حساب کے معنیٰ گننے اور شمار کرنے کے ہیں۔ قرآن میں ہے:
لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ
[يونس:5]
تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لو۔
[المفردات فی غریب القرآن-امام راغب اصفھانی: ج1 ص232]
یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔ [القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3] یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
حساب کے معنیٰ گننے اور شمار کرنے کے ہیں۔ قرآن میں ہے:
لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ
[يونس:5]
تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لو۔
[المفردات فی غریب القرآن-امام راغب اصفھانی: ج1 ص232]
بارش» اللہ(کے وجود)کی نشانی اور قدرت کا شاہکار۔
القرآن:
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔
[سورۃ الشورى،آیت نمبر 28]
بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) الله کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (نہیں ! بلکہ) الله اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔
[سورۃ نمبر 27 النمل،آیت نمبر 63]
القرآن:
اور وہ ہوائیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، ہم نے بھیجی ہیں، پھر آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے، پھر اس سے تمہیں سیراب ہم نے کیا ہے، اور تمہارے بس میں یہ نہیں ہے کہ تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھ سکو۔
[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 22]
1. کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں۔
القرآن:
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ
وفات یا شہادت کی صورت میں استقامت
القرآن:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
ترجمہ:
اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ الله کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں الله ان کو ثواب دے گا۔
[سورۃ آل عمران، آیت 144]
تفسیر:
یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی، جب ایک افواہ پھیلی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور کچھ مسلمان حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس آیت نے واضح کیا کہ آپ ﷺ بھی ایک بشر اور رسول ہیں، جن سے پہلے دوسرے رسول بھی گزر چکے ہیں۔ آپ کی وفات یا شہادت دین کے خاتمے کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس آیت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی وفات کے موقع پر پڑھ کر ان لوگوں کو تسلی دی جو اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔
وفات کی حتمی خبر
القرآن:
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ
ترجمہ:
بے شک تم (بھی) مرنے والے ہو اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔
[سورۃ الزمر (۳۹:۳۰)]
تفسیر:
یہ آیت نبی ﷺ کو مخاطب کرکے بتاتی ہے کہ آپ کو بھی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے، جیسے آپ کے مخالفین اور تمام انسانوں کو جانا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کرانا اور یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ آپ ﷺ، باوجود اپنے بلند مقام کے، موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
(1)سیلاب کا بیان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار بیان کیا کرتے تھے کہ ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے سعید کے دادا حزن سے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ (مکہ کی) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا۔ سفیان نے بیان کیا کہ بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کا ایک بہت بڑا قصہ ہے۔
[صحيح البخاري: كتاب مناقب الأنصار،حدیث: 3833]
حافظ ابن حجر نے کہا، موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ کعبہ میں سیلاب اس پہاڑ کی طرف سے آیا کرتا تھا جو بلند جانب میں واقع ہے ان کو ڈر ہوا کہ کہیں پانی کعبہ کے اندر نہ گھس جائے اس لیے انہوں نے عمارت کو خوب مضبوط کرنا چاہا اور پہلے جس نے کعبہ اونچا کیا اور اس میں سے کچھ گرایا وہ ولید بن مغیرہ تھا۔
پھر کعبہ کے بننے کا وہ قصہ نقل کیا کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے ہوا اور امام شافعی نے کتاب ''الأم '' میں عبد اللہ بن زبیر ؓ سے نقل کیا کہ جب وہ کعبہ بنا رہے تھے تو حضرت کعب نے ان سے کہا: خوب مضبوط بناؤ کیونکہ ہم(اہل کتاب) کتابوں میں یہ پاتے ہیں کہ آخر زمانے میں سیلاب بہت آئیں گے۔
تو قصے سے مراد یہی ہے کہ وہ اس سیلاب کو دیکھ کر جس کے برابر کبھی نہیں آیا تھا یہ سمجھ گئے کہ آخر زمانے کے سیلابوں میں یہ پہلا سیلاب ہے۔
[فتح الباري:189/7]
"قیلولہ "کے معنی ہیں: دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لیٹنا، خواہ نیند آئے یا نہ آئے. ( عمدۃ القاری للعینی)
"قیلولہ" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول رہا ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "دن کے سونے کے ذریعے رات کی عبادت پر قوت حاصل کرو. (شعب الایمان للبیہقی) نیز دوپہر کو سونا عقل کی زیادتی اور کھانے کے ہضم کا باعث بھی ہے. قیلولہ کی کم ازکم یا زیادہ سے زیادہ مدت کے متعلق تلاش کے باوجود کوئی روایت نہیں ملی.
حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قِيلُوا فَإِنَّ الشيطان لا يقيل.
ترجمہ:
قیلولہ کیا کرو؛ اس لئے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔
[المعجم الأوسط-للطبراني:28، سلسلة الأحاديث الصحيحة:1647]
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو جسے وہ لگا رہا ہو، تو اگر قیامت برپا ہونے سے پہلے پہلے وہ اس پودے ک ولگا سکے تو ضرور لگادے۔
حوالہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالْكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةً، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فليغرسها»
[مسند احمد:12902، مسند الطيالسي:2068، مسند عبد بن حميد:1216، الأدب المفرد-البخاري:479 ، مسند البزار:7408، معجم ابن الأعرابي:180]