Wednesday, 6 April 2016

فضائلِ صدقات


صدقہ کی فضیلت (فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ - متوفى 373ھ)
افضل صدقہ
فقیہ ابواللیث سمر قندی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر غفاری نے فرمایا، نماز اسلام کا ستون ہے، جہاد عمل کی چوٹی ہے اور صدقہ ایک عجیب چیز ہے، صدقہ ایک عجیب چیز ہے، صدقہ ایک عجیب چیز ہے۔ ان سے روزہ کی متعلق سوال ہوا تو فرمایا کہ ہاں نیک عمل ہے، مگر فضیلت وہ نہیں، پوچھا گیا کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا جو بہت ہو اور بہت ہو اور پھر یہ آیت پڑھی:﴿لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّون﴾․ (آل عمران، آیت:92)
ترجمہ:” یعنی تم خیر کامل کو کبھی حاصل نہ کر سکو گے جب تک اپنی محبوب چیز کو خرچ نہ کرو گے۔“

سوال ہوا جس کے پاس نہ ہو؟ فرمایا جو مال بھی بچے صدقہ کر دے۔ پوچھا جس کے پاس مال نہ ہو؟ فرمایا بچا ہوا کھانا ہی سہی۔ عرض کیا گیا جس کے پاس یہ بھی نہ ہو؟ فرمایا اپنی قوت سے کسی کا تعاون کر دے پوچھا گیا جو یہ بھی نہ کر سکے ؟فرمایا آگ سے بچے خواہ کھجور کا ٹکڑا دے کر ہی سہی۔ کہا گیا جویہ بھی نہ کرے؟ فرمایا وہ اپنے آپ پر ضبط رکھے، کسی پر ظلم نہ کرنے پائے۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے یہ مضمون حضور ﷺ سے نقل کیا ہے ۔

بُخل کُفر کا شُعبہ ہے اور سخَاوت اِیمان کا شعبہ ہے
حضرت ابو دردا راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بھی سوج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں جانب دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جو یہ آواز لگاتے ( جسیجنات اور انسانوں کے سوا تمام اہل زمین سنتے ہیں) اے لوگو! اپنے رب کی طرف لپکو، بے شک قلیل مال، جو کفایت کرے، اس کثیر مال سے بہتر ہے جو غفلت پیدا کرے اور دو فرشتے یہ آواز لگاتے ہیں اے الله !اپنا مال برمحل یعنی نیک کاموں میں خرچ کرنے والے کو جلدی اس کا نعم البدل عطا فرما۔ اور ایسے موقعہ پر بخل کرنے والے کے مال کو تباہ و برباد فرما۔

حضرت ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے، جوکعبہ شریف کے پَردوں سے چمٹا ہوا یہ دعا کر رہا تھا کہ اس بیت کی عظمت حرمت کے صدقے میری مغفرت فرما۔ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے الله کے بندے! اپنی حُرمت کے واسطے دعا مانگ کہ الله تعالی کے ہاں مومن کی حرمت وعظمت اس بیت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ عرض کرنے لگا یا رسول الله! میں بہت ہی بڑا گنہگار ہوں۔ ارشاد فرمایا تیرا گناہ کیا ہے؟کہنے لگا میرے پاس مال کی بہتات ہے، چوپائے مویشی بھی بہت ہیں۔ اور گھوڑے بھی کثرت سے ہیں۔ لیکن جب کوئی آدمی ان میں سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں یوں ہو جاتا ہوں، جیسا میرے منھ سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں، رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: اوفاسق! چل دور ہو جا، کہیں اپنی آگ سے مجھے بھی نہ جلا دینا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میرے جان ہے !اگر تو ہزار برس تک روزے رکھے اور نمازیں پڑھتا رہے، پھر اس کمینگی کی حالت میں مر جائے تو یقینا الله تعالیٰ تجھے دوزخ میں اوندھا لٹکائیں گے، کیا تجھے معلوم نہیں کمینگی کفر کا شعبہ ہے اور کفر کا ٹھکانا دوزخ ہے اور سخاوت ایمان کا شعبہ ہے او رایمان کا ٹھکانا جنت ہے؟!

سخاوت کی جڑ اور بخل کی جڑ
حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا سخاوت درخت ہے، جس کی جڑ جنت میں ہے او راس کی شاخیں دنیا میں لٹک رہی ہیں، جو شخص بھی اس کی کسی شاخ سے چمٹ گیا وہ اسے جنت کی طرف کھینچ لے گا اور بخل ایک درخت ہے جس کی جڑ دوزخ میں ہے اور شاخیں دنیا میں لٹک رہی ہیں، جو کوئی اس کی شاخ سے لگ جائے گا وہ اسے دوزخ کی طرف کھینچ لے گا، ایک حدیث میں ارشاد مبارک ہے بخیل الله سے دور جنت سے دور، لوگوں سے دور اور دوزخ کے قریب ہے اور سخی الله کے قریب جنت کے قریب، لوگوں کے قریب اور دوزخ سے دور ہے۔

ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے، اپنے مالوں کو زکوٰة کے ذریعہ محفوظ کرو اور اپنے بیماروں کا صدقہ کے ذریعہ علاج کرو اور قسم قسم کی آفات کا دعاؤں سے مقابلہ کرو۔

حضرت عبدالرحمن سلمانی رسول الله ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں کہ کسی سائل کو بات ختم کرنے سے پہلے نہ ٹوکو۔ پھر یا تو نرمی اور وقار کے ساتھ اسے کچھ دے دو یا احسن طریق سے جواب دے دو کہ بسا اوقات تمہارے پاس ایسے سائل بھی آتے ہیں جو جن ہوتے ہیں نہ انسان اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ الله کی عطا کردہ نعمتوں میں تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ سعید بن مسعود  کندی راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی دن یا رات میں صدقہ کرتا ہے اور زہریلے جانور کے ڈسنے سے دیوار یا چھت وغیرہ تلے دبنے سے تواچانک موت سے محفوظ رہتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ صدقہ کرنے سے مال کبھی کم نہیں ہوتا اور جو شخص کسی ظلم کو معاف کرتا ہے الله تعالیٰ اس کی عزت افزائی فرماتے ہیں او رجو شخص الله کے لیے تواضع کرتا ہے الله تعالیٰ اسے اونچا کرتے ہیں۔

دو چیزیں شیطان اور رحمان کی طرف سے
حضرت ابن عباس  کا ارشاد ہے کہ دو چیزیں شیطان کی طرف سے ہیں اور دو الله تعالیٰ کی طرف سے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:﴿الشَّیْْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَأْمُرُکُم بِالْفَحْشَاء وَاللّہُ یَعِدُکُم مَّغْفِرَةً مِّنْہُ وَفَضْلاً وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴾․(سورہ بقرہ، آیت:268)
ترجمہ:” شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے او رتم کو بری بات کا مشورہ دیتا ہے ۔ اور الله تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی طرف سے گناہ معاف کر دینے کا اورزیادہ دینے کا اور الله تعالیٰ وسعت والے اور خوب جاننے والے ہیں۔“

یعنی الله تعالیٰ تمہیں صدقہ اور اطاعت کا حکم دیتے ہیں، تاکہ تم اس کی مغفرت اور فضل کو پا سکو اور الله تعالیٰ وسیع فضل والے ہیں ۔ صدقہ کرنے والے کے ثواب سے واقف ہیں۔

حضرت بریدہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں، جب کوئی قوم بد عہدی کرتی ہے الله تعالیٰ انہیں قتل وخون میں مبتلا کر دیتے ہیں اورجب کسی قوم میں بے حیائی پھیل جائے تو الله تعالیٰ ان پر موت مسلط کر دیتے ہیں او رکوئی قوم جب زکوٰة روک لیتی ہے تو الله تعالیٰ اس سے بارش روک لیتے ہیں۔

تین سطریں ،پانچ چیزیں
حضرت ضحاک نزال بن سُبرہ سے روایت کرتے ہیں کہ جنت کے دروازے پر تین سطریں لکھی ہوئی ہیں۔

پہلی سطر یہ ہے:”لااِلٰہَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ․“

دوسری ہے:”اُمَّةٌ مُذْنِبَةٌ وَرَبٌّ غَفُوْرٌ․“
ترجمہ:” لوگ گنہگار اور پرورد گار مغفرت والا ہے۔“

تیسری سطر یہ ہے:”وَجَدْنَا مَا عَمِلْنَا، رَبِحْنَا مَا قَدَّمْنَا، خَسِرْنَا مَا خَلَّفْنَا․“
ترجمہ:” ہم نے اپنے اعمال کو پالیا اور جو آگے بھیجا وہ نفع میں رہا، جو پیچھے چھوڑا وہ خسارا اٹھایا۔“

کہتے ہیں کہ جو شخص پانچ چیزیں روکتا ہے الله تعالیٰ اس سے پانچ چیزیں روک لیتے ہیں۔
1..جو زکوٰة رو ک لیتا ہے، الله تعالیٰ اس کے مال کی حفاظت روک دیتے ہیں۔2..جو صدقہ روکتا ہے الله تعالیٰ اس سے عافیت روک لیتے ہیں۔3.. جو عُشر روکتا ہے الله تعالیٰ اس کی زمین کی برکتوں کو روک دیتے ہیں۔4.. جو دُعا روکتا ہے ،الله تعالیٰ قبولیت روک لیتے ہیں۔5.. اور جو شخص نماز میں سستی کرتا ہے، الله تعالیٰ موت کے وقت اس سے”لااِلٰہَ اِلَّا اللهُ“ روک دیتے ہیں۔

ابن مسعود فرماتے ہیں ایک شخص اپنی صحت اور ضرورت کی حالت میں جو ایک درہم خرچ کرتا ہے وہ ان سودرہموں سے بڑھ کر ہے جن کی مرتے وقت وہ وصیت کرتا ہے۔

عابد اور بخیل کا قصہ
فقیہ فرماتے ہیں، میں نے اپنے بزرگوں سے سُنا وہ فرماتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک شخص اپنے بخل کی وجہ سیملعون کے نام سے مشہو رتھا۔ اس کے پاس ایک دن ایک شخص آیا ،جو جہاد کا ارادہ رکھتا تھا۔ کہنے لگا اے ملعون! مجھے کچھ ہتھیار دے دے۔ جو جہاد میں میرے کام آئیں گے اور تیرے لیے دوزخ سے رہائی کا سامان ہو گا اس نے منھ پھیر لیا اور کچھ نہ دیا ۔ وہ آدمی واپس چل دیا، ملعون کو ندامت ہوئی ،اسے آواز دے کر بلایا او راپنی تلوار دے دی، وہ آدمی تلوار لے کر واپس لوٹا ،راستے میں عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ان کے ساتھ ایک عابد بھی تھا، جو ستر برس سے عبادت میں مصروف تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا کہ تلوار کہاں سے لائے ہو؟ وہ شخص بولا ملعون نے دی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملعون کے اس صدقہ سے بہت خوش ہوئے۔ ادھر ملعون اپنے دروازہ پر بیٹھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے عابد ساتھی کے چہرہ کو ایک نظر دیکھ لوں، یہ اٹھ کر دیکھنے لگا تو عابد نے کہا کہ میں تو اس ملعون سے بھاگتا ہوں، کہیں اپنی آگ میں مجھے بھی نہ جلا دے۔ الله تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندے کو بتاؤ کہ اس گنہگار کو اس کے صدقہ کی بدولت او رتمہاری محبت کی وجہ سے میں نے بخش دیا ہے اور اسے یہ بھی بتاؤ کہ وہ جنت میں تیرا ساتھی ہو گا۔ عابد کہنے لگا بخدا! مجھے تو اس کے ساتھ جنت میں جانا گوارا نہیں اور نہ ہی مجھے ایسا ساتھی پسند ہے۔ اس پر الله تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عليه السلام کو وحی بھیجی کہ میرے اس بندے کو کہو کہ تجھے میرا فیصلہ پسند نہ آیا اور میرے ایک بندہ کوتونے حقیر جانا۔ لہٰذا ہم نے تجھے ملعون اور دوزخی بنا دیا ہے اور تیرے جنت کے محلات کا اس کے دوزخ والے مقامات کے ساتھ تبادلہ کر دیا ہے۔ اب میں نے تیرے جنت والے درجات اپنے اس بندے کے لیے اور اس کا دوزخ والا ٹھکانہ تیرے لیے طے کر دیا ہے۔


صدقہ سے کیا کیا مصیبتیں ٹلتی ہیں؟
فقیہ ابو اللیث سمرقندی اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بستی پر سے گزرے ۔وہاں پر ایک دھوبی رہتا تھا۔بستی والوں نے آپ کے پاس اس کی شکایت کی کہ یہ ہمارے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اپنے پاس روک بھی رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ یہ اپنی کپڑوں والی گانٹھ سمیت واپس نہ آسکے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کردی، اگلے دن دھوبی حسب معمول کپڑے دھونے کے لیے چلا گیا، تین روٹیاں ساتھ تھیں۔قریب ہی پہاڑوں میں ایک عابد رہتا تھا۔وہ دھوبی کے پاس آیا اور پوچھا کیا تیرے پاس کھانے کو روٹی ہے۔اگر ہے تو ذرا اسے سامنے کردے تا کہ میں اسے دیکھ سکوں یا اس کی بو ہی سونگھ لو کیوں کہ ایک عرصہ سے کھانا نہیں کھایا ۔دھوبی نے اسے ایک روٹی کھانے کو دے دی۔عابد نے دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تیرے گناہ معاف فرمائے اور دل کو پاک کرے۔دھوبی نے دوسری روٹی بھی دے دی وہ کہنے اللہ تعالیٰ تیرے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردے۔ دھوبی نے تیسری روٹی بھی پیش کردی۔عابد بولا اے دھوبی اللہ تعالیٰ تیرے لیے جنت میں محل بنائے۔القصہ شام ہوئی تو دھوبی! صحیح وسالم واپس آگیا۔بستی والوں نے حیران ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ دھوبی تو واپس آگیا ہے؟آپ نے دھوبی کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ سچ بتا آج تو نے کیا عمل کیا ہے وہ کہنے لگا کہ ان پہاڑوں میں سے ایک عابد میرے پاس آیا، اس کے مانگنے پر میں نے تین روٹیاں اسے دیں اور ہر روٹی کے بدلے اس نے مجھے دعائیں دیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ذرا اپنی کپڑوں والی گانٹھ تو کھول کر دکھا، اسے کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سیاہ سانپ بیٹھا ہے، منہ میں لوہے کی لگام ہے ۔آپ نے سانپ کو پکارا تو اس نے لبیک (اے اللہ کے نبی میں حاضر ہوں)یا نبی اللہ کہہ کر جواب دیا۔ فرمایا کیا تجھے اس شخص کی طرف نہیں بھیجا گیا تھا؟وہ بولا بے شک! لیکن اس کے پاس ان پہاڑوں میں سے ایک عابد آیا اور اس سے روٹی مانگی۔اور ہر روٹی کے بدلے اس کو دعائیں دیتا رہا۔اور ایک فرشتہ پاس کھڑا آمین کہتا رہا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا، جس نے مجھے یہ لوہے کی لگام پہنادی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دھوبی سے فرمایا۔اس عابد پر صدقہ کرنے کی بدولت تیرے پچھلے گناہ معاف ہو گئے ہیں، اب نئے سرے سے اعمال شروع کردے۔

سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک عورت باہر نکلی، گود میں چھوٹاسا بچہ تھا، ایک بھیڑیا آیا اور عورت سے بچہ اُچک کر لے گیا۔عورت پیچھے ہوئی، راستہ میں ایک سائل ملا، عورت کے پاس ایک روٹی تھی، وہ سائل کو دے دی۔اتنے میں بھیڑیا از خود بچے کو واپس لے آیا اور ایک پکارنے والے کی آواز سنائی دی کہ یہ لقمہ اس سائل والے لقمہ کے بدلہ میں واپس ہے۔

جناب معتب بن سمعی کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک راہب نے ساٹھ سال تک اپنے معبدمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ایک دن جنگل کی طرف نظر دوڑائی، زمین خوش نما معلوم ہوئی ۔جی میں آیا کہ اتر کر زمین کے مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔چلنا پھرنا چاہیے، اتر آیا، ایک روٹی بھی ساتھ تھی۔ایک عورت سامنے آئی بے قابو ہو کر گناہ میں مبتلا ہوگیا۔اس اثنا میں موت کے حالات طاری ہوگئے، ایک سائل نے آواز دی ،راہب نے روٹی اسے دے دی اور خود مرگیا ۔ادھر اس کے ساٹھ سال کے اعمال ترازو کے ایک طرف اور اس کا یہ گناہ دوسری طرف رکھا گیا۔ساٹھ سال کی عبادت پر یہ گناہ بھاری ثابت ہوا، پھر اس کی وہ روٹی اعمال والے پلڑے میں رکھی گئی، جس سے گناہ کے مقابلہ میں وہ پلڑا بھاری ہوگیا۔

مشہور ہے کہ صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے۔ حضرت ابو ذرغفاری فرماتے ہیں کہ زمین میں جب بھی کوئی صدقہ کیا جاتا ہے تو ستر شیطان اس سے دور کیے جاتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اس کے لیے رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ ھضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے کہ صدقہ گناہ کو یوں ختم کرتا ہے جیسے پانی آگ کو۔

صدقہ کو ناپسند کرنے کا نتیجہ
حضرت عائشہ  سے روایت ہے کہ وہ بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک عورت آئی، اس نے ہاتھ آستین میں چھپا رکھا تھا ۔حضرت عائشہ  نے پوچھا ہاتھ باہر کیوں نہیں نکالتی ؟اس نے جواب سے گریز کیا۔حضرت عائشہ  نے کہا ضرور بتانا ہوگا ۔تو کہنے لگی ام الموٴمنین !قصہ یہ ہے کہ میرے والد صاحب صدقہ کا شوق رکھتے تھے اور والدہ اتنا ہی ناپسند سمجھتی تھی اور کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا کہ اس نے چربی کے ٹکڑے کسی پرانے کپڑے کے سوا کچھ صدقہ کیا ہو ۔قضائے الہٰی سے دونوں فوت ہوگئے، میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہے۔اور میری ماں بھری خلقت میں یوں کھڑی ہے کہ پرانے کپڑے سے پردہ کا بدن چھپایا ہوا ہے ۔اور چرپی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے چاٹ رہی ہے اور ہائے پیاس پکار رہی ہے۔ادھر میرا والد ایک حوض کے کنارے بیٹھا لوگوں کو پانی پلارہا ہے اور یہی عمل میرے والد کو دنیا میں بھی بہت محبوب تھا۔میں نے ایک پیالہ پانی کا لے کر اپنی والدہ کو پلایا، اتنے میں اوپر سے آواز آئی، جس نے اسے پانی پلایا ہے اس کا ہاتھ شل ہوجائے۔چناں چہ میں بیدار ہوئی تو ہاتھ شل تھا۔

مالک بن دینا رکی بیوی کا قصہ
کہتے ہیں کہ ایک دن مالک بن دینار بیٹھے ہوئے تھے، ایک سائل نے آکر کچھ مانگا، گھر میں کجھوروں کی ٹوکری پڑی تھی ۔بیوی سے منگوا کر نصف سائل کو دے دی اور نصف واپس کردی۔ بیوی کہنے لگی سبحان اللہ !تیرے جیسے بھی زاہد کہلاتے ہیں؟ کیا ایسا شخص بھی دیکھا ہے جو بادشا ہ کے حضور ناقص ہدیہ بھیجے؟مالک نے سائل کو واپس بلا لیا اور بقیہ کھجوریں بھی اس کو دے دیں، پھر بیوی کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے اری! محنت کیا کر اور خوب ہمت سے کام لے، اللہ پاک کا ارشاد ہے:

﴿خُذُوہُ فَغُلُّوہُ ،ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوہُ،ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُہَا سَبْعُونَ ذِرَاعاً فَاسْلُکُوہُ ﴾․(سورہ الحاقہ، آیت:32-30)
ترجمہ:اس شخص کو پکڑو اور اس کے طوق پہنادو پھر دوزخ میں اس کو داخل کرو ،پھر ایک ایسی زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر گز ہو، اس کو جکڑ دو۔

سوال ہو گا یہ سختی کس وجہ سے ہے؟ تو جواب ملے گا ۔

﴿إِنَّہُ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللَّہِ الْعَظِیْمِ،وَلَا یَحُضُّ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ﴾․(سورہ الحاقہ، آیت:34-33)
ترجمہ:یہ شخص خدائے بزرگ برتر پر ایمان نہ رکھتا تھا اور غریب آدمیوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا ۔

اے اللہ کی بندی! خوب جان لے کہ ہم نے اس وبال کا ایک حصہ تو ایما ن لا کر اپنی گردن سے اتار دیا ہے اور دوسرا حصہ صدقہ خیرات کے ذریعہ اتارنا چاہیے۔

ایک بدوی کا قصہ
محمد بن افضل  یہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بدوی کے پاس بکریا ں تھیں، مگر وہ صدقہ وغیرہ بہت کم کرتا تھا۔ایک دفعہ اس نے ایک بکری کا لاغر بچہ صدقہ میں دیا۔خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کی تمام بکریاں جمع ہیں اور اسے سینگ ماررہی ہیں اور وہ لاغر بچہ اس کی مدافعت کررہا ہے ۔یہ بیدار ہوا تو کہنے لگا بخدا! ہمت ہوئی تو تیرے ساتھی بڑھاؤں گا ۔پھر اس کے بعد خوب صدقہ خیرات کرنے لگا۔

حضرت عدی بن حاتم رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص کی اپنے رب سے گفتگو ہوگی ۔اور وہ اپنی دائیں بائیں اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو دیکھے گا اور سامنے نظر کرے گا تو دوزخ دکھائی دے گی۔لہٰذا آگ سے بچو، اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ سے ہی سہی۔

دس اچھی خصلتیں
فقیہ فرماتے ہیں کہ دس خصلتیں ایسی ہیں جن سے آدمی اچھے لوگوں میں شامل ہوتا ہے اور درجے پاتا ہے ۔پہلی صفت صدقہ کی کثرت ہے۔دوسری تلاوتِ قرآن کی کثرت ،تیسری ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا جو آخرت کی یاد دلائیں اور دنیا سے بے رغبتی سکھائیں۔چوتھی صلہ رحمی کرنا، پانچویں بیمار کی مزاج پرسی کرنا، چھٹی ایسے اغنیا سے میل جول نہ رکھنا جو آخرت سے غافل ہوں۔ساتویں آنے والے دن کی فکر میں لگے رہنا۔آٹھویں امیدوں میں کمی اور موت کو بکثرت یاد کرنا۔نویں خاموشی اختیار کرنا اور کلام میں کمی رکھنا اور دسویں خصلت تواضع ہے اور گھٹیا لباس پہننا۔فقرا ء سے محبت کرنا، ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، مساکین اور یتیموں کے قریب رہنا اور ان کے سروں پر ہاتھ رکھنا۔

صدقہ کو بڑھانے والی خصلتیں
کہتے ہیں کہ سات خصلتیں صدقہ کو بڑھاتی ہیں اور اس میں کمال پیدا کرتی ہیں ۔پہلی یہ کہ حلال مال سے صدقہ کرنا، اللہ کا ارشاد ہے:

﴿ أَنفِقُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ﴾(سورہ بقرہ، آیت:267)
ترجمہ :خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے۔

دوسری یہ کہ قلیل مال سے بھی بقدر ہمت دینا چاہیے ۔تیسری جلدی دینا کہ کہیں موقع نہ جاتا رہے ۔چوتھی یہ کہ بہترین اور عمدہ مال سے دینا ،کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَلاَ تَیَمَّمُواْ الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِیْہِ إِلاَّ أَن تُغْمِضُواْ فِیْہِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴾․(سورہ بقرہ، آیت:267)
ترجمہ:اور ردی چیز کی طرف نیت مت لے جایا کروکہ اس میں سے خرچ کرو، حالاں کہ تم خود کبھی اس کے لینے والے نہیں، ہاں! مگر چشم پوشی کر جاؤ اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں، وہ تعریف کے لائق ہیں۔

یعنی جس طرح تم نے کسی سے قرض لینا ہو تو ردّی مال نہیں لیتے سوائے اس کے کہ چشم پوشی اور درگزر کرجاؤ۔پانچویں یہ کہ ریا سے بچتے ہوئے چھپا کر صدقہ کرو۔چھٹی یہ کہ اس پر احسان بھی نہ جتاؤ کہ اجر باطل ہوجائے۔ ساتویں یہ کہ اس کے بعد تکلیف نہ پہنچاؤ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لاَتُبْطِلُواْ صَدَقَاتِکُم بِالْمَنِّ وَالأذَی﴾․ (سورہ بقرہ، آیت:264) ترجمہ:تم احسان جتا کر یا ایذا پہنچا کر اپنی خیرات کو برباد مت کرو۔




قبولیت صدقہ کی بنیادی شرط
﴿مَّثَلُ الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّہُ یُضَاعِفُ لِمَن یَشَاء ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ،الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ ثُمَّ لاَ یُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُواُ مَنّاً وَلاَ أَذًی لَّہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ، قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَیْْرٌ مِّن صَدَقَةٍ یَتْبَعُہَا أَذًی وَاللّہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ ، یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُبْطِلُواْ صَدَقَاتِکُم بِالْمَنِّ وَالأذَی کَالَّذِیْ یُنفِقُ مَالَہُ رِئَاء النَّاسِ وَلاَ یُؤْمِنُ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْْہِ تُرَابٌ فَأَصَابَہُ وَابِلٌ فَتَرَکَہُ صَلْداً لاَّ یَقْدِرُونَ عَلَی شَیْْء ٍ مِّمَّا کَسَبُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْن﴾․(سورہ بقرہ، آیت:264-261)
مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال الله کی راہ میں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ، اس سے اُگیں سات بالیں، ہر بال میں سو سو دانے اور الله بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے اور الله بے نہایت بخشش کرنے والا ہے، سب کچھ جانتا ہے جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال الله کی راہ میں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں، انہیں کے لیے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے یہاں اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ غمگین ہوں گے جواب دینا نرم اور در گز ر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے پیچھے ہو ستانا اور الله بے پروا ہے، نہایت تحمل والا اے ایمان والو ا مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذا دے کر، اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے الله پر اور قیامت کے دن پر سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر پڑی ہے کچھ مٹی، پھر برسا اس پر زور کا مینہ، تو کر چھوڑا اس کو بالکل صاف ،کچھ ہاتھ نہیں لگتا ایسے لوگوں کے ثواب اس چیز کا جو انہوں نے کمایا اور الله نہیں دکھاتا سیدھی راہ کافروں کو

ربط:پارے کی ابتدا میں اہل ایمان کو انفاق فی سبیل الله کا حکم دیا گیا کہ وقت کو غنیمت جان کر موت وقیامت کے آنے سے قبل جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرنا چاہو اس میں دریغ مت کرو ، اس کے مبد او معاد کے تین واقعے بیان فرما کر بعثت کی حقانیت کو مزید واضح کر دیا، جب آخرت پر یقین کامل ہو گا تو اس کے لیے توشہ جمع کرنا بھی آسان ہو گا، اس لیے اب دوبارہ انفاق کی ترغیب دی جارہی ہے۔

تفسیر:انفاق فی سبیل الله کے فضائل، آداب ، قبولیت کی شرائط
﴿مَّثَلُ الَّذِیْنَ یُنفِقُون…﴾ اس آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل الله او را س کے ثمرات کی مثال ایک دانے سے دی گئی ہے، جس کی سات بالیں نکلیں او رہر بالی میں سو دانے ہوں، جس طرح ایک دانہ سات سوگُنا دانوں کو لے کر آتا ہے، اسی طرح راہ الہی میں خرچ کیا گیا ایک درہم سات سو گنا ہو کر انسان کو واپس ملے گا، فی الواقع الله تعالیٰ دیتا ہے، لیتا نہیں ، بلکہ خرچ کرنے والے کی باطنی کیفیت، جذبہ اخلاص ، جوش وخروش کے بقدر بخشش خداوندی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے ، اس کے فضل واحسان کی وسعتیں حدود سے بالاتر ہیں۔

صدقے کے بعد احسان جتلانے اور تکلیف پہنچانے سے اجر ضائع ہو جاتا ہے
کس کو ممنونِ احسان کرکے اس پر احسان جتلانا، حقیر سمجھنا یا کمزور سمجھ کر اس کے حقوق پامال کرنا مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا، اس سے انفاق فی سبیل الله کا اجروثواب بھی ضائع ہو جاتا ہے اور مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے ، کیوں کہ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ معاشر ے میں ہمدردی اور اخوت کے جذبات غالب رہیں ، معاشرہ بغض، حسد، عناد، تکبر کی آفتوں سے محفوظ رہے ، اگر احسان کرنے والا ممنون احسان کو حقیر جان کر اس سے ذلت آمیز رویہّ رکھے گا تو معاشرتی تقسیم خود بخود پیدا ہوتی چلی جائے گی ،جس کا انجام بغض وحسد، تکبر اور فساد کی شکل میں ظاہر ہو گا، اس لیے صدقہ کرنے کے بعد اس کے ثواب کی حفاظت کا اہتمام بھی کیا جائے، یہ اہتمام کرنے والے ہی قیامت کے دن پروانہ مغفرت کے مستحق ہوں گے، انہیں اس روز اپنے خرچ پر پشیمانی ہو گی اور نہ اجروثواب کے ضائع ہونے کا اندیشہ۔

قول معروف… دل داری کا ایک جملہ دل آزاری سے بہتر ہے
صدقہ کرنے کے بعد احسان جتلانے یا دل آزاری سے بہتر ہے کہ دل داری کا ایک جملہ بو ل کر معذرت کر لی جائے، یہ معذرت بھی نادار کے لیے درست ہے، صاحب حیثیت کو تو صدقہ ہی کرنا چاہیے اس کے حق میں تو معذرت بھی جرم ہے۔

دکھلاوے کے صدقے میں کوئی اجر نہیں ہوتا
جس صدقے کا مقصد رضائے الہی کا حصول نہ ہو، بلکہ نام ونمود اور ہوائے نفس کی تکمیل ہو ،اس کا کوئی اجر نہیں ہوتا ، اس صدقے کی مثال اس کھیت کی جیسی ہے، جسے کسان نے کسی چٹان پر مٹی کی موٹی تہہ کو زرخیر زمین سمجھ کر بو دیا ہو ، موسلادھار بارش ہو اور کھیت مٹی سمیت بہہ جائے اور چکنی چٹان کے علاوہ کچھ نہ رہے تو کسان کو کس قدر افسوس لاحق ہوتا ہے؟!

اس کی محنت، حصول نفع کی سار ی امیدیں اس طوفانی ریلے میں بہہ جاتی ہیں، اسی طرح ایمان سے محروم شخص کا انفاق ، یا دکھلاوے کی نیت سے کیا گیا صدقہ روزمحشر میں اس کے اعمال خیر سے ایسے ہی غائب ہو گا جیسے مٹی چٹان سے، پھر وہاں کا افسوس تو بہت بڑا افسوس ہے ، جس کی تلافی بھی ناممکن ہے۔

﴿وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّہِ وَتَثْبِیْتاً مِّنْ أَنفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَہَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُکُلَہَا ضِعْفَیْْنِ فَإِن لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْر﴾․(سورہ بقرہ، آیت:265)
اور مثال ان کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال الله کی خوشی حاصل کرنے کو اور اپنے دلوں کو ثابت کرنے کو، ایسی ہے جیسے ایک باغ ہے، بلند زمین پر، اس پرپڑا زور کامینہ تو لایا وہ باغ اپنا پھل دو چند اور اگر نہ پڑا اس پر مینہ تو پھوار ہی کافی ہے اور الله تمہارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے

تفسیر:اخلاص نیت کے ساتھ صدقہ کرنے کی مثال
اس کے برعکس جن لوگوں کے صدقات وطاعات کا مقصد رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے ،ان کے انفاق کی مثال اس باغ کی سی ہے جو کسی بلند ٹیلے پر واقع ہو، زمین بھی زرخیر ہو ، اچھے محل وقوع کی وجہ سے وہ لطیف ہواؤں سے معمور رہتا ہو، اس پر اگر زور کی بارش پڑ جائے تو اس کا پھل دگنا ہو جائے او راگر ہلکی پھوار پڑ جائے تو بھی اس کی بارآوری کے لیے کافی ہے، یعنی ایسا باغ بہر صورت نفع دیتا ہے، اسی طرح رضائے الہٰی کے حصول کے لیے خرچ کیا گیا مال بھی بہر صورت آخرت میں نفع ہی پہنچائے گا۔ اخلاص کی کمی بیشی کے تناسب سے اس کے نفع میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے، لیکن ضائع ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں ۔ زوردار بارش اور پھوار سے اخلاص کے ادنی واعلیٰ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

﴿أَیَوَدُّ أَحَدُکُمْ أَن تَکُونَ لَہُ جَنَّةٌ مِّن نَّخِیْلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ لَہُ فِیْہَا مِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہُ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَاء فَأَصَابَہَا إِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمُ الآیَاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُون﴾․(سورہ بقرہ ،آیت:266)
کیا پسند آتا ہے تم میں سے کسی کو یہ کہ ہووے اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا، بہتی ہوں نیچے اس کے نہریں اس کو اس باغ میں اور بھی سب طرح کا میوہ حاصل ہو او رآگیا اس پر بڑھاپا اور اس کی اولاد ہیں ضعیف، تب آپڑا اس باغ پر ایک بگولا، جس میں آگ تھی، جس سے وہ باغ جل گیا، یوں سمجھاتا ہے تم کو الله آیتیں، تاکہ تم غور کرو

تفسیر:گزشتہ مثالوں کی مزید وضاحت
جس طرح تم میں سے کوئی شخص یہ گوارہ نہیں کرتا کہ اس کے عمر بھرکی کمائی جوکھجوروں اور انگورں کے باغ کی صورت میں موجود ہو اس میں نہریں بہہ رہی ہوں ، جس سے باغ کی خوش حالی اور حسن وجمال میں اضافہ ہو رہا ہو، باغ کا مالک بوڑھا شخص ہو، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں ، ان کی معیشت کا دار ومدار صرف یہی باغ ہو، اس عمر میں جب انسان مشقت کا کام نہیں کر سکتااور مال کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے، یک بیک کوئی آگ کا بگولا آئے اور پورے باغ کو جلا کر خاکستر کردے، بوڑھے نے جس باغ پر امیدوں کی بہارسجا رکھی تھی اسی سے شعلے اٹھنے لگے، حسرتوں کا جنازہ آنکھوں کے سامنے سے گزر نے لگے، ایسے وقت میں بوڑھے کے دل میں گزرتے غموں کے طوفان کاکوئی اندازہ کرسکتا ہے؟ لیکن اس سے بڑھ کر حرماں نصیبی اس شخص کی ہے جس نے اپنے اعمال نامے میں انفاق فی سبیل الله کا باغ لگایا ہو ، پھر قیامت کے روز اسی پر بھروسہ کرکے اجر وجواب کی امید لگائے کھڑا ہو کہ اچانک اسے خبر دی جائے کہ تم نے جو انفاق فی سبیل الله کا باغ لگایا تھا وہ قبولیت کی شرائط سے محروم ہونے کی وجہ سے پھل دینے سے قاصر ہے، تمہارا سہارا ٹوٹ چکا ہے، اس کی حسرت کا کیا عالم ہو گا؟وہ حسرت بھی ناقابل تلافی حسرت ہو گی ۔ اگر تم اس اندوہناک انجام سے بچنا چاہتے ہو تو اپنے صدقات وطاعات کو ریا کاری اور دل آزاری سے بچائے رکھو۔

قبولیتِ صدقہ کی بنیادی شرط
انفاقی فی سبیل الله اور ہر قسم کی طاعات کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ نیکوکار صاحب ایمان ہو ، بغیر ایمان اورد ینِ اسلام کے کوئی نیکی بارگاہ الہٰی میں سند قبولیت حاصل نہیں کر سکتی، بلکہ دنیا ہی میں ان کی جزا چکا دی جاتی ہے۔ 

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَکُم مِّنَ الأَرْضِ وَلاَ تَیَمَّمُواْ الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِیْہِ إِلاَّ أَن تُغْمِضُواْ فِیْہِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَنِیٌّ حَمِیْد، الشَّیْْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَأْمُرُکُم بِالْفَحْشَاء وَاللّہُ یَعِدُکُم مَّغْفِرَةً مِّنْہُ وَفَضْلاً وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ،یُؤتِیْ الْحِکْمَةَ مَن یَشَاء ُ وَمَن یُؤْتَ الْحِکْمَةَ فَقَدْ أُوتِیَ خَیْْراً کَثِیْراً وَمَا یَذَّکَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَابِ ﴾․(سورہ بقرہ، آیت:269-267)
اے ایمان! والو خرچ کرو ستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اوراس چیز میں سے کہ جوہم نے پیدا کیا تمہارے واسطے زمین سے اور قصد نہ کرو گندی چیز کا اس میں سے کہ اس کو خرچ کرو، حالاں کہ تم اس کو کبھی نہ لو گے، مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ او رجان رکھو کہ الله بے پروا ہے، خوبیوں والا شیطان وعدہ دیتا ہے تم کو تنگ دستی کا اور حکم کرتا ہے بے حیائی کا او رالله وعدہ دیتا ہے تم کو اپنی بخشش اور فضل کا اور الله بہت کشائش والا ہے، سب کچھ جانتا ہے عنایت کرتا ہے سمجھ جس کسی کو چاہے او رجس کو سمجھ ملی اس کو بڑی خوبی ملی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں

ربط:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ…﴾ بارگاہ الہٰی میں قبولیت انفاق کی چند شرائط کا تذکرہ گزشتہ آیت میں ہوا تھا اور کچھ شرائط کا تذکرہ اس میں ہے۔

تفسیر:حلال اور عمدہ مال راہ الہی میں خرچ کرنا چاہیے
الله کی راہ میں وہ چیز خرچ کرنی چاہیے جو حلال کمائی سے ہو اور عمدہ بھی ہو ۔ ناقص اور ردّی اشیاء کے خرچ کرنے سے نہ کوئی غریب فائدہ اٹھا سکتاہے، نہ ہی بخل جیسے باطنی مرض کا علاج ہو سکتا ہے او ررضائے الہی کے حصول کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایسی بے فائدہ چیز کے خرچ پر کیا ثواب ملے گا؟ ہاں! اگر عمدہ چیز میسر نہ ہو تو پھر قابل انتفاع تو ہو،ایسی بے کار چیزیں جو ہم خود ایک دوسرے کو دینے سے شرمائیں اور ان سے اعراض برتیں ،وہ بارگاہ الہٰی میں حاضر کرنے کے لائق کس طرح ہو سکتی ہیں ؟ 

مال تجارت میں زکوٰة اور عشر کے وجوب پر استدلال
اہل علم نے ﴿أَنفِقُواْمِن طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ ﴾ سے مال تجارت میں زکوٰة کے فرض ہونے پر استدلال کیا ہے اور ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَکُم ْ﴾ سے عشر کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ اس صورت میں انفاق کا حکم برائے وجوب ہوگا۔ اور من الارض کی قید سے سمندری جواہر اور ہیرے مستثنیٰ ہو گئے، ان پر زکوٰة نہیں ہے، بشرطیکہ مال تجارت نہ بنے۔ (احکام القرآن اللجصاص،البقرة تحت آیة رقم:267،احکام القرآن للقرطبی تحت آیة رقم:267)

الشَّیْْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْر
ربط:گزشتہ آیت میں عمدہ مال کے خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے او راس آیت کریمہ میں بتایا جارہا ہے کہ شیطان اس موقع پر مختلف اندیشے اور وسوسے جھونک کر ورغلاتا ہے ،اس لیے اس کے کہنے میں مت آنا۔

تفسیر:شیطان فقر کا خوف دلاتا ہے
شیطان فقر کا خوف دلا کر انفاق سے روکتا ہے، حالاں کہ بوقت گنجائش مناسب مقدار میں مال خرچ کرنے سے افلاس کا خطرہ لاحق ہی نہیں ہوتا ،چہ جائیکہ اس کا اندیشہ کیا جائے، جہاں خرچ کرنے میں دنیا وآخرت کی فلاح یقینی ہو اور نقصان کا ذرہ بھر بھی احتمال نہ ہو، وہاں افلاس کا خوف احمقوں کو ہی لاحق ہو سکتا ہے۔ شیطان بخیلوں کو انہی وہموں میں غلطاں رکھ کر خیرسے محروم رکھتا ہے، ہاں! اگر مال کے خرچ کرنے کی گنجائش نہ ہو یا خرچ کرنے سے افلاس او رمحتاج ہونے کے اسباب وقرائن یقینی طور پر موجود ہوں تو خرچ سے رک جانے میں کوئی حرج نہیں، نہ ہی انہیں بخل کا طعنہ دیا جاسکتا ہے، بلکہ ایسے شخص کو تو شریعت صدقات نافلہ سے روکتی ہے۔

یُؤتِیْ الْحِکْمَةَ مَن یَشَاء 
ربط:چوں کہ بخل انسان کو انفاق فی سبیل الله سے روکتا ہے ، اس لیے اس آیت میں بخل کا علاج تجویز کیا جارہاہے۔

تفسیر:حکمت کسے کہتے ہیں؟
الله جسے چاہتا ہے اسے ”حکمت“ سے نوازتا ہے اور جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی، حکمت کیا ہے؟ امور دین کو صحیح طریقے سے سمجھنے کا نام حکمت ہے۔(احکام القرآن للقرطبی، البقرة تحت آیة رقم:269) اوردین کی فہم صحیح بخل کا علاج بھی ہے اور خیر کثیر کی بنیاد بھی، اعمال خیر کی پہچان بھی اسی سے ہوتی ہے، عقائد واعمال کے درجات جاننا کہ کون سے فرض، کون سے واجب، کون سے مسنون، کون سے مستحب اور کون سے اولیٰ اور کون سے مباح ہیں؟ پھر اسی لحاظ سے ان کی رعایت رکھنا، اسی طرح کون سا اختلاف کس درجے کا ہے او راس میں کس قدر شدّت، یا نرمی روا رکھی جائے؟ یہ سب چیزیں دین کی صحیح سمجھ کی برکت سے حاصل ہوتی ہیں۔اور آخرت میں نجات کا دارومدار بھی ان دو چیزوں پر قائم ہے ۔ درست عقائد اعمال صالحہ۔ اس لیے” حکمت “کو خیر کثیر کی بنیاد کہنا بالکل بجا ہے۔







رمضان اور زکاة




          رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی انسانوں میں ذہنی،ایمانی اور اعمالی اعتبار سے بہت سی خوش گوار تبدیلیاں واقع ہوتیں ہیں، نہ صرف یہ ، بلکہ ہمارے ارد گرد کے معاشرے میں امن و امان ، باہمی ہمدردی اور اخوت و بھائی چارگی کی ایک عجیب فضا قائم ہوتی ہے، چنانچہ اسی مہینے میں عام طور پر اپنے اموال کی زکاة نکالنے کا دستور ہے، اگرچہ زکاة کی ادائیگی کا براہِ راست رمضان المبارک سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ زکاة کے وجوب اور اس کی ادائیگی کا تعلق اس کے متعین نصاب کا مالک بننے سے ہے، لیکن چونکہ رواج ہی یہ بن چکا ہے کہ رمضان المبارک میں اس کی ادائیگی کی جاتی ہے؛ اس لیے اس موقع پر مناسب معلوم ہوا کہ اس ماہ میں جہاں رمضان ، روزہ اور ان سے متعلق ہر ہر عبادت پر لکھا جاتا ہے اور خوب لکھا جاتا ہے،وہاں اسی مہینے میں ”زکاة “ پر بھی لکھا جائے ؛ تاکہ اس فریضے کے ادا کرنے والے پوری ذمہ داری سے اپنے اس فریضے کو ادا کریں ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہنوں میں رہے کہ ہم معاشرے سے اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں جو اس وقت عمومی طور پر سارے مسلمانوں میں اپنا زور پکڑ چکی ہے کہ زکاة رمضان میں نکالنی ہے، بلکہ ہم یہ ماحول بنائیں اور اسی کے مطابق دوسروں کی ذہن سازی کریں کہ زکاة نکالنے والا اپنی زکاة کی ادائیگی میں زکاة کے واجب ہونے کے وقت کا خیال رکھتے ہوئے اس کے وقت پر زکاة نکالے ،اور اس کے لیے رمضان کا انتظار نہ کرے؛چنانچہ ذیل میں ”زکاة کن اموال پر واجب ہوتی ہے؟“ پر تفصیلاً اور کچھ دیگر مسائل پر اجمالاً روشنی ڈالی جائے گی۔
زکاة کا معنی و مفہوم:
          زکاة کے لغوی معنی پاکی کے ہیں، اور شریعت کی اصطلاح میں ”مخصوص مال میں مخصوص افراد کے لیے مال کی ایک متعین مقدار “کو زکاة کہتے ہیں۔(الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الزکوٰة: ۱/۹۹، درالکتب العلمیہ)
          زکوٰة کو زکوٰة کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے، تو اس کا دل مال کی طرف مائل ہو جاتا ہے ، دل کے اس میلان کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے، اورمال کے ساتھ اس مشغولیت کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے، مثلا: مال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ۔ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکوٰة و صدقات کو مقرر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ زکوٰة سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری اور برکت بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بھی زکوٰة کا نام زکوٰة رکھا گیا۔
زکاة کی فرضیت:
          زکاة اسلام کا ایک اہم ترین فریضہ ہے ، اس کی فرضیت شریعت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے، جن کا انکار کرنا کفر ہے ، ایسا شخص دائرئہ اسلام سے اسی طرح خارج ہو جاتا ہے، جیسے نماز کا انکار کرنے والا شخص اسلام سے نکل جاتا ہے۔ زکاة کی فرضیت ہجرت ِ مدینہ سے پہلے ہوئی جبکہ دوسری طرف بہت سی آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فرضیت ہجرت کے بعد ہوئی؛ چنانچہ اس بارے میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نفسِ فرضیت تو ہجرت سے پہلے ہوگئی تھی؛ لیکن اس کے تفصیلی احکامات ہجرت کے بعد نازل ہوئے۔
زکاة کے فوائد، ثمرات و برکات:
          زکاة اللہ رب العزت کی جانب سے جاری کردہ وجوبی حکم ہے، جس کا پورا کرنا ہرصاحب نصاب مسلم پر ضروری ہے، اس فریضہ کے سرانجام دینے پر انعامات کا ملنا سو فیصد اللہ تعالیٰ کا فضل ہے؛ کیونکہ اس فریضے کی ادائیگی تو ہم پر لازم تھی ، اس کے پورا کرنے پر شاباش ملنا اور پھر اس پر بھی مستزاد ،انعام کا ملنا (اور پھر انعام، دنیوی بھی اوراُخروی بھی)تو ایک زائد چیز ہے، دوسرے لفظوں میں سمجھیے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اس حکم کا پورا کرنا ہر حال میں لازم تھا، چاہے کوئی حوصلہ افزائی کرے یا نہ کرے،کوئی انعام دے یا نہ دے؛ لیکن اس کے باوجود کوئی اس پر انعام بھی دے تو پھر کیا کہنے! اور انعام بھی ایسے کہ جن کے ہم بہر صورت محتاج ہیں،ہماری دنیوی و اُخروی بہت بڑی ضرورت ان انعامات سے وابستہ ہے، ذیل میں چند انعامات کا صرف اشارہ نقل کیا جارہا ہے، تفصیلی مباحث، دئیے گئے حوالہ جات میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:
          (۱) زکاة کی ادائیگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مال کو بڑھاتے ہیں۔(البقرة:۲۶۷،صحیح البخاري، کتاب الزکاة،رقم الحدیث:۱۴۱۰)
          (۲) زکاة کی وجہ سے اجر و ثواب سات سو گنا بڑھ جاتا ہے۔(البقرة:۱۶۱، تفسیر البیضاوی:البقرة:۲۶۱)
          (۳)زکاة کی وجہ سے ملنے والا اجر کبھی ختم ہونے والا نہیں، ہمیشہ باقی رہے گا۔ (الفاطر:۲۹،۳۰)
          (۴) اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسے افراد(زکاة ادا کرنے والوں)کا مقدر بن جاتی ہے۔ (الأعراف:۱۵۶)
          (۵)کامیاب ہونے والوں کی جو صفات قرآن ِ پاک میں گنوائی گئیں ہیں، ان میں ایک صفت زکوة کی ادائیگی بھی ہے۔(الموٴمنین:۴)
          (۶) زکاة ادا کرنا ایمان کی دلیل اور علامت ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارة، رقم الحدیث:۲۸۰)
          (۷) قبر میں زکاة (اپنے ادا کرنے والے کو)عذاب سے بچاتی ہے۔(المصنف لابن أبي شیبة،کتاب الجنائز، رقم الحدیث:۱۲۱۸۸،۷/۴۷۳،دار قرطبة، بیروت)
          (۸) ایک حدیث شریف میں جنت کے داخلے کے پانچ اعمال گنوائے گئے ہیں، جن میں سے ایک زکاة کی ادائیگی بھی ہے۔ (سنن أبي داوٴد، کتاب الصلاة، باب فی المحافظة علی وقت الصلوٰت، رقم الحدیث۴۲۹،۱/۲۱۴،دار ابن حزم)
          (۹) انسان کے مال کی پاکی کا ذریعہ زکاة ہے۔ (مسند أحمد:مسند أنس بن مالک، رقم الحدیث:۱۲۳۹۴)
          (۱۰) انسان کے گناہوں کی معافی کا بھی ذریعہ ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب الزکاة، باب فرض الزکاہ:۳/۶۳)
          (۱۱) زکاة سے مال کی حفاظت ہوتی ہے۔(شعب الإیمان للبیہقي،کتاب الزکاة، فصل في من أتاہ اللہ مالا من غیر مسألة،رقم الحدیث:۳۵۵۷، ۳/۲۸۲، دارالکتب العلمیہ)
          (۱۲)زکاة سے مال کا شر ختم ہو جاتا ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي،کتاب الزکاة، باب الدلیل علی أن من أدی فرض اللہ فی الزکاة، رقم الحدیث:۷۳۷۹)
          اوپر جتنے فضائل ذکر کیے گئے ہیں وہ ہر قسم کی زکاة سے متعلق ہیں ، چاہے وہ” زکاة “سونے چاندی کی ہو ، یا تجارتی سامان کی ،عشر ہو یا جانوروں کی زکاة ۔
زکاة ادا نہ کرنے کے نقصانات اور وعیدیں:
          فریضہ زکاة کی ادائیگی پر جہاں من جانب اللہ انعامات و فوائد ہیں، وہاں اس فریضہ کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے کے لیے قرآن ِ پاک اور احادیث ِ مبارکہ میں وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ، اور دنیا و آخرت میں ایسے شخص کے اوپر آنے والے وبال کا ذکر بکثرت کیا گیا ہے، ذیل میں ان میں سے کچھ ذکر کیے جاتے ہیں:
          (۱) جو لوگ زکاة ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔(سورة توبہ:۳۴،۳۵)
          (۲) ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(سورة آل عمران:۱۸۰)
          (۳) ایسا مال آخرت میں اُس کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ (سورة البقرة:۲۵۴)
          (۴)زکاة کا ادا نہ کرنا جہنم والے اعمال کا ذریعہ بنتا ہے۔(سورة اللیل:۵ تا۱۱)
           (۵)ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔(صحیح البخاري ، کتاب الزکاة، باب إثم مانع الزکاة،رقم الحدیث:۱۴۰۳،۲/۱۱۰،دارطوق النجاة)
          (۶) مرتے وقت ایسا شخص زکاة ادا کرنے کی تمنا کرے گا؛ لیکن اس کے لیے سوائے حسرت کے اور کچھ نہ ہو گا۔(سورة المنافقون:۱۰، صحیح البخاری، کتاب الزکاة، باب فضل صدقة الشحیح الصحیح، رقم الحدیث:۱۴۱۹، ۲/۱۱۰، دارطوق النجاة)
          (۷)ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب إثم مانع الزکاة)
          (۸) ایسے افرادکوجہنم میں ضریع، زقوم، گرم پتھر، اور کانٹے دار و بدبو دار درخت کھانے پڑیں گے۔(دلائل النبوة للبیہقي، باب الإسراء ،رقم الحدیث:۶۷۹)
          (۹) ایسے افراد سے قیامت کے دن حساب کتاب لینے میں بہت زیادہ سختی کی جائے گی۔ (مجمع الزوائد، کتاب الزکاة، باب فرض الزکاة:۳/۶۲)
          (۱۰) جب لوگ زکاة روک لیتے ہیں تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ان سے بارشیں روک لیتے ہیں۔ (المستدرک للحاکم، رقم الحدیث:۲۵۷۷)
          (۱۱) جب کوئی قوم زکاة روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قحط سالی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ (المعجم الأوسط للطبراني، تحت من اسمہ عبدان، رقم الحدیث:۴۵۷۷)
 زکاة ادا کرنے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی:
          نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” کہ میں تین چیزوں پر قسم کھاتا ہوں اور تمہیں ایک اہم بات بتاتا ہوں، تم اسے یاد رکھنا۔ارشاد فرمایا :کہ کسی بندے کا مال زکاة (و صدقہ ) سے کم نہیں ہوتا، جس بندے پر بھی ظلم کیا جاتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اللہ تعالی اس کی عزت میں اضافہ فرماتے ہیں۔اور جو بندہ بھی سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالی اس پر فقر اور تنگ دستی کا دروازہ کھول دیتے ہیں“، یا نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کا کوئی جملہ ارشاد فرمایا۔اور میں ( صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں ایک اور خاص بات بتاتا ہوں، سو تم اسے یاد رکھنا، ارشاد فرمایا: ”دنیا تو چار قسم کے افراد کے لیے ہے:
          ایک اس بندے کے لیے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور دین کا علم ،دونوں نعمتیں عطا فرمائیں، تو وہ اس معاملہ میں اپنے رب سے ڈرتاہے(اس طرح کہ اس مال کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال نہیں کرتا اور علمِ دین سے فائدہ اٹھاتا ہے)اور اس علم ِدین اور مال کی روشنی میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا ہے اوراس (مال)میں اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے۔(مثلاً: مال کو اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کرتا ہے، اور دینی علم سے دوسروں کو تبلیغ، تدریس اور افتاء وغیرہ کے ذریعے سے فائدہ پہنچاتا ہے)تو یہ شخص درجات کے اعتبار سے چاروں سے افضل ہے۔
          دوسرے اس بندے کے لیے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم کی نعمت تو عطا فرمائی لیکن مال عطا نہیں فرمایا، لیکن وہ نیت کا سچا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں آدمی کی طرح عمل کرتا (جو کہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے حق کو سمجھ کر عمل کرتا ہے) تو یہ شخص اپنی نیت کے مطابق صلہ پاتاہے اور اس شخص کا اور اس سے پہلے شخص کا ثواب برابر ہے۔
          تیسرے اس بندے کے لیے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت عطا فرمائی، لیکن علم کی نعمت عطا نہیں فرمائی، تو وہ علم کے بغیر اپنے مال کو خرچ کرنے میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا، اور نہ ہی اس مال سے صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس مال میں اللہ تعالیٰ کے حق کو سمجھتاہے، تو درجات میں یہ سب سے بدتر بندہ ہے۔
          چوتھے اس بندے کے لیے ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے نہ تو مال کی نعمت عطا فرمائی اور نہ علم کی ، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اس مال کے سلسلے میں فلاں بندے کی طرح عمل کرتا (جواپنے مال کے خرچ کرنے میں اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی مال میں اللہ تعالیٰ کے حق کو سمجھتا ہے)سو یہ بندہ اپنی نیت کے مطابق صلہ پاتا ہے؛ پس اس کا گناہ اور وبال اس پہلے شخص کے گناہ اور وبال کے مطابق ہی ہوتا ہے“۔(ترمذی شریف کتاب الزہد رقم الحدیث:۲۳۲۵، ۴/۵۶۲)
زکاة کن افراد پر اور کن افراد کے لیے ہے؟
          دنیا میں بسنے والے افراد کا جائزہ لیا جائے تو ان تما م افراد کو تین طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
          (۱) مال دار افراد، جن پر مخصوص شرائط کے بعد زکاة فرض ہوتی ہے۔
          (۲) دوسرے غریب افراد، جن پرزکاة فرض نہیں ہوتی اور ان کے لیے زکاة لینا جائز ہے۔
          (۳)تیسرے وہ متوسط درجے کے افراد، جن پر زکاة تو فرض نہیں ہوتی؛ لیکن ان کے لیے زکاة لینا بھی جائز نہیں۔
          اب ان تینوں قسم کے افراد کو پہچاننے کے لیے کیا معیار اور کسوٹی ہے کہ اس کے مطابق ہر طبقے والا اپنی حالت اور کیفیت کو پہچان کر اس کے مطابق اپنے اوپر عائد احکامات ِ الٰہیہ کوپہچان کر پورا کر سکے،اس کے لیے دو چیزوں کا جاننا ضروری ہے: ایک تو وہ کون سی اشیاء یا اموال ہیں جن کے ہوتے ہوئے زکاة فرض ہوتی ہے؟ اور دوسرا وہ اشیاء یا اموال کتنی مقدار میں ہوں کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی شخص زکاة دینے والا یا زکاة لینے والا ٹھہرتا ہے؟ان میں سے پہلی چیز کو ”اموالِ زکاة “ اور دوسری چیز کو ”نصابِ زکاة “ سے پہچانا جاتا ہے۔ذیل میں اموال ِ زکاة اور نصاب ِ زکاة کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے:
اموالِ زکاة:
          اموالِ زکاة سے مراد وہ اشیاء یا اموال ہیں، جن کا(مخصوص مقدار میں)مالک ہونے پر(جس کو نصاب سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی تفصیل آگے آرہی ہے) زکاة فرض ہوتی ہے۔وہ کل چار قسم (کی اشیاء یا اموال) ہیں:
          (۱) سونا، عام ہے کہ وہ زیور کی شکل میں ہو، اینٹ ہو یا کسی برتن وغیرہ کی شکل میں ہو، چاہے استعمال میں ہو یا نہ ہو، خالص ہو یا اس میں کوئی کھوٹ یا ملاوٹ وغیرہ ہو، بہر صورت یہ (سونا)مال ِ زکاة ہے۔
          (۲) چاندی، عام ہے کہ وہ زیور کی شکل میں ہو، اینٹ ہو یا کسی برتن وغیرہ کی شکل میں ہو، چاہے استعمال میں ہو یا نہ ہو، خالص ہو یا اس میں کوئی کھوٹ یا ملاوٹ وغیرہ ہو، بہر صورت یہ (چاندی)مال ِ زکاة ہے۔
          (۳) نقدی، اپنے ملک کی ہو یا کسی اور ملک کی، اپنے پاس ہو یا بینک میں، چیک ہو یا ڈرافٹ،نوٹ ہو یا سکّے، کسی کو قرض دی ہوئی ہو(بشرطیکہ ملنے کی امید ہو)یا اس کی سرمایہ کاری کر رکھی ہو،ان تمام صورتوں میں یہ (نقدی) مال ِ زکاة ہے۔
          (۴) مال ِ تجارت، یعنی تاجِر کی دکان کا ہر وہ سامان جو بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو اور تا حال اس کے بیچنے کی نیت باقی ہو،تو یہ (مال ِ تجارت)مال ِ زکاة ہے۔(اور اگر مذکورہ مال (مال ِ تجارت )کوگھر کے استعمال کے لیے رکھ لیا، یا اس کے بارے میں بیٹے یا دوست وغیرہ کو ہدیہ میں دینا طے کر لیا، یا پھرویسے ہی اس مال کے بارے میں بیچنے کی نیت نہ رہی تو یہ مال ،مالِ زکاة نہ رہا)۔ (بدائع الصنائع،کتاب الزکاة،أموال الزکاة:۲/۱۰۰،دار إحیاء التراث العربي)
          یہ کل چار قسم کے اموال ہیں جن پر (مخصوص مقدار تک پہنچنے پر)زکاة فرض ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی مقروض ہو تو قرضوں کی ادائیگی کے بعد بچنے والے اموال کی زکاة دی جائے گی۔
نصابِ زکاة:
          سطورِ بالا میں معاشرے کے تین طبقات کو بیان کیا گیا تھا،جن کی تمیز ”نصاب “کے مالک ہونے پر موقوف ہے، اس تمیز کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ نصاب دو قسم کا ہوتا ہے، ایک نصاب کا تعلق ”زکاة دینے والے “ سے ہے اور دوسرے نصاب کاتعلق ”زکاة لینے والے “ سے ہے، دونوں قسم کے نصابوں میں کچھ فرق ہے، جو ذیل میں لکھا جا رہا ہے:
پہلی قسم کا نصاب (زکاة دینے والے کے لیے)
          اللہ رب العزت نے اپنے غریب بندوں کے لیے امراء پر ان کے اموال کی ایک مخصوص مقدار پر زکاة فرض کی ہے، جس کو نصاب کہا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس نصاب کا مالک ہو تو اس پر زکاة فرض ہے اور اگر کسی کے پاس اس نصاب سے کم ہو تو اس شخص پر زکاة فرض نہیں ہے۔
          (۱) اگر کسی کے پاس صرف ”سونا“ ہو اور کوئی مال(مثلاً:چاندی، نقدی یا مال تجارت) نہ ہو تو جب تک سونا ساڑھے سات تولے (479ء87گرام)نہ ہو جائے اس وقت تک زکاة فرض نہیں ہوتی، اور اگر سونا اس مذکورہ وزن تک پہنچ جائے تو زکاة فرض ہو جاتی ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاة، صفةالزکاة:۲/۱۰۵،دار إحیاء التراث العربي)
          (۲) اگر کسی کے پاس صرف ”چاندی “ ہو اور کوئی مال (سونا ، نقدی یا مال تجارت) نہ ہو تو جب تک چاندی ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)نہ ہو جائے اس وقت تک زکاة فرض نہیں ہوتی، اور اگر چاندی اس مذکورہ وزن تک پہنچ جائے تو زکاة فرض ہو جاتی ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاة،أموال الزکاة:۲/۱۰۰،دار إحیاء التراث العربي)
          (۳)اگر کسی کے پاس صرف ”نقدی“ ہو اور کوئی مال (مثلاً: سونا ، چاندی، یا مالِ تجارت) نہ ہوتو جب تک نقدی اتنی نہ ہو جائے کہ اس سے ساڑھے باون تولے (35ء612گرام) چاندی خریدی جاسکے ، اس وقت تک زکاة فرض نہیں ہوتی اور اگر نقدی اتنی ہو جائے کہ اس سے ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی خریدی جا سکے تو زکاة فرض ہو جاتی ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاة،أموال الزکاة:۲/۱۰۳،دار إحیاء التراث العربي)
          (۴) اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی ہو (چاہے جتنی بھی ہو) یا سونا اور نقدی ہو یا سونا اور مالِ تجارت ہو یا چاندی اور نقدی ہویا چاندی اور مالِ تجارت ہویا (تینوں مال)سونا، چاندی اور نقدی ہو یا سونا ، چاندی اور مالِ تجارت ہو یا(چاروں مال) سونا، چاندی ، نقدی اور مالِ تجارت ہو تو ان تمام صورتوں میں ان اموال کی قیمت لگائی جائے گی ، اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو زکاة واجب ہو گی ورنہ نہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاة،صفة الزکاة:۲/۱۰۵،۱۰۶،دار إحیاء التراث العربي)
دوسری قسم کا نصاب (زکاة لینے والے کے لیے)
          اس نصاب میں مذکورہ نصاب (یعنی پہلی قسم کے نصاب کی تمام صورتوں )کے ساتھ ضرورت سے زائد سامان کو بھی شامل کیا جائے گا،اور یہاں بھی وہ تمام صورتیں بنیں گی جو پہلی قسم کے نصاب میں بنتی تھیں، مثلاً:
          (۱) اگر کسی کے پاس صرف ”سونا“ اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہوتو ان دونوں قسم کے اموال کی قیمت لگائی جائے گی ،اگر ان کی قیمت اتنی ہو جائے کہ اس سے ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی خریدی جا سکے تو اس مقدار کی مالیت کے مالک کو زکاة لینا جائز نہیں ہے اور ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی کرنا واجب ہے۔
          (۲) اگر کسی کے پاس صرف ”چاندی “ اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو اور کوئی مال (سونا ، نقدی یا مال تجارت) نہ ہوتو ان دونوں قسم کے اموال کی قیمت لگائی جائے گی اگر ان کی قیمت اتنی ہو جائے کہ اس سے ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی خریدی جا سکے تو اس مقدار کی مالیت کے مالک کو زکاة لینا جائز نہیں ہے اور ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے۔
          (۳)اگر کسی کے پاس صرف ”نقدی“ اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو اور کوئی مال (مثلاً: سونا ، چاندی، یا مالِ تجارت) نہ ہوتو جب ان کی قیمت اتنی ہو جائے کہ اس سے ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی خریدی جاسکے، تو اس مقدار کی مالیت کے مالک کو زکاة لینا جائز نہیں ہے اور ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے۔ اور اگر ان دونوں کی قیمت اتنی نہ ہو کہ اس سے ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی خریدی جا سکے تو ایسے شخص کا زکاة لینا جائز ہے۔
          (۴) اگر کسی کے پاس سونا ،چاندی اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو (چاہے جتنا بھی ہو)۔
           (۵) اگر کسی کے پاس سونا ، نقدی اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو۔
           (۶) اگر کسی کے پاس سونا،مالِ تجارت اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو ۔
          (۷) اگر کسی کے پاس چاندی ، نقدی اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو۔
          (۸) اگر کسی کے پاس چاندی ، مالِ تجارت اورضرورت سے زائد سامان ہو۔
           (۹) اگر کسی کے پاس (چاروں مال)سونا، چاندی ، نقدی اور ”ضرورت سے زائد سامان“ہو۔
          (۱۰) اگر کسی کے پاس سونا ، چاندی ،مالِ تجارت ہو اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہو۔
          (۱۱) اگر کسی کے پاس (پانچوں مال)سونا،چاندی، نقدی ،مالِ تجارت اور ”ضرورت سے زائد سامان “ہوتوان تمام صورتوں میں ان تمام اموال کی قیمت لگائی جائے گی ، اگر انکی قیمت ساڑھے باون تولے (35ء612گرام)چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو اس مقدار کی مالیت کے مالک کا زکاة لیناجائز نہیں ہے اور ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی کرنا واجب ہے۔اور اگر مذکورہ صورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہوتو ایسا شخص شریعت کی نگاہ میں صاحب نصاب نہیں کہلاتا، یعنی اس شخص کا زکاة اور ہر قسم کے صدقات ِ واجبہ لینا جائز ہو گا۔ (بدائع الصنائع،کتاب الزکاة، مصارف الزکاة:۲/۱۵۸،دار إحیاء التراث العربي)
ضرورت سے زائد سامان:
          وہ تمام چیزیں جو گھروں میں رکھی رہتی ہیں ، جن کی سالہا سال ضرورت نہیں پڑتی ، کبھی کبھار ہی استعمال میں آتی ہیں، مثلاً: بڑی بڑی دیگیں ، بڑی بڑی دریاں، شامیانے یا برتن وغیرہ۔ (الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة:۱/۱۷۴، رشیدیہ)
          الف:وی سی آر۔ ڈش ،ناجائز مضامین کی آڈیو ویڈیوکیسٹیں جیسی چیزیں ضروریات میں داخل نہیں ؛بلکہ لغویات ہیں۔مذکورہ قسم کا سامان ضرورت سے زائد کہلاتا ہے،اس لیے ان سب کی قیمت حساب میں لگائی جائے گی۔
          ب:رہائشی مکان ، پہننے،اوڑھنے کے کپڑے، ضرورت کی سواری اور گھریلو ضرورت کا سامان جو عام طور پر استعمال میں رہتا ہے، یہ سب ضرورت کے سامان میں داخل ہیں، اس کی وجہ سے انسان شرعاً مال دار نہیں ہوتا، یعنی ان کی قیمت نصاب میں شامل نہیں کی جاتی۔(الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة:۱/۱۷۴، رشیدیہ)
          ج: صنعتی آلات، مشینیں اور دوسرے وسائل رزق (جن سے انسان اپنی روزی کماتا ہے)بھی ضرورت میں داخل ہیں ان کی قیمت بھی نصاب میں شامل نہیں کی جاتی، مثلاً:درزی کی سلائی مشین، لوہاراور کاشت کار وغیرہ کے اوزار، سبزی یا پھل بیچنے والی کی ریڑھی یا سائیکل وغیرہ۔(الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة:۱/۱۷۴، رشیدیہ)
          د:اگر کسی کے پاس ضرورت پوری کرنے کا سامان ہے؛ لیکن اس نے کچھ سامان اپنی ضرورت سے زائدبھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے، مثلاً:کسی کی ضرورت ایک گاڑی سے پوری ہو جاتی ہے لیکن اس کے پاس دو گاڑیاں ہیں، تو اس زائد گاڑی کی قیمت کو نصاب میں داخل کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع،کتاب الزکاة،مصارف الزکاة:۲/۱۵۸،دار إحیاء التراث العربي)
زکاة واجب ہونے کے لیے تاریخ:
          زندگی میں سب سے پہلی بار جب کسی کی ملکیت میں پہلی قسم کے نصاب کے مطابق مال آجائے، تو وہ دیکھے کہ اس دن قمری سال (چاند )کی کون سی تاریخ ہے؟اس تاریخ کو نوٹ کر لے، یہ تاریخ اس شخص کے لیے زکاة کے حساب کی تاریخ کے طور پر متعین ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ زکاة کے وجوب اور ادائیگی کے لیے قمری سال ہونا ضروری ہے ، اگر کسی کو قمری تاریخ یاد نہ ہو تو خوب غور و فکر کر کے کوئی قمری تاریخ متعین کر لینا چاہیے،آئندہ اسی کے مطابق حساب کیا جائے گا۔
زکاة کا حساب کرنے کا طریقہ:
          جس چاند کی تاریخ کو کسی کے پاس بہ قدر نصاب مال آیا ، اس سے اگلے سال ٹھیک اسی تاریخ میں اپنے مال کا حساب کیا جائے اگر بہ قدر (پہلی قسم کے )نصاب کے مال ہے تو اس کل مال کا اڑھائی فیصد (2.5%) زکاة دینا ہو گی۔(العالمگیریہ، کتاب الزکاة:۱/۱۷۵، رشیدیہ)
سامان کی قیمت لگانے کا طریقہ:
          ”پہلی قسم کا نصاب “اور ”دوسری قسم کا نصاب “پہچاننے کے طریقے میں جو یہ ذکر کیا گیا کہ ”دوسری قسم کے نصاب میں ضرورت سے زائد سامان کی قیمت لگائی جائے “ تو اس قیمت سے مراد اس سامان کی قیمت فروخت ہے نہ کہ قیمتِ خرید۔یعنی حساب کرنے کی تاریخ میں اس سامان کی قیمت لگوائی جائے جو عام بازار میں اس کی قیمت کے برابر ہواور عموماً اس قیمت پر وہ بک بھی جاتی ہو،اس کو نصاب میں شمار کیا جائے گا۔اسی طرح سونا ، چاندی کی بھی قیمت فروخت کا اعتبار ہو گا۔مثلاً: کراچی میں کسی شخص نے یہ چیز دس ہزار میں خریدی، پھر فروخت کرنے کے وقت اس کی قیمت پندرہ ہزار یا کم ہو کے سات ہزار ہو گئی تو فروخت والی قیمت کو زکاة کے لیے شمار کیا جائے گا۔ (رد المحتار، کتاب الزکاة،باب زکاة الغنم:۲/۲۸۶، سعید)
مال پر سال گذرنے کا مطلب:
          جس تاریخ میں زکاة واجب ہوئی تھی، اس کے ایک سال بعد زکاة دی جائے گی،اس ایک سال کے گذرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پہلی تاریخ اور ایک سال کے بعد والی تاریخ میں مال نصاب کے بہ قدر اس شخص کی ملکیت میں رہے، ان دونوں تاریخوں کے درمیان میں مال میں جتنی بھی کمی بیشی ہوتی رہے ، اس سے کچھ اثر نہیں پڑتا، بس شرط یہ ہے کہ مال نصاب سے کم نہ ہو گیا ہو، یعنی مال کے ہر ہر جز پر سال کا گذرنا شرط نہیں ہے؛ بلکہ واجب ہونے کے بعد اگلے سال اسی تاریخ تک نصاب کا باقی رہنا ضروری ہے، اگر نصاب باقی ہوا تو ادائیگی لازم ہو گی ورنہ نہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاة،اموال الزکاة:۲/۹۶،دار إحیاء التراث العربي)
مالِ تجارت کی زکاة کے احکام:
          ”مال ِ تجارت سے مراد “پیچھے واضح کی جا چکی ہے کہ تاجِر کی دکان کا ہر وہ سامان جو بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو اور تا حال اس کے بیچنے کی نیت باقی ہو،تو یہ (مال ِ تجارت)مال ِ زکاة ہے۔(اور اگر مذکورہ مال (مال ِ تجارت )کوگھر کے استعمال کے لیے رکھ لیا، یا اس کے بارے میں کسی کو ہدیہ میں دینا طے کر لیا، یا پھرویسے ہی اس مال کے بارے میں بیچنے کی نیت نہ رہی تو یہ مال ،مالِ زکاة نہ رہا)۔بعض افراد اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ تجارت کا مال صر ف و ہ ہے جس کی انسان باقاعدہ تجارت کرتا ہو، اور نفع کمانے کی نیت سے خرید و فروخت کرتا ہو؛حالانکہ شرعاً کسی چیز کے مالِ تجارت بننے کے لیے اس میں مذکورہ قید ضروری نہیں؛ بلکہ جو چیزبھی انسان فروخت کرنے کی نیت سے خریدے وہ تجارت کے مال میں شمار ہوتی ہے، البتہ خریدتے وقت فروخت کرنے کی نیت نہ ہوتو بعدمیں فروخت کر لینے کی نیت سے وہ چیز مالِ تجارت نہیں بنے گی۔دوسری طرف وہ چیز جسے تجارت کی نیت سے خریدا تھا اگر بعد میں تجارت کی نیت بدل لی تو وہ چیز مالِ تجارت سے نکل جائے گی۔سونا ، چاندی اور نقدرقم اس تعریف سے خارج ہے، یعنی ان کے لیے کسی خاص نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں، یہ ہر حال میں مالِ زکاة ہیں۔(ردالمحتار،کتاب الزکاة: ۲/۲۶۷،سعید)
تجارتی اموال سے متعلق چند مسائل :
          (۱) جن اشیاء کو فروخت کرنا مقصود نہ ہو ؛ بلکہ ان کی ذات کو باقی رکھتے ہوئے ان سے کرایہ وغیرہ حاصل کرنا یا کسی اور شکل میں نفع کمانا مقصود ہو، تو وہ چیزیں مالِ تجارت میں داخل نہیں ہیں۔مثلاً: کارخانوں کا منجمد اثاثہ ، پرنٹنگ پریس، مشینری، پلانٹ، دوکان کا سامان ، استعمال کی گاڑی، ٹریکٹر، ٹیوب ویل، کرائے پر چلانے کی نیت سے خریدی گئی گاڑی، رکشہ وغیرہ، کرائے پر دینے کی نیت سے بنا یا گیا مکان یا دوکان وغیرہ،گھر کے استعمال کے برتن، کرائے پر دینے کے لیے رکھے ہوئے برتن ، کراکری کا سامان، فریج ، فرنیچر، سلائی یا دھلائی کی مشین، ڈرائی کلینرز کے پلانٹ وغیرہ۔اس قسم کی چیزیں چونکہ فروخت کرنے کی نیت سے نہیں خریدی گئیں؛بلکہ ان کو باقی رکھ کر ان سے نفع اٹھانا مقصود ہے؛ اس لیے یہ مالِ تجارت میں داخل نہیں ہوں گی اور ان پر زکاة واجب نہیں ہوگی، ہاں اگر ان کو خریدا ہی فروخت کرنے کے لیے ہو تو یہ مالِ تجارت ہو ں گی۔ اسی طرح موجودہ دور میں بعض مکینک حضرات اپنے کام کاج کے اوزاروں کے ساتھ بعض اوزاروں کو اس لیے خریدتے ہیں کہ بہ وقتِ ضرورت گاہکوں کی مشینری وغیرہ میں فٹ کر دیں گے، اور اس کی قیمت گاہکوں سے وصول کر لیں گے، تو یہ مال بھی مالِ تجارت میں داخل ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الزکاة: ۲/۲۶۷،سعید)
          (۲) اگر کوئی جانور بیچنے کے لیے خریدے تو وہ بھی مالِ تجارت میں داخل ہیں،ان کی زکاة بھی واجب ہو گی(احسن الفتاویٰ:۴/۲۸۶)
          قصاب جو جانور ذبح کر کے گوشت بیچتے ہیں تو یہ جانور بھی مالِ تجارت میں داخل ہیں۔جو جانور دودھ حاصل کرنے کے لیے خریدے تو وہ مالِ تجارت میں داخل نہیں ہیں؛ البتہ ان کے دودھ سے حاصل ہونے والی کمائی نقد رقم میں داخل ہو کر نصاب کا حصہ بنے گی۔(احسن الفتاویٰ:۴/۲۸۷)
          (۳) اگر کسی کا پولٹری فارم یا مچھلی فارم ہو،تو ان کی زکاة میں یہ تفصیل ہے کہ ان کی زمین، مکان اور ان سے متعلقہ سامان پر تو زکاة فرض نہیں ہوتی،البتہ مرغیاں یا مچھلیاں اگر فروخت کرنے کے لیے رکھی ہیں تو یہ مالِ تجارت ہیں اوراگر فروخت کرنے کے لیے نہیں،بلکہ مرغیوں کے انڈے حاصل کرنے کے لیے وہ مرغیاں رکھی ہیں تو ان انڈوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر زکاة ہو گی۔(احسن الفتاویٰ:۴/۳۱۰)جو شخص انڈے فروخت کرنے کے لیے خریدتا ہے تو وہ انڈے مالِ تجارت ہیں،اور اگر ان انڈوں سے چوزوں کا حصول مقصود ہے تو ان بچوں کی قیمت پر زکاة لازم ہوگی۔
سامانِ تجارت کی قیمت لگانے کا طریقہ:
          ”پہلی قسم کا نصاب “اور ”دوسری قسم کا نصاب “پہچاننے کے طریقے میں جو یہ ذکر کیا گیا کہ ”دوسری قسم کے نصاب میں ضرورت سے زائد سامان کی قیمت لگائی جائے “ تو اس قیمت سے مراد اس سامان کی قیمت فروخت ہے نہ کہ قیمتِ خرید۔یعنی حساب کرنے کی تاریخ میں اس سامان کی قیمت لگوائی جائے جو عام بازار میں اس کی قیمت کے برابر ہواور عموماً اس قیمت پر وہ بک بھی جاتی ہو،اس کو نصاب میں شمار کیا جائے گا۔ (رد المحتار، کتاب الزکاة،باب زکاة الغنم:۲/۲۸۶، سعید)
قرض پر زکاة کا حکم:
          جو رقم کسی کو بطور قرض دی ہو ، اس کی دو قسمیں ہیں :ایک تووہ قرض ہے ، جس کے (کبھی نہ کبھی)واپس ملنے کی امید ہو ۔ دوسرا وہ قرض ہے ،جس کے واپس ملنے کی (کبھی بھی)امید نہ ہو ۔
           تو پہلی قسم والے قرض کی زکاة دی جائے گی اور دوسری قسم کے قرض کی زکاة نہیں دی جائے گی؛البتہ اگر کبھی یہ قرض بھی وصول ہو گیا تو اس کی بھی زکاة ادا کی جائے گی۔(ہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الاول:۱/۱۷۴، ۱۷۵، رشیدیہ)
قرض کی تین قسمیں:
          پہلی قسم والے قرض کی تین قسمیں ہیں: (۱)دَین قوی (۲) دَین متوسط (۳) دَین ضعیف۔ ان تینوں قسم کے دُیون (قرضوں) کے وصول ہونے پر زکاة کی ادائیگی کا طریقہ اور حکم قدرے مختلف ہے، ذیل میں اجمالاً دَین کی تینوں قسموں پر روشنی ڈالی جاتی ہے:
دَین قوی کا حکم:
          اگر کسی شخص کونقد روپیہ یا سونا یا چاندی بہ طور ِ قرض دی،یا کسی شخص کے ہاتھ تجارت کا مال بیچا اور اس کی قیمت ابھی وصول نہیں ہوئی،پھر یہ مال ایک سال یا دو، تین سال کے بعد وصول ہوا تو ایسے قرض کو ”دَینِ قوی“ کہتے ہیں۔
          ایسا قرض اگرچاندی کے نصاب کے برابر یا اس سے زائد ہے تو وصول ہونے پر سابقہ تمام سالوں کی زکاة حساب کر کے دینا فرض ہے، لیکن اگر قرض یک مُشت وصول نہ ہو ،بلکہ تھوڑا تھوڑا وصول ہو ، تو جب چاندی کے نصاب کا بیس فی صد (یعنی: ساڑھے دس تولے)وصول ہو جائے، تو صرف اس بیس فی صدکی زکاة ادا کرنا فرض ہو گا، پھر جب مزید بیس فی صدوصول ہو جائے گا تو اس کی زکاة ادا کرنافرض ہو گی، اسی طرح ہر بیس فی صد وصول ہونے پرزکاةفرض ہوتی رہے گی اور زکاة سابقہ تمام سالوں کی نکالی جائے گی۔
          اور اگر قرض کی رقم چاندی کے نصاب کے برابر نہیں؛ بلکہ اس سے کم ہے تو اس پر زکاة فرض نہیں ہو گی؛ البتہ اگر اس آدمی کی ملکیت میں کچھ اور مال یا رقم ہے اور دونوں کو ملانے سے چاندی کے نصاب کے برابر یا اس سے زائد ہو جاتے ہیں تو زکاة فرض ہو گی۔(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال:۲/۳۰۵،۳۰۶،۳۰۷، سعید)
دَین متوسط کا حکم:
          اگر کسی کو قرض نقد روپے اور سونا چاندی کی صورت میں نہیں دیا اور تجارت کا مال بھی فروخت نہیں کیا، بلکہ کوئی چیز فروخت کی جو تجارت کی نہیں تھی، مثلاً:پہننے کے کپڑے یا گھر کا کوئی سامان یا کوئی زمین فروخت کی تھی،اس کی قیمت باقی ہے، تو ایسے قرض کو ”دَین ِمتوسط “کہتے ہیں۔
          تو اگر یہ قیمت چاندی کے نصاب کے برابر یا اس سے زائد ہے اور چند سالوں کے بعد وصول ہوئی تو وصول ہونے پر سابقہ تمام سالوں کی زکاة اس پر فرض ہو گی اور اگر یک مُشت وصول نہ ہو تو جب تک یہ قرض چاندی کے نصاب کے برابر یا اس سے زائد وصول نہ ہو جائے، تب تک زکاة ادا کرنا فرض نہ ہو گا، البتہ وصول ہونے کے بعد گذشتہ تمام سالوں کی زکاة ادا کرنا فرض ہے۔
          اگر مذکورہ شخص صاحبِ نصاب ہو تو ”دَین متوسط“ سے جو بھی تھوڑی تھوڑی رقم ملتی رہے، اس کو اپنے پاس موجود نصاب میں ملاتا رہے اور زکاة دے۔(العالمگیریہ، کتاب الزکاہ، باب اقسام الدیون:۱/۱۷۵، رشیدیہ)
دَین ِ ضعیف کاحکم:
          کسی شخص کو نہ نقد روپیہ قرض دیا، نہ سونا چاندی فروخت کی اور نہ ہی کوئی اور چیز فروخت کی، بلکہ کسی اور سبب سے یہ قرض دوسرے کے ذمے ہو گیا، مثلاً: شوہر کے ذمے اپنی بیوی کا حق مہر ادا کرنا باقی ہو، یا بیوی کے ذمے شوہر کا بدلِ خلع ادا کرنا باقی ہو،یا کسی کے ذمے دیت ادا کرنا باقی ہو یا کسی مالک کے ذمے اپنے ملازم کی تنخواہ دینا باقی ہو ، تو ایسے قرضوں کو ”دَین ِ ضعیف“ کہتے ہیں۔
          ایسے قرضوں پر زکاة کی ادائیگی کا حکم یہ ہے کہ ان اموال کی زکاة کا حساب وصول ہونے کے دن سے ہو گا، اس شخص پر سابقہ سالوں کی زکاة فرض نہیں ہو گی۔وصول ہونے کے بعد اگر یہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو اس نصاب کے ساتھ اس مال کو ملا کے زکاة ادا کرے گا، ورنہ وصول ہو جانے کے بعد اس مال پر سال گذر جانے کے بعد زکاة ادا کرے گا۔(فتح القدیر، کتاب الزکاة: ۲/۱۲۳، رشیدیہ)
          اور جو ادھار خود لیا ہوا ہے ،اس کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ کہ فورا ً سارے کا سارا ادا کرنا لازم ہے، تو اس کو نصاب سے منہا کیا جائے گا، دوسری قسم یہ کہ یک مشت اس کل رقم کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ قسطوں میں ادا کرنا ہے تو صرف اس مہینے کی قسط نصاب سے منہا کی جائے گی۔اس کے علاوہ قرض اگر تجارت کے لیے لیا ہے تو اس کی بھی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ کسی عمارت ، بلڈنگ یا مشینری وغیرہ کے لیے لیاہے تو اسے نصاب سے منہا نہیں کیا جائے گا اور اگر محض تجارت کے لیے لیا ہے تو اسے نصاب سے منہا کیا جائے گا۔(رد المحتار، کتاب الزکاة:۲/۲۶۳، سعید)
بینکوں سے زکاة کاٹنے کا حکم:
          حکومت کے آرڈینیس کے تحت حکومت بینکوں سے لوگوں کی رقمیں زکاة کی مد میں کاٹتی ہے۔شرعاً اس طریقے سے زکاة کی ادائیگی نہیں ہوتی، حکومتِ وقت کے اس طرح زکاة کاٹنے میں شرعاً دس خرابیاں ہیں، جنہیں فتاویٰ بینات جلد دوم ،ص:۶۳۵-۶۴۰ میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، بہ وقتِ ضرورت وہاں مراجعت کرلی جائے۔(فتاویٰ بینات،کتاب الزکاة، حکومت کا مسلمانوں سے زکاة وصول کرنا :۶۴۰-۶۳۵ ، مکتبہ بینات)
کمیٹی کی رقم پر زکاة کا حکم:
          کچھ افراد مل کے کمیٹی ڈالتے ہیں، کچھ ممبروں کی کمیٹی پہلے نکل آتی ہے،مثلاً: بیس افراد نے مل کر ایک ایک ہزار روپے جمع کر کے کمیٹی ڈالی، ان میں سے ایک کی کمیٹی پہلے نکل آئی، اب اس شخص کے پاس انیس ہزار روپے دوسروں کے ہیں اور ایک ہزار اپنا، تو یہ شخص اگر صاحب نصاب ہے تو یہ اپنے ایک ہزار روپے کو اس نصاب میں داخل کرے گا، انیس ہزار کو نہیں،اسی طرح ہر ممبر صرف اتنی رقم نصابِ زکاة میں جمع کرے گا، جتنی اس نے ابھی تک جمع کروائی تھی، البتہ آخری شخص پورے بیس ہزار کو اپنے نصاب میں شامل کرے گا، اور اگر یہ مذکورہ افراد صاحبِ نصاب نہ ہوں تو اس نکلنے والی کمیٹی کی رقم پر زکاة واجب نہیں ہو گی۔(الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الزکاة، الباب الأول فی تفسیر الزکاة: ۱/۱۷۳، رشیدیہ)
خلاصہ کلام:
          آخر میں بطورِ خلاصہ ان تمام اثاثوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن پر زکاة واجب ہوتی ہے اور جن پر واجب نہیں ہوتی:
وہ اثاثے جن پر زکاة واجب ہوتی ہے:
          (۱) سونے کی مارکیٹ ویلیو(خواہ سونا زیور کی صورت میں ہو، یا کسی بھی شکل میں ہو)۔ (۲) چاندی کی مارکیٹ ویلیو (خواہ چاندی زیور کی صورت میں ہو یا کسی بھی شکل میں ہو)۔(۳) نقد رقم۔ (۴) کسی کے پاس رکھی گئی امانت (خواہ رقم ہو یا سونا، چاندی)۔(۵)بینک بیلنس۔(۶) غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹ ویلیو۔ (۷) کسی بھی مقصد (مثلاً: حج ، بچوں کی شادی یا مکان وغیرہ کی خریدنے) کے لیے رکھی ہوئی رقم۔(۸) حج کے لیے جمع کروائی ہوئی وہ رقم ،جو معلم کی فیس اور کرایہ جات وغیرہ کاٹ کر واپس کر دی جاتی ہے۔ (۹) بچت سرٹیفکیٹ مثلاً: NIT،NDFC،FEBC، کی اصل رقم (اگرچہ ان کا خریدنا ناجائز ہے)۔(۱۰) پرائز بانڈز کی اصل قیمت (اگرچہ ان کی خرید و فروخت اور ان پر ملنے والا انعام جائز نہیں ہے) ۔(۱۱) انشورنس پالیسی میں جمع کردہ اصل رقم (اگرچہ مروجہ انشورنس کی تمام صورتیں ناجائز ہیں)۔ (۱۲) قرض دی ہوئی رقم(بشرطیکہ واپس ملنے کی امید ہو)۔ (۱۳) کسی بھی مقصد کے لیے دی ہوئی ایڈوانس رقم، جس کا اصل یا بدل اسے واپس ملے گا۔ (۱۴) سیکورٹی ڈیپازٹ کے طور پر جمع کردہ رقم۔ (۱۵) بی سی (کمیٹی)میں جمع کروائی ہوئی رقم(بشرطیکہ ابھی تک کمیٹی نکلی نہ ہو)۔ (۱۶) تجارتی یا تجارت کی نیت سے خریدے گئے حصص۔ (۱۷) شرکت والے معاملے میں اپنے حصے کے قابلِ زکاة اثاثوں کی رقم مع نفع۔ (۱۸) بیچنے کے لیے خریدا ہوا سامان، جائیداد، حصص اور خام مال۔ (۱۹) تجارت کے لیے خریدی ہوئی پراپرٹی۔ (۲۰) ہر قسم کے تجارتی مال کی مارکیٹ ویلیو (یعنی: قیمتِ فروخت)۔ (۲۱) فروخت شدہ چیزوں کی قابلِ وصول رقم۔ (۲۲) تیار مال کا اسٹاک۔ (۲۳) خام مال۔
جو رقم مالِ زکاة سے منہا کی جائے گی:
          (۱) ادھار لی ہوئی رقم۔ (۲) خریدی ہوئی چیز کی واجب الاداء قیمت۔ (۳) کمیٹی حاصل کرنے کے بعد بقیہ اقساط کی رقم۔ (۴) ملازمین کی تنخواہ ، جس کی ادائیگی اس تاریخ تک لازم ہو چکی ہے۔ (۵) یوٹیلٹی بلز، کرایہ وغیرہ جن کی ادائیگی اس تاریخ تک لازم ہو چکی ہو۔ (۶) گزشتہ سالوں کی زکاة اگر ابھی تک اداء نہ کی گئی ہو۔ (۷) قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی واجب الاداء قسطیں۔
          اب ماقبل میں ذکر کیے گئے ”وہ اثاثے جن پر زکاة واجب ہوتی ہے“ کی تمام صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کل قیمت جمع کر لیں ، پھر ”جو رقم مالِ زکاة سے منہا کی جائے گی“ میں ذکر کی گئی صورتوں کے ہونے کی صورت میں تمام چیزوں کی قیمت جمع کر کے پہلی رقم میں سے گھٹا لیں، اب جو رقم باقی بچے ، اس کا چالیسواں حصہ(یعنی : ڈھائی فی صد )بطورِ زکاة نکال کر مستحقین تک پہنچائیں۔
ناقابلِ زکاة اثاثے:
          (۱) رہائشی مکان، ایک ہو یا زیادہ۔ (۲) دوکان ؛ البتہ دوکان کا مال مالِ زکاة ہوتا ہے۔ (۳) فیکٹری کی زمین ، بشرطیکہ فروخت کی نیت سے نہ لی گئی ہو۔ (۴) دوکان، گھر، فیکٹری کا فرنیچر۔ (۵) زرعی زمین ، بشرطیکہ فروخت کی نیت نہ ہو۔(۶) کرایہ پر دیا ہوا مکان ، دوکان یا فلیٹ۔ (۷) مکان ، دوکان، اسکول یا فیکٹری بنانے کے لیے خریدا ہوا پلاٹ۔ (۸) کرایہ پر چلانے کے لیے ٹرانسپورٹ گاڑی، مثلاً: ٹیکسی ، رکشہ یا بس وغیرہ۔
***





اسلام کا نظامِ کفالتِ عامہ
آج سے چودہ سو تیس سال قبل جب دنیا موجودہ وقت سے زیادہ غیر متمدّن اور ظلمت و جہالت کا شکار تھی، معاشرے کا ہر ہر شعبہ اِفراط و تفریط کا شکار ہو چکا تھا ، غریب اور کمزوروں سے جینے کا حق چھین لیا گیا تھا، الغرض ہر شعبہ اور ہر طبقہ بہت زیادہ کسم پُرسی کا شکار ہو چکا تھا ، اِن تمام حالات کے درمیان نظامِ معاش بھی ہر طرح کی ناہمواریوں کا شکار تھا، ایسے میں جب نااُمیدی کے بادل پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے ، ایک آفتاب وماہتاب ایک طریقہ زندگی لے کر نمودار ہوا اور ظلمت سے بھری دنیا کے گوشے گوشے کو نورانیت سے بھر گیا، بہت ہی قلیل مدت 23 سال کے عرصہ میں اس ”طریقہ زندگی“ (جسے ”اسلام“ کہتے ہیں )نے اپنا لوہا منوا لیااور ہر میدان میں ایسا نظام پیش کیا کہ دنیا امن کا گہوارہ بن گئی ، شیراور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے نظر آنے لگے،امرا کو عزت ملی تو غریبوں کو سکون اور آسائش ملی، ہر فرد دوسرے کے غم کو اپنا غم اور دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے لگا، حتی کہ پورا معاشرہ ایک جسد ِ واحد کانظارہ پیش کرنے لگا، جس کے ایک حصے کی تکلیف کو محسوس کرنے والا صرف ایک عضو ہی نہیں ہوتا ،بلکہ پورا جسم ہوتا ہے۔

ان طریقہ ہائے زندگی میں سے اسلام کا نظام ِ کفالت یا نظام ِ تکافل بھی ہے،جو ایسا جامع نظام ہے جس کے تحت ایسا معاشی نظام قائم ہو گا،جس میں بلا کسی تخصیص وامتیاز ، معاشرے کے ہر فرد کو، کسی نہ کسی شکل میں، اتنا سامان ِ معاش ہر حال میں میسر ہو جائے ، جس کے بغیر عام طور پر کوئی انسان نہ اطمینان کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی اپنے متعلقہ فرائض وحقوق سر انجام دے سکتا ہے، اس نظام کے تحت ملکی و قومی دولت کی گردش کا دائرہ کار چند اغنیا اور بڑے مالدار لوگوں کے درمیان محدود نہ ہونے پائے کہ دوسرے ان کے رحم وکرم کے محتاج ہوں، بلکہ اس صورت میں تو اور بھی خصوصیت کے ساتھ اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے، کہ معاشرے کے وہ افراد جو مسکین ، محتاج اور نادار ہوں اور کسی طبعی عذر کی وجہ سے معذور ہوں، جس کی وجہ سے کوئی معاشی کام کرنے اور اپنے لیے خودروزی کمانے کے لائق نہ ہوں،یا مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے حالت ایسی ہو گئی ہو تو ایسے ضرورت مند افراد کی ”معاشی کفالت“ حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اسی طرح جو اُن کے عزیز و اقربا ہیں ، اُن کے ذمہ اِن کی کفالت ہوگی اور معاشرے کے جو دیگر مال دار لوگ ہیں وہ صدقات ِ واجبہ و نافلہ اور عطیات سے ایسے افراد کی کفالت کا انتظام کریں گے۔

یہاں یہ بات بھی واضح رہے :
اسلام افراد ِ معاشرہ کے درمیان جس معاشی مساوات کو پیدا کرنا چاہتا ہے وہ یہ نہیں کہ معاشرے کے تمام افراد کے درمیان مال و دولت یکساں اور برابر ہو، جتنی اور جیسی ایک فرد کے پاس ہو اتنی اور ویسی ہی تمام افراد کے پاس ہو،کیوں کہ ایسی مساوات ،خیالی دنیا میں تو ہو سکتی ہے ،لیکن حقیقت کی دنیا میں نہیں ہو سکتی، اسلام جس مساوات کو چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ مال و دولت کی کمی بیشی کے ساتھ ساتھ افراد ِ معاشرہ کے معیار ِ زندگی اور مظاہر ِ معیشت میں زیادہ سے زیادہ یکسانیت اور برابری ہو،لہذٰا اسلام غنی کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنا زائد اور اضافی مال راہِ خدا اور مصارفِ خیر میں خرچ کر کے اللہ تعالی کی خوش نودی اورروحانی عظمت اور اخلاقی برتری حاصل کرے ۔

اس کے بعد یہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ مغربی دنیا اور بعض جدّت کی طرف مائل مسلم دانش ور بھی یہ پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ”اسلام نے کوئی معاشی نظام نہیں دیا “ ان کا یہ کہنا انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے ، اس لیے کہ معیشت کا تعلق حصولِ رزق اور پیدائش ِ دولت سے ہے، اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کھانے پینے، پہننے،اوڑھنے اور رہنے سہنے کے لیے انتظام کیا جانا انسانی تاریخ کا اتنا قدیم عنصر ہے جتنی دنیا کی تاریخ ، تو کیا ایسا ممکن ہے کہ اسلام آنے کے بعد ہزار سال تک(جو کہ دنیا میں اسلام کے عروج کا دور ہے) لوگ ضروریات ِ زندگی سے محروم تھے؟!

ہر گز نہیں!بلکہ حضراتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا مختصر دور توہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، کہ جو نظام محض 23 سال میں انہوں نے پوری دنیا میں متعارف کرا کے رائج بھی کر دیا اوروہ 32 سال تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم رہا ، پھر غیروں کی سازشوں اور کوششوں سے اِس نظام کے ختم ہونے تک ایک ہزار برس لگ گئے، یعنی جو فلسفہ معاش ساتویں صدی عیسوی میں انسانیت کے سامنے آیا اُس کے اثرات سترہویں صدی عیسوی تک بھی مٹائے نہ جا سکے اور آج بیسویں صدی میں بھی دنیا کی ایک بڑی آبادی اِس نظام کو اپنائے ہوئے ہے، پھر اِس نظام کو فرسودہ کیونکر کہا جا سکتا ہے؟!

اسلامی نظام ِ معاش و نظامِ کفالت کو برباد کرنے کے لیے سالہا سال کوششیں ہوئیں ، منصوبے بنے ، اُن پر عمل ہوا اور ایک حد تک اِن اسلام دشمن عناصر کو کام یابی بھی ہوئی، اُن منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ”نظام ِ انشورنس “ بھی ہے جو اسلام کے نظامِ کفالت ِ عامہ کو ختم کرنے کے لیے وجود میں آیا ، ایک نظر اِس مغربی نظام ِ انشورنس کے مقاصد پر ڈال لی جائے، تا کہ اس کے مقابل اسلام کے نظام کفالت کی جامعیت اور افادیت پوری طرح واضح ہو جائے۔

نظام انشورنس سماجی اور معاشی تحفظ کا ضامن نہیں بن سکتا، کیوں کہ اِس کا دائرہ کار انتہائی محدود ہے، اگر کچھ تھوڑا بہت نظر آرہا ہے تو محض اِن ہی افراد کے لیے یہ نظام ہے، جو کمپنی کی پالیسی لیتے ہیں ، یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو عام طور پر سرمایہ دار ہی ہوتے ہیں ، اِس نظام میں ایسے طبقہ یا افراد کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے، جو اُن کے پالیسی ہولڈر نہیں ہیں، جو معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، ایسے افراد کو سہارا دینے کا، ان کاساتھ دینے کا،ان کو چلانے کا، گرے پڑے ہووٴں کو اٹھانے کا کوئی پروگرام یا کوئی حصہ نہیں ہے، جو معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اِس نظام میں نہ یتیم بچوں کے سروں پر رکھنے کے لیے دستِ شفقت ہے (کیوں کہ ان کا باپ پالیسی ہولڈر نہیں تھا)اور اُس بیوہ کے لیے کھانے کے ایک لقمہ کا بھی انتظام نہیں ہے ، جس کا مزدور خاوند بیمہ کمپنی میں اپنایا اپنی اس بیوہ کا بیمہ نہ کرا سکا تھا، اِس نظام میں اُن غربا اور مساکین کے لیے کوئی پالیسی یا انتظام نہیں ہے، جو مکان نہ ہونے کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی بسر کر رہے ہیں یا دن بھر مزدوری نہ ملنے کے سبب بھوکے سونے پر مجبور ہیں ، ایسا کیوں ؟؟ اِس لیے کہ وہ بیمہ کمپنی کے ممبر نہیں ہیں ، اُن کے پاس اِن کی اَقساط ادا کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔

مذکورہ تفصیل کے بعد یہ بات کھل کے سامنے آجاتی ہے، کہ” نظام ِ انشورنس“ جس پر آج مغرب فخر کر رہا ہے اور غریبوں کو اپنا محسن ہونا بتا رہا ہے ، جس کے پُر فریب اور پُرکشش اشتہارات ”ہر فکر کو دور کیجیے“ اور ”غم کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں“ کا سبق پڑھا رہے ہیں ، دراصل یہ (نظام) مذموم سرمایہ کاری کی کوکھ سے جنم لینے والا ایک نیا نظام استحصال، دولت کو اپنے پاس جمع کرتے رہنے کا جدید حیلہ اور عالمِ اسلام میں یہودی کاروبار کو فروغ دینے والا ذہنی ، فکری و عملی منصوبہ ہے ، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ”امیر کے لیے سب کچھ اور نادار و بے کَس غریب کے لیے کچھ نہیں“۔ 

اِس کے بر عکس اسلام کے نظام ِ کفالت ِ عامہ کو پہچانیے اور اِس کی جامعیت اور کاملیت کا بڑی بیدارمغزی اور پوری بصیرت سے جائزہ لیجیے کہ کتنادودھ اور کتنا پانی ہے؟! جِس کا مقصد اسلامی ریاست کے متمول ، صاحب ِ ثروت افراد سے جائز اور شرعی طریقے سے لے کر اور غربا ومساکین اور معذورین سے کچھ بھی نہ لے کر، مملکت و ریاست کے تمام باشندوں (بلا تمیز مسلم و کافر )کی ہر قسم کی سماجی ، معاشرتی، و معاشی حاجات و ضروریات کی کفالت ، غیر متوقع پیش آمدہ حادثات کا تحفظ اور نقصانات کی تلافی کی ضمانت دینا ہے۔

یہ نظام (کفالت )اس معاشی نظام کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد محض معاشی کفالت نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی کی ضمانت دینا ہے،اس (اسلامی نظام ) کا رکن بننے کے لیے کوئی قسطیں ، کوئی فیس نہیں ادا کرنا پڑتی ،بلکہ صرف احکاماتِ الٰہیہ کے سامنے سر تسلیم ِ خم کرتے ہوئے اسلام کو بحیثیت ضابطہ حیات تسلیم کرنا ، امرا کا جائز شرعی واجبات (زکاة ، صدقات واجبہ، عشر وغیرہ) ادا کرنا اور پوری زندگی الله کا بندہ بن کر رہنا ہے اور بہ صورت ِ ذمی،اسلامی ریاست کا وفادار شہری بن کر رہنا اور معمولی جزیہ کا ادا کرنا ہے۔

اسلام جس قسم کا نظام ِ کفالت پیش کرتا ہے، اس میں اوّلیت اس بات کو دی گئی ہے کہ اسلامی ریاست کا کوئی شخص بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہے، اس نظام میں امیر کو ترغیب دے کر اور آخرت کا خوف دلا کر یہ درس دیا جا تا ہے کہ وہ غریب اور محروم المعیشت تک اس کی ضروریاتِ زندگی پہنچائے، جو شخص مفلس اور نادار کی حاجت روائی نہ کرے وہ کامل مسلمان ہی نہیں۔

قرآن ِ پاک کا معاشی نظام سے متعلق اُسلوب
اسلام میں کمال حاصل کرنے کے لیے جن صفات کا ہونا ضروری ہے، اُن میں سے ایک صفت غرباء کو کھانا کھلانے کی تلقین بھی ہے،ملاحظہ ہو:

﴿أرء یت الذي یکذب بالدّین فذٰلک الذي یدع الیتیم ولا یحض علی طعام المسکین﴾۔ (الماعون:1 تا3)

ترجمہ:”کیا تو نے ایسے شخص کو دیکھا جو جزا و سزا کا منکر ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین نہیں کرتا“۔

دیکھیے !غریب کو خود کھانا کھلانے سے انکار تو دور کی بات ہے، یہاں تو اگر کوئی فرد کسی دوسرے متمول شخص کو کسی بھوکے شخص کوکھانا کھلانے کی تلقین نہیں کرتا تب بھی اسے صحیح اور کامل دین دار قرار نہیں دیا جارہا۔

ایک اور جگہ تو بہت سخت لہجے میں فرمایا گیا:
﴿خذوہ فغلوہ ثم الجحیم صلّوہ ثم في سلسلة ذرعھا سبعون ذراعاً فاسلکوہ إنہ کان لا یوٴمن باللہ العظیم ولا یحض علی طعام المسکین﴾۔ (الحاقة:30 تا34)

ترجمہ: ”اسے پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو، پھر اسے جہنم میں داخل کرو، پھر اسے ستر گز لمبی زنجیر میں جکڑدو، یقینا یہ وہی ہے جو خدائے بزرگ و بر تر پر ایمان نہیں لایا تھا اور نہ ہی محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا“۔

ایک اور جگہ ایمان والوں کی صفات ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:

﴿ویطعمون الطعام علیٰ حبہ مسکیناً و یتیماً وأسیراً ﴾․ (الدھر:۸)

ترجمہ:”اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں (اپنا) کھانا مسکین ، یتیم اور قیدی کو کھلاتے ہیں“۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
﴿في أموالہم حقٌ معلومٌ للسائل والمحروم﴾․ (المعارج:24،25)

ترجمہ:”ان کے اموال میں ایک مقررہ حصہ ہے، مانگنے والے کا اور ہارے ہوئے کا“۔

مذکورہ آیات میں امرا کے لیے ایک راہِ عمل متعین کر دی گئی اور پھر دوسرے طرز پر مقصد یہ بتایا گیاکہ:

﴿کي لا یکون دولةً بین الأغنیاء منکم﴾․(الحشر:۷)

ترجمہ:”تاکہ وہ (دولت)تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے“۔

آیت ِ کریمہ میں اسلامی معاشرے اورحکومت کی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ مال صرف مال داروں میں ہی گھومتا رہے،یا امیر! روز بروزامیر تر اور غریب دن بدن غریب تر ہوتے چلے جائیں، اس مقصد کے لیے سود حرام کیا گیا، زکوٰة فرض کی گئی، مالِ غنیمت میں خُمس مقرر کیا گیا، صدقات کی ترغیب دی گئی، مختلف قسم کے کفارات کی ایسی صورت تجویز کی گئی جِن سے غریب افراد کی خاطر خواہ دل داری اور حاجت براری ہو سکے ، میراث کا ایسا قانون بنایا گیاکہ ہر مرنے والے کی چھوڑی ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے ، اخلاقی حیثیت سے بخل کو سخت قابلِ مذمت اور سخاوت و فیاضی کو بہترین صفت قرار دیا گیا ، الغرض وہ تمام انتظامات کیے گئے کہ دولت پر بااثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ ہو اور دولت کا بہاوٴ امیروں سے غریبوں کی طرف بھی ہو جائے۔

احادیث ِ مبارکہ کا معاشی نظام سے متعلق اُسلوب
سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے کہ یہ افرادِ معاشرہ سے سخاوت کو بالکلیہ ہی ختم کر دیتا ہے، چناں چہ اِس نظام کی کسی بھی کتاب کو اُٹھا کے دیکھ لیا جائے کہ اس میں سخاوت و فیاضی کا کوئی ایک بھی عنوان ڈھونڈنے سے نہ مل سکے گا ، اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نظام کا خمیر ہی بخل اور امساک سے اٹھایا گیا ہے، جب کہ سخاوت و فیاضی کریمانہ اَخلاق کے وہ حصے ہیں جو اللہ رب العزت کی راہ میں خرچ کرنے سے فقرا و مساکین کی محبت ، دنیاداری کی حقارت جیسی عمدہ روحانی غذا پاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے سخاوت و فیاضی کے اوصاف ِ حمیدہ کے ذریعے اپنے مال و دولت میں امت کے غربا اور بے کسوں کو بھی شامل فرمایا اور اِس طرح گردش ِ دولت کی راہیں کشادہ کر دیں اور بخل و اِرتکازِ دولت کی عاداتِ رذیلہ کے مضر اثرات کو ختم فرمایا اور اِس خصلتِ حمیدہ میں امت کو بھی اپنے ساتھ شامل فرمایا ، جابجا ان کی ذہن سازی کی ، کبھی ترغیب کے ذریعے اور کبھی ترہیب کے ذریعے، لیکن اِن سب سے بڑھ کر خود آپ ﷺ کا اپنا پاکیزہ عمل، نمونہ تھا، جس کی ادنیٰ سی جھلک پہلی بار نازل ہونے والی وحی کے وقت آپ ﷺ پرطاری ہونے والی گھبراہٹ کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ کو تسلی دیتے ہوئے آپ کی اعلیٰ صفات شمار کرواناہے، ملاحظہ ہو:

”فقالت خدیجة:کلّا واللہ، ما یخزیک اللہ أبداً، إنک لَتصل الرحم، وتحمل الکلّ، وتکسب المعدوم وتقري الضیف وتعین علی نوائب الحق“․(صحیح البخاري، کتاب بدء الوحي،رقم:3،7/1،دارطوق النجاة)

ترجمہ: (آپ ﷺ کی گبھراہٹ کو دیکھ کر ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:”ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کریں گے، آپ تو رشتوں کو جوڑنے والے ہیں، آپ تو کمزوروں ، بے کسوں کا سہارا بنتے ہیں ، جن کا کوئی کمانے والا نہیں آپ اُن کو کما کر کھلاتے ہیں ، ناتواوٴں کے بوجھ اُٹھاتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں“۔

یہ تو آپ ﷺ کی صفاتِ عالیہ کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہے، ورنہ تو پوری حیاتِ طیبہ یہی أسوہ پیش کرتی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”أیما أھل عرصة أصبح فیھم امرء جائعاً فقد برئت منھم ذمة اللہ“۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع، رقم الحدیث:2165،14/2، دار الکتب العلمیة)

ترجمہ: ”کسی بھی بستی میں کوئی شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ رات بھر بھوکا رہا ہو، تو اللہ رب العزت کا ذمہ اس بستی سے بری ہے“۔

نبی اکرم ﷺ نے غربا کی امداد کی اس قدر ترغیب دی کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم کہنے لگے کہ ہمارے پاس جو زائد اموال ہیں ان میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے،ملاحظہ ہو:

”عن أبي سعید الخدري رضي اللہ عنہ قال:بینما نحن في سفر مع النبي صلی الله علیہ وسلم إذ جاء رجل علی راحلة لہ، فجعل یصرف بصرہ یمیناً وشمالاً، فقال رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم :”من کان معہ فضل ظھر فلیعد بہ علی من لا ظھر لہ، ومن کان لہ فضل من زادٍ ، فلیعد بہ علی من لا زاد لہ“، فذکر من أصناف المال ما ذکر حتیٰ رأینا أنہ لا حق لأحدٍ منّا في فضلٍ“۔(ریاض الصالحین، باب الإیثار والمواساة، رقم:566،ص:173، دارالسلام)

ترجمہ:”حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ہم راہ ایک سفر میں تھے کہ ایک شخص آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس زائدسواری ہو وہ اُسے دے دے جِس کے پاس سواری نہ ہو اور جِس کے پاس ضرورت سے زائد زادِ راہ ہو تو وہ (اُس توشے کو) اُسے دے دے جِس کے پاس زادِ راہ نہ ہو،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ مختلف انواع کے اموال( اسی طرح اوروں کو دینے ) کا ذکر فرماتے رہے کہ ہم (میں سے ہر ایک )نے گمان کرلیا کہ ہم میں سے کسی کو بھی اپنے ضرورت سے زائد مال پر کوئی حق نہیں“۔

ایک اور حدیث شریف میں ارشاد فرمایا:
”من کان عندہ طعام إثنین فلیذھب بثالث، فإن أربع فخامس، أو سادس“۔(صحیح البخاري ، کتاب الہبہ، رقم الحدیث:2581، 156/1، دارالشعب ، القاھرة)

ترجمہ:جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے آدمی کو اپنا مہمان بنا لے اور اگر چار (آدمیوں)کا کھانا ہو تو پانچوے یا چھٹے کو(اپنا مہمان بنا لے)“۔

ایک اور روایت میں ہے کہ :
”طعام الإثنین کافي الثلاثة و طعام الثلاثة کافي الأربعة“(ریاض الصالحین، باب الإیثار و المواساة، رقم الحدیث:565، ص:173، دارالسلام)

ترجمہ: ”دو افراد کا کھانا تین افراد کو کفایت کر جائے گا اور تین کا کھانا چار کو کفایت کر جائے گا“۔

کفالت کے اس سلسلے کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

”عن جابر رضی اللہ عنہ یقول:سمعت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم یقول:”طعام الواحد یکفي الإثنین، وطعام الإثنین یکفي الأربعة، وطعام الأربعة یکفي الثمانیة“ ․(صحیح مسلم، کتاب الأشربة، باب فضیلة المواساة، رقم :5489، 132/2، دارالجیل، بیروت)

ترجمہ:”حضرت جابرؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ایک فرد کا کھانا دو کے لیے کافی ہو جائے گا، دو کا کھانا چار افراد کے لیے کافی ہو جائے گا اور اسی طرح چار افراد کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہو سکتا ہے“۔

یہ ہیں وہ تعلیمات جو اسلام کی جامعیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کریہ امت وحدتِ امت کا نمونہ پیش کر سکتی ہے،یہ تصور امت کے اندر سے منافرت کی بو تک مٹا دیتا ہے اور امت َ مسلمہ کو یک جان کر دیتا ہے،اس کی بہت ہی دل کش تعبیر نبی اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہے:

”مثل الموٴمنین في توادّھم وتراحمھم وتعاطفھم مثل الجسد إذا اشتکیٰ منہ عضوٌ تداعیٰ لہ سائر الجسم بالسھر والحمیٰ“․ (صحیح مسلم، کتاب البروالصلة، باب تراحم الموٴمنین، رقم : 6751،20/8، دارالجیل، بیروت)

ترجمہ:”موٴمنین کی مثال ان کے آپس میں محبت و شفقت ، اُنس ومودت اور لطف و کرم میں ایک جسم کی مانند ہے، جس کے ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے“۔ اس سے اندازہ کر لینا چا ہیے کہ کیا مغرب کا پیش کردہ نظامِ انشورنس اسلام کے نظام ِ کفالت عامہ کے برابر ہوسکتا ہے؟!

اس کے علاوہ اور بہت سی روایات و آثار اس بارے میں منقول ہیں، مثلاً:

”صح عن أبي عبیدة بن الجراح وثلٰث مائة من الصحابة أن زادھم فني، فأمرھم أبو عبیدة، فأجمعوا أزوادھم في مزودین و جعل یقوتھم إیاھا علی السواء“․(المحلّٰی لابن حزم، کتاب الزکاة، إن اللہ فرض علی الأغنیاء ما یکفي الفقراء، 4/283، دارالکتب العلمیة)

ترجمہ:”حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق یہ روایت درجہ صحت کو پہنچتی ہے کہ(ایک مرتبہ) ان کا سامانِ خوردونوش ختم ہونے کے قریب آلگا تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ جس جس کے پاس جس قدرہے، وہ حاضر کرے اور پھر سب کو یک جا کیا اور ان سب میں برابرتقسیم کر کے سب کو ”قوت لایموت“کا سامان مہیا کر دیا“۔

وعن أبي موسیٰ رضی اللہ عنہ، قال قال رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم:”إن الأشعریین إذا أرملوا في الغزو، أو قلّ طعام عیالھم بالمدینة ، جمعوا ما کان عندھم في ثوب واحدٍ، ثم اقتسموہ بینھم في إناءٍ واحدٍ بالسویة، فھم مني وأنا منھم“․(ریاض الصالحین، باب الإیثار والمواساة، رقم الحدیث:568،ص:173،دار السلام)

غور کریں اس حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے اشعری قبیلہ والوں کی اس وجہ سے تعریف کی کہ جب کبھی سفرحضر میں ان کے ہاں غلہ کی کمی ہو جاتی تو وہ اپناغلہ ایک کپڑے میں جمع کر دیتے اور پھر برابرتقسیم کر لیتے، چناں چہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں خوش ہو کر فرمایا ”وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔

”المحلی بالآثار“ میں علامہ ابن حزم نے لکھا ہے کہ ”اس بات پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص بھوکا ننگا یا ضروریاتِ زندگی سے محروم ہے تو مال دار کے خاص مال میں سے اس کی کفالت کرنا فرض ہے“۔(المحلی، کتاب الزکاة:283/4،دارالکتب العلمیة)

”اسلام کا اقتصادی نظام“ میں حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ تمام آئمہ مجتہدین کا بھی یہی مسلک ہے۔(اسلام کا اقتصادی نظام،ص:46،ندوة المصنفین)

خلاصہ کلام!اسلام اپنی تعلیمات کے ذریعے تعاون و تکافل کا وہ اعلیٰ ترین معیارقائم کرتا ہے، جس کی بلندیوں تک آج مذموم سرمایہ دار اور لا دین اشتراکی ذہن رکھنے والے کا تخیل،پرواز ہی نہیں کر سکتا۔ اسلام معاشی کمزوریاں دور کرنے کے لیے اجتماعی کفالت ِعامہ کا جو تصور پیش کرتا ہے اُسے صرف وعظ و تلقین ہی تک نہیں چھوڑا اور نہ ہی اسے صرف انفرادی اور اجتماعی وجدان کے رحم و کرم کے سپرد کیا ہے، بلکہ اسلامی ریاست کے امیر المومنین کو ذمہ دار بنایا ہے، کہ وہ اس نظام کو عملی جامہ پہنائے اور اس کے احیا میں آنے والی ہر رکاوٹ دور کرے۔

اسلامی نظامِ تکافل کی حدود و طریقہ کار
مندرجہ بالا سطور میں یہ بات تفصیل سے گذر چکی ہے کہ کفالت ِ عامہ بنیادی طور پر اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، اس کے تحت اب جائزہ اس بات کا لینا ہے کہ یہ نظام ، ریاست میں بسنے والے صرف مسلمانوں کے لیے ہو گا یا غیر مسلم بھی اس نظام سے مستفید ہو سکیں گے۔اور پھر اس نظام کے تحت کس قسم کی ضروریات پوری کی جائیں ؟

ہر انسان کے ساتھ کچھ ضروریات ایسی ہوتی ہیں جو انسانیت کی فلاح و بہبود سے متعلق ہوتی ہیں،مثلاً:تعلیم،صحت ، تزویج، نومولود بچوں کے وظائف ، معذور افراد کی دیکھ بھال ، مقروضوں کے قرضوں کی ادائیگی وغیرہ۔ 

اس کے بعد یہ جاننا بھی ضروری ہے، نظامِ کفالت کا سارا بوجھ سرکاری ریاست کے ہی ذمے ہے یا معاشرے کے افراد بھی اس میں شامل ہیں، چناں چہ معلوم ہوتا ہے کہ افرادِ امت کے ذمہ بھی کچھ مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں لاحق ہوتی ہیں،جن میں کچھ قانونی اور کچھ اخلاقی ذمہ داریاں ہیں، قانونی ذمہ داریوں کو ”صدقاتِ واجبہ“(مثلاً:زکوٰة، عشر ، صدقة الفطر، کفارات اور نذور وغیرہ) اور اخلاقی ذمہ داریوں کو” انفاق“ (مثلاً:صدقاتِ نافلہ، قرضِ حسنہ، ہبہ، عاریت، وصیت، امانت، اوقاف، میراث اور نفقات وغیرہ)سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

پھر اس کے بعد سوال یہ پید اہوتا ہے کہ یہی سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مصارف کہاں سے اور کیسے لائیں گے؟اس کے لیے کون کون سے ذرائع اختیار کیے جائیں گے؟تو یہ مصارف اور ذرائع آمدنی اسلام میں متعین ہیں، مثلاً: زکوٰة، خمس، متعین شرائط کے ساتھ جائز ٹیکس، اموالِ فاضلہ، خراج، منافع تجارت وغیرہ۔

خلاصہ کلام!اگر مندرجہ بالا شعبوں کا احیا ہو جائے اور یہ مصروف ِ عمل ہو جائیں تو ممکن ہی نہیں کہ ملک میں دولت کے ذخائر پر محض چند اور مخصوص افراد قابض ہوں اور گردشِ دولت کا بہاوٴ صرف اور صرف سرمایہ کاروں کی طرف ہی ہو اور اس کے برعکس دوسری طرف غریب طبقہ ظلم کی چکی میں پِس رہا ہو اور بھوک پیاس کی حالت میں ایک ایک لقمے کا محتاج ہو۔

اگر اسلام کا یہ نظام ِ کفالت وجود میں ہوتو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں غیروں کے بنائے ہوئے نظامِ انشورنس وغیرہ کا سہارا لینا پڑے اور اپنے دین و مذہب کا خون کرنا پڑے۔ البتہ اس کے لیے انتھک محنت کرنا ہو گی، کہ جس طرح آج سے چودہ سو سال قبل یہ نظامِ کامل پوری طرح چمکتا ہوا ،انسان کو انسان اور جہالت و نفسانیت میں ڈوبے معاشرے کو ایک صالح اور پُر امن معاشرے میں ڈھال چکا تھا ، جس کی حقانیت کا اعتراف اپنے تو اپنے ، غیربھی کرنے پر مجبور ہوگئے، اسلامی اخوت اور بھائی چارے کی ایسی ایسی مثالیں قائم ہوئیں کہ آج تک مغربی معاشرہ اس کی کوئی نظیر پیش نہ کر سکا، تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی نظام اس وقت ”جب کوئی ظاہری ٹھاٹ باٹ نہ تھے“ اپنا اثر قائم کر سکتا ہو اور آج کے دور میں بے اثر ہو!!اگر معاشرے کے چند بااثر افراد مل کر ہمت و کوشش کر لیں اور اپنے فاضل اموال کو مذکورہ بالا مدّات میں خرچ کر لیں اور پھر ان کی دیکھا دیکھی کچھ اور اور پھر کچھ اور حتیٰ کہ ہر طرف ایک عام فضا بن جائے تو یقینا مقصود حاصل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

اسلام کا نظامِ کفالت کن کن افراد کے لیے مفید ہو گا؟
اسلامی ریاست میں بسنے والے چوں کہ صرف مسلمان ہی نہیں ہوتے، بلکہ غیر مسلم بھی ہوتے ہیں تو ریاست میں مقیم ہر مسلم و غیر مسلم کی کفالت اس نظام کا حصہ ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہدِمبارک میں جب”حیرہ “ فتح ہوا تو اس موقع پر ایک معاہدہ لکھا گیا، جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے کفالت ِ عامہ کا ذکر ہے، ملاحظہ ہو:

”وجعلتُ لہم أیّما شیخ ضعُف عن العمل أو أصابتہ اٰفةٌ من اٰفاتٍ أو غنیاً فافتقر وصار أھلُ دینہ یتصدّقون علیہ، طرحت جزیة، وعیل من بیت مال المسلمین وعیالہ ما أقام بدارالہجرة ودارالإسلام“․(کتاب الخراج لأبي یوسف، باب في الکنائس والبیع والصلبان،ص:144، مطبوعة سلفیة)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ”میں طے کرتا ہوں کہ اگر ذمیوں میں سے کوئی ضعیف ہو ، کام نہ کر سکتا ہو، یا آسمانی یا زمینی آفات میں سے کوئی آفت اس پر آپڑے ، یا ان کا کوئی مال دار محتاج ہو جائے اور اس کے اہلِ مذہب اس کو خیرات دینے لگیں،تو ایسے تمام افراد کو جزیہ معاف ہے اور بیت المال سے ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی کفالت کی جائے گی، جب تک وہ دارالہجرة اور دارالاسلام میں اقامت پذیر ہوں“۔

اسی تناظر میں دور فاروقی کا بھی ایک واقعہ ملاحظہ کر لیا جائے، جسے امام ابو یوسف  نے اپنی کتاب الخراج میں نقل کیا ہے:

”قال: وحدثني عمر بن نافع عن أبي بکر، قال:مرّ عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ بباب قومٍ وعلیہ سائلٌ یسأل، شیخٌ کبیرٌ، ضریر البصر، فضرب عضُدہ من خلفہ، وقال: مِن أيِّ أہل الکتاب أنتَ؟ فقال: یھوديٌ، قال: فما ألجأک إلی ما أریٰ؟ قال: أُسأَلُ الجزیةَ، والحاجةُ، والسِنُّ، قال: فأخذ عمر بیدہ، وذھب بہ إلی منزلہ، فرضَخ لہ بشيء من المنزل، ثم أرسل إلی خازنِ بیتِ المال، فقال:اُنظر ھذا وضُربائَہ، واللہ ماأنصفناہ أن أکلنا شبیبتَہ، ثم نخذُلہ عند الھرَم ﴿إنما الصدقات للفقراء والمساکین﴾ و”الفقراء“ من المسلمین، وھذا من ”المساکین“ من أھل الکتاب، ووضع عنہ الجزیةَ وعن ضُربائِہ، قال أبو بکر:أنا شہِدت ذلک من عُمَرَ ورأیتُ ذلٰک الشیخَ “․(کتاب الخراج لأبي یوسف، في من یجب علیہ الجزیة؟ص:126، الطبعة السلفیة، القاھرة)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نابینا بوڑھے شخص کو بھیک مانگتے دیکھا، اس سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ یہودی ہے، بھیک مانگنے کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ جزیہ کی ادائیگی، معاشی ضروریات اور پیرانہ سالی نے(بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا )۔یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے، جو موجود تھا وہ دیا اور پھر بیت المال کے خزانچی کے پاس فرمان بھیجا کہ یہ اور اس جیسے دوسرے حاجت مندوں کی تفتیش کرو، اللہ کی قسم! ہم اس کے ساتھ ہر گز انصاف نہیں کر سکتے کہ اس کی جوانی کی محنت (بصورتِ جزیہ) تو کھائیں، مگر اس کے بڑھاپے میں اسے بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیں، قرآن پاک میں ہے:﴿إنما الصدقات للفقراء والمساکین﴾اورمیرے نزدیک یہاں ”فقراء“ سے مرادمسلمان مفلس ہیں(اور ”مساکین “سے مراد اہل کتاب کے مساکین و فقراء ہیں) اور یہ سائل مساکینِ اہلِ کتاب میں سے ہے، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جزیہ معاف کر دیا۔

مذکورہ بالا اور اس جیسی اور بہت سی نظائر سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا نظامِ کفالت بلا تمیزمسلم و کافر سب کے لیے ہے ، یہ ایسا ابرِ رحمت ہے جو باغ اور کوڑے کرکٹ ، ہر جگہ برستا ہے۔

کن ضروریات کو پورا کیا جائے گا؟
انسان کی ضروریات دو قسم کی ہیں:اول وہ ضروریات جن پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے اور دوسری وہ ضروریات جو حیاتِ انسانی میں نکھار کا سبب بنتی ہیں:

پہلی قسم کی ضروریات
ضروریات کی اس قسم میں بنیادی طور پر خوراک، لباس، جائے سکونت اور ابتدائی و ضروری طبی امداد شامل ہے، اسلامی حکومت تمام مذکورہ ضروریات کو پورا کرے گی، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی  لکھتے ہیں کہ: ”اسلامی حکومت کے سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر فرد خواہ وہ امیر ہو یا فقیر ، مرد ہو یا عورت، کواس کی استعداد اور حالت کے مطابق ان تین بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے ہر قسم کی سہولیات پہنچائے، وہ تین چیزیں یہ ہیں: کھانے پینے کی سہولت، کیوں کہ یہ ہر فرد کی زندگی کا ذریعہ ہے، اور اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں۔ لباس کی ضرورت،خواہ وہ روئی کا ہو یا کتان (قیمتی کپڑا) یااُون کا۔ ازدواجی زندگی کی سہولت، کیوں کہ یہ انسانی نسل کی بقا کے لیے ضروری ہے “۔ (اسلام کا اقتصادی نظام، ص:153، ندوة المصنفین)

دوسری قسم کی ضروریات
اس قسم میں وہ ضروریات شامل ہیں،جو انسان کو اخلاقی اعتبار سے اور معاشرتی اعتبار سے مضبوط کرتی ہیں،ان میں تعلیم و تربیت، صحت و دیگر مصائب، غیر شادی شدہ اور شادی شدہ افراد کی کفالت، مقروضوں کے قرضوں کی ادائیگی، نومولود بچوں کے وظائف، اپاہج و ناکارہ افراد کی کفالت، مسافر خانوں کی تعمیر، خواتینِ اسلام کی کفالت وغیرہ وغیرہ۔(ان تمام صورتوں کے تفصیلی احکامات کتاب الأموال لأبی عبید،کتاب الخراج لیحیی بن آدم القرشی، سیرة عمر بن عبد العزیز لابن عبد الحکیم، سیرة عمر بن عبد العزیز لابن جوزی، سیرة عمر بن الخطاب لابن جوزی، تاریخ الخلفاء للسیوطی، الطبقات الکبریٰ لابن سعد میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔)

کفالت کس حد تک کی جائے گی؟
اسلام کے نظام ِ کفالت عامہ کی حدود کیا ہیں؟ تو جاننا چاہیے کہ جوں جوں اسلامی ریاست وسیع ہوتی جائے گی اور وسائل بڑھتے جائیں گے، اسی طرح کفالت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا، چناں چہ اسلام کے نظام تکافل و کفالتِ عامہ کی وسعت ، جامعیت، کاملیت و حدود کا اندازہ لگانے کے لیے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ، جنہیں خلیفہ راشد تسلیم کیا گیا ہے، کا نمونہ ہمارے سامنے ہے کہ :

”کتب عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ إلی عبدالحمید بن عبد الرحمن، وھو بالعراق:”أن أخرج للناس أعطیاتھم“ فکتب إلیہ عبد الحمید: ”إني قد أخرجت للناس أعطیاتھم، وقد بقي في بیت المال“فکتب إلیہ:”أن انظر کل من أدان في غیر سفہ ولا سرف، فاقض عنہ“․ فکتب إلیہ:”إني قد قضیت عنھم، قد بقي في بیت مال المسلمین مالٌ“․ فکتب إلیہ:”أن انظر کل بکرٍ لیس لہ مالٌ، فشاء أن تزوجہ، فزوِّجہ واصدق عنہ“․ فکتب إلیہ:”إني قد زوَّجتُ کل من وجدتُ، وقد بقي في بیت مال المسلمین مالٌ“․ فکتب إلیہ:بعد مخرج ھذا، أن انظر من کانت علیہ جزیة فضعف عن أرضہ، فأسلفہ مایقوي بہ علیٰ عمل أرضہ، فإنا لا نریدھم لعامٍ ولا لعامین“ قال:قال العمري ھٰذا أو نحوہ“․(کتاب الأموال لأبي عبید، الجزء الثالث: صنع عمر بن عبد العزیز في تقسیم الفيء:۱/۳۶۳، دارالہدي النبوي، مصر)

مذکورہ روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ :”حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اپنے گورنر کے نام لکھا کہ وہ لوگوں کے عطایا ان کو ادا کرے، گورنر نے جواب لکھا کہ میں نے عوام کے عطایا انہیں اداکر دیے ہیں ، مگر بیت المال کی رقم بچی پڑی ہے (اس کا کیا کروں؟) تو آپ  نے لکھا کہ ایسے مقروضوں کو تلاش کرو جنہوں نے کسی بغیر نادانی کے کاموں کے ، یا بغیر فضول خرچی کے قرض لیا ہو، ان کا قرض ادا کر دو۔ گورنر نے لکھا کہ میں نے ایسے تمام (مقروضوں) کے قرضے ادا کر دیے ہیں پھر بھی مسلمانوں کے بیت المال میں رقم بچ گئی ہے۔ آپ نے لکھا کہ ہر ایسے کنوارے کو تلاش کرو جس کے پاس مال نہ ہو ، مگر وہ شادی کرنا چاہتا ہو، اس کی شادی کراوٴ اور اس کا مہر ادا کرو۔ گورنر نے لکھا کہ میں نے جس کسی کوایسا پایا ، اس کا نکاح کرا دیا ہے، مگر پھر بھی بیت المال میں رقم باقی ہے۔ آپ نے لکھا کہ ہر ایسے ذمی(شخص ) کو تلاش کرو جس پر جزیہ ہو، اور (مفلسی کے باعث ) اپنی زمین آباد کرنے سے عاجز ہو، اسے قرضہ دو، تا کہ وہ اپنی زمین (کی آباد کاری) کا کام کرنے کے قابل ہو جائے، کیوں کہ ہم ان (ذمیوں) کو صرف ایک سال یا دو سال کے لیے ہی نہیں رکھنا چاہتے (بلکہ ان سے حسن و سلوک کا طویل رشتہ چاہتے ہیں)“۔

اس روایت سے خوب اچھی طرح اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسلام کا نظامِ کفالت ِ عامہ کتنا جامع اور وسیع ہے کہ وسائل کی دست یابی کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ بڑھتا جاتا ہے اور پھیلتا جاتا ہے اور پھر رعایا کی ضروریات کی تکمیل کا اندازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، فرمایا:

”أما واللہ! لئن بقیت لأرامل أھل العراق لأدعنھن لا یفتقرن إلیٰ أمیرٍ بعدي“․(کتاب الخراج لیحییٰ بن آدم القرشي، باب الرفق بأھل الجزیة،رقم الحدیث:۲۴۰،ص:۷۳، المکتبة العلمیة)

فرمایا:”اللہ( جل شانہ) کی قسم ! اگر میں اہلِ عراق کی بیواوٴں کے لیے (اگلے سال تک) زندہ رہ سکا، تو انہیں ایسا (غنی) کر دوں گا کہ وہ میرے بعد کسی امیر کی اعانت کی محتاج نہیں رہیں گی“۔

اور پھر ان خواہشات کی تکمیل حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے دور ِ خلافت میں ہوئی، جس کی طرف ان کے ایک گورنر یحییٰ بن سعید نے اشارہ کیا ہے، ملاحظہ ہو:

”قال یحییٰ بن سعید: بعثني عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ إلی صدقات إفریقیة، فاقتضیتھا وطلبت فقراء، نعطیھا لھم، فلم نجد بھا فقیراً ،ولم نجد من یأخذھا مني، قد أغنیٰ عمر بن عبد العزیز الناس، فاشتریت بھا رقاباً فأعتقتھم، وولائھم للمسلمین“․ (سیرة عمر بن عبد العزیز لابن عبد الحکیم :۱/۶۵)

یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ” مجھے امیر المو منین عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے افریقہ میں صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا ، میں نے صدقات وصول کئے اور ایسے لوگوں کی تلاش کی جنہیں صدقات دے سکوں ، مگر ایسا شخص نہ ملا جو صدقہ قبول کرے،حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اہل عراق کو (اتنا )غنی کردیا تھا (کہ انہیں صدقہ قبول کرنے کی حاجت ہی نہیں رہی تھی) بالآخر میں نے اس صدقہ سے غلاموں کو خرید کے آزاد کیا“۔ 

یہ انتہا ہے اسلام کے نظامِ کفالتِ عامہ کی ، اس حقیقت سے نظریں چُرا کر مغرب کے قائم کردہ نظاموں کو قائم کرنا ، ان کو رواج دینا بالخصوص ”نظامِ انشورنس“کو اسلام کے اس کامل نظام کے مقابل کھڑا کرنا ظلم نہیں تو اورکیا ہے؟ انسان کا بنایا ہو ا نظام شاید قانون ساز کی تجوری کو توبھرسکتا ہو لیکن ہر ہر انسان کے لیے وہ مفید و معاون ہو ، ایسا ہونا محال ہے، اس عالمی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قانونِ الہٰی ہی کارگر ثابت ہو سکتا ہے، کوئی اور نہیں۔





No comments:

Post a Comment