Friday, 24 October 2014

مرادِ رسول، محدثِ اُمت، خليفہ دؤم حضرت عمرؓ بن خطاب کے فضائل و مناقب



حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام:
(1)حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما۔ (راوی نے)کہا: پھر ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے ۔


(2)صبح ہوئی تو اگلے روز حضرت عمرؓ نے نبی کریم  کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور مسجد میں اعلانیہ نماز پڑھی۔

(3)وہ دونوں اپنی گمراہی میں مر چکے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عمر کو اسلام کے ساتھ زندہ کیا، انہیں عزت بخشی اور ابوجہل کی گمراہی اور موت کی تصدیق کی۔ فرمایا: یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔
{ذرا بتاؤ کہ جو شخص مردہ ہو، پھر ہم نے اسے زندگی دی ہو}(سورۃ الانعام:122)

(4)جب حضرت عمرؓ ایمان لائے تو حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کی، یا محمد ﷺ! یقیناً خوش ہوۓ ہیں آسمان والے حضرت عمرؓ کے ایمان لانے پر۔
[سنن ابن ماجه:100]

(5)جب حضرت عمرؓ اسلام لائے تو مشرکین نے کہا، آج ہماری طاقت آدھی ہو گئی۔ اس وقت حضرت عمرؓ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی:
{اے نبی! کافی ہے تجھ کو اللہ اور جتنے تیرے ساتھ ہیں مسلمان۔۔۔}(سورة الانفال :64)
[المستدرك للحاكم:4494]

(6)حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے: اللہ کے فرمان {اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں} (سورة التحريم:4) ، کے متعلق فرمایا کہ: (اس سے مراد خصوصاًحضرت عمر ہیں."






احادیثِ رسول اللہ ﷺ
(1)اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔
[جامع الترمذي:3686، المستدرك للحاكم:4495]

(2)بے شک ﷲ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا ہے۔
[ترمذی:3644، صحيح ابن حبان:7052]

بے شک ﷲ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق بولتے ہیں۔
[سنن أبي داود:2962، سنن ابن ماجه:108]

(3) بے شک تم سے پہلی امتوں میں مُحَدَّثْ (یعنی جن کے دل میں حق بات ڈالی جاتی ہو) ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں بھی کوئی مُحَدَّثْ ہے تو وہ عمر بن خطاب ہے۔ 
[صحيح البخاري:3469، صحیح مسلم:2401]
جس شخص نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفہ پر عموماً اور حضرت عمر پر خصوصاً فخر کیا ہے۔ جتنے انبیاء کرام مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محَدَّثْ ضرور ہوا ہے اگر میری امت کا کوئی محَدَّث ْ ہے تو وہ عمر ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! محدَث کون ہوتا ہے؟ فرمایا، جس کی زبان سے ملائکہ گفتگو کریں۔
[المعجم الأوسط للطبراني:6726]

(4) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (تم وہ شخص ہو کہ) شیطان تمہیں دیکھ لیتا ہے تو اس راستہ سے کترا کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ جس پر تم چلتے ہو.
[صحيح البخاري:3683، صحیح مسلم:2396]

میں دیکھ رہا ہوں کہ انسانوں اور جنوں کے شیطان عمر کے خوف سے (کس طرح) بھاگ رہے ہیں۔
[سنن الترمذي:3691، صَحِيح الْجَامِع: 3468]

(5)میں سو رہا تھا، اسی حال میں میرے پاس لایا گیا دودھ کا بھرا ہوا پیالہ تو میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے ناخنوں تک میں محسوس کیا، پھر میں نے وہ دودھ جو میرے پینے کے بعد بچ گیا تھا وہ عمر بن الخطاب کو دے دیا کہ وہ اس کو پی لیں، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ نے فرمایا کہ علم۔

(6)۔۔۔اور عمر بھی جنت میں  جائے گا۔۔۔
[ترمذی:3747، ابوداؤد:4649، ابن ماجہ:133]
میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ جواب ملا، عمر بن خطاب کا میں نے ارادہ کیا کہ اندر داخل ہوکر اسے دیکھوں لیکن تمہاری غیرت یاد آگئی۔ اس پر حضرت عمرؓ عرض گزار ہوئے: اے الله کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ، کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں۔
[صحيح البخاري:7024]

(7)سورج کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو عمر سے بہتر ہو۔
[سنن الترمذي:3684، المستدرك الحاكم:4508]
حضرت اسلم (جو حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام اور تابعی ہیں ) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے (ایک دن) مجھ سے حضرت عمر کے کچھ احوال وخصائل جاننے چاہے تو میں نے ان کو (بہت سی باتیں) بتائیں اور کہا ہے کہ رسول کریم ﷺ (کی رحلت) کے بعد میں نے حضرت عمر سے بڑھ کر کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اچھے کاموں میں سب سے زیادہ سرگرم کار اور سب سے زیادہ نیک رہا ہوں۔
[صحيح البخاري:3687]

جب نبی کریم ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ ﷺ نے فرمایا احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
[صحیح بخاری:3675]



متنِ روایت:
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ عَبْدِ اللهِ بِنْتِ أَبِي حَثْمَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: وَاللهِ إنّا لَنَتَرَحّلُ إلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامِرٌ فِي بَعْضِ حَاجَاتِنَا، إذْ أَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطّابِ حَتّى وَقَفَ عَلَيّ - وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ، قَالَتْ: وَكُنّا نَلْقَى مِنْهُ الْبَلَاءَ وَالشَدَّةَ عَلَيْنَا - فَقَالَ: إنّهُ الْإنْطِلَاقُ يَا أُمّ عَبْدِ اللهِ؟، فَقُلْت: نَعَمْ , وَاللهِ لَنَخْرُجَنّ فِي أَرْضِ اللهِ، آذَيْتُمُونَا , وَقَهَرْتُمُونَا، حَتّى يَجْعَلَ اللهُ لَنَا مَخْرَجًا، فَقَالَ: صَحِبَكُمْ اللهُ، وَرَأَيْت لَهُ رِقّةً لَمْ أَكُنْ أَرَاهَا، ثُمّ انْصَرَفَ وَقَدْ أَحْزَنَهُ - فِيمَا أَرَى - خُرُوجُنَا، قَالَتْ: فَجَاءَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مِنْ حَاجَتِهِ تِلْكَ، فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ , لَوْ رَأَيْتَ عُمَرَ آنِفًا (١) وَرِقّتَهُ وَحُزْنَهُ عَلَيْنَا، قَالَ أَفَطَمِعْتِ فِي إسْلَامِهِ؟، قُلْت: نَعَمْ، قَالَ لَا يُسْلِمُ الّذِي رَأَيْتِ حَتّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطّابِ - قَالَتْ: يَأسًا مِنْهُ , لِمَا كَانَ يَرَى مِنْ غِلْظَتِهِ وَقَسْوَتِهِ عَنْ الْإِسْلَامِ -.

(١) أي: قبل قليل.

ترجمہ
حضرت عبدالعزیز بن عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنی والدہ حضرت ام عبداللہ بنت ابی حثمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا:

"اللہ کی قسم! ہم حبشہ کی طرف ہجرت کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ عامر (یعنی میرے شوہر عامر بن ربیعہ) ہمارے کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضرت عمر بن خطابؓ (جو اس وقت مشرک تھے) آئے اور میرے پاس کھڑے ہو گئے۔ ہم ان کی طرف سے (پہلے) تکلیف اور سختی اٹھا چکے تھے۔ انہوں نے پوچھا: 'اے ام عبداللہؓ! کیا تم لوگ جا رہے ہو؟' میں نے کہا: 'ہاں، اللہ کی قسم! ہم اللہ کی زمین میں (ہجرت کر کے) ضرور نکلیں گے، تم لوگوں نے ہمیں تکلیف دی اور ہم پر ظلم کیا ہے (یہاں تک کہ) اللہ ہمارے لیے (کہیں) نکلنے کا راستہ پیدا کرے۔'

اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: 'اللہ تمہارا ساتھی ہو۔' میں نے ان میں ایک نرمی دیکھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پھر وہ واپس چلے گئے، اور (میں سمجھتی ہوں کہ) ہمارا جانا انہیں رنجیدہ کر گیا تھا۔

پھر میرے شوہر عامر بن ربیعہؓ اپنے کام سے واپس آئے، تو میں نے ان سے کہا: 'اے ابوعبداللہ! کاش تم ابھی عمرؓ کو دیکھتے، ان کی نرمی اور ہم پر ان کے غم کو۔' انہوں نے کہا: 'کیا تم نے ان کے اسلام لانے کی امید کر لی ہے؟' میں نے کہا: 'ہاں!' تو انہوں نے کہا: 'جسے تم نے دیکھا، وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو گا جب تک خطاب کا گدھا مسلمان نہ ہو جائے۔' (راویہ کہتی ہیں:) یہ ان کی (اسلام سے) مایوسی تھی، کیونکہ وہ عمر کی سختی اور بے رخی کو دیکھتے تھے۔

(تخریج: مستدرک حاکم: 6895، فضائل الصحابہ لابن حنبل: 371، صحیح السیرہ: 189)


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
کفار کی طرف سے مسلمانوں پر مظالم: حضرت ام عبداللہ بنت ابی حثمہ نے بیان کیا کہ مشرکین خاص کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے سے پہلے) انہیں سخت تکلیفیں دیتے تھے، جس کی وجہ سے وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

حضرت عمرؓ کی فطرت میں نرمی کا پہلو: اسلام لانے سے پہلے بھی حضرت عمرؓ کے دل میں مسلمانوں کے لیے نرمی اور ہمدردی تھی، جیسا کہ انہوں نے ام عبداللہ کو جاتے دیکھ کر دعا دی اور رنجیدہ ہوئے۔ یہ ان کے مستقبل کے اسلام کی ایک علامت تھی۔

صحابہ کی فطری ذہانت: حضرت ام عبداللہ نے شوہر کو بتایا کہ انہوں نے عمر میں نرمی دیکھی ہے اور ان کے اسلام کی امید کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ دلوں کے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

عامر بن ربیعہ کی مایوسی: انہوں نے عمر کی شدت اور سختی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوگا جب تک خطاب کا گدھا مسلمان نہ ہو جائے۔ یہ ایک محاورہ تھا جو مطلق مایوسی کے لیے بولا جاتا تھا۔

قدرت الٰہی کا کمال: جس شخص کے بارے میں لوگوں کو شدید مایوسی تھی، وہی بعد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بن کر امیر المومنین اور دین کے محافظ بنے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور لوگوں کا گمان غلط ہو سکتا ہے۔

ہجرت کی فضیلت: یہ واقعہ ہجرت حبشہ کے موقع پر پیش آیا، جو اللہ کی راہ میں اپنے وطن چھوڑنے کی ایک عظیم قربانی تھی۔ اللہ نے انہیں اس کا بہترین بدلہ دیا۔

امید کی اہمیت: حضرت ام عبداللہ نے ایک شخص (عمر) کے اسلام کی امید نہیں چھوڑی، حالانکہ لوگ مایوس تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

نرمی اور درگزر کا اخلاق: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کرنے والوں کو "صحبکم اللہ" (اللہ تمہارا ساتھی ہو) کہہ کر رخصت کیا، جو ان کے کھردرے رویے کے باوجود ایک عمدہ اخلاقی رویہ تھا۔

دعا کی برکت: حضرت عمر کی دعا "صحبکم اللہ" بعد میں ان کے مسلمان ہونے کے بعد بھی ان کے کردار کا حصہ رہی۔

تخریج اور اعتبار: یہ روایت مستدرک حاکم اور مسند احمد (فضائل الصحابہ) میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








متنِ حدیث
عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - لَمْ تَعْلَمْ قُرَيْشٌ بِإِسْلَامِهِ، فَقَالَ: أَيُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْقَلُ لِلْحَدِيثِ؟، فَقَالُوا: جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ أَتْبَعُ أَثَرَهُ، أَعْقِلُ مَا أَرَى وَأَسْمَعُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا جَمِيلُ، إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا رَدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً , حَتَّى قَامَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَنَادَى أَنْدِيَةَ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَذَبَ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ , وَآمَنْتُ بِاللهِ , وَصَدَّقْتُ رَسُولَهُ، فَثَاوَرُوهُ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى رَكَدَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُؤُوسِهِمْ، حَتَّى فَتَرَ عُمَرُ وَجَلَسَ , فَقَامُوا عَلَى رَأسِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ، فَوَاللهِ لَوْ كُنَّا ثَلَاثَمِائَةِ رَجُلٍ , لَقَدْ تَرَكْتُمُوهَا لَنَا , أَوْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ قِيَامٌ عَلَيْهِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةُ حَرِيرٍ , وَقَمِيصٌ قَوْمَسِيٌّ، فَقَالَ: مَا بَالَكُمْ؟ , فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ، قَالَ: فَمَهْ؟، امْرُؤٌ اخْتَارَ دِينًا لِنَفْسِهِ، أَفَتَظُنُّونَ أَنَّ بَنِي عَدِيٍّ تُسْلِمُ إِلَيْكُمْ صَاحِبَهُمْ؟، قَالَ: فَكَأَنَّمَا كَانُوا ثَوْبًا انْكَشَفَ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ: يَا أَبَتِ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي رَدَّ عَنْكَ الْقَوْمَ يَوْمَئِذٍ؟، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، ذَاكَ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيّ.

ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو قریش کو ان کے اسلام لانے کی خبر نہ تھی۔ (اس لیے) حضرت عمر نے پوچھا: "مکہ والوں میں سب سے زیادہ (خبریں) کون پھیلانے والا ہے؟" لوگوں نے کہا: "جمیل بن معمر الجمحی۔"

چنانچہ حضرت عمرؓ اس کے پاس گئے اور میں (عبداللہ بن عمر) بھی ان کے ساتھ تھا، ان کے پیچھے چلتا ہوا، جو کچھ دیکھتا اور سنتا اسے سمجھ رہا تھا۔

وہ جمیل کے پاس پہنچے اور کہا: "اے جمیل! میں مسلمان ہو گیا ہوں۔" راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جمیل نے کوئی جواب نہ دیا، بلکہ فوراً اٹھ کر مسجد کی طرف چلا گیا اور قریش کی نشست گاہوں (اندیہ) میں پکار کر کہنے لگا: "اے قریش کے لوگو! ابن خطاب نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے (مرتد ہو گیا ہے)۔"

اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: "وہ جھوٹ بول رہا ہے، بلکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں، اللہ پر ایمان لایا ہوں اور اس کے رسول کی تصدیق کی ہے۔" (یہ سن کر) مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے، اور حضرت عمرؓ ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج ان کے سروں پر ٹھہر گیا (یعنی لڑائی میں کافی وقت لگ گیا)۔ جب حضرت عمرؓ تھک کر بیٹھ گئے تو مشرکین ان کے سر پر کھڑے ہو گئے۔

اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: "جو کرنا ہے کرو۔ اللہ کی قسم! اگر ہم تین سو آدمی ہوتے تو تم یہ جگہ (مکہ) ہمیں چھوڑ دیتے یا ہم تمہیں چھوڑ دیتے۔"

وہ اس طرح (مار پیٹ کرنے کے لیے) ان پر کھڑے ہی تھے کہ ایک شخص آیا جس نے ریشم کا تہبند اور اوڑھنی (حلہ) پہن رکھی تھی اور ایک قمیص (قومسی) تھی۔ اس نے کہا: "تمہیں کیا ہو گیا ہے؟" لوگوں نے کہا: "ابن خطاب مرتد ہو گیا ہے۔" اس نے کہا: "تو کیا ہوا؟ ایک آدمی نے اپنے لیے ایک دین (مذہب) منتخب کیا ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ بنو عدی (عمر کا قبیلہ) تمہیں اپنا ساتھی (عمر) حوالے کر دیں گے؟" راوی کہتے ہیں: (یہ سن کر) ایسا لگا جیسے وہ (مشرکین) ایک کپڑا تھے جو ان کے اوپر سے ہٹ گیا (یعنی منتشر ہو گئے)۔

بعد میں مدینہ میں میں نے اپنے والد (عمر) سے پوچھا: "اے ابا جان! وہ شخص کون تھا جس نے اس دن تم پر لوگوں کو (حملہ کرنے سے) روکا تھا؟" انہوں نے کہا: "بیٹے! وہ عاص بن وائل سہمی تھا۔"

(تخریج: صحیح ابن حبان: 6879، مستدرک حاکم: 4493، صحیح السیرہ: 192)


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کے اسلام لانے کی حکمت:
انہوں نے سب سے پہلے اپنے اسلام کا اعلان اس شخص سے کیا جو سب سے زیادہ خبر پھیلانے والا تھا، تاکہ یہ خبر پوری قریش میں پھیل جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرنے سے نہیں ڈرتے تھے۔

مشرکین کی طرف سے مخالفت اور تشدد:
جب حضرت عمر نے اسلام کا اعلان کیا تو مشرکین نے ان پر حملہ کیا اور انہیں مارنے کی کوشش کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کو کتنی سخت تکلیفیں اٹھانی پڑیں۔

حضرت عمر کی جرات اور بہادری:
انہوں نے اکیلے ہی مشرکین کے ایک گروہ کا مقابلہ کیا اور لڑتے رہے یہاں تک کہ تھک گئے۔ ان کا یہ رویہ اسلام کے لیے ان کی سچی محبت اور جانثاری کو ظاہر کرتا ہے۔

عاص بن وائل کا کردار:
وہ مشرک تھا، لیکن اس نے قبیلہ پرستی (عصبیت) کی وجہ سے حضرت عمر کی مدد کی اور کہا کہ بنو عدی اپنے آدمی کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جاہلیت میں قبیلہ کی حمایت بہت مضبوط ہوتی تھی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص نئے دین میں داخل ہو جائے۔

حضرت ابن عمر کی ذہانت:
وہ اپنے والد کے ساتھ گئے، ان کے پیچھے چلے، اور ساری باتوں کو سمجھتے رہے۔ یہ ان کی ذہانت اور فطانت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت ان کی عمر 10-12 سال کے لگ بھگ تھی۔

مسلمانوں کی تعداد کا ذکر:
عمر نے کہا: "اگر ہم تین سو آدمی ہوتے تو تم یہ جگہ ہمیں چھوڑ دیتے یا ہم تمہیں چھوڑ دیتے"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن پھر بھی وہ حق پر جمے رہے۔

مدینہ میں عمر کی شہادت کے بارے میں سوال:
حضرت ابن عمر نے مدینہ میں اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں پوچھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس واقعے کو کبھی نہیں بھولے تھے۔

قریش کی نفسیات:
مشرکین حضرت عمر کو اکیلا دیکھ کر ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے، لیکن جب عاص بن وائل نے قبیلہ کے حوالے سے انہیں ڈرایا تو وہ منتشر ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین میں قبیلہ کی طاقت کا بہت خوف تھا۔

اسلام لانے کے بعد حضرت عمر کی زندگی پر اثر:
اس واقعے کے بعد حضرت عمر نے کھلم کھلا اسلام کا اعلان کر دیا اور نماز بیت اللہ میں پڑھنا شروع کر دی، جس سے مسلمانوں کو طاقت ملی۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم اور دیگر کتب میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متنِ حدیث
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: (لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ - رضي الله عنه - اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ، وَقَالُوا: صَبَأَ عُمَرُ - وَأَنَا غُلَامٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي - فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةُ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ) (١) (فَلَقِيَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِهِمُ الْوَادِي فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟، فَقَالُوا: نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي صَبَأَ) (٢) (فَقَالَ: قَدْ صَبَأَ عُمَرُ، فَمَا ذَاكَ؟، فَأَنَا لَهُ جَارٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ) (٣) (أَبُو عَمْرٍو، وَهُوَ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، وَهُمْ حُلَفَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ) (٤).

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

"جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو لوگ ان کے گھر کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: عمر مرتد ہو گیا ہے (انہوں نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے)۔

(اس وقت) میں اپنے گھر کی چھت پر ایک لڑکا تھا۔

پھر ایک شخص آیا جس نے ریشم کا ایک قبہ (اوپر کا لباس) پہن رکھا تھا۔(١) وہ لوگوں سے ملا، حالانکہ (غصہ میں) گویا وادی انہیں بہا لے جا رہی تھی۔ اس نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس ابن خطاب کے پاس جا رہے ہیں جو مرتد ہو گیا ہے۔(٢)

اس نے کہا: عمر مرتد ہو گیا ہے تو کیا ہوا؟ میں اس کا پڑوسی ہوں (یعنی میں اس کی حفاظت کروں گا)۔

ابن عمر کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ لوگ اس کے پاس سے منتشر ہو گئے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عاص بن وائل ہے (٣) (جو ابو عمرو کہلاتا ہے)۔ وہ بنی سہم سے تعلق رکھتا ہے، اور جاہلیت میں وہ ہمارے حلیف (ساتھی) تھے۔"(٤)

حوالہ جات:
(١) صحیح البخاری: 3652
(٢) صحیح البخاری: 3651
(٣) صحیح البخاری: 3652
(٤) صحیح البخاری: 3651


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کے اسلام لانے کا اعلان:
جب حضرت عمر مسلمان ہوئے تو انہوں نے اپنے اسلام کو چھپایا نہیں، بلکہ وہ لوگوں کو معلوم ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرنے سے نہیں ڈرتے تھے۔

مشرکین کا رد عمل:
مشرکین نے حضرت عمر کو "صابئ" (مرتد) کہہ کر ان کے خلاف جمع ہونے کی کوشش کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں مسلمانوں کو شدید مخالفت کا سامنا تھا۔

قبیلہ اور حلیف نظام کی اہمیت:
عاص بن وائل نے اگرچہ خود مسلمان نہیں تھا، لیکن جاہلیت کے حلیفانہ تعلق کی بنا پر انہوں نے حضرت عمر کی حمایت کی اور لوگوں کو ان کے گھر جانے سے روک دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت میں قبیلہ اور حلیف کا رشتہ بہت مضبوط ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ کسی شخص کو اس کے دین بدلنے پر بھی تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔

عاص بن وائل کا کردار:
وہ خود مشرک تھا اور بعد میں بدر میں مسلمانوں کے خلاف لڑا، لیکن اس موقع پر اس نے اپنی جاہلی حلیف داری کو نبھایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کوئی شخص اسلام قبول نہیں کرتا، اس کی اپنی قوم کے ساتھ وابستگی باقی رہتی ہے۔

حضرت ابن عمر کا مشاہدہ:
انہوں نے بچپن میں یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ بچپن سے ہی بڑے واقعات کو سمجھتے اور یاد رکھتے تھے۔

قریش کے اندرونی اختلافات:
عاص بن وائل کا آنا اور لوگوں کو روک دینا اس بات کی دلیل ہے کہ قریش کے اندر بھی افراد کے درمیان اختلافات تھے، اور کوئی ایک شخص دوسرے کو آسانی سے ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا۔

اللہ کی طرف سے حضرت عمر کی مدد:
اگرچہ عاص بن وائل مشرک تھا، لیکن اللہ نے اسے اس وقت حضرت عمر کی مدد کے لیے بھیج دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد ان ذرائع سے بھی کرتا ہے جن کا وہ گمان نہیں کرتے۔

مسلمانوں کے لیے سبق:
جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرے اور اللہ پر بھروسہ رکھے کہ وہ اس کی مدد فرمائے گا، چاہے اس وقت حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔

جاہلیت کے رسوم سے سبق:
اگر جاہلیت کے لوگ اپنے حلیفوں کی حمایت کرتے تھے، تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمانی بھائیوں کی حمایت کریں، جو کہ جاہلی حمایت سے بھی زیادہ مضبوط اور باعثِ اجر ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ اس لیے یہ قابلِ اعتماد اور قابلِ عمل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








متنِ حدیث
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ - رضي الله عنه - كَانَ فَتْحًا، وَإِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ نَصْرًا، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ رَحْمَةً، وَاللهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ) (١) (فَلَمَّا أَسْلَمَ، قَاتَلَ قُرَيْشًا حَتَّى صَلَّى عِنْدَ الْكَعْبَةِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ) (٢).

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا فتح (کامیابی) تھا، ان کی ہجرت نصرت (مدد) تھی، اور ان کی خلافت رحمت تھی۔ اللہ کی قسم! ہم کعبہ کے پاس کھلم کھلا نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ عمر مسلمان ہو گئے۔

پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو انہوں نے قریش سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہوں نے کعبہ کے پاس نماز پڑھی، اور ہم نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔"

حوالہ جات:

(١) ابن حنبل في فضائل الصحابة: 482، مستدرک حاکم: 4487، صحیح السیرہ: 188
(٢) ابن حنبل في فضائل الصحابة: 370، صحیح السیرہ: 188


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کی عظمت:
حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان کے اسلام کو "فتح" (کامیابی) قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اسلام لانے نے مسلمانوں کو طاقت اور حوصلہ بخشا، اور کفار پر یہ ایک بڑی فتح تھی۔

ہجرت کو "نصر" قرار دینا:
حضرت عمر کی ہجرت کو "نصرت" (مدد) کہا گیا، کیونکہ ان کی ہجرت سے مسلمانوں کو مدد ملی اور ان کی موجودگی سے اسلام کو تقویت پہنچی۔

خلافت کو "رحمت" قرار دینا:
ان کی خلافت کو رحمت کہا گیا، کیونکہ ان کے دور میں عدل و انصاف قائم ہوا، فتوحات ہوئیں، اور مسلمانوں کو سکون و امان ملا۔

کعبہ میں کھلم کھلا نماز پڑھنا:
حضرت عمر سے پہلے مسلمان چھپ کر نماز پڑھتے تھے اور کعبہ کے پاس کھلم کھلا نماز پڑھنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن جب عمر مسلمان ہو گئے تو انہوں نے جرات کے ساتھ کعبہ کے پاس نماز پڑھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ساتھ لے کر پڑھنے لگے۔

اسلام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ:
حضرت عمر کا اسلام لانا اسلام کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تھا، جس کے بعد مسلمانوں نے عوامی طور پر اپنے اعمال ظاہر کرنے شروع کر دیے۔

قریش سے مقابلہ:
حضرت عمر نے قریش سے لڑائی کی تاکہ وہ کعبہ میں نماز پڑھنے سے نہ روکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کے لیے جدوجہد اور قربانی دینا ضروری ہے۔

صحابہ کا اتحاد اور قوت:
حضرت عمر کی قیادت میں صحابہ نے مل کر کعبہ میں نماز ادا کی، جس سے ان کے اتحاد اور قوت کا پتہ چلتا ہے۔

اللہ کی طرف سے مدد اور نصرت:
یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا کہ اس نے عمر کے ذریعے اسلام کو طاقت بخشی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے، اس کے ذریعے اپنے دین کی مدد فرماتا ہے۔

دعا اور امید:
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ایسے افراد کی آمد کی دعا کریں جو اسلام کے لیے باعثِ فتح اور رحمت ہوں۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند احمد (فضائل الصحابہ)، مستدرک حاکم اور صحیح السیرہ میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








متنِ حدیث
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ (١). (٢)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"جب سے حضرت عمر مسلمان ہوئے، ہم (مسلمان) عزت والے بن گئے۔(١)" (٢)

حواشی وحوالہ جات:
(١) ابن اسحاق نے کہا: حضرت عمر کا اسلام ان صحابہ کے حبشہ ہجرت کرنے کے بعد ہوا۔(الروض الأنف - ٢/ ١١٩)
(٢) صحیح البخاری: 3481

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو عزت ملی:
اس سے پہلے مسلمان کمزور اور چھپ کر عبادت کرنے پر مجبور تھے، لیکن جب حضرت عمر مسلمان ہوئے تو انہوں نے جرات کے ساتھ اسلام کا اعلان کیا اور مشرکین کو للکارا، جس سے مسلمانوں کو عزت اور طاقت ملی۔

عزت کا دارومدار ایمان اور اتحاد پر ہے:
مسلمانوں کی عزت اس وقت بڑھتی ہے جب وہ مضبوط ایمان اور متحد ہو کر حق پر قائم رہتے ہیں۔ حضرت عمر کی شخصیت نے اس اتحاد کو مضبوط کیا۔

حضرت عمر کی ہمت اور بہادری:
ان کے اسلام نے مسلمانوں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ اب کھل کر اپنے دین پر عمل کر سکتے ہیں، کیونکہ عمر کا نام اور ان کی قوت مشرکین میں خوف پیدا کرنے والی تھی۔

اسلام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ:
حضرت عمر کا اسلام لانا ہجرت حبشہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر مشکلات کے بعد اللہ نے انہیں اس قوت سے نوازا۔

اللہ کی مدد اور نصرت:
مسلمانوں کی عزت اور طاقت اللہ کی طرف سے ہے، جو اس نے حضرت عمر جیسے عظیم صحابی کے ذریعے انہیں عطا کی۔

صحابہ کی شہادت:
حضرت عبداللہ بن مسعود جیسے جلیل القدر صحابی نے خود اس بات کی گواہی دی کہ عمر کے اسلام نے انہیں عزت بخشی۔

قوت اور ذلت کا فرق:
اس سے پہلے مسلمان ذلت اور کمزوری میں تھے، اور عمر کے اسلام کے بعد وہ عزت اور طاقت والے بن گئے۔ یہ بتاتا ہے کہ ایک فرد کی تبدیلی پوری جماعت کو بدل سکتی ہے۔

دعا اور امید:
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ایسے لوگوں کی آمد کی دعا کریں جو ان کے لیے باعثِ عزت اور طاقت ہوں۔

تاریخی ترتیب:
ابن اسحاق نے وضاحت کی کہ یہ واقعہ ہجرت حبشہ کے بعد ہوا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے ہجرت حبشہ کے بعد اسلام قبول کیا اور پھر ہجرت مدینہ کی۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب








متنِ حدیث
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "

ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔"

حوالہ جات:
(١) سنن ترمذی: 3686، مسند احمد: 17441، مستدرک حاکم: 4495، صحیح الجامع: 5284، سلسلہ صحیحہ: 327

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد - صهيب عبد الجبار: ج 15 / ص 321]



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی عظمت و فضیلت:
یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی فضیلت اور بلند مرتبے کو ظاہر کرتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہوتا تو عمر اس کے لیے سب سے موزوں شخص ہوتے۔

نبوت کا خاتمہ:
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، کیونکہ آپ نے "لو" (اگر) کے ساتھ فرمایا، جو ایک ناممکن شرط ہے۔ لہٰذا یہ حدیث ختم نبوت پر بھی دلالت کرتی ہے۔

حضرت عمر کی قربانیاں اور دین کے لیے خدمات:
حضرت عمر نے اپنی قوت، بہادری اور عدل سے اسلام کو فروغ دیا۔ ان کی خلافت میں عظیم فتوحات ہوئیں اور اسلامی نظام قائم ہوا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے انہیں نبوت کے قابل قرار دیا۔

صحابہ میں درجات کا فرق:
اگرچہ تمام صحابہ عظیم ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ صحابہ میں سب سے افضل نہیں (کیونکہ ابوبکر افضل ہیں)، لیکن ان کی خصلتیں نبوت کے شایانِ شان تھیں۔

اللہ کی طرف سے خصوصی توفیق:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے حضرت عمر کو خاص طور پر حق گوئی، انصاف اور قوت ایمان جیسی صفات عطا کی تھیں، جن کی بنا پر نبی ﷺ نے انہیں اتنا بلند مقام دیا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث سنن ترمذی، مسند احمد، مستدرک حاکم وغیرہ میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ قابلِ اعتماد ہے۔

صحابہ کے بارے میں نبی ﷺ کی پیشگوئیاں:
نبی ﷺ نے حضرت عمر کی شان میں بہت سی فضیلتیں بیان کی ہیں، جن میں سے یہ ایک ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کے مناقب نبی ﷺ سے ثابت ہیں۔

امت کے لیے نمونہ:
حضرت عمر کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی سیرت، عدل، شجاعت اور دین سے وابستگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متنِ حدیث (عربی):
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ , رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ (١) فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ (٢) ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي , فَإِذَا بِلَالٌ (٣) وَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مُرَبَّعٍ مُشْرِفٍ مِنْ ذَهَبٍ (٤) فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ الْقَصْرٍ فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ (٥) فَقَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ , فَقُلْتُ: أَنَا عَرَبِيٌّ , لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ , قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ , قُلْتُ: أَنَا قُرَشِيٌّ , لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ , قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ؟ , قُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدٌ , لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ , قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (٦) فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ (٧) فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ , فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا (٨) فَبَكَى عُمَرُ - رضي الله عنه - وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ (٩) حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - (١٠) وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ , أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ؟ (١١) "

ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں پایا۔ (١) تو اچانک میں نے ابوطلحہ کی بیوی رمضاء کو دیکھا۔ (٢) پھر میں نے اپنے سامنے ایک آہٹ سنی، تو دیکھا بلال (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ (٣) اور میں ایک چوکور، اونچے، سونے کے محل کے پاس آیا۔ (٤) تو محل کے پاس ایک عورت وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ (٥) انہوں نے کہا: ایک عرب شخص کا۔ میں نے کہا: میں عرب ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک قریشی شخص کا۔ میں نے کہا: میں قریشی ہوں، یہ کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: محمد کی امت کے ایک شخص کا۔ میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب کا۔ (٦)

میں نے اس میں داخل ہو کر دیکھنے کا ارادہ کیا (٧) تو مجھے عمر کی غیرت یاد آ گئی، اس لیے میں واپس پھر گیا (٨)

جب حضرت عمر نے مجلس میں یہ بات سنی تو وہ رو پڑے (٩) (١٠) اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا میں آپ پر (آپ کے داخل ہونے سے) غیرت کروں گا؟ (١١)

تخریج:
صحیح بخاری: 3070، 3476، 6620، 6621، 4929؛ صحیح مسلم: 106 (2457)، 21 (2395)؛ سنن ترمذی: 3689؛ مسند احمد: 15044، 23090، 23046، 8451، 15226۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نبی ﷺ کے خواب کی صداقت:
انبیاء کے خواب وحی کی ایک قسم ہوتے ہیں، جیسا کہ اس حدیث میں نبی ﷺ نے جنت کا مشاہدہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب میں دیکھی گئی چیزیں حقیقت ہوتی ہیں۔

رمضاء (ام ابان) کا جنت میں ذکر:
ابوطلحہ کی بیوی رمضاء (ام ابان) کا جنت میں ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقام بلند تھا۔ وہ اپنی سخاوت اور خدمتِ اسلام کی وجہ سے جنت میں سراہی گئیں۔

بلال رضی اللہ عنہ کی آہٹ اور ان کی فضیلت:
بلال کی جوتوں کی آہٹ (خشخشہ) سن کر نبی ﷺ نے انہیں پہچان لیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بلال کا مرتبہ بہت بلند ہے اور وہ جنت میں نبی ﷺ سے پہلے جا رہے تھے۔

سونے کا محل اور عورت کا وضو کرنا:
محل کے پاس ایک عورت کا وضو کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں بھی طہارت اور عبادت کی نعمتیں ہیں۔ یہ عورت کون تھی؟ علماء نے اختلاف کیا ہے، مگر یہ کوئی خاص نیک عورت تھی۔

محل کی شناخت میں اصرار:
نبی ﷺ نے تین بار پوچھا: عرب، قریشی اور امتی ہونے کے باوجود جب تک محل کا مالک نہ بتایا گیا، پوچھتے رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ کے مقامات کو جاننا باعثِ عزت ہے۔

عمرؓ کے لیے اعلیٰ درجے کا محل:
یہ محل حضرت عمر کے لیے تھا، جس سے ان کی عظمت اور فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ داخل ہوتے تو محل دیکھ لیتے، لیکن عمر کی غیرت نے انہیں روک دیا۔

عمر کی غیرت کی تعریف:
نبی ﷺ نے عمر کی غیرت کا لحاظ کیا اور ان کے گھر میں داخل نہیں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیرت (حمیت) ایک اچھی صفت ہے، خاص طور پر جب وہ شرعی حدود میں ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں اور مسلمانوں کے معاملات میں بہت غیرت مند تھے۔

عمر کا رونا اور اپنی غیرت پر ندامت کا اظہار:
جب عمر نے سنا کہ نبی ﷺ ان کی غیرت کی وجہ سے محل میں داخل نہیں ہوئے تو وہ رو دیے اور عرض کیا: کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس صفت کو بھی نبی ﷺ کی محبت میں قربان کرنے کو تیار تھے۔

نبی ﷺ کی شفقت اور صحابہ کی عظمت:
نبی ﷺ نے اپنے صحابی کے جذبات کا خیال رکھا اور اس کی غیرت کی قدر کی۔ یہ درس ہے کہ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔ اس لیے اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متنِ حدیث (عربی):
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ , رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ (١) مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ (٢) وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ , وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ (٣) " , قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " الدِّينَ (٤) " (٥)

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش کیا جا رہا دیکھا، اور ان کے جسم پر قمیصیں (کُرتے) تھیں۔ ان میں سے بعض قمیصیں سینوں تک پہنچتی تھیں اور بعض اس سے بھی چھوٹی تھیں۔ اور مجھے عمر بن خطاب پیش کیے گئے، ان کے جسم پر ایک قمیص تھی جو زمین پر گھسیٹ رہی تھی (بہت لمبی تھی)۔"

صحابہ نے پوچھا: "یا رسول اللہ! آپ نے اس (خواب) کی کیا تعبیر بیان فرمائی؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "(یہ قمیصیں) دین (کی علامت) ہیں۔"

حواشی و حوالہ جات:
(١) القُمُص: جَمْع قَمِيص.
(٢) الثُّدِيّ: جَمْع ثَدْي، وَالْمَشْهُور أَنَّهُ يُطْلَق فِي الرَّجُل وَالْمَرْأَة. (فتح)
(٣) أَيْ: يَسْحَبُهُ فِي الْأَرْضِ لِطُولِهِ. (تحفة الأحوذي)
(٤) قَالَ النَّوَوِيُّ: الْقَمِيصُ: الدِّينُ , وَجَرُّهُ يَدُلُّ عَلَى بَقَاءِ آثَارِهِ الْجَمِيلَةِ , وَسُنَّتِهِ الْحَسَنَةِ فِي الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ وَفَاتِهِ لِيُقْتَدَى بِهِ. (تحفة الأحوذي)
(٥) صحیح البخاری: 23، صحیح مسلم: 2390


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
خواب میں قمیص دین کی علامت ہے:
نبی ﷺ نے لوگوں کے دین (ایمان، عمل، اور اتباعِ سنت) کو قمیص سے تعبیر فرمایا۔ جس کی قمیص لمبی ہوگی، اس کا دین زیادہ مکمل ہوگا۔

لوگوں کے دین میں تفاوت:
ہر شخص کے دین کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنے دین کے تقاضوں کو پوری طرح پورا کرتے ہیں (لمبی قمیص)، اور بعض کمزور ایمان رکھتے ہیں (چھوٹی قمیص)۔

حضرت عمر کا دین سب سے لمبا:
ان کی قمیص زمین پر گھسیٹ رہی تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دین (ایمان، تقویٰ، اور دین کی خدمت) سب سے زیادہ مکمل تھا۔

عمر کی سنت کا باقی رہنا:
امام نووی نے فرمایا کہ قمیص کا گھسٹنا اس بات کی علامت ہے کہ حضرت عمر کی سنت، ان کے اچھے طریقے، اور ان کی عدل و انصاف کی روش مسلمانوں میں ان کے بعد بھی باقی رہے گی اور لوگ ان کی پیروی کریں گے۔

اسلام کی ترقی میں عمر کا کردار:
ان کی خلافت میں عظیم فتوحات ہوئیں، اسلامی نظام قائم ہوا، اور دین کو نصرت حاصل ہوئی۔ یہ سب ان کے دین کی لمبی قمیص کی تفسیر ہے۔

صحابہ میں درجات کا فرق:
تمام صحابہ عظیم ہیں، لیکن ان کے ایمان اور دین میں درجات ہیں۔ حضرت عمر کا مرتبہ بہت بلند ہے۔

نبی ﷺ کی تعبیر کی اہمیت:
انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، اور ان کی تعبیر بھی وحی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اس حدیث کی تعبیر پر پورا اعتماد ہے۔

دین کی حفاظت اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب:
حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اپنے دین کو مکمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور حضرت عمر کی سنت پر چلنا چاہیے۔

یہ حدیث حضرت عمر کی فضیلت میں ہے:
یہ خواب اور اس کی تعبیر حضرت عمر کی عظمت اور ان کے دین کے کمال کو ظاہر کرتی ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





متنِ حدیث (عربی):
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ (١) حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي , ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " , قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " الْعِلْمَ (٢) " (٣)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس میں سے دودھ پیا یہاں تک کہ میں اپنے ناخنوں سے سیرابی (پانی) نکلتا دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا (دودھ) عمر بن خطاب کو دے دیا۔"

صحابہ نے پوچھا: "یا رسول اللہ! آپ نے اس (خواب) کی کیا تعبیر بیان فرمائی؟"
آپ نے فرمایا: "(یہ دودھ) علم (کی علامت) ہے۔"

حواشی وحوالہ جات:
(١) یعنی: اس دودھ سے۔
(٢) دودھ کی تعبیر علم سے اس لیے کی گئی کہ ان دونوں (دودھ اور علم) میں نفع کی کثرت مشترک ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بڑے شخص کا اپنے سے چھوٹوں کو اپنا خواب سنانا جائز ہے۔ اور یہ کہ آداب میں سے یہ ہے کہ طالب علم (جب خواب سنے) تو اس کی تعبیر کے متعلق اپنے استاد ہی سے رجوع کرے۔
اور ظاہر یہ ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ سے یہ نہیں چاہا تھا کہ وہ خود اس خواب کی تعبیر بیان کریں، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ وہ آپ سے اس کی تعبیر پوچھیں۔ چنانچہ صحابہ نے آپ کی مراد سمجھ لی اور آپ سے پوچھا، تو آپ نے انہیں بتا دیا۔ اسی طرح ہر حال میں یہی ادب اختیار کرنا چاہیے۔
اور اس (حدیث) میں یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کا علمِ الٰہی ایسا ہے کہ کوئی بھی اس کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ آپ نے اتنا دودھ پیا کہ سیرابی آپ کے اعضاء (ناخنوں) سے نکلتی دکھائی دی۔
رہا آپ کا اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دینا، تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عمر کو اللہ کے بارے میں جو علم ملا، وہ اس قدر تھا کہ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔" (فتح الباري:ج ١٩ / ص ٤٨٥)
(٣) صحیح البخاری: 6604، صحیح مسلم: 2391

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
دودھ کا خواب علم کی علامت ہے:
نبی ﷺ نے دودھ کو علم سے تعبیر فرمایا، کیونکہ جس طرح دودھ جسم کو غذا اور طاقت دیتا ہے، اسی طرح علم روح اور عقل کو روشنی اور ہدایت دیتا ہے۔

نبی ﷺ کو اللہ کی طرف سے بے پناہ علم ملا:
آپ نے اتنا دودھ پیا کہ سیرابی ناخنوں سے نکلنے لگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ نے وسیع اور کامل علم عطا کیا تھا، جو آپ کے پورے وجود میں پھیل گیا۔

حضرت عمر کو علم میں نمایاں حصہ ملا:
نبی ﷺ نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عمر کو نبی ﷺ کے بعد سب سے زیادہ علم (دین کی سمجھ، فقہ، بصیرت) عطا کیا گیا۔

علم کی اہمیت اور فضیلت:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ علم دین ایک عظیم نعمت ہے، اور اسے حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا باعثِ اجر ہے۔

حضرت عمر کی فقہ و بصیرت:
حضرت عمر کی خلافت میں انہوں نے بہت سے نئے مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں نکالا، اور ان کے بہت سے اجتہادات قرآن کی آیات سے مطابقت رکھتے تھے۔ یہ ان کے علم کی وسعت کی دلیل ہے۔

خواب سنانے اور تعبیر پوچھنے کا آداب:
نبی ﷺ نے خود صحابہ کو خواب سنایا اور پھر تعبیر خود بتائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خواب اہل علم کے سامنے بیان کریں، اور ان کی تعبیر جاننے کی کوشش کریں۔

نبی ﷺ کا کمالِ علم:
آپ نے اتنا دودھ پیا کہ سیرابی ناخنوں سے نکل گئی، اس سے ثابت ہوا کہ آپ کا علم سب سے زیادہ کامل اور وسیع تھا، اور کوئی آپ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا۔

علم میں حصہ داری کی برکت:
نبی ﷺ نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دیا، یعنی آپ نے اپنے علم کا ایک بڑا حصہ امت کو سکھایا، اور خصوصی طور پر عمر کو اس میں نمایاں مقام ملا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: ذَهَبَ عُمَرُ - رضي الله عنه - بِثُلُثَيْ الْعِلْمِ , فَذَكَرْتُ ذّلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ: ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ.
ترجمہ:
ابو اسحٰق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عمرو بن میمون نے کہا: "عمر (رضی اللہ عنہ) علم کے دو تہائی (حصے) لے گئے (یعنی ان کے ساتھ اٹھا گئے)۔" میں نے یہ بات ابراہیم (نخعی) سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: "عمر علم کے نو دسویں حصے لے گئے۔"
[صحیح بخاری: 3849]

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کی وسعت:
یہ قول (اگرچہ صحابی کا قول نہیں، بلکہ تابعین کا ہے) اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علم دین بہت وسیع تھا۔ ان کے بعد لوگوں نے اس علم کی کمی محسوس کی۔

تابعین کا اپنے سے پہلے والوں کی عظمت کا اعتراف:
عمرو بن میمون اور ابراہیم نخعی جیسے تابعین نے حضرت عمر کے علم کی بڑی تعریف کی۔ یہ ان کی انصاف پسندی اور سابقین کے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ کہنا کہ عمر علم کا بڑا حصہ لے گئے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جب کوئی بڑا عالم فوت ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ بہت زیادہ علم چلا جاتا ہے، جس سے امت کو نقصان پہنچتا ہے۔
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لا تُجْبَرُ ، وَثُلْمَةٌ لا تُسَدُّ , وَنَجْمٌ طُمِسَ ، مَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ .
ترجمہ:
[نهاية المراد من كلام خير العباد:40+41، إتحاف الخيرة المهرة:293، کنز العمال:28858، كشف الخفاء:273،سورۃ الرعد:41]
یعنی ایک قبیلہ یا قوم مرجاتے تو اس کا غم اتنا نہیں، جتنا ایک عالم کی موت کا غم ہے. اس لئے کہ عالم کی زندگی سے انسانوں کو دنیا و آخرت کی زندگی کی رہنمائی اور کامیابی ملتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
عالم کی موت اسلام میں ایسا شگاف (نقص) ہے جسے رات دن کی آمد و رفت (یعنی وقت گزرنے) سے بھی نہیں بھرا جا سکتا۔
[مسند البزار:171]
حضرت علی نے فرمایا:
جب عالم فوت ہوتا ہے تو اس کی موت سے اسلام میں ایسا رخنہ واقع ہوتا ہے جو قیامت تک پورا نہیں ہوتا۔
[جامع العلم والبیان:841+992، جامع الأحادیث:34832]

حضرت عمر کی فقہ و بصیرت کی مثال:
ان کے اجتہادات (مثال کے طور پر تراویح کی جماعت، شراب کی حد، وغیرہ) نے اسلامی شریعت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اس لیے تابعین نے ان کے علم کو غیر معمولی قرار دیا۔

عدد (دو تہائی اور نو دسویں) میں اختلاف:
عمرو بن میمون نے دو تہائی اور ابراہیم نخعی نے نو دسویں کہا۔ یہ اختلاف مبالغہ اور تعظیم کے لیے ہے، نہ کہ حقیقی تعداد کے تعین کے لیے۔ مقصد یہ ہے کہ عمر کا علم بہت زیادہ تھا۔

صحابہ اور تابعین کا باہمی تعلق:
یہ روایت تابعین کے درمیان علمی تبادلے کی مثال ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپس میں علم کے بارے میں گفتگو کرتے اور اپنے اسلاف کی فضیلت بیان کرتے تھے۔

اللہ کے ہاں حضرت عمر کا بلند مقام:
اگرچہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے (یعنی براہِ راست نبی ﷺ کا قول نہیں)، لیکن صحابہ اور تابعین کے اس طرح کے اقوال حضرت عمر کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں، جو نبی ﷺ کی متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے۔

علمِ دین کی تلقین:
اس قول سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو علم دین حاصل کرنے اور اسے پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ اس کی کمی محسوس نہ ہو۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
نبی ﷺ کا خواب: کنواں، دَلْوٌ، اور ابوبکر و عمر کا پانی نکالنا
متن (عربی):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ (١) رَأَيْتُ النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ فِي صَعِيدٍ (٢) (٣) وَرَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ (٤) عَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ (٥) أَسْقِي النَّاسَ , فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ , فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِيحَنِي (٦) فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ (٧) وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ (٨) - وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفَهُ - (٩) فَأَتَى ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَهَا مِنْهُ (١٠) فَاسْتَحَالَتْ بِيَدِهِ غَرْبًا (١١) فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا (١٢) (١٣) مِنْ النَّاسِ يَنْزِعُ (١٤) أَحْسَنَ مِنْ نَزْعِ عُمَرَ (١٥) فَلَمْ يَزَلْ يَنْزِعُ حَتَّى (١٦) رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ (١٧) (١٨) وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ (١٩) "


ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں سویا ہوا تھا (١) کہ میں نے لوگوں کو ایک کشادہ میدان میں جمع دیکھا۔ (٢) (٣) اور میں ایک کنوئیں(٤) پر تھا جس پر ایک ڈول (دلو) تھا۔  میں نے اس میں سے (پانی) نکالا جتنا اللہ نے چاہا، (٥) اور لوگوں کو پلاتا رہا۔ پھر ابوبکر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے آرام دینے کے لیے دلو میرے ہاتھ سے لے لیا۔ (٦) انہوں نے ایک یا دو دلو پانی نکالا، (٧) اور ان کی کھینچ میں کمزوری تھی (٨) – اور اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے گا۔ (٩) پھر عمر بن خطاب آئے اور انہوں نے ابوبکر سے دلو لے لیا۔ (١٠) تو وہ دلو ان کے ہاتھ میں بہت بڑا (غرب) بن گیا۔ (١١) میں نے لوگوں میں سے (١٤) کوئی طاقتور شخص نہیں دیکھا جو عمر سے بہتر (١٥) طریقے سے پانی نکالتا ہو۔ (١٢) (١٣) پھر وہ پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹ بٹھا دیے، (١٧) (١٨) اور حوض (پانی کا ذخیرہ) بھرا ہوا تھا اور اس سے پانی ابل رہا تھا۔" (١٩)

حوالہ جات و حواشی:
(١) صحیح بخاری: 3464، صحیح مسلم: 17 (2392)
(٢) الصعيد: زمین وسیع اور ہموار
(٣) صحیح بخاری: 3434
(٤) الْقَلِيب: وہ کنواں جس کی دیوار نہ بنی ہو، صرف کھودا گیا ہو۔
(٥) صحیح بخاری: 3464، صحیح مسلم: 17 (2392)
(٦) صحیح بخاری: 6619
(٧) ذَنُوب: بھرا ہوا دلو (مکمل یا کم)۔ (تحفۃ الاحوذی)
(٨) میری طرف سے: ابوبکر صدیق وہ ہیں جنہوں نے مرتدین کی جنگ میں سب سے پہلے فیصلہ کیا، ان کے دور میں شام فتح ہوا، عراق کی فتوحات شروع ہوئیں، قرآن جمع کیا گیا، پھر بھی نبی ﷺ فرماتے ہیں "ان کی کھینچ میں کمزوری تھی" – دیکھو اس امت کی قیادت کتنی بڑی ذمہ داری ہے! (ع)
(٩) صحیح بخاری: 3464، صحیح مسلم: 17 (2392)
(١٠) صحیح بخاری: 6619
(١١) یعنی دلو جو پہلے ذنوب تھا، غرب (بہت بڑا دلو) بن گیا۔ (تحفۃ الاحوذی)
(١٢) عَبْقَرِيّ: بہت طاقتور شخص۔ (تحفۃ الاحوذی)
(١٣) صحیح بخاری: 3434، صحیح مسلم: 17 (2392)
(١٤) صحیح بخاری: 3464، صحیح مسلم: 17 (2392)
(١٥) مسند احمد: 8794، صحیح بخاری: 6618
(١٦) صحیح بخاری: 6619
(١٧) ضَرَبُوا بِعَطَنٍ: اونٹ سیراب ہو کر بٹھا دیے گئے۔
(١٨) مسند احمد: 4972، صحیح بخاری: 3464، سنن ترمذی: 2289
(١٩) صحیح مسلم: 18 (2392)، صحیح بخاری: 6619، مسند احمد: 8222


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
خواب کی تعبیر میں کنواں اور پانی سے مراد:
اس خواب میں کنواں (قليب) سے مراد دنیا یا دین کے وسائل ہیں، اور پانی سے مراد علم، حکمت، یا لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی چیزیں ہیں۔ نبی ﷺ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے، یعنی آپ اپنی نبوت اور رسالت کے ذریعے لوگوں کو ہدایت اور علم دے رہے تھے۔

ابوبکر صدیق کی خلافت کی طرف اشارہ:
ابوبکر نے دلو لے کر پانی نکالا، لیکن ان کی کھینچ میں کمزوری تھی۔ اس سے مراد ان کی خلافت کا دورانیہ کم تھا (صرف 2 سال 3 ماہ) اور اس میں مرتدین کی جنگیں، قرآن کا جمع کرنا، اور ابتدائی فتوحات شامل تھیں۔ "کمزوری" سے مراد ان کے دور کی مختصر مدت اور مشکلات ہیں، نہ کہ ان کی قابلیت میں کوئی کمی۔

عمر کی خلافت کی طاقت اور برکت:
جب عمر نے دلو لیا تو وہ بہت بڑا (غرب) بن گیا۔ اس سے مراد ان کی خلافت میں اسلام کی غیر معمولی توسیع، عظیم فتوحات (فارس، شام، مصر)، عدل و انصاف کا قیام، اور دین کی مضبوطی ہے۔ انہوں نے بہترین طریقے سے پانی نکالا، یعنی انہوں نے بہترین انتظام کیا۔

لوگوں کا سیراب ہونا اور اونٹوں کا بٹھانا:
اس سے مراد یہ ہے کہ عمر کے دور میں لوگ دین سے سیراب ہو گئے، اور ان کے اونٹ (یعنی ان کی قوتیں اور وسائل) پوری طرح مستحکم ہو گئے۔ "حوض کا بھرا ہوا اور ابلنا" اس بات کی علامت ہے کہ عمر کے بعد بھی دین میں برکت اور وسعت باقی رہی۔

حضرت عمر کی قوت اور قابلیت:
نبی ﷺ نے فرمایا: "میں نے لوگوں میں سے کوئی طاقتور شخص نہیں دیکھا جو عمر سے بہتر پانی نکالتا ہو۔" یہ ان کی انتظامی صلاحیتوں، قوت فیصلہ، اور دین کی خدمت میں ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

خواب میں ترتیب (ابوبکر پھر عمر) خلافت کی ترتیب کی طرف اشارہ ہے:
پہلے ابوبکر پانی نکالتے ہیں، پھر عمر۔ یہ بالکل اس ترتیب کے مطابق ہے جس طرح خلافت انہیں ملی۔ نبی ﷺ نے خواب میں اس ترتیب کو دکھا کر بتایا کہ یہ اللہ کی طرف سے طے شدہ ہے۔

اللہ کی مغفرت اور رحمت:
ابوبکر کی "کمزوری" کے بعد نبی ﷺ نے کہا "والله يغفر له ضعفه" – یہ اللہ کی رحمت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ کہ وہ نیک بندوں کی چھوٹی چھوٹی کمزوریوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

اسلامی قیادت کی اہمیت:
یہ خواب ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت اور اسے پھیلانے کے لیے اہل افراد کو پیدا کرتا ہے، اور ان کی قیادت میں امت کو سیراب کیا جاتا ہے۔

حدیث کی صحت اور اعتبار:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔ اس لیے اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







عنوان:
حضرت عمر کے موافقات (اللہ کی وحی کے مطابقات)

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - قَالَ:
وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , لَوْ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى , فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} (١)
وَآيَةُ الْحِجَابِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَإِنَّهُ (٢) يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ (٣) فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ,
وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ لَهُنَّ: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} (٤) فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَة (٥).

ترجمہ:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

"میں تین معاملات میں اپنے رب (اللہ) کے موافق رہا:

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش ہم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} (اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لو) [البقرہ: 125]۔

اور پردے کی آیت (کے بارے میں): میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش آپ اپنی بیویوں کو حکم دیتے کہ وہ پردہ کریں، کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بد دونوں قسم کے لوگ آتے ہیں۔ تو پردے کی آیت نازل ہوئی [سورہ الاحزاب: 53]۔

اور جب نبی ﷺ کی بیویاں آپ پر غیرت کر کے جمع ہوئیں تو میں نے ان سے کہا: (اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی تو) قریب ہے کہ ان کا رب ان کے بدلے ان سے بہتر بیویاں عطا کرے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} (اگر وہ تمہیں طلاق دے دے تو قریب ہے کہ اس کا رب اسے تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے) [سورہ التحریم: 5]۔"

حوالہ جات:

(١) سورہ البقرہ:125
(٢) صحیح بخاری:393، صحیح مسلم:2399، سنن ترمذی:2959، سنن ابن ماجہ:1009
(٣) صحیح بخاری:4213
(٤) سورہ التحریم:5
(٥) صحیح بخاری:393، مسند احمد:160


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی فہم و فراست اور بصیرت:
یہ حدیث حضرت عمر کی عظیم بصیرت اور دین کی گہری سمجھ کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کی تجاویز قرآن کی آیات کے مطابق نازل ہوئیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رائے اللہ کی رضا کے مطابق تھی۔

مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنانے کی فضیلت:
آج بھی حجاج مقام ابراہیم کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ یہ حضرت عمر کی تجویز تھی جسے اللہ نے قرآن میں نازل فرما کر قبول کیا۔

پردے (حجاب) کا حکم:
حضرت عمر نے مشورہ دیا کہ نبی ﷺ کی بیویاں پردہ کریں، کیونکہ آپ کے پاس ہر طرح کے لوگ آتے تھے۔ یہ مشورہ اللہ کو پسند آیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پردہ عورت کی عزت اور حفاظت کے لیے ہے۔

نبی ﷺ کی بیویوں کو تنبیہ:
جب ازواج مطہرات نے نبی ﷺ سے زیادہ مطالبے کیے اور آپ کو تنگ کیا تو حضرت عمر نے انہیں سورہ التحریم کی آیت سنائی۔ یہ آیت ان کے لیے ایک تنبیہ تھی کہ اگر وہ اپنی روش نہ بدلیں تو اللہ نبی ﷺ کو ان سے بہتر بیویاں دے سکتا ہے۔

صحابہ کا ادب اور شجاعت:
حضرت عمر نبی ﷺ کے ساتھ نہایت ادب کرتے تھے، لیکن جہاں دین اور شریعت کی بات ہوتی، وہ اپنی رائے دینے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔ یہ ان کی شجاعت اور دین سے محبت کی علامت ہے۔

اللہ کی طرف سے تائید اور قبولیت:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کو "محدث" (جس سے فرشتے باتیں کریں) کا درجہ دیا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے۔"

اجتہاد اور شریعت کی تشکیل میں صحابہ کا کردار:
اگرچہ شریعت کا اصل ماخذ قرآن و سنت ہے، لیکن صحابہ کے اجتہادات بھی اللہ کی طرف سے قبول کیے گئے اور کبھی کبھی وہ وحی کی صورت میں نازل ہوئے۔

ازواج مطہرات کے ساتھ معاملہ:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی بیویاں بھی عام عورتوں کی طرح جذبات رکھتی تھیں، اور انہیں بھی تنبیہ کی ضرورت پڑتی تھی۔ لیکن اللہ نے ان کے مرتبے کو بہت بلند رکھا۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔ اس لیے اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے لیے سبق:
ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی رائے دیتے وقت کتاب و سنت کے دائرے میں رہیں، اور حق بات کہنے میں کسی سے نہ ڈریں۔ نیز جب کوئی اچھی بات ہو تو اسے قبول کریں، چاہے وہ کسی سے بھی ہو۔

واللہ اعلم بالصواب


موافقات عمر بن الخطابؓ (وہ باتیں جن میں ان کی رائے قرآن کے مطابق نازل ہوئی)
اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو "محدث" (وہ شخص جس سے فرشتے باتیں کریں) کا درجہ عطا کیا تھا، اور ان کی بہت سی آراء اور مشورے قرآن مجید کی آیات کے مطابق نازل ہوئے۔ انہیں "موافقات عمر" کہا جاتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے "تاریخ الخلفاء" میں ان موافقات کو تفصیل سے جمع کیا ہے۔

بعض محققین نے ان موافقات کی تعداد اکیس (21) بتائی ہے، جبکہ بعض نے اس سے بھی زیادہ کہی ہے۔

ذیل میں یہ موافقات درج ہیں:

تفصیلی فہرست: موافقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
1. مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنانا
حضرت عمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش ہم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} (البقرہ: 125)

2. پردے (حجاب) کا حکم
حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس نیک اور بد دونوں قسم کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دے دیں۔ تو پردے کی آیت نازل ہوئی (سورہ الاحزاب: 53)۔

3. ازواج مطہرات کو تنبیہ (سورہ التحریم کی آیت)
جب نبی ﷺ کی بیویوں نے آپ پر غیرت کی بنا پر جمع ہو کر زیادتی کی، تو حضرت عمر نے ان سے کہا:
{عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} (التحریم: 5)
یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی۔

4. جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ
جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر نے قتل کی تجویز دی، جبکہ ابوبکر نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا۔ بعد میں آیت نازل ہوئی:
{مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} (الأنفال: 67)
اس میں فدیہ لینے پر تنبیہ تھی، لیکن اس کے باوجود عمر کی اصل رائے (قتل) کے قریب تر تھی۔

5. شراب کی حرمت (تین مراحل)
حضرت عمر نے دعا کی: "اے اللہ! ہمیں شراب کے بارے میں واضح حکم دے"۔ پھر تین آیات نازل ہوئیں:

{يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ...} (البقرہ: 219)

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى...} (النساء: 43)

{إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ...} (المائدہ: 90-91)

6. آیت "فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ"
جب آیت {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ...} (المؤمنون: 12-14) نازل ہوئی، تو حضرت عمر نے کہا: "فتبارک اللہ أحسن الخالقین" تو یہ جملہ بطور آیت نازل ہو گیا۔

7. عبداللہ بن ابی (منافق) کی نماز جنازہ سے منع
جب نبی ﷺ منافق عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو حضرت عمر نے آپ کی چادر پکڑ کر کہا: کیا آپ اللہ کے دشمن کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا} (التوبہ: 84)

8. منافقین کے لیے استغفار کرنے کی ممانعت
جب نبی ﷺ نے ایک قوم کے لیے کثرت سے استغفار کیا، تو حضرت عمر نے کہا: ان کے لیے استغفار کرنا اور نہ کرنا برابر ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} (المنافقون: 6)

9. غزوہ بدر کے لیے نکلنے کا مشورہ
نبی ﷺ نے صحابہ سے بدر کے لیے نکلنے کے بارے میں مشورہ لیا، تو حضرت عمر نے نکلنے کا مشورہ دیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ} (الأنفال: 5)

10. واقعہ افک (حضرت عائشہ پر تہمت) کے بارے میں
واقعہ افک کے موقع پر حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ! آپ سے اس (عائشہ) کا نکاح کس نے کروایا؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے۔ عمر نے کہا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے رب نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے؟ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} (النور: 16)

11. رمضان کی رات میں مباشرت کی اجازت
ابتدائے اسلام میں رمضان کی رات میں سونے کے بعد بیوی سے مباشرت کرنا حرام تھا۔ حضرت عمر نے خود ایسا کر لیا (یا ان کے بارے میں یہ واقعہ پیش آیا)، تو پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ} (البقرہ: 187)

12. یہودیوں کے خلاف آیت (جب جبرائیل کی عداوت کا اظہار کیا)
ایک یہودی نے حضرت عمر سے کہا: جبرائیل ہمارے دشمن ہیں۔ تو حضرت عمر نے کہا:
{مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ} (البقرہ: 97-98)
یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی۔

13. آیت "فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ" کا نزول
دو آدمیوں نے نبی ﷺ کے فیصلے کو رد کر کے کہا: ہم عمر بن خطاب کے پاس جائیں گے۔ جب وہ عمر کے پاس آئے تو عمر نے ان میں سے ایک کو قتل کر دیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} (النساء: 65)

14. اجازت لینے (استئذان) کی آیت
حضرت عمر کے گھر میں ایک غلام بغیر اجازت داخل ہو گیا، جبکہ وہ سو رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! داخل ہونے کے لیے اجازت کو حرام کر دے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} (النور: 58)

15. یہودیوں کے بارے میں "بہتان" کا قول
حضرت عمر نے یہودیوں کے بارے میں کہا: وہ لوگ بہتان باز ہیں۔ (یہ قول بعد میں قرآن کے مفہوم کے مطابق ثابت ہوا)

16. آیت "ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ"
اس آیت کے نزول کا واقعہ بھی حضرت عمر کے قول کے موافق تھا (سورہ الواقعہ: 39)

17. رجم کی آیت (سورہ نور میں کمی کا واقعہ)
حضرت عمر نے فرمایا: "اللہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، اور اس نے رجم کی آیت نازل کی، ہم نے اسے پڑھا اور سمجھا" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اگرچہ یہ آیت تلاوت سے اٹھا دی گئی، لیکن اس کا حکم باقی ہے۔

18. غزوہ احد کے موقع پر ابو سفیان کا جواب
جب ابو سفیان نے احد میں پوچھا: "کیا فلاں فلاں (صحابہ) تم میں موجود ہیں؟" تو نبی ﷺ نے خاموشی اختیار کی (عمر کی رائے کے مطابق)۔

19. کعب الاحبار کا قول اور عمر کا سجدہ
کعب الاحبار نے کہا: "زمین کے بادشاہ کے لیے افسوس ہے (اسے عذاب ہوگا) آسمان کے بادشاہ سے"۔ حضرت عمر نے کہا: "سوائے اس کے جو خود اپنا محاسبہ کرے"۔ کعب نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہی بات تورات میں لکھی ہے۔

20. اذان میں "أشهد أن محمدا رسول اللہ" کا اضافہ
بلال رضی اللہ عنہ اذان میں صرف "أشهد أن لا إله إلا اللہ، حی علی الصلاۃ" کہتے تھے۔ حضرت عمر نے کہا: اس کے بعد "أشهد أن محمدا رسول اللہ" کہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جیسا عمر کہتا ہے ویسا کرو"۔

[تاريخ الخلفاء-السيوطي: ص 148 - 152]



حاصل کردہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی فراست اور بصیرت:
ان کی اکثر آراء اور مشورے قرآن کے مطابق نازل ہوئے، جو ان کی قربِ الٰہی، بصیرت اور دین کی گہری سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔

صحابہ کی شان اور ان کی قدر:
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہ کرام (خاص طور پر عمر) کا مقام اللہ کے ہاں کتنا بلند تھا کہ ان کی زبان سے نکلی ہوئی باتیں وحی بن کر نازل ہوتی تھیں۔

اجتہاد کی اہمیت:
جب صحابی نے اپنی رائے دی اور وہ حق کے مطابق نکلی، تو اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد کرنا جائز ہے اور بعض اوقات یہ وحی کے موافق ہو سکتا ہے۔

دین کی تکمیل میں صحابہ کا کردار:
ان موافقات سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے صحابہ کو دین کی تکمیل کا ذریعہ بنایا۔

نبی ﷺ کی شفقت اور مشورہ:
نبی ﷺ نے صحابہ سے مشورہ لیا اور ان کی آراء کو اہمیت دی، جس سے معلوم ہوا کہ مشاورت سنت ہے۔

شریعت میں رجم کا اثبات:
حضرت عمر کے اس اصرار سے کہ رجم کی آیت تھی اور اس کا حکم باقی ہے، یہ ثابت ہوتا ہے کہ رجم شریعت میں ہے۔

جہاد اور فیصلوں میں حکمت:
عمر کے مشوروں میں جنگ و جدل، قیدیوں کا معاملہ، اور فتوحات میں حکمت موجود تھی۔

ہمارے لیے سبق:
ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت عمر کی سیرت کا مطالعہ کریں، ان کی عادات و اخلاق کو اپنائیں، اور دین کو سمجھنے کی کوشش کریں۔




عنوان:
جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں ابوبکر و عمر کی رائے اور اللہ کی تنبیہ

حدیث کا متن  (عربی):
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: أَسَرْنَا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: الْعَبَّاسَ، وَعَقِيلًا، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ (١) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضي الله عنهما - فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى (٢)؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ، أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً (٣) فَيَكُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ، وَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ، فَيَكُونُونَ لَنَا عَضُدًا (٤) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟، فَقَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ - نَسِيبًا لِعُمَرَ - فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ (٥) حَتَّى يَعْلَمَ اللهُ أَنَّهُ لَيْسَتْ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ، فَإنَّ هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قَالَ عُمَرُ، فَأَخَذَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ (٦) قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً، تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - - (٧) وَأَنْزَلَ اللهُ - عز وجل -: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ، تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ، لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} (٨) أَيْ: مِنْ الْفِدَاءِ (٩).

ترجمہ:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"ہم نے جنگ بدر کے دن بنی عبدالمطلب کے قیدی پکڑے: عباس، عقیل، اور نوفل بن حارث۔(١)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کیا اور فرمایا: ان قیدیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟(٢)

ابوبکرؓ نے کہا: یا نبی اللہ! یہ آپ کے چچا زاد بھائی اور رشتہ دار ہیں، میرے خیال میں آپ ان سے فدیہ لیں،(٣) تاکہ جو ہم ان سے لیں وہ کفار کے خلاف ہماری طاقت بنے، اور امید ہے کہ اللہ انہیں اسلام کی ہدایت دے دے اور وہ ہمارے مددگار بن جائیں۔(٤)

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! تمہارا کیا خیال ہے؟

عمرؓ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میری رائے وہ نہیں جو ابوبکرؓ کی ہے۔ بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ہمیں اختیار دیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ آپ علی کو عقیل کے ساتھ چھوڑیں تاکہ وہ اس کی گردن اڑائے، اور مجھے میرے فلاں رشتہ دار (مشرک) کے ساتھ چھوڑیں تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔(٥) تاکہ اللہ جان لے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے لیے کوئی نرمی نہیں ہے۔ یہ لوگ ان کے سردار، پیشوا اور قائد ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کی رائے کو پسند کیا، اور عمر کی رائے کو پسند نہیں کیا۔ چنانچہ آپ نے ان سے فدیہ لے لیا۔(٦)

عمرؓ کہتے ہیں: جب دوسرا دن ہوا تو میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر مجھے رونے کی وجہ ملے تو میں روؤں، ورنہ تمہارے رونے کی وجہ سے رو دھوں گا (یعنی تصنعاً رونے لگوں گا)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں (ابوبکر وغیرہ) نے فدیہ لینے کے بارے میں مجھ پر پیش کی۔ مجھے ان کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب دکھایا گیا (جو آپ کے قریب تھا)۔(٧)

اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ، تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ، لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ}(٨) (یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے)۔(٩)"

حوالہ جات:
(١) مسند احمد: 948
(٢) صحیح مسلم: 58 (1763)
(٣) صحیح مسلم: 58 (1763)
(٤) مسند احمد: 208، صحیح مسلم: 58 (1763)
(٥) صحیح مسلم: 58 (1763)
(٦) مسند احمد: 208، صحیح مسلم: 58 (1763)
(٧) صحیح مسلم: 58 (1763)
(٨) سورہ الانفال: 67-68
(٩) مسند احمد: 221، صحیح مسلم: 58 (1763)


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کا باہمی مشورہ اور نبی ﷺ کی شفقت:
نبی ﷺ نے قیدیوں کے بارے میں ابوبکر اور عمر سے مشورہ کیا، حالانکہ آپ خود اللہ سے وحی حاصل کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنا سنت ہے۔

ابوبکر کی رائے میں نرمی اور رحم دلی:
ابوبکر نے قیدیوں سے فدیہ لینے کی تجویز دی، کیونکہ وہ رشتہ دار تھے اور ان سے اسلام کی امید تھی۔ انہوں نے مال (فدیہ) کو مسلمانوں کی طاقت بنانے کی بھی حکمت سوچی۔

عمر کی رائے میں سختی اور قتل کی تجویز:
عمر نے قتل کی تجویز دی، کیونکہ وہ مشرکین کے سرداروں کو ختم کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ دوبارہ خطرہ نہ بن سکیں۔ اس میں ان کی دین داری اور جذبہ تھا، لیکن یہ رائے اس وقت مناسب نہ تھی۔

نبی ﷺ نے ابتداء میں ابوبکر کی رائے کو پسند کیا:
آپ نے فدیہ لینے کا فیصلہ کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات نرمی اور مصلحت بہتر ہوتی ہے۔

اللہ کی طرف سے تنبیہ اور عذاب کا خوف:
جب آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ اور ابوبکر رو پڑے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی (اگرچہ اجتہاد میں) بھی عذاب کا سبب بن سکتی ہے، لیکن اللہ نے اپنے فضل سے معاف فرما دیا۔

اجتہاد میں خطا کا جواز:
صحابہ نے اپنی رائے سے اجتہاد کیا، اور نبی ﷺ نے بھی اجتہاد کیا۔ جب آیت نازل ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس اجتہاد میں خطا تھی، لیکن اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مجتہد اگر خطا کرے تو بھی اجر پاتا ہے، اگر صحیح کرے تو دوہرا اجر۔

اللہ کی کتاب (سبق) کی وجہ سے عذاب ٹل گیا:
آیت "لولا كتاب من الله سبق" سے مراد وہ پہلے سے لکھی ہوئی تقدیر یا پچھلی رحمت ہے جس کی بنا پر انہیں عذاب نہیں دیا گیا۔

جنگ بدر کے قیدیوں کے واقعے سے سبق:
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کے سرداروں کو قتل کرنا بھی ایک حکمت ہے، لیکن بعض اوقات فدیہ لے کر انہیں چھوڑنا بھی مفید ہو سکتا ہے (جیسے بعد میں عباس وغیرہ مسلمان ہو گئے)۔

نبی ﷺ کا رونا امت پر شفقت کی وجہ سے:
آپ نے اس لیے رویا کہ صحابہ نے فدیہ لے کر جو کیا اس پر اللہ نے سخت وعید سنائی، اور آپ ڈرے کہ کہیں ان پر عذاب نہ آ جائے۔ یہ آپ کی امت کے لیے شفقت کی علامت ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح مسلم اور مسند احمد میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث کا متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ اللهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ " , وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ , فَقَالُوا فِيهِ , وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ، إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ.
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔"
اور حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا: "لوگوں پر کوئی معاملہ کبھی نہیں آیا کہ انہوں نے اس میں کچھ کہا اور عمرؓ نے بھی اس میں کچھ کہا، مگر وہ (اللہ کا حکم) اس کے مطابق قرآن نازل ہوا جیسا عمرؓ نے کہا تھا۔"
[سنن ترمذی: 6856، مسند احمد: 5697، صحیح ابن حبان: 6856، صحیح الجامع: 1736، مشکاۃ المصابیح: 6033]


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی خصوصی فضیلت:
یہ حدیث حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ نے حق کو ان کی زبان اور دل پر جاری کر دیا تھا۔ یعنی جو بات وہ کہتے، وہ حق ہوتی اور ان کا دل ہمیشہ حق کی طرف مائل رہتا۔

عمر کے اقوال کا قرآن سے موافقت:
ابن عمر کی گواہی ہے کہ جب بھی کوئی نازلہ (مسئلہ) پیش آیا اور عمر نے اس میں رائے دی، تو قرآن کی آیات اسی کے مطابق نازل ہوئیں۔ اس کی مثالیں حدیث میں "موافقات عمر" کے نام سے مشہور ہیں، جیسے مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنانا، پردے کا حکم، اور شراب کی حرمت وغیرہ۔

صحابہ کی بصیرت اور قبولیتِ حق:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں سے بعض افراد کو اللہ نے خصوصی طور پر حق کی معرفت عطا فرمائی تھی۔ حضرت عمر اس میں نمایاں تھے۔

اجتہاد اور وحی کا تعلق:
اگرچہ شریعت کے احکام وحی الٰہی سے ثابت ہوتے ہیں، لیکن اللہ نے صحابہ کے اجتہاد کو بھی قبول کیا اور کبھی کبھار وہی اجتہاد وحی کی صورت میں نازل ہوا۔ اس سے اجتہاد کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔

عمر کی شجاعت اور حق گوئی:
یہ حدیث حضرت عمر کی جرأت اور حق گوئی کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ کبھی حق کہنے سے نہیں ڈرتے تھے، اور اللہ نے ان کی اس صفت کو سراہا۔

صحابہ کی فضیلت پر دلیل:
یہ حدیث صحابہ کرام کی فضیلت خصوصاً حضرت عمر کی عظمت پر ایک قوی دلیل ہے۔ اسے اہل سنت والجماعت کے ہاں بڑی اہمیت حاصل ہے۔

امت کے لیے نمونہ:
ہمیں چاہیے کہ ہم بھی حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، اور جہاں تک ہو سکے اپنی رائے کو کتاب و سنت کے مطابق ڈھالیں۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ترمذی، مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







حدیث کا متن (عربی):
عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ - رضي الله عنه - وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا فَتَى، ادْعُ اللهَ لِي بِخَيْرٍ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللهُ، قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ، فَقُلْتُ لَهُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكَ، أَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: نِعْمَ الْغُلَامُ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ - عز وجل - وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ "
ترجمہ:

حضرت غضیف بن حارثؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، ان کے ساتھ ان کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے مجھے پکڑا اور کہا: اے جوان! میرے لیے اللہ سے بھلائی کی دعا کرو، اللہ تمہیں برکت دے۔ میں نے پوچھا: تم کون ہو، اللہ تم پر رحم کرے؟ اس نے کہا: میں ابوذر ہوں۔ میں نے اس سے کہا: اللہ تمہیں معاف کرے، تم خود زیادہ مستحق ہو (یعنی تمہارے لیے دعا کرنی چاہیے)۔

انہوں نے (ابوذر رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نے عمر کو کہتے سنا: یہ کتنا اچھا لڑکا ہے (غضیف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بے شک اللہ عزوجل نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے، وہ اسی کے مطابق کہتا ہے۔"

حوالہ جات:
[مسند احمد: 21582، سنن ابی داود: 2962، سنن ابن ماجہ: 108، دیکھیے صحیح الجامع: 1834، ہدایۃ الرواۃ: 5988، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔]

اور اس حدیث میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی شدید عاجزی پائی جاتی ہے۔ (ع)


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کی عظمت اور ان کے حق گوئی کا مقام:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی کہ اللہ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے۔ یہ حضرت عمر کی خصوصی فضیلت ہے کہ ان کی رائے اور کلام حق کے مطابق ہوتا تھا۔

حضرت ابوذرؓ کا تواضع اور عاجزی:
حضرت ابوذر اپنے بڑے مرتبے کے باوجود ایک نوجوان (غضیف) سے اپنے لیے دعا کرنے کو کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے عاجز اور متواضع تھے۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم خود زیادہ مستحق ہو تو انہوں نے فخر نہیں کیا، بلکہ حدیث بیان کر کے بتایا کہ عمر کی تعریف کیوں مستحق ہے۔

بزرگوں سے دعا مانگنے کی شرعی حیثیت:
حضرت ابوذر نے ایک عام نوجوان (غضیف) سے اپنے لیے دعا مانگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں سے دعا مانگنا جائز ہے، خواہ وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔

صحابہ کا باہمی تعلق اور محبت:
حضرت عمر نے غضیف کو "نِعْمَ الْغُلَامُ" (کتنا اچھا لڑکا ہے) کہہ کر سراہا۔ یہ صحابہ کے درمیان اخلاقی تعلق اور چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کی مثال ہے۔

اللہ کا اپنے نیک بندوں کو حق کی توفیق دینا:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے بعض نیک بندوں (خاص طور پر عمر) کو ایسی بصیرت اور حق گوئی عطا کرتا ہے کہ ان کی زبان سے جو نکلے وہ حق ہوتا ہے۔

حق کو پہچاننے کے لیے اللہ کی مدد ضروری ہے:
کوئی شخص اپنی عقل سے مکمل حق تک نہیں پہنچ سکتا، بلکہ اللہ کی طرف سے توفیق اور ہدایت درکار ہے۔ عمر کو یہ خصوصیت عطا ہوئی تھی۔

حدیث کی سند کی مضبوطی:
شیخ شعیب ارناؤوط نے اسے "حسن" قرار دیا ہے، اور یہ کئی معتبر کتب میں موجود ہے۔ اس لیے یہ حدیث قابلِ اعتماد ہے۔

اسلام میں حق کی اہمیت:
حق (سچائی اور انصاف) کی بات کرنا باعثِ فضیلت ہے۔ حضرت عمر کو یہ فضیلت اس لیے ملی کہ وہ ہمیشہ حق کے ساتھ تھے۔

دوسروں کی تعریف کرنے کا جواز:
حضرت عمر نے ایک نوجوان کی تعریف کی، جس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی میں اچھی خوبی ہو تو اسے بتانا جائز ہے، بشرطیکہ ریا اور فخر نہ ہو۔

نیک لوگوں سے فیض اٹھانے کا طریقہ:
حضرت غضیف نے اس واقعے کو بیان کیا تاکہ لوگ حضرت عمر کی فضیلت سے آگاہ ہوں اور ان کی اتباع کریں۔

واللہ اعلم بالصواب





عنوان:
"محدث" (وہ شخص جس سے اللہ بات کرے) اور حضرت عمر کی فضیلت

حدیث کا متن(عربی):
عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنْ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ (١) "
وفي رواية: " رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ (٢) "
" فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ (٣) "
" فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (٤) "

ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک تم سے پہلے گزری ہوئی امتوں میں 'محدث' (وہ لوگ جن سے فرشتے باتیں کرتے تھے) پائے جاتے تھے۔"
(دوسری روایت میں ہے:)
"ایسے لوگ جن سے (فرشتوں کے ذریعے) باتیں کی جاتی تھیں، حالانکہ وہ نبی نہیں تھے۔"
"پس اگر میری امت میں سے بھی کوئی (ایسا) ہو تو وہ عمر بن خطاب ہے۔"

حوالہ جات و حواشی:
(١) صحیح بخاری: 3282
(٢) صحیح بخاری: 3486
(٣) صحیح بخاری: 3486
(٤) صحیح بخاری: 3282، صحیح مسلم: 23 (2398)، سنن ترمذی: 3693، مسند احمد: 8449

(٥) امام ابن القیمؒ "مدارج السالکین" (1/64) میں فرماتے ہیں:
"محدث" وہ ہے جسے اس کے دل اور باطن میں (فرشتے کے ذریعے) کوئی بات بتائی جائے، اور وہ ایسا ہو جیسے اس سے کہی گئی ہو۔

ہمارے شیخ (ابن تیمیہ) نے فرمایا:
صدیق (ابوبکر) محدث سے زیادہ کامل ہے، کیونکہ اس نے اپنی کامل صداقت اور نبی کی پیروی کے ذریعے محدث ہونے، الہام اور کشف سے بے نیازی حاصل کر لی۔ اس نے اپنا پورا دل، اپنا باطن، اپنا ظاہر اور باطن سب کچھ رسول کے سپرد کر دیا، اس لیے وہ ان سب چیزوں سے بے نیاز ہو گیا۔

اور یہ محدث جو کچھ اس کے دل میں ڈالا جاتا، اسے رسول ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں پر پیش کرتا۔ اگر وہ موافق ہوتی تو قبول کرتا، ورنہ رد کر دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صدیقیت کا مرتبہ محدثیت کے مرتبے سے بلند ہے۔

رہی وہ بات جو تخیلات اور جہالت کے بہت سے لوگ کہتے ہیں: "میرے دل نے مجھے میرے رب سے خبر دی" – تو یہ درست ہے کہ اس کے دل نے اسے بتایا، لیکن کس کی طرف سے؟ اس کے شیطان کی طرف سے یا اس کے رب کی طرف سے؟ جب وہ کہتا ہے "میرے دل نے مجھے میرے رب سے بتایا" تو وہ حدیث کو اس ذات کی طرف منسوب کر رہا ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اس نے اسے بتایا ہے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔

اور اس امت کے "محدث" (عمر) نے کبھی ایسی بات نہیں کہی، نہ اس پر اس کی زبان سے کبھی یہ لفظ نکلا۔ اللہ نے اسے اس سے محفوظ رکھا۔ بلکہ ایک دن ان کے کاتب نے لکھا: "یہ وہی ہے جو اللہ نے امیر المومنین عمر بن خطاب کو دکھایا۔" تو عمر نے فرمایا: "نہیں، اسے مٹا دو اور لکھو: 'یہ وہی ہے جو عمر بن خطاب نے دیکھا (رائے دی)۔ اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہے تو عمر کی طرف سے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں۔"

اور کلالہ (بے اولاد شخص کی میراث) کے بارے میں انہوں نے کہا: "میں اس کے بارے میں اپنی رائے سے کہتا ہوں، اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے۔" یہ ہے "محدث" کا قول جس کی نبی ﷺ نے گواہی دی۔

اور تم دیکھتے ہو کہ اتحادی، حلولی، اباحی، اور سامعہ (باطل صوفیہ) بے باکی اور جھوٹ کے ساتھ کہتے ہیں: "میرے دل نے مجھے میرے رب سے خبر دی۔"

پس دیکھو ان دونوں قائلین، دونوں مرتبوں، دونوں قولوں اور دونوں حالات کے درمیان فرق کو، اور ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دو، اور خالص اور ملاوٹی چیز کو ایک نہ سمجھو۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
"محدث" کی تعریف اور حقیقت:
"محدث" وہ شخص ہے جس سے فرشتے باتیں کرتے ہیں (دل میں الہام ڈالتے ہیں) اور وہ نبی نہیں ہوتا۔ یہ ایک خاص قسم کی کرامت ہے جو صدیقین اور اولیاء میں پائی جاتی ہے۔

حضرت عمر کی فضیلت:
نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر اس امت میں کوئی "محدث" ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔ یہ ان کی عظیم فضیلت ہے کہ وہ الہام اور فرشتوں کی گفتگو کے قابل تھے۔

صدیق (ابوبکر) کا مقام محدث سے بلند ہے:
ابن تیمیہ اور ابن القیم کے مطابق، صدیقیت کا مرتبہ محدثیت سے بلند ہے، کیونکہ صدیق اپنی کامل اتباع اور تسلیم کی وجہ سے ان چیزوں کی محتاج نہیں رہتا۔

محدث کا اصول: اسے وحی پر پیش کرنا:
محدث جو کچھ اس کے دل میں ڈالا جاتا، اسے وہ قرآن و سنت پر پیش کرتا ہے۔ اگر موافق ہو تو قبول کرتا، ورنہ رد کر دیتا ہے۔ یہ باطنی تصوف کے غلط طریقے سے مختلف ہے۔

حضرت عمر کا تواضع اور احتیاط:
انہوں نے اپنی رائے کو وحی نہیں سمجھا، بلکہ فرمایا: "یہ میری رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے، ورنہ میری اور شیطان کی طرف سے۔" وہ کبھی یہ نہیں کہتے تھے "میرے دل نے مجھے میرے رب سے بتایا"۔

غلط صوفیہ کے دعووں کی تردید:
ابن القیم نے ان لوگوں کی شدید مذمت کی جو کہتے ہیں "میرے دل نے مجھے میرے رب سے خبر دی"۔ یہ جھوٹ اور فریب ہے، کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ان سے کس نے بات کی (شیطان یا اللہ)۔

اللہ کی حفاظت سے محروم لوگ:
حضرہ عمر کو اللہ نے اس قسم کے جھوٹے دعووں سے محفوظ رکھا، لیکن بعد میں آنے والے گمراہ لوگوں نے یہ راستہ اختیار کیا۔

حق اور باطل میں فرق:
ہمیں چاہیے کہ ہم حضرہ عمر کے طریقے (کتاب و سنت کے سامنے عاجزی) اور باطنی فرقوں کے طریقے (ذاتی الہام کو وحی سمجھنا) میں فرق کریں۔

سنت کی اہمیت:
یہ حدیث اور شرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کوئی بھی الہام یا کشف اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک وہ کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔ ابن القیم کی شرح بھی مستند ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حضرت عمر کی فراست اور بصیرت (قریب الوقوع ظن)

حدیث کا متن(عربی):
عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: مَا سَمِعْتُ عُمَرَ - رضي الله عنه - يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ: إِنِّي لَأَظُنُّهُ كَذَا , إِلَّا كَانَ كَمَا يَظُنُّ , فَبَيْنَمَا عُمَرُ جَالِسٌ , إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ جَمِيلٌ (١) فَقَالَ: لَقَدْ أَخْطَأَ ظَنِّي , أَوْ إِنَّ هَذَا عَلَى دِينِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , أَوْ لَقَدْ كَانَ كَاهِنَهُمْ , عَلَيَّ الرَّجُلَ (٢) فَدُعِيَ لَهُ , فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ اسْتُقْبِلَ بِهِ رَجُلٌ مُسْلِمٌ , قَالَ: فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ (٣) إِلَّا مَا أَخْبَرْتَنِي , قَالَ: كُنْتُ كَاهِنَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. (٤)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

"میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کبھی کسی چیز کے بارے میں یہ کہتے نہیں سنا کہ 'میرا گمان یہ ہے'، مگر وہ ویسا ہی ہوتا جیسا وہ گمان کرتے تھے۔

ایک بار عمر (رضی اللہ عنہ) بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت آدمی ان کے پاس سے گزرا۔(١) عمرؓ نے کہا: 'میرا گمان غلط ہو گیا ہے، یا یہ شخص اپنے جاہلیت کے دین پر ہے، یا یہ ان کا کاہن رہا ہے۔ اس شخص کو میرے پاس لاؤ۔'(٢)

چنانچہ اسے بلایا گیا۔ عمر نے اس سے یہ بات کہی۔ اس شخص نے کہا: 'آج جیسا دن میں نے نہیں دیکھا کہ ایک مسلمان سے اس طرح سوال کیا جائے۔'

عمرؓ نے کہا: 'میں تمہیں قسم دیتا ہوں (تم پر لازم کرتا ہوں) کہ تم مجھے ضرور بتاؤ۔'(٣)

اس نے کہا: 'میں جاہلیت میں ان کا کاہن تھا۔'"(٤)

حواشی وحوالہ جات:

(١) قال الألباني في صحيح السيرة ص٨٣: "یہ شخص سواد بن قارب ازدی ہے، اور کہا جاتا ہے: دوسی ہے، سراة کے رہنے والوں میں سے، (یہ علاقہ) جبال بلقاء (کے پہاڑوں) میں ہے، اسے صحبت اور وفد ہونے کا شرف حاصل ہے۔"
(٢) یعنی: اسے میرے پاس لاؤ، اور اسے میرے قریب کرو۔ (فتح الباري:ج ١١ / ص ١٨٩)
(٣) یعنی: میں آپ کو پابند کرتا ہوں۔ (فتح الباري:ج ١١ / ص ١٨٩)
(٤) صحیح بخاری: 3653، مستدرک حاکم: 4503


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی فراست اور قریب الوقوع ظن:
یہ حدیث حضرت عمر کی غیر معمولی فراست اور بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کا گمان اکثر حق پر ہوتا تھا اور وہ لوگوں کے بارے میں گہرائی سے جانتے تھے۔

کاہن کی پہچان:
حضرت عمر نے ایک خوبصورت شخص کو دیکھ کر فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص جاہلیت میں کاہن رہا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاہنوں کی کچھ علامات ہوتی ہیں، جیسے وضع قطع اور شکل و صورت۔

جاہلیت کے کاہن اور اسلام میں ان کا حکم:
جاہلیت میں کاہن ہونا (جھوٹی خبریں دینا، نجومی، وغیرہ) حرام تھا، لیکن اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر توبہ کر لے تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔ یہ شخص بظاہر مسلمان تھا اور اس نے توبہ کر لی تھی۔

صحابہ کی جرأت اور سچائی:
اس شخص نے بڑی جرأت سے اپنا ماضی بتایا، حالانکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ مارا نہ جائے۔ لیکن حضرت عمر کے اصرار پر اس نے سچ بتا دیا۔

سوال کرنے کا طریقہ اور استفسار:
حضرت عمر نے اس شخص کو براہِ راست بتایا کہ وہ اس کے بارے میں کیا گمان رکھتے ہیں، اور پھر اسے قسم دے کر سچ بتانے پر مجبور کیا۔ یہ تفتیش کا ایک طریقہ ہے۔

کسی شخص کے ماضی کو جاننے کی اجازت:
اگر کسی کے بارے میں کوئی شک ہو تو اس سے پوچھنا جائز ہے، بشرطیکہ اسے بے جا تکلیف نہ پہنچائی جائے۔

اسلام میں کہانت کی مذمت:
اگرچہ یہ شخص مسلمان ہو چکا تھا، لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کہانت (پیش گوئی، جھوٹی خبریں وغیرہ) جاہلیت کا عمل تھا اور اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

اللہ کی طرف سے حضرت عمر کو خصوصی بصیرت:
یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ نے حضرت عمر کو "محدث" (وہ جس سے فرشتے باتیں کریں) کا درجہ دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے گمان اکثر درست ہوتے تھے۔

توبہ کے بعد ماضی کا ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں:
اگر ضرورت ہو تو کوئی شخص اپنے ماضی کے گناہ بتا سکتا ہے، جیسا کہ اس شخص نے بتایا۔ لیکن بلا ضرورت گناہوں کو بیان کرنا جائز نہیں۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری اور مستدرک حاکم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حضرت عمر کی کرامت: "یا ساریۃ الجبل" کا واقعہ

حدیث کا متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: وَجَّهَ عُمَرُ جَيْشًا - رضي الله عنه - وَرَأَّسَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً يُدْعَى: سَارِيَةَ، قَال: فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ , جَعَل يُنَادِي: يَا سَارِيَةُ الْجَبَل، يَا سَارِيَةُ الْجَبَل، يَا سَارِيَةُ الْجَبَل، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ الْجَيْشِ , فَسَأَلَهُ عُمَرُ، فَقَال: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , هُزِمْنَا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتًا يُنَادِي: يَا سَارِيَةُ إِلَى الْجَبَل - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الْجَبَل , فَهَزَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى، وَكَانَتِ الْمَسَافَةُ بَيْنَ الْمَدِينَةِ حَيْثُ كَانَ يَخْطُبُ عُمَرُ , وَبَيْنَ مَكَانِ الْجَيْشِ , مَسِيرَةَ شَهْرٍ.

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:

"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ کیا اور اس پر ساریہ نامی شخص کو امیر مقرر کیا۔ (ابن عمرؓ کہتے ہیں:) پھر ایک دن جب حضرت عمرؓ خطبہ دے رہے تھے تو (اچانک) انہوں نے پکارنا شروع کیا: 'اے ساریہ! پہاڑ کی طرف! اے ساریہ! پہاڑ کی طرف! اے ساریہ! پہاڑ کی طرف!'

پھر جب (کچھ دنوں بعد) لشکر کا قاصد آیا تو عمرؓ نے اس سے (حال) پوچھا۔ اس نے کہا: 'اے امیر المومنین! ہم شکست کھا رہے تھے (یعنی دشمن غالب آ رہا تھا)۔ اتنے میں ہم نے ایک آواز سنی جو پکار رہی تھی: اے ساریہ! پہاڑ کی طرف (تیسری بار)۔ چنانچہ ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف لگا لی (پہاڑ کو پشت پناہ بنا لیا)، تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی۔

اور مدینہ (جہاں عمرؓ خطبہ دے رہے تھے) اور لشکر کے مقام کے درمیان ایک ماہ کی مسافت تھی۔"

[رواه أبو بكر بن خلاد في " الفوائد " (1/215/2)، وحسنه الألباني في كتاب الآيات البينات ص112، والصحيحة: 1110]

علامہ البانی رحمہ اللہ "سلسلہ صحیحہ" (1110) اور "الآیات البینات" (ص112) میں فرماتے ہیں:

"پس پچھلے (بیان) سے یہ واضح ہو گیا کہ ان تمام طرق میں سے صرف ابن عجلان کا طریق صحیح ہے، اور اس میں صرف اتنا ہے کہ عمر نے 'یا ساریۃ الجبل' پکارا، اور لشکر نے یہ آواز سنی اور اسی کی وجہ سے انہیں فتح نصیب ہوئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ندا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عمر پر الہام تھی، اور یہ ان کے لیے کوئی عجیب بات نہیں، کیونکہ وہ 'محدث' ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ لیکن اس میں یہ نہیں کہ عمر کو لشکر کا حال کھل کر دکھایا گیا ہو، اور نہ یہ کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہو۔

پس بعض صوفیاء کا اس واقعے سے یہ استدلال کرنا کہ اولیاء کے لیے 'کشف' ممکن ہے اور وہ دلوں کے حالات جان سکتے ہیں، یہ سراسر باطل ہے۔ کیونکہ یہ صفات رب العالمین کی ہیں، جو علمِ غیب میں یکتا ہے اور دلوں کے حالات کا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ} (الجن: 26-27) – کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اولیاء اللہ کے رسول ہیں کہ انہیں غیب کا علم دیا گیا ہو؟ سبحان اللہ! یہ بہت بڑا بہتان ہے۔

بلکہ اگر اس واقعہ کو 'کشف' کہا بھی جائے تو یہ عادت سے ہٹ کر ایک غیر معمولی امر (خارقِ عادت) ہے، جو کافر سے بھی صادر ہو سکتا ہے۔ اس لیے صرف ایسے واقعے کا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شخص مومن ہے، اور نہ ہی یہ اس کی ولایت پر دلیل ہے۔

علماء کہتے ہیں: اگر کوئی خارقِ عادت واقعہ کسی مسلمان سے صادر ہو تو وہ 'کرامت' ہے، ورنہ وہ 'استدراج' (رفتہ رفتہ ہلاکت میں ڈالنا) ہے۔ مثال کے طور پر دجال (جو کافر ہے) کے ہاتھوں پر قیامت سے پہلے عجیب و غریب واقعات ظاہر ہوں گے، جیسے وہ آسمان سے بارش برسانے کا حکم دے گا، وغیرہ۔

جدید دور کی مثال: میں نے 'المختار' رسالہ (سال ششم، اگست) میں ایک لڑکی کا قصہ پڑھا جو جنوبی افریقہ گئی تھی۔ اس نے اپنی منگنی توڑ دی اور اپنے کمرے میں بے چین ہو کر پکار رہی تھی: 'ہائے اماں! میں کیا کروں؟' چار ہفتے بعد اس کی ماں نے اسے خط لکھا: 'کیا ہوا؟ میں سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ میں نے تمہاری آواز سنی کہ تم کہہ رہی تھی: ہائے اماں! میں کیا کروں؟' خط کی تاریخ اس دن کے مطابق تھی جب لڑکی نے پکارا تھا۔ اس طرح کے واقعات آج کل 'تخاطر' (telepathy) یا 'بصیرت ثانیہ' (sixth sense) کہلاتے ہیں۔

ان مثالوں کا مقصد یہ ہے کہ عمر کے واقعے کی طرح کے واقعات آج بھی پیش آتے ہیں، لیکن انہیں غیب کا علم نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے کچھ لوگ اس واقعے کا انکار کرتے ہیں (سمجھ کر کہ یہ عقل سے بعید ہے) اور کچھ صوفیاء اسے اولیاء کے غیب جاننے کی دلیل بناتے ہیں، دونوں غلط ہیں۔

یہ واقعہ ایک 'کرامت' ہے جو اللہ نے عمر کو دی تاکہ اس کے ذریعے مسلمانوں کو نجات ملے۔ لیکن اس میں وہ بات نہیں جو صوفیاء سمجھتے ہیں (غیب کا علم)۔ یہ 'الہام' (شرعی اصطلاح میں) یا 'تخاطر' (جدید اصطلاح میں) ہے، جو معصوم نہیں ہے۔ کبھی صحیح ہو جاتا ہے جیسے اس واقعے میں، اور کبھی غلط (جو انسانوں پر اکثر غالب ہے)۔

اس لیے ہر ولی (اللہ کا دوست) کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قول و فعل میں شریعت کی پابندی کرے، ورنہ ولایت سے خارج ہو جائے گا۔ اللہ نے اولیاء کی صفت یہ بیان کی ہے: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ، الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ} (یونس: 62-63) یعنی جو ایمان لائے اور پرہیزگار بنے رہے۔

بہت خوب کہا ہے: اگر تم دیکھو کہ کوئی شخص ہوا میں اڑتا ہے اور سمندر کے پانی پر چلتا ہے، لیکن وہ شریعت کی حدود پر قائم نہیں ہے، تو یقین جانو کہ وہ استدراج میں مبتلا ہے اور بدعتی ہے۔"


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کی کرامت:
یہ واقعہ حضرت عمر کی ایک عظیم کرامت ہے کہ اللہ نے انہیں ایسی قوت عطا کی کہ وہ مدینہ سے بیٹھے ہوئے لشکر کو ہدایت دے سکتے تھے۔

اس واقعے کی صحت:
علامہ البانی نے اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ کئی طرق سے مروی ہے، اور صحیح ترین طریق ابن عجلان کا ہے۔

واقعے کی حقیقت:
اس میں یہ نہیں کہ عمر نے لشکر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، بلکہ یہ ایک الہام تھا جو اللہ نے ان کے دل میں ڈالا، اور ان کی آواز معجزانہ طور پر لشکر تک پہنچ گئی۔

غیب کا علم صرف اللہ کو ہے:
اس واقعے کو غیب جاننے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ اللہ نے صرف اپنے رسولوں کو کچھ غیب بتایا ہے (جیسا کہ سورہ الجن میں ہے)۔

صوفیاء کے غلط استدلال کی تردید:
بعض (بدعتی)صوفیاء اس واقعے سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اولیاء غیب جانتے ہیں اور دلوں کے حالات سے آگاہ ہیں، یہ سراسر باطل ہے۔

خارقِ عادت واقعات کا ہونا کسی کی نبوت یا ولایت کی دلیل نہیں:
کافر (جیسے دجال) سے بھی غیر معمولی واقعات صادر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف کرامت کا ہونا کسی شخص کی اچھائی کی دلیل نہیں، بلکہ شریعت کی پابندی ضروری ہے۔

جدید دور کے "تخاطر" (telepathy) کے واقعات:
آج کل بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جہاں کسی کی آواز یا خیالات دور دراز تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن یہ غیب کا علم نہیں۔

اولیاء کی پہچان:
اللہ کے اولیاء وہ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا۔ کوئی بھی شخص اگر شریعت کی حدود سے تجاوز کرے تو وہ ولی نہیں ہو سکتا، چاہے اس سے کتنی ہی عجیب و غریب باتیں صادر ہوں۔

شریعت کی پابندی ضروری ہے:
ہر وہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا دوست ہے، اسے چاہیے کہ وہ کتاب و سنت کی پابندی کرے۔ بصورت دیگر اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

استدراج کا خطرہ:
اگر کوئی شخص بظاہر کرامات دکھائے لیکن وہ شریعت کے خلاف ہو یا نماز وغیرہ ترک کر دے، تو یہ "استدراج" (رفتہ رفتہ ہلاکت) ہو سکتا ہے۔

عمر کی شریعت سے وابستگی:
حضرت عمر نے ہمیشہ شریعت کی پیروی کی اور کبھی اپنی رائے کو وحی نہیں سمجھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر میری رائے صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے، ورنہ میری طرف سے"۔

حدیث کے انکار کرنے والوں کا رد:
بعض لوگ اس واقعے کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے، جبکہ یہ اللہ کی قدرت کے لیے ممکن ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حضرت عائشہ اور سودہ کا واقعہ اور حضرت عمر کا خوف

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - بِخَزِيرَةٍ (١) قَدْ طَبَخْتُهَا لَهُ، فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ - وَرَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بَيْنِي وَبَيْنَهَا -: كُلِي، فَأَبَتْ، فَقُلْتُ: لَتَأكُلِنَّ , أَوْ لَأُلَطِّخَنَّ وَجْهَكِ، فَأَبَتْ، فَوَضَعْتُ يَدِي فِي الْخَزِيرَةِ , فَطَلَيْتُ وَجْهَهَا، " فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -، فَوَضَعَ بِيَدِهِ لَهَا وَقَالَ لَهَا: " الْطَخِي وَجْهَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لَهَا "، فَمَرَّ عُمَرُ - رضي الله عنه - فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ , يَا عَبْدَ اللهِ , " فَظَنَّ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنَّهُ سَيَدْخُلُ، فَقَالَ: قُومَا فَاغْسِلَا وُجُوهَكُمَا "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا زِلْتُ أَهَابُ عُمَرَ , لِهَيْبَةِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -. (٢)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"میں نبی ﷺ کے لیے 'خزیرہ' (قیمہ اور آٹے کی دلیہ)(١) بنا کر لائی۔ میں نے (نبی کی دوسری بیوی) سودہؓ (رضی اللہ عنہا) سے کہا (اور رسول اللہ ﷺ میرے اور ان کے درمیان تھے): 'کھاؤ!' انہوں نے انکار کر دیا۔ میں نے کہا: 'تمہیں ضرور کھانا پڑے گا، ورنہ میں تمہارے منہ پر (یہ کھانا) ملوں گی۔' انہوں نے پھر انکار کیا تو میں نے اپنا ہاتھ خزیرہ میں ڈالا اور ان کے منہ پر پھیلا دیا۔

اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے۔ پھر آپ نے (سودہ سے) کہا: 'تم بھی اس کے منہ پر ملو' (اور سودہؓ نے ایسا کیا)، تو رسول اللہ ﷺ ان پر ہنسے۔

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے اور کہنے لگے: 'اے عبداللہ! اے عبداللہ!' (یعنی وہ اندر آنے کے لیے کہہ رہے تھے)۔ رسول اللہ ﷺ نے سمجھا کہ وہ اندر آ جائیں گے، تو فرمایا: 'اٹھو اور اپنے چہرے دھو لو۔'

حضرت عائشہؓ کہتی ہیں: "اس کے بعد سے میں حضرت عمر سے اس قدر ڈرتی رہی جس قدر رسول اللہ ﷺ کے (احترام) کی وجہ سے ڈرنا چاہیے تھا۔"(٢)

حواشی وحوالہ جات:

(١) "خزیرہ" ایک ایسا کھانا ہے جس میں گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے جاتے ہیں، پھر اس پر وافر مقدار میں پانی ڈال کر پکایا جاتا ہے۔ جب وہ پک جائے تو اس پر آٹا چھڑک دیا جاتا ہے۔ اگر اس میں گوشت نہ ہو تو اسے "عصیدہ" کہتے ہیں۔
بعض نے کہا: یہ آٹے اور چکنائی (گھی یا تیل) کا سوپ (سالن) ہے۔
اور بعض نے کہا: اگر یہ آٹے سے بنے تو "حریرہ" ہے، اور اگر چوکر (بھوسی) سے بنے تو "خزیرہ" ہے۔
(یہ تعریف "النهاية في غريب الأثر" سے لی گئی ہے)

(٢) مسند ابو یعلیٰ: 4476، سنن نسائی الکبریٰ: 8917، دیکھیے سلسلہ صحیحہ: 3131


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
ازواج مطہرات کے درمیان شوخی و محبت:
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نبی ﷺ کی بیویوں کے درمیان بھی عام عورتوں کی طرح اچھے مزاح اور شوخی ہوتی تھی، لیکن وہ باوقار اور شائستہ طریقے سے۔

نبی ﷺ کا ہنسنا اور خوشی کا اظہار:
نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کی اس شوخی پر ہنس کر اپنی خوشی کا اظہار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھریلو زندگی میں مزاح اور ہنسی مذاق جائز ہے۔

کھانے میں اصرار کرنے کا طریقہ:
حضرت عائشہؓ نے سودہ کو کھانے پر آمادہ کرنے کے لیے ہلکی سی شوخی کی (منہ پر کھانا ملنے کی دھمکی)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بلا تکلیف دلائل کے پیار و محبت سے کھلانا بھی پسندیدہ ہے۔

حضرت عمرؓ کا خوف اور احترام:
نبی ﷺ نے جب سنا کہ عمر آ رہے ہیں تو فوراً دونوں بیویوں سے کہا کہ اپنے چہرے دھو لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر کی ہیبت اور وقار ایسا تھا کہ وہ شوخی کی حالت میں ان کے سامنے نہیں آنا چاہتے تھے۔

حضرت عائشہؓ کا عمر سے ڈرنا:
ان کا کہنا ہے کہ "میں ہمیشہ عمر سے اس قدر ڈرتی رہی جس قدر نبی ﷺ کے احترام کی وجہ سے ڈرنا چاہیے" – یہ حضرت عمر کی عظمت اور صحابہ میں ان کے مقام کو ظاہر کرتا ہے۔

شرم و حیا کا تقاضا:
اس واقعے سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ بڑوں اور معزز لوگوں کے سامنے ایسی حالت میں نہیں آنا چاہیے جو خلافِ ادب ہو۔

کھانے کی اقسام کا بیان:
حدیث کے حاشیے میں "خزیرہ" کی تعریف ہے: یہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں جن پر پانی ڈال کر پکایا جائے، پھر اس میں آٹا ڈالا جائے۔ اگر گوشت نہ ہو تو اسے "عصیدہ" کہتے ہیں۔ بعض نے کہا یہ آٹے اور چکنائی کا سوپ ہے، وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی کھانوں کی مختلف اقسام تھیں۔

شوخی کے باوجود باوقار ہونا:
یہاں عائشہ اور سودہ نے شوخی کی لیکن باوقار طریقے سے، اور جب کوئی باہر والا آیا تو فوراً سنبھل گئیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ گھریلو شوخی گھر کی چار دیواری میں ہو، لیکن باہر والوں کے سامنے پوری طرح باوقار ہونا چاہیے۔

نبی ﷺ کا گھریلو معاملات میں دلچسپی:
آپ نے اپنی بیویوں کی شوخی کو دیکھا اور اس پر ہنسے، پھر معاملہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ یہ گھریلو زندگی میں نرمی اور محبت کی مثال ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند ابو یعلیٰ اور سنن نسائی الکبریٰ میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حضرت عمر کی ہیبت اور نبی ﷺ کا فرمان (شیطان عمر سے ڈرتا ہے)
حدیث کا متن (عربی):
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رضي الله عنه - قَالَ: اسْتَأذَنَ عُمَرُ - رضي الله عنه - عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ , يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ (١) (٢) قَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ (٣) فَلَمَّا اسْتَأذَنَ عُمَرُ , قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، " فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَرَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَضْحَكُ "، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ " قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟، فَقُلْنَ: نَعَمْ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا (٤) إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ ") (٥)

ترجمہ:

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اس وقت آپ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں (ازواج مطہرات) تھیں جو آپ سے باتیں کر رہی تھیں اور آپ سے (نفقہ وغیرہ) مانگ رہی تھیں۔ ان کی آوازیں آپ کی آواز پر بلند ہو رہی تھیں۔

جب عمرؓ نے اجازت طلب کی تو وہ عورتیں جلدی سے پردے میں چھپنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، اور آپ ہنس رہے تھے۔

عمر نے کہا: 'یا رسول اللہ! اللہ آپ کو ہنستا رکھے (آپ کی خوشی برقرار رکھے)۔'

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا جو میرے پاس تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً پردے میں چھپ گئیں۔'

عمرؓ نے کہا: 'یا رسول اللہ! آپ اس سے زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے ڈریں (پھر بھی وہ نہیں ڈرتیں)۔'

پھر عمرؓ نے ان عورتوں سے کہا: 'اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں؟'

انہوں نے کہا: 'ہاں، (تم اس لیے زیادہ ڈراتے ہو کہ) تم رسول اللہ سے زیادہ سخت مزاج اور بے رحم ہو۔'

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان کبھی تمہیں کسی راستے پر چلتے ہوئے نہیں پاتا مگر وہ تمہارے راستے کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔'"

حواشی وحوالہ جات:
(١) یعنی (اس حدیث میں) مراد یہ ہے کہ یہ عورتیں (ازواج مطہرات) نبی ﷺ سے وہ چیزیں مانگ رہی تھیں جو آپ ﷺ انہیں دیتے تھے (یعنی نفقہ-خرچہ وغیرہ)۔ اور داؤدی نے یہ گمان کیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ کے پاس بہت زیادہ باتیں کرتی تھیں (یعنی شور و غل کرتی تھیں)۔ لیکن یہ قول غلط ہے (رد کیا گیا ہے) کیونکہ مسلمؒ کی روایت میں جابرؓ کی حدیث میں صراحت ہے کہ یہ عورتیں (نبی ﷺ سے) نفقہ مانگ رہی تھیں۔ (فتح الباري: ج ١٠ / ص ٤٧٩)
(٢) صحیح بخاری: 3120، صحیح مسلم:2396
(٣) مسند احمد: 1624، صحیح بخاری: 3120
(٤) یعنی: ایک چوڑی سڑک. (فتح الباري: ج ١٠ / ص ٤٧٩)
(٥) صحیح بخاری: 3120، صحیح مسلم: 22 (2396)، مسند احمد: 1472


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
ازواج مطہرات کا نبی ﷺ سے مانگنا:
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات (نبی کی بیویاں) نبی ﷺ سے اپنے حقوق اور ضروریات مانگتی تھیں، اور کبھی کبھار وہ آواز بلند کر دیتی تھیں، لیکن یہ ادب کی حد میں تھا۔

حضرت عمرؓ کی ہیبت اور وقار:
ان کی موجودگی میں عورتیں فوراً پردہ کرنے لگتی تھیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے باوقار اور باہیبت تھے۔

نبی ﷺ کا ہنسنا:
آپ نے اس واقعے پر ہنسی کا اظہار کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھریلو معاملات میں خوشی اور مزاح جائز ہے۔

عورتوں کا حضرت عمرؓ کو سخت اور بے رحم قرار دینا:
انہوں نے کہا کہ عمر نبی ﷺ سے زیادہ سخت مزاج ہیں، جس سے ان کی ہیبت کا اندازہ ہوتا ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان (شیطان عمر سے ڈرتا ہے):
یہ حضرت عمر کی عظیم فضیلت ہے کہ شیطان ان کے راستے سے بچتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان ان کے قریب آنے کی جرات نہیں کرتا۔

صحابہ کے درمیان باہمی محبت اور احترام:
حضرت عمر نے نبی ﷺ کے لیے دعا کی "أضحك الله سنك" (اللہ آپ کو ہنستا رکھے) – یہ صحابہ کی نبی ﷺ سے محبت اور آپ کی خوشی کے خواہش مند ہونے کی علامت ہے۔

پردے کا حکم اور اس کی پابندی:
عورتوں نے فوراً پردہ کر لیا، حالانکہ وہ نبی ﷺ کی بیویاں تھیں (جن پر پردہ فرض تھا)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھتی تھیں۔

حضرت عمرؓ کی غیرت:
انہوں نے عورتوں سے کہا کہ تم مجھ سے ڈرتی ہو لیکن رسول اللہ سے نہیں؟ یہ ان کی غیرت اور نبی ﷺ کے ادب کا مظہر ہے۔

نبی ﷺ کی نرمی اور شفقت:
ازواج مطہرات آپ کے سامنے آواز بلند کر سکتی تھیں، کیونکہ آپ بہت نرم مزاج اور شفیق تھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب










عنوان:
حبشی عورت کا ناچ اور حضرت عمر کی ہیبت
حدیث کا متن (عربی):
عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - جَالِسًا، فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ (١) وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا (٢) فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ , تَعَالَيْ فَانْظُرِي " , فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَقَالَ لِي: " أَمَا شَبِعْتِ؟ أَمَا شَبِعْتِ؟ " , قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا , لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ , إِذْ طَلَعَ عُمَرُ - رضي الله عنه - فَانْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُول اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ (٣) " , قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. (٤)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کہیں) بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے شور و غل اور بچوں کی آواز سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت (رقص) کر رہی ہے اور بچے اس کے گرد جمع ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے عائشہ! آؤ اور دیکھو۔'

چنانچہ میں آئی اور اپنا جبڑا (ٹھوڑی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھ دیا اور اس عورت کو دیکھنے لگی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: 'کیا تم سیر ہو گئیں؟ کیا تم سیر ہو گئیں؟'

میں کہتی رہی: 'نہیں' (تاکہ) اپنا مقام (اور آپ کی محبت) دیکھ سکوں۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، تو لوگ اس عورت سے منتشر ہو گئے۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'میں دیکھ رہا ہوں کہ انسانوں اور جنوں کے شیطان عمر سے بھاگ رہے ہیں۔'

عائشہؓ کہتی ہیں: پھر میں (اپنی جگہ) واپس آ گئی۔"

حواشی وحوالہ جات:

(١) یعنی: وہ (حبشی عورت) ناچ رہی تھی اور کھیل رہی تھی۔ (تحفة الأحوذي: ٩/ ١٠٢)
(٢) یعنی: بچے اسے دیکھ رہے تھے اور اس (ناچ) سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ (تحفة الأحوذي: ٩/ ١٠٢)
(٣) یعنی: گویا نبی ﷺ نے یہ (فرمان کہ "شیطان عمر سے بھاگ رہے ہیں") اس تفریح اور کھیل کے پیشِ نظر فرمایا، اور اس میں کچھ (لہو و لعب) ضرور ہے، لیکن یہ حرام نہیں ہے، ورنہ نبی ﷺ اسے خود کیسے دیکھتے اور عائشہ کو کیسے دکھاتے؟ (تحفة الأحوذي: ٩/ ١٠٢)
(٤) سنن ترمذی: 3691، دیکھیے صحیح الجامع: 3468، آداب الزفاف: 202


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
جائز تفریح کی اجازت:
نبی ﷺ نے حبشی عورت کے رقص کو دیکھنے کی اجازت دی (جبکہ وہ بچوں کے ساتھ محض تفریح تھی، اختلاط یا برائی نہیں تھی)۔ اس سے معلوم ہوا کہ جائز حدوں میں رہ کر تفریح کرنا اور دیکھنا جائز ہے۔

عورت کا رقص صرف عورتوں اور بچوں کے سامنے:
اس واقعے میں عورت صرف بچوں کے سامنے رقص کر رہی تھی، اجنبی مرد نہیں تھے۔ جب عمر آئے تو لوگ بھاگ گئے۔ اس سے پردے اور شرم کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

نبی ﷺ کا اپنی بیوی کو تفریح دلانا:
آپ نے عائشہ کو بلایا اور کہا "آؤ دیکھو"۔ یہ ازواج مطہرات کے ساتھ شفقت اور محبت کی علامت ہے۔

حضرت عائشہؓ کا اپنی محبت ظاہر کرنا:
جب نبی ﷺ نے پوچھا "کیا تم سیر ہو گئیں؟" تو وہ کہتی رہیں "نہیں"، تاکہ وہ آپ کے قریب زیادہ دیر رہ سکیں۔ یہ ان کی نبی ﷺ سے بے پناہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

حضرت عمرؓ کی ہیبت اور وقار:
جب وہ آئے تو سب لوگ منتشر ہو گئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان بھی عمر سے بھاگتے ہیں۔ یہ ان کی عظمت اور ہیبت کی دلیل ہے۔

کسی فعل کو دیکھنے کا مطلب اس کا جائز ہونا نہیں:
یہاں رقص کو دیکھنا جائز تھا کیونکہ یہ صرف عورتوں اور بچوں کے سامنے تھا اور اس میں کوئی حرام نہ تھا۔ لیکن کسی بھی فعل کو دیکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر جگہ جائز ہے۔

شرعی حدود کا خیال:
تحفۃ الاحوذی میں ہے کہ یہ واقعہ "صورتِ لہو و لعب" میں تھا، اور اس میں کوئی حرام نہ تھا۔ ورنہ نبی ﷺ اسے دیکھنے کی اجازت نہ دیتے۔

نبی ﷺ کا ہنسنا اور خوش ہونا:
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اپنی بیویوں کے ساتھ خوش مزاج تھے اور انہیں تفریح فراہم کرتے تھے۔

عورتوں کے لیے عورتوں کے سامنے رقص کرنے کا جواز:
اگر کسی عورت میں مہارت ہو (جیسے حبشی عورت) اور وہ صرف عورتوں اور بچوں کے سامنے رقص کرے، تو اس کی گنجائش ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث سنن ترمذی میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حبشی لونڈی کی نذر اور دف بجانے کا واقعہ اور حضرت عمرؓ کی ہیبت

حدیث کا متن (عربی):
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ , فَلَمَّا انْصَرَفَ " جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي , وَإِلَّا فَلَا " , فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ , فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ - رضي الله عنه - وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ - رضي الله عنه - وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ - رضي الله عنه - فَأَلْقَتْ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا (١) ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ , إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ , فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ , فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتْ الدُّفَّ " (٢)

ترجمہ:

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی غزوہ (جنگ) کے لیے نکلے، پھر جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو ایک کالی لونڈی آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو سلامتی سے واپس لائے تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر تم نے نذر مانی ہے تو بجا لے، ورنہ نہیں۔

چنانچہ وہ دف بجانے لگی۔ اس دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، وہ بجا رہی تھی۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے، وہ بجا رہی تھی۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے، وہ بجا رہی تھی۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے دف اپنے نیچے (پچھواڑے کے نیچے) ڈال دیا اور اس پر بیٹھ گئی۔

تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے۔ میں بیٹھا تھا اور وہ دف بجا رہی تھی، پھر ابوبکر آئے تو وہ بجا رہی تھی، پھر علی آئے تو بجا رہی تھی، پھر عثمان آئے تو بجا رہی تھی، لیکن جب تم آئے تو اس نے دف ڈال دیا۔"


(١) یعنی: اس کی سرین (پچھواڑا)۔
[تحفة الأحوذي - جلد 9، صفحہ 101]

(٢) اسے امام ترمذی (3690)، امام احمد (23039) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے "الإرواء" (2588)، "سلسلہ صحیحہ" (1609، 2261) میں صحیح قرار دیا ہے۔

اور البانی نے "سلسلہ صحیحہ" (حدیث نمبر 1609) میں فرمایا:
"یہ حدیث بعض لوگوں پر مشکل ہو سکتی ہے، کیونکہ دف بجانا نکاح اور عید کے علاوہ معصیت ہے، اور کسی معصیت کی نذر ماننا اور اسے پورا کرنا جائز نہیں۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ اس (لونڈی) نے نذر اس لیے مانی تھی کہ وہ نبی ﷺ کی صحیح سالم اور فتح یاب واپسی پر خوش تھی۔ اسے اس سبب کی وجہ سے معاف کر دیا گیا جو اس نے اپنی خوشی ظاہر کرنے کے لیے نذر کیا تھا، یہ خاص طور پر نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، تمام لوگوں کے لیے نہیں۔ اس لیے اس سے تمام خوشیوں میں دف بجانے کا جواز نہیں لیا جا سکتا، کیونکہ کوئی بھی اس طرح خوش نہیں ہوتا جیسے نبی ﷺ پر خوش ہوا گیا تھا، اور یہ ان عام دلائل کے خلاف ہے جو معازف، دفوں اور دیگر (آلات موسیقی) کو حرام قرار دیتے ہیں، سوائے ان مستثنیات کے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا۔"

اور انہوں نے "سلسلہ صحیحہ" (حدیث نمبر 2261) میں فرمایا:
(تنبیہ): بریدہ کی حدیث کے بعد "موارد الظمآن" (2015، جلد 2، صفحہ 493-494) میں یہ اضافہ آیا ہے: "اور اس نے کہا: چاند ہم پر طلع ہوا، وِداع کی گھاٹیوں سے، ہم پر شکر کرنا واجب ہے جب تک کوئی اللہ کو پکارنے والا ہے۔" اور اس کے محقق شیخ محمد عبد الرزاق حمزہ رحمہ اللہ نے حاشیے میں ذکر کیا ہے کہ یہ اضافہ حاشیے میں ہے اور اس کا خط اصل متن کے خط سے مختلف ہے۔ میں کاش شیخ (محمد عبد الرزاق حمزہ) رحمہ اللہ اسے حدیث کے آخر میں نہ چھپواتے، اور جہاں اسے پایا تھا "حاشیے میں" وہیں چھوڑ دیتے، اور تشریح میں تنبیہ کرنے پر اکتفا کرتے، اس ڈر سے کہ کہیں کچھ جاہل لوگ اس سے دھوکہ نہ کھا لیں۔ کیونکہ یہ اضافہ باطل ہے، یہ پہلے ذکر کردہ کسی بھی ماخذ میں موجود نہیں ہے، ان میں سے "الإحسان" بھی ہے جو "صحیح ابن حبان" ہے جو فقہی ابواب پر مرتب ہے، بلکہ اس کی کوئی اصل دوسری احادیث میں بھی نہیں ہے، باوجود اس کے کہ یہ بہت سے عوام اور خواص میں سے ان کے مشابہ لوگوں میں مشہور ہے کہ نبی ﷺ کا استقبال عورتوں اور بچوں نے اسی (گانے) کے ساتھ کیا جب آپ مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے۔ اور یہ صحیح نہیں ہے، جیسا کہ میں نے "الضعیفہ" (2/63/598) میں واضح کیا ہے، اور میں نے "الرد على المنتصر الكتاني" (صفحہ 48) میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے، اور اس میں میں نے حافظ عراقی اور علامہ ابن قیم جوزیہ پر استدلال کیا ہے۔

اور بعض لوگ یہ گمان کر سکتے ہیں کہ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں جو کچھ بھی روایت کیا جاتا ہے وہ تاریخ اسلامی کا ایک لازم و ملزوم حصہ بن چکا ہے، اور اس میں سے کسی چیز کا انکار کرنا جائز نہیں! یہ صریح جہالت اور تاریخ اسلامی کے ساتھ شدید زیادتی ہے، جو دوسری قوموں کی تاریخوں سے اس لیے ممتاز ہے کہ وہ واحد تاریخ ہے جس کے پاس یہ سائنسی ذریعہ ہے کہ جو صحیح ہے اسے غیر صحیح سے الگ کیا جا سکے، اور یہ وہی ذریعہ ہے جس سے صحیح حدیث کو ضعیف سے الگ کیا جاتا ہے، اور وہ ہے "اسناد"، جیسا کہ بعض سلف نے کہا: "اگر اسناد نہ ہوتی تو جو چاہتا کہہ دیتا"۔ اسی لیے جب دوسری قوموں نے یہ عظیم ذریعہ کھو دیا تو ان کی تاریخیں بیہودگیوں اور خرافات سے بھر گئیں۔ اور ہم قارئین کو دور نہیں لے جاتے، یہ رہیں ان کی کتابیں جنہیں وہ "کتب مقدسہ" کہتے ہیں، ان میں حق و باطل مخلوط ہو گیا ہے، وہ ان میں سے اپنے انبیاء پر نازل کردہ شرائع کی صحیح کو ضعیف سے ممتاز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، اور نہ وہ اپنی زندگی کی تاریخ کی کبھی کوئی چیز جان سکتے ہیں۔ وہ اب بھی اپنی گمراہی میں بھٹک رہے ہیں اور اندھیروں میں سرگرداں ہیں! تو کیا وہ لوگ ہم سے چاہتے ہیں کہ ہم ہر اس چیز کے آگے ہتھیار ڈال دیں جسے "تاریخ اسلامی" کہہ کر پیش کیا جائے، چاہے علماء اس کا انکار کریں؟ اور چاہے اس کا ذکر صرف بوڑھے مردوں اور عورتوں کی کتابوں میں آیا ہو؟! اور کیا ہم اس خصوصیت کا انکار کریں جو تاریخ اسلامی کی سب سے بڑی اور قیمتی خصوصیت ہے؟!

میں یقین رکھتا ہوں کہ بعض لوگوں سے یہ خصوصیت پوشیدہ نہیں ہے، اور وہ اس کے بغیر طالب علم بلکہ عالم نہیں ہو سکتے، لیکن وہ اسے نظر انداز کرتے ہیں اور اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، تاکہ اس چیز کے بارے میں اپنی جہالت کو چھپا سکیں جو صحیح نہیں ہے، پھر وہ تاریخ اسلامی پر غیرت دکھانے کا ڈرامہ کرتے ہیں، اور ان لوگوں کا انکار کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں جو مسلمانوں کو اس کے بعض حصوں کے صحیح نہ ہونے سے آگاہ کرتے ہیں، یہ حق سے سرکشی اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔ اور اللہ ہی مددگار ہے۔

(فائدہ): یہ معلوم ہے کہ دف بھی ان آلات موسیقی (معازف) میں سے ہے جو اسلام میں حرام ہیں، اور اس کی حرمت پر ائمہ اعلام (چوتھے اماموں اور دیگر) کا اتفاق ہے۔ اس بارے میں صحیح احادیث آئی ہیں، میں نے ان میں سے بعض کو مختلف جگہوں پر تخریج کیا ہے، اور ان میں سے کچھ "سلسلہ صحیحہ" (حدیث نمبر 9 اور 1806) میں پہلے گزر چکی ہیں۔ ان میں سے صرف دف کی شادی اور عیدین (عید الفطر و عید الاضحی) میں اجازت ہے۔

جب یہ بات ہے تو پھر نبی ﷺ نے اسے اپنی نذر پوری کرنے کی اجازت کیسے دی؟ اور اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں۔

اور جواب - واللہ اعلم - یہ ہے: کہ اس کی نذر نبی ﷺ کی غزوہ سے سلامتی کے ساتھ واپسی کی خوشی کے ساتھ منسلک تھی، تو نبی ﷺ نے اسے شادی اور عید میں دف بجانے کے حکم کے ساتھ ملحق کر دیا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی ﷺ کی سلامتی پر خوشی شادی اور عید کی خوشی سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے (جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا)۔ اس لیے یہ حکم خاص طور پر نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص رہے گا، اس سے دوسرے کا قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ لوہاروں کو فرشتوں پر قیاس کرنے جیسا ہے، جیسا کہ بعض کہتے ہیں۔

اور اس طرح کی تطبیق کا ذکر امام خطابی نے "معالم السنن" میں اور علامہ صدیق حسن خان نے "الروضة الندية" (2/177-178) میں کیا ہے۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
نذر کا حکم:
نذر صرف اسی چیز کی مانی جا سکتی ہے جو شرعاً جائز ہو۔ کسی ناجائز کام کی نذر ماننا اور اسے پورا کرنا جائز نہیں۔

دف کی شرعی حیثیت:
عام حالات میں دف بجانا (اور دیگر موسیقی) حرام ہے۔ صرف دو مواقع پر اس کی اجازت ہے: شادی اور عیدین۔

اس واقعے میں اجازت کی خصوصیت:
نبی ﷺ نے اس لونڈی کو اس لیے اجازت دی کہ وہ آپ کی سلامتی پر بے حد خوش تھی، اور یہ خوشی اتنی عظیم تھی کہ شادی و عید کی خوشی سے بھی بڑھ کر تھی۔ یہ حکم خاص طور پر نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے، عام نہیں۔

حضرت عمر کی ہیبت:
جب عمر رضی اللہ عنہ آئے تو لونڈی نے فوراً دف چھپا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لوگ ان کی ہیبت اور وقار سے ڈرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنا کام بھی نہیں کر سکتے تھے۔

شیطان کا عمر سے ڈرنا:
نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان بھی عمر سے ڈرتا ہے۔ یہ ان کی عظمت اور اللہ کی طرف سے حفاظت کی دلیل ہے۔

صحابہ کے درجات میں فرق:
ابوبکر، علی، عثمان رضی اللہ عنہم کے آتے ہی لونڈی نے دف نہیں چھپایا، لیکن جب عمر آئے تو چھپا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر کی ہیبت سب سے زیادہ تھی۔

تاریخ اور سیرت میں تحقیق کی اہمیت:
ہر اس روایت کو قبول نہیں کرنا چاہیے جو تاریخ کی کتابوں میں مل جائے۔ ہمارے پاس صحیح اور ضعیف کو الگ کرنے کا ذریعہ (اسناد) موجود ہے، جس کی دوسری امتوں میں کمی ہے۔

مشہور "طلع البدر علینا" کا گانا:
یہ گانا نبی ﷺ کے مدینہ میں داخلے کے موقع پر عورتوں اور بچوں کے گانے کے طور پر مشہور ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے اور اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

تاریخ اسلامی کی حفاظت کا ذریعہ:
ہمیں اپنی تاریخ کی حفاظت کرنی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غلط روایت کو قبول کر لیا جائے۔ بلکہ تحقیق کرنا ضروری ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث (بغیر اضافے کے) صحیح ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث کا متن(عربی):
عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - يَوْمًا: وَاللهِ مَا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ رَجُلٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عُمَرَ، فَلَمَّا خَرَجَ , رَجَعَ فَقَالَ: كَيْفَ حَلَفْتُ أَيْ بُنَيَّةُ؟ , فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَعَزُّ عَلَيَّ، وَالْوَلَدُ أَلْوَطُ (١). (٢)
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! روئے زمین پر مجھے عمر سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہیں ہے۔ پھر جب وہ (کہیں) باہر گئے، تو واپس آ کر پوچھنے لگے: اے میری بیٹی! میں نے کیسے قسم کھائی تھی؟ میں نے انہیں بتا دیا۔ تو انہوں نے فرمایا: (دراصل) وہ مجھے زیادہ عزیز ہے، اور بیٹا (والد کے دل سے) زیادہ لگا رہتا ہے۔"(١) (٢)
[الأدب المفرد:84، صحيح الأدب المفرد:61]

حاشیہ وحوالہ:
(١) یعنی: (اولاد) دل سے زیادہ لگی رہنے والی ہوتی ہے۔
(٢) یہ حدیث امام بخاری نے "الأدب المفرد" (حدیث نمبر 84) میں روایت کی ہے، اور دیکھیے "صحيح الأدب المفرد" (حدیث نمبر 61)۔

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت ابوبکرؓ کی حضرت عمر سے محبت:
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ انہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہ صحابہ کے درمیان باہمی محبت اور اخلاص کی دلیل ہے۔

قسم کی وضاحت اور احتیاط:
ابوبکر نے باہر جا کر سوچا کہ شاید انہوں نے کوئی ایسی بات کہہ دی جس میں وہ اپنے بیٹے (عبدالرحمن) کے مقابلے میں عمر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس لیے وہ واپس آ کر عائشہ سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی باتوں میں بہت محتاط تھے۔

والدین کا اپنی اولاد سے لگاؤ:
ابوبکر نے کہا کہ "الْوَلَدُ أَلْوَطُ" یعنی بیٹا (والد کے دل سے) زیادہ لگا رہتا ہے (یعنی فطری طور پر انسان اپنی اولاد سے زیادہ پیار کرتا ہے)۔ اس لیے شاید ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں انہوں نے اپنے بیٹے کو نظر انداز کر کے عمر کو زیادہ محبوب نہ کہہ دیا ہو۔

حضرت ابوبکرؓ کی بے پناہ عاجزی اور صداقت:
وہ باہر جا کر اپنی بات پر غور کرتے ہیں اور پھر واپس آ کر اس کی تصحیح کرتے ہیں۔ یہ ان کی دیانت اور سچائی کی علامت ہے۔

صحابہ کے درمیان محبت کا اعتراف:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے، اور وہ اس کا اظہار کرنے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث "الأدب المفرد" میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ , فَحَيَّهَلَا بعُمَرَ.
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"جب نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے تو عمر (بن خطاب) کے ساتھ اس کی ابتدا کرو۔"

[مسند احمد:25193، الصَّحِيحَة: 3095, وقال الأرناؤوط: إسناده صحيح.]

تشریح و وضاحت
"الصالحون" سے کیا مراد ہے؟
"صالحون" سے مراد وہ نیک اور پرہیزگار لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے دین کی خدمت کی۔ صحابہ کرام میں سے بہت سے صالح تھے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہاں خاص طور پر حضرت عمر کی طرف اشارہ کیا۔

"فحيهلا بعمر" کے معنی:
"حيَّهل" کا لفظ عربی میں کسی کی تعریف اور اس کی طرف توجہ دلانے کے لیے بولا جاتا ہے (جیسے "حيَّهل الفلاح" نماز میں)۔ یہاں اس کا مطلب ہے: "عمر کا ذکر کرو، ان کی تعریف کرو، اور انہیں صالحین کی فہرست میں سرفہرست رکھو"۔

حضرت عائشہ نے ایسا کیوں کہا؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود نبی ﷺ سے بہت سی باتیں سنی تھیں اور وہ حضرت عمر کی عظمت اور فضیلت سے بخوبی واقف تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی عدل و انصاف، تقویٰ، شجاعت، اور دین کے لیے خدمات سب سے نمایاں ہیں، اس لیے انہوں نے کہا کہ جب بھی نیک لوگوں کا ذکر کرو، تو ان کا ذکر عمر سے شروع کرو۔ شیطانی اثرات دوو ہوں۔

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی عظمت اور فضیلت:
یہ حدیث حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بے مثال فضیلت کو ظاہر کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں "صالحین" میں سے سب سے بڑا اور سرفہرست قرار دیتی ہیں۔

صالحین کا ذکر کرتے وقت ان کی تعریف کرنا:
جب ہم کسی نیک شخص کا ذکر کریں تو اس کی اچھائیوں کو بیان کرنا چاہیے، تاکہ لوگ ان سے متاثر ہوں اور ان کی پیروی کریں۔

حضرت عمر کی خصوصیات:
ان کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت میں عدل و انصاف قائم ہوا، بڑی فتوحات ہوئیں، اور دین کو نصرت حاصل ہوئی۔ وہ اپنی سختی اور نرمی دونوں میں متوازن تھے۔

صحابہ کا ایک دوسرے کی فضیلت بیان کرنا:
عائشہ رضی اللہ عنہا جیسے جلیل القدر صحابیہ نے بھی دوسرے صحابہ کی فضیلت بیان کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کے مناقب بیان کرنا جائز اور باعثِ اجر ہے۔

نیکی کی دعوت اور یاد دہانی:
جب ہم صالحین کا ذکر کریں تو ان کے نیک اعمال کو یاد کر کے خود بھی نیکی کی طرف راغب ہوں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث مسند احمد میں موجود ہے اور محدثین (البانی، ارناؤوط) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ قابلِ اعتماد ہے۔

ہمارے لیے سبق:
ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں حضرت عمر کی سیرت کو سمجھیں، ان کی سنتوں پر عمل کریں، اور جب بھی صالحین کا ذکر کریں تو ان کا ذکر بھی کریں۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حضرت ابوبکر کی حضرت عمر کو اپنا جانشین بنانے کی وصیت اور قیمتی نصیحت

متنِ روایت (عربی) :
عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أَبَا بَكْرٍ - رضي الله عنه - الْمَوْتُ أَرَادَ أَنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ - رضي الله عنه - فَقَالَ النَّاسُ: تَسْتَخْلِفُ عَلَيْنَا فَظًّا غَلِيظًا؟ , وَلَوْ قَدْ وَلِيَنَا كَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ , فَمَا تَقُولُ لِرَبِّك إِذَا لَقِيتَهُ وَقَدْ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا عُمَرَ؟، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِرَبِّي تُخَوِّفُونَنِي؟، أَقُولُ: اللَّهُمَّ أَسْتَخْلِفُ عَلَيْهِمْ خَيْرَ خَلْقِك، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ.(۱)

فَقَالَ: إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَمْرٍ مُتْعِبٍ لِمَنْ وَلِيَهُ , فَاتَّقِ اللهَ يَا عُمَرُ بِطَاعَتِهِ , وَأَطِعْهُ بِتَقْوَاهُ , فَإِنَّ الْمُتَّقِيَ آمِنٌ مَحْفُوظٌ , ثُمَّ إِنَّ الأَمْرَ مَعْرُوضٌ , لَا يَسْتَوْجِبُهُ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ , فَمَنْ أَمَرَ بِالْحَقِّ وَعَمِلَ بِالْبَاطِلِ، وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَعَمِلَ بِالْمُنْكِرِ، يُوشِكُ أَنْ تَنْقَطِعَ أُمْنِيَّتُهُ وَأَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ , فَإِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ عَلَيْهِمْ أَمْرَهُمْ , فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُجِفَّ يَدَكَ مِنْ دِمَائِهِمْ , وَأَنْ تُضْمِرَ بَطْنَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ , وَأَنْ تُجِفَّ لِسَانَكَ عَنْ أَعْرَاضِهِمْ , فَافْعَلْ.(۲)

وَإِنَّ للهِ حَقًّا بِالنَّهَارِ , لَا يَقْبَلُهُ بِاللَّيْلِ، وَإِنَّ للهِ حَقًّا بِاللَّيْلِ , لَا يَقْبَلُهُ بِالنَّهَارِ , وَإِنَّهُ لَا يَقْبَلُ نَافِلَةً حَتَّى تُؤَدِّيَ الْفَرِيضَةَ وَإِنَّمَا ثَقُلَتْ مَوَازِينُ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , بِاتِّبَاعِهِمْ فِي الدُّنْيَا الْحَقَّ , وَثِقَلِهِ عَلَيْهِمْ , وَحَقٌّ لِمِيزَانٍ لَا يُوضَعُ فِيهِ إِلَّا الْحَقُّ أَنْ يَكُونَ ثَقِيلاً , وَإِنَّمَا خَفَّتْ مَوَازِينُ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , بِاتِّبَاعِهِمْ الْبَاطِلَ , وَخِفَّتِهِ عَلَيْهِمْ , وَحَقٌّ لِمِيزَانٍ لَا يُوضَعُ فِيهِ إِلَّا الْبَاطِلُ أَنْ يَكُونَ خَفِيفًا.

وَإِنَّ اللهَ ذَكَرَ أَهْلَ الْجَنَّةِ بِصَالِحِ مَا عَمِلُوا , وَأَنَّهُ تَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ , فَيَقُولُ الْقَائِلُ: أَلَا أَبْلُغُ هَؤُلَاءِ؟ , وَذَكَرَ أَهْلَ النَّارِ بِأَسْوَإِ مَا عَمِلُوا , وَرَدَّ عَلَيْهِمْ صَالِحَ مَا عَمِلُوا , فَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ هَؤُلَاءِ , وَذَكَرَ آيَةَ الرَّحْمَةِ وَآيَةَ الْعَذَابِ , لِيَكُونَ الْمُؤْمِنُ رَاغِبًا وَرَاهِبًا , لَا يَتَمَنَّى عَلَى اللهِ غَيْرَ الْحَقِّ، وَلَا يُلْقِي بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ.

فَإِنْ أَنْتَ حَفِظْت وَصِيَّتِي , لَمْ يَكُنْ غَائِبٌ أَحَبَّ إِلَيْك مِنْ الْمَوْتِ , وَإِنْ أَنْتَ ضَيَّعْت وَصِيَّتِي , لَمْ يَكُنْ غَائِبٌ أَبْغَضَ إِلَيْك مِنْ الْمَوْتِ , وَلَنْ تَعْجِزَهُ.(۳)

ترجمہ:

حضرت زبید بن حارث سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت قریب آئی تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین (خلیفہ) بنانے کا ارادہ کیا۔ لوگوں نے کہا: کیا آپ ہم پر ایک سخت مزاج اور درشت خو آدمی کو خلیفہ بنائیں گے؟ اگر وہ ہمارا حاکم بن گیا تو اور بھی زیادہ سخت اور درشت ہو جائے گا۔ جب آپ اپنے رب سے ملیں گے اور اس سے کہیں گے کہ میں نے عمر کو تم پر خلیفہ بنایا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟

ابوبکر نے کہا: کیا تم مجھے میرے رب سے ڈرا رہے ہو؟ میں کہوں گا: اے اللہ! میں نے ان پر تیری مخلوق میں سے سب سے بہتر شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ پھر انہوں نے عمر کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا۔"(۱)

"پھر ابوبکر نے (عمر سے) کہا: میں تمہیں ایک ایسے معاملے کی طرف بلا رہا ہوں جو اسے سنبھالنے والے کے لیے (بہت) تھکا دینے والا ہے۔ اے عمر! اللہ کی اطاعت کر کے اس سے ڈرو، اور اس کے تقویٰ کو اپنا کر اس کی اطاعت کرو۔ بے شک پرہیزگار شخص محفوظ اور پناہ میں رہتا ہے۔

پھر یہ معاملہ (خلافت) پیش کیا جا رہا ہے، اس کا مستحق صرف وہی ہے جو اس پر عمل کرے۔ پس جو شخص حق کا حکم دے اور خود باطل پر عمل کرے، اور بھلائی کا حکم دے اور خود برائی کرے، تو اس کی امیدیں قریب ہے کہ ٹوٹ جائیں اور اس کا عمل ضائع ہو جائے۔

اگر تم ان کا حاکم بن جاؤ، تو اگر تم سے ہو سکے کہ اپنے ہاتھ کو ان کے خونوں سے خشک رکھو (یعنی کسی کا خون نہ بہاؤ سوائے حق کے)، اپنے پیٹ کو ان کے مالوں سے خالی رکھو (یعنی ان کا مال نہ کھاؤ)، اور اپنی زبان کو ان کی آبرو سے خشک رکھو (یعنی ان کی عزت پر حملہ نہ کرو)، تو ایسا کرنا۔"(۲)

"بے شک اللہ کے لیے دن میں کچھ حقوق ہیں جو وہ رات میں قبول نہیں کرتا، اور اللہ کے لیے رات میں کچھ حقوق ہیں جو وہ دن میں قبول نہیں کرتا۔ اور وہ کوئی نفلی عبادت قبول نہیں کرتا جب تک فرض ادا نہ کر دیا جائے۔

جس شخص کے میزان (اعمال کے پلڑے) قیامت کے دن بھاری ہوں گے، وہ اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں حق کی پیروی کی اور اسے (اپنے اوپر) بھاری پایا۔ اور ایسے میزان کے لیے جس میں صرف حق رکھا جائے، یہی حق ہے کہ وہ بھاری ہو۔

اور جس شخص کے میزان ہلکے ہوں گے، وہ اس وجہ سے ہلکے ہوں گے کہ انہوں نے باطل کی پیروی کی اور اسے (اپنے اوپر) ہلکا پایا۔ اور ایسے میزان کے لیے جس میں صرف باطل رکھا جائے، یہی حق ہے کہ وہ ہلکا ہو۔"

"اور اللہ نے اہل جنت کا ذکر ان کے نیک اعمال کے ساتھ کیا، اور یہ کہ وہ ان کی برائیوں سے درگزر کرے گا، پھر کوئی کہے گا: کیا میں ان (کے درجے) تک نہ پہنچ سکوں؟ اور اس نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بدترین اعمال کے ساتھ کیا، اور ان کے نیک اعمال کو رد کر دیا، پھر کوئی کہے گا: میں ان سے بہتر ہوں۔ اور اس نے رحمت کی آیت اور عذاب کی آیت کا ذکر کیا، تاکہ مومن (اللہ سے) امید اور خوف رکھے، اور حق کے سوا اللہ سے کوئی آرزو نہ کرے، اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔"

"پس اگر تم میری وصیت کو محفوظ رکھو گے تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی، اور اگر تم میری وصیت کو ضائع کر دو گے تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ ناپسند نہیں ہوگی، اور موت تمہیں عاجز نہیں کر سکے گی۔"(۳)

حوالہ جات:
(١) مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 37056) ۔
(٢) معجم کبیر طبرانی (جلد 1، صفحہ 60، حدیث نمبر 37)
(٣) مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 37056)، اور علامہ البانی نے "الإرواء" (حدیث نمبر 1642) میں کہا: یہ اثر کہ "ابوبکر نے عمر کو خلافت کی وصیت کی" صحیح ہے۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت ابوبکرؓ کا دور اندیشی اور علم:
انہوں نے حضرت عمر کو اس لیے خلیفہ بنایا کہ وہ جانتے تھے کہ عمر ہی اس منصب کے لیے موزوں ہیں، چاہے لوگوں کو ان کی سختی ناگوار ہو۔

لوگوں کا اعتراض اور ابوبکر کا جواب:
لوگوں نے عمر کی سختی کی وجہ سے اعتراض کیا، لیکن ابوبکر نے اللہ کے سامنے جواب دینے کی ہمت رکھی اور کہا کہ وہ بہترین شخص کو خلیفہ بنا رہے ہیں۔

خلافت ایک تھکا دینے والا منصب ہے:
ابوبکر نے خود اعتراف کیا کہ یہ کام بہت مشکل ہے، اور اسے سنبھالنے والے کو بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔

تین اہم وصیتیں (خون، مال، آبرو):
ابوبکر نے عمر کو تین چیزوں سے بچنے کی تاکید کی:
بے جا خون نہ بہانا
عوام کا مال نہ کھانا
لوگوں کی آبرو پر حملہ نہ کرنا

فرائض اور نفلی عبادات کا تعلق:
نفلی عبادات اس وقت تک قبول نہیں ہوتیں جب تک فرائض ادا نہ کیے جائیں۔

اعمال کے میزان (پلڑے) کی حقیقت:
حق کی پیروی کرنے والوں کے پلڑے بھاری ہوں گے، اور باطل کی پیروی کرنے والوں کے ہلکے۔

آخرت میں نیک اور بد اعمال کا حساب:
اللہ اہل جنت کے ساتھ ان کے نیک اعمال کی بنا پر معاملہ کرے گا اور برائیوں سے درگزر فرمائے گا، جبکہ اہل جہنم کے بدترین اعمال پکڑے جائیں گے اور نیکیاں رد کر دی جائیں گی۔

موت سے محبت اور نفرت کا تعلق وصیت پر عمل سے:
جو شخص ابوبکر کی وصیت پر عمل کرے گا، وہ موت کو محبوب پائے گا (کیونکہ موت اسے اللہ سے ملانے والی ہے)، اور جو اسے چھوڑے گا، وہ موت سے نفرت کرے گا۔

حضرت عمرؓ کی تیاری:
ابوبکر نے انہیں پوری طرح تیار کیا اور انہیں بتایا کہ خلافت ایک امانت ہے، نہ کہ بادشاہت۔

حدیث کی صحت:
علامہ البانی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
حضرت عمر کا کعبہ کے مال کو تقسیم کرنے کا ارادہ اور شیبہ بن عثمان کا جواب

متنِ حدیث (عربی):
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: جَلَسْتُ مَعَ شَيْبَةَ ابْنِ عُثْمَانَ (١) عَلَى الْكُرْسِيِّ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: لَقَدْ جَلَسَ (٢) عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - فِي مَجْلِسِكَ هَذَا , فَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِي الْكَعْبَةِ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ (٣) (٤) إِلَّا قَسَمْتُهُ (٥) بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ (٦) فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ (٧) قَالَ: بَلَى لَأَفْعَلَنَّ،، قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟، قُلْتُ: " لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَدْ رَأَى مَكَانَهُ " , وَأَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ , فَلَمْ يُخْرِجَاهُ (٨) (٩) فَقَالَ: هُمَا الْمَرْءَانِ أَقْتَدِي بِهِمَا (١٠) فَقَامَ كَمَا هُوَ فَخَرَجَ (١١).

ترجمہ:

حضرت ابو وائلؓ (شقیق بن سلمہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں کعبہ میں (باب بنی شیبہ کے) شیبہ بن عثمان (١) کے ساتھ ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ انہوں نے کہا: (ایک بار) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تمہاری اس جگہ بیٹھے تھے اور فرمایا: 'میں نے ارادہ کیا ہے کہ کعبہ میں کوئی زرد (سونا) اور سفید (چاندی) (٣) (٤) نہ چھوڑوں، سوائے اس کے کہ اسے مسلمانوں کے فقیروں میں تقسیم کر دوں (٥،٦)۔'

میں (شیبہ بن عثمان ) نے ان سے کہا: 'آپ یہ کام نہیں کریں گے۔'
عمرؓ نے کہا: 'کیوں نہیں؟ ضرور کروں گا۔'
میں نے کہا: 'آپ نہیں کریں گے۔'
عمرؓ نے پوچھا: 'کیوں؟'
میں نے کہا: 'اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) اس جگہ کو دیکھا تھا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی، اور وہ دونوں تم سے زیادہ مال کے محتاج تھے، لیکن انہوں نے اسے (کعبہ کے خزانے کو) نہیں نکالا (٨،٩)۔'

تب عمرؓ نے کہا: 'وہی دو شخص ہیں جن کی میں پیروی کرتا ہوں (١٠)۔' پھر وہ اسی طرح اٹھ کر چلے گئے (١١)۔"

حواشی وحوالہ جات:
(١) هُوَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيَّ الْعَبْدَرِيُّ الْحَجَبِيُّ، نِسْبَةً إِلَى حَجْبِ الْكَعْبَةِ، يُكَنَّى أَبَا عُثْمَانَ.
یہ شیبہ بن عثمان بن طلحہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبداللہ بن عبدالدار بن قصی عبدری حجبی ہیں، (حجبی) کعبہ کے پردے دار کی طرف نسبت ہے، ان کی کنیت ابو عثمان ہے۔ (فتح الباری)

(٢) صحیح بخاری: 1517

(٣) أَيْ: ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، قَالَ الْقُرْطُبِيُّ: غَلِطَ مَنْ ظَنَّ أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ حِلْيَةَ الْكَعْبَةِ، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْكَنْزَ الَّذِي بِهَا، وَهُوَ مَا كَانَ يُهْدَى إِلَيْهَا، فَيُدَّخَرُ مَا يَزِيدُ عَنِ الْحَاجَةِ، وَأَمَّا الْحُلِيُّ، فَمُحْبَسَةٌ عَلَيْهَا كَالْقَنَادِيلِ، فَلَا يَجُوزُ صَرْفُهَا فِي غَيْرِهَا، وَقَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ: كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُهْدُونَ إِلَى الْكَعْبَةِ الْمَالَ تَعْظِيمًا لَهَا، فَيَجْتَمِعُ فِيهَا.
یعنی: سونا اور چاندی۔ امام قرطبی نے کہا: جس نے سمجھا کہ اس سے مراد کعبہ کے زیورات ہیں تو وہ غلطی میں ہے۔ اصل میں اس سے مراد وہ خزانہ ہے جو کعبہ میں ہوتا تھا، جو لوگ بطور ہدیہ دیتے تھے، اور ضرورت سے زیادہ جمع ہو جاتا تھا۔ رہے زیورات (جیسے قندیلیں وغیرہ) تو وہ کعبہ کے لیے وقف ہیں، انہیں دوسری جگہ صرف کرنا جائز نہیں۔ ابن جوزی نے کہا: جاہلیت میں لوگ کعبہ کی تعظیم کے لیے اسے مال ہدیہ کرتے تھے، اس طرح بہت سا مال جمع ہو جاتا تھا۔ (فتح الباری)

(٤) مسند احمد: 15419، صحیح بخاری: 1517

(٥) صحیح بخاری: 1517

(٦) سنن ابن ماجہ: 3116

(٧) صحیح بخاری: 6847

(٨) یہ علت (وجہ) حدیث سے ظاہر نہیں ہے، بلکہ اس کا احتمال ہے کہ نبی ﷺ نے اسے اس لیے چھوڑا کہ قریش کے دلوں کا خیال رکھا، جیسا کہ انہوں نے کعبہ کی تعمیر کو ابراہیم کی بنیادوں پر نہ کرنے سے بھی پرہیز کیا۔ اس کی تائید مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں عائشہ سے کعبہ کی تعمیر کے بارے میں ہے: "اگر تمہاری قوم ابھی حال ہی میں کفر سے نکل کر آئی ہوتی تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا" وغیرہ۔ پس یہی تعلیل معتبر ہے۔ (فتح الباری)

(٩) سنن ابی داود: 2031، صحیح بخاری: 6847

(١٠) صحیح بخاری: 1517

(١١) سنن ابن ماجہ: 3116، سنن ابی داود: 2031


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی غیرت اور مسلمانوں کی فلاح کی فکر:
وہ کعبہ میں جمع سونے چاندی کو غریبوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے، جس سے ان کا دوسروں کی بھلائی کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے۔

شیبہ بن عثمان کی دلیل اور حکمت:
انہوں نے حضرت عمر کو نبی ﷺ اور ابوبکر کے عمل کی طرف اشارہ کر کے روک دیا، جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ بھی اہل علم کی بات مانتے تھے۔

کعبہ کے خزانے کا حکم:
جو مال کعبہ کے لیے ہدیہ کیا جائے (اور اسے محفوظ کیا جائے) اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا جائز ہے، جبکہ جو چیزیں کعبہ کے لیے وقف ہوں (جیسے زیورات، قندیلیں) انہیں منتقل کرنا جائز نہیں۔

نبی ﷺ اور ابوبکر کا اس مال کو نہ چھیڑنا:
انہوں نے اس لیے ایسا نہ کیا کہ لوگ نئے مسلمان تھے اور ان کے دلوں کو ٹوٹنے کا خطرہ تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مصلحت کے تحت بعض جائز کاموں کو ترک کیا جا سکتا ہے۔

سلف صالحین کی پیروی:
حضرت عمر نے کہا "وہی دو شخص ہیں جن کی پیروی کرتا ہوں" – یہ صحابہ کی ایک دوسرے کی اتباع اور ان کی تعظیم کو ظاہر کرتا ہے۔

مال کی حلال و حرام کی حدود:
کسی بھی مال کو خرچ کرنے سے پہلے اس کے شرعی حکم کو جاننا ضروری ہے۔

علماء کا کردار:
شیبہ بن عثمان جیسے صحابی نے بروقت دلیل دے کر حضرت عمر کو صحیح راستہ دکھایا۔

مساوات اور فلاح عامہ کی اہمیت:
حضرت عمر کا یہ ارادہ بتاتا ہے کہ اسلامی حکومت میں دولت کو عوام تک پہنچانا چاہیے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری، مسند احمد، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داود وغیرہ میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: فَرَضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - لِلْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ , وَفَرَضَ لِابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ , فَقِيلَ لَهُ: هُوَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ , فَلِمَ نَقَصْتَهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلَافٍ؟ , فَقَالَ: إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ (١) يَقُولُ: لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ. (٢)

ترجمہ:
حضرت نافعؒ (تابعی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پہلے مہاجرین کے لیے چار ہزار (درہم) کی وظیفہ مقرر کیا، اور انہوں نے اپنے بیٹے (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے ساڑھے تین ہزار (تین ہزار پانچ سو) مقرر کیا۔ ان سے پوچھا گیا: وہ (ابن عمر) بھی مہاجرین میں سے ہیں، پھر آپ نے انہیں چار ہزار سے کم کیوں کیا؟ عمر نے جواب دیا: 'وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ہجرت کر گئے تھے' (یعنی انہوں نے خود ہجرت نہیں کی تھی، بلکہ ان کے والدین انہیں لے کر گئے تھے)۔"

حاشیہ وحوالہ جات:
(١) وَكَانَ لِابْنِ عُمَر حِين الْهِجْرَة إِحْدَى عَشْرَة سَنَة، لِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ أَنَّهُ عُرِضَ يَوْم أُحُد وَهُوَ اِبْن أَرْبَع عَشْرَة وَكَانَتْ أُحُد فِي شَوَّال سَنَة ثَلَاث.
ترجمہ:
ہجرت کے وقت حضرت ابن عمر کی عمر گیارہ سال تھی، کیونکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ثابت ہے کہ انہیں جنگ احد (شوال سنہ 3 ہجری) کے موقع پر پیش کیا گیا تو وہ چودہ سال کے تھے۔ (فتح الباری، جلد 11، صفحہ 242)

(٢) صحیح بخاری (حدیث نمبر 3700)۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کا انصاف اور محنت کی قدر:
انہوں نے مہاجرین کو ان کی قربانی اور مشقت کے مطابق وظیفہ دیا۔ جن لوگوں نے خود ہجرت کی، انہیں زیادہ دیا، اور جنہیں والدین نے ساتھ لے جایا، انہیں کم دیا۔

ہجرت کی حقیقت:
ہجرت کا ثواب و اجر اس شخص کو زیادہ ہے جو اپنی مرضی سے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے، بچوں کا اپنی مرضی سے ہجرت کرنا (جب وہ بالغ نہ ہوں) ان کے اپنے عمل سے کم درجہ رکھتا ہے۔

ابن عمرؓ کی عمر کی تحقیق:
صحیحین سے ثابت ہے کہ ابن عمر کی عمر احد کے وقت 14 سال تھی، اس لیے ہجرت کے وقت وہ 11 سال کے تھے۔

والدین کا بچوں کے ساتھ ہجرت کرنا:
اگر بچے نابالغ ہوں اور والدین انہیں ساتھ لے جائیں، تو یہ ان کی اپنی ہجرت شمار نہیں ہوگی، بلکہ والدین کے تابع ہوں گے۔

عدل و انصاف میں رشتہ داری کی رعایت نہیں:
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کو کم دیا، حالانکہ وہ ان کا بیٹا تھا۔ یہ ان کی عدالت اور دیانتداری کی مثال ہے۔

وظیفہ کی تقسیم میں حکمت:
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی بیت المال میں ہر شخص کو اس کی قربانی اور سابقہ کے مطابق دیا جانا چاہیے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: قَسَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - مُرُوطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ الْمَدِينَةِ , فَبَقِيَ مِرْطٌ جَيِّدٌ , فَقَالَ لَهُ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أَعْطِ هَذَا ابْنَةَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - الَّتِي عِنْدَكَ - يُرِيدُونَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ (١) - فَقَالَ عُمَرُ: أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ بِهِ , فَإِنَّهَا كَانَتْ تَزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ - وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ , مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - -. (٢)

ترجمہ:
حضرت ثعلبہ بن ابی مالک سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی کچھ عورتوں میں چادریں تقسیم کیں۔ ایک عمدہ چادر بچ گئی تو ان کے پاس موجود کسی نے کہا: اے امیر المومنین! یہ چادر آپ کی موجودہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (یعنی ازواج مطہرات میں سے کسی کو) دے دیں – (دراصل) وہ ام کلثوم بنت علی (رضی اللہ عنہا) کو کہہ رہے تھے (١)۔

حضرت عمر نے کہا: ام سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں، کیونکہ وہ جنگ احد کے دن ہمارے لیے مشکیزے سیا کرتی تھیں – اور ام سلیط انصاری عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی (٢)۔"

حواشیہ وحوالہ جات:
(١) كَانَ عُمَرُ قَدْ تَزَوَّجَ أُمَّ كُلْثُوم بِنْتَ عَلِيٍّ , وَأُمَّهَا فَاطِمَةَ , وَلِهَذَا قَالُوا لَهَا: بِنْتُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَكَانَتْ قَدْ وُلِدَتْ فِي حَيَاتِهِ , وَهِيَ أَصْغَرُ بَنَاتِ فَاطِمَة - رضي الله عنه -.
ترجمہ:
حضرت عمر نے ام کلثوم بنت علی (رضی اللہ عنہما) سے نکاح کیا تھا، اور ان کی والدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ہیں۔ اسی لیے لوگوں نے انہیں "رسول اللہ کی بیٹی" کہا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئی تھیں، اور وہ فاطمہ کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ (فتح الباری، جلد 9، صفحہ 24)

(٢) یہ حدیث صحیح بخاری (حدیث نمبر 2725) میں موجود ہے۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کا انصاف اور شکر گزار:
انہوں نے اس چادر کو اپنی بہو (ام کلثوم) کے بجائے اس عورت کو دیا جس نے جنگ احد میں مسلمانوں کی خدمت کی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدمت گزاروں کو ترجیح دیتے تھے، چاہے وہ ان کی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

ام سلیط کی قربانی:
وہ انصاری خاتون تھیں جنہوں نے جنگ احد میں مشکیزے سی کر مسلمانوں کو پانی پہنچایا۔ ان کی اس خدمت کو حضرت عمر نے کبھی نہیں بھلایا۔

صحابیات کا کردار:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں نے بھی جہاد میں اہم کردار ادا کیا، اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔

رشتہ داری پر فوقیت:
حضرت عمر نے اپنی بہو (جو نبی ﷃ کی پوتی بھی تھیں) کو نظر انداز کر کے ایک عام انصاری عورت کو ترجیح دی۔ اس سے عدل و انصاف کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

نبی ﷺ کی بیٹی کا خطاب:
ام کلثوم نبی ﷺ کی پوتی تھیں (ان کی والدہ فاطمہ ہیں)، لیکن لوگ انہیں "رسول اللہ کی بیٹی" کہہ کر پکارتے تھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - عَامَ الرَّمَادَةِ (١) - وَكَانَتْ سَنَةً شَدِيدَةً مُلِمَّةً - بَعْدَمَا اجْتَهَدَ عُمَرُ فِي إِمْدَادِ الأَعْرَابِ بِالإِبِلِ , وَالْقَمْحِ , وَالزَّيْتِ مِنَ الأَرْيَافِ كُلِّهَا، حَتَّى بَلَحَتِ (٢) الأَرْيَافُ كُلُّهَا مِمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ، فَقَامَ عُمَرُ يَدْعُو , فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَهُمْ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ، فَاسْتَجَابَ اللهُ لَهُ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَقَالَ حِينَ نَزَلَ بِهِ الْغَيْثُ: الْحَمْدُ للهِ، فَوَاللهِ لَوْ أَنَّ اللهَ لَمْ يُفْرِجْهَا , مَا تَرَكْتُ بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَهُمْ سَعَةٌ , إِلَاّ أَدْخَلْتُ مَعَهُمْ أَعْدَادَهُمْ مِنَ الْفُقَرَاءِ، فَلَمْ يَكُنِ اثْنَانِ يَهْلِكَانِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَا يُقِيمُ وَاحِدًا. (٣)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
"رمادہ (قحط) کے سال (١) – جو ایک شدید اور بڑی مصیبت کا سال تھا – جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیہاتی قبائل (اعراب) کو تمام علاقوں سے اونٹ، گندم اور تیل پہنچانے کی بھرپور کوشش کی، یہاں تک کہ ان کی اس مشقت کی وجہ سے تمام علاقے (پانی کی قلت سے) خشک ہو گئے (٢)، تو حضرت عمر دعا کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: 'اے اللہ! ان کا رزق پہاڑوں کی چوٹیوں پر بنا دے۔'

چنانچہ اللہ نے ان کی اور مسلمانوں کی دعا قبول کی۔ جب بارش نازل ہوئی تو انہوں نے کہا: 'تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے یہ مصیبت دور نہ کی ہوتی تو میں کسی بھی مسلمان گھر والے کے پاس جو وسعت رکھتا تھا، ضرور اتنے ہی غریبوں کو لا کر بٹھا دیتا جتنی اس کی گنجائش ہوتی، تاکہ دو آدمی اس کھانے سے ہلاک نہ ہوتے جو ایک کو گزارہ کرنے کے لیے کافی ہو۔"

حواشی وحوالہ جات:
(١) الرَّمَادَة: سُمِّيَ الْعَام بِهَا لِمَا حَصَلَ مِنْ شِدَّة الْجَدْب , فَاغْبَرَّتْ الْأَرْض جِدًّا مِنْ عَدَم الْمَطَر.
ترجمہ:
"رمادہ" (قحط کا سال) اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں شدید خشکی تھی، جس کی وجہ سے بارش کے نہ ہونے سے زمین بہت زیادہ گرد آلود ہو گئی تھی۔
(فتح الباری، جلد 3، صفحہ 443)

(٢) بَلَحَتِ البئر: ذهب ماؤُها , وبَلَحَ الماءُ: إِذا ذهب.
ترجمہ:
"بلحَتِ البِئر" کا مطلب ہے: کنواں خشک ہو گیا، اور "بَلَحَ الماءُ" کہا جاتا ہے جب پانی ختم ہو جائے۔ (لسان العرب، جلد 2، صفحہ 414)

(٣) الأدب المفرد (حدیث نمبر 562) ، "صحيح الأدب المفرد" (حدیث نمبر 438)۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کی فوری اور بھرپور امداد:
قحط کے سال انہوں نے پوری طاقت سے دیہاتی علاقوں کو خوراک اور سامان پہنچایا۔

پانی کی قلت اور خشک سالی:
اس قدر شدید قحط تھا کہ تمام علاقوں کے پانی کے ذرائع خشک ہو گئے۔

دعا کی اہمیت اور قبولیت:
جب تمام تدبیریں ناکام ہو گئیں تو حضرت عمر نے اللہ سے دعا کی، جسے قبول کیا گیا۔ ان کی دعا "پہاڑوں کی چوٹیوں پر رزق بنانے" کی تھی، جس سے مراد بارش اور پانی کا نزول ہے۔

اللہ کی رحمت کی وسعت:
ان کی دعا سن کر اللہ نے فوراً بارش نازل فرما دی۔

عدل و انصاف اور مساوات کا جذبہ:
حضرت عمر نے کہا کہ اگر قحط جاری رہتا تو وہ مالداروں کے پاس اتنے ہی غریب لا کر بٹھا دیتے جتنی ان کی گنجائش ہوتی۔ یہ ان کی عوام دوستی اور مساوات کی مثال ہے۔

اللہ کا شکر ادا کرنا:
جب بارش آئی تو سب سے پہلے "الحمد للہ" کہا۔

حدیث کی صحت:
یہ روایت "الأدب المفرد" میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ - رضي الله عنه - قَالَ: جَاءَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - يَسْتَأذِنُ عَلَيَّ يَوْمًا، فَأَذِنْتُ لَهُ وَرَأسِي فِي يَدِ جَارِيَةٍ لِي تُرَجِّلُنِي، فَنَزَعْتُ رَأسِي، فَقَالَ لِي عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي.

ترجمہ:

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"ایک دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس آنے کی اجازت مانگنے آئے۔ میں نے انہیں اجازت دے دی، اور اس وقت میرا سر میری ایک لونڈی کے ہاتھ میں تھا جو میرے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ میں نے (فوراً) اپنا سر ہٹا لیا (یعنی ان کے سامنے اس حالت میں نہیں رہنا چاہا)۔
حضرت عمرؓ نے مجھ سے کہا:
'اسے اپنے بالوں میں کنگھی کرنے دو۔'
تو میں نے عرض کیا:
'اے امیر المومنین! اگر آپ مجھے پیغام بھیج دیتے تو میں خود آپ کے پاس آ جاتا۔'
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
'دراصل (آنے کی) ضرورت مجھے تھی (یعنی میں خود آنا چاہتا تھا)۔'"

[الأدب المفرد (حدیث نمبر 1302)، صحيح الأدب المفرد (حدیث نمبر 983)]


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کا تواضع اور عاجزی:
خلیفہ وقت ہونے کے باوجود وہ خود زید بن ثابت کے پاس آئے اور انہیں اپنے پاس بلوانے کے بجائے خود حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا "ضرورت مجھے تھی"۔ یہ ان کی عاجزی اور بڑوں کی عزت کی دلیل ہے۔

حضرت زید بن ثابتؓ کا ادب و احترام:
جب حضرت عمرؓ آئے تو انہوں نے فوراً اپنا سر ہٹا لیا، حالانکہ عمر نے اسے جاری رکھنے کی اجازت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ بڑوں اور حکمرانوں کے سامنے بہت ادب کرتے تھے۔

حاجت مند کا خود حاضر ہونا باعثِ فضیلت ہے:
اگر کوئی شخص کسی کے پاس جانا چاہے تو اسے چاہیے کہ خود جائے، بجائے اس کے کہ بلوا کر تکلیف دے۔

بلاوجہ کسی کو تنگ نہ کرنا:
حضرت عمرؓ نے زید بن ثابت کو اپنے پاس نہیں بلوایا، حالانکہ وہ خلیفہ تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صاحبِ منصب کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔

گھریلو کاموں میں شرم و حیا کا خیال:
حضرت زید بن ثابتؓ نے لونڈی کے سامنے سر رکھنا اچھا نہ سمجھا جب خلیفہ وقت آیا، حالانکہ وہ ان کی ملکہ تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو بے جا بے تکلفی سے بچنا چاہیے۔

حضرت عمرؓ کا بڑوں کے ساتھ نرمی برتنا:
انہوں نے زید بن ثابتؓ کو سختی سے نہیں روکا، بلکہ فرمایا "دعها ترجلك" (اسے کام کرنے دو)۔ یہ ان کی نرم مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔

صحابہ کا باہمی تعلق:
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ آپس میں کس قدر محبت اور احترام رکھتے تھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث "الأدب المفرد" میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ - رضي الله عنه - فَدَخَلَ حَائِطًا (١) فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ - وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ جِدَارٌ , وَهُوَ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ -: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ , بَخٍ بَخٍ , وَاللهِ لَتَتَّقِيَنَّ اللهَ أَوْ لَيُعَذِّبَنَّكَ. (٢)

ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، تو وہ ایک باغ (١) میں داخل ہو گئے۔ میں نے انہیں (دیوار کے پیچھے سے) یہ کہتے سنا – میرے اور ان کے درمیان دیوار تھی، اور وہ باغ کے اندر تھے –: 'عمر بن خطاب! امیر المومنین! بخ بخ (کیا خوب!) اللہ کی قسم! تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے، ورنہ وہ تمہیں عذاب دے گا۔'" (٢)

حواشی وحوالہ جات:

(١) قَالَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ: الْحَائِطُ: الْبُسْتَانُ مِنْ النَّخْلِ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ حَائِطٌ , وَهُوَ الْجِدَارُ.
ترجمہ:
صاحبِ نہایہ نے کہا: "حائط" (یہاں) کھجوروں کے باغ کو کہتے ہیں جس کے چاروں طرف دیوار (احاطہ) ہو۔ (النهاية في غريب الأثر)

(٢) المعجم الكبير طبرانی (حدیث نمبر 1800)، اور اس کی سند صحیح ہے۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کا تقویٰ اور خود احتسابی:
وہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود تنہائی میں جا کر اپنے نفس کو ڈانٹتے اور اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتے تھے۔ یہ ان کے تقویٰ اور خوفِ خدا کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

حکمران کی ذمہ داری:
ان کے الفاظ "امیر المومنین... بخ بخ" میں یہ پیغام ہے کہ عہدہ اور منصب کوئی کھلونا نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں اللہ سے سوال ہوگا۔

تنہائی میں بھی اللہ کا خوف:
وہ دیوار کے پیچھے تنہا تھے، کسی کو ان کی ملامت کرنے والا نہیں تھا، پھر بھی وہ خود کو متنبہ کر رہے تھے۔ یہ اخلاص اور اللہ کی نگرانی کا اعلیٰ مقام ہے۔

خود کو تنبیہ کرنا:
ان کا اپنے نام سے خطاب کرنا اور خود کو "عذاب" سے ڈرانا یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو خود اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

عہدہ کی نعمت اور اس کا شکر:
"بخ بخ" (بہت خوب) کہہ کر انہوں نے اس عہدے کو اللہ کی نعمت قرار دیا، لیکن ساتھ ہی اس کے غلط استعمال پر ڈر کا اظہار بھی کیا۔

صحابہ کا تقویٰ اور اعلیٰ کردار:
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام کا تقویٰ کس بلند درجے پر تھا۔

تنہائی میں بھی اللہ کی یاد:
انسان کو چاہیے کہ وہ اکیلے میں بھی اللہ کی یاد کرے، گناہوں سے بچے، اور اپنے نفس کو سمجھائے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث طبرانی میں ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ - رضي الله عنهما -: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ , فَقُلْتُ: لَا , قَالَ: فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: يَا أَبَا مُوسَى , هَلْ يَسُرُّكَ إِسْلَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ , وَجِهَادُنَا مَعَهُ , وَعَمَلُنَا كُلُّهُ مَعَهُ يُرَدُّ لَنَا , وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأسًا بِرَأسٍ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: لَا وَاللهِ , قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَصَلَّيْنَا , وَصُمْنَا , وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا , وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ , وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ , فَقَالَ أَبِي: لَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ , لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ يُرَدُّ لَنَا , وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأسًا بِرَأسٍ , فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِنَّ أَبَاكَ وَاللهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي.

ترجمہ:
حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد (عمر) نے تمہارے والد (ابو موسیٰ اشعری) سے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔

انہوں نے کہا: میرے والد (عمر) نے تمہارے والد سے کہا: اے ابو موسیٰ! کیا تم اس بات سے خوش ہو گے کہ ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام لانا، آپ کے ساتھ ہجرت کرنا، آپ کے ساتھ جہاد کرنا، اور آپ کے ساتھ ہمارا سارا عمل ہمیں لوٹا دیا جائے، اور اس کے بعد ہم نے جو بھی عمل کیا ہے، وہ سب ہم سے بالکل برابر (نہ ثواب ہو نہ عذاب) چھوڑ دیا جائے؟

ابو موسیٰ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، بہت سی نیکیاں کیں، اور ہمارے ہاتھوں بہت سے لوگ مسلمان ہوئے، اور ہم اس (ثواب) کی امید رکھتے ہیں۔

تب میرے والد (عمر) نے کہا: لیکن میں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے، میں یہ پسند کروں گا کہ وہ سب کچھ (نبی ﷺ کے ساتھ والے اعمال) ہمیں لوٹا دیا جائے، اور اس کے بعد جو کچھ ہم نے کیا ہے، اس سے ہم بالکل بری کر دیے جائیں (یعنی نہ ثواب ہو نہ عذاب)۔

تب ابوبردہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے والد (عمر) میرے والد (ابو موسیٰ) سے بہتر ہیں۔"

[صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3702]

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کا تواضع اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزی:
انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ اپنے اعمال کو بہت اہم سمجھا، اور اس کے بعد کے اعمال کو ان کے مقابلے میں کم حیثیت دیا۔ وہ یہ پسند کرتے تھے کہ بعد کے اعمال کا کوئی حساب نہ ہو (صرف عہدِ نبوی کے اعمال کا ثواب ملے)۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا اعتماد اور امید:
انہوں نے بعد میں کی جانے والی عبادات اور تبلیغ کو بھی بہت اہم سمجھا اور اس کے ثواب کی امید رکھی۔

صحابہ کے درجات میں فرق:
حضرت عمرؓ کا مقام اور ان کا تقویٰ ابو موسیٰ سے بھی بلند تھا، جیسا کہ ابوبردہ نے خود اعتراف کیا۔

نبی ﷺ کے ساتھ گزارے گئے وقت کی قدر:
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام نبی ﷺ کے ساتھ گزارے گئے وقت اور کیے گئے اعمال کو کتنی عظمت دیتے تھے۔

عمل صالح کی امید اور اللہ کی رحمت:
حضرت ابو موسیٰؓ نے کہا کہ ہم بعد میں کی گئی نیکیوں سے بھی اجر کی امید رکھتے ہیں، یہ رجائیت اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کی علامت ہے۔

تواضع اور انکساری کی فضیلت:
حضرت عمرؓ کا یہ کہنا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بعد کے اعمال کا کوئی ثواب نہ ملے (صرف عہدِ نبوی کے اعمال کافی ہوں) ان کی عاجزی اور اللہ کے سامنے اپنی حیثیت کو کم سمجھنے کی دلیل ہے۔

صحابہ کا باہمی احترام اور اعتراف:
ابوبردہ نے اپنے والد سے بڑھ کر عمر کو بہتر قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ ایک دوسرے کی فضیلت کا اعتراف کرتے تھے اور اسے بیان کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ , فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ - وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ - رضي الله عنه - وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ , كُهُولًا (١) كَانُوا أَوْ شُبَّانًا - فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَا ابْنَ أَخِي , هَلْ لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ؟ , فَاسْتَأذِنْ لِي عَلَيْهِ , فَقَالَ: سَأَسْتَأذِنُ لَكَ عَلَيْهِ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْتَأذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ , فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ , فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: هِيْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ , فَوَاللهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ (٢) وَلَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ , فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ (٣) فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ - صلى الله عليه وسلم -: {خُذْ الْعَفْوَ (٤) وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ (٥) وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (٦)} (٧) وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ , قَالَ: فَوَاللهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ وَكَانَ - رضي الله عنه - وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ. (٨)

ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"عیینہ بن حصن (ایک بدو سردار) آیا اور اپنے بھتیجے حر بن قیس کے پاس ٹھہرا – جو ان لوگوں میں سے تھا جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریب رکھتے تھے۔ اور قاری (علماء) ہی حضرت عمرؓ کی مجلسوں اور مشورے کے ساتھی ہوتے تھے، خواہ وہ ادھیڑ عمر کے ہوں یا جوان۔

عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: 'اے بھتیجے! کیا اس امیر (یعنی عمر) کے ہاں تمہاری کوئی حیثیت ہے؟ تو میرے لیے ان سے ملنے کی اجازت حاصل کرو۔' اس نے کہا: 'میں تمہارے لیے اجازت لے لوں گا۔'

ابن عباسؓ کہتے ہیں: چنانچہ حر نے عیینہ کے لیے اجازت طلب کی، عمرؓ نے اسے اجازت دے دی۔ جب وہ عمرؓ کے پاس داخل ہوا تو اس نے کہا: 'اے ابن خطاب! (سیدھے نام لے کر پکارا) اللہ کی قسم! تم ہمیں نہ تو زیادہ دیتے ہو اور نہ ہی ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہو۔'

یہ سن کر عمرؓ کو اتنا غصہ آیا کہ انہوں نے اسے مارنے کا ارادہ کر لیا۔ تب حر بن قیس نے ان سے کہا: 'اے امیر المومنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} (آسان طریقہ اختیار کرو، بھلائی کا حکم دو، اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو) (سورہ اعراف: 199) اور یہ شخص جاہلوں میں سے ہے۔'

ابن عباسؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جب حر نے یہ آیت پڑھی تو عمرؓ اس سے آگے نہ بڑھے (یعنی غصہ ٹھنڈا پڑ گیا) اور وہ اللہ کی کتاب کے سامنے رک جانے والے تھے۔"

حواشی وحوالہ جات:
(١) الكهل: وہ شخص ہے جس کی عمر تیس سے پچاس سال کے درمیان ہو، اور اس کی عقل اور برداشت مکمل ہو چکی ہو۔

(٢) یعنی بہت زیادہ (مال)۔ (فتح الباری: ج ٢٠ / ص ٣٣٧)

(٣) یعنی اسے مارے۔ (فتح الباری: ج ٢٠ / ص ٣٣٧)

(٤) لَمَّا عَدَّدَ اللهُ تَعَالَى مِنْ أَحْوَال الْمُشْرِكِينَ مَا عَدَّدَهُ وَتَسْفِيه رَأْيِهِمْ وَضَلَال سَعْيِهِمْ أَمَرَ رَسُولَهُ - صلى الله عليه وسلم - بِأَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ، يُقَال: أَخَذْتُ حَقِّي عَفْوًا أَيْ سَهْلًا، وَهَذَا نَوْعٌ مِنَ التَّيْسِيرِ الَّذِي كَانَ يَأْمُرُ بِهِ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - كَمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيح أَنَّهُ كَانَ يَقُول: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا"، وَالْمُرَاد بِالْعَفْوِ هُنَا ضِدّ الْجَهْد، وَالْعَفْوُ التَّسَاهُل فِي كُلّ شَيْء، كَذَا فِي بَعْض التَّفَاسِير.
وَفِي جَامِع الْبَيَان: خُذْ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاس، كَقَبُولِ أَعْذَارِهِمْ وَالْمُسَاهَلَة مَعَهُمْ.
وَفِي تَفْسِير الْخَازِن: الْمَعْنَى: اِقْبَلِ الْمَيْسُورَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاس، وَلَا تَسْتَقْصِ عَلَيْهِمْ فَيَسْتَعْصُوا عَلَيْكَ، فَتَتَوَلَّدُ مِنْهُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ. وَقَالَ مُجَاهِد: يَعْنِي: خُذِ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ وَأَعْمَالِهِمْ مِنْ غَيْرِ تَجَسُّس، وَذَلِكَ مِثْلُ قَبُولِ الِاعْتِذَارِ مِنْهُمْ، وَتَرْكِ الْبَحْثِ عَنِ الْأَشْيَاءِ. 
ترجمہ:
جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالتیں بیان کیں اور ان کی رائے کی کمزوری اور ان کی کوششوں کی گمراہی کو ظاہر کیا، تو اس نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان کے اخلاق سے "عفو" (آسانی) کو اختیار کریں۔ کہا جاتا ہے: "میں نے اپنا حق آسانی سے لے لیا" (یعنی بغیر کسی جھگڑے کے)۔ یہ اس آسانی کی ایک قسم ہے جس کا حکم رسول اللہ ﷺ دیتے تھے، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے: "آسانی کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو، نفرت پیدا نہ کرو"۔ یہاں "عفو" سے مراد "جہد" (مشقت) کے برعکس ہے، اور "عفو" ہر چیز میں نرمی اور آسانی برتنا ہے، جیسا کہ بعض تفاسیر میں ہے۔
"جامع البیان" میں ہے: لوگوں کے اخلاق سے "عفو" کو لو، یعنی ان کے عذر قبول کرو اور ان کے ساتھ نرمی کرو۔
"تفسیر الخازن" میں ہے: معنی یہ ہے کہ لوگوں کے اخلاق میں سے جو آسان ہو اسے قبول کرو، اور ان پر سخت گیری نہ کرو ورنہ وہ تم پر سرکش ہو جائیں گے، جس سے دشمنی اور بغض پیدا ہو گا۔ مجاہد نے کہا: اس کا مطلب لوگوں کے اخلاق اور اعمال میں سے جو ظاہر ہے اسے قبول کرو، بغیر جاسوسی کے، جیسے ان کے عذر قبول کرنا اور چیزوں کی تحقیق نہ کرنا۔ (عون المعبود)

(٥) أي: المعروف من طاعة الله , والإحسان إلى الناس.
ترجمہ: یعنی اللہ کی اطاعت اور لوگوں کے ساتھ احسان کرنا۔

(٦) أَيْ: بالمجاملة , وحسن المعاملة , وترك المقابلة , ولذلك لَمَّا قال عُيينة بن حصن لعمر - رضي الله عنه -: ما تعطي الجزل , ولا تقسم بالعدل , وغضب عمر , قال له الْحُرّ بن قيس: إن الله يقول: {وأعرض عن الجاهلين} , فتركه عمر.
ترجمہ: یعنی نرمی، اچھے اخلاق، اور بدلہ لینے کو چھوڑ دینے سے کنارہ کشی کرو۔ اسی لیے جب عیینہ بن حصن نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: "تم ہمیں زیادہ نہیں دیتے اور نہ انصاف سے تقسیم کرتے ہو" اور عمر غصے میں آ گئے، تو حر بن قیس نے ان سے کہا: اللہ فرماتا ہے: "اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو" تو عمر نے اسے چھوڑ دیا (یعنی معاف کر دیا)۔

(٧) [الأعراف: 199]

(٨) صحیح بخاری: 4366، 6856


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کا علمی مجلس کا اہتمام:
وہ قاریوں (علماء) کو اپنے مشورے میں شامل رکھتے تھے، خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھے۔

عیینہ بن حصن کی بے ادبی:
اس نے امیر المومنین کو نام لے کر پکارا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ زیادہ نہیں دیتے اور انصاف نہیں کرتے۔

حضرت عمرؓ کا غصہ اور ان کا ضبط:
وہ بہت غصہ ہوئے، لیکن جب حر بن قیس نے آیت پڑھی تو فوراً رک گئے۔ یہ ان کی کتاب اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی علامت ہے۔

آیت "خذ العفو" کا مفہوم:
اس کا مطلب لوگوں کے ساتھ نرمی، ان کے عذر قبول کرنا، آسانی برتنا، اور جاہلوں سے جوابی کارروائی نہ کرنا ہے۔

جاہلوں سے درگزر کرنا:
حدیث میں آیت کے ذریعے یہ سبق دیا گیا کہ جاہل لوگوں کی حرکتوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے، خاص طور پر جب وہ بے ادبی کریں۔

حکمران کا انصاف اور غصے پر قابو:
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایک حاکم کو چاہیے کہ وہ غصے کے باوجود قرآن کی ہدایت پر عمل کرے اور جاہلوں سے درگزر کرے۔

نصیحت کا صحیح طریقہ:
حر بن قیس نے بروقت اور نرمی سے آیت پڑھ کر عمر کو سمجھایا، نہ کہ سخت الفاظ میں۔

قرآن کی عظمت اور اس کا اثر:
عمر رضی اللہ عنہ قرآن کے سامنے فوراً جھک گئے۔ یہ صحابہ کے قرآن سے تعلق اور اس کی تعظیم کو ظاہر کرتا ہے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ , وَقَدْ رَقَعَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِرِقَاعٍ ثَلَاثٍ , لَبَّدَ بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ.
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا – اس وقت وہ مدینہ کے امیر (خلیفہ) تھے – انہوں نے اپنی دونوں کندھوں کے درمیان (کپڑے پر) تین پیوند لگا رکھے تھے، جنہیں انہوں نے ایک دوسرے کے اوپر چڑھا رکھا تھا (یعنی ایک کے اوپر ایک پیوند لگا کر موٹا کر لیا تھا)۔"

[المعجم الكبير الطبرانی:1638، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:2082، 3299]


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمر کا سادگی اور قناعت پسندی:
خلیفہ وقت ہونے کے باوجود انہوں نے پرانے کپڑے پر پیوند لگا کر پہنا، اور وہ بھی تین پیوند۔ یہ ان کی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔

بے تکلفی اور عاجزی:
انہوں نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھا کر نئے کپڑے نہیں مانگے، بلکہ مرمت شدہ کپڑے پہنے۔

مسلمانوں کے لیے نمونہ:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ عیش و عشرت سے بچے، اور قناعت اختیار کرے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث طبرانی میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






متن (عربی):
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ , يُطْرَحُ لَهُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ , فَيَأْكُلُهُ , حَتَّى يَأْكُلَ حَشَفَهَا.
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا – اس وقت وہ امیر المومنین تھے – ان کے لیے ایک صاع (تقریباً 2.5 کلو) کھجوریں ڈالی جاتی تھیں، اور وہ اسے کھاتے، یہاں تک کہ اس کی خراب (بدمزہ) کھجوریں بھی کھا لیتے تھے۔"

[المعجم الكبير الطبرانی، حدیث نمبر 1668، اور اس کی سند صحیح ہے۔]

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
حضرت عمرؓ کا تواضع اور قناعت:
خلیفہ وقت ہونے کے باوجود وہ معمولی کھجوریں کھاتے تھے اور ان میں سے خراب کھجوریں بھی پھینکتے نہیں تھے۔

بیت المال کی حفاظت اور اسراف سے بچنا:
وہ اپنے لیے بیت المال سے کم سے کم لیتے تھے اور اسے ضائع نہیں ہونے دیتے تھے۔

صبر و شکر کی خوبی:
وہ تھوڑے پر بھی راضی تھے اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔

حدیث کی صحت:
یہ حدیث طبرانی میں ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان:
فتنوں کے بارے میں حدیث اور حضرت عمر کا علم

متنِ حدیث:
 عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ - رضي الله عنه - قَالَ: (كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ - رضي الله عنه -) (١) (فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْفِتْنَةِ (٢)؟ , فَقُلْتُ: أَنَا أَحْفَظُهُ) (٣) (قَالَ: فَهَاتِ , إِنَّكَ لَجَرِيءٌ (٤)) (٥) (فَقُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ (٦) عُودًا عُودًا (٧) كَالْحَصِيرِ (٨) فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا (٩) نُكِتَ (١٠) فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ , وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا (١١) نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ , حَتَّى يَصِيرَ الْقَلْبُ عَلَى قَلْبَيْنِ: عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا (١٢) لَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ , وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا (١٣) كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا (١٤) - وَأَمَالَ كَفَّهُ - لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا , وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا , إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ ") (١٥) (فَقَالَ عُمَرُ: لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ) (١٦) (وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ؟ , قَالُوا: أَجَلْ , قَالَ: تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ , وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ (١٧) لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ , إِنَّمَا أُرِيدُ الْفِتْنَةَ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ (١٨)) (١٩) (فَقُلْتُ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا (٢٠) فَقَالَ عُمَرُ: أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ؟) (٢١) (فَقُلْتُ: لَا , بَلْ يُكْسَرُ , قَالَ: فَإِنَّهُ إِذَا كُسِرَ لَمْ يُغْلَقَ أَبَدًا , فَقُلْتُ: أَجَلْ) (٢٢) (قَالَ أَبُو وَائِلٍ: فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ؟ , قَالَ: نَعَمْ , كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ , إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ (٢٣) قَالَ أَبُو وَائِلٍ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ عَنْ الْبَابِ , فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ (٢٤): سَلْهُ , فَسَأَلَهُ فَقَالَ: الْبَابُ عُمَرُ (٢٥)) (٢٦).

ترجمہ
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

(١) ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ (٢) انہوں نے پوچھا: تم میں سے کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث (فتنوں کے بارے میں) حفظ کرتا ہے؟ (٣) میں نے کہا: میں اسے حفظ کرتا ہوں۔ (٤) انہوں نے کہا: تو بیان کرو، بے شک تم بڑے دلیر ہو۔ (٥)

میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: (٦) "فتنے دلوں پر اس طرح پیش کی جائیں گی (٧) بار بار، ایک کے بعد ایک، (٨) جیسے چٹائی بُنی جاتی ہے (تار تار کر کے)۔ (٩) جس دل نے انہیں خوب پی لیا (اندر اتر لیا) (١٠) اس میں ایک سیاہ داغ ڈال دیا جاتا ہے، اور جس دل نے ان کا انکار کیا (١١) اس میں ایک سفید داغ ڈال دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جاتے ہیں: (١٢) ایک دل بالکل سفید ہو جاتا ہے جیسے چکنی چٹان، اسے کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، اور دوسرا دل سیاہ اور گرد آلود ہو جاتا ہے (١٣) جیسے الٹا ہوا برتن (١٤) – اور انہوں نے اپنا ہاتھ جھکا کر دکھایا – جو نہ کسی بھلائی کو پہچانتا ہے اور نہ کسی برائی کا انکار کرتا ہے، سوائے اس کے جو اس کی خواہش میں ڈال دی گئی ہو۔" (١٥)

(١٦) اس پر حضرت عمر نے کہا: کیا تم لوگ اس فتنہ سے مراد آدمی کا اپنے گھر والوں، (١٧) مال، اولاد اور پڑوسی میں (فتنہ) لیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (١٧) عمر نے کہا: اس (فتنہ) کو نماز، روزہ، صدقہ، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ختم کر دیتے ہیں (یہ اس کا کفارہ ہیں)۔ (١٨) یہ وہ نہیں ہے جسے میں جاننا چاہتا ہوں، بلکہ میں اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح بپھرے گا۔ (١٩)

میں نے (حذیفہ نے) کہا: اے امیر المومنین! آپ کو اس فتنہ سے کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ آپ اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ (٢٠) عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ (٢١) میں نے کہا: نہیں، بلکہ توڑا جائے گا۔ (٢٢) عمر نے کہا: پھر تو جب وہ ٹوٹ جائے گا، کبھی بند نہیں ہو گا۔ میں نے کہا: ہاں۔

(٢٣) ابو وائل (راوی) کہتے ہیں: ہم نے حذیفہ سے پوچھا: کیا عمر اس دروازے کو جانتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، جیسا کہ کل سے پہلے رات کا ہونا یقینی ہے، میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو کوئی جھوٹی نہیں ہے (بلکہ سچی ہے)۔ (٢٤) ابو وائل کہتے ہیں: ہم حذیفہ سے دروازے کے بارے میں پوچھنے سے ڈرتے تھے، تو ہم نے مسروق (٢٥) سے کہا: تم ان سے پوچھو۔ چنانچہ مسروق نے پوچھا تو انہوں نے کہا: (٢٦) وہ دروازہ خود عمر ہیں۔"

[صحیح بخاری: 502, 1368, 3393; صحیح مسلم: 144; مسند احمد: 23328]

حواشی وحوالہ جات:
(١)  صحیح بخاری (حدیث نمبر 502)۔

(٢) مَعْنَى الْفِتْنَةِ فِي الْأَصْلِ: الِاخْتِبَارُ وَالِامْتِحَان، ثُمَّ اِسْتُعْمِلَتْ فِي كُلِّ أَمْرٍ يَكْشِفُهُ الِامْتِحَانُ عَنْ سُوء , وَتُطْلَقُ عَلَى الْكُفْرِ، وَالْغُلُوِّ فِي التَّأوِيلِ الْبَعِيدِ، وَعَلَى الْفَضِيحَةِ , وَالْبَلِيَّة , وَالْعَذَابِ , وَالْقِتَالِ, وَالتَّحَوُّلِ مِنْ الْحَسَنِ إِلَى الْقَبِيحِ , وَالْمَيْلِ إِلَى الشَّيْءِ وَالْإِعْجَابِ بِهِ، وَتَكُونُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرّ , كَقَوْلِهِ تَعَالَى {وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْر فِتْنَة}.
ترجمہ:
"فتنہ" کے اصل معنی آزمائش اور امتحان کے ہیں۔ پھر یہ ہر اس چیز کے لیے استعمال ہونے لگا جسے امتحان برائی سے ظاہر کر دے۔ یہ لفظ کفر، تاویل میں غلو، رسوائی، مصیبت، عذاب، جنگ، اچھائی سے برائی میں تبدیلی، کسی چیز کی طرف میلان اور اس پر فخر کرنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ یہ خیر اور شر دونوں میں آتا ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: {اور ہم تمہیں شر اور خیر سے آزمائیں گے} (الانبیاء: 35)۔
(فتح الباری، جلد 2، صفحہ 291)

(٣) صحیح بخاری: 1368۔

(٤) أَيْ: شَجِيعٌ عَلَى حِفْظِه , قَوِيٌّ عَلَيْهِ.
ترجمہ:
یعنی تم اسے بیان کرنے میں بہادر اور قوی ہو۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(٥) صحیح بخاری: 3393۔

(٦) أَيْ: أَنَّهَا تُلْصَقُ بِعَرْضِ الْقُلُوب , أَيْ: جَانِبِهَا.
ترجمہ:
یعنی فتنے دلوں کے پہلو (عرض) پر چپکائے جائیں گے۔
(النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(٧) أَيْ: تُعَادُ وَتُكَرَّرُ شَيْئًا بَعْدَ شَيْءٍ.
ترجمہ:
یعنی بار بار لائے جائیں گے، ایک کے بعد ایک۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(٨) أَيْ: كَمَا يُنْسَجُ الْحَصِيرُ عُودًا عُودًا , وَشَظِيَّةً بَعْد أُخْرَى , وَذَلِكَ أَنَّ نَاسِجَ الْحَصِيرِ عِنْدَ الْعَرَبِ كُلَّمَا صَنَعَ عُودًا , أَخَذَ آخَرَ وَنَسَجَهُ , فَشَبَّهَ عَرْضَ الْفِتَنِ عَلَى الْقُلُوبِ وَاحِدَةً بَعْد أُخْرَى بِعَرْضِ قُضْبَانِ الْحَصِيرِ عَلَى صَانِعِهَا وَاحِدًا بَعْدَ وَاحِد.
ترجمہ:
جیسے چٹائی بُنی جاتی ہے تار در تار، اور ایک تار کے بعد دوسرا تار ڈالا جاتا ہے۔ عربوں میں چٹائی بنانے والا جب ایک تار بُن لیتا تو دوسرا لے کر بُن دیتا۔ اسی طرح فتنوں کو دلوں پر ایک کے بعد ایک پیش کیا جائے گا۔
(النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(٩) أَيْ: دَخَلَتْ فِيهِ دُخُولًا تَامًّا وَأُلْزِمَهَا , وَحَلَّتْ مِنْهُ مَحَلَّ الشَّرَاب , وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبهمْ الْعِجْل} أَيْ: حُبَّ الْعِجْل، وَمِنْهُ قَوْلُهُمْ: ثَوْبٌ مُشْرَبٌ بِحُمْرَةٍ: أَيْ خَالَطَتْهُ الْحُمْرَةُ مُخَالَطَةً لَا اِنْفِكَاكَ لَهَا.
ترجمہ:
یعنی فتنہ اس میں اس طرح داخل ہو گیا جیسے پانی اندر اتر جائے، اور اس سے لازمی طور پر مل گیا۔ اسی سے ہے اللہ کا فرمان: {اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت پیلا دی گئی} (البقرہ: 93)۔ اور کہا جاتا ہے: "سرخی ملا ہوا کپڑا" یعنی ایسی سرخی جو الگ نہ ہو سکے۔
(النووی، جلد 1، صفحہ 268)

قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمْ الْعِجْلَ} أَيْ: أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمْ حُبَّ الْعِجْلِ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْعِجْلَ أُحْرِقَ ثُمَّ ذُرِّيَ فِي الْمَاءِ فَشَرِبُوهُ , فَلَمْ يَعْرِفْ كَلَامِ الْعَرَبِ، لِأَنَّهَا لَا تَقُولُ فِي الْمَاءِ: أُشْرِبَ فُلَانٌ فِي قَلْبِهِ.
ترجمہ:
ابو عبیدہ نے کہا: آیت {وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمْ الْعِجْلَ} کے معنی ہیں: ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت پیلا دی گئی۔ اور جس نے کہا کہ بچھڑے کو جلا کر پانی میں ملا کر انہیں پلایا گیا، اس نے عربوں کی زبان نہیں سمجھی، کیونکہ وہ پانی کے بارے میں "دل میں پلایا گیا" نہیں کہتے۔
(فتح الباری، جلد 10، صفحہ 192)

(١٠) أَيْ: نُقِطَ نُقْطَة , قَالَ: اِبْن دُرَيْدٍ: كُلُّ نُقْطَةٍ فِي شَيْءٍ بِخِلَافِ لَوْنِهِ , فَهُوَ نَكْت.
ترجمہ:
یعنی اس میں ایک نقطہ لگایا جاتا ہے۔ ابن درید نے کہا: کسی چیز میں اس کے رنگ کے خلاف ہر نقطہ "نکت" کہلاتا ہے۔
(النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(١١) یعنی اس نے فتنے کو رد کیا۔

(١٢) الصَّفَا: وہ چکنی چٹان ہے جس پر کچھ نہیں چپکتا۔

(١٣) الرُّبْدَة: لَوْن أَكْدَر , وَمِنْهُ (اِرْبَدَّ لَوْنُه) إِذَا تَغَيَّرَ وَدَخَلَهُ سَوَاد.
ترجمہ:
"ربدہ" ایک مٹیالا رنگ ہے، اسی سے "اربد لونہ" کہا جاتا ہے جب اس کا رنگ بدل کر سیاہی مائل ہو جائے۔
(النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(١٤) أَيْ: مَائِلًا , قَالَ ابْن سَرَّاج: لَيْسَ قَوْلُهُ كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا تَشْبِيهًا لِمَا تَقَدَّمَ مِنْ سَوَادِه , بَلْ هُوَ وَصْفٌ آخَرُ مِنْ أَوْصَافِهِ , بِأَنَّهُ قُلِبَ وَنُكِّسَ حَتَّى لَا يَعْلَقَ بِهِ خَيْرٌ وَلَا حِكْمَة.
ترجمہ:
یعنی جھکا ہوا، الٹا ہوا۔ ابن سراج نے کہا: "الٹے ہوئے برتن کی طرح" سے مراد اس کی سیاہی کی تشبیہ نہیں، بلکہ اس کی ایک اور صفت ہے کہ وہ الٹ دیا گیا ہے، اس لیے اس میں کوئی بھلائی اور حکمت نہیں ٹھہرتی۔
(النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(١٥) صحیح مسلم: 144۔

(١٦) مسند احمد: 23328، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔

(١٧) قَالَ بَعْض الشُّرَّاح: يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْ الصَّلَاةِ وَمَا مَعَهَا مُكَفِّرَةٌ لِلْمَذْكُورَاتِ كُلِّهَا , لَا لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا، وَأَنْ يَكُونَ مِنْ بَابِ اللَّفِّ وَالنَّشْر , بِأَنَّ الصَّلَاةَ مَثَلًا مُكَفِّرَةٌ لِلْفِتْنَةِ فِي الْأَهْل , وَالصَّوْمُ فِي الْوَلَدِ , إِلَخْ. وَالْمُرَاد بِالْفِتْنَةِ: مَا يَعْرِضُ لِلْإِنْسَانِ مَعَ مَنْ ذُكِرَ مِنْ الْبَشَر؛ أَوْ الِالْتِهَاءِ بِهِمْ , أَوْ أَنْ يَأتِيَ لِأَجْلِهِمْ بِمَا لَا يَحِلُّ لَهُ , أَوْ يُخِلَّ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِ.
ترجمہ:
بعض شارحین نے کہا: ممکن ہے کہ نماز اور اس کے ساتھ والی عبادات میں سے ہر ایک مذکورہ تمام فتنوں کا کفارہ ہو، نہ کہ صرف ایک کا۔ اور یہ "لف و نشر" کے باب سے ہو کہ مثلاً نماز گھر والوں کے فتنے کا کفارہ ہے، روزہ اولاد کے فتنے کا، وغیرہ۔ فتنہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان کو ان لوگوں کے ساتھ پیش آتی ہیں، یا ان میں مشغول ہونا، یا ان کی خاطر ناجائز کام کرنا، یا واجبات میں کمی کرنا۔

وَاسْتَشْكَلَ اِبْنُ أَبِي جمْرَةَ وُقُوعَ التَّكْفِيرِ بِالْمَذْكُورَاتِ لِلْوُقُوعِ فِي الْمُحَرَّمَات وَالْإِخْلَالِ بِالْوَاجِبِ؛ لِأَنَّ الطَّاعَاتِ لَا تُسْقِطُ ذَلِكَ.
ابن ابی جمرہ نے اس پر اشکال کیا کہ مذکورہ عبادات حرام کاموں اور واجبات کی کمی کے کفارہ کیسے ہو سکتی ہیں، کیونکہ طاعات (نیکیاں) انہیں ساقط نہیں کرتیں۔

وَالْجَوَاب: اِلْتِزَام الْأَوَّل , وَأَنَّ الْمُمْتَنِعَ مِنْ تَكْفِیرِ الْحَرَامِ وَالْوَاجِبِ مَا كَانَ كَبِيرَةً فَهِيَ الَّتِي فِيهَا النِّزَاع، وَأَمَّا الصَّغَائِرُ فَلَا نِزَاعَ أَنَّهَا تُكَفَّرُ , لِقَوْلِهِ تَعَالَى {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِر مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّر عَنْكُمْ سَيِّئَاتكُمْ}.
جواب: پہلی بات کو مان لیا جائے، اور حرام اور واجب میں سے جو کبیرہ ہوں ان کا کفارہ ہونا ممنوع ہے، یہی وہ جگہ ہے جہاں اختلاف ہے۔ رہے صغیرہ گناہ، تو ان کے کفارہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: {اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہاری چھوٹی خطائیں معاف کر دیں گے} (النساء: 31)۔

وَقَالَ الزَّيْنُ بْن الْمُنِير: الْفِتْنَةُ بِالْأَهْلِ تَقَعُ بِالْمَيْلِ إِلَيْهِنَّ أَوْ عَلَيْهِنَّ فِي الْقِسْمَةِ وَالْإِيثَارِ حَتَّى فِي أَوْلَادِهِنَّ، وَمِنْ جِهَةِ التَّفْرِيطِ فِي الْحُقُوقِ الْوَاجِبَةِ لَهُنَّ، وَبِالْمَالِ يَقَعُ الِاشْتِغَالُ بِهِ عَنْ الْعِبَادَة , أَوْ بِحَبْسِهِ عَنْ إِخْرَاجِ حَقِّ الله، وَالْفِتْنَةُ بِالْأَوْلَادِ تَقَعُ بِالْمَيْلِ الطَّبِيعِيّ إِلَى الْوَلَدِ , وَإِيثَارِهِ عَلَى كُلِّ أَحَد، وَالْفِتْنَةُ بِالْجَارِ تَقَعُ بِالْحَسَدِ وَالْمُفَاخَرَةِ , وَالْمُزَاحَمَةِ فِي الْحُقُوقِ , وَإِهْمَالِ التَّعَاهُد، ثُمَّ قَالَ: وَأَسْبَابُ الْفِتْنَةِ بِمَنْ ذُكِرَ غَيْرُ مُنْحَصِرَةٍ فِيمَا ذَكَرْتُ مِنْ الْأَمْثِلَة، وَأَمَّا تَخْصِيصُ الصَّلَاةِ وَمَا ذُكِرَ مَعَهَا بِالتَّكْفِيرِ دُونَ سَائِرِ الْعِبَادَات, فَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى تَعْظِيمِ قَدْرِهَا, لَا نَفْيُ أَنَّ غَيْرَهَا مِنْ الْحَسَنَاتِ لَيْسَ فِيهَا صَلَاحِيَّةُ التَّكْفِير، ثُمَّ إِنَّ التَّكْفِيرَ الْمَذْكُورَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَقَعَ بِنَفْسِ فِعْلِ الْحَسَنَاتِ الْمَذْكُورَة، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَقَعَ بِالْمُوَازَنَةِ، وَالْأَوَّلُ أَظْهَر.
ترجمہ:
زین بن منیر نے کہا: گھر والوں کا فتنہ ان کی طرف میلان، یا تقسیم اور ترجیح میں ان پر زیادتی، یہاں تک کہ ان کی اولاد میں بھی، اور ان کے واجب حقوق میں کوتاہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مال کا فتنہ اس میں مشغول ہو کر عبادت سے غافل ہونا، یا اللہ کا حق ادا نہ کرنا ہے۔ اولاد کا فتنہ فطری طور پر اس کی طرف میلان اور اسے سب پر ترجیح دینا ہے۔ پڑوسی کا فتنہ حسد، فخر، حقوق میں دھکم پیل، اور اس کی خبر گیری نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ پھر کہا: ان مذکورہ لوگوں کے ساتھ فتنے کے اسباب صرف ان مثالوں تک محدود نہیں۔ رہا نماز اور اس کے ساتھ مذکور عبادات کا خاص طور پر کفارہ ہونا، تو یہ ان کی عظمت کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ اس بات کی نفی کہ دوسری نیکیوں میں کفارہ کی صلاحیت نہیں۔ پھر یہ کفارہ خود ان نیکیوں کے کرنے سے ہوتا ہے یا توازن (میزان) سے، پہلا زیادہ ظاہر ہے۔

وَقَالَ اِبْن أَبِي جَمْرَة: خُصَّ الرَّجُلُ بِالذِّكْرِ لِأَنَّهُ فِي الْغَالِب صَاحِبُ الْحُكْمِ فِي دَارِهِ وَأَهْلِه، وَإِلَّا فَالنِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ فِي الْحُكْم , ثُمَّ أَشَارَ إِلَى أَنَّ التَّكْفِيرِ لَا يَخْتَصُّ بِالْأَرْبَعِ الْمَذْكُورَات، بَلْ نَبَّهَ بِهَا عَلَى مَا عَدَاهَا، وَالضَّابِطُ أَنَّ كُلَّ مَا يَشْغُلُ صَاحِبَهُ عَنْ اللهِ , فَهُوَ فِتْنَة لَهُ، وَكَذَلِكَ الْمُكَفِّرَات , لَا تَخْتَصُّ بِمَا ذُكِرَ , بَلْ نَبَّهَ بِهِ عَلَى مَا عَدَاهَا، فَذَكَرَ مِنْ عِبَادَةِ الْأَفْعَالِ: الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَمِنْ عِبَادَةِ الْمَالِ: الصَّدَقَةَ، وَمِنْ عِبَادَةِ الْأَقْوَالِ: الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ.
ترجمہ:
ابن ابی جمرہ نے کہا: حدیث میں خاص طور پر "مرد" کا ذکر اس لیے ہے کہ وہ عام طور پر اپنے گھر اور اہل و عیال کا حاکم ہوتا ہے، ورنہ عورتیں بھی مردوں کے ساتھ حکم میں شریک ہیں (یعنی ان پر بھی یہی حکم ہے)۔ پھر انہوں نے اشارہ کیا کہ کفارہ صرف ان چار مذکورہ چیزوں تک محدود نہیں، بلکہ ان سے دوسری چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ سے غافل کر دے وہ اس کے لیے فتنہ ہے، اور اسی طرح کفارہ دینے والی چیزیں بھی صرف انہی تک محدود نہیں۔ انہوں نے اعمال میں سے نماز اور روزے کا ذکر کیا، مال کی عبادت میں سے صدقہ کا، اور اقوال کی عبادت میں سے امر بالمعروف کا ذکر کیا۔
(فتح الباری، جلد 10، صفحہ 391)

(١٨) كَنَّى بِذَلِكَ عَنْ شِدَّةِ الْمُخَاصَمَةِ , وَكَثْرَة الْمُنَازَعَة , وَمَا يَنْشَأُ عَنْ ذَلِكَ مِنْ الْمُشَاتَمَةِ وَالْمُقَاتَلَة.
ترجمہ:
اس سے شدید جھگڑے، بہت سے تنازعات، اور ان سے پیدا ہونے والی گالی گلوچ اور لڑائی کی طرف کنایہ کیا گیا ہے۔
(فتح الباری، جلد 10، صفحہ 391)
وانظر إلى حرص أمير المؤمنين على معرفة أوقات الفتن وكيفياتها , ففيه دليل على استحباب معرفة كيفية ظهور الفتن وعلاماتها , حتى يكون المؤمن على بيِّنة من أمرِه , خصوصا في زمان كزماننا هذا , حيث كَثُرت فيه الفتن والشبهات. ع
دیکھو امیر المومنین کا فتنوں کے اوقات اور ان کے طریقوں کو جاننے کا کتنا شوق تھا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ فتنوں کے ظہور کے طریقوں اور ان کی علامات کو جاننا مستحب ہے، تاکہ مومن اپنے معاملے میں واضح بصیرت رکھے، خاص طور پر ایسے زمانے میں جیسا کہ ہمارا زمانہ ہے، جہاں فتنے اور شبہات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ (ع)

(١٩) صحیح مسلم: 144۔

(٢٠) أَيْ: أَنَّ تِلْكَ الْفِتَنَ لَا يَخْرُجُ شَيْءٌ مِنْهَا فِي حَيَاتِك.
ترجمہ:
یعنی یہ فتنے آپ کی زندگی میں سے کوئی بھی ظاہر نہیں ہوگا۔ (النووی، جلد 1، صفحہ 268)

(٢١) صحیح بخاری: 502۔

(٢٢) صحیح بخاری: 1368۔

(٢٣) أَيْ: حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا صِدْقًا مُحَقَّقًا مِنْ حَدِيثِ النَّبِيّ - صلى الله عليه وسلم - لَا عَنْ اِجْتِهَادٍ وَلَا رَأي.
ترجمہ:
یعنی میں نے انہیں نبی ﷺ کی وہ سچی اور یقینی حدیث سنائی جو نہ کسی اجتہاد پر مبنی ہے اور نہ رائے پر۔ (فتح الباری، جلد 10، صفحہ 391)

(٢٤) هُوَ اِبْنُ الْأَجْدَعِ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ , وَكَانَ مِنْ أَخِصَّاءِ أَصْحَابِ اِبْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ وَغَيْرِهِمَا مِنْ كِبَارِ الصَّحَابَةِ.
ترجمہ: مسروق بن اجدع تابعین میں سے ہیں، اور وہ ابن مسعود، حذیفہ اور دوسرے بڑے صحابہ کے خاص معتقدوں میں سے تھے۔

(٢٥) أي أن الحائل بين الناس والفتن , عمر - رضي الله عنه - فهو الباب , فما دام حيًّا لا تدخل منه الفتن , فإذا مات دخلت , وهذا الذي حدث. ع
ترجمہ:
یعنی لوگوں اور فتنوں کے درمیان رکاوٹ خود عمر ہیں، وہی وہ دروازہ ہیں۔ جب تک وہ زندہ ہیں، فتنے اس دروازے سے داخل نہیں ہوں گے، جب وہ مر جائیں گے تو داخل ہو جائیں گے، اور ایسا ہی ہوا۔ (ع)

(٢٦) صحیح بخاری: 502۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
فتنہ کی حقیقت اور اقسام:
فتنہ آزمائش، کفر، گمراہی، بلا، عذاب، اور جنگ سب کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث بڑے فتنوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو امت میں بعد میں آئیں گے۔

دلوں پر فتنوں کا اثر:
جب کوئی فتنہ پیش آتا ہے تو دل اسے قبول یا رد کرتا ہے۔ قبول کرنے والے پر سیاہ داغ پڑتا ہے اور رد کرنے والے پر سفید داغ۔
دو قسم کے دل:
سفید دل: جو فتنوں سے محفوظ رہتا ہے، وہ نیکی کو پہچانتا ہے اور برائی سے بچتا ہے۔
سیاہ دل: جو فتنوں میں غرق ہو جاتا ہے، نہ نیکی کو پہچانتا ہے اور نہ برائی کا انکار کرتا ہے، صرف اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔

چھوٹے فتنوں کا کفارہ:
گھر، مال، اولاد اور پڑوسی کے فتنوں کو نماز، روزہ، صدقہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ختم کر دیتے ہیں (یہ ان کا کفارہ ہیں)۔

بڑے فتنوں سے خبردار کرنا:
حضرت عمرؓ وہ بڑے فتنے جاننا چاہتے تھے جو سمندر کی موجوں کی طرح اٹھیں گے (یعنی جنگلی فتنے، جیسے جمل، صفین، وغیرہ)۔

حضرت عمرؓ کے بارے میں پیشگوئی:
نبی ﷺ نے بتایا کہ عمر وہ "دروازہ" ہیں جو فتنوں کو روکے ہوئے ہے۔ جب وہ مر جائیں گے تو دروازہ ٹوٹ جائے گا اور فتنے امت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔

حدیث کی صحت اور اہمیت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک انتہائی صحیح ہے۔

واللہ اعلم بالصواب







عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ:
(كُنْتُ أُقْرِئُ رِجَالًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رضي الله عنه - فَبَيْنَمَا أَنَا فِي مَنْزِلِهِ بِمِنًى - وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا (١) - إِذْ رَجَعَ إِلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: لَوْ رَأَيْتَ رَجُلًا أَتَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْيَوْمَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ لَكَ فِي فُلَانٍ؟، يَقُولُ: لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ، لَقَدْ بَايَعْتُ فُلَانًا (٢) فَوَاللهِ مَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا فَلْتَةً (٣) فَتَمَّتْ، فَغَضِبَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي إِنْ شَاءَ اللهُ لَقَائِمٌ الْعَشِيَّةَ فِي النَّاسِ، فَمُحَذِّرُهُمْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أُمُورَهُمْ (٤) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَاءَهُمْ (٥) فَإِنَّهُمْ هُمْ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَى قُرْبِكَ حِينَ تَقُومُ فِي النَّاسِ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَقُومَ فَتَقُولَ مَقَالَةً، يُطَيِّرُهَا عَنْكَ كُلُّ مُطَيِّرٍ (٦) وَأَنْ لَا يَعُوهَا، وَأَنْ لَا يَضَعُوهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا (٧) فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ، فَتَخْلُصَ بِأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ، فَتَقُولَ مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنًا، فَيَعِي أَهْلُ الْعِلْمِ مَقَالَتَكَ وَيَضَعُونَهَا عَلَى مَوَاضِعِهَا، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَأَقُومَنَّ بِذَلِكَ أَوَّلَ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ) (٨)

(فَلَمَّا صَدَرَ عُمَرُ مِنْ مِنًى، أَنَاخَ بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ كَوَّمَ كَوْمَةَ بَطْحَاءَ، ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهَا رِدَاءَهُ وَاسْتَلْقَى، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ كَبِرَتْ سِنِّي، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي، وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ) (٩)

(حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ، فَأَخْبَرْتُهُ) (١٠) (فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا) (١١) (فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ) (١٢)

(قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي عُقْبِ ذِي الْحَجَّةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ، فَوَجَدْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ - رضي الله عنه - جَالِسًا إِلَى رُكْنِ الْمِنْبَرِ، فَجَلَسْتُ حَوْلَهُ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مُقْبِلًا قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ: لَيَقُولَنَّ الْعَشِيَّةَ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ، فَأَنْكَرَ عَلَيَّ وَقَالَ: مَا عَسَيْتَ أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْ قَبْلَهُ (١٣)؟، فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ، قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً، قَدْ قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا، فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَمَنْ خَشِيَ أَنْ لَا يَعْقِلَهَا، فَلَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ) (١٤)

(إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي) (١٥) (فَقَصَصْتُهَا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ - رضي الله عنهما - فَقَالَتْ: يَقْتُلُكَ رَجُلٌ مِنْ الْعَجَمِ) (١٦)

(وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ - صلى الله عليه وسلم - فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ (١٧) الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ) (١٨) (فَمَنْ بَايَعْتُمْ مِنْهُمْ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا) (١٩)

(ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ، أَنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ، وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ - صلى الله عليه وسلم - وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ، وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ) (٢٠)

(قَالَ: فَخَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأُصِيبَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ) (٢١) (لِأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ) (٢٢).

ترجمہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
میں مہاجرین میں سے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتا تھا، جن میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک بار میں منیٰ میں ان کے گھر تھا (اور وہ اس وقت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جو اپنی آخری حج کر رہے تھے)۔ (١) اتنے میں عبدالرحمن واپس آئے اور کہنے لگے: کاش تم آج اس شخص کو دیکھتے جو امیر المومنین (عمر) کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین! فلاں (طلحہ) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ اگر عمر مر گئے تو میں فلاں (طلحہ) کی بیعت کر لوں گا۔(٢) اللہ کی قسم! ابوبکر کی بیعت تو محض ایک ناگہانی (فَلْتَۃ) تھی (٣) جو پھر مکمل ہو گئی۔

یہ سن کر عمر غصے میں آ گئے اور فرمایا: ان شاء اللہ میں آج شام لوگوں میں کھڑا ہو کر ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو مسلمانوں کے معاملات چھیننا چاہتے ہیں۔(٤)

عبدالرحمن نے کہا: امیر المومنین! ایسا نہ کریں، کیونکہ یہ حج کا موقع ہے جس پر لوگوں کا رذیل اور جاہل طبقہ بھی جمع ہوتا ہے، (٥) اور وہی آپ کے قریب بیٹھتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ آپ کوئی ایسی بات کہہ دیں گے جسے ہر سننے والا (٦) اپنی طرف سے پھیلا دے گا، اور وہ اسے سمجھے بغیر، اسے اس کے صحیح مقام پر نہ رکھیں گے۔ (٧) اس لیے آپ ٹھہر جائیں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جائیں، کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مرکز ہے۔ وہاں آپ صرف اہل فقہ اور معزز لوگوں کے سامنے آ جائیں گے، تو آپ اپنی بات پوری طرح کہہ سکیں گے، اور اہل علم اسے سمجھیں گے اور ٹھیک جگہ رکھیں گے۔

عمر نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان شاء اللہ میں سب سے پہلے مدینہ میں اسی بات کو بیان کروں گا۔ (٨)

جب عمر منیٰ سے واپس ہوئے تو ابطح میں اونٹ بٹھایا، پھر کنکریوں کا ایک ڈھیر لگایا، اس پر اپنی چادر ڈالی اور لیٹ گئے، پھر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگی:
"اے اللہ! میری عمر بڑھ گئی، میری طاقت کمزور ہو گئی، اور میری رعیت پھیل گئی ہے (بہت زیادہ ہو گئی ہے)، تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے، نہ تو میں (انہیں) ضائع کرنے والا ہوں اور نہ ہی کوتاہی کرنے والا۔" (٩)

جب ہم بیداء (مقام) پر پہنچے تو وہاں ایک قافلہ ببول کے درخت کے سائے میں تھا۔ عمر نے کہا: جا دیکھ یہ قافلہ کس کا ہے؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب تھے۔ میں نے خبر دی۔ (١٠) عمر نے کہا: اسے کہو کہ ہمارے ساتھ آ جائے۔ (١١) میں صہیب کے پاس گیا اور کہا: اپنی سواری تیار کرو اور امیر المومنین سے جا ملو۔ (١٢)

ابن عباس کہتے ہیں: پھر ہم ذی الحجہ کے آخر میں مدینہ پہنچے۔ جب جمعہ کا دن آیا تو میں نے سورج ڈھلتے ہی جلدی روانگی کی۔ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو منبر کے کونے پر بیٹھا پایا۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا یہاں تک کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے لگ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد عمر بن خطاب تشریف لائے۔ جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو میں نے سعید بن زید سے کہا: آج شام امیر المومنین ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد کبھی نہیں کہی۔ سعید نے اس پر انکار کیا اور کہا: وہ ایسی کون سی بات کر سکتے ہیں جو انہوں نے پہلے نہیں کہی؟ (١٣)

پھر عمر منبر پر تشریف لے آئے۔ جب مؤذن خاموش ہو گئے تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
"اما بعد! میں تمہیں ایک بات بتانے والا ہوں جو مجھے کہنے کے لیے مقدر کی گئی ہے۔ جو اسے سمجھے اور یاد رکھے وہ جہاں بھی جائے اسے بیان کرے، اور جو سمجھنے سے ڈرے تو میں کسی کے لیے یہ حلال نہیں کرتا کہ وہ مجھ پر جھوٹ باندھے۔ (١٤)

میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک سرخ مرغ (دیکا) نے مجھے تین بار چونگ ماری، اور میں اسے اپنی موت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔ (١٥)

(ابن عباس کہتے ہیں:) میں نے یہ خواب ابو بکر کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو سنایا تو انہوں نے کہا: "آپ کو ایک عجمی (غیر عرب) شخص قتل کرے گا۔" (١٦)

(عمر نے خطبہ میں مزید کہا:)
"کچھ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں (اپنے بعد) خلیفہ مقرر کر دوں، حالانکہ اللہ اپنے دین اور اس کی خلافت کو ضائع کرنے والا نہیں ہے، اور نہ اس نبی کو جسے اس نے بھیجا ہے۔ اگر مجھے موت آ گئی تو خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشورہ (شوریٰ) ہوگی (١٧) جن سے رسول اللہ ﷺ راضی ہو کر فوت ہوئے۔ (١٨)
پس تم ان میں سے جس کی بیعت کرو، اس کی اطاعت کرو۔ (١٩)

پھر عمر نے کہا: اے اللہ! میں تجھے شہروں کے گورنروں پر گواہ کرتا ہوں کہ میں نے انہیں صرف اس لیے بھیجا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کریں، انہیں دین اور اپنے نبی ﷺ کی سنت سکھائیں، ان میں مالِ فیض تقسیم کریں، اور جو معاملہ ان کے لیے مشکل ہو وہ مجھے لکھ بھیجیں۔" (٢٠)

ابن عباس کہتے ہیں: عمر نے جمعہ کے دن یہ خطبہ دیا، اور وہ بدھ کے روز (اگلے ہفتے) شہید ہوئے، (٢١) ذی الحجہ کے چار دن باقی تھے۔ (٢٢)

حواشی و حوالہ جات:

(١) كَانَ ذَلِكَ سَنَة ثَلَاث وَعِشْرِينَ.
(٢) هُوَ طَلْحَة بْن عُبَيْد الله.
(٣) أَيْ: فَجْأَة.
(٤) الْمُرَاد أَنَّهُمْ يَثْبُتُونَ عَلَى الْأَمْر بِغَيْرِ عَهْد وَلَا مُشَاوَرَة.
(٥) الرَّعَاع: الْجَهَلَة الرُّذَلَاء، وَالْغَوْغَاء: السِّفْلَة الْمُسْرِعِينَ إِلَى الشَّرّ.
(٦) أَيْ: يَنْقُلُونَهَا عَنْكَ.
(٧) أَيْ: يَحْمِلُونَهَا عَلَى غَيْر وَجْههَا.
(٨) صحیح البخاری: 6442
(٩) صحیح الطبری: 1506، المستدرک للحاکم: 4513
(١٠) صحیح البخاری: 1226، صحیح مسلم: 22 (928)
(١١) صحیح مسلم: 22 (928)، صحیح البخاری: 1226
(١٢) صحیح البخاری: 1226، صحیح مسلم: 22 (928)
(١٣) فتح الباری: 19/257
(١٤) صحیح البخاری: 6442
(١٥) صحیح مسلم: 78 (567)
(١٦) مسند احمد: 89، وقال شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحیح
(١٧) سِتَّۃ: عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمن بن عوف
(١٨) صحیح مسلم: 78 (567)
(١٩) مسند احمد: 89
(٢٠) صحیح مسلم: 78 (567)
(٢١) مسند احمد: 89
(٢٢) مسند احمد: 341، وقال شیخ شعیب الأرناؤوط: صحیح


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
خلیفہ کے منصب کی اہمیت اور اس کے بارے میں حساسیت:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص پر غصہ کیا جس نے بے تکی باتیں کیں اور ابوبکر کی بیعت کو "فَلْتَۃ" (ناگہانی) کہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کی بیعت اور اس کے منصب کے بارے میں بے ادبی کرنا سنگین جرم ہے۔

مشورے کی اہمیت:
عبدالرحمن بن عوف نے عمر کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کے رذیل اور جاہل طبقے کے سامنے اہم بات نہ کہیں، بلکہ مدینہ میں اہل علم و دانش کے سامنے کہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہم فیصلوں اور بیانات میں اہل علم سے مشورہ کرنا اور مناسب جگہ کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔

حضرت عمر کی عاجزی اور اللہ سے ملاقات کی آرزو:
وہ ابطح میں لیٹ کر اللہ سے دعا کرتے ہیں: "مجھے اپنی طرف اٹھا لے، نہ ضائع کرنے والا اور نہ کوتاہی کرنے والا" – یہ ان کی بے پناہ عاجزی اور اللہ سے ملاقات کی آرزو کو ظاہر کرتا ہے۔

عمر کا صحابہ کے ساتھ حسن سلوک:
انہوں نے صہیب کو اپنے ساتھ آنے کا کہا، اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا۔

خواب کی تعبیر اور موت کی پیش گوئی:
عمر نے اپنے خواب (سرخ مرغ کی تین چونگیں) کو اپنی موت کی علامت سمجھا، اور اسماء بنت عمیس نے اس کی تعبیر بتائی کہ ایک عجمی (فیروز، ابو لولو) انہیں قتل کرے گا۔ یہ نبوت کی ایک نشانی ہے۔

خلافت شوریٰ کے ذریعے:
عمر نے اپنے بعد خلافت کے لیے کوئی خاص شخص نامزد نہیں کیا، بلکہ چھ افراد پر مشتمل شوریٰ مقرر کی، تاکہ وہ آپس میں مشورہ کر کے خلیفہ منتخب کریں۔ یہ اسلامی جمہوری نظام کی بہترین مثال ہے۔

گورنروں کے لیے ہدایات:
عمر نے گورنروں کو پانچ اہم فرائض سونپے: انصاف، دین کی تعلیم، سنت نبوی کی تبلیغ، فیض کی تقسیم، اور مشکل معاملات کی اطلاع۔ یہ ایک مثالی حکمران کی صفات ہیں۔

موت سے پہلے وصیت اور احتساب:
عمر نے اپنی وفات سے پہلے لوگوں کو خطبہ دیا اور اپنے گورنروں کو اللہ کے سامنے گواہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ذمہ دار حکمران کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے عمل کا احتساب کرے اور لوگوں کو وصیت کرے۔

موت کے وقت کا تعین:
حدیث میں بتایا گیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کو خطبہ دیا اور بدھ کو شہید ہوئے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شہادت ان کے خطبے کے صرف چند دن بعد ہوئی۔

صحابہ کا باہمی تعاون اور مشورہ:
ابن عباس، عبدالرحمن بن عوف، سعید بن زید جیسے صحابہ نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا اور عوامی مفاد کے لیے کام کیا۔

جھوٹی روایت سے بچنے کی تاکید:
عمر نے خطبے میں کہا: "میں کسی کے لیے حلال نہیں کرتا کہ وہ مجھ پر جھوٹ باندھے"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد بھی صحابہ کی احادیث میں جھوٹ سے بچنا ضروری ہے۔

تاریخی اہمیت:
یہ واقعہ حضرت عمر کی آخری حج (حجۃ الوداع کے بعد ان کا آخری حج) اور ان کی شہادت سے پہلے کا ہے، جو اسلامی تاریخ میں نہایت اہم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





انتقال عمرؓ پہ دعاۓ علیؓ:
عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ , وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ".
ترجمہ:
ابن ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کو (وفات کے بعد) جب (غسل دینے کے لئے) تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے ارد گرد کھڑے تھے اور ان کے لئے دعائیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی استدعا کر رہے تھے، قبل اس کے کہ ان کو تخت سے اٹھایا جائے اور میں بھی ان لوگوں میں کھڑا تھا، تو اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی آدمی میرا کندھا پکڑے کھڑا ہے (میں نے دیکھا) کہ وہ حضرت علیؓ ابن ابی طالب ہیں، وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت کی دعائیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ مجھے اس کی خواہش ہو کہ میں اس شخص کے سے عمل لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوں، اور خدا کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تمہارے دونوں (پیش رو) ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ و ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا، میں (یہ اس لئے) سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے بہت موقعوں پر سنتا تھا آپ ﷺ فرماتے تھے (فلاں کام کے لئے) میں گیا اور ابوبکرؓ و عمرؓ بھی گئے اور (مسجد میں فلاں مکان میں) میں داخل ہوا اور میرے ساتھ ابوبکرؓ و عمرؓ بھی داخل ہوئے اور میں نکلا اور ابو بکرؓ و عمرؓ بھی نکلے۔
[صحيح البخاري:3685، صحیح مسلم:2689، سنن ابن ماجه:99]



عَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: لَا،" خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ:
وہب سوائیؒ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علیؓ نے دوران خطبہ یہ فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ میں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہی ہیں، انہوں نے فرمایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اور اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا تھا۔
[مسند احمد:834]














فضائلِ سیدنا عمرؓ ، قرآن میں:
(1)حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے، اللہ کے فرمان کے بارے میں:
(ذرا بتاؤ کہ جو شخص مردہ ہو، پھر ہم نے اسے زندگی دی ہو)
[سورۃ الانعام:122]
تو اللہ کے رسول ﷺ نے دعا فرمائی کہ:
اے ﷲ ! اسلام کو ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے۔
فرمایا:
وہ دونوں اپنی گمراہی میں مر چکے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عمر کو اسلام کے ساتھ زندہ کیا، انہیں عزت بخشی اور ابوجہل کی گمراہی اور موت کی تصدیق کی۔ فرمایا: یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔

(2)أخرج البزار عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لما أسلم عمر رضي الله عنه قال المشركون: قد انتصف القوم منا اليوم، وأنزل الله يا أيها النبي حسبك الله ومن اتبعك من المؤمنين - الانفال:64}.
ترجمہ :
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرؓ اسلام لائے تو مشرکین نے کہا، آج ہماری طاقت آدھی ہو گئی۔ اس وقت حضرت عمرؓ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی: {اے نبی! کافی ہے تجھ کو اللہ اور جتنے تیرے ساتھ ہیں مسلمان - سورة الانفال :64}


تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لما أسلم عمر بن الخطاب قال المشركون الآن انتصف القوم مناعبد الله بن عباسالشريعة للآجري1349---الآجري360


(3)حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ (سورة التحريم آية 4) ، قَالَ : عُمَرُ " .


ترجمہ :
حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے: وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ (سورة التحريم آية 4) ، فرمایا : (اس سے مراد خصوصاًحضرت عمر ہیں."



فضائلِ سیدنا عمرؓ ، احادیث میں:
(1) مراد نبوت اور قوت اسلام:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ:‏‏‏‏ بِأَبِي جَهْلٍ،‏‏‏‏ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما ، آپ ﷺ نے فرمایا: تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
[صحيح موارد الظمآن: 1827، صحيح السيرة ص193]

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) prayed, “0 Allah, strengthen Islam with whichever of these two men is dearer to you. Abu JahI or Umar ibn al-Khattab.” And, Umar (RA) was the one of the two dear to Allah.”
[Ahmed 57001]



تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن مسعودالمستدرك على الصحيحين44243 : 81الحاكم النيسابوري405
2فضل الناس عمر بدعوة رسول الله في عمر اللهم أيد الناس بعمرعبد الله بن مسعودمسند أبي داود الطيالسي245247أبو داود الطياليسي204
3اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالمسند للشاشي505554الهيثم بن كليب الشاشي335
4اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابعبد الله بن مسعودكشف الأستار23612503نور الدين الهيثمي807
5اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالمعجم الأوسط للطبراني84738253سليمان بن أحمد الطبراني360
6اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن مسعودالمعجم الكبير للطبراني1016510314سليمان بن أحمد الطبراني360
7اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودأمالي ابن سمعون الواعظ4647ابن سمعون الواعظ387
8اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالسنة لأبي بكر بن الخلال385---أبو بكر الخلال311
9إسلام عمر بن الخطاب عزا وكانت هجرته نصرا وكانت خلافته رحمة والله ما استطعنا أن نصلي ظاهرين حتى أسلم عمر وإني لأحسب أن بين عيني عمر ملكا يسدده فإذا ذكر الصالحون بعمرعبد الله بن مسعودالشريعة للآجري1219---الآجري360
10اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن مسعودتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم78---أبو نعيم الأصبهاني430
11اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4634644 : 26ابن عساكر الدمشقي571
12اللهم أيد الدين بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4641544 : 57ابن عساكر الدمشقي571
13اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4641744 : 58ابن عساكر الدمشقي571
14اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4641844 : 59ابن عساكر الدمشقي571

امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ کے مناقب و فضائل بیشمار ہیں ان کی عظیم ترین شخصیت و حیثیت اور ان کے بلند ترین مقام و مرتبہ کی منقبت میں یہی ایک بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک ﷺ دعا قبول کرکے ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور ان کے ذریعہ اپنے دین کو زبردست حمایت و شوکت عطا فرمائی۔ ان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ منجانب اللہ راہ صواب ان پر روشن ہوجاتی تھی، الہام والقاء کے ذریعہ غیبی طور پر ان کی راہنمائی ہوتی تھی ان کے دل میں وہی بات ڈالی جاتی تھی جو حق ہوتی تھی اور ان کی رائے وحی الہٰی اور کتاب اللہ کے موافق پڑتی تھی اسی بناء پر علماء کرام نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں ان کی رائے خلافت صدیق کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ حضرت عمار یاسر کی شہادت کو حضرت علی مرتضی کے حق ہونے کی دلیل مانا جاتا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ (کسی مسئلہ و معاملہ میں) حضرت عمر فاروق جو رائے دیتے تھے اسی کے موافق آیات قرآنی نازل ہوتی تھیں، ابن عساکر نے سیدنا علی مرتضی کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں، قرآن حضرت عمر کی رائے میں سے ایک رائے ہے یعنی قرآنی آیات کا ایک بڑا حصہ حضرت عمر کی رائے کے موافق ہے۔ حضرت ابن عمر سے بطریق مرفوع روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر (کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہو کہ) تمام لوگوں کی رائے کچھ ہو اور عمر کی رائے کچھ اور پھر (اس مسئلہ سے متعلق قرآن کی آیت نازل ہو تو وہ عمر کی رائے کے مطابق ہوگی اس روایت کو سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ موافقات عمر (یعنی عمر کی رائے سے قرآن کریم میں جہاں جہاں اتفاق کیا گیا ہے ایسے مواقع) بیس ہیں۔





الشواهد


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ ابْنِ هِشَامٍ , أَوْ بِعُمَرَ " ، قَالَ : فَأَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ .
ترجمہ :
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی، اے ﷲ ! اسلام کو ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے۔ صبح ہوئی تو اگلے روز حضرت عمرؓ نے نبی کریم  کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور مسجد میں اعلانیہ نماز پڑھی۔


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بأبي جهل ابن هشام أو بعمرعبد الله بن عباسجامع الترمذي36453683محمد بن عيسى الترمذي256
2اللهم أعز الإسلام بعمرعبد الله بن عباسالمستدرك على الصحيحين44223 : 80الحاكم النيسابوري405
3اللهم أعز الإسلام بعمرعبد الله بن عباسإتحاف المهرة7655---ابن حجر العسقلاني852
4اللهم أيد الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن عباسالمعجم الكبير للطبراني1149811657سليمان بن أحمد الطبراني360
5اللهم أعز الدين بعمرعبد الله بن عباسمعجم ابن الأعرابي279275ابن الأعرابي340
6اللهم أيد الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباسمعجم ابن الأعرابي851852ابن الأعرابي340
7اللهم أعز الدين بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباسمعجم أسامي شيوخ أبي بكر الإسماعيلي2032 : 563أبو بكر الإسماعيلي371
8اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطاب فغدا على رسول الله فأسلم ثم صلى في المسجد ظاهراعبد الله بن عباسجزء فيه ستة مجالس من أمالي ابن البختري5556أبو جعفر بن البختري339
9اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطاب فأصبح عمر فغدا على رسول الله فأسلم ثم صلى في المسجد ظاهراعبد الله بن عباسالجزء فيه من حديث أبي عمر العطاردي وغيره22---أحمد بن عبد الجبار العطاردي272
10اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباسالأول من حديث أبي علي بن شاذان126---الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان426
11استبشر أهل السماء اليوم بإسلام عمرعبد الله بن عباسالخامس من الخلعيات37---علي بن الحسن الخلعي492
12اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطاب فأصبح عمر فغدا على رسول الله فأسلم ثم صلى في المسجد ظاهراعبد الله بن عباسالفوائد المنتقاة من مسموعات أبي علي الصفار17---إسماعيل بن محمد الصفار341
13استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسمجلس من أمالي أبي بكر النجاد5---أبو بكر أحمد بن سليمان النجاد348
14دعا رسول الله أن ينصر الله بك الدين والمسلمون مختفون بمكة وكانت هجرتك فتحا ولم تغب عن مشهد شهده رسول الله من قتال المشركين وتوفي رسول الله وهو عنك راضعبد الله بن عباسالسنة لابن أبي عاصم10571263ابن أبي عاصم287
15اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباسالشريعة للآجري1346---الآجري360
16اللهم أعز الإسلام بأبي جهل أو بعمر بن الخطاب فأصبح عمر فغدا على النبي فأسلمعبد الله بن عباسشرح السنة37943885الحسين بن مسعود البغوي516
17اللهم أعز الإسلام بعمر أو بأبي جهل بن هشام فأصبح عمر بن الخطاب فغدا على رسول الله فأسلمعبد الله بن عباستثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم79---أبو نعيم الأصبهاني430
18اللهم أعز الإسلام بأبي جهل أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباسالأنوار في شمائل النبي المختار144---الحسين بن مسعود البغوي516
19اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباستاريخ دمشق لابن عساكر4634044 : 23ابن عساكر الدمشقي571
20اللهم أعز الدين بعمرعبد الله بن عباستاريخ دمشق لابن عساكر4634744 : 26ابن عساكر الدمشقي571
21دعا لك رسول الله أن يعز بك الدين والمسلمون مختبئون بمكة فلما أسلمت كان إسلامك عزاعبد الله بن عباستاريخ دمشق لابن عساكر4635344 : 28ابن عساكر الدمشقي571
22اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطاب فأصبح عمر فغدا على رسول الله فأسلم يومئذعبد الله بن عباسفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل248311أحمد بن حنبل241
23اللهم أيد الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطابعبد الله بن عباسفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل519625أحمد بن حنبل241


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامأنس بن مالكالأحاديث المختارة2301---الضياء المقدسي643
2اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامأنس بن مالكالأحاديث المختارة2302---الضياء المقدسي643
3اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامأنس بن مالكالمطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر43774230ابن حجر العسقلاني852
4اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامأنس بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني18991860سليمان بن أحمد الطبراني360
5اللهم أعز الإسلام أو الدين بعمر بن الخطاب فقال عمر أشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله وأسلم وقال اخرج يا رسول اللهأنس بن مالكدلائل النبوة للبيهقي546---البيهقي458
6اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشام قال ورسول الله في الدار التي في أصل الصفا فانطلق عمر حتى أتى الدار قال وعلى باب الدار حمزة وطلحة وأناس من أصحاب رسول الله فلما رأى حمزة وجل القوم من عمر قال حمزة نعأنس بن مالكالطبقات الكبرى لابن سعد36393 : 142محمد بن سعد الزهري230
7أفلا أدلك على العجب يا عمر إن ختنك وأختك قد صبوا وتركا دينك الذي أنت عليه قال فمشى عمر ذامرا حتى أتاهما وعندهما رجل من المهاجرين يقال له خباب قال فلما سمع خباب حس عمر توارى في البيت فدخل عليهما فقال ما هذه الهينمة التي سمعتها عندكم قال وكانوا يقرءون طه فقأنس بن مالكتاريخ المدينة لابن شبة9961071ابن شبة النميري262
8اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامأنس بن مالكأنساب الأشراف للبلاذري2111---أحمد بن يحيى البلاذري279
9اللهم أعز الدين وقال الفراوي الإسلام والدين بعمر بن الخطاب قال فقال عمر أشهد أنك رسول الله وفي حديث الفراوي فقال عمر أشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله وقالا وقال أخرج يا رسول اللهأنس بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4635944 : 33ابن عساكر الدمشقي571
10اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامأنس بن مالكالمنتظم في تاريخ الأمم لابن الجوزي503---أبو الفرج ابن الجوزي597
11ما أنت منهيا يا عمر حتى ينزل الله بك ما أنزل بالوليد بن المغيرة اللهم هذا عمر بن الخطاب اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابأنس بن مالكالتبصرة لابن الجوزي76---ابن الجوزي597





تشریح:
دعوت اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب قریش مکہ نے داعی حق ﷺ اور حق کے نام لیواؤں کے خلاف ظالمانہ محاذ قائم کر رکھا تھا۔ اور اہل اسلام کو تشدد آمیز کار روائیوں کے ذریعے مجبور وہراساں کرتے تھے تو مکہ میں کوئی مسلمان علانیہ نماز نہیں پڑھ سکتا تھا۔ آنحضرت ﷺ دارارقم میں رہا کرتے تھے اور اسی مکان میں پوشیدہ طور پر اللہ کا نام لیا جاتا تھا، اللہ کی بندگی کی جاتی تھی اور اللہ کا رسول اللہ ﷺ کا دین زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی تدبیر میں لگا رہتا تھا۔ آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ زعماء قریش میں دو آدمی یعنی ابوجہل اور عمر اس حیثیت کے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اسلام قبول کرکے ہمارے ساتھ آجائے تو اسلام جو آج قریش مکہ کے ظلم وستم کی وجہ سے دارارقم میں محدود ہو کر رہ گیا ہے اتنی طاقت پاجائے گا کہ مسلمانوں کو چھپ کر اللہ کا نام لینے اور اللہ کی عبادت کرنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا، وہ علانیہ نماز پڑھنے لگیں گے اور کھلے طور اسلام کی دعوت پیش کرسکیں گے۔ چناچہ آپ ﷺ نے مذکورہ دعا کی یہ دعا کس طرح قبول ہوئی اور حضرت عمر کس طرح مشرف باسلام ہوئے اس کی تفصیل ایک روایت میں جس کو ابوحاکم عبداللہ نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ابوجہل نے اعلان کیا کہ جو شخص محمد ﷺ کو قتل کردے اس کو انعام میں اس سو اونٹنیاں اور ہزار چاندی میں دوں گا۔ عمر (یہ سن کر) بولے الضمان صحیح یعنی تاوان صحیح ہے! ابوجہل نے کہا ہان فورًا ادا کروں گا، ذرا بھی تاخیر نہیں ہوگی! عمر وہاں سے اٹھ کر چل پڑے۔ راستے میں اس ایک شخص مل گیا، اس نے پوچھا عمر! خیر تو ہے کہاں کے ارادے سے چلے؟ عمر نے جواب دیا، محمد ﷺ کی طرف جارہا ہوں، ارادہ ہے کہ آج ان کا کام تمام کردوں۔ اس شخص نے کہا کیا (محمد کے خاندان) بنی ہاشم (کے انتقام) کا کوئی خوف نہیں ہے؟ عمر بولے معلوم ہوتا ہے تم نے بھی اپنا دھرم تیاگ دیا (جبھی تو بن ہاشم کے انتقام سے ڈرا کر مجھے محمد کے قتل سے باز رکھنا چاہتے ہو) اس شخص نے کہا اس سے زیادہ حیرتناک بات تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ تمہارے بہن اور بہنوئی نے اپنا پرانا مذہب چھوڑ دیا ہے اور محمد ﷺ کے ساتھ مل گئے ہیں (یہ سنتے ہیں) عمر اپنی بہن کے گھر کی طرف مڑ گئے، وہاں پہنچے تو اس وقت ان کی بہن گھر کے اندر قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول تھیں اور سورت طہ پڑھ رہی تھیں عمر نے کچھ دیر تو دروازے پر کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے ہوئے سنا پھر دروازہ کھٹکھٹا یا جب اندر داخل ہوئے تو بہن کو دیکھتے ہی سوال کیا پڑھنے کی یہ آواز کیسی آرہی تھی؟ بہن نے ان کو پوری بات اور ان پر واضح کردیا کہ ہم صدق دل سے مسلمان ہوگئے ہیں (اب تم یا کوئی چاہے جتنی سختی کرے، جو دین ہم نے قبول کرلیا ہے اس سے دستبردار نہیں ہوں گے) عمر (کے لئے یہ صورت انتہائی پریشان کن اور اضطراب انگیز تھی، ایک طرف تو فوری اشتعال نے انہیں بیاہی بہن اور عزیزبہنوئی کو مارنے پیٹنے پر مجبور کردیا دوسری طرف خود ان کی زندگی میں آنے والا انقلاب ان کے دل و دماغ پر دستک دے رہا تھا، اس سخت) اضطرابی کیفیت میں رات بھر مبتلا رہے۔ ادھر رات میں ان کے بہن وبہنوئی (معمول کے مطابق) اٹھے اور عبادت الٰہی و تلاوت قرآن کریم میں پھر مشغول ہوگئے انہوں نے طہ ماانزلنا علیک القرآن لتشقی (طہ ہم نے آپ ﷺ پر قرآن مجید اس لئے نہیں اتار کہ آپ ﷺ تکلیف اٹھائیں) سے پڑھنا شروع کیا۔ (اب عمر سے رہا نہیں گیا، ایسا معلوم ہوا جیسے تلاوت قرآن کریم کی اس آواز نے ان کی روح کو آخری طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے) کلام اللہ ابدی صداقت ان کے دل و دماغ پر چھانے لگی، بڑی بےتابی کے ساتھ بولے لاؤ یہ کتاب مجھے دو ذرا میں بھی تو (پڑھ کر) دیکھوں۔ (بہن نے محسوس کرلیا کہ بھیا کا وہ سخت دل جس کو کفر وشرک نے پتھر بنادیا تھا، پگھل رہا ہے، خدائی پکار کی طرف متوجہ ہورہا ہے چناچہ انہوں نے کہا کہ ایسے نہیں، اس مقدس کتاب کو تو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھوسکتے ہیں۔ عمر نے غسل کیا، پاک ہوئے اور کلام اللہ کو ہاتھ میں لے کر بیٹھ گئے جب طہ سے پڑھنا شروع کیا اور جب اس آیت (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْاَسْمَا ءُ الْحُسْنٰى) 20۔ طہ 8) (اللہ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے اچھے اچھے نام ہیں) پر پہنچے تو بےاختیار بول اٹھے بار خدایا بلاشبہ تو ہی عبادت کا سزاوار ہے، تیرے علاوہ اور کوئی نہیں جس کو معبود بنایا جائے اشہد ان لاالہ الا اللہ واشہد وان محمد الرسول اللہ پھر وہ پوری رات انہوں نے اسی طرح جاگ کر گذاری کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد واشوقاہ واشوقاہ کا نعرہ مارتے۔ جب صبح ہوئی تو خباب ابن ارت (جو اس گھر میں پہلے سے موجود اور عمر کے داخل ہوتے ہی کہیں چھپ گئے تھے، اب جو انہوں نے دیکھا کہ عمر کی دنیا ہی بدل چکی ہے، کفر وشرک کا اندھیرا چھٹ گیا ہے اور اسلام کی روشنی نے ان کے وجود کو جگمگا دیا ہے تو) عمر کے پاس آئے اور کہنے لگے عمر مبارک ہو اللہ نے تمہیں اپنے دین اسلام سے سرفراز کیا، شاید تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے پوری رات جاگ کر اس دعا میں گذاری تھی کہ الہٰی! ابوجہل یا عمر بن الخطاب کے ذریعے اسلام کو سربلند و غالب کردے! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آنحضرت ﷺ کی دعا ہی تھی جو تمہارے قبول اسلام کا پیش خیمہ بنی ہے۔ اس کے بعد عمر تلوار گلے میں ڈال کر آنحضرت ﷺ کی قیام گاہ ( دارارقم) کی طرف روانہ ہوئے، وہاں پہنچے تو آنحضرت ﷺ نے بنفس نفیس باہر تشریف لا کر ان کا استقبال کیا اور دعوت اسلام پیش کی عمر! معبود ان باطل کو چھوڑ کر خدائے واحد کی چوکھٹ پر جھک جاؤ سرخروئی اسی میں ہے کہ اسلام قبول کرلو، ورنہ تم پر بھی دنیا وآخرت کی ذلت و رسوائی کا وہی عذاب نازل ہوگا جو ولید ابن مغیرہ پر نازل ہوا۔ عمر ( یہ پرُ جلال آواز رسالت سن کر) تھر تھر کانپنے لگے، لرزتے مونڈھوں اور تھر تھر اتے ہاتھوں سے تلوار گر پڑی بےساختہ زبان سے نکلا اشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمد الرسول اللہ ﷺ اور پھر انہوں نے کہا جب ہم لات وعزیٰ کی پرستش کی پوجا پہاڑوں پر اور وادیوں میں (کھلم کھلا) کرتے تھے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کی عبادت ہم ڈر چھپ کر کریں! انہیں، اللہ کی قسم آج کے بعد اللہ کی عبادت ہم چھپ کر ہرگز نہیں کریں گے۔ اس کے بعد عمر تمام مسلمانوں کو لے کر کعبہ اقدس میں پہنچے اور وہاں علی الاعلان نماز و عبادت ہوئی (اور اس طرح اللہ نے حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو طاقت و شوکت عطا فرمائی )
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5992]

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے، یہاں ہر بڑے کام اور ہر عظیم مقصد کے لئے اس کے مطابق تدبیر اور عملی جدوجہد اور خاص صلاحیت رکھنے والے جانباز کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے، ابو جہل بن ہشام اور عمر بن الخطاب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین کے درجہ اول کے دشمن تھے، اسی کے ساتھ ان دونوں میں وہ صلاحیتیں جو کسی بڑے کام کے لئے درکار ہوتی ہیں، (راقم سطور کا خیال ہے کہ غالباً حضور ﷺ پر منکشف کر دیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ہدایت دی جا سکتی ہے) تو آپ ﷺ نے ایک رات کو یہ دعا فرمائی جس کا حدیث میں ذکر ہے۔ تقدیر الہی میں یہ سعادت حضرت عمرؓ کے لئے مقدر ہو چکی تھی، ان کے حق میں دعا قبول ہو گئی اور ان کو توفیق مل گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کام لیا خاص کر خلافت کے دس سالوں میں وہ بلا شبہ امت میں ان کا اور صرف ان کا حصہ ہے۔ مسند احمد اور جامع ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کا واقعہ بہت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح کے بعض شارحین نے ابو عبداللہ حاکم کی "دلائل النبوۃ" کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ ہی کی روایت سے یہ واقعہ مفصل روایت کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل جو مشرکین مکہ کا سردار اور بڑا سرمایہ دار بھی تھا اس نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمد ﷺ کو قتل کر دے میں اس کو سو اونٹنیاں اور ایک ہزار اوقیہ چاندی بطور انعام دینے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ عمرؓ نے ابو جہل سے کہا کہ تمہاری یہ بات پکی ہے؟ ابو جہل نے کہا بالکل پکی، فوراً ادا کروں گا۔ اس کے بعد عمر تلوار لے کر اس ناپاک ارادہ سے نکلے، راستہ میں ایک شخص نے ان کو اس حال میں دیکھا تو پوچھا کہ عمر کہاں اور کس ارادہ سے جا رہے ہو ..... عمرؓ نے کہا محمد (ﷺ) کو قتل کرنے جا رہا ہوں ...... اس شخص نے کہا کیا تم ان کے کنبہ بنی ہاشم سے بےخوف ہو (وہ ان کی حمایت میں میدان میں آ جائیں گے اور پھر خونریز جنگ ہو گی) عمرؓ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تو نے بھی باپ دادا کا دین چھوڑ کے محمد کا دین قبول کر لیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں تم کو بتلاتا ہوں کہ تمہاری بہن (فاطمہ) اور بہنوئی (سعید بن زید) نے بھی محمد ﷺ کا دین قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر عمرؓ سیدھے بہن کے گھر کی طرف گئے۔ وہ اس وقت سورہ طہ تلاوت کر رہی تھیں، عمرؓ نے دروازہ پر کھڑے ہو کر سنا، پھر دروازہ کھلوایا اور کہا کہ تم کیا پڑھ رہی تھیں؟ ان کی بہن نے بتایا کہ ہم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس میں قرآن کی آیتیں پڑھ رہی تھی؟ عمرؓ نے کہا مجھے بھی پڑھ کر سناؤ! چنانچہ ان کی بہن نے سورہ طہ پڑھنی شروع کی ...... جب یہ آیت تلاوت کی "اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ" تو عمر کے دل کی دنیا میں انقلاب آ گیا اور بول اٹھے کہ بیشک وہی اور صرف وہی الٰہ اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اور کلمہ شہادت پڑھا پھر بہن ہی کے گھر میں رات گزاری اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کی تڑپ دل میں پیدا ہو گئی۔ بار بار کہتے تھے "وَا شَوْقَاهُ اِلَى مُحَمَّدٍ" اسی حال میں خباب بن الارت ان کے پاس آئے اور ان کو بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ آج رات برابر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعہ اسلام کو عزت اور قوت عطا فرما! اور میرا خیال ہے کہ حضور ﷺ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو گئی۔ اس کے بعد صبح کو عمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اسلام قبول کیا۔ اور اسی وقت کہا کہ ہم لات اور عزیٰ کی پرستش کرتے تھے وادیوں کے نشیب میں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور خدا کی عبادت کریں ہم چھپ چھپا کر؟ ...... یہ نہیں ہو گا ..... خدا کی قسم ہم اللہ کی عبادت اعلانیہ خانہ کعبہ کے صحن میں کریں گے۔ (اس وقت تک مسلمان علانیہ مسجد حرام میں نماز ادا نہیں کرتے تھے)۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں ابو جعفر بن ابی شیبہ کی تاریخ کے حوالہ سے ابن عباسؓ ہی کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد طے کیا کہ ہم ابھی چل کر اعلانیہ مسجد حرام میں نماز پڑھیں گے اور ایسا ہی کیا گیا ..... فتح الباری ہی میں ابن ابی شیبہ اور طبرانی کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان نقل کیا گیا ہے۔ وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ حَوْلَ الْبَيْتِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ ترجمہ ..... خدا کی قسم عمر کے اسلام لانے سے پہلے ہماری طاقت نہ تھی کہ ہم بیت اللہ کے قریب میں علانیہ نماز پڑھ سکتے (عمر کے اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہی ہمارے لئے یہ ہوا)۔ حافظ ابن حجرؒ نے حضرت عمر ؓ کی قبول اسلام کی بہت سی روایات مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت سے حدیث کی مختلف کتابوں کے حوالوں سے نقل کی ہیں جن میں حضرتے عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت انسؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت ابن عمرؓ کے علاوہ حضرت علی مرتضیٰ بھی ہیں۔
(فتح الباری باب مناقب عمر پارہ نمبر ۱۴، ص ۳۷۳)
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2027]






بعض روایات میں تو خاص حضرت عمرؓ کے مسلمان بنانے کی درخواست فرمائی.:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلامَ بِعُمَرَ " .
ترجمہ :
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: اے ﷲ ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ذریعے غلبہ عطا فرما۔
[مستدرک للحاکم » كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ...  » ذِكْرُ الرِّوَايَاتِ الصَّحِيحَةِ عَنِ الصَّحَابَةِ ... رقم الحديث: 4422]



حضرت عمرؓ کے لئے حضورؐ کی دعا:

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً.
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما“۔
[سنن ابن ماجه » كِتَاب ابْنُ مَاجَهْ » أَبْوَابُ فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ... رقم الحديث: 105]
[الصَّحِيحَة: 3225، صحيح موارد الظمآن: 1828]


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهسنن ابن ماجه102105ابن ماجة القزويني275
2اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان703915 : 306أبو حاتم بن حبان354
3اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهالمستدرك على الصحيحين44233 : 81الحاكم النيسابوري405
4اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهالسنن الكبرى للبيهقي121256 : 369البيهقي458
5اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهجزء من حديث ابن شاهين رواية ابن المهتدي36---ابن شاهين385
6اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم80---أبو نعيم الأصبهاني430
7اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهعيون الأثر30---ابن سيد الناس734
8اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهتاريخ بغداد للخطيب البغدادي12805 : 88الخطيب البغدادي463
9اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4634844 : 26ابن عساكر الدمشقي571
10اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4634944 : 27ابن عساكر الدمشقي571
11اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4635244 : 27ابن عساكر الدمشقي571


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم اشدد الإسلام بعمر بن الخطابعبد الله بن عثمانالمعجم الأوسط للطبراني66266453سليمان بن أحمد الطبراني360

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الدين بأحب هذين الرجلين إليك إما عمر بن الخطاب وإما أبو جهل بن هشامعمر بن الخطابالبحر الزخار بمسند البزار289279أبو بكر البزار292
2افتحوا له فإن يرد الله به خيرا يهده قال ففتح لي الباب فأخذ رجلان بعضدي حتى دنوت من رسول الله فقال لهم رسول الله أرسلوه فأرسلوني فجلست بين يديه فأخذ بمجامع قميصي ثعمر بن الخطابكشف الأستار23502491نور الدين الهيثمي807
3أسلم يا ابن الخطاب تكبيرة سمعت في طرق مكة كانوا مستخفين كان الرجل إذا أسلم تعلق الرجال به فيضربونه ويضربهم أعلمته فدخل البيت وأجاف البابعمر بن الخطابحلية الأولياء لأبي نعيم9292أبو نعيم الأصبهاني430
4كنت من أشد الناس على رسول الله فبينا أنا في يوم حار شديد الحر بالهاجرة في بعض طريق مكة إذ لقيني رجل من قريش فقال أين تريد يا ابن الخطاب فقلت أريد التي والتي والتي قال عجبا لك يا ابن الخطاب أنت تزعم أنك كذلك وقد دخل عليك الأمر في بيتك قال قلت وما ذاك قال أعمر بن الخطابدلائل النبوة للبيهقي545---البيهقي458
5اللهم أعز الإسلام بأحد الرجلين إما أبو جهل بن هشام وإما عمر بن الخطاب وأنا نرجو أن تكون دعوة رسول الله لك فأبشر قال فلما أن عرفوا مني الصدق قلت لهم أخبروني بمكان رسول الله قالوا هو في بيت في أسفل الصفا وصفوه قال فخرجتعمر بن الخطابعيون الأثر31---ابن سيد الناس734
6اللهم أعز دينك بأحب الرجلين إليك إما أبي جهل وإما عمر بن الخطابعمر بن الخطابسير السلف الصالحين لإسماعيل بن محمد الأصبهاني111 : 94إسماعيل بن محمد الأصبهاني535
7اللهم أعز الإسلام بأحد الرجلين إما عمرو بن هشام وإما عمر بن الخطابعمر بن الخطابأسد الغابة1183---علي بن الأثير630
8افتحوا له فإن يرد الله به خيرا يهده أخذ بمجمع قميصي فجذبني إليه أسلم يا ابن الخطابعمر بن الخطابفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل302376أحمد بن حنبل241


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابعلي بن أبي طالبالخامس من الأفراد لابن شاهين44---ابن شاهين385
2اللهم أعز الإسلام بعمرعلي بن أبي طالبالشريعة للآجري1818---الآجري360
3اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر4635044 : 27ابن عساكر الدمشقي571
4اللهم أعز الإسلام بعمرعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر4639644 : 50ابن عساكر الدمشقي571


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابزبير بن العوامتاريخ دمشق لابن عساكر4635144 : 27ابن عساكر الدمشقي571
2اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابزبير بن العوامأسد الغابة1187---علي بن الأثير630


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بأحب الرجلين إليك بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامخباب بن الأرتالبحر الزخار بمسند البزار18912119أبو بكر البزار292
2اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب أو بعمرو بن هشامخباب بن الأرتتاريخ دمشق لابن عساكر4634444 : 25ابن عساكر الدمشقي571


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابثوبان بن بجددالمعجم الكبير للطبراني14121428سليمان بن أحمد الطبراني360







عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ ، نَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : " يَا مُحَمَّدُ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ " .
ترجمہ :
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمرؓ ایمان لائے تو حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کی، یا محمد ﷺ! یقیناً خوش ہوۓ ہیں آسمان والے حضرت عمرؓ کے ایمان لانے پر۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب سے حضرت عمرؓ مسلمان ہوگئے اس وقت سے ہم مسلسل کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔
(بخاری)

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لقد استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسسنن ابن ماجه1001 : 76ابن ماجة القزويني275
2لقد استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسصحيح ابن حبان704015 : 307أبو حاتم بن حبان354
3قد استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسالمستدرك على الصحيحين44293 : 83الحاكم النيسابوري405
4لقد استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل264330أحمد بن حنبل241
5لقد استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل404501أحمد بن حنبل241
6لقد استبشر أهل السماء بإسلام عمرعبد الله بن عباسفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم4444أبو نعيم الأصبهاني430







(2) لوگوں پر فضیلت:
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْكَ ، قَالَ : " أَفَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَفْضَلِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَفَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .

ترجمہ :
حضرت ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام لوگوں میں سب سے افضل سمجھتا تھا، میں نے کہا: نہیں، واللہ، اے امیرالمومنین! میں نہیں سمجھتا کہ نبی ﷺ کے بعد مسلمانوں میں آپ سے افضل بھی کوئی ہوگا. انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے افضل شخص کون ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا: وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ » وَمِنْ مُسْنَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ ... رقم الحديث: 1022]
السنة لعبد الله بن أحمد » سُئِلَ عَمَّنْ قَالَ : خَيْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ ... رقم الحديث: 1249
تاريخ دمشق لابن عساكر » حرف الضاد فارغ » حرف الخاء في آباء من اسمه عُمَر » عمر بن الْخَطَّاب بن نفيل بن عبد العزى بن رياح بن ... رقم الحديث: 46810

المحدث: أحمد شاكر المصدر: مسند أحمد -الصفحة أو الرقم: 2/233 - خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

تشریح"
حضرت علی مرتضیٰ کی اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جب خطاب فرماتے یا بات کرتے تو دلوں میں ایک خاص قسم کا سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی زبان و بیان میں یہ خاص تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔ یہ مطلب لیا جائے تو حضرت علیؓ کے اس کلام میں "السكينة" سے مراد یہی خداداد تاثیر ہے ........ شارحین نے لکھا ہے کہ "السكينه" سے مراد خاص فرشتہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں حضرت علیؓ کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم یہ بات بعید نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ خطاب اور بات فرماتے ہیں تو ان کی زبان سے اللہ کا ایک خاص فرشتہ کلام کرتا ہے جس کا نام یہ لقب "السكينه" ہے۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2025]




(3) مُحَدَّثْ (ملہم) امّت: 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ وَإِنَّهُ إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِي هَذِهِ مِنْهُمْ فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " .
ترجمہ :
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:۔ بے شک تم سے پہلی امتوں میں مُحَدَّثْ (یعنی جن کے دل میں حق بات ڈالی جاتی ہو) ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں بھی کوئی مُحَدَّثْ ہے تو وہ عمر بن خطاب ہے۔ 
تشریح:
 ....."محدث" اللہ تعالیٰ کے اس خوش نصیب بندے کو کہا جاتا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت الہامات ہوتے ہوں اور اس بارے میں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خصوصی معاملہ ہو اور وہ نبی نہ ہو کسی نبی کا امتی ہو۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے اور میری امت میں اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے خصوصیت کے ساتھ نوازا ہے) تو وہ عمرؓ ہیں ..... حدیث کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ حضور ﷺ کو اس بارے میں کوئی شک شبہ تھا، آپ کی امت جب خیر الامم اور اگلی تمام امتوں سے افضل ہے تو ظاہر ہے کہ اس میں بھی ایسے خوش نصیب بندے ہوں گے جو کثرت الہامات کی نعمت سے نوازے جائیں گے، حضور ﷺ کے اس ارشاد کا مقصد و مدعا اس بارے میں حضرت عمرؓ، کی خصوصیت اور امتیاز سے لوگوں کو آگا کرنا ہے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے بارے میں حضرت عمرؓ کو تخصص و امتیاز حاصل تھا، جیسا کہ آگے درج ہونے والی احادیث سے معلوم ہو گا۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2021]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1كان فيما مضى قبلكم من الأمم محدثون وإنه إن كان في أمتي هذه منهم فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرصحيح البخاري32343469محمد بن إسماعيل البخاري256
2لقد كان فيما قبلكم من الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فإنه عمرعبد الرحمن بن صخرصحيح البخاري34363689محمد بن إسماعيل البخاري256
3كان فيما مضى قبلكم من الأمم ناس يحدثون وإنه إن كان في أمتي هذه منهم أحد فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرمسند أحمد بن حنبل82658263أحمد بن حنبل241
4كان فيما خلا قبلكم من الأمم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي هذه أحد منهم فعمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالسنن الكبرى للنسائي78068066النسائي303
5كان فيمن خلا من الأمم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمرعبد الرحمن بن صخرالمدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي3764البيهقي458
6كان فيمن خلا من الأمم قبلكم ناس يحدثون وإن يك في أمتي منهم أحد فهو عمرعبد الرحمن بن صخرمسند أبي داود الطيالسي24572469أبو داود الطياليسي204
7كان فيمن خلا قبلكم من الأمم أناس محدثون فإن يكن من أمتي هذه فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالأول من حديث أبي علي بن شاذان70---الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان426
8كان فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يك في أمتي هذه فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرجزء عبد الله بن عمر المقدسي8---عبد الله بن عمر بن أبي بكر المقدسي330
9كان فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن من أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران5641 : 244أبو القاسم بن بشران430
10كان فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران 1935---أبو القاسم بن بشران430
11فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن من أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران ( مجالس أخرى )5441 : 244عبد الملك بن بشران431
12فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن من أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران 915---أبو القاسم بن بشران430
13قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يك في أمتي أحد فإنه عمرعبد الرحمن بن صخرتغليق التعليق لابن حجر12034 : 59ابن حجر العسقلاني852
14كان فيما خلا قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي أحد منهم فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالسنة لابن أبي عاصم10551261ابن أبي عاصم287
15كان فيمن خلا من الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخركرامات أولياء الله عز وجل للالكائي2547هبة الله اللالكائي418
16كان فيما خلا قبلكم من الأمة ناس محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرشرح السنة37813873الحسين بن مسعود البغوي516
17فيمن خلا من الأمم قبلكم ناس محدثون وإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم84---أبو نعيم الأصبهاني430
18كان فيمن خلا قبلكم من الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرمعرفة الصحابة لأبي نعيم180193أبو نعيم الأصبهاني430
19كان فيمن قبلكم أناس محدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4650644 : 94ابن عساكر الدمشقي571
20كان فيما خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يك في أمتي هذه أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4650744 : 94ابن عساكر الدمشقي571
21كان فيمن كان قبلكم ناس محدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل431529أحمد بن حنبل241
22فيمن مضى قبلكم من الأمم ناس محدثون وإنه إن كان في أمتي هذه منهم أحد فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالتبصرة لابن الجوزي75---ابن الجوزي597


الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1كان يكون في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فإن عمر بن الخطاب منهمعائشة بنت عبد اللهصحيح مسلم44182401مسلم بن الحجاج261
2كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهجامع الترمذي36553693محمد بن عيسى الترمذي256
3كان في الأمم محدثون فإن يكن من أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2372923763أحمد بن حنبل241
4كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان705115 : 317أبو حاتم بن حبان354
5كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالمستدرك على الصحيحين44373 : 84الحاكم النيسابوري405
6يكون في الأمة محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالسنن الكبرى للنسائي78058065النسائي303
7كان في الأمم محدثون فإن يك في أمتي فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه9291058إسحاق بن راهويه238
8كان في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في هذه الأمة فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمسند الحميدي248255عبد الله بن الزبير الحميدي219
9قد كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهمشيخة محمد الرازي ابن الحطاب106106أبو طاهر السلفي576
10كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهمشيخة أبي عبد الله الرازي1111 : 280محمد بن أحمد بن إبراهيم الرازي371
11كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهحديث أبي الفضل الزهري7088الحسن بن علي الجوهري381
12كان في الأمم محدثون وإن كان في أمتي منهم أحد فهو عمرعائشة بنت عبد اللهالجزء العاشر من الفوائد المنتقاة15---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
13كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهحديث سفيان بن عيينة رواية الطائي44---علي بن حرب بن محمد الطائي256
14في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهتصحيفات المحدثين711 : 69الحسن بن عبد الله بن سهل العسكري382
15كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمعرفة علوم الحديث للحاكم4671 : 220الحاكم النيسابوري405
16كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهإثارة الفوائد177---ابن عبد البر463
17ما كان من نبي إلا وفي أمته معلم أو معلمان فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالسنة لابن أبي عاصم10561262ابن أبي عاصم287
18في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي فعمر بن الخطاب كأنه يلهم الشيء من الحقعائشة بنت عبد اللهالسنة لأبي بكر بن الخلال386---أبو بكر الخلال311
19كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالشريعة للآجري1363---الآجري360
20يكون في أمتي محدثون فإن يكن منهم أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالشريعة للآجري1364---الآجري360
21يكون في الأمم محدثون قد كان في أمتي فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهشرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين8685ابن شاهين385
22كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20622486هبة الله اللالكائي418
23كان في الأمم محدثون وإن كان في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20632487هبة الله اللالكائي418
24كان في الأمم محدثون فإن كان في أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهكرامات أولياء الله عز وجل للالكائي2648هبة الله اللالكائي418
25كان يكون في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمشكل الآثار للطحاوي14291648الطحاوي321
26كان في الأمم محدثون فإن يكن في هذه الأمة فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهدلائل النبوة للبيهقي2656---البيهقي458
27كان يكون في الأمم رجال محدثون فإن يك في هذه الأمة فهو عمرعائشة بنت عبد اللهالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4411 : 243يعقوب بن سفيان277
28كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد منهم فعمرعائشة بنت عبد اللهالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4511 : 246يعقوب بن سفيان277
29يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649544 : 91ابن عساكر الدمشقي571
30كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649644 : 91ابن عساكر الدمشقي571
31كان في بني إسرائيل محدثون فإن كان في أمتي منهم أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649744 : 91ابن عساكر الدمشقي571
32كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649844 : 92ابن عساكر الدمشقي571
33كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649944 : 92ابن عساكر الدمشقي571
34كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650044 : 92ابن عساكر الدمشقي571
35كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فعمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650144 : 92ابن عساكر الدمشقي571
36كان في الأمم محدثون وإن كان في أمتي منهم أحد فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650244 : 93ابن عساكر الدمشقي571
37كان فيما خلا قبلكم أناس يحدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650344 : 93ابن عساكر الدمشقي571
38لكل أمة محدث وإن يك في هذه الأمة محدث فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650444 : 93ابن عساكر الدمشقي571
39كان في الأمم محدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650544 : 93ابن عساكر الدمشقي571
40كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهأسد الغابة1217---علي بن الأثير630
41يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل419516أحمد بن حنبل241
42كان فيما خلا قبلكم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل432530أحمد بن حنبل241
43كان في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في هذه الأمة فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم1515أبو نعيم الأصبهاني430





عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَإِنَّ اللَّهَ باهَى بِالنَّاسِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وباهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلا كَانَ فِي أَمَّتِهِ مُحَدَّثٌ ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ مُحَدَّثٌ ؟ قَالَ : " تَتَكَلَّمُ الْمَلائِكَةُ عَلَى لِسَانِهِ " .
ترجمہ :
حضرت ابو سعید خُدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفہ پر عموماً اور حضرت عمر پر خصوصاً فخر کیا ہے۔ جتنے انبیاء کرام مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محَدَّثْ ضرور ہوا ہے اگر میری امت کا کوئی محَدَّث ْ ہے تو وہ عمر ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! محدَث کون ہوتا ہے؟ فرمایا، جس کی زبان سے ملائکہ گفتگو کریں۔
اس حدیث کی اسناد درست ہیں۔
(طبرانی فی الاوسط، تاریخ الخلفاء:١٩٤)
المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد
الصفحة أو الرقم: 9/72 | خلاصة حكم المحدث : فيه أبو سعد خادم الحسن البصري ولم أعرفه وبقية رجاله ثقات
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله باهى بالناس عشية عرفة عامة وباهى بعمر خاصة لم يبعث نبيا إلا كان في أمته محدث وإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر قالوا يا رسول الله كيف محدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني69016726سليمان بن أحمد الطبراني360
2من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله باهي بالناس عشية عرفة عامة وإن الله باهى بعمر خاصة الله لم يبعث نبيا قط إلا كان في أمته من يحدث وإن يكن في أمتي أحد فهو عمر قيل يا رسول الله كيف يحدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر1228814 : 22ابن عساكر الدمشقي571
3من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله باهى بالناس عشية عرفة عامة وإن الله باهى بعمر خاصة لم يبعث نبيا قط إلا كان في أمته من يحدث وإن يكن في أمتي أحد فهو عمر قيل يا رسول الله كيف يحدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4657444 : 116ابن عساكر الدمشقي571
4من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني عمر معي حيث حللت وأنا مع عمر حيث حل وعمر معي حيث أحببت وأنا مع عمر حيث أحبسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4660144 : 127ابن عساكر الدمشقي571
5من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله قد باهى بالناس عشية عرفة عامة وإن الله باهى بعمر خاصة لم يبعث نبي قط إلا كان في أمته من يحدث فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر قيل يا رسول الله كيف يحدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر5989356 : 92ابن عساكر الدمشقي571
6من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحبه فقد أحبني عمر معي حيث حللت وأنا مع عمر حيث حلسعد بن مالكسير أعلام النبلاء الذهبي945---الذهبي748





تشریح :

(ل ھ م) الالھام (افعال) کے معنی کسی کے دل میں کوئی بات القا کردینا(ڈال دینا) کے ہیں ۔ لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القاء(ڈالنے) کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلیٰ کی جانب سے کسی کے دل میں ڈالی جاتی ہے۔ قرآن میں ہے: 
فَأَلْهَمَها فُجُورَها وَتَقْواها
[سورہ الشمس:8]
پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری (کرنے) کی سمجھ دی۔
اور اس کو لمة الملك - یا - نفث فی الروع سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
للشيطان لمة بابن آدم وللملك لمة...
شیطان ابن آدم کے دل میں خیال ڈالتا ہے اور فرشتہ بھی خیال ڈالتا ہے...
[جامع الترمذي:2988]
کا ہے۔
اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ:
إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رَوْعِي
(روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی)۔
[الصحيحة:2857، مسند أحمد:19811+19813]
اصل میں یہ التھام الشئی سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی کسی چیز کو نگل جانا کے ہیں۔ چناچہ محاورہ ہے: التھم الفصیل مافی الضرع کہ اونٹنی کے بچے نے تھنوں سے تمام دودھ چوس لیا۔ فرس لھم تیز رو گھوڑا گویا وہ اپنی تیزروی سے زمین کو نگل رہا ہے۔
[مفردات القرآن-امام راغب:]

الہام ایک بڑی نعمت جو اصحاب نسبت (بزرگوں سے تعلق رکھنے والے) کو ملتی ہے وہ الہام ہے. الہام کی حقیقت یہ ہے کہ بغیر نظر واستدلال کے اللہ تعالی کوئی حقیقیت بندے کو قلب میں القاء فرمادیں(ڈالدیں) یا کسی غیبی مخلوق کے ذریعہ اطلاع بخش دیں جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ محترمہ کے لیے ارشاد ہے:
"وَاَوْحَیْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِیْہِ"
ہم نے موسی کی ماں کی جانب وحی کی کہ دودھ پلاتی رہو۔
(القصص:۷)
یہ وحی باتفاق مفسرین الہام ہے:
"وَعَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ وَقَتَادَۃَ:أَنَّہٗ کَانَ اِلْھَامًا"
(روح المعانی:۱۵/۷۸)
"بِإِلْھَامٍ أَوْرُؤْیَا"
(البیضاوی:۴/۴۴۸)

اسی طرح حضرت مریم کے متعلق قرآن میں ارشاد ہے:
"وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰائکَۃُ یٰمَرْیَمُ"
جب فرشتوں نے کہا:اے مریم!۔
(آل عمران:۴۲)
فرشتوں کا حضرت مریم سے خطاب فرمانا الہام کے قبیل سے ہے ، یہ دولت اللہ تعالی نسبت والوں کو عطا فرماتے ہیں۔
موطا امام مالک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے:
"اَنَا عُمَرَ وَلَمْ أَحْرِصْ عَلیٰ أَمْرِکُمْ لَکِنَّ الْمُتَوَفَیٰ أَوْصَیٰ بِذَالِکَ وَاللہُ اَلْھَمَہٗ ذٰلِکَ"
ترجمہ :
میں عمر ہوں اور تم پر حاکم بننے کی مجھے خواہش نہ تھی ، لیکن متوفی (ابوبکر) نے مجھے اس کی وصیت کی اور اللہ نے ان کے قلب پر اس کا الہام فرمایا۔
[تيسير الوصول: ج 2 ص 48 ، جامع الاصول فی احادیث الرسول، الباب الثانی فی ذکر الخلفاء الراشدین: جلد:4 ، حدیث نمبر:2080]

تشریح :
اگر میری امت میں کوئی محدث ہوا تو کا مقصود اس امت میں محدث کے وجود کو مشکوک ومشتبہ کرنا نہیں ہے، امت محمدی تو پچھلے تمام امتوں سے افضل واعلی ہے۔ اگر پچھلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے تو اس امت میں ان کا وجود یقینی بطریق اولیٰ ہوگا۔ پس ان الفاظ کا مقصد تاکید و تخصیص ہے، یعنی اس امت میں صرف عمر ان خصوصیات و اوصاف کے حامل ہیں جن سے ان کا محدث ہونا ظاہر ہوتا ہے، اس جملہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے مخلص ترین دوست کی خصوصی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے کہے کہ دنیا میں اگر کوئی شخص میرا دوست ہے تو بس وہی ہے جس طرح اس جملہ کی مراد اس شخص کی دوستی کے درجہ کمال کو نہایت خصوصیت کے ساتھ بیان کرنا ہوتی ہے۔ اسی طرح حدیث کے مذکورہ بالا جملہ کی مراد مذکورہ وصف کے ساتھ حضرت عمر کی نہایت خصوصی نسبت کو بیان کرنا ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5983]

محدث کے معنی:
محدث یہاں ملہم (صاحب الہام) کے معنی میں ہے، یعنی وہ (روشن ضمیر) جس کے دل میں غیب سے کوئی بات پڑے۔ اس کو محدث اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ گویا اس سے غیبی طاقت بات کرتی ہے، اس کو وہ بات بتاتی ہے، جو دوسروں کو معلوم نہیں ہوتی اور پھر وہ شخص اس بات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ مجمع البحار میں لکھا ہے، محدث اس شخص کو کہتے ہیں جس کے دل میں ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بات ڈالی جاتی ہے اور پھر وہ شخص ایمانی حد و فراست کے ذریعہ اس بات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے اور یہ مرتبہ اسی شخص کو نصیب ہوتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نوازنا چاہے، بعض حضرات نے کہا ہے محدث وہ شخص ہے جس کا ظن، یعنی گمان (کسی بھی مختلف فیہ بات کے) اسی پہلوکو اختیار کرے جو صواب یعنی صحیح ہو اور آخر میں اس کی رائے اس طرح صائب ثابت ہو جیسے کسی جاننے والے نے اس کو بتا رکھا ہو۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے۔ محدث کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس کے فرشتے اس سے کلام کرتے ہوں، یہ قول غالباً اس بنیاد پر ہے کہ ایک روایت میں محدثوں کے بجائے متکلمون کا لفظ نقل ہوا ہے۔


آپ کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ کسی معاملے میں آپ جو مشورہ دیتے یا رائے پیش کرتے ، قرآن کریم آپ کی رائے کے موافق نازل ہوتا۔

حضرت علی شیرِ خدا کرم ﷲ وجہہ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم میں حضرت عمرؓ کی آراء موجود ہیں جن کی وحی الہٰی نے تائید فرمائی ہے۔

حضرت ابنِ عمرؓ سے مروی ہے کہ اگر بعض امور میں لوگوں کے رائے کچھ اور ہوتی اور حضرت عمرؓ کی کچھ اور، تو قرآن مجید حضرت عمرؓ کی رائے کے موافق نازل ہوتا تھا۔ 
(تاریخ الخلفاء:١٩٧)


موافقات عمر:
عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ؟ فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَآيَةُ الْحِجَابِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ ، أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ".
ترجمہ :
حضرت انس اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا، تین باتوں میں میرے رب نے میری موافقت فرمائی:
(1) میں عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ ﷺ! کاش ہم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالیں تو حکم نازل ہوا:''اور ٹھہرالو مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ''۔ (البقر:١٢٥)
(2) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہماری عورتوں کے پاس بھلے اور برے آتے ہیں، کاش! آپ انہیں پردے کا حکم فرمائیں۔ اس پر پردے کی آیت نازل ہو گئی۔
(3) نیز جب نبی کریم کی ازواج مطہرات غیرت کھا کر جمع ہو گئیں تو میں عرض گزار ہوا، ''اگر آپ انہیں طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ان سے بہتر بدلے میں عطا فرمائے''۔ پس اسی طرح آیت نازل ہو گئی۔

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1وافقت ربي ثلاثا قلت لو اتخذنا أو قال لو اتخذت يا رسول الله مقام إبراهيم مصلى فأنزل اللهواتخذوا من مقام إبراهيم مصلى وبلغني أنه كان بين أمهات المؤمنين وبين النبي شيء فقلت تكففن عن رسول الله أو ليبدلنه الله خيرا منكن حتى أتيت على أمهات المؤمنين فقلن يا عمرأنس بن مالكالجزء العاشر من الفوائد المنتقاة27---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
2وافقت ربي في ثلاث قلت يا رسول الله لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى وقلت يا رسول الله إن نسائك يدخل عليهن البر والفاجر فلو أمرتهن أن يحتجبن قال فنزلت آية الحجاب واجتمع على رسول الله نساؤه في الغيرة فقلت لهن عسى ربه إنأنس بن مالكالجزء العاشر من الفوائد المنتقاة177---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
3لما نزلت آية الحجاب جئت أدخل كما كنت فقال لي رسول الله وراءك يا بنيأنس بن مالكتعليقات الدارقطني على المجروحين لابن حبان881 : 110الدارقطني385



 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلىصحيح البخاري390402محمد بن إسماعيل البخاري256
2يدخل عليك البر والفاجر فلو أمرت أمهات المؤمنين بالحجاب فأنزل الله آية الحجابصحيح البخاري44414790محمد بن إسماعيل البخاري256
3وافقت ربي في ثلاث قلت لو اتخذنا أو لو اتخذت يا رسول الله مقام إبراهيم مصلى وبلغني أنه كان بين أمهات المؤمنين وبين النبي فقلت تكففن عن رسول الله أو ليبدلنه الله خيرا منكن حتى أتيت على أمهات المؤمنين فقلن يا عمر أما في رسول الله أسوة حسنة ما يعظ نساءه حتىشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20562479هبة الله اللالكائي418
4لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى فأنزل الله واتخذوا من مقام إبراهيم مصلىشرح السنة37953887الحسين بن مسعود البغوي516
5وافقني ربيفي ثلاث أو وافقت ربيفي ثلاث قال قلت يا رسول الله لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى فأنزل اللهواتخذوا من مقام إبراهيم مصلى وقلت يدخل عليك البر والفاجر فلو حجبت أمهات المؤمنين فأنزل الله آية الحجاب وبلغني شيء من المعاتبة من أمهات المؤمنين فاستقريتهنمشكل الآثار للطحاوي14311652الطحاوي321
6لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى لو أمرتهن أن يحتجبن فنزلت آية الحجاب اجتمع نساء رسول الله م فقلت لهن عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات الآية فنزلتالتفسير من سنن سعيد بن منصور212215سعيد بن منصور220
7لو اتخذت من المقام قبلة فأنزل الله واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى لو حجبت أمهات المؤمنين فأنزل الله آية الحجاب أما في رسول الله ما يعظ نساءه حتى تعظهن أنت فأنزل الله عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكنفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل396493أحمد بن حنبل241
8لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى لو أمرتهن أن يحتجبن اجتمع على رسول الله نساؤه في الغيرة قال فقلت عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن فنزلت كذلكفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل397494أحمد بن حنبل241
9لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى لو حجبت أمهات المؤمنين فأنزل الله آية الحجاب أما في رسول الله ما يعظ نساءه حتى تعظهن أنت فاسكت فأنزل الله عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلماتفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل398495أحمد بن حنبل241
10لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى لو أمرتهن أن يحتجبن فنزلت آية الحجاب اجتمع على رسول الله نساؤه في الغيرة فقلت عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن فنزلت كذلكفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل571682أحمد بن حنبل241

تشریح:
واقعہ یہ ہے کہ ذخیرہ حدیث میں کم از کم پندرہ ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے، کہ کسی مسئلہ میں حضرت عمرؓ کی ایک رائے ہوئی یا ان کے قلب میں داعیہ پیدا ہوا کہ کاش اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آ جاتا تو وہی حکم وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ گیا اس حدیث میں ان میں سے صرف تین کا ذکر کیا گیا ہے ..... ایک مقام ابراہیم سے متعلق حکم کا، دوسرے پردے کے بارے میں، تیسرے غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حکم کا ...... جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ "مقام ابراہیم" سفید رنگ کا ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی (اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات معجزانہ طور پر پڑ گئے تھے جو اب تک باقی ہیں) وہ اسی زمانہ سے محفوظ چلا آ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ کے زمانے تک خانہ کعبہ کی قریب ہی میں ایک جگہ کھلا رکھا رہتا تھا (بعد میں اس کو عمارت میں محفوظ کر دیا گیا) حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ کاش ایسا ہوتا کہ مقام ابراہیم کو خصوصیت سے نماز کی جگہ قرار دے دیا جائے، تو سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۵ نازل ہوئی اور اس میں حکم آ گیا "وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى" (اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیا کرو) آیت کا سہل الفہم مطلب یہ ہے کہ طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جائیں، فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے، اگر سہولت سے مقام ابراہیم کے پاس پڑھی جا سکیں تو وہیں پڑھی جائیں، ورنہ مسجد حرام میں کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ حجاب یعنی پردے سے متعلق ہے، جب تک مستورات کے لئے حجاب یعنی پردے کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں بھی بضرورت صحابہ کرامؓ کی آمدورفت ہوتی تھی، حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے داعیہ پیدا فرمایا کہ خاص کر ازواج مطہرات کے لئے حجاب کا خصوصی حکم آ جائے چنانچہ اس بارے میں آیت نازل ہو گئی "وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ" (سورہ احزاب آیت ۵۴) تیسری بات یہ کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور مشرکین کی شکست کے بعد ان کے جو آدمی گرفتار کر کے قیدی بنائے گئے، ان کے متعلق میری رائے یہ تھی کہ یہ سب اسلام، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے جانی دشمن اور اکابر مجرمین ہیں، ان سب کو قتل کر دیا جائے، ان کو زندہ چھوڑ دینا ایسا ہی ہے، جیسے زہریلے سانپوں کو زندہ چھوڑنا لیکن ابو بکر صدیقؓ اور رسول اللہ ﷺ پر رحم دلی کا غلبہ تھا ان کی رائے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی ہوئی اور اسی پر عمل کیا گیا ...... بعد میں سورہ انفال کی وہ آیات نازل ہوئیں جو میری رائے کے مطابق تھیں۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ واقعہ یہ تھا کہ ان تینوں مسئلوں میں وحی الہی نے حضرت عمرؓ کی موافقت کی تھی، لیکن حضرت عمرؓ نے از راہِ ادب اس کو اس طرح تعبیر کیا کہ میں نے حکم خداوندی کی موافقت کی تین مسئلوں میں۔ بلاشبہ یہ حسن ادب رسول اللہ ﷺ ہی کی تعلیم و تربیت اور فیض صحبت ہی کا نتیجہ تھا۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2026]

حافظ عسقلانی نے لکھا ہے کہ یہاں صرف تین باتوں کے ذکر سے یہ لازم نہیں آتا کہ موافقات عمر کی تعداد تین سے زائد نہ ہو در حقیت ان مواقع کی تعداد تین سے کہیں زیادہ ہے جن میں حضرت عمر کی رائے اور مشورہ کے مطابق حکم الہٰی نازل ہوا ان میں جو زیادہ مشہور ہیں وہ تو ایک بدر کے قیدیوں ہی کا معاملہ ہے، ایک منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنے والا واقعہ بھی ہے اسی طرح بعض محققین نے تلاش و جستجو کے بعد جن موافقات عمر کو جمع کیا ہے ان کی تعداد پندرہ سے زائد ہوتی ہے (جیسا کہ علامہ سیوطی نے بیس موافقات عمر کا ذکر کیا ہے) مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدم مبارک کا نشان بطور معجزہ پڑگیا تھا اور جس پر کھڑے ہو کر آپ بیت اللہ کی چنائی کرتے تھے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑ کر بتایا کہ مقام ابراہیم ہے اس وقت حضرت عمر نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اس مقام کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اور پھر اسی دن آفتاب غروب بھی نہیں ہوا تھا کہ مذکورہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھنی واجب ہیں وہ مقام ابراہیم کے پاس (اس طرح) پڑھا کرو (کہ مقام ابراہیم بھی سامنے رہے اور بیت اللہ بھی) اس آیت میں امر کا صیغہ استحباب کے لئے ہے اور بعض حضرات نے وجوب کے لئے کہا ہے، یعنی طواف کے بعد دو رکعتیں پڑھنی تو واجب ہیں لیکن مستحب یہ ہے کہ یہ دونوں رکعتیں خاص مقام ابراہیم کے پیچھے متصلاً پڑھی جائیں۔ ہاں جس شخص کو خاص مقام ابراہیم کے پیچھے جگہ نہ ملے اور حرم میں کسی بھی جگہ یہ رکعتیں پڑھ لے تو اس حکم کی پوری تعمیل ہوجائے گی۔ امام شافعی کے مسلک میں ان دو رکعتوں کے وجوب کے بارے میں دو قول ہیں۔ پس پردہ کی آیت نازل ہوئی اور آیت یہ ہے۔ (فَسْ َ لُوْهُنَّ مِنْ وَّرَا ءِ حِجَابٍ ) 33۔ الاحزاب 53) اور جب تم ان ( ازواج النبی ﷺ سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو۔ واضح رہے کہ ازواج مطہرات پر جو یہ پردہ واجب ہوا تھا وہ اس ستر عورت کے علاوہ ہے جو اور تمام عورتوں پر واجب ہے یعنی اس آیت کے ذریعہ ان ازواج مطہرات کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ غیر محرموں کے سامنے بالکل نہ آئیں اگرچہ کپڑوں میں لپٹی اور چھپی ہوئی ہی کیوں نہ ہوں یہ حکم خاص طور پر صرف ازواج مطہرات کو دیا گیا تھا، جب کہ اور عورتوں کو اجازت ہے کہ اگر اپنے جسم کو خوب ڈھانک چھپا کر وہ باہر نکلنا چاہیں تو نکل سکتی ہیں۔ رشک و غیرت والے معاملہ پر اتفاق کرلیا تھا اس سے آنحضرت ﷺ کے شہد پینے سے متعلق مشہورواقعہ مراد ہے آنحضرت ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد کھڑے کھڑے اپنی ازواج کے پاس تشریف لاتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی معمول کے مطابق آپ ﷺ ایک زوجہ مطہرہ حضرت زینب کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہیں سے آیا ہوا شہد آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جو آپ ﷺ کو بہت مرغوب تھا اور اسی وجہ سے حضرت زینب نے آپ ﷺ کے لئے رکھ چھوڑا تھا، شہد پینے میں آپ کو کچھ وقت لگا۔ اور اس سبب سے حضرت زینب کے یہاں آپ ﷺ معمول سے زیادہ ٹھہرے رہے۔ یہ بات حضرت عائشہ اور بعض دوسری مطہرات کے لئے رشک و غیرت کا باعث بن گئی، ام المؤمنین حضرت عائشہ نے ام المؤمنین حضرت حفصہ (بنت عمر) سے مشورہ کیا اور دونوں اس رائے پر متفق ہوگئیں کہ آنحضرت ﷺ ہم جس کے پاس بھی تشریف لائیں وہ یوں کہے کہ آپ ﷺ میں سے مغافیر کی بوآرہی ہے۔ اور پھر جب آنحضرت ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو ان میں سے ہر ایک نے یوں ہی کہا آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے تو مغافیر کو ہاتھ بھی نہیں لگایا، صرف شہد پیا تھا، پھر مغافیر کی بو کہاں سے آئی انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس شہد کی مکھیاں مغافیر پر بیٹھ گئی ہوں، جس کے سبب اس شہد میں مغافیر کی بو شامل ہوگئی ہو۔ اس بات سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ شہد پینے کے لئے آئندہ حضرت زینب کے یہاں نہ ٹھہریں۔ مگر آنحضرت ﷺ نے ان کی بات کو صداقت پر محمول کیا اور احتیاط شہد پینا اپنے اوپر حرام کرلیا۔ پھر بعد میں سارا بھید کھلا کہ یہ تو سوکنا پے کا چکر تھا جس میں آنحضرت ﷺ کو مبتلا کیا گیا اور ایک بدنما صورت حال پیدا ہوئی۔ اسی موقعہ پر حضرت عمر نے ان ازواج مطہرات کو تنبیہ وتہدید کرتے ہوئے مذکورہ الفاظ کہے اور پھر جب قرآن میں اس واقعہ سے متعلق فرمان الہٰی نازل ہوا تو اس میں حضرت عمر کے الفاظ اور مفہوم کو جوں کا توں شامل کیا گیا۔ سورة تحریم میں ہے۔ (عَسٰى رَبُّه اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَه اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ ) 66۔ التحریم 5) اگر آنحضرت ﷺ تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دیدے گا۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں یعنی غزوہ بدر میں فتح یابی کے بعد جنگی قیدیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے مشورہ فرمایا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہو اور ان کا معاملہ کس طرح نمٹایا جائے تو حضرت ابوبکر نے رائے دی کہ فدیہ لے کر ان کو رہا کردیا جائے۔ لیکن حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ ان دشمنان اسلام کو قتل کردیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر کی رائے کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں کو ان کی حیثیت واستطاعت کے مطابق فدیئے لے کر رہا کردیا۔ لیکن جب قرآن کریم میں اس کے متعلق آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر کی رائے کے مطابق نکلی۔ اس کی تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5998]



عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : فَضلَ عُمَرُ النَّاسَ بِثَلاثٍ ، فِي أَمْرِ الأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْتُلَهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ سورة الأنفال آية 68 الآيَةَ ، وَبِذِكْرِ الْحِجَابِ ، أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ : مَا تُرِيدُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ! وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53 وَدَعْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " . قَالَ الْبَزَّارُ : لا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ .

ترجمہ :

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا:
حضرت عمرؓ کو دوسرے لوگوں پر چار باتوں سے (خاص) فضیلت دی گئی ہے۔
(1) بدر کے قیدیوں کے بارے میں جب آپ نے اُن کو قتل کرنے کے لیے کہا تو ﷲ تعالیٰ نے(آپ کی تائید میں) فرمایا :
''اگر ﷲ پہلے فیصلہ نہ کرچکا ہوتا جو تم نے کیا تو تم کو بڑا عذاب پہنچتا''۔ (8:68)
(2) اور پردے کے معاملے میں جب آپ نے نبی کریم  کی ازواجِ مطہرات سے پردے کے لیے کہا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا، اے ابنِ خطاب ! آپ ہم پر بھی حکم چلاتے ہیں حالانکہ وحی ہمارے گھر میں نازل ہوتی ہے۔ تو ﷲ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا:
''اور جب تم نے کوئی چیز ان سے مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو''۔ (33:53)
(3) اور نبی  کی دعا کے باعث کہ'' اے ﷲ ! عمر کے ذریعے اسلام کی مدد فرما''۔
(4) اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ سے بیعت کے فیصلے کے باعث کہ سب سے پہلے اِنہوں نے بیعت کی۔
[البحر الزخار مسند البزار  » السادس عشر وهو الثاني من حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ  » وَمِمَّا رَوَى أَبُو نَهْشَلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ...رقم الحديث: 1575]




تشریحی ترجمہ :
حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ : حضرت عمر ابن خطاب کو دوسروں پر چار باتوں کے سبب خصوصی فضیلت حاصل ہے ۔ ایک بات تو جنگ بدر کے قیدیوں کے بابت ان کی رائے تھی ، یہ کہنا تھا کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِ يْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ(الانفال:68)
یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہو چکتا ( کہ خطاء اجتہادی کا مرتکب مستوجب عذاب نہیں ہوگا یا کوئی بری سزا واقع ہوتی ۔
دوسری بات پردہ کی بابت ان کا مشورہ دینا تھا ۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کو پردہ (میں رہنے ) کی طرف متوجہ کیا تھا اور (ان کے توجہ دلانے پر) ام المؤمنین حضرت زینب نے ان سے کہا تھا کہ اے عمر ابن خطاب ! پردہ میں رہنے کی بات ہم سے تم کہہ رہے ہو حالانکہ وحی ہمارے گھروں میں اترتی ہے ؟ اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی :
فَسْ َ لُوْهُنَّ مِنْ وَّرَا ءِ حِجَابٍ (الاحزاب:53)
(یعنی اور جب تم ان (ازواج النبی ) سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو)
تیسری بات وہ دعا ہے تھی جوان کے حق میں نبی کریم ﷺ نے مانگی تھی کہ الہٰی : عمر کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطا فرما۔
اور چوتھی بات ابوبکر کے حق میں ان کی رائے تھی کہ انہوں نے (حضرت ابوبکر کو خلیفہ اول بنانے کی تجویز پیش کرکے بڑے نازک وقت میں تمام مسلمانوں کی بروقت راہنمائی کی اور اپنی زبردست قوت اجتہاد کے ذریعہ انہی کو خلافت اول کا اہل ومستحق جان کر) سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیت کی (اور پھر ان کی پیروی میں اور سب لوگوں نے خلافت صدیق پر بیت کی)
(احمد)

تشریح:
جنگ بدر کے قیدیوں کی بابت ان کی رائے تھی " اس کی تفصیل خود حضرت عمر ایک روایت میں جو ریاض الصالحین میں منقول ہے ۔ یوں بیان کرتے ہیں کہ : جنگ بدر کے دن (جب اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو فتح وغلبہ عطا فرمایا اور قیدیوں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے ہاتھ لگی تو) رسول اللہ ﷺ کی مجلس مشاورت منعقد کی اور ان قیدیوں کے بارے میں مشورہ چاہا ۔ حضرت ابوبکر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ان قیدیوں میں سب اپنے ہی رشتے ناطے کے لوگ ہیں ، کوئی چچا کا بیٹا ہے تو کوئی بھائی کا بیٹا ہے ، کوئی خاندان کا فرد ہے تو کوئی قبیلے کا ، اگر ہم ان سب سے فدیہ (مالی معاوضہ) لے کر ان کو رہا کردیں تو اس سے ہمیں دشمنان دین کے مقابلہ کے لئے اگلی تیاریوں میں بڑی مدد ملے گی اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رہا ہونے والوں کو ہدایت فرمادے اور یہ اسلام قبول کرکے ہمارے معاون ومدد گار بن جائیں ۔ آنحضرت ﷺ نے (ابو بکر کی یہ رائے سن کر ) فرمایا کہ عمر! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں ابوبکر کی رائے کو موزوں نہیں سمجھتا ، دراصل یہ سارے قیدی کفر وضلالت کی پیشوائی کرنے والے اور دشمنان دین کے سردار ہیں ، ان کو زندہ چھوڑ نا دینا خطرہ مول لینا ہے ، ان سب کی گردنیں اڑا دینا ہی مناسب ہے آخر کار آنحضرت ﷺ نے ابوبکر کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ لے کر ان قدیوں کو رہا کر دیا ۔ اگلے دن صبح کو جب میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ اور ابوبکر گریاں ولرزاں بیٹھے ہوئے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ خیر تو ہے! آپ ﷺ کے یہ رفیق (ابو بکر) رو کیوں رہے ہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : عمر! (کیا پوچھتے ہو ، سمجھو بس اللہ نے خیر ہی کردی ، نہیں تو) عذاب تو میرے سامنے اس درخت سے بھی قریب آگیا تھا (جو بالکل سامنے نظر آرہا ہے) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَه اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (67) لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِ يْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (68) (الانفال : 68-67) " پیغمبر کو شایاں نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں (بلکہ قتل کردیئے جائیں ) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح (دشمنان دین کی) خونریزی نہ کرلیں ۔ تو تم دنیا کے مال واسباب چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست اور بڑے حکمت والے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکتا تو جو امر تم نے اختیار کیا ہے اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوتی ۔" اس سے واضح ہوا کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں انسب رائے وہی ہے تھی جو حضرت عمر نے ظاہر کی تھی ۔ حضرت ابوبکر کی رائے اس مصلحت پر مبنی تھی کہ اس وقت اہل اسلام کے لئے مالی تنگیوں اور پریشانیوں کا بڑا نازک مرحلہ درپیش ہے ۔ دشمنان دین اس جنگ میں ہزیمت خورہ ہونے کے باجود اپنی معاندانہ روش کو ترک نہیں کریں گے ۔ مسلمانوں کے خلاف ان کے جارحانہ عزائم جوں کے توں ہیں اور وہ اپنی مالی وانسانی قوت کو مجتمع کرکے اہل اسلام کو پھر میدان جنگ میں لانے کی کوشش کریں گے ۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اپنے خونی رشتہ داروں اور اعزاواقرباء کو اپنے ہاتھوں قتل کیا گیا ۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس احسان کو خود یہ قیدی محسوس کریں اور ان کو ایمان قبول کرنے اور ہمارا مدد گار بن جانے کی توفیق مل جائے " دوسری طرف فدیہ کی شکل میں ان سے حاصل ہونے والا مال واسباب ہماری بڑی مدد کرے گا اس کے ذریعہ ہم اپنی طاقت بڑھائیں گے اور دشمنان دین سے لڑنے کے لئے جنگی وسائل وذرائع فراہم کریں گے ایک اعتبار سے یہ رائے حضرت ابوبکر کی "صفت جمال" کا مظہر بھی تھی اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں جن حضرات کے مزاج میں نرمی اور مروت کا زیادہ دخل تھا ان سب نے بھی اس رائے کی تائید کی ۔ دوسری طرف حضرت عمر کی رائے ان کی "صفت جلال" کا مظہر تھی اور جن صحابہ پر اس صفت کا غلبہ تھا انہوں نے حضرت عمر کی رائے کی تائید کی نبی رحمت ﷺ اگرچہ تمام صفات وکمالات کے جامع تھے مگر واقعہ یہ کہ آپ ﷺ مائل " صفت جمال " ہی کی طرف تھے اور اسی وجہ سے اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کی رائے کو پسند فرمایا ۔ تاہم اللہ کی علیم وخبیر ذات کے علاوہ اور کون اس فیصلہ کے اصل عواقب ونتائج کو جان سکتا تھا ، اس کی بارگاہ حکمت میں قیدیوں کی رہائی کا یہ فیصلہ غیرموزوں قرار پایا اور اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں جن سے حضرت عمر کی اصابت رائے کی توثیق ہوئی۔ 


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1فضل عمر الناس بأربع بذكره الأسارى يوم بدر فأمر بقتلهم فأنزل اللهلولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم وبذكره الحجاب فقالت زينب وإنك لتغار منا والوحي ينزل في بيوتنا فأنزل اللهوإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب ودعوة نبي الله اللهم أيدعبد الله بن مسعودالمعجم الكبير للطبراني87449 : 166سليمان بن أحمد الطبراني360
2فضل الناس عمر بأربع قوله في الأسارى وقوله يا رسول الله اضرب عليهن الحجاب فقالت زينب بنت جحش يا ابن الخطاب تغار علينا والوحي في بيوتنا وكان أول من بايع أبا بكر ودعوة النبي اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالكني والأسماء للدولابي30513 : 1105أبو بشر الدولابي310
3فضل الناس عمر بن الخطاب بأربع بذكر الأسرى يوم بدر أمر بقتلهم فأنزل الله لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم وبذكر الحجاب أمر نساء النبي أن يحتجبن فقالت زينب إنك علينا يابن الخطاب والوحي ينزل في بيوتنا فأنزل الله وإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن معبد الله بن مسعودأسد الغابة1224---علي بن الأثير630


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن مسعودالمستدرك على الصحيحين44243 : 81الحاكم النيسابوري405
2فضل الناس عمر بدعوة رسول الله في عمر اللهم أيد الناس بعمرعبد الله بن مسعودمسند أبي داود الطيالسي245247أبو داود الطياليسي204
3اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالمسند للشاشي505554الهيثم بن كليب الشاشي335
4اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطابعبد الله بن مسعودكشف الأستار23612503نور الدين الهيثمي807
5اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالمعجم الأوسط للطبراني84738253سليمان بن أحمد الطبراني360
6اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن مسعودالمعجم الكبير للطبراني1016510314سليمان بن أحمد الطبراني360
7اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودأمالي ابن سمعون الواعظ4647ابن سمعون الواعظ387
8اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودالسنة لأبي بكر بن الخلال385---أبو بكر الخلال311
9إسلام عمر بن الخطاب عزا وكانت هجرته نصرا وكانت خلافته رحمة والله ما استطعنا أن نصلي ظاهرين حتى أسلم عمر وإني لأحسب أن بين عيني عمر ملكا يسدده فإذا ذكر الصالحون بعمرعبد الله بن مسعودالشريعة للآجري1219---الآجري360
10اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب أو بأبي جهل بن هشامعبد الله بن مسعودتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم78---أبو نعيم الأصبهاني430
11اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4634644 : 26ابن عساكر الدمشقي571
12اللهم أيد الدين بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4641544 : 57ابن عساكر الدمشقي571
13اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4641744 : 58ابن عساكر الدمشقي571
14اللهم أيد الإسلام بعمرعبد الله بن مسعودتاريخ دمشق لابن عساكر4641844 : 59ابن عساكر الدمشقي571



اس حدیث میں مذکور دعا میں کسی دوسرے شخص کا نام شامل نہیں ہے۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے سنن میں اُمُ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ اسی حدیث کو طبرانی نے اوسط میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے اور معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
(تاریخ الخلفاء:١٨٣)



محدثین فرماتے ہیں کہ ان تین 
اُمُور(باتوں) میں حَصْر(شمار-تخصیص) کی وجہ ان(3 باتوں) کی شہرت ہے، ورنہ موافقت کی تعداد اس سے زائد ہے۔ حضرت عمرؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے رب نے مجھ سے اکیس (٢١) باتوں میں موافقت فرمائی ہے۔ جن کا تذکرہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "تاریخ الخلفاء" میں کیا ہے۔ ان امور کی تفصیل حسب ذیل ہے:-

1۔ حجاب کے احکام سے پہلے حضرت عمرؓ نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! ازواجِ مطہرات کے سامنے طرح طرح کے لوگ آتے ہیں اس لیے آپ انہیں پردے کا حکم دیجیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہو گئی۔ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ۔''اور جب مانگنے جاؤ بیبیوں سے کچھ چیز کام کی تو مانگ لو پردہ کے باہر سے''۔ (الاحزاب:٥٣)

2۔ ایک بار آپ نے عرض کی، یا رسول اللہ  ! ہم مقامِ ابراہیم کو مصلیٰ نہ بنالیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوگئی، وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہمَ مُصَلًّی ۔ ''اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ''۔(البقرۃ:١٢٥)

3۔ بدر کے قیدیوں کے متعلق بعض نے فدیہ کی رائے دی جبکہ حضرت عمرؓ نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا ۔ اس پر آپ کی موافقت میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لَوْلاَ کِتَاب'' مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اَخَذْتُمْ عَذَاب'' عَظِیْم''۔ ''اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب''۔(الانفال:٦٨)

4۔ نبی کریم ﷺ کا اپنی کنیز حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانا بعض ازواجِ مطہرات کو ناگوار لگا تو حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا،
عَسٰی رَبُّہ، اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہ، اَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ۔ ''اگر نبی چھوڑ دے تم سب کو ابھی اُس کا رب بدلے میں دیدے اُسکو عورتیں تم سے بہتر''۔ (التحریم:۵)
بالکل انہی الفاظ کے ساتھ وحی نازل ہوگئی۔

5۔ حرمت سے قبل مدینہ طیبہ میں شراب اور جوئے کا عام رواج تھا۔ حضرت عمرؓ نے بارگاہِ نبوی میں عرض کی، ہمیں شراب اور جوئے کے متعلق ہدایت دیجیے کیونکہ یہ مال اور عقل دونوں ضائع کرتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَا اِثْم'' کَبِیْر''۔ ''تجھ سے پوچھتے ہیں حکم شراب کا اور جوئے کا کہدے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے''۔ (البقرۃ:٢١٩)

6۔ ایک بار ایک شخص نے شراب کے نشہ میں نماز پڑھائی تو قرآن غلط پڑھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے پھر وہی عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔
یٰااَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی ۔(النسائ:٤٣)
''اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو ''۔

7۔ اسی سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بار بار دعا کی ، الٰہی! شراب اور جوئے کے متعلق ہمارے لئے واضح حکم نازل فرما۔ یہان تک کہ شراب اور جوئے کے حرام ہونے پر یہ آیت نازل ہوگئی۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۔ ''اے ایمان والو یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور پانسے سب گندے کام ہیں شیطان کے سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ''۔ (المائدۃ:٩٠)

8۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِنْ طِیْنِ
(اور ہم نے بنایا آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے) نازل ہوئی۔ (المؤمنون:١٢)
تو اِسے سن کر حضرت عمرؓ نے بے ساختہ کہا:
فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ۔(المؤمنون:14)
'' تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا''۔ اس کے بعد اِنہی لفظوں سے یہ آیت نازل ہوگئی۔
(تفسیر ابن ابی حاتم)

9۔ جب منافق عبداللہ ابن اُبی مرا تو اُس کے لوگوں نے رسول ُاللہ  سے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے درخواست کی۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی، یا رسول اللہ ! عبداللہ ابن اُبی تو آپ کا سخت دشمن اور منافق تھا ،آپ اُس کا جنازہ پڑھیں گے؟ رحمتِ عالمﷺ نے تبلیغ دین کی حکمت کے پیشِ نظر اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ یہ آیت نازل ہوگئی:
وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَاتَ اَبَدًا۔
''اور جب ان (منافقوں) میں سے کوئی مرے تو اس پر نماز نہ پڑھیے''۔{9:84}

یہ خیال رہے کہ حضور اکرمﷺ کا یہ فعل صحیح اور کئی حکمتوں پر مبنی تھا جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس نماز کی وجہ سے اس منافق کی قوم کے ایک ہزار افراد اسلام لے آئے۔ اگر آپ کا یہ فعل مبارک رب تعالیٰ کو پسند نہ ہوتا تو وہ وحی کے ذریعے آپ کو اسکی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرما دیتا۔ جبکہ حضرت عمرؓ کی رائے کا صحیح ہونا عام منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ہے۔

10۔ اسی نماز جنازہ کے حوالے سے حضرت عمرؓ نے عرض کی، سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۔{63:6} ''ان منافقوں کے لیے استغفار کرنا نہ کرنا برابر ہے''۔ اس پر سورۃ المنافقون کی یہ آیت نازل ہوئی۔
(طبرانی)

11۔ جس وقت رسول اکرم  نے جنگ بدر کے سلسلہ میں صحابہ کرام سے باہر نکل کر لڑنے کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو اس وقت حضرت عمرؓ نے نکلنے ہی کا مشورہ دیا اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ {8:5} ''جیسے نکالا تجھ کو تیرے رب نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے اور ایک جماعت اہل ایمان کی راضی نہ تھی''۔(الانفال:٥)

12۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب منافقوں نے بہتان لگایا تو رسول اللہ  نے حضرت عمرؓ سے مشورہ فرمایا۔ آپ نے عرض کی، اے الله کے رسول ﷺ! آپ کا اُن سے نکاح کس نے کیا تھا؟ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا، اللہ نے! اس پر آپ نے عرض کی، کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے رب نے آپ سے اُن کے عیب کو چھپایا ہوگا، بخدا یہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر عظیم بہتان ہے۔ سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُہْتَان'' عَظِیْم'' ۔ اسی طرح آیت نازل ہوئی۔ (النور:١٦)

13۔ ابتدائے اسلام میں رمضان شریف کی رات میں بھی بیوی سے قربت منع تھی ۔ حضرت عمرؓ نے اس کے بارے میں کچھ عرض کیا۔ اس کے بعد شب میں مجامعت کو جائز قرار دے دیا گیا اور آیت نازل ہوئی۔ اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ۔''حلال ہوا تم کو روزہ کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی عورتوں سے''۔ (البقرۃ:١٨٧)

14۔ ایک یہودی نے حضرت عمرؓ سے کہا ، جبرئیل فرشتہ جس کا ذکر تمہارے نبی کرتے ہیں وہ ہمارا دشمن ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا، مَنْ کَانَ عَدُوَّ لِلّٰہِ وَمَلاَ ئِکَتِہٖ وَرُسُلِہ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکَالَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوُّ لِلْکٰفِرِیْن۔ ''جو کوئی ہووے دشمن اللہ کا اور اسکے فرشتوں کا اور اسکے پیغمبروں کا اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے ان کافروں کا''۔(البقرۃ:٩٨) بالکل اِنہی الفاظ میں یہ آیت نازل ہوئی۔

15۔ دو شخص لڑائی کے بعد انصاف کے لیے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے ۔ حضور ﷺ نے ان کا فیصلہ کر دیا لیکن جس کے خلاف یہ فیصلہ ہوا، وہ منافق تھا۔ اس نے کہا کہ چلو حضرت عمرؓ کے پاس چلیں اور ان سے فیصلہ کرائیں۔ چنانچہ یہ دونوں پہنچے اور جس شخص کے موافق حضور نے فیصلہ کیا تھا اس نے حضرت عمرؓ سے کہا ، حضور نے تو ہمارا فیصلہ اس طرح فرمایا تھا لیکن یہ میرا ساتھی نہیں مانا اور آپ کے پاس فیصلہ کے لئے لے آیا ۔ آپ نے فرمایا، ذرا ٹھہرو میں آتا ہوں۔ آپ اندر سے تلوار نکال لائے اور اس شخص کو جس نے حضور کا فیصلہ نہیں مانا تھا، قتل کر دیا۔ دوسرا شخص بھاگا ہوا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا: مجھے عمرؓ سے یہ امید نہیں کہ وہ کسی مومن کے قتل پر اس طرح جرات کرے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حضرت عمرؓ اس منافق کے خون سے بری رہے۔

فَلاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ الخ۔
ترجمہ: سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔
(النساء ٦٥)

16۔ حضرت عمرؓ ایک روز سو رہے تھے کہ آپ کا ایک غلام بغیر اجازت لیے اندر چلا آیا۔ اس وقت آپ نے دعا فرمائی ، الٰہی! بغیر اجازت گھروں میں داخل ہونا حرام فرما دے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا ۔
'' اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو ''۔
(النور:٢٧)

17۔ حضرت عمرؓ کا یہ فرمانا کہ یہود ایک حیران و سرگرداں قوم ہے۔ آپ کے اس قول کے مطابق آیت نازل ہوئی۔

18۔ ﴿ثُلَّةٌ مِنَ اَلْأَوَّلِينَ * وَثُلَّةٌ مِنَ اَلْآخِرِينَ﴾ (سورة الواقعة ٣٩: ٥٦)
"انبوہ ہے پہلوں میں سے اور تھوڑے ہیں پچھلوں میں سے" بھی حضرت عمرؓ کی تائید میں نازل ہوئی۔
[تاريخ الخلفاء-السيوطي: ص 148 - 152]



====================

(4) فاروق (حق و باطل میں فرق کرنے والا) :

احمد بن محمد الازرقی المکی نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمن بن حسن نے ایوب بن موسیٰ سے خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بیشک اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے، اور وہ فاروق ہیں، اللہ نے ان کے ذریعے حق اور باطل میں فرق کر دیا۔"

محمد بن عمر الواقدیؒ نے کہا: ہمیں ابو حزرة یعقوب بن مجاہد نے خبر دی، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابی عمرو ذکوان سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: "عمر کو فاروق کس نے کہا؟" انہوں نے جواب دیا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔"


حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو "فاروق" کیوں کہا جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا:

"حمزہ مجھ سے تین دن پہلے مسلمان ہو گئے تھے۔ پھر اللہ نے میرے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیا۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔ زمین میں کوئی جاندار مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہ تھا۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ کہاں ہیں؟ میری بہن نے بتایا: وہ صفا کے پاس دار الارقم میں ہیں۔

میں اس گھر میں آیا۔ حمزہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر میں بیٹھے تھے، اور رسول اللہ ﷺ گھر کے اندر تھے۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو لوگ گھبرا کر جمع ہو گئے۔ حمزہ نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: عمر (آ گئے)۔ تب رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، میرے کپڑے کے پکڑے، پھر مجھے اتنا زور سے جھٹکا دیا کہ میں سنبھل نہ سکا اور اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا۔ آپ نے فرمایا: 'اے عمر! کیا تم باز نہیں آؤ گے؟'

میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔

چنانچہ گھر والوں نے اتنی بلند آواز سے "اللہ اکبر" کہا کہ مسجد والوں نے سن لیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر ہیں، خواہ ہم مر جائیں یا زندہ رہیں؟ آپ نے فرمایا: 'ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم حق پر ہو، خواہ تم مرو یا زندہ رہو۔'

میں نے کہا: پھر چھپنے کی کیا ضرورت ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ ضرور (باہر) نکلیں۔ چنانچہ ہم نے آپ کو دو صفوں میں نکالا، حمزہ ایک صف میں تھے اور میں دوسری صف میں، اور میرا پسینہ آٹے کی گھٹ کی طرح بہہ رہا تھا یہاں تک کہ ہم مسجد میں داخل ہو گئے۔

قریش نے مجھے اور حمزہ کو دیکھا تو ان پر ایسی افسردگی طاری ہوئی جو کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے "فاروق" کا لقب دیا، اور اللہ نے میرے ذریعے حق اور باطل میں فرق کر دیا۔"



عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ".
ترجمہ :
حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ  نے فرمایا: بے شک ﷲ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا ہے۔


[ترمذی:3644، صحيح ابن حبان:7052(15 : 318)، مسند أحمد بن حنبل:4999(5123) + 5544(5664) ، المعجم الأوسط للطبراني: 255 (247) + 297 (289)]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرجامع الترمذي36443682محمد بن عيسى الترمذي256
2الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل49995123أحمد بن حنبل241
3الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل55445664أحمد بن حنبل241
4الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرصحيح ابن حبان705215 : 318أبو حاتم بن حبان354
5الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهعبد الله بن عمرالبحر الزخار بمسند البزار 10-1314835860أبو بكر البزار292
6الله ضرب بالحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرمسند الشاميين للطبراني4852سليمان بن أحمد الطبراني360
7الله وضع الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرمسند عبد بن حميد766758عبد بن حميد249
8الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرإتحاف المهرة10056---ابن حجر العسقلاني852
9الله ضرب بالحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني255247سليمان بن أحمد الطبراني360
10الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني297289سليمان بن أحمد الطبراني360
11الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالمعجم الأوسط للطبراني34393330سليمان بن أحمد الطبراني360
12الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرمعجم ابن المقرئ214227أبو بكر بن المقرئ381
13الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالفوائد المنتقاة العوالي الحسان للسمرقندي4846أبو عمرو السمرقندي345
14الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرفوائد تمام الرازي9401016تمام بن محمد الرازي414
15الله ضرب بالحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالحادي عشر من الفوائد المنتقاة لابن أبي الفوارس49---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
16الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرشرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين7877ابن شاهين385
17جعل الحق على قلب عمر ولسانهعبد الله بن عمرشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20612485هبة الله اللالكائي418
18الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20642489هبة الله اللالكائي418
19الحق نزل على قلب عمر ولسانهعبد الله بن عمرالحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 2454---قوام السنة الأصبهاني535
20الله وضع الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرشرح السنة37833875الحسين بن مسعود البغوي516
21الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالتمهيد لابن عبد البر12978 : 109ابن عبد البر القرطبي463
22الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرطرح التثريب للعراقي331 : 83أبو زرعة العراقي806
23الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرالناسخ والمنسوخ للنحاس3241 : 492أحمد بن محمد النحاس338
24جعل الحق على قلب عمر وعلى لسانهعبد الله بن عمرالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4621 : 249يعقوب بن سفيان277
25جعل الحق على لسان عمر وفي قلبهعبد الله بن عمرأنساب الأشراف للبلاذري2124---أحمد بن يحيى البلاذري279
26الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرطبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها117119أبو الشيخ الأصبهاني369
27الحق ينزل على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرأخبار أصبهان لأبي نعيم12141 : 417أبو نعيم الأصبهاني430
28الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرأخبار أصبهان لأبي نعيم25112 : 300أبو نعيم الأصبهاني430
29الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه يقول بهعبد الله بن عمرالإرشاد في معرفة علماء الحديث لأبي يعلى الخليلي781 : 104أبو يعلى الخليلي القزويني446
30الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4652944 : 102ابن عساكر الدمشقي571
31الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653044 : 103ابن عساكر الدمشقي571
32الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653144 : 103ابن عساكر الدمشقي571
33الله وضع الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653244 : 103ابن عساكر الدمشقي571
34الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653344 : 103ابن عساكر الدمشقي571
35الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653444 : 104ابن عساكر الدمشقي571
36الله جعل الحق على قلب عمر وعلى لسانهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653544 : 104ابن عساكر الدمشقي571
37الله ضرب بالحق على لسانه عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653644 : 104ابن عساكر الدمشقي571
38الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653744 : 104ابن عساكر الدمشقي571
39الله ضرب الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653844 : 105ابن عساكر الدمشقي571
40الله جعل الحق على لسانه عمر وقلبهعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر4653944 : 105ابن عساكر الدمشقي571
41الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرأسد الغابة1212---علي بن الأثير630
42الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهعبد الله بن عمرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل250313أحمد بن حنبل241
43الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل315395أحمد بن حنبل241
44الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل427525أحمد بن حنبل241
45نزل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم44أبو نعيم الأصبهاني430
46الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الله بن عمرمكارم الأخلاق للخرائطي889921محمد بن جعفر بن سهل الخرائطي327




الشواهد

عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ " .
ترجمہ :
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم  نے فرمایا: ﷲ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق بولتے ہیں۔
[سنن أبي داود:2962، سنن ابن ماجه:108، صحيح الجامع:1834]
تشریح
پہلی حدیث حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے ہے اور دوسری حضرت ابو ذر غفاریؓ کی روایت سے، دونوں کا حاصل اور مدعا یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جن خاص انعامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے دل میں جو کچھ آتا ہے اور جو کچھ وہ زبان سے کہتے ہیں وہ حق ہی ہوتا ہے، وہ حق ہی سوچتے اور حق ہی بولتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان سے اجتہادی غلطی بھی نہیں ہوتی ....اجتہادی غلطی تو حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مطلع کر کے اصلاح کرا دی جاتی ہے، حضرت عمرؓ سے بھی کبھی کبھی اجتہادی غلطی ہو جاتی تھی، لیکن حق واضح ہو جانے پر رجوع فرما لیتے تھے، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بارے میں اور اسی طرح منکرین زکوٰۃ سے جہاد و قتال کے خلاف ان کی جو رائے تھی وہ ان کی اجتہادی غلطی ہی تھی، بعد میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع اور حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے سے اتفاق فرما لیا، بہرحال اجتہادی غلطی کے اس طرح کے چند استثنائی واقعات کے علاوہ (جن میں حق واضح ہو جانے پر انہوں نے رجوع فرما لیا) انہوں نے جو سوچا سمجھا اور جو احکام جاری کئے وہ سب حق ہی تھے۔ بلاشبہ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام تھا ..... آئندہ درج ہونے والی بعض حدیثوں سے ان شاء اللہ حضرت فاروق اعظمؓ کی اس خصوصیت اور فضیلت پر مزید روشنی پڑے گی۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2023]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهسنن أبي داود25762962أبو داود السجستاني275
2الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهسنن ابن ماجه105108ابن ماجة القزويني275
3الحق على لسان عمر وقلبه قال عفان على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2077820787أحمد بن حنبل241
4الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2093120945أحمد بن حنبل241
5الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2100921031أحمد بن حنبل241
6الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهالمستدرك على الصحيحين44393 : 85الحاكم النيسابوري405
7الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهالمدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي3966البيهقي458
8الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهالبحر الزخار بمسند البزار34574059أبو بكر البزار292
9الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهمسند الشاميين للطبراني15231543سليمان بن أحمد الطبراني360
10الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهمسند الشاميين للطبراني35103566سليمان بن أحمد الطبراني360
11الله وضع الحق على لسان عمرجندب بن عبد اللهمصنف ابن أبي شيبة3128532504ابن ابي شيبة235
12الله وضع الحق على لسان عمرجندب بن عبد اللهجزء من حديث ابن شاهين رواية ابن المهتدي7---ابن شاهين385
13الله جعل الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهالجزء العاشر من الفوائد المنتقاة13---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
14جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهجزء فيه من حديث أبي العباس البصري57---محمد بن يونس الكديمي286
15الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه أو قلبه ولسانهجندب بن عبد اللهحديث أبي بكر بن خلاد النصيبي57---أبو بكر بن خلاد النصيبي510
16الله ضرب بالحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهالثالث من حديث أبي العباس الأصم60---محمد بن يعقوب الأصم346
17الله وضع الحق على لسان عمرجندب بن عبد اللهالسنة لابن أبي عاصم10461249ابن أبي عاصم287
18الله جعل الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20652490هبة الله اللالكائي418
19الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهشرح السنة37843876الحسين بن مسعود البغوي516
20الله جعل الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهحلية الأولياء لأبي نعيم69967002أبو نعيم الأصبهاني430
21الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهالطبقات الكبرى لابن سعد23912 : 418محمد بن سعد الزهري230
22الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4491 : 246يعقوب بن سفيان277
23الله وضع الحق على لسان عمر فهو يقول بهجندب بن عبد اللهأنساب الأشراف للبلاذري2123---أحمد بن يحيى البلاذري279
24الله وضع الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهالأسماء المبهمة والأنباء المحكمة591 : 45الخطيب البغدادي463
25الله وضع الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهالأسماء المبهمة والأنباء المحكمة601 : 45الخطيب البغدادي463
26الله جعل الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4651444 : 97ابن عساكر الدمشقي571
27الله وضع الحق على لسانه عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4651544 : 98ابن عساكر الدمشقي571
28الله وضع الحق على لسانه عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4651644 : 98ابن عساكر الدمشقي571
29الله وضع الحق على لسانه عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4651744 : 98ابن عساكر الدمشقي571
30الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4651844 : 99ابن عساكر الدمشقي571
31الله ضرب الحق على لسان عمر بن الخطابجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4651944 : 99ابن عساكر الدمشقي571
32الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه أو قلبه ولسانهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4652044 : 99ابن عساكر الدمشقي571
33الله جعل الحق على قلب عمر ولسانه أو على لسان عمرجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4652144 : 100ابن عساكر الدمشقي571
34الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه أو قلبه ولسانهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4652244 : 100ابن عساكر الدمشقي571
35الله ضرب بالحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4652344 : 100ابن عساكر الدمشقي571
36الله ضرب الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5155948 : 71ابن عساكر الدمشقي571
37الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5156048 : 71ابن عساكر الدمشقي571
38الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5156148 : 71ابن عساكر الدمشقي571
39الله وضع الحق على لسان عمرجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5156248 : 72ابن عساكر الدمشقي571
40الله جعل الحق على قلب عمر ولسانه أو على لسانه وقلبهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5156348 : 72ابن عساكر الدمشقي571
41الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5156448 : 72ابن عساكر الدمشقي571
42الله جعل السكينة على لسان عمر وقلبه يقول بهماجندب بن عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5156548 : 72ابن عساكر الدمشقي571
43الحق على لسان عمر يقول وإني سمعت عمر يقول نعم الفتى غضيف فاستغفر ليجندب بن عبد اللهالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1183---عبد الكريم الرافعي623
44الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهتهذيب الكمال للمزي2663---يوسف المزي742
45الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل253316أحمد بن حنبل241
46الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهجندب بن عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل423521أحمد بن حنبل241
47الله وضع الحق على لسان عمرجندب بن عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل575687أحمد بن حنبل241
48الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهجندب بن عبد اللهمكارم الأخلاق للخرائطي890922محمد بن جعفر بن سهل الخرائطي327



الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله وضع الحق على لسان عمر وقلبه يقول بهعمر بن الخطابالمعجم الأوسط للطبراني68676692سليمان بن أحمد الطبراني360
2الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعمر بن الخطابالطبقات الكبرى لابن سعد23922 : 418محمد بن سعد الزهري230
3الله جعل الحق في لسان عمر ويده وقلبهعمر بن الخطابأنساب الأشراف للبلاذري2403---أحمد بن يحيى البلاذري279
4الله وضع الحق على لسان عمر وقلبه يقول بهعمر بن الخطابتاريخ دمشق لابن عساكر46513---ابن عساكر الدمشقي571

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الحق على لسان عمر وقلبهعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني93709137سليمان بن أحمد الطبراني360
2وضع الحق على لسان عمر يقول بهعائشة بنت عبد اللهالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4501 : 246يعقوب بن سفيان277
3الحق على لسان عمر وقلبه وهو الفاروق فرق الله به بين الحق والباطلعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4639844 : 50ابن عساكر الدمشقي571
4الحق على لسان عمر وقلبهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650844 : 94ابن عساكر الدمشقي571
5الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه وهو الفاروق فرق الله به بين الحق والباطلعائشة بنت عبد اللهأسد الغابة1186---علي بن الأثير630
6الحق على لسان عمر وقلبهعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل420518أحمد بن حنبل241

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهسعد بن مالكفوائد تمام الرازي10051086تمام بن محمد الرازي414
2الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4652444 : 101ابن عساكر الدمشقي571


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهمعاوية بن صخرالمعجم الكبير للطبراني16085707سليمان بن أحمد الطبراني360


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله وضع الحق على لسان عمر يقول بهغضيف بن الحارثمسند الشاميين للطبراني35093565سليمان بن أحمد الطبراني360



 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله جعل الحق في قلب عمر وعلى لسانهبلال بن رباحالمسند للشاشي910983الهيثم بن كليب الشاشي335
2الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهبلال بن رباحمسند الشاميين للطبراني14441463سليمان بن أحمد الطبراني360
3الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهبلال بن رباحالمعجم الكبير للطبراني10681077سليمان بن أحمد الطبراني360
4الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهبلال بن رباحالسنة لابن أبي عاصم10451248ابن أبي عاصم287
5جعل الحق على قلب عمر ولسانهبلال بن رباحالشريعة للآجري1216---الآجري360
6جعل الحق على قلب عمر ولسانهبلال بن رباحالشريعة للآجري1356---الآجري360
7الله جعل الحق على قلب عمر وعلى لسانهبلال بن رباحتاريخ دمشق لابن عساكر5156848 : 73ابن عساكر الدمشقي571
8الله جعل الحق في قلب عمر وعلى لسانهبلال بن رباحتاريخ دمشق لابن عساكر5156948 : 74ابن عساكر الدمشقي571
9الله جعل الحق على قلب عمر ولسانهبلال بن رباحفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل422520أحمد بن حنبل241

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرمسند أحمد بن حنبل90058960أحمد بن حنبل241
2جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرصحيح ابن حبان704615 : 312أبو حاتم بن حبان354
3الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخركشف الأستار23572498نور الدين الهيثمي807
4الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرمصنف ابن أبي شيبة3130332522ابن ابي شيبة235
5الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرمعجم السفر للسلفي144886أبو طاهر السلفي576
6الله ضرب الحق ألى لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرفوائد تمام الرازي15571664تمام بن محمد الرازي414
7جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرمنتقى من العشرين جزءا المنتخبة ( الخلعيات )28---علي بن الحسن الخلعي492
8جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرالرابع عشر من الخلعيات31---علي بن الحسن الخلعي492
9جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرالسنة لابن أبي عاصم10441247ابن أبي عاصم287
10الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرالسنة لابن أبي عاصم10471250ابن أبي عاصم287
11الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرالشريعة للآجري1357---الآجري360
12جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم89---أبو نعيم الأصبهاني430
13الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم98---أبو نعيم الأصبهاني430
14الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرحلية الأولياء لأبي نعيم9595أبو نعيم الأصبهاني430
15الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4652544 : 101ابن عساكر الدمشقي571
16الله ضرب الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4652644 : 101ابن عساكر الدمشقي571
17الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4652744 : 101ابن عساكر الدمشقي571
18الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4652844 : 102ابن عساكر الدمشقي571
19جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل252315أحمد بن حنبل241
20الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل426524أحمد بن حنبل241
21الله جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم33أبو نعيم الأصبهاني430
22الله سبحانه جعل الحق على لسان عمر وقلبهعبد الرحمن بن صخرالمجالسة وجواهر العلم للدينوري201198أبو بكر الدينوري333



عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْحَقُّ بَعْدِي مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ " .

ترجمہ :
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا: میرے بعد حق عمر کے ساتھ رہے گا خواہ وہ کہیں ہوں۔
(تاریخ الخلفاء:١٩٣،طبرانی)


عمر کی باتوں سے لوگوں کو سکینت وطمانیت ملتی تھی:
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
«مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ»
ہم اس بات میں شک نہیں کرتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا ہے (یعنی ان کے ارشاد پر سب کو دلی سکون ملتا ہے)۔
اسے امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا۔
(مشکوٰۃ)

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1كنا لنرى أن السكينة تنطق على لسان عمر وإن كنا لنرى أن شيطانه يخافه أن يجره إلى معصية اللهعلي بن أبي طالبأمالي ابن بشران 154---أبو القاسم بن بشران430
2ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمرعلي بن أبي طالبالشريعة للآجري1358---الآجري360
3ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمرعلي بن أبي طالبالشريعة للآجري1359---الآجري360
4ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمرعلي بن أبي طالبالشريعة للآجري1360---الآجري360

تشریح
حضرت علی کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عمر فاروق اعظم کو یہ خصوصیت حاصل کہ وہ جب بھی کوئی مسئلہ و معاملہ میں اظہار خیال کرتے ہیں تو ایسی بات کہتے ہیں جس سے سننے والوں کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔ اور مضطرب سے مضطرب دل کو بھی قرار آجاتا ہے۔ یا سکینہ سے مراد فرشتہ بھی ہوسکتا ہے جو حق اور موزوں بات دل میں ڈالتا ہے اور پھر وہی بات زبان سے ادا ہوتی ہے۔ اس کی تائید حضرت علی کی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس کو طبرانی نے اوسط میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا لوگو! جب صالحین کا تذکرہ کرو تو عمر کے تذکرہ کو مقدم رکھو۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ ان کا قول الہام ہو اور وہ فرشتہ کی زبانی بیان کررہے ہوں۔ اس سلسلے میں اس روایت کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جس میں منقول ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا میں نے جب بھی عمر کو دیکھا تو (ایسا محسوس ہوا کہ) ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان فرشتہ موجود ہے جوان کو صحیح راستہ بتارہا ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5991]

تشریح:
حضرت علی مرتضیٰ کی اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جب خطاب فرماتے یا بات کرتے تو دلوں میں ایک خاص قسم کا سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی زبان و بیان میں یہ خاص تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔ یہ مطلب لیا جائے تو حضرت علیؓ کے اس کلام میں "السكينة" سے مراد یہی خداداد تاثیر ہے ........ شارحین نے لکھا ہے کہ "السكينه" سے مراد خاص فرشتہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں حضرت علیؓ کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم یہ بات بعید نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ خطاب اور بات فرماتے ہیں تو ان کی زبان سے اللہ کا ایک خاص فرشتہ کلام کرتا ہے جس کا نام یہ لقب "السكينه" ہے۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2025]










عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " .
ترجمہ :
حضرت عقبہ بن عامرص سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔

تشریح:
اس طرح کی بات امر محال میں بھی مبالغہ کہی جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اگر بالفرض والتقدیر میرے بعد کوئی نبی آتا تو وہ عمر ہوتے، لیکن حقیقت چونکہ یہ ہے کہ نبوت کا دروازہ مجھ پر بند ہوچکا ہے اور میرے بعد کسی اور نبی کے آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے عمر مرتبہ نبوت پر تو فائز نہیں ہوسکتے اور نہ صاحب وحی بن سکتے ہیں لیکن ان میں بعض خصوصیات ایسی ضرور ہیں جو انبیاء کے علاوہ اور تمام انسانوں کے درمیان ان کی ممتاز ومنفرد حیثیت کو نمایاں کرتی ہیں اور عالم وحی سے ان کی ایک طرح کی مناسبت کو ظاہر کرتی ہیں مثلا یہ کہ اللہ کی طرف سے ان کو الہام ہوتا ہے اللہ کے فرشتہ ان کے دل وماغ میں حق القاء کرتا ہے اور غیبی طور سے راہ حق ان پر روشن ہوجاتی ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5995]

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم فرمایا اور قیامت تک کے لئے نبوت کا دروازہ بند ہو گیا (جس کا اعلان قرآن پاک میں بھی فرما دیا گیا ہے) اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ نہ فرما دیا گیا ہوتا اور میرے بعد بھی نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو عمر بن الخطاب اپنی روحانی خصوصیات کی وجہ سے بالخصوص اس لائق تھے کہ ان کو نبی بنایا جاتا۔ اس حدیث میں بھی ان کے اس خصوصی کمال و امتیاز کی طرف اشارہ ہے، جس کا ذکر مندرجہ بالا حدیثوں میں کیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے قلب پر حق کا القا اور الہامات کی کثرت۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2024]

نوٹ :
درج بالا آیت اور احادیث سے ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ جو بھی دعویٰ کریگا جھوٹا ہو گا۔ عقائد کی رو سے کسی مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنیوالا بھی خارج از اسلام ہو جاتا ہے۔

بمطابق فرمان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اگر نبوت کا امکان ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نبی ہوتے۔ 












صحابہ میں بڑے دین والے:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ». قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ»
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس حالت میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں اور وہ سب کرتے پہنے ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ کے کرتے ایسے ہیں جو صرف سینے تک ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جن کے کرتے سینے کے کچھ نیچے تک ہیں، اور عمر بن خطابؓ بھی میرے سامنے لائے گئے ان کا کرتہ اتنا لمبا تھا کہ زمین تک پہنچتا تھا اور وہ اس کو زمین پر گھسیٹ کر چلتے تھے، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "دین"۔

تشریح:
لباس اور دین میں یہ مناسبت اور مشابہت ظاہر ہے کہ لباس سردی او ر دھوپ کی تپش وغیرہ اس عالم کی آفات و تکالیف سے جسم انسانی کی حفاظت کرتا ہے اور سامان زینت ہے۔ اور دین عالم آخرت میں سامان زینت ہو گا اور عذاب سے حفاظت کا ذریعہ و سیلہ ...... خواب میں جو لوگ آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تھے وہ یہ ظاہر امت کے مختلف طبقات اور درجات کے لوگ تھے ..... کچھ وہ تھے جن کے دین میں مختلف درجات کا نقص تھا اور ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے جن کا دین بہت کامل تھا۔ وہ سراپا دین تھے ان کا دین ان کی اپنی ہستی سے بھی زیادہ تھا۔ ؓ وارضاہ۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2029]

تشریح
اور بعض کے کرتے ان سے بھی چھوٹے تھے یعنی بعض لوگوں کے جسم کے کرتے تو اتنے تھے جو سینے تک پہنچتے تھے۔ اور بعض لوگوں کے کرتے اتنے چھوٹے تھے کہ ان کے سینے تک بھی نہیں پہنچتے تھے بلکہ سینے سے اوپر تھے۔ ومنہا مادون ذلک کا مطلب عام طور پر یہی بیان کیا گیا ہے مگر ملا علی قاری نے اس جملہ کی وضاحت کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہ معنی بھی ہیں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے کرتے ان کے کرتوں سے لمبے تھے۔ حضرت عمر کے کرتے کی درازی کی تعبیر میں دین و مذہب کے ذکر سے یہ مراد ہے کہ عمر کی ذات سے دین کو تقویت حاصل ہوگی اور کیونکہ ان کی خلافت کا زمانہ طویل ہوگا لہٰذا ان کے زمانہ میں دین کی شان و شوکت نہایت درجہ دوبالا ہوگی، بیشمار شہر وملک فتح ہوں گے اور ان فتوحات کے نتیجہ میں بیت المال کی آمدنی وسیع تر ہوجائے گی، یا یہ کہ دین کو کرتے کے ساتھ تشبیہ دینا گویا اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ جس طرح انسان کا لباس نہ صرف یہ کہ اس کے وجود کی زیبائش و آرائش اور مختلف پر مضر اثرات سے حفاظت و آرام کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ حقیقت میں اس کے جسم کا لازمی تقاضہ بھی ہوتا ہے اسی طرح دین نہ صرف یہ کہ انسان کی تہذیب وشائستگی اور اس کے روحانی اطمینان و سکون کا ذریعہ اور دونوں جہاں میں اس کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے بلکہ حقیقت میں انسانیت کا لازمی جزء اور انسانی فطرت سلیم کا عین تقاضا بھی ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5987]








حضرت عمر کی علمی بزرگی:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بَيْنَ أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، مِنْهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «العِلْمَ»
ترجمہ:
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے بیان فرمایا کہ میں سو رہا تھا، اسی حال میں میرے پاس لایا گیا دودھ کا بھرا ہوا پیالہ تو میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے ناخنوں تک میں محسوس کیا، پھر میں نے وہ دودھ جو میرے پینے کے بعد بچ گیا تھا وہ عمر بن الخطاب کو دے دیا کہ وہ اس کو پی لیں، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر دی؟ آپ نے فرمایا کہ علم۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عمرؓ کا علم ترازو کے ایک پلے میں اور تمام اہلِ دنیا کا علم ترازو کے دوسرے پلے میں رکھ کر تولا جائے تو حضرت عمرؓ کا پلہ ہی بھاری رہے گا کیونکہ علم کے دس حصوں میں سے نو حصے علم آپ کو دیا گیا ہے۔
(طبرانی، حاکم، تاریخ الخلفاء:١٩٥)

تشریح:
علماء نے لکھا ہے کہ علم کی صورت مثالیہ عالم بالا میں دودھ ہے، اسی لئے اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ دودھ پی رہا ہے تو اس کی تعبیر یہ قرار پاتی ہے۔ کہ اس شخص کو خالص ونافع علم نصیب ہوگا علم اور دودھ کے درمیان وجہ مشابہت یہ ہے کہ جس طرح دودھ انسانی جسم کی پہلی غذا اور بدن کی اصلاح وتقویت کا بنیادی ذریعہ اسی طرح انسانی روح کی پہلی غذا اور اس کی اصلاح وتقویت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بعض عارفین نے یہ لکھا ہے کہ عالم مثال سے تجلی علم کا انعکاس صرف چار چیزوں یعنی پانی، دودھ شراب اور شہد کی صورت میں ہوتا ہے اور یہی وہ چار چیزیں ہیں جن کی نہرین بہہ رہی ہیں۔ قرآن کریم نے ان چارنہروں کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے آیت (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِيْهَا اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّا ءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُه وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى) 47۔ محمد 15) جنت جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہیں اور شہد مصفا کی نہریں۔ پس جس شخص نے (خواب میں) پانی پیا اس کو علم لدنی عطا ہوگا، جس شخص نے دودھ پیا اس کو اسرار شریعت کا علم عطا ہوگا، جس شخص نے شراب پی اس کو علم کمال عطا ہوگا اور جس نے شہد پیا اس کو بطریق وحی علم عطا ہوگا۔ اور عارفین ہی میں سے بعض نے اس ضمن میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جنت کی یہ چاروں نہریں درحقیقت چاروں خلفاء سے عبارت ہیں اور اس عتبار سے حدیث بالا میں دودھ کی نسبت سے صرف حضرت عمر کا ذکر ہونا نہایت موزوں ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر حضرت عمر کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے میں عرب کے تمام قبائل (کے اہل علم) کو جمع کرکے رکھا جائے اور پھر وزن کیا جائے تو حضرت عمر کے علم کے علم کا پلڑا ان سب کے علم سے وزن میں بھاری رہے گا اور اسی وجہ سے تمام صحابہ کا اعتقاد تھا کہ دس حصوں میں سے نوحصے علم تنہا حضرت عمر پاگئے ہیں۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5988]

تشریح:
علمائے عارفین نے کہا ہے کہ علم حق کی صورت مثالیہ دوسرے عالم میں دودھ کی ہے، جو شخص خواب میں دیکھے کہ اس کو دودھ پلایا جا رہا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کو علم حق نافع عطا ہو گا۔ دودھ اور علم حق میں یہ مناسبت ظاہر ہے کہ دودھ جسم انسانی کے لئے بہترین نافع غذا ہے، اسی طرح علم حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو روح کے لئے بہترین اور نافع ترین غذا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائے ہوئے علم حق میں حضرت عمرؓ کا خاص حصہ تھا اور صدیق اکبرؓ کے بعد جس طرح دس سال انہوں نے خلافت اور نبوت کی نیابت کا کام انجام دیا اور جس طرح امت کی رہنمائی فرمائی وہ اس کی دلیل اور شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم حق سے وافر حصۃ عطا فرمایا تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ازالۃ الحقائق میں فاروق اعظم ؓ، کے علمی کمالات پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ اہل علم کے لئے قابل دید ہے، اس کے مطالعہ سے اس بارے میں فاروق اعظم کے امتیاز اور انفرادیت کو پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2028]



حضرت عمر سے متعلق آنحضرت ﷺ کا ایک اور خواب
دین وملت کی غم گساری:

عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، وَلَئِنْ كَانَ ذَاكَ، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِيْنَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ، وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ، قَالَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَالِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ، فَإِنَّمَا ذَالِكَ مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ، وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَأَجْلِ أَصْحَابِكَ، وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لاَفْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ أَرَاهُ»
ترجمہ:
حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب زخمی کئے گئے حضرت عمرؓ (ان کو خنجر سے زخمی کیا ابو لؤلؤ مجوسی نے)تو تکلیف اور دکھ کا اظہار فرمانے لگے تو حضرت ابن عباسؓ نے ان سے اس طرح کہا کہ گویا وہ سمجھتے تھے کہ تکلیف کا یہ اظہار صبر و برداشت کی کمی کی وجہ سے ہے (اور تسلی دینے کے لئے کہا) اے امیر المؤمنین درد و تکلیف کا یہ اظہار آپ کی طرف سے بالکل نہ ہونا چاہئے (آپ اس وقت اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کیجئے کہ اس نے آپ کو کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا) آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی اور رفیق بن کر آپ کے ساتھ رہے اور آپ نے اس صحبت و رفاقت کا اچھا حق ادا کیا پھر حضور ﷺ اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے راضی اور خوش تھے۔ پھر آپ ﷺ کے خلیفہ ابو بکرؓ کے خصوصی ساتھی اور رفیق بنے تو ان کی صحبت و رفاقت کا بھی آپ نے اچھا حق ادا کیا، پھر وہ بھی اس حال میں آپ سے جدا ہوئے کہ وہ آپ سے پوری طرح راضی اور خوش تھے (یہاں تک کہ آپ کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ بنایا) پھر (اپنے دور خلافت میں) سب مسلمانوں کے ساتھ آپ کا اچھا معاملہ رہا (آپ نے سب کے حقوق ادا کئے) اور اگر آپ ان کو چھوڑ کر جائیں گے تو اس حال میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ سب آپ سے راضی خوش ہوں گے (حضرت ابن عباس کا یہ مطلب تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا اور پھر حضرت ابو بکرؓ کا اور پھر سب مسلمانوں کا آپ سے راضی خوش رہنا اس بات کی دلیل اور علامت ہے کہ اللہ بھی آپ سے راضی ہے اس لئے آپ کی طرف فسے تکلیف اور بےقراری کا جو اظہار ہو رہا ہے نہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو یاد کر کے مطمئن رہنا چاہئے)۔ حضرت عمرؓ نے ابن عباسؓ کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ (اے ابن عباس) تم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میری صحبت و رفاقت کا اور حضور ﷺ کی رضا کا جو ذکر کیا تو یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا جو اس نے مجھ پر فرمایا اور اسی طرح ابو بکرؓ کے ساتھ صحبت و رفاقت اور ان کی رضا کا جو ذکر کیا وہ بھی خداوندی انعام و احسان تھا (یعنی یہ میرا ذاتی کمال نہیں تھا) اور میری طرف سے تکلیف اور پریشانی کا اظہار جو تم دیکھتے ہو وہ (زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ) تم لوگوں کی وجہ سے ہے (یعنی مجھے فکر اور ڈر ہے کہ تم لوگ میرے بعد فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ)۔ اور جہاں تک اخروی انجام کی فکر کا تعلق ہے تو (میرا حال یہ ہے کہ اگر میرے پاس اتنا اسونا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تو میں وہ سب عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے بطور فدیہ دے دوں قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب دیکھوں۔
[صحیح بخاری:3692]

تشریح:
حضرت فاروق اعظمؓ نے عبداللہ بن عباسؓ کو جواب دیتے ہوئے آخر میں جو یہ فرمایا کہ تم جو مجھے بےچینی اور بےقراری کی حالت میں دیکھ رہے ہو یہ زخم کی تکلیف کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ اس فکر اور اندیشہ کی وجہ سے ہے کہ میرے بعد تم لوگ فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ ..... اس کی بنیاد یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ عمر فتنوں کے لئے بند دروازہ ہیں۔ جب تک وہ ہیں امت فتنوں سے محفوظ رہے گی، جب وہ نہ رہیں گے، تو فتنوں کے لئے دروازہ کھل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ان کی شہادت کے بعد سے شیاطین الجن والانس کی طرف سے فتنوں کی تخم ریزی شروع ہوئی اور حضرت عثمانؓ کے آخری دور خلافت میں فتنہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اپنے کو مسلمان کہنے والوں ہی کے ہاتھوں وہ انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید ہوئے اور اس کے بعد خانہ جنگی کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں ہزارہا صحابہ و تابعین شہید ہوئے۔ یہی وہ فتنے تھے جن کی فکر اور اندیشہ سے اپنے زخم کی تکلیف کو بھلا کر فاروق اعظم بےچین اور مضطرب تھے اور آخر میں جو فرمایا "وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلاَعَ الأَرْضِ ذَهَبًا الخ" (خدا کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر بھی سونا ہو تو میں اللہ کا عذاب دیکھنے سے پہلے ہی اس سے بچنے کے لئے وہ سارا سونا فدیہ میں دے دوں) اس کا مقصد حضرت ابن عباسؓ کو یہ بتلانا ہے کہ میں جو اضطراب اور بتےچینی محسوس کر رہا ہوں اس کا ایک دوسرا سبب جو زیادہ اہم ہے وہ عذاب الہی کا خوف بھی ہے ...... راقم سطور عرض کرتا ہے، فاروق اعظم کا یہ خوف ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے، جس کا ایمان اور عرفان جس قدر کامل ہو گا اس پر اسی قدر خوف خدا کا غلبہ ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے "انا اعلمكم بالله واخشاكم" مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم اور معرفت تم سب سے زیادہ، اور اس کا خوف ڈر بھی مجھے تم سب سے زیادہ ہے۔ قرآن مجید میں بار بار یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی خاص رحمت اور جنت کے مستحق وہ بندے ہیں جو اس کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں سورہ "بينة" میں مومنین صالحین کا یہ انجام بیان فرما کر کہ وہ "خىر البرية" (اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر) ہیں، وہ آخرت میں ان غیر فانی جنتی باغات میں رہیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان کو رضائے خداوندی کی نعمت حاصل ہو گی؟ اور وہ اپنے اس خداوند سے راضی ہوں گے، آخر میں فرمایا گیا ہے "ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ" (یہ سب ان مومنین صالحین کے لئے ہے جو خداوند تعالیٰ سے (یعنی اس کی پکڑ اور اس کے عذاب سے) ڈرتے رہے ہیں) ..... الغرض حضرت فاروق اعظمؓ کا یہ ارشاد ان کے کمال ایمان اور کمال معرفت کی دلیل ہے۔ قریباں را بیش بود حیرانی۔ شہادت اس حدیث میں حضرت فاروق اعظمؓ کے جس زخمی کئے جانے کا ذکر ہے وہ وہی ہے، جس کے نتیجہ میں آپ کی شہادت ہوئی ..... مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اختصار کے ساتھ انتہائی المناک واقعہ کا ذکر کر دیا جائے۔ فاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں ہی ایران فتح ہوا، ایران کے جو مجوسی جنگی قیدیوں کی حیثیت سے گرفتار کر کے لائے گئے وہ شرعی قانون کے مطابق مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے کہ ان سے غلام اور خادم کی حیثیت سے کام لیں اور ان کے کھانے پینے وغیرہ ضروریات زندگی کی کفالت کریں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ..... ایران سے آئے ہوئے ان اسیران جنت میں ایک بدبخت ابو لؤلؤ نامی مجوسی بھی تھا جو مشہور صحابی مغیرہ بن شعبہ کے حوالے کیا گیا تھا اس نے فاروق اعظم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ایک خنجر تیار کیا اور اس کو بار بار زہر میں بجھایا اور اس کے بعد رات میں مسجد شریف کے محراب میں چھپ کر بیٹھ گیا، فاروق اعظمؓ فجر کی نماز بہت سویرے اندھیرے میں شروع کرتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے تھے، ذی الحجہ کی ستائیسویں تاریخ تھی وہ حسب معمول فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانی شروع کر دی ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ اس خبیث ایرانی مجوسی نے اپنے خنجر سے تین کاری زخم آپ کے شکم مبارک پر لگائے، آپ بےہوش ہو کر گر گئے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے جلدی سے آپ کی جگہ آ کر مختصر نماز پڑھائی، ابو لؤلؤ نے بھاگ کر مسجد سے نکل جانا چاہا نمازیوں کی صفیں دیواروں کی طرف حائل تھیں، پھر اس نے اور نمازیوں کو زخمی کر کے نکل جانا چاہا اس سلسلہ میں اس نے تیرہ صحابہ کرام کو زخمی کیا جن میں سے سات شہید ہو گئے اتنے میں نما زختم ہو گئی اور ابو لؤلؤ کو پکڑ لیا گیا، تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کر لی نماز ختم ہو جانے کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کو اٹھا کر گھر لایا گیا، تھوڑی دیر میں آپ کو ہوش آیا تو اسی حالت میں آپ نے نماز ادا کی ..... سب سے پہلے آپ نے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے بتلایا گیا کہ ابو لؤلؤ مجوسی آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھ سے شہادت عطا فرمائی۔ آپ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبولیت اس طرح مقدر فرمائی۔ آپ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے شہادت نصیب فرما اور میری موت تیرے رسول پاک ﷺ کے شہر مدینہ میں ہو۔ ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ نے آپ کی زبان سے یہ دعا سن کر عرض کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فی سبیل اللہ شہید ہوں اور آپ کی وفات مدینہ ہی میں ہو (ان کا خیال تھا کہ فی سبیل اللہ شہادت کی صورت تو یہی ہے کہ اللہ کا بندہ میدان جہاد میں کافروں کے ہاتھ سے شہید ہو) آپ نے فرمایا کہ اللہ قادر ہے اگر چاہے گا تو یہ دونوں نعمتیں مجھے نصیب فرما دے گا بہرحال آپ کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا، آپ نے حضرت صہیبؓ کو اپنی جگہ امام نماز مقرر کیا اور اکابر صحابہ سے چھ حضرات کو (جو سب عشری مبشرہ میں سے تھے) نامزد کیا کہ وہ میرے بعد تین دن کے اندر مشورہ سے اپنے ہی میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔ پھر آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور میری طرف سے سلام کے بعد عرض کرو کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ میں اپنے دونوں بزرگ ساتھیوں (یعنی آنحضرت ﷺ اور صدیق اکبرؓ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں، اگر آپ اس کے لئے دل سے راضی نہ ہوں تو پھر جنت البقیع میرے لئے بہتر ہے ..... انہوں نے ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ پیام پہنچایا انہوں نے فرمایا کہ وہ جگہ میں نے اپنے لئے رکھی تھی، لیکن اب میں اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب عبداللہ بن عمرؓ نے آپ کو یہ خبر پہنچائی تو فرمایا کہ میری سب سے بڑی تمنا یہی تھی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ بھی پوری فرما دی۔ ۲۷؍ ذی الحجہ بروز چہار شنبہ آپ زخمی کئے گئے تھے یکم محرم بروز یکشنبہ وفات پائی جب آپ کا جنازہ نماز کے لئے رکھا گیا تو حضرت علی مرتضیٰؓ نے آپ کے بارے میں وہ فرمایا جو ناظرین کرام آگے فضائل شیخین میں درج ہونے والی حدیث میں پڑھیں گے۔ نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی اور روضہ اقدس میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پہلو میں آپ دن کئے گئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2030]



تشریح:
حضرت ابن عباس نے گویا اس طرف اشارہ کیا کہ جب اللہ کا رسول آپ سے راضی وخوش گیا اللہ کے رسول کا چہیتا آپ سے راضی وخوش ہے اور آپ اپنے اللہ سے راضی وخوش ہیں اس صورت میں تو آپ اس ارشاد ربانی کی بشارت کا مصداق ہیں یایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ اے اطمینان والی روح تو اپنے پروردگار (کے جوار رحمت) کی طرف چل اس طرح سے کہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش۔ پھر آپ اتنا پریشان کیوں ہیں، اتنی بےقراری کیوں ہے، اس زخم کی تکلیف نے آپ کو بےچین کردیا ہے یا موت کے تصور نے؟ موت تو مؤمن کے لئے تحفہ ہے وہ تحفہ جو مقام اعلی میں بندہ کو اپنے آقا سے ملائے گا، رضائے مولیٰ کی ابدی نعمتوں اور سعادتوں تک پہنچائے گا۔ حضرت عمر نے حضرت ابن عباس کو جو جواب دیا اس کا حاصل یہ تھا کہ محض تمہارا خیال ہے کہ میری بےچینی وبے قراری زخم کی تکلیف یا موت کے خوف سے ہے، درحقیقت میرا یہ سارا اضطراب اور اظہار کرب تم لوگوں (اہل اسلام) کے مستقبل کے بارے میں چند خطرات وخدشات کا احساساتی تاثر ہے۔ میں ڈرتا رہا ہوں کہ کہیں میرے بعد فتنے سر نہ ابھارنے لگیں، اختلاف و انتشار اور دین سے بےتوجہی کی خرابیاں مسلمانوں میں نہ درآئیں، فتنہ و فساد کے وہ دروازے جن کو میں نے ملت اسلامیہ پر بڑی مضبوطی سے بند کر رکھا تھا ڈھیلے نہ پڑجائیں علاوہ ازیں خود اپنے بارے میں آخرت کا خوف بھی میرے لئے کچھ کم اضطرب انگیز نہیں ہے بیشک حق تعالیٰ نے مجھے بڑی بڑی سعادتوں سے نوازا اور اس دنیا میں مجھ پر بےپایاں فضل و انعام فرمایا لیکن میں نے حق تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں جو جو کو تاہیاں کی ہیں ان پر آخرت میں مواخذہ بھی ہوسکتا ہے، اگر عدل الٰہی نے مجھے مستوجب عذاب گردان دیا تو کیا حشر ہوگا، استیعاب میں منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق جب زخمی ہو کر گرے تو اپنے بیٹے حضرت عبداللہ ابن عمر کی گود میں سر رکھے پڑے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے ظلوما لنفسی غیرانی مسلم اصلی صلاتی کلہا واصوم میں نے اپنے نفس پر بڑا ہی ظلم کرنے والا ہوں باوجودیکہ میں مسلمان ہوں، تمام نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور روزے بھی رکھتا ہوں۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 6002]


قاتلانہ حملہ اور شہادت

مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام فیروز نام کا تھا جس کی کنیت ابولؤلؤ تھی، اس نے ایک دن حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے آقا مغیرہ ابن شعبہ کی شکایت کی کہ انہوں نے مجھ پر بہت بھاری ٹیکس عائد کر رکھا ہے آپ کم کرا دیجئے۔ حضرت عمر نے اس ٹیکس کی مقدار اور اس کے کام کی صلاحیت وآمدنی وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس سے کہا کہ یہ ٹیکس کچھ زائد نہیں ہے، ابولؤلؤ یہ سن کر دل میں سخت ناراض ہوا اور حضرت عمر کے پاس سے واپس چلا گیا۔ دوسرے دن ابولؤلؤ ایک زہر الود دو دھاری خنجر لے کر اندھیرے منہ مسجد میں آکر ایک کونے میں چھپ گیا اور جب حضرت عمر فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور امامت کے لئے آگے بڑھنے لگے تو اس نے دفعۃ ً گھات میں سے نکل کر ان پر خنجر کے چھ وار کئے، جن میں سے ایک ناف کے نیچے پڑا زخم اتنا کاری تھا کہ حضرت عمر تاب نہ لا کر فورًا گرپڑے، حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ کر جلدی جلدی نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔ حملہ کے تین دن کے بعد حضرت عمر نے جان جاں آفریں کے سپرد کی اور محرم ٢٤ ھ کی پہلی تاریخ شنبہ کے دن مدفون ہوئے حضرت صہیب نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ بعض حضرات نے حملہ کا واقعہ ذی الحجہ ٢٣ ھ کی ٢٧ تاریخ چہار شنبہ کے دن کا لکھا ہے اور تاریخ مدفون ١٠ محرم ٢٤ ھ بروز یکشنبہ بیان کی ہے، حضرت عمر کی خلافت سارھے دس سال رہی اور عمر تحقیقی قول کے مطابق ٦٣ سال کی ہوئی، صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں جن میں حضرت ابوبکر اور باقی عشرہ مبشرہ صحابہ بھی شامل ہیں۔



اِس باب میں روایات اور تعبیرات کا اختلاف ہے، ممکن ہے کہ حضرت عمرکی روح مبارک ۲۹/ ذی الحجہ سنہ ۲۳ھ کو قبض ہوئی ہو اور تدفین یکم محرم کی تاریخ لگ جانے کے بعد ہوئی ہو۔ اور یہ مسئلہ چوں کہ از قبیل عقائد یا اعمال نہیں ہے، محض علمی وتاریخی ہے؛ اس لیے اس میں زیادہ الجھنے کی ضرورت نہیں۔

حضرت عمر کی ایک بڑی کرامت

مستند کتابوں میں معتبر وثقہ راویوں کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو وہاں کے عام (گورنر) حضرت عمر وبن العاص مقرر ہوئے ان سے ایک دن مصریوں نے آکر کہا کہ زمانہ قدیم سے دریائے نیل ہر سال ایک کنواری نوجوان لڑکی کی بھینٹ لیتا چلا آیا ہے، جب تک یہ بھینٹ نہیں دی جاتی پانی جاری نہیں ہوتا۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہر سال چاند کی گیارہویں کی رات کو ایک نوجوان لڑکی کو اس کے والدین کی رضا مندی کے ساتھ بیش بہا کپڑے اور عمدہ زیور پہنا کر اور خوب بناؤ سنگھار کرکے دریا میں ڈال دیتے ہیں، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو دریا خشک ہونے لگتا ہے اور پھر شہروں اور دیہاتوں میں پانی کی کمی کے سبب قحط پڑجاتا ہے، حضرت عمروبن العاص نے مصریوں سے کہا کہ یہ ایک بےہودہ رسم ہے چونکہ اسلام میں اس طرح کی لغویات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا چناچہ اس سال یہ رسم نہیں کی گئی اور دریائینیل تقریباً سوکھ گیا، پورے مصر میں قحط وخشک سالی کی سی کیفیت پیدا ہوجانے کے سبب اہل مصر ترک وطن پر مجبور ہونے لگے۔ حضرت عمر و بن العاص نے صورت حال کی تفصیلی رپورٹ حضرت عمر فاروق کی خدمت میں روانہ کی فاروق اعظم نے یہ رپورٹ دیکھی اور عمر وبن العاص کو لکھا کہ تم نے اس رسم پر عمل کرنے کی اجازت نہ دے کر بالکل ٹھیک کیا، واقعی اسلام اس طرح کی رسوم کی بیخ کنی کرتا ہے میں ایک پر چہ بھیج رہا ہوں تم اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا اس پر چہ میں لکھا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم بندہ اللہ عمر بن الخطاب امیر المؤمنین کی جانب سے دریائے نیل کے نام۔ بعد حمد وصلوۃ (اے دریائے نیل! ) اگر تو اپنے اختیار اور اپنی قوت سے بہتا ہے تو مجھ کو تجھ سے کچھ نہیں کہنا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی سے تو بہتا ہے تو میں اللہ واحدوقہار کے نام پر تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ جاری اور رواں ہوجا، عمر و بن العاص عامل مصر نے اس پر چہ کو دریائے نیل میں ڈال دیا اور صبح اٹھ کر لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہی رات میں دریائے نیل سولہ ہاتھ اوپر آگیا ہے اور پورے زور شور کے ساتھ رواں ہے اور پھر ہر سال چھ ہاتھ بڑھتا رہا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے باشندگان مصر کی اس قدیم رسم کا خاتمہ کردیا اور اس دن سے اب تک دریائے نیل برابر جاری ہے۔


حضرت عمر کو دعا کی نبوی درخوست :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ”میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا“، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ”اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا“۔
[سنن أبي داود:1498، جامع الترمذي:3562، سنن ابن ماجه:2894]


==================
حضرت عمر سے شیطان کی خوف زدگی:
عن سعد بن أبي وقاص قال : استأذن عمر رضي الله عنه على رسول الله صلى الله عليه و سلم وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه عالية أصواتهن فلما استأذن عمر قمن فبادرن الحجاب فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه و سلم يضحك فقال : أضحك الله سنك يا رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب قال عمر : يا عدوات أنفسهن أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قلن : نعم أنت أفظ وأغلظ . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إيه يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك . متفق عليه . وقال الحميدي : زاد البرقاني بعد قوله : يا رسول الله : ما أضحكك.
ترجمہ:
اور حضرت سعد ابن ابی وقاص بیان کرتے ہیں (ایک دن) حضرت عمر ابن خطاب نے حجرہ نبوی کے دروازے پر کھڑے ہو کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند خواتین یعنی ازواج مطہرات بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں، ان کی باتوں کا موضوع (اس) خرچہ میں اضافہ کا مطالبہ تھا (جو آنحضرت ﷺ ان کو پہنچاتے تھے) اور وہ باتیں زور زور سے کررہی تھیں جب حضرت عمر اجازت طلب کرکے اندر داخل ہونے لگے تو وہ خواتین (چھپنے کے لئے) آنحضرت ﷺ کے پاس سے اٹھ کر پردہ کے پیچھے چلی گئیں۔ حضرت عمر اندر داخل ہوئے تو (دیکھا کہ) رسول کریم ﷺ مسکرا رہے ہیں، حضرت عمر نے (آپ ﷺ کی مسکراہٹ دیکھ کر) کہا اللہ آپ کے دانتوں کو ہمیشہ خندان رکھے (یعنی دانتوں کا کھلنا مسکراہٹ خوشی کی غماز ہوتی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاداں وفرحاں رکھے، لیکن آخر وہ کون سی بات ہے جس نے اس وقت آپ ﷺ کو خندان کردیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس بات پر ہنسی آگئی کہ (وہ عورتیں (کہاں تو) میرے پاس بیٹھی ہوئی (شور مچا رہی) تھیں اور (کہاں) تمہاری آواز سنتے ہی (مارے ڈر کے) پردے کے پیچھے بھاگ گئیں، حضرت عمر (یہ سنا تو ان خواتین کو مخاطب کرکے) بولے اری اپنی جان کی دشمن عورتو! (یہ کسی الٹی بات ہے کہ) مجھ سے تو اس قدر خوف کا اظہار ( کہ میری آواز سنتے ہی ڈر کر مارے پردے کے پیچھے جا چھپی ہو) اور رسول کریم ﷺ سے تم ذرا بھی نہیں ڈرتیں (کہ آپ کے پاس بیٹھ کر شور مچا رہی تھیں؟ ) ان خواتین نے جواب دیا ہاں (تم سے ڈرنا ہی چاہے) کیونکہ تم نہایت سخت گو ہو (جب کہ رسول کریم ﷺ نہایت خوش مزاج اور خوش خلق ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان کا لعلیٰ خلق عظیم اور ولوکنت فظ غلیظ القلب لانفضومن خولک رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ابن خطاب! چھوڑو اور کوئی بات کرو (ان عورتوں نے جو جواب دیا ہے اس کو اہمیت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (تم وہ شخص ہو کہ) شیطان تمہیں دیکھ لیتا ہے تو اس راستہ سے کترا کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ جس پر تم چلتے ہو.
[صحيح البخاري:3683، صحیح مسلم:2396]
اور حمیدی نے کہا ہم برقانی نے (جو خوازم کے ایک گاؤں برقان کے رہنے والے تھے اور مشہور محدث ہیں) حضرت عمر کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کس چیز نے آپ کو ہنسایا ہے؟

تشریح:
اور باتیں بھی زور زور سے کررہی تھیں یعنی ان کی آواز پر حاوی تھی! پس اس بارے میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول کریم ﷺ کے سامنے شور مچانے یعنی آپ کی آواز اونچی آواز میں بولنے کی ممانعت قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ ان سب کی آوازیں مل کر پر شور ہوگئی تھیں جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ اگر چند آدمی ایک ساتھ آہستہ آہستہ بھی بولتے ہیں تو سب کی آوازیں مل کر پر شور ہوجاتی ہیں، یہ صورت نہیں تھی کہ ان میں سے ہر ایک کی یا کسی ایک کو تنہا آواز اس حد سے بلند تھی جس کی ممانعت آئی ہے۔ ان دونوں احتمالوں کو ملاعلی قاری نے نقل کیا ہے اور پھر لکھا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ الفاظ حدیث سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ ان کی آوازاتنی زیادہ بلند تھی کہ آنحضرت ﷺ کی آواز سے اونچی ہوگئی تھی اور جب یہ بات ثابت ہی ہوتی تو پھر ارشاد ربانی یایہا الذین امنو لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی الایۃ کے تحت کوئی اشکال بھی وارد نہیں ہوتا، الفاظ حدیث سے جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات عام طور پر آنحضرت ﷺ کے سامنے جس دھیمے لب و لہجہ میں اور جس دھیمی آواز میں بات کیا کرتی تھیں اس موقع پر ان کی آواز اس عادت ومعمول سے ذرا کچھ بلند ہوگئی تھی جو نہ تو حد ادب سے تجاوز تھی اور نہ آنحضرت ﷺ خوش خلقی اور خوش مزاجی کی ناگواری کا باعث بنی تھی۔ اس راستہ سے کترا کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے مطلب یہ کہ تمہاری ہیبت اتنی ہے کہ شیطان تمہارے تصور سے بھی کانپتا ہے، اس کی اتنی مجال بھی نہیں ہوتی کہ تمہارے سامنے آجائے جس جگہ تم ہوگے وہاں شیطان کا گزر بھی نہیں ہوسکتا۔ چناچہ ایک روایت میں یوں آیا ہے شیطان عمر کے سایہ سے بھی بھاگتا ہے، واضح رہے کہ فج کے معنی کشادہ راستہ کے آتے ہیں اگرچہ احتمال یہ ہے کہ فج سے مطلق راستہ مراد ہے خواہ وہ تنگ ہو یا کشادہ تاہم زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ لفظ یہاں اپنے ظاہری معنی یعنی کشادہ راستہ کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اور اس میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ شیطان عمر کو چوڑے اور کشادہ راستہ پر بھی دیکھ کر کترا جاتا ہے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے حالانکہ اگر وہ چاہے تو اس کشادہ راستہ کے کسی ایک کنارے سے گزر سکتا ہے لیکن اس پر تو عمر کا خوف اور ان کی ہیبت ہی اتنی سوار ہے کہ وہ سرے سے اس راستہ کی طرف آنے ہی سے گھبرا تا ہے، جس پر عمر چل رہے ہوں!
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5985]


حوالہ:
حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن (عبد الحميد بن) (١) عبد الرحمن بن صالح بن زيد عن محمد ابن سعد عن أبيه قال: قال رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده ما سلكت فجا إلا سلك الشيطان فجا سواه" يقوله لعمر.



حضرت عمر کا وہ رعب ودبدبہ جس سے شیطان بھی خوف زدہ رہتا تھا:
عن بريدة قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض مغازيه فلما انصرف جاءت جارية سوداء . فقالت : يا رسول الله إني كنت نذرت إن ردك الله سالما أن أضرب بين يديك بالدف وأتغنى . فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن كنت نذرت فاضربي وإلا فلا فجعلت تضرب فدخل أبو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب ثم دخل عمر فألقت الدف تحت استها ثم قعدت عليها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان ليخاف منك يا عمر إني كنت جالسا وهي تضرب فدخل أبو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب فلما دخلت أنت يا عمر ألقت الدف . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب
ترجمہ:
حضرت بریدہ اسلمیٰ کا بیان ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ جہاد میں تشریف لے گئے تھے، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام چھوکری (جو یا تو سیاہ رنگت ہی رکھتی تھی یا حبشی النسل تھی) خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو (اس سفر جہاد سے) فتح و سلامتی کے ساتھ واپس لائے گا تو میں آپ ﷺ کے سامنے دف بجاؤں گی اور (فتح و سلامتی کی شادمانی کے گیت) گاؤں گی۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا! اگر تم نے واقعی منت مان رکھی ہے تو دف بجالو ورنہ ایسا مت کرو اس چھوکری نے (چونکہ واقعی منت مان رکھی تھی اس لئے) دف بجانا شروع کردیا۔ اتنے میں ابوبکر (مسجد نبوی میں) داخل ہوئے لیکن وہ چھوکری دف بجانے میں مشغول رہی۔ پھر علی آئے اور وہ اس وقت بھی دف بجاتی رہی۔ پھر عثمان آئے تب بھی اس نے اپنا دف بجانا جاری رکھا اور پھر جب عمر آئے تو اس نے (ان کی ہیبت کے مارے جلدی سے) دف کو اپنے کو لہوں کے نیچے سرکا دیا اور کو لہوں کے بل (اس طرح) بیٹھ گئی (کہ دف نیچے چھپ کر رہ جائے اور عمر کی نظر اس پر نہ پڑے) اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا عمر! تم سے شیطان بھی خوف زدہ رہتا ہے۔ یہ چھوکری میری موجودگی میں دف بجا رہی تھی، پھر ابوبکر آئے تو اس وقت بھی دف بجاتی رہی، پھر علی آئے تو اس وقت بھی دف بجاتی رہی۔ پھر عثمان آئے تو اس وقت بھی دف بجاتی رہی، مگر اے عمر جب تم آئے تو اس چھوکری نے دف کو اٹھا کر چھپا دیا۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
[سنن الترمذي:3690، صححه الألباني في الإرواء: 2588، والصَّحِيحَة: 1609، 2261]

تشریح
دف کا لفظ زیادہ صحیح تو دال کے پیش کے ساتھ (دف) ہے لیکن بعض روایتوں میں دال کے زبر کے ساتھ (دف) بھی منقول ہوا ہے اور دف سے مراد وہ گول باجا ہے جو چھلنی کی وضع کا اور ایک طرف سے منڈھا ہوا ہو اور اس میں جھانج نہ ہو۔ اگر تم نے واقعی منت مان رکھی ہے یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس نذر (منت) کا پورا کرنا کہ جس میں اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہو واجب ہے۔ آنحضرت ﷺ کی مراجعت پر اور خصوصا اس سفر جہاد سے باعافیت مراجعت پر کہ جس میں جانیں چلی جاتی ہیں، مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا یقینا ایسی چیز تھی جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ ایسا مت کرنا اس سے ثابت ہوا کہ ویسے تو دف بجانا جائز نہیں ہے لیکن اس طرح کے مواقع پر جائز ہے جن میں شارع (علیہ السلام) کی اجازت منقول ہوئی ہے جیسے مذکورہ نوعیت کی نذر پوری کرنا یا نکاح کا اعلان کرنا۔ پس بعض علاقوں (جیسے یمن) کے بعض مشائخ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ حالت ذکر میں دف بجاتے تھے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جانا چاہئے۔ ان کا وہ فعل حدیث کے بالکل معارض تھا واضح رہے کہ ملا علی قاری نے اس حدیث کے جملہ اور گاؤں گی کے تحت جو کچھ لکھا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کا ایسا گانا (یا ترانہ) سننا کہ (جو نہ ساز کے ساتھ ہو نہ فحش اور غیر اخلاقی مضامین پر مشتمل ہو اور) اس سے کسی چھوٹی یا بڑی برائی میں مبتلا ہونے کا خدشہ بھی نہ ہو جائز ہے اور اسی طرح بعض حضرات نے عرسوں اور عید وغیرہ (جیسی تقریبات اور خوشی ومسرت کے مواقع پر) اس کو جائز و مختار کہا ہے، لیکن یہ بات فقہ حنفی کی روایتوں کے خلاف ہے کیونکہ بحسب ظاہر روایت فقہاء مطلق راگ (گانا) حرام ہے جیسے کہ درمختار اور بحرالرائق وغیرہ میں لکھا ہے بلکہ ہدایہ میں تو اس کو گناہ کبیرہ لکھا ہے اگرچہ وہ راگ محض اپنا دل خوش کرنے کے لئے ہو۔ ان فقہاء کے نزدیک جواز کی حدیثیں منسوخ ہیں۔ تم سے تو شیطان بھی خوفزدہ رہتا ہے میں شیطان سے یا مراد سیاہ فام چھوکری تھی، جس نے ایک شیطانی کام کرکے شیطان الانس (انسانی شیطان) کا مصداق بن گئی تھی۔ یا وہ شیطان مراد ہے جو اس چھوکری پر مسلط تھا جس نے اس کو ایک غیر مناسب اور مکروہ فعل پر ابھارا تھا اور وہ مکروہ فعل دف بجانے اور گانے میں وہ حد سے زائد انہماک تھا جس نے اس کو تفریح طبع کے لئے لہو کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ ایک اشکال اور اس کا جواب یہ تو حدیث کی اجزائی وضاحت تھی اس سے قطع نظر اگر حدیث کے مجموعی سیاق وسباق میں دیکھا جائے تو ذہن میں ایک اشکال ابھر تا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس چھوکری نے آپ ﷺ کے سامنے دف بجانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی پھر اس نے دف بجانا شروع کیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ نہ پسندیدگی کا اظہار کیا اور نہ ناگواری کا (گویا وہ صورت رہی جس کو اصطلاح حدیث میں تقریر کہا جاتا ہے) اور یہی صورت اس وقت بھی رہی جب حضرت ابوبکر آئے پھر حضرت علی آئے اور پھر عثمان آئے لیکن جب حضرت عمر آئے اور اس چھوکری نے دف بجانا بند کردیا تو آخر میں آپ ﷺ نے اس کو شیطان سے تعبیر کیا، آخر ایسا کیوں؟ اسی خلجان کی راہ روکنے کے لئے علماء نے لکھا ہے بات یہاں سے چلی کہ آنحضرت ﷺ سفر جہاد کو نکلے تو اس چھوکری نے انتہائی عقیدت و محبت کے تحت آپ ﷺ کی فتح و سلامتی کی دعا مانگی، جب آپ ﷺ فتح و سلامتی کے ساتھ واپس لائے تو اس چھوکری نے اس باعافیت مراجعت کو اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت سمجھا جو اس کے نزدیک یقینا شکرگزاری کا موجب بھی تھی اور اظہار خوشی ومسرت کی متقاضی بھی۔ اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے اس کو نذر پوری کرنے کی اجازت دے دی۔ پس اس کے ایک اچھی نیت اور اچھے جذبے پر مبنی ہونے کی وجہ سے اور آنحضرت ﷺ کی مخصوص اجازت کے تحت، یہ دف بجانا لہو کے حکم سے نکل کر حقانیت کے حکم میں اور کراہیت کی صورت سے نکل کر استحباب کی صورت میں داخل ہوگیا لیکن ایسا ہونا اس پر منحصر تھا کہ یہ عمل (دف بجانا) بہت محدود وقت اور اتنی کم سے کم حد تک رہتا جس سے ایفاء نذر کا مقصد پورا ہوجاتا۔ مگر ہوا یہ کہ اس چھوکری نے دف بجانا شروع کیا تو اتنی منہمک ہوئی کہ اس حد سے گذر گئی اور اس کا یہ عمل کراہت کے دائرہ میں داخل ہوگیا لیکن اتفاق سے جس وقت وہ حد سے متجاوز ہوئی عین اسی وقت حضرت عمر آگئے۔ پس آنحضرت ﷺ نے مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ جن میں اس طرف اشارہ تھا کہ یہ کام بس اتنا ہی جائز ہے جتنے کی اجازت دی گئی ہے اس سے زیادہ ممنوع ہے اور بلاضرورت بجانا (یعنی محض تفریح اور شوق کی خاطر تو) اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ آپ ﷺ نے صریحا ً اس چھوکری کو منع کیوں نہیں فرمایا تو اس میں یہ نکتہ تھا کہ صریحاً منع کردینے سے حد تحریم کو پہنچ جاتا۔ اس احتمال کو بھی بعید از قیاس قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس زمانہ میں ضرورت کے تحت جتنی دیر تک دف بجایا جاتا تھا ارجو جواز کے دائرہ میں آتا تھا، بس اتنے ہی وقت کے برابر تھا جو اس چھوکری کے دف بجانے کی ابتداء سے مجلس نبوی میں حضرت عمر کی آمد کے وقت تک پر مشتمل تھا، چناچہ حضرت عمر کی آمد سے پہلے تک اس دف کا بجانا چونکہ جواز کی حد میں تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اتنی دیر تک تو خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن جوں ہی وقت جواز کی حد ختم ہوئی اور کراہت کی حدشروع ہوگئی حضرت عمر کی آمد اس چھوکری کے لئے بروقت تنبیہ ثابت ہوئی۔ کچھ تو اس احساس کے تحت کہ وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے حد سے متجاوز ہورہی تھی اور کچھ حضرت عمر کی ہیبت سے اس چھوکری نے گھبرا کر دف کو اپنے کو لہوں کے نیچے چھپالیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عمر! تم سے تو شیطان بھی اتنا خوفزدہ رہتا ہے کہ جدہر کو تمہارے قدم اٹھے ادھر سے وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے اب اسی وقت شیطان اس لڑکی کو ورغلا رہا تھا اور چاہتا تھا کہ یہ اتنی دیر تک دف بجاتی رہے جس سے اس کا یہ فعل برائی کے دائرہ میں داخل ہوجائے مگر تمہارے آتے ہی شیطان بھاگ کھڑا ہوا اور اس چھوکری نے دف بجانا فورا روک دیا۔ ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ دراصل حضرت عمر اس مباح چیز کو بھی پسند نہیں کرتے تھے جو برائی کے مشابہ ہو اگرچہ کسی جہت سے اس میں اچھائی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی تائید متعد دروایتوں سے ہوتی ہے جن کو صاحب مرقاۃ نے نقل کیا ہے۔ پس دف کے مسئلہ میں اگرچہ ضرورت کے تحت جواز کی گنجائش نکلتی ہے اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس چھوکری کو اجازت دی کہ وہ اپنی نذر پوری کرنے کے لئے دف بجا لے مگر دف بجانا بہر حال ایک ممنوع چیز (باجا بجانے) کی صورت رکھتا ہے اس لئے حضرت عمر اس کو کیسے گوارا کرلیتے یہی بات جانتے ہوئے اس چھوکری نے حضرت عمر کو آتا دیکھ کر نہ صرف یہ کہ دف بجانا روک دیا بلکہ اس دف کو ان کی نظروں سے چھپالیا اور آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کی اسی خصوصیت کے پیش نظر مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5996]





جلال فاروقی:
عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا فسمعنا لغطا وصوت صبيان . فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا حبشية تزفن والصبيان حولها فقال : يا عائشة تعالي فانظري فجئت فوضعت لحيي على منكب رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعلت أنظر إليها ما بين المنكب إلى رأسه . فقال لي : أما شبعت ؟ أما شبعت ؟ فجعلت أقول : لا لأنظر منزلتي عنده إذ طلع عمر قالت فارفض الناس عنها . قالت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لأنظر إلى شياطين الإنس والجن قد فروا من عمر قالت : فرجعت . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب
ترجمہ:
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ ( میرے پاس) بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک پر شور اواز ہمارے کانوں میں آئی، پھر ہم نے بچوں کا شور وغل سنا۔ رسول کریم ﷺ (یہ جاننے کیلئے کہ کیسا شوروغل ہے) کھڑے ہوگئے آپ ﷺ نے دیکھا (باہر) ایک حبشی عورت اچھل کود رہی ہے اور اس کے چاروں طرف بچے کھڑے ہوئے (تماشہ دیکھ رہے) ہیں آپ ﷺ نے (مجھ کو مخاطب کرکے) فرمایا کہ عائشہ! آؤ یہ تماشہ تم بھی دیکھو۔ چناچہ میں اٹھ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑی ہوگئی اور اپنا گال رسول کریم ﷺ کے کندھے پر رکھ کر آپ ﷺ کے کندھے اور سر کے درمیان سے اس عورت کا تماشہ دیکھنے لگی، تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آنحضرت ﷺ مجھ سے پوچھتے کیا تمہارا جی نہیں بھرا، کیا ابھی تمہارا جی نہیں بھرا؟ اور میں جواب دیتی نہیں ابھی میرا جی نہیں بھرا؟ دراصل میں یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں میرا کیا مقام ہے اور آپ ﷺ مجھ سے کتنی زیادہ محبت کرتے ہیں، پھر اچانک عمر نمودار ہوئے اور پھر وہ لوگ جو اس عورت کا تماشہ دیکھ رہے تھے (محض ان کی ہیبت سے یا اس ڈر سے کہ عمر اس تماش بینی کو پسند نہیں کریں گے، ان کو دیکھتے ہی) ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ یہ دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ انسانوں اور جنوں کے شیطان عمر کے خوف سے (کس طرح) بھاگ رہے ہیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں اس کے بعد میں بھی وہاں سے ہٹ گئی۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
[سنن الترمذي:3691، صَحِيح الْجَامِع: 3468, آداب الزفاف: 202]

تشریح
دراصل میں معلوم کرنا چاہتی تھی یعنی میرے اس جواب کا یہ مطلب نہیں تھا کہ واقعۃً میرا جی نہیں بھرا تھا اور اس تماش بینی کا مجھے کچھ زیادہ شوق تھا بلکہ میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کو مجھ سے کتنا تعلق ہے اور آپ ﷺ کے دل میں میری چاہت اور محبوبیت کا کتنا بلند مقام ہے۔ انسانوں اور جنوں کے شیطان سے مراد وہ بچے تھے جو اس حبشی عورت کی اچھل کود کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور ان کو ان الفاظ سے تعبیر کرنا ایک تو انہی بچوں کی شرارتوں اور شوروغل کے اعتبار سے تھا جیسا کہ عام طور پر شور وغل مچاتے ہوئے بچوں کو کہہ دیتے ہیں کہ کیسے شیطان بچے ہیں جو اتنا شور وشغب کررہے ہیں اور دوسرے اس عورت کی کرتب بازی اور تماشہ آرائی کی اس ظاہری صورت کے اعتبار سے جو لہو ولعب کی صورت سے مشابہ تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے بھی وہ سب کچھ لہو ولعب ہی کے حکم میں تھا اگر ایسا ہوتا تو آنحضرت ﷺ خود کیوں دیکھتے اور حضرت عائشہ کو کیوں دکھاتے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دراصل وہ عورت نیزہ وغیرہ کے ذریعہ مشاقی دکھا رہی تھی جو جہاد کے لئے کار آمد چیز تھی اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اس کی وہ مشاقی خود بھی دیکھی اور حضرت عائشہ کو بھی دکھلائی، لیکن اس مشاقی میں مقصدیت اسی وقت تک رہی جب تک اس کا مظاہرہ ضرورت کے تحت ہوتا رہا اور وہ ضرورت ایک محدود وقت میں پوری ہوجاتی تھی، لیکن عین اس وقت جب کہ وہ مشاقی، ضرورت اور وقت ازحد سے متجاوز ہو کر لہو ولعب اور شیطانی کام کے دائرہ میں داخل ہورہی تھی، حضرت عمر وہاں آگئے اور شیطان کو اپنا داؤ چلنے کا موقعہ نہ مل سکا پس حضرت عمر کے آنے سے پہلے وہ مشاقی، حد جواز میں تھی جس کو آنحضرت ﷺ نے اور حضرت عائشہ نے بھی دیکھا اور اس سے پہلے کہ شیطانی اثرات اپنا کام کرتے اور اس عورت کے اردگرد موجود بچے اور لوگ ان اثرات کا شکار ہوتے حضرت عمر کی پر ُ جلال آمد نے ان سب شیطانوں کو بھاگنے پر مجبور کردیابہر حال توجیہہ کچھ بھی کی جائے، ایک بات جو حدیث سے واضح طور پر ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر صفت جمال کا غلبہ تھا جس نے آپ ﷺ کی خوش اخلاقی، خوش طبعی اور مروت وبردباری کو درجہ کمال تک پہنچا دیا تھا جبکہ حضرت عمر پر صفت جلال کا غلبہ تھا جس نے ان کی شخصیت کو اتنا رعب اور اتنی پرہیبت بنادیا تھا۔ کہ ان کہ سامنے برائی اور کراہت کا شائبہ رکھنے والا بھی کوئی فعل سرزد نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ حدیث صحیح غریب ہے کے تحت یہ بات مدنظر رہنی چاہے کہ حبشیوں کے اچھل کود اور مشاقی کے مظاہرہ سے متعلق ایک اور دوسرے طریق سے صحیحین (بخاری ومسلم) میں بھی منقول ہے جس کا بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن کچھ حبشی لوگ مسجد نبوی میں نیزہ بازی کے کرتب کا مظاہرہ دکھا رہے تھے اور آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ کو ان کرتب کا مظاہرہ دکھا رہے تھے کہ حضرت عمر آگئے انہوں نے ان حبشیوں کو اس مظاہرہ بازی سے روکنا چاہا بلکہ ان کی طرف کچھ پتھر اچھالے (تاکہ وہ بھاگ جائیں) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عمر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو آج عید کا دن ہے (یعنی عید کے دن اس طرح کی تھوڑی سی تفریح طبع میں کوئی حرج نہیں ہے) اوپر کی حدیث میں چونکہ عورت اور تماش بین بچوں کا ذکر ہے اس لئے نہ تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے اجنبیوں کو دیکھا اور نہ یہ جواب دینے کی ضرورت ہے کہ اس وقت خود ان کی عمر چھوٹی تھی اور اجنبی مردوں کی طرف دیکھنا ان کے لئے ممنوع نہیں تھا نیز بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ترمذی کی نقل کردہ روایت میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اس واقعہ کے علاوہ ہے جس کا ذکر بخاری ومسلم کی روایت میں ہوا ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5997]




عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , عَلَى النَّبِيِّ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلَ وَرَسُولُ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَضْحَكُ ، وَقَالَ : أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ بَادَرْنَ الْحِجَابَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ ، فَقَالَ : أَيْ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ , أَتَهَبْنَنِي وَلا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْنَ : نَعَمْ , أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ النَّبِيُّ , صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِيهٍ يَابْنَ الْخَطَّابِ , فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا ؛ إِلا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ "
ترجمہ :
محمد بن سعد اپنے ابو (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضور  سے اندر آنے کی اجازت مانگی اور آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں گفتگو کر رہی تھیں اور اونچی آواز سے کچھ مطالبہ کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی تو وہ پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ حضرت عمرؓ اندر داخل ہوئے اور رسول ﷲ  ہنس رہے تھے ۔ عرض کی، اے الله کے رسول ! آپ کو ﷲ تعالیٰ ہمیشہ مسکراتا رکھے ۔ نبی کریم  نے فرمایا ، مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس تھیں اور جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے چھپ گئیں۔ آپ نے کہا ، اے اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو مگر ﷲ کے رسول سے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا، ہاں کیونکہ آپ سخت مزاج اور سخت گیر ہیں۔ رسول ﷲ  نے فرمایا ، خوب اے ابنِ خطاب ! قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، شیطان جب بھی تم سے کسی راستے میں ملتا ہے تو اپنا راستہ بدل لیتا ہے ۔



عمر جنت میں بلند ترین مقام پائیں گے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ذَلِكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ".
قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ.
ترجمہ:
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص میری امت میں جنت کا بلند ترمقام و مرتبہ رکھنے والا ہے.
ابوسعید کا بیان ہے کہ اس شخص (جس کا ذکر رسول کریم ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا) کے بارے میں واللہ ہمارا خیال اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ اس سے عمر ابن خطاب کی ذات مراد ہے اور حضرت عمر جب تک اس دنیا میں رہے ہم اپنے خیال پر قائم رہے۔

تشریح:
وہ شخص یہ بات آپ ﷺ نے مبہم کہی اور تعیین نہیں فرمائی کہ وہ شخص کون ہے اور اس ابہام سے مقصود یہ تھا کہ امت کا ہر شخص طاعات و عبادات سے زیادہ جدوجہد اور محنت کے ساتھ برابر لگا رہے اور اخلاق و کمالات سے متصف ہو کر اس کا استحقاق پیدا کرے یا یہ ہوسکتا ہے کہ مجلس نبوی ﷺ میں کسی ایسے شخص کا آیا ہو جو مذکورہ اوصاف سے متصف تھا اور اس ضمن میں آنحضرت ﷺ نے اشارہ فرمایا ہو کہ جو شخص بھی ان اوصاف کا حامل ہوگا اس کا جنت میں بلند تردرجہ ملے گا۔ اور حضرت عمر جب تک اب دنیا میں رہے یہ الفاظ اس شک کے دفعیہ کے لئے ہیں کہ شائد وقتی طور حضرت عمر کی طرف لوگوں کا خیال چلا گیا ہو اور پھر بعد میں وہ خیال بدل گیا ہو۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوسعید کے الفاظ سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت عمر حضرت ابوبکر سے افضل تھے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا؟ اس کا جواب الفاظ حدیث کی مذکورہ بالا وضاحت سے مل جاتا ہے یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں مبہم اشارہ کا مقصد اس طرف متوجہ کرنا تھا کہ امت کا ہر فرد شریعت کی اطاعت و فرمانبرداری اور اچھے کاموں میں لگن، محنت اور اخلاص کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جدوجہد اور کوشش کرے تاکہ اس بلند ترمقام کو پہنچے۔ وہ بلند ترمقام اسی شخص کو نصیب ہوسکتا ہے۔ جو طاعات و عبادت میں کوشاں رہے، اخلاص کے ساتھ متصف ہو، دین میں خوب غور کے ذریعہ اجتہاد کرے اور اچھے کاموں میں لگا رہے، پس جن لوگوں نے یہ خوبیاں جتنی زیادہ، جتنی بھر پور اور جتنی موثر حضرت عمر کی ذات تھی نہ کہ کسی اور کی۔ اگر اخفاء لیلۃ القدر کا مسئلہ ذہن میں رہے تو پھر یہ بات آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ اس روایت میں حضرت عمر کے ذکر سے حضرت ابوبکر پر ان کی فضیلت کا مفہوم لازم نہیں آتا۔ حاصل کلام یہ کہ اس شخص سے حضرت عمر کا مراد ہونا ایک ظنی بات ہے اور وہ بھی بعض حضرات کے نزدیک نہ کوئی یقینی بات ہے لہٰذا اس روایت سے یہ استدلال کرنا صحیح نہیں ہوگا کہ حضرت عمر حضرت ابوبکر افضل تھے، جب کہ جمہور علماء کا اتفاق حضرت ابوبکر کی فضیلت پر ثابت بھی ہے اور اہل سنت و جماعت کا متفقہ اعتقاد بھی اسی پر ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابوسعید نے حضرت عمر کے بارے میں یہ بات حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت عمر کے زمانے کو سامنے رکھ کر کہی تھی کہ اس وقت آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا مصداق حضرت عمر سے بڑا اور کسی کو نہیں سمجھا جاتا تھا تو پھر اصل حدیث کے بارے میں کوئی اشکال ہی پیدا نہیں ہوگا کیونکہ اپنے زمانہ خلافت میں حضرت عمر بلاشبہ سب سے افضل تھے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 6000]






عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِلَّا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ " ، قَالَ : وَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
ترجمہ :
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ 
  نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ جواب ملا، عمر بن خطاب کا میں نے ارادہ کیا کہ اندر داخل ہوکر اسے دیکھوں لیکن تمہاری غیرت یاد آگئی۔ اس پر حضرت عمرؓ عرض گزار ہوئے: اے الله کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ، کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں۔

تشریح:
رمیصا حضرت ابوطلحہ انصاری کی بیوی اور حضرت انس بن مالک کی والدہ ماجدہ ہیں، پہلے یہ مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں جن سے حضرت انس پیدا ہوئے مالک کے بعد ابوطلحہ نے ان سے عقد کرلیا تھا، ان کے اصل نام کے بارے میں اختلاف ہے ام سلیم بھی کہی جاتی تھیں اور رمیصاء بھی ایک مشہور نام غمیصاء بھی ہے، رمیصاء دراصل رمص سے ہے، جس کے معنی اس سفید چیپڑ (میل کچیل) کے ہیں جو آنکھ کے کونے میں جمع ہوجاتا ہے۔ اور غمیصاء غمص سے ہے اس کے معنی ہیں آنکھ سے چیپڑبہنا۔ کیا میں آپ ﷺ سے غیرت کروں گا یہ اعلیک اغارکا ترجمہ ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس جملہ میں قلب الفاظ ہے یعنی اصل جملہ یوں ہے اغار منکنیز بعض روایات میں یہ ہے کہ حضرت عمر نے (آنحضرت ﷺ ارشاد سن کر) یہ بھی کہا وہل رفعنی اللہ الابک وہل ہک انی اللہ الا بک یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ جو بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے وہ محض آپ کے طفیل سے ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت وراستی اور سرفرازی تک آپ ﷺ ہی کے ذریعہ پہنچایا ہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5986]




 



حضرت عمر کی فضیلت وبرتری:
عن جابر قال : قال عمر لأبي بكر : يا خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم . فقال أبو بكر : أما إنك إن قلت ذلك فلقد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما طلعت الشمس على رجل خير من عمر رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
ترجمہ:
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے کہا: اے رسول اللہ کے بعد تمام لوگوں سے بہتر! حضرت ابو بکر نے کہا: آپ تو یوں کہتے ہیں حالانکہ میں نے رسول ﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سورج کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو عمر سے بہتر ہو۔
تشریح
حضرت عمر کے حق میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی یا تو ان کے ایام خلافت پر محمول ہے یعنی وہ (عمر) اپنے زمانہ خلافت میں تمام انسانوں سے بہتر تھے اور اس حقیقت کو آنحضرت ﷺ نے پہلے بیان فرمادیا تھا! یا یہ کہ اس ارشاد گرامی میں ابوبکر کے بعد کے الفاظ محذوف ومقدر ہیں یعنی آنحضرت ﷺ نے گویا یہ فرمایا کہ آفتاب کسی ایسے شخص پر طلوع نہیں ہوا جو ابوبکر کے بعد عمر سے بہتر ہو اور یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا مقصد عدالت اور سیاست کے باب میں حضرت عمر کی فضیلت و برتری کو ظاہر کرنا ہے غرض یہ کہ حدیث چونکہ ان احادیث کے بظاہر معارض نظر آتی ہے۔ جن سے حضرت ابوبکر کی فضیلت و برتری ثابت ہوتی ہے اس لئے ان حدیثوں کے درمیان تطبیق کی خاطر مذکورہ بالا توجیہات یا اسی طرح کی کوئی اور توجیہہ بیان کرنی پڑے گی۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 5994]






حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے مرض ُالوصال میں دریافت کیا گیا، اگر آپ سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے کہ تم نے عمرؓ کو کیوں خلیفہ منتخب کیا تو آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟ فرمایا، میں عرض کروں گا کہ میں نے ان لوگوں پر ان میں سے سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا۔
(تاریخ الخلفاء: ١٩٥، طبقات ابن سعد)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، عمر اہلِ جنت کا چراغ ہیں۔
(تاریخ الخلفاء:١٩٣، البزار، ابن عساکر)

حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے حضرت عمرؓ کی جانب اشارہ کر کے فرمایا، یہی وہ ہستی ہے جس کے باعث فتنہ وفساد کے دروازے بند ہیں اور یہ جب تک زندہ رہے گا اس وقت تک تم میں کوئی پھوٹ اور فتنہ وفساد نہیں ڈال سکے گا۔
(تاریخ الخلفاء:١٩٣، ازالۃ الخفاء)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کا ارشاد ہے، مجھ سے جبرئیل نے کہا ہے کہ اسلام عمر کی موت پر روئے گا یعنی ان کی وفات سے اسلام کو بہت نقصان پہنچے گا۔
(تاریخ الخلفاء:١٩٤، طبرانی)

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمرؓ کے سوا کسی شخص سے واقف نہیں جس نے جرات کے ساتھ راہِ خدا میں ملامت سنی ہو۔
(تاریخ الخلفاء:١٩٥)



نیک کاموں میں سب سے زیادہ سر گرم کار:
عن أسلم قَالَ: «سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ عَنْ بَعْضِ شَأْنِهِ يَعْنِي عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينَ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ، حَتَّى انْتَهَى مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.»
ترجمہ:
رسول کریم ﷺ (کی رحلت) کے بعد میں نے حضرت عمر سے بڑھ کر کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اچھے کاموں میں سب سے زیادہ سرگرم کار اور سب سے زیادہ نیک رہا ہوں۔

تشریح:
علماء نے لکھا ہے کہ اس روایت کو حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت پر محمول رکھا جائے تاکہ اس کے الفاظ سے جو عموم مفہوم ہوتا ہے اس سے حضرت ابوبکر کی ذات مستثنیٰ رہے۔
[مشکوٰۃ المصابیح - حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان - حدیث نمبر 6001]




انتقال عمر پہ دعاۓ علوی:
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ، يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْكِبِي، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَحَسِبْتُ إِنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ»
ترجمہ:
ابن ملیکہ (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ حضرت عمرؓ کو (وفات کے بعد) جب (غسل دینے کے لئے) تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے ارد گرد کھڑے تھے اور ان کے لئے دعائیں اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی استدعا کر رہے تھے، قبل اس کے کہ ان کو تخت سے اٹھایا جائے اور میں بھی ان لوگوں میں کھڑا تھا، تو اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی آدمی میرا کندھا پکڑے کھڑا ہے (میں نے دیکھا) کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالبؓ ہیں، وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت کی دعائیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ مجھے اس کی خواہش ہو کہ میں اس شخص کے سے عمل لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہوں، اور خدا کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تمہارے دونوں (پیش رو) ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ و ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا، میں (یہ اس لئے) سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے بہت موقعوں پر سنتا تھا آپ ﷺ فرماتے تھے (فلاں کام کے لئے) میں گیا اور ابو بکر و عمر بھی گئے اور (مسجد میں فلاں مکان میں) میں داخل ہوا اور میرے ساتھ ابو بکر و عمر بھی داخل ہوئے اور میں نکلا اور ابو بکرؓ و عمرؓ بھی نکلے۔

تشریح
گزشتہ صفحات میں پہلے حضرت صدیق اکبرؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق حدیثیں نذر ناظرین کی گئی تھیں، اس کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق ..... اب آنحضرت ﷺ کے چند وہ ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں، جن میں آپ ﷺ نے اپنے ان دونوں خاص رفیقوں کا ایک ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے، جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی نظر مبارک میں ان دونوں کا خاص الخاص مقام تھا اور بہت سے موقعوں پر آپ نے ان دونوں کا اپنے ساتھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ گویا یہ دونوں آپ ﷺ کے شریک حال اور خاص رفیق کار ہیں ..... اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے حضرت علی مرتضیٰ کا ایک بیان نذر ناظرین کیا جا رہا ہے۔ تشریح ..... حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا یہ بیان کسی وضاحت اور تشریح کا محتاج نہیں ہے، اس میں انہوں نے یہ جو فرمایا کہ "اللہ کی قسم! میں یہی گمان کرتا تھا کہ تہ تم کو تمہارے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیقؓ) کے ساتھ کر دے گا"۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے یہی امید تھی کہ تم انہیں کے ساتھ دفن کئے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جنت میں تم ان کے ساتھ کر دئیے جاؤ گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ہی مراد ہوں .... اور اس عاجز کے نزدیک یہی راجح ہے۔ حضرت علی مرتضیٰؓ نے اپنے اس بیان میں اس واقعی حقیقت کا واضح طور پر اظہار فرما دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے ان دونوں صاحبوں رفیقوں کے ساتھ خاص الخاص تعلق تھا جو صرف انہی کا حصہ تھا۔ حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے اپنے اس کلام کے شروع میں یہ جو فرمایا "مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا الخ" (یعنی تم نے اپنے بعد اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں چھوڑا جس کے اعمال کے مثل اعمال لے کر اللہ کے حضور میں حاضر ہونے کی مجھے تمنا اور خواہش ہو) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی تمنا اور خواہش تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حضرت عمرؓ کے جیسے اعمال لے کر حاضر ہوں اور حضرت عمرؓ کے بعد کوئی کے بعد کوئی آدمی ایسا نہیں رہا۔ حافظ ابن حجرؒ نے اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: وَقد اخْرُج بن أَبِي شَيْبَةَ وَمُسَدَّدٌ مِنْ طَرِيقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابن عباس لكون مخرجه من ال على رضى الله عنهم .(فتح البارى جزء 14 صفحه 374 طبع انصارى دهلى) ترجمہ .... اور ابن ابی شیبہ اور مسدد نے جعفر صادق کے طریقے سے روایت کیا ہے انہوں نے اپنے والد محمد (باقر) سے خود حضرت علیؓ سے اس قسم کا کلام روایت کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے اور یہ روایت ابن عباس کی اس حدیث کے لئے بہت اچھا شاہد ہے کیوں کہ یہ خود حضرت علیؓ کی اولاد کی روایت ہے۔
[معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2031]









========================
چند موافقات اور فراستِ عمرؓ :

٭   آیت ''الشیخ والشیخۃ اذا زنیا'' کا منسوخ التلاوت ہونا بھی حضرت عمرؓ کی رائے سے موافقت رکھتا ہے۔

٭ جنگ اُحد میں جب ابو سفیان نے کہا، کیا تم میں فلاں ہے؟ تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا،''اس کا جواب نہ دو''۔ رسولِ کریم نے آپ کے اس قول سے موافقت فرمائی۔ اس واقعہ کو امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی مُسند میں روایت کیا ہے۔

٭  ایک روز کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ، آسمان کا بادشاہ زمین کے بادشاہ پر افسوس کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا، مگر اس بادشاہ پر افسوس نہیں کرتا جس نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا۔ یہ سن کر کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، واللہ! توریت میں یہی الفاظ ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ سجدے میں گر گئے یعنی سجدہ شکر بجا لائے۔(ایضاً: ٢٠١)

٭  صحیح مسلم میں ہے کہ صحابہ نے نماز کے لیے بلانے کے متعلق مختلف تجاویز دیں تو سیدنا عمرؓ نے کہا، ایک آدمی کو مقرر کر لو جو نماز کے وقت آواز دیکر لوگوں کو بلائے۔ حضور انے اس تجویز کو پسند فرمایا۔

٭  مؤطا امام مالک میں ہے کہ ایک بار سیدنا عمرؓ کو نیند سے جگانے کے لیے کسی نے "الصلوٰۃ خیر من النوم" کہا تو آپ نے فجر کی اذان میں ان کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا۔ (مشکوٰۃ باب الاذان)

٭ جنگِ یمامہ میں جب بہت سے حفاظ صحابہ کرام شہید ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے خلیفہ رسول، سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں عرض کی، اگر اسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو کہیں قرآن کی حفاظت کا مسئلہ نہ پیدا ہو، اس لیے قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کردیا جائے۔ آپ کے بار بار اصرار پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اس کام کے لیے راضی ہوئے۔ یوں آپ کی فراست ودانائی کی وجہ سے قرآن کریم ایک جگہ کتاب کی صورت میں جمع کیا گیا۔ (بخاری باب جمع القرآن)

٭  اسی طرح آپ کے دورِ خلافت کے شروع تک لوگ الگ الگ تراویح پڑھتے تھے۔ آپ نے انہیں ایک امام کی اقتداء میں جماعت کی صورت میں تراویح پڑھنے کا حکم دیا۔ تراویح میں قرآن کریم سنانے کی لگن میں مسلمان چھوٹے بڑے قرآن مجید حفظ کرتے ہیں اور حفاظ کرام اسے اہتمام سے یاد رکھتے ہیں۔ گویا آج قرآن کریم کا کتابی صورت میں محفوظ ہونا، حفاظ کرام کی کثرت اور قرآن کریم کا صحیح یاد رکھنا یہ حضرت عمرؓ ہی کی فراست کے صدقے میں ہے جنہوں نے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کرنے کی اہمیت اُجاگر کی اور تراویح کو باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا۔

فارق حق و باطل امام الہدیٰ

تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام




منقبتِ خلفاء راشدین بزبانِ سید المرسلین ﷺ:

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى الْعَالَمِينَ سِوَى النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، وَاخْتَارَ لِي مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً " أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - " فَجَعَلَهُمْ أَصْحَابِي ". وَقَالَ: " فِي أَصْحَابِي كُلِّهِمْ خَيْرٌ، وَاخْتَارَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ، وَاخْتَارَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَةَ قُرُونٍ: الْقَرْنَ الْأَوَّلَ، وَالثَّانِيَ، وَالثَّالِثَ، وَالرَّابِعَ».
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

ترجمہ :
حضرت جابر بن عبداللہؓ نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ بیشک میرے صحابہ کو الله تعالیٰ  نے سارے جہاں والوں میں سے پسند فرمایا ہے سواۓ انبیاء اور رسولوں کے، اور پسند کیا میرے لئے میرے صحابہ میں سے چار کو ،  (جو) ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان الله علیھم (ہیں)،  بس بنادیا ان کو میرے ساتھی۔
[مجمع الزوائد:(ج10 ص16)16380]
خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة أنه صحيح الإسناد]
المحدث : القرطبي المفسر | المصدر : تفسير القرطبي: 16/306+ 19/348 | 
خلاصة حكم المحدث : صحيح



حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يجتمع حب هؤلاء الْأَرْبَعَةِ إِلَّا فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ۔
ترجمہ:
نہیں جمع ہوگی ان چار کی محبت سوائے مومن کے دل میں: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ۔
[مسند عبد بن حمید:1464، شرح اصول اعتقاد-اللالكائي:2332، الشريعة للآجري:1224-1225، جامع الأحاديث للسيوطي:17492، كنز العمال:33104]


اعتقادی منافق کی خاص علامت:
حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يَجْتَمِعُ حُبُّ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ فِيْ قَلْبِ مُنَافِقٍ: أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِىٍّ.
ترجمہ:
ان چار کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہ ہوگی: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی۔
[جامع الأحاديث للسيوطي:3109-36190،ابن عساكر (39/128)، كنزالعمال:33103-36735]






رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ‌أَرْحَمُ ‌أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهُ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.
ترجمہ:
میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں۔
[سنن ابن ماجه:154، الشريعة للآجري:1557، مشيخة ابن شاذان الصغرى:49]





حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ حُبَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، كَمَا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الصَّلاةَ وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَالزَّكَاةَ ، فَمَنْ أَبْغَضَ وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ ، وَلا حَجَّ وَلا زَكَاةَ ، وَيُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَبْرِهِ إِلَى النَّارِ " .

ترجمہ :
حضرت عبداللہ  بن عمرؓ نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ : بیشک الله نے فرض کی ہے تم پر محبت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی  (رضی الله عنھم) کی، جیسا کہ فرض کی تم پر نماز، روزے، حج اور زکات. پھر جس نے بغض رکھا کسی ایک سے، تو نہ اس کی نماز ہے، نہ حج اور نہ زکات. اور وہ اٹھایا جاۓگا قیامت کے دن اپنی قبر سے آگ (جہنم) کی طرف۔
[الجامع لعلوم الإمام أحمد:4/348، الفردوس بمأثور الخطاب:645، تاريخ دمشق لابن عساكر:7927 (39/128)، المقصد الارشد:478، جامع الأحاديث:39320]



اصحاب رسول کو برا کہنے والے ملعون کی نہ فرض عبادت قبول نہ نفل:

عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ ،  أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَنِي وَاخْتَارَ لِي أَصْحَابًا ، فَجَعَلَ لِي مِنْهُمْ وُزَرَاءَ وَأَنْصَارًا وَأَصْهَارًا ، فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لا صَرْفًا وَلا عَدْلا

ترجمہ :
حضرت عویم بن ساعدہؓ رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ بیشک الله تبارک و تعالیٰ نے مجھے چن لیا، اور میرے لئے اصحاب کو چن لیا، پس ان میں بعض کو میرے وزیر اور میرے مددگار اور میرے سسرالی بنادیا، پس جو شخص ان کو برا کہتا ہے ، ان پر لعنت ہے الله کی اور  فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی بھی ، قیامت کے دن نہ ان کا کوئی فرض قبول ہوگا، اور نہ ہی نفل.
[السنة لابن أبي عاصمؒ:1000، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:1772+1946، السنة لأبي بكر بن الخلال:834 الشريعة للآجري:1990]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ 
[حاکم:6656]
تفسير القرطبي(م671ھ): ج16/ص297، سورۃ الفتح:آیۃ29
تفسير روح البيان: ج5/ص174، سورۃ الفتح:آیۃ29










خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 


تاریخِ عالم نے ہزاروں جرنیل پیدا کیے، لیکن دنیا جہاں کے فاتحین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں اور دنیا کے اہلِ انصاف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدل پروری کو دیکھ کر جی کھول کر اُن کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔
امیرِ شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ: ’’عمر( رضی اللہ عنہ ) مرادِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )ہے۔ ‘‘ یعنی دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مُریدِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں اور عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مرادِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ ایک عالم نے کیا خوب کہا کہ: ’’عمرؓ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عطائے خداوندی تھے۔‘‘ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علمائے اسلام ،حکمائے اسلام اور مستشرقین نے اپنے اپنے لفظوں میں بارگاہِ فاروقی میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کاشمار مکہ مکرمہ کے چند پڑھے لکھوں میں ہوتاتھا، لیکن وہ بھی اسی عرب معاشرے کا حصہ تھے، جہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قبل از نبوت صادق وامین کہا جاتا تھا اور بعد از اعلانِ نبوت نعوذ باللہ! ساحر ،شاعر،کاہن ،اور نجانے کیا کیا کہا گیا۔
اہلِ مکہ کے جبر وستم بہت بڑھ چکے تھے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سرِعام تبلیغ تو درکنار‘ عبادت بھی نہیں کرسکتے تھے، چھپ کر دین اسلام کی تبلیغ وعبادت کی جاتی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد اس وقت اُنتالیس تھی۔ ایک رات بیت اللہ کے سامنے عبادت کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردِگار سے عجیب دعا کی، مانگی بھی تو عجب شئے مانگی۔ کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ دعا میں یہ بھی مانگا جاتا ہے، اسلام کی بڑھوتری کی دعا کی جاتی، اہلِ مکہ کے ایمان لانے کی دعا کی جاتی، دنیائے عالم میں اسلام کی اشاعت کی دعا کی جاتی یا اہل مکہ کے ظلم وستم کی بندش کے لیے ہاتھ اُٹھائے جاتے، لیکن میرے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ: ’’اے اللہ! عمر وابن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے کسی کو اسلام کی عزت کا ذریعہ بنا ۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دو لوگوں کو نامزد کیا اور فیصلہ خدائے علام الغیوب پر چھوڑ دیا کہ اللہ ! ان دونوں میں سے جو تجھے پسند ہو وہ دے دے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاکو شرفِ قبولیت سے نوازا اور اسباب کی دنیا میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب یہ بنا کہ ایک روز تیغِ برہنہ لیے جارہے تھے، راستہ میں بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ملا، جس نے پوچھا کہ عمر! خیریت! کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے: محمد کو قتل کرنے جارہاہوں ،اس نے نئے دین کااعلان کرکے مکہ والوں میں تفریق کردی ہے، کیوں نہ اس قصہ کو ہی ختم کردوں۔ بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والے شخص نے کہا کہ: عمر! اگر تم نے ایسا کیا تو کیا ’’بنو ہاشم وبنو زہرہ ‘‘تم سے انتقام نہیں لیں گے؟ کہنے لگے: لگتا ہے کہ تم بھی اس نئے دین میں شامل ہوچکے ہو ،انہوںنے کہا کہ پھر پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو، تمہاری بہن وبہنوئی مسلمان ہوچکے ہیں ۔
جلال میں نکلنے والا عمر سیدھا بہن کے گھر پہنچتا ہے، یہاں سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ ان کے بہنوئی وبہن کو سورۂ طہٰ پڑھا رہے تھے، باہر سے آواز سنی اور دروازہ پر دستک دی، اندر سے پوچھاگیا کون؟ عمر! نام سنتے ہی سیدنا خباب ؓ چھپ گئے، عمر نے آتے ہی پوچھا: تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے بات ٹالتے ہوئے کہا کہ: ہم آپس میں باتیں کررہے تھے، کہنے لگے: میں نے سنا ہے تم نئے دین میں شامل ہوگئے ہو؟ بہنوئی نے کہا کہ: عمر! وہ دین تیرے دین سے بہتر ہے، تو جس دین پر ہے یہ گمراہ راستہ ہے، بس سننا تھا کہ بہنوئی کو دے مارا زمین پر، بہن چھڑانے آئی تواتنی زور سے اس کے چہرے پر طمانچہ رسید کیا کہ ان کے چہرے سے خون نکل آیا، بہن کے چہرے پہ خون دیکھ کر غصہ ٹھنڈا ہوا اور بہنوئی کو چھوڑ کر الگ ہو بیٹھے اور کہنے لگے کہ: اچھا! لائو، دکھائو، تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ بہن نے کہا کہ: تم ابھی اس کلام کے آداب سے ناواقف ہو، اس کلامِ مقدس کے آداب ہیں، پہلے تم وضو کرو، پھر دکھائوں گی، انہوںنے وضو کیا اور سورۂ طہٰ پڑھنی شروع کی، یہ پڑھتے جارہے تھے اور کلامِ الٰہی کی تاثیر قلب کو متاثر کیے جارہے تھی۔ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ یہ منظر دیکھ کر باہر نکل آئے اور کہنے لگے: عمرؓ! کل رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کی تھی کہ: ’’اللّٰھمّ أعزّ الإسلام بأحد الرجلین إمّا ابن ھشام وإمّا عمر بن الخطاب‘‘ اور ایک دوسری روایت میں الفاظ کچھ اس طرح سے ہیں کہ: ’’اللّٰھم أید الإسلام بأبي الحکم بن ھشام وبعمر بن الخطاب۔‘‘ اے اللہ ! عمر وبن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی کو اسلام کی عزت کا ذریعہ بنا، یا ان میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کی تائید فرما۔‘‘ اے عمر! میرے دل نے گواہی دی تھی کہ یہ دعا ئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب کے حق میں پوری ہوگی۔ اسی طرح کی ایک روایت سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: ’’کان رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأی عمر بن الخطاب أو أبا جھل بن ھشام قال: اللّٰھم اشدد دینک بأحبّہما إلیک‘‘ یعنی جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب یا ابوجہل کو دیکھتے تو رب العزت کے حضور دستِ دعا دراز کرتے ہوئے فرماتے: اے اللہ! ان دونوں میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اس سے اپنے دین کو قوت عطا فرما۔ (طبقات ابن سعد)
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ: اچھا! تو مجھے بتائو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، انہوں نے بتایا کہ: صفاپہاڑی پر واقع ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں قیام پذیر ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چل پڑے، دَرّے پر مقیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب دیکھا کہ عمر آرہا ہے اور ہاتھ میں ننگی تلوار ہے، تو گھبرائے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، وہیں اسداللہ ورسولہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ فرمانے لگے: آنے دو، اگر ارادہ نیک ہے تو خیر ہے اور اگر ارادہ صحیح نہیں تو میں اس کی تلوار سے اس کاکام تما م کردوں گا۔
جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی جاری تھا، چند لمحوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر ؓ سے فرمایا:’’ اے عمر! تم کس چیز کا انتظا رکررہے ہو؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اسلام قبول کرو؟!۔‘‘ بس یہ سننا تھا کہ فوراًکلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ اصحابِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی خوشی میں اس زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ صحنِ کعبہ میں بیٹھے ہوئے کفار ومشرکین نے بھی سنا اور اس نعرے کی آواز سے وادیِ مکہ گونج اُٹھی۔ پھر نبی رئوف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سینۂ مبارک پر دستِ اقدس رکھا اور دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ اخْرُجْ مَافِيْ صَدْرِہٖ مِنْ غِلٍّ وَأَیِّدْ لَہٗ إِیْمَانًا۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’یا اللہ ۔!اس کے سینے میں جو کچھ میل کچیل ہو وہ دور کردے اور اس کے بدلے ایمان سے اس کا سینہ بھردے ۔‘‘ (مستدرک للحاکم) قبولِ اسلام کے وقت بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کی عمر تیس سال تھی اور بعض کہتے ہیں کہ عمر چھبیس سال تھی۔مصر کے ایک بہت بڑے عالم مفسرِ قرآن جناب علامہ طنطناویؒ نے عجیب جملہ کہا ہے کہ: ’’حقیقت یہ ہے کہ عمرؓ اسی گھڑی پیدا ہوئے اور یہیں سے ان کی تاریخی زندگی کا آغاز ہوا ۔‘‘
مفسرِ قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم : لما أسلم أتاني جبرائیل، فقال: استبشر أھل السماء بإسلام عمرؓ ‘‘ یعنی حضور سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جبرئیل ؑ میرے پاس آئے اور کہا کہ: آسمان والے عمر ؓ کے قبولِ اسلام پر خوشیاں منا رہے ہیں۔‘‘ (مستدرک للحاکم و طبقات ابن سعد)
چند ہی لمحوں بعدسیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اے اللہ کے نبی! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمانے لگے کہ: پھر چھپ کر عبادت کیوں کریں؟ چلیے خانہ کعبہ میں چل کر عبادت کرتے ہیں، میں قربان جائوں اپنے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ انہوں نے ایسے ہی عمر ؓ کو نہیںمانگا تھا، بلکہ دوررس نگاہِ نبوت دیکھ رہی تھی کہ اسلام کو عزت وشوکت عمرؓ کے آنے سے ہی نصیب ہوگی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دو صفوں میں تقسیم کیا: ایک صف کے آگے اسد اللہ ورسولہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ چل رہے تھے اور دوسری صف کے آگے مرادِ رسولؐ، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عطائے خداوندی یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چل رہے تھے۔ مسلمان جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو کفارِ مکہ نے دیکھا، نظر پڑی حمزہ ؓ پر اور عمر ؓ پر تو بڑے غمگین ہوئے، لیکن کس میں جرأت تھی کہ کوئی بولتا؟! اس دن سے مسلمانوں کے لیے تبلیغِ دین میں آسانی پیدا ہوئی اور یہی وہ دن تھا جب اللہ کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ’’إن اللّٰہ جعل الحق علٰی لسان عمرؓ وقلبہ وھو الفاروق فرّق اللّٰہ بہٖ بین الحق والباطل۔‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’اللہ تعالیٰ نے سچ کو عمرؓ کے قلب ولسان پر جاری کردیا اور وہ فاروق ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ حق وباطل میں فرق کردیا ہے ۔‘‘ (طبقات ابن سعد)
جناب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’واللّٰہ ما استطعنا أن نصلّي عندالکعبۃ ظاھرین حتٰی أسلم عمرؓ‘‘۔۔۔۔ ’’اللہ کی قسم ! ہم کعبہ کے پاس کھلے بندوں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔‘‘ (مستدرک للحاکم)
اسی طرح حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ:جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اسلام کو غلبہ نصیب ہوا، اور ہم کھلے بندوں اسلام کی دعوت دینے لگے اور ہم حلقہ بنا کر بیت اللہ میں بیٹھتے تھے، ہم بیت اللہ کا طواف کرنے لگے اور اب ہم پر اگر کوئی زیادتی کرتا تو ہم اس سے بدلہ لیتے تھے ۔
کچھ اسی قسم کے تأثرات فقیہ الامت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ: ’’عمرؓ کا اسلام قبول کرنا ہماری کھلی فتح تھی، اور عمر ؓکا ہجرت کرنا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرتِ خاص تھی ، اور آپ ؓ کی خلافت تو ہمارے لیے سراپا رحمت تھی، میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب ہم بیت اللہ کے قریب بھی نماز ادا نہیں کرسکتے تھے، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو آپ ؓ نے کفار سے مقابلہ کیا، یہاں تک کہ وہ ہمیں نماز پڑھنے دینے لگے۔ (طبقات ابن سعد)
سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شانِ رفیعہ میں چند فرامینِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتا ہوں ۔
۱:-نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
’’اے ابن خطاب !اس ذات پاک کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جس راستے پہ آپ کو چلتا ہواشیطان پالیتا ہے وہ اس راستہ سے ہٹ جاتا ہے، وہ راستہ چھوڑ کر دوسراراستہ اختیار کرتا ہے ۔‘‘ (صحیح بخاری)
۲:-صحیح بخاری میں روایت ہے کہ :’’حضور پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حالتِ خواب میں دودھ پیا، یہاں تک کہ میں اس سے سیر ہوگیا اور اس کی سیرابی کے آثار میرے ناخنوں میں نمایاں ہونے لگے، پھر میں نے وہ دودھ عمرؓ کو دے دیا، اصحابِ رسولؓ نے پوچھا: یارسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علم‘‘۔
۳:-اسی طرح امام بخاری ؒنے ایک اور روایت بھی اپنی صحیح میںدرج کی ہے کہ :
’’ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں نیند میں تھا، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور انہوںنے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں، کسی کی قمیص سینے تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ،اور پھر عمرؓ کو پیش کیا گیا، انہوں نے ایسی لمبی وکھلی قمیص پہنی ہوئی تھی کہ وہ زمین پر گھسٹتی جارہی تھی ،اصحابِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عرض کیا کہ: یارسول اللہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’دین ‘‘۔
۴:-اسی طرح بڑی ہی مشہور ومعروف حدیث نبوی ہے کہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔‘‘یعنی اگر سلسلۂ نبوت جاری رہتا تو سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی منصبِ نبوت سے سرفراز کیے جاتے ۔
۵:-ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ :’’رسول مکرم ومعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم سے پہلے جو اُمم گزری ہیں ان میں مُحدَث ہوا کرتے تھے اور میری امت میں اگر کوئی مُحدَث ہے تو وہ عمرؓ ہے۔‘‘
اسی حدیث مبارکہ میں لفظ’’مُحدَث‘‘کی تشریح میںصاحب فتح الباری علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ یوں تحریر فرماتے ہیں کہ :
’’المُحْدَث المُلْھَم وھو من ألقي في روعہ شيء من قبل الملاء الأعلٰی ومن یجری الصواب علیٰ لسانہٖ بغیر قصد۔‘‘
یعنی ’’محدث وہ ہے جس کی طرف اللہ کی طرف سے الہام کیاجائے، ملاء اعلیٰ سے اس کے دل میں القاء کیا جائے اور بغیر کسی ارادہ وقصد کے جس کی زبان پر حق جاری کردیا جائے۔‘‘ یعنی اس کی زبان سے حق بات ہی نکلے ۔
۶:-ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شفیع اعظم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عمرہ کی اجازت طلب کی تو نبی مکرم ومعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یا أخي أشرکنا في صالح دعاء ک ولا تنسنا‘‘ ۔۔۔ ’’اے میرے بھائی ! اپنی نیک دعائوں میں ہمیں بھی شریک کرنا اور بھول نہ جانا۔‘‘
۷:-سلسلۂ احادیث سے آخری حدیث پیش کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ بہت دراز ہے اور دامنِ صفحات میں جگہ کم ،بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ :’’ ایک دفعہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ ،عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، اُحد کاپہاڑ لرزنے لگا توحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اُحد پر مارتے ہوئے فرمایا: ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اللّٰھم ارزقني شھادۃ في سبیلک وموتا في بلد حبیبک‘‘ ۔۔۔ ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں آئے ۔‘‘
آخری ایامِ حیات میں آپؓ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں، آپؓ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے، اس وقت ایک درّہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور سونے والے کو اپنے درّہ سے جگاتے تھے، مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔ اس روز بھی آپؓ نے ایساہی کیا، نماز ویسے ہی آپؓ نے شروع کی تھی، صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ (فیروز) جو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا، اس نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین زخم کاری اس خنجر سے لگائے، آپؓ بے ہوش ہوکر گر گئے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر بجائے آپؓ کی امامت کے مختصر نماز پڑھ کر سلام پھیرا، ابولؤلؤ نے چاہا کہ کسی طرح مسجد سے باہر نکل کر بھاگ جائے، مگر نمازیوں کی صفیں مثل دیوار کے حائل تھیں، اس سے نکل جاناآسان نہ تھا، اس نے اور صحابیوںؓ کو بھی زخمی کرنا شروع کردیا، تیرہ صحابی زخمی ،جن میں سے سات جاں بر نہ ہوسکے، اتنے میں نماز ختم ہوگئی اور ابولؤلؤ پکڑ لیا گیا، جب اس نے دیکھا کہ میں گرفتار ہوگیا تو اسی خنجر سے اس نے اپنے آپ کو ہلاک کردیا ۔ (خلفائے راشدینؓ ،از لکھنویؒ)
بالآخر آپ کی دعائے شہادت کو حق تعالیٰ نے قبول فرمایا اور دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں بلکہ مُصلائے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر آپ کو ۲۷ ذو الحجہ بروز چہار شنبہ (بدھ) زخمی کیا گیا اور یکم محرم بروز یک شنبہ (اتوار) آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک تریسٹھ برس تھی ،حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور خاص روضۂ نبویؐ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آپ ؓ کی قبر بنائی گئی۔ رضي اللّٰہ تعالٰی عنہ وأرضاہ





امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی بے مثال حکمرانی اور عظیم شہادت

اسلامی تاریخ کے عظیم انسان ،عبقری شخصیت،بے مثال حکمراںاور قائد،پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ کے جاں نثار صحابی ؓ،امیر المؤمنین ،خلیفہ ثانی،عدل وانصاف ،حق گوئی وبیباکی کے پیکر مجسم حضرت عمر فاروقؓ کی حیات اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت رہی،اور آپ کے اسلام کے لیے خود نبی کریم ﷺ نے دعامانگی ،آپ کے قبول اسلام کے ذریعہ کمزور مسلمانوں کو ایک حوصلہ ملااور خود رسول ﷺ کو ایک بے مثال رفیق وہمدردنصیب ہوا، بلاشبہ سیدنا عمر فاروقؓ کی ذاتِ گرامی سے اسلام کو اور مسلمانوں کو بہت کچھ فیض پہونچا،اور آپؓ کی زندگی اسلام لانے کے بعد پوری اسلام کے لیے وقف تھی،آپ نے بہت کچھ اصلاحات دین کے مختلف شعبوںمیں فرمائی ،اور ایک ایسا نظام دنیا کے سامنے پیش کیا کہ دنیا والے اس کی نہ صرف داد دینے پر مجبور ہوئے بلکہ اس کو اختیار کر کے اپنے اپنے ملکوں اور ریاستوںکے نظام کو بھی درست کیا۔اور بعض تو یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر دنیا کا نظام سنبھالنا ہو تو ابو بکر و عمر کو اپنا آئیڈیل بنایا جائے۔ ورع و تقوی ،خلو ص و للہیت ،سادگی و بے نفسی، انکساری اور عاجزی بے شمار خوبیوں سے اللہ تعالی نے نوازاتھا ،دنیا کے نظام کو چلانے اور انسانوں کی بہتر اندا ز میں خدمت کرنے کا خاص ملکہ عطافرمایا تھا ،جن کے ذریعہ اسلام دنیا کے دور دراز علاقوں میں پھیلایا ،اور اطراف عالم تک پہنچا ،جن کی عظمت اور شوکت کا رعب دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو تھا اور بڑی بڑی سلطنتیں جن کے نام سے تھراتی تھیں ،ایسے عظیم انسان کے دل میں اللہ تعالی نے انسانیت کی خدمت ،رعایا کی خبر گیری ،مخلوق خدا کے احوال سے واقفیت کا عجیب جذبہ رکھا تھا۔راتوں کی تنہائیوں میں لوگوں کی ضروریات کو پوری کرنے اور ان کے حال سے آگاہ ہونے کے لیے گشت کرنا ،ہر ضرورت مند کے کام آنا اور ان کی خدمت انجام دینے کی کوشش میں لگے رہنا آپ کا امتیازتھا، آپ کی مبارک زندگی کے ان گنت پہلو اور گوشے ہیں اور ہر پہلو انسانیت کے لیے سبق اور پیغام لیے ہوئے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس رفیقِ خاص کے بہت سے فضائل بیان کیے اور ان کی عظمتوں کو اجاگر کیا۔ذیل میں ہم صرف ان کی بے مثال حکمرانی سے متعلق چیزوں کو پیش کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں ا ن کی سادگی اور انکساری کے پہلو کو بھی بیان کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہو کہ جس کو اللہ تعالی نے ایک بڑی سلطنت کا فرماں روا،اور منصب ِخلافت کا مسند نشیں بنایا تھا لیکن وہ ان تمام کے باوجود مخلو قِ خدا کی خدمت میں کس طرح اپنے آپ کو مٹادیا تھا اور لوگوں کی بھلائی اور فائدہ کے لیے کن کن چیزوں کو بروئے کار لایا تھا ،بقول مولانا شاہ معین الدین ندویؒ کہ :فاروق اعظمؓ کی زندگی کا حقیقی نصب العین رفاہ عام اور بہبودی بنی نوع انسان تھا۔

عادل حکمران

سیدنا عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں عدل و انصاف کی بہترین مثال قائم فرمائی ،اور عادل حکمران بن کر تعلیمات ِعدل کو دنیا میں پھیلادیا،مساوات و برابری ،اور حقوق کی ادائیگی کا حد درجہ اہتمام فرمایا۔ ابن عباسؒسے مروی ہے کہ : تم عمرؓ کا ذکر کیا کرو،کیوں کہ جب تم عمر کو یاد کرو گے تو عدل و انصاف یاد آئے گا اور عدل وانصاف کی وجہ سے تم اللہ کو یاد کروگے۔( اسدالغابہ :۴/ ۱۵۳ دار الکتب العلمیہ بیروت) ایک مرتبہ قیصر نے اپنا ایک قاصد حضرت عمر ؓ کے پاس بھیجا تاکہ احوال کا جائزہ لے اور نظام و انتظام کا مشاہد ہ کرے ،جب وہ مدینہ منورہ آیا تو اس کو کوئی شاہی محل نظر نہیں آیا ،اس نے لوگوں سے معلوم کیا کہ تمہارا بادشاہ کہاں ہے ؟صحابہ نے کہا کہ ہمارا کوئی بادشا ہ نہیں ہے ،البتہ ہمارے امیرہیں جو اس وقت مدینہ سے باہر گئے ہوئے ہیں ،قاصد تلاش کرتے ہوئے اس مقام پر آگیا جہاں امیر المؤمنین سیدنا عمر ؓدھوپ کی گرمی میں سخت ریت پر اپنے درہ کو تکیہ بنائے آرام فرمارہے تھے، پسینہ آپ کی پیشا نی سے ٹپک رہا تھا ،جب اس نے دیکھا تو سیدنا عمر ؓکا جاہ وجلال او ررعب سے وہ گھبراگیا اس نے کہاکہ ؛اے عمر ! واقعی تو عادل حکمران ہے ،اسی لیے تو آرام سے بغیر کسی پہرہ اور حفاظتی انتظامات کے تنہا خوف اور ڈر کے بغیر آرام کررہا ہے،اور ہمارے بادشاہ ظلم کرتے ہیں اس لیے خوف و ہراس ان پر چھایا رہتا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا دین حق ہے ،میں اگر قاصد بن کر نہیں آتا تو مسلمان ہوجا تا ،لیکن میں جاکر اسلام قبول کروں گا۔( اخبار عمرؓ لعلی الطنطاوی:ـ۳۲۷)

زہد و سادگی

اللہ تعالی نے آپ کو جو بلند مقام ومرتبہ عطافرمایا تھا اور آپ کی حکمرانی کے چرچے طول وعرض میں پھیل چکے تھے لیکن اس کے باوجود بھی تواضع و سادگی اور زہد و تقوی میں غیر معمولی اضافہ ہی ہوتا گیا ،آپ ہر وقت اسی فکر میں رہتے کہ نبی کریم ﷺ نے جس حال میں چھوڑا اسی پر پوری زندگی گذرجائے ،عمدہ کھانوں ،بہترین غذاؤں اور اسبابِ تنعم سے ہمیشہ گریز ہی کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ اہل بصرہ کا ایک وفد حضرت عمرؓ کے پاس آیا ،ان لوگوں کے لیے روزانہ تین روٹیوں کا انتظام ہوتا، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی بطور سالن کے روغن زیتون پایا ،کبھی گھی ،کبھی دودھ ،،کبھی خشک کیا ہوا گوشت جو باریک کرکے ابال لیا جاتا تھا ،کبھی تازہ گوشت اور یہ کم ہوتا تھا۔انھوں نے ایک روز ہم سے کہا کہ اے قوم ! میں اپنے کھانے کے متعلق تم لوگوں کی ناگواری وناپسندیدگی محسوس کرتا ہوں ،اگر میں چاہوں تو تم سب سے اچھا کھانے والا،تم سب سے اچھی زندگی بسر کرنے والا ہوجاؤں میں بھی سینے اور کوہان کے سالن اور باریک روٹیوں کے مزے سے ناواقف نہیں ہوں؛لیکن میں نے اللہ تعالی کا یہ فرمان سن رکھاہے کہ : اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعم بھا۔( طبقات ابن سعد:۲/۵۸)لباس و پوشاک میں بھی اسی طرح کی سادگی آپ نے اختیارکی جو ہر ایک کے لیے نہایت حیرت انگیز اور ایمان افروزہے۔حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ کے جسم پر جو لباس تھا اس میں بارہ پیوند لگے ہوئے تھے ( مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب ؓلابن الجوزی:۱۳۱) اس طرح بے شمار واقعات آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔

راتوں کو گشت

حضرت عمر ؓ نے حکمرانی کرنے اور نظام سلطنت کو چلانے کا بے مثال انداز دیا ہے ،ایک حاکم کی کیا فکریں ہونی چاہیے اور رعایا کی خبر گیری کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرناچاہیے اس کو بہتر طور پر آپ نے پیش کیا اور بتایا کہ جس کے دل میں خوف ِخدا،اور آخرت کا احساس ہوتا ہے تو پھر وہ تخت اور حکومت کے ملنے کے بعد اپنی عوام کی فکروں سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔چناں چہ حضرت عمرؓ کا معمول تھا کہ آپ راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے ،جب لوگ آرام وراحت کے لیے گھروں میں چلے جاتے آپ حالات سے آگہی حاصل کرنے اور پریشان حالوں کی پریشانیوں سے واقف ہونے کے لیے باضابطہ چکر لگاتے ،اور جوکوئی مصیبت زدہ ملتا ،پریشان حال نظر آتا، مسافر یا اجنبی غم کا شکار دکھائی دیتا تو خلیفہ وقت خاموشی سے کام انجام دے جاتے اور احساس تک ہونے نہیں دیتے کہ یہ وہی عمر جس کی عظمت کے ڈنکے عالم میں بج رہے ہیں۔ایک رات آپ گشت کررہے تھے کہ مدینہ کے تین میل فاصلہ پر مقام حراء پہنچے،دیکھا کہ ایک عورت پکارہی ہے اور دوتین بچے رورہے ہیں ،پاس جاکر حقیقت حال دریافت کی ،اس نے کہا بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں ان کو بہلانے کو خالی ہانڈی چڑھادی ہے ،حضرت عمر اسی وقت مدینہ آئے ،آٹا ،گھی ،گوشت اور کھجوریں لے کر نکلے ،ساتھ آپ کا غلام اسلم بھی تھا اس نے کہا کہ میں لیے چلتا ہوں ،مجھے دیدیجئے۔آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرا بوجھ تم نہیں اٹھا ؤ گے۔پھر آپ خود ہی سامان لے کر اس عورت کے پاس آئے،اس نے کھانا پکانے کا انتظام کیا،حضرت عمر خود چولہا پھونکتے تھے ،کھانا تیار ہواتو بچے خوشی خوشی اچھلنے لگے ،حضرت عمر دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔( خلفائے راشدین :۱۲۷)رات میں گشت کے دوران آپ نے بے شمار پریشانوں کی امداد کی اور آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ تنہائیوں میں ناجانے کتنے لوگ پریشانی سے دوچا ر ہوں گے تو ا ن کے کام آیا جائے ،اس سلسلہ میں بہت واقعات ہیں جس سے آپ کی ہمدردی اور فکرمندی اور رعایا کی خبر گیری کا جذبات نمایاں نظر آتے ہیں۔

ضرورت مندوں کی خدمت

حضرت عمر ؓ کے خدمت خلق کا انداز بھی بڑا نرالا تھا ،گلیوں میں گشت لگاتے ہی تھے ،نظام خلافت ایسا بنایا تھا کہ کوئی ضرورت مند محروم نہ رہنے پائے ،حکام اور عمال بھی ایسے متعین فرمائے تھے جو ہروقت راحت رسانی کی فکر میں کوشاں رہتے ،ساتھ میں خود امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ بھی ضرورت مندوں کی حاجت پوری کرنے میں لگے رہتے ،بلکہ آپ کی زندگی پوری انسانیت کی خدمت میں گذری ،اسی میںآپ کو مزہ آتا اور دل کو سکون و راحت نصیب ہوتی۔حضرت طلحہؓ فرماتے ہیں کہ ایک تاریک رات میں میں نے حضرت عمر ؓکو دیکھا کہ ایک گھر میں داخل ہوگئے ،اس کے بعد دوسرے گھر میں داخل ہوئے ،صبح میں نے اس مکان میں داخل ہو کر دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھی بیٹھی ہے،میں نے اس بوڑھی سے پوچھا کہ وہ کون تھے تجھے معلوم ہے ؟اس نے کہا کہ وہ اسی طرح میرے پاس آکر میری ضروریا ت کو پوری کرکے چلے جاتے ہیںاورصفا ئی ستھرائی کر کے واپس ہوجاتے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ تو عمرؓ ہیں۔( مناقب عمر بن الخطاب:۶۸)ایک رات آپ مدینہ کے ایک راستے سے گذررہے تھے تو دیکھا کہ ایک خیمہ لگاہوا نظر آیا جو کل نہیںتھا ،اس کے باہر ایک بدوی بیٹھا ہوا ہے اور اندر سے رونے کی آواز آرہی ہے۔حضرت عمر ؓفوری اس کے قریب گئے ،حال دریافت کیا، رونے کا سبب معلوم کیا ،اس نے کہا کہ میری بیوی دردزہ میں مبتلا ہے اور کوئی خاتون نہیں جو اس مشکل وقت میں میر ی مدد کرسکے۔حضرت عمرؓ گھر تشریف لائے اہلیہ محترمہ حضرت ام کلثوم ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آج تمہیں نیکی کمانے کا ایک موقع دیا ہے، کیا تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گی؟بیوی نے کہا کہ ضرور آپ بتلائیے! کیا کام ہے ؟آپ نے فرمایا کہ ایک اجنبی عورت دردزہ میں مبتلا ہے اس کے پاس کوئی عورت نہیں لہذا تم جلدی سے ضرورت کاسامان لے کر میرے ساتھ چلو،حضرت ام کلثوم آپ کے ساتھ نکل گئی ،حضرت عمر نے ہانڈی خود اٹھالی ،خیمہ آتے وہ اندر چلے گئی ،باہر آپ نے آگ جلا کر ہانڈی چڑھادی ،کچھ دیر بعد اندر سے آواز آئی کہ امیر المؤمنین !اپنے دوست کو بیٹے کی خوشخبری سنادیجئے۔جیسے اس دیہاتی نے امیر المؤمنین کا لفظ سنا تو گھبرا گیا،آپ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں، اطمینان رکھو،پھر جو کھانا تیار ہوا تھا اندر دے دیا کہ اس خاتون کو کھلایا جائے ،اس کے بعد آپ نے اس بدوی سے کہا کہ تم بھی کھالو بہت دیر سے بھوکے ہو اور یہ کہہ کر رخصت ہوگئے کہ صبح آجاؤ،بچے کا روزینہ مقرر ہوجائے گا۔(اخبار عمرؓ:۳۴۶بیروت)سیدنا عمرؓ کی مبارک زندگی میں اس طرح کے کئی واقعات ہیں کہ آپ نے خاموشی کے ساتھ لوگوں کی مدد کی ،پریشان حالوں کی خدمت کی اور محتاجوں کی ضروریات کی تکمیل فرمائی۔

غلاموں کے ساتھ حسن سلوک

سیدنا عمرؓ جس طرح اپنی رعایا اور دوسرے افراد کی راحت رسانی کی فکر میں رہتے اور ان کی خدمت کرنے میں پیش پیش رہتے اسی طرح آپ خادموں اور غلاموں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے کہ غلام و آقا ،مالک و مملوک کا فرق نہیں ہوتا اور ان کو آرام پہنچانے میں آگے رہتے ،حضرت عمرؓ جن کی عظمت سے باطل کے دل لزرتے اور بدن کانپتے تھے وہ اتنے رحم دل اور خیر خواہ تھے کہ ان کی رحم دلی اور خیر خواہی سے غلام بھی سکون و اطمینان محسوس کرتے تھے۔حضرت عمر ؓ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو صفوان بن امیہؓ نے دعوت دی ،اور کھانا ایسے بڑے برتن میں لایاگیا جس کو چا ر آدمی اٹھا سکتے تھے ،خادموں نے کھانا لاکر رکھ دیا اور واپس ہونے لگے ،حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ نہیں کھاؤ گے تو ان خادموں نے کہا کہ نہیں ہم بعد میں کھا لیں گے۔یہ بات سن آپ سخت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ : اللہ تعالی لوگوں پر رحم کرے یہ ابھی تک طبقات میں بٹے ہوئے ہیں ؟پھر خدام کو حکم دیا کہ بیٹھ جاؤ چناںچہ سب نے کھانا کھا یا۔( سیدنا عمر فاروق کی زندگی کے سنہرے واقعات:۸۷)آپ نے عیسائی اور غیر مسلم خادموں اور غلاموں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور خیر خواہی کا معاملہ فرمایا اور ان کی راحت کا پورا اہتمام فرمایا۔

جانوروں پر رحم

حضرت عمر فاروق ؓ دین کے معاملہ میں جتنے سخت اور مضبوط تھے ،رہن سہن کے لحاظ اور حقوق کی ادائیگی کے اعتبار سے اتنے ہی نرم اور رحم دل تھے ،ذمہ داری کو پورا کرنے ،اور انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لیے تڑپنے والے تھے ،آپ کی رحم دلی اور خیر خواہی انسانوں کے علاو ہ جانوروں پر بھی تھی، جانوروں پر زیادہ بوجھ ڈالنا ،ان کو غیر ضروری استعمال کرنا،ان کے چارہ کا صحیح انتظام نہ کرنا آپ کو بہت ہی ناگوار گذرتا،اور کسی ایک جانور کا بھی مالک کی بے جا زیادتیوں کا شکار رہنا بھی آپ کو رنج و غم میں مبتلا کردیتا تھا ،خو ف و خشیت اور احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ فرمایا کہ:اگر بکری کا کوئی بچہ فرات کے کنارے مرگیاتو اللہ تعالی قیامت کے دن عمر سے سوال کرے گا۔ (مناقب عمرؓ: ۱۵۳)احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم عمرؓ کو ایک بڑی فتح کی خو ش خبری دینے حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا کہ تمہارا قیام کہا ہے؟ہم جگہ بتائی آپ ہمارے ساتھ اس مقام پر آئے اور ہماری سواریوں کے قریب آکر ان کو دیکھنے لگے،پھر فرمایا کہ کیا تم اپنی سواریوں کے بارے میں اللہ سے نہیںڈرتے؟تم جانتے ہو کہ ان کا بھی تمہارے اوپر حق ہے؟ان کو کھلا کیوں نہیں چھوڑدیا تاکہ یہ زمین پر چل پھر سکیں۔( سیدنا عمرکی زندگی کے سنہرے واقعات:۲۱۷)ایک مرتبہ آپ نے مچھلی کھانے کی خواہش ظاہر فرمائی ،آپ کے غلام یرفأ نے لمبا سفر کرکے مچھلی حاضر کی اور آکر اپنی سواری کا پسینہ پوچھنے لگا ،حضرت عمر نے دیکھ کر فرمایا کہ عمر کی خواہش پوری کرنے میں ایک جانور کو اس قدر تکلیف اٹھانی پڑے۔اللہ کی قسم !عمر اسے نہیں چکھے گا۔( حوالۂ سابق:۲۱۱)یہ حالت ہے اس عظیم المرتبت انسان کی اور اس بے مثال شخصیت کی کہ جو دین کے معاملہ میں شمشیر بے نیام ہوجا تی،اور حق کے سلسلہ میں آہنی تلوار لیکن مخلو ق کا مسئلہ ہو تا یا انسانوں کی بھلائی اور جانوروں کی خیر خواہی کا سوال تو پھر اپنے آپ کو اس درجہ مٹادیتے کہ دنیا والے ان کی اداؤں پر آج بھی رشک کرتے ہیں ،اللہ تعالی نے ان حضرات کو کچھ اس انداز میں تیار فرما یا تھا کہ دنیا ہر دور میں ان سے سبق سیکھے اور راہِ عمل کو استوار کرے۔

بیت المال کا استحکام

آپ نے خدمت خلق کے میدان میں جو اہم کام انجام دیئے اس میں نظام بیت المال کا استحکام بھی ہے ،حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی خلافت میں جو بیت المال قائم فرمایا تھا ،حضرت عمر نے اس کے نظام کو مضبوط و مستحکم فرمایا اور اصول وضابطوں کے ساتھ اس کو جاری کیا ،اپنی اولاد کے مال و دولت کو اس میں لگا دیا اور خود سادگی کی زندگی گذاردی۔مولاناشاہ معین الدین ندویؒ رقم طراز ہیں کہ: ابن سعد کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے ایک مکان بیت المال کے لیے خاص کرلیاتھا لیکن وہ ہمیشہ بند پڑا رہتا تھا اور اس میں کچھ داخل کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی ،چناں چہ وفات کے وقت بیت المال کا جائزہ لیا گیا تو صرف ایک درہم نکلا۔حضرت عمر نے تقریباً ۱۵ھ میں ایک مستقل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلس شوری کی منظوری کے بعد مدینہ منور میں بہت بڑا خرانہ قائم کیا، دارالخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اور صوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے افسرجداگانہ مقرر ہوئے۔صوبہ جات اور اضلاع کے بیت المال جس قدر رقم جمع ہوجاتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعداختتامِ سال صدر خزانہ یعنی مدینہ منور کے بیت الما ل میں منتقل کردی جاتی تھی ،صدر بیت المال کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ دار الخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے صرف اس کی تعداد سالانہ تین کروڑدرہم تھی۔
(خلفائے راشدین:۹۰)

سانحۂ شہادت

حضرت عمر فاروق ؓ نے دعا مانگی تھی کہ 
اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ , وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ ﷺ۔
اے اللہ مجھے تیرے راستے میں موت آئے اورتیرے نبی ﷺ کا شہر نصیب ہو۔
حضرت حفصہؓ نے پوچھا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ(حضرت عمرؓ) نے جواب دیا کہ اللہ چاہے گا تو اسے میرے پاس لے آئے گا۔
[صحيح البخاري:1890، موطأ مالك:989]
اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور اس کا عجیب انتظام فرمایا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا ایک مجوسی غلام فیروز نامی تھا،اس نے ایک مرتبہ اپنے مالک حضرت مغیرہ کی شکایت کی کہ وہ مجھ سے زیادہ محصول طلب کرتے ہیں ،حضرت عمر ؓ نے اس بے جا شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی ،اس نے غیض و غضب میں ایک تیز خنجر تیار کیا اور نمازِ فجر میں چھپ کر آکربیٹھ گیا،جب حضرت عمر ؓ نے تکبیرکہی، اس نے اس زورسے تین وار کیے جس سے امیر المؤمنین سیدناعمر فاروقؓ گر پڑے ،موت و حیات کی اس کشمکش میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا ،نماز مکمل ہوئی تو آپ نے صحابہ کو کہا کہ قاتل کا پتہ لگاؤ کہ کس نے مارا ،ابولؤلؤ نے تقریبا تیرہ صحابہ کو زخمی کردیا اور جب وہ بالکل گرفت میں آچکا تو از خود خنجر مار کر ہلاک ہوگیا،حضرت عمرؓ کو ۲۶/ذی الحجہ۲۳ھ کو خنجرمارا گیااوریکم محرم الحرام ۲۴ھ کو شہادت عظمی کا سانحہ پیش آیااورتدفین عمل میں آئی ،آپ کی خلافت دس سال پانچ مہینے اکیس دن رہی۔
(طبقات ابن سعد:۲/۱۲۳)
آپ کی خواہش تھی کہ آپ کو اپنے دورفیقوں کے پہلو میں جگہ ملے ،حضرت عائشہ نے امیر المؤمنین کی اس تمنا کو پورا کیا اور حجرہ میں تدفین کی اجازت دی۔



























حضرت عمرؓ 





سیدنا فاروق اعظم حضرت عمر کا نسب نامہ یہ ہے:
عمر بن خطاب بن فضیل بن عبد العزی بن ریاح بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی کعب پر پہنچ کر یہ سلسلہ نسب آنحضرت ﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے حضرت عمر کی کنیت ابوحفص اور لقب فاروق ہے امام نووی کی تحقیق کے مطابق آپ کی ولادت واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد ہوئی اور جیسا کہ ذہبی نے لکھا ہے۔ بعمر ١٧ سال ٦ ھ نبوی میں مشرف بہ اسلام ہوئے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حضرت عمر فاروق ٥ ھ نبوی میں اسلام لائے اس وقت تک چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ آپ کو فاروق کا لقب اس واقعہ کے بعد ملا کہ ایک یہودی اور ایک منافق کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور تصفیہ کے لئے یہودی نے آنحضرت ﷺ کو ثالث بنانے کی تجویز رکھی، منافق مشرکین قریش کے اس سردار کعب بن اشرف کو ثالث بنانے پر مصر تھا، کافی حیل وحجت کے بعد دونوں نے آنحضرت ﷺ کو ثالث بنانا مان لیا۔ چناچہ وہ دونوں اپنا قضیہ لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آنحضرت ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ اس کا حق پر ہونا ثابت تھا لیکن منافق نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور کہنے لگا کہ اب ہم عمر کو ثالث بنائیں گے، وہ جو فیصلہ دیں گئے ہم دونوں کے لئے واجب التسلیم ہوگا۔ یہودی نے معاملہ کو نمٹانے کی خاطر منافق کی یہ بات بھی مان لی اور اس ساتھ حضرت عمر کے پاس گیا۔ یہودی نے حضرت عمر بتایا کہ ہم دونوں پہلے محمد ﷺ کو ثالث مان کر ان کے پاس گئے تھے اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا تھا مگر یہ شخص (منافق) محمد ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور اب مجھے تمہارے پاس لے کر آیا ہے۔ حضرت عمر نے منافق سے پوچھا اس (یہودی) نے جو بیان کیا ہے وہ صحیح ہے؟ منافق نے تصدیق کی کہ ہاں اس کا بیان بالکل درست ہے۔ حضرت عمر نے کہا تم دونوں یہیں ٹھہرو، جب تک میں نہ آؤں واپس نہ جانا۔ یہ کہہ کر گھر میں گئے اور تلوار لے کر باہر نکلے اور پھر اس تلوار سے منافق کی گردن اڑا دی اور کہا جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے اس کے حق میں میرا فیصلہ یہی ہوتا ہے اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْ ا اِلَى الطَّاغُوْتِ ) 4۔ النساء 60) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی وہ اپنے مقدمے شیطان کے پاس لے جانا چاہتے ہیں (حالانکہ ان کو یہ حکم ہوا ہے کہ اس کو نہ مانیں )۔ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر کہا عمر، حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں اس دن سے حضرت عمر کا لقب فاروق مشہور ہوگیا۔


















































مناقب عمر ِفاروق رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ

نام ونسب :

 عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔(كتاب المعارف، ابن قتيبةالدِّينَوري،  ص :  179)

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمدﷺ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم ﷺ سے جا ملتا ہے۔ آپ ﷺکی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ ﷺمرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔( الفاروق از شبلی نعمانی) حضرت عمر کاخاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ عدی عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہواکرتے تھے اورقریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے(، الاستيعاب، ج 3، ص 145)

ولادت:

شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں :

ولد عمر فی مكة بعد عام الفيل بثلاثة عشرة سنة

 یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے۔(بحار الأنوار ج31 ، ص:116)

كنيت:  

حضرت عمر کی کنیت أبو حفص اور آپ کے والد کا نام الخطاب بن نُفَيل جوخاندان قریش سے تعلق رکھتے تھے ، (الإصابة، ج 4، ص 484)

والدہ :

والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں  ( الإصابة، ج 4، ص: 484)

حضرت عمر كا قبول اسلام

قریش کے سربرآوردہ اشخاص میں ابو جہل اورعمر اور بہادری میں سب سے مشہور تھے، اس لیےنبی کریم ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لیے اسلام کی دعا فرمائی :

اللَّهمَّ أعزَّ الإسلامَ بأحبِّ هذينِ الرَّجُلَيْنِ إليكَ بأبي جَهْلٍ أو بعُمرَ بنِ الخطَّابِ قالَ: وَكانَ أحبَّهما إليهِ عمرُ

حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی : اے اﷲ! تو ابو جہل یا عمر بن خطاب دونوں میں سے اپنے ایک پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں میں اللہ کو محبوب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔

[مسند أحمد:5696، سنن الترمذي:3681، صحيح ابن حبان:3214، مسند البزار:5862، الشريعة للآجري:1346]

 اس دعائے مستجاب کا اثریہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد عمرکا دامن دولت ایمان سے بھر گیااوراسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا۔

ملا باقرمجلسی نے بھی اپنی کتاب میں محمد باقر سے اس دعا کی روایت نقل کی ہے۔ ’’دیکھئے  ! (بحارالانوار‘‘ ج 4کتاب السماء والعالم)۔

مشہور شیعہ مؤرخ مسعودی لکھتے ہیں :

اعتنق عمر للإسلام بعد إسلام 45 رجلا و11 امرأة، في سنة 6 أو 9 للبعثة النبوية.

یعنی حضرت عمرؓ نے نبوت کے چھٹے یا نویں سال اسلام قبول کیا، آپؓ سے پہلے 45 مرد اور 11 خواتین اسلام قبول کرچکی تھیں۔  ( مروج الذهب، ج 1، ص 299؛ الطبقات لابن سعد ، ج 4، ص 269؛ تاريخ الأمم والملوك،للطبری ج 3، ص: 270)

صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام  لانےکے واقعہ کے بیان میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے یہ الفاظ  موجود ہیں:”حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو ایک ہنگامہ برپاہوگیا، مشرکین بکثرت ان کے مکان پرجمع ہو گئے اورکہنے لگے صبا عمر، عمر بے دین ہو گئے، حضرت عمرؓ خوف زدہ گھر کے اندر تھے اور میں مکان کی چھت پرتھا۔” (صحیح بخاری اسلام عمر ؓ)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ بنے۔ تقریباً  11 سالہ دور حکومت میں حضرت عمر نے اسلامی سلطنت کا دائرہ 22 لاکھ مربع میل تک پھیلادیا۔ آپ کے دور حکومت میں ہی پہلی بار مسلمانوں نے بغیر لڑائی کے یروشلم کو فتح کیا۔( الدولة العربية الإسلامية الأولى،  دكتور عصام شبارو ،ص: 279  )

دین اسلام کا غلبہ اسلام ِ عمر ؓ میں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے اسلام لانے سے دینِ اسلام ایک نیے دور میں داخل ہوا ، اگرچہ حضرت عمرؓ سے قبل عرب کے مشہور بہادر حضرت امیر حمزہ ؓ بھی مسلمان ہوچکے تھے مگر مسلمان اپنے فرائضِ مذہبی اعلانیہ طور پر ادا نہیں کر سکتے تھے ، اسلام ِعمر ؓ کے بعد حالات یکسر بدل گئے اور مسلمانوں نے بیت اللہ میں جاکر نماز ادا کی ۔

چنانچہ شیعہ مجتہد اپنی کتاب ’’غزوات حیدری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ جب دروازہ کھلا تو عمر ؓ بصد عذر خواہی خدمتِ رسالت پناہی میں حاضر ہوا ۔ حضرت نے بعد از تلقینِ مراتب ِاسلام اُس کو مرحباً کہا ، اور باعزاز پاس اپنے بٹھایا ،تب حضرت عمرؓ نے عرض کی ، یا نبی اللہ ! اب ہم کو اجازت دیجئے اور بے تکلف فرمایئے تاکہ حرمِ محترم میں جاکر آشکارا نماز پڑھیں اور اطاعت الہی بجماعت بجا لاویں ۔ ہرگاہ اصحابِ فضیلت انتساب نے جماعت پر اتفاق کیا ۔ محبوب ایزد خلّاق نے بھی شاداں وفرحاں طرف سجدہ گاہ آفاق کے قدم رنجہ فرمایا اور آگے سب کے عمرؓ تیغِ بکمر بجماعت وافر اور پیچھے اصحاب بصد کرّ وفرّ ہنستے اور باتیں کرتے بے خطر داخلِ خانہ وارد ہوئے ۔ یکبار جدارِ حرم نے بصد افتخار سر اپنا بعرش کود گار پہنچایا، کفار نا ہنجار نے جس وقت یہ حال دیکھا اور جاہ وجلال یاورانِ نیک افعال کا اس مرتبہ مشاہدہ کیا اور اس خود سر نے عمرؓ کے آگے کہا کہ ’’ اے عمر ؓ یہ کیا فتنہ دگر ہے اور اس گروہ پُرشکوہ میں کیوں تیغ بکمر ہے ؟ عمر ؓ نے یہ بات سن کر پہلے اپنا اسلام ظاہر کیا اور بصد طیش کہا : ’’ اے نابکار، ہفوت شعار، اگر تم میں سے ایک نے بھی اس وقت اپنی جگہ سے حرکت کی یا کوئی بات بے جا زبان پر آئی ، بخدا لایزال ایک کا سر بھی بدن پر نہ ہوگا ‘‘ پس دلاورانِ دین، اصحاب سید المرسلین مسجد میں آئے اور صف اسلام کو نبیت ِاقتداء جماکر  برابر کھڑے ہوگئے ۔ خطیب مسجد اقصیٰ حبیب ِ کبریاﷺ نے قصدِ امامت کیا اور واسطے نیت ِنماز کے دست تا بگوش پہنچایا ۔

نبی گفت تکبیر چوں در حرم 
 فتادند اصنام بر رُ وئے ہم

اور اہلِ شریر ہر چند دیکھتے تھے لیکن کسی کو مجالِ مقاومت نہ تھی ‘‘ ( غزوات ِ حیدری، ص: 42  وقائع دوم )

مناقب عمر رضی اللہ عنہ از مصادر شیعہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدح

جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں  :

لِلهِ بِلَاد فُلَانٍ ، فَقَدْ قَوَّمَ الْأَوَدَ، وَدَاوَي الْعَمَدَ ، وَأَقَامَ السُّنَّةَ وَخَلَّفَ الْفِتْنَةَ، ذَهَبَ نَقِيَّ الثَّوْبِ ، قَلِيلَ الْعَيْبِ ، أَصَابَ خَيْرَهَا وَسَبَقَ شَرَّهَا ، أَدَّي إِلَي اللهِ طَاعَتَهُ وَاتَّقَاهُ بِحَقِّهِ.

“فلاں آدمی تعریف کے مستحق ہےکہ اس نے ٹیڑے پن کو سیدھاکیا۔مرض کو دور کردیا ، فتنہ کو پیچھے چھوڑ دیا ، سنت کوقائم کیا، بہت کم عیوب والا تھا ، پاک دامن رخصت ہوا ، شر سے اجتناب کیا ، خیر کو پا لیا ، اللہ کی اطاعت کا حق ادا کر دیا ، اس کے حق کو ادا کرنے میں ہمیشہ تقوی سے کام لیا۔ ( نہج البلاغۃ ، تحقیق محمد عبدہ ، ج2   ص: 322  )

نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید کہتے ہیں :

’’وفلان المكنّى عنه ، عمر بن الخطاب، وقد وجدت النسخة التي بخّط الرضي أبي الحسن جامع نهج البلاغة وتحت فلان: عمر، وسألت عنه النقيب أبا جعفر يحيى ابن زيد العلوي، فقال لي: هو عمر، فقلت له : أثنى عليه أمير المؤمنين ؟ فقال: نعم).

یعنی یہاں فلاں آدمی سے مراد عمر بن خطاب ہیں ، مجھے رضی ابو الحسن کے ہاتھوں کا لکھا ہوا نہج البلاغہ کا نسخہ مل گیا ، اس میں فلاں کے تحت عمرؓ  لکھا ہوا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں ابو جعفر یحیٰ بن ابی زید علوی سے پوچھا تو اس نے مجھ سے کہا : فلاں سے مراد عمر ؓ ہیں ، میں نے پوچھا : پھر تو امیر المؤمنین نے عمر کی تعریف کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا:جی ہاں :  امیر المؤمنین نے عمرؓ کی تعریف کی ہے ‘‘ ۔ (شرح نهج البلاغة – ابن أبي الحديد – ج ١٢ ، ص: ٣)

حضرت عمر ؓکو غزوۂ  روم میں شریک نہ ہونے کا مشورہ

حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ حضرت فاروق اعظم ؓ کو اسلام کی قرار گاہ ، مرکز اور مسلمانوں کی جائے پناہ سمجھتے تھے ، چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ غزوہ روم میں جانے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو آپ ؓ نے حضرت عمر ؓ کے اوصاف حمیدہ کا تزکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

إنك متى تسر إلى هذا العدو بنفسك، فتلقهم فتنكب، لا تكن للمسلمين كانفة دون أقصى بلادهم. ليس بعدك مرجع يرجعون إليه، فابعث إليهم رجلاً محرباً، واحفز معه أهل البلاء والنصيحة، فإن أظهر الله فذاك ما تحب، وإن تكن الأخرى، كنت ردأ للناس ومثابة للمسلمين”

اگر آپ بنفس نفیس دشمن كی طرف چلے گئے تو آپ اپنے مركز سے دور ہو جائیں گے ۔ مسلمانوں كے دوسرے شہرون كا محافط ونگہبان كوئی نہیں رہے گا ، آپ كے بعد كوئی نہیں جس كی طرف مسلمان جائیں ، آپ دشمن كی طرف كسی اور جنگجو كو قائد بناكر بهیج دیجیئے ۔ ان كے ساتھ شجاع اور نصیحت قبول كرنے والواں كو روانہ كر دیجئے ، اگر الله نے انہیں  غلبہ دیا تو یهی آپ كی منشا ہے ، بصورت، دیگر آپ لوگوں كو سہارا دینے والے اور مسلمانوں كی جائے پناه ہوں گے ۔ (نهج البلاغة،تحقيق صبحي صالح، ص:193).

حضرت عمر ؓکوجنگ فارس میں نہ جانے کا مشورہ

جنگ فارس میں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود لڑائی میں جانے کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرماتے ہوئے روک دیا :

وعندما استشاره عمر بن الخطاب رضي الله عنه في الشخوص لقتال الفرس بنفسه، قال الإمام علي عليه السلام: «إن هذا الأمر لم يكن نصره ولا خذلانه بكثرة ولا قلة، وهو دين الله الذي أظهره، وجنده الذي أعده وأمده، حتى بلغ ما بلغ، وطلع حيث طلع، ونحن على موعود من الله، والله منجز وعده وناصر جنده، والعرب اليوم -وإن كانوا قليلاً، فهم- كثيرون بالإسلام، وعزيزون بالاجتماع، فكن قطباً، واستدر الرّحى بالعرب، وأصلهم دونك نار الحرب، فإنك إن شخصت – أي خرجت – من هذه الأرض انتقضت عليك العرب من أطرافها وأقطارها، حتى يكون ما تدع وراءك من العورات أهمّ إليك مما بين يديك. إن الأعاجم إن ينظروا إليك غداً يقولوا: هذا أصل العرب فإذا قطعتموه استرحتم، فيكون ذلك أشد لكَلَبِهم عليك، وطمعهم فيك»

ایسے امور میں فتح وشکست کا دار ومدار قلت وکثرت پر نہیں ہوتا ۔ یہ اللہ کا دین ہے ، اسی نے اسے غالب کیا ہے ، یہ اللہ کا لشکر ہے ، اسی نے اسے آمادہ وتیار کر لیا ہے ، جو پہنچ چکا سو پہنچ چکا ، جو ظاہر ہوچکا سو ظاہر ہوچکا ، ہمارے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ تعالٰ اپنا وعدہ پورا کرنے والا ہے ، وہی اپنے لشکر کو کامرانی بخشنے والا ہے ، نگران کا کام موتیوں کی لڑی جیسا ہے جو سب موتیوں کو پرو لیتی اور جمع رکھتی ہے ۔ اگر لڑی ٹوٹ جائے تو موتی بکھر جاتے ہیں ( یعنی قوموں کا نظم وضبط تباہ ہوجاتا ہے ) پھر ان سب کبھی ایک رُخ پر جمع نہیں کیا جاسکتا ، آج عرب اگرچہ تھوڑے ہیں لیکن اسلام کی برکت سے بہت ہیں ، آج سب عرب اجتماع چاہتے ہیں ،آپ قائد بنیں ، عرب کو اپنے گرد جمع کر لیں ، جنگ کی آگ میں دوسروں کو جانے دیں ، اگر آپ نے یہ جگہ چھوڑ دی تو عرب کے اطراف واکناف میں بغاوتیں اٹھ کھڑی ہوں گی ۔ آپ اپنے پیچھے جن خطرات کو چھوڑ کر جائیں گے وہ پیش آمدہ خطرہ سے زیادہ زیادہ اہم اور توجہ کے قابل ہیں ۔ کل جب عجمی آپ کو دیکھیں گے تو کہیں گے : یہی عرب کی بنیاد اور جڑ ہے ۔ اگر تم اسے کاٹ ڈالو تو آرام پا جاؤگے ، وہ سب جمع ہوکر آپ پر ٹوٹ پڑیں گے ،آپ کے درپے ہو جائیں گے ، باقی آپ نے جو ذکر کیا ہے کہ دشمن مسلمانوں سے جنگ وقتال کے لیے نکل پڑا ہے ۔(نهج البلاغةج2 ، ص:320- 321).

خلاصہ

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کو حضرت عمر ؓکی زندگی نہایت عزیز تھی ، اس لیے ایسے نازک موقع پر آپ ؓ نے صائب مشورہ دیا ، کیونکہ کوئی بھی نا مناسب مشورہ مسلمانوں کے لیے بڑی مصیبت کا باعث ہو سکتا تھا ، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امانت سمجھ کر دیانت داری کے ساتھ مسلمانوں کے مفاد عامہ کے مطابق مشورہ دیا ۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا حضرت عمرؓ کی مدح

اہلِ بیت کے مشہور ترین اور ممتاز فرد، نبی علیہ السلام کے چچا زاد بھائی، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما آپ رضی اللہ عنہ کی مدح و ثنا کرتے ہوئے کہتے ہیں:

رحم الله أبا حفص كان والله حليف الإسلام، ومأوى الأيتام، ومنتهى الإحسان، ومحل الإيمان، وكهف الضعفاء، ومعقل الحنفاء، وقام بحق الله صابراً محتسباً حتى أوضح الدين، وفتح البلاد، وآمن العباد”

’’اللہ ابو حفص (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد، عمررضی اللہ عنہ) پر رحم کرے، اللہ کی قسم وہ اسلام کے حلیف تھے، یتیموں کی جائے قرار تھے، احسان کرنا آپ پر ختم تھا، صاحب ایمان تھے، کمزوروں کی جائے پناہ اور موحدین کا سہارا تھے، آپ نے اللہ کے حق کو صبر اور ذمہ داری سے پورا کیا ، حتی کہ دین نکھر گیا، ممالک فتح کرلیے گئے اور بندوں کو امن نصیب ہوا۔‘‘  (مروج الذهب،ج3 ، ص: 51، وناسخ التواريخ، ج 2 ص:144، ط إيران).

امت کے افضل ترین لوگ

شیعہ کی ایک مشہور کتاب میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان منقول ہے:

إن خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر

کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد بہترین لوگ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔(كتاب الشافي، ج2 ص: 428).

کوڑوں کی سزا

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

لو أوتي برجل يفضلني على أبي بكر وعمر إلا جلدته حد المفتري

اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس پر حد قذف لاگو کروں گا۔(بحار الأنوار  10/344 ، رجال الكشي:393 ، عيون أخبار الرضا، 2/187 )

ابوبکرؓ  میری سماعت اور عمرؓ  میری بصارت

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

إن أبا بكر مني بمنزلة السمع، وإن عمر مني بمنزلة البصر

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابو بکررضی اللہ عنہ کا درجہ میرے نزدیک ایسا ہے کہ گویا یہ میری سماعت ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ میرے ہاں ایسا ہے کہ گویا میری بصارت ہیں۔(عيون أخبار الرضا، لابن بابويه القمي، ج1 ص:313 ، ومعاني الأخبار، للقمي ص:110 )

ابوبکر ؓ وعمر سے بغض رکھنا کفر ہے

مشہور شیعہ محقق وعالم ابو عمرو محمد بن عبد العزیز الکشی بیان کرتے ہیں :

’’ ابو عبد اللہ علیہ السلام نے کہا : مجھے سفیان ثوری محمد بن المنکدر کے حوالے سے یہ روایت بیان کی کہ حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ میں منبر پر کھڑے ہوکرفرمایا: اگر میرے پاس ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکر ؓ اور عمرؓ پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور سزا دوں گا جو بہتان لگانے والے کو دی جاتی ہے ، ابو عبد اللہ نے کہا : ہمیں مزید حدیث بیان کریں ، تو سفیان نے جعفر کے حوالے سے بیان کیا : ابوبکر ؓاور عمر ؓسے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔( رجال الکشی ، ص:  338  طبع مؤسسة الأعلمی ، کربلا )۔

حضرت عمر رضی الله عنہ كو كن وجوہات كی بنا پر فضیلت ہے

ساتویں ہجری کے معروف بزرگ شیخ ابن أبی الحدید لکھتے ہیں :

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :  حضرت عمر ؓکو جن وجوہات کی بنا پر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ، ان میں سےایک سبب یہ ہے کہ قرآن کریم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر ؓکی رائے کی توثیق ان کلمات میں فرمائی :

 مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ

سورۃ الانفال – 67

کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ اس کے قبضہ میں قیدی ہوں حتی کہ وہ زمین میں ( کافروں کا ) اچھی طرح خون بہا دے ‘‘ ۔

ان کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج کے حجاب کے متعلق ان کی رائے کے موافق یہ آیت نازل ہوئی :

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ

الاحزاب – 53

اور جب تم نبی ﷺ کی ازواج سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھےسے مانگو، ایسا کرنے سے تمہارے اور ان کے دل زیادہ پاکیزہ رہیں گے۔

ان کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے اسلام لانے کی دعا کی : اے اللہ !  ابن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو غلبہ عطا فرما ‘‘  ( شرح نہج البلاغة ، ج 12  ، ص: 57، 58)

چنانچہ رسول اللہ ﷺکی اسی دعا ئے مستجاب کی برکت سے حضرت عمر ؓ ایمان لائے ، اسی لیے آپ ؓ کو مراد ِ رسول ﷺ کہا جاتاہے ۔

شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ : فلاں شخص سے حضرت عمر ؓکی ذات مرادہے( شرح نہج البلاغة، ج 12 ، ص: 3 )

نہج البلاغہ کے اردو مترجم رئیس احمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ خطبہ حضرت عمر کے متعلق ہے ( نہج البلاغہ مترجم اردو ، ص:  541  )

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گواہی

مِسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تو وہ بہت بے قرار تھے ،حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا : امیر المؤمنین پریشانی والی کوئی بات نہیں ، آپؓ  رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے ، آپؓ نے نبی ﷺ کی صحبت اچھی طرح نبھائی ، پھر رسول اللہ ﷺ رضاندی کی حالت میں آپؓ سے رخصت ہوئے ، پھر آپ حضرت ابوبکر ؓکی صحبت میں رہے اور آپؓ نے ان کی صحبت اچھی طرح نبھائی ، وہ بھی آپؓ سے راضی ہوکر رخصت ہوئے ، پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ، آپ نے ان کا  اچھا ساتھ نبھایااور اب آپ ان سے اس حال میں رخصت ہو رہے ہیں کہ وہ آپ سے راضی ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آپ نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کی صحبت کا ذکر کیا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ ، جو آپ میری بے قراری دیکھ رہے ہیں تو بخدا اگر میرے پاس تمام روئے زمین کے برابر سونا  ہوتاتو میں اس کو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے دے دیتا ‘‘  ایک روایت میں ہے : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: امیر المؤمنین آپ کیوں گھبراتے ہیں ، بخدا آپ کا اسلام لانا مسلمانوں کا غلبہ تھا ، آپ کی حکمت مسلمانوں کی فتح تھی ، آپ نے روئے زمین کو عدل سے بھر دیا ۔ حضرت عمرؓ نے کہا : ابن عباس ! کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو ؟ حضرت ابن عباس نے توقف کیا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا: کہو ہاں ! میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں ، پھر انہوں نے فرمایا:  ہاں!  میں گواہی دیتا ہوں ۔ (شرح نہج البلاغہ ، لابن أبی الحدید ، ج12  ، ص:  191 ، 192   )

عمر رضی اللہ عنہ محبوب شخصیت

شیعہ حضرات  کےامام محمد بن باقر بیان كرتے ہیں كہ حضرت جابر بن عبد الله ؓنے بیان كیا ؛

لما غسل عمر وكفن دخل علي عليه السلام فقال: ما على الأرض أحد أحب إلي أن ألقى الله بصحيفته من هذا المسجى(أي المكفون) بين أظهركم

جب شہادت كے بعد حضرت عمر ؓ كو غسل دے كر كفن پہنایا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے : ان پر الله تعالیٰ كی رحمت ہو ، میرے نزدیك تم میں سے كوئی شخص ان سے زیاده محبوب نہیں كہ میں ان جیسا نامہ اعمال لے كر بارگاه الہی میں حاضر ہوں۔ (کتاب الشافي، لعلم الهدى ص:171، وتلخيص الشافي للطوسي ج2 ص428 ط إيران، ومعاني الأخبار للصدوق، ص: 117 ط إيران)

الہامی اور پاکیزہ نفس والے شخص

علامہ باقر مجلسی نے اپنی کتاب میں حضرت ابوبکر و عمر کی تعریف میں امیر المومنین علیہ السلام کے ارشادات کی چند مثالیں نقل کی ہیں ، لکھتے ہیں :

 «فاستخلف‌ الناس‌ أبابكر ثم استخلف أبوبكر عمر، فأحسنا السيرة و عدلا في الأمة … »

یعنی  لوگوں نے ابوبکرؓ کو جانشین مقرر کیا، پھر ابوبکرؓ نے عمرؓ کو جانشین بنایا، چنانچہ ان دونوں نے امت کے اندر عمدہ اخلاق کا نمونہ پش کیا اور عدل وانصاف قائم کیا۔ (بحار الأنوار، ج32، ص456)

و قال أیضا: «فتولی ابوبکر تلک الأمور ، و سدّد و یسّر ، و قارب و اقتصد … و تولی عمر الأمر فکان مرضی السیرة میمون النقیبة».

امیر المؤمنین نے یہ بھی فرمایا کہ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام امور اپنی نگرانی میں لے لیے اور سب امور آسانی، درستگی، میانہ روی اور عمدہ طریقے پر سرانجام دینے لگے،  پھر عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ، آپ پسندیدہ سیرت اور پاکیزہ نفس والے شخص تھے۔) بحار الانوار، ج32، ج33، ص:568-569(

ابوبکرؓ وعمرؓ سے محبت کا حکم

شیعہ حضرات کے چھٹے امامِ معصوم جعفر بن محمد نہ صرف شیخین یعنی وبوبکر وعمر سے محبت رکھتے تھے، بلکہ محبت کی وجہ سے آپ دونوں کے احکامات کی تعمیل بھی کیا کرتے تھے۔چنانچہ ابوبصیر بیان کرتا ہے کہ:

كنت جالساً عند أبي عبد الله عليه السلام إذ دخلت علينا أم خالد التي كان قطعها يوسف بن عمر تستأذن عليه. فقال أبو عبد الله عليه السلام: أيسرّك أن تسمع كلامها؟ قال: فقلت: نعم، قال: فأذن لها. قال: وأجلسني على الطنفسة، قال: ثم دخلت فتكلمت فإذا امرأة بليغة، فسألته عنهما (أي أبي بكر وعمر) فقال لها: توليهما، قالت: فأقول لربي إذا لقيته: إنك أمرتني بولايتهما؟ قال: نعم”

’’میں ابوعبداللہ علیہ السلام کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت ام خالد، جسے یوسف بن عمر نے علیحدہ کردیا تھا، آئی اور آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگنے لگی، ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہا: اس کی باتیں سننا چاہتے ہو؟ میں نے کہا ہاں! کہنے لگے کہ پھر اسے اجازت دے دو۔ اور مجھے آپ نے چٹائی پر بٹھالیا، پھر وہ آئی اور گفتگو شروع کی، وہ نہایت فصیح و بلیغ انداز میں گفتگو کر رہی تھی، میں نے ابوعبداللہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا، آپ نے اس عورت سے کہا: ان دونوں سے محبت رکھو، کہنے لگی: میں جب اپنے رب سے ملوں گی تو کہوں گی، تونے مجھے ان دونوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے؟ ابوعبداللہ نے کہا:  ہاں۔‘‘(الروضة من الكافي ، ج8 ، ص:101 ط إيران )

آپ رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺکی روایات کے بہت بڑے محدث ہیں، اس لیے آپ چھوٹے چھوٹے اور معمولی و غیر اہم کاموں میں بھی آپ کی سیرت و عمل کی مخالفت نہیں کیا کرتے تھے، شیعہ مصنف دینوری بیان کرتا ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ’’آپ سے پوچھا گیا، یا امیر المومنین! کیا آپ محل میں ٹھہریں گے؟ آپ نے کہا: مجھے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں جسے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے، میں کھلے میدان میں ٹھہروں گا، پھر آپ سب سے بڑی مسجد میں گئے، دو رکعت نماز ادا کی اور اس کے بعد کھلے میدان میں ٹھہرے۔

(الاخبار الطوال‘‘ لاحمد بن داؤد دینوری ص 152)۔


عمر رضی اللہ عنہ کی تابعداری

حضرت علی رضی اللہ عنہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہﷺکی روایات کے بہت بڑے محدث ہیں، اس لیے آپ چھوٹے چھوٹے اور معمولی و غیر اہم کاموں میں بھی آپ کی سیرت و عمل کی مخالفت نہیں کیا کرتے تھے، شیعہ مصنف دینوری بیان کرتا ہے کہ :

وعندما نزل الإمام علي عليه السلام الكوفة، فقيل له: يا أمير المؤمنين، أتنزلُ القصر؟، قال: “لا حاجة لي في نزوله، لأنَّ عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يبغضُه، ولكنِّي نازل الرحبة”، ثم أقبل حتى دخل المسجد الأعظم، فصلَّى ركعتين، ثم نزل الرحبة

جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ’’آپ سے پوچھا گیا، یا امیر المومنین! کیا آپ محل میں ٹھہریں گے؟ آپ نے کہا: مجھے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں جسے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے، میں کھلے میدان میں ٹھہروں گا، پھر آپ سب سے بڑی مسجد میں گئے، دو رکعت نماز ادا کی اور اس کے بعد کھلے میدان میں ٹھہرے۔ (الأخبار الطوال -ابنُ قتيبة الدينوري، ص: 152).

خلافت عمر  رضی اللہ عنہ کی پیشن گوئی

خود نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے خوشخبری سنا دی تھی جو شیعہ کی مختلف کتابوں سے ثابت ہے۔ چنانچہ شیعہ تفسیر قمی ، مجمع البیان اور تفسیر صافی میں موجود ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ایک دفعہ پریشان تھیں، ان کو خوش کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے  یہ خوش خبری سنائی :

إن أبا بکر یلي الخلافة بعدي ثم بعده أبوك، فقالت من أنباك هذا ؟ قال نبأني العلیم الخبیر

ضرور بضرور میرے بعد خلافت کا والی ابو بکر ہوگا اور ابو بکر کے بعد تیرا باپ ( حضرت عمر) خلیفہ ہوگا، تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دی ہے جو بہت جاننے اور باخبر ذات ہے ۔( تفسیر قمی ، ص: 354  ، تفسیر مجمع البیان ، ج 5 ، ص: 314 ، اور تفسیر صافی ، ص:  522 )

عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے ایک خط میں، جو آپ نے مصر کے دوستوں کی طرف اپنے عامل مصر محمد بن ابی بکر کے قتل کے بعد لکھا، اس بات کا اقرار کر رہے ہیں۔ آپ رسول اللہ ﷺکی وفات کے بعد کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امورِ (سلطنت) سنبھال لیے … جب آپ اس دنیا سے چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی ذمہ داری میں لے لیا، ہم نے آپ کی بات سنی، اطاعت کی اور خیر خواہ رہے۔‘‘ اس کے بعد حسبِ عادت آپ رضی اللہ عنہ کی بے حد تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں… ’’اور عمر رضی اللہ عنہ نے اقتدار سنبھال لیا، آپ پسندیدہ سیرت اور بابرکت شخصیت کےمالک تھے۔ یعنی ہم نے آپ کی بیعت کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ کیونکہ آپ کی سیرت بہت پاکیزہ اور اعلیٰ تھی، آپ کی ذات بابرکت و متبرک تھی، آپ اپنے امور میں کامیاب رہے، اپنے مقاصد میں کامرانی حاصل کی۔ ہم نے آپ کی بیعت اسی طرح کی جیسے تم نے عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، پھر میں نے اس بیعت کو پورا کیا اور نبھایا، پھر جب آپ رضی اللہ عنہ شہید کردیے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ کی نامزد کردہ چھ افراد کی کمیٹی میں چھٹا نام میرا تھا۔

شیعہ کے شیخ طوسی نے بھی اپنی کتاب ’’الآمالی‘‘ میں یہی بات علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

فبايعت أبا بكر كما بايعتموه ، وكرهت أن أشق عصا المسلمين ، وأن أفرق بين جماعتهم ، ثم أن أبا بكر جعلها لعمر من بعده فبايعت عمر كما بايعتموه ، فوفيت له ببيعته حتى لما قتل جعلني سادس ستة ، فدخلت حيث أدخلني

چنانچہ میں نے ابوبکر کی اسی طرح بیعت کی جس طرح تم نے بیعت کی تھی اور مجھے مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کی لاٹھی کو توڑنا گوارا نہیں تھا ۔پھرمیں نےعمرؓ کی اسی طرح بیعت کی جس طرح تم نے بیعت کی ،پھر میں نے اس بیعت کو پورا کیا اور نبھایا، پھر جب آپ ؓ قتل کر دئے گئے تو مجھے چھ میں سے چھٹا فرد بنایا گیا ۔ میں اسی طرح شامل ہوگیا ، جیسے مجھے شامل کیا گیا تھا ۔(الأمالي- الشيخ الطوسي، ص: 507)

شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ کی خلافت چھین لی تھی ،کیا یہ ممکن ہے کہ جس نے خلافت چھینی ہو ، ظلم کیا ہو  ،امیر المؤمنین اس شخص کی تعریف کرے؟

اہل تشیع سے ایک سوال ہے؟

اگر اصحاب ثلاثہ مومن اور خلفائے برحق نہیں تھے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے جو شیر خدا ہیں ان کی بیعت کیوں کی؟

اگر کوئی شیعہ کہے کہ انہوں نے ’’تقیّہ ‘‘کیا یعنی خوف کے باعث بہ امر مجبوری تو اوّل تو یہ حضرت علی جیسے’’اَشْجَعُ النَّاسِ‘‘ ’’فاتح خیبر‘‘ اور ’’شیر خدا‘‘کی شان کے خلاف ہے۔

دوسرے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نعوذباللہ اگر ایک ’’فاسق، غاصب اور خائن‘‘کی مجبوراً بیعت کرلینا ایک مستحسن فعل تھا تو پھر حضرت امام حسین ؓنے اپنے جلیل القدر والد کی اس اچھی سنت پر عمل کرکے کیوں یزید کی بیعت نہ کی؟ اپنی اور خاندان نبوت کے بیسیوں معصوموں کی جانیں کیوں قربان کروا  ڈالیں؟

حالانکہ جہاں تک شجاعت اورمردانگی کا سوال ہے اس کے لحاظ سے حضرت حسین ؓ حضرت علی سے بڑھ کر نہ تھے۔ پس ثابت ہے کہ چونکہ حضرت امام حسینؓ کے نزدیک یزید خلیفہ برحق نہ تھا اس لئے انہوں نے جان دے دی لیکن ایسے شخص کی بیعت نہ کی لیکن چونکہ حضرت علیؓ کے نزدیک حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ خلفائے برحق تھے اس لئے انہوں نے ان کی بیعت کرلی۔

اصحاب ِرسول ﷺ کو گالی نہ دو

ملا باقر مجلسی نے طوسی کی سند سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ایک معتبر روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اپنے اصحاب سے فرمایا:  

أوصيكم في أصحاب رسول الله ، لا تسبوهم، فإنهم أصحاب نبيكم، وهم أصحابه الذين لم يبتدعوا في الدين شيئاً، ولم يوقروا صاحب بدعة، نعم! أوصاني رسول الله في هؤلاء

میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، ان کو گالی نہ دو، کیونکہ وہ تمہارے نبی کے اصحاب ہیں اورنبی کے وہ اصحاب ہیں جنہوں نے دین میں کوئی بدعت ایجاد نہیں کی، اور کسی بدعتی شخص کی تعظیم نہیں کی، ہاں! رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں مجھے وصیت کی۔(حياة القلوب للمجلسي” ج2 ص621).

شہادت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ 26 ذوالحجہ کو معمول کے مطابق نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی میں تشریف لائے جہاں نماز فجر میں مسجد کی حالت میں ابو لولو نامی مجوسی غلام نے جو قتل کے ارادے سے محراب میں چھپا ہوا تھا۔ تین بے دردی سے وار کیے پہلا ہی وار بہت گہرا تھا جس سے آپ کا خون اتنا بہہ گیا کہ مسجد نبوی کے منبر و محراب خون فاروقی سے سرخ ہوگیا۔ تین روز یہی کیفیت رہی جو دوا دی جاتی وہ کٹی ہوئی آنتوں سے باہر آجاتی تھی۔ یکم محرم سنہ 24 ہجری کو آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارک میں دفن کیا گیا۔

تاریخ وفات

حضرت عمر فاروق رضي الله عنہ کی وفات محرم کی پہلی تاریخ کو ہوئی تھی … اور یہی بات مشہور ہے …

ابن اثير جزرى اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ “حضرت عمر رضي الله عنہ کو جب زخمی کیا گیا تو وہ دن بدھ کا دن تھا، اور ماه ذو الحج ختم ہونے میں تین دن باقی تھے ، اور آپ کی تدفین اتوار کی صبح ہوئی اور اس دن محرم کا پہلا دن تھا ” ۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة ، ج 4 ص 166) نوٹ: ابن اثیر نے آگے ایک اور روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ “والاول اصح ما قيل في عمر” کہ پہلی بات جو حضرت عمر رض کے بارے میں کہی گئی ہے وہ زیاہ صحیح ہے (یعنی آپ کی تدفین یکم محرم کو ہوئی تھی)۔

ابو حفص الفلاس کی روایت ہے کہ “ذو الحجة کی چند راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر رضي الله عنہ حملے میں زخمی کیے گئے ، اس کے بعد آپ تین راتیں زندہ رہے اور سنہ 24 ہجری کے محرم کی پہلی تاریخ کو آپ کی وفات ہوئی” (تاريخ مدينة دمشق يعني تاريخ ابن عساكر ،ج 44 ص 478)

“حضرت عبدالله بن زبير رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت عمر رضي الله عنه کو بروز بدھ جب ذو الحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا پھر آپ تین دن تک زندہ رہے پھر اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی” (كتاب المحن ، صفحه 66)

اور امام ابن الجوزیؒ نے “مناقب عمر رضی اللہ عنہ “میں لکھا ہے کہ:

طعن عمر رضي الله عنه يوم الأربعاء لأربع ليالٍ بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين، فكانت ولايته عشر سنين وخمسة أشهر وإحدى وعشرين ليلة

یعنی 23 ہجری کے ذوالحجہ چھبیس تاریخ بدھ کے روزحضرت عمر ؓپر قاتلانہ حملہ ہوا، اور اتوار کے دن یکم محرم چوبیس ہجری کو دفن کئے گئے۔ آپ کی مدت خلافت دس برس ،پانچ ماہ اور اکیس دن تھی ۔

ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما پر سلام

سید مرتضی اپنی کتاب ’’ الشافی‘‘  میں شیعہ اثنا عشری کے چھٹے امام جعفر بن محمد یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام کا عمل نقل کرتے ہیں :

ويروي السيد المرتضى عن جعفر بن محمد عليه السلام أنه «كان يتولاهما – أي أبا بكر وعمر رضي الله عنهما – ويأتي القبر فيسلم عليهما مع تسليمه على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم»

 یعنی سید مرتضی اپنی کتاب ’’ الشافی‘‘  میں جعفر بن محمد کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ وہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سے بڑی محبت کرتے تھے ، چنانچہ جب نبی کریم کی قبر مبارک پر آتے تو رسول اللہ ﷺ پر سلام پڑھنے کے ساتھ ابوبکر وعمر ؓ پر بھی سلام پڑھتے تھے۔  (كتاب الشافي، ص:238).

دعا ہے کہ جس طرح اہل بیتِ نبوت اور ائمہ کرام خلفاء ثلاثہ اور دیگر صحابہ کرام سے پیار ومحبت کرتے تھے ، عزت واحترام کرتے تھے، اللہ پاک  اسی طرح تمام مسلمانوں کو بھی محبت اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔











No comments:

Post a Comment