Friday, 4 March 2022

دنیا کے معانی وحقائق، اسرار وعجائب، فوائد وفساد کی صورتیں


(1)دنیا نام ہے ادنیٰ چیز کا۔

دنیا کے لغوی معنیٰ ادنیٰ اور قریبی(جلدی والی) چیز کے ہے۔

[مفردات القرآن:صفحہ318»سورۃ البقرۃ:63، الاسراء:18]


قرآن سے شواہد و تفسیر
1. دنیا کی حقیقت:
{وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (الحدید: 20)
(اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔)
تفسیر: دنیا کی کوئی حقیقی قیمت نہیں، یہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔

2. دنیا کی بےوقعتگی:
{قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ} (النساء: 77)
(کہہ دو: دنیا کا سامان تھوڑا ہے۔)
تفسیر: دنیا کی متاع اللہ کے نزدیک بہت تھوڑی اور بےقدر ہے۔

3. اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر ہے:
{وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)
تفسیر: اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر اور دائمی ہے، جبکہ دنیا حقیر اور فانی ہے۔

4. کافروں کو دنیاوی نعمتیں:
{وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا} (آل عمران: 178)
(اور کافر یہ نہ سمجھیں کہ ہم انہیں جو مہلت دے رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے، ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں۔)
تفسیر: کافروں کو دنیاوی نعمتیں استدراج کے طور پر دی جاتی ہیں، نہ کہ عزت کے طور پر۔

5. مومن کو دنیا سے بچایا جاتا ہے:
{إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا} (الحج: 38)
(بیشک اللہ ایمان والوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے۔)
تفسیر: اللہ مومنین کو دنیا کی محبت اور فتنوں سے بچاتا ہے۔

6. دنیا کی مثال:
{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} (الحدید: 20)
(جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، تمہارے درمیان فخر، اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔)

7. دنیا کی فنا:
{كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ} (الرحمن: 26)
(ہر وہ چیز جو اس (زمین) پر ہے فانی ہے۔)

8. آخرت کی ترجیح:
{بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (الأعلی: 16-17)
(بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔)







حضرت مستورد بن شدادؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر(نكال كر) دیکھے کہ وه سمندر كا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے۔

[صحيح مسلم:2858، سنن الترمذي:2323، سنن ابن ماجه:4108]

تفسير ابن أبي حاتم-سورۃ التوبۃ:38، تفسير السمرقندي-سورۃ الرعد:26، تفسير الثعلبي-سورۃ آل عمران:197، تفسير البغوي-سورۃ النساء:77


حدیث کی تخریج و حکم:

یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم (2858) میں مروی ہے۔ اسے امام مسلم، امام ترمذی (2323)، امام ابن ماجہ (4108)، اور امام أحمد (18038) نے روایت کیا۔

حدیث کا مرکزی مضمون:
دنیا کی حقیقت آخرت کے مقابلے میں بےحد حقیر ہے۔

مثال: اگر کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور نکالے تو اس پر جو پانی لگا رہ جاتا ہے، وہ سمندر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

اسی طرح دنیا، آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔


تشریح:

اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کا ملنا اور مال وجاہ کے حصول میں اس دنیا میں کوشش کرنا سریع الزوال اور فنا ہونے والے امور میں سے ہے‘ پس انسان کو چاہئے کہ جلد فنا ہونے والی دنیا کی نعمتوں پر خوش نہ ہو اور نہ وسعت دنیا پر مغرور ہو اور نہ اس کی تنگی وسختیوں پر روئے پیٹے اور نہ شکوہ شکایت کرے‘ بلکہ دونوں حالتوں میں کہے ”اے اللہ ! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے“۔



عنوان: دنیا کی حقیقت – تھوڑی، پھر تھوڑے میں سے تھوڑی

عربی متن
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"إِنَّ اللهَ تَعَالَى جَعَلَ الدُّنْيَا كُلَّهَا قَلِيلًا، وَمَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا الْقَلِيلُ مِنَ الْقَلِيلِ، وَمَثَلُ مَا بَقِيَ مِنْهَا كَالثَّغْبِ(1) شُرِبَ صَفْوُهُ(2) وَبَقِيَ كَدَرُهُ."(3) (4)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو تھوڑی بنایا ہے، اور اس میں سے جو باقی رہ گیا ہے وہ تھوڑے میں سے تھوڑا ہے۔ اور اس باقی ہوئی دنیا کی مثال اس تالاب (1) کی طرح ہے جس کا صاف پانی پی لیا گیا (2)، اور صرف گدلا پانی باقی رہ گیا۔"(3) (4)



حواشی وحوالہ جات:
(1) "الثَّغَب": پہاڑ کی چوٹی پر ہموار جگہ جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔ بعض نے کہا: زمین کی سخت جگہ یا چٹان پر چھوٹا تالاب، جو تھوڑا ہوتا ہے۔
(النہایۃ فی غریب الأثر: 1/613)
(2) "الصَّفْو": ہر چیز کا خالص اور صاف حصہ۔
(3) "الكَدَر": وہ چیز جو صاف نہ ہو، یعنی گدلا پانی۔
(4) المستدرك للحاکم:7904؛ صحیح الجامع:2617؛ السلسلة الصحيحة:1625۔





عنوان: دنیا کی بےوقعتگی – اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں
عربی متن
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ." (1) (2)
ترجمہ:
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن رکھتی، تو اللہ کسی کافر کو اس سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔" (1) (2)

حواشی وحوالہ جات:
(1) یعنی: اللہ کافر کو دنیا سے ادنیٰ سے ادنیٰ فائدہ بھی نہ دیتا، کیونکہ کافر اللہ کا دشمن ہے، اور دشمن کو اس چیز میں سے کچھ نہیں دیا جاتا جو دینے والے کے نزدیک قدر و قیمت رکھتی ہو۔ پس دنیا کی حقارت کی وجہ سے اللہ اسے اپنے دوستوں (مومنین) کو نہیں دیتا، جیسا کہ اس حدیث میں اشارہ ہے: "بیشک اللہ اپنے مومن بندے کو دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۔"
(تحفۃ الأحوذی: 6/105)

(2) جامع الترمذی: 2320؛ سنن ابن ماجہ: 4110؛ صحیح الجامع: 5292؛ السلسلة الصحيحة: 686۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ترمذی نے جامع الترمذی (2320) میں، امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (4110) میں روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (5292) اور السلسلة الصحيحة (686) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
دنیا کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔
اگر دنیا کی کوئی قیمت ہوتی تو اللہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔
دنیا کی حقارت کی وجہ سے اللہ اسے کافروں کو دے دیتا ہے اور مومنین کو بچاتا ہے۔



القرآن:

اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ (10) اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

[سورۃ الزخرف:35(تفسیر الخازن)]

تفسیر:

(10) بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بےحقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال و دولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کا سارا ساز و سامان سونے چاندی کا بنا دیتا ، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔

عنوان: دنیا میں حقیر مگر اللہ کے نزدیک بلند مقام والے لوگ
عربی متن
عَنْ ثَوْبَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَوْ أَتَى بَابَ أَحَدِكُمْ فَسَأَلَهُ دِينَارًا، لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ، وَلَوْ سَأَلَهُ دِرْهَمًا، لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ، وَلَوْ سَأَلَهُ فَلْسًا، لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ، وَلَوْ سَأَلَ اللهَ الْجَنَّةَ، لَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، وَلَوْ سَأَلَهُ الدُّنْيَا لَمْ يُعْطِهَا إِيَّاهُ، وَمَا يَمْنَعُهَا إِيَّاهُ لِهَوَانِهِ عَلَيْهِ، ذُو طِمْرَيْنِ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ، لَوْ يُقْسِمُ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ." (1) (2)

ترجمہ:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر ایک دینار مانگیں، تو وہ اسے نہ دے، اور اگر ایک درہم مانگیں، تو بھی نہ دے، اور اگر ایک فلس (چھوٹا سکہ) مانگیں، تو بھی نہ دے۔ لیکن اگر وہ اللہ سے جنت مانگیں، تو اللہ انہیں جنت عطا فرما دے، اور اگر وہ اللہ سے دنیا مانگیں، تو وہ انہیں دنیا نہ دے، اور وہ دنیا انہیں اس لیے نہیں دیتا کہ وہ اللہ کے نزدیک حقیر ہیں۔ (ایسے لوگ) دو پرانے کپڑوں والے ہوتے ہیں، جن کی کوئی پروا نہیں کرتا، مگر اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں، تو اللہ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔" (1) (2)



حاشیہ وحوالہ جات :
(1) "أبرَّ اللهُ قَسَمَهُ": اللہ نے اس کی قسم کو سچا کیا، اسے قبول کیا اور پورا کیا۔
(2) الزهد لأحمد بن حنبل:67، الزهد لهناد:587، السلسلة الصحيحة:2643۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد بن حنبل نے الزهد (67) میں اور هناد نے الزهد (587) میں روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (2643) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:

کچھ لوگ دنیا میں حقیر ہوتے ہیں، لوگ انہیں کچھ نہیں دیتے۔

مگر اللہ کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند ہے۔

اگر وہ جنت مانگیں تو اللہ عطا فرماتا ہے۔

اگر وہ دنیا مانگیں تو اللہ نہیں دیتا، کیونکہ دنیا ان کے لیے حقیر ہے۔

وہ دو پرانے کپڑوں والے ہوتے ہیں، جنہیں لوگ اہمیت نہیں دیتے۔

مگر اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کرتا ہے۔



قرآن سے شواہد و تفسیر
1. اللہ کے نزدیک بلند مقام:
{إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} (الحجرات: 13)
(بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔)
تفسیر: عزت کا معیار مال و دولت نہیں، بلکہ تقویٰ ہے۔









عنوان: اللہ اپنے مومن بندے کو دنیا سے بچاتا ہے – جیسے بیمار کو کھانے پینے سے بچایا جاتا ہے
عربی متن
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"إِنَّ اللهَ - عز وجل - لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ، كَمَا تَحْمُونَ مَرِيضَكُمْ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، تَخَافُونَ عَلَيْهِ."
ترجمہ:
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک اللہ عزوجل اپنے مومن بندے کو دنیا سے بچاتا ہے حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، جیسے تم اپنے بیمار کو کھانے اور پینے سے بچاتے ہو، اسے اس پر نقصان کا خوف ہوتا ہے۔"

[مسند الإمام أحمد: 23671؛ شعب الإيمان للبيہقي: 10450؛ نیز دیکھیں صحیح الجامع: 1814 اور صحیح الترغیب والترہیب: 3179]



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد (23671) اور امام بیہقی (10450) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (1814) اور صحیح الترغیب والترہیب (3179) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:

اللہ اپنے مومن بندے سے محبت کرتا ہے۔

مگر اسے دنیا سے بچاتا ہے، یعنی اسے دنیا کی زیادہ نعمتیں نہیں دیتا۔

مثال: جیسے بیمار کو کھانے پینے سے روکا جاتا ہے، کیونکہ اس میں اس کے لیے نقصان ہے۔

اسی طرح دنیا کی کثرت مومن کے لیے آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے اللہ اسے بچاتا ہے۔



قرآن سے شواہد و تفسیر
1. اللہ کی محبت مومنین سے:
{فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ} (آل عمران: 76)
(بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔)
تفسیر: اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے، اور اسی محبت کی وجہ سے انہیں دنیا کے فتنوں سے بچاتا ہے۔



عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ»

ترجمہ:

حصرت قتادہ بن نعمان سے روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ پاک اپنے کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو دنیا سے اس طرح جاتے ہیں جس طرح (جان جانے کے) خوف سے اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے پرہیز کرواتے ہو۔ 

[سنن الترمذي:2036، صحيح ابن حبان:669، مصنف ابن أبي شيبة (35705)، انظر صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:3180]

[المستدرك على الصحيحين للحاكم:7464]

القرآن

اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔

[سورۃ الشورى:28]


عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رضي الله عنه قَالَ:

كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ وَقَفُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّخْلَةِ الْمَيِّتَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: "أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا؟" قَالُوا: مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا يَا رَسُولَ اللهِ (1) قَالَ: "فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ - عز وجل - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا." (2)


حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میں ان سواروں کے ساتھ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مردہ بکری کے بچے پر رکے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'کیا تم دیکھتے ہو کہ یہ (مردہ بچہ) اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہو گیا، جب انہوں نے اسے پھینک دیا؟'

انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اسی کی حقارت کی وجہ سے تو انہوں نے اسے پھینک دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'پس قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک دنیا اللہ عزوجل کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے۔' (2)"


حوالہ جات:
(1) جامع الترمذی: 2321۔
(2) سنن ابن ماجہ: 4111؛ جامع الترمذی: 2321؛ مسند الإمام أحمد: 18049؛ صحیح الترغیب والترہیب: 3239۔

حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ترمذی (2321)، امام ابن ماجہ (4111)، اور امام أحمد (18049) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الترغیب والترہیب (3239) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔

حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری کے بچے کی طرف اشارہ کیا جو پھینک دیا گیا تھا۔

صحابہ نے کہا کہ اس کی حقارت کی وجہ سے اسے پھینکا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: "دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ بچہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے۔"









عنوان: دنیا کی بےوقعتگی – مردہ بکری کے بچے سے بھی زیادہ حقیر
عربی متن
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - قَالَ:
"مَرَّ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ فَقَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ؟ قَالُوا: وَاللهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ هَذَا السَّكَكُ بِهِ عَيْبًا، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ؟ قَالَ: فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ."

ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی بالائی جانب سے بازار میں داخل ہوئے، اور لوگ آپ کے دونوں طرف تھے۔ پھر آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے جس کے کان چھوٹے تھے (یا کٹے ہوئے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا، اس کا کان پکڑا، پھر فرمایا:

'تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟'

انہوں نے کہا: ہم اسے کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں کرتے، اور ہم اس کا کیا کریں گے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'کیا تم اسے اپنے لیے لینا پسند کرو گے؟'

انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو اس کے کانوں کا چھوٹا ہونا اس میں عیب ہوتا، پھر یہ مردہ کیسے (قابلِ قبول ہو گا)؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'پس اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے۔'"


[صحیح مسلم: 2 - (2957)؛ سنن أبی داود: 186؛ مسند الإمام أحمد: 14972]



تشریح:

"الْعَالِيَة" سے مراد مدینہ کی بالائی جانب کے علاقے ہیں۔

"كَنَفَتَيْهِ" یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پہلوؤں پر۔

"الْأَسَكّ" سے مراد وہ بکری کا بچہ جس کے کان چھوٹے ہوں، یا کٹے ہوئے ہوں، یا بہرے ہوں۔ یہاں مراد چھوٹے کان والا ہے۔
(عون المعبود: 1/208)



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم (2957) میں مروی ہے۔ اسے امام مسلم، امام ابوداود (186)، اور امام أحمد (14972) نے روایت کیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے۔

ایک مردہ بکری کا بچہ ملا جس کے کان چھوٹے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا کوئی اسے ایک درہم میں لینا چاہے گا؟

لوگوں نے کہا: نہیں، ہم اسے کسی بھی چیز میں نہیں لینا چاہتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے۔"



دنیا کی تعریف – اس حدیث کی روشنی میں
اس حدیث سے دنیا کی تعریف یہ بنتی ہے:

دنیا ایک بےقدر، عیب دار، مردہ اور فانی چیز ہے، جس کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔

تفصیل:

بےقدر: جس طرح مردہ بکری کا بچہ لوگوں کے نزدیک کسی قیمت کا نہیں، اسی طرح دنیا اللہ کے نزدیک بےقدر ہے۔

عیب دار: بکری کے بچے میں کانوں کا عیب تھا، اور دنیا میں بھی ہر چیز عیب اور نقص سے بھری ہوئی ہے۔

مردہ: وہ بچہ مردہ تھا، اور دنیا بھی روحانی طور پر مردہ اور بےجان ہے۔

فانی: جس طرح مردہ بچہ گل سڑ جائے گا، دنیا بھی فانی ہے۔

بےوقع: اللہ کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہیں، اسی لیے وہ کافروں کو بھی دنیاوی نعمتیں دے دیتا ہے۔

نتیجہ: دنیا کو مقصد نہیں بنانا چاہیے، بلکہ یہ ایک ذریعہ ہے، اور اس کی حقیقت بےقدر اور فانی ہے۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری کے بچے کی طرف اشارہ کیا جو پھینک دیا گیا تھا۔
صحابہ نے کہا کہ اس کی حقارت کی وجہ سے اسے پھینکا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: "دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ بچہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے۔"







عنوان: دنیا کی مثال – کھانے، پینے اور ان کے انجام (بدبودار فضلے) کی مانند
عربی متن
عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ:
جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمْ: "أَلَكُمْ طَعَامٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "فَلَكُمْ شَرَابٌ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "فَتُصَفُّونَهُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "وَتُبَرِّدُونَهُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "فَإِنَّ مَعَادَهُمَا كَمَعَادِ الدُّنْيَا، يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى خَلْفِ بَيْتِهِ فَيُمْسِكُ عَلَى أَنْفِهِ مِنْ نَتْنِهِ."

ترجمہ:
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟"
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو کیا تمہارے پاس پانی (مشروب) ہے؟"
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو تم اسے صاف کرتے ہو (چھانتے ہو)؟"
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اور تم اسے ٹھنڈا کرتے ہو؟"
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پس بیشک ان دونوں کا انجام دنیا کے انجام کی طرح ہے۔ تم میں سے کوئی اپنے گھر کے پیچھے جاتا ہے اور اس کی بدبو کی وجہ سے اپنی ناک پکڑ لیتا ہے۔"

[المعجم الكبير للطبراني: 6/248، حدیث 6119؛ نیز دیکھیں صحیح الترغیب والترہیب: 3241]



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام طبرانی نے المعجم الكبير (6/248، حدیث 6119) میں روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الترغیب والترہیب (3241) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ان کے کھانے اور پینے کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کھانے کو صاف کرتے ہیں اور پانی کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا انجام دنیا کے انجام کی طرح ہے، یعنی جس طرح کھانا اور پانی آخر کار فضلہ (پیشاب و پاخانہ) بن جاتے ہیں، اسی طرح دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔
انسان خود اس فضلے کی بدبو سے ناک پکڑتا ہے۔





عنوان: دنیا کی مثال – ابن آدم کے کھانے اور اس کے فضلے کی مانند
عربی متن
عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ الْكِلَابِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"يَا ضَحَّاكُ، مَا طَعَامُكَ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ، قَالَ: "ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا؟" قُلْتُ: إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ، قَالَ: "فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا."

ترجمہ:
حضرت ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
"اے ضحاک! تمہارا کھانا کیا ہے؟"
میں نے کہا: یا رسول اللہ! گوشت اور دودھ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر وہ کیا بن جاتا ہے؟"
میں نے کہا: اس چیز میں جو آپ جانتے ہیں (یعنی فضلہ)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو چیز ابن آدم سے خارج ہوتی ہے اسے دنیا کے لیے مثال بنایا ہے۔"

[مسند الإمام أحمد: 15785؛ المعجم الكبير للطبراني: 8/299، حدیث 8138؛ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 382]



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد نے مسند (15785) میں اور امام طبرانی نے المعجم الكبير (8/299، حدیث 8138) میں روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (382) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحاک رضی اللہ عنہ سے ان کا کھانا پوچھا۔
انہوں نے گوشت اور دودھ بتایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ وہ آخر کار کیا بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: فضلہ (پیشاب و پاخانہ)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے ابن آدم کے فضلے کو دنیا کی مثال بنایا ہے۔






عنوان: دنیا کی مثال – ابن آدم کے کھانے کی مانند
عربی متن
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا، وَإِنْ قَزَّحَهُ (1) وَمَلَّحَهُ، فَانْظُرُوا إِلَى مَا يَصِيرُ (2)." (3)
ترجمہ:
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے مثال بنایا گیا ہے۔ اور اگر وہ اس میں نمک اور مصالحے ڈالے (1)، تو دیکھو کہ وہ آخر کار کیا بن جاتا ہے (2)۔" (3)



حواشی حوالہ جات:
(1) یعنی: اس میں قزح ڈالے، جو تابل (مصالحہ) ہے۔

(2) حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اسے خوشبودار چیزوں اور عطر سے معطر کرتے ہیں، پھر اسے وہاں پھینک دیتے ہیں جہاں تم دیکھ رہے ہو (یعنی بیت الخلاء میں)۔

(3) مسند الإمام أحمد: 21277؛ صحیح ابن حبان: 702؛ صحیح الجامع: 1778؛ السلسلة الصحيحة: 382۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد نے مسند (21277) میں، امام ابن حبان نے صحیح (702) میں روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (1778) اور السلسلة الصحيحة (382) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
ابن آدم کے کھانے کو دنیا کی مثال قرار دیا گیا ہے۔
انسان کھانے کو نمک، مصالحے اور خوشبو سے آراستہ کرتا ہے۔
پھر وہی کھانا گندگی (پاخانہ) بن جاتا ہے۔
اسی طرح دنیا کو آراستہ کیا جاتا ہے، مگر آخر کار وہ فانی ہے۔










آخرت کو ترجیح دینا۔

حضرت ابوھریرہ ؓ ﴿ابو موسیٰ اشعری﴾ سے روایت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا ﴿أَحَبَّ الدُّنْيَا﴾ أَضَرَّ بِالآخِرَةِ، وَمَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ ﴿أَحَبَّ الآخِرَةَ﴾ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا فَأَضِرّوا بِالفَانِيَ لِلْبَاقِي۔

ترجمہ:

جس شخص نے دنیا طلب كی ﴿دنیا سے محبت کی﴾ اس نے آخرت کا نقصان اٹھایا اور جس شخص نے ﴿آخرت سے محبت کی﴾ آخرت طلب كی اس نے دنیا كا نقصان اٹھایا، لہٰذا باقی رہنے والی چیز(آخرت) كے لئے فنا ہونے والی(دنیا) كا نقصان برداشت كر لو۔

[الصحيحة:3287، الزهد لابن أبي عاصم:161 ﴿مسند البزار:3067﴾]


حوالہ جات:

مسند الإمام أحمد: 19713؛ صحیح ابن حبان: 709؛ المستدرك للحاکم: 7897؛ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 3287 اور صحیح الترغیب والترہیب: 3247۔



حدیث کی تخریج و حکم

یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد (19713)، امام ابن حبان (709)، اور امام حاکم (7897) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (3287) اور صحیح الترغیب والترہیب (3247) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔


حدیث کا مرکزی مضمون:

دنیا کی محبت آخرت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

آخرت کی محبت دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے (یعنی دنیا کی عیش و آرام سے محرومی)۔

ترجیح: باقی رہنے والی چیز (آخرت) کو فنا ہونے والی چیز (دنیا) پر ترجیح دو۔



دلوں کی سختی کو نرم کردینے والی بات:

حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا کو اپنا محبوب ومطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا‘ (پس جب دنیا وآخرت میں سے ایک کو محبوب بنانے سے دوسری کا نقصان برداشت کرنا لازم اور ناگزیر ہے تو عقل ودانش کا تقاضا یہی ہے کہ) فنا ہونے والی (دنیا) کے مقابلہ میں‘ باقی رہنے والی (آخرت)کو اختیار کرو۔

[صحيح ابن حبان:709، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7897]


اللہ پاک نے فرمایا:

لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔ حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔

[سورۃ الاعلیٰ:16+17]


حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا اور فرمایا کہ: سن لو اور یاد رکھو کہ دنیا ایک وقتی اور عارضی سودا ہے جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے (اور اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں اسی لئے) اس میں ہر نیک وبد کا حصہ ہے اور سب اسی سے کھاتے ہیں‘ اور یقین کرو کہ آخرت مقرر وقت پر آنے والی ایک سچی اٹل حقیقت ہے اور اس میں سب کچھ پر قدرت رکھنے والا شہنشاہ (اللہ) فیصلہ کرے گا‘ یاد رکھو کہ ساری خیر اور خوشگواری اور اس کی تمام قسمیں جنت میں ہیں اور سارا شر اور دکھ اور اس کی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں‘ پس خبردار! (جو کچھ کرو) اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو‘ اور یقین کرو کہ تم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کئے جاؤگے‘ پس جس شخص نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لے گا۔{سورة الزلزال:}

[مسند الشافعي - ترتيب سنجر: حدیث#445، السنن الكبرى - البيهقي - ط العلمية: حدیث#5808، حلية الأولياء-أبو نعيم: جلد 1 / صفحہ 264]













عنوان: شہدائے اُحد پر نمازِ جنازہ، منبر پر آخری خطاب اور دنیا کے فتنے کا خوف
عربی متن
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رضي الله عنه قَالَ:
(" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى) (١) (قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ) (٢) (صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ) (٣) (ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ) (٤) (فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ , وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ , وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ) (٥) (وَإِنِّي وَاللهِ) (٦) (لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ) (٧) (الْآنَ) (٨) (مِنْ مَقَامِي هَذَا) (٩) (وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ) (١٠) (وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ) (١١) (أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي) (١٢) (وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا) (١٣) (أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا وَتَقْتَتِلُوا , فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ") (١٤) (قَالَ عُقْبَةُ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم) (١٥) (عَلَى الْمِنْبَرِ) (١٦).

ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہدائے اُحد پر آٹھ سال بعد نمازِ جنازہ پڑھی، جیسے آپ کسی میت پر نماز پڑھتے ہیں (1) (2) (3)۔ پھر آپ منبر پر تشریف لے گئے، گویا زندوں اور مردوں دونوں کو الوداع کہہ رہے ہیں (4)۔ پھر فرمایا:

'بیشک میں تم سے پہلے (حوضِ کوثر پر) پہنچنے والا ہوں، اور میں تم پر گواہ ہوں، اور تمہارے (ملنے کا) وعدہ حوض ہے (5)۔ اور میں اللہ کی قسم! اپنی اس جگہ سے ابھی اسی (حوض) کو دیکھ رہا ہوں (6) (7) (8) (9)۔ اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں (10)۔ اور میں تم پر اس بات کا خوف نہیں رکھتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے (11) (12)، لیکن مجھے تم پر دنیا کا خوف ہے: (کہ) تم اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے اور آپس میں لڑو گے، پس تم ہلاک ہو جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے (13) (14)۔'

(حضرت عقبہ کہتے ہیں:) 'یہ میری آخری نظر تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منبر پر ڈالی (15) (16)۔'



حوالہ جات:
1. صحیح البخاری: 3401؛ صحیح مسلم: 30 - (2296)۔

2. صحیح البخاری: 3816۔

3. صحیح البخاری: 3401؛ صحیح مسلم: 30 - (2296)۔

4. صحیح مسلم: 31 - (2296)۔

5. صحیح البخاری: 3816؛ صحیح مسلم: 30 - (2296)۔

6. صحیح البخاری: 3401۔

7. صحیح البخاری: 3816۔

8. صحیح البخاری: 3401۔

9. صحیح البخاری: 3816؛ صحیح مسلم: 30 - (2296)۔

10. صحیح البخاری: 6062؛ صحیح مسلم: 30 - (2296)۔

11. صحیح البخاری: 3816۔

12. صحیح البخاری: 3401؛ صحیح مسلم: 30 - (2296)۔

13. صحیح البخاری: 3816؛ صحیح مسلم: 31 - (2296)۔

14. صحیح مسلم: 31 - (2296)؛ صحیح البخاری: 3401؛ مسند أحمد: 17382۔

15. صحیح البخاری: 3816؛ صحیح مسلم: 31 - (2296)۔

16. صحیح مسلم: 31 - (2296)۔




حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے۔ اسے امام بخاری (3401، 3816، 6062)، امام مسلم (2296)، اور امام أحمد (17382) نے روایت کیا۔




حدیث کا مرکزی مضمون:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے اُحد پر آٹھ سال بعد نمازِ جنازہ پڑھی۔

پھر منبر پر تشریف لے گئے، گویا زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر پہنچنے والا ہوں، تم پر گواہ ہوں، اور تمہارا وعدہ حوض ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: میں ابھی اسی جگہ سے حوض کو دیکھ رہا ہوں۔

آپ ﷺ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں۔

آپ ﷺ کو شرک کا خوف نہیں، بلکہ دنیا کے فتنے کا خوف ہے۔

دنیا کی حرص امتوں کو باہمی کشت و خون اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ عقبہ رضی اللہ عنہ کی آخری نظر تھی جو انہوں نے نبی ﷺ پر منبر پر ڈالی۔










عنوان: حقیقی غنیٰ اور حقیقی فقر – دل کی دولت
عربی متن
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ:
قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: "يَا أَبَا ذَرٍّ، أَتَرَى كَثْرَةَ الْمَالِ هُوَ الْغِنَى؟" قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: "وَتَرَى قِلَّةَ الْمَالِ هُوَ الْفَقْرُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: "إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فَقْرُ الْقَلْبِ (1) مَنْ كَانَ الْغِنَى فِي قَلْبِهِ فَلَا يَضُرُّهُ مَا لَقِيَ فِي الدُّنْيَا، وَمَنْ كَانَ الْفَقْرُ فِي قَلْبِهِ فَلَا يُغْنِيهِ مَا كَثُرَ لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِنَّمَا يَضُرُّ نَفْسَهُ شُحُّهَا." (2)

ترجمہ:
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

'اے ابو ذر! کیا تم سمجھتے ہو کہ مال کی کثرت ہی غنی (دولت مندی) ہے؟'

میں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اور کیا تم سمجھتے ہو کہ مال کی کمی ہی فقر (غربت) ہے؟'

میں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'بیشک حقیقی غنی دل کی غنی (دولت) ہے، اور حقیقی فقر دل کا فقر (تنگ دلی) ہے (1)۔ جس کے دل میں غنی ہو، اسے دنیا میں جو کچھ بھی پیش آئے نقصان نہیں دیتا۔ اور جس کے دل میں فقر ہو، اسے دنیا میں مال کی کثرت بھی غنی نہیں بنا سکتی۔ اور بیشک اسے نقصان پہنچاتی ہے اسی کی تنگ دلی۔' (2)"



حوالہ جات:
(1) صحیح ابن حبان: 685
المستدرك للحاکم: 7929
صحیح الترغیب والترہیب: 827، 3203

(2) المعجم الكبير للطبرانی: 2/154، حدیث 1643
صحیح الجامع: 7816




حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ابن حبان (685)، امام حاکم (7929)، اور امام طبرانی (2/154، حدیث 1643) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الترغیب والترہیب (827، 3203) اور صحیح الجامع (7816) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔




حدیث کا مرکزی مضمون:

صحابہ کی عام فہم یہ تھی کہ مال کی کثرت = غنی اور مال کی کمی = فقر۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فہم کی اصلاح فرمائی:

حقیقی غنی = دل کی غنی (قناعت اور اللہ پر توکل)۔

حقیقی فقر = دل کا فقر (حرص، طمع، اور عدم قناعت)۔

دل کا غنی شخص دنیا کی مصیبتوں اور کمی سے نقصان نہیں اٹھاتا۔

دل کا فقیر شخص مال کی کثرت کے باوجود بھی محتاج رہتا ہے۔

تنگ دلی (شح) ہی اصل نقصان دہ چیز ہے۔






عنوان: دنیا کی ہر بلندی کا انجام پستی ہے – اونٹنی عضباء کا واقعہ
عربی متن
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ:
"كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ (1) وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ (2) لَهُ فَسَبَقَهَا (3) فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى عَرَفَهُ (4) فَقَالَ: حَقٌّ عَلَى اللهِ (5) أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ." (6) (7)


ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا (1)، اور وہ (دوڑ میں) کبھی نہ ہاری تھی۔ پھر ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے قعود (جوان اونٹ) (2) پر آیا اور اس نے اس (عضباء) کو پیچھے چھوڑ دیا (3)۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر (رنج و ملال کا) اثر جان لیا (4)۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'اللہ پر یہ حق ہے (5) کہ وہ دنیا کی ہر اونچی چیز کو نیچا کر دے (6)۔' (7)"



حواشی وحوالہ جات:
(1) "الْعَضْبَاء": وہ اونٹنی جس کا کان کٹا ہوا یا پھٹا ہوا ہو۔
(فتح الباری: 9/10)

(2) "الْقَعُود": اونٹوں میں سے وہ جوان اونٹ جو سواری کے قابل ہو جائے۔ الجوہری نے کہا: یہ بکر (جوان اونٹ) ہے یہاں تک کہ اس پر سواری کی جائے، اور کم از کم وہ دو سال کا ہو اور چھٹے سال میں داخل ہو، پھر اسے جمل کہا جاتا ہے۔
ازہری نے کہا: یہ صرف نر کے لیے بولا جاتا ہے، مادہ کے لیے قعودہ نہیں کہا جاتا، بلکہ اسے قلوص کہا جاتا ہے۔
(فتح الباری: 9/10)

(3) صحیح البخاری: 6136۔

(4) یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشقت کا اثر جان لیا۔ اور مصنف کی کتاب الرقاق میں روایت ہے: "جب آپ نے ان کے چہروں پر (رنج کا) اثر دیکھا، اور انہوں نے کہا: عضباء پیچھے چھوڑ دی گئی۔"
(فتح الباری: 9/10)

(5) یعنی: یہ اللہ کی غالب عادت ہے۔
(عون المعبود: 10/324)

(6) یعنی: اسے نیچا اور پست کر دے۔

(7) صحیح البخاری: 2717؛ سنن النسائی: 3588؛ سنن أبی داود: 4802؛ مسند أحمد: 12029۔

(8) اس حدیث میں دنیا سے بےرغبتگی (زہد) کی ترغیب ہے، اور اس بات کی طرف رہنمائی ہے کہ دنیا کی ہر بلند چیز آخر کار پست ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے اپنی امت کو دنیا کی متاع پر فخر اور مباہات چھوڑنے کی تنبیہ فرمائی، اور یہ کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہی اصل ہے۔ پس صاحبِ دین اور صاحبِ عقل پر لازم ہے کہ وہ دنیا سے بےرغبتگی اختیار کرے اور اس کے حصول پر فخر چھوڑ دے، کیونکہ اس کی متاع بہت کم ہے اور اس کا حساب بہت طویل ہے۔
(عون المعبود: 10/324)



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ ہے۔ اسے امام بخاری (2717، 6136)، امام نسائی (3588)، امام ابوداود (4802)، اور امام أحمد (12029) نے روایت کیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء کبھی دوڑ میں نہ ہاری تھی۔
ایک اعرابی اپنے جوان اونٹ پر اسے پیچھے چھوڑ گیا۔
مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ پر حق ہے کہ دنیا کی ہر بلند چیز کو نیچا کر دے۔"





دنیا کی حقیقت:

حضرت علی ؓ نے فرمایا:

«حَلَالُهَا حِسَابٌ، وَحَرَامُهَا عَذَابٌ»

ترجمہ:

جس کے حلال میں حساب، اور جس کے حرام میں عذاب ہے۔

[الزهد لأبي داود:109، الزهد لابن أبي الدنيا:18]



دنیا، پیٹھ دے کر جانے والی چیز ہے:

صحیح بخاری میں باب: امید اور اس کے طول (لمبی امیدوں) کے بارے میں بیان

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
ترجمہ:
”پس جو شخص جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“
[آل عمران: 185]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ﴾
ترجمہ:
”انہیں چھوڑ دو کہ وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں، اور (لمبی) امید انہیں غافل کیے رکھے؛ پس عنقریب وہ جان لیں گے۔“
[الحجر: 3]

اور حضرت علیؓ نے فرمایا:

”ارْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً وَارْتَحَلَتِ الْآخِرَةُ مُقْبِلَةً، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ، فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ، وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلَ۔“
ترجمہ:
”دنیا پیٹھ پھیر کر رخصت ہو رہی ہے، اور آخرت رخ کر کے آ رہی ہے۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کے بیٹے (پیروکار) ہیں۔ پس تم آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے بیٹے نہ بنو؛ کیونکہ آج عمل کا دن ہے، حساب کا نہیں؛ اور کل حساب کا دن ہوگا، عمل کا نہیں۔“

دنیا کی تعریف:
دنیا ایک عارضی، فانی، رخصت ہونے والی اور دھوکے کا سامان ہے۔
اگر اسے ہی مقصد بنا لیا جائے تو یہ «متاع الغرور» ہے۔
لیکن اگر اسے آخرت کی کھیتی سمجھ کر عمل، اطاعت اور آخرت کی تیاری کا میدان بنایا جائے تو یہی دنیا کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔


قرآن سے شواہد و تفسیر
1. دنیا کی حقیقت:
{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} (الحدید: 20)
(جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، تمہارے درمیان فخر، اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔)
تفسیر: دنیا کی ہر چیز عارضی اور بےقدر ہے۔

2. دنیا کی بےوقعتگی:
{قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ} (النساء: 77)
(کہہ دو: دنیا کا سامان تھوڑا ہے۔)

3. آخرت بہتر اور باقی ہے:
{وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (الأعلی: 17)
(اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔)

4. دنیا کی مثال:
{وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ} (الکهف: 45)
(اور انہیں دنیا کی زندگی کی مثال دے: اس پانی کی طرح جو ہم نے آسمان سے نازل کیا، پھر زمین کی سبزی اس کے ساتھ مل گئی، پھر وہ سوکھی ہوئی ہو گئی جسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔)

5. دنیا کا فریب:
{وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (الحدید: 20)
(اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔)

6. دنیا کی فنا:
{كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ} (الرحمن: 26)
(ہر وہ چیز جو اس (زمین) پر ہے فانی ہے۔)

7. قیامت کے دن مال کا حساب:
{وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} (النحل: 93)
(اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تم کیا کرتے تھے۔)

8. آخرت کی ترجیح:
{بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (الأعلی: 16-17)
(بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔)



حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ"
(آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت صرف اتنی ہے جتنی تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا لے کر واپس آتی ہے۔)
(صحیح مسلم: 2858)

2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ"
(اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن رکھتی، تو اللہ کسی کافر کو اس سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔)
(جامع الترمذی: 2320، سنن ابن ماجہ: 4110)

3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا"
(قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے۔)
(صحیح مسلم: 2957)

4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ"
(دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔)
(صحیح مسلم: 2956)

5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَىٰ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ"
(اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری چاہے گا، اور اس کا منہ مٹی کے سوا کچھ نہیں بھر سکتا۔)
(صحیح البخاری: 6436، صحیح مسلم: 1048)

6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ تَعَجَّلَ فِي الدُّنْيَا شَيْئًا لَمْ يَزِدْهُ ذَلِكَ إِلَّا بُعْدًا مِنَ الْآخِرَةِ"
(جو شخص دنیا میں کوئی چیز جلد حاصل کرنا چاہتا ہے، تو یہ اسے آخرت سے دوری کے سوا کچھ نہیں بڑھاتا۔)
(سنن ابن ماجہ: 4136)

7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ"
(قناعت ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔)
(المعجم الأوسط للطبرانی)

8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ: الْمَوْتِ"
(لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔)
(جامع الترمذی: 2307)



تصوف کے نکات
1. دنیا کی مثال: صوفیاء کے نزدیک دنیا سمندر میں ڈوبی انگلی کی طرح ہے، اور اس کی محبت دل کی تاریکی ہے۔

2. زہد: صوفیاء زہد کی تعلیم دیتے ہیں، یعنی دنیا سے بےرغبتگی اور آخرت کی طلب۔

3. قناعت: صوفیاء قناعت کو قلب کی صفائی اور نفس کی اصلاح کا ذریعہ مانتے ہیں۔

4. موت کی یاد: صوفیاء موت کی یاد کو دنیا کی محبت کے خاتمے کا ذریعہ مانتے ہیں۔

5. ذکر: اللہ کا ذکر دل کو جوان رکھتا ہے، اور دنیا کی محبت سے پاک کرتا ہے۔

6. اللہ کی طرف رجوع: یہ حدیث بندے کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

7. محبتِ الٰہی: دنیا کی محبت سے بچ کر اللہ کی محبت حاصل کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔



تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔

2. یہ حدیث صحیح مسلم (2858)، جامع الترمذی (2323)، سنن ابن ماجہ (4108)، اور مسند أحمد (18038) میں مروی ہے۔

3. ابن حجر، امام نووی، اور ابن کثیر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔

4. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث زہد، قناعت، اور آخرت کی تیاری کی بنیاد ہے۔

5. صحابہ کرام دنیا کی محبت سے بچنے اور آخرت کی تیاری کرنے میں مثال تھے۔

6. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا کی محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کریں۔

7. یہ حدیث دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

8. قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال اور نیت کے مطابق جزا پائے گا۔

9. دنیا اللہ کی امانت ہے، اور اس کا صحیح استعمال نجات کا ذریعہ ہے۔

10. آخرت کی نعمتیں دائمی اور بےشمار ہیں، جبکہ دنیا کی نعمتیں عارضی اور محدود ہیں۔



حاصل شدہ اسباق و نکات
1. دنیا آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
2. دنیا کی مثال سمندر میں ڈوبی انگلی کی طرح ہے۔
3. قناعت ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
4. زہد اور آخرت کی طلب مومن کی پہچان ہے۔
5. دنیا کی محبت انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔
6. موت کی یاد دنیا کی محبت کو کم کرتی ہے۔
7. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں۔
8. نیت کے مطابق حشر ہو گا۔
9. آخرت کی تیاری کرنا اور دنیا کی محبت سے بچنا نجات کا ذریعہ ہے۔
10. تواضع اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ دنیا کی کوئی حقیقی قیمت نہیں۔



مقاصد
1. دنیا کی حقیقت کو واضح کرنا۔
2. زہد اور قناعت کی ترغیب دینا۔
3. دنیا کی محبت سے بچنے کی ترغیب دینا۔
4. آخرت کی ترجیح کی ترغیب دینا۔
5. موت کی یاد کی ترغیب دینا۔
6. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. دنیا کی محبت سے بچنے کی ترغیب دینا۔



خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت صرف اتنی ہے جتنی تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ وہ کیا لے کر واپس آتی ہے۔"

نتیجہ: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ دنیا کی حقیقت، زہد، قناعت، اور آخرت کی تیاری کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں دنیا کی محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے، قناعت اختیار کرنے، آخرت کی ترجیح دینے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔

واللہ أعلم بالصواب






عنوان: دنیا کی زینت اور مال کی محبت کا فتنہ – نبی ﷺ کا خوف اور اعتدال کا درس عربی متن عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ:

"جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ (1) فَقَالَ: إِنَّ أَكْثَرَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ (2) مِنْ بَعْدِي مَا (3) يُخْرِجُ اللهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ، قِيلَ: وَمَا بَرَكَاتُ الْأَرْضِ؟ (4) قَالَ: مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ (5) (6) فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَقُلْنَا: يُوحَى إِلَيْهِ، وَسَكَتَ النَّاسُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرَ، ثُمَّ إِنَّهُ مَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ الرُّحَضَاءَ (7) فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا (8) - وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ - (9) فَقَالَ: أَوَخَيْرٌ هُوَ؟ (10) - ثَلَاثًا - إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ (11) (12) وفي رواية: إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ (13) وَإِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ (14) يَقْتُلُ حَبَطًا (15) أَوْ يُلِمُّ (16) (17) إِلَّا آكِلَةَ الْخَضْرَاءَ (18) (19) فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا (20) (21) اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ (22) (23) فَاجْتَرَّتْ (24) وَثَلَطَتْ (25) وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ (26) (27) وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ (28) وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ (29) لِمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ (30) وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ (31) فَجَعَلَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (32) فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ (33) وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ." (34) (35)

ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم آپ کے گرد بیٹھ گئے (1)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'بیشک میرے بعد تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا میں ڈرتا ہوں (2) وہ یہ ہے کہ اللہ تمہارے لیے زمین کی برکات میں سے کیا کچھ نکالے گا (3)۔'

کہا گیا: 'زمین کی برکات کیا ہیں؟' (4) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'وہ دنیا کی رونق اور اس کی زینت ہے جو تم پر کھولی جائے گی۔' تو ایک شخص نے کہا: 'یا رسول اللہ! کیا خیر (بھلائی) شر (برائی) لے کر آئے گی؟' (5) (6)
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور لوگ خاموش ہو گئے، گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے پسینہ (رُحَضَاء) پونچھا (7) اور فرمایا: 'ابھی سوال کرنے والا کہاں ہے؟' (8) — گویا آپ نے اس کی تعریف کی (9) — پھر فرمایا: 'کیا وہ خیر ہے؟' (10) — تین بار — 'بیشک خیر خیر ہی لے کر آتی ہے (11) (12)۔' اور ایک روایت میں ہے: 'بیشک خیر شر نہیں لاتی (13)۔ اور بیشک ہر وہ چیز جو بہار اگاتی ہے (14) وہ پیٹ بھرنے (حبط) سے مار دیتی ہے (15) یا قریب مرگ کر دیتی ہے (16) (17)، سوائے سبزہ کھانے والے (18) (19) کے، کیونکہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پہلو پھیل جاتے ہیں (20) (21)، تو سورج کی طرف رخ کرتا ہے (22) (23)، پھر جگالی کرتا ہے (24)، پاخانہ کرتا ہے (25) اور پیشاب کرتا ہے، پھر واپس جا کر کھاتا ہے (26) (27)۔

اور بیشک یہ مال سبز اور میٹھا ہے (28)، اور مسلمان کے لیے یہ کیا ہی اچھا ساتھی ہے (29)، اس کے لیے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے (30) اور اسے اس کے حق میں رکھے (31)، پس اسے اللہ کی راہ میں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں میں خرچ کرے (32)۔ پس جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لے، اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص مال کو اس کے حق کے بغیر لے، اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا (33)، اور وہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا۔' (34) (35)"


حواشی وحوالہ جات: (1) صحیح البخاری: 879۔ (2) صحیح البخاری: 6063۔ (3) صحیح البخاری: 1396۔ (4) صحیح البخاری: 6063۔ (5) یعنی: مال، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} (اگر وہ مال چھوڑے)، تو پھر اس سے شر کیسے مرتب ہو گا کہ اس سے ڈرا جائے؟ (شرح النسائی: 4/65) (6) صحیح البخاری: 1396؛ صحیح مسلم: 121 - (1052)۔ (7) "الرُّحَضَاء": وہ پسینہ جو کثرت سے جلد کو دھو ڈالے۔ اور اکثر اسے بخار کے پسینے کا نام دیا جاتا ہے۔ (شرح النسائی: 4/65؛ شرح النووی: 4/5) (8) صحیح البخاری: 2687؛ صحیح مسلم: 121 - (1052)۔ (9) صحیح البخاری: 1396۔ (10) اس کا مطلب: جو دنیا کی رونق تمہیں ملے گی وہ خیر نہیں، بلکہ وہ فتنہ ہے۔ پس یہ رونق خیر نہیں، کیونکہ یہ فتنہ، باہمی رقابت، اور آخرت سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔ (شرح النووی علی مسلم: 4/4)

(شرح النووی: 4/4)
(11) اس کا مطلب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دنیا کی رونق سے ڈرایا اور اس سے خوف دلایا، تو اس شخص نے کہا: یہ تو ہمیں مباح ذرائع جیسے غنیمت وغیرہ سے ملے گی، اور وہ خیر ہے، اور کیا خیر شر لاتی ہے؟ یہ استفہامِ انکاری اور استبعاد ہے، یعنی یہ بعید ہے کہ کوئی چیز خیر ہو اور پھر اس سے شر مرتب ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقی خیر صرف خیر ہی لاتی ہے، یعنی اس سے صرف خیر ہی مرتب ہوتا ہے، پھر آپ نے اس کی مثال بیان فرمائی۔
(18) یعنی: وہ جانور جو سبزہ کھاتے ہیں، اور یہ معتدل شخص کی مثال ہے۔
(شرح النووی: 4/4) (12) صحیح البخاری: 2687؛ صحیح مسلم: 121 - (1052)۔ (13) صحیح البخاری: 1396۔ (14) "الربیع": کہا گیا: وہ مشہور موسم ہے جس میں سبزیاں اگتی ہیں۔ اور کہا گیا: وہ چھوٹا نہر ہے جو بڑی نہر سے پھوٹتی ہے۔ (شرح النسائی: 4/65) (15) "الحَبَط": بدہضمی اور پیٹ بھر جانا۔ (16) یعنی: موت کے قریب کر دیتی ہے۔ (شرح النسائی: 4/65) (17) صحیح مسلم: 121 - (1052)۔ (19) صحیح البخاری: 1396۔ (20) یعنی: وہ سیر ہو جاتا ہے۔ (شرح النسائی: 4/65) (21) صحیح مسلم: 122 - (1052)؛ صحیح البخاری: 1396۔ (22) یعنی: اسے خوشگوار اور مفید پاتا ہے۔ (شرح النسائی: 4/65) (23) صحیح البخاری: 1396۔
(26) اس کا مطلب: بہار کی سبزی اور سبزہ پیٹ بھرنے (حبط) سے مار دیتا ہے یا قریب مرگ کر دیتا ہے، سوائے اس کے کہ اس میں سے اتنا ہی لیا جائے جتنی ضرورت بلائے اور معتدل کفایت حاصل ہو، کیونکہ پھر وہ نقصان نہیں دیتا۔ اسی طرح مال بھی بہار کی سبزی کی مانند ہے، نفس اسے پسند کرتے ہیں اور اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ پس بعض لوگ اسے بہت زیادہ لے کر اس میں گم ہو جاتے ہیں اور اسے صحیح راستوں میں خرچ نہیں کرتے، تو یہ انہیں ہلاک کر دیتا ہے یا قریب ہلاک کر دیتا ہے۔ اور بعض لوگ اعتدال اختیار کرتے ہیں، تھوڑا لیتے ہیں، اور اگر زیادہ لیں تو اسے صحیح راستوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، جیسے جانور پاخانہ کرتا ہے، تو یہ انہیں نقصان نہیں دیتا۔
(24) یعنی: اپنا جگالی کرتا ہے۔ اہلِ لغت نے "الجِرَّة" (جیم کے کسرہ کے ساتھ) کہا: وہ چیز جو اونٹ اپنے پیٹ سے نکال کر چباتا ہے، پھر نگل جاتا ہے۔
(27) صحیح البخاری: 6063؛ صحیح مسلم: 121 - (1052)۔
(شرح النووی: 4/4) (25) یعنی: اپنا پاخانہ آسانی سے اور پتلا نکالتا ہے۔ (شرح النسائی: 4/65) (شرح النووی: 4/4)
(28) یعنی: دیکھنے میں سبزہ کی طرح، ذائقے میں میٹھا۔ پس طبعی میل کی کثرت کی وجہ سے انسان ہر طرح سے اسے لیتا ہے، اور یہ اسے ایسے راستے پر لے جاتا ہے جو مناسب نہیں، پھر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔
(شرح النسائی: 4/65)
(29) صحیح مسلم: 123 - (1052)؛ صحیح البخاری: 1396۔ (30) صحیح البخاری: 2687؛ صحیح مسلم: 122 - (1052)۔ (31) صحیح البخاری: 6063؛ صحیح مسلم: 122 - (1052)۔ (32) صحیح البخاری: 2687؛ صحیح مسلم: 123 - (1052)۔ (33) صحیح مسلم: 121 - (1052)؛ صحیح البخاری: 1396۔ (34) یہ حقیقتاً گواہ ہو سکتا ہے، یعنی اللہ اسے بولنے کی قدرت دے گا؛ اور مجازاً بھی ہو سکتا ہے، جس سے مراد فرشتے کا گواہی دینا ہے۔ (فتح الباری: 18/238) (35) صحیح البخاری: 2687؛ صحیح مسلم: 123 - (1052)؛ سنن النسائی: 2581؛ سنن ابن ماجہ: 3995؛ مسند أحمد: 11049۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص10 / ج340]


حدیث کی تخریج و حکم یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ ہے۔ اسے امام بخاری (879، 1396، 2687، 6063)، امام مسلم (1052)، امام نسائی (2581)، امام ابن ماجہ (3995)، اور امام أحمد (11049) نے روایت کیا۔


حدیث کا مرکزی مضمون: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی زینت اور مال کی کثرت کو سب سے بڑا خوف قرار دیا۔ ایک صحابی نے پوچھا: کیا خیر شر لاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: "کیا وہ خیر ہے؟" یعنی دنیا کی رونق حقیقی خیر نہیں، بلکہ فتنہ ہے۔ پھر فرمایا: "بیشک خیر خیر ہی لاتی ہے" یعنی حقیقی خیر سے شر نہیں آتا۔ مثال: بہار کی سبزی پیٹ بھرنے سے مار دیتی ہے، سوائے معتدل کھانے والے کے۔ مال سبز اور میٹھا ہے، جو حق کے ساتھ لے اور حق میں خرچ کرے، اس کے لیے بابرکت ہے۔ جو ناحق لے، وہ کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا۔







عنوان: دنیا کی حرص، مال کا مقصد اور توبہ – حدیثِ ابو واقد لیثی
عربی متن
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رضي الله عنه قَالَ:
كُنَّا نَأتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَيُحَدِّثُنَا، فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ:
"إِنَّ اللهَ - عز وجل - قَالَ: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ (1) مِنْ ذَهَبٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ (2) وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ (3) لَهُ (4) ثَالِثٌ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ (5) ثُمَّ يَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ (6)." (7)

ترجمہ:
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے جب آپ پر وحی نازل ہوتی، تو آپ ہم سے حدیث بیان فرماتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا:

'بیشک اللہ عزوجل نے فرمایا: میں نے مال اس لیے نازل کیا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے۔ اور اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں (1)۔ اور اگر اس کے پاس دو وادیاں ہوں، تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس تیسری ہو (2) (3) (4)۔ اور ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی (5)۔ پھر اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے (6)۔' (7)"



حواشی وحوالہ جات:
(1) مسند الإمام أحمد: 21399؛ صحیح الجامع: 1781؛ السلسلة الصحيحة: 1639۔

(2) صحیح البخاری: 6075۔

(3) مسند الإمام أحمد: 21399؛ صحیح البخاری: 6075۔

(4) جامع الترمذي: 2337۔

(5) الکرمانی نے کہا: اس سے مراد کسی خاص عضو کا حقیقی بھرنا نہیں، کیونکہ مٹی کے علاوہ دوسری چیزیں بھی پیٹ کو بھر سکتی ہیں، بلکہ یہ موت کی کنایہ ہے، کیونکہ موت لازماً پیٹ کے بھرنے کو مستلزم ہے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دنیا سے سیر نہیں ہو گا یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
(فتح الباری: 18/250)

(6) یعنی: اللہ حریص کی توبہ بھی اسی طرح قبول کرتا ہے جیسے دوسروں کی توبہ قبول کرتا ہے۔
(فتح الباری: 18/251)

(7) مسند الإمام أحمد: 21399؛ صحیح البخاری: 6075؛ صحیح مسلم: 116 - (1048)؛ جامع الترمذی: 2337؛ سنن ابن ماجہ: 4235۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے۔ اسے امام بخاری (6075)، امام مسلم (1048)، امام ترمذی (2337)، امام ابن ماجہ (4235)، اور امام أحمد (21399) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (1781) اور السلسلة الصحيحة (1639) میں درج کیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:
مال کا مقصد نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔
انسان کی مال کی حرص لامحدود ہے۔
ایک وادی سونا ملے تو دو کی خواہش، دو ملیں تو تین کی۔
انسان کی حرص موت ہی ختم کرتی ہے۔
توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔



قرآن سے شواہد و تفسیر
1. مال کا مقصد:
{وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ} (البقرة: 43)
(اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔)
تفسیر: یہ آیت حدیث کے اس حصے کی بنیاد ہے کہ مال نماز اور زکوٰۃ کے لیے دیا گیا ہے۔

2. مال کی محبت:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
تفسیر: انسان کی مال کی بےحد محبت قرآن میں مذکور ہے۔

3. حرص کی مذمت:
{أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} (التکاثر: 1-2)
(تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔)
تفسیر: مال کی حرص انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔

4. مال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں:
{لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ} (المنافقون: 9)
(تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔)
تفسیر: مال کی حرص اللہ کے ذکر سے غافل کر دے تو مذموم ہے۔

5. قیامت کے دن مال کا حساب:
{وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ} (النحل: 93)
(اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تم کیا کرتے تھے۔)

6. جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی ہے:
{وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)

7. صدقہ کی فضیلت:
{مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ} (البقرة: 261)
(جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں اگائیں۔)

8. توبہ کی قبولیت:
{وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} (الشوریٰ: 25)
(اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔)
تفسیر: حدیث کے آخر میں "ثم يتوب الله على من تاب" اسی آیت کی تفسیر ہے۔









حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ وضو فرما رہے تھے، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا: میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی ﷺ کی ساتھ حاصل ہوجائے، نبی ﷺ نے فرمایا: نیک آدمی کے لئے نیک(حلال) مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔

[مسند احمد»حدیث نمبر: 17763+17802]

کیونکہ

(1)مال سے الله کی راہ میں خرچ کرنا نیک بننا ہے۔

[حوالہ سورۃ المنافقون:10]

(2)ناحق طریقوں سے مال کھانا اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرتے جمع کرتے رہنا دردناک عذاب کا سبب ہے۔

[حوالہ سورۃ التوبہ:34(تفسیر البغوی، الرازی)]


احادیث سے گواہیاں:

حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ 

ترجمہ:

یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے  جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام وناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے۔

[جامع ترمذی» باب:-حق کے ساتھ مال لینے کا بیان» حدیث نمبر: 2374]


القرآن:

تمہیں ان(کفار ومنافقین) کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ الله تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔

[سورۃ التوبة:55(تفسیر الرازی:16/72)]

القرآن:

اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔ اس کے بعد جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اچانک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک شروع کردیتا ہے۔ تاکہ ہم نے اسے جو نعمت دی تھی اس کی ناشکری کرے۔ اچھا ! کچھ عیش کرلو، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔

[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 53-55 (تفسير التستري)]




پھر وہ(قارون) اپنی قوم کے سامنے آن بان کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طلب گار تھے، وہ کہنے لگے : اے کاش ! ہمارے پاس بھی وہ چیزیں ہوتیں جو قارون کو عطا کی گئی ہیں۔ یقینا وہ بڑے نصیبوں والا ہے۔ اور جن لوگوں کو (الله کی طرف سے) علم عطا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے (کہ تم ایسا کہہ رہے ہو) الله کا دیا ہوا ثواب اس شخص کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور وہ انہی کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔
[سورۃ القصص:79-80(تفسیر الثعالبی:4/282)]










عنوان: دنیا کی حرص اور مال کی حقیقت – جو کھا لیا، پہن لیا، یا صدقہ کر دیا
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رضي الله عنه قَالَ:
"أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقْرَأُ: {أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ، حَتَّى زُرْتُمْ الْمَقَابِرَ} فَقَالَ: يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ؟ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ؟ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟ (وَمَا سِوَى ذَلِكَ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ)."

اردو ترجمہ (حوالہ نمبر انگریزی اعداد میں)
حضرت عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ (آیت) پڑھ رہے تھے: {تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے}۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! اے ابن آدم! تیرے مال میں سے تیرے لیے کیا ہے سوائے اس کے جو تو نے کھا لیا اور ختم کر دیا، یا پہن لیا اور بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر دیا اور آگے بھیج دیا؟ (1) اور جو اس کے علاوہ ہے، وہ جانے والا ہے اور تو اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔' (2)"



حوالہ جات:
(1) یہ حصہ صحیح مسلم: 3 - (2958)، جامع الترمذي: 2342، سنن النسائي: 3613، اور مسند أحمد: 16348 میں مروی ہے۔

(2) یہ حصہ صحیح مسلم: 4 - (2959) اور مسند أحمد: 8799 میں مروی ہے۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم (2958، 2959) میں مروی ہے۔ اسے امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، اور امام أحمد نے روایت کیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ التکاثر کی تلاوت فرمائی۔

انسان کی مال کی حرص کی مذمت۔

انسان کے مال میں سے صرف تین چیزیں باقی رہتی ہیں: کھانا، پہننا، اور صدقہ۔

باقی سب کچھ چھوڑ کر جانا ہے اور لوگوں کے لیے چھوڑ دینا ہے۔



قرآن سے شواہد و تفسیر
1. سورۃ التکاثر (102:1-2):
{أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ}
(تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔)
تفسیر: یہ آیت مال کی حرص اور دنیا کی محبت کی مذمت کرتی ہے، اور یہ کہ انسان آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔

2. مال کی محبت:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
تفسیر: مال کی بےحد محبت انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔

3. مال اور اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ} (المنافقون: 9)
(اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔)
تفسیر: مال کی محبت اگر اللہ کے ذکر سے غافل کر دے تو یہ مذموم ہے۔

4. جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی ہے:
{وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)
تفسیر: دنیا کی متاع فانی ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی ہے۔

5. قیامت کے دن مال کا حساب:
{وَلَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ} (النحل: 93)
(اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تم کیا کرتے تھے۔)
تفسیر: قیامت کے دن مال کے بارے میں سوال ہو گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

6. مال کی حقیقت:
{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} (التغابن: 15)
(بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔)
تفسیر: مال ایک آزمائش ہے، اور اس کا صحیح استعمال ہی کامیابی ہے۔

7. صدقہ کی فضیلت:
{مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ} (البقرة: 261)
(جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں اگائیں۔)
تفسیر: صدقہ کرنے والا مال باقی رہتا ہے، اور اس کا اجر بڑھتا ہے۔

8. ایک دن مال چھوڑ کر جانا ہے:
{وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا} (مریم: 95)
(اور قیامت کے دن وہ سب اس کے پاس تنہا آئیں گے۔)
تفسیر: قیامت کے دن مال، اولاد، اور رشتہ دار کچھ کام نہ آئیں گے۔






عنوان: بڑھاپے میں انسان کے ساتھ دو چیزیں جوان رہتی ہیں – حرصِ مال اور حرصِ عمر
عربی متن
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ، وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ." (1)
وفي رواية (2): 
"يَكْبَرُ ابْنُ آدَمَ، وَيَكْبَرُ مَعَهُ اثْنَانِ: حُبُّ الْمَالِ، وَطُولُ الْعُمُرِ."
وفي رواية (3): 
"يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ، وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ."

ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر اس میں سے دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور عمر کی حرص۔" (1)
اور ایک روایت میں ہے (2):
"ابن آدم بڑا ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ دو چیزیں بڑی ہوتی ہیں: مال کی محبت اور لمبی عمر کی خواہش۔"
اور ایک روایت میں ہے (3):
"ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر اس میں سے دو چیزیں باقی رہ جاتی ہیں: حرص اور امید۔"



حوالہ جات:
(1) جامع الترمذی: 2455؛ صحیح مسلم: 114 - (1047)؛ سنن ابن ماجہ: 4234؛ مسند الإمام أحمد: 13021۔

(2) صحیح البخاری: 6058۔

(3) مسند الإمام أحمد: 12163؛ صحیح الجامع: 8173؛ شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "إسناده صحيح" (اس کی سند صحیح ہے)۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ (صحیح البخاری: 6058، صحیح مسلم: 1047) ہے۔ اسے امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، اور امام أحمد نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (8173) میں درج کیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:

انسان بڑھاپے میں جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔

مگر اس کے اندر دو چیزیں جوان رہتی ہیں:

الحرص على المال (مال کی حرص)
الحرص على العمر (عمر کی حرص) یا طول العمر (لمبی عمر کی خواہش)
بعض روایات میں "الحرص والأمل" (حرص اور امید) کے الفاظ ہیں۔




قرآن سے شواہد و تفسیر
1. مال کی محبت فطری ہے:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
تفسیر: مال کی محبت انسان کی فطرت میں ہے، مگر اسے حد سے بڑھانا مذموم ہے۔

2. لمبی عمر کی خواہش:
{وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ} (البقرة: 96)
(اور آپ انہیں لوگوں میں سب سے زیادہ زندگی کے حریص پائیں گے۔)
تفسیر: لمبی عمر کی حرص قرآن میں بھی مذکور ہے۔

3. مال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ} (المنافقون: 9)
(اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔)
تفسیر: مال کی حرص اگر اللہ کے ذکر سے غافل کر دے تو یہ مذموم ہے۔

4. مال کی کثرت کی محبت:
{أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} (التکاثر: 1-2)
(تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔)
تفسیر: مال کی حرص انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔

5. ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے:
{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ} (آل عمران: 185)
(ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔)
تفسیر: لمبی عمر کی خواہش کے باوجود موت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

6. اجل مقرر ہے:
{وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ} (الأعراف: 34)
(اور ہر امت کے لیے ایک اجل ہے، پس جب ان کی اجل آ جاتی ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔)
تفسیر: عمر کی حرص کے باوجود اجل مقرر ہے، اور اس سے ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔

7. قناعت اور نفس کی غنی:
{وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)
تفسیر: مال کی حرص کے مقابلے میں اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر اور باقی ہے۔

8. امید اور امل:
{وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} (الحجر: 99)
(اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تجھے یقین (موت) آ جائے۔)
تفسیر: لمبی امید (طولِ امل) انسان کو عبادت سے غافل کر دیتی ہے، مگر مومن کو یقین (موت) تک عبادت کرنی چاہیے۔







عنوان: بڑھاپے میں دل کی جوانی – حبِ عیش اور حبِ مال
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: حُبِّ الْعَيْشِ وَحُبِّ الْمَالِ."
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بوڑھا آدمی عمر رسیدہ ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، لیکن اس کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی محبت۔" (1) (2) (3)

حوالہ جات:
(1) مسند الإمام أحمد: 8403؛ صحیح البخاری: 6057؛ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 1906۔

(2) صحیح مسلم: 113 - (1046)؛ صحیح البخاری: 6057۔

(3) صحیح مسلم: 114 - (1046)؛ صحیح البخاری: 6057؛ جامع الترمذی: 2331؛ سنن ابن ماجہ: 4233؛ مسند الإمام أحمد: 8196۔



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ (صحیح البخاری: 6057، صحیح مسلم: 1046) ہے۔ اسے امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، اور امام أحمد نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (1906) میں درج کیا۔




حدیث کا مرکزی مضمون:
بڑھاپے میں جسم کمزور ہو جاتا ہے۔
لیکن دل دو محبتوں پر جوان رہتا ہے: حبِ عیش (زندگی کی محبت) اور حبِ مال (مال کی محبت)۔




قرآن سے شواہد و تفسیر
1. مال اور زندگی کی محبت فطری ہے:
{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ} (آل عمران: 14)
(لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت مزین کر دی گئی ہے: عورتوں، بیٹوں، اور سونے چاندی کے ڈھیروں کی۔)
تفسیر: مال اور زندگی کی محبت انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے، مگر اسے اللہ کی رضا کے تابع کرنا ضروری ہے۔

2. مال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ} (المنافقون: 9)
(اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔)
تفسیر: مال کی محبت اگر اللہ کے ذکر سے غافل کر دے تو یہ مذموم ہے۔

3. مال کی کثرت کی محبت:
{أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} (التکاثر: 1-2)
(تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔)
تفسیر: مال کی محبت انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔

4. مال کی محبت انسان کو ہلاک کرتی ہے:
{وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ * الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ * يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ} (الهمزة: 1-3)
(ہلاکت ہے ہر طعنہ دینے والے، عیب لگانے والے کے لیے، جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔)
تفسیر: مال کی محبت انسان کو یہ وہم دلاتی ہے کہ وہ امر ہو جائے گا۔

5. مال کی شدید محبت:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
تفسیر: مال کی محبت کی شدت کا ذکر قرآن میں ہے۔

6. اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر ہے:
{وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)
تفسیر: دنیا کی متاع فانی ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی ہے۔

7. زندگی کی محبت:
{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ} (آل عمران: 185)
(ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔)
تفسیر: زندگی کی محبت کے باوجود موت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

8. مال کی محبت سے بچنا:
{وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ} (الحجر: 88)
(اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دی ہیں۔)
تفسیر: مال کی طرف دیکھنے اور اس کی محبت سے بچنا چاہیے۔

(2)دنیا ایک عارضی/مٹنے والا ٹھکانہ اور آخرت کیلئے کھیتی کا میدانِِ عمل ہے، نہ کہ مستقل گھر۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ، وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ، وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ.

ترجمہ:

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: دنیا گھر ہے اس شخص کا جس کا کوئی گھر نہ ہو، اور مال ہے اس شخص کا جس کا کوئی مال نہ ہو، اور دنیا کے لئے وہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہ ہو۔

[مسند احمد:24419]

وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ دُوَيْدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

[مجمع الزوائد للهيثمي:18078]

[ذم الدنيا، لابن ابي الدنيا:182]


القرآن:

اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔

[سورۃ الرحمٰن:26]

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا ، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا، ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔ 

[سورۃ النحل:96]




حديث عائشة: أخرجه أحمد (6/71، رقم 24464) ، قال الهيثمى (10/288) : رجاله رجال الصحيح غير دويد، وهو ثقة. والبيهقى فى شعب الإيمان (7/375، رقم 10638) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (2/230، رقم 3109) .

حديث ابن مسعود الموقوف: أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (7/375، رقم 10637) ، وأخرجه أيضًا: أحمد فى الزهد (1/161) . قال المناوى (3/546) : قال المنذرى والحافظ العراق

ى: إسناده جيد

القرآن:




قرآن مجید کی اصطلاح میں دنیا تو بس دھوکہ کا سامان ہے۔ یعنی (1)کھیل یعنی فضولیات، (2)تماشہ یعنی تفریح ومذاق، (3)زینت یعنی شہرت ودکھلاوا، (4)آپس میں فخر/مقابلہ اور (5)کثرتِ مال واولاد کی "چاہت" جو اللہ کو بھلانے ..... یعنی سارے جہانوں کو پالنے والے اللہ کی عطاکردہ بےشمار احسانات کو یاد نہ رکھنے، احکامات کو نظر انداز کرنے ..... اور آخرت کی بربادی کا سبب بنیں۔

[حوالہ سورۃ الحدیدہ:20]

یہ دھوکہ اللہ (کے سچے وعدوں) سے دور اور محروم کرنے کیلئے ہوتا ہے۔

[حوالہ سورۃ فاطر:5، الحدید:18]

اگرچہ یہ دھوکہ۔۔۔

(1)دوسروں کو نصیحت کرنے کے نام پر اللہ کی جھوٹی قسم اٹھانا ہو۔

[حوالہ سورۃ الاعراف:21-22، الانعام:22]

(2)اللہ کے علاوہ کو غائبانہ پکارنے (کے قابل سمجھنے) کا شرک ہو۔

[حوالہ سورۃ فاطر:40]

(3)اللہ کے مقابلے میں کسی مخلوق سے مدد حاصل ہونے کا دھوکہ ہو۔

[حوالہ سورۃ الملک:20]

شیطانی وعدے اور تمنائیں(لمبی-غیرشرعی امیدیں) ہوں۔

[حوالہ سورۃ النساء:120]


دنیا کی جامع تعریف

دنیا وہ عارضی آزمائش گاہ ہے جس میں اللہ انسان کو علم اور مال دے کر آزماتا ہے، اور انسان اپنی نیت اور عمل کے مطابق یا تو بہترین درجے والا بنتا ہے یا بدترین درجے والا۔

دنیا خود میں نہ اچھی ہے نہ بری، بلکہ یہ ایک وسیلہ ہے جسے انسان اپنے اخلاق، نیت، اور عمل سے اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔


قرآن سے دنیا کی تعریف

1. کھیل اور تماشا:

{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} (الحدید: 20)

(جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، تمہارے درمیان فخر، اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔)


2. فانی اور عارضی:

{كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ} (الرحمن: 26)

(ہر وہ چیز جو اس (زمین) پر ہے فانی ہے۔)


3. آخرت کی کھیتی:

{مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ} (الشوریٰ: 20)

(جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں۔)


4. ایک دھوکے کا سامان:

{وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (الحدید: 20)

(اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔)


5. آخرت کے مقابلے میں بہت کم:

{وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ} (القصص: 60)

(اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے۔)


علماء کی تعریفات:

"الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ"

(دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔)

[امام الغزالي-کتاب إحياء علوم الدين- جلد 4 / صفحہ 19]


دنیا آخرت کی کھیتی ہے؛ لیکن جو اسے مقصد بنا لے، اس غافل و دنیا پرست کے لیے وہ کھیل و تماشا بن جاتی ہے۔

امام القرافيؒ(م784ھ) لکھتے ہیں:

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: «إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ» [الحديد: 20] — حالانکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور اسی دنیا میں بلند درجات، عالی مقامات، پسندیدہ حالتیں اور مقبول اعمال حاصل ہوتے ہیں۔ اور اللہ نے اسے صرف اسی (لعب و لہو) میں منحصر کیا ہے اس شخص کے اعتبار سے جس نے اسے (آخرت پر) ترجیح دی؛ یعنی جس نے دنیا کو ترجیح دی، اس کے حق میں دنیا کی کوئی صفت اس کے سوا نہیں۔ پس ان قواعد پر غور کرو، تم کتاب و سنت میں ان کا نفع بہت بڑا اور عظیم پاؤ گے۔

[نفائس الأصول في شرح المحصول: ج 3 / ص 1037]


امام أبو حامد الغزاليؒ(م505ھ) تشریح فرماتے لکھتے ہیں:

اور نیز دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور زمین کی آبادی کا قیام اور معاش کا انتظام اسی خواہش/شہوت کے ذریعے ہے۔ پس اگر اسے مفروضہ طور پر اٹھا دیا جائے تو دین اور دنیا کا نظام بگڑ جائے گا، لوگوں کے درمیان معاملات ختم ہو جائیں گے، اور شریعت و سیاست اٹھ جائیں گی۔

پس یہ قوتِ شہوانی ایسے دشمن کی مانند ہے جس کا نقصان ایک پہلو سے ڈرایا جاتا ہے اور نفع دوسرے پہلو سے امید دلایا جاتا ہے۔ اور اس کی دشمنی کے باوجود اس سے مدد لینے سے بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا۔

اس لیے عاقل کا حق یہ ہے کہ وہ اس سے نفع لے، مگر اس پر جھکے اور بھروسہ نہ کرے، سوائے اتنے کہ جتنا اس سے فائدہ اٹھائے۔

اور اس بارے میں متنبی کا قول کتنا سچا ہے:

”اور دنیا کی تلخیوں میں سے آزاد مرد کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دشمن کو ایسا دیکھے جس کی دوستی سے کوئی چارہ نہ ہو۔“

اور اس شہوت کو دبانے کی کارگر چالوں/حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی قوتِ حمیت یعنی غیرت و جوشِ عزت کے ذریعے قوتِ شہوت پر غالب آئے۔

[الغزالي، كتاب معارج القدس في مدارج معرفه النفس: ص 80]


دوسری جگہ لکھتے ہیں:

اور اس کلام کے سیاق و سباق سے مقصود مخلوق کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور اسی دنیا سے آخرت کا زادِ راہ حاصل کیا جاتا ہے۔

اور جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے سعادت یعنی ابدی کامیابی نہ کمائے، تو اس کے مرنے کے بعد اس کے حصول کا کوئی راستہ اس کے لیے نہیں۔ پس جو اس دنیا میں اندھا ہو، وہ موت کے وقت بھی اندھا ہو گا — میری مراد یہ ہے کہ حق کو سمجھنے سے بصیرت کا اندھا پن، اللہ کی پناہ۔

اور جو موت کے وقت اندھا ہو، وہ حشر یعنی قیامت میں اٹھائے جانے کے وقت بھی اندھا ہی ہو گا، بلکہ وہ راستے سے زیادہ بھٹکا ہوا ہو گا؛ کیونکہ جب تک انسان دنیا میں ہے، اسے طلب کی امید باقی رہتی ہے، اور موت کے بعد مایوسی یقینی ہو چکی ہوتی ہے۔

[معيار العلم في فن المنطق: ص 181]




دنیا کے امور کا بگاڑ، دین کے امور کا بگاڑ ہے:

امام خوارزمی رحمہ اللہ (م383ھ) فرماتے ہیں:

”دنیا کے امور میں اختلال پیدا ہو گیا، اور دنیا کے معاملے کے بگڑنے میں دین کے معاملے کا بگاڑ ہے، کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اگر لوگ اپنی پوری عمریں بھی دنیا میں لگا دیں، تو دنیا کے امور میں مصروف رہتے ہوئے اس کا دسواں حصہ کا دسواں حصہ بھی حاصل نہ کر سکیں۔ ہر کام کے لیے لوگ ہوتے ہیں۔ اور اس مسئلے میں جھگڑے کو ختم کرنے والی بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کے پاس اعراب کے جنگلی، چرواہے اور دیہاتی عام لوگ آتے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتے۔ آپ ان سے صرف اس عقیدے پر اکتفا کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اور ان میں سے کسی کو جواہر و اعراض کی معرفت کا مکلف نہیں بناتے۔ اگر یہ واجب شرط ہوتی تو آپ انہیں اس کا حکم دیتے، کیونکہ یہ دین میں بہت بڑا مقام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔“

[أبو بكر الخوارزمي، مفيد العلوم ومبيد الهموم: صفحہ 71]


یعنی اگر دنیاوی زندگی، معاش، حقوق، عدل اور اخلاق بگڑیں گے تو دین بھی متاثر ہوگا، کیونکہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عام مسلمان پر فلسفیانہ دقیق بحثیں — جیسے «جواہر و اعراض» — واجب ہیں۔ نبی ﷺ نے عام لوگوں سے صرف کلمہ کی اعتقادی تصدیق پر اکتفا کیا۔



دنیا امتحان گاہ ہے، جہاں عدل، عبادت، اخلاق اور معاشرتی تعاون سب آخرت کی کامیابی کے لیے ہیں۔



دنیا امتحان گاہ ہے، جہاں عدل، عبادت، اخلاق اور معاشرتی تعاون سب آخرت کی کامیابی کے لیے ہیں۔


امام أبو الخير التبريزي(ت 636هـ) فرماتے ہیں:

پس بے شک دنیا آخرت کی کھیتی ہے؛ اس لیے عاقل پر لازم ہے کہ وہ آخرت کی ایسی نعمت طلب کرے جو نہ زائل ہوتی ہے اور نہ بدلتی ہے۔

اور اس نعمت کا حصول شریعت کے حکم کی اطاعت اور اس کی ممانعت سے باز رہنے پر منحصر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس خصوصیت سے ممتاز کیا جس کے ذریعے اسے بہت سی مخلوقات پر عزت و تکریم دی۔

اور انسان اس فضیلت کو حاصل نہیں کرتا مگر ان خوب صورت صفات کے ذریعے جو اس میں رکھی گئی ہیں، جن کی طرف اسے ترغیب دی گئی، اور ان کے استعمال کے ذریعے۔

اور دنیا کی مدت کا باقی رہنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا مگر کھیتی اور نسل کے ذریعے، جنہیں دنیا کے گھر میں آبادی کا سبب بنایا گیا ہے؛ اور کھیتی اور نسل کا قائم رہنا آسودہ زندگی کے ساتھ ممکن نہیں مگر مختلف صنعتوں/پیشوں کے ذریعے، اور ضرورت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان میں سے ہر گروہ کسی ایک قسم کی صنعت کے لیے مخصوص ہو جائے؛ اس طرح ان کے معاش منظم ہو جاتے ہیں۔

پھر ان میں سے ہر ایک خادم یا مخدوم بن گیا، اس طرح سب پر یہ نعمت پوری ہو گئی، اور ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور بہت زیادہ تفاضل پیدا ہو گیا۔ اور ان کی ساخت کی اصل اور فطرت کی بنیاد میں شہوانی قوتیں رکھی گئی ہیں، جن کے ذریعے وہ طرح طرح کی لذتوں میں سے مشتہی چیزوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، یہاں تک کہ جہاں سے بھی ان تک پہنچنے کا راستہ پاتے ہیں وہاں سے انہیں لے لیتے ہیں، اور اپنی طاقت بھر ان پر غلبہ حاصل کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں راہِ عدل پر چلایا، ان پر اپنا امر و نہی اور حکم و ممانعت نازل کی، ان کے لیے حلال و حرام واضح کیا، اور معاملات اور بیعوں میں انصاف کی طرف ترغیب دی، تاکہ خلق اور امر کی دلیلوں کے ساتھ اللہ کی حجت ان پر قائم ہو جائے۔ پھر وہ انہیں آزماتا ہے، ان کے حالات کو جانچتا ہے، ان کے عقائد اور رازوں کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ جو ان سے ظاہر ہو اس کے مطابق وہ ثواب اور عذاب کے مستحق بنیں۔

اور اللہ تعالیٰ نے کسی زمانے کو ایسے نبی سے خالی نہیں چھوڑا جو مخلوق کو حق کی طرف رہنمائی کرے اور ان کی تربیت کرے۔

اور جب اللہ نے نبوت اور رسالت کو خاتم النبیین اور سید المرسلین محمد ﷺ پر ختم کیا، تو آپ کی امت میں راشد امراء اور ہدایت یافتہ والیوں کو خلیفہ بنایا، تاکہ وہ دین کی مدد کریں، تمام مخلوق کے درمیان عدل کریں، اور انہیں صراط مستقیم پر چلائیں؛ کیونکہ عدل سے زمانہ سنورتا ہے، بستیاں آباد و زرخیز ہوتی ہیں، راستے محفوظ ہوتے ہیں، عیش خوشگوار ہوتا ہے، اور زندگی کے اسباب منظم ہوتے ہیں۔

اور عدل بہترین فضائل میں سے ہے، قدر کے لحاظ سے سب سے بزرگ، اہمیت کے لحاظ سے سب سے شریف، رتبے کے لحاظ سے سب سے بلند، درجے کے لحاظ سے سب سے اونچا، اور منزل کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہے۔

اس کے استعمال سے خالق کی رضا، مخلوق کی محبت، دارِ ابد میں سعادت، اور دائمی نعمت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ پس میں نے ایک جزء تالیف کیا جو نبی ﷺ سے مروی کچھ احادیث پر مشتمل ہے، جو میں نے بعض جگہوں سے سنی ہیں، اختصار کے ساتھ، طوالت اور کثرت کے بغیر، ایسی چیزیں جن سے امیر و مامور اور حاکم و رعایا بے نیاز نہیں ہو سکتے۔

[النصيحة للراعي والرعية للتبريزي: ص25]



دنیا ایک عارضی کاشت گاہ ہے، اور آخرت ابدی فصل ہے۔

امام نجم الدين المقدسيؒ(م689ھ) لجھتے ہیں:

اور دل والوں یعنی صاحبانِ بصیرت نے جان لیا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور دل زمین کی مانند ہے، اور ایمان اس میں بیج کی مانند ہے، اور طاعتیں زمین کو صاف کرنے، پاک کرنے، نہریں کھودنے اور اس تک پانی پہنچانے کے کام میں جاری ہیں۔

اور وہ دل جو دنیا میں پوری طرح ڈوبا ہوا ہے، اس شور زمین کی مانند ہے جس میں بیج اگتا ہی نہیں۔

اور قیامت کا دن فصل کٹائی کا دن ہے۔ کوئی بھی وہی کاٹے گا جو اس نے بویا، اور کوئی فصل اگے گی مگر ایمان کے بیج سے۔ اور دل کی خباثت اور اخلاق کی خرابی کے ساتھ وہ کم ہی نفع دے گی، جیسے شور زمین میں بیج نہیں اگتا۔

پس بندے کے مغفرت کی امید کو کسان کی امید پر قیاس کرنا چاہیے۔ ہر وہ شخص جس نے اچھی زمین تلاش کی، اس میں اچھا بیج ڈالا جو سڑا گلاس نہ ہو، پھر ضرورت کے وقت اسے پانی پہنچایا، زمین کو خار، گھاس اور فصل کو خراب کرنے والی چیزوں سے صاف کیا، پھر بیٹھ کر اللہ کے فضل سے کڑکوں اور خراب کرنے والی آفات کو دور کرنے کا انتظار کیا، یہاں تک کہ فصل پوری ہو اور اپنی انتہا کو پہنچ جائے — اس کے اس انتظار کو رجاء (امید) کہا جاتا ہے۔

لیکن اگر کسی نے شور، سخت اور اونچی زمین میں بیج بویا جہاں پانی نہ پہنچتا ہو اور اس نے اس کی دیکھ بھال ہی نہ کی، پھر فصل کا انتظار کیا، تو اس کے انتظار کو حماقت اور غرور کہا جائے گا، رجاء نہیں۔

اور اگر اچھی زمین میں بیج پھیلایا لیکن اس میں پانی نہ ہو، اور وہ بارش کے پانی کا انتظار کرنے لگا، تو اس کے انتظار کو تمنا کہا جائے گا، رجاء نہیں۔

پس رجاء کا نام صرف اس محبوب چیز کے انتظار پر صادق آتا ہے جس کے اسباب جو بندے کے اختیار میں داخل ہیں، پورے کر لیے گئے ہوں، اور صرف وہی باقی رہے جو بندے کے اختیار میں نہیں، اور وہ اللہ سبحانہ کا فضل ہے کہ وہ رکاوٹیں اور خراب کرنے والی چیزیں ہٹا دے۔

پس بندہ جب ایمان کا بیج بوتا ہے، اسے طاعتوں کے پانی سے سینچتا ہے، دل کو برے اخلاق کے خار سے پاک کرتا ہے، اور اللہ کے فضل سے یہ انتظار کرتا ہے کہ وہ اسے موت تک اس پر ثابت رکھے اور حسن خاتمہ عطا کرے جو مغفرت تک پہنچائے، تو اس کا یہ انتظار رجاء محمود ہے، جو موت تک طاعتوں پر مداومت اور ایمان کے تقاضے پورا کرنے کا محرک بنتا ہے۔

اور اگر ایمان کے بیج کو طاعتوں کے پانی سے سینچنے کا سلسلہ توڑ دیا، یا دل کو رذائل اخلاق سے بھرا چھوڑ دیا، اور دنیا کی لذتوں کے طلب میں ڈوب گیا، پھر مغفرت کی امید رکھی، تو یہ حماقت اور غرور ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

«فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الْأَدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا» 

[الأعراف: 169]

ترجمہ: ”پھر ان کے بعد ان کے پیچھے ایسے ناخلف آئے جنہیں کتاب کا وارث بنایا گیا، وہ اس دنیا کے ادنیٰ مال کو لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمیں بخش دیا جائے گا۔“

اور اللہ نے اس قول والے کی مذمت کی:

«وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا»

[الكهف: 36]

ترجمہ: ”اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میں اس سے بہتر ٹھکانہ پاؤں گا۔“

[المقدسي، کتاب مختصر منهاج القاصدين: ص297-298]




امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

"الدُّنْيَا لَيْسَتْ دَارَ قَرَارٍ، وَإِنَّمَا هِيَ مَعْبَرٌ إِلَى الدَّارِ الْآخِرَةِ"

(دنیا ٹھہرنے کا گھر نہیں، بلکہ یہ آخرت کے گھر تک پہنچنے کا پل ہے۔)


عنوان: دنیا ایک متاع (سامان) ہے۔

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ:

"إِنَّمَا الدُّنْيَا مَتَاعٌ (1) وَلَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ." (2) (3)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بیشک دنیا ایک سامان (متاع) ہے (1)، اور دنیا کے سامان میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔" (2) (3)


حواشی وحوالہ جات:

(1) امام طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: "المتاع" کا اصل "التمتع بالشیء" سے ہے، یعنی کسی چیز سے فائدہ اٹھانا۔ اور دنیا کے تمام وہ اسباب جن سے فائدہ اٹھایا جائے، انہیں "متاع" کہا جاتا ہے۔

(فیض القدیر: 3/732)

(2) "الصالحۃ" سے مراد: پاکیزہ، اپنے شوہر کے گھریلو معاملات کی اصلاح کرنے والی، اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے والی عورت ہے۔

(فیض القدیر: 3/733)

(3) سنن ابن ماجہ: 1855؛ صحیح مسلم: 64 - (1467)؛ سنن النسائی: 3232؛ مسند الإمام أحمد: 6567۔


حدیث کی تخریج و حکم

یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام مسلم نے صحیح مسلم (1467) میں، امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (1855) میں، امام نسائی نے سنن النسائی (3232) میں، اور امام أحمد نے مسند أحمد (6567) میں روایت کیا۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص34/ ج361]


حدیث کا مرکزی مضمون:

دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے۔

دنیا کے تمام سرمائے میں سب سے بہترین چیز نیک بیوی ہے۔


قرآن سے شواہد و تفسیر

1. دنیا کی حقیقت:

{وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (الحدید: 20)

(اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔)

تفسیر: دنیا ایک عارضی سرمایہ ہے، اور اس کی حقیقت "متاع" ہے، جیسا کہ حدیث میں ذکر ہوا۔


2. نیک بیوی اللہ کی نعمت:

{وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً} (الروم: 21)

(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔)

تفسیر: نیک بیوی اللہ کی عظیم نشانی اور نعمت ہے، جو دنیا کی بہترین متاع ہے۔


3. نیک بیوی دنیا کا سرمایہ:

{رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً} (البقرة: 201)

(اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے۔)

تفسیر: دنیا کی بھلائی میں نیک بیوی شامل ہے، اور یہ دنیا کا بہترین سرمایہ ہے۔


4. نیک بیوی کی دعا:

{وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ} (الفرقان: 74)

(اور وہ جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔)

تفسیر: نیک بیوی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دنیا کا بہترین سرمایہ ہے۔


5. نیک بیوی صالح شوہر کی شریک:

{وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ} (الأنبیاء: 90)

(اور ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کو صالح بنا دیا۔)

تفسیر: نیک بیوی اللہ کی خاص عطا ہے، جو دنیا کی بہترین متاع ہے۔


6. زوجین کا باہمی تعلق:

{هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ} (البقرة: 187)

(وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔)

تفسیر: نیک بیوی شوہر کے لیے لباس کی مانند ہے، جو اس کی حفاظت اور سکون کا ذریعہ ہے۔


7. دنیا کی متاع:

{وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ} (الحجر: 88)

(اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دی ہیں۔)

تفسیر: دنیا کی متاع عارضی ہے، مگر نیک بیوی دائمی سرمایہ ہے۔


8. نیک بیوی کا اجر:

{فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ} (النساء: 34)

(پس نیک عورتیں وہ ہیں جو فرماں بردار ہیں اور اللہ کی حفاظت کے مطابق غیب کی حفاظت کرتی ہیں۔)

تفسیر: نیک بیوی کی صفات میں فرماں برداری اور غیب کی حفاظت شامل ہے، جو اسے دنیا کی بہترین متاع بناتی ہیں۔


حدیث سے مزید شواہد

1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ"

(چار چیزیں خوش نصیبی میں سے ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، اور آرام دہ سواری۔)

(سنن ابن ماجہ: 1856)


2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ"

(ساری دنیا ایک سرمایہ ہے، اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک بیوی ہے۔)

(صحیح مسلم: 1467)


3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ رَزَقَهُ اللهُ امْرَأَةً صَالِحَةً فَقَدْ أَعَانَهُ عَلَى شَطْرِ دِينِهِ، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِي الشَّطْرِ الْبَاقِي"

(جسے اللہ نے نیک بیوی عطا کی، اس نے اسے آدھے دین پر مدد دی، پس چاہیے کہ وہ باقی آدھے میں اللہ سے ڈرے۔)

(المعجم الأوسط للطبرانی)


4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ"

(عورت سے نکاح چار چیزوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے: اس کے مال، اس کے نسب، اس کے حسن، اور اس کے دین کی وجہ سے۔ پس تم دین والی کو ترجیح دو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔)

(صحیح البخاری: 5090، صحیح مسلم: 1466)


5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"خَيْرُ النِّسَاءِ مَنْ إِذَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا سَرَّتْكَ، وَإِذَا أَمَرْتَهَا أَطَاعَتْكَ، وَإِذَا غِبْتَ عَنْهَا حَفِظَتْكَ فِي نَفْسِهَا وَمَالِكَ"

(بہترین عورت وہ ہے کہ جب تم اس کی طرف دیکھو تو وہ تمہیں خوش کرے، جب تم حکم دو تو اطاعت کرے، اور جب تم اس سے غائب ہو تو اپنے نفس اور تمہارے مال کی حفاظت کرے۔)

(سنن النسائی: 3231)


6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ"

(مومن نے اللہ کے خوف کے بعد نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں پائی۔)

(سنن ابن ماجہ: 1857)


7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ الْمَرْأَةَ الصَّالِحَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"

(بیشک نیک بیوی جنت والوں میں سے ہے۔)

(مسند أحمد)


8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ"

(کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی ایک خصلت ناپسند ہو تو دوسری پسند ہو گی۔)

(صحیح مسلم: 1469)


فقہی نکات:

1. دنیا کی حقیقت: دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے، اور یہ عارضی ہے، مگر اس میں نیک بیوی سب سے بہترین سرمایہ ہے۔

2. نیک بیوی کی تعریف: "الصالحۃ" سے مراد پاکیزہ، اپنے شوہر کے گھریلو معاملات کی اصلاح کرنے والی، اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے والی عورت ہے۔

3. نکاح میں دین کی ترجیح: نکاح میں مال، نسب، اور حسن کے ساتھ دین کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ یہی دنیا کا بہترین سرمایہ ہے۔

4. نیک بیوی کا مقام: نیک بیوی دنیا کی بہترین متاع ہے، اور آدھے دین کی مددگار ہے۔

5. نیک بیوی کے حقوق: شوہر پر لازم ہے کہ وہ نیک بیوی کا احترام کرے، اس کے حقوق ادا کرے، اور اس کی قدر کرے۔

6. نیک بیوی کی صفات: فرماں برداری، غیب کی حفاظت، شوہر کو خوش کرنا، اطاعت، اور مال و نفس کی حفاظت نیک بیوی کی صفات ہیں۔

7. دنیا کی محبت سے بچنا: دنیا کی متاع فانی ہے، اور نیک بیوی باقی ہے، اس لیے نیک بیوی کو ترجیح دینی چاہیے۔

8. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

9. نیک بیوی کی قدر: نیک بیوی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔


تصوف کے نکات

1. دنیا اور آخرت: صوفیاء کے نزدیک دنیا فانی اور آخرت باقی ہے، مگر نیک بیوی دونوں میں سکون کا ذریعہ ہے۔

2. نیک بیوی اور قلب: صوفیاء کے نزدیک نیک بیوی قلب کی صفائی اور نفس کی اصلاح میں مددگار ہے۔

3. محبت اور رحمت: نیک بیوی محبت اور رحمت کا ذریعہ ہے، جو اللہ کی نشانی ہے۔

4. اللہ کی طرف رجوع: نیک بیوی اللہ کی طرف رجوع کرنے میں مددگار ہے۔

5. صالح بیوی کی دعا: صوفیاء نیک بیوی کے لیے دعا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

6. محبتِ الٰہی: نیک بیوی اللہ کی محبت اور اس کی قربت کا ذریعہ ہے۔

7. صبر اور شکر: نیک بیوی صبر اور شکر کا درس دیتی ہے۔


تاریخی پس منظر

1. یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، عبادت گزار، اور بہت زیادہ علم والے تھے۔

2. یہ حدیث صحیح مسلم (1467)، سنن ابن ماجہ (1855)، سنن النسائی (3232)، اور مسند أحمد (6567) میں مروی ہے۔

3. امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں درج کیا، جو اس کی صحت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

4. امام نووی، ابن حجر، اور ابن کثیر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔

5. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث نکاح، عائلی زندگی، اور دنیا کی حقیقت کی بنیاد ہے۔

6. صحابہ کرام نیک بیوی کو دنیا کا بہترین سرمایہ سمجھتے تھے، اور اس کی قدر کرتے تھے۔

7. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نکاح میں دین کو ترجیح دیں، اور نیک بیوی کی قدر کریں۔

8. یہ حدیث دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

9. قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال اور نیت کے مطابق جزا پائے گا۔

10. نیک بیوی دنیا کا بہترین سرمایہ ہے، اور جنت میں بھی سکون کا ذریعہ ہے۔


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے، اور یہ عارضی ہے۔

2. دنیا کے تمام سرمائے میں نیک بیوی سب سے بہترین ہے۔

3. نیک بیوی پاکیزہ، فرماں بردار، اور شوہر کے معاملات کی اصلاح کرنے والی ہوتی ہے۔

4. نکاح میں دین کو مال، نسب، اور حسن پر ترجیح دینی چاہیے۔

5. نیک بیوی آدھے دین کی مددگار ہے۔

6. نیک بیوی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔

7. نیک بیوی محبت اور رحمت کا ذریعہ ہے۔

8. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔

9. نیت کے مطابق حشر ہو گا۔

10. آخرت کی تیاری کرنا اور نیک بیوی کی قدر کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔


مقاصد

1. دنیا کی حقیقت کو واضح کرنا۔

2. نیک بیوی کی اہمیت بتانا۔

3. نکاح میں دین کی ترجیح کی ترغیب دینا۔

4. نیک بیوی کی صفات بتانا۔

5. نیک بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی ترغیب دینا۔

6. دنیا کی محبت سے بچنے کی ترغیب دینا۔

7. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔

8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔

9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔

10. صالح بیوی کے لیے دعا کی ترغیب دینا۔


خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بیشک دنیا ایک سرمایہ (متاع) ہے، اور دنیا کے سرمائے میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔"

دنیا کی تعریف: دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے، جو عارضی ہے، اور اس میں نیک بیوی سب سے بہترین سرمایہ ہے۔

نیک بیوی کی تعریف: "الصالحۃ" سے مراد پاکیزہ، اپنے شوہر کے گھریلو معاملات کی اصلاح کرنے والی، اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے والی عورت ہے۔


نتیجہ:

یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ نکاح، عائلی زندگی، اور دنیا کی حقیقت کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں نکاح میں دین کو ترجیح دینے، نیک بیوی کی قدر کرنے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔

واللہ أعلم بالصواب




عنوان: فقر کا خوف اور دنیا کی کثرت کا فتنہ – نبی ﷺ کی پیشین گوئی

عربی متن

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ:

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ، فَقَالَ: "أَلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟ (1) أَوَتُهِمُّكُمُ الدُّنْيَا؟ فَإِنَّ اللهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ (2) وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا (3) حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ (4) بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ (5) وَايْمُ اللهِ (6) لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ (7) لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ." قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: "صَدَقَ وَاللهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَنَا عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ." (8)

ترجمہ:

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم فقر (غربت) کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے ڈر رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'کیا تم فقر (غربت) سے ڈرتے ہو؟ (1) کیا تمہیں دنیا کی فکر نے گھیر رکھا ہے؟ پس بیشک اللہ تمہارے لیے فارس اور روم کی زمینیں فتح کرنے والا ہے (2)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم پر دنیا اس طرح انڈیلی جائے گی (3) یہاں تک کہ تمہیں میرے بعد حق سے ہٹانے والی چیز اگر کوئی ہو گی تو وہ صرف دنیا ہی ہو گی (4) (5)۔ اور اللہ کی قسم! (6) میں نے تمہیں ایک ایسی روشن راہ پر چھوڑا ہے (7) جس کی رات اور دن برابر (روشن) ہیں۔'

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، آپ نے ہمیں ایسی روشن راہ پر چھوڑا جس کی رات اور دن برابر ہیں۔' (8)"


حواشی وحوالہ جات:

(1) سنن ابن ماجہ:5

(2) مسند الإمام أحمد: 24028؛ نیز دیکھیں صحیح الترغیب والترہیب: 3257۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "حسن لغیرہ"۔

(3) سنن ابن ماجہ: 5۔

(4) یعنی: تمہیں حق سے ہٹا دے۔

(5) مسند الإمام أحمد: 24028۔

(6) یعنی: اللہ کی قسم۔

(7) "البیضاء" اور ایک روایت میں "المحجۃ البیضاء" (روشن شاہراہ) ہے، جو سیدھا راستہ ہے۔

(فیض القدیر: 4/663)

سندی نے کہا: یعنی ملت اور حجتِ واضحہ جو شبہات کو قبول نہیں کرتی، پس اس پر شبہات پیش کرنے کی حالت ایسی ہے جیسے اس سے شبہات کو کشف کر کے دور کر دینا، اور اسی طرف "رات اور دن برابر ہیں" کے قول سے اشارہ ہے۔

(حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ: 1/36)

(8) سنن ابن ماجہ: 5۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص10 / ج341]




حدیث کی تخریج و حکم

یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ اسے امام ابن ماجہ (5) اور امام أحمد (24028) نے روایت کیا۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا۔




حدیث کا مرکزی مضمون:

صحابہ فقر (غربت) کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے ڈر رہے تھے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فقر سے ڈرتے ہو؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی: فارس اور روم کی زمینیں فتح ہوں گی۔

دنیا تم پر انڈیلی جائے گی (یعنی مال و دولت کی کثرت ہو گی)۔

تمہیں حق سے ہٹانے والی چیز صرف دنیا ہی ہو گی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو روشن راہ پر چھوڑا جس کی رات اور دن برابر ہیں۔




قرآن سے شواہد و تفسیر

1. مال اور اولاد کی آزمائش:

{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} (التغابن: 15)

(بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔)

تفسیر: مال فتنہ ہے، جیسا کہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی کثرت کو فتنہ قرار دیا۔


2. مال کی محبت:

{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)

(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)


3. دنیا کی زینت:

{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ} (آل عمران: 14)

(لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت مزین کر دی گئی ہے: عورتوں، بیٹوں، اور سونے چاندی کے ڈھیروں کی۔)


4. فتح کا وعدہ:

{وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ} (النور: 55)

(اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا۔)

تفسیر: فارس اور روم کی فتح اسی وعدے کی تعمیل تھی۔


5. دنیا کی حقیقت:

{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} (الحدید: 20)

(جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، تمہارے درمیان فخر، اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔)


6. آخرت بہتر اور باقی ہے:

{وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)

(اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)


7. قناعت:

{وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ} (النجم: 39)

(اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے۔)

تفسیر: قناعت اور سعی، دونوں کا توازن ضروری ہے۔


8. صراطِ مستقیم:

{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ} (الأنعام: 153)

(اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اس کی پیروی کرو۔)

تفسیر: حدیث میں "البیضاء" سے مراد یہی صراطِ مستقیم ہے۔





حدیث سے شواہد:
عنوان: خوفِ فقر نہیں، خوفِ تکاثر اور گناہِ عمد

عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ."
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مجھے تم پر فقر (غربت) کا خوف نہیں، لیکن مجھے تم پر تکاثر (مال کی کثرت کی حرص اور باہمی مقابلہ) کا خوف ہے۔ اور مجھے تم پر خطا (بھول چوک) کا خوف نہیں، لیکن مجھے تم پر عمد (جان بوجھ کر گناہ) کا خوف ہے۔"

[مسند الإمام أحمد:8060، صحیح ابن حبان:3222، صحیح الجامع:5523، السلسلة الصحيحة:2216]



حدیث کی تخریج و حکم:
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد (8060)، امام ابن حبان (3222) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (5523) اور السلسلة الصحيحة (2216) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔



حدیث کا مرکزی مضمون:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امت پر فقر (غربت) کا خوف نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکاثر (مال کی کثرت کی حرص اور دنیاوی مقابلہ) کا خوف ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطا (بھول چوک) کا خوف نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمد (جان بوجھ کر گناہ) کا خوف ہے۔





خوفِ نبوی:
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطا بن یسار نے اور ان سے ابوسعید ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے متعلق سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کی برکتیں تمہارے لیے نکال دے گا۔ پوچھا گیا زمین کی برکتیں کیا ہیں؟ فرمایا کہ دنیا کی چمک دمک، اس پر ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کیا بھلائی سے برائی پیدا ہوسکتی ہے؟ نبی کریم ﷺ اس پر خاموش ہوگئے اور ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد اپنی پیشانی کو صاف کرنے لگے اور دریافت فرمایا، پوچھنے والے کہاں ہیں؟ پوچھنے والے نے کہا کہ حاضر ہوں۔ ابو سعید خدری ؓ نے کہا کہ جب اس سوال کا حل ہمارے سامنے آگیا تو ہم نے ان صاحب کی تعریف کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بھلائی سے تو صرف بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مال سرسبز اور خوشگوار (گھاس کی طرح) ہے اور جو چیز بھی ربیع کے موسم میں اگتی ہیں وہ حرص کے ساتھ کھانے والوں کو ہلاک کردیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہیں۔ سوائے اس جانور کے جو پیٹ بھر کے کھائے کہ جب اس نے کھالیا اور اس کی دونوں کوکھ بھر گئیں تو اس نے سورج کی طرف منہ کر کے جگالی کرلی اور پھر پاخانہ پیشاب کردیا اور اس کے بعد پھر لوٹ کے کھالیا اور یہ مال بھی بہت شیریں ہے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور حق میں خرچ کیا تو وہ بہترین ذریعہ ہے اور جس نے اسے ناجائز طریقہ سے حاصل کیا تو وہ اس شخص جیسا ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔
[صحیح بخاری»حدیث نمبر: 6427
کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب: دنیا کی زینت سے بچنے، اور اس کی طرف رغبت کرنے کا بیان۔]
القرآن:
اور تم ان چیزوں کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہیں، اور نہ ان لوگوں پر اپنا دل کڑھاؤ، اور جو لوگ ایمان لے  آئے ہیں، ان کے لیے اپنی شفقت کا بازو پھیلا دو۔
[سورۃ نمبر 15 الحجر، آیت نمبر 88]
القرآن:
اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔
[سورۃ نمبر 20 طٰهٰ، آیت نمبر 131]



عنوان: دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے – علم، مال، نیت اور انجام

عربی متن

عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنَمَارِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:

"إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ (1) عَبْدٍ (2) آتَاهُ اللهُ مَالًا وَعِلْمًا (3) فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ (4) وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، فَهَذَا (5) بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ (6)

وَعَبْدٍ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا، وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا، فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ (7) لَوْ كَانَ لِي مَالٌ، لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ (8) فَهُوَ بِنِيَّتِهِ (9) فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ (10)

وَعَبْدٍ آتَاهُ اللهُ مَالًا، وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا، فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ (11) لَا يَعْلَمُ لِلهِ فِيهِ حَقًّا، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ (12) وَيُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ (13) فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ

وَعَبْدٍ لَمْ يُؤْتِهِ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَهُوَ بِنِيَّتِهِ، فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ." (14)

ترجمہ:

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بیشک دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:

(1) ایک وہ بندہ (1) جسے اللہ نے مال اور علم (2) دونوں عطا کیے، پس وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں عمل کرتا ہے (3) اور اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے، تو یہ سب سے بہترین درجے والا ہے (4) (5)۔

(2) اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم عطا کیا مگر مال نہیں دیا، پس وہ سچی نیت والا ہے، کہتا ہے (6): اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں شخص کے عمل کی طرح عمل کرتا (7)، پس وہ اپنی نیت کے مطابق (اجر پائے گا) (8)، پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (9)۔

(3) اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال عطا کیا مگر علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال میں بغیر علم کے بےجا تصرف کرتا ہے (10)، نہ وہ اس میں اللہ کا حق جانتا ہے، نہ اس مال سے صلہ رحمی کرتا ہے، نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے (11)، اور اسے ناحق خرچ کرتا ہے (12)، تو یہ سب سے بدترین درجے والا ہے۔

(4) اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا اور نہ علم، پس وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں شخص کے عمل کی طرح عمل کرتا، پس وہ اپنی نیت کے مطابق (گناہ پائے گا)، پس ان دونوں کا گناہ برابر ہے (13)۔" (14)



حواشی و حوالہ جات:

(1) یعنی: دنیا والوں کا حال چار طرح کے لوگوں کا حال ہے۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(2) جامع الترمذی: 2325۔


(3) یعنی: شرعی اور نافع علم۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(4) سنن ابن ماجہ: 4228۔


(5) یعنی: یہ وہ بندہ ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہے۔


(6) یعنی: اس کے اور اللہ کے درمیان معاملے میں۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(7) یعنی: وہ شخص جس کے پاس مال ہے اور وہ اسے نیکی میں خرچ کرتا ہے۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(8) یعنی: اسے اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(9) یعنی: جس نے یہ عزم کیا کہ اگر اس کے پاس مال ہوتا تو وہ اسے خیر میں خرچ کرتا، اور جس کے پاس مال ہے اور وہ اسے خرچ کرتا ہے، ان دونوں کا اجر برابر ہے، اور علم کا اجر اسے زائد ملے گا۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(10) یعنی: وہ اسے اپنی نفسانی خواہشات میں خرچ کرتا ہے، کبھی حرص اور دنیا کی محبت میں روک لیتا ہے، اور کبھی دکھاوے، ریاکاری، فخر اور تکبر کے لیے خرچ کرتا ہے۔

(تحفۃ الأحوذی: 6/110)


(11) جامع الترمذی: 2325۔

(12) سنن ابن ماجہ: 4228۔

(13) جامع الترمذی: 2325۔

(14) جامع الترمذی: 2325۔


حدیث کی تخریج و حکم

یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ترمذی نے جامع الترمذی (2325) میں اور امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (4228) میں روایت کیا۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (2350) اور صحیح الترغیب والترہیب (19) میں درج کیا۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج 4 / ص 298]


حدیث کا مرکزی مضمون:

دنیا کے لوگ چار اقسام میں تقسیم ہیں:

علم + مال: بہترین درجہ، علم کے مطابق مال میں عمل اور صلہ رحمی۔

علم، مال نہیں: سچی نیت والا، اجر میں پہلے کے برابر۔

مال، علم نہیں: بدترین درجہ، بغیر علم کے مال میں تصرف، ناحق خرچ۔

نہ علم نہ مال: بد نیت والا، گناہ میں پہلے کے برابر۔


قرآن سے شواہد و تفسیر

1. علم اور مال کی اہمیت:

{وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا} (الزخرف: 32)

(اور ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر درجے بلند کیے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔)

تفسیر: اللہ نے علم اور مال کے ذریعے لوگوں کے درجات میں فرق رکھا، تاکہ وہ ایک دوسرے کی خدمت کریں۔


2. مال اور اولاد کی آزمائش:

{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} (التغابن: 15)

(بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔)

تفسیر: مال اور علم دونوں آزمائش ہیں، اور ان کا صحیح استعمال ہی کامیابی ہے۔


3. علم کے مطابق عمل:

{وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا} (طه: 114)

(اور کہہ: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔)

تفسیر: علم کی زیادتی کا مقصد عمل ہے، اور جو علم کے مطابق عمل کرے وہ بہترین درجے والا ہے۔


4. نیت کی اہمیت:

{لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ} (الحج: 37)

(اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔)

تفسیر: اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت اور تقویٰ پر ہے، جیسا کہ حدیث میں نیت کے مطابق اجر کا ذکر ہے۔


5. مال میں اللہ کا حق:

{وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ} (الذاریات: 19)

(اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا۔)

تفسیر: مال میں اللہ کا حق ہے، اور جو اسے ادا نہ کرے وہ بدترین درجے والا ہے۔


6. صلہ رحمی:

{وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ} (النساء: 1)

(اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں کا خیال رکھو۔)

تفسیر: صلہ رحمی مال کے صحیح استعمال کا حصہ ہے۔


7. بغیر علم کے عمل:

{وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ} (الإسراء: 36)

(اور جس چیز کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چل۔)

تفسیر: بغیر علم کے مال میں تصرف کرنا ممنوع ہے۔


8. بدترین درجہ:

{وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا} (الشمس: 10)

(اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔)

تفسیر: جو اپنی نیت اور عمل کو خراب کرے وہ بدترین درجے والا ہے۔


حدیث سے مزید شواہد

1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"

(جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے۔)

(صحیح البخاری: 71، صحیح مسلم: 1037)


2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ"

(طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔)

(صحیح مسلم: 2664)


3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ كَسَبَ مَالًا حَرَامًا فَتَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ"

(جس نے حرام مال کمایا اور اسے صدقہ کیا، اس سے قبول نہیں ہوگا۔)

(مسند أحمد)


4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"

(بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔)

(صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)


5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ"

(جس کے پاس سواری کا فالتو جانور ہو، وہ اسے اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہ ہو۔)

(صحیح مسلم: 1001)


6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ"

(صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔)

(صحیح مسلم: 2588)


7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ"

(بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔)

(جامع الترمذي: 3546)


8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ"

(جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔)

(صحیح مسلم: 2699)


فقہی نکات

1. علم اور مال کی اہمیت: علم اور مال دونوں اللہ کی نعمتیں ہیں، اور ان کا صحیح استعمال باعثِ اجر ہے۔


2. بہترین درجہ: وہ شخص جو علم کے مطابق مال میں عمل کرے، صلہ رحمی کرے، اور اللہ کا حق ادا کرے، وہ بہترین درجے والا ہے۔


3. نیت کا اجر: جو شخص علم رکھتا ہے مگر مال نہیں، مگر اس کی نیت سچی ہے کہ اگر مال ہوتا تو وہ بھی نیکی کرتا، تو اسے پہلے کے برابر اجر ملے گا۔


4. بدترین درجہ: جو شخص مال رکھتا ہے مگر علم نہیں، وہ بغیر علم کے مال میں تصرف کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور اللہ کا حق ادا نہیں کرتا، وہ بدترین درجے والا ہے۔


5. بد نیت کا گناہ: جو شخص نہ علم رکھتا ہے نہ مال، مگر بد نیت ہے کہ اگر مال ہوتا تو وہ بھی برائی کرتا، تو اسے پہلے کے برابر گناہ ملے گا۔


6. مال میں اللہ کا حق: مال میں زکوٰۃ، صدقہ، اور صلہ رحمی کا حق ہے، اور انہیں ادا کرنا ضروری ہے۔


7. بغیر علم کے فتویٰ: بغیر علم کے مال میں تصرف کرنا، یا دین کے معاملات میں فتویٰ دینا، ممنوع ہے۔


8. نیت کی اہمیت: اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے، اور نیت کے مطابق اجر یا گناہ ملتا ہے۔


9. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت: شریعت میں کسی کو "خليفة الله" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔


10. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔



مقاصد

1. علم اور مال کی اہمیت بتانا۔

2. نیت کے مطابق اجر و گناہ کو واضح کرنا۔

3. مال میں اللہ کا حق اور صلہ رحمی کی ترغیب دینا۔

4. بغیر علم کے عمل سے روکنا۔

5. بہترین اور بدترین درجے کو واضح کرنا۔

6. نیت کی اصلاح کی ترغیب دینا۔

7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔

8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔

9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔

10. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔








(1)حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ  میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ 

ترجمہ:

یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے  جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام وناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے ۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

[جامع ترمذی» کتاب:-گواہیوں کا بیان»ب اب:-حق کے ساتھ مال لینے کے متعلق»ح دیث نمبر: 2374]


اصول:

قرآن وسنت میں جہاں بھی دنیا کی مذمت کی گئی ہے، وہاں احکام الہی سے غافل کرنے والی اور آخرت کو نقصان پہنچانے والی چیزیں/باتیں مراد ہیں۔

لہٰذا حضرت حسن(اور حضرت حذیفہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

حُبُّ الدُّنْيا﴿الدينار﴾ رَأسُ  كُلِّ خَطِيئَةٍ.

دنیا﴿پیسے﴾ کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔

[شعب الایمان-للبيهقي:10501، جامع الأحاديث-للسيوطي:45030 ﴿الترغيب والترهيب-للمنذري:3/178﴾]

یعنی دنیا وہ باتیں/چیزیں ہیں جو خطاؤں میں مبتلا کریں۔ اور جو خطاؤں میں مبتلا نہ کرے وہ باتیں/چیزیں مذموم دنیا یا اسکی محبت نہیں۔



قَالَ خَوْلَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ بَيْتَهُ فَتَذَاكَرُوا الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ

ترجمہ:

حضرت خولہ بنت قیس جو حضرت حمزہ کی اہلیہ تھیں، سے مروی ہے کہ ایک دن نبی حضرت حمزہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی نے فرمایا: دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے (ناحق)گھسنے والے ایسے ہیں جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔

[مسند احمد» حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں» حدیث نمبر: 26098]



عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طُعْمَةٍ وَلَا إِشْرَاهٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طُعْمَةٍ وَإِشْرَاهٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ

ترجمہ:

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ دنیا سرسبز اور شیریں ہے، سو جسے ہم کوئی چیز اپنی خوشی سے اور اچھے کھانے کی دے دیں جس میں اس کی بے صبری شامل نہ ہو تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس شخص کو ہم اس میں سے کوئی چیز اپنی خوشی کے بغیر اور اچھے کھانے کے علاوہ دیدیں جس میں اس کی بےصبری بھی شامل ہو تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی۔

[مسند احمد» ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات» حدیث نمبر: 23302]



(2)حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا متاع یعنی سامان ہے اور دنیا کا بہترین مال ومتاع نیک بیوی ہے۔

[صحيح مسلم:1467، صحيح ابن حبان:4031]

وضاحت:

کیونکہ نیک بیوی دین اور آخرت کی باتوں میں معاون ومددگار ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اللہ سے غافل کرنے اور آخرت کی بربادی کا سبب بننے والی نہیں ہوتی۔

القرآن:

اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ (1)وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور (2)برائی سے روکتے ہیں، اور (3)نماز قائم کرتے ہیں اور (4)زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور (5)اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

[سورۃ التوبۃ:71]


القرآن:

جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی زینت(سج دھج) چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

[سورۃ نمبر 11 هود، آیت نمبر 15]

القرآن:

اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی پونجی اور اس کی سجاوٹ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

[سورۃ نمبر 28 القصص، آیت نمبر 60]

تفسیر:

کافر لوگ جو آخرت پر تو ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ کرتے ہیں، دنیا ہی کی خاطر کرتے ہیں، ان کی نیکیوں، مثلا صدقہ خیرات وغیرہ کا صلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی نیکی معتبر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کوئی نیک کام صرف دنیوی شہرت یا دولت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کرے تو اسے دنیا میں تو وہ شہرت یا دولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس نیکی کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ بلکہ واجب عبادتوں میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے الٹا گناہ ہوتا ہے۔ آخرت میں وہی نیکی معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہو۔


القرآن:

اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 28]





(3)دنیا وہ ہے جو اللہ کے ذکر (یاد ونصیحت) سے غافل کرے اور نماز کو ضایع کرادے۔

القرآن :

فلاح اس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور اپنے پروردگار کا نام لیا، اور نماز پڑھی۔ لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔

[سورۃ نمبر 87 الأعلى، آیت نمبر 14-16]


 (1)حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:

بےشک (رب کے احکام سے غافل کرنے والی) دنیا ملعون (یعنی رحمتِ الٰہی سے محروم) ہے، اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ سب بھی ملعون ہے، سوائے (1) اللہ کی یاد اور (2)اس چیز کے جو اس کے قریب کرے(یعنی مساجد مدارس)، اور (3)عالم اور (4)متعلم (علم سیکھنے والے) کے۔

[ترمذی:2322، ابن ماجہ:4112]

۔۔۔سوائے اس کے جو ہو اس میں الله عزوجل کیلئے۔
[الزھد-احمد:154]

۔۔۔سوائے الله کی رضا کی تلاش کے۔
[الزھد ابن ابی عاصم:127]

۔۔۔سوائے نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کے۔۔۔
[مسند البزار:1736]

اور(باقی)سب لوگ وحشی(جانور)ہیں ان میں کوئی خیر نہیں۔
[الزھد-ابن المبارک:543]

تفسیر القرطبي»سورة الأنعام:32



عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ کَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَائَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ کَانَتْ فِي النِّسَائِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ لِيَنْظُرَ کَيْفَ تَعْمَلُونَ

ترجمہ:

حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ ونائب بنانے والا ہے، پس وہ دیکھے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ دنیا سے بچو اور عورتوں سے بھی ڈرتے رہو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔

[صحیح مسلم» کتاب:-دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان» باب:-اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں

حدیث نمبر: 6948]







(4)حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(آخرت کے مقابلہ میں) دنیا "قیدخانہ"ہے مومن کا، اور"جنت"ہے کافر کی۔
[صحیح مسلم:2956(7417)، جامع ترمذی:2324، سنن ابن ماجہ:4113]

دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط ہے جب وہ دنیا سے جدا ہوگا تو جیل خانہ اور قحط سے جدا ہوگا۔
[مستدرک حاکم:7882، شرح السنة للبغوي:4106، مسند احمد:6855]

پس جب مومن کو موت آتی ہے تو وہ آزاد کردیا جاتا ہے کہ وہ جہاں چاہے، سیر کرے۔
[مصنف ابن ابي شيبة:35876]



اور آخرت قیدخانہ ہے کافر کا، اور جنت ہے مومن کی۔
[تفسیرالماتریدی:10/457،سورہ المطففین:آیت7]

اور دنیا میں زیادہ پیٹ بھرے اکثر لوگ قیامت کے دن بہت بھوکے ہوں گے۔
[مستدرک حاکم:6545، الجوع لابن ابي الدنيا:2، المعجم الكبير للطبراني:6183، مسند البزار:2498]

تفسیرِ ابن کثیر»
آپ (ان نافرمانوں سے) کہیے کہ : اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے (جیسا کہ تمہارا کہنا ہے) تو موت کی تمنا تو کر کے دکھاؤ، اگر واقعی سچے ہو۔
[سورۃ البقرہ:94]

تفسیر الدر المنثور»
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوچ کرو تو تم بوجھ ہو کر زمین سے لگ گئے ؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی پر راضی ہوچکے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر تھوڑا۔
[سورۃ التوبۃ:38]



تشریح:

(1)دنیا»
وہ ﴿ادنیٰ﴾ اور فانی باتیں/چیزیں جو نافرمانی کرکے حاصل کی جائیں، جس سے آخرت جو اعلیٰ اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، برباد ہو۔
(2)قیدخانہ»
وہ جگہ جہاں پابندی وتنگی، درد وتکلیف سے سزا ملتی ہو، اور خواہش ومرضی کہ آزادی نہ ہو۔
(3)مومن»
جو اپنی زبان،دل،جسمانی اعمال کے ذریعہ، اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ "کی" مانتا ہو۔
(4)کافر»
جو اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ "کی" نہیں مانتا۔
(5)جنت»
وہ سرسبز وشاداب جگہ جہاں جو چاہے گا ملے گا۔ وہاں نہ مرے گا، اور نہ کبھی نکالا جائے گا۔

1. روحانی نقطہ نظر: پابندی بمقابلہ عیش پسندی:
- مومن کے لیے:  
  - دنیا "قید خانہ" محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ ایمان کے تقاضوں کے تحت گناہوں، لذتوں اور دنیاوی خواہشات سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو پابند کرتا ہے۔ مثال: سود، شراب، یا غیر اخلاقی فوائد سے اجتناب۔  
- کافر کے لیے:  
  - دنیا "جنت" ہے کیونکہ وہ مادّیت پرستی اور بے لگام خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے۔ یہ "جنت" عارضی ہے اور آخرت میں اس کے لیے عذاب کا سبب بنے گی۔

---

2. عارضی بمقابلہ ابدی انعامات:
- مومن:
  - دنیا کی مشکلات اور آزمائشیں برداشت کرتا ہے کیونکہ اس کا یقین آخرت کی ابدی خوشی پر ہے (قرآن 29:64: "دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے، اور آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے")۔  
- کافر:
  - عارضی لذتوں کو ترجیح دیتا ہے، لیکن موت کے بعد اس کی "جنت" ختم ہو جاتی ہے۔

---

 3. اخلاقی پابندیاں اور ترجیحات:
- مومن کی زندگی:
  - اخلاقی حدود (جیسے ایمانداری، نماز، زکوٰۃ وغیرہ)۔  
  - مادّیت سے لاتعلقی (قرآن 57:20: "دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں")۔  

- کافر کی زندگی:
  - روحانی ترقی کی بجائے مادی لذتوں پر توجہ۔

---

4. نفسیاتی لاتعلقی:
- مومن:  
  - دنیاوی کامیابیاں اسے مطمئن نہیں کرتیں، کیونکہ اس کی نظر آخرت پر ہوتی ہے۔  
- کافر:  
  - دولت، شہرت، یا عہدوں کو حتمی مقصد سمجھتا ہے۔

---

5. سماجی و سیاسی تناظر:
- مومن معاشروں میں جہاں ایمان پر پابندیاں ہوں (جیسے مذہبی رسومات کی مخالفت)، وہاں "قید" محسوس کرتے ہیں۔  
- کافر ایسے معاشروں میں آزادی سے اپنے اصولوں پر چلتے ہیں۔

---

6. غلط فہمیوں کا ازالہ:
- دنیا سے مکمل انکار نہیں: اسلام دنیاوی تعلیم، کاروبار، اور خاندان کو جائز قرار دیتا ہے۔ یہ بیان محض رویے کی تفریق ہے۔  
- تکلیف افضلیت نہیں: آزمائشیں دونوں گروہوں کے لیے ہیں (قرآن 21:35)۔ یہ حدیث صرف تجرباتی فرق بتاتی ہے۔

---

7. خوشی کا تضاد:
- مومن کا اطمینان: ایمان کی وجہ سے حقیقی سکون، چاہے حالات سخت ہوں۔  
- کافر کی "جنت": بے مقصد دولت یا شہرت اکثر خلا کا احساس دیتی ہے۔

---

خلاصہ:
یہ بیان مومن اور کافر کے دنیا کے ساتھ تعلق کو واضح کرتا ہے۔ مومن کے لیے دنیا کی پابندیاں آخرت کی عظیم نعمتوں کا وعدہ ہیں، جبکہ کافر کی عارضی "جنت" اسے آخرت کے عذاب کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ تصور انسان کو فانی دنیا کی بجائے اپنی روحانی ترجیحات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔



جس شخص کیلئے دنیا (کی زندگی، جسمانی صحت، نیک بیوی، علم وذکر والوں کی مجالس وغیرہ) اللہ (کے احکام) کی یاد دلانے اور آخرت بنانے میں مددگار اور سبب بنے تو اس کیلئے وہی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔

القرآن:

جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، اور جو شخص (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اسے اسی میں سے دے دیں گے، اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

[سورۃ الشوریٰ:20]

جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔

[سورہ بنی اسرائیل:18]

نوٹ:

یہ اس شخص کا ذکر ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی دنیا کی بہتری کو بنا رکھا ہے اور آخرت پر یا تو ایمان نہیں، یا اس کی کوئی فکر نہیں، نیز اس قسم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو کوئی نیکی کا کام دنیا کی دولت یا شہرت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو دنیا کے یہ فوائد ملنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے، نہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ جتنے فائدے وہ چاہ رہے ہیں وہ سب مل جائیں، البتہ ان میں سے جن کو ہم مناسب سمجھتے ہیں دنیا میں دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں ان کا انجام جہنم ہے۔



(5)عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟ وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ؟ فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: قُلْ لِرَسُولِ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : مَا يَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: قُلْ لَهَا: فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ .

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ  فاطمہ ؓ کے پاس آئے تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا دیکھا۔ آپ اندر داخل نہیں ہوئے، کم ہی تھا کہ آپ آئیں اور سب سے پہلے فاطمہ ؓ کے پاس نہ آئیں۔ علی ؓ آئے تو فاطمہ ؓ کو پریشان دیکھا، کہنے لگے:تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگیں: نبی ﷺ میری طرف آئے تھے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔ علی‌ؓ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات گراں گزری ہے کہ آپ اس کے پاس آئے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا غرض؟ مجھے نقش ونگار سے کیا مطلب؟ علی ‌ؓ  فاطمہ ؓ کی طرف گئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی۔ فاطمہ ؓ کہنے لگیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھئے وہ اس (پردے) کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ سے کہو: وہ اسے بنی فلاں کی طرف بھیج دے۔ 

[الصحيحة:2421(3078)، سنن أبي داؤد،كِتَاب اللِّبَاسِ، بَاب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ، رقم (3620)، مسند أحمد رقم (4497) .]









حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الْعَصْرِ بِنَهَارٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا أَخْبَرَنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِيمَا قَالَ:‏‏‏‏  إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ فِيمَا قَالَ:‏‏‏‏  أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا قَالَ:‏‏‏‏  أَلَا إِنَّهُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ يُرْكَزُ لِوَاؤُهُ عِنْدَ اسْتِهِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا حَفِظْنَا يَوْمَئِذٍ:‏‏‏‏  أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ الْبَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْءِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ حَسَنُ الطَّلَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ حَسَنُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ السَّيِّئَ الْقَضَاءِ السَّيِّئَ الطَّلَبِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَخَيْرُهُمُ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ الْحَسَنُ الطَّلَبِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَشَرُّهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَا رَأَيْتُمْ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ إِلَى الشَّمْسِ هَلْ بَقِيَ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏  أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ  ایک دن رسول اللہ  ﷺ  نے ہمیں عصر کچھ پہلے پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اور آپ نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں خبر دی، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے بھول گئے، آپ نے جو باتیں بیان فرمائیں اس میں سے ایک بات یہ بھی تھی:  دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گا  ١ ؎، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے اور عورتوں سے بچ کے رہو   ٢ ؎، آپ نے یہ بھی فرمایا:  خبردار! حق جان لینے کے بعد کسی آدمی کو لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک دے ، ابو سعید خدری ؓ نے روتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں اور  (بیان کرنے سے)  ڈر گئے آپ نے یہ بھی بیان فرمایا:  خبردار! قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے کے لیے اس کے عہد توڑنے کے مطابق ایک جھنڈا ہوگا اور امام عام کے عہد توڑنے سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنا نہیں، اس عہد کے توڑنے والے کا جھنڈا اس کے سرین کے پاس نصب کیا جائے گا ، اس دن کی جو باتیں ہمیں یاد رہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی:  جان لو! انسان مختلف درجہ کے پیدا کیے گئے ہیں کچھ لوگ پیدائشی مومن ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرتے ہیں، کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندہ رہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگوں کو غصہ دیر سے آتا ہے اور جلد ٹھنڈا ہوجاتا ہے، کچھ لوگوں کو غصہ جلد آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، جان لو! کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جلد غصہ آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، جان لو! ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دیر سے غصہ ہوتے ہیں اور جلد ٹھنڈے ہوجاتے ہیں، اور سب سے برے وہ ہیں جو جلد غصہ ہوتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں، جان لو! کچھ لوگ اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے قرض وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ بدسلوکی سے قرض ادا کرتے ہیں، اور بدسلوکی سے وصول کرتے ہیں، جان لو! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے وصول کرتا ہے، اور سب سے برا وہ ہے جو برے ڈھنگ سے ادا کرتا ہے، اور بدسلوکی سے وصول کرتا ہے، جان لو! غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے کیا تم غصہ ہونے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی رگوں کو پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو؟ لہٰذا جس شخص کو غصہ کا احساس ہو وہ زمین سے چپک جائے ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم لوگ سورج کی طرف مڑ کر دیکھنے لگے کہ کیا ابھی ڈوبنے میں کچھ باقی ہے؟ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:  جان لو! دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کی بہ نسبت اب جو حصہ باقی ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا حصہ آج کا تمہارے گزرے ہوئے دن کی بہ نسبت باقی ہے   ٣ ؎۔   

 امام ترمذی کہتے ہیں:  ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے،  ٢ - اس باب میں حذیفہ، ابومریم، ابوزید بن اخطب اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم  ﷺ  نے ان سے قیامت تک ہونے والی چیزوں کو بیان فرمایا۔   

 [جامع ترمذی» کتاب: فتنوں کا بیان» باب: اس بارے میں کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو قیامت تک کے واقعات کی خبر دی

حدیث نمبر: 2191]

تخریج دارالدعوہ: 

{سنن ابن ماجہ»4000 (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦ الصحیحہ: ٤٨٦، ٩١١ ) ]

 وضاحت:

یعنی تم کو پچھلی قوموں کا وارث و نائب بنائے گا، یہ نہیں کہ انسان اللہ کا خلفیہ و نائب ہے یہ غلط بات ہے، بلکہ اللہ خود انسان کا خلیفہ ہے جیسا کہ خضر کی دعا میں ہے «والخلیف  ۃ  بعد»۔   




عنوان

جھونپڑی کی مرمت کے موقع پر نبی ﷺ کی آخرت کی تذکیر

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ:

"مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نُعَالِجُ (1) خُصًّا (2) لَنَا (3) فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللهِ؟ (4) فَقُلْتُ: خُصٌّ لَنَا (5) قَدْ وَهَى (6) فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ قَالَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ (7)"

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:

”ہمارے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اس حال میں کہ ہم اپنی ایک جھونپڑی کی مرمت کر رہے تھے۔ (1) (3) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! یہ کیا ہے؟“ (4) میں نے کہا: ”ہماری ایک جھونپڑی ہے، (5) وہ ٹوٹ پھوٹ گئی/کمزور ہوگئی ہے، (6) ہم اسے درست کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو معاملے کو اس سے بھی زیادہ جلد والا سمجھتا ہوں۔“ (7)


حواشی وحوالہ جات:

(1) یعنی: ہم اسے درست کر رہے تھے۔

(عون المعبود 11/273)


(2) الخص(جھونپڑی): سرکنڈوں/بانس سے بنایا گیا گھر، یا وہ گھر جس کی چھت لکڑی سے ڈالی گئی ہو، مانند ایوان۔

(عون المعبود 11/273)


(3) (الجامع الصحيح للترمذي) 2335

(4) (سنن أبي داود) 5235

(5) (سنن ابن ماجة) 4160


(6) یعنی: وہ پھٹ گئی، شق ہوگئی، اور اس کی بندھن/رسی ڈھیلی ہوگئی۔

(عون المعبود 11/273)


(7) (الجامع الصحيح للترمذي) 2335، (سنن أبي داود) 5236، (سنن ابن ماجة) 4160، (مسند الإمام أحمد) 6502

دیکھیں: صحيح الترغيب والترهيب 3343، صحيح الأدب المفرد 354




علمی اسباق و نکات

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سادہ زندگی اور اپنے ہاتھ سے گھر کی مرمت کرنا ثابت ہوتا ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5235)


نبی ﷺ کا اصحاب کے احوال پر گزرنا، ان کی خبرگیری کرنا اور تعلیم دینا آپ کی تربیتی شفقت کو ظاہر کرتا ہے۔

(سنن أبي داود 5235)


”نُعَالِجُ“ کا معنی ”نُصْلِحُ“ یعنی ہم درست کرتے ہیں۔ یہ عملی اصلاح اور محنت کی تعلیم ہے۔

(عون المعبود 11/273)


”خُصّ“ کے لغوی معنی اور اس کے مواد کی معرفت حدیث کے الفاظ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

(عون المعبود 11/273)


یہ حدیث متعدد کتب میں مروی ہے، جس سے اس کی شہرت اور اعتبار معلوم ہوتا ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5235، 5236؛ سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502؛ صحيح الترغيب والترهيب 3343؛ صحيح الأدب المفرد 354)


عقلی اسباق و نکات

دنیا دارِ فانی ہے؛ مکان کی مرمت ضروری ہے، مگر آخرت کی تیاری اس سے زیادہ ضروری ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5236)


نبی ﷺ کے جملے ”مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ“ میں موازنہ ہے: عارضی چیز کی مرمت کی فکر کے مقابلے میں آنے والا حتمی امر یعنی موت/قیامت زیادہ قریب ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن ابن ماجة 4160)


عقل کا تقاضا ہے کہ دائمی نقصان کو عارضی نقصان پر ترجیح دی جائے۔

(سنن أبي داود 5236؛ مسند الإمام أحمد 6502)


تفسیری اسباق و نکات

”الأمر“ سے مراد موت یا قیامت/آخرت کا معاملہ ہے۔ سیاق یہی بتاتا ہے کہ آپ ﷺ نے گھر کی مرمت دیکھ کر آخرت کی طرف توجہ دلائی۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5236)

”أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ“ یعنی اس سے زیادہ جلد پہنچنے والا/قریب۔
(سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502)

یہ جملہ وعظ و تذکیر ہے، نہ کہ مکان کی مرمت کی ممانعت۔
(سنن أبي داود 5235؛ الجامع الصحيح للترمذي 2335)


تشریحی اسباق و نکات

”نُعَالِجُ“ = نُصْلِحُ، یعنی ہم درست کرتے ہیں۔

(عون المعبود 11/273)


”خُصّ“ = بانس/سرکنڈے کا گھر، یا لکڑی سے چھت والا گھر۔

(عون المعبود 11/273)


”وَهَى“ = تخرق وانشق، واسترخى رباطه؛ یعنی وہ پھٹ گیا، شق ہوگیا اور اس کی بندھن ڈھیلی ہوگئی۔

(عون المعبود 11/273)


”مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللهِ؟“ استفہام تعلیمی/تنبیہی ہے، تاکہ صحابی کو آخرت کی یاد دلائی جائے۔

(سنن أبي داود 5235)


”مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ“ میں ”ما... إلا“ حصر کا فائدہ ہے، یعنی میں امر کو صرف اس سے زیادہ جلد والا دیکھتا ہوں۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن ابن ماجة 4160)


فقہی اسباق و نکات

اپنے گھر کی مرمت اور دیکھ بھال جائز ہے۔

(سنن أبي داود 5235؛ الجامع الصحيح للترمذي 2335)


اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور خدمت کرنا جائز بلکہ مستحسن ہے۔

(سنن أبي داود 5235)


دنیاوی اسباب اختیار کرنے کی ممانعت نہیں، مگر آخرت سے غفلت ممنوع ہے۔

(سنن أبي داود 5236؛ مسند الإمام أحمد 6502)


کسی شخص کو نام لے کر پکارنا اور سوال کرنا جائز ہے، خاص طور پر تعلیم و تربیت کے لیے۔

(سنن أبي داود 5235)


ضرورت کے وقت کمزور/ٹوٹے مکان کی مرمت کرنا مباح ہے۔

(عون المعبود 11/273؛ سنن ابن ماجة 4160)


اصولی اسباق و نکات

تعلیم کا اصول: پہلے سوال/استفہام، پھر ارشاد۔

(سنن أبي داود 5235)


حالات و قرائن کو سامنے رکھ کر کلام کی تفسیر کی جاتی ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5236)


”الأمر“ عام ہے، مگر سیاق سے مراد خاص یعنی آخرت ہے۔

(سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502)


دنیوی امور میں مشغولیت کے دوران بھی آخرت کی تذکیر کا اصول ثابت ہوتا ہے۔

(سنن أبي داود 5236؛ صحيح الترغيب والترهيب 3343)


ایک حدیث کئی طرق سے مروی ہو تو اس کے اعتبار میں قوت پیدا ہوتی ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5235، 5236؛ سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502؛ صحيح الأدب المفرد 354)


مباح چیز کی اصلاح و مرمت میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ آخرت کی تیاری سے غافل نہ کرے۔

(عون المعبود 11/273؛ سنن أبي داود 5236)






قرآنی دعا سے سبق:

لہٰذا صرف دنیا دعا مانگنے سے روکا اور دنیا کے ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگتے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے:

.....اب بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دعا میں بس) یہ کہتے ہیں کہ : ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما“ اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ : ”اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے“.

[سورۃ البقرۃ:200-201]


دنیا "میں" بھلائی سے مراد آسائش وکثرتِ مال نہیں۔

دنیا"میں"بھلائی عطا فرما

یعنی

(1)نیک اعمال

[دلائلِ قرآن، سورۃ الزمر:10-النساء:40-85، الانعام:160، النمل:89، القصص:84]


(2)نیک اولاد اور پیغمبرانہ تعلیم

[سورۃ العنکبوت:27]

(3)ٹھکانہ

[النحل:41]

(4)فتح

[آل عمران:120، النساء:78]

(5)حسنِ سلوک

[الرعد:22، القصص:54، فصلت:34]

(6)بہترین نمونۂ زندگی

[الممتحنہ:4-6]


(7)علم اور عبادت، رزقِ حلال، عافیت(صحت وامن)، شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، صبر کرنے والا جسم، اور نیکی میں مددگار بیوی۔

[تفسیر-امام الطبری(م310ھ)، امام ابن ابی حاتم(م327ھ)]

(8)نیکوکار بیوی

[نسائی:3232]

جو اپنی عزت اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرے۔

[طبرانی:11275]


دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟

(1)حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ: قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وبَدَنًا عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرًا، وَزَوْجَةً لَا تَبْغِيهِ خَوْفًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ»

ترجمہ:

چار چیزیں ایسی ہیں جسے مل جائیں تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی:

(1)شکرگذار ۔۔۔ یعنی اللہ کے احسانات کو یاد رکھنے والی ۔۔۔ دل،

(2)ذکر کرنے والی زبان،

(3)صبر کرنے والا بدن(صحت)

(4)اور ایسی عورت جو اپنی عزت اور اپنے شوہر کے مال میں خیانت نہ کرے۔

[المعجم الأوسط-للطبراني:7212، المعجم الكبير-للطبراني:11275، شعب الإيمان-للبيهقي:4115، الأحادیث المختارۃ-المقدسي:63]


رِجَالُ الصَّحِيحِ.(راوی صحیح ہیں)۔

[مجمع الزوائد:7437]

یعنی اس حدیث کو پہنچانے والے تمام افراد نیک اور اچھے حافظہ والے ہیں۔


 


القرآن:

...اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان...

[تفسیرالطبري:21/517»سورة الشورىٰ:15]

[تفسیر الثعلبي:8/307»سورة الشوري:20]


القرآن:

لہٰذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

[الدر المنثور-للسيوطي:1/363»سورة البقرۃ:152]


القرآن:

۔۔۔چنانچہ نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں الله کی دی ہوئی حفاظت سے (اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔۔۔

[سورۃ النساء:34]

اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 28]

شرح للمناوی:

(1) ذکر کرنے والی زبان اللہ تعالیٰ کے لیے: اس لیے کہ ذکر کرنے والا اللہ تعالیٰ کا ہم نشین ہوتا ہے اور ذکر ولایت و قربِ الٰہی کا پرچم (منشور) ہے۔ پس جسے یہ (چار نعمتیں) دی گئیں، اسے یہ پرچم دے دیا گیا، اور یہ سب سے بڑی بھلائی ہے۔

(2) اور شکر گزار دل اللہ تعالیٰ کے لیے: اس لیے کہ شکر کے ذریعے نعمتیں قائم رہتی ہیں اور زیادتی حاصل ہوتی ہے، اللہ کے فرمان {اور اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا} کے مطابق۔ اور شکر نعمت کا اعتراف اور بندگی کے حقوق کی ادائیگی ہے۔

پہلی نعمت (ذکر) کو زبان سے منسوب کیا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کامیابی کی علامت ہے، خواہ اس کے ساتھ دل کی موجودگی (حضورِ قلب) نہ بھی ہو۔ ایک شخص نے کسی عارف سے اپنے دل کی عدم موجودگی کی شکایت ذکر کے وقت کی۔ تو اس عارف نے کہا: اے شخص! تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم نے اپنے ایک عضو کو اس کے ذکر میں لگا رکھا ہے۔ یقیناً مسلسل زبان سے ذکر کرنا (آخرکار) قلبی ذکر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ "الحکم" (احیاء العلوم) میں ہے: ذکر کو اس وجہ سے مت چھوڑو کہ تمہیں اس میں اللہ کے ساتھ حضورِ قلب حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ ذکر چھوڑنے کی جو غفلت ہے وہ ذکر کرتے ہوئے غفلت سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ امید ہے کہ وہ تمہیں غفلت کے ساتھ ذکر سے، بیداری اور حضورِ قلب کے ساتھ ذکر تک پہنچا دے گا، اور پھر بیداری کے ساتھ ذکر سے، موجودِ حقیقی (اللہ) کے ساتھ ذکر تک پہنچا دے گا، اور پھر موجود کے ساتھ ذکر سے، مذکور (اللہ) کے سوا ہر چیز سے غافل ہو کر ذکر تک لے جائے گا، اور یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔

(3) اور مصیبت پر صبر کرنے والا جسم: (لفظ "بدن" میں باء پر زبر ہے)۔ کیونکہ اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، جیسا کہ گزرے ہوئے حدیث میں ہے۔ اور جس سے اللہ محبت کرے، وہ دونوں جہانوں کی بھلائی پا لیتا ہے۔

دوسری نعمت (شکر) کو دل سے منسوب کیا اس لیے کہ یہی وہ عضو ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں اور اس کی نعمتوں میں غور و فکر کرتا ہے، جو نعمتوں کے اعتراف اور بندگی کی ادائیگی پر ابھارتا ہے۔ اور جس نے ذکر اور فکر دونوں کو جمع کر لیا، وہی سعادت پا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: "تم میرے اخلاق سے اخلاق پیدا کرو، اور میرے اخلاق میں سے یہ ہے کہ میں بہت صبر کرنے والا ہوں۔"

(4) اور وہ بیوی جو اس کے لیے خیانت (لفظ "خُوْنًا" میں خاء معجمہ پر زبر اور واو ساکن ہے، یعنی آدمی اس پر اعتماد کرے اور وہ خیانت کرے) کی خواہش نہ رکھے۔ بعض نسخوں میں "حُوْبًا" (حاء مهملہ پر پیش) ہے جس کا مطلب گناہ ہے، لیکن یہ تحریف شدہ لفظ ہے۔

(اپنے آپ میں) یعنی وہ کسی دوسرے مرد کے لیے زنا یا اس کی راہ ہموار کرنے کی اجازت نہ دے۔

(اور نہ اس کے مال میں) یعنی وہ اس کے مال میں ایسا تصرف نہ کرے جو اسے ناگوار ہو۔

قاضی (عیاض) نے کہا: نیک عورت سونے سے زیادہ مفید ہے، کیونکہ سونا تب تک فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ خرچ نہ کیا جائے، جبکہ وہ (نیک بیوی) جب تک تمہارے ساتھ ہے، تمہاری رفیق ہے، تم اسے دیکھو تو تمہیں خوشی دیتی ہے، ضرورت کے وقت تم اس کے پاس آتے ہو، اپنے معاملات میں اس سے مشورہ لیتے ہو، وہ تمہارا راز رکھتی ہے، تم اپنی ضروریات میں اس سے مدد لیتے ہو، وہ تمہارا حکم مانتی ہے، اور جب تم غیر موجود ہو تو تمہارے مال کی حفاظت کرتی ہے اور تمہاری اولاد کی پرورش کرتی ہے۔ اگر اس میں یہی ایک خوبی ہو کہ وہ تمہاری نسل کی حفاظت کرتی ہے اور تمہاری کھیتی (اولاد) کو پالتی ہے تو یہی اس کی بڑی فضیلت کے لیے کافی ہے۔

(طبرانی نے اسے الکبیر اور الاوسط میں روایت کیا ہے)، اور الاوسط میں (بھی ہے)، طلق بن حبیب کی حدیث سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ امام الہیثمی نے اسے طبرانی کی الکبیر اور الاوسط سے منسوب کرنے کے بعد کہا: الاوسط کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔ انتہی۔ اور منذری نے اسے الکبیر اور الاوسط سے منسوب کرنے کے بعد کہا: ان میں سے ایک (یعنی الاوسط) کی سند اچھی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کا صحیح سند کو چھوڑ کر کمزور سند کو ترجیح دینا بدانتظامی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے (مناوی نے) اسے "حسن" قرار دیا ہے۔

[فیض القدیر للمناوی:918]





دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟

(2)حضرت عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ (1)وہ اپنے گھر(یا قوم) میں امن سے ہو (2)اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو (3)اور دن بھر کی روزی(کھانا)اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی۔

[ترمذی:2346،ابنِ ماجہ:4141]

تفسير ابن كثير-سورۃ المائدۃ:24

وضاحت:

مفہوم یہ ہے کہ امن و صحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہتر ہے جو امن و صحت والی نہ ہو، گویا انسان کو مال و دولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ صبر و قناعت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ امن و سکون اور راحت و آسائش اسی میں ہے۔


القرآن:

اے لوگو ! یاد کرو ان نعمتوں کو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر آخر تم کہاں اوندھے چلے جارہے ہو ؟

[سورۃ نمبر 35 فاطر، آیت نمبر 3]


القرآن:

اے ایمان والو ! اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا اس کو یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں، تو اللہ نے تمہیں نقصان پہنچانے سے ان کے ہاتھ روک دئیے (12) اور (اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ) اللہ کا رعب دل میں رکھتے ہوئے عمل کرو، اور مومنوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 11]

تفسیر:

12: یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خاک میں ملادیا، ایسے واقعات بہت سے ہیں، ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں، مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحصرت ﷺ نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی، مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں ختم کردینے کا یہ بہترین موقع تھا، پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کردیں گے ؛ لیکن عصر کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے صلاۃ الخوف پڑھی جس میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورة نساء : 102 میں گزرچکا ہے) چنانچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا (روح المعانی) مزید واقعات کے لئے دیکھئے معارف القرآن۔







دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟

(3)حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا متاع یعنی سامان ہے اور دنیا کا بہترین مال ومتاع نیک بیوی ہے۔

[صحيح مسلم:1467، صحيح ابن حبان:4031]






دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟

(4) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے اس کی نرمی کا حصہ دیا گیا تو اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا کی گئی۔

[مسند ابن الجعد:3452، مسند أبي يعلى:4530، مسند الشهاب القضاعي:444]

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے اس کی نرمی سے محروم کیا گیا تو اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم کیا گیا۔

[مسند ابن الجعد:3454، معجم ابن الأعرابي:44]

اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک (‏‏‏‏جیسے امور خیر) گھروں (‏‏‏‏اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔

[مسند أحمد:25259، سلسلة الأحاديث الصحيحة:519، الصحيح المسند مما ليس في الصحيحين:1629]

القرآن:

اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

[تفسیر الدر المنثور»سورۃ آل عمران:134+135]




دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟

(5)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کو حسن صورت، حسن اخلاق، نیک بیوی اور سخاوت کا مادہ عطاء ہو اس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی۔

[الترغيب في فضائل الأعمال-لابن شاهين:264]







دنیاوی لالچ اور ذخیرہ اندوزی سے بچنے کی فضیلت:

عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ»

ترجمہ:

حصرت قتادہ بن نعمان سے روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ پاک اپنے کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو دنیا سے اس طرح جاتے ہیں جس طرح (جان جانے کے) خوف سے اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے پرہیز کرواتے ہو۔ 

[سنن الترمذي:2036 ، صحيح ابن حبان:669]

[المستدرك على الصحيحين للحاكم:7464]

القرآن

اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔

[سورۃ الشورى:28]



القرآن:

اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ (10) اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

[سورۃ الزخرف:35(تفسیر الخازن)]

تفسیر:

(10) بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بےحقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال و دولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کا سارا ساز و سامان سونے چاندی کا بنا دیتا ، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔


القرآن:

جو لوگ ہم سے (آخرت میں) آملنے کی کوئی توقع ہی نہیں رکھتے، اور دنیوی زندگی میں مگن اور اسی پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

[سورۃ يونس: 7]

[تفسير ابن رجب الحنبلي، ٥٣٩/١]




دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟

حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

چار چیزیں جب تمہیں مل جائیں تو دنیا کی کسی چیز کے نہ ملنے پر افسوس نہ کرنا: (1) امانت کی پاسداری کرنا (2) گفتگو میں سچ بولنا (3)حُسنِ اخلاق (4)اور حلال وپاکیزہ روزی(کھانا)۔

[المستدرك على الصحيحين للحاكم:7876][مسند احمد:6652]

تفسير ابن كثير - سورة الأحزاب:72

الدر المنثور في التفسير بالمأثور-سورۃ النساء:58



اسلامی تعلیم کا مقصد-سلامتی ہے۔

دنیاوی آسائشوں اور کثرت کے حصول میں ہر ظلم/ناحق سے رکنے/روکنے کے ذریعے ظالم کی مدد اور مظلوم پر رحم کیلئے سختی ونرمی کے درمیان معتدل نظریہ اور راستہ (1)سارے جہانوں کو پالنے والے اللہ کی پہچان اور (2)آخرت پر یقین رکھنا نہ صرف حق ہے بلکہ سب سے موثر بھی ہے۔

عدل واحسان کا شوق دلانے اور ظلم وزیادتی سے خبردار کرنے/ڈرانے کیلئے جنت اور جہنم جیسی دائمی، لامحدود اور سب سے عمدہ نعمتوں اور درناک عذابوں کا وجود دینا...تمام جہانوں کے پالنہار کیلئے...حق ہے، کچھ غلط نہیں۔

اگر دنیاوی امتحان میں ڈالے بغیر اللہ جو ہر عیب سے پاک ہے وہ اپنے علم کے مطابق جنت کے حقدار کو ہمیشہ جنت میں اور جہنم کے مستحق کو ہمیشہ جہنم میں ڈال بھی دیتا تو جہنمی ضرور اعتراض کرتے کہ آپ نے ہمیں بغیر آزمائش جہنم میں ڈال دیا۔ لہٰذا یہ امتحان لینا بھی حق ہے۔

اللہ پاک کا حق کلام ہے:

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔

[سورۃ آل عمران:185]


اے لوگو ! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہیں آئے گا، اور نہ کسی بیٹے کی یہ مجال ہوگی کہ وہ اپنے باپ کے ذرا بھی کام آجائے۔ یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس لیے ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ یہ دنیوی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے، اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ وہ (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکے میں ڈال دے جو سب سے بڑا دھوکا باز ہے۔

[سورۃ لقمان:33]














(4)دنیا نام ہے اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزوں کا۔

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے‘ وہ ملعون(رحمتِ الٰہی سے محروم)ہے‘ سوائے اللہ کی یاد کے اور ان چیزوں کے جن کا اللہ سے کوئی تعلق اور واسطہ ہے اور سوائے عالم اور متعلم کے.

[سنن ابن ماجه:4112، سنن الترمذي:2322، صحيح الترغيب:74+3244، صحيح الجامع:1609+3414، الصحيحة:2797]

تفسير القرطبي-سورۃ الانعام:32

.....سوائے نیکی کا حکم دینے یا برائی سے منع کرنے کے یا ذکر الٰہی کے۔

[مسند البزار:1736]

.....سوائے اس کے جس سے اللہ کی رضا تلاش کی جاتی ہے۔

[الزهد لابن أبي عاصم:127، مسند الشاميين للطبراني:612، صحيح الترغيب:9]

الدر المنثور في التفسير بالمأثور-سورۃ الکھف:110



عنوان: دو ہلکی رکعتیں – دنیا کے باقی حصے سے زیادہ محبوب
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ:
"مَرَّ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ دُفِنَ حَدِيثًا، فَقَالَ: رَكْعَتَانِ خَفِيفَتَانِ مِمَّا تَحْقِرُونَ وَتَنْفُلُونَ، يَزِيدُهُمَا هَذَا فِي عَمَلِهِ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ بَقِيَّةِ دُنْيَاكُمْ."

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس میں ابھی (میت) دفن کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'دو ہلکی رکعتیں — ان (نفلی عبادات) میں سے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو اور نفل پڑھتے ہو — اگر یہ (میت) انہیں اپنے عمل میں شامل کر سکتا، تو وہ اس کے نزدیک تمہاری باقی دنیا سے زیادہ پیاری ہوتیں۔' "

[ابن المبارک، الزهد: 1/10، حدیث 31؛ صحیح الجامع: 3518؛ السلسلة الصحيحة: 1388]



حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے عبداللہ بن المبارک نے الزهد (1/10، حدیث 31) میں روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (3518) اور السلسلة الصحيحة (1388) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔




حدیث کا مرکزی مضمون:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک تازہ قبر کے پاس سے گزرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ہلکی رکعتیں جنہیں لوگ حقیر سمجھتے ہیں، اگر میت انہیں اپنے اعمال میں شامل کر سکتا تو وہ اس کے لیے باقی دنیا سے زیادہ محبوب ہوتیں۔

یہ نفلی نماز کی فضیلت اور نیکیوں کو حقیر نہ سمجھنے کی ترغیب ہے۔




قرآن سے شواہد و تفسیر
1. آگے بھیجا ہوا خیر وہاں ملے گا:
{وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ} (البقرة: 110)
(اور تم اپنے لیے جو بھی خیر آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس پاؤ گے۔)
تفسیر: دنیا میں کی گئی چھوٹی سی نیکی بھی آخرت میں محفوظ ہوتی ہے۔

2. ذرہ برابر نیکی کا اجر:
{فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ} (الزلزلة: 7)
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی، وہ اسے دیکھ لے گا۔)
تفسیر: دو ہلکی رکعتیں بظاہر معمولی ہیں، مگر آخرت میں ان کا وزن بہت بڑا ہو سکتا ہے۔

3. باقیاتِ صالحات:
{وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا} (الکهف: 46)
(اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے نزدیک ثواب اور امید کے لحاظ سے بہتر ہیں۔)
تفسیر: نماز، ذکر، اور نیکیاں وہ سرمایہ ہیں جو موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔

4. نماز کی حفاظت:
{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} (البقرة: 238)
(نمازوں کی حفاظت کرو۔)
تفسیر: نماز کی حفاظت میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں۔

5. قیامت کے دن عمل کا ظاہر ہونا:
{يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ} (الطارق: 9)
(جس دن چھپی ہوئی چیزیں ظاہر ہوں گی۔)
تفسیر: دنیا میں کیے گئے چھوٹے اعمال قیامت کے دن ظاہر ہوں گے۔

6. دنیا کی حقیقت:
{قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ} (النساء: 77)
(کہہ دو: دنیا کا سامان تھوڑا ہے۔)
تفسیر: باقی دنیا دو رکعتوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

7. آخرت بہتر اور باقی ہے:
{وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (الأعلی: 17)
(اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔)

8. عمل کا بدلہ:
{وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ} (الصافات: 39)
(اور تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم عمل کرتے تھے۔)









حضرت حسن بصریؒ سے مرسل روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے“۔

[الزهد لابن أبي الدنيا:9، تفسير الماتريدي-سورۃ الحدید:20]

جیساکہ دنیا (کی محبت) ترک کرنا ہر عبادت کی اصل ہے‘ سبب اس میں یہ ہے کہ دنیا سے محبت رکھنے والا اگر بالفرض کسی دینی کام میں مشغول بھی ہوجائے تو اس کے اعمال پھر بھی فاسد اغراض(نیتوں) کے ساتھ ملتبس ہوتے ہیں اور تارک الدنیا اگر بالفرض دنیوی امور میں مشغول بھی ہوجائے تو بھی اس کا مطمح نظر دوسرا ہوتا ہے۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: کیا کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں؟ عرض کیا گیا: حضرت ایسا تو نہیں ہوسکتا‘ آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح دنیادار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

[شعب الإيمان - ت زغلول:10457، الزهد الكبير للبيهقي:257]


حضرت ابوہریرةؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہلاک ہوا جو دینار‘ درہم اور چادر کا غلام ہوا ‘ اگر ملے تو خوش اور راضی ہو اور اگر نہ ملے تو ناراض وناخوش ہو۔

[صحيح البخاري:2886]

(ایسے شخص کی اس مذموم خصلت کی وجہ سے گویا حضور ﷺ نے دوبارہ بددعا دی) ہلاک ہو ایسا شخص اور ذلیل وسرنگوں ہو! اور دیکھو جب اس شخص کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو کوئی اس کو نہ نکالے۔ سعادت اور خوش بختی ہے اس بندے کے لئے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے کھڑا ہے‘ اس کے سر کے بال پراگندہ اور قدم غبار آلود ہیں‘ اگر اس کو لشکر کی اگلی صفوں کے آگے نگہبانی پر مامور کیا جائے تو پوری طرح نگہبانی کرتا ہے اور اگر اس کو لشکر کے پیچھے رکھا جائے تو لشکر کے پیچھے ہی رہتا ہے‘ اگر وہ لوگوں کی محفلوں میں شریک ہونا چاہے تو اس کو شرکت کی اجازت نہیں دیجاتی‘ اور اگر کسی کی سفارش کرتاہے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔

[صحيح البخاري:2887]



حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اپنی امت پر جن بلاؤں کے آنے سے ڈرتا ہوں‘ ان میں سب سے زیادہ ڈر کی چیزیں ”ہویٰ“  اور ”طول امل“ ہے۔ ہویٰ (نفسانی رجحانات) تو آدمی کو قبول حق سے مانع ہوتی ہے اور طول امل (لمبی لمبی آرزوئیں) رکھنے والا آخرت کو بھلادیتاہے اور اس کی فکر اور تیاری سے غافل ہوجاتاہے‘ دنیا دم بدم چلی جارہی ہے‘ گذررہی ہے اور آخرت (ادھر) سے چل پڑی ہے اور ان دونوں کے بچے ہیں‘ پس اے لوگو! اگر تم کر سکو تو ایسا کرو کہ دنیا سے چمٹنے والے اور اس کے بچے نہ بنو‘ پس تم اس وقت دار العمل میں ہو اور یہاں حساب یعنی جزا وسزا نہیں اور کل تم آخرت میں پہنچ جانے والے ہو اور وہاں کوئی عمل نہ ہوگا.

[قصر الأمل لابن أبي الدنيا:4، الأحاديث المائة الشريحية:20، شعب الإيمان - ت زغلول:10616، المتفق والمفترق-الخطيب البغدادي:979، ذم الكلام وأهله-الهروي، أبو إسماعيل:90، صفات رب العالمين - ابن المحب الصامت:518]


حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں: بے شک دنیا میٹھی ہے، سر سبز ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں نائب بنایا ہے۔ پس وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، بس دنیا سے اور عورتوں کے فتنے سے بچو۔

[سنن ابن ماجه:4000، سنن الترمذي:2191]

بے شک بنی اسرائیل کا جو پہلا فتنہ تھا وہ عورتوں ہی کے بارے میں تھا۔

[صحيح مسلم:2742]

سب سے پہلے بنو اسرائیل یوں ہلاک ہوئے کہ ایک غریب آدمی کی بیوی کپڑوں یا زیورات کے بارے میں اپنے خاوند کو مالدار آدمی کی بیوی کی طرح تکلیف دیتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے بنو اسرائیل کی کوتاہ قد عورت کا تذکرہ کیا، اس نے لکڑی کے جوتے (کھڑاؤں) تیار کروائے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں ایک خلا تھا اور اس پر ایک ڈھکن تھا، اس نے اس خلا میں کستوری بھری اور دو دراز قد یا بھاری بھر کم عورتوں کے ہمراہ نکلی۔ انہوں نے ان کے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا، اس نے لمبے قد والی دو عورتوں کو تو پہچان لیا لیکن لکڑی کی جوتیوں والی عورت کو نہ پہچان سکا۔

[سلسلة الأحاديث الصحيحة:591+486، [صحيح ابن خزيمة:1699]





حضرت عبادہ بن صامتؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے‘ اللہ اس کی ملاقات کو پسند فرماتے ہیں اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرے‘ اللہ اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں‘ یہ سن کر حضرت عائشہؓ یا کسی دوسری زوجہ مطہرہؓ نے عرض کیا کہ: ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں‘ آپ ا نے فرمایا کہ: یہ مراد نہیں‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ جب مؤمن کی موت آتی ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور اس کے اعزاز واکرام کی خوشخبری دی جاتی ہے ‘ چنانچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے‘ سے زیادہ کسی چیز کو محبوب نہیں رکھتا‘ اس لئے بندہ مؤمن اللہ کی ملاقات کو پسند کرتاہے اور اللہ پاک اس کی ملاقات کو پسند کرتاہے۔ اور جب کافر کی موت آتی ہے تو اس کو خدا کے عذاب اور سخت سزا کی خبر دی جاتی ہے‘ چنانچہ وہ اس چیز سے جو آگے آنے والی ہے سے زیادہ کسی چیز کو ناپسند نہیں کرتا‘ اس لئے وہ اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرتاہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں۔

[صحيح البخاري:6507، صحيح مسلم:2684-2685]

ملا علی قاری ؒ لکھتے ہیں:

اللہ کا دیدار موت سے پہلے ممکن نہیں‘ بلکہ موت کے بعد ہوگا‘ مراد یہ ہے کہ جس کو اللہ کی ملاقات محبوب ہو‘ اس کو موت محبوب ہوتی ہے۔ اس لئے کہ موت کے ذریعہ اس کی رسائی اللہ کی ملاقات تک ہوتی ہے‘ موت سے پہلے ملاقات کا تصور نہیں ہوسکتا‘ اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ ملاقات موت کے علاوہ ہے۔

[مرقاة المفاتيح:1602]

موت سے طبعی ناپسندیدگی اس میں تو کوئی قباحت نہیں‘ کیونکہ طبعاً ہر جاندار وذی روح کو موت ناپسند ہوتی ہی ہے۔ اور ایک موت کو اعتقاداً ناپسند کرناہے‘ مؤمن طبعاً توموت کو ناپسند کرتاہے لیکن موت کے بعد اس کو نیک اعمال کا جو صلہ ملنے کی امید ہوتی ہے‘ اس کی وجہ سے اور اللہ کے دیدار کے اشتیاق کی وجہ سے وہ اعتقاداً موت کو پسند کرتاہے ‘ کافر اور منافق طبعاً اور اعتقاداً بھی موت کو ناپسند کرتے ہیں‘ اس لئے کہ وہ آگے اپنی سزا کو دیکھتے ہیں تو موت کو ناپسند کرتے ہیں تو اللہ کریم بھی ان کو اور ان سے ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں۔



حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ: اللہ سے حیا کرو جیساکہ حیاء کا حق ہے‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! الحمد اللہ! ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: حیاء سے یہ مراد نہیں جو تم کہتے ہو‘ بلکہ جو شخص اللہ سے حیاء کا حق ادا کرے تو اسے چاہئے کہ سر اور جو کچھ سر کے ساتھ ہے اس کی(نافرمانی سے)حفاظت کرے‘ پیٹ اور جو کچھ پیٹ کے ساتھ ہے اس کی حفاظت کرے اور اسے چاہئے کہ موت کو اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے اور جو شخص آخرت کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے‘ وہ دنیا کی زینت وآرائش کو چھوڑ دیتا ہے‘ پس جس شخص نے ایسا کیا تو اس نے اللہ سے حیأ کی‘ جس طرح حیأ کا حق ہے۔

[سنن الترمذي:2458، صحيح الجامع:935]




حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (آخرت کے مقابلے میں) دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے۔

[صحيح مسلم:2956، سنن ابن ماجه:4113، سنن الترمذي:2324]

تفسير القرطبي-سورة الزخرف:35

نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ جنگِ احزاب کے موقعہ پر یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا‘ اور ایک مرتبہ حجة الوداع کے موقعہ پر صحابہ کرام  کی بھاری جمعیت کے سامنے‘ نیز یہ بات بھی جان لینی چاہئے کہ ”دنیا آخرت کی کھیتی ہے“ اور یہاں کی زندگی بس ایک ساعت کی ہے اس کو اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں صرف کرنا چاہئے“

نبوی دعا سے سبق:

«‌اللَّهُمَّ ‌لَا ‌عَيْشَ ‌إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ … فَأَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ»

(… فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ)

(… فَأَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ)

ترجمہ:

اے اللہ! نہیں ہے کوئی(حقیقی)عیش سوائے آخرت کے عیش(آرامدہ زندگی)کے ... پس انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔

(… پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔)

{… پس تو انصار و مہاجرین کو درست رکھ۔۔}

[صحيح البخاري:2961+3795+3796+3797+(4098+6414){6413}]


القرآن:

اور کتنی ہی بستیاں وہ ہیں جو اپنی معیشت پر اتراتی تھیں ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا، اب وہ ان کی رہائش گا ہیں تمہارے سامنے ہیں جو ان کے بعد تھوڑے عرصے کو چھوڑ کر کبھی آباد ہی نہ ہوسکیں، اور ہم ہی تھے جو ان کے وارث بنے۔

[سورۃ نمبر 28 القصص، آیت نمبر 58]







حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:

إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ؛ فَإِنَّ عِبَادَ اللهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ 

ترجمہ:

نازو نعمت سے بچنا کیوں کہ اللہ کے بندے آسائشوں والے نہیں ہوتے۔

[مسند احمد:22105، الصحيحة:353(3021]


دنیاوی نعمتوں(عیش وعشرت) والی زندگی:
1. اخلاقی زوال اور روحانی غفلت
2. ظلم اور زیادتی
3. خود غرضی اور دوسروں کے لیے ہمدردی کی کمی
4. بدعنوانی اور دوسروں کا استحصال
5. ذمہ داریوں اور فرائض سے منقطع ہونا
6. لوگوں کو صحیح راستے سے ہٹنا اور ہٹانا
جیسے منفی نتائج پیدا کردیتی ہیں۔




نعمتوں والے منہ موڑلیتے ہیں»

القرآن:

اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے، اور پہلو بدل لیتا ہے، اور اگر اس کو کوئی برائی چھو جائے تو مایوس ہو بیٹھتا ہے۔

[سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 83]


القرآن:

اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دور چلا جاتا ہے، اور جب اسے کوئی برائی چھو جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔

[سورۃ نمبر 41 فصلت، آیت نمبر 51]


القرآن:

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا، اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتار۔

[سورۃ نمبر 14 ابراهيم، آیت نمبر 28]


القرآن:

اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے نعمتوں کا مزہ چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ (اس وقت) وہ اترا کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔

[سورۃ نمبر 11 هود، آیت نمبر 10]


القرآن:

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو اسے اس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرلیں، اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

[سورۃ نمبر 8 الأنفال، آیت نمبر 53]

تفسیر:

یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کرکے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا، جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتوں کو عذاب سے تبدیل کردیا۔


القرآن:

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا۔

[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 112]

تفسیر:

یہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام مثال دی ہے کہ جو بستیاں خوشحال تھیں، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی پر کمر باندھ لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس میں سب لوگ خوشحالی اور امن کے ساتھ رہ رہے تھے، لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا تو ان پر سخت قسم کا قحط مسلط کردیا گیا جس کے نتیجے میں لوگ چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ بعد میں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قحط دور ہونے کی دعا فرمائیں۔ چنانچہ وہ آپ کی دعا سے دور ہوا۔ اس واقعے کا ذکر سورة دخان میں بھی آنے والا ہے۔





خوشحال(عیش وعشرت والے)لوگ نافرمان ہوتے/ہوجاتے ہیں۔

القرآن:

(ان ظالموں سے کہا گیا) بھاگو مت، اور واپس جاؤ، اپنے انہی مکانات اور اسی عیش و عشرت کے سامان کی طرف جس کے مزے تم لوٹ رہے تھے، شاید تم سے کچھ پوچھا جائے۔

[سورۃ نمبر 21 الأنبياء، آیت نمبر 13]




عیاش لوگ، فسادی اور ظالم ہوتے/ہوجاتے ہیں»

القرآن:

تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، بھلا ان میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جن کے پاس اتنی بچی کھچی سمجھ تو ہوتی کہ وہ لوگوں کو زمین میں فساد مچانے سے روکتے ؟ ہاں تھوڑے سے لوگ تھے جن کو ہم نے (عذاب سے) نجات دی تھی۔ اور جو لوگ ظالم تھے، وہ جس عیش و عشرت میں تھے، اسی کے پیچھے لگے رہے، اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔

[سورۃ نمبر 11 ھود، آیت نمبر 116]





خوشحال(عیش وعشرت والے) لوگ نافرمان ہوتے ہیں۔

القرآن:

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔

[سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 16]





خوشحال(عیاش)لوگ کافر رہتے/ہوجاتے ہیں۔

القرآن:

ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اور جنہوں نے آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، اور جن کو ہم نے دنیوی زندگی میں خوب عیش دے رکھا تھا، انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے۔ جو چیز تم کھاتے ہو، یہ بھی کھاتا ہے، اور جو تم پیتے ہو، یہ بھی پیتا ہے۔

[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 33]





خوشحال(عیاش)لوگ آیاتِ الٰہی سے منہ موڑتے ہیں۔

القرآن:

یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولت مند لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ ایک دم بلبلا اٹھیں گے۔۔۔(کیونکہ)میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں مڑ جاتے تھے۔

[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 64]






خوشحال(عیاش)لوگ پیغامِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں۔

القرآن:

اور جس کسی بستی میں ہم نے کوئی خبردار کرنے والا پیغمبر بھیجا، اس کے خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ : جس پیغام کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

[سورۃ نمبر 34 سبإ، آیت نمبر 34]




خوشحال(عیاش)لوگ پیغمبر کا انکار کرتے ہیں، اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔

القرآن:

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ: ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔

[سورۃ نمبر 43 الزخرف، آیت نمبر 23]





خوشحال(عیاش)لوگ عظیم گناہ کے عادی ہوتے ہیں۔

القرآن:

یہ لوگ اس سے پہلے بڑے عیش میں تھے۔ اور بڑے بھاری گناہ پر اڑے رہتے تھے۔

[سورۃ نمبر 56 الواقعة، آیت نمبر 45]




عنوان: بڑھاپے میں دل کی جوانی – حبِ عیش اور حبِ مال

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:

"الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: حُبِّ الْعَيْشِ وَحُبِّ الْمَالِ."

ترجمہ"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بوڑھا آدمی عمر رسیدہ ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، لیکن اس کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی محبت۔" (1) (2) (3)


حوالہ جات:

(1) مسند الإمام أحمد: 8403؛ صحیح البخاری: 6057؛ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 1906۔

(2) صحیح مسلم: 113 - (1046)؛ صحیح البخاری: 6057۔

(3) صحیح مسلم: 114 - (1046)؛ صحیح البخاری: 6057؛ جامع الترمذی: 2331؛ سنن ابن ماجہ: 4233؛ مسند الإمام أحمد: 8196۔


حدیث کی تخریج و حکم

یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ (صحیح البخاری: 6057، صحیح مسلم: 1046) ہے۔ اسے امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، اور امام أحمد نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (1906) میں درج کیا۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص10 / ج321]


حدیث کا مرکزی مضمون:

بڑھاپے میں جسم کمزور ہو جاتا ہے۔

لیکن دل دو محبتوں پر جوان رہتا ہے: حبِ عیش (زندگی کی محبت) اور حبِ مال (مال کی محبت)۔


قرآن سے شواہد و تفسیر

1. مال اور زندگی کی محبت فطری ہے:

{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ} (آل عمران: 14)

(لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت مزین کر دی گئی ہے: عورتوں، بیٹوں، اور سونے چاندی کے ڈھیروں کی۔)

تفسیر: مال اور زندگی کی محبت انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے، مگر اسے اللہ کی رضا کے تابع کرنا ضروری ہے۔


2. مال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ} (المنافقون: 9)

(اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔)

تفسیر: مال کی محبت اگر اللہ کے ذکر سے غافل کر دے تو یہ مذموم ہے۔


3. مال کی کثرت کی محبت:

{أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} (التکاثر: 1-2)

(تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔)

تفسیر: مال کی محبت انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔


4. مال کی محبت انسان کو ہلاک کرتی ہے:

{وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ * الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ * يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ} (الهمزة: 1-3)

(ہلاکت ہے ہر طعنہ دینے والے، عیب لگانے والے کے لیے، جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔)

تفسیر: مال کی محبت انسان کو یہ وہم دلاتی ہے کہ وہ امر ہو جائے گا۔


5. مال کی شدید محبت:

{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)

(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)

تفسیر: مال کی محبت کی شدت کا ذکر قرآن میں ہے۔


6. اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر ہے:

{وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)

(اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)

تفسیر: دنیا کی متاع فانی ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی ہے۔


7. زندگی کی محبت:

{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ} (آل عمران: 185)

(ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔)

تفسیر: زندگی کی محبت کے باوجود موت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔


8. مال کی محبت سے بچنا:

{وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ} (الحجر: 88)

(اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دی ہیں۔)

تفسیر: مال کی طرف دیکھنے اور اس کی محبت سے بچنا چاہیے۔


حدیث سے مزید شواہد

1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ"

(ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر اس میں دو چیزیں باقی رہ جاتی ہیں: حرص اور لمبی امید۔)

(صحیح البخاری: 6421، صحیح مسلم: 1046)


2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَىٰ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ"

(اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری چاہے گا، اور اس کا منہ مٹی کے سوا کچھ نہیں بھر سکتا۔)

(صحیح البخاری: 6436، صحیح مسلم: 1048)


3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَيْسَ الْغِنَىٰ عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَىٰ غِنَىٰ النَّفْسِ"

(غنی ہونا مال کی کثرت سے نہیں، بلکہ غنی ہونا نفس کی غنی (قناعت) ہے۔)

(صحیح البخاری: 6446، صحیح مسلم: 1051)


4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا"

(جو شخص صبح اٹھے اور وہ امن میں ہو، جسم تندرست ہو، اور دن کا کھانا موجود ہو، تو گویا اسے پوری دنیا مل گئی۔)

(جامع الترمذی: 2346)


5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ"

(دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔)

(صحیح مسلم: 2956)


6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ"

(دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں، وہ اس ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا آدمی کا مال اور عزت کا حرص اس کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔)

(جامع الترمذی: 2376)


7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ تَعَجَّلَ فِي الدُّنْيَا شَيْئًا لَمْ يَزِدْهُ ذَلِكَ إِلَّا بُعْدًا مِنَ الْآخِرَةِ"

(جو شخص دنیا میں کوئی چیز جلد حاصل کرنا چاہتا ہے، تو یہ اسے آخرت سے دوری کے سوا کچھ نہیں بڑھاتا۔)

(سنن ابن ماجہ: 4136)


8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ"

(قناعت ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔)

(المعجم الأوسط للطبرانی)


فقہی نکات

1. مال کا صحیح استعمال: مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور صلہ رحمی کرنا باعثِ اجر ہے۔

2. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔


تصوف کے نکات

1. جسم اور دل کا فرق: صوفیاء کے نزدیک جسم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر دل جوان رہتا ہے۔ اس لیے دل کو اللہ کی محبت سے جوان رکھنا چاہیے، نہ کہ دنیا کی محبت سے۔

2. حبِ دنیا: مال اور زندگی کی محبت دل کی تاریکی ہے، اور یہ اللہ کی محبت میں رکاوٹ ہے۔

3. قناعت: صوفیاء قناعت کو قلب کی صفائی اور نفس کی اصلاح کا ذریعہ مانتے ہیں۔

4. ذکر: اللہ کا ذکر دل کو جوان رکھتا ہے، اور دنیا کی محبت سے پاک کرتا ہے۔

5. زہد: صوفیاء زہد کی تعلیم دیتے ہیں، یعنی دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کی طلب۔

6. اللہ کی طرف رجوع: یہ حدیث بندے کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

8. محبتِ الٰہی: اللہ کی محبت ہی دل کی حقیقی جوانی ہے۔


تاریخی پس منظر

1. یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور بہت زیادہ احادیث کے راوی تھے۔

2. یہ حدیث صحیح البخاری (6057) اور صحیح مسلم (1046) میں مروی ہے، جو اس کی صحت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بڑھاپے کی حقیقت بیان کرنے کے لیے فرمائی۔

4. ابن حجر، امام نووی، اور ابن کثیر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔

5. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث زہد، قناعت، اور آخرت کی تیاری کی بنیاد ہے۔

6. صحابہ کرام دنیا کی محبت سے بچنے اور آخرت کی تیاری کرنے میں مثال تھے۔

7. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مال اور زندگی کی محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کریں۔

8. یہ حدیث دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

9. قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال اور نیت کے مطابق جزا پائے گا۔

10. مال اور زندگی اللہ کی امانت ہیں، اور ان کا صحیح استعمال نجات کا ذریعہ ہے۔


حاصل شدہ اسباق و نکات

1. بڑھاپے میں جسم کمزور ہو جاتا ہے، مگر دل جوان رہتا ہے۔

2. دل کی جوانی دو محبتوں پر ہے: حبِ عیش اور حبِ مال۔

3. یہ محبت فطری ہے، مگر حد سے بڑھانا مذموم ہے۔

4. قناعت ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

5. زہد اور آخرت کی طلب مومن کی پہچان ہے۔

6. حرص انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔

7. مال کا صحیح استعمال (اللہ کی راہ میں خرچ اور صلہ رحمی) باعثِ اجر ہے۔

8. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔

9. نیت کے مطابق حشر ہو گا۔

10. آخرت کی تیاری کرنا اور دنیا کی محبت سے بچنا نجات کا ذریعہ ہے۔


مقاصد

1. بڑھاپے کی حقیقت کو واضح کرنا۔

2. حبِ عیش اور حبِ مال کی فطری حیثیت بتانا۔

3. قناعت اور زہد کی ترغیب دینا۔

4. حرص سے بچنے کی ترغیب دینا۔

5. مال کا صحیح استعمال بتانا۔

6. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔

7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔

8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔

9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔

10. دنیا کی محبت سے بچنے کی ترغیب دینا۔


خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"بوڑھا آدمی عمر رسیدہ ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، لیکن اس کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی محبت۔"

نتیجہ:

یہ حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے، اور یہ دنیا کی حقیقت، قناعت، زہد، اور آخرت کی تیاری کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں مال اور زندگی کی محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے، قناعت اختیار کرنے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔

واللہ أعلم بالصواب




عنوان

تین کنکریوں کا تمثیلی انداز میں ابن آدم، اس کی اجل اور امید کا بیان


عربی متن

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ:

"أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ، فَوَضَعَ وَاحِدَةً، ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ آدَمَ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَذَاكَ أَمَلُهُ - الَّتِي رَمَى بِهَا -"

ترجمہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکریاں لیں، ایک رکھی، پھر دوسری اپنے سامنے رکھی، اور تیسری پھینکی، پھر فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی اجل (موت) ہے، اور وہ (جو پھینکی گئی) اس کی امید ہے۔“

[مسند الإمام أحمد:13821، صحيح البخاري:6055، الجامع للترمذي:2334، سنن ابن ماجة:4232]




علمی اسباق و نکات

نبی ﷺ کا اپنے اصحاب کو عملی تمثیل کے ذریعے تعلیم دینا، تعلیم کا مؤثر انداز ہے۔

(صحيح البخاري 6055؛ الجامع للترمذي 2334)


”حصيات“ (کنکریاں) جیسی معمولی چیزوں سے بھی اہم عقلی و ایمانی سبق دیا جا سکتا ہے۔

(مسند الإمام أحمد 13821؛ سنن ابن ماجة 4232)


حدیث میں ”هذا ابن آدم“ کہہ کر انسان کی حقیقت اور اس کی فانی زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

(الجامع للترمذي 2334)


”هذا أجله“ یعنی موت انسان کے بالکل قریب ہے، جبکہ ”ذاك أمله“ یعنی امیدیں دور دراز تک پھیلی ہوتی ہیں۔

(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)


یہ حدیث ”حسن صحيح“ کے درجے میں ہے، جس سے اس کی قبولیت اور اعتبار ثابت ہوتا ہے۔

(الجامع للترمذي 2334)




عقلی اسباق و نکات

انسان کی فطرت ہے کہ وہ لمبی امیدیں باندھتا ہے، مگر موت اس کے سامنے موجود ہے۔

(الجامع للترمذي 2334؛ سنن ابن ماجة 4232)


عقل کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی امیدوں کو حقیقت پسندانہ رکھے اور موت کو ہمیشہ یاد رکھے۔

(مسند الإمام أحمد 13821؛ صحيح البخاري 6055)


تمثیل میں کنکریوں کا قریب اور دور ہونا انسان کی زندگی اور اس کی امیدوں کے درمیان فاصلے کو واضح کرتا ہے۔

(الجامع للترمذي 2334)




تفسیری اسباق و نکات

”هذا ابن آدم“ میں ”هذا“ اشارہ حسی ہے، یعنی نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے زمین پر اشارہ کر کے انسان کی مثال بیان فرمائی۔

(تحفة الأحوذي 3/266؛ الجامع للترمذي 2334)


”هذا أجله“ یعنی اجل کو قریب رکھا گیا، جبکہ ”ذاك أمله“ یعنی امید کو دور پھینکا گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موت امید سے زیادہ قریب ہے۔

(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)


حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”الاحاديث متوافقة على أن الأجل أقرب من الأمل“ یعنی تمام روایات اس پر متفق ہیں کہ اجل امید سے زیادہ قریب ہے۔

(فتح الباري، صحيح البخاري 6055)




تشریحی اسباق و نکات

”حصيات“ کنکریوں کی جمع ہے، جو معمولی پتھر کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔

(مسند الإمام أحمد 13821)


”وضع واحدة“ یعنی ایک کنکری زمین پر رکھی، جو ابن آدم کی طرف اشارہ ہے۔

(صحيح البخاري 6055)


”وضع أخرى بين يديه“ یعنی دوسری کنکری سامنے قریب رکھی، جو اجل (موت) کی طرف اشارہ ہے۔

(الجامع الصحيح للترمذي 2334)


”رمى بالثالثة“ یعنی تیسری کنکری دور پھینکی، جو امید کی طرف اشارہ ہے۔

(سنن ابن ماجة 4232)


”أمله التي رمى بها“ میں ”التي رمى بها“ کی قید اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ امید وہی ہے جو دور پھینکی گئی کنکری کی طرف اشارہ ہے۔

(مسند الإمام أحمد 13821)


”الْأَمَلُ“ کا معنی ہے: مرجوہ ومأمولہ، یعنی وہ چیز جس کی امید کی جائے اور جسے انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اجل آنے سے پہلے پا لے گا۔

(تحفة الأحوذي 3/266؛ الجامع للترمذي 2334)


”الْأَجَلُ“ کا معنی ہے: موت، یعنی انسان اپنی امیدوں میں مشغول رہتا ہے اور موت اسے امیدوں تک پہنچنے سے پہلے آ لیتی ہے۔

(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)




فقہی اسباق و نکات

یہ حدیث زہد و رقائق کے باب میں ہے، جس سے دنیا کی حقیقت اور آخرت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

(الجامع للترمذي 2334؛ سنن ابن ماجة 4232)


نبی ﷺ کا عملی تمثیل دینا اور سامان مہیا کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ تعلیم و تربیت کے لیے ہو۔

(صحيح البخاري 6055؛ مسند الإمام أحمد 13821)


طویل امیدیں (طول الأمل) مذموم ہیں، کیونکہ یہ آخرت کی تیاری سے غافل کرتی ہیں۔

(الجامع للترمذي 2334)


موت کو یاد رکھنا اور اس کے لیے تیاری کرنا مطلوب ہے۔

(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)




اصولی اسباق و نکات

تعلیم کا اصول: پہلے عملی مظاہرہ، پھر زبانی وضاحت۔ نبی ﷺ نے پہلے کنکریاں رکھیں، پھر ان کا مطلب بیان فرمایا۔

(صحيح البخاري 6055؛ الجامع للترمذي 2334)


تمثیل (مثال) کے ذریعے تعلیم دینا عرب کے اسلوب کا حصہ ہے اور شریعت میں بھی مطلوب ہے۔

(مسند الإمام أحمد 13821؛ سنن ابن ماجة 4232)


”ما“ اور ”هذا“ جیسے اشارہ کے الفاظ سے معانی کی تعیین کی جاتی ہے، اور سیاق و سباق سے مراد متعین ہوتی ہے۔

(تحفة الأحوذي 3/266)


ایک حدیث کے متعدد طرق ہونے سے اس کی صحت میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ اصولی طور پر حدیث کی تقویت کا سبب بنتا ہے۔

(صحيح البخاري 6055؛ الجامع للترمذي 2334؛ سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)


”هذا ابن آدم“ میں ”هذا“ کا اشارہ حسی ہے، مگر مراد معنوی ہے۔ یہ اصولِ مجاز اور استعارہ کی طرف اشارہ ہے۔

(الجامع للترمذي 2334؛ تحفة الأحوذي 3/266)







No comments:

Post a Comment