غفلت اس سہو(غلطی/بےتوجہی) کو کہتے ہیں جو تحفظ اور احتیاط کی کمی کی بناء پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے۔ قرآن میں ہے:
القرآن:
۔۔۔ اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل "غافل" کیا ہم نے اپنی یاد سے، اور وہ پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے، اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا۔
[سورۃ الکھف:28]
اور جو الله کی یاد سے"غافل"ہوتا ہے تو وہ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر وہ اسکے ساتھ رہتا ہے۔
[سورۃ الزخرف:36]
[صحیح الجامع الصغیر:5446، الجامع الصغیر:9577]
[جامع الاحادیث:19551، طبرانی:182(20/93)]
[شعب الإيمان-امام البيهقي (المتوفى: 458هـ) » حدیث نمبر 509-510]
[عمل اليوم والليلة لابن السني(م364ھ): صفحہ#6]
[مسند الشاميين للطبراني(م360ھ) : حدیث446]
[الهداية إلى بلوغ النهاية-امام مكي بن أبي طالب(المتوفى: 437هـ) » تفسیر سورۃ العنکبوت، آیت#45]
[تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی» سورۃ البقرۃ:152]
شرح للمناوی:
القرآن:
(اے پیغمبر) جو کتاب تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قائم کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (26) اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔
[سورۃ نمبر 29 العنكبوت، آیت نمبر 45]
تفسیر:
(26)یعنی اگر انسان نماز کو نماز کی طرح پڑھے، اور اس کے مقصد پر دھیان دے تو وہ اسے بےحیائی اور ہر برے کام سے روکے گی، اس لئے کہ انسان نماز میں سب سے پہلے تکبیر کہہ کر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان اور اقرار کرتا ہے، جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے کسی بات کو وقعت نہیں دیتا، پھر ہر رکعت میں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یا اللہ ! میں آپ ہی کی بندگی کرتا ہوں، اور آپ ہی سے مدد مانگتا ہوں، لہذا جب اس کے بعد کسی گناہ کا خیال اس کے دل میں آئے تو اگر اس نے نماز دھیان سے پڑھی ہے تو اسے اپنا عہد یاد آنا چاہیے، جو یقیناً اسے گناہ سے روکے گا، نیز رکوع سجدے اور نماز کی ہر حرکت و سکون میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے زبان حال سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بناکر پیش کرتا ہے، اس لئے جو شخص نماز کو سوچ سمجھ کر اس طرح پڑھے جیسے پڑھنا چاہیے یقیناً اسے برائیوں سے روکے گی۔
حضرت عائشہ سے روایت رہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَا من ساعة تَمُرُّ بِابْنِ آدَمَ لَمْ يَذْكُرِ اللهَ فِيهَا إِلَّا تَحَسَّرَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
ترجمہ:
ابنِ آدم کی جو گھڑی بھی اللہ کے ذکر سے خالی گذر گئی وہ قیامت کے دن حسرت وافسوس کا سبب ہوگی۔
[شعب الایمان-للبيهقي:508]
[جامع الصغیر للسیوطی:10658،صحیح الجامع:5720) حسن، الصحيحة:2197]
شرح للمناوی:
(ابن آدم کی عمر سے کوئی گھڑی نہیں گزرتی) اس کی زندگی سے (جس میں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو) نہ اپنی زبان سے اور نہ اپنے دل سے (مگر وہ قیامت کے دن اس پر پچھتائے گا) یعنی جنت میں داخلے سے پہلے، کیونکہ جنت میں کوئی پچھتاوا یا ندامت نہیں ہوتی۔
[التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي: 2/362]
[فيض القدير للمناوي: 8045]
حاصل شدہ اسباق ونکات:
1. ہر لمحہ ذکر کی اہمیت: انسان کی زندگی کا ہر لمحہ جو اللہ کے ذکر سے خالی گزرے، قیامت کے دن اس پر پچھتاوا ہوگا۔
2. ذکر کی جامعیت: ذکر سے مراد صرف زبانی ذکر نہیں، بلکہ قلبی ذکر بھی شامل ہے۔ دل کی حاضر ی کے ساتھ ذکر کرنا ضروری ہے۔
3. جنت میں پچھتاوا نہیں: پچھتاوا صرف قیامت کے دن موقف (جنت میں داخلے سے پہلے) میں ہوگا، جنت میں داخل ہونے کے بعد پچھتاوا ختم ہوجائے گا۔
4. عملی نصیحت: اس حدیث سے ملتی جلتی تعلیمات دیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں، لہٰذا ہر وقت اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
5. زندگی کے ہر لمحہ کی قدر: وقت اللہ کی نعمت ہے، اسے ذکر الہی میں صرف کرنا چاہیے، ورنہ قیامت میں پچھتاوا ہوگا۔
القرآن:
وہ کہیں گے کہ : ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے۔ (ہمیں پوری طرح یاد نہیں) اس لیے جنہوں نے (وقت کی) گنتی کی ہو، ان سے پوچھ لیجیے۔
[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 113]
تفسیر:
آخرت کا عذاب اتنا سخت ہوگا کہ اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری زندگی اور اس میں جو عیش و عشرت کیے تھے وہ ان دوزخیوں کو ایک دن یا اس سے بھی کم معلوم ہوں گے۔
القرآن:
اللہ فرمائے گا : تم تھوڑی مدت سے زیادہ نہیں رہے۔ کیا خوب ہوتا اگر یہ بات تم نے (اس وقت) سمجھ لی ہوتی۔
[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 114]
تفسیر:
35: یعنی اب تو تم نے خود دیکھا لیا کہ دنیا کا عیش ایک دن کا نہ سہی، مگر آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا سا تھا۔ یہی بات تم سے دنیا میں کہی جاتی تھی تو تم اسے ماننے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ کاش یہ حقیقت تم نے اس وقت سمجھ لی ہوتی تو آج تمہارا یہ حشر نہ ہوتا۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ما من ساعة تأتي على ابن آدم لا يذكر اللََّه تعالى فيها إلا كانت عليه حسرة وان دخل الجنة۔
[قوت القلوب:1/187]
(ما من ساعة تأتى على العبد لا يذكر الله فيها الا كانت عليه حسرة يوم القيامة)
[تفسیر روح البیان»سورۃ المومنون،آیت113-114]
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَنْ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ:
جو شخص سونے کیلئے بستر پر لیٹے اور پھر اللہ کا ذکر نہ کرے تو ذکر اللہ سے غفلت قیامت کے دن اس کیلئے باعثِ افسوس ہوگی۔ اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہوگی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" (مَنْ اضطجع مضجعا لَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ تَعَالَى فِيهِ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً (¬1) يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ - عز وجل - فِيهِ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (¬2) (وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ - عز وجل - إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً , وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً) (¬3) "
¬_________
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص ایسے بستر پر لیٹے جس میں اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا ہو، تو قیامت کے دن اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا،(¬1)
اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جہاں اس نے اللہ عزوجل کا ذکر نہ کیا ہو، تو قیامت کے دن اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا۔"(¬2)
"اور کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی راستے پر چلا ہو اور اس نے اللہ عزوجل کا ذکر نہ کیا ہو، مگر یہ کہ اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا، اور کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنے بستر کی طرف گیا ہو اور اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، مگر یہ کہ اس پر (نقصان اور) پچھتاوا ہوگا۔" (¬3)
---
حاشیہ وحوالہ:
(¬1) ابو عیسیٰ (امام ترمذی رحمہ اللہ) نے کہا:
اس لفظ (تِرَةً) کا معنی ہے حسرت و ندامت (افسوس اور پچھتاوا)۔ اور عربی زبان کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ (التِّرَةُ) کا معنی ہے: بدلہ (یا تباہی/نقصان)۔
(¬2) سنن ابوداؤد:5059-4856، (السنن الكبرى للنسائي:10237، صحيح الجامع:6043، الصحيحة:78
(¬3) مسند احمد:9583، عمل اليوم والليلة لإبن السني:375، الصَّحِيحَة:79، صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:1513
[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج4 / ص451]
شرح للمناوی:
(جو شخص ایسے بستر پر لیٹے جس پر اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو تو اس پر "تَرَّۃٌ" ہوگی) تاء مثناہ فوقانی کے کسرہ اور راء مهملہ کے فتحہ کے ساتھ، جیسا کہ "شرح المصابیح" میں ہے، یعنی نقصان ہوگا۔ "تَرَّۃٌ" سے مراد نقصان یا کمی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حسرت و افسوس ہے کیونکہ یہ نقصان کے لازمے میں سے ہے۔ طیبی نے کہا: یہ "کَانَتْ" (بالتانیث) کے ساتھ بھی مروی ہے اور "تَرَّۃٌ" مرفوع آئی ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ "کَانَتْ" کی ضمیر کا مرجع مؤنث سمجھا جائے، یعنی "الاضطجاعۃ" (لیٹنا) اور "القعدۃ" (بیٹھنا)۔ اور "تَرَّۃٌ" مبتدا ہے اور جار و مجرور اس کی خبر ہے، اور پوری جملہ "کَانَ" کی خبر ہے۔ اور اگر تذکیر کی روایت اور "تَرَّۃٌ" کے نصب کی روایت کو لیں تو اس کا معنی واضح ہے۔
(روز قیامت) کیونکہ بغیر اللہ کے ذکر کے سونا گویا زندگی کو معطل کرنا ہے، اور ممکن ہے کہ اس کی روح اسی رات قبض ہوجائے، پس وہ دور کر دیے جانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ اور بندہ جس حال پر مرتا ہے، اسی حال پر اٹھایا جائے گا۔ اور جو شخص ذکر اور طہارت کی حالت میں سوتا ہے، تو اس کی روح عرش تک بلند کی جاتی ہے اور وہ اس وقت تک نمازی (یعنی عبادت گزار) سمجھا جاتا ہے جب تک وہ بیدار نہ ہو۔ اگر وہ اسی حالت پر فوت ہوجائے تو وہ مقربین میں سے ہوگا اور جس حال پر مرا تھا، اسی حال پر اٹھایا جائے گا۔ اس کا ذکر حجۃ الاسام (امام غزالی) نے کیا ہے۔ (اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جہاں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے تو قیامت کے دن اس پر نقصان ہوگا۔)
[فیض القدیر-للمناوی:8462]
حاصل شدہ اسباق ونکات:
1. سونے اور بیٹھنے سے پہلے ذکر کی اہمیت: سونے یا بیٹھنے سے پہلے اللہ کا ذکر نہ کرنا قیامت کے دن نقصان اور حسرت کا باعث بنے گا۔
2. موت کی حالت کا اثر: آدمی جس حالت پر مرتا ہے، اسی پر اٹھایا جاتا ہے۔ لہٰذا ذکر کی حالت میں سونا باعث برکت ہے۔
3. ذکر اور طہارت کی فضیلت: طہارت اور ذکر کی حالت میں سونے والے کی روح بلند مقام تک پہنچتی ہے اور وہ عبادت گزار شمار ہوتا ہے۔
4. بے ذکری سونا گویا موت ہے: بغیر ذکر کے سونا گویا زندگی کو ضائع کرنا ہے اور ممکنہ موت کی صورت میں انسان اللہ سے دور ہوجاتا ہے۔
5. عملی زندگی میں ذکر کی رفاقت: ہر چھوٹے بڑے کام سے پہلے ذکر الہی کو اپنانا چاہیے تاکہ وہ کام برکت اور ثواب کا ذریعہ بنے۔
درود شریف کی فضیلت:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يُصَلَّ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَتْ عَلَيْهِمْ حَسْرَةٌ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ»
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس مجلس میں کوئی قوم بیٹھے اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے تو وہ مجلس ان پر ندامت کا سبب بنے گی، خواہ وہ (اُخروی اعتبار سے) جنت میں داخل ہی ہو جائیں۔"
[السنن الكبرى للنسائي:10171]
حاصل شدہ اسباق ونکات:
1. درود پڑھنے کی فضیلت: ہر مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ضروری ہے، اس سے مجلس کی برکت ہوتی ہے۔
2. ندامت سے بچاؤ: درود نہ پڑھنے سے مجلس میں روحانی نقصان ہوتا ہے، جو آخرت میں بھی ندامت کا سبب بن سکتا ہے۔
3. جنت میں بھی احساسِ محرومی: حدیث میں اشارہ ہے کہ اگرچہ شخص جنت میں داخل ہو، پھر بھی وہ ان مواقعوں پر درود نہ پڑھنے پر افسوس کرے گا جن میں وہ درود پڑھ سکتا تھا۔
4. اجتماعی ذمہ داری: مجلس میں موجود ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اجتماع کو درود کے ذریعے روحانی اعتبار سے زندہ کرے۔
5. رسول اللہ سے محبت کا اظہار: درود پڑھنا محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی مظہر ہے، جو ایمان کا تقاضا ہے۔
6. مجلس کی روحانی کیفیت: درود سے مجلس کی فضا پاکیزہ ہوتی ہے اور شیطانی اثرات سے حفاظت ہوتی ہے۔
7. آخرت میں درجات کی بلندی: درود پڑھنے والوں کے درجات بلند ہوتے ہیں اور یہ عمل قربتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
القرآن:
اور ڈر سنا دے اُنکو اُس پچتاوے کے دن کا جب فیصل ہو چکے گا کام، اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ یقین نہیں لاتے۔
[سورۃ مریم:39]
کہیں کہنے نہ لگے کوئی نفس: اے افسوس اس بات پر کہ میں (غفلت میں پڑ کر) کوتاہی کرتا رہا اللہ کی طرف سے اور میں تو ہنستا ہی رہا۔
[سورۃ الزمر:56]
غیبی پیشگوئی:
أخاف على أمتى من بعدى ثلاثًا ضلالةَ الأهواءِ واتباعَ الشَّهَوات فى البطون والفروج والغفلةَ بعد المعرفة والعُجْبَ۔
ترجمہ:
مجھے خوف ہے اپنی امت پر 3 چیزوں کا:
(1)خواہشات(بدعات)کی گمراہی کا، (2)پیٹ اور شرمگاہ کی شھوتوں کے پیچھے پڑنے کا، (3)اور معرفت(یعنی اللہ کی پہچان)کے بعد(اللہ اور اس کے احکام سے) "غفلت" کا۔
[الجامع الصغير:1234، جامع الاحادیث:846، كنزالعمال:28967]
شرح للمناوی:
1. (أخاف على أمتي من بعدي): آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ یہ خوف آپ کی حیات مبارکہ میں واقع نہیں ہوگا، کیونکہ آپ کا اپنی امت کے درمیان موجود ہونا ہی ان کے لیے اس (خطرے) سے امان ہے۔
2. (ثلاثا): تین خصلتوں (کا خوف ہے)۔
3. (ضلالة الأهواء): اس سے مراد ہے (وہ حالات) جن میں ان کی نفسانی خواہشات انہیں گمراہ کر دیں۔ نیز خصوصاً اس سے مراد بدعات اور باطل مذاہب کی طرف تعصب ہے۔ "ضلال" ہدایت کی ضد ہے۔ "الصحاح" میں ہے: أضلہ یعنی اسے ہلاک کر دیا۔ "الأهواء" واحد "هوى" ہے، جو ایک نفسیاتی کیفیّت ہے جو نفس کی شہوت کی وجہ سے غیر شرعی امور میں پیدا ہوتی ہے۔ بعض علماء نے یہی ذکر کیا ہے۔ قاضی (عیاض) نے مختصراً کہا: وہ رائے ہے جس کی پیروی شہوت کی جائے۔ راغب اصفہانی نے کہا: "ضلال" یہ ہے کہ آدمی حق کے اعتقاد، اچھے فعل یا سچی بات کے ارادے سے نکلا لیکن اپنی کوتاہی اور بدانتظامی کی وجہ سے باطل کو حق سمجھ کر اس پر ایمان لے آیا، یا قبیح کو اچھا سمجھ کر اسے کر ڈالا، یا جھوٹ کو سچ سمجھ کر اسے کہہ ڈالا۔ جہالت ان سب پر عام ہے۔
4. (واتباع الشهوات): "شهوة" کی جمع ہے۔ حرانی نے کہا: یہ نفس کا اس محبوب کی طرف جھکاؤ ہے جس سے وہ خود کو روک نہ سکے۔ "الکشاف" میں ہے: نفس کی لذت کا طلب کرنا۔
5. (في البطون والفروج): (یعنی یہ کہ انسان) اس جانور کی طرح ہو جائے جس کا ہمہ تن مشغولہ اس کے پیٹ اور شرمگاہ ہو، نہ اس کے ذہن میں حق آئے نہ باطل، نہ وہ اپنے کام کے عاقبت کے بارے میں سوچے، خواہ فوری ہو یا مستقبل کی۔ بعض نے کہا:
· شہوتوں سے بچو اور۔۔۔ خبردار! ان کا شکار نہ بنو*
· بسا اوقات ایک لمحے کی شہوت۔۔۔ لمبے عرصے کا غم لے آتی ہے*
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو (پیٹ اور شرمگاہ) کو خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ تمام شہوات کا مرجع یہی دو ہیں۔ راغب نے کہا: آپ کو اپنی امت پر شہوات کا خوف صرف اس لیے تھا کہ یہ انسان میں سب سے پہلے موجود ہونے والی، اس سے سب سے مضبوطی سے جڑی ہوئی اور سب سے زیادہ غلبہ رکھنے والی قوت ہے۔ یہ اس کے ساتھ ہی پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے اور اس میں، بلکہ اس کی جنس (یعنی حیوان) میں، بلکہ اس جنس کی جنس (یعنی نباتات) میں بھی پائی جاتی ہے۔ پھر اس میں قوتِ غضب (حمیت) پائی جاتی ہے، اور آخر میں اس میں فکر و نطق اور تمییز کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور انسان اپنی حیوانی شہوت کو قابو میں کرکے یا اسے مار کر ہی تمام جانوروں سے ممتاز اور ہوا کے اسیر ہونے سے نجات پاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسے نقصان پہنچاتی ہے، دھوکہ دیتی ہے اور آخرت کے راستوں سے پھیر دیتی ہے۔ اور جب وہ اسے قابو کر لیتا ہے یا مار دیتا ہے تو پاکیزہ اور آزاد ہو جاتا ہے، اس کی ضرورتیں کم ہو جاتی ہیں، وہ دوسروں کے پاس موجود چیزوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اپنے پاس موجود چیزوں میں سخاوت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں احسان کرتا ہے۔
6. (والغفلة بعد المعرفة): یعنی معرفت (جاننے) کے بعد (اللہ یا طاعت سے) غفلت برتنا۔ یہ عوام کے حق میں طاعت کے واجب یا مستحب ہونے کو جاننے کے بعد اسے ترک کرنا ہے۔ اور خواص (اللہ کے قریب بندوں) کے حق میں (غفلت) محض دعویٰ، عجب یا لطف و کرم کے ظاہری مظاہر پر اطمینان کی وجہ سے غیر اللہ کی طرف التفات ہے۔ اور یہ وہ پوشیدہ برائی ہے جس سے بچنا صرف مضبوط قدم والوں کے بس میں ہے۔ غزالی نے کہا: غفلت سب سے بڑی مصیبت اس لیے ہے کیونکہ عمر کا ہر لمحہ ایک انمول جوہر ہے جس کا کوئی بدل یا عوض نہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ کی خوشی تک پہنچنے اور ہمیشہ کی بدبختی سے بچنے کے لیے موزوں ہے۔ پس اگر اسے غفلت میں ضائع کر دیا تو واضح خسارہ اٹھایا، اور اگر گناہ میں صرف کیا تو سخت ہلاکت میں پڑا۔ حرانی نے کہا: غفلت اس چیز سے بے خبری ہے جس سے آگاہ ہونا ضروری تھا۔
7. (الحكيم): ابوجعفر محمد ترمذی (والبغوي): ابوالقاسم (وابن منده): عبداللہ (وابن نافع): عبدالباقی (وابن شاهين): عمر بن احمد، جن کی تقریباً تین سو تصانیف ہیں (وأبو نعيم): مشہور حافظ احمد۔
8. یہ پانچوں بزرگوں نے اپنی کتب "الصحابہ" میں أفلح (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) سے روایت کی ہے۔ اصل (مصنف) میں ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔
كل ما يلهو بِهِ الرجل الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ، إِلاَّ رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ، وتأديبه فَرَسَهُ، وَمُلاَعَبَتَهُ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الحَقِّ.
ترجمہ:
ہر وہ کھیل جو (احکامِ دین پر عمل کرنے سے) مسلمان شخص کو غافل کرے، وہ ناجائز ہے۔
سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں۔
[سنن الترمذي:1637]
حديث عقبة بن عامر:
[سنن ابن ماجة:2811، المستدرك الحاكم:2467، مسند الطيالسي:1006-1007، مسند احمد:17338، البيهقى:19515]
[الصحيحة(315)صحيح ابن ماجة:2267]
علاج:-
جس نے حفاظت کی ان فرض نمازوں کی، نہیں وہ لکھا جاۓ گا غافلین میں۔ اور جس نے رات میں سو آیات پڑھیں، نہیں وہ لکھا جاۓ گا غافلین میں۔
[صحیح ابنِ خزیمۃ:1142]
جو شخص دس آیتیں پڑھا کرے رات میں، وہ نہیں لکھا جائے گا غافلین میں۔
[حاکم:2079]
جس نے ہر دن۔۔۔اور۔۔۔ہر رات 70 بار الله سے استغفار کیا، اسے نہیں لکھا جاۓ گا غافلين میں۔
[ابن السني:366]
اگر تم نے دو رکعت(نفل)نماز ضحیٰ(چاشت)پڑھی تو نہیں لکھا جاۓ گا تجھے غافلین میں سے۔۔۔
[بزار:3890،بیھقی:4906]
۔۔۔ یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔۔۔
[سورۃ الرعد:11]
محدود ترین زادِ راہ:
کچھ ایسا ہی معاملہ اس محدود ذخیرہٴ حیات اور آخرت کے عظیم نتائج کا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے”الدنیا مزرعة الآخرہ“ یعنی یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس دنیا میں اپنے عمل کے ذریعے انسان جو کچھ بوتا ہے اسے و ہی فصل ( نتیجہ) موت کے بعد ملے گا۔
انسان اس دنیا میں پیدا ہی مرنے کے لیے ہوا ہے۔ پیدائش اور پھر موت ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی، بہت بڑی نشانیاں ہیں کہ یہ ایک مُسلسل سفر ہے۔ اور یہ قانون قدرت ہے کہ انسان جس قسم کا سفر اختیار کرتا ہے ، ویسا ہی نتیجہ منزل پر پہنچنے پر حاصل کرتا ہے۔
لیکن صد افسوس ہے انسان کی عقل پر کہ اس قدر واضح حقیقت کو انسان بھولا ہوا ہے۔ وہ روزانہ سنتا اور دیکھتا ہے جو کبھی پیدا ہوا تھا، وہ مر گیا لیکن وہ اس دھوکے میں رہتا ہے کہ شاید اسے مرنا نہیں ہے بلاشبہ اسے مرنا ہے۔ لیکن اس حقیقت کوتسلیم کرنے کے باوجود انسان نادان کی طرح اپنی زندگی کے محدود ذخیرے کو کھیل کود اور سیر وتفریح میں ضائع کر دیتا ہے کہ جیسے صحرا میں سفر کرنے والا اپنے پاس موجود بوتل کے پانی کو اپنے ہاتھ پیر دھونے میں خرچ کر ڈالے ۔
غور کیجیے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ کیا امیر کیا غریب، کیا جاہل کیا پڑھا لکھا… سب ہی اس محدود ذخیرہٴ حیات کو ضائع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چناں چہ یہاں کی کام یابی کو کام یابی اور یہاں کے نقصان کو نقصان سمجھ لیا گیا، حالاں کہ یہاں کی ہر شے عارضی اور نتیجہ کے اعتبار سے بے حیثیت ہے حدیث کا مفہوم ہے۔
عقل مند انسان وہ ہے جو مرنے سے پہلے (اس دنیا ہی میں جیتے ہوئے) مرنے کی تیاری کرے۔ اس عقل ودانش کا تقاضا صرف یہ ہے کہ یہاں ہر لمحے ہر دم وہ کام کیا جائے جو الله کو راضی کرنے والا اور اس کی خوش نودی حاصل کرنے والا ہو اور ایسا ہر کام صرف اور صرف الله کے حکم اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہی ہو سکتا ہے ۔ زندگی کا پہلا اور آخری تقاضا یہی ہے کہ اس کا ہر لمحہ الله کے حکم اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق گزرے۔ یہی دانائی ہے اوریہی کام یابی…!!
القرآن:
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے۔
[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 58]
القرآن:
یقین رکھو کہ جن لوگوں نے مومن مردوں عورتوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے، پھر توبہ نہیں کی ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کو آگ میں جلنے کی سزا دی جائے گی۔
[سورۃ نمبر 85 البروج، آیت نمبر 10]
القرآن:
جو لوگ مجرم تھے، وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تھے، تو دل لگی کرتے ہوئے جاتے تھے۔ حالانکہ ان کو ان مسلمانوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آخر ہوگا یہ کہ آج ایمان لانے والے کافروں پر ہنس رہے ہوں گے۔ آرام دہ نشستوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔ کہ کافر لوگوں کو واقعی ان کاموں کا بدلہ مل گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔
[سورۃ المطففين، آیت نمبر 29-36]
یعنی غائبانہ و اعلانیہ ہر حالت میں مومنوں کی تحقیر و استہزاء کا مشغلہ رہتا ہے۔ البتہ حاضری میں اشارے چلا کرتے اور غائبی میں واضح برائیاں کرتے ، حالانکہ مسلمانوں کی تحقیر و استہزاء کی بجائے نافرمانوں کو اپنی فکر کرنا چاہئے تھا، انہوں نے ایک تو فرمانبرداروں کے ساتھ استہزاء کیا پھر اپنی اصلاح سے بےفکر رہے۔
مجرم لوگ مومنین کے متعلق یہ ہنسی کیا کرتے تھے کہ ان بیوقوفوں کی یہ کیسی بےوقوفی ہے کہ محسوس و موجود (دنیاوی) لذتوں کو آخرت/جنت کی خیالی لذتوں کی امید پر چھوڑتے ہیں۔
آنکھ مارتے ہیں کہ دیکھو یہ ہی بےعقل اور احمق لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو جنت کے ادھار پر دنیا کے نقد سے محروم کر رکھا ہے۔
اور گھر جاتے جاتے بھی۔۔۔۔خوش طبعی کرتے اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے تھے اور اپنے عیش وآرام پر مفتون و مغرور ہو کر سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہی عقیدے اور خیالات درست ہیں ورنہ یہ نعمتیں ہم کو کیوں ملتیں۔
وہ انہیں گمراہ قرار دیتے۔۔۔۔کہ خواہ مخواہ زھد(یعنی اخلاقیات میں دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے) اور ریاضت(یعنی عبادات میں مشقت برداشت) کر کے اپنی جانیں کھپاتے اور خیالی لذتوں کو موجودہ لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں، اور لا حاصل مشقتوں کا نام کمالاتِ حقیقی رکھا ہے۔ کیا یہ کھلی ہوئی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام چھوڑ کر ایک شخص(پیغمبر محمد ﷺ) کے پیچھے ہو لئے اور اپنے آبائی دین کو بھی ترک کر بیٹھے۔
یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کو ان مسلمانوں پر کچھ نگہبان نہیں بنایا گیا کہ احمق اپنی تباہ کاریوں سے آنکھیں بند کر کے ان کی حرکات کی نگرانی کیا کریں۔ اپنی اصلاح کی فکر نہ ہو اور سیدھی راہ چلنے والوں کو گمراہ اور احمق بنائیں۔
قیامت کے دن مسلمان ان کافروں پر ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے کوتاہ اندیش اور احمق تھے جو خسیس اور فانی چیز کو نفیس اور باقی نعمتوں پر ترجیح دی۔ آخر آج دوزخ میں کس طرح عذاب دائم کا مزہ چکھ رہے ہیں۔اپنی خوشحالی اور کافروں کی بدحالی کا نظارہ کر رہے ہیں۔
جو دنیا میں مسلمانوں کی ہنسی اڑاتے تھے، آج ان کا حال قابلِ مضحکہ ہو رہا ہے اور مسلمان ان کی گزشتہ حماقتوں کا خیال کر کے ہنستے ہیں۔
تفسیر ابن عباس»
اور جو مشرک تھے یعنی ابو جہل وغیرہ وہ ایمان والوں یعنی حضرت علی پر ہنسا کرتے تھے، اور جب ایمانداروں کا پیغمبر ﷺ کے پاس آنے کے لیے ان(مخالفین) پر سے گزر ہوتا تھا تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے، اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو جاتے تھے تو اپنے شرک پر خوشی اور مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اور صحابہ کرام کو دیکھ کر یہ کافر کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ گمراہ ہیں۔ حالانکہ یہ کافر مسلمانوں پر اور ان کے اعمال پر نگراں نہیں بھیجے گئے، سو آج قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنستے ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے، واقعی کافروں کو آخرت میں ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملا۔
تفسیر-امام-البغوی(م510ھ)»
القرآن:
جو لوگ مجرم تھے ﴿یعنی شرک کرنے والے کفار قریش جیسے: ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور ان کے ساتھی مکہ کے متکبرین مال داروں میں سے﴾، وہ ایمان والوں﴿یعنی پیغمبر کے اصحاب جیسے: عمار ، خباب، صہیب اور بلال اور ان کے ساتھی فقراء مومنین﴾ پر ہنسا کرتے تھے۔
اور جب ان ﴿کفار﴾ کے پاس سے ﴿مومنین﴾ گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں﴿پپوٹوں اور ابرو کے ذریعے﴾ اشارے کرتے تھے۔
اور جب ﴿کفار﴾ ان﴿پیغمبر کے اصحاب﴾ کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے تھے۔
اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تھے، تو دل لگی کرتے ہوئے جاتے تھے﴿خوش ہوتے ہوئے جس پر وہ ہیں ان کے تذکرہ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے﴾
اور جب ان (پیغمبر محمد ﷺ کے اصحاب) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔﴿کیونکہ وہ محمد ﷺ کے پاس آتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر ہیں﴾۔
حالانکہ ان﴿مشرکوں﴾ کو ان مسلمانوں﴿پیغمبر کے اصحاب﴾ پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔﴿یعنی ان کے اعمال کی نگرانی ان کے سپرد نہیں کی گئی﴾۔
ابو صالح(رح) فرماتے ہیں کہ کفار کے لئے جب وہ جہنم میں ہوں گے تو اس(جہنم) کے دروازے کھولے جائیں گے اور ان کو کہا جائے گا تم نکلو۔ پس جب وہ دروازے کھلے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ وہ نکل جائیں اور مومنین ان کو دیکھ رہے ہوں گے۔ پس جب وہ جہنم کے دروازوں تک پہنچیں گے تو ان کے سامنے بند کردیئے جائیں گے، یہ ان کے ساتھ کئی مرتبہ کیا جائے گا اور مومنین ہنستے ہوں گے۔
حضرت کعب(رح) فرماتے ہیں جنت اور جہنم کے درمیان "روشن دان" ہیں۔ پس جب مومن اپنے دنیا کے دشمن کو دیکھنے کا ارادہ کرے گا تو اس پر اس "روشن دان" سے جھانکے گا جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: *پھر وہ جھاک کر دیکھے گا تو اسے وہ دوزخ کے بیچوں بیچ نظر آئے گا۔*[سورۃ الصافات:55] پس جب وہ جنت میں اپنے دشمنوں پر جھانکیں گے اور وہ عذاب دیئے جارہے ہوں گے تو وہ ہنسیں گے۔
آخر ہوگا یہ کہ آج﴿آخرت میں﴾ ایمان لانے والے کافروں پر ہنس رہے ہوں گے۔
آرام دہ ﴿موتی اور یاقوت کی﴾ نشستوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے﴿ان مشرکین کی طرف جہنم میں﴾۔
کہ کافر لوگوں کو واقعی ان کاموں کا بدلہ مل گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔﴿یہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ سوال اپنے وعدوں کو یقینی ثابت ہوجانے کی تقریر ہے﴾۔
[تفسیر البغوی»سورۃ المطففين، آیت نمبر 29-36]
تفسیر ماجدی»
یہ سب ذکر اسی دنیا میں ہورہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس دنیا میں سامنے اور پیچھے ہر طرح ہر وقت اہلِ ایمان کی تحقیر واستہزاء کا مشغلہ جو لوگ جاری رکھتے تھے۔
(آیت) ’’الذین اجرموا‘‘۔ یعنی منکرین ومکذبین۔
یعنی آیت میں جرم قرآن کی متعدد دوسری آیتوں کی طرح ایمان کے مقابلہ میں ہے۔
حوالہ
المراد من قولہ ان الذین اجرموا اکابر المشرکین (کبیر) ای اشرکوا
﴿تفسیر معالم التنزیل﴾
(آیت) ’’المقربون‘‘۔ یہ جنت کے افضل ترین مرتبہ والے ہیں، جن کا ذکر سورۃ الواقعہ (پ ٢٧) میں آچکا ہے۔ بعض محققین نے مراد یہ لی ہے کہ جنت میں مقربین تو مشاہدۂ ذات کی لذت میں مستغرق رہیں گے۔ اور اصحب الیمین(دائیں ہاتھ والے) یا ابرار(نیک لوگ) مشاہدۂ ذات میں بھی رہیں گے اور مشاہدۂ مخلوقات میں بھی۔
حوالہ
فالمقربون لایشربون الا من التسنیم اے لایشتغلون الا بمطالعۃ وجھہ الکریم واصحاب الیمین یکون شرابھم ممزوجا فتارۃ یکون نظرھم الیہ وتارۃ الی مخلوقاتہ
﴿تفسیر کبیر﴾
(ایسے احمق جو ’’آج‘‘ کی نقد لذتوں کو ’’کل‘‘ کے خیالی وعدوں کے پیچھے چھوڑے ہوئے ہیں!) اسی زمانہ کے نہیں، آج بیسویں صدی کے بھی ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل مسلمانوں کو ’’رجعت پسند‘‘ اور ’’دقیانوسی‘‘ اور ’’تاریک خیال‘‘ کے خطابات دے دے کر اپنے دل کا بخار نکال رہے ہیں، بعض شاعروں نے اپنی حماقت سے جنت اور اہلِ جنت پر چوٹیں کی ہیں۔ آیت کے مضمون سے انہیں بھی ڈرنا چاہیے۔
(انہیں اہلِ ایمان پر طنز ومضحکہ کا حق ہی کیا تھا) اس میں ان لوگوں کی مزید حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے انجام کی طرف سے تو غافل ہیں، اور اہل ایمان کی فکر میں خواہ مخواہ پڑگئے ہیں۔
(جہنم میں منکروں اور کافروں کا حالِ زار) یعنی تو آخرت کے دن، جنت سے، مومنیں ان پر ہنسیں گے یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ اتنی واقع شہادتوں کے باوجود بھی آخرت کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور بدستور دنیا پرستی اور مادیت ہی میں غرق وبداخلاق رہے۔ (یہاں تک کہ مومنین سے کافروں کا مضحکہ وطنز بھی بغیرانتقام نہ رہا)۔
اگر عبادت گذار لوگ زیادہ گمراہ وناکام ہیں تو پھر ھدایت یافتہ-کامیاب کون رہا؟
اگر توحید والے مشرک ہیں تو پھر مشرک کون؟
اگر سنت والے بدعتی ہیں، تو پھر بدعتی کون؟
اگر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنے اور پاک رہنے والا، کوشش نہ کرنے والے جھوٹے سے زیادہ غلط ہے تو پھر صحیح کون؟





















No comments:
Post a Comment