Tuesday, 23 September 2025

الحاسب:حساب لینے والا، الحسیب:سب کیلئے کافی ہوجانے والا

حساب کے معنیٰ گننے اور شمار کرنے کے ہیں۔ قرآن میں ہے:

لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ

[يونس:5]

تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لو۔

[المفردات فی غریب القرآن-امام راغب اصفھانی: ج1 ص232]


اللہ کیسا حاسب (حساب لینے والا) ہے؟

القرآن:

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب الله ہی کا ہے، اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں، خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، الله تم سے ان کا حساب لے گا (188) پھر جس کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا (اور الله ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 284]

تفسیر:

(188) آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کردیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں "آجاتے" ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے(لیکن ناجائز خیالات "لانے" مثلاً: چالبازی،دکھلاوے وغیرہ پر پکڑ ہے)۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدے دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کرلے تو اس کا حساب ہوگا۔


اللہ کے ننانوے خوبصورت ناموں میں سے ایک نام ﴿الحسیب یعنی سب کیلئے کافی ہوجانے والا﴾ بھی ہے۔



حساب کی دو اقسام:

(1)آسان حساب (2)سخت حساب

القرآن:

پھر جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔

[سورۃ الإنشقاق، آیت نمبر 7-8]


القرآن:

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا، اور انہیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

[سورۃ نمبر 65 الطلاق، آیت نمبر 8]



Tuesday, 9 September 2025

بارش»دلیلِ وجود اور قدرتِ الٰہی

بارش» اللہ(کے وجود)کی نشانی اور قدرت کا شاہکار۔

القرآن:

اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔

[سورۃ الشورى،آیت نمبر 28]


بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) الله کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (نہیں ! بلکہ) الله اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔

[سورۃ نمبر 27 النمل،آیت نمبر 63]




القرآن:

اور وہ ہوائیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، ہم نے بھیجی ہیں، پھر آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے، پھر اس سے تمہیں سیراب ہم نے کیا ہے، اور تمہارے بس میں یہ نہیں ہے کہ تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھ سکو۔

[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 22]





Saturday, 6 September 2025

محمد رسول اللہ ﷺ کی مصیبت (رحلت-وصال) کو یاد کرنا




حضرت سابطؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت (صدمہ) پہنچے (یعنی کوئی قریبی عزیز فوت ہوجائے) تو میرے دکھ (وفات) کو یاد کرلے، بےشک (میری رحلت) اس کیلئے سب سے بڑا غم ودکھ ہے۔

حوالہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُصِيبَ أَحَدُكُمْ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي، فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ عِنْدَهُ»


القرآن:
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:156]






امام ابن الحاج(م737ھ) تشریح فرماتے ہیں:
وَهَذَا أَمْرٌ مِنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِأُمَّتِهِ وَتَسْلِيَةٌ لَهُمْ، أَمَّا الْأَمْرُ فَقَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي، وَأَمَّا التَّسْلِيَةُ فَقَوْلُهُ: - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ، فَإِذَا تَذَكَّرَ الْمُؤْمِنُ مَا أُصِيبَ بِهِ مِنْ فَقْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَانَتْ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْمَصَائِبِ وَاضْمَحَلَّتْ، وَلَمْ يَبْقَ لَهَا خَطَرٌ وَلَا بَالٌ.
ترجمہ:
اور یہ (بات) آپ ﷺ کی اپنی امت کے لیے ایک حکم اور ان کے لیے تسلی ہے۔ رہا حکم تو وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: "اسے چاہیے کہ وہ میری مصیبت (یعنی میرے وصال کے غم) کو یاد کرے۔" اور رہی تسلی تو وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: "بے شک وہ (یعنی میری جدائی) سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے۔" پس جب ایک مومن یہ یاد کرے کہ اسے نبی ﷺ کے فراق میں کیا مصیبت پہنچی ہے تو اس پر دیگر تمام مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں، اور ان (دیگر مصیبتوں) کا کوئی وزن اور غم نہیں رہتی۔



📜 شرح المناوي:

جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ میری (نبی کی) مصیبت کو یاد کرے یعنی میری وفات کو یاد کرے، جو اس امت کے درمیان سے میرا اٹھ جانا، وحی کا منقطع ہو جانا اور آسمانی امداد کا ختم ہو جانا ہے، کیونکہ یہ مصیبت سب سے بڑی (اور دوسری روایت میں: سب سے شدید) مصیبت ہے – بلکہ یہ سب مصیبتوں سے بڑی ہے، جیسا کہ ابن ماجہ کی اس حدیث سے ثابت ہے: "میری امت میں سے کوئی شخص میرے بعد کسی ایسی مصیبت میں مبتلا نہیں ہوگا جو اس پر میری مصیبت سے زیادہ سخت ہو۔"

(یہ کہنا کہ یہ "سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے" اس بات کے منافی نہیں کہ یہ "بلا مقابلہ سب سے بڑی مصیبت ہے"، کیونکہ "سب سے بڑی میں سے ایک" کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے کوئی بڑی بھی ہو سکتی ہے، بلکہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہم جنسوں میں سب سے بڑی ہے۔ کیا تم نے انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نہیں سنا: "نبی کریم ﷺ سب لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے" – حالانکہ آپ سب کے سب سے اچھے اخلاق والے تھے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ (یہ نکتہ ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا جنہوں نے "مِن" کے جزوی معنی پر زور دیا)۔

اور نبی ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت اس لیے ہے کہ اس کے ساتھ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، شر کا ظہور ہوا (عربوں کے ارتداد اور منافقوں کی سازشوں کی صورت میں)، اور آپ کی وفات خیر کے زوال کا آغاز تھی۔
انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم نے آپ کو دفن کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑی بھی نہ تھی کہ ہمارے دلوں کو (ایسی گھبراہٹ) نے آ لیا جو ہم نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔"

اور کسی نے اپنے بھائی کو اس کے بیٹے کی وفات پر تعزیت اور تسلی دیتے ہوئے بہت عمدہ شعر کہے ہیں:

"ہر مصیبت پر صبر کرو اور مضبوط رہو،
اور جان لو کہ انسان ہمیشہ رہنے والا نہیں۔
اور جب تم محمد ﷺ اور ان کی مصیبت کو یاد کرو،
تو اپنی مصیبت کو نبی محمد ﷺ کی مصیبت کے ساتھ یاد کرو (تاکہ یہ ہلکی ہو جائے)۔"

اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مصیبت زدہ شخص نبی کریم ﷺ کی وفات (جو سب سے بڑی عمومی مصیبت ہے) کو یاد کرے، تاکہ اس کی اپنی مصیبت اس پر ہلکی ہو جائے اور اسے تسلی حاصل ہو۔
اور یہ اس (پچھلی) حدیث کے منافی نہیں کہ "اللہ جب کسی امت پر رحمت کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا نبی اس سے پہلے وفات پا جاتا ہے" – کیونکہ دونوں کا اعتبار اور زاویۂ نظر مختلف ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: 452]

---

💡 اس حدیث سے اہم نکات

1. نبی ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت ہے
   · وحی کا خاتمہ، آسمانی امداد کا رک جانا، اور خیر کا زوال۔
2. مصیبت کو ہلکا کرنے کا طریقہ
   · جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت آئے تو نبی ﷺ کی وفات کو یاد کرو، کیونکہ اس کے مقابلے میں آپ کی مصیبت بہت معمولی ہے۔
3. امت کے لیے نبی ﷺ کی عظمت
   · آپ ﷺ کی ذات اور آپ کا جانا امت کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے۔
4. صحابہ کا حال
   · انس رضی اللہ عنہ کا قول: "ہم نے مٹی جھاڑی بھی نہ تھی کہ ہمارے دلوں کو گھبراہٹ نے آ لیا" – یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کو نبی ﷺ کی وفات کا کتنا گہرا صدمہ تھا۔
5. تعزیت کا بہترین طریقہ
   · مصیبت زدہ کو نبی ﷺ کی مصیبت کی یاد دلا کر تسلی دینا، جیسا کہ شعر میں ہے۔

---

💎 خلاصہ

· یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت کے وقت نبی کریم ﷺ کی وفات کو یاد کیا جائے، کیونکہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔
· اس سے انسان کی اپنی مصیبت ہلکی ہو جاتی ہے اور اسے تسلی ملتی ہے۔
· اگرچہ اس حدیث کی سند میں کچھ ضعف ہے، لیکن اس کے دوسرے شواہد (متعدد طرق) اسے قابلِ قبول بناتے ہیں۔
· یہ حدیث ایمان، محبت اور تسلی کا ایک بہترین سبق دیتی ہے۔


1. کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں۔

القرآن:

وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ

ترجمہ:
اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ (18) چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟
[سورۃ الأنبياء:34]
تفسیر:
(18)سورة طور:30 میں مذکور ہے کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے انتقال کے موقع پر وہ خوشی منائیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اول تو موت ہر شخص کو آنی ہے، اور کیا خود یہ خوشی منانے والے موت سے بچ جائیں گے۔



وفات یا شہادت کی صورت میں استقامت

القرآن:

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ

ترجمہ:

اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ الله کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں الله ان کو ثواب دے گا۔

[سورۃ آل عمران، آیت 144]

تفسیر:

یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی، جب ایک افواہ پھیلی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور کچھ مسلمان حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس آیت نے واضح کیا کہ آپ ﷺ بھی ایک بشر اور رسول ہیں، جن سے پہلے دوسرے رسول بھی گزر چکے ہیں۔ آپ کی وفات یا شہادت دین کے خاتمے کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس آیت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی وفات کے موقع پر پڑھ کر ان لوگوں کو تسلی دی جو اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔


وفات کی حتمی خبر

القرآن:

إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ

ترجمہ:

بے شک تم (بھی) مرنے والے ہو اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔

[سورۃ الزمر (۳۹:۳۰)]

تفسیر:

یہ آیت نبی ﷺ کو مخاطب کرکے بتاتی ہے کہ آپ کو بھی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے، جیسے آپ کے مخالفین اور تمام انسانوں کو جانا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کرانا اور یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ آپ ﷺ، باوجود اپنے بلند مقام کے، موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔








سیلاب کا بیان


(1)سیلاب کا بیان

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار بیان کیا کرتے تھے کہ ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے سعید کے دادا حزن سے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ (مکہ کی) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا۔ سفیان نے بیان کیا کہ بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کا ایک بہت بڑا قصہ ہے۔

[صحيح البخاري: كتاب مناقب الأنصار،حدیث: 3833]

حافظ ابن حجر نے کہا، موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ کعبہ میں سیلاب اس پہاڑ کی طرف سے آیا کرتا تھا جو بلند جانب میں واقع ہے ان کو ڈر ہوا کہ کہیں پانی کعبہ کے اندر نہ گھس جائے اس لیے انہوں نے عمارت کو خوب مضبوط کرنا چاہا اور پہلے جس نے کعبہ اونچا کیا اور اس میں سے کچھ گرایا وہ ولید بن مغیرہ تھا۔

پھر کعبہ کے بننے کا وہ قصہ نقل کیا کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے ہوا اور امام شافعی نے کتاب ''الأم '' میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے نقل کیا کہ جب وہ کعبہ بنا رہے تھے تو حضرت کعب نے ان سے کہا: خوب مضبوط بناؤ کیونکہ ہم(اہل کتاب) کتابوں میں یہ پاتے ہیں کہ آخر زمانے میں سیلاب بہت آئیں گے۔

تو قصے سے مراد یہی ہے کہ وہ اس سیلاب کو دیکھ کر جس کے برابر کبھی نہیں آیا تھا یہ سمجھ گئے کہ آخر زمانے کے سیلابوں میں یہ پہلا سیلاب ہے۔

[فتح الباري:189/7]




Friday, 5 September 2025

قیلولہ کی اہمیت وفضیلت

"قیلولہ "کے معنی ہیں: دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لیٹنا، خواہ نیند آئے یا نہ آئے. ( عمدۃ القاری للعینی)


"قیلولہ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول رہا ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "دن کے سونے کے ذریعے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو. (شعب الایمان للبیہقی) نیز دوپہر کو سونا عقل کی زیادتی اور کھانے کے ہضم کا باعث بھی ہے. قیلولہ کی کم ازکم یا زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق تلاش کے باوجود کوئی روایت نہیں ملی.


حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

قِيلُوا فَإِنَّ الشيطان لا يقيل.

ترجمہ:

قیلولہ کیا کرو؛ اس لئے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔

[المعجم الأوسط-للطبراني:28، سلسلة الأحاديث الصحيحة:1647]





شجرکاری کی اہمیت اور فضائل


حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو جسے وہ لگا رہا ہو، تو اگر قیامت برپا ہونے سے پہلے پہلے وہ اس پودے ک ولگا سکے تو ضرور لگادے۔

حوالہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالْكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةً، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فليغرسها»

[مسند احمد:12902، مسند الطيالسي:2068، مسند عبد بن حميد:1216، الأدب المفرد-البخاري:479 ، مسند البزار:7408، معجم ابن الأعرابي:180]