Saturday, 30 April 2016

عقیدہِ آخرت : عقل و نقل کی روشنی میں

آخرت کا عقیدہ بھی خدا کی ہستی کے عقیدہ کی طرح دین ومذہب کی اہم بنیاد ہے، اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان کی زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے اور اس کے بعد اعمال کی جزا اور سزا کا کوئی عالم نہیں ہے، تو پھر انسان کو کسی دین اور کسی مذہبی تعلیم کی مطلق ضرورت نہیں۔ پھر تو اُس کا مذہب بس یہ ہونا چاہیے #
        بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

عقیدہٴ آخرت کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن پاک میں جا بجا ”ایمان بالله“ اور ﴿ایمان بالیوم الآخر﴾ کا ذکر ساتھ ساتھ کیا گیا ہے ، کہیں ارشاد فرمایا گیا۔﴿ یؤمنون بالله وبالیوم الاخر﴾ اور کہیں فرمایا گیا ﴿ من آمن بالله والیوم الاخر﴾․

آخرت کے عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین کیا جائے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ایک اور عالم آنے والا ہے اور وہاں انسان کو اس دنیا میں کیے ہوئے اُس کے اچھے بُرے اعمال کی جزا اور سزا ملے گی ، آخرت کی اجمالی حقیقت اتنی ہے اور اس کو عقل سلیم بھی ضروری سمجھتی ہے ، انسان اگر غور وفکر سے کام لے تو یہاں تک اس کی عقل بھی پہنچا دیتی ہے کہ اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور ایسا عالم ہونا چاہیے، جہاں انسانوں کو ان کے اچھے اور بُرے اعمال کی جزا اور سزا ملے، کیوں کہ اس دنیا میں برائی اوربھلائی تو موجود ہے ، لیکن اس کی سزا اور جزا، جو الله تعالیٰ کی صفت عدل کا لازمی تقاضا ہے، یہاں نہیں ملتی، اس لیے کسی اور ایسی زندگی کا ہونا ضروری ہے، جس میں نیک بختوں کو اُن کی نیکوکاریوں کی جزا اور مجرموں کو اُن کی مجرمانہ بدکرداریوں کی سزا ملے، اس کو ذرا اور تفصیل سے یوں سمجھیے کہ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پیشہ ور مجرم عمر بھر بڑے ظلم اور پاپ کرتے ہیں ، لوگوں کی جان ومال پر ڈاکے ڈالتے ہیں، بندگان خدا کے حق مارتے ہیں ، کمزوروں اور غریبوں کو ستاتے ہیں ، رشوتیں لیتے اور خیانتیں کرتے ہیں اور عمربھر عیش کرتے ہوئے، بلکہ اولاد کے لیے بھی عیش وعشرت کا بہت کچھ سامان چھوڑ کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں او راس کے برعکس الله کے بہت سے بندوں کو اس حال میں بھی دیکھا جاتا ہے ، کہ وہ بیچارے بڑی پرہیز گاری اورپارسائی کی زندگی گزارتے ہیں ، کسی پر ظلم نہیں کرتے ، کسی کے ساتھ دغا اور دھوکا نہیں کرتے، کسی کا حق نہیں مارتے ، الله کی عبادت بھی کرتے ہیں اس کی مخلوق کی خدمت بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود طرح طرح کی تکلیفوں او رپریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں ، غربت وافلاس اور بیماریوں کا سلسلہ رہتا ہے او راسی حال میں زندگی کے دن پورے کرکے، بیچارے اس دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں او رنہیں دیکھا جاتا کہ ان کی اس نیکی او رپارسائی کا کوئی بھی صلہ اس دنیا میں ان کو ملا ، تو اگر اس دنیوی زندگی کے بعد بھی کوئی اور ایسا عالم اور ایسی زندگی نہ ہو ، جہاں ان نیکوکاروں اور بد کرداروں کو اپنے اپنے کیے کی جزا اور سزا ملے تو یقینا خدا پر الزام آئے گا کہ اس کے یہاں دنیا کے بے انصاف حکومتوں سے بھی زیادہ اندھیر ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی سلیم عقل اس کو قبول نہیں کرسکتی۔

الله کی ہستی تو بہت بلند ہے، وہ تو مالک الملک اور احکم الحاکمین ہے۔ یہ طرز عمل تو کسی بھلے آدمی کے بھی شایان شان نہیں کہ وہ شریفوں اور شریروں اور پرہیز گاروں اور پیشہ ور مجرموں کو ایک نظر سے دیکھے اور سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے ، قرآن مجید نے اسی بات کو اپنے بلیغ معجزانہ انداز اور نہایت مختصر الفاظ میں اس طرح کہاہے۔

إِنَّ السّاعَةَ ءاتِيَةٌ أَكادُ أُخفيها لِتُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما تَسعىٰ {طٰهٰ:20}
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے۔
Surely, the Hour (i.e. the Day of Judgment) has to come. I would keep it secret, so that everyone is given a return for the effort one makes.
[AL-QURAN, Soorah Ta-Ha, Verse#15]

The Hour is assuredly coming. [But] I will to keep it hidden, from mankind — and its nearness [in time] will manifest itself to them through its signs — so that every soul may be requited, thereupon, for what it strives for, of good or evil.


﴿افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون﴾․ ( القلم:35-36)
کیا ہم اپنے فرماں بردار بندوں کو مجرموں نافرمانوں کی طرح کردیں گے اور دونوں گروہوں کے ساتھ یکساں معاملہ کریں گے؟
Otherwise, shall We make the obedient like the sinners? What has happened to you? How do you judge?
[AL-QURAN, Soorah AL-Qalam, Verse#35-36]

کفّار کی خوش فہمی اور اس کا جواب:
کفّار مکّہ نے غرور و تکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہو گی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہیگا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اگر ایساہو تو یہ مطلب ہو گا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکمبرداری کے لئے تیار رہتا ہے، اورایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہو جائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ رَد کرتی ہے۔
Are We then to treat those who submit [to Us] as [We treat] the sinners?, that is to say, as belonging with them in terms of reward?
What is wrong with you? How do you judge?, with such corrupt judgement?


'Utbah Ibn Rabi'ah said: “if what Muhammad (pbuh) says to his Companions about Paradise and its bliss is true, we will surely be better than them in the Hereafter as we are better than them in the life of this world”, and so Allah revealed: (Shall We then treat those who have surrendered) shall We then make the reward of the Muslims in Paradise (as We treat the guilty) as the reward of the idolaters who are the owners of the Fire?
(What aileth you) O people of Mecca? (How foolishly ye judge!) Evil is what you judge for yourselves!



ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :﴿ام نجعل الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار﴾․ ( ص:28)
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان لوگوں کے برابر کر دیں گے ، جو دنیا میں فساد برپا کرتے پھرتے ہیں ، کیا ہم پرہیز گاروں اور بدکاروں کے ساتھ یکساں برتاؤ کریں گے( ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ [قرآن - سورۃ ص:28]
Shall We make those who believe and do righteous deeds equal to those who commit mischief on the earth? Or shall We make the God-fearing equal to the sinners?
[AL-QURAN, Soorah Saad, Verse#28]

مومن اور مفسد برابر نہیں ہو سکتے:
یعنی ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ نیک ایماندار بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کر دیں یا ڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈر لوگوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ اسی لئے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب و کتاب اور جزا سزا کا رکھا جائے۔ لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندر آدمی قسم قسم کی مصائب و آفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بیحیا مزے چین اڑاتے ہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی کی جو خبر مخبر صادق نے دی ہے عین مقتضائے حکمت ہے۔ وہاں ہی ہر نیک و بد کو اس کے برے بھلے کام کا بدلہ ملے گا۔ پھر "یوم الحساب" کی خبر کا انکار کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔
Or shall We treat those who believe and perform righteous deeds like those who cause corruption in the earth; or shall We treat the God-fearing like the profligate? This was revealed when the Meccan disbelievers said to the believers, ‘In the Hereafter we will receive the same [reward] as that which you will receive’ (am, ‘or’, contains the [rhetorical] hamza of denial).

ایک تیسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے :﴿ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلھم کالذین آمنوا وعملوا الصلحت سواء محیاھم ومماتھم ساء مایحکمون﴾․ ( الجاثیہ:21)

یہ مجرمین جنہوں نے بد کاریوں کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے ، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے ان نیک بندوں کی طرح کردیں گے ، جو ایمان لائے او رجنہوں نے اعمال صالحہ کیے اور دونوں گروہوں کا انجام اور جینا مرنا یکساں ہو گا ( او راپنے اپنے اعمال کا ان کو کوئی بدلہ نہیں ملے گا؟) بالکل غلط اور بیہودہ ہے ، ان کا یہ خیال ( ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا)۔

بہرحال عقل سلیم بھی کہتی ہے اور قرآن حکیم کا بھی ارشاد ہے کہ نیکوکاروں پرہیز گاروں کو ان کی نیکو کاری اور پرہیز گاری کی اور مجرموں بدکاروں کو ان کی بدکرداری کی جزا اور سزا ملنی ضروری ہے اور جب وہ اس دنیا میں نہیں مل رہی ہے ، تو اس دنیوی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ،کوئی اور عالم ہونا چاہیے ، جہاں یہ جزا اور سزا ملے اور الله تعالیٰ کی صفتِ عدل کا تقاضا پورا ہو۔ بس وہی عالم آخرت ہے۔

ہاں !یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا کو ، یعنی ثواب اور عذاب کو عالم آخرت کے لیے کیوں موخر کیا گیا اور کیوں نہ اسی دنیا میں اس کا بھی حساب بے باق کر دیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ الله تعالیٰ اپنے فرماں بردار اور نیکوکار بندوں کا جو صلہ اور انعام دینا چاہتا ہے اور جیسی لذت او رمسرت سے بھرپور غیر فانی زندگی ان کو بخشنا چاہتا ہے، جو اس کی شانِ رحمت اور صفت کریمی کا تقاضا ہے ، اس کا اس دنیا میں کوئی امکان ہی نہیں ہے او راسی طرح نافرمان او رباغی وسرکش مجرموں کو وہ سخت سزا اور لرزہ خیزعذاب دینا چاہتا ہے ، جو اس کی شان جلالی اور صفت قہاری کا تقاضا ہے، اس کی برداشت کی بھی ہماری اس دنیا میں طاقت نہیں ہے، یعنی وہ ایسا سخت اور المناک ہے کہ اگر اس دنیا میں اس کا ظہور ہو جائے تو یہاں کا سارا چین وآرام ختم ہو جائے ۔ یہ پوری دنیا سوخت ہو کر رہ جائے ۔ ہماری یہ دنیا تو بہت ہی کمزور اور ناپائیدار دنیا ہے ۔

آخرت کے مقابلہ میں ہماری اس دنیا کی حیثیت بالکل وہ ہے ، جو ہماری اس دنیا اور اس زندگی کے مقابلے میں ماں کے پیٹ والی زندگی کی تھی ۔ اس دینا میں آنے سے پہلے ہر آدمی چند مہینے اپنی ماں کے پیٹ میں رہ کے آیا ہے ۔ وہ اس کی سب سے پہلی دنیا تھی اور بڑی محدود دنیا تھی ، الله تعالیٰ اولاد آدم کو جو کچھ عطا فرمانا چاہتا تھا او رجہاں تک پہنچانا چاہتا تھا وہ ماں کے پیٹ والی اس پہلی دنیامیں ممکن نہیں تھا، اسی لیے انسان کو اس دنیا میں لایا گیا ، بالکل اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ اس دنیوی زندگی کی نیک کرداری کے صلہ میں ، الله تعالیٰ اپنے فرماں بردار اور پرہیز گار بندوں کو جن انعامات سے نوازنا چاہتا ہے اور لذت ومسرت سے بھرپور جو غیر فانی زندگی ان کوبخشا چاہتا ہے اور علی ہذا سرکش مجرموں اور نافرمانوں کو جو سخت سزا اور ابدی عذاب دینا چاہتا ہے ۔ وہ ہماری اس فانی دنیا میں ممکن ہی نہیں ، اس دنیا کے خاتمہ کے بعد عالم آخرت کا برپا ہونا او رجنت ودوزخ کا وجود میں آنا ضروری ہے ، تاکہ الله تعالیٰ کی صفات، کمال عدل وانصاف ، انعام واحسان رحمت ورافت اور قہاریت وجباریت کا بھرپور ظہور ہو۔

آخرت کے بارے میں ہماری عقل کی پرواز بس یہیں تک ہے ۔ آگے قیامت ، حشر، جنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی تفصیلات بس وحی کے ذریعہ ہی معلوم ہو سکتی ہیں اور قرآن مجید اور احادیث میں ان کا تفصیلی بیان ہے ۔

بعض لوگ اپنی عقل کی خامی ونارسائی کی وجہ سے ، آخرت اورجنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی ان تفصیلات کے بارے میں ، جو قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ، شکوک کا اظہار کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ، میں ایسے لوگوں سے کہا کرتا ہوں کہ اگر ایسے بچہ سے، جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہے ، کسی آلہ کے ذریعہ یہ بات کہی جائے کہ اے بچے! تو چند روز کے بعد ایک ایسی دنیا میں آنے والا ہے ، جہاں لاکھوں میل کی لمبی چوڑی زمین ہے او راس سے بھی بڑے سمندر ہیں اور آسمان ہے او رچاند سورج اور لاکھوں ستارے ہیں اور وہاں ریلیں دوڑتی ہیں، ہوائی جہاز اُڑتے ہیں ، لڑایاں ہوتی ہیں ، جن میں توپیں گرجتی ہیں اور ایٹم بم اور ہائیڈروجن بمپھٹتے ہیں تو وہ بچہ اگر کسی طرح ان باتوں کو سمجھ بھی لے تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے ان باتوں کا یقین کرنا بڑا مشکل ہو گا ، کیوں کہ وہ جس دنیا میں ہے اور جس کو دیکھتا اور جانتا ہے ، وہ تو اس کے ماں کے پیٹ کی صرف ایک بالشت بھر کی اندھیری دنیا ہے ، جس میں خون اور غلاظت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن چند دن کے بعد جب وہ بچہ الله کے حکم سے اس دنیامیں آئے گا اورکچھ دیکھنے سمجھنے کے قابل ہو گا تو وہ سب کچھ دیکھ لے گا اور یقین کرے گا ، جو ماں کے پیٹ والی دنیا میں اس کے لیے ناقابل فہم اور اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ، بالکل ایسا ہی معاملہ آخرت کے بارے میں اس دنیا کے انسانوں کا ہے ، آخرت کے عالم میں پہنچ کر سب انسان وہ سب کچھ دیکھ لیں گے ، جو الله کی کتابوں نے اور اس کے پیغمبروں نے آخرت کے بارے میں بتایا ہے اورجس کا نہایت مستند واضح اور مفصل بیان قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں محفوظ ہے۔

آخرت کے عقیدہ کے سلسلہ میں ، آخری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انسان کو برائیوں اور بد اخلاقیوں سے بچانے کی جتنی طاقت آخرت کے یقین میں ہے ، اتنی کسی دوسری چیز میں نہیں ہے۔ بے شک حکومت کا قانون اور تہذیبی ترقی یا برائی بھلائی کو فطری احساس اور نفس کی شرافت بھی ، انسان کو برائیوں او ربد اخلاقیوں سے بچانے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ اتنی موثر اور کار گر نہیں ہوتیں، جتنا کہ مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا یقین اور آخرت پر ایمان، بشرطے کہ زندہ یقین اور حقیقی ایمان ہو ، صرف نام کا ایمان اور بے جان عقیدہ نہ ہو ۔

یہ کوئی خالی منطق کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ برائیوں اور بد اخلاقیوں کی گنجائش ا س معاشرہ میں ہوتی ہے، جو آخرت اورمرنے کے بعد خدا کے سامنے پیشی او رجزا وسزا کے یقین سے خالی ہو، ورنہ جن کے دلوں میں یقین وایمان کا نور موجود ہو ، اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ برے خیالات او رگناہ کے وسوسوں سے بھی گھبراتے ہیں او رالله سے پناہ مانگتے ہیں ، تاریخ عالم گواہ ہے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ پاکیزہ، صاف ستھری اور مہذب ومبارک زندگی ان ہی بندگان خدا کی رہی ہے جو مرنے کے بعد کی پیشی اور آخرت کی جزا وسزا پر یقین رکھتے تھے او راس کی وجہ یہ ہے کہ یہ یقین آدمی کو برائی کے ارادہ سے وہاں بھی روکتا ہے ، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو اور دنیا میں کسی قانون پکڑ اور سزا کا خطرہ نہ ہو۔

الغرض اس دنیا کے خاتمہ کے بعد عالم آخرت کا برپا ہونا، الله کے پیغمبروں او راس کی کتابوں کی بتائی ہوئی ایک حقیقت بھی ہے اور خود ہماری عقل سلیم کا تقاضا بھی ہے اور اس پر ایمان وعقیدہ انسانی دنیا کی ایک بڑی مصلحت بھی ہے۔






کتاب وسنت سے معلوم ہوتاہے کہ اس دنیا کے علاوہ دوعالم اورہیں: برزخ آخرت۔ جب آدمی کوئی عمل کرتاہے توفوراًآخرت میں منعکس ہوجاتاہے، اس کے وجودپرکچھ آثاربھی مرتب ہوتے ہیں، اس عالم کوعالم قبراورعالم برزخ کہتے ہیں۔ پھران ہی اعمال کاایک وقت، کامل ظہورہوگا۔جس کویوم حشرو نشریعنی لوگوں کے جمع ہونے، اعمال نامہ کے ظاہرہونے کادن کہتے ہیں۔ تومعلوم ہواکہ ہرعمل کے وجودی مراتب تین ہیں: صدور ظہور مثالی اورظہورحقیقی۔ اس مضمون کوآج کی ایجادات مثلاً ٹیپ ریکارڈ اور ویڈیوریکاڈر سے سمجھاجاسکتاہے۔ جب آدمی کوئی بات یاعمل کرتاہے تواس کے تین مراتب ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ اس کامنہ یابدن سے صادر ہونا۔ دوسرامرتبہ اس کاٹیپ یاکیمرے میں بندہونا اورتیسرامرتبہ جب آدمی اس کی آوازکوسننا چاہے، یادیکھنا چاہے تواسے بعینہ دیکھ لے۔

بس اب اسی پرقیاس کریں، دنیامیں عمل صادرہوتاہے، عالمِ برزخ میں ریکارڈہوتاہے اوریوم الحشرکے دن سب ظاہرہوجائے گا۔

اب جب یہ ثابت ہوگیاتو کوئی عاقل اورذی شعوراپنے کرتوت کے ریکارڈکوسننے یادیکھنے کے بعدانکارنہیں کرسکتا،بالکل قیامت کے روزبھی ایساہی ہوگا۔لہٰذاجس طرح آدمی ریکاڈرکے سامنے ہونے کی صورت میں بچ بچ کر بات کرتاہے اورکوئی کام کرتاہے کہ کہیں کوئی غلط چیزریکارڈنہ ہوجائے، انسان کوبھی اسی طرح زندگی گذارنی چاہیے اورجان لیناچاہیے کہ یقینی طورپراس کی زندگی کے ہرلمحہ کوپوری باریکی کے ساتھ قیدکیاجارہاہے، قرآن میں ارشادالٰہی ہے :﴿ما یلفظ من قول إلا لدیہ رقیب عتید﴾۔ (سورہٴ قٓ:18) انسان جوبات بھی اپنے منہ سے اداکرتاہے توایک ریکاڈربرابر اسے ریکارڈکررہاہے ایک اورجگہ پرہے:﴿یوم تجدکل نفس ماعملت من خیرمحضرًا و ماعملت من سوء﴾․

”جس دن ہرشخص اپنے کئے ہوئے کواپنی نظروں کے سامنے پائے گا چاہے وہ اچھائی ہویابرائی۔“(سورہٴ آل عمران:30)

ذراہم ان آیتوں پرغورکریں، قرآن کیسی تنبیہ کوبیان کررہاہے!اللہ ہمیں اس کوسمجھنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین! 

بعض گناہوں کی مماثل سزاوٴں کوبھی قرآن وحدیث میں بیان کیاگیاہے، مثلاًزکوٰة نہ دینے پروہ مال سانپ کی شکل میں اس کے گلے کاطوق ہوگا:﴿سیطوقو ن مابخلوا بہ یوم القیامة﴾․ (سورہٴ آلِ عمران: 180)


جھوٹ بولنے والے چہرے کالے ہو جائیں گے، جوقرآن کاعلم حاصل کرکے اس پرعمل نہ کرے گااس کاسرباربارپتھرسے کچلاجائے گا۔معلوم ہواکہ دنیابرزخ، اورآخرت تینوں جگہ انسان کواس کے گناہوں کی سزادی جاتی ہے۔








آخرت کے دن پر ایمان کی حقیقت
اس بات کا پختہ یقین ہو کہ یہ دن آنا ہے اور اس کی تصدیق بھی یقین کے ساتھ کرنی چاہۓ اور یہ کہ اللہ تعالی نے جو بھی آخرت کے متعلق اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس کے متعلق بتایا اور جو کچھ موت کے بعد ہو گا اس کی تصدیق کرنی اور اس کا یقین رکھنا کہ یہ آۓ گا اور اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ ان علامات اور قیامت کی نشانیوں پر ایمان لایا جائے جو قیامت سے پہلے ہیں اور موت اور جو موت کے وقت سختیاں اور جو کچھ موت کے بعد عذاب قبر اور اس کے فتنہ اور قبر کی نعمتوں اور صور پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھنے اور قیامت کے دن میدان محشر میں کھڑے ہونے کی سختیاں اور حشر اور حساب وکتاب کی تفصیل جنت اور اس کی نعمتوں اور ان میں سب سے بڑی اللہ تعالی کے چہرے کا دیدار اور آگ اور اس کی سختی جو کہ سب سے زیادہ اللہ تعالی سے پردے میں آنا ہے ان سب پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور جو کچھ اس اعتقاد کے تقاضے ہیں ان پر عمل کرنا بھی –

تو جب بندے کے دل میں ایسا ایمان آجا ئے تو اس کے بہت سارے عظیم ثمرات ہیں جن میں سے کچھ ذکر کۓ جاتے ہیں :

پہلا – اس دن کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اطاعت کرنے کی رغبت اور حرص پیدا ہوتی ہے –

دوسرا – اس دن کی سزا اور عقاب سے ڈرتے ہوئے معصیت کرنے سے اور اس پر راضی ہونے سے خوف اور ڈر –

تیسرا – اس دنیا میں مومن سے ان نعمتوں کے چھن جانا جس کے بدلے میں اسے آخرت میں ثواب اور نعمتوں کی امید پر تسلی ہوتی ہے-




مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانےپرایمان لانا
یعنی اس بات پر مکمل اعتماد ہوکہ مرنے کے بعد ایک مقررہ دن میں ساری انسانیت کو اللہ تبارک وتعالیٰ دوبارہ پیدا کریگا اور سب کا حساب وکتاب ہوگا اور جو رائی کے دانہ کے برابر نیکی کیا ہوگا تو اس کا جزا حاصل کریگا اور اور جو ذرّہ برابر برائی کیا ہوگا تو وہ اس پر سزا کا مستحق ہوگا۔

("فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَہُ"الخ، الزلزال:۷،۸۔ "زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَن لَّن یُبْعَثُوا"الخ، التغابن:۷۔ "لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ"الخ، المطففین:۴،۶۔ "وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ"الخ، الانبیائ:۴۷)


قبر کی جزا وسزا پر ایمان لانا
یعنی یہ یقین رکھا جائے کہ قبر کی آسائشیں، راحتیں اور عذاب برحق ہے، فرشتوں کے سوالات حق ہیں اور یہ سب کچھ سچ ہے۔حوالہ
(بخاری، "عن أَنسؓ عن النبِیِ قال العبد إِذاوضِع فِی قبرِہِ"الخ، باب المیت یسمع خفق النعال، حدیث نمبر:۱۲۵۲۔ "عن عائِشۃؓ زوجِ النبِیِ أَخبرتہ أَن رسول اللہ کان یدعو فِی الصلاِۃ اللہم إِنِی ‘’الخ، وباب الدعاء قبل السلام، حدیث نمبر:۷۸۹۔ "عن ابنِ عباس قال مرّالنبِی بِحائِط مِن حِیطانِ المدِینِۃ أَو مکَّۃَ"الخ، وباب من الکبائر ان لایستتر من بولہ، حدیث نمبر:۲۰۹)






کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
Are We Really Free (Liberate)?
ہر شیٔ کے خالق، مالک، خوب قدرت وعلم رکھنے والے پالنہار اللہ نے فرمایا:
Allah...One and Only Powerful Creator, Lord, Sustainer, Knower of all thing, said:
پھر جب جان گلے تک آ پہنچتی ہے۔
So why (do you) not (intervene) when the soul (of a dying person) reaches the throat,
اور تم اس وقت کی حالت کو دیکھا کرتے ہو۔
and you are watching?
اور ہم اس مرنے والے کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تمکو نظر نہیں آتے۔
And We are closer to him than you, but you do not perceive.
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو۔


So, if you are not going to be recompensed (in the Hereafter for your deeds),
تو اگر سچے ہو تو تم جان کو لوٹا کیوں نہیں لیتے۔


then why do you not bring the soul back, if you are truthful?

[قرآن - سورۃ الواقعہ:83-87]



کیا تم کسی کے قابو میں نہیں ہو:

یعنی ایسی بے فکری اور بے خوفی سے اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہو، گویا تم کسی دوسرے کے حکم اور اختیار ہی میں نہیں، یا کبھی مرنا اور خدا کے ہاں جانا ہی نہیں۔ اچھا جس وقت تمہارے کسی عزیزو محبوب کی جان نکلنے والی ہو، سانس حلق میں اٹک جائے، موت کی سختیاں گذر رہی ہوں اور تم پاس بیٹھے اس کی بے بسی اور درماندگی کا تماشا دیکھتے ہو، اور دوسری طرف خدا یا اس کے فرشتے تم سے زیادہ اس کے نزدیک ہیں جو تمہیں نظر نہیں آتے اگر تم کسی دوسرے کے قابو میں نہیں تو اس وقت کیوں اپنے پیارے کی جان کو اپنی طرف نہیں پھیر لیتے اور کیوں بادل ناخواستہ اپنے سے جدا ہونے دیتے ہو دنیا کی طرف واپس لاکر اسے آنیوالی سزا سے کیوں بچا نہیں لیتے۔ اگر اپنے دعووں میں سچے ہو تو ایسا کر دکھاؤ۔




Why then, when it, the spirit, during the throes [of death], reaches the [dying person’s] throat (hulqūm is the passage for food)


and you are, O you attending the dying person, at that moment looking, at him —


and We are nearer to him than you are, to know [of his state], but you do not perceive (tubsirūna derives from al-basīra, ‘perception’) that is to say, you do not realise this —


why then, if you are not going to face a reckoning, [if] you are [not] going to be requited by your being resurrected, in other words, [why then, if] you are not going to be resurrected as you claim,


do you not bring it back, [why] do you not restore the spirit to the body after it has reached the throat, if you are truthful?, in what you claim (the second law-lā, ‘why … if’, is [repeated] to emphasise the first one; idhā, ‘when’, is an adverbial particle qualifying tarji‘ūna, ‘bring it back’, to which both conditions are semantically connected). The meaning is: ‘Why do you not bring it back, when, in repudiating resurrection, you are being truthful in this repudiation?’ That is to say, ‘Let death also be repudiated [as impossible] in its case just as [you claim that] resurrection is [impossible]’.
http://thetruthmag.com/
http://intellectmagazine.net/






تصورِ آخرت سے عاری معاشرے!!
جرم و سزا کی دنیا وقت کے ساتھ پیچیدہ اور گھنجلک ہوتی چلی جارہی ہے۔ جہاں انسان نے جرم کا سراغ لگانے کے لیے نت نئی ایجادات کیں، بیشمار طریقے اختیار کیے، وہیں مجرموں نے جرائم کرنے اور انہیں چھپانے کے سو طریقے ڈھونڈ نکالے۔ شہر بڑے ہوئے تو جرم بھی تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہوتا چلاگیا۔ انسانی معاشرہ سے جرائم کے خاتمے کے لیے بھی اداروں کا جال بچھتا چلاگیا، لیکن جرم و سزا کی اس داستان کا مرکزی خیال وہی ہے کہ قانون جس کام کوجرم قرار دے دے، وہی جرم ہے، وہی قابلِ تعزیر ہے، قابلِ دست اندازئی پولیس ہے اور اسی کا مجرم سزا کا مستحق ہے۔ خاوند یا بیوی کو دھوکا دینا، چونکہ اس قدر بڑا جرم نہیں کہ اس کے مجرم کو سزا دی جائے تو ایسا کرنے والے کے خلاف دوسرا فریق صرف طلاق کا مقدمہ درج کر کے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، لیکن اس علیحدگی کے نتیجے میں جو اولاد پر بیتتی ہے، جو ان کی نفسیاتی نشونما اور اخلاقی تربیت متاثر ہوتی ہے۔ 

وہ عمر بھر کے لیے نفسیاتی الجھنوں کو ساتھ لیے پھرتے ہیں، لیکن اس جرم کا مقدمہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک بھی دائر نہیں ہو سکتا۔ لاکھوں کے حساب سے جنس کا کاروبار کرنے والی خواتین جنہیں آج کے انسانی حقوق کی دنیا میں سیکس ورکرکے ’’باعزت لقب‘‘ سے یاد کیا جاتا ہے، اگر وہ اپنے اس پیشہ یا پروفیشن کے مخصوص حالات کی وجہ سے بد ترین بیماریوں کا شکار ہوکر بسترِمرگ سے لگ جاتی ہیں

تو کیا آج کے دور کاکوئی مہذب معاشرہ دنیا میں وجود رکھتا ہے کہ ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جن کی ہوس نے ان عورتوں کو موت کے دروازے پر جا پہنچایا ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ ایسی خواتین کی مدد کے لیے عالمی سطح پر این جی اوز متحرک ہو جاتی ہیں، لیکن چونکہ قانون ایسا کرنے والوں کو مجرم نہیں گردانتا، حکومت انہیں صرف بد احتیاط کہہ کر چپ ہو جاتی ہے، اس لیے چاہے ہزاروں عورتیں جان سے چلی جائیں ان مجرموں پر مقدمہ نہیں چل سکتا۔ایسے ہزاروں معاملات ہیں جہاں انسانوں نے اپنے مفادات کے تابع قانون سازی کی اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ 

آپ ہر ایسے قانون کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں جہاں انسان کے وضع کردہ ضابطۂ اخلاق کے تحت بہت سے جرائم کو قانون کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تو وہاں آپ کو اس کے پسِ پردہ اربوں ڈالر کا مفاد نظر ضرورآئے گا۔ شراب پینا جرم نہیں ہے، لیکن شراب پی کر گاڑی چلانا، جہاز اُڑانا جرم ہے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے اربوں ڈالر کا شراب کا کاروبار ہے۔ میڈیسن کے علم کے مطابق شراب کے استعمال سے جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں انہیں Alcholism سے جڑی بیماریوں اور پاگل پن کا کہا جاتا ہے۔ اسی طرح عورتوں کے کاروبار کو دنیا کے کسی ’’مہذب‘‘ ملک میں بذات خود منع نہیں کیا گیا ہے۔یعنی اگر ایک عورت خود اپنا جسم بیچتی ہے تو وہ جرم نہیں ہے، البتہ اس عورت کو ایسا کرنے پر مجبور کرنے یا پھر اس کے ایسا کرنے کی دلالی یا موجودہ دورمیں مارکیٹنگ جرم ہے۔ فحش فلموں کا کاروبار بذاتِ خود جرم نہیں ہے، البتہ ان فلموں میں کام کرنے والوں کے لیے بالغ یعنی 18 سال کا ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ اس کے پیچھے اربوں ڈالر کی انڈسٹری ہے۔ عورت کو کاروبار کے لیے استعمال کرنا جرم ہے، لیکن کاروبار کی مارکیٹنگ کے لیے اسے نیم برہنہ تک کر کے اور پھر ہر چوک و چوراہے پر اس کی تصاویر لگانا کوئی جرم نہیں ہے۔ انسان نے جب بھی قانون سازی کی اسے اپنے ذاتی سیاسی اور کاروباری مفاد کے تا بع رکھ کر کیا۔ بے راہ روی کو رواج دینے کے لیے شادی کی ایک حد مقرر کردی گئی۔ اس کے لیے سو طرح کی دلیلیں گھڑی گئیں، پوری دنیا میں ممالک سے قانون مرتب کروائے گئے۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی لگادی گئی، نتیجہ یہ نکلا کہ صرف امریکا میں ہر سال 10 لاکھ 18 سال سے کم عمر لڑکیاں مائیں بنتی ہیں۔ یعنی قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے اور قابلِ دست اندازی پولیس ہے، لیکن 18 سال سے کم عمر ماں بننا جرم نہیں، بلکہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور اس کے لیے این جی اوز کو آگے آنا چاہیے اور ان لڑکیوں کی مدد کرنا چاہیے۔ 

انسانوں نے اپنے لیے قانون بنائے، معاشرے تخلیق کیے، لیکن یہ تمام قوانین موجودہ سیکولر نظامِ زندگی کا تحفہ ہیں۔سیکولر نظامِ زندگی کی کوکھ سے سرمایہ دارانہ جمہوریت نے جنم لیا جس نے انسانوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ مذہبی اخلاقیات اور قوانین کا تعلق نہ حکومت سے ہے اور نہ ہی اجتماعی زندگی سے۔انسانوں کی اکثریت جیسا قانون چاہے بنا سکتی ہے اور اسے نافذ کر سکتی ہے اور یہی بہترین طرزِ زندگی اور انصاف کا موجودہ خوبصورت تصور ہے۔یعنی سب جرم، سزا، عدل و انصاف اسی دنیا میں ہی ہو گا چونکہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے جو قانون عطا کرنے کا اختیار رکھتا ہو، اس لیے کہ آخرت بھی وجود نہیں رکھتی۔ہمیں اسمبلیوں کے ذریعے ہی انصاف کو قوانین کے ذریعے نافذ کرنا ہے۔آپ دنیا کے دو سو کے قریب ممالک کے قوانین کامطالعہ کر لیں، آپ سوچتے سوچتے بے بس ہو جائیں گے، لیکن آپ حتمی اور آخری انصاف کی ایک جھلک بھی وہاںنظر نہیں آئے گی۔ یہ سب کے سب قوانین انسانوں کو مکمل انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔وہ قانون جس سے بچ نکلنے کے ہزار راستے موجود ہوں، وہاں مکمل انصاف کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔جہاں شہادت تلف کر کے گواہ خاموش کروا کر انصاف کو روکا جا سکے وہاں کیسے مکمل انصاف کیا جا سکتا ہے۔ 

اللہ اورآخرت کے تصور کے بغیر نہ معاشرے تخلیق پا سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل انصاف کا تصور وجود میں آتا ہے۔ تصور کیجیے دنیا کے مہذب ترین ممالک کا اور پھر سوچیئے کہ ایک شخص اپنے وسیع و عریض گھر میں رات کو انواع و اقسام کے کھانے کھا رہا ہے اور اس کا پڑوسی بھوک کی شدت سے مر جاتا ہے۔کیا دنیا کا کوئی قانون اس امیر شخص پر فردِ جرم عائد کرسکتا ہے؟کسی تیز رفتار گاڑی کو حادثہ پیش آتا ہے۔سنسان سڑک پر ایک شخص زخمی کو چھوڑ کر گزر جاتا ہے، زخمی مر جاتا ہے، کیا کوئی قانون اس شخص کو حراست میں لے سکتا ہے؟آپ دولت جمع کریں، ڈھیر لگا دیں، ذاتی عیاشیوں پر خرچ کریں۔اس دنیا میں کوئی قانون آپ کو گرفت میں نہیں لے سکتا۔یہی نا مکمل نظام انصاف ہے کہ اس وقت دنیا میں 430 کے قریب ایسے افراد ہیں جن کی دولت اگر دنیا میں تقسیم کر دی جائے تو کوئی بھوکا، ننگا، بے روز گار نہ رہے۔ 50 لوگوں کے پاس دنیا کی 65 فیصد دولت ہے، لیکن کوئی قانون انہیں اس دولت کو غریبوں پر تقسیم کرنے کے لیے جزا اور تقسیم نہ کرنے پر سزا نہیں دیتا۔ 

دنیا کا کوئی قانون اس دنیا میں ہونے والے جرائم پر مکمل انصاف فراہم کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ہزاروں لوگوں کے قتل کے بدلے صرف ایک انسان کی موت اور وہ بھی اب کئی ممالک میں ختم ہو چکی۔یہ نا مکمل نظامِ انصاف کیوں ہے؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو انصاف و عدل کے لیے نہیں امتحان کے لیے تخلیق کیا۔البتہ اس دنیا کو امن و آشتی اور سکون و اطمینان کا گہوارہ بنانے کے لیے اس نے کچھ قوانین بتا دیے تاکہ انسانی زندگی اچھی طرح رواں دواں ہو سکے۔جیسے کہا گیا کہ قصاص میں تمہارے لیے زندگی رکھ دی گئی۔ چوری اور زنا کو سخت ترین سزاؤں سے روکا گیاتاکہ معاشرہ صالح ہو مکمل انصاف کے لیے آ نے یوم آخرت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی لیے اللہ نے ایمان والوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ اللہ، اُس کے رسول، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان لائیں، لیکن آخرت کے دن پر یقین پیدا کریں۔آخرت کا دن دنیا میں دو طرح کے تصور کو جنم دیتا ہے، ایک مکمل انصاف اور دوسرا مکمل جزا اوراجر، روز حشر۔ انصاف کے مکمل ہونے کے لیے اللہ نے تمام لوازمات بنائے ہیں، گواہی کے لیے ہاتھ اور پاؤں کو خود بولنے کی اجازت دی جائے گی۔آخرت کا یہی خوف کسی بھی معاشرے کو پُرامن رکھتا ہے۔دوسرا اجر کا تصورہے۔یہ لوگوں میں نیکی اور انسانوں سے ہمدردی کو جنم دیتا ہے۔ آج دنیا کے مخیر حضرات کی فہرست اُٹھا لیں اور ان کی زندگیوں کے حالات پڑھیں۔مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، یہیودی سب کے سب آپ کو انسانوں کی مدد کرتے اس لیے نظر آئیں گے کہ انہیں آخرت میں مکمل اجر کی اُمید اور توقع ہوتی ہے۔ گزشتہ صدی میں آدھی دنیا پر ایک نظام رائج رہا جسے کیمونزم کہتے ہیں۔اس نظام میں آ کے تصور کو انسانی زندگی سے خارج کردیا گیا۔ پورے کے پورے معاشرے دہریے ہوگئے۔ آج جب کہ وہاں سرمایہ داری کا نظام لوٹ آیا ہے، معاشرے میں سرمایہ دار بھی آ گئے ہیں، لیکن روس، چین اور شمالی کوریا وغیرہ میں آپ کو انسانوں پر خرچ کرنے والے مخیر حضرات کا نشان نہیں ملے گا۔اس لیے کہ خیرات اور انسانی بھلائی کے پیچھے سب سے بڑا جذبہ آخرت میں اللہ کی خوشنودی ہے۔ کیا یہ دنیا، حکومتیں، انسان اور معاشرے مذہب کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیںہر گز نہیں۔ یہ تمام معاشرے جو آج زندہ ہیں انہوں نے تمام قوانین مذہب سے اُدھار لیے ہیں، سچ بولنا، غیبت نہ کرنا، جھوٹی گواہی نہ دینا، دھوکا اور فریب سے اجتناب وغیرہ یہ سب اصول مذہب نے متعین کیے اور دنیا میں کسی جمہوریت میںیہ دم نہیںکہ انہیں تبدیل کر سکے۔ 

کیا کوئی پارلیمنٹ 100 فیصد ووٹ سے جھوٹ بولنا، دھوکا دینا یا چوری کرنا جائز قرار دے سکتی ہے۔ مذہب تمام عالمی اخلاقیات کا باپ ہے۔ سیکولر طرزِ زندگی کا کمال یہ ہے کہ، اپنی زندگی میں باپ کے تمام اصولوں کو نافذ کر تاہے لیکن باپ کی اولاد ہونے سے انکار کردیتا ہے۔سیکولر ازم الحاد اور دہریت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اللہ اور آخرت کا تصور انسانی معاشرے سے خارج کرکے دیکھو، دنیا کی ہر حکومت ایسے ہوگی جیسے وہ ایک منہ زور گھوڑے کو قابو کر رہی ہے اور گھوڑا اُسے گرا کر دور نکل جاتا ہے۔ یہ گھوڑا حرص، ہوس، خود غرضی، لالچ، جنس اور خواہشات کا گھوڑا ہے جسے صرف قوانینِ الٰہی قابو کر سکتے ہیں۔ ورنہ سب خسارہ، جنگیں، کروڑوں کی موت، بے سکون، بے مہر اور بے اطمینان معاشرے۔ 



No comments:

Post a Comment