Saturday, 25 April 2015

مشہور دعاۓ قنوت كا ثبوت


ہماری قنوت کہاں ہے؟



علامہ ابن منظور متوفی (۷۱۱) لکھتے ہیں:
          القنوت کے معنی ہیں: بات چیت سے رک جانا اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی نماز میں دعا کرنے کے ہیں، نیز القنوت کے معنی خشوع اختیار کرنا عبودیت کا اقرار کرنا اور ایسی فرمانبرداری کرنا جس میں نافرمانی نہ ہو اور کہا گیا کہ اس کے معنی کھڑے ہونے کے ہیں۔ ثعلب کہتے ہیں کہ قنوت کے اصلی معنی کھڑا ہونے کے ہیں اور کہا گیا کہ دیر تک کھڑا ہونے کو قنوت کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: اللہ کے لیے دیر تک کھڑے رہو۔
          ابوعبیدہ نے کہا کہ قنوت کے اصلی معنی کئی ہیں:
          (۱) کھڑا ہونا، اس سلسلے میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں؛ کیونکہ اس میں کھڑے ہوکر دعا کی جاتی ہے، اس سے زیادہ واضح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاگیا کہ کون سی نماز افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں قیام لمبا ہو۔
           نمازی کو قانت کہا جاتا ہے، حدیث میں ہے، مجاہد کی مثال نمازی اور روزے دار کی طرح ہے، حدیث میں ہے کہ ایک گھڑی غور وفکر کرنا رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرنے سے افضل ہے۔ قنوت کا لفظ حدیثوں میں متعدد معانی کے لیے آیا ہے۔ مثلاً فرمانبرداری، خشوع، نماز، دعا، قیام، لمباقیام خاموشی اختیار کرنا؛ چنانچہ حسب موقع ان معانی کا استعمال حدیثوں میں کیاگیاہے۔ ابن سیدہ نے کہا: قنوت کے اصلی معنی اطاعت کے ہیں، اللہ کا ارشاد ہے فرمانبردار مرد فرمانبردار عورتیں، پھر نماز میں کھڑے ہونے کو قنوت کہا گیا اور اسی میں سے وتر کا قنوت قنت اللّٰہ یقنتہ کہا جاتا ہے کہ اس نے اللہ کی اطاعت کی اللہ کا ارشاد ہے: سب کے سب اس کے فرمانبردار ہیں۔ القانت کے معنی ہیں؛ اللہ کا ذکر کرنے والا اللہ پاک کا ارشاد ہے: بھلا وہ جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے ہوئے۔ اور کہا گیا کہ القانت کے معنی عابد کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وہ عبادت گذار عورتوں میں تھیں،لغت میں مشہور یہ ہے کہ قنوت کے معنی دعا کے ہیں۔
          قانت کے حقیقی معنی اللہ کے حکم کو کرنے والا، دعا کرنے والا۔ جب کھڑا ہوتو اس کے ساتھ اس کو خاص کردیا جاتا ہے اور اس کو قانت کہا جاتا ہے؛ کیونکہ وہ اللہ کا ذکر کھڑے ہوکر کرتا ہے، قنوت کی حقیقت عبادت اور کھڑے ہوکر اللہ سے دعا مانگنے کی ہے۔ تمام عبادتوں پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے؛ کیونکہ عبادتیں اگرچہ سب کی سب قیام کی حالت میں نہیں ہوتیں؛ لیکن کم از کم نیت کے ساتھ بالارادہ ان کو کیا جاتا ہے، اس پر قنوت کا اطلاق کیا جاتا ہے۔(لسان العرب۲/۷۳)
          علامہ شامی نے لکھا ہے کہ دعاء القنوت یہ اضافتِ بیانیہ ہے۔ یعنی قنوت کے معنی بھی دعا کے ہیں اور کلام عرب میں اس طرح بولا جاتاہے۔
          قنوت کا وتر میں اور فرض نمازوں میں پڑھنے کا تذکرہ احادیث سے ثابت ہے۔
          برصغیر میں فرض نمازوں میں پڑھے جانے والے قنوت کو قنوتِ نازلہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ حنفیہ جس قنوت کو پڑھتے ہیں وہ سند کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابوں میں ہے:
          (۱)      مصنف عبدالرزاق متوفی ۲۱۱ھ
          (۲)      مصنف ابن ابی شیبہ متوفی ۲۳۵ھ
          (۳)     المراسیل لابی داؤد سجستانی متوفی ۲۷۵ھ
          (۴)     مختصر قیام اللیل محمد بن نصر المروزی ۲۹۴ھ
          (۵)      شرح معانی الآثار امام طحاوی ۳۲۱ھ
          (۶)      الدعاء للطبرانی ۳۶۰ھ
          (۷)     الدعوات الکبیر للبیہقی ۴۵۸ھ
          (۸)     السنن الکبریٰ ۴۵۸ھ
          (۹)      کنزالعمال المتقی الہندی ۹۷۵ھ
          مندرجہ ذیل صحابہٴ کرام سے حنفیہ کا قنوت مروی ہے:
          ۱-       حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
          ۲-       عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
          ۳-       اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ
          ۴-       علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ
          ۵-       حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
          ۶-       خالد بن ابی عمران رضی اللہ عنہ
          ۷-       انس بن مالک رضی اللہ عنہ
          رکوع سے قبل قنوت پڑھنے کی روایات مندرجہ ذیل کتابوں میں ہے:
          الآثار للامام ابی یوسف رحمہ اللہ حدیث نمبر:۳۴۵
          الآثار للامام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ حدیث نمبر: ۲۱۱
          مصنف عبدالرزاق حدیث نمبر:۴۹۷۴
          مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر: ۶۹۰۵، ۶۹۷۲، ۶۹۷۵
          مسند احمد حدیث نمبر: ۱۲۷۲۸
          سنن الدارمی حدیث نمبر: ۱۶۳۷
          صحیح البخاری حدیث نمبر: ۹۵۷، ۲۹۹۹، ۳۸۷۰
          صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلاة رقم: ۳۰۱ (۶۷۷۰)
          سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: ۱۱۸۲، ۱۱۸۳
          سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۱۴۲۹
          سنن نسائی حدیث نمبر: ۱۶۹۹
          شرح مشکل الآثار حدیث نمبر: ۴۵۰۰، ۴۵۰۱، ۴۵۰۳
          عن عطاء عن عبید بن عمیر أن عمر رضی اللّٰہ عنہ قنتا بعد الرکوع: فقال: اللّٰہم اغفرلنا وللمومنین وللمومنات والمسلمین والمسلمات وألّف بین قلوبہم واصلح ذات بینہم وانصرہم علی عدوک وعدوہم اللّٰہم العن الکفرة اہل الکتاب الذین یصدون عن سبیلک ویکذبون رسلک ویقاتلون اولیائک اللّٰہم خالف بین کلمتہم وزلزل اقدامہم وانزل بہم بأسک الذی لا تردہ عن القوم المجرمین
بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم
          اللّٰہم ایاک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی نحفد ونخشی عذابک الجد نرجو رحمتک ان عذابک بالکافرین ملحق رواہ سعید بن عبد الرحمن بن ابزی عن ابیہ عن عمر فخالف ہذا فی بعضہ السنن الکبری للبیہقی: ۲/۲۹۸
بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم
          اللّٰہم انا نستعینک ونستغفرک ونثنی علیک ولا نکفرک ونخلع ونترک من یفجرک
          عبدالرحمن بن ابزی نے اپنے والد أبزی سے اس کو بیان کیا ہے۔ (الاتقان:۱/۲۲۶)
          علامہ شامی لکھتے ہیں:
          خصوص اللّٰہم انا نستعینک فسنة فقط حتی لو أتی بغیرہ جاز اجماعاً (الدرالمختار واجب الصلاة: ۴۶۸)
          اللّٰہم انا نستعینک کو خصوصی طور پر پڑھنا نماز وتر میں سنت ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی دعا کرے تو جائز ہوجائے گا۔
          قنوت کے مختلف الفاظ احادیث میں مروی ہیں، سب سے قنوت کی سنت ادا ہوجائے گی۔
          حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے تلامذہ کو مندرجہ ذیل قنوت سکھلاتے تھے۔
          حدثنا ابن فضیل عن عطا بن السائب عن ابی عبد الرحمٰن قال: علمنا ابن مسعود أن نقرأ فی القنوت:
          اللّٰہم انا نستعینک ونستغفرک ونثنی علیک الخیر ولا نکفرک ونخلع ونترک من یفجرک اللّٰہم ایاک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی نحفد نرجو رحمتک ونخشی عذابک ان عذاب بالکفار ملحق (مصنف ابن ابی شیبہ رقم: ۶۹۶۵)
          ہمارے ہاں ہندوستان میں جو قنوت پڑھا جاتاہے اس میں کچھ الفاظ زیادہ بھی ہیں، قنوت صبح کی نماز میں اور وتر دونوں میں پڑھا جاتا ہے۔
          عن ابن جریج قال: اخبرنی من سمع ابن عباس ومحمد بن علی بالخیف یقولان کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقنت بہولاء الکلمات فی صلاة الصبح وفی الوتر باللیل․ (مصنف عبدالرزاق رقم: ۴۹۵۷)
          مجھ کو خبر دی حسن نے حضرت ابن عباس اور محمد بن علی سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور رات کی وتر میں مندرجہ ذیل دعا پڑھا کرتے تھے۔
قنوت سے قبل تکبیر کہی جائے گی اور پھر قنوت پڑھا جائے گا
          (۱) عن الثوری عن عبد الأعلیٰ عن ابی عبد الرحمن السلمی أن علیا کبر حین قنت فی الفجر ثم کبر حین رکع
          ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور پھر صبح کی نماز میں قنوت پڑھی، پھر تکبیر کہی اوررکوع کیا۔ (مصنف عبدالرزاق حدیث نمبر: ۴۹۶۰)
          حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ قنوت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کے زمانہ میں پڑھی تھی۔
          (۲) عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کان اذا فرغ من القرأة کبر ثم قنت
          حضرت ابن مسعود جب قرأت سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہتے اور پھر دعاء قنوت پڑھتے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث:۶۹۴۸)؛
          ایک بار حضرت اقدس مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمة اللہ علیہ کے پاس، حضرت مولانا ارشاد صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند تشریف لائے اور عرض کیا کہ حضرت قنوت کے بعد دُرود شریف پڑھا جائے گا؟ حضرت نے جواب دیا: ہاں، انھوں نے کہا کہ: آپ بھی پڑھتے ہیں؟ حضرت نے جواب دیا: ہاں! انھوں نے کہا: کب سے پڑھتے ہیں؟ حضرت نے جواب دیا: جب سے نورالایضاح پڑھی تھی۔
ملاحظہ: اللّٰہم نستعینک اور اللّٰہم اہدنا دونوں کو جمع کرنا مستحب ہے۔ دیکھیے (فتاوی ہندیہ: ۱/۱۱۱)
وصلی اللّٰہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین


أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْقَاهِرِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ : " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى مُضَرَ ، إِذْ جَاءَهُ جَبْرَئِيلُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ فَسَكَتَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْكَ سَبَّابًا وَلا لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بَعَثَكَ رَحْمَةً ، وَلَمْ يَبْعَثْكَ عَذَابًا لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ ، أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ، أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ثُمَّ عَلَّمَهُ هَذَا الْقُنُوتَ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ ، وَنُؤْمِنُ بِكَ ، وَنَخْضَعُ لَكَ ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ ، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ " ، هَذَا مُرْسَلٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَحِيحًا مَوْصُولا .

المحدث : أبو داود
المصدر : المراسيل الصفحة أو الرقم: 192 خلاصة حكم المحدث : أورده في كتاب المراسيل

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونؤمن بك ونخضع لك ونخلع ونترك من يكفرك اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى ونحفد ونرجو رحمتك ونخشى عذابك ونخاف عذابك الجد إن عذابك بالكافرين ملحقموضع إرسالالسنن الكبرى للبيهقي28852 : 210البيهقي458
2اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونؤمن بك ونخضع لك ونخلع ونترك من يكفرك اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخاف عذابك الجد إن عذابك بالكافرين ملحقموضع إرسالالدعوات الكبير للبيهقي364362البيهقي458


أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِيعَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلاةَ الصُّبْحِ ، فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ : " اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ ، وَلا نَكْفُرُكَ ، وَنُؤْمِنُ بِكَ ، وَنَخْضَعُ لَكَ ، وَنَخْلَعَ مَنْ يَكْفُرُكَ " ، كَذَا قَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ إِسْنَادًا صَحِيحًا ، فَمَنْ رَوَى عَنْ عُمَرَ قُنُوتَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ ، فَقَدْ . رَوَاهُ أَبُو رَافِعٍ ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، وَزَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ ، وَفِي حُسْنِ سِيَاقِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ لِلْحَدِيثِ دَلالَةٌ عَلَى حِفْظِهِ ، وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْهُ ، وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ " ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ : " إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ " ، يَعْنِي بِخَفْضِ الْحَاءِ .
المحدث : العيني
المصدر : نخب الافكار الصفحة أو الرقم: 4/366 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح
المحدث : الألباني
المصدر : إرواء الغليل الصفحة أو الرقم: 2/170 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح



صلَّيتُ خَلفَ عمر فقَنتَ بعدَ الرَّكعةِ فسمِعتُهُ يقولُ : اللَّهمَّ إنَّا نَستعينُكَ إلَخ وفيهِ اللَّهمَّ عذِّبِ الكفَرةَ وألقِ في قلوبِهِمُ الرُّعبَ وأنزِلْ علَيهِم رِجسَكَ اللَّهُمَّ عذِّبِ كفَرةَ أهْلِ الكتابِ
الراوي : نفيع أبو رافع الصائغ المحدث : ابن حجر العسقلاني
المصدر : الفتوحات الربانية الصفحة أو الرقم: 2/305 خلاصة حكم المحدث : سنده حسن



No comments:

Post a Comment