگ عبادتوں میں روزوں میں مشغول ہوتے ہیں(طبقات الشافعیہ) حماد بن ابی سلیمان رمضان کے مہینے میں پانچ سو افراد کو افطار کرواتے، انہیں عید میں ہر ایک کو سو درہم عطا کرتے، محمد بن احمد اصحاب علم وفضل میں ان کا شمار ہے، اہل علم فقراء پر ان کا احسان مشہور تھا، یہ رمضان میں فقراء کے لئے افطار کا سامان مہیا فرماتے۔(طبقات الشافعیہ1/182)

امام زہری فرماتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ تو تلاوت قرآن اور لوگوں کو کھانا کھلانے کا ہے۔

رمضان میں سخاوت کا فائدہ
1...یہ بابر کت مہینہ ہے عامل کے اجر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
2...روزہ داروں اور شب بیداروں کی امداد کرنے سے ان کی عبادتوں کے مثل اجر کے ہم بھی مستحق ہوں گے، کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا اس کو بھی روزہ دارکے اجر میں کمی کئے بغیر ویسے ہی اجر ملے گا۔
3...رمضان خو دایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس مہینہ میں اپنے بندوں پر سخاوت کرتا ہے، رحمت کے ذریعہ ،مغفرت کے ذریعہ ، آگ سے آزادی کے ذریعہ بالخصوص شب قدر میں بندے بھی بندوں پر سخاوت میں مشغول رہیں۔
4...روزہ اور صدقہ کا اجتماع ہوجائے گا یہ دونوں جنت کو واجب کرنے والے ہیں، ایک حدیث میں آتاہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ اس کے ظاہری حصے سے اندرونی نظارہ ہوگا اور باطن سے ظاہری نظارہ ہوگا، صحابہ کرام نے سوال کیا وہ کس کے لئے ہوگا یارسول اللہ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے گفت گو عمدہ کی اور کھانا کھلایا، اور روزہ پر مداومت کی، اور را ت میں نماز ادا کی جب کہ لوگ آرام کررہے ہوں، بعض اسلاف کا کہنا ہے کہ نماز انسان کو آدھے راستے تک پہنچادیتی ہے اور روزہ بادشاہ کے دربار تک، اور صدقہ ہاتھ پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے سوال کیا کس نے صبح روزے کی حالت میں کی؟ ابو بکر نے فرمایا: میں نے، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے سوال کیا کون جنازے کے ساتھ گیا تھا ؟ابو بکر نے فرمایا: میں ، پھر سوال ہوا کہ کس نے صدقہ کیا؟ ا س پر ابو بکر نے جواب دیا : میں نے، پھر سوال کیا؟ کس نے مریض کی عیادت کی؟ آپ نے جواب دیا: میں نے،یہ سن کر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں جس میں بھی جمع ہوجائیں وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
5...نیز صدقہ روزے کے خلل کمی نقصان کو پورا کردیتا ہے، اسی لئے جن افراد سے روزہ نہیں ہوسکتا انہیں فدیہ دینے کا حکم دیا گیا؛ لہٰذا روزے کی کمی کی تکمیل کے لئے صدقہٴ فطر کو واجب قرارد یاگیا، الغرض رمضان المبارک کا معظم مہینہ مالداروں سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں اپنے مالوں سے غرباء کا حق نکالیں اور انہیں پہنچانے کا اہتمام کریں، اور اپنے دلوں سے بے نیازی واستغناء پیدا کرتے ہوئے مال کو راہِ خدا میں لٹادیں، اس لئے کہ مال، تو سال بھر آتا جاتا رہے گا لیکن رمضان کا مبارک مہینہ زندگی میں بار بار نصیب نہیں ہوتا، کم از کم اپنا معمول یہ بنائیں کہ ہم اپنے مال سے فرض زکوٰة کے علاوہ اتناحصہ غرباء پر خرچ کریں گے، اور اس پر عمل بھی کریں ان شاء اللہ بہت زیادہ نفع ہوگا، اس لئے کہ راہِ خدا میں دینا در حقیقت اپنے ہی گھر کو بھر لینا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ہمیں سخی بناوے، اور ماہِ رمضان سے کما حقہ استفادہ کی توفیق نصیب فرمائے، آمین!






رمضان اورتلاوتِ قرآن
رمضان المبارک کو قرآن کریم سے گہری مناسبت ہے، امام رازی لکھتے ہیں: روزہ اور نزول قرآن کے درمیان گہرا تعلق ہے، جب یہ مہینہ نزولِ قرآن کے ساتھ خاص کیا گیا تو ضروری تھا کہ یہ مہینہ روزوں کے ساتھ بھی خاص ہو۔(تفسیر کبیر3/98) حضرت موسی علیہ السلا م کو جب اللہ تعالیٰ نے کتاب دینے کاارادہ کیاتو انہیں ایک ماہ تک روزہ رکھنے کا حکم دیا، پھر اس کے بعد دس دن کا اضافہ کیا ،اس کے بعد کلام الہٰی عطاکیا گیا؛ اسی لیے آپ صلی الله علیہ وسلم رمضان المبارک میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں طویل قرأت فرماتے ، ایک رات رمضان میں حضرت حذیفہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نیت باندھ لی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے سورہ بقرہ پڑھی، پھر سورہٴ نساء، پھر سورہٴ آل عمران، کسی بھی آیت تخویف پر سے گذرتے تو رکتے، دو ہی رکعت میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا کہ حضرت بلال آگئے، نماز کے لیے اذان دے دی،(مسند احمد) امام نسائی نے نقل کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے چار رکعات نماز ادا کی تھی ، آپ صلی الله علیہ وسلم کے اسی اہتمام کو دیکھ کر بعض اسلاف رمضان کی تین راتوں میں ختم فرماتے، بعض لوگ ہر ہفتہ ایک قرآن اور بعض افراد ہر دس دن میں ایک قرآن ختم کرنے کا اہتمام کرتے۔(لطائف المعارف1/11)

قرآن کریم کی تلاوت کے فضائل وفوائد بے شمار ذکر کیے گئے ہیں؛اسی لیے اکابراولیائے کرام تلاوتِ قرآن کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے؛ چناں چہ بعض بعض افراد کے تلاوتِ قرآن کے ایسے محیر العقول واقعات ہیں، جنہیں دیکھ کر سوائے حیرانگی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا؛ لہٰذا ایسے ہی چند واقعات کو تاریخ کی کتابوں سے یہاں نقل کیا جارہا ہے، جسے پڑھ کر ہم بھی اس ابدی وسرمدی کتاب کی تلاوت کی طرف متوجہ ہوں، اس کی تلاوت کے ذریعہ اپنی دنیا وآخرت کو سنواریں۔

٭.. امام بخاری… رمضان کی پہلی رات میں اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے، ان کی امامت فرماتے، ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت فرماتے، نیز اسی ترتیب پر قرآن ختم فرماتے، ہر دن سحری تک قرآ ن کریم کا ایک تہائی حصہ تلاوت فرماتے، اس طرح تین رات میں قرآن ختم فرماتے اورر مضان کے ہر دن میں ایک قرآن ختم کرتے اور یہ ختم افطار کے موقعہ پر ہوتا اور ہر مرتبہ ختم کرتے ہوئے دعاء کا اہتمام کرتے۔ (فتح الباری1/481)

٭..امام احمد… امام احمد دن رات میں سو رکعت نماز پڑھتے تھے، جب کوڑے لگنے سے کمزور ہوئے تو رات دن میں ڈیڑھ سو رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، حالاں کہ عمر اس وقت اسی برس کے قریب تھی، ہر سات دن میں ایک ختم فرماتے، ہر سات راتوں میں ایک قرآن مجید ختم فرماتے، عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر سوتے پھرصبح تک نماز دعا میں رہتے، امام احمد نے پانچ حج کئے جس میں تین پیدل تھے اور دو حج سوار ہو کر۔ (صفة الصفوة 1/484)

٭.. زھیر بن محمد…رمضان کے ایک دن ورات میں تین قرآن ختم فرماتے، مکمل رمضان میں 90 دفعہ قرآن ختم کرتے۔ (صفة 1/510)

٭.. ابو العباس بن عطاء…روز انہ ایک قرآن کریم کی تلاوت کرتے، رمضان کے ایک دن ورات میں تین قرآن ختم فرماتے۔(صفة 1/533) (البدایہ 11/164)

٭.. ابو بکر محمد بن علی کنانی…انہوں نے دوران طواف 12 ہزار دفعہ قرآن کریم کی تلاوت کی۔ (ایضا 1/539)

٭.. ابوبکر بن عباس …جب ان کی وفات کا وقت قریب ہوا تو ان کی بہن رونے لگی، آپ نے ان کی جانب دیکھ کر فرمایا کیوں روتی ہو؟ دیکھو گھر کے اس حصے کو !جس میں تمہارے بھائی نے اٹھارہ ہزار دفعہ قرآن کریم کی تلاوت کی ہے۔ (صفة 2/96) اسی طرح ابو بکر نے اپنے فرزند کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کو ضائع نہیں کرے گا، جس نے چالیس سال سے ہر رات قرآن ختم کیاہے۔(ایضا) (البدایہ 10/243) چالیس سال تک پشت کو زمین سے نہیں لگایا،60 سال تک روزانہ ایک ختم کرتے،80 رمضان کے روزے رکھے، وفات 96سال میں ہوئی۔ 

٭..عبد اللہ بن ا دریس…ان کی وفات کے موقعہ پر ان کی لڑکی رونے لگی، انہوں نے تسلی دی کہ مت رو ، تمہارا والد اس گھر میں چار ہزار دفعہ قرآن مجید کی تلاوت کر چکا ہے۔(صفة 2/98) (البدایہ والنہایہ 10/226)

٭.. محمد بن یوسف البناء…یہ فتوی دینے پر اجرت لیتے تھے اور صرف ایک درہم اپنے لیے خرچ کرتے، بقیہ صدقہ کردیتے، ہر دن ایک دفعہ قرآن مجید ختم فرماتے۔ (صفة الصفوة 2/287) 

٭.. عبد العزیز المقدسی…یہ ابدال میں سے ہیں، انہوں نے بلوغ سے ہی گناہوں سے بچنے کی بڑی فکر کی اور اس کا اہتمام کرتے رہے، ان کا بیان ہے کہ بلوغ سے لے کر اخیر عمر تک ان کی لغزشیں(36) رہیں، نیز انہوں نے ان میں سے ہر غلطی پر ایک لاکھ دفعہ استغفار کیا اور ہر غلطی کے لیے ایک ہزار رکعت نماز ادا کی، ہر غلطی کی جانب سے ایک دفعہ قرآن ختم کیا ہے، اس کے باوجود بھی میں اللہ کے غصہ سے مامون نہیں کہ وہ میری پکڑ فرمادے اور میں توبہ کی قبولیت کی امیدپر ہوں۔(صفة 2/395) 

قرآن کریم کی تلاوت کوئی مقرر نہیں اپنے نشاط وقوت پر موقوف ہے، نیز حضرت عثمان سے مروی ہے کہ وہ ہر رات ایک قرآن ختم فرماتے، نیز یہی عمل سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے، اسی لیے چالیس دن سے تاخیرمیں ایک ختم میں کرنا بلا عذر مکروہ ہے۔ (غذاء الالباب 2/153)

٭.. شیخ علی بن الحسن شافعی…حالتِ احرام میں سفر حج کے دوران ان کا انتقال ہوا، بہت زیادہ اونچی ہمت والے تھے، کئی مرتبہ حج کیے، ایک ہزار سے زائد دفعہ عمرہ کیے، چار ہزار سے زائد دفعہ تلاوت کے ذریعہ قرآن کو ختم کیا، ہر رات ستر مرتبہ کعبة اللہ کاطواف کرتے۔ (مرآة الجنان2/252) 

٭.. ولید بن عبد الملک…یہ اپنے ظلم فسق وفجور میں مشہور تھا، اس کے باوجود قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتا تھا، تین دن میں ایک قرآن ختم کرتا اور رمضان میں سترہ دفعہ قرآن ختم کردیتا (مرآة الجنان1/91)

٭.. مامون الرشید…یہ عباسی خلفاء کا بہترین شخص تھا ،اس میں کئی خوبیاں جمع تھیں، لیکن یہ خلقِ قرآن کے فتنہ سے متاثر ہوا، اس کی بناء پر کئی علماء پر ظلم بھی کیا، اس کے بارے میں منقول ہے کہ بعض دفعہ رمضان میں 33 دفعہ قرآن حکیم ختم کرتا۔(تاریخ الخلفاء1/126) 

٭.. محمد بن علی بن محمد ابو جعفر…یہ ہمدان کے رہنے والے ہیں، کئی دفعہ انہوں نے حج کیا،قرآن کریم بہت عمدہ آواز میں تلاوت فرماتے، مسجد نبوی میں ہر سال ایک رات میں روضہ کے پاس کھڑے ہو کر قرآن کریم ختم فرماتے۔ (المنتظم 5/100) 

٭.. عبد الملک بن الحسن بن احمد…حدیث کے رواة میں سے ہیں، ان کا شمار بڑے زاہدوں میں ہے ہر رات ایک قرآن کریم ختم فرماتے، کثرت سے روزے رکھتے۔ (المنتظم 4/483) (البدایہ 12/147)

٭.. صالح بن محمد ابو الفضل شیرازی… یہ قاری قرآن تھے، یہ فرماتے تھے کہ میں نے چار ہزاردفعہ قرآن ختم کئے ہیں۔(المنتظم 4/22) 

٭..ابو بکر بن احمد بن عمر البغدادی…یہ بڑے عبادت گذار اور صاحب ورع وتقوی ہیں، یہ ایک سال مکہ مکرمہ میں قیام کیے ہوئے رہے، جس میں انہوں نے ایک ہزار دفعہ قرآن کریم ختم کیا۔ (الدارس فی تاریخ المدارس 1/414)

٭..ابو الحسن سلمی…ابن الحاجب کہتے ہیں کہ ان کا شمار بڑے علماء میں ہے، یہ فقیہ تھے، دن ورات میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم فرماتے، (الدارس فی تاریخ المدارس1/79) 

٭..ابو علی عبد الرحیم بن القاضی الاشرف ابی المجد…یہ صاحب ثروت تھے، بہت زیادہ صدقہ وخیرات کا اہتمام فرماتے، عبادت وریاضت قابل رشک تھی، ہر دن ورات میں ایک دفعہ مکمل قرآن کریم ختم کرنے کی پابندی فرماتے۔ (البدایہ 13/31)

٭..شیخ ابو الفرج ابن الجوزی… معروف عالم دین ہیں ،بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں، ان کے وعظ میں کئی کئی لوگ تائب ہوجاتے، تقریبا اسی (80) سال عمر ہوئی، ہر دن ورات میں ایک دفعہ قرآن ختم فرماتے۔ (البدایہ 13/13)

٭..سعید بن جبیر…حضرت ابن عباس کے عظیم شاگرد وں میں سے ہیں، تفسیر فقہ اور دیگر علوم کے امام ہیں، صحابہ کرام کی ایک جماعت سے ان کی ملاقات ہے، مغرب اور عشاء کے درمیان نمازمیں ایک قرآن کریم روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے ختم فرماتے، پھر کعبة اللہ میں بیٹھ کر تلاوت کرتے ہوئے ختم فرماتے، بعض دفعہ کعبة اللہ میں ایک ہی رکعت میں ختم فرماتے، ان کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات میں کعبة اللہ میں نماز میں ڈھائی قرآن تلاوت فرمائی۔ (البدایہ 9/116)

٭..امام ابو حنیفہ…امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ امام صاحب ہر دن ورات میں ایک قرآن ختم فرماتے، جب رمضان کا مہینہ ہوتا تو عید الفطر ولیلة الفطر کو ملا کر62 قرآن ختم فرماتے۔ (اخبار ابی حنیفہ1/41) 

خارجہ کہتے ہیں کہ ایک رکعت میں قرآن کریم ختم کرنا چار ائمہ کے سلسلہ میں ہے، عثمان بن عفان، تمیم داری ،سعید بن جبیر اور امام ابو حنیفہ ، نیز یحییٰ بن نضیر کے سلسلہ میں بھی ہے۔ (مغانی الاخیار5/161)

٭..امام شافعی…امام شافعی رمضان کے مہینہ میں ساٹھ(60) دفعہ قرآن کریم ختم کرتے۔ (نداء الریان 1/198)

٭..اسود بن یزید…اسود رمضان میں ہر دو راتوں میں ایک قرآن ختم فرماتے، رمضان کے علاوہ نو(9) راتوں میں ہمیشہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان 1/197)

٭..قتادة…سات دن میں ایک دفعہ ہمیشہ قرآن ختم فرماتے، رمضان میں تین دن میں ایک دفعہ ختم فرماتے، جب عشرہٴ اخیر آتا ہر رات میں ایک دفعہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)

٭..نخعی…عشرہٴ اخیر میں ہر رات میں ایک ختم فرماتے اور بقیہ مہینہ میں تین دن میں ایک دفعہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)

٭..سعدبن ابراہیم…یہ ہر دن ایک قرآن ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)

٭..امام زہری… جب رمضان آتاتو کہتے کہ یہ تلاوتِ قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔ (نداء الریان1/199)س

٭..سفیان ثوری…رمضان آتا تو دیگر عبادات چھوڑ کر قرآن کی تلاوت کی طرف متوجہ ہوتے۔

٭..ابن عون…بکار السیرینی کہتے ہیں کہ ابن عون ایک دن روزہ رکھتے، ایک دن افطار کرتے، میں ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہا، بہترین خوش بو استعمال کرتے، نرم کپڑا پہنتے، ہر ہفتہ ایک دفعہ قرآن ختم فرماتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی3/132)

٭..ابن عمار… ابن عمار ہر تین دن میں ایک ختم فرماتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی4/267) 

٭..شیخ علی بن الحسین… بڑے پُر ہمت شافعی عالم دین ہیں، کئی مرتبہ حج کیے ہیں، ان کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ایک ہزار سے زائد عمرہ ادا کیے تھے، چار ہزار دفعہ سے زیادہ قرآن کریم ختم کیے، ہر رات کئی کئی مرتبہ طواف فرماتے تھے، ان کا انتقال حج کے احرام کی حالت میں ہوا۔ (مرآة الجنان2/252)

٭..امام مالک…ابن عبد الحکیم کہتے ہیں کہ جب رمضان آجاتا امام مالک اہل علم کی مجالس ترک کردیتے اور حدیث کا پڑھنا پڑھانا موقوف کردیتے تلاوتِ قرآن کی جانب متوجہ ہوجاتے۔(لطائف 1/172)

٭..شیخ الحدیث زکریا…ماضی قریب کے وہ عظیم بزرگ ہیں جن کی اصلاحی وعلمی وحدیثی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں، ان کے سلسلہ میں مذکور ہے کہ 38ھ میں ماہِ مبارک میں ایک قرآن روزانہ پڑھنے کا معمول شروع ہوا تھا، جو تقریبا 80ھ تک رہا، بلکہ اس کے بعد تک بھی جاری رہا۔ (آپ بیتی 2/67)

ایک حکیم صاحب حضرت شیخ الحدیث صاحب سے ملاقات کے لیے ماہِ رمضان میں آئے، لیکن شام تک وہ تلاوت میں اور اپنے اشغال ہی میں رہے، یہ دیکھ کر آخر کار وہ یہ جملہ کہہ کر گئے، رمضان اللہ کے فضل سے ہمارے یہاں بھی آتا ہے مگر یوں بخار کی طرح کہیں نہیں آتا۔ (ایضا 2/69) 

نیز شیخ الحدیث نے اپنی دادی صاحبہ کے تعلق سے لکھا ہے کہ وہ حافظہ تھیں، خانگی مشاغل میں کھانا پکانے کے علاوہ روزانہ ایک منزل پڑھنے کا معمول تھا اور رمضان المبارک میں روز انہ چالیس پارے تلاوت کا معمول تھا۔(آپ بیتی 2/62)

ایسے ہی عاشقین قرآن کے سلسلہ میں وہیب بن ورد کا ایک اقتباس نقل کرنا مناسب ہے کہ ایک شخص نے وہیب سے سوال کیا کہ کیا آپ رات میں سوتے نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے عجائبات مجھے سونے سے روک د یتے ہیں۔ ایک شخص دوماہ تک آپ کے ساتھ رہا، انہیں سوتا ہوا نہیں دیکھا، اس نے سوال کیا کہ کیا ہوا آپ سوتے کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا قرآن کریم کا ایک اعجوبہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسرا کھل جاتاہے، قرآن کریم یاد رکھ کر بھی سونے والے کے سلسلہ میں احمد ابی الحوار کہتے ہیں: میں قرآن کریم پڑھتاہوں، اس کی آیت کریمہ میں غوروفکر کرتاہوں تو میری عقل حیران رہ جاتی ہے، تعجب ہے ان حفاظ قرآن پر کہ کیسے انہیں نیند آتی ہے کیسے انہیں گنجائش ہوتی ہے اس بات کی کہ وہ دنیاوی مصروفیات میں مشغول رہیں، اس حال میں کہ وہ قرآن کریم پڑھتے ہوں، بہر حال اگر وہ تلاوت کردہ کو سمجھ لیتے اور اس کا حق جانتے تو اس میں لذت محسوس ہوتی تو ان کی نیندیں اڑ جاتیں۔(لطائف المعارف 1/173)

الغرض اکابر کا قرآن کریم سے عشق ہم سے تقاضا کررہا ہے کہ ہم بھی قرآن کریم سے اپنے لگاوٴ میں اضافہ کریں اور قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!







رمضان کو کیسے قیمتی بنائیں
رمضان کے مبارک مہینے کو کیسے قیمتی بنایا جائے؟ اس میں کون سے اعمال اختیار کیے جائیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر رمضان کی آمد کے ساتھ ہر مسلمان مرد وعورت کے ذہن میں اٹھتا ہے، بہت اہم ،انتہائی قیمتی اور اہمیت کا حامل سوال ہے، رمضان کے مہینے کو قیمتی بنانے کے لیے جہاں فرض روزہ اور پانچ وقت کی نماز باجماعت کا اہتمام اور تمام معاصی کا ترک کرنا ضروری ہے، وہیں ایسے اعمال ، اسباب ووسائل کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے جن سے یہ مبارک مہینہ مزیدقیمتی بن جائے، ذیل میں اختصار کے ساتھ ان وسائل واسباب کا تذکرہ کرتے ہیں جن کو اختیار کرکے ہر مسلمان اس مہینے کو قیمتی بنا سکتا ہے:

افطار کروانا
اس مبارک مہینے میں ہر مسلمان حسب استطاعت روزہ داروں کو افطار کرواکر دہرا اجر حاصل کرسکتا ہے، چناں چہ حضرت زید بن خالدجھنی رضی الله عنہ نے حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا اس کو روزہ دار کے مثل اجر ملے گااور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ (رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجہ)

خیر کے کاموں میں خرچ 
خیر کے کاموں میں خرچ کے ذریعہ سے جہاں ایک طرف نیکی کے کاموں میں تعاون اور مستحق لوگوں کی امداد ہوتی ہے تو دوسری طرف رمضان میں عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اجر حاصل ہوتا ہے۔

مکمل یکسوئی 
رمضان کے مبارک مہینے کوقیمتی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم اس مہینے میں گھر کے تمام افراد پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں موجود اسباب معاصی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، تاکہ یکسو ہوکر الله کی عبادت میں مشغول ہوسکیں، سلف صالحین رحمہم الله تو اس مہینے میں قرآن وحدیث کی تعلیم کو موقوف کردیتے تھے، تاکہ قرآن کی تلاوت، اس میں غور وفکر اور تدبر، عبادت اور قیام اللیل یعنی تہجد کے لیے مکمل طور سے فارغ ہوجائیں، تو کیا ہم لوگ ایک مہینہ کے لیے اپنے آپ کو میڈیا کے ایمان کش سیلاب سے خود کو دور نہیں رکھ سکتے!۔

دعا کا اہتمام 
ویسے تو رمضان کا لمحہ لمحہ دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے،لیکن افطار سے پہلے کے چند لمحات بہت ہی قیمتی ہوتے ہیں ،یہ دعا کی قبولیت کے یقینی اوقات میں سے ہیں، بجائے فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کے اس وقت کو قیمتی جان کر دعامیں مصروف ہو جائیں، اپنے لیے اور تمام امت مسلمہ کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا سوال کریں۔

والدین کی اطاعت 
رمضان کو قیمتی بنانے کا ایک بہت ہی اہم وسیلہ اور ذریعہ والدین کی اطاعت وفرماں برداری ہے، کوشش کریں کہ اس مہینے میں خاص طور سے والدین کے قریب رہیں، ان کی خدمت کریں ، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کو ہر طرح کی راحت وسہولت پہنچانے کی فکر کریں۔

مسواک کا اہتمام
مسواک کا اہتمام کریں، مسواک جیسے پورے سال میں سنت ہے، ایسے ہی رمضان میں اس کا کرنا سنت ہے، بلکہ عام دنوں کے مقابلے میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

رمضان میں عمرہ کرنا
رمضان میں عمرہ کرنا ایک بہت بڑا عمل ہے ، ثواب کے اعتبار سے اس کا اجر ایک حج کے برابر ہے، اس میں بھی لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں، اس لئے کوشش کریں کہ ائمہ مساجد اور علماء سے مشاورت کے بعد اس عمل کو انجام دیں۔

دعوت الی الله
اس مہینے میں دعوت الی الله کے عمل کو اہتمام و خصوصیت کے ساتھ انجام دیں، لوگوں کو مساجد کی طرف اور اعمال خیر کی طرف متوجہ کریں۔

اہل ثروت کے لئے 
اہل ثروت واصحاب خیر حضرات معتمد علماء کرام کی دینی کتب خاص کر رمضان کے مسائل وفضائل سے متعلق کتابیں خرید کر مسلمانوں میں تقسیم کریں، تاکہ معاشرے میں رمضان کے مسائل وفضائل کے معلوم کرنے کی ایک عام فضا قائم ہوجائے۔

تلاوت قران کریم
قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں، لیکن کوشش کریں کہ قرآن کریم کو صحیح اور درست پڑھیں ، تلفظ اور ادائیگی میں فحش غلطیوں سے اجتناب کریں، اگر پہلے سے پڑھا ہوا نہیں تو کوشش اس بات کی کریں کہ اس مہینے میں قرآن پاک کے حوالے سے اتنی محنت کریں کہ قرآن صحیح پڑھنا آجائے۔

ما تحتوں کی فکر
اپنی اولاد ، بہن بھائیوں اور اپنے ما تحتوں کی فکر کریں کہ وہ بھی اس مہینے کو قیمتی بنائیں ، خدانخواستہ ان کے اوقات کسی غلط اور لغو کام میں صرف نہ ہوجائیں، پیار، محبت ،ترغیب اور بقدر ضرورت ترہیب کے ساتھ ان کو اعمال خیر کی طرف متوجہ کریں۔

نماز پنج گانہ باجماعت کا اہتمام
نماز پنج گانہ باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں، عام طور سے مغرب میں افطار کی وجہ سے اور فجر میں نیند کے غلبہ کی وجہ سے جماعت کی نماز سے غفلت برتی جاتی ہے، یہ بہت بڑی محرومی کی بات ہے، تھوڑی سی ہمت کرکے ہم خود بھی اور ترغیب کے ذریعے دوسروں کو بھی اس غفلت سے بچا سکتے ہیں، فرائض باجماعت ادا کرنے کے اہتمام کے علاوہ سنن اور نوافل کا بھی خاص اہتمام کریں، اشراق، چاشت ، اوابین اور تہجد کے علاوہ بھی کچھ وقت نوافل کے لیے مخصوص کردیں، کیوں کہ رمضان میں نفل کا ثواب فرائض کے بقدر کردیا جاتا ہے۔

وقت سحر اعمال کا اہتمام 
سحری کا وقت بہت ہی قیمتی وقت ہوتا ہے، اس وقت الله کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے، ایک تو سحری کھانے کا اہتمام ہو، اس کے علاوہ کچھ وقت بچا کر اذکار ، وظائف اور استغفار میں لگائیں، اس وقت استغفار کرنا متقیوں اور اہل جنت کی صفات میں سے ہے۔

خواتین کے لئے 
خواتین رمضان کی مبارک گھڑیوں کو صرف کھانے پکانے میں صرف نہ کریں، اس میں کوئی شک نہیں کہ افطاری وسحری تیار کرنا باعث اجر وثواب ہے، لیکن بقدر ضرورت وقت اس میں صرف کریں اور اس کے علاوہ اوقات کو اعمال صالحہ میں صرف کریں۔

بازاروں میں فضول گھومنے پھرنے سے اجتناب 
رمضان میں بہت سارے خواتین وحضرات بازاروں میں گھوم پھر کر کپڑوں، جوتوں اوردیگر اشیاء کی خریداری کے عنوان سے اپنے قیمتی اوقات ضائع کر تے ہیں، اعمال صالحہ سے محروم ہوجاتے ہیں، رمضان سے متعلق جتنی ضروریات ہیں وہ اس مہینے کے شروع ہونے سے پہلے ہی خرید لیں اور باقی اگر رمضان میں کوئی ضرورت ہو تو بقدر ضرورت چیزیں خرید کر فورا گھر لوٹ آئیں، بازاروں اور شاپنگ مالوں میں فضول گھوم پھر کر اپنا قیمتی وقت ضائع اور بربادمت کریں۔

بیس رکعات تراویح کا اہتمام
نماز تراویح اور اعتکاف کا مکمل اہتمام کریں، بیس رکعات تروایح پرخیر القرون سے لے کر آج تک تمام امت مسلمہ متفق ہے، سستی اور غفلت یا کسی کے شک میں ڈالنے سے کچھ رکعات(مثلاآٹھ رکعات) پڑھ کر جان نہ چھڑائیں، بلکہ مکمل ۲۰ رکعات پڑھنے کا اہتمام کریں، اس طرح سستی کرنا بڑی محرومی کی بات ہے۔

خواتین کی تراویح و اعتکاف 
خواتین اپنے گھروں میں فرض نمازوں کے ساتھ تراویح اور اعتکاف کا بھی اہتمام کریں، تراویح اور اعتکاف کا حکم جیسے مردوں کے لیے ہے ، ایسے ہی خواتین کے لیے بھی ہے۔

بچوں کو نماز روزہ کا عادی بنائیں
کوشش کریں کے سات سال کے بچوں کو نماز اور روزہ کا عادی بنائیں ان کی حوصلہ افزائی کریں،ہمت دلائیں تاکہ وہ بھی اس مہینے کی برکات سے مالا مال ہوجائیں۔

حضرت ربیع بنت معوز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رمضان میں اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے تھے اور ان کو مشغول رکھنے لیے کھلونے بنا کر دیتے تھے۔

یہ چند امور رمضان کے مہینے کو قیمتی بنانے کے حوالے سے قابل توجہ ہیں، ان کے علاوہ بھی ائمہ مساجد اور مستند علماء سے پوچھ پوچھ کر اپنا رمضان قیمتی بناسکتے ہیں، اللہ تعالی سب مسلمانوں کو اس مبارک ماہ کی قدر نصیب فرمادے۔(آمین)





سحری سے اشراق تک کے مسنون اعمال 
٭... فجرکے قریب سحری کھانا سنت ہے اور یہ کھانا برکت والا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”تسحَّرُوا فإن فی السحور برکة“․ (صحیح البخاری۔ باب برکة السحور )۔
ترجمہ: سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری کا کھانا برکت والا ہوتاہے۔

حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ۔کسی نے دریافت کیا کہ سحری اور نماز میں کتنا فاصلہ تھا ؟ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا: جتنی دیر میں پچاس آیات پڑھی جائیں۔( صحیح البخاری، باب وقت الفجر)

٭... جب فجرکے وقت مؤذن کی آواز سنیں تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں ،پھر یہ دعا پڑھیں:”اللّہم ربَّ ہذہ الدَّعوة التَّامَّة والصلاةِ القآئمةِ آتِ محمَّداً الوَسیلة َوالفَضیلة وَابعثہُ مقاما محموداً الذی وعدتہ“․ ( صحیح البخاری، باب الدعاء عند النداء)

اس دعا کے پڑھنے سے قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہونے کی بڑی امید ہے ۔جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں بشارت آئی ہے۔

بیہقی کی روایت میں اس دعا کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں :إنک لاتخلف المیعاد ․ لہٰذا ان کلمات کو بھی شامل کرلینا بہتر ہے۔

نوٹ : یہ دعا ہراذان کے بعد پڑھنا سنت ہے۔

اس کے بعد فجر کی دو سنتیں اداکریں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :” رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیہا“․ (صحیح مسلم، باب استحباب رکعتی الفجر)۔
ترجمہ: فجر کی دو سنتیں دنیا وما فیہا سے بہترہیں۔

٭... اذان واقامت کے درمیان دعا مانگیں ․ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”الدعاء لایُرد بین الأذان والإقامة“․ (رواہ الترمذی وقال: حدیث حسن)۔

ترجمہ: اذان واقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔

٭... فجر کی نماز باجماعت مسجد میں اداکریں ․․ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ عشا اور فجر کی نماز کا کتنا ثواب ہے تو گھٹنوں کے بل بھی چل کرآتے۔ (بخاری ومسلم)

٭... خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں۔

٭... نماز فجر کے بعد نماز کی جگہ بیٹھ کر ذِکرُ اللہ میں مشغول رہیں،بہترین ذِکر‘ تلاوت قرآن ہے، لہٰذا کم ازکم آدھا پار ہ تلاوت کرلیں اور بقیہ آدھا کسی اور وقت پور اکرلیں، تاکہ رمضان شریف میں کم ازکم ایک مرتبہ پورے قرآن مجیدکا دور پورا ہوجائے۔

پُورے حج وعمرہ کا ثواب 
رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے نماز فجر ادا کی، پھر اشراق تک نماز کی جگہ بیٹھ کر ذکر اللہ میں مشغول رہا اس کے بعد اشراق کی دو رکعتیں پڑھ لیں، تواس کو حج وعمرہ جیسا ثواب ملے گا ۔اس کے بعدآپ صلی الله علیہ وسلم نے تین بار فرمایاکہ پورے حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔(رواہ الترمذي وقال حدیث حسن)

دوسری حدیث میں ہے کہ ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے جسم کے تین سو ساٹھ جوڑوں کی طرف سے صدقہ ادا ہوجاتا ہے۔(رواہ مسلم فی باب استحباب صلاة الضحی)․

یہ فضیلت خواتین بھی حاصل کریں، نماز کی جگہ بیٹھ کر ذکر اللہ میں مشغول رہیں، اس کے بعد اشراق کی دو رکعتیں پڑھ لیں اور حج وعمرہ کا ثواب مفت میں کمائیں۔

اشراق سے عصر تک کے اعمال
٭... اگر آرام کریں تو یہ نیت کرلیں کہ جسمانی اور دماغی تھکاوٹ دور ہوگی تو دوبار ہ اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہو جاؤں گا تو یہ آرام بھی عبادت میں لکھا جائے گا ۔

٭... اور اگرڈیوٹی پر جانا ہو تو یہ نیت کرلے کہ رزق حلال کماؤں گا اور اہل وعیال کے حقوق ادا کروں گا تو ڈیوٹی کے تمام اوقات بھی عبادت میں لکھے جائیں گے، البتہ یہ خیال رہے کہ اس دوران زبان آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور تمام اعضا گناہوں سے محفوظ رہیں، خاص کر غیبت، جھوٹ، تمسخر اور ایذا رسانی اور بد نظری سے پور ااجتناب کرے۔

یہی فضیلت تاجرکو بھی ملے گی ،اگر نیت درست ہو، رزق حلال حاصل کرنے کی نیت ہو تجارت میں جھوٹ ا ور خیانت اور وعدہ خلافی سے بچے ۔

٭... اور دینی علوم حاصل کرنے والے طالب علم کو بھی یہی فضیلت ملے گی ،بشرطے کہ علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالی کو راضی کرنا ہواور میڈیکل وغیرہ کے طلبہ بھی اگر نیت رکھیں کہ اس علم کو حاصل کرکے رزق حلال کے حصول کاذریعہ بنائیں گے اور اپنے مسلمان بھائیوں اور انسانیت کی خدمت کریں گے تو ان کا جو وقت طلبِ علم میں صرف ہوگا وہ بھی ان شاء اللہ تعالی باعث اجر ہوگا۔

٭... ظہر تک آرام یا کام کاج کرنے کے بعد مؤذن کی آواز سنیں تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں، پھروہی دعا پڑھیں جو پہلے لکھی جاچکی ہے۔اس کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ اداکریں اور اذان واقامت کے درمیان دُعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذِکر کریں ․ظہر کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں‘ صف اول اور تکبیرئہ اولی کی فضیلت حاصل کریں،اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں۔

٭... خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں۔

٭... ظہرکے بعد قیلولہ کریں، اس میں اتباع سنت کی نیت ہونی چاہیے اور اگر آرام کا موقع نہ ہو تو کوئی بھی جائز کام کر سکتے ہیں۔ گناہوں سے بچنے کا پورااہتمام کریں، غیبت ‘ جھوٹ ‘تمسخر اور ایذا رسانی اور بد نظری سے پور ااجتناب کریں۔

٭... عصر کے لیے جب مؤذن پکارے تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں، پھروہی دعا پڑھیں جو پہلے لکھی جاچکی ہے۔اس کے بعد چار رکعت سنت غیرمؤکدہ اداکریں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالی اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ (رواہ مسلم )․یہ فضیلت مرد وعورت سب کے لیے ہے۔

اور اذان واقامت کے درمیان دعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذکر کریں، مرد حضرات عصرکی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں‘ صفِ اول اور تکبیرئہ اولی کی فضیلت حاصل کریں۔

خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، اذان واقامت کے درمیان دُعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذکر کریں،عصرکی نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں․۔

عصر کے بعد سے تراویح تک کے اعمال
٭... قرآن مجید کی تلاوت کریں یا استراحت یعنی آرام کریں ۔ اگر جمعہ کا دن ہو تو مغرب تک درود شریف پڑھنے میں مصروف رہیں، اس وجہ سے کہ جمعہ دن درود شریف پڑھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔

روزہ داروں کو افطار کرانے کے لیے حسب توفیق کوشش کریں، مسجد میں افطاری پہنچائیں۔

٭... خواتین گھر کے کام کو ثواب کی نیت سے کریں، اپنے گھر والوں کے لیے جو افطاری وغیرہ تیار کریں تو دل سے یقین ر کھیں کہ ان شاء اللہ تعالی ان تمام روزہ داروں کو افطار کرانے کا ثواب مجھے ملے گا، جو میری تیارکی ہوئی افطاری کھائیں گے ۔

٭... افطاری کے وقت دعا مانگیں۔ رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے بلا شبہ افطاری کے وقت روزہ دار کے لیے ایک خاص دعا ہے جو رد نہیں ہوتی۔(رواہ ابن ماجہ، باب فی الصائم لاترد دعوتہ)۔

٭... افطاری کے وقت یہ دعا پڑھیں: اللّہم لَکَ صُمتُ وعلی رِزقِک أَفطَرتُ ․ (رواہ ابو داود، باب القول عند الإفطار)۔
ترجمہ:اے اللہ! میں نے تیری رضا کے لیے روزہ رکھا اورتیرے دئیے ہوئے رزق سے افطار کیا۔

اور افطاری کے بعد یہ دعاپڑھیں :ذَہَبَ الظَّمأُ وابتَلَّتِ العُروقُ وثَبَتَ الأجرُ إن شاء اللہ۔(رواہ ابو داود، باب القول عند الإفطار)
ترجمہ: پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اور اجر ثابت ہوگیا ان شاء اللہ۔

٭... مرد حضرات مغرب کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں،اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں اور خواتین گھر میں نمازپڑھیں۔

٭... شام کے مسنون اذکار اور دعائیں پڑھیں اور اللہ تعالی کا شکر اداکریں کہ آج کا روزہ اس کی دی ہوئی توفیق سے پورا ہوا ۔

بیوی بچوں سے ہنسنا بولنا بھی ثواب ہے
٭... اپنے بیوی بچوں سے شفقت ومحبت کے ساتھ گفتگو کریں، ہنسیں بولیں، بچوں سے شفقت والفت کا اظہار کریں۔ رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتاہو ۔(رواہ الترمذی، وقال: حسن صحیح)۔

مرد حضرات عشا کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں، اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں اور تراویح پڑھیں اور خواتین گھر میں نمازپڑھیں، اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو مسجد جاکر بھی تراویح پڑھ سکتی ہیں، بشرطے کہ پردہ کے اہتمام کے ساتھ جائیں اور خوش بو استعمال نہ کریں۔

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جس نے رمضان کی راتوں میں نماز میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (رواہ الترمذی، وقال: حسن صحیح)۔

تراویح کے بعد سے سحری تک کے اعمال 
٭... تراویح کے بعد چاہے آرام کریں یا کوئی بھی جائز مصروفیت اختیار کریں صرف اتنا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی گناہ سر زد نہ ہو، تو آپ کی پوری رات عبادت میں لکھی جائے گی غیبت ، جھوٹ اور بد نظری سے پور ااجتناب کریں۔ رمضان کی مقدس راتوں کو فلم بینی اور لغو باتوں میں ضائع نہ کریں۔

٭... فجر سے پہلے رات کا آخری تہائی حصہ، جو تہجد کا وقت ہے، اس میں عبادت اور دعا میں مصروف ہو جائیں اس وقت اللہ تعالی خود اپنے بندوں سے فرماتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا میں اسے عطا کروں ؟ ہے کوئی مغفرت کا طلب گار میں اس کی مغفرت کردوں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والے میں اس کی توبہ قبول کرلوں․(صحیح الخاری، باب الدعاء والصلاة من آخر اللیل)۔

٭... آپ پختہ عزم کرلیں کہ باقی زندگی غفلت اور اللہ تعالی کی نا فرمانی میں برباد نہ کروں گا ․کیوں کہ گناہوں وا لی زندگی بے کیف اور پریشانیوں سے بھری ہوئی ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت وفرماں برداری میں دونوں جہاں کا لطف ہے۔

نوٹ: جو اعمال بیان ہوئے ہیں ان میں سحری، افطاری اور تراویح کے علاوہ سب اعمال پورے سال انجام دینے والے ہیں۔

آخری عشرہ کے خاص اعمال
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ازار مبارک کس لیتے تھے اور رات بھر عبادت میں جاگتے تھے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے․(صحیح البخاری، باب العمل فی العشر الأواخر)․

٭... اگر ہو سکے تو آخری عشرہ کا اعتکاف کرلیں، یہ اس عشرہ کی خاص سنت ہے ۔

٭... اگر اعتکاف نہ کر سکیں تو کم ازکم ان مقدس راتوں میں خوب زیادہ عبادت وتلاوت کریں ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم آخری عشرہ میں عبادت کا اور زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ (صحیح الخاری)

٭... اگر زیادہ عبادت کی توفیق نہ ہوتو کم ازکم اتنا تو کریں کہ اللہ تعالی کی نافرمانی نہ کریں اورفرائض اور واجبات سے غفلت نہ برتیں۔

واضح رہے کہ فرائض اور واجبات کی فضیلت نفلی عبادات کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے، ان سے اللہ تعالی کا بہت قرب حاصل ہوتاہے ان کے بعد نفلی عبادات کا نمبر ہے ․بہت سے لوگ فرض نمازوں میں سستی کرتے ہیں اور نوافل بہت شوق سے پڑھتے ہیں․بلا شبہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتاہے، لیکن فرائض کی ادائیگی کے بعدنوافل کا درجہ ہے․ کیوں کہ فرائض سے غفلت برتنا فسق ہے ۔

زندگی میں تبدیلی لانے کا آسان ترین نسخہ 
دین داری اور تقوی والی زندگی حاصل کرنے کا سب سے سہل اورآسان طریقہ یہ ہے کہ انسان صالحین اور متقین کی صحبت اختیار کرلے، صحبت صالحین غفلت کا بہترین علاج ہے، وہ حضرات جو خود متبع سنت ہوں اورقرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے والے ہوں، ہر عمل میں جائز وناجائز کا خیال کرتے ہوں، اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہوں ان کے دل فکر آخرت سے لبریز ہوں جب ایسے لوگوں سے تعلق اور دوستی ہوگی تو خود بھی انسان ان شاء اللہ تعالی ویسا ہی ہو جائے گا ‘کسی عالمِ ربانی کو اپنا مشیر بنائیں،جو اپنی تربیت کسی مصلح سے کراچکا ہو ‘ زندگی کے تمام امور میں ان سے پوچھ کراور مشورہ کرکے عمل کرے اور یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے۔صالحین کے قافلہ میں شامل ہوجانا بڑی سمجھ داری اور سعادت کی بات ہے۔

نہایت اہم بات اگر کوئی شخص فرائض اور واجبات اور سنت موٴکدہ کی پابندی کرلے اور گناہوں سے بچتا رہے اور حقوق العباد کو بھی ضائع نہ کرے تو وہ اللہ تعالی کا ولی ہے اوروہ ان شاء اللہ تعالی ضروررمضان شریف کی برکتوں سے مالا مال ہوگا۔

دعا
اے اللہ! ہمیں اپنے فرماں بردار اور مقبول بندوں شامل فرما لیجیے اور ہمارے چھوٹے بڑے سب گناہ معاف فرما دیجیے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے خوب نوازئیے اور عافیت والی زندگی عطا فرمائیے اوردنیا سے اس حال میں اٹھائیے کہ آپ ہم سے راضی ہوں اورحسن خاتمہ عطا فرمائیے۔میدان حشر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائیے اورہمارے ساتھ معافی اور درگزر کا معاملہ فرمائیے۔آمین۔








رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے خصوصی فضائل



اسلام کی پانچ بنیادی تعلیمات میں توحید، نماز، زکاة اور حج کے ساتھ ماہ رمضان کے روزوں کا بھی شمار ہے ۔ ماہ رمضان بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اہل ایمان کی طرف اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ احادیث و آثار میں رمضان شریف کے بڑے فضائل اور برکات مذکور ہیں۔ احادیث کے مطابق رمضان کے تین عشرے تین مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور ہر ایک پر خصوصی رنگ غالب ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کاہے، دوسرا عشرہ مغفرت کااور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا۔ (صحیح ابن خزیمة ، حدیث 1780، بیہقی شعب الایمان)
یوں تو رمضان کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (آخری عشرہ) کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔ احادیث میں ذکرہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے جتنا دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم، حدیث 2009) سنن ابن ماجہ ، صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد میں بھی اسی مفہوم کی احادیث مروی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے اخری عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیگر ایام کے مقابلہ میں بڑھ جاتے تھے۔
دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں بھی جگاتے تھے۔ (صحیح بخاری ، حدیث :1884، صحیح مسلم، حدیث :2008)شعب الایمان بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے بستر پر نہیں آتے تھے۔ (حدیث:3471)
راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے کا معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہمیشہ ہی تھا، لیکن رمضان میں آپ کمر کس کر عبادت کے لیے تیار ہوجاتے اور پوری پوری رات عبادت میں گزارتے۔ یہ مضمون حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی ایک دوسری روایت سے اور زیادہ واضح ہوتا ہے ، وہ بیان فرماتی ہیں: مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید پڑھا ہو یا پھر صبح تک عبادت ہی کرتے رہے ہوں ، یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں۔ (سنن نسائی ،حدیث : 1336)
دوسرا خصوصی معمول جس کا ذکرحدیث میں ہے وہ ہے اپنے اہل خانہ کو رات میں عبادت کے لیے جگانا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کو سارا سال ہی جگایا کرتے تھے ، لہٰذا رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ جگانے کے ذکر کا صاف مطلب یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھروالوں کو باقی سارے سال کی بہ نسبت جگانے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے ۔
اعتکاف: مسجد میں بہ نیت عبادت قیام
 رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ (بخاری، حدیث: 1885 ) صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ۔ (بخاری، حدیث : 1886)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان شریف میں دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ (بخاری، حدیث: 1903 )
 آخری عشرہ کا اعتکاف (یعنی مسجد میں عبادت کی نیت سے قیام)سنت علی الکفایہ ہے۔ اعتکاف مسجد کا حق ہے اور پورے محلہ والوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کا کوئی فرد مسجد میں ان دنوں اعتکاف کرے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون ہے کہ وہ طاعات میں مشغول رہے اور کسی شدید طبعی یا شرعی ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلے۔ اعتکاف کی حقیقت خالق ارض و سماء اور مالک الملک کے دربار عالی میں پڑجانے کا نام ہے۔ اعتکاف، عاجزی و مسکنت اور تضرع و عبادت سے اللہ کی رضا و خوشنوی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اعتکاف در اصل انسان کی اپنی عاجزی کا اظہار اور اللہ کی کبریائی اور اس کے سامنے خود سپردگی کا اعلان ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف خاص طور پر لیلة القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں لیلة القدر کو تلاش کرو۔(صحیح بخاری ،حدیث : 1880 )
حضرت ا بوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں تفصیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کو جس کی تلاش ہے وہ آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عشرہ کا بھی اعتکاف کیا اورہم نے بھی کیا۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ مطلوبہ رات ابھی آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو میرے ساتھ اعتکاف کررہا تھا اسے چاہیے کہ وہ آخری عشرے کا اعتکاف بھی کرے۔ مجھے شب قدر دکھائی گئی جسے بعد میں بھلادیا گیا۔یاد رکھو لیلة القدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہے۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 771 )
لیلة القدر: ہزار مہینوں سے بہتر رات
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة نازل فرمائی، ارشاد ہوا: ”ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں ، یہ رات سراسر سلامتی ہے اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔“ (سورة القدر97:1-5 )
 ایک دوسری آیت میں اس کو مبارک رات کہا گیا ہے، ارشاد ہے: ” قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے “۔ (سورة الدخان 44:2)
چناں چہ شب قدر کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں (یعنی کم و بیش تراسی سال) کی عبادت سے زیادہ ہے۔ نیز، اسی رات اللہ تعالی نے قرآن مجید کو یکبارگی لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل فرمایا اور پھر اس کے بعد نبوت کی۲۳سالہ مدت میں حسب ضرورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوتا رہا۔ انھیں آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو ملائکہ نزول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سال بھر کے تقدیر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرمادیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تکمیل کرتے رہیں۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول بھی رحمت و برکت کا سبب ہوتا ہے۔
لیلة القدر کامطلب ہے قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیتوں اورفضیلتوں کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے۔ یا پھر یہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدار ہوکر عبادت کرے گا وہ قدروشان والا ہوگا ۔ تواللہ تعالی نے اس رات کی جلالت ومنزلت اورمقام ومربتہ کی بنا پراس کانام لیلة القدر رکھا کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں اس رات کی بہت قدر ومنزلت ہے۔ شب قدر کی فضیلت بے شمارآیات و احادیث سے ثابت ہے۔ صحیحین کی حدیث میں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1768 )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا ، اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔“ (سنن ابن ماجہ، حدیث : 1634، معجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 1500)
مسلمانوں کو ترغیب و تاکید ہے کہ وہ اس رات کو اللہ تعالی کی عبادت کریں، رات کو دعا و عبادت اور ذکر وتلاوت میں گزاریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مبارک رات کی تلاش کے لیے اعتکاف فرماتے تھے اور رمضان کے آخری عشرہ میں پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سید الرسل اور محبوب رب العالمین تھی ، وہ اللہ کے نزدیک مقبول اور بخشے بخشائے تھے، لیکن پھر بھی اللہ کی رضا کی تلاش میں آپ اتنی جدوجہد فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے ہم بہت زیادہ محتاج ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔
 اس رات کو رمضان اورخاص کراس کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1880 ) اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ،باقی نو رہ جائیں تو ان میں، باقی سات رہ جائیں توان میں ، باقی پانچ رہ جائیں تو ان میں۔ ( صحیح بخاری، حدیث : 1881) پھر احادیث کی روشنی میں شب قدر کے آخری عشرہ میں بھی طاق راتوں میں وقوع کا زیادہ امکان معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1878 ) جب کہ بعض احادیث میں ستائیسویں رات کو شب قدر ہونے کی بات بھی وارد ہوئی ہے۔جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ ( سنن ابوداود ، حدیث : 1178، مسند احمد وغیرہ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عني ) اے اللہ تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کوپسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کردے ) (سنن ترمذی ، حدیث : 3435، مسند احمد ، سنن ابن ماجہ وغیرہ)
 حضرات محدثین و علماء فرماتے ہیں کہ شب قدر سے متعلق روایات کثرت سے مروی ہیں اور ان کے مجموعہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شب قدر ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے، اور طاق راتوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جب کہ ستائیسویں رات میں اور زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں مصلحت و حکمت سے شب قدر کو مخفی رکھا ہے ۔اس کو مخفی رکھنے میں شاید ہماری طلب اور ذوق جستجو کا امتحان مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص خلوصِ نیت اورصدقِ دل سے کوشش کرے ، چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو ،تو ان شاء اللہ وہ محروم نہیں رہے گا۔ اہل ذوق کے یہاں تو سارا معاملہ ذوقِ طلب اور شوقِ جستجو ہی کا ہے، بقول وحشت کلکتوی:
نشانِ منزلِ جاناں ملے ملے، نہ ملے       $            مزے کی چیز ہے یہ ذوقِ جستجو میرا
================================

$ $ $









عیدین اور رمضان کی تعیین میں شریعت کا ضابطہ احادیث کی روشنی میں



امسال یعنی ۱۴۳۵ھ مطابق ۲۰۱۴/ میں گزشتہ سالوں کے برخلاف اتفاق سے” سعودی عرب“ کی ۱۰/ذی الحجہ میں ”ہندوستان“ کی ۸/ ذوالحجہ کی تاریخ واقع ہوئی؛ حالانکہ پچھلے سالوں میں عیدالاضحی کے حوالے سے” سعودی عرب“ اور”ہندوستان“ کی تاریخ میں عموماً ایک ہی دن کا فرق ہوتا تھا ، اسی وجہ سے ”ہندوستان“ میں بقرعید کے ایام کی تعیین میں بعض لوگوں کو شبہ پیدا ہوگیا، ملک کے مختلف علاقوں سے راقم الحروف کے پاس کثرت سے فون موصول ہوئے کہ امسال بقرعید کس دن ہے؟ کیاایسا تو نہیں کہ ذی الحجہ کا چاند حقیقت میں ۲۹ / ذوقعدہ میں افق پر موجود ہو؛ لیکن کسی وجہ سے لوگوں کو چاند نظر نہ آیا ہو؟بعض لوگوں نے توصرف تشفی اور تحقیق کے لیے رابطہ قائم کیا؛ جب کہ کچھ علاقوں سے ایسی بھی خبریں موصول ہوئیں کہ وہاں پر غلط قسم کی افواہیں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور بقرعید ہی نہیں؛ بلکہ عید الفطر اورماہِ رمضان کی تعیین میں بھی شرعی نقطئہ نظر کے حوالے سے لوگ شک وشبہہ میں پڑ رہے ہیں، چنانچہ” دہلی“ کے ایک دیندار اعلی عہدیدار نے یہ خبرد ی کہ ہمارے یہاں چند غیرملکی افرادنے امسال” سعودی عرب“ کی تاریخ کا اعتبار کرتے ہوئے ”ہندوستان“ کی تاریخ کے حساب سے ۸ ذوالحجہ کو قربانی کی ہے، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ رمضان اور عیدالفطر میں بھی وہ لوگ” سعودی عرب“ کی تاریخ کا اعتبار کرتے ہیں، موصوف نے اس مسئلے سے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں شرعی نقطئہ نظر واضح کرنے کی خواہش ظاہر کی، زیرنظر تحریر اسی مسئلہ سے متعلق ہے، جس سے امید ہے کہ ان شاء اللہ رمضان ، عید اور بقرعید وغیرہ ایام کی تعیین میں شریعت کا اصل حکم واضح ہوکر سامنے آجائے گا۔

                شریعتِ اسلام نے انسانی فطرت کا لحاظ کرتے ہوئے سال میں دودن خوشی ومسرت کے لیے تجویز کیے ہیں؛ لیکن یہ ایام دنیا کے عام تہواروں کی طرح محض رسمی تہوار نہیں؛ بلکہ انعاما تِ خداوندی کی شکر گزاری کے ایام ہیں، اسلام نے ان کو عبادت کے ایام قرار دیاہے ، اِن سے متعلق شریعت کی مستقل تعلیمات وھدایات ہیں، اِن ایام کی ابتداء وانتہاء اور ان کومنانے کاطریقہ شریعت کی طرف سے متعین کردیا گیاہے، یہ اللہ کا کتنا بڑا فضل وانعام ہے کہ اس نے خوشی کے لیے جن ایام کو منتخب فرمایا، اُس کو بھی ہمارے لیے عبادت بنادیا کہ ایک طرف انسان اپنی فطرت کے مطابق خوشی منائے اور دوسری طرف آخرت کے اجروثواب کو بھی حاصل کرے، اِس سے اسلام کی جامعیت وشمولیت کے ساتھ ساتھ اس کا دینِ فطرت ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔
                لیکن کوئی بھی عبادت اُس وقت عبادت بنے گی؛ جب کہ اُس کو اس طریقے پر ادا کیا جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ الٰہی کے ذریعے بندوں کے لیے متعین فرمایا ہے۔ احکام واوامر کے جو اصول اور ضابطے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طے فرمائے ہیں ، اُن کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل کرنا ہی اصل بندگی ہے، عبادات کا مدار عقلِ انسانی پر نہیں؛ بلکہ وحیِ الٰہی کے مطابق اِطاعت وفرماں برداری پر ہے، اسی لیے شریعت نے بندے کو اس بات کا مکلف بھی نہیں بنایا ہے کہ وہ احکام خداوندی کو عقلی پیمانے پر جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کرے، اِس سے بندگی کی روح پر آنچ آتی ہے، حقیقت میں اللہ تعالی ہی اپنے ہر حکم کی علل وحکمتوں سے واقف ہے، انسان کی ناقص عقل حکمِ الٰہی کی ساری حکمتوں کے ادراک سے قاصر ہے؛ چنانچہ فرض نمازوں کا پانچ کے عدد میں منحصر ہونا،روزہ کی ابتداء صبح صادق سے اور انتہا غروبِ آفتاب پر ہونا، فرض روزوں کے لیے بارہ مہینوں میں سے رمضان ہی کے مہینے کا متعین ہونا، وغیرہ وغیرہ احکام شرعیہ کے رازوں سے اللہ تعالی ہی کی ذات خوب واقف ہے۔
                رمضان ، عید اوربقرعید اِسلام میں وہ عبادتیں ہیں جن کی ابتداء اور انتہاء کی تعیین کو شریعتِ اسلام نے چاند سے متعلق کیاہے؛ لیکن چاند سے متعلق کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلے میں شریعت کے قوانین وضابطے کیاہیں ؟ اس کو سمجھنا ضروری ہے؛ اس لیے کہ ان احکام کا چاند سے تعلق اُسی وقت معتبر ہوگا؛ جب کہ اس سلسلے میں شریعت کے مسلمہ اصول وضابطوں کو ملحوظ رکھا جائے، اس کے بغیر یہ عبادتیں عبادت کہلانے کی مستحق نہیں ہونگی ۔
                افسوس کہ آج کل عبادتوں میں انسانی رایوں کی دخل اندازی کثرت سے ہونے لگی ہے، شریعت کا جو حکم بھی انسان کی ناقص عقل کے ناقص معیار پرنہ اتر سکے، اُس مسئلے میں بے جا تاویلات وتشریحات کی بھی جرأت ہونے لگی ہے، ترقی یافتہ شکلوں سے فائدہ اٹھانے کے نام پر اسلام کے مسلمہ اصول وضوابط بھی مجروح کیے جانے لگے۔الأمان والحفیظ۔[1]
                بہرِحال ! چاند سے متعلق احکامِ شرعیہ کے حوالے سے پہلے چند مسلمہ ضابطے اور ان کی مختصر ضروری تشریحات ملاحظہ فرمائیں:
                (۱) شریعتِ اسلام نے جن معاملات کامدار چاند ہونے پر رکھاہے،اُس سے مراد چاند کا افق پر موجود ہونا نہیں؛ بلکہ اُس کا قابلِ رویت ہونااور عام نگاہوں سے دیکھا جانا ہے۔
                چاند سے متعلق شریعت کے مسلمہ ضابطوں میں یہ ضابطہ بہت اہمیت کا حامل ہے، اگر اس ضابطہ کو صحیح طو رپر سمجھ لیا جائے تو چاند سے متعلق کسی بھی حکمِ شرعی میں شک وشبہ کی کوئی نوبت ہی نہ آئے، چاند سے متعلق قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند ہونا کس کو قراردیا اور نہ ہونا کس کو کہا؟ آیا چاند کا صرف افق پر موجود ہونا شرعی احکام میں کافی تسلیم کیا جائے گا یا عام انسانی آنکھوں سے دیکھنے پر اس کے ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا؟ اس مسئلے میں ارشاداتِ نبوی ملاحظہ فرمائیں!
                حدیث کی سب سے بڑی مستند کتاب جو اعتماد میں قرآن کے بعددوسرا درجہ رکھتی ہے یعنی: صحیح بخاری میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:
                لاَتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ وَلاَ تُفْطِرُوْا حتّٰی تَرَوْہُ فانْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہ (بخاری: ۱/۲۵۶)
                روزہ اس وقت تک نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور عید کے لیے افطار اس وقت تک نہ کرو؛ جب تک چاند نہ دیکھ لو اور اگر چاند تم پر مستور ہو جائے تو حساب لگالو( یعنی حساب سے تیس دن پورے کرلو)۔
                اسی کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں۔
                اَلشَّہْرُ تِسْعٌ وَّ عِشْرُوْنَ لَیْلَةً، فَلاَ تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأکْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِیْنَ(صحیح بخاری۱/۲۵۶)
                مہینہ (یقینی) انتیس راتوں کاہے؛ اس لیے روزہ اس وقت تک نہ رکھو جب تک (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو۔ پھر اگر تم پر چاند مستور ہوجائے تو ( شعبان) کی تعداد تیس دن پورے کرکے رمضان سمجھو۔
                یہ دونوں حدیثیں حدیث کی دوسری سب مستند کتابوں میں بھی موجود ہیں جن پر کسی محدث نے کلام نہیں کیا۔ اور دونوں میں روزہ رکھنے اور عید کرنے کا مدار چاند کی رویت پر رکھا ہے۔ لفظ ”رویت“ عربی زبان کا مشہور لفظ ہے جس کے معنی:”کسی چیز کو آنکھوں سے دیکھنے کے ہیں“۔ اس کے سوا اگر کسی دوسرے معنی میں لیا جائے تو حقیقت نہیں مجاز ہے؛اس لیے حاصل اس ارشادِ نبوی کا یہ ہوا کہ تمام احکامِ شرعیہ جو چاند کے ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہیں، ان میں چاندکا ہونا یہ ہے کہ عام آنکھوں سے نظر آئے۔ معلو م ہوا کہ مدارِ احکام چاند کا افق پر وجود نہیں؛ بلکہ رویت ہے۔ اگر چاند افق پر موجود ہو؛ مگر کسی وجہ سے قابلِ رویت نہ ہو تو احکامِ شرعیہ میں اس وجود کا اعتبار نہ کیا جائے گا۔
                حدیث کے اس مفہو م کو اسی حدیث کے آخری جملہ نے اور زیادہ واضح کردیا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ اگر چاند تم سے مستور اور چھپا ہوا رہے یعنی: تمہاری آنکھیں اس کو نہ دیکھ سکیں تو پھر تم اس کے مکلّف نہیں کہ ریاضی کے حسابات سے چاند کے وجوداور پیدائش معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔ یا آلاتِ رصدیہ اور دور بینوں کے ذریعہ اُس کا وجود دیکھو؛ بلکہ فرمایا:
                فانْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأکْمِلُوْا الْعِدَّةَ ثَلاَثِیْنَ
                یعنی: اگر چاند تم پر مستور ہو جائے تو تیس دن پورے کرکے مہینہ ختم سمجھو۔
                اس میں لفظ ”غمَّ“ خاص طورسے قابلِ نظر ہے۔ اس لفظ کے لغوی معنی عربی محاورہ کے اعتبار سے بحوالہ ”قاموس وشرح قاموس“ یہ ہیں:
                غُمَّ الْہِلَالُ عَلَی النَّاسِ غَمًّا اذا حَالَ دُوْنَ الْہِلاَلِ غَیْمٌ رَقِیضرٌ أو غَیْرُہ فَلَمْ یُر (تاج العروس شرح قاموس)
                لفظ ”غم الھلال علی الناس“ اُس وقت بولاجاتاہے؛ جب کہ ہلال کے درمیان کوئی بادل یا دوسری چیز حائل ہوجائے اور چاند دیکھا نہ جاسکے۔
                جس سے معلوم ہوا کہ چاند کا وجود خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کرکے یہ حکم دیا ہے؛ کیونکہ مستور ہو جانے کے لیے موجود ہونا لازمی ہے ، جو چیز موجود ہی نہیں اس کو معدوم کہا جاتاہے ، محاورات میں اس کو مستور نہیں بولتے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ چاند کے مستو رہوجانے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی سبب پیش آئے ۔ بہرِحال جب نگاہوں سے مستور ہوگیا اور دیکھا نہ جاسکا تو حکمِ شرعی یہ ہے کہ روزہ وعیدوغیرہ میں اُس کا اعتبار نہ کیا جائے گا۔
                (۲)قرآن وحدیث میں یہ بات منصوص اور قطعی ہے کہ کوئی مہینہ انتیس دن سے کم اور تیس دن سے زائد نہیں ہوتا، لہٰذا جن بلاد میں اتنا فاصلہ ہو کہ ایک جگہ کی رویت دوسری جگہ معتبر ماننے کے نتیجے میں مہینے کے دن اٹھائیس رہ جائیں یا اکتیس ہو جائیں، وہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار کیا جائے گا اور جہاں اتنا فاصلہ نہ ہو، وہاں اختلافِ مطالع غیر معتبر ہوگا۔
                (۳) ہر جگہ کے لیے اُسی جگہ کی روٴیت معتبر ہوگی ۔
                ترمذی شریف میں امام ترمذی نے مستقل ایک باب قائم کیا ہے ”بابُ مَا جَاءَ لِکُلِّ أہْلِ بَلَدٍ رُوٴْیَتُہُمْ“ یعنی: ہر جگہ کے لیے اُسی جگہ کی روٴیت معتبر ہوگی ، پوری حدیث کا ترجمہ یہ ہے:
                ابن عباس کی والدہ ام الفضل نے کُریب کو (جو حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ تھے) کسی ضرورت سے حضرت معاویہ کے پاس ملک شام بھیجا،کریب نے ام الفضل کا کام نمٹایا، ابھی وہ شام ہی میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آیا، چاند جمعہ کی رات میں نظر آیا تھا (اور انھوں نے پہلا روزہ جمعہ کو رکھا تھا) پھر وہ مہینہ کے آخر میں مدینہ آئے ابنِ عباس نے دریافت کیا تم نے چاند کب دیکھاتھا؟ انھوں نے کہا ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا تھا،ابنِ عباس نے پوچھاکیا تم نے خود جمعہ کی رات میں چاند دیکھا تھا (مسلم کی روایت میں ہے نعم، ہاں خود دیکھا تھا)لوگوں نے بھی دیکھاتھا، پس انھوں نے روزہ رکھا اور امیر معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابنِ عباس نے فرمایا: مگر ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے، پس ہم برابر روزے رکھتے رہیں گے؛ تاآنکہ ہم تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں،کریب نے پوچھا:کیا آپ کے لیے حضرت امیرمعاویہ کا چاند دیکھنا اور ان کاروزہ رکھنا کافی نہیں؟ابنِ عباس نے فرمایا:نہیں ہمیں رسول اللہ… نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ (تحفة الالمعی) آگے امام ترمذی فرماتے ہیں: وَالْعَمَلُ عَلیٰ ھٰذالْحَدِیثِ عِنْدَ أھْلِ الْعِلْمِ أنَّ لِکُلِّ أَھْلِ بَلَدٍ رُوٴیَتُھُمْیعنی: تمام اہلِ علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر جگہ کے لیے اسی جگہ کی روٴیت معتبرہوگی۔ (ترمذی شریف۱/۱۴۸)
                ترمذی شریف کی دوسری حدیث میں ہے: انَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اَلصُّوْمُ یَوْمَ تَصُوْمُوْنَ وَالْفِطْرُ یَوْمَ تُفْطِرُوْنَ وَالأضْحٰی یَوْمَ تُضَحُّوْنَ (ترمذی شریف ۱/۱۵۰) یعنی رمضان، عیدالفطر اور عید الاضحی جماعت اور سواداعظم کے ساتھ ہے۔[2]
                (۴) عام طور پرروٴیتِ ہلال کے معاملہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے شہادت کا معاملہ قراردیا ہے؛ البتہ رمضان کے چاند میں خبر کو کافی سمجھا ہے بشرطیکہ خبر دینے والا ثقہ مسلمان ہو، ترمذی ،ابوداوٴ، نسائی وغیرہ میں ایک اعرابی اور ابوداوٴد کی روایت میں حضرت ابن عمرکے واقعہ سے ثابت ہے کہ صرف ایک ثقہ مسلمان کی خبر پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شروع کرنے اور روزہ رکھنے کا اعلان فرمادیا، نصابِ شہادت کو ضروری نہیں سمجھا رمضان کے علاوہ دوسرے ہرچاند کی شہادت کے لیے نصاب ِشہادت اور اس کی تمام شرائط کو ضروری قراردیا اور سب فقہاء امت کا اس پر اتفاق ہے، اور سنن دار قطنی میں ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلالِ عید کے لیے دوآدمیوں سے کم کی شہادت کافی نہیں قرار دی۔
                پھر شہادت کی ایک قسم تو یہ ہے کہ آدمی بچشم خود چاند دیکھنے کی گواہی دے ، دوسری قسم یہ ہے کہ کسی شہادت پرشہادت دے، یہ ”شہادة علی الشہادة“ کہلاتی ہے۔تیسری صورت یہ ہے کہ گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ ہمارے سامنے فلان شہر کے قاضی کے سامنے شہادت پیش ہوئی، قاضی نے اس کا اعتبار کرکے شہر میں رمضان یا عید کا اعلان کردیا؛ یہ شہادت علی القضاء کہلاتی ہے۔
                 حاصل یہ ہواکہ جب کسی شہر میں عام طور پر چاند نظر نہ آئے تو چاند کے ثبوت کے لیے مذکورہ تین صورتیں شرعاً معتبر ہیں اور دوسرے شہر میں روٴیت ہلال کے ثبوت کے لیے کافی ہیں، (کبھی استفاضے کے ذریعے بھی روٴیت کا ثبوت ہوجاتا ہے، جس کی شرائط کتبِ فقہ میں مذکور ہیں؛ لیکن استفاضے کے ذریعے چاند کے ثبوت میں بھی یہ بات ضروری ہے کہ مہینے کا ۲۸ یا ۳۱ کا ہونا لازم نہ آئے) البتہ دور دراز ممالک سے اگر مذکورہ بالا طریقوں پر شہادت پہنچتی ہے، تو بعض فقہاء جن کے نزدیک اختلافِ مطالع کا اعتبار ہوتا ہے ،وہ اس شہادت کوقابلِ عمل قرار نہیں دیتے اور جن کے نزدیک اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں ہوتاہے، اُن کے نزدیک اس شہادت کے معتبر ہونے کے لیے مذکورہ نصوص کی روشنی میں ایک شرط یہ بھی ضروری ہوگی کہ اس شہادت کے قبو ل کرلینے سے مہینہ اٹھائیس یا اکتیس کا ہونا لازم نہ آئے، اگر ایسا ہوگا تو وہ شہادت معتبر نہ ہوگی۔
                چاند سے متعلق مذکورہ بالا شرعی ضابطوں کی روشنی میں یہ بات بغیر کسی شک وتردد کے کہی جاسکتی ہے کہ امسال یعنی ۱۴۳۵ھ میں ذی قعدہ کا مہینہ ۳۰/دن کا تھا ؛ کیونکہ ۲۹/ ذی قعدہ کو ملک کے کسی بھی علاقے سے رویت کی خبر موصول نہیں ہوئی اور تادمِ تحریر (۱۰،ذوالحجہ۱۴۳۵ھ) بھی کوئی خبر نہیں مل سکی ہے، لہٰذا ۲۹/ ذی قعدہ کو اگر کسی ذریعہ سے چاند کا افق پر موجود ہونا ثابت بھی ہوجائے، تب بھی پہلے ضابطے کی وجہ سے اس کو شرعاً غیر معتبر قرار دیا جائے گا ، نیز” سعودی عرب“ کی تاریخ ”ہندوستان“ میں رہنے والوں کے لیے شرعاً حجت نہ ہوگی ؛ اس لیے کہ ہر علاقے کے لیے اسی جگہ کی رویت شرعاً معتبر ہوتی ہے، جیسا کہ ضابطہ نمبر۲ میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے، اور امسال تو ”سعودی عرب“ کی تاریخ اور” ہندوستان“ کی تاریخ میں دودن کا فرق ہوگیا، ایسی صورت میں ”سعودی عرب“ کی روٴیت ”ہندوستان“ کے لیے اور بھی زیادہ غیر معتبر ہوگی ورنہ تو ”ہندوستان“ میں ذی قعدہ کے مہینے کا ۲۸/ دن کا ہونا لازم آئے گا، جونص قطعی کی رو سے ممنوع ہے۔
                اسی طرح اِس موقع پر احتیاط کی بات کہنا (مثلاً: بقرعید کے دو ہی دن قربانی کی جائے، تیسرے دن قربانی نہ کی جائے۔ وغیرہ) شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے، جب مسئلہ بالکل صاف اور واضح ہو، اس میں کسی طرح کا کوئی شک نہ ہو تو ایسے موقع پر مسئلے کی ناواقفیت کی بناء پر احتیاط کی بات کرنا بلا وجہ لوگوں کو شک و شبہے میں ڈالنا ہے ۔
                حاصل یہ ہے کہ امسال ۱۴۳۵ھ مطابق۲۰۱۴/ میں ذی قعدہ کا مہینہ ۳۰ / دن کا تھا، جس کے مطابق ۱۰/ذی الحجہ یعنی ۶/ اکتوبر بروز دوشنبہ بقرعید تھی ، لہٰذا جن لوگوں نے امسال” سعودی عرب“ کی تاریخ کا اعتبار کرتے ہوئے ”ہندوستان“ میں دو روز قبل یعنی ۸/ ذی الحجہ کو قربانی کی ہے، اُن کی قربانی درست نہیں ہوئی، ان کاعمل احادیثِ نبویہ کے صریح خلاف تھا، اُ ن کو غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ نمازیں بھی سعودی وقت کے مطابق ادا کرتے ہیں؟شبِ قدر، عاشورہ کی تعین بھی سعودی تاریخ سے کرتے ہیں ؟اگر وہ تمام شرعی اعمال میں سعودی تاریخ کا اعتبار کرتے ہیں، تو اُن کا عمل شرعاً صحیح نہیں ہے اور اگر عید و بقرعید ہی میں ایسا کرتے ہیں، تو فرق کی وجہ کیا ہے؟
$ $ $



[1] اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نئی ایجادات سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے، نہیں ، ہر گز نہیں، نئی ایجادات بھی اللہ کی نعمتیں ہیں ،ان سے وحشت و بیزاری نہ کوئی دین کا کام ہے، نہ عقل کا ؛ البتہ ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے میں شریعت کے حدود و قیود کو سامنے رکھنا ضروری ہے؛چنانچہ اُس وقت تک ان سے استفادہ جائز ہوگا؛ جب تک کہ ان کی وجہ سے شریعت پر کوئی آنچ نہ آئے، نئی ایجادات کو شریعت کی روشنی میں پرکھا جائے گا، نہ کہ شریعت کو نئی ایجادات کی روشنی میں۔
[2] اس حدیث کی روشنی میں اس صورت کا حکم بھی معلوم ہو گیا کہ اگر کوئی شخص جدہ سے تیس رمضان کو سحری کھا کر ہندوستان آیا، یہاں انتیسواں روزہ تھا اور شام کو چاند نظرنہیں آیا؛ اس لیے اگلے دن لوگوں نے تیسواں روزہ رکھا ؛ لیکن جدہ سے آنے والے کا اکتیسواں روزہ ہوجائے گا ، پھربھی اسے اس دن عید منانے کی اجازت نہیں؛ بلکہ عید اگلے دن مقامی سب مسلمانوں کے ساتھ منائے گا، یہ حکم مذکورہ حدیث سے ہی نکلاہے۔







No comments:

Post a Comment