Thursday, 27 November 2025

خیر کے کاموں میں سبقت(جلدی) کرنا۔

 نیکی میں سبقت(جلدی) کرنا۔

القرآن:

اور ہر گروہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے، لہذا تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے الله تم سب کو (اپنے پاس) لے آئے گا۔ یقینا الله ہر چیز پر قادر ہے۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 148]

القرآن:

اور (اے رسول محمد ! ﷺ ہم نے تم پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو الله نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ تم میں سے ہر ایک (امت) کے لیے ہم نے ایک (الگ) شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر الله چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن (الگ شریعتیں اس لیے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہٰذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ الله ہی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 48]


نیک اعمال میں جلدی کرنا۔  

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  

بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، ‏‏‏‏‏‏أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ۔

 ‏‏‏‏‏ترجمہ:

سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے۔

[سنن الترمذي:2306، ، حاكم:7906، شعب الإيمان:10572، أبويعلى:6542، المعجم الأوسط:3945، والقضاعى:823، جامع الأحاديث-للسيوطي:10306]

[صحيح مسلم:2947، صحيح ابن حبان:6790، سنن ابن ماجة:4056، 




**************************

شرح للمناوی:
"اعمال (نیک) میں جلدی کرو (فتنوں کے آنے سے) پہلے"، یعنی فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی نیک اعمال میں مشغول ہو جاؤ اور ان کی طرف توجہ دو۔ (مَا) کی ایک روایت میں (ہَلْ) ہے، (یَنْتَظِرُونَ) یعنی کیا وہ انتظار کر رہے ہیں (سوائے) ایسی غربت کے جسے بھلا دیا گیا ہو، یعنی جسے تم بھول گئے تھے پھر وہ تم پر اچانک آجائے، (یا ایسی دولت کے جو سرکش بنا دے)، یعنی "بے شک انسان سرکش ہو جاتا ہے جب وہ خود کو بے نیاز دیکھے"۔ (یا ایسی بیماری کے جو بدن کو بگاڑ دے)، یعنی مزاج کو خراب کرنے والی اور حواس کو مشغول کرنے والی، (یا ایسے بڑھاپے کے جو جھوٹا بنا دے)، یعنی صحیح بات سے ہٹا کر بڑھاپے کے ہذیان اور بکواس میں مبتلا کر دے، (یا ایسی موت کے جو یکایک آجائے)، یعنی اچانک آئے، جیسے قتل یا گرنے سے، جس میں توبہ کی مہلت نہ ملے، (یا دجال کے)، یعنی اس کے ظاہر ہونے کے، (کیونکہ وہ بدترین منتظر چیز ہے)، بلکہ وہ منتظر مصیبتوں میں سب سے بڑی ہے جیسا کہ حدیث میں آئے گا، (یا قیامت کے، اور قیامت سب سے زیادہ ہولناک اور سخت ہے)۔ علامہ علائی فرماتے ہیں: ان احادیث کا مقصد یہ ترغیب دینا ہے کہ آخری وقت (موت یا فتنے) کے آنے سے پہلے ہی اعمال کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور مصیبتوں کے آنے سے پہلے وقت کو غنیمت سمجھو۔ اور بے شک نبی کریم ﷺ اس کی پابندی میں سب سے بلند مقام اور مکمل حصہ رکھتے تھے، آپ راتوں کو اللہ کی رضا کے لیے قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔

(ت ک) "الفتن" میں، اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے)۔ منذری کہتے ہیں: ترمذی نے اسے محرر (یا محرز) کی روایت سے بیان کیا ہے جو کہ ضعیف راوی ہے، اعرج کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔

---

حاشیہ:
علامہ علقمى فرماتے ہیں: "الفند" اصل میں جھوٹ کو کہتے ہیں، اور "أفند" کا مطلب ہے جھوٹی باتیں کرنا۔ پھر بوڑھے شخص کے لیے کہا جانے لگا جب وہ بڑھاپے میں ہذیان بکنے لگے کہ "أفند"، کیونکہ وہ صحیح بات سے ہٹ کر بگڑی ہوئی باتیں کرتا ہے، اور بڑھاپے نے اسے "فند" (ہذیان) میں ڈال دیا۔

[فیض القدیر للمناوی: 3121]


تشریح سے حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. وقت کی قدر اور نیک اعمال میں سبقت: فتنوں، مصیبتوں یا موت کے آنے سے پہلے ہی نیک اعمال میں مصروف ہو جانا چاہیے۔ وقت غنیمت ہے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
2. آفاتِ دنیویہ سے سبق: اچانک غربت، بیماری، بڑھاپا یا موت آ سکتی ہے جو انسان کو توبہ اور نیک عمل کا موقع دے سکتی ہے یا نہیں دے سکتی۔ اس لیے پہلے سے تیاری ضروری ہے۔
3. دولت و غنا کا فتنہ: دولت انسان کو سرکش و غرور میں مبتلا کر سکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کے لیے پہلے سے نیک اعمال کا ذخیرہ کر لینا چاہیے۔
4. بڑے فتنوں کی تیاری: دجال اور قیامت جیسے عظیم فتنوں کے لیے روحانی طور پر مضبوط ہونا چاہیے اور اس کا واحد ذریعہ پہلے سے کیا گیا نیک عمل ہے۔
5. نبی کریم ﷺ کا اسوہ: آپ ﷺ نے اس حکم پر سب سے زیادہ عمل کر کے ہمارے لیے نمونہ قائم کیا، یہاں تک کہ راتوں کو عبادت میں کھڑے رہنے سے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔
6. حدیث کا درجہ: یہ حدیث اگرچہ ایک ضعیف سند سے بھی آئی ہے، لیکن دوسری صحیح احادیث اور اس کے معنی کی صحت کے پیش نظر اس کے مفہوم پر عمل کرنا ضروری ہے۔
7. لفظ "مفندا" کی تشریح: بڑھاپے میں انسان کی عقل و یادداشت memory متاثر ہوتی ہے اور وہ بے ترتیب باتیں کرنے لگتا ہے، ایسی حالت میں نیک اعمال کی توفیق مشکل ہو سکتی ہے، اس لیے پہلے سے اعمال صالحہ کا ذخیرہ ضروری ہے۔
**************************
القرآن:
کیا یہ لوگ اس خیال میں ہیں کہ ہم ان کو جو دولت اور اولاد دیے جارہے ہیں۔ تو ان کو بھلائیاں پہنچانے میں جلدی دکھا رہے ہیں؟ (21) نہیں، بلکہ ان کو حقیقت کا شعور نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے پروردگار کے رعب سے ڈرے رہتے ہیں۔ اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے۔ اور وہ جو عمل بھی کرتے ہیں، اسے کرتے وقت ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی دکھا رہے ہیں، اور وہ ہیں جو ان کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
[سورۃ نمبر 23 المؤمنون،آیت نمبر 55-61]
تفسیر:
(21)بہت سے کفار اپنے حق پر ہونے کی یہ دلیل دیتے تھے کہ ہمیں الله تعالیٰ نے بہت سامال و دولت دے رکھا ہے، ہماری اولاد بھی خوشحال ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ الله تعالیٰ ہم سے خوش ہے، اور ہمیں آئندہ بھی خوشحال رکھے گا، اگر ناراض ہوتا تو یہ مال اور اولاد ہمیں میسر نہ ہوتا، یہ آیت ان کا جواب دے رہی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں مال و دولت مل جانا الله تعالیٰ کی رضا مندی کی دلیل نہیں ہے ؛ کیونکہ وہ کافروں اور نافرمانوں کو بھی رزق دیتا ہے اس کے بجائے وہ ان لوگوں سے خوش ہے، اور ان کا انجام بہتر کرے گا جن کے حالات آیت نمبر : 57 تا 60 میں بیان فرمائے گئے ہیں۔
تفسیر:
(22)یعنی نیک عمل کرتے ہوئے بھی ان کے دل میں کوئی بڑائی نہیں آتی، بلکہ وہ سہمے رہتے ہیں کہ اس عمل میں کوئی ایسی کوتاہی نہ رہ گئی ہو جو الله تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن جائے۔













قیامت کی نشانیاں:

حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

بادروا بالأعمال سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، أَوِ الدُّخَانَ، أَوِ الدَّجَّالَ، أَوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ

ترجمہ:

چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض(چوپایا) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت  (یعنی موت) ، عام آفت (جیسے وبا وغیرہ).

[مسند احمد:8446-8848-9278-10640، صحیح مسلم:2947، سنن ابن ماجة:4056، مسند البزار:9560، صحيح ابن حبان:6790، شرح السنة للبغوي:4249]


شرح للسيوطي: 

"اعمال (نیک) میں جلدی کرو چھ (چیزوں سے پہلے)۔" یعنی (یہ چھ چیزیں) مصیبتوں اور آفتوں میں سے ہیں۔ ان سے پہلے اعمال میں جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے واقع ہونے سے پہلے ہی نیک اعمال کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور ان کی طرف مکمل توجہ دو۔ اور "خویصة أحدکم" (تم میں سے ہر ایک کی چھوٹی سی ذاتی چیز) کے بارے میں "النہایۃ" (کتاب) میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ موت کا واقعہ ہے جو ہر انسان کو پیش آتا ہے۔ یہ "خاصۃ" (ذاتی چیز) کی تصغیر (تخفیف) ہے، اور اسے اس لیے چھوٹا کر کے بیان کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والے واقعات (جیسے اٹھایا جانا، پیشی، حساب کتاب وغیرہ) کے مقابلے میں اسے حقیر سمجھا جاتا ہے۔

(زجاجۃ)

[شرح سنن ابن ماجہ للسیوطی: 4056]

---

تشريح سے حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. فتنوں سے پہلے کی مصروفیت: اس تشریح میں بنیادی نکتہ یہی ہے کہ ان چھ فتنوں (یا مصیبتوں) کے آنے سے پہلے ہی انسان کو نیک اعمال میں محو اور مصروف ہو جانا چاہیے۔ یہ ایک پیش بندی اور دفاعی حکمت عملی ہے۔

2. "انکماش فی الأعمال" کا مفہوم: تشریح میں "الانكماش في الأعمال الصالحة" کا جملہ استعمال ہوا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان نیک اعمال میں اس طرح سمٹ جائے، ڈوب جائے اور انہیں اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے، تاکہ آنے والی مصیبتوں کا مقابلہ کر سکے۔

3. "خویصة" (ذاتی چیز) کی حقیقت: یہاں "خویصة أحدکم" کی وضاحت کرتے ہوئے اسے موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ بات پچھلی تشریحات کے مطابق ہے۔ ہر انسان کی اپنی موت اس کی سب سے بڑی ذاتی مصیبت اور آزمائش ہے۔

4. تصغیر (تخفیف) کی حکمت: موت کو "خویصة" (چھوٹی سی ذاتی چیز) کہنے میں ایک گہری حکمت ہے۔ اس کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں:

   · قیامت کے عظیم واقعات کے مقابلے میں: موت کے بعد جو عظیم الشان مراحل آئیں گے (حشر، نشر، حساب کتاب، جنت یا دوزخ)، ان کے سامنے موت کا یہ مختصر واقعہ ایک چھوٹا سا واقعہ محسوس ہوتا ہے، حالانکہ دنیا کی نظر میں یہی سب سے بڑا واقعہ ہے۔

   · تنبیہ اور احساس کی تحریک: اسے چھوٹا کہہ کر یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اگر تم اس "چھوٹی" سی چیز (موت) سے ڈرتے ہو اور اس کی تیاری نہیں کرتے، تو پھر اس کے بعد آنے والے "بڑے" اور ہولناک مراحل (قیامت) کا تم کیسے مقابلہ کرو گے؟ یہ ایک نفسیاتی طریقہ ہے تاکہ انسان موت کی حقیقت کو سمجھے اور اس سے پہلے تیاری کر لے۔

5. علمی حوالہ جات کی اہمیت: امام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی تشریح میں "النهایۃ" (شاید "النهایۃ فی غریب الحدیث" از ابن اثیر) جیسے معتبر لغت و تفسیر کے حوالے دیے ہیں۔ یہ بات علم کی دیانت داری اور تحقیق کے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔

6. حدیث کا عمومی پیغام: یہ تشریح بھی ان تمام احادیث کے مرکزی پیغام کی تائید کرتی ہے کہ آخری وقت یا آخری آزمائشوں کے آنے سے پہلے، جو لمحہ بھی میسر ہے، اس میں اللہ کی رضا کے لیے کام کر لو۔ یہ فوراً عمل کا فلسفہ ہے۔

7. دنیا کی مصیبتوں کو پہچاننا: حدیث میں جن چھ چیزوں کا ذکر ہے، وہ سب دنیا میں آنے والی "صمائب ودواھی" (سخت مصیبتیں اور بڑی آفتیں) ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان مصیبتوں کی نشاندہی کرے اور ان سے بچاؤ کے لیے پہلے سے ہی اپنے ایمان و اعمال کی مضبوطی کا سامان کرے۔


خلاصہ:

یہ تشریح ہمیں "بادروا بالأعمال" کے حکم کی نفسیاتی اور عملی گہرائی سے روشناس کراتی ہے۔ یہ صرف ایک عام نصیحت نہیں، بلکہ ایک دفاعی حکمت عملی ہے جس میں انسان کو مصیبتوں کے آنے سے پہلے ہی نیک اعمال میں اس طرح سمٹ جانا چاہیے کہ وہ ان کا مقابلہ کر سکے۔ خاص طور پر موت کو ایک "چھوٹی سی ذاتی چیز" بتا کر ہمیں یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اگر ہم اس چھوٹی سی چیز کی تیاری نہیں کر سکتے، تو پھر قیامت کی بڑی بلاؤں کا کیا کریں گے؟





شرح للمناوي:

"(بادروا بالأعمال ستة) یعنی ان چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال کی طرف دوڑ پڑو۔ 'ستۃ' کو مؤنث لانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ 'حطط' (یعنی مصیبتوں) میں سے ہے، جیسا کہ زمخشری نے ذکر کیا ہے۔ قاضی فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ ان چھ نشانیوں کے نزول سے پہلے ہی اعمال میں جلدی کرو، کیونکہ جب یہ ظاہر ہو جائیں گی تو یہ انسان کو حیران و پریشان کر دیں گی اور اعمال سے روک دیں گی یا پھر توبہ اور عمل قبول ہونے کا دروازہ بند کر دیں گی۔

(طلوع الشمس من مغربها) جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اس وقت کسی شخص کا ایمان اسے فائدہ نہ دے گا اگر وہ پہلے سے ایمان نہ لایا ہو۔

(والدخان) یعنی دھویں کا ظاہر ہونا۔

(ودابة الأرض والدجال) یعنی زمین کے جانور اور دجال کا ظاہر ہونا۔ اسے 'دجال' اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ فریب دینے والا، حق کو مشتبہ بنانے والا اور اپنے پیروؤں سے زمین کو ڈھانپ لے گا۔ 'دجل' کا معنی ہے ملاوٹ اور پردہ پوشی کرنا، اسی سے دجلہ (دریائے دجلہ) کا نام ہے جو اپنے پانی سے زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔

(وخويصة أحدكم) 'خاصۃ' کی تصغیر ہے، یاء ساکن ہے کیونکہ تصغیر کی یاء ہمیشہ ساکن ہوتی ہے۔ مراد موت کی وہ گھڑی ہے جو ہر انسان سے مخصوص ہے۔ اسے چھوٹا کر کے بیان کیا گیا ہے کیونکہ دیگر عظیم واقعات جیسے اٹھایا جانا، حساب کتاب کے مقابلے میں یہ چھوٹی لگتی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ پریشان کن مصیبتیں ہیں جو انسان کو اپنے نفس، مال یا دیگر مشغولیات کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔

(وأمر العامة) یعنی قیامت، کیونکہ یہ تمام مخلوق کو شامل ہے۔ یا وہ فتنہ جو آنکھوں اور کانوں کو ڈھانپ لے، یا وہ عام لوگوں کی طرف سے آنے والا حکم/فیصلہ جو خواص کے بغیر ہو۔

(حم م عن أبي هريرة) (یعنی امام احمد اور مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے)۔ مصنف (مناوی) کا یہ کہنا کہ امام مسلم کی حدیث کا سیاق یوں ہے، درست نہیں۔ بلکہ امام مسلم نے اس کے لیے الگ باب قائم کیا ہے اور اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دو احادیث روایت کی ہیں۔ پہلی حدیث کے الفاظ ہیں:

'بادروا بالأعمال ستة: طلوع الشمس من مغربها، أو الدجال، أو الدخان، أو الدابة، أو خاصة أحدكم، وأمر العامة'۔

دوسری حدیث کے الفاظ ہیں:

'بادروا بالأعمال ستا: الدجال، والدخان، ودابة الأرض، وطلوع الشمس من مغربها، وأمر العامة، وخويصة أحدكم'۔ (انتہی)

[فیض القدیر للمناوی: 3119]


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. چھ عظیم نشانیاں اور فوری عمل کی ضرورت: حدیث میں قیامت کی چھ بڑی نشانیوں (سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابۃ الارض، دجال، ذاتی موت، اور عام قیامت یا فتنہ) کا ذکر کر کے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی نیک اعمال میں مصروف ہو جانا چاہیے۔ ان کے ظاہر ہو جانے کے بعد نہ تو عمل کا موقع رہے گا اور نہ ہی توبہ قبول ہوگی۔

2. آخری وقت کی پہچان: یہ نشانیاں جب ظاہر ہوں گی تو وہ انسان کو اپنی ہولناکی میں اس قدر گھیر لیں گی کہ وہ نیک عمل کے لیے بے بس ہو جائے گا۔ اس لیے ابھی، اس لمحے سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

3. 'خویصۃ' (ذاتی موت) کی اہمیت: دیگر عظیم نشانیوں کے ساتھ ہر انسان کی ذاتی موت کو بطور خاص شامل کیا گیا ہے۔ اس کی تصغیر ('خویصۃ' یعنی چھوٹی خاص چیز) اس لیے ہے کہ دیگر عالمگیر نشانیوں کے مقابلے میں یہ انفرادی لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب سے پہلے آنے والی اور یقینی "نشانی" ہے جو ہر ایک کے لیے قیامت ہے۔

4. نشانیوں کی ترتیب میں اختلاف: مختلف احادیث میں ان نشانیوں کے ذکر کی ترتیب مختلف ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد ترتیب بیان کرنا نہیں، بلکہ ان کے وقوع سے پہلے عمل کی ترغیب دلانا ہے۔ نیز یہ کہ ان میں سے کچھ نشانیاں ایک دوسرے کے قریب یا ساتھ واقع ہوں گی۔

5. لفظی و تشریحی نکات:

   · دجال: اس نام کی وجہ تسمیہ اس کا حق کو باطل میں ملا کر لوگوں کو دھوکا دینا (دجل) ہے۔

   · خویصۃ: یہ 'خاصۃ' (ذاتی چیز) کی تصغیر ہے، جو موت یا وہ تمام پریشان کن معاملات ہیں جو انسان کو اس کی اصل توجہ (آخرت) سے غافل کر دیتے ہیں۔

   · أمر العامۃ: اس سے مراد قیامت کا عام واقعہ ہو سکتا ہے یا ایسا بڑا فتنہ جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔

6. حدیث کے مصادر اور تحقیق: امام مسلم رحمہ اللہ نے اس مضمون کی دو احادیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اپنی صحیح میں نقل کی ہیں۔ ان کے الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے لیکن معنی ایک ہے۔ اس سے محدثین کی احادیث کے الفاظ کو محفوظ رکھنے کی گراں قدر خدمت کا پتہ چلتا ہے۔

7. مرکزی پیغام: سابقہ حدیث کی طرح اس حدیث کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انسان اپنی موت اور قیامت کی بڑی نشانیوں سے پہلے کے قیمتی لمحات کو غنیمت جانے، غفلت سے بچے اور اپنے اعمال درست کر لے، قبل اس کے کہ توبہ و عمل کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔




وہ فتنہ جو اندھیری رات کی طرح ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:
«بادروا بالأعمال فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا» ﴿قَلِيلٍ﴾.

ترجمہ:

تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہوگا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہوگا، دنیاوی ﴿بہت ہی تھوڑے﴾ ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا۔

[صحيح مسلم:118، سنن الترمذي:2195، ﴿مسند احمد:8030-10772﴾، صحيح ابن حبان:6704]

 وضاحت:

یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہوگا، ہر ایک دنیا کا طالب ہوگا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کر بیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔


شرح امام نووی:

حدیث کا معنیٰ نیک اعمال کے متعذر (مشکل یا ناممکن) ہو جانے سے پہلے ان کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دینا ہے، نیز ان (فتنوں) سے مشغول ہونے سے پہلے جو رونما ہوں گے؛ اور وہ مشغول کرنے والے، بکثرت اور ایک دوسرے پر جمع ہونے والے فتنے ہوں گے، جیسے اندھیری (بے چاند) رات کا تاریک ہونا جمع ہو جاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فتنوں کی شدتوں میں سے ایک قسم یہ بیان فرمائی کہ آدمی شام کو مومن ہوگا پھر صبح کو کافر ہو جائے گا یا اس کے برعکس (یہ) راوی کا شک ہے۔ اور یہ فتنوں کی عظمت کی وجہ سے ہے کہ آدمی ایک ہی دن میں اس قسم کا انقلاب (پلٹاؤ) کرے گا۔ اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔"

[شرح مسلم للنووي:2/133]


شرح مناوی:

"(بادروا بالأعمال فتنا) ’فتنہ‘ کی جمع ہے اور وہ آزمائش کو کہتے ہیں، اور مصیبتوں پر اور اس چیز پر جس کے ذریعے آزمائش ہو، بھی اطلاق ہوتا ہے۔ (كقطع الليل المظلم) ’قطعہ‘ کی جمع ہے اور اس کی مراد رات کا ایک حصہ ہے۔ معنی یہ ہے کہ تاریک اور سیاہ فتنے واقع ہوں گے۔ اور مراد یہ ہے کہ عمل صالح کی طرف دوڑنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اس سے پہلے کہ وہ متعذر (مشکل) ہو جائے یا (فتنوں کے) واقع ہونے سے جو مشغولیت پیش آئے اس کی وجہ سے اس میں دشواری ہو۔ ان فتنوں کے متکاثر (بہت زیادہ) اور متراکم (جمع ہونے والے) ہونے کی وجہ سے، جیسے رات کے اندھیرے کا اجتماع۔ پھر آپ نے فتنوں کی شدتوں میں سے ایک نوعیت یہ بیان فرمائی کہ (ایسے میں) آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا۔ یہ ترمذی کی روایت ہے اور مسلم کی روایت ’أو‘ (یا) کے ساتھ ہے جو شک پر دلالت کرتی ہے۔ اور یہ فتنوں کی عظمت کی وجہ سے ہے کہ آدمی ایک ہی دن میں یہ انقلابات کرے گا۔ (یبيع أحدهم دينه بعرض) راء کے فتحہ کے ساتھ (من الدنيا قليل) یعنی دنیا کے تھوڑے سے حطام (ٹوٹے پھوٹے سامان) کے بدلے۔ ’کشاف‘ میں کہا گیا ہے: ’عرض‘ وہ ہے جو دنیا کے منافع میں سے تمہارے سامنے آئے۔ ’المطامح‘ میں کہا گیا ہے: یہ اور اس جیسی فتنوں کی احادیث آپ کی ان خبروں میں سے ہیں جو مستقبل میں پیش آنے والے واقعات (معجزات استقبالیہ) ہیں جن کی آپ نے اپنے بعد ہونے کی خبر دی، اور وہ ہوئیں اور ہوتی رہیں گی۔ اور بعض لوگوں نے ان (فتنوں) پر الگ سے تصنیف کی ہے۔

(حم م) (احمد اور مسلم) نے کتاب الایمان (اور کتاب الفتن) میں روایت کیا ہے۔ (عن أبي هريرة) لیکن (لفظ) ’قلیل‘ میں نے مسلم کی وہ نسخہ میں نہیں دیکھا جس پر میں نے وقوف کیا ہے۔"

[فیض القدیر للمناوي:3117]












بادروا بالأعمال خمسًا هرمًا ناكسًا أو مرضًا معتدًا أو ندمًا قائمًا أو موتًا خالسًا أو تسويفًا مؤيسًا.
ترجمہ:
"اعمال (نیک) میں جلدی کرو (ان پانچ چیزوں سے پہلے):
1. بڑھاپے سے جو (آدمی کو) جھکا دے (کمزور کر دے)۔
2. یا بیماری سے جو (طویل ہو کر) ڈیرہ ڈال لے۔
3. یا اس پچھتاوا سے جو (قیامت کے دن) کھڑا ہو جائے گا۔
4. یا موت سے جو اچانک آجائے۔
5. یا ٹال مٹول سے جو (آخرکار) مایوس کر دے۔"
[جامع الأحاديث-للسيوطي:10305، مسند الديلمى (2/7، رقم 2072) عن أنس]

تشریح و حاصل شدہ اسباق:

نوٹ: یہ روایت پچھلی چار چیزوں والی روایت سے قدرے مختلف ہے۔ اس میں ایک نیا عنصر "ندمًا قائمًا" (کھڑا ہونے والا پچھتاوا) شامل کیا گیا ہے، جو اصل میں آخرت کے دن پیش آنے والے حالات کی طرف اشارہ ہے۔

تشریحات:

· "هرمًا ناكسًا": وہ بڑھاپا جو آدمی کو جھکا دے، اس کی کمر موڑ دے، قوتوں کو گھٹا دے اور عبادت کے قابل نہ رہنے دے۔
· "مرضًا معتدًا": وہ بیماری جو طویل ہو، مستقل بن جائے، بستر پر ڈال دے اور آدمی کو معذور کر دے۔
· "ندمًا قائمًا": وہ سخت پچھتاوا اور افسوس جو قیامت کے دن ہر شخص کے ساتھ کھڑا ہوگا جب اعمال کا حساب ہوگا اور نیک اعمال کی کمی پر آنکھیں اشکبار ہوں گی۔ یہ پچھتاوا اس دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا ہے، جب توبہ و اصلاح کا وقت گزر چکا ہوگا۔
· "موتًا خالسًا": وہ اچانک اور غیر متوقع موت جو موقع اور مہلت دیے بغیر آجائے۔
· "تسويفًا مؤيسًا": مسلسل ٹال مٹول کا وہ رویہ جو آخرکار ناکامی اور حسرت پر منتج ہوتا ہے۔

اسباق و نکات:

1. پچھتاوے کا پیشگی خوف: اس روایت کا سب سے منفرد اور اہم نکتہ "ندمًا قائمًا" (کھڑے ہونے والے پچھتاوا) کی نشاندہی ہے۔ یہ انسان کو پیشگی تنبیہ کرتا ہے کہ اگر اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تو آخرت میں اسے ایسا پچھتاوا ہوگا جو ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ یہ تصویر انسان کو گناہ اور کوتاہی سے روکنے کے لیے نہایت مؤثر ہے۔
2. دنیاوی اور اخروی دونوں رکاوٹوں کا ذکر: اس روایت میں دنیاوی رکاوٹیں (بڑھاپا، بیماری، اچانک موت، ٹال مٹول) کے ساتھ ساتھ اخروی نتیجہ (پچھتاوا) بھی بیان کر دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ حدیث دنیا کی رکاوٹوں اور آخرت کے نتائج دونوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
3. "معتدًا" بیماری کی نوعیت: بیماری کو "معتدًا" (ڈیرہ ڈال لینے والی) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ طویل عرصے کی بیماریاں ہیں جو انسان کو مسلسل بستر پر رکھیں، جیسے فالج، کینسر، یا کوئی اور دائمی مرض۔ ایسی حالت میں اکثر اعمال صالحہ کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے۔
4. سبق آموز ترتیب: ان پانچوں چیزوں کی ترتیب بہت معنی خیز ہے۔ پہلی تین (بڑھاپا، بیماری، پچھتاوا) طویل المیعاد نتائج کی طرف اشارہ ہیں، جبکہ آخری دو (اچانک موت، ٹال مٹول) فوری خطرات ہیں۔ اس ترتیب سے پیغام ملتا ہے کہ آدمی کو دیرپا معذوریوں کے ساتھ ساتھ فوری حادثات سے بھی بچاؤ کی فکر کرنی چاہیے۔
5. ٹال مٹول: تمام برائیوں کی جڑ: پچھلی احادیث کی طرح اس میں بھی "تسويف" (ٹال مٹول) کو آخری میں رکھا گیا ہے، گویا یہ وہ بنیادی بیماری ہے جو انسان کو دیگر تمام رکاوٹوں کا شکار بنا دیتی ہے۔ اگر آدمی ٹال مٹول چھوڑ دے تو وہ بڑھاپے اور بیماری سے پہلے ہی عمل کر لے گا اور پچھتاوے سے بچ جائے گا۔
6. نفسیاتی محرک کا مضبوط استعمال: یہ حدیث انسان کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے اسے عمل پر ابھارنے کے لیے ڈر اور امید دونوں کے عناصر استعمال کرتی ہے۔ ڈر: پچھتاوے، بیماری اور موت کا۔ امید: ان سے پہلے عمل کر کے نجات پانے کی۔
7. حدیث کا درجہ: یہ روایت بھی ضعیف ہے جیسا کہ سیوطی اور دیلمی کے حوالے سے آتی ہے۔ اس لیے اسے شرعی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا مفہوم اور پیغام نہایت قیمتی، عبرت انگیز اور دوسری صحیح تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ خصوصاً پچھتاوے کا خوف قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
8. عملی زندگی کے لیے رہنما اصول: یہ حدیث ہمیں زندگی گزارنے کا ایک عملی فارمولا دیتی ہے: ٹال مٹول کو چھوڑو، اچانک موت کے خوف سے بچو، طویل بیماری یا بڑھاپے سے پہلے عمل کر لو، تاکہ آخرت میں کھڑے ہونے والے پچھتاوا سے محفوظ رہ سکو۔

نتیجہ: یہ حدیث (اگرچہ ضعیف) اپنے اندر ایک مکمل زندگی گزارنے کا فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف دنیاوی رکاوٹوں سے آگاہ کرتی ہے بلکہ اخروی پچھتاوے کے عذاب سے ڈراتی بھی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہی ہے: "ابھی کرو، کل کے بھروسے مت بیٹھو، کیونکہ کل یا تو تمہارے پاس ہوگا ہی نہیں، یا پھر تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہوگی، اور اس وقت صرف پچھتاوا ہی تمہارا مقدر ہوگا۔"





بادروا بالأعمال هرما ناغصًا وموتًا خالسًا ومرضًا حابسًا وتسويفًا مؤيسًا.

ترجمہ:

"اعمال (نیک) میں جلدی کرو (ان چار چیزوں سے پہلے):

1. بڑھاپے سے جو (دل و دماغ کو) پریشان کر دے۔

2. موت سے جو اچانک آجائے۔

3. بیماری سے جو (بستر پر) روک دے۔

4. ٹال مٹول سے جو (آخرکار) مایوس کر دے۔"

[شعب الإيمان:10574، الجامع الصغير:6066(ضعيف الجامع:2316)]


ومن غريب الحديث: "ناغصًا": مكدرًا. "خالسًا": يأتى خلسة.

[جامع الأحاديث-للسيوطي:10310]


تشریح للمناوی:

· "هرما ناغصا": وہ بڑھاپا جو کڑوا، بدمزہ اور پریشان کن ہو، جس میں عقل و حافظہ متاثر ہو اور نیک عمل کی توفیق مشکل ہو جائے۔

· "موتا خالسا": وہ موت جو چوری چھپے، یکایک اور غیر متوقع طور پر آجائے، جس کے لیے تیاری کا موقع نہ ملے۔

· "مرضا حابسا": وہ بیماری جو آدمی کو بستر پر ڈال دے، اس کی حرکات، مشاغل اور عبادت کو معطل کر دے۔

· "تسويفا مويسا": وہ مسلسل "کل کروں گا، بعد میں کروں گا" کا رویہ جو آخرکار ناکامی اور پچھتاوا بن جاتا ہے۔

[فيض القدير-للمناوي:3118]


اسباق و نکات:


1. وقت کی قدر کا عملی تصور: یہ حدیث وقت کی قدر کرنے کا بہت عملی اور نفسیاتی طریقہ سکھاتی ہے۔ یہ نہ صرف موت کی یاد دہانی کراتی ہے، بلکہ ان مخصوص رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہے جو موت سے پہلے ہی آدمی کو اعمال سے روک سکتی ہیں۔

2. بڑھاپے کی نفسیاتی کیفیت: حدیث میں بڑھاپے کو محض ضعف اور کمزوری نہیں، بلکہ "ناغص" (پریشان کن، کڑوا) بتایا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ ذہنی انتشار، چڑچڑا پن، بے صبری اور وہم و گمان ہیں جو بڑھاپے میں انسان کو نیک عمل سے غافل کر دیتے ہیں۔ اس لیے جوانی میں، جب ذہن و دل پر یہ کیفیت طاری نہ ہو، عمل کر لینا چاہیے۔

3. موت کی اچانک آمد: موت کب آئے گی، کس حالت میں آئے گی، اس کا علم نہیں۔ یہ ہمیشہ "خالس" (چوری سے آنے والی) ہے۔ اس لیے اس کے آنے کا انتظار کرنا نادانی ہے۔ جو کرنا ہے، ابھی کر لینا دانشمندی ہے۔

4. بیماری کی روک: بیماری آدمی کو معذور کر سکتی ہے۔ نماز، روزہ، تلاوت، علم حاصل کرنا – سب اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ اس لیے صحت کے ان لمحات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے جب آدمی عمل کرنے پر قادر ہے۔

5. ٹال مٹول – سب سے بڑا دشمن: حدیث میں سب سے اہم اور بنیادی نکتہ "تسويف" (ٹال مٹول) کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ خاموش قاتل ہے جو انسان کو یقین دلاتا ہے کہ کل بہت وقت ہے۔ یہ رویہ آخرکار "مويس" (مایوس کن) ثابت ہوتا ہے، جب موت آجاتی ہے اور ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "آج کا کام کل پر مت ٹالو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کے کاموں کا بوجھ تم پر پڑ جائے۔"

6. ایک جامع حکمت: یہ چاروں چیزیں دراصل "موقع" کے خاتمے کے اسباب ہیں۔ بڑھاپا، موت اور بیماری "فیزیکل موقع" (طاقت، صحت، زندگی) ختم کرتے ہیں، جبکہ ٹال مٹول "ذہنی و نفسیاتی موقع" (ارادہ، عزم، توجہ) ختم کرتا ہے۔ حدیث سکھاتی ہے کہ ان دونوں قسم کے مواقع کو غنیمت جانیں۔

7. حکیمانہ کلام کا خلاصہ: تشریح میں درج حکیمانہ قول "الإمهال رائد الإهمال" (مہلت دینا غفلت کو دعوت دینا ہے) اس حدیث کا نچوڑ ہے۔ جو کام آج ہو سکتا ہے، اس کے لیے کل کا انتظار درحقیقت غفلت کی طرف پہلا قدم ہے۔

8. ضعفِ سند پر تبصرہ: اس روایت کی سند میں ضعف ہے، جیسا کہ "ضعیف الجامع" میں بھی اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس لیے اسے شرعی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا معنی اور پیغام نہایت قیمتی، حکمت آمیز اور دوسری صحیح احادیث (جیسے پہلی احادیث میں فتنوں سے پہلے عمل کی ترغیب) اور قرآن مجید کے فرمان {فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ . وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب} (پھر جب تو فارغ ہو تو محنت کر، اور اپنے رب کی طرف رغبت رکھ) کے عین مطابق ہے۔ اس لیے اس کے مفہوم اور نصیحت پر عمل کرنا بہتر ہے۔


نتیجہ:

یہ حدیث (اگرچہ ضعیف ہے مگر معنی کے اعتبار سے صحیح) ہمیں زندگی کی چار بڑی رکاوٹوں سے پہلے ہی اپنے اعمال درست کر لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ ایک مختصر لیکن جامع نفسیاتی فارمولا ہے جو ہمیں ٹال مٹول کے مہلک مرض سے بچاتا ہے اور "ابھی" کے فلسفے پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتا ہے۔




حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ عَلَى ظَهْرِ أَجَارٍ فَأَبْصَرَ أُنَاسًا يَتَحَمَّلُونَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ قَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ، فَقَالَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ: تَمَنَّى الْمَوْتَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ» قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بادروا بالأعمال سِتًّا: إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ، واسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ أَحَدُهُمْ لِيُغَنِّيَهُمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلُّهُمْ فِقْهًا "۔
ترجمہ:
ہم عابس غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام "أجار" پر تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو سفر کی تیاری کرتے دیکھا۔ پوچھا: "یہ کیا کر رہے ہیں؟" بتایا گیا: "یہ طاعون سے بھاگ رہے ہیں۔" عابس رضی اللہ عنہ نے کہا: "اے طاعون! مجھے بھی اپنے پاس لے لے۔" ان کے چچا زاد بھائی (جو خود صحابی تھے) نے کہا: "آپ موت کی تمنا کر رہے ہیں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: 'تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے'۔" عابس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "(میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: 'چھ چیزوں (فتنوں) کے آنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو:
1. سفیہوں کی حکمرانی (ناقص العقل، ہلکے اور نااہل لوگوں کا حکمران بن جانے)
2. پولیس/حرس (عسس) کی کثرت (حکمرانوں کے دروازوں پر محافظوں کی بہتات)
3. فیصلے/عدالت کی خرید و فروخت (رشوت کے ذریعے انصاف کو بیچنے)
4. خون کی حرمت کو ہلکا سمجھنے (ناحق قتل کا عام ہونے اور قصاص کا نہ لئے جانے)
5. رشتہ داروں سے تعلقات توڑنے
6. ایسے نوجوان جنہوں نے قرآن کو (محض) باجوں (سازوں) کی طرح بنالیا ہو، وہ لوگ اپنے میں سے کسی ایک کو آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں (خوش الحانی سے) گائے، حالانکہ وہ ان سب سے کم فہم اور علم والا ہوگا۔'"
[المعجم الكبير-للطبراني:60]

حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. فتنوں کی پیشگی نشاندہی اور انتباہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے آنے والے کچھ سماجی، اخلاقی اور حکومتی فتنوں کی واضح نشاندہی فرما دی ہے، تاکہ امت ان سے بچنے کی کوشش کرے اور ان کے آنے سے پہلے ہی اپنے ایمان و اعمال کو مضبوط بنا لے۔
2. نیک اعمال میں سبقت کی دائمی ضرورت: پہلی احادیث کی طرح اس حدیث کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ ایسے فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے، جو انسان کو دین سے غافل کر دیں یا توبہ و اصلاح کا موقع ہی ختم کر دیں، نیک اعمال میں مصروف ہو جانا چاہیے۔
3. سماجی فتنوں کی ترتیب اور باہمی تعلق: یہ فتنے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ نااہل حکمران (سفیہوں کی حکمرانی) رشوت اور ناانصافی (بیع الحکم) کو فروغ دیتے ہیں، اپنی حفاظت کے لیے پولیس اور محافظوں کی فوج کھڑی کرتے ہیں (کثرۃ الشرط)، جس سے مظالم بڑھتے ہیں اور خونریزی عام ہو جاتی ہے (استخفاف بالدم)۔ یہ سب معاشرے میں اخوت اور رحم دلی ختم کر کے قطعۃ الرحم (رشتہ توڑنے) کا سبب بنتے ہیں۔ آخر میں دین کی اصل روح فنا ہو جاتی ہے اور قرآن محض ظاہری آواز و سرود تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے (اتخاذ القرآن مزامیر)۔
4. حکمرانی اور انصاف کے فتنے: حدیث میں حکومت اور عدالت کے دو بڑے فتنوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے:
   · نااہل اور عقل سے عاری لوگوں کا اقتدار میں آنا۔
   · انصاف اور فیصلوں کا مال کے عوض خریدا جانا (رشوت)۔
     یہ دونوں فتنے کسی بھی معاشرے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔
5. خون کی حرمت پامالی: "استخفاف بالدم" سے مراد یہ ہے کہ قتل کو ہلکا سمجھا جانے لگے، قصاص کا قانون مفلوج ہو جائے، اور انسانی جان کی کوئی قدر و قیمت نہ رہے۔ یہ انتہائی خطرناک معاشرتی زوال کی علامت ہے۔
6. خاندانی نظام کا زوال: "قطعۃ الرحم" صرف رشتہ داروں سے تعلق توڑنے ہی کو نہیں کہتا، بلکہ خاندانی نظام کے بکھرنے، باہمی محبت اور تعاون ختم ہونے، اور سماجی تانے بانے کے ٹوٹنے کی طرف اشارہ ہے۔
7. دین کے ظاہری و باطنی فتنے: "نشو یتخذون القرآن مزامیر" یہ انتہائی لطیف اور گہرا فتنہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید، جو ہدایت و عمل کی کتاب ہے، اسے محض آواز کی آرائش، نغمہ سازی اور موسیقاری کا ذریعہ بنا لیا جائے گا۔ لوگ قاری کی آواز کی خوبی اور لحن کو اس کے فہمِ قرآن، علم اور تقویٰ پر ترجیح دیں گے۔ یہ دین کو ظاہری شکل اور رسم تک محدود کر دینے کا خطرناک رجحان ہے۔ قاری کا معیار اس کی "صوت" ہوگی نہ کہ اس کی "فقہ" (سمجھ)۔
8. طاعون کے موقع پر موت کی تمنا کا مسئلہ: حدیث کے شروع میں واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ عام حالات میں موت کی تمنا منع ہے، لیکن جب دین خطرے میں پڑ جائے، فتنے عام ہو جائیں اور انسان کے ایمان کے بچاؤ کی فکر لاحق ہو، تو پھر حالت بدل جاتی ہے۔ حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے آنے والے عظیم فتنوں کی حدیث سن رکھی تھی، اس لیے انہوں نے چاہا کہ ان فتنوں سے پہلے ہی اللہ سے جا ملیں۔
9. حدیث کی سند کے بارے میں محتاط رویہ: شارح حدیث (علامہ مناوی) نے آخر میں سند کے ایک راوی عثمان بن عمیر کے "ضعیف" ہونے کا تذکرہ کیا ہے۔ اس لیے فقہی احکام کی بنیاد اس پر رکھنا درست نہیں، تاہم ان فتنوں کے واقع ہونے یا ہوتے دیکھے جانے کی صورت میں یہ حدیث ایک ڈراؤنے خواب (انتباہ) کے طور پر اور ان فتنوں کی حقیقت سمجھنے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے بیان کردہ فتنوں کی تصدیق دوسری صحیح احادیث اور موجودہ دور کے مشاہدے سے ہوتی ہے۔
10. حسبِ حال عمل کی ترغیب: حضرت ابن عطاء اللہ کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ایسی احادیث کا مقصد انسان کو غفلت سے جگانا، اللہ کی طرف رغبت دلانا اور ہر اس رکاوٹ سے پہلے جو اسے اللہ کی اطاعت سے روک سکتی ہے، اس کی طرف دوڑ پڑنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ عمل کی فوری اور مسلسل ضرورت پر زور دینے والی احادیث ہیں۔





شرح للمناوي:

"نیک اعمال میں جلدی کرو ان چھ (چیزوں) سے پہلے جو قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

1. سفیہوں کی حکمرانی: (امارۃ السفہاء) ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ، یعنی نااہل اور کم عقل لوگوں کا حکمران بن جانا، کیونکہ ان کی طرف سے تشدد، بے وقوفی اور ہلکا پن سرزد ہوتا ہے۔ 'سفیہ' ناقص العقل کو کہتے ہیں اور 'سفہ' کا معنی عقل کی کمی ہے جیسا کہ المصباح وغیرہ کتب میں ہے۔
2. محافظوں/پولیس کی کثرت: (کثرۃ الشرط) ضمہ اور سکون یا فتحہ کے ساتھ۔ یہ حکمرانوں کے مددگار ہیں۔ مراد یہ ہے کہ امراء اور حکمرانوں کے دروازوں پر ان کی کثرت ہو جائے گی، اور ان کی کثرت سے ظلم بڑھے گا۔ ان میں سے ہر ایک کو 'شُرطی' کہا جاتا ہے۔ انہیں یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو ایسی علامات سے ممتاز کرتے ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں، اور 'شِرط' (بکسر الشین) کا معنی علامت ہے۔
3. فیصلے کی خرید و فروخت: (بیع الحکم) رشوت لے کر فیصلہ کرنا۔ یہاں اس کا لغوی معنی مراد ہے، یعنی کسی چیز کے بدلے کسی چیز کا لین دین۔
4. خونریزی کو ہلکا سمجھنا: (استخفافاً بالدم) یعنی قاتل سے قصاص نہ لینے کے ذریعے خون کے حق کو معمولی سمجھنا۔
5. رحم کے تعلق توڑنا: (قطیعۃ الرحم) یعنی قرابت داروں کو تکلیف دینا، ان کے ساتھ احسان نہ کرنا یا انہیں چھوڑ کر دور کر دینا۔
6. ایسے نوجوان جو قرآن کو (محض) باجے بنالیں: (نشئاً یتخذون القرآن مزامیر) یعنی قرآن کی تلاوت کو۔ 'مزامیر' 'مزمار' کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بانسری، وہ آلہ جس سے نغمہ نکالا جاتا ہے۔ وہ اس سے گانا گاتے ہیں، ڈینگ مارتے ہیں اور اسے خوش آہنگ نغموں کے ساتھ پیش کرते ہیں۔ آج کے زمانے میں یہ بہت عام ہو چکا ہے، یہاں تک کہ معاملہ قرآن کے الفاظ کو ان کی اصل جگہ سے ہٹانے پر فخر کرنے تک پہنچ گیا ہے۔
   (یقدمون) یعنی اس زمانے کے لوگ۔ (أحدهم لیغنيهم) قرآن کے ساتھ، اس طرح کہ وہ حروف کو ان کی اصل جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور نغموں کے مطابق بنانے اور نغمہ بڑھانے کے لیے حروف کو بڑھاتے گھٹاتے ہیں۔ (وإن کان) یعنی جس شخص کو آگے کیا جائے۔ (أقلهم فقها) اس لیے کہ ان کا مقصد صرف ان نغموں اور آہنگوں سے لطف اندوز ہونا اور (دوسروں کو) سنانا ہوتا ہے، نہ کہ قرآن کو سمجھنا۔
عارف ابن عطاء اللہ کہتے ہیں: ان احادیث میں عمل میں جلدی کا حکم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ (فتنے) اللہ کے ساتھ معاملہ (یعنی اطاعت) کی طرف رغبت دلانے والے ہیں، اور ان رکاوٹوں اور مزاحمتوں کے آنے سے پہلے ہی اس کی اطاعت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب ہیں۔
(طبرانی) نے علیم کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ (عن عابس) باء مکسورہ کے ساتھ پھر میم کے ساتھ، ابن عبس۔ (الغفاری) معجمہ کے کسرہ اور فاء مخففہ کے ساتھ، کوفہ کے رہنے والے۔ علیم کہتے ہیں: ہم چھت پر بیٹھے تھے اور ہمارے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی تھے۔ علیم کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ عابس یا عبس غفاری ہی تھے۔ لوگ طاعون سے (بھاگ) نکل رہے تھے تو انہوں (عابس) نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنے پاس لے لے، تین بار۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے؟ کیونکہ جب اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے تو (موت) اسے واپس نہیں لوٹائی جاتی کہ وہ معذرت کر سکے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: "بادروا..." وغیرہ۔ ہیثمی کہتے ہیں: اس کی سند میں عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے۔

[فيض القدير-للمناوي:3120]


اس تشریح سے حاصل ہونے والے اہم نکات:

1. فہم و عمل کا توازن: چھٹے فتنے "نشئاً يتخذون القرآن مزامير" میں قرآن کریم کی تلاوت کے معاملے میں انتہائی اہم تنبیہ ہے۔ یہ صرف خوش الحانی کی مذمت نہیں، بلکہ اس "مقصد" کی نشاندہی ہے جو حقیقی مقصد نہیں رہتا۔ جب قرآن کو سمجھنے، غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے محض "تکنیکی مہارت، آواز کی خوبصورتی یا تفریح" کا ذریعہ بنا لیا جائے، تو یہ بذات خود ایک بڑا فتنہ ہے۔ قاری کا انتخاب اگر اس کی آواز کی بنا پر ہو نہ کہ فقہ و علم کی بنا پر، تو یہ دین کے معنی کو مجروح کرتا ہے۔
2. ظلم کا نظامی پھیلاؤ: پہلے تین فتنے (سفیہوں کی حکمرانی، محافظوں کی کثرت، فیصلے بیچنا) آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ نااہل حکمران (سفاہت) اپنی حفاظت کے لیے ایک بڑا ظالمانہ اہتمام (کثرۃ الشرط) قائم کرتے ہیں اور انصاف کو منڈی کی چیز بنا دیتے ہیں (بیع الحکم). یہ ایک مکمل فساد کا نظام ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
3. معاشرتی اخلاقیات کا زوال: اس کے بعد آنے والے دو فتنے (خون کی حرمت پامالی، قطع تعلقی) اس نظامی فساد کے ناگزیر نتائج ہیں۔ جب انصاف نہیں ملتا تو لوگ خود ہاتھ میں لے لیتے ہیں (استخفاف بالدم) اور جب معاشرے میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے تو سب سے مضبوط رشتے (رحم) بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔
4. پیشگی تیاری کا فلسفہ: حضرت ابن عطاء اللہ کی بات نہایت گہری ہے۔ آنے والے فتنوں کی پیشین گوئی کا مقصد صرف ڈرانا یا مستقبل بینی نہیں، بلکہ ہمارے "ہمّت" (ارادے اور توجہ) کو اللہ کی طرف موڑنا اور "الآن" میں اس کی اطاعت کی طرف دوڑ لگانے کی ترغیب دینا ہے، قبل اس کے کہ یہ فتنے آ کر ہمارا وقت، توجہ اور صلاحیت ہی چھین لیں۔
5. صحابی کا طرز عمل: واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ صحابی نے طاعون سے فرار کو غلط سمجھا۔ ان کا طرز عمل اس توکل، صبر اور آخرت بینی کو ظاہر کرتا ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا۔ ان کا موت کی تمنا کرنا درحقیقت آنے والے عظیم دینی فتنوں سے بچنے کی خواہش تھی، نہ کہ مجرد مصیبت سے جان چھڑانے کی۔
6. حدیث کی سند کے بارے میں علماء کا واضح موقف: شارح نے سند کے راوی کے ضعیف ہونے کا تذکرہ کر کے علمائے حدیث کی دیانت اور احتیاط کو واضح کیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ضعیف روایات کو بیان کرتے ہوئے بھی ان کی صحت کی درجہ بندی سے صرف نظر نہیں کیا جاتا، لیکن ان میں بیان کردہ معانی اور عبرت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ دوسری صحیح تعلیمات سے متصادم نہ ہوں بلکہ ان کی وضاحت کرتی ہوں۔


















القرآن:
الله نے توبہ قبول کرنے کی جو ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ چنانچہ الله ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور الله ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 17]



















نیک کام جاری رکھنا۔ نیکی چھوڑنے میں جلدی نہ کرنا۔
القرآن:
ایسی ہی اونچی شان ہے الله کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ (47) اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے علم میں اور ترقی عطا فرما۔ (48)
[سورۃ نمبر 20 طه، آیت نمبر 114]

تفسیر:
(47) جب حضرت جبرئیل ؑ قرآن کریم کی آیتیں وحی کے ذریعے آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے، تو آپ اس ڈر سے کہ کہیں بھول نہ جائیں، ساتھ ساتھ ان آیتوں کو دہراتے رہتے تھے جس سے ظاہر ہے کہ آپ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ اس آیت میں آپ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کو یہ محنت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ الله تعالیٰ خود ہی قرآن کریم کو آپ کے سینہ مبارک میں محفوظ فرما دے گا۔ یہی بات سورة قیامہ : 16 تا 18 میں بھی فرمائی گئی ہے۔
(48) آنحضرت ﷺ کو اس دعا کی تلقین فرما کر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اور انسان کو علم کے کسی بھی درجے پر قناعت کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ ہر وقت علم میں ترقی کی کوشش اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اس دعا میں یاد داشت کی قوت کی دعا بھی شامل ہے، اور معلومات کی زیادتی اور ان کی صحیح سمجھ کی بھی۔

القرآن:
(اے پیغمبر) تم اس قرآن کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو ہلایا نہ کرو۔
[سورۃ نمبر 75 القيامة، آیت نمبر 16]

تفسیر:
(6)یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضور اقدس ﷺ پر قرآن کریم نازل ہوتا تو آپ اس کے الفاظ ساتھ ساتھ دہراتے جاتے تھے، تاکہ آپ انہیں بھول نہ جائیں۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ زبان مبارک سے الفاظ کو دہرانے کی مشقت نہ اٹھائیں، کیونکہ ہم نے ذمہ داری لے لی ہے کہ ہم انہیں آپ کو یاد بھی کرائیں گے، اور ان کی تشریح بھی آپ کے قلب مبارک میں واضح کردیں گے۔







گناہ اور دشمنی کے کاموں میں جلدی کرنا جائز نہیں۔
القرآن:
اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے لائق عمر کو پہنچ جائیں، تو اگر تم یہ محسوس کرو کہ ان میں سمجھ داری آچکی ہے تو ان کے مال انہی کے حوالے کردو۔ اور یہ مال فضول خرچی کر کے اور یہ سوچ کر جلدی جلدی نہ کھا بیٹھو کہ وہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں۔ اور (یتیموں کے سرپرستوں میں سے) جو خود مال دار ہو وہ تو اپنے آپ کو (یتیم کا مال کھانے سے) بالکل پاک رکھے، ہاں اگر وہ خود محتاج ہو تو معروف طریق کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھالے۔ پھر جب تم ان کے مال انہیں دو تو ان پر گواہ بنا لو، اور الله حساب لینے کے لیے کافی ہے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 6]
















عذاب کیلئے جلدی کرنا۔

القرآن:
صالح نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اچھائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو۔ (22) تم الله سے معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے ؟
[سورۃ نمبر 27 النمل، آیت نمبر 46]
تفسیر:
)22) اچھائی سے مراد ایمان ہے اور برائی سے مراد عذاب، مطلب یہ ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ تم ایمان لا کر اچھائی حاصل کرتے، لیکن ایمان لانے کے بجائے تم نے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ شروع کردیا۔

القرآن:
اور یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اگر (عذاب کا) ایک معین وقت نہ ہوتا تو ان پر ضرور عذاب آجاتا اور وہ آئے گا ضرور (مگر) اتنا اچانک کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
[سورۃ نمبر 29 العنكبوت،آیت نمبر 53]

القرآن:
کہو کہ : مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل مل چکی ہے جس پر میں قائم ہوں، اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، جس چیز کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے پاس موجود نہیں ہے۔ (22) حکم الله کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ وہ حق بات بیان کردیتا ہے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
[سورۃ نمبر 6 الأنعام، آیت نمبر 57]
تفسیر:
(22) یہ آیات کفار کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی ہیں کہ جس عذاب سے آنحضرت ﷺ ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ ہم پر فوراً کیوں نازل نہیں ہوتا، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عذاب نازل کرنے کا صحیح وقت اور مناسب طریقہ طے کرنے کا مکمل اختیار الله تعالیٰ کو ہے جس کا فیصلہ وہ اپنی حکمت سے کرتا ہے۔

القرآن:
کہو کہ : جس چیز کی تم جلدی مچا رہے ہو، اگر وہ میرے پاس ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوگا۔ اور الله ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
[سورۃ نمبر 6 الأنعام، آیت نمبر 58]

القرآن:
اور اگر الله (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) کا نشانہ بنانے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی جلدی وہ اچھائیاں مانگنے میں مچاتے ہیں تو ان کی مہلت تمام کردی گئی ہوتی (5)۔ (لیکن ایسی جلد بازی ہماری حکمت کے خلاف ہے) لہذا جو لوگ ہم سے (آٓخرت میں) ملنے کی توقع نہیں رکھتے، ہم انہیں اس حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔
[سورۃ نمبر 10 يونس، آیت نمبر 11]
تفسیر:
(5) یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ الله تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر الله تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا الله تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں بھٹکتے رہیں اور ان پر حجت تمام ہوجائے، اور جو سمجھ سے کام لینا چاہتے ہوں، انہیں راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔

القرآن:
کیا جب وہ عذاب آہی پڑے گا، تب اسے مانو گے ؟ (اس وقت تو تم سے یہ کہا جائے گا کہ) اب مانے ؟ حالانکہ تم ہی (اس کا انکار کر کے) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔
[سورۃ نمبر 10 يونس، آیت نمبر 51]



القرآن:
اور یہ لوگ خوشحالی (کی میعاد ختم ہونے) سے پہلے تم سے بدحالی کی جلدی مچائے ہوئے ہیں (11) حالانکہ ان سے پہلے ایسے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں جس نے لوگوں کو رسوا کر ڈالا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کے لیے ان کی زیادتی کے باوجود تمہارے رب کی ذات ایک معاف کرنے والی ذات ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (12)
[سورۃ نمبر 13 الرعد، آیت نمبر 6]
تفسیر:
(11) کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اگر ہمارا دین غلط ہے تو الله تعالیٰ سے کہیے کہ ہم پر عذاب نازل کردے۔ یہاں ان کے اس بےہودہ مطالبہ کی طرف اشارہ ہے۔
(12) یعنی جو چھوٹے چھوٹے گناہ انسان سے نادانی میں سر زد ہوجائیں یا بڑے گناہ ہوں، مگر انسان ان سے توبہ کرلے تو الله تعالیٰ ان زیادتیوں کے باوجود اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن کفر و شرک اور الله تعالیٰ کے ساتھ ضد اور عناد کا معاملہ ایسا ہے کہ اس پر الله تعالیٰ کا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ لہذا بندوں کو یہ سوچ کر بےفکر نہ ہونا چاہیے کہ الله تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے، اس لیے وہ ہماری ہر نافرمانی کو ضرور معاف فرما دے گا۔


القرآن:
الله کا حکم آن پہنچا ہے، لہذا اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ (1)۔ جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں، وہ اس سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے۔
[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 1]
تفسیر:
(1) عربی زبان کے اعتبار سے یہ انتہائی زور دار فقرہ ہے جس میں آئندہ ہونے والے کسی یقینی واقعے کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے زور دار اور تاثیر کو کسی اور زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کفار سے یہ فرماتے تھے کہ کفر کا نتیجہ الله تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا اور مسلمان غالب آئیں گے تو وہ مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو الله تعالیٰ سے کہئے کہ اسے ابھی بھیج دے اس کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ عذاب کی یہ دھمکی اور مسلمانوں کی فتح کا وعدہ (معاذ الله) محض بناوٹی بات ہے، اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اس سورت کا آغاز ان کے اس طرز عمل کے مقابلے میں یہ فرما کر کیا گیا ہے کہ کافروں پر آنے والے جس عذاب اور مسلمانوں کے غلبے کی جس خبر کو تم ناممکن سمجھ رہے ہو وہ الله تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے۔ اور اتنا یقینی ہے کہ گویا آن ہی پہنچا ہے، لہذا اس کے آنے کی جلدی مچا کر اس کا مذاق نہ اڑاؤ، کیونکہ وہ تہارے سر پر کھڑا ہے۔ پھر اگلے فقرے میں اس عذاب کے یقینی ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ تم لوگ الله تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہو، حالانکہ الله تعالیٰ نہ صرف اس سے پاک بلکہ اس سے بہت بالا و برتر ہے لہذا اس کے ساتھ شرک کرنا اس کی توہین ہے، اور خالق کائنات کی توہین کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ توہین کرنے والے پر عذاب نازل ہو (تفسیر المہائمی 402:1)


القرآن:
جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، (9) پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔
[سورۃ نمبر 17 الإسراء، آیت نمبر 18]
تفسیر:
(9) یہ اس شخص کا ذکر ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی دنیا کی بہتری کو بنا رکھا ہے اور آخرت پر یا تو ایمان نہیں، یا اس کی کوئی فکر نہیں، نیز اس قسم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو کوئی نیکی کا کام دنیا کی دولت یا شہرت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے، الله تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں، الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو دنیا کے یہ فوائد ملنے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے، نہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ جتنے فائدے وہ چاہ رہے ہیں وہ سب مل جائیں، البتہ ان میں سے جن کو ہم مناسب سمجھتے ہیں دنیا میں دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں ان کا انجام جہنم ہے۔






No comments:

Post a Comment