Saturday, 9 April 2016

زبان کی آفتیں اور ان کا علاج


زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتا ہے انسان اسی کی وجہ سے باعزت مانا جاتاہے اور اسی کی وجہ سے ذلت ورسوائی کا مستحق بھی ہو تا ہے۔ زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس نعمت کی اہمیت کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے لیکن وہ اپنامافی ضمیر ادا نہیں کرسکتا ہے۔
اللہ کا فرمان ہے :
{أَلَمْ نَجْعَلْ لَہُ عَیْنَیْنِ ،وَلِسَانًا وَشَفَتَیْنِ }
کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنایا۔
[۱؍البلد: ۸ تا ۹]

سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے زبان کی حفاظت کرنے کی خصوصی طور پر تاکید کی ہے:
أكثر خطايا ابن آدم فى لسانه 
یعنی اکثر خطائیں انسان کی زبان سے سرزد ہوتی ہیں۔
[صحیح الجامع الصغیر:رقم:۱۲۰۱، أخرجه الطبرانى (10/197، رقم 10446) قال الهيثمى (10/300) : رجاله رجال الصحيح. وأخرجه أبو نعيم فى الحلية (4/107) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (4/240، رقم 4933) . وأخرجه أيضا: الشاشى (2/82، رقم 602) . وأورده ابن أبى حاتم فى العلل (2/101، رقم 1796) وقال قال أبى: هذا حديث باطل. وقال المناوى (2/80) : قال العراقى: إسناده حسن.]

ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
 احفظ لسانَك
یعنی اپنی زبان کی حفاظت کرو۔
[المعجم الکبیر:۔17/271، رقم:743]

حقیقت یہ ہے کہ زیادہ بولنا انسان کے دینی ودنیاوی نقصانات کا باعث بن جاتا ہے ۔اگر انسان منہ بند رکھنے کی کوشش کرے تو اس کے لئے بوجوہ یہ فائدہ مند ثابت ہوگا ۔ اسی لئے خاموشی کو زیادہ بہتر کہا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :
 مَنْ کانَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیصْمُتْ،
یعنی جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
[صحیح مسلم:۔کتاب الایمان:باب الحث علیٰ اکرام الضیف۔۔،رقم:47]۔

اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
مَنْ یَضْمَنْ لِی مَا بَیْنَ لحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ أَضْمَنْ لَہُ الجَنَّۃَ۔
یعنی جو دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی ضمانت لے لے میں اس کے لئے جنت کی ضمانت لیتا ہوں ۔
[صحیح البخاری:۔کتاب الرقاق:باب حفظ اللسان ،رقم:۶۴۷۴]



اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ، اتِّقَاءَ فُحْشِهِ۔
یعنی لوگوں میں بدترین شخص وہ ہے کہ جسے اس کی بدحیائی بدکلامی کے ڈر سے لوگ چھوڑدیں۔
[صحيح البخاري - كِتَابُ الأَدَبِ - بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ اغْتِيَابِ أَهْلِ الفَسَادِ وَالرِّيَبِ - حدیث نمبر 6054]





اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ، وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ۔
بندے کا ایمان درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا دل درست نہ ہو، اور بندے کا دل درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو، اور ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو۔
[مسند احمد:13048، المعجم الكبير للطبراني:10553، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:127، مسند الشهاب القضاعي:887، السلسلة الصَّحِيحَة:2841، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:2554]





اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا :
فَقَالَ ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
یعنی دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک تو وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور ایک وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے۔ 
[احمد:23065 ، قال الهيثمى (10/298) : رجاله رجال الصحيح خلا تميم، وهو ثقة.]


انسان زبان سے کبھی کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے لیکن اس کی وہ بات اللہ کی رضا مندی کے مطابق ہوتی ہے اور اس کے درجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔لیکن کبھی ایسی بھی بات کہہ دیتا ہے جس کی اس کے نزدیک کچھ اہمیت نہیں ہوتی ہے نہ وہ اس بات کی کچھ پرواہ کرتا ہے حالانکہ اس کی وہ بات اتنی خطرناک ہوتی ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ جہنم میں پھینک دیا جاتا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ العَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّہِ، لاَ یُلْقِی لَہَا بَالًا، یَرْفَعُہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ العَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالکَلِمَۃِ مِنْ سخطِ اللَّہِ، لاَ یُلْقِی لَہَا بَالًا، یَہْوِی بِہَا فِی جَہَنَّمَ۔
یعنی بندہ اللہ کو راضی کردینے والا کلمہ بولتا ہے اور اس کی وہ پرواہ نہیں کرتا ہے اس کی وجہ سے اللہ اس کے درجات بڑھا دیتا ہے۔اسی طرح بندہ اللہ کو ناراض کردینے والا کلمہ بولتا ہے لیکن وہ پرواہ نہیں کرتا ہے اس کی وجہ سے اس کو جہنم میں پھینک دیا جاتا ہے۔
[صحیح البخاری:۔کتاب الرقاق:باب حفظ اللسان ، رقم:۶۴۷۸]۔












سچ تو یہ ہے کہ زبان انسان کے تمام اعضاء کا سردار ہے اگر زبان صحیح ہوتی ہے تو تمام اعضاء صحیح رہتے ہیں لیکن اگر اس کی زبان بگڑ جاتی ہے تو تمام اعضاء بگڑ جاتے ہیں ۔




زبان کو قید رکھیں
قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَحْوَجُ إِلَى طُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ»
[المعجم الكبير للطبراني:8744]
حضرت عبد اللہؓ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! روئے زمین پر زبان سے بڑھ کر کوئی چیز طویل عرصے تک قید میں رکھے جانے کی محتاج نہیں۔


بے قابوزبان کے نقصانات
________________________
قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أكثر خطايا ابن آدم في لسانه 

(المعجم الکبیر للطبرانی: 10446 ،حدیث صحیح)





زبان بری باتوں سے محفوظ رہے اور خیر کا ذریعہ بنے اس کی کوئی فہرست نہیں بنائی جا سکتی تاہم شریعت میں کچھ ایسے اہم مواقع کی نشاندہی کر دی گئی ہے جو دینی ومعاشرتی لحاظ سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں چند چیزیں درج ذیل ہیں ۔

1) ذکر اللہ
آدمی اللہ کا ذکر کرے قرآن کی تلاوت کرے اسلامی کتابیں پڑھنے کی عادت بنائے الغرض زبان اللہ کے ذکر واذکار سے تر ہونی چاہے ۔کیونکہ اللہ کو یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انسان کی موت اس حال میںہو کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔ سبب یہ ہے کہ انسان کے لئے دینی اور دنیاوی دونوں معاملات میں یہ عمل مدد گار ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:
أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُکَ رَطْبٌ مِنْ ذِکْرِ اللَّہ۔
یعنی تمہاری موت اس حال میں ہو کہ زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔
[صحیح ابن حبان:۔باب نفی المرء عن دارہ۔۔۔۔،رقم:818]
[أخرجه البخاري في "خلق أفعال العباد" (281) ، والبزار (3059 - كشف الأستار) ، وابن حبان (818) ، والطبراني في "الكبير" 20/ (212) ، وفي "الشاميين" (191) و (192) و (3521) ، وفي "الدعاء" (1852) ، وابن السني في "عمل اليوم والليلة" (2) ، والبيهقي في "الشعب" (516) من طرق عن عبد الرحمن ابن ثابت بن ثوبان، عن أبيه، عن مكحول، عن جبير بن نفير، عن مالك بن يخامر، عن معاذ. وإسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت.
وأخرجه البزار (3059 - كشف الأستار) من طريق زيد بن يحيى الدمشقي، عن ابن ثوبان، عن أبيه، عن جبير بن نفير، عن معاذ. لم يذكر فيه مكحولاً ولا مالك ابن يخامر.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20/ (213) ، وفي "الشاميين" (2035) ، وفي "الدعاء" (1853) من طريق معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن مكحول، عن جبير بن نفير، عن مالك بن يخامر، عن معاذ. وفي إسناده شيخ الطبراني، وفيه لين، ومحمد بن أيوب لعله محمد بن أيوب المصري الذي ذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 7/197 وبيض للرواة عنه والذين روى عنهم، وقال فيه: يكتب حديثه ولا يحتج به.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20/ (181) ، وفي "الشاميين" (2035) ، وفي "الدعاء" (1853) بنفس الإسناد السابق، لكن عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن أبيه، عن معاذ.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20/ (208) من طريق خالد بن يزيد بن عبد الرحمن بن أبي مالك، عن أبيه، عن جبير بن نفير، عن مالك، عن معاذ.
وخالد بن يزيد ضعيف.
وأخرجه الحسين المروزي في زياداته على "زهد" ابن المبارك (1141) عن محمد بن أبي عدي، عن يونس، عن الحسن قال: سئل النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وهذا مرسل.
وفي باب فضل ذكر الله عن عبد الله بن بسر سلف برقم (17680).]


اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
«قلب شاكر ولسان ذاكر وزوجة صالحة تعينك على أمر دنياك ودينك خير ما اكتنز الناس»
شکر گزار دل چاہئے ذکر کرنے والی زبان چاہئے اور ایسی نیک بیوی جو تمہاری دینی اور دنیاوی دونوں معاملات میں مدد کرنے والی ہو اور یہ چیزیں ان چیزوں سے بہتر ہیں جو لوگوں نے اکٹھا کرکے رکھا ہے۔
[صحیح الجامع الصغیر:۔رقم:4409،(صحيح) الروض النضير 179، الترغيب 3/68: ت، ابن ماجه - ثوبان. عب - علي. وأخرجه الطبرانى (8/205، رقم 7828) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (4/104، رقم 4430) .]




2) بھلائی کا حکم دینا برائی سے روکنا
ایک انسان کو بھلائی کا حکم کرناچاہئے اور برائی سے روکنا چاہئے کیونکہ بھلائی کا حکم دینا یہ بھی ایک طرح کا صدقہ ہے اور امر بالمعروف والنھی عن المنکر کا تقاضا بھی ہے۔ جیساکہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی ایک حدیث کے اندر فرمایا:
«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».
یعنی تم میں سے کوئی برائی کو دیکھے تو اس کو ہاتھ سے روکے اور اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتا توزبان سے روکے اور اگر زبان سے نہیں روک سکتا تو کم از کم دل میں برا مان لے لیکن یہ ایمان کا سب سے نچلا درجہ ہے۔
[صحیح مسلم:۔کتاب الایمان :با ب کون النھی عن المنکر،رقم:49]۔

اور ایک دوسری حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا :
«مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا فَلَا يُسْتَجَابَ لَكُمْ»
یعنی بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دعا کرو اور قبول نہ کیا جائے۔
[أخرجه ابن ماجه (2/1327، رقم 4004) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (4/169، رقم 6525) . وأخرجه إسحاق بن راهويه (864)، والبزار (3354) و (3305)، وأحمد (25255)، وابن حبان (290)، والطبراني في "الأوسط" (6661) من طريق عمرو ابن عثمان، بهذا الإسناد. 
وله شاهد من حديث حذيفة عند أحمد (23301). وآخر من حديث أبي هريرة عند البزار (3307) يتقوى بهما إن شاء الله.



3) نرم لہجہ
زبان سے ہمیشہ نرم بات کہنی چاہئے ایسی کوئی بات زبان سے ادا نہ کریں جس سے لوگوں کے اندر نفرت پیدا ہو یا دوری کا سبب بنے بلکہ انداز تکلم نرم لہجے میں ہواس کے اندر حلاوت اور لوگوں کو قریب کرنے کا مادّہ ہو ۔اللہ نے قرآن کریم کے اندر نبی ﷺ کے انداز گفتگوکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
{فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ }
یعنی یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان لوگوں کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے اگر آپ تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو لوگ آپ سے دور ہو جاتے۔[۳؍اٰل عمران:۱۵۹]۔



4) آسان الفاظ
زبان سے جب بھی کوئی بات کہیں مخاطب کا خیال رکھتے ہوئے کہیں کہ وہ کس انداز میں اور کس زبان میں ہماری بات سمجھ سکتا ہے ۔نبی ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ ٓاپ ﷺ لوگوں سے اس طرح بات کیا کرتے تھے کہ ہرکوئی آسانی سے سمجھ سکتا تھا۔
«كَانَ كَلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ»
یعنی نبی ﷺ کی بات جدا جدا ہوتی تھی ہر سننے والا اس کو سمجھ جاتا تھا۔
[سنن ابی داؤد:۔کتاب الادب:باب الھدی فی الکلام،رقم:4839]۔
اس نکتے کا تعلق گویا کہ معصیت سے نہیں ہے تا ہم زبان کے حسن استعمال پر ضرور ابھارتی ہے۔



5) سچائی اور جھوٹ
سچائی انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس کی بناء پر لوگ اس کی باتوں پر اعتماد کرتے ہیں اورسچائی انسان کو نیکی کی طرف لے جاتی ہے انسان جب ہر بات میں سچ بولتا رہتا ہے تو سچ بولنا اس کی عادت بن جاتی ہے ۔جھوٹ انسان کی ایسی مذموم صفت ہے جس کی بناء پر لوگ اس کی بات پر اعتماد بھی نہیں کرتے ہیں اور یہ انسان کو برائی کی طرف لے جاتا ہے یہاں تک کہ جھوٹ بولتے بولتے جھوٹ اس کی ایک عادت بھی بن جاتی ہے نبی ﷺ نے ان دونوں صفتوں کو اپنی ایک حدیث کے اندر یوں بیان کیا ہے:
«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا»
یعنی سچائی کو لازم پکڑو اس لئے کہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جانے والی ہے اور آ دمی برابرسچ بولتا رہتا ہے اور سچائی کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے پاس سچا لکھ دیا جاتا ہے ۔اور جھوٹ سے پرہیز کرو اس لئے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اوربرائی جہنم کی طرف لے جانے والی ہے آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کے تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے پاس جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
[صحیح مسلم:۔کتاب الایمان :باب قبح الکذب۔۔۔،رقم:2607]
وأخرجه هناد في "الزهد" (1365) ، ومسلم (2607) (105) ، والترمذي (1971) ، والبيهقي في "السنن" 10/196، والبغوي (3574) ، من طريق أبي معاوية، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حسن صحيح.
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (386) ، ومسلم (2607) (105) ، وأبو داود (4989) ، والشاشي (512) و (513) ، وابن حبان (272) ، والبيهقي في "السنن" 1/195-196، من طرق عن الأعمش، به.
وسيأتي برقم (3727) و (3896) و (4022) و (4095) و (4108) و (4160) و (4187) .
وفي الباب عن أبي بكر تقدم برقم (5) و (17) و (34) و (44) .
قوله: "يهدي": أي: يؤدي إليه.
يتحرى الكذب: أي: يتعمده، ويقصده، والتحري: القصد، والاجتهاد في الطلب، والعزم على تخصيص الشيء بالفعل والقول. "النهاية".



6) غیبت
غیبت زبان سے لگی ایسی برائی ہے کہ بہت سارے لوگ اس مذموم صفت میں ملوث ہیں لو گ بہت آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کی غیبت کرتے رہتے ہیں حالانکہ غیبت کرنا ایک بھاری گناہ کا کام ہے کسی کی غیبت کرنا اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے جیسا ہے اللہ نے قرآن مجید فرمایا:
{وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَأْکُلَ لَحْمَ أَخِیہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوہُ}
یعنی تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے۔[۴۹؍الحجرات:۱۲]۔

غیبت کی شناعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نبی ﷺ کا گزر دو قبر والوں سے ہوا اور ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جارہا تھا اس کا سبب پیشاب اور غیبت تھی روایت کے الفاظ ہیں:
كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة۔
یعنی ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹے سے نہیںبچتا تھا اور دوسرا غیبت کیا کرتا تھا۔
[صحیح بخاری:۔کتاب الوضو:باب من الکبائر،رقم:216]۔



7) راز فاش کرنا
کسی نے دل پاکر اگر کوئی بات بتادی تو اسے لوگوں میں پھیلا دینا یا آدمی خود کوئی معاملہ انجام دے مثلاًمیاں بیوی کے درمیا ن ہونے والی گفتگو دوستوں میں بانٹ دی جائے یا وہ گندگی جس پر اللہ نے پردہ ڈال دیا تھا اسے انسان فخر سے لوگوں میں بیان کرتا پھرے یہ تمام چیزیں راز فاش کرنے میں شامل ہیں ان چیزوں سے بچنا چاہئے ۔



8) طعنہ اور برے القاب
زبان سے بہت سارے لوگ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو برے القاب سے پکارتے ہیں مثلاً کسی کا نام بگاڑ کر غلط ناموں سے پکارتے ہیںاور حسب ونسب پر چوٹ کرتے ہیں ،ذات برادری کو نشانہ بناتے ہیں ،رنگ ونسل کا جھگڑا کرتے ہیں ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں جبکہ اللہ نے ان سب چیزوں سے منع کیا ہے اللہ رب العالمین فرماتا ہے:
{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَی أَنْ یَکُونُوا خَیْرًا مِنْہُمْ وَلَا نِسَاء ٌ مِنْ نِسَاء ٍ عَسَی أَنْ یَکُنَّ خَیْرًا مِنْہُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِیمَانِ وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ}
اے ایمان والو!(تمہارا)کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں ۔ نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی نہ کرو ۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کے برے نام رکھو ۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنابہت بری بات ہے اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔[۴۹؍الحجرات:۱۱]۔



9) لعنت بھیجنا
کچھ لوگوں کا عالم یہ ہے کہ لعن وطعن ان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے وہ جب بھی گفتگو کریں گے جب بھی زبان چلانے کا موقع نصیب ہوگا کوئی لعنت ملامت نہ کریں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
عام لوگوں کی بات ہی الگ ہے صاحبان جبہ ودستار کو اس کا چسکا کچھ زیادہ ہی لگا ہوتا ہے تکفیر وتفسیق ان کی شریعت بن جاتی ہے کسی کا ذکر آئے کسی مکتب فکر کی بات چل نکلے اور کافر،زندیق،لعین،رجیم ،گستاخ جیسے مغلظات نہ نکلیں ممکن نہیں ،کہ یہی ان کا ہاضمہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا :
وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ۔
یعنی جو کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے اور وہ اس کا مستحق نہیں ہوتا ہے تو وہ لعنت اس کی طرف لوٹ کر چلی آتی ہے۔
[سنن ابی داؤد:۔کتاب الادب:باب فی اللعن،رقم:4908]
حديث ابن عباس: أخرجه أبو داود (4/278، رقم 4908) ، والترمذى (4/350، رقم 1978) وقال: حسن غريب. وأبو الشيخ فى العظمة (4/1315، رقم 81317) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (4/316، رقم 5235) ، والضياء
(10/28، رقم 18) .
حديث أسير بن جابر: أخرجه ابن قانع (1/56) 



اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا ایک ایک بول محفوظ ہے، اور روزِ قیامت ان سب کا حساب دینا پڑے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”ما یلفظ من قول اِلَّا لدیہ رقیب عتید“ (قٓ:۱۸)
ترجمہ:․․․ ”اور وہ (اِنسان) کوئی بات (زبان سے) نہیں نکالتا مگر اس کے پاس (لکھنے کو) ایک نگہبان تیار بیٹا ہے۔“


ہم بہت سی باتیں بے سوچے سمجھے کہہ جاتے ہیں، اور ہمیں خیال تک نہیں ہوتا کہ یہ کلمہ ہمیں کہاں لے جارہا ہے؟ ایک مختصر سا کلمہ جنت پہنچادیتا ہے، اور بعض دفعہ وہی مختصر کلمہ جہنم کی راہ دِکھا دیتا ہے۔



زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح اِستعمال یہ ہے کہ جو لفظ بھی زبان سے نکالیں، اس کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے خوب سوچ سمجھ کر نکالیں، بات کہیں تو سچی اور اچھی کہیں، ورنہ دینی اور دُنیوی لحاظ سے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے: 

”لا خیر فی کثیر من نجواھم اِلَّا من أمر بصدقة أو معروف أو اصلاح بین الناس“ (النساء:۱۱۴) 

ترجمہ:․․․ ”ان کے اکثر مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے، مگر یہ کہ جو حکم دے خیرات کا یا اچھی بات کا، یا لوگوں کے درمیان اِصلاح کرانے کا۔“ 





اسی طرح حضور اکرم ا کا ارشاد ہے: 

وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ۔
ترجمہ:․․․ ”جو اللہ اور روزِ آخرت پر اِیمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ بات کہے تو اچھی کہے، ورنہ خاموش رہے۔“
[صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ ، بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ، رقم:6475]

وأخرجه الحميدي (575) ، وأخرجه البخاري في "صحيحه" (6019) ، (6476) ، وفي "الأدب المفرد" (102)(741) ، ومسلم (48) (14) 3/1352، والترمذي (1967) ، والنسائي في "الكبرى"- كما في "تحفة الأشراف" 9/224-  وابن ماجه (3672) ، والدارمي 2/98، وأبو عوانة 1/34(4/58)، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (2776) و (2777) و (2778) ، والطبراني في "الكبير" 22/ (476) (501) ، والقضاعي في "مسنده" (468) ، والبيهقي في "السنن الكبرى" 5/68، وفي "الشُّعب" (4912) ، وفي "الآداب" (76) ، والبغوي في "شرح السنة" (3001) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
وأخرجه البزار (زوائد) (3575) من طريق عبد الله بن يوسف، عن عبد الرحمن بن أبي الرجال، بهذا الإسناد.
وله شاهد من حديث أبي شريح الكعبي، سلف برقم (16370) ، وذكرنا أحاديث الباب في مسند عبد الله بن عمرو بن العاص عند الرواية (6621)
.وهو عند مالك في "الموطأ" 2/929، ومن طريقه أخرجه البخاري في "صحيحه" (6135) ، وفي "الأدب المفرد" (743) ، وأبو داود (3748) ، والنسائي في "الكبرى" -كما في "تحفة الأشراف" 9/224، وأبو عوانة 4/59، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (2779) ، وابن حبان (5287) ، والطبراني في "الكبير" 22/ (475) ، والحاكم 4/164، والقضاعي في "مسنده" (471) ، والبيهقي في "الاَداب" (82) ، والبغوي في "شرح السنة" (3002) . وقد سلف برقم (احمد:16374+27160 +27161) .






بسیارگوئی بڑے بڑے فتنوں اور فساد کا ذریعہ بنتی ہے، اور ان کا خمیازہ بعض اوقات دُنیا میں ہی بھگتنا پڑتا ہے۔اکابرفرماتے ہیں کہ بات کہنے کی چار قسمیں ہیں: 

۱:․․․ جس میں سراسر نقصان ہو۔ 

۲:․․․ جس میں نفع ونقصان دونوں ہوں۔ 

۳:․․․ جس میں نہ نفع ہو نہ نقصان۔ لغویات وفضولیات وغیرہ۔

۴:․․․ جس میں سراسر نفع ہو۔ 



گویا گفتگو اور باتوں میں تین چوتھائی نہ کرنے کے قابل ہیں، یہ وہی مفہوم ہے جو ”اِلَّا من أمر بصدقة أو معروف أو اِصلاح بین الناس“ (النساء:۱۱۴) کی آیت سے سمجھ میں آتا ہے کہ صرف وہی بات کرنی چاہئے جس میں کوئی فائدہ بھی ہو۔ ایسی بات جس میں نہ دُنیوی منفعت ہو، نہ اُخروی تو وہ اس لئے پسندیدہ نہیں کہ وہ مسلمان کو اِسلام کے حسن سے محروم کردیتی ہے، چنانچہ اسی کے بارے میں حضور اکرم ا کا ارشاد ہے: 

”من حسن اسلام المرء ترکہ ما لَا یعنیہ“ (ترمذی ج:۲ ص:۸۵) 

ترجمہ:․․․ ”انسان کے اسلام کے حسن میں سے یہ ہے کہ وہ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دے۔“ 



زبان کو شرور وآفات سے بچانے کے لئے خاموشی سے بہتر کوئی چیز نہیں، اور یہ عقل مندی کی نشانی بھی ہے، کیونکہ عقل مند سوچتا زیادہ اور بولتا کم ہے۔ جو جتنا بولتا ہے، غلطیاں بھی اتنی ہی زیادہ کرتا ہے، اور جو سوچتا زیادہ، بولتا کم ہے، وہ غلطیاں بھی کم کرتا ہے۔ حضور اکرم ا کا ارشاد ہے: ”من صمت نجا“ (مشکوٰة باب حفظ اللسان ، ص:۴۳۵)۔ یعنی جس نے خاموشی اِختیار کی اس نے نجات پائی۔“ 




۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
۱:۔”یٰٓأیھا الذین اٰمنوا لا یسخر قوم من قوم عسٰی أن یکونوا خیرًا منھم، ولا نساء من نساء عسٰی أن یکن خیرًا منھنّ، ولا تلمزوا أنفسکم ولا تنابزوا بالألقاب، بئس لاسم الفسوق بعد الایمان، ومن لم یتب فأولٰٓئک ھم الظّٰلمون“ (الحجرات:۱۱) 

ترجمہ:․․․ ”اے موٴمنو! ایک گروہ دُوسرے گروہ کا مذاق نہ اُڑائے، کیا عجب کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں کا (مذاق اُڑائیں) کیا عجب کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور ایک دُوسرے پر عیب نہ لگاوٴ اور باہم بُرے القاب سے نہ چڑاوٴ، ایمان کے بعد گناہ، بُرا نام (لینا) ہے اور جو باز نہ آیا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔“ 



۲:․․․ ”ویل لکل ھمزة لمزة“ (الھُمزة:۱) 

ترجمہ:۔ ”خرابی (ہلاکت) ہے ہر طعنہ دینے والے اور عیب جوئی کرنے والے کے لئے۔“ 




۴:․․․ ”ولا یغتب بعضکم بعضًا، أیحب أحدکم أن یأکل لحم أخیہ میتًا فکرہتموہ“ (الحجرات:۱۲) 

ترجمہ:․․․ ”اور تم میں سے کوئی ایک دُوسرے کی غیبت نہ کرے، کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تو تم اس سے گھن کروگے۔“ 




۱:۔”عن انس بن مالک قال: لم یکن النبیا سبابًا ولا فاحشًا ولا لعانًا“ (بخاری ج:۲ ص:۸۹۱) 

ترجمہ:․․․ ”حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم ا گالی دینے والے اور فحش گفتگو کرنے والے اور لعنت کرنے والے نہیں تھے۔“ 


اللہ تعالیٰ ہمیں ان گناہوں سے بچائے اور زبان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ 





زبان کی آفتیں
زبان گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، جو حق تعالیٰ نے انسان کے منھ میں اس لیے رکھا ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنا مافی الضمیر دوسروں پر ظاہر کر سکے اور اندرونی راز واسرار ان کے گوش گذار کر سکے۔ بظاہر اگر دیکھا جائے تو زبان گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، لیکن اگر تحقیقی نگاہوں سے دیکھیں تو زبان کا سارے جسم پر تصرف اور قبضہ معلوم ہوتا ہے، جو کچھ بھی انسان کی عقل اور وہم وخیال میں آتا ہے زبان اس کی ترجمانی کرتی ہے برخلاف انسان کے دیگر اعضاء کے کہ ان میں اس طرح خصوصیت موجود نہیں ، کان صرف سنتے ہیں ، آنکھ صرف دیکھتی ہے، اس کے سوا یہ کچھ نہیں کر سکتے، لیکن زبان ان اعضا اور دلی جذبات وخیالات کی ترجمانی کرتی ہے اور ساری صورتیں دل سے لے کر دوسروں کے سامنے بیان کر دیتی ہے ۔ جب غم کے بادل دل پر چھا جاتے ہیں ، خوف وہراس کی صورت دل میں پیدا ہو جاتی ہے تب انسان کو ساری دنیا تاریک نظر آتی ہے اور غم سے چور ہو کر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ جاتا ہے تو زبان اس موقع پر تضرع اور زاری کرتی ہے۔ درد والم کے الفاظ زبان ادا کرتی ہے، جس سے دل کی مصیبت کا پورا نقشہ کھینچ لیتی ہے او رجب دل میں بشاشت وفرحت او رنشاط وخوشی کے آثار ہوں تو راحت وخوشی کے الفاظ سے زبان حرکت میں آجاتی ہے ،جس طرح الله رب العزت نے نوعِ انسان پر اپنی بے شمار نعمتیں برسائی ہیں، انہیں نعمتوں میں سے قوت گویائی بھی الله کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ،جو الله تعالیٰ نے انسان کو دے رکھی ہے ،اسی طرح زبان مختلف آفات بھی اپنے اندر رکھتی ہے اور زبان کے شر اور آفات سے بچنا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔

انسان کے اقوال واعمال کی اقسام
انسان دنیا میں جو کچھ بھی کرتا ہے یا جو کلام بھی کرتا ہے اس کی تقریباً چار قسمیں ہیں۔
1..مفید… یعنی جو کام وہ کرے گا یا جو کلام کرے گا اس میں دین یا دنیا کا کوئی فائدہ ہو گا۔
2..مضر… یعنی جس میں دین یا دنیا کا نقصان ہو۔
3..نہ مفید نہ مضر… یعنی جس میں نہ کسی قسم کا نفع ہو اور نہ نقصان ہو۔ لایعنی کلام۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ قسم بھی مضر ہی میں شامل ہے، بے فائدہ اور لایعنی کلام کو چھوڑ دینا بھی نجاتِ آخرت کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو وقت لا یعنی کلام میں ضائع کیا جاتا ہے اگر اس کو الله کی یاد میں صرف کیا جائے تو قرب الہٰی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔
4.. جو مضر بھی ہے او رمفید بھی … یعنی جس میں نقصان بھی ہے اور نفع بھی ہے۔ ان چاروں اقسام میں سے قسم اول ہی سب سے افضل وبہتر ہے اور قابلِ عمل ہے، جس میں نفع ہی نفع ہے، لوگوں کو نیکی کی رغبت دلانا اوربرائی سے منع کرنااو راگر جھگڑا ہو جائے تو لوگوں میں صلح کرا دینا زبان کے بہترین فرائض اور الله تعالیٰ کی رضا کے حصول کا بہترین ذریعہ وسبب ہے۔

آفاتِ لسان کی حقیقت
زبان اگرچہ ایک چھوٹا سا لوتھڑا ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والے فتنے نہایت ہی بڑے ہوتے ہیں ،کسی نے کیا خوب کہا:”اللسان جِرمہ صغیرٌ، وجُرمہ کبیر وکثیر․“ یعنی زبان جسم کے اعتبار سے چھوٹی ہے، لیکن اس کا جرم بہت بڑا اور زیادہ ہے۔

عمومی طور پر انسان جب زبان کی مختلف آفتوں کا شکار ہو تو اس کی اہم اور بڑی وجہ اس کا زبان کی حفاظت نہ کرنا ہوتا ہے ۔ آفات لسان کے مختلف اسباب ہیں، مثلاً جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، کسی پر لعن طعن کرنا، سب وشتم کرنا، الزام تراشی وچغلی لگانا، لا یعنی اور فضول قسم کی گپ شپ میں مشغول ہونا، وغیرہ، یہ تمام کے تمام اعمال شنیعہ وافعال رذیلہ کا محل وہ زبان ہے ،جس کی وجہ سے طرح طرح کی آفتوں کو تقویت ملتی ہے او رانسان اس کا شکار ہو جاتا ہے ۔اسی طرح انسان جب کسی دوسرے انسان کو تکلیف یا زخم پہنچاتا ہے تو یا وہ کسی آلہ سے پہنچاتا ہے یا پھر زبان ہی تکلیف یا زخم پہنچانے کے لیے کافی ہوتی ہے، لیکن دونوں قسم کے زخموں میں بڑا فرق ہے، کیوں کہ آلہ وغیرہ سے پہنچائے جانے والا زخم تو مرہم پٹی وغیرہ سے ٹھیک ہوجائے گا ،لیکن زبان سے پہنچائے جانے والے زخم کے لیے کوئی مرہم پٹی نہیں، وہ دل میں جاکر راسخ ہو جاتا ہے اور ہر لمحہ تکلیف دیتا ہے۔

کسی شاعر نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے #
        جراحات السنان لھا التیام
        ولا یلتام ماجرح اللسان
نیزوں کے زخموں کے لیے تو علاج ہے،لیکن زبان جسے مجروح کر دے اس کا کوئی علاج نہیں۔

حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”من یضمن لي مابین لحییہ ومابین رجلیہ، أضمن لہ الجنّة․“(رواہ البخاری) یعنی جو شخص بھی مجھے اپنی زبان او راپنی شرم گاہ کی ضمانت دے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں گا۔

اس حدیث پاک میں زبان کی حفاظت کی اہمیت وضرورت کو واضح طور پربیان کیا گیا ہے اور زبان کی حفاظت پر جنت کی ضمانت خود حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دی ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اپنی زبان پر کنٹرول رکھنا چاہیے، تاکہ دنیا کے فتنوں کے ساتھ ساتھ آخرت کے ابدی فتنوں سے بھی محفوظ رہے۔

حفظ لسان کا طریقہ
انسان کو اپنی زبان کی حفاظت کے لیے سب سے اہم اقدام یہ کرنا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خاموشی کو ترجیح دے، تاکہ زیادہ فتنوں سے محفوظ رہے ،جیسا کہ پیارے حبیب صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے :”من صمت نجا․“(رواہ أحمد والترمذی)

یعنی جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔

اسی طرح زبان کی حفاظت کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان لا یعنی، لغو اور فضول باتوں میں بالکل مشغول نہ ہو، جیسا کہ آپ علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے، فرماتے ہیں :”من حسن إسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ․“ (رواہ مالک وأحمد)

یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی باتوں او رکاموں کو چھوڑ دے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنا او راپنی زبان کا محاسبہ کرے اور حفظ لسان کی ہر ممکن کوشش کرے، تاکہ دنیا وآخرت کی کام یابیاں اس کے قدم چومیں اور فتنوں وشرور سے مکمل آزاد ہو جائے او رجو کچھ انسان بولتا ہے تو وہ سب کچھ محفوظ کیا جاتا ہے، جیسا کہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ما یلفظ من قول إلا لدیہ رقیبٌ عتیدٌ﴾ یعنی جس بات پر بھی انسان تلفظ کرتا ہے تو الله تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ نگہبان فرشتے اسے محفوظ کر دیتے ہیں۔ لہٰذا ہر بات سوچ سمجھ کر کرنی چا ہیے، کیوں کہ جو بات لکھ دی گئی تو اسے مٹایا نہیں جاتا، غیر ضروری باتوں سے بالکلیہ اجتناب کرنا چاہیے، تکلم سے پہلے وہ تمہاری ملک میں ہیں، لیکن جب تکلم کر لیا جائے تو اب وہ تمہاری ملک سے نکل گئیں اور غیر کی ملک ہو جائیں گی ، تمہیں ذلیل اور رسوا کرنے کا باعث ہوں گی یا پھر لوگوں کے دلوں سے تمہاری عزت گرا دیں گی ، کسی بزرگ نے کیا اچھا فرمایا کہ زبان سانپ ہے او راس کا گھر انسان کا منھ ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اس کی حفاظت کرے، کہیں اس کو ڈس نہ لے زبان پر نگاہ رکھنی چاہیے، اس کی کسی بھی جنبش کو آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایک بات جو زبان سے نکلتی ہے وہ انسان کے بلندی درجات کا سبب بھی بنتی ہے اور دوسری بات اس کی ذلت اور رسوائی کے لیے کافی ہوتی ہے ، لہٰذا انسان کی عزت زبان کی حفاظت میں مضمر ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ انسان کو ہر لمحہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ الله تعالیٰ سمیع وبصیر ذات ہے او راس کی ہر حالت کو دیکھتا اور اس کی ہر بات کو سنتا ہے، اس لیے ہر بات سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے اور زبان کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ،تاکہ زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکل جائے جو الله رب العزت کی ناراضگی کا باعث ہو یا کسی دوسرے مسلمان کی اس سے دل آزاری ہوتی ہو۔ اکثر اوقات ذکر الله اور تلاوت کلامِ پاک میں مشغول رہنا چاہیے اوراسے ہر وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ جس ذات نے اندرونی اسرار کو ظاہر کرنے کے لیے زبان دی ہے وہ ان تمام اسرار وباطنی خیالات کو بھی بخوبی جانتا ہے ،اس لیے زبان کو صرف اچھی باتوں کے لیے استعمال کرنا اور مختلف آفتوں سے زبان کی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔






غیبت اور اس سے بچنے کا طریقہ
اللہ جل شانہ وعم نوالہ نے اپنے حبیب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو جن بے شمار صفات سے سرفراز فرمایا ہے ان میں سے تین صفات ”بشیر،نذیر،داعی الیٰ اللہ“ہیں۔

اول کا تعلق اللہ کی اطاعت پر ابھارنے اور فرماں برداری پر انعامات و اعمال صالحہ کے فضائل اور مطیع بندوں کے بہترین انجام اور مقام کو بیان کرنے کے ساتھ ہے تو دوسری صفت کا تعلق نا فرمانیوں اور گناہ سے بچانے اور گناہ کے اثرات بیان کرنے،معصیت کے انجام سے ڈرانے اور نجات دلانے کے ساتھ ہے اور ان دونوں صفات کا اظہاردعوت الیٰ اللہ یعنی اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلانے اور ملانے کے ذریعہ ہوا۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں تو ان کی امت آخری امت ہے۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے طفیل ان صفات سے ان کی امت مرحومہ کو بھی نوازا گیا ہے اور یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس امت کی خیر وبھلائی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:﴿کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للِنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُوْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ﴾․(پارہ نمبر4)

”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے نفع کے لیے بھیجے گئے کہ بھلی باتوں کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔“

دوسری جگہ ارشاد ہے کہ:” تم میں سے ایک جماعت خیر کی طرف بلانے والی ہونی چاہیے، جو بھلائی کا حکم کرے اور برائیوں سے روکے۔“معروف وہ تمام اعمال ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اورمنکر وہ تمام افعال ہیں جن سے روکا گیا اور بچنے کاحکم دیا گیا ہے۔اول کو مامورات و عبادات،نیکی کے کام اور دوسرے کو منہیات وگناہ کہتے ہیں۔

علمائے راسخین نے لکھا ہے کہ جو درجہ احکامات کی بجا آوری کا ہے وہی مرتبہ معاصی ومنہیات سے بچنے کا بھی ہے اور جو حکم اللہ کے بندوں کو اطاعت پر لانے کی کوشش کا ہے۔وہی حکم معاصی وگناہوں سے بچانے کا بھی ہے۔عام طورسے مسلمانوں میں اعمال صالحہ کے فضائل اور ان کے اجروثواب کو خوب بیان کیا جاتا ہے، اپنی جگہ یہ بھی ضروری ہے، لیکن حکمت اور مصلحت کے ساتھ منکرات و معاصی اور ان پر مرتب ہو نے والی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناراضگی کو بیان کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ ناراضگی کے ڈر سے ایمان والا اللہ کریم کی نافرمانی سے بچے۔

اسی لگن وکڑھن و فریضہ کی نیت سے اپنے تمام مسلمان بھائیوں اوربہنوں کی خدمت میں ان سطور میں ایک ایسے گناہ کا تذکرہ کرنا ہے جس میں ابتلا اور رواج ہمارے معاشرے میں خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس کو گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا جب کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور عام طور سے اس سے بے تو جہی ہے۔اللہ کریم ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔

وہ گناہ کبیرہ مسلمان کی غیبت و آبروریزی ہے اور (بدظنی، بدگمانی)۔

برکة العصرکة قطب الاقطابشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ نے فضائل ماہ رمضان کی فصل اول میں بہت ہی درد بھرے الفاظ میں قلبی کڑھن و بے چینی کو اس طرح بیان فرمایا ہے:

”ہم لو گ اس سے بہت ہی غافل ہیں۔عوام کا ذکر نہیں، خواص مبتلا ہیں۔ان لوگوں کو چھوڑ کر، جو دنیادار کہلاتے ہیں،دین داروں کی مجالس بھی بالعموم اس سے کم خالی ہوتی ہیں ۔اگر اپنے یا کسی کے دل میں کچھ کھٹک بھی پیدا ہو جائے تو ا س پر اظہارِ واقعہ اور بیانِ حقیقت کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔

ہم اپنی محفلوں ،مجلسوں اور گفتگو پر جب نظر ڈالیں گے تو پھر ہی اندازہ ہو گا کیا کما کر اور گنوا کراٹھتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس گناہ کبیرہ کی نفرت نصیب فرمایا کر چھوڑنے،بچنے کی توفیق عطا فرمائیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سود کے علاوہ اتنے سخت الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔نبی کریم رحمةللعالمین صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس معصیت پر بڑی سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضاً اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ﴾یعنی ”ایک دوسرے کی غیبت مت کرو (کیوں کہ یہ ایسابرا عمل ہے جیسے اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا)کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے؟تم اس کو برا سمجھتے ہو“لہٰذا جب اس عمل کو برا سمجھتے ہو تو غیبت کو بھی برا سمجھو۔

سنن ابی داؤد کی ایک حدیث میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ”سود بہت بڑا گناہ ہے۔بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے، اس گناہ کا ادنی درجہ یہ ہے کہ ”العیاذباللہ“ جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا (بدکاری) کرے“ پھر فرمایا کہ سب سے بدترین سودیہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی آبرو (عزت) پر حملہ کرے۔ ایک حدیث میں فرمایا کہ”غیبت کا گناہ زنا کے گناہ سے بھی بد تر ہے(کیوں کہ زنا کو گناہ سمجھا جاتا ہے لیکن غیبت کو گناہ نہیں سمجھا جاتا، جیسا کہ عام مشاہدہ ہے)۔“

غیبت کی تعریف
ہمارے حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیاہے کہ”ایک صحابینے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہے؟نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”ذکرک اخاک بما یکرہ“ کسی کی پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں ایسی بات کرنی جو اسے نا گوار ہو۔سائل نے پوچھا”ان کان فی اخی ما اقول؟“اگر اس میں واقعةًوہ بات موجود ہو جو کہی گئی ہے؟حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب ہی تو غیبت ہے۔اگر واقعةًموجود نہ ہو تب تو بہتان ہے اور یہ دوہرا گناہ ہے۔

غیبت گنا ہ کبیرہ!
علمائے امت نے تحریر فرمایا ہے جس طرح شراب پینا،ڈاکہ ڈالنا ،خنزیرکا گوشت کھانا گناہ کبیرہ ہیں، یہ غیبت بھی اسی طرح، بلکہ اس سے سخت گناہ اور قطعی حرام ہے۔کیو ں کہ بولنے والا اور سننے والا دونوں ہی شریک ہوتے ہیں اور معاشرے پر اس کے اثرات متعدی ہوتے ہیں اور کئی گناہ(بد گمانی،تہمت،چغلی، بہتان)وجود میں آتے ہیں ۔

غیبت کر نیوالوں کا انجام !
سنن ابی داؤد میں حضرت انس  سے مروی ہے۔”قَالَ رسول اللّٰہ صلی الله علیہ وسلم: لما عرج بی مررت بقوم لھم اظفار من نحاس، یخمشون بھا وجوھھم و صدورھم، فقلت:من ھوٴلآء یا جبریل؟قال: ھوٴلآء الذین یأکلون الناس، ویقعون فی أعراضھم“․ (کتاب الادب،باب الغیبة)

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”جب مجھے معراج کرائی گئی تو وہاں میرا گذر ایسے لوگوں پر ہوا جو اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے وسینے کو نوچ رہے تھے۔میں نے حضرت جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے بتایا کہ یہ ”وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے(غیبت کرتے تھے)اورلوگوں کی عزت وآبرووٴں پر حملے کیاکرتے تھے۔“اللہ جل شانہ ہماری حفاظت فرمائیں۔

ایک حدیث پاک میں ہے کہ غیبت کرنے والوں کو پل صراط کے اوپر جانے سے روک دیا جائے گااور کہا جائے گا کہ تم آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک اس غیبت کا کفارہ ادا نہ کردو گے، یعنی جن کی غیبت کی ہے ان سے معافی نہ مانگ لو اور وہ تمہیں معاف نہ کردیں،اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔

دو اہم واقعے
ہمارے حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ نے نقل فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عورتوں نے روزہ رکھا۔روزے میں اس شدت سے بھوک لگی کہ ناقابل برداشت بن گئی،ہلاکت کے قریب پہنچ گئیں۔صحابہ کرام  نے دریافت کیا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجا اور قے کرنے کا حکم فرمایا۔ دونوں نے قے کی تو تازہ کھایا ہوا خون اور گوشت کے ٹکڑے نکلے۔صحابہ کرام  کی حیرت پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال روزی سے تو روزہ رکھا اور حرام چیزوں کو کھایا کہ لوگوں کی غیبت میں مشغول رہیں۔

دوسرا اہم واقعہ
بندہ نے اپنے بڑوں سے سنا کہ ایک مرتبہ حضرت لقمان حکیم نے اپنے خادم وغلام کو جانور ذبح کرنے کا حکم فرمایا اور کہا کہ سب سے عمدہ اور بہترین حصہ لے کر آوٴ،وہ زبان اور جگر لایا،دوسرے دن پھر ذبح کرنے کا حکم دے کر کہا کہ آج سب سے خراب گوشت کا حصہ لانا۔چناں چہ اس نے دوسرے دن بھی زبان و جگرہی پیش کیا،جس پر تعجب ہوا اور دریافت فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کہ ایک ہی چیز عمدہ وطیب بھی اور خراب و خبیث بھی؟اس نے دست بستہ عرض کیا کہ حضرت! اگر یہ صحیح ہے تو تمام بدن و اعمال صحیح اور اگر یہ خراب تو پھر سب کچھ خراب ہے۔

عبرت ناک خواب
حضرت ربعی رحمةاللہ علیہ ایک تابعی ہیں ،وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ بیٹھے ہوئے باتیں کررہے ہیں ،میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا،دوران گفتگو غیبت شروع ہو گئی،مجھے یہ بہت ناگوار ہوا اورمیں اٹھ کر چلا گیا،تھوڑی دیر بعد خیال آیا کہ غیبت کا موضوع ختم ہو گیا ہو گا، چناں چہ واپس آکر بیٹھ گیا پھر تھوڑی دیر مختلف باتیں ہوتی رہیں،اس کے بعد غیبت کا سلسلہ شروع ہو گیا،اب میری ہمت کمزور پڑگئی اور میں اٹھ کرنہ جا سکا۔

ان لوگوں کی غیبت پہلے تو میں سنتارہا اور پھر میں نے بھی غیبت میں ایک دو جملے کہہ دیے۔جب اس مجلس سے اٹھ کر گھر آگیا اور رات کو سویا تو خواب دیکھا ”انتہائی سیاہ فام(حبشی)آدمی ایک بڑے طشت میں میرے پاس گوشت لایا، غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے اور سیاہ فام آدمی مجھے یہ گوشت کھانے کو کہہ رہا ہے کہ کھاوٴ! یہ خنزیر کا گوشت۔میں نے کہا کہ میں تو مسلمان آدمی ہوں،یہ گوشت ناپاک حرام ہے، کیسے کھاوٴں؟اس نے کہا کہ تمہیں کھانا پڑے گا اور وہ ٹکڑے اٹھا، اٹھا کر زبردستی میرے منہ میں ٹھونسنے شروع کردیے۔میں منع کررہا ہوں اور وہ ٹھونس رہا ہے۔اسی شدید اذیت وتکلیف میں آنکھ کھل گئی۔

بیدار ہونے کے بعد سے تیس دن تک میرایہ حال رہا کہ جب بھی کھانے کے وقت کھانا کھاتا تو خنزیر کا گوشت بدترین ،بدبودار ،خراب وہی ذائقہ، جو خواب میں کھاتے ہوئے محسوس ہوا تھا، میرے کھانے میں شامل ہو جاتا، اس واقعہ اور خواب کے ذریعہ اللہ کریم نے مجھے متنبہ کردیا کہ ذراسی دیر جو میں نے غیبت کی تھی اس کا یہ اثر ہے کہ تیس دن تک براذائقہ برداشت کرنا پڑا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔آمین۔

غیبت کا تعلق اللہ جل شانہ کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ اللہ کے بندوں کی حق تلفی سیبھی ہے، یہی وجہ کہ اللہ تعالیٰ شانہ اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بہت ہی سخت الفاظ کے ذریعہ اس کی حرمت کو بیان کیا ہے۔یہ بات بھی اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مردوعورت،امیر،غریب،مالک،مزدور،استادو شاگرد، والدین، میاں بیوی میں کوئی فرق نہیں ہے۔غیبت جس طرح زبان سے ہوتی ہے اسی طرح ہاتھ،آنکھ کے اشاروں سے بھی ہوتی ہے۔غیبت کا دنیا میں بدترین اثریہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قلوب میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اللہ کی رحمت سے محرومی ہو جاتی ہے۔آپس کی محبتیں ختم ہو جاتی ہیں اور دیگر کئی گناہ وجود میں آتے ہیں، ہم کو اس طرف بہت ہی توجہ کرنی چاہیے کہ ابتلائے عام ہے۔اس طرف بھی توجہ کریں کہ ماتحتوں،ملازمین،گھر میں کام کرنے والیوں کی کوتاہی پر برا بھلا کہنے کے بجائے دعائیہ جملے کہہ دیا کریں۔مثلاً اللہ تم کو ہدایت دے،اللہ تمہیں جنت میں لے جائے،اللہ تم کو نیک بخت کرے۔

غیبت کا کفارہ
ہم مسلمانوں کو کسی بھی حال میں نا امید نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم کو رحمةللعالمین،ایمان والوں پر انتہائی مہربان بنایا ہے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تمام گناہوں سے بچنے،بالخصوص غیبت سے چھٹکارا پانے اور تلافی کا طریقہ بھی اپنی امت کو تعلیم فرمایا۔

(الف)مندرجہ ذیل دعا خوب اہتمام سے اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے۔
”اللہم، انی اتخذ عندک عھداً لن تخلفنیہ، فانما انا بشر، فایما رجل موٴمن اٰذیتہ، او شتمتہ، او لعنتہ، او جلدتہ، او ضربتہ، او غبتہ، او ظننتہ سوءً فاجعلھا لہ صلٰوة و زکٰوةً، تقربہ بھا الیک“․

(ب)ہر مجلس کے اختتام پر مجلس کے کفارہ والی دعا اہتمام سے پڑھی جائے۔سبحانک اللہم وبحمدک، نشھد ان لا الہ الا انت، نستغفرک، ونتوب الیک۔دوسری دعا۔سبحان ربک رب العزت عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمدللہ رب العالمین․

(ج)جس مسلمان کی غیبت کی ہے اس سے معافی مانگی جائے۔اگر معافی مانگنا ممکن نہ ہو تو خوب ایصال ثواب کیا جائے۔

(د)خود غیبت سے بچنے کی کوشش کریں کہ ہر مجلس کے بعد چند لمحوں کے لیے سوچیں کہ غیبت تو نہیں ہوئی۔

(ھ)کوئی غیبت کررہا ہے تو پیار محبت سے اس کو منع کریں یا خود اس مجلس سے اٹھ کر چلے جائیں۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:”فوالذی نفسی بیدہ لا یوٴمن احدکم حتٰی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ“․
”تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوگا جب تک تم اپنے بھائی(دوسرے مسلمان)کے لیے وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے کرتے ہو۔“

جب ہم اپنے لیے پسند نہیں کرتے کہ کوئی ہماری غیبت کرے تو ہم بھی دوسرے کی غیبت نہ کریں۔

مضمون کی مناسبت سے باتیں تو اور بھی ذہن میں آرہی ہیں، لیکن فی الحال حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ واعلی اللہ مراتبہ کی دعا پر اسی قد پر اکتفا کرتاہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اس بلا(گناہ)سے محفوظ فرمائیں اور بزرگوں،دوستوں(مخلصین،قارئین)کی دعا سے مجھ ناکارہ وسیہ کار کو بھی غیبت سے محفوظ فرمائیں کہ بندہ باطنی امراض میں کثرت سے مبتلا ہے۔
        کبر و نخوت، جہل وغفلت، حقد وکینہ
        کون سی بیماری ہے یارب جو مجھ سے نھیں ہوئی
        کذب وبد عہدی، ریا وبغض وغیبت دشمنی
        عَافِنِیْ مِنْ کُُلِّ دَاءٍ وَاقْضِ عَنِّیْ حَاجَتَِی
        اِنَّ لِیْ قَلْبًا سَقِیْمًا اَنْتَ شَافٍ لِّلْعَلِیْلِ
ربنا تقبل منا انک انت السمیعُ العلیم، وتب علینا، انک انت التواب الرحیم.





وعدہ خلافی ہمارے سماج میں!
الله تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے آخرت کا نظام یہ رکھا ہے کہ چیزوں کامہیا ہونا انسان کی خواہشات کے تابع ہو گا، انسان جو چاہے گا فوراً اس کے لیے وہ چیز فراہم ہو جائے گی :﴿ ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون﴾․ ( حم السجدہ:31)

لیکن دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے ، یہاں انسان ایک چیز کی خواہش کرتا ہے ، لیکن وہ اسے بر وقت پورا نہیں کر سکتا، وہ ایک چیز کا ضرورت مند ہوتا ہے، لیکن وہ چیز اسے بر وقت مہیا نہیں ہوتی ، اسی لیے انسان ایک دوسرے سے لین دین کا محتاج ہوتا ہے ، اس لین دین میں اکثر عہد وپیمان کی نوبت آتی ہے ، اس لیے شاید ہی کوئی انسان ہو جس کو زندگی کے مختلف مراحل میں خود وعدہ کرنے یا دوسروں کے وعدہ پر بھروسہ کرنے کی نوبت نہ آتی ہو ، وعدہ کرنے والے پر دوسرا شخص بھروسہ اور اعتماد کرتا ہے او ربعض دفعہ اس اعتماد پر خود بہت سے معاملات طے کر گزرتا ہے ، اس لیے وعدہ کی بڑی اہمیت ہے۔

اس لیے اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور عہد شکنی کی مذمت کی گئی ہے، الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: عہد کو پورا کرو، کیوں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہو گا:﴿ اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولاً﴾․ ( بنی اسرائیل:34)

قرآن نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے ، جو وعدہ کو پورا کیا کرتے ہوں۔ ( البقرة:22)

ایک او رموقع پر بھی ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اپنے وعد ہ کا پاس ولحاظ رکھتے ہوں، ﴿ والذین ھم لا مٰنٰتھم وعھدھم راعون﴾․ (مومنون:8)

خود الله تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا بار بار ذکر فرمایا ہے کہ الله تعالیٰ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔﴿ ولن یخلف الله وعدہ﴾․ (الحج:6)

الله کے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا گیا کہ وہ وعدہ کے سچے تھے:﴿إنہ کان صادق الوعد﴾․ ( مریم:54)

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی ایفائے عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی برائی کو بیان فرمایا ہے، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں تین باتیں پائی جاتی ہوں وہ منافق ہے ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اگر امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔ ( بخاری حدیث نمبر:33)

نفاق کفر کی ایک قسم ہے اور وعدہ خلافی کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے نفاق قرار دیا ہے، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وعدہ خلافی کس قدر مذموم بات ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعہ ایفائے عہد کی ایسی مثال قائم کی ہے کہ اس کی نظیر ملنی دشوار ہے۔ عبدالله بن ابی الحمساء سے مروی ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ صلی الله علیہ وسلم سے خرید وفروخت کی، آپ کی کچھ چیز باقی رہ گئی ، میں نے وعدہ کیا کہ میں یہ چیزیں یہاں لے کر آتا ہوں ، میں بھول گیا، یہاں تک کہ آج اور کل کا دن گزر گیا، تیسرے دن میں حاضر ہوا تو آپ اسی جگہ پر تھے ،آپ صلی الله علیہ وسلم نے صرف اس قدر فرمایا: تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا، میں یہاں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ ( ابوداؤد، حدیث نمبر4996)

وعدہ کی پابندی اور ایفاءِ عہد کا یہی سبق آپ صلی الله علیہ وسلم سے آپ کے رفقاء نے پڑھا او راپنی عملی زندگی میں اسے برت کر دکھایا، چناں چہ حضرت عبدالله بن عمر کی وفات کا وقت آیا، تو فرمایا کہ قریش کے ایک شخص نے میری بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دیا تھا اور میں نے اس سے کچھ ایسی بات کہی تھی جو وعدہ سے ملتی جلتی ہے، تو میں ایک تہائی نفاق یعنی نفاق کی تین میں سے ایک علامت کے ساتھ الله سے ملنا نہیں چاہتا، اس لیے میں تم لوگوں کو گواہ بناتاہوں کہ میں نے اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا۔ ( احیاء العلوم:132/3)

ان واقعات سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی نگاہ میں وعدہ کو پورا کرنے کی کس قدر اہمیت تھی! دوست ہو یا دشمن، اپنا ہو یا بیگانہ او رمسلمان ہو یا غیر مسلم ، ہر ایک کے ساتھ عہد کی پابندی ضروری ہے، رسول الله صلی الله علہی وسلم صلح حدیبیہ سے جوں ہی فارغ ہوئے حضرت ابوجندل رضی الله عنہ خون میں لہولہان او رپاؤں میں بیڑیاں لگی ہوئی تشریف لے آئے اور مسلمانوں سے عرض کناں ہوئے کہ انہیں مدینہ لے جایا جائے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اہل مکہ کو راضی کرنے کی کوشش کی ، کہ اس دفعہ سے، جو مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ جانے والوں کو واپس کرنے کے سلسلہ میں ہے ، حضرت ابو جندل رضی الله عنہ کو مستثنیٰ رکھا جائے ، لیکن اہل مکہ نے نہیں مانا، چناں چہ بالآخر آپ نے انہیں واپس فرمادیا، اسی طرح غیر مسلم قبائل سے آپ کے معاہدات ہوئے، آپ نے ان معاہدات کا پورا خیال رکھا، بلکہ بعض دفعہ مخالفین کی عہد شکنی کو برداشت کرتے ہوئے بھی آپ اپنے عہد پر قائم رہے۔

افسوس کہ اخلاقی انحطاط اور پستی کی وجہ سے آج سماج میں وعدہ خلافی کی نوع بہ نوع صورتیں مروج ہو گئی ہیں اور لوگوں کے ذہن میں اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی، عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض وغیرہ کے لین دین ہی سے وعدہ کا تعلق ہے ، حالاں کہ ہم زندگی کے تمام مراحل میں عہد وپیماں سے گزرتے ہیں، معاملات جتنے بھی ہیں ، نکاح، خرید وفروخت، شرکت اور پارٹنر شپ، دو طرفہ وعدہ ہی سے عبارت ہے ، اسی لیے معاملات کو عقد کہا جاتا ہے، عقد کے معنی دو طرفہ وعدہ او رمعاہدہ کے ہیں ، الله تعالیٰ نے ایک سے زیادہ مواقع پر ایفائے عقود کی طرف متوجہ فرمایا ہے :﴿واوفوا بالعقود﴾ ․ (المائدہ:1)

نکاح کے ذریعہ مرد عورت کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کے اخراجات کی ادائیگی کا عہد کرتا ہے اور عورت جائز باتوں میں شوہر کی فرماں برداری کا وعدہ کرتی ہے ، لہٰذا اگر شوہر بیوی کے ساتھ حق تلفی کرے یا بیوی شوہر کے ساتھ حکم عدولی تو نہ صرف حق تلفی اور عدول حکمی کا گناہ ہو گا، بلکہ وہ وعدہ خلافی کے بھی گناہ گارہوں گے ، بیچنے والا گاہک سے مال کے صحیح ہونے اور قیمت کے مناسب ہونے کا وعدہ کرتا ہے ، اگر وہ گاہک سے عیب چھپا کر سامان بیچے یا قیمت میں معمول سے زیادہ نفع وصول کر لے اور گاہک کوجتائے کہ اس نے معمولی نفع پر سامان فروخت کیا ہے تو یہ عقد تجارت کے ذریعہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ جو عہد کرتے ہیں ، اس کی خلاف ورزی ہے۔

جب آپ کہیں ملازمت کرتے ہیں تو سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ میں جو اوقات کار متعین ہوں، آپ ان اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا عہد کرتے ہیں، اگر آپ ان اوقات کی پابندی نہ کریں، دیر سے دفتر پہنچیں، پہلے دفتر سے نکل جائیں یا درمیان میں دفتر چھوڑ دیں، یا دفتر کے اوقات میں مفوضہ کاموں کو انجام دینے کے بجائے اپنے ذاتی کام کرنے لگیں ، تو یہ بھی وعدہ کی خلاف ورزی میں شامل ہے ، بعض شعبوں میں ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے کہ وہ پرائیوٹ طور پر کوئی اور کام نہ کریں ، خاص کر میڈیکل شعبہ میں گورنمنٹ چاہتی ہے کہ ڈاکٹر کی پوری صلاحیت سرکاری دواخانے میں آنے والے مریضوں پر خرچ ہو ، کیوں کہ انسان کی قوت کار محدود ہے اورجو شخص ہسپتال میں آنے سے پہلے اپنی قوت ڈھیر سارے مریضوں کو دیکھنے پر صرف کر چکا ہو، یقینا اب جو مریض اس کے سامنے آئیں گے ، وہ کماحقہ ان کی تشخیص نہیں کرسکے گا، اب اگر کوئی شخص گورنمنٹ سے الاؤنس بھی حاصل کرے اور نجی کلینک اور نرسنگ ہوم بھی چلائے تو یہ وعدہ خلافی ہی کے زمرے میں آئے گا اور یہ بات تو ستم بالائیستم ہو گی کہ جب کوئی مریض سرکاری دواخانہ میں آئے تو معالج اس سے ایسی بے اعتنائی برتے ، کہ وہ اس کے پرائیوٹ دواخانہ سے رجوع ہونے پر مجبور ہو جائے، یہ وعدہ خلافی کے ساتھ ساتھ عوام پر کھلا ہوا ظلم بھی ہے۔

آج کل بعض سواریوں کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے میٹر لگے ہوئے ہیں، اس میٹر میں فریقین کی رعایت ملحوظ ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ پسنجر کی مجبوری اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے ، میٹر سے زیادہ پیسے طلب کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی وعدہ خلافی کے زمرہ میں داخل ہے، کیوں کہ گورنمنٹ کا ٹیکس لائسنس ٹیکس کے قواعد وضوابط کے ساتھ مربوط ہے، گویا لائسنس لینے والا اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ گورنمنٹ کی ہدایت کے مطابق ہی پیسے وصول کرے گا، لوگوں کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے زائدپیسوں کا طلب گار ہونا اس عہد کی خلاف ورزی ہے۔

وعدہ کا تعلق ہماری تقریبات، جلسوں اور دعوتوں سے بھی ہے ، مثلاً دعوت نامہ میں لکھا گیا ہے کہ نکاح عصر کے بعد ہو گا، لیکن جب تقریب میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ نوشہ صاحب اپنی شانِ خاص کے ساتھ عشاء کے بعد تشریف لائے، دعوت نامہ میں لکھا گیا کہ طعام ولیمہ8 بجے شب میں ہے ، لیکن حقیقی معنوں میں دعوت کی ابتدا دس بجے شب سے ہوئی۔ کیا یہ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ غور کیجیے کہ لوگ ایسی تقریبات میں شرکت اپنے تعلقات کی پاس داری میں کرتے ہیں، کسی کے یہاں بیماری ہے ، کوئی خود بیمار ہے ،کسی نے تقریب کے وقت کے لحاظ سے آئندہ پروگرام بنا رکھا ہے ، ایسے مواقع پر یہ تاخیر اس کے لیے کس قدر گراں گزرتی ہے آکر واپس ہونے میں میزبان کی ناگواری کا اندیشہ او رانتظار کرنے میں دوسرے پروگرام متاثر!

افسوس کہ دینی جلسوں اور پروگراموں میں بھی ہم اس کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتے، اعلان ہوا کہ نمازِ عشا کے فوراً بعدجلسہ شروع ہو گا، لیکن عملاً مزید دو گھنٹہ تاخیر سے جلسہ کا آغاز ہوا، دعوت نامے میں صبح 9 بجے سے جلسہ کا اعلان کیا گیا ، لیکن جلسہ کا آغاز ہی11 بجے کے بعد ہوا، یہ وعدہ خلافی بھی ہے اوروقت کی ناقدری بھی، کچھ یہی حال بعض مقررین کا ہوتا ہے ، مقرر صاحب کو وقت 20 منٹ کا دیا گیا، لیکن جب مائک ان کے ہاتھ میں آیا تو انہیں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ اس پروگرام میں ان کے سوا کسی اور کو تقریر کا حق نہیں اور اس طرح دوسرے مقررین کے لیے یا تو وقت نہیں بچا، یا سامعین کے صبر کا امتحان ہوتا رہا، حالاں کہ اسلام نے تمام عبادتوں کو وقت کے ساتھ مربوط رکھا ہے، نماز کے لیے اوقات مقرر ہیں، وقت گزر جائے تو نماز قضا ہو جائے گی ، وقت سے پہلے پڑھ لی جائے تو نماز ادا ہی نہ ہو گی ، روزہ بھی وقت سے متعلق ہے ، دو منٹ پہلے افطا رکر لے تو روزہ درست نہیں ہو گا، دو منٹ بعد سحری کھائیں تب بھی روزہ فاسد ہو جائے گا، حج بھی پانچ مقررہ ایام میں کیا جاتا ہے اور حج کے تمام افعال کے لیے ایام واوقات مقرر ہیں، زکوٰة کا تعلق بھی مال پر سال گزرنے سے ہے ، عجیب بات ہے کہ جس دین میں وقت کا اتنا پاس ولحاظ ہو ، اسی دین کے ماننے والوں میں وقت کی اس درجہ ناقدری او رناحق شناسی !یہ سب باتیں وعدہ خلافی میں داخل ہیں!

ہم جب کسی ملک کی شہریت اختیار کریں تو یہ اس ملک کے قوانین پر عمل کرنے کا عہد کرنا ہے ، لہٰذا جب تک وہ قوانین اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ ہو ں یا صریحاً ظلم پر مبنی نہ ہو ان قوانین کا پابند رہنا ہم پر واجب ہے اور ان کی رعایت نہ کرنا ملک کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے غرض، سماجی زندگی میں ہم ہر جگہ ایک عہد کے پابند ہیں ، بعض عہد ہم اپنی زبان سے کرتے ہیں، بعض عہد ملک کے شہری ہونے کے لحاظ سے از خود ہم سے متعلق ہو جاتا ہے ، بعض عہد کسی معاملہ کی وجہ سے شرعاً ہمارے ذمہ ہوتا ہے او ربعض سماج کے عرف ورواج کی بنیاد پر بھی ہمارے لیے واجب العمل ہوتا ہے، ہم پر ان سب کی پاس داری ضروری ہے ، مگر زندگی کے کتنے ہی مراحل میں ہم اپنے عہد وپیمان توڑتے ہیں اور وعدے وفا نہیں کرتے ،اس پر دقت نظر کے ساتھ غور کرنے اوروعدہ خلافی وبدعہدی کے گناہ سے بچنے کی ضرورت ہے۔


No comments:

Post a Comment