Sunday, 10 April 2016

نیک وبد صحبت ودوستی کے اثرات


يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ    [سورة التوبة:119]
اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور رہو ساتھ سچوں کے۔


سابقہ آیات میں جو واقعہ تخلف عن الجہاد کا بعض مخلصین سے پیش آیا پھر ان کی توبہ قبول ہوئی یہ سب نتیجہ ان کے تقوٰی اور خوف خدا کا تھا، اس لئے اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوٰی کیلئے ہدایت فرمائی گئی، اور كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفت تقوٰی حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے اس میں شاید یہ اشارہ بھی ہو کہ جن حضرات سے یہ لغزش ہوئی اس میں منافقین کی صحبت مجالست اور ان کے مشورہ کو بھی دخل تھا، اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہئے اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے، اس جگہ قرآن حکیم نے علماء صلحاء کے بجائے صادقین کا لفظ اختیار فرما کر عالم و صالح کی پہچان بھی بتلا دی ہے کہ صالح صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، نیت و ارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو، عمل کا بھی سچا ہو۔





حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ سَالِمٌ ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا ، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
[جامع الترمذي » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب مَا جَاءَ فِي صُحْبَةِ الْمُؤْمِنِ ۔۔۔ رقم الحديث: 2331(2395)]
حضرت ابوسعیدؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سوائے مومن آدمی کے کسی کی صحبت مت اختیار کر اور تیرا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی نہ کھائے۔ 









عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ؟ قَالَ: «مَنْ ذَكَّرَكُمْ بِاللَّهِ رُؤْيتَهُ، وَزَادَ فِي عِلْمِكُمْ مَنْطِقَهُ، وَذَكَّرَكُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ»
[إتحاف الخيرة المهرة:6059 ، هَذَا إِسْنَادٌ رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ.]
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ہم جن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان میں سب سے اچھا شخص کون ہے؟ فرمایا۔: جس کے دیدار سے تمہیں اللہ یاد آئے، جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے، اور جس کا عمل تمہیں آخرت یاد دلائے۔
[المنتخب من مسند عبد بن حميد:631، مسند أبي يعلى الموصلي:2437أمالي ابن سمعون الواعظ:111، جامع بيان العلم وفضله:815، الأحاديث المختارة:209+210، شعب الإيمان للبيهقي:9446، المطالب العالية:3246،]



حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي فَرْوَةَ , عَنْ أَبِي خَلَّادٍ , وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ أُعْطِيَ زُهْدًا فِي الدُّنْيَا , وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ , فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يُلْقِي الْحِكْمَةَ " .
[سنن ابن ماجه » كِتَاب الزُّهْدِ » بَاب الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا ... رقم الحديث: 4099(4101)]
صحابئی رسول حضرت ابوخلادؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ کسی آدمی کو کہ دنیا میں اس کو رغبت نہیں ہے اور وہ شخص کم گو بھی ہے تو اس کی صحبت میں رہو حکمت اس کے دل پر ڈالی جائے گی۔ 
[حديث أبى خلاد: أخرجه ابن ماجه (2/1373، رقم 4101) ، وابن سعد (6/65) ، والطبرانى (22/392، رقم 975) ، وأبو نعيم فى الحلية (10/405) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (7/346، رقم 10529) ، وابن عساكر (53/96) .
حديث أبى هريرة: أخرجه الطبرانى كما فى مجمع الزوائد (10/302) قال الهيثمى: فيه أحمد بن طاهر بن حرملة، وهو كذاب. وأخرجه أبو نعيم فى الحلية من طريق الطبرانى (7/317) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (4/254، رقم 4985) .
حديث عبد الله بن جعفر: أخرجه أبو يعلى (12/175 رقم 6803) . قال الهيثمى (10/286) : فيه عمر بن هارون البلخى وهو متروك.]



عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: ۔۔۔ أَكْثِرُوا ذِكْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَصْحَبَ أَحَدًا، إِلَّا مَنْ أَعَانَكَ عَلَى ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَل۔[شعب الإيمان:8998، بيهقي:5880]




دوست کیسا ہونا چاہیے
اسلام میں یہود، مشرکین او رعیسائیوں سے دوستی کی ممانعت ہے۔ اس لیے اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیشہ نیک اور صالح لوگوں کو ہی دوست بنایا جائے۔ دوستی رکھنے میں اس بات کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے کہ جن لوگوں سے قلبی تعلق بڑھایا جارہا ہے وہ دین اور اخلاق کے اعتبار سے آپ کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے ہر آدمی کو غور کر لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ (مشکوٰة شریف)

دوست کے دین پر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جب وہ دوست کی صحبت میں بیٹھے گا تو وہی جذبات اور خیالات اور وہی ذوق اور رحجان اس میں بھی پیدا ہو گا جو دوست میں ہے اور پسند اور ناپسند کا وہی معیار اس کا بھی بنے گا جو اس کے دوست کا ہے، اس لیے دوست کے انتخاب میں نہایت غور وفکر سے کام لینا چاہیے اور قلبی لگاؤ اس سے بڑھانا چاہیے جس کا ذوق اور رحجان، افکار وخیالات دین اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے تاکید فرمائی کہ مؤمن ہی سے رشتہ محبت استوار کرو اور اس کے ساتھ اپنا کھانا پینا رکھو۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے مؤمن ہی کی صحبت میں رہو اور تمہارے دستر خوان پر پرہیز گار ہی کھانا کھائے۔

حضرت سعید بن المُسیب نے حضرت عمر کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ اچھے اور سچے دوست بناؤ، ان کے سائے میں زندگی کے دن گزارو کہ وہ عیش کے وقت زینت اور مصیبت کے وقت سراپا مددہیں، جب بھی تم اپنے دوست کے متعلق بری خبر سنو تو اس کی بہتر تاویل کیا کرو ، مگر یہ کہ تمہیں اس کی برائی کا یقین ہو جائے، اپنے دشمن سے دور رہو، اس دوست سے بھی بچو جو امین نہ ہو اور امین صرف وہی شخص ہے جو الله سے ڈرے، بد کار کی صحبت سے گریز کرو، ورنہ تم اس کی بد کاری سیکھ جاؤ گے، اسے اپنا راز دار مت بناؤ، مشورہ صرف ان لوگوں سے کرو جو الله سے ڈرتے ہوں۔

مخلصانہ دوستی کے اصول
دوستانہ تعلقات کو زیادہ سے زیادہ استوار اور نتیجہ خیز بنانے اور دوستوں سے قریب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ دوستوں کے شخصی اور ذاتی معاملات میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لیں اور ان سے اپنے قریبی اور خصوصی تعلق کا اظہار کریں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

جب آدمی دوسرے سے دوستی اور اخوت کا رشتہ جوڑے تو اس سے اس کا نام، اس کے باپ کا نام اور اس کے خاندان کے حالات معلوم کرے اس سے باہمی محبت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ (ترمذی)

دوستوں کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا سلوک اس مقدس رشتے کو مزید مستحکم بناتا ہے۔ دوست کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ آپ اس کو اخلاقی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ اونچا اٹھانے کی کوشش کریں اور اس کی دنیا بنانے سے زیادہ اس کی آخرت بنانے کی کوشش کریں، خیر خواہی کا اصل معیار یہ ہے کہ آپ اپنے دوست کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہوں۔ اس لیے کہ آدمی اپنا برا کبھی نہیں چاہتا، دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونا بھی اچھی اور مخلصانہ دوستی کا ایک (اہم) بہت بڑا وصف ہے۔ ہر دوست اپنے محبین سے بجاطور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کے دوست اس کی خوشیوں میں اضافہ کریں اور اس کی اجتماعی تقریبات کی زینت اور رونق بڑھائیں۔ دوستوں سے خوش دلی، نرم روئی اور صدق اور اخلاص سے ملیے اور نہایت توجہ اور خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کیجیے۔ لاپروائی، بے نیازی اور روکھے پن سے پرہیز کیجیے اور افسردہ رہنے اور افسردہ کرنے سے بھی پرہیز کیجیے۔ کیوں کہ یہ دلوں میں کدورت پیدا کرنے والی اور دلوں کو پھاڑنے والی برائیاں ہیں۔ ملاقات کے وقت ہمیشہ مسرت، اطمینان اور شکر وحمد کے کلمات کہیے۔ یاس وحزن اور مردہ دلی کے کلمات ہر گز زبان پر نہ لائیے۔ ملاقات کے وقت ایسا انداز اختیار کیجیے کہ آپ کے دوست خوشی اور زندگی محسوس کریں۔ ایسے افسردہ چہرے سے اس کا استبقال نہ کیجیے کہ ان کا دل بجھ جائے اور آپ کی ملاقات کو وبال جان سمجھنے لگیں۔

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”نیکیوں میں کسی نیکی کو حقیر نہ جانو، چاہے وہ اتنی ہی ہو کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو۔“

او رایک موقع پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” اپنے بھائی کو دیکھ کر تمہارا مسکرا دینا بھی صدقہ ہے۔“ یاد رکھیے کہ نرم خوئی، خوش اخلاقی اور نرمی سے ہی دلوں میں الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے اور انہی صفات کی بدولت اچھا معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں ” میں تمہیں اس آدمی کی پہچان بتاتا ہوں جس پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ اور وہ آگ پر حرام ہیں، یہ وہ آدمی ہے جو نرم مزاج ہو، نرم طبیعت ہو او رنرم خو ہو۔“ (ترمذی)

مخلص دوست زندگی کی سب سے بڑی نعمت 
اپنی سوسائٹی اور دوستوں کے انتخاب میں محتاط رہیں، کیوں کہ ان کا آپ کے خیالات پر بالواسطہ او رمخفی طور سے اثر پڑتا ہے۔ برائیوں سے بھرے لوگوں، غیر مہذب دل والے لوگوں اور مادہ پرست نکتہ نظر رکھنے والے لوگوں کی سوسائٹی سے بچیں، کچھ گنے چنے ایسے دوست رکھیں، جن کو آپ طویل عرصے پرکھ چکے ہوں اور جن سے آپ کا دل ملتا ہو۔ ایک سے دوستی کرنے کے بعد ان سے مستقل دوستی رکھنے کی کوشش کریں، بار بار دوستی توڑنا ایک کمزور اور غیر مہذب دل کا مظہر ہوتا ہے۔

اچھا دوست زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کو دوست بنانے سے پہلے خوب اچھی طرح سوچیں ،پوری احتیاط سے کام لیں۔

اور بُرا دوست آپ کی ذلت کا سب بھی بن سکتا ہے آپ کی عزت نیلام کر سکتا ہے اور آپ کی وسیع النظری کو کوتاہ اندیشی میں بدل سکتا ہے۔ مخلص اور سچا دوست آپ کی شخصیت کی تعمیر میں مدد دیتا ہے، آپ کی خواہشات پر اثر انداز ہوتا ہے اور انتہائی خاموشی سے آپ کو دوسروں سے متعارف کراتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دوست بناؤ، لیکن ایسے دوست جنہیں آپ جگری دوست کہہ سکیں۔

برے دوستوں کے نقصانات
٭… والدین کی نیک نامی پر حرف آتا ہے۔
٭… معاشرہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
٭… اپنے ضمیر کی عدالت میں یہ لوگ مجرم ہوتے ہیں۔
٭… بے ادب ہو جاتے ہیں۔
٭… شرم وحیا ختم ہو جاتی ہے.
٭… آداب محفل سے بالکل عاری ہو جاتے ہیں۔
٭… بد گوئی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
٭… لڑنا جھگڑنا ان کا مشن ہوتا ہے۔
٭… معاشرے اور گھر والوں کا چین وسکون برباد کر دیتے ہیں۔
٭… دین سے دور ہو جاتے ہیں اور جہنم کے قریب ہوجاتے ہیں ۔
٭… چوری اور جھوٹ کی عادت ان میں پڑنا شروع ہو جاتی ہے ۔

یہ تمام نقصانات برے دوستوں کی صحبت میں بیٹھنے والوں کے حصے میں آتے ہیں، لہٰذا اس سے جتنا بھی بچا جائے بہتر ہے۔

مخلص اور اچھے دوستوں کے ثمرات
1..نیک نامی پیدا ہو گی۔
2..والدین کی عزت میں اضافہ ہو گا۔
3..غلط خیالات سے بچ جائے گا ۔
4..الله اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا خوف ہر دم اسے رہے گا ۔
5..بڑوں کا ادب ملحوظ خاطر رہے گا۔
6..خاندان والے اور محلے والے اس سے محبت کریں گے۔

یہی تو معاشرہ کی اصلاح ہے، یعنی اچھے دوستوں کی صحبت میں بیٹھنا اور خود اچھا ہو جانا ہی معاشرہ کی اصلاح کا عزم او رپیغام ہے۔

ہم نے مندرجہ بالا فوائد ونقصانات کا تعین کر دیا ہے۔ اگر ان پر عمل ہو جائے تو نئی نسل بے شمار برائیوں اور بے شمار ”رذائل“ سے بچ سکتی ہے۔ نسل کے بگاڑ میں اَسی فیصد حصہ بری مجلس میں شامل ہونے کا ہے۔ یہ بری مجلس ہی سیگریٹ دے گی، پینے کو چرس دے گی، پھر بھنگ پلائے گی پھر ہیروئن دے گی، پھر زنا کی طرف متوجہ کرے گی ،پھر انسان کو اس کی جبلی خواہشات کی تکمیل کے لیے چوری، ڈاکے، رشوت جیسے گھناؤنے جرم شروع کرائے گی۔ ایک برے دوست کی صحبت کی وجہ سے کتنے سقم پیدا ہوئے؟! لہٰذا اپنے بچوں پر مکمل دھیان رکھیے او ران کی دن رات نگرانی کیجیے ۔ ان سے شفقت سے باز پرس کیجیے ، ان کے دوستوں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ الله رب العزت ہم سب کو بری صحبت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(آمین یا ربَّ العٰلمین)






اچھے لوگوں کی صحبت کے اثرات

نیک لوگوں کی صحبت کا اثر، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی زمانے میں کسی سمجھ دار نے نہیں کیا او راگر کوئی شخص اس کا انکار کرے تو اس کی عقل میں فتور اور سمجھ میں کمی کی دلیل ہے ۔

بے عقلی کا دور
آج کل دور بے عقلی کا ہے ، اگر چہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دور عقل کا ہے ،لیکن اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ دور بے عقلی کا ہے ۔ کیوں کہ یہ دور جہالت کا ہے ، بس فرق یہ ہے کہ پہلے زمانے میں جو بے عقل ہوتا تھا وہ بھولا بھالا، سیدھا سادھا ہوتا تھا، جو جاہل ہوتا تھا وہ جاہل ہوتا تھا ،لیکن اس وقت کا معاملہ کچھ ایسا ہے کہ عقل مند ہو کر بے عقل ہے او رپڑھا لکھا ہو کر جاہل۔ یعنی پڑھے لکھے جاہل ، یا یوں کہہ لیجیے کہ جہالت اس زمانے میں پڑھ لکھ گئی ہے ۔ اور پہلے سادگی تھی، جو بیچارہ جاہل ہوتا تھا آپ نے بتا دیا ،معلوم ہو گیا، ماننے والا ہو گیا او راب یہ ہے کہ جانتے ہیں ، بتائیے ، مانتے نہیں تو حقیقةً نہ جانتے ہیں نہ مانتے ہیں، عجیب وغریب صورت حال ہے ، سب کو معلوم ہے کہ سگریٹ نقصان کرتی ہے او راس سے کینسر ہوتا ہے ، بڑی بڑی بیماریاں ہوتی ہیں، پھر بھی سگریٹ پی رہے ہیں، ان سے پوچھیے کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ سگریٹ نقصان کرتی ہے؟ کہیں گے سب معلوم ہے۔

اگر ہمارے اور آپ کے کان ہوں تو اندر سے آواز آتی کہ ہم بے عقل ہیں ، سننے والے کو ہنسی بھی آتی ہے تو ان سے کہیے اپنی بے عقلی دور کر لیجیے ، عقل مندوں کی صحبت میں بیٹھئے۔ تو اکثر لوگ سمجھتے نہیں ، عقل مند وہ ہے جو دین دار ہو ، اس سے زیادہ عقل مند کوئی نہیں ہو گا، جوجتنادین دار ہے وہ اتنا ہی زیادہ عقل مند ہے ، اتنا ہی زیادہ سمجھ والا ہے او راب تو یہ بات عیاں ہوتی جارہی ہے ۔

ایک علاقہ میں جانا ہوا، وہاں کچھ پروفیسروں کے لڑکے حفظ کر رہے تھے ، پوچھا کیوں اپنے لڑکوں کو حفظ کرارہے ہیں ؟ بتایا: حفظ کرنے کے بعد بچے بہت تیز ہو جاتے ہیں ۔ انجینئر بناؤ، ڈاکٹر بناؤ تو بہت اچھے بن جاتے ہیں ۔ قرآن مجید یاد کرنے سے دماغ کھل جاتا ہے ، لیکن یہ لوگ بھی بے عقل ہیں کیوں کہ انہوں نے قرآن کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا یہ کوئی اچھی بات تھوڑیٴ ہے ، اب حفظ اس لیے کرارہے ہیں کہ بچے کا دماغ اچھا ہو جائے اوراچھا ڈاکٹر، انجینئر بن جائے۔ قرآن مجید کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں ، قرآن مجید تو زندگی کے اند رانقلاب برپا کرتا ہے اور انجینئر کو، ڈاکٹر کو، بڑے سے بڑے سائنس داں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، قرآن مجید پڑھ کر آپ کا بچہ انجینئر ، ڈاکٹر بن رہا ہے، بہت اچھا، میں اس کو منع نہیں کرتا، لیکن قرآن کو سمجھ کر ، سوچ بدل کر اور سوچ سمجھ کر پڑھیں تو اس کا فائدہ ہی کچھ اور ہو۔

صحبت کااثر
زبان خلق پر یہ بات جاری ہے کہ جیسی صحبت ہو گی ویسا اثر پڑے گا، جس کی صحبت میں رہے گا اس کے اثرات اس میں منتقل ہوں گے اور ماں باپ اپنے بچوں کو روکتے بھی ہیں کہ برے بچوں کے ساتھ مت جانا، کیوں روکتے ہیں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ بروں کے ساتھ جائیں گے تو برے ہو جائیں گے او راگر برے نہ بھی ہوئے تو بری شہرت ہو جائے گی او ربری شہرت بھی بری صحبت کا نتیجہ ہے اور برا ہونا بھی بری صحبت کا نتیجہ ہے ، ایسے ہی اچھوں کی صحبت میں رہے گا تو اچھا ہو جائے گا ،اس لیے صحبت نیک کی تلاش میں رہنا چاہیے او ربغیر صحبت کے آدمی کے اند رکمال بھی نہیں پیدا ہوتا، چاہے دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا، کسی بھی فن میں چلے جائیے ۔، ڈاکٹر کو اس وقت تک اجازت نہیں جب تکHouse Job نہ کر لے، ایک سال اس کو ڈاکٹروں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے ۔ ڈاکٹر کی صحبت میں رہو تب جاکر ڈگری ملے گی ، 6 سال پڑھا، ڈگری نہیں ملی ، پہلے مریض دیکھو، ڈاکٹر کی سرپرستی میں تمہاری نگرانی کی جائے گی ۔ غرض کہ صحبت میں رہے تو ملا، دوسری طرف کہتے ہیں کہ صحبت کی ضرورت نہیں اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ بے عقل ہیں۔

صحبت کا مقصد اکثر وبیشتر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی الله والے کی صحبت میں رہے ،بے شک یہ سب سے اچھی صحبت ہے۔ لیکن صحبت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گھر میں ماں باپ بھی اچھے ہوں او ردوست واحباب بھی اچھے ہوں او رمیاں بیوی بھی ٹھیک ہوں، کیوں کہ صحبت کے معنی ہیں ساتھ رہنا، سب سے زیادہ ساتھ کون رہتا ہے؟ میاں بیوی ساتھ رہتے ہیں اور بے تکلفی کے ساتھ رہتے ہیں تو ہونا یہ چاہیے کہ شوہر بھی اچھا ہو اور بیوی بھی اچھی ہو ۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ یہ یاد رکھنا چاہیے، اگر کوئی شادی کرتا ہے اور خود وہ امریکا میں، بیوی ہندوستان میں، نہ ملاقات، نہ صحبت تو اولاد تو نہیں ہو گی ، اس لیے کہ ملنا ضروری ہے ، آپ چاہے کتنا فلسفہ بگھاریں، چاہے کتنی باتیں بنائیں، تنہا محبت سے بھی کام نہیں چلے گا، انٹرنیٹ پر بیٹھ کر گفت گو کر لی اور ایک دوسرے کو دیکھ لیا، اس سے کیا ہو گا ، اولاد کے لیے صحبت ضروری ہے۔

جسم سے نسب چلتا ہے روح سے نسبت
ایک انسان کے ساتھ جسم ہے اور روح ہے ، جسم کے ساتھ جسمانی چیزیں وابستہ ہیں اور روح کے ساتھ روحانی چیزیں وابستہ ہیں، جسم سے نسب حاصل ہوتا ہے، روح سے نسبت حاصل ہوتی ہے، اس لیے کہا گیا ہے کہ نسب بھی صحیح ہونا چاہیے اور نسبت بھی ۔ میاں بیوی صحیح رہیں گے تو نسبت صحیح ہو گی لیکن دونوں کے آداب ہیں کہ نکاح صحیح ہو اور نکاح کی جو شرائط ہیں یعنی گواہ کا ہونا، اعلان ہونا وغیرہ، یہ شرائط پوری ہوں اور پھر میاں بیوی صحیح ہوں ، تن درست ہوں، پھر ان شاء الله اولاد ہو گی ، اس سے صحیح نسب چلے گا۔ لیکن اگر نکاح نہ کرے تو ظاہری طور پر سلسلہ تو چل رہا ہے، لیکن نسب منقطع ہو جائے گا۔ ایسے ہی نسبت حاصل کرنے کے لیے صحبت صحیح ہونی چاہیے۔ اور اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اگر مرد صحیح ہے تو اس سے بیوی کو نسب ملے گا او رمرد الله والا ہے تو اس سے بیوی کو نسبت ملے گی، اس طرح دونوں چیزیں جمع ہو جائیں گی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اچھی بیوی لاؤ ،دین دار۔ تو اس سے تمہارا نسب محفوظ رہے گا او رپھر ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہتے ایک دوسرے جیسے ہو جائیں گے ، مرد کا اثر عورت پر آئے گا اور عورت کا اثر مرد پر آئے گا تو معلوم ہوا کہ میاں بیوی کو بھی اچھا ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ماں باپ کو اچھا ہونا چاہیے کہ ان کی صحبت میں بچے رہتے ہیں ، بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو ماں کی گود میں ہوتا ہے اور اس کے بعد باپ کے ساتھ رہنا ہوتا ہے، ماں باپ اچھے ہوں گے تو بچہ اچھا پروان چڑھے گا اس کی صحیح تربیت ہو گی ، باپ کے لیے بچوں کی تربیت کی فکر کو ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر بتایا گیا ہے پھر اگر اچھے دوست ہوں گے تو ان کی اچھائی منتقل ہو گی ۔ جو صحبت میں جتنا کامل ہو گا اس کی نسبت اتنی ہی قوی ہو گی اور تن درستی کے اعتبار سے جو جتنا کامل ہو گا اس کا بچہ اتنا ہیتن درست ہو گا۔ دونوں چیزیں ایسے ہی ساتھ چلتی ہیں ۔ تو روحانی اعتبار سے جو الله کے نیک بندے ہیں اگر آپ ان کی صحبت میں رہیں گے تو ان کی صحبت کے اثرات پڑ کر رہیں گے۔

صحابہ کا مقام صحبت رسول صلی الله علیہ وسلم کا نتیجہ
صحابہٴ کرام کو الله تعالیٰ نے ایک ایسے نبی کی صحبت میں رکھا جو انسان کامل تھا ، کامل، مکمل او رمتمم اخلاق تھا، دوسروں کو کمالات سے سرفراز کرنے والا او راخلاق کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے والا، اسی صحبت سے صحابہ میں نکھار آیا اور اسی کی برکت سے ان کو امتیازی مقام حاصل ہوا، جو صرف انہیں کے ساتھ خاص ہے ۔ اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا معاملہ ایسا ہے کہ آپ کی صحبت میں رہنے کے بعد اتنا اونچا مقام اس کو ملتا ہے کہ وہ مقام آپ صلی الله علیہ وسلم کی صحبت کے علاوہ کہیں مل ہی نہیں سکتا ، جیسے مسجد حرام ہے ، مسجد حرام میں جو نماز پڑھے ایک لاکھ کا ثواب ہے ، اسی طرح سے مسجد نبوی میں ، بیت المقدس میں ہزاروں نمازوں کا ثواب ہے ، لیکن اگر آپ اس مسجد میں نماز پڑھیں، یہاں بڑے بڑے مجاہدین او ربڑے بڑے الله کے ولی آئے ہیں، رہے ہیں اور پیدا ہوئے ہیں ، اب اگر آپ ایسا سوچیں کہ اس مسجد میں ہزار نماز کا ثواب مل جائے تو یہ ناممکن ہے او راگر کوئی ایسا کہتا ہے تو وہ جھوٹا ہے ، آج کچھ لوگوں میں ایسی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ فلاں مسجد میں نماز پڑھ لو تو وہ ہو جائے گا ۔ صرف تین مسجدیں ہیں جن میں غیر معمولی ثواب ملتا ہے ، ایسے ہی رمضان میں جو روزہ رکھیں گے، جوتلاوت کریں گے ، نمازیں پڑھیں گے اس میں اس کی بات ہی کچھ اور رہے ، ستر گنایوں ہی مل رہاہے، غیر رمضان میں اتنا نہیں مل سکتا چاہے پورا سال روزہ رکھیں، رمضان کے ایک روزے کے برابر پوری زندگی کا روزہ نہیں ہو سکتا، رمضان، رمضان ہے ، اسی طرح رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی صحبت کی برابر کسی او رکی صحبت نہیں ہو سکتی، اسی لیے صحابہ کرام کو جو مقام حاصل ہوا ہے ، وہ دنیا میں نہ کسی کو حاصل ہوا ہے نہ ہو گا، ظاہر ہے رسول پاک صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہے؟ تو اس کا اثر بھی یہ ہوا کہ ایک نظر میں صحابہٴ کرام کی کایا پلٹ گئی ، ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہو گیا او رایمان وہاں پہنچ گیا جہاں بڑے مجاہدوں کے بعد ، بڑی مشقتوں کے بعد اور سیکڑوں رکعتیں نماز پڑھنے کے بعد او رہزاروں روزے رکھنے کے بعد پہنچتا ہے، وہ بھی بمشکل ، صحابہٴ کرام  کو وہ مقام ایک نظر سے مل گیا۔

انبیا کی صحبت کے لیے ایمان اوراولیا کی صحبت کے لیے اخلاص شرط
صحبت میں شرط ہے کہ اخلاص ہو، اگر اخلاص سے نہیں آئیں گے تو کچھ نہیں ملے گا۔ انبیا کی صحبت میں رہنے والوں کے لیے بس ایمان شرط ہے، آئے او رکہا ہم ایمان لائے الله پر ، آپ پر اور تمام چیزوں پر جن کا حکم دیا گیا ہے ، بس ان کاکام ہو گیا۔ لیکن اولیائے کرام کی صحبت میں رہنے کے لیے اخلاص شرط ہے اگر اخلاص کے ساتھ رہے گا تو فائدہ ہو گا ، اگر اخلاص نہیں تو چاہے ایک ہزار سال رہو تب بھی فائدہ نہیں اور بات یہی ہے کہ ان کی صحبت سے جوبات پیدا ہوتی ہے ، وہ دل اور دماغ کے اندر یقین کی کیفیت کا پیدا ہو جانا ہے ، اس لیے ایک تابعی نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ اگر تم صحابہ کرام  کو دیکھتے تو انہیں مجنون سمجھتے اور صحابہ کرام  تم کو دیکھ لیتے تو بے ایمان سمجھتے اور صحابہ کرام اتنے بے چین رہتے تھے دین کے کام کے لیے، اس پر عمل کرنے کے لیے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ کیا ہو گیا ، نہ ان کو کھانے کی پروا ، نہ بیوی کی ، نہ بچوں کی ، نہ کسی چیز کی، بس وہ حکم بردار اور فرائض کی پابندی کرنے والے تھے، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے تھے ۔ ایسے واقعات بھی ہوئے کہ نکاح ہوا، بیوی کے پاس رات گزاری کہ جہاد کا اعلان ہو گیا، فوراً جہاد کو چلے گئے اور شہید ہو گئے ، ملائکہ نے انہیں غسل دیا او ران کا نام ”غسیل الملائکة“ پڑ گیا کہ ملائکہ نے آکر غسل دیا ، صحابہ کرام کا جو معاملہ تھا وہ صرف رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی صحبت کا نتیجہ تھا۔ بہرحال صحبت کا اثر تو پڑتا ہی ہے ، اس لیے ہم کو ، آپ کو کسی کی صحبت میں رہنا ہے، اس کو چیک کرنا پڑے گا کہ وہ کیسا ہے؟

بیوی کیسی ہو؟ 
یہاں ہمارے نوجوان ہیں ،جن کی شادی نہیں ہوئی ہے ، انہیں شادی کرنی ہے ، چوں کہ بیوی کی صحبت میں سب سے زیادہ رہنا ہوتا ہے، اس لیے بیوی دین دار ہونی چاہیے ۔ لوگ شادی کرتے ہیں مال کی وجہ سے ، خوب صورتی کی وجہ سے او ربڑے گھرانے کی وجہ سے اور چوتھے نمبر پر دین دار ، دین دار عورت گھر میں آگئی تو ہر اعتبار سے مزے ہی مزے ہیں ، تم خوش رہو گے ، بچے جو ہوں گے وہ اچھے ہوں گے، اس لیے کہ بچے کو جو پہلے صحبت ملتی ہے وہ ماں کی ، پھر باپ کی ، تو ماں اچھی ہونی چاہیے، پھر باپ اچھا ہونا چاہیے ، ان دونوں کے اندر اگر دین داری ہے تو سب کچھ اچھا ہوجائے گا، پھر معاملہ آتا ہے استاد کا ، استاذ کو اچھا ہونا چاہیے ۔ اب یہ کوئی نہیں دیکھتا ، کوئی نہ بیوی دیکھتا ہے ، نہ کوئی استاذ کو دیکھتا ہے، بس پیسہ، شہرت اور ظاہری رکھ رکھاؤ، نتیجہ کیا ہے؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات اور دین دار بیوی کی علامت ہے کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے محبت بڑھتی جاتی ہے اور اس کی دین داری کی برکتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

ہم لوگ صحبت کا مطلب صرف یہ سمجھتے ہیں کہ الله والوں کے پاس چلے جانا، آپ کسی چیز کو اتنا خراب کر دیں، پھر اس کو لے جائیں کسی بڑے کاریگر کے پاس، اس کو ٹھیک کر دیجیے، جو چاہیں گے ملے گا تووہ جھنجلا جائے گا کہ آخر کتنی اصلاح کروں ؟ ٹھیک کرکے لاتے تو تھوڑا سا دیکھ لیتا اور کام ہو جاتا اور وہ چلنے لگتی اور آپ نے اس کو برباد کر دیا ، توڑ مروڑ کر یہاں وہاں ٹہلتے رہے اور غلط دوست بنائے، استاذ کی بے عزتی کی ،حرام مال کھایا، ساری غلطیاں کیں ، برسوں کا بگڑا ہوا دو دن میں کیسے ٹھیک ہو جائے گا؟ اس لیے ہمیں صحبت کا خیال شروع سے کرنا چاہیے ، پہلے بیوی اچھی ہونی چاہیے اور کسی کو اگر ماں باپ اچھے مل جائیں کیا کہنے”نور علیٰ نور“ او رگھر کا ماحول بھی اس کا اچھا ہو اورگھر میں خواتین بھی اچھی ہوں تو پھر کیا کہنے۔

حضرت ابوبکر اور عمررضی الله عنہما رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ایک جگہ افسوس میں بیٹھے تھے، پھر کہا چلو اماں کے پاس چلتے ہیں ،امّ ایمن حضرت رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں رہی ہیں او ربرکتیں حاصل کی ہوئی ہیں او رایسی بابرکت خاتون کہ جب انہوں نے ہجرت کی مکہ سے مدینہ ، اکیلے راستے میں پیاس کی شدت سے تڑپ گئیں، نام بھی ان کا بابرکت اور ہیں بھی برکت والی ، تو الله تعالیٰ نے ڈول آسمان سے بھیجا، لٹک کر نیچے آیا، اس میں سے انہوں نے پانی پیا ، پوری زندگی پھر انہیں پیاس ہی نہیں لگی ، ایسی بابرکت خاتون ہیں، تو دونوں گئے ان کی خدمت میں ، وہ رونے لگیں ، ابوبکر او رعمر نے کہا: اماں! کیوں روتی ہیں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم تو بہت اونچے مقام پر ہیں۔ دنیا سے رخصت ہو گئے، جنت کے اعلیٰ درجہ میں ہیں ، فرمایا: اس لیے نہیں رو رہی ہوں، پھر کیوں رو رہی ہو؟ میں اس لیے رو رہی ہوں کہ وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ، وحی کی قیمت جانتی تھیں وحی کیا چیز ہے ؟ اس وجہ سے وہ حضرت امّ ایمن کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔

ہمارے حضرت مولانا علی میاں ندوی کی والدہ ماجدہ بھی ماشاء الله کیا خاتون تھیں؟ الله تعالیٰ نے ان کو کیسا نوازا تھا؟ پورے گھر کے لوگ ان کے پاس جاکر بیٹھا کرتے تھے ، بیٹھتے ہی نہیں تھے ، ایک روحانی سکون ان کے پاس ملتا تھا ، کیوں کہ الله تعالیٰ نے وہ مقام ان کو عطا فرمایا تھا۔ ڈھائی بجے اٹھ جاتیں ، اشراق تک اپنے مصلے پر بیٹھی رہتی تھیں اور یہ معمول ان کا آخری دور تک 93 سال کی عمر تک تھا۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ وہ الله تعالیٰ کے سامنے روتی تھیں ،گڑ گڑاتی تھیں، خواب میں الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی زیارت ہوئی او ران سے براہ راست بیعت ہوئیں ، تو الله تعالیٰ نے بہت اونچا مقام ان کو عطا فرمایا تھا۔ تو ظاہر ہے کہ ان کے پاس بیٹھنا ، ان کی خدمت میں حاضر ہونا کتنی بڑی بات ہے ، ان کی خدمت میں بیٹھنے سے اثر پڑتا تھا، ہمارے حضرت مولانا  ان ہی کی صحبت میں رہ کر بڑے ہوئے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔ کوئی چاہے مانے یا نہ مانے ، اصل میں یہ بات پوشیدہ ہے ۔ تو دیکھ لینا چاہیے کہ کس سے دوستی کر رہے ہو ، چیک کر لو کہ تمہاری دوستی کا رحجان کدھر، ہے، دل کس سے لگتا ہے ، کون ساتھی تمہارا زیادہ ساتھ دیتا ہے؟ اگر وہ اچھا ہے تو تم اچھے ہو ، اگر وہ برا ہے تو تم برے ہو ، لوگ آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ دوست ہے، مگر اس کے طریقے پر نہیں ہوں ، یہ جھوٹ ہے ، تم بیوقوف خود کو بھی بناتے ہو، دوسرے کو بھی بناتے ہو ۔ صحبت کا اثر تو پڑتا ہی ہے ۔ آدمی کی جیسی طبیعت ہوتی ہے ویسی ہی طبیعت والے سے مانوس ہوتا ہے ۔ جو الٹے سیدھے لوگ ہوتے ہیں، وہ الٹے سیدھے لوگوں کو فوراً پہچان لیتے ہیں، جو نیک لوگ ہوتے ہیں وہ نیک لوگوں کوپہچان لیتے ہیں ، اس لیے کہ جو جیسا ہوتا ہے ، ویسے ہی لوگوں کو ڈھونڈتا ہے۔

آپ چور کے ساتھ رہیں گے تو چوری نہ صحیح، ہیرا پھیری تو کریں گے ہی ، آپ جھوٹے کے ساتھ رہیں گے تو جھوٹ نہ صحیح، مبالغہ تو کریں گے ہی، کتنا ہی اپنے آپ کو بچائیں ، اس لیے اس بات کو طے کرنا چاہیے کہ ہم کو اچھوں کی صحبت اختیار کرنا ہے او راچھے لوگوں سے دوستی کرنا ہے ، علماء کی صحبت میں بیٹھنا ہے اور واقعی جن کے اند رکمال ہے ان کے پاس جاکر بیٹھیں، اب آپ صلی الله علیہ وسلم سے جو جتنا مشابہ ہو گا،جتنا زیادہ متبع سنت ہو گا ، اتباع کرنے والا ہو گا اتنی ہی زیادہ اس کی صحبت کا نفع او ربرکت بڑھتی جائے گی اورخوب سمجھ لیجیے اس کے اند رکرامتیں جتنی بھی ہوں اگر اتباع سنت نہیں ہے ، تو نہ برکت ہو گی ،نہ نفع او رنہ تاثیر۔

حد سے زیادہ تاثر اور عقیدت میں غلو باطل ہونے کی علامت
ایک بات او رسمجھ لیں، لوگ کہتے ہیں کہ ایک دم سے بھونچال آجائے، بھونچال کا نام تاثر نہیں ہے ، یہ بہت زیادہ متاثر ہونے کی علامت ہے ، بہت زیادہ اس میں نقص شامل ہوتا ہے ۔ حال یہ ہو گیا ہے کہ جنہوں نے کرامات دکھا دیں اس کے پیچھے چل دیے، انہوں نے یوں کیا تو یوں ہو گئے ، یوں کیا تو یوں۔ بدعتیوں کا یہی حال ہے ، ایک سب سے بڑے بدعتی پیر، جن کی کافی شہرت ہے ، ممبئی میں بیمار ہوئے تو ہسپتال میں بڑے بڑے سیٹھ ملنے آنے لگے ، ایک دن انہوں نے کہا کہ پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی  مجھ سے ملنے آنے والے ہیں میری عیادت کے لیے تو بڑے بڑے پیسے والے سیٹھوں کی عقلیں مار ی جاتی ہیں ، سب نے ہسپتال کی صفائی کروائی، عطر چھڑکے، ڈیکوریٹ کرکے لائن سے کھڑے ہوگئے کہ ابھی حضرت آئیں گے، ایک موٹر آئی، اس میں سے ایک سفید داڑھی، عمامہ باندھے ہوئے ایک صاحب اترے اور سیدھے اندر تشریف لے گئے اور دورازہ بند کر دیا گیا اور اس کے بعد دروازہ کھلا ہی نہیں ، ایک دو گھنٹے بعد خبر آئی کہ حضرت وہیں سے چلے گئے، واپس نہیں آئیں گے ، آپ لوگ جائیے ۔اس لیے کہ وہ داڑھی لگا کر، کاجل لگا کر، خوب فنکاری کرکے آئے تھے او راندر جاکر داڑھی اتار لی، چہرہ صاف کر لیا اور چلے گئے ۔ اور سارے لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے حضرت کا کتنا اونچا مقام ہے ، سجدے پر سجدے ہو رہے ہیں، ہاتھ پہ ہاتھ چومے جارہے ہیں! بس کیا کہنے، اس سے بڑا تو کوئی پیدا ہی نہیں ہوا ۔یہ سب تماشے ہیں ۔ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ تاثیر ہے ، یہ تاثیر نہیں ہے ۔ یہ عقیدت میں غلو اور بے جا غلط تاثر ہے ۔حضرت نے کہہ دیا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ، نماز بھی معاف ، وہ پیر نہیں پَیر ہوتے ہیں۔ اسی لیے سب پریشان ہیں کہ دو منٹ میں کام ہو جائے ، چمتکار دکھائیں، یہ سب کچھ نہیں، ابتاع سنت دیکھیے ،اچھے لوگوں کی صحبت اختیا رکی جائے، کیوں کہ جو جتنا متبع سنت ہو گا اتنی ہی تاثیر ہو گی ۔ ایک بڑے بزرگ عالم ربانی نے لکھا ہے کہ جو جتنا بڑا متبع سنت ہو گا وہ اتنا بڑا عالم بھی ہو گا۔اگر اس کا تعلق وہاں سے ہو گا تو علم کے سوتے پھوٹتے چلے جائیں گے ، وہ علم میں فائق ہوتا چلاجائے گا اور تاثیر بھی بڑھتی چلی جائے گی۔(جاری)






صحبت کی مثال
آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو مثال سے سمجھایا کہ اچھی صحبت کی مثال عطر بیچنے والے کی ہے، اگر اس کے پاس بیٹھو گے تو خوش بو سے فائدہ اٹھاؤ گے، عطر بیز ہو جاؤ گے، مزہ آجائے گا ،اگر نہ خرید وتب بھی خوش بو لے کر جاؤ گے۔ اگر بھٹی پھونکنے والے کے پاس بیٹھو گے تو اس کا دھواں اور اس کی کالک ملے گی، کالک سے اگر تم نے اپنے کو بچا بھی لیا تو دھواں کہیں گیا ہی نہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا یا تو برے بن جاؤ گے یا بری شہرت ہو جائے گی اس لیے کہا گیا ہے کہ بروں کی صحبت سے بچتے رہو یہ بہت ہی اہم بات ہے ۔ ہمارے حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی ( الله آپ کی عمر دراز فرمائے) کے پاس ایک صاحب آئے، جو بڑے نیک نام تھے ، انہوں نے کہا کہ ایک شخص بڑا بد نام ہے، وہ مجھے بلا رہا ہے، سوچتا ہوں چلا جاؤں، ہو سکتا ہے کہ کچھ ٹھیک ہوجائے او راثر قبول کر لے۔ تو مولانا نے بڑی حکمت کی بات فرمائی ، کہا کہ اگر ان کے پاس جاؤ گے تو ان کی بری شہرت آپ کو مل جائے گی اور آپ کی اچھی شہرت انہیں مل جائے گی ۔ اس لیے برے لوگوں سے بچنا چاہیے۔ ہاں! جو الله تعالیٰ کے نیک بندے ہیں ، جن کو کچھ کیفیت حاصل ہے ، ان کے ساتھ رہے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ حضرت شاہ اسماعیل شہید وہاں تشریف لے گئے تو ان کی صحبت میں نہیں گئے تھے ، ان سے معاملہ کرنے نہیں گئے تھے، بلکہ ان کی اصلاح کی غرض سے گئے تھے ، اس نیت سے گئے اور واپس تشریف لے آئے ۔ لیکن اگر کوئی معاملہ کرنے جارہا ہے، اس کے پاس اٹھے بیٹھے گا تو اس کی شہرت تم کو مل جائے گی او رتمہاری شہرت اس کو مل جائے گی، یعنی تمہارا تھوڑا حصہ اسے ملے گا اور اس کا تھوڑا حصہ تمہیں ملے گا تو اس کا فائدہ ہو گا اورتمہارا نقصان ہوجائے گا، اس لیے آدمی کو احتیاط کرنی چاہیے ۔ بری صحبت کا اثر پڑ کر رہتا ہے، اسی طرح اچھی صحبت کا اثر بھی پڑ کر رہتا ہے ۔ دیکھیے! آپ نے ایک بیج ڈال دیا، بیج پڑ گیا، یہ ضروری نہیں کہ فوراً درخت سامنے اُگ آئے، بیج پڑ گیا، اب آہستہ آہستہ کام ہوتا رہے گا ۔ الله والوں کی صحبت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بیج بعض دفعہ پڑ جاتا ہے، وہ بھی کوئی ضروری نہیں ۔ آداب کی رعایت ہو گی تب ہو گا او روہ اس لائق بھی ہو جس کی خدمت میں آپ جارہے ہیں ، تو بیج پڑ جائے گا اور کچھ دنوں او ربرسوں کے بعد یک دم رنگ بدلے گا، معلوم ہوا کہ جو تھوڑی دیر ان کی صحبت میں رہے تھے اس کا اثر پڑا۔ بہت ادھر ادھر بھاگتے رہے، اخیر میں پھر لوٹ کر آگئے۔ الله والوں کی صحبت کا یہ اثر تو پڑتا ہی ہے ۔ حضرت مولانا  کے ساتھ بھی کتنے واقعات ایسے ہیں کہ حضرت مولانا  کے ساتھ کچھ دن رہے اور خدمت میں بیٹھے ، پھر بیٹھنا چھوڑ دیا، ادھر ادھر ٹہلتے رہے ، اخیر میں پھر پلٹ کر وہی رنگ چڑھا او رپھر وہیں آگئے جہاں سے چلے تھے۔ یہ الله والوں کی صحبت کا اثر ہے، اس لیے عربی کا ایک شعر ہے #
أحب الصالحین ولست منھم
لعل الله یرزقنی صلاحاً

(میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں، چاہے ان جیسا نہ ہوں ، ہو سکتا ہے کہ اس کی برکت سے الله تعالیٰ ہم کو بھی نیکی عطا فرما دے) تو الله والوں سے محبت تو کرنی ہی چاہیے، ورنہ اصل تو یہ ہے کہ ان کی صحبت میں بیٹھیں۔ اگر صحبت میں نہیں بیٹھ سکتا توان کی کتابوں کا مطالعہ کرے، ان کی سیرت وسوانح پڑھے۔ اس کے بھی اثرات پڑتے ہیں ،ورنہ ظاہر ہے کہ صحبت کا کوئی بدل نہیں ہے۔ جس طرح بغیر صحبت کے نسل نہیں چلتی، سوائے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کے،ویسے ہی بغیر صحبت کے یہ نسبت حاصل نہیں ہوتی، الایہ کہ الله تعالیٰ کسی کو اپنی طرف سے عطا فرما دیں، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے ۔ اس پر سب کو قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ا لله تعالیٰ کی سنت اوراس کا طریقہ یہی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تو صحابہ  بن گئے او رجو صحابہ  کی صحبت میں رہے تابعین بن گئے ۔ تابعین کی صحبت میں رہے توتبع تابعین بن گئے ، وہ سلسلہ نسب چل رہا ہے ، یہ سلسلہ علم و دین بھی چل رہا ہے ۔ علامہ ابن سیرین  نے لکھا ہے کہ علم دین اس سے سیکھو جو دین دار ہو، اس لیے کہ یہ علم دین ہے ، بے دین سے نہ سیکھو ”فانظروا عمن تأخذون دینکم“ سوچ لو دین کس سے لے رہے ہو ؟کیوں کہ جب اس کی صحبت میں جاؤ گے تو اس کے اثرات پڑیں گے ،وہ دین کی باتیں تو کرتا ہے، لیکن خو داس کے خلاف ہے ۔ یہ قیامت کی علامت میں سے ہے ۔

”اذا وسد الأمر الیٰ غیر أھلہ فانتظر الساعة“ جب نااہلوں کو کام سپرد کردیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر وکہ اہل نہیں ہے او راس کو کام دے دیا گیا۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ حدیث پڑھانے کا وہی اہل ہے جو سنت پر عمل کرتا ہو ۔ صرف لچھے دار تقریر کرنے والا حدیث پڑھانے کا اہل نہیں ہے۔ جو سنت پر عمل کرتا ہو وہ اہل ہے ۔ بہرحال صحبت کا اثر کہیں جاتا نہیں ہے ، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس کو سوچ لینا چاہیے کہ اس نے کس سے دوستی کی ہے ۔ کیوں کہ اثرات پڑتے ہیں اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے بہت سی حدیثوں میں یہ بات بیان فرمائی ہے کہ آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ہے ۔ ان کو جنت میں اونچا مقام ملے گا، عرش کے سایہ میں رہیں گے ۔ اس کا ایک واقعہ بھی پیش آیا ، ایک بزرگ ہیں ابو ادریس خولانی وہ دمشق کی مسجد میں داخل ہوئے، انہوں نے دیکھا کہ ایک بہت خوب صورت نوجوان جس کے دانت آب دار، چہرہ چمکتا ہوا، الله نے اسے علم سے نوازا ہے ۔ بیٹھا ہوا درس دے رہا ہے ، جہاں رائے میں اختلاف ہوتا ہے لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ جناب !کیا ارشاد ہے ؟ وہ بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں ان سے الگ ملوں گا، دوسرے دن وہ بہت سویرے پہنچ گئے، تاکہ اکیلے میں ملاقات ہو جائے، دیکھا تو وہ حضرت پہلے ہی آچکے تھے، نماز پڑھ رہے تھے،انہوں نے سلام پھیرا تو میں سامنے سے آیا او رمیں نے عرض کیا کہ حضرت !مجھے آپ سے محبت ہے۔ تو انہوں نے کہا واقعی! الله کے لیے محبت ہے۔ دو تین دفعہ انہوں نے پوچھا، پھر میری چادر کا کونا پکڑا ،اس کو اپنی طرف کھینچا او رکہا کہ میں تمہیں خوش خبری سناتا ہوں، میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری محبت واجب ہو گئی آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے، آپس میں ایک ساتھ بیٹھنے والوں کے لیے، ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے اور ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے ، یہ ہیں حضرت معاذ بن جبل  ،جو حرام وحلال کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور الله تعالیٰ نے ان کو حسن وجمال بھی عطا فرمایا تھا کہ جب بیٹھ کر پڑھاتے تھے تو لوگ دیکھا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اگر کسی کو کسی سے محبت ہو تو اس کو بتا بھی دے ، بتانے سے محبت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور محبت سے توجہ ہو جاتی ہے، توجہ سے محبت کا فائدہ ہوتا ہے ۔ جب محبت سے آدمی دیکھتا ہے تو محبت بھی عجیب چیز ہے ، اس کے اثرات پڑ کر رہتے ہیں، یہاں تک کہ بعض دفعہ چہرہ میں بھی مشابہت پیدا ہو جاتی ہے ، جب آدمی کو زیادہ محبت ہو جاتی ہے کسی الله کے نیک بندہ سے تو اخیر میں اس کے چہرے پر بھی اثرات پڑنے لگتے ہیں ۔ محبت کرتے کرتے ، ساتھ رہتے رہتے۔ بعض دفعہ لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ وہی آرہا ہے ۔ جب دو طرفہ محبت ہوتی ہے تو یہ چیز پیدا ہو جاتی ہے ۔

اہل ایمان کی صحبت کا فائدہ
آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ صحبت میں رہو تو مؤمن ہی کی رہو ”لاتصاحب الامؤمنا“ صاحب ایمان کی صحبت میں رہا کرو ۔ جو لوگ مومن نہیں اور کھلم کھلا فسق وفجور میں مبتلا رہتے ہیں، ان کی صحبت سے توحتی الامکان بچنا چاہیے۔ جیسے کہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ لوگ دفتر میں کام کرتے ہیں ، کافروں اور مشرکین کے درمیان رہتے ہیں ۔ فسق وفجور کے اڈوں میں بیچاروں کو رہنا پڑتا ہے ۔اس طرح وہاں پر بیٹھیں کہ ہر وقت جی یہ چاہے کہ یہاں سے بھاگیں، یہ نہیں کہ وہاں طبیعت لگے، بلکہ بس مجبوراً آگئے ہیں، رزق حلال کے لیے ، اب یہاں سے بھاگنا ہے او رکسی الله والے کی صحبت میں بیٹھنا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جب وہ ریٹائر ہوں گے تو بہت خوش ہوں گے ۔ ہمارے ایک عزیز ہیں وہ جب ریٹائر ہوئے تو اتنا خوش ہوئے کہ اب کہتے ہیں کہ جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو یہ خوشی ہوتی ہے کہ آفس نہیں جانا ہے، ورنہ آفس والے جب ریٹائر ہوتے ہیں تو بیچارے زندگی سے ریٹائر ہو جاتے ہیں او رچکر میں رہتے ہیں کہ کہیں سے پیسہ کمانے کاکوئی دھندہ مل جائے، پھر فاسق وفاجر کی صحبت میں جاکر بیٹھیں، اس لیے کہ دل رنگے جاتے ہیں او رپھر ویسا ہی مزاج بن جاتا ہے ۔ر شوت لیتے ہیں ، رشوت کھاتے ہیں ، رشوت کے اڈوں میں رہتے ہیں ۔ الٹی سیدھی باتیں وہاں پر ہوتی ہیں، اسی کو وہ پسند کرنے لگتے ہیں اور وہی مزاج بن جاتا ہے ۔ آدمی جیسی صحبت میں رہے گا وہی مزاج بن جائے گا۔ اسی لیے ایسی صحبت سے بچنے کی ہر وقت فکر کرنی چاہیے کہ کس طرح الله چھٹکارا دے ۔ اسی فائدہ کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بھی کہ تمہارا کھانا اہل تقویٰ کھائیں، اس لیے کہ اس میں بھی صحبت کا معاملہ ہے ، جب آپ کے گھر میں نیک بندے آئیں گے، اس میں آپ کو فائدہ ہو گا، وہ آپ کو دیکھیں گے، آپ ان کی صحبت میں بیٹھیں گے اور آپ کو دعا ملے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگوں کو کھلانے کی فکر ہونی چاہیے۔ اچھے لوگ ہمارے دستر خوان پر کھائیں، یہ بات بھی آج کل ختم ہو گئی ہے، بڑے بڑے عہدہ داروں کو بلایا جاتا ہے او رالٹے سیدھے لوگوں کو بلایا جاتا ہے او راگر کسی بڑے کو بلاتے بھی ہیں تو فخر اتنا کہ دوسروں سے کہیں کہ میرے یہاں فلاں فلاں آتے ہیں۔ نیت خراب کر لی، خوب سمجھ لیں کہ صحبت اخلاص کے ساتھ ہونی چاہیے او رکھانا بھی حلال کا کھلانا چاہیے۔ ایسا نہیں کہ الٹا سیدھا کھلا دے، اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا، خود جس نے کھلایا ہے اس کو بھی نقصان ہو گا اورجس نے کھایا ہے اس کو بھی نقصان ہو گا، کھانا حلال کھلانا چاہیے او راخلاص کے ساتھ کھلانا چاہیے۔

جمع کرنے کی چیز کیا ہے؟
حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿ والذین یکنزون الذھب والفضة﴾ کہ جو لوگ سونا اور چاندی کو اکٹھا کرتے ہیں…۔ آیت کے نزول کے وقت ہم لوگ تو سفر میں تھے، بعض صحابہ نے عرض کیا آیت تو سونا اور چاندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ کون سا مال اچھا ہے جس کو ہم جمع کر سکتے ہیں تو ہم وہی مال جمع کیا کریں؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل جمع کرنے کی چیز ایسی زبان ہے جو ذکر کرنے والی ہو، ایسا قلب ہے جو شکر کرنے والا ہو اور ایسی بیوی ہے جو ایمان میں اس کا تعاون کرنے والی ہو ، یہ ہے اچھی صحبت، اچھی بیوی ہو گی تو اچھے کام میں تعاون کرے گی ، خراب بیوی ہو گی تو آپ بھی پریشان، گھر والے بھی پریشان ، جو آج کل ہر جگہ ہو رہا ہے ۔ اس لیے کہ عورتوں کی تربیت کرتے نہیں اور لڑکی کے دل ودماغ میں وہی ساری باتیں ہوتی ہیں۔ رسم ورواج کی، پیسے کی ، تو اس کے نتیجہ میں سب پریشان۔ اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے۔ مال کی وجہ سے، مال کا سب سے پہلے ذکر کیا ،آج کل دیکھ لیجیے، جہیز او رمال کہاں پر زیادہ ملے گا اسی کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے اس کو اول نمبر پر رکھا، دوسرے نمبر حسب کو رکھا۔ بہت اونچے خاندان کی ہے ، بڑے پیسے والے کی بیٹی ہے ،مشہور خاندان کی لڑکی ہے ، اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں ، تیسرے یہ کہ حسن وجمال، بہت خوب صورتی دیکھ کر گھر میں لانا چاہتے ہیں اور اخیر میں بیچارہ دین آتا ہے کہ دین دار ہے تو لانا چاہیے۔

حالاں کہ آپ ا نے فرمایا:”فاظفر بذات الدین“ دین والی کو لے کر کام یاب ہو جاؤ، مزے رہیں گے۔ مال، جاہ، حسن، یہ تو ظاہری ہیں، سب ختم ہو جانے والا ہے۔ دین دار بڑی مشکل سے ملے گی، لیکن اگر مل جائے تو مزے ہی رہیں گے”تربت یداک“ ترجمہ بڑا مشکل ہے ۔ اگر محاورہ سے اس کا ترجمہ کریں اور بے ادبی نہ ہو تو یوں کہیں کہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ۔ گھر میں برکت ہی برکت رہتی ہے۔ اورپھر پورا گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے ۔ نیک بیوی آگئی، پورا گھر سنور گیا اوراگر بری بیوی آگئی تو پورا گھر برباد ہو جاتا ہے ۔ اس میں بہت احتیاط کرنی چاہیے، عام طور پر لوگ پیسہ دیکھتے ہیں ،پھر کچھ نہیں دیکھتے۔ یادیکھتے ہیں، تو کسی کا چہرہ دیکھ کر قائل ہو گئے ، کسی کا خاندان دیکھ کر قائل ہو گئے ۔ یہ نہیں دیکھا کہ نماز پڑھتی ہے کہ نہیں ، عقیدہ صحیح ہے کہ نہیں ، یہ دیکھنے کی چیزیں ہیں انہیں دیکھا ہی نہیں جارہا ہے او رجو دیکھنے کی نہیں ہیں ان کو خوب دیکھا جارہا ہے۔ اس قدر دنیا کی محبت غالب آگئی کہ اچھے اچھے لوگ اس میں مبتلا ہیں۔

دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے
حدیث میں ہے کہ :”الدنیا رأس کل خطیئة“ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت نکل جائے۔ دنیا کی محبت الله تعالیٰ کے ذکر سے نکلتی ہے، اس لیے کہا گیا ہے کہ کثرت سے ذکر کرو ، ورنہ آج کل سارے دل دنیا کی محبت میں چُور ہیں اور اس کی وجہ سے پریشان ہیں۔ چاہے بوڑھا ہو، چاہے جوان ہو ،یہاں تک کہ دین دار طلبا جو فارغ ہوتے ہیں اور دین کا کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے والدین دِکھتے ہیں دین دار، لیکن ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تم ہم کو کما کر لا کر دو، کتنے بے چارے آکر شکایت کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں، والدین پریشان کیے ہوئے ہیں کہ زیادہ پیسہ کما کر لاؤ؟ ہم نہیں جانتے کہ کہاں سے لاؤ، ہم کو پیسہ چاہیے اور اسی لیے کتنے لوگ پڑھاتے ہی نہیں، جو لوگ جاہل ہیں یا معمولی کاشت کار ہیں وہ تو بیچارے کسی کام کے نہیں ، نہ روٹی ملتی ہے، نہ دین ملتا ہے ، بھینس چرانے میں لگا دیا، کسی معمولی کام پر بیٹھا دیا، 15 روپے دن بھر میں لاکر دیتا ہے، بس! اسی میں خوش ہیں۔ جب دنیاکی محبت دل ودماغ پر چھا جاتی ہے تو پھر بڑے ہوں یا چھوٹے، بس معاملہ یہ ہوتا ہے کہ روئیے کا فرق ہوتا ہے۔ ایک بڑے عالم دین نے ایک مرتبہ کہا۔ ہم گومتی کے پل پر کھڑے ہوتے تھے ، ہمارے ایک بزرگ آئے ،انہوں نے کہا کہ دیکھو یہ آدمی جارہے ہیں، یہ کس چیز سے جارہا ہے ؟ سائیکل سے ، یہ کون ہے ؟ آدمی ہے ۔ دوسرا موٹر سائیکل سے گزرا تو وہ کہتے رہے کہ نہیں یہ دو روپیہ جارہا ہے، یہ پانچ روپیہ جارہا ہے ، یہ دس روپیہ جارہا ہے، بعض پانچ میں خوش ہیں بعض دس میں خوش ہیں ، بعض دس ہزار میں خوش ہیں ، انہیں دس لاکھ چاہیے، لیکن فکر ایک ہی ہے، چاہے بڑے سے بڑا سیٹھ ہو یا معمولی درجہ کا بیڑی پینے والا آدمی ہو، سب کا دل دوماغ بس ڈوبا ہوا ہے پیسے میں ۔ اسی لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھو اور دنیا میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھو، اگر دنیا کے بارے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھو گے تو الله تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کرو گے۔ اکثر معاملہ الٹا ہے ۔ دین میں تو نیچے والے کو دیکھتے ہیں ، ارے وہ بھی تو نماز نہیں پڑھتے ، وہ بھی تو تراویح نہیں پڑھتے ۔ ارے! وہ نہیں پڑھتے تو تم پڑھو، اس میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں گے اور دنیا کے معاملہ میں اوپر والے کو دیکھیں گے کہ فلاں موٹر سے چل رہا ہے ، اس کا گھر بن گیا ہے اور آپ ابھی تک کوٹھری میں رہ رہے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود بھی پریشان اور دوسرے بھی پریشان ،اس طرح ہر وقت پریشان رہے گا اور نہ جانے کن کن امراض میں مبتلا رہے گا۔ اس لیے اچھوں کی صحبت میں جب آدمی رہتا ہے تو اس کا دل اچھا ہو جاتا ہے ۔ دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور الله والا وہی ہیجس کے دل میں دنیا کی محبت نہ ہو ۔ یہ الله والوں کی نشانی ہے ۔ جھوٹ نہ بولتا ہو ، نماز کی پابندی کرتا ہو ، یہ موٹی موٹی علامات ہیں ،اس لیے پہچاننا آسان ہے ۔ سب سے پہلے دیکھ لیں کہ جھوٹ تو نہیں بولتا ، نماز کی پابندی کرتا ہے اور تیسری چیز اپنی خواہش کے چکر میں تو نہیں پڑا رہتا ہے ۔ کھانا ، کپڑا ، پیسہ۔ بس اسی کی فکر یا شہرت و نام وری کی ۔ الله کے جو نیک بندے ہوتے ہیں ان کو پیسہ کی پروا نہیں ہوتی، سونے کا ڈلا اور مٹی کا ٹھیکرا دونوں برابر ہو جاتے ہیں ۔ پیسہ ان کے پاس آتا ہے، لیکن سب بانٹ دیتے ہیں ،نہ شہرت کے لیے بھاگتے ہیں ،نہ نام وری کی ترکیبیں کرتے ہیں۔ بس الله کے نیک بندوں کی صحبت کی فکر کرنی چاہیے۔

اور اسی صحبت کی برکتوں کے لیے ہمارا پورا نظام اجتماعیت کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے، کیوں کہ اجتماع میں ہر شخص کو دوسرے سے فائدہ پہنچتا ہے ، اس اجتماعیت کی ایک اچھی شکل نماز باجماعت ہے، سب نماز پڑھنے والے ہیں ، سب ماشاء الله ، الله والے ہیں ،اس کا فائدہ ایک دوسرے کو پہنچتا ہے۔ نماز سب ساتھ میں پڑھتے ہیں، اس میں صحبت کا فائدہ ہوتا ہے او راسی طرح جب حج کرتے ہیں تو ایک ساتھ رہنے کا فائدہ ہوتا ہے ، اسی لیے ہماری ہر چیز اجتماعیت کے ساتھ رکھی گئی ہے ۔ روزہ ایک ساتھ رکھنا ہے ،اسی طرح ایک ساتھ رہنے کا حکم ہے، جب اچھے لوگوں کے ساتھ ہم ملیں گے، چلیں گے تو ہمارے اندر بھی اچھائی پیدا ہو گی ۔ الله تعالیٰ ہم سب کو صحیح صحبت عطا فرمائے۔ 




علماء و صلحاء کی مجالس
ابوعبدالله حارث بن اسد محاسبی
حضرت حسن بصری رحمہ الله تعالی فرمایا کرتے تھے : علما وصلحا کی مجالس کے علاوہ ساری دنیا میں تاریکی ہی تاریکی ہے ۔ ( جامع بیان العلم وفضلہ، ابن عبدالبر:51/1)

سہل بن عبدالله تستری فرماتے ہیں : جو انبیا کی مجالس کا منظر دیکھنا چاہتا ہو وہ علما کی مجالس کو دیکھ لے۔ ( مفتاح دارالسعادة ابن القیم :129)

اکابر ائمہ صلحا کی مجالس کا اثر
مقتدیٰ وصاحب سیرت ذات کو دیکھنے میں اس سے نصیحت کے سننے میں زیادہ اثر پذیری ہے اور دیکھنے والے میں اس کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں ، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے اس زیارت کا بہت حصہ حاصل کیا او راس سے بھر پور مستفید ہوئے ،کیوں کہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین آپ کی صحبت میں بیٹھتے، آپ کی زیارت سے محظوظ ہوتے اور آپ کا قرب تلاش کرتے تھے اس لیے وہ حضرات امت کا بہترین وافضل ترین عنصر کہلائے، جس کو نبی کریم علیہ الصلوات والسلام کے بعد لوگوں کو راہ نمائی وہدایت کے لیے منتخب کیا گیا۔

نیک وقابل اقتداء شخصیت کی زیارت الله تعالیٰ کی یاد دلاتی ہے کہ ان پر انوار وتحلیات کی ضیا پاشیاں، انس واطمینان، محبت وسکینت کی جھلکیاں، ان کی چال ڈھال، عاجزی، بول چال، خاموشی وفکر مندی، حرکت وسکون اورتمام احوال میں برستی نظر آتی ہیں تو ہر دیکھنے والے کی نظر اس منظر سے خدا تعالیٰ تک پہنچتی ہے اور یہ اس کے لیے ” مذکر“ ( یاد دلانے والی ) ہوتی ہے اوران لوگوں کی شکل وصورت توجہ الی الله کی وجہ سے نظروں کو الله تعالیٰ کی طرف پھیر دیتی ہے” یہی وہ لوگ ہیں جن کے دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے۔“

اہل الله کی مجالس میں بیٹھنے والوں میں خیر کیسے سرایت کرتی ہے؟
حکیم ترمذی رحمہ الله تعالیٰ”نوادر الاصول صفحہ140“ میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”من ذکَّرکم بالله رؤیتُہ“ (جس کا دیدار تمہارے اندر الله تعالیٰ کی یاد تازہ کر دے) کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کی نشانیاں ظاہر وباہر ہیں ۔ ان سے قرب خداوندی کی رونق، عظمت ایزدی کانور، کبریائی کا رعب ودبدبہ، وقار وسکینت کی انسیت ٹپکتی ہے، ان پر ملکوتیت کے آثار کے ظہور کی وجہ سے ان کو دیکھ کر الله تعالیٰ کی یاد ستاتی ہے۔

انسانی دل ان تمام صفات کا مخزن اور نور کا مستقر ہے، چہرہ بھی دل ہی کے رنگ سے رنگ جاتا ہے تو جب دل پر وعدہ وعید والے بادشاہ کا نور غالب ہو گا تو یہی نور چہرے سے ظاہر ہو گا، جب انسان کی نظر اس چہرہ پر پڑے گی ، نیکی وتقوی کو ابھارے گی، پھر اس سے الله تعالیٰ کے اوامر کے علم اور صلاح کی ہیبت دل میں جاگزیں ہو گی۔

دل میں جب حق تعالیٰ کی ہیبت کا نور ہو گا تو یہ چہرہ کو متاثر کرے گا، پھر جب تمہاری نظر اس چہرے پر پڑے گی تو تمہیں صدق وحق کی یاد دلائے گی، تم پر حق واستقامت کی ہیبت چھا جائے گی، (اسی طرح) جب الله جل شانہ کی عظمت وہیبت وبادشاہت کا نور دل میں ضو فشاں ہو گا تو یہ چہرے تک سرایت کرے گا، پھر جب اس چہرے سے نظریں دو چار ہوں گی تو الله جل جلالہ کی شان وشوکت ورُعب کی یاد دلائے گی ، ( اسی طرح) دل میں الله تعالیٰ کا نور ( جاگزیں) ہو گا، جو کہ منبع انوار ہے، تو ایسے انسان کا دیدار تمہیں عیوب ونقائص اور الله تعالیٰ کے حکموں کی خلاف ورزی سے مانع ہو گا، اس لیے کہ دل کی شان یہ ہے کہ اس سے چہرے کے سوتوں کو سیراب او راس کو تروتازہ زندگی کے پانی سے معطر کر دے گا اور چہرہ تک صرف وہی چیز سرایت کرے گی جو دل میں ہو گی ، پھر ان انوارات میں سے جو نور دل میں ہو گا وہی چہرے سے عیاں ہو گا، الله تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ ولقّٰھم نضرة وسروراً﴾․ (سورة الانسان)

”اور عنایت کر دی ان کو ( چہرے کی ) تازگی اور ( دل کی ) خوشی۔“

پھرجب بندے کا دل الله تعالیٰ کی رضا او راس سے چمکنے والے نور کی وجہ سے خوش ہو گا تو چہرہ دلی رضا مندی کی وجہ سے ( چمک دار ) تروتازہ ہو گا۔ اسی کو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی رؤیت سے یاد خدا وندی پیدا ہوتی ہے اور آپ نے اس کو ولایت کی نشانی او رعلامت بتلایا ہے “۔ ( فیض القدیر مناوی:467/2)

شیخ ابو غدہ فرماتے ہیں : سلف صالحین واکابر میں یہ وصف بہت زیادہ تھا، لوگ محض ان کی زیارت سے استفادہ کے لیے حاضر ہوتے، کیوں کہ محض ان کی زیارت ہی دلوں کو جگ مگا دیتی اور دل میں اصلاح کا داعیہ پیدا کر دیتی، دین کو محبوب بنا دیتی اور الله تعالیٰ کی یاد دلاتی تھی۔

علما کی مجالس میں جاتے وقت نیت کیا ہو؟
امام ابن الجوزی اپنی کتاب”صید الخاطر303/2“ پر فرماتے ہیں :” سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی نیک بندے کے پاس اس کی راہ نمائی وتوجہ کے حصول کے لیے جاتی تھی ، علم حاصل کرنا ان کا مقصد نہ ہوتا ،کیوں کہ ان کی رشد وہدایت اور کسی جہت پر گامزن ہونا ان کے علم کا ہی ثمر ونتیجہ ہوتا۔

ابو طالب مکی” قوت القلوب“ میں فرماتے ہیں : ”وہ حضرات شہروں کا رخ صرف علما وصلحا کی ملاقات وزیارت ان سے برکت کے حصول کے لیے کرتے اوران سے ادب سیکھنے جاتے تھے۔



اصلاح نفس کے لئے عالم ربانی کی ضرورت


مولانا عبدالماجد دریا بادی نے اپنے رسالہ ” سچائی اور ”صدق“ اور ”صدق جدید“ کے ذریعہ مادیت پرستی کی عالم گیر تحریک کی ہر برائی کا جس ہمت، استقامت، بصیرت اورمستقل مزاجی سے مقابلہ کیا ہے ، اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ ان کی تحریروں نے پچاس سال تک برصغیر ہند کے مسلمانوں کی بہتر راہ نمائی کی ہے۔ ان کی تفسیری خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں، قرآن مجید کی اردو اور انگریزی میں تفسیر ان کا اہم کارنامہ ہے۔ برصغیر ہند میں1925ء سے لے کر 74ء تک معاشرے کی سطح پر جو بھی فتنے اٹھے، موصوف نے اپنے رسالہ کے ذریعہ ان کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ مولانا کا ذرج ذیل مضمون ”سچائی“ 1928ء کے شمارے سے ماخوذ ہے۔

ایک صاحب کاایک بہت طویل مراسلہ آیا ہے۔ مراسلہ کا زیادہ حصہ حسب ذیل ہے۔

”مدت سے ایک ضمیری الجھن میں مبتلا ہوں اورکوئی روحانی طبیب مجھے ملتا نہیں ۔ بحیثیت مسلمان، پیری مریدی سے متعلق آپ کے حقیقت آگیں خیالات سے مستفیض ہونا چاہتا ہوں۔ خوش نصیبی یا بدنصیبی سے میرے خاندان میں دونوں شغل ہوتے ہیں ۔ مجھے کسی الله والے سے نسبت ارادت حاصل نہیں ، بہت گناہ گار ہوں، مگر قلب وضمیر کی حالت بحمدالله بہت کچھ قابل اطمینان ہے…

اسلامی نقطہٴ نظر سے پیری مریدی کے اغراض ومقاصد کیا ہیں؟
ملت مرحوم کے لیے من حیث الاسلام یہ کہاں تک لازمی ہے ؟ کیا قرن اول میں جو یقینا اسلام کا عہد سعادت تھا، ایسی مثالیں ملتی ہیں ؟ عہد نبوت وعہد صحابہ کے بعد دورِتابعین میں بھی کیا پیری مریدی کی کثرت اور نا خوش آیند بہتات تھی؟ تمسک بالکتاب والسنةکے بعد کیا یہ بھی لازمی ہے کہ کسی رسمی پیر کی پیروی کی جائے ؟ ایک مسلمان امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا پابند ہے ، الله سے ڈرتا ،سچ بولتا، مشائخ کرام اور صلحائے امت کا ادب واحترام رکھتا ہے ، لیکن عرف عام میں مرید نہیں ، کیا عندا لله وہ اس کا ذمہ دار ہے؟ اگر بیعت کا مقصد دعوت الی الحق ، رشد وہدایت وغیرہ ہے ، تو آج کل پیروں کی جماعت عموماً یہ خدمات کہاں تک انجام دے رہی ہے ؟ پھر محترم علمائے امت کی موجودگی میں، اس جماعت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ پھر صوفیہ کرام کی جماعت میں اگر کچھ صاحبان علم وعمل افراد ہیں بھی ، تو ان میں ایسوں کا تو بالکل پتہ نہیں ، جوبلا خوف لومة لائم اظہارِ حق میں بے باک ہوں…

صحابہ کرام رضی الله عنہم کے اسوہٴ حسنہ محفوظ ہیں۔ کیا ان سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں ہونی چاہییں ، ایک دین کی راہ نمائی کے لیے اور دوسری دنیا کی ۔ یا یوں کہا جائے کہ ایک مسلمانوں کے قلب وضمیر کی اصلاح کرے اور دوسری شریعت کے ظاہری احکام کی طرف راہ نمائی ؟ پھر اگر کوئی مسلمان اپنی فطری صلاحیت سے اپنی اخلاقی اصلاح کرنا چاہے تو کیا یہ ممکن نہیں؟

جناب رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کے ارشادگرامی ”من مات لیس فی عنقہ بیعة مات میتة الجاھلیة“․ کا کیا مفہوم ہے ؟ امام سے مراد امیر امت، قائد عسکر ، مرشد طریقت، امام جماعت؟لیکن اول الذکر دو صورتوں میں ہندوستان کے سات کروڑ حلقہ بگوشان اسلام کے لیے صورت تشفی کیا ہے؟

مشائخ کرام، سورہ فتح کی آیتِ کریمہ﴿ان الذین یبایعونک﴾ سے استدلال فرماتے ہیں او ربیعت طریقت کو لازمی بتاتے ہیں ۔ کیا موجود بیعتوں کو کوئی نسبت اس بیعت سے ہے ؟ اسلام میں بیعت کی مختلف صورتیں ہیں، متداول بیعتیں کس شق میں داخل ہیں ؟ ایک بیعت اس خیال سے بھی کی جاتی ہے کہ چاہے تمام عمر کچھ بھی کرتے رہیں، لیکن اگر کسی سلسلہ میں داخل ہو گئے تو ہمارے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے … اب واقعی بیعت کی دو صورتیں رہ گئیں ۔ کسی مسلمان کا پنے گناہوں سے پشیمان ہونا اور کسی محترم شخصیت کے ہاتھ پر ترک گناہ کا عہد کرنا… مگر ظاہر ہے کہ آج کل یہ خیال سرے سے پیش نظر ہی نہیں ۔ اب رہی دوسری صورت اور وہی یقینا مبارک ہے، یعنی کسی مسلمان کو پورا پورا پابند شریعت او رمتبع سنت پائے او راس کے قدم بہ قدم چل کر اپنی دنیا وعاقبت سنوارے۔ لیکن جناب محترم مجھ سے کہیں زیادہ باخبر ہیں کہ آج مسلمان اس پر کہاں تک عامل ہیں … جامعہ عثمانیہ کے ایک ممتاز فاضل سے تبادلہ ٴ خیال کا اتفاق ہوا۔ ان کی تقریر کا ماحصل یہ نکلا کہ مسلمان ان معاملات میں بھی دوسری اقوام کے عقائد وخیالات سے متاثر ہوئے او رانہوں نے کئی تاریخی شہادتوں سے استناد کیا۔“

مراسلہ نویس کے دل میں جو خیالات اور سوالات پیدا ہوئے ہیں ، بہتوں کے ذہن انہیں الجھنوں میں مبتلا ہیں اور سچ یہ ہے کہ کس سے وہ جواب اور اپنی تشفی چاہتے ہیں ، وہ خود بھی نہ ابھی تک کسی کے مرید ہیں اور نہ ان الجھنوں سے آزاد ہو ہوئے ہیں ۔ بیمار کے علاج کے لیے ضرورت طبیب کی ہے، نہ کہ کسی دوسرے بیمار کی۔ تاہم بعض پرانے مریض طبیبوں کی باتیں سنتے سنتے خود بھی کچھ نیم طبیب سے ہو جاتے ہیں او رگوخود بدستور بیمار چلے جاتے ہیں ، لیکن اپنے ان تجربوں سے نئے مریضوں کی ایک گونہ ہمدردی ودل دہی کرسکتے ہیں۔

سب سے پہلے ایک اہم حقیقت کو پیش نظر کر لینا چاہیے ، جو اگرچہ بالکل صاف، واضح اور غیر اختلافی ہے ، لیکن اکثر ذہن سے نکل جاتی ہے اوراسی کے نظر انداز ہو جانے سے طرح طرح کی غلط فہمیاں اور الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ خالص دینی علوم بھی آج جن با آئین وباضابطہ صورتوں میں موجود ہیں اور جو مصطلحات ان میں رائج ہیں ، عہد رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم میں، ان میں سے کوئی شے بھی نہ تھی اور اس خاص لحاظ سے یہ سب ” بدعت“ ہی ہیں ۔ خود سنت رسول صلی الله علیہ وسلم ہی کو لیجیے۔ آج فن احادیث وسنن ایک مستقل ومخصوص فن ہے ، جس میں صدہا اصطلاحات ہیں ، جس کے اصول پر تصانیف کا ایک دفتر ہے ، جس کی مختلف شاخیں اور شعبے ہیں اور جس کے سیکھنے کے لیے برسوں کی محنت او راساتذہٴ کاملین کی ہدایت کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ عہد رسالت صلی الله علیہ وسلم میں یہ کچھ بھی نہ تھا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی معمولی سادہ گفتگو کا نام ”حدیث“ اور روزانہ زندگی کا نام سنت تھا۔ محدثین کرام کی کاوشوں کو کوئی شخص ” بدعت“ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا، یہی حال ائمہ تفسیر کی نکتہ سنجیاں اور ائمہ فقہ کے قیاس ، اجتہاد ، واستنباط کا ہے ۔ لغوی معنی کے لحاظ سے یہ سب کچھ بدعت ہی ہے ، لیکن اگر حقیقةً بخاری ومسلم ، ابوحنیفہ ومالک رحمہم الله کی جاں فشانیوں سے یکسر قطع نظر کر لی جائے ، تو شریعت اسلام کے پاس باقی کیا رہ جائے گا؟ خود صحیفہٴ ربانی تک ، اس ہیئت وترتیب وتدوین کے ساتھ مکتوبی صورت میں ، عہد رسالت میں کہیں یک جا موجود نہ تھا۔

بات بالکل صاف اور موٹی ہے، لیکن ذہن انسانی کا خاصہ ہے کہ اکثر سامنے کی چیزوں کو بالکل بھلائے رکھتا ہے اور دور دور کی باریکیوں میں الجھنے لگتا ہے ۔غرض جو حال فقہ کا ہے ، تفسیر کا ہے ، حدیث کا ہے ، ٹھیک وہی حال تصوف وسلوک کا ہے ۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نہ لفظ ”تصوف “ موجود تھا۔ نہ”لفظ“ صوفی اور نہ ” احوال“ و” مقامات“ ”اذکار“ و”اشغال“ کی وہ سینکڑوں دوسری اصطلاحیں، جن سے موجودہ تصوف بھرا پڑا ہے۔

”پیری“ و”مریدی“ کے الفاظ بھی اس زمانہ میں ناپید تھے۔ پس جہاں تک لفظ واصطلاح کا تعلق ہے ، یہ دعویٰ بالکل درست ہے کہ تصوف اور پیری مریدی بدعت ہے ۔ لیکن اس معنی میں خود فن حدیث بھی بدعت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نہ کوئی فن ” اسماء الرجال“ تھا، نہ ”جرح“ و”تعدیل“ کے اصول وقواعد مدون تھے، نہ ”ضعیف“ و” موضوع“ کی اصطلاحیں وضع ہوئی تھیں اور نہ کوئی دماغ ”متواتر“ و” صحیح“ ” حسن“ و”غریب“ کی بحثوں سے آشنا ہوا تھا، لیکن لفظ واصطلاح کی بحث سے گزر کر، اگر اصل حقیقت تک پہنچنا مقصود ہے، تو جس طرح ہر صحابی ، بزم رسول صلی الله علیہ وسلم کا ہر صحبت یافتہ ، دربار رسول صلی الله علیہ وسلم کا ہر حاضر باش، مفسر تھا، محدث تھا اور فقیہ تھا، اسی طرح صوفی بھی تھا۔ اور بلا استثنا ہر صحابی مرید بھی تھا۔ سب کے پیر، مرشد کامل ، سرکار رسالت صلی الله علیہ وسلم تھے۔

کہا جاتا ہے کہ تمسک بالکتاب والسنة کے بعد، کسی رسمی پیر کے مرید ہونے کی ضرورت کیا رہتی ہے؟ سارا مغالطہ سوال کے لفظ ”رسمی“ میں میں موجود ہے۔ ”رسمی“ تو کسی شے کی بھی ضرورت نہیں۔ نہ رسمی اسلام کی ، نہ رسمی اتباع رسول صلی الله علیہ وسلم کی ، نہ رسمی تمسک بالکتاب کی۔ لیکن حقیقی اسلام، حقیقی ایمان، حقیقی تمسک بالکتاب والسنة ، بغیر کسی زندہ شخصیت کے توسط کے ممکن کیوں کر ہے ؟ اور اسی زندہ شخصیت کا اصطلاحی نام” پیر“ ہے ، ” مرشد“ ہے ، ” صاحب بیعت وارشاد“ ہے ۔ ابوبکر وعمر ، عثمان وعلی، حسن وحسین رضی الله عنہم اجمعین سے بہتر فطری صلاحیت واستعداد کس میں موجود ہو سکتی ہے ، پھر جب ان کے لیے ایک زندہ شخصیت صلی الله علیہ وسلم کا اتباع ناگزیر رہا تو اور کسی کو کب مفر ہو سکتا ہے ؟ حدیث کی جن کتابوں کو ہم سر چشمہٴ تقدیس سمجھ رہے ہیں ،ان کے نقوش وحروف، ان کے کاغذ کی سفیدی اور الفاظ کی سیاہی میں کیا رکھا ہوا ہے، ان میں جو کچھ تقدس ہے وہ سارے کا سارا اسی بنا پر تو ہے کہ ان کے اندر کسی زندہ شخصیت کی روح کس حد تک محفوظ ہے ، یہ روح مردہ کاغذ کے مردہ طومار میں تو محفوظ ہو جائے اور زندہ انسان کے زندہ قلب میں نہ محفوظ ہو سکے! یہ روح الماریوں کے سفینوں میں تو منتقل ہو جائے اورپاکوں اور پاکبازوں کے سینوں کو منور نہ کر سکے!

قرآن، رسول کا تو کلام نہیں، الله ہی کا کلام ہے اور بندوں کی ہدایت ہی کے لیے نازل ہوا ہے ۔ یہ بھی ہم سب کا ایمان ہے اور خود قرآن بار بار اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ اس میں ساری ضروری ہدایات، تفصیل وتشریح کے ساتھ موجود ہیں۔ بایں ہمہ یہ نہ ہوا کہ قرآن براہ راست تمام بندوں کے پاس پہنچ جاتا۔ منکرین او رمومنین اسے آسمان سے اترتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ، کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا مل جاتا ، یا ایک روز جب صبح ہوتی تو اس کا ایک ایک نسخہ ہر شخص کے سرہانے رکھا ہوا موجود ہوتا، اس طرح کی تو کوئی چیز بھی نہ ہوئی ۔ بلکہ الله نے اس کے بالکل برعکس طریقہ یہ اختیار کیا کہ پہلے ایک انتہائی بد کار قوم کے درمیان ایک پاک اور برگزیدہ ہستی پیدا کی ، چالیس بر س کی عمر تک اس شخصیت کو اس قوم کے درمیان ہر قسم کے سابقہ کے ساتھ رکھا اور اس کی طینت وسیرت کے ایک ایک جزئیہ کی جانچ اور پرکھ کا پورا موقع دیا۔ جب یہ سب مراتب طے ہوچکے، اس وقت کہیں جاکر پیام کا نزول شروع ہوا، لیکن اس وقت بھی ”پیام“ کے پیش کرانے سے قبل ”پیام بر“ کی شخصیت ہی کو پیش کرایا گیا اور جب قوم اس شخصیت کے صادق وامین ہونے کا اقرار کر چکی ، تب اس سچے کی زباں سے سچی باتیں کہلائی جانی شروع ہوئیں۔ اس پر بھی سارے پیام کویک بیک اور دفعةً نہیں پیش کر دیا گیا، بلکہ پیامبر کی شخصیت پر مختلف او رمتعدد دور حاوی کرکے …23 برس کی طویل مدت میں ، بہت ہی تدریج کے ساتھ اس پیام کو پہنچایا گیا۔ پس نظری اور ربانی طریقہ تو یہی ہے کہ پہلے پیام بر پھر پیام، پہلے طبیب، پھر نسخہ، پہلے ہادی پھر ہدایت۔ اب اگر ہم اس ترتیب کو الٹ دینا چاہیں، اگر ہادی سے بے نیاز ہو کر ہدایت تک اور شخصیتوں سے قطع نظر کرکے محض اصول وسائل تک پہنچ جانا چاہیں تو یہ ترتیب ربانی سے جنگ کرنا ٹھہری۔

یہ نہ خیال گزرے کہ یہ طریق ودعوت وہدایت صرف وحی الہیٰ کے ساتھ مخصوص تھا، بلکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے بعد اپنے قصد وارادہ کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔ آپ نے یہ نہ کیا کہ قرآن مجید کے نسخوں کی نقلیں کثرت سے کراکے محض انہیں اطراف ملک میں بھیج دیا ہوتا، یا اپنے اقوال وسنن کو ضبط تحریر میں لا کر ملک میں ان کے نسخوں کی اشاعت کر دی ہوتی، بلکہ آپ نے صحابیوں کی جماعت پیدا کی ، اشخاص پیدا کیے ، جو اپنی زندگیوں میں آپ کی تعلیم اور آپ کے عمل کے عملی نمونہ تھے اور دین کی روشنی آپ نے ان زندہ شخصوں کے ذریعہ سے پھیلائی ۔ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے یہ کبھی نہ کیا کہ کسی گوشہ میں تشریف فرماہو کر ، سکون وخاموشی کے ساتھ قلم وکاغذ لے کر تصنیف وتالیف میں مشغول ہو جاتے اورحسن عمل وحسن اخلاق پر مقالات تیار فرمانے لگتے، بلکہ آپ نے اپنی نورانیت سے قلوب کر منور کرنا شروع کیا او راپنی پاکیزگی کے عکس سے دوسروں کے سینوں کو پاک بنا دیا۔ رسول صلی الله علیہ وسلم نے کچھ تصنیفات اپنی یاد گار چھوڑیں؟ ہاں! بے شبہ چھوڑیں، لیکن وہ کاغذ کے طومار، اور سیاہی کے ڈھیر نہیں ، وہ وگوشت وپوست کے بنے ہوئے جسم اور تقویٰ وطہارت میں ڈھلی ہوئی روحیں تھیں۔ ان تصانیف کا شمار ہزار ہاتک پہنچتا ہے، چند مشہور ترین کے نام ابوبکر رضی الله عنہ وعمر رضی الله عنہ، عثمان رضی الله عنہ، علی رضی الله عنہ تھے، پھر یہ حضرات بھی کتابی تصنیف وتالیف پر ایک لمحے کے لیے متوجہ نہ ہوئے ۔ انہوں نے بھی زندہ ہستیوں کو اپنے نمونہ پر ڈھالنا شروع کیا اور اپنے شاگردوں کے جسموں میں اپنی روحیں پھونکنے کا عمل جاری رکھا۔ ” صحابہ“ تابعین“ اور ”تبع تابعین“ یہ سب کون تھے ؟ شاگردوں کی جماعت ،مریدوں کی جماعت، بیعت کرنے والوں کی جماعت، ارادت رکھنے والوں کی جماعت۔

مادی علوم میں آج کون سا علم اور دست کاری کے پیشوں میں آج کون سا پیشہ ایسا ہے ، جس میں استاد کی مدد لازمی نہیں ؟ پھر روحانیت کا علم ، جو ان تمام علوم سے زیادہ لطیف ، تزکیہ نفس کافن، جوان تمام فنون سے زیادہ دشوار، الله کی معرفت ، جوہر شے سے زیادہ نازک ہے ، ممکن ہے کہ اسی میں ” استاد“ کی ضرورت نہ پڑے ؟ اس سفر میں تو قدم قدم پر راہ نماناگزیر ہے ۔ اسی راہ نما یا ایسے استاد کااصطلاحی نام پیر ومرشد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ علماء کے ہوتے ہوئے ، پیروں کی ضرورت کیا ہے ؟ لیکن یہ ” مولیوں“ اور”پیروں“ کی موجودہ تفریق بھی تو ہماری آپ کی قائم کی ہوئی ہے، اسلام اس کا ذمہ دار کب ہے ؟ اسلام تو ”صادقین“ ”متقین“ ”مومنین“”صالحین“” محسنین“ کی جو جماعت پیدا کرنا چاہتا ہے ، اس میں اس تفریق کا گزرہی نہیں ۔ وہ ہستیاں تو علم وعمل ، قول وفعل، فقہ وفقر، دونوں کی جامع ہوتی تھیں۔ یہ تفریق تو سینکڑوں دوسری تفریقوں کی طرح، دور انحطاط او رامت کی بدبختی وبداقبالی نے پیدا کر رکھی ہے اور وہی اس کی ذمے دار ہے۔

مریدی کا اصلی راز، پیر کی صحبت ہے۔ چناں چہ لفظ”صحابی“ بھی ”صحبت“ ہی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے او رپیر کے مفہوم کی جانب بھی اشارہ ہو چکا ہے ، یعنی وہ شخص جس کے نفس کا تزکیہ اس حدتک ہو چکا ہے کہ وہ اپنی رفاقت سے دوسرے کے نفس کا بھی تزکیہ کر دے ، وہ کامل جو دوسروں کو بھی کامل بنا سکے ، مصلح جس کی ہم نشینی دوسروں کی فطری صلاحیتوں کو ابھار دے ۔ پس مرید ہونے کے معنی ، اس سے زائد کچھ نہیں کہ جس کے پاک وصالح ہونے پر بھروسا ہو ، جس کے تزکیہ نفس پر اعتماد ہو ، یا بہ اصطلاح صوفیہ اس سے قلب کو ارادت ہو ، اس کی خدمت میں اطاعت ونیاز مندی کے ساتھ حضوری کی جائے اور یہ مریدی، کلام مجید کے حکم ﴿وکونوا مع الصادقین﴾ کی عین تعمیل ہے … آیت کے الفاظ یہ ہیں ﴿یا ایھا الذین آمنوا، اتقوا الله وکونوا مع الصادقین﴾، محض ایمان کافی نہیں ۔ ایمان والوں سے ہی تو خطاب ہے۔ ایمان تو پہلے ہی قائم ہو چکا ہے ۔ اب اس کے بعد حکم ہوتا ہے کہ الله سے تقوی اختیار کرو ، صدق دل سے نمازیں پڑھو، روزے رکھو، ادائے حقوق کرو ، وغیرہ۔ لیکن یہ سارے اعمال بھی کافی نہیں، بلکہ دوسرا حکم یہ ملتا ہے کہ صادقوں کی معیت اختیار کرو، راست بازوں کی صحبت میں رہو ، پاکوں کی پیروی کرتے رہو اور یہ مریدی ہے۔

اتباع رسول کا نام لیا گیا ہے لیکن رسول خدا صلی الله علیہ وسلم کی زندگی محض خارجی اعمال اور ظاہری اعمال کے مجموعہ کانام نہ تھا۔ پیکر خاک کے اندر نور پاک جلوہ گر تھا۔ اس نور کی تجلی ریزیاں ہر گھڑی اور ہر لمحہ ہوتی رہتی تھیں۔ تمام صحابہ رضی الله عنہم ہر حیثیت سے مساوی نہ تھے اپنا اپنا ظرف اوراپنی اپنی نظر تھی۔ حضرت خالد میدان جہاد کے کماندار ہوئے، حضرت بلال رضی الله عنہ کسی کی نگاہ ناز کے خود ہی گھائل ہوئے ، حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ روایات حدیث کی اشاعت کرتے رہے، حضرت ابن عباس رضی الله عنہ کی قسمت میں ترجمان القرآن بننے کی سعادت آئی، حضرت حسین بن علی رضی الله عنہما کو خاک کربلا میں تڑپنا او رخون میں نہانا نصیب ہوا۔ ہر صاحب کا مذاق طبیعت جدا گانہ تھا۔ قدرة ایک بڑی اطاعت کی توجہ امور خارجی پر زیادہ مبذول رہی ۔ اور اس کا بڑی تفصیل سے مطالعہ ہوتا رہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز میں ہاتھ سینے پر باندھا یا ناف پر ، آمین آہستہ فرمائی یا آواز سے ، لیکن ایک دوسری جماعت بھی برابر موجود رہی ، جس کی نظر ظاہر سے زیادہ باطن پر ، قال سے زیادہ حال پر رہی ، یہ خوش نصیب تھے ، جنہوں نے محض ”فتح مکہ“ کی جلوہ طرازیوں کا تماشا نہیں دیکھا، بلکہ ”غارِحرا“ کی خلوت آرائیوں کا مزہ بھی چکھا، جنہوں نے محض ﴿حرض المؤمنین علی القتال ﴾ہی کا پیام نہیں سنا، بلکہ﴿ سبحان الذی اسری﴾ کی حقیقت کو بھی پہچانا اور جن کی نگاہیں محض یہیں تک محدود نہیں رہیں کہ نماز کی کتنی رکعتیں پڑھی گئیں ، بلکہ یہاں تک بھی پہنچیں کہ نماز کس دل سے پڑھی گئی، کس ذوق شوق سے ادا کی گئی اور قلب کے اندر خضوع وخشوع کی کیا کیفیتیں رہیں۔ شجرہٴ تصوف وطریقت کے سر سلسلہ یہی بزرگان کرام ہوئے ہیں۔

اس نعمت کے حصہ دار کم وبیش تمام صحابیان کرام رضی الله عنہم تھے، لیکن خصوصیت کے ساتھ اس دولت سے مالا مال، حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت حذیفہ، حضرت سلمان فارسی، حضرت ابوعبیدہ، حضرت ابودرداء، حضرت ابوہریرہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت عمران بن حصین، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنہم وغیرہم تھے۔ چناں چہ صوفیہ کے قدیم تذکرے انہیں حضرات سے شروع کیے گئے ہیں ۔ اور تصوف کی بعض قدیم ترین تصانیف میں تو حضرت عمر  اور حضرت عثمان کو بھی صراحت کے ساتھ اساطین تصوف میں شمار کیا ہے ۔

شریعت وطریقت کے درمیان کوئی تخالف یا تضاد مطلق نہیں، بلکہ اکابر طریقت کے حسب تصریح کمالِ شریعت ہی کا نام طریقت ہے ۔ اتباع رسول صلی الله علیہ وسلم جب تک محض ظواہر تک محدود ہے ، اس کا نام شریعت ہے او رجب قلب وباطن بھی نورانیت رسول صلی الله علیہ وسلم سے منور ہو گیا تو یہی طریقت ہے ۔ ایک شخص نے نماز حسب قواعد مندرجہ کتب پڑھ لی ، شریعت کی رو سے یہ نماز جائز ہو گئی ۔ طریقت اسے کافی نہ سمجھے گی ۔ وہ اس پر مصر ہو گی کہ جس طرح چہرہ کعبہ کی جانب متوجہ رہا، قلب بھی رب کعبہ کی جانب متوجہ رہے او رجس طرح جسم حالت نماز میں ظاہری نجاستوں سے پاک رہا ، روح بھی باطنی آلایشوں، پریشان خیالیوں سے پاک رہے ۔ یہ شریعت کی مخالفت ہوئی یا منشا شریعت کی عین تکمیل؟ حضرت اکبر نے اس مقام اور اس منزل کی توضیح اپنے مخصوص انداز میں کی ہے #
        شریعت در محفل مصطفی
        طریقت عروج دل مصطفی
        عبادت سے عزت شریعت میں ہے 
        محبت کی لذت طریقت میں ہے 
        شریعت میں ہے صورت ”فتح بدر“
        طریقت میں ہے معنی ”شق صدر“
        شریعت میں ہے قیل وقال حبیب
        طریقت میں حسن وجمال حبیب
        نبوت کے اندر ہیں دونوں ہی رنگ
        عبث ہے یہ ملا وصوفی کی جنگ

آخر یہ ارشاد بھی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہی کا ایک باخبر سائل کے جواب میں ہے ، کہ:

” قال: ما الاحسان؟ قال: ان تعبد الله کانک تراہ، فان لم تکن تراہ، فانہ یراک“․ (بخاری، کتاب الایمان)

”احسان نام اس کا ہے کہ تو الله کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔“

پوری حدیث میں ایمان کے معنی بعض عقائد کے بتائے گئے ہیں اور اسلام کے معنی بعض اعمال کے ارشاد ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ، احسان، کی یہ توضیح فرمائی گئی ہے۔ گویا عقیدہ وعمل کے بعد ایک تیسری منزل ، ان دونوں سے بلند تراحسان کی آتی ہے، جس کا تعلق محض جاننے اور کرنے سے نہیں ، بلکہ ”مشاہدہ“ و ”رویت“ سے ہے۔ یہی منزل، تصوف وطریقت کی منزل ہے۔ چناں چہ شاہ ولی الله نے”اہل تصوف“ کے بجائے ”اہل احسان“ ہی کی اصطلاح اختیار کی ہے ۔ اور شاید” اہل صدق“ و”صدیقین“ کی اصطلاحیں بھی یہی کام دے سکیں۔ لیکن یہ ساری بحثیں محض لفظی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ایمان کے اجزا اور اسلام کے ارکان تو کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوسکتے ہیں ، ایمان وعمل کے ظاہری اور خارجی پہلو تو کتابوں سے دریافت ہو سکتے ہیں ، لیکن قلب کو مرتبہ احسان تک پہنچا دینا، تزکیہٴ باطن، تجلیہ نفس، تطہیر اخلاق، بغیر ایک زندہ شخصیت ، بغیر ایک مرشد کامل کی وساطت کے کیوں کر ممکن ہے ؟ جو قانون اور ضابطے کتابوں میں درج کرنے والے تھے، حدیث وآثار وفقہ کی کتابوں میں مدون ہوتے رہے، لیکن جن چیزوں کا تعلق وجدانیات وکیفیات سے ہے ، وہ تحریر میں کیوں کر آسکتی تھیں، وہ تو ایک قلب سے دوسرے قلب پر اپنا عکس ڈال سکتی ہیں۔

یہ مرشد کوئی خودرو اور خود رائے ہستی نہیں ہوتی ، بلکہ جس طرح آپ قرآن کی ساری عبارت کو محض سند متصل کی بنا پر کلام الہیٰ مانتے چلے آتے ہیں ، جس طرح آپ بخاری کی کسی روایت کو محض اس لیے کلام رسول صلی الله علیہ وسلم تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ معتبر سند تسلسل کے ساتھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت ہوئی ہے ، ٹھیک اسی طرح اس مرشد کا قلب بھی ، ایسے مضبوط واسطوں کے ساتھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے قلب مبارک سے ملا ہوا ہوتا ہے ۔ اس کا رابطہٴ روحانی بھی ، ایسی ہی زنجیر کی مضبوط کڑیوں کی طرح، سرچشمہ ٴ تقدس وروحانیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے ۔ جس طرح امام بخاری  اورامام مسلم ( الله ان کی تربتوں کو ٹھنڈارکھے) ”آثار رسول“ و”اخبار رسول “ کو اپنے ضخیم دفتروں میں ضبط وفراہم کرتے رہے ، اسی طرح حسن بصری وجنید ، ”اسرار رسول“ ”انوار رسول “ سے اپنے سینوں کو منور کرتے رہے ادھر رسول کا ”قال “ ایک سفینے سے دوسرے سفینے میں نقل ہوتا رہا ، ادھر رسول کا ”حال“ ایک سینے سے دوسرے سینے کو طور سینا بناتا رہا۔ دونوں شعبوں کی جامعیت ، عہد صحابہ ہی میں ، صرف تھوڑے سے خوش نصیبوں کے حصے میں آئی ، پھر آج چودھویں صدی میں اس کی تلاش پر کیوں اصرار ہے ؟ تاہم زمانہ اب بھی یکسر خالی نہیں ۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن او رمولانا شاہ بدرالدین  کی مبارک ہستیاں، اسی چودھویں صدی میں تھیں۔

سوال کیا گیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان اپنی فطری صلاحیت سے اپنے اخلاق کی اصلاح کر لینا چاہے، تو کیا یہ ممکن نہیں؟ جواب میں ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص محض اپنی عقل سلیم کی مدد سے خالق ومخلوق کے حقوق پوری طرح ادا کرنے لگے تو کیا یہ کافی نہیں ؟ نہیں اور یقینا نہیں۔ اگر محض عقل سلیم اور صلاحیت فطری ، خدا شناسی کے لیے کافی ہے ، تو کیا کتابوں کے نازل کرنے، انبیائے کرام کے بار بار بھیجنے او ران سے منکرین کے جدال وقتال کا سارا نظام، معاذ الله بے کاروعبث ہی ٹھہرتا ہے۔ 

یہ تنگی نہیں ، عین وسعت اورسختی نہیں ، عین رحمت ہے کہ دین اورمعرفت دین کی نزاکتوں کا بار، محض قوائے عقلی پر نہیں ڈال دیا گیا، بلکہ اس کے لیے تو اسے عقلی سے کہیں برتر وبلند ترقوت، وحی الہٰی سے امداد بہم پہنچائی گئی اور اس نعمت غیر مرئی کو اجسام انبیاء کرام کی شکل میں مرئی ومجسم کرکے پیش کیا گیا اور دنیا پر ان کی پیروی فرض کی گئی ۔ لفظ فرض اچھی طرح ذہن میں رہے۔ محض مستحب یا مستحن نہیں، انبیائے کرام خصوصاً سب سے آخری نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیروی ،فرض اور قطعی فرض ہے ۔ اگر آج کوئی شخص محض عقلی دلائل سے یا اپنے باطن کی اشراقیت کو بیدار کرکے ، اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ صحیح عقیدہ، عقیدہٴ توحید ہے اور نماز اور روزہ وغیرہ میں بے شمار فوائد ہیں تو ایسے شخص کا شمار ہر گز مسلموں میں نہیں،کیاجاسکتا، اس لیے کہ اس نے ان مسائل کو صحیح راستہ سے، پیروی رسول صلی الله علیہ وسلم سے ، اتباع وحی سے نہیں حاصل کیا، مسلم بننے کے لیے رسول کے لائے ہوئے دین کی ، رسول صلی الله علیہ وسلم کے نمونے کی پیروی لازمی ہے۔ اور اسلام اور عدم اسلام کے درمیان یہی ایک شے فرق وامتیاز پیدا کرنے والی ہے۔

جب پیروی رسول ناگزیر ٹھہری تو سوال یہ ہے کہ پیروی رسول کے معنی کیا ہیں ؟ کیا محض الفاظ رسول کو قبول کر لینا مراد ہے ؟ کیا محض ہیئت عبادت رسول کا اقتدا مقصود ہے؟ کلام مجید میں ایک جگہ نہیں ، متعدد بار اور کنایہ، نہیں صراحتاً اتباع رسول کا حکم وارد ہوا ہے ۔ جہاں کہیں بھی یہ حکم آیا ہے اپنی مطلق وغیر مقید صورت میں آیا ہے ۔ یہ نہ کہیں ارشاد ہوا ہے، نہ کہیں سے یہ نکلتا ہے کہ امت کے لیے رسول صلی الله علیہ وسلم کے صرف ظاہر کی پیروی کافی ہے او رباطن کی پیروی غیر ضروری ہے ۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جس طرح ہمارے لیے اسوہٴ حسنہ کا حکم بلحاظ اپنی نماز کی تعداد رکعات کے ، رکوع وسجود کے ، قیام وقرات کے رکھتے ہیں، اسی طرح وہ نماز میں خشوع وخضوع کے لحاظ سے ، ذوق ووجد کے لحاظ سے، کیف واستغفراق کے لحاظ سے بھی ہمارے لیے اسوہٴ حسنہ کے حکم میں داخل ہیں۔ پس جب باطن رسول کی پیروی بھی ویسی ہی ضروری ٹھہری جیسی ظاہر رسول کی تواب ارشاد ہوا کہ اس پیروی باطن کی صورت کیا ہے ؟ رسالت کے لفظ اور ظاہر کی پیروی تو کتابوں کے ذریعہ سے ممکن ہے ، پر معنی او رباطن کی پیروی کا کیا ذریعہ ہے ؟ اخبار رسول تو مجلدات کے الٹ پلٹ سے ہاتھ آسکتے ہیں ، لیکن انوار رسول صلی الله علیہ وسلم کا عکس کس آئینہ میں نظر آئے؟

﴿بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوعلیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمة﴾․

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے اصلی مقاصد کلام مجید میں ، امت پر تلاوت آیات کے بعد دوبتائے گئے ہیں، ایک تزکیہٴ نفوس، دوسرے تعلیم وتشریح ،کتاب وحکمت۔ تشریح کتاب وحکمت کا سامان تو امام بخاری اور امام مسلم کی وضاحت سے بحمدالله ہو گیا، لیکن اس سے بھی مقد م تر مقصد ”تزکیہ“ کی آخر کیا صورت ہے ؟ ” مرشد کی تلاش“ ایک زندہ نائب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی معیت، انہی سوالات کا جواب ہے ؟

یہ مرشد، صحیح معنی میں ، مقلد ہوتا ہے، ”آئینہ“ کے پیچھے ” طوطی صفت“ رہ کر ” استاد ازل“ کے سبق کی تکرار کرتے رہنے سے ، اس کا کام زائد نہیں۔ کوئی نیا مجاہدہ، ایجاد واختراع کرنا، ہر گز اس کا کام نہیں ۔ لیکن ” اجتہاد“ ”استنباط“ کا دروازہ تو مقلدوں کے ائمہ فقہ اور غیر مقلدوں کے ائمہ حدیث کے لیے کھلا ہوا ہے ، پھر رحمت عام کا وہ دروازہ غریب صوفی ہی کے حق میں کیوں بند کر دیا جائے؟ وہ ایجاد واختراع کی بدعت سے یقینا بچے گا۔

جس طرح اہل ظاہر اپنے ” فہم“ و”قیاس“ و”استنباط“ کو معطل نہیں کر دیتے ، اپنے ”کشف“ اپنے ”وجدان“ اپنے”اشراق“ کو سرے سے معطل نہ کر دے گا۔ جب کبھی بھی لکھے گا، یقینا شفاخانہ نبوت ہی کے قرابا دین سے لکھے گا، لیکن وقت کے مزاج وخصوصیات، موسم کے حالات،آب وہوا کے اثرات وغیرہ کی رو سے اجزائے نسخہ کی ترکیب اس کی اپنی ہو گی ۔ یہ اس کی خودرائی نہیں، عین بدعت نہیں، عین پیروی سنت ہو گی۔

بڑی مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ دلیل کے مقدمات میں مثالیں ، بہروں او رجعلسازوں کی پیش نظر رہتی ہیں او رنتائج نکالتے وقت سرے سے حقیقت کا انکار کر دیا جاتا ہے ! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر پیتل کی دمک پر آپ کو کئی بار سونے کا دھوکا ہو چکا ہے تو اب آپ سرے سے سونے ہی کے وجود کے منکر ہو چلے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر بیعت کا مقصد دعوت الحق ہے تو پیروں کی جماعت آج کہاں تک اس فرض کو ادا کر رہی ہے؟ سوال معقول ہے ، لیکن تلاش کو یہیں ختم نہ ہو جانا چاہیے ، بلکہ مزید سوالات بھی پیش ہونے چاہئیں کہ آج علمائے ظاہر کہاں تک اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں؟ قومی راہ نماؤں میں سے کتنوں کے عمل ان کے دعووں کے موافق ہیں؟ ایڈیٹروں میں کس حدتک خلوص وصداقت ہے ؟ مسلمان تاجروں کو کہاں تک دیانت واکل حلال کا خیال ہے ؟ وقس علیٰ ہذا۔ ظاہر ہے کہ کوئی طبقہ بھی اپنے اصلی معیار پر قائم ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا ہی کیوں پڑتے؟! لیکن بَدوں کی اکثریت کی بنا پر نیکوں کی اقلیت سے منکر ہو جانا، ہر گز نہ حق کے مطابق ہے، نہ عقل کے۔ نفی حکمت کمسن ازبہردل عامے چند! سینکڑوں ہزاروں بدنام کرنے والوں کے ہجوم میں کچھ سچے صوفی تو اس وقت موجود ہیں۔

حضرت شاہ ولی الله القول الجمیل میں تحریر فرماتے ہیں کہ رسم بیعت اور بیعت صرف بیعت خلافت تک محدود نہیں، بلکہ عہد نبوی میں بیعت کی کئی صورتیں رائج تھیں، مثلاً بیعت اسلام، بیعت ہجرت، بیعت جہاد وغیرہ۔ اور صوفیہ کی مروّجہ بیعت، بیعت تقویٰ کی قسم میں داخل ہے ۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں تو اس بیعت کی علیٰحدہ ضرورت ہی نہ تھی ، اس لیے کہ قلوب ونفوس، شرف صحبت رسول صلی الله علیہ وسلم سے خود ہی نورانی تھے، خلفائے راشدین کے بعد فتنہ کے خوف سے اور بیعت خلافت کے ساتھ اشتباہ والتباس سے یہ بیعت موقوف رہی اور صوفیہ اس بیعت کا قائم مقام خرقہ کو سمجھتے رہے ۔ جب ملوک وسلاطین کا دور آیا او ربیعت خلافت بند ہو گئی تو صوفیہ کرام نے فرصت کو غنیمت سمجھ کر سنت بیعت کی از سر نوتجدید کی۔ آگے چل کر حضرت شاہ ولی الله دہلوی جہاں بیعت لینے والے مرشد کے اوصاف کو شمار کراتے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ فرماتے ہیں:

”والشرط الخامس ان یکون صحب المشایخ، وتادب بھم دھرا طویلا، واخذ منھم النورالباطن والسکینة، وھذا لان سنة الله بان الرجل لا یفلح الا اذا رای المصلحین کما ان الرجل لایتعلم بصحبة العلماء وعلی ھذا القیاس غیر ذلک من الصناعات علی ھذا القیاس“․

پانچویں شرط یہ ہے کہ مشائخ کی صحبت میں ان سے طویل عرصہ تک ادب حاصل کرے اور اس سے نور باطن واطمینان حاصل ہو اور یہ شرط اس لیے ہے کہ سنت الہٰی یوں جاری ہے کہ کسی انسان کو مراد نہیں ملتی، جب تک اس نے مراد پانے والوں کو نہ دیکھا ہو ، جس طرح علم نہیں حاصل ہوتا ، بغیر صحبت علماء کے اور دوسرے پیشے بغیر استاد کے…

مضمون یوں ہی بہت طویل ہو گیا ہے، اگر مزید طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو حضرت شاہ صاحب کے اس ارشاد کی کہ حصول فیض کے لیے کسی زندہ شخصیت کی صحبت لازمی ہے، کلام مجید سے تشریح کی جاتی اور مرشد کی ضرورت، نیز مرشد پر واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام سے استدلال کیا جاتا۔ نیز انسان کے آگے، جو حقیقةً خلیفة الله ہے، سر نہ جھکانے کی وعید پر واقعہ حضرت آدم وابلیس سے روشنی ڈالی جاتی ہے، وہیں رسوم صوفیہ اور خرقہ، ذکر وغیرہ۔ سوان کا لازمی تعلق تلاش مرشد ومقصد بیعت سے نہیں، تاہم اگر ان رسوم کی مسنونیت، سلاسل صوفیہ کی سند رسول کریم صلی الله علیہ وسلم تک معلوم کرنے سے دلچسپی ہو تو شیخ شماسی کی السمط المجید ملاحظہ کی جاسکتی ہے، جو دائرة المعارف، حیدر آباد دکن سے شائع ہو چکی ہے.

**************************************************
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ    [سورة التوبة:١١٩]
اے ایمان والو ! اللہ (کی نافرمانی اور عذاب) سے ڈرو اور(عمل میں)رہو سچوں کے ساتھ۔


 نمبر ١۔ ایمان والوں کے ساتھ نہ کہ منافقین کے ساتھ۔ نمبر ٢۔ ان ایمان والوں کے ساتھ جو پیچھے نہیں رہے۔ نمبر ٣۔ ان لوگوں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے دین میں اور قول و نیت و عمل میں سچ اختیار کرنے والے ہیں۔
 مسئلہ : یہ آیت اجماع کی حجیت پر دلیل ہے کیونکہ صادقین کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا پس ان کا قول قبول کرنا ضروری ہوا۔



اس آیت میں دو مسئلے ہیں : 
مسئلہ نمبر : (١) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکونوا مع الصدقین“۔ یہ اہل صدق کے ساتھ ہونے کے بارے امر ہے اور تین کے قصے کے بعد بہت اچھا ہے جنہیں سچ نے نفع پہنچایا اور انہیں منافقوں کے مراتب سے دور ہٹا دیا گیا، مطرف نے کہا ہے : میں نے حضرت مالک بن انس (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے : جب کبھی کوئی آدمی سچ بولتا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بولتا تو اس کی عقل سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور یہ بڑھاپے سے فساد عقل میں سے اس حد تک نہیں پہنچتا جہاں تک کوئی دوسرا پہنچ جاتا ہے (یعنی بڑھاپے اور فساد کے سبب اس کی عقل مختل اور ماؤف نہیں ہوتی) 
یہاں مومنین اور صادقین سے جو مراد ہیں ان کے بارے مختلف اقوال ہیں، پس کہا گیا ہے کہ یہ خطاب ان کو ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے اور بعض نے کہا ہے : یہ خطاب تمام مومنین کو ہے، یعنی تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت سے بچو (آیت) ” وکونوا مع الصدقین“۔ یعنی تم ان کے ساتھ ہوجاؤ جو حضور نبی مکرم ومعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں نکلے نہ کہ منافقین کے ساتھ، یعنی تم سچ بولنے والوں کے مذہب اور ان کے راستے پر ہوجاؤ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہیں، یعنی تم اعمال صالحہ کرکے جنت میں ان کے ساتھ ہوجاؤ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ ان سے مراد وہ ہیں جن کا ذکر اس قول میں ہے : (آیت) ” لیس البر ان تولوا وجوھکم۔۔۔۔۔ الآیہ تا قولہ۔۔۔۔۔ اولئک الذین صدقوا“۔ (البقرہ : ١٧٧) (نیکی (بس یہ) نہیں کہ (نماز میں) تم پھیر لو اپنے رخ۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں) 
اور یہ قول بھی ہے کہ مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے وعدہ کو پورا کرنے والے ہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے ہے : (آیت) ” رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ“۔ (الاحزاب : ٢٣) (ایسے جوانمرد ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا جو وعدہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد مہاجرین ہیں، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سقیفہ کے دن کہا تھا : بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں صادقین کا نام دیا ہے پس فرمایا : (آیت) ” للفقرآء المھجرین“۔ الآیہ (الحشر : ٨) (نیز وہ مال) نادار مہاجرین کے لیے ہے) پھر اس نے تمہیں متفلحین کا نام ہے اور فرمایا ہے : (آیت) ” والذین تبوؤ الدار والایمان“۔ الآیہ (الحشر : ٩) اور (اس مال میں) ان کا بھی حکم ہے جو دار ہجرت میں مقیم ہیں اور ایمان میں (ثابت قدم) ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جن کے ظاہر اور باطن برابر ہیں، ایک جیسے ہیں، علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ قول ہی حقیقت ہے اور یہی وہ غایت ہے جس پر انتہا ہوتی ہے، کیونکہ یہی صفت ہے جس کے ساتھ عقیدے سے نفاق اور فعل اور عمل سے مخالفت اٹھ جاتی ہے، ختم ہوجاتی ہے اور اس صفت والے کو صدیق کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض)، حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) اور جو مراتب اور زمانے میں ان سے کم اور ادنی ہیں (١) (احکام القرآن لابن العربی، سورۃ توبہ، جلد ٢، صفحہ ١٠٢٧) 
اور رہے وہ جنہوں نے کہا : بے شک یہ وہ لوگ ہیں جو آیۃ البقرہ سے مراد ہیں تو وہ انتہائی اعلی اور عظیم صدق ہے اور بہت کم لوگ اس کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں اور یہی آیت احزاب کا معنی ہے، اور رہی حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی تفسیر تو وہ وہی ہے جو تمام اقوال کو شامل ہے، کیونکہ ان میں یہ تمام صفات موجود ہیں۔ 
مسئلہ نمبر : (٢) اس کا حق ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے عقل وفہم حاصل کی کہ وہ اقوال میں سچ، اعمال میں اخلاص اور احوال میں صفا اور درستی کو لازم پکڑے، پس جو اس طرح ہوا وہ ابرار (نیکوکار لوگوں) کے ساتھ مل گیا اور غفار (بہت زیادہ مغفرت والا فرمانے) کی رضا اور خوشنودی تک پہنچ گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم پر سچ کو اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور بے شک نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور آدمی مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور سچ تلاش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صدیق لکھ دیا جاتا ہے“۔ (٢) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ جلد ٢، صفحہ ٣٢٦) 
اور جھوٹ اس کی ضد ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور فجور جہنم کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ تلاش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کذاب لکھ دیا جاتا ہے“۔ (٣) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ جلد ٢، صفحہ ٣٢٦) 
اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ 
پس کذب (جھوٹ) عار اور شرم ہے اور جھوٹ بولنے والوں سے شہادت (گواہی) کا حق چھین لیا گیا ہے، تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جھوٹ میں آدمی کی شہادت رد کردی جو اس نے بولا تھا، معمر نے بیان کیا ہے : میں نہیں جانتا کیا اس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بولا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جھوٹ بولا یا لوگوں میں سے کسی کے بارے میں جھوٹ بولا ؟ 
اور شریک بن عبداللہ سے پوچھا گیا : اے ابو عبداللہ ! ایسا آدمی جس کے بارے میں نے سنا ہو کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے کیا میں اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں اور حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : بے شک جھوٹ کے بارے کوئی صلح نہیں ہو سکتی نہ سنجیدگی کے ساتھ اور نہ استہزا اور تمسخر کے ساتھ، اور نہ اس کی کہ تم میں سے کوئی کسی شے کا وعدہ کرے پھر اسے پورا نہ کرے، اگر چاہو تو یہ پڑھ لو : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“۔ کیا تم کذب میں کوئی رخصت دیکھتے ہو ؟ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : لوگوں کی بات میں جھوٹ بولنے کی خبر قبول نہیں کی جائے گی اگرچہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث میں سچ بولے، اور کسی اور نے کہا ہے : اس کی حدیث قبول کی جائے گی، اور صحیح یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والے کی شہادت اور اس کی خبر قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے، کیونکہ قبول عظیم مرتبہ ہے اور ولایت شریفہ ہے لہذا یہ حاصل نہیں ہو سکتی مگر اس کو جس کی خصلتیں کامل ہوں اور جھوٹ سے بڑھ کر بری خصلت کوئی نہیں پس یہ ولایت سے معزول کردیتی ہے اور شہادتوں کو باطل کردیتی ہے۔ (١)



١:۔ ابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے نافع (رض) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) ان تین آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہا گیا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب کے ساتھ ہوجاؤ۔
٢:۔ ابن منذر (رح) نے کعب بن مالک (رض) سے روایت کیا کہ ہمارے بارے میں (یہ آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ بھی نازل ہوئی۔
٣:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے اصحاب کے ساتھ ہوجاؤ۔
٤:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ سے مراد ہے کہ ابو بکر وعمر (رض) اجمعین کے ساتھ ہوجاؤ۔
٥:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن عساکر رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ یعنی حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ ابو بکر اور عمر (رض) دونوں کے ساتھیوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
٦:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ یعنی علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ ہوجاؤ۔
٧:۔ ابن عساکر (رح) نے ابو جعفر (رض) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ یعنی علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ ہوجاؤ۔
٨:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ سے مراد ہے کہ تم کعب بن مالک فرارہ بن ربیعہ اور ھلال بن امیہ کے ساتھ ہوجاؤ۔
٩:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن عدی وابوالشیخ ابن مردویہ والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا کہ جھوٹ جائز نہیں سنجیدگی میں نہ مذاق میں اور نہ یہ جائز ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے بچے کو کوئی چیز دینے کا وعدہ کرے پھر اس (وعدہ) کو پورا نہ کرے اگر تم چاہو تو پڑھ لو (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین“ اور یہ عبداللہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے (پھر فرمایا) کیا تم کسی کے لئے جھوٹ بولنے کی رخصت پاتے ہو۔
١٠:۔ ابن الانبری (رح) المصاحف میں ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ ہو اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وکونوا مع الصدقین“ 
سچائی کو لازم پکڑنے کی ترغیب :
١١:۔ ابوداؤد الطیالسی والبخاری نے الادب میں وابن عدی والبیقہی (رح) نے الشعب میں ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تم سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ وہ نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گے اور تم جھوٹ سے بچو کیونکہ وہ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور یہ دونوں آگ میں ہوں گے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ نے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جائے۔
١٢:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابن عدی والبیہقی وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن مسعود (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی اگر بولتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا لکھا جاتا ہے اور تم جھوٹ سے بچوں کیونکہ یہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی البتہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
١٣:۔ ابن عدی (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو! جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتے ہیں اس لئے کہا جاتا ہے سچائی اور نیکی (ساتھ ساتھ ہیں )
١٤:۔ احمد والبیہقی (رح) نے الشعب میں ابومالک جشعمی (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا مجھے بتاؤ اگر میرے دو غلام ہوں، ان میں سے ایک خیانت کرتا ہو اور تیری بات کو جھٹلاتا ہو اور دوسرا تیری خیانت نہ کرتا ہو اور تیری بات کی تصدیق کرتا ہوں ان دونوں میں سے کون سا تجھے زیادہ محبوب ہے۔ میں نے کہا جو میری خیانت نہ کرتا ہو اور میری بات کی تصدیق کرتا ہوں فرمایا اسی طرح تم اپنے رب کے نزدیک ہو۔
جھوٹ مذاق میں بھی جائز نہیں :
١٥:۔ حاکم (رح) نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی (رح) نے ابن مسعود (رض) سے روایت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا جھوٹ سنجیدگی اور مذاق میں جائز نہیں، اور کوئی آدمی اپنے بیٹے سے وہ وعدہ نہ کرے جس کو پورا نہ کرسکے بے شک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے سچ بولنے والے کو صدق اور بر کہا جاتا ہے۔ اور جھوٹ بولنے والے کو کذب اور فجر کہا جاتا ہے۔ اور ایک آدمی البتہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا لکھا جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
١٦:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبیہقی (رح) نے اسماء بنت یزید (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کس چیز نے تم کو آمادہ کیا کہ تم جھوٹ میں ایک کی اس طرح پیروی کرتے ہو جیسے پروانے آگ میں ایک دوسرے کی پیروی کراتے رہتے ہیں ہر جھوٹ ابن آدم پر لکھا جاتا ہے مگر وہ آدمی جو جنگی دھوکہ دہی کے لئے جھوٹ بولتا ( وہ جائز ہے) اور وہ درمیان صلح کرتے ہیں (جھوٹ بولتا ہے یا آدمی اپنی بیوی سے ایسی (جھوٹی) بات بیان کرتا ہے تاکہ وہ راضی ہوجائے۔
١٧:۔ بیہقی (رح) نے اس بن سمعان کلابی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے لئے نہیں ہے کہ میں تم کو اس حال میں دیکھوں کہ تم لوگ تیزی سے جھوٹ میں گرتے چلے جارہے ہو جیسے پروانے آگ میں تیزی سے گرتے ہیں ہر جھوٹ ابن آدم میں لکھا جاتا ہے سوائے اس کے کسی نے جنگی دھوکہ دہی کے لئے جھوٹ بولا یا دو آدمیوں کے درمیان صلح کراتے ہوئے (جھوٹ بولنا) یا وہ آدمی جو اپنی بیوی کو (جھوٹی) باتیں بتاتا ہے تاکہ وہ اس کو راضی کرے۔
١٨:۔ بیہقی (رح) نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ وہ جھوٹا نہیں ہے جس نے اپنے نفس سے کسی کو دور کیا۔
١٩:۔ ابن عدی والبیہقی (رح) نے (اور بیہقی نے اس کو ضعیف کہا) ابو بکر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جھوٹ ایمان کو ہٹانے والا ہے۔
٢٠:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عدی (رح) ابو بکر صدیق (رض) نے فرمایا جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ ایمان کے لئے پردے ہیں۔
٢١:۔ ابن عدی والبیہقی رحمہما اللہ نے سعد بن وقاص (رض) سے روایت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی ہر چیز پر پیدائش ہوتی ہے مگر خیانت اور جھوٹ پر (پیدائش نہیں ہوتی) 
٢٢:۔ ابن عدی (رح) نے ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی ہر خصلت پر پیدائش ہوتی ہے مگر خیانت اور جھوٹ پر (پیدائش نہیں ہوتی )۔
٢٣:۔ ابن عدی (رح) نے ابو امامہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مومن کی مختلف خصلتوں پر پیدائش کی جاتی ہے (جیسے) سخاوت بخل اور اچھا اخلاق لیکن مومن کی پیدائش نہیں کی جاتی جھوٹ پر اور نہ وہ جھوٹا ہوتا ہے۔
٢٤:۔ ابن ابی شیبہ واحمد رحمہما اللہ نے ابو امامہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی ہر خصلت پر پیدائش ہوتی ہے مگر جھوٹ اور خیانت پر نہیں۔
٢٥:۔ بیہقی (رح) نے عبداللہ بن ابی (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی ہر خصلت پر پیدائش ہوتی ہے۔ مگر جھوٹ اور خیانت پر نہیں۔
٢٦:۔ ابو نعیم (رح) نے الحلیۃ میں جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ انسان کو خصلتوں پر پیدا کیا جاتا ہے پس وہ انہی پر ہوتا ہے جس پر اسے پیدا کیا گیا اور اس کو خیانت اور جھوٹ پر پیدا نہیں کیا جاتا۔
٢٧:۔ مالک عبد اور البیہقی (رح) نے صفوان بن سلیم (رح) سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ! کیا مومن بزدل ہوتا ہے فرمایا کیوں پوچھا گیا کہ مومن بخیل ہوتا ہے۔ فرمایا ہاں، پھر پوچھا گیا کیا مومن جھوٹا ہوتا ہے فرمایا نہیں۔
٢٨:۔ بیہقی وابویعلی (رح) نے اور ابویعلی نے اس کو ضعیف کہا ابوبردہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جھوٹ چہرہ کو کالا کردیتا ہے اور چغلی کھانا عذاب قبر (کا باعث) ہے۔
٢٩:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا والبیہقی (رح) نے عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹ سے بڑھ کر کوئی عادت زیادہ مبغوض نہیں تھی اور ایک آدمی ایک کے پاس جھوٹ کو جھٹلاتا ہے۔ اور لگاتار یہ عمل اپنے آپ کو میں جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ جان لیتا ہے۔ کہ اس نے اس سے توبہ کرلی۔
٣٠:۔ احمد وھنادی السری رحمہما اللہ نے الزھد میں وابن عدی والبیہقی رحمہما اللہ نے نواس بن سمعان (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کو (ایک بات) بیان کرتا ہے وہ تیری بات کو سچا سمجھ رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بولنے والا ہے۔
٣١:۔ احمد والبیہقی رحمہما اللہ نے اسماء بنت عمیس (رض) سے روایت کیا کہ میں عائشہ (رض) کی ساتھ تھیں کہ میں نے ان کو تیار کیا تھا میں نے اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل کردیا عورتوں (کی جماعت) میں ہم نے آپ کے پاس کچھ نہ پایا نکالنے کے لئے سوائے ایک پیالہ دودھ کے آپ نے اس کو پیا پھر آپ نے اس کو عائشہ (رض) کو دیدیا اس نے آپ سے شرم کیا میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک سے واپس نہ لوٹا اس نے اس کو لے کر اس میں سے پیا پھر آپ نے فرمایا اپنی ساتھی کو دیدو۔ میں نے عرض کیا ہماری خواہش نہیں ہے آپ نے فرمایا ہرگز نہ جمع کرو جھوٹ اور بھوک کو میں نے عرض کیا اگر ہم میں سے کوئی ایک چیز کے لئے یہ کہ وہ اس کی خواہش رکھتی ہے (پھر کہہ دیتی ہے) میں نہیں چاہتی کہ یہ جھوٹ شمار کیا جاتا ہے آپ نے فرمایا جھوٹ کو جھوٹ لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ چھوٹا جھوٹ بھی لکھ دیا جاتا ہے۔
٣٢:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد والبیہقی رحمہما اللہ نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر تشریف لائے اور میں چھوٹا بچہ تھا میں کھیلنے لگا تو میری ماں نے مجھ سے کہا اے عبداللہ میرے پاس آ میں تجھ کو کچھ دوں گی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو نے اس کو کیا دینے کا ارادہ کیا ؟ میری ماں نے کہا میں نے اس کو ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسا نہ کرتی تو تیرے اوپر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔
٣٣:۔ الطیالسی واحمد الترمذی اور آپ نے اس کو صحیح کہا والدارمی وابویعلی وابن حبان والطبرانی والبیہقی والضیاء رحمہم اللہ نے حسن بن علی (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا اس چیز کو چھوڑ دے جو تجھ کو شک میں ڈالے اس چیز کی طرف جو تجھ کو شک میں نہ ڈالے بے شک سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ شک کا باعث ہے۔
٣٤:۔ ابن عدی (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا گناہ جھوٹ بولنے والی زبان ہے۔
٣٥:۔ ابن عدی (رح) نے ابو بکر صدیق (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔
٣٦:۔ ابن ماجہ والحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں والخرائطی نے کلام اخلاق میں والبیہقی نے عبداللہ بن عمر وبن عاص (رض) سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون بہتر ہے فرمایا محموم دل والا اور سچی زبان رکھنے والا ہم نے عرض کیا سچی زبان کو تو ہم نے پہچان لیا یہ محموم دل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا صاف شفاف اور پاکیزہ دل کی اس میں کوئی نہ گناہ ملا ہو اور نہ بغاوت ہو نہ خیانت ہو اور نہ حسد ہو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کون ہے جس میں اس کی نشانیاں ہوں فرمایا جودنیا سے نفرت کرتا ہے اور آخرت کو محبوب رکھتا ہے ہم نے عرض کیا یہ تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام رافع کے بغیر کسی میں نہیں پاتے (اور) کون ہے اس کی نشانیوں پر فرمایا ایسامؤمن جس میں اچھے اخلاق ہوں ہم نے عرض کیا لیکن یہ (صفت) ہم میں موجود ہے۔
٣٧:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں عمر بن خطاب (رض) سے روایت کیا تو مومن کو جھوٹا نہیں پائے گا۔
امانت داری میں سچائی اختیار کرنا :ـ
٣٨:۔ بیہقی (رح) نے عمربن خطاب (رض) سے روایت کیا کہ کسی آدمی کی نماز کی طرف اور اس کے روزوں کی طرف نہ دیکھو لیکن تم اس آدمی کی طرف دیکھا جب وہ سچ بولے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرے اور جب وہ شفا کو طلب کرتا ہے تو گناہ سے بچتا ہے۔
٣٩:۔ بیہقی (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا کہ آدمی البتہ رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتا ہے۔
٤٠:۔ ابن عدی والبیہقی (رح) نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ کلام اس سے زیادہ وسیع ہے کہ کوئی ظریف الطبع آدمی جھوٹ بولے۔
٤١:۔ بیہقی (رح) نے مطر الوراق (رح) سے روایت کیا کہ دو عادتیں جب کسی بندے میں ہوں تو اس کے سارے اعمال ان دونوں کے تابع ہوجاتے ہیں نماز کا حسن اور بات کی سچائی۔
٤٢:۔ بیہقی (رح) نے فضیل (رح) سے روایت کیا کہ لوگ کسی چیز سے خوبصورت نہیں بنے سچائی اور حلال کی طلب سے بڑھ کر۔
٤٣:۔ بیہقی (رح) نے عبدالعزیز بن ابی داؤد (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کی نیکی جھوٹ اور قلت حیاء ہے جس شخص نے دنیا کو ان دونوں کے بغیر طلب کیا تو اس نے راستہ اور مطلب کے حاصل کرنے غلطی کی اور آخرت کی نیکی حیا اور سچائی ہے۔ جس نے ان دونوں کو بغیر آخرت کو طلب کیا اس نے راستہ اور مطلب (کے حاصل کرنے میں) غلطی کی۔
٤٤:۔ بیہقی (رح) نے یوسف بن اسباط (رح) سے روایت کیا کہ سچائی کی وجہ سے تین خصلتیں عطا کی جاتی ہیں۔ حلاوت، ملاحت ،(یعنی طرافت طبع اور خوبصورتی) اور مہابت (یعنی رغبت) 
٤٥:۔ بیہقی (رح) نے حاتم بن یوسف (رح) سے روایت کیا کہ میں فضیل بن عیاض کے دروازہ پر آیا میں نے ان کو سلام کیا اور میں نے عرض کیا اے علی کے باپ میرے پاس پانچ حدیثیں ہیں اگر آپ مجھ کو اجازت دیں تو میں آپ کو سناؤں انہوں نے مجھ سے فرمایا پڑھ تو میں نے پڑھیں تو وہ چھ تھیں انہوں نے مجھ سے فرمایا اے میرے بیٹے کھڑے ہوجاؤ پہلے سچائی سیکھو پھر حدیث لکھو۔
٤٦:۔ ابن عدی (رح) نے عمران بن حصین (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بے شک مبہم کلام میں البتہ گنجائش ہوتی ہے جھوٹ سے۔
٤٧:۔ ابن عدی (رح) نے ابی بن طالب (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مبہم کلام میں سے عاقل آدمی بھی جھوٹ سے پرواہ نہیں کرتا۔



یعنی جو لوگ ایمان اور وعدوں میں سچے ہیں۔ یا وہ لوگ جو اسلام میں سچے ہیں ‘ نیت کے خلوص ‘ قول کی صداقت اور عمل کے اعتبار سے (گویا پہلے قول پر صدق سے مراد ہے ایمان اور وعدہ کی سچائی اور دوسرے قول پر مراد ہے نیت کا خلوص اور قول و عمل کی سچائی) مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص ہیں ‘ دل بے لوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے۔ اخلاص اور سچے ارادہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہمرکاب تبوک کو نکلے ہیں۔ منافقوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ نہیں دیا۔ حضرت سعید بن جبیر نے الصادقینکی تفسیر ابوبکر وعمر سے کی ‘ یعنی ابوبکر و عمر کے ساتھ رہو۔ ضحاک نے کہا : حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور ان حضرات کے ساتھیوں کے ساتھ رہنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ رہو۔ سفیان ثوری نے فرمایا : یہ (اپنی طرف سے) تفسیری اختلاف ہے ‘ آیت ان سب تفسیروں کو شامل ہے۔ یہ بھی مراد ہے ‘ وہ بھی مراد ہے (کسی ایک کی تعیین نہیں)۔
 ابن جریج نے کہا : الصادقین سے مہاجرین مراد ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : لِلْفُقَرَاء الْمُھَاجِرِیْنَ ......... اُولٰٓءِکَ ھُمُ الصَّدِقُوْنَ (اس آیت میں مہاجرین کو ہی صادقین فرمایا ہے)۔
 بعض نے کہا : الصادقین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنے گناہ کا سچے دل سے اعتراف کرلیا ‘ جھوٹے عذر نہیں پیش کئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جھوٹ بولنا کسی طرح درست نہیں ‘ نہ مذاق میں نہ سنجیدہ کلام میں۔ کوئی شخص اپنے بچہ (کو بہلانے کیلئے اس) سے ایسا وعدہ نہ کرے جس کو پورا نہ کرے۔ اگر تم (اس قول کی) تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو۔ پھر آپ نے آیت مندرجۂ بالا پڑھی۔

اس آیت کے جو جزو ہیں۔
اعجاز قرآن
١۔ اتقواللہ ٢۔ کونوا مع الصدیقین
یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ دو جملوں میں دریاء کو بھر دیا چنانچہ ابھی تفصیل معلوم کرلینے کے بعد آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان دو جملوں میں کتنے بڑے مضمون کو حق تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے قرآن کے جملوں کی تفسیر مختلف عنوانات سے ہوسکتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ اس آیت میں بھی کسی مفسر نے دوسرا عنوان اختیار کیا ہو مگر وہ اختلاف محض عنوان ہی کا ہوتا ہے معنوں میں ایک ہوتا ہے اس آیت کے معنی جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہیں کہ اتقوا اللہ میں مقصود کا ذکر ہے اور کونوا مع الصدقین میں اس مقصود کے طریق کا ذکر ہے کیونکہ جن لوگوں نے قرآن کو بنظر غائر دیکھا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ قرآن میں مقاصد کے ساتھ طرق کا ذکر بھی اکثر فرما دیا کرتے ہیں اور یہ ان کی غایت شفقت و رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو کسی بات کا حکم فرما کر حیران وپریشان نہیں چھوڑتے بلکہ اس کا طریق بھی ساتھ کے ساتھ بتلا دیتے ہیں کہ یہ کام اس طرح سے ہوگا یہ طریقہ اختیار کرو، اس عادت پر نظر کرکے میرا ذوق یہ بتلاتا ہے کہ اس آیت میں بھی جملہ اولیٰ میں مقصود کا بیان ہے اور ثانیہ میں طریق کا، یعنی تقویٰ مقصود ہے اور معیت صادقین اس کے حصول کا طریق ہے بعبارت دیگر یہ سمجھئے کہ حق تعالیٰ نے دین کامل حاصل کرنے کا امر فرمایا ہے اور معیت کاملین اس کا طریق بتلایا ہے۔
اے ایمان والو ! خدا سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو۔
امر تقویٰ
اس میں اول تقویٰ کا امر ہے یہ بات تو اوپر ثابت ہوچکی کہ ہر مقصود میں درجہ کمال مطلوب ہوا کرتا ہے اب یہ بات ثابت کرنا رہی کہ تقویٰ کمال دین ہے یا نہیں، نصوص شرعیہ میں غور کرنے سے یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ تقویٰ کا امر اور فضل قرآن میں جس قدر ہے غالباً کسی چیز کا اتنا نہیں۔ اس سے اس کا مہتم بالشان ہونا معلوم ہوا اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ تقویٰ کا استعمال شریعت میں دو معنی میں ہوتا ہے ایک ڈرنا دوسرے بچنا، اور تامل کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصود تو بچنا ہی ہے یعنی معاصی سے، مگر سبب اس کا ڈرنا ہے کیونکہ جب کسی چیز کا خوف دل میں ہوتا ہے۔ جبھی اس سے بچا جاتا ہے۔ تقویٰ کا معنی اول میں استعمال الا ان تتقوا منھم تقۃً، میں ہے اور بچنے کے معنی میں استعمال نصوص کثیرہ میں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اتقوا النار ولو بشق تمرۃ، بچو جہنم سے اگرچہ ایک ٹکڑا چھوہارے کا دے کر، یہاں بچنے ہی کے معنی بن سکتے ہیں ڈرنے کے معنی نہیں بن سکتے۔
غرض استعمال دونوں معنی میں وارد ہے لیکن اصل مقصود احتراز عن المعاصی ہے اور خوف علی الاطلاق مقصود بالذات نہیں بلکہ وہ ذریعہ اور سبب ہے احتراز عن المعاصی کا۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اصل مقصود تقویٰ بمعنے احتراز عن المعاصی ہے۔ اور خدا کی نافرمانی سے بچنے کا کمال دین ہونا ظاہر ہے کیونکہ اس میں ادائے فرائض وواجبات واجتناب عن المحرمات سب داخل ہیں کوئی مقصود شرعی اس سے خارج نہیں، مطلب یہ ہوا کہ نماز بھی پڑھو کیونکہ ترک صلوۃ معصیت ہے۔ زکوٰۃ بھی دو کیونکہ ترک زکوٰۃ معصیت ہے۔ اسی طرح تمام مامورات کا چھوڑنا معصیت ہے تو اس میں مامورات کے ادا کا حکم بھی ہے اور محرکات کے ترک کا بھی، اور کمال دین کے یہی دو اجزاء ہیں تو تقویٰ کا کمال دین ہونا ثابت ہوگیا۔
دوسری دلیل ایک اور ہے جس سے تقویٰ کا کمال دین ہونا ثابت ہے وہ یہ کہ حدیث میں ہے الا ان لتقوی ھھنا واشار الی صدرہ۔
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ سن لو تقویٰ یہاں ہے یعنی تقویٰ کا محل قلب ہے ایک مقدمہ تو یہ ہوا اس کے ساتھ دوسری حدیث کو ملائیے۔
الا ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کالہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الاوھی القلب۔
یعنی جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوجاتا ہے تو تمام بدن درست ہوجاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو تمام بدن بگڑ جاتا ہے سن لو وہ قلب ہے۔
(اس حدیث سے بعض جاہل صوفیوں نے یہ سمجھا ہے کہ بس اصل مقصود اصلاح قلب ہے اعمال ظاہر کی کچھ ضرورت نہیں، یہ بالکل غلط اور صریح زندقہ ہے اور اس کا غلط ہونا خود اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ جب دل صالح ہوتا ہے تو تمام بدن صالح ہوجاتا ہے اور جب دل بگڑ جاتا ہے تو تمام بدن بگڑ جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اعمال ظاہرہ صلاحیت قلب وفساد قلب کی دلیل ہیں پس جس شخص سے اعمال صالحہ صادر ہوں یہ اس کے قلب کی صلاحیت کی دلیل ہے اور جس سے اعمال سیئہ صادر ہوں یہ اس کے قلب کے فساد کی دلیل ہے پس صلاحیت قلب کے بعد اعمال صالحہ کا ترک ممکن نہیں اور جو شخص اعمال صالحہ کو ترک کرکے صلاحیت قلب کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے پس یہ مسلم کی اصل مقصود اصلاح قلب ہے مگر وہ اعمال صالحہ کی مداومت اور اعمال سیئہ سے اجتناب سے متفق نہیں ہوسکتی لہٰذا اعمال ظاہرہ ہرگز بیکار نہیں (فافہم ١٢ جامع)
اس حدیث سے اصلاح قلب کا صلاحیت کاملہ ہونا ثابت ہے اور پہلی حدیث سے یہ معلوم ہوچکا کہ تقویٰ کا اصل محل اور موصوف قلب ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ تقویٰ سے اول اصلاح قلب کی ہوتی ہے تو ان دونوں مقدموں سے تقویٰ کا مستلزم صلاحیت کامل ہونا ثابت ہوگیا اور صلاحیت کاملہ یہی کمال دین ہے۔ پس یہ دعویٰ ثابت ہوگیا کہ تقویٰ کمال دین ہے اور (قلب کو محل تقویٰ اس حدیث میں اس لئے فرمایا کہ تقویٰ بمعنے الاجتناب عن المعصیت کا سبب خوف خدواندی ہے اور ظاہر ہے کہ خوف کی اصلی محل قلب ہے) یہاں تک جملہ اولیٰ کے متعلق کلام تھا۔
صادقین کی تشریح
دوسرے جملہ کی بابت میں نے یہ کہا تھا کہ نوامع الصدقین بیان ہے۔ مقصود مذکور کے طریق کار کہ حاصل اس کا معیت مع المتقین ہے۔ پس صادقین اسی کا ایک عنوان ہے اور متقی کے معنی کاملین فی الدین کی معیت ہے پس صادقین کے بھی وہی معنی ہوں گے یعنی کمال فی الدین کا طریق کاملین فی الدین کی معیت ہے پس کونوا مع الصدقین کی توجیہ کو نوامع الکاملین ہوئی ہے کیونکہ صادقین سے معنی مشہور صادقین فی القول مراد نہیں بلکہ راسخ فی الدین مراد ہیں۔ جیسے ہمارے محاورہ میں بھی پکے آدمی کو سچا کہتے ہیں اور اسی معنی کے اعتبار سے حق تعالیٰ نے بعض انبیاء علیہم السلام کو صدیق فرمایا ہے۔
واذکر فی الکتب ابرھیم، انہ کان صدیقا نبیا۔
اور اسی صدیقیت کا درجہ بعد نبوت کے ہے پھر شہداء و صالحین کا درجہ، چنانچہ ایک آیت میں حق تعالیٰ نے اس ترتیب سے ان درجات کو بیان فرمایا ہے۔
فاولٰٓئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین، وحسن اولٰٓئک رفقیا۔
اور رسوخ فی الدین بھی کمال فی الدین ہے پس مع الصدقین کی توجیہ مع الکاملین ثابت ہوگئی نیز اس کی دلیل ایک اور آیت ہے حق تعالیٰ فرماتے ہیں لیس البران تولو اوجوھکم بلکہ یہ آیت اتفاق سے میرے دونوں دعوئوں کو ثابت کررہی ہے یعنی اس سے تقویٰ اور صدق دونوں کے معنی کمال دین ہونا ثابت ہورہا ہے۔ پوری آیت اس طرح ہے۔
لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من اٰمن باللہ والیوم الاخر والملٰئکۃ والکتب والنبین، واتی المال علی حبہ ذوی القربیٰ والیتمیٰ والمسکین وابن السبیل، والسآئلین وفی الرقاب، واقام الصلوٰۃ واٰتی الزکوۃ، والموفون بعھدھم اذا عاھدوا، والصبرین فی الباسآء والضرآء وحین الباس، اولٰٓئک الذین صدقوا، واولٰٓئک ھم المتقون۔
کچھ ساری خوبی اس میں نہیں کہ تم انپا منہ مشرق کی طرف کرلو یا مغرب کی طرف لیکن (اصل خوبی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی (ذات وصفات) پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر (بھی) اور فرشتوں ( کے وجود) پر (بھی) اور (سب) کتب (سماویہ) پر بھی اور (سب) پیغمبروں پر (بھی) اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں (اپنے حاجت مند) رشتہ داروں کو اور (نادار) یتیموں کو اور دوسرے غریب محتاجوں کو اور (بے خرچ) مسافروں کو اور (لاچاری میں) سوال کرنے والوں کو اور (قیدیوں اور غلاموں کی) گردن چھڑانے میں (بھی مال خرچ کرتا ہو) اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو، اور جو لوگ اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب (کسی امر جائز کا) عہد کرلیں اور ورہ لوگ مستقل مزاد رہنے والے ہوں تنگ دستی میں اور بیماری میں اور (معرکہ) قتال میں یہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ صادق اور متقی یہی لوگ ہیں جن کے یہ اوصاف ہیں اور ان اوصاف میں تمام اجزاء دین کا ذکر اجمالاً آگیا ہے دین کا کوئی جزو اس سے باقی نہیں رہا، پس یہ اوصاف کمال دین کو متضمن ہیں اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جو لوگ ان اوصاف سے متصف ہیں وہی صادق اور وہی متقین ہیں۔ اس سے صاف طور پر یہ بات معلوم ہوگئی کہ صادق اور متقی وہی شخص ہے جو دین میں کامل ہو پس صدق اور تقویٰ کی حقیقت کمال دین ہونا ثابت ہوگیا۔
تفسیر آیت البر
اس آیت میں تما اجزاء دین کا ذکر آگیا ہے ؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت میں کل احکام کا حاصل تین چیزیں ہیں۔
١۔ عقائد ٢۔ اعمال ٣۔ اخلاق
اور تمام جزئیات انہی کلیات کے تحت میں داخل ہیں اور اس آیت میں اقسام ثلثہ کے بڑے بڑے شعبے ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ آیت منجملہ جوامع کلم کے ہے چنانچہ فرماتے ہیں :
لیس البران تولوا وجوھکم۔
بر کے معنی بھلائی کے ہیں اور لام عہد کا ہے۔ معنی یہ ہوئے لیس البر الکافی ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والغرب یعنی مشرق ومغرب کی طرف نماز میں منہ کرلینا ہی کافی نہیں ہے کہ اسی پر قناعت کرلی جائے اس توجیہ سے یہ اشکال رفع ہوگیا کہ استقبال قبلہ بھی تو مامور بہ شرعاً اور مامور بہ شرعی کا بر ہونا لازم ہے پھر اس کی نسبت لیس البر کیوں فرمایا۔ اشکال کے جواب لوگوں نے مختلف وجوہ سے دیئے ہیں لیکن جو توجیہ میں نے بیان کی ہے یہ بہت آسان ہے اور یہ توجیہ اسی وقت سمجھ میں آئی ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ اس میں استقبال سے مطلق خیریت کی نفی نہیں کی گئی ہے بلکہ اسکے برکافی ہونے کی نفی مراد ہے۔
رہا یہ کہ اس مضمون کی اس جگہ ضرورت کیا تھی۔ استقبال مشرق ومغرب سے برکافی کی نفی کیوں کی گئی۔ سو بات یہ ہے کہ اس سے پہلے تحویل قبلہ کا مسئلہ مذکور ہوا ہے۔ جس میں کفار ومشرکین نے بہت شور وغل کیا تھا اور اس وقت ان کی تمام تر بحث اسی میں رہ گئی تھی کہ مسلمانوں کا بھی عجب دین ہے کبھی کسی طرف منہ کرتے ہیں کبھی کسی طرف، تو حق تعالیٰ ان کو تنبیہ فرماتے ہیں کہ تم اس بحث میں ایسے پڑگئے کہ گویا مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنا کوئی بڑا مقصود ہے۔ حالانکہ یہ مقصود نہیں بلکہ شرائط ووسائل مقصود میں ہے پس یہ حماقت ہے کہ مقاصد کو چھوڑ کر غیر مقاصد کی بحث پر اکتفا کرلیا جاوے۔ مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنا یہ برکافی نہیں بلکہ برکافی وہ ہے جس کا آگے بیان آتا ہے اس کا اہتمام کرو۔
مشرق ومغرب کے ذکر میں نکتہ
مشرق ومغرب کی تخصیص ذکر میں ایک نکتہ کی وجہ سے ہے اس سے قبلہ کا مشرق ومغرب میں منحصر کرنا، مقصود نہیں کیونکہ جن لوگوں سے مکہ معظمہ کا رخ جانب شمال میں ہے ان کا قبلہ شمال ہے۔ اور جس جگہ سے مکہ کا رخ جنوب میں ہے اس جگہ کا قبلہ سمت جنوب ہے چنانچہ مدینہ والوں کا قبلہ جنوب ہے اسی لئے حدیث میں اہل مدینہ کو فرمایا گیا ہے ولکن شرقوا اور غربوا کہ استنجا کے وقت تم لوگ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو اس سے معلوم ہوگیا کہ قبلہ مشرق ومغرب میں منحصر نہیں پس اس جگہ مشرق ومغرب کی تخصیص میں نکتہ یہ ہے کہ تمام جہات میں سے یہی دونوں جہتیں عرفاً زیادہ مشہور ہیں جب ان کا غیر مقصود ہونا بیان کردیا تو دوسری جہات کا مقصود نہ ہونا بھی اس سے واضح ہوگیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ مشرق ومغرب کی جہت میں امتیاز تقابل حسی کے زیادہ محسوس ہے۔ پس اولاد بالذات انہی دو جہات کا علم حاصل ہوتا ہے اور دوسری جہات کا علم ان کے واسطے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ مشرق ومغرب کی جہت کا سمجھنا شمال وجنوب کے جاننے پر موقوف نہیں ہر شخص جانتا ہے کہ مشرق وہ جہت ہے جدھر سے آفتاب نکلتا ہے اور مغرب وہ ہے جدھر سے آفتاب ڈوبتا ہے اور شمال وجونوب کی معرفت بدوں مشرق ومغرب کے نہیں ہوسکتی چنانچہ شمال وجنوب کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ مشرق کی طرف منہ کرکے کھڑے ہونے سے داہنے ہاتھ کی سمت جنوب ہے اور بائیں ہاتھ کی سمت شمال ہے پس یہ دونوں جہتیں اصل ہوئیں اور جنوب وشمال ان کی فرح ہیں اور ظاہر ہے کہ اصل کے غیر مقصود ہونے سے فرع کا غیر مقصود ہونا خود ہی سمجھ میں آجاتا ہے علاوہ ازیں یہ کہ شریعت میں قلیل انحراف مفسد صلوۃ نہیں تو مشرق ومغرب جن کا قبلہ ہے وہ اگر قدرے شمال وجنوب کی طرف مائل ہوجاویں نماز فاسد نہ ہوگی اس طرح گویا مشرق ومغرب میں شمال وجنوب بھی آگئے۔
پس مطلب صرف یہ ہے کہ کسی جہت کی طرف بھی منہ کرنا برکافی نہیں بلکہ برکافی وہ ہے جس کا آگے ذکر ہے ولکن البر من اٰمن باللہ الخ، یہاں دونوں جہتیں جائز ہیں ایک یہ کہ مسند الیہ کی جانب میں مضاف کو مقدر کیا جائے۔ ولکن ذرا البر من امن باللہ الخ، ایک یہ کہ مسند کی طرف مضاف مقدر مانا جاوے یعنی ولکن البر برمن امن باللہ الخ، اور حاصل دونوں کا ایک ہے۔
عقائد کا بیان
خواہ کہا جائے کہ بھلائی کافی اس شخص کی بھلائی ہے یا کافی بھلائی والا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور قیامت کے دن پر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے میں ذات وصفات کے متعلق جس قدر احکام ہیں سب آگئے۔ اور قیامت کے دن پر ایمان لانے میں جزا وسزا حساب و کتاب و جنت ودوزخ وغیرہ کے اسب احکام آگئے۔ والملئکۃ اور فرشتوں پر ایمان لائے یعنی ان کے وجود کا قائل ہوا اس میں تمام مغیبات داخل ہیں اور فرشتوں کی تخصیص اس لئے کی گئی ہے کہ شریعت کے معلوم ہونے کا مدار واسطہ ملائکہ ہی ہیں والکتب اور کتاب پر ایمان لائے یہاں کتاب بصیغہ مفرد لایا گیا ہے حالانکہ کتب سماویہ متعدد ہیں اور ایمان لانا سب پر واجب ہے (گو عمل منسوخ پر جائز نہیں) اور اسی وجہ سے دوسری آیتوں میں صیغہ اختیار کیا گیا ہے۔ 
کل امن باللہ و ملائکتہ وکتہ ورسلہ الخ ،
لیکن یہاں صیغہ مفرد اختیار کرنے میں اشارہ ہے ایک امر کی طرف وہ یہ کہ قرآن ایسا جامع ہے کہ وہ تمام کتب سماویہ پر حاویہ ہے اس لئے اس پر ایمان لانا گویا سب پر ایمان لانا ہے یا یہ کہا جاوے کہ کتب سماویہ میں سے ہر کتاب دوسری کتاب پر ایمان لانے کا امر کرتی ہے پس وہ سب مل کر بمنزلہ کتاب واحد کے ہیں ان سب پر ایمان لانا بمنزلہ کتاب واحد پر ایمان لانے کا امر کرتی ہے پس وہ سب مل کر بمنزلہ کتاب واحد کے ہیں ان سب پر ایمان لانا بمنزلہ کتاب واحد پر ایمان لانے کے ہے (اور جو شخص ایک کتاب کو مان کر دوسری کا انکار کردے وہ حقیقت میں پہلی کتاب پر بھی ایمان نہیں رکھتا) لیکن یہ حکم ایمان کا ہے اور عمل کرنا سب کتابوں پر جائز نہیں بلکہ عمل صرف مؤخر پر ہوگا کیونکہ وہ مقدم کے لئے ناسخ ہے والنبیین اور پیغمبروں پر ایمان لائے یہاں تک تو امہات عقائد مذکور ہیں آگے اخلاق واعمال کا ذکر ہے۔ 
اعمال شرعیہ کی اقسام
اعمال شرعیہ کی دو قسمیں ہیں۔ طاعات دیانات دوسرے معاملات (معاملات کی پھر دو قسمیں ہیں ایک متعلق اموال کے دوسرے متعلق غیر اموال کے ہیں۔ ان میں نکاح وطلاق وعتاق وحدود وغیرہ داخل ہیں) اور دیانات کی بھی دو قسمیں ہیں ایک طاعات بدنیہ دوسرے طاعات مالیہ، اسی طرح اخلاق کی دو قسمیں ہیں حسنہ وسیئہ، اخلاق حسنہ کے ساتھ موصوف ہونا مقصود شرعی ہے اور اخلاق سیئہ سے خالی ومنزہ ہونا مطلوب ہے۔ عقائد سے آگے ان سب کے اصول مذکور ہیں جن میں طاعات مالیہ کا ذکر مقدم کیا گیا کیونکہ بہت لوگ طاعات بدنیہ میں ہمت والے ہوتے ہیں اور طاعات مالیہ میں ان کا یہ حال ہوتا ہے۔
گرجاں طلبی مضائقہ نیست
گرزر طلبی سخن دریں ست
چنانچہ ارشاد ہے واتی المال علی حبہ اور دینا ہو مال اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو، علی حبہ کی ضمیر اگر اللہ کی طرف راجع ہو جیسا کہ یہی ظاہر ہے تو اس علم اخلاق کا بھی ایک اصل عظیم مذکور ہوگا یعنی مال خدا کے راستہ میں محبت الٰہی کی وجہ سے دینا چاہئے۔ اس میں ایک تو محبت الٰہی کے حاصل کرنے کی تعلیم ہوئی کہ خدا سے محبت پیدا کرنی چاہیے محض ضابطہ کا تعلق نہ ہونا چاہئے دوسرے اخلاص کی تعلیم اور ریا ونا موری کی ممانعت ظاہر ہوئی کہ مال خرچ کرنے میں کسی کی مدح وثناء شکریہ وغیرہ کا منتظر نہ ہو بلکہ محض خدا کی محبت اس کا سبب ہونا چاہئے اور اخلاص بھی اخلاق باطنیہ کا ایک بڑا رکن ہے۔
اگر مرجع ضمیر مال ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ایسا مال جس سے محبت ہو اور دل کا تعلق ہو خدا کے لئے خرچ کردے اس میں ایک تو خرچ کرنے کا ادب مذکور ہوا اللہ کے واسطے عمدہ مال خرچ کرنا چاہئے ردی مال نہ دینا چاہئے دوسرے علم سلوک کا یہ مسئلہ بھی اشارۃ مذکور ہوا کہ محبت مال جو کہ خلیق ذمیم ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس چیز سے محبت ہو اسی کو اللہ کی راہ میں خرچ کردے دو چار بار ایسا کرنے سے حب مال کا مرض جاتا رہے گا۔
ذوی القربیٰ میں تمام قرابت وارد داخل ہیں۔ بیوی بچے بھی ان میں آگئے۔ جن کا نفقہ مرد پرواجب ہوتا ہے اور دوسرے غریب رشتہ دار بھی آگئے جن کو کچھ دیتے رہنا اور ان کا خیال رکھنا مستحب ہے۔
والیتمی والمسکین وابن السبیل اور یتیموں کو بھی دے اور مسکینوں کو بھی دے اور مسافروں کو بھی، یہ سب صدقات نافلہ ہیں کیونکہ زکوٰۃ کا بیان آگے آرہ ہے۔
اب یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ طاعت مالیہ کا ذکر طاعات بدنیہ سے کیوں مقدم ہوا۔ اس کا جواب تو میں نے دے دیا کہ بعض طبائع میں بخل کا مادہ زیادہ ہوتا ہے وہ طاعات بدنیہ کی ہمت خوب کرلیتے ہیں اور مال دینے سے جان چراتے ہیں اس لئے طاعات مالیہ کو اہتماماً مقدم کردیا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ طاعات مالیہ میں صدقہ نافلہ کو صدقہ واجبہ یعنی زکوٰۃ پر کیوں مقدم کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ سے ایسا ضابطہ کا تعلق رکھتے ہیں کہ زکوٰۃ مفروضہ کے علاوہ اور کچھ خیرات نہیں کرتے۔ اس میں گناہ نہیں مگر ضعف تعلق مع الحق کی دلیل ضرورہے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے صدقات نافلہ کو زکوٰۃ سے مقدم فرمایا جس سے اس طرف اشارہ کردیا کہ زکوٰۃ واجب ہے وہ تو تم ادا کرو ہی گے لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ صدقہ خیرات موقع بموقع کرتے رہنا چاہئے۔
دیکھئے اگر کوئی محبوب یا کوئی بادشاہ ہم سے یہ کہہ دے کہ اس موقع میں تم دو روپیہ خرچ کردو تو غور کیجئے اس وقت ہمارے دل کی کیا حالت ہوگی کیا ہم دو روپیہ ہی پر اکتفا کریں گے۔ ہرگز نہیں بلکہ محبوب کو خوش کرنے یا بادشاہ کی نگاہ میں جانثار بننے کے لئے ہم دو کی جگہ دس خرچ کریں گے ورنہ چار تو دے ہی ڈالیں گے اس لئے خدا تعالیٰ سے ضابطہ کا تعلق نہ رکھنا چاہئے۔
اس نکتہ کی وجہ سے صدقات نافلہ کو صدقہ مفروضہ مالیہ سے مقدم کیا بلکہ طاعت مدنیہ یعنی صلوٰۃ بھی مقدم کردیا لیکن بعد میں جب زکوٰۃ کا ذکر فرمایا تو نماز کو اس سے مقدم کیا تاکہ یہ معلوم ہوجاوے کہ رتبہ کے اعتبار سے نماز ہی مقدم ہے چنانچہ دیکھ لو ہم نے زکوٰۃ کا ذکر اس کے بعد کیا ہے اور جن صدقات مالیہ کو نماز اور زکوٰۃ سے پہلے بیان کیا ہے وہاں تقدیم کی وجہ محض اہتمام بالشان ہے نہ کہ رتبہ کا زیادہ ہونا رتبہ نماز کا طاعات مالیہ سے بڑھا ہوا اور زکوٰۃ کا رتبہ صدقات نافلہ سے بڑھا ہوا ہے سبحان اللہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ہر چیز کے درجہ کا کتنا لحاظ ہے۔ یہی تو باتیں ہیں جن کی وجہ سے بشر کی عقل اس کلام کو دیکھ کر چکراتی ہے کہ اتنی رعایتیں انسان ہرگز نہیں کرسکتا۔
والسآئلین وفی الرقاب، اور مانگنے والوں کو بھی دے اور گردن چھڑنے میں بھی یہ بھی صدقات نافلہ کی ایک فرد ہے اس میں اس قدر تفصیل ضروری ہے کہ دیگر نصوص شرعیہ سے سائلین کا لفظ ان سوال کرنے والوں کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے جو مجبوری کی وجہ سے سوال کرتے ہوں جن کا پیشہ سوال نہ ہوگیا ہو جو لوگ مضبوط ہٹے کٹے سوال کو پیشہ بنائے ہوئے ہیں ان کو دینا جائز نہیں نہ ان کو سوال کرنا جائز ہے۔
وفی الرقاب، اور گردن چھوڑانے میں یہ قیدیوں اور غلاموں کے متعلق ہے اور اسی کے حکم میں فہ صورت بھی ہے کہ جو شخص قرض کے اندر بندھا ہوا ہو اس کی اعانت کردی جائے کہ یہ بھی گردن چھڑانے میں داخل ہیں۔
واقام الصلوٰۃ واٰتی الزکوٰۃ۔ اور نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ ادا کرے یہاں زکوٰۃ کو نماز سے اصل کے مطابق موخر کردیا جس کا نکتہ اوپر مذکور ہوچکا ہے۔
حقوق العباد کی اقسام
یہاں تک طاعات بدنیہ وطاعات مالیہ کے اصول عظام مذکور ہوئے۔ آگے حقوق العباد کا بیان ہے۔
والموفون بعھدھم اذا عاھدوا، اور وہ لوگ عہد کو پورا کرنے والے ہیں جب عہد کرلیتے ہیں ہرچند کو حقوق العباد میں بعض حقوق ایسے ہیں جو ایفائے عہد سے مقدم ہیں مثلاً قرض کا ادا کردینا امانت میں خیانت نہ کرنا لیکن اس جگہ حق تعالیٰ نے صرف ایفائے عہد کو بیان فرمایا ہے جس میں اس طرحف اشارہ ہے کہ جب وہ لوگ ایسے حقوق العباد کو ادا کرتے ہیں جن کا مطالبہ کرنے والا ان سے کوئی بھی نہیں (کیونکہ ایفائے عہد قضاء لازم نہیں گو دیانتہ بعض کے نزدیک واجب ہے) تو اس سے خود بخود یہ بات معلوم ہوگئی کہ جن حقوق کا مطالبہ کرنے والا موجود ہو ان کو تو ضرور ادا کریں گے اور اسی نکتہ کی وجہ سے مواریث میں وصیت کو دین پر مقدم فرمایا ہے اس سے حقوق العباد کا درجہ معلوم ہوگیا کہ جب حق تعالیٰ کو ان حقوق کا بھی اہتمام ہے جس کا مطالب کوئی نہ ہو تو جن حقوق کا مطالب بھی موجود ہو وہ تو کس قدر قابل اہتمام ہوں اور یہیں بطور مثال کے بعض حقوق کا ذکر فرمایا گیا ہے ورنہ حقوق العباد اور بھی ہیں۔ اگرچہ لوگ فقط مال کو حقوق العباد سمجھتے ہیں۔
صبر کی حقیقت اور اس کے اقسام
آگے اخلاق کا ذکر ہے :
والصبرین فی الباسآء والضرآء وحین الباس۔
اور وہ لوگ صبر کرنے والے ہیں تنگ دستی میں اور بیماری میں اور قتال کے وقت۔
ہر چند کو اخلاق باطنیہ بہت ہیں لیکن حق تعالیٰ نے ان میں سے اس مقام پر صرف صبر کو بیان فرمایا ہے اور اس کے تین مواقع بیان فرمائے ہیں وجہ اس تخصیص کی یہ ہے کہ صبرایسی صفت ہے جس کے حاصل ہوجانے کے بعد بقیہ اخلاق کا حصول خود بخود ہوجاتا ہے کیونکہ صبر کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ عزیز وقریب کے مرنے پر مستقل مزاج رہییہ بھی صبر کی ایک فرد ہے لیکن صبر کی حقیقت اس سے عام ہے صبر کے معنی لغت میں چبس کے ہیں۔ یعنی روکنا اور یہی معنی شریعت میں بھی ہیں۔ صرف ایک قید زیادہ ہے یعنی جسے النفس علے ما تکرہ انسان کو اپنے کو اس کی ناگوار بات پر روکنا اور ناگواری کے اقسام پر شرعاً صبر کی تین قسمیں ہیں۔
صبرکی اقسام
١۔ صبر علی العمل ٢۔ صبر عن العمل ٣۔ صبرفی العمل
صبر علی العمل یہ ہے کہ نفس کو کسی کام پر روک لینا، یعنی اس پرجم جانا اور قائم رہنا مثلاً نماز زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کرنا اور بلاناغہ ان کو ادا کرتے رہنا۔
صبر فی العمل یہ ہے کہ عمل کے وقت نفس کو دوسری طرف التفات کرنے سے روکنا اور ہمہ تن متوجہ ہو کر کام کو بجا لانا، مثلاً نماز پڑھنے کھڑے ہوئے یاذکر میں مشغول ہوئے تو نفس کو یہ سمجھا دیا کہ بچہ جی اتنی دیر تک تم سوائے نماز یاذکرکے اور کوئی کام نہیں کرسکتے پھر دوسرے کاموں کی طرف توجہ کرنا فضول ہے اتنی دیر تک تجھ کو نمازیا ذکرہی کی طرف متوجہ رہنا چاہئے۔ جب یہ ملکہ راسخ ہوجاتا ہے تو سب اعمال ٹھیک ٹھیک ادا ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کو فرائض شرعیہ کی پابندی تو نصیب ہے اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کو صبرعلی العمل کا درجہ حاصل ہے لیکن اعمال کو بجا لاتے وقت وہ ان کے آداب وحقوق کی رعایت نہیں کرتے گڑ بڑ کردیتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو صبر فی العمل حاصل نہیں ہوا۔
تیسری قسم ہے صبر عن العمل یعنی نفس کو مانہی اللہ عنہ سے روکنا شریعت نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے رکنا جن میں سب سے اہم صبر عن الشہوت ہے کہ نفس کے تقاضائے شہوت کو روکا جاوے اور یہ سب سے اہم اس لئے ہے کہ نفس کے دوسرے تقاضے تو ایسے ہیں کہ ان سے اگر نہ روکا جاوے تو بعد میں اس کو خود ہی بہت کلفت ہوتی ہے اور اس کلفت کا خیال کرکے نفس ان تقاضوں سے خود ہی رک جاتا ہے آگے صبر کے چند مواقع جو مہتم بالشان ہیں بیان فرماتے ہیں۔
فی الباسآء والضرآء وحین الباس، یعنی وہ صبر کرتے ہیں باساء میں اور ضراء میں اور باس کے وقت، ان الفاظ کی تفسیر مفسرین نے اس طرح کی ہے کہ باساء سے فقر وتنگدستی مراد ہے اور ضراء سے بیماری اور باس سے حرب، لیکن عموم الفاظ پر نظر کرکے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ باساء سے تو فقر وتنگدستی ہی مراد ہو، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ فقرو تنگدستی میں صبر کرے یعنی خدا پر نظر رکھے مخلوق کے مال ودولت پر نظر نہ کرے نہ ان سے کچھ توقع رکھے اس میں قناعت وتوکل کی تعلیم ہوگئی۔
اور ضراء سے مطلق بیماری مراد ہو خواہ ظاہری ہو یا باطنی، ظاہری مرض میں تو صبر یہ ہے کہ لوگوں سے شکایت نہ کرتا پھرے، خدا سے دل میں تکدر نہ ہو اس میں تسلیم ورضا کی تعلیم ہوگئی اور باطنی بیماریوں میں صبر یہ ہے کہ امراض قلبیہ کے مقتضا پر عمل نہ کرے۔ اور ہمت سے ان کا مقابلہ کرے۔ مثلاً کسی میں شہوت بالنساء یا بالر جال کا مرض ہے تو اس کے مقتضاء پر عمل نہ کرے اور ہمت کرکے عورتوں اور مردوں کی طرف نگاہ نہ اٹھائے۔ ان سے اختلاط نہ کرے بلکہ بعد اختیار کرے اسی طرح بخل کا مرض ہو تو اس کے مقتضاء پر عمل نہ کرے بتکلف خدا کے راستہ میں مال خرچ کردیا کرے وعلی ہذا تمام امراض کو اسی پر قیاس کرلیا جاوے۔
اور باس سے مراد مطلق شدت وپریشانی ہو تو یہ تعمیم بعد تخصیص کے ہوجائے گی۔ یعنی فقروفاقہ اور امراض ظاہر یہ دبا طنیہ میں بھی ہمت سے کام لے اور اسی طرح جو پریشانی بھی لاحق ہو اس میں مستقل مزاج رہے جس کا ایک فرد صبر عندالحرب بھی ہے کہ جہاد کے وقت لڑائی میں ثابت قدم رہے پس اب صبر کا حاصل یہ ہوا کہ موحد کامل بن جانا چاہیے جس کی یہ شان ہوتی :
موحد چہ برپائے ریزی زرش
چہ فولاد ہندی نہی برسرش
امید و ہراسش نبا شد زکس
ہمیں ست بنیاد توحید و بس
جب مقام صبر کامل ہوجاتا ہے تو توحید بھی کامل ہوجاتی ہے ان تمام اجزاء شریعت کو بیان فرما کر آگے نتیجہ کے طور پر فرماتے ہیں :
اولٰٓئک الذین صدقوا، و اولٰٓئک ھم المتقون۔
یہی لوگ ہیں جو صادق ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں یہ جملہ گویا بمنزلہ مہر کے ہے کہ سارامضمون بیان فرما کر اخیر میں مہر لگادی کہ یہی لوگ صادق ومتقی ہیں چونکہ تفصیل سابق سے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ اس آیت میں جو اوصاف مذکور ہیں وہ تمام اجزاء دین کو جامع ہیں تو اب جملہ :
اولٰٓئک الذین صدقوا، و اولٰٓئک ھم المتقون۔
سے یہ مسئلہ بخوبی ثابت ہوگیا کہ صادق ومتقی کامل فی الدین کو کہتے ہیں اور یہ کو تقویٰ وصدق کمال فی الدین کا نام ہے لہٰذا آیت مذکورہ میں جو میں نے دعویٰ کیا تھا کہ اتقوا اللہ وکونوامع الصدقین کے یہ معنی ہیں اکملوا فی الدین وکونوا مع الکاملین، یہ دعویٰ بالکل بے غبار ہوگیا او قرآن ہی سے اس دعویٰ کی تائید مل گئی۔ (اور ظاہر ہے کہ جس تفسیر کی تائید قرآن کی دوسری آیتوں سے ہوجائے وہ زیادہ اولیٰ ہے)
کامل بننے کا طریقہ
معنے آیت کے یہ ہوئے کہ اے مسلمانوں دین میں کامل ہوجائو جس کا طریقہ بھی آگے بتلاتے ہیں کہ دین میں کامل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ کاملین کے ساتھ ہوجائو، صاحبو ! جو طریقہ کمال حاصل کرنے کا حق تعالیٰ نے بتایا ہے واللہ کوئی سالک کوئی محقق ہرگز نہیں بتلاسکتا یہ بات کسی کی سمجھ میں آہی نہیں سکتی کہ کاملین کی معیت سے بھی کمال حاصل ہوسکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کاملین کی معیت ہی معیت حصول کمال کے لئے کافی ہے ممکن ہے بعض لوگ یہی سمجھتے ہوں مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ اگر کوئی شخص سالہا سال کاملین کے ساتھ رہے اور خود کچھ نہ کرے تو اس کو مال حاصل نہیں ہوسکتا حقیقت یہ ہے کہ اصل طریق تو کمال فی الدین حاصل کرنے کا یہ ہے کہ اعمال میں کمال حاصل کرو، اعمال میں کمال حاصل کرنا یہ ہے کہ طاعت کو بجا لائو اور معاصی سے اجتناب کرو چنانچہ آیت لیس البر ان تولوا وجوھکم الخ میں انہی اعمال کو برکافی فرمایا ہے اور ان کو بیان فرمایا کہ ان لوگوں کو متقی اور صادق ہونا بتلایا ہے جو ان اعمال کو اختیار کئے ہوئے ہیں جس سے اعمال پر مدار کمال ہونا بخوبی ظاہر ہے۔
صادق کے معنی وتفسیر
اس آیت میں صدق سے مراد محض زبان سے سچ بولنا نہیں ہے کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ جس صدق کو کمال دین بتلایا ہے وہ تو ہم کو حاصل ہے کیونکہ ہم سچ بولتے ہیں پس سمجھ لیجئے کہ صدق کے معنی پختگی کے ہیں اور اسی سے ولی کامل کو صدیق کہا جاتا ہے کیونکہوہ تمام احوال وافعال واقوال میں مرتبہ رسوخ حاصل کر چکتا ہے صدق کے معنی جو اصطلاح لغاۃ وبلغاء میں بیان کئے گئے ہیں مطابقۃ الخیر للمحکے عنہ، یہ معنی اصطلاح شرعی سے خاص ہیں شریعت میں صدق عام ہے افعال کو بھی اقوال کو بھی۔ احوال کو بھی
اقوال کا صدق تو یہی ہے کہ بات پکی ہو یعنی واقع کے مطابق ہو کچی بات نہ ہو جو کہ واقع کے خلاف ہوجو شخص اس صفت سے موصوف ہو اس کو صادق الاقوال کہتے ہیں۔
افعال کا صدق یہ ہے کہ ہر فعل مطابق امر ہو حکم شرعی کے خلاف نہ ہو، جس شخص کے افعال ہمیشہ شریعت کے موافق ہوں اس کو صادق الافعال کہا جاتا ہے۔
احوال کا صدق یہ ہے کہ وہ سنت کے موافق ہوں۔ پس جواحوال خلاف سنت ہوں وہ احوال کا ذبہ ہیں اور جس شخص کے احوال وکیفیات سنت کے موافق ہوتے ہوں اسکو صادق الاحوال کہتے ہیں۔
نیز صدق احوال کے یہ معنی بھی ہیں کہ وہ احوال ایسے ہوں جن کا اثر صاحب حال پر باقی رہے یہ نہ ہو کہ آج ایک حالت پیدا ہوئی پھر زائل ہوگئی اور اس کا کچھ بھی اثر باقی نہ رہا جیسا کہ بعض لوگوں کو کسی وقت خوف کا یا تو کل کا غلبہ اپنے اوپر معلوم ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کا کچھ اثر نہیں رہتا، اس کو صادق الاحوال نہ کہیں گے یہ مطلب نہیں کہ احوال کا غلبہ ہمیشہ رہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ رہنا چاہئے کہ جو حالت طاری ہو وہ بعد میں مقام ہوجائے اس میں سالکین کو بہت دھوکا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ وہ محض وہم سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم کو تسلیم ورضا یا توکل درجا کا حال حاصل ہے مگر تھوڑے عرصہ کے بعد اس کا کچھ بھی اثر نہیں رہتا جس سے اس حالت کا ان کا وہم ہونا ظاہر ہوجاتا ہے غرض صدق شریعت میں صرف اقوال کے ساتھ خاص نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس سمجھنے سے بہت سے اغلاط میں ابتلا ہوجاتا ہے۔
اب ایک بات یہ رہ گئی کہ جب تقویٰ اور صدق دونوں کا کمال دین ہونا ثابت ہوگیا تو سوال یہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں تقویٰ کا ذکر مقدم اور صدق کو موخر کیوں کیا گیا کیونکہ آیت کا مقصود تو اسطرح بھی حاصل ہوسکتا ہے کہ یوں فرمادیتے ،
یایھا الذین امنوا صدقوا وکونوا مع المتقین۔
اس کے بھی وہی معنی ہوئے کہ اے مسلمانو، دین کامل حاصل کرو اور کاملین کے ساتھ رہو، جب یہ مضمون صدق کو مقدم اور تقویٰ کو مؤخر کرنے سے بھی حاصل ہوسکتا تھا تو پھر تقویٰ کو مقدم کیوں کیا گیا ہے ؟
میرے نزدیک اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنیہ کے تتبع سے تقویٰ کے تو درجات چند در چند معلوم ہوتے ہیں اور صدق کے درجات مختلف نہیں بلکہ اس کا ایک درجہ متعین ہے۔
عورتوں اور مردوں کو حکم مشترک
جس طرح مردوں کو کمال دین حاصل کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کا حکم فرمایا ہے وہ حکم عورتوں میں بھی مشترک ہے گو خطاب صیغہ کے اعتبار سے بظاہر مردوں کو ہے۔ لیکن حکم مشترک ہے۔ پس کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ حق تعالیٰ کو مردوں ہی کی طرف توجہ ہے عورتوں کا اعتناء نہیں ہے یہ وہم پہلے بھی ہوچکا ہے اور منشاء اس وہم کا محبت ہے حدیث میں آتا ہے کہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ میں دیکھتی ہوں کہ حق تعالیٰ احکام میں مردوں ہی کا ذکر فرماتے ہیں ہمارا (یعنی عورتوں کا) ذکر نہیں فرماتے ازواج مطہرات کو یہ خیال اس لئے بھی ہوا کہ وہ صاحب زبان تھیں عربی زبان کو خوب سمجھتی تھیں اور عربی میں مذکر ومونث کے لئے جدا جدا صیغے استعمال کئے جاتے ہیں تو ان کو تمام احکام میں مذکر صیغے دیکھ کر یہ خیال پیدا ہوا کہ حق تعالیٰ ہم کو خطاب نہیں فرماتے نہ ہمارا ذکر فرماتے ہیں اور ہماری مستورات تو عربی زبان حاصل ہی نہیں کرتیں اور یہ بھی ایک بڑی کمی ہے جس کا افسوس ہوتا ہے کیونکہ پہلے زمانہ عورتیں بھی مثل مردوں کے عربی کی تحصیل کرتی تھیں تو عربی زبان سے ناواقف ہونے کے سبب مذکر ومونث کے صیغوں کا فرق وہ نہیں سمجھ سکتیں اور اگر ترجمہ پڑھیں گی تو اس میں ان صیغوں کا اردو ترجمہ نظر سے گزرے گا اور اردو میں خطاب میں صیغہ مردوں وعورتوں میں مشترک ہے دونوں کے لئے الگ الگ صیغہ موضوع نہیں مثلاً واتقین اللہ واتقواللہ کا ترجمہ یکساں ہوگا دونوں جگہ اردو میں یہی بولتے ہیں کہ خدا سے ڈرو خواہ اس کے مخاطب مرد ہوں یا عورتیں اس لئے اوامرونواہی کے صیغوں میں وہ ترجمہ دیکھ کر یہ نہیں سمجھ سکتیں کہ یہ خطاب خاص مردوں کو ہے لیکن پھر بھی بعض جگہ اردو ترجمہ سے بھی مردوں کی تخصیص سمجھ میں آسکتی ہے مثلاً یایھا الناس کا ترجمہ ہے اے لوگو، اور یایھا الذین امنوا، کا ترجکہ اے ایمان والو، یہ لفظ اردو میں بھی مردوں کے لئے مخصوص ہے عورتوں کو اے لوگوں یا اے ایمان والو کہہ کر ندا نہیں کرسکتے بلکہ اگر ان کو خطاب خاص ہوگا تو اے عورتو ! اے ایمان والیو کہا جائے گا پس ہرچند کہ اوامرونواہی کے صیغوں میں ترجمہ دیکھ کر ان کو تخصیص رجال کا وہم نہیں ہوسکتا مگر ندا کے صیغوں میں ان کو بھی وہم ہوسکتا ہے اور ازواج مطہرات تو اس فرق کو خطاب کے مواقع میں بھی سمجھتی تھیں اس لئے ان کا غایت محبت کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ ہائے اللہ تعالیٰ ہم کو خاص طور پر خطاب فرماتے جیسا مردوں کو خطاب فرماتے ہیں، دیکھئے وہ عورتیں کیسی تھیں اللہ اکبر، ان کا کیسا مذاق تھا اگر آج کل کی عورتوں جیسی وہ سست اور کم ہمت اور کام چور ہوتیں تو یوں سمجھتیں کہ اچھا ہوا ہم ان احکام سے بچ گئے کیونکہ ان میں تو خاص مردوں کو مخاطب بنایا گیا ہے مگر اس زمانہ میں مستورات کو اس کا ہم بھی نہیں ہوا کہ یہ احکام ہمارے لئے نہیں ہیں بلکہ وہ خوب سمجھتی تھیں کہ احکام سب کو عام ہیں (بجز چند مخصوص باتوں کے جن کا مردوں کے ساتھ خاص ہونا دوسرے دلائل سے ان کو معلوم ہوگیا تھا اور ایسی خصوصیت عورتوں کے لئے بھی ہے کیونکہ بعض احکام صرف عورتوں ہی کے لئے مخصوص ہیں مردوں کے لئے نہیں ہیں ان کے علاوہ بقیہ احکام میں جن کا کسی کے لئے خاص ہونا دلائل سے معلوم نہ ہوا تھا انہوں نے یہی سمجھا کہ مردوں اور عورتوں سب کے لئے مشترک ہیں گو لفظاً خطاب خاص مردوں کو کیا گیا ہے ١٢) اور عموم احکام پر نظر کرکے پھر ان کو یہ تمنا ہوئی کہ جب یہ احکام سب کو عام ہیں تو ان میں ہمارا تذکرہ بھی ہوتا تو اچھا تھا ان کے دل نے اس کو گوارہ نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ تمام احکام میں مردوں کے واسطہ ہی سے ان کو خطاب فرمادیں۔ ان کا جی چاہتا تھا کہ کبھی کبھی ہم کو مردوں سے جدا کرکے بھی خطاب فرما دیا کریں اور وجہ اس تمنا کی یہ تھی کہ ان کو خدا تعالیٰ سے محبت تھی (اور عاشق کا دل چاہا کرتا ہے کہ اس کا تذکرہ کبھی تو محبوب کی زبان پر آجایا کرے۔
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ١٢ جامع
خدا تعالیٰ کا کسی کو اپنے احکام کا مخاطب بناینا ایک بڑا شرف ہے جو مردوں کو حاصل تھا تو ازواج مطہرات کو اس کی تمنا ہوئی کہ اس شرف سے ہم بھی محروم نہ رہیں۔
غرض وہ عورتیں دین کی عاشق تھیں وہ اپنے اوپر بوجھ لادنا چاہتی تھیں وہ یہ نہ چاہتی تھیں کہ ہم احکام کے مخاطب ن بنیں تو اچھا ہے کیونکہ ان کو دین کے ثمرا پر اطلاع تھی اور وہ جانتی تھیں کہ دین کے ثمرات ایسے ہیں کہ ان کے لئے محنت کرنا کوئی چیز نہیں اسی پر یہ آیات نازل ہوئی ،
فاستجاب لھم ربھم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر اوانثی بعضکم من بعض۔
یعنی احکام میں کسی کی کچھ تخصیص نہیں جو کوئی بھی عمل کرے مرد ہو یا عورت سب کو اجر ملے گا۔ اور کسی کا عمل ضائع نہ ہوگا۔ باقی رہی خصوصیت خطاب کی وجہ سو وہ یہ ہے بعضکم من بعض، کہ تم دونوں آپس میں ایک دوسرے کے جزو ہو پس حکم بھی دونوں کا یکساں ہے اس لئے ضرورت جدا خطاب کرنے کی نہیں اس کے بعد بعض جگہ خاص عورتوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جیسے ینسآء النبی لستن کا حد من النسآء ان اتقیتن الخ، میں دور تک ازواج مطہرات کو خطاب ہے اور 
وقل للمومنت یغضضن من ابصارھن و یحفظن فروجھن۔
میں سب مسلمان عورتوں کو ایک خاص حکم کا مخاطب بنایا گیا ہے اس سے اس وہم کا ازالہ من کل الوجہ ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ مردوں کی طرح حق تعالیٰ کو عورتوں پر بھی عنایت ہے اور بعض جگہ مذکر ومونث کے دونوں صیغے مخلوط لائے گئے ہیں۔
قرآن اور ذکر نسواں
چنانچہ اس آیت میں :
ان المسلمین والمسلمت والمومنین والمومنت والقنتین والقنتت والصدقین والصدقت والصبرین والصبرت والخشعین والخشعت والمتصدقین والمتصدقت والصائبین والصئمت والحفظین فروجھم والحفظت والذاکرین اللہ کیثرا والذکرت اعد اللہ لھم مغفرۃ واجرا عظیما۔ 
ترجمہ : بے شک اسلام کے کام کرنے والے مرد اور اسلام کے کام کرنے والی عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت خدا کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کررکھا ہے اس آیت میں مردوں اور عورتوں دونوں کا ذکر دوش بدوش کیا گیا ہے (اور عورتوں کی تمنا کا مقتضی یہ تھا کہ اس جگہ صرف عورتوں ہی کا ذکر ہوتا، مردوں کا ذکر ان کے ساتھ مخلوط نہ کیا جاتا مگر اس خلط میں اشارہ ہوگیا جواب کی طرف چونکہ اکثر احکام مردوں اور عورتوں میں مشترک ہیں چنانچہ یہی احکام دیکھ لو کہ ان میں کسی کی کچھ تخصیص نہیں الس لئے عورتوں کا ذکر جدا کرنے کی ضرورت نہیں جو احکام مردوں کے لئے ہیں وہی عورتوں کے لئے ہیں ١٢ جامع)
رہی یہ بات کہ ہر جگہ ایسا ہی کیوں نہ کیا گیا جیسا اس آیت میں دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ کیا گیا ہے اس کی دو وجہ ہیں ایک وجہ تصحیح کی، اور ایک وجہ ترجیح کی وجہ تغلیب ہے تغلیب کے معنے یہ ہیں کہ ایک نوع کو دوسری نوع پر غلبہ دے کر ایک کو ذکر کرکے دونوں کا ارادہ کرلیا جائے ١٢ جامع) مثلاً باپ ماں کو والدین یا ابو سن کر کہا کرتے ہیں اسی طرح اہل عرب چاند اور سورج کو قمرین کہہ دیتے ہیں حالانکہ ابوین کا لفظی ترجمہ ہے دو باپ اور قمرین کا ترجمہ ہے دو چاند ظاہر میں باپ ماں کو ابوین کہنا غلط معلوم ہوتا ہے ان کو اب وام کہنا چاہئے اسی طرح چاند اور سورج کو قمرین کہنا بھی بظاہر غلط ہے ان کو شمس وقمر کہنا چاہئے۔ لیکن چونکہ اس طرح عبارت طویل ہوجاتی ہے اس لئے اہل زبان اب وام کی جگہ تغلیبا بغرض اختصار ابوین اور شمس وقمر کی جگہ قمرین کہہ دیتے ہیں اسی طرح اگر قرآن میں مردوں اور عورتوں کے لئے جدا جدا صیغہ استعمال کیا جاتا تو کلام میں طول ہوجاتا اس لئے تغلیباً صیغہ مذکر ہی میں مونث کو بھی داخل کرلیا گیا جس سے کلام میں اختصار پیدا ہوگیا البتہ ایک دو جگہ عورتوں کے وہم مذکور کو دفع کرنے کے لئے ان کے واسطے جدا صیغے بھی استعمال کئے گئے تاکہ ان کی تسلی ہوجائے اور اتنی مقدار سے ایجاز کلام بھی فوت نہیں ہوتا۔
درجات مردوزن
اور ترجیح کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں تابع ہیں مردوں کی ہر طرح سے خلقت کے اعتبار سے بھی چنانچہ آدم (علیہ السلام) کے ایک جزو سے حوا علیہما السلام کی پیدائش ہوئی ہے۔
یعنی حق تعالیٰ نے ان کی بائیں پسلی میں سے کوئی مادہ نکالا پھر اس مادہ سے حوا علیہما السلام کو پیدا کیا جس کا اثر یہ ہے کہ عورتیں عموماً مردوں سے خلقتہ کمزور ہوتی ہیں ان کے تمام قویٰ جسمانی اور دماغی مردوں کے برابر نہیں ہوتے نیز تربیت کے اعتبار سے بھی وہ مردوں کے تابع ہیں چنانچہ کمانا اور کھیتی کرنا تجارت کرنا محنت ومشقت کے کام کرنا مردوں کے متعلق ہے اور پکانا کھانا عورتوں کے متعلق ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ عورتوں کی اصل یہ ہے کہ وہ پردہ درار ہوں اور تعلقات انتظامیہ کے لئے پردہ مانع ہے اس لئے امور انتظامیہ کے متعلق نہیں ہوسکتے انظام کا تعلق مردوں ہی سے ہوسکتا ہے اس وجہ سے تمام تر تعلق انتظام کا مردوں کے سپرد کیا گیا پس جہاں دیگر انتظامات ان کے متعلق ہیں وہاں عورتوں کی اصلاح کا انتظام بھی مردوں کے سپرد کیا گیا اور جب مردوں کے متعلق عورتوں کی اصلاح کا انتظام ہے تو وہ ان کے سردار ہوئے اور یہ قاعدہ ہے کہ سلطنت کی طرف سے جو احکام صادر ہوا کرتے ہیں ان کے مخاطب سردار ہوتے ہیں رعایا کو مخاطب نہیں کیا جاتا نہ اس کی کچھ ضرورت سمجھی جاتی ہے کیونکہ لوگ خود سمجھ لیں گے جب سردار ان احکام کے مخاطب ہیں تو چھوٹے بھی ان کے ساتھ ضرور شریک ہیں پھر سردار اپنے ماتحت لوگوں کو ان احکام کی اطلاع بھی کردیتے ہیں اور ان سے کام بھی لیتے ہیں اسی طرح قرآن میں اکثر مردوں کو احکام کو مخاطب بنایا گیا ہے چونکہ وہ عورتوں پر سردار ہیں تو ان کے مخاطب ہونے سے عورتوں کا ان احکام میں شریک ہونا خود سمجھ میں آجاتا ہے پھر مردوں کے ذمہ ہے کہ عورتوں کو احکام سے بھی اطلاع کریں اور ان سے کام بھی لیں۔
کیونکہ سرداروں کے ذمہ یہ کام ہمیشہ ہوتا ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کو احکام سلطنت سے مطلع کرتے رہیں اور ان سے کام لیں اگر وہ اس میں کوتاہی کریں گے تو ان سے بھی باز پرس ہوگی افسوس ہے کہ آج کل مردوں نے یہ بات تو یاد کرلی ہے کہ ہم عورتوں کے سردار ہیں مگر ان کو یہ خبر نہیں کہ سردار کے فرائض کیا ہوتے ہیں وہ نہ تو عورتوں کو احکام سے مطلع کریں اور مطلع کریں کس طرح، سردار صاحب کو خود ہی خبر نہیں اور نہ ان سے کام لیں یعنی جن کو احکام معلوم بھی ہیں اور ورہ عورتوں کو احکام سے مطلع بھی کرتے ہیں اور اس کی نگہداشت نہیں کرتے کہ ہمارے گھروں میں ان احکام پر عمل بھی ہورہا ہے یا نہیں، غرض جو احکام ایسے ہیں جن میں اشتراک کی خاصیت ہے جیسے نماز روازہ وغیرہ ان میں مردوں کو خطاب کافی ہے۔
دین وخواتین
اس تمہید کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ اس آیت میں جو کہ میں نے اس وقت تلاوت کی تھی جس طرح حق تعالیٰ نے مردوں کی تکمیل دین کا حکم فرمایا ہے اسی طرح وہ حکم عورتوں کے لئے بھی ہے اور جو طریق کمال دین کے حاصل کرنے کا مردوں کے لئے اس میں مذکور ہے وہ طریق عورتوں کے لئے بھی ہے پس حق تعالیٰ فرماتے ہیں :
یایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین۔
ترجمہ : اے ایمان والو، تقویٰ اختیار کرو (خدا سے ڈرو) اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجائو۔
یہ تو اس آیت کا ترجمہ ہے اور پہلے بیان میں اس بات کو اچھی طرح ثابت کردیا گیا ہے کہ تقویٰ اور صدق سے کمال دین مراد ہے۔
پس حاصل یہ ہوا کہ اے مسلمانو ! دین میں کمال حاصل کرو اور کاملین کے ساتھ رہو پس اس میں اولاً حق تعالیٰ نے تکمیل دین کا حکم فرمایا ہے پھر اس کا طریق بتلایا ہے کہ دین میں کامل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ راسخ فی الدین ہیں ان کی صحبت حاصل کرو، (احقر جامع عرض کرتا ہے کہ اس آیت سے اشارۃ ً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جب تک دنیا میں قرآن اور اسلام کا وجوہ ہے اس وقت تک ہر زمانہ میں کاملین کا بھی وجود ضرور رہے گا کیونکہ جب تک دنیا میں قرآن ہے اس وقت تک ہر شخص اس آیت کا مخاطب ہے اور اس آیت میں کمال دین کا طریقہ صحبت کا ملین بتلایا گیا ہے بصورت امر جس کا امتثال بدوں تحقق کا ملین کے نہیں ہوسکتا اور اوامرشرعیہ کے لئے متعذرالامتثال ہونا خلاف اصل ہے اس لئے یہ مدعی ثابت ہوگیا کہ ہر زمانہ میں کاملین کا وجود ضرور رہے گا گو وہ قلیل ہی ہوں پس جو لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ صاحب آج کل اہل کمال کہاں ہیں اب تو کمال کا حاصل ہونا دشوار ہے۔ یہ آیت اشارۃً پر رد کرتی ہے فافہم ١٢ جامع) کیونکہ کاملین کی صحبت سے اعمال میں سہولت بھی ہوتی ہے اس طرح سے کہ ان کی برکت سے تقاضائے نفس مضمحل ہوجاتا ہے جو کہ اکثر اعمال میں مزاحکم ہوتا ہے نیز ان کی صحبت سے طریق عمل بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس عمل کو کس طرح ادا کرنا چاہیے یہ بات محض مسائل جاننے سے حاصل نہیں ہوتی جب تک کسی کو عمل کرتے ہوئے نہ دیکھا جاوے اور یہ بات کچھ دین ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دنوی کاموں میں بھی طریق عمل معلوم کرنے کے لئے اہل کمال کی صحبت ضروری ہے اگر کوئی شخص یوں چاہے کہ محض کتاب دیکھ کر قسم قسم کے کھانے پکانے سیکھ لے تو ایسا نہیں ہوسکتا جب تک وہ کسی ماہر فن سے ہر کھانے کی ترکیب عملی نہ سیکھے گا۔ اس وقت تک کبھی اس کو کھانا پکانے کا طریقہ معلوم نہ ہوگا اور اگر کسی نے کتاب دیکھ کر عمل شروع بھی کردیا تو اس کو قدم قدم پر دشواریاں پیش آئیں گی چنانچہ جب چاہے اس کا تجربہ کرلیا جائے اور یہی حال ہر عمل کا ہے کہ محض ترکیب جان لینے سے کسی عمل میں کمال حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ استاد سے سیکھنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔





No comments:

Post a Comment