Saturday, 9 April 2016

کیا تم قتل کرتے ہو اسے اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب الله ہے؟؟؟

کیا تم لڑتے ہو اسے اس لئے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب الله ہے؟؟؟
[القرآن-المومنون:28]
عروہ بن زبیر  ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص  ؓ سے پوچھا کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو سب سے بڑی ایذا کیا پہنچائی ہے ؟ آپ نے فرمایا، ایک دن رسول اللہ ﷺ حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کی گردن میں چادر ڈال کر بل دینے لگا، وہ بری طرح آپ کا گلا گھونٹنے لگا۔ اس وقت ابوبکر صدیق  ؓ دوڑے دوڑے آئے، انھوں نے اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے : {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ} [غافر/المؤمن:28] ’’کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمھارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔‘‘
[صحیح البخاری: کتاب مناقب الأنصار، باب ما لقی النبی ﷺ و أصحابہ من المشرکین بمکۃ :حدیث#3856]


مسلمان جہاں جہاں گئے وہاں وہاں اپنے ساتھ سچائی، احترام انسانیت، ایمان داری، انصاف، مساوات، حیا، محبت، فراخدلی اور خداترسی کا پیغام لے کر گئے۔ مسلمانوں کی تاریخ یہ ہے وہ جہاں کہیں گئے چند صدیوں میں اکثریت بن گئے۔ انہوں نے اپنے مثالی قول وعمل اور کردار سے دوسروں کو بھی متاثر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو سے زیادہ جنگیں لڑی ہیں، لیکن ان 100 سے زائد جنگوں میں مسلمانوں اور کفار کے صرف ایک ہزار 18 افراد قتل ہوئے۔
اس کے برعکس غیرمسلموں نے ہمیشہ انسانوں پر ظلم وستم کیا۔ 1492ء میں اسپین میں اسلامی حکومت ختم ہوئی۔ ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کو مذہبی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان میں تقریباً 30 ہزار کو سزائے موت ملی اور 12000 کو زندہ جلادیا گیا۔ جنگِ عظیم اول میں دو کروڑ اور جنگِ عظیم دوم میں 5 کروڑ سے زائد انسان تہ تیغ ہوئے۔ 1945ء میں جاپان کے دو شہروں ’’ہیروشیما اور ناگاساکی‘‘ پر امریکا نے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایٹم بم گرائے۔ اس سربریت سے چشم زدن میں دو لاکھ افراد پانی کے بلبلے کی طرح پگھل کر رہ گئے۔ کوئی چرند پرند نہیں بچا تھا۔ جو لوگ بچ گئے تھے وہ زندہ درگور تھے۔ 2001ء کے بعد افغانستان میں 6 لاکھ اور 2003ء کے بعد سے عراق میں 12 لاکھ عراقیوں کو بے دردی سے مارا جاچکا ہے، جبکہ اسلامی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے جب بھی علاقے فتح کیے، وہاں کے لوگوں خصوصاً خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا۔ 90 سال تک مسجد اقصیٰ عیسائیوں کے پاس رہی۔ اس کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا۔ اس شاندار فتح کے بعد عیسائی یہ سمجھ رہے تھے اب ہماری خیر نہیں۔ ہمارے ظلم کا بدلہ ہمیں مل کے رہے گا، لیکن تاریخ بتاتی ہے سلطان نے عام معافی کا اعلان کردیا حتیٰ کہ پوپ اور بادشاہ تک کو معاف کردیا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا تھا: آج سب کو معاف کردیا گیا ہے۔ اپنی جان کے پیاسوں تک کو معاف کردیا۔ ہندہ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت امیر حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا، آپ نے اس کو بھی معاف کردیا۔ وحشی جس نے حضرت امیر حمزہ کو بے دردی سے قتل کیا تھا، آپ نے ان کو بھی معاف کرنے کے بعد صرف اتنا کہا: ’’میرے سامنے نہ آیا کریں کیونکہ مجھے میرے چچا یاد آجاتے ہیں۔‘‘ یہ اسلام ہی تو ہے جس نے غیروں کی بھی حفاظت کا نہ صرف حکم دیا بلکہ عمل کرکے بھی دکھایا۔

فارس جب فتح ہوا تو بادشاہ نوشیروان کی بیٹی بھی مالِ غنیمت کے ساتھ گرفتار کرکے لائی گئی۔ اسے جب دربارِ نبوی میں پیش کیا گیا تو ان کے سر پر ڈوپٹہ نہیں تھا۔ آپ نے حکم دیا: ان کے سر پر ڈوپٹہ رکھا جائے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ تو مسلمان نہیں ہے۔ آپ فرمایا: ’’بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے خواہ کسی کی بھی ہو۔‘‘ انسان تو انسان حیوانوں کے ساتھ بھی اسلام نے اعلیٰ برتائو کیا۔ وہ واقعہ تو سب کو یاد ہوگا ایک اونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھ کر اپنے مالک کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ’’اس کا مالک اس سے کام زیادہ لیتا ہے اور اسے گھاس کم دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے جانوروں کے حقوق بھی بیان فرمائے۔

No comments:

Post a Comment