Wednesday 6 April 2016

صبر کا مفہوم اور اس کی اہمیت



صبر یہ نہیں کہ آدمی علاج کرنا، حلال کمانا، حق کیلئے وجدوجہد کرنا چھوڑدے اور باوجود اختیار وقدرت کے ظلم ہونے دے۔۔۔بلکہ۔۔۔صبر تو یہ ہے کہ چاہے کتنی مصیبتں و ملامتیں پہنچیں حق بات پھیلانا اور دین پر قائم رہنا نہ چھوڑے۔


ایمانی زندگی اور صبر و ثبات:
﴿یا ایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰة ان الله مع الصابرین، ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل الله اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون، ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرین، الذین اذا اصابتھم مصیبة قالوا انا لله وانا الیہ راجعون، اولئک علیھم صلوات من ربھم ورحمة واولئک ھم المھتدون﴾․ ( البقرة: آیت:157-152)

”اے ایمان والو! مدد لو صبر سے او رنماز سے۔ بے شک الله صبر والوں کے ساتھ ہے اور ( دیکھو!) نہ کہو ان کو جو راہ خدا میں قتل کیے جائیں مُردہ۔ نہیں ، وہ زندہ ہیں ۔ پرتم اس کی حقیقت کو جانتے نہیں اور ( دیکھو!) ہم آزما کے رہیں گے تم کو کسی قدر خوف وخطر او ربھوک سے او رمال وجان اور پیداوار کے نقصانات سے ۔ اور خوش خبری دو ( اے نبی!) ان کو جو صبر کرکے دکھائیں، ( یعنی) وہ کہ جب بھی پہنچے ان کو، کوئی مصیبت ( اور نقصان) تو کہیں کہ ہم تو ( مع جان ومال) الله ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ جانے والے (ہی) ہیں۔ (خوش خبری دوان کو کہ) یہ وہ لوگ ہیں جن پر عنایتیں ہوں گی ان کے رب کی او ررحمت ۔ اور یہی ہیں کہ جو راہ یاب ہیں۔“

اس سے اوپر کی آیتوں کے سلسلے میں جہاں قبلے کی تبدیلی کی بات آئی تھی ۔ وہاں یہ بھی ذکر آگیا تھا کہ تبدیلیٴ قبلہ کے ایک ماہ یا زیادہ سے زیادہ دو ماہ بعد کفر او رایمان کا وہ معرکہ پیش آیا تھا جو غزوہ بدر کے نام سے اسلامی تاریخ میں یاد گار ہے ۔ آج کی یہ آیتیں جن میں قتال فی سبیل الله اور شہادت کی بات آئی ہے اور صبر وثبات سے کام لینے کی تلقین اور اس کے فضائل کا بیان ہوا ہے ، ان آیتوں کے بارے میں ایک روایت آتی ہے ، جسے تفسیر روح المعانی میں حضرت ابن عباس کے حوالے سے درج کیا گیا ہے ، کہ یہ آیتیں اسی معرکے او راس کے شہداء کے تعلق سے نازل ہوئیں۔ آیتوں کے مضمون سے یہ بات قرین قیاس بھی ہے ۔ معرکہ بدر ہی وہ پہلا موقع تھا جہاں سے کفر واسلام کے درمیان باقاعدہ صف آرائی او رجنگ وقتال کا آغاز ہوا او راب اس کا سلسلہ سالہا سال تک دراز ہونا تھا۔ نہیں، بلکہ قیامت تک پتہ نہیں کتنے معرکے تقدیر کے پردے میں تھے۔ اس لیے ضرورت تھی کہ اس نئے دور کے آغاز پر اس کی مناسبت سے ہدایت نازل فرمائی جائے ۔ پس فرمایا کہ اے ایمان والو! تمہیں اس موقع پر جو چیز سب سے زیادہ کام دینے والی ہے وہ ہے صبر او راس کے ساتھ پھر نماز ۔ یہ دو چیزیں ہیں ان سے تم مدد حاصل کرو تو تمہاری کمر بڑی مضبوط ہو گی۔




صبر کا مفہوم اور اس کی اہمیت
صبر کے معنی ثابت قدمی ، مضبوطی ، برداشت اور مخالف وناخوش گوار حالات میں جمے رہنے کے ہیں اور یہ چیز آدمی کی قوت ارادی اور (Will Power) پر موقوف ہے ۔ بلکہ کہیے کہ ول پاور ( قوت ارادی) سے کام لینے ہی کا نام صبر وثبات ہے اور اس طرح صبر وثبات کو آدمی کا اولین ہتھیار قرار دے کر الله تبارک وتعالیٰ نے انسانی زندگی میں قوت ارادی کی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت فرما دی ہے ۔ قرآن پاک کی رو سے اس کائنات میں سب سے بڑی کار فرما قوت ارادہ الہٰی ہے اوراس کے بعد او راس کے نیچے ارادے کی وہ قوت اور طاقت ہے جو الله تبارک وتعالی نے انسان کو بخشی ہے ۔ ایک طرف وہ حقیقی معجزے ہیں جو الله تبارک وتعالیٰ کے ارادے اور حکم سے پیغمبروں کے ہاتھوں پر رونما ہوتے رہے ہیں او ردوسری طرف یہ انسانی ارادوں ہی کے ”معجزے“ ہیں جو بعض انسانوں کے محیر العقول (Astonishing) کارناموں کی شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ ارادے ہی کی قوت سے دراصل آدمی آدمی ہے ۔ ورنہ فقط ایک بُلبُلا ہے، پانی کا۔

قرآن پاک میں صبر کا مادہ (Root) مختلف صرفی (Derivative) شکلوں میں غالباً ایک سو ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔ ان میں سے صرف نو یا دس جگہیں ایسی ہیں جہاں اس کا مفہوم کچھ ایسا ہے جیسے مفہوم میں یہ لفظ ہماری زبان او رہمارے محاورے میں استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی کسی زیادتی کے مقابلے میں بالارادہ یا بہ مجبوری خاموش رہ جانا، اسے سہہ جانا، یا ہر مرض اور قدرتی آفات ومصائب پر جزع فزع نہ کرنا، الله کی مرضی پر راضی رہنا ، باقی تمام مقامات پر کسی نہ کسی شکل میں اس کا مفہوم وہی ہے، مشکلات ، ناموافق حالات اورمخالف طاقتوں نیز نفسانی کمزوریوں کے مقابلے میں مضبوطی او رپامردی سے کام لینا۔ اور اس کے بارے میں ایک جگہ تو قرآن پاک میں ہمیں صاف لفظو ں میں لکھ کر دے دیا ہے کہ یہ صبر ہی وہ عامل ( Factor) ہے جو جنگ کے میدان میں ”باذن الله“ فتح کی راہ کھولتا ہے ﴿فان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا ماتین﴾۔ (الانفال:65) (پس اگر تم میں بیس صبر کی صفت والے ہوں تو وہ غالب ہوں الله کے حکم سے دو سو پر) اور ایک جگہ تو اس لفظ کے استعمال کی ایسی بھی آئی ہے کہ وہاں اگر پامردی اور مضبوطی سے بھی آگے بڑھ کر دلیری اور جیوٹ کا لفظ استعمال نہ کریں تو موقع کا حق نہیں ادا ہوتا۔ دوزخ میں لے جانے والے کاموں پر دلیر لوگوں کا ذکرکرتے ہوئے بانداز تعجب فرمایا گیا ہے ۔ ﴿فما اصبرھم علی النار﴾ (البقرہ:175) (کیسے دلیر ہیں یہ لوگ آگ پر کیسی جیوٹ ان لوگوں میں رکھی ہوئی ہے آگ کی برادشت پر !) اپنے اندر کی (یعنی نفسانی) کمزوریوں کے مقابلے میں ارادے کی مضبوطی سے کام لینے کے لیے لفظ صبر کا استعمال مثال کے طور پر سورة البقرہ ہی کی اس آیت میں ہوا ہے جہاں بنی اسرائیل کو تلقین فرمائی جاری ہے کہ نفسانی خواہشات کے دباؤ سے نکل کر اسلام قبول کریں۔ فرمایا گیا ہے: ﴿واستعینوا بالصبر والصلوة وانھا لکبیرة الا علی الخاشعین﴾․(البقرہ:45)

”اور مدد لو صبر سے او رنماز سے۔ اور بے شک یہ بہت بھاری ہے، مگر ان پر جو خوف ( آخرت) رکھنے والے ہیں۔“

یہ بات کہ یہاں صبر سے مراد نفسانی خواہشات کے مقابلے میں ارادے کی قوت اور مضبوطی سے کام لینا ہے ۔ سورہ مریم کی آیت کے ذریعہ گویا منصوص (Manifest) ہو جاتا ہے ۔ فرمایا گیا ہے ﴿فخلف من بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰة واتبعوا الشھوات﴾․ ( مریم:59)

”پھر ان کے بعد وہ نسل آئی جس نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشوں کی پیروی کی۔“

اس کار زار حیات میں صبر کی صفت بڑی فیصلہ کن قوت ہے او راس میں کافر ومومن کی کوئی تفریق نہیں ۔ البتہ مومن کو چوں کہ الله سے وہ رشتہ نصیب ہوتا ہے جو اس کے یہاں معتبر ہے اس لیے جب انسان اپنی قوت صبر کے استعمال کے ساتھ الله کی طرف بھی مدد کے لیے دیکھتا اور طلب گار ہوتا ہے تو پھر مومن کے صبر کی طاقت اس ” بیرونی “ امداد کے شامل ہو جانے سے اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ : ﴿کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن الله﴾

کتنی ہی چھوٹی جماعتیں رہی ہیں جو غالب آگئیں بڑی جماعتوں پر، الله کے حکم سے ۔“

کامنظر سامنے آتا ہے ۔ او رآگے یہی آیت بتارہی ہے کہ ” الله کا یہ حکم“ صبر کے ساتھ مشروط ہے ۔

﴿والله مع الصابرین﴾․ ( البقرة:249)․ ” اور الله ساتھ ہے صبر وثبات والوں کے۔“ یعنی اصل کھیل صبر ہی کا ہے ۔ بس ضرورت اس کی ہے کہ مومن اس طاقت سے کام لینے میں بھی اپنے آپ کو الله کی مدد کا محتاج سمجھے اور جب اس کے استعمال کی ضرورت کا موقع آئے تو قرآن ہی کے سکھائے ہوئے الفاظ میں الله سے یوں طلب گار ہو۔ ﴿ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین﴾․(250)

”اے ہمارے رب! انڈیل دے ہم پر صبر اور جمادے ہمارے پاؤں اور غلبہ نصیب کر ہمیں اہل کفر پر۔“

اور اس طلب کی بہترین شکل نماز کے ذریعے الله کا در کھٹکھٹانا ہے۔ بس اس لیے ہدایت فرمائی گئی:﴿ واستعینوا بالصبر والصلوٰة﴾․ او رمدد لو صبر سے اور نماز سے۔“ اور یقین دلایا گیا کہ ﴿ان الله مع الصابرین﴾․

آگے فرمایا گیا: ﴿ولا تقولوا لمن یقتل…﴾( اور راہ خدا میں کام آجانے والوں کو مردہ نہ کہو ۔ بلکہ وہ زندہ ہیں ۔ البتہ تمہیں اس حقیقت کا شعور نہیں۔) اس سے پہلی آیت میں ثابت قدمی دکھانے کی بات تھی ۔ لیکن جب یہ ثابت قدمی میدان جنگ میں ہو تو جان لیوا بھی ہو سکتی ہے ۔ پس اب بات اس مرحلے کی شروع ہوتی ہے کہ اگر الله کی راہ میں ثابت قدمی اور جواں مردی موت کی منزل سے گزار دے تو یہ موت ”موت“ کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کو مردہ او رمیت (جمع اموات) مت کہو۔ کیوں کہ انہوں نے ظاہر کی موت کے اس پردے میں ایک بڑی شان دار زندگی پالی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ زندگی تمہارے ادراک (Perception) کے دائرے سے باہر کی چیز ہے۔ تم اپنے کسی حاسے ( Sense) سے اس کا پتہ پا نہیں سکتے۔

اس زندگی کی خصوصیت
اسلامی عقیدے کے رو سے ہر موت کے بعدایک دوسری زندگی شروع ہو جاتی ہے ۔ جسے برزخی زندگی کہا جاتا ہے ، یہ موت سے قیامت تک کے دور کی ایک کیفیت ہے ۔ لیکن وہ عام کیفیت ایسی نہیں ہوتی کہ اسے واقعی ”زندگی“ کہا جاسکے۔ یہ شہدائے کرام کا اعزاز ہے کہ انہیں اس دور میں بھی زندگی کے بعض خاص آثار وعلامات والی ”زندگی“ نصیب ہوتی ہے ۔ چنا ں چہ قرآن پاک میں دوسری جگہ جہاں شہداء کی زندگی کا مضمون آتا ہے۔ وہاں ﴿بل احیاء﴾ ( نہیں ، بلکہ وہ زندہ ہیں ) کے ساتھ عندربھم یرزقون﴾ ( اپنے رب کے پاس رزق وروزی پاتے ہیں) کے الفاظ بھی آئے ہیں، جو ان کی برزخی زندگی کا دوسرے لوگوں کی زندگی سے فرق بتاتے ہیں ۔ اور یہ صرف رزق وروزی ہی نہیں اور بھی بہت کچھ وہ اس دور زندگی میں پارہے ہیں۔ اسی موقع پر آگے فرمایا گیا﴿فرحین بما آتاھم الله من فضلہ﴾․(آل عمران:169-170) ( شاداں وفرحاں ہیں ان نعمتوں پر کہ جو وہ الله کے فضل سے پار ہے ہیں) ان قرآنی اشاروں کے علاوہ حدیث میں اچھی خاصی تفصیلات بھی ان نعمتوں اور اعزاز وکرام کی آتی ہیں اور اس سب کی روشنی میں یہ کہنا بالکل حق اور بے مبالغہ نظر آتا ہے کہ راہ خدا کے یہ جاں نثار اپنے مالک کے حضور ایک اعلیٰ تر زندگی سے ہم کنار ہیں۔

بلکہ اس آسمانی معاملے کی صداقت کا تو ایسا عکس اس دنیا پر پڑا ہے کہ اسلام کے وہ نام لیوا بھی بے شمار ملیں گے جنہیں قرآن کی کوئی او ربات یاد ہو یا نہ ہو، یہ ضرور دل کی گہرائیوں سے یاد ہے کہ الله کی راہ میں جان دینے والے مردہ نہیں ہوتے۔

ایمانی زندگی اور آزمائشیں
معلوم ہوتا ہے یہ اوپر کی آیتیں تمہید تھیں آگے آنے والی آیتوں کی، جن میں فرمایا گیا اور آگاہی دی گئی کہ ایمان ہے تو اس کے ساتھ آزمائشیں لگی رہیں گی۔ (خاص طور سے اس کے ابتدائی دور میں فرمایا گیا :﴿ولنبلونکم بشیءٍ من الخوف والجوع﴾… (اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کسی قدر بھوک، پیاس، خوف وخطر او رنقصان جان ومال سے ۔) پس ان میں جو ثابت قدم رہیں گے وہ اپنے انجام کے لیے بشارت او رخوش خبری کے حق دار ہیں ۔ ﴿فبشر الصابرین﴾․

بشارت کس بات کی ؟
وہ کیا چیز ہے جو ان نقصانات او رمصیبتوں پر صبر اور ثابت قدمی کے بدلے میں یہ لوگ پائیں گے ؟ ﴿صلوات من ربھم ورحمة﴾ (اپنے رب کی عنایتیں او ررحمت اس کے صلے میں ملے گی ﴿اولئک ھم المھتدون﴾( اوران کانام ہدایت پا جانے والوں میں درج ہو گا) اور یہی وہ چیز ہے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں انسان کی سب سے بڑی سعادت اورکام یابی ہے۔ مگر ابھی بات مکمل نہیں ہوئی ۔صبر واستقامت اور ثابت قدمی، جس پر الله کی رحمت وعنایت کا یہ صلہ مرتب ہو گا وہ جب ہو گا جب اس کی روح یہ ہو کہ : ﴿اذا اصابتھم مصیبة قالوا انا لله وانا الیہ راجعون﴾ کہ جب بھی ان پر ان آزمائشی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت پڑتی ہے تو ان کے دل وزبان سے نکلتا ہے کہ ہم تو الله ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ جانا بھی ہے۔

یعنی صرف صبر واستقامت کا خول نہ ہو، اس کے اندر للہیت اوربندگی کی روح ہونی چاہیے، ورنہ کتنا بھی مضبوط خول ہو۔ کیسی ہی بہادری اور جواں مردی آدمی دکھائے۔ اس کے حصے میں ہدایت یابی کی کیفیت نہیں آئے گی اور الله کی نظر عنایت ورحمت ا س کا نصیب نہیں ۔ ایک غزوہ نبوی صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ ”بڑا زبردست رن پڑا او ربالاخر اہل اسلام اور اہل کفر دونوں اپنے اپنے پڑاؤ کی طرف پلٹے۔ مگر مسلم صف کا ایک آدمی پلٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ کفار کے منتشر افراد کا پیچھا کرنے میں سر گرم تھا۔ لوگوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا، حضور! آج فلاں نے جو جان بازی دکھائی اس کا جواب نہیں۔ آپ نے اس کا نام سن کر فرمایا ”انہ من اھل النار“ مگر وہ دوزخی ہے۔ صحابہ چونک پڑے او رعرض گزار ہوئے کہ حضرت! اگر یہ آدمی دوزخی ہے تو پھرجتنی ہم میں سے کون ہو سکے گا؟ ایک صحابی نے خاموشی سے فیصلہ کیا کہ میں پلٹ کر جاؤں او راس آدمی کا پیچھا کرو۔ شاید کوئی ایسی بات سامنے آجائے جس سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد کا راز کھلے! یہ پیچھے لگ گئے اور پھر پلٹ کر آئے کہ یا رسول الله! میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ الله کے رسول ہیں۔ میں اس شخص کے پیچھے لگا۔ اس کی جرأت کے کارنامے دیکھتا رہا۔حتی کہ وہ زخمی ہوا تو پھر اس کی ساری جرات جواب دے گئی۔ اس نے زخم کی تکلیف سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی تلوار کی نوک اپنے سینے میں اتار لی “۔ ( صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہٴ خیبر) یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ، حدیث شریف کے مطابق ، الله کی رضا اورجنت کی طلب میں نہیں، بلکہ قومی اور جماعتی غیرت کے جذبے سے یامحض نام وری کے شوق میں جاں بازی دکھاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے آں حضرت صلی الله وسلم کا ارشاد ہے، جو اس واقعے کے بارے میں بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ ( جنت میں تو صرف مومن ومسلم ہی جائے گا، مگر)”ان الله لیؤید الدین بالرجل الفاجر․“ ( کتاب الجھاد)

”الله تعالیٰ اپنے دین کی خدمت فاجروں اور نافرمانوں سے بھی لیتا ہے۔“

پس یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ الله نے جس طرح دنیا کی کام یابیوں کا عام قانون عقل کے ساتھ صبر، محنت او راستقامت کو بنایا ہے، بالکل یہی بات دین کی بھی ہے۔ اس لیے کہ یہ دین فطرت ہے ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو 23 برس مکے کی آزمائشوں او رمدینے کی جاں بازیوں میں ہر گز نہ گزارنے پڑتے۔ دین ودنیا کے مسئلے کا فرق صرف یہ ہے کہ دین میں کام یابی کی راہ جب کھلتی ہے جب صبر ومحنت کا نشانہ صرف الله کی رضا او رجنت کی طلب ہو۔ اسی سے ﴿صلوات من ربھم ورحمة﴾ کی منزل ہاتھ آتی ہے او راسی سے ہم ﴿ھم المھتدون﴾ کا مقام ملتا ہے۔ اور اسی کا نام دین میں کام یابی ہے۔

﴿اللھم اجعلنا من المھتدین والصابرین والشاکرین، والحمد لله رب العالمین﴾․



صبر ہی ہمارا درماں ہے
اللہ رب العزت نے فطرتِ انسانی میں بہت سی چیزیں ودیعت کی ہیں ،جن کو انسان محسوس وغیر محسوس طور پر استعمال کرتا ہے اور انہیں کے ذریعہ پروان چڑھتا ہے اور اپنی منزل کی طرف گام زن رہتا ہے ۔انسان فطرةً یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی سکون اور چین سے گزرے اور وہ ہمہ تن راحت و آرام میں رہے ،اس کے لیے وہ محنت کرتا ہے ،کوشش کرتا ہے ،مجاہدہ کرتا ہے اور ریاضت اور عبادت کرتا ہے ۔انسان ہر وقت اسی جستجو میں رہتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی خوش وخرم رہے اور آخرت میں بھی خطرات سے پاک رہے ۔انسان اپنی دھن میں مگن رہتا ہے ،مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے جو نافذ ہو کر رہتا ہے۔اللہ کا امر کبھی ٹلتا نہیں ہے ، نہ اس کی سنت کبھی بدلتی ہے ۔اسی وجہ سے مختلف اوقات میں انسان پر کوئی غم ،کوئی حادثہ ،کوئی پریشانی ،کوئی رنج،کوئی الم اور کوئی غیر ضروری ،غیر مناسب اور غیر متوقع امر پیش آجاتا ہے۔ یہ ناقابل برداشت واقعات کبھی رفع درجات ،کبھی بدیوں کو نیکوں میں بدلنے ،کبھی آزمائش اور کبھی عذاب کے لیے رونما ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں ،مسلمانوں اور نیکوکاروں کو ایسے موقع کے لیے ایک عظیم تحفہ ”صبر“عطا کیا ہے ۔صبر کرنے سے دنیا میں راحت اور آخرت میں نعمت سے نوازا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے بے شمار انعامات کا وعدہ کیا ہے اور اس کا اجر بے حساب بتایا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والے کو کرم ،سلامتی اور رحمت کی خوش خبری دی ہے ،فرمایا یہی لوگ فضل والے اور ہدایت یافتہ ہیں اور ا ن کو بڑھا چڑھا کر بدلہ دیا جائے گا ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں :


آزمائش اور صبر
﴿ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْء ٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ،الَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْہُم مُّصِیْبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَیْْہِ رَاجِعونَ، أُولَئِکَ عَلَیْْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُون﴾․(سورہ بقرہ:157-155)

اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے او ربھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے اور خوش خبری دے ان صبر کرنے والوں کو کہ جب پہنچے ان کو کوئی مصیبت تو کہیں ہم تو الله ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر 

ربطِ آیات:گزشتہ آیات میں صبر کے بڑے بڑے مواقع یعنی جہاد وقتال کا تذکرہ تھا اور اب صبر کے چھوٹے اور عمومی مواقع کا تذکرہ کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ کے ہاں جس طرح اعلیٰ درجہ کے صبر کی قدر ہے، اسی طرح ادنی مواقع میں بھی صبر کی قدر کی جاتی ہے۔

تفسیر : ہر مؤمن کو تکالیف دے کر آزمایا جائے گا
اس آیت میں صیغہ تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ہم تمہیں ضروربالضرور آزمائیں گے۔ لہٰذا ہر مسلمان، چاہے نیک اور صالح ہو یا بد اورفاجر، اس آزمائش سے نہیں بچ سکتا۔ اس آزمائش کا مقصد کسی کی نیکی اوربدی جاننا نہیں، کیوں کہ وہ تو الله تعالیٰ کو معلوم ہے، بلکہ اس کا مقصد اہل ایمان میں شکر گزار بندوں کا مرتبہ اورمقام لوگوں میں ظاہر کرنا اور ناشکر گزاروں کی حیرانگی ودرماندگی کو عیاں کرنا ہوتا ہے ،چناں چہ یہ آزمائش صبر کرنے والوں کے لیے رفع درجات اور قرب الہی کا ذریعہ بنتی ہے اور بے صبروں کے لیے تکلیف اور الله تعالیٰ سے مزید دوری کا ذریعہ بنتی ہے، جو تکلیف الله کے قریب کر دے وہ رحمت ہے، جو الله سے دور کردے وہ زحمت ہے ۔آیت کریمہ میں جن خاص چیزوں کو بیان کرکے بتایا گیا کہ ان کے ذریعے آزمائش ہو گی ان کے ساتھ ”بشییء“کا لفظ مذکورہے ، یعنی ان چیزوں میں سے بھی تھوڑے سے حصے کی آزمائش ہو گی۔ (تفسیر بیضاوی، البقرہ: ذیل آیت:155) ان میں پہلی چیز”خوف“ ہے ۔ خوف کا لفظ جامع ہے، جان، مال، عزت ، اولاد، ہر چیز کے متعلق اندیشہ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔”الجوع“ بھوک کا امتحان ،ضرورت کے باوجود حرام مال سے بچنے، اسباب رزق میں حرام وسائل سے بچنے، قحط اور تنگی کی ساری صورتیں اس میں آگئی۔

﴿وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ…﴾ مالی نقصان خواہ تکوینی ہوں، جیسے چوری ہو جانا، آگ لگ جانا وغیرہ یا غیر شرعی معاملات سے دست بردار ہونے کی صورت میں ہو۔” وَالأنفُسِ“ جانوں کی کمی ،جوقریبی اعزہ کی موت ، بیماری یا جہاد میں شہادت کی شکل میں ظاہر ہو۔”وَالثَّمَرَات“ پھلوں میں کمی، اس سے اولاد کی کمی بھی مراد ہو سکتی ہے، نیز پھلوں، زراعت وتجارت میں کمی کی تمام صورتیں اس میں آگئیں۔

آیت میں چھوٹی اور بڑی پریشانیوں پر صبر کرنے کا صلہ یکساں جو بتلایا گیا وہ محض صبر کی جزا ہے، کیوں کہ نفس صبر میں سب کے سب مشترک ہیں۔لیکن چوں کہ ہر صابر کے صبر کی مقدار، کیفیت، شان اور خصوصیت جدا جدا ہے، لہٰذا ان خصوصیات کے بدلے میں جو ان سے وعدہ کیا گیا ہے ان پر وہ عنایتیں بھی جدا جدا ہوں گی۔

مصیبت کے وقت کلمہ استر جاع کی فضیلت
چھوٹی، بڑی، جانی،مالی، پریشانی کے موقع پر کلمہ استر جاع ”إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَیْْہِ رَاجِعونَ“ کے پڑھنے کی فضیلت اور ثواب کا تذکرہ بہ کثرت احادیث میں آیا ہے ، حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں، میں نے حضور علیہ الصلاة والسلام سے سنا: جب کسی بندے کو تکلیف پہنچے اور وہ یہ کہے ”إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَیْْہِ رَاجِعونَ، اللَّھمَّ اجِرْنِیْ فِی مصیَبِتیْ وَاخْلف لِیْ خَیْرْاً مِنّْھا“ تو الله تعالیٰ اسے مصیبت کا اجر اور اس کا نعم البدل عطا فرماتے ہیں۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث:918) حضرت سعید بن جبیر فرماتے تھے، اس امت کو مصیبت کے موقع پر جو کلمہ استر جاع دیا گیا ہے، اس سے پہلے کسی امت کو یہ نہیں ملا ۔( زاد المسیر، البقرة ذیل آیت:156)


اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَن یَہْدِ اللّہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِیْ﴾․ (الأعراف:178)
ترجمہ:”ہدایت یافتہ وہی ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے گا“۔

یعنی ہدایت پر وہی ہوگا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا ارادہ کیا ہے، لہٰذا صبر کی تو فیق بھی اسی کو ملے گی جس کو اللہ تعالیٰ صبر دے گا۔

صبر اچھی چیز ،عمدہ عمل اور مضبوط رسی ہے، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاتی ہے اور صبر اخلاص اور یقین کی علامت ہے ۔صبر ایک ایسی عبادت ہے جس کا انجام سعادت ہے اور اس کا اجر بے حساب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ أَجْرَہُم بِغَیْْرِ حِسَابٍ﴾․ (الزمر:15)
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ صابرین کو بغیر حساب کے اجر دے گا“۔

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:﴿وتمت کلمة ربک الحسنی علیٰ بنی اسرائیل بما صبروا﴾․ (الاعراف )
ترجمہ:”بنی اسرائیل کے صبر کرنے کی وجہ سے تمہارے رب نے اپنی اچھی بات کو پورا کردیا“۔

وہ اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مقتدا اور پیش وابنا دیااور فرمایا:﴿وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ أَئِمَّةً یَہْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾․ (السجدة:24)
ترجمہ:”اور ہم نے ان کے صبر کرنے کی وجہ سے ان کو مقتدیٰ بنادیا اور وہ ہمارے حکم سے لوگوں کی راہ نمائی کرتے تھے“۔

جب مشرکین مکہ نے تکالیف اور اذیتوں کی انتہا کردی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین کی اور بتا دیا کہ صبر بلند ہمت لوگوں کا کام ہے:﴿َلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَذًی کَثِیْراً وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَزْمِ الأُمُور﴾․ (آل عمرآن:186)
ترجمہ :”یقینا اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے آپ کوبہت زیادہ تکلیف پہنچے گی،پس اگر آپ نے صبر کیا اور تقوی اختیار کیا تو یہ بلند ہمتی والے کاموں سے ہے“۔

ایک اور جگہ فرمایا: ﴿فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُل﴾․(احقاف :35)
ترجمہ:پس اولو العزم رسولوں کی طرح صبر کرو“۔

اللہ تعالیٰ نے صابر ین کی ہمت بڑھاتے ہوئے ان کی معیت کا اعلان کیا اور فرماتے ہیں: ﴿وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْن﴾․ (انفال:46)

صبر حقیقت میں تمام خصوصیات کی لگام اور تمام فضائل کا مرجع ہے۔اسی کے ذریعہ بندہ دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ اور عالی مقام پاسکتا ہے۔اسی کے نام سے موسوم کر کے جنت میں جنتیوں کو پکارا جائے گا اور کہا جائے گا کہ :”تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے تم پر سلام ہو اور تمہارا ٹھکانا کیا ہی اچھا ہے“۔اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی کر کے فرمایا:”اے داؤد!جس نے صبر کیا وہ ہم تک پہنچ گیا“۔حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں:”ہر چیز کا کوئی نہ کوئی پھل اور نتیجہ ضرور ہوتا ہے اور صبر کا پھل اور نتیجہ کام یابی ہے“۔سخت سے سخت مصیبت اور تکلیف میں صبر اور نرمی کرنا سعادت اور اچھے اخلاق کی علامت اور نشانی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عجیب و غریب انداز میں آزمایا اور آپ علیہ السلام نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ چناں چہ اللہ نے ان کو ستاروں کے ذریعہ آزمایا۔ انہوں نے صبر کیا،چاند کے ذریعہ آزمایا، انہوں نے صبر کیا،سورج کے ذریعہ آزمایا، انہوں نے صبر کیا اور بیٹے کو ذبح کروا کر آزمایا، انہوں نے پھر بھی صبر کیا۔

اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ صبر کی فضیلت بیان فرمائی کہ: ﴿اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْن﴾ (البقرہ:153)
ترجمہ”صبر اور نما ز کے ذریعہ مدد طلب کرو ،بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم مدد چاہتے ہو تو صبر کرو اور نماز پڑھو اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ ہے۔اس آیت سے نماز کی فضیلت کو کم کرنا مقصود نہیں ہے، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ نماز کی فضیلت تو اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے ، تاہم صبر کی فضیلت بھی کوئی کم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ خود صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جس کو اللہ کی معیت مل گئی تو اس کو نجات اور کام یابی کے لیے اور کس پر وانہ کی ضرورت ہے ؟

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ انصار کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ :”میرے پاس کوئی مال و دولت نہیں ہے ،نہ ہی میں نے تم سے کچھ چھپا کر رکھا ہے ۔جو عفت طلب کرنا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے عفت طلب کرے ،جو مدد طلب کرنا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے اور جو شخص صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق عطا فرماتا ہے اور کسی کو بھی صبر کے علاوہ کوئی خیر کی چیز نہیں دی گئی“۔ (رواہ مسلم کتاب الجنائز ،رقم الحدیث:2424، ص423،ط:دارالسلام )

حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کچھ مال تقسیم کیا ۔اس پر ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا ۔میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ پر یہ بات ناگوار گزری ،آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ تبدیل ہوگیا اور غصہ کا اظہار کیا ۔ یہاں تک کہ میں نے سوچا کہ مجھے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتانی چاہیے تھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”موسیٰ علیہ السلام کو تو مجھ سے زیادہ اذیت دی گئی “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کیا۔

ایک دفعہ ایک عورت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا ۔وہ عورت قبر پر رو رہی تھی ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ”اللہ سے ڈرو اور صبر کرو“۔اس عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ آپ کو ہر طرح کی مصیبت نہیں پہنچی ہے ۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو اس عورت کو بتایا گیا کہ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عذر پیش کیا کہ مجھ آپ کے بارے میں معلوم نہیں تھا اور کہنے لگی کہ میں صبر کروں گی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انما الصبر عند الصدمة الأولیٰ․“(رواہ مسلم :ص732، کتاب الجنائز)
ترجمہ: یعنی صبر پہلے صدمہ پر ہی ہوتا ہے“۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایمان کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الصبر والسماحة“یعنی :صبر اور نرمی کرنا ۔ (ادب الدنیا والدین : ص294)،حضرت علی  فرماتے ہیں :”صبر ایک سواری ہے، جو کبھی جھکتی نہیں اور قناعت ایک تلوار ہے، جو کبھی ٹو ٹتی نہیں “،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”صبر مصیبت کو چھپا تا اور اور سختیوں میں مدد دیتا ہے“۔ (ادب الدنیا ء الدین :ص 294)ایک اور جگہ فرمایا” صبر ایک روشنی ہے اور اس کے ذریعہ کام یابی متوقع ہے ۔“(ادب الدنیا الدین ص294)۔حضرت اکثم بن صفی فرماتے ہیں :”جس نے صبر کیا وہ کام یاب ہوگیا“۔ابن عباس  کا قول ہے کہ سب سے افضل عبادت سختی اور تنگی میں صبر کرنا ہے ۔

حضرت علی بن ابو طالب  فرماتے ہیں کہ :ایمان میں صبر کا مقام اسی طرح ہے جس طرح بدن میں سر کا مقام ہے “۔حضرت جنید بغدادی  سے پوچھا گیا کہ صبر کسے کہتے ہیں ؟جواب دیاکہ :بغیر کسی ناگواری کے ایک کڑوا گھونٹ پی جانا۔کہا جا تا ہے کہ ایک دفعہ حبیب بن ابو الحبیب نے قرآن کی یہ آیت تلاوت کی :﴿إنا وجدناہ صابراً نعم العبد إنہ وأب﴾(صٓ:30) ”ہم نے (ایوب )کو صابر پایا ،وہ اچھا بندہ ہے اور رجوع کرنے والا ہے“۔کہنے لگے :کیوں نہیں !!پھر فرمایا:واہ، تعجب ہے! کیا ہی دیا گیا اور کیا ہی تعریف کی گئی ہے “۔ حضرت عمر بن عبدا لعزیز  نے قاسم بن محمد  سے کہا کہ ”مجھے کوئی وصیت کریں“۔انہوں نے کہا :”تم پر لازم ہے کہ تم صبر کے مقام پر صبر کرو“۔حضرت عمر فرماتے ہیں ۔ ”اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو کر رہے گا ،اگر تم نے صبر کیا تو تم ثواب کے مستحق ہوگے، اگر تم نے بے صبری سے کام لیا تو اللہ کا فیصلہ توہو کر رہے گا، مگر تم گناہ کے مستحق ہو گے “۔جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی بات سنی تو انہوں نے صبر کیا ۔اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے سچے صبر اور مدد طلب کرنے پر ان کو اس کا بدلہ دیا کہ ایک خوش خبری دینے والا قمیض لے کر آیا اور ان کے چہرہ پر ڈال دی تو ان کی بینائی لوٹ آئی اور اللہ تعالیٰ نے اتحاد اتفاق کے ساتھ ان کے بیٹوں کو جمع کردیا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کو صبر کا بدلہ یہ دیا گیا کہ ان کی تکالیف دور کردی گئیں اور ان کو پہلے کی مثل اولاد بھی لوٹا دی گئی، بلکہ اس کے ساتھ رحمت اور فضل بھی عطا کیا گیا۔

”جب ایوب علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ اے اللہ !مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو بہت رحم کرنے والا ہے، میری دعا قبول فرما ،پس ہم نے تکلیف دور کردی اور اس کو اولاد لوٹا دی اور اس کے ساتھ ساتھ رحمت بھی عطا فرمائی،یاد کرو میرے بندہ کو یہ ان کو دنیا میں دیا گیا ہے اورآخرت میں ان کے لیے بڑے درجات ہیں“۔

بے صبری صبر سے مشکل ہے، اس لیے کہ بے صبری میں تھکن بھی ہے اور گناہ بھی ہوتا ہے اور صبر میں راحت و آرام ہے اور ثواب بھی۔ صبر کے مقام پر صبر ہی بہتر چیز ہے ،کیوں کہ بے صبر ی سے مصیبت اور بڑھ جاتی ہے۔ جو صبر کرتا ہے نجات پالیتا ہے ،جو صبر نہیں کرتا وہ خلاصی کا راستہ نہیں پاتا۔ بعض مشائخ فرماتے ہیں صبر میں رحمت کا جلد طلب کرنا ،خوشی کا انتظار کرنا ،اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا اور بغیر حساب کے اجر حاصل کرنا ہے ،جب کہ بے صبری اور جزع فزع میں غم کو لانا ،بدن کو ہلاک کرنا،ناکامی اور نامرادی کو جلد طلب کرنا،اللہ تعالیٰ پر برا گمان کرنا ،گناہوں کو اٹھانا اور عاقبت کا انتظار کرنا ہے ،کیا ہی اچھا ہے کہ عقل والے اس سے اجتناب کرتے ہیں “۔

حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر کوئی انعام کرتا ہے تو اس کو چھین لیتا ہے اور اس کے بدلہ میں صبر عطا کرتا ہے ۔لیکن جب اللہ صبر کرنے کا بدلہ دیتے ہیں تو وہ اس نعمت سے افضل ہوتا ہے جو اس سے چھین لی جاتی ہے اور پھر یہ آیت پڑھی:”اللہ تعالیٰ صابرین کو بغیر حساب کے اجر دیتا ہے “۔جوصبر کرتا ہے وہ خواہش اور آرزوں کو پالیتاہے اور جو شکر کرتاہے وہ نعمتوں کو خاص کردیتا ہے ۔کسی شاعر نے کہا ہے:
        الصبر مفتاح کل خیر
        وکل شربہ یلین
        اصبر وان طالت اللیالی
        فربما سوعد الحزین
        وربما نیل باصطبار
        من قبل ھیھات لایکون
ترجمہ:صبر ہر خیر کی چابی ہے اور ہر شر اس سے نرم ہوجاتا ہے ۔صبر کرو اگر چہ راتیں لمبی ہو جائیں ۔اکثر اوقات غمگین کی مدد بھی کی جاتی ہے اور اکثر اوقات صبر کرنے کے ذریعہ سے اس دوری سے بھی پہلے پالیا جاتا ہے ۔

صبر کا تصور آتے ہی غم ،پریشانی اور حزن کا تصور آجاتا ہے ۔صبر کے نام کے ساتھ ہی کسی حادثہ ،ناقابل برداشت واقعہ اور اذیت کی صورت سامنے آجاتی ہے ۔ مگر ہمارے سکون ،راحت ،چین اور آرام میں صبر کی ضرورت پڑتی ہے، کیوں کہ ہم اپنی زندگی کے مالک ہو کر بھی مالک نہیں ،ہم مختار ہو کر بھی مختار نہیں، ہم قدرت رکھتے ہوئے بھی قادر نہیں ۔ہم اور ہماری زندگی ایک اور ذات کے ارادے کے تابع ہیں اور وہ ذات مطلق ہے ۔ اس کا امر غالب ہے ۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ،ہمارے ساتھ ،ہماری زندگی کے ساتھ ہمارے ظاہر کے ساتھ،ہمارے باطن کے ساتھ،ہماری تنہائی کے ساتھ، ہمارے گردوپیش کے ساتھ، ہمارے والدین کے ساتھ ہماری اولاد کے ساتھ ،ہمارے ہر ہر خیا ل کے ساتھ ۔اور وہ ذات چاہے تو ہمارے مرتبے کو عذاب بنادے ،چاہے تو ہماری غریبی اور غریب الوطنی کو سرفرازیاں عطا کردے ۔وہ ذات یتیموں کو پیغمبر بنادے ،چاہے تو مسکینوں کو مملکت عطا فرمادے ۔اس ذات کا امر اور عمل اٹل ہے ۔اس کے فیصلے آخری ہیں ۔اس کے حکم کے تابع ہیں ۔انسان کی خوشیاں، انسان کے غم ،انسان کی زندگی ،انسان کی موت ،انسان کی محبت ،انسان کا خوف، انسان کے جذبات و احسا سات ۔وہی ذات ہے ،جو انسان کو بار بار حکم فرماتی ہے کہ صبر کرو ،یعنی اپنی زندگی میں میرے حکم سے پیدا ہونے والے حال کو سمجھنے سے پہلے تسلیم کر لو ۔جو سمجھ میں نہ آسکے ،اس پر صبر کرو اور جو سمجھ میں آئے ،اس پر مزید غور کرو ۔صبر کی منزل ایک مشکل منزل ہے۔فقر میں ایک بلند مقام ہے صبر کا “۔ (دل ،دریا،سمند ر از واصف علی واصف ص 346)

صبر بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ،ان میں سے ایک یعنی ہوائے نفس کے مقابلہ میں اللہ کے حکم پر مستقل اور ثابت قدم رہنا ہے۔ انسان جب ہوش سنبھالتا ہے تو اس پر دو مخالف لشکر مسلط اور حملہ آور ہوتے ہیں ۔ہر لشکر اس کوشش میں ہوتا ہے کہ انسان پر اس کا رنگ غالب آجائے۔ ایک لشکر خدائی ہوتا ہے،اس کے شاہ سوار فرشتے اور عقل و شریعت ہیں ،ان کی کوشش اور جدوجہد یہ ہو تی ہے کہ انسان ہدایت پر رہے ،دین اسلام اور شریعت محمد یہ پر ثابت قدم رہے۔دوسرا لشکر شیطان اور اس کے متبعین کا ہے، جن کی محنت کا دائرہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خواہشات کا پجاری اور مادہ پرست بن جائے اور ہدایت خداوندی اس سے کوسوں دور بھاگے ۔اس موقع پر آکر انسان کو غور و فکر اور بصیرت سے کام لینا پڑے گا ۔انسان میں چوں کہ متضاد صفتیں موجود ہیں، یعنی خواہشات نفسانیہ بھی ہیں اور بھلا برا سمجھنے کا شعور بھی اور عقل و فطرت سلیمہ بھی موجود ہے پس ایک کو مغلوب اور دوسرے کو غالب کرنا ہی صبر ہے، دل نہ چاہتے ہوئے بھی صبر کادامن پکڑ کر نیک اعمال کر لے اور معصیت کے کاموں سے دور رہے ۔

مرنے سے پہلے زندگی بھر کے بغیرمانگے عطا کئے گئے اللہ کے انعامات کا شکر ادا کرلو۔۔۔بےشک جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت(رضا) ہی سے ہوگا، لیکن اعمال ہی (1)قیامت کے حساب، (2)جہنم کے عذاب اور (3)جنت میں دائمی غریبی اور ندامت سے بچائیں گے۔


آج معاشرے پر ہر طرف کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے ،ہر طرف فتنہ فساد برپا ہے ،کوئی علاقہ ،کوئی شہر ،کوئی بستی ،کوئی کوچہ،کوئی قبیلہ ،کوئی خاندان، کوئی گھراور نہ ہی کوئی جماعت ایسی ہے جس میں لڑائی جھگڑا نہ ہوا۔حتی کہ ماں باپ،بیٹا بیٹی،بھائی بہن، بیوی اور شوہر،استاد اور شاگرد ،مالک اور نوکر ،سینئر اور جونیئر ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑی بڑی لڑائیاں بن جاتی ہیں ،ذرا سی بات پر پوری زندگی کے لیے بغض و عداوت اور غیض غضب سے سینے بھرجاتے ہیں ۔بات اتنی ہوتی نہیں او رمعاملات بگاڑ بگاڑ کر کہاں سے کہاں پہنچا دیے جاتے ہیں، کسی نے کچھ کہہ دیا۔ بس آستین چڑھالیے… چہرہ غصہ سے لال پیلا ہو گیا… جو منھ میں آرہا ہے بول رہا ہے… طلاق ، طلاق، طلاق… نکل جاؤ میرے گھرسے… واپس مڑ کر بھی نہیں دیکھنا… اس کو میرے جنازہ میں شریک نہیں ہونے دینا… 

غرض کیا کیا جملہ نقل کروں، ایک بول پر ساری زندگی کا رشتہ ختم اور ساری زندگی کے لیے ناطہ توڑ دیا جاتا ہے ،افسوس صد افسوس، خونی رشتوں کوبھی نہیں دیکھا جاتا، ان سب باتوں کی اصل وجہ حد سے بڑھ کر کسی پر اعتماد کرنا ہے اور اس سے ایسی ایسی توقعات رکھنا کہ اس کو انسانوں کی فہرست سے نکال کر فرشتوں کی قطار میں داخل کر دینا ہے، جب وہ توقعات پر نہیں اترتا اور اعتماد کوٹھیس پہنچا دیتا ہے تو ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں لڑائی جھگڑوں سے دور رہنے کے لیے صبر کا دامن تھامنا چاہیے اور جلد بازی اور بے صبری سے کام نہیں لینا چاہیے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہمہ وقت صبر کی سواری پر سوار رہیں، مصائب، تکالیف، پریشانیاں اور غم آتے رہیں گے مگر ہر موقع پر ہمارا درماں صبر ہی ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!!






No comments:

Post a Comment