(1)دنیا نام ہے ادنیٰ چیز کا۔
دنیا کے لغوی معنیٰ ادنیٰ اور قریبی(جلدی والی) چیز کے ہے۔
[مفردات القرآن:صفحہ318»سورۃ البقرۃ:63، الاسراء:18]
[صحيح مسلم:2858، سنن الترمذي:2323، سنن ابن ماجه:4108]
تفسير ابن أبي حاتم-سورۃ التوبۃ:38، تفسير السمرقندي-سورۃ الرعد:26، تفسير الثعلبي-سورۃ آل عمران:197، تفسير البغوي-سورۃ النساء:77
القرآن:
اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ (10) اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
[سورۃ الزخرف:35(تفسیر الخازن)]
تفسیر:
(10) بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بےحقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال و دولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کا سارا ساز و سامان سونے چاندی کا بنا دیتا ، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ»
ترجمہ:
حصرت قتادہ بن نعمان سے روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ پاک اپنے کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو دنیا سے اس طرح جاتے ہیں جس طرح (جان جانے کے) خوف سے اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے پرہیز کرواتے ہو۔
[سنن الترمذي:2036، صحيح ابن حبان:669، مصنف ابن أبي شيبة (35705)، انظر صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب:3180]
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:7464]
القرآن
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔
[سورۃ الشورى:28]
عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رضي الله عنه قَالَ:
كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ وَقَفُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّخْلَةِ الْمَيِّتَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: "أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا؟" قَالُوا: مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا يَا رَسُولَ اللهِ (1) قَالَ: "فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ - عز وجل - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا." (2)
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں ان سواروں کے ساتھ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مردہ بکری کے بچے پر رکے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'کیا تم دیکھتے ہو کہ یہ (مردہ بچہ) اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہو گیا، جب انہوں نے اسے پھینک دیا؟'
انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اسی کی حقارت کی وجہ سے تو انہوں نے اسے پھینک دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'پس قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک دنیا اللہ عزوجل کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے۔' (2)"
آخرت کو ترجیح دینا۔
حضرت ابوھریرہ ؓ ﴿ابو موسیٰ اشعری﴾ سے روایت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا ﴿أَحَبَّ الدُّنْيَا﴾ أَضَرَّ بِالآخِرَةِ، وَمَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ ﴿أَحَبَّ الآخِرَةَ﴾ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا فَأَضِرّوا بِالفَانِيَ لِلْبَاقِي۔
ترجمہ:
جس شخص نے دنیا طلب كی ﴿دنیا سے محبت کی﴾ اس نے آخرت کا نقصان اٹھایا اور جس شخص نے ﴿آخرت سے محبت کی﴾ آخرت طلب كی اس نے دنیا كا نقصان اٹھایا، لہٰذا باقی رہنے والی چیز(آخرت) كے لئے فنا ہونے والی(دنیا) كا نقصان برداشت كر لو۔
[الصحيحة:3287، الزهد لابن أبي عاصم:161 ﴿مسند البزار:3067﴾]
حوالہ جات:
مسند الإمام أحمد: 19713؛ صحیح ابن حبان: 709؛ المستدرك للحاکم: 7897؛ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 3287 اور صحیح الترغیب والترہیب: 3247۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد (19713)، امام ابن حبان (709)، اور امام حاکم (7897) نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (3287) اور صحیح الترغیب والترہیب (3247) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔
حدیث کا مرکزی مضمون:
دنیا کی محبت آخرت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
آخرت کی محبت دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے (یعنی دنیا کی عیش و آرام سے محرومی)۔
ترجیح: باقی رہنے والی چیز (آخرت) کو فنا ہونے والی چیز (دنیا) پر ترجیح دو۔
دلوں کی سختی کو نرم کردینے والی بات:
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا کو اپنا محبوب ومطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا‘ (پس جب دنیا وآخرت میں سے ایک کو محبوب بنانے سے دوسری کا نقصان برداشت کرنا لازم اور ناگزیر ہے تو عقل ودانش کا تقاضا یہی ہے کہ) فنا ہونے والی (دنیا) کے مقابلہ میں‘ باقی رہنے والی (آخرت)کو اختیار کرو۔
[صحيح ابن حبان:709، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7897]
اللہ پاک نے فرمایا:
لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔ حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔
[سورۃ الاعلیٰ:16+17]
حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا اور فرمایا کہ: سن لو اور یاد رکھو کہ دنیا ایک وقتی اور عارضی سودا ہے جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے (اور اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں اسی لئے) اس میں ہر نیک وبد کا حصہ ہے اور سب اسی سے کھاتے ہیں‘ اور یقین کرو کہ آخرت مقرر وقت پر آنے والی ایک سچی اٹل حقیقت ہے اور اس میں سب کچھ پر قدرت رکھنے والا شہنشاہ (اللہ) فیصلہ کرے گا‘ یاد رکھو کہ ساری خیر اور خوشگواری اور اس کی تمام قسمیں جنت میں ہیں اور سارا شر اور دکھ اور اس کی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں‘ پس خبردار! (جو کچھ کرو) اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو‘ اور یقین کرو کہ تم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کئے جاؤگے‘ پس جس شخص نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لے گا۔{سورة الزلزال:}
[مسند الشافعي - ترتيب سنجر: حدیث#445، السنن الكبرى - البيهقي - ط العلمية: حدیث#5808، حلية الأولياء-أبو نعيم: جلد 1 / صفحہ 264]
دنیا کی حقیقت:
حضرت علی ؓ نے فرمایا:
«حَلَالُهَا حِسَابٌ، وَحَرَامُهَا عَذَابٌ»
ترجمہ:
جس کے حلال میں حساب، اور جس کے حرام میں عذاب ہے۔
[الزهد لأبي داود:109، الزهد لابن أبي الدنيا:18]
عنوان: دنیا کی زینت اور مال کی محبت کا فتنہ – نبی ﷺ کا خوف اور اعتدال کا درس عربی متن عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ:
حواشی وحوالہ جات: (1) صحیح البخاری: 879۔ (2) صحیح البخاری: 6063۔ (3) صحیح البخاری: 1396۔ (4) صحیح البخاری: 6063۔ (5) یعنی: مال، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا} (اگر وہ مال چھوڑے)، تو پھر اس سے شر کیسے مرتب ہو گا کہ اس سے ڈرا جائے؟ (شرح النسائی: 4/65) (6) صحیح البخاری: 1396؛ صحیح مسلم: 121 - (1052)۔ (7) "الرُّحَضَاء": وہ پسینہ جو کثرت سے جلد کو دھو ڈالے۔ اور اکثر اسے بخار کے پسینے کا نام دیا جاتا ہے۔ (شرح النسائی: 4/65؛ شرح النووی: 4/5) (8) صحیح البخاری: 2687؛ صحیح مسلم: 121 - (1052)۔ (9) صحیح البخاری: 1396۔ (10) اس کا مطلب: جو دنیا کی رونق تمہیں ملے گی وہ خیر نہیں، بلکہ وہ فتنہ ہے۔ پس یہ رونق خیر نہیں، کیونکہ یہ فتنہ، باہمی رقابت، اور آخرت سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔ (شرح النووی علی مسلم: 4/4)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص10 / ج340]
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ ہے۔ اسے امام بخاری (879، 1396، 2687، 6063)، امام مسلم (1052)، امام نسائی (2581)، امام ابن ماجہ (3995)، اور امام أحمد (11049) نے روایت کیا۔
حدیث کا مرکزی مضمون: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی زینت اور مال کی کثرت کو سب سے بڑا خوف قرار دیا۔ ایک صحابی نے پوچھا: کیا خیر شر لاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: "کیا وہ خیر ہے؟" یعنی دنیا کی رونق حقیقی خیر نہیں، بلکہ فتنہ ہے۔ پھر فرمایا: "بیشک خیر خیر ہی لاتی ہے" یعنی حقیقی خیر سے شر نہیں آتا۔ مثال: بہار کی سبزی پیٹ بھرنے سے مار دیتی ہے، سوائے معتدل کھانے والے کے۔ مال سبز اور میٹھا ہے، جو حق کے ساتھ لے اور حق میں خرچ کرے، اس کے لیے بابرکت ہے۔ جو ناحق لے، وہ کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا، اور مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا۔
حضرت عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ وضو فرما رہے تھے، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا: میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی ﷺ کی ساتھ حاصل ہوجائے، نبی ﷺ نے فرمایا: نیک آدمی کے لئے نیک(حلال) مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔
[مسند احمد»حدیث نمبر: 17763+17802]
کیونکہ
(1)مال سے الله کی راہ میں خرچ کرنا نیک بننا ہے۔
[حوالہ سورۃ المنافقون:10]
(2)ناحق طریقوں سے مال کھانا اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرتے جمع کرتے رہنا دردناک عذاب کا سبب ہے۔
[حوالہ سورۃ التوبہ:34(تفسیر البغوی، الرازی)]
احادیث سے گواہیاں:
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ
ترجمہ:
یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام وناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے۔
[جامع ترمذی» باب:-حق کے ساتھ مال لینے کا بیان» حدیث نمبر: 2374]
القرآن:
تمہیں ان(کفار ومنافقین) کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ الله تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔
[سورۃ التوبة:55(تفسیر الرازی:16/72)]
القرآن:
اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔ اس کے بعد جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اچانک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک شروع کردیتا ہے۔ تاکہ ہم نے اسے جو نعمت دی تھی اس کی ناشکری کرے۔ اچھا ! کچھ عیش کرلو، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔
[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 53-55 (تفسير التستري)]
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ، وَمَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ، وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ.
ترجمہ:
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: دنیا گھر ہے اس شخص کا جس کا کوئی گھر نہ ہو، اور مال ہے اس شخص کا جس کا کوئی مال نہ ہو، اور دنیا کے لئے وہی جمع کرتا ہے جس کے پاس عقل نہ ہو۔
[مسند احمد:24419]
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ دُوَيْدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
[مجمع الزوائد للهيثمي:18078]
[ذم الدنيا، لابن ابي الدنيا:182]
القرآن:
اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔
[سورۃ الرحمٰن:26]
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا ، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا، ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔
[سورۃ النحل:96]
حديث عائشة: أخرجه أحمد (6/71، رقم 24464) ، قال الهيثمى (10/288) : رجاله رجال الصحيح غير دويد، وهو ثقة. والبيهقى فى شعب الإيمان (7/375، رقم 10638) . وأخرجه أيضًا: الديلمى (2/230، رقم 3109) .
حديث ابن مسعود الموقوف: أخرجه البيهقى فى شعب الإيمان (7/375، رقم 10637) ، وأخرجه أيضًا: أحمد فى الزهد (1/161) . قال المناوى (3/546) : قال المنذرى والحافظ العراق
ى: إسناده جيد
القرآن:
[حوالہ سورۃ الحدیدہ:20]
یہ دھوکہ اللہ (کے سچے وعدوں) سے دور اور محروم کرنے کیلئے ہوتا ہے۔
[حوالہ سورۃ فاطر:5، الحدید:18]
اگرچہ یہ دھوکہ۔۔۔
(1)دوسروں کو نصیحت کرنے کے نام پر اللہ کی جھوٹی قسم اٹھانا ہو۔
[حوالہ سورۃ الاعراف:21-22، الانعام:22]
(2)اللہ کے علاوہ کو غائبانہ پکارنے (کے قابل سمجھنے) کا شرک ہو۔
[حوالہ سورۃ فاطر:40]
(3)اللہ کے مقابلے میں کسی مخلوق سے مدد حاصل ہونے کا دھوکہ ہو۔
[حوالہ سورۃ الملک:20]
شیطانی وعدے اور تمنائیں(لمبی-غیرشرعی امیدیں) ہوں۔
[حوالہ سورۃ النساء:120]
دنیا وہ عارضی آزمائش گاہ ہے جس میں اللہ انسان کو علم اور مال دے کر آزماتا ہے، اور انسان اپنی نیت اور عمل کے مطابق یا تو بہترین درجے والا بنتا ہے یا بدترین درجے والا۔
دنیا خود میں نہ اچھی ہے نہ بری، بلکہ یہ ایک وسیلہ ہے جسے انسان اپنے اخلاق، نیت، اور عمل سے اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔
قرآن سے دنیا کی تعریف
1. کھیل اور تماشا:
{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} (الحدید: 20)
(جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، تمہارے درمیان فخر، اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔)
2. فانی اور عارضی:
{كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ} (الرحمن: 26)
(ہر وہ چیز جو اس (زمین) پر ہے فانی ہے۔)
3. آخرت کی کھیتی:
{مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ} (الشوریٰ: 20)
(جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں۔)
4. ایک دھوکے کا سامان:
{وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (الحدید: 20)
(اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔)
5. آخرت کے مقابلے میں بہت کم:
{وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ} (القصص: 60)
(اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے۔)
علماء کی تعریفات:
"الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ"
(دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔)
[امام الغزالي-کتاب إحياء علوم الدين- جلد 4 / صفحہ 19]
دنیا آخرت کی کھیتی ہے؛ لیکن جو اسے مقصد بنا لے، اس غافل و دنیا پرست کے لیے وہ کھیل و تماشا بن جاتی ہے۔
امام القرافيؒ(م784ھ) لکھتے ہیں:
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: «إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ» [الحديد: 20] — حالانکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور اسی دنیا میں بلند درجات، عالی مقامات، پسندیدہ حالتیں اور مقبول اعمال حاصل ہوتے ہیں۔ اور اللہ نے اسے صرف اسی (لعب و لہو) میں منحصر کیا ہے اس شخص کے اعتبار سے جس نے اسے (آخرت پر) ترجیح دی؛ یعنی جس نے دنیا کو ترجیح دی، اس کے حق میں دنیا کی کوئی صفت اس کے سوا نہیں۔ پس ان قواعد پر غور کرو، تم کتاب و سنت میں ان کا نفع بہت بڑا اور عظیم پاؤ گے۔
[نفائس الأصول في شرح المحصول: ج 3 / ص 1037]
امام أبو حامد الغزاليؒ(م505ھ) تشریح فرماتے لکھتے ہیں:
اور نیز دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور زمین کی آبادی کا قیام اور معاش کا انتظام اسی خواہش/شہوت کے ذریعے ہے۔ پس اگر اسے مفروضہ طور پر اٹھا دیا جائے تو دین اور دنیا کا نظام بگڑ جائے گا، لوگوں کے درمیان معاملات ختم ہو جائیں گے، اور شریعت و سیاست اٹھ جائیں گی۔
پس یہ قوتِ شہوانی ایسے دشمن کی مانند ہے جس کا نقصان ایک پہلو سے ڈرایا جاتا ہے اور نفع دوسرے پہلو سے امید دلایا جاتا ہے۔ اور اس کی دشمنی کے باوجود اس سے مدد لینے سے بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا۔
اس لیے عاقل کا حق یہ ہے کہ وہ اس سے نفع لے، مگر اس پر جھکے اور بھروسہ نہ کرے، سوائے اتنے کہ جتنا اس سے فائدہ اٹھائے۔
اور اس بارے میں متنبی کا قول کتنا سچا ہے:
”اور دنیا کی تلخیوں میں سے آزاد مرد کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دشمن کو ایسا دیکھے جس کی دوستی سے کوئی چارہ نہ ہو۔“
اور اس شہوت کو دبانے کی کارگر چالوں/حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی قوتِ حمیت یعنی غیرت و جوشِ عزت کے ذریعے قوتِ شہوت پر غالب آئے۔
[الغزالي، كتاب معارج القدس في مدارج معرفه النفس: ص 80]
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
اور اس کلام کے سیاق و سباق سے مقصود مخلوق کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور اسی دنیا سے آخرت کا زادِ راہ حاصل کیا جاتا ہے۔
اور جو شخص دنیا میں رہتے ہوئے سعادت یعنی ابدی کامیابی نہ کمائے، تو اس کے مرنے کے بعد اس کے حصول کا کوئی راستہ اس کے لیے نہیں۔ پس جو اس دنیا میں اندھا ہو، وہ موت کے وقت بھی اندھا ہو گا — میری مراد یہ ہے کہ حق کو سمجھنے سے بصیرت کا اندھا پن، اللہ کی پناہ۔
اور جو موت کے وقت اندھا ہو، وہ حشر یعنی قیامت میں اٹھائے جانے کے وقت بھی اندھا ہی ہو گا، بلکہ وہ راستے سے زیادہ بھٹکا ہوا ہو گا؛ کیونکہ جب تک انسان دنیا میں ہے، اسے طلب کی امید باقی رہتی ہے، اور موت کے بعد مایوسی یقینی ہو چکی ہوتی ہے۔
[معيار العلم في فن المنطق: ص 181]
دنیا کے امور کا بگاڑ، دین کے امور کا بگاڑ ہے:
امام خوارزمی رحمہ اللہ (م383ھ) فرماتے ہیں:
”دنیا کے امور میں اختلال پیدا ہو گیا، اور دنیا کے معاملے کے بگڑنے میں دین کے معاملے کا بگاڑ ہے، کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اگر لوگ اپنی پوری عمریں بھی دنیا میں لگا دیں، تو دنیا کے امور میں مصروف رہتے ہوئے اس کا دسواں حصہ کا دسواں حصہ بھی حاصل نہ کر سکیں۔ ہر کام کے لیے لوگ ہوتے ہیں۔ اور اس مسئلے میں جھگڑے کو ختم کرنے والی بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کے پاس اعراب کے جنگلی، چرواہے اور دیہاتی عام لوگ آتے اور آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتے۔ آپ ان سے صرف اس عقیدے پر اکتفا کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اور ان میں سے کسی کو جواہر و اعراض کی معرفت کا مکلف نہیں بناتے۔ اگر یہ واجب شرط ہوتی تو آپ انہیں اس کا حکم دیتے، کیونکہ یہ دین میں بہت بڑا مقام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔“
[أبو بكر الخوارزمي، مفيد العلوم ومبيد الهموم: صفحہ 71]
یعنی اگر دنیاوی زندگی، معاش، حقوق، عدل اور اخلاق بگڑیں گے تو دین بھی متاثر ہوگا، کیونکہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عام مسلمان پر فلسفیانہ دقیق بحثیں — جیسے «جواہر و اعراض» — واجب ہیں۔ نبی ﷺ نے عام لوگوں سے صرف کلمہ کی اعتقادی تصدیق پر اکتفا کیا۔
دنیا امتحان گاہ ہے، جہاں عدل، عبادت، اخلاق اور معاشرتی تعاون سب آخرت کی کامیابی کے لیے ہیں۔
دنیا امتحان گاہ ہے، جہاں عدل، عبادت، اخلاق اور معاشرتی تعاون سب آخرت کی کامیابی کے لیے ہیں۔
امام أبو الخير التبريزي(ت 636هـ) فرماتے ہیں:
پس بے شک دنیا آخرت کی کھیتی ہے؛ اس لیے عاقل پر لازم ہے کہ وہ آخرت کی ایسی نعمت طلب کرے جو نہ زائل ہوتی ہے اور نہ بدلتی ہے۔
اور اس نعمت کا حصول شریعت کے حکم کی اطاعت اور اس کی ممانعت سے باز رہنے پر منحصر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس خصوصیت سے ممتاز کیا جس کے ذریعے اسے بہت سی مخلوقات پر عزت و تکریم دی۔
اور انسان اس فضیلت کو حاصل نہیں کرتا مگر ان خوب صورت صفات کے ذریعے جو اس میں رکھی گئی ہیں، جن کی طرف اسے ترغیب دی گئی، اور ان کے استعمال کے ذریعے۔
اور دنیا کی مدت کا باقی رہنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا مگر کھیتی اور نسل کے ذریعے، جنہیں دنیا کے گھر میں آبادی کا سبب بنایا گیا ہے؛ اور کھیتی اور نسل کا قائم رہنا آسودہ زندگی کے ساتھ ممکن نہیں مگر مختلف صنعتوں/پیشوں کے ذریعے، اور ضرورت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان میں سے ہر گروہ کسی ایک قسم کی صنعت کے لیے مخصوص ہو جائے؛ اس طرح ان کے معاش منظم ہو جاتے ہیں۔
پھر ان میں سے ہر ایک خادم یا مخدوم بن گیا، اس طرح سب پر یہ نعمت پوری ہو گئی، اور ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور بہت زیادہ تفاضل پیدا ہو گیا۔ اور ان کی ساخت کی اصل اور فطرت کی بنیاد میں شہوانی قوتیں رکھی گئی ہیں، جن کے ذریعے وہ طرح طرح کی لذتوں میں سے مشتہی چیزوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، یہاں تک کہ جہاں سے بھی ان تک پہنچنے کا راستہ پاتے ہیں وہاں سے انہیں لے لیتے ہیں، اور اپنی طاقت بھر ان پر غلبہ حاصل کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں راہِ عدل پر چلایا، ان پر اپنا امر و نہی اور حکم و ممانعت نازل کی، ان کے لیے حلال و حرام واضح کیا، اور معاملات اور بیعوں میں انصاف کی طرف ترغیب دی، تاکہ خلق اور امر کی دلیلوں کے ساتھ اللہ کی حجت ان پر قائم ہو جائے۔ پھر وہ انہیں آزماتا ہے، ان کے حالات کو جانچتا ہے، ان کے عقائد اور رازوں کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ جو ان سے ظاہر ہو اس کے مطابق وہ ثواب اور عذاب کے مستحق بنیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے کسی زمانے کو ایسے نبی سے خالی نہیں چھوڑا جو مخلوق کو حق کی طرف رہنمائی کرے اور ان کی تربیت کرے۔
اور جب اللہ نے نبوت اور رسالت کو خاتم النبیین اور سید المرسلین محمد ﷺ پر ختم کیا، تو آپ کی امت میں راشد امراء اور ہدایت یافتہ والیوں کو خلیفہ بنایا، تاکہ وہ دین کی مدد کریں، تمام مخلوق کے درمیان عدل کریں، اور انہیں صراط مستقیم پر چلائیں؛ کیونکہ عدل سے زمانہ سنورتا ہے، بستیاں آباد و زرخیز ہوتی ہیں، راستے محفوظ ہوتے ہیں، عیش خوشگوار ہوتا ہے، اور زندگی کے اسباب منظم ہوتے ہیں۔
اور عدل بہترین فضائل میں سے ہے، قدر کے لحاظ سے سب سے بزرگ، اہمیت کے لحاظ سے سب سے شریف، رتبے کے لحاظ سے سب سے بلند، درجے کے لحاظ سے سب سے اونچا، اور منزل کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ ہے۔
اس کے استعمال سے خالق کی رضا، مخلوق کی محبت، دارِ ابد میں سعادت، اور دائمی نعمت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ پس میں نے ایک جزء تالیف کیا جو نبی ﷺ سے مروی کچھ احادیث پر مشتمل ہے، جو میں نے بعض جگہوں سے سنی ہیں، اختصار کے ساتھ، طوالت اور کثرت کے بغیر، ایسی چیزیں جن سے امیر و مامور اور حاکم و رعایا بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
[النصيحة للراعي والرعية للتبريزي: ص25]
دنیا ایک عارضی کاشت گاہ ہے، اور آخرت ابدی فصل ہے۔
امام نجم الدين المقدسيؒ(م689ھ) لجھتے ہیں:
اور دل والوں یعنی صاحبانِ بصیرت نے جان لیا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اور دل زمین کی مانند ہے، اور ایمان اس میں بیج کی مانند ہے، اور طاعتیں زمین کو صاف کرنے، پاک کرنے، نہریں کھودنے اور اس تک پانی پہنچانے کے کام میں جاری ہیں۔
اور وہ دل جو دنیا میں پوری طرح ڈوبا ہوا ہے، اس شور زمین کی مانند ہے جس میں بیج اگتا ہی نہیں۔
اور قیامت کا دن فصل کٹائی کا دن ہے۔ کوئی بھی وہی کاٹے گا جو اس نے بویا، اور کوئی فصل اگے گی مگر ایمان کے بیج سے۔ اور دل کی خباثت اور اخلاق کی خرابی کے ساتھ وہ کم ہی نفع دے گی، جیسے شور زمین میں بیج نہیں اگتا۔
پس بندے کے مغفرت کی امید کو کسان کی امید پر قیاس کرنا چاہیے۔ ہر وہ شخص جس نے اچھی زمین تلاش کی، اس میں اچھا بیج ڈالا جو سڑا گلاس نہ ہو، پھر ضرورت کے وقت اسے پانی پہنچایا، زمین کو خار، گھاس اور فصل کو خراب کرنے والی چیزوں سے صاف کیا، پھر بیٹھ کر اللہ کے فضل سے کڑکوں اور خراب کرنے والی آفات کو دور کرنے کا انتظار کیا، یہاں تک کہ فصل پوری ہو اور اپنی انتہا کو پہنچ جائے — اس کے اس انتظار کو رجاء (امید) کہا جاتا ہے۔
لیکن اگر کسی نے شور، سخت اور اونچی زمین میں بیج بویا جہاں پانی نہ پہنچتا ہو اور اس نے اس کی دیکھ بھال ہی نہ کی، پھر فصل کا انتظار کیا، تو اس کے انتظار کو حماقت اور غرور کہا جائے گا، رجاء نہیں۔
اور اگر اچھی زمین میں بیج پھیلایا لیکن اس میں پانی نہ ہو، اور وہ بارش کے پانی کا انتظار کرنے لگا، تو اس کے انتظار کو تمنا کہا جائے گا، رجاء نہیں۔
پس رجاء کا نام صرف اس محبوب چیز کے انتظار پر صادق آتا ہے جس کے اسباب جو بندے کے اختیار میں داخل ہیں، پورے کر لیے گئے ہوں، اور صرف وہی باقی رہے جو بندے کے اختیار میں نہیں، اور وہ اللہ سبحانہ کا فضل ہے کہ وہ رکاوٹیں اور خراب کرنے والی چیزیں ہٹا دے۔
پس بندہ جب ایمان کا بیج بوتا ہے، اسے طاعتوں کے پانی سے سینچتا ہے، دل کو برے اخلاق کے خار سے پاک کرتا ہے، اور اللہ کے فضل سے یہ انتظار کرتا ہے کہ وہ اسے موت تک اس پر ثابت رکھے اور حسن خاتمہ عطا کرے جو مغفرت تک پہنچائے، تو اس کا یہ انتظار رجاء محمود ہے، جو موت تک طاعتوں پر مداومت اور ایمان کے تقاضے پورا کرنے کا محرک بنتا ہے۔
اور اگر ایمان کے بیج کو طاعتوں کے پانی سے سینچنے کا سلسلہ توڑ دیا، یا دل کو رذائل اخلاق سے بھرا چھوڑ دیا، اور دنیا کی لذتوں کے طلب میں ڈوب گیا، پھر مغفرت کی امید رکھی، تو یہ حماقت اور غرور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الْأَدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا»
[الأعراف: 169]
ترجمہ: ”پھر ان کے بعد ان کے پیچھے ایسے ناخلف آئے جنہیں کتاب کا وارث بنایا گیا، وہ اس دنیا کے ادنیٰ مال کو لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمیں بخش دیا جائے گا۔“
اور اللہ نے اس قول والے کی مذمت کی:
«وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا»
[الكهف: 36]
ترجمہ: ”اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میں اس سے بہتر ٹھکانہ پاؤں گا۔“
[المقدسي، کتاب مختصر منهاج القاصدين: ص297-298]
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
"الدُّنْيَا لَيْسَتْ دَارَ قَرَارٍ، وَإِنَّمَا هِيَ مَعْبَرٌ إِلَى الدَّارِ الْآخِرَةِ"
(دنیا ٹھہرنے کا گھر نہیں، بلکہ یہ آخرت کے گھر تک پہنچنے کا پل ہے۔)
عنوان: دنیا ایک متاع (سامان) ہے۔
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ:
"إِنَّمَا الدُّنْيَا مَتَاعٌ (1) وَلَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ." (2) (3)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک دنیا ایک سامان (متاع) ہے (1)، اور دنیا کے سامان میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔" (2) (3)
حواشی وحوالہ جات:
(1) امام طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: "المتاع" کا اصل "التمتع بالشیء" سے ہے، یعنی کسی چیز سے فائدہ اٹھانا۔ اور دنیا کے تمام وہ اسباب جن سے فائدہ اٹھایا جائے، انہیں "متاع" کہا جاتا ہے۔
(فیض القدیر: 3/732)
(2) "الصالحۃ" سے مراد: پاکیزہ، اپنے شوہر کے گھریلو معاملات کی اصلاح کرنے والی، اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے والی عورت ہے۔
(فیض القدیر: 3/733)
(3) سنن ابن ماجہ: 1855؛ صحیح مسلم: 64 - (1467)؛ سنن النسائی: 3232؛ مسند الإمام أحمد: 6567۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام مسلم نے صحیح مسلم (1467) میں، امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (1855) میں، امام نسائی نے سنن النسائی (3232) میں، اور امام أحمد نے مسند أحمد (6567) میں روایت کیا۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص34/ ج361]
دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے۔
دنیا کے تمام سرمائے میں سب سے بہترین چیز نیک بیوی ہے۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. دنیا کی حقیقت:
{وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} (الحدید: 20)
(اور دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔)
تفسیر: دنیا ایک عارضی سرمایہ ہے، اور اس کی حقیقت "متاع" ہے، جیسا کہ حدیث میں ذکر ہوا۔
2. نیک بیوی اللہ کی نعمت:
{وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً} (الروم: 21)
(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔)
تفسیر: نیک بیوی اللہ کی عظیم نشانی اور نعمت ہے، جو دنیا کی بہترین متاع ہے۔
3. نیک بیوی دنیا کا سرمایہ:
{رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً} (البقرة: 201)
(اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے۔)
تفسیر: دنیا کی بھلائی میں نیک بیوی شامل ہے، اور یہ دنیا کا بہترین سرمایہ ہے۔
4. نیک بیوی کی دعا:
{وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ} (الفرقان: 74)
(اور وہ جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔)
تفسیر: نیک بیوی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دنیا کا بہترین سرمایہ ہے۔
5. نیک بیوی صالح شوہر کی شریک:
{وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ} (الأنبیاء: 90)
(اور ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کو صالح بنا دیا۔)
تفسیر: نیک بیوی اللہ کی خاص عطا ہے، جو دنیا کی بہترین متاع ہے۔
6. زوجین کا باہمی تعلق:
{هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ} (البقرة: 187)
(وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔)
تفسیر: نیک بیوی شوہر کے لیے لباس کی مانند ہے، جو اس کی حفاظت اور سکون کا ذریعہ ہے۔
7. دنیا کی متاع:
{وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ} (الحجر: 88)
(اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دی ہیں۔)
تفسیر: دنیا کی متاع عارضی ہے، مگر نیک بیوی دائمی سرمایہ ہے۔
8. نیک بیوی کا اجر:
{فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ} (النساء: 34)
(پس نیک عورتیں وہ ہیں جو فرماں بردار ہیں اور اللہ کی حفاظت کے مطابق غیب کی حفاظت کرتی ہیں۔)
تفسیر: نیک بیوی کی صفات میں فرماں برداری اور غیب کی حفاظت شامل ہے، جو اسے دنیا کی بہترین متاع بناتی ہیں۔
حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ"
(چار چیزیں خوش نصیبی میں سے ہیں: نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، اور آرام دہ سواری۔)
(سنن ابن ماجہ: 1856)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ"
(ساری دنیا ایک سرمایہ ہے، اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک بیوی ہے۔)
(صحیح مسلم: 1467)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ رَزَقَهُ اللهُ امْرَأَةً صَالِحَةً فَقَدْ أَعَانَهُ عَلَى شَطْرِ دِينِهِ، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِي الشَّطْرِ الْبَاقِي"
(جسے اللہ نے نیک بیوی عطا کی، اس نے اسے آدھے دین پر مدد دی، پس چاہیے کہ وہ باقی آدھے میں اللہ سے ڈرے۔)
(المعجم الأوسط للطبرانی)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ"
(عورت سے نکاح چار چیزوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے: اس کے مال، اس کے نسب، اس کے حسن، اور اس کے دین کی وجہ سے۔ پس تم دین والی کو ترجیح دو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔)
(صحیح البخاری: 5090، صحیح مسلم: 1466)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"خَيْرُ النِّسَاءِ مَنْ إِذَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا سَرَّتْكَ، وَإِذَا أَمَرْتَهَا أَطَاعَتْكَ، وَإِذَا غِبْتَ عَنْهَا حَفِظَتْكَ فِي نَفْسِهَا وَمَالِكَ"
(بہترین عورت وہ ہے کہ جب تم اس کی طرف دیکھو تو وہ تمہیں خوش کرے، جب تم حکم دو تو اطاعت کرے، اور جب تم اس سے غائب ہو تو اپنے نفس اور تمہارے مال کی حفاظت کرے۔)
(سنن النسائی: 3231)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ"
(مومن نے اللہ کے خوف کے بعد نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں پائی۔)
(سنن ابن ماجہ: 1857)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ الْمَرْأَةَ الصَّالِحَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"
(بیشک نیک بیوی جنت والوں میں سے ہے۔)
(مسند أحمد)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ"
(کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی ایک خصلت ناپسند ہو تو دوسری پسند ہو گی۔)
(صحیح مسلم: 1469)
فقہی نکات:
1. دنیا کی حقیقت: دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے، اور یہ عارضی ہے، مگر اس میں نیک بیوی سب سے بہترین سرمایہ ہے۔
2. نیک بیوی کی تعریف: "الصالحۃ" سے مراد پاکیزہ، اپنے شوہر کے گھریلو معاملات کی اصلاح کرنے والی، اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے والی عورت ہے۔
3. نکاح میں دین کی ترجیح: نکاح میں مال، نسب، اور حسن کے ساتھ دین کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ یہی دنیا کا بہترین سرمایہ ہے۔
4. نیک بیوی کا مقام: نیک بیوی دنیا کی بہترین متاع ہے، اور آدھے دین کی مددگار ہے۔
5. نیک بیوی کے حقوق: شوہر پر لازم ہے کہ وہ نیک بیوی کا احترام کرے، اس کے حقوق ادا کرے، اور اس کی قدر کرے۔
6. نیک بیوی کی صفات: فرماں برداری، غیب کی حفاظت، شوہر کو خوش کرنا، اطاعت، اور مال و نفس کی حفاظت نیک بیوی کی صفات ہیں۔
7. دنیا کی محبت سے بچنا: دنیا کی متاع فانی ہے، اور نیک بیوی باقی ہے، اس لیے نیک بیوی کو ترجیح دینی چاہیے۔
8. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
9. نیک بیوی کی قدر: نیک بیوی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔
تصوف کے نکات
1. دنیا اور آخرت: صوفیاء کے نزدیک دنیا فانی اور آخرت باقی ہے، مگر نیک بیوی دونوں میں سکون کا ذریعہ ہے۔
2. نیک بیوی اور قلب: صوفیاء کے نزدیک نیک بیوی قلب کی صفائی اور نفس کی اصلاح میں مددگار ہے۔
3. محبت اور رحمت: نیک بیوی محبت اور رحمت کا ذریعہ ہے، جو اللہ کی نشانی ہے۔
4. اللہ کی طرف رجوع: نیک بیوی اللہ کی طرف رجوع کرنے میں مددگار ہے۔
5. صالح بیوی کی دعا: صوفیاء نیک بیوی کے لیے دعا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
6. محبتِ الٰہی: نیک بیوی اللہ کی محبت اور اس کی قربت کا ذریعہ ہے۔
7. صبر اور شکر: نیک بیوی صبر اور شکر کا درس دیتی ہے۔
تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، عبادت گزار، اور بہت زیادہ علم والے تھے۔
2. یہ حدیث صحیح مسلم (1467)، سنن ابن ماجہ (1855)، سنن النسائی (3232)، اور مسند أحمد (6567) میں مروی ہے۔
3. امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں درج کیا، جو اس کی صحت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
4. امام نووی، ابن حجر، اور ابن کثیر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔
5. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث نکاح، عائلی زندگی، اور دنیا کی حقیقت کی بنیاد ہے۔
6. صحابہ کرام نیک بیوی کو دنیا کا بہترین سرمایہ سمجھتے تھے، اور اس کی قدر کرتے تھے۔
7. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نکاح میں دین کو ترجیح دیں، اور نیک بیوی کی قدر کریں۔
8. یہ حدیث دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
9. قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال اور نیت کے مطابق جزا پائے گا۔
10. نیک بیوی دنیا کا بہترین سرمایہ ہے، اور جنت میں بھی سکون کا ذریعہ ہے۔
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے، اور یہ عارضی ہے۔
2. دنیا کے تمام سرمائے میں نیک بیوی سب سے بہترین ہے۔
3. نیک بیوی پاکیزہ، فرماں بردار، اور شوہر کے معاملات کی اصلاح کرنے والی ہوتی ہے۔
4. نکاح میں دین کو مال، نسب، اور حسن پر ترجیح دینی چاہیے۔
5. نیک بیوی آدھے دین کی مددگار ہے۔
6. نیک بیوی اللہ کی عظیم نعمت ہے، اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔
7. نیک بیوی محبت اور رحمت کا ذریعہ ہے۔
8. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
9. نیت کے مطابق حشر ہو گا۔
10. آخرت کی تیاری کرنا اور نیک بیوی کی قدر کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔
مقاصد
1. دنیا کی حقیقت کو واضح کرنا۔
2. نیک بیوی کی اہمیت بتانا۔
3. نکاح میں دین کی ترجیح کی ترغیب دینا۔
4. نیک بیوی کی صفات بتانا۔
5. نیک بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی ترغیب دینا۔
6. دنیا کی محبت سے بچنے کی ترغیب دینا۔
7. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. صالح بیوی کے لیے دعا کی ترغیب دینا۔
خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک دنیا ایک سرمایہ (متاع) ہے، اور دنیا کے سرمائے میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔"
دنیا کی تعریف: دنیا ایک متاع (سرمایہ) ہے، جو عارضی ہے، اور اس میں نیک بیوی سب سے بہترین سرمایہ ہے۔
نیک بیوی کی تعریف: "الصالحۃ" سے مراد پاکیزہ، اپنے شوہر کے گھریلو معاملات کی اصلاح کرنے والی، اور اس کے حکم کی اطاعت کرنے والی عورت ہے۔
نتیجہ:
یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ نکاح، عائلی زندگی، اور دنیا کی حقیقت کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں نکاح میں دین کو ترجیح دینے، نیک بیوی کی قدر کرنے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: فقر کا خوف اور دنیا کی کثرت کا فتنہ – نبی ﷺ کی پیشین گوئی
عربی متن
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ:
خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ، فَقَالَ: "أَلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟ (1) أَوَتُهِمُّكُمُ الدُّنْيَا؟ فَإِنَّ اللهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ (2) وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا (3) حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ (4) بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ (5) وَايْمُ اللهِ (6) لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ (7) لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ." قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: "صَدَقَ وَاللهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَنَا عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ." (8)
ترجمہ:
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم فقر (غربت) کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے ڈر رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'کیا تم فقر (غربت) سے ڈرتے ہو؟ (1) کیا تمہیں دنیا کی فکر نے گھیر رکھا ہے؟ پس بیشک اللہ تمہارے لیے فارس اور روم کی زمینیں فتح کرنے والا ہے (2)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم پر دنیا اس طرح انڈیلی جائے گی (3) یہاں تک کہ تمہیں میرے بعد حق سے ہٹانے والی چیز اگر کوئی ہو گی تو وہ صرف دنیا ہی ہو گی (4) (5)۔ اور اللہ کی قسم! (6) میں نے تمہیں ایک ایسی روشن راہ پر چھوڑا ہے (7) جس کی رات اور دن برابر (روشن) ہیں۔'
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، آپ نے ہمیں ایسی روشن راہ پر چھوڑا جس کی رات اور دن برابر ہیں۔' (8)"
حواشی وحوالہ جات:
(1) سنن ابن ماجہ:5
(2) مسند الإمام أحمد: 24028؛ نیز دیکھیں صحیح الترغیب والترہیب: 3257۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "حسن لغیرہ"۔
(3) سنن ابن ماجہ: 5۔
(4) یعنی: تمہیں حق سے ہٹا دے۔
(5) مسند الإمام أحمد: 24028۔
(6) یعنی: اللہ کی قسم۔
(7) "البیضاء" اور ایک روایت میں "المحجۃ البیضاء" (روشن شاہراہ) ہے، جو سیدھا راستہ ہے۔
(فیض القدیر: 4/663)
سندی نے کہا: یعنی ملت اور حجتِ واضحہ جو شبہات کو قبول نہیں کرتی، پس اس پر شبہات پیش کرنے کی حالت ایسی ہے جیسے اس سے شبہات کو کشف کر کے دور کر دینا، اور اسی طرف "رات اور دن برابر ہیں" کے قول سے اشارہ ہے۔
(حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ: 1/36)
(8) سنن ابن ماجہ: 5۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص10 / ج341]
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ اسے امام ابن ماجہ (5) اور امام أحمد (24028) نے روایت کیا۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا۔
حدیث کا مرکزی مضمون:
صحابہ فقر (غربت) کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے ڈر رہے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فقر سے ڈرتے ہو؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی: فارس اور روم کی زمینیں فتح ہوں گی۔
دنیا تم پر انڈیلی جائے گی (یعنی مال و دولت کی کثرت ہو گی)۔
تمہیں حق سے ہٹانے والی چیز صرف دنیا ہی ہو گی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو روشن راہ پر چھوڑا جس کی رات اور دن برابر ہیں۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. مال اور اولاد کی آزمائش:
{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} (التغابن: 15)
(بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔)
تفسیر: مال فتنہ ہے، جیسا کہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی کثرت کو فتنہ قرار دیا۔
2. مال کی محبت:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
3. دنیا کی زینت:
{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ} (آل عمران: 14)
(لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت مزین کر دی گئی ہے: عورتوں، بیٹوں، اور سونے چاندی کے ڈھیروں کی۔)
4. فتح کا وعدہ:
{وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ} (النور: 55)
(اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا۔)
تفسیر: فارس اور روم کی فتح اسی وعدے کی تعمیل تھی۔
5. دنیا کی حقیقت:
{اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} (الحدید: 20)
(جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، تمہارے درمیان فخر، اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔)
6. آخرت بہتر اور باقی ہے:
{وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)
7. قناعت:
{وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ} (النجم: 39)
(اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے۔)
تفسیر: قناعت اور سعی، دونوں کا توازن ضروری ہے۔
8. صراطِ مستقیم:
{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ} (الأنعام: 153)
(اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اس کی پیروی کرو۔)
تفسیر: حدیث میں "البیضاء" سے مراد یہی صراطِ مستقیم ہے۔
عربی متن
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنَمَارِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
"إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ (1) عَبْدٍ (2) آتَاهُ اللهُ مَالًا وَعِلْمًا (3) فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ (4) وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، فَهَذَا (5) بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ (6)
وَعَبْدٍ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا، وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا، فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ (7) لَوْ كَانَ لِي مَالٌ، لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ (8) فَهُوَ بِنِيَّتِهِ (9) فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ (10)
وَعَبْدٍ آتَاهُ اللهُ مَالًا، وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا، فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ (11) لَا يَعْلَمُ لِلهِ فِيهِ حَقًّا، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ (12) وَيُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ (13) فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ
وَعَبْدٍ لَمْ يُؤْتِهِ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَهُوَ بِنِيَّتِهِ، فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ." (14)
ترجمہ:
حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بیشک دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:
(1) ایک وہ بندہ (1) جسے اللہ نے مال اور علم (2) دونوں عطا کیے، پس وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں عمل کرتا ہے (3) اور اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے، تو یہ سب سے بہترین درجے والا ہے (4) (5)۔
(2) اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم عطا کیا مگر مال نہیں دیا، پس وہ سچی نیت والا ہے، کہتا ہے (6): اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں شخص کے عمل کی طرح عمل کرتا (7)، پس وہ اپنی نیت کے مطابق (اجر پائے گا) (8)، پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (9)۔
(3) اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال عطا کیا مگر علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال میں بغیر علم کے بےجا تصرف کرتا ہے (10)، نہ وہ اس میں اللہ کا حق جانتا ہے، نہ اس مال سے صلہ رحمی کرتا ہے، نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے (11)، اور اسے ناحق خرچ کرتا ہے (12)، تو یہ سب سے بدترین درجے والا ہے۔
(4) اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا اور نہ علم، پس وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں شخص کے عمل کی طرح عمل کرتا، پس وہ اپنی نیت کے مطابق (گناہ پائے گا)، پس ان دونوں کا گناہ برابر ہے (13)۔" (14)
حواشی و حوالہ جات:
(1) یعنی: دنیا والوں کا حال چار طرح کے لوگوں کا حال ہے۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(2) جامع الترمذی: 2325۔
(3) یعنی: شرعی اور نافع علم۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(4) سنن ابن ماجہ: 4228۔
(5) یعنی: یہ وہ بندہ ہے جو مذکورہ صفات سے متصف ہے۔
(6) یعنی: اس کے اور اللہ کے درمیان معاملے میں۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(7) یعنی: وہ شخص جس کے پاس مال ہے اور وہ اسے نیکی میں خرچ کرتا ہے۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(8) یعنی: اسے اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(9) یعنی: جس نے یہ عزم کیا کہ اگر اس کے پاس مال ہوتا تو وہ اسے خیر میں خرچ کرتا، اور جس کے پاس مال ہے اور وہ اسے خرچ کرتا ہے، ان دونوں کا اجر برابر ہے، اور علم کا اجر اسے زائد ملے گا۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(10) یعنی: وہ اسے اپنی نفسانی خواہشات میں خرچ کرتا ہے، کبھی حرص اور دنیا کی محبت میں روک لیتا ہے، اور کبھی دکھاوے، ریاکاری، فخر اور تکبر کے لیے خرچ کرتا ہے۔
(تحفۃ الأحوذی: 6/110)
(11) جامع الترمذی: 2325۔
(12) سنن ابن ماجہ: 4228۔
(13) جامع الترمذی: 2325۔
(14) جامع الترمذی: 2325۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ترمذی نے جامع الترمذی (2325) میں اور امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (4228) میں روایت کیا۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (2350) اور صحیح الترغیب والترہیب (19) میں درج کیا۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج 4 / ص 298]
حدیث کا مرکزی مضمون:
دنیا کے لوگ چار اقسام میں تقسیم ہیں:
علم + مال: بہترین درجہ، علم کے مطابق مال میں عمل اور صلہ رحمی۔
علم، مال نہیں: سچی نیت والا، اجر میں پہلے کے برابر۔
مال، علم نہیں: بدترین درجہ، بغیر علم کے مال میں تصرف، ناحق خرچ۔
نہ علم نہ مال: بد نیت والا، گناہ میں پہلے کے برابر۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. علم اور مال کی اہمیت:
{وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا} (الزخرف: 32)
(اور ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر درجے بلند کیے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔)
تفسیر: اللہ نے علم اور مال کے ذریعے لوگوں کے درجات میں فرق رکھا، تاکہ وہ ایک دوسرے کی خدمت کریں۔
2. مال اور اولاد کی آزمائش:
{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} (التغابن: 15)
(بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔)
تفسیر: مال اور علم دونوں آزمائش ہیں، اور ان کا صحیح استعمال ہی کامیابی ہے۔
3. علم کے مطابق عمل:
{وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا} (طه: 114)
(اور کہہ: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔)
تفسیر: علم کی زیادتی کا مقصد عمل ہے، اور جو علم کے مطابق عمل کرے وہ بہترین درجے والا ہے۔
4. نیت کی اہمیت:
{لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ} (الحج: 37)
(اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔)
تفسیر: اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت اور تقویٰ پر ہے، جیسا کہ حدیث میں نیت کے مطابق اجر کا ذکر ہے۔
5. مال میں اللہ کا حق:
{وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ} (الذاریات: 19)
(اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا۔)
تفسیر: مال میں اللہ کا حق ہے، اور جو اسے ادا نہ کرے وہ بدترین درجے والا ہے۔
6. صلہ رحمی:
{وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ} (النساء: 1)
(اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں کا خیال رکھو۔)
تفسیر: صلہ رحمی مال کے صحیح استعمال کا حصہ ہے۔
7. بغیر علم کے عمل:
{وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ} (الإسراء: 36)
(اور جس چیز کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چل۔)
تفسیر: بغیر علم کے مال میں تصرف کرنا ممنوع ہے۔
8. بدترین درجہ:
{وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا} (الشمس: 10)
(اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔)
تفسیر: جو اپنی نیت اور عمل کو خراب کرے وہ بدترین درجے والا ہے۔
حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ"
(جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے۔)
(صحیح البخاری: 71، صحیح مسلم: 1037)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ"
(طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔)
(صحیح مسلم: 2664)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ كَسَبَ مَالًا حَرَامًا فَتَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ"
(جس نے حرام مال کمایا اور اسے صدقہ کیا، اس سے قبول نہیں ہوگا۔)
(مسند أحمد)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"
(بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔)
(صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ"
(جس کے پاس سواری کا فالتو جانور ہو، وہ اسے اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہ ہو۔)
(صحیح مسلم: 1001)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ"
(صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔)
(صحیح مسلم: 2588)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ"
(بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔)
(جامع الترمذي: 3546)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ"
(جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔)
(صحیح مسلم: 2699)
فقہی نکات
1. علم اور مال کی اہمیت: علم اور مال دونوں اللہ کی نعمتیں ہیں، اور ان کا صحیح استعمال باعثِ اجر ہے۔
2. بہترین درجہ: وہ شخص جو علم کے مطابق مال میں عمل کرے، صلہ رحمی کرے، اور اللہ کا حق ادا کرے، وہ بہترین درجے والا ہے۔
3. نیت کا اجر: جو شخص علم رکھتا ہے مگر مال نہیں، مگر اس کی نیت سچی ہے کہ اگر مال ہوتا تو وہ بھی نیکی کرتا، تو اسے پہلے کے برابر اجر ملے گا۔
4. بدترین درجہ: جو شخص مال رکھتا ہے مگر علم نہیں، وہ بغیر علم کے مال میں تصرف کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور اللہ کا حق ادا نہیں کرتا، وہ بدترین درجے والا ہے۔
5. بد نیت کا گناہ: جو شخص نہ علم رکھتا ہے نہ مال، مگر بد نیت ہے کہ اگر مال ہوتا تو وہ بھی برائی کرتا، تو اسے پہلے کے برابر گناہ ملے گا۔
6. مال میں اللہ کا حق: مال میں زکوٰۃ، صدقہ، اور صلہ رحمی کا حق ہے، اور انہیں ادا کرنا ضروری ہے۔
7. بغیر علم کے فتویٰ: بغیر علم کے مال میں تصرف کرنا، یا دین کے معاملات میں فتویٰ دینا، ممنوع ہے۔
8. نیت کی اہمیت: اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے، اور نیت کے مطابق اجر یا گناہ ملتا ہے۔
9. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت: شریعت میں کسی کو "خليفة الله" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
مقاصد
1. علم اور مال کی اہمیت بتانا۔
2. نیت کے مطابق اجر و گناہ کو واضح کرنا۔
3. مال میں اللہ کا حق اور صلہ رحمی کی ترغیب دینا۔
4. بغیر علم کے عمل سے روکنا۔
5. بہترین اور بدترین درجے کو واضح کرنا۔
6. نیت کی اصلاح کی ترغیب دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
(1)حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ
ترجمہ:
یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام وناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[جامع ترمذی» کتاب:-گواہیوں کا بیان»ب اب:-حق کے ساتھ مال لینے کے متعلق»ح دیث نمبر: 2374]
اصول:
قرآن وسنت میں جہاں بھی دنیا کی مذمت کی گئی ہے، وہاں احکام الہی سے غافل کرنے والی اور آخرت کو نقصان پہنچانے والی چیزیں/باتیں مراد ہیں۔
لہٰذا حضرت حسن(اور حضرت حذیفہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حُبُّ الدُّنْيا﴿الدينار﴾ رَأسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ.
دنیا﴿پیسے﴾ کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔
[شعب الایمان-للبيهقي:10501، جامع الأحاديث-للسيوطي:45030 ﴿الترغيب والترهيب-للمنذري:3/178﴾]
یعنی دنیا وہ باتیں/چیزیں ہیں جو خطاؤں میں مبتلا کریں۔ اور جو خطاؤں میں مبتلا نہ کرے وہ باتیں/چیزیں مذموم دنیا یا اسکی محبت نہیں۔
قَالَ خَوْلَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ بَيْتَهُ فَتَذَاكَرُوا الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى اللَّهَ
ترجمہ:
حضرت خولہ بنت قیس جو حضرت حمزہ کی اہلیہ تھیں، سے مروی ہے کہ ایک دن نبی حضرت حمزہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی نے فرمایا: دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے (ناحق)گھسنے والے ایسے ہیں جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
[مسند احمد» حضرت خولہ بنت حکیم کی حدیثیں» حدیث نمبر: 26098]
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طُعْمَةٍ وَلَا إِشْرَاهٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طُعْمَةٍ وَإِشْرَاهٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ
ترجمہ:
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ دنیا سرسبز اور شیریں ہے، سو جسے ہم کوئی چیز اپنی خوشی سے اور اچھے کھانے کی دے دیں جس میں اس کی بے صبری شامل نہ ہو تو اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس شخص کو ہم اس میں سے کوئی چیز اپنی خوشی کے بغیر اور اچھے کھانے کے علاوہ دیدیں جس میں اس کی بےصبری بھی شامل ہو تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی۔
[مسند احمد» ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات» حدیث نمبر: 23302]
(2)حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا متاع یعنی سامان ہے اور دنیا کا بہترین مال ومتاع نیک بیوی ہے۔
[صحيح مسلم:1467، صحيح ابن حبان:4031]
وضاحت:
کیونکہ نیک بیوی دین اور آخرت کی باتوں میں معاون ومددگار ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ اللہ سے غافل کرنے اور آخرت کی بربادی کا سبب بننے والی نہیں ہوتی۔
القرآن:
القرآن:
جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی زینت(سج دھج) چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
[سورۃ نمبر 11 هود، آیت نمبر 15]
القرآن:
اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی پونجی اور اس کی سجاوٹ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
[سورۃ نمبر 28 القصص، آیت نمبر 60]
تفسیر:
کافر لوگ جو آخرت پر تو ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ کرتے ہیں، دنیا ہی کی خاطر کرتے ہیں، ان کی نیکیوں، مثلا صدقہ خیرات وغیرہ کا صلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی نیکی معتبر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کوئی نیک کام صرف دنیوی شہرت یا دولت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کرے تو اسے دنیا میں تو وہ شہرت یا دولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس نیکی کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ بلکہ واجب عبادتوں میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے الٹا گناہ ہوتا ہے۔ آخرت میں وہی نیکی معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہو۔
القرآن:
اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔
[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 28]
(3)دنیا وہ ہے جو اللہ کے ذکر (یاد ونصیحت) سے غافل کرے اور نماز کو ضایع کرادے۔
القرآن :
فلاح اس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور اپنے پروردگار کا نام لیا، اور نماز پڑھی۔ لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔
[سورۃ نمبر 87 الأعلى، آیت نمبر 14-16]
(1)حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ:
حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ ونائب بنانے والا ہے، پس وہ دیکھے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ دنیا سے بچو اور عورتوں سے بھی ڈرتے رہو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔
[صحیح مسلم» کتاب:-دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان» باب:-اہل جنت میں غریبوں اور اہل جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہونے کے بیان میں
حدیث نمبر: 6948]
القرآن:
جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، اور جو شخص (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اسے اسی میں سے دے دیں گے، اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
[سورۃ الشوریٰ:20]
جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔
[سورہ بنی اسرائیل:18]
نوٹ:
یہ اس شخص کا ذکر ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی دنیا کی بہتری کو بنا رکھا ہے اور آخرت پر یا تو ایمان نہیں، یا اس کی کوئی فکر نہیں، نیز اس قسم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو کوئی نیکی کا کام دنیا کی دولت یا شہرت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو دنیا کے یہ فوائد ملنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے، نہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ جتنے فائدے وہ چاہ رہے ہیں وہ سب مل جائیں، البتہ ان میں سے جن کو ہم مناسب سمجھتے ہیں دنیا میں دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں ان کا انجام جہنم ہے۔
(5)عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟ وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ؟ فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: قُلْ لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا يَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: قُلْ لَهَا: فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ .
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فاطمہ ؓ کے پاس آئے تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا دیکھا۔ آپ اندر داخل نہیں ہوئے، کم ہی تھا کہ آپ آئیں اور سب سے پہلے فاطمہ ؓ کے پاس نہ آئیں۔ علی ؓ آئے تو فاطمہ ؓ کو پریشان دیکھا، کہنے لگے:تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگیں: نبی ﷺ میری طرف آئے تھے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔ علیؓ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات گراں گزری ہے کہ آپ اس کے پاس آئے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا غرض؟ مجھے نقش ونگار سے کیا مطلب؟ علی ؓ فاطمہ ؓ کی طرف گئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی۔ فاطمہ ؓ کہنے لگیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھئے وہ اس (پردے) کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ سے کہو: وہ اسے بنی فلاں کی طرف بھیج دے۔
[الصحيحة:2421(3078)، سنن أبي داؤد،كِتَاب اللِّبَاسِ، بَاب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ، رقم (3620)، مسند أحمد رقم (4497) .]
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الْعَصْرِ بِنَهَارٍ، ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا أَخْبَرَنَا بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ: إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ فِيمَا قَالَ: أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا قَالَ: أَلَا إِنَّهُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ يُرْكَزُ لِوَاؤُهُ عِنْدَ اسْتِهِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا حَفِظْنَا يَوْمَئِذٍ: أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ الْبَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، أَلَا وَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْءِ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ، وَمِنْهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ حَسَنُ الطَّلَبِ، وَمِنْهُمْ حَسَنُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ السَّيِّئَ الْقَضَاءِ السَّيِّئَ الطَّلَبِ، أَلَا وَخَيْرُهُمُ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ الْحَسَنُ الطَّلَبِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ، أَلَا وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، أَمَا رَأَيْتُمْ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ إِلَى الشَّمْسِ هَلْ بَقِيَ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَأَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کچھ پہلے پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اور آپ نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں خبر دی، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے بھول گئے، آپ نے جو باتیں بیان فرمائیں اس میں سے ایک بات یہ بھی تھی: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گا ١ ؎، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے اور عورتوں سے بچ کے رہو ٢ ؎، آپ نے یہ بھی فرمایا: خبردار! حق جان لینے کے بعد کسی آدمی کو لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک دے ، ابو سعید خدری ؓ نے روتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں اور (بیان کرنے سے) ڈر گئے آپ نے یہ بھی بیان فرمایا: خبردار! قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے کے لیے اس کے عہد توڑنے کے مطابق ایک جھنڈا ہوگا اور امام عام کے عہد توڑنے سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنا نہیں، اس عہد کے توڑنے والے کا جھنڈا اس کے سرین کے پاس نصب کیا جائے گا ، اس دن کی جو باتیں ہمیں یاد رہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: جان لو! انسان مختلف درجہ کے پیدا کیے گئے ہیں کچھ لوگ پیدائشی مومن ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرتے ہیں، کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندہ رہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگوں کو غصہ دیر سے آتا ہے اور جلد ٹھنڈا ہوجاتا ہے، کچھ لوگوں کو غصہ جلد آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، جان لو! کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جلد غصہ آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، جان لو! ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دیر سے غصہ ہوتے ہیں اور جلد ٹھنڈے ہوجاتے ہیں، اور سب سے برے وہ ہیں جو جلد غصہ ہوتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں، جان لو! کچھ لوگ اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے قرض وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ بدسلوکی سے قرض ادا کرتے ہیں، اور بدسلوکی سے وصول کرتے ہیں، جان لو! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے وصول کرتا ہے، اور سب سے برا وہ ہے جو برے ڈھنگ سے ادا کرتا ہے، اور بدسلوکی سے وصول کرتا ہے، جان لو! غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے کیا تم غصہ ہونے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی رگوں کو پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو؟ لہٰذا جس شخص کو غصہ کا احساس ہو وہ زمین سے چپک جائے ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم لوگ سورج کی طرف مڑ کر دیکھنے لگے کہ کیا ابھی ڈوبنے میں کچھ باقی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جان لو! دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کی بہ نسبت اب جو حصہ باقی ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا حصہ آج کا تمہارے گزرے ہوئے دن کی بہ نسبت باقی ہے ٣ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ، ابومریم، ابوزید بن اخطب اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے قیامت تک ہونے والی چیزوں کو بیان فرمایا۔
[جامع ترمذی» کتاب: فتنوں کا بیان» باب: اس بارے میں کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو قیامت تک کے واقعات کی خبر دی
حدیث نمبر: 2191]
تخریج دارالدعوہ:
{سنن ابن ماجہ»4000 (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦ الصحیحہ: ٤٨٦، ٩١١ ) ]
وضاحت:
یعنی تم کو پچھلی قوموں کا وارث و نائب بنائے گا، یہ نہیں کہ انسان اللہ کا خلفیہ و نائب ہے یہ غلط بات ہے، بلکہ اللہ خود انسان کا خلیفہ ہے جیسا کہ خضر کی دعا میں ہے «والخلیف ۃ بعد»۔
عنوان
جھونپڑی کی مرمت کے موقع پر نبی ﷺ کی آخرت کی تذکیر
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رضي الله عنهما - قَالَ:
"مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نُعَالِجُ (1) خُصًّا (2) لَنَا (3) فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللهِ؟ (4) فَقُلْتُ: خُصٌّ لَنَا (5) قَدْ وَهَى (6) فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ قَالَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ (7)"
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:
”ہمارے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اس حال میں کہ ہم اپنی ایک جھونپڑی کی مرمت کر رہے تھے۔ (1) (3) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! یہ کیا ہے؟“ (4) میں نے کہا: ”ہماری ایک جھونپڑی ہے، (5) وہ ٹوٹ پھوٹ گئی/کمزور ہوگئی ہے، (6) ہم اسے درست کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو معاملے کو اس سے بھی زیادہ جلد والا سمجھتا ہوں۔“ (7)
حواشی وحوالہ جات:
(1) یعنی: ہم اسے درست کر رہے تھے۔
(عون المعبود 11/273)
(2) الخص(جھونپڑی): سرکنڈوں/بانس سے بنایا گیا گھر، یا وہ گھر جس کی چھت لکڑی سے ڈالی گئی ہو، مانند ایوان۔
(عون المعبود 11/273)
(3) (الجامع الصحيح للترمذي) 2335
(4) (سنن أبي داود) 5235
(5) (سنن ابن ماجة) 4160
(6) یعنی: وہ پھٹ گئی، شق ہوگئی، اور اس کی بندھن/رسی ڈھیلی ہوگئی۔
(عون المعبود 11/273)
(7) (الجامع الصحيح للترمذي) 2335، (سنن أبي داود) 5236، (سنن ابن ماجة) 4160، (مسند الإمام أحمد) 6502
دیکھیں: صحيح الترغيب والترهيب 3343، صحيح الأدب المفرد 354
علمی اسباق و نکات
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سادہ زندگی اور اپنے ہاتھ سے گھر کی مرمت کرنا ثابت ہوتا ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5235)
نبی ﷺ کا اصحاب کے احوال پر گزرنا، ان کی خبرگیری کرنا اور تعلیم دینا آپ کی تربیتی شفقت کو ظاہر کرتا ہے۔
(سنن أبي داود 5235)
”نُعَالِجُ“ کا معنی ”نُصْلِحُ“ یعنی ہم درست کرتے ہیں۔ یہ عملی اصلاح اور محنت کی تعلیم ہے۔
(عون المعبود 11/273)
”خُصّ“ کے لغوی معنی اور اس کے مواد کی معرفت حدیث کے الفاظ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
(عون المعبود 11/273)
یہ حدیث متعدد کتب میں مروی ہے، جس سے اس کی شہرت اور اعتبار معلوم ہوتا ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5235، 5236؛ سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502؛ صحيح الترغيب والترهيب 3343؛ صحيح الأدب المفرد 354)
عقلی اسباق و نکات
دنیا دارِ فانی ہے؛ مکان کی مرمت ضروری ہے، مگر آخرت کی تیاری اس سے زیادہ ضروری ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5236)
نبی ﷺ کے جملے ”مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ“ میں موازنہ ہے: عارضی چیز کی مرمت کی فکر کے مقابلے میں آنے والا حتمی امر یعنی موت/قیامت زیادہ قریب ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن ابن ماجة 4160)
عقل کا تقاضا ہے کہ دائمی نقصان کو عارضی نقصان پر ترجیح دی جائے۔
(سنن أبي داود 5236؛ مسند الإمام أحمد 6502)
تفسیری اسباق و نکات
”الأمر“ سے مراد موت یا قیامت/آخرت کا معاملہ ہے۔ سیاق یہی بتاتا ہے کہ آپ ﷺ نے گھر کی مرمت دیکھ کر آخرت کی طرف توجہ دلائی۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5236)
”أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ“ یعنی اس سے زیادہ جلد پہنچنے والا/قریب۔
(سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502)
یہ جملہ وعظ و تذکیر ہے، نہ کہ مکان کی مرمت کی ممانعت۔
(سنن أبي داود 5235؛ الجامع الصحيح للترمذي 2335)
تشریحی اسباق و نکات
”نُعَالِجُ“ = نُصْلِحُ، یعنی ہم درست کرتے ہیں۔
(عون المعبود 11/273)
”خُصّ“ = بانس/سرکنڈے کا گھر، یا لکڑی سے چھت والا گھر۔
(عون المعبود 11/273)
”وَهَى“ = تخرق وانشق، واسترخى رباطه؛ یعنی وہ پھٹ گیا، شق ہوگیا اور اس کی بندھن ڈھیلی ہوگئی۔
(عون المعبود 11/273)
”مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللهِ؟“ استفہام تعلیمی/تنبیہی ہے، تاکہ صحابی کو آخرت کی یاد دلائی جائے۔
(سنن أبي داود 5235)
”مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ“ میں ”ما... إلا“ حصر کا فائدہ ہے، یعنی میں امر کو صرف اس سے زیادہ جلد والا دیکھتا ہوں۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن ابن ماجة 4160)
فقہی اسباق و نکات
اپنے گھر کی مرمت اور دیکھ بھال جائز ہے۔
(سنن أبي داود 5235؛ الجامع الصحيح للترمذي 2335)
اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور خدمت کرنا جائز بلکہ مستحسن ہے۔
(سنن أبي داود 5235)
دنیاوی اسباب اختیار کرنے کی ممانعت نہیں، مگر آخرت سے غفلت ممنوع ہے۔
(سنن أبي داود 5236؛ مسند الإمام أحمد 6502)
کسی شخص کو نام لے کر پکارنا اور سوال کرنا جائز ہے، خاص طور پر تعلیم و تربیت کے لیے۔
(سنن أبي داود 5235)
ضرورت کے وقت کمزور/ٹوٹے مکان کی مرمت کرنا مباح ہے۔
(عون المعبود 11/273؛ سنن ابن ماجة 4160)
اصولی اسباق و نکات
تعلیم کا اصول: پہلے سوال/استفہام، پھر ارشاد۔
(سنن أبي داود 5235)
حالات و قرائن کو سامنے رکھ کر کلام کی تفسیر کی جاتی ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5236)
”الأمر“ عام ہے، مگر سیاق سے مراد خاص یعنی آخرت ہے۔
(سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502)
دنیوی امور میں مشغولیت کے دوران بھی آخرت کی تذکیر کا اصول ثابت ہوتا ہے۔
(سنن أبي داود 5236؛ صحيح الترغيب والترهيب 3343)
ایک حدیث کئی طرق سے مروی ہو تو اس کے اعتبار میں قوت پیدا ہوتی ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2335؛ سنن أبي داود 5235، 5236؛ سنن ابن ماجة 4160؛ مسند الإمام أحمد 6502؛ صحيح الأدب المفرد 354)
مباح چیز کی اصلاح و مرمت میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ آخرت کی تیاری سے غافل نہ کرے۔
(عون المعبود 11/273؛ سنن أبي داود 5236)
قرآنی دعا سے سبق:
لہٰذا صرف دنیا دعا مانگنے سے روکا اور دنیا کے ساتھ آخرت کی بھلائی بھی مانگتے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے:
.....اب بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دعا میں بس) یہ کہتے ہیں کہ : ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما“ اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ : ”اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے“.
[سورۃ البقرۃ:200-201]
دنیا "میں" بھلائی سے مراد آسائش وکثرتِ مال نہیں۔
دنیا"میں"بھلائی عطا فرما
یعنی
(1)نیک اعمال
[دلائلِ قرآن، سورۃ الزمر:10-النساء:40-85، الانعام:160، النمل:89، القصص:84]
(2)نیک اولاد اور پیغمبرانہ تعلیم
[سورۃ العنکبوت:27]
(3)ٹھکانہ
[النحل:41]
(4)فتح
[آل عمران:120، النساء:78]
(5)حسنِ سلوک
[الرعد:22، القصص:54، فصلت:34]
(6)بہترین نمونۂ زندگی
[الممتحنہ:4-6]
(7)علم اور عبادت، رزقِ حلال، عافیت(صحت وامن)، شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، صبر کرنے والا جسم، اور نیکی میں مددگار بیوی۔
[تفسیر-امام الطبری(م310ھ)، امام ابن ابی حاتم(م327ھ)]
(8)نیکوکار بیوی
[نسائی:3232]
جو اپنی عزت اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرے۔
[طبرانی:11275]
دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟
(1)حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ: قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وبَدَنًا عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرًا، وَزَوْجَةً لَا تَبْغِيهِ خَوْفًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ»
ترجمہ:
چار چیزیں ایسی ہیں جسے مل جائیں تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی:
(1)شکرگذار ۔۔۔ یعنی اللہ کے احسانات کو یاد رکھنے والی ۔۔۔ دل،
(2)ذکر کرنے والی زبان،
(3)صبر کرنے والا بدن(صحت)
(4)اور ایسی عورت جو اپنی عزت اور اپنے شوہر کے مال میں خیانت نہ کرے۔
[المعجم الأوسط-للطبراني:7212، المعجم الكبير-للطبراني:11275، شعب الإيمان-للبيهقي:4115، الأحادیث المختارۃ-المقدسي:63]
رِجَالُ الصَّحِيحِ.(راوی صحیح ہیں)۔
[مجمع الزوائد:7437]
یعنی اس حدیث کو پہنچانے والے تمام افراد نیک اور اچھے حافظہ والے ہیں۔
...اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان...
[تفسیرالطبري:21/517»سورة الشورىٰ:15]
[تفسیر الثعلبي:8/307»سورة الشوري:20]
القرآن:
لہٰذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔
[الدر المنثور-للسيوطي:1/363»سورة البقرۃ:152]
القرآن:
۔۔۔چنانچہ نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں الله کی دی ہوئی حفاظت سے (اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔۔۔
[سورۃ النساء:34]
اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔
[سورۃ نمبر 33 الأحزاب، آیت نمبر 28]
(2)حضرت عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ (1)وہ اپنے گھر(یا قوم) میں امن سے ہو (2)اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو (3)اور دن بھر کی روزی(کھانا)اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی۔
[ترمذی:2346،ابنِ ماجہ:4141]
تفسير ابن كثير-سورۃ المائدۃ:24
وضاحت:
مفہوم یہ ہے کہ امن و صحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہتر ہے جو امن و صحت والی نہ ہو، گویا انسان کو مال و دولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ صبر و قناعت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ امن و سکون اور راحت و آسائش اسی میں ہے۔
القرآن:
اے لوگو ! یاد کرو ان نعمتوں کو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر آخر تم کہاں اوندھے چلے جارہے ہو ؟
[سورۃ نمبر 35 فاطر، آیت نمبر 3]
القرآن:
اے ایمان والو ! اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا اس کو یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں، تو اللہ نے تمہیں نقصان پہنچانے سے ان کے ہاتھ روک دئیے (12) اور (اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ) اللہ کا رعب دل میں رکھتے ہوئے عمل کرو، اور مومنوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 11]
تفسیر:
12: یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خاک میں ملادیا، ایسے واقعات بہت سے ہیں، ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں، مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحصرت ﷺ نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی، مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں ختم کردینے کا یہ بہترین موقع تھا، پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کردیں گے ؛ لیکن عصر کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے صلاۃ الخوف پڑھی جس میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورة نساء : 102 میں گزرچکا ہے) چنانچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا (روح المعانی) مزید واقعات کے لئے دیکھئے معارف القرآن۔
دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟
(3)حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا متاع یعنی سامان ہے اور دنیا کا بہترین مال ومتاع نیک بیوی ہے۔
[صحيح مسلم:1467، صحيح ابن حبان:4031]
(4) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے اس کی نرمی کا حصہ دیا گیا تو اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا کی گئی۔
[مسند ابن الجعد:3452، مسند أبي يعلى:4530، مسند الشهاب القضاعي:444]
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے اس کی نرمی سے محروم کیا گیا تو اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم کیا گیا۔
[مسند ابن الجعد:3454، معجم ابن الأعرابي:44]
اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک (جیسے امور خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔
[مسند أحمد:25259، سلسلة الأحاديث الصحيحة:519، الصحيح المسند مما ليس في الصحيحين:1629]
القرآن:
اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
[تفسیر الدر المنثور»سورۃ آل عمران:134+135]
دنیا کس کیلئے آخرت کی کھیتی ہے؟
(5)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کو حسن صورت، حسن اخلاق، نیک بیوی اور سخاوت کا مادہ عطاء ہو اس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی۔
[الترغيب في فضائل الأعمال-لابن شاهين:264]
دنیاوی لالچ اور ذخیرہ اندوزی سے بچنے کی فضیلت:
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ»
ترجمہ:
حصرت قتادہ بن نعمان سے روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ پاک اپنے کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو دنیا سے اس طرح جاتے ہیں جس طرح (جان جانے کے) خوف سے اپنے بیمار کو کھانے اور پانی سے پرہیز کرواتے ہو۔
[سنن الترمذي:2036 ، صحيح ابن حبان:669]
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:7464]
القرآن
اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔
[سورۃ الشورى:28]
القرآن:
اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ (10) اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
[سورۃ الزخرف:35(تفسیر الخازن)]
تفسیر:
(10) بتلانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کا مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی بےحقیقت چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے ناراض ہونے کے باوجود ان کے آگے سونے چاندی کے ڈھیر لگاسکتا ہے، اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مال و دولت کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے کافروں کی دولت دیکھ کر کافر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کافروں کے گھر اور ان کے گھر کا سارا ساز و سامان سونے چاندی کا بنا دیتا ، کیونکہ وہ فنا ہونے والی چیزیں ہیں، اور اصل دولت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی ابدی زندگی کی خوش حالی ہے، جو پرہیزگاروں ہی کو نصیب ہوتی ہے، لہذا کسی دولت مند شخص پر نازل کرنے کا مطالبہ سراسر لغو مطالبہ ہے۔
جو لوگ ہم سے (آخرت میں) آملنے کی کوئی توقع ہی نہیں رکھتے، اور دنیوی زندگی میں مگن اور اسی پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔
[سورۃ يونس: 7]
[تفسير ابن رجب الحنبلي، ٥٣٩/١]
حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
چار چیزیں جب تمہیں مل جائیں تو دنیا کی کسی چیز کے نہ ملنے پر افسوس نہ کرنا: (1) امانت کی پاسداری کرنا (2) گفتگو میں سچ بولنا (3)حُسنِ اخلاق (4)اور حلال وپاکیزہ روزی(کھانا)۔
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:7876][مسند احمد:6652]
تفسير ابن كثير - سورة الأحزاب:72
الدر المنثور في التفسير بالمأثور-سورۃ النساء:58
اسلامی تعلیم کا مقصد-سلامتی ہے۔
دنیاوی آسائشوں اور کثرت کے حصول میں ہر ظلم/ناحق سے رکنے/روکنے کے ذریعے ظالم کی مدد اور مظلوم پر رحم کیلئے سختی ونرمی کے درمیان معتدل نظریہ اور راستہ (1)سارے جہانوں کو پالنے والے اللہ کی پہچان اور (2)آخرت پر یقین رکھنا نہ صرف حق ہے بلکہ سب سے موثر بھی ہے۔
عدل واحسان کا شوق دلانے اور ظلم وزیادتی سے خبردار کرنے/ڈرانے کیلئے جنت اور جہنم جیسی دائمی، لامحدود اور سب سے عمدہ نعمتوں اور درناک عذابوں کا وجود دینا...تمام جہانوں کے پالنہار کیلئے...حق ہے، کچھ غلط نہیں۔
اگر دنیاوی امتحان میں ڈالے بغیر اللہ جو ہر عیب سے پاک ہے وہ اپنے علم کے مطابق جنت کے حقدار کو ہمیشہ جنت میں اور جہنم کے مستحق کو ہمیشہ جہنم میں ڈال بھی دیتا تو جہنمی ضرور اعتراض کرتے کہ آپ نے ہمیں بغیر آزمائش جہنم میں ڈال دیا۔ لہٰذا یہ امتحان لینا بھی حق ہے۔
اللہ پاک کا حق کلام ہے:
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔
[سورۃ آل عمران:185]
اے لوگو ! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہیں آئے گا، اور نہ کسی بیٹے کی یہ مجال ہوگی کہ وہ اپنے باپ کے ذرا بھی کام آجائے۔ یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس لیے ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ یہ دنیوی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے، اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ وہ (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکے میں ڈال دے جو سب سے بڑا دھوکا باز ہے۔
[سورۃ لقمان:33]
(4)دنیا نام ہے اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزوں کا۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے‘ وہ ملعون(رحمتِ الٰہی سے محروم)ہے‘ سوائے اللہ کی یاد کے اور ان چیزوں کے جن کا اللہ سے کوئی تعلق اور واسطہ ہے اور سوائے عالم اور متعلم کے.
[سنن ابن ماجه:4112، سنن الترمذي:2322، صحيح الترغيب:74+3244، صحيح الجامع:1609+3414، الصحيحة:2797]
تفسير القرطبي-سورۃ الانعام:32
.....سوائے نیکی کا حکم دینے یا برائی سے منع کرنے کے یا ذکر الٰہی کے۔
[مسند البزار:1736]
.....سوائے اس کے جس سے اللہ کی رضا تلاش کی جاتی ہے۔
[الزهد لابن أبي عاصم:127، مسند الشاميين للطبراني:612، صحيح الترغيب:9]
الدر المنثور في التفسير بالمأثور-سورۃ الکھف:110
حضرت حسن بصریؒ سے مرسل روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے“۔
[الزهد لابن أبي الدنيا:9، تفسير الماتريدي-سورۃ الحدید:20]
جیساکہ دنیا (کی محبت) ترک کرنا ہر عبادت کی اصل ہے‘ سبب اس میں یہ ہے کہ دنیا سے محبت رکھنے والا اگر بالفرض کسی دینی کام میں مشغول بھی ہوجائے تو اس کے اعمال پھر بھی فاسد اغراض(نیتوں) کے ساتھ ملتبس ہوتے ہیں اور تارک الدنیا اگر بالفرض دنیوی امور میں مشغول بھی ہوجائے تو بھی اس کا مطمح نظر دوسرا ہوتا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: کیا کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں؟ عرض کیا گیا: حضرت ایسا تو نہیں ہوسکتا‘ آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح دنیادار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
[شعب الإيمان - ت زغلول:10457، الزهد الكبير للبيهقي:257]
حضرت ابوہریرةؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہلاک ہوا جو دینار‘ درہم اور چادر کا غلام ہوا ‘ اگر ملے تو خوش اور راضی ہو اور اگر نہ ملے تو ناراض وناخوش ہو۔
[صحيح البخاري:2886]
(ایسے شخص کی اس مذموم خصلت کی وجہ سے گویا حضور ﷺ نے دوبارہ بددعا دی) ہلاک ہو ایسا شخص اور ذلیل وسرنگوں ہو! اور دیکھو جب اس شخص کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو کوئی اس کو نہ نکالے۔ سعادت اور خوش بختی ہے اس بندے کے لئے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے کھڑا ہے‘ اس کے سر کے بال پراگندہ اور قدم غبار آلود ہیں‘ اگر اس کو لشکر کی اگلی صفوں کے آگے نگہبانی پر مامور کیا جائے تو پوری طرح نگہبانی کرتا ہے اور اگر اس کو لشکر کے پیچھے رکھا جائے تو لشکر کے پیچھے ہی رہتا ہے‘ اگر وہ لوگوں کی محفلوں میں شریک ہونا چاہے تو اس کو شرکت کی اجازت نہیں دیجاتی‘ اور اگر کسی کی سفارش کرتاہے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔
[صحيح البخاري:2887]
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اپنی امت پر جن بلاؤں کے آنے سے ڈرتا ہوں‘ ان میں سب سے زیادہ ڈر کی چیزیں ”ہویٰ“ اور ”طول امل“ ہے۔ ہویٰ (نفسانی رجحانات) تو آدمی کو قبول حق سے مانع ہوتی ہے اور طول امل (لمبی لمبی آرزوئیں) رکھنے والا آخرت کو بھلادیتاہے اور اس کی فکر اور تیاری سے غافل ہوجاتاہے‘ دنیا دم بدم چلی جارہی ہے‘ گذررہی ہے اور آخرت (ادھر) سے چل پڑی ہے اور ان دونوں کے بچے ہیں‘ پس اے لوگو! اگر تم کر سکو تو ایسا کرو کہ دنیا سے چمٹنے والے اور اس کے بچے نہ بنو‘ پس تم اس وقت دار العمل میں ہو اور یہاں حساب یعنی جزا وسزا نہیں اور کل تم آخرت میں پہنچ جانے والے ہو اور وہاں کوئی عمل نہ ہوگا.
[قصر الأمل لابن أبي الدنيا:4، الأحاديث المائة الشريحية:20، شعب الإيمان - ت زغلول:10616، المتفق والمفترق-الخطيب البغدادي:979، ذم الكلام وأهله-الهروي، أبو إسماعيل:90، صفات رب العالمين - ابن المحب الصامت:518]
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں: بے شک دنیا میٹھی ہے، سر سبز ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں نائب بنایا ہے۔ پس وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، بس دنیا سے اور عورتوں کے فتنے سے بچو۔
[سنن ابن ماجه:4000، سنن الترمذي:2191]
بے شک بنی اسرائیل کا جو پہلا فتنہ تھا وہ عورتوں ہی کے بارے میں تھا۔
[صحيح مسلم:2742]
سب سے پہلے بنو اسرائیل یوں ہلاک ہوئے کہ ایک غریب آدمی کی بیوی کپڑوں یا زیورات کے بارے میں اپنے خاوند کو مالدار آدمی کی بیوی کی طرح تکلیف دیتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے بنو اسرائیل کی کوتاہ قد عورت کا تذکرہ کیا، اس نے لکڑی کے جوتے (کھڑاؤں) تیار کروائے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں ایک خلا تھا اور اس پر ایک ڈھکن تھا، اس نے اس خلا میں کستوری بھری اور دو دراز قد یا بھاری بھر کم عورتوں کے ہمراہ نکلی۔ انہوں نے ان کے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا، اس نے لمبے قد والی دو عورتوں کو تو پہچان لیا لیکن لکڑی کی جوتیوں والی عورت کو نہ پہچان سکا۔
[سلسلة الأحاديث الصحيحة:591+486، [صحيح ابن خزيمة:1699]
حضرت عبادہ بن صامتؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے‘ اللہ اس کی ملاقات کو پسند فرماتے ہیں اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرے‘ اللہ اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتے ہیں‘ یہ سن کر حضرت عائشہؓ یا کسی دوسری زوجہ مطہرہؓ نے عرض کیا کہ: ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں‘ آپ ا نے فرمایا کہ: یہ مراد نہیں‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ جب مؤمن کی موت آتی ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور اس کے اعزاز واکرام کی خوشخبری دی جاتی ہے ‘ چنانچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے‘ سے زیادہ کسی چیز کو محبوب نہیں رکھتا‘ اس لئے بندہ مؤمن اللہ کی ملاقات کو پسند کرتاہے اور اللہ پاک اس کی ملاقات کو پسند کرتاہے۔ اور جب کافر کی موت آتی ہے تو اس کو خدا کے عذاب اور سخت سزا کی خبر دی جاتی ہے‘ چنانچہ وہ اس چیز سے جو آگے آنے والی ہے سے زیادہ کسی چیز کو ناپسند نہیں کرتا‘ اس لئے وہ اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرتاہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں۔
[صحيح البخاري:6507، صحيح مسلم:2684-2685]
ملا علی قاری ؒ لکھتے ہیں:
اللہ کا دیدار موت سے پہلے ممکن نہیں‘ بلکہ موت کے بعد ہوگا‘ مراد یہ ہے کہ جس کو اللہ کی ملاقات محبوب ہو‘ اس کو موت محبوب ہوتی ہے۔ اس لئے کہ موت کے ذریعہ اس کی رسائی اللہ کی ملاقات تک ہوتی ہے‘ موت سے پہلے ملاقات کا تصور نہیں ہوسکتا‘ اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ ملاقات موت کے علاوہ ہے۔
[مرقاة المفاتيح:1602]
موت سے طبعی ناپسندیدگی اس میں تو کوئی قباحت نہیں‘ کیونکہ طبعاً ہر جاندار وذی روح کو موت ناپسند ہوتی ہی ہے۔ اور ایک موت کو اعتقاداً ناپسند کرناہے‘ مؤمن طبعاً توموت کو ناپسند کرتاہے لیکن موت کے بعد اس کو نیک اعمال کا جو صلہ ملنے کی امید ہوتی ہے‘ اس کی وجہ سے اور اللہ کے دیدار کے اشتیاق کی وجہ سے وہ اعتقاداً موت کو پسند کرتاہے ‘ کافر اور منافق طبعاً اور اعتقاداً بھی موت کو ناپسند کرتے ہیں‘ اس لئے کہ وہ آگے اپنی سزا کو دیکھتے ہیں تو موت کو ناپسند کرتے ہیں تو اللہ کریم بھی ان کو اور ان سے ملاقات کو ناپسند کرتے ہیں۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ: اللہ سے حیا کرو جیساکہ حیاء کا حق ہے‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! الحمد اللہ! ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: حیاء سے یہ مراد نہیں جو تم کہتے ہو‘ بلکہ جو شخص اللہ سے حیاء کا حق ادا کرے تو اسے چاہئے کہ سر اور جو کچھ سر کے ساتھ ہے اس کی(نافرمانی سے)حفاظت کرے‘ پیٹ اور جو کچھ پیٹ کے ساتھ ہے اس کی حفاظت کرے اور اسے چاہئے کہ موت کو اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے اور جو شخص آخرت کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے‘ وہ دنیا کی زینت وآرائش کو چھوڑ دیتا ہے‘ پس جس شخص نے ایسا کیا تو اس نے اللہ سے حیأ کی‘ جس طرح حیأ کا حق ہے۔
[سنن الترمذي:2458، صحيح الجامع:935]
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (آخرت کے مقابلے میں) دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے۔
[صحيح مسلم:2956، سنن ابن ماجه:4113، سنن الترمذي:2324]
تفسير القرطبي-سورة الزخرف:35
نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ جنگِ احزاب کے موقعہ پر یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا‘ اور ایک مرتبہ حجة الوداع کے موقعہ پر صحابہ کرام کی بھاری جمعیت کے سامنے‘ نیز یہ بات بھی جان لینی چاہئے کہ ”دنیا آخرت کی کھیتی ہے“ اور یہاں کی زندگی بس ایک ساعت کی ہے اس کو اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں صرف کرنا چاہئے“
نبوی دعا سے سبق:
«اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ … فَأَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ»
(… فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ)
(… فَأَصْلِحِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ)
ترجمہ:
اے اللہ! نہیں ہے کوئی(حقیقی)عیش سوائے آخرت کے عیش(آرامدہ زندگی)کے ... پس انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔
(… پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔)
{… پس تو انصار و مہاجرین کو درست رکھ۔۔}
[صحيح البخاري:2961+3795+3796+3797+(4098+6414){6413}]
القرآن:
اور کتنی ہی بستیاں وہ ہیں جو اپنی معیشت پر اتراتی تھیں ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا، اب وہ ان کی رہائش گا ہیں تمہارے سامنے ہیں جو ان کے بعد تھوڑے عرصے کو چھوڑ کر کبھی آباد ہی نہ ہوسکیں، اور ہم ہی تھے جو ان کے وارث بنے۔
[سورۃ نمبر 28 القصص، آیت نمبر 58]
إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ؛ فَإِنَّ عِبَادَ اللهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ
ترجمہ:
نازو نعمت سے بچنا کیوں کہ اللہ کے بندے آسائشوں والے نہیں ہوتے۔
[مسند احمد:22105، الصحيحة:353(3021]
نعمتوں والے منہ موڑلیتے ہیں»
القرآن:
اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے، اور پہلو بدل لیتا ہے، اور اگر اس کو کوئی برائی چھو جائے تو مایوس ہو بیٹھتا ہے۔
[سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 83]
القرآن:
اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دور چلا جاتا ہے، اور جب اسے کوئی برائی چھو جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔
[سورۃ نمبر 41 فصلت، آیت نمبر 51]
القرآن:
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا، اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتار۔
[سورۃ نمبر 14 ابراهيم، آیت نمبر 28]
القرآن:
اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے نعمتوں کا مزہ چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ (اس وقت) وہ اترا کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔
[سورۃ نمبر 11 هود، آیت نمبر 10]
القرآن:
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو اسے اس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرلیں، اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔
[سورۃ نمبر 8 الأنفال، آیت نمبر 53]
تفسیر:
یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کرکے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہوگیا، جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتوں کو عذاب سے تبدیل کردیا۔
القرآن:
اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا۔
[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 112]
تفسیر:
یہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام مثال دی ہے کہ جو بستیاں خوشحال تھیں، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی پر کمر باندھ لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس میں سب لوگ خوشحالی اور امن کے ساتھ رہ رہے تھے، لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا تو ان پر سخت قسم کا قحط مسلط کردیا گیا جس کے نتیجے میں لوگ چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ بعد میں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قحط دور ہونے کی دعا فرمائیں۔ چنانچہ وہ آپ کی دعا سے دور ہوا۔ اس واقعے کا ذکر سورة دخان میں بھی آنے والا ہے۔
خوشحال(عیش وعشرت والے)لوگ نافرمان ہوتے/ہوجاتے ہیں۔
القرآن:
(ان ظالموں سے کہا گیا) بھاگو مت، اور واپس جاؤ، اپنے انہی مکانات اور اسی عیش و عشرت کے سامان کی طرف جس کے مزے تم لوٹ رہے تھے، شاید تم سے کچھ پوچھا جائے۔
[سورۃ نمبر 21 الأنبياء، آیت نمبر 13]
عیاش لوگ، فسادی اور ظالم ہوتے/ہوجاتے ہیں»
القرآن:
تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، بھلا ان میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جن کے پاس اتنی بچی کھچی سمجھ تو ہوتی کہ وہ لوگوں کو زمین میں فساد مچانے سے روکتے ؟ ہاں تھوڑے سے لوگ تھے جن کو ہم نے (عذاب سے) نجات دی تھی۔ اور جو لوگ ظالم تھے، وہ جس عیش و عشرت میں تھے، اسی کے پیچھے لگے رہے، اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔
[سورۃ نمبر 11 ھود، آیت نمبر 116]
خوشحال(عیش وعشرت والے) لوگ نافرمان ہوتے ہیں۔
القرآن:
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔
[سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 16]
خوشحال(عیاش)لوگ کافر رہتے/ہوجاتے ہیں۔
القرآن:
ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اور جنہوں نے آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، اور جن کو ہم نے دنیوی زندگی میں خوب عیش دے رکھا تھا، انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے۔ جو چیز تم کھاتے ہو، یہ بھی کھاتا ہے، اور جو تم پیتے ہو، یہ بھی پیتا ہے۔
[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 33]
خوشحال(عیاش)لوگ آیاتِ الٰہی سے منہ موڑتے ہیں۔
القرآن:
یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولت مند لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ ایک دم بلبلا اٹھیں گے۔۔۔(کیونکہ)میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں مڑ جاتے تھے۔
[سورۃ نمبر 23 المؤمنون، آیت نمبر 64]
خوشحال(عیاش)لوگ پیغامِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں۔
القرآن:
اور جس کسی بستی میں ہم نے کوئی خبردار کرنے والا پیغمبر بھیجا، اس کے خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ : جس پیغام کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
[سورۃ نمبر 34 سبإ، آیت نمبر 34]
خوشحال(عیاش)لوگ پیغمبر کا انکار کرتے ہیں، اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔
القرآن:
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ: ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔
[سورۃ نمبر 43 الزخرف، آیت نمبر 23]
خوشحال(عیاش)لوگ عظیم گناہ کے عادی ہوتے ہیں۔
القرآن:
یہ لوگ اس سے پہلے بڑے عیش میں تھے۔ اور بڑے بھاری گناہ پر اڑے رہتے تھے۔
[سورۃ نمبر 56 الواقعة، آیت نمبر 45]
عنوان: بڑھاپے میں دل کی جوانی – حبِ عیش اور حبِ مال
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:
"الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: حُبِّ الْعَيْشِ وَحُبِّ الْمَالِ."
ترجمہ"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بوڑھا آدمی عمر رسیدہ ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، لیکن اس کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی محبت۔" (1) (2) (3)
حوالہ جات:
(1) مسند الإمام أحمد: 8403؛ صحیح البخاری: 6057؛ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة: 1906۔
(2) صحیح مسلم: 113 - (1046)؛ صحیح البخاری: 6057۔
(3) صحیح مسلم: 114 - (1046)؛ صحیح البخاری: 6057؛ جامع الترمذی: 2331؛ سنن ابن ماجہ: 4233؛ مسند الإمام أحمد: 8196۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے، اور متفق علیہ (صحیح البخاری: 6057، صحیح مسلم: 1046) ہے۔ اسے امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، اور امام أحمد نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (1906) میں درج کیا۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ص10 / ج321]
حدیث کا مرکزی مضمون:
بڑھاپے میں جسم کمزور ہو جاتا ہے۔
لیکن دل دو محبتوں پر جوان رہتا ہے: حبِ عیش (زندگی کی محبت) اور حبِ مال (مال کی محبت)۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. مال اور زندگی کی محبت فطری ہے:
{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ} (آل عمران: 14)
(لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت مزین کر دی گئی ہے: عورتوں، بیٹوں، اور سونے چاندی کے ڈھیروں کی۔)
تفسیر: مال اور زندگی کی محبت انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے، مگر اسے اللہ کی رضا کے تابع کرنا ضروری ہے۔
2. مال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ} (المنافقون: 9)
(اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔)
تفسیر: مال کی محبت اگر اللہ کے ذکر سے غافل کر دے تو یہ مذموم ہے۔
3. مال کی کثرت کی محبت:
{أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ * حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} (التکاثر: 1-2)
(تمہیں مال کی کثرت کی محبت نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔)
تفسیر: مال کی محبت انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔
4. مال کی محبت انسان کو ہلاک کرتی ہے:
{وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ * الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ * يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ} (الهمزة: 1-3)
(ہلاکت ہے ہر طعنہ دینے والے، عیب لگانے والے کے لیے، جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔)
تفسیر: مال کی محبت انسان کو یہ وہم دلاتی ہے کہ وہ امر ہو جائے گا۔
5. مال کی شدید محبت:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
تفسیر: مال کی محبت کی شدت کا ذکر قرآن میں ہے۔
6. اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر ہے:
{وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ} (القصص: 60)
(اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔)
تفسیر: دنیا کی متاع فانی ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی ہے۔
7. زندگی کی محبت:
{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ} (آل عمران: 185)
(ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔)
تفسیر: زندگی کی محبت کے باوجود موت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
8. مال کی محبت سے بچنا:
{وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ} (الحجر: 88)
(اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دی ہیں۔)
تفسیر: مال کی طرف دیکھنے اور اس کی محبت سے بچنا چاہیے۔
حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ"
(ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر اس میں دو چیزیں باقی رہ جاتی ہیں: حرص اور لمبی امید۔)
(صحیح البخاری: 6421، صحیح مسلم: 1046)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَىٰ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ"
(اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری چاہے گا، اور اس کا منہ مٹی کے سوا کچھ نہیں بھر سکتا۔)
(صحیح البخاری: 6436، صحیح مسلم: 1048)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَيْسَ الْغِنَىٰ عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَىٰ غِنَىٰ النَّفْسِ"
(غنی ہونا مال کی کثرت سے نہیں، بلکہ غنی ہونا نفس کی غنی (قناعت) ہے۔)
(صحیح البخاری: 6446، صحیح مسلم: 1051)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا"
(جو شخص صبح اٹھے اور وہ امن میں ہو، جسم تندرست ہو، اور دن کا کھانا موجود ہو، تو گویا اسے پوری دنیا مل گئی۔)
(جامع الترمذی: 2346)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ"
(دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔)
(صحیح مسلم: 2956)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ"
(دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں، وہ اس ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا آدمی کا مال اور عزت کا حرص اس کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔)
(جامع الترمذی: 2376)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ تَعَجَّلَ فِي الدُّنْيَا شَيْئًا لَمْ يَزِدْهُ ذَلِكَ إِلَّا بُعْدًا مِنَ الْآخِرَةِ"
(جو شخص دنیا میں کوئی چیز جلد حاصل کرنا چاہتا ہے، تو یہ اسے آخرت سے دوری کے سوا کچھ نہیں بڑھاتا۔)
(سنن ابن ماجہ: 4136)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ"
(قناعت ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔)
(المعجم الأوسط للطبرانی)
فقہی نکات
1. مال کا صحیح استعمال: مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور صلہ رحمی کرنا باعثِ اجر ہے۔
2. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
تصوف کے نکات
1. جسم اور دل کا فرق: صوفیاء کے نزدیک جسم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر دل جوان رہتا ہے۔ اس لیے دل کو اللہ کی محبت سے جوان رکھنا چاہیے، نہ کہ دنیا کی محبت سے۔
2. حبِ دنیا: مال اور زندگی کی محبت دل کی تاریکی ہے، اور یہ اللہ کی محبت میں رکاوٹ ہے۔
3. قناعت: صوفیاء قناعت کو قلب کی صفائی اور نفس کی اصلاح کا ذریعہ مانتے ہیں۔
4. ذکر: اللہ کا ذکر دل کو جوان رکھتا ہے، اور دنیا کی محبت سے پاک کرتا ہے۔
5. زہد: صوفیاء زہد کی تعلیم دیتے ہیں، یعنی دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کی طلب۔
6. اللہ کی طرف رجوع: یہ حدیث بندے کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
8. محبتِ الٰہی: اللہ کی محبت ہی دل کی حقیقی جوانی ہے۔
تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور بہت زیادہ احادیث کے راوی تھے۔
2. یہ حدیث صحیح البخاری (6057) اور صحیح مسلم (1046) میں مروی ہے، جو اس کی صحت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بڑھاپے کی حقیقت بیان کرنے کے لیے فرمائی۔
4. ابن حجر، امام نووی، اور ابن کثیر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔
5. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث زہد، قناعت، اور آخرت کی تیاری کی بنیاد ہے۔
6. صحابہ کرام دنیا کی محبت سے بچنے اور آخرت کی تیاری کرنے میں مثال تھے۔
7. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مال اور زندگی کی محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کریں۔
8. یہ حدیث دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
9. قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال اور نیت کے مطابق جزا پائے گا۔
10. مال اور زندگی اللہ کی امانت ہیں، اور ان کا صحیح استعمال نجات کا ذریعہ ہے۔
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. بڑھاپے میں جسم کمزور ہو جاتا ہے، مگر دل جوان رہتا ہے۔
2. دل کی جوانی دو محبتوں پر ہے: حبِ عیش اور حبِ مال۔
3. یہ محبت فطری ہے، مگر حد سے بڑھانا مذموم ہے۔
4. قناعت ایسا مال ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
5. زہد اور آخرت کی طلب مومن کی پہچان ہے۔
6. حرص انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔
7. مال کا صحیح استعمال (اللہ کی راہ میں خرچ اور صلہ رحمی) باعثِ اجر ہے۔
8. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
9. نیت کے مطابق حشر ہو گا۔
10. آخرت کی تیاری کرنا اور دنیا کی محبت سے بچنا نجات کا ذریعہ ہے۔
مقاصد
1. بڑھاپے کی حقیقت کو واضح کرنا۔
2. حبِ عیش اور حبِ مال کی فطری حیثیت بتانا۔
3. قناعت اور زہد کی ترغیب دینا۔
4. حرص سے بچنے کی ترغیب دینا۔
5. مال کا صحیح استعمال بتانا۔
6. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. دنیا کی محبت سے بچنے کی ترغیب دینا۔
خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بوڑھا آدمی عمر رسیدہ ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، لیکن اس کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی محبت۔"
نتیجہ:
یہ حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے، اور یہ دنیا کی حقیقت، قناعت، زہد، اور آخرت کی تیاری کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں مال اور زندگی کی محبت کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے، قناعت اختیار کرنے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
عنوان
تین کنکریوں کا تمثیلی انداز میں ابن آدم، اس کی اجل اور امید کا بیان
عربی متن
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ:
"أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ، فَوَضَعَ وَاحِدَةً، ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ آدَمَ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَذَاكَ أَمَلُهُ - الَّتِي رَمَى بِهَا -"
ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکریاں لیں، ایک رکھی، پھر دوسری اپنے سامنے رکھی، اور تیسری پھینکی، پھر فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی اجل (موت) ہے، اور وہ (جو پھینکی گئی) اس کی امید ہے۔“
[مسند الإمام أحمد:13821، صحيح البخاري:6055، الجامع للترمذي:2334، سنن ابن ماجة:4232]
علمی اسباق و نکات
نبی ﷺ کا اپنے اصحاب کو عملی تمثیل کے ذریعے تعلیم دینا، تعلیم کا مؤثر انداز ہے۔
(صحيح البخاري 6055؛ الجامع للترمذي 2334)
”حصيات“ (کنکریاں) جیسی معمولی چیزوں سے بھی اہم عقلی و ایمانی سبق دیا جا سکتا ہے۔
(مسند الإمام أحمد 13821؛ سنن ابن ماجة 4232)
حدیث میں ”هذا ابن آدم“ کہہ کر انسان کی حقیقت اور اس کی فانی زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
(الجامع للترمذي 2334)
”هذا أجله“ یعنی موت انسان کے بالکل قریب ہے، جبکہ ”ذاك أمله“ یعنی امیدیں دور دراز تک پھیلی ہوتی ہیں۔
(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)
یہ حدیث ”حسن صحيح“ کے درجے میں ہے، جس سے اس کی قبولیت اور اعتبار ثابت ہوتا ہے۔
(الجامع للترمذي 2334)
عقلی اسباق و نکات
انسان کی فطرت ہے کہ وہ لمبی امیدیں باندھتا ہے، مگر موت اس کے سامنے موجود ہے۔
(الجامع للترمذي 2334؛ سنن ابن ماجة 4232)
عقل کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی امیدوں کو حقیقت پسندانہ رکھے اور موت کو ہمیشہ یاد رکھے۔
(مسند الإمام أحمد 13821؛ صحيح البخاري 6055)
تمثیل میں کنکریوں کا قریب اور دور ہونا انسان کی زندگی اور اس کی امیدوں کے درمیان فاصلے کو واضح کرتا ہے۔
(الجامع للترمذي 2334)
تفسیری اسباق و نکات
”هذا ابن آدم“ میں ”هذا“ اشارہ حسی ہے، یعنی نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے زمین پر اشارہ کر کے انسان کی مثال بیان فرمائی۔
(تحفة الأحوذي 3/266؛ الجامع للترمذي 2334)
”هذا أجله“ یعنی اجل کو قریب رکھا گیا، جبکہ ”ذاك أمله“ یعنی امید کو دور پھینکا گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موت امید سے زیادہ قریب ہے۔
(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”الاحاديث متوافقة على أن الأجل أقرب من الأمل“ یعنی تمام روایات اس پر متفق ہیں کہ اجل امید سے زیادہ قریب ہے۔
(فتح الباري، صحيح البخاري 6055)
تشریحی اسباق و نکات
”حصيات“ کنکریوں کی جمع ہے، جو معمولی پتھر کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔
(مسند الإمام أحمد 13821)
”وضع واحدة“ یعنی ایک کنکری زمین پر رکھی، جو ابن آدم کی طرف اشارہ ہے۔
(صحيح البخاري 6055)
”وضع أخرى بين يديه“ یعنی دوسری کنکری سامنے قریب رکھی، جو اجل (موت) کی طرف اشارہ ہے۔
(الجامع الصحيح للترمذي 2334)
”رمى بالثالثة“ یعنی تیسری کنکری دور پھینکی، جو امید کی طرف اشارہ ہے۔
(سنن ابن ماجة 4232)
”أمله التي رمى بها“ میں ”التي رمى بها“ کی قید اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ امید وہی ہے جو دور پھینکی گئی کنکری کی طرف اشارہ ہے۔
(مسند الإمام أحمد 13821)
”الْأَمَلُ“ کا معنی ہے: مرجوہ ومأمولہ، یعنی وہ چیز جس کی امید کی جائے اور جسے انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اجل آنے سے پہلے پا لے گا۔
(تحفة الأحوذي 3/266؛ الجامع للترمذي 2334)
”الْأَجَلُ“ کا معنی ہے: موت، یعنی انسان اپنی امیدوں میں مشغول رہتا ہے اور موت اسے امیدوں تک پہنچنے سے پہلے آ لیتی ہے۔
(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)
فقہی اسباق و نکات
یہ حدیث زہد و رقائق کے باب میں ہے، جس سے دنیا کی حقیقت اور آخرت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔
(الجامع للترمذي 2334؛ سنن ابن ماجة 4232)
نبی ﷺ کا عملی تمثیل دینا اور سامان مہیا کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ تعلیم و تربیت کے لیے ہو۔
(صحيح البخاري 6055؛ مسند الإمام أحمد 13821)
طویل امیدیں (طول الأمل) مذموم ہیں، کیونکہ یہ آخرت کی تیاری سے غافل کرتی ہیں۔
(الجامع للترمذي 2334)
موت کو یاد رکھنا اور اس کے لیے تیاری کرنا مطلوب ہے۔
(سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)
اصولی اسباق و نکات
تعلیم کا اصول: پہلے عملی مظاہرہ، پھر زبانی وضاحت۔ نبی ﷺ نے پہلے کنکریاں رکھیں، پھر ان کا مطلب بیان فرمایا۔
(صحيح البخاري 6055؛ الجامع للترمذي 2334)
تمثیل (مثال) کے ذریعے تعلیم دینا عرب کے اسلوب کا حصہ ہے اور شریعت میں بھی مطلوب ہے۔
(مسند الإمام أحمد 13821؛ سنن ابن ماجة 4232)
”ما“ اور ”هذا“ جیسے اشارہ کے الفاظ سے معانی کی تعیین کی جاتی ہے، اور سیاق و سباق سے مراد متعین ہوتی ہے۔
(تحفة الأحوذي 3/266)
ایک حدیث کے متعدد طرق ہونے سے اس کی صحت میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ اصولی طور پر حدیث کی تقویت کا سبب بنتا ہے۔
(صحيح البخاري 6055؛ الجامع للترمذي 2334؛ سنن ابن ماجة 4232؛ مسند الإمام أحمد 13821)
”هذا ابن آدم“ میں ”هذا“ کا اشارہ حسی ہے، مگر مراد معنوی ہے۔ یہ اصولِ مجاز اور استعارہ کی طرف اشارہ ہے۔
(الجامع للترمذي 2334؛ تحفة الأحوذي 3/266)












No comments:
Post a Comment